اگے سبق دیکھیے بھئی، ”بَابُ الشَّهَادَةِ عَلَى الزِّنَا وَالرُّجُوعِ عَنْهَا، قَالَ: وَإِذَا شَهِدَ الشُّهُودُ بِحَدٍّ مُتَقَادِمٍ لَمْ يَمْنَعْهُمْ عَنْ إِقَامَتِهِ بُعْدُهُمْ عَنِ الْإِمَامِ لَمْ تُقْبَلْ شَهَادَتُهُمْ إِلَّا فِي حَدِّ الْقَذْفِ خَاصَّةً، وَفِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ: وَإِذَا شَهِدَ عَلَيْهِ الشُّهُودُ بِسَرِقَةٍ أَوْ بِشُرْبِ خَمْرٍ أَوْ بِزِنًى بَعْدَ حِينٍ لَمْ يُؤْخَذْ بِهِ وَضَمِنَ السَّرِقَةَ“۔ بھئی گزشتہ سبق میں صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ اگر کوئی عاقل بالغ مرد کسی مجنونہ یا صغیرہ کے ساتھ زنا کر لے، تو اس بالغ مرد پر حدِ زنا جاری کی جائے گی۔ جبکہ اس کے مقابلے میں اگر کوئی بچہ یا مجنون کسی بالغہ عورت کے ساتھ زنا کرے اور وہ عورت اپنی رضامندی سے ان کو قدرت دے، تو اس صورت میں نہ اس بچے اور مجنون پر حد آئے گی اور نہ اس عورت پر حد آئے گی۔ اور اس کی وجہ بتلائی تھی صاحبِ ہدایہ نے کہ وجہ یہ ہے کہ زنا اصل میں مرد کا فعل ہے۔ اسی لیے مرد کو زانی اور واطی کہا جاتا ہے، یعنی مرد کے لیے اسمِ فاعل کا صیغہ استعمال کیا جاتا ہے۔ جبکہ عورت کو موطوءۃ اور مزنیہ کہا جاتا ہے، یعنی اس کے لیے اسمِ مفعول کا صیغہ استعمال کیا جاتا ہے۔ اور اگر کبھی عورت کو زانیہ کہا بھی جائے، تو یہ اس کو مجازاً زانیہ کہا گیا ہے۔ اور وجہ اس کی یہ ہے کہ عورت جو ہے وہ زنا کا سبب بنی ہے۔ تو اس اعتبار سے اس کو زانیہ کہا گیا مجازاً۔ یہ اس وجہ سے کہ عربی زبان میں کبھی کبھار مفعول پر بھی اسمِ فاعل کا لفظ بول دیا جاتا ہے، جیسے ”فِي عِيشَةٍ رَّاضِيَةٍ“، اصل میں یہ ”فِي عِيشَةٍ مَرْضِيَّةٍ“ کے معنی میں ہے بھئی۔ تو لہٰذا جب بچے اور مجنون کو ایک عاقلہ بالغہ عورت نے اپنی رضامندی سے ان کو اپنے اوپر قدرت دی، تو یہ بچے اور مجنون کا فعل زنا نہیں۔ اس لیے کیونکہ زنا جو ہے اس سے تو شریعت نے منع کیا ہے اور اس کا کرنے والا گناہگار ہوتا ہے۔ اور بچے اور مجنون کے فعل میں تو یہ صفت نہیں، وہ تو شرعی احکام کے مخاطب ہی نہیں ہیں اور وہ اس فعل کے کرنے پر گناہگار بھی نہیں ہیں۔ تو لہٰذا مجنون اور بچے کا یہ فعل زنا نہیں۔ تو عورت نے ان کو جو اپنے اوپر قدرت دی ہے یہ اس نے زنا کی قدرت نہیں دی، تو اس لیے نہ بچے اور مجنون پر حد آئے گی اور نہ عورت پر حد آئے گی۔ جبکہ اس کے مقابلے میں اگر مرد جو ہے مجنونہ یا صغیرہ کے ساتھ زنا کرتا ہے تو مرد کا فعل تو زنا ہی ہے، لہٰذا اس مرد پر حد جاری ہوگی بھئی۔ اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے اکراہ کا مسئلہ ذکر فرمایا تھا۔ آپ نے پڑھا کہ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک اگر اکراہ کرنے والا بادشاہ ہے تو پھر اس صورت کے اندر یہ اکراہ معتبر ہے، تو بادشاہ نے کسی کو زنا پر مجبور کیا تو اس شخص پر حد نہیں آئے گی۔ جبکہ اس کے مقابلے میں اگر بادشاہ کے علاوہ کوئی اور اکراہ کرے تو امام صاحب کے نزدیک یہ اکراہ معتبر نہیں، لہٰذا اس صورت میں اگر یہ شخص زنا کرتا ہے تو اس پر حدِ زنا جاری کی جائے گی۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ اکراہ چاہے بادشاہ کی طرف سے ہو یا کسی اور کی طرف سے، ہر اکراہ معتبر ہے۔ جب اکراہ معتبر ہے تو زنا کرنے والے کی رضامندی نہ پائی گئی، اور جب زنا کرنے والے کی رضامندی نہ ہو تو اس پر حدِ زنا جاری نہیں کی جا سکتی۔ جبکہ امامِ زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اکراہ چاہے بادشاہ کی طرف سے ہو چاہے کسی اور کی طرف سے، اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ لہٰذا زنا کرنے والا اگر زنا کرے گا تو پھر اس پر حدِ زنا جاری کی جائے گی۔ امامِ زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں، وجہ یہ ہے کہ زنا کے لیے انتشارِ آلہ ضروری ہے، اور انتشارِ آلہ جو ہے یہ دلیل ہے اس شخص کی زنا پر رضامندی کی، تو جب یہ شخص زنا پر راضی ہے تو اس پر حدِ زنا جاری کی جائے گی۔ اور ابتدا میں امام صاحب کی بھی یہی رائے تھی، لیکن پھر بعد میں امام صاحب نے اس سے رجوع فرما لیا۔ وجہ یہ کہ انتشار کبھی طبعاً بھی ہوتا ہے، تو لہٰذا وہ رضامندی کی علامت نہیں۔ البتہ بادشاہ کے اکراہ کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا، لیکن کسی اور کے اکراہ کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا بادشاہ کا اکراہ تو معتبر ہے، کسی اور کا اکراہ معتبر نہیں۔ جبکہ صاحبین کے نزدیک ہر ایک کا اکراہ معتبر ہے۔ اور پھر علماء نے ذکر کیا کہ دراصل یہ امام صاحب اور صاحبین کا جو اختلاف ہے یہ کوئی دلائل کا اختلاف نہیں ہے، بلکہ دراصل یہ زمانے کا اختلاف ہے۔ امام صاحب کا زمانہ ایسا تھا کہ اس کے اندر بادشاہ کے علاوہ کسی اور کی طرف سے اکراہ کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا، اور صاحبین کے زمانے میں بادشاہ کے علاوہ کسی اور کی طرف سے بھی اکراہ کا تصور کیا جا سکتا تھا۔ تو چونکہ زمانہ مختلف تھا، تو ہر ایک نے اپنے زمانے کے مطابق مسئلہ بیان فرمایا۔ اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ اجرائے حد کے لیے زانی اور مزنیہ دونوں کا زنا پر اتفاق ضروری ہے۔ اگر دونوں میں سے ایک بھی کہہ دے کہ ہم نے تو نکاح کیا تھا، تو اس کی وجہ سے شبہ آ جائے گا کہ ہو سکتا ہے یہ سچ بول رہا ہو، اور ادنیٰ شبہے سے بھی حد ساقط ہو جائے گی، لہٰذا یہ حد بھی اس پر سے ساقط ہو جائے گی بھئی۔ اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ اگر ایک شخص نے ایک باندی سے زنا کیا اور پھر اسی فعلِ زنا سے اس کو قتل کر دیا، تو اس صورت میں اس کے دو جرم ہیں: ایک اس نے زنا کیا ہے لہٰذا اس پر حد جاری کی جائے گی، اور دوسرا اس نے قتل کیا ہے لہٰذا اس پر باندی کی قیمت آئے گی بطورِ ضمان کے۔ اور میں نے بتلایا کہ آپ کے ذہن میں یہ نہ آئے کہ باندی کو قتل کیا ہے لہٰذا اس کو بھی قصاص میں قتل کیا جائے، میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ قصاص میں صرف اس وقت قاتل کو قتل کیا جاتا ہے جب اس نے آلۂ قتل کے ساتھ دوسرے کو قتل کیا ہو، اور آلۂ قتل یعنی جو بنا ہی قتل کے لیے ہے جیسے بندوق، تلوار وغیرہ بھئی۔ تو لہٰذا قصاص صرف آلۂ قتل سے قتل کرنے کی صورت میں آتا ہے، اس کے علاوہ قتل کیا جائے تو وہاں پھر دیت آیا کرتی ہے۔ آزاد مرد یا عورت ہو تو وہاں دیت آیا کرتی ہے، اور یہ چونکہ باندی ہے تو لہٰذا اس کی قیمت اس شخص پر واجب ہوگی۔ تو طرفین کے نزدیک یہ شخص جس نے زنا کے ذریعے باندی کو قتل کر دیا اس پر حد بھی جاری کی جائے گی اور اس پر باندی کی قیمت بھی واجب ہوگی۔ جبکہ امامِ ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ باندی کی قیمت کا ضمان جب اس آدمی پر آ گیا تو اب اس پر حد جاری نہیں کی جا سکتی۔ اس لیے کیونکہ ضابطہ ہے کہ حد کے قائم ہونے سے پہلے اگر سببِ ملکیت آ جائے تو پھر اس شخص پر حد جاری نہیں کی جاتی۔ جیسے کوئی شخص چوری کر لے اور اس کا جرم قاضی کے پاس بھی ثابت ہو گیا، اور قاضی نے بھی اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم جاری کر دیا، لیکن ہاتھ کاٹنے سے پہلے پہلے اس چوری شدہ مال کا جو مالک تھا اس نے چور کو یہ مال ہبہ کر دیا، چور کو اس مال کا مالک بنا دیا۔ تو یہاں پر دیکھو، حد جاری ہونے سے پہلے سببِ ملکیت پایا گیا، چور اس مال کا مالک بن گیا، تو بالاتفاق اس پر سے حد ساقط ہو جاتی ہے۔ تو یہاں پر بھی یہ جب باندی کی قیمت کا ضامن ہوگا تو سببِ ملکیت پایا گیا حد قائم ہونے سے پہلے، لہٰذا اس پر سے حد ساقط ہو جائے گی۔ جبکہ طرفین فرماتے ہیں کہ اس شخص پر جو ضمان آئے گا یہ ضمانِ قیمت نہیں ہے بلکہ یہ ضمانِ قتل ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ضمانِ قیمت کی وجہ سے دوسرا شخص اس چیز کا مالک بن جاتا ہے، جبکہ یہاں پر تو باندی ہلاک ہو چکی ہے اور ہلاک شدہ باندی وہ تو اب محلِ ملکیت ہی نہیں ہے۔ معلوم ہوا یہ ضمانِ قیمت نہیں ہے بلکہ ضمانِ قتل ہے۔ اور اگر آپ کی بات مان لی جائے کہ یہ ضمانِ قیمت ہے، تو پھر اس صورت میں بھی یہ باندی ہلاک ہو چکی ہے، اور وہ جو اس نے زنا کیا تھا وہ تو باندی کی ہلاکت سے پہلے کیا تھا، وہ یعنی باندی کے منافع اس نے باندی کی ہلاکت سے پہلے وصول کر لیے تھے، تو لہٰذا وہ منافع تو معدوم ہو چکے ہیں، ختم ہو چکے ہیں، لہٰذا ان کے اندر اس کی ملکیت کو ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ ایک ہوتی ہے عین اور ایک ہے عرض۔ عین ذات کو کہتے ہیں اور عرض اس کی صفت کو کہتے ہیں، اور ہمارے علماء فرماتے ہیں کہ یہ جو عرض ہے اس کے اندر بقا نہیں، صفات کے اندر ہر ہر لمحے کے اندر تجدد ہوتا ہے۔ مثلاً چیزوں کا جو رنگ آپ کو نظر آ رہا ہے یہ ان کی صفت ہے، تو اس صفت کے اندر ہر ہر لمحے کے اندر تجدد ہو رہا ہے۔ ایک لمحے میں آپ کو جو رنگ نظر آ رہا ہے اگلے لمحے میں وہی رنگ نہیں ہے، وہ رنگ پہلی صفت ختم ہو چکی اس کی جگہ نئی صفت آ گئی۔ اسی طرح ہر ہر لمحے میں نئی نئی صفت آ رہی ہے اور پہلی صفت معدوم ہوتی جا رہی ہے۔ اس کی زیادہ بہتر وضاحت جو ہے مثلاً ایک شخص جو ہے کسی کو اپنا مکان کرائے پر دیتا ہے، اب دیکھو یہ مکان کی ذات یعنی عین کا مالک نہیں بناتا دوسرے کو بلکہ مکان کے جو منافع ہیں وہ ان کا مالک بنا رہا ہے، اور منافع جو ہیں وہ تو صفت ہیں ان کے اندر بقا نہیں، تو لہٰذا آپ خود دیکھ لیں کوئی شخص ایسا نہیں کر سکتا کہ پورا سال اپنے مکان کو کرائے پر نہ دے اور وہ رہائش جو ہے اس کو جمع کرتا رہے اور پھر اکٹھی ایک مہینے کے اندر وہ بارہ مہینوں والی رہائش کسی کو دے دے، نہیں بھئی، ایسا نہیں ہو سکتا۔ جوں جوں وقت گزرتا جا رہا ہے رہائش گزرتی جا رہی ہے۔ تو لہٰذا معلوم ہوا منافع کے اندر بقا نہیں ہے۔ تو یہاں پر بھی اس شخص نے جب باندی کے ساتھ زنا کیا تو منافع وصول کیے اور منافع کے اندر بقا نہیں وہ منافع گزر گئے، اور پھر اسی فعلِ زنا سے باندی ہلاک بھی ہو گئی۔ تو اس شخص پر ضمانِ قیمت آئے گا، اس کی نسبت کی جائے گی جس وقت اس نے باندی کو ہلاک کیا تھا۔ تو جس وقت ہلاک کیا تھا گویا اس وقت سے یہ باندی کا مالک ہوا، لیکن باندی کی ہلاکت سے پہلے تو یہ زنا کر چکا ہے، وہ منافع تو وصول کر چکا ہے، تو لہٰذا وہ منافع جو معدوم ہو چکے ہیں وہاں پر اس کی ملکیت کو ثابت قرار نہیں دیا جا سکتا کہ یہ ان منافع کا مالک تھا، کیونکہ وہ معدوم ہو چکے ہیں۔ توجہ ہے؟ تو یہاں پر منافع بھی معدوم ہو چکے ہیں اور یہ باندی بھی ہلاک ہو چکی ہے۔ اگر باندی زندہ ہوتی تو پھر ہم باندی کے اندر ملکیت ثابت کرتے، تو عرض جو ہے وہ تو عین کے تابع ہوتی ہے، تو جب عین باقی ہوتی تو اس کے اندر ملکیت ثابت ہوتی اور عین کے تابع کرتے ہوئے ہم منافع کے اندر بھی ملکیت مان لیتے، عین اگر باقی ہوتی وہ باندی اگر زندہ ہوتی تو باندی کے اندر ہم ملکیت مان لیتے اور جو منافع تھے وہ معدوم ہو چکے ہیں لیکن ہم عین کے تابع کرتے ہوئے ان منافع کو بھی باقی مان لیتے اور ان کے اندر بھی ملکیت ثابت کر دیتے۔ لیکن باندی تو ہلاک ہو چکی ہے، جب باندی ہلاک ہو چکی ہے تو باندی کے تابع کرتے ہوئے بھی ہم ان منافع پر باقی رہنے کا حکم نہیں لگا سکتے۔ جب منافع پہ باقی رہنے کا حکم نہیں لگا سکتے وہ تو معدوم ہو چکے ہیں تو ان میں ملکیت بھی ثابت نہیں ہو سکتی۔ جبکہ اس کے مقابلے میں، جبکہ اس کے مقابلے میں اگر ایک شخص نے ایک باندی سے زنا کیا اور اس کو اندھا بھی کر دیا تو اب یہاں پر اس شخص پر باندی کا ضمان آئے گا بھئی، اور اس باندی کا جب ضمان اس پر آ گیا تو اب اس پر حدِ زنا جاری نہیں ہوگی۔ وجہ یہ کہ اگرچہ باندی اندھی ہو گئی ہے لیکن اس کی ذات تو باقی ہے۔ تو جب اس پر ضمانِ قیمت آیا تو باندی کا یہ مالک بن گیا، اور باندی کا مالک اس وقت سے بنا جس وقت اس نے باندی کو اندھا کیا تھا، اور تو اس وقت وہ زنا تو کر چکا ہے لیکن ذات تو اس وقت باقی ہے، تو ذات کے تابع کرتے ہوئے منافع کو بھی باقی قرار دے دیا جائے گا، ذات کے تابع کرتے ہوئے منافع اگرچہ گزر چکے ہیں لیکن بہرحال ذات تو موجود ہے تو ذات کے تابع کرتے ہوئے منافع کو بھی باقی قرار دے دیا جائے گا، اور منافع کے اندر بھی اس کی ملکیت ثابت کر دی جائے گی گویا اس نے اپنی ہی باندی سے صحبت کی تھی، اس نے کوئی فعلِ زنا کیا ہی نہیں ہے۔ لہٰذا اس صورت میں اس شخص پر حدِ زنا نہیں آئے گی۔ جبکہ یہ باندی جو ہلاک ہو چکی ہے اس کے اندر عین باقی نہیں، تو ان منافع میں بھی ملکیت ثابت نہیں کی جا سکتی جو گزر چکے ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ اگر بادشاہ یا خلیفہ جو ہے وہ اگر کوئی ایسا فعل کرے جس کی وجہ سے حد واجب ہوتی ہو تو ان پر حد واجب نہیں ہوگی بھئی، اس لیے کیونکہ وہاں پر کوئی حد کو وصول کرنے والا نہیں ہے، اور بادشاہ خود بھی اپنے اوپر کبھی حد جاری کرنے کو برداشت نہیں کرے گا کیونکہ یہ تو ذلت اور رسوائی کا باعث ہے اس کے لیے۔ تو لہٰذا اس بادشاہ پر حد واجب ہی نہیں۔ ہاں البتہ اگر یہ کسی کو قتل کرتا ہے یا کسی کا مال چھین لیتا ہے یہ بادشاہ، تو پھر اس پر اس سے قصاص کا مطالبہ بھی کیا جا سکتا ہے اور اس سے اس مال کا مطالبہ بھی کیا جا سکتا ہے، وہ اس سے لیا جا سکتا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اب آئیے آج کے سبق پر: ”بَابُ الشَّهَادَةِ عَلَى الزِّنَا وَالرُّجُوعِ عَنْهَا“، یہ باب ہے زنا پر گواہی کے بیان میں، ”وَالرُّجُوعِ عَنْهَا“ اور اس گواہی سے رجوع کے بیان میں۔ اس باب کے اندر زنا سے متعلق جو گواہی ہے اس سے متعلقہ مسائل ذکر فرمائیں گے کہ کن کن صورتوں میں گواہی قبول نہیں کی جائے گی، اور اگر کوئی گواہی سے رجوع کر لیتا ہے کوئی گواہ تو پھر اس کا کیا حکم ہے وہ صاحبِ ہدایہ بیان فرمائیں گے۔ لیکن ایک دو قیمتی باتیں یاد رکھنا: یاد رکھو، یاد رکھو گواہ کے رجوع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ کہہ دے میں نے جھوٹی گواہی دی تھی یا مجھ سے غلطی ہو گئی اس گواہی کے اندر، اور گواہ کا رجوع تب ہی معتبر ہے جب وہ قاضی کے سامنے رجوع کرے۔ بھئی اس گواہ نے گواہی قاضی کے سامنے دی تھی تو رجوع بھی قاضی کے سامنے ہی معتبر ہے، اگر کسی اور کے سامنے یہ رجوع کرتا ہے یہ گواہ تو وہ رجوع معتبر نہیں۔ تو پہلا ضابطہ کیا کہ گواہ کا رجوع تب ہی معتبر ہے جب وہ قاضی کے سامنے ہو۔ دوسری قیمتی بات یہ یاد رکھنا کہ جب گواہی پر قاضی ایک دفعہ فیصلہ کر دے تو پھر بعد میں اب گواہ رجوع بھی کر لے تو قاضی کا فیصلہ واپس نہیں ہوگا بھئی۔ قاضی کا فیصلہ ایک دفعہ گواہی پر ہو چکا ہے، اب گواہ کے رجوع کرنے سے وہ فیصلہ نہیں ٹوٹے گا بھئی، وہ فیصلہ ختم نہیں ہوگا، تو پھر کیا کیا جائے گا؟ کہتے ہیں اس صورت میں اگر اس گواہی کی وجہ سے کسی کا نقصان ہوا ہے تو گواہ پر ضمان آ جائے گا، اب اس کو ضمان دینا پڑے گا۔ مثلاً ایک آدمی نے زید پر دعویٰ کر دیا کہ اس نے میرا ایک لاکھ روپیہ دینا ہے، اور دو گواہوں نے گواہی دے دی قاضی کے سامنے کہ واقعی اس شخص کا زید پر ایک لاکھ روپیہ ہے، قاضی نے فیصلہ کر دیا تو اب زید کو ایک لاکھ روپیہ دینا پڑے گا۔ اور بعد میں پھر گواہوں میں سے کوئی ایک قاضی کے سامنے آ کر رجوع کر لیتا ہے تو قاضی کا فیصلہ نہیں ختم ہوگا، بلکہ اس گواہ کی وجہ سے جتنا زید کا نقصان ہوا ہے وہ ضمان اب اس گواہ کو دینا پڑے گا۔ مثلاً اگر صرف ایک گواہ نے رجوع کیا ہے تو پھر دو گواہوں کی وجہ سے زید کا نقصان ایک لاکھ ہوا تھا، تو ایک گواہ کی وجہ سے گویا پچاس ہزار نقصان ہوا ہے تو صرف ایک گواہ رجوع کرے گا تو اس پر پچاس ہزار ضمان آ جائے گا، اور اگر دوسرا بھی رجوع کر لیتا ہے تو پھر اس پر بھی پچاس ہزار ضمان آ جائے گا۔ معلوم ہوا رجوع صرف قاضی کے پاس معتبر ہے، اور دوسرا رجوع اگر فیصلے کے بعد ہوگا تو فیصلہ ختم نہیں ہوگا بلکہ صرف ان گواہوں پر ضمان آ جائے گا بھئی۔ جی دیکھیے بھئی اب کتاب پر، کہتے ہیں: ”بَابُ الشَّهَادَةِ عَلَى الزِّنَا وَالرُّجُوعِ عَنْهَا“، یہ باب ہے زنا پر گواہی کے بیان میں، ”وَالرُّجُوعِ عَنْهَا“ اور اس گواہی سے رجوع کے بیان میں۔ ”قَالَ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَإِذَا شَهِدَ الشُّهُودُ بِحَدٍّ مُتَقَادِمٍ لَمْ يَمْنَعْهُمْ عَنْ إِقَامَتِهِ بُعْدُهُمْ عَنِ الْإِمَامِ لَمْ تُقْبَلْ شَهَادَتُهُمْ إِلَّا فِي حَدِّ الْقَذْفِ خَاصَّةً“، بھئی یاد رکھو حدود کے مسئلے میں اگر گواہی پرانی ہو جائے تو پھر گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔ حدود کا مسئلہ بڑا نازک ہے بھئی، تو وہ حدود جو خالص اللہ کا حق ہیں ان کے اندر اگر گواہی پرانی ہو گئی تو پھر گواہی نہیں سنی جائے گی، اور وہ کتنی مدت ہے جس کو زیادہ زمانہ کہا جائے گا اور گواہی نہیں سنی جائے گی؟ تو یاد رکھو صحیح قول کے مطابق وہ ایک ماہ کی مدت ہے۔ اگر زنا کو ایک مہینہ گزر چکا ہے تو معلوم ہوا بات پرانی ہو گئی، اب قاضی ان گواہوں کی گواہی نہیں سنے گا۔ جبکہ بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ وہ مدت چھ مہینے ہے، زنا کے بعد اگر چھ مہینے گزر چکے ہیں تو پھر ان گواہوں کی گواہی نہیں سنی جائے گی، لیکن میں نے بتایا صحیح قول جو ہے وہ ایک ماہ کی مدت ہے۔ ایک ماہ گزر گیا تو بات پرانی ہو گئی، لہٰذا اب قاضی ان کی گواہی نہیں سنے گا بھئی۔ اور یہ بھی یاد رکھنا، یہ اس صورت میں ہے جب گواہ جو ہیں وہ زیادہ دور نہیں رہتے، اور اگر گواہ دور کے علاقے میں رہتے ہیں کہ وہاں سے آتے آتے ہی ایک مہینہ لگ گیا ہے تو پھر اس صورت میں یہ عذر ہے، لہٰذا اس صورت میں ان کی گواہی سنی جائے گی۔ تو اگر قاضی سے دور ہونے کی وجہ سے تاخیر ہوئی ہے پھر تو گواہی سنی جائے گی، اور اگر دور نہیں ہیں قریب ہیں پھر بھی انہوں نے بلا وجہ اتنی تاخیر کر دی تو پھر گواہی نہیں سنی جائے گی۔ تو ”قَالَ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَإِذَا شَهِدَ الشُّهُودُ بِحَدٍّ مُتَقَادِمٍ“، اور جب گواہ گواہی دیں ”بِحَدٍّ مُتَقَادِمٍ“، متقادم کا معنی ہے پرانا بھئی پرانا، یعنی جس میں زیادہ زمانہ گزر چکا ہو۔ ”وَإِذَا شَهِدَ الشُّهُودُ“، اور جب گواہ گواہی دیں ”بِحَدٍّ مُتَقَادِمٍ“، ایسی حد کی جو پرانی ہو چکی ہے، ”وَلَمْ يَمْنَعْهُمْ عَنْ إِقَامَتِهِ بُعْدُهُمْ عَنِ الْإِمَامِ“، اور ان کو منع نہیں کیا تھا ان کو روکا نہیں تھا اس حد کے قائم کرنے سے ”بُعْدُهُمْ عَنِ الْإِمَامِ“ امام سے دوری نے، یعنی اگر تو امام سے دور رہتے تھے پھر تو عذر ہے، لیکن اگر امام سے دور نہیں رہتے معلوم ہوا امام سے بعد نے ان کو نہیں روکا تو پھر اس صورت میں ان کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”بِحَدٍّ مُتَقَادِمٍ“، انہوں نے گواہی دی ایسی حد کی جو پرانی ہو چکی ہے، ”وَلَمْ يَمْنَعْهُمْ عَنْ إِقَامَتِهِ بُعْدُهُمْ عَنِ الْإِمَامِ“، اور امام سے دوری نے ان کو یہ حد قائم کرنے سے نہیں روکا تھا، ”لَمْ تُقْبَلْ شَهَادَتُهُمْ“، تو ان کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی، ”إِلَّا فِي حَدِّ الْقَذْفِ خَاصَّةً“، مگر حدِ قذف کے اندر خاص طور پر۔ ہاں حدِ قذف کے اندر اگر تاخیر بھی ہو جائے، تاخیر بھی ہو جائے پھر بھی گواہی سنی جائے گی۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ حدِ قذف جو ہے وہ خالص اللہ کا حق نہیں ہے، اس میں بندے کا بھی حق ہے۔ یاد رکھو حدِ قذف کے اندر غالب اللہ کا حق ہے لیکن اس میں بندے کا بھی حق ہے، کیونکہ کسی پر زنا کی تہمت لگائی ہے، اگر اب وہ حد کا مطالبہ نہیں کرتا تو کل یہ بات اس کے لیے طعنے کا باعث بن جائے گی اور لوگ بھی اس کو طعنہ دیں گے کہ فلاں نے بھی تم پر زنا کا الزام لگایا تھا۔ تو یہ بات اس کے لیے طعنے کا باعث بن جائے گی، لہٰذا حدِ قذف جو ہے وہ حق العبد بھی ہے۔ اس کے اندر اگر تاخیر بھی ہو جائے پھر بھی گواہی قبول کی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”إِلَّا فِي حَدِّ الْقَذْفِ خَاصَّةً“، مگر حدِ قذف کے اندر خاص طور پر۔ ”وَفِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ“، اور جامع صغیر کے اندر ہے، بھئی وہی بات جو متن میں آئی وہی اب جامع صغیر کے حوالے سے بھی صاحبِ ہدایہ ذکر فرمائیں گے۔ متن میں بھی کیا آیا کہ اگر گواہی پرانی ہو گئی تو اس کو قبول نہیں کیا جائے گا مگر حدِ قذف کے اندر اس کو سنا جائے گا۔ جامع صغیر کے اندر بھی یہی بات ذکر فرمائیں گے، لیکن چونکہ جامع صغیر کی عبارت میں کچھ فوائد زائد بھی تھے لہٰذا اس لیے صاحبِ ہدایہ اس قدوری کے متن کے ساتھ ساتھ جامع صغیر کی عبارت بھی ساتھ ذکر فرما رہے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَفِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ“، اور جامع صغیر کے اندر ہے: ”وَإِذَا شَهِدَ عَلَيْهِ الشُّهُودُ“، اور جب گواہ کسی شخص کے خلاف گواہی دے دیں ”بِسَرِقَةٍ“، چوری کی، ”أَوْ بِشُرْبِ خَمْرٍ“، یا شراب پینے کی، ”أَوْ بِزِنًى“، یا زنا کی ”بَعْدَ حِينٍ“، کچھ وقت کے بعد، اگر گواہ گواہی دے دیں چوری کی یا شراب پینے کی یا زنا کی ”بَعْدَ حِينٍ“، کچھ وقت کے بعد ”لَمْ يُؤْخَذْ بِهِ“، تو اس گواہی کو نہیں لیا جائے گا ”وَضَمِنَ السَّرِقَةَ“، اور وہ شخص جو ہے چوری کے مال کا ضامن ہوگا۔ وہ شخص چوری کے مال کا ضامن ہوگا، تو دیکھو جامع صغیر کے اندر حدود کو باقاعدہ ذکر فرما دیا کہ چوری کی ہے یا شراب پی ہے یا زنا کیا ہے اور کچھ وقت گزر جائے پھر ان کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی، تو حدود کچھ ذکر کر دی ہیں جامع صغیر کے اندر باقاعدہ کچھ حدود کے نام ذکر کیے، اور نیز جامع صغیر میں آ رہا ہے ”بَعْدَ حِينٍ“، کچھ وقت کے بعد آ کر انہوں نے گواہی دی ہے، تو حین کا لفظ ذکر کیا ہے جامع صغیر کے اندر۔ اور آپ نے پڑھا تھا کتاب الایمان کے اندر اگر ایک شخص قسم کھا لیتا ہے کہ ”لَا أُكَلِّمُ فُلَانًا حِينًا أَوْ زَمَانًا“ یا ”الْحِينَ“ یا ”الزَّمَانَ“، یعنی چاہے نکرہ لائے چاہے معرفہ لائے، تو حین کا یا زمانے کا لفظ جب مطلق استعمال کیا جائے اور اس میں کوئی نیت نہ ہو تو اس سے چھ ماہ کی مدت مراد ہوتی ہے بھئی۔ تو یہاں پر بھی ”بَعْدَ حِينٍ“، بعد حین کے ذریعے چھ ماہ کی مدت کی طرف اشارہ کیا، اور اسی کی وجہ سے بعض مشائخ کہنے لگے کہ چھ ماہ کی مدت کے بعد گواہی آئے تو پھر قبول نہیں کی جائے گی، یہ شربِ خمر کے بارے میں یا زنا یا سرقہ کے بارے میں۔ جبکہ میں نے بتایا کہ صحیح قول یہ ہے کہ اگر ایک ماہ گزر جائے تو بات پرانی ہو گئی، اب گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔ تو ”بَعْدَ حِينٍ“ کے ذریعے زمانے کی طرف بھی اشارہ ہو گیا۔ اور آگے جامع صغیر کی عبارت میں آیا: ”وَضَمِنَ السَّرِقَةَ“، اور وہ چوری کا ضامن ہوگا۔ یعنی، یعنی ایک ماہ کے بعد اگر چوری پر شہادت آئی تو اس صورت میں حد تو نہیں ثابت ہوگی البتہ چوری کا مال ثابت ہو جائے گا، وہ مال چور کو اب ادا کرنا پڑے گا بھئی۔ آگے دیکھیے: ”وَالْأَصْلُ أَنَّ الْحُدُودَ الْخَالِصَةَ حَقًّا لِلّٰهِ تَعَالَى تَبْطُلُ بِالتَّقَادُمِ“، ”وَالْأَصْلُ“ اور ضابطہ یہ ہے ”أَنَّ الْحُدُودَ الْخَالِصَةَ حَقًّا لِلّٰهِ تَعَالَى“، کہ وہ حدود جو خالص ہوں باعتبار اللہ کا حق ہونے کے ”تَبْطُلُ بِالتَّقَادُمِ“، وہ باطل ہو جاتی ہیں پرانا ہونے سے، زیادہ زمانہ گزرنے سے وہ حدود باطل ہو جاتی ہیں، ”خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللّٰهُ“، بخلاف امامِ شافعی رحمہ اللہ کے۔ امامِ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ زمانہ زیادہ ہی کیوں نہ گزر جائے پھر بھی گواہی قبول کی جائے گی اور حد جاری کی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللّٰهُ“، بخلاف امامِ شافعی رحمہ اللہ کے، ”وَهُوَ يَعْتَبِرُهَا بِحُقُوقِ الْعِبَادِ وَبِالْإِقْرَارِ الَّذِي هُوَ إِحْدَى الْحُجَّتَيْنِ“، امامِ شافعی رحمہ اللہ اس گواہی کو قیاس کرتے ہیں حقوق العباد کے معاملے پر۔ جیسے حقوق العباد کا معاملہ ہے وہاں پر اگر گواہی میں تاخیر بھی ہو جائے پھر بھی اس گواہی کو سنا جاتا ہے، ایک آدمی نے میرا مال دینا ہے تو چاہے میں دس سال کے بعد بھی قاضی کے پاس گواہوں کو لے کر جاؤں تو پھر بھی گواہی کو سنا جائے گا۔ تو امامِ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جیسے حقوق العباد کے مسئلے میں تاخیر ہو جائے پھر بھی گواہی کو سنا جاتا ہے تو حدود کے مسئلے میں بھی تاخیر ہو جائے پھر بھی گواہی کو سنا جائے گا۔ اور نیز وہ اس گواہی کو قیاس کرتے ہیں اقرار پر، کس پر؟ اقرار۔ دیکھو حدود ثابت ہوتی ہیں دو ہی چیزوں سے، یا گواہی ہو یا اقرار ہو، اور اقرار کے اندر آپ پڑھ چکے ہیں کہ اقرار کے اندر اگر تاخیر بھی ہو جائے پھر بھی اقرار معتبر ہے اس کی وجہ سے حد ثابت ہو جائے گی۔ ایک شخص نے دس سال پہلے زنا کیا تھا اور آج وہ قاضی کے پاس آ کر اپنے زنا کا اقرار کرتا ہے چار الگ الگ مجلسوں میں، تو اس کا یہ اقرار معتبر ہے۔ تو لہٰذا حدود کے ثابت کرنے کے لیے دو حجتیں ہیں، ایک حجت گواہی ہے اور ایک اقرار ہے۔ جب اقرار کے اندر تاخیر سے کوئی اثر نہیں پڑتا اور اقرار کو مان لیا جاتا ہے، تو گواہی کے اندر بھی تاخیر سے کوئی اثر نہیں پڑے گا لہٰذا گواہی کو قبول کیا جائے گا۔ یہ دلیل چل رہی ہے امامِ شافعی رحمہ اللہ کی۔ تو وہ اس گواہی کو قیاس کرتے ہیں حقوق العباد پر اور اقرار پر بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللّٰهُ“، بخلاف امامِ شافعی رحمہ اللہ کے، ”وَهُوَ يَعْتَبِرُهَا بِحُقُوقِ الْعِبَادِ“، وہ اس گواہی کو قیاس کرتے ہیں حقوق العباد پر یعنی حقوق العباد کی گواہی پر قیاس کرتے ہیں، ”وَبِالْإِقْرَارِ الَّذِي هُوَ إِحْدَى الْحُجَّتَيْنِ“، اور وہ اس کو قیاس کرتے ہیں اس اقرار پر جو دو حجتوں میں سے ایک حجت ہے۔ ”وَلَنَا“، اب ہماری دلیل آ گئی۔ ہماری دلیل یہ ہے، یاد رکھو ادائے شہادت ثواب کا کام ہے۔ ایک شخص جب شہادت ادا کرتا ہے تو اس کو اجر ملتا ہے کیونکہ اس کی وجہ سے حقدار کو اس کا حق مل جائے گا۔ البتہ حدود کے مسئلے میں گواہ کو اختیار ہے، وہ چاہے تو گواہی ادا کر دے، وہ جب گواہی ادا کرے گا تو اس کو ثواب ملے گا، اور وہ چاہے تو مسلمان کے عیب پر پردہ ڈال دے، اگر وہ پردہ ڈالتا ہے تو اس پر اس کو پردہ پوشی کا اجر ملے گا بھئی۔ ہماری دلیل چل رہی ہے، معلوم ہوا کہ گواہ کو دو ثوابوں میں سے ایک ثواب کا اختیار ہے۔ وہ چاہے تو شہادت ادا کر کے ثواب کما لے اور وہ چاہے تو مسلمان کے عیب پر پردہ ڈال کر پردہ پوشی کا ثواب کما لے۔ اب یہاں پر ہم کہتے ہیں کہ یہ جو اس گواہ نے تاخیر کی، یا تو اس نے پردہ ڈالنے کے لیے تاخیر کی تھی، یہ پردہ پوشی کرنا چاہتا تھا، یا اس نے ویسے ہی تاخیر کی ہے۔ اگر اس نے ویسے ہی تاخیر کی ہے تو پھر یہ فاسق ہو چکا ہے، گناہگار ہو چکا ہے، اس لیے کیونکہ ادائے شہادت تو ضروری تھی ادائے شہادت تو واجب تھی، تو اس نے واجب کی ادائیگی میں تاخیر کر دی لہٰذا یہ فاسق ہو چکا ہے۔ جب یہ فاسق ہو چکا ہے تو اس کی گواہی قابلِ قبول نہیں ہے بھئی۔ اور اگر اس نے اس لیے تاخیر کی کہ یہ پردہ ڈالنا چاہتا تھا اور اب اس وجہ سے تاخیر سے آیا ہے تو اس صورت میں بھی گواہی قبول نہیں کی جائے گی، اس لیے کیونکہ جب اس نے شروع میں پردہ ڈالنے کا ارادہ کیا تھا اب بعد میں آ کر گواہی دے رہا ہے، معلوم ہو کوئی دشمنی وغیرہ کی وجہ سے اب یہ گواہی دینے آیا ہے بھئی، کسی دشمنی نے اور کسی کینے نے اور بغض نے اس کو ابھارا ہے گواہی دینے پر کیونکہ اس نے تو پردہ پوشی کا ارادہ کیا تھا۔ تو لہٰذا دلوں میں بدگمانی آتی ہے، جب دلوں میں بدگمانی آتی ہے تو اب اس کی گواہی کو حدود کے مسئلے میں قبول نہیں کیا جائے گا۔ پھر سنو، ہماری دلیل یہ ہے کہ یہاں پر گواہی دینے والے کو اختیار ہے دو ثوابوں میں سے جو ثواب بھی وہ کمانا چاہے، یا تو وہ ادائے شہادت کر دے گا گواہی دے دے گا اس پر بھی اس کو اجر و ثواب ملے گا اور وہ چاہے تو مسلمان کے عیب پر پردہ ڈال دے اس پر بھی اس کو اجر ملے گا۔ تو اگر اس نے تاخیر ویسے ہی کی ہے پردہ ڈالنے کے لیے نہیں کی، تو پھر اس صورت میں تو ادائے شہادت واجب تھا، تو واجب کی ادائیگی کی وجہ سے وہ فاسق ہو چکا ہے اور حدود جو ہیں فاسق کی گواہی سے ثابت نہیں ہو سکتیں بھئی۔ اور اگر اس نے پردہ پوشی کا ارادہ کیا تھا تو اس کے بعد پھر دوبارہ اس کا گواہی دینے کے لیے آنا معلوم ہوا کہ یہ کسی کینے نے، بغض نے اور کسی دشمنی نے اس کو یہ گواہی دینے پر ابھارا ہے، تو دلوں میں بدگمانی آتی ہے لہٰذا اس بدگمانی کی وجہ سے اب اس کی یہ گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَنَا أَنَّ الشَّاهِدَ مُخَيَّرٌ بَيْنَ الْحِسْبَتَيْنِ“، حسبۃ کہتے ہیں اللہ سے ثواب کی امید کرنا بھئی، تو ”وَلَنَا“ ہماری دلیل یہ ہے ”أَنَّ الشَّاهِدَ مُخَيَّرٌ بَيْنَ الْحِسْبَتَيْنِ“، کہ گواہ جو ہے اس کو اختیار ہوتا ہے دو ثوابوں میں سے یعنی دو اجروں میں اس کو اختیار ہوتا ہے، آگے بیان ہے دو اجر کون سے؟ کہتے ہیں: ”مِنْ أَدَاءِ الشَّهَادَةِ وَالسَّتْرِ“، یعنی ادائے شہادت اور ستر اور پردہ پوشی۔ ”فَالتَّأْخِيرُ إِنْ كَانَ لِاخْتِيَارِ السَّتْرِ“، تو اگر تاخیر جو ہے اس کے پردہ پوشی کو اختیار کرنے کی وجہ سے تھی، ”فَالْإِقْدَامُ عَلَى الْأَدَاءِ بَعْدَ ذَلِكَ“، تو اس کا گواہی کی ادائیگی پر پیش قدمی کرنا بعد ذلک اس اختیار کے بعد، اس اختیارِ ستر کے بعد پردہ پوشی کو اختیار کرنے کے بعد اس کا ادائے شہادت پر پیش قدمی کرنا ”لِضَغِينَةٍ هَيَّجَتْهُ أَوْ لِعَدَاوَةٍ حَرَّكَتْهُ“، ضغینۃ بھئی ضاد کے ساتھ ہے، ضغینہ کہتے ہیں کینے کو بھئی، ضغینہ کینہ، دل میں جو کسی کی نفرت اور بغض اور کینہ ہو اس کو ضغینہ کہتے ہیں۔ اور ہیج یہیج تہییج کا معنی ہے ابھارنا، معلوم ہوا کسی کینے نے اس کو ابھارا ہے، اور عداوت کہتے ہیں دشمنی کو، ”أَوْ لِعَدَاوَةٍ حَرَّكَتْهُ“، یا کسی دشمنی نے اس کو حرکت دی ہے یعنی اس کو اس بات پر آمادہ کیا ہے کہ جا کر گواہی دو، ورنہ تو اس کا ارادہ کیا تھا پردہ ڈالنے کا تھا۔ تو دلوں میں بدگمانی آتی ہے لہٰذا اس کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: ”فَالتَّأْخِيرُ إِنْ كَانَ لِاخْتِيَارِ السَّتْرِ“، اگر یہ تاخیر اس کے پردہ پوشی کو اختیار کرنے کی وجہ سے تھی ”فَالْإِقْدَامُ عَلَى الْأَدَاءِ بَعْدَ ذَلِكَ“، تو اس کے بعد گواہی کی ادائیگی پر پیش قدمی کرنا ”لِضَغِينَةٍ هَيَّجَتْهُ“، یہ کسی ایسے کینے کی وجہ سے ہے جس نے اس کو ابھارا ہے ”أَوْ لِعَدَاوَةٍ حَرَّكَتْهُ“، اور یہ کسی ایسی دشمنی کی وجہ سے ہے جس نے اس کو حرکت دی ہے، ”فَيُتَّهَمُ فِيهَا“، لہٰذا اس گواہی کے اندر یہ شخص متہم ہوگا، یعنی اس کے بارے میں دلوں میں بدگمانی آتی ہے کہ یہ کسی کینے کی وجہ سے اب گواہی دینے آیا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَيُتَّهَمُ فِيهَا“، تو یہ گواہ جو ہے اس گواہی کے اندر متہم ہوگا یعنی اس پر تہمت ہوگی، ”وَإِنْ كَانَ التَّأْخِيرُ لَا لِلسَّتْرِ“، اور یہ جو تاخیر تھی اگر یہ ستر کے لیے نہیں تھی پردہ پوشی کے لیے نہیں تھی ویسے اس نے تاخیر کی تھی، تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ كَانَ التَّأْخِيرُ لَا لِلسَّتْرِ“، اور اگر یہ تاخیر پردہ پوشی کے لیے نہیں تھی ”يَصِيرُ فَاسِقًا آثِمًا“، تو یہ شخص جو ہے فاسق ہو گیا، فاسق کہتے ہیں نافرمان بھئی، اللہ کے احکام کی نافرمانی کرنے والا۔ تو کہتے ہیں اگر یہ تاخیر جو ہے پردہ پوشی کی وجہ سے نہیں تھی ”يَصِيرُ فَاسِقًا آثِمًا“، تو یہ شخص فاسق ہو گیا ”آثِمًا“ گناہگار ہو گیا، کیونکہ ادائے شہادت واجبات میں سے تھا بھئی، اس نے واجب کی ادائیگی نہیں کی تو یہ فاسق اور گناہگار ہو گیا، ”فَتَيَقَّنَّا بِالْمَانِعِ“، تو ہم نے یقین کر لیا مانع کے ہونے کا، ہم نے یقین کر لیا مانع کا۔ اگر اس نے تاخیر کی ہے ستر کے لیے، پھر بھی اب آیا ہے تو دلوں میں بدگمانی آتی ہے کہ یہ کسی کینے کی وجہ سے گواہی دے رہا ہے، اور اگر اس نے ویسے تاخیر کی تھی تو بھی اس صورت میں یہ فاسق اور گناہگار ہو چکا ہے، تو دونوں صورتوں میں مانع آ گیا جب یہ تاخیر کرے، جب یہ تاخیر کرے تو دونوں صورتوں میں مانع آ گیا چاہے اس کا ستر کا ارادہ تھا یا ستر کا ارادہ نہیں تھا، تو دونوں صورتوں میں ”فَتَيَقَّنَّا بِالْمَانِعِ“، تو ہم نے مانع کا یقین کر لیا یعنی مانع آ گیا اس کی گواہی قبول کرنے سے، تو ”فَتَيَقَّنَّا بِالْمَانِعِ“ ہم نے مانع کا یقین کر لیا۔ ”بِخِلَافِ الْإِقْرَارِ“، امامِ شافعی رحمہ اللہ جو ہیں انہوں نے اس کو قیاس کیا تھا اقرار پر کہ اقرار میں تاخیر کا اعتبار نہیں تو گواہی کے اندر بھی تاخیر کا اعتبار نہیں کیا جائے گا اسے قبول کیا جائے گا، تو اب اس کا جواب دے رہے ہیں کہ گواہی میں تاخیر ہو جائے وہاں تو دلوں میں بدگمانی آتی ہے کہ یہ کسی کینے اور دشمنی کی وجہ سے گواہی دینے آیا ہے، لیکن اقرار تو اپنی ذات کے بارے میں ہوتا ہے تو وہاں دلوں میں بدگمانی نہیں آتی بھئی کہ یہ اپنے آپ سے دشمنی کر رہا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ الْإِقْرَارِ“، بخلاف اقرار کے ”لِأَنَّ الْإِنْسَانَ لَا يُعَادِي نَفْسَهُ“، اس لیے کیونکہ انسان اپنی ذات سے دشمنی نہیں کرتا، تو وہاں کوئی بدگمانی نہیں ہے تو اقرار میں تاخیر ہو جائے پھر بھی اسے قبول کیا جائے گا۔ آگے دیکھیے: ”فَحَدُّ الزِّنَا وَشُرْبِ الْخَمْرِ وَالسَّرِقَةِ خَالِصُ حَقِّ اللّٰهِ تَعَالَى“، ”فَحَدُّ الزِّنَا“، تو زنا کی جو حد ہے ”وَشُرْبِ الْخَمْرِ“، اور شربِ خمر کی جو حد ہے ”وَالسَّرِقَةِ“، اور چوری کی جو حد ہے ”خَالِصُ حَقِّ اللّٰهِ تَعَالَى“، یہ خالص اللہ کا حق ہے، ”حَتَّى يَصِحُّ الرُّجُوعُ عَنْهَا بَعْدَ الْإِقْرَارِ“، یہاں تک کہ اقرار کے بعد ان سے رجوع بھی صحیح ہے۔ اگر کوئی شخص زنا کا اقرار کر لے یا چوری کا اقرار کر لے یا شراب پینے کا اقرار کر لے اور قاضی جو ہے فیصلہ کر دے حد کے جاری کرنے کا، تو یہ پھر بھی رجوع کر سکتا ہے۔ معلوم ہوا یہ خالص اللہ کا حق ہے اسی لیے رجوع کر سکتا ہے، اگر یہ بندے کا حق ہوتا تو پھر تو اس کے رجوع کا کوئی اعتبار نہ ہوتا۔ اور یہاں پر یاد رکھو یہ جو آیا ”حَتَّى يَصِحُّ“، یہاں پر حتیٰ نصب نہیں دے گا، ”يَصِحُّ“ پر ہم رفع پڑھیں گے۔ وجہ یہ کہ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ حتیٰ کے نصب دینے کے لیے دو شرطیں ہیں: ایک تو یہ کہ حتیٰ کا ما بعد جو ہے وہ مستقبل ہونا چاہیے حتیٰ کے ما قبل کی طرف نسبت کرتے ہوئے، اور دوسری شرط یہ تھی کہ وہ جو حتیٰ ہے وہ سببيت یا غایت کا فائدہ دے رہا ہو، یعنی ما قبل جو ہے وہ سبب ہو ما بعد کے لیے یا جو حتیٰ کا ما بعد ہے وہ غایت ہو حتیٰ کے ما قبل کے لیے، اور یہاں یہ شرطیں پوری نہیں بھئی اس لیے یہاں حتیٰ کے بعد ان مقدر نہیں ہوگا۔ تو کہتے ہیں: ”حَتَّى يَصِحُّ الرُّجُوعُ عَنْهَا بَعْدَ الْإِقْرَارِ“، یہاں تک کہ اقرار کرنے والے کا رجوع بھی صحیح ہے اقرار کے بعد، ”فَيَكُونُ التَّقَادُمُ فِيهِ مَانِعًا“، تو لہٰذا اس کے اندر پرانا ہونا مانع ہوگا، چوری کی حد اور زنا کی حد اور شربِ خمر کی حد یہ خالص اللہ کا حق ہیں اور یہاں تک کہ ان سے رجوع کرنا بھی صحیح ہے، تو لہٰذا ان کے اندر گواہی کا پرانا ہونا یہ مانع بن جائے گا حد سے۔ تو کہتے ہیں: ”فَيَكُونُ التَّقَادُمُ فِيهِ مَانِعًا“، تو اس کے اندر پرانا ہونا جو ہے وہ مانع ہوگا، ”وَحَدُّ الْقَذْفِ فِيهِ حَقُّ الْعَبْدِ“، اور حدِ قذف جو ہے اس کے اندر بندے کا حق ہے۔ بھئی گزشتہ سبق کے بالکل آخر میں آیا تھا کہ حدِ قذف کے اندر شریعت کا بھی حق ہے اور شریعت کا حق اس کو غالب قرار دیا گیا ہے، معلوم ہوا حدِ قذف میں بندے کا بھی حق اور شریعت کا بھی حق اگرچہ زیادہ حق شریعت کا ہے لیکن بندے کا بھی حق ہے بھئی۔ جب یہ بندے کا حق ہے تو اس کے اندر اگر گواہی کے اندر تاخیر ہو جائے پھر بھی گواہی کو قبول کیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَحَدُّ الْقَذْفِ فِيهِ حَقُّ الْعَبْدِ“، اور حدِ قذف جو ہے اس کے اندر بندے کا حق ہے ”لِمَا فِيهِ مِنْ دَفْعِ الْعَارِ عَنْهُ“، اس وجہ سے کہ اس کے اندر اپنے آپ سے عار کو دور کرنا ہے۔ ایک شخص نے دوسرے پر زنا کی تہمت لگائی تو یہ قاضی کے پاس جا کر مطالبہ کر سکتا ہے کہ قاضی صاحب اس شخص نے مجھ پر زنا کا الزام لگایا ہے اس پر حدِ قذف جاری کی جائے، اس لیے کیونکہ اگر وہ ایسا مطالبہ نہیں کرے گا تو پھر اس صورت کے اندر یہ بات تو اس کے لیے طعنے کا باعث بن جائے گی اور لوگ بھی کل اس کو پھر طعنہ دیں گے کہ فلاں نے تمہیں اس طرح کہا تھا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِمَا فِيهِ مِنْ دَفْعِ الْعَارِ عَنْهُ“، اس وجہ سے کہ اس کے اندر بندے سے عار کو دور کرنا ہے، ”وَلِهَذَا لَا يَصِحُّ رُجُوعُهُ بَعْدَ الْإِقْرَارِ“، اور اسی لیے اقرار کے بعد اس سے رجوع بھی صحیح نہیں۔ حق اللہ کے اندر تو اقرار کے بعد بھی رجوع کیا جا سکتا ہے لیکن حق العبد کے اندر اقرار کے بعد رجوع نہیں کیا جا سکتا کیونکہ فریقِ مخالف موجود ہے، یہ انکار کرے گا لیکن وہ اس کا رد کرے گا تو رد کرنے والا موجود ہے، لہٰذا یہاں اس کا رجوع معتبر نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِهَذَا لَا يَصِحُّ رُجُوعُهُ بَعْدَ الْإِقْرَارِ“، اور اسی لیے اقرار کے بعد اس کا رجوع صحیح نہیں ہے، ”وَالتَّقَادُمُ غَيْرُ مَانِعٍ فِي حُقُوقِ الْعِبَادِ“، اور پرانا ہونا یہ مانع نہیں ہے حقوق العباد سے۔ زمانہ زیادہ گزر جائے تو یہ حقوق العباد سے مانع نہیں، ایک آدمی نے میرے پیسے دینے ہیں تو میں دس سال کے بعد بھی قاضی کے پاس جا کر مقدمہ کر سکتا ہوں۔ تو کہتے ہیں: ”وَالتَّقَادُمُ غَيْرُ مَانِعٍ فِي حُقُوقِ الْعِبَادِ“، اور پرانا ہونا یعنی زمانے کا زیادہ گزرنا یہ حقوق العباد سے مانع نہیں ہے ”لِأَنَّ الدَّعْوَى فِيهِ شَرْطٌ“، اس لیے کیونکہ اس کے اندر دعویٰ شرط ہے، حقوق العباد کے اندر دعویٰ شرط ہوتا ہے، صاحبِ حق دعویٰ کرے صاحبِ حق دعویٰ کرے یہ ضروری ہے۔ زید نے میرا مال دینا ہے تو جب تک میں دعویٰ نہیں کروں گا وہاں گواہی پیش نہیں ہو سکتی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الدَّعْوَى فِيهِ شَرْطٌ“، اس لیے کیونکہ حقوق العباد کے اندر دعویٰ شرط ہے ”فَيُحْمَلُ تَأْخِيرُهُمْ عَلَى انْعِدَامِ الدَّعْوَى“، لہٰذا گواہوں کی تاخیر جو ہے اس کو محمول کیا جائے گا دعوے کے نہ ہونے پر۔ بھئی ادھر دیکھیے، انہوں نے آپ کو بتلایا کہ وہ حدود جو خالص اللہ کا حق ہیں ان کے اندر اگر تاخیر ہو جائے تو گواہی کو قبول نہیں کیا جائے گا، لیکن حدِ قذف کے اندر خاص طور پر اگر تاخیر بھی ہو جائے پھر بھی گواہی کو قبول کیا جائے گا کیونکہ اس کے اندر بندے کا بھی حق ہے۔ اور بندے کا جب حق ہے تو اس بندے کے حق میں تو دعویٰ ضروری ہوتا ہے، تو یہاں بھی یاد رکھو جس پر زنا کا الزام لگا ہے اس کا دعویٰ ضروری ہے، اس کے دعوے کے بغیر حدِ قذف ثابت نہیں ہو سکتی بھئی۔ تو یہاں پر اگر گواہی کے اندر تاخیر ہوئی ہے، مثلاً ایک آدمی تین چار ماہ کے بعد قاضی کے پاس آیا کہ قاضی صاحب چار ماہ قبل اس نے مجھ پر زنا کا الزام لگایا تھا اور میرے پاس گواہ بھی موجود ہیں، تو اب اگرچہ تاخیر ہو چکی ہے لیکن، لیکن پھر بھی گواہی کو سنا جائے گا، اور یہاں پر جو گواہی میں تاخیر ہوئی اس کو محمول کیا جائے گا دعوے کی تاخیر پر کہ چونکہ دعویٰ دیر سے کیا گیا اس لیے گواہ بھی دیر سے ائے۔ اگر دعویٰ جلدی کیا جاتا تو گواہ بھی جلدی ا جاتے۔ تو حقوق اللہ کے اندر تو دعویٰ ضروری نہیں ہے، وہاں تو گواہی میں اگر تاخیر ہوئی ہے تو ہم دعوے کی تاخیر پر اس کو محمول ہی نہیں کر سکتے کیونکہ وہاں تو دعویٰ ہی نہیں ہوتا، جبکہ حقوق العباد کے اندر تو دعویٰ ہوتا ہے۔ تو یہاں پر، توجہ ہے؟ تو حدِ قذف میں دعویٰ ضروری ہے تو یہاں پر اگر گواہی کے اندر تاخیر بھی ہوئی ہے ہم اس کو محمول کریں گے دعوے کی تاخیر پر کہ چونکہ دعویٰ دیر سے ہوا اس لیے گواہی بھی دیر سے آئی بھئی۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الدَّعْوَى فِيهِ شَرْطٌ“، اس لیے کیونکہ حق العبد کے اندر دعوی شرط ہے۔ ”فَيُحْمَلُ تَأْخِيرُهُمْ عَلَى انْعِدَامِ الدَّعْوَى“ لہٰذا گواہوں کی تاخیر جو ہے اس کو دعوے کے نہ ہونے پر محمول کیا جائے گا، ”فَلَا يُوجِبُ تَفْسِيقَهُمْ“ لہٰذا یہ ان کے فاسق قرار دینے کو ثابت نہیں کرتا۔ ”فَلَا يُوجِبُ“ أي فلا يُثْبِتُ، اور ”تَفْسِيقَهُمْ“، یاد رکھو فَسَّقَ يُفَسِّقُ تَفْسِيق بھئی! یہ باب تفعیل ہے۔ تو تفسیق کا معنی ہے کسی کو فاسق قرار دینا، جیسے کَفَّرَ يُكَفِّرُ تَكْفِير کا معنی ہے کسی کو کافر قرار دینا۔ تو کہتے ہیں: ”فَلَا يُوجِبُ تَفْسِيقَهُمْ“۔ اب دیکھو حد قذف کے معاملے میں بھی گواہ تاخیر سے آئے ہیں اور آپ نے ہمیں بتایا تھا کہ ادائے شہادت واجب ہے اور جو واجب کی ادائیگی میں تاخیر کرے گا وہ فاسق ہو جاتا ہے۔ تو لہٰذا یہاں پر بھی گواہوں کو فاسق قرار دینا چاہیے، لیکن کہتے ہیں یہاں جو تاخیر ہوئی ہے اس کو محمول کیا جائے گا دعوے کی تاخیر پر کہ دعوی چونکہ دیر سے ہوا ہے، لہٰذا ان کی تاخیر پر ان کو فاسق قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ معنی ہے ”فَيُحْمَلُ تَأْخِيرُهُمْ عَلَى انْعِدَامِ الدَّعْوَى“ تو ان کی تاخیر کو محمول کیا جائے گا دعوے کے نہ ہونے پر، ”فَلَا يُوجِبُ تَفْسِيقَهُمْ“ لہٰذا یہ تاخیر جو ہے ان کے فاسق قرار دینے کو ثابت نہیں کرتی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ آگے دیکھیے: ”بِخِلَافِ حَدِّ السَّرِقَةِ“ بخلاف حد سرقہ کے۔ یہاں سے صاحب ہدایہ کے اعتراض کا جواب دے رہے ہیں۔ اعتراض یہ ہوتا ہے کہ اے صاحب ہدایہ! آپ نے ہمیں بتایا کہ حدود کے اندر اگر گواہی کے اندر تاخیر ہو جائے تو اسے قبول نہیں کیا جائے گا لیکن اگر وہاں دعوی ضروری ہو تو پھر گواہی قبول کریں گے، اس گواہی کی تاخیر کو کس پر محمول کر لیں گے؟ دعوے کی تاخیر پر، کہ چونکہ جیسے حد قذف ہے، حد قذف میں دیر سے بھی گواہی آئے پھر بھی قبول کر لیں گے اور کس پر محمول کریں گے؟ اس گواہی کی تاخیر کو کس پر محمول کریں گے؟ دعوے کی تاخیر پر۔ تو اسی طرح تو دعوی چوری کے اندر بھی ضروری ہے۔ چوری کے اندر بھی دعوی ضروری ہے، بغیر دعوے کے حد سرقہ جاری نہیں کی جا سکتی بھئی! تو معلوم ہوا آپ کی بات درست نہیں۔ آپ نے تو ہمیں کیا کہا تھا؟ آپ نے ہمیں بتایا تھا کہ حقوق العباد کے اندر گواہی اگر پرانی بھی ہو جائے پھر بھی قبول کی جائے گی، اور گواہی کی تاخیر کو محمول کیا جائے گا دعوے کی تاخیر پر۔ حالانکہ حد سرقہ کے اندر بھی دعوی ضروری ہے لیکن پھر بھی وہاں پر اگر تاخیر ہو جائے، ایک ماہ گزر جائے اس کے بعد قاضی کے پاس گواہ پیش ہوں تو پھر حد سرقہ ثابت نہیں ہو گی۔ حالانکہ یہاں پر بھی تو دعوی ہے، یہاں پر بھی تو اس تاخیر کو دعوے کی تاخیر پر محمول کرنا چاہیے۔ لیکن یہاں آپ کہتے ہیں کہ نہیں، یہاں مہینہ گزر گیا تو بات پرانی ہو گئی، اب حد سرقہ جاری نہیں ہو سکتی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ کیا اعتراض ہوا؟ کہ آپ نے ہمیں بتایا ہے کہ جہاں دعوی ضروری ہو وہاں اگر گواہی میں تاخیر ہو جائے پھر بھی گواہی قبول کر لی جائے گی، اور بعینہٖ یہی مسئلہ چوری کے اندر بھی ہے، حد سرقہ کے اندر بھی دعوی ضروری ہے تو لہٰذا اگر گواہی دیر سے بھی آئے تو اس کو قبول کرنا چاہیے اور گواہی کی تاخیر کو دعوے کی تاخیر پر محمول کیا جائے، لیکن آپ نے ہمیں بتایا کہ حد سرقہ کی گواہی میں اگر تاخیر ہو جائے تو گواہی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ اعتراض سمجھ میں آیا؟ تو اس کا جواب دیں گے صاحب ہدایہ کہ بھئی دیکھیے، حد سرقہ جو ہے ہم نے آپ کو بتلایا کہ یہ خالص اللہ کا حق ہے۔ خالص اللہ کا حق ہے اور یہاں پر جو دعوے کو لازم قرار دیا گیا وہ حد سرقہ کے لیے دعوی لازم نہیں ہے بلکہ مال کے لیے، کیونکہ ایک شخص کا مال چوری ہوا ہے، تو مال کی وجہ سے ہم نے دعوی لازم قرار دیا ہے، حد سرقہ کی وجہ سے دعوی لازم ہی نہیں ہے۔ معلوم ہوا یہ جو دعوی ہے یہ حد سرقہ کے لیے نہیں ہے۔ جب یہ حد سرقہ کے لیے نہیں ہے تو لہٰذا یہاں تاخیر ہو گی تو گواہی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ تو حاصل جواب یہ کہ حد سرقہ کے اندر دعوی شرط تو ہے لیکن یہ دعوی حد کے لیے نہیں شرط بلکہ مال کے لیے شرط ہے۔ جب حد کے لیے دعوی نہیں شرط تو لہٰذا جب گواہی پرانی ہو جائے گی تو اس کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے۔ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ حَدِّ السَّرِقَةِ“ بخلاف چوری کی حد کے، ”لِأَنَّ الدَّعْوَى لَيْسَتْ بِشَرْطٍ لِلْحَدِّ“ اس لیے کیونکہ دعوی جو ہے وہ حد کے لیے شرط نہیں ہے، دعوی حد کے لیے شرط نہیں ہے، ”لِأَنَّهُ خَالِصُ حَقِّ اللَّهِ تَعَالَى عَلَى مَا مَرَّ“ اس لیے کیونکہ یہ چوری کی حد خالص اللہ تعالیٰ کا حق ہے علیٰ ما مر، اس وجہ سے جو بات گزر گئی ہم نے پیچھے آپ کو بتلایا تھا کہ حد سرقہ، حد زنا اور حد شرب خمر یہ تینوں خالص اللہ کا حق ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں یہ خالص اللہ کا حق ہے تو اس کے اندر دعوی شرط نہیں ہے، ”وَإِنَّمَا شُرِطَتْ لِلْمَالِ“ اور یہ جو دعوے کی شرط لگائی گئی ہے وہ مال کی وجہ سے ہے، اور مال تو حق العبد ہے۔ مال حق العبد ہے۔ تو معلوم ہوا چوری کے معاملے میں دعوی شرط ہے لیکن یہ دعوی اس حد کے لیے نہیں ہے بلکہ دعوی مال کے لیے ہے، تو لہٰذا یہاں اگر تاخیر ہو گی تو پھر گواہی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ آگے دیکھیے: ”وَلِأَنَّ الْحُكْمَ يُدَارُ عَلَى كَوْنِ الْحَدِّ حَقًّا لِلَّهِ تَعَالَى فَلَا يُعْتَبَرُ وُجُودُ التُّهْمَةِ فِي كُلِّ فَرْدٍ“۔ توجہ سے سمجھیے، یہ بھی گہری بات ہے بھئی۔ کہتے ہیں دیکھیے، وہ حدود جو خالص اللہ کا حق ہیں ان کے اندر جب گواہی کے اندر تاخیر ہو جائے اس کو قبول نہیں کیا جاتا، اس لیے کیونکہ دلوں میں بدگمانی آتی ہے کہ یہ شاید کسی دشمنی اور کینے کی وجہ سے اب گواہی دینے آیا ہے۔ جب وہ حدود جو خالص اللہ کا حق ہیں ان کے اندر جب گواہی تاخیر سے آ جائے تو اسے قبول نہیں کرتے، کیوں نہیں قبول کرتے؟ دلوں میں بدگمانی آتی ہے کہ اتنی دیر سے یہ آ رہا ہے معلوم ہوا اس کا پہلے ارادہ تھا پردہ ڈالنے کا، لیکن پھر کینے اور دشمنی نے اس کو آمادہ کیا اور یہ گواہی دینے آ گیا بھئی۔ تو دلوں میں بدگمانی آتی ہے لیکن دل کا کینہ اور دل کی دشمنی یہ تو ایک پوشیدہ چیز ہے، امر باطنی ہے، ہمیں تو پتہ نہیں چل سکتا۔ ہمیں تو پتہ نہیں چل سکتا۔ تو لہٰذا یہاں پر حکم کا مدار اس کینے اور بغض پر ہے ہی نہیں، بلکہ حکم کا مدار اس بات پر کر دیا گیا کہ اگر حد خالص اللہ کا حق ہے تو پھر تاخیر کی صورت میں گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔ توجہ ہے؟ پھر سمجھو، پھر سمجھو۔ یہ چوری اور شرب خمر وغیرہ ان کے اندر اگر گواہی میں تاخیر ہو جائے، ایک ماہ گزر جائے تو بات پرانی ہو گئی اب گواہی نہیں سنی جائے گی۔ کیوں نہیں سنی جائے گی؟ کیونکہ دلوں میں بدگمانی آتی ہے، معلوم ہوا اس نے پہلے پردہ ڈالنے کا ارادہ کیا تھا اب بعد میں کسی دشمنی نے اور کینے نے اس کو ابھارا ہے یہ گواہی دینے پر۔ تو دلوں میں بدگمانی آتی ہے۔ لیکن دل کی بدگمانی یہ تو ایک امر باطنی ہے، کس کے دل میں دشمنی یا کینہ ہے اور کس کے دل میں دشمنی اور کینہ نہیں، یہ تو ہمیں پتہ نہیں چل سکتا۔ لہٰذا اس حکم کا مدار یعنی گواہی قبول نہیں کرنی دیر سے آ جائے تو، دیر سے آ جائے تو گواہی قبول نہیں کرنی، اس حکم کا مدار اس کینے اور بغض پر رکھا ہی نہیں گیا کیونکہ وہ کینہ اور بغض تو امر باطنی ہے اس کا ہمیں پتہ ہی نہیں چل سکتا، بلکہ اب اس حکم کا مدار اس بات پر کر دیا گیا کہ وہ حد اگر خالص اللہ کا حق ہے تو پھر تاخیر کی صورت میں گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔ اصل علت تو کیا تھی؟ کینہ اور بغض، لیکن اس کا ہمیں پتہ نہیں چل سکتا تو پھر حکم کا مدار کس پر کر دیا؟ کہ حد اگر خالص اللہ کا حق ہے تو بس پھر اس کے اندر تاخیر کی صورت میں گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے دیکھو، سفر کے اندر شریعت نے احکام میں نرمی کر دی، اگر سفر کے اندر کوئی روزہ نہیں رکھ سکتا تو بعد میں اس کو رکھ لے اور اسی طرح سفر کے اندر چار رکعت والی نماز کے بجائے دو رکعت ادا کرتا ہے، وجہ اس کی یہ ہے کہ سفر کے اندر مشقت ہوتی ہے انسان کو، انسان تکلیف میں ہے، مشکل میں ہے، لہٰذا شریعت نے احکام میں نرمی کر دی۔ تو معلوم ہوا یہ جو شریعت نے نرمی کی ہے اس کا دارومدار مشقت پر ہے یعنی اس کی علت مشقت ہے، لیکن مشقت تو ایک امر باطنی ہے، اس کا تو ہمیں پتہ نہیں چل سکتا کس آدمی کو کتنی مشقت ہوئی ہے کس آدمی کو کتنی مشقت نہیں ہوئی۔ بعض لوگوں کو اللہ نے ایسا مضبوط جسم دیا ہوتا ہے کہ آٹھ دس دن بھی وہ سفر کرتے رہیں تو انہیں محسوس ہی نہیں ہوتا، انہیں ذرہ بھر بھی مشقت نہیں ہوتی۔ تو لہٰذا سفر کے اندر احکام شریعت کے اندر نرمی آ گئی، اس کا دارومدار کس پر ہے؟ مشقت پر۔ لیکن مشقت تو امر باطنی ہے اور اس کا تو ہمیں پتہ نہیں چل سکتا، لہٰذا اس حکم کا مدار سفر پر کر دیا گیا کہ بس جو شخص بھی تین دن کی مسافت کا ارادہ کرے گا تو اس کے لیے یہ احکام ثابت ہو جائیں گے۔ اب یہاں مشقت کو دیکھا ہی نہیں جائے گا، چاہے ایک فرد ایسا ہو اس کو تین دن کے سفر میں ذرہ بھر بھی مشقت نہیں ہوئی پھر بھی اس کے لیے چار رکعت نماز کے بجائے دو رکعت پڑھنا ہو گی اور اس کے لیے روزوں میں بھی رخصت ہے وہ چاہے تو بعد میں بھی رکھ سکتا ہے۔ توجہ ہے؟ تو سفر کے اندر احکام کی نرمی کا دارومدار کس پر تھا؟ مشقت پر۔ لیکن مشقت ایک امر باطنی ہے، اس کا ہمیں پتہ نہیں چل سکتا، لہٰذا حکم کا مدار مشقت پر رکھا ہی نہیں گیا بلکہ حکم کا مدار سفر پر رکھ دیا گیا، جو تین دن کی مسافت کا ارادہ کرے گا تو معلوم ہوا مشقت موجود ہے، جب مشقت موجود ہے تو احکام میں نرمی آ جائے گی۔ یہاں پر بھی اسی طرح ہے، یہاں پر بھی اسی طرح ہے کہ دیر سے اگر گواہی آئے تو گواہی کو قبول نہیں کرنا، اس کی بنیاد تھی دل کے کینے اور دشمنی پر، لیکن دل کا کینہ اور دشمنی وہ تو ایک امر باطنی ہے اس کا ہمیں پتہ نہیں چل سکتا، لہٰذا دیر سے آئے تو گواہی قبول نہیں کرنی اس حکم کا مدار خالص حق اللہ پر کر دیا گیا۔ اگر وہ حد خالص اللہ کا حق ہے تو گواہی دیر سے آئے تو قبول نہیں کرنی۔ نہیں توجہ؟ گواہی دیر سے آئے تو قبول نہیں کرتے، وجہ کیا تھی؟ دلوں میں بدگمانی آتی ہے کہ یہ کینہ یا دشمنی کر رہا ہے۔ لیکن یہ کینہ یا دشمنی کا تو پتہ نہیں چل سکتا، لہٰذا اس گواہی کو قبول نہیں کرنا اس حکم کا مدار خالص اللہ کا حق ہونے پر کر دیا گیا۔ جو حد بھی خالص اللہ کا حق ہے وہاں گواہی دیر سے آئے تو اسے قبول نہیں کریں گے، چاہے اس کے اندر کینے یا بغض کا احتمال ہو یا نہ ہو۔ جیسے سفر کے اندر مشقت ہو یا نہ ہو، بس جو تین دن کے مسافت کی نیت کرے گا وہ مسافر بن گیا، اس کے لیے یہ احکام ثابت ہو گئے۔ یہاں پر بھی جو حد خالص اللہ کا حق ہے تو دیر سے گواہی آئے تو گواہی قبول نہیں کریں گے چاہے وہاں پر کینے اور بغض کا احتمال ہو یا احتمال نہ ہو۔ یہاں اب چوری کے مسئلے میں آپ نے ہمیں کیا کہا؟ چوری کے مسئلے میں تو دعوی شرط ہے، تو لہٰذا جب دعوی شرط ہے تو دلوں میں بدگمانی نہیں آتی کہ یہ جو گواہوں نے تاخیر کی ہے یہ دشمنی کی وجہ سے تاخیر نہیں کی بلکہ دعوے میں تاخیر ہو گئی تھی اس لیے انہوں نے تاخیر کی ہے۔ تو چوری کے معاملے میں اگرچہ عذر موجود ہے گواہوں کے لیے جو ان سے تہمت کو ختم کر دیتا ہے کہ دعوی چونکہ دیر سے ہوا اس لیے گواہ بھی دیر سے آئے، انہوں نے جو دیر کی ہے دیر کے بعد یہ آئے ہیں یہ کسی کینے اور بغض کی وجہ سے نہیں آئے، تو چوری کے معاملے میں دعوی ضروری ہے اور اس دعوے کی وجہ سے گواہوں کو عذر مل گیا، معلوم ہوا ان کے دلوں میں کینہ نہیں، لیکن یہاں پر حکم کا دارومدار جو ہے وہ اب خالص اللہ کا حق ہونے پر کر دیا گیا، کینے پر اس حکم کا مدار ہی نہیں ہے، لہٰذا اس کو اب دیکھا ہی نہیں جائے گا کہ کینہ ہے یا کینہ نہیں۔ تو چوری کے مسئلے میں دعوی ہونا ضروری ہے، دعوے کی وجہ سے کینے کی تہمت نہیں آتی، کینے کی بدگمانی دلوں میں نہیں آتی، لیکن اس کینے پر حکم کا مدار رکھا ہی نہیں گیا، حکم کا مدار خالص اللہ کا حق ہونے پر رکھا گیا ہے اور چوری کی حد بھی خالص اللہ کا حق ہے تو یہاں پر بھی تو یہاں پر بھی تاخیر ہو گئی تو گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ الْحُكْمَ يُدَارُ عَلَى كَوْنِ الْحَدِّ حَقًّا لِلَّهِ تَعَالَى“ اور اس لیے کیونکہ اس حکم کا مدار اس حد کا اللہ کا حق ہونے پر ہے، اس حکم کا مدار اس حد کا اللہ کا حق ہونے پر ہے۔ کون سا حکم؟ کہ تاخیر سے آئے تو گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ الْحُكْمَ يُدَارُ عَلَى كَوْنِ الْحَدِّ حَقًّا لِلَّهِ تَعَالَى“ تو تاخیر کی صورت میں گواہی قبول نہ کرنے کا جو حکم ہے اس کا مدار اس حد کے اللہ کا حق ہونے پر ہے، ”فَلَا يُعْتَبَرُ وُجُودُ التُّهْمَةِ فِي كُلِّ فَرْدٍ“ لہٰذا اعتبار نہیں کیا جائے گا تہمت کے پائے جانے کا ہر فرد میں، تہمت ہو یا نہ ہو، بس جو بھی خالص اللہ کا حق ہے اس میں جب تاخیر ہو جائے گی تو گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔ جیسے سفر کے اندر تین دن کی مسافت ہے، مشقت ہو یا نہ ہو اس کو اب نہیں دیکھا جائے گا بلکہ ہر حال میں وہ سفر والے احکام ثابت ہو جائیں گے۔ تو یہ معنی ہے ”فَلَا يُعْتَبَرُ وُجُودُ التُّهْمَةِ فِي كُلِّ فَرْدٍ“ لہٰذا تہمت کے پائے جانے کا اعتبار نہیں کیا جائے گا ہر فرد کے اندر۔ تہمت کون سی تھی؟ کہ یہ کینے یا دشمنی کی وجہ سے گواہی دینے آیا ہے، اس تہمت کو نہیں دیکھا جائے گا، اس پر اب حکم کا مدار ہی نہیں ہے۔ آگے دیکھیے: ”وَلِأَنَّ السَّرِقَةَ تُقَامُ عَلَى اسْتِسْرَارٍ عَلَى غِرَّةٍ عَنِ الْمَالِكِ“ تیسرا جواب دے رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ السَّرِقَةَ تُقَامُ عَلَى اسْتِسْرَارٍ عَلَى غِرَّةٍ عَنِ الْمَالِكِ“، استسرار بھئی! اسْتَسَرَّ يَسْتَسِرُّ اسْتِسْرَارًا، اس کا معنی ہے چھپنا اور پوشیدہ ہونا، چھپنا اور پوشیدہ ہونا۔ اور ”غِرَّةٍ“، غِرَّۃ کہتے ہیں غفلت اور بے خبری کو۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ السَّرِقَةَ تُقَامُ“ اس لیے کیونکہ چوری جو ہے وہ قائم کی جاتی ہے یعنی چوری کی جاتی ہے، ”عَلَى اسْتِسْرَارٍ“ رازداری سے، رازداری کرتے ہوئے، آخر میں آ رہا ہے ”عَنِ الْمَالِكِ“ مالک سے۔ چوری کی جاتی ہے مالک سے چھپ کر، مالک سے پوشیدہ رکھ کر، ”عَلَى غِرَّةٍ“ غفلت پر، غفلت اور بے خبری میں۔ توجہ ہے؟ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ السَّرِقَةَ تُقَامُ عَلَى اسْتِسْرَارٍ“ اس لیے کیونکہ چوری جو ہے کی جاتی ہے ”عَلَى اسْتِسْرَارٍ“ رازداری سے، رازداری سے ”عَلَى غِرَّةٍ عَنِ الْمَالِكِ“۔ بھئی! یہ عبارت جوڑ لیں پھر آپ کے لیے ترجمہ آسان ہو گا، ویسے ترجمہ مشکل ہے۔ دیکھو: ”وَلِأَنَّ السَّرِقَةَ تُقَامُ“ اس لیے کیونکہ چوری قائم کی جاتی ہے، معنی یہ ہے چوری کی جاتی ہے، ”عَلَى اسْتِسْرَارٍ“ چھپ کر، رازداری سے، بھئی کس سے چھپ کر؟ کس سے رازداری سے؟ آخر میں آ رہا ہے ”عَنِ الْمَالِكِ“، تو یہ ”عَنِ الْمَالِكِ“ کا تعلق ”اسْتِسْرَارٍ“ سے ہے، مالک سے چھپ کر، چوری کی جاتی ہے مالک سے چھپ کر، اور درمیان میں آیا ”عَلَى غِرَّةٍ“ بے خبری میں، بے خبری پر اور غفلت پر۔ بے خبری اور غفلت کے اندر مالک سے چھپ کر چوری کی جاتی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ السَّرِقَةَ تُقَامُ“ اس لیے کیونکہ چوری جو ہے وہ کی جاتی ہے، ”عَلَى اسْتِسْرَارٍ عَلَى غِرَّةٍ عَنِ الْمَالِكِ“ مالک سے چھپ کر غفلت میں، بے خبری میں، ”فَيَجِبُ عَلَى الشَّاهِدِ إِعْلَامُهُ“ تو گواہ پر واجب ہے ”إِعْلَامُهُ“ اس مالک کو اطلاع دینا۔ ایک شخص نے ایک چور کو چوری کرتے ہوئے دیکھا تو گواہ پر واجب ہے کہ مالک کو جا کر بتلائے کہ فلاں شخص آپ کی چیز اٹھا کر لے گیا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”فَيَجِبُ عَلَى الشَّاهِدِ إِعْلَامُهُ“ تو گواہ پر واجب تھا اس مالک کو اطلاع دینا، ”وَبِالْكِتْمَانِ يَصِيرُ فَاسِقًا آثِمًا“ اور چھپانے کی وجہ سے یہ فاسق اور گناہگار ہو گیا۔ لہٰذا اس لیے بھی دیر سے اب اس کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔ گواہ کا کیا کام تھا؟ کہ مالک کو جا کر بتاتا کہ آپ کی چیز فلاں اٹھا کر لے گیا ہے، اور اس نے مالک کو جا کر نہیں بتایا، تو لہٰذا اس کی وجہ سے یہ کیا بن گیا؟ فاسق اور گناہگار بن گیا بھئی! کیونکہ جب تک مالک کو جا کر یہ بتائے گا نہیں، مالک کو کیا پتہ چلے گا؟ مالک کو تو اتنا پتہ ہے میری چیز چوری ہو گئی ہے، لیکن اس کو تو نہیں پتہ کہ اس پر کوئی گواہ بھی موجود ہے اور اس کو کون لے کر گیا ہے۔ تو اس کا کام تھا مالک کو جا کر اطلاع دیتا کہ اس بے چارے کا مال چوری ہوا ہے اور نیز تاکہ مالک کو بھی پتہ چل جائے کہ چوری پر باقاعدہ گواہ موجود ہیں، پھر ہی وہ دعوی کرے گا۔ اس نے تو اسی لیے دعوی نہیں کیا کیونکہ اس کے خیال میں کوئی گواہ ہی نہیں تھا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ معنی ہے ”فَيَجِبُ عَلَى الشَّاهِدِ إِعْلَامُهُ“ تو گواہ پر واجب تھا اس مالک کو اطلاع دینا، ”وَبِالْكِتْمَانِ يَصِيرُ فَاسِقًا آثِمًا“ اور اس گواہی کو چھپانے کی وجہ سے وہ فاسق اور گناہگار ہو گیا۔ تو دیکھو صاحب ہدایہ نے تین جوابات ذکر کیے۔ اعتراض یہ ہوتا تھا کہ وہ حدود جن میں دعوی شرط ہے وہاں پر اگر تاخیر بھی ہو جائے پھر بھی گواہی قبول کر لی جائے گی، تو اس پر اشکال ہوتا تھا چوری کی حد کے اندر بھی دعوی شرط ہے لیکن وہاں آپ کہتے ہیں تاخیر ہو جائے تو گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔ تو ایک جواب اس کا یہ دیا صاحب ہدایہ نے کہ چوری کی حد کے لیے دعوی ضروری ہے ہی نہیں، یہ جو دعوی ضروری ہے یہ مال کی وجہ سے شرط قرار دیا گیا ہے اور مال تو بندے کا حق ہے۔ اور دوسرا جواب یہ دیا کہ چوری کی حد جو ہے اس کے اندر تاخیر ہو جائے تو پھر گواہی کو قبول نہیں کیا جائے گا اس لیے کیونکہ گواہی کو جو قبول نہیں کیا جاتا اس کا دارومدار جو ہے کینے اور بغض پر ہے، لیکن کینہ اور بغض تو ایک امر باطنی ہے، لہٰذا گواہی قبول نہ کرنے کے حکم کا مدار جو ہے وہ خالص اللہ کا حق ہونے پر کر دیا گیا، لہٰذا اب جو بھی خالص اللہ کا حق ہے وہاں پر دیر ہو جائے تو گواہی قبول نہیں کی جائے گی، چاہے وہاں دیر کی وجہ سے دلوں میں بدگمانی آتی ہے یا نہیں آتی، جیسے سفر کا دارومدار مسافت پر کر دیا گیا اگرچہ اصل علت مشقت ہے لیکن مشقت کا چونکہ پتہ نہیں چل سکتا تھا تو اب حکم کا دارومدار تین دن کی مسافت پر کر دیا گیا اور اب مشقت کو دیکھیں گے ہی نہیں، اب جہاں بھی تین دن کی مسافت ہو گی سفر کے احکام ثابت ہو جائیں گے، وہاں پر علت کو نہیں دیکھا جائے گا کہ مشقت ہے یا نہیں ہے۔ اور پھر تیسرا جواب صاحب ہدایہ نے یہ دیا کہ چوری کے معاملے میں دیر سے گواہی آئے تو اس کو قبول نہیں کیا جائے گا کیونکہ گواہ فاسق ہو چکے ہیں۔ ان کا کام تھا مالک کو جا کر بتلاتے لیکن انہوں نے مالک کو نہیں بتایا تو یہ فاسق ہو گئے، لہٰذا ان کی گواہی اب قبول نہیں کی جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ آگے دیکھیے: کہتے ہیں: ”ثُمَّ التَّقَادُمُ كَمَا يَمْنَعُ قَبُولَ الشَّهَادَةِ فِي الِابْتِدَاءِ يَمْنَعُ الْإِقَامَةَ بَعْدَ الْقَضَاءِ عِنْدَنَا“۔ بھئی! انہوں نے آپ کو بتلا دیا حدود کے مسئلے میں اگر گواہی پرانی ہو گئی تو پھر گواہی نہیں سنی جائے گی۔ اسی طرح یاد رکھو اگر اگر قاضی نے حد کا فیصلہ کر دیا، گواہی جلدی آ گئی اور قاضی نے حد کا فیصلہ بھی کر دیا لیکن پھر حد قائم کرنے میں تاخیر ہو گئی تب بھی حد ساقط ہو جائے گی۔ جیسے گواہی دیر سے آنے پر حد ساقط ہو جاتی تھی، اسی طرح اگر قاضی کے فیصلے کے بعد حد نافذ کرنے میں تاخیر ہو گئی تب بھی حد ساقط ہو جائے گی۔ مثلاً، مثلاً ایک چور جو ہے ایک چور پر چوری ثابت ہو گئی اور قاضی نے فیصلہ کر دیا اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے، لیکن وہ چور جو ہے وہ جیل سے بھاگ گیا اور پھر دو تین مہینے بعد پھر دوبارہ پکڑا گیا تو یاد رکھو اب اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا کیونکہ کیونکہ حد کے قائم کرنے میں تاخیر ہو گئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ یاد رکھو، یاد رکھو، حدود کے مسئلے میں حد کو جاری کرنا یہ بھی قضاء کا حصہ ہے۔ عام معاملات کے برعکس، حدود کے مسئلے میں حد کا نافذ کرنا یہ بھی قضاء کا حصہ ہے۔ ایک تو چار گواہ آئے پھر قاضی نے فیصلہ کر دیا کہ اس آدمی کا ہاتھ کاٹ دیا جائے، یہ ہے قاضی کا فیصلہ۔ اس کے بعد اب اس گواہ کا ہاتھ کاٹا جائے گا، یاد رکھو یہ جو گواہ کا ہاتھ کاٹنا ہے یہ بھی قاضی کے فیصلے کا حصہ ہے۔ یہ بھی قاضی کے فیصلے کا حصہ ہے۔ جیسے گواہی دیر سے آئی تھی تو قاضی فیصلہ ہی نہیں کر سکتا تھا، اسی طرح اگر حد کے قائم کرنے میں دیر ہو گئی تو حد کو نافذ کرنا بھی تو قضاء یعنی قاضی کے فیصلے کا حصہ تھا تو یہاں بھی قاضی کے فیصلے میں تاخیر ہو گئی، لہٰذا اب حد ساقط ہو جائے گی۔ توجہ ہے؟ پھر سنو۔ وہ حدود جو خالص اللہ کا حق ہیں ان کے اندر اگر گواہی دیر سے آئے تو گواہی قبول نہیں کی جاتی، فیصلہ ہی نہیں کیا جا سکتا وہاں۔ تو معلوم ہوا گواہی میں تاخیر ہو جائے تو قضاء نہیں، قضاء قضاء کا کیا معنی؟ قاضی کا فیصلہ۔ تو قضاء نہیں اور یہاں پر حد کو نافذ کرنا یہ بھی کس کا حصہ ہے؟ قضاء کا۔ تو لہٰذا اگر حد کے نافذ کرنے میں بھی تاخیر ہو گئی تو یوں سمجھو تاخیر ہو گئی، ابھی تک قضاء نہیں، ابھی تک قاضی کا فیصلہ نہیں ہوا تو حد ساقط ہو جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: ”ثُمَّ التَّقَادُمُ كَمَا يَمْنَعُ قَبُولَ الشَّهَادَةِ فِي الِابْتِدَاءِ“ پھر پرانا ہونا جیسے یہ قبول شہادت کو منع کرتا ہے فی الابتداء، ابتدا میں۔ اگر بات پرانی ہو جائے تو پھر ابتدا کے اندر ہی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”ثُمَّ التَّقَادُمُ كَمَا يَمْنَعُ قَبُولَ الشَّهَادَةِ فِي الِابْتِدَاءِ“ پھر پرانا ہونا جیسے یہ ابتدا کے اندر قبول شہادت سے مانع ہے، اس کو منع کرتا ہے، ”يَمْنَعُ الْإِقَامَةَ بَعْدَ الْقَضَاءِ عِنْدَنَا“ اسی طرح پرانا ہونا یہ حد کو قائم کرنے سے بھی منع کرتا ہے بعد القضاء، قاضی کے فیصلے کے بعد۔ قاضی کے فیصلے کے بعد اگر حد کے قائم کرنے میں بھی زمانہ زیادہ گزر گیا تو اب حد بھی قائم نہیں کی جا سکتی، ساقط ہو جائے گی۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: ”ثُمَّ التَّقَادُمُ كَمَا يَمْنَعُ قَبُولَ الشَّهَادَةِ فِي الِابْتِدَاءِ“ پھر پرانا ہونا جیسے ابتدا کے اندر منع کرتا ہے شہادت کو قبول کرنے سے، ”يَمْنَعُ الْإِقَامَةَ بَعْدَ الْقَضَاءِ عِنْدَنَا“ تو اسی طرح پرانا ہونا قاضی کے فیصلے کے بعد حد کے قائم کرنے کو بھی منع کرتا ہے عندنا، ہمارے نزدیک، ”خِلَافًا لِزُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ بخلاف امام زفر رحمہ اللہ کے۔ وہ فرماتے ہیں کہ جب ایک دفعہ قاضی نے فیصلہ کر دیا اب چاہے حد کے جاری کرنے میں تاخیر ہی کیوں نہ ہو جائے، حد قائم کی جائے گی۔ ہم کہتے ہیں نہیں، قاضی کے فیصلہ کرنے کے بعد اگر حد میں تاخیر ہو گئی تو پھر بھی حد ساقط ہو جائے گی۔ ”حَتَّى لَوْ هَرَبَ بَعْدَ مَا ضُرِبَ بَعْضُ الْحَدِّ“ صورت یہ ہے، مثلاً کسی کو حد زنا لگائی جا رہی ہے اور وہ غیر محسن ہے، غیر شادی شدہ ہے تو اس کی سزا سو کوڑے ہیں۔ اس کو کوڑے لگائے جا رہے تھے، ابھی بیس تیس کوڑے لگے تھے کہ اچانک وہ بھاگ گیا بھئی، بھاگ گیا اور پتہ ہی نہیں چلا کدھر گیا، پھر اس کے بعد وہ ایک دو ماہ کے بعد وہ پکڑا گیا تو کہتے ہیں اب بات پرانی ہو چکی ہے، لہٰذا اب حد ساقط ہو گئی ہے، اب حد جاری نہیں کی جائے گی۔ کہتے ہیں: ”حَتَّى لَوْ هَرَبَ بَعْدَ مَا ضُرِبَ بَعْضُ الْحَدِّ“ یہاں تک کہ وہ شخص جس پر حد تھی اگر وہ بھاگ گیا ”بَعْدَ مَا ضُرِبَ بَعْضُ الْحَدِّ“ بعد اس کے کہ جب اس کو کچھ حد لگا دی گئی تھی، ”ثُمَّ أُخِذَ بَعْدَ مَا تَقَادَمَ الزَّمَانُ“ پھر اس کو پکڑ لیا گیا بعد اس کے کہ جب زمانہ پرانا ہو گیا تھا یعنی ایک دو ماہ بعد پکڑا گیا، ”لَا يُقَامُ عَلَيْهِ الْحَدُّ“ تو اس پر حد قائم نہیں کی جائے گی، ”لِأَنَّ الْإِمْضَاءَ مِنَ الْقَضَاءِ“ إمضاء بھئی! ضاد کے ساتھ ہے، امضاء کا معنی ہے نافذ کرنا۔ ”لِأَنَّ الْإِمْضَاءَ“ اس لیے کیونکہ حد کو نافذ کرنا ”مِنَ الْقَضَاءِ“ یہ بھی قضاء میں سے ہے، یہ بھی قاضی کے فیصلے کا حصہ ہے۔ ادھر دیکھو، جب گواہی میں دیر ہو جائے تو قاضی فیصلہ کر ہی نہیں سکتا، اسی طرح اگر حد کے وصول کرنے میں دیر ہو گئی تو بھی گویا قاضی کے فیصلے میں دیر ہو گئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْإِمْضَاءَ مِنَ الْقَضَاءِ“ اس لیے کیونکہ حد کا نافذ کرنا یہ بھی قضاء میں سے ہے یعنی قاضی کے فیصلے کا حصہ ہے یعنی اسی کا تتمہ ہے۔ حد جب نافذ کریں گے تو قاضی کا فیصلہ پورا ہو گا۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْإِمْضَاءَ مِنَ الْقَضَاءِ فِي بَابِ الْحُدُودِ“ اس لیے کیونکہ حد کو نافذ کرنا یہ قاضی کے فیصلے میں سے ہے فی باب الحدود، حدود کے باب میں، ہر جگہ ایسا نہیں ہے صرف حدود کے باب میں امضاء جو ہے یعنی حد کو نافذ کرنا یہ بھی قضاء ہی کا حصہ ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: ”وَاخْتَلَفُوا فِي حَدِّ التَّقَادُمِ“ بھئی! میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ کتنا زمانہ گزر جائے تو بات پرانی ہو جاتی ہے؟ میں نے بتایا بعض فقہاء کیا فرماتے ہیں؟ چھ ماہ۔ اور اسی کی طرف اشارہ ہے جامع صغیر کی عبارت میں بھی، جامع صغیر کی عبارت انہوں نے ذکر کی تھی کہ ”وَإِذَا شَهِدَ عَلَيْهِ الشُّهُودُ بِسَرِقَةٍ أَوْ بِشُرْبِ خَمْرٍ أَوْ بِزِنًى بَعْدَ حِينٍ“، حین کا لفظ وہاں ذکر تھا اور حین کا لفظ مطلقاً ذکر ہو بغیر نیت کے تو اس سے کیا مراد ہوتا ہے؟ چھ ماہ کی مدت مراد ہوتی ہے۔ تو اس لیے بعض فقہاء نے کہا چھ ماہ کی مدت ہو گی، چھ ماہ گزر جائے تو یہ بات پرانی ہو گئی۔ لیکن آپ کو صاحب ہدایہ بتلائیں گے کہ زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ ایک ماہ گزر جائے تو بات پرانی ہو گئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَاخْتَلَفُوا فِي حَدِّ التَّقَادُمِ“ اور فقہاء نے اختلاف کیا ہے پرانا ہونے کی حد میں، ”وَأَشَارَ فِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ إِلَى سِتَّةِ أَشْهُرٍ“ اور امام محمد رحمہ اللہ نے جامع صغیر میں اشارہ فرمایا ہے چھ ماہ کی طرف، ”فَإِنَّهُ قَالَ“ اس لیے کیونکہ جامع صغیر میں انہوں نے فرمایا ہے ”بَعْدَ حِينٍ“، یہ بعد حین فرمایا ہے، ”وَهَكَذَا أَشَارَ الطَّحَاوِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى“ اور اسی طرح امام طحاوی رحمہ اللہ نے بھی اشارہ فرمایا ہے یعنی انہوں نے بھی چھ ماہ کی طرف اشارہ فرمایا ہے، ”وَأَبُو حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى لَمْ يُقَدِّرْ فِي ذَلِكَ“ قَدَّرَ يُقَدِّرُ تَقْدِير کا معنی مقرر کرنا بھی، اور قَدَّرَ يُقَدِّرُ تَقْدِير کا معنی اندازہ لگانا بھی، تو موقع محل کے مطابق جو ترجمہ مناسب بنتا ہو وہ کریں گے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَأَبُو حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام صاحب جو ہیں ”لَمْ يُقَدِّرْ فِي ذَلِكَ“ انہوں نے کوئی حد مقرر نہیں فرمائی، ”وَفَوَّضَهُ إِلَى رَأْيِ الْقَاضِي فِي كُلِّ عَصْرٍ“ اور انہوں نے سپرد کیا ہے اس کو ہر زمانے کے اندر قاضی کی رائے کے، تو کہتے ہیں: ”وَفَوَّضَهُ إِلَى رَأْيِ الْقَاضِي فِي كُلِّ عَصْرٍ“ اور امام صاحب نے اس کو ہر زمانے کے اندر قاضی کی رائے کے سپرد کیا ہے کہ ہر زمانے کا جو قاضی ہے اس کی رائے کے مطابق عمل کیا جائے گا۔ ”وَعَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے ”أَنَّهُ قَدَّرَهُ بِشَهْرٍ“ کہ انہوں نے اس کا اندازہ لگایا ہے ایک مہینے کے ساتھ کہ ایک مہینہ گزر جائے تو بات پرانی ہو گئی، ”لِأَنَّ مَا دُونَهُ عَاجِلٌ“ اس لیے کیونکہ مہینے سے جو کم ہے عاجل وہ تو جلدی ہے، ”وَهُوَ رِوَايَةٌ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ“ اور یہی ایک روایت ہے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے، ”وَهُوَ الْأَصَحُّ“ اور یہی قول زیادہ صحیح ہے کہ ایک مہینہ گزر جائے تو بات پرانی ہو گئی۔ ”وَهَذَا إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ الْقَاضِي وَبَيْنَهُمْ مَسِيرَةُ شَهْرٍ“ اور یہ اس وقت ہے یعنی گواہی کا پرانا ہو جانا اس وقت ہے جب قاضی اور گواہوں کے درمیان ایک ماہ کی دوری نہ ہو، اگر ایک ماہ کی دوری ہے پھر عذر موجود ہے۔ کہتے ہیں: ”وَهَذَا إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ الْقَاضِي وَبَيْنَهُمْ مَسِيرَةُ شَهْرٍ“ اور یہ اس وقت ہے جب قاضی اور گواہوں کے درمیان ایک ماہ کی مسافت نہ ہو، ”أَمَّا إِذَا كَانَ“ اور اگر اتنی مسافت ہے یعنی ایک ماہ کی مسافت ہے ”تُقْبَلُ شَهَادَتُهُمْ“ تو پھر ان کی گواہی قبول کی جائے گی، ”لِأَنَّ الْمَانِعَ بُعْدُهُمْ عَنِ الْإِمَامِ“ اس لیے کیونکہ مانع جو تھا وہ امام سے ان کی دوری تھی، وہ امام سے دور رہتے تھے اتنی جلدی آ ہی نہیں سکتے تھے، ”فَلَا يَتَحَقَّقُ التُّهْمَةُ“ تو تہمت نہیں پائی جائے گی، جب دور رہتے ہیں تو تہمت نہیں پائی جائے گی، دلوں میں بدگمانی نہیں آئے گی۔ ”وَالتَّقَادُمُ فِي حَدِّ الشُّرْبِ كَذَلِكَ“ بھئی! آگے حد شرب خمر کا باب آنے والا ہے، اس کے اندر بھی یاد رکھو کسی پر شراب پینے کی وجہ سے حد جاری کی جائے گی تو وہاں بھی زمانے کو دیکھا جائے گا، اگر بات پرانی ہو گئی تو پھر وہ حد شرب خمر بھی ساقط ہو جائے گی، شراب پینے کی حد بھی ساقط ہو جائے گی پھر گواہی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ تو وہاں پر کتنا زمانہ گزرے کہ کہیں گے بات پرانی ہو گئی؟ تو امام محمد رحمہ اللہ وہاں بھی فرماتے ہیں اگر ایک مہینہ گزر گیا تو بات پرانی ہو گئی، ایک مہینے سے کم ہے تو پھر حد جاری کی جائے گی۔ جبکہ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ حد شرب خمر کے اندر اگر شراب پینے والے کے منہ سے شراب کی بو ختم ہو گئی تو بات پرانی ہو گئی۔ معلوم ہوا ایک آدھ دن کے اندر ہی حد لگ سکتی ہے، اس کے بعد بات پرانی ہو گئی پھر گواہی نہیں سنی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالتَّقَادُمُ فِي حَدِّ الشُّرْبِ كَذَلِكَ عِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور شرب خمر کی حد کے اندر زمانے کا پرانا ہونا اسی طرح ہے امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک یعنی ایک مہینہ ہے، ”وَعِنْدَهُمَا يُقَدَّرُ بِزَوَالِ الرَّائِحَةِ“ اور شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک اس کا اندازہ لگایا گیا ہے بو کے ختم ہونے کے ساتھ کہ شرابی کے منہ سے شراب کی بو ختم ہو جائے، ”عَلَى مَا يَأْتِي فِي بَابِهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى“ اس وجہ سے جو اس کے باب میں آ جائے گا ان شاء اللہ تعالیٰ، وہ وجہ آگے ذکر کریں گے صاحب ہدایہ بھئی۔ آگے دیکھیے: ”وَإِذَا شَهِدُوا عَلَى رَجُلٍ أَنَّهُ زَنَى بِفُلَانَةَ وَفُلَانَةُ غَائِبَةٌ فَإِنَّهُ يُحَدُّ وَإِنْ شَهِدُوا أَنَّهُ سَرَقَ مِنْ فُلَانٍ وَهُوَ غَائِبٌ لَمْ يُقْطَعْ“ میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں کہ ”فُلَانَةُ“ کا لفظ غیر منصرف ہے کیونکہ فلاں اور فلانہ یہ کنایہ ہوتے ہیں کسی علم سے، تو یہ علم کے درجے میں ہیں تو یہاں دو سبب آ گئے: ”فُلَانَةُ“ کے اندر ایک تو علمیت آ گئی کیونکہ علم کے درجے میں ہے، اور دوسری تانیث آ گئی تو یہ غیر منصرف ہے بھئی۔ صورت مسئلہ یہ کہ گواہوں نے گواہی دی کہ یہ جو فلاں آدمی ہے اس نے فلانی عورت کے ساتھ زنا کیا ہے، اب وہ مرد تو قاضی کے پاس موجود ہے لیکن وہ فلانی عورت موجود نہیں، کہتے ہیں پھر بھی اس شخص پر حد زنا جاری کر دی جائے گی۔ اور جبکہ اس کے مقابلے میں اگر گواہوں نے گواہی دی کہ ایک شخص نے چوری کی ہے اور حال یہ ہے کہ جس کا مال چوری کیا گیا تھا وہ موجود نہیں تو پھر اس صورت میں چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، کیونکہ چوری کے مسئلے میں دعوی ضروری ہے اور مالک ہی نہیں ہے تو دعوی نہیں ہے، جب دعوی نہیں ہے تو حد بھی ثابت نہیں ہو سکتی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا شَهِدُوا عَلَى رَجُلٍ“ اور جب گواہوں نے گواہی دی ایک آدمی کے خلاف ”أَنَّهُ زَنَى بِفُلَانَةَ“ کہ اس آدمی نے فلانی عورت سے زنا کیا ہے ”وَفُلَانَةُ غَائِبَةٌ“ اور حال یہ ہے کہ وہ فلانی عورت جو ہے غائب ہے، ”فَإِنَّهُ يُحَدُّ“ تو اس آدمی پر حد جاری کی جائے گی، ”وَإِنْ شَهِدُوا أَنَّهُ سَرَقَ مِنْ فُلَانٍ“ اور اگر گواہوں نے گواہی دی کہ اس نے فلاں آدمی سے چوری کی ہے ”وَهُوَ غَائِبٌ“ اور حال یہ ہے کہ وہ شخص غائب ہے یعنی جس کا مال چوری ہوا ہے، وہ جو مال کا مالک ہے وہ غائب ہے، ”لَمْ يُقْطَعْ“ تو چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ ”وَالْفَرْقُ“ اور فرق یہ ہے دونوں مسئلوں میں ”أَنَّ بِالْغَيْبَةِ يَنْعَدِمُ الدَّعْوَى“ کہ غائب ہونے سے دعوی معدوم ہو گیا، جب مال کا مالک غائب ہے تو دعوی معدوم ہے، اور چوری کے اندر تو دعوی شرط تھا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْفَرْقُ“ اور دونوں مسئلوں میں فرق یہ ہے ”أَنَّ بِالْغَيْبَةِ يَنْعَدِمُ الدَّعْوَى“ کہ غیر موجودگی کی وجہ سے دعوی معدوم ہو جاتا ہے، ”وَهِيَ شَرْطٌ فِي السَّرِقَةِ دُونَ الزِّنَا“ اور دعوی شرط ہے چوری میں نہ کہ زنا میں، ”وَبِالْحُضُورِ يُتَوَهَّمُ دَعْوَى الشُّبْهَةِ وَلَا مُعْتَبَرَ بِالْمَوْهُومِ“ یہ جگہ اچھی طرح سمجھ لیں بھئی۔ بھئی یاد رکھو، حدود جو ہیں حدود، شبہے کی وجہ سے ساقط ہو جاتی ہیں، لیکن ایک ہے شبہۃ الشبہہ، شبہے کا شبہ ہو جانا، اس کی وجہ سے حد ساقط نہیں ہو گی۔ شبہے کی وجہ سے تو حد ساقط ہو جائے گی لیکن شبہۃ الشبہہ یعنی شبہے کا شبہ ہو جائے تو اس صورت میں حد ساقط نہیں ہو گی۔ اور یہاں پر بھی شبہے کا شبہ موجود ہے۔ چار گواہوں نے گواہی دے دی کہ یہ جو آدمی ہے اس نے فلانی عورت کے ساتھ زنا کیا تھا، اور وہ فلانی عورت یہاں موجود نہیں، تو اس صورت میں حد جاری کر دی جائے گی۔ تو اعتراض ہوتا ہے کہ یہاں حد کیسے جاری کی جائے گی؟ یہاں شبہ موجود ہے، اگر وہ عورت یہاں موجود ہوتی تو ہو سکتا ہے وہ کہہ دیتی ہمارا تو نکاح ہوا تھا، ہمارا تو نکاح ہوا تھا، اور آپ نے پڑھا تھا کہ زانی اور مزنیہ دونوں کا زنا پر اتفاق ہو پھر ہی حد آئے گی، اگر دونوں میں سے ایک بھی نکاح کی بات کر دے تو حد ساقط ہو جائے گی۔ تو یہاں پر بھی شبہ آتا ہے کہ اگر وہ عورت موجود ہوتی وہ شاید نکاح کا دعوی کر دیتی تو حد ساقط ہو جاتی۔ تو جواب اس کا دیتے ہیں صاحب ہدایہ کہ بھئی! یہاں پر شبہ ہونے کا صرف وہم ہے، شبہ ہونے کا صرف احتمال ہے یعنی یہ شبہۃ الشبہہ ہے۔ نہیں بات سمجھ میں آئی؟ وہ عورت اگر یہاں ہوتی اور پھر وہ نکاح کا دعوی کرتی تو پھر شبہے نے آنا تھا، اور ابھی تو نہ وہ عورت ہے نہ اس نے کوئی دعوی کیا ہے، تو یہاں کوئی شبہ نہیں ہے صرف شبہے کا ایک احتمال ہے، صرف شبہے کا وہم ہوتا ہے اور وہمی چیز کا کوئی اعتبار نہیں، اور اسی کو شبہۃ الشبہہ کہا جاتا ہے کہ شبہ ہونے کا شبہ ہے یہاں پر، شبہ ہے تو نہیں لیکن شبہ ہونے کا شبہ ہے یعنی احتمال ہے۔ تو یاد رکھو ہمیشہ جگہ جگہ کتابوں کے اندر یہ ذکر آئے گا کہ حد جو ہے شبہے سے ساقط ہوتی ہے لیکن شبہۃ الشبہہ کی وجہ سے ساقط نہیں ہوتی، تو وہاں انسان ذرا پریشان ہو جاتا ہے کہ شبہۃ الشبہہ کا کیا معنی؟ تو وہ صاحب ہدایہ نے بیان فرما دیا کہ شبہ ہے نہیں لیکن شبہ ہونے کا احتمال ہے، وہم ہے، تو اس کا کوئی اعتبار نہیں بھئی۔ توجہ ہے؟ تو شبہ ہو پھر تو وہ معتبر ہے، لیکن شبہے کا صرف ایک احتمال ہے، شبہے کا صرف شبہ ہے تو اس کا اعتبار نہیں ہے ورنہ تو حد قائم کرنے کی کوئی صورت ہی نہیں رہے گی۔ جہاں شبہے کا احتمال بھی آ جائے گا آپ کہیں گے حد ساقط ہو گئی، جیسے یہاں پر، چار گواہ بھی موجود ہیں، وہ آدمی بھی موجود ہے، ہاں وہ عورت ہوتی تو اس میں ضروری تو نہیں تھا وہ کہہ دیتی کہ میں نے نکاح کیا ہے، یہ بھی تو ہو سکتا ہے وہ نکاح کی بات ہی نہ کرتی۔ توجہ ہے؟ تو اگر وہ عورت ہوتی تو پھر شبہ ہو سکتا تھا، جب وہ عورت نہیں ہے تو شبہے کا صرف احتمال ہے، شبہے کا صرف ایک وہم ہو رہا ہے یعنی شبہۃ الشبہہ ہے، شبہ ہونے کا شبہ ہو رہا ہے تو اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ تو شبہۃ الشبہہ کہیں تو بات ذرا مشکل لگتی ہے، ہے یہ شبہۃ الشبہہ، لیکن دوسرے لفظوں میں یوں کہو شبہے کا احتمال ہے یہاں پر، اور احتمال کی طرف تو نظر نہیں کی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَبِالْحُضُورِ يُتَوَهَّمُ دَعْوَى الشُّبْهَةِ“ اور اس عورت کی موجودگی کی صورت میں ”يُتَوَهَّمُ دَعْوَى الشُّبْهَةِ“ شبہے کے دعوے کا وہم ہوتا ہے یعنی شبہے کے دعوے کا احتمال، اگر وہ عورت ہوتی اور وہ پھر دعوی بھی کر دیتی پھر شبہ آنا تھا لیکن فی الحال تو شبہ نہیں، ہاں اس شبہے کا احتمال ہے اگر ہوتی تو یہ شبہ آ سکتا تھا۔ معلوم ہوا اس وقت شبہ نہیں صرف شبہے کا احتمال ہے اور احتمال شبہ کی طرف نہیں دیکھا جائے گا یعنی شبہۃ الشبہہ کی طرف نہیں دیکھا جائے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَبِالْحُضُورِ يُتَوَهَّمُ دَعْوَى الشُّبْهَةِ وَلَا مُعْتَبَرَ بِالْمَوْهُومِ“ اور اس عورت کی موجودگی کی وجہ سے شبہے کے دعوے کا وہم ہوتا ہے ”وَلَا مُعْتَبَرَ بِالْمَوْهُومِ“ اور موہوم چیز کا کوئی اعتبار نہیں یعنی وہمی چیز کا کوئی اعتبار نہیں، یہ تو ایک وہمی چیز ہے یہاں حقیقت میں کوئی شبہ موجود نہیں ہے بھئی۔ ”وَإِنْ شَهِدُوا أَنَّهُ زَنَى بِامْرَأَةٍ لَا يَعْرِفُونَهَا لَمْ يُحَدَّ“ صورت مسئلہ یہ کہ چار گواہ ہیں اور انہوں نے گواہی دے دی کہ یہ جو آدمی ہے اس نے ایک عورت سے زنا کیا ہے، ہم اس عورت کو تو نہیں جانتے ہاں اس کو ہم جانتے ہیں، تو کیا اس صورت میں حد آئے گی یا نہیں؟ کہتے ہیں نہیں اس صورت میں حد ثابت نہیں، کیونکہ ہو سکتا ہے وہ اس کی باندی ہو، ہو سکتا ہے وہ اس کی بیوی ہو بھئی۔ تو جب تک عورت کا نہیں پتہ زنا کا ہونا یقینی نہیں، لہٰذا حد ساقط ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ شَهِدُوا“ اور اگر گواہوں نے گواہی دی ”أَنَّهُ زَنَى بِامْرَأَةٍ لَا يَعْرِفُونَهَا“ کہ اس شخص نے زنا کیا ہے ایک ایسی عورت سے جسے وہ نہیں جانتے ”لَمْ يُحَدَّ“ تو اس شخص پر حد نہیں آئے گی، ”لِاحْتِمَالِ أَنَّهَا امْرَأَتُهُ أَوْ أَمَتُهُ“ اس لیے کیونکہ یہ احتمال بھی ہے کہ ہو سکتا ہے وہ اس کی بیوی ہو یا اس کی باندی ہو، ”بَلْ هُوَ الظَّاهِرُ“ بلکہ یہی ظاہر ہے۔ ظاہر یہی ہے کہ یہ اس کی بیوی یا باندی ہو گی کیونکہ مسلمان کے حال کو خیر پر محمول کرنا چاہیے بھئی۔ ”وَإِنْ أَقَرَّ بِذَلِكَ حُدَّ“ اور اگر اس نے خود یہ اقرار کیا پھر حد لگائی جائے گی۔ اس نے خود اقرار کیا کہ قاضی صاحب! ایک عورت کے ساتھ میں نے زنا کیا جسے میں نہیں جانتا، جب یہ خود کہہ رہا ہے میں نہیں جانتا معلوم ہوا وہ اس کی بیوی یا باندی نہیں ہے تو اب حد جاری کی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ أَقَرَّ بِذَلِكَ حُدَّ“ اور اگر اس نے خود اس بات کا اقرار کیا کہ اس نے ایک ایسی عورت سے زنا کیا ہے جسے وہ نہیں جانتا تو ”حُدَّ“ تو اس کو حد لگائی جائے گی، ”لِأَنَّهُ لَا يَخْفَى عَلَيْهِ أَمَتُهُ أَوِ امْرَأَتُهُ“ اس لیے کیونکہ اس پر تو اس کی باندی یا بیوی مخفی نہیں ہے۔ چلیے بس بھئی، بات سمجھ میں آ گئی، حل ہو گیا، چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔ لہٰذا اعتبار نہیں کیا جائے گا تہمت کے پائے جانے کا ہر فرد میں، تہمت ہو یا نہ ہو۔ بس جو بھی خالص اللہ کا حق ہے، اس میں جب تاخیر ہو جائے گی تو گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔ جیسے سفر کے اندر تین دن کی مسافت ہے، مشقت ہو یا نہ ہو اس کو اب نہیں دیکھا جائے گا، بلکہ ہر حال میں وہ سفر والے احکام ثابت ہو جائیں گے۔ تو یہ معنی ہے: ”فَلَا يُعْتَبَرُ وُجُودُ التُّهْمَةِ فِي كُلِّ فَرْدٍ“، لہٰذا تہمت کے پائے جانے کا اعتبار نہیں کیا جائے گا ہر فرد کے اندر۔ تہمت کون سی تھی؟ کہ یہ کینے یا دشمنی کی وجہ سے گواہی دینے آیا ہے، اس تہمت کو نہیں دیکھا جائے گا۔ اس پر اب حکم کا مدار ہی نہیں ہے۔ آگے دیکھیے: ”وَلِأَنَّ السَّرِقَةَ تُقَامُ عَلَى اسْتِسْرَارٍ عَلَى غِرَّةٍ عَنِ الْمَالِكِ“، تیسرا جواب دے رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ السَّرِقَةَ تُقَامُ عَلَى اسْتِسْرَارٍ عَلَى غِرَّةٍ عَنِ الْمَالِكِ“۔ استسرار بھئی، ”اِسْتَسَرَّ يَسْتَسِرُّ اِسْتِسْرَارًا“، اس کا معنی ہے چھپنا اور پوشیدہ ہونا۔ چھپنا اور پوشیدہ ہونا۔ اور ”غِرَّةٌ“، غرّۃ کہتے ہیں غفلت اور بے خبری کو۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ السَّرِقَةَ تُقَامُ“ اس لیے کیونکہ چوری جو ہے وہ قائم کی جاتی ہے یعنی چوری کی جاتی ہے، ”عَلَى اسْتِسْرَارٍ“ رازداری سے، رازداری کرتے ہوئے، آخر میں آ رہا ہے ”عَنِ الْمَالِكِ“ مالک سے۔ چوری کی جاتی ہے مالک سے چھپ کر، مالک سے پوشیدہ رکھ کر، ”عَلَى غِرَّةٍ“ غفلت پر، غفلت اور بے خبری میں۔ توجہ ہے؟ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ السَّرِقَةَ تُقَامُ عَلَى اسْتِسْرَارٍ“ اس لیے کیونکہ چوری جو ہے کی جاتی ہے رازداری سے، رازداری سے ”عَلَى غِرَّةٍ عَنِ الْمَالِكِ“۔ بھئی یہ عبارت جوڑ لیں پھر آپ کے لیے ترجمہ آسان ہوگا ویسے ترجمہ مشکل ہے۔ دیکھو: ”وَلِأَنَّ السَّرِقَةَ تُقَامُ“ اس لیے کیونکہ چوری قائم کی جاتی ہے، معنی یہ ہے چوری کی جاتی ہے، ”عَلَى اسْتِسْرَارٍ“ چھپ کر، رازداری سے۔ بھئی کس سے چھپ کر؟ کس سے رازداری سے؟ آخر میں آ رہا ہے ”عَنِ الْمَالِكِ“، تو یہ ”عَنِ الْمَالِكِ“ کا تعلق استسرار سے ہے۔ مالک سے چھپ کر، چوری کی جاتی ہے مالک سے چھپ کر، اور درمیان میں آیا ”عَلَى غِرَّةٍ“ بے خبری میں، بے خبری پر اور غفلت پر۔ بے خبری اور غفلت کے اندر مالک سے چھپ کر چوری کی جاتی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ السَّرِقَةَ تُقَامُ عَلَى اسْتِسْرَارٍ عَلَى غِرَّةٍ عَنِ الْمَالِكِ“ اس لیے کیونکہ چوری جو ہے وہ کی جاتی ہے مالک سے چھپ کر غفلت میں، بے خبری میں۔ ”فَيَجِبُ عَلَى الشَّاهِدِ إِعْلَامُهُ“ تو گواہ پر واجب ہے اس مالک کو اطلاع دینا۔ ایک شخص نے ایک چور کو چوری کرتے ہوئے دیکھا تو گواہ پر واجب ہے کہ مالک کو جا کر بتلائے کہ فلاں شخص آپ کی چیز اٹھا کر لے گیا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”فَيَجِبُ عَلَى الشَّاهِدِ إِعْلَامُهُ“ تو گواہ پر واجب تھا اس مالک کو اطلاع دینا، ”وَبِالْكِتْمَانِ يَصِيرُ فَاسِقًا آثِمًا“ اور چھپانے کی وجہ سے یہ فاسق اور گنہگار ہو گیا۔ لہٰذا اس لیے بھی دیر سے اب اس کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔ گواہ کا کیا کام تھا؟ کہ مالک کو جا کر بتاتا کہ آپ کی چیز فلاں اٹھا کر لے گیا ہے، اور اس نے مالک کو جا کر نہیں بتایا، تو لہٰذا اس کی وجہ سے یہ کیا بن گیا؟ فاسق اور گنہگار بن گیا بھئی۔ کیونکہ جب تک مالک کو جا کر یہ بتائے گا نہیں، مالک کو کیا پتہ چلے گا؟ مالک کو تو اتنا پتہ ہے میری چیز چوری ہو گئی ہے، لیکن اس کو تو نہیں پتہ کہ اس پر کوئی گواہ بھی موجود ہے اور اس کو کون لے کر گیا ہے۔ تو اس کا کام تھا مالک کو جا کر اطلاع دیتا کہ اس بیچارے کا مال چوری ہوا ہے، اور نیز تاکہ مالک کو بھی پتہ چل جائے کہ چوری پر باقاعدہ گواہ موجود ہیں، پھر ہی وہ دعویٰ کرے گا۔ اس نے تو اسی لیے دعویٰ نہیں کیا کیونکہ اس کے خیال میں کوئی گواہ ہی نہیں تھا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ معنی ہے: ”فَيَجِبُ عَلَى الشَّاهِدِ إِعْلَامُهُ“ تو گواہ پر واجب تھا اس مالک کو اطلاع دینا، ”وَبِالْكِتْمَانِ يَصِيرُ فَاسِقًا آثِمًا“ اور اس گواہی کو چھپانے کی وجہ سے وہ فاسق اور گنہگار ہو گیا۔ تو دیکھو صاحبِ ہدایہ نے تین جوابات ذکر کیے۔ اعتراض یہ ہوتا تھا کہ وہ حدود جن میں دعویٰ شرط ہے، وہاں پر اگر تاخیر بھی ہو جائے پھر بھی گواہی قبول کر لی جائے گی۔ تو اس پر اشکال ہوتا تھا چوری کی حد کے اندر بھی دعویٰ شرط ہے، لیکن وہاں آپ کہتے ہیں تاخیر ہو جائے تو گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔ تو ایک جواب اس کا یہ دیا صاحبِ ہدایہ نے کہ چوری کی حد کے لیے دعویٰ ضروری ہے ہی نہیں، یہ جو دعویٰ ضروری ہے یہ مال کی وجہ سے شرط قرار دیا گیا ہے، اور مال تو بندے کا حق ہے۔ اور دوسرا جواب یہ دیا کہ چوری کی حد جو ہے اس کے اندر تاخیر ہو جائے تو پھر گواہی کو قبول نہیں کیا جائے گا، اس لیے کیونکہ گواہی کو جو قبول نہیں کیا جاتا اس کا دارومدار جو ہے کینے اور بغض پر ہے۔ لیکن کینہ اور بغض تو ایک امرِ باطنی ہے، لہٰذا گواہی قبول نہ کرنے کے حکم کا مدار جو ہے وہ خالص اللہ کا حق ہونے پر کر دیا گیا۔ لہٰذا اب جو بھی خالص اللہ کا حق ہے، وہاں پر دیر ہو جائے تو گواہی قبول نہیں کی جائے گی، چاہے وہاں دیر کی وجہ سے دلوں میں بدگمانی آتی ہے یا نہیں آتی۔ جیسے سفر کا دارومدار مسافت پر کر دیا گیا، اگرچہ اصل علت مشقت ہے لیکن مشقت کا چونکہ پتہ نہیں چل سکتا تھا تو اب حکم کا دارومدار تین دن کی مسافت پر کر دیا گیا اور اب مشقت کو دیکھیں گے ہی نہیں، اب جہاں بھی تین دن کی مسافت ہوگی سفر کے احکام ثابت ہو جائیں گے، وہاں پر علت کو نہیں دیکھا جائے گا کہ مشقت ہے یا نہیں ہے۔ اور پھر تیسرا جواب صاحبِ ہدایہ نے یہ دیا کہ چوری کے معاملے میں دیر سے گواہی آئے تو اس کو قبول نہیں کیا جائے گا کیونکہ گواہ فاسق ہو چکے ہیں۔ ان کا کام تھا مالک کو جا کر بتلاتے لیکن انہوں نے مالک کو نہیں بتایا تو یہ فاسق ہو گئے، لہٰذا ان کی گواہی اب قبول نہیں کی جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ آگے دیکھیے، کہتے ہیں: ”ثُمَّ التَّقَادُمُ كَمَا يَمْنَعُ قَبُولَ الشَّهَادَةِ فِي الِابْتِدَاءِ يَمْنَعُ الْإِقَامَةَ بَعْدَ الْقَضَاءِ عِنْدَنَا“۔ بھئی انہوں نے آپ کو بتلا دیا حدود کے مسئلے میں اگر گواہی پرانی ہو گئی تو پھر گواہی نہیں سنی جائے گی۔ اسی طرح یاد رکھو اگر قاضی نے حد کا فیصلہ کر دیا، گواہی جلدی آ گئی اور قاضی نے حد کا فیصلہ بھی کر دیا، لیکن پھر حد قائم کرنے میں تاخیر ہو گئی تب بھی حد ساقط ہو جائے گی۔ جیسے گواہی دیر سے آنے پر حد ساقط ہو جاتی تھی، اسی طرح اگر قاضی کے فیصلے کے بعد حد نافذ کرنے میں تاخیر ہو گئی تب بھی حد ساقط ہو جائے گی۔ مثلاً مثلاً ایک چور جو ہے، چور پر چوری ثابت ہو گئی اور قاضی نے فیصلہ کر دیا اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے، لیکن وہ چور جو ہے وہ جیل سے بھاگ گیا اور پھر دو تین مہینے بعد پھر دوبارہ پکڑا گیا تو یاد رکھو اب اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا، کیونکہ حد کے قائم کرنے میں تاخیر ہو گئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یاد رکھو یاد رکھو، حدود کے مسئلے میں حد کو جاری کرنا یہ بھی قضاء کا حصہ ہے۔ عام معاملات کے برعکس، حدود کے مسئلے میں حد کا نافذ کرنا یہ بھی قضاء کا حصہ ہے۔ ایک تو چار گواہ آئے، پھر قاضی نے فیصلہ کر دیا کہ اس آدمی کا ہاتھ کاٹ دیا جائے، یہ ہے قاضی کا فیصلہ۔ اس کے بعد اب اس گواہ کا ہاتھ کاٹا جائے گا، یاد رکھو یہ جب گواہ کا ہاتھ کاٹنا ہے یہ بھی قاضی کے فیصلے کا حصہ ہے۔ یہ بھی قاضی کے فیصلے کا حصہ ہے۔ جیسے گواہی دیر سے آئی تھی تو قاضی فیصلہ ہی نہیں کر سکتا تھا، اسی طرح اگر حد کے قائم کرنے میں دیر ہو گئی تو حد کو نافذ کرنا بھی تو قضاء یعنی قاضی کے فیصلے کا حصہ تھا تو یہاں بھی قاضی کے فیصلے میں تاخیر ہو گئی، لہٰذا اب حد ساقط ہو جائے گی۔ توجہ ہے؟ پھر سنو: وہ حدود جو خالص اللہ کا حق ہیں، ان کے اندر اگر گواہی دیر سے آئے تو گواہی قبول نہیں کی جاتی، فیصلہ ہی نہیں کیا جا سکتا وہاں۔ تو معلوم ہوا گواہی میں تاخیر ہو جائے تو قضاء نہیں، قضاء قضاء کا کیا معنی؟ قاضی کا فیصلہ۔ تو قضاء نہیں، اور یہاں پر حد کو نافذ کرنا یہ بھی کس کا حصہ ہے؟ قضاء کا۔ تو لہٰذا اگر حد کے نافذ کرنے میں بھی تاخیر ہو گئی تو یوں سمجھو تاخیر ہو گئی ابھی تک قضاء نہیں، ابھی تک قاضی کا فیصلہ نہیں ہوا تو حد ساقط ہو جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: ”ثُمَّ التَّقَادُمُ كَمَا يَمْنَعُ قَبُولَ الشَّهَادَةِ فِي الِابْتِدَاءِ“، پھر پرانا ہونا جیسے یہ قبولِ شہادت کو منع کرتا ہے فی الابتداء ابتدا میں۔ اگر بات پرانی ہو جائے تو پھر ابتدا کے اندر ہی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”ثُمَّ التَّقَادُمُ كَمَا يَمْنَعُ قَبُولَ الشَّهَادَةِ فِي الِابْتِدَاءِ“ پھر پرانا ہونا جیسے یہ ابتدا کے اندر قبولِ شہادت سے مانع ہے اس کو منع کرتا ہے، ”يَمْنَعُ الْإِقَامَةَ بَعْدَ الْقَضَاءِ عِنْدَنَا“ اسی طرح پرانا ہونا یہ حد کو قائم کرنے سے بھی منع کرتا ہے بعد القضاء قاضی کے فیصلے کے بعد۔ قاضی کے فیصلے کے بعد اگر حد کے قائم کرنے میں بھی زمانہ زیادہ گزر گیا تو اب حد بھی قائم نہیں کی جا سکتی، ساقط ہو جائے گی۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: ”ثُمَّ التَّقَادُمُ كَمَا يَمْنَعُ قَبُولَ الشَّهَادَةِ فِي الِابْتِدَاءِ“ پھر پرانا ہونا جیسے ابتدا کے اندر منع کرتا ہے شہادت کو قبول کرنے سے، ”يَمْنَعُ الْإِقَامَةَ بَعْدَ الْقَضَاءِ عِنْدَنَا“ تو اسی طرح پرانا ہونا قاضی کے فیصلے کے بعد حد کے قائم کرنے کو بھی منع کرتا ہے ہمارے نزدیک، ”خِلَافًا لِزُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ برخلاف امام زفر رحمہ اللہ کے۔ وہ فرماتے ہیں کہ جب ایک دفعہ قاضی نے فیصلہ کر دیا، اب چاہے حد کے جاری کرنے میں تاخیر ہی کیوں نہ ہو جائے حد قائم کی جائے گی۔ ہم کہتے ہیں نہیں، قاضی کے فیصلہ کرنے کے بعد اگر حد میں تاخیر ہو گئی تو پھر بھی حد ساقط ہو جائے گی۔ ”حَتَّى لَوْ هَرَبَ بَعْدَمَا ضُرِبَ بَعْضُ الْحَدِّ“، صورت یہ ہے: مثلاً کسی کو حدِ زنا لگائی جا رہی ہے اور وہ غیر محسن ہے، غیر شادی شدہ ہے، تو اس کی سزا سو کوڑے ہیں۔ اس کو کوڑے لگائے جا رہے تھے، ابھی بیس تیس کوڑے لگے تھے کہ اچانک وہ بھاگ گیا بھئی۔ بھاگ گیا اور پتہ ہی نہیں چلا کدھر گیا۔ پھر اس کے بعد وہ ایک دو ماہ کے بعد وہ پکڑا گیا، تو کہتے ہیں اب بات پرانی ہو چکی ہے، لہٰذا اب حد ساقط ہو گئی ہے، اب حد جاری نہیں کی جائے گی۔ کہتے ہیں: ”حَتَّى لَوْ هَرَبَ بَعْدَمَا ضُرِبَ بَعْضُ الْحَدِّ“ یہاں تک کہ وہ شخص جس پر حد تھی اگر وہ بھاگ گیا ”بَعْدَمَا ضُرِبَ بَعْضُ الْحَدِّ“ بعد اس کے کہ جب اس کو کچھ حد لگا دی گئی تھی، ”ثُمَّ أُخِذَ بَعْدَمَا تَقَادَمَ الزَّمَانُ“ پھر اس کو پکڑ لیا گیا بعد اس کے کہ جب کوئی زمانہ پرانا ہو گیا تھا یعنی ایک دو ماہ بعد پکڑا گیا، ”لَا يُقَامُ عَلَيْهِ الْحَدُّ“ تو اس پر حد قائم نہیں کی جائے گی، ”لِأَنَّ الْإِمْضَاءَ مِنَ الْقَضَاءِ“۔ امضاء بھئی، ضاد کے ساتھ ہے، امضاء کا معنی ہے نافذ کرنا۔ ”لِأَنَّ الْإِمْضَاءَ“ اس لیے کیونکہ حد کو نافذ کرنا ”مِنَ الْقَضَاءِ“ یہ بھی قضاء میں سے ہے، یہ بھی قاضی کے فیصلے کا حصہ ہے۔ ادھر دیکھو: جب گواہی میں دیر ہو جائے تو قاضی فیصلہ کر ہی نہیں سکتا۔ اسی طرح اگر حد کے وصول کرنے میں دیر ہو گئی تو بھی گویا قاضی کے فیصلے میں دیر ہو گئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْإِمْضَاءَ مِنَ الْقَضَاءِ“ اس لیے کیونکہ حد کا نافذ کرنا یہ بھی قضاء میں سے ہے یعنی قاضی کے فیصلے کا حصہ ہے، یعنی اسی کا تتمہ ہے۔ حد جب نافذ کریں گے تو قاضی کا فیصلہ پورا ہو گا۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْإِمْضَاءَ مِنَ الْقَضَاءِ فِي بَابِ الْحُدُودِ“، اس لیے کیونکہ حد کو نافذ کرنا یہ قاضی کے فیصلے میں سے ہے حدود کے باب میں۔ ہر جگہ ایسا نہیں ہے، صرف حدود کے باب میں امضاء جو ہے یعنی حد کو نافذ کرنا یہ بھی قضاء ہی کا حصہ ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: ”وَاخْتَلَفُوا فِي حَدِّ التَّقَادُمِ“، بھئی میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ کتنا زمانہ گزر جائے تو بات پرانی ہو جاتی ہے؟ میں نے بتایا بعض فقہاء کیا فرماتے ہیں؟ چھ ماہ۔ اور اسی کی طرف اشارہ ہے جامع صغیر کی عبارت میں بھی۔ جامع صغیر کی عبارت انہوں نے ذکر کی تھی کہ: ”وَإِذَا شَهِدَ عَلَيْهِ الشُّهُودُ بِسَرِقَةٍ أَوْ بِشُرْبِ خَمْرٍ أَوْ بِزِنًى بَعْدَ حِينٍ“، حین کا لفظ وہاں ذکر تھا اور حین کا لفظ مطلقاً ذکر ہو بغیر نیت کے تو اس سے کیا مراد ہوتا ہے؟ چھ ماہ کی مدت مراد ہوتی ہے۔ تو اس لیے بعض فقہاء نے کہا چھ ماہ کی مدت ہو گی، چھ ماہ گزر جائیں تو یہ بات پرانی ہو گئی۔ لیکن آپ کو صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ ایک ماہ گزر جائے تو بات پرانی ہو گئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَاخْتَلَفُوا فِي حَدِّ التَّقَادُمِ“ اور فقہاء نے اختلاف کیا ہے پرانا ہونے کی حد میں، ”وَأَشَارَ فِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ إِلَى سِتَّةِ أَشْهُرٍ“ اور امام محمد رحمہ اللہ نے جامع صغیر میں اشارہ فرمایا ہے چھ ماہ کی طرف، ”فَإِنَّهُ قَالَ“ اس لیے کیونکہ جامع صغیر میں انہوں نے فرمایا ہے ”بَعْدَ حِينٍ“، یہ بعد حین فرمایا ہے، ”وَهَكَذَا أَشَارَ الطَّحَاوِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى“ اور اسی طرح امام طحاوی رحمہ اللہ نے بھی اشارہ فرمایا ہے، یعنی انہوں نے بھی چھ ماہ کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ ”وَأَبُو حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى لَمْ يُقَدِّرْ فِي ذَلِكَ“، ”قَدَّرَ يُقَدِّرُ تَقْدِيرًا“ کا معنی مقرر کرنا بھی اور ”قَدَّرَ يُقَدِّرُ تَقْدِيرًا“ کا معنی اندازہ لگانا بھی۔ تو موقع محل کے مطابق جو ترجمہ مناسب بنتا ہو وہ کریں گے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَأَبُو حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام صاحب جو ہیں، ”لَمْ يُقَدِّرْ فِي ذَلِكَ“ انہوں نے کوئی حد مقرر نہیں فرمائی، ”وَفَوَّضَهُ إِلَى رَأْيِ الْقَاضِي فِي كُلِّ عَصْرٍ“ اور انہوں نے سپرد کیا ہے اس کو ہر زمانے کے اندر قاضی کی رائے کے۔ تو کہتے ہیں: ”وَفَوَّضَهُ إِلَى رَأْيِ الْقَاضِي فِي كُلِّ عَصْرٍ“ اور امام صاحب نے اس کو ہر زمانے کے اندر قاضی کی رائے کے سپرد کیا ہے کہ ہر زمانے کا جو قاضی ہے اس کی رائے کے مطابق عمل کیا جائے گا۔ ”وَعَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے، ”أَنَّهُ قَدَّرَهُ بِشَهْرٍ“ کہ انہوں نے اس کا اندازہ لگایا ہے ایک مہینے کے ساتھ کہ ایک مہینہ گزر جائے تو بات پرانی ہو گئی۔ ”لِأَنَّ مَا دُونَهُ عَاجِلٌ“ اس لیے کیونکہ مہینے سے جو کم ہے ”عَاجِلٌ“ وہ تو جلدی ہے۔ ”وَهُوَ رِوَايَةٌ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ“ اور یہی ایک روایت ہے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے، ”وَهُوَ الْأَصَحُّ“ اور یہی قول زیادہ صحیح ہے کہ ایک مہینہ گزر جائے تو بات پرانی ہو گئی۔ ”وَهَذَا إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ الْقَاضِي وَبَيْنَهُمْ مَسِيرَةُ شَهْرٍ“ اور یہ اس وقت ہے یعنی گواہی کا پرانا ہو جانا اس وقت ہے جب قاضی اور گواہوں کے درمیان ایک ماہ کی دوری نہ ہو۔ اگر ایک ماہ کی دوری ہے پھر عذر موجود ہے۔ کہتے ہیں: ”وَهَذَا إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ الْقَاضِي وَبَيْنَهُمْ مَسِيرَةُ شَهْرٍ“ اور یہ اس وقت ہے جب قاضی اور گواہوں کے درمیان ایک ماہ کی مسافت نہ ہو، ”أَمَّا إِذَا كَانَ“ اور اگر اتنی مسافت ہے یعنی ایک ماہ کی مسافت ہے، ”تُقْبَلُ شَهَادَتُهُمْ“ تو پھر ان کی گواہی قبول کی جائے گی، ”لِأَنَّ الْمَانِعَ بُعْدُهُمْ عَنِ الْإِمَامِ“ اس لیے کیونکہ مانع جو تھا وہ امام سے ان کی دوری تھی، وہ امام سے دور رہتے تھے اتنی جلدی آ ہی نہیں سکتے تھے، ”فَلَا يَتَحَقَّقُ التُّهْمَةُ“ تو تہمت نہیں پائی جائے گی، جب دور رہتے ہیں تو تہمت نہیں پائی جائے گی، دلوں میں بدگمانی نہیں آئے گی۔ ”وَالتَّقَادُمُ فِي حَدِّ الشُّرْبِ كَذَلِكَ“، بھئی آگے حدِ شربِ خمر کا باب آنے والا ہے۔ اس کے اندر بھی یاد رکھو کسی پر شراب پینے کی وجہ سے حد جاری کی جائے گی تو وہاں بھی زمانے کو دیکھا جائے گا۔ اگر بات پرانی ہو گئی تو پھر وہ حدِ شربِ خمر بھی ساقط ہو جائے گی۔ شراب پینے کی حد بھی ساقط ہو جائے گی، پھر گواہی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ تو وہاں پر کتنا زمانہ گزرے کہ کہیں گے بات پرانی ہو گئی؟ تو امام محمد رحمہ اللہ وہاں بھی فرماتے ہیں اگر ایک مہینہ گزر گیا تو بات پرانی ہو گئی، ایک مہینے سے کم ہے تو پھر حد جاری کی جائے گی۔ جبکہ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ حدِ شربِ خمر کے اندر اگر شراب پینے والے کے منہ سے شراب کی بو ختم ہو گئی تو بات پرانی ہو گئی۔ معلوم ہوا ایک آدھ دن کے اندر ہی حد لگ سکتی ہے، اس کے بعد بات پرانی ہو گئی پھر گواہی نہیں سنی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالتَّقَادُمُ فِي حَدِّ الشُّرْبِ كَذَلِكَ عِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور شربِ خمر کی حد کے اندر زمانے کا پرانا ہونا اسی طرح ہے امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک یعنی ایک مہینہ ہے، ”وَعِنْدَهُمَا يُقَدَّرُ بِزَوَالِ الرَّائِحَةِ“ اور شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک اس کا اندازہ لگایا گیا ہے بو کے ختم ہونے کے ساتھ کہ شرابی کے منہ سے شراب کی بو ختم ہو جائے، ”عَلَى مَا يَأْتِي فِي بَابِهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى“ اس وجہ سے جو اس کے باب میں آ جائے گا ان شاء اللہ تعالیٰ۔ وہ وجہ آگے ذکر کریں گے صاحبِ ہدایہ بھئی۔ آگے دیکھیے: ”وَإِذَا شَهِدُوا عَلَى رَجُلٍ أَنَّهُ زَنَى بِفُلَانَةَ وَفُلَانَةُ غَائِبَةٌ فَإِنَّهُ يُحَدُّ وَإِنْ شَهِدُوا أَنَّهُ سَرَقَ مِنْ فُلَانٍ وَهُوَ غَائِبٌ لَمْ يُقْطَعْ“، میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں کہ ”فُلَانَةُ“ کا لفظ غیر منصرف ہے کیونکہ فلان اور فلانہ یہ کنایہ ہوتے ہیں کسی علم سے تو یہ علم کے درجے میں ہیں۔ تو یہاں دو سبب آ گئے: فلانۃ کے اندر ایک تو علمیت آ گئی کیونکہ علم کے درجے میں ہے، اور دوسری تانیث آ گئی تو یہ غیر منصرف ہے بھئی۔ صورتِ مسئلہ یہ کہ گواہوں نے گواہی دی کہ یہ جو فلاں آدمی ہے اس نے فلانی عورت کے ساتھ زنا کیا ہے۔ اب وہ مرد تو قاضی کے پاس موجود ہے لیکن وہ فلانی عورت موجود نہیں، کہتے ہیں پھر بھی اس شخص پر حدِ زنا جاری کر دی جائے گی۔ اور جبکہ اس کے مقابلے میں اگر گواہوں نے گواہی دی کہ ایک شخص نے چوری کی ہے اور حال یہ ہے کہ وہ جس کا مال چوری کیا گیا تھا وہ موجود نہیں تو پھر اس صورت میں چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، کیونکہ چوری کے مسئلے میں دعویٰ ضروری ہے اور مالک ہی نہیں ہے تو دعویٰ نہیں ہے، جب دعویٰ نہیں ہے تو حد بھی ثابت نہیں ہو سکتی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا شَهِدُوا عَلَى رَجُلٍ“ اور جب گواہوں نے گواہی دی ایک آدمی کے خلاف، ”أَنَّهُ زَنَى بِفُلَانَةَ“ کہ اس آدمی نے فلانی عورت سے زنا کیا ہے، ”وَفُلَانَةُ غَائِبَةٌ“ اور حال یہ ہے کہ وہ فلانی عورت جو ہے غائب ہے، ”فَإِنَّهُ يُحَدُّ“ تو اس آدمی پر حد جاری کی جائے گی، ”وَإِنْ شَهِدُوا أَنَّهُ سَرَقَ مِنْ فُلَانٍ“ اور اگر گواہوں نے گواہی دی کہ اس نے فلاں آدمی سے چوری کی ہے، ”وَهُوَ غَائِبٌ“ اور حال یہ ہے کہ وہ شخص غائب ہے یعنی جس کا مال چوری ہوا ہے وہ جو مال کا مالک ہے وہ غائب ہے، ”لَمْ يُقْطَعْ“ تو چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ ”وَالْفَرْقُ“ اور فرق یہ ہے دونوں مسئلوں میں، ”أَنَّ بِالْغَيْبَةِ يَنْعَدِمُ الدَّعْوَى“ کہ غائب ہونے سے دعویٰ معدوم ہو گیا۔ جب مال کا مالک غائب ہے تو دعویٰ معدوم ہے اور چوری کے اندر تو دعویٰ شرط تھا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْفَرْقُ أَنَّ بِالْغَيْبَةِ يَنْعَدِمُ الدَّعْوَى“ اور دونوں مسئلوں میں فرق یہ ہے کہ غیر موجودگی کی وجہ سے دعویٰ معدوم ہو جاتا ہے، ”وَهِيَ شَرْطٌ فِي السَّرِقَةِ دُونَ الزِّنَا“ اور دعویٰ شرط ہے چوری میں نہ کہ زنا میں۔ ”وَبِالْحُضُورِ يُتَوَهَّمُ دَعْوَى الشُّبْهَةِ وَلَا مُعْتَبَرَ بِالْمَوْهُومِ“، یہ جگہ اچھی طرح سمجھ لیں بھئی۔ بھئی یاد رکھو، حدود جو ہیں حدود، شبہے کی وجہ سے ساقط ہو جاتی ہیں۔ لیکن ایک ہے شبھۃ الشبہہ، شبہے کا شبہ ہو جانا، اس کی وجہ سے حد ساقط نہیں ہو گی۔ شبہے کی وجہ سے تو حد ساقط ہو جائے گی، لیکن شبھۃ الشبہہ یعنی شبہے کا شبہ ہو جائے تو اس صورت میں حد ساقط نہیں ہو گی۔ اور یہاں پر بھی شبہے کا شبہ موجود ہے۔ چار گواہوں نے گواہی دے دی کہ یہ جو آدمی ہے اس نے فلانی عورت کے ساتھ زنا کیا تھا اور وہ فلانی عورت یہاں موجود نہیں۔ تو اس صورت میں حد جاری کر دی جائے گی۔ تو اعتراض ہوتا ہے کہ یہاں حد کیسے جاری کی جائے گی؟ یہاں شبہ موجود ہے۔ اگر وہ عورت یہاں موجود ہوتی تو ہو سکتا ہے وہ کہہ دیتی ہمارا تو نکاح ہوا تھا۔ ہمارا تو نکاح ہوا تھا، اور آپ نے پڑھا تھا کہ زانی اور مزنیہ دونوں کا زنا پر اتفاق ہو پھر ہی حد آئے گی، اگر دونوں میں سے ایک بھی نکاح کی بات کر دے تو حد ساقط ہو جائے گی۔ تو یہاں پر بھی شبہ آتا ہے کہ اگر وہ عورت موجود ہوتی وہ شاید نکاح کا دعویٰ کر دیتی تو حد ساقط ہو جاتی۔ تو جواب اس کا دیتے ہیں صاحبِ ہدایہ کہ بھئی یہاں پر شبہ ہونے کا صرف وہم ہے، شبہ ہونے کا صرف احتمال ہے، یعنی یہ شبھۃ الشبہہ ہے۔ نہیں بات سمجھ میں آئی؟ وہ عورت اگر یہاں ہوتی اور پھر وہ نکاح کا دعویٰ کرتی تو پھر شبہے نے آنا تھا، اور ابھی تو نہ وہ عورت ہے نہ اس نے کوئی دعویٰ کیا ہے، تو یہاں کوئی شبہ نہیں ہے صرف شبہے کا ایک احتمال ہے، صرف شبہے کا وہم ہوتا ہے اور وہمی چیز کا کوئی اعتبار نہیں۔ اور اسی کو شبھۃ الشبہہ کہا جاتا ہے کہ شبہ ہونے کا شبہ ہے یہاں پر، شبہ ہے تو نہیں لیکن شبہ ہونے کا شبہ ہے یعنی احتمال ہے۔ تو یاد رکھو ہمیشہ جگہ جگہ کتابوں کے اندر یہ ذکر آئے گا کہ حد جو ہے شبہے سے ساقط ہوتی ہے لیکن شبھۃ الشبہہ کی وجہ سے ساقط نہیں ہوتی، تو وہاں انسان ذرا پریشان ہو جاتا ہے کہ شبھۃ الشبہہ کا کیا معنی؟ تو وہ صاحبِ ہدایہ نے بیان فرما دیا کہ شبہ ہے نہیں لیکن شبہ ہونے کا احتمال ہے، وہم ہے تو اس کا کوئی اعتبار نہیں بھئی۔ توجہ ہے؟ تو شبہ ہو پھر تو وہ معتبر ہے، لیکن شبہے کا صرف ایک احتمال ہے، شبہے کا صرف شبہ ہے تو اس کا اعتبار نہیں ہے، ورنہ تو حد قائم کرنے کی کوئی صورت ہی نہیں رہے گی۔ جہاں شبہے کا احتمال بھی آ جائے گا آپ کہیں گے حد ساقط ہو گئی، جیسے یہاں پر چار گواہ بھی موجود ہیں، وہ آدمی بھی موجود ہے، ہاں وہ عورت ہوتی تو اس میں ضروری تو نہیں تھا وہ کہہ دیتی کہ میں نے نکاح کیا ہے، یہ بھی تو ہو سکتا ہے وہ نکاح کی بات ہی نہ کرتی۔ توجہ ہے؟ تو اگر وہ عورت ہوتی تو پھر شبہ ہو سکتا تھا، جب وہ عورت نہیں ہے تو شبہے کا صرف احتمال ہے، شبہے کا صرف ایک وہم ہو رہا ہے، یعنی شبھۃ الشبہہ ہے۔ شبہ ہونے کا شبہ ہو رہا ہے، تو اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ تو شبھۃ الشبہہ کہیں تو بات ذرا مشکل لگتی ہے۔ ہے یہ شبھۃ الشبہہ، لیکن دوسرے لفظوں میں یوں کہو شبہے کا احتمال ہے یہاں پر اور احتمال کی طرف تو نظر نہیں کی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَبِالْحُضُورِ يُتَوَهَّمُ دَعْوَى الشُّبْهَةِ“ اور اس عورت کی موجودگی کی صورت میں شبہے کے دعوے کا وہم ہوتا ہے، یعنی شبہے کے دعوے کا احتمال، اگر وہ عورت ہوتی اور وہ پھر دعویٰ بھی کر دیتی پھر شبہ آنا تھا لیکن فی الحال تو شبہ نہیں، ہاں اس شبہے کا احتمال ہے اگر ہوتی تو یہ شبہ آ سکتا تھا۔ معلوم ہوا اس وقت شبہ نہیں صرف شبہے کا احتمال ہے اور احتمالِ شبہ کی طرف نہیں دیکھا جائے گا یعنی شبھۃ الشبہہ کی طرف نہیں دیکھا جائے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَبِالْحُضُورِ يُتَوَهَّمُ دَعْوَى الشُّبْهَةِ“ اور اس عورت کی موجودگی کی وجہ سے شبہے کے دعوے کا وہم ہوتا ہے، ”وَلَا مُعْتَبَرَ بِالْمَوْهُومِ“ اور موہوم چیز کا کوئی اعتبار نہیں یعنی وہمی چیز کا کوئی اعتبار نہیں، یہ تو ایک وہمی چیز ہے یہاں حقیقت میں کوئی شبہ موجود نہیں ہے بھئی۔ ”وَإِنْ شَهِدُوا أَنَّهُ زَنَى بِامْرَأَةٍ لَا يَعْرِفُونَهَا لَمْ يُحَدَّ“، صورتِ مسئلہ یہ کہ چار گواہ آئے اور انہوں نے گواہی دے دی کہ یہ جو آدمی ہے اس نے ایک عورت سے زنا کیا ہے، ہم اس عورت کو تو نہیں جانتے ہاں اس کو ہم جانتے ہیں۔ تو کیا اس صورت میں حد آئے گی یا نہیں؟ کہتے ہیں نہیں اس صورت میں حد ثابت نہیں، کیونکہ ہو سکتا ہے وہ اس کی باندی ہو، ہو سکتا ہے وہ اس کی بیوی ہو بھئی۔ تو جب تک عورت کا نہیں پتہ زنا کا ہونا یقینی نہیں، لہٰذا حد ساقط ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ شَهِدُوا“ اور اگر گواہوں نے گواہی دی، ”أَنَّهُ زَنَى بِامْرَأَةٍ لَا يَعْرِفُونَهَا“ کہ اس شخص نے زنا کیا ہے ایک ایسی عورت سے جسے وہ نہیں جانتے، ”لَمْ يُحَدَّ“ تو اس شخص پر حد نہیں آئے گی، ”لِاحْتِمَالِ أَنَّهَا امْرَأَتُهُ أَوْ أَمَتُهُ“ اس لیے کیونکہ یہ احتمال بھی ہے کہ ہو سکتا ہے وہ اس کی بیوی ہو یا اس کی باندی ہو، ”بَلْ هُوَ الظَّاهِرُ“ بلکہ یہی ظاہر ہے۔ ظاہر یہی ہے کہ یہ اس کی بیوی یا باندی ہو گی کیونکہ مسلمان کے حال کو خیر پر محمول کرنا چاہیے بھئی۔ ”وَإِنْ أَقَرَّ بِذَلِكَ حُدَّ“ اور اگر اس نے خود یہ اقرار کیا پھر حد لگائی جائے گی۔ اس نے خود اقرار کیا کہ قاضی صاحب ایک عورت کے ساتھ میں نے زنا کیا جسے میں نہیں جانتا۔ جب یہ خود کہہ رہا ہے میں نہیں جانتا، معلوم ہوا وہ اس کی بیوی یا باندی نہیں ہے تو اب حد جاری کی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ أَقَرَّ بِذَلِكَ حُدَّ“ اور اگر اس نے خود اس بات کا اقرار کیا کہ اس نے ایک ایسی عورت سے زنا کیا ہے جسے وہ نہیں جانتا ”حُدَّ“ تو اس کو حد لگائی جائے گی، ”لِأَنَّهُ لَا يَخْفَى عَلَيْهِ أَمَتُهُ أَوِ امْرَأَتُهُ“ اس لیے کیونکہ اس پر تو اس کی باندی یا بیوی مخفی نہیں ہے۔ چلیے بس بھئی، بات سمجھ میں آ گئی، حل ہو گیا، چلیے بس بھئی: هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔