آگے سبق دیکھیے بھئی۔ فَصْلٌ: ”وَلَا يَجُوزُ إِحْدَاثُ بِيعَةٍ وَلَا كَنِيسَةٍ فِي دَارِ الْإِسْلَامِ“ لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: ”لَا خِصَاءَ فِي الْإِسْلَامِ وَلَا كَنِيسَةَ“، ”وَالْمُرَادُ إِحْدَاثُهَا، وَإِنْ انْهَدَمَتْ الْبِيَعُ وَالْكَنَائِسُ الْقَدِيمَةُ أَعَادُوهَا“. بھئی گزشتہ سبق میں ہم نے خراج کی مقدار پڑھی تھی۔ آپ کو صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سوادِ عراق والوں پر جو خراج مقرر فرمایا، وہ ہر ایسا جریب جس کو پانی پہنچتا ہو، تو اس کے اندر ایک قفیزِ ہاشمی یعنی ایک صاع اور ایک درہم مقرر فرمایا سال بھر کے لیے، اور سبزیوں کے جریب میں پانچ درہم، اور انگور اور کھجور کے گھنے باغات کے اندر دس درہم مقرر فرمائے سال بھر کے۔ اور یہ واقعہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی موجودگی میں پیش آیا اور کسی نے بھی اس کا انکار نہیں کیا، تو معلوم ہوا اس پر صحابہ کا اجماع ہو گیا بھئی۔ اور میں نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ جریب جو ہے وہ زمین ہے جس کی لمبائی بھی ساٹھ ذراع ہو اور چوڑائی بھی ساٹھ ذراع ہو بھئی۔ اور ذراع سے مراد جو ہے عام ذراع نہیں ہے بلکہ ملکِ کسریٰ کا ذراع ہے بھئی۔ عام ذراع جو ہے وہ چوبیس انگلیوں کی چوڑائی کے برابر ہوتا ہے، جبکہ ملکِ کسریٰ کا جو ذراع تھا وہ اٹھائیس انگلیوں کی چوڑائی کے برابر تھا بھئی۔ اور میں نے یہ بھی بتلایا کہ ایک ہے صاعِ ہاشمی، ایک ہے صاعِ عراقی اور ایک ہے صاعِ حجازی۔ صاعِ ہاشمی سب سے بڑا ہے، وہ بتیس رطل کا ہے۔ اور میں نے یہ بھی بتلایا کہ ایک رطل جو ہے وہ پونے چونتیس تولے کے برابر ہے۔ تو صاعِ ہاشمی بتیس رطل کا ہوا، صاعِ عراقی وہ آٹھ رطل کا ہے، یعنی چار صاعِ عراقی ہوں تو ایک صاعِ ہاشمی بنتا ہے۔ اور صاعِ حجازی جو ہے وہ پانچ رطل اور ثلثِ رطل کا ہوتا ہے، یعنی پانچ رطل پورے اور ایک رطل کا تیسرا حصہ بھئی۔ اور یہاں پر صاحبِ ہدایہ نے قفیزِ ہاشمی کو ذکر فرمایا، تو بعض علماء ذکر فرماتے ہیں کہ صاحبِ ہدایہ کو یہاں ہاشمی کی قید نہیں لگانی چاہیے تھی، کیونکہ عند الاحناف صاعِ عراقی معتبر ہے۔ عند الاحناف حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے زمانے میں مدینہ منورہ کے اندر جو صاع رائج تھا وہ صاعِ عراقی تھا، یعنی آٹھ رطل والا۔ تو صاحبِ ہدایہ کو ہاشمی کی قید نہیں لگانی چاہیے تھی، یہ بعض شارحین فرماتے ہیں۔ جبکہ بعض شارحین فرماتے ہیں کہ یہ جو آگے آیا ”وَهُوَ الصَّاعُ وَدِرْهَمٌ“ یہ اسی قفیزِ ہاشمی کی تفسیر کی جا رہی ہے کہ ایک صاع اور ایک درہم، یعنی ایک صاعِ عراقی اور ایک درہم، یہ صاعِ ہاشمی بنتا ہے بھئی۔ اور اس کے علاوہ اگر بعض ایسی زمینیں یا ایسی چیزیں ہیں کہ ان کے بارے میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کوئی وظیفہ منقول نہیں ہے، تو اس میں زمین کی طاقت کو دیکھا جائے گا، لیکن وظیفہ جو ہے، وہ جو خراج کا وظیفہ ہے، وہ نصفِ پیداوار سے زائد نہیں ہونا چاہیے، یعنی انتہا درجے کا جو خراج مقرر کیا جا سکتا ہے وہ نصفِ پیداوار کے برابر ہے بھئی۔ اور یہ عینِ انصاف ہے، اس لیے کیونکہ مسلمانوں نے ان زمینوں پر قبضہ کر لیا تھا اور وہ چاہتے تو یہ ساری زمینیں لے لیتے، لیکن انہوں نے کفار کو ان زمینوں پر برقرار رکھا تو لہٰذا اب نصف وہ کفار لے لیں اور نصف مسلمانوں کو دے دیں تو یہ عینِ انصاف ہے بھئی۔ اور زمین کے اندر اگر اتنے خراج کی طاقت نہ ہو، یعنی اس کی پیداوار کم ہے، تو پھر بالاتفاق خراج کے اندر کمی کی جا سکتی ہے، لیکن اگر زمین کی پیداوار زیادہ ہو تو کیا اس زمین کے خراج میں زیادتی کی جا سکتی ہے یا نہیں؟ تو اس میں امام محمد اور امام ابو یوسف رحمہما اللہ کا اختلاف ہے۔ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جیسے خراج کے اندر کمی جائز ہے اسی طرح زیادتی بھی جائز ہے، جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بتلا دیا گیا کہ اگر اس سے زائد خراج بھی ہم لینا چاہتے تو لے سکتے تھے کیونکہ زمین اس کی طاقت رکھتی تھی، تو پھر اس کے باوجود حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خراج کو مزید نہیں بڑھایا۔ معلوم ہوا جو مقدار حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مقرر فرمائی ہے اس سے زیادہ کرنا جائز نہیں ہے بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ اگر زمین خراب ہو گئی یعنی اس پر پانی آ گیا یا پانی اس کا بالکل ہی ختم ہو گیا یا کھیتی کو آفت نے تباہ کر دیا تو اس صورت میں خراج ساقط ہو جائے گا۔ لیکن اگر زمین کے مالک نے خود زمین کو بے کار چھوڑ دیا اور اس پر کوئی فصل کاشت نہیں کی تو پھر بھی اس سے خراج وصول کیا جائے گا کیونکہ یہ اس کی کوتاہی ہے کہ اس نے زمین پر فصل کاشت نہیں کی بھئی۔ صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ ایک زمین پر جب ایک دفعہ خراج آ جائے تو وہ خراج ہی وصول کیا جائے گا، چاہے وہ زمین والے مسلمان ہو جائیں یا چاہے مسلمان اس زمین کو خرید لیں، پھر بھی ان سے خراج ہی لیا جائے گا۔ وجہ یہ کہ خراج کے اندر سزا کا پہلو بھی ہے اور خراج کے اندر خرچہ اٹھانے کا پہلو بھی ہے، جیسے نابالغ اولاد کا خرچہ جو ہے وہ باپ اٹھاتا ہے، وہ باپ کے ذمے ہوتا ہے، تو اسی طرح اس زمین کا خرچہ اس آدمی پر، اس مسلمان پر آ جائے گا جو اس کا مالک ہو گا۔ تو جب اس میں خرچہ اٹھانے والا معنیٰ ہے تو اسی کا اعتبار کیا جائے گا، یعنی سزا کا اعتبار نہیں کیا جائے گا کہ مسلمان سے یہ خراج بطورِ سزا کے وصول کیا جا رہا ہے بلکہ اس سے یہ خراج وصول کیا جائے گا زمین کے خرچے کے اعتبار سے کہ وہ زمین کا خرچہ اٹھا رہا ہے بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ اگر ایک خراجی زمین ہے تو اس سے سال کے اندر صرف خراج وصول کیا جائے گا اور اس زمین سے حاصل ہونے والی فصلوں کے اندر عشر نہیں آئے گا، اس لیے کیونکہ حدیث میں آتا ہے کہ مسلمان کی زمین میں عشر اور خراج جمع نہیں ہو سکتے۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خراج کے ساتھ ساتھ عشر بھی ادا کرنا پڑے گا۔ وجہ یہ، وہ فرماتے ہیں کہ یہ دونوں مختلف حق ہیں اور ان کے محل بھی الگ ہیں، ان کے سبب بھی الگ ہیں۔ یہ دونوں مختلف حق ہیں ذات کے اعتبار سے، عشر میں عبادت کا پہلو ہے اور خراج میں سزا کا پہلو ہے۔ نیز ان دونوں کا مصرف بھی الگ الگ ہے، عشر کا مصرف فقراء ہیں اور خراج کا مصرف جو ہے وہ مسلمانوں کی مصلحتیں ہیں، تو مسلمانوں کی مصلحت کے کاموں میں اس کو خرچ کیا جاتا ہے۔ اور نیز دونوں کا محل بھی الگ الگ ہے، عشر جو ہے وہ پیداوار میں واجب ہوتا ہے اور خراج جو ہے مالک کے ذمے میں ہوتا ہے، تو دونوں کا محل بھی الگ ہوا۔ اور نیز دونوں کا سبب بھی الگ ہے، عشر کا سبب جو ہے وہ ارضِ نامی جو حقیقی پیداوار دے، اور خراج کا جو سبب ہے وہ ارضِ نامی ہے کہ جس میں کاشت پر قدرت حاصل ہو انسان کو بھئی۔ لیکن ہم کہتے ہیں نہیں، عشر اور خراج جمع نہیں ہو سکتے۔ ایک تو ہم نے حدیث ذکر کر دی کہ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں مسلمان کی زمین میں عشر اور خراج جمع نہیں ہو سکتے۔ اور نیز اس لیے کیونکہ خراج اس زمین پر آتا ہے جسے زورِ بازو سے اور قوت سے فتح کیا جائے، اور عشر اس زمین میں آتا ہے جس کے رہنے والے خوشی سے مسلمان ہو جائیں، اور یہ دونوں چیزیں جمع نہیں ہو سکتیں؛ ایک زمین کو زورِ بازو سے بھی فتح کیا گیا ہو اور اس کے رہنے والے خوشی سے بھی مسلمان ہو گئے ہوں ایسا نہیں ہو سکتا، لہٰذا ایک وقت میں ایک ہی چیز آئے گی یا عشر یا خراج۔ اور آپ نے کہا دونوں کے سبب الگ ہیں، ہم کہتے ہیں نہیں دونوں کا سبب ایک ہی ہے اور وہ ارضِ نامی ہے۔ وہ ارضِ نامی ہے۔ البتہ عشر میں حقیقی پیداوار کا اعتبار کیا جاتا ہے اور خراج میں تقدیری پیداوار کا اعتبار کیا جاتا ہے۔ اور نیز ان کا سبب زمین ہے اس کا پتہ اس بات سے بھی چلتا ہے کہ ان دونوں کی نسبت زمین کی طرف کی جاتی ہے۔ عشر کی نسبت بھی زمین کی طرف کی جاتی ہے اور ”عُشْرُ الْأَرْضِ“ کہتے ہیں، اسی طرح خراج کی نسبت بھی زمین کی طرف کی جاتی ہے اور ”خَرَاجُ الْأَرْضِ“ کہتے ہیں، اور یہ کسی چیز کی طرف اضافت اور نسبت کرنا یہ سبب ہونے کی دلیل ہے بھئی۔ نیز یہ بھی آپ کو صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ عشر اور خراج جب ادا کیا جائے تو اس مال کے اندر تجارت والی زکوٰۃ نہیں آئے گی۔ ایک زمین کسی نے تجارت کی نیت سے خریدی کہ اس کو آگے بیچ کر نفع کمائے گا، تو یہ زمین خراجی یا عشری ہے تو خراج اور عشر جب ادا کیا جا رہا ہے تو اب وہ مالِ تجارت والی زکوٰۃ وہ جو سال کے گزرنے پر ادا کی جاتی ہے وہ اس کے اندر واجب نہیں ہو گی بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ خراج کے اندر تکرار نہیں ہے یعنی زمین سے سال میں کئی فصلیں حاصل ہوئیں تو اس کا یہ معنیٰ نہیں ہے کہ کئی مرتبہ خراج وصول کیا جائے گا بلکہ خراج ایک ہی مرتبہ وصول کیا جائے گا پورے سال میں، چاہے سال کے اندر زمین سے جتنی بھی فصلیں حاصل کی جائیں بھئی۔ اور اس کے بعد ہم نے جزیہ کے بارے میں پڑھنا شروع کیا تھا۔ صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ جزیہ دو قسم پر ہے: ایک وہ جزیہ ہے جو کفار کے ساتھ باہمی رضامندی اور صلح کے نتیجے میں مقرر کر لیا جائے، اور ایک وہ جزیہ ہے کہ امام کسی علاقے کو فتح کر لے اور ان پر جزیہ مقرر کرے۔ تو وہ جزیہ جو کفار کے ساتھ باہمی رضامندی کے ذریعے مقرر ہوا ہے تو اس کے اندر زیادتی جائز نہیں ہے، جو آپس میں طے ہوا ہے وہی وصول کیا جائے گا۔ جبکہ دوسرا جزیہ جو امام مقرر کرے گا اس علاقے والوں پر جس علاقے کو مسلمانوں نے قوتِ بازو سے فتح کیا ہے تو اس کے اندر مالدار جو ہو گا، جو خوب مالدار ہو گا اس سے سال بھر کے اڑتالیس درہم، اور جو متوسط درجے کا ہو گا اس سے سال بھر کے چوبیس درہم، اور جو کام کاج کرنے والا غریب شخص ہو گا اس سے سال بھر کے بارہ درہم وصول کیے جائیں گے بھئی۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں غریب اور امیر کا کوئی فرق نہیں کیا جائے گا بلکہ سب سے ایک دینار یا اس کے برابر کوئی چیز وصول کی جائے گی، کیونکہ حضور علیہ السلام نے حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جب یمن بھیجا تو ان سے فرمایا تھا کہ ان کے ہر بالغ مرد اور عورت سے ایک دینار یا اس کے برابر معافر کپڑا لینا۔ تو اس کے اندر حضور علیہ السلام نے امیر اور غریب کا کوئی فرق نہیں کیا۔ اور نیز اس لیے کیونکہ یہ جو جزیہ واجب ہوتا ہے یہ قتل کا بدل ہے، کیونکہ یہ کفار قتل کے مستحق ہو چکے تھے تو یہ قتل سے بدل ہو کر جزیہ واجب کیا جاتا ہے، اور قتل کے اندر تو امیر اور غریب سب برابر ہیں، لہٰذا ان سب پر برابری کے ساتھ جزیہ آئے گا بھئی۔ جبکہ ہم جواب دیتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سوادِ عراق والوں پر یہ جزیہ مقرر فرمایا جو ہم نے ذکر کر دیا کہ مالدار سے اڑتالیس درہم، متوسط آدمی سے چوبیس درہم اور غریب آدمی سے بارہ درہم لیے جاتے تھے سال بھر کے۔ اور پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے کے بعد حضرت عثمان غنی اور اسی طرح حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے زمانے میں بھی یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا بھئی، اور کسی ایک نے بھی اس کا انکار نہیں کیا، معلوم ہوا اس مقدار پر صحابہ کا اجماع ہو گیا۔ اور نیز اس لیے کیونکہ یہ جو خراج کفار پر واجب ہوتا ہے یہ اس وجہ سے کہ یہ جو ذمی ہیں یہ بھی مملکتِ اسلامیہ کے باشندے ہیں، ان پر بھی واجب تھا کہ وہ مملکت کا دفاع کریں اور غازیوں کی اپنی جان اور مال کے ذریعے مدد کریں، جیسے مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ غازیوں کی جان اور مال کے ذریعے مدد کریں۔ چنانچہ جو مالدار مسلمان ہوتا ہے وہ خود بھی اپنی سواری کو لے کر جہاد کے لیے نکلتا ہے اور اس کے ساتھ اس کے غلام وغیرہ بھی ہوتے ہیں، اور جو متوسط درجے کا مسلمان ہوتا ہے وہ اپنے گھوڑے اور اپنی جان کو لے کر جہاد کے لیے نکلتا ہے، اور جو غریب مسلمان ہوتا ہے وہ صرف اپنی ذات کو لے کر یعنی پیدل ہی جہاد کے لیے نکلتا ہے۔ تو معلوم ہوا کہ جو مملکتِ اسلامیہ کے باشندے ہیں وہ اپنی استطاعت کے مطابق مملکت کا دفاع کرتے ہیں اور غازیوں کی مدد کرتے ہیں۔ لیکن یہ جو ذمی ہیں ان کو ہم لڑائی کے اندر نہیں بلاتے، وجہ یہ ہے کہ یہ ذمی بھی کافر ہیں اور جن سے ہماری لڑائی ہو رہی ہے وہ بھی کافر ہیں، تو ظاہر سی بات ہے کہ ان ذمیوں کا میلان اور جھکاؤ ان کافروں کی طرف ہو گا، تو لہٰذا یہ اپنی جان کے ساتھ لڑائی میں حصہ لیں یہ تو ان پر لازم نہیں ہے، تو اس جان اور مال کی لڑائی کے بدلے ان پر صرف مال کو لازم کر دیا گیا کہ یہ اپنے مال کے ساتھ مملکتِ اسلامیہ کا دفاع کریں اور غازیوں کی مدد کریں۔ اور یہ مال جس کے ساتھ مدد کی جاتی ہے غازیوں کی یہ تو آدمی کی حیثیت کے مطابق مختلف ہوتا ہے، لہٰذا ذمیوں پر جزیہ بھی ان کی حیثیت کے مطابق مختلف ہو گا، سب پر ایک جیسا جزیہ نہیں ہو گا بھئی۔ اور جو امام شافعی رحمہ اللہ نے حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث ذکر کی، اس کا ہم جواب دیتے ہیں کہ وہ حدیث صلح پر محمول ہے کہ وہ جو ان سے یمن والوں سے مال وصول کیا جا رہا تھا وہ بطورِ صلح کے تھا، اور اس کی دلیل خود حدیث کے اندر موجود ہے کہ حضور علیہ السلام نے بالغ مرد کے ساتھ بالغ عورت کو بھی ذکر فرمایا، حالانکہ بالاتفاق عورتوں پر جزیہ نہیں آتا۔ معلوم ہوا یہ مال بطورِ صلح کے تھا، اور بطورِ صلح کے جو مال ہو وہ تو عورت پر بھی واجب کیا جا سکتا ہے بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے ان لوگوں کو ذکر فرمایا جن پر جزیہ مقرر کیا جا سکتا ہے۔ صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ چاہے اہلِ کتاب ہوں، چاہے مجوسی ہوں، چاہے بت پرست ہوں، ان تمام سے جزیہ وصول کیا جا سکتا ہے۔ البتہ عرب کے جو بت پرست ہیں، عرب کے جو مشرکین ہیں یا جو مرتد ہیں، ان سے جزیہ وصول نہیں کیا جا سکتا، ان سے صرف اسلام یا تلوار کے ذریعے ہی فیصلہ کیا جائے گا بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ جو جزیہ ہے یہ صرف بالغ مردوں پر آئے گا یعنی وہ لوگ جو جنگ کے قابل ہیں، چنانچہ اسی لیے عورتوں اور بچوں پر جزیہ نہیں آئے گا کہ وہ جنگ کے قابل نہیں ہیں۔ اور اسی طرح اگر کوئی اپاہج ہے یا اندھا ہے، معذور ہے یا بہت بوڑھا ہے تو ان پر بھی جزیہ واجب نہیں ہو گا، جزیہ واجب نہیں ہو گا۔ اور اگر ذمیوں کے کوئی غلام ہیں مثلاً عام غلام ہیں یا مکاتب ہیں ان کے یا مدبر وغیرہ تو ان پر بھی جزیہ مقرر نہیں کیا جائے گا، اس لیے کیونکہ ان غلاموں کی وجہ سے ہی تو ان کو مالداروں میں شمار کیا جائے گا اور ان سے زیادہ جزیہ وصول کیا جائے گا، تو ان غلاموں کی وجہ سے جب ایک مرتبہ زیادہ جزیہ وصول کیا جا رہا ہے تو ان غلاموں پر اب جزیہ واجب نہیں کیا جائے گا ورنہ تو ایک ہی چیز کی وجہ سے دو مرتبہ جزیہ کا وصول کرنا پایا جائے گا اور یہ تو جائز نہیں ہے بھئی۔ اور صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ ذمیوں کے جو راہب ہیں جو لوگوں سے ملتے جلتے نہیں اور لوگوں سے الگ تھلگ جو ہے عبادت میں مصروف رہتے ہیں ان پر جزیہ نہیں آئے گا، تو یہ تو ظاہرِ روایت کے اندر آیا کہ ان راہبوں پر جزیہ نہیں آئے گا۔ لیکن امام محمد رحمہ اللہ امام صاحب سے روایت کرتے ہیں اور اسی طرح امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا بھی یہ قول ہے کہ ان راہبوں پر بھی جزیہ مقرر کیا جائے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ ان ذمیوں میں سے کوئی مسلمان ہو جائے اور اس پر جزیہ واجب ہو چکا ہے تو وہ جزیہ ساقط ہو جائے گا۔ وہ جزیہ ساقط ہو جائے گا، کیونکہ اب جزیہ کی وصولی ممکن نہ رہی کیونکہ جزیہ کی وصولی کے اندر اذلال ہے، اس شخص کو ذلیل کرنا ہے، اور مسلمان کی تو عزت کرنے کا حکم دیا گیا ہے، لہٰذا مسلمان سے جزیہ وصول کرنا ممکن نہ رہا۔ اسی طرح اگر سال گزر گیا اور ذمی پر جزیہ واجب ہو گیا لیکن اس سے پہلے ہی اس کا انتقال ہو گیا تو اس صورت میں بھی جزیہ ساقط ہو جائے گا اور اس کے ترکے میں سے یہ جزیہ وصول نہیں کیا جائے گا۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کوئی ذمی مسلمان ہو جائے یا مر جائے پھر بھی جو جزیہ اس پر واجب ہو چکا ہے وہ وصول کیا جائے گا، اس لیے کیونکہ یہ جزیہ بدل ہے اس کی عصمت کا، کیونکہ اس کی جان کی ہم نے حفاظت کی اس کو نقصان نہیں پہنچایا، یا یہ بدلہ ہے اس کی دار الاسلام کے اندر رہائش کا۔ تو یہ جو جزیہ ہے یہ عصمت کا بدل ہوتا ہے یا دار الاسلام میں رہائش کا بدلہ ہوتا ہے، اور جب ایک سال گزر گیا اور اس کی جان محفوظ رہی تو اس نے معوَّض وصول کر لیا، یا ایک سال گزر گیا اور اس کی رہائش دار الاسلام میں تھی تو اس نے معوَّض یعنی رہائش وصول کر لی، تو جب اس نے معوَّض وصول کر لیا ہے تو اب اس کا عوض جزیہ بھی اسے ادا کرنا پڑے گا۔ جبکہ ہم کہتے ہیں کہ حدیث میں آتا ہے: ”لَيْسَ عَلَى مُسْلِمٍ جِزْيَةٌ“، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مسلمان پر جزیہ نہیں ہے بھئی۔ اور نیز ہم کہتے ہیں یہ جو جزیہ ہے یہ بدلِ معاوضہ نہیں ہے بلکہ یہ بطورِ سزا کے کافروں پر واجب کیا گیا ہے۔ بطورِ سزا کے، اور اسی لیے اس کو جزیہ کہتے ہیں، جزیہ اور جزا کا معنیٰ ہے بدلہ اور سزا، تو یہ بھی بطورِ سزا کے واجب کیا گیا ہے اسی لیے اس کو جزیہ کہتے ہیں۔ اور کفر کی وجہ سے وہ جس سزا کا مستحق تھا جب یہ اسلام لے آیا تو وہ سزا ساقط ہو جائے گی، لہٰذا جزیہ بھی ساقط ہو جائے گا۔ اور نیز سزا جو ہے موت کے بعد نہیں دی جاتی، اگر کسی شخص پر حد واجب ہے لیکن حد نافذ کرنے سے پہلے اس کا انتقال ہو جائے تو مرنے کے بعد اس کو سزا نہیں دی جاتی، تو لہٰذا اگر ذمی پر جزیہ واجب ہے اور وہ مسلمان ہو جائے یا اس کا انتقال ہو جائے تو وہ جزیہ ساقط ہو جائے گا۔ اور نیز اس لیے کیونکہ جزیہ جو ہے یہ نصرت کا بدل تھا، یہ ان کی نصرت کا بدل تھا، اور جب یہ اسلام لے آیا تو اب یہ اپنی جان اور مال کے ساتھ نصرت پر قادر ہو گیا، تو جب یہ اصل پر قادر ہو گیا تو اب بدل یعنی جزیہ واجب نہیں ہو گا بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ اگر دو سالوں کا جزیہ جمع ہو گیا تو اس میں تداخل ہو جائے گا، چاہے دو سال ہوں یا دو سال سے زیادہ، یہ امام صاحب کے نزدیک ہے۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ جزیے کے اندر تداخل نہیں ہو گا، گزشتہ تمام سالوں کا جزیہ بھی وصول کیا جائے گا بھئی، اور یہی قول ہے امام شافعی رحمہ اللہ کا بھئی۔ کیونکہ صاحبین اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو جزیہ ہے عصمت یا رہائش کا بدل ہے جیسے پیچھے امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل گزر گئی، اور جب یہ شخص معوَّض وصول کر چکا ہے تو عوض بھی اس پر لازم ہو چکا ہے بھئی۔ جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ نہیں، یہ جو جزیہ ہے یہ بطورِ سزا کے ہے اور جب ایک شخص کے اندر کئی سزائیں جمع ہو جائیں تو ان سزاؤں میں تداخل ہو جاتا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور نیز اس لیے کیونکہ یہ جو جزیہ واجب ہوا ہے یہ ان کے حق میں کفار کے حق میں ان کے قتل سے بدل ہے اور مسلمانوں کے حق میں یہ ان کی مدد سے بدل ہے، تو یہ قتل سے بدل ہے لیکن مستقبل کے اعتبار سے یا یہ مدد سے بدل ہے لیکن مستقبل کے اعتبار سے، کیونکہ ماضی تو گزر چکا ہے ماضی کے اندر تو اب ان کفار کو عصمت کی حاجت نہیں اور نہ ہمیں ماضی کے اندر مدد کی حاجت ہے، مدد کی حاجت بھی مستقبل میں ہو گی اور عصمت کی ضرورت بھی ان ذمیوں کو مستقبل میں ہو گی، لہٰذا جب سال گزر گیا اگلا سال آ گیا تو گزشتہ جزیہ ساقط ہو جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اب آئیے آج کے سبق پر: فَصْلٌ: ”وَلَا يَجُوزُ إِحْدَاثُ بِيعَةٍ وَلَا كَنِيسَةٍ فِي دَارِ الْإِسْلَامِ“ اب یہاں سے ذکر کر رہے ہیں ذمیوں کے احکام بھئی کہ ذمیوں کے لیے کیا چیزیں کرنا دار الاسلام میں جائز ہیں اور دار الاسلام میں ان پر کیا پابندیاں ہوں گی بھئی۔ تو آپ کو بتلائیں گے کہ ذمی جو ہیں دار الاسلام کے اندر اپنی نئی عبادت گاہ نہیں بنا سکتے۔ ہاں البتہ اگر ان کی پرانی عبادت گاہ گر گئی ہے تو اس کی وہ دوبارہ تعمیر کر سکتے ہیں بھئی۔ اور نیز ذمیوں پر پابندی لگائی جائے گی کہ وہ اپنی وضع قطع اور لباس اور سواریوں وغیرہ کے اندر مسلمانوں سے امتیاز رکھیں گے، یعنی ایسی علامتوں کا ان کو پابند کیا جائے گا جس سے دیکھنے والے کو فوراً پتہ چل جائے کہ یہ مسلمان نہیں ہے یہ غیر مسلم ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا يَجُوزُ إِحْدَاثُ بِيعَةٍ وَلَا كَنِيسَةٍ فِي دَارِ الْإِسْلَامِ“، بِيعَة بھئی، بِيعَة اس کی جمع آتی ہے بِیَع بھئی، اور اسی طرح كَنِيسَة بھئی اس کی جمع آتی ہے كَنَائِس بھئی۔ اور یہ بیعہ اور کنیسہ یہ یہودیوں اور عیسائیوں کی عبادت گاہوں کو کہتے ہیں۔ یہ بیعہ اور کنیسہ یہودیوں اور عیسائیوں کی عبادت گاہ کو کہتے ہیں، یعنی دونوں کے لیے دونوں لفظ استعمال کیے جاتے تھے۔ یہودیوں کی عبادت گاہ کو بیعہ بھی کہہ دیتے اور کنیسہ بھی، اسی طرح عیسائیوں کی عبادت گاہ کو بھی بیعہ بھی کہہ دیتے اور کنیسہ بھی۔ لیکن پھر بعد میں یہ جو بیعہ ہے، یہ بیعہ کا لفظ خاص ہو گیا عیسائیوں کی عبادت گاہ کے ساتھ، اور کنیسہ کا لفظ خاص ہو گیا یہودیوں کی عبادت گاہ کے ساتھ بھئی۔ تو بہرحال یہ دونوں لفظ ان کی عبادت گاہوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا يَجُوزُ إِحْدَاثُ بِيعَةٍ وَلَا كَنِيسَةٍ فِي دَارِ الْإِسْلَامِ“، أَحْدَثَ يُحْدِثُ إِحْدَاث کا معنیٰ ہے کسی چیز کو وجود دینا، یعنی مراد ہے نیا بنانا، یعنی یہودیوں اور عیسائیوں کو نئی عبادت گاہ بنانے کی اجازت نہیں ہو گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا يَجُوزُ إِحْدَاثُ بِيعَةٍ وَلَا كَنِيسَةٍ فِي دَارِ الْإِسْلَامِ“، اور جائز نہیں ہے نئے بیعہ اور کنیسہ کو بنانا دار الاسلام میں۔ ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ“، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانِ مبارک کی وجہ سے کہ آپ نے فرمایا: ”لَا خِصَاءَ فِي الْإِسْلَامِ وَلَا كَنِيسَةَ“، خَصَى يَخْصِي خِصَاءً کا معنیٰ ہے کسی کو خصی بنانا اس کو نامرد بنانا۔ تو حدیث میں آیا ہے: ”لَا خِصَاءَ فِي الْإِسْلَامِ“، کہ اسلام کے اندر خصی بنانا نہیں ہے، ”وَلَا كَنِيسَةَ“، اور نہ کنیسہ بنانا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرما رہے ہیں کہ ”لَا خِصَاءَ فِي الْإِسْلَامِ وَلَا كَنِيسَةَ“، کہ اسلام کے اندر نہ تو نامرد بنانا ہے اور نہ نہ کنیسہ یعنی یہودیوں عیسائیوں کی عبادت گاہ بنانا۔ یعنی اسلام کے اندر کسی کو خصی بنانا بھی جائز نہیں اور اسی طرح یہودیوں یا عیسائیوں کی نئی عبادت گاہ بنانا بھی جائز نہیں ہے بھئی۔ تو یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ حدیث میں آیا ”لَا خِصَاءَ فِي الْإِسْلَامِ وَلَا كَنِيسَةَ“، خصی بنانے کی بھی نفی کی گئی اور یہودیوں اور عیسائیوں کی عبادت گاہ بنانے کی بھی نفی کی گئی، تو ان دونوں میں کیا مناسبت ہے کہ ان دونوں کو حدیث میں جمع کیا گیا؟ ایک طرف ہے خصی کرنا یعنی نامرد بنانا اور ایک طرف ہے کنیسہ بنانا۔ تو بعض علماء نے پھر اس کا جواب دیا کہ جس طرح خصی بنانا یعنی نامرد بنانا یہ انسان کے اندر ایک قسم کا ضعف اور کمزوری ہے، اسی طرح دار الاسلام کے اندر نیا بیعہ یا کنیسہ بنانا یہ بھی کیا ہے، دار الاسلام کے لیے ایک نوع کا ضعف اور کمزوری ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ جبکہ بعض علماء نے اور جواب دیا، وہ فرماتے ہیں کہ یہ جواب بھی دیا جا سکتا ہے، یوں بھی کہا جا سکتا ہے ممکن ہو کسی شخص نے اتفاقاً حضور سے پوچھا ہو کہ اسلام میں کسی کو خصی بنانے کا کیا حکم ہے، کیا یہ جائز ہے یا جائز نہیں، اور عین اسی موقع پر ایک اور شخص نے یہ سوال کر لیا ہو کہ مملکتِ اسلامیہ کے اندر یہودیوں اور عیسائیوں کو نئی عبادت گاہ بنانے کی اجازت ہو گی یا نہیں، تو حضور علیہ السلام نے دونوں کا اکٹھا ہی جواب دیا ہو، یہ بھی ممکن ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ لَا خِصَاءَ فِي الْإِسْلَامِ وَلَا كَنِيسَةَ“، کہ اسلام کے اندر نامرد بنانا اور کنیسہ بنانا نہیں ہے، ”وَالْمُرَادُ إِحْدَاثُهَا“، صاحبِ ہدایہ حدیث کی مراد اور معنیٰ بیان فرما رہے ہیں، یہاں تو کنیسہ کی نفی آئی، اسلام میں کنیسہ نہیں ہے، معنیٰ یہ ہے کہ نئی بنانا، اسلام میں یہودیوں اور عیسائیوں کی نئی عبادت گاہ بنانا نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْمُرَادُ إِحْدَاثُهَا“، اور مراد جو ہے نیا کنیسہ بنانا ہے، ”وَإِنْ انْهَدَمَتْ الْبِيَعُ وَالْكَنَائِسُ الْقَدِيمَةُ أَعَادُوهَا“، اور اگر پرانے بیعے اور کنیسے وہ گر گئے ”أَعَادُوهَا“ تو وہ اس کو لوٹا سکتے ہیں یعنی پھر اس کو دوبارہ بنا سکتے ہیں، ”لِأَنَّ الْأَبْنِيَةَ لَا تَبْقَى دَائِمَةً“، اس لیے کیونکہ عمارتیں جو ہیں وہ ہمیشہ باقی نہیں رہتیں، تو جو بنے ہوئے ہیں انہی کی وہ دوبارہ تعمیر کر سکتے ہیں بھئی۔ ”وَلَمَّا أَقَرَّهُمْ الْإِمَامُ“، اور نیز اس لیے کہ جب امام نے ان کو برقرار رکھا یعنی دار الاسلام میں، تو کہتے ہیں: ”وَلَمَّا أَقَرَّهُمْ الْإِمَامُ“، اور نیز اس لیے کیونکہ جب امام نے انہیں دار الاسلام میں برقرار رکھا، ”فَقَدْ عَهِدَ إِلَيْهِمْ الْإِعَادَةَ“، تو تحقیق امام نے ان کو عہد دے دیا ان عبادت گاہوں کے لوٹانے کا۔ جب امام نے ان کو یہاں رہنے کی اجازت دی ہے تو گویا امام نے ان کو عہد دے دیا ہے کہ اگر گریں تو تم دوبارہ ان کو بنا سکتے ہو۔ ”إِلَّا أَنَّهُمْ لَا يُمَكَّنُونَ مِنْ نَقْلِهَا“، مگر یہ کہ انہیں قدرت نہیں دی جائے گی ”مِنْ نَقْلِهَا“ ان کو منتقل کرنے کی، کہ ایک جگہ سے بیعہ گرا کر دوسری جگہ بنا لیں اس کی اجازت نہیں دی جائے گی، کیونکہ دوسری جگہ پر جب وہ بنائیں گے تو وہ بھی حقیقت کے اعتبار سے نیا ہی بنا رہے ہیں اور نیا گرجا بنانے کی تو اجازت نہیں ہو گی۔ تو کہتے ہیں: ”إِلَّا أَنَّهُمْ لَا يُمَكَّنُونَ مِنْ نَقْلِهَا“، مگر یہ کہ ان کو قدرت نہیں دی جائے گی اس بیعہ یا کنیسہ کو منتقل کرنے کی، ”لِأَنَّهُ إِحْدَاثٌ فِي الْحَقِيقَةِ“، اس لیے کیونکہ منتقل کرنا یہ بھی حقیقت میں نیا بنانا ہے، ”وَالصَّوْمَعَةُ لِلتَّخَلِّي فِيهَا بِمَنْزِلَةِ الْبِيعَةِ“، صَوْمَعَة بھئی ص کے ساتھ ہے، صومعہ کہتے ہیں وہ راہب کا چھوٹا سا کمرہ یا چھوٹا سا عبادت خانہ جس کے اندر وہ لوگوں سے الگ تھلگ رہ کر عبادت کیا کرتا تھا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ صومعہ، یعنی راہب کا عبادت خانہ۔ توجہ ہے؟ تو وہ چھوٹا سا کمرہ وغیرہ ہوتا جس میں وہ لوگوں سے الگ تھلگ رہ کر عبادت میں مصروف رہتے تھے بھئی۔ تو کہتے ہیں کیا صومعہ ان کو بنانے کی اجازت ہو گی؟ کہتے ہیں نہیں، صومعہ بھی جو ہے بیعہ کے درجے میں ہے۔ عبادت گاہ کے درجے میں ہے لہٰذا نیا صومعہ بنانے کی بھی اجازت نہیں ہو گی۔ کہتے ہیں: ”وَالصَّوْمَعَةُ لِلتَّخَلِّي فِيهَا“، تَخَلِّي کا معنیٰ ہے خلوت اختیار کرنا، کہتے ہیں: ”وَالصَّوْمَعَةُ لِلتَّخَلِّي فِيهَا بِمَنْزِلَةِ الْبِيعَةِ“، اور وہ صومعہ جو خلوت اختیار کرنے کے لیے ہوتا ہے وہ بھی بیعہ کے درجے میں ہے لہٰذا اس کی بھی اجازت نہیں ہو گی۔ ”بِخِلَافِ مَوْضِعِ الصَّلَاةِ فِي الْبَيْتِ“، بخلاف نماز کی جگہ کے کمرے کے اندر، ہاں اگر وہ اپنے گھر یا کمرے کے اندر عبادت کی کوئی جگہ مختص کرنا چاہتے ہیں تو کہتے ہیں ہاں اس کی ان کو اجازت ہو گی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ مَوْضِعِ الصَّلَاةِ فِي الْبَيْتِ“، بخلاف نماز کی جگہ کے فی البیت کمرے کے اندر، ”لِأَنَّهُ تَبَعٌ لِلسُّكْنَى“، اس لیے کیونکہ یہ تو رہائش کے تابع ہوتی ہے۔ اگر وہ عبادت کی جگہ بنا بھی لیں وہ کس کے تابع ہے؟ رہائش کے تابع ہے، اس کو رہائش ہی سمجھا جائے گا، کوئی الگ عبادت خانہ نہیں سمجھا جائے گا، تو وہ رہائش کے تابع ہی ہے۔ ”وَهَذَا فِي الْأَمْصَارِ دُونَ الْقُرَى“، اور یہ شہروں میں ہے نہ کہ بستیوں میں۔ یہ جو حکم ہم نے بیان کیا کہ نیا بیعہ اور نیا کنیسہ نہیں بنا سکتے، یہ شہروں کا حکم ہے دیہات اور چھوٹی بستیوں کا حکم نہیں، وہاں پر وہ نیا بیعہ وغیرہ بنا سکتے ہیں۔ وجہ یہ آپ کو بتلائیں گے کیونکہ شہر جو ہیں وہاں پر اسلامی شعائر کو قائم کیا جاتا ہے۔ یاد رکھو، شعائر جمع ہے شعیرہ کی، اور شعیرہ کہتے ہیں علامت کو۔ تو شعائرِ اسلام، اسلام کی وہ عبادات جن کا اللہ نے حکم دیا ہے بطورِ علامت کے بھئی، جیسے دیکھو مسلمان باجماعت نماز ادا کرتے ہیں، اس کے ذریعے مسلمان اور کافر میں فرق ہوتا ہے۔ اسی طرح مسلمان جو ہے سارے اکٹھے ہو کر نمازِ جمعہ ادا کرتے ہیں، اس کے ذریعے دیکھو کافر اور مسلمان میں فرق ہو جاتا ہے۔ اسی طرح اذان دی جاتی ہے، تو اذان جو ہے اس سے پتہ چل جاتا ہے کہ اس بستی کے اندر مسلمان موجود ہیں۔ اسی طرح عیدوں کی جو نماز ہے اس کے ذریعے کافر اور مسلمان میں فرق ہو جاتا ہے، یا اسی طرح حج ہے یا اسی طرح حدود قائم کی جاتی ہیں سزا اسلامی سزائیں نافذ کی جاتی ہیں، یہ سب کیا ہیں؟ اسلامی شعائر ہیں، اسلام کی اور مسلمانوں کی علامتیں ہیں۔ تو شہر کے اندر اسلام اور مسلمانوں کی علامتیں ہوتی ہیں لہٰذا وہاں پر یہودیوں کو اور عیسائیوں کو اپنی عبادت گاہیں بنانے کی اجازت نہیں ہو گی ورنہ تو یہ وہ اسلامی علامتوں کے مقابل ہو جائیں گی۔ وہ جو شعائرِ اسلام ہیں یہ ان کے مقابل ہو جائیں گی بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ لیکن دیہات کے اندر چونکہ جمعہ وغیرہ عموماً نہیں ہوتا، وہاں حدود وغیرہ قائم نہیں کی جاتیں، عیدین کی نمازیں وغیرہ نہیں ہوتیں، تو لہٰذا وہاں پر وہ اگر اپنی عبادت گاہیں بنائیں بھی تو بھی وہ شعائرِ اسلام کے مقابل نہیں ہوں گی بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَهَذَا فِي الْأَمْصَارِ دُونَ الْقُرَى“، اور یہ شہروں میں ہو گا نہ کہ بستیوں کے اندر، ”لِأَنَّ الْأَمْصَارَ هِيَ الَّتِي تُقَامُ فِيهَا الشَّعَائِرُ“، اس لیے کیونکہ وہ شہر ہی ہیں جہاں پر شعائرِ اسلام کو قائم کیا جاتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ شعائر جمع ہے شعیرہ کی اور شعیرہ کا معنیٰ ہے علامت، تو وہ عبادات وغیرہ جو اللہ نے بطورِ علامت کے کرنے کا حکم دیا ہے یعنی جس کے ذریعے کفار اور مسلمانوں میں فرق ہو جاتا ہے بھئی، مسلمان جو ہیں کفار سے جدا معلوم ہوتے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْأَمْصَارَ هِيَ الَّتِي تُقَامُ فِيهَا الشَّعَائِرُ“، اس لیے کیونکہ وہ شہر ہی ہیں کہ جن کے اندر شعائر کو قائم کیا جاتا ہے، ”فَلَا تَعَارُضَ بِإِظْهَارِ مَا يُخَالِفُهَا“، لہٰذا کوئی تعارض نہیں ہو گا اس چیز کے اظہار سے جو شعائرِ اسلام کے مخالف ہے۔ یہ دلیل دے رہے ہیں نا، بستیوں میں اجازت ہے۔ تو بستیوں میں اب جب وہ کفار اپنی عبادت گاہیں بنائیں گے تو یہ شعائرِ اسلام کے خلاف ایک چیز کا اظہار ہو رہا ہے، لیکن یہاں تعارض نہیں آئے گا کیونکہ شعائرِ اسلام عام طور پر شہروں میں قائم کی جاتی ہیں بھئی۔ تو یہ معنیٰ ہے ”فَلَا تَعَارُضَ بِإِظْهَارِ مَا يُخَالِفُهَا“، تو بستیوں کے اندر کوئی تعارض نہیں ہو گا شعائرِ اسلام کی مخالفت کے اظہار کی وجہ سے۔ ”وَقِيلَ فِي دِيَارِنَا يُمْنَعُونَ مِنْ ذَلِكَ فِي الْقُرَى أَيْضًا“، اور کہا گیا ہے، یاد رکھو اس کے قائل ہیں علامہ سرخسی رحمہ اللہ۔ علامہ سرخسی رحمہ اللہ جو بہت بڑے فقیہ گزرے ہیں فقہائے احناف میں سے، وہ فرماتے ہیں: ”فِي دِيَارِنَا يُمْنَعُونَ مِنْ ذَلِكَ فِي الْقُرَى أَيْضًا“، کہ ہمارے علاقوں کے اندر بستیوں کے اندر بھی نئے بیعہ اور کنیسہ بنانے سے منع کیا جائے گا، اس لیے کیونکہ ہمارے دیہات اور بستیوں کے اندر بھی بعض شعائرِ اسلام موجود ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَقِيلَ فِي دِيَارِنَا يُمْنَعُونَ مِنْ ذَلِكَ فِي الْقُرَى أَيْضًا“، اور کہا گیا ہے کہ ہمارے علاقوں میں، ہمارے وطنوں میں بستیوں کے اندر بھی ایسا کرنے سے منع کیا جائے گا، ”لِأَنَّ فِيهَا بَعْضَ الشَّعَائِرِ“، اس لیے کیونکہ بستیوں کے اندر بھی یہاں بعض شعائر موجود ہیں۔ ”وَالْمَرْوِيُّ عَنْ صَاحِبِ الْمَذْهَبِ“، اور وہ جس کو روایت کیا گیا ہے صاحبِ مذہب سے یعنی امام صاحب سے، یہ جو پیچھے بتایا تھا ”وَهَذَا فِي الْأَمْصَارِ دُونَ الْقُرَى“، یہ شہروں کا حکم ہے نہ کہ دیہاتوں کا اور بستیوں کا، کہتے ہیں یہ امام صاحب کی روایت ہے۔ یہ کس کی روایت ہے؟ امام صاحب کی، اور ان کا یہ قول کوفہ کی بستیوں کے بارے میں تھا کیونکہ کوفہ کے ارد گرد کی بستیوں میں ذمی آباد تھے بھئی، ان کی کثرت تھی، تو اس لیے انہوں نے اجازت دی کہ دیہات کے اندر وہ اپنا نیا عبادت خانہ بنا سکتے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْمَرْوِيُّ“، اور وہ جس کو روایت کیا گیا ”عَنْ صَاحِبِ الْمَذْهَبِ فِي قُرَى الْكُوفَةِ“، صاحبِ مذہب سے یعنی امام صاحب سے فی قری الکوفۃ، وہ کوفہ کی بستیوں کے بارے میں ہے، ”لِأَنَّ أَكْثَرَ أَهْلِهَا أَهْلُ الذِّمَّةِ“، اس لیے کیونکہ کوفہ کی بستیوں کے اکثر رہنے والے جو تھے اہلِ ذمہ وہ ذمی تھے، ”وَفِي أَرْضِ الْعَرَبِ يُمْنَعُونَ مِنْ ذَلِكَ فِي أَمْصَارِهَا وَقُرَاهَا“، اور عرب کی سرزمین میں ان کو اس بات سے منع کیا جائے گا سرزمینِ عرب کے شہروں اور بستیوں دونوں سے۔ یعنی عرب کے اندر چاہے شہر ہوں چاہے دیہات ہوں وہاں کسی بھی جگہ نئے بیعہ اور کنیسہ بنانے کی اجازت نہیں ہو گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَفِي أَرْضِ الْعَرَبِ يُمْنَعُونَ مِنْ ذَلِكَ“، اور عرب کی سرزمین کے اندر ان کو ان چیزوں سے منع کیا جائے گا ”فِي أَمْصَارِهَا وَقُرَاهَا“ ان کے شہروں میں بھی اور ان کی بستیوں میں بھی، ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ“، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قولِ مبارک کی وجہ سے کہ آپ نے فرمایا: ”لَا يَجْتَمِعُ دِينَانِ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ“، کہ دو دین جمع نہیں ہو سکتے جزیرۂ عرب میں۔ ”لَا يَجْتَمِعُ دِينَانِ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ“، دو دین جمع نہیں ہو سکتے جزیرۂ عرب کے اندر۔ یہ جزیرۂ عرب سے کیا مراد ہے؟ تو بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ یہاں جزیرۂ عرب سے مراد مدینہ منورہ ہے۔ اور جبکہ بعضوں نے کہا حجاز اور یمن یہ سارا علاقہ مراد ہے۔ یاد رکھو حجاز عرب کا ایک بہت بڑا علاقہ ہے اور مکہ اور مدینہ دونوں اسی کے اندر آتے ہیں، اور نیز اسی طرح یمن، تو بعض علماء کیا فرماتے ہیں کہ جزیرۃ العرب سے مدینہ مراد ہے، بعض کہتے ہیں نہیں اس سے مراد حجاز اور یمن یہ سارا علاقہ مراد ہے۔ جبکہ بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ جزیرۂ عرب سے مراد جو ہے عدن سے لے کر عراق تک یہ سارا علاقہ اور اسی طرح جدہ کے ساحل سے لے کر شام کی سرحد تک یہ سارا علاقہ مراد ہے بھئی۔ تو حضور نے فرمایا: ”لَا يَجْتَمِعُ دِينَانِ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ“، کہ دو دین جمع نہیں ہو سکتے جزیرۂ عرب کے اندر۔ اور نیز اسی طرح یاد رکھو روایات میں آتا ہے حضور علیہ السلام نے مرض الموت میں بھی یہ وصیت فرمائی تھی کہ ”أَخْرِجُوا الْمُشْرِكِينَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ“، کہ مشرکین کو جزیرۃ العرب سے نکال دو بھئی۔ آگے دیکھیے: ”قَالَ: وَيُؤْخَذُ أَهْلُ الذِّمَّةِ بِالتَّمْيِيزِ عَنْ الْمُسْلِمِينَ فِي زِيِّهِمْ وَمَرَاكِبِهِمْ وَسُرُوجِهِمْ وَقَلَانِسِهِمْ“، ”قَالَ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَيُؤْخَذُ أَهْلُ الذِّمَّةِ“، أَخَذَ يَأْخُذُ کا ایک معنیٰ ہوتا ہے پابند کرنا، کسی پر پابندی لگانا، تو ”قَالَ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں ”وَيُؤْخَذُ أَهْلُ الذِّمَّةِ“ کہ اہلِ ذمہ پر پابندی لگائی جائے گی ”بِالتَّمْيِيزِ عَنْ الْمُسْلِمِينَ“ مسلمانوں سے فرق اور امتیاز کی، کہ یہ مسلمانوں سے اپنا فرق رکھیں گے، اپنا امتیاز رکھیں گے، ایسی نشانیاں رکھیں گے جس سے یہ فوراً پہچانے جائیں کہ یہ غیر مسلم ہیں بھئی۔ تو ”قَالَ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَيُؤْخَذُ أَهْلُ الذِّمَّةِ بِالتَّمْيِيزِ عَنْ الْمُسْلِمِينَ“، اور اہلِ ذمہ کو مسلمانوں سے فرق اور امتیاز کا پابند کیا جائے گا ”فِي زِيِّهِمْ“، زِيٌّ، ز ہے اور ی مشدد ہے، زِيٌّ یاد رکھو یہ کہتے ہیں لباس اور وضع قطع یعنی آدمی کا جو حلیہ ہے، لباس اور وضع قطع۔ کہتے ہیں ان کو پابند کیا جائے گا کہ مسلمانوں سے فرق اور امتیاز رکھیں گے ”فِي زِيِّهِمْ“ اپنے وضع قطع کے اندر، اپنے لباس کے اندر، ”وَمَرَاكِبِهِمْ“ اور اپنی سواریوں کے اندر، مراکب جمع ہے مرکب کی اور یہ سواری کو کہتے ہیں، ”وَمَرَاكِبِهِمْ“ اور اپنی سواریوں کے اندر، ”وَسُرُوجِهِمْ“ اور اپنی زینوں کے اندر، سروج جمع ہے سرج کی اور سرج آپ جانتے ہیں گھوڑے کے اوپر وہ جو زین لادی جاتی ہے اس پر بیٹھنے کے لیے، تو کہتے ہیں ”وَسُرُوجِهِمْ“ اور یہ فرق رکھیں گے اپنی زینوں کے اندر، ”وَقَلَانِسِهِمْ“، قلانس جمع ہے قلنسوۃ کی اور قلنسوہ ٹوپی کو کہتے ہیں، اور یہ فرق رکھیں گے اپنی ٹوپیوں کے اندر۔ توجہ ہے؟ یعنی ان کا وضع قطع بھی مسلمانوں سے الگ ہونی چاہیے، ان کی سواریاں بھی... بھی مسلمانوں سے الگ ہونی چاہئیں، ان کی جو زین ہوتی ہے جو جانور پر رکھی جاتی ہے وہ بھی ان کی الگ ہونی چاہیے، وَقَلَانِسِهِمْ اور ان کی ٹوپیاں بھی مسلمانوں سے الگ ہونی چاہئیں۔ تو کہتے ہیں: فَلَا يَرْكَبُونَ الْخَيْلَ تو یہ گھوڑے پر سوار نہیں ہو سکتے۔ جی۔ یاد رکھو ذمی کو مملکتِ اسلامیہ کے اندر اس کو وہ حلیہ اور وہ چیز اختیار کرنے کی اجازت نہیں ہوگی جو معزز لوگوں کا شعار ہوتا ہے۔ جی۔ تاکہ یہ مجبور ہوں اسلام کی طرف آنے پر۔ وہ اسلام جس کا فائدہ انہی کو ہے، تو ان کو مسلمانوں جیسے عزت والے شعار اپنانے کی اجازت نہیں ہوگی، ان کو گھوڑے پر سوار ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔ یہ اسلحہ اٹھا کر نہیں چل سکتے۔ ہاں جی۔ کیونکہ اسلحہ اٹھا کر چلنا یہ بھی معزز اور بڑے آدمی ہونے کی علامت ہوتی ہے، اور اسی طرح یہ گدھے یا خچر پر بھی سوار ہوں گے تو اس پر جو ہے گھوڑے جیسی زین رکھ کر نہیں بیٹھ سکتے بلکہ گدھے کے اوپر ایک کپڑا ڈالا جاتا ہے خوب موٹا کپڑا اس پر بیٹھنے کے لیے، اس کو پالان کہتے ہیں۔ جیسے گھوڑے پر زین رکھی جاتی ہے بیٹھنے کے لیے اسی طرح گدھے پر ایک خوب موٹا کپڑا رکھا جاتا ہے گدھے کی کمر پر تاکہ اس کی کمر زخمی نہ ہو، اس کو پالان کہتے ہیں۔ تو گدھے یا خچر پر بھی یہ بیٹھیں گے تو پالان رکھ کر بیٹھیں گے یعنی ان کو زین استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ نیز یہ معزز لوگوں کی طرح کی اعلیٰ اور عمدہ جو ہیں ان جیسے لباس اور ان جیسی چادریں وغیرہ استعمال کرنے کی بھی اجازت نہیں ہوگی جو بڑے اور معزز لوگوں کی علامتیں ہوتی ہیں بھئی۔ اور نیز یہ سواری پر اگر سوار بھی ہوں گے، کسی جگہ پر اگر مسلمان جمع ہیں تو وہاں یہ سواری سے اترے گا اور ان کے پاس پیدل گزرے گا اور پھر آگے جا کر پھر سواری پر سوار ہوگا بھئی۔ تفصیل بیان فرما رہے ہیں صاحبِ ہدایہ بھئی، تو کہتے ہیں: فَلَا يَرْكَبُونَ الْخَيْلَ تو یہ گھوڑے پر سوار نہیں ہو سکتے، وَلَا يَعْمَلُونَ بِالسِّلَاحِ اور یہ اسلحے کو کام میں نہیں لا سکتے۔ وَلَا يَعْمَلُونَ بِالسِّلَاحِ یہ اسلحے کو کام میں نہیں لا سکتے یعنی اسلحہ استعمال نہیں کر سکتے، اسلحہ اٹھا کر نہیں چل سکتے۔ وَفِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ اب آگے جامع صغیر کی عبارت ذکر کر رہے ہیں، ما قبل میں تو قدوری کی عبارت تھی۔ اب جامع صغیر کی عبارت ذکر کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ۔ کہتے ہیں: وَفِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ اور جامع صغیر کے اندر ہے: وَيُؤْخَذُ أَهْلُ الذِّمَّةِ اور پابند کیا جائے گا ذمیوں کو بِإِظْهَارِ الْكُسْتِيجَاتِ، کُستیجات بھئی کاف چھوٹا ہے اور اس پر ضمہ ہے۔ تو کُستیجات جمع ہے کُستیج کی اور وہ علماء لکھتے ہیں یہ فارسی لفظ ہے جس کو عربی میں داخل کر لیا گیا اور یہ کہتے ہیں ٹوپی، زنار اور جوتے پر مشتمل ہے جبکہ بعضوں نے کہا کہ ٹوپی اور زنار پر مشتمل ہے بھئی۔ جی۔ ٹوپی اور زنار بھئی۔ یعنی ان کی ٹوپی بھی الگ قسم کی ہوگی اور زنار بھئی، یہ کفار کی علامت کہ وہ اپنی کمر پر خاص قسم کا ایک موٹا دھاگہ باندھتے تھے یعنی انگلی کے برابر موٹا ہوتا تھا بھئی، اس کو وہ اپنی کمر پر باندھتے تھے اور یہ ان کی علامت ہوتی تھی بھئی۔ تو یہاں کُستیجات آیا، اب اس کُستیجات سے کیا مراد ہے؟ میں نے بتلایا کہ بعض علماء کہتے ہیں کہ اس کے اندر ٹوپی اور وہ جو دھاگہ جو کمر پر باندھا جاتا ہے اور اسے زنار کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ زنار، وہ زنار اور اسی طرح جوتا جو ہے یہ ان پر مشتمل ہے۔ ان کی ٹوپی بھی الگ قسم کی ہوگی، یہ زنار باندھیں گے اپنی کمر پر اور ان کے جوتے بھی خاص قسم کے ہوں گے، اس پر کوئی علامت وغیرہ ہوگی بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَيُؤْخَذُ أَهْلُ الذِّمَّةِ بِإِظْهَارِ الْكُسْتِيجَاتِ اور اہلِ ذمہ کو پابند کیا جائے گا کستیجات کے اظہار پر وَالرُّكُوبِ عَلَى السُّرُوجِ الَّتِي اور ان کو پابند کیا جائے گا ان زینوں پر سواری پر الَّتِي هِيَ كَهَيْئَةِ الْأُكُفِّ، اُکُف جمع ہے اِکاف کی اور اِکاف پالان کو کہتے ہیں جو میں نے ذکر کر دیا کہ گدھے پر بیٹھنے کے لیے جو خوب موٹا جو اونی کپڑا ہوتا ہے، خوب موٹا اونی کپڑا وغیرہ جو ڈالا جاتا ہے۔ تو کہتے ہیں: وَالرُّكُوبِ عَلَى السُّرُوجِ الَّتِي هِيَ كَهَيْئَةِ الْأُكُفِّ اور ان کو پابند کیا جائے گا ان زینوں پر بیٹھنے پر جو کہ پالان کی صورت میں ہوں گی۔ جی۔ ترجمہ سمجھ میں آگیا؟ یہ ترجمہ پھر دیکھ لیجیے: وَيُؤْخَذُ أَهْلُ الذِّمَّةِ بِإِظْهَارِ الْكُسْتِيجَاتِ وَالرُّكُوبِ عَلَى السُّرُوجِ الَّتِي هِيَ كَهَيْئَةِ الْأُكُفِّ اور پابند کیا جائے گا ذمیوں کو کستیجات کے اظہار پر اور اسی طرح ان زینوں کی سواری پر جو کہ پالان کی صورت میں ہوں۔ وَإِنَّمَا يُؤْخَذُونَ بِذَلِكَ إِظْهَارًا لِلصَّغَارِ عَلَيْهِمْ بھئی ان پر یہ پابندیاں کیوں لگائی جائیں گی؟ کہتے ہیں تاکہ ان پر ذلت کا اظہار ہو سکے۔ جی۔ ان پر ذلت کا اظہار ہو سکے، پتہ چل سکے کہ یہ عزت والے لوگ نہیں ہیں بھئی۔ کہتے ہیں: وَإِنَّمَا يُؤْخَذُونَ بِذَلِكَ اور انہیں اس بات کا پابند کیا جائے گا إِظْهَارًا لِلصَّغَارِ عَلَيْهِمْ، صغار کا معنی ہے ذلت، إِظْهَارًا لِلصَّغَارِ عَلَيْهِمْ ان پر ذلت کا اظہار کرنے کے لیے وَصِيَانَةً لِضَعَفَةِ الْمُسْلِمِينَ اور کمزور مسلمانوں کو بچانے کے لیے۔ اگر عیسائیوں کو بھی ہم یہاں پر ہر طرح معزز لوگوں کی طرح رہنے سہنے کی اجازت دیں گے تو پھر تو کمزور مسلمان جو ہیں ان کے ایمان ڈگمگا جائیں گے، کمزور اور غریب اور فقراء مسلمان ہیں۔ وہ تو دیکھیں گے کہ یہ عیسائی بڑی اچھی اور شاندار حالت میں ہیں تو وہ ان کی طرف مائل ہوں گے، تو کمزور مسلمانوں کو بچانے کے لیے ان ذمیوں کو معزز لوگوں کا حلیہ بنانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ یہ معنی ہے: وَصِيَانَةً لِضَعَفَةِ الْمُسْلِمِينَ اور کمزور مسلمانوں کو بچانے کے لیے، وَلِأَنَّ الْمُسْلِمَ يُكْرَمُ وَالذِّمِّيَّ يُهَانُ، وَلِأَنَّ الْمُسْلِمَ يُكْرَمُ اور اس لیے کیونکہ مسلمان کا اکرام کیا جاتا ہے، اس کی عزت کی جاتی ہے، وَالذِّمِّيَّ يُهَانُ اور ذمی کی اہانت کی جاتی ہے یعنی اس کو اہمیت نہیں دی جاتی، اس کو عزت نہیں دی جاتی۔ ذمی کی اہانت معنی یہ ہے کہ ان کے ساتھ معزز لوگوں والا برتاؤ نہیں کیا جائے گا بھئی۔ وَلَا يُبْتَدَأُ بِالسَّلَامِ اور ان کے ساتھ سلام کی ابتدا نہیں کی جائے گی، ان کے ساتھ سلام کی ابتدا نہیں کی جائے گی، سلام وغیرہ یا جو خیر مقدمی کلمات ہیں یہ پہلے کہیں گے، وَيُضَيَّقُ عَلَيْهِ الطَّرِيقُ اور ان پر راستے کو تنگ کیا جائے گا۔ یہ معنی نہیں ہے ان کو راستے سے گزرنے ہی نہیں دیں گے، معنی یہ ہے کہ اگر یہ راستے پر آ رہے ہیں تو مسلمان ان کے لیے راستہ نہیں چھوڑیں گے، یہ مسلمانوں کے لیے راستہ چھوڑیں گے اور ایک طرف ہو کر گزریں گے بھئی، یہ معنی ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ کہ ان کے لیے راستہ کھلا نہیں کیا جائے گا، یہ مسلمانوں کے لیے راستہ چھوڑیں گے اور ایک طرف ہو کر گزریں گے۔ یہ معنی ہے: وَيُضَيَّقُ عَلَيْهِ الطَّرِيقُ اور اس پر راستے کو تنگ کیا جائے گا۔ فَلَوْ لَمْ تَكُنْ عَلَامَةٌ مُمَيِّزَةٌ اب وجہ ذکر کر رہے ہیں کہ بھئی یہ علامتیں اور پابندیاں ہم نے اس لیے لگائیں کیونکہ اگر یہ فرق کرنے والی علامت نہ ہوئی تو بسا اوقات ان کے ساتھ مسلمانوں والا معاملہ کر لیا جائے گا اور مسلمانوں والا معاملہ کرنا تو ان کے ساتھ جائز نہیں ہے۔ جی۔ یہ تو شرعاً جائز ہی نہیں۔ مثلاً ایک ذمی کسی دوسرے علاقے کے اندر مر گیا، سفر پر تھا اور وہاں مر گیا، تو اب اگر اس پر کوئی علامت نہیں ہوگی تو مسلمانوں کو تو پتہ نہیں چلے گا کہ یہ ذمی ہے، وہ تو اس کی نمازِ جنازہ پڑھ دیں گے بھئی اور حالانکہ یہ تو جائز نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: فَلَوْ لَمْ تَكُنْ عَلَامَةٌ مُمَيِّزَةٌ اگر نہ ہوئی کوئی جدا کر دینے والی علامت فَلَعَلَّهُ يُعَامَلُ مُعَامَلَةَ الْمُسْلِمِينَ تو شاید اس کے ساتھ مسلمانوں والا معاملہ کر لیا جائے وَذَلِكَ لَا يَجُوزُ اور یہ تو جائز نہیں ہے۔ وَالْعَلَامَةُ تَجِبُ أَنْ يَكُونَ خَيْطًا غَلِيظًا مِنَ الصُّوفِ، صوف بھئی صاد کے ساتھ یہ اون کو کہتے ہیں۔ اور علامت اب ذکر کر رہے ہیں کہ ان کی علامت جو ہے ایک موٹا دھاگہ ہو جس کو وہ کمر پر باندھیں۔ جی۔ اور وہ اونی دھاگہ ہونا چاہیے، ریشم کا بنا ہوا زنار نہیں، ریشم کا زنار ہوگا تو وہ تو بڑا شاندار بنا ہوا ہوگا، نہیں بھئی، اون کا بنا ہوا موٹا دھاگہ جو کم از کم انگلی کے برابر موٹا ہو اس کو وہ اپنی کمر پر باندھیں گے جس کے ذریعے ان کی پہچان ہوگی بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَالْعَلَامَةُ اور علامت جو ہے تَجِبُ أَنْ يَكُونَ خَيْطًا غَلِيظًا واجب ہے کہ وہ موٹا دھاگہ ہو مِنَ الصُّوفِ اون سے یعنی اون کا بنا ہوا موٹا دھاگہ ہو يَشُدُّهُ عَلَى وَسَطِهِ جس کو وہ اپنے وسط میں یعنی کمر پر باندھے گا دُونَ الزُّنَّارِ مِنَ الْإِبْرَيْسَمِ نہ کہ ریشم کا زنار بھئی، نہ کہ ریشم کا زنار نہیں ہوگا بلکہ اون کا بنا ہوا یہ دھاگہ وہ باندھیں گے۔ فَإِنَّهُ جَفَاءٌ فِي حَقِّ أَهْلِ الْإِسْلَامِ، جَفَا يَجْفُو کا معنی ہوتا ہے سخت مزاج والا ہونا، بے رحم اور سنگ دل ہونا، لیکن یہاں اس کا معنی کر لیں جفا کا معنی کر لیں بے وفائی بھئی، بے وفائی اور بے رخی بھئی، فَإِنَّهُ جَفَاءٌ فِي حَقِّ أَهْلِ الْإِسْلَامِ اس لیے کیونکہ یہ تو بے وفائی اور بے رخی ہے اہلِ اسلام کے حق میں۔ یعنی اگر ہم ان کو ریشم کا بنا ہوا عمدہ قسم کا زنار باندھنے کی اجازت دیں گے تو یہ تو مسلمانوں کے ساتھ کوئی اچھا سلوک نہیں کیا جا رہا۔ بھئی وجہ یہ ہے کہ دوست کے دشمن کے ساتھ اچھا سلوک کرنا یہ بھی دوست کے ساتھ بے وفائی ہے اور بے رخی ہے۔ جی۔ آپ کا ایک دوست ہے اور اس کا ایک دشمن ہے، آپ دوست کے دشمن کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرتے ہیں تو گویا آپ اپنے دوست سے بے وفائی اور بے رخی کر رہے ہیں۔ تو یہاں پر بھی جو ذمی ہیں یہ اللہ کے اور مسلمانوں کے دشمن ہیں، تو لہٰذا ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنا یہ مسلمانوں کے ساتھ بے وفائی اور بے رخی ہے بھئی۔ یہ معنی ہے: فَإِنَّهُ جَفَاءٌ فِي حَقِّ أَهْلِ الْإِسْلَامِ اس لیے کیونکہ یہ تو جفا ہوگی اہلِ اسلام کے حق میں۔ وَيَجِبُ أَنْ يَتَمَيَّزَ نِسَاؤُهُمْ عَنْ نِسَائِنَا فِي الطُّرُقَاتِ وَالْحَمَّامَاتِ ان کی عورتیں بھی ہماری عورتوں سے الگ تھلگ نظر آنی چاہئیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَيَجِبُ أَنْ يَتَمَيَّزَ نِسَاؤُهُمْ عَنْ نِسَائِنَا اور واجب ہے کہ ممتاز ہوں ان کی عورتیں ہماری عورتوں سے فِي الطُّرُقَاتِ راستوں میں وَالْحَمَّامَاتِ اور حمام میں یعنی عورتوں کے جو حمام ہیں اس کے اندر بھی ان کی عورتیں ممتاز ہوں الگ نظر آئیں پتہ چلے کہ یہ غیر مسلم ہیں بھئی۔ وَيُجْعَلُ عَلَى دُورِهِمْ عَلَامَاتٌ، دُور جمع ہے دار کی، وَيُجْعَلُ عَلَى دُورِهِمْ عَلَامَاتٌ اور ان کے گھروں پر علامتیں لگائی جائیں گی كَيْ لَا يَقِفَ عَلَيْهَا سَائِلٌ يَدْعُو لَهُمْ بِالْمَغْفِرَةِ، بھئی ان کے گھروں پر کیوں علامتیں لگائیں گے؟ کہتے ہیں کہیں ایسا نہ ہو مانگنے والے آئیں اور دروازے پر کھڑے ہو کر ان کے لیے مغفرت کی دعائیں کریں، حالانکہ یہ تو اللہ کے دشمن ہیں بھئی، ان کے لیے تو مغفرت کی دعا جائز نہیں، لہٰذا ان کے گھروں پر بھی علامتیں ہونی چاہئیں تاکہ آنے والوں کو، مانگنے والوں کو، سب کو پتہ چلے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَيُجْعَلُ عَلَى دُورِهِمْ عَلَامَاتٌ اور ان کے گھروں پر بھی علامتیں لگائی جائیں گی كَيْ لَا يَقِفَ عَلَيْهَا سَائِلٌ تاکہ کہیں کھڑا نہ ہو جائے ان پر کوئی ایسا مانگنے والا يَدْعُو لَهُمْ بِالْمَغْفِرَةِ جو ان کے لیے مغفرت کی دعا کرے۔ قَالُوا فقہاء فرماتے ہیں: الْأَحَقُّ أَنْ لَا يُتْرَكُوا أَنْ يَرْكَبُوا کہ زیادہ مناسب یہ ہے کہ ان کو سوار ہونے کے لیے نہ چھوڑا جائے یعنی ان کو سواری کی اجازت نہ دی جائے إِلَّا لِلضَّرُورَةِ مگر ضرورت کی وجہ سے، وَإِذَا رَكِبُوا لِلضَّرُورَةِ اور جب یہ ضرورت کی وجہ سے سوار ہوں مثلاً کسی دور دیہات میں جانا ہے یا کسی مریض کو لے کر جا رہے ہیں تو کہتے ہیں: وَإِذَا رَكِبُوا لِلضَّرُورَةِ اور جب یہ کسی ضرورت کی وجہ سے سوار ہوں فَلْيَنْزِلُوا فِي جَامِعِ الْمُسْلِمِينَ تو چاہیے کہ یہ اتر جائیں مسلمانوں کے جمع ہونے کی جگہ میں۔ مسلمان جہاں اکٹھے ہوں وہاں یہ سواری سے اتر کر پیدل وہاں سے گزریں۔ تو کہتے ہیں: وَإِذَا رَكِبُوا لِلضَّرُورَةِ اور جب یہ ضرورت کی وجہ سے سوار ہو جائیں فَلْيَنْزِلُوا فِي جَامِعِ الْمُسْلِمِينَ تو چاہیے کہ یہ اتر جائیں مسلمانوں کی جمع ہونے کی جگہوں میں۔ فَإِنْ لَزِمَتْهُ الضَّرُورَةُ اگر ضرورت اس کے ساتھ لازم ہو جائے یعنی اسے سواری پر آنا جانا پڑتا ہے، کوئی دور جگہ ہے، تو کہتے ہیں: فَإِنْ لَزِمَتْهُ الضَّرُورَةُ اگر اس کے ساتھ ضرورت لازم ہو جائے اتَّخَذُوا سَرْجًا تو وہ زینیں بنائیں گے بِالصِّفَةِ الَّتِي تَقَدَّمَتْ اسی صفت پر جو گزر گئی، یہ ایسی زین بنائیں گے جو اسی صفت پر ہو جو پیچھے گزر گئی یعنی پالان وغیرہ کی صورت میں۔ وَيُمْنَعُونَ عَنْ لِبَاسٍ يَخْتَصُّ بِهِ أَهْلُ الْعِلْمِ وَالزُّهْدِ وَالشَّرَفِ، تو کہتے ہیں: وَيُمْنَعُونَ عَنْ لِبَاسٍ اور ان کو منع کیا جائے گا ایسے لباس سے يَخْتَصُّ بِهِ أَهْلُ الْعِلْمِ کہ وہ خاص ہو اہلِ علم کے ساتھ یعنی علماء کے ساتھ، وَالزُّهْدِ أي اہلِ زہد اور ایسا لباس جو زہد والوں کے ساتھ خاص ہو، زہد والے وہ لوگ جو دنیا سے بے رغبتی اختیار کرتے ہیں یعنی متقی مومنین مراد ہیں جن کی ساری توجہ آخرت کی طرف ہے بھئی، تو ان کو منع کیا جائے گا ایسے لباس سے بھی جو اہلِ زہد کے ساتھ خاص ہو، وَالشَّرَفِ اور ان کو منع کیا جائے گا ایسے لباس سے بھی جو اہلِ شرف کے ساتھ یعنی معزز لوگوں کے ساتھ خاص ہو۔ بات سمجھ میں آگئی؟ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: وَيُمْنَعُونَ عَنْ لِبَاسٍ اور ان کو منع کیا جائے گا ایسے لباس سے يَخْتَصُّ بِهِ أَهْلُ الْعِلْمِ وَالزُّهْدِ وَالشَّرَفِ جو اہلِ علم اور اہلِ زہد اور اہلِ شرف یعنی معزز لوگوں کے ساتھ خاص ہو۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایسا ہی فرمایا تھا بھئی اور اسی پر صحابہ کا اتفاق ہوا بھئی۔ آگے دیکھیے: وَمَنِ امْتَنَعَ مِنَ الْجِزْيَةِ أَوْ قَتَلَ مُسْلِمًا أَوْ سَبَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ أَوْ زَنَى بِمُسْلِمَةٍ لَمْ يَنْتَقِضْ عَهْدُهُ، یاد رکھو یہ ذمی جو ہیں ہم نے ان کے ساتھ معاہدہ کیا ہوا ہے۔ ذمی اگر معاہدہ توڑے گا، عہدِ ذمہ کو توڑے گا تو پھر یہ مرتد کے حکم میں ہو جائے گا۔ جی۔ ہاں البتہ مرتد کو تو قتل کیا جاتا ہے، البتہ اس کو قتل بھی کیا جا سکتا ہے اور غلام بھی بنایا جا سکتا ہے۔ تو اب صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ کن صورتوں میں ہم یہ کہیں گے کہ انہوں نے عہدِ ذمہ کو توڑ دیا ہے؟ تو آپ کو بتلائیں گے کہ اگر کہ اگر یہ دار الحرب چلے گئے، جی۔ تو اب یہ حرباربیوں میں سے ہو گئے، وہاں رہتے ہیں۔ یا انہوں نے کسی جگہ پر قبضہ کر لیا اور مسلمانوں سے لڑائی کر رہے ہیں تو اب بھی یہ حربیوں کے درجے میں ہو گئے، لہٰذا ان کو قید بھی کیا جا سکتا ہے، ان کو قتل بھی کیا جا سکتا ہے اور ان کو غلام بھی بنایا جا سکتا ہے۔ ہاں البتہ اگر انہوں نے جزیہ دینے سے انکار کر دیا، جی۔ یا انہوں نے کسی مسلمان کو قتل کر دیا یا انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی اور گالی وغیرہ دی یا انہوں نے کسی مسلمان عورت کے ساتھ زنا کر لیا، تو کیا ان صورتوں میں بھی عہدِ ذمہ ٹوٹ جائے گا؟ کہتے ہیں نہیں، ان صورتوں میں عہدِ ذمہ نہیں ٹوٹے گا بھئی۔ تو یہ جرم جو کیے ہیں ان کی سزا تو ان کو دی جائے گی لیکن بہرحال عہدِ ذمہ نہیں ٹوٹے گا۔ کہتے ہیں: وَمَنِ امْتَنَعَ مِنَ الْجِزْيَةِ اور ان ذمیوں میں سے جو رک گیا جزیے سے أَوْ قَتَلَ مُسْلِمًا یا اس نے کسی مسلمان کو قتل کر دیا أَوْ سَبَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ اور یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دی أَوْ زَنَى بِمُسْلِمَةٍ یا اس ذمی نے کسی مسلمان عورت سے زنا کر لیا لَمْ يَنْتَقِضْ عَهْدُهُ تو اس کا عہد نہیں ٹوٹا یعنی عہدِ ذمہ نہیں ٹوٹا، نہیں ٹوٹا۔ لِأَنَّ الْغَايَةَ الَّتِي يَنْتَهِي بِهَا الْقِتَالُ الْتِزَامُ الْجِزْيَةِ لَا أَدَاؤُهَا، بھئی یہ بات پیچھے گزری تھی، جی۔ کہ حربی جو ہے حربی وہ قتل کا مستحق ہے لیکن اگر وہ اسلام لے آتا ہے تو اس کی جان محفوظ ہو گئی اب اس کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ یا اسی طرح کوئی حربی جب ذمی بن جاتا ہے تو اس سے بھی اس کی جان محفوظ ہو گئی اور اسے قتل نہیں کیا جائے گا۔ معلوم ہوا ذمی بننا یہ اسلام کا خلیفہ ہے، اسلام کا نائب ہے۔ جیسے اسلام کی وجہ سے ہم ان کے قتل سے رک جاتے ہیں اسی طرح ذمی بننے کی وجہ سے بھی ہم ان کے قتل سے رک جاتے ہیں بھئی۔ اور یہ بھی آپ نے پڑھا تھا، ایک ہے امانِ موقت اور ایک ہے امانِ مؤبد بھئی۔ امانِ موقت وہ ہے جو جنگ کے اندر کافروں کو امان دیا جائے، تو یہ کچھ مدت کے لیے ہوتا ہے کہ ہم تمہیں نقصان نہیں پہنچائیں گے مثلاً دو سال تک یا تین سال تک، تو یہ کیا ہے؟ امانِ موقت۔ اور ایک امانِ مؤبد ہوتا ہے اور ذمی کو جو ہے امانِ مؤبد حاصل ہے کہ وہ دار الاسلام کے اندر ہے تو ہمیشہ کے لیے اس کی جان اور مال محفوظ ہے۔ جی۔ اور یہ بات بھی پیچھے گزری تھی کہ حربی جب ذمی بنتا ہے اور وہ جزیہ دینا قبول کر لیتا ہے تو اب فوراً ہی قتال ساقط ہو گیا، اب ان کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ جی۔ ان سے لڑائی نہیں کی جائے گی۔ معلوم ہوا جزیہ دینے کی وجہ سے ذمی نہیں بنیں گے، جزیہ کو صرف قبول ہی کر لیں تو یہ ذمی بن جائیں گے۔ جی۔ توجہ ہے؟ یہ جزیہ کا صرف اپنے اوپر التزام کر لیں تو ذمی بن جائیں گے، فوری طور پر جزیہ کا ادا کرنا ضروری نہیں ہے، اور پیچھے ذکر ہوا تھا قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ، اور صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ یہاں اعطاء سے مراد ہے قبول کرنا، یہاں تک کہ یہ جزیہ قبول کر لیں۔ جی۔ دلیل آگے ذکر ہو رہی ہے۔ بھئی پیچھے متن میں آیا تھا: وَمَنِ امْتَنَعَ مِنَ الْجِزْيَةِ اور جو ذمی جزیہ ادا کرنے سے رک گیا، جزیہ نہیں ادا کر رہا، تو اس کی وجہ سے عہدِ ذمہ نہیں ٹوٹے گا، اس کی وجہ ذکر کرنے لگے ہیں: اس لیے کہ جزیہ جب قبول یہ کر لیتا ہے تو اس کی وجہ سے یہ ذمی بن جاتے ہیں، جی۔ ان کے ساتھ لڑائی ختم کر دی جاتی ہے، تو لہٰذا لڑائی ختم کرنے کا دارومدار جزیہ قبول کرنے پر ہے، جزیہ ادا کرنے پر نہیں۔ بھئی پیچھے متن میں آیا تھا: وَمَنِ امْتَنَعَ مِنَ الْجِزْيَةِ اور جو ذمی جزیہ ادا کرنے سے رک گیا، جزیہ نہیں ادا کر رہا، تو ادا نہ کرنے پر اس کے عہدِ ذمہ کی بنیاد نہیں تھی بلکہ قبول کرنے پر عہدِ ذمہ کی بنیاد تھی، اور ادا نہ کرنے سے قبول کرنا تو ساقط نہیں ہوا بھئی، بات سمجھ میں آگئی؟ جی۔ لہٰذا جزیہ دینے سے اگر وہ انکار کر دے تو بھی عہدِ ذمہ نہیں ٹوٹا۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ الْغَايَةَ الَّتِي يَنْتَهِي بِهَا الْقِتَالُ اس لیے کیونکہ وہ آخری حد جس کی وجہ سے لڑائی ختم ہو جاتی ہے الْتِزَامُ الْجِزْيَةِ وہ جزیے کو اپنے اوپر لازم کرنا ہے لَا أَدَاؤُهَا نہ کہ اس کو ادا کرنا بھئی، جی۔ نہ کہ اس کو ادا کرنا، وَالِالْتِزَامُ بَاقٍ اور التزام تو ابھی بھی باقی ہے، اس نے جزیہ قبول کیا تھا یا نہیں؟ بے شک اب ادا نہیں کر رہا لیکن قبول تو کیا تھا، تو لہٰذا ابھی بھی عہدِ ذمہ نہیں ٹوٹا۔ آگے دیکھیے: وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سَبُّ النَّبِيِّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ يَكُونُ نَقْضًا کہ حضور علیہ السلام کو گالی دینا یہ عہدِ ذمہ کو توڑنا ہے۔ ہم نے تو کہا کہ حضور علیہ السلام کو وہ گالی بھی دیتا ہے یہ عہدِ ذمہ کو توڑنا نہیں۔ گالی دینے کی وجہ سے اور سزا وغیرہ تو دی جائے گی لیکن اس کی وجہ سے عہدِ ذمہ نہیں ٹوٹے گا۔ لیکن امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، حضور علیہ السلام کی شان میں گستاخی کرنے سے عہدِ ذمہ ٹوٹ جائے گا۔ وجہ یہ کہ یہ جو ذمی ہونا ہے یہ نائب ہے اسلام کا، جیسے اسلام کی وجہ سے لڑائی ختم اسی طرح ذمی بننے کی وجہ سے بھی لڑائی ختم، تو اصل ہوا اسلام اور ذمی بننا یہ اس کا خلیفہ ہے اور نائب ہے، اور حضور علیہ السلام کو گالی دینے سے تو خود اصل یعنی اسلام ختم ہو جاتا ہے، آدمی کا ایمان ختم ہو جاتا ہے تو جو نائب ہے وہ بطریقِ اولیٰ ختم ہو جائے گا اس گالی دینے کی وجہ سے۔ دلیل سمجھ میں آگئی؟ تو وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سَبُّ النَّبِيِّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ يَكُونُ نَقْضًا کہ حضور علیہ السلام کو گالی دینا یہ عہدِ ذمہ کو توڑنا ہے لِأَنَّهُ لَوْ كَانَ مُسْلِمًا يَنْقُضُ إِيمَانَهُ اس لیے کیونکہ اگر یہ مسلمان ہوتا تو یہ اس کے ایمان کو توڑ دیتا، بھئی میری کتاب میں ہے یَنْقُضُ إِيمَانُهُ، ایمان پر رفع ہے بھئی لیکن یہ درست نہیں ہے بھئی، نَقَضَ يَنْقُضُ کا معنی ہے توڑنا، جی۔ نَقَضَ يَنْقُضُ کا معنی ہے توڑنا یعنی یہ متعدی ہے اس کے لیے مفعول چاہیے اور اِنْتَقَضَ يَنْتَقِضُ کا معنی ہے ٹوٹنا، وہ ہے لازمی بھئی۔ تو یہاں نقض آیا۔ کہتے ہیں: لِأَنَّهُ لَوْ كَانَ مُسْلِمًا اس لیے کیونکہ اگر یہ گالی دینے والا مسلمان ہوتا يَنْقُضُ إِيمَانَهُ تو یہ گالی دینا اس کے ایمان کو توڑ دیتا، تو کہتے ہیں: لِأَنَّهُ لَوْ كَانَ مُسْلِمًا اس لیے کیونکہ اگر یہ گالی دینے والا مسلمان ہوتا يَنْقُضُ إِيمَانَهُ تو یہ گالی دینا اس کے ایمان کو توڑ دیتا فَكَذَا يَنْقُضُ أَمَانَهُ تو اسی طرح یہ گالی دینا اس کی امان کو بھی توڑ دے گا إِذْ عَقْدُ الذِّمَّةِ خَلَفٌ عَنْهُ اس لیے کیونکہ عقدِ ذمہ ایمان کا خلیفہ ہے اس کا نائب ہے، تو گالی دینے سے جیسے ایمان ٹوٹ جاتا ہے اسی طرح امان بھی ٹوٹ جائے گا۔ وَلَنَا اور ہماری دلیل جو ہے أَنَّ سَبَّ النَّبِيِّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ كُفْرٌ مِنْهُ کہ حضور علیہ السلام کو گالی دینا كُفْرٌ مِنْهُ یہ اس ذمی کی طرف سے کفر ہے بھئی، جی۔ حضور کو گالی دینا یہ کفر ہے تو اس کی طرف سے کفر والا فعل پایا گیا، وَالْكُفْرُ الْمُقَارِنُ لَا يَمْنَعُهُ فَالطَّارِئُ لَا يَرْفَعُهُ، وَالْكُفْرُ الْمُقَارِنُ اور وہ کفر جو ملا ہوا ہے یعنی عہدِ ذمہ کے ساتھ، بھئی جب ہم نے عہدِ ذمہ کیا تھا اس وقت ہی یہ کیا تھا؟ کافر۔ تو عقدِ ذمہ کی ابتدا کے وقت جو کفر تھا وہ عہدِ ذمہ کے لیے مانع نہیں، جی۔ وہ کفر جو ابتدائے عہد کے وقت تھا جب وہ عہدِ ذمہ کے لیے مانع نہیں تو وہ کفر جو بعد میں آئے وہ بطریقِ اولیٰ اس عہدِ ذمہ کے لیے مانع نہیں بنے گا۔ دلیل سمجھ میں آگئی؟ کہتے ہیں: وَالْكُفْرُ الْمُقَارِنُ لَا يَمْنَعُهُ اور وہ کفر جو عہدِ ذمہ سے ملا ہوا ہے، قَارَنَ يُقَارِنُ کے معنی ہے ملا ہوا ہونا، اور کس چیز سے ملا ہوا ہے؟ عہدِ ذمہ سے یعنی ابتدا کے اندر جو کفر عہدِ ذمہ سے ملا ہوا تھا۔ کہتے ہیں: وَالْكُفْرُ الْمُقَارِنُ لَا يَمْنَعُهُ اور وہ کفر جو عقدِ ذمہ کے ساتھ ملا ہوا ہے یعنی ابتدا سے ہی، لَا يَمْنَعُهُ وہ اس عہدِ ذمہ کے لیے مانع نہیں ہے فَالطَّارِئُ تو وہ کفر جو بعد میں پیش آیا ہے لَا يَرْفَعُهُ وہ بھی اس عہدِ ذمہ کو دور نہیں کرے گا، اس کو ختم نہیں کرے گا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو عند الاحناف حضور علیہ السلام کو کوئی گالی دیتا ہے تو اس کی وجہ سے اس کا عہدِ ذمہ نہیں ٹوٹتا، جی۔ لہٰذا اس کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ لیکن علماء فرماتے ہیں یہ اس صورت میں ہے جب وہ شخص علانیہ ایسا نہیں کرتا، اگر وہ علانیہ ایسا کرتا ہے، حضور کی شان میں گستاخی کرتا ہے اور اس کو اپنی عادت بنا لیتا ہے تو اس آدمی کو قتل کر دیا جائے گا چاہے عورت ہی کیوں نہ ہو، وہ بھی اس طرح اگر علانیہ کرتی ہے اس طرح گستاخی اور عادت بنا لیتی ہے تو اس کو قتل کر دیا جائے گا۔ آگے دیکھیے بھئی، قَالَ: وَلَا يُنْقَضُ الْعَهْدُ إِلَّا وَأَنْ يَلْتَحِقَ بِدَارِ الْحَرْبِ، بھئی سب سے پہلے تو یہ عبارت دیکھ لیجیے بھئی۔ میری کتاب میں ہے: وَلَا يُنْقَضُ الْعَهْدُ، وَلَا يُنْقَضُ، لیکن یہ درست نہیں ہے بھئی، میں نے آپ کو بتلایا نَقَضَ يَنْقُضُ کے معنی ہیں توڑنا، یہ متعدی ہے اس کے لیے مفعول چاہیے، جبکہ یہاں پر عہد کے ٹوٹنے کی بات ہو رہی ہے، عہدِ ذمہ کے ٹوٹنے کی بات ہو رہی ہے لہٰذا یہاں فعلِ لازم چاہیے بھئی، تو یہاں ہونا چاہیے: وَلَا يَنْتَقِضُ الْعَهْدُ۔ جی۔ وَلَا يَنْتَقِضُ الْعَهْدُ یہاں ہونا چاہیے اور ہدایہ کے دیگر نسخوں میں یہ عبارت موجود ہے، وہاں یَنْتَقِضُ کا صیغہ ہے بھئی۔ تو لہٰذا اس کو وَلَا يَنْتَقِضُ الْعَهْدُ پڑھیں بھئی۔ اور نیز آگے آ رہا ہے: إِلَّا وَأَنْ يَلْتَحِقَ بِدَارِ الْحَرْبِ، یہاں اِلَّا کے بعد واؤ ذکر ہے بھئی، تو ہدایہ کے بعض نسخوں میں اسی طرح واؤ موجود ہے اور ہدایہ کے بعض نسخوں میں یہاں واؤ موجود نہیں ہے بھئی اور وہی درست ہے بھئی، یہاں پر واؤ نہیں ہونا چاہیے بھئی۔ تو لہٰذا یہاں آپ بھی واؤ کے بغیر پڑھ لیجیے: قَالَ: وَلَا يَنْتَقِضُ الْعَهْدُ إِلَّا أَنْ يَلْتَحِقَ بِدَارِ الْحَرْبِ۔ یہاں سے صاحبِ ہدایہ یہ بیان فرمائیں گے کہ کن صورتوں کے اندر عہدِ ذمہ ٹوٹ جائے گا؟ تو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ اگر کوئی ذمی دار الحرب والوں سے جا ملا، کوئی ذمی دار الحرب والوں سے جا ملا وہیں جا کر ان کے پاس رہنے لگ پڑا یا ذمیوں نے کسی علاقے پر قبضہ کر لیا اور انہوں نے مسلمانوں سے جنگ شروع کر دی تو ان دونوں صورتوں کے اندر عہدِ ذمہ ٹوٹ جائے گا۔ وجہ یہ کہ عہدِ ذمہ جو ذمیوں سے کیا گیا تھا اس کا مقصد یہ تھا کہ یہ جو ذمی ہیں ان کی جنگ کا شر دور ہو جائے۔ وجہ یہ کہ یہ ذمی تو پہلے حربی تھے بھئی، جی۔ یہ کیا تھے؟ حربی تھے، یہ مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرنے والے تھے، تو ان کے ساتھ عہدِ ذمہ کیا گیا تاکہ ان کی جنگ کا شر دور ہو جائے۔ اور اب تو یہ خود ہمارے دشمنوں سے یعنی حربیوں سے جا ملے ہیں یا انہوں نے ہمارے ساتھ لڑائی شروع کر دی ہے تو معلوم ہوا اب عہدِ ذمہ کو باقی رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ اب اس وقت وہ مسلمانوں سے لڑ رہے ہیں یا مسلمانوں کے ساتھ لڑنے والوں کے ساتھ جا ملے ہیں۔ تو لہٰذا اگر ذمی دار الحرب والوں سے جا ملے یا ذمی کسی علاقے پر قبضہ کر لیں اور مسلمانوں سے جنگ شروع کر دیں تو اس صورت میں عہدِ ذمہ ٹوٹ جائے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: قَالَ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: وَلَا يَنْتَقِضُ الْعَهْدُ اور عہدِ ذمہ ٹوٹتا نہیں ہے إِلَّا أَنْ يَلْتَحِقَ بِدَارِ الْحَرْبِ مگر یہ کہ ذمی جو ہے دار الحرب سے جا ملے یعنی وہیں چلا جائے، ان کے پاس رہنے لگے، أَوْ يَغْلِبُوا عَلَى مَوْضِعٍ فَيُحَارِبُونَنَا یا یہ ذمی جو ہیں کسی جگہ پر قبضہ کر لیں فَيُحَارِبُونَنَا تو ہمارے ساتھ پھر جنگ کریں، جب ذمی کسی علاقے پر قبضہ کر لیں اور ہمارے ساتھ جنگ شروع کر دیں تو اس صورت میں بھی عہدِ ذمہ ٹوٹ جائے گا۔ لِأَنَّهُمْ صَارُوا حَرْبًا عَلَيْنَا اس لیے کیونکہ وہ ہمارے دشمن ہو گئے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا بھئی کہ حَرْبٌ کا ایک معنی ہے دشمن بھئی، اور اس کے ساتھ عَلٰی صلے کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً کوئی شخص کسی کا دشمن ہو تو عربی میں کہتے ہیں: هُوَ حَرْبٌ عَلَيَّ وہ میرا دشمن ہے، تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے: لِأَنَّهُمْ صَارُوا حَرْبًا عَلَيْنَا اس لیے کیونکہ وہ ہمارے دشمن ہو گئے فَيَعْرَى عَقْدُ الذِّمَّةِ عَنِ الْفَائِدَةِ تو خالی ہو گیا عقدِ ذمہ فائدے سے، وَهُوَ دَفْعُ شَرِّ الْحِرَابِ اور وہ فائدہ جو تھا وہ جنگ کے شر کو دور کرنا تھا، ان لوگوں کی جنگ کے شر کو دور کرنا تھا، اور اب تو یہ ہمارے ساتھ جنگ کر رہے ہیں یا جنگ کرنے والوں کے ساتھ جا ملے ہیں تو اب عہدِ ذمہ کو باقی رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: فَيَعْرَى عَقْدُ الذِّمَّةِ عَنِ الْفَائِدَةِ تو عقدِ ذمہ خالی ہو گیا فائدے سے وَهُوَ دَفْعُ شَرِّ الْحِرَابِ اور وہ فائدہ ان کی جنگ کے شر کو دور کرنا تھا۔ آگے دیکھیے: وَإِذَا نَقَضَ الذِّمِّيُّ الْعَهْدَ اور جب ذمی عہدِ ذمہ کو توڑ دے فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ الْمُرْتَدِّ تو وہ مرتد کے درجے میں ہے۔ ذمی جب عہدِ ذمہ کو توڑ دے تو وہ مرتد کے درجے میں ہے، بھئی یہ متن ہے بھئی: وَإِذَا نَقَضَ الذِّمِّيُّ الْعَهْدَ فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ الْمُرْتَدِّ، تو یہ متن ہے اور اس متن کے اندر صاحبِ قدوری نے آپ کو بتلایا کہ ذمی جب عہدِ ذمہ کو توڑ دے تو وہ مرتد کے درجے میں ہے۔ اب اس کلام کا کیا معنی؟ وہ ذمی جس نے عہدِ ذمہ کو توڑ دیا ہے وہ کس اعتبار سے مرتد کے درجے میں ہے؟ تو صاحبِ ہدایہ آگے اس کا معنی بیان فرمائیں گے بھئی، لیکن ایک دو باتیں پہلے سمجھ لیجیے۔ یاد رکھو جب کوئی شخص مرتد ہوتا ہے تو آپ جانتے ہیں کہ وہ واجب القتل ہو جاتا ہے بھئی۔ اس کو تین دن کی مہلت دی جائے گی اور اگر وہ مسلمان نہیں ہوتا تو اس کو قتل کر دیا جائے گا۔ لیکن اگر ایک شخص مرتد ہوا اور بھاگ کر دار الحرب چلا گیا اور پھر قاضی نے اس کے دار الحرب جانے کا فیصلہ کر دیا، جی۔ اس کے وارث وغیرہ قاضی کے پاس آ گئے کہ وہ شخص مرتد ہو کر بھاگ کر دار الحرب چلا گیا ہے اس کا مال اب ہم وارثوں میں تقسیم کیا جائے، تو قاضی پتہ کروائے گا اور جب پتہ چل جائے کہ واقعی وہ شخص بھاگ کر دار الحرب جا چکا ہے تو قاضی فیصلہ لکھ دے گا کہ فلاں شخص مرتد ہو کر دار الحرب بھاگ چکا ہے۔ اور یاد رکھو قاضی جیسے ہی اس کے دار الحرب والوں سے جا ملنے کا فیصلہ لکھے گا تو یہ فیصلہ اس مرتد کے لیے موت کے درجے میں ہے۔ جی۔ یعنی اس مرتد پر موت کا حکم لگا دیا جائے گا کہ وہ مر چکا ہے اور اس پر پھر مردوں والے احکام جاری ہو جائیں گے یعنی اس کا مال وغیرہ ہے یہاں دار الاسلام کے اندر وہ اس کے وارثوں کی طرف منتقل ہو جائے گا۔ معلوم ہوا مرتد جب بھاگ کر دار الحرب چلا جائے اور قاضی اس کے دار الحرب والوں سے جا ملنے کا فیصلہ لکھ دے تو یہ اس مرتد کے لیے موتِ حکمی ہے۔ جی۔ یہ اس مرتد کے لیے موتِ حکمی ہے یعنی موت کا حکم اس پر لگا دیا گیا، حقیقت میں تو وہ زندہ ہے دار الحرب کے اندر لیکن قاضی کا یہ فیصلہ اس کے لیے موتِ حکمی ہے بھئی اور اس پر مردوں کے احکام جاری ہو جائیں گے۔ اور نیز ایک اور مسئلہ بھی یاد رکھنا کہ اگر مسلمانوں نے پھر اس دار الحرب پر قبضہ کر لیا اور یہ مرتد اور اس کا مال مسلمانوں کے قبضے میں آ گئے تو مرتد جو ہے اس کو تو قتل کیا جائے گا الا یہ کہ وہ اسلام لے آئے، اور جو مرتد کا مال ہوگا وہ سارا مالِ غنیمت شمار ہوگا۔ جی۔ وہ مالِ غنیمت شمار ہوگا۔ معلوم ہوا مرتد دار الحرب چلا جائے اور قاضی فیصلہ کر دے تو یہ موتِ حکمی ہے، اور نیز مسلمان اس علاقے پر قبضہ کر لیں تو مرتد کا مال مالِ غنیمت ہے۔ تو صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ یہ جو شخص، یہ جو ذمی جس نے عہدِ ذمہ کو توڑ دیا ہے یہ مرتد کی طرح ہے ان دونوں چیزوں میں، یعنی جیسے مرتد دار الحرب والوں سے جا ملا تھا تو اس پر موت کے احکام جاری کر دیے گئے اسی طرح یہ ذمی جس نے عہدِ ذمہ توڑا ہے جب یہ دار الحرب والوں سے جا ملا ہے تو یہ بھی اس کے لیے موتِ حکمی ہے یعنی موت کے احکام جاری کر دیے جائیں گے، یعنی اس ذمی کا کوئی مال اگر دار الاسلام کے اندر موجود ہے تو وہ اس کے وارثوں میں تقسیم کر دیا جائے گا بھئی۔ اور نیز جیسے مسلمان اس دار الحرب پر قبضہ کر لیں تو مرتد کا مال جو ہوتا تھا وہ مالِ غنیمت شمار ہوتا تھا، اسی طرح اگر یہ ذمی جو جس نے عہدِ ذمہ توڑا ہے اور جا کر حربیوں سے مل گیا ہے تو اگر اس دار الحرب پر مسلمانوں نے قبضہ کر لیا تو اس ذمی کا جو مال ہے وہ مال بھی مالِ غنیمت شمار ہوگا۔ جی۔ توجہ ہے؟ تو حاصلِ کلام یہ کہ یہ ذمی جس نے عہدِ ذمہ کو توڑا ہے یہ مرتد کی طرح ہے دو چیزوں میں: ایک جیسے مرتد دار الحرب چلا جائے تو اس کی موتِ حکمی کا فیصلہ کر دیا جاتا ہے اسی طرح ذمی بھی دار الحرب جائے گا تو یہ بھی موتِ حکمی شمار ہوگی بھئی۔ اور نیز اسی طرح اور نیز اسی طرح جیسے مرتد کا مال مالِ غنیمت شمار ہوگا اگر مسلمان وہاں قبضہ کر لیں تو اسی طرح یہ ذمی جس نے عہدِ ذمہ کو توڑا ہے اس کا مال بھی مالِ غنیمت شمار ہوگا اگر مسلمان اس علاقے پر قبضہ کر لیں۔ البتہ فرق یہ ہے کہ ذمی جو ہے اگر اس کو قید کر لیا جائے تو اس کو قتل کرنا بھی جائز جی۔ اور اس کو غلام بنانا بھی جائز ہے لیکن اگر مرتد کو قیدی بنا لیا گیا، وہ مرتد جو دار الحرب بھاگ گیا تھا اگر اس کو قیدی بنا لیا گیا تو اس کو غلام بنانا جائز نہیں۔ یا اس سے اسلام قبول کیا جائے گا یا اسے قتل کر دیا جائے گا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ جی، اب دیکھیے کتاب پر۔ کہتے ہیں: وَإِذَا نَقَضَ الذِّمِّيُّ الْعَهْدَ فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ الْمُرْتَدِّ اور جب ذمی عہدِ ذمہ کو توڑ دے تو یہ ذمی جو ہے مرتد کے درجے میں ہے۔ مَعْنَاهُ صاحبِ قدوری کے اس قول کا معنی یہ ہے، یہ جو انہوں نے صاحبِ قدوری نے ذکر کیا کہ یہ ذمی مرتد کے درجے میں ہے تو کس چیز میں؟ کہتے ہیں: فِي الْحُكْمِ بِمَوْتِهِ بِاللِّحَاقِ، فِي الْحُكْمِ بِمَوْتِهِ اس کی موت کا حکم لگانے کے اندر بِاللِّحَاقِ دار الحرب والوں سے جا ملنے کی وجہ سے، جی۔ بِاللِّحَاقِ، لحاق کا کیا معنی؟ جا ملنا، بِاللِّحَاقِ دار الحرب والوں سے جا ملنے کی وجہ سے اس کی موت کا حکم لگایا جائے گا جیسے مرتد دار الحرب والوں سے جا ملے تو اس پر موت کا حکم لگایا جاتا ہے۔ تو کہتے ہیں: مَعْنَاهُ صاحبِ قدوری کے اس قول کا معنی یہ ہے: فِي الْحُكْمِ بِمَوْتِهِ بِاللِّحَاقِ کہ یہ ذمی مرتد کی طرح ہے فِي الْحُكْمِ بِمَوْتِهِ اس کی موت کے حکم میں بِاللِّحَاقِ دار الحرب والوں سے جا ملنے کی وجہ سے لِأَنَّهُ الْتَحَقَ بِالْأَمْوَاتِ اس لیے کیونکہ یہ مردوں سے جا ملا ہے۔ یہاں سے وجہ بتلا رہے ہیں کہ یہ حربی یا یہ مرتد جب دار الحرب چلا گیا تو ان پر مردوں کے احکام کیوں جاری کیے گئے؟ تو وجہ اس کی یہ ہے کہ یہ جو حربی ہیں جو دار الحرب میں ہیں یہ مردوں کے حکم میں ہیں، جیسے مردہ جو ہے اس پر اسلامی احکام لازم نہیں کیے جا سکتے کیونکہ وہ مر چکا ہے بھئی، اسی طرح یہ جو حربی ہیں ان پر بھی اسلامی احکام لازم نہیں کیے جا سکتے کیونکہ ہمیں ان پر ولایت حاصل نہیں ہے، تو یہ حربی مردوں کے درجے میں ہوئے۔ تو یہ مرتد اور ذمی جب دار الحرب والوں سے جا ملے تو معلوم ہوا یہ مردوں سے جا ملے ہیں اور جب یہ مردوں سے جا ملے ہیں تو ان کا حکم بھی مردوں والا ہوگا یعنی ان کی وہ جائیداد جو دار الاسلام میں موجود ہے وہ ان کے وارثوں میں تقسیم کر دی جائے گی۔ اور نیز یہ بھی یاد رکھنا مرتد جو ہے، مرتد کے تو مرتد ہوتے ہی اس کا نکاح ٹوٹ گیا جبکہ یہ جو ذمی ہے جس نے عہدِ ذمہ کو توڑا ہے اس کا بھی اپنی بیوی سے نکاح ٹوٹ جائے گا اگر اس کی کوئی بیوی یہاں دار الاسلام میں ذمیہ موجود ہے۔ جی۔ اس ذمی کا بھی نکاح ٹوٹ گیا، وجہ یہ کہ یہ ذمی دار الحرب والوں سے جا ملا ہے اور بیوی یہاں دار الاسلام میں ہے تو بیوی اور خاوند کا دار الگ الگ ہے، اور آپ پیچھے پڑھ چکے ہیں کہ بیوی اور خاوند کا دار حقیقتاً بھی الگ ہو اور حکماً بھی الگ ہو تو دونوں میں بینونت آ جاتی ہے، نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔ تو یہاں بیوی اور خاوند دونوں کا دار حقیقتاً الگ ہے، بیوی دار الاسلام میں ہے اور یہ ذمی بھاگ کر دار الحرب جا چکا ہے تو حقیقتاً بھی دونوں کا دار الگ الگ، اور نیز حکماً بھی دار الگ ہے اس لیے کیونکہ بیوی کا یہیں رہنے کا ارادہ ہے اور خاوند کا دار الحرب میں ہی رہنے کا ارادہ ہے، تو دونوں کا دار حقیقتاً بھی الگ ہوا اور حکماً بھی الگ ہوا، لہٰذا ان میں بینونت آ جائے گی، ان کا نکاح ٹوٹ جائے گا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ جی۔ تو یہ معنی ہے: لِأَنَّهُ الْتَحَقَ بِالْأَمْوَاتِ اس لیے کیونکہ یہ ذمی جو ہے مردوں سے جا ملا ہے، وَكَذَا فِي حُكْمِ مَا حَمَلَهُ مِنْ مَالِهِ اور اسی طرح یہ ذمی اس مرتد کی طرح ہے فِي حُكْمِ مَا حَمَلَهُ مِنْ مَالِهِ وہ مال جس کو وہ لے گیا ہے اس کے حکم میں، جی۔ وہ مال جو ذمی اپنے ساتھ دار الحرب لے گیا ہے اس مال میں بھی یہ ذمی مرتد کی طرح ہے، جیسے مرتد کا مال جو ہے وہ مالِ غنیمت شمار ہوتا تھا اس ذمی کا مال بھی مالِ غنیمت شمار ہوگا۔ یہ معنی ہے: وَكَذَا فِي حُكْمِ مَا حَمَلَهُ مِنْ مَالِهِ اور اسی طرح یہ ذمی مرتد کی طرح ہے اس مال کے حکم کے اندر بھی جس کو یہ اپنے ساتھ لے گیا ہے، إِلَّا أَنَّهُ لَوْ أُسِرَ يُسْتَرَقُّ مگر ایک بات ہے کہ أَنَّهُ لَوْ أُسِرَ يُسْتَرَقُّ کہ اگر اس ذمی کو قید کر لیا گیا يُسْتَرَقُّ اس کو غلام بنایا جا سکتا ہے بِخِلَافِ الْمُرْتَدِّ بخلاف مرتد کے کہ اگر اس کو قید کر لیا گیا تو اس کو غلام نہیں بنایا جا سکتا، اس سے یا صرف اسلام قبول کیا جائے گا یا اسے قتل کر دیا جائے گا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔ ”وَإِذَا رَكِبُوا لِلضَّرُورَةِ“ اور جب یہ ضرورت کی وجہ سے سوار ہو جائیں ”فَلْيَنْزِلُوا فِي جَامِعِ الْمُسْلِمِينَ“ تو چاہیے کہ یہ اتر جائیں مسلمانوں کی جمع ہونے کی جگہوں میں ”فَإِنْ لَزِمَتْهُ الضَّرُورَةُ“ اگر ضرورت اس کے ساتھ لازم ہو جائے، یعنی اسے سواری پر آنا جانا پڑتا ہے کوئی دور جگہ ہے۔ تو کہتے ہیں: ”فَإِنْ لَزِمَتْهُ الضَّرُورَةُ“ اگر اس کے ساتھ ضرورت لازم ہو جائے ”اتَّخَذُوا سَرْجًا“ تو وہ زینیں بنائیں گے ”بِالصِّفَةِ الَّتِي تَقَدَّمَتْ“ اسی صفت پر جو گزر گئی، یہ ایسی زین بنائیں گے جو اسی صفت پر ہو جو پیچھے گزر گئی یعنی پالان وغیرہ کی صورت میں۔ ”وَيُمْنَعُونَ عَنْ لِبَاسٍ يَخْتَصُّ بِهِ أَهْلُ الْعِلْمِ وَالزُّهْدِ وَالشَّرَفِ“ تو کہتے ہیں: ”وَيُمْنَعُونَ عَنْ لِبَاسٍ“ اور ان کو منع کیا جائے گا ایسے لباس سے ”يَخْتَصُّ بِهِ أَهْلُ الْعِلْمِ“ کہ وہ خاص ہو اہل علم کے ساتھ یعنی علماء کے ساتھ ”وَالزُّهْدِ“ أَيْ أَهْلُ الزُّهْدِ اور ایسا لباس جو زہد والوں کے ساتھ خاص ہو، زہد والے؟ وہ لوگ جو دنیا سے بے رغبتی اختیار کرتے ہیں، یعنی متقی مومنین مراد ہیں جن کی ساری توجہ آخرت کی طرف ہے بھئی۔ تو ان کو منع کیا جائے گا ایسے لباس سے بھی جو اہل زہد کے ساتھ خاص ہو ”وَالشَّرَفِ“ اور ان کو منع کیا جائے گا ایسے لباس سے بھی جو اہل شرف کے ساتھ یعنی معزز لوگوں کے ساتھ خاص ہو۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے۔ ”وَيُمْنَعُونَ عَنْ لِبَاسٍ“ اور ان کو منع کیا جائے گا ایسے لباس سے ”يَخْتَصُّ بِهِ أَهْلُ الْعِلْمِ وَالزُّهْدِ وَالشَّرَفِ“ جو اہل علم اور اہل زہد اور اہل شرف یعنی معزز لوگوں کے ساتھ خاص ہو۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایسا ہی فرمایا تھا بھئی، اور اسی پر صحابہ کا اتفاق ہوا بھئی۔ آگے دیکھیے: ”وَمَنِ امْتَنَعَ مِنَ الْجِزْيَةِ أَوْ قَتَلَ مُسْلِمًا أَوْ سَبَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ أَوْ زَنَى بِمُسْلِمَةٍ لَمْ يَنْتَقِضْ عَهْدُهُ“ یاد رکھو یہ ذمی جو ہے ہم نے ان کے ساتھ معاہدہ کیا ہوا ہے۔ ذمی اگر معاہدہ توڑے گا، عہد ذمہ کو توڑے گا تو پھر یہ مرتد کے حکم میں ہو جائے گا۔ البتہ مرتد کو تو قتل کیا جاتا ہے، البتہ اس کو قتل بھی کیا جا سکتا ہے اور غلام بھی بنایا جا سکتا ہے۔ تو اب صاحب ہدایہ بتلائیں گے کہ کن صورتوں میں ہم یہ کہیں گے کہ انہوں نے عہد ذمہ کو توڑ دیا ہے؟ تو آپ کو بتلائیں گے کہ اگر یہ دار الحرب چلے گئے تو اب یہ حرب یوں میں سے ہو گئے، وہاں رہتے ہیں۔ یا انہوں نے کسی جگہ پر قبضہ کر لیا اور مسلمانوں سے لڑائی کر رہے ہیں تو اب بھی یہ حرب یوں کے درجے میں ہو گئے۔ لہٰذا ان کو قید بھی کیا جا سکتا ہے، ان کو قتل بھی کیا جا سکتا ہے اور ان کو غلام بھی بنایا جا سکتا ہے۔ البتہ اگر انہوں نے جزیہ دینے سے انکار کر دیا یا انہوں نے کسی مسلمان کو قتل کر دیا یا انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی اور گالی وغیرہ دی، یا انہوں نے کسی مسلمان عورت کے ساتھ زنا کر لیا، تو کیا ان صورتوں میں بھی عہد ذمہ ٹوٹ جائے گا؟ کہتے ہیں: نہیں، ان صورتوں میں عہد ذمہ نہیں ٹوٹے گا بھئی۔ تو یہ جرم جو کیے ہیں ان کی سزا تو ان کو دی جائے گی لیکن بہرحال عہد ذمہ نہیں ٹوٹے گا۔ کہتے ہیں: ”وَمَنِ امْتَنَعَ مِنَ الْجِزْيَةِ“ اور ان ذمیوں میں سے جو رک گیا جزیے سے ”أَوْ قَتَلَ مُسْلِمًا“ یا اس نے کسی مسلمان کو قتل کر دیا ”أَوْ سَبَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ“ اور یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دی ”أَوْ زَنَى بِمُسْلِمَةٍ“ یا اس ذمی نے کسی مسلمان عورت سے زنا کر لیا ”لَمْ يَنْتَقِضْ عَهْدُهُ“ تو اس کا عہد نہیں ٹوٹا، یعنی عہد ذمہ نہیں ٹوٹا، نہیں ٹوٹا۔ ”لِأَنَّ الْغَايَةَ الَّتِي يَنْتَهِي بِهَا الْقِتَالُ الْتِزَامُ الْجِزْيَةِ لَا أَدَاؤُهَا“ بھئی یہ بات پیچھے گزری تھی کہ حربی جو ہے حربی، وہ قتل کا مستحق ہے لیکن اگر وہ اسلام لے آتا ہے تو اس کی جان محفوظ ہو گئی اب اس کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ یا اسی طرح کوئی حربی جب ذمی بن جاتا ہے تو اس سے بھی اس کی جان محفوظ ہو گئی اور اسے قتل نہیں کیا جائے گا۔ معلوم ہوا ذمی بننا یہ اسلام کا خلیفہ ہے، اسلام کا نائب ہے۔ جیسے اسلام کی وجہ سے ہم ان کے قتل سے رک جاتے ہیں، اسی طرح ذمی بننے کی وجہ سے بھی ہم ان کے قتل سے رک جاتے ہیں بھئی۔ اور یہ بھی آپ نے پڑھا تھا، ایک ہے امان موقت اور ایک ہے امان مؤبد بھئی۔ امان موقت وہ ہے جو جنگ کے اندر کافروں کو امان دیا جائے۔ تو یہ کچھ مدت کے لیے ہوتا ہے کہ ہم تمہیں نقصان نہیں پہنچائیں گے مثلاً دو سال تک یا تین سال تک، تو یہ کیا ہے؟ امان موقت۔ اور ایک امان مؤبد ہوتا ہے اور ذمی کو جو ہے امان مؤبد حاصل ہے کہ وہ دار الاسلام کے اندر ہے تو ہمیشہ کے لیے اس کی جان اور مال محفوظ ہے۔ اور یہ بات بھی پیچھے گزری تھی کہ حربی جب ذمی بنتا ہے اور وہ جزیہ دینا قبول کر لیتا ہے تو اب فوراً ہی قتال ساقط ہو گیا، اب ان کو قتل نہیں کیا جائے گا، ان سے لڑائی نہیں کی جائے گی۔ معلوم ہوا جزیہ دینے کی وجہ سے ذمی نہیں بنیں گے، جزیہ کو صرف قبول ہی کر لیں تو یہ ذمی بن جائیں گے۔ توجہ ہے؟ یہ جزیہ کا صرف اپنے اوپر التزام کر لیں تو ذمی بن جائیں گے، فوری طور پر جزیہ کا ادا کرنا ضروری نہیں ہے۔ اور پیچھے ذکر ہوا تھا، قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ”حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ“ اور صاحب ہدایہ نے بتلایا تھا کہ یہاں اعطاء سے مراد ہے قبول کرنا، یہاں تک کہ یہ جزیہ قبول کر لیں۔ دلیل آگے ذکر ہو رہی ہے، بھئی پیچھے متن میں آیا تھا: ”وَمَنِ امْتَنَعَ مِنَ الْجِزْيَةِ“ اور جو ذمی جزیہ ادا کرنے سے رک گیا، جزیہ نہیں ادا کر رہا، تو اس کی وجہ سے عہد ذمہ نہیں ٹوٹے گا۔ اس کی وجہ ذکر کرنے لگے ہیں: اس لیے کہ جزیہ جب قبول یہ کر لیتا ہے تو اس کی وجہ سے یہ ذمی بن جاتے ہیں، ان کے ساتھ لڑائی ختم کر دی جاتی ہے۔ تو لہٰذا لڑائی ختم کرنے کا دار و مدار جزیہ قبول کرنے پر ہے، جزیہ ادا کرنے پر نہیں۔ بھئی پیچھے متن میں آیا تھا: ”وَمَنِ امْتَنَعَ مِنَ الْجِزْيَةِ“ اور جو ذمی جزیہ ادا کرنے سے رک گیا، جزیہ نہیں ادا کر رہا، تو ادا نہ کرنے پر اس کے عہد ذمہ کی بنیاد نہیں تھی بلکہ قبول کرنے پر عہد ذمہ کی بنیاد تھی، اور ادا نہ کرنے سے قبول کرنا تو ساقط نہیں ہوا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ لہٰذا جزیہ دینے سے اگر وہ انکار کر دے تو بھی عہد ذمہ نہیں ٹوٹا۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْغَايَةَ الَّتِي يَنْتَهِي بِهَا الْقِتَالُ“ اس لیے کیونکہ وہ آخری حد جس کی وجہ سے لڑائی ختم ہو جاتی ہے ”الْتِزَامُ الْجِزْيَةِ“ وہ جزیے کو اپنے اوپر لازم کرنا ہے ”لَا أَدَاؤُهَا“ نہ کہ اس کو ادا کرنا بھئی، نہ کہ اس کو ادا کرنا۔ ”وَالِالْتِزَامُ بَاقٍ“ اور التزام تو ابھی بھی باقی ہے، اس نے جزیہ قبول کیا تھا یا نہیں؟ بے شک اب ادا نہیں کر رہا لیکن قبول تو کیا تھا، تو لہٰذا ابھی بھی عہد ذمہ نہیں ٹوٹا۔ آگے دیکھیے: ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”سَبُّ النَّبِيِّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ يَكُونُ نَقْضًا“ کہ حضور علیہ السلام کو گالی دینا یہ عہد ذمہ کو توڑنا ہے۔ ہم نے تو کہا کہ حضور علیہ السلام کو وہ گالی بھی دیتا ہے یہ عہد ذمہ کو توڑنا نہیں۔ گالی دینے کی وجہ سے اور سزا وغیرہ تو دی جائے گی لیکن اس کی وجہ سے عہد ذمہ نہیں ٹوٹے گا۔ لیکن امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، حضور علیہ السلام کی شان میں گستاخی کرنے سے عہد ذمہ ٹوٹ جائے گا۔ وجہ یہ کہ یہ جو ذمی ہونا ہے یہ نائب ہے اسلام کا، جیسے اسلام کی وجہ سے لڑائی ختم اسی طرح ذمی بننے کی وجہ سے بھی لڑائی ختم، تو اصل ہوا اسلام اور ذمی بننا یہ اس کا خلیفہ ہے اور نائب ہے۔ اور حضور علیہ السلام کو گالی دینے سے تو خود اصل یعنی اسلام ختم ہو جاتا ہے، آدمی کا ایمان ختم ہو جاتا ہے، تو جو نائب ہے وہ بطریق اولیٰ ختم ہو جائے گا اس گالی دینے کی وجہ سے۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”سَبُّ النَّبِيِّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ يَكُونُ نَقْضًا“ کہ حضور علیہ السلام کو گالی دینا یہ عہد ذمہ کو توڑنا ہے ”لِأَنَّهُ لَوْ كَانَ مُسْلِمًا يَنْقُضُ إِيمَانَهُ“ اس لیے کیونکہ اگر یہ مسلمان ہوتا تو یہ اس کے ایمان کو توڑ دیتا۔ بھئی میری کتاب میں ہے ”يَنْقُصُ إِيمَانُهُ“، ایمان پر رفع ہے بھئی، لیکن یہ درست نہیں ہے بھئی، نَقَضَ يَنْقُضُ کا معنیٰ ہے توڑنا، نَقَضَ يَنْقُضُ کا معنیٰ ہے توڑنا یعنی یہ متعدی ہے اس کے لیے مفعول چاہیے۔ اور اِنْتَقَضَ يَنْتَقِضُ کا معنیٰ ہے ٹوٹنا، وہ ہے لازمی بھئی۔ تو یہاں نَقَضَ آیا۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ لَوْ كَانَ مُسْلِمًا“ اس لیے کیونکہ اگر یہ گالی دینے والا مسلمان ہوتا ”يَنْقُضُ إِيمَانَهُ“ تو یہ گالی دینا اس کے ایمان کو توڑ دیتا۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ لَوْ كَانَ مُسْلِمًا“ اس لیے کیونکہ اگر یہ گالی دینے والا مسلمان ہوتا ”يَنْقُضُ إِيمَانَهُ“ تو یہ گالی دینا اس کے ایمان کو توڑ دیتا ”فَكَذَا يَنْقُضُ أَمَانَهُ“ تو اسی طرح یہ گالی دینا اس کے امان کو بھی توڑ دے گا ”إِذْ عَقْدُ الذِّمَّةِ خَلَفٌ عَنْهُ“ اس لیے کیونکہ عقد ذمہ ایمان کا خلیفہ ہے، اس کا نائب ہے، تو گالی دینے سے جیسے ایمان ٹوٹ جاتا ہے اسی طرح امان بھی ٹوٹ جائے گا۔ ”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل جو ہے ”أَنَّ سَبَّ النَّبِيِّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ كُفْرٌ مِنْهُ“ کہ حضور علیہ السلام کو گالی دینا ”كُفْرٌ مِنْهُ“ یہ اس ذمی کی طرف سے کفر ہے بھئی۔ حضور کو گالی دینا یہ کفر ہے تو اس کی طرف سے کفر والا فعل پایا گیا۔ ”وَالْكُفْرُ الْمُقَارِنُ لَا يَمْنَعُهُ فَالطَّارِئُ لَا يَرْفَعُهُ“ ”وَالْكُفْرُ الْمُقَارِنُ“ اور وہ کفر جو ملا ہوا ہے یعنی عہد ذمہ کے ساتھ، بھئی جب ہم نے عہد ذمہ کیا تھا اس وقت ہی یہ کیا تھا؟ کافر۔ تو عقد ذمہ کی ابتدا کے وقت جو کفر تھا وہ عہد ذمہ کے لیے مانع نہیں، وہ کفر جو ابتدائے عہد کے وقت تھا جب وہ عہد ذمہ کے لیے مانع نہیں تو وہ کفر جو بعد میں آئے وہ بطریق اولیٰ اس عہد ذمہ کے لیے مانع نہیں بنے گا، دلیل سمجھ میں آ گئی؟ کہتے ہیں: ”وَالْكُفْرُ الْمُقَارِنُ لَا يَمْنَعُهُ“ اور وہ کفر جو عہد ذمہ سے ملا ہوا ہے، قَارَنَ يُقَارِنُ کے معنیٰ ہے ملا ہوا ہونا، اور کس چیز سے ملا ہوا ہے؟ عہد ذمہ سے، یعنی ابتدا کے اندر جو کفر عہد ذمہ سے ملا ہوا تھا۔ کہتے ہیں: ”وَالْكُفْرُ الْمُقَارِنُ لَا يَمْنَعُهُ“ اور وہ کفر جو عقد ذمہ کے ساتھ ملا ہوا ہے یعنی ابتدا سے ہی ”لَا يَمْنَعُهُ“ وہ اس عہد ذمہ کے لیے مانع نہیں ہے ”فَالطَّارِئُ“ تو وہ کفر جو بعد میں پیش آیا ہے ”لَا يَرْفَعُهُ“ وہ بھی اس عہد ذمہ کو دور نہیں کرے گا، اس کو ختم نہیں کرے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو عند الاحناف حضور علیہ السلام کو کوئی گالی دیتا ہے تو اس کی وجہ سے اس کا عہد ذمہ نہیں ٹوٹتا، لہٰذا اس کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ لیکن علماء فرماتے ہیں: یہ اس صورت میں ہے جب وہ شخص علانیہ ایسا نہیں کرتا، اگر وہ علانیہ ایسا کرتا ہے، حضور کی شان میں گستاخی کرتا ہے اور اس کو اپنی عادت بنا لیتا ہے تو اس آدمی کو قتل کر دیا جائے گا چاہے عورت ہی کیوں نہ ہو، وہ بھی اس طرح اگر علانیہ کرتی ہے اس طرح گستاخی اور عادت بنا لیتی ہے تو اس کو قتل کر دیا جائے گا۔ آگے دیکھیے بھئی: ”قَالَ: وَلَا يُنْقَضُ الْعَهْدُ إِلَّا وَأَنْ يَلْتَحِقَ بِدَارِ الْحَرْبِ“ بھئی سب سے پہلے تو یہ عبارت دیکھ لیجیے بھئی، میری کتاب میں ہے ”وَلَا يُنْقَضُ الْعَهْدُ“، ”وَلَا يُنْقَضُ“ لیکن یہ درست نہیں ہے بھئی، میں نے آپ کو بتلایا نَقَضَ يَنْقُضُ کے معنیٰ ہے توڑنا، یہ متعدی ہے اس کے لیے مفعول چاہیے، جبکہ یہاں پر عہد کے ٹوٹنے کی بات ہو رہی ہے، عہد ذمہ کے ٹوٹنے کی بات ہو رہی ہے لہٰذا یہاں فعل لازم چاہیے بھئی، تو یہاں ہونا چاہیے ”وَلَا يَنْتَقِضُ الْعَهْدُ“۔ ”وَلَا يَنْتَقِضُ الْعَهْدُ“ یہاں ہونا چاہیے اور ہدایہ کے دیگر نسخوں میں یہ عبارت موجود ہے وہاں ”يَنْتَقِضُ“ کا صیغہ ہے بھئی۔ تو لہٰذا اس کو ”وَلَا يَنْتَقِضُ الْعَهْدُ“ پڑھیں بھئی۔ اور نیز آگے آ رہا ہے ”إِلَّا وَأَنْ يَلْتَحِقَ بِدَارِ الْحَرْبِ“، یہاں الا کے بعد واو ذکر ہے بھئی، تو ہدایہ کے بعض نسخوں میں اسی طرح واو موجود ہے اور ہدایہ کے بعض نسخوں میں یہاں واو موجود نہیں ہے بھئی اور وہی درست ہے بھئی، یہاں پر واو نہیں ہونا چاہیے بھئی۔ تو لہٰذا یہاں آپ بھی واو کے بغیر پڑھ لیجیے: ”قَالَ: وَلَا يَنْتَقِضُ الْعَهْدُ إِلَّا أَنْ يَلْتَحِقَ بِدَارِ الْحَرْبِ“۔ یہاں سے صاحب ہدایہ یہ بیان فرمائیں گے کہ کن صورتوں کے اندر عہد ذمہ ٹوٹ جائے گا؟ تو صاحب ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ اگر کوئی ذمی دار الحرب والوں سے جا ملا، کوئی ذمی دار الحرب والوں سے جا ملا وہیں جا کر ان کے پاس رہنے لگ پڑا، یا ذمیوں نے کسی علاقے پر قبضہ کر لیا اور انہوں نے مسلمانوں سے جنگ شروع کر دی تو ان دونوں صورتوں کے اندر عہد ذمہ ٹوٹ جائے گا۔ وجہ یہ کہ عہد ذمہ جو ذمیوں سے کیا گیا تھا اس کا مقصد یہ تھا کہ یہ جو ذمی ہیں ان کی جنگ کا شر دور ہو جائے۔ وجہ یہ کہ یہ ذمی تو پہلے حربی تھے بھئی، یہ کیا تھے؟ حربی تھے، یہ مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرنے والے تھے، تو ان کے ساتھ عہد ذمہ کیا گیا تاکہ ان کی جنگ کا شر دور ہو جائے۔ اور اب تو یہ خود ہمارے دشمنوں سے یعنی حرب یوں سے جا ملے ہیں یا انہوں نے ہمارے ساتھ لڑائی شروع کر دی ہے تو معلوم ہوا اب عہد ذمہ کو باقی رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ اب اس وقت وہ مسلمانوں سے لڑ رہے ہیں یا مسلمانوں کے ساتھ لڑنے والوں کے ساتھ جا ملے ہیں۔ تو لہٰذا اگر ذمی دار الحرب والوں سے جا ملے یا ذمی کسی علاقے پر قبضہ کر لے اور مسلمانوں سے جنگ شروع کر دیں تو اس صورت میں عہد ذمہ ٹوٹ جائے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”قَالَ“ صاحب قدوری فرماتے ہیں: ”وَلَا يَنْتَقِضُ الْعَهْدُ“ اور عہد ذمہ ٹوٹتا نہیں ہے ”إِلَّا أَنْ يَلْتَحِقَ بِدَارِ الْحَرْبِ“ مگر یہ کہ ذمی جو ہے دار الحرب سے جا ملے یعنی وہیں چلا جائے ان کے پاس رہنے لگے ”أَوْ يَغْلِبُوا عَلَى مَوْضِعٍ فَيُحَارِبُونَنَا“ یا یہ ذمی جو ہیں کسی جگہ پر قبضہ کر لیں ”فَيُحَارِبُونَنَا“ تو ہمارے ساتھ پھر جنگ کریں، جب ذمی کسی علاقے پر قبضہ کر لیں اور ہمارے ساتھ جنگ شروع کر دیں تو اس صورت میں بھی عہد ذمہ ٹوٹ جائے گا۔ ”لِأَنَّهُمْ صَارُوا حَرْبًا عَلَيْنَا“ اس لیے کیونکہ وہ ہمارے دشمن ہو گئے، میں نے آپ کو بتلایا تھا بھئی کہ حرب کا ایک معنیٰ ہے دشمن بھئی اور اس کے ساتھ ”عَلَى“ صلے کے طور پر استعمال ہوتا ہے، مثلاً کوئی شخص کسی کا دشمن ہو تو عربی میں کہتے ہیں: ”هُوَ حَرْبٌ عَلَيَّ“ وہ میرا دشمن ہے، تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے: ”لِأَنَّهُمْ صَارُوا حَرْبًا عَلَيْنَا“ اس لیے کیونکہ وہ ہمارے دشمن ہو گئے ”فَيَعْرَى عَقْدُ الذِّمَّةِ عَنِ الْفَائِدَةِ“ تو خالی ہو گیا عقد ذمہ فائدے سے ”وَهُوَ دَفْعُ شَرِّ الْحِرَابِ“ اور وہ فائدہ جو تھا وہ جنگ کے شر کو دور کرنا تھا، ان لوگوں کی جنگ کے شر کو دور کرنا تھا اور اب تو یہ ہمارے ساتھ جنگ کر رہے ہیں یا جنگ کرنے والوں کے ساتھ جا ملے ہیں، تو اب عہد ذمہ کو باقی رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَيَعْرَى عَقْدُ الذِّمَّةِ عَنِ الْفَائِدَةِ“ تو عقد ذمہ خالی ہو گیا فائدے سے ”وَهُوَ دَفْعُ شَرِّ الْحِرَابِ“ اور وہ فائدہ ان کی جنگ کے شر کو دور کرنا تھا۔ آگے دیکھیے: ”وَإِذَا نَقَضَ الذِّمِّيُّ الْعَهْدَ فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ الْمُرْتَدِّ“ اور جب ذمی عہد ذمہ کو توڑ دے تو وہ مرتد کے درجے میں ہے۔ ذمی جب عہد ذمہ کو توڑ دے تو وہ مرتد کے درجے میں ہے، بھئی یہ متن ہے بھئی: ”وَإِذَا نَقَضَ الذِّمِّيُّ الْعَهْدَ فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ الْمُرْتَدِّ“ تو یہ متن ہے اور اس متن کے اندر صاحب قدوری نے آپ کو بتلایا کہ ذمی جب عہد ذمہ کو توڑ دے تو وہ مرتد کے درجے میں ہے۔ اب اس کلام کا کیا معنیٰ؟ وہ ذمی جس نے عہد ذمہ کو توڑ دیا ہے وہ کس اعتبار سے مرتد کے درجے میں ہے؟ تو صاحب ہدایہ آگے اس کا معنیٰ بیان فرمائیں گے بھئی۔ لیکن ایک دو باتیں پہلے سمجھ لیجیے: یاد رکھو جب کوئی شخص مرتد ہوتا ہے تو آپ جانتے ہیں کہ وہ واجب القتل ہو جاتا ہے بھئی۔ اس کو تین دن کی مہلت دی جائے گی اور اگر وہ مسلمان نہیں ہوتا تو اس کو قتل کر دیا جائے گا۔ لیکن اگر ایک شخص مرتد ہوا اور بھاگ کر دار الحرب چلا گیا اور پھر قاضی نے اس کے دار الحرب جانے کا فیصلہ کر دیا، اس کے وارث وغیرہ قاضی کے پاس آ گئے کہ وہ شخص مرتد ہو کر بھاگ کر دار الحرب چلا گیا ہے اس کا مال اب ہم وارثوں میں تقسیم کیا جائے، تو قاضی پتہ کروائے گا اور جب پتہ چل جائے کہ واقعی وہ شخص بھاگ کر دار الحرب جا چکا ہے تو قاضی فیصلہ لکھ دے گا کہ فلاں شخص مرتد ہو کر دار الحرب بھاگ چکا ہے۔ اور یاد رکھو قاضی جیسے ہی اس کے دار الحرب والوں سے جا ملنے کا فیصلہ لکھے گا تو یہ فیصلہ اس مرتد کے لیے موت کے درجے میں ہے یعنی اس مرتد پر موت کا حکم لگا دیا جائے گا کہ وہ مر چکا ہے اور اس پر پھر مردوں والے احکام جاری ہو جائیں گے، یعنی اس کا مال وغیرہ ہے یہاں دار الاسلام کے اندر وہ اس کے وارثوں کی طرف منتقل ہو جائے گا۔ معلوم ہوا مرتد جب بھاگ کر دار الحرب چلا جائے اور قاضی اس کے دار الحرب والوں سے جا ملنے کا فیصلہ لکھ دے تو یہ اس مرتد کے لیے موت حکمی ہے، یہ اس مرتد کے لیے موت حکمی ہے یعنی موت کا حکم اس پر لگا دیا گیا، حقیقت میں تو وہ زندہ ہے دار الحرب کے اندر لیکن قاضی کا یہ فیصلہ اس کے لیے موت حکمی ہے بھئی اور اس پر مردوں کے احکام جاری ہو جائیں گے۔ اور نیز ایک اور مسئلہ بھی یاد رکھنا کہ اگر مسلمانوں نے پھر اس دار الحرب پر قبضہ کر لیا اور یہ مرتد اور اس کا مال مسلمانوں کے قبضے میں آ گئے، تو مرتد جو ہے اس کو تو قتل کیا جائے گا الا یہ کہ وہ اسلام لے آئے، اور جو مرتد کا مال ہوگا وہ سارا مال غنیمت شمار ہوگا۔ وہ مال غنیمت شمار ہوگا۔ معلوم ہوا مرتد دار الحرب چلا جائے اور قاضی فیصلہ کر دے تو یہ موت حکمی ہے، اور نیز مسلمان اس علاقے پر قبضہ کر لیں تو مرتد کا مال مال غنیمت ہے۔ تو صاحب ہدایہ بتلائیں گے کہ یہ جو شخص یہ جو ذمی جس نے عہد ذمہ کو توڑ دیا ہے یہ مرتد کی طرح ہے ان دونوں چیزوں میں، یعنی جیسے مرتد دار الحرب والوں سے جا ملا تھا تو اس پر موت کے احکام جاری کر دیے گئے، اسی طرح یہ ذمی جس نے عہد ذمہ توڑا ہے جب یہ دار الحرب والوں سے جا ملا ہے تو یہ بھی اس کے لیے موت حکمی ہے یعنی موت کے احکام جاری کر دیے جائیں گے، یعنی اس ذمی کا کوئی مال اگر دار الاسلام کے اندر موجود ہے تو وہ اس کے وارثوں میں تقسیم کر دیا جائے گا بھئی۔ اور نیز جیسے مسلمان اس دار الحرب پر قبضہ کر لیں تو مرتد کا مال جو ہوتا تھا وہ مال غنیمت شمار ہوتا تھا، اسی طرح اگر یہ ذمی جس نے عہد ذمہ توڑا ہے اور جا کر حرب یوں سے مل گیا ہے تو اگر اس دار الحرب پر مسلمانوں نے قبضہ کر لیا تو اس ذمی کا جو مال ہے وہ مال بھی مال غنیمت شمار ہوگا۔ توجہ ہے؟ تو حاصل کلام یہ کہ یہ ذمی جس نے عہد ذمہ کو توڑا ہے یہ مرتد کی طرح ہے دو چیزوں میں: ایک جیسے مرتد دار الحرب چلا جائے تو اس کی موت حکمی کا فیصلہ کر دیا جاتا ہے اسی طرح ذمی بھی دار الحرب جائے گا تو یہ بھی موت حکمی شمار ہوگی بھئی۔ اور نیز اسی طرح اور نیز اسی طرح جیسے مرتد کا مال مال غنیمت شمار ہوگا اگر مسلمان وہاں قبضہ کر لیں تو اسی طرح یہ ذمی جس نے عہد ذمہ کو توڑا ہے اس کا مال بھی مال غنیمت شمار ہوگا اگر مسلمان اس علاقے پر قبضہ کر لیں۔ البتہ فرق یہ ہے کہ ذمی جو ہے اگر اس کو قید کر لیا جائے تو اس کو قتل کرنا بھی جائز اور اس کو غلام بنانا بھی جائز ہے، لیکن اگر مرتد کو قیدی بنا لیا گیا وہ مرتد جو دار الحرب بھاگ گیا تھا اگر اس کو قیدی بنا لیا گیا تو اس کو غلام بنانا جائز نہیں، یا اس سے اسلام قبول کیا جائے گا یا اسے قتل کر دیا جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ جی اب دیکھیے کتاب پر، کہتے ہیں: ”وَإِذَا نَقَضَ الذِّمِّيُّ الْعَهْدَ فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ الْمُرْتَدِّ“ اور جب ذمی عہد ذمہ کو توڑ دے تو یہ ذمی جو ہے مرتد کے درجے میں ہے۔ ”مَعْنَاهُ“ صاحب قدوری کے اس قول کا معنیٰ یہ ہے، یہ جو انہوں نے صاحب قدوری نے ذکر کیا کہ یہ ذمی مرتد کے درجے میں ہے تو کس چیز میں؟ کہتے ہیں: ”فِي الْحُكْمِ بِمَوْتِهِ بِاللِّحَاقِ“ ”فِي الْحُكْمِ بِمَوْتِهِ“ اس کی موت کا حکم لگانے کے اندر ”بِاللِّحَاقِ“ دار الحرب والوں سے جا ملنے کی وجہ سے۔ لِحَاق کا کیا معنیٰ؟ جا ملنا۔ ”بِاللِّحَاقِ“ دار الحرب والوں سے جا ملنے کی وجہ سے اس کی موت کا حکم لگایا جائے گا جیسے مرتد دار الحرب والوں سے جا ملے تو اس پر موت کا حکم لگایا جاتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”مَعْنَاهُ“ صاحب قدوری کے اس قول کا معنیٰ یہ ہے ”فِي الْحُكْمِ بِمَوْتِهِ بِاللِّحَاقِ“ کہ یہ ذمی مرتد کی طرح ہے ”فِي الْحُكْمِ بِمَوْتِهِ“ اس کی موت کے حکم میں ”بِاللِّحَاقِ“ دار الحرب والوں سے جا ملنے کی وجہ سے ”لِأَنَّهُ الْتَحَقَ بِالْأَمْوَاتِ“ اس لیے کیونکہ یہ مردوں سے جا ملا ہے۔ یہاں سے وجہ بتلا رہے ہیں کہ یہ حربی یا یہ مرتد جب دار الحرب چلا گیا تو ان پر مردوں کے احکام کیوں جاری کیے گئے؟ تو وجہ اس کی یہ ہے کہ یہ جو حربی ہیں جو دار الحرب میں ہیں یہ مردوں کے حکم میں ہیں، جیسے مردہ جو ہے اس پر اسلامی احکام لازم نہیں کیے جا سکتے کیونکہ وہ مر چکا ہے بھئی، اسی طرح یہ جو حربی ہیں ان پر بھی اسلامی احکام لازم نہیں کیے جا سکتے کیونکہ ہمیں ان پر ولایت حاصل نہیں ہے، تو یہ حربی مردوں کے درجے میں ہوئے۔ تو یہ مرتد اور ذمی جب دار الحرب والوں سے جا ملے تو معلوم ہوا یہ مردوں سے جا ملے ہیں اور جب یہ مردوں سے جا ملے ہیں تو ان کا حکم بھی مردوں والا ہوگا یعنی ان کی وہ جائیداد جو دار الاسلام میں موجود ہے وہ ان کے وارثوں میں تقسیم کر دی جائے گی۔ اور نیز یہ بھی یاد رکھنا، مرتد جو ہے مرتد کے تو مرتد ہوتے ہی اس کا نکاح ٹوٹ گیا، جبکہ یہ جو ذمی ہے جس نے عہد ذمہ کو توڑا ہے اس کا بھی اپنی بیوی سے نکاح ٹوٹ گیا اگر اس کی کوئی بیوی یہاں دار الاسلام میں ذمیہ موجود ہے۔ اس ذمی کا بھی نکاح ٹوٹ گیا، وجہ یہ کہ یہ ذمی دار الحرب والوں سے جا ملا ہے اور بیوی یہاں دار الاسلام میں ہے تو بیوی اور خاوند کا دار الگ الگ ہے، اور آپ پیچھے پڑھ چکے ہیں کہ بیوی اور خاوند کا دار حقیقتاً بھی الگ ہو اور حکماً بھی الگ ہو تو دونوں میں بینونت آ جاتی ہے نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔ تو یہاں بیوی اور خاوند دونوں کا دار حقیقتاً الگ ہے، بیوی دار الاسلام میں ہے اور یہ ذمی بھاگ کر دار الحرب جا چکا ہے تو حقیقتاً بھی دونوں کا دار الگ الگ، اور نیز حکماً بھی دار الگ ہے اس لیے کیونکہ بیوی کا یہیں رہنے کا ارادہ ہے اور خاوند کا دار الحرب میں ہی رہنے کا ارادہ ہے تو دونوں کا دار حقیقتاً بھی الگ ہوا اور حکماً بھی الگ ہوا لہٰذا ان میں بینونت آ جائے گی ان کا نکاح ٹوٹ جائے گا، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ معنیٰ ہے ”لِأَنَّهُ الْتَحَقَ بِالْأَمْوَاتِ“ اس لیے کیونکہ یہ ذمی جو ہے مردوں سے جا ملا ہے ”وَكَذَا فِي حُكْمِ مَا حَمَلَهُ مِنْ مَالِهِ“ اور اسی طرح یہ ذمی اس مرتد کی طرح ہے ”فِي حُكْمِ مَا حَمَلَهُ مِنْ مَالِهِ“ وہ مال جس کو وہ لے گیا ہے اس کے حکم میں، وہ مال جو ذمی اپنے ساتھ دار الحرب لے گیا ہے اس مال میں بھی یہ ذمی مرتد کی طرح ہے، جیسے مرتد کا مال جو ہے وہ مال غنیمت شمار ہوتا تھا اس ذمی کا مال بھی مال غنیمت شمار ہوگا۔ یہ معنیٰ ہے ”وَكَذَا فِي حُكْمِ مَا حَمَلَهُ مِنْ مَالِهِ“ اور اسی طرح یہ ذمی مرتد کی طرح ہے اس مال کے حکم کے اندر بھی جس کو یہ اپنے ساتھ لے گیا ہے۔ ”إِلَّا أَنَّهُ لَوْ أُسِرَ يُسْتَرَقُّ“ مگر ایک بات ہے ”أَنَّهُ لَوْ أُسِرَ يُسْتَرَقُّ“ کہ اگر اس ذمی کو قید کر لیا گیا ”يُسْتَرَقُّ“ اس کو غلام بنایا جا سکتا ہے ”بِخِلَافِ الْمُرْتَدِّ“ بخلاف مرتد کے کہ اگر اس کو قید کر لیا گیا تو اس کو غلام نہیں بنایا جا سکتا، اس سے یا صرف اسلام قبول کیا جائے گا یا اسے قتل کر دیا جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی، ”هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“۔