فَصْلٌ: اَلْحَالُ: لَفْظٌ يَدُلُّ عَلَىٰ بَيَانِ هَيْئَةِ الْفَاعِلِ أَوِ الْمَفْعُولِ بِهِ أَوْ كِلَيْهِمَا، نَحْوُ: ”جَاءَنِي زَيْدٌ رَاكِبًا“ وَ”ضَرَبْتُ زَيْدًا مَشْدُودًا“ وَ”لَقِيتُ عَمْرًا رَاكِبَيْنِ“، وَقَدْ يَكُونُ الْفَاعِلُ مَعْنَوِيًّا نَحْوُ: ”زَيْدٌ فِي الدَّارِ قَائِمًا“؛ لِأَنَّ مَعْنَاهُ ”زَيْدٌ اسْتَقَرَّ فِي الدَّارِ قَائِمًا“. گزشتہ سبق میں ہم نے مفعول معہ کے بارے میں پڑھا تھا، اور آپ نے پڑھا کہ مفعول معہ اس اسم کا نام ہے جو واؤ بمعنیٰ مع کے بعد ذکر کیا جاتا ہے، یہ بتلانے کے لیے کہ یہ اسم جو ہے مصاحب ہے معمولِ فعل کا۔ یعنی یہ بھی اس کے ساتھ اس فعل کے کرنے میں شریک ہے ایک ہی زمانے کے اندر۔ تو ایک ہے عطف اور ایک ہے مفعول معہ بھئی۔ عطف میں مثلاً میں کہتا ہوں: ”جَاءَنِي زَيْدٌ وَعَمْرٌو“، ”جَاءَنِي زَيْدٌ وَعَمْرٌو“ تو معنیٰ اس کا یہ ہے کہ میرے پاس زید بھی آیا ہے اور میرے پاس عمرو بھی آیا ہے۔ لیکن یہ تفصیل نہیں کہ دونوں اکٹھے آئے ہیں یا علیحدہ علیحدہ آئے ہیں، اور یہ تمام صورتوں کو شامل ہوا۔ مثلاً میرے پاس زید اور عمرو اکٹھے آئے تھے، تب بھی میرا یہ کلام صحیح ہے، میں کہہ سکتا ہوں ”جَاءَنِي زَيْدٌ وَعَمْرٌو“۔ کیونکہ دونوں آئے ہیں یا نہیں آئے؟ میں بھی تو یہی کہہ رہا ہوں۔ زید میرے پاس آج آیا ہے، عمرو میرے پاس ایک مہینہ پہلے آیا تھا، میں پھر بھی کہہ سکتا ہوں: ”جَاءَنِي زَيْدٌ وَعَمْرٌو“، میرے پاس زید اور عمرو آئے۔ آیا زید بھی ہے اور آیا عمرو بھی ہے۔ میں نے تو اکٹھے آنے یا علیحدہ آنے کی کوئی بات نہیں کی، لیکن یہ سب صورتیں اس کے اندر شامل ہیں۔ آپ خود غور کر لیں، آپ جو بھی صورت ذکر کریں گے آپ دیکھیں گے آپ کا کلام صادق ہے۔ مثلاً زید اور عمرو اکٹھے آئے تھے، تب بھی میں کہتا ہوں: ”جَاءَنِي زَيْدٌ وَعَمْرٌو“، میرے پاس زید اور عمرو آئے، بالکل صحیح کلام ہے۔ الگ الگ آئے تھے، لیکن میں کہتا ہوں: ”جَاءَنِي زَيْدٌ وَعَمْرٌو“، میرے پاس زید اور عمرو آئے، میرا کلام صحیح۔ جملے میں زید دیکھو پہلے اور عمرو بعد میں، اگرچہ واقع میں اس کے برعکس ہوا تھا، عمرو پہلے آیا تھا اور زید بعد میں، پھر بھی میرا کلام صحیح ہے، میں کہہ سکتا ہوں: ”جَاءَنِي زَيْدٌ وَعَمْرٌو“ کہ میرے پاس زید اور عمرو آئے۔ میں نے تو یہ نہیں کہا کہ کون پہلے آیا، کون بعد میں، میں نے تو صرف اتنا بتایا کہ میرے پاس زید اور عمرو آئے تھے۔ تو معلوم ہوا عطف وہ کوئی تفصیل نہیں بیان کرتا، وہ تمام صورتوں کو شامل ہو جاتا ہے، اور عطف بھی جب واؤ کے ساتھ ہو، کس کے ساتھ؟ واؤ کے ساتھ۔ تو یعنی واؤ مطلقِ جمع کا فائدہ دیتا ہے، یعنی وہ معطوف علیہ کے ساتھ معطوف کو جمع کر دیتا ہے۔ کس چیز میں؟ اس فعل کے کرنے میں جو ماقبل میں فعل ہے، اس فعل کے اندر اس کو شریک کر دیتا ہے۔ جبکہ مفعول معہ جو ہے وہ مصاحبت کا فائدہ دیتا ہے، یعنی ایک زمانہ ہونے کا فائدہ دیتا ہے۔ مثلاً میں کہتا ہوں: ”جَاءَنِي زَيْدٌ وَعَمْرًا“، یہ ”عَمْرًا“ کو میں نے کیا بنایا؟ مفعول معہ۔ اب اس جملے کا معنیٰ یہ ہے کہ میرے پاس زید عمرو کے ساتھ آیا، یعنی دونوں اکٹھے آئے ہیں۔ اب زید آج آیا ہو اور عمرو ایک مہینہ پہلے آیا تھا تو پھر میرا یہ کلام نہیں صحیح بھئی۔ میرا کلام تو یہ بتلا رہا ہے کہ دونوں اکٹھے آئے ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا جب آپ کا مقصد یہ اکٹھا ہونا بیان کرنا ہو، کہ دوسرے کو اکٹھے ہونے کا معنیٰ بھی سمجھ میں آ جائے، تو پھر آپ مفعول معہ بنائیں گے۔ اور اگر آپ یہ نہیں بتلانا چاہتے، مطلقاً کلام کرنا چاہتے ہیں کہ جس میں دونوں شامل تو ہیں لیکن تفصیل نہ ہو، تو وہاں پھر آپ عطف والی صورت اختیار کریں گے۔ اور پھر آپ نے پڑھا تھا یہاں چار صورتیں ہیں: کہ بعض اوقات فعل لفظوں میں ہو گا، اور کبھی فعل لفظوں میں تو نہیں لیکن معنیٰ کے اعتبار سے ہو گا۔ جب فعل لفظوں کے اعتبار سے ہو اور پھر عطف جائز ہو گا یا عطف جائز نہیں؟ اگر فعل لفظوں میں ہو اور عطف بھی جائز ہو، پھر دونوں صورتیں جائز ہیں۔ جب عطف جائز ہے آپ چاہیں عطف کر لیں، اور فعل جب لفظوں میں ہے تو آپ مفعول معہ بھی بنا سکتے ہیں، یعنی رفع بھی پڑھ سکتے ہیں اور نصب بھی۔ اور اگر فعل تو لفظوں میں ہے لیکن عطف جائز نہیں، جب عطف نہیں جائز تو پھر کیا بنائیں گے؟ مفعول معہ ہی بنائیں گے، یعنی نصب ہی پڑھیں گے۔ اور اگر فعل معنیٰ کے اعتبار سے ہے، پھر دو صورتیں ہیں کہ عطف جائز ہو گا یا عطف جائز نہیں؟ اگر عطف جائز نہیں تو پھر یہاں مفعول معہ ہی بنائیں گے، اور اگر عطف جائز ہے تو پھر عطف ہی کریں گے، مفعول معہ یعنی عاملِ معنوی کی طرف نہیں جائیں گے بلکہ کس پر عمل کریں گے؟ عاملِ لفظی پر بھئی۔ تو یہ تفصیلاً یہ بات گزر بھی گئی تھی اور مثالیں بھی ذکر ہو گئی تھیں، خلاصہ میں نے دوبارہ ذکر کر دیا۔ اب آئیے اگلے سبق کی طرف: فَصْلٌ: اَلْحَالُ: لَفْظٌ يَدُلُّ عَلَىٰ بَيَانِ هَيْئَةِ الْفَاعِلِ أَوِ الْمَفْعُولِ بِهِ أَوْ كِلَيْهِمَا۔ آج ہم حال کے بارے میں پڑھیں گے۔ منصوبات میں سے ایک حال ہے۔ حال، جب کسی لفظ کے بارے میں آپ کو پتہ چل جائے کہ یہ حال بن رہا ہے، یا کسی جملے کے بارے میں آپ کو پتہ چل جائے کہ یہ حال بن رہا ہے، تو ساتھ ہی دوسری بات کا بھی فوراً آپ کو پتہ چل جانا چاہیے کہ اس پر کون سا اعراب پڑھنا ہے؟ نصب پڑھنا ہے اگر یہ معرب ہے۔ اور اگر یہ مبنی ہے یا جملہ ہے تو پھر یہ محلاً منصوب ہے بھئی، محلاً منصوب۔ تو اب حال کہتے کسے ہیں؟ یاد رکھیے بھئی! حال وہ لفظ ہے جو فاعل یا مفعول یا دونوں کی حالت بیان کرے۔ حال کا لفظ ہی بتلا رہا ہے، حال حالت سے ہے، کیا کرتا ہے؟ ان کی حالت بیان کرتا ہے۔ مثلاً میں کہنا چاہتا ہوں: زید میرے پاس آیا اس حال میں کہ وہ سوار تھا۔ یعنی آتے ہوئے اس کی کیا حالت تھی؟ پیدل نہیں تھا بلکہ سواری کی حالت میں تھا۔ تو میں کہوں گا: ”جَاءَنِي زَيْدٌ رَاكِبًا“، ”جَاءَنِي زَيْدٌ رَاكِبًا“۔ ”جَاءَنِي“ آیا میرے پاس، کون؟ ”زَيْدٌ“، اور آگے ”رَاكِبًا“ اس حال میں کہ وہ سوار تھا۔ لیکن پھر یاد رکھو اردو میں ترجمہ کرتے ہوئے عموماً ”اس حال میں کہ وہ سوار تھا“ یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بلکہ عام بامحاورہ کلام میں آپ کو یوں کبھی سننے کو ملے گا بھی نہیں: آیا زید میرے پاس اس حال میں کہ وہ سوار تھا۔ ہاں، بلکہ جب اردو میں کلام کرتے ہیں تو یوں کہیں گے: زید میرے پاس سوار ہو کر آیا۔ زید میرے پاس سوار ہو کر آیا، دیکھا؟ وہی معنیٰ ہے۔ لیکن اسی کو جب آپ عربی میں بیان کریں گے، کیسے بیان کریں گے؟ ”جَاءَنِي زَيْدٌ رَاكِبًا“، اور اس کا لفظی ترجمہ کریں گے تو یوں کریں گے: زید میرے پاس آیا اس حال میں کہ وہ سوار تھا۔ اور کوئی آپ کو کہتا ہے اس کا بامحاورہ ترجمہ کرو، تو پھر وہ جو حال تھا وہ درمیان میں لے جائیں گے: زید میرے پاس سوار ہو کر آیا، یا سواری کرتے ہوئے آیا، دیکھا؟ تو یہ اس جملے کے بیچ میں لے جائیں گے۔ طریقہ آ گیا بھئی؟ تو بہرحال جس طرح آپ کو پسند آئے، آپ جس طرح ترجمہ کرنا چاہیں کر سکتے ہیں۔ تو حال جو ہے وہ فاعل کی بھی حالت بیان کرنے کے لیے آتا ہے، کبھی وہ مفعول بہ کی حالت بیان کرنے کے لیے آئے گا، مفعول بہ کی، مثلاً: ”رَأَيْتُ زَيْدًا رَاكِبًا“، میں نے دیکھا زید کو اس حال میں کہ وہ سوار تھا، یا بامحاورہ کیا ترجمہ کریں گے؟ میں نے زید کو سواری کرتے ہوئے دیکھا، یا اس جیسا اور بھی جو مناسب آپ کو لگے بھئی۔ اب دیکھیے، آپ کے ذہن میں اشکال آئے گا: ”رَأَيْتُ زَيْدًا رَاكِبًا“، ”زَيْدًا“ بھی منصوب، ”رَاكِبًا“ بھی منصوب۔ سوال: میں نے زید کو ذو الحال بنایا اور ”رَاكِبًا“ کو کیا بنایا؟ حال بنایا۔ سوال یہ موصوف صفت کیوں نہیں بنایا؟ حالانکہ دونوں منصوب ہیں، اور موصوف صفت کا اعراب ایک ہوتا ہے، لیکن میں کیا بنا رہا ہوں؟ ایک کو ذو الحال ایک کو حال۔ جی، کوئی اشکال کرتا ہے آپ کیا جواب دیں گے؟ صفت بھی تو حالت بیان کرتی ہے: ”رَأَيْتُ زَيْدًا رَاكِبًا“۔ آپ ترکیب کرتے ہیں۔ چلیے پہلے ذرا ترکیب کر لیں، دوبارہ دیکھتے ہیں بھئی۔ پہلا جملہ کیا تھا؟ ”جَاءَنِي زَيْدٌ رَاكِبًا“، جی ترکیب کیجیے: ”جَاءَ“ فعل، نون وقایہ، یا ضمیر اعراب بھئی۔ آیا کون؟ زید، اور کس کے پاس آیا؟ میرے پاس، تو یہ مفعول بہ بنے گی ضمیر۔ تو ”جَاءَ“ فعل، نون وقایہ، یا ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ، ”زَيْدٌ“ مرفوع لفظاً فاعل، فاعل ہے، لیکن پہلے آگے حال کو بھی جوڑنا ہے تو ہمارے ہاں جب ترکیب کرواتے ہیں پھر پہلے باقیوں کو جوڑتے ہیں پھر بتاتے ہیں یہ فاعل ہے۔ حالانکہ بات ایک ہی ہے۔ آپ چاہیں یوں کہہ دیں: یہ زید کیا ہے؟ فاعل، اور ”رَاكِبًا“ اس سے کیا ہے؟ حال ہے۔ لیکن جیسے یہاں رائج ہے طریقہ چلیں اسی طرح کر لیں بھئی: ”جَاءَ“ فعل، نون وقایہ کا، یا ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ، ”زَيْدٌ“ مرفوع لفظاً ذو الحال، ہے تو فاعل ہی لیکن فاعل ملا کے پھر کہتے ہیں دونوں کو، تو ذو الحال ہوا۔ مرفوع کیوں؟ کیونکہ یہ فاعل ہے۔ اور لفظاً کیوں؟ کیونکہ رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں۔ آگے: ”رَاكِبًا“ منصوب لفظاً صیغہ اسمِ فاعل، اب بتائیے منصوب کیوں؟ کیونکہ یہ حال ہے، اور حال کیا ہوتا ہے؟ منصوب۔ اچھا، لفظاً کیوں؟ کیونکہ نصب پر ہم تلفظ کر رہے ہیں۔ آگے کیجیے: منصوب لفظاً صیغہ اسمِ فاعل، ”هُوَ“ ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ مرفوع کیوں؟ کیونکہ اسمِ فاعل کے لیے فاعل ہے۔ محلاً کیوں؟ کیونکہ ضمیر ہے مبنی ہے۔ جی آگے! جلدی جلدی کیجیے بھئی، اب تو ترکیب کے ماہر ہیں آپ! ہاں شاباش! یہ ضمیر جب بھی غائب کی ضمیر ہے اس کا مرجع تلاش کیا کریں، عبارت اس سے حل ہوتی ہے۔ اور یہ ”رَاكِبًا“ نے کیا بننا ہے؟ یہ کیا ہے؟ یہ حال ہے، اور حال کو کس سے جوڑتے ہیں؟ ذو الحال سے۔ ویسے بھی آپ معنیٰ میں بھی غور کر لیں: راکب، سوار، کون ہے سوار؟ زید۔ دیکھا؟ معلوم ہوا یہ ”هُوَ“ زید کو جانی چاہیے، اس کی طرف لوٹنی چاہیے، راکب کون ہے؟ سوار۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو وہ جو لفظ ہوا کرے اسی پہ آپ غور کر لیا کریں، یہ لفظ کس کی صفت ہے؟ یہ راکب کون ہے؟ معلوم ہوا وہ زید ہے راکب، تو لہٰذا اسی کی طرف ضمیر لوٹے گی، اسی کی صفت ہے یہ۔ تو ”رَاكِبًا“ منصوب لفظاً صیغہ اسمِ فاعل، ”هُوَ“ ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل، اور یہ ضمیر کس کو لوٹ رہی ہے؟ زید یعنی ذو الحال کو۔ بلکہ یہ بھی نہ کہیں زید، بس یوں کہیں: ذو الحال کو لوٹ رہی ہے، ذو الحال جو بھی ہے ہمیں اس سے غرض نہیں۔ کس کو لوٹ رہی ہے؟ ہاں ذو الحال کو لوٹ رہی ہے۔ ہاں ذو الحال اور یعنی ضمیر اور مرجع میں مطابقت ہونی چاہیے بھئی۔ یہ بتانے کی نہیں ضرورت وہ کون ہے کون نہیں، بس اتنا کہہ دیں یہ کس کو لوٹ رہی ہے؟ ذو الحال کو، اگرچہ وہی زید ہے۔ بعض اوقات اشکال پڑے گا اس لیے میں کہہ رہا ہوں کہ یہ تعبیر کر لیں، زیادہ عام ہے۔ بہرحال جو بھی آپ تعبیر اختیار کر لیں۔ مثلاً میں کہتا ہوں: ”جَاءَ رَاكِبًا“، ”جَاءَ“ فعل، ”هُوَ“ ضمیر اس کے اندر ذو الحال ہے، اور آگے ”رَاكِبًا“ اس سے کیا ہے؟ حال، اور حال کو کس سے جوڑتے ہیں؟ ذو الحال سے، تو معلوم ہوا ”رَاكِبًا“ کے اندر ”هُوَ“ ضمیر کس کو لوٹے گی؟ کون ہے ماقبل میں ذو الحال؟ توجہ ہے سبق کی طرف؟ چلو پہلے وہ ترکیب پوری کریں جو ابھی ہم کر رہے تھے۔ اچھا، ”رَاكِبًا“ کے اندر ”هُوَ“ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، جو کس کو راجع؟ زید کو، یا یوں کہیں کس کو راجع؟ ذو الحال کو۔ اسمِ فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر حال۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اسمِ فاعل کو بھی سمیٹنا ہے، اسمِ فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر حال، ذو الحال اپنے حال سے مل کر یہ فاعل ہوا کس کے لیے؟ ”جَاءَ“ فعل کے لیے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ ہمارے ہاں یہ طریقہ رائج ہے، یہ مل کر یہ فاعل ہوا، حالانکہ فاعل صرف کون ہے؟ صرف زید ہے، اور ”رَاكِبًا“ کیا ہے؟ حال ہے۔ ”جَاءَنِي زَيْدٌ رَاكِبًا“ تو فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ کیونکہ حال کو تو ہم نے کس سے جوڑ دیا تھا؟ ذو الحال سے، اور وہ پھر کیا بن گیا تھا؟ فاعل۔ تو ماقبل میں ایک صرف فعل تھا، اس کا مفعول گزرا تھا، اب یہ فاعل بھی آ گیا، تو فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ طریقہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ اچھا، بیان میں یہ کر رہا تھا کہ حال کے اندر جو ضمیر ہے اس کو کس کی طرف لوٹاتے ہیں؟ ذو الحال کی طرف۔ تو تعبیر یہ ہے کہ آپ اس کا نام نہ ذکر کریں کہ وہ زید ہے، عمرو ہے، بکر ہے یا کون ہے، بلکہ کیا کہیں؟ یہ ضمیر لوٹ رہی ہے ذو الحال کو۔ اگرچہ آپ یہ کہہ دیں زید کو لوٹ رہی ہے، بات آپ کی پھر بھی صحیح، لیکن بعض اوقات اشتباہ ہو گا، اشتباہ ہو گا۔ تو کم از کم پھر وہاں پر آپ یہ تعبیر اختیار کر لیں تو اشتباہ بھی نہیں ہو گا۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: ”جَاءَ رَاكِبًا“، ”جَاءَ رَاكِبًا“ جی، ”جَاءَ“ کے بعد تو زید نہیں آیا، اور ”جَاءَ“ تو فعل ہے اور ہر فعل کے لیے کیا چاہیے؟ فاعل یا نائب الفاعل ضرور چاہیے، یہ فعلِ معروف ہے، فعلِ معروف کے لیے تو فاعل چاہیے ہوتا ہے، اس کے لیے فاعل چاہیے ہوتا ہے، اور تو اس کے لیے تو کوئی فاعل نہیں آ رہا؟ فاعل تو مرفوع ہوتا ہے، آگے تو ”رَاكِبًا“ کیا آ رہا ہے؟ منصوب، پھر کیا کریں گے؟ اسی ”جَاءَ“ کے اندر فاعل کی ضمیر ہو گی، فاعل کی ضمیر، کیونکہ پہلا صیغہ غائب کا ہے تو اس کے اندر ضمیر ہو گی، اور کون سی ضمیر؟ ”هُوَ“ ضمیر۔ اور آگے ”رَاكِبًا“ کو اسی سے کیا بنائیں گے؟ حال۔ تو کیسے ترکیب ہو گی؟ ”جَاءَ“ فعل، ”هُوَ“ ضمیر اس کے اندر، اعراب سب سے پہلے ہم اعراب حل کر رہے ہیں بھئی، مرفوع محلاً ذو الحال۔ مرفوع کیوں؟ فاعل ہے۔ محلاً کیوں؟ کیونکہ ضمیر ہے۔ آپ کو کیسے پتہ چلا یہ ذو الحال ہے؟ کیونکہ آگے حال آ رہا ہے اور اس کی ہیئت بیان کر رہا ہے، اور مفعول وغیرہ تو یہاں کوئی ہے نہیں، اور حال کس کی ہیئت بیان کرتا ہے؟ فاعل کی یا مفعول کی۔ تو ”هُوَ“ ضمیر ذو الحال۔ آگے کیجیے ترکیب: ”رَاكِبًا“ منصوب لفظاً صیغہ اسمِ فاعل، اس کے اندر ”هُوَ“ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، جو کس کو لوٹ رہی ہے؟ ذو الحال کو۔ ہاں اب دیکھا، اب آپ کہیں نہ ”هُوَ“ ضمیر لوٹ رہی ہے ”هُوَ“ ضمیر کو، تو سننے والا کہے گا یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ حالانکہ بات آپ کی بالکل ٹھیک ہے، تو اس کے بجائے تعبیر ہی دوسری اختیار کر لیں۔ کہیں: ”هُوَ“ ضمیر کس کو لوٹ رہی ہے؟ ذو الحال کو، اور ذو الحال وہی ”هُوَ“ ہی ہے لیکن آپ نے صرف لفظ بدل لیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اسمِ فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر حال، ذو الحال اپنے حال سے مل کر فاعل ہوا، فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ ترکیب سمجھ میں آ گئی؟ کہ نہیں سمجھ میں آئی؟ ”جَاءَ رَاكِبًا“، کیا ترکیب ہوئی؟ ”رَاكِبًا“ کی کیا ترکیب ہوئی؟ ”رَاكِبًا“ صیغہ اسمِ فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر حال، ذو الحال جو ”هُوَ“ تھا، ذو الحال اپنے حال سے مل کر فاعل، تو فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ۔ ترکیب سمجھ میں آ گئی؟ تو بات چل رہی ہے حال کی، انہوں نے آپ کو یہ آپ کو بتلائیں گے کہ حال وہ لفظ ہے جو فاعل کی حالت بیان کرے، یا مفعول کی حالت بیان کرے، یا دونوں کی حالت بیان کرے۔ میں نے ایک مثال ذکر کر دی: ”جَاءَنِي زَيْدٌ رَاكِبًا“، یہ ”رَاكِبًا“ کس کی حالت بیان کر رہا ہے؟ فاعل کی۔ دوسری مثال میں نے ذکر کی: ”رَأَيْتُ زَيْدًا رَاكِبًا“، یہ ”رَاكِبًا“ کس کی حالت بیان کر رہا ہے؟ مفعول کی، مفعول بہ کی۔ ہاں آپ اس کو فاعل سے بھی حال بنا سکتے ہیں: ”رَأَيْتُ“ میں نے دیکھا زید کو، ”رَاكِبًا“ اس حال میں کہ میں سوار تھا۔ یہ ”رَاكِبًا“ کو کس سے حال بنا دیں؟ فاعل سے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو موقع محل کے مطابق ہوتا ہے۔ تو حال کبھی فاعل کی حالت بیان کرتا ہے، کبھی مفعول کی، اور کبھی دونوں کی حالت بیان کرتا ہے۔ مثلاً: ”رَأَيْتُ زَيْدًا رَاكِبَيْنِ“، یہ مثال آگے آئے گی: ”رَأَيْتُ زَيْدًا رَاكِبَيْنِ“، یہ ”رَاكِبَيْنِ“ دیکھیں، یہ حال ہے اور تثنیہ ہے۔ تثنیہ کیا تھا؟ راکب کے آخر میں کیا ملا دو؟ الف نون: ”رَاكِبَانِ“، یہ حالتِ رفعی میں ہو گا، اور نصبی جری میں ”رَاكِبَيْنِ“، اور حال بھی کیا ہوتا ہے؟ منصوب، تو کس طرح پڑھیں گے؟ ”رَاكِبَيْنِ“۔ اور ماقبل میں جملہ کیا تھا؟ ”رَأَيْتُ زَيْدًا“، آگے ”رَاكِبَيْنِ“۔ تو کس طرح ہو گی ترکیب؟ ”رَأَيْتُ“ فعل بافاعل اور تا ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً یہ کیا ہے؟ فاعل، لیکن پہلے کیا بنا لو؟ ذو الحال کیونکہ آگے حال آ رہا ہے۔ اور آگے ”زَيْدًا“ منصوب لفظاً مفعول ہے، اور اس کو بھی کیا بناؤ؟ ذو الحال۔ آگے: ”رَاكِبَيْنِ“، ”رَاكِبَيْنِ“ منصوب لفظاً ہے یا تقدیراً ہے؟ تو ”رَاكِبَيْنِ“ یہ کیا ہے؟ منصوب ہے، اور منصوب کون سا لفظاً ہے یا تقدیراً ہے؟ لفظاً ہے بھئی۔ منصوب لفظاً کیسے؟ ”رَاكِبَيْنِ“ نون کے نیچے تو میں کسرہ پڑھ رہا ہوں؟ یہ اس کی حرکت ہے اور یہ تثنیہ کا اعراب، نصب کس کے ساتھ آتا ہے؟ یا کے ساتھ، اور اس یا پر ہم اس وقت تلفظ کر رہے ہیں: ”رَاكِبَيْنِ“۔ تو ”رَاكِبَيْنِ“ منصوب لفظاً صیغہ اسمِ فاعل، اور اس کے اندر ”هُمَا“ تثنیہ ہے نا تو تثنیہ والی ضمیر، اس کے اندر ”هُمَا“ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، جو کس کو راجع کس کو لوٹ رہی ہے؟ ماقبل میں جو فاعل اور مفعول آئے، جو ذو الحال گزرے ہیں، کیا تھا جملہ؟ ”رَأَيْتُ زَيْدًا رَاكِبَيْنِ“ تو یہ ”رَأَيْتُ“ میں جو ”تُ“ یعنی متکلم کی ضمیر ہے اور آگے زید جو مفعول ہے تو یہ ”هُمَا“ ضمیر ان دونوں کی طرف لوٹ رہی ہے بھئی۔ تو اسمِ فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر حال، اور ذو الحال اپنے حال سے مل کر ایک فاعل بن رہا ہے اور ایک مفعول، اور فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ طریقہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ اچھا میں نے آپ سے سوال یہ کیا تھا شروع میں: ”رَأَيْتُ زَيْدًا رَاكِبًا“، آپ نے ابھی ترکیب کی تھی: ”رَأَيْتُ“ فعل بافاعل، ”زَيْدًا“ کیا ہے؟ ذو الحال، اور ”رَاكِبًا“ کو اس سے کیا بنایا تھا؟ حال۔ سوال یہ کہ ”زَيْدًا“ کو موصوف اور ”رَاكِبًا“ کو اس کی صفت کیوں نہیں بناتے؟ دونوں منصوب ہیں، دونوں کا اعراب ایک ہے، اور موصوف صفت کا اعراب بھی ایک ہوتا ہے۔ تو کیا جواب دیں گے اگر کوئی اشکال کرے؟ بھئی، موصوف صفت کا اعراب بھی ایک ہوتا ہے، اور نیز تعریف و تنکیر میں بھی ایک جیسے ہوتے ہیں۔ موصوف معرفہ ہو تو صفت بھی معرفہ، موصوف اگر نکرہ ہو تو صفت بھی نکرہ۔ اور یہاں زید معرفہ ہے، علم ہے، اور راکب؟ راکب، یہ نکرہ ہے، یہ ضمیر ہے کوئی؟ یہ ضمیر بھی نہیں، یہ اسمِ اشارہ بھی نہیں ہے، یہ اسمِ موصول بھی نہیں ہے، یہ کسی کا نام بھی نہیں، علم بھی نہیں ہے، اور یہ اس پر الف لام بھی نہیں داخل، اور ان میں سے کسی کی طرف یہ مضاف بھی نہیں۔ تو یہ نکرہ ہے، جب یہ نکرہ ہے تو لہٰذا یہ صفت نہیں بن سکتا۔ تو اس کو پھر کیا بنائیں گے؟ حال: ”رَأَيْتُ زَيْدًا رَاكِبًا“۔ اور یہ بھی یاد رکھیں، یہ آگے چل کر آپ کو بتائیں گے کہ ذو الحال عموماً معرفہ ہوتا ہے اور حال عموماً نکرہ ہوتا ہے۔ حال کیا ہوتا ہے؟ نکرہ ہوتا ہے۔ اور اگر کبھی حال معرفہ کی صورت میں آ بھی جائے تو بھی اس میں تاویل کر کے اس کو نکرہ بنا لیتے ہیں۔ اگر حال کس شکل میں آ جائے؟ معرفہ کی شکل میں آ بھی جائے، تو اس کو بھی تاویل کر کے نکرہ بنا لیتے ہیں۔ مثلاً میں کہتا ہوں: ”جَاءَنِي زَيْدٌ وَحْدَهُ“، آیا میرے پاس زید ”وَحْدَهُ“ اس حال میں کہ وہ اکیلا تھا۔ تو یہ ”وَحْدَهُ“، ”وَحْدَ“ مضاف، ”هٖ“ ضمیر مضاف الیہ، اور ”هٖ“ ضمیر کیا ہے؟ معرفہ ہے۔ اور معرفہ کی طرف جو لفظ مضاف ہو جائے وہ بھی کیا بن جاتا ہے؟ معرفہ، تو معلوم ہوا یہ ”وَحْدَہٗ“ بھی کیا ہے اس وقت؟ معرفہ ہے، تو یہ حال معرفہ آیا۔ تو اس میں پھر تاویل کر کے علمائے نحو فرماتے ہیں کہ یہ ”مُنْفَرِدًا“ کے معنیٰ میں ہے۔ ”وَحْدَهُ“ کا معنیٰ بھی اکیلا، ”مُنْفَرِدًا“ کا معنیٰ بھی اکیلا۔ تو یہ ”وَحْدَهُ“ کس معنیٰ میں ہے؟ ”مُنْفَرِدًا“ کے معنیٰ میں ہے، حال ہے، اور حال تو نکرہ ہوتا ہے، تو تاویل کر کے انہوں نے اس کو نکرہ بنا لیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اب دیکھیے کتاب پر بھئی: فَصْلٌ: أَيْ هٰذَا فَصْلٌ، یہ فصل ہے۔ اَلْحَالُ: لَفْظٌ: حال ایسا لفظ ہے، دیکھو ”لفظ“ نکرہ ہے، نکرہ کے بعد ”يَدُلُّ“ فعل آیا، اور میں نے بتایا تھا نکرہ کے بعد فعل آ جائے یا جار مجرور آ جائے تو وہ عموماً اس کے لیے کیا بنتے ہیں؟ صفت۔ اور جبکہ معرفہ کے بعد اگر فعل آ جائے یا جار مجرور آ جائیں تو وہ عموماً اس سے حال بنتے ہیں، کیا بنتے ہیں؟ حال۔ تو یہ نکرہ کے بعد آئے تو صفت بنے گی، اور موصوف صفت کے ترجمے کا کیا طریقہ ہے؟ نکرہ میں موصوف سے پہلے کیا لفظ لے آؤ؟ ”ایسا“ یا ”ایسی“ کا لفظ۔ تو کہتے ہیں: ”اَلْحَالُ: لَفْظٌ“ حال ایسا لفظ ہے، ”يَدُلُّ عَلَىٰ بَيَانِ هَيْئَةِ الْفَاعِلِ“ جو دلالت کرتا ہے فاعل کی ہیئت کے بیان پر، ہیئت حالت حالت، جو فاعل کی حالت بیان کرنے پر دلالت کرتا ہے، یعنی اس کی حالت بیان کرتا ہے، ”أَوِ الْمَفْعُولِ بِهِ“ یا مفعول بہ کی حالت بیان کرنے پر دلالت کرتا ہے، یعنی اس کی حالت بیان کرتا ہے، ”أَوْ كِلَيْهِمَا“ یا دونوں کی حالت بیان کرتا ہے، یعنی فاعل اور مفعول، ”نَحْوُ: جَاءَنِي زَيْدٌ رَاكِبًا“۔ یہ تو ہم ترکیب ہم نے کر لی: ”جَاءَنِي زَيْدٌ رَاكِبًا“، دوبارہ جلدی سے کر لیجیے: ”جَاءَ“ فعل، نون وقایہ، یا ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ، ”زَيْدٌ“ مرفوع لفظاً ذو الحال، ”رَاكِبًا“ منصوب لفظاً صیغہ اسمِ فاعل، اس کے اندر ”هُوَ“ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، جو کس کو لوٹ رہی ہے؟ زید کو، ذو الحال کو۔ اسمِ فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر حال، دیکھا؟ شبہ جملہ کو بھی جوڑنے کے لیے ضمیر کی ضرورت پڑی۔ ذو الحال اپنے حال سے مل کر فاعل، فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ دوسری مثال: ”وَضَرَبْتُ زَيْدًا مَشْدُودًا“، میں نے زید کی پٹائی کی ”مَشْدُودًا“ اس حال میں کہ وہ بندھا ہوا تھا۔ جی ترکیب کیجیے، غور سے کرنی ہے آپ نے ترکیب بھئی! ”ضَرَبْتُ“ فعل بافاعل، جی، تا ضمیر مرفوع محلاً فاعل، ”زَيْدًا“ منصوب لفظاً ذو الحال، ”مَشْدُودًا“ منصوب لفظاً صیغہ اسمِ مفعول، شاباش! جی آگے: ”هُوَ“ ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا نائب الفاعل، ہاں اس کا نائب الفاعل، اسمِ فاعل میں فاعل ہوتا ہے اور اسمِ مفعول میں نائب الفاعل، تو اس کے اندر ”هُوَ“ ضمیر مرفوع محلاً نائب الفاعل جو کس کو راجع ہے؟ ذو الحال یعنی زید کو۔ اسمِ مفعول اپنے نائب الفاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر حال، ذو الحال اپنے حال سے مل کر مفعول ہوا ”ضَرَبْتُ“ فعل کے لیے، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ ترکیب سمجھ میں آ گئی؟ ”وَلَقِيتُ عَمْرًا رَاكِبَيْنِ“، میں نے ملاقات کی عمرو سے اس حال میں کہ ہم دونوں سوار تھے۔ ترکیب کیجیے: ”لَقِيتُ“ فعل بافاعل، تا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل اور یہ ذو الحال بھی ہے، آگے ”عَمْرًا“ منصوب لفظاً مفعول بہ اور یہ بھی ذو الحال ہے، ”رَاكِبَيْنِ“ منصوب لفظاً صیغہ اسمِ فاعل، اس کے اندر ”هُمَا“ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو کس کو لوٹ رہی ہے؟ فاعل اور ماقبل میں جو فاعل اور مفعول ذو الحال ہیں دونوں کی طرف لوٹ رہی ہے بھئی۔ اور وہ دونوں فاعل اور مفعول ذو الحال جو ہیں وہ اپنے حال سے مل کر کیا بن گئے؟ فاعل اور مفعول، فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ چلیے بس کرتے ہیں، بس بھئی۔ ھٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔