فَصْلٌ: اَلنَّعْتُ تَابِعٌ يَدُلُّ عَلَى مَعْنًى فِيْ مَتْبُوْعِهِ نَحْوُ: جَاءَنِيْ رَجُلٌ عَالِمٌ، أَوْ فِيْ مُتَعَلِّقِ مَتْبُوْعِهِ نَحْوُ: جَاءَنِيْ رَجُلٌ عَالِمٌ أَبُوْهُ، وَيُسَمَّى صِفَةً أَيْضًا، وَالْقِسْمُ الْأَوَّلُ يَتْبَعُ مَتْبُوْعَهُ فِيْ عَشَرَةِ أَشْيَاءَ فِي الْإِعْرَابِ وَالتَّعْرِيْفِ وَالتَّنْكِيْرِ وَالْإِفْرَادِ وَالتَّثْنِيَةِ وَالْجَمْعِ وَالتَّذْكِيْرِ وَالتَّأْنِيْثِ۔ گزشتہ سبق میں ہم نے توابع کے بارے میں پڑھنا شروع کیا تھا بھئی۔ مرفوعات، منصوبات اور مجرورات ختم ہوئے۔ یعنی مرفوعات، منصوبات اور مجرورات وہ والے جن پر عامل براہِ راست عمل کرتا ہے اور ان کو رفع دیتا ہے یا نصب دیتا ہے یا جر۔ اس کے بعد توابع بیان کرنے لگے۔ توابع جمع ہے تابع کی، تابع کا معنی ہوتا ہے پیچھے آنے والا۔ تو یہ وہ اسماء ہیں جن پر وہی اعراب آتا ہے جو ان کے ماقبل پر ہوتا ہے، تو یہ اپنے سے ماقبل کے تابع ہوتے ہیں اعراب کے اندر، اس کے پیچھے آتے ہیں اور ان پر بھی وہی اعراب آتا ہے جو ماقبل پر ہوتا ہے تو ان کو توابع کہتے ہیں بھئی، توابع۔ اور اس کی تعریف انہوں نے آپ کے سامنے کی تھی کہ ”هُوَ كُلُّ ثَانٍ“ ہر وہ دوسرے درجے والا ہے، ”مُعْرَبٍ بِإِعْرَابِ سَابِقِهِ“ کہ اس کو اعراب دیا گیا ہو، کون سا اعراب؟ جو اس سے سابق کا یعنی اس سے ماقبل کا اعراب ہے، ”مِنْ جِهَةٍ وَاحِدَةٍ“ اور ایک ہی جہت سے۔ ایک ہی جہت سے کیا معنی؟ یعنی اعراب کی مقتضی ایک ہی چیز ہو۔ مثلاً جَاءَنِيْ رَجُلٌ عَالِمٌ۔ رَجُلٌ ہے موصوف، عَالِمٌ ہے صفت۔ تو جس چیز نے رَجُلٌ میں رفع کا تقاضا کیا تھا یعنی رجل کے فاعل ہونے نے، یعنی فاعلیت نے، اسی فاعلیت نے تقاضا کیا کہ عَالِمٌ پر بھی کیا آنا چاہیے؟ رفع۔ تو یہ دیکھو عَالِمٌ یہ دوسرے درجے میں ہے رجل کی طرف یعنی موصوف کی طرف دیکھتے ہوئے، اور اس پر بھی وہی اعراب ہے جو رجل پر یعنی ماقبل پر تھا، اور دونوں میں اعراب کی مقتضی ایک ہی چیز ہے، یعنی جس فاعلیت نے رجل میں رفع کا تقاضا کیا اسی فاعلیت نے عَالِمٌ میں بھی رفع کا تقاضا کیا بھئی۔ اور پھر انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ توابع پانچ قسم پر ہیں: ایک نعت یعنی صفت ہے، ایک عطف بالحروف ہے، ایک تاکید ہے، ایک بدل ہے، اور ایک عطف بیان۔ تو یہ پانچ توابع ہیں بھئی۔ ان پر وہی اعراب آتا ہے جو ان سے ماقبل پر ہوتا ہے۔ اور اب ان میں سے ہر ایک کو تفصیل کے ساتھ بیان کرنے لگے ہیں۔ تو سب سے پہلے صفت کے بارے میں بیان کرنے لگے ہیں۔ تو کہتے ہیں: اَلنَّعْتُ تَابِعٌ، کہ صفت جو ہے، میں نے بتایا نعت، صفت اور وصف تینوں کا ایک ہی معنی ہے بھئی۔ البتہ یہ صرف اصطلاح کا فرق ہے۔ کوفہ والے نحوی جو ہیں وہ نعت کا لفظ استعمال کرتے ہیں، بصرہ والے نحوی صفت کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ ایک ہی چیز کا نام، نحویوں کی ایک جماعت نے نعت رکھا اور دوسری جماعت نے اس کا نام وصف اور صفت رکھا۔ تو نعت اور صفت ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔ تو کہتے ہیں: اَلنَّعْتُ تَابِعٌ يَدُلُّ عَلَى مَعْنًى فِيْ مَتْبُوْعِهِ، کہتے ہیں نعت یعنی صفت ایسا تابع ہے۔ میں نے بتایا تھا نکرہ کے بعد فعل آئے تو وہ عموماً اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت بنتا ہے۔ اور پھر ترجمہ کرتے ہوئے موصوف سے پہلے کیا لفظ لے آؤ؟ ایسا یا ایسی۔ تو تَابِعٌ نکرہ ہے بھئی، نہ یہ ضمیر ہے، نہ یہ اسم اشارہ ہے، نہ یہ اسم موصول ہے، نہ یہ کسی کا نام ہے، اور نہ یہ معرف باللام ہے، اور نہ ان میں سے کسی کی طرف مضاف ہے تو یہ نکرہ ہوا، اور اس کے بعد يَدُلُّ فعل آیا تو یہ اس کے لیے کیا بنے گا؟ صفت۔ تو کہتے ہیں: اَلنَّعْتُ، صفت جو ہے، تَابِعٌ، وہ ایسا تابع ہے، يَدُلُّ، جو دلالت کرتا ہے، عَلَى مَعْنًى، ایسے معنی پر، فِيْ مَتْبُوْعِهِ، جو اس کے متبوع میں پایا جائے۔ ایک اور ضابطہ میں نے آپ کو بتلایا تھا، پہلا ضابطہ تو کیا کہ نکرہ کے بعد اگر فعل آ جائے تو وہ عموماً اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت۔ اسی طرح اگر نکرہ کے بعد جار مجرور آ جائے اور وہ کسی سے نہ جڑ رہا ہو۔ آپ نے پڑھا تھا جار مجرور آٹھ چیزوں میں سے کسی ایک کے ساتھ ضرور جڑے گا۔ تو اگر جملے میں کوئی ایسا لفظ نہیں ہے جس کے ساتھ وہ جڑ رہا ہو اور کس کے بعد آئے؟ نکرہ کے بعد، تو پھر وہ اس نکرہ کی صفت بنے گا، عموماً کیا بنے گا؟ صفت۔ اور صفت بھی براہِ راست نہیں بننا، جڑنا تو اس نے اب بھی ہے۔ محذوف نکال لیں گے، اس سے جوڑ کر کیا بنا دیں گے؟ اس نکرہ کے لیے صفت، جیسے مَعْنًى فِيْ مَتْبُوْعِهِ۔ مَعْنًى نکرہ آیا اور اس کے بعد فِيْ مَتْبُوْعِهِ جار مجرور آیا، اور یہ جار مجرور کسی سے یہاں نہیں جڑ رہا تو یہ پھر ثَبَتَ یا ثَابِتٌ یہاں نکال لیں گے اور پھر اس کے ساتھ جوڑ کر یہ معنی کے لیے کیا بن جائے گا؟ صفت بنے گا۔ اور تو مَعْنًى ہوا موصوف اور فِيْ مَتْبُوْعِهِ ہوئی اس کی صفت۔ اور موصوف صفت کا ترجمہ نکرہ میں کیسے کرتے ہیں؟ معنی سے پہلے ایسا، تو ایسا معنی فِيْ مَتْبُوْعِهِ جو اس کے متبوع میں ہو بھئی، اس کے متبوع میں ہو۔ تو بات میں یہ بیان کر رہا تھا کہ نکرہ کے بعد اگر فعل آ جائے، فعل آ جائے یا اسی طرح جملہ اسمیہ آ جائے بھئی، کیونکہ فعل نے بھی اپنے فاعل سے مل کر جملہ بننا ہے اور جملہ اسمیہ میں بھی مبتدا خبر ہوتے ہیں وہ پورا جملہ ہے، اور جملہ کس کے حکم میں ہے؟ نکرہ کے حکم میں، اسی لیے وہ نکرہ کی صفت بنتا ہے۔ کیونکہ موصوف صفت میں تنکیر و تعریف میں مطابقت ضروری، اگر موصوف نکرہ ہو تو صفت بھی کیا ہوتی ہے؟ نکرہ، موصوف اگر معرفہ ہو تو صفت بھی معرفہ۔ تو نکرہ کے بعد فعل آیا اور اس فعل نے بننا ہے جملہ اور پھر وہ اس نکرہ کی صفت بنے گا، معلوم ہوا جملہ نکرہ کے حکم میں ہوتا ہے، یہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں۔ جملے کے اندر چاہے دس معرفہ آ رہے ہوں لیکن جب آپس میں مل کر وہ جملہ بن جائیں گے تو اب نکرہ کے حکم میں ہے پورا جملہ بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اسی طرح جار مجرور جو ہے وہ بھی نکرہ کی صفت بنے گا۔ تو خلاصہ کلام کیا ہوا؟ نکرہ کے بعد اگر فعل آ جائے یا اسی طرح جملہ اسمیہ آ جائے یا جار مجرور آ جائے تو یہ سارے اس کے لیے عموماً صفت بنتے ہیں۔ اور معرفہ کے بعد اگر یہی چیزیں آئیں، یعنی فعل آ جائے یا جملہ اسمیہ آ جائے یا جار مجرور، تو وہ اس سے حال بنیں گے۔ وہ معرفہ بنے گا ذوالحال اور یہ کیا بنیں گے؟ حال بنیں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اب دیکھیے کتاب پر بھئی، کہتے ہیں: اَلنَّعْتُ تَابِعٌ يَدُلُّ عَلَى مَعْنًى فِيْ مَتْبُوْعِهِ، نعت یعنی صفت وہ ایسا تابع ہے جو دلالت کرتا ہے عَلَى مَعْنًى ایسے معنی پر فِيْ مَتْبُوْعِهِ جو اس کے متبوع میں پایا جاتا ہے۔ بھئی دیکھیے، جو بعد میں آیا وہ ہے تابع، یعنی صفت ہے تابع، اور جو پہلے آیا وہ ہے متبوع، یعنی موصوف کیا ہے؟ متبوع۔ تو موصوف ہوا متبوع اور صفت ہوئی تابع۔ صفت کی تعریف کر رہے ہیں، کہتے ہیں صفت ایسا تابع ہے۔ صفت ایسا تابع ہے، اور تابع کل کتنے تھے؟ پانچ۔ تو اب صرف پانچ چیزیں آ گئیں، باقی سب نکل گئیں، کیونکہ کہہ دیا صفت تابع ہے، تو غیر تابع چیزیں نکل گئیں۔ غیر تابع ابھی تک جو آپ پڑھ چکے تھے: مبتدا، خبر، فاعل، مفعول، اور نائب الفاعل وغیرہ، مرفوعات، منصوبات، مجرورات جتنے ابھی تک گزرے تھے وہ سارے کیا ہوئے؟ نکل گئے۔ بھئی صفت پر اعراب آئے گا یا نہیں؟ رفع، نصب یا جر، تو وہ بھی مرفوع ہو گی، منصوب ہو گی یا مجرور۔ تو ماقبل میں بھی تو بہت سارے مرفوع، منصوب اور مجرور ذکر ہوئے ہیں۔ اب صفت کی تعریف کرنے لگے ہیں، دیکھو تعریف ایسی ہو جس میں کوئی غیر نہ داخل ہو۔ تو جامع، یعنی اس صفت کے سارے افراد اس میں آ جائیں اور غیر صفت اس میں داخل نہ ہو۔ تو تعریف شروع کر دی، کیا کہتے ہیں؟ صفت ایسا تابع ہے۔ جب تابع کہا تو غیر تابع سارے نکل گئے، صرف کون رہ گئے؟ تابع۔ اور تابع تو کل کتنے ہیں؟ پانچ۔ اب صرف پانچ رہ گئے، اب ان میں سے بھی باقیوں کو نکالنا ہے۔ کہتے ہیں: ایسا تابع ہے يَدُلُّ عَلَى مَعْنًى جو دلالت کرتا ہے ایسے معنی پر فِيْ مَتْبُوْعِهِ جو کس میں پایا جائے؟ اس کے متبوع میں۔ تو یہ صفت کی تعریف ہوئی، باقی نکل گئے کیونکہ باقیوں کی الگ تعریفیں آگے آ رہی ہیں، ان شاء اللہ آپ دیکھیں گے بھئی۔ تو صفت ایسا تابع ہے جو دلالت کرے ایسے معنی پر جو اس کے متبوع میں پایا جائے۔ بھئی دیکھیے ادھر، میں کہتا ہوں: جَاءَنِيْ رَجُلٌ عَالِمٌ۔ ترکیب کیا ہو گی؟ بلکہ کتاب میں جملہ دیا ہوا ہے ذرا اس پہ نظر رکھیں: جَاءَنِيْ رَجُلٌ عَالِمٌ۔ جَاءَ فعل، نون وقایہ، یا ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ، رَجُلٌ مرفوع لفظاً موصوف۔ مرفوع کیوں؟ کیونکہ فاعل ہے، شاباش، اور لفظاً کیوں؟ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں رَجُلٌ۔ اچھا، اور موصوف آپ کو کیسے پتہ چلا موصوف ہے؟ کیونکہ نکرہ کے بعد کیا آ رہا ہے؟ نکرہ، اور ایک نکرہ کے بعد ایک یا کئی نکرہ آ جائیں تو وہ اس پہلے نکرہ کے لیے صفت بنتے ہیں بشرطیکہ آخر میں کوئی معرفہ نہ آئے، اور آخر میں یہاں کوئی معرفہ نہیں تو یہ صفت بنے گا۔ تو رَجُلٌ ہوا موصوف اور عَالِمٌ ہے اس کی صفت۔ جی، تو آپ ترکیب کر رہے تھے: رَجُلٌ مرفوع لفظاً موصوف، عَالِمٌ مرفوع لفظاً صیغہ اسم فاعل، اس کے اندر هُوَ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو کس کو راجع؟ رجل، شاباش، کیونکہ صفت کو کس سے جوڑتے ہیں؟ موصوف سے، اور عالم کون ہے؟ وہ رجل ہے، رجل ہے، تو عالم کی ضمیر اسی کو لوٹے گی۔ تو وہ عَالِمٌ مرفوع، اسم فاعل، عَالِمٌ مرفوع کیوں؟ کیونکہ صفت ہے، اور موصوف صفت کا اعراب ایک ہوتا ہے۔ تو اسم فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر صفت، موصوف صفت مل کر فاعل، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ ترکیب سمجھ میں آ گئی؟ اب دیکھیے اس ترکیب میں رَجُلٌ ہے موصوف اور عَالِمٌ ہے صفت، اور یہ عَالِمٌ دوسرے درجے پر آ رہا ہے، اور دونوں میں اعراب کا تقاضا کرنے والی ایک ہی چیز ہے۔ جس چیز نے رَجُلٌ میں رفع کا تقاضا کیا اور وہ کیا ہے؟ رجل کا فاعل ہونا، اسی نے تقاضا کیا کہ عَالِمٌ کو بھی مرفوع ہونا چاہیے کیونکہ یہ فاعل کی صفت ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو انہوں نے کیا صفت کی تعریف کی؟ صفت ایسا تابع ہے جو دلالت کرتا ہے ایسے معنی پر جو کس میں پایا جائے؟ اس کے متبوع میں۔ بھئی دیکھیے، رَجُلٌ ہے موصوف، عَالِمٌ ہے اس کی صفت۔ اب یہ عالم ہونے کی صفت کس میں پائی جا رہی ہے؟ رجل میں۔ دیکھو عَالِمٌ یہ صفت ہے اور انہوں نے کیا کہا؟ صفت ایسا تابع ہے جو دلالت کرتا ہے ایسے معنی پر جو کس میں پایا جائے؟ متبوع میں۔ تو یہ عالم ہونا یہ ایک معنی ہے اور کس کے اندر پایا جا رہا ہے؟ متبوع یعنی رجل کے اندر، وہ عالم رجل ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یا یوں کہو، عالم دلالت کر رہا ہے علم پر اور یہ علم کس میں ہے؟ اس رجل یعنی متبوع کے اندر ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: اَلنَّعْتُ تَابِعٌ يَدُلُّ عَلَى مَعْنًى فِيْ مَتْبُوْعِهِ، صفت ایسا تابع ہے جو دلالت کرتا ہے ایسے معنی پر جو اس کے متبوع میں پایا جائے، أَوْ فِيْ مُتَعَلِّقِ مَتْبُوْعِهِ، یا وہ دلالت کرتا ہے ایسے معنی پر جو کس میں پایا جائے؟ فِيْ مُتَعَلِّقِ مَتْبُوْعِهِ، اس کے متبوع کے متعلق میں، متبوع میں نہیں پایا جا رہا بلکہ متبوع کے متعلق میں پایا جا رہا ہے۔ یہ دوسری قسم آ گئی صفت کی۔ نَحْوُ: جَاءَنِيْ رَجُلٌ عَالِمٌ أَبُوْهُ۔ ذرا اس جملے پہ نظر رکھو، ترکیب کرو: جَاءَ فعل، نون وقایہ، یا ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ، رَجُلٌ مرفوع لفظاً فاعل، اچھا مرفوع کیوں؟ فاعل ہے۔ اور لفظاً کیوں؟ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں۔ تو مرفوع لفظاً فاعل ہے اور موصوف ہے۔ مرفوع لفظاً موصوف۔ آگے عَالِمٌ مرفوع لفظاً صیغہ اسم فاعل۔ مرفوع کیوں؟ کیونکہ رجل کی صفت ہے اور موصوف صفت کا اعراب ایک ہوتا ہے، موصوف مرفوع تھا تو صفت بھی مرفوع ہے۔ تو عَالِمٌ مرفوع لفظاً صیغہ اسم فاعل۔ آگے هُوَ ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو کس کو راجع؟ رجل کو، اسم فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر صفت۔ پھر آگے أَبُوْهُ کا آپ کیا کرو گے؟ ضابطے بھول گئے! ضابطے بھول گئے آپ! میں نے کہا تھا فعل جب آ جائے، فعل کے آنے کے بعد مرفوع صرف فاعل آ سکتا ہے یا نائب فاعل۔ فعل معروف ہو تو فاعل، فعل مجہول ہو تو نائب فاعل، اور کوئی مرفوع نہیں آ سکتا۔ اسی طرح صفت کے صیغے آ جائیں تو ان کے بعد یہ بھی فعل کی طرح فاعل یا نائب فاعل کا تقاضا کرتے ہیں اور صرف وہی مرفوع ہو گا اور کوئی مرفوع نہیں آ سکتا۔ اب کیا کریں گے؟ عَالِمٌ صفت آ گئی، صفت کے آنے کے بعد تو صرف مرفوع کون آ سکتا ہے؟ اس کا فاعل۔ اسم مفعول ہوتا نا تو نائب فاعل آتا اور اسم فاعل کے لیے کیا آتا ہے؟ فاعل۔ تو اس کے لیے صرف فاعل مرفوع آ سکتا ہے، اور آگے أَبُوْهُ مرفوع آ رہا ہے۔ أَبُوْ: اسمائے ستہ مکبرہ موحدہ مضافہ الی غیر یاء المتکلم، ان کا کیا اعراب ہوتا ہے؟ رفع واؤ کے ساتھ، نصب الف کے ساتھ، جر یا کے ساتھ۔ آگے أَبُوْهُ کس کے ساتھ ہے؟ واؤ کے ساتھ۔ معلوم ہوا یہ مرفوع ہے اور صفت کے آنے کے بعد تو مرفوع صرف کون آ سکتا ہے؟ فاعل۔ معلوم ہوا یہ ہے فاعل عَالِمٌ کے لیے، کیونکہ یہ اسم ظاہر ہے۔ اور فعل کیا کرتا ہے؟ ضَرَبَ زَيْدٌ، زَيْدٌ کیا ہے؟ اسم ظاہر۔ اگر یہ زَيْدٌ نہ ہوتا تو ضَرَبَ میں کیا نکالتے؟ ضمیر۔ تو یہاں بھی اسی طرح ہوتا ہے صفت بھی اسی طرح عمل کرتی ہے، آگے یہ اسم ظاہر کو رفع دے گی۔ اگر اسم ظاہر نہ ہو پھر اس کے اندر کیا نکالتے ہیں؟ ضمیر۔ جب آگے اسم ظاہر کو یہ رفع دے رہی ہے تو اب اس کے اندر ضمیر نہیں ہو گی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ دوسرا ضابطہ آپ کو یاد ہے بھئی؟ میں نے کہا تھا فاعل جب اسم ظاہر ہو فعل کو ہمیشہ مفرد رکھتے ہیں: ضَرَبَ زَيْدٌ، ضَرَبَ الزَّيْدَانِ، ضَرَبَ الزَّيْدُوْنَ۔ تو دیکھو زَيْدٌ چاہے مفرد ہو، چاہے تثنیہ ہو، چاہے جمع، فعل ضَرَبَ نے ہمیشہ مفرد رہنا ہے۔ کیونکہ ضابطہ کیا ہے؟ فاعل جب کیا ہو؟ اسم ظاہر ہو تو فعل کو ہمیشہ کیا رکھتے ہیں؟ مفرد رکھتے ہیں۔ اور صفت بھی اسی طرح ہے، صفت میں بھی جب فاعل کون ہو؟ اسم ظاہر ہو تو صفت کو کیا رکھتے ہیں؟ مفرد رکھتے ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ مثلاً یہاں ہوتا: عَالِمٌ غُلَامُهُ، تو یہ غُلَامُهُ کیا ہوتا؟ عَالِمٌ کے لیے فاعل۔ عَالِمٌ صفت کا صیغہ ہے نا تو غُلَامُهُ کیا ہوتا اس کے لیے؟ فاعل۔ یہ تثنیہ ہوتا تو بھی اس عَالِمٌ نے مفرد رہنا تھا: عَالِمٌ غُلَامَاهُ، نون تو اضافت سے گر جاتا: عَالِمٌ غُلَامَاهُ، اور اگر یہاں جمع ہوتا مُسْلِمُوْنَ مثلاً مُسْلِمُوْهُ تو: عَالِمٌ مُسْلِمُوْهُ، عَالِمٌ مُسْلِمُوْهُ۔ تو کیا بتایا میں نے؟ جب فاعل اسم ظاہر ہو تو جیسے فعل مفرد رہتا ہے اسی طرح صفت کا صیغہ بھی مفرد رہتا ہے۔ تو عَالِمٌ نے مفرد ہی رہنا ہے جب آگے اسم ظاہر فاعل آئے چاہے وہ أَبُوْهُ مفرد ہو، چاہے غُلَامَاهُ تثنیہ ہو، چاہے مُسْلِمُوْهُ جمع ہو، اس عَالِمٌ نے مفرد ہی رہنا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اچھا، اب ترکیب ہم کر رہے تھے، دوبارہ ترکیب کریں: جَاءَ فعل، نون وقایہ، یا ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ، رَجُلٌ مرفوع لفظاً موصوف۔ مرفوع کیوں؟ فاعل ہے۔ لفظاً کیوں؟ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں۔ موصوف آپ کو کیسے پتہ چلا موصوف ہے؟ کیونکہ اس کے بعد نکرہ آیا اور نکرہ کے بعد نکرہ آئے تو عموماً کیا بنتے ہیں؟ موصوف صفت۔ تو یہ موصوف ہوا۔ آگے عَالِمٌ مرفوع لفظاً صیغہ اسم فاعل۔ یہ کیوں مرفوع ہے؟ کیونکہ یہ رجل کی صفت ہے، صفت ہے۔ تو مرفوع لفظاً صیغہ اسم فاعل۔ آگے، ہاں، پھر هُوَ ضمیر نکال رہے ہو! ابھی تو بتایا، ہاں جب وہ فاعل آگے آ رہا ہے تو اب هُوَ ضمیر اس کے اندر نہیں ہے۔ أَبُوْ اعراب بھئی، ایک ایک لفظ کا اعراب بتاؤ مجھے۔ ہاں، أَبُوْ مرفوع لفظاً مضاف۔ مرفوع کیوں؟ ہاں، یہ فاعل ہے عَالِمٌ کے لیے۔ رجل تھا فاعل جَاءَ کے لیے، اور أَبُوْ فاعل ہے عَالِمٌ کے لیے، صفت کے صیغے کے لیے، تو یہ مرفوع ہے۔ اور لفظاً کیوں؟ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں، کیا ہے اس کا رفع؟ واؤ ہے، شاباش، اور وہ واؤ ہم پڑھ رہے ہیں۔ تو مرفوع لفظاً، اور تیسری بات آپ نے کہی مضاف، آپ کو کیسے پتہ چلا یہ مضاف ہے؟ جس اسم کے ساتھ بھی شاباش ضمیر متصل آ جائے وہ آپس میں کیا بنتے ہیں؟ مضاف مضاف الیہ۔ آگے۔ ہاں، ہا ضمیر، هُوْ نہیں کہنا بھئی، ہا ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ۔ مجرور کیوں بھئی؟ میں تو اس پر ضمہ پڑھ رہا ہوں۔ یہ اس کی حرکت ہے، شاباش، یہ تو مبنی ہے اس پر تو اعراب آتا ہی نہیں ہے، تو یہ تو مجرور ہے کیونکہ مضاف الیہ ہے اور مضاف الیہ ہمیشہ کیا ہوتا ہے؟ مجرور، تو مجرور محلاً۔ محلاً کیوں؟ کیونکہ ضمیر ہے مبنی ہے۔ اچھا، اب سمیٹیے بھئی، مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر فاعل ہوا بھئی، فاعل ہوا کس کے لیے؟ عَالِمٌ کے لیے۔ اچھا، اسم فاعل، سمیٹیے بھئی، أَبُوْهُ مضاف مضاف الیہ مل کر عَالِمٌ کے لیے فاعل، عَالِمٌ صیغہ اسم فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر صفت۔ بھئی کیسے کیسے شبہ جملہ کو آپ کسی سے جوڑ سکتے ہیں جب تک آپ عائد نہیں بتلائیں گے؟ جواب کیا؟ ہاں بھئی أَبُوْهُ کی ہا ضمیر یہ لوٹ رہی ہے کس کو؟ رجل کو، أَبُوْهُ اس آدمی کا باپ، اس کا والد بھئی۔ تو یہ عائد آپ نے بتا دیا، تو اسم فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر رجل کی صفت۔ موصوف اپنی صفت سے مل کر فاعل جَاءَ کے لیے۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ ترکیب سمجھ میں آئی بھئی؟ اچھا، اب ترجمہ کرو: جَاءَنِيْ، آیا میرے پاس، رَجُلٌ، ایسا آدمی، عَالِمٌ أَبُوْهُ، کہ اس کا والد عالم ہے۔ کہ اس کا والد عالم ہے۔ آپ نے ابھی ترکیب کی، عَالِمٌ کو کس کی صفت بنایا؟ رجل کی، اور مجھے یہ بتاؤ عالم وہ رجل ہے یا رجل کا متعلق یعنی اس کا والد؟ اس کا متعلق یعنی اس کا والد۔ تو دیکھو یہ صفت کی دوسری قسم آئی۔ پہلی صفت کی قسم کیا تھی؟ عَالِمٌ پہلی مثال میں رجل کی صفت تھی اور وہ عالم ہونے کا وصف بھی کس میں تھا؟ اسی رجل میں۔ اور دوسری مثال میں عالم رجل کی صفت ہے، صفت ہے، لیکن وہ عالم، توجہ ہے؟ عالم کس کی صفت ہے؟ رجل کی، لیکن یہ عالم ہونے کا معنی یہ اس رجل میں نہیں ہے، وہ رجل عالم نہیں ہے بلکہ اس کا متعلق یعنی اس کا والد۔ تو اس کا والد جو ہے وہ عالم ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا دیکھو ادھر دیکھو، صفت دو قسم کی ہوتی ہے۔ صفت ہمیشہ آئے گی موصوف کے بعد، موصوف پہلے آتا ہے اور صفت بعد میں، لیکن صفت کی دو قسمیں ہیں۔ صفت کی ایک قسم وہ ہے جو ایسے معنی پر دلالت کرتی ہے جو اسی کے موصوف میں پایا جاتا ہے، اور بعض دفعہ صفت ایسے معنی پر دلالت کرتی ہے جو اس کے موصوف میں نہیں پایا جاتا بلکہ موصوف کے متعلق میں۔ صفت تو اسی کی ہے، لفظوں کے اعتبار سے اسی کی صفت ہے لیکن معنی کے اعتبار سے اس کے متعلق کی صفت ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ صفت کی دو قسمیں ہوئیں، پہلی قسم کیا؟ کہ صفت ایسے معنی پر دلالت کرتی ہے جو اس کے اپنے متبوع یعنی موصوف ہی میں پایا جائے، یاد رکھیے اس کو کہتے ہیں صفت بحالہ، کیا کہتے ہیں؟ صفت بحالہ۔ وہ صفت جس کا معنی اس کے اپنے ہی متبوع میں پایا جائے اس کو کہتے ہیں صفت بحالہ۔ اور اگر وہ معنی اس کے متعلق میں پایا جائے اس کو کہتے ہیں صفت بحال متعلقہ، کیا کہتے ہیں؟ یہ نام آپ نے یاد رکھنے ہیں، یہ نام مختصراً جگہ جگہ آگے مثالیں آئیں گی میں آپ کو صرف اشارہ کروں گا کہ یہ صفت بحالہ ہے آپ سمجھ جائیں یہ ایسی صفت ہے جس کا معنی اس کے اپنے متبوع میں ہی پایا جا رہا ہے۔ رَجُلٌ عَالِمٌ، معلوم ہوا یہ عالم کون ہے؟ یہ رجل ہی ہے۔ لیکن اگر میں کہوں یہ صفت بحال متعلقہ ہے تو آپ سمجھ جائیں کہ عَالِمٌ لفظوں میں تو رجل کی صفت ہے لیکن رجل عالم نہیں ہے بلکہ عالم اس کا متعلق ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ آسان لفظوں میں یوں کہو: صفت بحالہ: جَاءَنِيْ رَجُلٌ عَالِمٌ، توجہ ہے؟ مجھے اب بتائیے: جَاءَنِيْ رَجُلٌ عَالِمٌ، یہ عَالِمٌ صفت بحالہ ہے یا بحال متعلقہ ہے؟ بحالہ ہے، معلوم ہوا یہ عَالِمٌ لفظوں میں کس کی صفت؟ رجل کی، اور معنی میں بھی رجل ہی کی صفت ہے کیونکہ یہ معنی کس میں پایا جا رہا ہے؟ رجل میں۔ تو صفت بحالہ لفظوں میں جس کی صفت ہوتی ہے معنی میں بھی اسی کی صفت ہوتی ہے۔ جبکہ صفت بحال متعلقہ: جَاءَنِيْ رَجُلٌ عَالِمٌ أَبُوْهُ، مجھے بتائیے یہ صفت بحالہ ہے یا بحال متعلقہ ہے؟ یہ صفت بحال متعلقہ ہے۔ اور دیکھو یہ عَالِمٌ لفظوں میں تو صفت ہے کس کی؟ رجل کی، لیکن معنی میں رجل کی نہیں صفت بلکہ اس کے متعلق کی صفت ہے۔ تو گویا صفت بحالہ لفظوں میں جس کی صفت ہوتی ہے معنی میں بھی اسی کی صفت، لیکن صفت بحال متعلقہ لفظوں میں صفت ہوتی ہے ایک کی تو معنی کے اعتبار سے صفت ہوتی ہے اس کے متعلق کی۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ اب آگے آئیں گی مثالیں آئیں گی جگہ جگہ، وہاں میں صرف اشارہ کر دوں گا کہ یہ صفت بحالہ ہے یا میں بتا دوں گا یہ صفت بحال متعلقہ ہے آپ سمجھ جائیں کہ معلوم ہوا یہ لفظوں میں تو اس کی صفت ہے معنی میں اس کی صفت نہیں اس کے متعلق کی صفت ہے۔ تو دوبارہ اب تعریف دیکھیے، کہتے ہیں: اَلنَّعْتُ تَابِعٌ يَدُلُّ عَلَى مَعْنًى فِيْ مَتْبُوْعِهِ أَوْ فِيْ مُتَعَلِّقِ مَتْبُوْعِهِ، صفت وہ ایسا تابع ہے جو دلالت کرتا ہے ایسے معنی پر جو اس کے متبوع میں پایا جائے یا اس کے متبوع کے متعلق میں پایا جائے۔ وَيُسَمَّى صِفَةً أَيْضًا، اور نعت کو صفت بھی کہتے ہیں۔ نعت کو، میں نے بتایا تھا نا کہ یہ ایک ہی نام ہے دو چیزوں کے، بس اصطلاح کا فرق ہے، ایک اصطلاح ہے کوفہ والے نحویوں کی اور ایک اصطلاح ہے بصرہ والے نحویوں کی بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَيُسَمَّى صِفَةً أَيْضًا، اور نعت کو صفت بھی کہتے ہیں۔ وَالْقِسْمُ الْأَوَّلُ يَتْبَعُ مَتْبُوْعَهُ فِيْ عَشَرَةِ أَشْيَاءَ، اور پہلی قسم، کون سی صفت؟ صفت بحالہ، صفت بحالہ وہ پہلی قسم، اور دوسری قسم کون سی؟ صفت بحال متعلقہ۔ یہ لفظ یاد کر لیں ان کے نام یاد کر لیں، میں نے بتایا: صفت بحالہ اور صفت بحال متعلقہ۔ تو پہلی قسم صفت بحالہ جو ہے، يَتْبَعُ مَتْبُوْعَهُ، وہ تابع ہوتی ہے اپنے متبوع کے، فِيْ عَشَرَةِ أَشْيَاءَ، دس چیزوں میں: فِي الْإِعْرَابِ، کس کے اندر؟ اعراب میں، تین یہ آ گئے، اعراب میں کیونکہ رفع، نصب، جر۔ صفت، ادھر دیکھیے بھئی، کس صفت کی بات کر رہے ہیں؟ صفت بحالہ کی، جس میں صفت ایسے معنی پر دلالت کرتی ہے جو اس کے اپنے متبوع میں پایا جائے۔ تو یہ صفت بحالہ جو ہے اپنے متبوع کے ساتھ دس چیزوں میں اس کے تابع ہو گی یعنی اس کے مطابق ہو گی۔ اس کے تابع اس کے، اس کے مطابق ہو گی۔ وہ دس چیزیں کیا ہیں؟ نمبر ایک ہے اعراب، اعراب۔ یعنی اگر اس کے متبوع پر رفع تھا تو اس صفت پر بھی کیا آئے گا؟ رفع۔ اگر اس کے متبوع پر نصب تھا تو اس کے تابع اس صفت پر بھی کیا آئے گا؟ نصب۔ اگر اس کے متبوع پر جر تھا تو اس صفت پر بھی کیا آئے گا؟ جر۔ تو اس اعراب میں تین چیزیں آ گئیں، انہوں نے کہا نا دس چیزوں میں تابع ہو گی، تین چیزیں: رفع، نصب اور جر، ان میں اس کے تابع ہو گی۔ وَالتَّعْرِيْفِ وَالتَّنْكِيْرِ، اور تعریف و تنکیر میں اس کے تابع ہو گی، کیا معنی؟ یعنی اگر متبوع معرفہ ہو گا تو یہ صفت بھی کیا ہو گی؟ معرفہ، اگر اس کا متبوع نکرہ ہو گا تو صفت بھی کیا ہو گی؟ نکرہ ہو گی۔ یہ کون سی صفت نے؟ صفت بحالہ نے۔ اچھا، پانچ ہو گئیں چیزیں؟ وَالْإِفْرَادِ وَالتَّثْنِيَةِ وَالْجَمْعِ، مفرد، تثنیہ اور جمع ہونے کے اندر بھئی، اگر موصوف مفرد ہو گا تو صفت بھی مفرد، موصوف تثنیہ ہو گا تو صفت بھی تثنیہ، موصوف جمع ہو گا تو صفت بھی جمع۔ یہ کون سی صفت؟ صفت بحالہ۔ کتنی چیزیں ہو گئیں؟ آٹھ۔ وَالتَّذْكِيْرِ وَالتَّأْنِيْثِ، اور تذکیر و تانیث میں بھی اس کے تابع ہو گی، یعنی اگر موصوف مذکر ہو گا تو صفت بھی مذکر، موصوف اگر مؤنث ہے تو صفت بھی مؤنث۔ تو یہ دس چیزیں ہیں۔ کتنی چیزیں؟ دس۔ اعراب میں تین چیزیں آ گئیں: رفع، نصب اور جر، پھر تعریف اور تنکیر پانچ ہو گئیں، افراد، تثنیہ اور جمع آٹھ ہو گئے، اور تذکیر و تانیث۔ مختصر کلام یوں کریں، مختصراً یوں کہیں: چار چیزوں میں، دس نہ کہیں بلکہ کیا کہیں؟ چار چیزوں میں صفت اپنے ما، یہ صفت بحال، صفت بحالہ اپنے ماقبل کے تابع ہو گی۔ کتنی چیزوں میں؟ چار۔ چار چیزیں کیا؟ نمبر ایک: اعراب، رفع، نصب، جر میں سے ایک چیز آئے گی۔ نمبر ایک: اعراب، رفع، نصب، جر میں سے۔ نمبر دو ہے تعریف و تنکیر میں سے ایک چیز آئے گی، یا تعریف آئے گی یا تنکیر، اس میں بھی مطابقت۔ نمبر تین: افراد، تثنیہ، جمع، ان میں سے بھی ایک آئے گا۔ اور نمبر چار: تذکیر و تانیث۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو چار چیزوں میں مطابقت ہو گی، یعنی اگر موصوف مرفوع تھا تو صفت بھی مرفوع، وہ منصوب تو یہ بھی منصوب، وہ مجرور تو یہ بھی مجرور، تو اعراب میں بھی مطابقت ہو گی۔ نمبر دو: تعریف و تنکیر میں، اگر وہ معرفہ تو یہ بھی معرفہ، وہ نکرہ تو یہ بھی نکرہ، تو تعریف و تنکیر میں بھی مطابقت آ جائے گی۔ اور افراد، تثنیہ اور جمع میں بھی مطابقت آئے گی، اور تذکیر و تانیث میں بھی مطابقت آئے گی، جیسے جَاءَنِيْ رَجُلٌ عَالِمٌ۔ یہ کون سی صفت تھی؟ صفت بحالہ۔ تو دیکھو رَجُلٌ مرفوع ہے تو صفت عَالِمٌ بھی مرفوع۔ دوسری بات: رَجُلٌ نکرہ ہے تو عَالِمٌ بھی نکرہ۔ تیسری چیز: رَجُلٌ مفرد ہے تو عَالِمٌ بھی مفرد ہے۔ چوتھی چیز: رَجُلٌ مذکر ہے تو عَالِمٌ بھی مذکر ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے کہ پہلی قسم جو ہے یعنی صفت بحالہ وہ تابع ہوتی ہے اپنے متبوع کے دس چیزوں کے اندر: فِي الْإِعْرَابِ وَالتَّعْرِيْفِ وَالتَّنْكِيْرِ وَالْإِفْرَادِ وَالتَّثْنِيَةِ وَالْجَمْعِ وَالتَّذْكِيْرِ وَالتَّأْنِيْثِ۔ نَحْوُ: جَاءَنِيْ رَجُلٌ عَالِمٌ، وَرَجُلَانِ عَالِمَانِ، وَرِجَالٌ عَالِمُوْنَ، وَزَيْدٌ الْعَالِمُ، وَامْرَأَةٌ عَالِمَةٌ۔ جی، رَجُلٌ عَالِمٌ یہ مفرد کی مثال، رَجُلَانِ عَالِمَانِ تثنیہ کی مثال، رِجَالٌ عَالِمُوْنَ جمع کی مثال، زَيْدٌ الْعَالِمُ یہ معرفہ کی مثال، امْرَأَةٌ عَالِمَةٌ یہ مؤنث کی مثال۔ یہ کتنی مثالیں ہو گئیں؟ پانچ ہو گئیں بھئی۔ اور ہر ایک کے ساتھ جَاءَنِيْ کو جوڑتے جاؤ کیونکہ وہ ہر ایک کے ساتھ ذکر نہیں کیا ایک دفعہ ذکر کر دیا۔ اور ترکیب ذرا کرتے جاؤ سارے بھئی، ترکیبیں کرو: جَاءَنِيْ رَجُلٌ عَالِمٌ۔ جَاءَ فعل، نون وقایہ، یا ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ، رَجُلٌ مرفوع لفظاً موصوف، عَالِمٌ مرفوع لفظاً صیغہ اسم فاعل، اس کے اندر هُوَ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو کس کو راجع؟ رَجُلٌ کو۔ اسم فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر صفت، موصوف صفت مل کر فاعل، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ دوسری مثال: جَاءَنِيْ رَجُلَانِ عَالِمَانِ۔ جَاءَ فعل، نون وقایہ، یا ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ، آگے رَجُلَانِ مرفوع لفظاً موصوف۔ مرفوع کیوں؟ فاعل ہے، تثنیہ ہے نا اور فاعل ہے۔ اور لفظاً کیوں؟ کیونکہ اس کا رفع الف کے ساتھ آتا ہے تثنیہ کا اور اس پر ہم تلفظ کر رہے ہیں، تو مرفوع لفظاً، اور موصوف کیونکہ نکرہ کے بعد نکرہ آ رہا ہے وہ صفت بنے گی۔ آگے عَالِمَانِ مرفوع لفظاً صیغہ اسم فاعل، اس کے اندر هُمَا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو کس کو راجع؟ رَجُلَانِ کو۔ اسم فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر صفت، موصوف صفت مل کر فاعل، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ تیسری مثال: جَاءَنِيْ رِجَالٌ عَالِمُوْنَ۔ جَاءَ فعل، نون وقایہ، یا ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ، رِجَالٌ مرفوع لفظاً موصوف۔ مرفوع کیوں؟ فاعل ہے۔ لفظاً کیوں؟ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں۔ اچھا، موصوف کیسے آپ کو پتہ چلا؟ کیونکہ نکرہ کے بعد نکرہ آیا تو یہ موصوف صفت بنیں گے۔ جی، آگے عَالِمُوْنَ مرفوع لفظاً صیغہ اسم فاعل۔ مرفوع کیوں؟ کیونکہ یہ صفت ہے اور موصوف صفت کا اعراب ایک ہوتا ہے۔ لفظاً کیوں؟ عَالِمُوْنَ میں تو نصب پڑھ رہا ہوں! ہاں، اس کا رفع واؤ کے ساتھ کیونکہ یہ جمع مذكر سالم ہے تو یہ مرفوع اور اس واؤ پر ہم تلفظ کر رہے ہیں تو مرفوع لفظاً صیغہ اسم فاعل، اس کے اندر هُمْ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو کس کو راجع؟ رِجَالٌ کو۔ اسم فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر صفت، موصوف صفت مل کر فاعل، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ وَزَيْدٌ الْعَالِمُ: جَاءَنِيْ زَيْدٌ الْعَالِمُ۔ جی، جَاءَ فعل، نون وقایہ، یا ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ، زَيْدٌ مرفوع لفظاً موصوف، اَلْعَالِمُ مرفوع لفظاً صیغہ اسم فاعل، اس کے اندر هُوَ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل بھئی، اس کا فاعل بھئی، جو اور کس کو لوٹے گی؟ زید کو۔ اسم فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر صفت، موصوف صفت مل کر فاعل، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ اچھا، چلیے بہرحال یہ ترکیب ویسے اس طرح نہیں ہو گی لیکن چلیے یہ اَلْعَالِمُ، یہ جو الف لام ہے نا یہ الف لام یہ اسم موصول ہے، الف لام اسمی ہے اور عَالِمٌ یہ اس کا صلہ ہے، لیکن ابھی وہ آپ نے پڑھی نہیں چلیے بس، یہ آگے ان شاء اللہ ہم کر لیں گے اسم موصول کی ترکیب آ جائے گی وہاں پھر آپ کو پوری ترکیب سمجھ میں آئے گی۔ اچھا جی، وَامْرَأَةٌ عَالِمَةٌ: جَاءَتْنِي امْرَأَةٌ عَالِمَةٌ۔ جی، جَاءَتْ فعل، نون وقایہ، یا ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ، امْرَأَةٌ مرفوع لفظاً موصوف، عَالِمَةٌ مرفوع لفظاً صیغہ اسم فاعل، اس کے اندر هِيَ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو کس کو راجع؟ امْرَأَةٌ کو۔ اسم فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر صفت، موصوف صفت مل کر فاعل، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ آگے دیکھیے بھئی: وَالْقِسْمُ الثَّانِيْ إِنَّمَا يَتْبَعُ مَتْبُوْعَهُ فِي الْخَمْسَةِ الْأُوَلِ فَقَطْ، اور دوسری قسم جو ہے، کون سی دوسری قسم؟ صفت بحال متعلقہ، وہ تابع ہوتی ہے اپنے متبوع کے فِي الْخَمْسَةِ الْأُوَلِ فَقَطْ پہلی پانچ چیزوں میں۔ أُوَلُ جمع ہے أُوْلَى کی، سمجھ میں آیا بھئی؟ آپ نے گردان پڑھی ہے یا نہیں؟ ”وَأَفْعَلُ التَّفْضِيْلِ: اَلْمُذَكَّرُ مِنْهُ أَضْرَبُ، وَالْجَمْعُ أَضَارِبُ، وَالْمُؤَنَّثُ مِنْهُ ضُرْبَى، ضُرْبَيَاتٌ، ضُرَبٌ“ تو مؤنث کیا ہے؟ ضُرْبَى، أُوْلَى، وہی وزن ہے کہ نہیں؟ ضُرْبَى، أُوْلَى، اور ضُرْبَى کی جمع کیا ہے؟ ضُرَبٌ، تو یہاں بھی اسی طرح أُوَلٌ، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ أُوَلُ جمع ہے أُوْلَى کی، یہ اسم تفضیل ہے۔ تو کہتے ہیں وہ جو دوسری قسم یعنی صفت بحال متعلقہ یہ تابع ہوتی ہے اپنے متبوع کے فِي الْخَمْسَةِ الْأُوَلِ فَقَطْ صرف پہلی پانچ چیزوں میں۔ بھئی پہلی پانچ چیزیں کون سی ہیں؟ کہتے ہیں: أَعْنِي الْإِعْرَابَ وَالتَّعْرِيْفَ وَالتَّنْكِيْرَ، یعنی کہ اعراب اور تعریف و تنکیر میں، اعراب اور تعریف و تنکیر میں۔ یعنی اگر موصوف مرفوع ہو گا تو صفت بھی مرفوع، موصوف منصوب ہو گا تو صفت بھی منصوب، موصوف مجرور ہو گا تو صفت بھی مجرور، اور موصوف اگر معرفہ ہو گا تو صفت بھی معرفہ، موصوف اگر نکرہ ہو گا تو صفت بھی نکرہ۔ باقی پانچ چیزوں میں مطابقت نہیں ضروری، صفت بحال متعلقہ میں مفرد، تثنیہ اور جمع ہونے میں موصوف کے ساتھ صفت کی مطابقت ضروری نہیں، نیز اسی طرح تذکیر و تانیث میں بھی مطابقت ضروری نہیں، ایک مذکر ہو تو دوسرا مؤنث بھی ہو سکتا ہے، صورت سمجھ میں آ گئی۔ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: جیسے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: ﴿مِنْ هَذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا﴾، توجہ ہے؟ ﴿مِنْ هَذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا﴾، تو دیکھیے اس مثال میں: اَلْقَرْيَةِ ہے موصوف اور الظَّالِمِ صیغہ اسم فاعل، اور آگے أَهْلُهَا اس کے لیے فاعل ہے، جیسے گزشتہ مثال میں آیا تھا نا: عَالِمٌ أَبُوْهُ، تو وہاں أَبُوْهُ فاعل تھا، یہاں الظَّالِمِ کے لیے أَهْلُهَا فاعل ہے تو الظَّالِمِ کے اندر اب ضمیر نہیں ہے بھئی۔ اور اَلْقَرْيَةِ، اَلْقَرْيَةِ دیکھو پانچ چیزوں میں مطابقت ہے: اعراب میں، اَلْقَرْيَةِ مجرور ہے تو الظَّالِمِ بھی کیا ہے؟ مجرور ہے، تو اعراب میں مطابقت آ گئی۔ اور تعریف و تنکیر میں بھی مطابقت ہے، اَلْقَرْيَةِ معرفہ ہے تو الظَّالِمِ بھی کیا ہے؟ معرفہ ہے۔ جبکہ باقی افراد، تثنیہ اور جمع میں مطابقت ضروری نہیں، اسی طرح تذکیر و تانیث میں بھی مطابقت ضروری نہیں، اَلْقَرْيَةِ اس کے ساتھ تاء تانیث کی ملی ہوئی ہے یہ مؤنث ہے اور الظَّالِمِ دیکھو اس کے ساتھ تاء نہیں ملی ہوئی یہ مذکر ہے، صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو أَهْلُهَا، ہا ضمیر راجع ہے قریہ کو: أَهْلُهَا أي أَهْلُ الْقَرْيَةِ۔ مِنْ هَذِهِ الْقَرْيَةِ اس بستی میں سے الظَّالِمِ أَهْلُهَا کہ ظالم ہیں اس کے رہنے والے، کہ ظالم ہیں اس بستی والے۔ اب دیکھیے ظالم لفظوں میں صفت ہے قریہ کی، موصوف صفت ہے نا، تو لفظوں میں صفت کس کی؟ قریہ کی، لیکن معنی میں یہ صفت ہے اہلِ قریہ کی، بستی نہیں ظالم بلکہ بستی والے ظالم ہیں بھئی۔ تو دیکھا یہ صفت بحال متعلقہ ہے، لفظوں میں صفت ہے قریہ کی اور معنی میں صفت ہے اہلِ قریہ کی بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ کہتے ہیں: وَفَائِدَةُ النَّعْتِ تَخْصِيْصُ الْمَنْعُوْتِ إِنْ كَانَا نَكِرَتَيْنِ، اب فائدہ ذکر کرنے لگے ہیں بھئی یہ صفت کیوں لائی جاتی ہے؟ صفت کا فائدہ کیا ہوتا ہے؟ کہتے ہیں بھئی دیکھیے، صفت نکرہ کی بھی آتی ہے اور صفت معرفہ کی بھی آتی ہے۔ نکرہ میں صفت آئے تو وہ تخصیص کا فائدہ دیتی ہے، کس چیز کا؟ تخصیص کا فائدہ دیتی ہے، اور معرفہ میں صفت آئے تو وہ توضیح کا فائدہ دیتی ہے۔ بھئی نکرہ ہے: رَجُلٌ، مثلاً فرض کریں دنیا میں مثلاً فرض کریں ایک ارب مرد ہیں، کتنے ہیں؟ فرض کر لیں۔ تو دیکھو جب میں نے رَجُلٌ کہا، رجل کا لفظ ہر مرد پہ بولا جا رہا ہے، یہ بھی رجل، یہ بھی رجل، یہ بھی رجل، تو ہر ہر مرد کو کیا کہہ سکتے ہیں؟ رجل۔ تو اس میں کتنے احتمالات؟ ایک ارب احتمالات۔ اور اگر اس کی جب میں صفت لے آؤں گا اس نکرہ کی: رَجُلٌ عَالِمٌ، اب یہ ہر مرد پر نہیں بولا جا سکتا بلکہ صرف کس پر بولا جائے گا؟ جو عالم ہو گا مرد اس پر، اور وہ مثلاً ایک لاکھ ہیں۔ تو دیکھو پہلے رجل میں احتمال تھے ایک کروڑ اور جب صفت لے آئے تو احتمال کم ہو گئے، کتنے رہ گئے؟ ایک لاکھ۔ اور احتمالات کم ہو جانا اس کو کیا کہتے ہیں؟ تخصیص۔ معلوم ہوا نکرہ میں جب صفت آتی ہے تو وہ کس چیز کا فائدہ دیتی ہے؟ تخصیص کا فائدہ دیتی ہے یعنی اس میں احتمالات کو کم کر دیتی ہے۔ اور معرفہ میں؟ کہتے ہیں معرفہ میں صفت توضیح کا فائدہ دیتی ہے بھئی، توضیح کا۔ پہلے دیکھیے ذرا عبارت ذرا، کہتے ہیں: وَفَائِدَةُ النَّعْتِ، اور صفت کا فائدہ جو ہے، تَخْصِيْصُ الْمَنْعُوْتِ، وہ منعوت یعنی موصوف کی تخصیص ہے، إِنْ كَانَا نَكِرَتَيْنِ، اگر وہ دونوں نکرہ ہوں، یعنی موصوف اور صفت دونوں کیا ہوں؟ نکرہ ہوں تو پھر یہ صفت کس چیز کا فائدہ دے گی؟ تخصیص کا، نَحْوُ: جَاءَنِيْ رَجُلٌ عَالِمٌ، یہ رَجُلٌ نکرہ، عَالِمٌ اس کی صفت، تو اس نے تخصیص کا فائدہ دیا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ وَتَوْضِيْحُهُ إِنْ كَانَا مَعْرِفَتَيْنِ، اور یہ صفت توضیح کا فائدہ دے گی اگر موصوف صفت دونوں معرفہ ہوں، نَحْوُ: جَاءَنِيْ زَيْدٌ الْفَاضِلُ، زَيْدٌ موصوف، اَلْفَاضِلُ اس کی صفت اور دونوں معرفہ ہیں تو یہ توضیح کا فائدہ دیتی ہے۔ توضیح کسے کہتے ہیں؟ کہتے ہیں توضیح کا معنی ہے غیر کے احتمال کو ختم کر دینا۔ توضیح کا کیا معنی ہے؟ غیر کے احتمال کو ختم کر دینا۔ مثلاً بھئی میرے پاس زید آیا، میں آپ سے کہتا ہوں: جَاءَنِيْ زَيْدٌ، میرے پاس زید آیا، اب اس زید میں احتمال ہے ہو سکتا ہے یہ عالم ہو، ہو سکتا ہے عالم نہ ہو۔ ایک ذات ہے تو اس میں دونوں احتمال ہیں ہو سکتا ہے عالم ہو گی، ہو سکتا ہے عالم نہیں، تو میں آگے جب صفت لے آتا ہوں: جَاءَنِيْ زَيْدٌ الْعَالِمُ، جب عالم صفت آ گئی اس نے غیر عالم ہونے کے احتمال کو ختم کر دیا، یہ ہے توضیح، یعنی وضاحت کر دی۔ توضیح کا کیا معنی؟ وضاحت کرنا۔ دیکھو اس صفت نے کیا کر دی؟ وضاحت کر دی کہ یہ زید عالم ہے، غیر عالم نہیں ہے، تو غیر عالم ہونے کے احتمال کو کیا کر دیا؟ ختم، اور اس کا کیا نام ہے؟ توضیح۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یا اسی طرح میں کہتا ہوں: جَاءَنِيْ عَمْرٌو التَّاجِرُ، میرے پاس وہ عمرو آیا جو تاجر ہے، تو عمرو میں دونوں احتمال تھے پتہ نہیں تاجر ہے یا تاجر نہیں، جب میں نے کہہ دیا التَّاجِرُ تو کون سا احتمال ختم ہوا؟ غیر تاجر ہونے کا احتمال ختم ہوا، تو اس التَّاجِرُ صفت نے عمرو کی وضاحت کر دی کہ وہ تاجر ہے، غیر تاجر نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَتَوْضِيْحُهُ، اور صفت کا فائدہ وہ موصوف کی توضیح ہے، إِنْ كَانَا مَعْرِفَتَيْنِ، اگر موصوف صفت دونوں معرفہ ہوں، نَحْوُ: جَاءَنِيْ زَيْدٌ الْفَاضِلُ، آیا میرے پاس وہ زید جو کہ فاضل ہے، تو اب دیکھیے زید میں فاضل ہونے کا بھی احتمال اور فاضل نہ ہونے کا بھی احتمال، لیکن جب فاضل صفت آ گئی تو فاضل نہ ہونے کا احتمال ختم ہوا۔ وَقَدْ يَكُوْنُ لِمُجَرَّدِ الثَّنَاءِ وَالْمَدْحِ، اور کبھی کبھار صفت محض ثناء، تعریف اور مدح کے لیے بھی ہوتی ہے، ثناء اور مدح کا ایک معنی: تعریف بھئی۔ کبھی کبھار صرف کس لیے آتی ہے؟ تعریف کے لیے، جیسے بھئی نَحْوُ مثال کے طور پر: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔ لفظِ اللہ موصوف ہے، الرَّحْمَنِ صفتِ اول، الرَّحِيْمِ صفتِ ثانی، اور لفظِ اللہ ہے معرفہ، لفظِ اللہ کیا ہے؟ بلکہ یہ علی الاطلاق اعرف المعارف ہے، تمام لفظوں میں سب سے زیادہ تعریف لفظِ اللہ کے اندر ہے بھئی، کس کے اندر؟ لفظِ اللہ کے اندر۔ تو لفظِ اللہ ہوا معرفہ اور الرَّحْمَنِ اس کی صفتِ اول اور الرَّحِيْمِ صفتِ ثانی۔ تو یہ معرفہ کی، تو موصوف صفت معرفہ ہیں یہاں، اور آپ کو ابھی انہوں نے بتایا موصوف صفت جب معرفہ ہوں تو صفت کس چیز کا فائدہ دیتی ہے؟ توضیح کا، یعنی موصوف کی وضاحت کر دیتی ہے، اور توضیح کا کیا معنی تھا؟ غیر کے احتمال کو ختم کر دیتی ہے، غیر کے احتمال کو ختم۔ لیکن یہاں صفت توضیح کا فائدہ نہیں دے رہی، کیوں؟ کیونکہ معنی یہ کریں کہ اللہ رحمن ہے، معلوم ہوا غیر رحمن ہونے کا شبہ ختم ہوا، اللہ رحیم ہے یعنی غیر رحیم ہونے کا شبہ ختم، نہیں بھئی نہیں! جب اللہ کی ذات ہے تو اللہ کی ذات رحمن ہی رحمن ہے وہاں غیر رحمن ہونے کا احتمال ہی نہیں ہے، اللہ کی ذات رحیم ہی رحیم ہے بلکہ وہ تو ارحم الراحمین ہے وہاں غیر رحیم ہونے کا احتمال ہی نہیں، تو پھر تو یہاں توضیح کا فائدہ نہیں دے رہی، تو جواب دے دیا کہ بعض اوقات صفت صرف مدح کے لیے آتی ہے۔ اللہ کی ذات میں غیر رحمن ہونے کا کوئی احتمال نہیں، پھر بھی رحمن صفت لائی گئی کس لیے؟ مدح کے لیے، تعریف کے طور پر۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ الرَّحِيْمِ صفت لائی گئی حالانکہ وہاں غیر رحیم ہونے کا کوئی احتمال نہیں، پھر کیوں لائی گئی؟ توضیح کا فائدہ یہ نہیں دے رہی بلکہ یہ مدح اور ثناء کے لیے لائی گئی ہے، تعریف کے لیے لائی گئی ہے بھئی، اللہ کی مدح کی جا رہی ہے، اللہ کی تعریف کی جا رہی ہے۔ تو معلوم ہوا معرفہ میں صفت ہمیشہ توضیح کے لیے نہیں ہوتی، کبھی کبھی مدح اور ثناء کے لیے بھی ہوتی ہے۔ بات سمجھ بھی آ رہی ہے کہ مشکل ہے بھئی؟ سمجھ آ گئی بھئی؟ اور اسی طرح: وَقَدْ يَكُوْنُ لِلذَّمِّ، کبھی کبھار صفت مذمت کے لیے بھی آتی ہے، برائی اور خرابی بیان کرنے کے لیے بھی آتی ہے، نَحْوُ مثال کے طور پر: أَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ۔ لفظِ شیطان موصوف، الرَّجِيْمِ مردود ہے، الرَّجِيْمِ کا کیا معنی؟ مردود۔ تو شیطان موصوف، الرَّجِيْمِ صفت اور دونوں معرفہ ہیں، اور معرفہ میں صفت انہوں نے بتایا کس لیے آتی ہے؟ توضیح کے لیے، لیکن یہاں توضیح کے لیے نہیں، کیونکہ جب شیطان ہے تو وہ مردود ہی مردود ہے وہاں غیر مردود ہونے کا احتمال نہیں۔ تو پھر تو یہ توضیح کا فائدہ تو نہیں دے رہی، کیونکہ وہاں تو غیر رجیم ہونے کا احتمال ہی نہیں، پھر کس لیے ہے؟ کہتے ہیں یہ مذمت کے لیے ہے، اس کی برائی اور خرابی بیان کرنے کے لیے ہے کہ شیطان کیا ہے؟ مردود ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو حاصل کلام کیا ہوا؟ معرفہ میں کبھی صفت آئے گی توضیح کے لیے، کبھی معرفہ میں صفت آئے گی مدح کے لیے، کبھی معرفہ میں صفت آئے گی مذمت کے لیے۔ سوال پیدا ہوتا ہے: ہمیں کیسے پتہ چلے گا کسی صفت کے بارے میں معرفہ کے اندر کہ یہ اس وقت توضیح کے لیے ہے یا مدح کے لیے یا مدح و مذمت کے لیے؟ تو جواب یہ کہ بھئی یاد رکھیں، اگر آپ کو صفت کا پہلے سے پتہ ہے اور پھر بھی صفت لائی گئی تو معلوم ہوا یہ صفت مدح یا مذمت کے لیے ہے۔ اگر مثلاً زید آپ کے پاس آیا، زید میرے پاس آیا میں آپ سے کہتا ہوں: جَاءَنِيْ زَيْدٌ الْعَالِمُ۔ اب دو صورتیں ہیں: یا تو آپ کو پہلے سے پتہ ہو گا کہ زید عالم ہے یا پہلے سے پتہ نہیں۔ اگر آپ کو پہلے سے پتہ ہے زید عالم ہے میں پھر بھی کہہ رہا ہوں جَاءَنِيْ زَيْدٌ الْعَالِمُ، تو پھر توضیح نہ ہوئی کیونکہ توضیح کا تو کیا معنی تھا؟ دوسرے احتمال کو ختم کرے، جب آپ کو پہلے سے پتہ ہے کہ زید عالم ہے تو غیر عالم ہونے کا کوئی احتمال ہے؟ نہیں، جب آپ کو پہلے سے پتہ ہے۔ تو پھر اس صورت میں یاد رکھیے جب پہلے سے آپ کو علم ہو اور پھر ایک صفت لائی جائے تو وہ مدح یا مذمت کے لیے ہو گی، توضیح کے لیے نہیں ہو گی۔ اب اَلْعَالِمُ وہ صفت سے پتہ چل جائے گا یہ مدح والی صفت ہے تو مدح کے لیے ہو گی، مذمت والی صفت ہے تو مذمت کے لیے ہو گی۔ تو جب اَلْعَالِمُ صفت میں نے ذکر کی اور وہ آپ کو پہلے سے پتہ تھی تو معلوم ہوا یہ جَاءَنِيْ زَيْدٌ الْعَالِمُ، یہ اَلْعَالِمُ صفت جو آئی یہ کس لیے ہے؟ مدح کے لیے ہے۔ اور اگر اس کے بجائے کوئی بری صفت ہوتی تو پھر وہ کس لیے ہوتی؟ مذمت کے لیے، جبکہ آپ کو پہلے سے پتہ ہو۔ اور اگر آپ کو پہلے سے پتہ نہیں تھا کہ زید عالم ہے اور میں اب کہتا ہوں: جَاءَنِيْ زَيْدٌ الْعَالِمُ، تو یہ صفت کس لیے ہے؟ یہ توضیح کے لیے ہے۔ معلوم ہوا قبل العلم وہی صفت توضیح کے لیے ہو گی، اور بعد العلم وہی صفت کس لیے ہو گی؟ مدح یا ذم کے لیے ہو گی۔ کیا ضابطہ ہوا؟ قبل العلم معرفہ میں صفت توضیح کے لیے، اور بعد العلم معرفہ میں صفت مدح یا ذم کے لیے ہو گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ وَقَدْ يَكُوْنُ لِلتَّأْكِيْدِ، اور کبھی کبھار صفت تاکید کے لیے بھی ہو گی، تاکید کا معنی ہوتا ہے ایک معنی کو پکا کرنا، اسی کو پختہ کرنا، اسی میں زور پیدا کرنا۔ مثلاً رَجُلٌ، رَجُلٌ کا کیا معنی ہے؟ ایک آدمی۔ تو رجل کا اپنا معنی ہے ایک آدمی، پھر بھی میں اس کی صفت وَاحِدٌ لے آتا ہوں: جَاءَنِيْ رَجُلٌ وَاحِدٌ۔ اگر وَاحِدٌ میں نہ کہتا پھر بھی رَجُلٌ کا کیا معنی ہوتا ہے؟ دو یا تین آدمی یا ایک آدمی؟ تو رجل کا تو معنی ویسے بھی تھا ایک آدمی، جب مفرد ہے تو ایک والا معنی وہاں خود آ رہا تھا پھر بھی میں وَاحِدٌ ایک صفت لے آیا، تو اس صفت نے کس چیز کا فائدہ دیا؟ تخصیص نہیں پیدا کی بلکہ اس نے اسی میں معنی جو ایک کا معنی تھا اسی میں تاکید پیدا کر دی، اسی کو پکا کر دیا کہ ہاں ایک ہی آدمی تھا دو یا تین نہیں ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ یہ معنی ہے: وَقَدْ يَكُوْنُ لِلتَّأْكِيْدِ، اور کبھی کبھار صفت تاکید کے لیے ہوتی ہے، نَحْوُ جیسے نَفْخَةٌ وَاحِدَةٌ، نفخہ کا معنی ہے پھونکنا، تو نَفْخَةٌ وَاحِدَةٌ، نَفْخَةٌ میں نَفْخَةٌ کا معنی ہی تھا ایک مرتبہ کا پھونکنا اور وَاحِدَةٌ صفت اس کی لائی گئی یہ اسی ایک کے معنی کو کیا کر رہی ہے؟ پکا کر رہی ہے تو یہ صفت تاکید کے لیے ہوئی۔ اور نَفْخَةٌ مفرد ہے تو اس میں ایک کا معنی پہلے ہی موجود تھا پھر وَاحِدَةٌ اس کی صفت لائی گئی تو یہ کیا کر رہا ہے؟ اسی ایک کے معنی کو پکا کر رہا ہے تو یہ صفت تاکید کے لیے ہے بھئی، تاکید کے لیے۔ آگے دیکھیے بھئی: وَاعْلَمْ أَنَّ النَّكِرَةَ تُوْصَفُ بِالْجُمْلَةِ الْخَبَرِيَّةِ نَحْوُ: مَرَرْتُ بِرَجُلٍ أَبُوْهُ عَالِمٌ أَوْ قَامَ أَبُوْهُ۔ وَاعْلَمْ أَنَّ النَّكِرَةَ تُوْصَفُ بِالْجُمْلَةِ الْخَبَرِيَّةِ، اور جان لے تو کہ نکرہ جو ہے اس کو موصوف کیا جاتا ہے جملہ خبریہ کے ساتھ، کس کے ساتھ؟ جملہ خبریہ کے ساتھ، اور جملہ خبریہ دو قسم پر ہے: جملہ یا وہ اسمیہ ہو گا یا فعلیہ، تو دونوں کے ساتھ یعنی موصوف ہوتا ہے۔ جیسے میں نے ابھی آپ کو بتایا بھئی، نکرہ کے بعد اگر فعل آئے تو وہ فعل اپنے فاعل سے مل کر کیا بنے گا؟ جملہ، تو وہ اس نکرہ کے لیے صفت بنے گا۔ اسی طرح نکرہ کے بعد اگر جملہ اسمیہ آ جائے، مبتدا اور خبر، وہ بھی کیا بنا؟ جملہ، اور جملہ کس کے حکم میں ہے؟ نکرہ کے حکم میں، تو وہ اس نکرہ کے لیے کیا بنے گا؟ صفت۔ تو کہتے ہیں: أَنَّ النَّكِرَةَ تُوْصَفُ بِالْجُمْلَةِ الْخَبَرِيَّةِ، کہ نکرہ جو ہے اس کو موصوف کیا جاتا ہے جملہ خبریہ کے ساتھ، نَحْوُ: مَرَرْتُ بِرَجُلٍ أَبُوْهُ عَالِمٌ، توجہ ہے؟ رَجُلٍ نکرہ آیا اور اس کے بعد ایک جملہ اسمیہ آیا: أَبُوْهُ عَالِمٌ۔ أَبُوْهُ مبتدا، عَالِمٌ اس کی خبر، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ، اور یہ صفت ہے کس کی؟ رجل کی، رجل کی۔ دوسری مثال: مَرَرْتُ بِرَجُلٍ قَامَ أَبُوْهُ، تو رَجُلٍ نکرہ اور اس کے بعد قَامَ فعل آیا تو یہ فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر اس کے لیے صفت بنے گا۔ جی، ترکیب کیجیے: مَرَرْتُ بِرَجُلٍ أَبُوْهُ عَالِمٌ۔ مَرَرْتُ فعل بافاعل، تا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، با جارہ، رَجُلٍ مجرور لفظاً موصوف، ابھی تو میں نے بتایا بھئی یہ أَبُوْهُ عَالِمٌ اس کی صفت ہے پورا جملہ اسمیہ، تو رَجُلٍ مجرور لفظاً موصوف۔ مجرور کیوں؟ کیونکہ با جارہ داخل ہے۔ لفظاً کیوں؟ کیونکہ اس کے جر پر ہم تلفظ کر رہے ہیں، کر کے دکھائیے: رَجُلٍ۔ جی، موصوف آپ کو کیسے پتہ چلا یہ موصوف ہے؟ کیونکہ آگے جملہ آ رہا ہے، یہ نکرہ ہے اور نکرہ کے بعد جملہ آئے تو وہ اس کے لیے صفت بنتا ہے، یہ موصوف۔ آگے أَبُوْ، اعراب بھئی، أَبُوْ مرفوع لفظاً مضاف۔ مرفوع کیوں؟ مبتدا ہے، جملہ ہے نا، جملہ دو قسم پر ہے یا فعلیہ یا اسمیہ، تو یہ فعل تو ہے نہیں معلوم ہوا جملہ اسمیہ بنے گا تو أَبُوْ مرفوع لفظاً مضاف۔ مرفوع کیوں؟ کیونکہ مبتدا ہے۔ لفظاً کیوں؟ کیونکہ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں۔ اور مضاف آپ کو کیسے پتہ چلا؟ ہاں اس کے ساتھ ضمیر متصل جڑی ہوئی ہے، تو أَبُوْ مرفوع لفظاً مضاف۔ آگے ہا ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ۔ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر مبتدا۔ عَالِمٌ مرفوع لفظاً صیغہ اسم فاعل، اس کے اندر هُوَ ضمیر، عَالِمٌ میں کون سی ضمیر؟ هُوَ، ہاں عَالِمٌ مرفوع لفظاً صیغہ اسم فاعل۔ مرفوع کیوں؟ شاباش کیونکہ خبر ہے، مبتدا آ گیا تو اب کیا چاہیے؟ خبر۔ تو مرفوع لفظاً صیغہ اسم فاعل۔ مرفوع کیوں؟ کیونکہ یہ خبر ہے۔ لفظاً کیوں؟ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں۔ آگے اس کے اندر هُوَ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو کس کو لوٹ رہی ہے؟ ہاں خبر کو کس سے جوڑتے ہیں؟ مبتدا سے، تو هُوَ ضمیر أَبُوْهُ کو راجع بھئی۔ اچھا، تو اسم فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہو کر صفت، صفت کس کی؟ رجل کی۔ بھئی جملہ رجل کی صفت کیسے بن سکتا ہے؟ کوئی عائد نہیں بتایا آپ نے؟ ہاں أَبُوْهُ کی ہا ضمیر کس کو لوٹ رہی ہے؟ رجل، وہ رجل کون، أَبُوْهُ کس کا باپ ہے وہ؟ اس رجل کا، دیکھا یہ ضمیر اس کو لوٹ رہی ہے تو یہ عائد آ گیا۔ تو جو غائب کی ضمیر آئے اس کا مرجع تلاش کیا کرو بھئی، آپ کی عبارت ویسے ہی حل ہو جائے گی، عائد خود بخود نکلتے چلے آئیں گے بھئی۔ تو رَجُلٍ موصوف اپنی صفت سے مل کر مجرور با جارہ کے لیے۔ با جارہ اپنے مجرور سے مل کر متعلق ہوا مَرَرْتُ فعل سے، فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ اب روانی سے پڑھیے: مَرَرْتُ بِرَجُلٍ أَبُوْهُ عَالِمٌ۔ جی، ترجمہ کیجیے: میں گزرا ایسے آدمی پر کہ اس کا باپ عالم ہے۔ دیکھا کتنا بہترین ترجمہ ہو گیا، طریقہ آیا بھئی؟ سوال: رَجُلٍ مجرور ہے تو أَبِيْهِ ہونا چاہیے، کیونکہ یہ اس کی صفت ہے ابھی آپ نے ترکیب کی، اشکال سمجھ میں آ رہا ہے؟ سوال سمجھ میں آ رہا ہے؟ رَجُلٍ مجرور ہے تو اس کی صفت بھی کیا ہونی چاہیے؟ مجرور ہونی چاہیے، تو أَبُوْهُ نہیں ہونا چاہیے، أَبِيْهِ ہونا چاہیے، کیا جواب دیں گے؟ ہاں، یہ سارا جملہ صفت بن رہا ہے، صرف أَبُوْ اس کی صفت نہیں بن رہا، بات سمجھ میں آئی؟ اور جملہ کس کے حکم میں ہے؟ جملہ کیا ہوتا ہے؟ جملہ مبنی ہوتا ہے، تو اس پر اعراب محلاً آتا ہے۔ معلوم ہوا أَبُوْهُ عَالِمٌ یہ پورا جملہ اس کی صفت ہے اور یہ پورا جملہ محلاً مجرور ہے، یہ پورا جملہ کیا ہے؟ محلاً مجرور ہے۔ اشکال سمجھ میں آیا؟ کوئی اشکال کسی نے کیا کیا کہ یہ أَبُوْهُ عَالِمٌ اس کی صفت ہے تو أَبُوْهُ نہیں ہونا چاہیے، أَبِيْهِ مجرور ہونا چاہیے، تو جواب یہ کہ بھئی اگر صرف أَبُوْهُ اس کی صفت ہوتا پھر آپ کی بات ٹھیک تھی، لیکن صرف أَبُوْهُ تو نہیں اس کی صفت بلکہ پورا جملہ ہے اور جملہ کیا ہوتا ہے؟ مبنی، اور جب مبنی ہے تو مبنی پر اعراب کیسے آتا ہے؟ محلاً، تو یہ پورا جملہ محلاً مجرور ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اچھا جی، دوسری ترکیب کریں بھئی: مَرَرْتُ بِرَجُلٍ قَامَ أَبُوْهُ۔ اچھا بھئی یہ تو ترکیب وہ تھی: مَرَرْتُ بِرَجُلٍ أَبُوْهُ عَالِمٌ، نکرہ کی صفت آئی جملہ خبریہ، اور کون سا جملہ خبریہ ہے؟ اسمیہ ہے یا فعلیہ؟ جملہ اسمیہ اس کی صفت آئی۔ اب اگلی مثال وہ ذکر کر رہے ہیں جملہ فعلیہ جو ہے وہ نکرہ کی صفت آئے گی: مَرَرْتُ بِرَجُلٍ قَامَ أَبُوْهُ، بات سمجھ میں آ گئی؟ مَرَرْتُ بِرَجُلٍ کو ساتھ جوڑ لو آگے قَامَ أَبُوْهُ کے ساتھ: مَرَرْتُ بِرَجُلٍ قَامَ أَبُوْهُ۔ ترکیب کیجیے: مَرَرْتُ فعل بافاعل، تا ضمیر مرفوع محلاً فاعل، آگے با جارہ، رَجُلٍ مجرور لفظاً موصوف۔ مجرور کیوں؟ کیونکہ با جارہ داخل ہے۔ لفظاً کیوں؟ اس کے جر پر ہم باقاعدہ تلفظ کر رہے ہیں۔ موصوف آپ کو کیسے پتہ چلا موصوف ہے؟ کیونکہ آگے نکرہ کے بعد فعل آ رہا ہے اور فعل کیا نکرہ کے لیے صفت بنتا ہے بھئی۔ جی، تو رَجُلٍ مجرور لفظاً موصوف، آگے قَامَ فعل، أَبُوْ اعراب، مرفوع لفظاً مضاف۔ مرفوع کیوں؟ کیونکہ یہ فاعل ہے۔ لفظاً کیوں؟ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں۔ مضاف کیسے؟ کیونکہ اس کے ساتھ ضمیر متصل ہے۔ آگے ہا ضمیر مجرور محلاً۔ مجرور کیوں؟ کیونکہ مضاف الیہ ہے۔ محلاً کیوں؟ کیونکہ ضمیر ہے مبنی ہے۔ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر فاعل ہوا۔ فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر صفت ہوئی کس کی؟ رجل کی۔ نہیں بھئی یہ جملہ صفت نہیں بن سکتا رجل کی، جواب؟ عائد کوئی بتایا آپ نے؟ قَامَ میں جب هُوَ ضمیر ہے فعل کا فاعل ایک آ سکتا ہے دو یا تین نہیں آ سکتے، یا هُوَ ضمیر کو فاعل بناؤ یا أَبُوْهُ کو فاعل بناؤ، اگر هُوَ ہے تو أَبُوْهُ کو پھر کیا بناؤ گے؟ وہ تو مرفوع ہے اور فعل کے آنے کے بعد مرفوع صرف کون آتا ہے؟ فاعل، اور تو کوئی مرفوعات ہیں ہی نہیں اور أَبُوْهُ مرفوع آ رہا ہے معلوم ہوا وہ فاعل ہے۔ جب وہ فاعل ہے تو قَامَ کے اندر کوئی ضمیر نہیں ہے بھئی۔ پھر؟ ہاں، پورے جملے میں کوئی ایک ضمیر ہمیں چاہیے تو وہ أَبُوْهُ کی ہا ضمیر ہے غائب کی اور وہ لوٹ رہی ہے رجل کو، اور ضمیر اور مرجع میں بھی مطابقت ہے وہ بھی آپ نے ہر جگہ دیکھنا ہے، رجل بھی مفرد مذکر اور ہا ضمیر بھی مفرد مذکر، تو یہ عائد انہوں نے بتلا دیا۔ تو فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر صفت رجل کی، موصوف صفت مل کر مجرور با جارہ کے لیے، جار اپنے مجرور سے مل کر متعلق ہوا مَرَرْتُ فعل کے ساتھ، فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ اب روانی سے پڑھیے: مَرَرْتُ بِرَجُلٍ قَامَ أَبُوْهُ۔ ترجمہ کیجیے: میں گزرا ایک ایسے آدمی پر قَامَ أَبُوْهُ کہ اس کا باپ کھڑا تھا، یا اس کا باپ کھڑا ہوا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ انہوں نے أَبُوْهُ یہ ہا ضمیر اسی لیے ذکر کی، عائد چاہیے تھا، عائد یہ نہیں لائیں گے تو ان کو بھی پتہ ہے جڑ ہی نہیں سکتا۔ یہ أَبُوْهُ کے ساتھ جگہ جگہ ہا ضمیر کیوں لوٹ رہے ہیں؟ یہی ضابطے ہیں سامنے بھئی کہ جب بھی جملے یا شبہ جملہ کو کسی چیز سے جوڑنا ہو تو درمیان میں کیا چاہیے؟ ربط چاہیے اور وہ عموماً کس شکل میں ہوتا ہے؟ غائب کی ضمیر ہوتی ہے جس سے جوڑنا ہو اس کی طرف لوٹتی ہے۔ اب مجھے بتائیے: رَجُلٍ مجرور ہے تو قَامَ أَبُوْهُ یہ پورا جملہ بھی کیا ہے؟ مجرور محلاً ہے کیونکہ یہ اس کی صفت ہے اور موصوف صفت کا اعراب ایک ہوتا ہے بھئی۔ وَالْمُضْمَرُ لَا يُوْصَفُ وَلَا يُوْصَفُ بِهِ، اور ضمیر جو ہے لَا يُوْصَفُ نہ تو وہ موصوف بنتی ہے وَلَا يُوْصَفُ بِهِ اور نہ اس کے ساتھ کسی کو موصوف کیا جاتا ہے، یعنی آسان لفظوں میں یوں کہو ضمیر نہ تو موصوف بنتی ہے اور نہ صفت بنتی ہے۔ وَالْمُضْمَرُ لَا يُوْصَفُ، اور ضمیر کو موصوف نہیں بنایا جاتا یعنی ضمیر کی صفت نہیں آتی۔ موصوف بنے گی تو آگے کیا آئے گی؟ صفت۔ جب کہا ضمیر موصوف نہیں ہوتی معلوم ہوا آگے اس کی کبھی بھی صفت نہیں۔ اور دوسری بات کی: وَلَا يُوْصَفُ بِهِ، ضمیر کے ساتھ کسی کو موصوف نہیں کیا جاتا کہ ضمیر اس کی صفت بن جائے، حاصل کلام کیا ہوا؟ ضمیر نہ موصوف بنتی ہے اور نہ صفت۔ یہ بڑا قیمتی ضابطہ ہے یہ بھی ہمیشہ یاد رکھنا، کبھی ترکیب میں ضمیر کو آپ موصوف نہ بنا لیں یا کبھی ضمیر کو آپ صفت نہ بنا لیں، ضمیر نہ موصوف بنتی ہے اور نہ صفت۔ موصوف کیوں نہیں بنتی؟ کیونکہ ضمیر ہے معرفہ، اور معرفہ میں صفت آتی ہے توضیح کے لیے، وضاحت کے لیے، اور ضمیر تو سب سے واضح ہے، اس میں مزید وضاحت کی کوئی ضرورت ہی نہیں تو وہاں صفت کی ضرورت بھی نہیں، اس لیے ضمیر کی صفت نہیں آتی کیونکہ وہ خود کیا ہے؟ سب سے واضح۔ دیکھو نا تین طرح کی ضمیریں ہیں نا: ایک أَنَا یعنی متکلم کی ضمیریں ہیں، ایک مخاطب کی ہیں أَنْتَ، أَنْتُمَا وغیرہ، اور ایک غائب کی ہے۔ مخاطب، أَنَا میں اپنے بارے میں بات کر رہا ہوں تو کیا میرے، مجھے میری اپنے لیے وضاحت کی ضرورت ہے؟ میرے لیے اپنے اندر عالم یا غیر عالم ہونے کا احتمال ہے؟ نہیں، ہر انسان کو اپنے بارے میں پتہ ہوتا ہے تو وہاں دوسرا احتمال ہوتا ہی نہیں۔ اسی طرح مخاطب آپ کے سامنے موجود ہے وہاں بھی کسی قسم کا احتمال نہیں۔ اور غائب، غائب انہی دو پر محمول ہے، جب ان دو میں توضیح کا احتمال نہیں تو وہاں پر بھی احتمال، صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور انہوں نے کہا ضمیر کے ساتھ کسی کو موصوف بھی نہیں کیا جاتا یعنی یہ صفت بھی نہیں۔ دو باتیں کیں نا، ایک کیا؟ ضمیر موصوف نہیں بنتی، کیوں نہیں بنتی؟ کیونکہ یہ نہایت واضح ہے، اس میں توضیح کی ضرورت نہیں۔ اچھا دوسری بات کی: ضمیر صفت بھی نہیں بنتی، وہ کیوں صفت کیوں نہیں بنتی؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ ابھی تو بتایا صفت کسے کہتے ہیں؟ صفت ایسے معنی پر دلالت کرتی ہے جو متبوع میں پایا جاتا ہے یا متبوع کے متعلق میں، جبکہ ضمیر ایسے معنی پر دلالت کرتی ہی نہیں جو اس کے غیر میں پایا جائے، جب یہ ایسے معنی پر دلالت ہی نہیں کرتی تو یہ صفت بن ہی نہیں سکتی کیونکہ صفت تو کہتے ہی اس کو ہیں جو ایسے معنی پر دلالت کرے جو کس میں پایا جائے؟ غیر میں پایا جائے یا متبوع میں یا متبوع کے متعلق میں پایا جائے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اسی لیے کہا: وَالْمُضْمَرُ لَا يُوْصَفُ وَلَا يُوْصَفُ بِهِ، اور ضمیر جو ہے نہ تو موصوف ہوتی ہے اور نہ اس کے ساتھ کسی کو موصوف کیا جاتا ہے یعنی یہ صفت بھی نہیں بنتی۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيْقَةِ الْكَلَامِ۔