مسائل شتا صحت بیع الکلب والفہد والسباع علمت او لا ہذا عندنا وعند ابی یوسف رحمہ اللہ تعالی لا یجوز بیع الکلب العقور وعند الشافعی رحمہ اللہ لا یجوز بیع الکلب اصلا بناء علی انہ نجس العین عندہ وعندنا انما یجوز بناء علی الانتفاع بہ وبجلدہ مسائل شتا بھئی شتا جمع ہے شتیت کی بھئی متفرق متفرق مسائل بھئی سمجھ میں ایا تو کچھ متفرق قسم کے مسائل ذکر کریں گے بھئی صحت بیع الکلب صحیح ہے کتے کی بیع والفہد اور چیتے کی بیع فہد بھئی بعض کہتے ہیں چیتے کو کہتے ہیں بعض کہتے ہیں تیندوا بھئی تیندوا آپ نے دیکھا ہوگا چڑیا گھر میں بھئی چیتے کی نسل میں سے ہے لیکن اس کا جسم کچھ بھاری ہوتا ہے چیتے کی بنسبت تو صحیح ہے کتے کی بیع بھی اور چیتے یا تیندوے کی بیع بھی والسباع اور درندوں کی بیع بھی علمت او لا تعلیم دیے گئے ہوں یا تعلیم نہ دیے گئے ہوں بھئی بھئی جس کو تربیت دی گئی ہے شکار وغیرہ کی اسے قلب معلم کہتے ہیں بھئی اسی طرح فہد معلم جسے تربیت نہیں گئی وہ غیر معلم بھئی غیر تعلیم یافتہ یعنی تربیت یافتہ نہیں تو صحیح ہے کتے کی بیع اور چیتے کی بیع اور درندوں کی بیع علمت او لا تربیت دیے گئے ہوں یا تربیت نہ دیے گئے ہوں ہذا عندنا یہ ہمارے نزدیک ہے بھئی جی یعنی یہ طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک ہے وعند ابی یوسف رحمہ اللہ لا یجوز بیع الکلب العقور عقور کہتے ہیں کاٹنے والا کاٹنے والا اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک کاٹنے والے کتے کی بیع جائز ہی نہیں ہے وعند الشافعی رحمہ اللہ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں لا یجوز بیع الکلب اصلا کہ کتے کی بیع اصلا جائز ہی نہیں ہے سرے سے جائز ہی نہیں ہے بناء علی انہ نجس العین عندہ بناء بر اس کے کہ ان کے نزدیک کتا نجس العین ہے بھئی کیا ہے نجس العین ہے لہذا اس کی بیع درست نہیں ہے بھئی جیسے خنزیر تھا بھئی وعندنا انما یجوز بناء علی الانتفاع بہ وبجلدہ اور ہمارے نزدیک جائز ہے بناء بر اس سے نفع اٹھانے کے کتے سے کیا کیا جاتا ہے نفع اٹھایا جاتا ہے شکار کیا جاتا ہے اس کے ذریعے بھئی اس کی بھی اجازت ہے اسی طرح کھیتی وغیرہ چیزوں کی حفاظت کرتا ہے وہ تو ان سے نہ کتے سے نفع اٹھایا جاتا ہے وبجلدہ اور اس کی کھال سے بھئی نفع اٹھایا جاتا ہے دباغت سے پاک ہو جائے گی بھئی جی البتہ انسان اور خنزیر کی کھال جو ہے اس سے استعمال جائز نہیں بھئی وہ تو انسان کی اس کی عظمت کی وجہ سے اور خنزیر کی کہ وہ نجس العین ہے بھئی والذمی فی البیع كالمسلم الا فی الخمر والخنزیر اور ذمی بیع کے اندر مسلم کی طرح ہے بھئی ذمی کی بھی کس کی طرح ہے مسلمان کی طرح ہے بھئی جو چیزیں مسلم کے لیے حلال ذمی کے لیے حلال جو مسلم کے لیے بیع میں حرام ذمی کے لیے بھی وہ کافر جو جزیہ دے کر رہتے ہیں بھئی ان کے لیے بھی حرام ہے مثلاً بھئی ایک ہی جنس والی چیز ہو دونوں طرف وزنی ہو تو مسلمان کے لیے بھی برابری کے ساتھ بیچنا کمیس زیادتی کے ساتھ بیچنا جائز تو ذمی کے لیے بھی اسی طرح ہے بھئی الا فی الخمر والخنزیر مگر خمر اور خنزیر میں کہ اس میں وہ مسلم کی طرح نہیں مسلم کے لیے تو خمر اور خنزیر کی نہ تملیق جائز ہے نہ تملک جائز ہے بیکار ہے یہ سستا بھئی ہاں ان کے لیے جائز ہے وہ ان کے اعتقاد میں یہ بھی مال ہے تو وہ اس کی بیع وغیرہ کر سکتے ہیں بھئی وتہما فی عقد الذمی كالخل والشاة فی عقد المسلم اور یہ دونوں ذمی کے عقد میں کس کی طرح ہیں جیسے کہ سرکہ اور بھیڑ بکری ہوتی ہے مسلمان کے عقد میں مسلمان جس طرح بھیڑ بکری کا عقد کرتا ہے اس کے لیے جائز اسی طرح یہ خنزیر کا بھی اسی کی طرح عقد کر سکتے ہیں بھئی اور جیسے مسلم کرتا ہے بھئی سرکے وغیرہ بھئی کا عقد کرتا ہے تو ان کے لیے بھی شراب کا عقد اسی طرح ہے بھئی جی حتی یکون الخمر من ذوات الامثال والخنزیر من ذوات القیم یہاں تک کہ خمر ان کے لیے کس میں سے ہوگا ذوات الامثال میں سے ہے بھئی اور خنزیر کس میں سے ہوگا ذوات القیم میں سے بھئی ومن زوج مشتراہ اور جس نے نکاح کروا دیا اپنی خریدی ہوئی باندی کا قبل قبضھا اس پر قبضہ کرنے سے پہلے صحا صحیح ہے صورت مسئلہ یہ بھئی آپ نے زید سے ایک باندی خریدی اور ابھی اس پر قبضہ نہیں کیا تھا باندی زید ہی کے پاس ہے تو اب آپ اس باندی کا نکاح عمر سے کروا دیتے ہیں کہتے ہیں بھئی یہ نکاح صحیح ہو گیا کیونکہ عقد کے ذریعے آپ باندی کے کیا بن چکے ہیں مالک بن چکے ہیں نکاح کروایا بھئی تو یہ درست ہوا لیکن بھئی کیا یہ نکاح جو کروا دیا آپ نے تو یہ آپ کا قبضہ شمار ہوگا یا قبضہ شمار نہیں ہوگا کہتے ہیں نہیں بھئی صرف نکاح کروایا ہے تو یہ قبضہ شمار نہیں ہاں اگر وہ خاوند اس کے ساتھ پھر وتی کر لیتا ہے اب یہ کیا شمار ہوگا قبضہ شمار ہوگا صورت سمجھ میں آئی بھئی ہاں یہ قبضہ شمار ہوگا وجہ یہ کہ یہ جو نکاح کروایا یہ بھی عیب دار کرنا ہے باندی کو بھئی باندی میں نکاح کیا شمار کیا جاتا ہے عیب شمار کیا جاتا ہے چنانچہ اگر کسی نے کوئی باندی خریدی اور بعد میں پتہ چلا بھئی یہ تو خاوند والی ہے شادی شدہ ہے تو پھر اس کو واپس کرنے کا اختیار ہے شرعاً بھئی تو یہ کیا شمار ہوتا ہے عیب شمار ہوتا ہے رغبت کم ہو جاتی ہے بھئی اس کے اندر اور اسی طرح بھئی اگر اس سے کیا کیا بھئی تو یہ عیب دار لیکن یہ عیب ہے حقیقتاً یا حکوماً عیب ہے بھئی حکوماً حقیقتاً عیب دار کیا یا حکوماً عیب دار کیا ہے حکوماً عیب دار کیا ہے حقیقتاً عیب دار نہیں کیا تو لہذا حقیقتاً عیب دار کرے گا تو پھر قبضہ شمار ہوگا بھئی ویسے قبضہ شمار اور حقیقتاً عیب دار کس صورت میں ہے بھئی تو جب وتی کر لے بھئی اس لیے کہ وتی کر رہا ہے بھئی تو اس کے اندر قبضہ آئے گا پہلے بھئی تو اس میں قبضہ پایا گیا جی تو کہتے ہیں ومن زوج مشتراہ بھئی یہ کتابت کی غلطی ہے جس نے نکاح کروا دیا اپنی خریدی ہوئی باندی کا قبل قبضھا اس کے قبضے سے پہلے صحا تو یہ نکاح کروانا صحیح ہے فان وطیت اگر اسے وتی کر لی گئی یعنی خاوند نے اسے وتی کر لی فقد قبضت تو تحقیق اس پر کیا کر لیا گیا قبضہ کر لیا گیا والا ای و لم یکن كذلك اگر ایسا نہ ہو یعنی وتی نہ کی گئی تو فلاں پھر قبضہ نہیں ای بمجرد التزویج لا یکون قابضا صرف نکاح کروانے سے وہ قابض شمار نہیں ہوگا بھئی مشتری والقیاس ان یصیر قابضا قیاس تو یہ قیاس کیا ہے کہ کیا بن جائے گا قیاس تو کہتا ہے کہ وہ قابض ہو جائے گا لانھا تعیبت بالتزویج اس لیے کہ وہ عیب دار ہو گئی کس کی وجہ سے نکاح کروانے کی وجہ سے لیکن استحسانا تو قیاس کیا کہتا ہے کہ یہ قابض ہو گیا بھئی تو اس نے عیب پیدا کر دیا تو قابض ہوا معلوم ہوا لیکن استحسانا قابض نہیں وجہ الاستحسان استحسان کی وجہ یہ ہے کہ ان التعییب الحقیقی کہ تعییب حقیقی جو ہے وہ استیلاء علی المحل وہ محل پر غالب ہونا ہے کیا ہونا ہے محل پر غالب ہوگا تو استیلاء ہے محل پر غالب نہیں تو استیلاء یعنی غالب غالب ہے تو قبضہ ہے محل پر غالب نہیں محل پر تو قبضہ بھی نہیں بھئی اور استیلاء کس کے اندر پایا جا رہا ہے تعییب حقیقی کے اندر نہ کہ تعییب حکمی میں بھئی فیکون قبضا تو یہ وتی قبضہ ہو شمار ہوگی بخلاف التعییب الحکمی بخلاف کس کے تعییب حکمی یعنی نکاح کروانا وہ نہیں بھئی ومن شرا شیئا وغاب غیبۃ معروفۃ فاقام بایعہ بینۃ انہ باعہ منہ لم یبع فی دینہ صورت مسئلہ یہ بھئی آپ کے پاس ایک باندی ہے بھئی آپ سے آپ نے زید پر وہ بیچ دی بھئی زید نے آپ سے باندی خرید لی لیکن ابھی اس نے ثمن ادا نہیں کیے کہ وہ تبلیغ میں سال لگانے کے لیے چلا گیا بھئی سمجھ میں آیا اب پیسے اس نے ادا نہیں کیے اب یہ جو باندی ہے آپ کے پاس اس کا مالک کون ہے بھئی زید مالک ہے کیونکہ عقد ہوتے ہی کون مشتری کیا بن جاتا ہے مبیع کا تو وہ مالک بن چکا ہے اب بھئی کیا کیا جائے اب آپ کی آپ کا ثمن رکے ہوئے ہیں اور آپ کا حق روکا ہوا ہے اس کی وجہ سے بھئی تو کیا اب وہ چلا گیا ہے باندی کو بیچ کر آپ کے ثمن وصول کیے جائیں گے یا بیچ کر ثمن وصول نہیں کیے جائیں گے کہتے ہیں بھئی اگر مشتری غیبت معروفہ کے ساتھ غائب ہے یعنی پتہ ہے کس جگہ پر ہے کراچی میں ہے حیدراباد میں ہے فلاں جگہ پر ہے تو پھر تو نہیں بیچا جائے گا بلکہ مشتری کا انتظار کیا جائے گا اور اسی سے ثمن وصول کیے جائیں گے اور اگر وہ ایسا غائب ہوا کہ پتہ ہی نہیں کہ کہاں پر ہے بھئی تو اس صورت کے اندر اب اس باندی کو بیچ کر کیا کیا جائے گا آپ کا حق یعنی اس ثمن کو وصول صورت سمجھ میں آئی بھئی ہاں یہ قبضہ شمار ہوگا وجہ یہ کہ یہ جو نکاح کروایا یہ بھی عیب دار کرنا ہے باندی کو بھئی باندی میں نکاح کیا شمار کیا جاتا ہے عیب شمار کیا جاتا ہے چنانچہ اگر کسی نے کوئی باندی خریدی اور بعد میں پتہ چلا بھئی یہ تو خاوند والی ہے شادی شدہ ہے تو پھر اس کو واپس کرنے کا اختیار ہے شرعاً بھئی مطلب تو یہ کیا شمار ہوتا ہے عیب شمار ہوتا ہے رغبت کم ہو جاتی ہے بھئی اس کے اندر اور اسی طرح بھئی اگر اس سے کیا کیا بھئی تو یہ عیب دار لیکن یہ عیب ہے حقیقتاً یا حکوماً عیب ہے بھئی حکوماً حقیقتاً عیب دار کیا یا حکوماً عیب دار کیا ہے حکوماً عیب دار کیا ہے حقیقتاً عیب دار نہیں کیا تو لہذا حقیقتاً عیب دار کرے گا تو پھر قبضہ شمار ہوگا بھئی ویسے قبضہ شمار اور حقیقتاً عیب دار کس صورت میں ہے بھئی تو جب وتی کر لے بھئی اس لیے کہ وتی کر رہا ہے بھئی تو اس کے اندر قبضہ آئے گا پہلے بھئی تو اس میں قبضہ پایا گیا جی تو کہتے ہیں ومن زوج مشتراہ بھئی یہ کتابت کی غلطی ہے جس نے نکاح کروا دیا اپنی خریدی ہوئی باندی کا قبل قبضھا اس کے قبضے سے پہلے صحا تو یہ نکاح کروانا صحیح ہے فان وطیت اگر اسے وتی کر لی گئی یعنی خاوند نے اسے وتی کر لی فقد قبضت تو تحقیق اس پر کیا کر لیا گیا قبضہ کر لیا گیا والا ای و لم یمن كذلك اگر ایسا نہ ہو یعنی وتی نہ کی گئی تو فلاں پھر قبضہ نہیں ای بمجرد التزویج لا یکون قابضا صرف نکاح کروانے سے وہ قابض شمار نہیں ہوگا بھئی مشتری والقیاس ان یصیر قابضا قیاس تو یہ قیاس کیا ہے کہ کیا بن جائے گا قیاس تو کہتا ہے کہ وہ قابض ہو جائے گا لانھا تعیبت بالتزویج اس لیے کہ وہ عیب دار ہو گئی کس کی وجہ سے نکاح کروانے کی وجہ سے لیکن استحسانا تو قیاس کیا کہتا ہے کہ یہ قابض ہو گیا بھئی تو اس نے عیب پیدا کر دیا تو قابض ہوا معلوم ہوا لیکن استحسانا قابض نہیں وجہ الاستحسان استحسان کی وجہ یہ ہے کہ ان التعییب الحقیقی کہ تعییب حقیقی جو ہے وہ استیلاء علی المحل وہ محل پر غالب ہونا ہے کیا ہونا ہے محل پر غالب ہوگا تو استیلاء ہے محل پر غالب نہیں تو استیلاء یعنی غالب غالب ہے تو قبضہ ہے محل پر غالب نہیں محل پر تو قبضہ بھی نہیں بھئی اور استیلاء کس کے اندر پایا جا رہا ہے تعییب حقیقی کے اندر نہ کہ تعییب حکمی میں بھئی فیکون قبضا تو یہ وتی قبضہ ہو شمار ہوگی بخلاف التعییب الحکمی بخلاف کس کے تعییب حکمی یعنی نکاح کروانا وہ نہیں بھئی ومن شرا شیئا وغاب غیبۃ معروفۃ فاقام بایعہ بینۃ انہ باعہ منہ لم یبع فی دینہ صورت مسئلہ یہ بھئی آپ کے پاس ایک باندی ہے بھئی آپ سے آپ نے زید پر وہ بیچ دی بھئی زید نے آپ سے باندی خرید لی لیکن ابھی اس نے ثمن ادا نہیں کیے کہ وہ تبلیغ میں سال لگانے کے لیے چلا گیا بھئی سمجھ میں آیا اب پیسے اس نے ادا نہیں کیے اب یہ جو باندی ہے آپ کے پاس اس کا مالک کون ہے بھئی زید مالک ہے کیونکہ عقد ہوتے ہی کون مشتری کیا بن جاتا ہے مبیع کا تو وہ مالک بن چکا ہے اب بھئی کیا کیا جائے اب آپ کی آپ کا ثمن رکے ہوئے ہیں اور آپ کا حق روکا ہوا ہے اس کی وجہ سے بھئی تو کیا اب وہ چلا گیا ہے باندی کو بیچ کر آپ کے ثمن وصول کیے جائیں گے یا بیچ کر ثمن وصول نہیں کیے جائیں گے کہتے ہیں بھئی اگر بای مشتری غیبت معروفہ کے ساتھ غائب ہے یعنی پتہ ہے کس جگہ پر ہے کراچی میں ہے حیدراباد میں ہے فلاں جگہ پر ہے تو پھر تو نہیں بیچا جائے گا بلکہ مشتری کا انتظار کیا جائے گا اور اسی سے ثمن وصول کیے جائیں گے اور اگر وہ ایسا غائب ہوا کہ پتہ ہی نہیں کہ کہاں پر ہے بھئی تو اس صورت کے اندر اب اس باندی کو بیچ کر کیا کیا جائے گا آپ کا حق یعنی اس ثمن کو وصول صورت سمجھ میں آئی بھئی ومن شرا شیئا وغاب غیبۃ معروفۃ و پھر وہ خرید دار غائب ہو گیا غیبت معروفہ کے ساتھ یعنی معلوم ہے کہ کہاں پر ہے فاقام بایعہ بینۃ پھر بائی نے اس بات پر بینہ قائم کر دی کہ انہ باعہ منھ کہ اس نے اس مبیاع کو بیچا تھا کس پر منھ اس اس مشتری اس شخص پر بھئی لم یباع بھئی بینہ قائم کر دی بھئی تو لم یباع فی دینہ اب اس کو بیچا نہیں جائے گا مبیاع کو فی دینہ اس بائے کے دین میں بھئی وہ جو اس نے ثمن وصول کرنا ہے وہ اس کا دین مشتری پر باقی ہے یا باقی نہیں ہے بھئی باقی تو اس دین کی وصولی کے لیے اس باندی کو بیچا نہیں جائے گا بھئی ای فی ثمن المبیع دیکھا خود بتلا رہے ہیں دین سے کیا مراد ہے اس مبیاع کے ثمن جو اس نے کس سے وصول کرنے تھے مشتری سے ان کی وصولی کے لیے اس کو بیچا نہیں جائے گا ای فی ثمن المبیع بل یطلب الثمن من المشتری بلکہ ثمن کو کس سے طلب کیا جائے گا مشتری ہی سے طلب کیا جائے گا ان کان مکانہ معلومات یہ ان کانہ ہے بھئی ان نا نہیں ان اب کب طلب کیا جائے گا مشتری سے ثمن کو جبکہ اس کا مکان معلوم ہو فلاں جگہ پر ہے و ان جھل مکانہ بیعا اور اگر اس کی جگہ کیا ہو مجھول ہو تو بیچا پھر کیا کیا جائے گا اب بیچا جائے گا بھئی ای بیعا و اوفی الثمن بیچا جائے گا اور ادا کیے جائیں گے ثمن بھئی و ان اشتری اثنان وغاب واحد صورت مسئلہ یہ بھئی اور آپ نے اور زید نے مل کر ایک شخص سے باندی خریدی بھئی باندی خریدی سمجھ میں کوئی بھی چیز ویسے مثال باندی آپ اور زید نے مل کر عمر سے باندی خریدی تو ابھی پیسے ادا نہیں کیے تھے کہ زید چلا گیا سفر پر کہیں بھئی اب کیا آپ سارے ثمن ادا کر ادا کرکے باندی پر قبضہ کر سکتے ہیں یا نہیں کر سکتے کہتے ہیں ہاں بھئی اب سارے ثمن ادا کرکے کیا کر سکتے ہیں باندی پر قبضہ کر سکتے ہیں اور کیا قبضہ صرف آپ کے حصے میں شمار ہوگا یا وہ زید کا نصف جو ہے اس کے اندر بھی آپ کا قبضہ شمار ہوگا کہتے ہیں اس نصف کے اندر بھی کس کا قبضہ شمار ہوگا آپ کا قبضہ شمار ہوگا لہذا وہ زید واپس آتا ہے تو وہ اس نصف باندی پر قبضہ نہیں کر سکتا جب تک کہ یعنی آپ کو روکنے کا حق حاصل ہے جب تک آپ اس سے اپنے نصف ثمن وصول نہ کر لیں صورت سمجھ میں آئی بھئی و ان اشتری اثنانی اگر خریدا دو آدمیوں نے وغاب واحد اور ایک ان میں سے غائب ہو گیا کہیں چلا گیا سفر وغیرہ پر فالحاضر دفع ثمنہ تو حاضر شخص کے لیے جائز ہے اس کے ثمن ثمن دینا ثمن حوالے کرنا یعنی سارے کے سارے ثمن دینا جائز ہے اس کے لیے و قبضہ اور جائز ہے اس کے لیے اس پر قبضہ کرنا بھی قبضہ کرنا بھی سارے پر قبضہ کر لے بھئی کیونکہ سارے کے سارے ثمن اس نے ادا کیے ہیں و حبسہ اور اس کو روکنا بھی اس کے لیے جائز ہے یعنی وہ غائب واپس اگیا اب آکر وہ اپنے نصف حصے پر قبضہ کرنا چاہتا ہے تو اس کے لیے روکنے کا حق ہے نہیں بھئی نصف پر تمہیں میں قبضہ نہیں کرنے دوں گا جب تک کہ تم میرے نصف ثمن ادا نہیں تو اس کے لیے اس کو روکنا بھی جائز ہے ان حضر الغائب جب کون حاضر ہو جائے وہ غائب الا ان یأخذ حصتہ یہاں تک کہ یہ کیا کرے اپنا حصہ لے لے ہذا عند ابی حنیفۃ ومحمد رحمہما اللہ تعالی یہ طرفین کے نزدیک ہے بھئی و جی کیوں وذالک اور یہ اس لیے بھئی دلیل بھئی لانھ مضطر اس لیے کہ وہ مجبور ہے بھئی بھئی سارے کے سارے ثمن دے کر باندی پر وہ قبضہ کر سکتا ہے اس لیے کہ باندی مثلاً کتنے کی خریدی تھی دونوں نے ایک لاکھ کی تو اگر آپ پورے کے پیسے ادا نہیں کرتے تو باندی سے نفع ہی نہیں اٹھا سکتے کس طرح بائے کہتا ہے بھئی پورے پیسے لاؤ تو باندی حوالے کروں گا پورے پیسے نہیں دیتے تو باندی بھی حوالے اب آپ پچاس ہزار آپ کا حصہ ہے آپ پچاس ہزار دیتے ہیں تو وہ باندی حوالے نہیں کرتا اسے تو روکنے کا حق ہے جب تک ایک ایک پائی وصول نہ کر لے وہ مبیع کو روک سکتا ہے تو اب آپ باندی سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں بھئی باندی سے فائدہ رہے لہذا اب آپ کے لیے جائز ہے کہ سارے کے پیسے دے کر کیا کر لیں باندی پر قبضہ کر لیں پھر نفع اٹھائیں وذالک لانھ مضطر اس لیے کہ وہ مجبور ہے لا یمکنہ الانتفاع بنصیبہ ممکنی نہیں ہے اس کے لیے نفع اٹھانا اپنے حصے سے الا بداء جمیع الثمن مگر یہ کہ ادا کر دے سارے ثمن بھئی فإذا اداھو جب اس نے ادا کر دیے لم یکن متبرعا بھئی تو وہ از خود بھئی ثواب کے طور پر یہ کام کرنے والا نہیں ہے متبرعا کہتے ہیں اپنی طرف سے کوئی کام کرنا یا بطور ثواب کے کیا کرنا کوئی کام کرنا بھئی تو وہ متبرعا شمار نہیں ہوگا کہ بھئی یہ تو اس نے اپنی طرف سے پیسے ادا کر لیے ہیں اب واپس غائب شخص واپس آ جائے تو یہ اس کو روک نہیں سکتا کیا کر سکتا ہے روک یہ ایسا نہیں ہے کہ متبرعا ہوگا پھر تو یہ اس کو روک نہیں سکتا متبرعا نہیں شمار ہوگا بھئی سمجھ میں آیا یعنی ثواب کے طور پر نہیں بلکہ پورے پیسے چونکہ اس نے ادا کیے ہیں تو اس کو روکنے کا حق ہوگا آگے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل آئے گی وہ فرمائیں گے یہ متبرعا ہے اس نے اپنی طرف سے کیا کیے ویسے ہی اس کے پیسے جب ویسے ہی اس نے اس کے پیسے ادا کیے ہیں تو لہذا اس کو روکنے کا کوئی حق نہیں وہ آکر کیا کر سکتا ہے نصف پر قبضہ کر سکتا ہے ہم کہتے ہیں نہیں یہ متبرعا نہیں ہے یہ تو مجبور تھا مولانا اس کو مجبورا کیا کرنے پڑے پیسے دینے پڑے یہ مجبور تھا متبرعا نہیں تھا تو جب اگر اس نے ادا کر دیے لم یمکن متبرعا یہ متبرعا نہیں تھا فان حضر الغائب اگر غائب شخص حاضر ہو گیا لا یأخذ حصتہ وہ اپنا حصہ نہیں لے سکتا الا ان یسلم ثمن حصتہ مگر یہ کہ وہ سپرد کر دے اپنے حصے کے ثمن الی شریکہ اپنے شریک کے بھئی پھر لے لے اپنا حصہ و عند ابی یوسف رحمہ اللہ ومطبرع فی ادا حصۃ شریکہ وہ متبرع ہے بھئی کس میں اپنے شریک کے حصے کی ادائیگی میں اس نے جو اپنے شریک کی طرف سے پچاس ہزار دیے تھے اس میں متبرع ہے لانھ دفع دین غیرہ بغير امره متبرعہ کیوں ہے کہتے ہیں اس لیے کہ اس نے غیر کے دین کو حوالے کیا دیا بغير امره بغیر اس کے امر کے بغیر اس کے امر کے اپنی طرف سے اس نے پیسے دیے ہیں تو یہ متبرعہ ہے جب متبرع ہے تو اس کو روکنے کا حق بھی نہیں ہے و ان اشتری بالف مثقال بالف مثقال من ذھب و فضۃ یجب من کل نصف نصفہ بھئی یجب من کل نصفہ صورت مسئلہ یہ ہے آپ نے ایک شخص سے ایک باندی خریدی اور کیا کہا بھئی اشتریت منك ھذہ الجاریۃ بالف مثقال من ذھب و فضۃ ایک ہزار مثقال سونے اور چاندی میں سے آپ نے یوں کہا کیا کہا ایک ہزار مثقال کس میں سے سونے اور چاندی میں سے تو اب کیا کیا جائے گا سونا کتنا ہوگا چاندی کتنی آئے گی کہتے ہیں بھئی مثقال ذکر کیے اور دونوں کی طرف اس کی نسبت کر دی تو دونوں میں مثقال مراد ہوں گے یاد رکھو مثقال دینار کا نام ہے دینار کے وزن جو ہے وہ کتنا ہے مثقال بھئی مثقال صورت سمجھ میں آئی بھئی تو بھئی دینار یہ مثقال کا نام مثقال اور دینار ایک ہی وزن کے نام ہیں بھئی تو اب سونے کے اندر تو کیا جاری ہوتے ہیں بھئی کون سا وزن ہے مثقال ہے دینار ہیں بھئی اور چاندی کے اندر درہم ہے درہم کا الگ وزن دینار کا الگ وزن تو اب ایک ہزار کیا کیا جائے بھئی سونے کے اندر تو مثقال جاری ہوتے ہیں لیکن چاندی کے اندر تو مثقال جاری نہیں ہوتے تو کیا سونے کے دینار مراد ہوں گے اور چاندی کے درہم یعنی پانچ سو دینار اور پانچ سو درہم آئیں گے کہتے ہیں نہیں بھئی یہاں ایسا نہیں ہے تو اس نے مثقال کی صرف ذکر کیا ہے کہ مثقال کس میں سے ہوگا سونے میں سے بھی اور لہذا سونا بھی مثقالوں میں دیا جائے گا اور چاندی بھی کس میں سے مثقال اور دونوں نصف نصف دیے جائیں گے تو سونا بھی پانچ سو مثقال اور چاندی بھی پانچ سو مثقال آجائے گی صورت سمجھ میں آئی بھئی بخلاف اس کے کہ وہ یوں کہتا ہے بھئی مثقال کا لفظ نہیں ذکر کرتا صرف ہزار ذکر کرتا ہے یہ باندی میں نے آپ سے خریدی کتنے کے بدلے بلف من ذہب و من من الذھب والفضۃ ایک ہزار کس میں سے بھئی سونے اور چاندی میں سے مثقال کا لفظ نہیں استعمال کیا ایک ہزار ہوں گے کس میں سے سونے اور چاندی میں سے تو پھر دونوں کے معروف وزن مراد ہوں گے سونے میں کیا جاری ہوتا ہے بھئی مثقال یعنی دینار چلتے ہیں اور چاندی کے اندر درہم تو پانچ سو دینار اور پانچ سو ہی درہم آ جائیں گے بھئی مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی تو مثقال کا لفظ کہا تو سونے اور چاندی دونوں میں مثقال آئیں گے مثقال نہیں کہا بس ایک ہزار سونے اور چاندی میں سے تو چاندی میں معزو معروف وزن جو عرف میں رائج ہے وہ ہے درہم اور سونے میں دینار تو نصف نصف پانچ پانچ سو ہو جائیں گے اور پانچ سو سونے کے دینار اور چاندی میں درہم بھئی صورت سمجھ میں آئی بھئی اچھا یہاں ایک اور بات بھی سمجھ لو آگے پھر عبارت سمجھ میں آئے گی بھئی آگے وہ آپ کو بتلائیں گے کہ جب اس نے یہ کہا نا کہ ایک ہزار ہوں گے سونے اور چاندی میں سے مثقال کا لفظ ذکر نہیں کیا ایک ہزار کس میں سے ہوں گے سونے اور چاندی میں سے تو کہتے ہیں سونے میں سے تو مثقال جاری ہوں گے مثقال بھئی مراد ہوں گے کیونکہ سونے میں کون سا وزن رائج ہے مثقال والا اور چاندی میں درہموں میں کہتے ہیں وزن سبعہ والے درہم مراد ہوں گے کون سے درہم مراد ہوں گے وزن سبعہ والے درہم مراد ہوں گے وزن سبعہ والے کیا معنی یہ بھئی اوزان کا پتہ ہونا چاہیے آپ کو میں نے پہلے بھی ذکر کیا اوازان شرعیہ یاد رکھو آٹھ چاول کے دانے ہوں تو یہ کیا بنتی ہے ایک رتی آٹھ رتی ملیں تو یہ کیا بنتا ہے یہ ایک ماشہ بنتا ہے جی ایک ماشہ اب یاد رکھو یہ جو دینار ہوتا ہے یہ جو مثقال ہوتا ہے یہ ساڑھے چار ماشے کا ہوتا ہے دینار کتنے کا ہے مثقال کتنے کا ہے دینار اور مثقال ایک وزن ہے بھئی دینار ساڑھے چار ماشے مثقال کتنے ماشے ساڑھے چار ماشے ایک ہی وزن ہے یہ سارا بھئی جبکہ جو درہم ہوتا ہے وہ چاندی کا وہ ہوتا ہے تین ماشے ایک رتی اور خمس رتی تین ماشے ایک رتی اور خمس رتی یعنی رتی کا پانچواں حصہ تو درہم کتنے کے وزن کے برابر ہوا بھئی تین ماشے ایک رتی اور اور دینار کتنے کے برابر ہوا یعنی مثقال کتنے کے برابر ہوا ساڑھے چار ماشے کا بھئی اب یاد رکھو سات دینار ہوں تو ان کا وزن دس درہم کے برابر ہوتا ہے سات دینار ترازو کے ایک پلڑے میں ڈالیں آپ اور دس درہم دوسرے پلڑے میں ڈالیں تو ان کا وزن برابر ہوگا ان کا وزن کیا ہوگا اب آپ حساب بھی لگا سکتے ہیں بھئی حساب بھی لگا سکتے ہیں بھئی دیکھو سات دینار ہیں کتنے ایک دینار کتنے کا ساڑھے چار ماشے کا تو سات دینار کتنے کے ہو گئے یہ ساڑھے اکتیس ماشے ہو جاتے ہیں حساب کر لینا بھئی کتنے ماشے ہوتے ہیں ساڑھے اکتیس ماشے اسی طرح درہم کتنے کا ہے تین ماشے ایک رتی اور خمس رتی تو یہ دس درہم ہوں تو یہ بھی ساڑھے اکتیس ماشے بنتے ہیں کتنے بنتے ہیں یا دوسرا چلیے دیکھا تو یہ درہم کون سے ہوئے بھئی وزن سبعہ والے کون سے وزن سبعہ والے سے کیا مراد ہے کہ دس درہم کتنے کے برابر ہوں سات بات سمجھ میں آ گئی جی تو دیکھیے بھئی و ان اشترا بلف مثقال من ذھب و فضۃ اگر خریدا کتنے کے بدلے ایک ہزار مثقال سونے اور چاندی میں سے یوں اس نے کہا تو کہتے ہیں یجب من کل نصفہ تو واجب ہوگا من کل یعنی كل واحد یہ تنوین عوض ہے مضاف الیہ سے بھئی واجب ہوگا ہر ایک کے اندر نصفہ اس کا اس الف کا نصف واجب ہو جائے گا بھئی پانچ سو سونے میں سے مثقال اور پانچ سو چاندی میں سے مثقال وفی اور یہ عبارت اگر کہی اس صورت کے اندر کیا کہا بلف من الذھب والفزۃ مثقال کا لفظ ختم کیا ایک ہزار کس میں سے سونے اور تو یجب من الذھب مساقیل تو سونے میں سے کیا واجب ہوں گے اس میں کون سا وزن رائج ہے مثقال والا تو لہذا پانچ سو مثقال ہو جائیں گے تو سونے میں سے مثقال مراد واجب ہوں گے و من الفضۃ دراھم اور فضہ میں سے دراھم واجب ہوں گے کون سے درہم بھئی وزن سبعہ سات وز کے وزن والے یعنی کیا مطلب سات کے وزن والے وہ درہم جن کو وہ دس ہوں تو کتنے کے برابر بنتے ہوں سات بات سمجھ میں آگئی جی و زن سبعۃ قد سبق في كتاب الزكاة وزنو سبعہ یہ گزر چکا ہے کس کے اندر بھئی کتاب الزکاۃ وہاں اور یہاں یہ تفصیل بیان کی انہوں نے بھئی ولو قبض ضيفا بدل جید جاھلا بہ بھئی صورت مسئلہ یہ بھئی ایک شخص نے آپ کو ہزار درہم آپ کے دینے تھے بھئی ہزار نہیں مثلاً سو فرض کرو ایک شخص نے آپ کو سو درہم دینے تھے آپ کا دین ہے اس پر بھئی وہ رات کے وقت آیا اور اس نے آپ کو سو درہم ادا کیے آپ نے ان مہمان آئے ہوئے تھے ان درہموں کو خرچ کر دیا بھئی کیا ہوا خرچ کر دیا بھئی مہمانوں کو کھانا وغیرہ کھلا دیا بعد میں پتہ چلا اس نے جو درہم آپ کے حوالے کیے تھے وہ کھوٹے تھے بھئی کون سے تھے کھوٹے درہم حوالے کیے تھے اب کیا ہوگا طرفین فرماتے ہیں ادائیگی ہو گئی ادائیگی ہو گئی اس لیے کہ نقصان صرف وصف میں آیا دینے عمدہ چاہیے تھے کھرے دینے چاہیے تھے اس نے دیے کون سے کھوٹے دیے تو نقصان وصف میں آیا اور وصف کے مقابلے میں ثمن نہیں ہوتے تو لہذا اب اس وصف کے فوت ہونے پر اس سے کوئی ضمان لیا نہیں جا سکتا امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں بھئی جیسے اصل کے اندر رعایت ضروری تھی وصف کے اندر بھی رعایت رکھنا ضروری ہے بھئی تو یہاں اس نے لیے دینے کھرے تھے اور دیے کون سے بھئی کھوٹے دیے تو اب اس کا زمان تو اس سے وصول نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وصف کے مقابلے میں ثمن نہیں ہوتے تو ایک ہی صورت باقی رہ گئی کہ کہیں سے اب وہ اسی طرح کے سو درہم کھوٹے وہ حاصل کرے اور وہ واپس کرے اس کو اور پھر اس سے کھرے والے سو درہم کیا کر لے لے لے صورت سمجھ میں آئی بھئی ولو قبض ضيفا زيفا زيف کہتے ہیں کھوٹے بھئی ولو قبض ضيفا بھئی اور اگر اس نے قبضے کیے کھوٹے درہموں درہموں پر بدلہ جيد کس کے بدلے کھروں کے بدلے جاھلا بہ اس حال میں کہ وہ اس سے جاہل تھا اسے پتہ نہیں تھا بھئی ہاں اگر پتہ تھا قبضہ کر لیتا ہے پھر تو ادائی ادائی ہے بھئی اس نے خود چھوڑ دیے اس وصف کو و انفق تو وہ جاہل تھا اس کو پتہ نہیں تھا اس نے ان قبضہ کر لیا کھوٹوں پر وانفق اور ان کو خرچ کر دیا او نفق یا کیا ہوئے وہ خرچ ہو نفق ای ھلاکان کیا مطلب وہ ہلاک ہو گئے مراد ہلاک ہونے کے معنی میں ہے بھئی یا اس نے خرچ کر دیے یا وہ ہلاک ہو گئے فھو قضاء عندھما تو یہ طرفین کے نزدیک ادا ہے بھئی و عند ابی یوسف رحمہ اللہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں یرد مثل زیفہ وہ واپس کرے گا اس کے کھوٹوں کے مثل واپس کرے کہیں سے حاصل کر کے واپس کرے و یرجع بجیدہ اور رجوع کرے گا کھروں کے ساتھ بھئی (یعنی کھرے اس سے وصول کر لے گا) لأن حقہ فی الوصف مرعی یہ کتابت کی غلطی ہے مرعی لفظ سونا چاہیے اس لیے کہ اس کا حق جو ہے دائن کا حق وصف کے اندر بھی مرعی اس کی رعایت رکھی جائے گی بھئی وصف کے اندر بھی کیا کی جائے گی بھئی کھرے دیے تھے تو کون سے لینے کون سے اس کو ادا کرنے چاہیے کھرے ہی ادا کرنے چاہیے تو وصف کے اندر بھی رعایت ضروری ہے کھرے دیے تھے تو وصول بھی کون سے حق بھی اس کا کون سا بنتا ہے کھروں کا ولا قیمت لہ لیکن اس وصف کی تو کوئی قیمت نہیں ہے کیونکہ وصف کے مقابلے میں تو ثمن نہیں آتے تو زمان تو لے نہیں سکتے فوجب المصیر الی ما ذکرنا تو واجب ہوا رجوع کرنا اس چیز کی طرف جو ہم نے ذکر کی امام ابو یوسف نے ذکر کی کیا ذکر کی کہ اور کوئی صورت نہیں اب یہی صورت ہے کہ کہیں سے ویسے ہی کھوٹے حاصل کرے وہ دے کر پھر اپنے کیا وصول کر لے کھرے وصول کر لے قلنا ہم جواب دیتے ہیں الزیف من جنس حقہ یہ جو کھوٹے ہیں درہم یہ بھی اسی کے حق کی جنس میں سے ہیں کھوٹے ہیں تو کیا ہوا تھے تو درہم بھئی تھے تو تو یہ بھی اسی کے حق کی جنس میں سے ہیں بھئی ہاں اس کا حق تھا کھرے درہموں کا اور اس نے ادا کون سے کیے کھوٹے بھئی ہے اسی جنس میں سے بھئی اس کا حق بھی درہم تھا ادا بھی اس نے کیا کیے درہم تو یہ اسی کی حق کی جنس میں سے ہے جی اور یہ جو آپ فرما رہے ہیں اے امام ابو یوسف کہ کیا کرے کہیں سے کھوٹے لائے تو اس پر معلوم ہوا کھوٹوں کا لانا اور واپس کرنا واجب ہوا کہیں سے کھوٹوں کا لانا آپ نے واجب کر دیا اور کسی پر کوئی چیز واجب کرنا یہ تو اس پر ضرر ہے کیا ہے ضرر ہے تو آپ نے اس پر کھوٹوں کا لانا اور اس کا واپس کرنا واجب قرار دے دیا اور یہ کسی پر کسی چیز کو واجب کرنا یہ ضرر ہے یا ضرر نہیں بھئی ضرر تو ہے بھئی تو اور ہاں لیکن اگرچہ یہ وجوب شے ہے اس پر یہ ہے ضرر لیکن یہ وجوب شے ہے کس کے لیے اس کے نفع کے لیے کیا کے لیے کہ جب وہ کھوٹے دے دے گا تو اس کو کیا مل جائیں گے کھرے تو یہ جو وجوب شے ہے اس پر یہ ہے ضرر لیکن یہ وجوب شے ہے کس کے لیے اس کے نفع کے لیے تو یہ تو اسی طرح ہے کسی کے نفع کے لیے اس پر ضرر کو واجب کر دینا کسی کے نفع کے لیے اس پر اس کے ضرر کو واجب کر دینا اور شریعت میں اس کی کوئی نظیر نہیں ہے کہ کسی کے نفع کے لیے اس پر اس کے ضرر کو واجب کر دیں صورت سمجھ میں آئی بھئی لہذا یہ درست نہیں بھئی قلنا الزیف من جنس حقہ کہ وہ کھوٹے بھی اسی کے حق کی جنس سے تھے و وجوب رد الزیف اور یہ جو کھوٹوں کا واپس کرنے کا وجوب ہے علیہ اس دائن پر تو یہ وجوب یہ کس لیے ہے لیتاخذ الجیدہ تاکہ وہ کیا لے لے پھر جی جید عمدہ اور کھرے لے لے تو یہ ایجاب لہ یہ ایجاب ہے کوئی چیز واجب کرنا ہے لہ اس کے نفع کے لیے علیہ اس شخص پر بھئی تو یہ تو اس کے نفع کے لیے اس پر ایک چیز کو واجب کرنا ہے تو واجب کرنا ہوا ضرر اور ہے کس کے لیے اس کے نفع کے لیے تو کسی کے نفع کے لیے اس پر کسی چیز کو واجب کر دینا تو یہ نفع کے لیے اس پر ضرر کو لازم کرنا ہوا ولا ولم یعہد فی الشرع مثلہ اور معہود نہیں ہے بھئی معلوم نہیں ہے شریعت کے اندر اس کی کوئی مثال بھئی شریعت میں کوئی اس کی نظیر معلوم شریعت یہ یوں کہو شریعت میں اس کی کوئی نظیر نہیں ہے بھئی لہذا یہ درست نہیں اب صاحب شرح وقایہ علامہ صدر الشریعہ اس پر اعتراض کرتے ہیں کہ طرفین نے کیا ذکر فرمایا بھئی کہ کسی پر اس کے نفع کے لیے ضرر کو لازم کرنا کسی پر اس کے اپنے نفع کے لیے کسی ضرر کو کیا کر دینا اس کی آپ نے کہا شریعت میں کوئی نظیر نہیں کہتے ہیں بھئی شریعت کی ساری تکالیف اسی قبیل سے تو ہیں اور آپ کہہ رہے ہیں شریعت میں اس کی کوئی نظیر نہیں ہے بھئی دیکھو بھئی شریعت نے آپ کو کیا حکم دیا روزے رکھو جی تو روزے رکھنے میں تکلیف ہے یا تکلیف نہیں ہے بھئی تکلیف تو ہے لیکن ہے کس کے لیے یہ آپ کے نفع کے لیے ہے بھئی کس کے لیے ہے دنیاوی نفع بھی ہے آپ کے بدن میں جتنی بیماریاں ہیں وہ ختم ہو جائیں گی بھئی ان روزوں کے ذریعے سمجھ میں آیا اور اخروی فائدہ تو ہے ہی ہے بھئی روزے بھئی عجیب اللہ تعالی کی ہر عبادت اسی طرح نعمت ہے بھئی روزوں کے بھئی حکماء کہتے ہیں بھئی غیر مسلم حکیم جو ہیں ڈاکٹر حضرات بھی کہتے ہیں یہ اللہ کی بڑی نعمت ہے کہ اس نے مسلمانوں پر جو روزے فرض کیے اس ایک مہینے کے اندر بھئی جتنی چھوٹی موٹی خرابیاں جسم کے اندر سال بھر میں پیدا ہوئی تھیں وہ ساری ختم ہو جاتی ہیں بھئی بھئی آپ گاڑی تیار خریدتے ہیں نئی گاڑی لیتے ہیں سال بعد انجن کی صفائی کرواتے ہیں یا نہیں کرواتے کہتے ہیں یہ بھی اسی طرح ہیں انسان کے سارے بدن کی مہینے میں صفائی ہو جاتی ہے سمجھ میں آیا ایک آدھ روزہ رکھے بھئی اس لیے کہ معدے کو آرام مل جاتا ہے سکون مل جاتا ہے بھئی کئی گھنٹے دس بارہ چودہ گھنٹے تک سکون مل جاتا ہے اسے حالانکہ پہلے تو سارا سال بھئی ہر آدھے گھنٹے کے بعد بھئی کبھی ناشتہ ہو رہا ہے کبھی چائے پی رہے ہیں آپ کبھی مہمان آ رہے ہیں کبھی کچھ کھا رہے ہیں تو وہ بے ربطی اس کے اندر بے ربط خوراک ملتی رہتی ہے اس میں آہستہ آہستہ خرابی پھیلتی رہتی ہے بدن کے اندر بھئی لیکن پھر یہ مہینہ آتا ہے ایک بھئی تو اس میں معدے کے لیے آرام معدے کو دینا ضروری ہے لیکن ایک دو تین چار دن سے مسئلہ حل نہیں ہوتا کتنے دن کم از کم کرے پورا مہینہ رکھے بھئی پورا مہینہ بھئی چنانچہ ایک شخص نے اپنا ڈاکٹر نے اپنا واقعہ بھی لکھا بھئی کہتے ہیں کہ میں برطانیہ میں رہتا تھا بھئی اور یہ ابھی قریب کی بات ہے بھئی برطانیہ میں رہتا تھا عیسائیوں کے ساتھ بات چیت ہوتی تھی عیسائی ڈاکٹر تھے وہاں سارے تو ایک دن کوئی باتوں باتوں میں مذہب کی بات ائی انہوں نے کہا بھئی یہ جو روزے ہیں آپ کے مذہب میں یہ تو ویسے ہی وہ شریعت میں اپ میں آپ رکھتے ہیں فائدہ کوئی نہیں آدمی اتنے گھنٹے بھوک رہا کمزور ہو جاتا ہے کہتے ہیں مجھے پتہ تو نہیں تھا لیکن میں نے ویسے ہی کہہ دیا بھئی اپنی طرف سے کہ بھئی اس کی وجہ سے انسان کا بدن ٹھیک ہو جاتا ہے جتنی خرابیاں ہوتی ہیں وہ ختم ہو جاتی ہیں ڈاکٹر تھا تو ڈاکٹری انداز میں اس نے بات کی انہوں نے کہا نہیں یہ نہیں ہو سکتا بھئی یہ کیسے ہو سکتا ہے میں نے کہا نہیں ختم ہو جاتی ہیں کہتے ہیں اس وقت ہماری جو ہے شرط لگ گئی بھئی ٹھیک ہے دیکھتے ہیں بھئی یہ ہوتا ہے ایسا یا نہیں ہوتا تو کہتے ہیں چنانچہ ایک شخص بھئی اس کو پھر دیکھا گیا بھئی اس کے سارے ٹیسٹ وغیرہ کیے اور پھر اس سے ایک مہینہ روزے رکھوائے بھئی ایک مہینہ اور میں ہر روز اللہ کے سامنے روتا دعا کرتا یا اللہ میں نے ایسا کہ تو دیا مجھے تو پتہ نہیں ہے لیکن میری عزت رکھ لے اللہ ان کے سامنے کہتے ہیں بھئی مہینہ اس نے روزے رکھے پھر سارے ٹیسٹ وغیرہ کروائے تو سارے دیکھ کر حیران رہ گئے بھئی جتنی چھوٹی موٹی بیماریاں ان ٹیسٹوں میں پہلے آئی تھیں ان ٹیسٹوں کے اندر ایک بھی نہیں آئی ساری ختم ہو چکی تو یہ اللہ کی بڑی نعمت ہے بھئی سمجھ میں آیا اور جو حلال لوگ بھئی وہ نہیں بعض لوگ نہیں رکھتے اپنا ہی نقصان کرتے ہیں اپنا ہی نقصان کرتے ہیں بہت زیادہ بھئی دنیا اخروی تو ہے ہی ہے دنیاوی اعتبار سے بھی بھئی سمجھ میں آیا تو صدر الشریعہ فرماتے ہیں بھئی شریعت کی ساری تکالیف اسی قبیل سے ہیں کہ وہاں پر کیا کیا گیا ہے ضرر کو دوسرے پر لازم کیا گیا ہے کس کے لیے اسی کے نفع کے لیے یرد علیہ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ ان مثل ھذا فی الشرع کثیر کہ اس قسم کی مثالیں تو شریعت میں بہت زیادہ ہیں فان جمیع تکالیف الشرع من ھذا القبیل اس لیے کہ شریعت کی ساری تکالیف اسی قبیل سے ہیں لانھا ایجاب ضرر قلیل اس لیے کہ وہ تکالیف کیا ہیں تھوڑے سے ضرر کو واجب کرنا ہے لاجل نفع کثیر کس کے لیے کثیر نفع کے لیے ولو فرخ او باز طیر فی ارض او تکسر زبیع فیھا فھو للاخر بھئی صورت مسئلہ یہ بھئی آپ کا کھیت ہے بھئی آپ کے کھیت کے اندر پرندے نے انڈوں میں سے بچے نکالے بھئی زید آیا اس کو انڈے مل گئے بچے مل گئے بھئی اس نے اٹھا لیے آپ جا کر کیا اس سے لے سکتے ہیں کہ بھئی یہ تو میری زمین کے اندر ملے ہیں تمہیں یہ میرے ہیں کہتے ہیں نہیں بھئی آپ کے یہ نہیں ہیں بلکہ یہ جس کو مل گئے اسی کے ہیں کیا آپ نے اپنی زمین اسی مقصد کے لیے وہاں تیار کی تھی کہ اس میں کیا کرے پرندے آ کر جی انڈے دیں اور بچے نکالیں نہیں بھئی ہاں اگر آپ نے اسی مقصد کے لیے تیار کی ہے بھئی وہاں اسباب بھی بنائے کہ پرندہ یہاں آئے رہے پھر آپ کے ہیں بھئی معلوم ہوا پھر تو آپ نے باقاعدہ تیار کی ہے زمین کو سمجھ گیا اسی طرح کسی کو آپ کی زمین نے پرندے کے انڈے مل گئے بھئی تو جس کو مل گئے اسی کے ہیں بھئی یا بھئی آپ کی زمین تھی آپ کا گھر تھا بھئی ایک ہرن آیا دوڑتا ہوا اور آپ کی زمین میں پہنچا تو اس کا پاؤں ٹوٹ گیا بھئی اب وہ بھاگ نہیں سکتا زید جلدی گیا اس نے پکڑ لیا آپ یہ نہیں کہہ سکتے میری زمین سے پکڑا ہے یہ تو میرا ہے بلکہ یہ جس نے بھی پکڑ لیا اسی کا ہے بھئی ہاں اگر آپ نے بھئی آپ نے کوئی ایسا سب طریقہ بنایا تھا کہ وہاں ہرن آئے گا تو اس کی کیا ہو جائے گی ٹانگ ٹوٹ جائے گی وہ پکڑا جائے گا بھاگ نہیں سکے گا پھر تو وہ آپ کا ہے پھر تو آپ نے باقاعدہ اس کا شکار کیا ہے ولو فرخ اگر بچے نکالے انڈوں میں سے او باز یا انڈے دیے فرخ کا معنی انڈوں سے بچے نکالنا بازہ کا معنی انڈے دینا اگر بچ انڈوں میں سے بچے نکالے او باز یا انڈے دیے طیر پرندے نے فی ارض کس کے اندر کسی زمین کے اندر او تکسر زبیع فیھا یا ٹوٹ گیا ہرن اس زمین میں ہرن ٹوٹ گیا یعنی اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی فھو للاخر تو وہ کس کا ہوگا لینے والے ہی کا ہوگا ای لا یکون لصاحب الارض وہ زمین والے کا نہیں لان السید لمن اخذ اس لیے کہ شکار اسی کا ہوتا ہے جس جو اس کو پکڑتا ہے بھئی والمراد بتکسر الضیع انکسار رجلیہ اور ہرن کے تكسر سے ٹوٹنے سے کیا مراد ہے انکسار رجلیہ اس کے پاؤں کا ٹوٹنا بھئی وانما قال تكسرا ماتن نے تكسرا کہا کہ اس کی ٹانگ خود ٹوٹ گئی لانھ لو كسرھا احد اگر اس کو کسی اور نے توڑا یکون لہ تو وہ اسی توڑنے والے کا ہوگا لا للاخر پکڑنے والے کا نہیں وفي بعض الروایات تکنسا بعض روایات میں تكسرا کے بجاے متن میں کیا آیا ہے بھئی تکنسہ آیا ہے بھئی بعض اور متون کے اندر بھئی تکنسہ کا معنی ہوتا ہے ہرن کا اپنے ٹھکانے میں داخل ہونا بھئی ہرن کا اپنے ٹھکانے میں بھئی جھاڑیوں میں درختوں میں اس نے کوئی جو ٹھکانا بنایا ہو تکنسا آیا ہے ای دخل فی الکیناسی یعنی داخل ہوا کس کے اندر ہرن کیناس اپنے ٹھکانے میں وھوا ماواہ بھئی کیناس کس کو کہتے ہیں کہتے ہیں وہ اس کا ٹھکانہ ہے ماواہ اس کا ٹھکانہ تو ان صورتوں میں یہ پکڑنے والے کا ہوگا وبخلاف ما اذا اعد صاحب الارض ارضہ لذالك بخلاف اس کے کہ اگر تیار کیا ہو زمین والے نے اپنی زمین کو اسی مقصد کے لیے پھر کس کا ہوگا زمین والے کا وبخلاف ما اذا عسل النحل فی ارضہ وبخلاف اس کے کہ شہد بنائے مکھیاں اس کی زمین میں شہد کا یہ حکم نہیں ہے شہد آپ کی زمین میں مکھیوں نے بنایا تو وہ آپ ہی کا حق ہے اس لیے کہ شہد کو زمین کے منافع میں سے خیال کیا جاتا ہے اسی کی زیادتی میں سے جیسے زمین میں زیادتی ہوتی ہے فصل وغیرہ آتی ہے تو وہ کس کا حق ہے آپ کا اسی طرح اس میں مکھیاں شہد بنائے تو وہ بھی آپ کا حق ہے وہ کوئی اور آ کر لے جائے اس کی اجازت نہیں بھئی كصيد تعلق بشبكة جی نصب لالجفاف بھئی دیکھیے آپ نے ایک شکار کے لیے جال پھیلایا بھئی اس اور جال پھیلایا اور تو اس کے اندر جو بھی جانور آکر پھنسے گا اس کے مالک کون ہوں گے مالک کون ہوگا جی جال پھیلانے والا اس کا مالک ہوگا لیکن آپ نے شکار کے لیے جال نہیں پھیلایا جال کو دھویا ہے وغیرہ اور اس کو سکھانے کے لیے دھوپ میں پھیلا دیا ایک پرندہ یا جانور آیا آکر اس میں پھنس گیا کہتے ہیں یہ اب آپ کا نہیں ہے کیونکہ یہ جال آپ نے اس کو پکڑنے کے جس نے آکر اس کو پکڑ لیا یہ اسی کا ہو جائے گا كصید جیسے ایسا شکار تعلق بشبكتین جو معلق ہو گیا کس کے ساتھ بھئی کسی جال کے ساتھ بھئی معلق ہو گیا یعنی پھنس گیا کسی ایسے جال میں نسیبت للجفاف کس کے لیے نصب کیا گیا تھا سکھانے کے لیے صورت یہاں تک سمجھ میں آ گئی بھئی اب اور مسئلہ سمجھا رہے ہیں بھئی نکاح کے اندر آپ دیکھتے ہیں چھوارے وغیرہ کبھی لٹاتے ہیں بھئی وہ مسئلہ بھی آپ کو بتلانے لگے ہیں صاحب شرح وقایہ بھئی کہتے ہیں بھئی اگر کسی نے چھوارے لٹائے اور وہ چھوارے آپ نے جھولی پھیلائی ہوئی تھی تو جو اس جھولی کے اندر چھوارہ آ کر گرے گا وہ آپ کا ہے بھئی آپ کا ساتھی اس سے ہاتھ مار کے لے لے نہیں بھئی یہ اس کا نہیں یہ کس کا حق ہے کیونکہ یہ کپڑا جو بچھایا پھیلایا یہ آپ نے کس لیے پھیلایا اسی مقصد کے لیے تو پھیلایا کہ شکار آئے تو شکار کر لوں بھئی یا آپ بھئی اور تیزی دکھائی آپ نے آپ نے پوری چادر پھلا دی کہ جو آیا اس کے اوپر وہ میرا ہے اب اس پر جو بھی گرے گا وہ آپ کا ہے ہاں اگر آپ نے چادر ویسے پھیلائی ہوئی تھی اور اس پر اس نے چھوارے پھیلائے لٹائے وہ اس پر آ کر گر گئے یہ آپ کے نہیں ہیں جو مرضی لے جائے وہ اسی کا ہو جائے گا صورت سمجھ میں آئی بھئی ہاں اگر آپ نے چادر ویسے پھیلائی ہوئی تھی اور اس پر چھوارے آ کر گرے آپ نے فورا لپیٹ لی بھئی اب لپیٹی بند کی تو یہ آپ کا قبضہ ہو گیا اب کوئی اور اس کو نہیں لے سکتا لیکن اگر آپ نے ہاتھ بھی نہیں ہلایا ویسے ہی گری پھیلائی ہوئی ہے اور پھر روکا بھی نہیں تو اس صورت میں جو بھی اس کو لے لے دیکھیے بھئی و درہم و دنانیرو او سکرون درہم اور دنانیر اور سکر شکر بھئی شکر اور شکر بھئی نسیر جن کو پھیلایا گیا کیا کیا گیا جیسے درہم دینار یا شکر اس میں سے ان کو کسی ایک کو کیا کیا گیا لٹایا پھیلایا گیا پھیلانا یعنی لٹایا گیا فوق علی ثوب تو یہ واقع ہوا کسی کپڑے پر ایسے کپڑے پر لم یعد لہ جو اس کے لیے تیار نہیں کیا گیا تھا ویسے ہی بچھایا ہوا تھا و لم يكف اور پھر اس کو روکا بھی نہیں آپ نے لپیٹا بھی نہیں تو یہ بھی جو لے جائے اس کا ہے حتی ان اعد ثوب لذالك فھو لصاحب الثوب یہاں تک کہ اگر کپڑے کو تیار ہی اسی مقصد کے لیے کیا تھا تو وہ کس کا ہوگا صاحب کپڑے والے ہی کا ہوگا و كذا ان لم یعد لہ اسی طرح اگر اس نے کپڑے والے نے اس کپڑے کو اس چیز کو لینے کے لیے تیار نہیں کیا لكن لما وقع لیکن جب وہ چیز اس پر گری كفہ اس نے اس کو کیا کیا روکا لیا بند کر دیا صارا بھذا الفعل لہ تو اس فعل کے ذریعے وہ چیز کیا ہو جائے گی اسی شخص کی ہو جائے گی صورت سمجھ میں آئی بھئی چلیے بس مولانا ہذا والمرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام