سبق نمبر۔۸ ثم فصل المصنف رحمه الله تعالى الأصول الأربعة فقدم الكتاب، وقال: «أما الكتاب فالقرآن المنزل على الرسول عليه السلام». وهذا تعريف لكل الكتاب، واللام فيه للعهد والمعهود هو الكتاب السابق ذكره الذي كان مضافا إليه للبعض. «ثم فصل المصنف الأصول الأربعة» پھر بھئی تفصیل کی مصنف نے اصول اربعہ کی بھئی۔ پہلے تو بتلا دیے اصول کتنے ہیں؟ چار ہیں کل بھئی۔ اب تفصیل کرنے لگے ہیں ہر ایک کی بھئی۔ اجمالاً بیان گزر گیا۔ اصول کتنے ہیں؟ چار: کتاب، سنت، اجماع اور قیاس۔ اب ہر ایک کی تفصیل کرنے لگے ہیں۔ پہلے کتاب اللہ کی طویل بحث آئے گی، اس کے بعد آگے جا کر سنت کا باب آئے گا، پھر آخر اس سے آگے اجماع کا باب اور آخر میں قیاس۔ «فقدم الكتاب» پس مقدم کیا کتاب کو بھئی، کیونکہ پہلا درجہ کس کا ہے؟ کتاب اللہ کا ہے، اس لیے سب سے پہلے کتاب اللہ کی بحث شروع کر دی۔ اس کے بعد سنت کی بحث کریں گے، پھر اس کے بعد اجماع کی بحث کریں گے اور سب سے آخر میں قیاس کی بحث کریں گے بھئی۔ تو کتاب اللہ کو مقدم کیا «وقال» اور فرمایا: «أما الكتاب فالقرآن المنزل على الرسول عليه السلام» باقی کتاب جو ہے، وہ قرآن وہ قرآن ہے جو اتارا گیا ہے حضور علیہ السلام پر، وہ قرآن ہے جو اتارا گیا ہے حضور علیہ السلام پر۔ جی تو یہ قرآن کی تعریف شروع... کتاب کی تعریف شروع کی بھئی۔ پہلے متن دیکھیے بھئی، ساری کتاب کی ساری تعریف دیکھتے ہیں بھئی۔ کیا تعریف کرتے ہیں؟ کہتے ہیں: «أما الكتاب فالقرآن المنزل على الرسول عليه السلام المكتوب في المصاحف» جو لکھا ہوا ہے، مكتوب ہے «في المصاحف» کس کے اندر؟ صحیفوں کے اندر، مصاحف کے اندر بھئی۔ «المنقول عنه نقلا متواترا بلا شبهة» اور منقول ہے حضور علیہ السلام سے متواتر طریقے پر «بلا شبهة» بغیر کسی شبہ کے، کسی قسم کا شبہ نہیں اس میں بھئی۔ یہ ہے قرآن کے... کتاب کی تعریف بھئی مکمل۔ اب یہ جو پہلا متن آیا «أما الكتاب فالقرآن المنزل على الرسول عليه السلام» اس کی شرح کریں گے۔ یہ جو آگے شرح آ رہی ہے «المكتوب» سے پہلے تک، اس حصے کے اندر چار باتیں ذکر ہوں گی۔ سب سے پہلے کیا کریں گے؟ ایک اعتراض کا جواب دیں گے، اس کے بعد لفظ قرآن کی تحقیق کریں گے، پھر اس کے بعد فوائد قیود ذکر کریں گے اور آخر کے اندر «المنزل» کے بارے میں بحث کریں گے، اس «المنزل» لفظ کے بارے میں بھئی۔ تو اس شرح کے اندر کتنی باتیں ذکر ہوں گی؟ چار باتیں ذکر ہوں گی: سب سے پہلے ایک اعتراض کا جواب دیں گے، اس کے بعد لفظ قرآن کے بارے میں بحث کریں گے اور اس کے بعد فوائد قیود ذکر کریں گے کہ «المنزل» کا کیا فائدہ، «على الرسول»... «المنزل» کی قید کا کیا فائدہ، «على الرسول» کی قید کا کیا فائدہ۔ اور چوتھے نمبر پر «المنزل» کے بارے میں بحث کریں گے کہ کیا صیغہ ہے، «المنزل» ہے یا «المنزل» ہے، جی یہ بحث کریں گے بھئی۔ چار باتیں ذکر ہوں گی۔ کہتے ہیں: «وهذا تعريف لكل الكتاب» یہ ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں بھئی۔ دیکھیے بھئی توجہ سے سننا بھئی اعتراض۔ متن میں آیا: «أما الكتاب» باقی کتاب جو ہے... «أما» آیا اور یاد رکھیے «أما» آتا ہے تفصیل کے لیے۔ ماقبل میں کوئی چیز اجمالاً ذکر ہو چکی تھی، اب «أما» کے ذریعے کیا کیا جاتا ہے؟ اس کی تفصیل کو بیان کیا جاتا ہے۔ «أما» کس لیے آتا ہے؟ تفصیل کے لیے آتا ہے بھئی۔ ماقبل میں کوئی چیز اجمالاً بیان ہو چکی تھی، اب «أما» کے ذریعے کیا کی جاتی ہے؟ اس کی تفصیل بیان کی جاتی ہے۔ یہ بات سمجھ میں آ گئی؟ اب دیکھیے آگے کہا «الكتاب»، تو کس کی تفصیل بیان کرنے لگے ہیں؟ کتاب اللہ کی۔ کتاب اللہ کی۔ اب آگے جو تعریف ہو رہی ہے «فالقرآن المنزل على الرسول عليه السلام المكتوب في المصاحف» یہ ساری تعریف جو ہو رہی ہے، یہ تمام قرآن کی تعریف ہے، پورے قرآن کی تعریف ہے۔ کس کی تعریف ہے؟ پورے قرآن کی تعریف ہے، معلوم ہوا «الكتاب» سے کتنا قرآن مراد ہے؟ بھئی «الكتاب» کی تعریف ہو رہی ہے نا، «الكتاب» معرف ہے بھئی، آگے اس کی کیا ذکر ہو رہی ہے؟ تعریف۔ تو تعریف کس کی ہے؟ پورے قرآن کی، معلوم ہوا «الكتاب» سے بھی کیا مراد ہے؟ پورا قرآن مراد ہے، پوری کتاب مراد ہے۔ اور پیچھے تو پوری کتاب کا ذکر ہی نہیں ہوا کہ اس کی اب آگے «أما» کے ذریعے تفصیل بیان کی جائے۔ «أما» کے ذریعے کیا کی جاتی ہے؟ پہلے ایک چیز جو ذکر ہو چکی ہے، اسی کی کیا کی جاتی ہے؟ تفصیل بیان کی جاتی ہے، اور آگے پورے قرآن کی، پوری کتاب کی تعریف ہو رہی ہے، معلوم ہوا «الكتاب» سے کیا مراد ہے؟ پورا قرآن مراد ہے، پوری کتاب مراد ہے، اور پیچھے تو پوری کتاب، پورے قرآن کا ذکر ہی نہیں آیا۔ اس لیے کہ پیچھے «الكتاب والسنة» جو آیا تھا، وہاں «الكتاب» کی شرح کے تحت شارح نے کیا بتلایا تھا کہ «الكتاب» سے پورا قرآن، پوری کتاب مراد ہے یا بعض کتاب مراد ہے؟ بعض کتاب مراد ہے۔ تو ماقبل میں جو ذکر ہوا تھا وہ بعض کتاب کا تھا، اور «أما» کے بعد اب جو «الكتاب» آ رہا ہے اس سے پوری کتاب مراد ہے، تو یہاں اعتراض ہوتا ہے کہ «أما» تو ایسی چیز کی تفصیل کے لیے آتا ہے جس کا ذکر پہلے ہو چکا ہو، اور پہلے تو پوری کتاب کا ذکر ہی نہیں ہوا بھئی۔ اعتراض سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو اب آپ کو یہ بتلائیں گے، خود بتلائیں گے کہ دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: «وهذا تعريف لكل الكتاب» یہ جو تعریف کر رہے ہیں «فالقرآن المنزل»، یہ کس کی تعریف ہے؟ پوری کتاب کی۔ «واللام فيه للعهد» اور یہ جو «الكتاب» میں الف لام آیا، یہ کون سا ہے؟ عہدی ہے، جس کے ذریعے کسی چیز کی طرف کیا کیا جاتا ہے؟ اشارہ۔ بھئی کس چیز کی طرف اشارہ ہے؟ کہتے ہیں: «والمعهود هو الكتاب السابق ذكره»۔ بھئی پہلے سمجھ لو۔ بھئی پیچھے ذکر آیا تھا «الكتاب»، اس سے کیا مراد تھی؟ بعض الکتاب۔ «الكتاب» سے کیا مراد تھی؟ بعض الکتاب۔ اچھا، ذرا «بعض» کو ہٹا دو، «الكتاب» رہ گیا۔ «الكتاب» سے مراد ہے پوری کتاب۔ «الكتاب» سے کیا مراد ہے؟ پوری کتاب۔ اب اس پر «بعض» داخل کرو: بعض الکتاب، پوری کتاب کا بعض۔ پوری کتاب کا بعض۔ تو دیکھو، پوری کتاب کا پیچھے ذکر آ گیا یا نہیں آ گیا بھئی؟ «بعض» کے بغیر اگر «الكتاب» کو دیکھیں تو وہ کیا ہے؟ پوری کتاب ہے، تو اس الف لام... یہ جو «الكتاب» آیا، اس سے پوری کتاب مراد ہے، اور الف لام عہدی ہے، اور اس الف لام کے ذریعے کس کی طرف اشارہ ہے؟ اس «الكتاب» کی طرف اشارہ ہے جس کی طرف «بعض» کیا تھا؟ مضاف تھا، اور وہ «الكتاب» کیا تھی؟ مضاف الیہ تھی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو معلوم ہوا پیچھے بھی پوری کتاب کا ذکر ہو چکا، اب اسی کی آگے «أما» کے ذریعے کیا کرنا چاہتے ہیں؟ تفصیل بیان کرنا چاہتے ہیں۔ بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں: «واللام فيه للعهد» لام اس کے اندر عہدی ہے، «والمعهود هو الكتاب السابق» اور معہود وہ کتاب ہے «السابق» جو پہلے ہے۔ کیا معنی پہلے ہے بھئی؟ جی؟ قرآن پہلے ہے؟ تورات، انجیل وغیرہ پہلے ہیں بھئی؟ پہلے کون سی نازل ہوئی کتاب، قرآن نازل ہوا یا تورات، انجیل وغیرہ؟ تو وہ پہلے ہیں بھئی، تو یہ کتاب تو سابق نہ ہوئی؟ کہتے ہیں بھئی: «السابق ذكره» جس کا ذکر کیا ہے یہاں پر ابھی متن کے اندر پہلے گزرا ہے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا، جیسے فعل معروف کے لیے ہمیشہ فاعل چاہیے، فعل مجہول کے لیے ہمیشہ نائب فاعل چاہیے۔ ایسا کبھی بھی نہیں ہو سکتا فعل معروف تو آ جائے اور فاعل نہ آئے، یا فعل مجہول تو آ جائے لیکن نائب فاعل نہ آئے۔ اسی طرح اسم فاعل، اسم مفعول، صفت مشبہ، اسم تفضیل، مبالغے کے صیغے، ان کے لیے بھی ہمیشہ فاعل چاہیے یا نائب فاعل چاہیے۔ اسم مفعول کے لیے نائب فاعل چاہیے، باقی اسم فاعل، اسم مفعول... اسم فاعل، صفت مشبہ، اسم تفضیل وغیرہ کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ فاعل چاہیے۔ بھئی «ضرب» کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ تو «ضارب» کے لیے بھی ہمیشہ کیا چاہیے؟ فاعل۔ اور «شريف» کے لیے بھی ہمیشہ کیا چاہیے؟ فاعل۔ اور «أضرب» کے لیے بھی ہمیشہ کیا چاہیے؟ فاعل چاہیے۔ ہاں، وہ فاعل آپ کو عموماً نظر نہیں آتا، کیونکہ وہ انہی کے اندر ضمیر ہوتی ہے، جیسے «ضرب» کے اندر بعض اوقات کیا ہوتی ہے؟ ضمیر ہوتی ہے، فاعل ہمیں دکھائی نہیں دیتا، لیکن جب اس کا فاعل کبھی اسم ظاہر... اس کا فاعل کبھی اسم ظاہر بھی آ جاتا ہے: «ضرب زيد»، یہ «زيد» کو رفع کس نے دیا؟ «ضرب» نے، کیوں؟ کیونکہ یہ «ضرب» کے لیے کیا ہے؟ فاعل۔ اب «ضرب» کے اندر ضمیر ہے؟ اب ضمیر نہیں، تو کیونکہ فاعل اسم ظاہر آ گیا، اسی طرح اب یہاں پر دیکھیے «السابق»، یہ «سابق» ہے اسم فاعل، اور اسم فاعل کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ فاعل چاہیے، اور وہ فاعل اسی کے اندر ضمیر ہوا کرتی ہے، لیکن کبھی کبھار فاعل اس کا اسم ظاہر بھی آ جاتا ہے، جیسے فعل کا فاعل کبھی اسم ظاہر آ جاتا ہے۔ تو یہاں بھی یہ «ذكره» کیا ہے؟ «سابق» کے لیے فاعل ہے۔ وہ کتاب کہ سابق ہے «ذكره» اس کا ذکر، جس کا ذکر کیا ہے؟ پہلے سابق ہو چکا ہے۔ «الذي كان مضافا إليه» یہ صفت ثانی ہے «الكتاب» کے لیے۔ «السابق ذكره» صفت اول تھی، وہ کتاب جس کا ذکر پہلے ہو چکا ہے، اور وہ کتاب «الذي كان مضافا إليه للبعض» جو مضاف الیہ تھی کس کے لیے؟ «بعض» کے لفظ کے لیے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ «والقرآن» اب قرآن کی تحقیق کریں گے بھئی کہ قرآن سے کیا مراد ہے۔ بتلائیں گے بھئی کہ قرآن یا تو علم ہے۔ کیا ہے؟ علم ہے، نام ہے بھئی اس کتاب... اس کتاب کا جو حضور علیہ السلام پر نازل ہوئی بھئی۔ یا قرآن جو ہے، مصدر ہے بھئی۔ قرآن کیا ہے؟ مصدر ہے بھئی، دیکھیے۔ کہتے ہیں: «والقرآن إن كان علما كما هو المشهور» اور قرآن اگر وہ علم ہو جیسا کہ وہ مشہور ہے، قرآن بھئی کیا ہے؟ مشہور کیا ہے؟ کہ علم ہے۔ «فهو تعريف لفظي» تو یہ تعریف لفظی ہوئی، «وابتداء التعريف الحقيقي من قوله» اور تعریف حقیقی کی ابتدا جو ہے «من قوله» وہ ماتن کے اس قول سے ہے: «المنزل» کہاں سے؟ «المنزل إلى آخره»، منزل سے لے کر آخر تک۔ تو «منزل» سے تعریف حقیقی شروع ہو رہی ہے، اور قرآن تو علم ہے۔ تو «الكتاب» سے کیا مراد تھا؟ قرآن، اور آگے پھر آ گیا «القرآن»۔ سمجھ میں آیا؟ تو اس طرح... تو یہ تو ہو رہی ہے تعریف، یہ حد بیان کی جا رہی ہے، اور کس کی تعریف کی بیان کی جا رہی ہے؟ «فالقرآن المنزل على الرسول» سے کس کی تعریف ہو رہی ہے؟ «الكتاب» کی، تو «الكتاب» ہوئی محدود جس کی حد بیان کی جا رہی ہے۔ تو اب دیکھیے بھئی اعتراض یہ ہوتا ہے کہ «القرآن» سے بھی مراد وہی «الكتاب» ہے۔ جیسے «الكتاب» نام ہے قرآن کا، اسی طرح «القرآن» یہ بھی کس کا نام ہے؟ اسی قرآن کا۔ تو حد کے اندر محدود کا ذکر آ گیا اور یہ تو درست نہیں ہے۔ جس کی... بھئی محدود کی تو حد بیان کی جا رہی ہے، اس کو دوبارہ حد کے اندر ذکر نہیں کیا جاتا، ورنہ تو بات ہی سمجھ میں نہیں آئے گی، وہ دوبارہ آ گیا بھئی۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ کہ حد کے اندر محدود کا ذکر نہیں ہوتا بھئی۔ تو بتلا رہے ہیں بھئی کہ یہ تعریف لفظی ہے۔ یہ جو «القرآن» کو ذکر کیا، یہ اس کو اگر علم اس سے مراد لیں تو یہ تعریف لفظی ہے، اور «المنزل» سے آگے پھر تعریف حقیقی کیا ہو جائے گی؟ «المنزل» سے تعریف حقیقی شروع ہو گی۔ اب تعریف لفظی کسے کہتے ہیں اور تعریف حقیقی کسے کہتے ہیں، وہ بھی سمجھ لیں۔ یاد رکھیے، تعریف لفظی اسے کہتے ہیں کہ کوئی ایسا لفظ جس کی دلالت اپنے معنی پر واضح ہو، ایسا لفظ جس کی دلالت اپنے معنی پر واضح ہو، اس کی تفصیل بیان کی جائے اس کی تفصیل بیان کی جائے ایسے لفظ کے ذریعے جس کی دلالت اس معنی پر اضح ہو بھئی، یعنی زیادہ واضح ہو۔ جس کی دلالت اس معنی پر اس لفظ سے زیادہ واضح ہو بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ بھئی «الكتاب» کی بھی دلالت واضح تھی قرآن پر، لیکن «القرآن» کی دلالت اس سے زیادہ واضح ہے۔ یا آسان لفظوں میں یوں کہو: مترادف اشہر سے غیر اشہر کی تعریف کرنا۔ ایک لفظ مشہور ہے بھئی، تو غیر مشہور... ایک لفظ زیادہ مشہور نہیں ہے، دوسرا لفظ زیادہ مشہور ہے، تو وہ جو غیر مشہور ہے اس کی تفسیر کس کے ساتھ آپ کر دیتے ہیں؟ مشہور کے ذریعے، تو «الكتاب» بھی نام قرآن کا، «القرآن» بھی اسی کا نام، لیکن زیادہ مشہور کیا ہے؟ «القرآن»، تو «الكتاب» کی تفسیر آپ نے کس کے ذریعے کر دی؟ «القرآن» کے لیے۔ یا جیسے آپ کہتے ہیں کہ «الغضنفر هو الأسد»، «غضنفر» بھی شیر کو کہتے ہیں، لیکن زیادہ مشہور کیا ہے؟ «أسد»، تو اسی «الغضنفر» کی آپ نے تفسیر کر دی، وضاحت کر دی کس کے ذریعے؟ «الأسد»۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ تعریف لفظی۔ اور تعریف حقیقی اسے کہتے ہیں جی جو وہ تعریف جو تصور غیر حاصل کا فائدہ دے، وہ تعریف حقیقی ہے۔ جو تصور غیر حاصل کا فائدہ دے، وہ تعریف حقیقی ہے۔ بات سمجھ میں آئی؟ بھئی دیکھیے، آپ کو پتہ نہیں تھا «الكلمة»، کلمہ کس کو کہتے ہیں؟ صاحب کافیہ اس کی کیا کرتے ہیں؟ تعریف کرتے ہیں کہ «لفظ وضع لمعنى مفرد»۔ تو دیکھو، «الكلمة» کا پتہ نہیں تھا آپ کو، اس کا تصور آپ کو حاصل نہیں تھا، لیکن اس تعریف کے ذریعے کیا ہوا؟ کلمہ ذہن میں ممتاز ہو گیا۔ آپ کو پتہ چل گیا، تو اس کا تصور آپ کو حاصل ہو گیا جو اس تعریف سے پہلے آپ کو حاصل نہیں تھا، تو وہ تعریف بھئی جس... جو کس چیز کا فائدہ دے؟ تصور غیر حاصل کا، ایک چیز کا تصور نہیں تھا، علم نہیں تھا آپ کو، اس کا تصور اس تعریف کے ذریعے حاصل ہو جائے، ذہن میں وہ چیز کیا ہو جائے؟ واضح ہو جائے، اس کو اس تعریف کو کیا کہتے ہیں؟ تعریف حقیقی بھئی۔ تو لہذا معلوم ہوا «القرآن» جو ہے، اگر اس سے علم مراد لیں تو پھر یہ کیا ہوا؟ تعریف لفظی، اور پھر آگے سے تعریف حقیقی کیا ہو جائے گی؟ «المنزل» سے تعریف حقیقی شروع ہو گی بھئی۔ «وإن كان بمعنى المقروء أو بمعنى المقرون فهو جنس له» یا پھر دوسری صورت بھئی کہ قرآن مصدر لیں بھئی، قرآن کیا ہے؟ اگر وہ مصدر ہو، علم نہیں ہے، مصدر ہے بھئی۔ بھئی مصدر ہے پھر تو اس کا حمل «الكتاب» پر صحیح نہیں، کیونکہ «الكتاب» کیا ہے؟ مبتدا، «القرآن» اس کے لیے کیا ہے؟ خبر۔ آپ دیکھتے نہیں: «أما الكتاب فالقرآن»، باقی کتاب جو ہے، وہ قرآن ہے «المنزل» جو اتارا گیا ہے، تو یہ خبر ہوئی، تو یہ ہوا مصدر، اور مصدر کا حمل تو ذات پر صحیح نہیں، جیسے دیکھیے، میں کہتا ہوں: «زيد شرب»، زید کیا ہے؟ پینا ہے، بھئی پینا یہ تو حمل ہی صحیح نہیں ہو رہا، زید پینے والا ہے پھر بات صحیح ہو جاتی ہے۔ زید ضرب، زید پٹائی کرنا ہے، بات درست ہے حمل صحیح ہو رہا ہے۔ ہاں، زید ضارب، زید کیا ہے؟ پٹائی کرنے والا ہے۔ تو مصدر کا حمل ذات پر صحیح نہیں، تو پھر یہ خرابی لازم آئی۔ تو اس صورت میں بتلا رہے ہیں بھئی کہ بھئی اپ جانتے ہیں مصدر کو کبھی کس معنی میں لے لیتے ہیں؟ اس میں فاعل اور کبھی اس میں مفعول، تو یہاں اس کو اسم مفعول کے معنی میں لے لیں گے، پھر اسم مفعول کے معنی میں لینے کی صورت میں پھر اس میں یہ قران مصدر قرأ سے بھی ہو سکتا ہے اور قرن سے بھی ہو سکتا ہے بھئی۔ قرن سے بھی ہو سکتا ہے اور قرأ، قرأ کا معنی، قرء کا معنی پڑھنا، اور قرن کا کیا معنی؟ ملانا، ملانا، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو لہذا اگر قرأ سے ہو تو یہ معمول ہوا، اور اگر قرن سے ہو تو یہ صحیح ہے بھئی۔ تو اگر قرأ سے یہ مصدر ہے قرآن، تو پھر اس کا اسم مفعول کیا بنے؟ کیا بنائیں گے؟ مقروء، پھر مقروء ہو جائے گا بھئی، مقروء۔ اور اگر یہ قرن سے ہو تو اسم مفعول کیا بنے گا؟ مقرون۔ تو مقروء کا کیا معنی؟ پڑھا ہوا، جسے پڑھا جائے، اور مقرون، ملایا ہوا، تو مقروء کا معنی تو واضح ہے بھئی، قرآن کیا ہے؟ اس کو پڑھا جاتا ہے، اور مقرون بھئی، ملایا ہوا یعنی اس کی آیتیں کیا ہیں؟ ایک دوسرے کے ساتھ ملی ہوئی ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں وإن كان بمعنى المقروء أو بمعنى المقرون فهو جنس له، اور اگر یہ قرآن مصدر ہو تو یہ بمعنی، اگر یہ بمعنی مقروء یا بمعنی مقرون کے ہو فهو جنس له، تو یہ کیا ہے؟ جنس ہے اس کے لیے۔ بھئی اپ جانتے ہیں تعریف جنس اور فصل پر مشتمل ہوتی ہے، میں نے اپ سے پوچھا انسان کے بارے میں، انسان کسے کہتے ہیں؟ اپ کہتے ہیں الانسان هو حيوان ناطق، انسان کی تعریف اپ نے کیا کی؟ حیوان ناطق، تو حیوان ناطق کی بھئی، اب اس میں کیا ہے؟ حیوان انسان کے لیے جنس ہے، اور ناطق کیا ہے؟ فصل ہے۔ جب جنس ذکر کی جاتی ہے تو اس میں اس چیز کے ساتھ ساتھ اور چیزیں بھی داخل ہو جاتی ہیں جو اس جنس کی ہیں، اور پھر جب فصل لایا جاتا ہے تو باقی چیزیں کیا ہو جاتی ہیں؟ خارج۔ تو حيوان ناطق کہا، صرف جب حیوان کہا تو انسان کے ساتھ ساتھ اور حیوانات بھی آگئے، لیکن جب ناطق کی قید آگے فصل آیا بھئی تو باقی چیزیں کیا ہو گئیں؟ خارج ہو گئیں، اسی طرح یہاں پر بھی ہے کہ بھئی اگر اس کو المقروء یا المقرون کے معنی میں لیں تو پھر یہ جنس ہے، المقروء پڑھا ہوا بھئی، تو اس میں باقی بھی وہ چیزیں جن کو پڑھا جاتا ہے، باقی کتابیں جن کو پڑھا جاتا ہے، وہ بھی اس میں کیا ہو گئیں؟ داخل ہو گئیں۔ داخل ہو گئیں بھئی، یا مقرون کے معنی میں، تو ملایا ہوا، تو وہ اور چیزیں جو ملائی ہوئی ہیں وہ بھی کیا ہو گئیں اس کے اندر؟ داخل ہو گئیں، لیکن پھر آگے فصل آ گئی اور قیدیں بڑھتی گئیں اور قیدوں کے ذریعے باقی چیزیں کیا ہو جائیں گی؟ خارج ہو جائیں گی، تو کوئی حرج نہیں۔ تو کہتے ہیں فهو جنس له، تو وہ جنس ہے بھئی اس کے لیے، کتاب کے الکتاب کے لیے یہ جنس ہے، وما بعده فصل بلا تكلف، اور اس کا ما بعد کیا ہے؟ فصل ہے، یعنی المنزل فصل ہے بغیر کسی تکلف کے بھئی، وہ سیدھا فصل بن جاتا ہے۔ تیسری بات، فوائد قیود ذکر کر رہے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں بھئی کہ فصل ہے، تو پھر اس کے فصل کے ذریعے احتراز ہوتا ہے، کن کن چیزوں سے احتراز ہے؟ وہ بتلا رہے ہیں۔ کہتے ہیں فالمنزل احتراز، بھئی میں نے کہا منزل، قرآن کیا ہے؟ کتاب اللہ کیا ہے؟ وہ کتاب، وہ چیز جسے پڑھا جاتا ہے المنزل، جو کیا کی گئی ہے؟ نازل کی گئی۔ جب میں نے کہا المنزل، کون سی چیزیں خارج ہو گئیں؟ جو غیر منزل ہیں وہ اس سے خارج ہو گئیں، اور منزل صرف کون سی چیزیں ہیں؟ کتب سماویہ ہیں، تو کتب غیر سماویہ کیا ہو گئیں اس سے؟ خارج ہو گئیں۔ یہِی بتلا رہے ہیں، فالمنزل احتراز عن الكتب غير السماوية، منزل جو ہے یہ احتراز ہے کتب غیر سماویہ سے، جو کتابیں آسمانی نہیں ہیں ان سے احتراز ہے، وہ خارج ہو گئیں۔ وقوله على الرسول، اور آگے جو ہے علی الرسول کا قول آیا ماتن کا، کہتے ہیں یہ احتراز عن باقي الكتب السماوية، یہ باقی کتب سماویہ سے احتراز ہے۔ بھئی المنزل کہا تو اس میں صرف کون سی کتابیں رہ گئیں؟ آسمانی کتابیں جو آسمان سے نازل ہوئی ہیں، اور وہ تو کئی آپ جانتے ہیں بھئی، تو پھر کون سی، پھر تعریف تو صرف کس کی ہو رہی ہے؟ قرآن کی۔ تو آگے علی الرسول کی جب قید آئی کہ وہ جو اتاری گئی ہے اس پیغمبر پر، یعنی وہ جو ہمارے پیغمبر ہیں ان پر جو اتاری گئی ہے، تو ان پر تو صرف کون سی کتاب اتاری گئی ہے؟ قرآن اتارا گیا ہے، تو باقی کتابیں علی الرسول کی قید کے ذریعے کیا ہو گئیں؟ خارج ہو گئیں بھئی۔ تو کہتے ہیں وقوله على الرسول، اور ماتن کا یہ جو قول ہے علی الرسول، یہ احتراز عن باقي الكتب السماوية، یہ باقی کتب سماویہ سے احتراز ہے۔ جی، والمنزل يجوز، یہ چوتھی بحث بھئی منزل اور منزل يا منزل کا لفظ جو متن میں آیا، اس کی تفصیل بیان کرنے لگے ہیں۔ اس میں اپ کو بتلائیں گے کہ اس کو المنزل پڑھنا بھی صحیح ہے، اس میں باب افعال سے، اسم مفعول بھئی، أنزل ينزل إنزالا فهو منزل، وأنزل ينزل إنزالا فذاك منزل، تو باب افعال سے بھی اس کو مفعول، اسم مفعول کا صیغہ پڑھ سکتے ہیں، اور باب تفعیل سے بھی بھئی، نزل ينزل تنزيلا فهو منزل، ونزل ينزل تنزيلا فذاك منزل، تو دونوں سے پڑھ سکتے ہیں۔ اگرچہ دونوں کا معنی مختلف ہے، لیکن دونوں معنی یہاں ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ منزل کا معنی ہے جسے ایک ہی مرتبہ میں اتارا گیا ہو، اور منزل کا معنی وہ ہے جسے بتدریج تھوڑا تھوڑا کر کے اتارا گیا ہو۔ منزل کا کیا معنی؟ منزل کا معنی، منزل کا معنی جسے ایک ہی مرتبہ اتارا گیا ہو، اور منزل کا کیا معنی ہے؟ تھوڑا تھوڑا کر کے جسے اتارا گیا ہو۔ بھئی یہ تو دونوں معنی میں فرق آ گیا بھئی، یہ تو نہیں ہو سکتا ایک چیز ایک ہی دفعہ میں نازل ہوئی ہو اور تھوڑی تھوڑی کر کے بھی نازل ہوئی ہو، یا تو وہ ایک ہی دفعہ نازل ہوئی ہوگی یا تھوڑی تھوڑی کر کے نازل ہوئی ہوگی۔ تو بتلائیں گے نہیں بھئی، دونوں معنی ٹھیک ہو جاتے ہیں، ایک ہی مرتبہ نازل کیا گیا ہے یہ معنی بھی ٹھیک ہو جائے گا، تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا گیا ہے یہ معنی بھی ٹھیک ہو جائے گا۔ بھئی کس طرح ٹھیک ہوگا؟ کہتے ہیں بھئی تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا گیا ہو، یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ قرآن حضور علیہ السلام پر بھئی اکٹھا نہیں اترا تھا بلکہ 23 سال کے عرصے میں تھوڑا تھوڑا کر کے اترا، معلوم ہوا المنزل میں تو کوئی اشکال ہی نہیں۔ منزل تو پڑھ سکتے ہیں، پھر المنزل پڑھتے ہیں کہتے ہیں اس لیے کہ یہ قرآن جو ہے لوح محفوظ سے سماء دنیا کی طرف اکٹھا نازل ہوا تھا، اور پھر وہاں سے تھوڑا تھوڑا کر کے حضور علیہ السلام پر اترا۔ تو دیکھو اکٹھا اترا یعنی لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر، نیز المنزل اکٹھا اتارا ہوا، ایک ہی دفعہ میں اتارا ہوا، بھئی ہر رمضان کے اندر حضرت جبرئیل علیہ السلام اس سال کے اندر جتنا قرآن نازل ہوا ہوتا تھا اس سارے کو پھر اکٹھا کیا کرتے تھے؟ نازل فرماتے حضور علیہ السلام پر سال بھر میں، تو اکٹھا ہو گیا یا نازل نہیں ہوا بھئی پورے سال والا؟ تو لہذا منزل کا معنی، منزل پڑھنا بھی یہاں صحیح اور منزل پڑھنا بھی صحیح۔ کہتے ہیں والمنزل يجوز أن يقرأ بالتخفيف، کہ جائز ہے اس کو پڑھا جائے تخفیف کے ساتھ، یعنی بغیر شد کے زاء کو پڑھیں، أي المنزل دفعة واحدة، یعنی وہ جس کو نازل کیا جائے ایک ہی مرتبہ میں، لأن القرآن نزل دفعة واحدة، اس لیے کہ قرآن نازل ہوا ایک ہی دفعہ میں، من اللوح المحفوظ إلى السماء الدنيا، لوح محفوظ سے سماء دنیا کی طرف، أولا، پہلے، ثم نزل نجما نجما وآية آية بحسب المصالح والحوائج إليه عليه السلام، پھر نازل ہوا نجماً نجماً، تھوڑا تھوڑا کر کے، وآية آية، اور ایک ایک آیت کر کے، بحسب المصالح والحوائج، مصلحتوں اور حاجتوں کے بقدر بھئی، مصلحت اور حاجت کے مطابق یہ تھوڑا تھوڑا کر کے نازل ہوا، کس کی طرف نازل ہوا؟ إليه عليه السلام، حضور علیہ السلام کی طرف نازل ہوا بھئی۔ أو لأنه كان ينزل عليه، یا اس لیے منزل پڑھ سکتے ہیں بھئی، دوسری وجہ ذکر کر رہے ہیں منزل کی، لأنه كان ينزل عليه، اس لیے کہ اتارا جاتا تھا حضور پر، عليه السلام، حضور علیہ السلام پر، دفعة واحدة في كل شهر رمضان جملة، ایک ہی مرتبہ ہر رمضان کے مہینے میں جملۃً، سارا کا سارا، اتارا جاتا تھا، اکٹھا اتارا جاتا تھا حضور علیہ السلام پر ہر رمضان کے مہینے میں بھئی، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ويجوز أن يقرأ بالتشديد، اور یہ جو منزل ہے جائز ہے کہ اس کو پڑھا جائے را کے زاء کی تشدید کے ساتھ بھی، یعنی منزل، لأن نزوله في الواقع، اس لیے کہ یہ قرآن جو ہے اس کا نزول واقع کے اندر، كان بدفعات مختلفة في مدة النبوة، یہ مختلف دفعہ میں تھا مدّتِ نبوت میں، مختلف دفعہ میں کیا ہوا تھا؟ یعنی میں نے بتایا 23 سال کے عرصے میں تھوڑا تھوڑا کر کے نازل ہوا، تو بدفعات، فاء پر فتحہ پڑھنا بھئی۔ بحث سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کل کتنی بحثیں ہوئیں اس شرح کے اندر؟ تین بحثیں ہوئیں، سب سے پہلے کہ اعتراض کا جواب دیا، اس کے بعد قرآن کے بارے میں تحقیق کی کہ یہ علَم ہے یا مصدر ہے، کیا مراد دیا جائے یہاں پر اس سے؟ تو بتلایا دونوں مراد لے سکتے ہیں، اور پھر اس کے بعد منزل کے بارے میں بتلایا کہ منزل بھی اس لفظ کو پڑھ سکتے ہیں اور منزل بھی پڑھ سکتے ہیں۔ المكتوب في المصاحف، جو لکھا گیا ہے بھئی فی المصاحف، کس کے اندر؟ مصاحف کے اندر، صفة ثانية للقرآن، یہ دوسری صفت ہے قرآن کے لیے۔ بھئی پہلی صفت تو کیا آئی تھی قرآن کے لیے؟ المنزل على الرسول، اور دوسری صفت کیا آ گئی؟ المكتوب في المصاحف۔ اچھا، یاد رکھیے، یہ جو آگے شرح آ رہی ہے اس کے اندر بھی تین باتیں بیان ہوں گی بھئی۔ سب سے پہلے بتلائیں گے، بحث کریں گے، سب سے پہلے کہ اعتراض کا جواب دیں گے بھئی کہ جو مکتوب سے متعلق ہے، پھر اس کے بعد المصاحف میں الف لام کے جو آیا ہے المصاحف سے کیا مراد ہے الف، تو یہ مصاحف اور اس کے الف لام کے بارے میں بحث کریں گے، اور پھر آخر میں اس قید کا فائدہ بتلائیں گے کہ ماتن نے یہ جو المکتوب فی المصاحف کی قید بڑھائی، یہ صفت لے کر آئے، اس کا فائدہ کیا ہے بھئی؟ اس کا فائدہ کیا ہے؟ تو دیکھیے، سب سے پہلے المکتوب کے بارے میں بحث کر رہے ہیں بھئی، کہتے ہیں ومعنى المكتوب المثبت، بھئی یہ اعتراض ہوتا ہے اس کا جواب دے رہے ہیں، اعتراض یہ ہوتا ہے کہ آپ نے کیا کہا؟ کہ قرآن وہ ہے جو حضور علیہ السلام پر اتارا گیا ہے اور مصاحف میں لکھا ہوا ہے، کہتے ہیں بھئی قرآن مصاحف میں کیسے لکھا گیا؟ آگے خود آ رہا ہے اگلے صفحے پہ دیکھیے متن ذرا، وهو اسم للنظم والمعنى جميعا، قرآن نام ہے لفظ اور معنی دونوں کا، تو قرآن نام ہے لفظ اور معنی کا، اور لفظ وہ ہے جس پر تلفظ کیا جائے، تو جس کی زبان سے ادائیگی کی جائے تو اسے لفظ کہتے ہیں۔ اور معنی وہ ہے جس کا تعلق ذہن سے ہوتا ہے، جو ذہن میں سمجھ میں آئے وہ کیا کہلاتا ہے؟ معنی۔ تو لفظ کا تعلق ہوا تلفظ سے، تو نہ لفظ کو لکھا جا سکتا ہے اور نہ معنی کو لکھا جا سکتا ہے، یہ جو لکھے، یہ جو آپ کو سامنے نظر آ رہے ہیں لکھے ہوئے، یہ تو نقوش ہیں، یہ اس لفظ پر دلالت کرتے ہیں بھئی، کیا کرتے ہیں؟ اس لفظ پر دلالت کرتے ہیں۔ تو ان سے وہ لفظ سمجھ میں آتا ہے، انہوں نے اس لفظ پہ دلالت کی، وہ لفظ سمجھ میں آیا اور اس لفظ نے پھر کیا کیا؟ اس معنی پر دلالت کی۔ تو لفظ کا تعلق کس سے ہے؟ زبان سے ہے، کیونکہ لفظ کسے کہتے ہیں جس پر تلفظ کیا جائے، اور معنی کا تعلق ذہن سے ہے بھئی، تو لہذا لفظ کا، لفظ تو کہتے ہی اسے ہیں جس پر تلفظ کیا جائے، اسے تو نہیں لکھا جا سکتا بھئی، یہ لکھے ہوئے تو صرف نقوش ہیں، یہ اس لفظ پر کیا کر رہے ہیں؟ دلالت کر رہے ہیں۔ اور تو آپ نے آگے آپ بتلا رہے ہیں کہ قرآن کس چیز کا نام ہے؟ لفظ اور معنی دونوں کا نام ہے، اور دونوں میں سے کوئی بھی مکتوب نہیں ہو سکتا، معلوم ہوا قرآن بھی مصاحف میں مکتوب نہیں ہو سکتا، تو پھر آپ کا یہ کہنا کہ قرآن مکتوب ہے فی المصاحف، یہ آپ کی بات صحیح نہیں۔ تو بتلائیں گے بھئی شارح آگے، کہ بھئی مکتوب بمعنی مثبت کے ہے بھئی، جو ثابت کیا گیا ہے، وہ قرآن جو ثابت کیا گیا ہے، ثابت شدہ ہے، کس کے اندر؟ مصاحف میں ثابت شدہ ہے۔ تو کہتے ہیں ہاں بھئی، آپ کی بات ٹھیک ہے، لکھے جو لکھے جا رہے ہیں وہ تو نقوش ہی ہیں، لیکن یہ نقوش کس پر دلالت کرتے ہیں؟ ان الفاظ پر، اور وہ الفاظ پھر کس پر دلالت کرتے ہیں؟ ان معانی پر، تو قرآن اگرچہ مکتوب تو نہیں لیکن مثبت تو ہے، ثابت ہو گیا یا نہیں ان نقوش کے ضمن میں؟ قرآن ان نقوش کے ضمن میں ثابت ہو گیا، مثبت ہے ان مصاحف کے اندر، تو لہذا مکتوب کس معنی میں ہے؟ مثبت کے معنی میں ہے، ثابت شدہ کے معنی میں ہے، ثابت کیے ہوئے کے معنی میں ہے۔ تو یہ نقوش دلالت کرتے ہیں اولاً کس پر؟ لفظ پر، اور پھر لفظ کس پر دلالت کرتا ہے؟ معنی پر، تو لفظ پر انہوں نے دلالت کی بغیر واسطے کے، اور معنی پر دلالت کی کس کے واسطے سے؟ لفظ کے واسطے سے، تو گویا لفظ مثبت ہوا حقیقۃً، اور معنی مثبت ہوا تقدیرًا بھئی، لفظ کیا ہوا؟ لفظ حقیقۃً مثبت ہوا کیونکہ ان نقوش نے کس پر دلالت کی بغیر واسطے کے؟ لفظ پر بغیر واسطے کے بھئی، براہ راست ان سے وہ لفظ سمجھ میں آ گیا، لیکن معنی براہ راست نہیں سمجھ میں آتا، پہلے لفظ سمجھ میں آتا ہے اور پھر اس لفظ سے کیا سمجھ میں آتا ہے؟ معنی، تو انہی نقوش نے گویا کہ اس معنی پر بھی دلالت کر دی، لیکن کس کے واسطے سے؟ لفظ کے واسطے سے، تو لہذا لفظ پر یہ دلالت کر رہے ہیں بغیر واسطے کے، تو گویا لفظ مثبت ہے، ثابت کیا ہوا ہے، ثابت شدہ ہے ان میں مصاحف میں، قرآن کے الفاظ بھی کیا ہیں؟ ثابت شدہ ہیں حقیقۃً ثابت شدہ ہیں، اور معنی بھی ثابت ہے لیکن تقدیرًا ہے، بات سمجھ میں آئی بھئی؟ کہتے ہیں ومعنى المكتوب المثبت، اور مکتوب کا معنی مثبت ہے بھئی، لأن المكتوب في الحقيقة هو النقوش دون اللفظ والمعنى، اس لیے کہ جو لکھا ہوا جاتا ہے، وہ حقیقت کے اندر وہ نقوش ہوتے ہیں لفظ اور معنی نہیں، وإنما هما مثبتان في المصاحف، اور یہ جو لفظ اور معنی ہیں یہ تو مثبت ہوتے ہیں، ثابت شدہ ہوتے ہیں کس کے اندر؟ مصاحف کے اندر، فاللفظ مثبت حقيقة، پس لفظ جو ہوتا ہے وہ ثابت ہوتا ہے حقیقۃً، والمعنى مثبت تقديرا، اور معنی ثابت ہوتا ہے تقدیرًا بھئی۔ یہ بحث تھی مکتوب کے بارے میں کہ مکتوب بمعنی مثبت کے ہے۔ واللام في المصاحف، اب المصاحف کے بارے میں بتلائیں گے بھئی کہ اس کے اندر جو الف لام ہے اسے الف لام جنس کے لیے بھی لے سکتے ہیں اور وہ الف لام عہدی بھی بنا سکتے ہیں بھئی۔ واللام في المصاحف للجنس، اور الف لام جو آیا المصاحف پر یہ جنس کے لیے ہے بھئی۔ المصاحف جو متن میں آیا اس پر جو الف لام آیا وہ کس کے لیے ہے؟ جنس، یعنی جنسِ مصاحف، وہ قرآن جو مثبت ہے، ثابت شدہ ہے فی المصاحف، کس کے اندر؟ جنسِ صحیفوں میں، تو یہ جنسِ صحیفے مراد ہوئے کیونکہ الف لام جنسی ہے، تو اس کے اندر سارے صحیفے داخل ہو گئے، قراءِ سبعہ کے صحیفے بھی داخل ہوئے، جو سات قراء مشہور ہیں، سات قراءتیں مشہور ہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ وہ بھی داخل ہوئے، اس کے علاوہ وہ صحیفے جو جو اور صحابہ کے تھے، وہ بھی اس میں کیا ہو گئے؟ داخل ہو گئے، کیونکہ جنسِ صحیفے تو سارے صحیفے اس کے اندر داخل ہوئے، قراءِ سبعہ کے علاوہ اور جو صحابہ کے صحیفے تھے وہ بھی اس کے اندر داخل ہو گئے۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ بھئی وہ تو قرآن نہیں، ہم تو قرآن کی بات کر رہے ہیں بھئی۔ قرائے سبعہ کے صحیفے تو ٹھیک ہیں، وہ تو قرآن ہیں، لیکن باقی جو اس طریقے پر منقول نہیں ہے اس وہ قرآن میں وہ قرآن نہیں بھئی۔ تو جواب دے رہے ہیں بھئی کہ اگرچہ اب عموم آگیا اور صحیفے بھی داخل ہوگئے لیکن اس سے کوئی نقصان نہیں لازم آتا، کیونکہ آگے پھر قید آرہی ہے المنقول عنہ نقلا متواترا بلا شبھۃ، جو منقول ہو حضور علیہ السلام سے نقلا متواترا کس طریقے پر؟ متواتر، تواتر کے طریقے پر بلا شبھۃ بغیر کسی شبہ کے۔ اور باقی صحابہ کے جو صحیفے تھے وہ تواتر کے طریقے پر منقول ہی نہیں ہیں۔ کون سے منقول ہیں؟ صرف قرائے سبعہ کے، تو وہ جی۔ تو اگلی قید چونکہ اگرچہ پہلے عموم آگیا اور بھی صحیفے داخل ہوئے لیکن اگلی قید ان صحیفوں کو نکال دے گی، لہذا اب داخل بھی ہو جائیں تو کوئی حرج نہیں، اگلے لفظ سے وہ خارج ہونے والے ہیں۔ ولا یضر تعمیمہ لغیر القرآن اور اس کی تعمیم قرآن کے علاوہ کو یعنی قرآن کے علاوہ کو شامل ہونے کو، شامل ہونا یہ نقصان نہیں دیتا۔ ولا یضر تعمیمہ اور ضرر نہیں دیتا تعمیمہ اس کا عام کر دینا لغیر القرآن قرآن کے علاوہ کو بھی لان القید الاخیر یخرجہ اس لیے کیونکہ آخری قید جو ہے وہ اس غیرِ قرآن کو نکال دے گی۔ او للعھد یا یہ لام عہد کے لیے ہے بھئی۔ عہد کا معنیٰ متعین ہونا، معہود کس کو کہتے ہیں؟ متعین، متعین۔ معہود کا کیا معنیٰ ہے؟ متعین۔ یا الف لام عہد کے لیے ہے یعنی کسی متعین کی طرف اشارہ ہے، متعین صحیفوں کی طرف۔ تو کون سے متعین صحیفے ہیں؟ کہتے ہیں وال معہود ہو مصاحف القرائ السبعۃ، معہود جو متعین ہیں وہ قرائے سبعہ کے صحیفے ہیں، قرائے سبعہ کے صحیفے ہیں۔ وہ تو کیا معنیٰ ہوا؟ المکتوب فی المصاحف، وہ قرآن جو ثابت شدہ ہے قرائے سبعہ کے صحیفوں میں۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ جب آپ نے تو کیا کہا؟ قرآن کی تعریف میں کیا لفظ لے آئے؟ مصاحف، اور مصاحف سے کیا مراد ہیں؟ قرائے سبعہ کے صحیفے۔ اور اب کوئی شخص پوچھے گا بھئی قرائے سبعہ کے صحیفے کیا چیز ہیں؟ آپ کہیں گے وہ جس میں قرآن لکھا ہوا ہے۔ کیا تعریف کریں گے؟ یہی تعریف کریں گے نا، قرائے سبعہ کے صحیفے کیا ہیں جن کے اندر قرآن لکھا ہوا ہے۔ اچھا، اب دیکھو آپ تعریف کس کی اس وقت کر رہے ہیں کتاب میں؟ قرآن کی، کس کی تعریف کر رہے ہیں؟ قرآن کی، قرآن کی تعریف کر رہے ہیں قرآن کی، ابھی آپ کو قرآن کا یوں سمجھیں گویا علم، تعریف پوری طرح ہوگی تو ایک شے پوری طرح ذہن میں آجائے گی، ممتاز ہوجائے گی باقی ہر چیز اس سے خارج ہوجائے گی بھئی۔ تو اب گویا قرآن کو سمجھنے کے لیے یہ تعریف سمجھیں بھئی، اور اس تعریف کے اندر لفظ آیا مصاحف، اور مصاحف کا پھر پوچھیں مصاحف سے مراد ہے مصاحفِ قرائے سبعہ، تو پوچھیں گے مصاحفِ قرائے سبعہ کسے کہتے ہیں؟ تو اس کی کیا تعریف کرنا پڑے گی؟ وہ جس میں قرآن لکھا ہوا ہے۔ بھئی قرآن ہی کی تعریف لکھی کی جارہی ہے اور اس کے اندر ایک ایسی چیز آگئی جس کو سمجھنے کے لیے پھر آگے قرآن کا سمجھنا ضروری ہے۔ قرائے سبعہ کے مصاحف کیا تعریف کرنا پڑے گی؟ تو معلوم ہوا قرائے سبعہ کے مصاحف کا پتہ تب ہی چلے گا جب آپ کو کس کا پتہ ہو؟ قرآن کا، کیونکہ اس کی تعریف ہی کیا کی آپ نے؟ وہ جس کے اندر قرآن لکھا ہوا ہے، تو معلوم ہوا آپ کو قرآن کا پتہ ہونا چاہیے، اور قرآن کی تو تعریف ہی اس وقت کر رہے ہیں، تو معلوم ہوا قرآن کی تعریف موقوف ہوگئی مصاحف کے سمجھنے پر، اور مصاحف کا سمجھنا موقوف ہوگیا قرآن کے سمجھنے پر، اور اسے دور کہا جاتا ہے۔ اور جس سے ایک بھی چیز کا پتہ نہیں چلتا بھئی، ایک بھی چیز کا پتہ نہیں چلتا بھئی۔ بھئی مثلاً آپ نے کسی سے پوچھا زید کا گھر کہاں ہے؟ اس نے کہا بکر کے گھر کے سامنے، آپ نے پوچھا بکر کا گھر کہاں ہے؟ اس نے کہا زید کے گھر کے سامنے، تو ایک کا بھی آپ کو علم نہیں ہوا بھئی۔ تو یہاں تو دور، دور کی تعریف لکھ لیجیے مولانا، دور: الدور ہو توقف الشئ علی ما یتوقف علیہ. علیہ کر دیں، ضمیر لوٹا دیں، یہ اسی شے کو لوٹ رہی ہے، یا اس کی جگہ ذالک الشئ لکھ دیں۔ علیہ کر دیں یا علیٰ ذالک الشئ، جس طرح بھی آپ کو آسانی ہو یاد کرنے میں۔ آپ اس تعریف کو سمجھ لیں، دور کسے کہتے ہیں؟ ہو توقف الشئ، وہ ایک شے کا موقوف ہونا ہے شے کو، شے کا موقوف ہونا ہے علیٰ ما اس چیز پر یتوقف علیٰ ذالک الشئ جو خود اس شے پر موقوف ہو۔ ایک شے ایسی چیز پر موقوف ہوگئی کہ وہ شے خود اس شے پر کیا ہے؟ موقوف۔ اس شے کو سمجھنے کے لیے اسے سمجھنا ضروری ہے اور اس کو سمجھنے کے لیے اس شے کو سمجھنا ضروری ہے، اس کو کہتے ہیں دور بھئی، تو یہاں دور لازم آئے گا۔ اعتراض سمجھ میں آیا؟ کہ آپ نے تعریف میں کیا ذکر کیا مصاحفِ قرائے سبعہ، اور مصاحفِ قرائے، تعریف کر رہے ہیں قرآن کی، تو قرآن کی تعریف کو سمجھنے کے لیے مصاحفِ قرائے سبعہ کا سمجھنا، سمجھنا اور جاننا ضروری، اور مصاحفِ قرائے سبعہ کو سمجھنے کے لیے قرآن کا سمجھنا ضروری، تو لہذا اس سے کیا لازم آیا؟ دور۔ جواب دیں گے مصنف کہ نہیں بھئی دور بھی لازم نہیں آتا، اس لیے کہ قرائے سبعہ کے جو مصاحف ہیں اس کا تمام لوگوں کو علم ہے، اس کی کسی تعریف وغیرہ کی حاجت تھی نہیں، اگر اس کی تعریف کی حاجت پیش آتی تو اور پھر یہ تعریف کرتے کہ وہ قرائے سبعہ کے مصاحف وہ ہیں جن میں کیا لکھا ہوا ہے؟ تو پھر دور لازم آتا، لیکن یہاں تو تعریف کی ضرورت ہی نہیں۔ وہ تو ہر ایک کو پہلے سے ہی معلوم ہیں، بات سمجھ میں آگئی؟ تو لہذا دور لازم نہیں آئے گا۔ کہتے ہیں وال معہود ہو المصاحف القرائ السبعۃ، وہ قرائے سبعہ کے سات قاریوں کے جو مصاحف ہیں وہ مراد، وہ ہیں، وہو متعارف بین الناس اور وہ مشہور ہیں، متعارف ہیں لوگوں کے درمیان، لا یحتاج الیٰ ان یعرف وہ محتاج نہیں ہے اس بات کے کہ ان کی تعریف کی جائے، فیقال پس یوں کہا جائے، تعریف کی جائے تو یوں کہا جائے: ہو ما کتب فیہ القرآن کہ وہ ہیں جن کے اندر قرآن کو لکھا گیا ہے، یہ تعریف کرنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئے گی بھئی، حتٰی یلزم الدور یہاں تک کہ کیا لازم آجائے؟ دور، یہ تعریف کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی تاکہ دور لازم آئے، جب تعریف نہیں کریں گے تو دور بھی لازم نہیں آئے گا۔ ویحترز بہٰذا القید، یہ اب فائدہ بتلا رہے ہیں کہ المکتوب فی المصاحف کی قید بڑھا کے کیا فائدہ ہے۔ کہتے ہیں دیکھیے بھئی، بعض آیات ایسی تھیں جن کو بعد میں منسوخ کر دیا گیا، ان کی تلاوت کیا کر دی گئی؟ منسوخ کر دی گئی، ہاں ان کا حکم باقی رکھا گیا، جیسے بھئی یہ نچلی سطر میں آیت آرہی ہے، الشیخ والشیخۃ اذا زنیا، شادی شدہ مرد اور شادی شدہ عورت اذا زنیا جب دونوں زنا کر لیں، فرجومہما تو ان دونوں کو کیا کرو؟ رجم کرو، سنگسار کر دو، نکالا من اللہ اللہ کی طرف سے سزا کے طور پر، واللہ عزیز حکیم اور اللہ زبردست اور حکمت والے ہیں۔ تو یہ آیت بھئی پہلے نازل ہوئی تھی، لیکن پھر اس کی تلاوت کیا کر دی گئی؟ منسوخ، اسی لیے قرآن میں آپ کو یہ آیت نہیں ملے گی، لیکن اس کا حکم باقی رکھا گیا، حکم اس میں کیا بیان ہوا تھا کہ شادی شدہ مرد اور عورت زنا کریں تو ان کو کیا کریں گے؟ سنگسار، تو ان کو سنگسار کیا جاتا ہے۔ تو لہذا جب کہا المکتوب فی المصاحف، تو اس قسم کی آیات جن کی تلاوت منسوخ ہوچکی وہ کیا ہوگئیں؟ خارج ہوگئیں۔ اسی طرح بعض قرأتیں ان کے اندر ایک آدھ لفظ کی زیادتی آئی ہے، لیکن وہ قرآن کے اندر چونکہ جو ہمارے پاس ہے اس میں مکتوب نہیں ہے، مثبت نہیں ہے، لہذا وہ قرأتیں بھی اس سے کیا ہوگئیں؟ خارج ہوگئیں، خارج ہوگئیں بھئی۔ جیسے دیکھیے بھئی یہ وعن قرأۃ ابیٍّ، اس کے ۱۰ نمبر حاشیہ ہے، یہاں انہوں نے ذکر کی ہوئی ہے بھئی۔ اما قرأۃ ابیٍّ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ففی قضاء رمضان فعدۃ من ایام اخر متتابعات۔ قضائے رمضان کے بارے میں کیا ہے ان کی قرأت آتی ہے؟ فعدۃ من ایام اخر متتابعات کا لفظ یہ آتا ہے، حالانکہ یہ متتابعات کا لفظ قرآن میں موجود نہیں، تو لہذا یہ بھی خارج ہوگیا اس سے۔ اسی طرح حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آگے قرأت ذکر ہے کہ کفارہِ یمین کے بارے میں ہے فصیام ثلاثۃ ایام متتابعات، وہاں بھی متتابعات کا لفظ آتا ہے ان کی قرأت میں، لیکن چونکہ وہ بھی مکتوب نہیں ہے تو وہ بھی کیا ہوا؟ اس تعریف سے خارج ہوگیا۔ فیحترز بہٰذا القید اور احتراز کر رہے ہیں مصنف اس قید کے ذریعے عما نسخت تلاوتہُ ان آیتوں سے جن کی تلاوت منسوخ ہوچکی ہے دون حکمہِ نہ کہ حکم، یعنی حکم منسوخ نہیں ہوا، کقولہِ تعالیٰ جیسے اللہ کا یہ قول ہے الشیخ والشیخۃ اذا زنیا فرجومہما کہ شادی شدہ مرد اور شادی شدہ عورت جب زنا کر لیں فرجومہما تو ان دونوں کو سنگسار کر دو نکالا من اللہ اللہ کی طرف سے سزا کے طور پر واللہ عزیز حکیم اور اللہ زبردست اور حکمت والے ہیں، اور اسی طرح اس کے ذریعے احتراز ہوا عن قرأۃ ابیٍّ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ونحوہِ، حضرت ابی اور ان جیسے اور صحابہ کرام کی جو قرأت ہیں ان سے بھی، مما ان میں سے جو لم یکتب فی المصاحف السبعۃ جو مکتوب نہیں ہیں، مثبت نہیں ہیں کس کے اندر؟ مصاحفِ سبعہ کے اندر مکتوب نہیں ہیں ان کو ان سے احتراز ہوا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو حاصلِ کلام کیا ہوا کہ المکتوب فی المصاحف کے تحت بھئی تین چیز باتیں ذکر ہوئیں، سب سے پہلے کیا کیا؟ المکتوب کے بارے میں بحث کی کہ المکتوب تو قرآن، قرآن تو لفظ اور معنیٰ دونوں کا نام ہے اور لفظ اور معنیٰ میں سے کوئی ایک بھی مکتوب نہیں۔ تو اس کا جواب ذکر کیا، پھر اس کے بعد المصاحف کے الف لام کے بارے میں بحث کی کہ الف لام کونسا ہے اور مصاحف سے کیا مراد ہے؟ بتلایا الف لام جنسی بھی لے سکتے ہو اور الف لام، الف لام عہدی بھی مراد لے سکتے ہو اور دونوں صورتوں پر جو اعتراض ہوتا تھا اس کا جواب بھی ساتھ ہی ذکر کر دیا، اور پھر المکتوب فی المصاحف اس قید کا فائدہ بتلایا کہ اس کے ذریعے ان آیات سے احتراز کیا ہے جو مصاحف کے اندر کیا ہیں؟ مکتوب نہیں ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ چلیے بس مولانا، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔