اَسْبَابِ مُنْصَرِف کی بحث چل رہی ہے بھئی۔ اسبابِ مُنْصَرِف کی، اسبابِ مُنْصَرِف بتلایا مولانا انہوں نے کہ نو ہیں بھئی نو۔ اور ان نو میں سے دو ایسے ہیں جو قائم مقام کس کے ہیں؟ دو کے ہیں، وہ کون کون سے ہیں؟ جمع اور الفِ تانیث بھئی، یہ قائم مقام دو کے ہیں بھئی۔ اس کے بارے میں آپ نے پڑھا تھا بھئی، عدل کس کو کہتے ہیں؟ نکلنا صیغے کا اپنے نکلنا اسم کا اپنے صیغہ اصلیہ سے۔ صیغہ اصلیہ کس کو کہتے ہیں؟ جس کا قانون اور ضابطہ تقاضا کر رہا ہو بھئی، تو جس کا تقاضا قانون اور ضابطہ کر رہا ہو وہ صیغہ اصلیہ ہے، اسم کا اس سے نکل کر ایک نئی صورت اختیار کر لینا یہ کیا کہلاتا ہے؟ عدل کہلاتا ہے مولانا، اور پھر یہ عدل دو قسم پر ہے۔ ایک عدل تحقیقی ہے، ایک عدل تقددیری۔ عدل تحقیقی کس کو کہتے ہیں؟ جس کی ہمارے پاس دلیل موجود ہو، اور عدل تقددیری وہ جس کی ہمارے پاس کوئی دلیل موجود نہ ہو، نحویوں نے صرف اپنے قانون اور ضابطے کو بچانے کے لیے اسے فرض کر لیا ہو مولانا، سمجھ میں آیا؟ جیسے عمر اور زفر کا لفظ عربوں سے ہمیشہ کیسا سنا ہے ہم نے؟ غیر منصرف، حالانکہ اس میں سوائے عالمیت کے اور کوئی سبب نہیں، تو اپنے ضابطے کو بچانے کے لیے نحویوں نے اس میں کیا فرض کر لیا؟ عدل فرض کر لیا بھئی۔ جی، اور پھر آپ نے یہ بھی پڑھا تھا مولانا کہ یہ عدل کس کے ساتھ جمع ہو جاتا ہے؟ عالمیت اور وصف کے ساتھ جمع ہو جاتا ہے، اور وزنِ فعل کے ساتھ کبھی جمع نہیں ہوتا۔ وزنِ فعل کے ساتھ کیوں نہیں جمع ہوتا؟ اس لیے کہ فعل کے اپنے اوزان ہیں اور عدل کے اپنے چھ اوزان ہیں مولانا۔ وہ چھ اوزان کون کون سے ہیں؟ مفعل ہے، فعال ہے، فعال ہے، فعل ہے، فعل ہے، فعل ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ یہ چھ ہونے چاہیے۔ جی، اور اسی طرح صاحبِ کافیہ نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ ایک بابِ قتام بھی ہے بھئی۔ قتام کے باب سے کیا مراد ہے کہ وہ فعال، وہ فعال، قتام وہ فعال جو کس جو کیا ہو؟ اسم ہو، علم ہو، مؤنث کے لیے علم ہو، اور آخر میں را نہ آتی ہو جیسے حضاری وغیرہ۔ تو یہ بھی کیا ہے؟ بنو تمیم کے نزدیک یہ بھی وہ اس کو غیر منصرف پڑھتے ہیں بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ غیر منصرف پڑھتے ہیں بھئی۔ جبکہ باقی حجاز کے عرب جو ہیں وہ اس کو مبنی پڑھتے ہیں۔ کیا بناتے ہیں؟ مبنی پڑھتے ہیں۔ قتامی پڑھتے ہیں، قتامی، حضاری، جیسے حضاری را والا مبنی ہے یہ باقی بھی جو فعال وزن پر ہیں وہ بھی کیا ہیں؟ مبنی ہیں، جبکہ بنو تمیم والے کہتے ہیں کہ جس کے آخر میں را نہ ہو وہ کیا ہوگا؟ معرب ہوگا اور غیر منصرف ہوگا۔ وصف مولانا! وصف کے بارے میں پھر آپ نے پڑھا تھا، وصف کے لیے کیا شرط لگائی تھی کہ وہ اصل وزن میں کیا ہو؟ وصف ہونا چاہیے اور یہ اصل وزن میں وصف ہونا یقینی ہونا چاہیے، الوہمی نہیں ہونا چاہیے۔ جب اصل وزن میں وہ وصف ہوگا یقینی طور پر، تو اب غلبہِ اسمیت بھی اس کو نقصان نہیں دے گا۔ غلبہِ اسمیت کس کو کہتے ہیں بھئی؟ تخصیص اللفظ ببعض ما وضع لہ بھئی، لفظ کے خاص ہو جانا اپنے بعض جو وہ لفظ کا خاص کرنا اپنے بعض موضوع لہ کے ساتھ، جیسے مولانا اسود کا لفظ ہر کالی چیز کے لیے وضع تھا، جو بھی کالی چیز ہوتی، عرب کیا کہتے؟ اسود، یہ اسود ہے، لیکن بعد میں پھر یہ نام بھی بن گئے ایک سانپ کا نام ہی رکھ دیا جو کالے رنگ کا تھا، تو دیکھو غلبہِ اسمیت آ گیا اس پر، تھا وصف، لیکن اس کو کیا بنا دیا گیا؟ اسم بنا دیا گیا ایک خاص کالے رنگ کے سانپ کے لیے، اب دیکھو مولانا غلبہِ اسمِ کیونکہ یہ اصل وزن میں وصف تھا، اب اس کو غلبہِ اسمیت نقصان نہیں دیتا، اب بھی یہ غیر منصرف رہے گا، اب سانپ کو نظر آئے گا، آپ کہیں گے ھذا اسود، یہ کیا ہے؟ اسود، وہ کالا سانپ ہے، بھئی کیوں؟ یہ آپ نے غیر منصرف کیوں پڑھا؟ جواب کیا دیں گے؟ ایک اس میں وزنِ فعل ہے اور دوسری کیا ہے؟ وصف ہے، بھئی وصف کہاں ہے؟ اس وقت تو یہ نام ہے، اس وقت تو کیا ہے؟ نام ہے، نام ہے اس سانپ کی یہ والی قسم جو ہے اس کا نام ہے مولانا، کہتے ہیں بھئی یہ نام جو بنا ہے کس طریقے پر بنا ہے؟ غلبہِ اسمیت کے طریقے پر۔ اصل وزن میں تو یہ لفظ کیا تھا؟ وصف تھا، تو وہ وصف اب بھی معتبر ہے مولانا، وہ وصف کیا ہے؟ اب بھی معتبر ہے، اگرچہ فی الحال یہ کیا بن چکا ہے؟ اسم بن چکا ہے، تو غلبہِ اسمیت پھر اس کو نقصان نہیں دے سکتا مولانا، یہ وصف پھر بھی معتبر ہوگا۔ لگاتار اس کے بجائے اگر اصل وزن میں وصف نہ ہو، بعد میں وصف آ جائے، تو اس وصف کا کوئی اعتبار نہیں، وہ غیر منصرف کا سبب نہیں بنے گا، جیسے آپ کہتے ہیں، مررت بنسوة اربعین۔ اب جس وقت کی صفت آپ کیا لائے؟ اربع لائے، اربع کے اندر دو وصف تو دو چیزیں دو اسباب موجود ہیں مولانا، ایک کیا ہے؟ وزنِ فعل اور دوسرا کیا ہے؟ وصف ہے، نسوہ موصوف، اربع اس کے لیے صفت، پھر بھی آپ کہہ رہے ہیں بنسوة اربعین، کہنا تو چاہیے بنسوة اربع، آپ کیوں نہیں کہہ رہے؟ اس لیے کہ اربع اصل میں وضع ہے عدد کے لیے، جو پانچ سے چھوٹا ہو اور تین سے بڑا ہو، اس کو اربع کہتے ہیں، تو اصل میں تو یہ عدد کے لیے وضع ہے، ایک عدد کا نام ہے، بعد میں اس کو کس کے لیے استعمال کر لیا گیا؟ وصف کے طور پر، تو یہ بعد والا وصف کے بعد میں وصف کے طور پر استعمال ہونا یہ معتبر نہیں ہے۔ مُعْتَبَر، مُعْتَبَر، چنانچہ اسود یہ کالے سانپ کا نام، ارقم یہ چتکبرے سانپ کا نام، ادهم یہ کس کا نام؟ بیڑی کا نام، یہ سارے اصل اصل وزن میں کیا تھے؟ اوصاف تھے، اب بعد میں نام بھی نام بن چکے، لیکن پھر بھی ان کے اندر کیا معتبر ہے؟ وہ وصفیت معتبر ہے، اور ساتھ وزنِ فعل بھی آ گیا، تو یہ غیر منصرف ہوں گے۔ اور نیز بتلایا تھا صاحبِ کافیہ نے کہ یہ جو اصل وزن میں وصف ہونا ہے، یہ یقینی طور پر ہو، ظنی اور وہمی طور پر نہ ہو۔ اسی لیے کہتے ہیں افْعَلَ، یہ بھی مولانا وزنِ فعل بھی ہے اس کے اندر، اور کیا ہے؟ یہی وصف بھی ہے، وصف وصف بھی ہے، کبھی احتمال اجدل، اسی طرح یہ بھی کیا ہے مولانا؟ وزنِ فعل بھی ہے اور وصف کا بھی احتمال ہے، اخیل، وزنِ فعل اور وصف، تو افْعَلَ میں امکان کیا ہے یہ کس سے بنا ہو؟ فعوة سے، اور فعوة کس کو کہتے ہیں؟ خُبث کو کہتے ہیں خُبث کو، تو اسات تو افْعَلَ ہر خبیث چیز کے لیے بنا لیا، فعوة سے کیا بنا لیا؟ افْعَلَ۔ بھئی جیسے ہر کالی چیز کے لیے کیا بنایا تھا اسود، اسی طرح ہر ہر خبیث چیز کو کیا کہنے لگے؟ افْعَلَ، احتمال ہے، یقینی نہیں۔ تو پھر اب اس میں سے ایک خبیث چیز یہ سانپ بھی تھی، کیونکہ یہ بڑا خطرناک اور زہریلا تھا، پھر اس کا نام ہی رکھ دیا افْعَلَ، جیسے اس کالے سانپ کا نام ہی کیا رکھ دیا تھا؟ اسود، تو اس میں بھی دیکھو ایک وصفیت آ گئی اور ایک وزنِ فعل، اس کو بھی کیا پڑھو؟ غیر منصرف، تو جواب کیا دیں گے آپ کہ یہ جو اصل وزن میں وصف ہونے کی آپ نے تقریر کی، یہ کوئی یقینی بات نہیں، یہ تو وہمی بات ہے، ہاں وہم کہتا ہے افْعَل، شاید خیلان سے بنا ہو، خیلان جمع ہے خال کی، اور خال کہتے ہیں داغ کو، تو اس پرندے کے جسم پر بھی داغ ہوتے ہیں، تو وہم پڑھتا ہے شاید یہ خیلان سے عربوں نے ایک وصف کا صیغہ بنایا افْعَل، اور ہر داغ والی چیز کو کیا کہنے لگے؟ افْعَل کہنے لگے، تو یہ پرندہ بھی اس کے افراد میں سے تھا، کیونکہ اس پر بھی کیا تھے؟ داغ۔ پھر اس تو اس کو بھی افْعَل کہتے، پھر ایسا ہوتے ہوتے یہ افْعَل اس پرندے کا کیا بن گیا؟ نام ہی بن گیا، تو اب مولانا غلبہِ اسمیت آ گیا، لیکن یہ اصل وزن میں کیا تھا؟ وصف تھا، تو اس کو بھی کیا پڑھو؟ غیر منصرف۔ تو جواب کیا دیں گے آپ کہ یہ جو اصل وزن میں وصف ہونے کی آپ نے تقریر کی، یہ کوئی یقینی بات نہیں۔ ہاں، وہمی بات ہے، ہاں، وہم کہتا ہے افْعَل، شاید خیلان سے بنا ہو اور اس طرح بنا ہو جو آپ نے تقریر کی، لیکن وہم سے بات نہیں بنے گی، بلکہ کیا ہونا چاہیے یہ؟ یقینی ہونا چاہیے، پھر اس کو ہم کیا پڑھیں گے؟ غیر منصرف۔ جی، تو لہٰذا ان کو غیر منصرف پڑھ تو سکتے ہیں، لیکن غیر منصرف پڑھنا کیسا ہے؟ ضعیف ہے، کیا ہے؟ ضعیف ہے۔ یعنی عمدہ نہیں ہے لغت کے اندر بھئی، ضعیف ہے، کمزور ہے، لغت، کمزور لغت۔ آج بات ہے تانیث کی بھئی، تو مولانا آپ بھی تکرار کریں بھئی، سمجھ میں آیا بھئی، میں بھی کیا کروں گا کوشش کروں گا ساتھ ساتھ تکرار ہوتا رہے پچھلے سبق کا، تو آپ بھی تکرار بار بار کریں کہ یہ چیزیں ذہن میں پختہ ہو جائیں بھئی۔ آج تانیث کی بات کریں گے مولانا، اسبابِ منصرہ میں سے تیسرا سبب تانیث ہے بھئی۔ بھئی تانیث کے بارے میں کچھ باتیں آپ نے ہدایت النحو میں بھی پڑھی تھیں، وہ بھی میری کوشش ہوتی ہے ہدایت النحو کی باتیں بھی یہاں ساتھ دہرا دیا کروں تاکہ بھئی پھر فائدہ زیادہ ہو جائے۔ ہدایت النحو میں آپ نے پڑھا تھا مولانا کہ تانیث دو قسم پر ہے، ایک تانیث لفظی ہے، ایک تانیث معنوی۔ تانیث لفظی کس کو کہتے ہیں کہ لفظوں کے اندر تانیث کی کوئی علامت موجود ہو، اور تانیث معنوی وہ ہے کہ لفظوں کے اندر کوئی تانیث کی علامت موجود نہ ہو، نہ ہو۔ تانیث لفظی جس میں لفظوں میں تانیث کی علامت موجود ہو، تو تانیث کی علامتیں کتنی ہیں لفظوں میں؟ دو ہیں مولانا، کتنی ہیں؟ دو ہیں۔ ایک تا ہے اور ایک الف ہے۔ ایک تاِ تانیث ہے، ایک الفِ تانیث، پھر الفِ تانیث دو قسم پر ہے، الفِ مقصورہ اور الفِ ممدودہ، تو تین ہوئے مولانا تانیث کے تانیث لفظی کی، تین چیزوں کے ساتھ، یا تا کے ساتھ آئے گی یا الفِ مقصورہ کے ساتھ آئے گی یا الفِ ممدودہ کے ساتھ آئے گی، اور ایک تانیث معنوی ہوئی، تو کتنی قسمیں ہو گئیں؟ چار قسمیں ہو گئیں۔ تین قسمیں تانیث لفظی کی، اور ایک کیا ہے تانیث معنوی۔ ان چار میں سے آپ نے پڑھا ہے مولانا تانیث بالالف جو ہے، وہ قائم مقام دو سببوں کے ہے۔ وہ قائم مقام کس کے ہے؟ دو سببوں کے ہے، تو اس کے لیے کسی شرط کی ضرورت نہیں، وہ خود قائم مقام دو سببوں کے ہے، وہ لفظ کو غیر منصرف بنا دے گی۔ باقی رہ گئی کیا مولانا دو قسمیں تانیث بالتا اور تانیث معنوی، ان کی بات کریں گے مولانا، تانیث بالتا، تانیث بالتا اور تانیث معنوی، دونوں کے لیے، دونوں سبب بنیں گے غیر منصرف ہونے کا، لیکن ان دونوں کے لیے شرط ہے علم ہونا۔ دونوں کے لیے کیا شرط ہے بھئی؟ علم ہونا بھئی، سمجھ میں آیا، بھئی ساری کتاب کی بات ہے، میں تو باہر کی باتیں زیادہ نہیں کرتا بھئی۔ تو دونوں کے لیے شرط کیا ہے مولانا؟ دونوں علم، تانیث بالتا کے لیے کیا شرط وہ کب مؤثر، کب سبب بنے گی غیر منصرف ہونے کا؟ اگر علم نہ ہو پھر سبب بنے گا؟ نہیں، نہیں بھئی، بھئی تانیث بالتا کے لیے علم ہونے کی شرط ہم نے کیوں لگائی؟ وجہ یہ ہے مولانا، کہ یہ جو تا ہوتی ہے نا تانیث والی، یہ کبھی آتی ہے، کبھی علیحدہ جڑ، علیحدہ ہو جاتی ہے کلمے سے، جیسے آپ کیا کہتے ہیں: ضَارِبَةٌ، اور کبھی کیا کہتے ہیں: ضَارِبٌ، تانیث کی تا چلی گئی۔ قَائِمَةٌ، کبھی کیا کہتے ہیں: قَائِمٌ۔ عَاقِلَةٌ، کبھی کیا کہتے ہیں: عَاقِلٌ، تو کبھی تا آئے گی اور کبھی تا چلی جائے گی مولانا، تو اور تو ہم نے علمیت کی قید لگا دی مولانا، किस चीज़ की؟ علمیت کی علمیت۔ کیونکہ جب تا آئی اور آپ نے اس کو کسی چیز کا علم بنا دیا، اب مولانا علم کے اندر تبدیلی نہیں کی جاتی، تو اب وہ تا بھی جائے گی نہیں مولانا، کیا ہو جائے گی؟ پکی ہو گئی۔ آپ نے کسی کا نام ہی قائمہ رکھ دیا، اب اس کو کوئی قائم کہے گا؟ نہیں کہے گا، کیونکہ وہ تا کیا ہے مولانا؟ تانیث کی علامت ہے۔ تانیث کی علامت تھی، لیکن آپ نے اس لفظ کو اٹھا کر کسی کا نام رکھ دیا، اور نام میں کوئی تبدیلی کرتا ہے؟ نہیں، ویسے قائم اسم فاعل ہو، تو پھر مذکر کے لیے تا نہیں لائیں گے اور مؤنث کے لیے کیا لائیں گے؟ تا لائیں گے، لیکن جب کسی کا نام رکھ دیا، اچھا وہ مذکر کاہی نام کیوں نہ ہو، اس کو کیا کہا جائے گا؟ قائمہ ہی کہا جائے گا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تا کے ساتھ ہی بات کی جائے گی ہمیشہ، اب یہ سبب بنے گی غیر منصرف ہونے کا مولانا، یہ تا کیا بنے گی؟ غیر منصرف۔ اور وہ لفظ غیر منصرف ہو جائے گا، تو ایک اس میں علمیت آگئی اور ایک کیا آ گئی؟ تانیث۔ طَلْحَةُ، کے اندر بھی مولانا اب اگر اگرچہ یہ مذکر کا نام ہے، لیکن کیا آ گئی تائے تانیث، اور ہم نے اس کے لیے کیا شرط لگائی تھی؟ علمیت، اور علمیت پائی گئی مولانا، اب یہ چاہے مذکر کا نام ہے مؤنث کا یہ ہم نہیں دیکھیں گے، ہم نے تو شرط کیا لگائی تھی تائے تانیث کے لیے؟ علم ہونا چاہیے، اور طلحہ بھی کیا ہے؟ علم ہے، تو اس میں بھی یہ تانیث مؤثر، ایک علمیت، ایک تانیث، یہ بھی کیا بن جائے گا؟ غیر منصرف، سمجھ میں آیا بھئی؟ وَالْمَعْنَوِيُّ کَذٰلِكَ، معنوی بھی اسی طرح ہے۔ معنوی کے لیے بھی کیا شرط ہے مولانا؟ علمیت، اس میں بھی علم ہو، اس میں بھی علم ہو، نام ہو کسی چیز کا، لیکن فرق ہے مولانا، فرق یہ کہ تا اس تا، تانیث بالتا میں علمیت آ جاتی ہے ساتھ، تو وہ مؤثر بنتی تھی، لفظ کو وجوباً کیا بنا دیتی تھی؟ بھئی طلحہ تو غیر منصرف ہے، منصرف ہے؟ غیر منصرف۔ معلوم ہوا تو اس کو منصرف پڑھ سکتے ہیں؟ نہیں، اس تائے تانیث کے ساتھ جب علمیت آگئی، تو یہ وجوباً اثر انداز ہوگی اور کلمے کو کیا بنا دے گی؟ غیر منصرف۔ جبکہ تانیث معنوی کے اندر علمیت آ جائے تو مولانا وہ وجُوْبًا غَيْرَ مُنْصَرِف نہیں بنائے گی، بلکہ اس کو غَيْرَ مُنْصَرِف پڑھنا جائز ہو جائے گا۔ اس کو کیا ہو جائے گا؟ وَاجِب نہیں ہوگا۔ آپ چاہیں تو اس کو کیا پڑھ لیں؟ آپ چاہیں تو کیا پڑھ لیں؟ دونوں طرح جائز ہو جائے گا۔ ہاں! وُجُوْبًا اثر انداز ہوگی جب تین شرطوں میں سے ایک شرط پوری ہو جائے، پھر وُجُوْبًا اثر انداز ہوگی، پھر آپ کو غَيْرَ مُنْصَرِف ہی پڑھنا پڑے گا، پھر آپ اس کو مُنْصَرِف نہیں پڑھ سکتے۔ وہ تین شرطیں کیا ہیں؟ وہ خود صاحبِ کتاب ذکر کر رہے ہیں، دیکھیے بھئی۔ تو کیا کہا؟ وَالْمَعْنَوِيُّ كَذَالِكَ، مَعْنَوِيّ بھی اسی طرح ہے یعنی اس کے لیے بھی کیا شرط ہے؟ عَكَمِيَّت شرط ہے، وَشَرْطُ تَحَتُّمِ تَأْثِيْرِهِ अच्छा! ہا ضمیر راجع ہے مَعْنَوِيّ کو مولانا، کس کو راجع ہے؟ مَعْنَوِيّ کو۔ تو تَأْنِيْثِ مَع ترجمہ سنو بھئی! آخر سے شروع ہوگا، تَأْثِيْرِهِ، ہا ضمیر سے میں شروع کروں گا ترجمہ، پیچھے کی طرف غور کرنا۔ تَحَتُّم کا معنی حتمی ہونا، حتمی ہونا، یقینی ہونا، وُجُوْبِی ہونا۔ تَأْنِيْثِ مَعْنَوِيّ، ہا ضمیر کس کو راجع ہے؟ تَأْنِيْثِ مَعْنَوِيّ کو۔ تَأْنِيْثِ مَعْنَوِيّ کی تَأْثِيْر، تَأْثِيْر کا کیا معنی ہوتا ہے؟ دوسرے پر اثر ڈالنا۔ تَأْنِيْثِ مَعْنَوِيّ کی تَأْثِيْر کے یقینی ہونے کی شرط۔ یا اس کے تَحَتُّم کا معنی وُجُوْب کے کر لو۔ تَأْنِيْثِ مَعْنَوِيّ کی تَأْثِيْر جو ہے، اس کے وُجُوْبِی ہونے کی شرط۔ اس کے وُجُوْبِی ہونے کی شرط کیا ہے؟ اَلزِّيَادَةُ عَلَى الثَّلَاثَةِ تین حروف پر زائد ہونا ہے، اَوْ تَحَرُّكُ الْأَوْسَطِ یا درمیان والے حرف کا متحرک ہونا ہے، اَوْ الْعُجْمَةُ یا کیا ہے مولانا؟ عَجَمِی ہونا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ کتنی شرطیں ہیں بھئی؟ تین۔ تَأْنِيْثِ مَعْنَوِيّ، یوں کہو مولانا! تَأْنِيْثِ مَعْنَوِيّ کے اندر دو شرطیں ہیں، کتنی ہیں؟ دو۔ ایک شرط کیا ہے؟ عَلَمِيَّت۔ تَأْنِيْثِ مَعْنَوِيّ، تَأْنِيْثِ مَعْنَوِيّ میں مولانا سبب بنے گی کس چیز کا؟ غَيْرَ مُنْصَرِف ہونے کا کتنی شرطیں ہیں؟ دو شرطیں۔ ایک شرط ہے جَوَاز کی، اور دونوں شرطیں ہیں وُجُوْب کی۔ ایک شرط پائی گئی تو غَيْرَ مُنْصَرِف پڑھنا جائز، دونوں پائی گئیں تو غَيْرَ مُنْصَرِف پڑھنا واجب۔ جَوَاز کی کیا شرط ہے؟ عَلَمِيَّت، کیا ہونا چاہیے؟ عَكَم ہو تو ایک لفظ مؤنثِ مَعْنَوِيّ بھی ہے اور اس کے اندر کیا آ گئی؟ عَلَمِيَّت بھی آ گئی، آپ چاہیں اس کو مُنْصَرِف پڑھیں اور چاہیں اس کو غَيْرَ مُنْصَرِف پڑھیں۔ لیکن اگر دوسری شرط ہے مولانا وہ پوری ہو گئی، پھر اس کو کیا پڑھنا ضروری؟ غَيْرَ مُنْصَرِف پڑھنا ضروری۔ اور دوسری شرط کیا ہے؟ تین باتوں میں سے ایک پوری ہو جائے، کوئی ایک بھی پوری ہو جائے۔ کیا؟ تین حروف سے زائد ہو کلمہ مولانا، کیا ہو؟ تین حروف سے زائد ہو۔ تین حروف سے زائد ہو مولانا۔ اگر یہ بات پوری نہ ہوئی، تین والا ہے تو پھر کم از کم درمیان والا حرف کیا ہونا چاہیے؟ مُتَحَرِّك ہونا چاہیے۔ کیا ہونا چاہیے؟ مُتَحَرِّك ہونا چاہیے۔ اگر درمیان والا مُتَحَرِّك بھی نہیں، تو پھر کم از کم اس لفظ کو عَجَمِی ہونا چاہیے۔ کیا ہونا چاہیے؟ عَجَمِی ہونا چاہیے۔ کتنی شرطیں بھئی؟ تین۔ اوّل کیا؟ تین حروف سے زائد ہونا چاہیے۔ اور یا درمیان والا مُتَحَرِّك ہونا چاہیے۔ اگر تین والا ہے تو پھر کم از کم درمیان والا مُتَحَرِّك ہونا چاہیے۔ اگر درمیان والا مُتَحَرِّك بھی نہیں ساکن ہے، پھر کیا؟ لفظ کیا ہونا چاہیے؟ عَجَمِی ہونا چاہیے۔ عربی لفظ نہیں ہونا چاہیے۔ سمجھ میں آیا؟ بھئی یہ کیوں قید لگاتے ہیں؟ کیا وجہ ہے اس کی؟ وجہ یہ ہے مولانا! یہ لفظ کو جو ہم غَيْرَ مُنْصَرِف بناتے ہیں، تو اس پر کیا حکم کیا ہوتا ہے اس کا؟ اس پر کَسْرَة بھی نہیں پڑھتے اور اس پر تنوین بھی نہیں پڑھتے۔ وجہ یہ کہ کَسْرَة اور تنوین سے كَسْرَة بھی سَقِيل ہے، تنوین بھی مولانا ایک نونِ ساکن ہے، حرکت ایک لفظ حرف بڑھ گیا، تو کلمہ کیا ہو جائے گا؟ سَقِيْل ہو جائے گا۔ بتائیے آپ مولانا! تین حرف والا کلمہ پڑھنا آسان ہے یا چار والا؟ خَفِيْف کون ہے؟ تین والا۔ جس میں حرف کم ہوں گے اس کی ادائیگی بھی کیا ہوگی؟ آسانی اور جلدی سے ہوگی۔ جتنے حروف بڑھتے جائیں گے کلمہ کیا ہوتا جائے گا؟ سَقِيْل ہوتا جائے گا۔ اور یہ حرکتوں میں سے بھی سب سے سَقِيْل حرکت کون سی ہے مولانا؟ كَسْرَة۔ جی! کیا ہے؟ كَسْرَة ہے۔ کیا ہے؟ كَسْرَة ہے۔ كَسْرَة سَقِيْل حرکت ہے۔ تو غَيْرَ مُنْصَرِف جو ہے اس میں دو سبب آتے ہیں، کیا آتے ہیں؟ دو سبب آتے ہیں۔ ان دو اسباب کی وجہ سے لفظ میں سِقْل پیدا ہو جاتا ہے۔ لفظ میں کیا پیدا ہو جاتا ہے؟ سِقْل۔ جب سِقْل پیدا ہو گیا، تو اب ہم نے حکم لگا دیا کہ اس میں پہلے ہی سِقْل پیدا ہو چکا ہے اب اس پر كَسْرَة نہ پڑھو، کیونکہ كَسْرَة سے تو اور کیا بڑھ جائے گا؟ سِقْل بڑھ جائے گا۔ تنوین نہ پڑھو بھئی! تنوین سے تو اور زیادہ کیا ہو جائے گا؟ سِقْل۔ تو دو سبب آ چکے، ان دو اسباب کی وجہ سے اس کلمے میں کیا آ چکا ہے؟ سِقْل آ چکا ہے، لہٰذا اب اس کے اندر كَسْرَة اور تنوین نہ پڑھو، اس کو غَيْرَ مُنْصَرِف پڑھو؛ جَاءَنِيْ عُمَرُ، رَأَيْتُ عُمَرَ، مَرَرْتُ بِعُمَرَ۔ اسی لیے ہم نہیں پڑھتے، سمجھ میں آیا بھئی؟ کہ عمر کے لفظ کے اندر ایک عَلَمِيَّت آ چکی مولانا، اور کیا آ چکی؟ عَدْل آ چکا، سِقْل پیدا ہو گیا، اب مزید سِقْل پیدا نہ کرو اس میں، اس پر كَسْرَة اور تنوین نہ پڑھو۔ وجہ سمجھ میں آئی؟ تو اب مولانا دیکھو تَأْنِيْثِ مَعْنَوِيّ! تَأْنِيْثِ مَعْنَوِيّ کے اندر تَأْنِيْث آ تو گئی، لیکن ایک مَعْنَوِيّ چیز ہے، لفظوں میں کوئی علامت ہے؟ نہیں۔ تو سِقْل آیا لفظ میں؟ نہیں۔ سِقْل نہیں آیا۔ کیا چیز ہے؟ ایک مَعْنَوِيّ چیز ہے یا نہیں مولانا؟ لفظوں میں تا آئی؟ اَلِفِ مَمْدُوْدَة آیا؟ اَلِفِ مَقْصُوْرَة آیا؟ ایک مَعْنَوِيّ چیز ہے، عربوں سے سنا ہے یا کچھ مؤنث ہے یا مؤنث کا نام وغیرہ ہے۔ تو لفظوں میں تو سِقْل نہیں آیا مولانا! اور غَيْرَ مُنْصَرِف پر تو كَسْرَة اور تنوین نہیں پڑھتے، کس وجہ سے؟ سِقْل۔ تو اس میں تو اب سِقْل آیا نہیں۔ جب سِقْل نہیں آیا، تو اب اس کا غَيْرَ مُنْصَرِف بننا بھی واجب نہیں۔ آپ چاہیں تو اس کو کیا پڑھ دیں؟ مُنْصَرِف پڑھ دیں۔ آپ چاہیں تو غَيْرَ مُنْصَرِف پڑھ دیں، کیونکہ سبب دو آ تو گئے۔ کون سے دو سبب؟ تَأْنِيْث اور عَلَمِيَّت۔ تَأْنِيْث اور عَلَمِيَّت آ تو گئی ہے، تو آپ چاہیں تو غَيْرَ مُنْصَرِف پڑھ دیں، لیکن سِقْل تو نہیں آیا، تو آپ چاہیں کیا پڑھ دیں؟ مُنْصَرِف پڑھ دیں۔ لیکن اگر دوسری شرط بھی پوری ہو گئی، اور وہ کیا تھی؟ تین حروف سے زائد۔ تو جب تین سے زائد ہوا، اب کیا آ گیا؟ سِقْل۔ تین والا پڑھنا سَقِيْل ہوتا ہے یا چار والا؟ چار والا۔ تو جب چار تین سے زائد ہوا، چار والا ہوا تو کیا آ گیا؟ سِقْل آ گیا۔ جب سِقْل آ گیا، اب مولانا اس کو کیا پڑھو قطعی طور پر؟ غَيْرَ مُنْصَرِف۔ عَلَمِيَّت بھی آ گئی اور تَأْنِيْثِ مَعْنَوِيّ بھی آ گئی، اور اس تَأْنِيْثِ مَعْنَوِيّ کے اندر ایک شرط تھی کیا؟ کہ کتنے سے زیادہ ہو؟ تین سے زیادہ۔ تین سے زیادہ ہو، اب وُجُوْبًا مولانا غَيْرَ مُنْصَرِف ہی آپ اس کو پڑھیں گے، مُنْصَرِف نہیں پڑھ سکتے۔ ! چار سے زیادہ نہیں ہے، کتنے والا ہے؟ تین والا۔ تو پھر تو لفظ خَفِيْف ہے بھئی۔ کم از کم سِقْل تھوڑا سا اور آ سکتا ہے، ایک صورت یہ ہے؛ درمیان والا حرف مُتَحَرِّك ہو۔ آپ بتائیے! حرکت سَقِيْل ہوتی ہے یا سُكُوْن سَقِيْل ہوتا ہے؟ حرکت۔ حَرَكَة سَقِيْل ہوتی ہے، سُكُوْن تو کیا ہوتا ہے؟ خَفِيْف ہوتا ہے۔ آپ بتائیے! ہِنْدٌ یہ سَقِيْل ہے؟ ایک میں پڑھتا ہوں ہِنْدٌ، ایک پڑھتا ہوں ہِنَدُن، کون سا سَقِيْل ہے؟ ہِنَدُن۔ کوئی بھی حرکت آپ پڑھ لیں اس پر، معلوم ہوا حرکت سے لفظ میں کیا آ جاتا ہے؟ سِقْل آتا ہے۔ تو اب مولانا تین حرف سے زائد تو نہیں، کلمہ کتنے حروف پر مشتمل ہے؟ تین پر۔ تو پھر کم از کم درمیان والا مُتَحَرِّك ہونا چاہیے، تاکہ لفظ میں کیا آ جائے؟ سِقْل آ جائے۔ اب بھی سِقْل آ گیا، جب درمیان والا مُتَحَرِّك ہوا، اب مولانا تَأْنِيْثِ مَعْنَوِيّ پورے طور پر اثر انداز ہوگی، اور لفظ کو کیا پڑھنا پڑے گا؟ غَيْرَ مُنْصَرِف صرف ہی پڑھنا پڑے گا، کیونکہ سِقْل آ چکا ہے۔ یا مولانا چلو تین حرف والا بھی نہیں، تین حرف والا ہے، لیکن درمیان والا مُتَحَرِّك بھی نہیں ہے، بلکہ کیا ہے؟ ساکن ہے۔ کیا ہے؟ ساکن ہے۔ ابھی بھی اس اب تو سِقْل ہے ہی نہیں، ہاں ایک صورت تو ہے بھی سِقْل کی کہ یہ کلمہ عربی نہ ہو، کیا ہو؟ عَجَمِی ہو۔ آپ بتائیے! عربوں کے لیے کسی بھی زبان والے کے لیے اپنی زبان کا لفظ آسان ہوتا ہے یا دوسری زبان کا لفظ؟ دوسری زبان کا لفظ۔ نہیں زبان کا لفظ۔ تو اب مولانا اگر کلمہ عَجَمِی ہوگا، چاہے تین حرف والا ہو، درمیان والا ساکن ہی کیوں نہ ہو، لیکن جب اپنی زبان کا نہیں ہے، تو کیا ہو جائے گا؟ سِقْل۔ تو کیا ہو گیا سِقْل آ گیا، اب اس کا غَيْرَ مُنْصَرِف پڑھنا واجب ہو گیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ شرطیں کیوں لگائی؟ تاکہ کسی نہ کسی طرح لفظ میں کیا آ جائے؟ سِقْل آ جائے۔ سب کو بات سمجھ میں آئی؟ تو کہتے ہیں مَعْنَوِيّ بھی اسی طرح ہے، یعنی اس کے اندر بھی عَلَمِيَّت شرط ہے، وَشَرْطُ تَحَتُّمِ تَأْثِيْرِهِ اور اس کی تَأْثِيْر کے وُجُوْب کی شرط کیا ہے؟ تَحَتُّم کا کیا معنی کیا؟ وُجُوْب، حتمی ہونا۔ اور اس کی تَأْنِيْثِ مَعْنَوِيّ کی تَأْثِيْر کی حتمی ہونے کی شرط کیا ہے؟ اَلزِّيَادَةُ عَلَى الثَّلَاثَةِ زیادہ ہونا کس پر؟ تین حروف پر، او ت حَرُّك الْأَوْسَطِ یا درمیان والے حرف کا مُتَحَرِّك ہونا، او العُجْمَةُ یا کیا ہونا؟ عَجَمِی ہونا۔ فَهِنْدٌ يَجُوزُ صَرْفُهُ پس ہِنْد جو ہے، اس کی صرف جائز ہے، (یعنی اس کو مُنْصَرِف پڑھنا جائز ہے)۔ معلوم ہوا اس کو غَيْرَ مُنْصَرِف پڑھنا بھی جائز ہے۔ بھئی جب جائز کہا، واجب تو نہیں کہا، جب مُنْصَرِف پڑھنا جائز، معلوم ہوا غَيْرَ مُنْصَرِف پڑھنا بھی جائز۔ تو دیکھو ہِنْدٌ کے اندر مولانا تَأْنِيْثِ مَعْنَوِيّ ہے، تا یا اَلِفِ مَمْدُوْدَة موجود ہے یا اَلِفِ مَقْصُوْرَة؟ نہیں، لیکن یہ نام عورت کا ہے بھئی، تو اب تَأْنِيْثِ مَعْنَوِيّ تو آ گئی، کیا آ گئی؟ اور عَلَمِيَّت بھی آ گئی مولانا، نام ہے عورت کا، تو آپ اس کو کیا پڑھ سکتے ہیں؟ مُنْصَرِف بھی پڑھ سکتے ہیں اور غَيْرَ مُنْصَرِف۔ تو تَأْنِيْثِ مَعْنَوِيّ ہے، لیکن وُجُوْبًا اثر انداز ہوگی یا جَوَازًا؟ جَوَازًا۔ جَوَازًا، وُجُوْبًا کے لیے تو تین شرطوں میں سے ایک شرط اور بھی پوری ہونی چاہیے تھی، اور وہ کیا کہ تین سے زائد حروف پر مشتمل ہو۔ تین سے زائد ہیں؟ نہیں، اچھا، پھر کم از کم درمیان والا مُتَحَرِّك ہونا چاہیے وہ ہے؟ وہ بھی نہیں۔ بھئی عَجَمِی لفظ ہونا چاہیے، وہ بھی نہیں، تو کوئی بھی شرط دوسری پوری نہیں ہوئی، تو لہٰذا اب جائز مُنْصَرِف پڑھنا بھی جائز، غَيْرَ مُنْصَرِف پڑھنا بھی جائز۔ وَزَيْنَبُ وَسَقَرُ وَمَاهُ وَجُوْرُ مُمْتَنِعٌ اور زَيْنَب، سَقَر، مَاہ اور جُوْر یہ مُمْتَنِع ہیں، یعنی ان کی صرف کیا ہے؟ یعنی ان کو غَيْرَ مُنْصَرِف پڑھیں گے۔ مُمْتَنِعٌ صَرْفُهَا ان سب کی صرف کیا ہے؟ مُمْتَنِع ہے، یعنی یہ غَيْرَ مُنْصَرِف ہیں۔ زَيْنَبُ بھئی، اس میں یہ تَأْنِيْثِ مَعْنَوِيّ ہے، اس میں اور عَلَمِيَّت آ گئی مولانا، اور دوسری شرط بھی پوری، کیا؟ تین حروف سے زائد پر مشتمل ہے، لہٰذا اب اس کو وُجُوْبًا غَيْرَ مُنْصَرِف پڑھیں گے۔ وَسَقَرُ، اس میں کون سی شرط پائی گئی؟ درمیان والا مُتَحَرِّك، یہ دوزخ کے طبقے کا نام ہے مولانا! تو سَقَر، تو یہ اس میں بھی کیا ہوگی تَأْنِيْث ہے، تَأْنِيْثِ مَعْنَوِيّ ہے اور عَلَمِيَّت بھی ہے اور تَأْنِيْثِ مَعْنَوِيّ کی شرط بھی پوری مولانا! عَلَمِيَّت اور درمیان والا حرف مُتَحَرِّك وُجُوْبًا۔ وَمَاهُ وَجُوْرُ، مَاہ اور جُوْر یہ الگ الگ دو نام ہیں شہروں کے یا دو قلعوں کے مولانا، لیکن عَجَمِی نام ہیں۔ اب ان مَاہ کے اندر بھی دیکھو تین سے زائد بھی نہیں، درمیان والا مُتَحَرِّك بھی نہیں، لیکن آخری شرط ہے، کیا؟ عَجَمِی ہے۔ جُوْر کے اندر بھی اسی طرح یہ بھی کیا ہے؟ عَجَمِی ہے، تو اس لیے ان کے اندر وہ دوسری شرط پائی گئی۔ لہٰذا ان کو مُنْصَرِف پڑھنا جائز نہیں، بلکہ ان کو کیا پڑھا جائے گا؟ غَيْرَ مُنْصَرِف، ہاں یہ مُمْتَنِع عَنِ الصَّرْف ہیں۔ فَإِنْ سُمِّيَ بِهِ یہ تو پرانی باتیں تھیں، اب صاحبِ کافیہ ایک نئی بات کریں گے، وہ کیا؟ کہ اگر بھئی! کسی مذکر کا نام وہ مؤنثِ مَعْنَوِيّ کو رکھ دیں، پھر؟ مؤنثِ مَعْنَوِيّ کس کا نام رکھ دیں؟ مذکر کا۔ بھئی ایک لفظ ہے عربوں سے ہم نے ہمیشہ مؤنث سنا ہے، لیکن ہم اس کو کس کا نام رکھ دیتے ہیں؟ مذکر کا۔ تو کیا اب تَأْنِيْثِ اثر انداز ہوگی؟ بھئی طَلْحَةُ اس کے اندر تو تا آ رہی تھی، وہ تو اثر انداز ہوتی تھی، یہ تَأْنِيْثِ مَعْنَوِيّ اب بھی اثر انداز ہوگی یا نہیں جب ہم نے اس کو مذکر کا نام رکھ دیا؟ تو صاحبِ کافیہ بتلا رہے ہیں کہ ہاں! اب بھی اثر انداز ہوگی، لیکن ایک شرط اب بھی اس کو پوری کرنا پڑے گی، وہ کیا کہ تین سے زائد ہونا چاہیے۔ کتنے حروف ہونے چاہیے اس مؤنث مَعْنَوِيّ کے؟ تین سے زائد۔ اب مثلاً قَدَمٌ کا لفظ عربی میں مؤنث ہے۔ ایک آدمی کا نام رکھ دیا قَدَمٌ۔ تو کیا اب یہ مُتَأْنِيْثِ مَعْنَوِيّ ایک عَلَمِيَّت آ گئی اس کے اندر، دوسری کیا ہے تَأْنِيْثِ مَعْنَوِيّ، تو کیا یہ مُؤَثِّر ہوگی؟ سبب بنے گی غَيْرَ مُنْصَرِف کا؟ کہتے ہیں ہم نے شرط بنا بتا دی آپ کو، کیا شرط کہ تین حروف سے زائد ہونا چاہیے۔ اب آپ خود دیکھتے جاؤ، اب بتائیے! قَدَمٌ تین حروف سے زائد ہے؟ نہیں، لہٰذا اب یہ تَأْنِيْث مُعْتَبَرْ ہوگی؟ نہیں، تو یہ غَيْرَ مُنْصَرِف بنے گا؟ نہیں، کیونکہ ایک عَلَمِيَّت سبب ہے، تَأْنِيْث ہے تو، لیکن مُعْتَبَرْ نہیں، لہٰذا اس کی تأثیر نہیں، اثر انداز نہیں ہوگی۔ سمجھ میں آیا؟ دوسرا کیا آیا؟ جیسے عَقْرَب، مولانا! عَقْرَب بّچھو کو کہتے ہیں، اور عَقْرَب کا لفظ عربی میں مؤنثِ سِمَاعِی ہے۔ اب ایک آدمی کا نام ہی کیا رکھ دیا مولانا! عَقْرَب رکھ دیا۔ اب بتائیے! یہ تَأْنِيْثِ مَعْنَوِيّ اثر انداز ہوگی یا اثر انداز نہیں ہوگی؟ ہوگی۔ جی! ہوگی۔ کیوں؟ کہ چار حروف سے زائد ہاں، تین حروف سے زائد ہے، چار حرف والا ہے، تو یہ اب اثر انداز ہوگی۔ اور کیوں اثر انداز ہوگی؟ چار تین سے زائد کہ کیوں لگائی؟ کہتے ہیں بھئی یہ جو چوتھا حرف ہے نا، یہ تا کے قائم مقام ہو جائے گا۔ کیا ہو جائے گا؟ تا کے قائم مقام قائم مقام ہوا۔ سمجھ میں آیا؟ تو یوں سمجھو گویا تا آ ہی گئی، جب چوتھا حرف آیا، اب وہ وُجُوْبًا اثر انداز ہوگا اور کلمہ کیا بن جائے گا؟ غَيْرَ مُنْصَرِف۔ سب کو سمجھ میں آئی بات؟ کہتے ہیں فَإِنْ سُمِّيَ بِهِ مُذَكَّرٌ پس اگر یہ مؤنثِ مَعْنَوِيّ کے ساتھ نام رکھا جائے کسی مذکر کا، فَشَرْطُهُ الزِّيَادَةُ عَلَى الثَّلَاثَةِ تو اس کی شرط کیا ہے؟ زائد ہونا کتنے پر؟ تین پر، فَقَدَمٌ مُنْصَرِفٌ پس قَدَم کیا ہے؟ مُنْصَرِف ہے، وَعَقْرَبٌ مُمْتَنِعٌ اور عَقْرَب کیا ہے؟ مُمْتَنِع ہے (یعنی مُمْتَنِع عَنِ الصَّرْف ہے، یعنی وہ کیا ہے؟ اس کی صرف مُمْتَنِع ہے یعنی وہ غَيْرَ مُنْصَرِف ہے)، ہٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيْقَةِ الْكَلَامِ۔