وَالتَّأْنِيثُ بِالْأَلِفِ الْمَقْصُورَةِ كَحُبْلَى وَالْمَمْدُودَةِ كَحَمْرَاءَ مُمْتَنِعٌ صَرْفُهُمَا الْبَتَّةَ، لِأَنَّ الْأَلِفَ قَائِمٌ مَقَامَ السَّبَبَيْنِ: التَّأْنِيثُ وَلُزُومُهُ. أَمَّا الْمَعْرِفَةُ: فَلَا يُعْتَبَرُ فِي مَنْعِ الصَّرْفِ مِنْهَا إِلَّا الْعَلَمِيَّةُ، وَتَجْتَمِعُ مَعَ غَيْرِ الْوَصْفِ. أَمَّا الْعُجْمَةُ: فَشَرْطُهَا أَنْ تَكُونَ عَلَمًا فِي الْعُجْمَةِ، وَزَائِدَةً عَلَى ثَلَاثَةِ أَحْرُفٍ كَإِبْرَاهِيمَ، أَوْ ثُلَاثِيًّا مُتَحَرِّكَ الْأَوْسَطِ كَشَتَرَ، فَلِجَامٌ مُنْصَرِفٌ لِعَدَمِ الْعَلَمِيَّةِ، وَنُوحٌ مُنْصَرِفٌ لِسُكُونِ الْأَوْسَطِ. اچھا بھئی، گزشتہ سبق میں ہم تانیث کے بارے میں پڑھ رہے تھے، اسبابِ منعِ صرف میں سے تیسرا سبب جو یہ ذکر کر رہے ہیں وہ تانیث ہے بھئی۔ اور تانیث جو ہے میں نے آپ کو بتلایا تھا دو قسم پر ہے: ایک تانیثِ لفظی اور ایک تانیثِ معنوی۔ تانیثِ لفظی وہ ہے جہاں لفظوں کے اندر کوئی تانیث کی علامت موجود ہو، یعنی اس پر ہم باقاعدہ تلفظ کرتے ہوں، اور تانیثِ معنوی وہ ہے جہاں لفظوں کے اندر تانیث کی کوئی علامت نہیں کہ جس پر ہم تلفظ کریں بھئی۔ تو تانیث دو قسم کی ہوئی: ایک لفظی اور ایک معنوی۔ لفظی پھر بتلایا تھا کہ تین قسم پر ہے: ایک تانیث بالتاء ہے، وہ گول تا آخر میں جو آتی ہے اور وقف کی صورت میں ہا بن جاتی ہے۔ اور دوسرا ہے تانیث بالالف المقصورۃ، اور تیسری ہے تانیث بالالف الممدودۃ۔ تو الفِ مقصورہ اور الفِ ممدودہ میں میں نے آپ کو فرق بتلایا تھا: الفِ مقصورہ یہ عام الف جو آتا ہے یہ کیا کہلاتا ہے؟ الفِ مقصورہ، اور دوسرا الفِ ممدودہ ہے کہ جس میں الف کے بعد پھر ہمزہ بھی آتا ہے اور اس میں الف کو خوب لمبا کیا جاتا ہے کھینچ کر۔ تو یہ تانیثِ لفظی کی تین قسمیں ہو گئیں: تانیث بالتاء، تانیث بالالف المقصورۃ اور تانیث بالالف الممدودۃ۔ جبکہ تانیثِ معنوی میں کوئی علامت نہیں ہوگی تانیث والی، اور وہ پھر یا مؤنث کا نام ہوگا یا پھر مؤنثِ سماعی ہوگا یعنی عربوں سے ہم نے اس لفظ کو مؤنث ہی سنا ہے، عرب جب بھی اس لفظ کو استعمال کرتے ہیں مؤنث ہی استعمال کرتے ہیں، تو یہ تانیثِ معنوی۔ جیسے جیسے مؤنث کا نام ہو جیسے زَیْنَبُ، اب اس میں نہ تا ہے آخر کے اندر، نہ الفِ مقصورہ ہے، نہ الفِ ممدودہ ہے، لیکن یہ مؤنث کا نام ہے بھئی، تو یہ کیا ہے؟ مؤنث ہوا۔ اور اسی طرح بعض لفظ ایسے ہیں کہ عربوں سے ہم نے مؤنث ہی سنے ہیں جیسے دَارٌ کا لفظ، دار د، ا، ر بمعنی گھر، اور عرب کیا کہیں گے؟ ھٰذِہٖ دَارٌ، ھٰذَا دَارٌ نہیں کہتے بلکہ ھٰذِہٖ دَارٌ مؤنث استعمال کرتے ہیں اس کو، حالانکہ اس کے آخر میں بھی نہ تا ہے، نہ الفِ مقصورہ ہے اور نہ الفِ ممدودہ، تو یہ مؤنثِ سماعی کہلاتا ہے۔ اس کے بعد ان کی تفصیل بیان کر رہے تھے مصنف کہ تانیث بالتاء جو ہے وہ سبب بنے گی غیر انصراف کا، اور مؤثر ہوگی یعنی اپنا اثر دکھائے گی اپنا اثر دکھائے گی جب کہ شرط پوری ہو، اور شرط جو ہے اس کے اندر علمیت ہے۔ تانیث بالتاء میں شرط کیا ہے؟ علمیت کہ وہ علم ہو بھئی۔ اور وجہ اس کی یہ ہے کہ یہ جو تا ہے لفظ کے ساتھ جو یہ کبھی جڑ جاتی ہے کبھی الگ ہو جاتی ہے، حالانکہ غیر انصراف کے لیے کہ ایک مضبوط سبب چاہیے بھئی۔ تو یہ تا تو کبھی جڑ جاتی ہے کبھی الگ ہو جاتی ہے: ضَارِبٌ، ضَارِبَةٌ دیکھو، کبھی تا ہے کبھی تا نہیں ہے، کبھی قَائِمَةٌ ہے کبھی قَائِمٌ ہے، کبھی فَاتِحَةٌ ہے کبھی فَاتِحٌ ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ تا الگ ہو جاتی ہے۔ لہٰذا اس کے لیے علم ہونے کی شرط لگائی تاکہ یہ تا پکی جڑ جائے کیونکہ علم میں کوئی تبدیلی نہیں کی جاتی بھئی، نام جیسا ہوتا ہے اس کو اسی طرح رکھا جاتا ہے۔ تو جب کسی کا نام ہی رکھ دیا گیا اب یہ تا اس لفظ سے جدا نہیں ہو سکتی اور کیونکہ نام میں کوئی تبدیلی نہیں کی جاتی۔ تو تانیث بالتاء میں کیا شرط ہوئی کہ اس کو علم ہونا چاہیے بھئی۔ اگر علم نہیں پھر یہ تانیث بالتاء جو ہے یہ مؤثر بھی نہیں ہوگی اپنا اثر نہیں دکھائے گی، غیر انصراف کا سبب نہیں بنے گی۔ اور دوسرا معنوی جو ہے تانیثِ معنوی اس کے اندر میں نے بڑی لمبی تفصیل ذکر کی تھی بھئی۔ تانیثِ معنوی کے اندر دو شرطیں آپ نے پڑھی تھیں بھئی: ایک وہی پہلی شرط کہ وہ کیا ہونا چاہیے وہ لفظ؟ علم ہونا چاہیے، اور دوسری شرط کے اندر تفصیل تھی کہ تین چیزوں میں سے کوئی ایک چیز پوری ہو جائے تو پھر اس کو غیر منصرف پڑھنا واجب ہو جائے گا۔ تین شرطیں کیا تھیں کہ وہ لفظ کیا ہونا چاہیے کم از کم؟ تین حرف سے زائد ہونا چاہیے، اور اگر تین حرف سے زائد نہیں تین والا ہے تو پھر کم از کم درمیان والا حرف متحرک ہونا چاہیے، اور اگر درمیان والا حرف بھی متحرک نہیں ہے تو پھر اس صورت میں اس لفظ کو کیا ہونا چاہیے؟ عجمی ہونا چاہیے۔ تو ان میں سے یہ تین میں سے جو بھی صورت پائی جائے اور ایک پہلی شرط بھی پوری ہو اور یہ والی بھی پوری ہو جائے تو پھر اس صورت میں اس لفظ کو غیر منصرف پڑھنا واجب ہوگا، واجب ہوگا۔ جیسے زینب، زینب کے اندر تانیثِ معنوی ہے اور تانیثِ معنوی کے غیر انصراف کا سبب بننے کے لیے ہم نے کیا شرط ذکر کی کہ علمیت ہو، علمیت ہے زینب نام ہے، اور دوسری شرط کیا تھی کہ تین حروف سے زائد ہو، دیکھا تو اس میں تو چار حروف ہیں تین سے زائد ہیں، لہٰذا اب اس کو غیر منصرف پڑھنا واجب ہے، جَاءَتْنِي زَيْنَبُ، زَيْنَبٌ نہیں پڑھ سکتے بھئی، تنوین نہیں پڑھ سکتے اور کسرہ بھی نہیں پڑھ سکتے۔ یا دوسری مثال مثلاً سَقَرُ، سَقَرُ، اب سقر یہ علم ہے نام ہے جہنم کا، اور پہلی شرط پوری، دوسری شرط کیا تھی کہ یہ تین حرف سے زائد ہو، دوسری شرط تھی کہ تین حروف سے زائد ہو، وہ نہیں ہے، تو دوسری صورت کیا تھی کہ پھر کم از کم اگر تین پر مشتمل ہے تو درمیان والا کیا ہونا چاہیے؟ متحرک، اور وہ متحرک ہے تو یہ دوسری شرط بھی پوری ہو گئی، لہٰذا اس کو بھی غیر منصرف پڑھنا واجب ہے بھئی۔ اور تیسری مثال جیسے مَاہْ اور جُورْ بھئی، مَاہْ اور جُورْ یہ بھی قلعوں کے یا شہر کے نام ہیں دونوں الگ الگ، ماہ ایک نام ہے جور الگ نام ہے، اور اس میں دیکھیے پہلی شرط پوری یہ علم ہیں اور دوسری شرط کی پہلی چیز تو پوری نہیں ہو رہی کہ تین حروف سے کیا ہونا چاہیے؟ زائد، اگر زائد نہیں تو پھر ہم نے کہا تھا کم از کم درمیان والا متحرک ہو لیکن وہ بھی یہاں پر متحرک نہیں ہے، تیسری صورت یہ تھی کہ شرط یہ تھی کہ پھر اس کے اندر کیا ہو؟ عجمی ہونا چاہیے، اور وہ شرط یہاں پوری یہ عجمی شہروں یا قلعوں کے نام ہیں عرب کے نام نہیں، لہٰذا یہ دوسری شرط پوری ہو گئی اس کی آخری صورت، لہٰذا یہ بھی کیا ہوگا؟ غیر منصرف پڑھنا اس کو واجب ہے، غیر منصرف پڑھنا واجب ہے واجب ہے۔ تو پہلی شرط بھی پوری ہو اور دوسری کی کوئی ایک چیز پائی جائے تو پھر اس لفظ کو غیر منصرف پڑھنا واجب، اور اگر پہلی شرط تو پوری ہو رہی ہے لیکن دوسری کوئی چیز پوری نہیں ہو رہی، نہ وہ تین سے زائد ہے نہ درمیان والا متحرک ہے اور نہ وہ عجمی ہے بلکہ وہ تو کیا ہے؟ عربی لفظ ہے، جیسے هِنْدٌ، ہند، تو لہٰذا اس جیسے لفظ میں جس میں صرف ایک شرط پوری ہو رہی ہے تانیثِ معنوی بھی ہے اور علمیت بھی ہے لیکن دوسری شرط کے اندر تفصیل تھی تین چیزوں میں سے ایک کا ہونا ضروری ان میں سے کوئی بھی یہاں نہیں، تو اس قسم کے لفظ میں پھر اس کو منصرف پڑھنا بھی جائز اور غیر منصرف پڑھنا بھی جائز۔ لہٰذا ہند کو آپ غیر منصرف پڑھنا چاہتے ہیں پڑھ سکتے ہیں: جَاءَتْنِي هِنْدُ، رَأَيْتُ هِنْدَ، مَرَرْتُ بِهِنْدَ، غیر منصرف بھی پڑھ سکتے ہیں اس لیے کیونکہ دو سبب تو بہرحال اس میں پائے جا رہے ہیں، کون سے دو سبب ہیں؟ ایک علمیت ہے، ایک تانیث ہے، اور چاہیں تو آپ اس کو منصرف پڑھ دیں: جَاءَتْنِي هِنْدٌ، رَأَيْتُ هِنْدًا، مَرَرْتُ بِهِنْدٍ، منصرف پڑھ لیا۔ کیوں پڑھا منصرف؟ اس لیے کیونکہ لفظ خفیف ہے، لفظ خفیف ہے ہلکا ہے، کیونکہ غیر منصرف کے اندر یہ جو دو سبب آ جاتے ہیں ان کی وجہ سے لفظ میں ثقل آ جاتا ہے، اور کسرہ اور تنوین اس لیے نہیں لاتے کہ وہ مزید ثقیل نہ ہو جائے، اور ہند تو خفیف ہے لہٰذا اس کو منصرف پڑھنا بھی جائز ہے۔ معلوم ہوا تانیثِ معنوی میں دوسری شرط پائی جائے گی تو اس کو غیر منصرف پڑھنا واجب، اور اگر دوسری شرط نہیں پائی جاتی تو پھر اس کو منصرف پڑھنا بھی جائز اور غیر منصرف پڑھنا بھی جائز ہے۔ تانیث بالتاء کا بیان بھی گزر گیا، تانیثِ معنوی کا بیان بھی ہو گیا، اب تانیث بالالف المقصورۃ اور تانیث بالالف الممدودۃ رہ گئی وہ بیان کرنے لگے ہیں: یاد رکھو یہ تانیث بالالف جو ہے چاہے الفِ مقصورہ ہو چاہے الفِ ممدودہ ہو یہ خود دو سببوں کے قائم مقام ہے، لہٰذا جس لفظ کے آخر میں تانیث والا الف آ جائے چاہے الفِ مقصورہ ہو چاہے الفِ ممدودہ ہو وہ غیر منصرف ہوگا اس کو غیر منصرف پڑھیں گے کیونکہ یہ تانیث بالالف کیا ہے؟ خود دو سببوں کے قائم مقام ہے۔ تو کہتے ہیں: وَالتَّأْنِيثُ بِالْأَلِفِ الْمَقْصُورَةِ كَحُبْلَى اور وہ تانیث جو الفِ مقصورہ کے ساتھ ہو کَحُبْلَى جیسے حُبْلَى، دیکھو یہ الفِ مقصورہ ہے۔ وَالْمَمْدُودَةِ كَحَمْرَاءَ اور وہ تانیث جو الفِ ممدودہ کے ساتھ ہو کَحَمْرَاءَ جیسے کہ حمراء، تو دیکھو الف کے بعد ہمزہ آ رہا ہے تو یہ الفِ ممدودہ ہے۔ یہ جو الف تانیث چاہے الفِ مقصورہ کے ساتھ ہو یا الفِ ممدودہ کے ساتھ: مُمْتَنِعٌ صَرْفُهُمَا، ان کی ان دونوں کی صرف ممتنع ہے، یعنی ان کو منصرف پڑھنا ممتنع ہے ممتنع ہے، الْبَتَّةَ قطعی طور پر، یعنی ان کو قطعی طور پر غیر منصرف ہی پڑھیں گے، غیر منصرف ہی پڑھیں گے بھئی۔ لِأَنَّ الْأَلِفَ قَائِمٌ مَقَامَ السَّبَبَيْنِ اس لیے کیونکہ یہ الف جو ہے تانیث والا یہ دو سببوں کے قائم مقام ہے، بھئی کون سے دو سببوں؟ کہتے ہیں: التَّأْنِيثُ وَلُزُومُهُ، ایک تانیث ہے ایک لزومِ تانیث ہے، یا لُزُومُهُ کی ہا ضمیر تانیث کو راجع، ایک تانیث اور ایک لزومِ تانیث۔ لزوم کا معنی لازم ہونا، یعنی جس لفظ کے ساتھ یہ الف آ جائے گا اس کے ساتھ تانیث لازم ہے، اس سے جدا نہیں ہوتی، یعنی یوں کہو آسان لفظوں میں: جس لفظ کے آخر میں یہ تانیث والا الف آئے گا جب یہ آ جائے پھر وہ لفظ مؤنث ہی ہوگا، ایسا نہیں ہو سکتا یہ الف بھی ہو اور وہ لفظ مؤنث نہ ہو تانیث اس سے جدا ہو جائے، نہیں نہیں، جب بھی یہ الف آئے گا وہ لفظ کیا ہوگا؟ مؤنث ہی ہوگا، اس سے تانیث جدا ہو جائے یہ ممکن نہیں ہے۔ تو اسی لیے کہا یہ دو سببوں کے قائم مقام ہے: ایک تانیث اور ایک لزومِ تانیث یعنی اس سے تانیث کبھی جدا نہیں ہو سکتی۔ أَمَّا الْمَعْرِفَةُ: فَلَا يُعْتَبَرُ فِي مَنْعِ الصَّرْفِ مِنْهَا إِلَّا الْعَلَمِيَّةُ، معرفہ بھئی، بھئی معرفہ کی کئی قسمیں آپ نے پڑھی ہیں: آپ نے پڑھا ہے اسمِ اشارہ جو ہے یہ بھی کیا ہے؟ معرفہ، اسمِ موصول بھی کیا ہے؟ معرفہ، تمام ضمیریں بھی کیا ہیں؟ وہ بھی معرفہ ہیں، اور اسی طرح آپ نے پڑھا ہے علم جو ہوتا ہے کسی کا نام یہ بھی کیا ہے؟ معرفہ، اسی طرح معرف باللام یعنی وہ لفظ جس پر الف لام داخل ہو جائے تو وہ بھی معرفہ، اور ان میں سے کسی کی طرف جو مضاف ہو جائے وہ بھی کیا ہوتا ہے؟ معرفہ ہوتا ہے۔ تو ان میں سے صرف جو علم ہے وہ سبب بنے گا غیر انصراف کا، باقی باقی اسمِ اشارہ وغیرہ، اسمِ موصول وغیرہ وہ سبب نہیں بنیں گے۔ صرف علم سبب بنے گا۔ تو معرفہ میں کیا معتبر ہے؟ صرف علمیت معتبر ہے بھئی، علمیت۔ بھئی باقی کیوں نہیں سبب بنیں گے؟ بھئی دیکھیے باقی تین جو ہیں وہ تو مبنی ہیں: ضمیریں بھی مبنی، اسمِ اشارہ بھی مبنی، اسمِ موصول بھی مبنی۔ غیر منصرف ہونا معرب جو ہے وہ غیر منصرف ہوا کرتا ہے مبنی تو اس کی تو حالت برقرار رہتی ہے ہر جگہ پر۔ لہٰذا جب وہ تین مبنی ہیں وہ تو ویسے ہی نکل گئے۔ باقی کیا رہ گیا؟ معرفہ اور علم اور معرف باللام اور جو ان میں سے کسی کی طرف مضاف، تو اس میں سے معرف باللام بھی نکل گیا اور مضاف بھی نکل وہ جو مضاف ہو رہا ہو ان میں سے کسی کی طرف وہ بھی نکل گیا، اس لیے کیونکہ آگے چل کر یہ آپ کو بتائیں گے کہ غیر منصرف پر بھی جب الف لام داخل ہو جائے یا اس کی اضافت آگے کسی لفظ کی طرف ہو جائے یعنی وہ مضاف بن جائے تو اس صورت میں وہ منصرف کے حکم میں ہو جاتا ہے یعنی اس پر پھر کسرہ آ جاتا ہے، تنوین تو نہیں آ سکتی کیونکہ مضاف پر تنوین داخل نہیں ہوتی اور الف لام کے ساتھ بھی تنوین نہیں آتی، تنوین تو اس پر نہیں آئے گی لیکن کسرہ بہرحال آ سکتا ہے یعنی یہ منصرف کے حکم میں ہو گیا۔ معلوم ہوا الف لام یوں کہو لامِ تعریف اور اضافت یہ غیر منصرف کو کس کے حکم میں کر دیتے ہیں؟ منصرف کے حکم میں کر دیتے ہیں۔ تو لہٰذا یہ دونوں بھی نکل گئے۔ تین رہ گئے تھے نا: علم اور معرف باللام اور جو ان کی میں سے کسی کی طرف مضاف، ان میں سے معرف باللام بھی نکل گیا کیونکہ وہ تو غیر انصراف کے خلاف ہے، وہ تو غیر منصرف کو بھی کیا بنا دیتا ہے؟ منصرف کے حکم، اضافت بھی نکل گئی کیونکہ وہ بھی کیا کرتی ہے غیر منصرف کو کس کے حکم میں کر دیتی ہے؟ منصرف کے حکم میں کر دیتی ہے، تو یہ دو چیزیں تو غیر انصراف کے منافی ہیں، لہٰذا اب صرف علم ہونا رہ گیا، اسی لیے کہا کہ معرفہ میں سے صرف کون سبب بنے گا؟ علم بنے گا۔ کہتے ہیں: أَمَّا الْمَعْرِفَةُ فَلَا يُعْتَبَرُ فِي مَنْعِ الصَّرْفِ مِنْهَا باقی معرفہ جو ہے پس معتبر نہیں ہے غیر منصرف ہونے میں اس معرفہ میں سے إِلَّا الْعَلَمِيَّةُ مگر علم ہونا۔ علمیت، بھئی دیکھیے علم ہوتا ہے نام، علم کسے کہتے ہیں؟ نام۔ اور عربی میں جب کسی لفظ سے مصدر بنانا ہو تو اس کے آخر میں یائے مشدد اور گول تا ملا دیتے ہیں، کیا کرتے ہیں؟ اس کے آخر میں یائے مشدد اور گول تا ملا دیتے ہیں تو وہ مصدر بن جاتا ہے، تو اب یہ علمیت، علم سے کیا بن گیا؟ علمیت، علم کا معنی نام اور علمیت کا معنی نام ہونا، علم ہونا، دیکھو مصدر بن گیا، مصدر کے آخر میں نا آتا ہے، تو علمیت کا کیا معنی؟ نام ہونا یعنی علم ہونا۔ وَتَجْتَمِعُ مَعَ غَيْرِ الْوَصْفِ اور یہ علمیت جمع ہو جاتی ہے وصف کے علاوہ کے ساتھ۔ بھئی علمیت عدل کے ساتھ بھی جمع ہو جائے گی، علمیت تانیث کے ساتھ بھی جمع ہو جائے گی، اور اسی طرح علمیت عجمہ وغیرہ کے ساتھ بھی جمع ہو جائے گی، علمیت الف نون زائدتان کے ساتھ بھی جمع ہو جائے گی، تو باقیوں کے ساتھ یہ علمیت جمع ہو سکتی ہے جتنے سبب ہیں غیر انصراف کے، لیکن وصف کے ساتھ نہیں جمع ہو سکتی۔ ایسا نہیں ہو سکتا ایک لفظ آئے آپ اس میں کہیں کہ غیر انصراف کے دو سبب ہیں: ایک اس میں علم ہے، ایک وصف ہے، ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔ علم اور وصف دونوں ایک ہی لفظ کے اندر اکٹھے نہیں ہو سکتے، غیر انصراف کا سبب بنیں اور اکٹھے ہو جائیں۔ اور اس کی کیا وجہ؟ میں پہلے وجہ ذکر کر چکا ہوں، وصف کے اندر یہ ذکر ایا تھا، اس لیے کیونکہ وصف دلالت کرتا ہے ذاتِ مبہم پر اور علم دلالت کرتا ہے ذاتِ معین پر، اور ایک ہی چیز معین بھی ہو اور مبہم بھی ہو ایسا نہیں ہو سکتا، اگر معین ہے تو مبہم نہیں، اور اگر مبہم ہے تو معین نہیں۔ تو لہٰذا یہ دونوں جمع نہیں ہو سکتے۔ أَمَّا الْعُجْمَةُ: فَشَرْطُهَا أَنْ تَكُونَ عَلَمًا فِي الْعُجْمَةِ، وَزَائِدَةً عَلَى ثَلَاثَةِ أَحْرُفٍ كَإِبْرَاهِيمَ، أَوْ ثُلَاثِيًّا مُتَحَرِّكَ الْأَوْسَطِ كَشَتَرَ۔ اب عجمہ ایا، عجمہ عجمہ کا معنی ہے عجمی ہونا، عجمہ کا کیا معنی؟ عجمی ہونا، یعنی وہ لفظ عربی نہ ہو غیر عربی ہو، کسی دوسری زبان کا۔ اور یہ پانچواں سبب ذکر کر رہے ہیں غیر انصراف کا بھئی: پہلا کیا تھا؟ عدل، دوسرا وصف، تیسرا تانیث، چوتھا معرفہ، اور پانچواں عجمہ۔ تو عجمہ یہ بھی سبب بنے گا غیر انصراف کا، غیر منصرف کا، لیکن اس کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ عجمی زبان میں بھی علم ہونا چاہیے، دیکھیے خود بتلا رہے ہیں: أَمَّا الْعُجْمَةُ فَشَرْطُهَا أَنْ تَكُونَ عَلَمًا فِي الْعُجْمَةِ، تو عجمہ کی شرط یہ ہے یعنی اس کے مؤثر ہونے کی شرط یہ ہے کہ وہ علم ہونا چاہیے عجمی زبان میں بھی، یعنی دیکھیے بھئی یہ ایک لفظ ہے، یہ پہلے مثلاً اردو میں استعمال ہو رہا ہے، عربی لفظ نہیں ہے کس زبان کا ہے؟ اردو کا، اس کو آپ لے گئے اٹھا کر کہاں پر؟ عربی زبان کے اندر۔ تو شرط کیا ہے؟ یہ عجمہ غیر انصراف کا سبب بنے گا، مؤثر ہوگا، اپنا اثر دکھائے گا، لیکن شرط پوری ہونی چاہیے اور وہ شرط کیا؟ کہ عجمی زبان میں بھی یہ کسی کا علم ہو، معلوم ہوا اردو میں بھی یہ کسی کا نام تھا، آپ اس کو کہاں لے گئے؟ عربی میں، وہاں بھی کسی کا نام نام اب استعمال کر رہے ہیں نام کے طور پر، تو یہ مؤثر ہوگا۔ لیکن یہ یاد رکھو انہوں نے کہا نا کہ عجمی زبان میں بھی کیا ہونا چاہیے؟ علم، علم، لیکن یہ شرط یہ نہیں ضروری، ضروری یہ ہے کہ عربی میں جب پہلی دفعہ استعمال ہو تو بطورِ علم کے ہو۔ اردو سے ایک لفظ لے گئے کہاں لے گئے؟ عربی میں لے گئے، لیکن عربی میں پہلے استعمال ہی کس طریقے پر کر رہے ہیں؟ علم کے طور پر، یعنی اردو سے عربی میں لے گئے کسی کا نام رکھا ہے وہاں، ویسے نہیں استعمال کر رہے یہ لفظ، جب نام رکھا ہے تو نام کے اندر کوئی تبدیلی نہیں کی جاتی، جب تبدیلی نہیں ہوگی تو لفظ تو اردو کا ہے تو عربوں کے لیے اس کی زبان پر ادائیگی دشوار ہوگی، جب دشوار ہوگی تو ثقل ا گیا یا نہیں ا گیا؟ ثقل ا گیا، جب ثقل ا گیا علمیت بھی ہے اس کا بھی ثقل، عجمہ کا بھی ثقل، دو سبب دو ثقل ا گئے، لہٰذا اب اس کو کیا پڑھو؟ غیر منصرف پڑھو، یعنی تیسرا ثقل نہ لاؤ کسرہ اور تنوین والا۔ صورت سمجھ میں ا گئی؟ تو معلوم ہوا یہ ضروری نہیں ہے کہ عجمی زبان کے اندر بھی وہ علم ہو، بلکہ ضروری یہ ہے کہ عربی میں جب اولاً استعمال ہو کس طریقے پر ہونا چاہیے؟ علم ہونا چاہیے تاکہ اس میں کوئی تبدیلی نہ ہو بھئی۔ تو ایک شرط یہ کہ وہ علم ہونا چاہیے عجمی زبان میں، وَزَائِدَةً عَلَى ثَلَاثَةِ أَحْرُفٍ دوسری شرط یہ کہ وہ تین حروف سے زائد ہونا چاہیے، تین حروف سے زائد ہونا چاہیے جیسے ابراہیم ہے، ابراہیم۔ اب ابراہیم دیکھو غیر منصرف ہے، غیر منصرف، اسی لیے اس پر کاف جارہ داخل ہے اور کاف جارہ کیا کرتا ہے؟ جر دے دیتا ہے، تو ہونا کیا چاہیے تھا؟ اِبْرَاہِیْمِنْ، لیکن اپ دیکھ رہے ہیں تنوین بھی نہیں ا رہی اور کسرہ بھی نہیں ا رہا، معلوم ہوا یہ کیا ہے؟ غیر منصرف ہے: اِبْرَاہِیْمَ۔ اب اگر اپ سے کوئی پوچھے بھئی یہ ابراہیم پر اپ نصب کیوں پڑھ رہے ہیں؟ اپ کیا جواب میں کہیں گے کہ یہ نصب نہیں ہے، یہ جر ہے، یہ مجرور ہے اس وقت کیونکہ کاف جارہ داخل ہوا، اور ہم نے نحو میں پڑھا ہے جس پر حرفِ جر داخل ہو جائے وہ کیا ہوتا ہے؟ مجرور ہوتا ہے کبھی بھی منصوب نہیں، جب یہ مجرور ہے تو پھر وہ اپ سے سوال کرے گا اچھا بھئی پھر اس پر زبر کیوں فتحہ کیوں پڑھ رہے ہو؟ اپ کہیں گے یہ فتحہ نہیں ہے یہ جر ہی ہے، غیر منصرف کی جر اتا ہی اس صورت میں ہے۔ أَوْ ثُلَاثِيًّا مُتَحَرِّكَ الْأَوْسَطِ كَشَتَرَ، یا تین حروف والا ہو تو کیا ہونا چاہیے؟ ایسا ثلاثی ہو ایسا تین حرف والا لفظ ہو متحرک الاوسط جس کا درمیان والا حرف کیا ہو؟ متحرک ہو کَشَتَرَ جیسے کہ شتر۔ اب شتر یہ بھی ایک قلعے کا نام ہے اور یہ عجمی نام ہے، عجمی نام ہے، تو شتر ایک قلعے کا نام ہے اور عربی میں ایا لیکن بطورِ علم کے استعمال ہوا قلعے کے نام کے طور پر، لہٰذا عجمہ مؤثر ہوا: ایک تو اس میں علمیت ہے اور دوسرا عجمہ ہے۔ اور عجمہ کے مؤثر ہونے کے لیے پہلی شرط کیا تھی؟ علم ہونا چاہیے، علم بھی ہے۔ دوسری شرط یہ تھی کہ تین حروف سے زائد ہو، یا تین والا ہو تو کم از کم درمیان والا متحرک ہو، اور یہاں پر بھی درمیان والا حرف متحرک ہے اس لیے غیر منصرف۔ فَلِجَامٌ مُنْصَرِفٌ لِعَدَمِ الْعَلَمِيَّةِ پس لجام، لجام بھئی گھوڑے کی لگام ہوتی ہے، لگام، اور یہ فارسی لفظ ہے اور یہ لفظ چلا گیا عربی زبان میں، عرب بھی وہی یہی لفظ استعمال کرنے لگے، لیکن اپنی زبان کے مطابق اس میں تبدیلی کر دی، اب وہ لگام عربی نہیں بلکہ وہ لِجَامٌ بولتے ہیں، کیا بولتے ہیں؟ لِجَامٌ، لام کے نیچے زیر ہے۔ تو اب ان کے لیے ادائیگی اسان ہو گئی، لہٰذا ثقل نہیں ایا، تو یہاں عجمہ کی شرائط نہیں پوری: کیا شرط تھی پہلی؟ علم ہونا، یہ تو علم ہے ہی نہیں، اس گھوڑے کی لگام ہے وہ بھی لجام ہے، دوسرے کی لگام ہے وہ بھی لجام ہے، تیسرے کی لگام ہے وہ بھی کیا ہے؟ لجام، تو معلوم ہوا یہ علم نہیں اور ہم نے تو عجمہ کے مؤثر ہونے کے لیے کیا شرط لگائی تھی؟ علم ہونا چاہیے: فَلِجَامٌ مُنْصَرِفٌ لِعَدَمِ الْعَلَمِيَّةِ پس لجام کا لفظ منصرف ہے علم نہ ہونے کی وجہ سے کیونکہ اس میں علمیت نہیں ہے۔ وَنُوحٌ مُنْصَرِفٌ لِسُكُونِ الْأَوْسَطِ اور نوح کا لفظ بھی منصرف ہے درمیان والے حرف کے ساکن ہونے کی وجہ سے۔ اب نوح علیہ السلام وہ تو وہ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے بھی پہلے گزرے ہیں، معلوم ہوا نوح کا لفظ کیا ہے؟ عجمی ہے یا عربی ہے؟ عجمی ہے، معلوم ہوا اس میں عجمہ ہے، عجمہ کے مؤثر ہونے کے لیے پہلی شرط کیا تھی؟ علم ہونا چاہیے، یہ بھی کیا ہے؟ علم ہے۔ دوسری شرط کیا تھی؟ تین حروف سے زائد، یہ تین حروف سے تو زائد نہیں، پھر کہا تھا اگر تین حروف والا ہے تو درمیان والا کیا ہونا چاہیے؟ متحرک، اس میں بھی درمیان والا حرف متحرک نہیں ہے تو اس کے اندر درمیان والا حرف متحرک نہیں ہے بلکہ ساکن ہے، لہٰذا دوسری شرط پوری نہ ہوئی اور جب دوسری شرط پوری نہ ہوئی تو اب عجمہ ہے اس کے اندر لیکن وہ مؤثر نہیں یعنی غیر انصراف کا سبب نہیں بنے گا، بلکہ اس کو کیا پڑھا جائے گا؟ منصرف ہی پڑھا جائے گا: نُوحٌ، دیکھو تنوین پڑھی جا رہی ہے۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔