اچھا مولانا آگے سبق چونکہ قافیہ میں آ رہا ہے، اعراب بتلائیں گے تو اعراب آپ نے ہدایت النحو میں 16 کس میں یاد کی ہوں گی، یاد ہیں سب کو؟ جی؟ اسی طرح ہدایت النحو میں بھی آیا تھا، اس کا ذکر بھئی۔ تو ہدایت النحو بھئی اس میں صفحہ نمبر میری کتاب میں تو ہے صفحہ نمبر 13 بھئی۔ وہ نکال لیں بھئی، یہاں سے ایک دفعہ پڑھ لیتے ہیں۔ ہم یہاں آسان ہے ذرا تفصیل کے ساتھ۔ یہ آپ نے مجھے پھر کل سب نے سنانی بھی ہے بھئی۔ تو صاحب النحو نے اس کو 16 قسمیں بنائی بھئی اس کی۔ اور یہ صاحب ہدایت النحو نے ان 16 کی 16 نہیں بنائی بلکہ کتنی بنائی ہیں؟ نو۔ لیکن انہی نو میں وہ 16 کی 16 آ جائیں گی ساری بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ کیونکہ بازوں کا اعراب ایک جیسا تھا تو وہ ایک قسم بنا لی تو اس طرح وہ 16 ہو جائیں گی کل۔ دیکھیے بھئی۔ فصل فی اثناء اعراب الاسم تو یہ فصل ہے مولانا! یہ اعراب الاسم، اسم کے اعراب کے قسموں میں بھئی۔ اثناء سے مراد اقسام ہے۔ وہی تسعت و اثناء اور یہ کتنی اقسام ہیں بھئی؟ بھئی اعراب کے اعتبار سے اسم نو قسم پر ہے جو معرب ہے۔ الاول پہلا یہ ان يكون الرفع بالضمة بھئی میں نے آپ کو حرکتوں کے نام بتلائے تھے۔ کیا بتلایا تھا؟ رفع ضم فتح کسر یہ کس کے ساتھ خاص ہے؟ اسم کے ساتھ۔ رفع نصب جر یہ کس کے ساتھ خاص ہے؟ فعل کے ساتھ۔ اور ضمہ فتحہ کسرہ یہ کس کے ساتھ؟ یہ دونوں کے ساتھ استعمال ہوگا۔ دیکھیے بھئی۔ پہلی قسم یہ ان يكون الرفع بالضمة کہ رفع کس کے ساتھ آئے گا؟ ضمے کے ساتھ والنصب بالفتحتی اور نصب والجر بالکسرتی اور جر کس کے ساتھ کسرہ کے ساتھ۔ اور و مختص بالمفرد المنصرف الصحيحي اور یہ اعراب خاص ہے مفرد منصرف صحیح کے ساتھ۔ دیکھو مفرد بھی ہو، منصرف بھی ہو، صحیح بھی ہو۔ مفرد ہو کیا کر مولانا کس کو نکال دیا؟ جی؟ تثنیہ اور جمع کو مولانا نکال دیا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تثنیہ اور جمع کو نکال دیا بھئی۔ جی مولانا! پہلی قسم کا رفع کس کے ساتھ؟ ضمہ۔ بھئی یاد کرو بھئی! میں یہاں دہرواؤں گا سب سے بار بار، سمجھ میں آیا؟ میری عادت ہے بس کہ کہ کوشش ہوتی ہے زیادہ سے زیادہ فائدہ ہو جائے، وہیں پر طالب علم کو سبق جتنا یاد ہو سکے بھئی۔ تو دہراؤ گے تو یاد ہوگا، زبان سے دہراؤ کوئی لڑکا مجھے خاموش بیٹھا نظر نہ آئے بھئی۔ اچھا جی تو ابھی دہراتے ہیں ساتھ ساتھ۔ تو بھئی انہوں نے کہا کہ یہ پہلی قسم کا اعراب جو ہے خاص ہے مفرد، منصرف، صحیح کے ساتھ بھئی۔ مفرد، منصرف۔ مفرد کہا ہے انہوں نے مولانا! تو مفرد کے ذریعے نکال دیا تثنیہ اور جمع کو۔ یعنی یہ تثنیہ اور جمع کا اعراب نہیں ہے۔ منصرف کہا کہ وہ مفرد کیا ہو؟ منصرف ہو، غیر منصرف نہ ہو، اس کو نکال دیا صحیح کے ذریعے کس کو نکال دیا؟ ناقص کو نکال دیا۔ صحیح کے ذریعے کس کو نکالا؟ ناقص کو۔ بھئی یاد رکھو! ایک ہے صرفی صحیح، صرف میں ابھی آپ نے پڑھا ہے، ہفت اقسام پڑھی ہیں۔ صحیح کس کو کہتے ہیں مولانا؟ کہ جس میں حرف علت بھی نہ ہو فاعلم کے مقابلے میں اور ہمزہ بھی نہ ہو اور دو حرف ایک جنس کے بھی نہ ہو۔ وہ کیا کہلاتا ہے؟ صحیح۔ صحیح لیکن مولانا نحوی صحیح یہ نہیں ہے مولانا! نحوی چونکہ بحث کرے گا اعراب کے ساتھ، اور اعراب کس پر آتا ہے؟ آخری کلمے پر، آخری حرف پر آیا کرتا ہے۔ تو اس ان کے نزدیک صرف دو ہی قسمیں ہیں یہ صحیح ہوگا یا ناقص ہوگا، ادھر تو سات قسمیں تھیں صرف میں لیکن ادھر کتنی ہیں؟ دو ہیں۔ اور آخر کو دیکھو! آخر میں حرف علت ہے تو کیا ہے؟ ناقص، حرف علت نہیں ہے تو صحیح۔ اور تو یہ خاص ہے مولانا! مفرد، منصرف، صحیح کے ساتھ۔ بھئی صحیح سے کیا مراد ہے؟ اب یہ خود صاحب کتاب بھی آپ کو بتلانے لگے ہیں و ہو عند النحاة ما لا يكون في آخره حرف علت اور یہ نحویوں کے نزدیک وہ اسم ہے جس کے آخر میں حرف علت نہ ہو۔ آخر میں نہ ہو کیونکہ اعراب نے بھی کہاں ظاہر ہونا ہے؟ آخر تو وہاں حرف علت نہیں ہونا چاہیے ورنہ صحیح نہیں۔ کزیڈ جیسے زید ہے مولانا تو یہ اعراب خاص ہے مولانا کس کے ساتھ؟ پہلی قسم کیا ہوئی؟ مفرد منصرف صحیح۔ اور بالجاری مجرا الصحیحی اور ثانی ہے جاری مجرائے صحیح مولانا! جاری مجرائے صحیح کس کو کہتے ہیں؟ خود تعریف کر رہے ہیں مولانا! وہو ما يكون في آخره واو أو ياؤ ما قبلهما ساكن وہ اسم ہے جس کے آخر میں واو یا یا آئے مولانا لیکن ما قبلہما ساكن ہو اس واو یا کا ما قبل کیا ہو؟ ساکن ہو۔ تو بھئی ناقص واو یا آخر میں آجائے تو اس پہ اعراب پڑھنا مشکل ہے، سمجھ میں آیا؟ ناقص کہلائے گا۔ لیکن اگر اس حرف علت سے پہلے ساکن آجائے تو سکون کی وجہ سے اب اعراب کا پڑھنا آسان ہو گیا مولانا! کیا ہوا؟ اعراب کا پڑھنا آسان ہو گیا تو لہذا اس پر اس قسم کے اسم پر رفع بھی آتا ہے، نصب بھی آتا ہے اور جر بھی آتا ہے اور اس کو پھر کیا کہتے ہیں؟ جاری مجرائے صحیح کہتے ہیں۔ تو یہ پھر دو قسم پر ہے مولانا یا تو آخر میں واو آئے گا یا کیا آئے گا؟ یا اور ان کا ما قبل ساکن تو دو مثالیں ذکر کر دیں دلون و ظبیون۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ وبالجمع المكسر المنصرف اور یہ اعراب خاص ہے کس کے ساتھ؟ جمع مکسر المنصرف۔ جمع ہو مولانا، تو نے اور تثنیہ اور مفرد کو نکال دی، مکسر ہو مولانا! کیا معنی؟ جمع سالم کو نکال دو۔ مستن رجل کی جمع کیا آئی؟ رجال یہ مراد ہے کہ مکسر ٹوٹی ہوئی، ٹوٹی ہوئی یعنی جس میں مفرد کا وزن ٹوٹ جاتا ہے مولانا! مفرد کا وزن کیا تھا؟ رجل۔ را مفتوح، جیم مضموم۔ اور ادھر کیا ہے؟ رجال۔ را کیا آگئی؟ مکسور اور جیم اور لام کے درمیان کیا آگیا؟ الف اور جیم کی حرکت بھی بدل گئی۔ تو وزن وہی برقرار رہا یا ٹوٹ گیا مولانا؟ ٹوٹ گیا۔ اس کو جمع مکسر کہتے ہیں۔ اور جمع سالم کے اندر مفرد کا وزن برقرار رہتا ہے مولانا! مسلم۔ جمع کیا آئی؟ مسلمون۔ اور مسلمون کے شروع میں پورا مسلم موجود ہے اور واو نون ساتھ زائد۔ اور منصرف کے لیے کس کو نکالا بھئی؟ غير منصرف کو نکال دیا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ بس۔ اچھا کجال تقول تو کہتا ہے جاءنی زید یہ کس کی مثال ہے؟ مفرد منصرف صحیح۔ و دلون و ظبیون یہ کیا ہے؟ جمع مکسر۔ و رجال۔ جمع مکسر۔ اچھا جی۔ تو تین قسم پر ہوا مولانا! تین قسموں کے ساتھ یہ اعراب خاص ہوا مولانا! پہلی قسم کیا اعراب ہے مولانا! حالت رفع کس کے ساتھ؟ نصب، صفا اور جر اور یہ کتنی قسموں میں آیا ہے؟ تین قسمیں۔ اول مفرد منصرف صحیح ثانی جاری مجرائے صحیح، ثالث جمع مکسر منصر۔ الثانی أن يكون الرفع بالضمة والنصب والجر بالكسرة۔ ثانی یہ کہ رفع ضمے کے ساتھ ہو اور نصب اور جر دونوں کس کے ساتھ ہوں؟ کسرہ کے ساتھ۔ ویختص بجمع المؤنث السالم اور یہ خاص ہے جمع مؤنث سالم کے ساتھ۔ تقول ھن مسلمات ورأیت مسلمات۔ تو دیکھو حالانکہ مفعول ہے منسوب نصب، نہیں کس کی صورت میں آ رہا ہے نصب مولانا؟ کسرے کی صورت میں۔ ومررت بملمات تو اس کاف فتحہ کس کے تابع ہے؟ کسرہ کے تابع۔ تو قسم ثانی کا اعراب کیا ہوا؟ رفع کس کے ساتھ؟ ضمہ کے ساتھ اور نصب اور جر کسرہ کے ساتھ اور یہ کس کے ساتھ خاص ہے؟ جمع مؤنث سالم۔ بھئی کتنی قسمیں ہو گئی 16 میں سے؟ چار۔ چار گزر گئیں بھئی اور اعراب کی کتنی قسمیں گزری ہیں؟ دو۔ تیسری قسم أن يكون الرفع بالضمة والنصب والجر بالفتحة رفع ضمہ کے ساتھ ہو اور نصب اور جر پہلے کس کے ساتھ تھا؟ کسرہ کے ساتھ اس قسم میں کیا ہے؟ فتحہ۔ نصب اور جر دونوں کس کے ساتھ؟ کسرہ کے ساتھ۔ ويختص بغير المنصرف اور یہ خاص ہے کس کے ساتھ؟ غیر منصرف کے ساتھ۔ کعمر جیسے عمر۔ تقول تو کہتا ہے جاءنی عمر ورأیت عمر ومررت بـعمر۔ تو دیکھو اس پہ تنوین بھی نہیں آتی اور کسرہ بھی نہیں آتا۔ الرابعہ چوتھی قسم یہ کہ ان يكون الرفع بالواو والنصب بالالف والجر بالياء۔ اور کہ رفع کس کے ساتھ ہو؟ واو کے ساتھ۔ نصب کس کے ساتھ؟ الف کے ساتھ اور جر کس کے ساتھ؟ یا کے ساتھ۔ ویختص بالاسماء بالاسماء الستۃ مکبرۃ موحدۃ مضافۃ الی غیر یاء المتکلم۔ اور یہ خاص ہے کس کے ساتھ؟ اسماء ستہ مکبرہ، موحدہ، مضافہ الی غیر یاء المتکلم۔ بھئی یہ ساری قیدیں آپ نے بھی ذکر کرنی ہیں۔ اسماء ستہ۔ اسماء ستہ چھ ہے۔ مکبرہ ہے یعنی مصغر نہیں۔ موحدہ، مفرد مفرد ہے ان کے مراد ہوں گے۔ سمجھ میں آیا؟ تثنیہ اور جمع ہونے کی حالت مراد نہیں۔ مضافة۔ اور یہ کیا ہوں مولانا؟ مضاف ہوں۔ بغیر اضافت کے نہ ہوں۔ اور مضاف بھی کس کی طرف ہو؟ الی غیر یاء المتکلم۔ یاء المتکلم کی طرف نہ ہو۔ کسی اور کی طرف مضاف ہوں۔ تو کتنی شرطیں ہوئی؟ مکبرة، موحدة، مضافتہ۔ تین ہوئیں مولانا! کس طرح مضافتہ الی غير ياء المتکلم۔ جی چوتھی قسم کا رفع کس کے ساتھ آئے گا مولانا؟ ادھر دیکھو! ادھر دیکھو! چوتھی قسم کا رفع کس کے ساتھ آئے گا؟ واو کے ساتھ۔ نصب کس کے ساتھ؟ الف کے ساتھ۔ جر کس کے ساتھ؟ یا کے ساتھ۔ अच्छा یہ کس کے ساتھ خاص ہے؟ اسماء ستہ مکبرہ، موحدہ، مضافہ الی غیر یاء المتکلم۔ ہاں! پہلی شرط اسماء ستہ۔ پہلی شرط کیا ہے؟ مکبرہ۔ مکبرہ ہوں، مصغر نہ ہو۔ جی۔ دوسری شرط: موحدہ۔ موحدہ ہوں۔ کیا معنی؟ تثنیہ ان کی تثنیہ اور جمع کا یہ اعراب نہیں۔ اچھا مضافتہ۔ کیا معنی؟ مضاف ہوں بغیر اضافت کے نہ ہوں۔ کس کی طرف؟ یاء المتکلم کے علاوہ کی طرف معلوم ہوا یاء المتکلم کی طرف مضاف نہ ہو۔ ورنہ ان کا اعراب یہ نہیں رہے۔ وہییا اور وہ یہ ہیں مولانا! اخوک و ابوک و هنوک و حموکی و فوك و ذو مال۔ سمجھ میں آیا؟ یہ چھ ہیں مولانا۔ اخوك۔ اخوک۔ اخ کسے کہتے ہیں؟ بھئی کو۔ اب کسے کہتے ہیں؟ باپ کو۔ ہن بھئی۔ ہن کہتے ہیں ایسی چیز جس کا ذکر قبی ہو، اس کو کیا کہتے ہیں؟ ہن۔ ہن کہتے ہیں اس کو۔ و حم۔ حم کہتے ہیں خاوند کی طرف سے جو عورت کے رشتہ دار ہوں۔ جو خاوند کی طرف سے رشتے بن جاتے ہیں عورت کے لیے وہ کیا کہلاتے ہیں؟ قریبی۔ اسی لیے حمونکی کہا بھئی کیا کہا؟ مؤنس لے کر آئے ضمیر اس کے ساتھ بھئی۔ अच्छा۔ و فوك۔ فم سے ہے، فم منہ۔ منہ کو کہتے ہیں۔ و ذو مال مولانا۔ تقول جاءنی اخوك ورأیت اخاک۔ الحمدللہ! یہدیکم اللہ ويصلح بالکم۔ अच्छा! و رأيت أخاك ومررت بأخيك۔ و كذا البواقي۔ ایک کی تو مثال ذکر کر دی چھ میں سے اور باقی بھی اسی طرح ہیں۔ الخامس۔ پانچویں قسم یہ ہے مولانا ان يكون الرفع بالالف والنصب والجر بالياء المفتوح ما قبلھا کہ رفع کس کے ساتھ آئے گا؟ الف کے ساتھ۔ بھئی تثنیہ والا اعراب ذہن میں لے آؤ۔ رفع کس کے ساتھ؟ الف کے ساتھ۔ نصب اور جر یا کے ساتھ، ایسی یا جس کا ما قبل کیا ہو؟ مفتوح ہو۔ مفتوح ہو۔ و مختص بالمصن۔ اور یہ اعراب خاص ہے بالمصنی تثنیہ کے ساتھ و کلا اور لیکن ویسے ہی نہیں کلا مضافا الی ضمیر جب کلا کس کی طرف مضاف ہو؟ ضمیر کی طرف کلام، كليهما۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ كليهما كليهما کہیں گے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ کليهما اور كليهما کہیں گے مولانا سمجھ میں آیا؟ اگر یہ اسم ظاہر کی طرف مضاف ہو جائے کہ اس کا اعراب تقدیری بن جائے گا مولانا! اس لیے انہوں نے قید لگائی کہ یہ مضاف ہو کس کی طرف؟ اس میں ظاہر کی طرف ہو تو پھر اس کا اعراب کیا بن جائے گا؟ جاءنی كل الرجلين۔ جاءنی كل الرجلين۔ کلا کا حالت رفع میں کس کے ساتھ تھا؟ الف کے ساتھ۔ اب میں کہہ رہا ہوں کل الرجلين الف پڑھ رہا ہوں یا الف گر چکا ہے؟ گر چکا ہے۔ گر چکا ہے تو اعراب لفظی ہوا یا تقدیری ہوا؟ تقدیری ہوا۔ ہاں! تو جب ضمیر کی طرف مضاف ہوگا تو پھر یہ الف اور یا نہیں گریں گے ورنہ کیا ہو جائیں گے؟ گر جائیں گے۔ अच्छा و اثنان و اثنتان، اثنان اور اثنتان کا بھی یہ اعراب ہے تثنیہ اور کلا جب کہ مضاف ہو کس کی طرف؟ ضمیر کی طرف۔ اس کا بھی اعراب ہے اور اثنان اور اثنتان کا بھی اعراب ہے۔ بھئی اشکال تو نہیں آیا کہیں آپ کے ذہن میں کہ اثنان اثنتان بھی تو تثنیہ ہے اس کو علیحدہ کیوں ذکر کیا؟ جی؟ آیا اشکال کہ نہیں آیا؟ بھئی یہ تثنیہ نہیں۔ تثنیہ اس کو کہتے ہیں جس کے آخر میں الف نون لگائیں تو وہ تثنیہ بن جائے۔ الف نون ہٹائیں تو مفرد بن جائے۔ اور اثنانی میں اس طرح ہے؟ نہیں اس میں سے الف نون ہٹاؤ مفرد بن جاتا ہے کوئی؟ نہیں۔ نہیں؟ تو معلوم ہوا یہ تثنیہ نہیں۔ تثنیہ تو اس کو کہتے ہیں جس کے آخر رجلن الف نون لگاؤ کیا بن گیا؟ الف نون ہٹاؤ کیا بن گیا؟ مفرد بن گیا۔ تو تثنیہ میں الف نون آئے گا اور پھر ہٹائیں گے تو مفرد بن جائے گا اور اثنتان اثنانی میں ایسا نہیں۔ اس میں الف نون ہٹاؤ یہاں مفرد پر وہ ان کو ہم نے نہیں داخل کیا تھا اور پھر ان کو ہٹاؤ تو مفرد نہیں بنتا تو معلوم ہوا یہ تثنیہ نہیں سے تعریف تثنیہ کی نہیں ساری کار۔ تقول آپ کہیں گے جاءنی الرجلانی دیکھو الف کے ساتھ آیا۔ کلاهما دونوں و اثنانی و اثنتان۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ و رأيت الرجليني حالت نصبی میں کليهما واثنين واثنتين۔ سمجھ میں آیا؟ بھئی! یہاں حمزہ ابھی نہ گرانا۔ اب نہیں گرانی آپ نے۔ اسنانی کے سمجھ میں آیا؟ اس لیے کہ یہ لفظ اسنانی یہاں مراد ہے۔ کیا مراد ہے؟ وہ جو اسنان اسنتان عبارتوں میں آتا ہے اس کا نام ہی ہم نے کیا رکھ دیا؟ اسنان۔ اب یہ نام بن چکا ہے۔ اس لیے اب اس کا حمزہ گرے گا નહીં ભઈ વસલી ન રહા અબ યે કતઈ બન ગયા નામ બન ગયા ઉસકા۔ و مررت برجلینی یہ حالت جری ہے کليهما واثنين واثنتين۔ جی اچھا بھئی پہلی قسم کا اعراب کیا تھا؟ رفع کس کے ساتھ؟ نصب اور جر کتنی قسموں میں تھا؟ تین قسموں اول ثانی، ثالث۔ अच्छा بھئی! دوسری قسم کا اعراب رفع کس کے ساتھ؟ نصب اور جر اور یہ کس کے ساتھ خاص ہے؟ جمع مؤنث سالم تیسری قسم کا رفع کس کے ساتھ؟ نصب اور جر یہ کس کے ساتھ آئے گا؟ अच्छा چوتھی قسم کا رفع کس کے ساتھ؟ نصب کس کے ساتھ؟ جر کس کے ساتھ؟ اچھا یہ کس کے ساتھ خاص ہے؟ اسماء ستہ کے ساتھ تین شرطوں کے ساتھ۔ پہلی شرط کیا ہے؟ مکبرہ۔ ثانی کیا ہے؟ مضافہ۔ ثالث کیا ہے؟ مضاف الی غير ياء المتكلم یاء المتکلم کے علاوہ کی طرف۔ اچھا بھئی! پانچویں قسم کا رفع کس کے ساتھ آئے گا؟ الف کے ساتھ۔ نصب اور جر؟ یا ما قبل مفتوح کے ساتھ۔ اور یہ کتنی قسموں کے ساتھ خاص؟ تین۔ اول؟ تثنیہ۔ ثانی؟ کلا جبکہ وہ مضاف ہو کس کی طرف؟ ضمیر کی طرف۔ اور تیسرا؟ اثنانی اور اثنتانی۔ السادس چھٹی قسم یہ ہے مولانا ان يكون الرفع بالواو المضموم ما قبلها ایسے کس کا رفع ایسے واو کے ساتھ ہو جس کا ما قبل کیا ہو؟ مضموم ہو۔ والنصب والجر بالياء المكسور ما قبلها اور نصب اور جر ایسی یا کے ساتھ ہو جس کا ما قبل کیا ہو؟ مکسور ہو۔ ويختص بجمع المذكر السالم اور یہ خاص ہے کس کے ساتھ جمع مذکر سالم کے ساتھ؟ جیسے مسلمون۔ اور کس کے ساتھ خاص ہے؟ اولو کے ساتھ۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اولو۔ و عشرونا اور کس کے ساتھ خاص ہے؟ عشرونا۔ مع اخواتہا ساتھ اس کے جو اخوات ہیں مولانا؟ ثلاثونا، اربعونا، خمسونا وغیرہ مراد ہیں مولانا۔ تو ان تین کے ساتھ خاص ہے بھئی۔ تقول آپ کیا کہیں گے جاءنی مسلمونا و عشرونا و اولو مال۔ مال والے بھئی! یہ زو کی جمع ہے اولو غیر لفظی بھئی۔ و رأيت مسلمينا وعشرين و اولی مال۔ مال یہ واو پڑھیں گے نہیں جب بیچ میں آ رہا ہے اولی مال۔ अच्छा جی یہ حالت نصبی ہی يا ما قبل مکسور ومررت مسلمينا وعشرين و اولی مال تو حالت جری میں بھی یا ما قبل مکسور حالت نصبی میں بھی يا ما قبل مکسور۔ अच्छा बीच میں یہ بات کی کہ نون تثنیہ ہمیشہ مکسور ہوتا ہے اور نون جمع ہمیشہ کیا ہوتا ہے؟ مفتوح ہوتا ہے۔ مفتوح ہوتا ہے اور اضافت کے وقت دونوں گر جاتے ہیں۔ اچھا ساتویں قسم کہ ان يكون الرفع بتقدير الضمة رفع کس کے ساتھ ہو؟ ضمے کے ساتھ والنصب بتقدير الفتحة اور نصب ہو تقدیر فتحہ کے ساتھ والجر بتقدير الكسرة اور جر ہو تقدیر کسرہ کے ساتھ۔ رفع ہو تقدیر ضمہ کے ساتھ، نصب ہو تقدیر فتحہ کے ساتھ اور جر ہو تقدیر کسرہ کے ساتھ۔ ويختص بالمقصوري اور یہ خاص ہے کس کے ساتھ اس میں مقصور کے ساتھ۔ مقصور بھئی اس میں مقصور کسے کہتے ہیں؟ وھو ما في آخره الف مقصورۃ وہ ہے جس کے آخر میں کیا آئے؟ الف مقصورہ آئے۔ تعصن جیسے کہ عصا۔ تعصن جیسے کہ عصا ہے یہاں الف تقدیراً موجود ہے بھئی میں نے بتلایا نہیں تھا بحث کی تھی مانن کے اندر بھئی۔ یاد ہے بحث؟ جی۔ تو الف کبھی لفظوں میں آئے گا کبھی تقدیراً آئے گا۔ تو یہ خاص ہے اسم مقصور کے ساتھ۔ اسی طرح یہ اعراب خاص ہے بالمضاف الی ياء المتكلم۔ اس اسم کے ساتھ جو مضاف ہو کس کی طرف؟ ياء المتكلم کی طرف۔ غیر جمع المذكر السالم اور جمع مذکر سالم سے نہ ہو۔ سے غیر ہو، جمع مذکر سالم نہ ہو۔ یعنی یوں کہو جمع مذکر سالم کے علاوہ کوئی اور اسم مضاف ہو کس کی طرف؟ یاء المتکلم کی طرف۔ تو مولانا حال یہ ساتویں قسم کا رفع کس کے ساتھ؟ تین، تم کے ساتھ تقدیر ضمہ اور نصب کس کے ساتھ؟ تقدیر فتحہ اور جر کس کے ساتھ؟ تقدیر کسرہ تینوں حالتوں میں اعراب تقدیری آیا اور یہ کتنی قسموں میں آیا؟ دو اول مقصور اس میں مقصور کے ساتھ۔ اور دوسرا؟ وہ اسم جو مضاف ہو کس کی طرف؟ یاء المتکلم کی طرف۔ جمع مذکر سالم کے علاوہ۔ کا غلامی جیسے کہ غلامی۔ آپ کہیں گے جاءنی عاصن و غلامي دیکھو اس کا اعراب بھی کیا آیا؟ تقدیری۔ اس میں الف کون سا موجود ہے؟ لفظاً ہے یا تقدیراً ہے؟ تقدیراً۔ تقدیراً۔ و رأيت عسنا وغلامي ومررت بعسن وغلامي تینوں میں ایک ہی جیسے رہتے ہیں بھئی۔ آٹھویں قسم ان يكون الرفع بتقدير الضمة۔ رفع کس کے ساتھ آئے؟ تقدیر ضمہ کے ساتھ۔ والجر بتقدير الكسرة اور جر کس کے ساتھ؟ تقدیر کسرہ کے ساتھ۔ والنصب بالفتحة لفظا اور نصب کس کے ساتھ آئے گا؟ فتحہ لفظی کے ساتھ آئے گا۔ ويختص بالمنقوص اور یہ خاص ہے کس کے ساتھ؟ منقوص کے ساتھ۔ بھئی جمع بھی تقدیر کا جر بھی تقدیر مولانا۔ جمع بھی تقدیر کا جر بھی تقدیر مولانا۔ رفع بھی تقدیری اور جر بھی تقدیری۔ البتہ نصب کیا آیا؟ لفظی۔ تو یہ اس میں منقوص یہ ناقص سے ہے ناقص منقوص۔ اور ناقص کیا تھا جس کے آخر میں یا یا واؤ آئے تو یہاں وہ ہے جس کے آخر میں یا آئے اس میں منقوص اور ما قبل اس کے کیا ہو؟ مقصور ہو۔ مقصور ہو۔ جیسے قاضی۔ آخر میں کیا آئی؟ یا۔ اور اس سے ما قبل کیا ہے؟ مقصور ہو۔ تو خود بتلا رہے ہیں وہو ما في آخره یا وہ ہے جس کے آخری ایسی یا ہو ما قبلھا مکسور کہ جس کا ما قبل کیا ہو؟ مکسور ہو۔ مقصور ہو۔ کالقاضی۔ آخر میں کیا آئی؟ یا۔ اور اس سے ما قبل کیا ہے؟ قاضی۔ تو خود بتا رہے ہیں وہو ما في آخره يا وہ ہے جس کے آخری ایسی یا ہو ما قبلھا مکسور ان کہ جس کا ما قبل کیا ہو؟ مقصور ہو۔ مقصور ہو۔ کل القاضی۔ تکول جاءنی القاضی و رأيت القاضية ومررت بالقاضی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو دو حالتوں میں تقدیری حالت؟ نویں قسم أن يكون الرفع بتقدير الواو رفع کس کے ساتھ آئے؟ و تقدیر ہو والنصب والجر بالياء لفظا اور نصب اور جر کس کے ساتھ آئے يا لفظی کے ساتھ۔ ويختص بجعل المذكر السالم مضافا إلى يا المتكلم۔ اور یہ خاص ہے کہ جب جمع مذکر سالم مضاف ہو کس کی طرف؟ ياء المتکلم کی طرف۔ بھئی۔ اس میں مقصور کا کیا اعراب بتلایا تھا؟ تینوں حالتوں میں اعراب کیا ہے؟ تینوں۔ اور اسی طرح ایک اور قسم بھی تھی اس کے ساتھ۔ کون؟ کوئی ایسا اسم جو مضاف ہو کس کی طرف؟ ياء المتکلم کی طرف۔ علاوہ کس کے جمع مذکر سالم کے ہاں وہ رہ گیا تھا اب اس کی بات کر رہے ہیں اب جمع مذکر سالم مضاف ہو کس کی طرف؟ ياء المتکلم کی طرف۔ تو یہ نویں قسم الگ ہے مولانا! اور جمع مذکر سالم کا اعراب کیا آیا؟ حالت رفیع میں واؤ کے ساتھ ہے مسلمون۔ اور نصبی جری میں يا مفتوح ما قبل۔ اب دیکھو میں کہتا ہوں جاءنی مسلميہ۔ نون اضافت سے گر چکا ہے۔ بھئی یہ حالت رفیعی میں ہے، نصبی میں ہے، جری میں ہے؟ رفیعی میں۔ جاءنی مسلميہ کس حالت میں ہے؟ رفیعی میں۔ اور حالت رفیعی میں اس کا اعراب مسلمون کا کس کے ساتھ آتا ہے؟ اور مسلميہ میں واؤ موجود ہے؟ نہیں؟ واؤ موجود نہیں ہے۔ وہ واؤ تو یا سے بدل کر یا میں اس کا ادغام ہو چکا تو اس واؤ پر ہم تلفظ کر رہے ہیں؟ نہیں؟ نہیں کر رہے۔ نہیں کر رہے તો اعراب لفظاً ہوا یا تقدیر ہوا؟ تقدیر ہوا۔ اور حالت نصبی جری میں مسلمون کا اعراب کس کے ساتھ تھا؟ يا مقصور کے ساتھ۔ اور میں کہता ہوں رأيت مسلميہ مررت بمسلميہ۔ اب بتائیے حالت نصبی جری میں یا وہ والی موجود ہے یا اس پر اب تلفظ کر رہے ہیں یا تلفظ نہیں کر رہے مولانا؟ تلفظ کر رہے ہیں۔ تلفظ ابھی بھی کر رہے ہیں ایک مسلمون کی مسلمینہ کی یا ہے نون گر گیا۔ ایک یاء متکلم کی آ گئی پھر یا کا یا میں ادغام ہوا کیا بن گیا؟ تو وہ یا جو وہ یا کیا ہے ابھی بھی؟ اب ادغام ہو گیا ہے بس یا تو ابھی بھی موجود ہے مولانا! تو اعراب اس کا کیا ہوا؟ يا لفظی کے ساتھ کس کے ساتھ؟ یا لفظی کے ساتھ؟ بھئی اعراب یا کے ساتھ آ رہا تھا اور وہ یا ابھی بھی اس پر اب تلفظ کر رہے ہیں یا نہیں کر رہے؟ তো اعراب لفظا ہوا۔ کیا ہوا؟ تو حالت رفیعی میں تقدیراً ہے اور نصبی جری میں بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ حالت رفیعی میں تقدير واو ہے اور نصب جری میں تدل يا لفظی کے ساتھ۔ سب کو بات سمجھ میں آئی؟ سمجھ میں آیا؟ یہ نو قسمیں ہیں۔ یہ نو قسمیں ہیں۔ یہ آپ میں سے ہر ایک نے کل مجھے زبانی سنانی ہے۔ سمجھ میں آیا؟ ہاں آپ کوئی اچھی طرح خوب اس کو یاد کر کے آئیں بھئی۔ تو یہ آپ کو یاد ہوں گی تو پھر انشاءاللہ کافی میں آسانی ہو جائے گی۔ سمجھ میں آیا؟ چلیے مولانا! ھذا اول المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔