درس نمبر۔90 ‏آگے سبق دیکھیے بھئی۔ ‏وَ لَوْ مَا اسْتَدَلَّ الْكُوْفِیُّوْنَ عَلَى اَوْلَوِیَّةِ إِعْمَالِ الْفِعْلِ الْأَوَّلِ بِقَوْلِ امْرِئِ الْقَیْسِ: شِعْرٌ: وَلَوْ أَنَّمَا أَسْعَى لِأَدْنَى مَعِیْشَةٍ كَفَانِي وَلَمْ أَطْلُبْ قَلِیْلٌ مِّنَ الْمَالِ، حَیْثُ قَالُوْا: قَدْ تَوَجَّهَ الْفِعْلَانِ - أَعْنِیْ "كَفَانِي" وَ "لَمْ أَطْلُبْ" - إِلَى اسْمٍ وَّاحِدٍ وَ هُوَ "قَلِیْلٌ مِّنَ الْمَالِ"، فَقْتَضَى الْأَوَّلُ رَفْعَهٗ بِالْفَاعِلِیَّةِ وَالثَّانِیْ نَصْبَهٗ بِالْمَفْعُوْلِیَّةِ. ‏تنازعِ فعلین کا مسئلہ چل رہا ہے بھئی۔ اور آپ نے پڑھا کہ بصرہ والوں کے نزدیک ثانی فعل کو عمل دینا اولیٰ ہے اور اول پھر اگر فاعل کا تقاضا کر رہا ہو تو اس میں فاعل کی ضمیر لے آئیں گے اور اگر وہ مفعول کا تقاضا کر رہا ہو تو اس مفعول کو حذف کر دیں گے۔ الا یہ کہ اس مفعول کو حذف کرنا جائز نہ ہو بھئی، یعنی وہ افعالِ قلوب میں سے ہو۔ تو پھر اس صورت میں حذف کرنا بھی جائز نہیں اور اسی طرح ضمیر لانا بھی جائز نہیں کیونکہ اضمار قبل الذکر عمدہ میں تو جائز ہے اور یہ مفعول تو کیا ہوتا ہے؟ فضلہ۔ اس کے اندر تو جائز نہیں۔ تو حذف بھی جائز نہیں اور اضمار قبل الذکر بھی جائز نہیں، تو پھر آخری صورت یہی رہ جاتی ہے کہ اس اسمِ ظاہر کو دوبارہ لے کر آئیں گے بھئی۔ ‏میں نے بتایا تھا کہ افعالِ قلوب جو ہیں وہ دو مفعول چاہتے ہیں اور وہ دو مفعول آپس میں مبتدا خبر کے درجے میں ہوتے ہیں اور وہاں جو مفعول ہوتا ہے حقیقت میں مضمونِ جملہ ہوتا ہے۔ حقیقت میں مضمونِ جملہ ہوتا ہے۔ جیسے: عَلِمْتُ زَیْدًا قَائِمًا۔ تو اصل میں کیا تھا؟ زَیدٌ قائمٌ تھا، یہ مبتدا خبر تھے۔ پھر اس پر عَلِمتُ داخل ہوا۔ اس نے مبتدا کو اپنا مفعولِ اول بنایا اور خبر کو اپنا مفعولِ ثانی۔ تو کیا بن گیا؟ عَلِمْتُ زَیْدًا قَائِمًا۔ ‏تو اب یہاں زیداً مفعولِ اول ہے علمتُ کے لیے اور قائماً مفعولِ ثانی۔ لیکن حقیقت میں یہاں مفعول جو ہے وہ مضمونِ جملہ ہے۔ اور مضمونِ جملہ کیسے نکالتے ہیں؟ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ خبر کا مصدر نکالیں اور اس مبتدا کی طرف اس کی اضافت کر دیں۔ تو زیدٌ قائمٌ کے اندر مضمونِ جملہ کیا ہوگا؟ خبر کیا؟ زیدٌ قائمٌ میں خبر کیا؟ قائمٌ۔ اس قائمٌ کا مصدر نکالیں، قیام۔ اور اس قیام کی اضافت کر دیں مبتدا کی طرف، قِیَامُ زَیْدٍ۔ تو آپ سے کوئی پوچھے اس جملے کا مضمون کیا ہے؟ یعنی اس میں کیا بیان ہو رہا ہے؟ تو آپ کہیں گے کہ زیدٌ قائمٌ یہ جو جملہ ہے، اس کے اندر قیامُ زیدٍ بیان ہو رہا ہے، زید کا قیام بیان ہو رہا ہے۔ تو یہی مضمونِ جملہ ہے۔ قیامُ زیدٍ مضمونِ جملہ ہے۔ ‏تو یہاں پر بھی عَلِمْتُ زَیْدًا قَائِمًا۔ علمتُ افعالِ قلوب میں سے ہے اور افعالِ قلوب کے دو مفعولوں میں سے ایک کو حذف کر لیا جائے اور ایک پر اکتفا کر لیا جائے یہ جائز نہیں، اس لیے کیونکہ یہاں حقیقت میں مفعول کیا ہے؟ مضمونِ جملہ ہے اور مضمونِ جملہ کیسے نکالا جاتا ہے؟ کہ خبر کی، کہ خبر کا مصدر نکال کر اس کی مبتدا کی طرف اضافت کر دی جائے اور یہاں پر بھی زیداً قائماً یہ جو مفعولِ اول اور ثانی ہیں یہ مبتدا خبر کے درجے میں ہیں۔ تو زیداً قائماً اس کا مضمونِ جملہ کیا ہے؟ قیامُ زیدٍ۔ تو اصل گویا کلام یوں ہے: عَلِمْتُ قِیَامَ زَیْدٍ۔ ‏تو قیامَ زیدٍ یہ مفعول ہے علمتُ کے لیے حقیقت میں، تو یہ مضمونِ جملہ ہے۔ اور دیکھو اگر دونوں میں سے ایک کو حذف کر دیں گے تو یہ قیامُ زیدٍ یہ مضاف مضاف الیہ ہیں، ان میں سے گویا آپ نے ایک جزو کو حذف کر دیا اور مضاف مضاف الیہ میں سے ایک جزو کو تو حذف کرنا جائز نہیں ہے بھئی، ورنہ تو بات پوری سمجھ میں ہی نہیں آئے گی۔ غلامُ زیدٍ ہے، غلام مضاف، زیدٍ مضاف الیہ۔ آپ صرف غلام کہیں پھر بھی غلامُ زیدٍ سمجھ میں نہیں آئے گا اور صرف زید کہیں تو بھی غلامُ زیدٍ سمجھ میں نہیں آئے گا۔ مضاف مضاف الیہ دونوں، دونوں کا ہونا ضروری ہے پھر بھی بات سمجھ میں آئے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ ‏تو لہٰذا افعالِ قلوب کے اندر مفعول کو حذف کرنا بھی جائز نہیں اور ضمیر لانا بھی جائز نہیں ہوگا کیونکہ اس صورت میں اضمار قبل الذکر کی خرابی لازم آئے گی فضلہ میں، تو پھر تیسری صورت یہی ہے کہ اس مفعول کو دوبارہ ذکر کر دیا جائے۔ ‏اور اس کے بعد پھر ہم نے کوفہ والوں کا مذہب پڑھا۔ کوفہ والے کہتے ہیں کہ پہلے فعل کو عامل بنانا اولیٰ ہے اور دوسرا فعل اگر فاعل کا تقاضا کرے تو اس میں پھر فاعل کی ضمیر لے آئیں گے اور اگر دوسرا فعل مفعول کا تقاضا کرے تو پھر اس میں مفعول کو حذف کرنا بھی جائز، لیکن بہتر یہ ہے کہ مفعول کی ضمیر لائی جائے اس کو حذف نہ کیا جائے تاکہ پتہ چل جائے کہ مفعول کون ہے بھئی۔ ‏ضربتُ و اکرمتُ زید۔ ضربتُ چاہتا ہے زید میرا مفعول بنے، اکرمتُ چاہتا ہے میرا مفعول بنے۔ تو کوفہ والوں کے نزدیک کس کو عامل بنائیں گے؟ پہلے کو، تو ضربتُ نے زیداً کو نصب دے دیا، ضَرَبْتُ وَأَكْرَمْتُ زَیْدًا۔ اب یہ اکرمتُ کے اندر یہ بھی مفعول چاہتا ہے، تو اس میں ایک صورت یہ ہے کہ مفعول کو حذف کر دیں۔ لیکن مفعول کو اگر آپ حذف کر دیں اور اسی طرح کہیں ضَرَبْتُ وَأَكْرَمْتُ زَیْدًا، تو اب پتہ نہیں چلے گا کہ یہ اکرمتُ کا مفعول کیا ہے بھئی؟ یہی زید ہے یا کوئی اور ذات ہے؟ لیکن جب آپ اکرمتُہٗ کے ساتھ ہٗ ضمیر لے آئیں گے تو اس سے پتہ چل جائے گا کہ یہ اکرمتُہٗ کا مفعول کون ہے؟ زید ہی ہے، یہ ہٗ ضمیر کس کو راجع؟ زید۔ بھئی یہ ہٗ ضمیر نہیں تو پتہ نہیں اس کا مفعول یہی زید ہے یا عمر ہے یا بکر ہے یا خالد ہے، کون ہے جس کو آپ نے حذف کیا ہے؟ لیکن جب ہٗ ضمیر ہے اب اس کے لیے آگے زیداً مرجع ہے اور زید اگرچہ ہٗ ضمیر سے لفظوں میں مؤخر ہے لیکن رتبے کے اعتبار سے مقدم ہے کیونکہ یہ ضربتُ کے ساتھ یعنی پہلے فعل کے ساتھ متعلق ہو چکا ہے۔ تو زیداً لفظوں میں تو اکرمتُ سے مؤخر ہے لیکن رتبے کے اعتبار سے یہ اکرمتُ سے مقدم ہے۔ تو اکرمتُہٗ کے ساتھ ہٗ ضمیر مفعول کی جوڑ دی اور یہ، یہ زید کو راجع ہے۔ تو اب پتہ چل گیا کہ اکرام کس کا کیا گیا ہے؟ اسی زید کا کیا گیا ہے۔ ‏تو کوفہ والے کیا کہتے ہیں؟ کہ اول کو عامل بنائیں گے تو ثانی اگر فاعل کا تقاضا کرے تو اس میں فاعل کی ضمیر لے آئیں گے اور اس میں اضمار قبل الذکر کی خرابی بھی لازم نہیں آئے گی کیونکہ، کیونکہ ضمیر آگے اسمِ ظاہر کو راجع ہے اور وہ اسمِ ظاہر لفظوں میں تو بےشک مؤخر ہے لیکن رتبے کے اعتبار سے مقدم ہے، اس کا تعلق پہلے فعل سے ہو چکا ہے۔ اور اگر دوسرا فعل مفعول کا تقاضا کرے تو اس میں حذف بھی جائز ہے اور اضمار بھی، اور اضمار بھی جائز ہے اور اضمار بہتر ہے بھئی، بہتر ہے۔ ‏اور اگر کوئی مانع آ جائے، یعنی فعلِ ثانی کے لیے مفعول کو حذف بھی نہیں کر سکتے اور ضمیر بھی نہیں لا سکتے جیسے کہ افعالِ قلوب کے اندر، تو پھر دوبارہ اس اسمِ ظاہر کو لانا پڑے گا۔ ‏بات سمجھ میں آ گئی؟ جیسے اس کی مثال آئی تھی: حَسِبَنِيْ وَحَسِبْتُهُمَا مُنْطَلِقَیْنِ الزَّیْدَانِ مُنْطَلِقًا بھئی۔ اس حَسبَنِی اور حَسِبتُہُما یہ دونوں آگے جھگڑ رہے ہیں آخر میں جو منطلقاً آ رہا ہے اس کے اندر بھئی۔ حسبنی چاہتا ہے یہ میرے لیے مفعولِ ثانی بنے اور حسبتُہما چاہتا ہے یہ میرے لیے مفعولِ ثانی بنے۔ تو حسبنی پہلے فعل کو عامل بنایا گیا اور یہ اس کے لیے مفعولِ ثانی بن گیا۔ اب حسبتُہما بھی مفعولِ ثانی چاہتا ہے، تو ایک صورت یہ ہے کہ مفعول کو حذف کر دیں، لیکن یہ تو افعالِ قلوب میں سے ہے اور افعالِ قلوب میں ایک مفعول کو حذف کرنا جائز نہیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اس کی ضمیر لے آئیں۔ چنانچہ ہم حسبتُہما کے بعد ضمیر لاتے ہیں اور یہ ضمیر کس کو راجع ہوگی؟ منطلقاً کو، اور منطلقاً تو ہے مفرد، تو ہم مفرد کی ضمیر لے آتے ہیں: حَسِبْتُهُمَا إِیَّاهُ۔ منصوب منفصل ضمیر ہم لائیں گے۔ منصوب منفصل کیونکہ یہ مفعول بن رہی ہے۔ تو حَسِبْتُهُمَا إِیَّاهُ، اب یہ ضمیر کس کو راجع؟ منطلقاً کو۔ ضمیر اور مرجع میں تو مطابقت آ گئی، منطلقاً بھی مفرد مذکر اور إیاہُ ضمیر بھی مفرد مذکر، تو دونوں میں تو مطابقت آ گئی۔ لیکن حسبتُہما کے مفعولِ اول کے ساتھ اس ضمیر کی مطابقت نہیں، کیونکہ حسبتُہما کا مفعولِ اول کیا ہے؟ یہ ہما ضمیر ہے اور مفعولِ ثانی کیا ہے؟ إیاہُ، وہ، وہ تو مفرد کی ضمیر ہے، حالانکہ یہ دونوں آپس میں کس کے درجے میں ہوتے ہیں؟ مبتدا خبر کے درجے میں ہوتے ہیں اور خبر جو ہے مبتدا کے لیے صفت کے درجے میں ہوتی ہے اور موصوف صفت میں مطابقت ضروری ہے۔ توجہ ہے؟ یہ خبر بھی مبتدا کے لیے صفت کے درجے میں ہوتی ہے، زیدٌ قائمٌ، کیا معنی؟ زید کھڑا ہے، معلوم ہوا قیام اس کی صفت ہے۔ قیام اس کی، تو یہ جو خبر ہوتی ہے یہ صفت کے درجے میں ہوتی ہے۔ تو یہاں پر بھی حسبتُہما کا مفعولِ اول تو ہما تثنیہ ضمیر ہے اور مفعولِ ثانی إیاہُ مفرد کی ضمیر ہے، تو دونوں مفعولوں میں مطابقت نہیں، حالانکہ دونوں میں مطابقت ضروری ہے۔ ‏تو پھر ہم یوں کرتے ہیں تثنیہ کی ضمیر لے آتے ہیں: حَسِبْتُهُمَا إِیَّاهُمَا۔ اب دونوں مفعولوں میں مطابقت آ گئی، لیکن إیاہُما کی اب مطابقت مرجع کے ساتھ نہیں، إیاہُما تو ہے تثنیہ کی ضمیر اور یہ لوٹ رہی ہے منطلقاً کو اور وہ تو مفرد ہے بھئی۔ تو اب مرجع کے ساتھ ضمیر کی مطابقت نہیں۔ معلوم ہوا ضمیر کا لانا بھی ممکن نہیں، کیونکہ اگر ہم ضمیر لاتے ہیں تو مرجع کے ساتھ مطابقت کرتے ہیں تو مفعولِ اول کے ساتھ مطابقت نہیں ہوتی اور مفعولِ اول کے ساتھ مطابقت کرتے ہیں تو مرجع کے ساتھ مطابقت نہیں ہوتی۔ تو معلوم ہوا ضمیر کا لانا بھی جائز نہیں۔ ضمیر کا لانا بھی ممکن نہیں، تو جب حذف بھی نہیں کر سکتے، ضمیر بھی نہیں لا سکتے تو آخری صورت پھر یہی رہ گئی کہ اسی اسمِ ظاہر کو دوبارہ لے آئیں گے۔ چنانچہ یہاں پھر دوبارہ اسمِ ظاہر منطلقینِ کو ہم لے آئے اور جملہ کیا بن گیا؟ حَسِبَنِیْ وَحَسِبْتُهُمَا مُنْطَلِقَیْنِ الزَّیْدَانِ مُنْطَلِقًا۔ ‏اور پھر آگے صاحبِ جامی نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ اس صورت میں منطلقاً میں جھگڑے کا تصور نہیں کیا جا سکتا، اس لیے کیونکہ منطلقاً مفرد ہے اور حسبنی مفعولِ ثانی مفرد چاہتا ہے اور حسبتُہما کے لیے ہم نے مفعولِ ثانی کیا نکالا؟ منطلقینِ، تو وہ تثنیہ چاہتا ہے۔ تو اس میں دونوں جھگڑ ہی نہیں سکتے، حسبنی تو مفرد ہے بھئی، تو اس کے اندر تنازع نہیں ہو سکتا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ اس میں تنازع کا تصور نہیں کیا جا سکتا اس لیے کیونکہ حسبنی اس کو اپنا مفعول بنانا چاہتا ہے لیکن حسبتُہما اس کو اپنا مفعول نہیں بنا سکتا کیونکہ یہ تو مفرد ہے بھئی، اور اس کے لیے تو تثنیہ مفعول چاہیے۔ تو صاحبِ جامی نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ جو منطلقاً ہے اس کے اندر دو حیثیتیں ہیں۔ ایک حیثیت یہ کہ یہ دلالت کر رہا ہو افراد یا تثنیہ پر۔ منطلقاً کس پہ دلالت کر رہا ہے؟ افراد پر، مفرد ہونے پر، اور منطلقینِ یہ کس پہ دلالت کر رہا ہے؟ تثنیہ ہونے پر۔ تو منطلقاً اور منطلقینِ میں ایک حیثیت یہ ہے کہ یہ افراد اور تثنیہ پر دلالت کر رہے ہیں اور دوسری حیثیت یہ ہے کہ یہ دلالت کر رہے ہیں ایک ایسی ذات پر جو انطلاق کے ساتھ متصف ہے۔ ‏جو انطلاق کے ساتھ متصف ہے، جیسے دیکھو منطلق اسمِ فاعل ہے، اسی طرح شارب اسمِ فاعل، شارب کا کیا معنی؟ کوئی ذات ہے جو شرب کے ساتھ متصف ہے یعنی شرب اس کی صفت ہے۔ ضارب کا کیا معنی؟ کوئی ذات ہے جو ضرب کے ساتھ متصف ہے یعنی اس نے ضرب لگائی ہے۔ عاقل کا کیا معنی؟ کوئی ذات ہے جو عقل یعنی کھانے کے ساتھ متصف ہے اس نے عقل والا فعل کیا ہے۔ توجہ ہے؟ تو یہاں پر بھی منطلق آیا تو منطلق دلالت کر رہا ہے ایک ایسی ذات پر جو انطلاق کے ساتھ متصف ہو رہی ہے۔ توجہ ہے؟ تو صاحبِ جامی فرماتے ہیں کہ یہاں تنازع کا تصور صرف اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب آپ یہ تصور کریں کہ یہ جو منطلقاً ہے یہ، یہ ایک ذات پر دلالت کر رہا ہے جو، جو انطلاق کے ساتھ متصف ہو رہی ہے، قطع نظر تثنیہ اور مفرد ہونے کے۔ تثنیہ اور مفرد ہونے کو آپ ملحوظ نہ رکھیں، اس کی طرف توجہ نہ کریں پھر ہی تنازع اس میں کہا جا سکتا ہے ورنہ تو یہاں تنازع ہو ہی نہیں سکتا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ ‏اب آگے دیکھیے آج کے سبق پر بھئی: وَ لَوْ مَا اسْتَدَلَّ الْكُوْفِیُّوْنَ عَلَى اَوْلَوِیَّةِ إِعْمَالِ الْفِعْلِ الْأَوَّلِ بِقَوْلِ امْرِئِ الْقَیْسِ: شِعْرٌ: وَلَوْ أَنَّمَا أَسْعَى لِأَدْنَى مَعِیْشَةٍ كَفَانِي وَلَمْ أَطْلُبْ قَلِیْلٌ مِّنَ الْمَالِ۔ ‏بھئی کوفہ والے کہتے ہیں کہ پہلے فعل کو عامل بنانا اولیٰ ہے بھئی، اور کوفہ والے دلیل کے طور پر امرؤ القیس کے شعر کو ذکر کرتے ہیں۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ علمائے نحو جو ہیں دلیل کے طور پر عرب کے جو چوٹی کے شعرا تھے، جو بڑے فصیح و بلیغ شعرا تھے ان کے کلام کو بطورِ دلیل کے پیش کیا کرتے ہیں بھئی۔ اور میں نے بتلایا تھا کہ اس میں زمانہ جاہلیت کے جو شعرا ہیں اور اسلام کی پہلی صدی تک کے جو شعرا ہیں ان کے کلام کو بطورِ دلیل کے ذکر کیا جاتا ہے۔ بعد والے شعرا اگرچہ وہ بھی بڑے بڑے شعرا تھے، لیکن بھئی بعد میں عرب کے ساتھ غیر عرب کا اختلاط بہت زیادہ بڑھ گیا بھئی۔ اسلام پوری دنیا میں پھیلتا چلا گیا اور ہر زبان اور قوم والے لوگ اسلام کے اندر داخل ہو گئے، تو اب پہلی صدی کے بعد جو عربی زبان ہے اب اس میں شبہ آ گیا کہ کوئی شعر وغیرہ کہتا ہے تو وہ خالص عربوں کے کلام کے مطابق ہے یا اس کے مطابق نہیں؟ اس میں شک آ گیا، تو اس لیے بعد والے اشعار اگرچہ وہ بھی بڑے بڑے شعرا ہیں لیکن ان کا کلام بطورِ دلیل کے ذکر نہیں کیا جا سکتا۔ صرف زمانہ جاہلیت کے اور اسلام کی پہلی صدی تک کے تقریباً جو وہ شعرا ہیں ان کے کلام کو ذکر کیا جاتا ہے اور یہ امرؤ القیس یاد رکھو یہ عرب کے بڑے شعرا میں سے تھا بلکہ بعض تو کہتے ہیں کہ یہ عرب کا سب سے بڑا شاعر تھا بھئی۔ اور اس کا حدیث کے اندر بھی ذکر آتا ہے، حضور علیہ السلام فرماتے ہیں کہ یہ امرؤ القیس قیامت کے دن آئے گا، شعرا کا جھنڈا اس کے ہاتھ میں ہوگا اور یہ تمام شعرا کو لے کر جہنم میں داخل ہو جائے گا بھئی۔ تو یہ بہت بڑا شاعر تھا بھئی، اس کے اشعار آج بھی عرب کے بچے بچے کی زبان پر ہیں بھئی۔ یہ وہی عام باتیں ذکر کرتا ہے جن کا مشاہدہ ہم کرتے ہیں یا جن کا مشاہدہ عام دیہات والے کرتے ہیں۔ یہ مثلاً بارش ہے، بجلی چمک رہی ہے، بادل آئے ہوئے ہیں، گھوڑے وغیرہ، ان چیزوں کا مشاہدہ جیسے عام دیہات والے کرتے ہیں، یہ عام چیزیں ہیں دیہات کے اندر، ان کا ہر ایک مشاہدہ کرتا ہے، لیکن انہی چیزوں کو وہ اتنے فصیح و بلیغ پیرائے میں ذکر کرتا ہے اپنے اشعار میں کہ انسان جھوم اٹھتا ہے بھئی۔ تو اس کے اشعار آج بھی عرب کے بچے بچے کی زبان پر آپ کو ملتے ہیں بھئی۔ ‏تو کوفہ والے بطورِ دلیل کے امرؤ القیس کے شعر کو ذکر کرتے ہیں بھئی، امرؤ القیس کے، اور کہتے ہیں دیکھو امرؤ القیس نے یہ جو شعر ہے اس کا: وَلَوْ أَنَّمَا أَسْعَى لِأَدْنَى مَعِیْشَةٍ كَفَانِي وَلَمْ أَطْلُبْ قَلِیْلٌ مِّنَ الْمَالِ، اس کے اندر، توجہ ہے؟ اس شعر پر آپ کی نظر ہے بھئی؟ وَلَوْ أَنَّمَا أَسْعَى لِأَدْنَى مَعِیْشَةٍ كَفَانِي وَلَمْ أَطْلُبْ قَلِیْلٌ مِّنَ الْمَالِ۔ ‏یہ جو كَفَانِي ہے اور وَلَمْ أَطْلُبْ، یہ كَفَانِي اور لَمْ أَطْلُبْ وہ کوفہ والے کہتے ہیں یہ آپس میں جھگڑ رہے ہیں ان میں تنازع ہے بھئی، کس کے بارے میں؟ قَلِیْلٌ مِّنَ الْمَالِ کے بارے میں۔ كَفَانِي چاہتا ہے كَفَانِی، كَفَانِی کے ساتھ مفعول جڑا ہوا ہے اور یہ چاہتا ہے کہ قلیلٌ اس کے لیے فاعل بنے۔ اور لَمْ أَطْلُبْ، لَمْ أَطْلُبْ متکلم کا صیغہ ہے اس کے اندر اَنَا ضمیر فاعل ہے اور یہ چاہتا ہے کہ یہ قلیلٌ من المال کو اپنا مفعول بنائے۔ تو كَفَانِي کیا چاہتا ہے؟ قلیلٌ کو اپنا فاعل بنانا چاہتا ہے یعنی اس کو رفع دینا چاہتا ہے اور لَمْ أَطْلُبْ قلیلٌ کو نصب دینا چاہتا ہے اپنا مفعول بنانا چاہتا ہے، اور شعر کے اندر کیا آیا؟ قَلِیْلٌ مِّنَ الْمَالِ، دیکھو قلیلٌ مرفوع ہے، تو یہ رفع کس نے دیا؟ كَفَانِي فعلِ اول نے دیا ہے بھئی، فعلِ ثانی تو نصب کا تقاضا کر رہا تھا۔ تو کوفہ والے کہتے ہیں دیکھو عرب کے ایک فصیح و بلیغ شاعر نے فعلِ اول کو عامل بنایا، معلوم ہوا فعلِ اول کو عامل بنانا اولیٰ ہے۔ ‏بھئی اس شعر کا معنی سمجھ لو، اس شعر کا معنی سمجھ لو: ‏وَلَوْ أَنَّمَا أَسْعَى لِأَدْنَى مَعِیْشَةٍ كَفَانِي وَلَمْ أَطْلُبْ قَلِیْلٌ مِّنَ الْمَالِ۔ ‏ایک یہ شعر ہے اور اسی طرح ایک اور شعر آگے آ رہا ہے، 8-10 سطروں کے بعد آ رہا ہے: شِعْرٌ: وَلٰكِنَّمَا أَسْعَى لِمَجْدٍ مُّؤَثَّلٍ وَقَدْ يُدْرِكُ الْمَجْدَ الْمُؤَثَّلَ أَمْثَالِي۔ مل گیا بھئی؟ یہ جو اگلا متن ہے نا آگے ایک صفحے بعد متن آ رہا ہے: مَفْعُوْلُ مَا لَمْ يُسَمَّ فَاعِلُهٗ، اس سے کوئی ایک ڈیڑھ سطر قبل شعر ہے: وَلٰكِنَّمَا أَسْعَى لِمَجْدٍ مُّؤَثَّلٍ وَقَدْ يُدْرِكُ الْمَجْدَ الْمُؤَثَّلَ أَمْثَالِي۔ ‏تو یہ دو شعر ہیں، ان کا ترجمہ سمجھ لیجیے۔ کہتے ہیں: وَلَوْ أَنَّمَا أَسْعَى لِأَدْنَى مَعِیْشَةٍ۔ أَسْعَى، سَعَى يَسْعَى کا معنی ہے کوشش کرنا بھئی، کوشش کرنا۔ اور أَدْنَى، أَدْنَى اسمِ تفصیل ہے... تو ادنیٰ کا معنیٰ ہے کمتر یعنی تھوڑی سی۔ معیشۃٍ، معیشت کا معنیٰ ہے ذریعۂ گزر بسر بھئی۔ یعنی جو کھانا پینا ہے جس پر انسان کیا کرتا ہے؟ گزارا کرتا ہے۔ تو معیشت کہتے ہیں ذریعۂ گزر بسر کو، یعنی انسان کی جو روزی ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ معیشت۔ یعنی اس کا جو معاش ہے بھئی۔ ولو انما اسعى لادنى معيشةٍ امرؤالقیس کہتا ہے ولو انما اسعى اگر میں کوشش کرتا لادنى معيشةٍ تھوڑی سی روزی کے لیے، تھوڑے سے ذریعۂ گزر بسر کے لیے۔ ولو انما اسعى لادنى معيشةٍ اگر میں کوشش کرتا تھوڑے سے معاش کے لیے، كفاني تو میرے لیے کافی ہو جاتا قليلٌ من المال تھوڑا سا مال۔ تو یہ قلیلٌ کیا ہے؟ کفانی کے لیے فاعل ہے۔ كفاني کافی ہو جاتا میرے لیے قليلٌ من المال تھوڑا سا مال، ولم اطلب اور میں طلب نہیں کرتا۔ اور میں ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ ولو انما اسعى لادنى معيشةٍ كفاني ولم اطلب قليلٌ من المال اگر میں کوشش کرتا تھوڑی سی روزی کے لیے، كفاني قليلٌ من المال تو میرے لیے تھوڑا سا مال کافی ہو جاتا، ولم اطلب اور میں اور میں طلب نہیں کرتا۔ دوسرا شعر دیکھیے: ولكنما اسعى لمجدٍ مؤثلٍ مجد کہتے ہیں عظمت کو بھئی۔ مجد کا کیا معنیٰ؟ عظمت بھئی، عظیم ہونا، بڑا ہونا۔ مؤثل، مؤثل کا معنیٰ ہے پائیدار بھئی، دیرپا یعنی دائمی دائمی، جو ہمیشہ رہنے والی ہو۔ ولكنما اسعى لمجدٍ مؤثلٍ لیکن میں کوشش کرتا ہوں لمجدٍ مؤثلٍ پائیدار عظمت کے لیے۔ میں کوشش کرتا ہوں، یوں کہو دائمی، میں کوشش کرتا ہوں دائمی عظمت کے لیے کہ میں دائمی طور پر عظیم بن جاؤں بھئی۔ تو کہتے ہیں ولكنما اسعى لمجدٍ مؤثلٍ لیکن میں کوشش کرتا ہوں دیرپا عظمت کے لیے، وقد يدرك المجد المؤثل امثالي۔ ادرک یدرک کا معنیٰ پا لینا، حاصل کر لینا اور تحقیق پا لیا کرتے ہیں المجد المؤثلا دائمی عظمت کو۔ دائمی عظمت کو پا لیا کرتے ہیں، کون بھئی؟ امثالي، یہ فاعل ہے یدرک کے لیے۔ امثالي، امثال جمع ہے مثل کی اور یا ضمیر متکلم کی ہے، میرے جیسے لوگ۔ وقد يدرك المجد المؤثل امثالي اور تحقیق دائمی عظمت کو میرے جیسے لوگ پا لیا کرتے ہیں، حاصل کر لیا کرتے ہیں۔ معنیٰ سمجھ میں آیا؟ پھر سنو اس دوسرے شعر کا ترجمہ: ولكنما اسعى لمجدٍ مؤثلٍ وقد يدرك المجد المؤثل امثالي لیکن میں کوشش کرتا ہوں دائمی عظمت کے لیے، پائیدار عظمت کے لیے وقد يدرك المجد المؤثل امثالي اور تحقیق میرے جیسے لوگ جو ہیں وہ پائیدار عظمت کو حاصل کر لیا کرتے ہیں۔ وہ پائیدار عظمت کو حاصل کر لیتے ہیں۔ معنیٰ سمجھ میں آ گیا۔ تو یہ شعر ہے بھئی اور کوفہ والے وہ یہ شعر کو دلیل کے طور پر ذکر کرتے ہیں ولو انما اسعى لادنى معيشةٍ كفاني ولم اطلب قليلٌ من المال۔ کوفہ والوں کے نزدیک پہلے فعل کو عامل بنانا اولٰی ہے۔ وہ کہتے ہیں دیکھو اس شعر کے اندر کفانی اور ولم اطلب، ان دونوں کے درمیان تنازع ہے قلیلٌ من المال کے بارے میں۔ کفانی چاہتا ہے کہ قلیلٌ من المال میرے لیے فاعل بنے، میں اس کو رفع دوں۔ کفانی اس کو رفع دینا چاہتا ہے اور ولم اطلب، اس کے اندر انا ضمیر فاعل کی ہے تو یہ قلیلٌ من المال کو نصب دینا چاہتا ہے، یہ اس کو اپنا مفعول بنانا چاہتا ہے۔ اور امرؤالقیس نے اس شعر میں قلیلٌ من المال اس کو مرفوع پڑھا ہے یا منصوب پڑھا ہے؟ اس کو مرفوع پڑھا ہے، اس پر رفع پڑھا ہے۔ معلوم ہوا انہوں نے پہلے فعل کفانی کو اس کے اندر عامل بنایا، کیونکہ کفانی اس کے رفع کا تقاضا کر رہا ہے۔ اگر ولم اطلب کو وہ عامل بناتا تو پھر تو قلیلاً من المال اس کو منصوب ہونا چاہیے تھا بھئی۔ تو بات کس کی چل رہی ہے؟ کوفہ والوں کی۔ ان کا مذہب یہ ہے کہ پہلے فعل کو عامل بنانا اولٰی اور کہتے ہیں دیکھو امرؤالقیس جو عرب کا سب سے فصیح و بلیغ شاعر تھا، اس نے پہلے فعل کو عامل بنایا ہے اس شعر کے اندر۔ معلوم ہوا پہلے فعل کو عامل بنانا اولٰی ہے، کیونکہ وہ سب سے فصیح و بلیغ شاعر ہے اور وہ پہلے کو عامل بنا رہا ہے۔ معلوم ہوا پہلے ہی کو عامل بنانا اولٰی ہے۔ اگر ثانی کو عامل بنانا اولٰی ہوتا تو پھر وہ ثانی کو عمل دے دیتا اور نیز دونوں کا عمل برابر بھی نہیں ہے، کیونکہ علماء کے دو ہی گروہ ہیں۔ کچھ بصرہ والے ہیں، کچھ کوفہ والے۔ بصرہ والے کیا کہتے ہیں؟ کس کو عامل بنانا اولٰی؟ دوسرے کو عامل بنانا اولٰی اور کوفہ والے کیا کہتے ہیں؟ پہلے کو عامل بنانا اولٰی۔ تو کسی کے نزدیک بھی دونوں کا عمل برابر نہیں ہے کہ چاہے پہلے کو عمل دے دو، چاہے دوسرے کو دے دو، دونوں برابر ہیں۔ نہیں، نہیں۔ بعض نے دوسرے کو عامل بنانے کو ترجیح دی ہے اور بعض نے پہلے کو عامل بنانے کو ترجیح دی ہے۔ تو یہاں امرؤالقیس عرب کا فصیح و بلیغ شاعر پہلے فعل کو عامل بنا رہا ہے، معلوم ہوا پہلے کو عامل بنانا اولٰی ہے جبھی وہ پہلے کو عامل بنا رہا ہے بھئی۔ اگر ثانی کو عامل بنانا بہتر ہوتا تو وہ ثانی کو عامل بناتا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو بصرہ والے اس کا جواب دیتے ہیں۔ صاحبِ کافیہ بصرہ والوں کی طرف سے جواب دیتے ہیں کہ بھئی یہ جو شعر کوفہ والوں نے ذکر کیا ولو انما اسعى لادنى معيشةٍ كفاني ولم اطلب قليلٌ من المال اور کوفہ والے کیا کہتے ہیں؟ کفانی اور ولم اطلب دونوں قلیلٌ من المال کے بارے میں جھگڑ رہے ہیں۔ ایک چاہتا ہے میں عامل بنوں، دوسرا چاہتا ہے میں عامل بنوں۔ تو صاحبِ کافیہ جواب دیتے ہیں بصرہ والوں کی طرف سے کہ یہ شعر تنازعِ فعلین کے باب سے ہی نہیں ہے، یہاں تنازعِ فعلین ہے ہی نہیں۔ اگر آپ یہاں تنازعِ فعلین مانیں گے تو معنیٰ ہی خراب ہو جائے گا۔ معنیٰ ہی خراب ہو جائے گا۔ جواب سمجھ میں آیا؟ میں ابھی تفصیل بیان کرتا ہوں کس طرح معنیٰ خراب ہو گا، لیکن بس حاصلِ جواب یہ ہے کہ صاحبِ کافیہ کیا جواب دے رہے ہیں بصرہ والوں کی طرف سے؟ کہ یہاں تنازعِ فعلین کو اگر آپ مانیں گے تو پھر تو شعر کا معنیٰ ہی خراب ہو جائے گا، معنیٰ ہی فاسد ہو جائے گا۔ لہٰذا یہاں تنازعِ فعلین ہے ہی نہیں بھئی۔ آپ کا یہ دعویٰ ہی تسلیم نہیں کہ یہاں تنازعِ فعلین ہے، کیونکہ اس صورت میں سارے شعر کا معنیٰ خراب ہو جاتا ہے۔ دیکھیے بھئی، پہلے متن متن دیکھ لیں۔ کہتے ہیں: وقول امرئ القيس كفاني ولم اطلب قليلٌ من المال ليس منه۔ اور امرؤالقیس کا جو قول ہے کہ كفاني ولم اطلب قليلٌ من المال ليس منه، یہ تنازعِ فعلین کے باب سے نہیں ہے، لفساد المعنى معنیٰ کے فاسد ہو جانے کی وجہ سے۔ یعنی اگر آپ تنازعِ فعلین مانیں گے تو شعر کا معنیٰ فاسد ہو جائے گا، خراب ہو جائے گا۔ اب شعر کا معنیٰ کس طرح خراب ہوتا ہے، وہ سمجھ لیں۔ سب سے پہلے یاد رکھیں بھئی کہ اس شعر کے اندر لو آیا، ولو انما اسعى۔ یاد رکھو یہ لو حرفِ شرط ہے۔ یہ شرط اور جزا پر داخل ہوتا ہے، جیسے ان حرفِ شرط ہے۔ تو ان اور لو حرفِ شرط ہیں اور یہ دونوں دو دو جملوں پر داخل ہوتے ہیں، پہلے کو کہتے ہیں شرط اور دوسرے کو کہتے ہیں جزا۔ ان جئتني اكرمتك، تو ان جئتني اكرمتك اگر آپ میرے پاس آئیں گے تو میں آپ کا اکرام کروں گا۔ تو دیکھو ان جئتني، جئتني ایک جملہ اور اكرمتك دوسرا جملہ۔ پہلے جملے کو کیا کہیں گے؟ شرط اور دوسرے کو کہیں گے جزا۔ تو ان بھی حرفِ شرط ہے، لو بھی حرفِ شرط ہے اور یہ دونوں دو جملوں پر داخل ہوتے ہیں، پہلے کو شرط کہتے ہیں، دوسرے کو جزا۔ اور دونوں میں فرق یہ ہے کہ ان جو ہے یہ مستقبل کے لیے آتا ہے اور لو جو ہے ماضی کے لیے آتا ہے، یعنی ان، ان مستقبل کے لیے آتا ہے چاہے وہ ماضی پر ہی کیوں نہ داخل ہو، اس ماضی کو وہ مستقبل کے معنیٰ میں کر دیتا ہے۔ ان جئتني، جئت دیکھو یہ ماضی کا صیغہ ہے، لیکن ترجمہ میں مستقبل والا کر رہا ہوں: ان جئتني اگر آپ میرے پاس آئیں گے، اكرمتك یہ بھی ماضی کا صیغہ ہے لیکن میں ترجمہ مستقبل والا کر رہا ہوں: تو میں آپ کا اکرام کروں گا۔ تو یہ ماضی کے صیغے ہیں لیکن ان کا معنیٰ مستقبل کی طرف ان نے بدل دیا: ان جئتني اكرمتك اگر آپ میرے پاس آئیں گے تو میں آپ کا اکرام کروں گا۔ تو ان جو ہے یہ مستقبل کے لیے آتا ہے، یہ اگر ماضی پر بھی داخل ہو جائے تو اس کو مستقبل کے معنیٰ میں کر دیتا ہے، جبکہ لو جو ہے وہ ماضی کے لیے آتا ہے، اگر وہ مضارع پر بھی داخل ہو جائے تو مضارع کو بھی ماضی کے معنیٰ میں کر دے گا، جیسے، جیسے جیسے لو تجيئني اكرمك۔ لو تجيئني اكرمك، لو تجيئني دیکھو مضارع ہے، اكرمك یہ، یہ بھی فعلِ مضارع ہے لیکن یہ لو نے دونوں کو ماضی کے معنیٰ میں کر دیا۔ کیا ترجمہ ہو گا؟ لو تجيئني اگر آپ میرے پاس آئے ہوتے، اكرمك تو میں نے آپ کا اکرام کیا ہوتا۔ اگر آپ میرے پاس آئے ہوتے، دیکھا یہ ماضی والا ترجمہ ہے، تو میں نے آپ کا اکرام کیا ہوتا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو ان بھی حرفِ شرط ہے، لو بھی حرفِ شرط لیکن ان آتا ہے مستقبل کے لیے اور لو آتا ہے ماضی کے لیے اور یہ دونوں دو دو جملوں پر داخل ہوتے ہیں۔ پھر یہ بھی یاد رکھنا کہ یہ جو لو ہے، یہ آتا ہے انتفائے ثانی کے لیے بوجہ انتفائے اول کے۔ لو دو چیزوں پر، دو جملوں پر داخل ہوا، ایک شرط، دوسری جزا۔ لو آتا ہے کہ ثانی منتفی ہے، کیوں منتفی ہے؟ کیونکہ اول منتفی ہے۔ لو جئتني لاكرمتك اگر آپ میرے پاس آئے ہوتے تو میں آپ کا اکرام کرتا۔ اول کیا؟ لو جئتني اگر آپ میرے پاس آئے ہوتے اور ثانی کیا ہے؟ لاكرمتك یہ جزا ہے: تو میں نے آپ کا اکرام کیا ہوتا اور لو کس لیے آتا ہے؟ انتفائے ثانی، یعنی ثانی منتفی ہے، ثانی نہیں ہے، کیوں نہیں ہے؟ کیونکہ اول نہیں ہے۔ تو لو کس لیے آتا ہے؟ زبان سے دہرائیں: انتفائے ثانی کے لیے بوجہ انتفائے اول کے کہ ثانی نہیں ہے کیونکہ اول نہیں ہے۔ تو لو جئتني، دیکھو اب ترجمے پہ غور کرو: لو جئتني اگر آپ میرے پاس آئے ہوتے، لاكرمتك تو میں نے آپ کا اکرام کیا ہوتا۔ معلوم ہوا میں نے آپ کا اکرام نہیں کیا، ثانی منتفی ہے۔ اگر آپ آئے ہوتے تو میں نے اکرام کیا ہوتا، معلوم ہوا میں نے اکرام نہیں کیا اور کیوں نہیں کیا؟ کیونکہ آپ آئے ہی نہیں یعنی اول منتفی ہے۔ ثانی یعنی اکرام منتفی ہے، کیوں منتفی ہے؟ کیونکہ آپ آئے نہیں یعنی اول منتفی ہے۔ تو ثانی منتفی ہے بوجہ انتفائے اول کے۔ تو لو کس لیے آتا ہے؟ انتفائے ثانی کے لیے بوجہ انتفائے اول کے کہ ثانی منتفی ہے یعنی ثانی نہیں ہے کیونکہ اول نہیں ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی۔ دوسرے الفاظ میں یوں سمجھو، دوسرے الفاظ میں اسی بات کو کہ لو جو ہے مثبت کو منفی میں بدل دیتا ہے اور منفی کو مثبت میں بدل دیتا ہے۔ لو مثبت کو منفی میں بدل دیتا ہے اور منفی کو مثبت، دیکھو لو جئتني، جئتني اس کے ساتھ کوئی حرفِ نفی ہے؟ ما یا لم وغیرہ کوئی حرفِ نفی ہے؟ نہیں اور اسی طرح لو جئتني لاكرمتك، لاكرمت پر کوئی حرفِ نفی ہے؟ اس پر بھی کوئی حرفِ نفی نہیں، تو جئتني یہ بھی مثبت اور لاكرمتك یہ بھی مثبت، لیکن لو نے دونوں کو منفی کر دیا۔ کیا ترجمہ کیا آپ نے؟ لو جئتني اگر آپ آئے ہوتے تو میں نے آپ کا اکرام کیا ہوتا۔ معلوم ہوا آپ آئے بھی نہیں اور میں نے اکرام بھی نہیں کیا، دیکھو دونوں منفی ہو گئے۔ تو لو کس لیے آتا ہے؟ یہ لو آتا ہے انتفائے ثانی کے لیے بوجہ انتفائے اول کے۔ دوسرے الفاظ میں یوں کہو کہ لو جو ہے مثبت کو منفی میں بدل دیتا ہے اور منفی کو مثبت میں۔ لو جئتني لاكرمتك معلوم ہوا آپ آئے بھی نہیں اور میں نے اکرام بھی نہیں کیا اور یہ اسی طرح منفی جو ہے، اس کو یہ مثبت میں بدل دیتا ہے۔ منفی کو مثبت میں بدل دیتا ہے، جیسے دیکھو: جیسے لو لم تجيئني لم اكرمك۔ لو لم تجيئني، یہ لکھیں اپنے سامنے کاپی پر ذرا یہ جملہ لکھیں: لو لم تجيئني، لو لم تجيئني لم اكرمك، لم اكرمك۔ لکھ لیا؟ دیکھو لو داخل ہو رہا ہے اور لم تجيئني یہ بھی منفی ہے اور لم اكرمك یہ بھی کیا ہے؟ منفی اور یہ دونوں کو دیکھو مثبت بنا دے گا۔ لو لم تجيئني اگر آپ میرے پاس نہ آئے ہوتے، لم اكرمك تو میں نے آپ کا اکرام نہ کیا ہوتا۔ کیا معنیٰ؟ معلوم ہوا آپ آئے بھی ہیں اور میں نے اکرام بھی کیا ہے۔ پھر سنو: لو لم تجيئني اگر آپ نہ آئے ہوتے، لم ہے یا نہیں؟ تو نفی کے ساتھ ترجمہ کرو: اگر آپ میرے پاس نہ آئے ہوتے تو میں نے آپ کا اکرام نہ کیا ہوتا۔ کیا معنیٰ؟ معلوم ہوا آپ آئے بھی ہیں اور میں نے آپ کا اکرام بھی کیا ہے، اگر آپ نہ آئے ہوتے تو میں نے آپ کا اکرام بھی نہ کیا ہوتا۔ تو دیکھو یہ دونوں منفی ہیں۔ دونوں پہ لم داخل ہو رہا ہے، لیکن لو نے اس کو مثبت کر دیا، معلوم ہوا آپ آئے بھی ہیں اور میں نے آپ کا اکرام بھی کیا ہے۔ تو لو کیا کرتا ہے؟ مثبت کو منفی میں بدل دیتا ہے اور منفی کو مثبت میں بدل دیتا ہے بھئی۔ دوسری بات یہ یاد رکھیں کہ یاد رکھو معطوف کا وہی حکم ہوتا ہے جو معطوف علیہ کا، یعنی اگر معطوف علیہ فاعل ہے تو معطوف بھی کیا ہوتا ہے؟ فاعل۔ اگر معطوف علیہ خبر ہے تو معطوف بھی کیا ہو گی؟ خبر۔ اگر معطوف علیہ مفعول بہ ہے تو معطوف بھی کیا ہو گا؟ مفعول بہ۔ بھئی جس چیز پر آپ عطف کریں گے تو معطوف کا وہی حکم ہو گا جو کس کا تھا؟ معطوف علیہ کا، جیسے ضربت زيداً وعمراً، یہ زيداً کیا ہے؟ معطوف علیہ اور عمراً کا آپ نے اسی پر عطف کر دیا۔ تو ترکیب کے اندر زيداً کیا بن رہا ہے؟ مفعول بہ ہے تو اس پر جو معطوف ہے عمراً وہ بھی کیا ہے دراصل؟ وہ بھی مفعول بہ ہے۔ یہ عمراً کا عطف کس پر؟ زيداً پر اور زيداً یہاں کیا ہے؟ یہ معطوف علیہ ہے اور مفعول بہ بن رہا ہے۔ معلوم ہوا اس پر ضرب واقع ہے اور اسی پر آپ نے عمراً کا عطف کیا تو معلوم ہوا عمراً بھی مفعول بہ ہے، معلوم ہوا اس پر بھی ضرب واقع ہوئی ہے یا میں کہتا ہوں جاءني زيدٌ وعمروٌ، یہ زيدٌ کیا ہے؟ فاعل اور اسی پر میں نے عمروٌ کا عطف کر دیا ہے، تو عمروٌ بھی کیا ہے؟ فاعل ہے، معلوم ہوا مجیئت دونوں کے لیے ثابت ہے، زید کے لیے بھی اور عمر کے لیے بھی۔ تو بتلانا میں یہ چاہتا ہوں کہ معطوف کا وہی حکم ہوتا ہے جو معطوف علیہ کا ہوتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اب آئیے بھئی اس شعر پر۔ بات یہ چل رہی تھی، کوفہ والوں نے اس شعر کو بطورِ دلیل کے ذکر کیا اور کیا کہا؟ کہ کفانی اور ولم اطلب جو ہیں وہ جھگڑ رہے ہیں قلیلٌ من المال میں۔ اب بصرہ والوں کی طرف سے صاحبِ کافیہ جواب دے رہے ہیں کہ یہاں، یہاں کفانی اور ولم اطلب ان کے درمیان قلیلٌ من المال کے بارے میں جھگڑا نہیں ہے۔ اگر آپ اس جھگڑے کو مانیں گے تو معنیٰ ہی اس شعر کا خراب ہو جائے گا۔ کس طرح معنیٰ خراب ہو گا؟ دیکھو بھئی: ولو انما اسعى لادنى معيشةٍ دیکھو یہ ہے شرط بھئی اور كفاني یہ کیا ہے؟ جزا، توجہ ہے؟ جزا اور ولم اطلب یہ عطف ہے اسی كفاني پر۔ توجہ ہے؟ اس کا عطف کس پر ہے؟ كفاني پر اور كفاني کیا ہے؟ جزا، تو معلوم ہوا ولم اطلب بھی جزا کے حکم میں ہے، وہ بھی جزا ہے، وہ بھی جزا ہے۔ تو معلوم ہوا ان دونوں پر لو داخل ہے۔ لو دو جملوں پر داخل ہوتا ہے، اَنَّمَا اَسْعٰی لِاَدْنٰی مَعِیْشَۃٍ یہ پہلا جملہ اور کَفَانِیْ یہ دوسرا جملہ ہے اور اسی پر لَمْ اَطْلُبْ کا عطف بھی ہے معلوم ہوا اس پر بھی لو داخل ہے اور لو کیا کرتا ہے؟ مثبت کو منفی کر دیتا ہے اور منفی کو مثبت کر دیتا ہے۔ توجہ ہے؟ اب سنو، وَلَوْ اَنَّمَا اَسْعٰی لِاَدْنٰی مَعِیْشَۃٍ امرؤ القیس کہتا ہے اگر وَلَوْ اَنَّمَا اَسْعٰی اور اگر میں کوشش کرتا لِاَدْنٰی مَعِیْشَۃٍ تھوڑی سی روزی کے لیے۔ اگر میں کوشش کرتا تھوڑی سی روزی کے لیے، معلوم ہوا میں تھوڑی روزی کے لیے کوشش نہیں کرتا۔ یہ مثبت ہے نا؟ تو اس کو کس سے بدل دو؟ منفی۔ اگر میں تھوڑی سی روزی کے لیے کوشش کرتا، کَفَانِیْ قَلِیْلٌ مِّنَ الْمَالِ تو میرے لیے تھوڑا سا مال کافی ہو جاتا۔ توجہ ہے؟ اگر میں تھوڑی روزی کے لیے کوشش کرتا تو تھوڑا سا مال میرے لیے کافی ہو جاتا۔ معلوم ہوا میں تھوڑی روزی کے لیے کوشش نہیں کرتا اور تھوڑا سا مال میرے لیے کافی نہیں ہے۔ دیکھو لو نے دونوں کو کس میں بدل دیا؟ منفی میں۔ معلوم ہوا میں تھوڑی روزی کے لیے یعنی یوں کہو میں تھوڑے مال کے لیے کوشش نہیں کرتا۔ وَلَوْ اَنَّمَا اَسْعٰی لِاَدْنٰی مَعِیْشَۃٍ اس سے کیا پتہ چلا؟ کہ میں تھوڑی روزی یعنی تھوڑے مال کے لیے کوشش نہیں کرتا اور کَفَانِیْ قَلِیْلٌ مِّنَ الْمَالِ اس سے کیا پتہ چلا؟ کہ میرے لیے تھوڑا سا مال کافی نہیں۔ اگر لَمْ اَطْلُبْ کے بارے میں کہا جائے کہ یہ بھی قَلِیْلٌ مِّنَ الْمَالِ کی طرف متوجہ ہے، توجہ ہے؟ بھئی دیکھو نا، اگر تنازع مانا جائے کَفَانِیْ اور لَمْ اَطْلُبْ دونوں قَلِیْلٌ مِّنَ الْمَالِ میں جھگڑ رہے ہیں تو ایک کو عامل بنا دیا قَلِیْلٌ مِّنَ الْمَالِ اور دوسرے کے لیے مفعول محذوف ہو جائے گا۔ کیا ہو جائے گا؟ محذوف ہو جائے گا۔ توجہ ہے؟ تو معلوم ہوا کہ وَلَمْ اَطْلُبْ اس کے لیے بھی مفعول قَلِیْلًا مِّنَ الْمَالِ کو نکال لیں گے۔ وَلَمْ اَطْلُبْ قَلِیْلًا مِّنَ الْمَالِ اور میں تھوڑا سا مال طلب نہ کرتا۔ توجہ ہے؟ لفظی ترجمہ کیا؟ پھر سنو لفظی ترجمہ۔ وَلَوْ اَنَّمَا اَسْعٰی لِاَدْنٰی مَعِیْشَۃٍ اگر میں تھوڑی سی روزی کے لیے یعنی تھوڑے سے مال کے لیے کوشش کرتا، کَفَانِیْ قَلِیْلٌ مِّنَ الْمَالِ تو تھوڑا سا مال میرے لیے کافی ہو جاتا وَلَمْ اَطْلُبْ اور میں طلب نہ کرتا تھوڑے مال کو۔ اور میں، بھئی یہ اسی قَلِیْلًا میں جھگڑ رہا ہے نا اگر آپ کی بات تسلیم کر لی جائے تو پھر لَمْ اَطْلُبْ کا مفعول یہ قَلِیْلًا مِّنَ الْمَالِ ہی ہے لیکن حذف کر دیا گیا۔ وَلَمْ اَطْلُبْ قَلِیْلًا مِّنَ الْمَالِ اور میں تھوڑا سا مال طلب نہ کرتا۔ اور یہ لَمْ اَطْلُبْ یہ نفی ہے۔ یہ، اور لو کیا کرتا ہے؟ مثبت کو منفی میں بدلتا ہے اور منفی کو مثبت میں بدلتا ہے اور یہاں ہے وَلَمْ اَطْلُبْ اور میں طلب نہ کرتا تھوڑا مال، اس کو مثبت میں بدل دو۔ اور میں تھوڑا مال طلب کرتا۔ اور میں تھوڑا مال طلب کرتا، توجہ ہے؟ اور میں تھوڑا مال طلب کرتا، یہ تو دونوں کے منافی ہے، پیچھے جو دونوں باتیں کی تھیں یہ اس کے منافی بن گئی بات، کس طرح؟ پیچھے کیا کہا تھا؟ کہ میں تھوڑے مال کے لیے کوشش نہیں کرتا، میں تھوڑا مال طلب نہیں کرتا اور آگے کیا کہہ رہا ہے؟ میں تھوڑا مال طلب کرتا ہوں، یہ تو دونوں ایک دوسرے کے منافی ہیں، پہلے کہہ رہا ہے میں طلب نہیں کرتا، آگے کہہ رہا ہے میں تھوڑا مال طلب کرتا ہوں۔ نیز پیچھے کیا کہا تھا؟ کہ تھوڑا مال میرے لیے کافی نہیں، آگے کہہ رہا ہے میں تھوڑا مال طلب کرتا ہوں، معلوم ہوا تھوڑا مال میرے لیے کافی ہے، جبھی طلب کروں گا نا، ویسے تو طلب نہیں کروں گا۔ تو یہ جو لَمْ اَطْلُبْ کو اگر اس میں یہ تسلیم کیا جائے کہ یہ بھی قَلِیْلٌ مِّنَ الْمَالِ کی طرف متوجہ ہے پھر تو معنی خراب ہو جائے گا، یہ پہلی دونوں باتوں کے منافی ہو جائے گا۔ پہلی دو باتیں کیا؟ کہ میں تھوڑے مال کے لیے کوشش نہیں کرتا اور تھوڑا مال میرے لیے کافی بھی نہیں اور آگے کہہ دیا وَلَمْ اَطْلُبْ اور یہ نفی ہے اور لو نفی کو کس سے بدلتا ہے؟ مثبت سے، معلوم ہوا میں تھوڑے مال کو طلب کرتا ہوں۔ پیچھے کہا میں طلب نہیں کرتا، آگے کہہ دیا میں تھوڑے مال کو طلب کرتا ہوں اور پیچھے کہا کہ تھوڑا مال میرے لیے کافی نہیں اور آگے کہا میں طلب کرتا ہوں، اس سے کیا پتہ چلا؟ کہ تھوڑا مال میرے لیے کافی ہے تو یہ تو دونوں کے منافی ہو گئی یہ بات۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو لہٰذا صاحبِ قافیہ جواب دیتے ہیں بصرہ والوں کی طرف سے کہ اے کوفہ والو! اگر کَفَانِیْ اور لَمْ اَطْلُبْ جو ہے اس کے اندر تنازع کو تسلیم کر لیا جائے کہ یہ دونوں جھگڑ رہے ہیں قَلِیْلٌ مِّنَ الْمَالِ کے بارے میں تو پھر اس صورت میں معنی خراب ہو جاتا ہے۔ معلوم ہوا لَمْ اَطْلُبْ قَلِیْلٌ مِّنَ الْمَالِ کی طرف متوجہ ہی نہیں ہے، یہ اس میں عمل کرنا ہی نہیں چاہتا ورنہ تو معنی خراب ہو جائے گا، پھر اس کا مفعول کیا ہے؟ تو کہتے ہیں اس کا مفعول اَلْمَجْدَ الْمُؤَثَّلَ محذوف ہے۔ وَلَمْ اَطْلُبِ الْمَجْدَ الْمُؤَثَّلَا اور میں اور میں دائمی عظمت کو طلب نہ کرتا، معلوم ہوا میں دائمی عظمت کو طلب کرتا ہوں۔ تو لَمْ اَطْلُبْ کا مفعول کیا ہے؟ محذوف ہے اور وہ کیا ہے؟ اَلْمَجْدَ الْمُؤَثَّلَ بھئی، دائمی عظمت وہ اس کا مفعول ہے اور اس کو حذف کر دیا کیونکہ آگے آنے والا شعر جو ہے وہ اس پر دلالت کر رہا تھا، دیکھو وَلٰکِنَّمَا اَسْعٰی لِمَجْدٍ مُّؤَثَّلٍ میں کس کے لیے کوشش کرتا ہوں؟ دیرپا عظمت کے لیے میں کوشش کرتا ہوں، معلوم ہوا میں دیرپا عظمت کو طلب کرتا ہوں، تو لَمْ اَطْلُبْ کا مفعول محذوف ہے اور آگے آنے والا شعر اس پر دلالت کر رہا ہے اور وہ کیا ہے؟ وہ مفعول کیا ہے لَمْ اَطْلُبْ کا؟ اَلْمَجْدَ الْمُؤَثَّلَا دیرپا عظمت، دائمی عظمت جو ہے میں اس کو طلب کرتا ہوں۔ اب دیکھو معنی بہترین ہو گیا، سنو بھئی، وَلَوْ اَنَّمَا اَسْعٰی لِاَدْنٰی مَعِیْشَۃٍ اور اگر میں تھوڑی سی روزی کے لیے کوشش کرتا تو کَفَانِیْ قَلِیْلٌ مِّنَ الْمَالِ تو تھوڑی سی روزی میرے لیے کافی ہو جاتی وَلَمْ اَطْلُبِ الْمَجْدَ الْمُؤَثَّلَا اور میں دائمی عظمت کو طلب نہ کرتا۔ اگر میں تھوڑی روزی طلب کرتا اور وہ میرے لیے کافی ہوتی تو پھر میں دائمی عظمت کو طلب نہ کرتا۔ اب دیکھو شعر کا معنی بہترین ہو گیا، کیا؟ وَلَوْ اَنَّمَا اَسْعٰی لِاَدْنٰی مَعِیْشَۃٍ معلوم ہوا میں تھوڑی روزی کے لیے کوشش نہیں کرتا اور کَفَانِیْ قَلِیْلٌ مِّنَ الْمَالِ اور تھوڑا سا مال میرے لیے کافی نہیں وَلَمْ اَطْلُبِ الْمَجْدَ الْمُؤَثَّلَا اور میں دائمی عظمت کو طلب کرتا ہوں بھئی۔ میں، لَمْ ہے نا نفی ہے اور لو کیا کرتا ہے؟ نفی کو کس سے بدلتا ہے؟ مثبت سے بدلتا ہے، تو کہتے ہیں میں اس کے لیے کوشش کرتا ہوں، میں تھوڑی روزی کے لیے کوشش نہیں کرتا بلکہ دائمی عظمت کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہوں بھئی، معنی سمجھ میں آ گیا۔ جی، اب دیکھیے ترجمہ بھئی۔ کہتے ہیں وَلَمَّا اسْتَدَلَّ الْکُوْفِیُّوْنَ عَلٰی اَوْلَوِیَّۃِ اِعْمَالِ الْفِعْلِ الْاَوَّلِ اور جب استدلال کیا یعنی دلیل بنائی، استدلال کا معنی ہے دلیل بنانا، وَلَمَّا اسْتَدَلَّ الْکُوْفِیُّوْنَ اور جب کوفہ والوں نے دلیل بنائی عَلٰی اَوْلَوِیَّۃِ اِعْمَالِ الْفِعْلِ الْاَوَّلِ فعلِ اول کو عامل بنانے کے اولیٰ ہونے پر کہ فعلِ اول کو عامل بنانا اولیٰ ہے اس پر جب کوفہ والوں نے استدلال کیا بِقَوْلِ امْرِئِ الْقَیْسِ امرؤ القیس کے اس قول کے ساتھ: وَلَوْ اَنَّمَا اَسْعٰی لِاَدْنٰی مَعِیْشَۃٍ اور اگر میں کوشش کرتا تھوڑی سی روزی کے لیے، کَفَانِیْ قَلِیْلٌ مِّنَ الْمَالِ تو تھوڑا سا مال میرے لیے کافی ہو جاتا، وَلَمْ اَطْلُبْ اور میں طلب نہ کرتا اَلْمَجْدَ الْمُؤَثَّلَا دائمی عظمت کو۔ حَیْثُ قَالُوْا اس طور پر کہ کوفہ والوں نے کہا، ان کی اب دلیل ذکر کر رہے ہیں، حَیْثُ قَالُوْا اس حیثیت سے کہ انہوں نے کہا قَدْ تَوَجَّہَ الْفِعْلَانِ کہ تحقیق دونوں فعل متوجہ ہیں، کون سے دونوں فعل؟ اَعْنِیْ کَفَانِیْ وَلَمْ اَطْلُبْ یعنی کَفَانِیْ اور لَمْ اَطْلُبْ یہ دونوں فعل متوجہ ہیں اِلٰی اسْمٍ وَّاحِدٍ ایک ہی اسم کی طرف وَھُوَ قَلِیْلٌ مِّنَ الْمَالِ اور وہ قَلِیْلٌ مِّنَ الْمَالِ ہے، فَقْتَضَی الْاَوَّلُ رَفْعَہٗ بِالْفَاعِلِیَّۃِ تو تقاضا کیا پہلے فعل نے یعنی کَفَانِیْ نے رَفْعَہٗ اس قَلِیْلٌ مِّنَ الْمَالِ کے رفع کا بِالْفَاعِلِیَّۃِ فاعل ہونے کی وجہ سے وَالثَّانِیْ نَصْبَہٗ اور دوسرے فعل نے اس کے نصب کا تقاضا کیا، دوسرا فعل کون؟ لَمْ اَطْلُبْ، اور دوسرا فعل لَمْ اَطْلُبْ اس نے اس قَلِیْلٌ مِّنَ الْمَالِ کے نصب کا تقاضا کیا بِالْمَفْعُوْلِیَّۃِ مفعول ہونے کی وجہ سے۔ وَاِمْرُؤُ الْقَیْسِ الَّذِیْ ھُوَ اَفْصَحُ شُعَرَاءِ الْعَرَبِ اور امرؤ القیس جو عرب کے شعراء میں عرب کے شاعروں میں سب سے فصیح ہے، اَعْمَلَ الْاَوَّلَ اس نے پہلے فعل کو عامل بنایا، فَلَوْ لَمْ یَکُنْ اِعْمَالُ الْاَوَّلِ اَوْلٰی اگر پہلے فعل کو عامل بنانا اولیٰ نہ ہوتا لَمَا اخْتَارَہٗ تو وہ اس پہلے کے عامل بنانے کو اختیار نہ کرتا اِذْ لَا قَائِلَ بِتَسَاوِی الْاِعْمَالَیْنِ اس لیے کیونکہ کوئی بھی قائل نہیں ہے اس بات کا کہ دونوں کو عامل بنانا برابر ہے۔ آپ یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ اس کے نزدیک دونوں کو عامل بنانا برابر ہو گا، امرؤ القیس کے نزدیک پہلے چاہے پہلے کو عامل بناؤ چاہے ثانی کو عامل بناؤ، تو اس کے نزدیک دونوں کیا ہوں گے؟ برابر ہوں گے۔ کہتے ہیں یہ آپ نہیں کہہ سکتے، اس لیے کیونکہ علماء میں سے کوئی بھی اس بات کی طرف نہیں گیا کہ دونوں کو عامل بنانا برابر ہے بلکہ کوفہ والے کہتے ہیں اول کو عامل بنانا اولیٰ اور بصرہ والے کہتے ہیں ثانی کو عامل بنانا اولیٰ ہے، تو معلوم ہوا دونوں کو عامل بنانا برابر نہیں، دونوں کو عامل بنانا برابر نہیں، معلوم ہوا ایک اولیٰ ہے دوسرا خلافِ اولیٰ ہے اور امرؤ القیس پہلے کو عامل بنا رہا ہے اور وہ عرب کا سب سے فصیح و بلیغ شاعر ہے، معلوم ہوا اس نے وہی صورت اختیار کی ہو گی جو سب سے اعلیٰ اور افضل ہے یعنی پہلے کو عامل بنانا افضل ہے اس سے پتہ چل گیا، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں اِذْ لَا قَائِلَ بِتَسَاوِی الْاِعْمَالَیْنِ اس لیے کیونکہ کوئی بھی قائل نہیں ہے دونوں فعلوں کو عامل بنانے میں برابری کا۔ بھئی یہاں امرؤ القیس لفظ آیا بھئی، یاد رکھو اس میں یہ جو امْرُؤٌ لفظ ہے یہ عربی کا عجیب لفظ ہے بھئی، پورے کلامِ عرب میں ایک دو لفظ بس ایسے ہیں، اس کے اندر امْرُؤٌ کے اندر دیکھو آخر میں کیا ہے؟ ہمزہ اور آپ جانتے ہیں کہ اعراب آخری حرف پر آتا ہے لیکن یہ امْرُؤٌ ایسا عجیب لفظ ہے کہ اس کے اندر آخر میں ہمزہ پر جو اعراب ہو گا، ماقبل میں راء پر بھی ویسی ہی حرکت لائیں گے۔ اگر ہمزہ پر رفع پڑھتے ہیں تو راء پر بھی ضمہ لائیں گے۔ راء پر بھی ضمہ لائیں گے۔ اور اگر ہمزہ پر نصب ہوا تو راء پر بھی فتحہ لائیں گے، اسی جیسی حرکت لے آئیں گے اور اگر ہمزہ پر جر آیا تو پھر راء پر بھی کسرہ لے آئیں گے۔ جَاءَنِیْ امْرُؤُ الْقَیْسِ امرؤ القیس فاعل ہے نا تو ہمزہ پر کیا آیا؟ رفع، تو راء پر بھی ضمہ پڑھیں گے، یہ راء پر اعراب نہیں ہے، یہ ویسے حرکت ہے، تو جو اعراب اس لفظ پر آتا ہے تو آخر سے ماقبل جو راء ہے اس پر بھی ویسی ہی حرکت پڑھی جاتی ہے، جَاءَنِیْ امْرُؤُ الْقَیْسِ دیکھو راء پر میں نے ضمہ پڑھا، رَاَیْتُ امْرَاَ الْقَیْسِ دیکھو راء پر میں نے زبر پڑھا۔ اور مَرَرْتُ بِـ مَرَرْتُ بِامْرِئِ الْقَیْسِ بھئی دیکھا؟ بات سمجھ میں آ گئی؟ کہ اس کے اندر لفظ کے آخر میں جو اعراب آئے گا آخر سے ماقبل راء پر بھی ویسی ہی حرکت پڑھیں گے، تو یہاں آیا تھا دیکھو: بِقَوْلِ امْرِئِ الْقَیْسِ پیچھے آیا تھا جہاں سے سبق شروع ہوا، وَلَمَّا اسْتَدَلَّ الْکُوْفِیُّوْنَ عَلٰی اَوْلَوِیَّۃِ اِعْمَالِ الْفِعْلِ الْاَوَّلِ بِقَوْلِ امْرِئِ الْقَیْسِ دیکھا یہاں راء کے نیچے بھی زیر کیونکہ آگے امْرِئِ یہ مجرور ہے اور اس کے اوپر جر آ رہا ہے اور اسی طرح یہاں آیا وَامْرُؤُ الْقَیْسِ بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ آگے دیکھیے کہتے ہیں فَاَجَابَ الْمُصَنِّفُ رَحِمَہُ اللّٰہُ عَنْ طَرَفِ الْبَصْرِیِّیْنَ تو مصنف یعنی صاحبِ قافیہ نے بصرہ والوں کی طرف سے جواب دیا وَقَالَ اور فرمایا وَقَوْلُ امْرِئِ الْقَیْسِ کَفَانِیْ وَلَمْ اَطْلُبْ قَلِیْلٌ مِّنَ الْمَالِ لَیْسَ مِنْہُ کہتے ہیں امرؤ القیس کا جو قول ہے کَفَانِیْ وَلَمْ اَطْلُبْ قَلِیْلٌ مِّنَ الْمَالِ لَیْسَ مِنْہُ اَیْ مِنْ بَابِ التَّنَازُعِ یہ تنازع کے باب سے نہیں ہے لِفَسَادِ الْمَعْنٰی معنی کے فاسد ہونے کی وجہ سے، کس کے؟ یعنی یہ معنی نہیں کہ شعر کا ویسے ہی معنی خراب ہے بلکہ اگر آپ تنازع مانیں گے، اگر آپ یہ مانیں گے کہ کَفَانِیْ اور لَمْ اَطْلُبْ دونوں متوجہ ہیں قَلِیْلٌ مِّنَ الْمَالِ کی طرف، دونوں اس کو اپنا معمول بنانا چاہتے ہیں تو اس صورت میں معنی خراب ہو جائے گا۔ یہ معنی ہے لِفَسَادِ الْمَعْنٰی بموجب معنی کے فاسد ہونے کے، معنی کا فاسد ہو گا عَلٰی تَقْدِیْرِ تَوَجُّہِ کُلٍّ مِّنْ کَفَانِیْ وَلَمْ اَطْلُبْ اِلٰی قَلِیْلٍ مِّنَ الْمَالِ اس تقدیر پر کہ متوجہ ہو ہر ایک کَفَانِیْ اور لَمْ اَطْلُبْ میں سے اِلٰی قَلِیْلٍ مِّنَ الْمَالِ کس کی طرف؟ قَلِیْلٌ مِّنَ الْمَالِ، اگر یہ مان لیا جائے اس تقدیر پر کہ کَفَانِیْ اور لَمْ اَطْلُبْ دونوں متوجہ ہیں کس کی طرف؟ قَلِیْلٌ مِّنَ الْمَالِ کی طرف تو اس تقدیر پر اس کا اس شعر کا معنی فاسد ہو جائے گا، بات سمجھ میں آ گئی۔ دوبارہ ترجمہ دیکھیے کہتے ہیں لِفَسَادِ الْمَعْنٰی بموجب معنی کے فاسد ہو جانے کے عَلٰی تَقْدِیْرِ تَوَجُّہِ کُلٍّ مِّنْ کَفَانِیْ وَلَمْ اَطْلُبْ اس تقدیر پر کہ متوجہ ہے ہر ایک کَفَانِیْ اور لَمْ اَطْلُبْ میں سے یعنی ان دونوں میں سے ہر ایک متوجہ ہے اِلٰی قَلِیْلٍ مِّنَ الْمَالِ کس کی طرف؟ قَلِیْلٌ مِّنَ الْمَالِ کی طرف، اس تقدیر پر معنی فاسد ہو جاتا ہے لِاسْتِلْزَامِہٖ، لِاسْتِلْزَامِہٖ یہ ہاء ضمیر یہ جو پیچھے آیا نا توجہ اس کو راجع ہے۔ کس تقدیر پر؟ کہ کَفَانِیْ اور لَمْ اَطْلُبْ دونوں متوجہ ہیں کس کی طرف؟ قَلِیْلٌ مِّنَ الْمَالِ کی طرف، اس تقدیر پر معنی فاسد ہو گا کیوں؟ لِاسْتِلْزَامِہٖ اس لیے کیونکہ یہ مستلزم ہے۔ یعنی اس کے ساتھ لازم ہے، کیا لازم ہے؟ تین چیزیں آگے ذکر کریں گے: عَدَمَ السَّعْیِ لِاَدْنٰی مَعِیْشَۃٍ پہلی بات تو یہ کہ عَدَمَ السَّعْیِ لِاَدْنٰی مَعِیْشَۃٍ کوشش نہ کرنا تھوڑی روزی کے لیے، کوشش نہ کرنا۔ وہ تھوڑی روزی کے لیے کوشش کرتا ہے یا نہیں کرتا؟ امرؤ القیس نے کیا کہا؟ میں تھوڑی روزی کے لیے کوشش کرتا ہوں یا نہیں کرتا؟ میں تھوڑی روزی کے لیے کوشش نہیں کرتا، نیز اس نے کیا کہا؟ تھوڑا مال میرے لیے کافی ہے یا نہیں؟ اس نے کہا تھوڑا مال بھی میرے لیے کافی نہیں اور تیسری بات اگر لَمْ اَطْلُبْ بھی قَلِیْلٌ مِّنَ الْمَالِ کی طرف متوجہ ہو جائے پھر کیا معنی؟ کہ میں تھوڑے مال کو طلب بھی کرتا ہوں اور تھوڑا مال میرے لیے کافی بھی ہے بھئی، تو یہ اگر دونوں فعل قَلِیْلٌ مِّنَ الْمَالِ کی طرف متوجہ ہو جائیں تو اس صورت میں یہ معنی بنتا ہے تو یہ تو اجتماعِ متنافیین لازم آئے گا بھئی۔ کہتے ہیں لِاسْتِلْزَامِہٖ اس وجہ سے کہ اس کے ساتھ لازم ہے یعنی اگر دونوں فعل اس کی طرف متوجہ ہوں اس کے ساتھ لازم ہے، کیا لازم ہے؟ عَدَمَ السَّعْیِ لِاَدْنٰی مَعِیْشَۃٍ کوشش نہ کرنا تھوڑی روزی کے لیے، پہلی بات یہ، نیز وَانْتِفَاءَ کِفَایَۃِ قَلِیْلٍ مِّنَ الْمَالِ اور تھوڑے مال کے کافی ہونے کا انتفاء کہ تھوڑا مال میرے لیے کافی نہیں وَثُبُوْتَ طَلَبِہِ الْمُنَافِیْ اور نیز ثبوت اس بات کا کہ تھوڑی روزی کو طلب کیا جا رہا ہے، وَثُبُوْتَ طَلَبِہٖ، طَلَبِہٖ کی ہاء ضمیر کس کو راجع؟ اَدْنٰی مَعِیْشَۃٍ کو کہ اَدْنٰی مَعِیْشَۃٍ کی طلب کا ثبوت لازم ہے، وہ طلب اَلْمُنَافِیْ وہ طلب جو منافی ہے لِکُلٍّ مِّنْھُمَا ان دونوں میں سے ہر ایک کے۔ ادھر دیکھیے، ادھر دیکھیے۔ کہتے ہیں اگر کَفَانِیْ اور لَمْ اَطْلُبْ دونوں فعل متوجہ ہو جائیں قَلِیْلٌ مِّنَ الْمَالِ کی طرف تو اس صورت میں معنی فاسد ہو جائے گا اس لیے کیونکہ اس صورت میں لازم آئے گا تین چیزیں لازم آئیں گی، پہلی کیا؟ کہ میں تھوڑی روزی کے لیے کوشش نہیں کرتا، دوسرا تھوڑا مال میرے لیے کافی نہیں اور تیسری بات یہ لازم آئے گی کہ وہ اس تھوڑے مال کو طلب کرتا ہے اور تھوڑے مال کا طلب کرنا یہ تو پہلی دونوں باتوں کے منافی ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ یہ معنی ہے لِاسْتِلْزَامِہٖ عَدَمَ السَّعْیِ لِاَدْنٰی مَعِیْشَۃٍ اس لیے کیونکہ اس توجہ کے ساتھ لازم ہے، یہ جو دونوں فعل اگر متوجہ ہو جائیں قَلِیْلٌ مِّنَ الْمَالِ کی طرف تو اس کے ساتھ لازم ہے عَدَمَ السَّعْیِ لِاَدْنٰی مَعِیْشَۃٍ کوشش نہ کرنا تھوڑی روزی کے لیے، نیز وَانْتِفَاءَ کِفَایَۃِ قَلِیْلٍ مِّنَ الْمَالِ اور نیز تھوڑے مال کے کافی ہونے کا انتفاء کہ وہ میرے لیے کافی نہیں وَثُبُوْتَ طَلَبِہِ الْمُنَافِیْ اور نیز اس طلب کا ثبوت ہو جائے گا، وہ یعنی تھوڑے مال کی وہ طلب، اس کا ثبوت ہو گا جو منافی ہے لِکُلٍّ مِّنْھُمَا ان دونوں باتوں کے۔ تھوڑے مال کی طلب۔ لو دو جملوں پر داخل ہوتا ہے، اَنَّمَا اَسْعٰی لِاَدْنٰی مَعِیْشَۃٍ یہ پہلا جملہ اور کَفَانِیْ یہ دوسرا جملہ ہے اور اسی پر لَمْ اَطْلُبْ کا عطف بھی ہے معلوم ہوا اس پر بھی لو داخل ہے اور لو کیا کرتا ہے؟ مثبت کو منفی کر دیتا ہے اور منفی کو مثبت کر دیتا ہے۔ توجہ ہے؟ اب سنو، وَلَوْ اَنَّمَا اَسْعٰی لِاَدْنٰی مَعِیْشَۃٍ امرؤ القیس کہتا ہے اگر وَلَوْ اَنَّمَا اَسْعٰی اور اگر میں کوشش کرتا لِاَدْنٰی مَعِیْشَۃٍ تھوڑی سی روزی کے لیے۔ اگر میں کوشش کرتا تھوڑی سی روزی کے لیے، معلوم ہوا میں تھوڑی روزی کے لیے کوشش نہیں کرتا۔ یہ مثبت ہے نا؟ تو اس کو کس سے بدل دو؟ منفی۔ اگر میں تھوڑی سی روزی کے لیے کوشش کرتا، کَفَانِیْ قَلِیْلٌ مِّنَ الْمَالِ تو میرے لیے تھوڑا سا مال کافی ہو جاتا۔ توجہ ہے؟ اگر میں تھوڑی روزی کے لیے کوشش کرتا تو تھوڑا سا مال میرے لیے کافی ہو جاتا۔ معلوم ہوا میں تھوڑی روزی کے لیے کوشش نہیں کرتا اور تھوڑا سا مال میرے لیے کافی نہیں ہے۔ دیکھو لو نے دونوں کو کس میں بدل دیا؟ منفی میں۔ معلوم ہوا میں تھوڑی روزی کے لیے یعنی یوں کہو میں تھوڑے مال کے لیے کوشش نہیں کرتا۔ وَلَوْ اَنَّمَا اَسْعٰی لِاَدْنٰی مَعِیْشَۃٍ اس سے کیا پتہ چلا؟ کہ میں تھوڑی روزی یعنی تھوڑے مال کے لیے کوشش نہیں کرتا اور کَفَانِیْ قَلِیْلٌ مِّنَ الْمَالِ اس سے کیا پتہ چلا؟ کہ میرے لیے تھوڑا سا مال کافی نہیں۔ اگر لَمْ اَطْلُبْ کے بارے میں کہا جائے کہ یہ بھی قَلِیْلٌ مِّنَ الْمَالِ کی طرف متوجہ ہے، توجہ ہے؟ بھئی دیکھو نا، اگر تنازع مانا جائے کَفَانِیْ اور لَمْ اَطْلُبْ دونوں قَلِیْلٌ مِّنَ الْمَالِ میں جھگڑ رہے ہیں تو ایک کو عامل بنا دیا قَلِیْلٌ مِّنَ الْمَالِ اور دوسرے کے لیے مفعول محذوف ہو جائے گا۔ کیا ہو جائے گا؟ محذوف ہو جائے گا۔ توجہ ہے؟ تو معلوم ہوا کہ وَلَمْ اَطْلُبْ اس کے لیے بھی مفعول قَلِیْلًا مِّنَ الْمَالِ کو نکال لیں گے۔ وَلَمْ اَطْلُبْ قَلِیْلًا مِّنَ الْمَالِ اور میں تھوڑا سا مال طلب نہ کرتا۔ توجہ ہے؟ لفظی ترجمہ کیا؟ پھر سنو لفظی ترجمہ۔ وَلَوْ اَنَّمَا اَسْعٰی لِاَدْنٰی مَعِیْشَۃٍ اگر میں تھوڑی سی روزی کے لیے یعنی تھوڑے سے مال کے لیے کوشش کرتا، کَفَانِیْ قَلِیْلٌ مِّنَ الْمَالِ تو تھوڑا سا مال میرے لیے کافی ہو جاتا وَلَمْ اَطْلُبْ اور میں طلب نہ کرتا تھوڑے مال کو۔ اور میں، بھئی یہ اسی قَلِیْلًا میں جھگڑ رہا ہے نا اگر آپ کی بات تسلیم کر لی جائے تو پھر لَمْ اَطْلُبْ کا مفعول یہ قَلِیْلًا مِّنَ الْمَالِ ہی ہے لیکن حذف کر دیا گیا۔ وَلَمْ اَطْلُبْ قَلِیْلًا مِّنَ الْمَالِ اور میں تھوڑا سا مال طلب نہ کرتا۔ اور یہ لَمْ اَطْلُبْ یہ نفی ہے۔ یہ، اور لو کیا کرتا ہے؟ مثبت کو منفی میں بدلتا ہے اور منفی کو مثبت میں بدلتا ہے اور یہاں ہے وَلَمْ اَطْلُبْ اور میں طلب نہ کرتا تھوڑا مال، اس کو مثبت میں بدل دو۔ اور میں تھوڑا مال طلب کرتا۔ اور میں تھوڑا مال طلب کرتا، توجہ ہے؟ اور میں تھوڑا مال طلب کرتا، یہ تو دونوں کے منافی ہے، پیچھے جو دونوں باتیں کی تھیں یہ اس کے منافی بن گئی بات، کس طرح؟ پیچھے کیا کہا تھا؟ کہ میں تھوڑے مال کے لیے کوشش نہیں کرتا، میں تھوڑا مال طلب نہیں کرتا اور آگے کیا کہہ رہا ہے؟ میں تھوڑا مال طلب کرتا ہوں، یہ تو دونوں ایک دوسرے کے منافی ہیں، پہلے کہہ رہا ہے میں طلب نہیں کرتا، آگے کہہ رہا ہے میں تھوڑا مال طلب کرتا ہوں۔ نیز پیچھے کیا کہا تھا؟ کہ تھوڑا مال میرے لیے کافی نہیں، آگے کہہ رہا ہے میں تھوڑا مال طلب کرتا ہوں، معلوم ہوا تھوڑا مال میرے لیے کافی ہے، جبھی طلب کروں گا نا، ویسے تو طلب نہیں کروں گا۔ تو یہ جو لَمْ اَطْلُبْ کو اگر اس میں یہ تسلیم کیا جائے کہ یہ بھی قَلِیْلٌ مِّنَ الْمَالِ کی طرف متوجہ ہے پھر تو معنی خراب ہو جائے گا، یہ پہلی دونوں باتوں کے منافی ہو جائے گا۔ پہلی دو باتیں کیا؟ کہ میں تھوڑے مال کے لیے کوشش نہیں کرتا اور تھوڑا مال میرے لیے کافی بھی نہیں اور آگے کہہ دیا وَلَمْ اَطْلُبْ اور یہ نفی ہے اور لو نفی کو کس سے بدلتا ہے؟ مثبت سے، معلوم ہوا میں تھوڑے مال کو طلب کرتا ہوں۔ پیچھے کہا میں طلب نہیں کرتا، آگے کہہ دیا میں تھوڑے مال کو طلب کرتا ہوں اور پیچھے کہا کہ تھوڑا مال میرے لیے کافی نہیں اور آگے کہا میں طلب کرتا ہوں، اس سے کیا پتہ چلا؟ کہ تھوڑا مال میرے لیے کافی ہے تو یہ تو دونوں کے منافی ہو گئی یہ بات۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو لہٰذا صاحبِ قافیہ جواب دیتے ہیں بصرہ والوں کی طرف سے کہ اے کوفہ والو! اگر کَفَانِیْ اور لَمْ اَطْلُبْ جو ہے اس کے اندر تنازع کو تسلیم کر لیا جائے کہ یہ دونوں جھگڑ رہے ہیں قَلِیْلٌ مِّنَ الْمَالِ کے بارے میں تو پھر اس صورت میں معنی خراب ہو جاتا ہے۔ معلوم ہوا لَمْ اَطْلُبْ قَلِیْلٌ مِّنَ الْمَالِ کی طرف متوجہ ہی نہیں ہے، یہ اس میں عمل کرنا ہی نہیں چاہتا ورنہ تو معنی خراب ہو جائے گا، پھر اس کا مفعول کیا ہے؟ تو کہتے ہیں اس کا مفعول اَلْمَجْدَ الْمُؤَثَّلَ محذوف ہے۔ وَلَمْ اَطْلُبِ الْمَجْدَ الْمُؤَثَّلَا اور میں اور میں دائمی عظمت کو طلب نہ کرتا، معلوم ہوا میں دائمی عظمت کو طلب کرتا ہوں۔ تو لَمْ اَطْلُبْ کا مفعول کیا ہے؟ محذوف ہے اور وہ کیا ہے؟ اَلْمَجْدَ الْمُؤَثَّلَ بھئی، دائمی عظمت وہ اس کا مفعول ہے اور اس کو حذف کر دیا کیونکہ آگے آنے والا شعر جو ہے وہ اس پر دلالت کر رہا تھا، دیکھو وَلٰکِنَّمَا اَسْعٰی لِمَجْدٍ مُّؤَثَّلٍ میں کس کے لیے کوشش کرتا ہوں؟ دیرپا عظمت کے لیے میں کوشش کرتا ہوں، معلوم ہوا میں دیرپا عظمت کو طلب کرتا ہوں، تو لَمْ اَطْلُبْ کا مفعول محذوف ہے اور آگے آنے والا شعر اس پر دلالت کر رہا ہے اور وہ کیا ہے؟ وہ مفعول کیا ہے لَمْ اَطْلُبْ کا؟ اَلْمَجْدَ الْمُؤَثَّلَا دیرپا عظمت، دائمی عظمت جو ہے میں اس کو طلب کرتا ہوں۔ اب دیکھو معنی بہترین ہو گیا، سنو بھئی، وَلَوْ اَنَّمَا اَسْعٰی لِاَدْنٰی مَعِیْشَۃٍ اور اگر میں تھوڑی سی روزی کے لیے کوشش کرتا تو کَفَانِیْ قَلِیْلٌ مِّنَ الْمَالِ تو تھوڑی سی روزی میرے لیے کافی ہو جاتی وَلَمْ اَطْلُبِ الْمَجْدَ الْمُؤَثَّلَا اور میں دائمی عظمت کو طلب نہ کرتا۔ اگر میں تھوڑی روزی طلب کرتا اور وہ میرے لیے کافی ہوتی تو پھر میں دائمی عظمت کو طلب نہ کرتا۔ اب دیکھو شعر کا معنی بہترین ہو گیا، کیا؟ وَلَوْ اَنَّمَا اَسْعٰی لِاَدْنٰی مَعِیْشَۃٍ معلوم ہوا میں تھوڑی روزی کے لیے کوشش نہیں کرتا اور کَفَانِیْ قَلِیْلٌ مِّنَ الْمَالِ اور تھوڑا سا مال میرے لیے کافی نہیں وَلَمْ اَطْلُبِ الْمَجْدَ الْمُؤَثَّلَا اور میں دائمی عظمت کو طلب کرتا ہوں بھئی۔ میں، لَمْ ہے نا نفی ہے اور لو کیا کرتا ہے؟ نفی کو کس سے بدلتا ہے؟ مثبت سے بدلتا ہے، تو کہتے ہیں میں اس کے لیے کوشش کرتا ہوں، میں تھوڑی روزی کے لیے کوشش نہیں کرتا بلکہ دائمی عظمت کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہوں بھئی، معنی سمجھ میں آ گیا۔ جی، اب دیکھیے ترجمہ بھئی۔ کہتے ہیں وَلَمَّا اسْتَدَلَّ الْکُوْفِیُّوْنَ عَلٰی اَوْلَوِیَّۃِ اِعْمَالِ الْفِعْلِ الْاَوَّلِ اور جب استدلال کیا یعنی دلیل بنائی، استدلال کا معنی ہے دلیل بنانا، وَلَمَّا اسْتَدَلَّ الْکُوْفِیُّوْنَ اور جب کوفہ والوں نے دلیل بنائی عَلٰی اَوْلَوِیَّۃِ اِعْمَالِ الْفِعْلِ الْاَوَّلِ فعلِ اول کو عامل بنانے کے اولیٰ ہونے پر کہ فعلِ اول کو عامل بنانا اولیٰ ہے اس پر جب کوفہ والوں نے استدلال کیا بِقَوْلِ امْرِئِ الْقَیْسِ امرؤ القیس کے اس قول کے ساتھ: وَلَوْ اَنَّمَا اَسْعٰی لِاَدْنٰی مَعِیْشَۃٍ اور اگر میں کوشش کرتا تھوڑی سی روزی کے لیے، کَفَانِیْ قَلِیْلٌ مِّنَ الْمَالِ تو تھوڑا سا مال میرے لیے کافی ہو جاتا، وَلَمْ اَطْلُبْ اور میں طلب نہ کرتا اَلْمَجْدَ الْمُؤَثَّلَا دائمی عظمت کو۔ حَیْثُ قَالُوْا اس طور پر کہ کوفہ والوں نے کہا، ان کی اب دلیل ذکر کر رہے ہیں، حَیْثُ قَالُوْا اس حیثیت سے کہ انہوں نے کہا قَدْ تَوَجَّہَ الْفِعْلَانِ کہ تحقیق دونوں فعل متوجہ ہیں، کون سے دونوں فعل؟ اَعْنِیْ کَفَانِیْ وَلَمْ اَطْلُبْ یعنی کَفَانِیْ اور لَمْ اَطْلُبْ یہ دونوں فعل متوجہ ہیں اِلٰی اسْمٍ وَّاحِدٍ ایک ہی اسم کی طرف وَھُوَ قَلِیْلٌ مِّنَ الْمَالِ اور وہ قَلِیْلٌ مِّنَ الْمَالِ ہے، فَقْتَضَی الْاَوَّلُ رَفْعَہٗ بِالْفَاعِلِیَّۃِ تو تقاضا کیا پہلے فعل نے یعنی کَفَانِیْ نے رَفْعَہٗ اس قَلِیْلٌ مِّنَ الْمَالِ کے رفع کا بِالْفَاعِلِیَّۃِ فاعل ہونے کی وجہ سے وَالثَّانِیْ نَصْبَہٗ اور دوسرے فعل نے اس کے نصب کا تقاضا کیا، دوسرا فعل کون؟ لَمْ اَطْلُبْ، اور دوسرا فعل لَمْ اَطْلُبْ اس نے اس قَلِیْلٌ مِّنَ الْمَالِ کے نصب کا تقاضا کیا بِالْمَفْعُوْلِیَّۃِ مفعول ہونے کی وجہ سے۔ وَاِمْرُؤُ الْقَیْسِ الَّذِیْ ھُوَ اَفْصَحُ شُعَرَاءِ الْعَرَبِ اور امرؤ القیس جو عرب کے شعراء میں عرب کے شاعروں میں سب سے فصیح ہے، اَعْمَلَ الْاَوَّلَ اس نے پہلے فعل کو عامل بنایا، فَلَوْ لَمْ یَکُنْ اِعْمَالُ الْاَوَّلِ اَوْلٰی اگر پہلے فعل کو عامل بنانا اولیٰ نہ ہوتا لَمَا اخْتَارَہٗ تو وہ اس پہلے کے عامل بنانے کو اختیار نہ کرتا اِذْ لَا قَائِلَ بِتَسَاوِی الْاِعْمَالَیْنِ اس لیے کیونکہ کوئی بھی قائل نہیں ہے اس بات کا کہ دونوں کو عامل بنانا برابر ہے۔ آپ یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ اس کے نزدیک دونوں کو عامل بنانا برابر ہو گا، امرؤ القیس کے نزدیک پہلے چاہے پہلے کو عامل بناؤ چاہے ثانی کو عامل بناؤ، تو اس کے نزدیک دونوں کیا ہوں گے؟ برابر ہوں گے۔ کہتے ہیں یہ آپ نہیں کہہ سکتے، اس لیے کیونکہ علماء میں سے کوئی بھی اس بات کی طرف نہیں گیا کہ دونوں کو عامل بنانا برابر ہے بلکہ کوفہ والے کہتے ہیں اول کو عامل بنانا اولیٰ اور بصرہ والے کہتے ہیں ثانی کو عامل بنانا اولیٰ ہے، تو معلوم ہوا دونوں کو عامل بنانا برابر نہیں، دونوں کو عامل بنانا برابر نہیں، معلوم ہوا ایک اولیٰ ہے دوسرا خلافِ اولیٰ ہے اور امرؤ القیس پہلے کو عامل بنا رہا ہے اور وہ عرب کا سب سے فصیح و بلیغ شاعر ہے، معلوم ہوا اس نے وہی صورت اختیار کی ہو گی جو سب سے اعلیٰ اور افضل ہے یعنی پہلے کو عامل بنانا افضل ہے اس سے پتہ چل گیا، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں اِذْ لَا قَائِلَ بِتَسَاوِی الْاِعْمَالَیْنِ اس لیے کیونکہ کوئی بھی قائل نہیں ہے دونوں فعلوں کو عامل بنانے میں برابری کا۔ بھئی یہاں امرؤ القیس لفظ آیا بھئی، یاد رکھو اس میں یہ جو امْرُؤٌ لفظ ہے یہ عربی کا عجیب لفظ ہے بھئی، پورے کلامِ عرب میں ایک دو لفظ بس ایسے ہیں، اس کے اندر امْرُؤٌ کے اندر دیکھو آخر میں کیا ہے؟ ہمزہ اور آپ جانتے ہیں کہ اعراب آخری حرف پر آتا ہے لیکن یہ امْرُؤٌ ایسا عجیب لفظ ہے کہ اس کے اندر آخر میں ہمزہ پر جو اعراب ہو گا، ماقبل میں راء پر بھی ویسی ہی حرکت لائیں گے۔ اگر ہمزہ پر رفع پڑھتے ہیں تو راء پر بھی ضمہ لائیں گے۔ راء پر بھی ضمہ لائیں گے۔ اور اگر ہمزہ پر نصب ہوا تو راء پر بھی فتحہ لائیں گے، اسی جیسی حرکت لے آئیں گے اور اگر ہمزہ پر جر آیا تو پھر راء پر بھی کسرہ لے آئیں گے۔ جَاءَنِیْ امْرُؤُ الْقَیْسِ امرؤ القیس فاعل ہے نا تو ہمزہ پر کیا آیا؟ رفع، تو راء پر بھی ضمہ پڑھیں گے، یہ راء پر اعراب نہیں ہے، یہ ویسے حرکت ہے، تو جو اعراب اس لفظ پر آتا ہے تو آخر سے ماقبل جو راء ہے اس پر بھی ویسی ہی حرکت پڑھی جاتی ہے، جَاءَنِیْ امْرُؤُ الْقَیْسِ دیکھو راء پر میں نے ضمہ پڑھا، رَاَیْتُ امْرَاَ الْقَیْسِ دیکھو راء پر میں نے زبر پڑھا۔ اور مَرَرْتُ بِـ مَرَرْتُ بِامْرِئِ الْقَیْسِ بھئی دیکھا؟ بات سمجھ میں آ گئی؟ کہ اس کے اندر لفظ کے آخر میں جو اعراب آئے گا آخر سے ماقبل راء پر بھی ویسی ہی حرکت پڑھیں گے، تو یہاں آیا تھا دیکھو: بِقَوْلِ امْرِئِ الْقَیْسِ پیچھے آیا تھا جہاں سے سبق شروع ہوا، وَلَمَّا اسْتَدَلَّ الْکُوْفِیُّوْنَ عَلٰی اَوْلَوِیَّۃِ اِعْمَالِ الْفِعْلِ الْاَوَّلِ بِقَوْلِ امْرِئِ الْقَیْسِ دیکھا یہاں راء کے نیچے بھی زیر کیونکہ آگے امْرِئِ یہ مجرور ہے اور اس کے اوپر جر آ رہا ہے اور اسی طرح یہاں آیا وَامْرُؤُ الْقَیْسِ بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ آگے دیکھیے کہتے ہیں فَاَجَابَ الْمُصَنِّفُ رَحِمَہُ اللّٰہُ عَنْ طَرَفِ الْبَصْرِیِّیْنَ تو مصنف یعنی صاحبِ قافیہ نے بصرہ والوں کی طرف سے جواب دیا وَقَالَ اور فرمایا وَقَوْلُ امْرِئِ الْقَیْسِ کَفَانِیْ وَلَمْ اَطْلُبْ قَلِیْلٌ مِّنَ الْمَالِ لَیْسَ مِنْہُ کہتے ہیں امرؤ القیس کا جو قول ہے کَفَانِیْ وَلَمْ اَطْلُبْ قَلِیْلٌ مِّنَ الْمَالِ لَیْسَ مِنْہُ اَیْ مِنْ بَابِ التَّنَازُعِ یہ تنازع کے باب سے نہیں ہے لِفَسَادِ الْمَعْنٰی معنی کے فاسد ہونے کی وجہ سے، کس کے؟ یعنی یہ معنی نہیں کہ شعر کا ویسے ہی معنی خراب ہے بلکہ اگر آپ تنازع مانیں گے، اگر آپ یہ مانیں گے کہ کَفَانِیْ اور لَمْ اَطْلُبْ دونوں متوجہ ہیں قَلِیْلٌ مِّنَ الْمَالِ کی طرف، دونوں اس کو اپنا معمول بنانا چاہتے ہیں تو اس صورت میں معنی خراب ہو جائے گا۔ یہ معنی ہے لِفَسَادِ الْمَعْنٰی بموجب معنی کے فاسد ہونے کے، معنی کا فاسد ہو گا عَلٰی تَقْدِیْرِ تَوَجُّہِ کُلٍّ مِّنْ کَفَانِیْ وَلَمْ اَطْلُبْ اِلٰی قَلِیْلٍ مِّنَ الْمَالِ اس تقدیر پر کہ متوجہ ہو ہر ایک کَفَانِیْ اور لَمْ اَطْلُبْ میں سے اِلٰی قَلِیْلٍ مِّنَ الْمَالِ کس کی طرف؟ قَلِیْلٌ مِّنَ الْمَالِ، اگر یہ مان لیا جائے اس تقدیر پر کہ کَفَانِیْ اور لَمْ اَطْلُبْ دونوں متوجہ ہیں کس کی طرف؟ قَلِیْلٌ مِّنَ الْمَالِ کی طرف تو اس تقدیر پر اس کا اس شعر کا معنی فاسد ہو جائے گا، بات سمجھ میں آ گئی۔ دوبارہ ترجمہ دیکھیے کہتے ہیں لِفَسَادِ الْمَعْنٰی بموجب معنی کے فاسد ہو جانے کے عَلٰی تَقْدِیْرِ تَوَجُّہِ کُلٍّ مِّنْ کَفَانِیْ وَلَمْ اَطْلُبْ اس تقدیر پر کہ متوجہ ہے ہر ایک کَفَانِیْ اور لَمْ اَطْلُبْ میں سے یعنی ان دونوں میں سے ہر ایک متوجہ ہے اِلٰی قَلِیْلٍ مِّنَ الْمَالِ کس کی طرف؟ قَلِیْلٌ مِّنَ الْمَالِ کی طرف، اس تقدیر پر معنی فاسد ہو جاتا ہے لِاسْتِلْزَامِہٖ، لِاسْتِلْزَامِہٖ یہ ہاء ضمیر یہ جو پیچھے آیا نا توجہ اس کو راجع ہے۔ کس تقدیر پر؟ کہ کَفَانِیْ اور لَمْ اَطْلُبْ دونوں متوجہ ہیں کس کی طرف؟ قَلِیْلٌ مِّنَ الْمَالِ کی طرف، اس تقدیر پر معنی فاسد ہو گا کیوں؟ لِاسْتِلْزَامِہٖ اس لیے کیونکہ یہ مستلزم ہے۔ یعنی اس کے ساتھ لازم ہے، کیا لازم ہے؟ تین چیزیں آگے ذکر کریں گے: عَدَمَ السَّعْیِ لِاَدْنٰی مَعِیْشَۃٍ پہلی بات تو یہ کہ عَدَمَ السَّعْیِ لِاَدْنٰی مَعِیْشَۃٍ کوشش نہ کرنا تھوڑی روزی کے لیے، کوشش نہ کرنا۔ وہ تھوڑی روزی کے لیے کوشش کرتا ہے یا نہیں کرتا؟ امرؤ القیس نے کیا کہا؟ میں تھوڑی روزی کے لیے کوشش کرتا ہوں یا نہیں کرتا؟ میں تھوڑی روزی کے لیے کوشش نہیں کرتا، نیز اس نے کیا کہا؟ تھوڑا مال میرے لیے کافی ہے یا نہیں؟ اس نے کہا تھوڑا مال بھی میرے لیے کافی نہیں اور تیسری بات اگر لَمْ اَطْلُبْ بھی قَلِیْلٌ مِّنَ الْمَالِ کی طرف متوجہ ہو جائے پھر کیا معنی؟ کہ میں تھوڑے مال کو طلب بھی کرتا ہوں اور تھوڑا مال میرے لیے کافی بھی ہے بھئی، تو یہ اگر دونوں فعل قَلِیْلٌ مِّنَ الْمَالِ کی طرف متوجہ ہو جائیں تو اس صورت میں یہ معنی بنتا ہے تو یہ تو اجتماعِ متنافیین لازم آئے گا بھئی۔ کہتے ہیں لِاسْتِلْزَامِہٖ اس وجہ سے کہ اس کے ساتھ لازم ہے یعنی اگر دونوں فعل اس کی طرف متوجہ ہوں اس کے ساتھ لازم ہے، کیا لازم ہے؟ عَدَمَ السَّعْیِ لِاَدْنٰی مَعِیْشَۃٍ کوشش نہ کرنا تھوڑی روزی کے لیے، پہلی بات یہ، نیز وَانْتِفَاءَ کِفَایَۃِ قَلِیْلٍ مِّنَ الْمَالِ اور تھوڑے مال کے کافی ہونے کا انتفاء کہ تھوڑا مال میرے لیے کافی نہیں وَثُبُوْتَ طَلَبِہِ الْمُنَافِیْ اور نیز ثبوت اس بات کا کہ تھوڑی روزی کو طلب کیا جا رہا ہے، وَثُبُوْتَ طَلَبِہٖ، طَلَبِہٖ کی ہاء ضمیر کس کو راجع؟ اَدْنٰی مَعِیْشَۃٍ کو کہ اَدْنٰی مَعِیْشَۃٍ کی طلب کا ثبوت لازم ہے، وہ طلب اَلْمُنَافِیْ وہ طلب جو منافی ہے لِکُلٍّ مِّنْھُمَا ان دونوں میں سے ہر ایک کے۔ پہلے کہا میں تھوڑی روزی کو طلب نہیں کرتا اور آگے کہا میں تھوڑے مال کو طلب کرتا ہوں، تو یہ اس کے بھی منافی ہوا۔ اور نیز کیا کہا؟ تھوڑا مال میرے لیے کافی نہیں اور آگے کہا میں تھوڑے مال کو طلب کرتا ہوں، معلوم ہوا وہ کافی ہے۔ تو یہ دونوں کے منافی ہوا۔ وہ منافی ہے ان دونوں باتوں کے۔ تھوڑے مال کی طلب۔ وَذٰلِکَ اور یہ اگر دونوں فعل متوجہ ہوں کس کی طرف؟ قَلِیْلٌ مِّنَ الْمَالِ کی طرف تو اس صورت میں یہ تین چیزیں لازم آتی ہیں اور یہ تین چیزیں کیوں؟ وَذٰلِکَ لِاَنَّ اور یہ ان کا مستلزم ہونا اس وجہ سے ہے لِاَنَّ لَوْ تَجْعَلُ مَدْخُوْلَهَا الْمُثْبَتَ اس لیے کیونکہ لو جو ہے وہ کر دیتا ہے مَدْخُوْلَهَا اپنے مدخول کو۔ یعنی لو جس پر داخل ہوتا ہے کیا کرتا ہے؟ مثبت کو منفی اور منفی کو مثبت۔ لِاَنَّ لَوْ تَجْعَلُ مَدْخُوْلَهَا الْمُثْبَتَ اس لیے کیونکہ لو کر دیتا ہے اپنے مثبت مدخول کو شَرْطًا کَانَ اَوْ جَزَاءً چاہے شرط ہو یا جزا ہو اَوْ مَعْطُوْفًا عَلٰى اَحَدِهِمَا یا ان دونوں میں سے ایک کسی ایک پر کوئی معطوف ہو ان سب کو لو کر دیتا ہے مَنْفِیًّا کیا کر دیتا ہے؟ منفی۔ معنی سمجھ میں آ رہا ہے؟ وَالْمَنْفِیَّ مِنْ ذٰلِکَ مُثْبَتًا اس منفی کا عطف ہے پیچھے جو مثبت آیا تھا۔ لو اپنے مثبت مدخول کو منفی کر دیتا ہے وَالْمَنْفِیَّ مِنْ ذٰلِکَ مُثْبَتًا اور ان میں سے اگر کوئی منفی ہو اس کو مثبت کر دیتا ہے۔ معنی سمجھ میں آیا؟ پھر ترجمہ دیکھیں۔ لِاَنَّ لَوْ تَجْعَلُ مَدْخُوْلَهَا الْمُثْبَتَ اس لیے کیونکہ لو اپنے مثبت مدخول کو شَرْطًا کَانَ اَوْ جَزَاءً چاہے وہ شرط ہو یا جزا ہو اَوْ مَعْطُوْفًا عَلٰى اَحَدِهِمَا یا شرط یا جزا میں سے کسی ایک پر جو معطوف ہو ان سب کو وہ کر دیتا ہے مَنْفِیًّا کیا؟ منفی کر دیتا ہے وَالْمَنْفِیَّ مِنْ ذٰلِکَ مُثْبَتًا اور ان میں سے اگر کوئی منفی ہو اس کو مثبت کر دیتا ہے۔ فَعَلٰى هٰذَا يَنْبَغِیْ تو اس تقدیر پر مناسب یہ ہے اَنْ یَّکُوْنَ مَفْعُوْلُ لَمْ اَطْلُبْ مَحْذُوْفًا کہ لَمْ اَطْلُبْ کا مفعول جو ہے محذوف ہونا چاہیے اَیْ لَمْ اَطْلُبِ الْعِزَّ وَالْمَجْدَ کہ میں عزت اور مجد جو ہے اس کو طلب نہ کرتا۔ اگر میں عزت اور بزرگی کو طلب نہ کرتا لیکن میں اس کو طلب کرتا ہوں بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ کیونکہ لو جو ہے منفی کو کس میں بدل دے گا؟ مثبت میں، میں اس کو طلب کرتا ہوں۔ کَمَا یَدُلُّ عَلَیْهِ الْبَیْتُ الْمُتَاَخِّرُ جیسے کہ اس پر دلالت کر رہا ہے وہ شعر جو مؤخر متاخر ہے، بعد میں ہے۔ اَعْنِیْ قَوْلَهٗ یعنی امرؤ القیس کا یہ جو قول ہے شعرٌ وَلٰکِنَّمَا اَسْعٰی لِمَجْدٍ مُّؤَثَّلٍ لیکن میں کوشش کرتا ہوں دائمی عظمت کے لیے، دیرپا عظمت کے لیے وَقَدْ یُدْرِکُ الْمَجْدَ الْمُؤَثَّلَ اَمْثَالِیْ اور تحقیق دائمی عظمت کو میرے جیسے لوگ حاصل کر لیا کرتے ہیں۔ وَحَیْنَئِذٍ یَّسْتَقِیْمُ الْمَعْنٰی اور اس وقت پھر معنی صحیح ہو جائے گا۔ اگر لَمْ اَطْلُبْ کے لیے مفعول کس کو نکال لو؟ اَلْمَجْدَ الْمُؤَثَّلَ کو نکال لیں، پھر معنی ٹھیک ہو جائے گا۔ یَعْنِیْ معنی یہ بن جائے گا۔ اَنَا لَا اَسْعٰی لِاَدْنٰی مَعِیْشَۃٍ میں کوشش نہیں کرتا تھوڑی روزی کے لیے وَلَا یَکْفِیْنِیْ قَلِیْلٌ مِّنَ الْمَالِ اور تھوڑا مال میرے لیے کافی نہیں ہوتا وَلٰکِنِّیْ اَطْلُبُ الْمَجْدَ الْاَصِیْلَ لیکن میں کوشش کرتا ہوں اس عظمت کے لیے، اَلْاَصِیْلَ جو دائمی ہے، دیرپا ہے اَلسَّابِتَ جو ثابت رہنے والی ہے وَاَسْعٰی لَهٗ اور میں اس کے لیے کوشش کرتا ہوں۔ وَلٰکِنِّیْ اَطْلُبُ الْمَجْدَ الْاَصِیْلَ السَّابِتَ لیکن میں طلب کرتا ہوں اس عظمت کو جو دیرپا ہے اور ثابت رہنے والی ہے وَاَسْعٰی لَهٗ اور میں اس عظمت کے لیے کوشش کرتا ہوں۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ جی، حل ہو گیا سارا۔ چلیے بس بھئی هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِحَقِیْقَةِ الْکَلَامِ۔