درس نمبر۔40 دیکھیے بھئی آگے سبق کتاب پر: اعلم أن صاحب الكشاف جعل الأسماء المعدودة العارية عن المشابهة المذكورة معربة، وليس النزاع في المعرب الذي هو اسم مفعول من قولك أعربت، فإن ذلك لا يحصل إلا بإجراء الإعراب على آخر الكلمة بعد التركيب، بل في المعرب اصطلاحاً۔ گزشتہ سبق میں ہم نے معرب کی تعریف شروع کی تھی بھئی۔ صاحب قافیہ نے آپ کو بتلایا: "المعرب المركب الذي لم يشبه مبني الأصل"؛ معرب وہ مرکب ہے، وہ اسم ہے جس کو غیر کے ساتھ جوڑا گیا ہو اور نیز وہ مبنی الاصل کے مشابہ نہ ہو، تو دو شرطیں لگا دیں۔ ایک تو یہ کہ ترکیب میں ہونا چاہیے معرب کو، اور دوسری شرط یہ کہ وہ مبنی الاصل کے مشابہ نہ ہو۔ ایک شرط ہے وجودی، اس کا ہونا ضروری، اور ایک شرط ہے عدمی، اس کا نہ ہونا ضروری۔ وجودی کیا؟ کہ ترکیب میں ہو، اور عدمی کیا؟ کہ مبنی الاصل کے مشابہ نہ ہو، تو اس کو معرب کہیں گے بھئی، اس کو معرب کہیں گے۔ اس پر اشکال ہوا تھا کہ اے صاحب قافیہ، آپ کی تعریف جامع مانع نہیں۔ جامع یعنی اپنے تمام افراد کو جمع کرنے والی نہیں، اس لیے کیونکہ فعل مضارع اس کے اندر داخل نہیں ہو رہا حالانکہ وہ بھی معرب ہے اور اس کو بھی اس میں داخل ہونا چاہیے۔ اور نیز آپ کی یہ تعریف مانع بھی نہیں یعنی اس کے اندر غیر معرب کو داخل نہیں ہونا چاہیے لیکن وہ داخل ہو رہے ہیں۔ جیسے "ضرب زيدٌ"، یہ "ضرب" فعل ماضی ہے اور ترکیب میں واقع ہے اور نیز یہ مبنی الاصل کے مشابہ نہیں ہے کیونکہ یہ تو خود مبنی الاصل ہے۔ تو یہ بھی اس کے اندر داخل۔ "اضرب عمراً"، "اضرب" جو ہے یہ ترکیب میں بھی واقع ہے اور مبنی الاصل کے مشابہ بھی نہیں کیونکہ یہ تو خود مبنی الاصل ہے، فعل امر ہے۔ اور "مررت بزيد"، یہ "با" جو ہے ترکیب میں واقع ہے اور نیز یہ بھی مبنی الاصل کے مشابہ نہیں کیونکہ یہ تو حرف ہے، یہ تو خود مبنی الاصل ہے۔ تو آپ کی تعریف مانع نہیں کیونکہ اس کے اندر فعل مضارع بھی داخل ہو رہا ہے، فعل امر حاضر بھی داخل ہو رہا ہے اور حرف بھی داخل ہو رہا ہے۔ تو آپ کی تعریف جامع نہیں یعنی اس میں فعل مضارع داخل نہیں، اور مانع بھی نہیں کیونکہ اس کے اندر فعل ماضی، فعل امر اور حروف داخل ہو رہے ہیں۔ میں نے بتلایا تھا کہ فعل مضارع جو ہے وہ بھی معرب ہے بھئی، اس میں اختلاف ہے علماء کا۔ البتہ بصرہ والوں کا مذہب یہ ہے کہ ہر فعل اصل کے اعتبار سے مبنی ہے یعنی فعل مضارع بھی اصل کے اعتبار سے کیا تھا؟ مبنی تھا۔ پھر اس کی مشابہت آئی اسم فاعل کے ساتھ تو اس لیے یہ کیا بن گیا؟ معرب بن گیا۔ یہ اسم کے ساتھ اس کی مشابہت آ گئی اور اسم کے اندر اصل کیا ہے کہ وہ متمکن ہونا چاہیے، اعراب کو جگہ دینے والا ہو بھئی۔ تو لہٰذا اس وجہ سے یہ اس کو فعل مضارع کہتے ہیں، مضارع کا معنی مشابہ، تو اس کی اسم کے ساتھ یعنی اسم فاعل کے ساتھ مشابہت آئی۔ میں نے بتلایا کہ لفظوں میں بھی مشابہت ہے اور معنی میں بھی مشابہت ہے۔ لفظوں میں مشابہت اس طرح ہے کہ جتنے حروف اسم فاعل کے اتنے ہی حروف فعل مضارع کے۔ نیز اسم فاعل میں جہاں جہاں حرکت آتی ہے فعل مضارع میں بھی وہاں حرکت آتی ہے اور اسم فاعل میں جہاں جہاں سکون آتا ہے جس حرف پر فعل مضارع میں بھی اس حرف پر سکون آتا ہے۔ تو متحرک کے مقابلے میں متحرک آتا ہے اور ساکن کے مقابلے میں ساکن آتا ہے۔ حرکتیں بے شک الگ الگ ہوں لیکن متحرک کے مقابلے میں کیا آئے گا؟ متحرک، اور ساکن کے مقابلے میں ساکن۔ تو اس طرح حروف کی تعداد میں بھی مشابہت، حروف کی حرکات و سکنات میں بھی مشابہت اور نیز جیسے اسم فاعل پر لام تاکید داخل ہوتا ہے اسی طرح فعل مضارع پر بھی تاکید والا لام داخل ہوتا ہے۔ "لأضربنك" میں ضرور بالضرور آپ کی پٹائی کروں گا، دیکھا یہ لام تاکید اس پر داخل ہو گیا۔ جیسے کہ جیسے کہ اسم فاعل پر لام تاکید داخل ہوتا ہے "إن زيدا لقائم"، دیکھو "قائم" پر لام داخل ہے تاکید والا۔ اور معنی میں بھی مشابہت ہے کہ جیسے اسم فاعل حال اور استقبال دونوں کے لیے ہے اسی طرح فعل مضارع بھی حال اور استقبال دونوں کے لیے ہے۔ تو فعل مضارع جو ہے یہ اصل کے اعتبار سے مبنی تھا لیکن پھر اسم فاعل سے مشابہت کی وجہ سے یہ کیا بن گیا؟ معرب بن گیا۔ تو اصل کے اعتبار سے یہ مبنی الاصل کے مشابہ ہے کیونکہ اصل میں خود کیا تھا؟ مبنی الاصل، تو اصل کے اعتبار سے یہ ان کے مشابہ ہے اور آپ نے تو تعریف میں کیا قید لگا دی؟ مبنی الاصل کے مشابہ نہ ہو اور یہ تو مشابہ ہے۔ جیسے وہ اصل کے اعتبار سے مبنی ہیں یہ بھی اصل کے اعتبار سے کیا ہے؟ مبنی۔ تو یہ ان کے مشابہ ہے، یہ تعریف سے نکل گیا کیونکہ تعریف میں تو آپ نے قید لگائی جو مبنی الاصل کے مشابہ نہ ہو، اور یہ تو مبنی الاصل کے مشابہ ہے۔ تو آپ کی تعریف جامع بھی نہیں اور مانع بھی نہیں۔ تو صاحب جامی نے معرب کے بعد کہا: "الذي هو قسم من الاسم" کہ ہر معرب یہاں نہیں مراد، وہ معرب مراد ہے جو اسم کی قسم ہے۔ تو اب تمام اعتراضات ختم ہوئے کیونکہ فعل مضارع وہ تو اسم ہی نہیں ہے اور اسی طرح فعل ماضی، فعل امر اور حرف یہ داخل ہو رہے تھے بھئی، یہاں معرب سے ہر معرب نہیں مراد بلکہ کون سا معرب مراد ہے؟ جو اسم کی قسم ہے یعنی جو اسم ہے، جو اسم ہے۔ تو لہٰذا یہ سب چیزیں معرب کی تعریف سے خارج ہوئیں اور ان کو خارج ہی ہونا چاہیے بھئی۔ فعل مضارع آپ نے کہا تھا خارج ہے، بھئی ہونا ہی خارج چاہیے کیونکہ ہم اسم معرب کی بات کر رہے ہیں، مطلق معرب کی بات نہیں کر رہے، اور ماضی، امر اور حروف آپ نے کہا تھا یہ داخل ہو رہے ہیں، اب جب ہم نے بتلا دیا کہ معرب سے اسم معرب مراد ہے اب یہ داخل نہیں ہو سکتے کیونکہ یہ اسم نہیں ہیں، یہ فعل ہیں یا حرف ہیں بھئی۔ اس کے بعد دوسرا اشکال یہ ہوا تھا کہ آپ نے کہا معرب کیا ہے؟ "المعرب المركب"، معرب وہ مرکب ہوتا ہے، حالانکہ معرب تو اسم کی قسم ہے اور اسم وہ کلمہ کی قسم ہے اور کلمہ کی تعریف کیا پڑھی تھی آپ نے؟ "لفظ وضع لمعنى مفرد"، تو اس کی تعریف میں افراد کی قید ہے کہ وہ لفظ مفرد ہوگا یا معنی مفرد ہوگا، مفرد دونوں کی صفت بن سکتی ہے نا، لفظ کی بھی اور معنی کی بھی۔ لیکن بہرحال مآل دونوں میں ایک ہی ہے آپ چاہے لفظ کی صفت بنائیں چاہے معنی کی صفت بنائیں۔ مفرد لفظ کسے کہتے ہیں؟ کہ جز لفظ جز معنی پر دلالت نہ کرے تو وہ لفظ بھی مفرد ہوتا ہے اور وہ معنی بھی مفرد ہوتا ہے۔ اور اگر معنی مفرد ہو تو معنی مفرد کسے کہتے ہیں؟ کہ جز لفظ جز معنی پر دلالت نہ کرے تو یہ والا معنی کیا کہلاتا ہے؟ مفرد، اور وہ لفظ بھی کیا کہلاتا ہے؟ مفرد کہلاتا ہے۔ بات ایک ہی ہے دونوں صورتوں میں۔ تو معلوم ہوا کلمہ تو مفرد ہوتا ہے، تو آپ نے تو کیا کہہ دیا "المعرب المركب"، معرب مرکب ہوتا ہے تو یہ تو آپ کی یہ تعریف صحیح نہیں۔ تو اس کا جواب دیا کہ یہاں "المركب" جو ہے اس کا موصوف محذوف ہے، "أي الاسم المركب" یعنی وہ اسم جو مرکب ہو، اور مرکب وہ اسم مفعول ہے، اس پر الف لام جو ہے وہ "الذي" کے معنی میں ہے یعنی "أي الاسم الذي ركب مع غيره"، توجہ ہے؟ "الذي ركب مع غيره" یعنی معرب وہ اسم ہے "الذي ركب مع غيره" جس کو غیر کے ساتھ جوڑا گیا ہو۔ حاصل یہ کہ یہاں جو مرکب کا لفظ آیا اس سے مرکب بنفسہٖ نہیں مراد بلکہ مرکب بغیرہٖ مراد ہے، "أي مع غيره"۔ "غلام زيد"، یہ دونوں جڑے ہوئے ہیں آپس میں تو یہ سارا مجموعہ مرکب بنفسہٖ ہے، اپنی ذات کے اعتبار سے مرکب ہے، اور اس کے اندر جو صرف "غلام" کا لفظ ہے یا صرف "زيد" کا لفظ ہے یہ مرکب بغیرہٖ ہے، اس کو غیر کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ غلام کو زید کے ساتھ جوڑا گیا ہے اور زید کو غلام، تو ان میں سے ہر ایک الگ الگ یہ مرکب بغیرہٖ ہے اور سارا مجموعہ کیا ہے؟ مرکب بنفسہٖ، اپنی ذات کے اعتبار سے یہ سارا مجموعہ مرکب ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں مرکب سے مرکب بغیرہٖ مراد ہے، مرکب بنفسہٖ مراد نہیں بھئی۔ اور ساتھ صاحب جامی نے مزید فرمایا کہ "تركيباً يتحقق معه عامله"، یہ جوڑنا بھی ایسا ہو کہ اس ترکیب میں اس کا عامل بھی ساتھ موجود ہو بھئی، عامل بھی ساتھ ہونا چاہیے۔ اب "زيد قائم"، مبتدا خبر دونوں اس کے اندر داخل ہو گئے کیونکہ یہ دونوں کیا ہوتے ہیں؟ ترکیب میں واقع ہوتے ہیں، مبتدا کے لیے خبر اور خبر کے لیے مبتدا دونوں آپس میں جڑے ہوئے ہیں اور یہ ایسی ترکیب ہے جن میں ان کا عامل بھی ہے اور ان دونوں میں عامل کیا ہے؟ ابتدا۔ ابتدا کسے کہتے ہیں؟ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ مسند یا مسند الیہ ہوں اور عامل لفظی سے خالی ہو تو پھر بھئی مسند الیہ ہے یا مسند ہے تو رفع تو آئے گا۔ ان دونوں پر کیا آئے گا؟ اسم ہے، مبتدا اور خبر ہیں ان پر رفع آتا ہے اور رفع خود بخود تو نہیں آتا اس کے لیے تو عامل چاہیے، تو یہ رفع ان پر کہاں سے آیا؟ ان میں تو کوئی عامل لفظی نہیں ہے، تو جمہور کے نزدیک ان دونوں کے اندر عامل ابتدا ہے یعنی عامل لفظی سے خالی ہونا۔ ایک اسم کیا بنے؟ مسند بنے یا مسند الیہ بنے اور عامل لفظی سے خالی ہو تو اس کے اندر کہیں گے ابتدا عامل ہے یعنی عامل معنوی ہے، لفظی عامل تو کوئی نہیں، عامل لفظی سے تو خالی ہیں، تو پھر کیا مان لو یہاں پر؟ عامل معنوی ہے جو ان کو رفع دے رہا ہے اور اس عامل معنوی کا نام کیا ہے؟ ابتدا۔ اور طلباء پریشان ہوتے ہیں پتہ نہیں وہ عامل معنوی کیا ہے، ابتدا کیا چیز ہے؟ میں نے بتایا بس عامل لفظی سے خالی ہونا یہ ہے ابتدا۔ اسم ہو، مسند یا مسند الیہ ہو اور عامل لفظی سے خالی ہے تو اب ہم کیا کہیں گے؟ یہ ابتدا ہے ان کے اندر عامل، بات سمجھ میں آ گئی۔ اور یہ صرف مبتدا خبر میں ابتدا عامل ہوتی ہے اور کسی جگہ یہ ابتدا عامل نہیں ہے۔ تو لہٰذا "زيد قائم" یہ مبتدا خبر بھی اس میں داخل ہو گئی، یہ بھی ترکیب میں واقع ہیں اور ساتھ ان کا عامل یعنی ابتدا بھی ہے۔ اور "قام هؤلاء"، یہ "هؤلاء" اسم اشارہ ہے اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ اسم اشارہ کس میں سے ہے؟ مبنیات میں سے، لیکن یہ بھی اس کے اندر داخل ہو گیا کیونکہ ابھی تعریف پوری نہیں ہوئی، ابھی صرف کیا کہا ہے؟ وہ اسم جو ترکیب میں واقع ہو غیر کے ساتھ اور وہ ترکیب بھی ایسی ہو جس میں اس کا عامل بھی موجود ہو، تو "قام هؤلاء"، یہ "هؤلاء" بھی اسی طرح ہے، ترکیب میں بھی واقع ہے اور اس کے ساتھ اس کا عامل "قام" بھی موجود ہے، "قام" بھی موجود ہے۔ ہاں آگے چل کر جب وہ کہیں گے "الذي لم يشبه مبني الأصل" پھر "هؤلاء" نکل جائے گا کیونکہ یہ تو مبنی ہے، معرب نہیں ہے۔ تو "هؤلاء" بھی اس کے اندر داخل ہو گیا۔ تو وہ لفظ نکل گئے جو ترکیب میں واقع نہ ہوں جیسے اسماء معدودہ ہیں۔ وہ اسماء جن کو شمار کیا جاتا ہے وہ تو سرے سے ترکیب میں ہی نہیں واقع، تو وہ "المركب" ان پر صادق ہی نہیں آ رہا، "الذي ركب مع غيره" ان پر صادق ہی نہیں آ رہا، تو وہ اسماء معدودہ وہ بھی نکل گئے، وہ اسماء جن کو شمار کیا جاتا ہے، کسی چیز کو گنتے ہیں بھئی اس کو شمار کرتے ہیں وہ بھی نکل گئے اس سے۔ اور نیز کوئی لفظ ترکیب میں واقع ہو لیکن عامل ساتھ نہ ہو وہ بھی نکل گیا جیسے "غلام زيد"۔ دیکھو "غلام زيد" دونوں ترکیب میں ہیں اور "زيد" کے ساتھ عامل ہے کیونکہ مضاف کیا کرتا ہے؟ مضاف الیہ کو جر دیتا ہے، مضاف جو ہے مضاف الیہ کو جر دیتا ہے۔ تو زید ترکیب میں بھی واقع ہے اور ساتھ عامل بھی ہے یعنی غلام وہ اس کو جر دے رہا ہے، اور نیز مبنی الاصل کے یہ مشابہ بھی نہیں ہے، تو یہ تو معرب ہے۔ جبکہ "غلام" کا لفظ جو ہے وہ مبنی ہے صاحب قافیہ کی تعریف کے مطابق۔ کیوں؟ کیونکہ یہ ترکیب میں تو ہے لیکن اس ترکیب میں اس کا عامل ساتھ نہیں ہے۔ اب اس غلام پر رفع پڑھنا چاہتے ہیں، نصب، جر؟ بھئی کچھ بھی نہیں پڑھ سکتے، جو بھی پڑھنا ہے اس کے لیے کیا چاہیے؟ عامل چاہیے بھئی۔ تو لہٰذا یہ غلام کا لفظ یہ مبنی ہے صاحب قافیہ کے نزدیک کیونکہ یہ اگرچہ ترکیب میں بھی واقع ہے، مبنی الاصل کے مشابہ بھی نہیں ہے لیکن اس کا عامل ساتھ موجود نہیں۔ تو اسماء معدودہ بھی اس سے نکل گئے، "المركب" کی قید لگاتے ہی اسماء معدودہ بھی نکل گئے اور "غلام زيد" جیسے لفظ بھی نکل گئے۔ اور پھر اس کے بعد میں نے بتلایا تھا کہ "الذي لم يشبه"، وہ اسم جو مشابہ نہ ہو اور مشابہت سے مراد یہاں میں نے بتلایا مناسبت ہے، مناسبت، اور مناسبت عام ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی مناسبت ہو تو لیکن ہو ایسی مناسبت جو منع اعراب کا فائدہ دے، منع اعراب کے اندر مؤثر ہو، اعراب کو روک دے، اعراب کو تو وہ خاص مناسبتیں مراد ہیں، ورنہ تو ہر معرب بھی لفظ ہے اور مبنی الاصل بھی کیا ہیں؟ لفظ ہیں، تو مشابہت تو بایں لحاظ بھی موجود ہے، یہ بھی لفظ وہ بھی لفظ۔ یا ہر اسم کلمہ ہے اور مبنی الاصل بھی کیا ہیں؟ کلمہ ہیں تو یہ بھی کلمہ وہ بھی کلمہ، مشابہت تو موجود ہے لیکن ہر مشابہت مراد نہیں ہے بلکہ خاص مشابہت یا یوں کہیں خاص مناسبت مراد ہے جو منع اعراب میں مؤثر ہو، اثر دکھائے، اعراب کو روک دے، مبنی بنا دے لفظ کو بھئی۔ اور وہ چھ قسم کی مناسبتیں ہیں جو آگے مبنیات کے باب میں آئیں گی بھئی۔ ان میں سے ایک مناسبت یہاں انہوں نے میں نے بتلا دی تھی آپ کو جیسے اسم اشارہ اور اسم موصول، یہ مبنی الاصل یعنی حرف کے مشابہ ہیں، جیسے حرف اپنا معنی بتانے میں غیر کا محتاج اسی طرح اسم اشارہ بھی اپنا معنی بتانے میں مشار الیہ کا محتاج اور اسم موصول بھی اپنا معنی بتانے میں صلہ کا محتاج، تو یہ حرف کی طرح ہوئے اور حرف تو مبنی الاصل ہے تو یہ دونوں بھی کیا بن گئے؟ مبنی بن گئے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ مناسبت عام ہے۔ یہاں دراصل چار قسم کے اشتراک ہو سکتے ہیں جو دو چیزوں میں۔ کبھی دو چیزوں کی جنس ایک ہوتی ہے اس کو مجانست کہتے ہیں، جیسے انسان کی جنس بھی حیوان، گائے، بیل، بکری کی جنس بھی حیوان، تو اس میں ہم کیا کہیں گے؟ ان میں مجانست ہے، ان میں مجانست ہے یعنی جنس ایک ہے۔ اور کبھی اشتراک نوع کے اندر ہوتا ہے جیسے زید، عمرو اور بکر، ان سب کی نوع ایک ہے تو اس کو کہیں گے مماثلت، یہ سب آپس میں ایک دوسرے کے مماثل ہیں بھئی۔ اور کبھی جو ہے اشتراک جو ہے وہ صفت میں ہوتا ہے اور اس کو مشابہت کہتے ہیں، جیسے ہم کہتے ہیں زید شیر جیسا ہے یعنی صفت شجاعت کے اندر، بہادری کی صفت کے اندر۔ تو صفت کے اندر اشتراک ہو تو اس کو مشابہت کہتے ہیں۔ اور کبھی جو ہے اشتراک ہوتا ہے شکل و صورت میں، اس کو مشاکلت کہتے ہیں بھئی، جیسے میں نے بتلایا کہ ایک قلم ہے دوسرے قلم جیسا ہو یا ایک کتاب ہے دوسری کتاب جیسی ہے یا ایک بھئی جو ہے اپنے بھئی جیسا ہے تو دیکھو شکل و صورت ایک جیسی ہو، اس کو مشاکلت کہتے ہیں۔ تو یہاں "لم يشبه"، یہ آپ نہ سمجھیں کہ یہاں تو مشابہت کا ذکر آیا معلوم ہوا صفت کے اندر اشتراک ہوگا۔ کوئی اسم مبنی کب بنے گا؟ جب مبنی الاصل کے ساتھ صفت میں اشتراک آ جائے، نہیں بھئی صفت میں اشتراک مراد نہیں بلکہ یہاں مشابہت کس معنی میں ہے؟ مناسبت کے معنی میں ہے، کوئی بھی مناسبت آ جائے جو منع اعراب کے اندر مؤثر ہو تو وہ اسم مبنی بن جائے گا۔ اور پھر آخر میں یہ بتلایا تھا کہ یہ جو "مبني الأصل" ہے، "مبني الأصل"، یہ جو مضاف مضاف الیہ ہیں اس میں اضافت بیانیہ ہے۔ اضافت بیانیہ اس کو کہتے ہیں جس میں جو مضاف الیہ ہوتا ہے وہ مضاف کا بیان کرتا ہے۔ "مبني الأصل"، "مبني" مبنی یہ ہے مضاف، بھئی مبنی؟ کیا مراد ہے اس سے مبنی سے؟ آگے بتلا دیا: "الأصل"، وہ والا مبنی جو اصل ہو بناء کے اندر، تو مبنی اور اصل دونوں ایک ہی چیز ہیں بھئی۔ اب آئیے آج کے سبق پر بھئی۔ دیکھیے بھئی: "اعلم أن صاحب الكشاف جعل الأسماء المعدودة العارية عن المشابهة المذكورة معربة"، یہاں سے یہ بتلا رہے ہیں آپ کو کہ یہ جو اسماء معدودہ ہیں، اسماء معدودہ، اس کے اندر صاحب مفصل اور صاحب قافیہ کا اختلاف ہے۔ صاحب مفصل کے نزدیک جو ہے یہ اسماء معدودہ جو ہیں یہ معرب ہیں، یہ معرب ہیں، اور صاحب قافیہ کے نزدیک یہ مبنی ہیں۔ بھئی اسماء معدودہ جس میں کوئی ترکیب نہیں ہوتی، آپ محض ویسے چیزوں کو شمار کر رہے ہیں یا گن رہے ہیں، اس وقت ان پر تلفظ کرتے ہیں جیسے حروف تہجی پر آپ تلفظ کرتے ہیں: الف، با، تا، ثا، جیم، دیکھو آپ حروف تہجی شمار کروا رہے ہیں، استاد کو سبق سنا رہے ہیں، یہاں کوئی ترکیب ہے؟ ترکیب نہیں، اور اسی طرح یا ساتھیوں کے نام گنواتے ہیں آپ: زید، عمرو، بکر، خالد وغیرہ، تو اس میں کوئی ترکیب نہیں۔ یا ایسے اور کوئی بھی چیز آپ شمار کر رہے ہوں جہاں ترکیب نہ ہو، تو یہ جو اسماء معدودہ ہیں اس میں صاحب مفصل یعنی علامہ زمخشری اور صاحب قافیہ کا اختلاف ہے۔ صاحب مفصل یا یوں کہو صاحب کشاف جو ہیں، میں نے بتلایا تھا کہ کشاف یہ تفسیر ہے علامہ زمخشری کی بھئی، اور مفصل بھی انہی کی کتاب اور اسی مفصل سے صاحب قافیہ نے اپنی کتاب قافیہ اخذ کی ہے اور صاحب قافیہ نے اس مفصل کی ایک شرح بھی لکھی ہے جس کا نام ایضاح ہے۔ علامہ زمخشری کا انتقال ہوا ہے 538 ہجری میں جبکہ صاحب قافیہ کا انتقال ہوا ہے 646 ہجری میں بھئی، تو یہ ان سے مؤخر ہیں بھئی۔ تو صاحب قافیہ کے نزدیک یہ اسماء معدودہ یہ مبنی ہیں اور صاحب مفصل کے نزدیک یہ معرب ہیں۔ اسی لیے صاحب قافیہ نے جو معرب کی تعریف کی اس میں "المركب" کی قید ذکر کر دی: "الذي ركب مع غيره"، وہ اسم جس کو غیر کے ساتھ جوڑا گیا ہو۔ اسماء معدودہ نکل گئے، وہاں تو ترکیب ہی نہیں، ان کو تو جوڑا ہی نہیں گیا کسی کے ساتھ۔ جبکہ صاحب مفصل نے یہ "المركب" کی قید اپنی تعریف کے اندر نہیں لگائی جب وہ معرب کی تعریف کرتے ہیں، تو ان کے نزدیک یہ معرب ہیں بھئی۔ تو اختلاف جو ہے یہ معرب اصطلاحی کے اندر ہے، یاد رکھو ایک ہے معرب لغوی ایک ہے معرب اصطلاحی۔ معرب لغوی، معرب کون سا صیغہ ہے؟ اسم مفعول ہے۔ تو اسم مفعول کس کو کہیں گے؟ معرب کسے کہیں گے؟ وہ اسم جس کو باقاعدہ اعراب دیا گیا ہے۔ "ضرب زيدٌ"، جی "زيدٌ" کو میں نے اعراب دیا یا نہیں؟ عربی زبان کے اعتبار سے یہ معرب ہے، اس کو اعراب دیا گیا ہے باقاعدہ۔ "ضرب زيدٌ"، تو یہ "زيدٌ" کو باقاعدہ اعراب دیا گیا ہے اور اگر میں اس پر وقف کروں تو کیسے کہوں گا؟ "ضرب زيد"، تو عربی زبان کے اعتبار سے یہ معرب نہیں ہے، اس کو اعراب نہیں دیا گیا، اس پر تو وقف کر دیا گیا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو عربی زبان کے اعتبار سے معرب تو اس کو کہیں گے جس کو باقاعدہ لفظوں کے اندر اعراب دے دیا جائے بھئی، اس پر اعراب پڑھ دیا جائے بھئی، اس کو معرب کہیں گے۔ اور جب ایک لفظ کو باقاعدہ اعراب دے دیا گیا تو پھر تو سب کے نزدیک وہ معرب ہی ہوگا۔ اس میں تو پھر جھگڑا ہی نہیں ہے کیونکہ اس پر تو اعراب کا اجراء کر دیا گیا ہے باقاعدہ، کوئی کوئی شخص اب کہے گا یہ معرب نہیں ہے؟ جب باقاعدہ اعراب دے دیا گیا پھر جھگڑا ہو سکتا ہے؟ پھر تو صاحب قافیہ کے نزدیک بھی یہ کیا ہے؟ معرب ہے، اعراب دیا گیا۔ علامہ زمخشری کے نزدیک بھی کیا ہے؟ معرب ہے یعنی اعراب اس کو دیا گیا ہے۔ "ضرب زيدٌ"، اس "زيدٌ" کو کیا کیا گیا ہے؟ تو ایک ہے معرب لغوی، معرب لغوی کے اندر تو دونوں کا اختلاف ہے ہی نہیں بھئی۔ معرب لغوی کسے کہیں گے؟ جس کو باقاعدہ لفظوں میں اعراب کا اس پر اجراء کر دیا جائے۔ تو اختلاف معرب اصطلاحی میں ہے کہ اصطلاح میں معرب کسے کہیں گے؟ اصطلاح میں۔ تو صاحب مفصل جو ہیں، علامہ زمخشری فرماتے ہیں: جو اسم بھی ترکیب کے بعد اس پر اعراب جاری ہو سکیں اس کو معرب کہیں گے۔ ہر وہ اسم کہ اگر وہ ترکیب میں واقع ہو جائے تو اس پر اعراب جاری ہو سکیں یعنی اس میں صلاحیت ہے اعراب کے جگہ دینے کی تو اس کو معرب کہیں گے۔ لہٰذا میں نے کہا: زید، عمرو، بکر، اسماء معدودہ ہیں، لیکن یہ زید، یہ والا عمرو جب یہ ترکیب میں واقع ہو جائے تو اعراب اس پر جاری ہو سکتے ہیں یا نہیں؟ تو ان میں صلاحیت تو ہے، تو ان کے نزدیک محض صلاحیت اعراب کافی ہے اور یہ پھر معرب کہلائے گا۔ اس کو ان کو ہم کیا کہیں گے؟ معرب کہیں گے یعنی جس میں اعراب کو قبول کرنے کی صلاحیت ہو اور وہ مبنی الاصل کے مشابہ بھی نہ ہو بھئی۔ تو انہوں نے صرف صلاحیت کا اعتبار کیا ہے، بالفعل اعراب کا مستحق ہونے کا اعتبار نہیں کیا۔ بات سمجھ بھی آ رہی ہے کہ نہیں؟ معلوم ہوا زید، عمرو، بکر، خالد، کوئی ترکیب نہیں لیکن صاحب مفصل کے نزدیک یہ سارے لفظ، یہ سارے اسم کیسے ہیں؟ کہ اگر یہ ترکیب میں واقع ہو گئے تو یہ اعراب کی صلاحیت رکھتے ہیں، ان پر رفع، نصب، جر آ سکتا ہے کیونکہ یہ مبنی الاصل کے مشابہ نہیں ہیں، تو ان کو وہ معرب کہتے ہیں۔ جبکہ صاحب قافیہ فرماتے ہیں: صرف اعراب کی صلاحیت کافی نہیں بلکہ باقاعدہ ترکیب میں واقع ہو اور اعراب کا مستحق بھی بن جائے پھر اس کو معرب کہیں گے۔ صرف اعراب کی صلاحیت کافی نہیں بلکہ بلکہ باقاعدہ اعراب کا مستحق بن جائے پھر اس کو معرب کہیں گے۔ اور زید، عمرو، بکر، خالد جب اکیلے ہیں اس وقت یہ اعراب کے مستحق ہیں؟ اس وقت یہ اعراب کے مستحق نہیں، ہاں یہ جب ترکیب میں آ جائیں گے "ضرب زيدٌ"، "ضرب"، اب آپ چاہے "ضرب زيدٌ" پڑھیں چاہے آپ "ضرب زيد" پڑھیں، وقف کر دیں، دونوں صورتوں میں جب یہ ترکیب میں آ گیا اور ترکیب بھی ایسی ہے جس میں اس کا عامل بھی ہے اور نیز یہ مبنی الاصل کے مشابہ بھی نہیں تو یہ اعراب کا مستحق بن گیا۔ کیا بن گیا؟ جب یہ اعراب کا مستحق بن گیا اب آپ چاہے اعراب پڑھو یا نہ پڑھو صاحب قافیہ کے نزدیک یہ معرب ہے۔ چاہے آپ وہ "ضرب زيد" پڑھو چاہے آپ "ضرب زيدٌ" پڑھو، یہ کیا ہے؟ اعراب کا باقاعدہ مستحق بن چکا ہے تو صاحب مفصل نے صرف صلاحیت کا اعتبار کیا کہ اعراب کا مستحق ہونے کی صلاحیت ہو، اور صاحب قافیہ نے اعراب کا مستحق ہونے کی صلاحیت صرف اس کا اعتبار نہیں کیا بلکہ باقاعدہ اعراب کے مستحق ہونے کا اعتبار کیا ہے۔ فرق سمجھ میں آیا؟ تو اکیلا زید، عمرو، بکر، یہ صاحب مفصل کے نزدیک معرب ہیں کیونکہ ان میں اعراب کا مستحق ہونے کی صلاحیت ہے۔ جبکہ صاحب قافیہ کے نزدیک یہ مبنی ہیں کیونکہ ان کے نزدیک صرف اعراب کا مستحق ہونے کی صلاحیت کافی نہیں بلکہ اعراب کا باقاعدہ مستحق بھی ہو جائے اور وہ کب ہوگا؟ جب ترکیب میں واقع ہو اور ترکیب بھی کس قسم کی ہو جس میں اس کا عامل بھی ہو اور نیز وہ مبنی الاصل کے مشابہ بھی نہ ہو، تو اب "ضرب زيدٌ"، یہ "زيدٌ" یہ صاحب قافیہ کے نزدیک معرب ہے، یہ کیا ہے؟ معرب ہے کیونکہ یہ باقاعدہ اعراب کا مستحق ہو چکا ہے۔ اب چاہے آپ اعراب نہ بھی پڑھیں یہ پھر بھی کیا کہلائے گا صاحب قافیہ کے نزدیک؟ معرب ہی کہلائے گا۔ آپ نے کہا "ضرب زيد"، آپ نے تو اعراب نہیں پڑھے، لغوی اعتبار سے یہ معرب نہیں ہے۔ "ضرب زيد" کیونکہ آپ نے تو وقف کر دیا، آپ نے تو اعراب جاری نہیں کیا تو یہ معرب نہیں یعنی اعراب نہیں دیا گیا لغوی اعتبار سے اس کو، لیکن اصطلاح کے اعتبار سے صاحب قافیہ کے نزدیک یہ معرب ہے کیونکہ یہ اعراب کا مستحق ہو چکا ہے، اعراب کا مستحق ہو چکا ہے، ترکیب میں واقع ہے اور اس میں اس کا عامل بھی ہے اور یہ مبنی الاصل کے مشابہ بھی نہیں ہے تو یہ اعراب کا مستحق ہو چکا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ مختصر لفظوں میں یوں کہو: صاحب مفصل نے بھی اعراب بالقوۃ کا اعتبار کیا، کس کا؟ جس میں اعراب کی صلاحیت ہو جیسے زید، عمرو، بکر، ان میں صلاحیت ہے یا نہیں؟ توجہ ہے؟ میں ذرا گہری بات کرنے لگا ہوں، گہری بات۔ بھئی ایک ہے لفظ پر آپ باقاعدہ اعراب کو جاری کر دیتے ہیں، "ضرب زيدٌ"، آپ نے زید کو باقاعدہ اعراب دے دیے تو یہ معرب لغوی ہے، یہ معرب ہے، اسم مفعول ہے جس کو اعراب دیا گیا ہے، تو اس میں تو اختلاف ہی نہیں ہے، یہ تو سب کے نزدیک کیا ہے؟ معرب۔ اختلاف کس میں ہے؟ معرب اصطلاحی میں، اور معرب اصطلاحی میں یہ جو "ضرب زيدٌ"، اس زید پر آپ اعراب نہ پڑھیں ذرا، وقف کر دیں، "ضرب زيد"، تو صاحب مفصل کے نزدیک بھی یہ معرب ہے، اور صاحب قافیہ کے نزدیک بھی یہ معرب ہے حالانکہ یہ معرب لغوی تو نہیں۔ آپ نے اس کو اعراب دیا ہے؟ آپ نے اس پر اعراب کا اجراء کیا ہے؟ تو معرب لغوی تو نہیں ہے لیکن معرب اصطلاحی ہے، صاحب قافیہ کے نزدیک بھی اور صاحب مفصل کے نزدیک بھی۔ معلوم ہوا دونوں کے نزدیک بالفعل اعراب دینا ضروری نہیں ہے بلکہ بالقوۃ اعراب ہی کافی ہے، بلکہ بالقوۃ اعراب کی صلاحیت ہی کافی ہے، لیکن فرق اتنا ہے کہ اعراب بالقوۃ یعنی اعراب کی صلاحیت وہ دو قسم کی ہو گئی: ایک وہ اعراب بالقوۃ ہے جو بالفعل کے قریب ہے، بالفعل کے، اور ایک وہ اعراب بالقوۃ ہے جو بالفعل سے بعید ہے۔ توجہ ہے؟ نہیں توجہ، نہیں توجہ۔ صاحب مفصل کے نزدیک بھی معرب کے لیے اعراب بالفعل ضروری ہے یا اعراب بالقوۃ کافی ہے؟ بالقوۃ کافی۔ صاحب قافیہ کے نزدیک بھی اعراب بالفعل ضروری ہے یا بالقوۃ کافی ہے؟ بالقوۃ کافی ہے، "ضرب زيد"، دونوں کے نزدیک یہ زید معرب ہے۔ لیکن فرق یہ ہے دونوں کے بالقوۃ میں کہ صاحب مفصل اس اعراب بالقوۃ کا اعتبار کرتے ہیں جو بالفعل سے دور ہے، صرف صلاحیت ہو ایک اسم میں تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ معرب۔ اور صاحب قافیہ وہ اعراب بالقوۃ جو بالفعل کے قریب ہے یعنی باقاعدہ ایک اسم اعراب کا مستحق بن جائے، ایک اسم باقاعدہ ترکیب میں واقع ہو جائے، اس کا عامل بھی ہو اور پھر چاہے اعراب نہ بھی پڑھو، پھر اعراب چاہے جیسے "ضرب زيد"، یہ زید کیا ہے؟ ترکیب میں بھی ہے اور عامل بھی ساتھ ہے لیکن آپ نے اعراب اس پر پڑھا نہیں، اعراب پڑھا نہیں لیکن یہ اعراب کا مستحق ہو چکا ہے، یہ کیا ہے اعراب کا؟ تو ایک یہ والا "ضرب زيد" کے اندر جو زید ہے یہ اعراب کا مستحق ہو چکا ہے، اور ایک اکیلا لفظ زید ہے، توجہ ہے؟ اکیلا لفظ زید ہے تو صاحب مفصل کے نزدیک وہ اکیلا لفظ کیا ہے؟ معرب ہے یعنی اس میں انہوں نے اعراب بالقوۃ کا اعتبار کیا لیکن وہ اعراب بالقوۃ بالفعل سے بعید ہے، کیا؟ یہ اکیلا زید ہے اس پر اعراب بالفعل نہیں آ سکتا، کیوں؟ کیونکہ اس کو ترکیب میں بھی لانا پڑے گا اور ترکیب کے اندر اس کے ساتھ عامل کو بھی لانا پڑے گا اور پھر اس کے بعد اس پر اعراب جاری ہو سکتا ہے، تو یہ معرب ہے بالقوۃ، لیکن کس قسم کا معرب بالقوۃ ہے؟ جو بالفعل سے دور ہے۔ نہیں سمجھ میں آ رہی؟ یہ بالفعل سے دور ہے۔ اکیلا زید صاحب مفصل کے نزدیک معرب ہے، کیا ہے؟ معرب ہے، اور یہ بالفعل اعراب اس پر آ سکتا ہے لیکن بڑا دور ہے، اس کو ترکیب میں بھی لانا پڑے گا اور ترکیب بھی ایسی ہو جس میں اس کا عامل بھی ہو تو صاحب مفصل اعراب بالقوۃ کا اعتبار کرتے ہیں لیکن وہ اعراب بالقوۃ کہ وہ بالفعل سے بعید ہے بھئی۔ وہ بالقوۃ ہونا کیا ہے؟ بالفعل سے بعید ہے کیونکہ یہ تو ترکیب میں ہی سرے سے نہیں ہے۔ اور صاحب قافیہ جو ہیں وہ بھی اعراب بالقوۃ کا اعتبار کرتے ہیں لیکن کون سا بالقوۃ؟ جو بالفعل کے قریب ہے، جیسے "ضرب زيد"، یہ ان صاحب قافیہ کے نزدیک معرب ہے، کیا ہے؟ آپ نے زید پر کوئی اعراب جاری کیا؟ نہیں، لیکن اس میں صلاحیت آ گئی یا نہیں؟ اور یہ بالفعل کے قریب آ گیا کیونکہ صرف آپ نے اعراب اوپر نہیں پڑھا ورنہ تو یہ ترکیب میں بھی آ چکا ہے، عامل بھی ساتھ آ چکا ہے، اب صرف اعراب کا اجراء باقی رہ گیا۔ اعراب کا صرف اجراء باقی رہ گیا۔ تو صاحب مفصل نے بھی بالقوۃ کا اعتبار کیا لیکن وہ والا بالقوۃ جو بالفعل سے بہت دور ہے بھئی، اور صاحب قافیہ نے بھی بالقوۃ کا اعتبار کیا لیکن وہ والا بالقوۃ جو بالفعل کے قریب ہے، ترکیب میں بھی آ چکا ہے، اعراب کا مستحق بھی ہو چکا ہے، اب صرف اس پر اعراب کا پڑھنا رہ گیا ہے، پڑھو یا نہ پڑھو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، وہ معرب ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟ تو معرب لغوی کسے کہتے ہیں؟ جس پر باقاعدہ لفظوں میں جس پر اعراب جاری کر دیا جائے، اور اس میں تو پھر کسی کا بھی اختلاف نہیں ہو، اس میں اختلاف ہو ہی نہیں سکتا جب بالفعل ایک لفظ پر اعراب جاری کر دیا گیا پھر تو وہ سب کے نزدیک کیا ہے؟ معرب۔ لیکن یہاں معرب اصطلاحی کی بات ہو رہی ہے۔ صاحب مفصل کے نزدیک معرب کسے کہیں گے؟ اس میں صرف مستحق اعراب ہونے کی صلاحیت ہونی چاہیے، لہٰذا اسماء معدودہ وہ بھی کیا ہیں؟ معرب۔ جبکہ صاحب قافیہ مستحق اعراب ہونے کی صرف صلاحیت کا اعتبار نہیں کرتے بلکہ باقاعدہ وہ بالفعل کیا ہو جائیں؟ مستحق اعراب ہو جائیں، اس کا اعتبار کرتے ہیں۔ دیکھیے بھئی کتاب پر: "فاعلم أن صاحب الكشاف جعل الأسماء المعدودة العارية عن المشابهة المذكورة معربة"، تو جان لے کہ صاحب کشاف یعنی وہی علامہ زمخشری جو ہیں: "جعل الأسماء المعدودة"، انہوں نے قرار دیا ہے اسماء معدودہ کو، وہ اسماء معدودہ: "العارية عن المشابهة المذكورة"، جو خالی ہوں اس مشابہت مذکورہ سے، وہ اسماء معدودہ جو اس مشابہت مذکورہ سے خالی ہوں یعنی جو مبنی الاصل کے مشابہ نہ ہوں: "معربة"، ان کو کیا قرار دیا ہے؟ معرب قرار دیا ہے۔ "وليس النزاع في المعرب الذي هو اسم مفعول"، اور جھگڑا نہیں ہے اس معرب کے بارے میں جو کہ اسم مفعول ہے: "من قولك أعربت"، آپ کے قول "أعربت" سے۔ آپ کا قول جو "أعربت" ہے، "أعربت" کا کیا معنی؟ میں نے اعراب دیا، میں نے اعراب کا اجراء کیا، توجہ ہے؟ تو "أعربت" فعل سے جو اسم مفعول آتا ہے یعنی معرب یعنی وہ لفظ جس کو باقاعدہ اعراب جس پر جاری کیا گیا ہو، وہ مراد نہیں، اس میں جھگڑا نہیں۔ جب اعراب جاری کر دیا گیا پھر تو جھگڑا ہے ہی نہیں، پھر تو سب کے نزدیک وہ معرب ہے۔ جھگڑا صرف معرب اصطلاحی میں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: "وليس النزاع في المعرب الذي هو اسم مفعول من قولك أعربت"، اور جھگڑا نہیں ہے اس معرب کے بارے میں جو آپ کے قول "أعربت" سے اسم مفعول ہے: "فإن ذلك لا يحصل إلا بإجراء الإعراب على آخر الكلمة بعد التركيب"، اس لیے کیونکہ وہ والا معرب جو ہے یعنی معرب لغوی وہ تو حاصل نہیں ہوگا مگر یہ کہ اعراب کا اجراء کر دیا جائے کلمہ کے آخر پر ترکیب کے بعد۔ یہ تو اسی وقت معرب کہلائے گا اور پھر تو اس میں کوئی جھگڑا ہی نہیں: "بل في المعرب اصطلاحاً"، بلکہ جھگڑا جو ہے معرب کے اندر ہے اصطلاحاً، بااعتبار اصطلاح کے، کہ اصطلاحی اعتبار سے معرب کسے کہتے ہیں۔ "فاعتبر العلامة مجرد الصلاحية لاستحقاق الإعراب بعد التركيب"، پس اعتبار کیا علامہ نے یعنی علامہ زمخشری نے اعتبار کیا ہے: "مجرد الصلاحية لاستحقاق الإعراب بعد التركيب"، کہ صرف اعراب کا مستحق ہونے کی صلاحیت ہو بعد الترکیب، کس کے بعد؟ ایک اسم میں ترکیب کے بعد اعراب کا مستحق ہونے کی صلاحیت ہو تو یہ کافی ہے، اس کو ہم معرب کہیں گے۔ لہٰذا اسماء معدودہ بھی داخل ہو گئے، یہ بھی جب مبنی الاصل کے مشابہ نہ ہوں اور ترکیب میں واقع ہو کر اعراب کے مستحق ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو پھر ان کو کیا کہیں گے؟ معرب کہیں گے۔ تو کہتے ہیں: "فاعتبر العلامة مجرد الصلاحية لاستحقاق الإعراب بعد التركيب"، تو علامہ زمخشری نے اعتبار کیا ہے ترکیب کے بعد اعراب کا مستحق ہونے کی صلاحیت کا صرف، صرف اس صلاحیت کا اعتبار کیا ہے۔ "وهو الظاهر من كلام الإمام عبد القاهر"، اور یہی ظاہر ہے امام عبدالقاہر کے کلام سے بھی، یہی ظاہر ہے امام عبدالقاہر کے کلام سے بھی۔ یاد رکھو یہ امام عبدالقاہر جو ہیں یہ بہت بڑے نحوی گزرے ہیں اور یہ امام ہیں علم بلاغت کے بھئی، علم بلاغت کے۔ دروس البلاغہ اور مختصر المعانی میں ان کا ذکر ملے گا آپ کو جگہ جگہ بھئی، بلاغت کی جہاں کتاب آئے گی اس میں ان کا ذکر ملے گا۔ ان کا انتقال ہوا ہے 471 ہجری میں، یعنی یہ علامہ زمخشری سے پہلے گزرے ہیں، علامہ زمخشری کا انتقال تو 538 ہجری میں ہوا ہے۔ تو یہ بہت بڑے بلاغت کے امام ہیں اور بلاغت میں ان کی دو کتابیں بڑی مشہور ہیں بھئی، ایک کا نام ہے اسرار البلاغہ، اسرار البلاغہ، اور ایک کا نام ہے دلائل الاعجاز جس میں یہ قرآن کی فصاحت و بلاغت کو بیان کرتے ہیں کہ قرآن کتنا فصیح و بلیغ ہے بھئی۔ تو یہ شیخ عبدالقاہر یہ بلاغت کے امام ہیں جبکہ دوسرے جو ہیں علامہ زمخشری بھئی، یہ بہت بڑے نحوی گزرے ہیں اور ان کی کتاب مفصل جو ہے نحو کی عظیم کتابوں میں سے ہے۔ یاد رکھو علامہ زمخشری جو تھے یہ معتزلی تھے۔ معتزلہ ایک گمراہ فرقہ گزرا ہے بھئی۔ یہ علامہ زمخشری جنہوں نے کشاف جیسی عظیم کتاب لکھی، جنہوں نے مفصل جیسی عظیم کتاب لکھی لیکن یہ معتزلی تھے، معتزلہ ایک گمراہ فرقہ گزرا ہے۔ اور یہ فلسفے کے بہت بڑے ماہر تھے، فلسفے کے بہت بڑے ماہر تھے، حتیٰ کہ انہوں نے فلسفے کو اصل ٹھہرا لیا اور قرآن و حدیث میں کوئی بات فلسفے کے خلاف آتی تو فلسفے کی بات کو اٹل سمجھتے، قرآن و حدیث میں تاویل کر کے اس کو فلسفے کے مطابق کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ بجائے اس کے کہ قرآن و حدیث کو اصل سمجھا جائے اور فلسفے میں تاویل کی جائے، اس کی کوئی اور تقریر کی جائے، وہ فلسفے کے اصولوں کو اٹل سمجھتے تھے کہ یہ تو قطعی ہیں ان میں تو کوئی غلطی ہے ہی نہیں، تو چنانچہ قرآن و حدیث کی تاویل کیا کرتے تھے۔ چنانچہ چنانچہ یہ کہتے تھے کہ جنت اور جہنم کا وجود نہیں ہے، جنت اور جہنم کا وجود نہیں ہے، قیامت میں اللہ تعالیٰ پھر ان کو اس وقت پیدا فرمائیں گے۔ اس لیے کیونکہ یہ نو کرّے ہیں، سمجھ میں آیا؟ نو کرے ہیں یعنی نو آسمان ہیں، کتنے؟ نو آسمان۔ قرآن تو سات آسمانوں کو ذکر کرتا ہے لیکن فلسفے میں نو آسمانوں کا ذکر ہے، یہ فلسفے کی بات کو اٹل سمجھتے تھے کہ نو آسمان ہیں، اور ان نو آسمانوں سے باہر نہ خلا ہے نہ ملا ہے، نہ کوئی خالی جگہ ہے نہ بھری جگہ ہے، بس یہی ہے نو آسمان ہیں، بس۔ ان کے کہنے کا مطلب یہ تھا گویا اللہ کے پاس جگہ ہی نہیں ہے جہاں پر جنت اور جہنم کو پیدا فرمائیں، کیونکہ یہ نو کرے ہیں، نو آسمان ہیں، ان سے باہر نہ خلا ہے نہ ملا، نہ خالی جگہ ہے نہ بھری ہوئی جگہ ہے۔ خلا کا معنی خالی جگہ، ملا کا معنی بھری ہوئی جگہ۔ جگہ ہی نہیں ہے اللہ کہاں پیدا فرمائیں۔ ہاں قیامت میں اللہ جب ان چیزوں کو سمیٹ دیں گے، ان کو لپیٹ دیں گے تو پھر اللہ جنت اور جہنم کو پیدا فرمائیں گے۔ تو دیکھا، فلسفے کو اصل بنایا، قرآن و حدیث میں تاویل کر لی بھئی۔ اور نیز یہ معراج جسمانی کے منکر تھے حالانکہ اہل سنت والجماعت کے نزدیک حضور علیہ السلام معراج پر اپنے بدن مبارک کے ساتھ تشریف لے گئے تھے، یہ کوئی خواب نہیں تھا بلکہ باقاعدہ حضور علیہ السلام تشریف لے گئے تھے آسمانوں پر۔ یہ کہتے ہیں بھئی کہ یہ زمین کے گرد ایک کرۂ نار ہے، آگ کا ایک کرہ ہے جس نے زمین کو گیند ہے جس نے زمین کو چاروں طرف سے گھیرا ہوا ہے بھئی، اور اس آگ میں سے کوئی گزر ہی نہیں سکتا، جو گزرے گا جل جائے گا، تو معراج جسمانی نہیں تھی بلکہ منامی تھی بھئی، خواب تھا، خواب تھا۔ تو دیکھا، فلسفے کے اصول کو اصل سمجھا اور قرآن و حدیث میں تاویل کر لی بھئی، قرآن اور حدیث میں تاویل کر لی۔ حالانکہ آج آپ دیکھ رہے ہیں کہ خلائی جہاز خلا میں جا رہے ہیں اور آ رہے ہیں، کوئی کرۂ نار نہیں ہے بھئی، کوئی کرۂ نار زمین کے گرد موجود نہیں ہے، لیکن انہوں نے فلسفے کو اصل سمجھا۔ تو یہ گمراہ فرقہ تھا بھئی، اور علماء فرماتے ہیں ان کو ان کی کثرت علم نے گمراہ کر دیا، کبھی کبھار کثرت علم بھی گمراہی کا سبب بن جاتی ہے بھئی، تو یہ چونکہ فلسفے اور منطق کے بہت بڑے ماہر تھے بھئی تو اس کو اصل ہی ٹھہرا لیا بھئی۔ تو یہ ہیں علامہ زمخشری بھئی۔ لیکن معتزلی ہیں لیکن بہرحال کشاف جیسی عظیم تفسیر انہوں نے لکھی اور اسی طرح مفصل جیسی عظیم عظیم نحوی کتاب انہوں نے لکھی بھئی۔ تو علامہ زمخشری جو ہیں ان کے نزدیک معرب کس کو کہتے ہیں؟ وہ اسم جس میں اعراب کا مستحق ہونے کی صلاحیت ہو تو صرف صلاحیت کافی ہے، جبکہ صاحب قافیہ ان کے نزدیک صرف صلاحیت کافی نہیں بلکہ بالفعل اعراب کا مستحق ہو جائے۔ دیکھیے بھئی کتاب پر، کہتے ہیں: "واعتبر المصنف رحمه الله مع الصلاحية حصول الاستحقاق بالفعل"، جبکہ مصنف یعنی صاحب قافیہ نے صلاحیت کے ساتھ ساتھ اعتبار کیا ہے: "حصول الاستحقاق بالفعل"، کہ بالفعل وہ اسم جو ہے اعراب کا مستحق ہو جائے، حصول استحقاق ہو جائے، اعراب کا مستحق ہونا اس کو حاصل ہو جائے یعنی وہ مستحق ہو جائے اعراب کا۔ "ولهذا أخذ التركيب في تعريفه"، اسی لیے صاحب قافیہ نے ترکیب کو لیا ہے اس معرب کی تعریف میں، ترکیب کو ذکر کیا کہ "المركب"، وہ مرکب ہونا چاہیے بھئی۔ یہ معنی ہے: "ولهذا أخذ التركيب في تعريفه"، اور اسی وجہ سے صاحب قافیہ نے ترکیب کو لیا ہے یعنی اس کو ذکر کیا ہے: "في تعريفه أي في تعريف المعرب"۔ "وأما وجود الإعراب بالفعل في كون الاسم معرباً فلم يعتبره أحد"، اور باقی اعراب کا بالفعل ہونا: "وأما وجود الإعراب بالفعل"، باقی اعراب کا بالفعل ہونا: "في كون الاسم معرباً"، اسم کے معرب ہونے میں: "فلم يعتبره أحد"، اس کا کسی نے اعتبار نہیں کیا۔ یعنی معرب اسی کو کہیں گے جس پر باقاعدہ اعراب آ جائے، "ضرب زيدٌ"، زید پر میں نے کیا جاری کر دیا؟ اعراب۔ اس کو معرب کہا جائے اس کا اعتبار کسی نے نہیں کیا، یہ تو بالاتفاق معرب ہے بھئی۔ اصطلاحی معرب کسے کہتے ہیں اس میں اختلاف کیا ہے۔ معنی سمجھ آ رہا ہے؟ تو کہتے ہیں: "وأما وجود الإعراب بالفعل في كون الاسم معرباً فلم يعتبره أحد"، باقی اعراب کا بالفعل ہونا اسم کے معرب ہونے میں اس کا اعتبار کسی نے نہیں کیا: "ولذلك يقال"، اور اسی وجہ سے کہا جاتا ہے، دیکھو یہ عبارت سمجھ لو: "لم تعرب الكلمة وهي معربة"، "لم تعرب الكلمة وهي معربة"، ایک شخص ہے مثلاً عبارت پڑھ رہا ہے، "ضرب زيدٌ" لکھا ہوا ہے، اس نے کیا پڑھا؟ "ضرب زيد"، کیا پڑھا؟ "ضرب زيد"، تو اس موقع پر کہتے ہیں: "لم تعرب الكلمة"، اس کلمہ کو اعراب نہیں دیا گیا یعنی زید کو، اس نے زید کو اعراب دیا؟ توجہ ہے؟ اس نے کیا پڑھا؟ "ضرب زيد"، زید پر اعراب نہیں پڑھا، تو اس موقع پر کیا کہتے ہیں؟ "لم تعرب الكلمة"، اس کلمے پر اعراب نہیں پڑھا گیا، اس کلمے کو اعراب نہیں دیا گیا: "وهي معربة"، حالانکہ یہ معرب ہے، اس حال میں کہ یہ کیا ہے؟ معرب ہے۔ اس حال میں کہ یہ معرب ہے۔ دیکھا، اس کلمے کو اعراب نہیں دیا گیا، کون سا اعراب مراد ہے؟ بالفعل اعراب نہیں دیا گیا یعنی اعراب لغوی، اور حالانکہ یہ معرب ہے، معلوم ہوا کون سا معرب ہے؟ اصطلاحی۔ کیا مراد ہے؟ اصطلاحی، کہ اس کلمے کو کوئی اعراب نہیں دیا گیا یعنی لفظوں میں تو اعراب اس پر جاری نہیں کیا گیا حالانکہ یہ تو کیا ہے؟ معرب ہے، اصطلاح کے اعتبار سے یہ تو معرب ہے، اس پر تو اعراب جاری کرنا چاہیے تھا بھئی۔ تو دیکھو کلمے پر اعراب جاری نہیں ہوا پھر بھی اس کو معرب کہا جا رہا ہے، پھر بھی اس کا معرب کہا جا رہا ہے۔ معلوم ہوا اصطلاح کے اندر معرب صرف اسی کو نہیں کہتے جس پر بالفعل اعراب جاری ہو جائے بلکہ جس میں اعراب کی صلاحیت آ جائے اس کو بھی معرب کہتے ہیں۔ تو اس کو کس طرح پڑھنا؟ "لم تُعْرَبِ الكلمةُ"، اور یہ "الكلمة" اس کا نائب فاعل بن جائے گا، اس کو فعل مجہول پڑھو: "لم تُعْرَبِ الكلمةُ"، اس کلمے کو اعراب نہیں دیا گیا: "وهي معربة"، اس حال میں کہ یہ معرب ہے۔ یا اس کو مخاطب کا صیغہ پڑھو، پھر فعل مجہول نہ پڑھو، فعل معروف پڑھو: "لم تُعْرِبِ الكلمةَ"، اس شخص کو کہا جا رہا ہے جس نے اعراب نہیں دیا: "لم تُعْرِبِ الكلمةَ"، اب "الكلمة" کو مفعول بناؤ۔ تو نے اس کلمے کو اعراب نہیں دیا، آپ نے اس کلمے کو اعراب نہیں دیا: "وهي معربة"، حالانکہ یہ معرب ہے۔ تو دونوں طرح پڑھ سکتے ہیں: فعل مجہول پڑھیں تو "الكلمة" کو نائب فاعل بنائیں، اور مخاطب کا صیغہ پڑھیں تو پھر فعل معروف پڑھیں "لم تُعْرِبْ"، اس کے اندر "أنت" ضمیر فاعل اور "الكلمة" کو کیا بناؤ؟ مفعول بناؤ۔ یہاں تک عبارت سمجھ میں آ گئی؟ کہتے ہیں: "ولذلك يقال لم تعرب الكلمة وهي معربة"، اور اسی وجہ سے کہا جاتا ہے "لم تعرب الكلمة" کہ تو نے کلمے کو اعراب نہیں دیا "وهي معربة" حالانکہ یہ معرب ہے۔ یہ چار پانچ سطریں پہلے جہاں سے ہم نے آج کا سبق شروع کیا، یہ "اعلم أن صاحب الكشاف" سے لے کر "وهي معربة" جو ابھی جہاں تک ہم نے پڑھا، یاد رکھو یہ ساری عبارت میر سید شریف کی ہے۔ یہ کس کی عبارت ہے؟ میر سید شریف جو ہیں انہوں نے رضی کی شرح قافیہ ہے اس کے اوپر حاشیہ جو لکھا وہاں سے یہ عبارت لی گئی ہے میر سید شریف کی بھئی۔ اور اس میں انہوں نے فرق ذکر کیا کہ صاحب کشاف اور صاحب قافیہ دونوں کا مذہب الگ الگ ہے معرب کے بارے میں بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔