”وَالنَّكِرَةُ إِذَا وُصِفَتْ جَازَ أَنْ تَقَعَ مُبْتَدَأً، نَحْوُ قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَلَعَبْدٌ مُؤْمِنٌ خَيْرٌ مِنْ مُشْرِكٍ﴾، وَكَذَا إِذَا تُخُصِّصَتْ بِوَجْهٍ آخَرَ، نَحْوُ: أَرَجُلٌ فِي الدَّارِ أَمِ امْرَأَةٌ، وَمَا أَحَدٌ خَيْرٌ مِنْكَ، وَشَرٌّ أَهَرَّ ذَا نَابٍ، وَفِي الدَّارِ رَجُلٌ، وَسَلَامٌ عَلَيْكَ“۔ مبتدا اور خبر کی بحث ہم پڑھ رہے تھے۔ آپ نے پڑھا کہ مبتدا اور خبر دو ایسے اسم ہیں جو عواملِ لفظیہ سے خالی ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک مسند الیہ ہوتا ہے اور اس کو مبتدا کہتے ہیں، اور ایک مسند بہ ہوتا ہے اور اس کو خبر کہتے ہیں۔ اور آپ نے یہ بھی پڑھا کہ ان دونوں میں عامل، یعنی مبتدا اور خبر میں عامل معنوی ہے لفظی نہیں۔ کوئی لفظ ان کے اندر عامل نہیں ہوتا جیسے ”ضَرَبَ زَيْدٌ“، یہ زید فاعل ہے اس میں ”ضَرَبَ“ کا لفظ عامل ہے، اس نے کیا کیا ہے کہ زید کو رفع دی ہے۔ ”ضَرَبَ زَيْدٌ“، زید کیا ہے؟ فاعل۔ کوئی آپ سے پوچھے اس کو رفع کس نے دی؟ آپ کیا کہیں گے: ”ضَرَبَ“ فعل نے۔ تو دیکھو یہ فاعل جو ہے اس کے اندر عامل ایک لفظ ہے اور وہ کون سا لفظ؟ ”ضَرَبَ“۔ لیکن مبتدا اور خبر ایسے نہیں ہیں، ان میں کوئی لفظ عامل نہیں ہوتا بلکہ ان میں معنی عامل ہوتا ہے، ایک معنوی چیز ہے اور وہ معنوی چیز کیا ہے؟ ابتداء۔ وہ ابتداء ان میں عامل ہے۔ اور ابتداء میں نے آپ کو بتلایا تھا کسے کہتے ہیں؟ کہ کسی اسم کا خالی ہونا عاملِ لفظی سے اس طور پر کہ اس کی طرف کسی کا اسناد ہو، یا اس کا اسناد کسی کی طرف ہو۔ تو جب یہ تعریف کی تو صرف مبتدا اور خبر اس میں داخل ہوئے، باقی سب معمولات اس میں سے نکل گئے بھئی۔ اور آپ نے پھر یہ بھی پڑھا کہ مبتدا میں اصل کیا ہے کہ وہ معرفہ ہونا چاہیے، اور نیز میں نے بتایا تھا مبتدا میں اصل یہ بھی ہے کہ وہ مقدم ہونا چاہیے۔ اور خبر میں اصل کیا ہے کہ وہ نکرہ ہو اور وہ مؤخر ہو، تو دونوں اصلیں میں نے بتا دیں: مبتدا میں اصل ہے معرفہ ہو اور دوسری اصل ہے کہ مقدم ہو۔ اور خبر میں اصل کیا ہے کہ وہ نکرہ ہو اور دوسری اصل کیا ہے کہ وہ مؤخر ہو۔ اس کے بعد مبتدا اور خبر کی ترکیب ہم نے کی بھئی، اور آپ نے پڑھا کہ مبتدا پر بھی رفع آئے گا اور خبر پر بھی رفع آئے گا۔ اور پھر خبر کبھی کبھار کیا ہوتی ہے؟ جملہ ہوتی ہے، اور جملے کو جب آپ مبتدا سے جوڑ رہے ہیں تو اس میں عائد چاہیے، کوئی ربط دینے والی چیز چاہیے، اور عائد کی سب سے عام صورت کیا ہے؟ کوئی غائب کی ضمیر ہو جو مبتدا کی طرف لوٹے۔ جملہ کسی چیز سے جوڑنا ہو تو عائد چاہیے ہوتا ہے، اسی طرح شبہ جملہ کو بھی جب کسی چیز سے جوڑنا ہو تو عائد چاہیے ہوتا ہے۔ تو اب آگے کہتے ہیں: ”وَالنَّكِرَةُ إِذَا وُصِفَتْ جَازَ أَنْ تَقَعَ مُبْتَدَأً“۔ انہوں نے آپ کو بتلایا کہ مبتدا میں اصل کیا ہے کہ وہ کیا ہونا چاہیے؟ معرفہ۔ تو سوال پیدا ہوا کہ کیا نکرہ مبتدا نہیں بن سکتا؟ تو بتلانے لگے ہیں آپ کو کہ نہیں بھئی، نکرہ صرف عام نکرہ ہو تو پھر تو وہ مبتدا نہیں بن سکتا، البتہ نکرہ کے اندر اگر تخصیص آ جائے تو پھر وہ بھی مبتدا بن سکتا ہے۔ کیا آ جائے؟ تخصیص آ جائے تو وہ بھی مبتدا بن سکتا ہے۔ تخصیص کہتے ہیں کہ لفظ میں جو احتمالات ہیں ان احتمالات کو کم کرنا یا دیگر احتمالات کو ختم کر دینا اور احتمال رہے ہی نہ۔ مثلاً دیکھیے بھئی، میں لفظ ”غُلَامٌ“ بولتا ہوں، دیکھو نکرہ ہے۔ اب فرض کریں دنیا کے اندر ایک لاکھ غلام ہیں، تو ہر ایک کو آپ کہہ سکتے ہیں یہ بھی غلام ہے، یہ بھی غلام ہے، یہ بھی غلام ہے، تو کتنے احتمال آ گئے اس غلام میں؟ ایک لاکھ، کیونکہ ہر ایک پر صادق آ سکتا ہے، ایک لاکھ افراد ہیں تو ہر ایک کیا ہے؟ غلام، تو کتنے احتمال ہو گئے؟ ایک لاکھ۔ لیکن فرض کریں ان میں سے اہل ایمان جو ہیں، مومن غلام جو ہیں، وہ صرف دس ہزار ہیں، کتنے ہیں؟ دس ہزار۔ تو جب میں کہتا ہوں ”غُلَامٌ مُؤْمِنٌ“، مومن غلام، میں صفت لے آیا غلام کی، اب بتائیے، وہ ایک لاکھ غلام تھے، کیا اب یہ ساروں پر صادق آئے گا ”غُلَامٌ مُؤْمِنٌ“؟ نہیں، بلکہ صرف کتنے پر صادق آئے گا؟ اب صرف دس ہزار پر۔ تو دیکھو اس میں صفت لانے کی وجہ سے احتمالات کیا ہو گئے؟ کم ہو گئے۔ تو جب احتمالات کم ہوئے تو اب یہ نکرہ معرفہ کے قریب ہو گیا۔ معرفہ تو نہ بنا لیکن معرفہ کے قریب ہو گیا۔ دیکھو معرفہ کسے کہتے تھے؟ جو کسی معین ذات پر دلالت کرتا ہے، مثلاً میں نے کہا زید، آپ کے تین چار ساتھی ہیں ان میں سے ایک کا نام زید ہے، جب میں نے کہا زید، آپ کے ذہن میں کس کی صورت آئی؟ زید ہی کی صورت آئی، یعنی ایک معین ذات کی صورت آئی، کسی دوسرے کی صورت نہیں آئی۔ تو معرفہ جو ہے وہ معین ذات پر دلالت کرتا ہے، اس میں اور احتمالات ہوتے ہی نہیں۔ اور یہ غلام کا لفظ جب اس کی صفت نہیں تھی تو اس میں کتنے احتمالات تھے؟ ایک لاکھ احتمالات تھے، تو معرفہ میں تو ایک ہی احتمال ہوتا ہے دوسرا احتمال ہوتا ہی نہیں، زید سے زید ہی مراد ہے کوئی عمرو اور بکر مراد نہیں۔ تو لہٰذا یہ نکرہ معرفہ سے بہت دور تھا، لیکن جب اس میں احتمالات کم ہو گئے، جیسے جیسے احتمالات کم ہوتے جائیں گے یہ معرفہ کے قریب آتا جائے گا۔ تو جتنے احتمالات کم ہوتے جائیں گے یہ معرفہ کے قریب آتا جائے گا۔ لہٰذا جب ہم صفت لے کر آئے، ”غُلَامٌ مُؤْمِنٌ“، تو احتمالات کیا ہوئے؟ کم ہو گئے۔ جب کم ہوئے تو یہ نکرہ کس کے قریب آ گیا؟ معرفہ کے قریب آ گیا۔ اور ضابطہ ہے: ”قَرِيبٌ إِلَى الشَّيْءِ فِي حُكْمِ الشَّيْءِ“ ہوا کرتی ہے، جو چیز جس چیز کے قریب ہو اسی کے حکم میں ہوتی ہے، اسی کے درجے میں ہوتی ہے۔ جو چیز جس چیز کے قریب ہو اسی کے حکم میں ہوتی ہے، اسی کے درجے میں ہوتی ہے۔ تو لہٰذا یہ نکرہ معرفہ بنا تو نہیں لیکن معرفہ کے کیا ہوا؟ قریب ہو گیا۔ جب معرفہ کے قریب ہوا تو معرفہ کے درجے میں ہوا، جب معرفہ کے درجے میں ہوا تو معرفہ تو مبتدا بن سکتا ہے، لہٰذا اب یہ نکرہ مخصصہ بھی مبتدا بن سکتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ دیکھو مثال سے اس کی اور وضاحت ہو جائے گی، جیسے دیکھو بادشاہ ہوتا ہے یا گورنر ہوتا ہے، بادشاہ یا گورنر، اور ان کا سیکرٹری ہوتا ہے، یاد رکھو یہ جو ان کا سیکرٹری ہوتا ہے وہ بھی اس کا بھی انہی کی طرح حکم چلتا ہے، کیونکہ بادشاہ کے پاس جس نے ملنے بھی جانا ہے، براہ راست تو نہیں جا سکتا، کس سے وقت لینا پڑے گا؟ سیکرٹری سے وقت لینا پڑے گا، اور وہ ملاقات کروائے گا تو ملاقات ہو سکتی ہے، وہ نہیں کرواتا تو ملاقات بہت مشکل ہے۔ تو لہٰذا یہ سیکرٹری اس کا حکم بھی پھر کس کی طرح چلتا ہے؟ بادشاہ کی طرح، لوگ اس سے ڈرتے ہیں، اس کی بات مانتے ہیں، اس کے احکامات پر عمل کرتے ہیں۔ تو دیکھو، سیکرٹری بادشاہ کے قریب ہے تو یہ بھی کس کی طرح ہے گویا؟ بادشاہ ہی کی طرح ہے۔ تو ”قَرِيبٌ إِلَى الشَّيْءِ فِي حُكْمِ الشَّيْءِ“ ہوتی ہے۔ ضابطہ یاد کر لیں بھئی: ”قَرِيبٌ إِلَى الشَّيْءِ فِي حُكْمِ الشَّيْءِ“ ہوتی ہے، جو چیز جس چیز کے قریب ہو اسی کے حکم میں ہوتی ہے، اسی کی طرح ہوتی ہے۔ تو یہاں پر بھی جب نکرہ کے اندر احتمالات کم ہو گئے، یہ معرفہ تو نہ بنا لیکن معرفہ کے قریب ہو گیا، اور جب قریب ہو گیا تو ”قَرِيبٌ إِلَى الشَّيْءِ فِي حُكْمِ الشَّيْءِ“ ہوتی ہے، تو یہ نکرہ بھی کس کے حکم میں ہو گیا؟ معرفہ کے حکم میں۔ جب معرفہ کے حکم میں ہوا تو معرفہ تو مبتدا بنتا ہے، لہٰذا اب یہ بھی کیا بن سکتا ہے؟ مبتدا بن سکتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَالنَّكِرَةُ إِذَا وُصِفَتْ جَازَ أَنْ تَقَعَ مُبْتَدَأً“، اور نکرہ کی جب صفت لائی جائے تو جائز ہے کہ یہ بھی مبتدا واقع ہو جائے، ”نَحْوُ قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَلَعَبْدٌ مُؤْمِنٌ خَيْرٌ مِنْ مُشْرِكٍ﴾“۔ ”وَلَعَبْدٌ“، واؤ ہے عطف کے لیے، اور لام ہے تاکید کے لیے۔ جیسے ان اور ان سے کلام میں تاکید پیدا ہو جاتی ہے اسی طرح لام بھی کس لیے آتا ہے؟ تاکید کے لیے۔ اور آگے ”عَبْدٌ“ یہ مبتدا ہے، یہ کیا ہے؟ مبتدا، اسی لیے مرفوع ہے اور مرفوع کون سا ہے؟ لفظاً۔ اور ”عَبْدٌ“ یہ تو ضمیر نہیں، اس میں اشارہ بھی نہیں، اس میں موصول بھی نہیں، کسی کا نام بھی نہیں، اس پر الف لام بھی نہیں، اور یہ ان میں سے کسی کی طرف مضاف بھی نہیں، تو سوال پیدا ہوا یہ تو نکرہ ہے ”عَبْدٌ“، اور جب نکرہ ہے تو یہ مبتدا کیسے بن گیا؟ تو جواب یہ ابھی صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتا دیا کہ نکرہ کی جب صفت لائی جائے تو پھر وہ مبتدا بن سکتا ہے، اور یہاں بھی ”عَبْدٌ“ کی صفت کیا لائی گئی؟ ”مُؤْمِنٌ“۔ تو لہٰذا ”عَبْدٌ“ موصوف مرفوع تھا تو ”مُؤْمِنٌ“ صفت بھی کیا آئی؟ مرفوع آئی۔ تو ”عَبْدٌ مُؤْمِنٌ“ کیا ہوا؟ مبتدا، اور ”خَيْرٌ مِنْ مُشْرِكٍ“ یہ خبر ہے بھئی۔ ”وَلَعَبْدٌ مُؤْمِنٌ خَيْرٌ مِنْ مُشْرِكٍ“، اور البتہ مومن غلام جو ہے وہ مشرک سے بہتر ہے۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ ”وَكَذَا إِذَا تُخُصِّصَتْ بِوَجْهٍ آخَرَ“، اور اسی طرح جب نکرہ میں تخصیص پیدا کر دی جائے کسی دوسرے طریقے سے۔ بھئی یاد رکھیے، ایک طریقہ انہوں نے آپ کو بتلا دیا کہ نکرہ مبتدا بن سکتا ہے جب اس میں تخصیص پیدا کر دی جائے، اور تخصیص کا ایک طریقہ انہوں نے آپ کو بتلا دیا کہ نکرہ کی صفت لے آؤ تو اس میں تخصیص پیدا ہو جاتی ہے، اور اسی طرح اگر کسی اور طریقے سے نکرہ کے اندر تخصیص پیدا کر دی جائے تو وہ بھی مبتدا بن سکتا ہے، کیونکہ جب نکرہ میں تخصیص پیدا ہو جائے گی تو وہ کس کے قریب ہو جائے گا؟ معرفہ کے، اور ”قَرِيبٌ إِلَى الشَّيْءِ فِي حُكْمِ الشَّيْءِ“ ہوتی ہے، تو لہٰذا وہ بھی پھر مبتدا بن سکتا ہے۔ اور تخصیص کے اور کون کون سے طریقے ہیں اب وہ آپ کو بتانے لگے ہیں۔ تو یاد رکھیے بھئی، یہ بلکہ نام لکھ لیں بھئی، نام لکھ لیں اپنی کاپیوں پر: تخصیص کے چھ طریقے ہیں بھئی۔ تخصیص کے چھ طریقے ہیں: نمبر ایک: ”تَخْصِيصٌ بِالصِّفَةِ“۔ نمبر دو: ”تَخْصِيصٌ بِعِلْمِ الْمُتَكَلِّمِ“۔ نمبر تین: ”تَخْصِيصٌ بِالْعُمُومِ“۔ نمبر چار: ”تَخْصِيصٌ بِالْعُدُولِ مِنَ الْجُمْلَةِ الْفِعْلِيَّةِ إِلَى الْجُمْلَةِ الِاسْمِيَّةِ“۔ نمبر پانچ: ”تَخْصِيصٌ بِتَقْدِيمِ الْخَبَرِ“۔ نمبر چھ: ”تَخْصِيصٌ بِنِسْبَةٍ إِلَى الْمُتَكَلِّمِ“۔ لکھ لیا بھئی؟ یہ ہیں تخصیص کے چھ طریقے بھئی: پہلا طریقہ کیا؟ ”تَخْصِيصٌ بِالصِّفَةِ“، دوسرا ہے ”تَخْصِيصٌ بِعِلْمِ الْمُتَكَلِّمِ“، تیسرا ہے ”تَخْصِيصٌ بِالْعُمُومِ“، چوتھا ہے ”تَخْصِيصٌ بِالْعُدُولِ مِنَ الْجُمْلَةِ الْفِعْلِيَّةِ إِلَى الْجُمْلَةِ الِاسْمِيَّةِ“، اگلا طریقہ ہے ”تَخْصِيصٌ بِتَقْدِيمِ الْخَبَرِ“، اور آخری طریقہ ہے ”تَخْصِيصٌ بِنِسْبَةٍ إِلَى الْمُتَكَلِّمِ“۔ یہ چھ طریقے ہیں۔ تو ان چھ طریقوں میں سے کسی طریقے کے ذریعے بھی اگر نکرہ میں کیا پیدا کر دی جائے؟ تخصیص، تو پھر وہ مبتدا بن سکتا ہے بھئی۔ ایک طریقہ آپ نے پڑھ لیا تخصیص بالصفت والا کہ نکرہ کی صفت لے آؤ تو پھر اس میں تخصیص آ جائے گی اور وہ مبتدا بن سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا إِذَا تُخُصِّصَتْ بِوَجْهٍ آخَرَ نَحْوُ: أَرَجُلٌ فِي الدَّارِ أَمِ امْرَأَةٌ، وَمَا أَحَدٌ خَيْرٌ مِنْكَ، وَشَرٌّ أَهَرَّ ذَا نَابٍ، وَفِي الدَّارِ رَجُلٌ، وَسَلَامٌ عَلَيْكَ“۔ اب وہ طریقوں کے نام نہیں لیں گے، میں نے آپ کو نام لکھوا دیے، صاحبِ ہدایت النحو مثالیں ذکر کر دیں گے۔ جیسے دیکھو بھئی: ”أَرَجُلٌ فِي الدَّارِ أَمِ امْرَأَةٌ“، یہ ہے دوسرے کی مثال ”تَخْصِيصٌ بِعِلْمِ الْمُتَكَلِّمِ“ کی۔ اور اگلی مثال ہے ”وَمَا أَحَدٌ خَيْرٌ مِنْكَ“، یہ ہے ”تَخْصِيصٌ بِالْعُمُومِ“ کی مثال۔ ”وَشَرٌّ أَهَرَّ ذَا نَابٍ“، یہ ہے ”تَخْصِيصٌ بِالْعُدُولِ مِنَ الْجُمْلَةِ الْفِعْلِيَّةِ إِلَى الْجُمْلَةِ الِاسْمِيَّةِ“ کی مثال۔ ”وَفِي الدَّارِ رَجُلٌ“، یہ ہے ”تَخْصِيصٌ بِتَقْدِيمِ الْخَبَرِ“ کی مثال۔ ”وَسَلَامٌ عَلَيْكَ“، یہ ہے ”تَخْصِيصٌ بِنِسْبَةٍ إِلَى الْمُتَكَلِّمِ“ کی مثال۔ جس ترتیب سے میں نے لکھوائے اسی ترتیب سے یہ مثالیں ہیں بھئی۔ اب آئیے ذرا پہلی مثال پر: ”أَرَجُلٌ فِي الدَّارِ أَمِ امْرَأَةٌ“۔ یہ کون سی تخصیص ہے؟ ”تَخْصِيصٌ بِعِلْمِ الْمُتَكَلِّمِ“۔ یہاں تخصیص آئی ہے متکلم کے علم کی وجہ سے۔ کس کی وجہ سے؟ جو بات کرنے والا ہے اس کو علم ہے اس وجہ سے تخصیص آ گئی۔ کس طرح علم ہے؟ بھئی یاد رکھیے یہ وہاں پر آئے گی جہاں ہمزۂ استفہام استعمال ہو امِ متصلہ کے ساتھ۔ ہمزۂ استفہام کس کے ساتھ؟ امِ متصلہ کے ساتھ۔ بھئی دیکھیے ذرا اس مثال کو دیکھو: ”أَرَجُلٌ فِي الدَّارِ أَمِ امْرَأَةٌ“۔ ”أَرَجُلٌ“، رجل تو آدمی کو کہتے ہیں، یہ جو ہمزہ شروع میں آیا نا ”أَ“، یہ استفہام کے لیے ہے سوال کے لیے، اس کا کیا معنی ہے؟ کیا، کیا۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ کیا ہے؟ ہمزۂ استفہام ہے، اور اس کے ساتھ آگے دیکھیے ام کا لفظ آ رہا ہے: ”أَمْ“۔ یہ ام جو ہے یاد رکھیے دو قسم پر ہے: ایک امِ متصلہ ہے اور ایک امِ منقطعہ ہے۔ متصلہ جڑا ہوا، منقطعہ کٹا ہوا۔ یہ دو قسمیں ہیں ام کی، ام ایک متصلہ ہے اور ایک منقطعہ۔ یہ صاحبِ ہدایت النحو آگے کتاب میں جا کر تفصیل اس کی بیان کریں گے۔ تو یہاں میں صرف امِ متصلہ کو بیان کر دیتا ہوں۔ یہاں کیا یہ تخصیص کہاں آئے گی تخصیص بعلم المتکلم؟ جہاں ہمزۂ استفہام آئے کس کے ساتھ؟ امِ متصلہ کے ساتھ۔ دہرائیں بھئی زبان سے: تخصیص بعلم المتکلم کہاں آتی ہے جہاں کیا آئے؟ ہمزۂ استفہام کس کے ساتھ؟ امِ متصلہ کے ساتھ۔ دیکھو ہمزۂ استفہام بھی ہے اس جملے میں اور امِ متصلہ بھی ہے، تو جہاں بھی ہمزۂ استفہام امِ متصلہ کے ساتھ آئے گا تو وہاں کیا آ جائے گی؟ تخصیص آ جائے گی، اور کس کی وجہ سے؟ متکلم کے علم کی وجہ سے کہ اس کو علم ہے۔ یاد رکھیے یہ امِ متصلہ جو ہے نا اس کے ذریعے دو چیزوں میں سے ایک کی تعیین کا سوال کیا جاتا ہے کہ متعین کر دو ان میں سے کون سا ہے، مجھے پتہ نہیں، ہیں یہی دو لیکن ان دو میں سے کون سا ہے مجھے پتہ نہیں۔ جیسے دیکھیے اس شخص نے سوال کیا: ”أَرَجُلٌ فِي الدَّارِ أَمِ امْرَأَةٌ“، کیا آدمی ہے گھر میں یا عورت؟ تو دیکھو یہ ہمزۂ استفہام آیا امِ متصلہ کے ساتھ، اور معلوم ہوا متکلم جو ہے اس کو اتنا پتہ ہے کہ گھر کے اندر مرد یا عورت ہی میں سے کوئی ہے، کوئی تیسری چیز بکری، گائے، بیل وغیرہ کوئی چیز اور کوئی چیز نہیں ہے، انہی دو میں سے ایک چیز ہے۔ اتنا اس کو پتہ ہے لیکن ان دو میں سے علی التعیین اس کو پتہ نہیں ہے کہ مرد ہے یا عورت۔ اب وہ یہ سوال کر رہا ہے کہ ذرا آپ تعیین کر کے مجھے بتا دیں کہ مرد ہے یا عورت۔ لہٰذا اگر کسی نے آپ سے سوال کیا: ”أَرَجُلٌ فِي الدَّارِ أَمِ امْرَأَةٌ“، کیا گھر میں آدمی ہے یا عورت؟ آپ جواب میں کہیں نعم، ہاں، تو یہ جواب صحیح نہیں ہے آپ کا۔ نعم یہاں جواب میں نہیں لا سکتے کیونکہ نعم کا کیا معنی ہے؟ ہاں۔ گویا آپ اس کی تائید کر رہے ہیں کہ ہاں مرد یا عورت ہی میں سے کوئی ہے۔ بھئی یہ اس نے پوچھا ہی نہیں، یہ تو اس کو خود پتہ ہے کہ مرد یا عورت میں سے ہے، تو پھر ہاں کہنے کا کیا معنی؟ بلکہ یہاں تعیین کر کے جواب دینا پڑے گا کہ ”رَجُلٌ“ یا ”امْرَأَةٌ“ کہنا پڑے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو امِ متصلہ جو ہے اس کے جواب میں نعم نہیں آتا بلکہ کیا آتا ہے؟ تعیین کی جاتی ہے کسی ایک چیز کی تعیین۔ نعم کیوں نہیں آتا اس کے جواب میں؟ کیونکہ نعم کا مطلب ہے ہاں، یعنی دو چیزوں میں سے ایک چیز ہے، تو یہ تو اس کو پہلے ہی پتہ ہے اس کا سوال ہی بتلا رہا ہے کہ اتنا اس کو پتہ ہے کہ ہیں انہی دو چیزوں میں سے کوئی تیسری چیز نہیں۔ تو اس سے کوئی فائدہ ہو گا اس کو نعم کہیں گے؟ نہیں، یہ بات تو اس کو پہلے بھی پتہ تھی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو ہمزۂ استفہام مع امِ متصلہ کے ساتھ جب بھی آئے گا وہاں کیا آ جائے گی؟ تخصیص، اور یہ تخصیص کس وجہ سے آئی؟ متکلم کے علم کی وجہ سے کہ متکلم کو علم ہے اسے پتہ ہے انہی دو چیزوں میں سے کوئی ایک ہے تیسری کوئی چیز نہیں، اب وہ صرف تعیین چاہتا ہے کہ تعیین کر دو کون سی چیز ہے ان میں سے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ لہٰذا یہ جو ہمزۂ استفہام کے بعد ”رَجُلٌ“ آ رہا ہے، یہ ہے مبتدا، یہ کیا ہے؟ مبتدا، اور ”أَمِ امْرَأَةٌ“ یہ اس کا اسی پر عطف ہے بھئی۔ تو یہ ”رَجُلٌ“ مبتدا ہے، تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیسے مبتدا بن گیا؟ تو آپ کیا جواب دیں گے کہ یہاں اس نکرہ میں کیا آ گئی ہے؟ تخصیص، اور کس کی وجہ سے؟ متکلم کے علم کی وجہ سے۔ اگلی مثال دیکھیے: ”وَمَا أَحَدٌ خَيْرٌ مِنْكَ“۔ ما نفی کے لیے ہے، ”أَحَدٌ“ مبتدا ہے اور ”خَيْرٌ مِنْكَ“ اس کی خبر ہے۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ ”أَحَدٌ“ یہ تو نکرہ ہے، یہ نہ ضمیر ہے، نہ اسم اشارہ ہے، نہ اسم موصول ہے، نہ نام ہے کسی کا، نہ معرف باللام ہے، نہ ان میں سے کسی کی طرف مضاف ہے، تو یہ تو نکرہ ہے یہ کیسے مبتدا بن گیا؟ تو آپ کیا جواب دیں گے کہ یہاں تخصیص آئی کس کی وجہ سے؟ عموم کی وجہ سے، کس کی وجہ سے؟ عموم کی وجہ سے۔ تو اس پر اشکال ہوتا ہے کہ بھئی تخصیص اور عموم تو ایک دوسرے کی ضد ہیں، جہاں تخصیص ہے وہاں عموم نہیں جہاں عموم ہے وہاں تخصیص نہیں، پھر کیا معنی؟ تخصیص آئی عموم کی وجہ سے یہ تو ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ بھئی دیکھو جیسے میں نے غلام کا لفظ بولا تھا، کتنے غلاموں پر صادق آ رہا تھا؟ ایک لاکھ غلام تھے ہر ایک پر صادق آ رہا ہے، تو دیکھو ایک لاکھ احتمالات، گویا اس میں عموم تھا، غلام میں کیا تھا؟ عموم تھا، اور پھر جب میں نے کہا ”غُلَامٌ مُؤْمِنٌ“ اب کتنے پر صادق آ رہا ہے؟ دس ہزار پر، تو اب دیکھو تخصیص آ گئی، کیا آ گئی؟ تخصیص۔ تو عموم اور تخصیص تو ایک دوسرے کی ضد ہیں، عموم کا مطلب ہے زیادہ افراد ہوں اور تخصیص کا معنی افراد کم ہوتے چلے جائیں، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ تو ایک دوسرے کی ضد ہیں، تو کیا معنی تخصیص بالعموم کا؟ تو جواب یاد رکھنا کہ بھئی تخصیص کی تعریف آپ بھول گئے شاید، ہم نے کیا تعریف کی تھی تخصیص کی؟ دیگر احتمالات کو کم کرنا یا ختم کرنا، دیگر احتمالات کو کم کرنا یا ختم کر دینا، یہ ہے تخصیص۔ اور یہاں اور سب احتمالات ختم ہو گئے اس لیے تخصیص آ گئی۔ دیکھو ذرا اور وضاحت کرتا ہوں، فرض کریں آپ کے درجے میں چالیس لڑکے ہیں، چالیس لڑکے ہیں۔ میں آپ سے کہتا ہوں: ”أَحَدٌ مِنْهُمْ خَيْرٌ مِنْكَ“، ان میں سے ایک جو ہے وہ آپ سے بہتر ہے۔ کون سا ایک بہتر ہے میں نے تعیین نہیں کی، البتہ ایک آپ ہیں اور انتالیس ساتھی اور بھی ہیں آپ کے، تو کوئی ایک ان انتالیس میں سے میں نے کیا کہا آپ سے بہتر ہے، اور وہ کوئی ایک پہلا بھی ہو سکتا ہے، دوسرا بھی ہو سکتا ہے، تیسرا، چوتھا، پانچواں، چھٹا، ساتواں، گویا اس ”أَحَدٌ مِنْهُمْ“ میں انتالیس احتمال ہیں۔ میں نے کیا کہا: ان میں سے کوئی ایک آپ سے بہتر ہے، تعیین کی کون سا والا؟ نہیں، اور آپ کے علاوہ کتنے ساتھی ہیں؟ انتالیس، تو ہر ایک میں احتمال ہے کہ نہیں کہ ہو سکتا ہے یہ پہلا والا ہو، یا یہ دوسرا ہو، یا تیسرا ہو، تو گویا ”أَحَدٌ مِنْهُمْ“ میں کتنے احتمال آ گئے؟ انتالیس احتمال آ گئے، کتنے آ گئے؟ انتالیس احتمال آ گئے۔ اب میں یوں کرتا ہوں، اس پر حرفِ نفی لے آتا ہوں، میں کہتا ہوں: ”مَا أَحَدٌ خَيْرٌ مِنْكَ“، ان میں سے کوئی ایک بھی آپ سے افضل نہیں ہے۔ دیکھو ”أَحَدٌ“ نکرہ تھا میں اس پر نفی لے آیا، اور نکرہ پر نفی آ جائے تو اس میں عموم آ جاتا ہے۔ پہلے ”أَحَدٌ“ میں کتنے احتمال تھے؟ انتالیس، اب جب میں نے کہا ”مَا أَحَدٌ“ کوئی ایک بھی نہیں ہے، گویا میں نے ان ساروں کو اکٹھا کیا ان کی ایک ہی گٹھڑی بنائی یا ایک ہی پیکٹ بنایا اور سب کی اکٹھی نفی کر دی، کوئی ان میں سے کوئی ایک بھی آپ سے افضل نہیں ہے۔ اب اس میں اور کوئی احتمال ہے ہی نہیں، ساروں کو میں اکٹھا کیا کر رہا ہوں؟ رد کر رہا ہوں، سب سے کیا کر رہا ہوں اکٹھی؟ نفی، سب سے اکٹھی نفی کر رہا ہوں۔ تو پہلے اس ”أَحَدٌ“ میں انتالیس احتمال تھے اب ایک ہی احتمال ہے اور تو احتمال ہی ختم ہو گئے، ساروں کی اکٹھے میں نے کیا کر دی؟ نفی کر دی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو دیکھو تخصیص کی بھی میں نے کیا تعریف کی تھی: دیگر احتمالات کو کم کرنا یا ختم کرنا، اور جب نکرہ پر نفی آ جائے تو دیگر احتمالات سارے کیا ہو جاتے ہیں؟ ختم، ساروں کی اکٹھی نفی ہو جاتی ہے۔ یہ نہیں کہ اب اس میں دو، تین یا چار احتمال ہیں، ساروں کی کیا کر دی؟ نفی کر دی، ایک ہی معنی بن گیا سب کا اکٹھے ہی نفی کر دی۔ تو نکرہ جب تحت النفی آ جائے یعنی نکرہ کے اوپر کیا داخل ہو جائے؟ حرفِ نفی، اس میں کیا پیدا ہو جاتا ہے؟ عموم، جب عموم پیدا ہوا تو باقی احتمالات ختم ہو گئے، اور تخصیص بھی کسے کہتے تھے: دیگر احتمالات کو کم کرنا یا ختم کر دینا، تو کیا آ گئی؟ تخصیص آ گئی، جب تخصیص آ گئی تو اب اس کا مبتدا بننا صحیح ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو ”مَا أَحَدٌ خَيْرٌ مِنْكَ“، ما یہ حرفِ نفی ہے مشابہ بلیس، ”أَحَدٌ“ یہ ہے مبتدا اور ”خَيْرٌ مِنْكَ“ اس کی خبر ہے۔ یہ یاد رکھیے یہ بنو تمیم کے مذہب پر یہ مثال ذکر کی مصنف نے، جبکہ باقی عرب کے نزدیک ”مَا أَحَدٌ خَيْرًا مِنْكَ“ ہوتا ہے، ما مشابہ بلیس اپنے اسم کو رفع دیتا ہے اور اپنی خبر کو نصب دیتا ہے، ”أَحَدٌ“ اس پر رفع آئے گا اور ”خَيْرًا“ اس پر نصب آئے گا، لیکن بنو تمیم والے اس ما کو عامل بناتے ہی نہیں وہ عمل کرتے ہی نہیں، لہٰذا ”أَحَدٌ خَيْرٌ مِنْكَ“ یہ مبتدا خبر تھے ما کے آنے کے بعد بھی کیا ہیں؟ مبتدا اور خبر ہی ہیں۔ تو ”أَحَدٌ“ مبتدا ہے اور ”خَيْرٌ مِنْكَ“ اس کی خبر ہے، کوئی ایک بھی تم سے افضل نہیں ہے، تم سے بہتر نہیں ہے۔ ”وَشَرٌّ أَهَرَّ ذَا نَابٍ“، یہ چوتھی قسم آ گئی بھئی: ”تَخْصِيصٌ بِالْعُدُولِ مِنَ الْجُمْلَةِ الْفِعْلِيَّةِ إِلَى الْجُمْلَةِ الِاسْمِيَّةِ“۔ اصل میں یوں تھا کلام: ”أَهَرَّ شَرٌّ ذَا نَابٍ“، اس ”شَرٌّ“ کو بعد میں لے آؤ، ”أَهَرَّ“ کو مقدم کر دو: ”أَهَرَّ شَرٌّ ذَا نَابٍ“۔ ”أَهَرَّ“ بھنکوایا شر نے ہی ذاناب کچلی کے دانتوں والے کو، یعنی کتے کو۔ کس کو؟ کتے کو۔ اچھا اس کا معنی سمجھ لیں پہلے: یاد رکھیے ”أَهَرَّ“ یہ ہریر سے ہے، ہا دو آنکھوں والی، را، یا، را۔ یہ کتے کے بھونکنا ہے کتے کی آواز ہے، لیکن یہ عام آواز نہیں۔ کبھی اگر آپ نے مشاہدہ کیا ہو شدید سردی کے دنوں میں کتا جب اس کو شدید سردی لگتی ہے وہ جہاں کہیں اپنی جگہ پر جھاڑیوں وغیرہ میں بیٹھا ہوا ہے اور شدید سردی ہو، تو وہ ایک لمبی سی چیخ کی طرح چلانے کی آواز وہ نکالتا ہے بھئی، بھونکتا نہیں ہے بلکہ چلانے کے جیسی آواز، کبھی غور کیا ہے؟ لمبی آواز ہوتی ہے، بھونکنے جیسی نہیں۔ یا جیسے اور دیکھ لیں، کتے کو کوئی مارے اور کتا ڈر جاتا ہے تو وہ ایک لمبی آواز نکالتے ہوئے بھاگ جاتا ہے۔ تو یہ جو لمبی چلانے کی یا چیخنے کی سی آواز کتا نکالتا ہے اس کو ہریر کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ ہریر۔ اور یاد رکھیے یہ آواز کتا اس وقت نکالتا ہے جب کوئی اتنی بڑی تکلیف ہو جس کا وہ مقابلہ نہ کر سکے۔ جس کا مقابلہ کر رہا ہے تب تو وہ بھونکے گا یا غرائے گا، لیکن جب وہ بھاگنے لگا ہے تو کس طرح کی آواز نکالے گا؟ چلانے کی سی آواز نکالے گا لمبی سی اور بھاگے گا۔ تو یہ اس موقع پر کتا آواز نکالتا ہے جب ایسا شر ہو جس کا وہ مقابلہ نہ کر سکے، اس کو ہریر کہتے ہیں۔ اور اب دوسرا لفظ سمجھ لیں: ”ذَا نَابٍ“۔ ذو مال، کیا معنی ذو مال کا؟ مال والا۔ اسی طرح ہے ذو ناب، اور ناب کچلی کے دانت کو کہتے ہیں۔ بھئی یہ آپ اپنے سامنے والے چار دانت اوپر کے جو ہیں سامنے والے چار دانت، ان کے دائیں اور بائیں جو پانچواں چھٹا دانت ہے دونوں طرف، یہ نوک دار ہیں بھئی، ان کو کہتے ہیں کچلی کے دانت۔ تو ذو ناب سے کون مراد ہے؟ کچلی کے دانتوں والا، اور مراد اس سے کتا ہے، کتے کو ذو ناب کہتے ہیں۔ اور یہاں پر حالتِ نصبی میں ہے: ”ذَا نَابٍ“۔ تو دیکھیے اب آئیے جملے پر: ”شَرٌّ أَهَرَّ ذَا نَابٍ“، شر ہی نے بھنکوایا کتے کو۔ یہ کس موقع پر بولتے ہیں؟ جب کوئی بہت بڑا شر ہو کہ جب کتا اس کا مقابلہ نہ کر سکے، یا اسی طرح کوئی انسان بھی ہو اس پر بڑی تکلیف آ جائے اتنی بڑی آفت تکلیف آ جائے کہ وہ اس کا مقابلہ نہ کر سکے تو عرب اس موقع پر کہتے ہیں: ”شَرٌّ أَهَرَّ ذَا نَابٍ“، شر ہی نے کتے کو بھنکوایا ہے، یعنی ایسا اتنا بڑا شر ہے کہ یہ شخص اس کا مقابلہ کرنے سے عاجز ہے اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ تو یہ اصل میں تھا ”أَهَرَّ شَرٌّ ذَا نَابٍ“، بھنکوایا شر نے کتے کو۔ پھر کیا کیا گیا؟ ”أَهَرَّ“ فعل، ”شَرٌّ“ اس کے لیے فاعل، اور ”ذَا نَابٍ“ اس کے لیے مفعول، فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ۔ پھر اس ”شَرٌّ“ کو اٹھا کر جو کہ فاعل تھا اس ”أَهَرَّ“ پر مقدم کر دیا گیا، اور فاعل تو کبھی بھی فعل پر مقدم نہیں ہو سکتا، لیکن اس کو اٹھا کر مقدم کر دیا، جب مقدم کیا اب یہ فاعل نہ رہا اب یہ مبتدا بن گیا، کیا بن گیا؟ مبتدا۔ اور ”أَهَرَّ“ کے اندر اب ضمیر نکالنی پڑی: ”هُوَ“ ضمیر جو لوٹ رہی ہے ”شَرٌّ“ کو۔ تو اب ترکیب کیا ہوئی؟ ”شَرٌّ“ مرفوع لفظاً مبتدا، ”أَهَرَّ“ فعل، اس کے اندر ”هُوَ“ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو راجع ہے ”شَرٌّ“ کو یہ عائد آ گیا، اور ”ذَا“ منصوب لفظاً مضاف، ”نَابٍ“ مجرور لفظاً مضاف الیہ، مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر مفعول ہوا ”أَهَرَّ“ کے لیے۔ ”أَهَرَّ“ فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر خبر، اور عائد ہم نے بتا دیا، تو دیکھو پورا جملہ خبر ہے۔ مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ اب آپ سے کوئی پوچھے کہ ”أَهَرَّ ذَا نَابٍ“ اس پورے جملے کا کیا اعراب ہے؟ آپ کہیں گے کہ یہ پورا جملہ مرفوع ہے، کیوں مرفوع ہے؟ کیونکہ یہ خبر ہے، اور خبر کیا ہوتی ہے؟ مرفوع، لیکن یہ مرفوع محلاً ہے، کیوں محلاً ہے؟ کیونکہ یہ جملہ ہے اور جملہ بھی مبنیات میں سے ہے۔ تو لہٰذا یہ پورا جملہ خبر بن رہا ہے۔ تو اس جملے کا معنی ہوتا ہے کہ شر ہی نے کتے کو بھنکوایا۔ بھئی پہلے معنی کیا تھا؟ ”أَهَرَّ شَرٌّ ذَا نَابٍ“، بھنکوایا شر نے کتے کو۔ اب شر کو مقدم کر دیا اب معنی ہوا، اب تخصیص آ گئی: شر ہی نے کتے کو بھنکوایا۔ تخصیص آئی یا نہیں آئی؟ اب یہ معنی نہیں کرنا شر نے کتے کو بھنکوایا، اب معنی کیا ہے: شر ہی نے، معلوم ہوا اور کسی چیز نے نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ تخصیص آ گئی اس کے اندر۔ لہٰذا اس لیے ”شَرٌّ“، کوئی آپ سے سوال کرے ”شَرٌّ“ تو نکرہ ہے تو یہ کیسے مبتدا بن گیا؟ آپ کیا کہیں گے کہ اس میں تخصیص آ گئی ہے، کس طرح تخصیص آئی ہے کہ یہ جملہ فعلیہ تھا پہلے، ”شَرٌّ“ مؤخر تھا، ”أَهَرَّ“ مقدم تھا یہ فاعل بن رہا تھا یہ جملہ فعلیہ تھا، اب یہ کیا بن رہا ہے؟ جملہ اسمیہ، ”شَرٌّ“ مبتدا ہے اور ”أَهَرَّ ذَا نَابٍ“ اس کی خبر، اور اس جو عدول کیا جملہ فعلیہ سے جملہ اسمیہ کی طرف تو اس کے اندر تخصیص آ گئی بھئی۔ چلیے بس کرتے ہیں، بس باقی پھر پڑھیں گے ان شاء اللہ۔ خوب تکرار کرو بھئی اس کا، خوب تکرار کرو، یہ ذرا مشکل جگہ ہے۔ چلیے بس بھئی، هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ، وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔