كِتَابُ الشَّهَادَةِ وَالرُّجُوعِ عَنْهَا هِيَ إِخْبَارٌ بِحَقٍّ لِلْغَيْرِ عَلَى آخَرَ. الإِخْبَارَاتُ ثَلاَثَةٌ: إِمَّا بِحَقٍّ لِلْغَيْرِ عَلَى آخَرَ وَهُوَ الشَّهَادَةُ، أَوْ بِحَقٍّ لِلْمُخْبِرِ عَلَى آخَرَ وَهُوَ الدَّعْوَى، أَوْ بِالْعَكْسِ وَهُوَ الإِقْرَارُ. اچھا بھئی! اس باب میں شہادت اور شہادت سے رجوع کے بارے میں بتلائیں گے بھئی۔ گواہی دینا بھئی گواہی دینا، کہ گواہی کہتے کس کو ہیں، کون کون گواہی دے سکتا ہے، کن لفظوں کے ساتھ دی جائے گی، وغیرہ بھئی۔ تو بھئی دیکھو! گواہی کے اندر کسی کے حق کی کسی پر خبر دی جاتی ہے کہ فلاں کا فلاں پر کیا ہے؟ حق ہے۔ تو حق کی خبر دینا تین طرح پر ہو سکتا ہے بھئی۔ مثلاً میں خبر دینے والا ہوں۔ میں کہتا ہوں: زید پر میرا یہ حق ہے، زید نے میرے 10 ہزار روپے دینے ہیں۔ اس کو کیا کہیں گے؟ اس کو دعویٰ کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ دعویٰ۔ جب خبر دینے والا اپنا حق بتلائے کسی غیر پر تو اس کو کیا کہا جاتا ہے؟ دعویٰ۔ آپ کہتے ہیں: زید نے آپ کے ایک لاکھ روپے دینے ہیں، تو دیکھو خبر بھی آپ دے رہے ہیں اور کس کے حق کی خبر دے رہے ہیں؟ اپنے حق کی خبر دے رہے ہیں غیر پر، اس کو کیا کہا جاتا ہے؟ دعویٰ کہا جاتا ہے۔ ایک یہ صورت تھی۔ دوسری کہ خبر دے رہا ہے غیر کے حق کی اپنے اوپر۔ میں نے زید، مثلاً میں خبر دے رہا ہوں، میں نے کہا: میں نے زید کے ایک لاکھ روپے دینے ہیں، تو دیکھو حق کی خبر دے رہا ہوں اور وہ حق غیر کا ہے لیکن کس پر ہے؟ خبر دینے والے پر ہی ہے۔ اس کو کیا کہا جاتا ہے؟ اس کو اقرار کہا جاتا ہے۔ خبر دینے والا بھئی خود کیا کر رہا ہے؟ دوسرے کے حق کا اقرار کر رہا ہے۔ مثلاً میں نے کہا کہ میں نے زید کا ایک لاکھ دینا ہے، یہ اقرار ہے بھئی۔ تو اپنے حق کے خبر دے غیر پر، یہ ہے دعویٰ، اور غیر کے حق کی خبر دے اپنے اوپر، یہ کیا ہے؟ اقرار۔ لیکن اگر غیر کے حق کی خبر دے غیر پر، دوسرے پر کسی پر، یہ گواہی، یہ شہادت ہے۔ مثلاً میں بھئی عمرو کے حق کی خبر دیتا ہوں کہ کس پر؟ زید پر، کہ زید نے عمرو کا کتنا دینا ہے؟ ایک لاکھ دینا ہے۔ تو میں نے کس کے حق کی خبر دی؟ عمرو کے، اور کس پر دی؟ زید پر۔ یعنی میری اپنی ذات کے ساتھ اس کا تعلق نہیں ہے۔ تو یہ کیا کہلاتا ہے؟ شہادت کہلاتا ہے۔ بات سب کو سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے بھئی! هِيَ - ضمیر راجع ہے شہادت کو - هِيَ إِخْبَارٌ بِحَقٍّ لِلْغَيْرِ، یہ خبر دینا ہے ایسے حق کی لِلْغَيْرِ عَلَى آخَرَ، جو کسی اور کا ہو، کسی دوسرے غیر کا ہو عَلَى آخَرَ، کسی دوسرے شخص پر بھئی۔ الإِخْبَارَاتُ ثَلاَثَةٌ، یہ اخبارات، یہ خبریں جو ہیں یعنی جو حق والی ہیں، ثَلاَثَةٌ، یہ تین قسم پر ہیں: إِمَّا بِحَقٍّ لِلْغَيْرِ عَلَى آخَرَ وَهُوَ الشَّهَادَةُ، یا تو یہ حق خبر ہوگی ایسے حق کی جو غیر کا ہے کسی دوسرے پر وَهُوَ الشَّهَادَةُ، اور یہ کیا کہلاتی ہے؟ شہادت۔ أَوْ بِحَقٍّ لِلْمُخْبِرِ عَلَى آخَرَ، یا ایسے حق کی جو مخبر کا ہے عَلَى آخَرَ، کسی دوسرے پر وَهُوَ الدَّعْوَى، اور اس کو کیا کہتے ہیں؟ دعویٰ۔ خبر دینے والا اپنا حق بیان کر رہا ہے کسی دوسرے پر تو یہ دعویٰ ہے۔ أَوْ بِالْعَكْسِ، یا اس کا عکس ہے یعنی دوسرے کا حق ہے کس پر؟ خبر دینے والے پر وَهُوَ الإِقْرَارُ، اور وہ کیا ہے؟ اقرار ہے۔ وَيَجِبُ بِطَلَبِ الْمُدَّعِي، اور گواہی واجب ہو جاتی ہے بِطَلَبِ الْمُدَّعِي، مدعی کے طلب کرنے کی وجہ سے۔ مدعی جب طلب کر لے تو وہ گواہی کیا ہو جاتی ہے؟ واجب ہو جاتی ہے مولانا۔ آپ نے زید اور عمرو کو شراء کرتے ہوئے دیکھا، بعد میں بھئی ان کا آپس میں مقدمہ قاضی کے پاس چلا گیا، آپ کو گواہی دینی چاہیے، لیکن آپ پر گواہی واجب نہیں بھئی۔ لیکن اگر آپ کے پاس مدعی آ جاتا ہے اور آ کر کہتا ہے بھئی آپ بھی اس موقع پر موجود تھے، چلیے میرے ساتھ عدالت میں گواہی دیجیے، اب گواہی دینا آپ پر فرض ہو گیا۔ کیا ہو گیا؟ اب فرض ہو گیا مولانا، جب اس نے طلب کر لی بھئی۔ یہ معنی ہے: وَيَجِبُ بِطَلَبِ الْمُدَّعِي، اور گواہی واجب، فرض ہو جاتی ہے مدعی کے طلب کرنے سے۔ وَسَتْرُهَا فِي الْحُدُودِ أَبَرُّ، اور اس کو چھپا لینا حدود کے مسئلے کے اندر أَبَرُّ، یہ أي أفضل، یہ کیا ہے؟ یہ افضل ہے۔ بھئی گواہی دو، لیکن حدود کے مسئلے میں چھپانا افضل ہے۔ ایک شخص کو آپ نے چوری کرتے ہوئے دیکھا یا زنا کرتے ہوئے دیکھا تو یہاں گواہی کو چھپا لینا افضل ہے، اس لیے کہ اس شخص پر حد جاری ہوگی تو اس کی آپ پردہ پوشی کریں بھئی۔ اور حدیث میں آتا ہے: جو کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہے، اللہ دنیا میں بھی اس کی پردہ پوشی فرماتے ہیں اور آخرت میں بھی پردہ پوشی، سمجھ میں آیا بھئی؟ اوروں کے، اوروں کا، ساتھیوں کا کوئی عیب نظر آئے، اس پر پردہ ڈال دو مولانا، پردہ ڈال دو۔ آپ اس کے عیب پر پردہ ڈالیں گے، اللہ آپ کے عیبوں پر پردہ ڈالیں گے۔ جو دوسروں کے عیب کھولتا ہے، اچھالتا ہے، اس کے عیبوں کو بھی اچھالا جاتا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ عیبوں پر پردہ ڈالو بھئی دوسروں کے، سب کے عیبوں پر پردہ ڈالو۔ یہ بڑے لوگوں کی علامت ہوتی ہے، دوسروں کے عیب پر کیا کرتے ہیں؟ پردہ، مولانا! بڑے لوگوں کی عادتیں اپنا لیں، اللہ آپ کو بہت بڑا بنا دے گا بھئی۔ وَيَقُولُ فِي السَّرَقَةِ: أَخَذَ، لاَ سَرَقَ. ہاں چوری کے مسئلے میں بھئی حدود اب چھپانی ہے، حد سے کیا کر لیں؟ اپنے مسلمان کے عزت کو بچا لیں اور اس گواہی نہ دیں۔ اور چوری کے مسئلہ ہے تو وہاں پر گواہی دینے کی اب ضرورت پیش آ گئی، تو وہاں گواہی دے یوں کہے: أَخَذَ، اس نے چور کے بارے میں کیا کہے؟ اس نے زید کا مال لیا ہے، أَخَذَ مَالَ زَيْدٍ، اس نے کیا کیا ہے؟ زید کا مال لیا ہے، یوں نہ کہے: سَرَقَ مَالَ زَيْدٍ، کہ اس نے زید کے مال کو کیا کیا ہے؟ چوری کیا ہے، کیوں؟ کہتے ہیں بھئی اس کے تاکہ زید کا مال بھی اس کو وصول ہو جائے بھئی اور اس یہ بھی حد سے بچ جائے بھئی۔ اگر سَرَقَ کہو گے تو اس پر کیا آ جائے گی مولانا؟ حد آ جائے گی، تو اس کو حد سے بھی بچا لو اور پھر اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا، حد سے بھی بچا لو اور اگر بالکل گواہی نہ دیں تو پھر تو زید بیچارے کا مال کیا ہو جائے گا؟ مال اس بیچارے کا ضائع ہو گیا، تو اس کے مال اس کے حق کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے گواہی بھی دو، لیکن کن لفظوں سے دو؟ أَخَذَ، کہ اس نے زید کا مال لیا ہے، زید کا مال اس نے اٹھایا ہے، چوری کا لفظ وہاں استعمال نہ کرو، اب اس سے مال وصول بھی ہو جائے گا اور وہ حد سے بھی بچ جائے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ نیز اس لیے بھی، یہ سَرَقَ کا لفظ اگر آپ استعمال کرتے ہیں اور آپ اصولِ فقہ کے اندر پڑھ چکے ہیں کہ اگر چور کے پاس چوری کا مال ہلاک ہو جائے اور پھر اس پر حد آ جائے تو اس پر ضمان نہیں آئے گا۔ چور نے آپ کا مال اٹھایا، چور آپ کا مال اٹھا کر لے گیا، راستے میں بھئی وہ مال اس سے ضائع ہو گیا، دریا میں گر گیا، غرق ہو گیا، اسے کوئی اور چور اٹھا کر لے گیا، کچھ بھی ہوا، اب اس چور پر اگر حد آئی، گواہیوں، گواہی سے اس پر چوری ثابت ہو گئی تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا، لیکن چونکہ مال کا ہلاک ہے اس یہاں پر استہلاک نہیں، اس نے خود نہیں ہلاک کیا، مال کا کیا پایا گیا؟ ہلاک پایا گیا، تو اس صورت میں اس پر ضمان نہیں ہے، اب اس پر حد تو جاری ہو گئی، اس بیچارے کا ہاتھ بھی کاٹا گیا اور زید جس کی یا آپ جس کی چوری ہوئی تھی اس کو اس کا مال بھی واپس نہیں ملا۔ لیکن جب آپ أَخَذَ کہیں گے، اب چاہے مال اس کے پاس ہلاک بھی ہو چکا ہو، کیا کیا جائے گا؟ اس سے مال کو وصول، کیونکہ غصب والی صورت بن گئی اور غصب کے اندر تو مال چاہے ہلاک ہی کیوں نہ ہو جائے پھر بھی اس پر کیا آیا کرتا ہے؟ ضمان آتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ وَيَقُولُ فِي السَّرَقَةِ: أَخَذَ، لاَ سَرَقَ، جی اور سرقہ میں کہے گا کہ اس نے لیا ہے، لاَ سَرَقَ، سرقہ کا لفظ نہ کہے۔ إِنَّمَا يَقُولُ: أَخَذَ، کہتے ہیں: أَخَذَ اس لیے کہے لِأَلاَّ يَضِيعَ حَقُّ الْمَالِكِ، تاکہ کہیں مالک کا حق ضائع نہ ہو جائے، أَخَذَ کہے گا تو اس کا حق اب اسے دلا دیا جائے گا۔ وَلاَ يَقُولُ: سَرَقَ، سرقہ کا لفظ نہ کہے لِأَلاَّ يَجِبَ الْحَدُّ، تاکہ اس پر حد واجب نہ ہو جائے۔ وَ نِصَابُهَا لِلزِّنَا أَرْبَعَةٌ، جی، جی۔ اچھا مولانا! آپ نے آج تک یہی سنا ہے کہ دو آداب ہونے چاہئیں، لیکن آج آپ کو صاحبِ کتاب بڑی قیمتی بات بتلانے لگے ہیں بھئی۔ یاد رکھو! ہر جگہ دو گواہ نہیں چاہئیں یا ایک مرد دو عورتیں۔ بعض مسئلے ایسے ہیں جن میں چار گواہ ہونے چاہئیں۔ بعض ایسے ہیں جن میں دو ہونے چاہئیں، لیکن ہمیشہ مرد ہوں، وہاں ایک عورت کی گواہی کسی ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی قابلِ قبول نہیں؟ بعض مسئلے ایسے ہیں کہ وہاں ایک عورت کی گواہی بھی کافی ہے بھئی۔ بعض مسئلے ایسے ہیں کہ وہاں دو مرد ہوں یا ایک مرد اور دو عورتیں ہوں، وہ ساری تفصیل بتلا رہے ہیں بھئی۔ کہتے ہیں: وَ نِصَابُهَا لِلزِّنَا أَرْبَعَةُ رِجَالٍ، نصاب شہادت کا مولانا زنا کے لیے چار مرد ہیں۔ بھئی زنا کے اندر یاد رکھو کم از کم کتنے گواہ ہونے چاہئیں؟ چار گواہ ہونے چاہئیں بھئی۔ اور علماء نقطہ پھر یہ لکھتے ہیں کہ دراصل یہ فعل ہے دو کا بھئی، ایک مرد اور ایک عورت کا، لہذا دونوں کی طرف سے دو دو گواہ ہو گئے تو کتنے گواہ ہو گئے کل؟ چار، جی یہ بطور نقطے کے ایک بات ذکر کرتے ہیں۔ تو دیکھیے! زنا کے اندر اللہ نے چار گواہ فرمائے بھئی، چار گواہ لانے پڑیں گے۔ معلوم ہوا اللہ تعالیٰ کو چھپانا منظور ہے، اللہ کیا چاہتے ہیں؟ اس پر چھپا، چھپ جائے۔ سمجھ میں آیا؟ اس کے مؤمن کا یہ عیب کیا ہو جائے؟ چھپ جائے بھئی، اب کون آدمی چار ایک یا دو یا تین گواہ تو کر لے گا، لیکن چار بڑی بات دور چلی گئی مولانا! چار گواہ کہاں سے لائے؟ ایک یا دو تو ہو جائیں گے، چار کا مشکل، تو اس پر پردہ پڑا رہے گا۔ وَلِلْقَوَدِ وَبَاقِي الْحُدُودِ رَجُلاَنِ، قود کہتے ہیں قصاص کو بھئی۔ اور قصاص کے لیے اور باقی حدود کے لیے رَجُلاَنِ، کتنے آدمیوں کی گواہی؟ رَجُلاَنِ کا لفظ کہا بھئی، ایک مرد یا دو عورتوں کی گواہی یہاں پر قبول حدود اور قصاص کے کسی مسئلے کے اندر بھئی عورت کی گواہی قبول نہیں، کیوں؟ کیونکہ یہ شبہات سے یہ ساقط ہو جایا کرتے ہیں، تو عورت کی گواہی میں کیا آ جائے گا؟ کیا آ جاتا ہے؟ شبہ، لہذا اس میں ان کی گواہی نہیں قبول کی جاتی۔ دیکھو حدود اور قصاص میں صرف دو مردوں کی گواہی۔ وَلِلْبَكَارَةِ وَالْوِلاَدَةِ وَعُيُوبِ النِّسَاءِ، بکارت کے اندر کہ عورت باکرہ ہے یا باکرہ نہیں، یہ عورت باکرہ ہے، وَالْوِلاَدَةِ، یا اس عورت نے اس بچے کو جنم دیا ہے، ولادت جنم دینا، بکارت کے بارے میں، جنم دینے کے بارے میں، وَعُيُوبِ النِّسَاءِ، اور عورتوں کے عیوب فِيمَا لاَ يَطَّلِعُ عَلَيْهِ الرِّجَالُ، جس پر مرد مطلع نہیں ہو سکتے بھئی، عورتوں کے ایسے عیب جس پر مرد مطلع نہیں، یعنی ایسے مقام پر ہے جسے لوگ نہیں دیکھ سکتے، اس میں نصابِ شہادت اس میں کیا ہے؟ امْرَأَةٌ، کیا ہے؟ امْرَأَةٌ، ایک عورت ہی کا، ایک عورت کی گواہی بھی کافی ہے۔ إِنَّمَا قَالَ هَذَا، کہتے ہیں بھئی: وَعُيُوبِ النِّسَاءِ کے ساتھ ماتن نے یہ کیوں، یہ کیوں فرمایا: فِيمَا لاَ يَطَّلِعُ عَلَيْهِ الرِّجَالُ، جس پر مرد مطلع نہیں؟ کہتے ہیں بھئی دراصل عورت کے عیوب دو قسم پر ہیں: کچھ عیوب ہیں جس پر مرد مطلع ہو سکتے ہیں، کچھ وہ عیوب ہیں جن پر مرد مطلع نہیں، وہ عیوب جن پر مرد مطلع نہ ہو سکیں اس میں ایک عورت کی گواہی کافی ہے، لیکن جن پر مرد مطلع ہو سکتے ہیں وہاں ایک عورت کی گواہی کافی، مثلاً اس عورت کی کتنی انگلیاں ہیں؟ چھ ہیں، ایک انگلی زائد ہے، اب یہ چیز ایسی ہے کہ یہ چھپی ہوئی نہیں، اس پر مرد کیا ہو سکتے ہیں؟ مطلع ہو سکتے ہیں، تو یہاں اب ایک عورت کی گواہی قابلِ قبول نہیں۔ ماتن نے یہ اس لیے فرمایا: لِأَنَّ عُيُوبَ النِّسَاءِ إِذَا كَانَتْ مِمَّا يَطَّلِعُ عَلَيْهِ الرِّجَالُ، اس لیے کہ عورتوں کے عیوب إِذَا كَانَتْ مِمَّا يَطَّلِعُ عَلَيْهِ الرِّجَالُ، اگر یہ ان عیوب میں سے ہوئے جن پر مرد مطلع ہو سکتے ہیں كَالأَصْبُعِ الزَّائِدَةِ، جیسے زائد انگلی ہو مثلاً مثال کے طور پر، لاَ يَكْفِي شَهَادَةُ امْرَأَةٍ، تو اس کے لیے ایک عورت کی گواہی کافی نہیں۔ وَلِغَيْرِهَا، اور اس کے علاوہ جو ہیں بھئی اوپر کیا کیا ذکر ہوئے؟ زنا، قصاص، باقی حدود، بکارت، ولادت اور عیوب النساء جن پر مرد مطلع نہیں ہو سکتے، ان سب کے علاوہ باقی جتنے مسائل ہیں مَالاً كَانَ أَوْ غَيْرَ مَالٍ، چاہے وہ مالی مسئلے ہوں یا غیرِ مالی ہوں، مالی مسئلے بھئی بیع ہے، شراء ہے، اجارہ ہے، شفعہ ہے وغیرہ جتنے مالی مسئلے ہیں، سمجھ میں آیا؟ جتنے مالی مسئلے ہوں أَوْ غَيْرَ مَالٍ، یا کس قسم کے مسائل ہوں؟ غیرِ مالی ہوں، کیسے؟ غیرِ مالی کیا ہیں؟ آگے بتا رہے ہیں: كَالنِّكَاحِ، جیسے کیا ہے؟ نکاح، ایک نے نکاح کا دعویٰ کیا، دوسرے نے انکار کر دیا بھئی، اب یہاں پر وَرَضَاعٍ، رضاعت، ایک رضاعت کا کیا کرتا ہے؟ دعویٰ کرتا ہے، دوسرا رضاعت سے انکار کرتا ہے، وَطَلاَقٍ، ایک طلاق کا دعویٰ کرتا ہے کہ طلاق ہو چکی، دوسرا کیا کرتا ہے؟ طلاق سے دوسرا فریق انکار کرتا ہے، وَوَكَالَةٍ، ایک وکالت کا دعویٰ کرتا ہے کہ تو نے مجھے وکیل بنایا تھا، دوسرا کیا کرتا ہے؟ انکار، وَوَصِيَّةٍ، ایک آدمی اقرار کرتا ہے، ایک آدمی کیا کرتا ہے؟ دعویٰ کرتا ہے کہ میرے لیے زید نے مرتے وقت کیا کی تھی؟ وصیت کی تھی، اس کے وارث کیا کرتے ہیں؟ سارے انکار، یہ سارے مسائل ہیں مثلاً غیرِ مالی، ان کے اندر گواہی صحیح ہے، ان سب کے اندر چاہے مالی ہوں چاہے غیرِ مالی ہوں اور غیرِ مالی کی مثالیں بھی ذکر کر دیں، ان کے اندر نصابِ شہادت کیا ہے؟ رَجُلاَنِ، دو مرد أَوْ رَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ، یا ایک مرد اور دو عورتیں۔ مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ کتنے قسم کے انہوں نے بتلایا نصابِ شہادت کتنی قسم پر ہے؟ چار ہو گیا بھئی۔ کچھ مسئلے وہ ہیں جہاں کتنے مردوں کی گواہی ہے؟ وہ کیا ہے؟ زنا۔ بعض ایسے ہیں جس میں صرف دو مردوں کی گواہی، ایک مرد یا دو عورتوں کی گواہی قابلِ قبول نہیں، وہ کیا ہیں؟ قصاص اور باقی حدود۔ بعض مسئلوں میں صرف ایک عورت کی گواہی بھی قابلِ قبول، وہ کیا ہے بھئی؟ جی، سمجھ میں آیا؟ جی۔ اچھا! اور کچھ وہ ہیں جن کے اندر کیا تھا؟ اس کے علاوہ جو باقی مسائل ہیں چاہے مالی مسئلے ہوں چاہے غیرِ مالی، اس کے اندر دو مرد ہونے چاہئیں یا ایک مرد اور دو عورتیں۔ دو عورتیں اس لیے ہیں کہ ایک عورت، عورت کا حافظہ، ناقص العقل ہے، حافظہ کمزور، اگر ایک بات ایک سے بھول جائے تو دوسری اسے کیا کر دے گی؟ یاد کروا دے گی۔ اچھا بھئی! ماتن نے یہ کیوں فرمایا: مالی مسئلہ ہو یا غیرِ مالی؟ ہاں، کہتے ہیں اس لیے کہ اس میں امام شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مالی مسئلے کے اندر جو ہے وہاں تو ایک، دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی قبول ہے، باقی غیرِ مالی کے اندر ایک مرد یا دو عورتوں کی گواہی قابلِ قبول نہیں، تو بتلایا: نہیں، چاہے مالی مسئلہ ہو ان کے علاوہ یا سب کے اندر اسی طرح ہے ہمارے نزدیک بھئی۔ إِنَّمَا قَالَ: مَالاً أَوْ غَيْرَ مَالٍ، ماتن نے مَالاً أَوْ غَيْرَ مَالٍ ذکر فرمایا لِأَنَّ فِيهِ خِلاَفَ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى، اس لیے کہ اس کے اندر امام شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف ہے، فَإِنَّ غَيْرَ الْمَالِ لاَ تُقْبَلُ فِيهِ شَهَادَةُ رَجُلٍ وَامْرَأَتَيْنِ عِنْدَهُ، اس لیے کہ غیرِ مال کے اندر قبول نہیں کی جائے گی ایک مرد یا دو عورتوں، ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی عِنْدَهُ، امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک غیرِ مالی میں قبول نہیں ہوگی، بَلْ هَذَا مَخْصُوصٌ بِالْمَالِ، بلکہ یہ جو ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی ہے یہ مخصوص ہے کس کے ساتھ؟ مال کے ساتھ، صرف مالی مسئلوں میں قبول کی جائے گی۔ وَ شُرِطَ لِلْكُلِّ الْعَدَالَةُ، اور شرط لگائی گئی ہے ہر ایک کے لیے عدالت کی بھئی، یہ سارے گواہ جو ہوں ہر گواہ کے لیے کس چیز کی شرط لگائی گئی ہے؟ عادل ہونا چاہیے عادل۔ عادل کسے کہتے ہیں بھئی؟ عادل اسے کہتے ہیں جو کبیرہ گناہوں سے بچتا ہو۔ جی، یہ اپ کے حاشیے میں دی ہوئی ہے بھئی۔ آٹھ نمبر حاشیے میں دیکھیے: الْعَدَالَةُ: وَهِيَ الاِجْتِنَابُ عَنِ الْكَبَائِرِ، کبیرہ گناہوں سے کیا کیا، کر لیا جاتا ہو؟ کبیرہ سے اجتناب کرنا ہے وَعَدَمُ الإِصْرَارِ عَلَى الصَّغَائِرِ، اور صغیرہ گناہوں پر اصرار نہ کرنا ہے یعنی اصرار جانتے ہو بھئی؟ یاد رکھو ایک گناہ چھوٹا ہوتا ہے، لیکن انسان اسے کثرت سے کرتا ہے بے پرواہ ہو کر کرتا رہتا چلا جاتا ہے، اب یہ صغیرہ نہیں رہا مولانا، کیا بن چکا؟ کبیرہ، تو اصرار کے ساتھ یعنی کرتے ہی رہنا اس گناہ کو، یہ پھر وہ صغیرہ نہیں رہتا بلکہ کیا بن جاتا ہے؟ ہاں، کبھی کبھار ہو جائے وہ تو صغیرہ، لیکن بار بار ہے تو وہ اصرار کے ساتھ وہ کبیرہ بن گیا۔ تو کبیرہ سے بچتا ہے اور صغائر پر بھی اصرار نہ کرتا ہو وَ كَثْرَةُ الصَّلاَحِ مِنَ الْفَسَادِ، کثرت فساد سے صلاح زیادہ ہو بھئی، یعنی صحیح کام غلط کاموں سے کیا ہوں؟ غلطیوں سے کیا ہوں؟ آگے بھی بتلا رہے ہیں وہی: وَ غَلَبَةُ الصَّوَابِ عَلَى الْخَطَإِ، خطا پر ثواب غالب ہونا بھئی۔ یعنی بھئی نیکیاں یعنی برائیوں پر غالب ہوں، نیکیاں کیا ہوں برائیوں پر؟ ہاں، یہ آسان لفظوں میں۔ تو بڑے گناہوں سے بچتا ہو، صغیرہ گناہوں پر اصرار نہ کرتا ہو، مداومت نہ کرتا ہو، پے در مسلسل ان کو نہ کرتا ہو، ہمیشگی نہ کرتا ہو، اور دوسرا اس کی نیکیاں اس کی برائیوں پر غالب ہوں، یہ عادل آدمی ہے۔ أچھا! وَ لَفْظُ الشَّهَادَةِ، وَ شُرِطَ لِلْكُلِّ، اور شرط لگائی گئی ہے ہر ایک کے لیے نمبر ایک: الْعَدَالَةُ، کس چیز کی شرط لگائی گئی ہے؟ ایک عدالت کی، وَ لَفْظُ الشَّهَادَةِ، اور دوسری شہادت کے لفظ کی بھئی، کہ شہادت کا لفظ کہنا ضروری بھئی۔ گواہ آئے گا، گواہی دیتے ہوئے اس کو أَشْهَدُ کا لفظ کہنا ضروری، یا اردو میں گواہی دے رہا ہے تو کہے گا: میں گواہی دیتا ہوں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ نہ کہے: میں جانتا ہوں، یہ مسئلہ اس طرح ہے، مجھے یقین ہے یہ مسئلہ، أَعْلَمُ یا أَتَيَقَّنُ، یہ لفظ نہیں بھئی، جب بھی گواہی دے گا، کیا لفظ کہنا پڑے گا عربی میں؟ أَشْهَدُ، یا اردو میں کہہ رہا ہے تو کیا کہے گا؟ میں گواہی دیتا ہوں۔ اعلم، جی یہاں سے بڑی قیمتی بات آپ کو بتلا رہے ہیں بھئی۔ آپ نے آج تک یہی پڑھا ہے کہ گواہ عادل ہونے چاہئیں، تو کیا معنی؟ فاسق گواہی دے ہی نہیں سکتا؟ نہیں بھئی، عادل کی گواہی پر قاضی کے لیے فیصلہ کرنا واجب ہے۔ دو عادل آدمیوں نے قاضی کے سامنے آ کر گواہی دی، گواہی دے دی دو عادل آدمیوں نے کہ زید نے عمرو کے کتنے پیسے دینے ہیں؟ ایک لاکھ، اب قاضی پر واجب ہو گیا ان کی گواہی کو قبول کریں اور فیصلہ دے دے کہ زید نے عمرو کا کتنا دینا ہے؟ ایک لاکھ۔ تو عادل کی گواہی کو قبول کرنا قاضی پر واجب ہے، فرض ہے، لیکن اگر فاسق ہو تو؟ تو قاضی گواہی قبول کر سکتا ہے مولانا، یہ نہیں کہ اس کو ہمیشہ رد ہی کرے گا بلکہ قاضی کیا کر سکتا ہے؟ ہاں، کرنی نہیں چاہیے، لیکن بھئی کہتے ہیں: کر سکتا ہے، کر سکتا ہے۔ تو اگر فاسق کی گواہی قبول کرے گا تو گناہگار ہوگا مولانا قاضی، لیکن کر سکتا ہے۔ بلکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول کے مطابق تو اگر فاسق آدمی ہے، لیکن معاشرے میں اس کا ایک مقام ہے، عزت ہے، مروت والا آدمی ہے، اس کی گواہی کو تو قاضی کو کیا کر لینا چاہیے؟ قبول کرنا چاہیے، کیونکہ جو شخص اگرچہ اور فسق و فجور ہیں، لیکن جب لوگوں میں اس کے مقام و مرتبہ ہے، جاہ ہے، تو وہ اپنی عزت کے خیال سے جھوٹی گواہی کبھی بھی نہیں دے گا بلکہ صحیح گواہی دے گا۔ تو یہ ضروری تو نہیں فاسق ہمیشہ جھوٹی بولے بلکہ سچ بھی تو بولتا ہے بھئی۔ أچھا! دیکھیے! یہی بات بتلا رہے ہیں: اعْلَمْ أَنَّ الْعَدَالَةَ شَرْطٌ عِنْدَنَا لِوُجُوبِ الْقَبُولِ، جان لے تو کہ عادل ہونا یہ شرط ہے ہمارے نزدیک قبولیت کے وجوب کے لیے، قبول کرنا فرض ہونے کے لیے، قاضی پر قبول کرنا کیا ہوگا؟ فرض ہوگا، یہ عدالت شرط ہے وجوبِ قبولیت کے لیے، لاَ لِصِحَّةِ الْقَبُولِ، قبولیت کے صحیح ہونے کے لیے یہ شرط نہیں ہے کہ عادل ہوگا تو قبول کرنا صحیح ہے ورنہ قبول کرنا صحیح، بلکہ فاسق ہو تو بھی قبول کرنا صحیح ہے۔ فَغَيْرُ الْعَدْلِ لاَ يَجِبُ عَلَى الْقَاضِي أَنْ لاَ يَقْبَلَ شَهَادَتَهُ، پس جو غیرِ عدل ہے، غیرِ عادل ہے، واجب نہیں ہے قاضی پر کہ اس کی گواہی کو قبول نہ کرے، بلکہ کیا کر سکتا ہے؟ اس کی گواہی کو قبول أَمَّا إِنْ قَبِلَ وَ حَكَمَ بِهِ، ہاں واقعتاً اگر قاضی نے اس کے قبول کر لیا اس کی گواہی کو وَ حَكَمَ بِهِ، اور اس کے ذریعے فیصلہ کر دیا، صَحَّ حُكْمُهُ، تو اس کا حکم، فیصلہ کیا ہو جائے گا؟ صحیح ہو جائے گا۔ تو شہادت کا لفظ ضروری ہے مولانا: فَلَمْ يُقْبَلْ، تو قبول نہیں کی جائے گی گواہی إِنْ قَالَ، اگر گواہ نے یوں کہا: أَعْلَمُ، میں جانتا ہوں أَوْ أَتَيَقَّنُ، یا میں مجھے کیا ہے؟ یقین ہے، جی تو ان لفظوں سے نہیں، أَشْهَدُ کا لفظ کہنا ضروری ہے۔ اچھا، چلیے بس کریں مولانا۔ هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلاَمِ.