درس نمبر۔99‏ آگے سبق دیکھیے، بھئی‎!‎ ثم إن الأصل في المبتدإ التقديم وجاز تأخيره لكنه قد يجب لعارض كما أشار إليه بقوله: وإذا كان المبتدأ مشتملاً على ما له صدر ‏الكلام، أي: على معنىً وجب له صدر الكلام كالاستفهام فإنه يجب حينئذٍ تقديمه حفظاً لصدارته، مثل: من أبوك؟ بھئی! گزشتہ سبق میں صاحبِ قافیہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ خبر کبھی کبھار جملہ بھی ہوتی ہے، اور وہ خبر جملہ اسمیہ ‏بھی ہو سکتی ہے اور جملہ فعلیہ بھی۔ اور پھر صاحبِ جامی نے بتلایا تھا کہ صاحبِ قافیہ نے جملہ ظرفیہ کو ذکر نہیں ‏فرمایا۔ اور کہتے ہیں: وجہ اس کی یہ، کیونکہ جملہ ظرفیہ جو ہے وہ فعلیہ کی طرف لوٹتا ہے، کیونکہ گزشتہ سبق میں یہ ‏بات گزری تھی کہ وہ خبر جو ظرف واقع ہو، اس کی تاویل جملے کے ساتھ کی جائے گی؛ یعنی وہاں فعل مقدر نکالیں ‏گے۔ اگر اس میں فاعل یا اس میں مفعول وغیرہ مقدر نکالیں گے، تو پھر تو وہ جملہ نہیں بنے گا، وہ تو مفرد بن جائے گا؛ ‏جیسے: زید فی الدار۔ یہ 'فی الدار' کے لیے متعلق کیا نکالیں گے؟ صاحبِ قافیہ نے بتلایا کہ اس کی تاویل کس کے ساتھ ‏کریں گے؟ جملہ کے ساتھ کریں گے، یعنی 'ثبت' نکالیں گے۔ اگر... تو پھر ہی یہ فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر ‏جملہ بنے گا۔ اور اگر 'ثابت' وغیرہ نکالیں گے، پھر تو یہ شبہ جملہ بنے گا۔ تو وہ خبر جو ظرف واقع ہو، چاہے ظرفِ ‏حقیقی ہو، چاہے ظرفِ مجازی ہو—اس کی تاویل جملہ کے ساتھ کی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: جملہ ظرفیہ کو اس لیے ذکر نہیں کیا کیونکہ وہ جملہ فعلیہ کی طرف لوٹتا ہے، اس کی تاویل جب جملہ کے ‏ساتھ کریں گے تو وہاں فعل مقدر ہے، تو وہ جملہ فعلیہ بنے گا بھئی۔ پھر میں نے یہاں تفصیل بیان کی تھی کہ بھئی، جملہ ‏ظرفیہ کہتے کس کو ہیں؟ میں نے بتلایا تھا کہ ابن ہشام، مشہور نحوی گزرے ہیں، وہ فرماتے ہیں: جملہ ظرفیہ وہ ہے کہ ‏اس میں دو چیزیں ضرور ہوں: ایک تو جو ظرف ہے، وہ کلام کے شروع میں ائے، یعنی ظرف کے لیے صدارتِ کلام ‏ہو، اور دوسرا: وہ ظرف کسی پر اعتماد بھی کرے۔ جیسے میں نے اس کی مثال ذکر کی تھی: أفي الدار زيد؟ أفي الدار زيد؟ ‏دیکھو، یہ 'فی الدار' مقدم ہے، شروع میں ہمزہ استفہام ہے، اور پھر 'فی الدار' ظرفِ مقدم ہے، اور 'زید' جو ہے مؤخر ہے۔ ‏تو اس میں دیکھو 'فی الدار' صدارت بھی آ گئی اس کے لیے کلام کی، اور نیز اس کا اعتماد بھی ہے ہمزہ استفہام پر، ‏چنانچہ وہ عمل کر رہا ہے اور 'زید' کو رفع دے رہا ہے۔ میں نے ترکیب بتلائی تھی: أفي الدار زيد؟ ہمزہ استفہام، 'فی' ‏جارہ، 'الدار' مجرور؛ جار مجرور مل کر یہ ظرف ہوا، اور 'زید' اس کے لیے فاعل ہوا۔ عام نحوی کیا فرماتے ہیں؟ 'فی ‏الدار' خبرِ مقدم، اور 'زید' مبتدا مؤخر، لیکن وہ فرماتے ہیں کہ بس یہ ظرف عمل کر رہا ہے، یہ 'زید' مبتدا نہیں ہے، اس ‏کو یہ ظرف ہی رفع دے رہا ہے۔ تو 'فی الدار' ظرف، اور 'زید' اس کے لیے فاعل، اور ظرف اپنے فاعل سے مل کر جملہ ‏ظرفیہ ہوا۔ جملہ ظرفیہ انشائیہ ہوا، کیونکہ استفہام ہے۔ جبکہ ابو علی فارسی اور علامہ زمخشری کے نزدیک جملہ ظرفیہ اس کو کہتے ہیں جس جملے کا ایک جز ظرف ہو۔ جس ‏جملے کا ایک جز ظرف ہو، اور نہ تو وہ صدارت کی شرط لگاتے ہیں اور نہ ہی وہ کسی چیز پر اعتماد کی شرط لگاتے ‏ہیں۔ تو ان کے نزدیک: زید فی الدار۔ 'زید' ایک جز جملے کا، اور 'فی الدار' یہ دوسرا جز جملے کا، اور یہ جز دیکھو ‏ظرف ہے۔ تو اس کو وہ جملہ ظرفیہ کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ جملہ ظرفیہ کہتے ہیں، اور چاہے یہ ظرف مقدم ہو چاہے ‏مؤخر ہو، کہتے ہیں: اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، اور اس کا کسی پر اعتماد بھی ضروری نہیں ہے۔ زید فی الدار، 'زید' ‏مبتدا ہے، اور 'فی الدار' یہ خبر ہے، یہ ظرف ہے، اور اس کے اندر 'ھو' ضمیر ہے، یہ اس کو رفع دے رہا ہے۔ تو یہ ان ‏کے نزدیک جملہ ظرفیہ ہے، اور چاہے ظرف مقدم ہو چاہے مؤخر ہو، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا؛ تو 'زید فی الدار' یہ ‏بھی ان کے نزدیک جملہ ظرفیہ، 'فی الدار زید' یہ بھی جملہ ظرفیہ۔ اور 'فی الدار زید' اس میں کیا ترکیب کرتے ہیں؟ 'فی ‏الدار' یہ ظرف خبرِ مقدم ہے، اور 'زید' کیا ہے؟ مبتدا مؤخر ہے؛ مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ ظرفیہ ہوا۔ اور ایک جملہ شرطیہ بھی ہے، میں نے بتایا: جملہ شرطیہ کو بھی ذکر نہیں کیا، کیونکہ جملہ شرطیہ وہ دیا ہوا جملہ اسمیہ ‏کی طرف لوٹے گا یا جملہ... جملہ فعلیہ کی طرف لوٹے گا۔ میں نے بتایا تھا: شرط اور جزا، شرط اور جزا میں اصل جو ‏ہے وہ جزا ہے، اور شرط اس کے لیے قید ہے۔ تو جزا کو دیکھو! اگر جزا جملہ اسمیہ ہو، تو وہ جملہ شرطیہ اسمیہ ‏کہلائے گا؛ اور اگر شرط جملہ فعلیہ ہو، تو وہ جملہ شرطیہ فعلیہ کہلائے گا۔ اور نیز جملہ شرطیہ انشائیہ بھی ہو سکتا ہے ‏اور خبریہ بھی، اس کا دارومدار بھی جزا پر ہے۔ اگر جزا جملہ خبریہ ہے، تو وہ جملہ شرطیہ خبریہ کہلائے گا؛ اور اگر ‏جزا... اگر جزا انشاء ہے، تو پھر وہ جملہ شرطیہ انشائیہ کہلائے گا۔ تو صاحبِ قافیہ نے آپ کو بتلایا کہ خبر کبھی کبھار جملہ بھی ہوتی ہے، اور جملہ جو ہے اپنی ذات کے اعتبار سے مستقل ‏ہے، وہ کسی سے جڑنے کا محتاج نہیں، لیکن آپ اس کو کسی چیز سے جوڑنا چاہتے ہیں، تو درمیان میں ربط ضروری ‏ہے، اور جو چیز ربط دے اس کو 'عائد' کہتے ہیں۔ اور عائد کی کئی صورتیں صاحبِ جامی نے آپ کو بتلائیں۔ ایک ‏صورت کیا ہے؟ کوئی غائب کی ضمیر ہو، جو اس چیز کی طرف لوٹے جس کے ساتھ آپ اس کو جوڑنا... اس جملے کو ‏آپ جوڑنا چاہتے ہیں۔ میں نے بتایا تھا یہ جملہ کبھی کبھار خبر بنتا ہے، اور خبر کو کس سے جوڑتے ہیں؟ مبتدا سے۔ ‏اسی طرح یہ کبھی جملہ صفت بنتا ہے، صفت کو کس سے جوڑتے ہیں؟ موصوف سے۔ کبھی یہ جملہ حال بنتا ہے، حال ‏کو کس سے جوڑتے ہیں؟ ذوالحال سے۔ کبھی جملہ صلہ بنتا ہے، صلے کو کس سے جوڑتے ہیں؟ موصول سے۔ تو جس ‏سے بھی جملے کو آپ نے جوڑنا ہو، درمیان میں ربط ضروری ہے، اور ربط عموماً غائب کی ضمیر کے ذریعے دیا جاتا ‏ہے۔ اور اس کے علاوہ کبھی کبھار ربط جو ہے الف لام کے ذریعے بھی آ جاتا ہے؛ جیسے: نعم الرجل زید۔ 'نعم الرجل' میں ‏‏'الرجل' کیا ہے؟ 'نعم' کا فاعل ہے، اور یہ فعل اپنے فاعل سے مل کر یہ خبرِ مقدم ہے، اور 'زید' مبتدا مؤخر ہے؛ تو یہاں ‏ربط کس طرح آیا؟ 'نعم الرجل' یہ ہے خبر، اور خبر کو کس سے جوڑتے ہیں؟ مبتدا سے، تو ربط چاہیے؛ تو یہاں عائد کیا ‏ہے؟ تو جواب یہ کہ یہ جو 'الرجل' پر الف لام آیا، میں نے بتایا تھا الف لام کے ذریعے کسی چیز کی طرف اشارہ کیا جاتا ‏ہے بھئی، تو اس کے ذریعے اشارہ ہے، کس کی طرف؟ وہ جو 'زید' آگے آ رہا ہے مخصوص بالمدح، تو اس کے ذریعے ‏ربط آ گیا دونوں کے درمیان۔ اور دوسری مثال: کہ جس چیز کے ساتھ آپ جملے کو جوڑ رہے ہیں، وہ چیز خود ہی اس جملے کے اندر آ جائے؛ جیسے: ‏الحاقة ما الحاقة۔ 'الحاقة' ہے مبتدا، اور 'ما الحاقة' یہ پورا جملہ، یہ ہے اس کی خبر؛ اور خبر کو کس سے جوڑتے ہیں؟ مبتدا ‏سے۔ تو اس پورے جملے کو جوڑا جا رہا ہے 'الحاقة' سے، تو وہی 'الحاقة' خود اس جملے کے اندر بھی آ گیا، تو دونوں ‏میں ربط آ گیا۔ اور اس کو کیا کہتے ہیں؟ وضع الظاهر موضع المضمر، بھئی! اس میں ظاہر کو رکھ دینا ضمیر کے مقام ‏پر۔ اصل میں تو یوں ہونا چاہیے: الحاقة ما هي، لیکن 'ھی' کے بجائے کیا لے آئے؟ اسمِ ظاہر۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ وضع ‏الظاهر موضع المضمر یا وضع المظهر موضع المضمر کہتے ہیں؛ اور یہ ہمیشہ کسی نقطے کی بناء پر کیا جاتا ہے، کوئی ‏نقطہ ہوتا ہے وہاں پر۔ اور اسی طرح کبھی کبھار ربط دیا جاتا ہے کہ وہ جو خبر ہوتی ہے، وہ اس مبتدا کی تفسیر ہوتی ہے، اور یہ ضمیرِ شان ‏اور ضمیرِ قصہ میں ہوتا ہے۔ تو یہ ضمیرِ شان اور ضمیرِ قصہ یہ ایک مبہم ضمیر ہوتی ہے، اور آگے آنے والا جملہ اس ‏کی تفسیر کرتا ہے۔ یاد رکھو! ضمیر جب بھی آتی ہے، اس کا پہلے مرجع ہونا چاہیے، لیکن ضمیرِ شان میں مرجع پہلے ‏ہوتا ہی نہیں، بلکہ ضمیر کو پہلے لے آتے ہیں، اور پھر مرجع، یعنی آگے آنے والا جملہ اس کی تفسیر کرتا ہے۔ وجہ یہ ‏کہ اس کے اندر مقصد یہ ہوتا ہے کہ پہلے ابہام پیدا کیا جائے، پھر تفسیر کی جائے۔ تو 'ھو' ضمیر غائب کی ضمیر آ جاتی ‏ہے، اور مرجع پیچھے نہیں ہوتا، تو مخاطب متوجہ ہو جاتا ہے کہ یہ ضمیر کس طرف لوٹ رہی ہے؟ اس کے ذہن میں ‏طلب پیدا ہو جاتی ہے کہ ضمیر کا مرجع کیا ہے، یہ کس کو لوٹ رہی ہے؟ اور طلب کے بعد پھر ساتھ ہی آگے تفسیر آ ‏جاتی ہے، تو اس کی وجہ سے بات ذہن میں اچھی طرح جم جاتی ہے، اچھی طرح ذہن نشین ہو جاتی ہے۔ جیسے ہے: قل ‏هو الله أحد۔ 'ھو' یہ ضمیرِ شان ہے: اے پیغمبر! آپ فرما دیجیے: ھو، شان یہ ہے: الله أحد، کہ اللہ ایک ہے۔ یہ 'ھو' ضمیر ‏کیا ہے؟ ضمیرِ شان، اور یہ 'الله أحد' اس کی تفسیر ہے، 'ھو' سے یہی مراد ہے۔ کیا مراد ہے؟ 'الله أحد' مراد ہے۔ تو ضمیر ‏کو پہلے کیوں لائے؟ کہ ابہام پہلے پیدا ہو۔ تو یہاں مرجع ذکر ہی بعد میں ہوتا ہے، پہلے لاتے ہی نہیں ہیں، کیونکہ مقصد ‏ہی اولاً ابہام پیدا کرنا ہے؛ اگر مرجع پہلے آ جائے، پھر تو ابہام نہیں ہو سکتا بھئی۔ تو اس میں ضمیر پہلے آتی ہے اور ‏مرجع بعد میں، البتہ حکم یہ لگا دیا جاتا ہے کہ مرجع مقدم ہو چکا۔ حکم، حکماً، یعنی حکماً مرجع مقدم ہے؛ نہ لفظاً مقدم ‏ہے، نہ معناً مقدم ہے، صرف حکماً مقدم ہے کہ حکم لگا دیا یہ مقدم ہو چکا ہے، کیونکہ مرجع ہمیشہ پہلے چاہیے۔ تو یہاں ‏تو بعد میں آ رہا ہے، کہتے ہیں: بس یہاں بھی کیا ہے؟ یوں سمجھو مرجع پہلے ہو چکا، یعنی حکم لگا دیا، حقیقت میں کوئی ‏مرجع پہلے نہیں گزرا۔ تو یہاں مقصد ہی یہ ہوتا ہے، اور پھر اگر یہ ضمیر مذکر کی ہو، تو اس کو ضمیرِ... ضمیرِ شان ‏کہتے ہیں، اور اگر یہ مؤنث کی ہو، تو اس کو ضمیرِ قصہ کہتے ہیں۔ قصہ یہ ہے، بات یہ ہے، تو شان اور قصہ کا ایک ‏معنی: حال یہ ہے، یا یوں کہو: بات یہ ہے۔ قل هو الله أحد، اے پیغمبر! آپ فرما دیجیے: ھو، کہ بات یہ ہے: الله أحد، کہ اللہ ‏ایک ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور پھر انہوں نے آپ کو یہ بھی بتلایا کہ کبھی کبھار عائد کو حذف بھی کر لیا جاتا ہے، 'من' کے ساتھ وہ عائد ہو، تو اس ‏کو حذف کر دیا جاتا ہے اور یہ قیاسی ہے۔ اور اسی طرح اگر عائد جو ہے مفعول ہو، تو مفعول کو بھی کبھی کبھار حذف ‏کر لیا جاتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اب آگے دیکھیے، بھئی‎!‎ کہتے ہیں: ثم إن الأصل في المبتدإ التقديم وجاز تأخيره لكنه قد يجب لعارض... اچھا! اب کچھ وہ مقامات بتائیں گے صاحبِ ‏قافیہ جہاں مبتدا کو مقدم کرنا واجب ہے۔ بھئی، مبتدا میں تو اصل یہ ہے وہ مقدم ہونا چاہیے، لیکن اس کو مؤخر کرنا بھی ‏جائز ہے۔ لیکن کچھ جگہیں ایسی ہیں جہاں مبتدا کو مقدم کرنا واجب ہے، آپ اس کو مؤخر کر ہی نہیں سکتے۔ اسی طرح ‏کچھ جگہیں ایسی ہیں جہاں خبر کو مقدم کرنا اور مبتدا کو مؤخر کرنا واجب ہے۔ تو پہلے صاحبِ قافیہ وہ جگہیں ذکر کریں ‏گے جہاں مبتدا کو مقدم کرنا واجب ہے، اور پھر وہ جگہیں ذکر کریں گے جہاں خبر کو مقدم کرنا واجب ہے بھئی۔ پہلے ذرا متن متن دیکھ لیں۔ کہتے ہیں: وإذا كان المبتدأ مشتملاً على ما له صدر الكلام، اور جب مبتدا مشتمل ہو 'على ما'—'ما' ‏سے مراد ہے معنی، معنی—جب مبتدا مشتمل ہو 'على ما' ایسے معنی پر 'له صدر الكلام' جس کے لیے صدارتِ کلام واجب ‏ہو۔ جس کے لیے صدارتِ... صدارتِ کلام واجب ہو، یعنی وہ کلام کے آغاز کو چاہتا ہے کہ اس کو کلام کے شروع میں ‏ذکر کیا جائے۔ یاد رکھو! کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو ہمیشہ صدارتِ کلام کا تقاضا کرتی ہیں؛ مثلاً: تمنا ہے، تمنا کے ‏لیے 'لیت' آتا ہے، اور 'لیت' ہمیشہ صدارتِ کلام کو چاہتا ہے۔ اسی طرح ترجی ہے، ترجی کے لیے—یعنی امید جو ہے—‏امید کے لیے 'لعل' آتا ہے، اور یہ بھی صدارتِ کلام کو چاہتا ہے۔ اسی طرح قسم ہے، قسم کلام کی تاکید کے لیے آتی ہے، ‏یہ بھی کس کو چاہتی ہے؟ صدارتِ کلام کو۔ اسی طرح وہ کلمات جو شرط پر دلالت کرتے ہیں، مثلاً 'إن' ہے، 'إن' بھی کیا ‏چاہتا ہے؟ صدارتِ... صدارتِ کلام، یا اسی طرح 'من' ہے اگر شرط والا ہو، یہ 'من' بھی کیا چاہتا ہے؟ صدارتِ کلام۔ تو ‏کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو صدارتِ کلام کو چاہتی ہیں۔ بھئی، کیوں؟ صدارتِ کلام کو کیوں چاہتی ہیں؟ وجہ یہ کہ یہ ‏کلام کی نوع کو بدل دیتی ہیں، ایک نوع سے نکال کر دوسری نوع کی طرف لے جاتی ہیں۔ مثلاً میں کہتا ہوں: زید قائم، ‏زید کھڑا ہے۔ اس پر میں 'لیت' ذرا داخل کر دوں: ليت زيداً قائم، کاش کہ زید کھڑا ہوتا! دیکھو، پہلے کلام... پہلے خبر تھی، ‏اب کیا بن گیا؟ انشاء بن گیا، کیونکہ تمنا کس کی قسم ہے؟ انشاء کی۔ تو یہ چیزیں چونکہ کلام کی نوع ہی بدل دیتی ہیں، تو ‏لہٰذا ان کو کلام کے شروع میں ذکر کیا جاتا ہے تاکہ سننے والے کو شروع سے ہی پتہ چل جائے کہ یہ کس قسم کا کلام ‏چل رہا ہے؛ کیونکہ اگر یہ چیزیں آپ شروع میں ذکر نہیں کریں گے، آخر میں لے جا کر ذکر کریں گے، تو متکلم تو ‏شروع سے یہ سمجھے گا، شاید یہ مجھے خبر دے رہا ہے، کوئی بات بتلا رہا ہے، آخر میں جا کے پتہ چلے گا: نہیں ‏نہیں، یہ تو تمنا کا اظہار کر رہا ہے۔ تو لہٰذا یہ چیزیں چونکہ ایک خاص قسم کے کلام پر دلالت کرتی ہیں، خاص نوع کے ‏کلام پر دلالت کرتی ہیں، تو یہ صدارت کو چاہتی ہیں تاکہ سننے والے کو کلام کے آغاز سے ہی پتہ چل جائے کہ آگے ‏کس قسم کا کلام کیا جا رہا ہے۔ تو لہٰذا اگر مبتدا جو ہے، وہ بھی متضمن ہوا ایسے معنی کو جو صدارتِ کلام کو چاہتا ہے، ‏جیسے استفہام ہے۔ جیسے استفہام ہے، تو اس صورت میں اس کو مقدم کرنا واجب ہے؛ جیسے آگے مثال ذکر کریں گے: ‏من أبوك؟ من أبوك؟ آپ کے ابو کون ہیں؟ تو یہاں دیکھو، یہ 'من' کس لیے آیا؟ استفہام کے لیے، تو یہ ہے مبتدا اور اس کو ‏مقدم کرنا واجب ہے تاکہ کلام کے آغاز سے ہی سننے والے کو پتہ چل جائے کہ مجھ سے سوال پوچھا جا رہا ہے۔ تو کہتے ہیں: وإذا كان المبتدأ مشتملاً على ما له صدر الكلام، اور جب مبتدا مشتمل ہو ایسے معنی پر 'له صدر الكلام' جس ‏کے لیے صدارتِ کلام واجب ہو، جیسے مثل: من أبوك، جیسے کہ 'من أبوك'۔ بھئی! چار صورتیں ذکر کریں گے صاحبِ قافیہ کہ اگر مبتدا میں یہ والی بات ہوئی یا دوسری یا تیسری یا چوتھی، آخر میں ‏سب کی جزا اکٹھی نکالیں گے کہ ان تمام صورتوں میں مبتدا کو مقدم کرنا واجب ہے۔ دیکھو، یہاں چار چھ سات سطروں ‏کے بعد آ رہا ہے: وجب تقديمه، متن آ رہا ہے۔ یہ چار صورتیں ذکر کریں گے، ان چاروں صورتوں میں 'وجب تقديمه' مبتدا ‏کو مقدم کرنا واجب ہے۔ پہلی کیا صورت ذکر کی؟ کہ جب مبتدا مشتمل ہو ایسے معنی پر جو کس کو چاہتا ہو؟ صدارتِ ‏کلام کو، جیسے 'من أبوك'؛ تو اس صورت میں اس کو مقدم کرنا واجب ہے۔ أو كانا معرفتين، أو متساويين، یا دونوں معرفہ ہوں—'کانا' دیکھو تثنیہ ہے—مبتدا اور خبر دونوں معرفہ ہوں، 'أو متساويين' ‏یا دونوں برابر ہوں، یعنی... یعنی تخصیص کے اندر برابر ہوں۔ مبتدا کے اندر بھی تخصیص اور خبر کے اندر بھی ‏تخصیص۔ آپ نے پڑھا بھئی، مبتدا کے اندر اصل یہ ہے وہ معرفہ ہونا چاہیے اور خبر کے اندر اصل یہ ہے کہ وہ نکرہ ‏ہونی چاہیے۔ بھئی، میں نے آپ کو بتلایا تھا: آپ کے پاس دو لفظ ہوں، ایک معرفہ ہو، ایک نکرہ ہو، تو مبتدا کس کو بناؤ؟ ‏معرفہ کو، اور خبر کس کو بناؤ؟ نکرہ کو۔ لیکن اگر دونوں ہی مبتدا اور خبر دونوں معرفہ ہیں، تو اس صورت میں یاد ‏رکھو، جب دونوں معرفہ ہوں، مبتدا کو مقدم کرنا واجب ہے۔ اب یہ تقديم ہمیں بتائے گی کہ یہ ہے مبتدا؛ جیسے... جیسے: ‏محمد نبينا صلی اللہ علیہ وسلم۔ 'محمد' یہ بھی معرفہ، 'نبینا'—نبی مضاف، نا ضمیر مضاف الیہ، اور آپ نے پڑھا ہے ‏معرفہ کی طرف جو مضاف ہو جائے وہ بھی کیا بن جاتا ہے؟ معرفہ—تو دیکھو ایک لفظ 'محمد' یہ بھی کیا ہے؟ معرفہ، ‏اور 'نبینا' دوسرا لفظ بھی معرفہ ہے۔ آپ ان میں سے جس کو چاہیں مبتدا بنا سکتے ہیں، لیکن جس کو بھی مبتدا بنانا چاہتے ‏ہیں اس کو مقدم رکھو اور خبر کو مؤخر کر دو۔ محمد نبينا، محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے نبی ہیں۔ دیکھو، یہ لفظِ 'محمد' ‏کی تقديم بتا رہی ہے کہ یہ ہے مبتدا اور 'نبینا' ہے اس کی خبر۔ اور اگر آپ 'نبینا' کو مبتدا بنانا چاہتے ہیں تو اس کو مقدم ‏کرو بھئی: نبينا محمد، ہمارے نبی جو ہیں وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں بھئی۔ مبتدا اور خبر دونوں معرفہ ہوں تو مبتدا ‏کو مقدم کرنا واجب ہے، اگر آپ اس کو مؤخر کریں گے سننے والے کو تو نہیں پتہ چلے گا کہ یہ مبتدا مؤخر ہے، وہ تو ‏جو پہلے آ رہا ہے اسی کو کیا کرے گا؟ مبتدا سمجھے گا، لہٰذا اس موقع پر مبتدا کو مقدم کرنا واجب ہے بھئی۔ یا دونوں مبتدا اور خبر دونوں تخصیص کے اعتبار سے برابر ہوں۔ آپ نے پڑھا کہ نکرہ کبھی کبھار وہ بھی مبتدا بنتا ‏ہے، لیکن جب اس میں تخصیص پیدا کر دی جائے، اور تخصیص کے چھ طریقے آپ نے پڑھے بھئی: ایک تھا تخصیص ‏بالصفت، ایک تخصیص بعلم المتکلم، ایک تخصیص بالعموم، ایک تخصیص بالعدول من الجملة الفعلية إلى الجملة الاسمية، ‏اور ایک تھا تخصیص بتقديم الخبر، اور ایک تھا تخصیص بالنسبة إلى المتکلم۔ تو نکرہ میں تخصیص آ جائے تو پھر وہ ‏مبتدا بن سکتا ہے۔ اب دیکھو، آپ کے پاس دو لفظ ہیں، دونوں نکرہ ہیں اور دونوں کے اندر تخصیص ہے، تو آپ ان میں ‏سے جس کو چاہیں مبتدا بنا سکتے ہیں۔ لیکن جس کو مبتدا بنانا ہے اس کو مقدم لائیں گے اور جس کو خبر لانا ہے اس کو مؤخر لائیں گے۔ یہ معنی ہے او کانا معرفتینِ او متساویینِ یا دونوں جو ہیں معرفہ ہوں یا دونوں برابر ہوں یعنی تخصیص کے اندر۔ مثلُ ‏افضلُ منی افضلُ منک۔ افضلُ منی، وہ جو افضل ہے مجھ سے۔ افضلُ منک، وہ افضل ہے آپ سے۔ جو مجھ سے بہتر ہے، ترجمہ سمجھ میں آ رہا ‏ہے؟ جو مجھ سے بہتر ہے افضلُ منک وہ آپ سے بہتر ہے۔ وہ آپ سے بہتر ہے۔ اب اس میں دیکھو افضلُ اس میں تفصیل ہے اور اسمِ تفصیل کے استعمال کے تین طریقے ہیں اور اصل طریقہ کیا ہے من ‏کے ساتھ اور یہاں من ہے، تو یہ منی یہ جڑ رہا ہے پہلے افضلُ کے ساتھ اور آگے منک جو آیا یہ دوسرے افضلُ کے ‏ساتھ جڑ رہا ہے، تو دونوں میں تخصیص آ گئی۔ افضل کا کیا معنی تھا؟ جو کسی کے مقابلے میں بہتر ہو جب ساتھ منی آ گیا تو تخصیص آ گئی وہ جو مجھ سے افضل ہے۔ معلوم ہوا خالد سے جو افضل ہے وہ بھی نہیں مراد، بکر سے جو افضل ہے وہ بھی نہیں مراد، مخاطب سے جو افضل ہے ‏وہ بھی نہیں مراد بلکہ کس سے افضل مراد ہے؟ متکلم سے افضل مراد ہے، تو دیکھو تخصیص آ گئی۔ افضل کا تو کیا ‏معنی تھا؟ جو بہتر ہے۔ بہتر تو کسی کے مقابلے میں بھی ہو سکتا ہے تو اس کے اندر عموم تھا لیکن اب جب منی ساتھ جڑا تو اس ‏میں کیا آ گئی؟ تخصیص آ گئی، معلوم ہوا ہر ایک سے افضل مراد نہیں بلکہ متکلم سے جو افضل ہے وہ مراد ہے۔ اسی ‏طرح اگلا افضلُ منک آیا، اس میں بھی افضلُ کے اندر اس میں بھی عموم تھا۔ تو وہاں بھی منک اس کے ذریعے تخصیص آ گئی، معلوم ہوا کس کے مقابلے میں افضل مراد ہے؟ مخاطب کے مقابلے ‏میں افضل مراد ہے کسی اور کے مقابلے میں افضل مراد نہیں، تو یہ منک اور منی کی وجہ سے ان میں تخصیص آ گئی۔ تو اب اپ ان میں سے جس کو چاہیں مبتدا بنائیں اور جس کو چاہیں خبر بنا دیں۔ لیکن جس کو مبتدا بنانا ہے اس کو مقدم لاؤ ‏اور جس کو خبر بنانا ہے اس کو مؤخر اور دیکھو کلام کا معنی بدل جاتا ہے۔ کلام کا معنی بدل جاتا ہے، مثلاً استاد شاگرد ‏کو کہتا ہے، کیا کہے گا؟ افضلُ منک جو آپ سے افضل ہے، افضلُ منی وہ مجھ سے بھی افضل ہے۔ استاد کہے گا یوں شاگرد کو؟ نہیں۔ دیکھا؟ معنی بدل گیا میں نے افضلُ منک کو مقدم کیا اور افضلُ منی کو مؤخر کیا، تو ‏معنی ہی بدل گیا۔ یہ اب استاد نہیں کہے گا، یہ شاگرد کہے گا اپنے استاد کو، کیا کہے گا؟ شاگرد کہے گا اپنے استاد کو کیا ‏کہے گا؟ افضلُ منک وہ جو آپ سے افضل ہے افضلُ منی وہ مجھ سے بھی افضل، کیونکہ آپ میرے استاد ہیں، آپ مجھ ‏سے افضل ہیں، تو ظاہر سی بات ہے جو آپ سے افضل ہوگا وہ بھی مجھ سے افضل ہوگا۔ تو دیکھا یہ افضلُ منک کو مقدم ‏کیا اور افضلُ منی کو مؤخر کیا تو یہ کلام کا محل بدل گیا، یہ کہنے والا کون ہوگا؟ شاگرد। ‎اور افضلُ منی افضلُ منک یہ کہنے والا مثلاً استاد ہوگا بھئی، افضلُ منی وہ جو میرے سے افضل ہے، افضلُ منک وہ آپ سے افضل ہے بھئی۔ بات ‏سمجھ میں آ گئی؟ تو دیکھو کلام کا محل بدل جاتا ہے، کلام کا معنی بدل جاتا ہے مبتدا خبر کو بدلنے سے بھئی۔ تو لہٰذا افضلُ منی اس کے اندر بھی تخصیص، افضلُ منک اس کے اندر بھی تخصیص۔ تو جس کو آپ مبتدا بنانا چاہیں جس ‏مقام پر آپ کلام کر رہے ہیں اس کے مطابق جس کو مبتدا بنانا چاہتے ہیں بنائیں لیکن اس کو پھر مقدم کر دیں۔ او کان الخبرُ فعلاً لہُ یا خبر جو ہے وہ مبتدا کا فعل ہو۔ مثلُ زیدٌ قامَ جیسے زیدٌ قامَ۔ بھئی دیکھیے، زیدٌ قامَ ترکیب کیجیے۔ زیدٌ مرفوع، لفظاً، مبتدا۔ قامَ فعل، اس کے اندر ہوَ ضمیر مرفوع، محلاً اس کا فاعل ‏جو کس کو راجع؟ زید مبتدا کو، توجہ ہے؟ فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر خبر، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا، زیدٌ قامَ، زید کھڑا ہوا۔ زید ہے مبتدا اور قامَ فعل ہے اور کھڑا کون ہوا؟ یہی مبتدا زید ہی کھڑا ہوا، تو یہ مبتدا کا فعل ہے۔ اور کبھی کبھار فاعل آگے اسمِ ظاہر آئے گا، زیدٌ قامَ اخوہُ۔ تو زیدٌ ہوا مبتدا، قامَ فعل، اخوہُ اخو مرفوع، لفظاً، مضاف، مرفوع کیوں؟ فاعل ہے قامَ کے لیے، ہ ضمیر مجرور، محلاً، مضاف الیہ۔ اور یہ کس کو راجع؟ ضمیر زید کو راجع، یہی ضمیر ربط دے رہی ہے، اگر یہ ضمیر نہ ہوتی تو ربط نہیں آنا تھا۔ تو مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ فاعل ہوا کس کے لیے؟ قامَ کے لیے، فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ ہو ‏کر زید کے لیے خبر، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا، زیدٌ قامَ اخوہُ، تو دیکھو زیدٌ ہے مبتدا، مبتدا کے بعد کیا آیا؟ ‏قامَ فعل آیا اور یہ قامَ فعل زید کا فعل ہے یا زید کے بھئی کا فعل ہے؟ یہ زید کے بھئی کا فعل ہے بھئی، تو ایک فعل وہ ‏ہوتا ہے جو مبتدا کا اپنا ہو، ایک فعل وہ ہوتا ہے جو مبتدا کے متعلق کا ہو، دوسرے لفظوں میں یوں کہو، ایک صفت بحالہِ ‏ہوتی ہے، ایک صفت بحالِ متعلقہِ ہوتی ہے، رجلٌ قائمٌ، یہ قائمٌ لفظاً میں صفت کس کی؟ رجل کی، رجل موصوف قائمٌ اس کی صفت اور معنی میں بھی یہ صفت کس کی ہے؟ رجل ہی کی ہے، یہ قیام کا معنی کس ‏میں ہے؟ اسی رجل میں وہ قائم وہی رجل ہی ہے بھئی اور رجلٌ قائمٌ ابوہُ۔ تو رجلٌ موصوف ہے اور قائمٌ ابوہُ اس کی صفت لیکن یہ قائمٌ کا معنی رجل میں ہے یا رجل کے متعلق یعنی اس کے باپ ‏میں؟ رجل کے متعلق میں ہے، رجل کے اندر قیام والی صفت نہیں ہے بلکہ اس کے باپ میں قیام والی صفت ہے بھئی، تو ‏رجلٌ قائمٌ یہ کیا ہے؟ صفت بحالہِ اور رجلٌ قائمٌ ابوہُ یہ کیا ہے؟ صفت بحالِ متعلقہِ، یہ ابھی ایک دو سبق قبل میں نے خوب ‏تفصیل وضاحت کی تھی۔ تو اسی طرح یاد رکھو یہ جو خبر ہوتی ہے خبر بھی دراصل صفت ہی ہوتی ہے۔ خبر بھی صفت ہی ہوتی ہے، یاد رکھو ہر خبر قبل العلم خبر ہے اور بعد العلم وہ صفت ہے۔ آپ کو نہیں پتا زید عالم ہے۔ تو میں خبر بنا کر لاؤں گا، زیدٌ عالمٌ، زیدٌ مبتدا عالمٌ اس کی خبر، آپ کو نہیں تھا پتا کہ زید عالم ہے تو میں عالم کو کس ‏شکل میں لایا؟ خبر کی صورت میں لایا، تو یہ عالم دیکھو عالم ہونا زید کی صفت ہے لیکن یہ قبل العلم ہے آپ کو چونکہ ‏پتا نہیں ہے کہ وہ عالم ہے تو میں اس صفت کو کس صورت میں لایا؟ خبر کی صورت میں کہ زیدٌ عالمٌ میں نے آپ کو ‏ایک خبر بتلائی کہ زید عالم ہے اور جب آپ کو پتا ہے کہ زید عالم ہے تو اب میں عالم کو خبر کی صورت نہیں لاؤں گا، ‏اب میں یہ نہیں کہوں گا زیدٌ عالمٌ کیونکہ میرا یہ کہنا تو بیکار ہے، آپ کو تو پہلے ہی پتا ہے زید عالم ہے، ہاں اب میں اس ‏کو صفت کی صورت میں لے کر آؤں گا، مثلاً میں اب آپ سے کہوں گا جاءنی زیدٌ العالمُ، میرے پاس وہ زید آیا جو عالم ‏ہے اور آپ چونکہ جانتے ہیں کہ وہ عالم ہے لہٰذا آپ فوراً سمجھ گئے کس زید کی بات ہو رہی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ ‏تو ہر خبر قبل العلم خبر ہے اور بعد العلم صفت ہے۔ تو لہٰذا یہ جو صفت بحالہِ ہے اور صفت بحالِ متعلقہِ، صفت بحالہِ یہ خبر کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے یہ لفظ اور یہی ‏صفت بحالہِ جو وہ جو موصوف صفت ہیں ان کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، تو آپ پریشان نہ ہوں کہ میں نے کہا زیدٌ قامَ ‏ابوہُ، زیدٌ ہے مبتدا قامَ ابوہُ اس کی خبر، تو میں کہوں کہ یہ قامَ ابوہُ کیا ہے؟ یہ صفت بحالِ متعلقہِ ہے، تو آپ یہ نہ کہیں یہ ‏تو صفت ہے ہی نہیں یہ تو خبر ہے، تو میں نے بتلا دیا کہ ہر خبر بھی دراصل کیا ہوتی ہے؟ صفت ہوتی ہے قبل العلم وہ ‏خبر ہے اور بعد العلم وہ صفت بن جاتی ہے بھئی۔ تو دیکھو زیدٌ قامَ، اس کے اندر یہ قامَ فعل ہے، کس کا فعل ہے؟ مبتدا کا فعل ہے، تو جب بھی خبر مبتدا کا اپنا فعل ہو یعنی اس کے متعلق کا فعل نہ ہو بلکہ مبتدا کا اپنا فعل ہو تو مبتدا کو ‏اس خبر پر مقدم کرنا واجب ہے۔ وجہ یہ کیونکہ اگر آپ اس کو مؤخر کریں گے، مثلاً دیکھو اصل کیا تھا؟ زیدٌ قامَ، زیدٌ ہے ‏مبتدا قامَ ہے اس کی خبر، ذرا ان کی جگہ بدل دو۔ قامَ کو شروع میں لے آؤ، قامَ زیدٌ، قامَ زیدٌ، اب کیجیے ترکیب بھئی! قامَ فعل، آگے زیدٌ مرفوع لفظاً فاعل، دیکھا؟ آپ نے ‏مبتدا خبر والی ترکیب نہیں کی، آپ نے قامَ کو فعل بنایا اور زیدٌ کو اس کے لیے فاعل بنایا حالانکہ میں نے ابھی آپ کو ‏بتایا کہ یہ زیدٌ مبتدا ہے میں اس کو ذرا مؤخر کر رہا ہوں، تو بتانے کے باوجود آپ نے پھر بھی قامَ زیدٌ کی ترکیب کیا ‏کی؟ کہ زیدٌ کو مبتدا مؤخر نہیں بنایا بلکہ قامَ کے لیے فاعل بنایا، تو اس لیے جب بھی خبر مبتدا کا اپنا فعل ہو تو اس ‏صورت میں خبر کو مؤخر کرنا اور مبتدا کو مقدم کرنا واجب ہے کیونکہ اگر آپ مبتدا کو مؤخر کریں گے تو مبتدا کا ‏التباس لازم آئے گا فاعل کے ساتھ، سننے والا سمجھے گا یہ فاعل ہے حالانکہ آپ تو اس کو فاعل نہیں بنا رہے بلکہ آپ ‏اس کو مبتدا مؤخر بنانا چاہتے ہیں۔ تو کہتے ہیں او کان الخبرُ فعلاً لہُ یا وہ جو خبر ہے وہ اس مبتدا کا فعل ہو، مثلُ زیدٌ قامَ جیسے زیدٌ قامَ، وجبَ تقديمہُ تو اس ‏صورت میں مبتدا کو مقدم کرنا واجب ہے۔ چار صورتیں ذکر کر دیں، پہلی صورت کیا؟ جب مبتدا متضمن ہو ایسے معنی ‏کو جو صدارتِ کلام کو چاہتا ہو تو اس صورت میں اس کو مقدم کرنا واجب، دوسری صورت جب دونوں مبتدا اور خبر ‏دونوں معرفہ ہوں، تو اس صورت میں بھی مبتدا کو مقدم کرنا واجب ورنہ پھر مبتدا کا خبر کے ساتھ التباس لازم آئے گا، ‏اسی طرح مبتدا اور خبر اگر دونوں تخصیص کے اندر برابر ہوں۔ مبتدا بھی نکرہ مخصصہ اور خبر بھی نکرہ مخصصہ ہے تو اس صورت میں بھی مبتدا کو مقدم کرنا واجب ہے ورنہ مبتدا ‏کا التباس لازم آئے گا خبر کے ساتھ، سننے والے کو پتا نہیں چلے گا اور نیز اگر خبر جو ہے وہ اسی مبتدا کا فعل ہو تو ‏اس صورت میں بھی مبتدا کو مقدم کرنا واجب، اگر آپ مقدم نہیں کریں گے تو اس صورت میں التباس لازم آئے گا۔ بات ‏سمجھ میں آ گئی۔ جی اب شرح کے ساتھ اس سارے کو دیکھیے۔ کہتے ہیں ثمّ إنّ الأصل فی المبتدأ التقدیمُ پھر مبتدا جو ہے اس کے اندر اصل جو ہے تقديم ہے یعنی اس کو مقدم کرنا، و ‏جازت تاخیرُہُ اور مبتدا کو مؤخر کرنا بھی جائز ہے، لکنّہ قد یجبُ لیکن کبھی کبھار مبتدا کی تقديم واجب ہو جاتی ہے، ‏لعارضٍ کسی عارض کی وجہ سے، کوئی ایسی چیز پیش آ جاتی ہے جس کی وجہ سے مبتدا کو مقدم کرنا واجب ہو جاتا ‏ہے، کما أشار إلیہ بقولہِ جیسے کہ اشارہ کیا اس کی طرف ماتن نے اپنے اس قول کے ذریعے، دیکھا یہاں پھر أشار کا لفظ ‏استعمال کیا حالانکہ صاحبِ کافیہ تو صریح لفظوں میں فرما رہے ہیں کہ ان صورتوں میں مبتدا کو مقدم کریں گے، لیکن ‏صریح کے لیے بھی کیا لفظ استعمال کر لیا؟ اشارہ کا لفظ استعمال کر لیا بھئی۔ کہتے ہیں وإذا کان المبتدأ مشتملاً اور جب مبتدا مشتمل ہو، علٰی ما ایسے معنی پر، لہُ صدرُ الکلامِ جس کے لیے صدارتِ ‏کلام واجب ہو، میں نے بتایا بھئی یہ ما کا کیا معنی ہے؟ ما سے کیا مراد ہے؟ معنی بھئی، علٰی ما لہُ صدرُ الکلامِ، یہ جو ما آیا اس سے یہاں کیا مراد ہے؟ معنی مراد ہے، جب مبتدا مشتمل ہو علٰی ما ‏ایسے معنی پر لہُ صدرُ الکلامِ، لہُ لہُ دیکھو جار مجرور ہے اور یہ خبرِ مقدم ہے اور صدرُ الکلامِ یہ مبتدا مؤخر ہے۔ اور ‏یہ مبتدا خبر مل کر یہ ما کے لیے صلہ بنیں گے اگر ما کو موصولہ بنائیں، ما موصولہ کے لیے کیا چاہیے؟ صلہ اور ‏صلہ جملہ ہوتا ہے، اسی طرح ما موصوفہ کے لیے آگے صفت چاہیے، فرق کیا ہے؟ ما موصولہ معرفہ ہوتا ہے اور ما ‏موصوفہ نکرہ ہوتا ہے شیءٌ کے معنی میں، تو یہاں ما کو چاہے موصولہ بنائیں چاہے موصوفہ۔ آگے لہُ صدرُ الکلامِ یہ پورا جملہ اس کا صلہ ہے، لہُ جار مجرور آئے اور جار مجرور میں نے بتایا تھا کہ کبھی بھی مسند ‏الیہ نہیں بنتے بلکہ کیا بنتے ہیں؟ مسند، تو یہ خبرِ مقدم اور صدرُ الکلامِ مبتدا مؤخر، مبتدا خبر مل کر یہ جملہ اسمیہ ہو کر ‏یہ ما کے لیے یا تو صلہ بنے گا یا صفت۔ اور نیز لہُ جار مجرور ہے اور جار مجرور کے لیے متعلق چاہیے، کیا چاہیے؟ متعلق چاہیے، تو صاحبِ جامی آپ کو ‏بتلائیں گے کہ اس کا متعلق یہاں وجبَ ہے۔ بھئی جار مجرور کے لیے ہمیشہ متعلق چاہیے چاہے آپ ثبتَ نکال لیں، چاہے ثابتٌ نکال لیں، لیکن کیا نکالنا بہتر ہے ثبتَ ‏یا ثابتٌ؟ ثبتَ، تو ثبتَ اور یہاں پر یہ وجبَ نکال لیں گے، کیا نکال لیں گے؟ موقع کے مطابق کہ اس کے لیے صدارتِ کلام ‏واجب ہے بھئی۔ یعنی مبتدا جب ایسے معنی پر مشتمل ہو جس کے لیے صدارتِ کلام واجب ہے تو پھر اس کو مقدم کرنا اس صورت میں ‏ضروری ہوگا۔ آگے صاحبِ جامی فرماتے ہیں أی علٰی معنًى وجبَ لہُ صدرُ الکلامِ، بھئی متن میں کیا آیا تھا؟ علٰی ما، صاحبِ جامی کیا ‏فرما رہے ہیں؟ علٰی معنًى بتلا دیا کہ ما سے کیا مراد ہے یہاں؟ معنی، معنی مراد ہے۔ اور متن میں کیا تھا؟ لہُ صدرُ الکلامِ، صاحبِ جامی آگے کیا فرما رہے ہیں؟ وجبَ لہُ صدرُ الکلامِ بتلا دیا کہ لہُ کس سے ‏متعلق ہے؟ وجبَ سے اور یہ خبرِ مقدم ہے اور صدرُ الکلامِ اس کا مبتدا مؤخر ہے بھئی، نیز ایک اور بات کی طرف بھی ‏اشارہ کر دیا کہ یہ ما موصوفہ ہے۔ کس طرح کس چیز سے پتا چلا؟ معنًى کا لفظ نکرہ لے کر آئے، اگر یہ معرفہ ہوتا، موصولہ ہوتا تو المعنٰی کہتے یا الذی کہتے یا یوں کہتے المعنَی الذی وہ ‏معنی جو کہ۔ تو کہتے ہیں جب مبتدا مشتمل ہو علٰی ما لہُ صدرُ الکلامِ، أی علٰی معنًى وجبَ لہُ صدرُ الکلامِ یعنی ایسے معنی پر جس کے ‏لیے صدارتِ کلام واجب ہو، کالاستفہامِ جیسے کہ استفہام ہے، فإنّہ یجبُ حینئذٍ تقدیمہُ تو واجب ہے حینئذٍ اس وقت۔ واجب ہے اس وقت، کس وقت؟ جب وہ ایسے معنی پر مشتمل ہو، تو اس وقت واجب ہے، کیا واجب ہے؟ تقدیمہُ اس کو مبتدا کو مقدم کرنا واجب ہے، حفظاً ‏لصدارتہِ حفظاً یہ ترکیب میں کیا واقع ہو رہا ہے بھئی؟ معنی پہ غور کرو، معنی پہ غور کرو فوراً آپ کو پتا چل جائے گا۔ فإنّہ یجبُ حینئذٍ تقدیمہُ حفظاً لصدارتہِ معنی پہ غور کرو بھئی، معنی سے ترکیب حل ہوتی ہے۔ جلدی بولو بھئی! جلدی بولو، اب تو آپ اچھے خاصے نحوی ہیں بھئی۔ یاد رکھو ترکیب سے معنی حل ہوتا ہے اور معنی سے ترکیب حل ہوتی ہے، کہیں معنی سمجھ میں آئے گا ترکیب سمجھ ‏میں آ جائے گی، کہیں ترکیب حل ہوگی تو معنی بھی سمجھ میں آ جائے گا۔ یہ مفعول لہُ بنے گا سر۔ ہاں شاباش! دیکھو یہ علت بیان کر رہا ہے اور وہ مصدر جو منصوب ہو اور ماقبل کی علت بیان کرے اس کو مفعول لہُ ‏کہتے ہیں، جیسے ضربتہُ تادیباً، تو کہتے ہیں فإنّہ یجبُ حینئذٍ تقدیمہُ تو واجب ہے اس وقت مبتدا کو مقدم کرنا، حفظاً ‏لصدارتہِ اس کی صدارت کی حفاظت کرنے کے لیے، ضربتہُ تادیباً میں نے اس کی پٹائی کی ادب سکھانے کے لیے، یہاں ‏بھی اسی طرح ہے حفظاً لصدارتہِ اس کی صدارت کی حفاظت کرنے کے لیے اس کو مقدم کرنا واجب ہے۔ تو یہ حفظاً مفعول لہُ ہے بھئی، مثلُ من ابوکَ جیسے کہ من ابوکَ، من ابوکَ کی ترکیب سن لیں پہلے، من یاد رکھو یہ من ‏استفہامیہ ہے اور یہ نکرہ ہے بھئی، یہ کیا ہے؟ یہ نکرہ ہے بھئی، معرفہ کسے کہتے ہیں؟ جو کسی معین چیز پر دلالت کرے اور من، من کا کیا معنی؟ کون، کوئی معین آپ کے ذہن میں آیا؟ نہیں، تو دیکھو یہ نکرہ ‏ہے، تو من استفہامیہ نکرہ ہے اور ابوکَ ابو مرفوع لفظاً مضاف، ک ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ۔ اب ہمارے پاس دو لفظ ہیں من اور ابوکَ، کیا ترکیب کریں گے؟ ابوکَ مقدم؟ جی؟ ابوکَ مقدم کریں گے۔ ابوکَ اس کو کیا بنائیں گے؟ مبتدا، شاہ شاباش بھئی ابوکَ کو کیا بنائیں گے؟ مبتدا اور من کو کیا بنائیں گے؟ خبر، عام ‏نحوی حضرات یہ ترکیب کرتے ہیں کہ من چونکہ نکرہ ہے اس کو بنا دیتے ہیں خبرِ مقدم اور ابوکَ اس کو کیا بناتے ہیں؟ یہ معرفہ ہے تو اس کو مبتدا مؤخر، مبتدا اپنے خبر سے مل کر جملہ اسمیہ انشائیہ ہوا، یہ عام نحوی حضرات کرتے ہیں ‏جبکہ امام سیبویہ فرماتے ہیں نہیں مقامِ استفہام کے اندر امام سیبویہ فرماتے ہیں مقامِ استفہام کے اندر نکرہ بھی مبتدا بن ‏سکتا ہے، تو ان کے نزدیک یہاں یہ من یہ مبتدا ہے اور ابوکَ یہ اس کی خبر ہے اور بات کیا چل رہی ہے؟ وہ مقامات ‏جہاں پر مبتدا کو مقدم کرنا واجب ہے۔ تو امام سیبویہ کیا فرماتے ہیں؟ مقام استفہام میں نکرہ بھی مبتدا بن سکتا ہے، تو یہ ’من‘ مبتدا بن رہا ہے، اور چونکہ یہ ‏استفہام کے معنی پر مشتمل ہے، اس لیے اس کو مقدم کرنا واجب ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: مثل: من ابوک، فان من مبتدا مشتمل علی ما لہ صدر الکلام، اس لیے کیونکہ ’من‘ جو ہے وہ مبتدا ہے جو ‏مشتمل ہے علی ما ایسے معنی پر لہ صدر الکلام جس کے لیے صدارت کلام واجب ہے۔ بھئی وہ کیا چیز ہے؟ کہتے ہیں: و ‏هو الاستفہام، وہ استفہام ہے، ’من‘ جو ہے استفہام پر مشتمل ہے۔ فان معناہ‎—‎ اچھا، تو امام سیبویہ کیا فرماتے ہیں؟ ’من‘ مبتدا ہے اور ’ابوک‘ اس کی خبر۔ جبکہ عام نحوی کیا فرماتے ہیں؟ ’من‘ خبر ‏مقدم ہے اور ’ابوک‘ مبتدا مؤخر ہے، کیونکہ وہ معرفہ ہے۔ امام سیبویہ فرماتے ہیں: نہیں، مقام استفہام میں نکرہ بھی مبتدا ‏بن سکتا ہے۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کیسے؟ یہ تو نکرہ ہے۔ تو اس کا جواب دے رہے ہیں امام سیبویہ کی طرف سے آگے ‏صاحبِ جامی کہ دیکھو! ’من‘ لفظوں میں اگرچہ نکرہ ہے، لیکن مآل اور نتیجے کے اعتبار سے وہ معرفہ ہے۔ مآل اور ‏نتیجے کے اعتبار سے وہ معرفہ ہے۔ یوں کہیں یہ معرفہ کے درجے میں ہے۔ یہ کس کے درجے میں ہے؟ یہ معرفہ کے درجے میں ہے۔ دیکھو! کہتے ہیں کسی سے آپ پوچھیں: من ابوک؟ یا من زید؟ ‏وغیرہ جو بھی سوال کر لیں ’من‘ کے ساتھ۔ تو دراصل گویا آپ اس سے یہ سوال پوچھ رہے ہیں، مثلاً من زید؟ من زید؟ آپ ‏نے کسی سے پوچھا: من زید؟ زید کون ہے؟ تو وہ آپ کو بتاتا ہے کہ یہ ہے زید۔ تو آپ نے کیا پوچھا؟ من زید؟ زید کون ‏ہے؟ تو ’من‘ نکرہ ہے، لیکن امام سیبویہ فرماتے ہیں یہ مبتدا ہے۔ کہتے ہیں یہ معرفہ کے درجے میں ہے۔ یہ کس کے ‏درجے میں ہے؟ یہ معرفہ کے درجے میں ہے۔ گویا پوچھنے والے نے یہ پوچھا: اھذا زید؟ ایک آدمی کی طرف اشارہ کر کے کہتا ہے: اھذا زید؟ پھر دوسرے کی طرف ‏اشارہ کیا: اھذا زید؟ پھر تیسرے کی طرف اشارہ کیا: اھذا زید؟ پھر چوتھے کی طرف اشارہ کیا: اھذا زید؟ اسی طرح وہ ‏ساری دنیا کے افراد کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ زید کی تعیین چاہتا ہے۔ ساری دنیا کے جو رجل ہیں ان میں سے ہر ایک ‏کی طرف اشارہ کر رہا ہے، لیکن ساری دنیا کے انسانوں کی طرف اشارہ کرنا اور سب کے بارے میں سوال کرنا یہ تو ‏ممکن ہی نہیں ہے! تو لہٰذا اجمالاً پوچھ لیا گیا: من زید؟ زید کون ہے؟ حقیقت میں یہ گویا ایک ایک آدمی کے بارے میں ‏پوچھا جا رہا ہے۔ گویا سوال یوں ہے، کیا کہا؟ من زید؟ گویا اس نے سوال یہ پوچھا: اھذا زید؟ پھر دوسرے کی طرف ‏اشارہ کیا: اھذا زید؟ پھر تیسرے کی طرف اشارہ کیا: اھذا زید؟ پھر چوتھے کی طرف اشارہ کیا: اھذا زید؟ دیکھو! اس کے اندر ’ھذا‘ ’من‘ کی جگہ ہم کیا لے آئے؟ ’ھذا‘ لے آئے، اور ’ھذا‘ تو اسم اشارہ ہے اور اسم اشارہ کیا ہے؟ ‏معرفہ ہے بھئی۔ تو یا دوسرے لفظوں میں یوں کہو، مثلاً آپ نے کیا پوچھا؟ من زید؟ تو گویا آپ یوں پوچھ رہے ہیں: اھذا ‏زید ام ھذا ام ھذا ام ھذا ام ھذا ام ھذا؟ ساروں کو معطوف بنا دو ھذا پر۔ یا ہر ایک کے بارے میں الگ سوال بنا لو۔ تو جہ ہے؟ بھئی تقریر یہ چل رہی ہے کہ امام سیبویہ پر اعتراض ہوتا ہے کہ یہ ’من‘ تو نکرہ ہے، یہ مبتدا کیسے بنتا ‏ہے؟ تو نحوی حضرات جواب دیتے ہیں امام سیبویہ کی طرف سے کہ وجہ یہ کہ یہاں اجمالاً سوال کیا گیا ہے، حقیقت میں ‏گویا ہر ہر آدمی کے بارے میں سوال کیا جا رہا ہے۔ ایک ایک آدمی کے بارے میں پوچھا جا رہا ہے: اھذا زید؟ پھر ‏دوسرے کے بارے میں پوچھا: اھذا زید؟ پھر تیسرے کے بارے میں پوچھا: اھذا زید؟ تو ’من‘ کی جگہ ہم کیا لے آئے؟ ‏ایک تو ہمزہ استفہام آ گیا اور آگے ’ھذا‘ اسم آیا، ’من‘ بھی اسم تھا نا، ’ھذا‘ اسم آیا اور ’ھذا‘ کیا ہے؟ معرفہ ہے۔ تو ’من‘ یہ ‏معرفہ کے درجے میں ہے۔ تو جہ ہے؟ اور ساری دنیا کے انسانوں کے بارے میں تو پوچھنا ممکن ہی نہیں ہے، لہٰذا اجمالی طور پر اکٹھا ہی سب کے ‏بارے میں پوچھ لیا گیا: من زید؟ زید کون ہے؟ یعنی تمام دنیا کے افراد میں سے مجھے تعیین کر کے بتاؤ زید کون سا ہے؟ ‏پھر دوسرا تعیین کر کے بتاتا ہے یہ زید ہے۔ تو ’من‘ یہ معرفہ کے درجے میں ہے، اس لیے کیونکہ ’من ابوک‘ یہ اسی طرح ہے جیسے آپ کسی سے سوال پوچھیں: ‏اھذا ابوک ام ھذا؟ تو یہ دیکھو یہاں ’ھذا‘ کے ساتھ تعبیر کیا گیا اس کو، تو یہ اگرچہ نکرہ ہے لیکن معرفہ کے درجے میں ‏ہے۔ اور یہاں دراصل دنیا کے ایک ایک فرد کے بارے میں یہاں سوال کیا جا رہا ہے کہ اھذا ابوک، اھذا ابوک، اھذا، ایک ‏ایک کے بارے میں سوال کیا جا رہا ہے، لیکن ایک ایک کے بارے میں تو سوال کرنا ممکن نہیں، تو پھر اس کو اجمالاً ‏‏’من‘ کے ساتھ تعبیر کر دیا جاتا ہے۔ اور اس ’من‘ کے اندر عموم ہے، یعنی اس میں ہر ہر فرد کے بارے میں جب سوال ہو ‏رہا ہے تو عموم آ گیا، اور عموم کی وجہ سے نکرہ میں کیا آ جاتی ہے؟ تخصیص، لہٰذا اس کا مبتدا بننا صحیح ہے بھئی۔ تو گویا یہاں اس ’من‘ کے اندر عموم آیا، ’من‘ نکرہ ہے، اور نکرہ تو مبتدا ویسے نہیں بنتا جب تک اس میں تخصیص نہ آ ‏جائے، تو اس کے اندر تخصیص آ گئی عموم کی وجہ سے کہ گویا ہر ہر فرد کے بارے میں یہ سوال ہے۔ ہر ہر فرد کے ‏بارے میں یہ سوال ہے، اور ہر ہر فرد کے بارے میں تفصیلاً تو پوچھا نہیں جا سکتا۔ دیکھو یاد رکھو! ایک ہے تفصیل، ‏ایک ہے اجمال۔ تفصیل یہ ہے جس میں ایک ایک چیز الگ الگ ذکر ہو، اجمال یہ ہے جس میں سب کو اکٹھا ذکر کر دیا ‏جائے۔ مثلاً میں آپ کو بتاتا ہوں کہ میرے تین دوست ہیں۔ میرے تین دوست ہیں، دیکھو میں نے اجمالاً ذکر کر دیا۔ تفصیل ‏نہیں بتائی کہ کون کون ہیں وہ تین، اجمال ذکر، اس کو اجمال کہتے ہیں، تین دوست ہیں سب کو میں نے اکٹھا کر دیا، یا ‏مثلاً میں کہتا ہوں میرے دس دوست ہیں، دیکھو میں نے سب کو اجمالاً ذکر کر دیا، دس دوست ہیں۔ تفصیل نہیں ذکر کی وہ ‏دس کون کون ہیں۔ اور ایک صورت ہے تفصیل کی، کہ میں ایک ایک کا نام لیتا ہوں، زید بھی میرا دوست ہے، زید، عمر، ‏بکر، خالد وغیرہ فلاں فلاں جو ہیں یہ سارے میرے دوست ہیں۔ اب دیکھو اس میں تفصیل ہے، ایک ایک کا نام ذکر ہے۔ تو ‏ہر ہر فرد کو علیحدہ، ہر ہر چیز کو علیحدہ ذکر کیا جائے اس کو کیا کہتے ہیں؟ تفصیل، اور سب کو اکٹھا ذکر کر دیا ‏جائے اس کو کیا کہتے ہیں؟ اجمال۔ تو اگر ہر ایک کے بارے میں سوال ہوتا: اھذا زید، اھذا زید، اھذا زید، تو یہ تھی ‏تفصیل، اور سب کے بارے میں اجمالاً پوچھ لیا: من زید؟ زید کون ہے؟ تو یہ کیا ہے؟ اجمال، سب کے بارے میں یعنی ‏اکٹھا ہی پوچھ لیا۔ یہ تو اشکال کیا ہوا؟ کہ ’من ابوک‘ اس کے اندر تو ’من‘ نکرہ ہے، یہ مبتدا کیسے بن گیا؟ تو اس کا جواب کیا دیتے ہیں ‏نحوی حضرات؟ کہ یہ ’من‘ لفظوں کے اعتبار سے یہ نکرہ ہے، لیکن یہ معرفہ کے درجے میں ہے۔ کس کے درجے میں ‏ہے؟ معرفہ کے درجے میں ہے، اس لیے کیونکہ ’من ابوک‘ یہ گویا اسی طرح ہے جیسے آپ کسی سے پوچھیں: اھذا ‏ابوک ام ذاک؟ تو دیکھو اھذا ہمزہ استفہام لے آئے اور ’من‘ کی جگہ کیا لے آئے؟ ھذا، تو دیکھو یہ معرفہ کے ساتھ اس کو ‏تعبیر کر دیا گیا، تو یہ ’من‘ لفظوں میں تو بے شک نکرہ ہے لیکن یہ معرفہ کے درجے میں ہے بھئی۔ یعنی اس کی تاویل ‏معرفہ کے ساتھ کی جائے گی کہ گویا یہ سوال کیا جا رہا ہے: اھذا ابوک ام ذاک؟ گویا ایک ایک فرد کے بارے میں سوال کیا جا رہا ہے، پھر عبارت جو بھی آپ بنا لیں۔ جو بھی عبارت بنا لیں، یہ تعبیر ‏کریں گے دیکھو! دیکھو! آگے عبارت کتاب پر دیکھیے: فان معناہ اھذا ابوک ام ذاک؟ کیونکہ اس کا معنی یہ ہے: اھذا ‏ابوک؟ کیا یہ ہیں آپ کے ابو؟ ام ذاک؟ یا وہ ہیں؟ یہ صرف دو کے بارے میں نہیں سوال، یہ صرف ایک مثال دے دی ‏ہے، یہ سوال ہر ہر فرد کے بارے میں ہے۔ عبارت یوں بنا لو: اھذا ابوک ام ذاک ام ذاک— یا ھذا ہی لاؤ— اھذا ابوک ام ‏ھذا ام ھذا ام ھذا ام ھذا سارے لوگوں کی طرف اشارہ کر کے پوچھتے چلے جاؤ۔ اور ایک صورت ہے ہر ایک کے بارے ‏میں الگ الگ پوچھو: اھذا ابوک؟ اھذا ابوک؟ اھذا ابوک؟ تو جس عبارت سے بھی تعبیر کر دیں بطلانے کا مقصد یہ ہے کہ ‏دنیا کے ہر ہر فرد کے بارے میں سوال ہو رہا ہے کہ یہ ہیں یا یہ ہیں یا یہ ہیں بھئی۔ تو دیکھو کس کے ساتھ تعبیر کیا ’من‘ ‏کو؟ اھذا ابوک، معرفہ کے ساتھ تعبیر کیا۔ تو کہتے ہیں: فان معناہ، اس لیے کیونکہ اس کا معنی یہ ہے: اھذا ابوک ام ذاک، کیا یہ ہیں آپ کے ابو یا وہ؟ وابوک خبرہ، ‏اور یہ ’ابوک‘ جو ہے یہ اس کی خبر ہے۔ تو کہتے ہیں: وھذا مذہب سیبویہ، اور یہ مذہب ہے امام سیبویہ کا۔ میں نے بتایا ‏امام سیبویہ کی بات علم نحو میں پہاڑ کی طرح مضبوط سمجھی جاتی ہے، اور یہ امام سیبویہ وہ ہیں جو بعض فرماتے ہیں ‏کہ 32 سال کی عمر میں ان کا انتقال ہوا ہے، اور بعض کہتے ہیں 40 کے لگ بھگ عمر میں ان کا انتقال ہوا ہے، تو 32 ‏اور 40 یہ تو تقریباً جوانی ہی کی عمر ہے بھئی! جوانی میں ان کے علوم کا یہ حال تھا تو اگر آگے زندہ رہتے تو ان کے ‏علوم کا کیا حال ہوتا بھئی! تو امام سیبویہ کی بات نحو میں بہت مضبوط سمجھی جاتی ہے۔ تو کہتے ہیں: وھذا مذہب سیبویہ، اور یہ مذہب ہے امام سیبویہ کا۔ وذھب بعض النحاة الی ان ابوک مبتدا، اور بعض نحوی ‏اس بات کی طرف گئے ہیں کہ ’ابوک‘ جو ہے یہ مبتدا ہے، لكونہ معرفة، اس وجہ سے کہ یہ معرفہ ہے بھئی، ومن خبرہ، ‏اور ’من‘ اس کی خبر ہے، الواجب تقدیمہ، وہ خبر کہ واجب ہے اس کو مقدم کرنا، علی المبتدا، مبتدا پر، لتضمنہ معنی ‏الاستفہام، اس لیے کیونکہ وہ متضمن ہے استفہام کے معنی کو۔ تو جہ ہے؟ بھئی دیکھیے! ومن خبرہ الواجب تقدیمہ، ترکیب سمجھ میں آ رہی ہے؟ ومن خبرہ، ترکیب کرو۔ من، یہ کیا بنے ‏گا؟ ومن خبرہ، معنی پہ غور کرو معنی سے ترکیب حل ہو جائے گی: ومن خبرہ— ترجمہ کرو۔ ’من‘ اس کی خبر ہے، ‏دیکھو ترکیب حل ہو گئی! جی، بولیے! کیا ترکیب ہے؟ شاباش! یہ ’من‘ سے لفظِ ’من‘ مراد ہے، دیکھو ہم اس کا ترجمہ نہیں ‏کر رہے ورنہ تو ’من‘ کا معنی ہے ’کون‘، تو لہٰذا یہاں لفظ مراد ہے تو یہ ہے مبتدا، اور ’خبرہ‘ یہ کیا ہے؟ یہ اس کی خبر ‏ہے، اور یہ ’خبرہ‘ یہ ہے موصوف، اور ’الواجب‘ اس کی صفت ہے۔ ومن خبرہ الواجب، خبرہ یہ اس کی وہ خبر ہے، ‏الواجب تقدیمہ، جس کی تقديم واجب ہے۔ تو ’الواجب‘ کیا بن رہا ہے؟ صفت، کس کے لیے؟ خبرہ کے لیے۔ خبرہ میں ’خبر‘ ‏مضاف، ’ہ‘ ضمیر مضاف الیہ، اور مضاف مضاف الیہ مل کر یہ ہے موصوف، اور اس کی اضافت کس کی طرف ہے ‏خبر کی؟ ’ہ‘ ضمیر کی طرف، اور ’ہ‘ ضمیر ہے معرفہ، اور معرفہ کی طرف جو لفظ مضاف ہو جائے وہ بھی کیا بن ‏جاتا ہے؟ معرفہ، تو لہٰذا ’الواجب‘ اس کی خبر بھی کیا لائے؟ معرفہ لائے، بات سمجھ میں آ گئی۔ ومن خبرہ الواجب، ’من‘ اس کی وہ خبر ہے جو واجب ہے، کیا معنی؟ جس کو مقدم کرنا واجب ہے۔ معلوم ہوا یہ ’واجب‘ یہ ‏صفت بحال متعلقہ ہے۔ لفظوں میں صفت ہے کس کی؟ خبرہ کی، اور معنی میں صفت ہے تقديم الخبر کی۔ ایک صفت بحالہ ‏ہوتی ہے، وہ لفظوں میں جس کی صفت ہوتی ہے معنی میں بھی اسی کی صفت، رجل قائم، یہ قائم کس کی صفت؟ رجل ‏کی، تو لفظوں میں بھی رجل کی صفت، معنی میں بھی رجل کی صفت، یہ قائم کا معنی رجل میں ہے۔ اور ایک ہوتی ہے ‏صفت بحال متعلقہ: رجل قائم ابوہ، تو یہاں قائم لفظوں میں صفت کس کی؟ رجل کی، اور معنی میں صفت کس کی؟ ابوہ کی، ‏تو یہ صفت بحال متعلقہ ہے۔ یہاں پر بھی ’الواجب‘ لفظوں میں صفت کس کی؟ خبرہ کی، اور معنی میں صفت کس کی؟ ‏تقدیمہ کی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ومن خبرہ الواجب تقدیمہ علی المبتدا، اور ’من‘ اس کی وہ خبر ہے کہ واجب ہے اس خبر کو مقدم کرنا مبتدا ‏پر، لتضمنہ معنی الاستفہام، اس وجہ سے کہ یہ خبر متضمن ہے معنی استفہام کو۔ اور یاد رکھنا! یہاں پر، یہاں پر اگر صاحبِ قافیہ ’من قام‘ یہ مثال ذکر کر دیتے تو پھر یہ متفق علیہ مثال ہوتی، یعنی اس ‏میں سب کے نزدیک ’من‘ مبتدا ہے اور ’قام‘ اس کی خبر ہے۔ توجہ ہے؟ تو ’من‘ مبتدا ہے، اور ’قام‘ فعل، اس کے اندر ‏‏’ھو‘ ضمیر فاعل جو کس کو راجع؟ مبتدا کو راجع ہے، کیونکہ خبر کو مبتدا سے جوڑا جاتا ہے، فعل اپنے فاعل سے مل ‏کر جملہ فعلیہ ہو کر خبر، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ انشائیہ ہوا کیونکہ استفہام ہے۔ تو ’من قام‘ یہ مثال بھی پیش کی جا سکتی تھی، اور اس میں کسی نحوی کا اختلاف بھی نہ ہوتا، لیکن صاحبِ قافیہ نے ‏متفق علیہ مثال ذکر نہیں کی، بلکہ ’من ابوک‘ یہ مثال ذکر کی جس میں کچھ نحوی اختلاف کرتے ہیں۔ دراصل وجہ یہ، یہ ‏مثال صاحبِ قافیہ نے اس لیے ذکر کی کہ بتلانا چاہتے ہیں کہ امام سیبویہ کا مذہب صحیح ہے بھئی، امام سیبویہ کا مذہب ‏صحیح ہے، راجح ہے، اس لیے اس کی تصریح کے لیے یہ والی مثال ذکر کی انہوں نے۔ او کانا— ای المبتدا والخبر معرفتین— متن میں آیا: او کانا، آگے صاحبِ جامی فرما رہے ہیں: ای المبتدا والخبر، کیا بتلانا ‏چاہتے ہیں؟ کانا کی ضمیر کا مرجع، تثنیہ کی ضمیر ہے نا کانا، تو یہ مبتدا اور خبر کو راجع ہے۔ اور یا وہ دونوں جو ‏ہیں معرفتین، دونوں کیا ہوں؟ معرفہ ہوں، متساویین فی التعريف او غیر متساویین، تعریف کے اندر دونوں برابر ہوں یا ‏برابر نہ ہوں۔ بھئی یاد رکھو! یہ جو معرفہ ہے نا معرفہ، معرفہ کی چھ سات قسمیں آپ نے پڑھی ہیں، کون کون سی؟ تمام ضمیریں ہیں، ‏علم ہے—علم نام جو کسی کا ہو—اسمائے اشارہ، اسمائے موصولہ، اور اسی طرح معرف باللام جس پر الف لام آئے، اور ‏ان پانچ میں سے کسی ایک کی طرف جو مضاف ہو، یہ چھ ہو گئیں، اور ایک قسم ہے معرفہ بالنداء، وہ معرفہ بالنداء جو ‏حرفِ ندا کی وجہ سے معرفہ بن جائے، وہ ہماری بحث سے خارج ہے کیونکہ ہم یہاں مبتدا خبر کی بحث کر رہے ہیں۔ تو ‏باقی رہ گئے چھ قسمیں رہ گئیں معرفہ کی۔ ان چھ قسموں میں ان سب کے اندر یاد رکھو! تعریف برابر درجے کی نہیں ہے بھئی، ہر ایک میں الگ الگ درجے کی ‏تعریف ہے۔ سب سے زیادہ تعریف یاد رکھو ضمیروں کے اندر ہے۔ دوسرے درجے پر تعریف علم کے اندر ہے، نام کے ‏اندر ہے۔ تعریف کا معنی ہے پہچان، پہچان۔ سب سے زیادہ تعریف کس میں ہے؟ ضمیروں میں، دوسری تعریف کس میں ‏ہے دوسرے درجے والی؟ علم، علم جس کا نام ہوتا ہے اس نام والے کی آپ کو پہچان ہوتی ہے۔ تیسرا درجہ ہے اسم اشارہ ‏کا بھئی، اور چوتھا درجہ ہے اسم اسم موصول کا بھئی، اور پانچواں درجہ ہے معرف باللام کا، اور آخر میں کیا ذکر ہوا؟ ‏جو ان پانچ میں سے کسی ایک کی طرف مضاف ہو۔ وہ آخر میں ذکر ہوا لیکن اس کا یہ معنی نہیں وہ چھٹے درجے کا ‏ہے، بلکہ مضاف کا وہی درجہ ہوگا جو مضاف الیہ کا ہو۔ غلامہ، غلام کی اضافت کس کی طرف؟ ’ہ‘ ضمیر کی طرف، ‏اور ضمیر کا کون سا درجہ تعریف میں؟ پہلا درجہ، لہٰذا ’غلامہ‘ بھی پہلے درجے کا ہے۔ غلام زید، غلام کی اضافت زید ‏کی طرف اور زید کیا ہے؟ علم ہے، اور علم میں کون سے درجے کی تعریف ہے؟ دوسرے درجے کی تعریف ہے، تو ‏‏’غلام زید‘ میں بھی تعریف کون سے درجے والی آ گئی؟ دوسرے درجے والی، بات سمجھ میں آ گئی؟ مضاف تعریف لیتا ‏ہے مضاف الیہ سے، اور مضاف الیہ جس درجے کا ہوا مضاف بھی اسی درجے کا معرفہ بن جائے گا، بات سمجھ میں آ ‏گئی۔ پھر دہرائو! پہلا درجہ تعریف کا کس کا؟ ضمیروں کا، دوسرا؟ علم، تیسرا؟ اسم اشارہ، چوتھا؟ اسم موصول، پانچواں؟ ‏معرف باللام، اور چھٹا؟ ان میں سے کسی ایک کی طرف مضاف ہو بھئی۔ پھر ضمیروں کے اندر یاد رکھو ضمیریں تو غائب کی بھی ہے، متکلم کی بھی ہے، مخاطب کی بھی ہے۔ ان میں سب سے ‏اعلیٰ درجہ کس کا؟ یاد رکھو سب سے اعلیٰ درجہ ضمیروں میں متکلم کی ضمیر کا ہے۔ انسان کو سب سے زیادہ اپنا پتہ ‏ہوتا ہے، اس کو سب سے زیادہ اپنی پہچان ہے، تو لہٰذا پہلا درجہ متکلم کی ضمیروں کا، دوسرا درجہ مخاطب کا ہے ‏کیونکہ مخاطب متکلم کے سامنے ہوتا ہے، تو دوسرا درجہ اس کا، اور تیسرا درجہ غائب کا ہے بھئی۔ تو ضمیروں میں ‏پہلا درجہ کس کا؟ متکلم کی ضمیروں کا، دوسرا؟ مخاطب، تیسرا؟ غائب کی ضمیروں کا۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی۔ پھر ایک اور بات یاد رکھنا! یہ جو اسم اشارہ اور اسم موصول ہیں ان کو مبہمات کہتے ہیں۔ اسم اشارہ اور اسم موصول کو ‏مبہمات کہتے ہیں، اس لیے کیونکہ اسم اشارہ مشار الیہ کا محتاج اور موصول صلے کا محتاج۔ موصول کے ساتھ جب تک ‏صلہ نہیں ملاؤ گے اس کا معنی سمجھ میں نہیں آئے گا۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: جاء الذی، آیا میرے پاس وہ جو کہ— ‏آیا میرے پاس وہ جو کہ— کچھ بات سمجھ میں آئی کون آیا؟ نہیں، ہاں آگے میں کہتا ہوں: جاء الذی ضربک، آیا میرے ‏پاس وہ آدمی جس نے آپ کی پٹائی کی تھی، اب آپ کو پتہ چل گیا کہ ’الذی‘ سے کون مراد ہے۔ تو صرف ’الذی‘ ہوتا تو ‏اس کا تو معنی ہے وہ جو کہ، اس سے تو کچھ پتہ نہیں چلتا، تو موصول میں بے انتہا ابہام ہوتا ہے، آگے صلہ پورا ایک ‏جملہ آ کر اس کے ابہام کو دور کرتا ہے۔ تو موصول بغیر صلے کے مبہم، اس کا معنی سمجھ میں نہیں آتا۔ اسی طرح اسم اشارہ مشار الیہ کے بغیر سمجھ میں نہیں ‏آتا۔ "ھذا"؛ میں کہتا ہوں "ھذا"، کچھ پتہ چلا کیا مراد ہے؟ نہیں۔ ہاں، یا تو میں ہاتھ کے ذریعے اشارہ کروں، مثلاً میں کتاب ‏کی طرف اشارہ کرتا ہوں "ھذا"، آپ سمجھ گئے کہ یہ والی کتاب مراد ہے۔ میں نے قلم کی طرف اشارہ کیا "ھذا"، اب آپ ‏سمجھ گئے کہ یہ والا قلم مراد ہے۔ تو یوں کہو، اسم اشارہ کے لیے مشار الیہ ضرور چاہیے۔ وہ مشار الیہ حساً بھی ہو ‏سکتا ہے کہ آپ حساً، یعنی ہاتھ وغیرہ کے ذریعے اس کی طرف اشارہ کریں۔ اور وہ مشار الیہ لفظوں کے اعتبار سے بھی ‏ذکر ہو سکتا ہے، مثلاً میں ہاتھ سے اشارہ نہیں کرتا، صرف اتنا کہتا ہوں "ھذا الکتاب"، آپ کو پتہ چلا کہ "ھذا" سے ‏اشارہ کس کی طرف ہے؟ آپ سمجھ گئے کہ کتاب کی طرف اشارہ ہے۔ تو اسم اشارہ محتاج ہے مشار الیہ کا، جب تک ‏مشار الیہ کا پتہ نہیں چلے گا تو پتہ نہیں چل سکتا کہ اسم اشارہ سے کیا مراد ہے۔ اور مشار الیہ کا پتہ کبھی اشارہ حسیہ ‏سے چلے گا اور کبھی لفظوں کے اندر اس کو ذکر کر دیا جاتا ہے۔ تو ان دونوں کو کیا کہتے ہیں؟ اسمائے اشارہ، اسمائے ‏موصولہ کو کیا کہتے ہیں؟ مبہمات۔ کیونکہ اسم اشارہ مشار الیہ کا محتاج اور موصول صلے کا محتاج۔ بئی بات یہ چل رہی تھی، انہوں نے کیا بتایا؟ کہ مبتدا اور خبر جب دونوں معرفہ ہوں تو اس وقت مبتدا کو مقدم کرنا واجب ‏ہے۔ تو یاد رکھو اس میں، وہ جو دو معرفہ ہیں، چاہے وہ ایک ہی درجے کے ہوں یا نہ ہوں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ‏مثلاً ایک معرفہ ہے دوسرے درجے والا اور ایک معرفہ ہے چوتھے درجے والا، تو بھی اگرچہ دونوں میں تعریف برابر ‏درجے کی نہیں، لیکن پھر بھی آپ جس کو مبتدا بنانا چاہتے ہیں اس کو مقدم کریں گے اور جس کو خبر بنانا چاہتے ہیں ‏اس کو مؤخر کریں گے۔ تو کہتے ہیں: "أو کانا - أی المبتدأ والخبر - معرفتین"، یا وہ مبتدا اور خبر دونوں معرفہ ہوں، "متساویین في التعريف أو غیر ‏متساویین"، وہ دونوں تعریف کے اندر برابر ہوں یا غیر متساویین، یہ دونوں تعریف میں برابر نہ ہوں، "ولا قرینة علی ‏کون أحدهما مبتدأ"، اور کوئی قرینہ بھی نہ ہو ان دونوں میں سے کسی ایک کے مبتدا ہونے پر۔ اگر تو قرینہ موجود ہے ‏پھر تو مبتدا کو چاہے مؤخر کرو، مقدم کرو، سننے والا سمجھ جائے گا بئی۔ لیکن اگر دونوں مبتدا خبر دونوں معرفہ ہیں ‏اور قرینہ بھی کوئی نہیں، چاہے تعریف الگ الگ درجے کی ہی کیوں نہ ہو، تو بھی مبتدا کو مقدم کرنا واجب ہے، ورنہ ‏اشتباہ لازم آئے گا مبتدا کا خبر کے ساتھ۔ تو کہتے ہیں: "ولا قرینة علی کون أحدهما مبتدأ والآخر خبرا"، اور کوئی قرینہ بھی نہ ہو اس بات پر کہ دونوں میں سے ‏ایک مبتدا ہے اور دوسرا خبر ہے، "نحو"، مثال کے طور پر: "زیدٌ المنطلقُ"۔ "زیدٌ المنطلقُ"، انطلق ینطلق انطلاق کے ‏معنی ہیں چلنا، چلنا۔ جی، ترجمہ کیجیے۔ پہلے ادھر سنو، منطلق کو ذرا نکرہ لے آؤ، "زیدٌ منطلقٌ"، ترجمہ کیجیے۔ زید ‏چلنے والا ہے۔ بئی عموماً طلباء یہی ترجمہ کرتے ہیں، اسم فاعل کا ترجمہ "والا" کے ساتھ کرتے ہیں، زید چلنے والا ہے۔ ‏حالانکہ اس کے تو معنی بظاہر یوں سمجھ میں آتا ہے کہ ابھی چلا نہیں، چلنے والا ہے مستقبل میں۔ تو یاد رکھو اس میں ‏فاعل کا ترجمہ ہر جگہ "والا" کے ساتھ نہ کریں بلکہ موقع کے مطابق کریں۔ اس میں فاعل سے حال بھی مراد ہو سکتا ‏ہے، ماضی بھی اور مستقبل بھی، اس کے مطابق ترجمہ کریں۔ "زیدٌ منطلقٌ"، اگر آپ کے کہنے کا مطلب حال ہے، یعنی ‏ابھی اس وقت زید منطلق ہے، تو ترجمہ کریں: "زیدٌ منطلقٌ"، زید چل رہا ہے۔ اور اگر آپ کا ارادہ مستقبل کا ہے تو پھر ‏‏"زیدٌ منطلقٌ"، زید چلے گا۔ اور اگر ماضی کا ارادہ ہے تو زید چلا تھا، اس کے مطابق ترجمہ کر لیں۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اور پھر یہاں "المنطلق" آیا، کیونکہ دونوں لفظ معرفہ چاہیے، تو زید بھی معرفہ، المنطلق بھی معرفہ۔ دیکھو اس مثال پہ ‏نظر رکھو، "زیدٌ المنطلقُ"، اصل میں کیا تھا؟ زیدٌ، اور آگے کیا تھا؟ المنطلق۔ تو زیدٌ کے آخر میں کیا ہے؟ تنوین کا نون ‏ہے اور المنطلق کے شروع میں الف لام ہے، اور الف لام کا ہمزہ وصلی، وہ تو درمیان عبارت میں گر گیا۔ اب لام بھی ‏ساکن اور ماقبل میں نون بھی ساکن، تو اجتماع ساکنین علی غیر حدہ آیا، اور اس میں اگر اول حرف مدہ ہو تو اس کو گرا ‏دیتے ہیں، لیکن یہاں تو اول اول حرف نون ہے، تو پھر اس صورت میں "الساكن إذا حرك حرك بالكسر"، تو کیسے پڑھیں ‏گے؟ "زیدٌ المنطلقُ"۔ زید بھی معرفہ، المنطلق بھی معرفہ۔ زید کو دیکھو، یہ علم ہے اور علم کس درجے کا ہے؟ علم کس ‏درجے کا معرفہ ہے؟ دوسرے درجے کا، اور المنطلق پر الف لام ہے، اور الف لام کس درجے کا معرفہ ہے؟ یہ پانچویں ‏درجے کا معرفہ ہے، پانچویں درجے کا معرفہ ہے، تو دونوں میں تعریف الگ الگ درجے کی ہے، لیکن اس سے کوئی ‏فرق نہیں پڑتا کہ کہ آپ یہ کہیں کہ چونکہ زید دوسرے درجے کا ہے، اس لیے مبتدا اسی نے بننا ہے، چاہے مقدم کرو ‏چاہے مؤخر کرو، یہ کیونکہ یہ دوسرے درجے کا ہے، اس میں تعریف زیادہ ہے، اور المنطلق میں تعریف کم ہے، لہٰذا وہ ‏خبر بنے گا، نہیں نہیں، ایک میں تعریف کم ہو، ایک میں زیادہ ہو، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، ہیں تو دونوں معرفہ۔ تو ‏جس کو بھی آپ مبتدا بنانا چاہتے ہیں اس کو کیا کریں گے؟ مقدم کریں گے، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو یہاں دیکھو، دونوں معرفہ ہیں اور کوئی قرینہ بھی موجود نہیں ہے جو ہمیں یہ بتائے کہ مبتدا کون سا ہے، لہٰذا اب ‏صرف تقديم ہی ہمیں بتائے گی کہ یہ ہے مبتدا۔ تو اگر آپ زید کو مؤخر کریں گے "المنطلقُ زیدٌ"، تو سننے والا کیا ‏سمجھے گا؟ کہ المنطلق مبتدا ہے اور زید اس کی خبر ہے۔ یہاں کوئی اشکال کر سکتا ہے کہ آپ نے ہمیں کیا کہا؟ کہ جب ‏قرینہ موجود نہ ہو تو پھر مبتدا کو مقدم کریں گے اور خبر کو مؤخر بئی، لیکن کہتے ہیں یہاں تو قرینہ موجود ہے بئی۔ کیا ‏قرینہ ہے؟ کہتے ہیں دیکھو، مبتدا جو ہے وہ ذات کو کہتے ہیں اور خبر جو ہے وہ اس کی صفت ہوتی ہے، تو یہاں پر ‏ایک لفظ ہے زید، ایک ہے المنطلق، اور ظاہر سی بات ہے زید ذات کا نام ہے اور المنطلق یہ صفت بیان ہو رہی ہے، ‏چلنے کی صفت، تو ذات جو ہوتی ہے اس کو مبتدا بناتے ہیں اور صفت کو خبر بناتے ہیں، تو زید کو چاہے مقدم کرو ‏چاہے مؤخر کرو، سننے والے کو پتہ چل جائے گا یہ ذات ہے یہ مبتدا ہے اور المنطلق اس کی خبر ہے۔ کہتے ہیں نہیں ‏بئی، یہاں زید اگرچہ ذات ہے لیکن اس کو تاویل کر کے صفت بنایا جا سکتا ہے، اور المنطلق بے شک صفت ہے لیکن ‏تاویل کر کے اس کو ذات بنایا جا سکتا ہے بئی۔ مثلاً زید سے صفت بنا لیں، زید سے مراد ہے "المسمى بزید"، "المسمى ‏بزید"، وہ جو زید کے نام کے ساتھ موسوم ہے، دیکھو صفت بن گئی۔ "المسمى"، صفت کا صیغہ آ گیا یا نہیں؟ اسم مفعول کا ‏صیغہ آ گیا، تو "المسمى بزید" ہم نے زید سے کیا بنا لیا؟ زید سے کون مراد؟ مسمى بزید مراد ہے، تو صفت بن گئی یہ تو۔ ‏اور المنطلق کا کیا معنی تھا؟ چلنے والا، صفت، ہم اس سے ذات بنا لیتے ہیں۔ "المنطلقُ"، "الذات الموصوف بالإنطلاق"، ‏‏"الذات"، وہ ذات، "الموصوف بالإنطلاق"، جو موصوف ہو رہی ہے انطلاق کے ساتھ، دیکھو المنطلق سے ذات بنا لیا ہم ‏نے، وہ ذات جو موصوف ہو رہی ہے انطلاق، بات سمجھ میں آئی؟ تو یہاں لہٰذا یہ قرینہ نہیں ہے کہ زید ذات کا نام ہے اور ‏منطلق اس کی صفت ہے بلکہ دونوں میں جب تعریف ہے تو دونوں میں مبتدا بننے کا احتمال ہے، تو جس کو بھی مبتدا بنانا ‏چاہتے ہیں آپ اس کو مقدم رکھیں، اور جس کو خبر بنانا چاہتے ہیں اس کو مؤخر رکھیں گے۔ اور پھر ایک اور قیمتی بات جو میں پہلے بھی ذکر کر چکا ہوں، دیکھو زید ہے اس میں مبتدا اور المنطلق ہے اس کی خبر، ‏اور آپ دیکھ رہے ہیں خبر بھی معرفہ ہے۔ اور عام شروحات، اردو کی جتنی آپ شروحات اٹھائیں گے، اس میں لکھا ہوتا ‏ہے کہ جب مبتدا کے ساتھ ساتھ خبر بھی معرفہ ہو تو درمیان میں ضمیر فصل کا لانا واجب ہے۔ یا فصل کا، بعض اس کو ‏ضمیر کہتے ہیں، بعض اس کو حرف کہتے ہیں کہ یہ فصل ہے، تو درمیان میں فصل کا لانا واجب ہوتا ہے۔ تو شروحات ‏میں یہ ذکر ہے، لیکن میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ درست نہیں، مبتدا اور خبر جب دونوں معرفہ ہوں تو فصل کا لانا ‏جائز ہے، واجب نہیں بئی۔ چنانچہ آپ یہاں دیکھ لیں "زیدٌ المنطلقُ"، یہاں مبتدا خبر دونوں معرفہ ہیں لیکن درمیان میں کوئی ‏فصل نہیں ہے، اور میں نے وہ حدیث بھی ذکر کی تھی، حدیث میں بھی کیا آتا ہے؟ "الدین النصيحةُ"، "الدین النصيحةُ"، دین ‏خیر خواہی ہی کا نام ہے۔ اور میں نے بتایا تھا کہ جب خبر کو معرفہ لائیں تو وہاں عموماً حصر کا معنی پیدا ہو جاتا ہے۔ ‏‏"زیدٌ المنطلقُ"، اب ترجمہ کریں۔ پہلے پہلے بغیر معرفہ کے ترجمہ کریں، "زیدٌ منطلقٌ"، کیا ترجمہ؟ زید چل رہا ہے۔ اور ‏اب الف لام لے آئیں، "زیدٌ المنطلقُ"، اب ترجمہ کریں۔ "زیدٌ منطلقٌ"، کیا ترجمہ؟ زید چل رہا ہے، زید جا رہا ہے۔ اور "زیدٌ ‏المنطلقُ"؟ زید ہی چل رہا ہے، مطلب سننے والے کا خیال تھا کہ زید بھی چل رہا ہے اور بکر بھی چل رہا ہے، آپ اس کو ‏کہتے ہیں "زیدٌ المنطلقُ"، زید ہی چل رہا ہے، معلوم ہوا بکر نہیں چل رہا بئی۔ تو یہ خبر کو بھی معرفہ لے آئیں تو پھر یہ ‏تخصیص کا فائدہ دیتی ہے۔ ‎"‎أو کانا متساویین"، یا وہ دونوں برابر ہوں، "في اصل التخصیص"، کس چیز کے اندر؟ تخصیص میں۔ بظاہر یوں لگتا ہے ‏کہ دو لفظ ہیں آپ کے پاس، دونوں نکرہ ہیں، توجہ ہے؟ دو لفظ ہیں اور دونوں میں تخصیص ہے، اور تخصیص میں ‏دونوں برابر ہیں، یعنی جتنی تخصیص ایک میں ہے اتنی ہی تخصیص دوسرے میں بھی ہے، تو پھر مبتدا کو مقدم کرنا ‏واجب ہے۔ اگر آپ مقدم نہیں کریں گے تو مبتدا کا التباس خبر کے ساتھ لازم آئے گا۔ اور اگر ایک لفظ میں تخصیص زیادہ ‏ہے اور ایک میں تخصیص کم ہے تو معلوم ہوا پھر جس کو بھی مقدم کر دو وہ زیادہ تخصیص والا ہی مبتدا بنے گا۔ لیکن ‏نہیں، اس عبارت کا یہ معنی نہیں ہے کہ دونوں برابر ہوں تخصیص میں، یعنی دونوں میں برابر درجے کی تخصیص ہو، ‏بلکہ مراد یہ ہے کہ اصل تخصیص میں دونوں برابر ہوں، یعنی دونوں میں تخصیص پائی جائے، پھر چاہے ایک میں ‏تخصیص زیادہ ہو ایک میں کم ہو، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، آپ جس کو بھی مبتدا بنانا چاہتے ہیں آپ اس کو مقدم ‏رکھیں، چاہے کم تخصیص والے کو مقدم کر دیں چاہے زیادہ تخصیص والے کو، جس کو بھی آپ مقدم کریں گے، سننے ‏والا سمجھے گا کہ یہی مبتدا ہے اور جس کو مؤخر کریں گے کہ یہ خبر ہے۔ جیسے ایک مثال ہے بئی، لکھیے اپنی کاپی پر مثال لکھیں، پھر آپ کو بات پوری سمجھ میں آئے گی بئی۔ مختصر سی ‏ایک مثال لکھیں بئی‎:‎ ‎"‎غلامُ رجلٍ صالحٍ خیرٌ منک‎"‎ صالح: ص، ا، ل، ح۔‏ ‎"‎غلامُ رجلٍ صالحٍ خیرٌ منک‎"‎ لکھ لیا؟ "غلامُ رجلٍ صالحٍ خیرٌ منک"۔ اچھا، یہاں پہلے ایک اور بات سمجھ لو۔ یاد رکھو، نکرہ کی اضافت معرفہ کی ‏طرف ہو جائے تو وہ نکرہ معرفہ بن جاتا ہے۔ نکرہ کی اضافت معرفہ غلام کا لفظ نکرہ ہے لیکن اس کی اضافت "ہا" ‏ضمیر کی طرف کر دو یا زید کی طرف کر دو، "غلامُ زیدٍ"، تو اب یہ غلام کا لفظ کیا بن گیا؟ معرفہ۔ لیکن اگر نکرہ کی ‏اضافت نکرہ کی طرف کرو تو پھر وہ معرفہ نہیں بنتا، صرف اس میں تخصیص آ جاتی ہے۔ توجہ ہے؟ مثلاً غلام کا لفظ ‏ہے، یہ غلام کا لفظ ہر غلام پر بولا جا سکتا ہے، چاہے مرد کا غلام ہو چاہے عورت کا غلام ہو، لیکن اگر آپ اس کی ‏اضافت کر دیں: "غلامُ رجلٍ"، تو اب صرف یہ مرد کے جو غلام ہیں ان پر صادق آئے گا، جو عورت کے غلام ہیں ان پر ‏صادق نہیں آئے گا، دیکھو اس میں تخصیص آ گئی۔ کیا آ گئی؟ تخصیص آ گئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ اب دیکھو یہ ترکیب دیکھو بئی: "غلامُ رجلٍ صالحٍ خیرٌ منک"، یہ جو لفظ صالح آیا نہ صالح، یہ یہ بھی نکرہ اور ماقبل میں ‏رجل بھی نکرہ، تو یہ رجل کی صفت بھی ہو سکتا ہے۔ توجہ ہے؟ یہ رجل کی صفت بھی ہو سکتی ہے یہ صالح لفظ، اور ‏یہ صالح کا لفظ غلام کی صفت بھی ہو سکتا ہے۔ کیونکہ غلام، اگرچہ اس کی اضافت رجل کی طرف ہو رہی ہے، لیکن ‏رجل تو نکرہ ہے، اور نکرہ کی طرف اضافت کے باوجود نکرہ نکرہ ہی رہتا ہے، تو غلام کا لفظ بھی نکرہ ہے، یعنی ‏مضاف بھی نکرہ اور مضاف الیہ بھی نکرہ، تو آپ اس صالح کو چاہے مضاف کی صفت بنائیں چاہے مضاف الیہ کی ‏صفت بنائیں۔ اور پھر یاد رکھو، دونوں صورتوں میں غلام کے اندر دو تخصیصیں آ جائیں گی۔ مثلاً ہم صالح کو صفت بناتے ہیں رجل ‏کی۔ کس کی؟ رجل کی۔ معلوم ہوا، ہر رجل کا غلام مراد نہیں ہے بلکہ کس رجل کا؟ صالح رجل کا غلام مراد ہے، تو اور ‏تخصیص آ گئی یا نہیں؟ دیکھو، پہلے غلام کا لفظ عام تھا، میں نے جب اس کی اضافت کس کی طرف کر دی؟ رجل کی ‏طرف، تو کون سے غلام نکل گئے؟ غلام امرأة نکل گئے، عورتوں کے جو غلام ہیں وہ نکل گئے، اشتراک قلیل ہوا، پھر ‏غلام رجل میں بھی رجل ہر طرح کے مراد تھے، چاہے نیک ہو یا نیک نہ ہو، لیکن میں رجل کی صفت لے آیا "غلامُ رجلٍ ‏صالحٍ"، نیک آدمی کا غلام، تو جو آدمی نیک نہیں ان کے غلام بھی نکل گئے اس سے، تو دیکھا دو درجے کی تخصیص آ ‏گئی۔ ایک تخصیص کس کی وجہ سے آئی؟ رجل کی طرف اضافت کی وجہ سے، اور دوسری جو صفت لائے رجل کی ‏‏"صالح"، اس کی وجہ سے۔ یا اس صالح کو صفت بنا دو غلام کی۔ یعنی آدمی کا وہ غلام جو نیک ہو۔ آدمی کا نیک غلام۔ "غلامُ رجلٍ صالحٍ"، ترجمہ کیا ‏ہوگا؟ "غلامُ رجلٍ صالحٍ"، یہ صالح کو ہم نے صفت بنایا ہے کس کی؟ رجل کی۔ تو ترجمہ کریں: "غلامُ رجلٍ صالحٍ"، ‏‏"غلامُ رجلٍ صالحٍ"، ترجمہ کریں۔ یہ صالح کو ہم نے صفت بنایا ہے رجل کی۔ "غلامُ زیدٍ" کا کیا ترجمہ؟ زید کا غلام، تو ‏‏"غلامُ رجلٍ" کا ترجمہ؟ آدمی کا غلام، اور "غلامُ رجلٍ صالحٍ" کا ترجمہ؟ نیک آدمی کا غلام۔ اور اب ہم صالح کو صفت ‏بناتے ہیں غلام کی۔ اب ترجمہ کیا ہوگا؟ صالح کو غلام کی صفت بنا دیں، نیک وہ آدمی نہیں ہے وہ غلام ہے۔ اب کیا ‏ترجمہ ہوگا؟ آدمی کا نیک غلام، آدمی کا نیک غلام۔ تو آدمی کا نیک غلام، اب اس غلام میں دو تخصیصیں آ گئیں۔ پہلی تخصیص کیا؟ کہ اس کی اضافت ہے رجل کی طرف، ‏دوسری تخصیص کیا آئی؟ کہ اس کی صفت بھی آ گئی، دوسری تخصیص آ گئی۔ "غلامُ رجلٍ"، اس سے عورت کے غلام ‏تو نکل گئے، لیکن آدمی کے غلام تو نیک بھی ہو سکتے ہیں، برے بھی، لیکن جب آپ نے کیا کہا: "غلامُ رجلٍ صالحٌ"، ‏آدمی کا نیک غلام، تو دیکھو جو نیک نہیں ہیں وہ غلام بھی اس سے نکل گئے، تو دو درجے کی تخصیص آ گئی۔ اور ‏‏"خیرٌ منک"، یہ اس کی خبر ہے۔ "خیرٌ منک" اس کی خبر ہے، اور خیرٌ کا کیا معنی؟ بہتر ہے کسی کے مقابلے میں، اس ‏میں بھی عموم تھا کہ کس کے مقابلے میں بہتر ہے؟ زید، عمر، بکر، خالد، سب کے مقابلے میں بہتر مراد ہو سکتا ہے، ‏لیکن آگے آ گیا "منک"، کس کے مقابلے میں بہتر ہے؟ مخاطب کے مقابلے میں بہتر مراد ہے، تو دیکھو اس میں تخصیص ‏آ گئی۔ معلوم ہوا مخاطب سے جو بہتر ہے وہ مراد ہے، زید، عمر، بکر سے جو بہتر ہے وہ مراد نہیں ہے۔ تو "خیرٌ ‏منک"، اس کے اندر بھی کیا آ گئی؟ تخصیص، اور "غلامُ رجلٍ صالحٍ"، اس کے اندر بھی کیا آ گئی؟ تخصیص، لیکن "خیرٌ ‏منک" اس کے اندر تخصیص ہے ایک درجے کی، اور "غلامُ رجلٍ صالحٍ" اس کے اندر تخصیص ہے دو درجے کی، تو ‏اب دیکھو تخصیص تو دونوں میں برابر نہیں۔ تو تخصیص برابر ہونے کا یہ معنی نہیں کہ جس میں تخصیص زیادہ ہے ‏اس کو مقدم کرو یا مؤخر کرو، ہر حال میں اس نے ہی مبتدا بننا ہے، ایسا نہیں ہے بلکہ جس کو بھی آپ مبتدا بنانا چاہتے ‏ہیں اس کو کیا کر دو؟ مقدم کر دو۔ یہ دیکھو کتاب میں مثال دی ہوئی ہے: "غلامُ رجلٍ صالحٍ خیرٌ منک"، مل گئی مثال؟ جی، ترکیب سنو: "غلامُ" مرفوع لفظاً ‏مضاف، مرفوع کیوں؟ مبتدا ہے، "رجلٍ" مجرور لفظاً، آگے صالح کو ہم رجل کی صفت پہلے بناتے ہیں، تو "رجلٍ" ‏مجرور لفظاً موصوف، آگے ترکیب کریں "صالحٍ" پر کیا اعراب پڑھیں گے؟ جی، کس کس کی صفت بنا رہے ہیں ہم اس ‏کو؟ رجل کی، اور رجل پر کون سا اعراب ہے؟ مجرور ہے، مضاف الیہ ہے، تو "صالحٍ" اس پر بھی کیا پڑھیں گے؟ جر، ‏تو "صالحٍ" مجرور لفظاً اسم فاعل، اس کے اندر "هو" ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو کس کو راجع؟ رجل، یعنی ‏موصوف کو راجع۔ اسم فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر صفت رجل کی، موصوف صفت مل کر یہ مضاف الیہ ‏غلام کے لیے، مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر مبتدا، "خیرٌ" مرفوع لفظاً اسم تفضیل، اس کے اندر "هو" ضمیر ‏مرفوع محلاً اس کا فاعل جو کس کو راجع؟ غلام کو یا رجل کو؟ غلام، کیونکہ غلام مبتدا ہے، خبر کو مبتدا سے جوڑتے ‏ہیں، تو اور خیرٌ خبر ہے، تو خیرٌ کے اندر ضمیر راجع ہے غلام، یعنی مبتدا کو۔ "من" جارّہ، "ک" ضمیر مجرور محلاً، ‏جار مجرور مل کر متعلق خیرٌ اسم تفضیل کے ساتھ، اسم تفضیل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر شبہ جملہ ہو کر یہ خبر ‏مبتدا کے لیے، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا: "غلامُ رجلٍ صالحٍ خیرٌ منک"، ترجمہ غلام رجل صالح خير منك کا ترجمہ کیجیے۔ نیک آدمی کا غلام خير منك وہ آپ سے بہتر ہے. اب دوسری ترکیب کریں اب صالح کو صفت بنائیں گے ہم غلام کی‎.‎ تو غلام مرفوع لفظاً مضاف، رجل مجرور لفظاً مضاف إليه, مضاف مضاف إليه مل کر موصوف, مضاف مضاف إليه مل ‏کر موصوف, اگے اعراب پڑھو، صالح شاباش، مرفوع کیوں پڑھا؟ کیونکہ یہ غلام کی صفت ہے اور صفت پر وہی ‏اعراب آتا ہے جو موصوف پر آتا ہے اور موصوف تو مرفوع ہے تو صالح بھی مرفوع, باقی سارے ترکیب اسی طرح ‏ہوگی البتہ معنی کیا ہوگا؟ غلام رجل صالح خير منك ترجمہ کریں‎.‎ آدمی کا نیک غلام خير منك وہ آپ سے، وہ آپ سے بہتر ہے‎.‎ کہتے ہیں أو كان متساويين یا وہ دونوں برابر ہوں، یعنی مبتدا اور خبر في أصل التخصيص کس کے اندر؟ اصل تخصیص ‏میں برابر ہو، یعنی یہ معنی نہیں ہے کہ ایک میں تخصیص زیادہ ہے یا ایک میں کم ہے، یعنی متساویین کا لفظ آیا توجہ ‏ہے؟ اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ دونوں میں برابر درجے کی تخصیص ہو, بلکہ متساویین کا معنی ہے اصل تخصیص کے ‏اعتبار سے برابر ہوں، یعنی دونوں میں تخصیص ہو، چاہے کم ہو یا زیادہ لیکن اصل تخصیص کیا ہے؟ دونوں میں موجود ‏ہے، تو دونوں متساویین ہوں في أصل التخصيص کس چیز میں؟ اصل تخصیص میں، یعنی نفس تخصیص دونوں کے اندر ‏ہو بھئی‎.‎ لا في قدره تخصیص کی مقدار میں نہیں بھئی، یعنی تخصیص کی مقدار میں برابری ضروری نہیں. حتى لو قيل یہاں تک ‏کہ اگر کہا گیا غلام رجل صالح خیر منك اگر یہ بھی کہا جائے تو لَوَجَبَ تَقْدِيمُهُ أَيْضًا تو اس صورت میں بھی مبتدا کو مقدم ‏کرنا واجب ہے. آپ خیر منك کو مبتدا بنانا چاہتے ہیں، اس میں اب آپ یہ نہ کہیں کہ غلام کے اندر دو درجے کی تخصیص ‏ہے, لہٰذا اس کو چاہے مؤخر کرو مقدم کرو، اس نے مبتدا اسی نے بننا ہے، نہیں نہیں، دونوں میں جب نفس تخصیص ‏موجود ہے پھر چاہے تخصیص برابر ہو یا نہ ہو, مبتدا دونوں کو آپ بنا سکتے ہیں اور جس کو بھی بنانا ہے، اس کو کیا ‏کرنا پڑے گا؟ مقدم کرنا واجب ہے، بات سمجھ میں آگئی‎.‎ یہ معنی ہے کہ لَوَجَبَ تَقْدِيمُهُ أَيْضًا تو اس صورت میں بھی تقديم واجب ہے. مثل أفضل مني أفضل منك جیسے کہ أفضل مني ‏أفضل منك. أفضل مني اس میں أفضل کے اندر تخصیص آئی، کس کی وجہ سے؟ مني کی وجہ سے، کہ کس کے مقابلے ‏میں افضل ہے؟ متکلم کے مقابلے میں افضل، اور أفضل منك اس کے اندر تخصیص آئی منك کی وجہ سے کہ کس کے ‏مقابلے میں افضل مراد ہے؟ مخاطب کے مقابلے میں افضل مراد ہے، تو اب آپ یہ نہ کہیں کہ أفضل مني میں زیادہ ‏تخصیص, أفضل منك میں کم تخصیص, کیوں؟ کیونکہ أفضل مني میں متکلم کی ضمیر ہے، ایک متکلم کی ضمیر ہے، ‏ایک مخاطب کی، ایک غائب کی، سب سے زیادہ تعریف کس میں ہوتی ہے؟ متکلم میں، اور دوسرے درجے میں مخاطب ‏کی، تو یہاں پر آپ یہ نہ کہیں کہ اس أفضل مني کے اندر چونکہ متکلم کی ضمیر ہے، اس میں تخصیص زیادہ ہے, اور ‏أفضل منك کے اندر چونکہ مخاطب کی ضمیر ہے، اس کے اندر تخصیص کم ہے، تو لہٰذا جس میں تخصیص زیادہ ہے، ‏وہی مبتدا بنے گا، چاہے مقدم کرو چاہے مؤخر کرو، نہیں بھئی, تخصیص دونوں میں اگرچہ برابر درجے کی نہیں ہے، ‏لیکن نفس تخصیص کے اعتبار سے دونوں برابر ہیں، یعنی دونوں میں نفس تخصیص موجود ہے، اور تو دونوں میں مبتدا ‏بننے کا بھی احتمال اور خبر بننے کا بھی احتمال, تو جس کو مبتدا بنانا چاہتے ہو اس کو مقدم کرنا واجب ہوگا‎.‎ تو کہتے ہیں اس صورت میں مقدم کرنا واجب ہے, مثل أفضل مني أفضل منك رَفْعًا لِلِاشْتِبَاهِ اشتباہ کو دور کرنے کے لیے, ‏اشتباہ کو دور کرنے کے لیے بھئی. ورنہ تو اشتباہ لازم آئے گا اگر آپ مبتدا کو مقدم نہیں کریں گے، تو مبتدا کا اشتباہ لازم ‏آئے گا خبر کے ساتھ، سننے والا تو یہی سمجھے گا جو مقدم ہے وہ مبتدا ہے بھئی‎.‎ اچھا، انہوں نے کیا کہا؟ کہ دونوں تعریف میں برابر ہوں یا نہ ہوں اور کوئی قرینہ بھی نہ ہو, توجہ ہے؟ کوئی قرینہ بھی ‏نہ ہو، اگر قرینہ موجود ہو پھر چاہے آپ مبتدا کو مؤخر بھی کر دیں، پھر بھی پتہ چل جائے گا سننے والے کو‎.‎ جیسے مثلاً اس کی مثال لکھیں بھئی‎:‎ أبو حنيفة أبو يوسف أبو حنيفة أبو يوسف أبو حنيفة أبو يوسف دیکھو بھئی، أبو حنيفة أبو يوسف سب سے پہلے تو یاد رکھو أبو مضاف ہے اور حنيفة مضاف إليه، اور حنيفة غیر منصر ‏ف ہے, کیونکہ دو سبب ہیں اس کے اندر، کون سے دو سبب؟ ایک علمیت اور ایک تانیث، تو یہ حنيفة مضاف إليه ہے ‏مجرور ہے, أبو يوسف یہ یوسف جو ہے یہ بھی مضاف إليه ہے، لیکن یہ بھی غیر منصر ف ہے، کون سے دو اسباب ہیں ‏اس میں؟ ایک علمیت ہے اور ایک اور ایک عجمہ ہے اس کے اندر بھئی، ایک علمیت ہے اور ایک عجمہ ہے، کیونکہ ‏حضرت یوسف علیہ السلام پہلے گزرے ہیں اور ابھی عربی زبان بنی ہی نہیں تھی اس وقت بھئی‎.‎ تو یہ دونوں غیر منصر ف ہیں بھئی، تو اب دیکھیے, ترجمہ کیا ہے؟ أبو حنيفة أبو يوسف, یہاں دراصل تشبیہ دی جا رہی ‏ہے. اب کس کو کس سے تشبیہ دی جا رہی ہے؟ کیا کہیں گے؟ ابو حنیفہ ابو یوسف جیسے ہیں, یا ابو یوسف ابو حنیفہ ‏جیسے ہیں؟ توجہ ہے؟ مجھے بتائیے بھئی. امام اعظم ابو حنیفہ وہ امام ابو یوسف جیسے ہیں, یہ کہنا مقصد ہے؟ یا امام ابو ‏یوسف امام ابو حنیفہ جیسے ہیں؟ آپ کہیں گے امام ابو یوسف، وجہ یہ کہ شاگرد کو استاد سے تشبیہ دی جاتی ہے نہ کہ ‏استاد کو شاگرد سے بھئی, تو لہٰذا معلوم ہوا یہاں قرینہ موجود ہے، لہٰذا یہاں پر یہاں پر ابو یوسف بے شک مؤخر ہے لیکن ‏ان کو تشبیہ دی جا رہی ہے، گویا اصل کلام یوں ہے: أبو يوسف مثل أبي حنيفة. یہاں قرینہ موجود ہے، لہٰذا مؤخر بھی کر ‏دیں تو کوئی حرج نہیں‎.‎ دوسری مثال لکھیں بھئی. جس میں قرینہ موجود ہے بھئی‎:‎ بَنُونَا بَنُو أَبْنَائِنَا بَنُونَا بَنُو أَبْنَائِنَا لکھ لیا؟ بَنُونَا بَنُو أَبْنَائِنَا. یاد رکھو یہ ابن جو ہے اس کی جمع بنون بھی آتی ہے، بنون. اور اسی طرح ابن کی جمع ابناء بھی ‏آتی ہے بھئی، ابناء بھی. بَنُونَا بَنُو أَبْنَائِنَا ترجمہ کیا؟ بنونا کیا ترجمہ؟ ہمارے بیٹے. اور بنو ابنائنا کیا ترجمہ؟ ہمارے بیٹوں ‏کے بیٹے. اب بتائیے بھئی، بَنُونَا بَنُو أَبْنَائِنَا اگر بنونا کو ہم مبتدا بنائیں تو معنی کیا ہوگا؟ ہمارے جو بیٹے ہیں، بنو ابنائنا وہ ‏ہمارے بیٹوں کے بھی بیٹے ہیں. ہمارے جو بیٹے ہیں وہ ہمارے بیٹوں کے بھی بیٹے ہیں. یعنی وہ ہمارے پوتے ہیں، ‏ہمارے جو بیٹے ہیں وہ ہمارے پوتے ہیں بھئی. بیٹے کا بیٹا پوتا ہوتا ہے نا؟ بنونا ہمارے جو بیٹے ہیں، بنو ابنائنا وہ ‏ہمارے بیٹوں کے بیٹے ہیں، یعنی ہمارے پوتے ہیں. ہمارے بیٹے ہمارے پوتے ہیں. یوں کرو، اب مبتدا بناؤ بنو ابنائنا کو ‏مبتدا بناؤ اور بنونا کو خبر مقدم بناؤ. بنو ابنائنا ہمارے بیٹوں کے جو بیٹے ہیں، بنونا وہ ہمارے بیٹے ہیں‎.‎ جی، کون سا معنی ٹھیک ہے؟ ہمارے بیٹوں کے جو بیٹے ہیں، یوں کہو ہمارے جو پوتے ہیں وہ بھی ہمارے بیٹے ہی ہیں. ‏دیکھو یہ دوسرا معنی ٹھیک ہے، پہلا معنی کیا تھا؟ ہمارے جو بیٹے ہیں وہ ہمارے پوتے ہیں، بھئی بیٹے پوتے کیسے ہو ‏سکتے ہیں؟ جو آپ کے بیٹے ہیں وہ آپ کے بیٹوں کے بیٹے کیسے ہو سکتے ہیں؟ اور آپ کیا بنو ابنائنا کو مبتدا بناؤ، بنو ‏ابناء ہمارے بیٹوں کے جو بیٹے ہیں، وہ بھی ہمارے ہی بیٹے ہیں، یعنی بیٹوں کی طرح ہی ہیں بھئی‎.‎ تو یہاں پر کوئی اشتباہ نہیں، بنو ابنائنا بے شک مؤخر ہے لیکن معنی سے سمجھ میں آ رہا ہے کہ یہ ہے مبتدا، اور بنونا ‏جو مقدم ہے وہ ہے خبر بھئی. دونوں معرفہ ہوں، جب قرینہ موجود ہو تو بھی مبتدا کو آپ مؤخر کر سکتے ہیں بھئی‎.‎ جیسے ان دونوں مثالوں میں آپ نے دیکھا بھئی. اچھا جی، بات سمجھ میں آ گئی‎.‎ یاد رکھو، ایک اور یہاں چھوٹی سی بات معرفہ کی بات آئی تو یاد رکھنا، معرفہ اسے کہتے ہیں جو کسی معین ذات پر ‏دلالت کرے, مثلاً غلام کا لفظ نکرہ ہے اور میں نے اس کی اضافت کر دی زید کی طرف غلام زيد، تو اب یہ غلام کا لفظ ‏کیا بن گیا؟ یہ معرفہ بن گیا، یہ کیا بن گیا؟ معرفہ بن گیا, جیسے ہی میں نے کہا غلام زيد، زید کا غلام، آپ سمجھ گئے فلاں ‏کی بات ہو رہی ہے، وہ جو زید کا غلام ہے. لیکن یہ اس وقت ہے جب زید کا ایک ہی غلام ہو, اگر زید کے دو یا تین یا ‏زیادہ غلام ہیں، اب میں کہتا ہوں غلام زيد، کوئی آپ کو پتہ چلا کون سا والا غلام مراد ہے؟ نہیں، معلوم ہوا اب معرفہ ‏نہیں‎.‎ توجہ ہے؟ تو زید کا جب ایک غلام ہوگا تو غلام زيد کہنے سے وہ معرفہ وہ متعین ہوا، لیکن زیادہ غلام ہیں تو غلام زيد ‏کہنے سے بھی وہ معرفہ نہ بنا، وہ ابھی بھی نکرہ ہی ہے، ہاں، اس میں تخصیص آ گئی تخصیص آ گئی، باقیوں کے غلام ‏نکل گئے، لیکن زید کے جو دو چار چھ غلام ہیں وہ ابھی بھی اس کے اندر داخل ہیں بھئی، تو بعض اوقات معرفہ کی ‏طرف اضافت کے باوجود بھی لفظ معرفہ نہیں بنتا بھئی. تو بس آپ نے اتنا ذہن میں رکھنا ہے کہ معرفہ اس کو کہتے ہیں ‏جو کسی متعین ذات پر دلالت کرے اور جو کسی متعین ذات پر دلالت نہ کرے وہ معرفہ نہیں ہے. بات سمجھ میں آ گئی؟ ‏چلیے بس بھئی هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ‎.‎