كِتَابُ اَلتَّوْكِيلِ: جَوَازُ اَلتَّوْكِيلِ وَهُوَ تَفْوِیضُ اَلتَّصَرُّفِ إِلَى غَيْرِهِ وَشَرْطُهُ أَنْ يَمْلِكَهُ اَلْمُوَكِّلُ. کتاب التوکِیلِ - مولانا، وکیل بنانا بھئی، توکیل کا معنی وکیل بنانا۔ تو کہتے ہیں جَوَازُ اَلتَّوْكِيلِ، وکیل بننا توکیل کیا ہے؟ جائز۔ وکیل بنانا جائز ہے معاملات وغیرہ کے اندر کسی کو آپ اپنا نائب بنا دیتے ہیں، وکیل بنا دیتے ہیں، یہ جائز ہے بھئی۔ تو توکیل کہتے کس کو ہیں؟ آگے تعریف کر رہے ہیں، وَهُوَ تَفْوِیضُ اَلتَّصَرُّفِ إِلَى غَيْرِهِ، وہ تصرف کو سپرد کرنا ہے۔ تفویض کا کیا معنی؟ سپرد۔ وہ تصرف کو سپرد کرنا ہے إِلَى غَيْرِهِ، اپنے علاوہ کو، اپنے علاوہ کسی اور کے سپرد کرنا ہے تصرف کو۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ دیکھیے آپ مثلاً بھئی بیع و شراہ، گاڑی خریدنا چاہتے ہیں بھئی، گاڑی خریدنے کے لیے آپ خود نہیں جاتے بلکہ کیا کرتے ہیں؟ ایک شخص کو بھیج دیتے ہیں کہ جاؤ میرے لیے کیا کرو؟ ایک گاڑی خرید لاؤ۔ تو دیکھیے آپ نے تصرف کیا کر دیا؟ غیر کے سپرد کر دیا گاڑی خریدنے کا کہ وہ آپ کے لیے کیا کرے بھئی؟ گاڑی۔ اپنے لیے گاڑی خریدنا یہ آپ کا تصرف تھا، یہ آپ نے اس کے سپرد کر دیا کہ میرے لیے تم گاڑی خرید لاؤ بھئی۔ تو یہ تصرف سپرد کیا غیر کے بھئی۔ وَشَرْطُهُ أَنْ يَمْلِكَهُ اَلْمُوَكِّلُ، اور شرط توکیل کی یہ ہے کہ أَنْ يَمْلِكَهُ، ہا ضمیر راجع ہے مولانا، يَمْلِكَ فعل ہے، اَلْمُوَكِّلُ آگے اس کا فاعل آ رہا ہے، اور یہ ہا ضمیر جو ساتھ ملی ہوئی ہے یہ منسوب مفعول کی ضمیر ہے، يَمْلِكَ اَلْمُوَكِّلُ، موکل مالک ہو، کس چیز کا مالک ہو؟ ہا ضمیر سے کیا مراد ہے؟ اس تصرف کا موکل مالک ہو مولانا۔ بھئی آپ کیا کرنا چاہتے ہیں؟ اچھا دیکھیے پہلے شرح تھوڑی دیکھ لیجیے۔ کہتے ہیں اَضَّمِیرُ اَلْمَنْصُوبُ يَرْجِعُ إِلَى اَلتَّصَرُّفِ، یہ جو ضمیر منصوب آئی يَمْلِكَهُ کے ساتھ جو منصوب ضمیر ملی ہوئی ہے غائب کی، یہ کس کو لوٹ رہی ہے؟ تصرف کو لوٹ رہی ہے بھئی، تصرف کو۔ اب دیکھیے بھئی! امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا اور صاحبین کا اختلاف ہے اس بات کے اندر بھئی، کہ مسلمان ذمی کو شراب بیچنے یا بیچنے کا وکیل بنا سکتا ہے یا وکیل نہیں بنا سکتا؟ صورت مسئلہ یہ: مثلاً ایک شخص نیا نیا مسلمان ہوا بھئی۔ زمانہ کفر میں اس کی ملکیت کے اندر بڑی شراب پڑی ہے، اس کی ملکیت میں ہے، اب یہ مسلمان ہو گیا، مسلمان ہونے کے بعد یہ شراب اب بھی اس کی ملکیت میں ہے، لیکن آپ جانتے ہیں مسلمان نہ تو شراب کا کسی کو مالک بنا سکتا ہے اور نہ خود مالک بن سکتا ہے، تو اب یہ اس شراب کو یہ نومسلم آگے فروخت نہیں کر سکتا۔ کیونکہ اس کے لیے کیا لازم آئے گا؟ غیر کو شراب کا مالک بنانا لازم آئے گا اور مسلمان کے لیے تو شراب کے جیسے تملک جائز نہیں ہے، اسی طرح تملیك بھی جائز نہیں ہے۔ تو اب یہ نومسلم کیا کرتا ہے؟ ایک ذمی کو اپنا وکیل بناتا ہے، ذمی ان کے ہاں تو شراب کی بیع و شراہ ہوتی ہے بھئی، تو یہ نومسلم ایک ذمی، عیسائی یا یہودی کسی کو بناتا ہے کہ تم میرے لیے کیا کر دو؟ اس شراب کو بیچو، فروخت کرو۔ تو کیا مسلمان اس ذمی کو وکیل بنا سکتا ہے شراب کی خرید و فروخت کے لیے یا وکیل نہیں بنا سکتا بھئی؟ میں نے نومسلم کی مثال بنائی آپ دوسری مثال بنا لیں، ایک مسلمان ہے اس کے پاس انگور کا رس پڑا ہے، وہ رس پڑے پڑے کس میں تبدیل ہو گیا؟ شراب میں تبدیل ہو گیا، اب وہ ایک ذمی کو کہتا ہے اس کو میرے لیے فروخت کرو، تو کیا ذمی کو اپنے لیے شراب فروخت کرنے کا وکیل بنا سکتا ہے یا نہیں بنا سکتا؟ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، بنا سکتا ہے، اور صاحبین فرماتے ہیں، نہیں بنا سکتا۔ صاحبین فرماتے ہیں کہ مسلمان خود اس تصرف کا مالک نہیں ہے، وہ اس کے لیے کیا تملیك خمر جائز ہے مسلمان کے لیے؟ نہیں، تو جب وہ خود یہ تصرف نہیں کر سکتا تو غیر کو بھی اس تصرف پر یا غیر کے بھی سپرد یہ تصرف نہیں کر سکتا، وہ مالک خود نہیں ہے اس تصرف کا تو غیر کو کہاں سے یہ تصرف وہ سپرد کرتا ہے۔ جبکہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک مسلمان ذمی کو کیا کر سکتا ہے؟ یہ اس تصرف کا مالک بنا سکتا ہے مولانا، اسے اجازت دے سکتا ہے۔ وہ فرماتے ہیں بھئی مسلمان کے لیے تو تملیك خمر جائز نہیں ہے اور تملک خمر، لیکن ذمی کے لیے کیا ہے؟ تملیك اور تملک جائز ہے، تو وہ ذمی ہونے کی حیثیت سے عقد کر رہا ہے، لہذا اس کے لیے جائز تو مسلمان اس کو کیا کر سکتا ہے؟ اس تصرف کا مالک بنا سکتا ہے بھئی۔ تو دیکھو، صاحبین کے نزدیک جس تصرف کا وکیل بنا رہا ہے، خود بھی کیا ہو؟ اس تصرف کا مالک ہو، اور امام صاحب کے نزدیک خود چاہے اس تصرف کا مالک ہو یا مالک نہ ہو بھئی، وہ کیا کر سکتا ہے؟ دوسرے کو توکیل کا جیسے یہ ایک مثال مثلاً گزری بھئی، تو امام صاحب کے نزدیک یوں کہو آسان، امام صاحب کے نزدیک اس تصرف کا مالک ہونا ضروری نہیں، جی! اہل تصرف میں سے ہو بھئی وہ، کس میں سے ہو؟ ہاں بچہ ہے یا عبدِ مہجور ہے وہ تو تصرف کا مالک ہی نہیں ہے، تو یہ مسلمان خود چونکہ تصرف کا مالک ہے تو وہ کیا کر سکتا ہے؟ ذمی کو بھی شراب بیچنے کا توکیل اس کے سپرد کر سکتا ہے۔ تو صاحبین کے نزدیک کیا بات ہوئی؟ بھئی توکیل کس کو کہتے ہیں؟ تصرف کو غیر کے سپرد کرنا، اور آگے کیا بتلایا؟ شرط کیا ہے توکیل کی؟ أَنْ يَمْلِكَهُ اَلْمُوَكِّلُ، موکل کیا ہو تصرف کا مالک؟ کس تصرف کا؟ اسی تصرف کا مالک ہو، یا مطلق تصرف کا مالک ہو؟ صاحبین کے نزدیک اسی تصرف کا مالک ہونا ضروری، اسی کا مالک ہے تو دوسرے کے سپرد بھی کر سکتا ہے، اس کا مالک نہیں تو دوسرے کے سپرد بھی امام صاحب کے نزدیک اسی تصرف کا مالک ہونا ضروری نہیں، مطلق تصرف کا مالک ہونا چاہیے، ایک آزاد آدمی ہے، آزاد مسلمان ہے، کیا وہ تصرفات کا مالک ہے؟ تصرفات کا مالک نہیں ہے، تو مطلق تصرف کا مالک ہے، جب مطلق تصرف کا مالک ہے، تو ذمی کو شراب بیچنے کا تصرف کو سپرد، اس تصرف کا مالک تو نہیں ہے، لیکن مطلق تصرف کا تو وہ مالک ہے، تو أَنْ يَمْلِكَهُ اَلْمُوَكِّلُ، اس میں ہا ضمیر تصرف کو راجع ہے، اگر اس تصرف سے مراد مطلق تصرف لیں، تو یہ کس کا قول بن جائے گا؟ امام صاحب کا، کہ موکل مطلق تصرف کا مالک ہونا چاہیے، یعنی آزاد عاقل بالغ ہونا چاہیے یا ماذون ہونا چاہیے۔ تصرف کا مالک کون ہوتا ہے؟ آزاد عاقل بالغ ہوتا ہے یا وہ غلام یا بچہ جس کو ولی نے یا آقا نے کیا کیا رہا ہو؟ تصرف کی اجازت دی ہو، تو خود موکل مالک ہو، جبکہ صاحبین کے نزدیک موکل کو کیا ہونا چاہیے؟ اسی تصرف کا، تو اگر ہا ضمیر سے مراد وہ تصرف مراد لیں جس کو اس نے دوسرے کے سپرد کیا ہے کہ خود بھی کیا ہو؟ اس تصرف کا مالک ہو، تو یہ کس کا قول بن جائے گا؟ صاحبین کا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ یہ پوری شرح میں یہی بات کریں گے، تو کہتے ہیں اَضَّمِیرُ اَلْمَنْصُوبُ يَرْجِعُ إِلَى اَلتَّصَرُّفِ، يَمْلِكَهُ کے ساتھ جو ہا ضمیر ملی ہوئی ہے منسوب ضمیر، یہ لوٹ رہی ہے تصرف کو، وَاَلظَّاهِرُ أَنَّ اَلْمُرَادَ مُطْلَقُ اَلتَّصَرُّفِ، اور ظاہر یہ ہے کہ اس سے مراد کون سا تصرف ہے؟ مطلق تصرف ہے، سمجھ میں آیا؟ یعنی امام صاحب کے مسلک کے مطابق، فَإِنَّ عِبَارَةَ اَلْهِدَايَةِ هَكَذَا، اس لیے کہ ہدایہ کی عبارت اس طرح ہے بھئی، ہدایہ میں کیا فرماتے ہیں صاحبِ ہدایہ؟ وہ فرماتے ہیں وَمِنْ شَرْطِ اَلْوَكَالَةِ أَنْ يَكُونَ اَلْمُوَكِّلُ مِمَّنْ يَمْلِكُ اَلتَّصَرُّفَ. دیکھا، اوپر ماتن کی عبارت میں تو دونوں احتمال نکلتے تھے، لیکن ہدایہ کی عبارت میں دوسرا احتمال، ہدایہ کی عبارت کا ترجمہ دیکھو، وکالت کی شرط میں سے کیا ہے؟ أَنْ يَكُونَ اَلْمُوَكِّلُ، کہ موکل ان لوگوں میں سے ہونا چاہیے مِمَّنْ يَمْلِكُ اَلتَّصَرُّفَ، جو تصرف کا مالک ہو، سمجھ میں آیا؟ یہ نہیں کہا اسی تصرف کا مالک ہو، مِمَّنْ، ان لوگوں میں سے ہونا چاہیے يَمْلِكُ اَلتَّصَرُّفَ، جو کیا کس کے مالک ہوں؟ وَأَنْ يَكُونَ حُرًّا عَاقِلًا بَالِغًا أَوْ مَأْذُونًا، اور اس طور پر کہ وہ کیا ہو؟ آزاد ہو، عاقل ہو، بالغ ہو یا ماذون ہو۔ دیکھا، ہدایہ کی عبارت میں صراحتاً کیا مراد ہے تصرف سے؟ مطلق تصرف مراد ہے۔ معلوم ہوا متن میں بھی مطلق تصرف مراد ہے وَإِنْ أُرِيدَ بِالتَّصَرُّفِ، اور اگر ارادہ کیا جائے تصرف سے اَلتَّصَرُّفُ اَلَّذِي وُكِلَ بِهِ، اس تصرف کا جس کا کیا بنایا گیا ہے؟ وکیل بنایا گیا ہے کہ اس کا مالک ہونا چاہیے، لَا مُطْلَقُ اَلتَّصَرُّفِ، مطلق تصرف کا ارادہ نہ کیا جائے بلکہ کون سے تصرف کا ارادہ کیا جائے؟ بھئی دیکھیے، مسلمان نے کیا کیا ہے؟ دوسرے کو وہ مثال چھوڑو، مثلاً بیع و شراہ، بیع کے اندر میں نے آپ کو بھیجا، جاؤ میرے لیے کیا خرید کر لاؤ؟ گاڑی، تو کیا گاڑی خریدنے کا میں اس تصرف کا مالک ہوں یا نہیں بھئی؟ جی؟ اسی تصرف کا میں کیا کر رہا ہوں؟ آپ کو بھی مالک بنا رہا ہوں، تو اگر تصرف سے مراد وہ تصرف ہے جس کا وکیل بنایا گیا، جس کا میں نے آپ کو کیا کیا ہے؟ وکیل بنایا ہے، وہ تصرف مراد ہے کہ موکل اس تصرف کا مالک ہو، اوپر عبارت کیا آئی تھی أَنْ يَمْلِكَهُ اَلْمُوَكِّلُ، موکل کیا ہو؟ کس تصرف کا مالک ہو؟ جس کا اس نے کیا کیا ہے؟ وکیل بنایا ہے، مطلق تصرف مراد نہیں، تو يَكُونُ قَوْلُهُمَا، تو یہ کس کا قول بن جائے گا؟ صاحبین کا قول ہوگا، لَا قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اَللَّهُ، امام اعظم رحمہ اللہ کا قول نہیں ہوگا، فَإِنَّ اَلْمُسْلِمَ إِذَا وَكَّلَ ذِمِّيًّا بِبَيْعِ اَلْخَمْرِ، اس لیے کہ مسلمان جب وکیل بناتا ہے ذمی کو شراب بیچنے کا، يَجُوزُ عِنْدَهُ، تو جائز ہے کس کے نزدیک؟ امام صاحب کے نزدیک بھئی۔ تو خلاصہ کلام کیا ہوا بھئی؟ کہ متن سے کیا معلوم ہوا؟ اسی تصرف کا مالک ہونا چاہیے یا مطلق تصرف کا مالک ہونا چاہیے بھئی؟ مطلق تصرف کا۔ وَيَعْقِلُهُ اَلْوَكِيلُ وَيَقْصِدُهُ، وَيَعْقِلُهُ، أَيْ، وَهَذَا ضَمِيرُ اَلتَّصَرُّفِ كَفْرَ رَاجِعٍ، اور وکیل سمجھتا بھی ہو اس تصرف کو، وکیل کیا ہو اس تصرف کو؟ بھئی میں نے آپ کو ایک چا، ایک معاملے کا وکیل بنایا، یہ ضروری ہے کہ آپ اس معاملے کو سمجھتے بھی ہوں، اگر وہ وکیل معاملے کو سمجھتا ہی نہیں، پھر توکیل درست نہیں، مثلاً بیع و شراہ کے مسئلے کو وہ جاننے والا ہے، یا مثلاً بھئی اور کیا؟ کوئی صلح وغیرہ کا مسئلہ ہے یا نکاح کا مسئلہ ہے، تو وکیل کیا ہو اس معاملے کا جاننے والا ہو، سمجھنے والا ہو۔ یہ معنی وَيَعْقِلُهُ اَلْوَكِيلُ، وکیل اس کو سمجھنے والا بھی ہو، جاننے والا بھی ہو، وَيَقْصِدُهُ، اور اس کا ارادہ بھی کرے، آگے بتلائیں گے، اگر ارادہ نہیں کرتا، مذاق میں کر دیتا ہے، میں نے آپ کو کہا جاؤ بھئی میرے لیے ایک گاڑی خرید کر لاؤ، آپ اپنے ساتھی سے مذاق مذاق میں کہتے ہیں بھئی یہ گاڑی میں نے آپ سے خرید لی، نہیں بھئی، یہ مراد نہیں ہے، کیونکہ اس میں آپ کا ارادہ ہے، آپ تو کیا کر رہے ہیں؟ مذاق کر رہے ہیں، تو مذاق کے اندر اگر کوئی اس طرح کا عقد وغیرہ کر لیتا ہے، تو وہ آمن (یعنی موکل) کی طرف سے شمار نہیں ہوگا، بلکہ جس کا وہ ارادہ باقاعدہ کرے، پھر وہ بھئی۔ یہ معنی وَيَقْصِدُهُ، ارادہ بھی کرے، ارادہ بھی کرے، اب تشریح کر رہے ہیں يَعْقِلُ وَيَقْصِدُ کا کیا معنی؟ وکیل، مثلاً بھئی، وکیل کس چیز کا بنایا؟ بیع و شراہ کا تو أَنْ يَعْقِلَ، وہ جانتا ہو أَنْ يَعْقِلَ، وہ جانتا ہو أَنَّ اَلْبَيْعَ سَالِبٌ لِلْمِلْكِ، کہ بیع جو ہے وہ سلب کرنے والی ہے ملکیت کو، دور کرنے والی ہے۔ دیکھیے بھئی! میں نے آپ کو اپنی گاڑی دی۔ ہاں، چلیے، ویسے وکیل کو پتہ होना چاہیے کہ بَيْعٌ سَالِبٌ لِلْمِلْكِ ہے اور شِرَاءٌ جَالِبٌ لِلْمِلْكِ ہے، بھئی کسی چیز کو بیچتے ہیں، تو وہ چیز آپ کی ملک سے نکل جاتی ہے، اور جب آپ کسی چیز کو خریدتے ہیں، تو وہ چیز آپ کی ملک میں داخل تو مثلاً بیع و شراہ کا وکیل بنایا، تو اس کو یہ سمجھ ہونی چاہیے کہ أَنَّ اَلْبَيْعَ سَالِبٌ لِلْمِلْكِ، کہ بیع جو ہے وہ کیا کرنے والی ہے؟ ملک کو سلب کرنے (یعنی دور کرنے والی ہے، ختم کرنے والی ہے، چیز انسان کی ملک سے نکل جاتی ہے) وَاَلشِّرَاءُ جَالِبٌ لَهُ، جلب کا معنی ہے کھینچنا، کھینچنا، اور شِرَاء کھینچنے والی ہے ملک کو، یعنی کسی چیز کو خریدا جائے تو انسان کو کیا حاصل ہوتی ہے اس کی؟ میں نے آپ سے کتاب خریدی، تو میں کیا بن جاؤں گا کتاب کا؟ تو دیکھا شِرَاء نے ملک کو، ااا ملک شِرَاء سے مجھے حاصل ہو گئی۔ وَيَعْرِفُ اَلْغَبْنَ اَلْيَسِيرَ مِنَ اَلْفَاحِشِ، اور وکیل جانتا ہو تھوڑے نقصان کو، تھوڑے غبن کو من الفاحش زیادہ غبن، وکیل کو بھئی بیع و شراہ میں یہ بھی پتہ ہے یہ تھوڑا نقصان ہے، یہ زیادہ، مثلاً 100 روپے کی چیز اگر وہ 110 میں خرید لائے یہ تھوڑا نقصان ہے، وہ 100 روپے کی چیز 500 میں خرید لائے تو یہ زیادہ، اسے یہ بھی سمجھ ہونی چاہیے کہاں تھوڑا نقصان ہے، کہاں زیادہ نقصان ہے۔ وَيَقْصِدُ اَلْعَقْدَ، اور نیز وہ کیا کرے بھئی؟ عقد کا ارادہ بھی کرے بھئی۔ حَتَّى لَوْ تَصَرَّفَ هَازِلًا، یہاں تک کہ اگر وکیل نے تصرف کیا هَازِلًا، اس حال میں کہ وہ مذاق کرنے والا تھا (ھزل کس کو کہتے ہیں؟ مذاق) اس حال میں کہ وہ مذاق کرنے والا تھا، لَا يَقَعُ عَنْ اَلْآمِرِ، تو یہ اَلتَّصَرُّفِ آمر (یعنی موکل) کی طرف سے واقع نہیں ہوگا۔ میں نے آپ کو مثال دی، آپ کو گاڑی خریدنے کے لیے میں نے بھیجا، آپ نے مذاق مذاق میں کسی سے گاڑی خرید لی، یہ آمر (یعنی موکل) کی طرف سے شمار نہیں ہوگی۔ فَصَحَّ تَوْكِيلُ اَلْحُرِّ اَلْبَالِغِ وَالْمَازُونِ مِثْلُهُمَا، پس صحیح ہے وکیل بنانا حر بالغ کا، ایسا آزاد جو بالغ ہے وَالْمَازُونِ، اور کس کا وکیل بنانا؟ آزاد بالغ وکیل بناتا ہے یا ماذون کیا کرتا ہے؟ وکیل بناتا ہے، کن کو وکیل بناتا ہے؟ مِثْلُهُمَا، اپنے مثل کو۔ اپنے دیکھیں، اچھا۔ وَلَوْ قَالَ كُلٌّ مِنْهُمَا لَكَانَ أَشْمَلَ، اگر ماتن بھئی, علامہ صدر الشریعہ فرما رہے ہیں کہ ماتن اگر مِثْلُهُمَا کی بجائے كُلٌّ مِنْهُمَا کہہ دیتے، لَكَانَ أَشْمَلَ، تو یہ عبارت زیادہ شمول والی ہوتی بھئی، اس میں زیادہ عموم ہوتا۔ کیوں؟ دیکھو بھئی، کیونکہ یہ جو ماتن متن کی عبارت ہے اس میں دو احتمال نکلتے ہیں بھئی۔ متن میں کیا کہا؟ ادھر دیکھو بھئی۔ آزاد عاقل بالغ اور ماذون اپنے مثل کو کیا بنا سکتے ہیں؟ وکیل بنا سکتے ہیں، اس عبارت کے دو مفہوم نکلتے ہیں، ایک مفہوم یہ کہ آزاد عاقل بالغ صرف کس کو بنا سکتا ہے؟ اپنے اپنے مثل کو، اور ماذون صرف اپنے مثل کو، ایک یہ معنی نکلتا ہے اور یہ معنی مراد نہیں ہے۔ دوسرا معنی یہ نکلتا ہے کہ آزاد اپنے مثل اور ماذون کے مثل دونوں کی طرح کو کیا کر سکتا ہے؟ اپنا، یعنی آزاد آدمی ہے وہ آزاد کو بھی وکیل بنا سکتا ہے اور ماذون کو بھی، اور اس طرح ماذون جو ہے وہ ماذون کو بھی وکیل بنا سکتا ہے اور آزاد کو بھی، تو یہ مفہوم بھی عبارت کا نکلتا ہے اور یہی مراد ہے، لیکن دوسرا احتمال بھی ساتھ آ جاتا ہے، اور وہ احتمال تو مراد نہیں۔ تو لہذا اگر وہ مِثْلُهُمَا کی بجائے کیا کہہ دیتے؟ كُلٌّ مِنْهُمَا، کہ آزاد توکیل وکیل بنانا کس کے لیے؟ آزاد بالغ کے لیے اور ماذون کے لیے، یہ صحیح ہے وکیل بنانا كُلٌّ مِنْهُمَا، ان دونوں میں سے ہر ایک کو، اب بات اب دوسرا احتمال نہیں رہتا، یعنی اس کا کیا مطلب ہے؟ آزاد آزاد کو بھی وکیل بنا سکتا ہے اور ماذون کو بھی، اور ماذون جو ہے وہ ماذون کو بھی وکیل بنا سکتا ہے اور آزاد کو بھی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو وَلَوْ قَالَ كُلٌّ مِنْهُمَا لَكَانَ أَشْمَلَ، اگر ماتن كُلٌّ مِنْهُمَا کہہ دیتے تو یہ عبارت زیادہ شمول والی ہوتی بھئی یعنی اس میں زیادہ عموم ہوتا بھئی، لِتَنَاوُلِهِ تَوْكِيلَ اَلْحُرِّ اَلْبَالِغِ مِثْلَهُ، اس لیے کہ یہ عبارت شامل ہے بھئی۔ اس لیے کہ یہ جو ہم نے عبارت ذکر کی یہ شامل ہوتی، کس چیز کو شامل ہوتی؟ تَوْكِيلَ اَلْحُرِّ اَلْبَالِغِ، کہ وکیل بنا دے آزاد بالغ بھئی، آزاد بالغ کا وکیل بنانا کس چیز کو؟ مِثْلَهُ، اپنے یعنی کس کو؟ آزاد بالغ وکیل بنانا کس کو وکیل بنائے؟ آزاد بالغ کو ہی، وَالْمَازُونِ، اور کس کو؟ وَالْمَازُونِ، دو یعنی دونوں کو بنا سکتا ہے۔ اور اسی طرح وَتَوْكِيلَ اَلْمَازُونِ، اس کا عطف بھی ماقبل میں توکیل پر ہے، اور یہ شامل ہوتی کہ ماذون کا وکیل بنانا مِثْلَهُ، اپنے مثل (یعنی ماذون کو بھی وَالْحُرُّ اَلْبَالِغَا) اور آزاد بالغ کو بھی، تو یہ صرف اس کو شامل ہوتی اس میں ایک ہی احتمال ہوتا اور ماقبل کی عبارت میں تو دو احتمال تھے، لہذا یہ زیادہ شمول والی ہے۔ وَالْمُرَادُ بِالْمَازُونِ، اور ماذون کا لفظ متن میں آیا، اس سے مراد کیا ہے؟ کہتے ہیں اَلطِّبِيُّ اَلْعَاقِلُ اَلَّذِي أَذِنَهُ اَلْوَلِيُّ، وہ سمجھدار بچہ جس کو اجازت دی ہو اس کے ولی نے وَالْعَبْدُ اَلَّذِي أَذِنَهُ اَلْمَوْلَى، اور وہ غلام جس کو اجازت دی ہو اس کے آقا نے، دونوں مراد ہیں۔ بھئی یہاں تک کیا پڑھا آپ نے؟ آزاد کس کو بنا سکتا ہے اپنا غلام، اپنا وکیل کس کو بنا سکتا ہے؟ آزاد کو بھی اور ماذون کو، اور ماذون کس کو بنا سکتا ہے؟ آزاد کو بھی اور ماذون کو بھی، نِيز کچھ اور بھی آرہے ہیں آگے ان کو بھی وکیل بنا سکتے ہیں وَصَبِيًّا يَعْقِلُ، اور یہ دونوں کس کو وکیل بنا سکتے ہیں؟ ایسے بچے کو يَعْقِلُ، جو عقل رکھتا ہے، جو سمجھدار ہے، وَعَبْدًا، اور یہ دونوں کس کو بنا سکتے ہیں؟ ایسے غلام کو بھی مَحْجُورَيْنِ، اس حال میں کہ دونوں محجور ہوں۔ بھئی تبھی دو قسم پر ہو گیا، اَلمَازُونِ سے بتلایا کون سا صبی مراد ہے؟ عبدِ ماذون بھی مراد ہے، اَلطِّبِيُّ، تو رہ گئے باقی دو مولانا، ایک عبدِ محجور، ایک صبی ہر بچے کو توکیل کی اجازت ہوتی ہے؟ نہیں۔ نہیں، جس کو اس کا ولی اجازت دے تو عام بچہ کیا ہے؟ صبیِ محجور، اسی طرح غلام بھی، ہر ایک کو توکیل کی اجازت نہیں، تو عام غلام بھی کیا کہلاتا ہے عبدِ۔ تو یہ جو آزاد اور ماذون ہیں، یہ اپنے جیسوں کو بھی وکیل بنا سکتے ہیں، اور یہ دونوں سمجھدار بچے اور عبدِ محجور کو بھی کیا کر سکتے ہیں؟ وکیل بنا سکتے ہیں۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ یہ معنی ہے وَصَبِيًّا يَعْقِلُ، اور ایسا سمجھ اور غلام وَعَبْدًا مَحْجُورَيْنِ، اس حال میں کہ یہ دونوں محجور ہوں، ان کو بھی یہ دونوں وکیل، ان کو بھی وکیل بنانا صحیح ہے۔ مِثْلُهُمَا پر عطف ہے، صَحَّ تَوْكِيلُ، ان کو بھی وکیل بنانا صحیح ہے۔ وَيَرْجِعُ حُقُوقُ اَلْعَقْدِ إِلَى مُوَكِّلِهِمَا دُونَهُمَا، কিন্তু یاد رکھو، بھئی یہ جو وکیل جو ہے، وکیل جو ہے، کیا کرتا ہے؟ بیع و شراہ، مثلاً بھئی، میں نے آپ کو وکیل بنایا، جاؤ بھئی میرے لیے کیا خرید کر لاؤ؟ مثلاً ایک گاڑی خرید کر لاؤ، آپ کہے، آپ نے گاڑی خریدی، تو خرید و فروخت کے اندر حقوق کا تعلق وکیل سے ہوتا ہے۔ حقوق کا تعلق کس سے ہوتا ہے؟ وکیل سے۔ کیا مطلب حقوق کا تعلق وکیل سے؟ مثل بھئی، بیع آپ نے جا کر کی یا میں نے کی؟ موکل نے جا کر بیع کی یا وکیل نے کی؟ وکیل نے کی۔ وکیل نے کی، تو لہذا اب خریدار سے ثمن وصول، گاڑی خریدنے کا میں نے بتایا ہے، بیع کرنے کا؟ خریدنے کا۔ ہاں تو آپ سے گاڑی لینا اور اس پر قبضہ کرنا، یہ کس کا کام ہے؟ میرا کام ہے یا وکیل کا؟ وکیل کا، کیونکہ عقد اس نے کیا ہے، تو حقوق عقد کا تعلق بھی اسی سے ہے۔ پھر، آپ نے گاڑی لے لی، تو آپ نے گاڑی چیک کی، اس کے اندر کیا ملا آپ کو؟ عیب کا پتہ چلا، اب یہ گاڑی عیب کی وجہ سے واپس کریں گے، تو یہ کس کا حق ہے مولانا؟ وکیل کا حق ہے، کیونکہ عقد کرنے والا کون ہے؟ وکیل ہے۔ تو اس طرح بعض معاملات میں حقوق کا تعلق کس سے ہوا کرتا ہے؟ وکیل سے ہوتا ہے، لیکن جب آپ نے وکیل بنایا ہو صبیِ محجور کو، یا عبدِ محجور کو، تو اس صورت میں حقوق کا تعلق ان دونوں سے نہیں ہوگا، بلکہ کس سے ہوگا؟ موکل ہی سے ہوگا۔ میں نے ایک بچے کو بھیجا، سمجھدار بچہ ہے لیکن محجور ہے، میں نے کہا جاؤ بھئی میرے لیے یہ چیز لے کر آؤ، اب وہ چیز لے کر آیا بھئی، اور اس میں عیب نکلا، تو اب، یا اس چیز کو، اس چیز کو لینا، اور اس پر قبضہ کرنا، اور کیا کرنا؟ عیب کی وجہ سے واپس وغیرہ کرنا، ان حقوق کا تعلق اس بچے سے نہیں ہے، بلکہ کس سے ہے؟ موکل، موکل خود کرے گا بھئی۔ یہ معنی ہے وَيَرْجِعُ حُقُوقُ اَلْعَقْدِ إِلَى مُوَكِّلِهِمَا، اور عقود کے جو حقوق ہیں وہ لوٹیں گے إِلَى مُوَكِّلِهِمَا، ان دونوں کے (یہ صبیِ عاقل اور عبدِ محجور کی بات ہو رہی ہے) ان دونوں کے موکل کی طرف لوٹیں گے، دُونَهُمَا، نہ کہ، ورنہ حقوق کا تعلق وکیل سے ہوتا ہے بھئی۔ أَيْذَا وَكَّلَ اَلْحُرُّ اَلْبَالِغُ اَلْمَازُونُ، جب وکیل بنایا، کس نے وکیل بنایا؟ آزاد بالغ نے، اَلْمَازُونُ یا کس نے وکیل بنایا؟ ماذون نے، کس کو وکیل بنایا؟ صَبِيًّا مَحْجُورًا أَوْ عَبْدًا مَحْجُورًا، محجور بچے کو بنایا یا محجور غلام کو، يَرْجِعُ، تو لوٹتے ہیں حقوقُ اَلْعَقْدِ، تو حقوقِ عقد لوٹتے ہیں إِلَى مُوَكِّلِهِمَا، ان دونوں کے موکل کی طرف وَلَا يَرْجِعُ إِلَيْهِمَا، اور ان کی طرف نہیں لوٹتے بھئی، نہیں لوٹتے۔ بِكُلِّ مَا يَعْقِدُهُ بِنَفْسِهِ، اس کا بِكُلِّ جار مجور ہے، اس کا تعلق مولانا، گزشتہ صفحے پر متن گزرا تھا: فَصَحَّ تَوْكِيلُ، فَصَحَّة کے ساتھ اس کا متن تعلق ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ صحیح ہے وکیل بنانا بِكُلِّ مَا، ہر اس چیز پر کے ساتھ يَعْقِدُهُ بِنَفْسِهِ، جس کا عقد کرتا ہو انسان خود بھئی، جس چیز کا عقد خود کر سکتا ہے، اس میں وکیل بنانا بھی جو جو تصرف خود کر سکتا ہے۔ تو بتلا رہے ہیں يَتَعَلَّقُ، یہ جو جا بِكُلِّ جار مجور ہے یہ متعلق ہے ماتن کے قول فَصَحَّ تَوْكِيلُ اَلْحُرِّ إِلَى آخِرِهِ، آخر تک جو قول آیا اس کے ساتھ متعلق ہے۔ تو صحیح ہے وکیل بنانا ہر اس چیز میں جس کا انسان خود کیا کر سکتا ہے؟ عقد کر سکتا ہے، وَبِالْخُصُومَةِ، اور کس کے ساتھ توکیل صحیح ہے؟ خصومت میں بھی توکیل صحیح ہے، فِي كُلِّ حَقٍّ، ہر حق کے اندر، بھئی آپ ایک شخص کے ساتھ مقدمہ لڑنا چاہتے ہیں، خصومت کریں گے آپ اس کے ساتھ بھئی، تو یہ مقدمے کے اندر بھی توکیل خصومت کے اندر بھی وکیل بنانا صحیح ہے فِي كُلِّ حَقِّ، ہر حق کے اندر، جس حق میں بھی خصومت کرنا آپ کے لیے جائز ہے، اس میں وکیل بنانا بھی جائز ہے۔ وَلَا يَلْزَمُ بِلَا رِضَا خَصْمِهِ، اور لیکن یہ توکیل لازم نہیں ہوتی خصم کی رضامندی کے بغیر (یعنی فریقِ مخالف جو ہے، آپ کا جو مقابل ہے، اس کی رضامندی کے بغیر خصومت کے اندر توکیل لازم نہیں۔) کیا معنی؟ دیکھیے، امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خصومت کے اندر جب کسی کے ساتھ مقدمہ ہو لڑنا ہو، مقدمہ کرنا ہے تو اس صورت میں مقابل کی رضامندی بھی ضروری ہے، ورنہ وکیل بنانا صحیح نہیں۔ مثلاً میں زید پر مقدمہ کرنا چاہتا ہوں کسی مسئلے کے اندر، میں آپ کو اپنا وکیل بناتا ہوں، امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب تک زید آپ کے وکیل بنانے پر راضی نہیں ہوگا، آپ کو میں وکیل نہیں بنا سکتا۔ مقدمہ میں نے کس سے لڑنا ہے؟ دعویٰ میں نے کیا، لیکن خود نہیں کیا، بلکہ آپ کو وکیل بنا کر بھیج دیا۔ امام صاحب کیا فرماتے ہیں؟ جب تک زید راضی نہیں، آپ کو وکیل بنانا درست نہیں۔ زید راضی ہو جائے کہ ہاں ٹھیک ہے، میں آپ کے ساتھ مقدمہ لڑنے کے لیے تیار ہوں، پھر تو ٹھیک ہے بھئی، توکیل صحیح ہو جائے گی خصومت میں، ورنہ توکیل درست اور صاحبین فرماتے ہیں کہ نہیں، خصم کی رضامندی ضروری نہیں، بلکہ اس کی رضامندی ہو یا رضامندی نہ ہو، دونوں صورتوں میں خصومت کے اندر وکیل بنانا جائز، میں نے آپ کو وکیل بنا کر بھیجا ہے مقدمہ لڑنے کے لیے، زید راضی ہو یا راضی نہ ہو، وکیل بنانا آپ کو صحیح بھئی۔ اور اسی پر فتویٰ ہے۔ آج کل کیا ہے؟ اسی پر فتویٰ ہے کہ خصم کی رضامندی ضروری نہیں۔ یہ معنی ہے وَلَا يَلْزَمُ، اور لازم نہیں ہے، توکیل یعنی اس کا صحیح ہونا لازم نہیں بِلَا رِضَا خَصْمِهِ، اس شخص کے، خصم کے، موکل کے خصم کی رضامندی کے بغیر۔ قَالَ بَعْضُ اَلْمَشَايِخِ، بعض مشائخ (یعنی بعض فقہائے کرام) فرماتے ہیں أَنَّ اَلتَّوْكِيلَ بِالْخُصُومَةِ بِلَا رِضَا اَلْخَصْمِ بَاطِلٌ، خصم کی رضامندی کے بغیر یہ باطل ہے، عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اَللَّهُ، امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک، صحيحٌ عِنْدَهُمَا، اور صحیح ہے کس کے نزدیک؟ صاحبین کے نزدیک صحیح ہے۔ یہ بعض فقہاء نے لکھا، وَقَالَ اَلْبَعْضُ، اور بعض مشائخ ہمارے لکھتے ہیں، اَلِاخْتِلَافُ فِي اَلْلُزُومِ لَا فِي اَلصِّحَّةِ، کہ اختلاف لزوم کے اندر ہے، صحت کے اندر نہیں بھئی۔ پہلا قول تو کیا ذکر ہوا؟ امام صاحب کے نزدیک جب تک خصم راضی نہیں، توکیل ہی باطل ہے۔ وہ راضی ہوگا تو توکیل صحیح، وہ راضی نہیں تو توکیل بھی صحیح نہیں۔ دوسرا قول، بعض کہتے ہیں نہیں بھئی، اختلاف صرف لزوم میں ہے، صحت کے اندر یا صحیح نہ ہونے کے اندر اختلاف نہیں۔ یعنی امام صاحب کے نزدیک بھی خصومت کے اندر کسی کو بھی وکیل بنانا صحیح ہے، لیکن خصم اس کو رد کرنا چاہے تو کیا کر سکتا ہے؟ رد۔ پہلا قول تو کیا تھا؟ اس کی رضامندی کے بغیر درست ہی نہیں۔ دوسرا قول کیا ہے؟ اس کی رضامندی کے بغیر بھی درست ہے، لیکن اگر وہ رد کرے تو کیا کر سکتا ہے؟ رد کر سکتا ہے۔ لزوم نہیں ہے، صحیح تو ہے، لیکن لزوم نہیں ہے، بلکہ وہ رد کرے تو کیا ہو جائے گی؟ رد۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ فرق سمجھ میں آیا دونوں میں؟ پہلی صورت میں صحیح ہی نہیں تھا اس کی رضا کے بغیر، دوسری صورت میں صحیح ہے، اس کی رضا کا پتہ ہی نہیں ہے، آپ نے کیا کر دیا اس کو وکیل بنا دیا۔ بعد میں اگر وہ رد کر دیتا ہے، تو اب یہ توکیل لازم نہیں، بلکہ کیا ہو جائے گی؟ رد ہو جائے گی۔ وَقَالَ اَلْبَعْضُ، اَلِاخْتِلَافُ فِي اَلْلُزُومِ لَا فِي اَلصِّحَّةِ، اور بعض مشائخ فرماتے ہیں کہ اختلاف لزوم کے اندر ہے، صحیح ہونے میں اختلاف نہیں، صحیح تو دونوں کے نزدیک ہے۔ وَفِي اَلْهِدَايَةِ اِخْتَارَ هَذَا، اور ہدایہ کے اندر بھی اسی کو اختیار کیا ہے، صاحبِ ہدایہ نے بھئی، سمجھ میں آیا؟ کس قول کو؟ دو قول آئے، ایک قول کیا آیا؟ امام صاحب کے نزدیک خصم کی رضامندی کے بغیر وکیل بنا ہی نہیں۔ دوسرے میں، بنا تو سکتے ہیں، لیکن اگر وہ رد کرنا رد کر دے تو کیا ہو جائے گا؟ ہاں یعنی لزوم نہیں ہوگی توکیل، تو صاحبِ ہدایہ نے بھی اس قولِ ثانی کو اختیار کیا ہے، یہ ذکر کیا ہے۔ اچھا تو لزوم نہیں ہے، متن پھر دیکھو اوپر، وَلَا يَلْزَمُ بِلَا رِضَا خَصْمِهِ، اور لیکن لازم نہیں ہے مولانا خصم کی رضامندی کے بغیر بھئی۔ إِلَّا لِمُوَكِّلِ مَرِيضٍ لَا يُمْكِنُهُ حُضُورَ مَجْلِسِ اَلْحَاكِمِ، أَوْ غَائِبٍ مَسِيرَةَ سَفَرٍ، وَمُرِيدٍ لِلسَّفَرِ، أَوْ مُخَدِّرَةٍ لَا تَعْتَادُ اَلْخُرُوجَ. اوپر کیا بتلایا بھئی، متن میں امام صاحب کا کیا مسلک ذکر کیا بھئی؟ کہ خصومت کے اندر توکیل صحیح ہے، لیکن خصم کی رضامندی کے بغیر لازم نہیں ہے، یعنی وہ رد کرنا چاہے تو کیا کر سکتا ہے؟ رد کر سکتا ہے، لیکن تین چار صورتیں ذکر کر رہے ہیں، وہاں پر وہ رد نہیں کر سکتا، وہ لازم ہو جائے گی توکیل، اگرچہ وہ کیا کر دے؟ رد کر دے۔ ایک صورت یہ ہے کہ وہ جو موکل ہے وہ مریض ہے، بھئی، میں نے زید کے ساتھ مقدمہ لڑنا ہے، میں کس کو بناتا ہوں؟ آپ کو اپنا وکیل بنا کر بھیجتا ہوں، تو زید کو اختیار ہے، کیا کر سکتا ہے آپ کی اس وکالت کو کیا کر سکتا ہے؟ توکیل کو وہ رد کر سکتا ہے۔ لیکن اگر موکل بیمار ہے، موکل وہ خود حاضر نہیں ہو سکتا، جب بیمار ہے تو عذر آگیا، جب عذر آگیا، تو اب خصم کو کیا کرنا پڑے گا؟ اسی کے ساتھ مقدمہ لڑना پڑے گا، وہ رد کرنا چاہے تو اس کو رد نہیں کرے گا، اب تو اب توکیل لازم ہو گئی، چاہے اگرچہ خصم راضی نہیں ہے، لیکن پھر بھی توکیل نہیں۔ دوسری صورت یہ کہ بھئی، میں نے آپ کو مقدمہ لڑنے کے لیے بھیجا وہ آپ کے ساتھ مقدمہ نہیں لڑنا چاہتا، بلکہ میرے ساتھ براہِ راست مقدمہ لڑنا چاہتا ہے، لیکن میں کتنی دور ہوں یہاں سے؟ تین سفر کی مدت پر ہوں، یعنی تین دن تین رات کا سفر ہے، یا یوں कहें بھئی، مدت کتنا بن کتنی مسافت بنتی ہے بھئی؟ جی؟ اڑتالیس میل، تقریباً بھئی، اڑتالیس میل کی مسافت پر ہوں بھئی، اب میرے لیے حاضر ہونے میں، کیونکہ حرجِ عظیم ہے میرے لیے، اس لیے اب توکیل لازم ہے، خصم راضی ہو یا راضی نہ ہو، وہ اب رد نہیں کر سکتا۔ تیسری صورت بھئی، کہ میں سفر پر گیا تو نہیں ہوں، میں بھی لاہور میں ہوں، میرا مقابل بھی کہاں پر ہے؟ لاہور میں، لیکن میں سفر کی تیاری کر رہا ہوں، مولانا تیاری میں مشغول ہوں، میں نے حج پر جانا ہے، کل نکلنے والا ہوں، تو اس صورت میں بھی کیا ہو جائے گی توکیل؟ لازم، وہ رد کرنا چاہے تو رد یعنی سفر کا ارادہ بھی ہو، مشغول ہو، تو بھی نہیں کر سکتا۔ چوتھا، کہ موکل وہ پردہ نشین عورت ہے، جو عام طور پر گھر سے باہر نکلتی نہیں ہیں، اب وہ کسی کو وکیل بنا کر خصومت کرتی ہے، تو اب یہ توکیل بھی کیا ہوئی؟ لازم ہو گئی، خصم اگر اس کو رد کرنا چاہے بھی، تو رد نہیں، کیونکہ اس عورت کے لیے خود قاضی کے پاس حاضر ہونا بڑا مشکل کام ہے، اسے عادت ہی نہیں باہر نکلنے کی بھئی۔ یہ माना ہے: إِلَّا لِمُوَكِّلِ مَرِيضٍ، مگر ایسے اوپر کیا کہیاتھا؟ لازم نہیں ہے خصم کی رضامندی کے بغیر، مگر لِمُوَكِّلِ مَرِيضٍ، ایسے موکل کے لیے جو مریض ہو، ایسا مریض ہو کہ لَا يُمْكِنُهُ حُضُورَ مَجْلِسِ اَلْحَاكِمِ، کہ ممکن ہی نہ ہو اس کے لیے حاکم کی مجلس میں حاضر ہونا، تو اب توکیل لازم ہے، أَوْ غَائِبٍ مَسِيرَةَ سَفَرٍ، غائب کا عطف مریض پر ہے، یا ایسا موکل غائب ہو، کتنا غائب مسيرة سفر، سفر کی مسافت پر، وَمُرِيدٍ لِلسَّفَرِ، اور ایسا موکل ہے جو سفر کا ارادہ کرنے والا ہے، أَوْ مُخَدِّرَةٍ لَا تَعْتَادُ اَلْخُرُوجَا، یہاں تک صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ وَبِإِيفَائِهِ، اس کا یہ اس کا عطف اوپر آیا، اوپر کیا آیا تھا بھئی؟ بِالْخُصُومَةِ، اور اس سے اوپر کیا آیا تھا؟ بِكُلِّ مَا، متن ملا کہ نہیں ملا بھئی؟ بِالْخُصُومَةِ فِي كُلِّ حَقٍّ، یہ آیا تھا یا نہیں بھئی متن میں؟ اور اس سے اوپر کیا آیا تھا؟ بِكُلِّ مَا يَعْقِدُ، تو بِالْخُصُومَةِ کا عطف ہے بِكُلِّ مَا يَعْقِدُ پر، اور اسی طرح آگے بِإِيفَائِهِ اس کا عطف بھی کس پر ہے؟ بِكُلِّ مَا يَعْقِدُپر، تو اس کا بھی اسی سے تعلق ہے: صَحَّ تَوْكِيلُ بِإِيفَائِهِ وَاسْتِيفَائِهِ۔ عبارت سمجھ میں آئی؟ صَحَّا پچھلے صفحے پر آیا تھا: صَحَّ تَوْكِيلُ بِإِيفَائِهِ وَاسْتِيفَائِهِ، توکیل، وکیل بنانا صحیح ہے، أَوْ فَیُفِيْ إِيفَاء کا معنی ادا کرنا، اور اِسْتِيفَاء کا معنی کیا ہے؟ وصول کرنا۔ بھئی دیکھیے، بعض حقوق میں ادائیگی کرنا پڑتی ہے، بعض حقوق میں وصولی کرنا پڑتی ہے۔ بھئی، ایک شخص ہے، اس نے میرا دین دینا ہے ایک لاکھ روپیہ، تو اس پر میں مقدمہ کروں گا، یہ مقدمہ میں کس لیے کر رہا ہوں؟ وصولی کے لیے، تو وصولی کے لیے اب میں وکیل بھی بنا سکتا ہوں، آپ کو وکیل بنا کر بھیجوں جاؤ جا کر مقدمہ لڑو اور اس سے میرا دین کیا کرو؟ وصول کرو۔ تو وصولی کے لیے بھی وکیل بنانا صحیح، دوسری صورت، میرے اوپر ایک شخص مقدمہ کرتا ہے کہ اس نے میرے کتنے دینے ہیں؟ ایک لاکھ بھئی۔ ایک لاکھ دینے ہیں، میں آپ کو وکیل کرتا ہوں، جاؤ میری طرف سے جا کر جواب وغیرہ دو بھئی۔ تو اب میں، تو میں نے پیسے دینے ہیں اس کو یا اس سے لینے ہیں؟ دینے، تو پیسے دینے کے اندر بھی، ادائیگی کے اندر بھی وکیل بنانا صحیح اور وصول کرنے میں بھی وکیل بنانا، یہ بات کر رہے ہیں۔ یہ معنی ہے: وَصَحَّ تَوْكِيلُ بِإِيفَائِهِ، اچھا، اچھا، تو صحیح ہے بھئی، ایفا و حقِ ادا کرنے کے اندر بھی بھئی، ہا ضمیر حق کو راجع ہے: بِإِيفَاءِ حَقٍّ، أَي، كُلِّ حَقٍّ، ادائیگی حق، حق کے ادا کرنے میں بھی وکیل بنانا صحیح ہے، وَاسْتِيفَائِهِ، اور ہر حق کے وصول کرنے میں بھی وکیل بنانا صحیح ہے، إِلَّا فِي اِسْتِيفَاءِ حَدٍّ وَقِصَاصٍ بِغَيْبَةِ مُوَكِّلِهِ، مگر حدّ اور قصاص کے وصول کرنے میں وکیل بنانا صحیح نہیں بھئی۔ بھئی حدّ اور قصاص، حدّ اور قصاص بھئی۔ مَیں نے کیا کیا؟ مثلاً بھئی، ایک آدمی ہے اس نے دوسرے پر حدّ کا دعویٰ کیا، کہ اس نے میرا مال چرایا ہے، یا اس نے میرے اوپر زنا کی تہمت لگائی ہے، قاضی کے پاس لے گیا بھئی۔ اب، قاضی کے پاس لے گیا، اب اس کے اندر مولانا وکیل بنانا صحیح نہیں۔ حدّ کے وصول کرنے میں، یا قصاص کے وصول کرنے میں، یہاں پر وکیل بنانا صحیح نہیں۔ کیوں؟ کیونکہ حدّ اور قصاص شبے کی وجہ سے ساقط ہو جاتے ہیں۔ تو یہاں پر وہ جو شخص جو مقدمہ کرنے والا ہے، اس کا خود موجود ہونا ضروری ہے۔ کیونکہ ہو سکتا ہے وہ کیا کر دے؟ معاف کر دے۔ مثلاً اس نے کیا تہمید مقدمہ کیا تھا؟ جی؟ کہ اس نے مجھ پر کسی چیز کی تہمت لگائی ہے، یا یہ کہتا ہے اس نے میرا مال چوری کیا تھا، تو وہاں قاضی کے پاس جا کر وہ یہ نہیں کہتا اس نے میرا مال چوری کیا تھا، بلکہ کہتا ہے قاضی صاحب اس نے میرا مال دینا ہے۔ اگر یوں کہتا ہے کہ قاضی صاحب اس نے میرا مال چوری کیا تھا، پھر تو کیا کرنا پڑے گا؟ اس دوسرے کا ہاتھ کاٹنا پڑے گا، لیکن اگر یہ جا کر کہتا ہے کہ نہیں، چوری کا ذکر نہیں کرتا بلکہ کہتا ہے اس نے میرا مال دینا ہے، تو اب اس کا ہاتھ بچ جاتا ہے مولانا، سمجھ میں آیا؟ تو موکل جو ہے وہ خود موجود ہوگا تو شبہ ہے، ہو سکتا ہے وہ صرف مال کا دعویٰ کر دے، چوری کا دعویٰ نہ کرے، تو شبہ آیا مولانا، سمجھ میں آیا، حدّ کے ساقط ہونے کا۔ اس لیے یہاں وکیل کا درست، توکیل درست نہیں ہے، بلکہ اس شخص کو کیا کرنا پڑے گا؟ خود حاضر، اسی طرح قصاص کے مسئلے میں بھئی، قصاص میں بھی ہو سکتا ہے وہ شخص کیا کر دے؟ مقتول کا جو ولی ہے، وہ اس کو معاف کر دے بھئی، تو معاف کرنے کا شبہ موجود ہے، اور وکیل کو تو معاف کرنے کا حق نہیں، لہذا یہاں توکیل صحیح نہیں۔ مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ إِلَّا فِي اِسْتِيفَاءِ حَدٍّ وَقِصَاصٍ بِغَيْبَةِ اَلْمُوَكِّلِ، مگر مولانا حدّ اور قصاص کے وصول کرنے کے اندر توکیل صحیح نہیں، بِغَيْبَةِ اَلْمُوَكِّلِ، جبکہ وکیل کا موکل کیا ہو؟ غائب ہو، بھئی اگر موکل خود موجود ہے، پھر توکیل ان میں بھی صحیح ہے۔ ایک آدمی ہے، اس کے بھئی کو کسی نے قتل کر دیا، اب وہ کیا کرتا ہے؟ دوسرے کو وکیل بناتا ہے کہ تم جا کر مقدمہ لڑو، اور خود بھی ساتھ جاتا ہے۔ تو اب توکیل درست ہے مولانا، کیونکہ وہ خود وہاں پر حاضر ہے، تو وکیل کا بولنا گویا اس کا اپنا بولنا ہے، تو وہ خود ہی اسی کی طرح منتقل ہو گیا کلام۔ اسی طرح حدّ ہے، ایک نے دوسرے پر دعویٰ کیا چوری کا بھئی، قاضی کے پاس لے گیا، دوسرے کو وکیل بنایا کہ تم مقدمہ لڑو بھئی، اور خود بھی حاضر ہے، اب توکیل صحیح مولانا، اب وکیل بات کرتا ہے، اور موکل خود بھی حاضر ہے، تو اب حدّ اور قصاص دونوں کے اندر بھئی، وکیل توکیل ہوئی، لیکن اگر موکل خود موجود نہ ہو، تو پھر صحیح نہیں۔ یہ معنی ہے: بِغَيْبَةِ مُوَكِّلِهِ، موکل کے غائب، موکل کے غائب ہونے، موکل کے غائب ہوتے ہوئے صحیح نہیں ہے، توکیل، ورنہ صحیح ہے۔ اَيْ صَحَّ تَوْكِيلُ بِإِعْطَاءِ كُلِّ حَقٍّ، صحیح ہے توکیل مولانا، بِإِعْطَاءِ كُلِّ حَقٍّ، ہر حق کے عطا کرنے میں یہ کس کا ترجمہ کر رہے ہیں؟ بِإِيفَائِهِ کا ترجمہ کر رہے ہیں۔ توکیل صحیح ہے ہر حق کے عطا کرنے میں بھی، وَكَذَا بِقَبْضِ كُلِّ حَقٍّ، یہ کس کا ترجمہ کر رہے ہیں؟ اِسْتِيفَاء اور اسی طرح مولانا ہر حق کے قبضے میں بھی توکیل صحیح ہے۔ إِلَّا أَنَّهُ لَا يَصِحُّ فِي اِسْتِيفَاءِ حَدٍّ وَقِصَاصٍ بِغَيْبَةِ اَلْمُوَكِّلِ، مگر یہ کہ صحیح نہیں ہے توکیل مولانا حدّ اور قصاص کے وصول کرنے میں، بِغَيْبَةِ اَلْمُوَكِّلِ، موکل کے غائب ہوتے ہوئے، لِشُبْهَةِ اَلْعَفْوِ فِي اَلْقِصَاصِ، اس لیے کہ معاف کرنے کا شبہ موجود ہے قصاص کے اندر، وَشُبْهَةِ أَنْ يُصَدِّقَ اَلْقَاضِي فِي حَدِّ اَلْقَذْفِ، اور یہ شبہ موجود ہے کہ جس پر تہمت لگی ہے، وہ قاضی (یعنی تہمت لگانے والے کی) تصدیق کر دے۔ ایک آدمی دوسرے پر کیا کرتا ہے؟ قاضی کے پاس لے جاتا ہے، قاضی صاحب اس نے میرے اوپر کیا الزام لگایا ہے؟ زنا کا الزام لگایا ہے۔ تو اب بھئی، اس پر کون سی حد جاری ہوگی؟ حدّ قذف جاری ہوگی، تو یہاں وکیل نہیں بنا سکتا، بلکہ خود جانا پڑے گا، اس لیے کہ ہو سکتا ہے قاضی کے پاس جا کر اس کے دل میں خیال آ جائے، اور کیا کہے؟ اس کو حدّ سے بچانے کے لیے خود ہی اس کی تصدیق کر دے، کہ اس نے کیا کیا ہے؟ سچی تہمت، سہی الزام میرے اوپر لگایا ہے، جھوٹا الزام گووا تو نہیں ہے، لیکن الزام اس نے صحیح لگایا ہے۔ وَشُبْهَةُ أَنْ يُصَدِّقَ اَلْقَاضِي، یہ شبہ ہے مولانا کہ وہ تصدیق کر دے گا تہمت لگانے والے کی حدّ قذف کے اندر تو وہ حدّ قذف سے بچ جائے گا۔ وَشُبْهَةِ، أَنْ يَدَّعِيَ اَلْمَالَ وَلَا يَدَّعِيَ اَلسَّرِقَةَ، اور اس بات کا شبہ موجود ہے کہ چوری کے اندر مال کا دعویٰ کر دے بھئی، موکل، وَلَا يَدَّعِيَ اَلسَّرِقَة، اور چوری کا دعویٰ نہ کرے، چلیں مولانا، بس ہونا، ہذا ھوالمرام، واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام