درس نمبر۔95 دیکھیے بھئی، آگے سبق۔ وَالْخَبَرُ هُوَ الْمُجَرَّدُ، أَيْ هُوَ الإِسْمُ الْمُجَرَّدُ عَنِ الْعَوَامِلِ اللَّفْظِيَّةِ، لِأَنَّ الْكَلاَمَ فِي مَرْفُوعَاتِ الإِسْمِ، فَلاَ يَصْدُقُ عَلَىٰ يَضْرِبُ فِي "يَضْرِبُ زَيْدٌ" أَنَّهُ الْمُجَرَّدُ الْمُسْنَدُ بِهِ الْمُغَايِرُ لِلصِّفَةِ الْمَذْكُورَةِ، لِأَنَّهُ لَيْسَ بِإِسْمٍ. بھئی گزشتہ سبق میں مبتدا کی بحث ہم پڑھ رہے تھے بھئی، اور صاحبِ قافیہ نے آپ کو بتلایا کہ مبتدا وہ اسم ہے جو عواملِ لفظیہ سے خالی ہو اس حال میں کہ وہ مسند الیہ ہو بھئی۔ عواملِ لفظیہ کی قید لگا کر اِنَّ، كَانَ وغیرہ کے اسم کو نکال دیا، اس لیے کیونکہ وہ بھی اگرچہ مسند الیہ ہیں لیکن ان پر عاملِ لفظی داخل ہے۔ اور نیز پھر اشکال ہوتا تھا کہ یہ جو تعریف ہے اس میں تو قید لگا دی کہ وہ عواملِ لفظیہ سے خالی ہو اور بِحَسْبِكَ دِرْهَمٌ اس کے اندر یہ حَسْبُكَ مبتدا ہے اور دِرْهَمٌ اس کی خبر ہے، حالانکہ اس پر عاملِ لفظی یعنی باءِ جارہ موجود ہے۔ تو صاحبِ جامی نے اس کا بھی جواب دیا کہ عاملِ لفظی سے مصنف کی مراد وہ عاملِ لفظی ہے جو لفظوں کے ساتھ ساتھ معنیٰ میں بھی مؤثر ہو بھئی، اور بِحَسْبِكَ کے اندر یہ جو باء ہے یہ جارہ زائدہ ہے بھئی، اور یہ حروفِ جارہ زائدہ اپنے معنیٰ کا اثر نہیں دیتے بھئی۔ تو یہ لفظوں کے اعتبار سے تو یہ مؤثر ہے، جر دے رہی ہے لیکن معنیٰ کے اعتبار سے مؤثر نہیں ہے بھئی۔ اور میں نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ وہ حروفِ جارہ جو زائد ہوتے ہیں وہ کسی سے متعلق نہیں ہوتے، اس لیے کیونکہ اگر وہ کسی سے متعلق ہوں گے تو پھر وہ اپنے معنیٰ کا فائدہ دیں گے بھئی۔ تو لہٰذا بِحَسْبِكَ دِرْهَمٌ یہ بھی تعریف کے اندر داخل ہو گیا کیونکہ اس کے اندر اگرچہ عاملِ لفظی موجود ہے لیکن وہ معنیٰ کے اعتبار سے مؤثر نہیں، تو یہ بھی گویا اسی طرح ہے کہ عاملِ لفظی یہاں موجود ہی نہیں ہے بھئی۔ اور مُسْنَدًا إِلَيْهِ کی قید لگائی، اس قید کے ذریعے خبر کو بھی نکال دیا اور مبتدا کی قسمِ ثانی کو بھی اس تعریف سے نکال دیا۔ اس لیے کیونکہ خبر وہ بھی عاملِ لفظی سے خالی ہے اور مبتدا کی قسمِ ثانی وہ بھی عاملِ لفظی سے خالی ہے، وہ اس تعریف میں داخل ہو رہے تھے لیکن جب مُسْنَدًا إِلَيْهِ کی قید آ گئی تو اب وہ خارج ہو گئے۔ اس لیے کیونکہ خبر وہ مسند الیہ نہیں ہوتی بلکہ وہ تو مسند ہوتی ہے، اور اسی طرح مبتدا کی قسمِ ثانی وہ بھی مسند ہے بھئی۔ اور پھر مبتدا کی قسمِ ثانی کے بارے میں بتلایا تھا کہ اس کے اندر تین شرائط ہیں۔ پہلی شرط یہ کہ صیغہ صفت کا ہونا چاہیے۔ دوسری شرط یہ کہ وہ حرفِ نفی یا حرفِ استفہام کے بعد آئے، اور تیسری شرط یہ تھی کہ وہ کسی اسمِ ظاہر کو رفع دے بھئی۔ تو صفت کا صیغہ ذکر کیا اور میں نے بتلایا کہ صفت کے صیغے سے ہر صفت کا صیغہ مراد نہیں ہے بلکہ اسمِ فاعل، اسمِ مفعول، صفتِ مشبہ اور اسمِ منسوب مراد ہیں۔ اسمِ منسوب وہ اسم جس کے آخر میں یاءِ مشدد لگا دی جاتی ہے نسبت کے لیے، جیسے لاہور سے لاہوریٌ (لاہور والا)، پاکستان سے پاکستانیٌ (پاکستان والا)۔ تو یہ جو اسمِ منسوب ہے، یہ اگرچہ صفت تو نہیں لیکن یہ صفت کے قائم مقام ہے بھئی، اور اس کو اسمِ منسوب کہتے ہیں اور اس کے اندر بھی ضمیر ہوتی ہے اور وہ اس کا نائب الفاعل ہے کیونکہ یہ اسمِ منسوب ہے اور منسوب دیکھو مفعول وزن ہے، تو یہ اسمِ مفعول کی تاویل میں ہے اور اسمِ مفعول کے اندر جو ضمیر ہوتی ہے وہ اس کے لیے نائب فاعل بنتی ہے، تو اس کے اندر بھی یہ نائب فاعل بنے گی۔ جبکہ بعض علماء اس کی تاویل اسمِ فاعل یعنی اسمِ منتسب کے ساتھ کرتے ہیں۔ اسمِ منتسب وہ اسم جو منسوب ہو رہا ہے، تو پھر اس صورت میں اس کے اندر جو ضمیر نکالتے ہیں تو اس کو پھر فاعل بناتے ہیں بھئی، کیونکہ اسمِ فاعل کے لیے فاعل چاہیے۔ تو یہ صفت کا صیغہ ہونا چاہیے، اور نیز یہ حرفِ نفی اور حرفِ استفہام کے بعد ہونا چاہیے تاکہ اس کا اعتماد ہو جائے ان پر اور پھر یہ عمل کر سکے۔ یاد رکھو یہ جو صفت کے صیغے ہیں ان کے عمل کے لیے مختلف شرائط ہیں بھئی، اور ان میں سے ایک شرط یہ ہے کہ یہ اسی وقت عمل کریں گے جب ان کا کسی چیز پر اعتماد ہو۔ یعنی یوں کہیں کہ ان سے پہلے کوئی ایسی چیز آ جائے جس کا یہ سہارا لے لیں اور پھر اس کے بعد یہ عمل کریں گے۔ تو لہٰذا یہاں پر جو حرفِ نفی آئے گا یا حرفِ استفہام آئے گا، اس پر اعتماد کرتے ہوئے پھر یہ صفت کے صیغے عمل کریں گے بھئی۔ اور پھر صاحبِ جامی نے بتلایا کہ امام سیبویہ حرفِ نفی اور حرفِ استفہام کے بغیر بھی صفت کے صیغے کو مبتدا بنانا جائز قرار دیتے ہیں، ان کے نزدیک جائز ہے۔ البتہ یہ قبیح ہے یعنی ناپسندیدہ ہے، کمزور لغت ہے۔ جبکہ امام اخفش اس کو اچھا جانتے ہیں یعنی اس کو اچھی لغت قرار دیتے ہیں، اور اسی پر شاعر کا یہ قول بھی مبنی ہے: "فَخَيْرٌ نَحْنُ عِنْدَ النَّاسِ مِنْكُمُ"۔ تو فَخَيْرٌ یہ خیر اسمِ تفضیل ہے، صفت کا صیغہ ہے اور یہ مبتدا کی قسمِ ثانی ہے، اور نَحْنُ اس کے لیے فاعل ہے بھئی، اور عِنْدَ النَّاسِ اس کے لیے مفعول فیہ ہے، اور مِنْكُمُ یہ خیرٌ سے متعلق ہے۔ تو چونکہ یہ نَحْنُ خیرٌ کے لیے فاعل ہے، تو اب درمیان میں عامل اور معمول کے فصل بالاجنبی لازم نہیں آیا۔ خیرٌ عامل اور مِنْكُمُ معمول، لیکن درمیان میں جو نَحْنُ ہے اور عِنْدَ النَّاسِ ہے یہ دونوں کس کے معمول؟ یہ بھی خیرٌ کے معمول ہیں، تو درمیان میں فصل بالاجنبی نہیں آیا۔ لیکن اگر اس نَحْنُ کو مبتدا مؤخر بنائیں اور خیرٌ کو خبرِ مقدم بنائیں، تو پھر اس صورت میں خیرٌ اور مِنْكُمُ کے درمیان فصل لازم آئے گا اجنبی کا جو کہ مبتدا ہے۔ تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے بھئی، مبتدا اجنبی کیسے ہے خبر کے لیے؟ مبتدا کے لیے تو ہمیشہ خبر ضرور چاہیے اور خبر کے لیے مبتدا ضرور چاہیے، یہ تو ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں، تو پھر یہ مبتدا اجنبی کیسے؟ تو میں نے بتلایا تھا بایں لحاظ اجنبی ہے مبتدا کہ وہ صفت کا صیغہ اس کے اندر عامل نہیں۔ خیرٌ کو خبرِ مقدم بنایا اور خبر کے اندر عامل کیا ہوتا ہے؟ ابتداء۔ اور نَحْنُ کو مبتدا مؤخر بنایا، اس کے اندر بھی عامل کیا؟ ابتداء۔ تو دیکھو نَحْنُ کے اندر اب ابتداء عامل ہے، خیرٌ عامل نہیں۔ جب اس کے اندر خیرٌ عامل نہیں تو یہ خیرٌ کے لیے اجنبی کی طرح ہی ہوا۔ اور پھر یہاں یہ اشکال بھی ہوتا تھا کہ بھئی آپ نے کہا کہ نَحْنُ کو اگر مبتدا بنائیں گے تو پھر خیرٌ کا فصل لازم آئے گا اپنے معمول مِنْكُمُ سے، تو سوال پیدا ہوا کہ عِنْدَ النَّاسِ سے بھی تو فصل آ رہا ہے، اس کو نہیں ذکر کیا؟ تو میں نے وجہ ذکر کی تھی کہ عِنْدَ النَّاسِ کے اندر خیرٌ کا عامل ہونا قطعی نہیں، اگرچہ عامل تو ہے خیرٌ ہی لیکن قطعی نہیں اس لیے کیونکہ عِنْدَ النَّاسِ ظرف ہے، اور ظرف کے لیے کبھی عامل مقدر بھی ہوتا ہے۔ لیکن مِنْكُمُ، مِنْكُمُ کے اندر تو کوئی شک و شبہ ہی نہیں کیونکہ اسمِ تفضیل کے استعمال کے تین طریقے ہیں اور ان میں سے اصل کون سا طریقہ ہے؟ مِنْ کے ساتھ، تو یہ مِنْكُمُ اسی خیرٌ سے متعلق ہوگا اس میں تو کوئی شبہ ہی نہیں۔ لہٰذا بالخصوص اسی لیے اس کو ذکر کیا۔ جبکہ محشی حضرات نے، بعض علماء نے انہوں نے کہا نہیں، یہ اگر خیرٌ کو عامل بنائیں گے تو خیرٌ اسمِ تفضیل ہے اور اسمِ تفضیل تو نہایت کمزور عامل ہے، یہ تو اسمِ ظاہر کے اندر عمل کرتا ہی نہیں۔ اور نَحْنُ یہاں ہے تو ضمیرِ منفصل لیکن یہ اسمِ ظاہر کے درجے میں ہے، جیسے اسمِ ظاہر معمول سے الگ ہوتا ہے، جدا رہتا ہے، اسی طرح ضمیرِ منفصل بھی جدا رہتی ہے اپنے معمول کے ساتھ جڑتی نہیں ہے۔ تو یہ جو ضمیرِ منفصل ہے، یہ بھی اسمِ ظاہر کے درجے میں ہے۔ تو خیرٌ کے لیے جب نَحْنُ کو فاعل بنائیں گے یعنی خیرٌ کو مبتدا کی قسمِ ثانی بنائیں گے، تو اسمِ تفضیل کو عامل بنانا پڑے گا نَحْنُ کے اندر جو کہ اسمِ ظاہر کے درجے میں ہے۔ حالانکہ اسمِ تفضیل نہایت کمزور عامل ہے اور وہ صرف اس ضمیر میں عمل کرتا ہے جو اس کے اندر چھپی ہوئی ہوتی ہے، اور وہ ضمیر اس کے اندر چھپی ہوئی ہے اور اس میں یہ عمل کر رہا ہے، تو یہ عمل بھی گویا لا عمل کی طرح ہے گویا عمل کر ہی نہیں رہا کیونکہ لفظوں کے اندر اس کے عمل کا کوئی اثر ظاہر نہیں ہوتا۔ ہاں! اسمِ ظاہر میں بھی یہ عمل کرتی ہے لیکن وہ عمل نہایت قلیل ہے اور اس کے لیے خاص خاص شرطیں ہیں جس کو علماء ذکر کرتے ہیں، آگے اسی قافیہ کے اندر بھی وہ مسئلہ ذکر ہوگا اور اسے مسئلہ کحل کہتے ہیں، مسئلہ کحل، اور اس کے اندر خاص شرطیں ہیں وہ ساری شرطیں پوری ہوں گی پھر جو ہے اسمِ تفضیل جو ہے وہ اسمِ ظاہر کے اندر عمل کرے گا۔ تو یہاں، تو یہاں تو وہ شرطیں ہی نہیں پوری تھیں تو پھر یہ کیسے خیرٌ کو عامل بنائیں گے اور نَحْنُ کو اس کے لیے فاعل؟ جبکہ پھر بعض علماء نے جواب دیا، وہ کہتے ہیں کہ وہاں جو مسئلہ کحل میں ذکر ہوا ہے اسمِ تفضیل کے عمل کے لیے شرائط جو ہیں، وہ اسمِ ظاہر حقیقی کے اندر عمل کی شرائط ہیں، اور یہ نَحْنُ اسمِ ظاہر کے درجے میں تو ہے لیکن حقیقتاً یہ تو اسمِ ظاہر نہیں، یہ تو ضمیر ہی ہے اور یہاں بھی عمل لا عمل ہی کی طرح ہے کیونکہ عمل کا کوئی اثر ظاہر نہیں ہو رہا، کوئی رفع آ نہیں رہا بھئی، نَحْنُ تو مبنی ہے اس پر تو محلاً رفع آئے گا لفظوں میں رفع نہیں آئے گا۔ تو لہٰذا بایں لحاظ یہ اس سے مختلف ہے، لہٰذا یہاں یہ عمل کر سکتا ہے بھئی۔ پھر وہ علماء جو کہتے ہیں کہ خیرٌ کو نَحْنُ کے اندر عامل نہیں بنائیں گے، وہ کہتے ہیں کہ خیرٌ کو خبرِ مقدم بنائیں گے اور نَحْنُ کو مبتدا مؤخر بنائیں گے، اور وہ جو اشکال لازم آتا تھا کہ یہ تو فصل بالاجنبی لازم آ رہا ہے خیرٌ اور مِنْكُمُ کے درمیان، تو وہ جواب دیتے ہیں کہ خیرٌ یہ جو مِنْكُمُ مذکور ہے اس کے اندر عامل نہیں ہے بلکہ خیرٌ کے بعد مِنْكُمُ محذوف ہے بھئی، مِنْكُمُ محذوف ہے اور خیرٌ اس کے اندر عامل ہے اور پھر اس کو حذف کر لیا گیا، اور آگے آنے والا مِنْكُمُ اس کی تفسیر ہے بھئی۔ تو گویا یہ "مَا أُضْمِرَ عَلَى شَرِيطَةِ التَّفْسِيرِ" کے قبیل سے ہے کہ جس کو حذف کر لیا گیا تفسیر کی شرط پر بھئی۔ اور پھر تیسری شرط انہوں نے ذکر کی تھی کہ وہ صفت کا صیغہ اسمِ ظاہر کو رفع دے، اور صاحبِ جامی نے بتلایا کہ اس کے ساتھ ایک اور قید کا بھی اضافہ کرنا پڑے گا کہ اسمِ ظاہر کو رفع دے یا جو اسمِ ظاہر کے قائم مقام ہو اس کو رفع دے تاکہ یہ جو اللہ تعالیٰ کا قول ہے: "أَرَاغِبٌ أَنْتَ عَنْ آلِهَتِي يَا إِبْرَاهِيمُ" تاکہ اس جیسی مثالیں بھی اس کے اندر داخل ہو جائیں، اس لیے کیونکہ اس کے اندر "أَرَاغِبٌ أَنْتَ"، راغب صفت کا صیغہ وہ انت ضمیر کو رفع دے رہا ہے اسمِ ظاہر کو رفع نہیں دے رہا، لیکن یہ ضمیرِ منفصل ہے اور ضمیرِ منفصل بھی کس کے درجے میں ہے؟ اسمِ ظاہر کے درجے میں ہے، لہٰذا یوں نہ کہو کہ اسمِ ظاہر کو رفع دے بلکہ اسمِ ظاہر یا قائم مقامِ اسمِ ظاہر کو وہ رفع دے۔ اب یہ مثال بھی اس کے اندر داخل ہو گئی، اور میں نے بتایا تھا یہاں دونوں ترکیبیں کر سکتے ہیں، آپ چاہیں تو "أَرَاغِبٌ أَنْتَ" اس کے اندر راغب کو مبتدا کی قسمِ ثانی بنائیں اور انت کو اس کے لیے فاعل بنائیں اور وہ قائم مقامِ خبر کے ہے، اور یہ ترکیب پسندیدہ ہے اس لیے کیونکہ اس صورت میں راغب اور عن آلہتی کے درمیان اجنبی کا فصل لازم نہیں آتا۔ اور آپ چاہیں تو مبتدا کی قسمِ اول یہاں بنا لیں اور أَرَاغِبٌ، یہ راغب کو خبرِ مقدم بنائیں اور انت کو مبتدا مؤخر بنائیں، تو یہاں دونوں ترکیبیں ہو سکتی ہیں کیونکہ صفت کا صیغہ بھی مفرد ہے اور آگے وہ جو قائم مقامِ اسمِ ظاہر ہے وہ بھی وہ بھی مفرد ہے، تو یہاں جب دونوں میں مطابقت ہو مفرد ہونے کے اعتبار سے، تو وہاں دونوں ترکیبیں ہو سکتی ہیں۔ آگے دیکھیے بھئی آج کا سبق۔ کہتے ہیں: وَالْخَبَرُ هُوَ الْمُجَرَّدُ، أَيْ هُوَ الإِسْمُ الْمُجَرَّدُ عَنِ الْعَوَامِلِ اللَّفْظِيَّةِ. جی پہلے متن متن دیکھیے۔ اب خبر کی بات کریں گے، کہتے ہیں: وَالْخَبَرُ هُوَ الْمُجَرَّدُ الْمُسْنَدُ بِهِ، خبر وہ اسمِ مجرد ہے... بھئی دیکھیے! مبتدا کی جو تعریف کی تھی صاحبِ قافیہ نے کیا فرمایا تھا؟ "فَالْمُبْتَدَأُ هُوَ الإِسْمُ الْمُجَرَّدُ"، مجرد سے پہلے اسم کا لفظ ذکر کیا تھا، اور اور پھر مجرد کے بعد آگے "عَنِ الْعَوَامِلِ اللَّفْظِيَّةِ" کو ذکر کیا تھا، لیکن خبر کے اندر ان دونوں کو حذف کر لیا۔ میں نے بتایا صاحبِ قافیہ کے پاس الفاظ کم ہیں، انہوں نے مختصر سے مختصر لفظوں میں لمبی سے لمبی بات کرنی ہے۔ تو پیچھے چونکہ ایک مرتبہ الْمُجَرَّدُ کا موصوف الإِسْمُ کو ذکر کر دیا تھا، اس لیے یہاں پر صرف الْمُجَرَّدُ کو ذکر کر دیا کہ باقی پڑھنے والا خود ہی سمجھ جائے گا کہ پیچھے مبتدا جو تھا وہ اسمِ مجرد تھا تو خبر بھی کیا ہے؟ اسمِ مجرد ہی ہے بھئی۔ اور نیز وہاں مجرد کے بعد عَنِ الْعَوَامِلِ اللَّفْظِيَّةِ ذکر کیا تھا، اس کو بھی یہاں دوبارہ ذکر نہیں کیا کہ ایک دفعہ میں نے ذکر کر دیا آگے آپ خود ہی سمجھ جائیں کہ وہ بھی یہاں ملحوظ ہے۔ تو معلوم ہوا جو صاحبِ قافیہ نے کہا: وَالْخَبَرُ هُوَ الْمُجَرَّدُ، یہ مجرد صفت ہے، اس کا موصوف کیا؟ الإِسْمُ، وہ بھی محذوف، اور اس کا متعلق یعنی عَنِ الْعَوَامِلِ اللَّفْظِيَّةِ وہ بھی محذوف ہے۔ تو خبر وہ اسم ہے جو خالی ہو عواملِ لفظیہ سے، الْمُسْنَدُ بِهِ، مسند بہ ہو، کیا ہو؟ مسند بہ ہو۔ اس قید کے ذریعے مبتدا کی قسمِ اول کو نکال دیا۔ کیونکہ مبتدا کی قسمِ اول وہ مسند بہ نہیں ہوتی، وہ مسند الیہ ہوتی ہے۔ بھئی دیکھیے نا! خبر کی کیا تعریف کی؟ خبر وہ اسم ہے جو عواملِ لفظیہ سے خالی ہو۔ اس کے اندر تو مبتدا کی قسمِ اول بھی داخل ہو رہی ہے، وہ بھی عواملِ لفظیہ سے خالی، اسی طرح مبتدا کی قسمِ ثانی بھی اس کے اندر داخل ہو رہی ہے وہ بھی عواملِ لفظیہ سے خالی ہے۔ تو لہٰذا آگے ایک قید لگا دی: الْمُسْنَدُ بِهِ، کہ وہ مسند بہ ہو، جب مسند بہ کہا تو مبتدا کی قسمِ اول نکل گئی۔ کیونکہ وہ مسند بہ نہیں ہے بلکہ وہ تو مسند الیہ ہے۔ ہاں! مبتدا کی قسمِ ثانی ابھی بھی باقی ہے۔ أَقَائِمٌ الزَّيْدَانِ، یہ قائمٌ کیا ہے؟ مبتدا کی قسمِ ثانی ہے اور یہ مسند ہے اور آگے الزَّيْدَانِ وہ اس کا فاعل ہے، وہ مسند الیہ ہے۔ تو مبتدا کی قسمِ ثانی ابھی بھی اس تعریف کے اندر داخل ہے، تو اس کو پھر آگے ایک اور قید لگا دی: الْمُغَايِرُ لِلصِّفَةِ الْمَذْكُورَةِ، جو اس مذکورہ صفت کے مغائر ہو۔ خبر کسے کہتے ہیں؟ وہ اسم جو خالی ہو عواملِ لفظیہ سے اور مسند بہ ہو، مسند بہ ہو تو مبتدا کی قسمِ ثانی ابھی بھی داخل کیونکہ وہ بھی عواملِ لفظیہ سے خالی اور وہ مسند بہ بھی ہے، لیکن آگے کیا کہا؟ الْمُغَايِرُ لِلصِّفَةِ الْمَذْكُورَةِ، کہ وہ خبر جو ہے وہ مذکورہ صفت کے مغائر ہو، اس کے علاوہ ہو۔ کون سی مذکورہ صفت؟ جو ابھی پیچھے ذکر کیا تھا، صیغہ صفت کا ہو، حرفِ نفی یا استفہام کے بعد ہو، اور کیا کر رہا ہو؟ اسمِ ظاہر کو رفع دے رہا ہو۔ یہ جو مبتدا کی قسمِ ثانی ہے یہ مسند بہ ہے، یہ خبر کی تعریف میں داخل ہو رہا تھا، لیکن جب کہا کہ اس صفت کے علاوہ ہو، یہ صفت نہ ہو، تو مبتدا کی یہ قسمِ ثانی بھی اس قید کی وجہ سے نکل گئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ دوبارہ دیکھیے، کہتے ہیں: وَالْخَبَرُ هُوَ الْمُجَرَّدُ الْمُسْنَدُ بِهِ الْمُغَايِرُ لِلصِّفَةِ الْمَذْكُورَةِ، خبر وہ اسم ہے جو خالی ہو عواملِ لفظیہ سے، مسند بہ ہو، الْمُغَايِرُ لِلصِّفَةِ الْمَذْكُورَةِ اور یہ صفت جو ذکر کی گئی مبتدا کی تعریف میں اس کے مغائر ہو، یعنی اس کے علاوہ ہو، اس سے غیر ہو۔ یہ تو تھا متن بھئی، اب آئیے شارح کے ساتھ اس سارے کو دیکھیں بھئی۔ کہتے ہیں: وَالْخَبَرُ هُوَ الْمُجَرَّدُ، أَيْ هُوَ الإِسْمُ الْمُجَرَّدُ عَنِ الْعَوَامِلِ اللَّفْظِيَّةِ. بھئی متن میں آیا: وَالْخَبَرُ هُوَ الْمُجَرَّدُ، خبر وہ ہے جو کہ خالی ہو۔ آگے صاحبِ جامی نے بتلا دیا کہ الْمُجَرَّدُ کا موصوف الإِسْمُ بھی یہاں محذوف ہے، اور اس کا متعلق یعنی عَنِ الْعَوَامِلِ اللَّفْظِيَّةِ بھی محذوف ہے۔ مبتدا کی قسمِ اول کے اندر صاحبِ قافیہ نے دونوں چیزیں ذکر کی تھیں، وہاں کیا کہا تھا؟ "الْمُبْتَدَأُ هُوَ الإِسْمُ الْمُجَرَّدُ عَنِ الْعَوَامِلِ اللَّفْظِيَّةِ"، اور چونکہ ایک دفعہ بات گزر چکی تھی اس لیے دوبارہ وہ سارا ذکر نہیں کیا بلکہ صرف هُوَ الْمُجَرَّدُ کہہ دیا، کہ پڑھنے والا خود سمجھ جائے گا کہ اس کا موصوف جو ہے وہ الإِسْمُ محذوف ہے، اور آگے یہ خالی ہو کس چیز سے خالی ہو؟ عواملِ لفظیہ سے خالی ہو، وہ بھی محذوف ہے بھئی۔ تو چنانچہ دیکھو متن میں آیا: وَالْخَبَرُ هُوَ الْمُجَرَّدُ۔ آگے صاحبِ جامی نے بتلا دیا: أَيْ هُوَ الإِسْمُ الْمُجَرَّدُ عَنِ الْعَوَامِلِ اللَّفْظِيَّةِ۔ کہ خبر وہ اسم ہے جو خالی ہو عواملِ لفظیہ سے۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ یہ آپ نے "المجرد" سے پہلے "الاسم" کا لفظ محذوف کیوں نکال لیا؟ تو آپ کو بتائیں گے صاحبِ جامی کہ بھئی ہماری بحث مرفوعاتِ اسم کے بارے میں چل رہی ہے۔ دیکھو ہم اس وقت مرفوعات پڑھ رہے ہیں۔ آگے منصوبات آئیں گے اور پھر مجرورات آئیں گے۔ لیکن یہ بحث اسم کی ہے، فعل کی بحث نہیں ہے۔ فعل کی بحث آخر میں آئے گی، جب اسم کی بحث مکمل ہو جائے گی تو پھر فعل کی بحث آئے گی اور فعلِ مضارع بھی کبھی مرفوع ہوتا ہے، کبھی منصوب ہوتا ہے اور کبھی مجزوم ہوتا ہے۔ تو وہ فعلِ مضارع کے اندر اس کے مرفوع ہونے کو ذکر کریں گے۔ یہاں جو مرفوعات کی بحث چل رہی ہے وہ کس کی ہے؟ اسم کی ہے، تو اس لیے "المجرد" سے پہلے موصوف "الاسم" محذوف نکالنا پڑے گا بھئی۔ تو یہ معنی ہے۔ کہتے ہیں کہ أَيْ هُوَ الإِسْمُ الْمُجَرَّدُ عَنِ الْعَوَامِلِ اللَّفْظِيَّةِ کہ خبر وہ اسم ہے جو خالی ہو عواملِ لفظیہ سے، لِأَنَّ الْكَلَامَ فِي مَرْفُوعَاتِ الإِسْمِ اس لیے کیونکہ یہ کلام جو ہے مرفوعاتِ اسم کے بارے میں ہے، فَلَا يَصْدُقُ عَلَى يَضْرِبُ فِي يَضْرِبُ زَيْدٌ أَنَّهُ الْمُجَرَّدُ الْمُسْنَدُ بِهِ الْمُغَايِرُ لِلصِّفَةِ الْمَذْكُورَةِ لِأَنَّهُ لَيْسَ بِإِسْمٍ۔ تو کہتے ہیں صاحبِ جامی فرما رہے ہیں کہ خبر کی تعریف میں جو "المجرد" آیا، اس سے مراد "الاسم المجرد" ہے بھئی۔ لہٰذا لہٰذا کوئی "یضرب زید" کے اندر جو "یضرب" آیا ہے، تو اس کو لے کر اعتراض نہیں کیا جا سکتا۔ بھئی دیکھو! فعلِ مضارع بھی جب عاملِ ناصب اور جازم سے خالی ہو تو وہ مرفوع ہوتا ہے۔ تو دیکھو "یضرب زید"، "یضرب" فعل اور "زید" مرفوع لفظاً اس کا فاعل۔ اب دیکھو یہ "یضرب" یہ بھی خبر کی تعریف میں داخل ہو رہا تھا۔ خبر کی کیا تعریف کی؟ کہ وہ عواملِ لفظیہ سے خالی ہو۔ دیکھو "یضرب زید"، یہ "یضرب" کیا ہے؟ عواملِ لفظیہ سے خالی ہے، اس پر کوئی عاملِ لفظی داخل نہیں۔ دوسری قید کیا ذکر کی خبر کے اندر؟ کہ وہ مسند بہ ہو۔ "یضرب زید"، اس کے اندر یہ جو "یضرب" ہے یہ بھی مسند بہ ہے، آگے "زید" مرفوع لفظاً اس کا فاعل ہے بھئی، اور فاعل مسند الیہ ہوتا ہے۔ تو "یضرب" عواملِ لفظیہ سے بھی خالی اور مسند بہ بھی ہے، اور تیسری قید جو تھی خبر کے اندر کہ وہ صفتِ مذکورہ سے مغائر ہو۔ کون سی صفت؟ وہ جو مبتدا کی قسمِ ثانی آئی تھی، اس میں کتنی شرطیں تھیں؟ تین شرطیں۔ صیغہ صفت کا ہو اور حرفِ نفی یا حرفِ استفہام کے بعد ہو اور نیز وہ اسمِ ظاہر کو رفع دے رہا ہو۔ اور یہ شرطیں اس کے اندر پوری نہیں، اس لیے کیونکہ "یضرب" یہ تو صفت کا صیغہ ہی نہیں ہے، یہ تو فعل ہے بھئی۔ تو یہ بھی دیکھو مغائر ہوا اس صفتِ مذکورہ سے۔ یہ "یضرب" بھی اس صفت کے صیغے سے مغائر ہوا، تو اس کو بھی خبر کہنا چاہیے، اس میں تینوں شرطیں پوری ہیں جو خبر کے اندر ذکر کی گئیں۔ یہ "یضرب زید" کے اندر جو "یضرب" ہے، عواملِ لفظیہ سے بھی خالی ہے، مسند بہ بھی ہے، اور وہ جو صفت ذکر ہوئی مبتدا کی قسمِ ثانی میں، یہ اس سے مغائر بھی ہے۔ لہٰذا اس کو بھی کیا کہنا چاہیے؟ خبر کہنا چاہیے۔ لیکن کوئی اس کو خبر نہیں کہتا، یہ فعل ہے اور آگے اس کا فاعل ہے بھئی۔ خبر کے لیے تو مبتدا چاہیے ہوتا ہے، حالانکہ یہ فعل ہے اس کے لیے آگے فاعل آ رہا ہے۔ تو اس کا جواب دے رہے ہیں صاحبِ جامی کہ بھئی ہم نے آپ کو بتلا دیا کہ جو خبر کی تعریف میں آیا: وَالْخَبَرُ هُوَ الْمُجَرَّدُ، تو اس "المجرد" سے کیا مراد ہے؟ "الاسم المجرد" کہ وہ اسم ہو جو خالی ہو عواملِ لفظیہ سے۔ تو اب "یضرب زید" کے اندر جو "یضرب" ہے، وہ اس تعریف سے نکل گیا۔ کیونکہ ہم اسم کی بات کر رہے ہیں اور "یضرب" تو اسم نہیں ہے، وہ تو فعل ہے، اس کی بات تو جہاں فعل کی بحث آئے گی وہاں اس کو ذکر کیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں لِأَنَّ الْكَلَامَ فِي مَرْفُوعَاتِ الإِسْمِ اس لیے کیونکہ یہ کلام جو ہے مرفوعاتِ اسم کے بارے میں ہے، فَلَا يَصْدُقُ عَلَى يَضْرِبُ لہٰذا یہ صادق نہیں آتا "یضرب" پر، یہ جو "یضرب" کا لفظ ہے اس پر صادق نہیں آتا۔ بھئی کون سا "یضرب" کا لفظ؟ کہتے ہیں فِي يَضْرِبُ زَيْدٌ اس "یضرب زید" جملے کے اندر جو "یضرب" کا لفظ ہے، اس پر یہ تعریف صادق نہیں آتی۔ کیا تعریف؟ کہ أَنَّهُ الْمُجَرَّدُ کہ یہ بھی خالی ہے، الْمُسْنَدُ بِهِ کہ یہ مسند بہ ہے، الْمُغَايِرُ لِلصِّفَةِ الْمَذْكُورَةِ اور یہ اس مذکورہ صفت کے مغائر ہے۔ تو اس پر یہ خبر کی تعریف صادق نہیں آتی۔ کہتے ہیں لِأَنَّهُ لَيْسَ بِإِسْمٍ اس لیے کیونکہ یہ "یضرب" اسم نہیں ہے، یہ تو فعل ہے۔ بھئی دیکھیے! یہاں عبارت آئی: فَلَا يَصْدُقُ عَلَى يَضْرِبُ۔ "یضرب" فعل ہے اور اس پر "علی" جارہ داخل ہے بھئی، حالانکہ یہ "علی" جارہ یہ صرف اسم پر داخل ہوتا ہے بھئی۔ تو پھر یہ "یضرب" فعل پر کیسے داخل ہے بھئی؟ یہ "یضرب" پر "علی" جارہ کیسے داخل ہے بھئی؟ حالانکہ حرفِ جر تو صرف اسم پر داخل ہوتا ہے، کیا جواب دیں گے؟ ہاں شاباش! کہ "یضرب" سے "یضرب" کا لفظ مراد ہے، تو یہ "یضرب" "هذا اللفظ" کی تاویل میں ہے۔ فَلَا يَصْدُقُ عَلَى يَضْرِبُ أَيْ عَلَى هَذَا اللَّفْظِ، لہٰذا اس لفظ پر یہ خبر کی تعریف صادق نہیں آتی۔ کون سا لفظ؟ یہ "یضرب"۔ تو یہ "ہذا اللفظ" کی تاویل میں ہے، یعنی اسم کی تاویل میں ہے۔ یا دوسرا جواب یہ کہ یہ "یضرب"، وہ جو "یضرب زید" کے اندر "یضرب" آیا ہم نے اس کا نام ہی "یضرب" رکھ دیا، تو اب یہ علم کی تاویل میں ہے اور علم تو اسم ہوتا ہے، تو لہٰذا اب یہ اسم ہے اور اس پر "علی" داخل ہے۔ اور علامت کیا ہے یہ علم ہے؟ یاد رکھو! علامت یہ ہے کہ اس کا ترجمہ نہیں کیا جاتا۔ جہاں لفظ مراد ہوتا ہے، اس لفظ کا ترجمہ نہ کیا جائے تو سمجھ جائیں یہ علم کی تاویل میں ہے۔ دیکھو فَلَا يَصْدُقُ عَلَى يَضْرِبُ، یہ صادق نہیں آتی خبر کی تعریف "على یضرب" کس پر؟ "یضرب" پر۔ دیکھو! آپ "یضرب" کا ترجمہ نہیں کر رہے، حالانکہ "یضرب" کا معنی تو ہے "اس ایک شخص نے پٹائی کی"، لیکن آپ ترجمہ نہیں کر رہے کیونکہ یہاں لفظ مراد ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اسی طرح فِي يَضْرِبُ زَيْدٌ، یہاں بھی "یضرب زید" پورا جملہ مراد ہے، یعنی "ہذا اللفظ" کی تاویل میں ہے یا یہ بھی "یضرب زید" پورا جملہ علم ہے بھئی، اور اس لیے اس پر یہ "فی" داخل ہو رہا ہے۔ اس کا بھی دیکھو ترجمہ نہیں: فَلَا يَصْدُقُ عَلَى يَضْرِبُ فِي يَضْرِبُ زَيْدٌ، لہٰذا یہ خبر کی تعریف صادق نہیں آتی اس "یضرب" پر "فی یضرب زید" جو کس کے اندر ہے؟ "یضرب زید" کے اندر ہے۔ تو دیکھو دونوں جگہ لفظوں کا ترجمہ نہیں کیا گیا، معلوم ہوا لفظ بول کر لفظ مراد ہے۔ اچھا انھوں نے تعریف کی کہ خبر وہ اسم ہے جو عواملِ لفظیہ سے خالی ہو۔ بھئی آپ نے پڑھا ہے کہ خبر کبھی کبھار جملہ بھی ہوتی ہے بھئی۔ خبر کبھی کبھار جملہ بھی ہوتی ہے اور انھوں نے تو کیا کہا؟ خبر وہ وہ اسم ہے بھئی جو خالی ہو عواملِ لفظیہ سے۔ تو اس کا جواب یاد رکھنا بھئی کہ اسم ہونا عام ہے، چاہے حقیقتاً اسم ہو، چاہے حکماً اسم ہو۔ اور جو جملہ ہوتا ہے، وہ حقیقتاً تو اسم نہیں، حقیقتاً تو وہ جملہ ہے، لیکن حکماً وہ اسم ہے، یعنی اسم کے حکم میں ہے۔ حکماً اسم کا کیا معنی؟ اسم کے حکم میں ہے، یعنی اسم کا اس کو ہم نے حکم دے دیا ہے بھئی، کہ یہ اسم کے حکم میں ہے۔ بھئی کس طرح اسم کے حکم میں؟ کس طرح؟ کیا معنی؟ معنی یہ ہے کہ اسم کے ساتھ یعنی مفرد کے ساتھ اس کی تعبیر کی جا سکے۔ تو مفرد کے ساتھ اس کی تعبیر کی جا سکے، مثلاً دیکھو: زَيْدٌ أَبُوهُ قَائِمٌ۔ اب یہ "زید" مبتدا ہے اور آگے "أبوه قائم" یہ پورا جملہ اسمیہ ہے اور یہ خبر بن رہا ہے "زید" کی۔ توجہ ہے؟ "زید" ہے مبتدا اور "أبوه قائم" یہ پورا جملہ اس کی خبر۔ اور یہ جو "أبوه قائم" پورا جملہ یہ جو خبر ہے، اس کے اندر "أبوه" مبتدا ہے اور "قائم" اس "أبوه" کی خبر ہے۔ تو ترکیب کیسے ہو گی؟ "زید" مرفوع لفظاً، اس کو پھر مبتدائے اول کہیں گے۔ اور آگے اس کی خبر کے اندر جو مبتدا آئے گا اس کو مبتدائے ثانی کہیں گے۔ تو زَيْدٌ أَبُوهُ قَائِمٌ: "زید" مرفوع لفظاً مبتدائے اول، "أبوه" "أبو" مرفوع لفظاً مضاف، مرفوع کیوں؟ کیونکہ یہ مبتدائے ثانی ہے بھئی، اور مضاف آپ کو کیسے پتہ چلا مضاف ہے؟ اس کے ساتھ ضمیرِ متصل جڑی ہوئی ہے، اور "ہو" ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ، اور یہ "ہو" ضمیر راجع ہے "زید" کو۔ یہ "أبوه قائم" پورا جملہ بنے گا اور اس پورے جملے کو ہم کس سے جوڑیں گے؟ "زید" سے، اور جملے کو یا شبهِ جملے کو جب بھی کسی چیز سے جوڑنا ہو درمیان میں ربط ضروری، تو یہ "ہو" ضمیر لائی ہی اسی لیے گئی ہے تاکہ یہ ربط دے سکے۔ اس کے بغیر ربط نہیں تھا، اسی لیے "أبوه" کے اندر "ہو" ضمیر لے کر آئے، تو "أبوه" مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ ہے مبتدائے ثانی، اور "قائم" یہ اس مبتدائے ثانی کی خبر ہے۔ تو "قائم" کو کس سے جوڑیں گے؟ "أبوه" سے جوڑیں گے، "زید" سے نہیں جوڑیں گے، یہ اس کی خبر نہیں ہے۔ تو "قائم" مرفوع لفظاً صیغہ اسمِ فاعل، اس کے اندر "ہو" ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، جو کس کو راجع؟ "أبوه" کو، کیونکہ یہ "قائم" "أبوه" کی خبر ہے "زید" کی خبر نہیں ہے۔ تو اسمِ فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبهِ جملہ ہو کر خبر، خبر۔ اور اس کی ضمیر ہم نے کس کو لوٹائی؟ "أبوه" کو، تو شبهِ جملہ کا ربط بھی ہم نے اس کے مبتدا سے دے دیا۔ تو "أبوه" مبتدا اپنی خبر "قائم" سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہو کر یہ خبر ہوا "زید" کے لیے۔ تو "زید" مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ اب دیکھو "زید" ہے مبتدا اور "أبوه قائم" پورا جملہ اسمیہ اس کی خبر ہے، اور خبر کیا ہوتی ہے؟ مرفوع، تو یہ "أبوه قائم" پورا جملہ محلاً مرفوع ہے، کیونکہ یہ جملہ ہے اور جملہ مبنیات میں سے ہے اور مبنی کا اعراب کیسے بتاتے ہیں؟ محلاً، تو یہ "أبوه قائم" پورا جملہ محلاً مرفوع ہے۔ توجہ ہے؟ پھر مجھے بتاؤ "زید" کیوں مرفوع تھا؟ وہ مبتدائے اول۔ "أبوه" کیوں مرفوع؟ مبتدائے ثانی۔ "قائم" کیوں مرفوع؟ یہ خبر ہے مبتدائے ثانی کے لیے، اور "أبوه قائم" یہ پورا جملہ کیوں مرفوع؟ یہ "زید" کی خبر ہے، وجہیں سمجھ میں آ رہی ہیں بھئی؟ تو یہ خبر، اب دیکھو یہاں خبر پورا جملہ ہے، حالانکہ آپ نے ہمیں کیا بتایا کہ خبر اسم ہوتی ہے۔ اب یہ تو "أبوه قائم" یہ تو اسم نہیں ہے، یہ تو پورا جملہ ہے، تو میں نے بتلا دیا جواب کہ بھئی اسم ہونا عام ہے، چاہے حقیقتاً اسم ہو چاہے حکماً اسم ہو، اور یہ "أبوه قائم" حقیقتاً تو اسم نہیں، حقیقتاً تو یہ جملہ ہے، لیکن حکماً یہ اسم ہے، یعنی اس کو ایک اسم کے ساتھ تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ ایک اسم کے ساتھ تعبیر کیا جا سکتا ہے، مثلاً "أبوه قائم" کو ہم تعبیر کریں گے "قائم الاب" سے۔ تو گویا اصل کلام یوں ہے: زَيْدٌ قَائِمُ الأَبِ۔ زید قائم الاب ہے، یعنی اس کے ابو کھڑے ہیں، اس کے والد کھڑے ہیں۔ تو دیکھو پورے جملے کی تعبیر ہم نے کس سے کر دی؟ ایک اسم کے ساتھ، اور وہ کیا ہے؟ "قائم الاب"۔ ابھی بھی آپ کے ذہن میں اشکال آئے گا کہ یہ تو مضاف مضاف الیہ ہیں دو اسم ہیں۔ یہ تو دو اسم ہیں: زَيْدٌ قَائِمُ الأَبِ، "قائم" مضاف اور "الاب" مضاف الیہ۔ تو یاد رکھو اس کے اندر جو خبر ہے وہ صرف "قائم" ہے بھئی، اور "الاب" وہ تو مضاف الیہ بن گیا بھئی۔ تو زَيْدٌ مرفوع ہے، کیوں؟ مبتدا، اور قَائِمُ الأَبِ، "قائم" مرفوع لفظاً مضاف، اور "الاب" مضاف الیہ، اور "قائم" کے اندر "ہو" ضمیر ہے۔ اس کے اندر "ہو" ضمیر جو "زید" کو راجع ہے، زید قائم الاب ہے۔ زید کیا ہے؟ قائم الاب، یعنی اس کے ابو کھڑے ہیں۔ یہ نہیں کہ معنی کہ زید کھڑا ہے، زید قائم الاب ہے، یعنی زید کے ابو کھڑے ہیں۔ تو یہاں دیکھو یہ خبر صرف "قائم" ہے، "الاب" تو مضاف الیہ ہے، تو گویا پورے جملے کو ایک اسم کے ساتھ تعبیر کر دیا گیا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو اسم ہونا عام ہے، چاہے حقیقتاً ہو اور چاہے حکماً ہو، اور حکماً اسم ہونے کا کیا معنی؟ کہ اس جملے کو ایک اسم کے ساتھ تعبیر کیا جا سکے بھئی۔ آگے دیکھیے بھئی: الْمُسْنَدُ بِهِ أَيْ مَا يُوَقَّعُ بِهِ الإِسْنَادُ۔ جی یہ مشکل مقام ہے بھئی، اس کو توجہ سے سمجھ لیں بھئی۔ بھئی دیکھیے! انھوں نے کیا کہا؟ خبر وہ اسم ہے جو عواملِ لفظیہ سے خالی ہو، الْمُسْنَدُ بِهِ وہ مسند بہ ہو، اور آگے شارحِ جامی اس کی تفسیر کر رہے ہیں: أَيْ مَا يُوَقَّعُ بِهِ الإِسْنَادُ، یعنی وہ جس کے ذریعے اسناد کو واقع کیا جائے۔ مسند بہ کا کیا معنی؟ وہ لفظ جس کے ذریعے اسناد کو واقع کیا جائے بھئی۔ مثلاً دیکھو "زید" اکیلا لفظ ہے، کوئی اسناد نہیں۔ آگے میں "قائم" لے کر آیا اور اس "قائم" کے ذریعے میں نے اسناد واقع کر دیا، "قائم" کو میں نے "زید" سے جوڑ دیا۔ تو کلام کیا بن گیا؟ "زید قائم"، تو یہ اسناد کس کے ذریعے واقع کیا گیا؟ "قائم" کے ذریعے، توجہ ہے؟ "زید" اکیلا لفظ تھا اور کوئی اسناد وغیرہ نہیں تھا، میں ایک اور لفظ "قائم" لایا اور میں نے "زید" کے ساتھ اس کو جوڑ دیا۔ اس "قائم" کے ذریعے میں نے اسناد واقع کر دیا، توجہ ہے؟ اس کا میں نے اسناد کر دیا "زید" کی طرف، تو اس کے ذریعے اسناد کو واقع کر دیا گیا، تو یہ مسند بہ ہے بھئی، یہ کیا ہے؟ مسند بہ۔ تو متن میں کیا آیا؟ الْمُسْنَدُ بِهِ، اور آگے شارحِ جامی نے اس کی کیا تفصیل کی؟ أَيْ مَا يُوَقَّعُ بِهِ الإِسْنَادُ، یعنی وہ اسم جس کے ذریعے اسناد کو واقع کیا جائے بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ اب اس جگہ کو اچھی طرح سمجھیں بھئی، بہت مشکل مقام ہے بھئی۔ بھئی صاحبِ جامی نے "المسند به" کی تفسیر "أَيْ مَا يُوَقَّعُ بِهِ الإِسْنَادُ" کے ساتھ کیوں کی؟ اس کی وجہ کیا ہے؟ وجہ کیا ہے؟ تو یہاں پہلے دو تین باتیں سمجھ لیں بھئی۔ سب سے پہلے تو یہ یاد رکھیں، میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ جو حروفِ جارہ ہیں ان کے ذریعے کسی فعل کو متعدی کیا جاتا ہے، اور یہ جو ان کا مجرور ہوتا ہے یہ بھی دراصل مفعول بہ ہوتا ہے، البتہ یہ مفعول بہ غیر صریح کہلاتا ہے۔ ایک مفعول بہ صریح ہوتا ہے، صریح کا معنی صاف لفظوں میں، جو مفعول بہ ہو یعنی جس پر نصب آ رہا ہو، اور ایک ہے غیر صریح، وہ مجرور بحرفِ جر ہے۔ مثلاً دیکھو: "ضربت زیداً"، میں نے زید کی پٹائی کی۔ یہ "ضربت" فعل جو ہے یہ ایک مفعول کو نصب دیتا ہے اور وہ "زیداً" آگے میں نے ذکر کر دیا: "ضربت زیداً"۔ اب میں اس "ضربت" کے ساتھ "العصا" کو بھی جوڑنا چاہتا ہوں، میں چاہتا ہوں کہ یہ "ضربت" "العصا" میں بھی عمل کرے اور اس کو بھی نصب دے، یہ بھی اس کے لیے مفعول بنانا چاہتا ہوں، لیکن "ضربت" تو ایک ہی مفعول بہ کو نصب دیتا ہے۔ آگے مفعول فیہ، مفعول مطلق، مفعول لہ، مفعول معہ وغیرہ میں تو وہ عمل کرے گا، لیکن مفعول بہ تو یہ ایک ہی چاہتا ہے بھئی، اور "العصا" یہ تو نہ مفعول فیہ ہے، نہ زمانہ ہے نہ جگہ ہے، نہ یہ مفعول لہ ہے، علت بھی نہیں بیان کر رہا، یہ نہ مفعول معہ وغیرہ کچھ بھی نہیں ہے، یہ تو مفعول بہ ہی بن سکتا ہے۔ اور "ضربت" کتنے مفعول بہ چاہتا ہے؟ ایک، اور وہ ایک آ چکا ہے "ضربت زیداً"، اس "زیداً" کو اس نے نصب دے دیا۔ اور میں اب "العصا" کو بھی جوڑنا چاہتا ہوں، تو اب براہ راست یہ "ضربت" اس "العصا" کے اندر عمل نہیں کر سکتا، تو پھر ہم حروفِ جارہ کا سہارا لیتے ہیں۔ چنانچہ اب میں کہوں گا: "ضربت زیداً بالعصا"، اب مسئلہ حل ہو گیا۔ اب "ضربت" "العصا" میں عمل کر رہا ہے با جارہ کے واسطے سے۔ تو یہ "العصا" بھی کیا ہے؟ مفعول بہ ہے، لیکن غیر صریح ہے۔ تو یاد رکھو! جتنے بھی حروفِ جارہ استعمال ہوتے ہیں تو ان کا جو مجرور ہوتا ہے وہ اپنے معمول کے لیے مفعول بہ ہوتا ہے، یعنی مفعول بہ غیر صریح بھئی۔ تو لہٰذا یہ حروفِ جارہ کے ذریعے کسی فعل کو متعدی کیا جاتا ہے، یہ تو میں نے وہ مثال ذکر کی جب فعل ایک مفعول کو پہلے ہی نصب دے رہا تھا اور میں دوسرا مفعول بھی لانا چاہتا تھا۔ کبھی فعل لازمی ہو گا، مثلاً "ذہبت"، "میں گیا"، دیکھو! یہ فعلِ لازم ہے، یہ مفعول چاہتا ہی نہیں، یہ مفعول کو نصب دیتا ہی نہیں، لیکن میں اس کے لیے مفعول لانا چاہتا ہوں، میں بتلانا چاہتا ہوں کہ میں زید کو لے گیا۔ تو ایک طریقہ تو یہ ہے کہ اس کو بابِ افعال میں لے جاتے ہیں، اَذْهَبْتُ زَيْدًا، میں زید کو لے گیا۔ لیکن یہاں میں اس کی بات نہیں کر رہا، میں حروفِ جارہ کی بات کر رہا ہوں۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اس کے ساتھ پھر حرفِ جر استعمال کیا جاتا ہے، اَیْ ذَهَبْتُ بِزَيْدٍ۔ ذَهَبْتُ بِزَيْدٍ کا کیا معنیٰ؟ میں زید کو لے گیا بھئی۔ تو دیکھو ذَهَبْتُ فعلِ لازم تھا اور با کے ذریعے میں نے اس کو متعدی کر دیا اور یہ جو با کا جو مدخول ہے یعنی مجرور، یہ مفعول بہ غیر صریح ہے ذَهَبْتُ کے لیے۔ تو یہ مفعول بہ غیر صریح ہے بھئی یا اسی طرح دوسری مثال لے لو، مَرَرْتُ۔ مَرَرْتُ کا معنیٰ ہے میں گزرا اور میں اس کو متعدی کرنا چاہتا ہوں، میں چاہتا ہوں کہ یہ زید کو نصب دے، لیکن مَرَرْتُ تو فعلِ لازم ہے، وہ تو مفعول بہ چاہتا ہی نہیں، اس کو نصب دیتا ہی نہیں، تو یہاں بھی پھر میں حروفِ جارہ کا سہارا لوں گا اور کیا کہوں گا؟ مَرَرْتُ بِزَيْدٍ۔ تو اس با نے کیا فائدہ دیا؟ اس نے زید کو معمول بنا دیا مَرَرْتُ کے لیے، تو مَرَرْتُ بِزَيْدٍ، اس میں یہ زید کیا ہے؟ مفعول بہ غیر صریح ہے۔ تو حاصلِ کلام یہ کہ یہ جو حروفِ جارہ ہوتے ہیں، ان کے ذریعے کسی فعل کو متعدی کیا جاتا ہے ایسے مفعول بہ کی طرف جس کے اندر وہ خود براہِ راست عمل نہیں کر سکتا۔ اس کے بعد پھر یاد رکھو، یہ جو حروفِ جارہ جس فعل کے ساتھ یا جس عامل کے ساتھ استعمال ہوتے ہیں، یہ اس کا صلہ کہلاتے ہیں۔ یہ حروفِ جارہ جس فعل کے ساتھ جڑتے ہیں، جس کے ساتھ استعمال ہوتے ہیں، یہ حروفِ جارہ اس فعل کا صلہ کہلاتے ہیں۔ جیسے مَرَرْتُ بِهِ، یہ بِهِ کے اندر با کس کا صلہ ہے؟ مَرَرْتُ کا۔ ذَهَبْتُ بِزَيْدٍ، اس جملے کے اندر یہ با جارہ کس سے متعلق ہو رہی ہے؟ یہ جار مجرور کس سے متعلق ہیں؟ مَرَرْتُ کے ساتھ، تو ہم کہیں گے کہ یہ با صلہ ہے مَرَرْتُ کا۔ اسی طرح قالَ ہے مثلاً قالَ فعل ہے، قالَ کا معنیٰ بات کرنا اور اس کا صلہ لام آتا ہے، جس سے بات کی جائے اس پر لام داخل کرتے ہیں، مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں، قُلْتُ لِزَيْدٍ، میں نے زید سے کہا، تو لِزَيْدٍ کس سے متعلق ہے؟ قُلْتُ سے، تو ہم کیا کہیں گے کہ یہ لام صلہ ہے قُلْتُ کا یا یہ لام صلہ ہے قالَ فعل کا، بات سمجھ میں آ رہی ہے۔ یا اسی طرح میں کہتا ہوں، اِشْتَرَيْتُ مِنْ عَمْرٍو، میں نے عمرو سے خریدا، یہ مِنْ عَمْرٍو کس سے متعلق ہے؟ اِشْتَرَيْتُ سے، تو کیا کہیں گے کہ یہ مِنْ صلہ ہے اِشْتَرَيْتُ کا۔ تو حاصلِ کلام کیا کہ یہ حروفِ جارہ جس فعل کے ساتھ جڑتے ہیں، یہ اس کا صلہ کہلاتے ہیں۔ تو افعال کے اپنے خاص خاص صلے ہوتے ہیں جو ان کے ساتھ استعمال ہوتے ہیں اور صلے کے بدلنے سے اس فعل کا معنیٰ بدل جاتا ہے۔ جیسے دَعا کے ساتھ لام آئے، دَعَوْتُ لِزَيْدٍ، تو اس کا معنیٰ ہے میں نے زید کے لیے دعا کی، تو یہ لام صلہ ہے دَعَوْتُ کا اور اسی کے ساتھ لام کی جگہ اگر عَلیٰ لے آئیں، دَعَوْتُ عَلٰى زَيْدٍ، تو اب اس کا معنیٰ ہے میں نے زید کے لیے بددعا کی، تو دیکھو صلہ بدلنے سے فعل کا معنیٰ بدل جاتا ہے۔ تو وہ حروفِ جارہ جو فعل کے ساتھ استعمال ہوتے ہیں، وہ اس کا صلہ کہلاتے ہیں۔ اب دیکھو یہاں اشکال یہ ہوتا ہے کہ اَلْمُسْنَدُ بِهِ، کہ اس کے ساتھ یہ بِهِ کیوں لائے بھئی؟ توجہ ہے؟ عبارت پہ نظر ہے؟ وَالْخَبَرُ هُوَ الْمُجَرَّدُ الْمُسْنَدُ بِهِ، یہاں اَلْمُسْنَدُ بِهِ عبارت لے کر آئے، اشکال یہاں یہ ہوتا ہے کہ اَلْمُسْنَدُ یہ اسمِ مفعول کا صیغہ ہے۔ توجہ ہے؟ اسمِ مفعول کا صیغہ ہے اور آپ کو میں نے بتایا تھا کہ الف لام جو ہے دو قسم پر ہے، ایک الف لام اسمی اور ایک الف لام حرفی۔ الف لام اسمی وہ ہے جو اسمِ فاعل اور اسمِ مفعول کے صیغوں پر داخل ہو، جیسے اَلظَّارِبُ، دیکھو ظارِبُ اسمِ فاعل کا صیغہ ہے، تو اس پر جو الف لام آیا، یہ الف لام اسمی ہے اور یہ دراصل اسمِ موصول ہے۔ تو اَلظَّارِبُ کس معنیٰ میں ہوا؟ اَلَّذِيْ يَضْرِبُ اور اسی طرح اَلْمَضْرُوْبُ، یہ مَضْرُوْبُ اسمِ مفعول کا صیغہ ہے اور اس پر الف لام داخل ہے اور اسمِ فاعل اور اسمِ مفعول کے صیغوں پر جو الف لام آئے، وہ دراصل اسمِ موصول ہوتا ہے، تو اَلْمَضْرُوْبُ کس معنیٰ میں ہے؟ اَلَّذِيْ يُضْرَبُ کے معنیٰ میں ہے۔ تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے، اَلْمُسْنَدُ، مُسْنَدُ کون سا صیغہ ہے؟ اسمِ مفعول، اَسْنَدَ يُسْنِدُ اِسْنَادًا سے اسمِ مفعول ہے مُسْنَدٌ بھئی، تو اس پر الف لام آیا، تو یہ الف لام بھی کس معنیٰ میں ہے؟ اسمِ موصول، تو اَلْمُسْنَدُ کس معنیٰ میں ہوا؟ اَلَّذِيْ يُسْنَدُ، اَلَّذِيْ يُسْنَدُ اور یہ جو اِسناد ہے فعل نا اِسناد، یہ متعدی ہے، یہ ایک مفعول کو نصب دیتا ہے۔ توجہ ہے؟ اور جب فعل متعدی ہو ایک مفعول کی طرف، جیسے ضَرَبْتُ زَيْدًا، یہ زَيْدًا کیا ہے؟ مفعول بہ ہے، تو جب فعلِ مجہول لاتے ہیں تو اسی مفعول کو کیا بنا دیتے ہیں؟ نائب الفاعل۔ ضَرَبْتُ زَيْدًا، اب ضَرَبْتُ سے میں فعلِ مجہول بناتا ہوں، تو فاعل کو تو حذف کر لیں گے، تا حذف ہو گئی، تو کیا بن گیا؟ ضُرِبَ اور آگے کیا تھا؟ عَمْرًا مثلاً عَمْرًا مفعول بہ تھا، تو اب عَمْرًا کو نائب الفاعل بنا دیں گے اور کیسے پڑھیں گے؟ ضُرِبَ عَمْرٌو، توجہ ہے؟ ضُرِبَ عَمْرٌو، یہ عَمْرٌو مرفوع ہے اور یہ پہلے کیا تھا؟ مفعول بہ تھا، اب کیا کہلاتا ہے؟ نائب الفاعل کہلاتا ہے یا مفعول مالم یسم فاعلہ کہلاتا ہے۔ تو جب فعل متعدی ہوتا ہے مفعول بہ کی طرف، تو اس فعل کو جب مجہول بناتے ہیں تو وہی مفعول بہ اس کے لیے نائب فاعل بن جاتا ہے، تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے، اَلْمُسْنَدُ، یہ کس سے ہے؟ یہ فعلِ متعدی سے ہے، اَسْنَدَ يُسْنِدُ اِسْنَادًا کا کیا معنیٰ؟ اِسناد کرنا، کسی چیز کا اِسناد کرنا، مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں، اَسْنَدَ زَيْدٌ لَفْظًا، زید نے ایک لفظ کا اِسناد کیا۔ تو لَفْظًا دیکھو مفعول بہ آ رہا ہے، اَسْنَدَ زَيْدٌ، زید کیا؟ فاعل اور لَفْظًا کیا؟ مفعول بہ، تو اَسْنَدَ زَيْدٌ لَفْظًا، یہ لَفْظًا کیا ہے؟ مفعول بہ، تو معلوم ہوا اِسناد فعل کے لیے مفعول بہ آتا ہے اور جب اس کو مجہول بنائیں گے تو وہی کیا بن جائے گا اس کا؟ نائب الفاعل بن جائے گا، تو جیسے فعلِ مجہول نائب فاعل کو رفع دیتا ہے، اسی طرح اسمِ مفعول بھی کس کو رفع دیتا ہے؟ نائب فاعل کو رفع دیتا ہے، تو اَلْمُسْنَدُ اس کے اندر جو مُسْنَدُ صیغہ آیا، یہ اسمِ مفعول کا صیغہ ہے اور اسی کے اندر ضمیر ہے چھپی ہوئی جو اس کے لیے نائب فاعل بن رہی ہے۔ توجہ ہے؟ اسی کے اندر ضمیر چھپی ہوئی کیا بن رہی ہے؟ نائب فاعل، وہ ضمیر پہلے کیا تھی؟ مفعول بہ تھی، اب کیا بن گئی ہے؟ نائب فاعل، تو یہ تو متعدی ہے اور اس کے لیے مفعول آتا ہے اور پھر جب اس فعل کو مجہول بناتے ہیں تو وہی مفعول کیا بن جاتا ہے؟ نائب فاعل بن جاتا ہے، تو اَلْمُسْنَدُ کے اندر هُوَ ضمیر موجود ہے، یہ خود متعدی ہے، توجہ ہے؟ یہ خود متعدی ہے، اس کے اندر ضمیر ہے، یہ اس کو رفع دے رہا ہے، تو پھر بِهِ لانے کی کیا ضرورت؟ کیونکہ حروفِ جارہ تو کس لیے لاتے ہیں؟ متعدی کرنے کے لیے اور یہ تو پہلے ہی متعدی ہے۔ آپ نے اَلْمُسْنَدُ بِهِ کہا، حالانکہ اَلْمُسْنَدُ کہہ لو تو بھی وہی بات ہے، جیسے دیکھو زَيْدٌ اکیلا لفظ تھا، میں نے اس کے ساتھ کس کو جوڑ دیا؟ قَائِمٌ کو، تو قَائِمٌ کیا ہے؟ مُسْنَدُ ہے، اس کا اِسناد کیا گیا ہے۔ یہ قَائِمٌ کیا ہے؟ مُسْنَدُ، کیا معنیٰ مُسْنَدُ؟ اس کا اِسناد کیا گیا ہے، اسمِ مفعول کا صیغہ میں استعمال کر رہا ہوں، اس کا اِسناد کیا گیا ہے، تو پھر بِهِ لانے کی کیا ضرورت ہے کہ یہ مُسْنَدُ بِهِ ہے؟ یوں کہو یہ مُسْنَدُ ہے بھئی، اس کا اِسناد کیا گیا ہے، لیکن صاحبِ کافیہ کیا لائے؟ اَلْمُسْنَدُ بِهِ لائے بھئی اور یہ با جارہ ساتھ لائے اور حرفِ جر کس لیے لاتے ہیں؟ فعل کو متعدی بنانے کے لیے، یہ تو پہلے ہی متعدی ہے، اس کے اندر تو هُوَ ضمیر نائب فاعل ہے، پھر یہ بِهِ کے ساتھ اس کو متعدی کرنے کا کیا معنیٰ؟ اشکال سمجھ میں آیا؟ تو صاحبِ جامی اسی اشکال کا جواب دینا چاہتے ہیں کہ یہ جب خود متعدی ہے تو پھر بِهِ کیوں لے کر آئے؟ چنانچہ وہ اس کے اشکال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں، اَلْمُسْنَدُ بِهِ أَيْ مَا يُوقَعُ بِهِ الْإِسْنَادُ، کیونکہ مُسْنَدُ بِهِ وہ اسم ہے جس کے ذریعے اِسناد کو واقع کیا جائے۔ اِسناد کو واقع کیا جائے، دیکھو زَيْدٌ قَائِمٌ، یہ قَائِمٌ کے ذریعے کیا کیا جا رہا ہے؟ اِسناد کو واقع کیا جا رہا ہے، اس کو زید سے جوڑا جا رہا ہے۔ اب یہ جو تفسیر کی صاحبِ جامی نے، أَيْ مَا يُوقَعُ بِهِ الْإِسْنَادُ، اس کو سمجھ لیں بھئی۔ بعض شارحین فرماتے ہیں کہ صاحبِ جامی مَا يُوقَعُ بِهِ الْإِسْنَادُ کے ذریعے بتلانا یہ چاہتے ہیں کہ اَلْمُسْنَدُ بِهِ، یہ جو اِسناد کا فعل یہاں آیا، یا یوں کہو یہاں جو یہ مُسْنَدُ آیا، یہ متضمن ہے يُوقَعُ فعل کو، کس کو؟ وَقَعَ يَقَعُ، وَقَعَ کا معنیٰ واقع ہونا، وَقَعَ کا کیا معنیٰ؟ واقع ہونا۔ یہ بعض شارحین کی میں تقریر کر رہا ہوں، توجہ ہے؟ صاحبِ جامی نے صرف اتنا کہا، أَيْ مَا يُوقَعُ بِهِ الْإِسْنَادُ، اب بعض شارحین کیا تقریر کرتے ہیں اس مقام کی؟ کہ صاحبِ جامی بتلانا چاہتے ہیں کہ اَلْمُسْنَدُ بِهِ کے اندر تضمین ہے۔ اس کے اندر کیا ہے؟ تضمین ہے۔ تضمین اسے کہتے ہیں یاد رکھو کہ ایک فعل کے اندر دوسرے فعل کے معنیٰ کا لحاظ رکھا جائے، یعنی فعل آپ ایک لائے اور اس کے اندر اس فعل کا اپنا معنیٰ بھی ملحوظ ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ایک اور فعل کا معنیٰ بھی آپ نے ملحوظ رکھا اور اس پر آگے آنے والا صلہ دلالت کرتا ہے اور اس پر آگے آنے والا صلہ دلالت کرتا ہے یعنی حرفِ جر۔ توجہ ہے؟ تضمین کسے کہتے ہیں؟ بھئی کلامِ عرب کے اندر بعض اوقات ایک فعل ذکر کیا جاتا ہے اور اس کے ساتھ ایک صلہ لے آتے ہیں یعنی حرفِ جر لے آتے ہیں اور حالانکہ وہ حرفِ جر اس کے ساتھ استعمال نہیں ہوتا، جیسے یہاں اَلْمُسْنَدُ بِهِ، یہ اَلْمُسْنَدُ کے ساتھ تو بِهِ استعمال نہیں ہوتا، اس کے اندر تو خود هُوَ ضمیر نائب الفاعل کی موجود ہے، تو پھر بِهِ کے ذریعے اس کو متعدی کرنے کی کوئی حاجت نہیں، تو کلامِ عرب میں بعض اوقات ایک فعل ذکر کیا جاتا ہے اور اس کے ساتھ جو صلہ ذکر کیا جاتا ہے یعنی حرفِ جر، وہ اس کے ساتھ استعمال نہیں ہوتا، توجہ ہے؟ ایک فعل استعمال کیا اور اس کے ساتھ حرفِ جر لے آئے اور وہ حرفِ جر تو اس کے ساتھ استعمال نہیں ہوتا، تو پھر کہتے ہیں کہ اس کے اندر تضمین ہے، کیا ہے؟ تضمین، یعنی اس فعل کے اندر ایک اور فعل کا معنیٰ ملحوظ ہے اور اس فعل کا تو یہ والا صلہ آتا ہے، اس فعل کا تو یہ والا صلہ آتا ہے، تو یہ صلہ اس فعل پر دلالت کرتا ہے۔ یہاں پر بھی اَلْمُسْنَدُ بِهِ، مُسْنَدُ کا صلہ تو بِهِ نہیں آتا، لیکن اس کے اندر يُوقَعُ فعل کا معنیٰ ملحوظ ہے۔ وَقَعَ يَقَعُ سے يُوقَعُ فعلِ مجہول، اَلْمُسْنَدُ اسمِ مفعول ہے نا، یہ کیا ہے؟ اسمِ مفعول، لہٰذا اس کے اندر فعلِ مجہول کا معنیٰ يُوقَعُ ملحوظ ہے اور وَقَعَ يَقَعُ، توجہ سے سنو، وَقَعَ يَقَعُ وہ فعلِ لازم ہے، اس کے لیے مفعول نہیں آتا، وہ فعلِ لازم ہے، اس کے لیے مفعول نہیں آتا، تو اس کو پھر کس کے ذریعے متعدی کرتے ہیں؟ با کے ذریعے متعدی کرتے ہیں، حرفِ جر کے ذریعے متعدی کرتے ہیں، معلوم ہوا وَقَعَ يَقَعُ کا صلہ بِهِ آتا ہے، اَلْمُسْنَدُ جو ہے اِسناد کا صلہ تو با نہیں آتا، لیکن وَقَعَ يَقَعُ کا صلہ با آتا ہے، تو یہ جو اَلْمُسْنَدُ کے ساتھ بِهِ لے کر آئے، یہ بتلانے کے لیے کہ یہاں تضمین ہے بھئی، یعنی اس اَلْمُسْنَدُ کے اندر يُوقَعُ فعل کا معنیٰ بھی ملحوظ ہے اور اس پر یہ بِهِ صلہ دلالت کر رہا ہے۔ تضمین کسے کہتے ہیں؟ ایک فعل کے اندر دوسرے فعل کا معنیٰ ملحوظ ہو اور آگے آنے والا صلہ اس پر دلالت کرے، اس لیے کیونکہ بِهِ تو اَلْمُسْنَدُ کے ساتھ استعمال نہیں ہوتا، تو معلوم ہوا اس کے اندر کسی ایسے فعل کا معنیٰ ملحوظ ہے جس کے ساتھ بِهِ استعمال ہوتا ہے، تو وہ موقع کے مطابق پھر غور کر کے علماء بیان کرتے ہیں، مثلاً ایک شخص يُوقَعُ بیان کرتا ہے، دوسرا کوئی اور بیان کرتا ہے، جو بھی موقع کے مطابق ہو بھئی، تو یہ بِهِ کے ذریعے کیا بتلانا چاہتے ہیں؟ کہ یہ اَلْمُسْنَدُ کے اندر کون سے فعل کا معنیٰ ملحوظ ہے؟ يُوقَعُ کا معنیٰ ملحوظ ہے اور يُوقَعُ تو فعلِ لازم ہے، وہ تو مفعول کو نصب دیتا نہیں، تو يُوقَعُ جب فعلِ مجہول لائے، توجہ ہے؟ جب فعلِ مجہول لائے، تو فعلِ مجہول کے لیے تو نائب فاعل چاہیے ہوتا ہے اور يُوقَعُ کے لیے تو مفعول بہ تھا ہی نہیں کہ جس کو نائب الفاعل بنائیں، تو پھر بِهِ کے ذریعے کیا کرتے ہیں؟ یہ جار مجرور کو اس کا نائب فاعل بناتے ہیں۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ جار مجرور بھی کیا بنتے ہیں؟ یہ، یہ بھی نائب الفاعل بنتے ہیں، کیا بنتے ہیں؟ تو اگر يُوقَعُ یہاں ہو، تو يُوقَعُ فعلِ مجہول، با جارہ، هَا ضمیر مجرور محلاً، مجرور محلاً اور یہ جار مجرور مل کر کس سے متعلق؟ يُوقَعُ سے اور یہ نائب الفاعل ہے يُوقَعُ کے لیے، یہ بِهِ کیا ہے؟ نائب الفاعل اور میں نے اس میں یہ بھی بتایا تھا کہ یہ مجازاً کہتے ہیں کہ یہ جار مجرور نائب الفاعل ہے، حقیقت میں یہ جو مجرور ہے، یہ ہے نائب الفاعل، تو بِهِ کے اندر یہ جو هَا ضمیر ہے، یہ ہے نائب الفاعل اور یہ هَا ضمیر اس پر تو با جارہ داخل ہے، تو یہ مجرور ہے محلاً، ضمیر ہے نا، مبنی ہے، مبنی کا اعراب کیسے بتاتے ہیں؟ محلاً، تو یہ هَا ضمیر کیا ہے؟ مجرور محلاً اور یہ اس کا محلِ قریب ہے، یہ مجرور ہے با کی وجہ سے اور محلِ بعید کیا؟ یہ نائب الفاعل ہے کس کے لیے؟ يُوقَعُ کے لیے، تو یہ مرفوع ہے۔ نائب الفاعل کیا ہوتا ہے؟ مرفوع، توجہ ہے؟ تو بِهِ میں با جر دے رہی ہے هَا کو، تو اس کا محلِ قریب کیا ہوا؟ مجرور اور محلِ بعید کیا ہوا؟ نائب الفاعل ہے، مرفوع ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں کہ يُوقَعُ کا صلہ تو بِهِ آتا ہے، تو یہ بِهِ اس يُوقَعُ پر دلالت کر رہا ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ بعض شارحین کی تقریر کر رہا ہوں، وہ فرماتے ہیں کہ اَلْمُسْنَدُ بِهِ کی تفسیر صاحبِ جامی نے أَيْ مَا يُوقَعُ بِهِ الْإِسْنَادُ کے ساتھ کی، کیا بتلانا چاہتے ہیں صاحبِ جامی؟ کہ اَلْمُسْنَدُ یہ متضمن ہے کس کے معنیٰ کو؟ يُوقَعُ کے معنیٰ کو اور يُوقَعُ کا صلہ تو بِهِ آتا ہے، تو یہ بِهِ کس سے متعلق ہے؟ يُوقَعُ سے متعلق ہے، یہ اس کے لیے نائب الفاعل ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ لیکن یہ تقریر درست نہیں بھئی، یہ تقریر درست نہیں بھئی، یہ تضمین والی، یہ بہت شروحات میں آپ کو ملے گا، وجہ یہ، یاد رکھو یہ جو تضمین ہے، اس میں ایک فعل تو ذکر ہے اور دوسرے فعل کا معنیٰ ملحوظ ہوتا ہے جس پر آگے آنے والا صلہ دلالت کرتا ہے، توجہ ہے؟ یعنی دونوں فعلوں کا معنیٰ ملحوظ ہوتا ہے، ایک فعل تو ذکر ہے اور دوسرے پر آگے آنے والا صلہ دلالت کر رہا ہے، تو اس کا یہ معنیٰ نہیں کہ ذکر یہ والا فعل ہے اور مراد دوسرے فعل کا معنیٰ ہے، نہیں نہیں، پھر تو مجاز بن جائے گا۔ جیسے دیکھو نا اَلْمُسْنَدُ بِهِ آیا، آپ کیا کہیں؟ کہ یہ اَلْمُسْنَدُ کس معنیٰ میں ہے؟ يُوقَعُ کے معنیٰ میں ہے، تو یہ اپنے حقیقی معنیٰ میں ہوا یا دوسرے معنیٰ میں؟ دوسرے معنیٰ میں ہوا، تو پھر تو اس کو مجاز کہنا پڑے گا، نہیں نہیں، یہ مجاز نہیں، مُسْنَدُ کا اپنا معنیٰ بھی ملحوظ اور يُوقَعُ کا معنیٰ بھی ملحوظ، دونوں کا معنیٰ وہاں ملحوظ ہوتا ہے۔ تو یاد رکھو تضمین کے اندر دونوں فعلوں کا معنیٰ ملحوظ ہوتا ہے اور اس کی جب تفسیر کی جاتی ہے، تو ایک فعل کو اسی طرح ذکر کرتے ہیں اور دوسرے کو عموماً حال بنا دیتے ہیں، کیا بنا دیتے ہیں؟ حال بنا دیتے ہیں۔ تو کبھی عطف کے ذریعے اس کی تفسیر کر دی جاتی ہے اور کبھی حال کے ذریعے، توجہ ہے؟ جہاں تضمین ہوتی ہے، ایک فعل تو لفظوں میں ذکر ہے اور دوسرے کا معنیٰ ملحوظ اور اس پر آگے آنے والا صلہ دلالت کر رہا ہے، تو ایسے موقع پر پھر اس کی تفسیر کس طرح کی جاتی ہے؟ یا تو عطف کے ذریعے کی جاتی ہے، جیسے یہاں پر کیسے تفسیر کی جائے گی؟ اَلَّذِيْ يُسْنَدُ وَيُوقَعُ بِهِ یا یا اس کی تفسیر حال کے ساتھ کی جاتی ہے، ایک فعل کو اسی طرح ذکر کرتے ہیں اور دوسرے کو حال بنا کر ذکر کر دیتے ہیں، لیکن صاحبِ جامی نے یہاں اس طرح ذکر نہیں کیا بھئی، نہ تو انہوں نے یہاں عطف کیا ہے اور نہ انہوں نے اس کو حال بنایا ہے بھئی، لہٰذا یہ تقریر صحیح نہیں اور نیز اس لیے بھی صحیح نہیں، نیز اس لیے بھی صحیح نہیں کہ انہوں نے کیا کہا؟ کہ بِهِ کس کا صلہ؟ يُوقَعُ کا، تو اَلْمُسْنَدُ کے اندر کون سا معنیٰ ملحوظ؟ يُوقَعُ کا اور یہ بِهِ اس کا صلہ، حالانکہ آپ خود دیکھیں، أَيْ مَا يُوقَعُ بِهِ الْإِسْنَادُ، اَلْإِسْنَادُ کیا بن رہا ہے؟ یہ نائب الفاعل ہے يُوقَعُ کے لیے، توجہ ہے؟ یہ نائب الفاعل بن رہا ہے يُوقَعُ کے لیے اور نائب الفاعل تو تب بنتا ہے جب فعل متعدی ہو، جب فعل متعدی نہیں ہے تو نائب فاعل کہاں سے آئے گا اس کے لیے؟ براہِ راست نہیں آئے گا، جیسے دیکھو اگر یہاں اَلْإِسْنَادُ نہ ہوتا، يُوقَعُ بِهِ، يُوقَعُ فعلِ مجہول اور بِهِ یہ اس کے لیے کیا بنا دیتے؟ نائب الفاعل۔ توجہ ہے؟ یہ فعل خود متعدی نہیں ہے، تو با کے ذریعے متعدی کیا اور پھر اسی مجرور کو اس کے لیے کیا بنا دیا؟ نائب الفاعل بنا دیا، لیکن یہاں پر آپ دیکھیں يُوقَعُ فعلِ مجہول ہے اور آگے اَلْإِسْنَادُ اس کا نائب الفاعل خود آ رہا ہے، نائب الفاعل خود آ رہا ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو اگر یہ بہِ جو ہے یوقعُ کا صلہ بنائیں گے، تو پھر یوقعُ تو فعلِ لازم ہے بھئی۔ تو یہ پھر الإسناد اس کے لیے نائب فاعل کیسے بن گیا بھئی؟ الإسناد تو تبھی نائب فاعل بن سکتا ہے براہِ راست جب فعل متعدی ہو۔ ما یوقعُ بہِ الإسنادُ۔ ما وہ چیز یا وہ اسم یوقعُ بہِ الإسنادُ جس کے ذریعے اسناد کو واقع کیا جائے۔ تو یوقعُ کا تو نائب الفاعل الإسنادُ آ رہا ہے۔ بہِ تو پھر بھی اس کے لیے نائب الفاعل نہیں بنا۔ حالانکہ جنہوں نے کہا کہ یہاں تضمین ہے، ان کے نزدیک یہ بہِ کیوں لائے؟ یوقعُ کو متعدی کرنے کے لیے، کیونکہ یوقعُ تو فعلِ لازم تھا، اب فعلِ مجہول بنایا۔ تو فعلِ مجہول کے لیے کیا کرتے ہیں؟ مفعول بہِ کو نائب الفاعل بناتے ہیں اور وقعَ یقعُ کا تو مفعول بہِ آتا ہی نہیں، تو پھر بہِ کے ذریعے متعدی کر دیا گیا۔ تو یہ جو بہِ میں ھا ضمیر ہے، یہ مفعول بہِ غیرِ صریح ہوئی۔ کیا ہوئی؟ غیرِ صریح ہوئی۔ اور پھر یہی کیا بن جائے گی؟ نائب الفاعل بن جائے گی جب فعل کو مجہول بنائیں گے۔ ضربَ زیدٌ عمراً، یہ عمراً کیا ہے؟ مفعول بہِ۔ پھر جب ہم ضُربَ بنائیں گے تو یہی عمراً کیا بن جائے گا؟ نائب الفاعل بن جائے گا یعنی ضُربَ عمروٌ۔ اور وقعَ یقعُ کا تو مفعول آتا نہیں، تو اس کو جب فعلِ مجہول بنائیں گے تو نائب فاعل کس کو بنائیں؟ تو لہٰذا اس کو کس کے ذریعے متعدی کر دیا؟ بہِ کے ذریعے، اور میں نے بتایا یہ جو حروفِ جارہ جن پر داخل ہوتے ہیں یعنی وہ جو مجرور ہوتا ہے، وہ بھی دراصل مفعول بہِ ہی ہے۔ ہاں البتہ وہ مفعول بہِ غیرِ صریح ہے۔ تو یہ بہِ کی ھا ضمیر کیا ہوئی؟ مفعول بہِ، پھر اسی کو یوقعُ کے لیے کیا بنا دیا گیا؟ نائب الفاعل بنا دیا گیا، لیکن اگر یہ تقریر کی جائے تو پھر الإسنادُ لانے کا کیا معنی؟ ما یوقعُ بہِ الإسنادُ۔ کہ الإسنادُ تو خود نائب الفاعل بن رہا ہے یوقعُ کے لیے، تو پھر بہِ لانے کی کیا ضرورت ہے؟ بات سمجھ میں آ رہی ہے۔ تو لہٰذا یہاں یہ کہنا کہ یہاں پر تضمین ہے، یہ تقریر صحیح، تو یہ درست نہیں ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ بعض شارحین نے یہ ذکر کیا ہے کہ یہاں تضمین ہے، لیکن یہاں تضمین نہیں ہے۔ تو پھر صاحبِ جامی کیا بتلانا چاہتے ہیں أي ما یوقعُ بہِ الإسنادُ کے ذریعے جب تضمین یہاں نہیں ہے؟ تو یاد رکھو بھئی، میں نے آپ کو بتلایا تھا جہاں تنازعُ الفعلین کی بحث آئی تھی، وہاں ذکر آیا تھا، وإن استُغنیَ عنہُ۔ وہاں ذکر آیا تھا بصریین کے مذہب میں کہ فعلِ ثانی کو جب عامل بنائیں تو پہلا اگر فاعل کا تقاضا کر رہا ہو تو اس میں فاعل کی ضمیر لے آئیں گے اور اگر پہلا مفعول کا تقاضا کر رہا ہو تو اس مفعول کو حذف کر لیں گے۔ کب؟ وإن استُغنیَ عنہُ، اگر اس مفعول سے بے نیازی حاصل ہو یعنی اس کی حاجت نہ ہو اور اگر وہ افعالِ قلوب میں سے ہے پھر اس کو ذکر کرنا پڑے گا، پھر حذف بھی نہیں کر سکتے اور اضمار قبل الذکر بھی نہیں کر سکتے۔ تو وہاں عبارت آئی تھی وإن استُغنیَ عنہُ۔ تو اس استُغنیَ فعلِ مجہول آیا تھا۔ توجہ ہے؟ یہاں میں نے خوب تفصیل بیان کی تھی کہ اس استُغنیَ یہ تو فعلِ لازم ہے۔ استغنیٰ زیدٌ، زید مستغنی ہو گیا، بے نیاز ہو گیا۔ اب وہ کسی کا محتاج نہیں، تو یہ تو فعلِ لازم ہے، اس کے لیے تو مفعول آتا ہی نہیں ہے۔ مفعول آتا ہی نہیں ہے، تو پھر اس کا نائب الفاعل کیا ہے؟ نائب الفاعل، تو ایک ترکیب تو یہ تھی کہ استُغنیَ عنہُ، یہ جو جار مجرور ہے اسی کو اس کا نائب فاعل بنا دیں۔ یہ عنہُ اسی استُغنیَ سے متعلق ہے، یہ جو ھا ضمیر مجرور ہے، یہی اس کا نائب الفاعل ہے۔ اور ایک ترکیب میں نے یہ بتلائی تھی کہ بعض اوقات ایک فعل کے فاعل یا نائب فاعل کا پتہ نہیں چلتا، تو پھر اس فعل کے اندر جو ضمیر ہے، وہ اسی فعل کے مصدر کو لوٹا دیتے ہیں۔ تو استُغنیَ کے اندر ہوا ضمیر نائب الفاعل اور وہ اسی استُغنیَ کے مصدر یعنی استغناء کو راجع۔ تو استُغنیَ ہوا أي الاستغناءُ، تو گویا عبارت یوں بن گئی۔ اسی مصدر کو لے آئیں اور اس کو نائب فاعل براہِ راست بنا دیں، استُغنیَ الاستغناءُ۔ استُغنیَ الاستغناءُ، دیکھو وہ ہوا ضمیر اسی استغناء کو راجع ہے۔ اور پھر اس کا ترجمہ کیسے کرتے ہیں؟ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ حاصلَ یا وقعَ کے ساتھ اس کا ترجمہ کریں گے، جیسے استُغنیَ الاستغناءُ أي وقعَ الاستغناءُ یا حاصلَ الاستغناءُ، استغناء حاصل ہو گیا۔ عنہُ اس سے۔ حاصلَ الاستغناءُ عنہُ، توجہ ہے؟ عبارت کیا تھی؟ استُغنیَ عنہُ، استُغنیَ کے نائب الفاعل کا پتہ نہیں چل رہا تھا اور جب کسی فعل کے فاعل یا نائب فاعل کا پتہ نہ چلے تو اس فعل کے اندر جو ضمیر ہے، وہ اسی فعل کے مصدر کی طرف لوٹا دیتے ہیں۔ تو استُغنیَ کے اندر ہوا ضمیر اسی کے مصدر استغناء کو راجع کر دی، تو عبارت کیا بن گئی؟ استُغنیَ الاستغناءُ عنہُ۔ اور معنیٰ کیسے کریں گے؟ معنیٰ کا طریقہ کیا؟ کہ وقعَ یا حاصلَ کے ساتھ ترجمہ کریں گے، أي وقعَ الاستغناءُ یا حاصلَ الاستغناءُ، استغناء حاصل ہو گیا۔ استغناء واقع ہو گیا۔ اسی طرح میں نے سلم کی عبارت بھی ذکر کی تھی، وإلا لدارَ أو تسلسلَ۔ یہ دارَ بھی فعل، تسلسلَ بھی فعل، تو اب پتہ نہیں چل رہا کہ ان کا فاعل کیا ہے؟ تو دارَ کے اندر بھی ضمیر نکالیں گے جو فاعل ہے اور وہ اسی دارَ کے مصدر یعنی دور کو راجع، أي دارَ الدورُ۔ اور اسی طرح تسلسلَ میں بھی ہے، أي تسلسلت التسلسلُ۔ اور ترجمہ کیسے کریں گے؟ أي حصلَ الدورُ وحصلَ التسلسلُ یا وقعَ الدورُ ووقعَ التسلسلُ، تو حصلَ اور وقعَ کے ساتھ اس کی تفسیر کرتے ہیں، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ ایک ترکیب استُغنیَ عنہُ، دوسری ترکیب کیا ذکر کی؟ کہ اسی عنہُ جار مجرور کو اس کا نائب الفاعل بنا دیں۔ اب استُغنیَ کے اندر کوئی ضمیر نہیں۔ اب پہلے ضمیر تھی وہ اسی کے مصدر کو راجع تھی اور عنہُ جار مجرور کو ہم نے اس سے جوڑ دیا تھا۔ اب اس کے اندر کوئی ضمیر نکالنے کی ضرورت نہیں بلکہ عنہُ جار مجرور کو اس سے جوڑ دیں اور یہی اس کا نائب الفاعل بھی ہے۔ ترکیب سمجھ میں آ گئی۔ تو صاحبِ جامی یہاں بھی یہی بتلانا چاہتے ہیں کہ المسندُ بہِ، توجہ ہے؟ اشکال کیا تھا؟ کہ مسند کے اندر خود ہوا ضمیر نائب الفاعل کی موجود ہے، تو پھر بہِ کے ذریعے متعدی کرنے کا کیا معنیٰ؟ تو صاحبِ جامی فرما رہے ہیں، صاحبِ جامی فرما رہے ہیں، دیکھو عبارت پہ ذرا نظر رکھو، المسندُ بہِ، المسند کس معنیٰ میں؟ الذی یُسندُ، یہ الف لام کیا ہے؟ اسمی ہے الذی کے معنیٰ میں، المسند کس معنیٰ میں؟ الذی یُسندُ بہِ، تو یہ یُسندُ کے اندر ہوا ضمیر اسی کے مصدر کو لوٹا دیں۔ اسی کے مصدر کو لوٹا دیں، تو عبارت کیا بن گئی؟ الذی یُسندُ الإسنادُ بہِ۔ الذی یُسندُ الإسنادُ بہِ، اور پھر اس کی تفسیر کس کے ساتھ کرتے ہیں؟ وقعَ یا حاصلَ کے ساتھ، توجہ ہے؟ اور پھر عبارت کیا بن جائے گی؟ أي وقعَ الإسنادُ یا حاصلَ الإسنادُ بہِ اس کے ذریعے یعنی خبر کے ذریعے، أي حصلَ الإسنادُ بہِ، بہِ کی ھا ضمیر کس کو راجع؟ وہ اسم جو خالی ہے عواملِ لفظیہ سے یعنی جس کی بات چل رہی ہے، وہ جو خبر ہے، توجہ ہے؟ وہ اسم، تو کیا عبارت بن گئی؟ المسندُ بہِ، کیا عبارت بن گئی؟ الذی یُسندُ بہِ، پھر یُسندُ کے اندر ہوا ضمیر کس کو راجع؟ اسی کے مصدر کو راجع، تو پھر عبارت کیا بن گئی؟ الذی یُسندُ الإسنادُ بہِ، پھر اس کا ترجمہ کیسے کرتے ہیں؟ الذی وقعَ الإسنادُ بہِ، وہ کہ اسناد واقع ہو بھئی، اسناد واقع ہو، لیکن اسناد واقع ہوتا ہے یا اس کے ذریعے اسناد کیا جاتا ہے؟ اسناد کیا جاتا ہے، المسند مجہول کا صیغہ ہے، توجہ ہے؟ تو اس کے مطابق مناسبت کے اعتبار سے اسی سے فعلِ مجہول لے آئے۔ کیا لے آئے؟ فعلِ مجہول، أي یوقعُ الإسنادُ، اسناد واقع نہیں ہوتا، اسناد کو واقع کیا جاتا ہے، اس لیے یقعُ نہیں لائے بلکہ کیا لے آئے؟ یوقعُ لائے۔ اب عبارت کیا بن گئی؟ الذی یوقعُ الإسنادُ بہِ، عبارت یہی جو صاحبِ جامی نے نکالی، أما یوقعُ بہِ الإسنادُ، یہ ما وہ اسمِ موصول ہے الذی کے معنیٰ میں ہے۔ ہم نے کیا عبارت نکالی تھی؟ الذی یوقعُ الإسنادُ بہِ۔ الذی یوقعُ الإسنادُ بہِ، انہوں نے صرف اسناد کو مؤخر کر دیا، أي ما یوقعُ بہِ الإسنادُ یعنی وہ اسم جس کے ذریعے اسناد کو واقع کیا جائے، توجہ ہے؟ اب اس پر اشکال یہ ہوتا ہے، أي ما یوقعُ بہِ الإسنادُ، یہ اسناد یہ تو نائب الفاعل بن رہا ہے کس کے لیے؟ یوقعُ کے لیے، توجہ ہے؟ یوقعُ کے لیے، اور یوقعُ یہ تو فعلِ لازم ہے۔ اس کے لیے تو براہِ راست نائب الفاعل آ ہی نہیں سکتا، تو یاد رکھنا کہ یہ اس صورت میں پھر وقعَ یقعُ سے نہ بناؤ اس کو، وقعَ یقعُ کا معنیٰ تو ہے واقع ہونا، اس کو اوقعَ یوقعُ سے بنا دو، اوقعَ یوقعُ کا معنیٰ واقع کرنا، اس کے لیے مفعول آتا ہے اور وہی پھر نائب الفاعل بن جائے گا فعلِ مجہول کے لیے، تو معلوم ہوا یوقعُ جو ہے ثلاثی مجرد سے نہیں ہے بلکہ ثلاثی مزید سے ہے اوقعَ یوقعُ سے یوقعُ، اور اس کے لیے الإسنادُ نائب الفاعل بن سکتا ہے۔ کیا تقریر ہوئی؟ بھئی سنو، پھر سنو۔ المسندُ بہِ، یہ کس معنیٰ میں ہے؟ الذی یُسندُ بہِ، توجہ ہے؟ پھر یُسندُ کے اندر ہوا ضمیر راجع ہے اسی کے مصدر کو، تو کیا عبارت بن گئی؟ الذی یُسندُ الإسنادُ بہِ، پھر اس کے بعد اس کا معنیٰ مفہوم بیان کیا، کس طرح معنیٰ کس طرح کریں گے؟ الذی یوقعُ الإسنادُ بہِ، توجہ ہے؟ الذی یوقعُ الإسنادُ بہِ، اور اب، اب بہِ کا لانا ٹھیک ہو گیا۔ اب بہِ کا لانا دیکھو نا، بھئی سنو، پھر سنو۔ بعض علماء نے کیا کہا تھا؟ یہاں تضمین ہے، لیکن میں نے بتایا تضمین صحیح نہیں، اس لیے کیونکہ جب جہاں تضمین ہو تو وہاں پر یا تو عطف کے ذریعے اس کی تفسیر کی جاتی ہے، دوسرے فعل کو بھی عطف کے ساتھ ذکر کر دیا جاتا ہے، یا دو فعلوں میں سے ایک کو اسی طرح رکھتے ہیں اور ایک کو حال بنا کر لے آتے ہیں دونوں کو ذکر کرتے ہیں، لیکن یہاں پر ایسا نہیں ہے۔ تو پھر میں نے بتایا کہ یہاں پر صاحبِ جامی یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ المسندُ بہِ، اس کے ساتھ یہ جو بہِ ہے، یہ زائد نہیں، یہ بیکار نہیں۔ آپ نے اشکال کیا تھا کہ المسند کے اندر ہوا ضمیر ہے، وہ نائب الفاعل ہے، تو بہِ لانے کی کیا ضرورت؟ تو صاحبِ جامی نے بتلایا کہ بھئی المسند کے اندر جو ہوا ضمیر ہے، وہ اسی کے مصدر کو راجع ہے، لہٰذا مفعول ابھی بھی ساتھ ذکر نہیں ہوا، مفعول ابھی بھی چاہیے، تو آگے بہِ کے ذریعے اس کو ذکر کر دیا گیا۔ بھئی دیکھیے نا، اسندَ فعلِ متعدی ہے، یہ ایک فاعل چاہتا ہے تو ایک مفعول بھی چاہتا ہے، اسندَ زیدٌ لفظاً، زید نے اسناد کیا ایک لفظ کا، تو یہ لفظاً کیا ہے؟ مفعول بہِ، اور پھر جب میں فعلِ مجہول لاؤں گا تو اسی مفعول بہِ کو کیا بنا دوں گا؟ نائب الفاعل بناؤں گا، أُسندَ اللفظُ، اس لفظ کا کیا کیا گیا؟ اسناد کیا گیا، لیکن میں اس لفظ کو نائب الفاعل نہیں بناتا بلکہ میں أُسندَ کے اندر ضمیر اسی کے مصدر کی طرف لوٹا دیتا ہوں۔ اسی کے مصدر کی طرف لوٹا دیتا ہوں، أي أُسندَ الإسنادُ أي یوقعُ الإسنادُ، اسناد کو واقع کیا گیا، اور وہ جو لفظ تھا اس کو بھی میں نے جوڑنا ہے یا نہیں اس کے ساتھ؟ وہ جو اس کا مفعول بہِ تھا اس کو بھی تو میں نے اس کے ساتھ جوڑنا ہے، اور وہ تو اب نہیں جڑ سکتا کیونکہ آپ نے نائب الفاعل کس کو بنا دیا؟ آپ نے مصدر کو بنا دیا، بنانا کس کو تھا؟ دیکھو بھئی، اسندَ زیدٌ لفظاً، اس لفظاً کو ہم نے کیا بنانا ہے؟ نائب الفاعل بنانا ہے، أُسندَ اللفظُ، لیکن میں نے لفظ کو نائب الفاعل نہیں بنایا، أُسندَ کے اندر ضمیر میں نے اسی کے مصدر کی طرف لوٹا دی، أُسندَ الإسنادُ أي یوقعُ الإسنادُ، اور وہ لفظ تو ابھی بھی باقی ہے، وہ جو مفعول بہِ تھا تو اس کو بھی میں نے ساتھ جوڑنا ہے، اب اس کو میں ساتھ نہیں جوڑ سکتا کیونکہ آپ نے تو مصدر کو نائب الفاعل بنا دیا، اور اس لفظ کو بھی ساتھ جوڑنا ہے تو پھر اب حروفِ جارہ کا سہارا لیں گے اور مثلاً میں با ساتھ لے آؤں گا، أُسندَ الإسنادُ باللفظِ، أُسندَ الإسنادُ باللفظِ أي یوقعُ الإسنادُ باللفظِ کہ اسناد واقع کیا گیا اس لفظ کے ذریعے، اب بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں پر بھی اسی طرح ہوا، المسندُ بہِ، المسند کے اندر ہوا ضمیر تھی بھئی، جو نائب الفاعل تھی اور یہ ضمیر ہم نے کس کو راجع کر دی؟ اسی المسند کے مصدر کی طرف راجع کر دی، تو اس کا جو مفعول بہِ تھا اس کو تو ہم نے نائب فاعل نہیں بنایا، اس کو بھی تو فعل کے ساتھ جوڑنا ہے، تو اب کس کا سہارا لے لیا؟ با کا سہارا لے لیا، معلوم ہوا اب یہ با متعدی بنانے کے لیے ہے۔ یہ با کس لیے ہے؟ متعدی بنانے کے لیے ہے، بات حل ہو گئی؟ حاصلِ کلام کیا ہوا کہ بعض علماء کیا فرماتے ہیں کہ المسندُ بہِ، اس کے اندر تضمین ہے یعنی یہاں پر یوقعُ کا معنیٰ ملحوظ ہے، لیکن میں نے بتایا یہ تقریر صحیح نہیں اس لیے کیونکہ تضمین کی جب تفسیر کی جاتی ہے تو پھر وہاں پر تفسیر کے اندر دوسرے فعل کو عطف کے ذریعے ذکر کر دیا جاتا ہے یا اس کو حال بنا کر ذکر کیا جاتا ہے اور یہاں أما یوقعُ بہِ الإسنادُ نہ تو یہاں عطف ہے اور نہ یہاں حال ذکر کیا صاحبِ جامی نے، پھر کیا بتلانا چاہتے ہیں؟ تو میں نے بتلایا کہ المسندُ بہِ أي ما یوقعُ بہِ الإسنادُ بتلانا یہ چاہتے ہیں کہ المسند کے اندر ضمیر جو ہے، ضمیر جس کو آپ نے نائب الفاعل بنایا ہے، یہ ضمیر مفعول بہِ کی ضمیر نہیں ہے بلکہ یہ ضمیر کس کو لوٹا دیں؟ اسی المسند کے مصدر کی طرف لوٹا دیں، جب یہ ضمیر مصدر کی طرف لوٹا دی تو وہ جو پہلے مفعول بہِ تھا جس کو کیا بنانا تھا؟ نائب الفاعل بنانا تھا لیکن آپ نے تو اس کو نائب الفاعل نہیں بنایا، آپ نے تو مصدر کو نائب الفاعل بنا دیا، تو اب اس کو بھی تو جوڑنا ہے، تو اب با کا سہارا لینا پڑے گا کیونکہ اب اس کو جوڑنے کی اور کوئی صورت نہیں ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا یہ با کس لیے لائی گئی یہاں پر؟ اس کو متعدی بنانے کے لیے لائی گئی ہے، معلوم ہوا یہ با بیکار نہیں ہے۔ یہ تقریر سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں المسندُ بہِ أي ما یوقعُ بہِ الإسنادُ یعنی وہ اسم کہ جس کے ذریعے اسناد واقع کیا جائے۔ مسند بہِ کا کیا معنیٰ؟ وہ لفظ جس کے ذریعے اسناد کو واقع کیا جائے بھئی۔ مثلاً دیکھو، زیدٌ اکیلا لفظ ہے، کوئی اسناد نہیں، آگے میں قائمٌ لے کر آیا اور اس قائمٌ کے ذریعے میں نے اسناد واقع کر دیا، قائمٌ کو میں نے زید سے جوڑ دیا، تو کلام کیا بن گیا؟ زیدٌ قائمٌ، تو یہ اسناد کس کے ذریعے واقع کیا گیا؟ قائمٌ کے ذریعے، توجہ ہے؟ زیدٌ اکیلا لفظ تھا اور کوئی اسناد وغیرہ نہیں تھا، میں ایک اور لفظ قائمٌ لایا اور میں نے زید کے ساتھ اس کو جوڑ دیا، اس قائمٌ کے ذریعے میں نے اسناد واقع کر دیا، اس کا میں نے اسناد کر دیا زید کی طرف تو اس کے ذریعے اسناد کو واقع کر دیا گیا، تو یہ مسند بہِ ہے بھئی، یہ کیا ہے؟ مسند بہِ۔ اور یہ با یاد رکھو، استعانت کے لیے بھی ہو سکتی ہے اور سبب کے لیے بھی ہو سکتی ہے، استعانت کے لیے با ہو تو اس کا ترجمہ مدد کے ساتھ کیا جاتا ہے، كتبتُ بالقلمِ، میں نے قلم کی مدد سے لکھا، تو یہ با کون سی ہے؟ استعانت کے لیے ہے، اور کبھی کبھار با سببيت کے لیے آتی ہے، تو آپ چاہے اس کو با کو استعانت کے لیے بنا لیں، چاہے سببيت کے لیے بنا لیں، دونوں صورتوں میں ترجمہ ٹھیک ہے۔ بھئی دیکھو کیسے ترجمہ، کیا ترجمہ ہوا؟ أي ما یوقعُ بہِ الإسنادُ یعنی وہ اسم کہ جس کی مدد سے اسناد واقع کیا جائے، عبارت پہ نظر ہے؟ أي ما یوقعُ بہِ الإسنادُ، ما اسمِ موصول ہے الذی کے معنیٰ میں، وہ اسم یوقعُ بہِ الإسنادُ کہ اس کی مدد سے اسناد واقع کیا جائے، یا وہ اسم یوقعُ بہِ الإسنادُ کہ اس کے سبب سے، اس کے ذریعے سے اسناد واقع کیا جائے۔ اب دیکھو عبارت بہترین ہو گئی۔ بات سمجھ میں آ گئی تو کیا بات ہوئی؟ خبر وہ اسم ہے جو خالی ہو عواملِ لفظیہ سے اور اس کے ذریعے اسناد واقع کیا جائے، وہ مسند بہِ ہو یعنی اس کے ذریعے اسناد واقع کیا جائے۔ بھئی یہ قید کیوں لگائی؟ یہ قید کیوں لگائی؟ کہتے ہیں واحترزَ بہِ عن القسمِ الأولِ من المبتدأِ، اور اس المسندُ بہِ کی قید کے ذریعے احتراز کیا صاحبِ کافیہ نے مبتدا کی قسمِ اول سے یعنی مبتدا کی قسمِ اول کو خبر کی تعریف سے نکالنا چاہتے ہیں کیونکہ مبتدا کی قسمِ اول وہ بھی عواملِ لفظیہ سے خالی ہے، لیکن وہ مسند بہِ نہیں بلکہ مسند الیہ ہے۔ کہتے ہیں، وَاحْتَرَزَ بِهِ عَنِ الْقِسْمِ الْأَوَّلِ مِنَ الْمُبْتَدَأِ، اور اس قید کے ذریعے صاحبِ قافیہ نے مبتدا کی قسمِ اول سے احتراز کیا لِأَنَّهُ مُسْنَدٌ إِلَيْهِ، کیونکہ مبتدا کی قسمِ اول مسند الیہ ہے، لَا مُسْنَدٌ، وہ مسند نہیں ہے، الْمُغَايِرُ لِلصِّفَةِ الْمَذْكُورَةِ، اور وہ اسم جو ہے، وہ مغائر ہونا چاہیے لِلصِّفَةِ الْمَذْكُورَةِ، اس صفت سے جو ذکر کر دی گئی، بھئی کہاں مذکور ہوئی؟ کہتے ہیں، فِي تَعْرِيفِ الْمُبْتَدَأِ، مبتدا کی تعریف میں۔ بھئی، مبتدا کی تعریف میں جو مبتدا کی قسمِ ثانی کے اندر جو صفت ذکر ہوئی تھی، یہ خبر کو اس سے مغائر ہونا چاہیے، اس سے الگ ہونا چاہیے، بھئی، تو یہ قید لگائی، الْمُغَايِرُ لِلصِّفَةِ الْمَذْكُورَةِ، اس کے ذریعے کس سے احتراز کیا؟ مبتدا کی قسمِ ثانی سے، یہی بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں، وَاحْتَرَزَ بِهِ، اچھا! بھئی، دیکھیے نا! مبتدا کی قسمِ ثانی بھی مسند ہے، وہ عواملِ لفظیہ سے بھی خالی اور مسند بہ بھی ہے، لہٰذا ابھی بھی وہ خبر کی تعریف میں داخل تھی، خبر کی کیا تعریف کی؟ وہ اسم جو عواملِ لفظیہ سے خالی ہو اور مسند بہ ہو، مبتدا کی قسمِ ثانی بھی کیا ہے؟ عواملِ لفظیہ سے خالی ہے اور مسند بہ ہے، تو وہ ابھی بھی خبر کی تعریف میں داخل تھی، تو الْمُغَايِرُ لِلصِّفَةِ الْمَذْكُورَةِ کی قید کے ذریعے اس کو نکال رہے ہیں۔ تو کہتے ہیں، وَاحْتَرَزَ بِهِ عَنِ الْقِسْمِ الثَّانِي مِنَ الْمُبْتَدَأِ، اور اس کے ذریعے احتراز کیا مبتدا کی قسمِ ثانی سے، وَلَكَ أَنْ تَقُولَ، اور آپ کے لیے یہ بھی جائز ہے کہ آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں، وَلَكَ، أَيْ وَجَازَ لَكَ، جار مجرور کس سے متعلق ہیں؟ جازَ فعلِ محذوف سے، أَيْ وَلَكَ أَنْ تَقُولَ، اور آپ کے لیے یہ بھی جائز ہے کہ آپ یوں کہیں، الْمُرَادُ الْمُسْنَدُ بِهِ إِلَى الْمُبْتَدَأِ، یہاں سے صاحبِ جامی ایک نیا فائدہ بتلا رہے ہیں آپ کو، فرماتے ہیں کہ یہ جو خبر کی تعریف کی صاحبِ قافیہ نے، کیا تعریف کی؟ الْخَبَرُ هُوَ الْمُجَرَّدُ الْمُسْنَدُ بِهِ الْمُغَايِرُ لِلصِّفَةِ الْمَذْكُورَةِ، بتلانا یہ چاہتے ہیں کہ الْمُغَايِرُ لِلصِّفَةِ الْمَذْكُورَةِ، اس قید کے بغیر بھی خبر کی تعریف مکمل ہے، بھئی۔ اس قید کے بغیر بھی تعریف مکمل ہے، کس طرح؟ کہتے ہیں، جو پیچھے آیا نا، وَالْخَبَرُ هُوَ الْمُجَرَّدُ الْمُسْنَدُ بِهِ، خبر وہ اسم ہے جو خالی ہو عواملِ لفظیہ سے، الْمُسْنَدُ بِهِ اور مسند بہ ہو، اور مسند بہ سے ہر مسند بہ نہیں مراد، وہ مسند بہ مراد ہے جو إِلَى الْمُبْتَدَأِ ہو، مبتدا کی طرف مسند بہ ہو۔ مبتدا کی طرف اس کا اسناد کیا گیا ہو۔ توجہ ہے؟ بھئی دیکھو! اس تعریف میں مسند بہ کی قید لگائی، اور مبتدا کی قسمِ ثانی ابھی بھی اس کے اندر داخل تھی، خبر بھی عواملِ لفظیہ سے خالی اور مسند بہ، مبتدا کی قسمِ ثانی بھی عواملِ لفظیہ سے خالی اور مسند بہ، لیکن اسی مسند بہ کی قید کے ذریعے مبتدا کی قسمِ ثانی کو بھی آپ نکال سکتے ہیں، کس طرح؟ کہ مسند بہ سے کیا مراد لے لیں؟ ہر مسند بہ نہیں، وہ جو مسند بہ ہو إِلَى الْمُبْتَدَأِ، کس کی طرف؟ جو یعنی جس کا مبتدا کی طرف اسناد کیا گیا ہو، وہ مراد لے لیں اس سے، وہ مراد لے لیں، اور اس صورت میں مبتدا کی قسمِ ثانی نکل گئی، کیونکہ وہ مسند بہ تو ہے، لیکن مسند بہ إِلَى الْمُبْتَدَأِ نہیں ہے۔ أَقَائِمٌ الزَّيْدَانِ، توجہ ہے؟ یہ قائمٌ کیا ہے؟ مبتدا کی قسمِ ثانی، اور اس کا اسناد کس کی طرف ہے؟ الزَّيْدَانِ کی طرف، جو اس کا فاعل ہے، تو أَقَائِمٌ الزَّيْدَانِ، قائمٌ کا اسناد الزَّيْدَانِ، یعنی اپنے فاعل کی طرف اسناد ہو رہا ہے، مبتدا کی طرف اسناد نہیں۔ تو مبتدا کی جو قسمِ ثانی ہے، وہ مسند بہ ہے إِلَى الْفَاعِلِ، وہ وہ مسند بہ ہے إِلَى الْفَاعِلِ، اور یہاں جو مسند بہ آیا، اس سے کون سا مسند بہ مراد لے لیں؟ الْمُسْنَدُ بِهِ إِلَى الْمُبْتَدَأِ مراد لے لیں، تو پھر اب وہ مبتدا کی قسمِ ثانی نکل جائے گی، کیونکہ وہ تو مبتدا کی طرف مسند نہیں ہے، بلکہ وہ تو اپنے فاعل کی طرف مسند ہے۔ تو کہتے ہیں، یہ مراد لے لیں، اور قرینہ بھی یہاں پر موجود ہے کہ مسند بہ سے ہر دنیا کا مسند بہ مراد نہیں ہے، بلکہ مسند بہ إِلَى الْمُبْتَدَأِ مراد ہے، قرینہ بھی موجود، کیا قرینہ؟ کہتے ہیں کہ کیونکہ خبر اور مبتدا ایک دوسرے کے ساتھ لازم ہیں۔ خبر کی بات چل رہی ہے، خبر کی بات چل رہی ہے، خبر اور مبتدا ایک دوسرے کے ساتھ لازم ہیں، صاحبِ قافیہ نے اکٹھا دونوں کو ذکر کیا، وَمِنْهَا الْمُبْتَدَأُ وَالْخَبَرُ، معلوم ہوا، دونوں ایک دوسرے کے ساتھ لازم ہیں، اور خبر کی تعریف میں آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ جو مسند بہ ہو، معلوم ہوا، کس کی طرف مسند بہ ہوگی؟ مبتدا کی طرف مسند بہ ہوگی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو قرینہ موجود ہے، لہٰذا الْمُسْنَدُ بِهِ سے کیا مراد لو؟ ہر مسند بہ نہیں، بلکہ الْمُسْنَدُ بِهِ إِلَى الْمُبْتَدَأِ مراد لے لو، اور قرینہ بھی موجود ہے۔ کہ مبتدا اور خبر دونوں ایک دوسرے کے ساتھ لازم ہیں، اور صاحبِ قافیہ نے بھی دونوں کو اکٹھا ذکر کیا ہے، تو جب خبر مسند بہ ہے، تو لازمی بات ہے، وہ کسی اور کی طرف مسند بہ نہیں ہوگی، کس کی طرف ہوگی؟ مبتدا کی طرف، کیونکہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ لازم ہیں، خبر آگئی ہے، تو مبتدا بھی ساتھ ہی ہوگا، تو اسی کی طرف اس کا اسناد ہوگا، کسی اور کی طرف نہیں، بھئی۔ تو کہتے ہیں، وَلَكَ أَنْ تَقُولَ، اور آپ کے لیے یہ بھی جائز ہے کہ آپ یہ کہیں کہ الْمُرَادُ الْمُسْنَدُ بِهِ إِلَى الْمُبْتَدَأِ، کہ مراد جو ہے، وہ جو مسند بہ ہو مبتدا کی طرف، وہ جو مسند بہ ہو مبتدا کی طرف، أَوْ تَجْعَلَ الْبَاءَ فِي بِهِ بِمَعْنَى إِلَى، جی، یہ اور تقریر کر رہے ہیں صاحبِ جامی، بھئی، عجیب تقریر کرتے ہیں، انسان حیران رہ جاتا ہے۔ دوسری تقریر سنو بھئی، عجیب تقریر صاحبِ جامی کی! صاحبِ جامی فرماتے ہیں، متن پہ نظر رکھو، کہتے ہیں، یہ جو الْمُسْنَدُ بِهِ آیا، کیا آیا؟ الْمُسْنَدُ بِهِ، الْمُسْنَدُ بِهِ آیا، اور اس کی ہم نے اتنی لمبی تقریر کی، یہاں پر با کو إِلَى کے معنی میں لے لیں، کس معنی میں؟ إِلَى کے معنی میں، أَيِ الْمُسْنَدُ إِلَيْهِ، توجہ ہے؟ الْمُسْنَدُ إِلَيْهِ، مسند الیہ، تو یہ الْمُسْنَدُ إِلَيْهِ ہے، اور إِلَيْهِ کی ہا ضمیر راجع کر دو مبتدا کو، إِلَيْهِ کی ہا ضمیر راجع کر دو مبتدا کی طرف، سارا مسئلہ حل ہوگیا، وہ جو ایک ڈیڑھ گھنٹہ ہم نے تقریر کی، اس مقام کو حل کرنے کے لیے، وہ سارا حل ہوگیا، کس طرح؟ الْمُسْنَدُ بِهِ، با کو کس معنی میں لے لو؟ إِلَى کے معنی میں، تو بِهِ کیا بن گیا؟ إِلَيْهِ، الْمُسْنَدُ إِلَيْهِ، خبر کسے کہتے ہیں؟ وہ اسم جو خالی ہو عواملِ لفظیہ سے، الْمُسْنَدُ إِلَيْهِ، اور جس کا اسناد کیا گیا ہو مبتدا کی طرف۔ تو یہ بِهِ بیکار نہیں ہے، یہ بِهِ اصل میں کیا تھا؟ إِلَيْهِ، إِلَيْهِ تھا، اور یاد رکھو، عربی زبان میں یہ حروفِ جارہ ایک دوسرے کی جگہ استعمال ہوتے رہتے ہیں، تو اصل میں یہ الْمُسْنَدُ إِلَيْهِ تھا، کیا تھا؟ مسند الیہ، پھر إِلَيْهِ کے إِلَى کو کس سے بدل دیا صاحبِ قافیہ نے؟ با سے بدل دیا، تو إِلَيْهِ کو بدل دیا انھوں نے بِهِ کے ساتھ بدل دیا، بھئی۔ کیوں؟ یہ إِلَيْهِ کو بِهِ سے کیوں بدلا؟ کہتے ہیں، اس لیے کیونکہ یہ بھی ہے الْمُسْنَدُ إِلَيْهِ، اور پیچھے مبتدا کے اندر بھی آیا تھا، مُسْنَدًا إِلَيْهِ، وہ بھی مسند الیہ ہے، اور یہ خبر بھی مسند الیہ ہے، تو پھر اشتباہ لازم آنا تھا، لہٰذا إِلَيْهِ کے بجائے کیا کہہ دیا؟ بِهِ کہہ دیا، بھئی! بات سمجھ میں آگئی؟ تو کمال کی تقریر کی صاحبِ جامی نے، بھئی! کہ الْمُسْنَدُ إِلَيْهِ، تعریف سمجھ میں آرہی ہے؟ کہ خبر جو ہے، هُوَ الْمُجَرَّدُ، وہ اسم ہے جو خالی ہو عواملِ لفظیہ سے، الْمُسْنَدُ إِلَيْهِ، جس کا اسناد کیا گیا ہو إِلَيْهِ، کس کی طرف؟ مبتدا کی طرف، اب الْمُسْنَدُ کے اندر هُوَ ضمیر مصدر کی طرف لوٹانے کی کوئی ضرورت نہیں، بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ اب اس کے اندر هُوَ ضمیر نائب الفاعل موجود ہے، بھئی، اور مصدر کو نہیں راجع، بھئی۔ تو عبارت کس لیے بدلی؟ اصل میں یہ بھی کیا تھا؟ الْمُسْنَدُ إِلَيْهِ، اور ہا ضمیر کس کو راجع کر دی؟ مبتدا کو، اور اس کو بدل کیوں دیا؟ کیونکہ مبتدا کی تعریف میں مسند الیہ آیا تھا، تاکہ اس کے ساتھ اشتباہ لازم نہ آئے، بھئی۔ دیکھیے بھئی، کہتے ہیں، أَوْ تَجْعَلَ الْبَاءَ فِي بِهِ بِمَعْنَى إِلَى، یا آپ با کو کر دیں بِهِ کے اندر بمعنیٰ إِلَى، کس معنی میں؟ إِلَى کے معنی میں، وَالضَّمِيرَ الْمَجْرُورَ رَاجِعًا إِلَى الْمُبْتَدَأِ، یاد رکھو، جَعَلَ يَجْعَلُ دو مفعول چاہتا ہے، جَعَلْتُ الطِّينَ كَأْسًا، طین کہتے ہیں گارے اور مٹی کو، کأسًا گلاس کو، جَعَلْتُ الطِّينَ كَأْسًا، میں نے مٹی سے گلاس بنا دیا۔ تو جَعَلْتُ فعل با فاعل، اور اب الطِّينَ مفعولِ اول، اور كَأْسًا مفعولِ ثانی، تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے، تو وَالضَّمِيرَ الْمَجْرُورَ رَاجِعًا إِلَى الْمُبْتَدَأِ، اور آپ ضمیرِ مجرور کو راجع کر دیں إِلَى الْمُبْتَدَأِ، کس کی طرف؟ مبتدا کی طرف کا راجع کر دیں۔ کیا بات ہوئی؟ أَوْ تَجْعَلَ الْبَاءَ فِي بِهِ بِمَعْنَى إِلَى وَالضَّمِيرَ الْمَجْرُورَ رَاجِعًا إِلَى الْمُبْتَدَأِ، یا آپ کے لیے یہ بھی جائز ہے کہ آپ با کو إِلَى کے معنی میں کر دیں، اور ضمیرِ مجرور کو مبتدا کی طرف لوٹا دیں، وَعَلَى التَّقْدِيرَيْنِ يَخْرُجُ بِهِ الْقِسْمُ الثَّانِي مِنَ الْمُبْتَدَأِ، اور دونوں تقدیروں پر، دونوں تقدیروں پر، یعنی چاہے آپ إِلَى الْمُبْتَدَأِ کی قید یہاں محذوف مان لیں، کہ یہاں مسند بہ سے کیا مراد لے لیں؟ مسند بہ إِلَى الْمُبْتَدَأِ، کیا مراد لے لیں؟ ایک تقریر یہ ہے نا کہ الْمُسْنَدُ بِهِ کے ساتھ إِلَى الْمُبْتَدَأِ کی قید آپ ویسے ہی مان لیں کہ یہ مراد ہے، یہ، تو آپ چاہے الْمُسْنَدُ بِهِ إِلَى الْمُبْتَدَأِ یہ مراد لے لیں کہ وہ جو مسند بہ ہو، کس کی طرف؟ مبتدا کی طرف، اور یا آپ اس با کو کس معنی میں لے لیں؟ إِلَى، دونوں صورتوں میں مبتدا کی قسمِ ثانی اسی کے ذریعے نکل جائے گی۔ مبتدا کی، مبتدا کی قسمِ اول بھی نکل جائے گی، اور مبتدا کی قسمِ ثانی بھی۔ مبتدا کی قسمِ اول کیوں؟ مبتدا کی قسمِ اول، کیونکہ وہ تو مسند الیہ ہے، دیکھو بھئی، الْمُسْنَدُ بِهِ کے اندر دو تقریریں کیں صاحبِ جامی نے، یا تو آپ کہتے ہیں یوں کریں کہ الْمُسْنَدُ بِهِ سے مراد لے لیں الْمُسْنَدُ بِهِ إِلَى الْمُبْتَدَأِ، یعنی إِلَى الْمُبْتَدَأِ کی قید یہاں ملحوظ ہے، یوں کہیں۔ بِهِ إِلَى کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ إِلَى الْمُبْتَدَأِ کی قید یہاں ملحوظ ہے، کہ خبر وہ اسم ہے جو مسند بہ ہو إِلَى الْمُبْتَدَأِ، کس کی طرف؟ مبتدا کی طرف، تو اس صورت میں بھی مبتدا کی دونوں قسمیں نکل گئیں، کیونکہ خبر تو مسند بہ ہے مبتدا کی طرف، اور مبتدا کی قسمِ اول، وہ تو خود مبتدا ہے، وہ مبتدا کی طرف مسند بہ نہیں، اور مبتدا کی قسمِ ثانی بھی نکل گئی، کیونکہ وہ مسند بہ اپنے فاعل کی طرف ہے، وہ تو مبتدا کی طرف مسند بہ نہیں، تو اس صورت میں بھی دونوں نکل گئے، اور اگر آپ بِهِ کو کس معنی میں لے لیں؟ إِلَيْهِ کے معنی میں لے لیں، تو اس صورت میں بھی، کہ خبر وہ اسم ہے جس کا اسناد کیا گیا ہو إِلَى الْمُبْتَدَأِ، کس کی طرف؟ مبتدا کی طرف، جب مبتدا کی طرف اسناد ہوا، تو مبتدا کی قسمِ اول بھی نکل گئی، کیونکہ اس کا تو نہیں کسی کی طرف اسناد ہوتا، اور مبتدا کی قسمِ ثانی بھی نکل گئی، کیونکہ اس کا اسناد ہوتا تو ہے، لیکن اپنے فاعل کی طرف ہوتا ہے، مبتدا کی طرف نہیں ہوتا، لہٰذا دونوں تقریروں کی صورت میں الْمُسْنَدُ بِهِ کی قید کے ذریعے ہی مبتدا کی قسمِ اول بھی نکل گئی، اور مبتدا کی قسمِ ثانی بھی نکل گئی، جب وہ دونوں نکل گئیں، تو الْمُغَايِرُ لِلصِّفَةِ الْمَذْكُورَةِ قید لانے کی کوئی حاجت نہیں۔ تعریف اسی پر پوری ہوگئی، وَالْخَبَرُ هُوَ الْمُجَرَّدُ الْمُسْنَدُ بِهِ، تو پھر آگے اس کو پھر کیوں ذکر کیا گیا اگر اسی پر تعریف پوری ہوگئی؟ کہتے ہیں، اس صورت میں پھر اس کو تاکید بنا سکتے ہیں۔ کیا بنا سکتے ہیں؟ تاکید، یعنی وَالْخَبَرُ هُوَ الْمُجَرَّدُ الْمُسْنَدُ بِهِ، اسی سے پتہ چل گیا تھا کہ مبتدا کی قسمِ ثانی بھی نکل چکی ہے، لیکن صراحۃً یا ضمناً پتہ چلا تھا؟ ضمناً سمجھ میں یہ بات آگئی تھی کہ مبتدا کی قسمِ ثانی الْمُسْنَدُ بِهِ کی قید کے ذریعے نکل چکی ہے، تو وہ ایک چیز جو ضمناً سمجھ میں آئی تھی، دوبارہ اس کو صراحۃً ذکر کر دیا، تو یہ اسی کے لیے تاکید بن جائے گی، پہلے ایک چیز صراحۃً معلوم نہیں تھی، اب صاف لفظوں میں بھی اس کو ذکر کر دیا، تو وہی چیز جو پہلے معلوم ہوئی تھی، اس کو اسی کے لیے تاکید بنا دیں گے، بات سمجھ میں آگئی۔ تو کہتے ہیں، وَعَلَى التَّقْدِيرَيْنِ يَخْرُجُ بِهِ الْقِسْمُ الثَّانِي مِنَ الْمُبْتَدَأِ، اور دونوں تقدیروں پر اس کے ذریعے مبتدا کی قسمِ ثانی نکل جائے گی اس قید کے ذریعے، وَيَكُونُ قَوْلُهُ الْمُغَايِرُ لِلصِّفَةِ الْمَذْكُورَةِ تَأْكِيدًا، اور مصنف کا قول جو ہے الْمُغَايِرُ لِلصِّفَةِ الْمَذْكُورَةِ، وہ تاکید ہو جائے گا۔ وَاعْلَمْ، تو جان لے کہ أَنَّ الْعَامِلَ فِي الْمُبْتَدَأِ وَالْخَبَرِ هُوَ الْإِبْتِدَاءُ، کہ وہ جو عامل ہے مبتدا اور خبر میں، وہ ابتداء ہے، بھئی ابتداء کسے کہتے ہیں؟ کہتے ہیں، أَيْ تَجْرِيدُ الْإِسْمِ عَنِ الْعَوَامِلِ اللَّفْظِيَّةِ، وہ اسم کا خالی کرنا عواملِ لفظیہ سے، لِيُسْنَدَ إِلَى شَيْءٍ، تاکہ اس کا اسناد کیا جائے کسی چیز کی طرف، أَوْ يُسْنَدَ إِلَيْهِ شَيْءٌ، اور یا اس کی طرف کسی چیز کا اسناد کیا جائے، میں نے بتایا تھا بھئی، ابتداء کسے کہتے ہیں؟ اسم کا خالی ہونا عواملِ لفظیہ سے، لیکن اس طور پر کہ اس کی طرف کسی کا اسناد ہو، یا اس کا اسناد کسی کی طرف ہو، تاکہ صرف مبتدا اور خبر رہ جائیں، یہ ابتداء صرف مبتدا اور خبر میں عامل ہے، اور کسی چیز میں عامل نہیں، اسی لیے کہا، أَيْ تَجْرِيدُ الْإِسْمِ عَنِ الْعَوَامِلِ اللَّفْظِيَّةِ، اسم کو خالی کرنا عواملِ لفظیہ سے، لِيُسْنَدَ إِلَى شَيْءٍ، تاکہ اس کا اسناد کیا جائے کسی چیز کی طرف، اس کا، اس میں کون کون داخل ہوئے؟ اس کا اسناد کیا جائے۔ یہ کون سا اسم ہے؟ اس کا اسناد کیا جائے۔ خبر، خبر، اور نیز وہ مبتدا کی قسمِ ثانی، یہ دونوں مسند ہیں، بھئی، أَوْ يُسْنَدَ إِلَيْهِ شَيْءٌ، یا اس کی طرف کسی چیز کا اسناد کیا جائے، اس میں کون داخل؟ مبتدا کی قسمِ اول، وہ مسند الیہ ہے۔ فَمَعْنَى الْإِبْتِدَاءِ عَامِلٌ فِي الْمُبْتَدَأِ وَالْخَبَرِ، تو ابتداء کا جو معنیٰ ہے، یہ عامل ہے مبتدا اور خبر میں، رَافِعٌ لَهُمَا، رفع دینے والا ہے ان دونوں کو، عِنْدَ الْبَصْرِيِّينَ، کن کے نزدیک؟ بصریین کے نزدیک، وَأَمَّا عِنْدَ غَيْرِهِمْ، اور باقی بصرہ والوں کے علاوہ جو ہیں، فَقَالَ بَعْضُهُمْ، تو بعض علماء فرماتے ہیں، بھئی، ادھر دیکھیے! بصرہ والوں کا مذہب تو کیا؟ کہ مبتدا میں بھی ابتداء عامل، اور خبر میں بھی ابتداء عامل، لیکن بعض علماء فرماتے ہیں کہ ابتداء صرف مبتدا میں عامل ہے۔ ابتداء صرف مبتدا میں عامل ہے، اور پھر یہ مبتدا آگے خبر میں خود عامل ہے۔ تو معلوم ہوا، مبتدا عواملِ لفظیہ سے خالی ہے، خبر عواملِ لفظیہ سے خالی نہیں، اس کے اندر تو مبتدا عامل ہے، مبتدا تو لفظ ہے۔ اور جبکہ بعض علماء فرماتے ہیں کہ مبتدا خبر دونوں ایک دوسرے میں عامل ہیں، مبتدا نے رفع دیا خبر کو، اور خبر نے رفع دیا مبتدا کو، تو دونوں کے اندر عاملِ لفظی ہیں، بھئی۔ تو صاحبِ قافیہ نے تو کیا تعریف کی؟ کہ مبتدا بھی عواملِ لفظیہ سے خالی ہوتا ہے، اور خبر بھی عواملِ لفظیہ سے خالی ہوتی ہے، اور یہ بصرہ والوں کا مذہب ہے، اور اس کو صاحبِ قافیہ نے ترجیح دی ہے۔ جبکہ دیگر علماء کے قول کو لیا جائے، تو پھر وہ دونوں تو عواملِ لفظیہ سے خالی نہیں، ایک قول کے مطابق مبتدا صرف عواملِ لفظیہ سے خالی ہے، خبر نہیں، خبر کے اندر مبتدا عامل ہے، اور دوسرے قول کے مطابق دونوں میں سے ایک بھی عواملِ لفظیہ سے خالی نہیں ہے، بھئی۔ تو کہتے ہیں، کہتے ہیں، وَأَمَّا عِنْدَ غَيْرِهِمْ، اور باقی بصرہ والوں کے علاوہ جو ہیں، فَقَالَ بَعْضُهُمْ، تو بعض نحوی فرماتے ہیں، الْإِبْتِدَاءُ عَامِلٌ فِي الْمُبْتَدَأِ، کہ ابتداء عامل ہے مبتدا میں، وَالْمُبْتَدَأُ فِي الْخَبَرِ، اور مبتدا عامل ہے خبر میں، وَقَالَ الْآخَرُونَ، اور دوسرے نحوی بعض فرماتے ہیں، إِنَّ كُلَّ وَاحِدٍ مِنَ الْمُبْتَدَأِ وَالْخَبَرِ عَامِلٌ فِي الْآخَرِ، کہ خبر اور مبتدا دونوں میں سے ہر ایک وہ عامل ہے فِي الْآخَرِ، دوسرے میں، دونوں ایک دوسرے میں عامل ہیں، وَعَلَى هَذَا لَا يَكُونَانِ مُجَرَّدَيْنِ عَنِ الْعَوَامِلِ اللَّفْظِيَّةِ، اور اس پر، یہ جو بصرہ والوں کے علاوہ قول ہے، اس قول کی بناء پر لَا يَكُونَانِ مُجَرَّدَيْنِ عَنِ الْعَوَامِلِ اللَّفْظِيَّةِ، یہ دونوں عواملِ لفظیہ سے خالی نہیں، یہ دونوں، بھئی دیکھو نا! بصرہ والوں کا تو مذہب یہ ہے کہ مبتدا بھی عواملِ لفظیہ سے خالی ہوتا ہے، اور خبر بھی، جیسے صاحبِ قافیہ نے تعریف کر دی، جبکہ دوسرے، دو گروہ ہیں نحویوں کے، بھئی دیکھو، یہاں کل تین قول ہوگئے، ایک بصرہ والوں کا مذہب، بصرہ والوں کے قول کے مطابق مبتدا اور خبر دونوں عواملِ لفظیہ سے خالی ہوتے ہیں، اور اسی کو صاحبِ قافیہ نے ترجیح دی، اور قافیہ کے اندر اس کو ذکر کیا، جبکہ بعض نحوی فرماتے ہیں کہ صرف مبتدا کے اندر ابتداء عامل ہے، اور خبر کے اندر مبتدا عامل ہے، تو اس قول کے مطابق بھی دونوں مبتدا اور خبر دیکھو، دونوں عواملِ لفظیہ سے خالی نہیں، اور تیسرا قول اس کے مطابق تو دونوں میں سے ایک کے اندر بھی ابتداء عامل نہیں ہے، مبتدا اور خبر دونوں ایک دوسرے کے اندر عامل ہیں، تو یہ جو آخری دونوں قول لے لیے جائیں، تو ان کی بناء پر مبتدا اور خبر دونوں عواملِ لفظیہ سے خالی نہیں، دونوں عواملِ لفظیہ سے خالی نہیں، حالانکہ صاحبِ قافیہ نے تو کیا کہا؟ کہتے ہیں، وَاحْتَرَزَ بِهِ عَنِ الْقِسْمِ الْأَوَّلِ مِنَ الْمُبْتَدَأِ، اور اس قید کے ذریعے صاحبِ قافیہ نے مبتدا کی قسمِ اول سے احتراز کیا لِأَنَّهُ مُسْنَدٌ إِلَيْهِ، کیونکہ مبتدا کی قسمِ اول مسند الیہ ہے، لَا مُسْنَدٌ، وہ مسند نہیں ہے، الْمُغَايِرُ لِلصِّفَةِ الْمَذْكُورَةِ، اور وہ اسم جو ہے، وہ مغائر ہونا چاہیے لِلصِّفَةِ الْمَذْكُورَةِ، اس صفت سے جو ذکر کر دی گئی، بھئی کہاں مذکور ہوئی؟ کہتے ہیں، فِي تَعْرِيفِ الْمُبْتَدَأِ، مبتدا کی تعریف میں۔ بھئی، مبتدا کی تعریف میں جو مبتدا کی قسمِ ثانی کے اندر جو صفت ذکر ہوئی تھی، یہ خبر کو اس سے مغائر ہونا چاہیے، اس سے الگ ہونا چاہیے، بھئی، تو یہ قید لگائی، الْمُغَايِرُ لِلصِّفَةِ الْمَذْكُورَةِ، اس کے ذریعے کس سے احتراز کیا؟ مبتدا کی قسمِ ثانی سے، یہی بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں، وَاحْتَرَزَ بِهِ، اچھا! بھئی، دیکھیے نا! مبتدا کی قسمِ ثانی بھی مسند ہے، وہ عواملِ لفظیہ سے بھی خالی اور مسند بہ بھی ہے، لہٰذا ابھی بھی وہ خبر کی تعریف میں داخل تھی، خبر کی کیا تعریف کی؟ وہ اسم جو عواملِ لفظیہ سے خالی ہو اور مسند بہ ہو، مبتدا کی قسمِ ثانی بھی کیا ہے؟ عواملِ لفظیہ سے خالی ہے اور مسند بہ ہے، تو وہ ابھی بھی خبر کی تعریف میں داخل تھی، تو الْمُغَايِرُ لِلصِّفَةِ الْمَذْكُورَةِ کی قید کے ذریعے اس کو نکال رہے ہیں۔ تو کہتے ہیں، وَاحْتَرَزَ بِهِ عَنِ الْقِسْمِ الثَّانِي مِنَ الْمُبْتَدَأِ، اور اس کے ذریعے احتراز کیا مبتدا کی قسمِ ثانی سے، وَلَكَ أَنْ تَقُولَ، اور آپ کے لیے یہ بھی جائز ہے کہ آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں، وَلَكَ، أَيْ وَجَازَ لَكَ، جار مجرور کس سے متعلق ہیں؟ جازَ فعلِ محذوف سے، أَيْ وَلَكَ أَنْ تَقُولَ، اور آپ کے لیے یہ بھی جائز ہے کہ آپ یوں کہیں، الْمُرَادُ الْمُسْنَدُ بِهِ إِلَى الْمُبْتَدَأِ، یہاں سے صاحبِ جامی ایک نیا فائدہ بتلا رہے ہیں آپ کو، فرماتے ہیں کہ یہ جو خبر کی تعریف کی صاحبِ قافیہ نے، کیا تعریف کی؟ الْخَبَرُ هُوَ الْمُجَرَّدُ الْمُسْنَدُ بِهِ الْمُغَايِرُ لِلصِّفَةِ الْمَذْكُورَةِ، بتلانا یہ چاہتے ہیں کہ الْمُغَايِرُ لِلصِّفَةِ الْمَذْكُورَةِ، اس قید کے بغیر بھی خبر کی تعریف مکمل ہے، بھئی۔ اس قید کے بغیر بھی تعریف مکمل ہے، کس طرح؟ کہتے ہیں، جو پیچھے آیا نا، وَالْخَبَرُ هُوَ الْمُجَرَّدُ الْمُسْنَدُ بِهِ، خبر وہ اسم ہے جو خالی ہو عواملِ لفظیہ سے، الْمُسْنَدُ بِهِ اور مسند بہ ہو، اور مسند بہ سے ہر مسند بہ نہیں مراد، وہ مسند بہ مراد ہے جو إِلَى الْمُبْتَدَأِ ہو، مبتدا کی طرف مسند بہ ہو۔ مبتدا کی طرف اس کا اسناد کیا گیا ہو۔ توجہ ہے؟ بھئی دیکھو! اس تعریف میں مسند بہ کی قید لگائی، اور مبتدا کی قسمِ ثانی ابھی بھی اس کے اندر داخل تھی، خبر بھی عواملِ لفظیہ سے خالی اور مسند بہ، مبتدا کی قسمِ ثانی بھی عواملِ لفظیہ سے خالی اور مسند بہ، لیکن اسی مسند بہ کی قید کے ذریعے مبتدا کی قسمِ ثانی کو بھی آپ نکال سکتے ہیں، کس طرح؟ کہ مسند بہ سے کیا مراد لے لیں؟ ہر مسند بہ نہیں، وہ جو مسند بہ ہو إِلَى الْمُبْتَدَأِ، کس کی طرف؟ جو یعنی جس کا مبتدا کی طرف اسناد کیا گیا ہو، وہ مراد لے لیں اس سے، وہ مراد لے لیں، اور اس صورت میں مبتدا کی قسمِ ثانی نکل گئی، کیونکہ وہ مسند بہ تو ہے، لیکن مسند بہ إِلَى الْمُبْتَدَأِ نہیں ہے۔ أَقَائِمٌ الزَّيْدَانِ، توجہ ہے؟ یہ قائمٌ کیا ہے؟ مبتدا کی قسمِ ثانی، اور اس کا اسناد کس کی طرف ہے؟ الزَّيْدَانِ کی طرف، جو اس کا فاعل ہے، تو أَقَائِمٌ الزَّيْدَانِ، قائمٌ کا اسناد الزَّيْدَانِ، یعنی اپنے فاعل کی طرف اسناد ہو رہا ہے، مبتدا کی طرف اسناد نہیں۔ تو مبتدا کی جو قسمِ ثانی ہے، وہ مسند بہ تو ہے إِلَى الْفَاعِلِ، وہ مسند بہ ہے إِلَى الْفَاعِلِ، اور یہاں جو مسند بہ آیا، اس سے کون سا مسند بہ مراد لے لیں؟ الْمُسْنَدُ بِهِ إِلَى الْمُبْتَدَأِ مراد لے لیں، تو پھر اب وہ مبتدا کی قسمِ ثانی نکل جائے گی، کیونکہ وہ تو مبتدا کی طرف مسند نہیں ہے، بلکہ وہ تو اپنے فاعل کی طرف مسند ہے۔ تو کہتے ہیں، یہ مراد لے لیں، اور قرینہ بھی یہاں پر موجود ہے کہ مسند بہ سے ہر دنیا کا مسند بہ مراد نہیں ہے، بلکہ مسند بہ إِلَى الْمُبْتَدَأِ مراد ہے، قرینہ بھی موجود، کیا قرینہ؟ کہتے ہیں کہ کیونکہ خبر اور مبتدا ایک دوسرے کے ساتھ لازم ہیں۔ خبر کی بات چل رہی ہے، خبر کی بات چل رہی ہے، خبر اور مبتدا ایک دوسرے کے ساتھ لازم ہیں، صاحبِ قافیہ نے اکٹھا دونوں کو ذکر کیا، وَمِنْهَا الْمُبْتَدَأُ وَالْخَبَرُ، معلوم ہوا، دونوں ایک دوسرے کے ساتھ لازم ہیں، اور خبر کی تعریف میں آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ جو مسند بہ ہو، معلوم ہوا، کس کی طرف مسند بہ ہوگی؟ مبتدا کی طرف مسند بہ ہوگی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو قرینہ موجود ہے، لہٰذا الْمُسْنَدُ بِهِ سے کیا مراد لو؟ ہر مسند بہ نہیں، بلکہ الْمُسْنَدُ بِهِ إِلَى الْمُبْتَدَأِ مراد لے لو، اور قرینہ بھی موجود ہے۔ کہ مبتدا اور خبر دونوں ایک دوسرے کے ساتھ لازم ہیں، اور صاحبِ قافیہ نے بھی دونوں کو اکٹھا ذکر کیا ہے، تو جب خبر مسند بہ ہے، تو لازمی بات ہے، وہ کسی اور کی طرف مسند بہ نہیں ہوگی، کس کی طرف ہوگی؟ مبتدا کی طرف، کیونکہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ لازم ہیں، خبر آگئی ہے، تو مبتدا بھی ساتھ ہی ہوگا، تو اسی کی طرف اس کا اسناد ہوگا، کسی اور کی طرف نہیں، بھئی۔ تو کہتے ہیں، وَلَكَ أَنْ تَقُولَ، اور آپ کے لیے یہ بھی جائز ہے کہ آپ یہ کہیں کہ الْمُرَادُ الْمُسْنَدُ بِهِ إِلَى الْمُبْتَدَأِ، کہ مراد جو ہے، وہ جو مسند بہ ہو مبتدا کی طرف، وہ جو مسند بہ ہو مبتدا کی طرف، أَوْ تَجْعَلَ الْبَاءَ فِي بِهِ بِمَعْنَى إِلَى، جی، یہ اور تقریر کر رہے ہیں صاحبِ جامی، بھئی، عجیب تقریر کرتے ہیں، انسان حیران رہ جاتا ہے۔ دوسری تقریر سنو بھئی، عجیب تقریر صاحبِ جامی کی! صاحبِ جامی فرماتے ہیں، متن پہ نظر رکھو، کہتے ہیں، یہ جو الْمُسْنَدُ بِهِ آیا، کیا آیا؟ الْمُسْنَدُ بِهِ، الْمُسْنَدُ بِهِ آیا، اور اس کی ہم نے اتنی لمبی تقریر کی، یہاں پر با کو إِلَى کے معنی میں لے لیں، کس معنی میں؟ إِلَى کے معنی میں، أَيِ الْمُسْنَدُ إِلَيْهِ، توجہ ہے؟ الْمُسْنَدُ إِلَيْهِ، مسند الیہ، تو یہ الْمُسْنَدُ إِلَيْهِ ہے، اور إِلَيْهِ کی ہا ضمیر راجع کر دو مبتدا کو، إِلَيْهِ کی ہا ضمیر راجع کر دو مبتدا کی طرف، سارا مسئلہ حل ہوگیا، وہ جو ایک ڈیڑھ گھنٹہ ہم نے تقریر کی، اس مقام کو حل کرنے کے لیے، وہ سارا حل ہوگیا، کس طرح؟ الْمُسْنَدُ بِهِ، با کو کس معنی میں لے لو؟ إِلَى کے معنی میں، تو بِهِ کیا بن گیا؟ إِلَيْهِ، الْمُسْنَدُ إِلَيْهِ، خبر کسے کہتے ہیں؟ وہ اسم جو خالی ہو عواملِ لفظیہ سے، الْمُسْنَدُ إِلَيْهِ، اور جس کا اسناد کیا گیا ہو مبتدا کی طرف۔ تو یہ بِهِ بیکار نہیں ہے، یہ بِهِ اصل میں کیا تھا؟ إِلَيْهِ، إِلَيْهِ تھا، اور یاد رکھو، عربی زبان میں یہ حروفِ جارہ ایک دوسرے کی جگہ استعمال ہوتے رہتے ہیں، تو اصل میں یہ الْمُسْنَدُ إِلَيْهِ تھا، کیا تھا؟ مسند الیہ، پھر إِلَيْهِ کے إِلَى کو کس سے بدل دیا صاحبِ قافیہ نے؟ با سے بدل دیا، تو إِلَيْهِ کو بدل دیا انھوں نے بِهِ کے ساتھ بدل دیا، بھئی۔ کیوں؟ یہ إِلَيْهِ کو بِهِ سے کیوں بدلا؟ کہتے ہیں، اس لیے کیونکہ یہ بھی ہے الْمُسْنَدُ إِلَيْهِ، اور پیچھے مبتدا کے اندر بھی آیا تھا، مُسْنَدًا إِلَيْهِ، وہ بھی مسند الیہ ہے، اور یہ خبر بھی مسند الیہ ہے، تو پھر اشتباہ لازم آنا تھا، لہٰذا إِلَيْهِ کے بجائے کیا کہہ دیا؟ بِهِ کہہ دیا، بھئی! بات سمجھ میں آگئی؟ تو کمال کی تقریر کی صاحبِ جامی نے، بھئی! کہ الْمُسْنَدُ إِلَيْهِ، تعریف سمجھ میں آرہی ہے؟ کہ خبر جو ہے، هُوَ الْمُجَرَّدُ، وہ اسم ہے جو خالی ہو عواملِ لفظیہ سے، الْمُسْنَدُ إِلَيْهِ، جس کا اسناد کیا گیا ہو إِلَيْهِ، کس کی طرف؟ مبتدا کی طرف، اب الْمُسْنَدُ کے اندر هُوَ ضمیر مصدر کی طرف لوٹانے کی کوئی ضرورت نہیں، بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ اب اس کے اندر هُوَ ضمیر نائب الفاعل موجود ہے، بھئی، اور مصدر کو نہیں راجع، بھئی۔ تو عبارت کس لیے بدلی؟ اصل میں یہ بھی کیا تھا؟ الْمُسْنَدُ إِلَيْهِ، اور ہا ضمیر کس کو راجع کر دی؟ مبتدا کو، اور اس کو بدل کیوں دیا؟ کیونکہ مبتدا کی تعریف میں مسند الیہ آیا تھا، تاکہ اس کے ساتھ اشتباہ لازم نہ آئے، بھئی۔ دیکھیے بھئی، کہتے ہیں، أَوْ تَجْعَلَ الْبَاءَ فِي بِهِ بِمَعْنَى إِلَى، یا آپ با کو کر دیں بِهِ کے اندر بمعنیٰ إِلَى، کس معنی میں؟ إِلَى کے معنی میں، وَالضَّمِيرَ الْمَجْرُورَ رَاجِعًا إِلَى الْمُبْتَدَأِ، یاد رکھو، جَعَلَ يَجْعَلُ دو مفعول چاہتا ہے، جَعَلْتُ الطِّينَ كَأْسًا، طین کہتے ہیں گارے اور مٹی کو، کأسًا گلاس کو، جَعَلْتُ الطِّينَ كَأْسًا، میں نے مٹی سے گلاس بنا دیا۔ تو جَعَلْتُ فعل با فاعل، اور اب الطِّينَ مفعولِ اول، اور كَأْسًا مفعولِ ثانی، تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے، تو وَالضَّمِيرَ الْمَجْرُورَ رَاجِعًا إِلَى الْمُبْتَدَأِ، اور آپ ضمیرِ مجرور کو راجع کر دیں إِلَى الْمُبْتَدَأِ، کس کی طرف؟ مبتدا کی طرف کا راجع کر دیں۔ کیا بات ہوئی؟ أَوْ تَجْعَلَ الْبَاءَ فِي بِهِ بِمَعْنَى إِلَى وَالضَّمِيرَ الْمَجْرُورَ رَاجِعًا إِلَى الْمُبْتَدَأِ، یا آپ کے لیے یہ بھی جائز ہے کہ آپ با کو إِلَى کے معنی میں کر دیں، اور ضمیرِ مجرور کو مبتدا کی طرف لوٹا دیں، وَعَلَى التَّقْدِيرَيْنِ يَخْرُجُ بِهِ الْقِسْمُ الثَّانِي مِنَ الْمُبْتَدَأِ، اور دونوں تقدیروں پر، دونوں تقدیروں پر، یعنی چاہے آپ إِلَى الْمُبْتَدَأِ کی قید یہاں محذوف مان لیں، کہ یہاں مسند بہ سے کیا مراد لے لیں؟ مسند بہ إِلَى الْمُبْتَدَأِ، کیا مراد لے لیں؟ ایک تقریر یہ ہے نا کہ الْمُسْنَدُ بِهِ کے ساتھ إِلَى الْمُبْتَدَأِ کی قید آپ ویسے ہی مان لیں کہ یہ مراد ہے، یہ، تو آپ چاہے الْمُسْنَدُ بِهِ إِلَى الْمُبْتَدَأِ یہ مراد لے لیں کہ وہ جو مسند بہ ہو، کس کی طرف؟ مبتدا کی طرف، اور یا آپ اس با کو کس معنی میں لے لیں؟ إِلَى، دونوں صورتوں میں مبتدا کی قسمِ ثانی اسی کے ذریعے نکل جائے گی۔ مبتدا کی، مبتدا کی قسمِ اول بھی نکل جائے گی، اور مبتدا کی قسمِ ثانی بھی۔ مبتدا کی قسمِ اول کیوں؟ مبتدا کی قسمِ اول، کیونکہ وہ تو مسند الیہ ہے، دیکھو بھئی، الْمُسْنَدُ بِهِ کے اندر دو تقریریں کیں صاحبِ جامی نے، یا تو آپ کہتے ہیں یوں کریں کہ الْمُسْنَدُ بِهِ سے مراد لے لیں الْمُسْنَدُ بِهِ إِلَى الْمُبْتَدَأِ، یعنی إِلَى الْمُبْتَدَأِ کی قید یہاں ملحوظ ہے، یوں کہیں۔ بِهِ إِلَى کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ إِلَى الْمُبْتَدَأِ کی قید یہاں ملحوظ ہے، کہ خبر وہ اسم ہے جو مسند بہ ہو إِلَى الْمُبْتَدَأِ، کس کی طرف؟ مبتدا کی طرف، تو اس صورت میں بھی مبتدا کی دونوں قسمیں نکل گئیں، کیونکہ خبر تو مسند بہ ہے مبتدا کی طرف، اور مبتدا کی قسمِ اول، وہ تو خود مبتدا ہے، وہ مبتدا کی طرف مسند بہ نہیں، اور مبتدا کی قسمِ ثانی بھی نکل گئی، کیونکہ وہ مسند بہ اپنے فاعل کی طرف ہے، وہ تو مبتدا کی طرف مسند بہ نہیں، تو اس صورت میں بھی دونوں نکل گئے، اور اگر آپ بِهِ کو کس معنی میں لے لیں؟ إِلَيْهِ کے معنی میں لے لیں، تو اس صورت میں بھی، کہ خبر وہ اسم ہے جس کا اسناد کیا گیا ہو إِلَى الْمُبْتَدَأِ، کس کی طرف؟ مبتدا کی طرف، جب مبتدا کی طرف اسناد ہوا، تو مبتدا کی قسمِ اول بھی نکل گئی، کیونکہ اس کا تو نہیں کسی کی طرف اسناد ہوتا، اور مبتدا کی قسمِ ثانی بھی نکل گئی، کیونکہ اس کا اسناد ہوتا تو ہے، لیکن اپنے فاعل کی طرف ہوتا ہے، مبتدا کی طرف نہیں ہوتا، لہٰذا دونوں تقریروں کی صورت میں الْمُسْنَدُ بِهِ کی قید کے ذریعے ہی مبتدا کی قسمِ اول بھی نکل گئی، اور مبتدا کی قسمِ ثانی بھی نکل گئی، جب وہ دونوں نکل گئیں، تو الْمُغَايِرُ لِلصِّفَةِ الْمَذْكُورَةِ قید لانے کی کوئی حاجت نہیں۔ تعریف اسی پر پوری ہوگئی، وَالْخَبَرُ هُوَ الْمُجَرَّدُ الْمُسْنَدُ بِهِ، تو پھر آگے اس کو پھر کیوں ذکر کیا گیا اگر اسی پر تعریف پوری ہوگئی؟ کہتے ہیں، اس صورت میں پھر اس کو تاکید بنا سکتے ہیں۔ کیا بنا سکتے ہیں؟ تاکید، یعنی وَالْخَبَرُ هُوَ الْمُجَرَّدُ الْمُسْنَدُ بِهِ، اسی سے پتہ چل گیا تھا کہ مبتدا کی قسمِ ثانی بھی نکل چکی ہے، لیکن صراحۃً یا ضمناً پتہ چلا تھا؟ ضمناً سمجھ میں یہ بات آگئی تھی کہ مبتدا کی قسمِ ثانی الْمُسْنَدُ بِهِ کی قید کے ذریعے نکل چکی ہے، تو وہ ایک چیز جو ضمناً سمجھ میں آئی تھی، دوبارہ اس کو صراحۃً ذکر کر دیا، تو یہ اسی کے لیے تاکید بن جائے گی، پہلے ایک چیز صراحۃً معلوم نہیں تھی، اب صاف لفظوں میں بھی اس کو ذکر کر دیا، تو وہی چیز جو پہلے معلوم ہوئی تھی، اس کو اسی کے لیے تاکید بنا دیں گے، بات سمجھ میں آگئی۔ تو کہتے ہیں، وَعَلَى التَّقْدِيرَيْنِ يَخْرُجُ بِهِ الْقِسْمُ الثَّانِي مِنَ الْمُبْتَدَأِ، اور دونوں تقدیروں پر اس کے ذریعے مبتدا کی قسمِ ثانی نکل جائے گی اس قید کے ذریعے، وَيَكُونُ قَوْلُهُ الْمُغَايِرُ لِلصِّفَةِ الْمَذْكُورَةِ تَأْكِيدًا، اور مصنف کا قول جو ہے الْمُغَايِرُ لِلصِّفَةِ الْمَذْكُورَةِ، وہ تاکید ہو جائے گا۔ وَاعْلَمْ، تو جان لے کہ أَنَّ الْعَامِلَ فِي الْمُبْتَدَأِ وَالْخَبَرِ هُوَ الْإِبْتِدَاءُ، کہ وہ جو عامل ہے مبتدا اور خبر میں، وہ ابتداء ہے، بھئی ابتداء کسے کہتے ہیں؟ کہتے ہیں، أَيْ تَجْرِيدُ الْإِسْمِ عَنِ الْعَوَامِلِ اللَّفْظِيَّةِ، وہ اسم کا خالی کرنا عواملِ لفظیہ سے، لِيُسْنَدَ إِلَى شَيْءٍ، تاکہ اس کا اسناد کیا جائے کسی چیز کی طرف، أَوْ يُسْنَدَ إِلَيْهِ شَيْءٌ، اور یا اس کی طرف کسی چیز کا اسناد کیا جائے، میں نے بتایا تھا بھئی، ابتداء کسے کہتے ہیں؟ اسم کا خالی ہونا عواملِ لفظیہ سے، لیکن اس طور پر کہ اس کی طرف کسی کا اسناد ہو، یا اس کا اسناد کسی کی طرف ہو، تاکہ صرف مبتدا اور خبر رہ جائیں، یہ ابتداء صرف مبتدا اور خبر میں عامل ہے، اور کسی چیز میں عامل نہیں، اسی لیے کہا، أَيْ تَجْرِيدُ الْإِسْمِ عَنِ الْعَوَامِلِ اللَّفْظِيَّةِ، اسم کو خالی کرنا عواملِ لفظیہ سے، لِيُسْنَدَ إِلَى شَيْءٍ، تاکہ اس کا اسناد کیا جائے کسی چیز کی طرف، اس کا، اس میں کون کون داخل ہوئے؟ اس کا اسناد کیا جائے۔ یہ کون سا اسم ہے؟ اس کا اسناد کیا جائے۔ خبر، خبر، اور نیز وہ مبتدا کی قسمِ ثانی، یہ دونوں مسند ہیں، بھئی، أَوْ يُسْنَدَ إِلَيْهِ شَيْءٌ، یا اس کی طرف کسی چیز کا اسناد کیا جائے، اس میں کون داخل؟ مبتدا کی قسمِ اول، وہ مسند الیہ ہے۔ فَمَعْنَى الْإِبْتِدَاءِ عَامِلٌ فِي الْمُبْتَدَأِ وَالْخَبَرِ، تو ابتداء کا جو معنیٰ ہے، یہ عامل ہے مبتدا اور خبر میں، رَافِعٌ لَهُمَا، رفع دینے والا ہے ان دونوں کو، عِنْدَ الْبَصْرِيِّينَ، کن کے نزدیک؟ بصریین کے نزدیک، وَأَمَّا عِنْدَ غَيْرِهِمْ، اور باقی بصرہ والوں کے علاوہ جو ہیں، فَقَالَ بَعْضُهُمْ، تو بعض علماء فرماتے ہیں، بھئی، ادھر دیکھیے! بصرہ والوں کا مذہب تو کیا؟ کہ مبتدا میں بھی ابتداء عامل، اور خبر میں بھی ابتداء عامل، لیکن بعض علماء فرماتے ہیں کہ ابتداء صرف مبتدا میں عامل ہے۔ ابتداء صرف مبتدا میں عامل ہے، اور پھر یہ مبتدا آگے خبر میں خود عامل ہے۔ تو معلوم ہوا، مبتدا عواملِ لفظیہ سے خالی ہے، خبر عواملِ لفظیہ سے خالی نہیں، اس کے اندر تو مبتدا عامل ہے، مبتدا تو لفظ ہے۔ اور جبکہ بعض علماء فرماتے ہیں کہ مبتدا خبر دونوں ایک دوسرے میں عامل ہیں، مبتدا نے رفع دیا خبر کو، اور خبر نے رفع دیا مبتدا کو، تو دونوں کے اندر عاملِ لفظی ہیں، بھئی۔ تو صاحبِ قافیہ نے تو کیا تعریف کی؟ کہ مبتدا بھی عواملِ لفظیہ سے خالی ہوتا ہے، اور خبر بھی عواملِ لفظیہ سے خالی ہوتی ہے، اور یہ بصرہ والوں کا مذہب ہے، اور اس کو صاحبِ قافیہ نے ترجیح دی ہے۔ جبکہ دیگر علماء کے قول کو لیا جائے، تو پھر وہ دونوں تو عواملِ لفظیہ سے خالی نہیں، ایک قول کے مطابق مبتدا صرف عواملِ لفظیہ سے خالی ہے، خبر نہیں، خبر کے اندر مبتدا عامل ہے، اور دوسرے قول کے مطابق دونوں میں سے ایک بھی عواملِ لفظیہ سے خالی نہیں ہے، بھئی۔ تو کہتے ہیں، کہتے ہیں، وَأَمَّا عِنْدَ غَيْرِهِمْ، اور باقی بصرہ والوں کے علاوہ جو ہیں، فَقَالَ بَعْضُهُمْ، تو بعض نحوی فرماتے ہیں، الْإِبْتِدَاءُ عَامِلٌ فِي الْمُبْتَدَأِ، کہ ابتداء عامل ہے مبتدا میں، وَالْمُبْتَدَأُ فِي الْخَبَرِ، اور مبتدا عامل ہے خبر میں، وَقَالَ الْآخَرُونَ، اور دوسرے نحوی بعض فرماتے ہیں، إِنَّ كُلَّ وَاحِدٍ مِنَ الْمُبْتَدَأِ وَالْخَبَرِ عَامِلٌ فِي الْآخَرِ، کہ خبر اور مبتدا دونوں میں سے ہر ایک وہ عامل ہے فِي الْآخَرِ، دوسرے میں، دونوں ایک دوسرے میں عامل ہیں، وَعَلَى هَذَا لَا يَكُونَانِ مُجَرَّدَيْنِ عَنِ الْعَوَامِلِ اللَّفْظِيَّةِ، اور اس پر، یہ جو بصرہ والوں کے علاوہ قول ہے، اس قول کی بناء پر لَا يَكُونَانِ مُجَرَّدَيْنِ عَنِ الْعَوَامِلِ اللَّفْظِيَّةِ، یہ دونوں عواملِ لفظیہ سے خالی نہیں، یہ دونوں، بھئی دیکھو نا! بصرہ والوں کا تو مذہب یہ ہے کہ مبتدا بھی عواملِ لفظیہ سے خالی ہوتا ہے، اور خبر بھی، جیسے صاحبِ قافیہ نے تعریف کر دی، جبکہ دوسرے، دو گروہ ہیں نحویوں کے، بھئی دیکھو، یہاں کل تین قول ہوگئے، ایک بصرہ والوں کا مذہب، بصرہ والوں کے قول کے مطابق مبتدا اور خبر دونوں عواملِ لفظیہ سے خالی ہوتے ہیں، اور اسی کو صاحبِ قافیہ نے ترجیح دی، اور قافیہ کے اندر اس کو ذکر کیا، جبکہ بعض نحوی فرماتے ہیں کہ صرف مبتدا کے اندر ابتداء عامل ہے، اور خبر کے اندر مبتدا عامل ہے، تو اس قول کے مطابق بھی دونوں مبتدا اور خبر دیکھو، دونوں عواملِ لفظیہ سے خالی نہیں، اور تیسرا قول اس کے مطابق تو دونوں میں سے ایک کے اندر بھی ابتداء عامل نہیں ہے، مبتدا اور خبر دونوں ایک دوسرے کے اندر عامل ہیں، تو یہ جو آخری دونوں قول لے لیے جائیں، تو ان کی بناء پر مبتدا اور خبر دونوں عواملِ لفظیہ سے خالی نہیں، دونوں عواملِ لفظیہ سے خالی نہیں، حالانکہ صاحبِ قافیہ نے تو کیا کہا؟ دونوں عواملِ لفظیہ سے خالی ہوتے ہیں۔ معلوم ہوا انہوں نے کس کے مذہب کو ترجیح دی ہے؟ بصرہ والوں کے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو یہ جو کہا نا وَعَلَى هَذَا، اور اس پر، اس بنا پر، تو اس کے ذریعے اشارہ ہے وہ جو بصرہ والوں کے علاوہ دونوں قول ہیں نا، دونوں کی طرف اشارہ ہے، کہ ان دونوں قولوں پر لَا يَكُونَانِ مُجَرَّدَيْنِ، دونوں خالی نہیں ہیں عَنِ الْعَوَامِلِ اللَّفْظِيَّةِ، عواملِ لفظیہ سے، دونوں خالی نہیں ہیں عواملِ لفظیہ سے، لہٰذا صاحبِ قافیہ کی تعریف ان کو شامل نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ حل ہو گیا، چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔