اگے سبق دیکھیے بھئی: قَالَ: ”وَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ عَلَى رِدَّتِهِ انْتَقَلَ مَا اكْتَسَبَهُ فِي إِسْلَامِهِ إِلَى وَرَثَتِهِ الْمُسْلِمِينَ، وَكَانَ مَا اكْتَسَبَهُ فِي حَالِ رِدَّتِهِ فَيْئًا“، وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى. وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ وَمُحَمَّدٌ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى: كِلَاهُمَا لِوَرَثَتِهِ. بھئی، مرتد کے احکام بیان ہو رہے ہیں۔ گزشتہ سبق میں ہم نے باب احکام المرتدین شروع کیا تھا بھئی۔ صاحب ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ کوئی مسلمان مرتد ہو جاتا ہے تو اس پر اسلام پیش کیا جائے گا، تاکہ اگر کوئی شبہ اور کوئی اعتراض ہے اس کے ذہن میں تو اس شبہے کو دور کر دیا جائے، اور پھر بتلایا کہ اس سلسلے میں احناف کے تین قول ہیں۔ ایک قول صاحب قدوری نے ذکر فرمایا کہ مرتد جو ہے اس کو تین دن تک قید کیا جائے گا، اگر وہ اسلام لے آئے تو اچھی بات ہے، ورنہ اسے قتل کر دیا جائے گا۔ صاحب ہدایہ نے بتلایا یہ اس صورت میں ہے کہ جب مرتد خود مہلت طلب کرے، تو پھر اس کو تین دن کی مہلت دے دی جائے گی۔ اور جامع صغیر کے اندر امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مرتد پر اسلام پیش کیا جائے گا اور اگر وہ انکار کرتا ہے تو اس کو قتل کر دیا جائے گا، تو امام محمد رحمہ اللہ نے مہلت دینے کو ذکر نہیں فرمایا۔ جبکہ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ مرتد کو تین دن کی مہلت دینا مستحب ہے، چاہے وہ مہلت طلب کرے یا طلب نہ کرے۔ امام کے لیے مستحب ہے کہ وہ مرتد کو تین دن کی مہلت دے۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام پر واجب ہے کہ مرتد کو تین دن کی مہلت دے، اس لیے کیونکہ وہ کسی شبہے کی وجہ سے مرتد ہوا ہے، تو کچھ مدت دینی چاہیے تاکہ اس میں وہ غور و فکر کرکے اپنے شبہات کو دور کرکے پھر اسلام میں داخل ہو سکے۔ جبکہ ہمارے نزدیک اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ، یہاں پر مہلت دینے کو ذکر نہیں کیا اللہ نے، اور نیز اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ“، جو شخص اپنا دین بدل ڈالے تو اس کو قتل کر دو۔ اور پھر میں نے بتلایا تھا کہ یہ جو دلیل صاحب ہدایہ نے ذکر فرمائی، یہ قیاس ہے۔ قیاس یہ تقاضا کرتا ہے کہ اس مرتد کو مہلت دینے کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ اس کا اسلام لانا ایک وہمی چیز ہے اور ارتداد کی وجہ سے یہ قتل کا مستحق ہو چکا ہے، اس کا قتل واجب ہو چکا ہے، تو واجب کو ایک وہمی چیز کی وجہ سے مؤخر نہیں کیا جا سکتا۔ اور شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ امام کے لیے مستحب ہے کہ وہ مرتد کو تین دن کی مہلت دے اور یہ استحسان ہے، اور میں نے آپ کو بتلایا کہ استحسان کو قیاس پر ترجیح ہوتی ہے بھئی۔ اور نیز اسی طرح صاحب ہدایہ نے ذکر فرمایا کہ امام شافعی رحمہ اللہ کا مذہب یہ ہے کہ امام پر واجب ہے کہ مرتد کو تین دن کی مہلت دی جائے، لیکن شارحین فرماتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ کا صحیح مذہب بھی یہی ہے کہ مرتد کو مہلت نہیں دی جائے گی، اس پر اسلام کو پیش کیا جائے گا، اگر وہ انکار کر دیتا ہے تو اس کو قتل کر دیا جائے گا۔ اور پھر صاحب ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ اگر مرتد پر اسلام کو پیش کرنے سے پہلے ہی کسی قاتل نے اس کو قتل کر دیا تو یہ مکروہ ہے اور قاتل پر ضمان نہیں آئے گا یعنی نہ اس پر قصاص آئے گا اور نہ اس پر دیت آئے گی۔ وجہ یہ ہے کہ کفر کی وجہ سے مرتد جو ہے وہ مباح الدم ہو چکا ہے۔ البتہ قاتل کا بغیر اسلام پیش کیے اس مرتد کو قتل کرنا یہ مکروہ ہے، کیونکہ اسلام کا پیش کرنا مستحب تھا، تو اس قاتل نے ایک مستحب کام کو چھوڑا ہے، لہٰذا اس کا یہ قتل ناپسندیدہ ہے یعنی مکروہ تنزیہی ہے بھئی۔ اور باقی مرتَدّہ کو قتل کیا جائے گا یا نہیں؟ تو اس میں ہمارا اور امام شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مرتَدّہ کو بھی قتل کیا جائے گا، اس لیے کیونکہ جس طرح مرد کا ارتداد بڑا جرم ہے اور اس جرم کی وجہ سے اس کو قتل کیا جاتا ہے، اسی طرح عورت کا ارتداد بھی اسی مرد کی طرح بڑا جرم ہے، لہٰذا عورت کو بھی اس جرم کی وجہ سے قتل کیا جائے گا۔ جبکہ ہم کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے قتل سے منع فرمایا ہے، لہٰذا مرتَدّہ کو بھی قتل نہیں کیا جائے گا۔ اور نیز ہم عقلی دلیل دیتے ہیں کہ جزاوں کے اندر اصل یہ ہے کہ ان کو مؤخر کرنا چاہیے آخرت کے لیے، اس لیے کیونکہ یہ دنیا جو ہے یہ آزمائش کی جگہ ہے، یہاں اللہ تعالیٰ نے انسان کو آزمائش کے لیے بھیجا ہے، تو جزا و سزا کا محل آخرت ہے، لہٰذا اصل تو یہی ہے کہ سزاؤں کو مؤخر کرنا چاہیے آخرت کے لیے۔ لیکن شریعت دنیا کے اندر بھی سزا دیتی ہے بعض مصلحتوں کی وجہ سے، تو لہٰذا یہاں پر بھی یہ شخص مرتد ہو گیا ہے، حربی بن گیا ہے اور مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرنے والا بن گیا ہے، تو اب اس کے شر کو دور کرنا ضروری ہے، لہٰذا اس مرد کو تو قتل کیا جائے گا، لیکن عورت کی طرف سے تو جنگ نہیں ہو سکتی کیونکہ عورت کا جو بدن ہے، اس کا بدن اور اس کے جسم کی بناوٹ اور ساخت جو ہے وہ جنگ کی صلاحیت ہی نہیں رکھتی، لہٰذا عورت کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ جبکہ مرد جو ہے اس کا بدن تو جنگ کی صلاحیت رکھتا ہے، لہٰذا اس کی طرف سے جنگ متوجہ ہو سکتی ہے، تو وہ اگر مرتد ہوتا ہے یعنی حربی بنتا ہے تو اس کو قتل کیا جائے گا بھئی۔ اور پھر صاحب ہدایہ نے یہ بھی بیان فرمایا کہ مرتَدّہ عورت کو قتل تو نہیں کیا جائے گا لیکن اس کو قید میں ڈالا جائے گا یہاں تک کہ وہ اسلام لے آئے، وجہ یہ کہ اس نے اللہ کا حق ادا کرنے سے انکار کر دیا ہے، بعد اس کے کہ جب اس نے اقرار کر لیا تھا اللہ کے حق کا، کیونکہ یہ پہلے مسلمان تھی، جب مسلمان تھی تو اس نے معلوم ہوا اللہ کے حق کا اقرار کر لیا تھا، اور اس کے بعد اب یہ اللہ کا حق ادا نہیں کر رہی، تو اس کو مجبور کیا جاتا ہے۔ جیسے حقوق العباد کے اندر جب ایک شخص ایک مرتبہ کسی کے حق کا اقرار کر لے اور پھر وہ حق وہ ادا نہیں کرتا تو اس کو اس حق کی ادائیگی پر مجبور کیا جاتا ہے، تو یہاں بھی عورت نے اللہ کے حق کا اقرار کر لیا ہے لہٰذا اس کو بھی مجبور کیا جائے گا۔ اور پھر صاحب ہدایہ نے جامع صغیر کی عبارت بھی ذکر فرمائی کہ جامع صغیر کے اندر ہے کہ عورت کو مجبور کیا جائے گا چاہے آزاد ہو یا باندی ہو، اور اگر باندی ہے تو پھر اس کو اس کا آقا مجبور کرے گا۔ تو باندی کو آقا مجبور کرے گا، وجہ اس کی یہ ہے کہ اس کے اندر دونوں کے حق کی رعایت ہے، اللہ کے حق کی بھی رعایت ہے اور اس آقا کے حق کی بھی رعایت ہے۔ اللہ کے حق کی رعایت ہوگی کہ یہ آقا جو ہے باندی کو مجبور کرے گا اور آقا کے حق کی بھی رعایت ہوگی کہ وہ اس دوران اس باندی سے خدمت بھی لیتا رہے گا، تو آقا کے مجبور کرنے کے اندر اللہ کے حق کی بھی رعایت ہو گئی اور آقا کے حق کی بھی رعایت ہو گئی، لہٰذا باندی کو آقا مجبور کرے گا بھئی۔ اور اس کے بعد صاحب ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ کسی کے مرتد ہونے کی وجہ سے اس کی ملکیت اپنے مالوں پر سے ختم ہوگی یا نہیں؟ تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ مرتد کی ملکیت اپنے مالوں پر سے موقوف طور پر ختم ہو جاتی ہے، یعنی ملکیت ختم ہوئی لیکن موقوف رہے گی، اگر یہ دوبارہ مسلمان ہو گیا تو اس کی ملکیت پھر واپس لوٹ آئے گی، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں نہیں، اگر کوئی مرتد ہو جائے تو اس کی وجہ سے اس کی ملکیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا، وجہ یہ کہ وہ مکلف ہے اور محتاج ہے، وہ مکلف ہے اور محتاج ہے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ اللہ نے انسان کو مکلف بنایا ہے، اس کے لیے احکام نازل فرمائے ہیں اور وہ ان احکام پر تبھی عمل کر سکتا ہے کہ جب اس کی جان محفوظ ہو، اس کی جان محفوظ ہو اور نیز مکلف چیزوں سے فائدہ اٹھانے کا محتاج ہے کیونکہ وہ چیزوں سے فائدہ اٹھائے گا تو دنیا کے اندر زندگی بسر کر سکے گا، تو معلوم ہوا مکلف جو ہے چیزوں سے نفع اٹھانے کا محتاج ہے اور یہ چیزوں سے تبھی نفع حاصل کر سکتا ہے جب اس کے لیے ملکیت کو ثابت کیا جائے، جب اس کے لیے ملکیت کو ثابت کیا جائے، تو لہٰذا جو شخص مرتد ہوا ہے وہ بھی مکلف ہے، وہ بھی محتاج ہے، لہٰذا اس کی بھی ملکیت اس کے مالوں پر باقی رہے گی۔ باقی رہے گی، اگرچہ یہ مرتد قتل کا مستحق ہو چکا ہے، لیکن قتل کا مستحق ہونے کی وجہ سے مالوں پر سے ملکیت ختم نہیں ہوگی، جیسے وہ شخص جس کے بارے میں قاضی نے فیصلہ کر دیا کہ اس کو قصاص میں قتل کیا جائے، یا وہ شخص جس کے بارے میں قاضی نے فیصلہ کر دیا کہ اس کو زنا کی وجہ سے اب رجم کر دیا جائے، تو اب یہ شخص جس کو رجم کیا جائے گا یا قصاص میں قتل کیا جائے گا، اگرچہ یہ بھی قتل کے مستحق ہو چکے ہیں لیکن ان کی ملکیت ان کے مالوں پر سے ختم نہیں ہوتی جب تک ان کو قتل نہ کر دیا جائے۔ اسی طرح مرتد کو بھی جب تک قتل نہ کر دیا جائے اس کی ملکیت ختم نہیں ہوگی۔ بلکہ یہ شخص جس کو رجم کیا جائے گا اور یہ شخص جس کو قصاص میں قتل کیا جائے گا، ان کا تو قتل ہونا یقینی ہے اور مرتد کا قتل ہونا تو یقینی بھی نہیں ہے، اس لیے کیونکہ ہو سکتا ہے وہ دوبارہ اسلام کی طرف لوٹ آئے پھر تو اس کو قتل ہی نہیں کیا جائے گا، تو جن کا قتل یقینی ہے ان کی ملکیت ان کے مال پر سے ختم نہیں ہوتی جب تک انہیں قتل نہ کر دیا جائے، تو مرتد جو ہے اس کی ملکیت بھی اپنے مال پر سے ختم نہیں ہوگی جب تک اسے قتل نہ کر دیا جائے، بات سمجھ میں آگئی۔ جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہ مرتد جو ہے یہ واجب القتل ہو گیا ہے اور واجب القتل تو حربی ہوتا ہے، عام کفر جو ہے وہ قتل کا سبب نہیں ہے، تو معلوم ہوا یہ جو مرتد ہوا ہے یہ حربی کے درجے میں ہے اور اس وقت یہ ہمارے قبضے کے اندر مغلوب ہے، اور حربی بھی جب ہمارے قبضے میں مغلوب ہو جاتا ہے جب ہم اس کو قید کر لیتے ہیں تو اس کی ملکیت اپنے مال پر سے ختم ہو جاتی ہے، وجہ یہ کہ امام چاہے تو اس حربی کو قتل کر دے، امام چاہے تو اس حربی کو ہمیشہ کے لیے غلام بنا لے، تو وہ حربی جو ہمارے قبضے میں مغلوب ہو کر قید ہے اس کی ملکیت اپنے مال پر سے ختم ہو جاتی ہے، اسی طرح یہ مرتد جو ہے یہ بھی اسی حربی کے درجے میں ہے کیونکہ یہ واجب القتل ہو چکا ہے اور یہ ذمی بھی نہیں رہا اور یہ مستأمن بھی نہیں ہے، تو معلوم ہوا یہ حربی ہی ہے بھئی، یہ حربی ہی ہے، لہٰذا اس کی وجہ سے اس کی ملکیت ختم ہو جائے گی۔ البتہ اس کی یہ جو ملکیت ختم ہوگی یہ موقوف طریقے پر ختم ہوگی، وجہ یہ کہ اس کو پھر اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا جائے گا اور امید ہے کہ یہ واپس لوٹ آئے گا، کیونکہ یہ اسلام کی صفات اور اس کی خوبیوں کو جانتا ہے بھئی، لہٰذا اس لیے اس کی ملکیت کو موقوف رکھا جائے گا، تو اگر یہ اسلام کی طرف واپس لوٹ آیا تو اس کی ملکیتیں واپس آ جائیں گی، یوں سمجھیں گے گویا ارتداد والا جو سبب تھا وہ پایا ہی نہیں گیا، ارتداد جو ہے وہ ملکیت کو زائل کرتا ہے لیکن جب یہ واپس اسلام کی طرف لوٹ آیا تو یوں سمجھیں گے ارتداد والا سبب جو ملکیت کو زائل کرتا ہے وہ پایا ہی نہیں گیا، لیکن اگر یہ مرتد جو ہے یہ مر جاتا ہے ارتداد کی حالت میں ہی یا اس کو اسی طرح قتل کر دیا جاتا ہے یا قاضی اس کے دار الحرب جانے کا فیصلہ کر دیتا ہے تو یہ اس کی موت حکمی ہے بھئی، تو اس پر چاہے موت حقیقی آ جائے ارتداد کی حالت میں یا اس پر موت حکمی آ جائے، تو اس صورت میں اب یہ ارتداد والا سبب عمل کرے گا اور اس کی ملکیت اس کے مال پر سے قطعی طور پر ختم ہو جائے گی بھئی، بات سمجھ میں آگئی۔ اب آئیے آج کے سبق پر: ”قَالَ: وَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ عَلَى رِدَّتِهِ انْتَقَلَ مَا اكْتَسَبَهُ فِي إِسْلَامِهِ إِلَى وَرَثَتِهِ الْمُسْلِمِينَ وَكَانَ مَا اكْتَسَبَهُ فِي حَالِ رِدَّتِهِ فَيْئًا“. بھئی، اب صورت یہ ہے ایک شخص مرتد ہو گیا ہے، تو ایک تو اس کی وہ کمائی ہے جو اس نے اسلام کی حالت میں کی تھی اور اس کی ایک کمائی وہ ہے جو اس نے مرتد ہونے کے بعد کی ہے۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ جب مرتد جو ہے وہ مر جائے یا اس کو قتل کر دیا جائے ارتداد کی وجہ سے، تو اسلام کی حالت میں جو اس کی کمائی ہے اس کے اندر وراثت جاری ہوگی اور وہ مال اس کے وارثوں کی طرف منتقل ہو جائے گا، جبکہ وہ کمائی جو اس نے ارتداد کی حالت میں کی ہے وہ مال فے ہے، وہ مال غنیمت ہے بھئی۔ وجہ یہ کہ ارتداد کی وجہ سے یہ حربی بن چکا ہے بھئی، اور حربی کا جو مال ہوتا ہے وہ مال غنیمت ہوتا ہے، مال فے ہوتا ہے۔ تو امام صاحب کے نزدیک اس مرتد کی اسلام کی حالت میں جو کمائی ہے وہ اس کے وارثوں کی طرف منتقل ہو جائے گی اور جو ارتداد کی حالت میں کمائی ہے وہ مال فے ہے، وہ مال غنیمت ہے۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ اس کی دونوں کمائیاں جو ہیں وہ وارثوں کی طرف منتقل ہوں گی، چاہے وہ کمائی اسلام کی حالت میں ہے چاہے ارتداد کی حالت میں ہے۔ جبکہ آگے امام شافعی رحمہ اللہ کا مذہب بھی صاحب ہدایہ ذکر فرمائیں گے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس مرتد کی ساری کمائی جو ہے وہ مال فے ہے، چاہے اس نے اسلام کی حالت میں مال کمایا ہو چاہے اس نے ارتداد کی حالت میں مال کمایا ہو، اس کا سارا مال جو ہے یہ مال فے ہے بھئی۔ تو معلوم ہوا یہاں تین مذاہب ہو گئے بھئی: ایک امام صاحب کا مذہب ہے، ایک صاحبین کا، اور ایک امام شافعی رحمہ اللہ کا۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اسلام کی کمائی ہو یا ارتداد کی کمائی ہو دونوں کمائیاں مال فے ہیں، مال غنیمت ہیں۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ دونوں کمائیاں جو ہیں وہ وارثوں کی طرف منتقل ہوں گی وہ مال وراثت ہے۔ جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں: اسلام کی حالت میں جو کمائی ہے وہ تو وارثوں کی طرف منتقل ہوگی لیکن ارتداد کی حالت میں جو کمائی ہے وہ مال فے ہے بھئی۔ دیکھیے بھئی: ”قَالَ“: صاحب قدوری فرماتے ہیں: ”وَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ عَلَى رِدَّتِهِ“، اور اگر وہ مرتد مر گیا یا اس کو قتل کر دیا گیا ارتداد کی حالت پر، ”انْتَقَلَ مَا اكْتَسَبَهُ فِي إِسْلَامِهِ“، تو منتقل ہو جائے گا وہ جو اس نے اسلام کی حالت میں کمایا ہے، ”إِلَى وَرَثَتِهِ الْمُسْلِمِينَ“، اس کے مسلمان وارثوں کی طرف، ”وَكَانَ مَا اكْتَسَبَهُ فِي حَالِ رِدَّتِهِ فَيْئًا“، اور جو مال اس نے ارتداد کی حالت میں کمایا ہے وہ مال فے ہوگا، ”وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“، اور یہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ رحمتًا واسعۃ کے نزدیک ہے، ”وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ وَمُحَمَّدٌ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى: كِلَاهُمَا لِوَرَثَتِهِ“، اور صاحبین فرماتے ہیں کہ اس کی دونوں کمائیاں جو ہیں وہ اس کے وارثوں کے لیے ہیں، ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: كِلَاهُمَا فَيْءٌ“، اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کی دونوں کمائیاں مال فے ہیں یعنی مال غنیمت ہیں، ”لِأَنَّهُ مَاتَ كَافِرًا وَالْمُسْلِمُ لَا يَرِثُ الْكَافِرَ“. یہاں سے امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل ذکر کر رہے ہیں صاحب ہدایہ۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ مرتد جو ہے یہ حالت کفر پر مرا ہے اور مسلمان جو ہے وہ کافر کا وارث نہیں ہو سکتا۔ آپ پڑھ چکے ہیں کہ وہ چیزیں جو وراثت سے مانع ہیں ان میں سے ایک سبب اختلاف دین بھی ہے، اگر وارث اور مورث کا دین الگ الگ ہو تو پھر وراثت جاری نہیں ہوگی بھئی، اور یہ بھی یاد رکھنا یہ جو اختلاف دین ہے یہ صرف مسلمان اور کافر کے درمیان مانع ہے وراثت سے، یعنی وارث اور مورث میں سے ایک مسلمان ہو اور ایک کافر ہوں تو پھر وراثت جاری نہیں ہوگی، لیکن اگر دونوں کافر ہیں، البتہ دین الگ الگ ہے دونوں کا، وارث اور مورث کا دین الگ الگ ہے تو پھر یہ ایک دوسرے کے وارث بنیں گے کیونکہ حدیث میں آتا ہے: ”الْكُفْرُ مِلَّةٌ وَاحِدَةٌ“، ملت کا معنی ہے دین بھئی، ”الْكُفْرُ مِلَّةٌ وَاحِدَةٌ“، کفر سارا کا سارا ایک ہی دین ہے، بات سمجھ میں آگئی، تو اگر وہ وارث اور مورث دونوں کا دین الگ ہے لیکن ہیں دونوں کافر پھر یہ وارث بنیں گے، البتہ اگر دونوں میں سے ایک مسلمان ہے پھر وہاں وراثت جاری نہیں ہوگی بھئی۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”لِأَنَّهُ مَاتَ كَافِرًا“، اس لیے کیونکہ مرتد جو ہے کافر ہو کر مرا ہے، ”وَالْمُسْلِمُ لَا يَرِثُ الْكَافِرَ“، اور مسلمان جو ہے وہ کافر کا وارث نہیں ہوتا، ”ثُمَّ هُوَ مَالُ حَرْبِيٍّ لَا أَمَانَ لَهُ“، پھر یہ ایسے حربی کا مال ہے جس کو امان نہیں ہے۔ یہ جو مرتد مر گیا ہے اس کا مال جو ہے وہ ایسے حربی کا مال ہے جسے امان حاصل نہیں، لہٰذا اس کا مال مال غنیمت ہوگا۔ کہتے ہیں: ”ثُمَّ هُوَ مَالُ حَرْبِيٍّ لَا أَمَانَ لَهُ فَيَكُونُ فَيْئًا“، پھر یہ جو مرتد کا مال ہے یہ ایسے حربی کا مال ہے جسے امان نہیں ہے، تو یہ مال جو ہے مال فے ہوگا۔ ”وَلَهُمَا“، اب صاحبین کی دلیل آگئی۔ صاحبین فرماتے ہیں کہ اس کی دونوں کمائیاں یعنی چاہے اسلام کی حالت میں ہے وہ کمائی یا ارتداد کی حالت میں ہے وہ کمائی، دونوں کا مالک وہ مرتد ہے، جب مرتد دونوں کا مالک ہے تو یہ کمائیاں اس کے وارثوں کی طرف منتقل ہو جائیں گی اس کے مرنے کے بعد۔ ”وَلَهُمَا“، اور صاحبین کی دلیل یہ ہے: ”أَنَّ مِلْكَهُ فِي الْكَسْبَيْنِ بَعْدَ الرِّدَّةِ بَاقٍ عَلَى مَا بَيَّنَّاهُ“، کہ اس مرتد کی جو ملکیت ہے دونوں کمائیوں میں، وہ ارتداد کے بعد بھی باقی ہے اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دیا۔ صاحبین فرماتے ہیں کہ ارتداد کے بعد بھی اس مرتد کی ملکیت اپنے دونوں مالوں میں باقی ہے، اسلام کی حالت میں جو کمائی تھی اس کا بھی یہ مالک ہے اور ارتداد کی حالت میں اس نے جو کمائی کی ہے یہ اس کا بھی مالک ہے، جب یہ دونوں کمائیوں کا مالک ہے تو اس مرتد کے مرنے کی صورت میں یہ دونوں کمائیاں اس کے وارثوں کی طرف منتقل ہو جائیں گی۔ اور یہ اس کی ملکیت کیوں باقی ہے؟ صاحبین نے اس کی دلیل پیچھے ذکر کی تھی، گزشتہ سبق میں آیا تھا کہ صاحبین فرماتے ہیں کہ یہ مرتد کی ملکیت اپنے مال سے ختم نہیں ہوتی کیونکہ یہ مکلف ہے، یہ محتاج ہے، یہ کیا ہے؟ مکلف ہے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ انسان کو اللہ نے مکلف بنایا ہے، اس کے لیے شرعی احکام نازل کیے ہیں اور اس کے لیے ضروری ہے کہ اس انسان کو عصمت حاصل ہو، کیونکہ عصمت حاصل ہوگی تو اس کا قتل جائز نہیں ہوگا، جب قتل جائز نہیں ہوگا تو یہ زندہ رہ سکے گا اور جب یہ زندہ رہ سکے گا تو یہ اللہ کے نازل کیے ہوئے احکام کے مطابق زندگی گزار سکے گا بھئی، لہٰذا انسان کو عصمت حاصل ہوتی ہے مکلف ہونے کی وجہ سے۔ اور پھر یہ مکلف جو ہے دنیا میں زندگی گزارنے کے لیے محتاج ہے کہ وہ مال سے نفع اٹھائے، وہ مال سے نفع اٹھائے گا پھر ہی دنیا کے اندر وہ زندگی گزار سکتا ہے، تو لہٰذا مکلف محتاج ہے مال کے مالک ہونے کا کہ اس کے لیے ملکیت ثابت کی جائے، اس کا مال معصوم اور محفوظ قرار دیا جائے، تو چنانچہ اس حاجت کی وجہ سے شریعت نے اسے مال کا مالک قرار دے دیا اور اس کا مال معصوم اور محفوظ ہے۔ البتہ میں نے ذکر کیا تھا کہ یہاں آپ کے ذہن میں ایک اشکال آ سکتا ہے کہ مرتد جو ہے اس کی تو عصمت ختم ہو چکی ہے، اس کی جان تو معصوم نہیں، اسے تو قتل کیا جائے گا، تو میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ بےشک اس کی عصمت ختم ہو گئی ہے اس کو قتل کیا جائے گا لیکن یہ ابھی بھی مکلف ہے، ابھی بھی مکلف ہے، ابھی بھی شریعت کی طرف سے اس کو حکم دیا جا رہا ہے کہ واپس اسلام کے اندر آ جاؤ، اور اسی وجہ سے تو اس کو قتل کیا جاتا ہے کہ یہ مکلف ہے اور اسلام میں داخل نہیں ہو رہا، تو اگر یہ مکلف نہ ہوتا پھر تو اس کو تو قتل کرنا ہی جائز نہ ہوتا۔ تو معلوم ہوا مرتد کی جان کی عصمت اگرچہ ختم ہو گئی ہے لیکن پھر بھی وہ مکلف ہے اور مکلف دنیا کے اندر مال سے نفع اٹھانے کے لیے اس کے مالک ہونے کا محتاج ہے، لہٰذا مرتد جو ہے اپنے مال کا مالک ہوگا، اس کا مال معصوم اور محفوظ ہوگا۔ تو صاحبین کے نزدیک یہ جو مرتد ہے یہ مکلف ہے، محتاج ہے اور جو بھی مکلف اور محتاج ہوتا ہے اس کی ملکیت اپنے مال پر ثابت ہوتی ہے بھئی۔ تو لہٰذا اس مرتد کی بھی ملکیت اپنے مال پر ثابت ہے، چاہے وہ مال اس نے اسلام کی حالت میں کمایا تھا اور چاہے وہ مال اس نے ارتداد کی حالت میں کمایا ہے۔ دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: ”وَلَهُمَا: أَنَّ مِلْكَهُ فِي الْكَسْبَيْنِ بَعْدَ الرِّدَّةِ بَاقٍ عَلَى مَا بَيَّنَّاهُ“، اور صاحبین کی دلیل یہ ہے کہ یہ جو مرتد ہے اس کی ملکیت اس کی دونوں کمائیوں کے اندر، مرتد ہونے کے بعد بھی باقی ہے، اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دیا۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا یہ ”عَلَى“ علت بیان کرنے کے لیے بھی کبھی آتا ہے تو یہاں اس کے ذریعے دیکھو علت بیان کی جا رہی ہے: ”عَلَى مَا بَيَّنَّاهُ“، اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دیا، اور وہ وجہ کہ یہ مرتد مکلف ہے اور محتاج ہے۔ ”فَيَنْتَقِلُ بِمَوْتِهِ إِلَى وَرَثَتِهِ“، تو لہٰذا اس کا یہ مال منتقل ہو جائے گا اس کی موت کی وجہ سے اس کے وارثوں کی طرف، ”وَيَسْتَنِدُ إِلَى مَا قُبَيْلَ رِدَّتِهِ“. یہاں سے جواب دے رہے ہیں وہ جو امام شافعی رحمہ اللہ نے دلیل ذکر فرمائی تھی کہ یہ مرتد کافر ہے اور اس کے وارث مسلمان ہیں اور مسلمان جو ہے وہ مرتد کا وارث نہیں ہو سکتا کیونکہ دونوں کے دین الگ الگ ہیں، تو اس کا بھی جواب دے رہے ہیں صاحبین کی طرف سے صاحب ہدایہ۔ صاحبین فرماتے ہیں کہ یہ جو وارث ہونا ہے اس کی نسبت کی جائے گی ارتداد سے پہلے کی طرف، یعنی اس مرتد ہونے سے پہلے کی طرف، یعنی عین جس لمحے میں یہ شخص مرتد ہو رہا تھا اس سے ماقبل جو اسلام کے اندر اس کی زندگی کا آخری لمحہ تھا، یوں سمجھیں گے یہ اس کی زندگی کا بھی آخری لمحہ تھا۔ جب یہ مرتد ہو رہا ہے تو یوں سمجھو یہ مر رہا ہے بھئی، کیونکہ ارتداد کہاں تک پہنچانے والا ہے؟ موت تک پہنچانے والا ہے۔ کوئی مرتد ہوگا تو ہم اسے قتل کر دیں گے اور اگر وہ دار الحرب بھاگ گیا تو اس پر قاضی بھاگنے کا فیصلہ لکھ دے گا اور یہ فیصلہ بھی اس کے لیے موت کے حکم میں ہے بھئی، تو معلوم ہوا ارتداد موت تک پہنچانے والا ہے، لہٰذا جب وہ شخص مرتد ہوا تو یوں سمجھیں گے کہ یہ اس پر موت آ گئی، اور اس ارتداد سے ماقبل آخری لمحہ ہے جو اسلام کے اندر، وارث ہونے کی نسبت اس وقت کی طرف کی جائے گی کہ اس وقت یہ والے وارث اس کے وارث بن گئے، اور ارتداد سے پہلے تو وہ مرتد بھی مسلمان تھا، تو مسلمان مسلمان کا وارث ہو گیا۔ توجہ ہے؟ اعتراض کیا ہوتا تھا کہ یہ مرتد تو کافر ہے اور وارث مسلمان ہیں تو یہ اس کے وارث نہیں بن سکتے، تو جواب دیا کہ وارث ہونے کی نسبت ارتداد سے پہلے کی طرف کی جائے گی، ارتداد سے پہلے ہی اسلام کے اندر جو اس کا آخری لمحہ تھا اس وقت یہ وارث بن گئے، بات سمجھ میں آگئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَيَسْتَنِدُ إِلَى مَا قُبَيْلَ رِدَّتِهِ“، قبیل بھئی تصغیر ہے، قبل کا معنی پہلے اور قبیل کا معنی تھوڑا سا پہلے، ”قُبَيْلَ رِدَّتِهِ“، مرتد ہونے سے تھوڑا سا پہلے یعنی وہ جو آخری لمحہ ہے اسلام کے اندر۔ تو کہتے ہیں: ”وَيَسْتَنِدُ“، اور یہ وارث ہونے کی نسبت کی جائے گی، ”إِلَى مَا قُبَيْلَ رِدَّتِهِ“، اس وقت کی طرف جو ردت سے تھوڑا سا پہلے ہے، وارث ہونے کی نسبت اس وقت کی طرف کی جائے گی جو مرتد ہونے سے تھوڑا سا پہلے ہے، ”إِذِ الرِّدَّةُ سَبَبُ الْمَوْتِ“، اس لیے کیونکہ مرتد ہونا یہ موت کا سبب ہے، مرتد کو ہم قتل کر دیں گے یا اگر وہ دار الحرب بھاگ جاتا ہے تو قاضی اس پر موت کا حکم لگا دے گا، معلوم ہوا مرتد ہونا موت کا سبب ہے بھئی، تو لہٰذا ارتداد سے پہلے جو اسلام کے اندر اس کا آخری لمحہ تھا گویا وہ اس کی زندگی کا آخری لمحہ تھا، تو وارث ہونے کی نسبت بھی اسی وقت کی طرف کی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَيَسْتَنِدُ إِلَى مَا قُبَيْلَ رِدَّتِهِ إِذِ الرِّدَّةُ سَبَبُ الْمَوْتِ فَيَكُونُ تَوْرِيثُ الْمُسْلِمِ مِنَ الْمُسْلِمِ“، ورث یورث تورِیث کا معنی ہے وارث بنانا، ”فَيَكُونُ تَوْرِيثُ الْمُسْلِمِ مِنَ الْمُسْلِمِ“، تو یہ مسلمان کو مسلمان کا وارث بنانا ہوگا، یہ مسلمان کو مسلمان کا وارث بنانا ہو گیا یعنی دونوں مسلمان ہیں کیونکہ مرتد کے ارتداد سے پہلے کی طرف نسبت کر دی گئی۔ ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“، امام صاحب کی دلیل یہ ہے: ”أَنَّهُ يُمْكِنُ الِاسْتِنَادُ فِي كَسْبِ الْإِسْلَامِ لِوُجُودِهِ قَبْلَ الرِّدَّةِ“. بھئی، امام صاحب فرماتے ہیں اگر آپ کی بات تسلیم کی جاتی ہے اور یہ وارث ہونے کی نسبت ارتداد سے پہلے کی طرف کی جائے گی، تو ارتداد سے پہلے تو صرف اسلام والی کمائی موجود ہے، تو لہٰذا صرف اسی کی نسبت کی جا سکتی ہے، کیونکہ اس وقت تو ارتداد کی کمائی ابھی موجود ہی نہیں ہے۔ ایک چیز موجود تو ہو ایک وقت میں تو پھر اس وقت کی طرف نسبت بھی کی جا سکتی ہے، لیکن اس وقت تو ارتداد کی کمائی موجود ہی نہیں تھی، لہٰذا ارتداد والی کمائی کی نسبت نہیں کی جا سکتی بلکہ صرف اسلام والی کمائی کی نسبت کی جا سکتی ہے، اسی لیے اسلام کے اندر جو مال کمایا ہے وہ وارثوں کی طرف منتقل ہوگا اور جو ارتداد کے وقت مال کمایا ہے وہ وارثوں کی طرف منتقل نہیں ہوگا، وہ مال غنیمت ہوگا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“، اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے، ”أَنَّهُ يُمْكِنُ الِاسْتِنَادُ فِي كَسْبِ الْإِسْلَامِ“، کہ اسلام کی کمائی کے اندر نسبت کرنا ممکن ہے، ”لِوُجُودِهِ قَبْلَ الرِّدَّةِ“، اس وجہ سے کہ وہ کمائی مرتد ہونے سے پہلے موجود ہے، ”وَلَا يُمْكِنُ الِاسْتِنَادُ فِي كَسْبِ الرِّدَّةِ“، اور ارتداد کی کمائی میں نسبت کرنا ممکن نہیں ہے، ”لِعَدَمِهِ قَبْلَهَا“، اس لیے کیونکہ ارتداد کی کمائی تو موجود ہی نہیں ہے مرتد ہونے سے پہلے، ارتداد کی کمائی تو مرتد ہونے سے پہلے موجود ہی نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: ”لِعَدَمِهِ قَبْلَهَا“، اس لیے کیونکہ ارتداد کی جو کمائی ہے وہ تو ارتداد سے پہلے موجود ہی نہیں ہے، ”وَمِنْ شَرْطِهِ وُجُودُهُ“، اور نسبت کی شرط ہے اس کمائی کا پایا جانا، ارتداد سے پہلے کی طرف نسبت کے لیے شرط ہے کمائی کا پایا جانا اور وہ ارتداد والی کمائی تو اس وقت موجود ہی نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَمِنْ شَرْطِهِ وُجُودُهُ“، اور استناد کی شرط جو ہے وہ اس کمائی کا پایا جانا ہے۔ آگے دیکھیے: ”ثُمَّ إِنَّمَا يَرِثُهُ مَنْ كَانَ وَارِثًا لَهُ حَالَةَ الرِّدَّةِ وَبَقِيَ وَارِثًا إِلَى وَقْتِ مَوْتِهِ فِي رِوَايَةٍ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى“. بھئی، یہاں سے صاحب ہدایہ بیان فرمائیں گے کہ مرتد کا وارث کون کون بنے گا؟ یاد رکھو مسلمان جو ہیں وہ اس کے وارث بنیں گے بھئی، لیکن کس وقت کا اعتبار کیا جائے گا؟ ارتداد کے وقت وارث ہونے کا اعتبار کیا جائے گا یا مرتد کی موت کے وقت کا اعتبار کیا جائے گا؟ تو صاحب ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ اس سلسلے میں امام صاحب سے تین روایتیں ہیں۔ ایک روایت کے مطابق ارتداد اور موت دونوں معتبر ہیں بھئی، یعنی مرتد کا وارث وہ شخص بنے گا جو ارتداد کے وقت بھی وارث بن رہا ہے اور موت کے وقت بھی وارث بن رہا ہے، جو ارتداد کے وقت بھی وارث بن رہا ہے اور موت کے وقت بھی وارث بن رہا ہے یعنی موت تک زندہ ہے بھئی اور وارث بھی بن رہا ہے بھئی۔ جبکہ امام صاحب سے ایک روایت یہ ہے کہ مرتد کا وارث بننے میں صرف ارتداد کا اعتبار ہے۔ جس وقت وہ شخص مرتد ہو رہا تھا اس وقت جو اس کے وارث بن گئے وہی وارث بنیں گے، موت کے وقت کو نہیں دیکھیں گے۔ تو امام صاحب کی دوسری روایت کے مطابق مرتد کے ارتداد کا اعتبار ہے کیونکہ ارتداد بھی موت کے درجے میں ہے۔ اور تیسری روایت امام صاحب سے یہ ہے کہ مرتد کی موت کا اعتبار ہے، موت کے وقت جو وارث بن رہا ہے وہ وارث بنے گا۔ ارتداد کا اعتبار نہیں ہے، تو امام صاحب سے اس سلسلے میں تین روایتیں ہیں کہ مرتد کا وارث کون بنے گا؟ ان کی ایک روایت کے مطابق صرف ارتداد کا اعتبار ہے، ارتداد کے وقت جو وارث زندہ ہے وہ وارث بنے گا اور مرتد کی موت کا کوئی اعتبار نہیں، اور ایک روایت کے مطابق مرتد کی موت کا اعتبار ہے، موت کے وقت جو وارث زندہ ہے وہ وارث بنے گا، ارتداد کا کوئی اعتبار نہیں، اور ایک روایت کے مطابق ارتداد اور موت دونوں کا اعتبار ہے کہ مرتد کا وارث وہ بنے گا جو ارتداد کے وقت بھی وارث بن رہا ہو اور موت کے وقت بھی وارث بن رہا ہو۔ اگر ایک شخص ارتداد کے وقت تو وارث بن رہا ہے، مثلاً مرتد کا بیٹا ہے، وہ مسلمان ہے، تو یہ شخص جس وقت مرتد ہوا اس کا بیٹا زندہ تھا تو وہ وارث بن رہا ہے لیکن موت کا بھی اعتبار ہے تو ضروری ہے کہ یہ بیٹا موت تک زندہ رہے، پھر ہی یہ وارث بنے گا، صرف ارتداد کے وقت وارث ہونا معتبر نہیں امام صاحب کی ایک روایت کے مطابق۔ تو حاصل کلام کیا ہوا؟ کہ امام صاحب سے اس سلسلے میں تین روایتیں ہیں۔ ایک روایت کے مطابق مرتد کے ارتداد اور موت دونوں کے وقت اس وارث کا ہونا ضروری ہے پھر وہ وارث بنے گا، اور ایک روایت کے مطابق صرف ارتداد کا اعتبار ہے اس وقت جو وارث بن رہا ہے وہی وارث بنے گا، مرتد کی موت کا کوئی اعتبار نہیں، اور ایک روایت کے مطابق مرتد کی موت کا اعتبار ہے اس وقت جو وارث زندہ ہے وہ وارث بنے گا، ارتداد کا کوئی اعتبار نہیں، بات سمجھ میں آگئی۔ تو کہتے ہیں: ثُمَّ إِنَّمَا يَرِثُهُ، پھر مرتد جو ہے اس کا وارث بنے گا، مَنْ كَانَ وَارِثًا لَهُ حَالَةَ الرِّدَّةِ، وہ جو اس کا وارث ہے ارتداد کی حالت میں، وَبَقِيَ وَارِثًا إِلَى وَقْتِ مَوْتِهِ، اور وہ وارث باقی رہے اس مرتد کی موت کے وقت تک۔ پہلی روایت کیا آئی؟ جو ارتداد کے وقت بھی وارث ہے اور موت تک وہ وارث ہے بھئی۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے۔ کہتے ہیں: ثُمَّ إِنَّمَا يَرِثُهُ مَنْ كَانَ وَارِثًا لَهُ حَالَةَ الرِّدَّةِ، پھر مرتد کا وارث وہ شخص ہوگا جو ارتداد کی حالت میں اس کا وارث ہے، وَبَقِيَ وَارِثًا إِلَى وَقْتِ مَوْتِهِ، اور وہ وارث ہو کر ہی باقی رہا مرتد کی موت کے وقت تک، فِي رِوَايَةٍ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، امام صاحب سے ایک روایت میں، امام صاحب کی ایک روایت کے مطابق بھئی۔ اور یاد رکھو یہ روایت ہے حسن ابن زیاد رحمہ اللہ کی، حسن ابن زیاد رحمہ اللہ یہ امام صاحب کے شاگرد ہیں، وہ اس روایت کو نقل کرتے ہیں امام صاحب سے۔ تو کہتے ہیں: فِي رِوَايَةٍ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، امام صاحب کی ایک روایت کے مطابق، اعْتِبَارًا لِلِاسْتِنَادِ، استناد کا اعتبار کرتے ہوئے، یہ دلیل ذکر کر رہے ہیں اس قول کی وجہ کیا ہے۔ بھئی دیکھیے، مرتد کی موت کے وقت جو وارث ہے وہ زندہ ہونا چاہیے لیکن اس وارث ہونے کی نسبت کی جائے گی ارتداد سے پہلے کی طرف، تو ارتداد کے وقت بھی اس وارث کو زندہ ہونا چاہیے، توجہ ہے؟ دلیل ذکر کر رہے ہیں حسن ابن زیاد رحمہ اللہ نے جو روایت کی ہے امام صاحب سے اس کی دلیل ذکر کر رہے ہیں۔ اس روایت کے مطابق اس وارث کا ارتداد کے وقت بھی وارث ہونا ضروری ہے اور موت کے وقت بھی وارث ہونا ضروری ہے۔ وجہ یہ کہ موت کے وقت یہ وارث بن رہا ہے لیکن اس وارث بننے کی نسبت کی جائے گی ارتداد سے پہلے کی طرف تو اس وقت بھی اس کو وارث ہونا چاہیے، موت کے وقت بھی وارث ہونا چاہیے کیونکہ موت کے وقت تو نسبت کرنی ہے اور کس وقت کی طرف نسبت کرنی ہے؟ ارتداد سے پہلے کی طرف تو ارتداد سے پہلے بھی یہ وارث ہونا چاہیے بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ یہ معنی ہے: اعْتِبَارًا لِلِاسْتِنَادِ، استناد کا اعتبار کرنے کی وجہ سے۔ وَعَنْهُ، اب یہ دوسری روایت امام صاحب کی، کہتے ہیں: وَعَنْهُ، اور امام صاحب سے ہی ایک روایت یہ ہے، أَنَّهُ يَرِثُهُ مَنْ كَانَ وَارِثًا لَهُ عِنْدَ الرِّدَّةِ، کہ اس مرتد کا وارث بنے گا جو کوئی اس کا وارث ہوا عِنْدَ الرِّدَّةِ، ارتداد کے وقت، جو اس کا وارث ہوا ارتداد کے وقت۔ اور یہاں بین السطور لکھا ہوا ہے کہ یہ روایت امام صاحب سے امام ابو یوسف رحمہ اللہ نقل کرتے ہیں۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے امام صاحب سے یہ روایت نقل کی ہے کہ صرف ارتداد کا اعتبار ہے، ارتداد کے وقت جو وارث ہے وہی وارث بنے گا۔ تو کہتے ہیں: وَعَنْهُ، اور امام صاحب سے ایک روایت یہ ہے، أَنَّهُ يَرِثُهُ، کہ مرتد کا وارث ہوگا، مَنْ كَانَ وَارِثًا لَهُ عِنْدَ الرِّدَّةِ، جو کوئی اس کا وارث ہوا ارتداد کے وقت، وَلَا يَبْطُلُ اسْتِحْقَاقُهُ بِمَوْتِهِ، اور اس وارث کا استحقاق باطل نہیں ہوگا اس کی موت کی وجہ سے۔ بھئی ارتداد کے وقت جو وارث موجود ہے وہ وارث بنے گا چاہے مرتد کی موت سے پہلے ہی یہ وارث مر جائے پھر بھی یہ وارث بنے گا کیونکہ اعتبار کس کا ہے؟ ارتداد کا ہے اور ارتداد کے وقت تو یہ وارث زندہ تھا، توجہ ہے؟ مرتد کا بیٹا ہے وہ ارتداد کے وقت زندہ ہے تو وہ وارث بنے گا اور پھر چاہے یہ بیٹا مرتد کے مرنے سے پہلے خود مر جائے پھر بھی یہ وارث بنے گا۔ تو آپ کے ذہنوں میں سوال آئے گا کہ بیٹا تو مر چکا ہے وہ پھر کیسے وارث بنے گا؟ تو جواب یہ ہے کہ اس بیٹے کے اگر آگے اولاد وغیرہ ہے تو ان کی طرف اس بیٹے کا مال منتقل ہو جائے گا، یعنی اس وارث کے جو وارث ہیں وہ اس مال کو لے لیں گے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلَا يَبْطُلُ اسْتِحْقَاقُهُ بِمَوْتِهِ، اور اس وارث کا استحقاق باطل نہیں ہوگا یعنی اس کا حقدار ہونا ختم نہیں ہوگا بِمَوْتِهِ، اس کی موت کی وجہ سے کہ یہ وارث مرتد سے پہلے ہی مر جائے اس سے اس کا استحقاق باطل نہیں ہوگا، بَلْ يَخْلُفُهُ وَارِثُهُ، بَلْ يَخْلُفُهُ، بلکہ اس وارث کا خلیفہ بنے گا، وَارِثُهُ، اس وارث کا وارث۔ بیٹا ارتداد کے وقت زندہ تھا تو یہ وارث ہے لیکن مرتد کے مرنے سے پہلے بیٹا مر گیا تو بھی بیٹا وارث ہے، اب اس بیٹے کی جو آگے اولاد ہے جو وارث ہیں وہ وارث بن جائیں گے۔ یہ معنی ہے: بَلْ يَخْلُفُهُ وَارِثُهُ، بلکہ اس وارث کا خلیفہ بنے گا وَارِثُهُ جو اس کے وارث ہیں، یعنی جو اس وارث کے وارث ہیں وہ خلیفہ بن جائیں گے، ان کو مال ملے گا، لِأَنَّ الرِّدَّةَ بِمَنْزِلَةِ الْمَوْتِ، اس لیے کیونکہ مرتد ہونا یہ موت کے درجے میں ہے۔ یہ دلیل ذکر کر دی۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ امام صاحب سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ارتداد کے وقت کا اعتبار ہے، ارتداد کے وقت جو وارث ہے وہ وارث بنے گا موت کے وقت کا کوئی اعتبار نہیں، اور ارتداد کا کیوں اعتبار ہے؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ ارتداد موت کے درجے میں ہے۔ یہ معنی ہے: لِأَنَّ الرِّدَّةَ بِمَنْزِلَةِ الْمَوْتِ، اس لیے کیونکہ مرتد ہونا موت کے درجے میں ہے اور موت کے وقت ہی تو وراثت منتقل ہوتی ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: وَعَنْهُ، یہ اب تیسری روایت آگئی امام صاحب سے، اور یاد رکھو یہ روایت کرتے ہیں امام محمد رحمہ اللہ امام صاحب سے، تو یہ روایت امام محمد رحمہ اللہ نے امام صاحب سے نقل کی ہے۔ وَعَنْهُ، اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے ایک روایت یہ ہے، أَنَّهُ يُعْتَبَرُ وُجُودُ الْوَارِثِ عِنْدَ الْمَوْتِ، کہ وارث کا وجود معتبر ہے عِنْدَ الْمَوْتِ، موت کے وقت، یعنی مرتد کی موت کے وقت، وہ جو مورث ہے بھئی، مرتد کی موت کے وقت جو وارث زندہ ہے وہ وارث بنے گا۔ تو امام صاحب سے ایک روایت یہ ہے: أَنَّهُ يُعْتَبَرُ وُجُودُ الْوَارِثِ عِنْدَ الْمَوْتِ، کہ مرتد کی موت کے وقت وارث کا وجود معتبر ہے، لِأَنَّ الْحَادِثَ بَعْدَ انْعِقَادِ السَّبَبِ قَبْلَ تَمَامِهِ كَالْحَادِثِ قَبْلَ انْعِقَادِهِ بِمَنْزِلَةِ الْوَلَدِ الْحَادِثِ مِنَ الْمَبِيعِ قَبْلَ الْقَبْضِ، بھئی اس جگہ کو اچھی طرح سمجھ لیں۔ یہاں سے ضابطہ بیان کر رہے ہیں۔ یاد رکھو، ایک ہے سبب کا منعقد ہونا اور ایک ہے سبب کا تام ہونا یعنی پورا ہو جانا، پورا ہو جانا۔ تو سبب کا منعقد ہونا اور چیز ہے سبب کا تام ہونا اور چیز ہے، توجہ ہے؟ وہ چیز جو سبب کے منعقد ہونے کے بعد پائی گئی لیکن تام ہونے سے پہلے پائی گئی، وہ چیز جو سبب کے انعقاد کے بعد پائی گئی لیکن اس کے تام ہونے سے پہلے پائی گئی تو اس کو بھی یوں ہی شمار کیا جاتا ہے جیسے وہ منعقد ہونے سے پہلے ہی موجود تھی۔ وہ منعقد ہونے سے پہلے ہی موجود تھی، پھر سمجھیں، ایک ہے سبب کا منعقد ہونا اور ایک ہے سبب کا پورا ہو جانا، تو جو چیز سبب کے منعقد ہونے کے بعد پائی گئی البتہ تام ہونے سے پہلے ہے وہ، تو اس کو یوں ہی سمجھیں گے کہ یہ گویا سبب کے منعقد ہونے سے پہلے پائی گئی ہے۔ توجہ ہے؟ بھئی سبب کے منعقد ہونے کے بعد پائی گئی ہے لیکن تام ہونے سے پہلے ہے تو یوں سمجھیں گے منعقد ہونے سے بھی یہ پہلے پائی گئی ہے، جیسے دیکھو مثال سے وضاحت ہوگی۔ ایک شخص نے دوسرے سے باندی خریدی، باندی خریدی یا کوئی حیوان خرید لیا، گائے بکری وغیرہ خرید لی، لیکن بائع نے ابھی یہ مبیعہ اس مشتری کے حوالے نہیں کیا کہ اس سے پہلے ہی اس مبیعہ نے بچے کو جنم دے دیا، اس باندی نے بچے کو جنم دیا یا اس گائے یا بکری وغیرہ نے بچے کو جنم دے دیا، تو دیکھو جب ایجاب و قبول کر لیا تھا تو بیع منعقد ہو گئی لیکن ابھی بیع تام نہیں ہوئی کیونکہ مشتری نے ابھی مبیع پر قبضہ نہیں کیا۔ تو بیع کے منعقد ہونے کے بعد ایک نئی چیز پائی گئی جو تام ہونے سے پہلے ہے تو اس کو یوں ہی سمجھیں گے گویا یہ چیز منعقد ہونے سے بھی پہلے موجود تھی، گویا یہ بھی بیع کے اندر داخل ہو گئی، اس کا بھی ایجاب و قبول ہوا تھا، یوں سمجھیں گے۔ توجہ ہے؟ ایجاب و قبول کے وقت تو یہ بچہ موجود نہیں تھا لیکن یوں ہی سمجھیں گے یہ ایجاب و قبول کے وقت موجود تھا اور جو بیع ہوئی تھی وہ صرف باندی کی نہیں ہوئی تھی اس بچے کی بھی ساتھ بیع ہوئی تھی، یا صرف اس گائے یا بکری کی بیع نہیں ہوئی تھی اس بچے کی بھی بیع ہوئی تھی، لہٰذا اس بچے کے مقابلے میں بھی ثمن آ جائیں گے۔ مثلاً اس خریدار نے یہ باندی ایک ہزار درہم کی خریدی ہے، ایک ہزار درہم کی خریدی ہے اور اس پر قبضہ کرنے سے پہلے ہی باندی نے ایک بچے کو جنم دے دیا، تو اب یوں سمجھیں گے یہ جو ہزار درہم ہیں یہ صرف باندی کی قیمت نہیں ہے یہ باندی اور بچے دونوں کی قیمت ہے۔ لہٰذا اگر بائع اس بچے کو روک لیتا ہے کہ یہ بچہ میں تمہیں نہیں دوں گا تو اسی کے مطابق ثمن بھی کم ہو جائیں گے۔ توجہ ہے؟ ہاں البتہ ایک بات ہے اگر بائع کے پاس یہ بچہ ہلاک ہو گیا اس کے عمل کے بغیر ہی، اس کے عمل کے بغیر ہی ویسے ہی یہ بچہ ہلاک ہو گیا پھر اس کا ضمان نہیں آئے گا بائع پر کیونکہ بہرحال یہ بچہ بیع کے وقت موجود نہیں تھا، لیکن اگر یہ بچہ زندہ ہے تو اس کو بھی حوالے کرنا پڑے گا بھئی۔ تو حاصل کلام یہ کہ وہ چیز جو سبب کے منعقد ہونے کے بعد اس کے تام ہونے سے پہلے پائی گئی تو اس کو یوں ہی سمجھیں گے گویا وہ سبب کے منعقد ہونے سے پہلے پائی گئی۔ تو دلیل چل رہی تھی، امام محمد رحمہ اللہ روایت نقل کرتے ہیں امام صاحب سے کہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ مرتد کا وارث بننے میں صرف اس مرتد کی موت معتبر ہے، موت کے وقت جو وارث موجود ہوگا وہ وارث بنے گا، وہ وارث بنے گا، وجہ یہ کہ ارتداد موت کا سبب بنتا ہے، پہلے ارتداد پایا گیا، ارتداد موت کا سبب بنا ہے لیکن جب تک یہ مرتد مرتا نہیں ابھی تک سبب تام نہیں ہوا، توجہ ہے؟ تو لہٰذا ارتداد موت کا سبب تو ہے لیکن جب تک یہ مرتد مرے گا نہیں سبب تام نہیں، تو ارتداد کے بعد بھی اگر کوئی وارث بنتا ہے مثلاً اس مرتد کا باپ کافر ہے پہلے سے ہی، اس مرتد کا باپ پہلے سے ہی کافر ہے اور اس کے ارتداد کے وقت بھی وہ کافر ہے، معلوم ہوا وہ وارث نہیں بن رہا، لیکن مرتد کے مرنے سے پہلے اس کا وہ باپ مسلمان ہو گیا تو اس روایت کے مطابق مرتد کی موت کا اعتبار ہے اور موت کے وقت تو اس کا باپ مسلمان ہے وہ اس کا وارث بن رہا ہے تو یہ وارث بنے گا بھئی، تو اس کو یوں ہی سمجھیں گے گویا اس کا باپ مرتد کے ارتداد سے پہلے ہی مسلمان ہو چکا ہے، کیونکہ سبب کے منعقد ہونے کے بعد اس کے تام ہونے سے پہلے جو چیز پائی جائے اس کو یوں ہی سمجھا جاتا ہے گویا وہ سبب سے پہلے پائی گئی ہے، بات سمجھ میں آگئی؟ تو یوں سمجھیں گے گویا کہ اس کا یہ باپ اس کے مرتد ہونے سے پہلے ہی مسلمان ہو گیا تھا بھئی۔ دیکھیے بھئی کہتے ہیں: وَعَنْهُ، اور امام صاحب سے ایک روایت یہ ہے، أَنَّهُ يُعْتَبَرُ وُجُودُ الْوَارِثِ عِنْدَ الْمَوْتِ، کہ مرتد کی موت کے وقت وارث کا وجود معتبر ہے، لِأَنَّ الْحَادِثَ بَعْدَ انْعِقَادِ السَّبَبِ، حادث کہتے ہیں کوئی نئی پیش آنے والی چیز، لِأَنَّ الْحَادِثَ، اس لیے کیونکہ وہ چیز جو نئی پیش آ جائے، بَعْدَ انْعِقَادِ السَّبَبِ، سبب کے منعقد ہونے کے بعد، ارتداد وہ موت کا سبب ہے، سبب کے منعقد ہونے کے بعد ایک نئی چیز پیش آگئی کہ اس کے باپ نے اسلام قبول کر لیا۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ الْحَادِثَ بَعْدَ انْعِقَادِ السَّبَبِ، اس لیے کیونکہ وہ نئی چیز جو سبب کے منعقد ہونے کے بعد پیش آ جائے، قَبْلَ تَمَامِهِ، اس سبب کے پورا ہونے سے پہلے، وہ اسی طرح ہوتی ہے، كَالْحَادِثِ قَبْلَ انْعِقَادِهِ، جیسے کہ وہ نئی چیز پیش آئی ہو قَبْلَ انْعِقَادِهِ سبب کے منعقد ہونے سے پہلے، بِمَنْزِلَةِ الْوَلَدِ الْحَادِثِ، بمنزلہ اس بچے کے جو پیش آگیا یعنی جو پیدا ہوا، مِنَ الْمَبِيعِ، مبیع سے، قَبْلَ الْقَبْضِ، قبضے سے پہلے، وہ بچہ جو مبیع سے پیدا ہو گیا قبضے سے پہلے تو یوں ہی سمجھیں گے گویا وہ بیع سے پہلے ہی پیدا ہوا ہے بھئی۔ وَتَرِثُهُ امْرَأَتُهُ الْمُسْلِمَةُ إِذَا مَاتَ، یہاں سے صاحب ہدایہ یہ بیان فرما رہے ہیں کہ مرتد کی جو مسلمان بیوی ہے وہ بھی اس کی وارثہ بنے گی اگر اس کی عدت کے دوران ہی یہ مرتد مر جاتا ہے یا اس کو قتل کر دیا جاتا ہے یا یہ دار الحرب چلا جاتا ہے اور قاضی اس پر موت کا حکم لگا دیتا ہے۔ توجہ ہے؟ بھئی یاد رکھو، یہ جو ارتداد ہے نا ارتداد، یہ مرض الموت کے درجے میں ہے۔ ارتداد مرض الموت کے درجے میں ہے، جیسے مرض الموت موت تک پہنچا دیتا ہے اسی طرح یہ ارتداد بھی موت تک پہنچا دیتا ہے، تو ارتداد کس کے درجے میں؟ مرض الموت کے درجے میں، اور آپ جانتے ہیں مرض الموت کے اندر وارثوں کا حق اس کے مال کے ساتھ متعلق ہو جاتا ہے۔ چنانچہ آپ نے پیچھے مسئلہ پڑھا تھا رجل فار کا، ایک آدمی مرض الموت میں مبتلا ہو گیا اور آپ جانتے ہیں مرض الموت میں وارثوں کا حق مال سے متعلق ہو جاتا ہے تو یہاں بیوی کا حق اس کے مال سے متعلق ہو گیا ہے، اب یہ اس کی بیوی اس کی وارثہ بننے ہی والی ہے، جیسے ہی اس شخص کا انتقال ہوگا بیوی وارثہ بن جائے گی، لیکن مرض الموت میں یہ اپنی بیوی کو طلاق بائن دے دیتا ہے تو اس آدمی کو رجل فار کہیں گے، فَرَّ يَفِرُّ کا کیا معنی ہے؟ بھاگنا۔ معلوم ہوا یہ بھاگنا چاہتا ہے اس بات سے کہ اس کی بیوی اس کی وارثہ بن جائے، معلوم ہوا یہ بیوی کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے تو آپ نے پڑھا ہے کہ مرض الموت کے اندر کوئی شخص اگر اپنی بیوی کو طلاق بائن دے دے یا تین طلاقیں دے دے تو اس صورت کے اندر وہ عورت ابھی عدت میں ہی ہو اور اس آدمی کا انتقال ہو جائے تو پھر یہ وارثہ بنتی ہے۔ تو پھر یہ عورت اس کی وارثہ بنتی ہے۔ ویسے یاد رکھو، یہ تو مرض الموت کا مسئلہ ہے، ویسے اگر ایک آدمی اپنی بیوی کو طلاق بائن دے دے یا تین طلاقیں دے دے تو پھر وہ عورت وارثہ نہیں بنتی کیونکہ طلاق بائن کی وجہ سے نکاح پورے طور پر ٹوٹ جاتا ہے۔ تو ایک تندرست اور صحیح سلامت شخص نے اپنی بیوی کو طلاق بائن دے دی یا تین طلاقیں دے دیں اور دو دن کے بعد ہی اس آدمی کا انتقال ہو گیا تو اس کی بیوی پھر بھی وارثہ نہیں بنے گی، یہ رجل فار نہیں ہے کیونکہ یہ تو اچانک مر گیا ہے یہ تو کوئی بیمار وغیرہ نہیں تھا۔ لیکن اگر ایک شخص مرض الموت میں مبتلا ہے، سب کو نظر آ رہا ہے کہ اب یہ مرنے والا ہے اتنی اس کی حالت خراب ہو گئی ہے، اور اس دوران اب یہ بیوی کو طلاق دیتا ہے تو دلوں میں بدگمانی آتی ہے کہ معلوم ہوا یہ اس عورت کو، اس بیوی کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے، بھئی اگر آپ نے طلاق ہی دینی تھی تو زندگی میں جب آپ تندرست تھے آپ تب طلاق دے دیتے، اب آپ جب مرنے لگے ہیں بیوی کو طلاق دے رہے ہیں معلوم ہوا آپ اس کو وراثت سے محروم کرنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا یہ جو شخص ہے اس کو شریعت نے رجل فار قرار دیا ہے کہ یہ بھاگ رہا ہے اس بات سے کہ اس کی بیوی اس کی وارثہ بنے، اور رجل فار جو ہے اس کا انتقال ہوا اگر اور بیوی ابھی اسی عدت میں ہے، اس نے طلاق دے دی اور بیوی ابھی عدت میں ہے تو پھر وہ وارثہ بنے گی۔ پھر وہ وارثہ بنے گی، ہاں اگر عدت گزر گئی اور اس کے بعد اس رجل فار کا انتقال ہوا پھر تو نکاح پورے طور پر ٹوٹ چکا ہے پھر وہ وارثہ نہیں بنے گی۔ تو حاصل کلام کیا؟ کہ رجل فار جو ہے اس کی بیوی وارثہ بنتی ہے اگر عدت کے دوران اس آدمی کا انتقال ہو جائے۔ تو یاد رکھو یہ جو ارتداد ہے یہ بھی مرض الموت کے درجے میں ہے، جیسے مرض الموت موت تک پہنچاتا ہے یہ ارتداد بھی موت تک پہنچا دیتا ہے، لہٰذا ایک شخص مرتد ہوا تو مرتد ہوتے ہی اس کا نکاح بیوی سے ٹوٹ گیا۔ مرتد ہوتے ہی نکاح بیوی سے ٹوٹ گیا اور یہ ارتداد کس کے درجے میں؟ مرض الموت کے درجے میں، گویا یہ رجل فار ہے، یہ بیوی کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے اس کو وارث نہیں بنانا چاہتا، تو اس بیوی کے عدت کے اندر اگر یہ مرتد یہ مر گیا یا اس کو قتل کر دیا گیا یا یہ دار الحرب بھاگ گیا تھا اور اور قاضی نے اس کے دار الحرب بھاگ جانے کا فیصلہ لکھ دیا تو یہ اس کی موت حکمی ہے، تو چاہے یہ حقیقتاً مرے اس عدت کے دوران یا اس پر موت کا حکم لگا دیا جائے تمام صورتوں میں بیوی اس کی وارثہ بنے گی۔ توجہ ہے؟ جب ابھی یہ موت عدت کے دوران آئے بھئی، اور اگر عدت کے بعد آئی چاہے یہ موت حقیقی ہے یا موت حکمی ہے تو پھر وہ وارثہ نہیں بنے گی، بات سمجھ میں آگئی؟ اور یہ بھی یاد رکھنا، یہ ارتداد خود مرض موت کے درجے میں ہے تو مرتد چاہے تندرستی کی حالت میں ہی کیوں نہ ہو جائے پھر بھی عدت کے اندر اس کی بیوی اس کی وارثہ بنے گی بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَتَرِثُهُ امْرَأَتُهُ الْمُسْلِمَةُ إِذَا مَاتَ، اور یہ مرتد کی مسلمان بیوی اس کی وارثہ بنے گی إِذَا مَاتَ جب یہ مرتد مر جائے، أَوْ قُتِلَ عَلَى رِدَّتِهِ، یا اس کو اس کے ارتداد پر ہی قتل کر دیا جائے، وَهِيَ فِي الْعِدَّةِ، اس حال میں کہ اس کی بیوی عدت میں ہے، موت کے وقت اس کی بیوی عدت میں ہے تو وہ وارثہ بنے گی، لِأَنَّهُ يَصِيرُ فَارًّا، اس لیے کیونکہ یہ شخص جو ہے بھاگنے والا ہو گیا، وَإِنْ كَانَ صَحِيحًا وَقْتَ الرِّدَّةِ، اگرچہ یہ آدمی تندرست ہو ارتداد کے وقت۔ ارتداد کے وقت تندرست ہی کیوں نہ ہو پھر بھی بیوی اس کی وارثہ بنے گی کیونکہ ارتداد خود مرض الموت کے درجے میں ہے بھئی۔ تو معلوم ہوا یہ ارتداد جس کی وجہ سے اس کا نکاح ٹوٹ رہا ہے یہ مرض الموت میں طلاق کی طرح ہوا۔ جیسے مرض الموت میں طلاق ہوتی ہے اسی طرح اس ارتداد کی وجہ سے نکاح ٹوٹ رہا ہے تو یہ اسی کے درجے میں ہوا بھئی۔ آگے دیکھیے: وَالْمُرْتَدَّةُ كَسْبُهَا لِوَرَثَتِهَا، اور مرتدہ عورت جو ہے اس کی کمائی اس کے وارثوں کے لیے ہے۔ بھئی مرتد مرد جو ہے اس کی حالت اسلام میں جو کمائی تھی امام صاحب کے نزدیک وہ اس کے وارثوں کو ملے گی اور جو حالت ارتداد میں کمائی تھی وہ مال فئی ہے، وہ مال غنیمت ہے، جبکہ مرتدہ عورت جو ہے اس کی کمائی مال فئی نہیں وہ اپنی کمائیوں کی مالک ہے بھئی، تو وہ اس کے وارثوں کی طرف منتقل ہوگی چاہے اسلام کے اندر اس کی کمائی ہے چاہے حالت ارتداد میں کمائی ہے۔ وجہ یہ، وجہ یہ کہ مرتد مرد ہو تو اس کو قتل کیا جاتا ہے، عورت ہو تو اس کو قتل نہیں کیا جاتا اس کو جیل میں ڈالتے ہیں، تو معلوم ہوا مرتد جو مرد ہے اس کی عصمت ختم ہو گئی، اس کی جان معصوم نہ رہی، جب جان معصوم نہ رہی تو اس کا مال بھی معصوم اور محفوظ نہ رہا وہ بھی مال غنیمت بن گیا، اور مرتدہ عورت جو ہے اس کو قتل نہیں کیا جائے گا معلوم ہوا ارتداد کے باوجود اس کی جان ابھی بھی معصوم اور محفوظ ہے، تو جب اس کی جان معصوم اور محفوظ ہے تو اس مرتدہ کا مال بھی معصوم اور محفوظ ہوگا وہ اس کی مالکن ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَالْمُرْتَدَّةُ كَسْبُهَا لِوَرَثَتِهَا، اور مرتدہ عورت جو ہے اس کی کمائی اس کے وارثوں کے لیے ہے، لِأَنَّهُ لَا حِرَابَ مِنْهَا، اس لیے کیونکہ مرتدہ عورت کی طرف سے تو جنگ نہیں ہے، فَلَمْ يُوجَدْ سَبَبُ الْفَيْءِ، لہٰذا فئی کا سبب نہیں پایا گیا۔ اس کے مال کا مال غنیمت ہونے کا سبب نہیں پایا گیا، مرد کی طرف سے جنگ ہو سکتی ہے لہٰذا اس لیے اس کا مال مال فئی بن گیا لیکن مرتدہ عورت کی طرف سے تو جنگ نہیں ہو سکتی لہٰذا اس کا مال مال فئی نہیں بنے گا۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّهُ لَا حِرَابَ مِنْهَا فَلَمْ يُوجَدْ سَبَبُ الْفَيْءِ، اس لیے کیونکہ مرتدہ عورت کی طرف سے جنگ نہیں ہے لہٰذا سبب فئی نہ پایا گیا، بِخِلَافِ الْمُرْتَدِّ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، بخلاف مرتد کے امام صاحب کے نزدیک کہ مرتد کا مال مال فئی ہے، صاحبین تو فرماتے ہیں اس کا مال مال فئی نہیں ہے چاہے ارتداد کی حالت میں ہی کیوں نہ کمایا ہو بھئی، تو یہ معنی ہے: بِخِلَافِ الْمُرْتَدِّ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، بخلاف مرتد کے امام صاحب کے نزدیک کہ اس کا مال مال فئی ہے امام صاحب کے نزدیک۔ وَيَرِثُهَا زَوْجُهَا الْمُسْلِمُ إِنِ ارْتَدَّتْ، بھئی دیکھیے صورت یہ ہے کہ ایک شادی شدہ عورت ہے اور وہ مرتدہ ہو گئی تو کیا اس کا خاوند اس کا وارث بنے گا یا نہیں؟ کہتے ہیں اگر یہ عورت مرض الموت میں مبتلا تھی جو یہ مرتدہ ہوئی ہے تو مرض الموت کے اندر تو وارثوں کا حق اس کے مال سے پہلے سے ہی متعلق ہو چکا ہے لہٰذا پھر خاوند وارث بنے گا، لیکن اگر عورت جو ہے صحت کی حالت میں مرتد ہوئی ہے تو پھر اس صورت میں اس کا خاوند اس کا وارث نہیں بنے گا۔ توجہ ہے؟ پھر دہرائیے، کیا صورت ہوئی؟ ایک عورت ہے وہ مرض الموت میں مبتلا ہے اور اس حالت کے اندر وہ مرتدہ ہو گئی تو یاد رکھو اس کا مسلمان خاوند اس کا وارث بنے گا اور یہ حکم استحساناً ہے، استحسان یہ تقاضا کرتا ہے کہ اس کے خاوند کو اس کا وارث بننا چاہیے ورنہ قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے خاوند کو وارث نہیں بننا چاہیے، خاوند کو وارث نہیں بننا چاہیے کیونکہ کیونکہ عورت بھی رجل فار کی وارثہ تب بنتی ہے جب عورت ابھی عدت میں ہو اور ادھر اس کے خاوند کا انتقال ہو جائے لیکن یہاں پر مرتد ہونے والی عورت ہے اور خاوند پر تو کوئی عدت نہیں ہوتی، خاوند پر کوئی عدت نہیں جب خاوند پر عدت نہیں ہے تو لہٰذا یہ تقاضا کرتا ہے کہ جب عورت مرتدہ ہو گئی نکاح ٹوٹ گیا جب نکاح ٹوٹ گیا اور خاوند پر عدت ہے نہیں تو لہٰذا اب اس کو اس کا وارث بھی نہیں بننا چاہیے، قیاس یہ تقاضا کرتا ہے لیکن استحساناً اس کا مسلمان خاوند اس کا وارث بنے گا۔ وجہ یہ، یہ مرتد ہونے والی عورت مرض الموت میں مبتلا ہے اور مرض الموت میں وارثوں کا اس کے مال کے ساتھ تعلق ہو جاتا ہے تو خاوند کا بھی اس کے مال کے ساتھ تعلق ہو گیا، اور اس حالت میں یہ عورت مرتد ہو رہی ہے معلوم ہوا یہ خاوند کو وراثت سے محروم کرنا چاہتی ہے۔ خاوند کا تو اس کے مال کے ساتھ تعلق آگیا ہے اور یہ مرتد ہو کر خاوند کے حق کو باطل کرنا چاہتی ہے لہٰذا اس لیے استحساناً اس کا مسلمان خاوند اس کا وارث بنے گا۔ تو کہتے ہیں: وَيَرِثُهَا زَوْجُهَا الْمُسْلِمُ، اور اس مرتدہ کا مسلمان خاوند اس کا وارث بنے گا، إِنِ ارْتَدَّتْ وَهِيَ مَرِيضَةٌ، اگر یہ عورت مرتدہ ہو گئی اس حال میں کہ یہ مریضہ ہے یعنی مرض الموت میں مبتلا ہے، لِقَصْدِهَا إِبْطَالَ حَقِّهِ، اس وجہ سے کہ اس عورت کا ارادہ جو ہے خاوند کے حق کو باطل کرنا ہے، لہٰذا خاوند وارث بنے گا استحساناً بھئی۔ وَإِنْ كَانَتْ صَحِيحَةً، اور اگر یہ عورت ارتداد کے وقت صحیح تھی یعنی تندرست تھی، لَا يَرِثُهَا، تو اب خاوند وارث نہیں بنے گا کیونکہ خاوند کا حق ابھی بھی اس کے مال سے متعلق نہیں ہوا کیونکہ صحت کی حالت میں مرتد ہوئی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَإِنْ كَانَتْ صَحِيحَةً لَا يَرِثُهَا، اور اگر یہ مرتد ہونے والی تندرست تھی لَا يَرِثُهَا تو اس کا مسلمان خاوند اس کا وارث نہیں بنے گا، لِأَنَّهَا لَا تُقْتَلُ، اس لیے کیونکہ مرتدہ عورت جو ہے اس کو تو قتل نہیں کیا جاتا، اس کو تو قتل نہیں کیا جاتا، فَلَمْ يَتَعَلَّقْ حَقُّهُ بِمَالِهَا بِالرِّدَّةِ، تو لہٰذا خاوند کا حق متعلق نہیں ہوا اس عورت کے مال کے ساتھ مرتد ہونے کی وجہ سے۔ تو کہتے ہیں: فَلَمْ يَتَعَلَّقْ حَقُّهُ بِمَالِهَا بِالرِّدَّةِ، تو خاوند کا حق اس عورت کے مال کے ساتھ متعلق نہیں ہوا اس کے مرتد ہونے کی وجہ سے، بِخِلَافِ الْمُرْتَدِّ، بخلاف مرتد کے کہ مرتد کو تو قتل کیا جاتا ہے تو وہ ارتداد بھی کس کے درجے میں ہے؟ وہ مرض الموت کے درجے میں ہے لہٰذا وہاں عورت کا حق اس کے مال کے ساتھ متعلق ہو جاتا ہے۔ آگے دیکھیے: قَالَ وَإِنْ لَحِقَ بِدَارِ الْحَرْبِ مُرْتَدًّا وَحَكَمَ الْحَاكِمُ بِلِحَاقِهِ عَتَقَ مُدَبَّرُوهُ وَأُمَّهَاتُ أَوْلَادِهِ وَحَلَّتِ الدُّيُونُ الَّتِي عَلَيْهِ وَنُقِلَ مَا اكْتَسَبَهُ فِي حَالِ الْإِسْلَامِ إِلَى وَرَثَتِهِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، بھئی یہاں سے اب بیان کر رہے ہیں صاحب ہدایہ کہ اگر مرتد بھاگ کر دار الحرب چلا گیا اور قاضی نے اس کے دار الحرب بھاگنے کا فیصلہ لکھ دیا کہ یہ دار الحرب جا چکا ہے مرتد ہو کر، تو آپ جانتے ہیں قاضی کا یہ فیصلہ بھی مرتد کے لیے موت کے درجے میں ہے تو یہ موت حکمی ہے، یاد رکھو جیسے مرتد کی حقیقی موت کے اندر اس کا مال وارثوں کی طرف منتقل ہوتا ہے اسی طرح اس موت حکمی کی وجہ سے بھی موت کے احکام آ جائیں گے اور اس کا مال وارثوں کی طرف منتقل ہو جائے گا، اور نیز اس کے اگر کوئی مدبر ہیں یا ام ولد ہیں، آپ جانتے ہیں مدبر وہ غلام جسے آقا نے کہہ دیا تو میرے مرنے کے بعد آزاد ہے، اسی طرح ام ولد جو ہے وہ باندی جس سے آقا کی اولاد ہوئی ہے اور آقا نے بھی اقرار کر لیا کہ یہ میری اولاد ہے تو یہ باندی ام ولد کہلاتی ہے اور آقا کے مرنے کے بعد یہ آزاد ہو جاتی ہے۔ تو یہاں پر بھی قاضی کے اس فیصلے کی وجہ سے یعنی اس موت حکمی کی وجہ سے اگر اس مرتد کے کوئی مدبر یا امہات اولاد ہیں وہ بھی آزاد ہو جائیں گے۔ تو کہتے ہیں: قَالَ، صاحب قدوری فرماتے ہیں: وَإِنْ لَحِقَ بِدَارِ الْحَرْبِ مُرْتَدًّا، اور اگر یہ شخص دار الحرب سے جا ملا مرتد ہو کر، وَحَكَمَ الْحَاكِمُ بِلِحَاقِهِ، اور حاکم نے اس کے دار الحرب سے جا ملنے کا فیصلہ کر دیا، عَتَقَ مُدَبَّرُوهُ وَأُمَّهَاتُ أَوْلَادِهِ، تو اس مرتد کے مدبر اور اس کی جو امہات اولاد ہیں وہ آزاد ہو جائیں گے، وَحَلَّتِ الدُّيُونُ الَّتِي عَلَيْهِ، حَلَّ يَحِلُّ کا معنی ہے دین کا واجب الاداء ہو جانا۔ حَلَّ يَحِلُّ کا کیا معنی ہے؟ دین کا واجب الاداء ہو جانا۔ مثلاً ایک آدمی نے دوسرے کے ساتھ بیع کی تھی اور بیع کے اندر مشتری نے چھ مہینے بعد ثمن کی ادائیگی کا وعدہ کیا ہے تو یہ دین مؤجل ہوا، تو یہ جو دین مؤجل بھی ہے یاد رکھو کسی شخص کے مرتے ہی یہ دین مؤجل فوراً واجب الاداء ہو گیا۔ یہ دین مؤجل فوراً واجب الاداء ہو گیا، بھئی اس سے پہلے یہ واجب الاداء نہیں تھا یعنی فوری واجب الاداء نہیں تھا، چھ ماہ کے بعد اس کی ادائیگی واجب ہوتی، لیکن جب کوئی شخص مر جائے تو اس کے وہ دیون جن میں اس نے مدت کسی کو دی ہوئی تھی وہ فوری واجب الاداء ہو جاتے ہیں تو یہاں پر بھی اسی طرح ہوگا بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَحَلَّتِ الدُّيُونُ الَّتِي عَلَيْهِ، اور اس کے وہ دیون جو اس پر تھے وہ واجب الاداء ہو جائیں گے، اب ان کو فوراً ادا کیا جائے گا اب وہ جو مدت ہے وہ ختم ہو گئی، وَنُقِلَ مَا اكْتَسَبَهُ فِي حَالِ الْإِسْلَامِ، اور منتقل ہو جائے گا وہ مال جو اس نے اسلام کی حالت میں کمایا تھا، إِلَى وَرَثَتِهِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، اس کے مسلمان وارثوں کی طرف۔ جو مال اس نے کمایا تھا وہ اس کے مسلمان وارثوں کی طرف منتقل ہو جائے گا۔ وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى يَبْقَى مَالُهُ مَوْقُوفًا كَمَا كَانَ۔ بھئی امام شافعی رحمہ اللہ کا مذہب پیچھے گزر گیا تھا، وہ فرماتے ہیں کہ مرتد کی ساری کمائیاں جو ہیں وہ مالِ فئے ہیں۔ ساری کمائیاں مالِ فئے ہیں، ان پر سے اس کی ملکیت ختم ہو گئی لیکن موقوف طریقے پر۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ مرتد جو بھاگ کر دار الحرب چلا گیا ہے اور قاضی نے اس کے بھاگ جانے کا فیصلہ لکھ دیا ہے، پھر بھی اس کا مال اسی طرح موقوف رہے گا جیسے پہلے موقوف تھا۔ اس مرتد کا مال اسی طرح موقوف رہے گا جیسے پہلے موقوف تھا، یہاں تک کہ مرتد مر جائے یا اس کو قتل کر دیا جائے۔ ہاں، جب اس کو قتل کر دیا جائے گا تو اب اس کا سارا مال جو ہے وہ بیت المال میں جمع کر دیا جائے گا کیونکہ وہ مالِ فئے ہے بھئی، چاہے اسلام کی کمائی ہے اور چاہے ارتداد کی کمائی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: يَبْقَى مَالُهُ مَوْقُوفًا كَمَا كَانَ، کہ مرتد کا مال موقوف ہی رہے گا جیسے وہ پہلے تھا، یعنی دار الحرب بھاگنے سے پہلے جیسے اس کا مال موقوف تھا، ابھی بھی اس کا مال موقوف ہی رہے گا؛ لِأَنَّهُ نَوْعُ غَيْبَةٍ، اس لیے کیونکہ یہ بھی ایک قسم کی غیبت ہے۔ غیبت یعنی غائب ہو جانا۔ بھئی یاد رکھو، ایک شخص مرتد ہوا لیکن وہ دار الاسلام کے اندر ہی چھپ گیا، بھاگ گیا۔ تو جب تک وہ دار الاسلام کے اندر ہے، امام صاحب کے نزدیک اس کی ملکیت موقوف رہے گی۔ ہاں، جب وہ دار الحرب چلا جائے گا اور قاضی اس کے دار الحرب چلے جانے کا فیصلہ لکھ دے گا، پھر اس کی ملکیت مال پر سے ختم ہو گی۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس طرح مرتد دار الاسلام کے اندر غائب ہو جائے تو اس کا مال اسی طرح موقوف رہتا ہے، تو یہاں دار الحرب اگر وہ چلا گیا ہے تو یہ بھی ایک قسم کا غائب ہونا ہے، اور جیسے دار الاسلام میں غائب ہونے کی وجہ سے اس کی ملکیت موقوف رہتی ہے، اسی طرح یہاں بھی اس کی ملکیت موقوف ہی رہے گی، ختم نہیں ہو گی۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّهُ نَوْعُ غَيْبَةٍ، اس لیے کیونکہ دار الحرب چلے جانا یہ بھی ایک قسم کا غائب ہونا ہے، فَأَشْبَهَ الْغَيْبَةَ فِي دَارِ الْإِسْلَامِ، تو یہ دار الحرب کے ساتھ جا ملنا یہ بھی دار الاسلام ہی میں غائب ہونے کے مشابہ ہے، تو لہٰذا یہاں بھی اسی طرح حکم رہے گا۔ وَلَنَا، اب ہماری دلیل آ گئی: أَنَّهُ صَارَ مُرْتَدًّا بِاللِّحَاقِ مِنْ أَهْلِ الْحَرْبِ۔ بھئی اس عبارت پر ذرا نظر رکھیے گا۔ دیکھیے، یہاں آیا: وَلَنَا أَنَّهُ صَارَ مُرْتَدًّا بِاللِّحَاقِ مِنْ أَهْلِ الْحَرْبِ۔ یہ عبارت درست نہیں ہے بھئی، یہ یہاں مُرْتَدًّا کا لفظ نہیں ہونا چاہیے۔ ورنہ معنی کیا بنتا ہے؟ دیکھیے: وَلَنَا، اور ہماری دلیل یہ ہے کہ أَنَّهُ صَارَ مُرْتَدًّا، کہ وہ مرتد ہو گیا، وہ شخص مرتد ہو گیا بِاللِّحَاقِ مِنْ أَهْلِ الْحَرْبِ، اہلِ حرب والوں سے جا ملنے کی وجہ سے۔ اہلِ حرب والوں سے جا ملنے کی وجہ سے یہ شخص مرتد ہو گیا، حالانکہ مرتد تو یہ پہلے سے ہی ہے بھئی۔ توجہ ہے؟ لہٰذا یہاں یہ مُرْتَدًّا کا لفظ نہیں ہونا چاہیے اور ہدایہ کے دیگر نسخوں میں یہ لفظ یہاں موجود نہیں ہے بھئی، اور یہ جو آگے آ رہا ہے مِنْ أَهْلِ الْحَرْبِ، یہ ہے خبر صَارَ کی: أَنَّهُ صَارَ مِنْ أَهْلِ الْحَرْبِ، یہ مرتد جو ہے یہ بھی اہلِ حرب والوں میں سے ہو گیا بِاللِّحَاقِ، ان کے ساتھ جا ملنے کی وجہ سے۔ یہ بھی کس میں سے ہو گیا؟ اہلِ حرب والوں میں سے ہو گیا ان کے ساتھ جا ملنے کی وجہ سے۔ تو ذرا مُرْتَدًّا لفظ کے بغیر ترجمہ دیکھ لیجیے: وَلَنَا، اور ہماری دلیل یہ ہے کہ أَنَّهُ صَارَ، کہ یہ مرتد ہو گیا بِاللِّحَاقِ، ان لوگوں سے جا ملنے کی وجہ سے مِنْ أَهْلِ الْحَرْبِ، اہلِ حرب والوں میں سے۔ دار الحرب جا ملنے کی وجہ سے یہ بھی کس میں سے ہو گیا؟ اہلِ حرب میں سے ہو گیا بھئی۔ تو یہ مُرْتَدًّا کا لفظ یہاں نہیں ہونا چاہیے۔ ہاں، ایک صورت میں، ایک صورت یہ ہے کہ اس مُرْتَدًّا کو صَارَ کے لیے خبر نہ بنائیں، اس کو حال بنا دیں۔ اس کو حال بنا دیں، پھر بھی عبارت ٹھیک ہو جائے گی: وَلَنَا، اور ہماری دلیل یہ ہے کہ أَنَّهُ صَارَ مُرْتَدًّا بِاللِّحَاقِ، کہ یہ شخص جو ہے ارتداد کی حالت میں دار الحرب والوں سے جا ملنے کی وجہ سے مِنْ أَهْلِ الْحَرْبِ، اہلِ حرب میں سے ہو گیا بھئی۔ توجہ ہے؟ تو مرتد کو حال بنا دیں کہ ارتداد کی حالت میں اس کا لحاق ہوا ہے تو اس لیے یہ اہلِ حرب میں سے ہو گیا بھئی، تو پھر بھی عبارت صحیح بن جائے گی۔ بھئی دیکھیے، ہماری دلیل ہے، ہماری دلیل یہ ہے کہ یہ مرتد دار الحرب چلا گیا ہے تو یہ دار الحرب والوں میں سے ہو گیا، اور دار الحرب والے مردوں کے حکم میں ہیں اس لیے کیونکہ دار الحرب والوں پر ہم اسلامی احکام لازم نہیں کر سکتے۔ جیسے کوئی شخص مر جائے تو اس پر اسلامی حکم کو لازم نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ مر چکا ہے، تو اسی طرح دار الحرب والے جو ہیں ان پر بھی ہم اسلامی احکام کو لازم نہیں کر سکتے کیونکہ ہماری وہاں پر حکومت نہیں ہے، ہمیں ان پر ولایت حاصل نہیں ہے، تو یہ دار الحرب والے بھی اس اعتبار سے مردوں کی طرح ہو گئے۔ جیسے مردے پر اسلامی احکام لازم نہیں کیے جا سکتے کیونکہ وہ مر چکا ہے، اسی طرح دار الحرب والوں پر بھی اسلامی احکام لازم نہیں کیے جا سکتے۔ تو یہ مرتد جا کر دار الحرب والوں سے مل گیا اور وہ مردوں کے حکم میں ہیں، تو یہ مرتد بھی مردوں سے جا کر مل گیا تو یہ بھی مردوں کے حکم میں ہو گیا۔ تو کہتے ہیں: وَلَنَا أَنَّهُ صَارَ مُرْتَدًّا بِاللِّحَاقِ مِنْ أَهْلِ الْحَرْبِ، ہماری دلیل یہ ہے کہ یہ شخص جو ہے ارتداد کی حالت میں دار الحرب جا ملنے کی وجہ سے اہلِ حرب میں سے ہو گیا، وَهُمْ أَمْوَاتٌ فِي حَقِّ أَحْكَامِ الْإِسْلَامِ، اور دار الحرب والے مردہ ہیں اسلامی احکام کے حق میں؛ لِانْقِطَاعِ وِلَايَةِ الْإِلْزَامِ، اس لیے کیونکہ ولایتِ الزام منقطع ہے، ہم ان پر کوئی حکم لازم نہیں کر سکتے۔ تو کہتے ہیں: لِانْقِطَاعِ وِلَايَةِ الْإِلْزَامِ، اس لیے کیونکہ احکام کو لازم کرنے کی ولایت منقطع ہے، یعنی ان پر موجود نہیں ہے، كَمَا هِيَ مُنْقَطِعَةٌ عَنِ الْمَوْتَى، جیسے کہ ولایتِ الزام منقطع ہوتی ہے مردوں سے۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ كَمَا هِيَ مُنْقَطِعَةٌ عَنِ الْمَوْتَى، جیسے کہ ولایتِ الزام منقطع ہوتی ہے مردوں سے، فَصَارَ كَالْمَوْتِ، تو لہٰذا یہ دار الحرب والوں سے جا ملنا یہ ہو گیا كَالْمَوْتِ، کس کی طرح؟ موت کی طرح۔ فَصَارَ كَالْمَوْتِ، تو یہ دار الحرب والوں سے جا ملنا یہ موت کی طرح ہو گیا، إِلَّا أَنَّهُ لَا يَسْتَقِرُّ لِحَاقُهُ إِلَّا بِقَضَاءِ الْقَاضِي۔ یہاں سے یہ بتلا رہے ہیں کہ مرتد بھاگ کر دار الحرب چلا گیا، تو اگرچہ وہ مردوں کے ساتھ جا کر مل گیا ہے لیکن پھر بھی فوراً اس پر موت کا حکم نہیں لگائیں گے جب تک قاضی اس کے بارے میں فیصلہ نہ کر دے۔ اس لیے کیونکہ احتمال ہے شاید یہ مرتد واپس آ جائے، تو اس کے واپس لوٹنے کا احتمال ہے۔ تو لہٰذا جب تک قاضی فیصلہ نہیں کرے گا، اس پر موت کا حکم نہیں لگایا جائے گا۔ ہاں، جب قاضی فیصلہ کر دے گا، اب اس کی واپسی کا احتمال ختم ہو گیا۔ جب واپسی کا احتمال ختم ہو گیا تو اب اس کو مردہ قرار دے دیا جائے گا۔ توجہ ہے؟ کہتے ہیں: إِلَّا أَنَّهُ لَا يَسْتَقِرُّ لِحَاقُهُ، مگر یہ کہ اس کا دار الحرب والوں سے جا ملنا وہ ثابت نہیں ہے، لَا يَسْتَقِرُّ لِحَاقُهُ، اسْتَقَرَّ يَسْتَقِرُّ کے کیا معنی ہوتے ہیں؟ ثابت ہونا۔ إِلَّا أَنَّهُ لَا يَسْتَقِرُّ لِحَاقُهُ، مگر یہ کہ اس کا دار الحرب والوں سے جا ملنا وہ ثابت نہیں ہو گا إِلَّا بِقَضَاءِ الْقَاضِي، مگر قاضی کے فیصلے کے ذریعے؛ لِاحْتِمَالِ الْعَوْدِ إِلَيْنَا، اس لیے کیونکہ اس کے ہماری طرف واپس لوٹنے کا احتمال ہے، لِاحْتِمَالِ الْعَوْدِ إِلَيْنَا، اس لیے کیونکہ اس کا ہماری طرف واپس لوٹنے کا احتمال موجود ہے، فَلَا بُدَّ مِنَ الْقَضَاءِ، لہٰذا قاضی کا فیصلہ ضروری ہے بھئی۔ قاضی کا فیصلہ ضروری ہے۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ آپ نے کہا کہ قاضی کا فیصلہ ہو جائے گا تو پھر اس کی واپسی کا احتمال ختم ہو جائے گا، حالانکہ جیسے قاضی کے فیصلے سے پہلے اس کے واپس آنے کا احتمال ہے، اسی طرح قاضی کے فیصلے کے بعد بھی اس کے واپس آنے کا احتمال تو موجود ہے۔ تو اس کا علماء جواب دیتے ہیں کہ ہاں، قاضی کے فیصلے کے بعد بھی اس کے آنے کا احتمال موجود ہے لیکن شریعت نے اس کا اعتبار نہیں کیا۔ قاضی کے فیصلے سے پہلے اس کی واپسی کا احتمال معتبر ہے، اس کا اعتبار کیا جائے گا، لہٰذا اسے مردہ قرار نہیں دیا جائے گا، لیکن جب قاضی نے فیصلہ کر دیا، اب اس کی واپسی کے احتمال کا اعتبار نہیں کیا جائے گا، یوں سمجھا جائے گا اب یہ واپس نہیں آئے گا۔ آگے دیکھیے: وَإِذَا تَقَرَّرَ مَوْتُهُ ثَبَتَ الْأَحْكَامُ الْمُتَعَلِّقَةُ، اور جب اس کی موت ثابت ہو گئی تو وہ احکام بھی ثابت ہو گئے جو موت سے متعلق ہیں، وَهِيَ مَا ذَكَرْنَاهَا، اور یہ وہ احکام ہیں جو ہم نے ذکر کر دیے کہ اس کے مدبر اور امہاتِ اولاد آزاد ہو جائیں گے، اور اسی طرح اس کا دینِ مؤجل جو ہے اس کی ادائیگی کا وقت ہو جائے گا، اور نیز اس کا مال جو ہے جو اس نے اسلام میں کمایا ہے وہ اس کے وارثوں کی طرف منتقل ہو جائے گا۔ یہ موت والے سارے احکام جاری ہو جائیں گے۔ یہ معنی ہے کہ وَإِذَا تَقَرَّرَ مَوْتُهُ ثَبَتَ الْأَحْكَامُ الْمُتَعَلِّقَةُ، اور جب اس کی موت ثابت ہو گئی تو موت سے متعلقہ احکام بھی ثابت ہو جائیں گے، وَهِيَ مَا ذَكَرْنَاهَا، اور یہ وہ احکام ہیں جو ہم نے اوپر ذکر کر دیے، كَمَا فِي الْمَوْتِ الْحَقِيقِيِّ، جیسے کہ موتِ حقیقی میں ہوتا ہے۔ جیسے موتِ حقیقی کے اندر یہ احکام ثابت ہو جاتے ہیں، اسی طرح موتِ حکمی میں بھی یہ احکام ثابت ہو جائیں گے۔ آگے دیکھیے: ثُمَّ يُعْتَبَرُ كَوْنُهُ وَارِثًا عِنْدَ لِحَاقِهِ فِي قَوْلِ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللهُ، یہاں سے صاحبین کا آپس میں اختلاف نقل کر رہے ہیں۔ بھئی دیکھیے، ایک ہے اس مرتد کا دار الحرب چلے جانا اور ایک ہے پھر قاضی کا فیصلہ۔ تو وارث ہونے کے لیے کس کا اعتبار کیا جائے گا؟ مثلاً یہ دار الحرب گیا ہے اور قاضی نے کئی مہینوں کے بعد اس کے دار الحرب جانے کا فیصلہ کیا ہے، تو اس کے وارث ہونے کا اعتبار کس وقت کا کیا جائے گا؟ جب یہ دار الحرب گیا تھا، اس وقت وارث ہونا معتبر ہے یا جب قاضی نے فیصلہ کیا ہے؟ تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قاضی کا فیصلہ وہ تو صرف اس کے جانے کو ثابت کر رہا ہے، حقیقت میں تو وہ جس وقت گیا ہے اسی کا اعتبار کیا جائے گا۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قاضی کے فیصلے کی وجہ سے یہ مردوں کے حکم میں ہوا ہے، تو لہٰذا قاضی کے فیصلے کے وقت کا اعتبار ہو گا، اس وقت اس کا جو وارث زندہ ہے وہ وارث بنے گا بھئی، اور جو اس سے پہلے مر چکا ہے وہ وارث نہیں بنے گا۔ تو کہتے ہیں: ثُمَّ يُعْتَبَرُ كَوْنُهُ وَارِثًا، پھر وارث کا وارث ہونا معتبر ہے عِنْدَ لِحَاقِهِ، اس مرتد کے دار الحرب سے جا ملنے کے وقت فِي قَوْلِ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللهُ، امام محمد رحمہ اللہ کے قول میں؛ لِأَنَّ اللِّحَاقَ هُوَ السَّبَبُ، اس لیے کیونکہ دار الحرب سے جا ملنا وہی سبب ہے، یعنی وہی وارث ہونے کا اصل سبب وہی ہے بھئی، وَالْقَضَاءُ لِتَقَرُّرِهِ، اور قاضی کا فیصلہ تو صرف اس کو ثابت کرنے کے لیے ہے لِقَطْعِ الِاحْتِمَالِ، واپسی کے احتمال کو کاٹنے کے لیے۔ قاضی کے فیصلے سے پہلے تو واپسی کا احتمال تھا لیکن قاضی کے فیصلے نے واپسی کے احتمال کو کاٹ دیا، ختم کر دیا، تو لہٰذا دار الحرب جانے کا اعتبار کیا جائے گا، قاضی کے فیصلے کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔ تو یہ معنی ہے: لِأَنَّ اللِّحَاقَ هُوَ السَّبَبُ، اس لیے کیونکہ دار الحرب سے جا ملنا یہی وارث ہونے کا سبب ہے، وَالْقَضَاءُ لِتَقَرُّرِهِ، اور قاضی کا فیصلہ تو اسی کو ثابت کرنے کے لیے ہے لِقَطْعِ الِاحْتِمَالِ، واپسی کے احتمال کو کاٹنے کے لیے۔ وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ: وَقْتَ الْقَضَاءِ، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وارث کا وارث ہونا معتبر ہے وقت القضاء یعنی قاضی کے فیصلے کے وقت بھئی۔ قاضی کے فیصلے کے وقت جو وارث موجود ہے وہ وارث بنے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ: وَقْتَ الْقَضَاءِ، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس وارث کا وارث ہونا قضا کے وقت معتبر ہے، قاضی کے فیصلے کے وقت دیکھا جائے گا کہ وہ وارث بن رہا ہے یا نہیں۔ لِأَنَّهُ يَصِيرُ مَوْتًا بِالْقَضَاءِ، اس لیے کیونکہ وہ جو لحاق ہے وہ قضا کی وجہ سے موت بنا ہے۔ وہ جو مرتد کا دار الحرب چلے جانا ہے وہ قضائے قاضی کی وجہ سے موت بنا ہے، ویسے خود وہ موت کے درجے میں نہیں۔ تو جب قضائے قاضی کی وجہ سے وہ لحاق موت بنا ہے تو لہٰذا قضائے قاضی ہی کا اعتبار کیا جائے گا، لحاق کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔ یہ معنی ہے: لِأَنَّهُ يَصِيرُ مَوْتًا بِالْقَضَاءِ، اس لیے کیونکہ وہ لحاق جو ہے، یعنی وہ جو دار الحرب چلے جانا ہے وہ قضائے قاضی کی وجہ سے موت بنا ہے، تو لہٰذا قضائے قاضی کا اعتبار کیا جائے گا۔ وَالْمُرْتَدَّةُ إِذَا لَحِقَتْ بِدَارِ الْحَرْبِ فَهِيَ عَلَى هَذَا الْخِلَافِ، اور مرتَدّہ جب دار الحرب سے جا ملی تو وہ بھی اسی اختلاف پر ہے۔ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس مرتَدّہ کے دار الحرب جانے کا وقت معتبر ہے، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: قاضی کے فیصلے کا وقت معتبر ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: وَتُقْضَى الدُّيُونُ الَّتِي لَزِمَتْهُ فِي حَالِ الْإِسْلَامِ مِمَّا اكْتَسَبَهُ فِي حَالِ الْإِسْلَامِ، یہاں سے صاحبِ ہدایہ مرتد کے دیون کی ادائیگی کو ذکر فرما رہے ہیں۔ مرتد پر دیون تھے، تو اب دیون کو کس مال سے ادا کیا جائے گا؟ کچھ اس کی کمائی ہے اسلام کی حالت میں اور کچھ اس کی کمائی ہے ارتداد کی حالت میں، تو اس کے جو قرضے ہیں وہ کس مال سے ادا کیے جائیں گے؟ جب یہ مرتد جو ہے اب اس پر حقیقتاً موت آ جائے یا حکماً موت آ جائے تو قرضے کس مال میں سے ادا کیے جائیں گے؟ تو آپ کو بتلائیں گے کہ ظاہرِ روایت کے مطابق اسلام کے اندر جو قرضے اس پر لازم ہوئے تھے وہ اسلام کی کمائی کے ذریعے ادا کیے جائیں گے، اور ارتداد کی حالت میں اس پر جو قرضے آئے ہیں وہ ارتداد کے مال سے ادا کیے جائیں گے۔ تو کہتے ہیں: وَتُقْضَى الدُّيُونُ الَّتِي لَزِمَتْهُ فِي حَالِ الْإِسْلَامِ، اور ادا کیے جائیں گے وہ دیون جو اس مرتد کو لازم ہوئے ہیں اسلام کی حالت میں مِمَّا اكْتَسَبَهُ فِي حَالِ الْإِسْلَامِ، اس مال سے جو اس نے اسلام کی حالت میں کمایا ہے، وَمَا لَزِمَتْهُ فِي حَالِ رِدَّتِهِ مِنَ الدُّيُونِ تُقْضَى مِمَّا اكْتَسَبَهُ فِي حَالِ رِدَّتِهِ، اور وہ دیون جو اس پر ارتداد کی حالت میں لازم ہوئے ہیں ان کو ادا کیا جائے گا اس مال سے جس کو اس نے کمایا ہے اپنے ارتداد کی حالت میں۔ قَالَ الْعَبْدُ الضَّعِيفُ عَصَمَهُ اللهُ تَعَالَى، اس قَالَ الْعَبْدُ الضَّعِيفُ سے مراد صاحبِ ہدایہ ہیں۔ قَالَ الْعَبْدُ الضَّعِيفُ، اللہ کا کمزور بندہ کہتا ہے عَصَمَهُ اللهُ، اللہ اس کی حفاظت فرمائے: هَذِهِ رِوَايَةٌ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ، یہ روایت ہے امام صاحب سے۔ یہاں بھی صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ اس سلسلے میں بھی امام صاحب سے تین روایتیں ہیں کہ مرتد کے دیون جو ہیں وہ کس مال سے ادا کیے جائیں گے۔ اس سلسلے میں امام صاحب سے تین روایتیں ہیں: ایک یہ روایت جو متن میں گزر گئی کہ جو اسلام کے اندر قرضے لازم ہوئے تھے وہ اسلام کی کمائی کے ذریعے ادا کیے جائیں گے اور جو ارتداد کے اندر قرضے لازم ہوئے تھے وہ ارتداد کی کمائی سے ادا کیے جائیں گے، تو یہ ایک روایت ہے امام صاحب سے جو متن میں آ گئی، اور یاد رکھو یہ روایت امام صاحب سے امام زفر رحمہ اللہ نقل فرماتے ہیں۔ امام صاحب سے یہ روایت امام زفر رحمہ اللہ نقل فرماتے ہیں، تو صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: هَذِهِ رِوَايَةٌ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ، کہ یہ روایت ہے امام صاحب سے۔ وَعَنْهُ، اور امام صاحب سے ہی ایک اور روایت یہ ہے: أَنَّهُ يُبْدَأُ بِكَسْبِ الْإِسْلَامِ، کہ ابتدا کی جائے گی اسلام کی کمائی سے۔ اسلام کی کمائی سے قرضوں کی ادائیگی کی جائے گی۔ جو بھی قرضے ہیں، چاہے اسلام میں آئے ہیں چاہے ارتداد میں آئے ہیں لیکن ادائیگی کا آغاز کس مال سے کریں گے؟ وہ مال جو اسلام کی حالت میں کمایا ہے، اگر اس کے ذریعے سارے قرضے ادا ہو جاتے ہیں تو اچھی بات ہے ورنہ پھر ارتداد کے مال کے ذریعے باقی ادائیگی کی جائے گی۔ تو وَعَنْهُ، تو امام صاحب سے ایک روایت یہ ہے: أَنَّهُ يُبْدَأُ بِكَسْبِ الْإِسْلَامِ، کہ قرضوں کی ادائیگی کی ابتدا کی جائے گی اسلام کی کمائی سے، وَإِنْ لَمْ يَفِ بِذَلِكَ، وفا یفی کا معنی ہے پورا ہونا، وَإِنْ لَمْ يَفِ بِذَلِكَ، اور اگر اس کے ذریعے ادائیگی پوری نہ ہو يُقْضَى مِنْ كَسْبِ الرِّدَّةِ، تو ارتداد کی کمائی میں سے ادائیگی کی جائے گی۔ یہ دوسری روایت ہے امام صاحب سے، اور یہ روایت نقل کی ہے حسن ابن زیاد رحمہ اللہ نے بھئی۔ وَعَنْهُ عَلَى عَكْسِهِ، اور امام صاحب سے ایک روایت اس کے برعکس بھی ہے۔ یہ تیسری روایت ہے اور یہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ امام صاحب سے نقل کرتے ہیں۔ اس روایت کے مطابق قرضوں کی ادائیگی کی ابتدا اس مال سے کی جائے گی جو ارتداد کی حالت میں کمایا ہے، اور اگر اس کے ذریعے ادائیگی پوری نہیں ہوتی تو پھر اسلام والے مال کو بھی ساتھ ملا لیا جائے گا۔ تو کتنی روایتیں ہو گئیں؟ تین روایتیں ہو گئیں: متن میں آیا کہ اسلام کے قرضے اسلام کی کمائی سے اور ارتداد کے قرضے ارتداد کی کمائی سے ادا کیے جائیں گے، اور یہ روایت کرتے ہیں امام زفر رحمہ اللہ امام صاحب سے؛ دوسری روایت حسن ابن زیاد رحمہ اللہ امام صاحب سے کرتے ہیں کہ ابتدا اسلام کی کمائی سے کی جائے گی؛ اور تیسری روایت امام ابو یوسف رحمہ اللہ نقل کرتے ہیں امام صاحب سے کہ قرضوں کی ادائیگی کی ابتدا ارتداد کی کمائی سے کی جائے گی بھئی۔ اب ان میں سے ہر قول کی وجہ بھی ذکر فرمائیں گے۔ فقہاء پر اللہ کی کروڑہا رحمتیں ہوں بھئی، دیکھو یہاں امام صاحب سے تین روایتیں ہیں اور ہر روایت کی وجہ بتلائیں گے، کوئی بھی بغیر وجہ اور بغیر دلیل کے نہیں ہے بھئی۔ کہتے ہیں: وَجْهُ الْأَوَّلِ، پہلے قول کی وجہ جو ہے وہ یہ ہے: أَنَّ الْمُسْتَحَقَّ بِالسَّبَبَيْنِ مُخْتَلِفٌ، کہ وہ جس کا استحقاق ہوا ہے دو سببوں سے وہ مختلف ہے۔ مستحق بھئی جس کا استحقاق ہوا ہے، یعنی جو واجب ہوا ہے۔ جو اس پر قرضہ واجب ہوا ہے، مرتد پر جو قرضہ واجب ہوا ہے دو الگ الگ سببوں سے: ایک سبب اسلام کی حالت میں ہے اور ایک سبب ارتداد کی حالت میں ہے، یہ دونوں سبب الگ الگ ہیں، یہ ایک نہیں ہیں۔ تو لہٰذا ادائیگی بھی الگ الگ مال سے ہونی چاہیے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَجْهُ الْأَوَّلِ، پہلے قول کی وجہ یہ ہے: أَنَّ الْمُسْتَحَقَّ بِالسَّبَبَيْنِ مُخْتَلِفٌ، کہ وہ جو واجب ہوا ہے دو سببوں کی وجہ سے وہ واجب مختلف ہے، وَحُصُولُ كُلِّ وَاحِدٍ مِنَ الْكَسْبَيْنِ بِاعْتِبَارِ السَّبَبِ الَّذِي وَجَبَ لَهُ الدَّيْنُ، بھئی یہ دلیل یہیں سمجھ لیجیے پہلے۔ بھئی دیکھیے، اس مرتد نے اسلام کی حالت میں کچھ کمائی کی تھی تو ظاہر یہی ہے کہ اس کمائی کا سبب وہ قرضے ہی ہیں بھئی جو اس پر اسلام کی حالت میں لازم ہوئے تھے۔ اس نے اسلام کی حالت میں کمائی کی ہے تو اس کمائی کا سبب وہی قرضے ہیں جو اس پر اسلام کی حالت میں لازم ہوئے ہیں۔ مثلاً دیکھو، جب یہ مسلمان تھا اس نے ایک شخص سے ایک گاڑی دس لاکھ روپے میں خرید لی اور ابھی تک اس کے ثمن ادا نہیں کیے، اس نے کہا میں چھ مہینے بعد تمہیں ثمن ادا کروں گا، تو دیکھو اسلام کے اندر اس پر دین آ گیا، اور پھر اسی گاڑی کو اس آدمی نے بارہ لاکھ میں آگے خود فروخت کر دیا، تو دیکھو اب اس کو مال حاصل ہو گیا، تو یہ جو اسلام کی حالت میں کمائی حاصل ہوئی ہے اس کا سبب وہی قرضے ہیں جو اسلام کی حالت میں اس پر لازم ہوئے تھے بھئی۔ تو جب یہ کمائی ان قرضوں کی وجہ سے ہے تو اسی کمائی سے یہ قرضے بھی ادا کرنے چاہییں، اور اسی طرح ارتداد کے اندر جو اس نے کمائی کی ہے اس کا سبب وہ ارتداد کے زمانے کے قرضے ہیں، تو جب ان قرضوں کے ذریعے اس نے ارتداد والی کمائی کی ہے تو انہی کے ذریعے یہ قرضے بھی ادا کرنے چاہییں بھئی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: وَحُصُولُ كُلِّ وَاحِدٍ مِنَ الْكَسْبَيْنِ، اور دونوں کمائیوں میں سے ہر ایک کا حاصل ہونا بِاعْتِبَارِ السَّبَبِ الَّذِي وَجَبَ لَهُ الدَّيْنُ، یہ اسی سبب کے اعتبار سے ہے جس کی وجہ سے اس پر دین واجب ہوا تھا، فَيُقْضَى كُلُّ دَيْنٍ، تو لہٰذا ادا کیا جائے گا ہر دین کو مِنَ الْكَسْبِ الْمُكْتَسَبِ الَّذِي فِي تِلْكَ الْحَالَةِ۔ بھئی یہاں پھر یہ عبارت درست نہیں ہے بھئی۔ میری کتاب میں ہے: مِنَ الْكَسْبِ الْمُكْتَسَبِ الَّذِي فِي تِلْكَ الْحَالَةِ، یہ الَّذِي یہاں نہیں ہونا چاہیے بھئی۔ یہ الَّذِي یہاں پر نہیں ہونا چاہیے۔ اگرچہ الَّذِي ہو پھر بھی معنی ہو جائے گا لیکن اس کا نہ ہونا مناسب ہے بھئی۔ بھئی پہلے ذرا الَّذِي کے ساتھ ہم ترجمہ کر لیتے ہیں۔ دیکھو، مِنَ الْكَسْبِ الْمُكْتَسَبِ الَّذِي فِي تِلْكَ الْحَالَةِ، تو یہ الْكَسْب یہ ہے موصوف بھئی، اور کَسب کا کیا معنی؟ کمائی اور آمدنی؛ اور الْمُكْتَسَب یہ اسم مفعول ہے جس کو کمایا گیا ہے، مِنَ الْكَسْبِ الْمُكْتَسَبِ، وہ کمائی جس کو کمایا گیا ہے؛ الَّذِي فِي تِلْكَ الْحَالَةِ، یہ دوسری صفت آ گئی کَسب کی، وہ کمائی اور آمدنی الَّذِي فِي تِلْكَ الْحَالَةِ جو اس حالت میں ثابت تھی، جو اس حالت میں ہوئی۔ توجہ ہے؟ بھئی دیکھیے، عربی میں صفت بعد میں آتی ہے لیکن اردو کے اندر صفت کو موصوف سے پہلے لاتے ہیں جیسے رَجُلٌ شُجَاعٌ، رَجُلٌ موصوف ہے وہ پہلے ہے اور شُجَاعٌ صفت ہے وہ بعد میں ہے، لیکن اردو کے اندر جب اس کا ترجمہ ہم کریں گے رَجُلٌ شُجَاعٌ کا تو ترجمہ ہو گا بہادر آدمی۔ تو دیکھو بہادر جو صفت ہے وہ مقدم ہو گئی اور آدمی جو موصوف ہے وہ مؤخر ہو گیا۔ معلوم ہوا اردو میں موصوف صفت کے ترجمے کا طریقہ یہ ہے کہ صفت کو موصوف پر مقدم کر دیا جاتا ہے۔ رَجُلٌ شُجَاعٌ، رَجُلٌ نکرہ ہے تو شُجَاعٌ اس کی صفت بھی نکرہ، تو اس کا ترجمہ کیسے کریں گے؟ بہادر آدمی۔ اور اگر معرفہ ہو تو معرفہ تو کسی معین ذات پر دلالت کرتا ہے تو اس صورت میں شروع میں "وہ" کا لفظ بھی لے آئیں گے۔ شروع میں "وہ" کا لفظ لے آئیں گے جیسے الرَّجُلُ الشُّجَاعُ، تو اس کا ترجمہ کریں گے وہ بہادر آدمی کیونکہ یہ معرفہ ہے، معلوم ہوا کوئی متعین بہادر آدمی ہے اس کی بات چل رہی ہے۔ تو الرَّجُلُ الشُّجَاعُ کا کیا ترجمہ؟ وہ بہادر آدمی۔ اور رَجُلٌ شُجَاعٌ کا کیا معنی؟ اس کا معنی بہادر آدمی۔ یہ تو ایک طریقہ تھا موصوف صفت کے ترجمے کا، اور دوسرا طریقہ موصوف صفت کے ترجمے کا یہ ہے کہ اردو میں بھی آپ موصوف کو مقدم ہی رکھیں اور صفت کو مؤخر ہی رکھیں، البتہ موصوف سے پہلے اگر وہ نکرہ ہے موصوف تو "ایسا" یا "ایسی" کا لفظ لے آئیں اور اگر وہ معرفہ ہے تو پھر "وہ" یا "اس"، اس جیسا کوئی لفظ لے آئیں گے۔ تو رَجُلٌ شُجَاعٌ، اس کے ترجمے کا ایک طریقہ کیا کہ صفت کو مقدم کر دیں، بہادر آدمی؛ اور دوسرا طریقہ کیا کہ موصوف کو مقدم رکھیں لیکن اس سے پہلے ایسا یا ایسی کا لفظ لے آئیں: رَجُلٌ شُجَاعٌ، ایسا آدمی جو بہادر ہے۔ اور اسی کو معرفہ بنا دیں ذرا: الرَّجُلُ الشُّجَاعُ، تو پہلے طریقے کے مطابق ترجمہ کیا ہو گا؟ وہ بہادر آدمی؛ اور دوسرا طریقہ: الرَّجُلُ الشُّجَاعُ، وہ آدمی جو کہ بہادر ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں ہم دونوں طریقوں کو ملا لیں گے۔ دیکھو: مِنَ الْكَسْبِ الْمُكْتَسَبِ الَّذِي فِي تِلْكَ الْحَالَةِ، الْكَسْب ہے موصوف، الْمُكْتَسَب ہے صفتِ اول، اور الَّذِي فِي تِلْكَ الْحَالَةِ یہ ہے صفتِ ثانی۔ تو یہ جو صفتِ اول ہے اس کو ہم موصوف پر مقدم کر دیں گے اور صفتِ ثانی کے لیے شروع میں "وہ" کا لفظ لے آئیں گے، تو ترجمہ سنیے: تو کہتے ہیں: فَيُقْضَى كُلُّ دَيْنٍ، تو ادا کیا جائے گا ہر دین کو مِنَ الْكَسْبِ الْمُكْتَسَبِ الَّذِي فِي تِلْكَ الْحَالَةِ، اس کمائی ہوئی آمدنی میں سے جو اس حالت میں ثابت ہوئی۔ مُكْتَسَب کا کیا معنی؟ کمائی ہوئی۔ وہ کمائی ہوئی آمدنی، کسب کا کیا معنی؟ آمدنی۔ الْكَسْبِ الْمُكْتَسَبِ، وہ کمائی ہوئی آمدنی الَّذِي فِي تِلْكَ الْحَالَةِ جو اس حالت میں پائی گئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ لیکن اگر یہاں یہ الَّذِي کا لفظ نہ ہو، اور یاد رکھو ہدایہ کے بعض نسخوں میں یہاں الَّذِي کا لفظ نہیں ہے اور اس صورت میں معنی بڑا بہترین اور آسانی سے ہو جاتا ہے۔ دیکھو، اس صورت میں الْمُكْتَسَبِ فِي تِلْكَ الْحَالَةِ، یہ فِي تِلْكَ الْحَالَةِ اسی الْمُكْتَسَب سے جڑ جائے گا، تو الْمُكْتَسَبِ فِي تِلْكَ الْحَالَةِ جس کو کمایا گیا ہے اس حالت میں، الْمُكْتَسَبِ فِي تِلْكَ الْحَالَةِ جس کو اس حالت میں کمایا گیا ہے۔ اب ترجمہ سنیے بھئی: فَيُقْضَى كُلُّ دَيْنٍ، تو ادا کیا جائے گا ہر دین کو مِنَ الْكَسْبِ الْمُكْتَسَبِ فِي تِلْكَ الْحَالَةِ، اس آمدنی سے جو اس حالت کے اندر کمائی جائے، اس آمدنی سے ہی جو اس حالت میں کمائی گئی ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: لِيَكُونَ الْغُرْمُ بِالْغُنْمِ، تاکہ ضمان جو ہے وہ نفع کے بدلے ہو جائے۔ بھئی یاد رکھو یہ حدیث ہے بھئی، حدیث ہے اور یہ فقہ کا اہم ضابطہ بھی ہے بھئی: اَلْغُرْمُ بِالْغُنْمِ۔ غُرم بھئی، غین، را، میم: غُرم؛ اور غُنم بھئی، غین، نون، میم۔ اور غُرم کا معنی ہے ضمان اور تاوان بھئی، ضمان اور تاوان؛ اور غُنم بھئی، غین، نون، میم، اس کا معنی ہے نفع اور فائدہ۔ حدیث میں آتا ہے: اَلْغُرْمُ بِالْغُنْمِ، کہ ضمان جو ہے وہ نفع کے بدلے ہے۔ ضمان نفع کے بدلے ہے، ایک چیز کا فائدہ ایک آدمی اٹھاتا ہے تو اس کا ضمان بھی اسی کے اوپر آئے گا۔ مثلاً آپ کی گاڑی ہے، آپ کی گاڑی ہے تو جب وہ گاڑی آپ کی مملوکہ ہے تو اس گاڑی سے فائدہ آپ اٹھا رہے ہیں تو اس گاڑی کا خرچہ بھی آپ پر آئے گا بھئی، اَلْغُرْمُ بِالْغُنْمِ۔ یا دوسری صورت لے لیجیے: ایک شخص دوسرے کا مال چھین کر لے گیا تو یہ غاصب ہوا، تو اب اس مال سے فائدہ غاصب اٹھا رہا ہے تو اس کا ضمان بھی غاصب پر آئے گا، اگر اس چیز کو کوئی نقصان پہنچا تو غاصب کو ضمان دینا پڑے گا کیونکہ اَلْغُرْمُ بِالْغُنْمِ، ضمان جو ہے وہ نفع کے بدلے ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: لِيَكُونَ الْغُرْمُ بِالْغُنْمِ، تاکہ ضمان جو ہے وہ نفع کے بدلے ہو جائے۔ وَجْهُ الثَّانِي، یہاں سے اب دوسری روایت کی وجہ ذکر کر رہے ہیں۔ امام صاحب کا دوسرا قول یہ تھا کہ ان قرضوں کی ادائیگی کی ابتدا اس مال سے کی جائے گی جو اسلام کی حالت میں کمایا ہے، اور اس کے ذریعے ادائیگی نہ ہو سکی تو پھر وہ ارتداد والے مال کو بھی ساتھ ملایا جائے گا، اب اس کی وجہ ذکر کریں گے۔ کہتے ہیں: وَجْهُ الثَّانِي، اور دوسرے قول کی وجہ یہ ہے: أَنَّ كَسْبَ الْإِسْلَامِ مِلْكُهُ حَتَّى يَخْلُفَهُ الْوَارِثُ فِيهِ، کہ اسلام کی کمائی اس کی ملکیت ہے یہاں تک کہ اس کا خلیفہ بنتا ہے اس کے اندر اس کا وارث۔ حَتَّى يَخْلُفَهُ، یاد رکھو یہاں پر بھی حَتَّى نَصب نہیں دے گا، يَخْلُفُ پر رفع ہی پڑھیں گے بھئی، کیونکہ میں نے بتلایا تھا کہ حَتَّى کے نَصب دینے کے لیے ضروری ہے کہ حَتَّى کا ما بعد مستقبل ہونا چاہیے حَتَّى کے ما قبل کی طرف نظر کرتے ہوئے، اور نیز وہ حَتَّى جو ہے وہ غایہ یا سببیّت کا فائدہ دے، تو یہاں یہ شرائط پوری نہیں لہٰذا حَتَّى نَصب نہیں دے گا۔ دلیل یہیں سمجھ لیجیے۔ کا دوسرا قول ہے کہ ان قرضوں کی ادائیگی کی ابتدا اس مال سے کی جائے گی جو اس نے اسلام کی حالت میں کمایا ہے۔ بھئی وجہ یہ، پیچھے یہ بات ذکر ہوئی تھی، امام صاحب فرماتے تھے کہ اسلام کی حالت میں جو اس نے مال کمایا ہے، وہ وارثوں کی طرف منتقل ہوگا اور ارتداد کی حالت میں جو اس نے مال کمایا ہے، وہ مالِ فئے ہے، وہ مالِ غنیمت ہے، وہ بیت المال میں جمع کیا جائے گا اور مسلمانوں کی مصلحت کے کاموں میں خرچ کیا جائے گا۔ معلوم ہوا ارتداد کی حالت میں جو کمائی ہے، وہ مسلمانوں کا حق ہے، اور اسلام کی حالت میں جو کمائی ہے، وہ اسی کا حق ہے، اس کا مالک یہی ہے، اسی لیے تو اس کا یہ مال اس کے وارثوں کی طرف منتقل ہوتا ہے، بھئی۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ اسلام کے اندر جو کمائی ہے اس کا مالک یہ مرتد ہی ہے، لہٰذا اسی کے ذریعے قرضے ادا کریں گے۔ اور اگر اس سے ادائیگی پوری نہ ہو سکی پھر ارتداد کی کمائی سے قرضے ادا کیے جائیں گے۔ تو کہتے ہیں: ”وَوَجْهُ الثَّانِي“ امام صاحب کے دوسرے قول کی وجہ یہ ہے کہ ”أَنَّ كَسْبَ الْإِسْلَامِ مِلْكُهُ“ کہ اسلام کی کمائی اس کی ملکیت ہے ”حَتَّى يَخْلُفَهُ الْوَارِثُ فِيهِ“ یہاں تک کہ اس مرتد کا وارث اس اسلام کی کمائی میں اس کا خلیفہ بنتا ہے، یعنی وہ مال وارثوں کی طرف منتقل ہوتا ہے۔ ”وَمِنْ شَرْطِ هَذِهِ الْخِلَافَةِ“ اور اس خلافت کی شرط میں سے ہے ”الْفَرَاغُ عَنْ حَقِّ الْمُوَرِّثِ“ کہ یہ مال جو ہے مورث کے حق سے فارغ ہونا چاہیے، بھئی ادھر دیکھیے! آپ جانتے ہیں، کسی شخص کا جب انتقال ہوتا ہے، تو اس کا سارا مال فوراً ہی وارثوں کو نہیں دیتے، بلکہ پہلے اس مال کے ذریعے میت کا کفن دفن کیا جاتا ہے، اور اس کے بعد پھر میت کے قرضے ادا کیے جاتے ہیں، اور پھر تیسرے درجے میں اگر میت نے کوئی وصیت کی ہے، تو وہ باقی مال جو بچ گیا ہے اس کے تیسرے حصے میں وہ وصیت نافذ کی جاتی ہے، اور اس کے بعد چوتھے نمبر پر وارثوں کا حق آتا ہے، تو اب جو مال بچ گیا وہ وارثوں کو دے دیا جائے گا۔ معلوم ہوا، وارثوں کو وہ مال دیا جاتا ہے جو میت کے حق سے فارغ ہو۔ میت کا حق کیا ہے؟ کہ اس کا کفن دفن کیا جائے، اس کے قرضے ادا کیے جائیں، اس کی وصیت نافذ کی جائے، لہٰذا پہلے میت کے حق کو پورا کریں گے اور پھر جو مال بچے گا وہ وارثوں کو دے دیں گے۔ تو وہی بیان کر رہے ہیں کہ یہاں پر جو اسلام کی کمائی ہے وہ وارثوں کا حق ہے، لیکن وارثوں پر مقدم میت کا اپنا حق ہے۔ لہٰذا اس اسلام کی کمائی کے ذریعے پہلے قرضے ادا کریں گے اور پھر باقی مال وارثوں کو دیں گے، اور اگر اس کمائی کے ذریعے قرضے ادا نہیں ہوتے، پھر ارتداد کے مال کو بھی ساتھ ملایا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَمِنْ شَرْطِ هَذِهِ الْخِلَافَةِ“ اور اس وراثت کی خلافت کے اندر شرط ہے ”الْفَرَاغُ عَنْ حَقِّ الْمُوَرِّثِ“ کہ وہ مال جو ہے مورث کے حق سے فارغ ہو ”فَيُقَدَّمُ الدَّيْنُ عَلَيْهِ“ لہٰذا یہ جو مورث کا دین ہے، اس کو مقدم کیا جائے گا ”عَلَيْهِ“ اس وارث بنانے پر۔ مورث کے حق کو وارث بنانے پر مقدم کیا جائے گا، پہلے قرضے ادا کیے جائیں گے۔ ”أَمَّا كَسْبُ الرِّدَّةِ فَلَيْسَ بِمَمْلُوكٍ لَهُ“ باقی جو ارتداد کی کمائی ہے، وہ اس مرتد کی مملوک نہیں ہے ”لِبُطْلَانِ أَهْلِيَّةِ الْمِلْكِ“ بوجہ اہلیتِ ملک کے باطل ہونے کے ”بِالرِّدَّةِ“ مرتد ہونے کی وجہ سے ”عِنْدَهُ“ امام صاحب کے نزدیک۔ بھئی آپ پڑھ چکے ہیں، امام صاحب فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص مرتد ہوتا ہے، تو اس کی ملکیت اس کے مال پر سے موقوف طریقے پر ختم ہو جاتی ہے۔ صاحبین کے نزدیک تو مرتد کی ملکیت ختم نہیں ہوتی، کیونکہ وہ مکلف ہے اور محتاج ہے، لیکن امام صاحب کے نزدیک مرتد کی ملکیت اپنے مال سے ختم ہو جاتی ہے، اور یہ موقوف طریقے پر ختم ہوئی ہے، اگر مرتد دوبارہ مسلمان ہو گیا تو وہ پھر اپنے مال کا مالک بن جائے گا۔ تو اسی کو ذکر کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ، کہ یہ جو ارتداد کی کمائی ہے، یہ مرتد اس کا مالک ہی نہیں ہے، کیونکہ اس میں مالک بننے کی صلاحیت ہی ختم ہو چکی ہے، لہٰذا یہ مالِ فئے ہے، مسلمانوں کا مال ہے، یہ مسلمانوں کی مصلحتوں میں خرچ کیا جائے گا، بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”أَمَّا كَسْبُ الرِّدَّةِ فَلَيْسَ بِمَمْلُوكٍ لَهُ“ اور باقی ارتداد کی جو کمائی ہے وہ مرتد کی مملوک نہیں ہے ”لِبُطْلَانِ أَهْلِيَّةِ الْمِلْكِ بِالرِّدَّةِ“ اس وجہ سے کہ ارتداد کی وجہ سے ملکیت کی اہلیت باطل ہو چکی ہے ”عِنْدَهُ“ امام صاحب کے نزدیک ”فَلَا يُقْضَى دَيْنُهُ مِنْهُ“ لہٰذا اس میں سے دین ادا نہیں کیا جائے گا ”إِلَّا إِذَا تَعَذَّرَ قَضَاؤُهُ مِنْ مَحَلٍّ آخَرَ“ مگر یہ کہ جب اس دین کی ادائیگی متعذر ہو جائے ”مِنْ مَحَلٍّ آخَرَ“ دوسری جگہ سے۔ یعنی جب دوسری جگہ یعنی جب اسلام کی کمائی کے ذریعے دین کی ادائیگی نہ ہو سکے، پھر مجبوری کی حالت میں یہ ارتداد والی کمائی سے بھی دین ادا کیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”فَلَا يُقْضَى دَيْنُهُ مِنْهُ“ لہٰذا ارتداد کی کمائی سے دین کی ادائیگی نہیں کی جائے گی ”إِلَّا إِذَا تَعَذَّرَ قَضَاؤُهُ مِنْ مَحَلٍّ آخَرَ“ مگر یہ کہ اس دین کی ادائیگی متعذر ہو جائے دوسری جگہ سے، یعنی اسلام کی کمائی سے، ”فَحِينَئِذٍ يُقْضَى مِنْهُ“ تو اس وقت ارتداد کی کمائی میں سے دین ادا کیا جائے گا۔ یہاں سے صاحبِ ہدایہ اعتراض کا جواب دے رہے ہیں۔ اعتراض یہ ہوتا ہے کہ آپ ہمیں بتا چکے ہیں، امام صاحب کے نزدیک یہ جو ارتداد کی کمائی ہے یہ مالِ فئے ہے، یہ عام مسلمانوں کا حق ہے، تو اس کے ذریعے اس کے قرضے کیسے ادا کیے جا سکتے ہیں؟ یہ مال تو کس کا ہے؟ یہ ارتداد کی حالت کی کمائی یہ تو کس کا حق ہے؟ یہ تو عام مسلمانوں کا حق ہے، اسے تو بیت المال میں جمع کیا جائے گا اور مسلمانوں کی مصلحت کے کاموں میں اسے خرچ کیا جائے گا، تو پھر اس کے ذریعے اس مرتد کے قرضے کیسے اتارے جا سکتے ہیں؟ تو اس کا جواب دے رہے ہیں کہ یہ اسی طرح ہے جیسے کوئی ذمی ہے، وہ ذمی مر گیا اور اس کا کوئی وارث نہیں، تو اس کا یہ مال جو ہے بیت المال میں جمع کیا جائے گا، یہ تمام مسلمانوں کا ہے اور اسے مسلمانوں کی مصلحت کے کاموں میں خرچ کیا جائے گا۔ لیکن اگر اس ذمی پر قرضے ہوئے، تو اسی مال کے ذریعے ادا کیے جائیں گے۔ توجہ ہے؟ ایک ذمی مر گیا اور اس کا کوئی وارث نہیں، تو اس کا باقی بچنے والا مال یہ کس کا حق ہے؟ عام مسلمانوں کا، لیکن اگر اس ذمی پر کوئی قرضے تھے تو اسی مال سے ادا کیے جائیں گے۔ یہ جو عام مسلمانوں کا مال بن گیا تھا، اسی کے ذریعے اس کے قرضے ادا کیے جائیں گے۔ تو یہاں مرتد کے مسئلے میں بھی، اس کا وہ مال جو مالِ فئے تھا، ارتداد کی حالت میں جو کمایا ہے، وہ عام مسلمانوں کا حق ہے، لیکن اس پر اگر قرضے ہوئے تو اس کے ذریعے بھی ادائیگی کی جا سکتی ہے، جب اسلام کی کمائی کے ذریعے پوری ادائیگی نہ ہو رہی ہو۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”كَالذِّمِّيِّ“ جیسے کہ ذمی جو ہے ”إِذَا مَاتَ وَلَا وَارِثَ لَهُ“ جب وہ مر جائے اس حال میں کہ اس کا کوئی وارث نہ ہو ”يَكُونُ مَالُهُ لِجَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ“ تو اس کا مال جو ہے مسلمانوں کی جماعت کے لیے ہوتا ہے ”وَلَوْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ يُقْضَى مِنْهُ“ اور اگر اس مرنے والے ذمی پر کوئی دین ہو تو اس کو اسی مال میں سے ادا کیا جاتا ہے ”كَذَلِكَ هَاهُنَا“ اسی طرح یہاں پر بھی ہوگا، یعنی مرتد کا جو مال جو مسلمانوں کے لیے ہے اسی میں سے قرضے کی ادائیگی کی جائے گی، بھئی۔ آگے دیکھیے، بھئی: ”وَجْهُ الثَّالِثِ“ یہاں سے اب امام صاحب کے تیسرے قول کی وجہ ذکر کریں گے۔ امام صاحب کا تیسرا قول جو امام ابو یوسف رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ ان قرضوں کی ادائیگی کی ابتدا جو ہے وہ ارتداد کی کمائی سے کی جائے گی اور اگر اس کے ذریعے ادائیگی نہ ہو سکی پھر اسلام کی کمائی کے ذریعے ادائیگی کی جائے گی، بھئی۔ اور اس کی دلیل ذکر کریں گے کہ وجہ یہ ہے کہ اسلام کی جو کمائی ہے اس کے اندر وارثوں کا حق ہے، اور جو ارتداد کی کمائی ہے اس کے اندر وارثوں کا حق نہیں ہے، تو ارتداد کی کمائی وہ خالص اس مرتد کا حق ہے۔ لہٰذا وہ کمائی جو خالص مرتد کا حق ہے، اس کے ذریعے دین کی ادائیگی کرنا بہتر ہے، اس کے ذریعے ادائیگی کی جائے گی، ہاں اگر اس کے ذریعے ادائیگی نہ ہو سکی تو پھر اسلام کی کمائی کے ذریعے ادائیگی کی جائے گی، بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَوَجْهُ الثَّالِثِ“ اور امام صاحب کے تیسرے قول کی وجہ یہ ہے ”أَنَّ كَسْبَ الْإِسْلَامِ حَقُّ الْوَرَثَةِ“ کہ اسلام کی کمائی جو ہے وہ اس مرتد کے وارثوں کا حق ہے ”وَكَسْبُ الرِّدَّةِ خَالِصُ حَقِّهِ“ اور ارتداد کی کمائی وہ خالص اس مرتد کا حق ہے۔ اس پر آپ کے ذہنوں میں اشکال آئے گا کہ ابھی آپ نے ہمیں بتایا کہ مرتد جو ہے وہ ارتداد کی کمائی کا مالک نہیں ہے۔ اسلام کی کمائی کا مالک ہے لہٰذا اس سے قرضوں کی ادائیگی کی جائے گی اور ارتداد کی کمائی کا یہ مالک نہیں، اور اب آپ کہہ رہے ہیں کہ یہ جو ارتداد کی کمائی ہے یہ خالص مرتد کا حق ہے۔ تو جواب یاد رکھنا کہ بات اسی طرح ہے جو ہم نے کہی، یہ جو ارتداد کی کمائی ہے مرتد اس کا مالک نہیں ہے، البتہ یہ خالص حق اسی کا ہے۔ تو حق ہونا اور چیز ہے اور مالک ہونا اور چیز ہے، یہ اس کا مالک نہیں ہے، البتہ حق خالص مرتد ہی کا ہے۔ مرتد کا خالص حق ہونے کا یہ معنی کہ اس کے اندر وارثوں کا حق نہیں ہے، بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَكَسْبُ الرِّدَّةِ خَالِصُ حَقِّهِ“ اور ارتداد کی کمائی وہ خالص مرتد کا حق ہے ”فَكَانَ قَضَاءُ الدَّيْنِ مِنْهُ أَوْلَى“ لہٰذا اس سے دین کی ادائیگی کرنا یہ بہتر ہے ”إِلَّا إِذَا تَعَذَّرَ“ مگر یہ کہ جب یہ ادائیگی متعذر ہو جائے ”بِأَنْ لَمْ يَفِ بِهِ“ یعنی اس کے ذریعے ادائیگی پوری نہ ہو ”فَحِينَئِذٍ يُقْضَى مِنْ كَسْبِ الْإِسْلَامِ“ تو اس وقت جو ہے اسلام کی کمائی کے ذریعے قرضے ادا کیے جائیں گے ”تَقْدِيمًا لِحَقِّهِ“ مرتد کے حق کو مقدم کرتے ہوئے۔ مرتد کے حق کو مقدم کرتے ہوئے وارثوں پر، اولاً جو خالص مرتد کا حق ہے یعنی ارتداد کا مال، اس کے ذریعے ادائیگی کی جائے گی، اور پھر اس کے بعد جو اسلام کے اندر کمائی کی ہے اس کے ذریعے ادائیگی کی جائے گی، اگرچہ اس کے اندر وارثوں کا حق ہے، لیکن خود مورث کا حق اس پر مقدم ہوتا ہے، بھئی۔ تو یہ معنی ہے: ”تَقْدِيمًا لِحَقِّهِ“ مرتد کے حق کو مقدم کرنے کے لیے۔ یہ تو تھے امام صاحب کے تین اقوال اور ان میں سے ہر ایک کی وجہ بھی۔ ”وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ وَمُحَمَّدٌ رَحِمَهُمَا اللَّهُ“ اور صاحبین فرماتے ہیں، اب صاحبین کا مذہب آ گیا، بھئی۔ صاحبین فرماتے ہیں کہ مرتد اپنی دونوں کمائیوں کا مالک ہے، چاہے اسلام کی کمائی ہے، چاہے ارتداد کی کمائی ہے، اور یہ دونوں کمائیاں وارثوں کی طرف بھی منتقل ہوتی ہیں، تو دین بھی انہی دونوں کمائیوں کے ذریعے ادا کیے جائیں گے اور جو باقی مال بچے گا وہ پھر وارثوں کی طرف منتقل ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ وَمُحَمَّدٌ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى: تُقْضَى دُيُونُهُ مِنَ الْكَسْبَيْنِ“ کہ مرتد کے قرضے جو ہیں وہ ان دونوں کمائیوں سے ادا کیے جائیں گے ”لِأَنَّهُمَا جَمِيعًا مِلْكُهُ“ اس لیے کیونکہ یہ ساری اس کی ملکیت ہے ”حَتَّى يَجْرِيَ الْإِرْثُ فِيهِمَا“ یہاں تک کہ ان دونوں کے اندر وراثت جاری ہوتی ہے، ”وَاللَّهُ أَعْلَمُ“ اور اللہ خوب جاننے والے ہیں۔ بھئی یہاں بھی یاد رکھنا: ”حَتَّى يَجْرِيَ الْإِرْثُ فِيهِمَا“، یہ یہاں حتّٰی نصب نہیں دے گا، بھئی۔ لہٰذا یجری جو ہے اس پر نصب نہیں آئے گا۔ ”حَتَّى يَجْرِي الْإِرْثُ فِيهِمَا“ یہاں تک کہ ان دونوں کے اندر وراثت جاری ہوگی، ”وَاللَّهُ أَعْلَمُ“ اور اللہ خوب جاننے والے ہیں۔ ”قَالَ: وَمَا بَاعَهُ أَوْ اشْتَرَاهُ أَوْ أَعْتَقَهُ أَوْ وَهَبَهُ أَوْ رَهَنَهُ أَوْ تَصَرَّفَ فِيهِ مِنْ أَمْوَالِهِ فِي حَالِ رِدَّتِهِ فَهُوَ مَوْقُوفٌ“ یہاں سے مرتد کے تصرفات بیان کریں گے۔ ایک شخص مرتد ہو گیا اور ارتداد کے بعد وہ اپنے مال میں تصرفات کرتا ہے، تو مرتد کے کون کون سے تصرفات جو ہیں وہ نافذ ہوں گے اور کون سے نافذ نہیں ہوں گے۔ صاحبِ ہدایہ آگے چل کر آپ کو تفصیل بیان کریں گے کہ مرتد کے تصرفات چار قسم پر ہیں: کچھ تصرفات بالاتفاق نافذ ہیں، یعنی ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک، اور کچھ تصرفات ایسے ہیں کہ وہ بالاتفاق باطل ہیں ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک، اور کچھ اس کے وہ تصرفات ہیں جو بالاتفاق موقوف ہیں، اور کچھ ایسے تصرفات ہیں کہ جن میں امام صاحب اور صاحبین کا اختلاف ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں وہ تصرفات موقوف ہیں اور صاحبین فرماتے ہیں وہ تصرفات نافذ ہیں، بھئی۔ تو اسی کو یہاں بیان فرما رہے ہیں، یاد رکھو، یہ جو تصرفات ذکر کر رہے ہیں مثلاً کیا ذکر کیا؟ ”وَمَا بَاعَهُ أَوْ اشْتَرَاهُ أَوْ أَعْتَقَهُ أَوْ وَهَبَهُ أَوْ رَهَنَهُ أَوْ تَصَرَّفَ فِيهِ مِنْ أَمْوَالِهِ“ کہ اگر مرتد کوئی چیز بیچتا ہے یا خریدتا ہے یا اپنے غلام یا باندی کو آزاد کرتا ہے یا کسی کو کوئی تحفہ دیتا ہے یا کوئی چیز رہن رکھواتا ہے یا اس قسم کا کوئی اور تصرف اپنے مال میں وہ کرتا ہے، تو امام صاحب کے نزدیک مرتد کے یہ تصرفات موقوف ہیں، کیونکہ یہ جو تصرفات ذکر ہو رہے ہیں: کسی چیز کو بیچنا یا خریدنا یا غلام یا باندی کو آزاد کرنا یا کوئی چیز کسی کو تحفے میں دینا یا کوئی چیز کسی کے پاس رہن رکھوانا، ان تمام تصرفات کی بنیاد ملکیت پر ہے۔ ایک شخص کسی چیز کا مالک ہو تو وہ یہ تصرفات کر سکتا ہے، جبکہ مرتد جو ہے اس کی تو ملکیت جو ہے وہ موقوف طریقے پر ختم ہو چکی ہے۔ تو جب مرتد کی ملکیت موقوف ہے، تو اس کے یہ تصرفات جن کی بنیاد ملکیت پر ہے وہ بھی موقوف ہوں گے۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ مرتد اپنی چیزوں کا ابھی بھی مالک ہے، لہٰذا ان کے نزدیک یہ سارے تصرفات نافذ ہیں مرتد کے، کیونکہ ان کی بنیاد ملکیت پر ہے اور مرتد اپنے مال کا مالک ہے، بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”قَالَ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَمَا بَاعَهُ“ اور وہ چیز جس کو مرتد بیچے ”أَوْ اشْتَرَاهُ“ یا اس کو مرتد خریدے ”أَوْ أَعْتَقَهُ“ یا جسے مرتد آزاد کرے ”أَوْ وَهَبَهُ“ یا جسے مرتد ہبہ کرے یعنی کسی کو تحفے کے طور پر دے ”أَوْ رَهَنَهُ“ یا کسی کے پاس رہن رکھوائے ”أَوْ تَصَرَّفَ فِيهِ“ یا اس کے اندر کوئی تصرف کرے ”مِنْ أَمْوَالِهِ“ یعنی اس کے جو اموال ہیں۔ یاد رکھو یہ ”مِنْ أَمْوَالِهِ“ یہ بیان ہے وہ جو پیچھے آیا تھا ”وَمَا بَاعَهُ أَوْ اشْتَرَاهُ أَوْ أَعْتَقَهُ“ وغیرہ، بھئی۔ توجہ ہے؟ تو یہ جو تصرف کرے، یعنی اپنے مال کے اندر وہ یہ تصرفات کرے ”فِي حَالِ رِدَّتِهِ“ اپنے مرتد ہونے کی حالت میں ”فَهُوَ مَوْقُوفٌ“ تو اس کا یہ تصرف جو ہے موقوف ہے۔ ”فَإِنْ أَسْلَمَ“ اگر یہ مرتد مسلمان ہو گیا ”صَحَّتْ عُقُودُهُ“ تو اس کے یہ عقد صحیح ہو جائیں گے ”وَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ أَوْ لَحِقَ بِدَارِ الْحَرْبِ“ اور اگر یہ مرتد مر گیا یا اس کو قتل کر دیا گیا یا یہ دار الحرب سے جا ملا ”بَطَلَتْ“ تو اس کے یہ عقد باطل ہو جائیں گے ”وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور یہ امام صاحب کے نزدیک ہے ”وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ وَمُحَمَّدٌ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى: يَجُوزُ مَا صَنَعَ فِي الْوَجْهَيْنِ“ اور صاحبین فرماتے ہیں کہ جائز ہے جو عمل بھی مرتد نے کیا دونوں صورتوں میں۔ مرتد نے جو تصرف کیا ہے، جو کچھ کیا ہے وہ دونوں صورتوں میں جائز ہے، یعنی چاہے وہ اسلام لائے یا اسلام نہ لائے دونوں صورتوں کے اندر اس کے تصرفات نافذ ہیں، بھئی۔ کیونکہ مرتد کی ملکیت صاحبین کے نزدیک ختم نہیں ہوئی، بھئی۔ تو کہتے ہیں صاحبین فرماتے ہیں: ”يَجُوزُ مَا صَنَعَ فِي الْوَجْهَيْنِ“ کہ جائز ہے جو بھی مرتد کرے دونوں صورتوں میں۔ کون سی دو صورتیں؟ ایک صورت یہ کہ وہ اسلام لے آئے اور دوسری صورت یہ ہے کہ وہ مر جائے یا قتل کر دیا جائے یا دار الحرب چلا جائے اور قاضی اس کے جانے کا فیصلہ کر دے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ آگے دیکھیے: ”اعْلَمْ أَنَّ تَصَرُّفَاتِ الْمُرْتَدِّ عَلَى أَقْسَامٍ“ تو جان لے کہ مرتد کے جو تصرفات ہیں وہ کئی قسم پر ہیں۔ آپ کو بتلائیں گے کہ مرتد کے تصرفات جو ہیں وہ چار قسم کے ہیں: ”نَافِذٌ بِالِاتِّفَاقِ“ ایک قسم کا تصرف وہ ہے جو بالاتفاق نافذ ہے یعنی ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک، ”كَالِاسْتِيلَادِ“ جیسے کہ ام ولد بنانا ”وَالطَّلَاقِ“ اور جیسے کہ طلاق ہے۔ یاد رکھو، مرتد کا ام ولد بنانا اپنی باندی کو، یعنی باندی سے کوئی اولاد ہوئی اور مرتد نے کہہ دیا: یہ میری اولاد ہے، تو یہ باندی اس کی ام ولد بن جائے گی، اور اسی طرح مرتد جو ہے وہ اگر اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے تو اس صورت میں بالاتفاق یہ طلاق بھی واقع ہو جائے گی۔ تو مرتد کا اپنی باندی کو ام ولد بنانا یا اپنی بیوی کو طلاق دینا یہ بالاتفاق نافذ ہے ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک۔ تو استیلاد کے مسئلے میں صاحبین پر تو کوئی اشکال نہیں ہوتا، اس لیے کیونکہ صاحبین کے نزدیک کوئی شخص مرتد بھی ہو جائے تو اس کی ملکیت اپنے مال پر سے ختم نہیں ہوتی، لہٰذا یہ باندی جو ہے یہ مرتد اب بھی اس کا مالک تھا، اور اپنی باندی سے جب اولاد ہو تو آقا کہہ سکتا ہے: یہ میری اولاد ہے۔ توجہ ہے؟ کسی باندی کو ام ولد بنانے کے لیے ضروری ہے کہ وہ باندی اس شخص کی مملوکہ ہو، اگر غیر کی باندی ہے تو وہاں کوئی شخص کہہ بھی دے یہ باندی سے جو اولاد ہوئی ہے یہ اولاد میری ہے اس سے نسب ثابت نہیں ہوگا، کیونکہ وہ تو زنا ہے، بھئی۔ دوسرے کی باندی سے صحبت تو زنا ہے، بھئی۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ صاحبین کے نزدیک تو مرتد کی ملکیت باندی پر ابھی بھی باقی تھی لہٰذا مرتد کا ام ولد بنانا صحیح ہے، لیکن امام صاحب کے نزدیک تو مرتد کی ملکیت جو ہے موقوف طریقے پر اپنے مالوں سے ختم ہو گئی ہے، تو اپنی باندی سے بھی اس کی ملکیت ختم ہو گئی ہے، تو پھر یہ اس کی ام ولد کیسے ہو سکتی ہے؟ توجہ ہے؟ مرتد ہونے کے بعد یہ باندی کو ام ولد بنا رہا ہے، تو یہ کیسے اپنی باندی کو ام ولد بنا سکتا ہے؟ یہ مرتد جو ہے امام صاحب کے مذہب پر اعتراض ہوتا ہے، تو وجہ ذکر کریں گے کہ بھئی باندی کو ام ولد بنانے کے لیے حقیقتاً ملکیت کا ہونا ضروری نہیں ہے۔ حقیقتاً ملکیت کا ہونا ضروری نہیں ہے، جیسے آپ پیچھے مسئلہ پڑھ چکے ہیں کہ باپ نے اپنے بیٹے کی باندی سے صحبت کر لی اور اس باندی نے بچے کو جنم دیا اور باپ نے کہہ دیا کہ یہ بچہ میرا ہے تو یہ باندی اس باپ کی ام ولد ہو جائے گی۔ معلوم ہوا ام ولد بنانے کے لیے حقیقتاً ملکیت کا ہونا ضروری نہیں، جب حقیقتاً ملکیت کا ہونا ضروری نہیں ہے تو لہٰذا مرتد کا بھی اپنی باندی کو ام ولد بنانا صحیح ہے کیونکہ وہاں حقیقتاً ملکیت کا ہونا ضروری ہی نہیں ہے۔ اور نیز طلاق کا مسئلہ کہ مرتد طلاق کیسے دے گا اپنی بیوی کو؟ کیونکہ مرتد ہوتے ہی نکاح تو ٹوٹ گیا۔ تو جواب یہ کہ آپ جانتے ہیں کہ عدت کے دوران خاوند اپنی بیوی کو طلاق دے سکتا ہے۔ ایک شخص ہے، اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، یہ عورت اب عدت گزار رہی ہے، اس عدت کے اندر خاوند اور طلاق دے گا تو وہ بھی واقع ہو جائے گی، بھئی۔ چاہے اس نے طلاقِ رجعی دی ہو، چاہے طلاقِ بائن دی ہو، لیکن عورت ابھی عدت کے اندر ہے تو عدت کے اندر اگر خاوند اور طلاق دے گا تو وہ بھی واقع ہو جائے گی۔ تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے، ایک شخص جب مرتد ہوا تو اس کے اور بیوی کے درمیان بینونت آ گئی، جدائی آ گئی، نکاح ٹوٹ گیا، لیکن پھر بھی بینونت کے بعد بھی یہ عورت عدت گزارے گی، یہ فوراً آگے نکاح نہیں کر سکتی، تو عورت عدت کے اندر ہے اور اس دوران مرتد اس کو طلاق دیتا ہے تو طلاق واقع ہو جائے گی۔ نکاح تو ٹوٹ چکا ہے لیکن طلاق واقع ہو جائے گی، یا دوسری صورت بنا لیں کہ خاوند اور بیوی دونوں اکٹھے مرتد ہو گئے العیاذ باللہ، بھئی۔ دونوں اکٹھے مرتد ہو گئے، تو اس صورت میں آپ پڑھ چکے ہیں نکاح نہیں ٹوٹتا، اور پھر اس کے بعد یہ مرتد اپنی اس مرتدہ بیوی کو طلاق دیتا ہے تو اس کا یہ تصرف صحیح ہے اور طلاق واقع ہو جائے گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں کہ: ”اعْلَمْ أَنَّ تَصَرُّفَاتِ الْمُرْتَدِّ عَلَى أَقْسَامٍ: نَافِذٌ بِالِاتِّفَاقِ كَالِاسْتِيلَادِ وَالطَّلَاقِ“ کہ مرتد کے تصرفات کئی قسم پر ہیں، کچھ وہ تصرفات ہیں جو بالاتفاق نافذ ہیں جیسے کہ ام ولد بنانا اور طلاق دینا، اور یہ طلاق کس دوران دے سکتا ہے؟ عدت کے دوران، عدت کے بعد نہیں۔ ”كَالِاسْتِيلَادِ وَالطَّلَاقِ لِأَنَّهُ لَا يَفْتَقِرُ إِلَى حَقِيقَةِ الْمِلْكِ وَتَمَامِ الْوِلَايَةِ“ جیسے کہ ام ولد بنانا اور طلاق، اس لیے کیونکہ یہ محتاج نہیں ہے ”إِلَى حَقِيقَةِ الْمِلْكِ“ حقیقتاً ملکیت کا۔ یہ ام ولد بنانا یہ حقیقتِ ملک کا محتاج نہیں، جیسے باپ اپنے بیٹے کی باندی کو اپنی ام ولد بنا سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ لَا يَفْتَقِرُ إِلَى حَقِيقَةِ الْمِلْكِ“ اس لیے کیونکہ یہ حقیقی ملکیت کا محتاج نہیں ہے ”وَتَمَامِ الْوِلَايَةِ“ اور اسی طرح ولایت کے پورا ہونے کا محتاج نہیں ہے، اس کا تعلق طلاق سے ہے۔ ”وَتَمَامِ الْوِلَايَةِ“ کا تعلق کس سے ہے؟ طلاق سے ہے، سوال پیدا ہوتا ہے مرتد کیسے طلاق دے سکتا ہے؟ تو اس کا جواب یہ کہ طلاق دینے کے لیے پوری ولایت کا ہونا ضروری نہیں۔ مثلاً دیکھو غلام جو ہے، غلام کو اگر آقا نکاح کی اجازت دے دیتا ہے اور غلام نکاح کر لیتا ہے تو یہ غلام اپنی بیوی کو طلاق دے سکتا ہے، حالانکہ غلام کو تو کسی تصرف کی اجازت نہیں۔ غلام کو تو کوئی ولایت حاصل نہیں ہے، پھر بھی وہ طلاق دے سکتا ہے اپنی بیوی کو، تو مرتد کے تو بعض تصرفات بالاتفاق نافذ ہیں، تو یہ تو بطریقِ اولیٰ اپنی بیوی کو طلاق دے سکتا ہے۔ غلام جس کو کسی تصرف کا حق نہیں جب وہ اپنی بیوی کو طلاق دے سکتا ہے تو مرتد بھی اپنی بیوی کو عدت کے دوران طلاق دے سکتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی تو یہ معنی ہے: ”وَتَمَامِ الْوِلَايَةِ“ اور یہ طلاق جو ہے وہی ولایت کے پورا ہونے کی محتاج نہیں ہے۔ ”وَبَاطِلٌ بِالِاتِّفَاقِ“ اور مرتد کے کچھ تصرفات جو ہیں وہ بالاتفاق باطل ہیں ”كَالنِّكَاحِ وَالذَّبِيحَةِ“ جیسے کہ نکاح ہے اور ذبیحہ ہے، مرتد کے کچھ تصرفات بالاتفاق باطل ہیں جیسے نکاح۔ بھئی وہ پچھلے نکاح کی بات نہیں ہو رہی جو پہلے مرتد نے کیا ہوا تھا، وہ تو مرتد ہوتے ہی وہ نکاح ٹوٹ گیا، یہ نئے نکاح کی بات ہو رہی ہے، ایک شخص مرتد ہونے کے بعد نکاح کرتا ہے تو یہ نکاح باطل ہے، نکاح ہوگا ہی نہیں، بھئی۔ کیونکہ مسلمان کا ہی مسلمان سے نکاح ہو سکتا ہے، لہٰذا اس کا نکاح باطل ہے، یا اسی طرح مرتد جو ہے کسی جانور کو ذبح کرتا ہے تو ذبیحہ جو ہے اس کی بنیاد بھی اسلام پر ہے، لہٰذا اس کا ذبیحہ بھی حرام ہے، جائز نہیں ہے، بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَبَاطِلٌ بِالِاتِّفَاقِ“ اور اس کے کچھ تصرفات بالاتفاق باطل ہیں ”كَالنِّكَاحِ وَالذَّبِيحَةِ“ جیسے کہ نکاح اور ذبیحہ ہے۔ ذبیحہ وہ جانور جس کو ذبح کیا جاتا ہے۔ ”كَالنِّكَاحِ وَالذَّبِيحَةِ لِأَنَّهُ يَعْتَمِدُ الْمِلَّةَ“ ملت کا کیا معنی ہے؟ دین، بھئی۔ ”لِأَنَّهُ يَعْتَمِدُ الْمِلَّةَ“ اس لیے کیونکہ ان میں سے ہر ایک کا اعتماد دین پر ہے، نکاح کا دارومدار بھی دین پر ہے اور ذبیحے کا دارومدار بھی دین پر ہے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ يَعْتَمِدُ الْمِلَّةَ“ اس لیے کیونکہ ان میں سے ہر ایک کا اعتماد جو ہے وہ دین پر ہے ”وَلَا مِلَّةَ لَهُ“ اور مرتد کا تو کوئی دین نہیں ہے۔ مرتد کا تو کوئی دین نہیں ہے، بھئی سوال پیدا ہوتا ہے مرتد کا کیسے دین نہیں ہے؟ مثلاً اس نے اسلام کو چھوڑا ہے اور عیسائیت کو اختیار کر لیا ہے تو اس کا دین تو ہے، کہتے ہیں بھئی اس کا دین ہو بھی تو بھی اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے، کیونکہ مرتد کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ پھر اسلام کی طرف لوٹ آئے یا اس کو قتل کر دیا جائے گا، تو اس کو اس کے نئے دین پر باقی رہنے ہی نہیں دیا جائے گا، تو یہ اسی طرح ہے جیسے گویا اس کا کوئی دین ہے ہی نہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا مِلَّةَ لَهُ“ اور مرتد کا کوئی دین نہیں ہے۔ ”وَمَوْقُوفٌ بِالِاتِّفَاقِ“ اور مرتد کے کچھ تصرفات موقوف ہیں بالاتفاق، بھئی، ”كَالْمُفَاوَضَةِ“ جیسے کہ عقدِ مفاوضہ ہے۔ بھئی مفاوضہ یاد رکھو، یہ شرکت کی ایک قسم ہے۔ یہ کاروبار میں شرکت کی ایک قسم ہے، تو یہ شرکت کا آگے بیان آنے والا ہے وہاں اس کی تفصیل آ جائے گی۔ یہاں بس اتنا یاد رکھیں کہ شرکتِ مفاوضہ یا عقدِ مفاوضہ یہ دو آدمیوں کے درمیان عقد ہوتا ہے، دو ایسے آدمی جن کا مال بالکل برابر ہے، یعنی ایک کے پاس اگر بیس درہم ہیں تو دوسرے کے پاس بھی بیس درہم ہیں، بھئی۔ اور یاد رکھو، یہ جو عقدِ مفاوضہ ہے اس کی بنیاد مساوات پر ہوتی ہے، لہٰذا یہ انہی دو آدمیوں کے درمیان ہوگا جن کا مال بھی برابر ہو، جن کا دین بھی برابر ہو، اور جن کا تصرف بھی برابر ہو۔ یعنی دو مسلمان ہیں تو ان کا مال بھی برابر ہونا چاہیے تو یہ عقدِ مفاوضہ کر سکتے ہیں، نیز دونوں کا دین بھی ایک ہے لہٰذا یہ عقدِ مفاوضہ کر سکتے ہیں، اور نیز دونوں کے تصرفات بھی ایک جیسے ہیں، جس تصرف کا مالک ایک مسلمان ہے اسی تصرف کا مالک دوسرا مسلمان بھی ہے۔ لیکن یہ عقدِ مفاوضہ مسلمان اور ذمی کے درمیان نہیں ہو سکتا، مسلمان اور کافر کے درمیان نہیں ہو سکتا، کیونکہ دونوں دین کے اعتبار سے ایک نہیں ہیں، ایک مسلمان ہے اور دوسرا کافر ہے، اور نیز تصرف کے اعتبار سے بھی دونوں ایک جیسے نہیں ہیں، اس لیے کیونکہ مسلمان جو ہے شراب اور خنزیر کی بیع و شراء نہیں کر سکتا اور ذمی اور کافر جو ہے وہ تو شراب اور خنزیر کی بیع و شراء کر سکتا ہے، تو دونوں تصرف میں برابر نہیں ہیں، بھئی، حالانکہ عقدِ مفاوضہ کی بنیاد برابری پر ہے، بھئی۔ اور یاد رکھو عقدِ مفاوضہ کے اندر دونوں میں سے ہر ایک دوسرے کا وکیل بھی ہے اور ضامن بھی ہے۔ جی، توجہ ہے؟ عقدِ مفاوضہ یوں ہوتا ہے کہ دو آدمی آپس میں عقد کر لیتے ہیں کہ تمہارے پاس بھی بیس درہم ہیں میرے پاس بھی بیس درہم ہیں، ہم دونوں اس کے ذریعے کام کرتے ہیں، تم اپنا کام کرو جو بھی کام کرنا چاہو، میں اپنا کام کرتا ہوں جو بھی میں کرنا چاہوں، لیکن جو کمائی آئے گی وہ دونوں کے درمیان آدھی آدھی تقسیم ہوگی۔ تم کچھ کماؤ تو اس کے اندر بھی آدھا حصہ میرا ہوگا اور میں کچھ کماؤں تو اس کے اندر بھی تمہارا آدھا حصہ ہوگا۔ لہٰذا دونوں میں سے ہر ایک اپنی اپنی بیع و شراء میں مصروف ہو جاتا ہے اور دونوں میں سے ہر ایک جو بھی بیع و شراء کرتا ہے تو یہ بیع و شراء یہ اپنے لیے بھی کر رہا ہے اور اپنے ساتھی کے لیے بھی کر رہا ہے جس کے ساتھ اس نے عقد کیا تھا، یعنی اس کی طرف سے وکیل ہو کر کر رہا ہے۔ تو یہ جو بھی بیع و شراء کرے گا اس میں یہ اپنے اعتبار سے اصیل ہے کہ اپنے لیے بیع کر رہا ہے اور اپنے ساتھی کے لیے بھی بیع کر رہا ہے تو اس کی طرف سے وکیل بھی ہے، بھئی۔ اور نیز اس کے اندر دوسرا جو ہے وہ ضامن ہوتا ہے، لہٰذا ان میں سے ایک نے کوئی بیع کر لی اور اس نے دین کی ادائیگی کرنی ہے اب، تو وہ شخص وہ جو قرض خواہ ہے وہ اس شخص جس نے عقد کیا تھا اس سے بھی دین کا مطالبہ کر سکتا ہے اور وہ جو اس کا دوسرا ساتھی ہے وہ اس کا ضامن ہے، وہ کیا ہے؟ ضامن، اور جو ضمانت دے دے اس سے بھی مطالبہ کیا جا سکتا ہے، لہٰذا وہ جو قرض خواہ ہے وہ دونوں سے مطالبہ کر سکتا ہے، جس سے عقد کیا اس سے بھی مطالبہ کر سکتا ہے کیونکہ وہ اصیل ہے عقد کے اندر، اور دوسرے سے بھی مطالبہ کر سکتا ہے کیونکہ یہ ضامن تھا اس عقد کے اندر۔ توجہ ہے؟ تو معلوم ہوا عقدِ مفاوضہ کے اندر دونوں عقد کرنے والوں کے درمیان مال کے اعتبار سے، تصرف کے اعتبار سے اور دین کے اعتبار سے برابری ضروری ہوتی ہے، اور اس میں دونوں جو بھی بیع و شراء والا تصرف کرتے ہیں تو دونوں میں سے ہر ایک دوسرے کا وکیل بھی ہے اور ضامن بھی ہے، بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو بات چل رہی تھی کہ مرتد کے کچھ تصرفات جو ہیں بالاتفاق موقوف ہیں ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک جیسے کہ عقدِ مفاوضہ۔ عقدِ مفاوضہ ہے۔ مرتد ایک مسلمان کے ساتھ عقدِ مفاوضہ کر لیتا ہے تو ہمارے تینوں ائمہ فرماتے ہیں کہ یہ عقدِ مفاوضہ جو ہے اس کی بنیاد تو برابری پر ہے لہٰذا یہ عقدِ مفاوضہ موقوف رہے گا۔ اگر وہ مرتد جو ہے پھر مسلمان ہو گیا تو پھر یہ عقدِ مفاوضہ صحیح ہو جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ﴿وَمَوْقُوفٌ بِالِاتِّفَاقِ﴾ اور مرتد کے کچھ تصرفات بالاتفاق موقوف ہیں، ﴿كَالْمُفَاوَضَةِ﴾ جیسے کہ عقدِ مفاوضہ ہے، ﴿لِأَنَّهَا تَعْتَمِدُ الْمُسَاوَاةَ﴾ اس لیے کیونکہ مفاوضہ کی بنیاد جو ہے برابری پر ہے، ﴿وَلَا مُسَاوَاةَ بَيْنَ الْمُسْلِمِ وَالْمُرْتَدِّ مَا لَمْ يُسْلِمْ﴾ اور کوئی برابری نہیں ہے مسلمان کے درمیان اور مرتد کے درمیان ما لم یسلم جب تک وہ مرتد مسلمان نہ ہو جائے۔ ﴿وَمُخْتَلَفٌ فِي تَوَقُّفِهِ﴾ اور کچھ تصرفات مرتد کے ایسے ہیں ﴿كَمُخْتَلَفٌ فِي تَوَقُّفِهِ﴾ کہ جس کے توقف کے اندر اختلاف کیا گیا ہے، اس کے موقوف ہونے میں اختلاف کیا گیا ہے جو پیچھے متن کے اندر ذکر ہوئے تھے کہ مرتد اگر کوئی چیز بیچتا ہے یا خریدتا ہے یا اپنے غلام یا باندی کو آزاد کرتا ہے یا کسی کو کوئی چیز تحفے کے طور پر دیتا ہے یا رہن وغیرہ رکھواتا ہے تو یہ سارے تصرفات جو ہیں ان کی بنیاد ملکیت پر ہے۔ ان کی بنیاد ملکیت پر ہے اور امام صاحب کے نزدیک مرتد کی ملکیت موقوف ہو چکی ہے لہٰذا اس کے یہ تصرفات بھی موقوف رہیں گے، جبکہ صاحبین کے نزدیک مرتد ابھی بھی اپنے مال کا مالک ہے لہٰذا ان کے نزدیک یہ تصرفات نافذ ہو جائیں گے۔ توجہ ہے؟ تو کہتے ہیں: ﴿وَمُخْتَلَفٌ فِي تَوَقُّفِهِ﴾ اور مرتد کے کچھ وہ تصرفات ہیں کہ ان کے موقوف ہونے میں اختلاف کیا گیا ہے، ﴿وَهُوَ مَا عَدَدْنَاهُ﴾ اور یہ وہ تصرفات ہیں جن کو ہم نے شمار کیا، ما عددناہ جن کو ہم نے شمار کیا یعنی متن میں ذکر کیا، ﴿لَهُمَا﴾ اب صاحبین کی دلیل آ گئی۔ صاحبین فرماتے ہیں یہ مرتد کی بیع و شراء وغیرہ یہ تصرفات ان کی بنیاد ملکیت پر ہے لہٰذا یہ تصرفات اس کے نافذ ہو گئے ہیں۔ ﴿وَلَهُمَا﴾ صاحبین کی دلیل یہ ہے ﴿أَنَّ الصِّحَّةَ تَعْتَمِدُ الْأَهْلِيَّةَ﴾ کہ تصرف کا صحیح ہونا ﴿تَعْتَمِدُ الْأَهْلِيَّةَ﴾ اس کا اعتماد جو ہے اہلیت پر ہوتا ہے۔ صاحبین فرماتے ہیں کہ تصرف کے لیے دو چیزیں چاہییں: ایک تو یہ کہ تصرف کرنے والے میں اہلیت ہونی چاہیے یعنی وہ عاقل بالغ ہونا چاہیے، اور دوسرا جس چیز میں تصرف کر رہا ہے اس کا وہ مالک ہونا چاہیے، اور مرتد میں یہ دونوں چیزیں موجود ہیں۔ مرتد میں اہلیت بھی ہے کیونکہ وہ عاقل بالغ ہے اور نیز اس مال کا وہ مالک بھی ہے لہٰذا مرتد کے یہ تمام تصرفات جن کی بنیاد ملکیت پر تھی یہ نافذ ہوں گے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَلَهُمَا أَنَّ الصِّحَّةَ تَعْتَمِدُ الْأَهْلِيَّةَ﴾ اور صاحبین کی دلیل یہ ہے کہ یہ تصرف کا صحیح ہونا تعتمد الأہلیۃ اس کا اعتماد جو ہے اہلیت پر ہے یعنی عاقل بالغ ہونے پر ہے، ﴿وَالنَّفَاذَ يَعْتَمِدُ الْمِلْكَ﴾ اور تصرف کا نافذ ہونا یعتمد الملک اس کا اعتماد جو ہے ملکیت پر ہے، ﴿وَلَا خَفَاءَ فِي وُجُودِ الْأَهْلِيَّةِ﴾ اور کوئی خفاء نہیں ہے مرتد کے اندر اہلیت کے پائے جانے میں۔ اس بات میں کوئی خفاء نہیں کہ مرتد کے اندر اہلیت ہے کیونکہ وہ عاقل بالغ ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَلَا خَفَاءَ فِي وُجُودِ الْأَهْلِيَّةِ﴾ اور مرتد کی اہلیت کے پائے جانے میں کوئی خفاء نہیں ہے کوئی پوشیدگی نہیں ہے، ﴿لِكَوْنِهِ مُخَاطَبًا﴾ اس وجہ سے کہ مرتد مخاطب ہے، مرتد مخاطب ہے یعنی شرعی احکام اس کی طرف متوجہ ہیں، وہ مکلف ہے، اسی لیے تو اس کو مجبور کیا جائے گا واپس اسلام کی طرف اور اسی لیے تو اس کو قتل کیا جائے گا۔ اگر وہ مکلف ہی نہیں ہے تو اس کو قتل نہیں کیا جا سکتا بھئی۔ تو کہتے ہیں کہ مرتد میں اہلیت کے پائے جانے میں کوئی خفاء اور کوئی پوشیدگی نہیں ہے، ﴿لِكَوْنِهِ مُخَاطَبًا﴾ اس لیے کیونکہ مرتد جو ہے وہ مخاطب ہے یعنی شرعی احکام کا، ﴿وَكَذَا الْمِلْكُ﴾ اور اسی طرح ملکیت بھی ہے یعنی مرتد کی ملکیت میں بھی کوئی شبہ نہیں ہے، ﴿لِقِيَامِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ﴾ اس لیے کیونکہ یہ ملکیت موجود ہے اس کی موت سے پہلے۔ صاحبین کے نزدیک مرتد کی ملکیت ختم نہیں ہوتی، تو ﴿لِقِيَامِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ﴾ اس لیے کیونکہ مرتد کی ملکیت قائم ہے، موجود ہے قبل موتہ اس کی موت سے پہلے، ﴿عَلَى مَا قَرَّرْنَاهُ مِنْ قَبْلُ﴾ اس وجہ سے جو ہم نے ماقبل میں ثابت کر دیا۔ مرتد کی ملکیت موجود ہے اس وجہ سے جو ہم نے ماقبل میں ثابت کر دیا کہ مرتد مکلف ہے اور محتاج ہے، اور جو بھی مکلف اور محتاج ہو وہ اپنے مال کا مالک ہوتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ﴿عَلَى مَا قَرَّرْنَاهُ مِنْ قَبْلُ﴾ اس وجہ سے جو ہم نے ماقبل میں ثابت کر دیا، ﴿وَلِهَذَا لَوْ وُلِدَ لَهُ وَلَدٌ بَعْدَ الرِّدَّةِ لِسِتَّةِ أَشْهُرٍ﴾ بھئی صاحبین کی دلیل چل رہی ہے۔ صاحبین فرماتے ہیں کہ مرتد جو ہے وہ اس کی ملکیت اپنے مال پر ابھی بھی باقی ہے بھئی۔ کہتے ہیں اسی وجہ سے اگر اس مرتد کی کوئی مسلمان بیوی اس کے ارتداد کے چھ ماہ کے بعد کسی بچے کو جنم دے دے تو وہ بچہ بھی اس مرتد کا وارث بنتا ہے۔ وہ بچہ بھی اس مرتد کا وارث بنتا ہے، تو اس مرتد کی مسلمان بیوی اس کے ارتداد کے چھ ماہ کے بعد کم از کم بچے کو جنم دے۔ چھ ماہ کو ذکر کیا اس لیے کہ آپ پڑھ چکے ہیں کہ کم سے کم مدت جس کے اندر ایک صحیح سلامت بچے کی پیدائش ہو سکتی ہے وہ چھ مہینے ہے۔ تو اگر مرتد کی مسلمان بیوی چھ ماہ کے بعد بچے کو جنم دے یا چھ ماہ سے زیادہ مدت گزری ہو، تو معلوم ہوا اس صورت میں یہ جو حمل ٹھہرا ہے یہ اس کے مرتد ہونے کے بعد ٹھہرا ہے لیکن اس کے باوجود یہ بچہ اس کا وارث بنتا ہے۔ معلوم ہوا مرتد کی ملکیت اپنے مال پر سے ختم نہیں ہوئی۔ اگر ارتداد کی وجہ سے اس کی ملکیت اپنے مال سے ختم ہو گئی تھی تو وہ حمل جو ارتداد کے بعد ٹھہرا ہے اس کو تو اس کا وارث نہیں بننا چاہیے کیونکہ اس کی تو ملکیت ہی ختم ہو چکی ہے، لیکن فقہاء فرماتے ہیں کہ یہ بچہ جس کا حمل اس مرتد کے ارتداد کے بعد ٹھہرا ہے یہ بھی مرتد کا وارث بنے گا۔ معلوم ہوا مرتد کی ملکیت اپنے مال سے ختم نہیں ہوئی، اگر ملکیت ختم ہو چکی ہوتی تو یہ بچہ جس کا حمل ہی ارتداد کے بعد ٹھہرا ہے یہ مرتد کا وارث نہ بنتا بھئی۔ بھئی شاید ابھی بھی آپ پر بات واضح نہ ہوئی ہو بھئی۔ بھئی دیکھیے! اگر مرتد کی ملکیت ہی ختم ہو چکی ہے یعنی ارتداد کے وقت، اگر ارتداد کے وقت مرتد کی ملکیت ہی ختم ہو چکی ہے تو اس مرتد کا تو کوئی مال ہی نہیں ہے۔ اگر ارتداد کے وقت ہی مرتد کی ملکیت ختم ہو گئی تھی تو مرتد کا تو کوئی مال ہی نہیں ہے، تو پھر اس بچے کے وارث ہونے کا کیا معنی؟ وراثت کے لیے تو مال چاہیے، مال ہو گا تو وہ وارثوں کی طرف منتقل ہو گا۔ تو اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ ارتداد کے وقت ہی اس مرتد کی ملکیت ختم ہو گئی تھی، پھر تو ارتداد کے بعد پیدا ہونے والے بچے کو اس کا وارث ہی نہیں ہونا چاہیے کیونکہ مال ہی موجود نہیں ہے، لیکن بالاتفاق ارتداد کے بعد بھی اگر مسلمان بیوی کسی بچے کو جنم دے گی تو وہ مرتد کا وارث بنے گا۔ معلوم ہوا مرتد کی ابھی بھی اپنے مال پر ملکیت موجود ہے کیونکہ وراثت کے لیے تو مال چاہیے، مال ہو گا تو پھر ہی وہ اس کا وارث بھی بنے گا، اگر مال ہی نہ ہو تو پھر وارث کیسے بنے گا؟ تو ارتداد کے کم از کم چھ ماہ بعد پیدا ہونے والا بچہ بھی تب ہی وارث بن سکتا ہے جب مرتد کی اپنے مال پر ملکیت موجود ہو۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ﴿وَلِهَذَا﴾ اور اسی وجہ سے کہ مرتد کی ملکیت اپنے مال میں باقی ہے اسی وجہ سے، ﴿لَوْ وُلِدَ لَهُ وَلَدٌ﴾ اگر اس مرتد کے لیے کسی بچے کو جنم دیا گیا، ﴿بَعْدَ الرِّدَّةِ لِسِتَّةِ أَشْهُرٍ﴾ ارتداد کے چھ مہینے کے بعد، ﴿مِنْ امْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ﴾ کسی مسلمان بیوی سے، ﴿يَرِثُهُ﴾ تو وہ بچہ اس مرتد کا وارث بنے گا بھئی۔ اگر مرتد کی ملکیت ختم ہو چکی ہوتی اپنے مال پر سے تو یہ بچہ اس کا وارث نہ بنتا بھئی۔ ﴿وَلَوْ مَاتَ وَلَدُهُ بَعْدَ الرِّدَّةِ قَبْلَ الْمَوْتِ لَا يَرِثُهُ﴾ تو صاحبین کی دلیل چل رہی ہے، صاحبین فرماتے ہیں کہ مرتد کی اپنے مال پر ملکیت ابھی بھی باقی ہے چنانچہ اسی لیے اگر مرتد کا کوئی بچہ جو ارتداد کے وقت تو موجود تھا لیکن مرتد کی موت سے پہلے ہی وہ مر گیا تو وہ وارث نہیں بنے گا۔ وارث نہیں بنے گا، معلوم ہوا مرتد کی ملکیت اپنے مال میں ابھی بھی موجود ہے۔ اگر مرتد کی ملکیت موجود نہ ہوتی تو یہ بچہ تو ارتداد کے وقت موجود تھا اس کو تو وارث بننا چاہیے تھا، جس وقت مرتد کی ملکیت ختم ہو رہی تھی اس وقت تو یہ وارث موجود تھا لہٰذا اس کو تو وارث بننا چاہیے اگرچہ یہ مرتد کی موت سے پہلے مر گیا ہے لیکن ارتداد کے وقت تو یہ موجود تھا اس کو وارث بننا چاہیے، لیکن یہ بچہ وارث نہیں بنتا۔ وہ بچہ جو ارتداد کے وقت تو وارث تھا لیکن مرتد کی موت سے پہلے ہی وہ مر گیا تو وہ وارث نہیں بنے گا۔ معلوم ہوا مرتد کی ملکیت اپنے مال پر موجود ہے۔ اگر ملکیت ختم ہو چکی تھی پھر تو اس بچے کو وارث بننا چاہیے تھا چاہے بے شک پہلے مر گیا ہے لیکن اس کو وارث بننا چاہیے تھا اور پھر یہ تو مر چکا ہے تو اس وارث کے وارثوں کی طرف وہ مال منتقل ہو جاتا، لیکن یہ بچہ جو ارتداد کے وقت تو موجود تھا لیکن مرتد کے مرنے سے پہلے یہ مر گیا ہے تو یہ وارث نہیں بنتا، معلوم ہوا مرتد کی ملکیت باقی ہے۔ اگر ارتداد کے وقت ہی ملکیت ختم ہو گئی تھی تو ارتداد کے وقت تو یہ بچہ موجود تھا لہٰذا اس کو وارث بننا چاہیے تھا، لیکن یہ بچہ ارتداد کے بعد اور مرتد کے مرنے سے پہلے مرا ہے تو یہ وارث نہیں بنے گا، معلوم ہوا مرتد ابھی بھی اپنے مال کا مالک ہے، اس کی موت کے وقت اس کا مال وارثوں کی طرف منتقل ہو گا اس سے پہلے منتقل نہیں ہو گا۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَلَوْ مَاتَ وَلَدُهُ بَعْدَ الرِّدَّةِ﴾ اور اگر مرتد کی کوئی اولاد مر گئی مرتد ہونے کے بعد، ﴿قَبْلَ الْمَوْتِ﴾ مرتد کے مرنے سے پہلے، ﴿لَا يَرِثُهُ﴾ تو اس کی یہ اولاد اس کی وارث نہیں ہوتی، معلوم ہوا مرتد کی ملکیت موجود ہے۔ تو کہتے ہیں: ﴿فَتَصِحُّ تَصَرُّفَاتُهُ قَبْلَ الْمَوْتِ﴾ لہٰذا مرتد کے تصرفات جو ہیں موت سے پہلے صحیح ہیں، مرتد کے تصرفات موت سے پہلے صحیح ہیں، وہ بیع و شراء وغیرہ کرتا ہے وہ نافذ ہیں جبکہ امام صاحب فرماتے تھے کہ وہ تصرفات موقوف ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿فَتَصِحُّ تَصَرُّفَاتُهُ قَبْلَ الْمَوْتِ﴾ تو مرتد کے تصرفات موت سے پہلے جو ہیں وہ صحیح ہیں۔ اور بھئی دیکھیے! یہاں پر بیوی کے ساتھ مسلمہ کی قید آئی کہ مرتد کی مسلمان بیوی نے اگر ارتداد کے چھ ماہ بعد بچے کو جنم دیا، ﴿مِنْ امْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ﴾ کہ وہ مسلمان بیوی ہے جس نے بچے کو جنم دیا ہے۔ تو یہ مسلمہ کی قید اس لیے لگائی کیونکہ جب بیوی مسلمان ہے تو بچہ اپنے ماں باپ میں سے جس کا دین بہتر ہوتا ہے اس کے تابع ہوتا ہے، تو بچہ بیوی کے تابع ہو کر مسلمان شمار ہو گا اور مسلمان مرتد کا وارث بن سکتا ہے، لیکن اگر بیوی، اگر بیوی اہلِ کتاب میں سے ہے یعنی ذمیہ ہے، مرتد کی بیوی ذمیہ ہے تو پھر اس صورت میں یاد رکھو بچہ وارث نہیں بنے گا۔ وہ بچہ جس کو اس ذمیہ بیوی نے ارتداد کے چھ ماہ یا زیادہ کے بعد جنم دیا ہے وہ اس مرتد کا وارث نہیں بنے گا، اس لیے کیونکہ بیوی ہے ذمیہ اور یہ شخص ہے مرتد تو یہ بچہ اس مرتد کے تابع ہو گا کیونکہ اس کا دین بہتر ہے۔ آپ کہیں گے بھئی مرتد کا دین کیسے بہتر ہے؟ بھئی بایں اعتبار بہتر ہے کہ یہ مرتد اسلام کے زیادہ قریب ہے یعنی اس کو مجبور کیا جائے گا کہ اسلام میں داخل ہو جاؤ ورنہ تمہیں قتل کر دیا جائے گا۔ تو معلوم ہوا مرتد کو چونکہ مجبور کیا جائے گا اسلام کے لیے تو وہ اسلام کے زیادہ قریب ہے، جبکہ بیوی تو ذمیہ ہے اس کو ہم مجبور نہیں کر سکتے، اس کے دینی معاملات میں ہم دخل نہیں دے سکتے، تو لہٰذا معلوم ہوا مرتد کی ذمیہ بیوی نے ارتداد کے چھ ماہ کے بعد ایک بچے کو جنم دیا ہے تو یہ بچہ مرتد کے تابع ہو گا اور وہ شخص مرتد ہے تو بچہ بھی مرتد شمار ہو گا، اور مرتد تو مرتد کا وارث نہیں ہو سکتا۔ مسلمان تو مرتد کا وارث ہو سکتا ہے لیکن مرتد تو مرتد کا وارث نہیں ہو سکتا، تو اس لیے یہاں پر ﴿امْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ﴾ کی قید لگائی بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور نیز انہوں نے ذکر کیا کہ ارتداد کے چھ ماہ کے بعد بھی جو بچہ پیدا ہو گا وہ بھی مرتد کا وارث بنے گا۔ مرتد کا وارث کون بنے گا؟ اس سلسلے میں آپ نے پڑھا تین روایتیں ہیں: ایک روایت جو ہے حسن ابن زیاد رحمہ اللہ نے امام صاحب سے نقل کی ہے کہ وہ وارث بنے گا جو ارتداد کے وقت بھی موجود ہو اور موت کے وقت بھی موجود ہو۔ دوسری روایت جو امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے امام صاحب سے نقل کی ہے کہ مرتد کا وارث وہ بنے گا جو ارتداد کے وقت موجود ہو کیونکہ ارتداد یہ موت کے درجے میں ہے لہٰذا ارتداد کا اعتبار کیا جائے گا۔ اور تیسری روایت امام صاحب سے وہ امام محمد رحمہ اللہ نے نقل کی ہے کہ مرتد کی موت کا اعتبار ہے، موت کے وقت جو وارث موجود ہے وہ وارث بنے گا ارتداد کا اعتبار نہیں ہے۔ معلوم ہوا امام محمد رحمہ اللہ کی روایت صحیح ہے بھئی۔ کیونکہ انہوں نے کیا بتایا کہ مرتد کی مسلمان بیوی نے ارتداد کے چھ ماہ کے بعد بچے کو جنم دیا ہے، معلوم ہوا اس بچے کا حمل ارتداد کے بعد ٹھہرا ہے، ارتداد کے بعد ٹھہرا ہے تو ارتداد کے وقت تو یہ بچہ اور یا یہ حمل موجود ہی نہیں تھا اور پھر بھی یہ بچہ وارث بن رہا ہے، معلوم ہوا کس کا اعتبار ہے؟ مرتد کی موت کا اعتبار ہے۔ توجہ ہے؟ تو یہاں اس مسئلے سے بھی یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ اس سلسلے میں امام محمد رحمہ اللہ نے جو امام صاحب سے روایت نقل کی ہے وہ صحیح ہے بھئی، اور نیز آگے بھی متن کے اندر بھی یہ مسئلہ آ جائے گا اس سے بھی پتہ چلتا ہے کہ ارتداد کے چھ ماہ کے بعد مسلمان بیوی سے اگر کوئی بچہ پیدا ہو تو وہ مرتد کا وارث بنے گا، وہ مرتد کا وارث بنے گا اس متن سے بھی پتہ چلتا ہے کہ امام محمد رحمہ اللہ کی روایت جو ہے وہ صحیح ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ آگے دیکھیے: ﴿إِلَّا أَنَّ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَصِحُّ﴾ تو صاحبین کے نزدیک مرتد کی یہ بیع و شراء وغیرہ یہ سارے تصرفات جن کی بنیاد ملکیت پر ہے یہ سارے تصرفات صحیح ہیں، مرتد کے یہ سارے تصرفات صحیح ہیں۔ ﴿إِلَّا أَنَّ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ﴾ ہاں پھر اختلاف ہے امام محمد رحمہ اللہ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ میں۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ارتداد کے بعد بھی مرتد کے اپنے مال میں تصرفات صحیح ہیں اسی طرح جیسے ایک تندرست آدمی کے تصرفات اپنے مال میں صحیح ہوتے ہیں، جس طرح ایک تندرست آدمی کے تصرفات اپنے مال میں صحیح ہوتے ہیں، اور جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مرتد کے تصرفات ارتداد کے بعد بھی اپنے مال میں صحیح ہیں لیکن یہ تصرفات ایسے ہی ہیں جیسے مرض الموت میں مبتلا ایک شخص کے تصرفات ہوتے ہیں۔ کیونکہ یہ مرتد ہو چکا ہے اس کو ابھی قتل کیا جائے گا اس کا مرنا یقینی ہے، جب مرنا یقینی ہے تو یہ ارتداد مرض الموت کے درجے میں ہوا تو اس کے اندر تصرف کرے گا تو یہ صرف ثلث کے اندر نافذ ہوں گے جیسے مرض الموت میں مبتلا شخص کے تصرفات اس کے مال کے صرف تیسرے حصے میں نافذ ہوتے ہیں کیونکہ وارثوں کا حق مال کے ساتھ متعلق ہو چکا ہے۔ توجہ ہے؟ تو صاحبین کا مذہب یہ ہے کہ مرتد موت سے پہلے اپنے مال کے اندر جو بھی تصرفات کرنا چاہے کر سکتا ہے، البتہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک یہ تصرفات تندرست آدمی والے تصرفات کی طرح ہیں لہٰذا یہ پورے مال میں جاری ہوں گے، جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ تصرفات جو ہیں مرض الموت میں مبتلا شخص کی طرح ہیں لہٰذا یہ صرف ثلثِ مال کے اندر نافذ ہوں گے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿إِلَّا أَنَّ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى تَصِحُّ كَمَا تَصِحُّ مِنَ الصَّحِيحِ﴾ مگر یہ کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک تصح کما تصح من الصحیح کہ مرتد کے تصرفات صحیح ہیں جیسے ایک تندرست آدمی کی طرف سے یہ تصرفات صحیح ہوتے ہیں، ﴿لِأَنَّ الظَّاهِرَ عَوْدُهُ﴾ بھئی کیا وجہ ہے؟ اس کے تصرفات کو تندرست آدمی کی طرح کیوں قرار دیا امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے حالانکہ یہ مرتد ہو چکا ہے اس کو قتل کیا جائے گا؟ کہتے ہیں اس کے تصرفات تندرست آدمی کی طرح ہیں ﴿لِأَنَّ الظَّاهِرَ عَوْدُهُ إِلَى الْإِسْلَامِ﴾ اس لیے کیونکہ ظاہر یہی ہے کہ یہ اسلام کی طرف لوٹ آئے گا، ﴿إِذِ الشُّبْهَةُ تُزَاحُ﴾ اس لیے کیونکہ شبہ جو ہے اس کو تو دور کر دیا جائے گا، ﴿فَلَا يُقْتَلُ﴾ تو اس کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ جب قتل نہیں کیا جائے گا تو اس کا مرتد ہونا مرض الموت کی طرح نہیں ہے لہٰذا اس کے تصرفات تندرست آدمی کی طرح اپنے سارے مال میں صحیح ہیں۔ تو کہتے ہیں: ﴿إِذِ الشُّبْهَةُ تُزَاحُ﴾ اس لیے کیونکہ شبہ جو ہے اس کو تو دور کر دیا جائے گا، ﴿فَلَا يُقْتَلُ﴾ تو اس مرتد کو قتل نہیں کیا جائے گا، ﴿وَصَارَ كَالْمُرْتَدَّةِ﴾ اور یہ مرتد بھی مرتدہ کی طرح ہو گیا جیسے مرتدہ کو قتل نہیں کیا جاتا اور اس کے سارے تصرفات صحیح ہوتے ہیں، اسی طرح مرتد کے بھی سارے تصرفات صحیح ہیں۔ ﴿وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى تَصِحُّ كَمَا تَصِحُّ مِنَ الْمَرِيضِ﴾ اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک تصح کما تصح من المریض کہ مرتد کے تصرفات صحیح ہیں جیسے کہ مریض کے تصرفات صحیح ہوتے ہیں، ﴿لِأَنَّ مَنِ انْتَحَلَ إِلَى نِحْلَةٍ﴾ انتحل ینتحل کے معنی ہیں اختیار کرنا، اپنانا، کسی چیز کو اپنا لینا، اور نحلۃ نحلۃ کہتے ہیں مذہب اور عقیدے کو۔ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ﴿لِأَنَّ مَنِ انْتَحَلَ إِلَى نِحْلَةٍ﴾ اس لیے کیونکہ جو شخص کسی مذہب اور عقیدے کی طرف منتقل ہو جائے یعنی اس کو اختیار کر لے، ﴿لَا سِيَّمَا مُعْرِضًا عَمَّا نَشَأَ عَلَيْهِ﴾ خاص طور پر اعراض کرتے ہوئے عما نشأ علیہ اس چیز سے جس پر اس کی پرورش ہوئی ہے۔ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو ارتداد ہے یہ مرض الموت کی طرح ہے، اس آدمی کا قتل یقینی ہے، وجہ یہ کہ اس نے اس اسلام کو چھوڑ دیا ہے جس پر اس کی پرورش ہوئی تھی، اور جب کوئی شخص اپنے اس مذہب اور عقیدے کو چھوڑ دیتا ہے جس پر اس کی پرورش ہوئی ہو تو پھر وہ کم ہی واپس آتا ہے اس عقیدے کی طرف، تو لہٰذا معلوم ہوا ظاہر یہی ہے کہ یہ اسلام کی طرف واپس نہیں آئے گا اسے قتل کیا جائے گا تو یہ مرض الموت والے شخص کی طرح ہوا بھئی۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: ﴿لِأَنَّ مَنِ انْتَحَلَ إِلَى نِحْلَةٍ﴾ بھئی میں نے آپ کو بتلایا انتحل کا معنی ہے اختیار کرنا اور نحلۃ کہتے ہیں مذہب اور عقیدے کو اور یہاں درمیان میں صاحبِ ہدایہ الیٰ لے آئے تو یہاں گویا منتقل ہونے کا معنی بھی ملحوظ ہے بھئی۔ ﴿لِأَنَّ مَنِ انْتَحَلَ إِلَى نِحْلَةٍ﴾ اس لیے کیونکہ جو شخص کسی عقیدے کی طرف منتقل ہو کر اسے اختیار کرتا ہے، ﴿لَا سِيَّمَا مُعْرِضًا عَمَّا نَشَأَ عَلَيْهِ﴾ خاص طور پر اعراض کرتے ہوئے اس مذہب سے جس پر اس کی پرورش ہوئی ہے، ﴿قَلَّمَا يَتْرُكُهُ﴾ تو پھر بہت کم وہ اس نئے عقیدے کو چھوڑتا ہے، ﴿فَيُفْضِي إِلَى الْقَتْلِ ظَاهِرًا﴾ تو ظاہر یہی ہے کہ اس کا یہ ارتداد اسے قتل تک پہنچا دے گا، اس کا ارتداد اسے قتل تک پہنچا دے گا لہٰذا یہ مرض الموت میں مبتلا شخص کی طرح ہوا، ﴿بِخِلَافِ الْمُرْتَدَّةِ لِأَنَّهَا لَا تُقْتَلُ﴾ بخلاف مرتدہ کے کیونکہ اس کو تو قتل نہیں کیا جاتا۔ یہاں سے امام محمد رحمہ اللہ جواب دے رہے ہیں امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قیاس کا۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ ظاہر یہی ہے کہ یہ مرتد واپس آ جائے گا اس کو قتل نہیں کیا جائے گا تو یہ مرتدہ عورت کی طرح ہو گیا جیسے اس کو قتل نہیں کیا جاتا اور اس کے سارے تصرفات نافذ ہوتے ہیں اس کے بھی سارے تصرفات نافذ ہوں گے، جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آپ اس کو مرتدہ پر قیاس نہیں کر سکتے کیونکہ مرتدہ کو تو قتل نہیں کیا جاتا اور اس کے اندر ظاہر یہی ہے کہ اس کا واپس آنا بڑا مشکل ہے لہٰذا اس کو قتل کیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ﴿بِخِلَافِ الْمُرْتَدَّةِ لِأَنَّهَا لَا تُقْتَلُ﴾ بخلاف مرتدہ کے کیونکہ اس کو قتل نہیں کیا جاتا۔ ﴿وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ﴾ اب امام صاحب کی دلیل آ گئی۔ امام صاحب فرماتے تھے کہ مرتد کی ملکیت موقوف ہو چکی ہے لہٰذا اس کے یہ ملکیت والے تصرفات جو ہیں بیع و شراء اور اعتاق وغیرہ یہ سارے موقوف رہیں گے۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ﴾ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے ﴿أَنَّهُ حَرْبِيٌّ مَقْهُورٌ تَحْتَ أَيْدِينَا﴾ کہ یہ مرتد ایسا حربی ہے جو ہمارے قبضے کے تحت مقہور ہے، ﴿عَلَى مَا قَرَّرْنَاهُ فِي تَوَقُّفِ الْمِلْكِ﴾ اس وجہ سے جو ہم نے ثابت کر دیا ملکیت کے موقوف ہونے میں۔ پیچھے ہم نے ذکر کیا تھا کہ یہ جو مرتد ہے ایسے حربی کی طرح ہے جو ہمارے قبضے میں ہے اور مقہور ہے، اور جو حربی ہمارے قبضے میں ہو وہ اس کی ملکیت اپنے مال پر سے زائل ہو جاتی ہے تو اس مرتد کی ملکیت بھی زائل ہو جائے گی۔ تو امام صاحب کی دلیل یہ ہے: ﴿أَنَّهُ حَرْبِيٌّ مَقْهُورٌ تَحْتَ أَيْدِينَا﴾ کہ یہ مرتد ایسا حربی ہے جو ہمارے قبضے کے تحت مقہور ہے، ﴿عَلَى مَا قَرَّرْنَاهُ فِي تَوَقُّفِ الْمِلْكِ﴾ اس وجہ سے جو ہم نے ملکیت کے موقوف ہونے میں ثابت کیا تھا، ﴿وَتَوَقُّفُ التَّصَرُّفَاتِ بِنَاءً عَلَيْهِ﴾ اور تصرفات کا موقوف ہونا ثابت ہے اسی وجہ سے۔ جب اس کی ملکیت موقوف ہے تو تصرفات بھی موقوف ہوں گے۔ اور یہ عبارت پر نظر رکھیے بھئی: ﴿وَتَوَقُّفُ التَّصَرُّفَاتِ بِنَاءً عَلَيْهِ﴾ تو آپ بناءً بھی اس کو پڑھ سکتے ہیں اور بناءٌ بھی۔ بناءً پڑھیں گے تو پھر وتوقف التصرفات یہ بنے گا مبتداء اور اس کے لیے خبر محذوف نکال لیں گے تو گویا سارا کلام یوں ہو جائے گا: وتوقف التصرفات ثابتٌ اور تصرفات کا موقوف ہونا بھی ثابت ہو گا بناءً علیہ اسی توقفِ ملکیت کی وجہ سے۔ جب ملکیت موقوف ہے تو تصرف بھی موقوف ہو گا تو یہ معنی ہے: ﴿وَتَوَقُّفُ التَّصَرُّفَاتِ بِنَاءً عَلَيْهِ﴾ اور تصرفات کا موقوف ہونا بھی ثابت ہو گا اسی وجہ سے۔ اور آپ چاہیں تو بناءٌ پڑھ لیں اس کو اس بناءٌ پر رفع پڑھ لیں اور اسی کو خبر بنا دیں، بناءٌ مصدر ہے اس صورت میں یہ اسم مفعول مبنیٌ کے معنی میں ہو جائے گا کیونکہ آپ نے پڑھا ہے کہ مصدر کبھی اسم فاعل کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی اسم مفعول کے معنی میں، تو یہاں یہ اسم مفعول کے معنی میں ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَتَوَقُّفُ التَّصَرُّفَاتِ بِنَاءٌ عَلَيْهِ﴾ اور تصرفات کا موقوف ہونا اس کی بنیاد اسی پر ہے یعنی ملکیت کے موقوف ہونے پر ہے، ﴿وَصَارَ كَالْحَرْبِيِّ يَدْخُلُ دَارَنَا بِغَيْرِ أَمَانٍ﴾ اور یہ مرتد جو ہے اس حربی کی طرح ہو گیا یدخل دارنا بغیر أمان جو بغیر امان کے ہمارے دار میں داخل ہو جائے، ﴿فَيُؤْخَذُ وَيُقْهَرُ﴾ تو اس کو پکڑا جاتا ہے اور مقہور کیا جاتا ہے، ﴿وَيَتَوَقَّفُ تَصَرُّفَاتُهُ﴾ اور اس حربی کے جس کو ہم نے پکڑ لیا ہے اس کے سارے تصرفات موقوف ہو جاتے ہیں، ﴿وَيَتَوَقَّفُ تَصَرُّفَاتُهُ لِتَوَقُّفِ حَالِهِ﴾ اور اس حربی کے سارے تصرفات موقوف ہو جاتے ہیں اس کی حالت کے موقوف ہونے کی وجہ سے کیونکہ حربی ہمارے ہاتھ آ گیا ہے، امام کی مرضی ہے چاہے اس کو قتل کرے، چاہے اس کو غلام بنا لے اور چاہے اس کو احسان کرتے ہوئے ویسے ہی چھوڑ دے تو لہٰذا اس کے تصرفات موقوف رہیں گے۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَيَتَوَقَّفُ تَصَرُّفَاتُهُ لِتَوَقُّفِ حَالِهِ﴾ تو یہ جو حربی ہمارے قبضے میں آ گیا ہے اس کے تصرفات موقوف رہتے ہیں اس کی حالت کے موقوف ہونے کی وجہ سے، ﴿وَكَذَا الْمُرْتَدُّ﴾ اور اسی طرح مرتد بھی ہے اس کے تصرفات بھی موقوف رہیں گے نافذ نہیں ہوں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ ﴿وَاسْتِحْقَاقُهُ الْقَتْلَ﴾ یہاں سے جواب دے رہے ہیں بھئی ایک دو صفحے قبل، ایک دو صفحے قبل جہاں مسئلہ ذکر ہوا تھا کہ امام صاحب کے نزدیک مرتد کی ملکیت اس کے مال پر سے موقوف طریقے پر ختم ہو جاتی ہے اور صاحبین کے نزدیک مرتد کی ملکیت اپنے مال سے ختم نہیں ہوتی جب تک اسے قتل نہ کر دیا جائے، وہاں صاحبین نے ذکر کیا تھا کہ یہ مرتد بھی اس شخص کی طرح ہو گیا جس کو رجم کرنے کا حکم دے دیا گیا ہو یا جس کو قصاص میں قتل کرنے کا حکم دے دیا گیا ہو تو جیسے یہ رجم والا اور قصاص والا شخص قتل کا مستحق ہو گیا ہے لیکن پھر بھی اس کی ملکیت ختم نہیں ہوتی جب تک اس کو قتل نہ کر دیا جائے، اسی طرح یہ مرتد بھی قتل کا مستحق ہو گیا ہے لیکن پھر بھی اس کی ملکیت ختم نہیں ہو گی جب تک اسے قتل نہ کر دیا جائے۔ تو اب اس کا جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ امام صاحب کی طرف سے کہ یہ جو مرتد ہے آپ اس کو اس شخص پر قیاس نہیں کر سکتے جس کو رجم کیا جائے گا یا جسے قصاص میں قتل کیا جائے گا۔ وجہ یہ کہ یہ جو مرتد جو قتل کا مستحق ہوا ہے وہ اس وجہ سے کہ اس کی عصمت ختم ہو چکی ہے، اس کی عصمت ختم ہو چکی ہے اب یہ مباح الدم بن گیا ہے تو اس کی عصمت ختم ہو جانے کی وجہ سے یہ قتل کا مستحق ہوا ہے، جبکہ وہ رجم والا اور قصاص والا شخص جو ہے وہ بھی قتل کے مستحق ہیں لیکن وہ اپنے جرم کی وجہ سے قتل کے مستحق ہوئے ہیں عصمت ختم ہونے کی وجہ سے قتل کے مستحق نہیں ہوئے تو دونوں میں فرق ہے۔ تو لہٰذا مرتد جو ہے اس کی تو عصمت ختم ہو گئی، جب عصمت ختم ہو گئی تو اس کی وجہ سے اس کی اہلیت میں ہی خلل آ گیا۔ مرتد کی اہلیت میں ہی خلل آ گیا وہ اب تصرفات کر ہی نہیں سکتا، اس کے تصرفات موقوف ہو جائیں گے جیسے یہ حربی جو ہمارے قابو میں آ جاتا ہے جیسے اس کے تصرفات موقوف ہو جاتے ہیں کیونکہ یہ قتل کا مستحق ہو چکا ہے۔ توجہ ہے؟ تو مرتد اور حربی جو ہمارے قابو میں ہیں یہ دونوں قتل کے مستحق ہوئے ہیں، اور کیوں قتل کے مستحق ہوئے؟ کیونکہ ان کی عصمت ساقط ہو گئی، اور جب عصمت ساقط ہو گئی تو ان کی اہلیت میں خلل آ گیا جبکہ وہ شخص جس کو رجم کیا جائے گا یا قصاص میں قتل کیا جائے گا وہ اگرچہ قتل کے مستحق ہوئے ہیں لیکن عصمت ختم ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے جرم کی وجہ سے لہٰذا ان کی اہلیت میں کوئی خلل نہیں آیا، ان کی اہلیت میں کوئی خلل نہیں آیا لیکن مرتد کی اہلیت میں خلل آ چکا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَاسْتِحْقَاقُهُ الْقَتْلَ﴾ اور مرتد اور حربی دونوں میں سے ہر ایک کا قتل کا مستحق ہونا ﴿لِبُطْلَانِ سَبَبِ الْعِصْمَةِ﴾ وہ عصمت کے سبب کے باطل ہونے کی وجہ سے ہے ﴿فِي الْفَصْلَيْنِ﴾ دونوں صورتوں میں یعنی چاہے حربی ہو اور چاہے مرتد ہو دونوں کی عصمت ساقط ہو گئی اس لیے یہ قتل کے مستحق ہو چکے ہیں، ﴿فَأَوْجَبَ خَلَلًا فِي الْأَهْلِيَّةِ﴾ تو اس نے اہلیت میں بھی خلل ثابت کر دیا، اس عصمت کے ساقط ہونے نے اہلیت میں ہی خلل ثابت کر دیا، ﴿بِخِلَافِ الزَّانِي وَقَاتِلِ الْعَمْدِ﴾ بخلاف زنا کرنے والا اور وہ جو قاتلِ عمد ہے، وہ زنا کرنے والا جسے رجم کیا جائے گا اور وہ قاتلِ عمد جسے قصاص میں قتل کیا جائے گا، تو کہتے ہیں: ﴿بِخِلَافِ الزَّانِي وَقَاتِلِ الْعَمْدِ﴾ بخلاف زنا کرنے والے کے اور عمداً قتل کرنے والے کے، ﴿لِأَنَّ الِاسْتِحْقَاقَ فِي ذَلِكَ جَزَاءٌ عَلَى الْجِنَايَةِ﴾ اس لیے کیونکہ اس کے اندر جو قتل کا استحقاق آیا ہے جزاء علی الجنایۃ وہ جنایت کی جزا ہے، وہ اس جرم کی جزا ہے، ﴿وَبِخِلَافِ الْمَرْأَةِ﴾ اور بخلاف عورت کے ﴿لِأَنَّهَا لَيْسَتْ حَرْبِيَّةً﴾ اس لیے کیونکہ عورت جو ہے وہ تو حربی نہیں ہوتی ﴿وَلِهَذَا لَا تُقْتَلُ﴾ اسی لیے اس کو قتل نہیں کیا جاتا۔ تو آپ اس مرتد کو عورت پر قیاس نہیں کر سکتے کیونکہ عورت تو حربی ہی نہیں ہے وہ تو قتل کی مستحق ہی نہیں ہے جبکہ مرتد اور حربی تو قتل کے مستحق ہیں، یہ معنی ہے: ﴿وَبِخِلَافِ الْمَرْأَةِ لِأَنَّهَا لَيْسَتْ حَرْبِيَّةً وَلِهَذَا لَا تُقْتَلُ﴾ اور بخلاف عورت کے اس لیے کیونکہ عورت جو ہے وہ تو جنگ کرنے والی نہیں ہے اور اسی لیے اس کو قتل نہیں کیا جاتا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ حل ہو گیا۔ چلیے بس بھئی! ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔