”فَصْلٌ: اِسْمُ كَانَ وَأَخَوَاتِهَا، وَهِيَ: صَارَ، وَأَصْبَحَ، وَأَمْسَى، وَأَضْحَى، وَظَلَّ، وَبَاتَ، وَرَاحَ، وَآضَ، وَعَادَ، وَغَدَا، وَمَا زَالَ، وَمَا بَرِحَ، وَمَا فَتِئَ، وَمَا انْفَكَّ، وَمَا دَامَ، وَلَيْسَ۔ فَهٰذِهِ الْأَفْعَالُ تَدْخُلُ أَيْضًا عَلَى الْمُبْتَدَإِ وَالْخَبَرِ فَتَرْفَعُ الْمُبْتَدَأَ وَيُسَمَّى اسْمَ كَانَ، وَتَنْصِبُ الْخَبَرَ وَيُسَمَّى خَبَرَ كَانَ“۔ مرفوعات کی بحث چل رہی ہے، آپ نے پڑھا کہ فاعل بھی مرفوع ہوتا ہے، نائب الفاعل بھی مرفوع ہوتا ہے، مبتدا اور خبر یہ دونوں بھی مرفوع ہیں، اور اسی طرح إن کی جو خبر ہے وہ بھی مرفوع ہے۔ اب چھٹی قسم ہم پڑھیں گے بھئی، تو چھٹی قسم کے مرفوعات، وہ کون ہیں؟ کہتے ہیں: ”اِسْمُ كَانَ وَأَخَوَاتِهَا“، کان اور اس کے جو مشابہ کلمات ہیں ان کا اسم بھئی۔ بھئی إن کی خبر مرفوع تھی، اور کان کا اسم مرفوع ہوتا ہے۔ یعنی یہ إن کے برعکس ہیں، إن کیا عمل کرتا تھا؟ اسم کو نصب اور خبر کو رفع، جبکہ کان جو افعالِ ناقصہ ہیں وہ برعکس عمل کرتے ہیں، وہ اپنے اسم کو رفع دیتے ہیں اور خبر کو نصب۔ تو معلوم ہوا کان کا اسم مرفوع ہے یا خبر مرفوع ہے؟ کان کا اسم مرفوع ہے، اور ہم بھی کس کی بحث کر رہے ہیں اس وقت؟ مرفوعات کی، اس لیے کان کا اسم کہا۔ ”اِسْمُ كَانَ وَأَخَوَاتِهَا“، کان اور اس کے جو مشابہ کلمات ہیں ان کا اسم بھئی۔ وہ کان کے مشابہ کلمات کون کون سے ہیں؟ کہتے ہیں: ”وَهِيَ“، وہ یہ ہیں: ”صَارَ، وَأَصْبَحَ، وَأَمْسَى، وَأَضْحَى، وَظَلَّ، وَبَاتَ، وَرَاحَ، وَآضَ، وَعَادَ، وَغَدَا، وَمَا زَالَ، وَمَا بَرِحَ، وَمَا فَتِئَ، وَمَا انْفَكَّ، وَمَا دَامَ، وَلَيْسَ“۔ تو یہ کل سترہ ہیں بھئی، سترہ۔ کان ہے، اور اس کے بعد صار ہے، اصبح، امسیٰ، اور اسی طرح اضحیٰ، ظل، بات، راح، آض، عاد، غدا، ما زال، ما برح، ما فتئ، من فک، ما دام ہے اور لیس ہے، یہ ہیں بھئی سترہ۔ یہ افعالِ ناقصہ کہلاتے ہیں، کیا کہلاتے ہیں؟ افعالِ ناقصہ۔ تو ان کا عمل إن کے برعکس ہے، إن اپنے اسم کو نصب دیتا تھا اور خبر کو رفع، جبکہ یہ کیا کرتے ہیں؟ اپنے اسم کو رفع دیتے ہیں اور خبر کو نصب دیتے ہیں۔ اور نیز إن وغیرہ جو تھے وہ حروف تھے، جبکہ یہ کان وغیرہ یہ افعال ہیں، یہ کیا ہیں؟ افعالِ ناقصہ۔ تو إن بھی داخل ہوتا ہے جملہ اسمیہ پر، اور جملہ اسمیہ میں کیا کیا ہوتے ہیں؟ ایک مبتدا ہوتا ہے اور ایک خبر۔ تو إن وغیرہ بھی داخل ہوتے ہیں جملہ اسمیہ پر، اور یہ افعالِ ناقصہ یہ بھی داخل ہوتے ہیں جملہ اسمیہ پر داخل ہوتے ہیں۔ لیکن إن ہے حرف، تو اس حرف کے داخل ہونے سے اس جملے پر کوئی فرق اور نہیں پڑے گا، وہ پہلے بھی جملہ اسمیہ تھا بعد میں بھی کیا رہے گا؟ جملہ اسمیہ۔ ”زَيْدٌ قَائِمٌ“، یہ بھی کیا ہے؟ جملہ اسمیہ، اور ”إِنَّ زَيْدًا قَائِمٌ“، یہ بھی کیا ہے؟ جملہ اسمیہ۔ لیکن کان جو ہے کان وغیرہ یہ افعال ہیں، لہٰذا یہ جب جملہ اسمیہ پر داخل ہوں گے اب ان کے داخل ہونے کے بعد وہ جملہ فعلیہ ہو گا، کیا ہو گا؟ جملہ فعلیہ۔ ”إِنَّ زَيْدًا قَائِمٌ“، یہ کیا ہے؟ جملہ اسمیہ، لیکن اگر کان آ جائے: ”كَانَ زَيْدٌ قَائِمًا“، اسم پر رفع اور خبر پر نصب، ”كَانَ زَيْدٌ قَائِمًا“، یہ اب کیا بنے گا؟ جملہ فعلیہ بنے گا، صورت سمجھ میں آ گئی۔ اور ان میں سے ہر ایک کا معنیٰ کیا ہے؟ یاد رکھیے یہ آگے افعال کی بحث آئے گی وہاں تفصیل سے آپ کو ایک ایک کا معنیٰ بتائیں گے، تو ابھی معنیٰ کے ذکر کی ضرورت نہیں لہٰذا ہم بھی اس کو چھوڑ دیتے ہیں، وہیں پر معنیٰ ذکر کریں گے کہ کان کا کیا معنیٰ ہے، صار کا کیا معنیٰ ہے، اصبح کا کیا معنیٰ ہے، وہ ہر ایک کو بیان کریں گے تو وہیں پر یہ بحث ہم بھی کر لیں گے۔ تو کہتے ہیں: ”فَهٰذِهِ الْأَفْعَالُ تَدْخُلُ أَيْضًا عَلَى الْمُبْتَدَإِ وَالْخَبَرِ“، یہ افعال جو ہیں یہ بھی داخل ہوتے ہیں مبتدا اور خبر پر۔ ایضاً کا معنیٰ بھی۔ تو ”فَهٰذِهِ الْأَفْعَالُ تَدْخُلُ أَيْضًا عَلَى الْمُبْتَدَإِ وَالْخَبَرِ“، تو یہ افعال بھی داخل ہوتے ہیں مبتدا اور خبر پر، ”فَتَرْفَعُ الْمُبْتَدَأَ“، تو یہ رفع دیتے ہیں مبتدا کو، ”وَيُسَمَّى اسْمَ كَانَ“، اور اس مبتدا کو اب کیا کہتے ہیں؟ کان کا اسم۔ دیکھو ادھر دیکھیے: ”زَيْدٌ قَائِمٌ“، ”زَيْدٌ“ ہے، ترکیب کیجیے: ”زَيْدٌ“ مرفوع لفظاً مبتدا، ”قَائِمٌ“ مرفوع لفظاً صیغہ اسمِ فاعل، اس کے اندر ”هُوَ“ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو کس کو راجع؟ زید کو، مبتدا کو۔ اسمِ فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ۔ اب اس پر ذرا کان لے آؤ: ”كَانَ زَيْدٌ قَائِمًا“، کان فعل، فعلِ ناقص، اور ”زَيْدٌ“ مرفوع لفظاً کان کا اسم۔ ہاں یہ کان افعالِ ناقصہ میں سے ہے، کس میں سے؟ افعالِ ناقصہ۔ یہ ایک اسم چاہتا ہے، باقی فعل جو ہیں نا باقی فعل، ان میں فاعل چاہیے ہوتا ہے، جس کو وہ رفع دیتے ہیں اس کو اس فعل کا فاعل کہتے ہیں۔ لیکن یہ جو افعالِ ناقصہ جس کو رفع دیتے ہیں اس کو ان کا اسم کہتے ہیں، فاعل نہیں۔ ہاں صاحبِ کافیہ اس کو فاعل کہتے ہیں، اگلے سال آپ کافیہ پڑھیں گے، اپنی اپنی اصطلاح ہے۔ تو صاحبِ کافیہ ان کو کیا کہتے ہیں؟ وہ عام افعال کی طرح یہ افعالِ ناقصہ کے لیے بھی جس کو یہ رفع دیں اس کو کیا کہتے ہیں؟ اس کا فاعل، لیکن عام نحوی کیا ہیں؟ اس کو ان کا اسم کہتے ہیں فاعل نہیں کہتے۔ تو صرف اصطلاح کا فرق ہے باقی عمل وغیرہ تو اسی طرح ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو ”كَانَ زَيْدٌ قَائِمًا“، کان فعلِ ناقص۔ آگے ”زَيْدٌ“ مرفوع لفظاً کان کا اسم۔ ”قَائِمًا“ منصوب لفظاً صیغہ اسمِ فاعل۔ منصوب کیوں؟ کیونکہ کان کی خبر ہے، اور کان کی خبر کیا ہوتی ہے؟ منصوب۔ اور صیغہ اسمِ فاعل، اس کے اندر ”هُوَ“ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو کس کو راجع؟ زید کو، کس کو؟ زید کو۔ کیونکہ کان کی خبر کو کس سے جوڑتے ہیں؟ کان کے اسم سے۔ مبتدا کی خبر کو کس سے جوڑتے ہیں؟ مبتدا کے ساتھ۔ إن کی خبر کو کس سے جوڑتے ہیں؟ إن کے اسم سے۔ اور کان کی خبر کو کس سے جوڑیں گے؟ کان کے اسم کے ساتھ جوڑیں گے، تو اس کے اندر ”هُوَ“ ضمیر راجع ہے کان کے اسم یعنی زید کو۔ اسمِ فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر، کان اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا، کیونکہ کان فعل ہے نا تو جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ تو ”زَيْدٌ قَائِمٌ“ کا معنیٰ تھا زید کھڑا ہے۔ ”زَيْدٌ قَائِمٌ“، ترجمہ کریں بھئی آسان سی بات ہے: ”زَيْدٌ قَائِمٌ“، زید کھڑا ہے۔ لیکن جب میں نے کہا ”كَانَ زَيْدٌ قَائِمًا“، اب ترجمہ ہو گا زید کھڑا تھا۔ ”كَانَ زَيْدٌ قَائِمًا“، زید کھڑا تھا، دیکھو کان نے اپنا اثر دے دیا۔ پہلے تھا زید کھڑا ہے، اور اب کیا معنیٰ ہے؟ زید کھڑا تھا۔ ”وَيَجُوزُ فِي الْكُلِّ تَقْدِيمُ أَخْبَارِهَا عَلَى أَسْمَائِهَا“، اچھا بھئی إن میں آپ نے پڑھا تھا، إن کی خبر کو إن کے اسم پر مقدم کر سکتے ہیں یا نہیں کر سکتے؟ سبق یاد ہے کل کا کہ تکرار کیا ہے بھئی؟ ہاں، إن کی خبر کو إن کے اسم پر آپ نے پڑھا تھا مقدم نہیں کر سکتے، ہاں وہ ظرف ہو اگر خبر تو پھر مقدم کر سکتے ہیں۔ اور اس میں بھی میں نے تفصیل بتائی تھی کہ اگر إن کا اسم نکرہ ہو تو پھر وہ جو خبر ہے اس کو مقدم کرنا واجب، وہ جو ظرف ہے اس کو مقدم کرنا واجب، اور اگر معرفہ ہو تو پھر مقدم کرنا جائز ہے، مقدم بھی کر سکتے ہیں اور مؤخر بھی۔ اور میں نے بتایا تھا إن کی خبر جو ہو جب ظرف ہو، کیا ہو؟ ظرف، تو اس کو ہمیشہ مقدم کرتے ہیں چاہے اسم نکرہ ہو چاہے معرفہ۔ ہمیشہ اس کو مقدم کرتے ہیں، بہت ہی قلیل آپ کو ملے گا کہ إن کی خبر ظرف ہو اور اس کو مقدم نہ کیا گیا ہو، ہمیشہ جب بھی ظرف ہو گی کیا ملے گی آپ کو؟ مقدم ہی ملے گی۔ اب کان کے بارے میں بتانے لگے ہیں کہ یہ جو افعالِ ناقصہ ہیں ایک ان کا اسم ہے، ادھر ہے توجہ؟ یہ افعالِ ناقصہ کا ایک اسم ہے اور ایک ان کی خبر، تو کیا ان کی خبر کو ان کے اسم پر مقدم کر سکتے ہیں؟ یعنی جملہ تھا ”كَانَ زَيْدٌ قَائِمًا“، کیا اس ”قَائِمًا“ کو زید پر مقدم کر سکتے ہیں، یوں کہہ سکتے ہیں: ”كَانَ قَائِمًا زَيْدٌ“؟ کہتے ہیں ہاں بھئی، ان کی خبر کو ان کے اسم پر مقدم کرنا جائز ہے، صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَيَجُوزُ فِي الْكُلِّ“، اور جائز ہے ان سب میں، یعنی یہ جتنے افعالِ ناقصہ اوپر گزرے ہیں ان سب میں، کیا جائز ہے؟ ”تَقْدِيمُ أَخْبَارِهَا عَلَى أَسْمَائِهَا“، مقدم کرنا ان کی خبروں کو ان کے اسموں پر، ان سب میں جائز ہے۔ ”نَحْوُ: كَانَ قَائِمًا زَيْدٌ“، جیسے کہ ”كَانَ قَائِمًا زَيْدٌ“۔ ترکیب کیجیے: کان فعل از افعالِ ناقصہ، ”قَائِمًا“ منصوب لفظاً صیغہ اسمِ فاعل۔ منصوب کیوں؟ کان کی خبر ہے، ہاں کان کی خبر، بھئی یہاں آپ کو اعراب سے بھی فرق پتہ چل جائے گا۔ جس پر رفع آ رہا ہو سمجھ جائیں وہ کان کا اسم ہے، جس پہ نصب آ رہا ہو سمجھ جائیں وہ کان کی خبر ہے، تو یہ خبر ہے مقدم ہے۔ ”قَائِمًا“ منصوب لفظاً صیغہ اسمِ فاعل۔ منصوب کیوں؟ کیونکہ کان کی خبرِ مقدم ہے۔ اور اس کے اندر ”هُوَ“ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو کس کو راجع؟ زید کو۔ بھئی زید تو بعد میں آ رہا ہے، یہ تو ضمیر پہلے اور مرجع بعد میں حالانکہ ہونا کیا چاہیے؟ مرجع پہلے اور ضمیر بعد میں ہونی چاہیے، جواب کیا دیں گے؟ ہاں، زید رتبے کے اعتبار سے مقدم ہے کیونکہ اس کا اصل مقام کہاں ہے؟ ”قَائِمًا“ سے پہلے ہے، ”كَانَ زَيْدٌ قَائِمًا“ ہے اصل میں، تو لہٰذا یہ اضمار قبل الذکر پورے طور پر نہیں ہے صرف لفظاً ہے رتبۃً نہیں ہے تو یہ جائز ہے۔ تو صیغہ اسمِ فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبرِ مقدم کان کی، اور ”زَيْدٌ“ مرفوع لفظاً اسمِ مؤخر کان کا۔ کان اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا، معنیٰ وہی ہے کہ زید کھڑا تھا، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں ان سب کے اندر ان کی خبروں کو ان کے اسموں پر مقدم کرنا جائز ہے، ”وَعَلَى نَفْسِ الْأَفْعَالِ أَيْضًا فِي التِّسْعَةِ الْأُوَلِ“، اور پہلے نو میں نفسِ افعال پر خبر کو مقدم کرنا بھی جائز ہے۔ بھئی ادھر دیکھیے، اصل میں کیا تھا: ”كَانَ زَيْدٌ قَائِمًا“۔ پہلے آپ کو انہوں نے بتا دیا کہ یہ جو کان کی خبر ہے اس کو کان کے اسم پر مقدم کرنا جائز ہے: ”كَانَ قَائِمًا زَيْدٌ“۔ اور یہ صرف کان میں جائز ہے یا تمام افعالِ ناقصہ میں جائز ہے؟ انہوں نے آپ کو بتایا: ”وَيَجُوزُ فِي الْكُلِّ“، ساروں میں جائز ہے۔ جتنے بھی ہیں یہ سترہ کے سترہ، ان کی خبروں کو آپ کیا کر سکتے ہیں؟ ان کے اسم پر مقدم کر سکتے ہیں۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کیا ان کی خبر جو ہے، خبر، اس کو نفسِ فعل پر بھی مقدم کر سکتے ہیں یا نہیں؟ ”كَانَ زَيْدٌ قَائِمًا“، یہ ”قَائِمًا“ کو زید پر تو مقدم کر سکتے ہیں، کیا کان پر بھی مقدم کر سکتے ہیں؟ یوں کہہ سکتے ہیں: ”قَائِمًا كَانَ زَيْدٌ“؟ صورت سمجھ میں آ گئی؟ کہتے ہیں ہاں، پہلے نو جو ہیں، کس میں؟ پہلے نو، لیکن محشی حضرات علماء یہاں فرماتے ہیں کہ یہ معلوم ہوا یہ کسی لکھنے والے کی غلطی ہے، پہلے نو میں نہیں پہلے گیارہ کے اندر۔ کس کے اندر؟ پہلے گیارہ کے اندر خبر کو نفسِ فعل پر مقدم کرنا بھی جائز ہے۔ ”قَائِمًا كَانَ زَيْدٌ“، صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو خبر کو کس پر مقدم کیا؟ اسم پر نہیں بلکہ نفسِ خود فعل پر بھی مقدم کر دیا جائے ان کی خبر کو، یہ کتنے میں جائز ہے؟ پہلے گیارہ میں۔ اور باقی اگلے جو پانچ ہیں جن کے شروع میں ما آتا ہے: ما زال، ما برح، ما فتئ، من فک، ما دام، یہ جو پانچ ہیں ان میں خبر کو ان پر مقدم نہیں کر سکتے۔ مثلاً ”مَا زَالَ زَيْدٌ قَائِمًا“، یہ تو اصل ترکیب ہے: ”مَا زَالَ زَيْدٌ قَائِمًا“۔ اب یہاں ”قَائِمًا“ کو زید پر تو مقدم کر سکتے ہیں: ”مَا زَالَ قَائِمًا زَيْدٌ“، لیکن ”قَائِمًا“ کو ما زال پر مقدم نہیں کر سکتے، یوں نہیں کہہ سکتے: ”قَائِمًا مَا زَالَ زَيْدٌ“، یوں نہیں کہہ سکتے، صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو پہلے گیارہ میں خبر کو نفسِ فعل پر بھی کیا کر سکتے ہیں؟ مقدم کر سکتے ہیں، لیکن جن کے شروع میں ما ہے ان پر خبر کو مقدم نہیں، اور جو لیس ہے آخری اس میں اختلاف ہے۔ بعض نحوی حضرات فرماتے ہیں کہ لیس کی خبر کو لیس پر مقدم کر سکتے ہیں اور ”قَائِمًا لَيْسَ زَيْدٌ“ کہہ سکتے ہیں، اور بعض کہتے ہیں نہیں، لیس میں بھی خبر کو لیس پر مقدم نہیں کر سکتے، صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو دیکھیے اب عبارت بھئی، دوبارہ دیکھیے: ”وَيَجُوزُ فِي الْكُلِّ تَقْدِيمُ أَخْبَارِهَا عَلَى أَسْمَائِهَا“، اور ان سب کے اندر یعنی سترہ جو ہیں ان سب سترہ کے سترہ میں جائز ہے ان کی خبروں کو ان کے اسموں پر مقدم کرنا جیسے ”كَانَ قَائِمًا زَيْدٌ“۔ ”وَعَلَى نَفْسِ الْأَفْعَالِ أَيْضًا فِي التِّسْعَةِ الْأُوَلِ“، اور نفسِ افعال پر مقدم کرنا بھی جائز ہے پہلے نو میں۔ اول جمع ہے اولیٰ کی، پہلے نو میں نفسِ افعال پر بھی خبر کو مقدم کرنا جائز، لیکن میں نے بتایا یہ کاتب کی غلطی، کتنے میں؟ پہلے گیارہ میں جو ہے، یعنی کان سے لے کر غدا تک، ان سب میں خبر کو نفسِ افعال پر مقدم کرنا بھی جائز ہے۔ نحو مثال کے طور پر: ”قَائِمًا كَانَ زَيْدٌ“۔ ترکیب کیجیے: ”قَائِمًا“ منصوب لفظاً صیغہ اسمِ فاعل۔ منصوب کیوں؟ کان کی خبر ہے، شاباش۔ اس کے اندر ”هُوَ“ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو کس کو راجع؟ زید کو۔ اشکال ہوا زید تو مؤخر ہے؟ جواب: وہ رتبے کے اعتبار سے اس پر مقدم ہے، یہ اصل میں مؤخر ہے اس سے۔ اچھا، اسمِ فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر کان کی خبر، اور ”زَيْدٌ“ کان کا اسم، تو یہ خبرِ مقدم، کان فعلِ ناقص ہوا اور ”زَيْدٌ“ اس کا اسمِ مؤخر۔ کان اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ ”قَائِمًا“ مقدم ہے تو آپ یہ نہ کہیں کہ یہ ”قَائِمًا“ جملہ اسمیہ بن گیا کیونکہ اسم مقدم ہے، نہیں نہیں، لفظوں میں مقدم ہے اصل مقام تو اس کا کہاں ہے؟ مؤخر ہے، ”كَانَ زَيْدٌ قَائِمًا“ ہے، تو اصل میں تو کان مقدم ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ لہٰذا یہ جملہ فعلیہ ہے۔ تو کہتے ہیں پہلے گیارہ کے اندر ان کی خبروں کو نفسِ افعال پر مقدم کرنا بھی جائز ہے۔ ”وَلَا يَجُوزُ ذٰلِكَ فِيمَا فِي أَوَّلِهِ مَا“، اور یہ جائز نہیں ہے ان افعال میں جن کے شروع میں ما ہے۔ ”فَلَا يُقَالُ“، لہٰذا یوں نہیں کہا جائے گا: ”قَائِمًا مَا زَالَ زَيْدٌ“۔ جن کے شروع میں ما ہے ان میں خبر کو نفسِ فعل پر مقدم کرنا جائز نہیں، لہٰذا یوں نہیں کہا جائے گا: ”قَائِمًا مَا زَالَ زَيْدٌ“۔ ترکیب کیجیے: ”قَائِمًا مَا زَالَ زَيْدٌ“؟ اوہو نہیں، کوئی آپ سے کہے اس کی ترکیب کرو ”قَائِمًا مَا زَالَ زَيْدٌ“، آپ کہیں گے یہ جملہ ہی غلط ہے تو ترکیب کہاں سے کروں؟ بات سمجھ میں آ گئی؟ خود کہا یا نہیں ”فَلَا يُقَالُ“، ایسا نہیں کہیں گے، لہٰذا آپ سے کوئی کہے اس کی ترکیب کرو آپ کہیں گے نہیں بھئی، یہ عربی اعتبار سے عبارت ہی صحیح نہیں ہے اس کی ترکیب بھی صحیح نہیں، ترکیب کی ہی نہیں جائے گی۔ ”وَفِي لَيْسَ خِلَافٌ“، اور لیس کے اندر کیا ہے؟ اختلاف ہے، بعض کہتے ہیں خبر کو اس پر مقدم کر سکتے ہیں اور بعض کہتے ہیں خبر کو اس پر مقدم نہیں کر سکتے۔ اچھا بھئی، یہ فعلِ ناقص ہے تو فعل ہی نا، ہاں لیکن فرق کیا؟ باقی افعال جس کو رفع دیتے ہیں اس کو ان کا فاعل کہتے ہیں۔ ”جَاءَ زَيْدٌ“، یہ ”زَيْدٌ“ کیا ہے جاء کے لیے؟ فاعل، تو باقی افعال جس کو رفع دیتے ہیں اس کو کہتے ہیں ان کا فاعل، اور یہ افعالِ ناقصہ جس کو رفع دیتے ہیں ان کو اس کا اسم کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ اسم کہتے ہیں۔ اور باقی فعل جس کو نصب دیتے ہیں ان کو اس کا مفعول کہتے ہیں: ”ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًا“، ”ضَرَبَ“ نے زید کو رفع دیا تو یہ اس کا اسم نہیں کہلاتا بلکہ فاعل، اور ”عَمْرًا“ کو ”ضَرَبَ“ نے نصب دیا یہ اس کی خبر نہیں کہلاتی بلکہ مفعول کہلاتا ہے، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ توجہ ہے سبق کی طرف؟ تو کان بھی اسی طرح ہے، جیسے ”ضَرَبَ“ نے ایک اسم کو رفع دیا اور ایک کو کیا کیا؟ نصب دیا، کان نے بھی کیا کیا؟ ایک اسم کو رفع دیا ایک کو نصب، لیکن صرف فرق اصطلاح کا ہے۔ کان جس کو رفع دیتا ہے اس کو کان کا اسم کہتے ہیں، اور باقی افعال جس کو رفع دیتے ہیں ان کو اس فعل کا فاعل کہتے ہیں۔ اور کان جس کو نصب دیتا ہے اس کو کان کی خبر کہتے ہیں، باقی افعال جس کو نصب دیتے ہیں ان کو ان کا مفعول کہتے ہیں۔ اور باقی افعال کے اندر آپ نے پڑھا تھا کیا فاعل کو ان پر مقدم کر سکتے ہیں؟ ”ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًا“، کیا زید ”ضَرَبَ“ پر مقدم ہو سکتا ہے؟ نہیں، باقی افعال میں فاعل فعل پر مقدم نہیں ہو سکتا، فعل جب بھی آئے فاعل جب بھی آئے گا فعل کے بعد آئے گا، فعل پر کبھی بھی مقدم نہیں۔ اسی طرح افعالِ ناقصہ کے اندر بھی ہے، ان کا اسم جب بھی آئے گا وہ فعلِ ناقص کے بعد آئے گا اس پر مقدم نہیں، اس لیے انہوں نے ذکر بھی نہیں کیا، انہوں نے خبر کے مقدم ہونے کی بات تو کی اسم کے مقدم ہونے کی بات نہیں کی، کیونکہ جیسے باقی افعال کا فاعل ان پر مقدم نہیں ہو سکتا کان کا اسم وہ بھی فاعل کے درجے میں ہے لہٰذا وہ بھی کان وغیرہ پر کبھی بھی مقدم نہیں ہو سکتا۔ ہاں باقی افعال میں مفعول مقدم ہو سکتا تھا: ”ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًا“، یوں کہہ سکتے ہو: ”عَمْرًا ضَرَبَ زَيْدٌ“۔ جب وہاں پر مفعول کو مقدم کر سکتے تھے تو یہاں پر بھی کیا کر سکتے ہیں؟ خبر کو پہلے گیارہ میں مقدم کر سکتے ہیں، صورت سمجھ میں آ گئی۔ اور باقی پانچ میں نہیں کر سکتے، بھئی ان میں کیوں نہیں کر سکتے؟ بھئی وجہ یہ کہ ان سب کے شروع میں ما ہے، اور ما چاہتا ہے کہ میں سب سے پہلے آؤں مجھ پر کوئی چیز مقدم نہ ہو، اس وجہ سے وہ ما مانع بن جاتا ہے، رکاوٹ بن جاتا ہے، وہ نہیں آنے دیتا۔ جو باقیوں جن میں ما نہیں وہاں رکاوٹ نہیں تو وہ مقدم ہو جاتی ہے خبر، اور جہاں پر ما ہے تو ما کیا ہے؟ وہ رکاوٹ بن جاتا ہے، صورت سمجھ میں آ گئی۔ ”وَفِي لَيْسَ خِلَافٌ“، اور لیس کے اندر اختلاف ہے، بعض کہتے ہیں اس میں بھی خبر مقدم ہو سکتی ہے اور بعض کہتے ہیں مقدم نہیں ہو سکتی۔ ”وَبَاقِي الْكَلَامِ فِي هٰذِهِ الْأَفْعَالِ يَجِيءُ فِي الْقِسْمِ الثَّانِي إِنْ شَاءَ اللّٰهُ تَعَالَى“، اور باقی کا جو کلام ہے یعنی باقی کی جو باتیں ہیں ان افعالِ ناقصہ کے بارے میں وہ کہاں پر آئے گی؟ قسمِ ثانی میں۔ یہاں قسمِ اول پڑھ رہے ہیں نا، کتاب میں تین قسمیں ہیں: قسمِ اول میں اسم کی بحث ہے، ساری ابھی تک دیکھو اسم کی بحث چل رہی ہے، اسم، رفع، نصب، جر وغیرہ یہ۔ آگے قسمِ ثانی میں فعل کی بحث آئے گی اور قسمِ ثالث میں حروف کی بحث آئے گی، تو یہ افعالِ ناقصہ قسمِ ثانی میں ذکر کریں گے یعنی کس میں؟ فعل کی بحثوں میں۔ یہ معنی ہے کہ باقی کا کلام جو ہے ان افعال کے بارے میں وہ ان شاء اللہ تعالیٰ قسمِ ثانی کے اندر آ جائے گا، وہاں ان کا معنیٰ بھی بیان کریں گے اور تفصیل بھی بیان کریں گے، یہاں صرف اتنا بتایا کہ ان کا اسم کیا ہوتا ہے؟ مرفوع، اور ہماری بحث بھی کس کے بارے میں چل رہی ہے؟ مرفوعات کے بارے میں، یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ اچھا، میں نے آپ کو ضابطہ بتایا تھا کہ جمع بتاویلِ جماعت کس کے حکم میں ہے؟ واحد مؤنث، اسی لیے آپ جگہ جگہ اس کی مثالیں آپ کو ملیں گی۔ جیسے آیا: ”هٰذِهِ الْأَفْعَالُ“، ”هٰذِهِ“ کیا ہے؟ واحد مؤنث کا اسمِ اشارہ ہے، اور ”اَلْأَفْعَالُ“ جمع ہے، تو یہ جمع ہے لیکن اس کے لیے واحد مؤنث استعمال کیا اسمِ اشارہ، کیونکہ جمع بتاویلِ جماعت کس کے حکم میں ہے؟ واحد مؤنث کے، تو اس کے لیے واحد مؤنث کا اسمِ اشارہ استعمال کیا بھئی۔ چلیے بس بھئی، ”هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ، وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“۔