وَتُقَدَّرُ ”أَنْ“ فِي سَبْعَةِ مَوَاضِعَ: بَعْدَ ”حَتَّى“ نَحْوُ ”أَسْلَمْتُ حَتَّى أَدْخُلَ الْجَنَّةَ“، وَلَامِ ”كَيْ“ نَحْوُ ”قَامَ زَيْدٌ لِيَذْهَبَ“، وَلَامِ الْجَحْدِ نَحْوُ ”مَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ“، وَالْفَاءِ الْوَاقِعَةِ فِي جَوَابِ الْأَمْرِ، وَالنَّهْيِ، وَالِاسْتِفْهَامِ، وَالنَّفْيِ، وَالتَّمَنِّي، وَالْعَرْضِ. مصنف نے آپ کو بتلایا کہ فعل مضارع کا اعراب تین قسم پر ہے: رفع، نصب اور جزم۔ اور پھر انہوں نے بتلایا رفع کب آئے گا؟ جب فعل مضارع خالی ہو عاملِ ناصب سے اور عاملِ جازم سے تو وہ مرفوع ہوگا۔ اس کے بعد یہ ذکر شروع کیا کہ منصوب کب ہوگا؟ تو بتلایا کہ فعل مضارع جو ہے منصوب ہوگا ان پانچ عاملوں کی وجہ سے: ”أَنْ“، ”لَنْ“، ”كَيْ“، ”إِذَنْ“ اور ”أَنْ“ مقدرہ۔ باقی سب کی مثالیں گزر گئیں، ”أَنْ“ مقدرہ کا بیان باقی تھا، آج وہ ذکر کر رہے ہیں۔ تو کہتے ہیں ”وَتُقَدَّرُ أَنْ فِي سَبْعَةِ مَوَاضِعَ“، اور ”أَنْ“ مقدر ہوتا ہے سات جگہوں میں۔ ”أَنْ“ مقدر ہوتا ہے سات جگہوں میں بھئی۔ یہ وہی ”أَنْ“ ہے بھئی۔ ایک پہلے ”أَنْ“ آیا اور اب یہ ”أَنْ“ مقدرہ۔ لیکن چونکہ یہ مقدر ہوتا ہے اس لیے اس کو باقاعدہ آسانی اور وضاحت کے لیے الگ قسم شمار کر لیا اگرچہ یہ وہی ”أَنْ“ ہے۔ لیکن یہ چونکہ لفظوں میں ذکر نہیں ہوتا اس لیے الگ قسم شمار کیا۔ تو کہتے ہیں ”وَتُقَدَّرُ أَنْ فِي سَبْعَةِ مَوَاضِعَ“، اور ”أَنْ“ مقدر ہوتا ہے سات جگہوں میں۔ ”بَعْدَ حَتَّى“، ”حَتَّى“ کے بعد۔ نَحْوُ ”أَسْلَمْتُ حَتَّى أَدْخُلَ الْجَنَّةَ“، ”أَسْلَمْتُ“ میں اسلام لایا ”حَتَّى أَدْخُلَ الْجَنَّةَ“ تاکہ میں داخل ہو جاؤں جنت میں۔ تو دیکھو ”أَدْخُلُ“، تو ”أَدْخُلُ“ کو تو مرفوع ہونا چاہیے تھا لیکن اس پر ”حَتَّى“ داخل ہوا اور ”حَتَّى“ کے بعد کیا مقدر ہوتا ہے؟ ”أَنْ“ مقدر ہوتا ہے اور ”أَنْ“ نصب دیتا ہے تو ”حَتَّى أَدْخُلَ الْجَنَّةَ“، دیکھا یہ نصب آگیا۔ ”وَلَامِ كَيْ“، اسی طرح لامِ ”كَيْ“۔ بھئی ”كَيْ“ سببيت بیان کرنے کے لیے آتا ہے کہ ماقبل مابعد کا سبب ہے۔ جیسے گزشتہ سبق میں مثال گزری تھی ”أَسْلَمْتُ كَيْ أَدْخُلَ الْجَنَّةَ“، میں اسلام لایا تاکہ میں جنت میں داخل۔ تو وہ تو ”كَيْ“، ”كَيْ“ خود نصب دیتا ہے۔ اسی طرح ایک لام بھی آتا ہے جو وہ بھی سببيت بیان کرتا ہے، تو وہ ”كَيْ“ کے معنی میں ہوا تو اسے لامِ ”كَيْ“ کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ لامِ ”كَيْ“، اور لامِ ”كَيْ“ کے بعد بھی ”أَنْ“ مقدر ہوتا ہے، لہٰذا اس کے آگے جو فعل مضارع آئے گا وہ منصوب ہوگا۔ جیسے نَحْوُ ”قَامَ زَيْدٌ لِيَذْهَبَ“، زید کھڑا ہوا تاکہ وہ جائے، أَيْ ”لِأَنْ يَذْهَبَ“، دیکھا؟ یہ ”يَذْهَبُ“ فعل مضارع مرفوع ہو تو کیا ہوگا؟ ”يَذْهَبُ“، لیکن ”أَنْ“ مقدر ہے اس نے نصب دیا تو کیسے پڑھیں گے؟ ”لِيَذْهَبَ“، زید کھڑا ہوا تاکہ وہ جائے بھئی۔ تو دیکھو زید کا کھڑا ہونا اور اٹھنا سبب ہے جانے کے لیے۔ ”وَلَامِ الْجَحْدِ“، اور اسی طرح لامِ جحد ہے بھئی۔ جحد انکار کو کہتے ہیں۔ لامِ جحد وہ ہے جو ”كَانَ“ منفی کی خبر پر داخل ہو نفی کی تاکید کے لیے۔ کسے کہتے ہیں؟ لامِ جحد، جو ”كَانَ“ منفی، یعنی ”كَانَ“ بھی منفی ہونا چاہیے، یعنی اس پر حرفِ نفی داخل ہو، جیسے اگلی مثال میں آرہا ہے ”مَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ“۔ دیکھو ”مَا كَانَ“، یہ ”مَا“ کیا ہے؟ حرفِ نفی۔ اور آگے آرہا ہے ”لِيُعَذِّبَهُمْ“، یہ ہے لامِ جحد بھئی۔ اور اس کے بعد ”أَنْ“ مقدر ہے، اسی لیے ”لِيُعَذِّبَ“، با پر آپ کیا پڑھ رہے ہیں؟ نصب پڑھ رہے ہیں بھئی۔ تو لامِ جحد کسے کہتے ہیں؟ وہ لام جو ”كَانَ“ منفی کے بعد نفی کی تاکید کے لیے آئے۔ وہ جو نفی آرہی ہے جملے کے اندر اس نفی کی تاکید، یعنی اس میں اور زور پیدا کرے۔ تو کہتے ہیں ”مَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ“، اور اللہ ان کو عذاب دینے والے نہیں تھے۔ ”وَالْفَاءِ الْوَاقِعَةِ فِي جَوَابِ الْأَمْرِ وَالنَّهْيِ“، اور اسی طرح وہ فاء جو واقع ہو بھئی چھ چیزوں کے جواب میں، اس کے بعد بھی ”أَنْ“ مقدر ہوگا۔ وہ چھ چیزیں کون سی ہیں؟ امر ہے، نہی ہے، استفہام ہے، نفی ہے، تمنا ہے اور عرض ہے بھئی، عرض۔ تو اس کے بعد بھی ”أَنْ“ مقدر ہوگا۔ تو کہتے ہیں ”وَالْفَاءِ الْوَاقِعَةِ فِي جَوَابِ الْأَمْرِ وَالنَّهْيِ“، اور وہ فاء جو واقع ہو امر کے جواب میں، اور اسی طرح نہی کے جواب میں، اور استفہام کے جواب میں، اور نفی کے جواب میں، ”وَالتَّمَنِّي وَالْعَرْضِ“، اور تمنی کے جواب میں، اور عرض کے جواب میں۔ آگے سب کی مثالیں ذکر کر رہے ہیں۔ نَحْوُ مثال کے طور پر ”أَسْلِمْ“، دیکھا ”أَسْلِمْ“ امر آیا، امر۔ آگے ”فَتَسْلَمَ“، یہ جوابِ امر ہے بھئی۔ امر ہے اور اس کے بعد کیا ہے؟ جوابِ امر ہے اور جوابِ امر اس پر فاء داخل ہوگئی۔ تو اس فاء کے بعد ”أَنْ“ مقدر ہوتا ہے، اسی لیے ”فَتَسْلَمَ“، ”فَتَسْلَمُ“ کے بجائے کیا پڑھ رہے ہیں آپ؟ ”فَتَسْلَمَ“۔ ”أَسْلِمْ“ تو اسلام لے آ، ”فَتَسْلَمَ“ تو تو سلامت رہے گا۔ تو اسلام لے آ تو تو سلامت رہے گا۔ تو یہ فاء آئی کس کے جواب میں؟ امر کے جواب میں۔ ”أَسْلِمْ“ امر ہے بھئی۔ آگے نہی کی مثال: ”وَلَا تَعْصِ“، اور تو نافرمانی نہ کر، ”فَتُعَذَّبَ“، دیکھا فاء کے بعد ”أَنْ“ مقدر ہے، اسی لیے ”تُعَذَّبَ“، با پر آپ کیا پڑھ رہے ہیں؟ نصب پڑھ رہے ہیں۔ ”فَتُعَذَّبَ“، اور تو نافرمانی نہ کر، تجھے عذاب دیا جائے گا۔ ”وَلَا تَعْصِ“، یہ دیکھو نہی ہے، منع کیا جارہا ہے۔ تو نافرمانی نہ کر، تجھے عذاب دیا جائے گا۔ ”وَهَلْ تَعْلَمُ فَتَنْجُوَ“، ”هَلْ تَعْلَمُ“ کیا تو تعلیم حاصل کرے گا، ”فَتَنْجُوَ“ تو تو نجات پا جائے گا۔ تو تعلیم حاصل کرے گا تو تو نجات پا جائے گا، پس تو نجات پا جائے گا۔ تو ”فَتَنْجُوَ“، دیکھا آپ واؤ پر کیا پڑھ رہے ہیں؟ یہ زبر پڑھ رہے ہیں، یہ فعل مضارع منصوب ہے کیونکہ فاء آئی کس کے جواب میں؟ استفہام کے جواب میں۔ اسی طرح ”وَمَا تَزُورُنَا فَنُكْرِمَكَ“، ”وَمَا تَزُورُنَا“ یہ نفی کی مثال آگئی، نفی۔ ”مَا تَزُورُنَا“ آپ ہماری زیارت نہیں کرتے، ”فَنُكْرِمَكَ“ تو ہم آپ کا اکرام کریں گے۔ آپ ہماری زیارت نہیں کرتے تو ہم پھر ہم آپ کا اکرام، یعنی اگر زیارت کریں گے ہم آپ کا اکرام کریں گے۔ ”مَا تَزُورُنَا“ آپ ہماری زیارت نہیں کرتے، ”فَنُكْرِمَكَ“ پس ہم آپ کا اکرام کریں گے۔ ”وَلَيْتَ لِي مَالًا فَأُنْفِقَهُ“، یہ تمنی کی مثال ہے۔ ”وَلَيْتَ لِي مَالًا“ کاش کہ میرے پاس مال ہوتا، ”فَأُنْفِقَهُ“ تو میں اس کو خرچ کرتا۔ تو دیکھو ”أُنْفِقَ“، یہ فعل مضارع پر آپ نصب پڑھ رہے ہیں، یہ کیا ہے؟ فاء کے بعد ”أَنْ“ مقدر ہے۔ آگے عرض کی مثال ہے: ”وَأَلَا تَنْزِلُ بِنَا فَتُصِيبَ خَيْرًا“۔ عرض کہتے ہیں درخواست کرنا، درخواست کرنا، کسی سے گزارش کرنا۔ ”أَلَا تَنْزِلُ بِنَا“ کہ آپ ہمارے پاس نازل نہیں ہوتے، یعنی کیا آپ ہمارے پاس تشریف نہیں لاتے، ”فَتُصِيبَ خَيْرًا“ تو آپ کو خیر پہنچتی، یعنی آپ کو خیر ملتی۔ آپ ہمارے پاس تشریف نہیں لاتے؟ کسی سے درخواست کر رہے ہیں، یعنی آپ ہمارے پاس تشریف لائیں۔ ”أَلَا تَنْزِلُ بِنَا“ کیا آپ ہمارے پاس تشریف نہیں لاتے، ”فَتُصِيبَ خَيْرًا“ تو پھر آپ کو خیر پہنچتی بھئی۔ تو دیکھا ”فَتُصِيبَ“، یہ فاء آئی بھئی، کس کے جواب میں آئی؟ عرض کے جواب میں۔ لہٰذا اس کے بعد ”أَنْ“ مقدر ہے تو ”فَتُصِيبَ“ فعل مضارع پر آپ نصب پڑھ رہے ہیں بھئی۔ ”وَبَعْدَ الْوَاوِ الْوَاقِعَةِ فِي جَوَابِ هَذِهِ الْمَوَاضِعِ كَذَلِكَ“، اور اسی طرح واؤ کے بعد بھی، وہ واؤ جو واقع ہو ”فِي جَوَابِ هَذِهِ الْمَوَاضِعِ“ انہی جگہوں کے جواب میں، ”كَذَلِكَ“ اسی طرح۔ یاد رکھیے، یہ جس طرح کہ چھ چیزوں کے جواب میں فاء آئی تھی، اسی فاء کی جگہ اگر واؤ آجائے تو بھی وہاں ”أَنْ“ مقدر ہوگا۔ سب یہی سب مثالیں آپ بنا سکتے ہیں۔ دوبارہ دیکھیے یہ مثالیں: ”أَسْلِمْ فَتَسْلَمَ“، یہ فاء کی جگہ واؤ لے آؤ، ”أَسْلِمْ وَتَسْلَمَ“، ”وَلَا تَعْصِ وَتُعَذَّبَ“، ”وَهَلْ تَعْلَمُ وَتَنْجُوَ“، ”وَمَا تَزُورُنَا وَنُكْرِمَكَ“، ”وَلَيْتَ لِي مَالًا وَأُنْفِقَهُ“، ”وَأَلَا تَنْزِلُ بِنَا وَتُصِيبَ خَيْرًا“۔ تو انہی چھ چیزوں کے جواب میں جب واؤ آئے تو اس کے بعد بھی کیا مقدر؟ ”أَنْ“ مقدر ہے بھئی، ”أَنْ“ مقدر ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَبَعْدَ الْوَاوِ الْوَاقِعَةِ فِي جَوَابِ هَذِهِ الْمَوَاضِعِ كَذَلِكَ“، اور وہ واؤ جو واقع ہو ان چھ چیزوں کے جواب میں ”كَذَلِكَ“، اس میں بھی اسی طرح یہ ”أَنْ“ مقدر ہوگا۔ نَحْوُ ”أَسْلِمْ وَتَسْلَمَ“ إِلَى آخِرِهِ، اسلام لے آ اور تو سلامت رہے گا، ”إِلَى آخِرِهِ“ آخر تک بھئی۔ یعنی آخر تک اسی طرح آپ خود مثالیں بنا لیجیے۔ تو یہ چھ چیزیں جو ہیں بھئی یہ آپ کو یاد ہونی چاہییں بھئی۔ یہ جگہ جگہ کام آئیں گی آپ کو، آپ قرآن میں مثلاً تلاوت کر رہے ہیں کہیں پر نصب وغیرہ آئے گا آپ حیران ہوں گے کہ یہ نصب کیوں آرہا ہے، یہاں تو کوئی ”أَنْ“ وغیرہ بھی نہیں، آپ غور کریں گے تو وہ انہی چھ جگہوں میں سے کوئی ایک جگہ عموماً ہوگی بھئی۔ اور مثلاً وہ کیا کیا ہیں؟ امر ہے، وہ چھ چیزیں کیا ہیں؟ امر ہے، نہی ہے، استفہام ہے، نفی ہے، تمنی ہے اور عرض ہے بھئی، عرض ہے۔ اور ان کے بعد ”أَنْ“ مقدر ہوتا ہے جب ان چھ چیزوں کے جواب میں فاء یا واؤ آجائے، تو اس فاء یا واؤ کے بعد ”أَنْ“ مقدر ہوگا۔ وجہ اس کی یہ، وجہ اس کی یہ کہ یہ جو چھ چیزیں ہیں ان میں سے ایک نفی کو نکال دیں، باقی جو پانچ چیزیں ہیں، یعنی امر، یہ سب انشا ہیں، یہ سب انشا ہیں۔ دیکھو امر، یہ بھی کیا ہے؟ انشا۔ نہی بھی کیا ہے؟ انشا۔ استفہام بھی انشا، اور تمنی بھی انشا، اور عرض بھی کیا ہے؟ انشا ہے بھئی، انشا ہے۔ یہ چھ چیزیں انشا ہیں۔ اور مابعد جو ہے فعل مضارع جو آرہا ہے وہ خبر ہے، خبر ہے۔ اور انشا اور خبر دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں، جو انشا ہے وہ خبر نہیں، جو خبر ہے وہ انشا نہیں۔ کلام ایک وقت میں یا انشا ہوگا یا خبر ہوگا، دونوں جمع نہیں ہو سکتے، دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ اور یہ فاء اور واؤ تو آتے ہیں عطف کے لیے۔ تو گویا مابعد میں ہے خبر، اس کا عطف ہو رہا ہے کس پر؟ ماقبل میں انشا ہے، انشا پر، اور حالانکہ یہ جائز نہیں۔ خبر پر انشا کا عطف نہیں ہو سکتا اور انشا پر خبر کا عطف نہیں ہو سکتا۔ یاد رکھیے عطف کے لیے مناسبت ضروری ہے دو چیزوں کے اندر۔ دونوں جملوں میں کیا ضروری ہے؟ یعنی ماقبل میں اگر انشا ہے تو مابعد میں بھی انشا ہونا چاہیے، اسی طرح ماقبل میں اگر خبر ہے تو مابعد میں بھی خبر ہونی چاہیے، پھر ہی عطف صحیح ہوگا۔ اور نیز، نیز عطف کے لیے مناسبت ضروری ہے، مسند میں بھی مناسبت ضروری اور مسند الیہ میں بھی مناسبت ضروری، بغیر مناسبت کے عطف نہیں کریں گے۔ جیسے مثلاً میں کہتا ہوں ”قَامَ زَيْدٌ وَجَلَسَ عَمْرٌو“، دیکھو میں نے ”جَلَسَ عَمْرٌو“ کا عطف کیا کس پر؟ ”قَامَ زَيْدٌ“ پر۔ ”قَامَ زَيْدٌ“ بھی جملہ خبریہ اور ”جَلَسَ عَمْرٌو“ یہ بھی کیا ہے؟ جملہ خبریہ۔ تو خبر کا عطف کس پر ہوتا ہے؟ خبر پر عطف ہوتا ہے، اور انشا کا عطف انشا پر ہوتا ہے۔ نیز صرف خبر اور انشا ہونے میں مناسبت کافی نہیں بلکہ ضروری ہے کہ دونوں کے مسند میں بھی مناسبت ہو اور دونوں کے مسند الیہ میں بھی کیا ہو؟ مناسبت۔ جیسے دیکھو یہاں پہلا جملہ کیا ہے ”قَامَ زَيْدٌ“، مسند کیا؟ ”قَامَ“، قیام ذکر ہو رہا ہے۔ اور دوسرے میں ”جَلَسَ عَمْرٌو“، اس میں کیا ذکر ہو رہا ہے؟ جلوس۔ قیام کا معنی کھڑے ہونا، جلوس کا معنی بیٹھنا۔ دیکھا دونوں میں مناسبت ہے بھئی، قیام اور جلوس کیا ہیں؟ ایک دوسرے کے ساتھ مناسب ہیں، کھڑے ہونا اور بیٹھنا بھئی۔ اور اسی طرح دونوں کے جو مسند الیہ ہیں ان میں بھی مناسبت ضروری ہے۔ مثلاً ایک کا مسند الیہ ہے زید، دوسرے کا مسند الیہ ہے عمرو، ان میں بھی مناسبت ضروری ہے کہ زید اور عمرو مثلاً دونوں بھئی ہیں یا دونوں دوست ہیں یا ان دونوں کا کوئی تعلق ہے، کوئی نہ کوئی تعلق ہوگا پھر ہی آپ کہیں گے ”قَامَ زَيْدٌ وَجَلَسَ عَمْرٌو“، اگر کوئی تعلق نہیں تو پھر عطف بھی نہیں کر سکتے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو دونوں بھئی ہیں یا دوست ہیں یا اکٹھے سفر کر رہے ہیں یا کوئی اس طرح کی کوئی نہ کوئی ربط اور تعلق ضرور ہوگا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ لہٰذا یہاں پر یہ فاء اور واؤ آئے اور عطف کیا جارہا ہے ایک نوعِ کلام کو دوسرے نوعِ کلام پر فاء اور واؤ کے ذریعے اور یہ تو جائز نہیں ہے، ابھی میں نے بتایا جس میں تو مناسبت ضروری ہے۔ ماقبل میں اگر انشا ہے تو فاء اور واؤ کے بعد بھی انشا ہونا چاہیے پھر ہی عطف جائز ہوگا۔ تو پھر اس وجہ سے یہاں پر فاء اور واؤ کے بعد ”أَنْ“ مقدر ہوتا ہے، اور آپ جانتے ہیں ”أَنْ“ جب فعل پر داخل ہوتا ہے تو اس کو مصدر کے معنی میں کر دیتا ہے، یعنی مفرد کے معنی میں کر دیتا ہے۔ کس معنی میں؟ مفرد کے معنی میں۔ تو یہ مفرد کے معنی میں ہوگئے اور اسی طرح ماقبل والا جو انشا ہے وہ بھی اس میں بھی وہ بھی مفرد کی تاویل، اس میں بھی تاویل کرکے اسے مفرد بنا لیا جاتا ہے اور اس طرح مفرد کا مفرد پر عطف ہو جاتا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ اچھا ایک چھوٹی سی بات رہ گئی کہ وہ فاء اور واؤ جو چھ چیزوں کے جواب میں آئیں ان کے بعد ”أَنْ“ مقدر ہوگا۔ تو باقی سب جگہ تو بات ٹھیک ہے، ماقبل میں انشا ہے اور مابعد میں کیا ہے؟ خبر۔ لیکن نفی، نفی تو انشا نہیں ہے۔ نفی اور نہی میں فرق پتہ ہے؟ نہی میں حکم ہوتا ہے، نفی میں ویسے نفی کی جاتی ہے ایک چیز کی۔ میں کہتا ہوں ”لَا تَضْرِبْ“ پٹائی نہ کر، یہ ہے نہی، منع کیا جارہا ہے۔ اور ایک ہے ”لَا تَضْرِبُ“ آپ پٹائی نہیں کر رہے، یہ ویسے خبر دی جارہی ہے۔ تو یہ ہے نفی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو سوال یہ کہ باقی چیزیں تو ٹھیک ہیں انشا ہیں، لیکن نفی وہ تو انشا نہیں ہے، تو پھر وہاں پر فاء اور واؤ کے بعد ”أَنْ“ مقدر کیوں ہوگا؟ وہاں تو ماقبل بھی جملہ خبریہ اور مابعد بھی جملہ خبریہ۔ تو جواب یہ کہ نفی جو ہے وہ نہی پر محمول ہے۔ نفی کی صورت جو ہے کس کی طرح ہوتی ہے؟ نہی جیسی ہی صورت ہوتی ہے تقریباً۔ تو لہٰذا جب نہی کے اندر ”أَنْ“ مقدر تھا تو نفی میں بھی ”أَنْ“ مقدر ہوگا۔ یہاں تک مثالیں اچھی طرح سمجھ میں آگئیں؟ معنی بھی ہر ایک کا سمجھ میں آگیا؟ ”وَبَعْدَ أَوْ بِمَعْنَى إِلَى أَنْ أَوْ إِلَّا أَنْ“، اور ”أَنْ“ مقدر ہوتا ہے ”بَعْدَ أَوْ“، کس کے بعد؟ ”أَوْ“ کے بعد، وہ ”أَوْ“ ”بِمَعْنَى إِلَى أَنْ أَوْ إِلَّا أَنْ“ جو ”إِلَى أَنْ“ یا ”إِلَّا أَنْ“ کے معنی میں ہو، اس ”أَوْ“ کے بعد بھی ”أَنْ“ مقدر ہوتا ہے۔ نَحْوُ مثال کے طور پر: ”لَأَحْبِسَنَّكَ أَوْ تُعْطِيَنِي حَقِّي“، دیکھا یہ ”أَوْ“ یہ ”إِلَى أَنْ“ یا ”إِلَّا أَنْ“ کے معنی میں ہے اس لیے ”تُعْطِيَ“، دیکھو یا پر کیا پڑھ رہے ہیں؟ نصب آپ پڑھ رہے ہیں بھئی، تو ”تُعْطِيَ“ منصوب ہے۔ ”لَأَحْبِسَنَّكَ أَوْ تُعْطِيَنِي حَقِّي“، ”لَأَحْبِسَنَّكَ“ دیکھو لام تاکید کے لیے ہے اور آخر میں نون ثقیلہ بھی تاکید کے لیے، ”لَأَحْبِسَنَّكَ“ میں ضرور بالضرور آپ کو قید میں ڈالوں گا، ”أَوْ تُعْطِيَنِي حَقِّي“ أَيْ ”إِلَى أَنْ تُعْطِيَنِي حَقِّي“ یہاں تک کہ آپ دے دیں مجھے ”حَقِّي“ میرا حق۔ میں آپ کو ضرور قید میں ڈالوں گا یہاں تک کہ آپ مجھے اپنا حق دے دیں بھئی۔ تو یہ ”أَوْ“، ”إِلَى أَنْ“ کے معنی میں ہے، یہاں تک کہ، میں آپ کو جیل میں ڈالوں گا یہاں تک کہ آپ مجھے اپنا حق دے دیں۔ یا یہ ”إِلَّا أَنْ“ کے معنی میں ہے، میں آپ کو ضرور جیل میں ڈالوں گا ”إِلَّا أَنْ“ مگر یہ کہ آپ مجھے میرا حق دے دیں۔ بات سمجھ میں آگئی؟ بھئی اس لیے یہ ”إِلَى أَنْ“ یا ”إِلَّا أَنْ“ کو ذکر کیا کہ علماء کے دو گروہ ہیں بھئی۔ جمہور نحویوں کے نزدیک یہ ”أَوْ“، ”إِلَى أَنْ“ کے معنی میں ہے جبکہ امام سیبویہ رحمہ اللہ وغیرہ کے نزدیک یہ ”أَوْ“، ”إِلَّا أَنْ“ کے معنی میں ہے۔ تو دونوں کو ذکر کر دیا بھئی۔ ایک طرف اگر جمہور نحوی ہیں تو دوسری طرف امام سیبویہ ہیں جن کی بات نحو میں پہاڑ کی طرح مضبوط سمجھی جاتی ہے، تو چونکہ وہ بھی بہت بڑے امام ہیں نحو کے اس لیے ان کے قول کو بھی ساتھ ذکر کر دیا بھئی۔ تو یہ ”أَوْ“ کس معنی میں ہے؟ جمہور نحویوں کے نزدیک ”إِلَى أَنْ“، اور امام سیبویہ کے نزدیک ”إِلَّا أَنْ“ کے معنی میں ہے بھئی۔ ”وَوَاوِ الْعَطْفِ“، اور واؤِ عطف کے بعد بھی، ”إِذَا كَانَ الْمَعْطُوفُ عَلَيْهِ اسْمًا صَرِيحًا“ جبکہ معطوف علیہ صریح اسم ہو۔ بھئی ایک ہوتا ہے اسمِ صریح، ”زَيْدٌ“ یہ کیا ہے؟ صریح، یعنی صاف لفظوں میں جو اسم ہے: ”زَيْدٌ“، ”عَمْرٌو“، ”بَكْرٌ“، یہ ”كِتَابٌ“، ”قَلَمٌ“، یہ سب کیا ہیں؟ اسم ہیں۔ اور ایک اسمِ مؤول ہوتا ہے۔ فعل پر جب ”أَنْ“ داخل ہوجائے وہ ”أَنْ“ اس کو کس معنی میں کر دیتا ہے؟ مصدر کے معنی میں، یعنی اسم بنا دیتا ہے لیکن وہ اسمِ صریح نہیں ہے بلکہ اسمِ مؤول ہے۔ کیا ہے؟ اسمِ مؤول، یعنی اس میں تاویل کی گئی ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو میں نے ابھی آپ کو بتایا کہ عطف بغیر وجہ کے نہیں، عطف کے لیے مناسبت ضروری ہے۔ اگر ماقبل میں جملہ انشائیہ ہے تو یاد رکھیے جو ماقبل ہوتا ہے اسے کہتے ہیں معطوف علیہ، اس پر عطف کیا جارہا ہے۔ اور جو واؤ اور فاء کے وغیرہ کے بعد ہوتا ہے اس کو کہتے ہیں معطوف، یعنی اس کا عطف کیا جارہا ہے، اس کا عطف کیا جارہا ہے۔ تو اگر معطوف علیہ جملہ انشائیہ ہو تو معطوف کا بھی جملہ انشائیہ ہونا ضروری، اور معطوف علیہ اگر جملہ خبریہ ہو تو معطوف کا بھی جملہ خبریہ ہونا ضروری ہے۔ اور نیز یہ بھی یاد رکھیے مفرد کا عطف مفرد پر ہوتا ہے اور جملے کا عطف جملے پر ہوتا ہے بھئی۔ لہٰذا اگر ماقبل میں ہے اسمِ صریح، یعنی معطوف علیہ کیا ہے؟ اسمِ صریح، ایک اسم ہے، واضح صاف اسم ہے۔ اور مابعد میں اگر فعل آیا، واؤ یا فاء کے بعد کیا ہے؟ فعل۔ اب فعل کا عطف تو اسم پر نہیں ہو سکتا کیونکہ اسم ہے مفرد اور فعل جو ہے وہ بنے گا جملہ اپنے فاعل وغیرہ سے مل کر، تو مفرد کا عطف مفرد پر ہوتا ہے جملے کا عطف مفرد پر نہیں، تو پھر یہاں اس واؤ کے بعد ”أَنْ“ مقدر ہوگا اور یہ ”أَنْ“ کیا کرے گا؟ اس فعل کو کس معنی میں کر دے گا؟ مصدر کے معنی میں کر دے گا، یعنی وہ اسمِ مؤول بن گیا۔ تو ماقبل میں ہے اسمِ صریح اور واؤ کے مابعد کیا ہوا؟ اسمِ مؤول۔ تو لہٰذا گویا اسم کا اسم پر کیا ہو جائے گا؟ عطف۔ تو ایسا واؤ جس سے ماقبل کیا ہو؟ یعنی یوں کہو، معطوف علیہ کیا ہو؟ اسمِ صریح، اور معطوف کون ہو؟ فعل ہو، تو وہاں پر کیا مقدر ہوگا؟ ”أَنْ“ مقدر ہوگا۔ یہی بات بیان کر رہے ہیں ”وَوَاوِ الْعَطْفِ“، اور ”أَنْ“ مقدر ہوگا واؤِ عطف کے بعد، ”إِذَا كَانَ الْمَعْطُوفُ عَلَيْهِ اسْمًا صَرِيحًا“ جبکہ معطوف علیہ صریح اسم ہو، یعنی واضح اسم ہو۔ نَحْوُ ”أَعْجَبَنِي قِيَامُكَ وَتَخْرُجَ“، أَيْ ”وَأَنْ تَخْرُجَ“، دیکھا؟ ”تَخْرُجَ“ پر نصب بتلا رہا ہے یہ واؤ کے واؤ کے بعد کیا مقدر ہے؟ ”أَنْ“ مقدر ہے۔ ”أَعْجَبَنِي“ مجھے تعجب میں ڈالا، کس چیز نے تعجب میں ڈالا؟ ”قِيَامُكَ“ یہ فاعل ہے اسی لیے مرفوع ہے۔ مجھے تعجب میں ڈالا ”قِيَامُكَ“ آپ کے کھڑے ہونے نے، ”وَأَنْ تَخْرُجَ“ اور آپ کے نکلنے نے۔ دیکھو ”تَخْرُجَ“ تو فعل ہے لیکن میں معنی مصدر والا کر رہا ہوں کیونکہ ”أَنْ“ مقدر ہے: ”أَنْ تَخْرُجَ“، ”أَنْ تَخْرُجَ“۔ ”أَنْ تَخْرُجَ“ سے مفرد بناؤ ذرا بھئی۔ وہی مضمونِ جملہ نکال لو۔ کیا کرو؟ مسند کا مصدر نکالو اور مسند الیہ کی مسند الیہ کی طرف اس کی اضافت کر دو۔ ”أَنْ تَخْرُجَ“، ”تَخْرُجَ“ کا مصدر آئے گا خروج، اور مسند الیہ کون؟ ”أَنْتَ“ ضمیر ہے۔ ”أَنْتَ“ ضمیر یعنی مفرد مخاطب ہے۔ اس مفرد مخاطب کی طرف اس کی اضافت کر دو: ”خُرُوجُكَ“، شاباش۔ ”أَنْتَ“ تو مرفوع ہے نا اور مضاف الیہ تو کیا ہوتا ہے؟ مجرور، تو وہ وہی ضمیر لے آؤ لیکن مجرور والی لے آؤ۔ تو گویا جملہ یوں ہوگیا ”أَعْجَبَنِي قِيَامُكَ وَخُرُوجُكَ“، مجھے تعجب میں ڈالا آپ کے کھڑے ہونے نے اور آپ کے نکلنے نے۔ ترکیب سمجھ میں آرہی ہے؟ جی ترکیب کیجیے بھئی: ”أَعْجَبَ“ فعل، نون وقایہ، یا ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ، ”قِيَامُ“ مرفوع لفظاً مضاف، مرفوع کیوں؟ کیونکہ یہ فاعل ہے۔ لفظاً کیوں؟ اس کے رفع پر، رفع، پوری بات کریں، اس کے رفع پر آپ کیا کر رہے ہیں؟ تلفظ کر رہے ہیں، جی۔ کاف ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ۔ آپ کو کیسے پتہ چلا ”قِيَامُ“ مضاف ہے اور کاف ضمیر مضاف الیہ؟ کیونکہ جس اسم کے ساتھ بھی کیا آجائے؟ ضمیرِ متصل، وہ آپس میں مضاف مضاف الیہ بنتے ہیں۔ تو کاف ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ۔ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر؟ ہاں فاعل نہ بناؤ، فاعل تو ہے ٹھیک ہے لیکن آگے معطوف کو بھی جوڑنا ہے۔ ہاں تو ”قِيَامُ“ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر معطوف علیہ بھئی، واؤ حرفِ عطف اور ”تَخْرُجَ“ فعل مضارع جس کے اندر ”أَنْتَ“ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر، بتاویلِ مصدر، ”أَنْ“ مقدرہ کی وجہ سے بتاویلِ مصدر یہ معطوف ہوا۔ معطوف علیہ اپنے معطوف سے مل کر یہ فاعل، فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ تو دیکھیے انہوں نے ذکر کیا تھا سات جگہیں ایسی ہیں جہاں پر ”أَنْ“ مقدر ہوگا، وہ سات جگہیں ذرا پھر دیکھ لیں، گنتے بھی جائیں بھئی: نمبر ایک: ”حَتَّى“ کے بعد۔ نمبر دو: لامِ ”كَيْ“ کے بعد۔ نمبر تین: لامِ جحد کے بعد۔ نمبر چار: وہ فاء جو چھ چیزوں کے جواب میں آئے۔ اور اسی طرح پانچویں جگہ: وہ واؤ جو چھ چیزوں کے جواب میں آئے۔ اور چھٹی جگہ: وہ ”أَوْ“ جو ”إِلَى أَنْ“ یا ”إِلَّا أَنْ“ کے معنی میں ہو۔ اور نیز اسی طرح وہ واؤِ عطف جہاں پر معطوف علیہ اسمِ صریح ہو اور مابعد میں کیا آرہا ہو؟ فعل آرہا ہو۔ تو یہ سات جگہیں ہیں بھئی۔ آگے دیکھیے بھئی: ”وَيَجُوزُ إِظْهَارُ أَنْ“۔ اچھا یہ تو وہ جگہیں تھیں جہاں ”أَنْ“ کا مقدر، ہاں ”أَنْ“ مقدر ہوتا ہے لفظوں میں ظاہر نہیں ہوگا، ہمیشہ کیا ہوگا؟ مقدر۔ اب وہ جگہ ذکر کرنے لگے ہیں جہاں پر ”أَنْ“ کا ظاہر کرنا بھی جائز ہے۔ ”أَنْ“ مقدر ہوتا ہے لیکن اس کو ظاہر کرنا بھی جائز، وہ کون سی جگہیں؟ تو کہتے ہیں ”وَيَجُوزُ إِظْهَارُ أَنْ مَعَ لَامِ كَيْ“، اور جائز ہے ”أَنْ“ کو ظاہر کرنا ”مَعَ لَامِ كَيْ“ کس کے ساتھ؟ لامِ ”كَيْ“ کے ساتھ۔ نَحْوُ ”أَسْلَمْتُ لِأَنْ أَدْخُلَ الْجَنَّةَ“۔ تو آپ دونوں طرح کہہ سکتے ہیں: ”أَسْلَمْتُ لِأَدْخُلَ الْجَنَّةَ“ اور ”أَسْلَمْتُ لِأَنْ أَدْخُلَ الْجَنَّةَ“، میں اسلام لایا تاکہ میں جنت میں داخل ہو جاؤں۔ اسی طرح ”وَمَعَ وَاوِ الْعَطْفِ“، واؤِ عطف کے ساتھ بھی ”أَنْ“ مقدرہ کو ظاہر کرنا بھی جائز۔ نَحْوُ ”أَعْجَبَنِي قِيَامُكَ وَأَنْ تَخْرُجَ“، دیکھا اب یہاں پر ”أَنْ“ کیا ہے؟ باقاعدہ لفظوں میں ذکر ہے۔ ”وَيَجِبُ إِظْهَارُ أَنْ“، اچھا، ایک صورت میں ”أَنْ“ کو ظاہر کرنا واجب ہے، یہ تو یہ تو وہ دو جگہیں ذکر ہوئیں نا جہاں ”أَنْ“ کو ظاہر کرنا جائز تھا، حذف بھی کر سکتے تھے، ظاہر بھی کر سکتے تھے۔ اور اب وہ جگہ ذکر کر رہے ہیں جہاں ”أَنْ“ کو ظاہر کرنا واجب ہے۔ وہ کون سی جگہ؟ کہتے ہیں ”وَيَجِبُ إِظْهَارُ أَنْ فِي لَامِ كَيْ إِذَا اتَّصَلَتْ بِلَا النَّافِيَةِ“، اور واجب ہے ”أَنْ“ کا ظاہر کرنا لامِ ”كَيْ“ میں ”إِذَا اتَّصَلَتْ“ جب وہ مل جائے ”بِلَا النَّافِيَةِ“ لائے نافیہ کے ساتھ۔ بھئی دیکھیے یہ لامِ ”كَيْ“ جو ہے کبھی کبھی لائے نفی پر داخل ہو جاتا ہے۔ لامِ ”كَيْ“ کس پر داخل ہوا؟ ”لَا تَضْرِبْ“، یہ ”لَا“ کیا ہے؟ نفی والا، اسی پر کیا داخل ہو جائے؟ لامِ ”كَيْ“ داخل ہو جائے تو اب ”أَنْ“ کو لفظوں میں ظاہر کرنا واجب، اس لیے کیونکہ مابعد میں ہے مثلاً ”لَا تَضْرِبْ“ لام آرہا ہے لام آرہا ہے، اور ماقبل میں آپ اور اس پر آپ کس کو داخل کرنا چاہتے ہیں؟ لامِ ”كَيْ“، تو دو لام جمع ہو جائیں گے اور دو لاموں کا جمع ہونا اس طرح پسندیدہ نہیں، تو لہٰذا اب وہ جو ”أَنْ“ مقدر تھا اس کو ظاہر کرنا واجب ہے۔ اور کیسے پڑھیں گے؟ ”لِئَلَّا“، وہ پھر ”لِأَنْ لَا“، پھر یہ نون نون ساکن آیا اور مابعد میں کیا ہے؟ لام، اور لام کس میں سے؟ حروفِ یرملون میں سے، لہٰذا اس نون کو بھی لام کرکے لام میں ادغام کیا تو کیسے پڑھیں گے؟ ”لِئَلَّا“، ”لِئَلَّا يَضْرِبَ“، صورت سمجھ میں آگئی؟ اور نیز پھر رسم الخط بھی خاص ہوگا، ”أَنْ“ کو ”أَنْ“ کی شکل میں نہیں لکھنا، دیکھیے کتاب میں: نَحْوُ ”لِئَلَّا يَعْلَمَ“، ”لِئَلَّا“ دیکھا؟ لام کے ساتھ جو ہمزہ ہے اس کو دندانے پر لکھا بھئی اور اس کو ملا دیا اگلے ”لَا“ کے ساتھ اور وہ اگلا لام مشدد ہے، وہ جو نون ہے اس کا لام میں کیا ہو چکا؟ ادغام ہو چکا، تو لکھنا بھی اسی طرح ضروری ہے، رسم الخط بھی اس کا خاص ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو کہتے ہیں ”وَيَجِبُ إِظْهَارُ أَنْ فِي لَامِ كَيْ إِذَا اتَّصَلَتْ بِلَا النَّافِيَةِ نَحْوُ لِئَلَّا يَعْلَمَ“۔ آگے دیکھیے بھئی: ”وَاعْلَمْ أَنَّ ”أَنْ“ الْوَاقِعَةَ بَعْدَ الْعِلْمِ لَيْسَتْ هِيَ النَّاصِبَةَ لِلْفِعْلِ الْمُضَارِعِ، وَإِنَّمَا هِيَ الْمُخَفَّفَةُ مِنَ الْمُثَقَّلَةِ“۔ اب یاد رکھیے بھئی یہ جو ”إِنَّ“ اور ”أَنَّ“ ہیں، ”إِنَّ“ میں بھی نون مشدد، ”أَنَّ“ میں بھی کیا ہے؟ نون مشدد۔ تو کبھی کبھار اس نونِ مشدد میں تخفیف کرتے ہیں اور ایک ایک نون کو حذف کر لیتے ہیں، تو پھر اس صورت میں ”إِنَّ“ جو ہے اس کو ”إِنْ“ پڑھتے ہیں اور ”أَنَّ“ کو ”أَنْ“ پڑھتے ہیں۔ ”إِنَّ“ کو کیا پڑھتے ہیں؟ ”إِنْ“۔ تو اس صورت میں ”إِنَّ“ کو ”إِنْ“ پڑھتے ہیں اور ”أَنَّ“ کو ”أَنْ“، اور تو اس صورت میں ان کو کہتے ہیں مخففہ من المثقلہ، یعنی ان کو خفیف بنایا گیا ہے من المثقلہ، کس سے؟ مثقلہ سے، جو ثقیل تھا بھئی۔ اب آپ کو ایک قیمتی بات بتلانے لگے ہیں کہ بھئی یاد رکھیے کبھی کبھار لفظِ علم، یعنی مادۂ علم کے بعد ”أَنْ“ کا لفظ آئے گا، ”أَنْ“۔ بھئی آپ جانتے ہیں ”اِعْلَمْ“ کے بعد ”أَنَّ“ پڑھتے ہیں ہمیشہ، جیسے یہاں پر آیا ”وَاعْلَمْ أَنَّ“، تو یہ ”أَنَّ“ پڑھتے ہیں۔ تو ”اِعْلَمْ“ کے بعد بعض اوقات ”أَنْ“ آئے گا تو آپ یہ نہ سمجھنا کہ یہ ”أَنْ“ مصدریہ ہے بلکہ وہ دراصل ”أَنْ“ مخففہ من المثقلہ ہوگا، یعنی دراصل ”أَنَّ“ تھا اور پھر کیا بنا دیا گیا؟ ”أَنْ“ بنا دیا گیا۔ اور یہ بھی یاد رکھیے یہ جب ”أَنَّ“ مخففہ ہوتا ہے، یہ جو ”أَنَّ“ کو جب اس میں تخفیف کرتے ہیں اس کا ایک نون حذف کرتے ہیں تو اس کا اسم جو ہے وہ ضمیرِ شان ہوتی ہے اس کو بھی حذف کر لیتے ہیں۔ مثلاً ایک جگہ پر آیا ”اِعْلَمْ أَنْ سَيَقُومُ“، مثلاً ”اِعْلَمْ أَنْ سَيَقُومُ“، تو آپ سمجھ گئے کہ ”اِعْلَمْ“ عَلِمَ مادے کے بعد کیا آرہا ہے؟ ”أَنْ“، یہ کیا ہے دراصل؟ اصل میں ”أَنَّ“ تھا اور نیز اس کا اسم ضمیرِ شان بھی محذوف ہے، تو اصل میں یوں تھا ”اِعْلَمْ أَنَّهُ سَيَقُومُ“، تو جب نون میں ”أَنَّ“ میں تخفیف کی تو ہا جو ضمیرِ شان جو اس کا اسم تھا اس کو بھی کیا کر دیا؟ حذف۔ ”أَنَّ“ کیا چاہتا ہے؟ ایک اسم اور ایک خبر، تو اس کا اسم ضمیرِ شان کیا ہے؟ محذوف ہوگی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ اور نیز یہ بھی یاد رکھیے پھر اس صورت میں اس صورت میں اس ”أَنْ“ جو مخففہ من المثقلہ ہے اس ”أَنْ“ میں اور آگے جو فعل آرہا ہے فعل مضارع، اس پر اس میں فاصلہ بھی کیا جائے گا، کبھی درمیان میں سین لے آئیں گے ”أَنْ سَيَقُومُ“، کبھی سوف لے آئیں گے ”أَنْ سَوْفَ يَقُومُ“، اور کبھی کبھار قد کے ذریعے فصل کیا جائے گا فعل میں اور ”أَنْ“ میں۔ اب دیکھیے بھئی کہتے ہیں ”وَاعْلَمْ أَنَّ ”أَنْ“ الْوَاقِعَةَ بَعْدَ الْعِلْمِ“، جان لے ”أَنَّ ”أَنْ“ الْوَاقِعَةَ“، یہ ”أَنْ“ جو ہے نا اس سے لفظِ ”أَنْ“ مراد ہے، جان لے کہ ”أَنْ“ کا لفظ وہ لفظ جو واقع ہو ”بَعْدَ الْعِلْمِ“ کس کے بعد؟ علم کے بعد، یعنی مادۂ علم: عین، لام، میم۔ اور یہ بھی یاد رکھیے مادۂ علم سے صرف یہاں مادۂ علم ہی نہیں مراد بلکہ وہ تمام افعال مراد ہیں جو یقین پر دلالت کرتے ہیں۔ کس پر دلالت کرتے ہیں؟ یقین پر دلالت کرتے ہیں۔ بھئی علم جو ہے نا آگے اس کا باقاعدہ اس کے فصل بھی آنے والی ہے، ان کو یہ علم ”عَلِمْتُ“، ”عَلِمْتُ“ میں نے جانا، یعنی میں نے یقین کیا، تو یہ یقین کے لیے آتے ہیں۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو یہ یقین والے افعال مراد ہیں، یقین والے جتنے افعال ہیں ان کے بعد جو ”أَنْ“ آئے وہ ”أَنْ“ مخففہ من المثقلہ ہوگا، ”أَنْ“ مصدریہ نہیں ہوگا۔ تو کہتے ہیں ”وَاعْلَمْ أَنَّ ”أَنْ“ الْوَاقِعَةَ بَعْدَ الْعِلْمِ لَيْسَتْ هِيَ النَّاصِبَةَ لِلْفِعْلِ الْمُضَارِعِ وَإِنَّمَا هِيَ الْمُخَفَّفَةُ مِنَ الْمُثَقَّلَةِ“، جان لے کہ وہ ”أَنْ“ جو واقع ہو علم کے بعد، یہ وہ ”أَنْ“ نہیں ہے جو نصب دے فعل مضارع کو، اور یہ تو مخففہ من المثقلہ ہی ہے۔ نَحْوُ مثال کے طور پر: ”عَلِمْتُ أَنْ سَيَقُومُ“، دراصل یہ کیا تھا؟ ”عَلِمْتُ أَنَّهُ سَيَقُومُ“، تو ”أَنَّهُ“ میں ہا ضمیر ضمیرِ شان وہ اس کا اسم اور ”سَيَقُومُ“ پورا جملہ اس کی خبر، اس ”أَنَّ“ کی۔ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى، قرآن میں فرماتے ہیں: ”عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَرْضَى“، ”عَلِمَ“ اللہ جانتے ہیں ”أَنْ سَيَكُونُ“، دیکھا ”أَنْ سَيَكُونُ“، ”سَيَكُونُ“ پر رفع آرہا ہے، یہ رفع بتلا رہا ہے کہ یہ ”أَنْ“ ناصبہ نہیں ہے، اگر ”أَنْ“ مصدریہ ہوتا، ناصبہ ہوتا تو ”سَيَكُونَ“ ہونا چاہیے تھا، تو ”عَلِمَ أَنَّهُ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَرْضَى“، ”مَرْضَى“ جمع ہے مریض کی، اللہ جانتے ہیں کہ تم میں سے عنقریب کچھ لوگ بیمار ہوں گے۔ ”وَعَنِ الْوَاقِعَةِ بَعْدَ الظَّنِّ جَازَ فِيهِ الْوَجْهَانِ“، اور وہ ”أَنْ“ جو واقع ہو ظن کے بعد، ظن کسے کہتے ہیں؟ غالب گمان۔ مثلاً آپ کا ایک چیز کے بارے، مثلاً آپ کا خیال ہے پتہ نہیں زید گیا ہے یا زید نہیں گیا، تو جو غالب خیال ہے اس کو ظن کہتے ہیں۔ مثلاً آپ کا زیادہ خیال یہ ہے کہ زید چلا گیا ہوگا تو اس کو کیا کہیں گے؟ ظن۔ تو ظن کے بعد اگر ”أَنْ“ آجائے تو کیا یہ کون سا ”أَنْ“ ہے؟ تو کہتے ہیں بھئی اس میں دونوں وجہیں پڑھنا جائز ہیں۔ آپ چاہیں تو اس کو ”أَنْ“ مخففہ من المثقلہ بنا لیں اور آگے فعل مضارع پر رفع پڑھیں، اور آپ چاہیں تو اس کو ”أَنْ“ مصدریہ بنا لیں اور اس کے بعد فعل مضارع پر کیا پڑھ لیں؟ نصب۔ ”وَعَنِ الْوَاقِعَةِ بَعْدَ الظَّنِّ جَازَ فِيهِ الْوَجْهَانِ“، اور وہ ”أَنْ“ جو ظن کے بعد واقع ہو، یاد رکھیے ظن سے مراد ظن جیسے صرف ظن ہی نہیں ہے بلکہ اس جیسے اور افعال بھی مراد ہیں جن میں غالب گمان ہو بھئی، یعنی جن میں یقین نہ ہو، جن میں کیا ہو؟ جن میں یقین نہ ہو وہ بھی اس میں داخل ہیں۔ تو کہتے ہیں وہ ”أَنْ“ جو ظن کے بعد واقع ہو ”جَازَ فِيهِ الْوَجْهَانِ“ اس میں دونوں وجہیں پڑھنا جائز ہیں: ”النَّصْبُ بِهَا“ ایک تو نصب بھی جائز ہے اس ”أَنْ“ کی وجہ سے، اور دوسرا ”وَأَنْ تَجْعَلَهَا كَالْوَاقِعَةِ بَعْدَ الْعِلْمِ“، اور یہ کہ آپ اس کو کر دیں اس ”أَنْ“ کی طرح جو علم کے بعد آیا تھا، اور علم کے بعد تو کون سا ”أَنْ“ تھا؟ مخففہ من المثقلہ، تو چاہے آپ اس کو اس کے بعد نصب پڑھیں، یعنی اس کو ”أَنْ“ مصدریہ بنائیں اور چاہے آپ اس کو اس ”أَنْ“ کی طرح کر دیں جو کس کے بعد تھا؟ علم کے بعد، اور علم کے بعد تو کون سا ”أَنْ“ تھا؟ تو چاہے یعنی آپ اس کو مخففہ من المثقلہ پڑھ دیں۔ نَحْوُ ”ظَنَنْتُ أَنْ سَيَقُومُ“، دیکھا میں نے کون سا ”أَنْ“ پڑھا؟ ”ظَنَنْتُ أَنْ سَيَقُومُ“، ”أَنْ“ مخففہ من المثقلہ، شاباش۔ اور ”ظَنَنْتُ أَنْ سَيَقُومَ“، یہ کون سا ”أَنْ“ پڑھا؟ یہ ”أَنْ“ مصدریہ میں نے پڑھا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ بھئی کیا وجہ ہے کہ علم کے بعد ”أَنْ“ جو ہے وہ علم اور علم جیسے افعال جو یقین کے لیے آتے ہیں ان کے بعد جو ”أَنْ“ آئے وہ ”أَنْ“ مخففہ من المثقلہ ہوگا، ”أَنْ“ مصدریہ نہیں ہوگا، اس کی کیا وجہ؟ وجہ یہ، یاد رکھیے کہ ”إِنَّ“ اور ”أَنَّ“ آپ جانتے ہیں یہ یقین کے لیے آتے ہیں، کلام میں تاکید اور زور پیدا کرتے ہیں۔ اور یہ جو ”أَنْ“ مصدریہ ہے نا، یہ امید کے لیے آتا ہے، اور امید اور یقین ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ امید اور یقین کیا ہیں؟ ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ آپ امید کا لفظ وہاں استعمال کرتے ہیں جہاں یقین نہیں ہوتا، مثلاً آپ کہتے ہیں: میں جاؤں گا، امید ہے زید میرے ساتھ مل لے گا، دیکھا؟ معلوم ہوا آپ کو یقین نہیں ہے۔ تو ”أَنَّ“ جو ہے وہ یقین کے لیے آتا ہے اور ”أَنْ“ جو ہے وہ امید کے لیے آتا ہے، اور فعلِ علم جو ہے وہ یقین کے لیے آتا ہے، تو لہٰذا اس کے ساتھ کس کی مناسبت ہے؟ ”أَنَّ“ اور ”إِنَّ“ کی مناسبت تو ہے، ”أَنْ“ کی مناسبت نہیں ہے، لہٰذا وہاں ”أَنْ“ نہیں ہوگا۔ اور جبکہ ظن، ظن کس کو کہتے ہیں؟ غالب گمان، اور جب غالب گمان ہے تو وہ یقین کے قریب ہوا، جب یقین کے قریب ہوا تو وہاں پر بھی ”أَنْ“ مخففہ من المثقلہ جائز۔ اور لیکن اگر دیکھا جائے تو ظن، ظن کے اندر یقین تو نہیں، جب یقین نہیں تو ”أَنْ“ مصدریہ پڑھنا بھی جائز۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ دیکھا جائے ظن کے اندر یقین نہیں، جب یقین نہیں تو پھر ”أَنْ“ پڑھنا، یعنی ”أَنْ“ مصدریہ پڑھنا جائز، اور دیکھا جائے تو یہ یقین کے قریب تو ہے کیونکہ غالب گمان ہے اور جب یقین کے قریب ہے تو یقین والا ہی، یعنی ”أَنْ“ مخففہ من المثقلہ یہاں بھی پڑھنا جائز بھئی۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔