جی کل ہم نے بیع سلم کے بارے میں شروع کیا تھا جی بیع سلم کسے کہتے ہیں ہوا بیع عاجل با عاجل کہ جس کے اندر ثمن تو اسی وقت ادا کیے جاتے ہیں مجلس عقد کے اندر البتہ مبیع دین ہوتا ہے بائپر وے اور اس کی کچھ مخصوص شرائط ہیں شروطہ بیان جنسہ کبر اور شعر اور نوعہ کثقیة اور بخشية الحینتین ثقیتیں ہیںلتی تسقا منسوبۃ الی السقی اب شرائط بیان کررہے ہیں بھئی ۔ یاد رکھیے یہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک یہ سات شرائط ذکر کریں گے بھئی بیع سلم کے اندر سات چیزوں کا بیان کرنا ضروری ہے بھئی یہ شرط ہیں بیع سلم کے لیے اول کیا ہے بھئی بیانی جنسہ اگے ا رہا ہے نوعہ بیانی بیان نوعہ نو بھی بیان کرنا بھئی اگلے صفحے پر پھر دوسری سطر میں ا رہا ہے وصفتہ ای بیان وصفتہ صفت کا بیان کرنا بھی ضروری اسی سے اگے آ رہا ہے وقدریہ ای بیان وقدریہ مقدار کا بیان کرنا بھی ضروری قدر کے نیچے ہے واجلیہ ای بیان اجلیہ اس کی اجل مدت کا بیان کرنا بھی ضروری ہے جی دو سطر نیچے متن میں ہے وقدری راس المال ای بیان وقدری راس المال کی مقدار کو بیان کرنا بھی ضروری یہ چھ ہو گئی اور صفحہ کے بالکل اخری لفظ آ رہا ہے و مکانی اور مکانی ایفا مسلم فیہ بھئی مسلم فیہ یعنی مبیع کی ادائیگی کی جگہ کو بھی بیان کرنا ضروری یہ سات شرائط ہیں بھئی یہ اب بیان کرنے لگے ہیں جبکہ صاحبین کے دو میں اختلاف ہے وہ بھی آگے ذکر ہوگا شروطہ بے سلم کی شرائط جو ہیں بیان جنسہ مسفی کی جنس کا بیان کرنا بھئی جنس بیان کرنا ضروری ہے کس چیز کیا ہے بھئی مسلم فی کیا ہے کبر اور شعر بھئی گندم ہے یا جو ہے یہ کہہ دیا مجھے دس من غلہ دینا بھئی غلے کے اندر تو کئی چیزیں داخل ہو جاتی ہیں یہ درست نہیں ہے بلکہ کیا بیان کرے جنس بیان کرے گندم چاہیے جو چاہیے چاول کیا چیز بھئی کبر اور شعر جیسے کہ گندم ہے یا جو ہے ونوعہ اور اسی طرح ای بیان نوعہ اس کی نوع کا جی مسلم فی کی نوع کا بیان کرنا کہ کس نوع کی گندم چاہیے بھئی سمجھ میں آیا بھئی مثلا کا سقیتیں اور بخشیتیں بھئی نہری زمین کی گندم ہو یا بارانی زمین کی بھئی سقیہ نہری زمین بھئی کی گندم وبقسیہ ای حینتین ثقیتیں وحینتیں بخشیتیں کون سی گندم ہو نہری زمین کی ہو یا بارانی زمین کی بھئی اب معنی بتلا رہے ہیں بھئی علامہ صدر الشریعہ متن میں سقیہ اور بخشیہ کے لفظ ہیں کہتے ہیں بھئی سقیہ یہ تو سقیہ سے پہلے موصوف محذوف ہے بھئی ای حینتیں ثقیتیں اسی طرح اور حینتیں بخشیتیں الی تسقا یہ وہ ہے جس کو سیراب کیا جاتا ہو پانی پلایا جاتا ہو بھئی سمجھ میں آیا بھئی بعض زمینیں ہیں ان کو سیراب کیا جاتا ہے نہری پانی لگاتے ہیں یا کنوں کا لگاتے ہیں یا کسی طرح اور بس وہ ہیں جن میں پانی نہیں بھئی بارش ہوئی تو پانی مل گیا بارش نہ ہوئی تو پانی نہیں بھئی تو یہ سقیہ الی تسقا وہ جو وہ گندم بھئی جس کو سیراب کیا گیا ہو منسوبۃ الی السقیہ یہ منسوب ہے سقی کی طرف بھئی سکای کے معنی ہوتے ہیں سیراب کرنا تو منسوب الی السقیہ سیراب کرنے کی طرف منسوب ہے یعنی اس کو سیراب کیا گیا ہے کیا کیا گیا ہے سیراب کیا گیا جی یہ یہاں نسبت کی ہے نا جیسے لاہور اور لاہوریوں کہتے ہیں یعنی کہتے ہیں آپ تو لاہوریوں کا کیا معنی ہوتا ہے لاہور کی طرح جو چیز منسوب ہو چاہے انسان ہو کوئی کھانے کی چیز ہو کوئی بھی چیز ہو بھئی جی تو یہاں بھی یہ جو سقیہ کے اندر آیا ہے یہ یا نسبت کی ہے بھئی اور تا تانیس کی بھی لے کر آئے کیونکہ ہنتا کا لفظ مونث ہے بھئی تو یہ منسوب الی السقیہ ہے بھئی سمجھ میں آیا بھئی میں نے نہری زمین ترجمہ کیا نہری نہیں ضروری کہ نہری نہر سے پانی اس کو پلایا گیا ہو کنویں سے پلایا گیا ہو یعنی سیراب کی ہوئی مطلب سمجھ میں آیا بھئی سیراب کی ہوئی والبخسیہ اور بخسیہ جو ہے الی لا تسقا یہ وہ ہے جس کو سیراب نہ کیا گیا ہو پانی نہ پلایا گیا ہو منسوبۃ الی البخسی یہ منسوب ہے کس کی طرف بھئی بخس کی طرف منسوب ہے بخس بتلائیں گے بخس کا معنی ہوتا ہے کم کرنا بخس کا کیا معنی ہے کم کرنا کیونکہ اس کا نہری یا کنویں کا پانی تو ملا نہیں بارش کا ہی پانی ملے گا اور وہ کبھی کبھار ملتا ہے تو گویا پانی میں سے اس کے حصے کو کیا کر دیا گیا کم کر دیا گیا اس لیے اس کو بخسیہ کہتے ہیں بخس یہ منسوب ہے بخس کی طرف اور بخس کسے کہتے ہیں ہوا الارض الی تسقا بماء السماء وہ زمین ہے جس کو سیراب کیا جاتا ہو بارش کے پانی سے بھئی سمیت بذالیکا اس کا یہ نام رکھا گیا لانھا مبخوص الحظ من الما اس لیے حظ کا معنی حصہ حصہ اس لیے کہ یہ کم پانی کا حصہ اس کا کیا کیا گیا ہے کم کیا گیا ہے تو کم کیا گیا ہے اس کا حصہ من الما پانی میں سے وصفتہ اسی طرح بھئی مسلم فی کی صفت کا بیان کرنا بھی ضروری ہے کس قسم کا مسلم کس قسم کی گندم ہو بھئی کجدین اور ردیین اعلی ہے یا ادنی ادنی درجے کی ہے وقدریہ ای و بیان وقدریہ اور اس کی مقدار کا بھی بیان کرنا معلوم اس حال میں کہ مقدار کیا ہو معلوم معلوم مقدار ہو بھئی نحو کزاک کیلا مثلاً آپ کہتے ہیں اتنے پیمانے بھئی ولا ینقبض ولا ینبسط ایسے پیمانے جو انقباض کا معنی ہوتا ہے سکڑنا انبساط کا معنی ہوتا ہے پھیلنا جو سکڑتے اور پھیلتے نہ ہوں بھئی سکڑتے اور پھیلتے نہ ہوں بھئی پیمانے ایسے ہونے چاہیے مثلا لکڑی ہے لوہے وغیرہ کا پیمانہ ہو بھئی ایسا پیمانہ نہ ہو جو کوئی ایسا کپڑا وغیرہ ہے یا کچھ جو پھیل جاتا ہے مثلاً ایک تھیلا ہے بھئی تھیلے کے اندر اب اس میں تو جھگڑا ہوگا بھئی دکان دار کیا چاہے گا آرام آرام سے نرم طریقے سے گندم ڈال دوں اور گاہک چاہے گا کہ اس کو خوب دبا دبا کر بھرے بھئی تو دیکھو وہ زیادہ ڈالو گے وہ پھیل جاتا ہے تھوڑی گندم ڈالو گے تو وہ زیادہ نہیں پھیلے گا تو اس قسم کا نہیں ہونا چاہیے بھئی وہ پیمانہ تو اتنے پیمانے ایسے اتنے پیمانے لا ینقبض ولا ینبسط جو سکڑتے اور پھیلتے نہ ہوں فلا یجعل زنبيل یا فلا یجعل الزمبیل کیلای زمبیل اور زنبیل دونوں طرح تھیلے کو کہتے ہیں بھئی لہٰذا کسی تھیلے کو بھئی اس کو پیمانہ نہیں بنایا جائے گا کیلا اور وزناً بھئی یہ اتنے پیمانے ہوں یا اتنے یہ کیلای اوپر اس کے اس پر عطف ہے بھئی اتنے پیمانے بھئی مقدار معلوم ہو یعنی اتنے پیمانے ہوں یا اتنا وزن ہو مثلاً دس کلو ہے بیس کلو و اجلیہ ای بیان اجلیہ بھئی اور اس کی اجل مدت کا بھی بیان کرنا ضروری ہے بھئی کب ادائیگی کرے گا آپ نے پیسے ابھی دیے گندم وہ کب دے گا تین مہینے کے بعد چار بعد پانچ بعد اور ایسی اجل ہونی چاہیے جو معلوم ہو بھئی متعین ہونی چاہیے فلاں مہینے کی فلاں تاریخ کو وغیرہ ہذا عندنا یہ ہمارے نزدیک ہے واما عند الشافعی رحمہ اللہ یجوز السلم فالحال امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک سلم فالحال بھی صحیح بھئی ان کے نزدیک مدت کی قید لگانے کی ضرورت مدت بیان کرنا ضروری نہیں بھئی واقلہ شہر بھئی مدت کتنی ہوگی اب وہ بتلانے لگے ہیں درمیان میں کہتے ہیں کم سے کم وہ مدت جو ہے ایک مہینہ ہے فی الاصح کہ اصح قول کے مطابق بھئی انما قال فی البہ اصح قول کیوں فرمایا ماتن نے کہتے ہیں اس لیے کہ یہاں اور اقوال بھی ہیں انما قال فی الاصح ماتن نے فی الاصح فرمایا کیونکہ قد قیل اقلہ ثلاثۃ ایام اس لیے کہ کہا گیا ہے کہ کم سے کم اجل کی مدت کتنی ہے بھئی کتنی مقدار تو تین دن ہے بعضوں نے کہا وقیل اکثر من نصف یوم بعضوں نے کہا نصف یوم سے زیادہ ہے بھئی نصف یوم سے تو بعضوں نے صرف تین دن بعضوں نے نصف یوم سے کچھ زیادہ کہا تو یہ درست قول نہیں بھئی ان پر فتوی نہیں بھئی وقدری راس المال اور اسی طرح بیان یہ چھٹی شرط بیان ہو رہی ہے بھئی راس المال کی مقدار بیان کرنا بھی ضروری ہے فی الکیل یی والوزنی یی والعددی کیلی وزنی اور عددی میں یہ اعتراض ہے کپڑے سے بھئی کپڑا دیں تو پھر مقدار ذکر کرنا ضروری نہیں اس لیے کیونکہ وہاں پر ذراع وصف ہے بھئی کپڑے میں ذراع کیا ہے وصف ہے بھئی جی تو وہاں مقدار سے عقد کا تعلق نہیں ہوتا بھئی جبکہ یہاں کیلی وزنی اور عددی میں عقد کا تعلق کس سے ہوتا ہے بھئی مقدار سے ہوتا ہے بھئی مقدار بڑھتی ہے تو قیمت بھی بڑھتی چلی جاتی ہے بھئی تو کہتے ہیں راس المال کی مقدار بھی بیان کرے کہ کیلی چیز ماپی جانے والی میں اور وزن کی جانے والی چیزیں اور عددی چیزوں میں فا ان العقد فیھا یتعلق بالمقدار اس لیے کہ عقد ان چیزوں کے اندر وہ متعلق ہوتا ہے مقدار کے ساتھ فلا بد من بیان مقدارہ تو ضروری ہے ان کی مقدار کا بیان کرنا وہذا عند ابی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالی یہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ہے بھئی وہ فرماتے ہیں راس المال کی مقدار بیان کرنا ضروری ہے کب جبکہ وہ کیلی وزنی یا عددی ہو بھئی وعندھما اذا کان راس المال معیناً جب وہ فرماتے ہیں راس المال جب معین ہو تو لا یحتاج لا یحتاج الی بیان مقداری تو محتاج نہیں ہے اپنی مقدار کے بیان کرنے کا لان المقصود یحصل بالاشارۃ اس لیے کہ مقصود اشارے سے بھی حاصل ہوجاتا ہے کما فی الثمن والاجرت جیسے ثمن اور اجرت میں بھئی دیکھو بھئی وہ صاحبیں فرماتے ہیں بھئی راس المال کی مقدار بیان کرنا ضروری نہیں امام صاحب فرماتے ہیں نہیں راس المال کیلی وزنی یا عددی ہے تو اس کی مقدار ضرور بیان کی جائے گی بھئی صاحبین فرماتے ہیں نہیں یہ ثمن کی طرح ہے بھئی آپ نے ایک شخص سے بھئی کیا چیز خریدی سو من گندم خرید رہے ہیں اس سے اور اس کو کہتے ہیں یہ ثمن پڑے ہیں اشارہ کر دیا بس سامنے متعین ہے موجود ہے مولانا تو اب بغیر مقدار کے بھی عقد کیا ہو جاتا ہے پہلا مسئلہ آپ پڑھ چکے ہیں گزر چکا ہے جب کوئی ایک عوض مشار الیہ ہو تو وہاں مقدار بیان کرنے کی حاجت تو یہاں بھی بھئی جب عوض سامنے موجود ہے مشار الیہ ہے بھئی تو وہاں پر مقدار بیان کرنے کی ضرورت نہیں جیسے کہ بیع کے اندر ثمن بھئی یہ بیان ہوا اسی طرح اجرت ہے بھئی ایک آدمی ہے بھئی وہ آپ اس کو کوئی چیز کس پر دیتے ہیں جی کرائے وغیرہ پر دیتے ہیں بھئی گھر دیتے ہیں اور وہ بدلے میں آپ کو روپے کے بجائے روپے دیتا ہے یا جو بھی چیز دیتا ہے مقدار نہیں بیان کرتا بھئی ایک مہینہ رہوں گا یہ پڑے ہیں ثمن بھئی یہ میں کہہ دیتا ہوں بتور اجرت کے دیتا ہوں صورت سمجھ میں آئی بھئی یا کسی سے آپ نے بھئی مزدوری کروائی بھئی اور اس کو اجرت کے طور پر کیا دے رہے ہیں بھئی پیسے دینے لگے کہ بھئی تمہیں یہ کام کرنا ہے یہ اجرت دوں گا یہ سامنے پڑی ہے تو مقدار بیان کرنے کی وہاں پر حاجت نہیں تو صاحبین فرماتے ہیں جہاں جیسے ثمن اور اجرت کے اندر بھئی اشارے سے مقصود حاصل ہو جاتا ہے اور وہ بیان مقدار کا احتیاج وہاں نہیں ہوتی یہاں پر بھی مقدار بیان کرنے کی ضرورت نہیں لیکن امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ولی ابی حنیفہ رحمہ اللہ انہ ربما یکون بعض راس المال ضیوفن ولا یستبدل فی المسجد فلو لم یعلم قدرہ لا یڈرا فی کم بقی فی ہونا چاہیے مولانا یہاں کتابت کی غلطی ہے فی رہ گیا بھئی لا یڈرا فی کم بقیہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں بھئی راس المال جو ہے اس کی مقدار بیان کرنا ضروری کہتے ہیں اس لیے کہ بعض اوقات مثلاً آپ وزنی چیز یعنی درہم اور دینار ادا کر رہے ہیں بھئی اشارہ کر دیا یہ درہم و دینار ہیں ان کے بدلے مجھے چھ ماہ کے بعد اتنے من گندم دینا بھئی ٹھیک ہے بھئی تو اب ہو سکتا ہے راس المال میں سے کبھی کبھار کھوٹے بھی نکل آتے ہیں اور جب کھوٹے نکل آئے تو اس کو بدلنا ضروری اس کو بدلنا ضروری لیکن وہ اس کو جو رب السلم ہے وہ اس کو اسی مجلس میں تبدیل نہیں کرتا کیا کرتا ہے اسی مجلس میں تبدیل نہیں کرتا جب اسی مجلس میں تبدیل نہیں کیے تو جتنے کھوٹے نکلے تھے ان میں بیع سلم باطل ہو گئی ان میں فاسد ہو گئی سمجھ میں آیا بھئی کیوں کیونکہ بیع سلم کے اندر شرط ہے مولانا کہ ثمن پر اسی مجلس عقد میں قبضہ کرے بھئی بیع اجل با عاجل ایک چیز کا کیا ہونا ضروری بھئی عاجل ہونا ضروری اسی مجلس کے اندر وہ تو قبضہ بھی کرے آپ جو پیسے دے رہے ہیں جو درہم و دینار دے رہے ہیں یہ ضروری ہے کہ مسلم مسلم الیہ کیا کر لیں ان پر اسی مجلس میں قبضہ کرے اب جو آپ نے ادا کیا بھئی کچھ درہم ادا کیے وہ پڑے ہوئے ہیں آپ نے ان کی طرف اشارہ کر دیا یہ پتہ نہیں کتنے ہیں بھئی یہ پتہ یہ پتہ ہی نہیں کتنے ہیں تو بھئی اس میں سے کچھ کھوٹے نکل آتے ہیں وہ لے گیا بھئی اس میں کیا ہوئے کچھ کھوٹے نکل آئے بھئی اب جو کھوٹے نکل آئے ان کے اندر کیا ہوئی بیع باطل ہو گئی بھئی اور ما بقلیہ کے اندر بیع سلم درست ہے بھئی تو اب پتہ نہیں بھئی کتنے میں فاسد ہوئی ہے اور کتنے میں صحیح ہے بھئی صورت سمجھ میں آئی تو مقدار کا پتہ نہیں ہوگا تو پھر یہ جانا نہیں جا سکتا کہ کتنے میں بیع سلم باقی رہ گئی ہے بھئی مسئلہ سب کو سمجھ میں آیا ولی ابی حنیفہ رحمہ اللہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی دلیل ہے فرماتے ہیں انہ ربما یکون بعض راس المال ضیوفن کہ بسا اوقات بعض راس المال کچھ راس المال جو ہے ضیوفن وہ کیا ہوتے ہیں کھوٹا ہوتا ہے ولا یستبدل فی المجلس اور اس کو بدلات بدلا نہیں جاتا اسی مجلس کے اندر بھئی فلو لم یعلم قدرہ اگر نہ جانا جائے اس کی مقدار کو اگر اس کی مقدار معلوم نہ ہو لا یدرا تو یہ معلوم نہیں ہو سکے گا فی کم بقیہ کتنی مقدار میں بیع سلم باقی رہ گئی ہے بقیہ کا ضمیر کس کو راجع ہے سلم کو بھئی کتنے میں عقد سے عقد میں کتنے میں عقد باقی رہ گیا ہے وربما لا یقدر علی تحسیل جی نیز وہ فرماتے ہیں بھئی بھئی ابھی فی الحال تو مسئلہ ٹھیک ہو گیا اگر فرض کریں کوئی کھوٹا بھی نہیں نکلتا سارے ٹھیک ہیں پھر بھی آگے جا کر مسئلہ جھگڑے کا امکان ہے بھئی किस तरह हो सकता है जिस ताजीर को आपने पैसे दिए थे गندم کی ادائیگی کے لیے وہ گندم نہ ملے اسے بھئی اس یا وہ چیز جسے بھی حاصل ہے اس کی تحصیل پر قادر نہ ہو سکا اسے نہیں ملی بھئی جب اسے نہیں ملی یا کسی وجہ سے عقد کو فسخ کرنا پڑا تو پھر اس صورت میں کیا اقالہ کر لیا مثلاً تو اس کو کیا کرنا پڑے گا وہ راس المال واپس کرنا پڑے گا اب مقدار ہی نہیں معلوم بھئی تو مقدار کا لہٰذا بیان کرنا ضروری ہے بھئی وربما لا یقدر علی تحصیل المسلم فیہی اور بسا اوقات مسلم الیہ جو ہے مسلم فی کی تحصیل پر قادر نہیں ہوتا فاحتاج الی رد راس المال تو وہ محتاج ہوتا ہے راس المال کے لوٹانے کی طرف فیجب ان یکون معلوم پس واجب ہے بھئی کہ اس کو کیا ہونا چاہیے معلوم ہونا چاہیے تاکہ واپس کر سکے اتنے درہم میں نے دیے تھے اتنے درہم واپس دے دو بھئی بخلاف اذا کان راس المال ثوبین معین بخلاف اس کے کہ راس المال کوئی معین کپڑا ہو فانہ العقد لا یتعلق بمقدار وہاں مقدار کا بیان کرنا ضروری نہیں اس لیے کہ عقد کا تعلق اس کی مقدار سے نہیں ہے کیونکہ مقدار اس کے اندر کیا ہے مولانا وصف ہے بھئی فلا یجب بیان قدر راس المال تو اس وقت راس المال کی مقدار بیان کرنا واجب نہیں ثم فرع علی هذه المسلۃ مسئله پھر تفریق کی بھئی انہی پر مرتب کیے بھئی اسی اختلاف پر مصنف نے دو مسئلے بھئی بھئی کس کس چیز میں اختلاف آیا किस चीज में اختلاف आया راس المال کے مقدار بیان کرنا امام صاحب کے نزدیک ضروری جبکہ وہ کیلی وزنی یا عددی ہو جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ نہیں اگر ویسے وہ متعین ہو جائیں تو پھر بھئی مقدار بیان کرنے کی حاجت نہیں ہے بھئی تو لہٰذا بھئی دیکھو اب صورت مسئلہ یہ بھئی آپ نے ایک آدمی کو سو درہم دیے اور کہا اس کے بدلے مجھے پچاس من جو ہے گندم دے دینا اور چالیس من جو دے دینا صورت سمجھ میں آئی بھئی آپ دے رہے ہیں سو درہم اور اس کے بدلے میں جو مسلم فی ہے وہ دو جنسیں ہیں بھئی ایک گندم ہے کچھ اور کچھ کیا ہے جو ہے مثلاً تو اس صورت میں صاحبین کے نزدیک بھئی یہ کیا ہے جائز ہو جائے گا امام صاحب کے نزدیک یہ جائز ہی نہیں کیوں اس لیے کہ پتہ نہیں یہ جو پچاس من گندم ہے ثمن میں سے یہ کتنے کے بدلے میں ہے اس کے مقابلے میں کتنے ثمن ہیں اور جو چالیس من جو ہیں اس کے مقابلے میں سو میں سے کتنے ہیں تو حالانکہ ان کے نزدیک بیان کرنا तो इमाम साहब के नजदीक तो भाई راس المال کا بیان کرنا ضروری تھا بھئی اس سو درہم میں سے کتنے کی گندم ہے اور کتنے کی جو ہے بیان ہوا نہیں بیان نہیں ہوا لہٰذا ان کے نزدیک یہ صورت جائز نہیں یہی فرما رہے ہیں ف لم یجوز فی جنسین پس جائز نہیں ہے دو ایسی جنسوں کے اندر بھئی دو جنسوں کے اندر بلامیان بغیر کسی بیان بلامیان راس المال کل واحد منھما ان میں سے ہر ایک کے راس المال کو بیان کیے بغیر بے سلم جائز نہیں ہے مولانا دو جنسوں میں بھئی بغیر بیان کیے ان میں سے ہر ایک کے راس المال کولا بنقدی اور یہ دوسری صورت ہے بھئی دوسری صورت کہ آپ نے نقدیاں دو دیں بھئی پہلے تو تھا جو خرید رہے ہیں مبہ وہ دو جنسیں تھیں اب نقدی دو قسم کی دے رہے ہیں مبہ ایک ہی ہے بھئی مثلاً آپ دس درہم دے رہے ہیں اور دس ہی دینار دے رہے ہیں اور اس سے سو من گندم آپ نے لینی ہے چھ مہینے کے بعد تو لہٰذا یہ بھی جائز نہیں ہے جب تک یہ بیان نہ کیا جائے دس درہم کے بدلے میں کتنی گندم ہے اور دس اشرفیوں کے بدلے میں کتنی گندم ہے بھئی ولا بنقدی اور اسی طرح صحیح جائز نہیں ہے بیع سلم دو ایسی نقدوں کے بدلے دو نقدوں کے بدلے بلا بیان حست کل منھما من المسلم فیہ بغیر ان دونوں کا حصہ بیان کیے مسلم فی میں سے مسلم فی میں سے ان دونوں کا حصہ کتنا بھئی یہ بیان کیے بغیر بھئی صورت سمجھ میں آگئی بھئی ومکانی ای بیان مکانی یہ ساتویں شرط آگئی بھئی بیع سلم کی شرائط میں سے جو ہے اس مکان کا بیان کرنا ضروری کون سا مکان بھئی مکانی ایفا مسلم فیہ بھی مسلم فی کی ادائیگی کا مسلم فی کہاں پر ادا کرے گا بھئی آپ نے سو من گندم کا اسے کہا یہ گندم وہ آپ کو کہاں پر دے گا بھئی حوالے کہاں کرے گا وہ جگہ اس کی تعین بھی ہونی چاہیے بھئی کب ان کان لحملہ مؤنتوں مؤنتون جب کہ اس کے اٹھانے میں اس کی باربرداری میں مؤنتھن مشقت ہو بھئی اٹھ کے اٹھانے میں کیا ہو مشقت ہو بھئی اس لیے بھئی کہ یہ وہ چیزیں جن کے اٹھانے میں مشقت ہے ان کی قیمتیں مختلف جگہوں پر مختلف ہوا کرتی ہیں بھئی مختلف جگہوں پر مختلف ہوا کرتی ہیں بھئی دیکھیے مثلاً ایک گندم ہے ایک خاص پھل ہے مثلاً وہ مثلاً صرف کہاں پیدا ہوتا ہے کراچی میں بھئی وہاں پر اس کی قیمت کم ہوگی اسی کو لے کر آئیں ذرا ادھر بھئی ملتان تک لے کر آئیں تو تاجر لانے کے خرچہ بھی اس میں شامل کرے گا چیز مہنگی ہو جائے گی لاہور تک لے کر آئیں تو پھر وہ چیز اور مہنگی ہو جائے گی تو وہ چیزیں جن کے اٹھانے میں مشقت ہے بھئی اس کی قیمتیں جگہوں کے بدلنے سے بدل بدلت بدلتی ہیں تو لہٰذا یہاں پر بھی اس کی چونکہ اس کے اٹھانے میں مشقت ہے مثلاً گندم وغیرہ ہے تو جگہ کی ادائیگی کا کی تعین کرنا ضروری ہے ورنہ وہ آپ کو کہے گا لاؤ او بھئی یہ کراچی میں آپ کی گندم پڑی ہے اٹھا کر لے جاؤ آپ کہیں گے نہیں بھئی مجھے تو کہاں پہنچاؤ لاہور میں پہنچاؤ تو جھگڑا ہوگا اس لیے پہلے سے تعین ضروری ہے بھئی تو اسی لیے کہا ان کان لحملہ مؤنت اگر اس کے اٹھانے میں کیا ہو مشقت ہو بھئی مؤنتون بھئی حمزہ ساکن ہے بھئی ومثلہ الثمن والاجرت والقسمت اور اسی کے مثل ہے ثمن اجرت اور تقسیم بھی بھئی ثمن اجرت اور تقسیم بھئی کسی کو بطور ثمن کے آپ ایسی چیز دے رہے ہیں جو جس کا وزن ہے جس کے اٹھانے میں مشقت ہے مثلاً آپ نے ایک شخص سے گاڑی خریدی اور بدلے میں آپ کو گندم دینا چاہتے ہیں بطور ثمن کے اور یہ ایسا سمن ہے جس کے اٹھانے میں کیا ہے مشقت ہے تو اب ادائیگی کی جگہ کی تعین ہونا ضروری ہے بھئی صورت سمجھ میں آئی اسی طرح اجرت ہے بھئی تو بطور اجرت کے بھئی وہ شخص کیا کرتا ہے ایک شخص نے آپ سے مثلاً مکان کرائے پر لے لیا اور بطور اجرت کے کیا دیتا ہے آپ کو بھئی جی گندم دینا چاہتا ہے بھئی سو من گندم دوں گا کہ ہر مہینے آپ کو بھئی آپ اس کی جگہ کی تعین ضرور ہوگی کہاں پر وہ گندم ادا کرے گا بھئی صورت سمجھ میں آئی بھئی اسی طرح تقسیم کا مسئلہ بھی ہے بھئی تقسیم کس طرح بھئی دیکھو زید اور عمرو کے درمیان ایک مکان مشترکہ تھا ان دونوں نے باہم اس کو تقسیم کیا جب تقسیم کرتے ہیں برابر برابر تقسیم نہیں ہوتا بھئی ایک کی طرف کچھ زیادہ جاتا ہے حصہ دوسرے کی طرف کچھ کم جاتا ہے برابر تقسیم ہو نہیں سکتی اس کی تو مثلاً ان دونوں نے کیا کیا بھئی ایک طرف حصہ کچھ زیادہ کر دیا اور ایک طرف حصہ کم کر دیا لیکن جس کا حصہ کم تھا زیادہ حصے والا اس کو ساتھ کوئی چیز بھی دے دیتا ہے بھئی تم یہ کم زمین لے لو میں زیادہ لے لیتا ہوں اور تمہاری جتنی زمین کم ہے بھئی اس کے بدلے میں میں تمہیں کیا دوں گا بھئی ایک مثلاً دس ٹرک گندم کے بھی دے دوں گا تمہیں کیا کروں گا گندم بھی اتنی حوالے کر دوں گا تو دیکھو بھئی تقسیم کے اندر ایسی چیز دے رہا ہے اس کو جس کے اندر کیا ہے اٹھانے میں مشقت تو یہاں بھی ادائیگی کی جگہ کی تعین ضروری مسئلہ سمجھ میں آ رہا ہے سب کو بھئی تو کہتے ہیں ومثلہ الثمن والاجرت والقسمت اور اسی کی مثل ہے ثمن بھی اجرت بھی اور قسمت بھی ای اذا کان المسلم فیہ شیئا لحملہ مؤنت جب مسلم فیہ کوئی ایسی چیز ہو جس کے اٹھانے میں مشقت ہو یجب بیان مکان ایفاء عند ابی حنیفۃ رحمہ اللہ تو واجب ہے اس کی ادائیگی کی جگہ کا بیان کرنا امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک وعنہما یہ تو امام صاحب کی بات چل رہی ہے صاحبین کا اس میں بھی اختلاف ہے وعنہما یوفیہ او فیوفی کا معنی ہوتا ہے ادا کرنا وہ صاحبین فرماتے ہیں کہ اس جو ہے وہ اس کو ادا مسلم فی کو کیا کرے گا ادا کرے گا فی مکان العقد کس جگہ میں عقد کی جگہ میں جہاں عقد ہوا ہے وہ جگہ متعین ہے بھئی وہیں پر لا کر کیا کر دی جائے وہ چیز ادا سپرد کر دی جائے بھئی وعلی ھذا الخلاف الثمن والاجرت اور اسی اختلاف پر ہیں بھئی کون ثمن بھی اور اجرت بھی ان میں بھی اسی طرح صاحبین فرماتے ہیں جہاں عقد ہوا ہے وہیں پر ادائیگی کرے گا بھئی امام صاحب فرماتے ہیں بھئی کہاں پر تعین ہونی چاہیے بھئی جبکہ ان کا وزن ہو بھئی اذا کان لحملھما مؤنت جبکہ ان کے اٹھانے میں کیا ہو مشقت ہو بھئی ان کی باربر والقسمت اور اسی طرح وعلی ھذا الخلاف الثمن والاجرت والقسمت اس کا بھی اسی پر عطف ہے ثمن یا اجرت پر بھئی اور اسی اختلاف پر ہیں بھئی قسمت بھی بھئی ای اذا اقتسم الدار جب تقسیم کیا دو نے باہم گھر کو وجعل اور جو تقسیم کرنے والے ہیں انہوں نے کیا کر دیا بھئی مع نصیب احدھما شیئا بھئی مقرر کر دیا کسی ایک کے دونوں میں سے کسی ایک کے حصے کے ساتھ شیئا کوئی ایسی چیز لحملہ مؤنت جس کے اٹھانے میں کیا ہے مشقت تو وہاں پر بھی ادائیگی کی جگہ کی تعین ہونی چاہیے ومالا حمل فی ومالا حمل لہ یوفیہ حیث شا اور جس کا کوئی بوجھ نہ ہو بھئی یوفیہ حیث شا جہاں پر بھی چاہے اس کو کیا کر دے ادا کر دے صورت سمجھ میں آئی بھئی جس کا بوجھ نہیں اس کو جہاں بھی ادا کرنا چاہے کر دے ہو الاصح یہی قول اصح ہے بھئی اصح کیوں کہا معلوم ہوا یہاں کوئی غیر اصح قول بھی ہے وہ بتلانے لگے ہیں آپ کو کہتے ہیں وہ فی روایۃ الجامع الصغیر یوفیہ فی مکان العقد کہ جامع صغیر کی روایت میں کیا آیا ہے کہ ادا کرے گا اس کو بھی کہاں پر عقد کی جگہ جس کا وزن نہ ہو اسے بھی کہاں پر ادا کرے گا عقد کی جگہ پر ادا کرے گا لیکن اصح یہ ہے کہ جہاں بھی ادا کرنا چاہے ادا کر سکتا ہے بھئی ثم لما فرغ من بیان شروط صحت السلم ذکر شرط بقائہ پھر جب فارغ ہو گئے مصنف بھئی بیع سلم کے صحیح ہونے کی شرائط سے اس کے صحیح ہونے کی شرائط جب ذکر کر دی اب اس کی بقا کی شرط ذکر کرنے لگے ہیں فقال پس فرمایا انہوں نے وقبض راس المال قبل الافتراق شرط بقائہ بقا کی ایک ہی شرط ہے مولانا کہ راس المال پر جدا ہونے سے پہلے قبضہ کر لیا جائے بھئی میں نے کیا بتلایا تھا بیع سلم کسے کہتے ہیں بیع عاجل با عاجل تو معلوم ہوا ثمن کو عاجل ہونا چاہیے بھئی اسی مجلس عقد کے اندر بھئی اسی مجلس عقد میں ادا کرے اور وہ مسلم الیہ کیا کر لے اس پر قبضہ کر لے یہ اس کی بقا کے لیے ضروری ہے بھئی اگر عقد سلم کیا عقد تو ہو جائے گا لیکن اگر اسی مجلس کے اندر کیا کیا بھئی قبضہ نہ کیا بھئی تو پھر باطل ہو جائے گی بیع سلم وقبض راس المال اور راس المال پر قبضہ کرنا قبل الافتراق جدا ہونے سے پہلے بھئی شرط بقائہ یہ بیع سلم کی بقا کی شرط ہے فلو اسلم ماتا نقدا ومائتا دینا علی المسلم الیہ فی قر برن بطل البطل السلم فی حصۃ الدین فقط بھئی صورت مسئلہ یہ بھئی زید نے میرا بھئی میرے سو درہم دینے ہیں سو درہم اس پر دین ہے میرا بھئی مجلس عقد کے اندر میں اس کو کہتا ہوں بھئی دیکھو مجھے دو سو درہم کی گندم دے دینا اتنے من اتنے یہ یہ وصف وغیرہ ساری شرائط پوری کر دیتا ہوں فلاں جگہ پر اور مثلاً ہزار من دو سو درہم کی کتنی گندم دے دینا مثلاً ہزار عقد ہو گیا مولانا عقد ہو گیا اب میں اس کو سو درہم اس کے حوالے کرتا ہوں اس مجلس میں اور سو تو میرا اس پر پرانا دین باقی تھا بھئی میں کہتا ہوں سو وہ ہو گئے اور سو یہ ہو گئے دو سو درہم پورا ہو گیا آپ کے کہتے ہیں بھئی اگر اسی مجلس عقد کے اندر اس نے اس مجلس عقد کے اندر اس کا قبضہ ضروری تھا اور یہاں پورے پر قبضہ پایا گیا پورے پر قبضہ کتنے پر پایا گیا سو پر پایا گیا سو درہم لہٰذا ان میں تو بیع سلم صحیح ہو جائے گی اور باقی میں بیع سلم کیا ہو جائے گی باطل ہو جائے گی یہی بات مسئلہ دیکھیے بھئی فلو اسلم ماتا نقدا ومائتا دینا اگر بیع سلم کی سو نقد کے اندر اور سو دین کے اندر علی المسلم الیہ جو کس پر تھا بھئی جو دین جو مسلم الیہ پر تھا فی قر برن کس گندم کے اندر ایک قر گندم کے اندر بطل السلم فی حصۃ الدین فقط تو بیع سلم باطل ہو جائے گی صرف دین کے حصے میں بھئی ساری بیع سلم کو باطل ہم نہیں قرار دیں گے بلکہ صرف کس کو قرار دیں گے بھئی دین میں بھئی وہ سو جس پر قبضہ نہیں ہوا اس میں باطل ہے جو ادا ہوئے اس میں بیع سلم صحیح بھئی کیوں صحیح آدھی کو صحیح قرار دیتے ہو آدھی کو باطل قرار دیتے ہو یا ساری صحیح قرار دو یا ساری کو کیا قرار دو کہتے ہیں بھئی یہ اس کی بقا کی شرط ہے بھئی یہ کس چیز کی شرط ہے بقا بقا عقد تو منعقد ہو چکا ہے یہ اس کی بقا کی شرط تھی کہ قبضہ بھی اسی مجلس میں ہو لہٰذا یہ ضعیف ہے تو اس کی وجہ سے جو بطلان آئے گا اس وہ بطلان سارے عقد پر نہیں چھائے گا بھئی سارے پر سارے میں اس کا پھیلاؤ نہیں ہوگا بھئی شیوء نہیں ہوگا تو جو باقی میں صحیح ہو جائے گی ای لا یشیوء الفساد فساد جو ہے وہ پھیلے گا نہیں لان العقد صحیح اس لیے کہ عقد تو صحیح ہے وصذا الشرط شرط البقا فیكون ضعیفا اور یہ شرط جو ہے یہ تو بقا کی شرط ہے تو یہ ضعیف ہے تو یہ سارے عقد کو باطل نہیں کرتی بھئی ثم من تفاریع قبض راس المال ان السلم لا یجوز مع خیار الشرط وخیار الرویت جی راس المال کے قبضے کی تفریعات میں سے یہ بھی ہے بھئی بھئی کیا شرط انہوں نے ذکر کی بیع سلم کے اندر کہ سمن پر کیا کیا جائے اسی مجلس عقد میں قبضہ کیا جائے کہتے ہیں اسی کی تفریعات میں سے یہ بھی ہے کہ بیع سلم خیار شرط اور خیار رویت کے ساتھ درست نہیں بیع سلم خیار شرط اور خیار رویت کیوں نہیں درست کہتے ہیں وہی وجہ جو ابھی ہم نے ذکر کی کہ سمن پر مجلس عقد کے اندر قبضہ کرنا ضروری اب میں آپ کے ساتھ بیع سلم کرتا ہوں اور عقد مجلس ہی کے اندر میں آپ کو کیا کرتا ہوں سو درہم بھی حوالے کر دیتا ہوں آپ قبضہ بھی کر لیتے ہیں لیکن میں کہتا ہوں مجھے خیار ہے میں تین دن کے اندر چاہوں تو اس عقد کو کیا کر سکتا ہوں فسخ کر سکتا ہوں مجھے اختیار ہو یہ خیار شرط رکھ دیا اور خیار شرط آپ نے پڑھا تھا مانع ہے ابتدائے حکم سے کس سے مانع ہے وہ ملتا ہی نہیں دیتا اب سمن اگرچہ میں نے آپ کے حوالے کر دیے لیکن آپ کی ملک آئی نہیں ملک نہیں آئی مولانا تو قبضہ تام ہوا قبضہ تام نہیں تو معلوم ہوا قبضہ تام نہیں ہوا حالانکہ قبضہ تو اسی مجلس عقد کے اندر کیا تھا ضروری اس لیے خیار شرط کے ساتھ بیع سلم کیا ہوگی صحیح نہیں اسی طرح خیار رویت بھئی وہ آپ نے پڑھا تھا وہ مانع ہے تمام حکم سے خیار رویت بھئی آپ نے خیار ایک چیز بغیر دیکھے خریدی بھئی تو عقد ملتا آ تو گئی اس کے اندر آپ کی لیکن ملک تام نہیں بھئی ملک تام نہیں بھئی جی تو لہٰذا قبضہ تام نہیں ہوا تو پوری طرح چیز حوالے نہ ہوئی حالانکہ شرط لگائی تھی کہ سمن کو کیا ہونا چاہیے اسی مجلس عقد میں حوالہ کرنا پڑے گا اور راس المال پر قبضے کی تفریعات میں سے ہی یہ ہے یہ ہے کہ ان سلم لا یجوز مع خیار الشرط وخیار الرویت کہ بیع سلم جائز نہیں خیار شرط اور خیار رویت کے ساتھ کیونکہ یہ دونوں مانع بننے والے ہیں کس کو تمام تسلیم تو حوالے کرنا تام نہیں ہو سکتا بھئی یہ اس کو ماننے ہیں اس سے بخلاف خیار العیب بخلاف کس کے خیار عیب کے فانہ لا یمنع تمامہ اس لیے کہ وہ تمام عقد سے مانع نہیں بھئی یا تمام تسلیم سے مانع نہیں بھئی اس قبضہ فلو اسقط خیار الشرط قبل الافتراق صحابی اگر کسی نے ساقط کر دیا خیار شرط کو جدا ہونے سے پہلے صحا بیع سلم صحیح ہو جائے گی بھئی بھئی دیکھو میں نے آپ کے ساتھ بیع سلم کی اور خیار شرط رکھ لیا لیکن مجلس کے اندر ہی تھے ابھی جدا نہیں ہوئے تھے کہ میں نے خیار شرط کو کیا کر دیا ختم کر دیا تو بیع ساقط کر دیا تو بیع سلم صحیح ہو جائے گی کیا ہو جائے گی اب صحیح پھر صحیح ہو گئی امام زفر فرماتے ہیں نہیں ایک دفعہ فاسد ہو چکی ہے دوبارہ صحیح نہیں ہوگی فلو اسقط خیار الشرط یہ اگر ساقط کر دیا خیار شرط کو قبل الافتراق جدا ہونے سے پہلے سا حت تو کیا ہے صحیح ہے بھئی بیع سلم صحیح ہو جائے گی خلاف لزفر بخلاف امام زفر کے ولم یجوز التصرف فی راس المال والمسلم فیہ فی کشرکۃ والتولیتی بھئی راس المال اور مسلم فی دونوں میں تصرف جائز نہیں ہے دونوں میں تصرف جائز نہیں ہے قبل القضب قبضے سے پہلے صورت مسئلہ یہ بھئی میں نے آپ کے ساتھ بیع سلم کی لو یہ بھئی یہ ہزار درہم بیع سلم کی بھئی میں نے کہا ہزار درہم کے بدلے آپ مجھے چھ ماہ بعد اتنی گندم دے دینا بھئی عقد ہو گیا سمجھ میں آیا ابھی مجلس میں بیٹھے ہیں میں نے آپ کو وہ سو درہم دیے نہیں کہ آپ مجھے کہتے ہیں کہ بھئی وہ جو آپ نے راس المال دینا ہے مجھے سمن جو آپ نے مجھے دینے ہیں یوں کرو اس کے بجائے مجھے اپنی گاڑی دے دو وہ بھی اتنے کی تقریبا اس کے بدلے کیا دے دو گاڑی دے دو صورت تو دیکھا آپ نے سمن کے اندر تصرف کیا قبل القضب بھئی بیع کے اندر سمن کے اندر تصرف قبل القصب آپ نے پڑھا تھا جائز ہے بیع میں پڑھا تھا یا نہیں کہ سمن کے اندر قبل القبض بھی تصرف جائز ہے لیکن یہاں پر نہیں بیع سلم کے اندر یہ جائز نہیں ہے اس لیے کہ یہاں پر شرط تھی کہ احد العیوضین پر مجلس ہی میں قبضہ ہو اور آپ نے ابھی ان سو درہم پر قبضہ کیا ہے قبضہ تو آپ نے کیا ہی نہیں جب قبضہ ہی نہیں کریں گے تو بیع سلم کیا ہو جائے گی باطل ہو جائے گی صورت سمجھ میں آئی بھئی لہٰذا یہاں پر سمن میں بھی تصرف نہیں ہو سکتا عام بیع میں سمن میں ہو سکتا ہے اور مبیع کے اندر تو عام بیع میں بھی آپ نے پڑھا تھا بھئی کہ مبیع میں قبل القبض تصرف نہیں آپ سے میں نے ایک گاڑی خریدی ہے ایک لاکھ روپے کی ابھی میں نے مجھے گاڑی ملی نہیں کہ میں پہلے ہی اس کو آگے کسی اور کے ہاتھ بیچنا چاہتا ہوں نہیں بھئی جب تک میرے قبضے میں نہیں آتی وہ گاڑی میں آگے اس کی بیع وغیرہ نہیں اس میں تصرف کوئی نہیں کر سکتا تو یہاں پر بھی بھئی وہ مسلم فی کیا ہے مبیا اور مبیا کے اندر قبل القبض تصرف جائز لہٰذا اس کی بھی آپ یوں کرتے ہیں بھئی کہ اس میں تصرف کرنا چاہتے ہیں مثال آگے ذکر کریں گے شرکت اور تولیہ کی بھئی شرکت اور تولیہ کیسے دیکھو میں نے آپ سے کہا آپ کو میں نے دیے ایک ہزار درہم یہ لو ایک ہزار درہم اس کے بدلے مجھے پچاس کور گندم آپ نے دینی ہے بھئی چھ مہینے کے بعد بیع سلم ہو گئی جی عقد ہو گیا ٹھیک ہے ساری ادائیگی ہو گئی جدا ہو گئے۔ ابھی جدا ہونے کے بعد آپ نے ابھی مجھے گندم نہیں دی مجھے زید ملا بھئی میں نے زید کو کہا بھئی مجھے اتنے کور گندم چھ مہینے بعد ملے گی اگر تم میرے ساتھ شریک ہونا چاہو تو شریک ہو سکتے ہو میں نے ہزار درہم دیے تھے تم مجھے پانچ سو درہم دے دو تو آدھی تم لے لینا جب ملے گی آدھی تم لے لینا جب ملے گی تو یہ میں کیا کر رہا ہوں مولانا مبیا کے یعنی مسلم فی کے اندر تصرف کر رہا ہوں قبل القبض دوسرے کو بھی اپنے ساتھ شریک کر رہا ہوں یہ درست نہیں یا اسی طرح بیع تولیہ کرتا ہوں مجھے زید ملا میں نے اس کو کہا بھئی دیکھو اس سے مجھے کیا چھ مہینے بعد یہ گندم ملے گی بھئی اور ہزار درہم کی مجھے ملی ہے میں ابھی آپ کو کتنے کی دیتا ہوں ہزار ہی کی دیتا ہوں اگر لینا چاہو بھئی تو یہ بیع تولیہ کرنا چاہتا ہوں اس کے ساتھ بھئی ابھی ملی نہیں ہے تو یہ تصرف قبل القبض ہے لہٰذا جائز نہیں ولم یجوز التصرف فی راس المال والملم فیہ اور جائز نہیں ہے تصرف کرنا راس المال میں اور مسلم فی میں تصرف کا شرکتی جیسے شرکت کی صورت ہے والتولیت اور جیسے تولیت بیع تولیت کرنا قبل قبضی اس پر قبضے سے پہلے صورت الشرکت شرکت کی صورت یہ ہے کہ رب السلام کسی دوسرے کو کہتا ہے اتنی تم لے لو اتنی میں لیتا ہوں اور صورت التولیتی اور بیع تولیت کی صورت یہ ہے کہ وہ کہے کسی دوسرے سے اتنی مجھے دے دو اور اتنی میں لے لیتا ہوں حتی کہ مسلم فی کو اس کا قبضہ ہو جائے تو یہ بیع تولیت ہو گئی اور من صورت التصرف فی راس المال راس المال میں تصرف کی صورت میں سمجھا چکا ہوں وہی بات بیان کر رہے ہیں کہ راس المال میں تصرف کی یہ صورت ہے کہ ان یعتی بدلا راس المال شیئا اخرا کہ عطا کر دے راس المال کے بدلے کوئی اور چیز بھئی میں نے آپ کو بھئی عقد کیا ہزار درہم دینے ہیں ہزار کے بجائے میں آپ کو کہتا ہوں بھئی گاڑی لے لو کیا کرو یا آپ مجھے کہتے ہیں اس کے بدلے گاڑی لے لو تو بھئی ابھی قبضہ ہی نہیں ہے اور قبضے سے پہلے ہی آپ اس میں تصرف کر رہے ہیں تو وہ دے راس المال کے بدلے کوئی اور چیز ومن صورت التصرف فی المسلم فیہ اور مسلم فی میں تصور کی صورتوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس کے بدلے کوئی اور چیز دے دے مثلا دیکھو بھئی میں نے آپ سے کیا کہا تھا ہزار درہم کے بدلے مجھے اتنے کر گندم دینا چھ مہینے بعد پھر میں بعد میں کہتا ہوں بھئی کہ یوں کرو گندم کے بجائے مجھے چاول دے دینا تو یہ میں کیا کر رہا ہوں مسلم فی میں قبل القبض دوسرے کو بھی اپنے ساتھ شریک کر رہا ہوں یہ درست نہیں یا اسی طرح بیع تولیت کرتا ہوں مجھے زید ملا میں نے اس کو کہا بھئی دیکھو اس سے مجھے کیا چھ مہینے بعد یہ گندم ملے گی بھئی اور ہزار درہم کی مجھے ملی ہے میں ابھی آپ کو کتنے کی دیتا ہوں ہزار ہی کی دیتا ہوں اگر لینا چاہو بھئی تو یہ بیع تولیت کرنا چاہتا ہوں اس کے ساتھ بھئی ابھی ملی نہیں ہے تو یہ تصرف قبل القبض ہے لہٰذا جائز نہیں ولا شراء جی ولا شراء شی من المسلم الیہ براس المال بعد الاقالہ حتی یقبضہ بھئی بیع سلم کی تھی میں نے آپ کو ایک ہزار درہم دیے اور کہا تھا مجھے سو کور گندم دینی ہے آپ نے کب دینی ہے چھ مہینے کے بعد بھئی ایک دو تین مہینے گزرے بھئی مجھے پیسوں کی سخت ضرورت پڑ گئی میں آپ کے پاس گیا بھئی اقالہ کر لو آپ کی اقالہ میرے ساتھ کر لو جی اقالہ کر لو آپ بھی بھئی آپ نے کہا چلو ٹھیک ہے بھئی اقالہ کر لیتے ہیں اقالہ کیا بھئی بیع کو فسخ کر دیا اب بیع کو فسخ کرنے کے بعد ہزار درہم آپ نے مجھے میرے دینے ہیں لیکن اس ہزار روپے لینے کے بجائے میں آپ کو پھر کیا کہہ دیتا ہوں اس کے بدلے مجھے فلاں چیز دے دو کیا کرو فلاں چیز میں آپ سے خرید لیتا ہوں تو دیکھو یہاں پر اب اقالے کے بعد بھی جب تک ثمن پر قبضہ نہ کر لے مسلم الیہ سے اس کے بدلے کوئی چیز خریدنا جائز نہیں یہ معنی ہے ولا شراء شی من المسلم الیہ اور یعنی لا یجوز اور جائز نہیں ہے خریدنا بھئی سمجھ میں آیا لم یجوز التصرف تصرف پر عطف ہے اور جائز نہیں ہے بھئی خریدنا بھئی من المسلم الیہ کس سے بھئی سمجھ میں ایا شرا کا عطف کس پر ہوا بھئی تصرف پچھلے صفحے کے آخر میں آیا تھا و لم یجوز التصرف تصرف جائز نہیں اسی طرح جائز نہیں ہے شراء شی کسی چیز کا خریدنا یہ لا زائدہ ہے لا زائدہ بھئی المال کس کے بدلے میں راس المال کے بدلے میں کوئی چیز خریدنا بعد الاقالہ کس کے بعد اقالے کے بعد حتی یقبض یہاں تک کہ اس پر کیا کر لے قبضہ کر لے بھئی کیوں کیوں نہیں خرید سکتے بھئی کہتے ہیں بھئی قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں بھئی یہ حدیث ہے جس کی وجہ سے نہیں حضور نے فرمایا لا تاخذ الا سلمک اور راس مالکا بھئی رب سلم سے کیا فرمایا لا تاخذ الا سلمک کہ تو نہ لے مگر صرف اپنے سلم کو یعنی مسلم فی کو صرف مسلم فی لو اور راس مالکا یا اپنے اپنے راس المال کو لے بھئی صرف راسور صورت سمجھ میں آئی بھئی رب سلم سے کیا فرمایا حضور نے یا تو مبیا لے لو یا اپنے ثمن لے لو کوئی تیسری چیز نہیں لے سکتے اور جب یہ سمجھ میں آیا تو مبیا کی صورت میں لے گا جبکہ عقد پورا ہو جائے بھئی سمجھ میں آیا اور راس المال کی صورت میں لے گا جب اقالہ ہو جائے معلوم ہوا تیسری کوئی صورت یہاں نہیں تو اگر اقالے کے بعد راس المال کے بدلے آپ کوئی اور چیز خرید کر لیں گے تو پھر تو آپ کو ان دونوں کے علاوہ تیسری چیز لے رہے ہیں جب کہ حدیث میں آیا کہ انہی دو میں سے کوئی چیز لو تیسری چیز نہیں لے سکتے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں لا تاخذ الا سلمک تو نہ لے مگر اپنے مسلم فی کو اور راس مالکا یا اپنے راس المال کو ای لا تاخذ الا المسلم فیہ الا المسلم فی تو نہ لے مگر صرف اپنے مسلم فی کو علی تقدیر تقدیر المزی علی العقد عقد پر چلتے چلنے کی تقدیر میں عقد پر چلنے کی تقدیر میں بھئی اور راس مالک اور یا تو نہ لے مگر کس کو اپنے بھئی الا المسلم فی پر عقد ہے لا تاخذ الا راس مالک تو نہ لے مگر صرف کس کو اپنے راس المال کو علی تقدیر بھئی یہ کب لے گا کہتے ہیں علی تقدیر اقالۃ العقد عقد کے اقالے کی صورت میں بھئی عقد اقالے کی صورت میں یہاں تک مسئلہ سمجھ میں آگیا بھئی چلیے بس مولانا ہذا هو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام