والقضاء بحرمة أو حل ينفذ ظاهرا وباطنا ولو بشهادة زور إذا ادعاه بسبب معين حتى لو ادعت جارية ملکا مطلقاً وأقام على ذلك بينة زور وقضى القاضي به لا يحل له وطئها بالاجماع لأن الملك لا بد له من سبب وليس البعض أولى من البعض فلا يمكن إثبات سبب معين يثبت به الحل. جي یہاں آپ کو یہ مسئلہ بتلا رہے ہیں بھئی ایک چیز حرام ہے قاضی اس کے حلال ہونے کا فیصلہ کرتا ہے یا ایک چیز حرام ہے ایک چیز حرام ہے قاضی اس کے حلال ہونے کا فیصلہ کرتا ہے یا حلال ہے اس کے حرام ہونے کا فیصلہ کرتا ہے تو امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک بھئی اس کا یہ فیصلہ بھئی نافذ ہوگا ظاہرا بھی اور باطنا بھی بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی ظاہر کے اعتبار سے بھی نافذ ہوگا اور باطن کے اعتبار سے بھی نافذ ہوگا ظاہر سے مراد یعنی دنیاوی اعتبار سے اور باطن سے مراد ہے یعنی فیما بینہ وبین اللہ تعالی بھئی اس شخص کے اور اللہ کے بیچ میں بھی وہ حلال ہو جائے گی اگر حرام تھی تو حلال ہو جائے گی جب قاضی نے حلال قرار دے دی اور اگر حرام قرار دی تو حرام ہو جائے گی بھئی۔ ولو بشا جی سمجھ میں آیا بھئی جبکہ وہ اس کا دعویٰ کرے کسی سبب معین کی وجہ سے یعنی سبب ملک کو بھی بیان کرے صورت یہ مثلاً بھئی ایک شخص نے ایک عورت پر نکاح کا دعویٰ کر دیا بھئی اور وہ عورت انکار کرتی ہے انکار کرتی ہے اور یہ محل قضا ہے اور وہ شخص کیا کرتا ہے قاضی کے سامنے جھوٹے گواہ پیش کر دیتا ہے اور قاضی کو علم نہیں بھئی۔ اب جب قاضی کے سامنے انہوں نے گواہی دی تو قاضی کیا کرے گا؟ جی ہاں نکاح کا فیصلہ کر دے گا بھئی بھئی سمجھ میں آیا بھئی تو اب یہ جو قاضی نے اس عورت کو کیا کیا اس عورت کو اس مرد کے حوالے کر دیا تو دنیا اور تو دنیاوی اعتبار سے یہ حکم نافذ ہے بھئی سمجھ میں آیا۔ تو یعنی تو قاضی اس کو حکم دے گا کہ تو خاوند کو اپنے اوپر قدرت دے بھئی ظاہراً اور باطناً بھی امام صاحب فرماتے ہیں نافذ ہو جائے گا بھئی یعنی اس خاوند کا عورت سے وتی کرنا جائز ہو جائے گا اور اس عورت کا اس شخص کو اپنے اوپر قدرت دینا جائز ہو جائے گا بھئی کیا ہو جائے گا؟ صورت سمجھ میں آئی بھئی تو یہاں اب ایک شخص نے دعویٰ کیا ایک عورت کے اوپر نکاح کا وہ انکار کرتی ہے یہ جھوٹے گواہ لے آیا بھئی اور گواہوں نے گواہی دے دی قاضی کے سامنے کہ اس عورت کا اس شخص سے نکاح ہو چکا ہے تو قاضی فیصلہ کر دے گا اور ظاہراً بھی چنانچہ اسے ظاہراً اسے حکم دے گا کہ اس خاوند کو اپنے اوپر قدرت دے دو عورت کو خاوند کے حوالے کر دے گا اور باطناً بھی امام صاحب فرماتے ہیں یہ قضا نافذ ہے یعنی اس مرد کا اس عورت سے جماع کرنا جائز ہو جائے گا بھئی حلال ہو جائے گا اور اس عورت کا اس شخص کو اپنے اوپر قدرت دینا حلال ہو جائے گا۔ جب کہ صاحبین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ظاہراً تو قاضی کا فیصلہ نافذ ہو جائے گا بھئی قاضی اسے حکم دے گا کہ کیا کرو اس مرد کو اپنے اوپر قدرت دو لیکن باطناً فیما بینہ وبین اللہ تعالیٰ نافذ نہیں ہوگا یعنی اس آدمی کے لیے جائز نہیں ہوگا اس عورت سے جماع کرنا اور عورت کے لیے جائز نہیں ہوگا کہ اس شخص کو اپنے اوپر قدرت دے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی۔ تو کہتے ہیں والقضاء بحرمة أو حل ينفذ ظاهرا وباطنا قضا فیصلہ کرنا حرمت کے ساتھ یہ یعنی کسی چیز حلال کی حرام ہونے کے اور حل یا کسی حرام کے حلال ہونے کا فیصلہ کرنا ينفذ یہ نافذ ہو جائے گا ظاهرا وباطنا ظاہر کے اعتبار سے بھی یعنی دنیاوی لحاظ سے بھی و باطنا اور باطنی اعتبار سے بھی یعنی فیما بینہ وبین اللہ تعالیٰ۔ ولو بشهادة زور اگرچہ کس سے ہو بھئی شہادت زور جھوٹی گواہی سے ہی ہو إذا ادعاه بسبب معين جب کہ دعویٰ کیا ہو اس نے اس چیز کا کسی سبب معین کے ساتھ کیا کیا ہو؟ ہاں اس سبب معین کے ساتھ کیا ہو مگر سبب بیان نہیں کرتا پھر نہیں بھئی مثلاً ایک باندی ہے اس پر دعویٰ کرتا ہے کہ یہ میری ہے بھئی کیوں ہے آپ کی سبب نہیں بیان کرتا کہ مجھے کسی نے ہبہ کی ہے میں نے خریدی ہے یا مجھے وراثت میں ملی ہے کوئی سبب نہیں بیان کرتا بلکہ ملک مطلق بیان کرتا ہے کہ کیا کہتا ہے یہ باندی میری ہے بس بھئی سبب نہیں تو پھر نہیں صحیح بھئی۔ پھر دیکھیے تفصیل بتلا رہے ہیں بھئی حتیٰ سبب یہ سبب معین ہونا ضروری یعنی سبب ملک بیان کرنا ضروری اگر ملک مطلق کہے تو پھر جائز نہیں ہوگا دیکھیے حتى لو ادعى جارية ملكا مطلقا حتیٰ کہ اگر کسی نے دعویٰ کر دیا کسی باندی پر کسی باندی کا ملک مطلق کے ساتھ واقام على ذلك بينة زور بھئی اور اس پر اس نے جھوٹی گواہی بھی قائم کر دی وقضى القاضي به اور قاضی نے فیصلہ کر دیا اس کا لا يحل له وطوها بالاجماع جائز نہیں ہے اس کے لیے اس سے وتی کرنا بالاجماع بھئی۔ یرحمک اللہ بالاجماع کیا ہے اس کے لیے اس سے وتی کرنا کیونکہ یہاں اس نے سبب معین بیان نہیں کیا بلکہ کس قسم کا دعویٰ کیا ہے ملک مطلق کا لان الملك جی کہتے ہیں اس لیے بھئی وجہ بتا رہے ہیں لان الملك لا بد له من سبب اس لیے کہ ملک کے لیے سبب کا ہونا ضروری کیوں مالک ہیں کیوں مالک ہیں تو سبب کا ہونا ضروری اور سبب بہت سے ہو سکتے ہیں بھئی وراثت میں بھی ہو سکتا ہے ملی ہو ہو سکتا ہے کسی نے ہبہ کی ہو بھئی ہو سکتا ہے بھئی اس کو اس نے خریدی ہو وغیرہ کئی سبب ہو سکتے ہیں ولیس البعض أولى من البعض اور بعض سببوں میں سے بعض دوسروں پر اولیٰ نہیں یہ نہیں کہ کہیں یہ سبب اولیٰ ہے یہ والا سبب اولیٰ نہیں تو ترجیح ہم کسی سبب کو نہیں دے سکتے۔ تو اب اس نے سبب تو بیان کیا نہیں اور سببوں کے درمیان ترجیح بھی ممکن نہیں ہے کسی ایک کو ترجیح دینا فلا يمكن إثبات سبب معين يثبت به الحل پس ممکن ہی نہیں ہے کہ ثابت کیا جائے کسی سبب ایسے سبب معین کو جس سے کیا ثابت ہو جائے حلت ثابت ہو جائے تو یہاں ممکن نہیں۔ فإن أقامت بينة زور اگر اس اچھا اچھا فإن أقامت بينة زور اگر قائم کر دی بھئی بین جھوٹی گواہی اس عورت نے مثلاً کیا کیا ہے خاوند پر کسی شخص پر نکاح کا دعویٰ کیا مگر اس عورت نے جھوٹی گواہی قائم کر دی کہ انہ تزوجها کہ اس شخص نے اس سے شادی کی ہے نکاح کیا ہے وحکم به اور قاضی نے اس کا فیصلہ بھی کر دی نکاح کا حل لها تمكينه تو حلال ہو جائے گا اس عورت کے لیے اس شخص کو اپنے اوپر قدرت دینا تمکین قدرت دینا۔ هذا عند أبي حنيفة رحمه الله یہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ہے بھئی سمجھ میں آیا بھئی جس طرف سے بھی تھا مرد نے کیا دعویٰ نکاح کا یا عورت نے کیا ہے بھئی ایک ہی بات ہے۔ تو اس عورت کے لیے حلال ہو جائے گا اس کو قدرت دینا یہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ہے وعندهما ينفذ ظاهرا کہ یہ قضا نافذ ہوگی صرف ظاہراً ای يسلم القزو زوجة إلى الزوج سپرد کرے گا قاضی زوجہ کو زوج کے وامرها بالتمكين اور حکم دے گا اس عورت کو تمکین کا کہ خاوند کو اپنے اوپر قدرت دے لا باطناً بھئی تو ظاہراً نافذ ہوگا باطناً نافذ نہیں لا يسبث الحل فيما بينه وبین اللہ تعالى حلت ثابت نہیں ہوگی اس کے اور اللہ کے بیچ بھئی۔ ومذهبهما ظاهر بھئی اور صاحبین کا مذہب ظاہر ہے صاحبین کا مذہب کیا ہے؟ بھئی صاحبین کی بات ظاہر ہے ٹھیک ہے بھئی دنیاوی اعتبار سے قاضی نے فیصلہ کر دیا وہ اس کے سپرد کرے گا بھئی لیکن اخروی اعتبار سے فیصلہ کر رہا ہے فیما بينه و بين اللہ تعالی وہ حلال چیز کیا بن گئی؟ حرام چیز کیا بن گئی؟ حلال بن گئی بھئی یہ کیسے ہو سکتا ہے جھوٹی گواہی سے ایک حلال حرام چیز کیسے حلال ہو سکتی ہے تو امام صاحب کے مذہب پر اشکال ہوتا ہے۔ تو کہتے ہیں وأما مذهب أبي حنيفة رحمه الله تعالى فمشکل جدا باقی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا مذہب بڑا مشکل ہے فإن الحرام المحض اس لیے کہ محض حرام جو ہے كيف يكون یعنی وہ جھوٹی گواہی جو ہے جھوٹی گواہی محض حرام ہے تو فإن الحرام المحض اس لیے کہ محض حرام یعنی جھوٹی گواہی كيف يكون سببا للحل فيما بينه وبين الله تعالى یہ کیسے سبب بنے گی بھئی حلال ہونے کا اس کے اور اللہ کے کیسے وہ حرام چیز کیسے حلال ہو جائے گی؟ وجوابه جی علامہ صدر الشریعہ جواب دے رہے ہیں بھئی کہتے ہیں جواب یہ ہے کہ انا لم نجعل الحرام المحض کہ ہم نہیں بناتے کس کو حرام محض کو اس کے بالکل نیچے لکھا ہوا ہے سببا للحل سببا للحل حلال ہونے کا سبب نہیں بناتے بھئی۔ جي تو کہتے ہیں وجوابه انا لم نجعل الحرام المحض سببا للحل کہ ہم نہیں بناتے حرام محض کو حلال ہونے کا سبب حرام محض کو ہم حلال ہونے کا سبب تو الحرام المحض یہ نجعل کے لیے مفعول اول ہے اور نیچے سبب آ رہا ہے وہ مفعول درمیان میں یہ حرام میں محض کیا چیز ہے وہ علامہ صدر الشریعہ بتلا رہے ہیں حرام میں محض کیا ہے وهو شهادة الكاذبة اور یہ وہ جھوٹی گواہی ہے من حيث انه اخبار كاذب اس حیثیت سے کہ یہ کیا ہے خبر کاذب ہے اخبار بمہ خبر کے آتا ہے مولانا اخبار پڑھیں تو وہ خبر کی جمع بن جاتی ہے وہ یہاں نہیں درست بھئی۔ تو اس ہے تو یہ شہادت کاذبہ اس حیثیت سے کہ یہ جھوٹی خبر ہے یہ کیا ہے حرام محض ہے تو اس حرام محض کو ہم سبب نہیں بناتے حلال ہونے کے لیے بل حکم القاضی صار كإنشاء عقد جديد بلکہ قاضی کا فیصلہ عقد انشاء عقد جدید کی طرح ہو گیا یعنی کیا ہو رہا ہے یہاں پر عقد جدید ہوا بھئی۔ اچھا وهو ليس حراما تو یہ قاضی کا جو فیصلہ جو کس کی طرح ہے انشاء عقد جدید کی طرح ہے اب یہ تو یہ حرام نہیں ہے بلکہ بواجب بلکہ یہ فیصلہ کرنا تو اب قاضی پر واجب ہے بھئی کیوں لان القاضي غير عالم بكذب الشهود اس لیے کہ قاضی تو جاننے والا نہیں ہے گواہوں کے جھوٹا ہونے کو وہ جاننے والا نہیں ہے تو جب اس کے سامنے گواہ آ گئے تو اب یہ فیصلہ کرنا اس پر واجب ہو گیا یہ فیصلہ جو کس کی طرح ہے عقد جدید کی طرح ہے۔ تو انشاء عقد جدید ہوا مولانا سمجھ میں آیا تو امام صاحب کا یہ مذہب ہے بھئی۔ صاحب بحر الرائق نے لکھا ہے بھئی کہ امام صاحب کا قول قوی ہے بھئی۔ امام صاحب کا امام صاحب کی دلیل بھی ہے بھئی امام محمد رحمہ اللہ نے مبسوط میں ذکر کی کہ اسی طرح ایک عورت پر ایک شخص نے نکاح کا دعویٰ کیا حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس بھئی۔ اور جھوٹی گواہ بھی پیش کر دی وہ عورت انکار کر رہی ہے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فیصلہ فرما دیا بھئی کہ یہ تمہاری زوجہ ہے بھئی عورت کو خاوند کے سپرد کر دیا۔ عورت نے کہا حضرت میرا اس سے نکاح نہیں ہوا اور اگر آپ کا یہی فیصلہ ہے تو پھر ہم دونوں کا نکاح کر دیجیے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ میں تجدید نکاح نہیں کرتا تیرا گواہ تیرا نکاح دونوں گواہوں نے کروا دیا سمجھ میں آیا تو دیکھو معلوم ہوا یہ قاضی کا فیصلہ کس کی طرح ہے انشاء عقد جدید کی طرح ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کیا فرما دیتے اسی وقت دونوں کا نکاح جبکہ وہ عورت بھی چاہ رہی ہے اور وہ شخص بھی راضی ہے تو حضرت علی یقیناً نکاح کروا دیتے لیکن آپ نے نکاح دوبارہ نہیں کروایا معلوم ہوا وہ فیصلہ ہی کس کی طرح تھا انشاء عقد جدید کی طرح تھا بھئی۔ والقضاء في المجتهد فيه بخلاف رأيه ناسيا مذهبا أو عامدا لا ينفذ عندهما وبه يفتى. بھئی گزشتہ مسائل چل رہے تھے کہ اختلاف فی مسئلے کے اندر ایک قاضی فیصلہ کرتا ہے مجتهد مجتهد في مسئلے جس میں اجتہاد کی گنجائش ہے۔ تو ایک قاضی کیا کرتا ہے مجتهد فی مسئلے میں قاضی مجتہد کی بات ہو رہی ہے مولانا یاد رکھنا قاضی مجتہد نے مجتهد فی مسئلے کے اندر اپنے مذہب کے خلاف فیصلہ دے دیا۔ اس کا اپنا مذہب تھا کہ مثلاً یہ چیز جائز ہے اور اس نے کونسا دوسرے مذہب کے فیصلہ دے دیا یعنی امام شافعی مثلاً حنفی قاضی تھا کس کے مذہب پر فیصلہ کر دیا امام شافعی رحمہ اللہ یا امام مالک رحمہ اللہ یا امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے مذہب پر فیصلہ کر دیا تو اپنی رائے کے خلاف فیصلہ کیا کس نے بھئی قاضی مجتہد نے اب یہاں دو احتمال ہیں یا تو اس نے جان بوجھ کر یہ فیصلہ کیا ہوگا یا بھولے سے کیا ہوگا۔ یا تو جان بوجھ کر یہ فیصلہ کیا ہے اسے اپنا مذہب بھی پتہ ہے یاد ہے پھر اس نے یہ فیصلہ کیا بھئی اپنے مذہب کے خلاف یا بھولے سے کیا بھئی اسے اپنا مذہب ہی اس وقت یاد نہیں تھا اس نے بھولے سے فیصلہ کر دیا۔ تو چاہے صاحبین فرماتے ہیں چاہے بھولے سے کرے چاہے جان بوجھ کر جب مجتہد فی مسئلے میں اپنے مذہب کے خلاف فیصلہ کر دے تو اس صورت میں اس کی یہ قضا نافذ نہیں ہوگی بھئی اور اسی پر فتویٰ ہے بھئی اور اسی پر صورت سمجھ میں آگئی بھئی۔ والقضاء في مجتهد فيه اور فیصلہ کرنا مجتہد فی مسئلے کے اندر بخلاف رأيه اپنی رائے کے خلاف وہ فیصلہ کرتا ہے یعنی کسی اور امام کے مذہب پر فیصلہ کرتا ہے ناسيا مذهبه اس حال میں کہ وہ بھولنے والا ہے کس چیز کو بھولنے والا ہے مذہب اپنے مذہب کو بھولنے والا ہے او عامدا یا کیا ہے فیصلہ کر رہا ہے اس صورت میں کہ وہ جان بوجھ کر انما کے ساتھ بھئی ارادے کے ساتھ لا ينفذ عندهما نافذ نہیں ہوگا صاحبین کے نزدیک وبه يفتى اور اسی پر فتویٰ دیا جائے گا۔ وأما عند أبي حنيفة رحمه الله جبکہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ان كان ناسيا مذهبه ينفذ امام صاحب فرماتے ہیں اگر وہ بھول بھولنے والا ہے اپنے مذہب کو تو پھر فیصلہ کیا ہو جائے گا نافذ ہو جائے گا وإن كان عامدا ففيه روايتان اور اگر جان بوجھ کر دے رہا ہے فیصلہ یاد ہے اپنا مذہب ففيه روايتان تو اس میں کتنی روایتیں ہیں؟ دو روایتیں ہیں ایک روایت سے نفاق کا پتہ چلتا ہے اور ایک روایت سے عدم نفاذ کا وعندهما لا ينفذ في الوجهين اور صاحبین کے نزدیک دونوں صورتوں میں نافذ نہیں ہوگا لان القضاء بما هو خطأ عنده اس لیے کہ یہ قضا ہے اس چیز کے ساتھ جو اس کے نزدیک غلطی ہے بھئی وہ کیا کر رہا ہے بھئی کس قسم کا فیصلہ کر رہا ہے جو اس کے اپنے نزدیک کیا ہے غلطی ہے تو اپنے نزدیک ہی غلطی ہے تو درست نہیں بھئی۔ بھول کر دے رہا ہے جو تو مذہب بھی اس کا دوسرا ہے بھئی والفتویٰ على قولهما رحمۃ اللہ علیہما اور فتویٰ صاحبین رحمہ اللہ کے قول پر ہے۔ یہ قاضی مجتہد کی بات ہو رہی تھی۔ समझ में आया؟ جبکہ قاضی مقلد نے تو کسی صورت میں بھی بھئی نافذ نہیں ہوگا مذہب کے خلاف بھئی۔ ولا يقضي على الغائب إلا بحضرة نائبه حقيقة كالوکیل أو شرعا كوصي القاضي أو حكمام بان أو حكما بأن كان ما يدعي على الغائب سببا لما يدعي على الحاضر. ولا يقضي على الغائب قاضی فیصلہ نہیں کرے گا کس پر بھئی غائب پر فیصلہ نہیں کرے گا آپ پڑھ چکے ہیں بار بار بھئی الا حضرۃ نائب ہی، مگر اس کے نائب کی موجودگی میں۔ جی، حقیقتاً یا تو وہ نائب کس قسم کا ہوگا؟ نائب حقیقی ہوگا، یعنی اس نے خود اپنا نائب بنایا ہوگا کل وکیلی جیسے وکیل کسی کو بنا کر بھیج دیتا ہے بھئی۔ اور شرعاً یا وہ نائب کس قسم کا ہوگا؟ شرعاً ہوگا اس نے تو نہیں بنایا تھا لیکن شریعت نے اسے نائب قرار دیا ہے کہ وصی القاضی جیسے قاضی کا وصی بھئی، قاضی کسی کو کیا بنا دیتا ہے؟ وصی بنا دیتا ہے کسی کو بھئی، سرپرست، نگران بھئی، قاضی مقرر کر دیتا ہے۔ تو یہ بھی اس کا نائب ہے۔ اور حکمًا یا کیا ہوگا؟ نائب کس قسم کا ہوگا؟ حکمًا نائب ہوگا: بان کان ما یدعی علی الغائب سبباً لما یدعی علی الحاضر۔ یعنی طور کہ وہ چیز جس کا دعویٰ غائب پر کر رہا ہے، وہ سبب ہے۔ اس چیز کا جس کا دعویٰ کس پر کر رہا ہے؟ حاضر پر۔ پڑھ چکے ہیں یا نہیں آپ کے ذہن میں ہے مسئلہ کہ نکل گیا بھئی کہ قضا علی الغائب جائز نہیں۔ الا یہ کہ وہ چیز جس کا دعویٰ غائب پر ہے۔ وہ چیز جس کا دعویٰ غائب پر ہے۔ وہ چیز جس کا دعویٰ غائب پر ہے، وہ سبب لازمی ہو۔ اس چیز کا جس کا دعویٰ کس پر ہے؟ حاضر پر ہے۔ جس کا دعویٰ حاضر پر ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ دیکھو صورت پہ مسئلہ سمجھ لو بھئی! مثلاً دیکھو بھئی۔ آپ کے قبضے میں ایک مکان ہے۔ آپ کے قبضے میں۔ میں نے اس مکان پر دعویٰ کر دیا کہ یہ مکان میرا ہے۔ اور قاضی کے پاس بھئی لے گیا، میں نے کہا قاضی صاحب! اس کے پاس جو مکان ہے قبضے میں، وہ میرا ہے۔ اور میں نے وہ مکان زید سے خریدا تھا، کس سے خریدا تھا؟ تو دیکھو، میں آپ پر کس چیز کا دعویٰ کر رہا ہوں؟ مکان کا دعویٰ کر رہا ہوں، ملکیت کا دعویٰ کر رہا ہوں۔ اور زید پر بھی میرا ایک دعویٰ آگیا بھئی، کیا دعویٰ؟ کہ میں نے اس سے مکان خریدا ہے۔ تو وہ جو دعویٰ غیر پر ہے، وہ سبب لازمی ہے۔ کس چیز کا؟ اس دعوے کا جو میں آپ پر کر رہا ہوں۔ آپ پر کیا دعویٰ کر رہا ہوں؟ ملکیت مکان کا اور زید پر کیا دعویٰ کر رہا ہوں؟ بیع مکان کا دعویٰ کر رہا ہوں کہ اس نے مکان مجھے بیچا ہے۔ تو بیع مکان سبب لازمی ہے، جب بھی کوئی چیز، مطلب ہاں! اس نے بیچی، میں نے خریدی۔ جب بھی کوئی چیز خریدی جائے، انسان اس کا کیا بن جاتا ہے؟ مالک بن جاتا ہے۔ تو شرا سبب لازمی ہے کس چیز کا؟ ملک کا۔ جب بھی شرا پائی جائے گی، کیا پائی جائے گی؟ کبھی ہو سکتا ہے شرا تو ہو لیکن ملک نہ پائی جائے بھئی۔ جب بھی شرا پائی جائے گی، کیا پائی جائے گی؟ ملک۔ تو یہ سبب، ملک، یہ سبب لازمی ہے۔ کس کے لیے؟ شرا کے لیے۔ تو میں غیر سے پر کس چیز کا دعویٰ کر رہا ہوں؟ اس سے مکان کے خریدنے کا اور وہ سبب لازمی ہے۔ اس چیز کا جس کا دعویٰ میں کس پر کر رہا ہوں؟ حاضر پر، یعنی ملکیت کا۔ صورت سمجھ میں آوے بھئی؟ تو اب بھئی، یہ جو حاضر، تو اس وقت آپ ہیں، زید تو نہیں، لیکن آپ اس کے نائب بن گئے بھئی۔ کیا بن گئے؟ نائب بن گئے۔ کیوں نائب بنے؟ کیونکہ وہ چیز جس کا دعویٰ آپ پر کیا جا رہا ہے، وہ مسبب لازمی ہے، کس کا بھئی؟ اس چیز کا جس کا دعویٰ کس پر تھا؟ زید پر تھا۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ اور حکمًا یا نائب حکمًا ہوگا، بان کان ما یدعی علی الغائب، تو صورت کیا ہونا کہ وہ چیز جس کا دعویٰ کیا جا رہا ہے غائب پر، سبباً، کیا ہے؟ سبب ہو، یعنی علت ہو بھئی، لما سبب، یہ علت کے معنی میں ہے یہاں۔ لما یدعی علی الحاضر، اس چیز کا جس کا دعویٰ کس پر کر رہا ہے؟ حاضر پر۔ کما اذا دارا علی رجلٍ، جیسے دعویٰ کیا کسی گھر کا ایک شخص پر انہ اشتراھا من فلان الغائبی۔ ایک شخص پر گھر کا دعویٰ کیا۔ مدعی کے، اور وہ مدعی کہتا ہے کہ انہ اشتراھا من فلان الغائبی کہ میں نے اس مکان کو خریدا تھا، کس سے؟ کہ اس نے اس مکان، مدعی نے خریدا تھا اس مکان کو، فلاں غائب، یعنی زید سے خریدا تھا۔ وقام البینۃ علی ذی الید اور بینہ قائم کر دی، کس پر بھئی؟ قبضے والے پر، جو جو جو بایع تھا، وہ تو اس وقت غائب ہے بھئی تو بینہ کس پر قائم کی؟ ذی الید، جس کے قبضے میں ہے۔ فان القاضی یقضی بھذہ البینۃ علی الحاضر والغائب، پس قاضی فیصلہ کر دے گا اس بینہ کے ذریعے حاضر پر بھی اور غائب پر۔ یہاں، یعنی دونوں پر یہ فیصلہ شمار ہوگا، صرف حاضر پر نہیں شمار۔ समझ में आया؟ दोनों पर फैसला نافذ ہونے کا کیا معنی؟ کہتے ہیں حتی لو حجر الغائب وانکر، اگر وہ غائب حاضر ہوا اور انکار کیا۔ اس نے کہا قاضی صاحب! میں نے کوئی زمین اس کو نہیں بیچی، کہتے ہیں لا یلتفت الی انکارہ، توجہ نہیں کی جائے گی اس کے انکار کی طرف، کیونکہ ایک مرتبہ اس کے خلاف کیا ہو چکا؟ فیصلہ ہو چکا۔ فیصلے کے بعد اب انکار کی کوئی گنجائش نہیں بھئی۔ تو اس پر نافذ ہوا تھا یہ فیصلہ، اگر اس پر نافذ نہ ہوتا، تو پھر اس کے انکار کو ہم دیکھتے بھئی۔ فان کان شرطاً لا یصح، یہ تو وہ صورت ہے بھئی، ادھر توجہ کرو، کہ غائب پر جس چیز کا دعویٰ ہے، وہ سبب ہے، وہ کیا تھا؟ سبب۔ اور اگر غائب پر جس چیز کا دعویٰ ہے، وہ شرط ہے اس چیز کے لیے جس کا دعویٰ کس پر ہے؟ حاضر پر ہے۔ تو پھر، پھر کہتے ہیں، پھر اس پر فیصلہ صحیح نہیں بھئی، اس غائب کے خلاف فیصلہ نہیں ہو سکتا۔ فان کان شرطاً، صورت مسئلہ بھی تفصیل سے آ جائے گی۔ فان کان شرطاً لا یصح بھئی، پس اگر وہ کیا جو جس کا دعویٰ غائب پر ہے، وہ کیا تھا؟ شرط لا یصح، تو پھر یہ صحیح نہیں ہے بھئی فیصلہ۔ ای ان کان ما یدعی علی الغائب شرطاً لما یدعی علی الحاضر، اگر وہ چیز کا دعویٰ غائب پر کیا جا رہا ہے، وہ شرط ہے اس چیز کے لیے جس کا دعویٰ کس پر کیا جا رہا ہے؟ حاضر پر۔ کما اذا عبد علی مولاہ، جیسے بھئی ایک غلام نے دعویٰ کیا اپنے اقا پر انہ علق عتقہ بتلثی زید زوجتہ، کہ اقا نے معلق کیا تھا اس کی آزادی کو کس کے ساتھ؟ زید کے طلاق دینے اپنی بیوی کو۔ زید اپنی بیوی کو طلاق، اقا نے میرے کیا کہا تھا کہ زید نے اگر اپنی بیوی کو طلاق دے دی، تو تم آزاد ہو۔ آزاد ہو۔ समझ में आया؟ وقام بینۃ علی التثلیق بغیرت زید، اور اس نے غلام نے کیا کر دی بھئی؟ بینہ قائم کر دی بھئی، علی التثلیقی، طلاق دینے پر بغیرت زید، کس کی غیر موجودگی میں؟ زید کی غیر موجودگی میں۔ اختلافہ، اختلاف کیا اس کے اندر فقہاء کرام نے۔ والصحیح انہ لا یقبل، اور صحیح قول یہ ہے کہ یہ بینہ قبول نہیں کی جائے گی۔ یہ بینہ قبول نہیں کی جائے گی۔ صورت مسئلہ یہ ہے۔ ایک غلام نے دعویٰ کیا، قاضی کے پاس آیا۔ اقا کو لے آیا کہ میرا یہ جو اقا ہے، اس نے میری آزادی کو معلق کیا تھا کس، کس چیز کے ساتھ؟ زید کا اپنی بیوی کو طلاق دینے کے ساتھ بھئی۔ اور بینہ پیش کر دیتا ہے کہ قاضی صاحب! یہ دو گواہ حاضر ہیں۔ یہ گواہی دیں گے۔ کہ زید نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے۔ زید نے کیا کیا ہے؟ اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے بھئی۔ کہتے ہیں نہیں بھئی، اس صورت میں یہ بینہ قبول نہیں کی جائے گی۔ یہ بینہ قبول نہیں کی جائے گی۔ پچھلے مسئلے میں آپ نے پڑھا، وہ دو گواہ لے کر آیا تھا، انہوں نے کہا کہ یہ مکان اس نے زید سے خریدا ہے، مدعی نے، اگرچہ اس وقت زید حاضر نہیں تھا، زید غائب تھا، لیکن چونکہ وہ خریدنا سبب تھا اس دعوے کا جو کس پر کیا جا رہا تھا؟ حاضر پر۔ اس لیے وہ وہاں پر بھئی بینہ سن لی گئی، دونوں پر فیصلہ کر دیا گیا۔ لیکن یہاں پر بھئی، وہ جو زید کا طلاق دینا ہے اپنی بیوی کو، کیا وہ سبب ہے یا شرط ہے عقد کے لیے بھئی؟ شرط ہے۔ اقا نے شرط کی لگائی تھی، اس کو معلق کیا تھا اس کے ساتھ بھئی۔ تو لہٰذا یہ شرط ہے اور اس صورت میں اب اس بینہ کو سننا، اگر سبب ہوتا، تو ہم سن لیتے، لیکن یہ سبب نہیں ہے۔ تو وہ چیز، جس کا دعویٰ کس پر کیا جا رہا ہے؟ غائب پر، وہ شرط ہے، اس چیز کے لیے جس کا دعویٰ کس پر کیا جا رہا ہے؟ حاضر پر۔ لہٰذا اب بینہ نہیں سنی جائے گی۔ تو کہتے ہیں اس میں فقہاء کا اختلاف ہے، لیکن صحیح قول یہ ہے کہ بینہ قبول نہیں کی جائے گی۔ اب وجہ ذکر کر رہے ہیں علامہ صدر الشریعہ کی کہ کیا وجہ ہے؟ سبب میں آپ بینہ قبول کرتے ہیں غائب پر اور شرط کے اندر قبول نہیں کرتے۔ کہتے ہیں وانما یقبل فی السبب دون الشرط، قبول کی جائے گی بینہ سبب کے اندر، نہ کہ شرط کے اندر۔ کیوں؟ لأن السبب اصل بنسبۃ الی المسبب، اس لیے کہ سبب اصل ہے، کس کی طرف نسبت کرتے ہوئے؟ مسبب کی طرف، یعنی جب بھی وہ سبب پایا جاتا ہے، جب بھی وہ علت پائی جاتی ہے، وہ معلول اور وہ مسبب ضرور پایا جاتا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ صورت، جب بھی نکلتا ہے، دن کا ہونا ضروری ہے۔ شرا جب بھی پائی جائے گی، ملکیت کا پایا جانا ضروری ہے۔ تو جب شرا پائی گئی، تو ملکیت کا حکم لگا دیں گے۔ تو سبب اصل ہے، مسبب کی طرف نسبت کرتے ہوئے، فیكون الحاضر نائباً عن صاحب السبب تو اس وجہ سے یہاں پر حاضر جو ہے، وہ نائب بن جائے گا کس کی طرف سے؟ صاحب سبب کی طرف سے اور وہ کون ہے؟ وهو الغائب، اور وہ غائب شخص ہے، اس کی طرف سے کل وکیلی، جیسے کیا ہوتا ہے؟ وکیل ہوتا ہے، وکیل بھئی۔ ولا كذلك اذا كان شرطاً بھئی، اور اس طرح نہیں ہے جس، جب کہ، جب وہ کیا ہو بھئی؟ جبکہ وہ شرط ہو، جس کا دعویٰ غائب پر ہے بھئی۔ وأنما لا یقضی علی الغائب، اچھا بھئی۔ تو شرط میں اس طرح نہیں ہے بھئی، وہ اصل نہیں ہے۔ شرط جب بھی پائی جائے، مشروط کا پایا جانا، یہ ضروری تھا۔ زید جب بھی اپنی، چاہے معلق کیا ہو یا نہ معلق کیا ہو، زید جیسے ہی بیوی کو طلاق دیتا، کیا غلام آزاد ہو جاتا؟ نہیں۔ اگر تعلیق ہوتی، تو آزاد ہوتا۔ تعلیق نہ ہوتی، تو آزاد نہ ہوتا بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ وہاں تو تھا، شرا جب بھی پائی جائے گی، ملکیت ضرور۔ لیکن کیا زید جب بھی اپنی بیوی کو طلاق دے گا، وہ غلام آزاد ہوگا؟ نہیں۔ اگر اقا نے معلق کیا تھا، پھر تو آزاد ہوگا۔ اگر معلق نہیں کیا، تو پھر زید 10 بیویوں کو طلاق دیتا رہے بار بار، کیا اس کو آزادی ہوگی بھئی؟ نہیں۔ بھئی، اس کو آزادی نہیں۔ تو شرط جب بھی پائی جائے، مشروط کا پایا جانا، یہ ضروری ہے۔ تو شرط میں اس طرح نہیں ہے، سبب کی طرح نہیں ہے بھئی۔ अच्छा، وانما لا یقضی علی الغائب فی صورۃ الشرط، کہتے ہیں لایقضٰی علی الغائب، اور فیصلہ نہیں کیا جائے گا غائب پر فی صورۃ الشرط، شرط کی صورت میں۔ اذا کان فیہ ابطال حق الغائب، جبکہ اس کے اندر کیا ہو؟ غائب کے حق کا ابطال ہو۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ دیکھو، اگر قاضی فیصلہ کرتا ہے یہاں پر، بینہ کو سنتا ہے، تو غیر کا حق مارا جاتا ہے، کون بھئی؟ زید۔ اس کی بیوی پر طلاق کا فیصلہ ا جائے گا یا نہیں آ جائے گا؟ بیوی سے وہ کیا ہو جائے گا؟ جدا۔ تو اس میں اس کا ضرر ہے۔ تو اس صورت میں یہ سنا نہیں جائے گا۔ أما اذا لم یکن، جبکہ اگر ایسا نہ ہو، اس میں کہ غائب کا حق نہ مارا جاتا ہو۔ کما اذا علق، جیسے کہ معلق کیا ہو، طلاق امراتہ، کس چیز کو؟ اپنی بیوی کو طلاق، اپنی بیوی کی طلاق کو معلق کیا ہو، بدخول زید فی الداری، زید کے اپنے گھر میں داخل ہونے سے۔ خاوند نے بیوی سے کہا، اگر زید اپنے گھر میں داخل ہوا، تو تمہیں طلاق ہے، طلاق ہے۔ طلاق ہے۔ اب بیوی نے بینہ قائم کر دی، اس بات پر بھئی، کہ زید کیا ہوا ہے، اپنے گھر میں اور اس نے معلق کیا تھا، لہٰذا مجھے طلاق ہے بھئی، ہونی چاہیے۔ تو کہتے ہیں اب بینہ سنی جائے گی، اس لیے کہ یہ اگرچہ بینہ علی الغائب ہے، کس پر ہے؟ زید پر ہے، کس پر؟ زید، لیکن کیا اس کے اندر زید کا کوئی نقصان ہے؟ زید کا کوئی نقصان نہیں۔ وہ اپنے گھر داخل ہوا، اس کا تو کوئی نقصان نہیں۔ کما اذا علق طلاق امراته بدخول زید فی الدار، تقبل، تو یہ بینہ قبول کی جائے گی۔ ویقرض مال الیتیم، اور قاضی قرض دے سکتا ہے یتیم کے مال کو، اور لکھتا ہے ذکر الحق، اور ذکر حق کو لکھ لے بھئی، حق لکھ لیا کرے، جی یہ جائز ہے قاضی اقراض، بھئی، قاضی مال یتیموں کے مال کی حفاظت کرے گا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ یتیموں کے مال کی حفاظت کرے گا۔ تو کیا آپ یتیم کے مال کو کسی کو قرض دے سکتا ہے یا نہیں دے سکتا ہے؟ کہتے ہیں ہاں بھئی، قاضی مصروف ہے بھئی، ہر وقت وہ مال وغیرہ کی نگہداشت تو نہیں کر سکتا، تو اس کی حفاظت کے لیے مال کو کیا کر دے بھئی؟ بطور قرض دے دے کسی کو، قرض دے دیں۔ سمجھ میں آیا؟ قرض بھی دے سکتا ہے، کسی کو، اہ، مضاربہ وغیرہ کے طور پر بھی دے سکتا ہے، جس سے مال کے اندر بڑھ، مال بڑھتا رہے گا بھئی۔ قرض کے طور پر دے گا تو مال زیہ سے محفوظ ہو گیا، اب اس کے ضائع ہونے کا کوئی خطرہ نہیں۔ نہیں بھئی، وہ شخص پر لازم ہو گیا، اس کو واپس کرنا پڑے گا۔ اب، سمجھ، جی، تو یہ حفاظت بھی ہو گئی اور نیز ضائع ہونے کا خطرہ بھی نہیں، حفاظت بھی کہ قاضی اس کو واپس وصول بھی کر سکتا ہے۔ طاقت ہے یا نہیں قاضی کے پاس بھئی، اس کو کیا کر لے؟ واپس وصول کر لے۔ لہٰذا وہ دے سکتا ہے کہ مال بھی محفوظ ہوا اور واپس وصول کرنے پر بھی اب وہ قادر ہے۔ جی، لیکن اگر باپ ہو، اس کے لیے صغیر کے مال کو قرض دینا جائز نہیں۔ کیونکہ اگر باپ صغیر کے مال کو قرض دے گا، اس کو کسی اور طرف سے ملا ہے بھئی، تو، ٹھیک ہے، مال تو محفوظ ہوا بھئی۔ لیکن کیا باپ وصول کرنے پر قادر ہے؟ وصول کرنے پر قادر، اسی طرح وصی ہے بھئی، اس کے وہ بھی وصول کرنے پر قادر، جبکہ قاضی کے پاس تو طاقت ہے، حکومت کی طرف سے بھئی۔ تو کہتے ہیں یہ معنی، یجوز للقاضی، جائز ہے قاضی کے لیے اقراض مال الیتیم، یتیم کے مال کو قرض دینا، کیونکہ یہ کیا ہے؟ قرض دینا، محافظت ہے بھئی، والقاضی قادر علی اخذہ بھئی، اور قاضی قادر ہے اس مال کے لینے، لینے پر، وصول کرنے پر، متٰی شاہ جب وہ چاہے گا۔ ولا یجوز للوصی، لیکن وصی کے لیے جائز نہیں ہے، لعدم قدرتہ علی الاخذ، وصی جانتے بھی ہو یا نہیں جانتے بھئی؟ جی جو سرپرست بنایا ہو، نگران بنایا ہو بھئی، کسی کا، بچے وغیرہ کا، ایک۔ ولا یجوز للوصی لعدم قدرتہ علی الاخذ، جائز نہیں ہے وصی کے لیے، اس لیے کہ اس کو قدرت نہیں ہے لینے پر۔ وکذلك للاب فی الاصح، اور اسی طرح باپ کے لیے بھی جائز نہیں ہے، اصح قول کے مطابق۔ کیونکہ وہ بھی قادر نہیں ہے واپس لینے پر۔ فلو فعل، اگر انہوں نے ایسے، کسی نے بھی ایسا کیا، یضامنو، وہ کیا ہوگا؟ ضامن ہوگا اس کا بھئی۔ واذا اقاضی کتب فی ذلک وثیقۃ، اور جب قرض دے دے قاضی تو لکھ لے اس بارے میں ایک وثیقہ بھئی۔ ایک کیا لکھ لے؟ وثیقہ، وہ دستاویز وغیرہ لکھ لے پختگی کے لیے جو، تاکہ اس کے، جی۔ حفاظت کے لیے، حفاظت کے لیے بھئی۔ چلیے، مولانا! بس یہ، ھذا ہو المراد، واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام بھئی۔