وَلاَ يَسْأَلُ قَاضٍ عَنْ شَاهِدٍ بِلاَ طَعْنِ الْخَصْمِ، أي لاَ يَسْأَلُ الْقَاضِي وَلاَ يَتَفَحَّصُ أَنَّ الشَّاهِدَ عَدْلٌ أَوْ غَيْرُ عَدْلٍ إذْ لَمْ يَطْعَنِ الْخَصْمُ فِيهِ إِلاَّ فِي حَدٍّ وَقَوَدٍ. اچھا بھئی! کتاب الشهادة ہم نے شروع کی تھی بھئی۔ آپ نے پڑھا تھا شہادت کس کو کہتے ہیں؟ کہ وہ خبر دی جائے کسی ایک کے حق کی دوسرے دوسرے پر حق کی خبر دینا بھئی۔ جی، اور آپ نے پڑھا حدود کے مسئلے میں اس کو چھپانا افضل ہے تاکہ مسلمان کیا ہو جائے؟ حد سے بچ جائے، اس کی پردہ پوشی ہو جائے بھئی۔ جی، اور اس کا نصاب آپ نے پڑھا تھا بھئی کہ زنا کے لیے کتنے گواہ چاہئیں؟ چار، اور چاروں مرد ہونے چاہئیں۔ باقی حدود اور قصاص کے اندر دو مرد ہوں بھئی، عورت نہیں آ سکتی ادھر۔ اور وہ مسائل جن کا تعلق جس پر عورتیں عیوب جن پر عورتیں مطلع ہو سکتی ہیں، ان میں کتنے بھئی؟ ایک عورت کی گواہی بھی کافی ہے بھئی۔ اور اس کے علاوہ باقی مسائل چاہے مالی ہوں یا غیرِ مالی، سب میں ہمارے نزدیک دو مرد بھی گواہ بن سکتے ہیں اور ایک مرد اور دو عورتیں عورتیں بھی بن سکتی ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ چار عورتیں پھر بھی نہیں صحیح، ایک مرد کا ساتھ ہونا ضروری ہے بھئی۔ نیز ہر گواہ کے لیے عادل ہونا بھی ضروری اور نیز وہ کہ أَشْهَدُ کا لفظ کہے بھئی، یہ آپ نے پڑھا بھئی أَشْهَدُ کا لفظ۔ لیکن میں پھر علامہ صدر الشریعہ نے آپ کو بتلایا کہ عدالت کس لیے ضروری ہے؟ وجوبِ قبولیت کے لیے ضروری ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ جب وہ عادل ہو گواہ، گواہ دونوں عادل ہوں تو قاضی کو ان کی گواہی قبول کرنا اور اس پر فیصلہ کرنا واجب ہے۔ اس کا یہ معنی نہیں کہ اگر گواہ فاسق ہے تو اس کی گواہی کو قبول ہی نہ کیا جائے بلکہ قاضی کیا کر سکتا ہے؟ اس کی گواہی کو قبول کر سکتا ہے۔ جی، آج آپ کو بتلا رہے ہیں: وَلاَ يَسْأَلُ، قاضی کے پاس جب گواہ آئیں بھئی، امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں بھئی قاضی کو تفتیش نہیں کرنی چاہیے کہ یہ عادل ہیں یا غیرِ عادل، نہیں، بلکہ ہر مسلمان عادل ہے۔ حدیث میں آتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ تمام مسلمان عادل ہیں ایک دوسرے پر بھئی، مگر یہ کہ کہ وہ شخص کیا ہو؟ محدود فی القذف ہو، محدود فی القذف کے علاوہ باقی تمام مسلمان ایک دوسرے پر عادل ہیں، ایک دوسرے کے لیے عادل ہیں بھئی۔ تو لہذا ظاہری عدالت کافی ہے کسی بھی شخص کی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جب مسلمان ہے تو عادل ہی ہوگا، لہذا قاضی کو تحقیق و تفتیش نہیں کروانی چاہیے کہ یہ عادل ہے یا عادل نہیں، یہ کن کا مسلک ہے؟ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا۔ ہاں، حد اور قصاص، حدود اور قصاص کے مسئلے میں وہ فرماتے ہیں یہاں تفتیش کرنی چاہیے قاضی کو۔ کیوں؟ کیونکہ یہاں پر کوشش کی جاتی ہے کہ کسی طرح ان کو ٹال دیا جائے۔ حدود اور قصاص میں کیا کوشش کی جائے گی؟ ان کو ٹالنے کی کوشش کی جائے گی بھئی، جب ٹالنے کی کوشش تو یہاں بہ، یہاں قاضی کو اب تحقیق کرنا پڑے گی، تحقیق کرے کسی طرح گواہ کیا نہ نکل آئے؟ پتہ چلا ہے بھئی ہو سکتا ہے غیرِ عادل ہو تو وہ حد سے بچ جائے گا دوسرا شخص بھئی۔ جی، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں: نہیں بھئی، ہر مسئلے کے اندر تفتیش کرے قاضی بھئی کہ گواہ عادل ہے بھئی، تحقیق کروائے بھئی۔ تو یہ جو پتہ کروایا جاتا ہے کہ گواہ عادل ہے یا نہیں، اس کو کہتے ہیں تزکیہ، کیا کہتے ہیں؟ تزکیہ۔ تزکیہ کہتے ہیں، تو کہتے ہیں ہر مسئلے کے اندر، ہر مقدمے کے اندر گواہوں کا تزکیہ ضروری ہے، صاحبین فرماتے ہیں۔ اور پھر تزکیہ یاد رکھنا دو قسم پر ہے: ایک ہے خفیہ تزکیہ، ایک ہے اعلانیہ بھئی۔ خفیہ تزکیہ یہ ہے کہ گواہ آئے ہیں، قاضی ایک کاغذ پر اس گواہ کا نام، نسب، حلیہ، مقام وغیرہ یہ لکھ دیتا ہے اس کی نشانیاں، یہ گواہ ہے، اور اس گواہ، وہ گواہ جس علاقے میں رہتا ہے، محلے میں رہتا ہے اس کے کسی جاننے والے شخص کو بھیج دیتا ہے کہ بھئی یہ گواہ کس قسم کا ہے، عادل ہے یا غیرِ عادل ہے؟ خفیہ طور پر خط روانہ کرتا ہے، وہ اس پر لکھ دیتا ہے: عادل ہے یا غیرِ عادل ہے، وہ خط واپس آ جاتا ہے، یہ خفیہ تزکیہ ہو گیا مولانا، اس نے جب کیا لکھ دیا ہے؟ یہ عادل ہے۔ اور ایک ہے اعلانیہ تزکیہ بھئی کہ اعلانیہ بھی بھئی اس گواہ کو بھی سامنے کھڑا کرو، مزکی وہ جو تزکیہ کرنے والا ہے اس کو بھی بلوا لو، ہاں بھئی یہ شخص ہے، بتلاؤ یہ عادل ہے یا عادل نہیں ہے، سب کے سامنے وہ تزکیہ کرتا ہے بھئی سب کے سامنے۔ اچھا! تو وہاں پر بھئی اعلانیہ کے اندر سامنے ہونا ضروری، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو تزکیہ کتنی قسم پر ہوا؟ دو: ایک خفیہ اور ایک اعلانیہ بھئی، اور خفیہ میں میں نے بتلایا خط بھیج کر پتہ کروائے گا۔ اور اعلانیہ میں سب کے سامنے کیا جائے گا کہ یہ عادل ہے یا عادل نہیں، وہ بتائے گا۔ دیکھیے بھئی! تو امام صاحب کے نزدیک بھئی اس طرح حدود اور قصاص کے مسئلے میں تعدیل کی جائے گی بھئی اور تزکیہ کیا جائے گا، اور صاحبین کے نزدیک ہر مقدمے کے اندر تزکیہ کیا جائے گا گواہوں کا۔ وَلاَ يَسْأَلُ قَاضٍ، یہ امام صاحب کی بات آئی بھئی سب سے پہلے: وَلاَ يَسْأَلُ قَاضٍ، اور پتہ نہ کرے، پوچھے نہ قاضی عَنْ شَاهِدٍ، گواہ کے بارے میں بِلاَ طَعْنِ الْخَصْمِ، فریقِ مخالف کی اعتراض کے بغیر۔ فریقِ مخالف اگر اعتراض کرتا ہے پھر تو پتہ کروا لے قاضی کہ یہ عادل ہے یا مثلاً فریقِ مخالف بھئی، مدعی علیہ نے کہا بھئی: قاضی صاحب! یہ جو دو گواہ آئے ہیں یا یہ ایک گواہ جو آیا ہے، ان میں سے ایک عادل نہیں ہے، یہ تو فاسق آدمی ہے، اب قاضی پتہ کروا لے۔ تو قاضی پتہ نہیں کروائے گا گواہ کے بارے میں جب تک بغیر خصم کے اعتراض کیے بھئی۔ أي، اسی کی تفسیر کر رہے ہیں بھئی: أي لاَ يَسْأَلُ الْقَاضِي، قاضی پوچھے گا نہیں وَلاَ يَتَفَحَّصُ، اور تفتیش نہیں کرے گا أَنَّ الشَّاهِدَ عَدْلٌ أَوْ غَيْرُ عَدْلٍ، کہ گواہ عادل ہے یا غیرِ عادل ہے إذْ لَمْ يَطْعَنِ الْخَصْمُ فِيهِ، جبکہ گواہ نے، جبکہ مدعی علیہ نے اس میں، فریقِ مخالف نے اس پہ اعتراض نہ کیا ہو، پھر نہ پتہ کروائے، کوئی ضرورت نہیں ہے، بس ظاہری عدالت کافی ہے، وہ مسلمان ہے اور ہر مسلمان کے بارے میں حضور کیا فرماتے ہیں: ہر مسلمان عادل ہے ایک دوسرے پر بھئی۔ إِلاَّ فِي حَدٍّ وَقَوَدٍ، مگر حد اور قصاص میں کہ اس میں تح، تحقیق کرے بھئی۔ وَقَالاَ، اور صاحبین فرماتے ہیں: يَسْأَلُ فِي الْكُلِّ، پوچھے گا قاضی ہر ایک میں، ہر میں بھئی چاہے قصاص ہو یا غیرِ حد اور غیرِ قود کے علاوہ ہو، سِرًّا وَعَلاَنِيَةً، خفیہ طور پر بھی اور اعلانیہ، کھلے طور پر بھی، اعلانیہ طور پر بھی پتہ کروائے گا۔ وَبِهِ يُفْتَى فِي زَمَانِنَا، یہ علامہ تاج الشریعہ فرما رہے ہیں: وَبِهِ يُفْتَى، متن ہے مولانا، اور اسی پر فتویٰ دیا جائے گا ہمارے زمانے میں بھئی کہ قاضی، زمانہ بھئی لوگ، زمانہ خراب ہو گیا، سمجھ میں آیا؟ فسق و فجور ہر طرف پھیل گیا ہے، تو قاضی پتہ کروا لے، ہر گواہ کی تحقیق کروائے کہ فاسق ہے یا عادل ہے، ہر ایک کی۔ جی، تو پوشیدہ بھی کروائے گا اور اعلانیہ بھی، لے، جی، وَيَكْفِي سِرًّا، لیکن اگر پوشیدہ کروا لے یہ بھی کافی ہے۔ پوشیدہ کروانا کافی ہے۔ خط کے ذریعے، کیوں بھئی؟ پوشیدہ کافی کیوں؟ کہتے ہیں: لِأَنَّهُ قَدْ قِيلَ، اس لیے کہ تحقیق کہا گیا ہے، یہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں، کہتے ہیں: تَزْكِيَةُ الْعَلاَنِيَةِ بَلاَءٌ وَفِتْنَةٌ، کہ اعلانیہ تزکیہ وہ تو بلا، آزمائش ہے اور فتنیٰ ہے۔ بھئی دیکھو بھئی، تزکیہ ہو رہا ہے بھئی، گواہ نے گواہی دینی ہے ایک مقدمے کے اندر، آپ اس کا تزکیہ کروا رہے ہیں، اس کے جاننے والے کو بلوا لیا، دو جاننے والے آ گئے مولانا اس کے، ہاں بھئی بتاؤ یہ گواہ عادل ہے یا عادل نہیں ہے؟ اب وہ دونوں سامنے کھڑے ہو کر بتلاتے ہیں کہ یہ گواہ اس کے اندر یہ عیب ہے، یہ عیب ہے، یہ تو مثلاً شراب بھی پیتا ہے یا یہ فلاں، یہ تو جوآ بھی کھیلتا ہے یا یہ فلاں کام بدکاری کرتا ہے، تو دیکھو مولانا فتنیٰ آ گیا یا نہیں آ گیا ان دونوں میں؟ ہمیشہ کے لیے دشمنی آ گئی یا نہیں آ گئی بھئی؟ ہاں، تو اعلانیہ جو تزکیہ ہے اس میں تو وہ تو آزمائش اور فتنیٰ ہے، دونوں میں دشمنی بھڑک اٹھے گی بھئی۔ اس لیے امام محمد فرماتے ہیں: تَزْكِيَةُ الْعَلاَنِيَةِ بَلاَءٌ وَفِتْنَةٌ، کہ اعلانیہ تزکیہ جو ہے وہ تو آزمائش اور فتنیٰ ہے، فَإِنَّ الْمُزَكِّيَ، اس لیے کہ مزکی یعنی وہ تزکیہ کرنے والا جو ہے إِنْ أَعْلَنَ، اگر اس نے اعلان کیا یعنی کھلے طور پر بتلا دیا بِمَسَاوِي الشَّاهِدِ، مساوی عیوب کو کہتے ہیں بھئی، مساوی سوء کی جمع یا سو کی جمع، عیوب کو کہتے ہیں، عیوب بھئی، اگر اس نے اعلان کیا یعنی کھلے طور پر بتلا دیے بِمَسَاوِي الشَّاهِدِ، گواہ کے عیوب، يُهِيجُ بَيْنَهُمَا عَدَاوَةً وَبُغْضًا، یہ بغضًا ہونا چاہیے بھئی، يُهِيجُ، بھڑک اٹھے گی ان دونوں کے درمیان عَدَاوَةً، دشمنی وَبُغْضًا، اور بغض بھئی۔ عبارت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ کہ اگر اس نے سب کھلے بندوں، سب لوگوں کے سامنے اس نے کیا کیا بھئی؟ عیب بیان کر دیے تو ان میں کیا بھڑک اٹھے گی؟ دشمنی اور بغض بھڑک اٹھے گا۔ تو یہ بغضًا ہونا چاہیے بھئی۔ وَرُبَّمَا يَمْنَعُهُ الْخَوْفُ أَوْ الْحَيَاءُ أَوْ غَيْرُهُمَا عَنْ أَنْ يَقُولَ فِي الشَّاهِدِ مَا هُوَ حَقٌّ، اور کہتے ہیں بسا اوقات بھئی دیکھو آپ نے مدعی ایک کو بلوا لیا، یہ گواہ کھڑا ہے، اس کا آپ تزکیہ کروا رہے ہیں، مزکی بھی آ گئے دونوں بھئی، تو وہ دونوں کہتے ہیں بسا اوقات اس کے اس کا خوف ہوتا ہے کہ یہ ہمیں بعد میں کیا کرے گا؟ نقصان پہنچائے گا، یا حیا آتی ہے بھئی کہ کیا کر رہے ہیں اس شخص کے ہم عیب کو سب لوگوں کے سامنے؟ تو خوف یا حیا یا کسی اور وجہ سے وہ حق بات کہنے سے رک جاتے ہیں اور کیا کہہ دیتے ہیں؟ یہ تو عادل ہے، حق بات نہیں کہتے کہ یہ تو کیا ہے؟ عادل نہیں ہے بھئی، سمجھ میں آئی بات بھئی؟ یہ معنی ہے: وَرُبَّمَا يَمْنَعُهُ الْخَوْفُ أَوْ الْحَيَاءُ، اور بسا اوقات روک دیتا ہے مزکی کو خوف روک دیتا ہے أَوْ الْحَيَاءُ، یا حیا روک دیتی ہے أَوْ غَيْرُهُمَا، یا ان دونوں کے علاوہ کوئی اور چیز کس بات سے روک دیتی ہے؟ اس بات سے کہ أَنْ يَقُولَ فِي الشَّاهِدِ، کہ وہ کہیں شاہد کے بارے میں مَا هُوَ حَقٌّ، وہ بات جو کہ حق ہے، وہ کہنے سے رک جاتے ہیں۔ وَكَفَى لِلتَّزْكِيَةِ: هُوَ عَدْلٌ فِي الأَصَحِّ. اچھا بھئی! دیکھو بھئی! بھئی میں قاضی ہوں، میں نے میرے پاس ایک مقدمہ آیا، دو شخص گواہ آئے ہیں، میں نے گواہوں کی تحقیق کر رہا ہوں کہ یہ عادل ہیں یا عادل نہیں، آپ نے پڑھا کہ تزکیہ ضروری ہے اور سِرًّا تزکیہ کافی ہے ہر مسئلے کے اندر، تو اب لہذا میں نے ایک خط روانہ کیا اس گواہ کے ایک ساتھی کو بھئی، تو وہ اس خط پر کیا لکھے گا؟ کہتے ہیں بھئی وہ لکھ دیتا ہے: هُوَ عَدْلٌ، یہ گواہ کیا ہے؟ بس، کافی ہے۔ بعض علماء فرماتے ہیں: نہیں، یہ بھی لکھے گا: هُوَ عَدْلٌ جَائِزُ الشَّهَادَةِ، جَائِزُ الشَّهَادَةِ بھی لکھے گا، یہ عادل ہے اور شہادت دے سکتا ہے، جَائِزُ الشَّهَادَةِ بھی لکھے گا یعنی یہ شہادت اس لیے کہ بسا اوقات ایک شخص عادل ہوتا ہے لیکن شہادت دینے کا اہل نہیں، کیوں؟ غلام ہے مثلاً، اور غلام تو شہادت دینے کا اہل نہیں، تو آپ نے اس نے تعدیل تو کر دی لیکن یہ تو نہیں کہا کہ یہ شہادت، تو وہ شہادت کا اہل تو تو کہتے ہیں: نہیں بھئی، صحیح قول کیا ہے؟ کہ صرف عادل کہہ دینا کافی ہے۔ باقی اس کی حریت، کہتے ہیں بھئی وہ دار الاسلام میں رہتا ہے، اور یاد رکھو دار الاسلام کے اندر اصل حریت ہے۔ دار الاسلام میں اصل کیا ہے مولانا؟ حریت ہے، تو جو شخص دار الاسلام میں پیدا ہوا ہے، وہیں پلا بڑھا ہے، وہیں پر رہتا ہے، یقیناً وہ کیا ہوگا؟ آزاد ہوگا، دار الاسلام میں ہے اصل حریت، تو یہ بھی یقیناً اس کی جو اصل ہے، یاد رکھو اصل کے لیے دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی، خلافِ اصل کے لیے دلیل چاہیے بھئی۔ تو حریت اس کے اندر اصل ہے، تو جب وہ اپنی اصل پر ہے تو حریت کے لیے کوئی دلیل نہیں چاہیے بلکہ خلافِ اصل یعنی غیرِ حریت یعنی عبدیت یا ورقیت کے لیے کیا چاہیے؟ دلیل چاہیے۔ تو حریت کے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہیں، اس کا یہ لکھنا ضرورت، ضروری نہیں کہ یہ جائز الشهادة ہے بلکہ اس کے بغیر ہی اس کی حریت کیا ہو جائے گی؟ بات سمجھ میں آئی بھئی سب کو؟ تو اصل، جو اصل ہو اس پر مثلاً بھئی دیکھیے آپ پڑھتے ہیں بھئی کہ فعل آتا ہے، فعل کے بعد فاعل آیا کرتا ہے ہمیشہ، اور اس کے بعد کیا آتا ہے؟ مفعول، تو اصل یہ ہے کہ مفعول کو فعل پر مقدم ہونا چاہیے، او مؤخر ہونا چاہیے، مفعول کو فعل پر کیا ہونا چاہیے؟ مؤخر ہونا چاہیے، لیکن کبھی کبھار مفعول کو فعل پر مقدم کر دیتے ہیں، جیسے إِيَّاكَ نَعْبُدُ، تو إِيَّاكَ کی ضمیر کو نَعْبُدُ پر کیا کر دیا گیا؟ حالانکہ اصل یہ تھا یوں ہونا چاہیے: نَعْبُدُكَ، لیکن اس کاف کو کیا کر دیا گیا؟ مقدم، یہ مقدم کیوں کیا گیا؟ اب اس کے لیے علت چاہیے، کیا چاہیے؟ لیکن اگر یہ اپنے مقام پر ہے پھر اس کے لیے کسی علت وغیرہ کی ضرورت، وہ تو اپنی اصل پر ایک چیز باقی ہے، اصل کے لیے کبھی دلیل کی ضرورت نہیں، خلافِ اصل کے لیے دلیل، کیوں بھئی؟ یہ کیوں مقدم کیا بھئی؟ کوئی وجہ ہوگی تو کیا کیا گیا؟ جیسے یہاں پر حصر پیدا کرنے کے لیے اس کو کیا کیا گیا؟ مقدم کیا گیا۔ وَكَفَى لِلتَّزْكِيَةِ: هُوَ عَدْلٌ فِي الأَصَحِّ، اور تزکیے لیے کے لیے یہ کہہ دینا، یہ لکھ دینا کافی ہے مزکی کا، کیا؟ هُوَ عَدْلٌ، کہ وہ گواہ کیا ہے؟ فِي الأَصَحِّ، اصح قول کے اندر۔ فَإِنَّهُ قَدْ قِيلَ، اس لیے کہ تح، یہ اصح ہے تو غیرِ اصح قول بھی ہے، وہ ذکر کر رہے ہیں: فَإِنَّهُ قَدْ قِيلَ، اس لیے کہ تحقیق کہا گیا ہے: لاَ بُدَّ أَنْ يَقُولَ: هُوَ عَدْلٌ جَائِزُ الشَّهَادَةِ، کہ ضروری ہے یہ کہنا کہ یوں لکھے: هُوَ عَدْلٌ، بھئی وہ گواہ کیا ہے؟ عادل ہے، جَائِزُ الشَّهَادَةِ، اور اس کی شہادت جائز ہے، وہ شہادت کا اہل ہے۔ کہ تاکہ غلام کہیں نہ ہو۔ لَكِنَّ الأَصَحَّ هُوَ الأَوَّلُ، لیکن اصح قول کون سا ہے؟ پہلا کہ صرف عدل کہہ دینا کافی ہے، لِأَنَّ الْحُرِّيَّةَ ثَبَتَتْ بِدَارِ الإِسْلاَمِ، اس لیے کہ حریت تو کس کی وجہ سے ثابت ہو رہی ہے؟ دار الاسلام کی وجہ سے ثابت ہو گئی بھئی، دار الاسلام میں اصل کیا ہے؟ حریت، تو جس کی پیدائش ہوئی، جو پلا بڑھا وہیں، وہ یقیناً کیا ہوگا؟ وہ اپنی اصل پر ہوگا، اس کے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہیں۔ فَإِذَا قَالَ: هُوَ عَدْلٌ، يَكُونُ جَائِزَ الشَّهَادَةِ، جب مزکی نے کہہ دیا کہ یہ شخص عادل ہے تو یقیناً کیا ہوگا؟ جائز الشهادة ہوگا وہ۔ وَلاَ يَصِحُّ تَعْدِيلُ الْخَصْمِ، جی، صورتِ مسئلہ یہ ہے: بھئی فریقِ مخالف یعنی مدعی علیہ اگر تعدیل کر دے گواہ کی کہ یہ گواہ عادل ہے، تو کیا یہ تعدیل معتبر ہے یا معتبر نہیں بھئی؟ بھئی آپ مدعی ہیں، آپ نے زید پر دعویٰ کر دیا ایک لاکھ روپے کا، اور آپ اپنے گواہ لے آئے۔ زید کیا کہتا ہے؟ کہ جج، قاضی صاحب! یہ جو دو گواہ ہیں یہ عادل ہیں، یہ گواہ کیا ہیں؟ تو کیا اس کا تزکیہ یہ اس کی تعدیل قابلِ قبول ہے؟ کہتے ہیں: نہیں بھئی۔ فریقِ مخالف جو ہے، خصم جو ہے، اس کا تزکیہ قابلِ قبول کیوں نہیں قابلِ قبول؟ کہتے ہیں بھئی اس لیے کہ اسی کے خلاف تو مقدمہ ہے، تو مدعی کے اور اس کے گواہوں کے نزدیک وہ شخص یقیناً جھوٹا ہے بھئی، جب یہ مقدمہ لے کر آئے ہیں، قاضی کے پاس آئے ہیں، کیوں لائے ہیں؟ معلوم ہوا وہ جھوٹ بول رہا ہے جو ایک چیز کا انکار، ایک لاکھ روپے کا انکار کر رہا ہے تو جھوٹ بول رہا ہے یا نہیں بول رہا بھئی؟ تو جب وہ کاذب ہوا تو کاذب کی تعدیل تو معتبر نہیں بھئی، صورت سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ بھئی آپ حیران ہوں گے بھئی کہ مدعی مدعی علیہ کیسے تعدیل کر سکتا ہے؟ کر سکتا ہے بعض اوقات، مثلاً یوں کہتا ہے: قاضی صاحب! میں مانتا ہوں یہ جو دونوں گواہ ہیں یہ عادل ہیں، تبلیغی ہیں، بڑے نیک ہیں، لیکن اس مسئلے میں ان کو غلطی لگی ہے، میں نے کوئی ایک لاکھ روپیہ نہیں دینا، یا یہ بھول گئے ہیں، تو دیکھو تعدیل بھی کر دی اور ان کو غلطی یا ان کے بھولنے پر بھی کیا کر دی؟ تصریح کر دی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ لیکن اگر وہ یوں کہہ دیتا ہے: قاضی صاحب! یہ دونوں گواہ عادل ہیں، سچے ہیں، کہتے ہیں: بس مولانا، اس نے اعتراف کر لیا ایک لاکھ روپے کا۔ کیا کہا اس نے؟ کیا کہا کیا اس نے؟ یہ دونوں گواہ عادل ہیں، سچے ہیں، جب سچے کہہ دیا تو معلوم ہوا اس نے تعديل کر دی اور اقرار کر دیا۔ بس اقرار، اب گواہوں کی طرف جانے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ فیصلہ اس کے اقرار پر ہی ہو جائے گا کہ تم نے قاضی کے سامنے کیا کر لیا ہے؟ اقرار۔ ان کے جب سچا ہونے کا اقرار کیا معلوم ہوا تم نے ایک لاکھ روپیہ اپنے اوپر تسلیم کر لیے تو اقرار فیصلہ ہو جائے گا۔ وَلاَ يَصِحُّ تَعْدِيْلُ الْخَصْمِ اور صحیح نہیں ہے خصم کی تعدیل بِقَوْلِهِ بھئی اس قول کے ساتھ، وہ یوں کہے خصم: هُوَ عَدْلٌ یہ گواہ کیا ہے؟ عادل ہے، أَخْطَأَ أَوْ نَسِيَ لیکن اس سے یہ گواہ عادل ہے، اس سے غلطی ہوئی ہے یا یہ گواہ عادل ہے، نَسِيَ یہ بھول گیا ہے۔ فَإِنْ قَالَ اگر اس نے یوں کہا: عَدْلٌ صَدَقَ یہ گواہ عادل ہے، اس نے سچ کہا، يَثْبُتُ الْحَقُّ تو حق کیا ہو جائے گا؟ کس کی وجہ سے اب ثابت ہو گا؟ اس کے اپنے اقرار کی وجہ سے۔ وَكَفَى وَاحِدٌ لِلتَّزْكِيَةِ وَتَرْجَمَةِ الشَّاهِدِ وَالرِّسَالَةِ إِلَى الْمُزَكِّي وَالإِثْنَانِ أَحْوَطُ۔ بھئی تزکیہ کے لیے، تزکیہ کتنے آدمیوں سے کروایا جائے گا؟ میں، میرے پاس دو گواہ ہیں یا ایک مقدمے کے اندر بھئی میں قاضی ہوں بھئی مثلاً۔ تو کیا تزکیہ ایک سے ہی کروا لوں؟ ایک آدمی کو خط بھیج کے پتہ کروا لوں بھئی یہ عادل ہے یا عادل نہیں ہے، یا دو کو، دو سے تصدیق کروانا پڑے گی، دو سے تزکیہ کروانا پڑے گا؟ کہتے ہیں ایک ہی کافی ہے۔ ایک ہی کافی ہے۔ تزکیہ یہ سِراً جب ہو، پوشیدہ طور پر ہو تو ایک آدمی کو میں خط لکھ دوں گا جاننے والے کو، وہ لکھ دے گا یہ عادل ہے، بس ایک کا تزکیہ کافی۔ لیکن آگے آپ کو بتلائیں گے شرح کے اندر آ جائے گا کہ اعلانیہ جو تزکیہ ہو گا وہ گواہی کی طرح ہوتا ہے لہٰذا وہاں پر مزکی بھی کتنے ہونے چاہئیں؟ ہر گواہ کے لیے دو مزکی چاہئیں، لیکن پوشیدہ طور پر ایک ہی مزکی کافی ہے۔ چنانچہ بھئی دیکھو بھئی، میں نے ایک ہی آدمی سے تزکیہ کروانا ہے پوشیدہ طور پر، تو اس کو میں خط لکھوں گا خفیہ طور پر، تو یہ جو خط لے جانے والا ہے یہ بھی ایک کافی ہے، یہ بھی دو ہونا ضروری، ہاں دو ہو جائیں تو بہتر ہیں، مزکی بھی پوشیدہ طور پر دو ہو جائیں تو بہتر ہیں، لیکن اگر میرا خط جو لے کر جا رہا ہے اور خط جو لے کر آ رہا ہے وہ بھی ایک، اور جس سے تزکیہ کروا رہا ہوں وہ بھی ایک ہے، تو یہ ٹھیک ہے مولانا۔ اسی طرح بھئی، میرے پاس گواہ آیا بھئی، اس نے آپ کے خلاف گواہی دینی، آپ گواہ لے کر آئے ہیں مثلاً، اس نے گواہی دینی ہے ایک آدمی کے خلاف، لیکن جو گواہ ہے اس کو اردو نہیں آتی۔ مثلاً وہ سندھی بولنے والا ہے، یا صرف پشتو بولنے والا ہے، یا صرف عربی بولنے والا ہے، اب ترجمان چاہیے بھئی۔ قاضی کے سامنے کیا کرے؟ سب کے سامنے اس کی، اس کی زبان کی ترجمانی کرے، تو ترجمان ایک کافی ہے یا ترجمان بھی دو ہونے چاہئیں؟ کہتے ہیں نہیں بھئی ترجمان بھی ایک کافی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے۔ وَكَفَى وَاحِدٌ لِلتَّزْكِيَةِ اور کافی ہے ایک ہی شخص بھئی تزکیہ کے لیے، یعنی مزکی سِراً ہو تو ایک ہی کافی ہے۔ وَتَرْجَمَةِ الشَّاهِدِ اسی طرح گواہ کے ترجمانی کے لیے بھی بھئی ایک ہی گواہ، ایک ہی ترجمان کافی ہے۔ وَالرِّسَالَةِ إِلَى الْمُزَكِّي اور اسی طرح مزکی کو جو میں خط بھیجتا ہوں اس کے لیے بھی ایک ہی مرسل کافی ہے۔ وَالإِثْنَانِ أَحْوَطُ اور دو ہوں تو یہ زیادہ احتیاط ہے بھئی، یہ زیادہ محتاط ہے بھئی۔ احوط، یہ زیادہ محتاط بھئی، اس میں احتیاط ہے۔ وَالإِثْنَانِ أَحْوَطُ اور دو کے اندر احتیاط ہے مولانا۔ هَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيْفَةَ وَأَبِي يُوْسُفَ رَحِمَهُمَا اللهُ یہ بھئی شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک ہے۔ وَأَمَّا عِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللهُ يَجِبُ الإِثْنَانِ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں سب کے اندر دو ضروری ہیں۔ مزکی بھی دو ہونے چاہئیں، ترجمان بھی دو بھئی اور اچھا۔ وَهَذَا فِي التَّزْكِيَةِ السِّرِّيَّةِ یہ تو تزکیۂ سر کے اندر ہے پوشیدہ طور پر۔ أَمَّا فِي التَّزْكِيَةِ الْعَلاَنِيَةِ باقی جو اعلانیہ تزکیہ ہو گا فَقَدْ قَالَ الْخَصَّافُ رَحِمَهُ اللهُ تو امام خصاف رحمہ اللہ فرماتے ہیں يَجِبُ الإِثْنَانِ إِجْمَاعاً بھئی دو واجب ہیں، اجماع ہے اس پر، کیا ہے؟ اجماعی طور پر دو واجب ہیں لِأَنَّهَا فِي مَعْنَى الشَّهَادَةِ اس لیے کہ تزکیۂ اعلانیہ جو ہے وہ کس کے حکم میں ہے بھئی؟ شہادت کے، شہادت کے حکم میں ہے۔ حَتَّى لاَ تَصِحَّ تَزْكِيَةُ الْعَلاَنِيَةِ مِنَ الْعَبْدِ شہادت کے درجے میں ہے اور شہادت میں آپ نے پڑھا ہے بھئی، گواہ کتنے ہونے چاہئیں؟ دو، اور کیسے ہونے چاہئیں؟ عادل، اور ان میں کوئی غلام بھی نہ ہو، وہ ساری شرطیں یہاں بھی ضروری ہیں۔ لہٰذا صحیح نہیں ہے تزکیۂ اعلانیہ مِنَ الْعَبْدِ کس سے؟ غلام سے۔ وَلاَ بُدَّ أَنْ يَكُوْنَ الْمُزَكِّي عَدْلاً اور یہ بھی ضروری ہے کہ تزکیہ کرنے والا عادل ہو کیونکہ گواہ کے لیے بھی عادل ہونا، فَلاَ تُقْبَلُ تَزْكِيَةُ الْفَاسِقِ وَمَسْتُوْرِ الْحَالِ لہٰذا قبول نہیں کیا جائے گا فاسق کے تزکیہ کو وَمَسْتُوْرِ الْحَالِ اور مستور الحال کے تزکیہ کو بھی قبول مستور الحال بھئی جس کا حال پوشیدہ ہے پتہ نہیں ہے وہ عادل ہے یا فاسق، تو گواہ کے لیے عادل ہونا ضروری مستور الحال گواہ نہیں صحیح بھئی، تو یہاں بھی ضروری۔ یہاں تک مسئلہ سب کو سمجھ میں آ گیا بھئی؟ وَلِمَنْ سَمِعَ بَيْعاً أَوْ إِقْرَاراً أَوْ حُكْمَ قَاضٍ أَوْ رَأَى غَصْباً أَوْ قَتْلاً أَنْ يَشْهَدَ بِهِ وَإِنْ لَمْ يُشْهَدْ عَلَيْهِ۔ تو جہ سے سننا بھئی۔ وہ چیزیں ادھر توجہ کرو بھئی، وہ چیزیں جن کی گواہی گواہ دے سکتا ہے، شاہد جن کی گواہی دے سکتا ہے، دو قسم پر ہیں۔ کچھ وہ چیزیں ہیں جو خود بخود ثابت ہو جاتی ہیں، خود بخود اپنے حکم کو کیا کرتی ہیں؟ ثابت کر دیتی ہیں، وہاں کسی کو گواہ بنانے کی ضرورت اور کچھ وہ ہیں جہاں گواہ بنانا ضروری ہوتا ہے، اس کے بغیر وہ ثابت نہیں۔ دیکھیے، میں نے کیا کہا؟ کچھ چیزیں وہ ہیں ہاں، جو خود بخود کیا ہوتی ہیں؟ یا یوں کہیں جن کا حکم خود بخود کیا ہو جاتا ہے؟ کسی کو گواہ بنانے کی ضرورت مثلاً آپ نے اپنے ساتھی سے کتاب خریدی، آپ دونوں کے درمیان بیع و شراء ہوئی، کیا گواہ بنانا ضروری ہے؟ آپ مجھے بتائیں، اکیلے تنہائی میں آپ دونوں کیا کر لیتے ہیں؟ ہو جائے گی بیع یا نہیں ہو گی بیع بھئی؟ کہیں پڑھا آپ نے کہ بیع گواہ بنانا ضروری؟ نہیں، تو یہاں یہ ایسی چیز ہے جو، جس کا حکم خود بخود ثابت ہو جاتا ہے، آپ مبیع کے مبیع، مشتری جو ہے مبیع کا مالک بن جائے گا اور بائع ثمن کا مالک بن جائے گا بھئی، اور کسی قسم کے گواہ بنانے کی ضرورت نہیں۔ اچھا۔ اور کچھ وہ ہیں جن کے اندر جن کا حکم ثابت نہیں ہوتا جب تک کہ اس پر گواہ نہ بنایا جائے۔ مثلاً شہادت علی الشہادت بھئی، شہادت علی الشہادت۔ بھئی ایک تو آپ گواہی دیتے ہیں بیع کے بارے میں جبکہ بیع آپ کے سامنے ہوئی تھی، آپ کے سامنے زید اور عمر کے درمیان بیع ہوئی تھی، اب آپ قاضی کے سامنے جب چاہیں جا کر گواہی دے سکتے ہیں کہ میرے سامنے عمر اور زید میں کیا ہوئی تھی؟ بیع ہوئی تھی، میں گواہ ہوں اس چیز کا بھئی۔ لیکن آپ کو اس موقع پر حج پر جانا پڑ گیا، اب قاضی کے پاس ادھر مقدمہ چلے گا اور آپ جا رہے ہیں حج پر، اب کیا کیا جائے؟ تو ایسے موقع پر آپ اپنی شہادت پر ایک اور شاہد، پر شاہد بنا دیتے ہیں آگے، آپ تو جا رہے ہیں کدھر؟ حج پر، اور ہمیں کیا چاہیے بیع کے لیے؟ گواہ چاہیے، تو اب آپ کیا کہیں کریں گے؟ آپ اپنی شہادت پر شاہد بنا دیں گے، اپنی شہادت پر کیا بنا دیں گے؟ شاہد بنا دیں گے بھئی، دو آدمی اپنے پاس آپ روک کھڑے کریں عادل اور ان دونوں کو کہیں دیکھو بھئی، میں آپ دونوں کو گواہ بناتا ہوں اپنی گواہی پر، کیا کرتا ہوں؟ میں آپ کو اپنی گواہی پر گواہ بناتا ہوں بھئی، کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میرے سامنے زید اور عمر میں فلاں تاریخ کو کیا ہوئی تھی؟ فلاں قسم کی فلاں بیع ہوئی تھی، آپ میں تو جا رہا ہوں حج پہ، تم دونوں کو میں نے اپنی گواہی پر گواہ بنا دیا، تم کیا کرنا قاضی کے پاس جا کر گواہی دینا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو یہاں بھئی یہ جو شہادت ہے بھئی، یہ جو دو گواہ آپ کی شہادت پر شہادت دیں گے جا کر تو شہادت ایسی چیز ہے کہ اس کا حکم خود ثابت نہیں، شہادت سے کوئی چیز خود نہیں ثابت ہوتی۔ آپ دس گواہ بھی لے آئیں مولانا، جو کہتے رہیں کہ بھئی زید نے عمر کے کتنے دینے ہیں؟ ایک لاکھ روپیہ دینا ہے، تو کیا زید پر ایک لاکھ واجب ہو جائے گا اس شہادت سے؟ نہیں، جب تک یہ شہادت قاضی کی مجلس میں جا کر پیش نہ ہو جائے اس کا، اس کا حکم ثابت نہیں، تو کچھ چیزیں وہ ہیں جن کا حکم خود ثابت ہو جاتا ہے جیسے بیع و شراء وغیرہ، اور کچھ چیزیں وہ ہیں جن کا حکم خود ثابت نہیں ہوتا جیسے شہادت ہے، شہادت خود کسی چیز کو ثابت نہیں کرتی بلکہ کب ثابت کرتی ہے کسی چیز کو؟ جب اس کو کہاں منتقل کر دیا جائے؟ قاضی کی مجلس میں منتقل کریں گے تو تب یہ کسی چیز کو ثابت کرے گی، قاضی کی مجلس کے علاوہ ہو تو کہ کس چیز کو یہ ثابت نہیں کر سکتی، تو لہٰذا جو پہلی قسم کی چیزیں ہیں، پہلی قسم کی جو کیا ہوتی ہیں جن کا حکم خود بخود اس میں جب سننے والے نے سنا ہو یا دیکھنے والے نے دیکھا ہو تو وہ جب چاہے گواہی دے سکتا ہے۔ لیکن دوسری قسم کی چیز جو ہے جو شہادت علی الشہادت ہے، اس کے اندر جب تک گواہ بنایا نہ جائے آپ جا کر گواہی پر گواہی نہیں دے سکتے، صورت سمجھ میں آئی؟ آپ گواہی پر گواہی صورت دیکھو میں بتاتا ہوں آپ کو، بھئی آپ کدھر جا رہے تھے؟ حج پر جا رہے تھے اور آپ اس معاملے کے گواہ تھے، آپ نے حج پر جاتے جاتے کیا کر دیا؟ اپنی شہادت پر آگے گواہ بنا لیے بھئی، جب آپ ان دونوں کو گواہ بنا رہے تھے تو یہ ایک تیسرا آدمی بھی وہاں پر کھڑا ہوا تھا، اس نے بھی دیکھ لیا، سن لیا، آپ ان دونوں کو کیا بنا رہے ہیں؟ گواہ، اب یہ تیسرا جا کر قاضی کے سامنے گواہی دینا چاہتا ہے آپ کی گواہی پر، کہتے ہیں نہیں دے سکتا۔ یہ آپ کی گواہی پر گواہی اگرچہ اس نے سنا ہے آپ کو گواہ بناتے ہوئے، لیکن یہاں پر صرف سننا کافی نہیں ہے، دیکھنا کافی نہیں، بلکہ باقاعدہ گواہ بنانا ضروری، اور آپ نے اس تیسرے کو گواہ بنایا تھا؟ آپ نے تو ان دوسرے دو کو گواہ بنایا ہے وہ آپ کی گواہی پر گواہی دے سکتے ہیں، لیکن یہ صرف سننے والے چاہے دس وہاں کھڑے ہوں کوئی بھی ان میں سے آپ کی گواہی پر گواہی نہیں دے سکتا، صورت سمجھ میں آ گئی؟ اسی طرح، اسی طرح ایک شخص نے قاضی کی مجلس میں گواہ کو سنا گواہی دیتے ہوئے، تو اب یہ شخص کیا اس کی گواہی پر گواہی آگے دے سکتا ہے؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، کیونکہ گواہی پر گواہی کے لیے کیا ضروری؟ گواہ بنانا ضروری، اور اس نے تو صرف گواہی دیتے ہوئے سنا ہے، کیا اس گواہ نے اس کو اپنی گواہی پر گواہ بنایا؟ نہیں بھئی، صورت سب کو سمجھ میں آ گئی؟ ہاں یہ ضروری۔ ہاں بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ قاضی کی مجلس میں اگر گواہی دیتے ہوئے سنیں پھر گواہی پر گواہی دے سکتا ہے، لیکن عام فقہاء کیا فرماتے ہیں؟ نہیں دے سکتا، اچھی طرح سب کو مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ دیکھیے بھئی۔ وَلِمَنْ سَمِعَ بَيْعاً اور وہ شخص جس نے بیع کو سنا أَوْ إِقْرَاراً بھئی، یا اس نے کس کو سنا؟ یہ وہ پہلی قسم کی چیزیں بیان ہو رہی ہیں بھئی، پہلی قسم کی چیزیں جن کا حکم خود بخود کیا ہو جاتا ہے؟ خود وہ اپنے حکم کو خود ثابت کر دیتی ہیں، وہاں گواہ بنانے کی ضرورت نہیں۔ تو دیکھیے بیع ہے یا اقرار ہے، ایک آدمی دوسرے کے لیے ایک لاکھ روپے کا اقرار کرتا ہے، تو کیا کوئی گواہ بنانا وہاں پہ ضروری ہوتا ہے؟ نہیں، جیسے ہی وہ اقرار کرے گا اس پر کیا ہو گئے وہ پیسے واجب ہو گئے، آپ دس آپ لوگوں کے سامنے ایک آدمی نے کہہ دیا میں نے زید کا ایک لاکھ روپیہ دینا ہے، اس نے یہ نہیں کہا میں آپ لوگوں کو گواہ بناتا ہوں، صرف یہ کہہ دیا میں کیا کرتا ہوں زید میں نے زید کے کتنے دینے ہیں؟ تو بغیر اشہاد کے اس نے اقرار کیا، تو بتلائیے بھئی، یہ اقرار معتبر ہے یا معتبر نہیں؟ اب آپ گواہی دے سکتے ہیں یا نہیں دے سکتے؟ دے سکتے ہیں، اگرچہ آپ کو گواہ بنایا نہیں گیا۔ وَلِمَنْ سَمِعَ بَيْعاً اور اس شخص کے لیے جس نے بیع کو سنا بھئی أَوْ إِقْرَاراً یا کس کو سنا؟ اقرار کو سنا أَوْ حُكْمَ قَاضٍ یا کسی قاضی کے فیصلے کو سنا، جی، یہ دیکھا کچھ چیزیں سننے سے تعلق رکھتی ہیں ان کو ذکر کیا، کچھ چیزیں دیکھنے سے تعلق رکھتی ہیں وہ ذکر کر رہے ہیں أَوْ رَأَى غَصْباً یا وہ شخص جس نے دیکھا غصب کو کہ ایک آدمی دوسرے کی چیز چھین کر لے گیا، اٹھا کر لے گیا مولانا أَوْ قَتْلاً یا ایک آدمی نے دوسرے کو کیا قتل کرتے ہوئے دیکھا بھئی، تو یہ جو شخص ہے جس نے مسموعات کے اندر سنا یا مبصرات کے اندر اس نے رؤیت اس کو حاصل ہوئی أَنْ يَشْهَدَ بِهِ وہ کیا کرے گا؟ گواہی دے گا، یعنی گواہی دے سکتا ہے وہ بھئی، وہ گواہی وَإِنْ لَمْ يُشْهَدْ عَلَيْهِ اگرچہ اس کو گواہ بنایا نہیں گیا، تو اب ترکیب بتلا رہے ہیں بھئی، فَقَوْلُهُ أَنْ يَشْهَدَ بِهِ کہ متن کے اندر ماتن نے جو أَنْ يَشْهَدَ بِهِ کہا مُبْتَدَأٌ یہ کیا ہے؟ یہ مبتدا ہے وَلِمَنْ سَمِعَ اور یہ جو وَلِمَنْ سَمِعَ شروع میں آیا تھا خَبَرُهُ یہ اس مبتدا کی خبر ہے مُقَدَّماً عَلَيْهِ اس حال میں کہ یہ خبر مبتدا پر مقدم، خبر مقدم تھی مبتدا مؤخر آیا بھئی۔ وَسِمَاعُ الْبَيْعِ بھئی اوپر متن میں آیا بیع کو سنا، بھئی بیع کو سننے کا کیا مطلب؟ کہتے ہیں أَنَّهُ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ الْبَائِعِ بِعْتُ وَقَوْلَ الْمُشْتَرِي اشْتَرَيْتُ کہ اس نے بائع کے قول بِعْتُ اور مشتری کے قول اشْتَرَيْتُ کو بیع سننے کا مطلب یہ ہے کہ بیع یعنی ایجاب و قبول کو سنا اس نے۔ وَيَقُوْلُ اور یوں کہے گا گواہی دے سکتا ہے اگرچہ گواہ نہ بنایا گیا ہو اور یوں کہے گواہی دیتے ہوئے أَشْهَدُ میں گواہی دیتا ہوں، یہ نہ کہے لا یوں نہ کہے أَشْهَدَنِي کہ انہوں نے مجھے کیا بنایا تھا؟ اس نے مجھے گواہ بنایا تھا، کیوں؟ پھر تو جھوٹ ہو جائے گا، انہوں نے کوئی گواہ بنایا تھا اس کو؟ ہاں اگر گواہ بنایا ہے پھر تو کہہ سکتا ہے انہوں نے مجھے گواہ بنایا تھا اپنی بیع پر، صرف دیکھ لے یا سن لے تو بھی گواہی دے سکتا ہے لیکن یوں کہے میں، میں گواہی دیتا ہوں، یوں نہ کہے مجھے انہوں نے گواہ بنایا۔ أَيْ فِيْ صُوْرَةٍ لَمْ يُشْهَدِ الْمَشْهُوْدُ عَلَيْهِ اس صورت میں جبکہ اس کو مشہود علیہ پر جس چیز کی گواہی دے رہا ہے اس پر گواہ جب گواہ نہ بنایا گیا ہو تو یوں نہ کہے أَشْهَدَنِي، اگر گواہ بنایا گیا ہے بیع و شراء آپ دو کر رہے ہیں اور آپ کے پاس دو تین اور آدمی کھڑے ہیں، آپ ان کو باقاعدہ گواہ بنا دیتے ہیں، گواہ تو انہوں نے ویسے بھی بن جانا تھا لیکن آپ بھی کہہ دیتے ہیں زبان سے کہ میں آپ سب کو کیا کرتے ہیں ہم دونوں؟ گواہ بناتے ہیں، اب آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں أَشْهَدُ میں گواہی دے سکتا ہوں، یوں بھی کہہ سکتے ہیں أَشْهَدَنِي کہ اس نے مجھے کیا کیا تھا؟ گواہ بنایا تھا، تو یہ جو أَشْهَدَنِي سے منع آئمہ متن کے اندر کہ أَشْهَدَنِي نہیں کہہ سکتا، یہ کس صورت میں نہیں کہہ سکتا؟ جب گواہ نہ بنایا، یہ معنی ہے فِيْ صُوْرَةٍ لَمْ يُشْهَدِ الْمَشْهُوْدُ عَلَيْهِ جب اس کو انہوں نے مشہود علیہ پر گواہ نہیں بنایا اس کو۔ وَلاَ يَشْهَدُ عَلَى الشَّهَادَةِ اور گواہی نہیں دے سکتا شہادت پر مَا لَمْ يُشْهَدْ عَلَيْهَا جب تک کہ اس پر گواہ اس کو نہ بنایا گیا ہو۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ فَلاَ يَشْهَدُ عَلَيْهَا تو لہٰذا یہ گواہی پر گواہی نہیں دے سکتا، گواہ لہٰذا گواہی پر گواہی نہیں دے سکتا مَنْ وہ شخص سَمِعَ شَهَادَةَ شَاهِدٍ جس نے کیا کیا؟ شاہد کی کہاں پر سنا شاہد کی شہادت کو؟ قاضی کے پاس سنا أَوِ الإِشْهَادَ عَلَى الشَّهَادَةِ یا اشہاد علی الشہادۃ کو سنا، ایک آدمی دوسرے کو اپنی گواہی پر گواہ بنا رہا تھا۔ بھئی شہادت علی الشہادت کی دو صورتیں بن گئیں نا، یا تو کیا کر رہا تھا؟ قاضی کی مجلس میں صرف گواہی دے رہا تھا اس نے گواہی دیتے ہوئے سن لیا تو اب اس کی شہادت پر آگے شہادت نہیں دے، یا دوسری صورت یہ ہے کہ ایک شخص قاضی کی مجلس میں نہیں گھر پر بیٹھا دوسرے کو اپنی گواہی پر اشہاد پر اس نے یہ بھی وہاں اس اشہاد کے موقع پر موجود تھا تو بھی اس کے لیے گواہی دینا جائز نہیں۔ دیکھو خود تفصیل سے بتلا رہے ہیں دونوں صورتیں أَيْ سَمِعَ رَجُلٌ سنا ایک آدمی نے أَدَاءَ الشَّهَادَةِ عِنْدَ الْقَاضِي ادائے شہادت کو سنا عند القاضی مَا لَا يَسَعُ لَهُ، اس کے لیے گنجائش نہیں ہے أَنْ يَشْهَدَ عَلَى شهَادَتِهِ، کہ وہ شہادت دے اس کی شہادت پر۔ قاضی کے پاس سن لے تو صرف شہادت پر شہادت نہیں دے سکتا۔ میں نے بتلایا بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ قاضی کے پاس اگر کسی کو شہادت دیتے ہوئے سنے تو پھر شہادت علی الشہادت دے سکتا ہے، لیکن عام فقہاء کے نزدیک جائز نہیں۔ وَكَذَا، اور اسی طرح إِنْ سَمِعَ، اگر ایک شخص نے سنا، کیا سنا؟ إِشْهَادَ الشَّاهِدِ، کہ گواہ کیا کر رہا ہے؟ گواہ بنا رہا ہے رَجُلًا آخَرَ، کسی اس سننے والے کو نہیں گواہ بنا رہا، کسی دوسرے آدمی کو گواہ بنا رہا ہے، لیکن اس نے بھی سن لیا، تو وہ گواہ گواہ بنا رہا ہے کسی دوسرے آدمی کو عَلَى شهَادَتِهِ، اپنی شہادت پر، تو اس سننے والے کو لَا يَسَعُ، اس کے لیے گنجائش نہیں ہے أَنْ يَشْهَدَ عَلَى شهَادَتِهِ، کہ یہ بھی اس کی شہادت پر گواہی دے، لِأَنَّهُ مَا حَمَّلَهُ وَإِنَّمَا حَمَّلَ غَيْرَهُ، اس لیے کہ گواہ نے اس پر ذمہ داری نہیں ڈالی، اس نے تو دوسرے پر ذمہ داری ڈالی ہے۔ حَمَّلَ يُحَمِّلُ، ذمہ داری ڈالنا، گواہی اس پر ڈال دینا۔ تو جب وہ گواہ بنا رہا تھا تو اس کو بنا رہا تھا سننے والے کو یا دوسرے کو؟ تو وہ اس نے دوسرے پہ ذمہ داری ڈالی ہے، اس پر نہیں ڈالی، لہذا یہ نہیں، یہ نہیں دے سکتا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ چلیے بس مولانا، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ.