درس نمبر۔80 تَأْكِيدُ الْمَدْحِ بِمَا يُشْبِهُ الذَّمَّ ضَرْبَانِ: أَحَدُهُمَا أَنْ يُسْتَثْنَى مِنْ صِفَةِ ذَمٍّ مَنْفِيَّةٍ صِفَةُ مَدْحٍ عَلَى تَقْدِيرِ دُخُولِهَا فِيهَا، كَقَوْلِهِ: وَلَا عَيْبَ فِيهِمْ غَيْرَ أَنَّ سُيُوفَهُمْ بِهِنَّ فُلُولٌ مِنْ قِرَاعِ الْكَتَائِبِ تَأْكِيدُ الْمَدْحِ بِمَا يُشْبِهُ الذَّمَّ۔ تَأْكِيدُ الْمَدْحِ، مدح کی تاکید، یعنی مدح میں تاکید پیدا کرنا، مدح کو پکا کرنا، مدح کو پختہ کرنا، بِمَا، ایسے لفظوں کے ساتھ، يُشْبِهُ الذَّمَّ، جو کہ مذمت کے مشابہ ہو۔ مدح میں کیا کرنا؟ تاکید پیدا کرنا ایسے لفظوں کے ساتھ جو مذمت کے مشابہ ہو بھئی۔ بھئی تَأْكِيدُ الْمَدْحِ بِمَا يُشْبِهُ الذَّمَّ اس کو کہتے ہیں کہ کسی کی مدح کی جائے اور ایسے لفظوں کے ساتھ کی جائے کہ سننے والا اولاً، ابتداءً یوں سمجھتا ہے شاید مذمت بیان کی جا رہی ہے، کسی کی برائی بیان کی جا رہی ہے۔ لیکن جب وہ ذرا سا غور کرتا ہے تو اس کو پتہ چلتا ہے کہ بھئی یہاں مذمت نہیں کی جا رہی بلکہ مدح کے اندر بے انتہا مبالغہ کیا گیا ہے بھئی۔ مدح کے اندر بے انتہا مبالغہ کیا گیا ہے۔ تو بظاہر کس چیز کا شبہ ہوتا ہے؟ مذمت کا، اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ تَأْكِيدُ الْمَدْحِ بِمَا يُشْبِهُ الذَّمَّ بھئی۔ اور اس کی پھر دو قسمیں ہیں بھئی، دو قسمیں۔ ایک صورت یہ ہے کہ ممدوح سے یعنی جس کی تعریف کی جا رہی ہے، اس سے صفتِ ذم کی نفی کی جاتی ہے، صفتِ ذم یعنی بری صفت کی نفی کی جاتی ہے، اور بری صفت کی نفی کرنا یہ کیا ہے؟ تعریف ہے نا بھئی۔ جیسے آگے شعر میں آ رہا ہے: "وَلَا عَيْبَ فِيهِمْ"، ان میں کوئی عیب نہیں۔ تو یہ تعریف کی جا رہی ہے یا برائی کی جا رہی ہے؟ تعریف کی جا رہی ہے۔ تو یہ جو صفتِ ذم کی نفی کی جاتی ہے، پھر آگے حرفِ استثناء کو ذکر کیا جاتا ہے اور حرفِ استثناء کے بعد پھر آگے مدح کی جاتی ہے، تعریف والے ہی الفاظ ذکر کیے جاتے ہیں بھئی۔ لیکن جب حرفِ استثناء لایا جاتا ہے تو بظاہر یوں شبہ ہوتا ہے گویا اب مذمت آنے والی ہے بھئی۔ کیا آنے والی ہے؟ مذمت آنے والی ہے۔ دیکھیے، پہلے ذرا یہ شعر کر لیجیے پھر اس کے بعد آپ کو اس کی تعریف سمجھ میں آئے گی بھئی۔ کہتے ہیں: "وَلَا عَيْبَ فِيهِمْ"، شاعر کسی کی تعریف کر رہا ہے، کہتا ہے: "وَلَا عَيْبَ فِيهِمْ"، اور ان میں کوئی عیب نہیں ہے، "غَيْرَ أَنَّ"، سوائے اس کے کہ۔ بھئی لفظوں پہ ذرا غور کریں، ان میں کوئی عیب نہیں ہے سوائے اس کے کہ، آگے آپ کیا آپ کا گمان ہے، کیا آنے والی ہے؟ بظاہر بظاہر کیا لگتا ہے، آگے کیا آنے والی ہے؟ ان میں کوئی عیب نہیں ہے سوائے اس کے کہ، آگے آدمی سمجھتا ہے شاید عیب آنے والا ہے، لیکن آگے پھر کیا آ جاتی ہے؟ مدح آ جاتی ہے۔ تو دیکھو دو دفعہ مدح آ گئی: ایک پہلے آئی تھی: "وَلَا عَيْبَ فِيهِمْ"، اور آگے پھر استثناء کے بعد بھی کیا آ گئی؟ مدح آ گئی، تو مدح کے بعد پھر مدح آ گئی تو مدح میں تاکید پیدا ہو گئی، کیا ہو گئی؟ تاکید۔ جیسے آپ کہتے ہیں: "جَاءَنِي زَيْدٌ زَيْدٌ"، یہ زیدِ ثانی زیدِ اول کے لیے کیا ہے؟ تاکید ہے، تو یہاں بھی اسی طرح ایک مدح کے بعد حرفِ استثناء آتا ہے اور پھر دوبارہ مدح آتی ہے، تو مدح کے بعد مدح آ گئی تو کیا پیدا ہو گئی مدح میں؟ تاکید پیدا ہو گئی۔ تو شاعر کہتا ہے: وَلَا عَيْبَ فِيهِمْ، اور ان میں کوئی عیب نہیں ہے، غَيْرَ أَنَّ، سوائے اس کے کہ، سُيُوفَهُمْ، کہ ان کی جو تلواریں ہیں، بِهِنَّ فُلُولٌ، فلول جمع ہے فلٌّ کی اور فلٌّ کہتے ہیں دندانے کو، دندانے کو بھئی۔ تلوار کی دھار بھئی اس پر اگر تلوار کے ساتھ تلوار ٹکرائے گی تو تلوار کی تیز دھار پر کیا پڑ جاتے ہیں؟ دندانے پڑ جاتے ہیں بھئی، تو اس کو فلٌّ کہتے ہیں، فلٌّ۔ کہ ان کی سوائے اس کے کہ ان کی جو تلواریں ہیں بِهِنَّ فُلُولٌ، ان میں دندانے ہیں، مِنْ قِرَاعِ الْكَتَائِبِ، قراع مصدر ہے قتال وزن پر۔ آپ نے پڑھا ہے بابِ مفاعلہ کا ایک مصدر تو مفاعلہ ہے اور ایک فعال ہے قتال، جیسے قَاتَلَ يُقَاتِلُ مُقَاتَلَةً وَقِتَالًا، اسی طرح یہاں بھی ہے: قَارَعَ يُقَارِعُ مُقَارَعَةً وَقِرَاعًا۔ تو قراع کا معنی ہے تلواروں سے ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ کرنا بھئی۔ الْكَتَائِبِ، کتائب جمع ہے کتیبہ کی اور کتیبہ کہتے ہیں وہ جماعت جو لڑائی کے لیے تیار ہو یعنی لشکر اور فوج بھئی، اس کو کیا کہتے ہیں؟ کتیبہ، اس کی جمع ہے کتائب۔ تو شاعر کہتا ہے: وَلَا عَيْبَ فِيهِمْ غَيْرَ أَنَّ سُيُوفَهُمْ بِهِنَّ فُلُولٌ مِنْ قِرَاعِ الْكَتَائِبِ، اور ان لوگوں میں کوئی عیب نہیں ہے سوائے اس کے کہ ان کی تلواروں میں دندانے ہیں، مِنْ قِرَاعِ الْكَتَائِبِ، لشکروں سے مقابلہ کرنے کی وجہ سے۔ لشکروں سے مقابلہ کرنے کی وجہ سے ان کی تلواروں میں کیا پڑے کیا پڑ گئے ہیں؟ دندانے پڑ گئے ہیں بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ بھئی بات چل رہی ہے تَأْكِيدُ الْمَدْحِ بِمَا يُشْبِهُ الذَّمَّ، اور یہ اس کی پہلی قسم ہے، پہلی قسم ہے۔ دیکھیے اب اوپر عبارت کو دیکھیے: أَحَدُهُمَا، پہلی ان دو میں سے ایک قسم یہ ہے کہ أَنْ يُسْتَثْنَى مِنْ صِفَةِ ذَمٍّ مَنْفِيَّةٍ، کہ استثناء کیا جائے، کس سے استثناء کیا جائے؟ ایسی صفتِ ذم سے جو منفی ہے، جس کی نفی کی گئی ہے، استثناء کیا جائے۔ کس کا استثناء کیا جائے؟ صِفَةُ مَدْحٍ، صفتِ مدح کا استثناء کیا جائے۔ اچھا بھئی، پیچھے نفی کس کی کی گئی؟ صفتِ ذم کی، اور غیر کے بعد کیا ذکر ہے؟ صفتِ مدح ذکر ہے، تو یہ صفتِ مدح یہ کوئی عیب تھی؟ جی؟ تو یہ عیب میں داخل بھی نہیں تھی۔ استثناء تو اس کو کہتے ہیں نا ایک چیز جو پہلے داخل تھی اس کو کیا کر لیا جائے؟ حرفِ استثناء کے ذریعے اس سے نکال دیا جائے، "جَاءَنِي الْقَوْمُ إِلَّا زَيْدًا"، میرے پاس وہ لوگ آئے سوائے کس کے؟ زید کے۔ اب مثلاً زید ان میں پہلے داخل تھا اور پھر الّا کے ذریعے کیا کر دیا گیا اس کو؟ نکال دیا گیا۔ تو یہاں پر بھی ماقبل میں عیب کی نفی کی جا رہی ہے اور الّا کے بعد یا غیر کے بعد کیا ہے؟ صفتِ مدح ہے، اور یہ صفتِ مدح کا استثناء کیا گیا اس صفتِ ذم سے، اس سے نکال دیا گیا، حالانکہ یہ تو اس کے اندر داخل نہیں تھی۔ کہتے ہیں: فرض کرتے ہوئے کہ یہ اس میں داخل تھی، یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ یہ کیا تھی اس کے اندر؟ داخل تھی، پھر اس کو کیا کر لیا گیا؟ نکال لیا گیا، بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے کہ استثناء کیا جائے صفتِ مدح کا عَلَى تَقْدِيرِ دُخُولِهَا فِيهَا، تقدیر کا معنی فرض کرنا، اس کے داخل ہونے کو فرض کرتے ہوئے فِيهَا اس صفتِ ذم منفی کے اندر۔ عبارت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ بھئی اب ذرا پھر شعر پر غور کیجیے۔ شاعر کہتا ہے: "وَلَا عَيْبَ فِيهِمْ"، ان لوگوں میں کوئی عیب نہیں، سوائے اس کے کہ ان کی تلواریں جو ہیں ان میں دندانے پڑ گئے ہیں لشکروں سے مقابلہ کرنے کی وجہ سے۔ تو اولاً جب یہ کلام سننے والا سنتا ہے تو سمجھتا ہے شاید مذمت بیان کی جا رہی ہے کہ ان میں کوئی عیب نہیں سوائے اس کے کہ ان کی تلواروں میں کیا ہیں؟ دندانے، معلوم ہوا صرف یہ ایک عیب ہے ان کے اندر اور کوئی عیب نہیں۔ لیکن پھر جب غور کرتا ہے کہ تلواروں میں دندانوں کا ہونا یہ تو عیب کی علامت نہیں ہے، یہ تو بہادری کی علامت ہے بھئی، کیونکہ دندانے انہی لوگوں کی تلواروں میں پڑے ہوں گے جو بہادر ہوں گے اور جو جنگوں میں حصہ لیتے رہتے ہیں، جو جنگوں میں حصہ ہی نہیں لیتا، جو بہادر ہی نہیں ہے اس کی تلوار پر کبھی بھی دندانے نہیں پڑیں گے، اس کی تلوار اسی طرح چمکتی ہوئی صحیح ہوگی بھئی۔ تو معلوم ہوا تلوار کس کی تلوار میں دندانے ہوتے ہیں؟ جو بہادر ہے اور جو جنگوں میں حصہ لیتا ہے، تو تلواروں میں دندانوں کا ہونا یہ کس چیز کی علامت ہوئی؟ بہادری کی علامت، اور بہادری اور شجاعت یا کیا یہ کوئی عیب ہے؟ نہیں، یہ تو عیب ہے ہی نہیں، تو یہ تو گویا ان کی شجاعت بیان کی جا رہی ہے۔ تو اول سنتے ہی کیا اندازہ ہوا تھا؟ شاید کیا بیان کی جا رہی ہے؟ مذمت بیان کی جا رہی ہے کہ ان کی تلواروں میں دندانے پڑے ہوئے ہیں، لیکن پھر جب ذرا غور کیا تو پتہ چلا کہ نہیں یہ تو مذمت نہیں ہے بلکہ یہ تو ان کی ان کی مدح کی جا رہی ہے، ان کی تعریف بیان کی جا رہی ہے کہ وہ لوگ بڑے بہادر لوگ ہیں بھئی، جنگوں میں حصہ لیتے رہتے ہیں اور خطرات سے گھبرانے والے لوگ نہیں ہیں بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو دیکھیے، "وَلَا عَيْبَ فِيهِمْ" کس چیز کی نفی کی گئی؟ عیب کی نفی، صفتِ ذم کی نفی کی گئی، اور آگے غیر استثناء، حرفِ استثناء آیا، لفظِ استثناء آیا اور اس کے بعد کون سی صفت آئی؟ کس کا استثناء کیا گیا؟ کون سی صفت ہے آگے، مدح ہے یا مذمت ہے؟ مدح ہے۔ تو صفتِ مدح کا استثناء کیا گیا کس سے؟ صفتِ ذم سے، اور یہ تو اس کے اندر داخل نہیں تھی، پھر کیا جواب دیتے ہیں؟ فرض کر لیا گیا تھا کہ یہ کیا تھی؟ اس میں داخل تھی، تو باقی عیوب کی تو نفی کر دی لیکن اس عیب کو گویا کیا کر دیا؟ ثابت کر دیا، حالانکہ یہ عیب نہیں بلکہ یہ تو کیا ہے؟ مدح ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی۔ یہ ہے پہلی قسم بھئی۔ اب دوبارہ دیکھ لیجیے بھئی: تَأْكِيدُ الْمَدْحِ بِمَا يُشْبِهُ الذَّمَّ ضَرْبَانِ، تاکید المدح بما یشبہ الذم جو ہے یعنی مدح میں تاکید پیدا کرنا ایسے لفظوں کے ساتھ جو مذمت کے مشابہ ہوں، ضربان، یہ دو قسم پر ہے: أَحَدُهُمَا، ان دو میں سے ایک قسم یہ ہے أَنْ يُسْتَثْنَى مِنْ صِفَةِ ذَمٍّ مَنْفِيَّةٍ، کہ استثناء کیا جائے صفتِ ذم منفی سے، کس کا استثناء کیا جائے؟ صِفَةُ مَدْحٍ، صفتِ مدح کا، عَلَى تَقْدِيرِ دُخُولِهَا فِيهَا، اس کے دخول کو اس میں فرض کرتے ہوئے، یہ فرض کرتے ہوئے کہ یہ بھی کس میں داخل تھی؟ صفتِ ذم منفی کے اندر داخل تھی، كَقَوْلِهِ، جیسے کہ ایک شاعر کا قول ہے: وَلَا عَيْبَ فِيهِمْ غَيْرَ أَنَّ سُيُوفَهُمْ بِهِنَّ فُلُولٌ مِنْ قِرَاعِ الْكَتَائِبِ، اور ان لوگوں میں کوئی عیب نہیں ہے سوائے اس کے کہ ان کی تلواروں میں دندانے ہیں لشکروں سے مقابلہ کرنے کی وجہ سے۔ پہلی قسم کا پتہ چل گیا بھئی؟ تو یہ ایک صورت تھی، ایک صورت۔ کہ اولاً کیا کیا گیا؟ صفتِ ذم کی نفی کی گئی، اور صفتِ ذم کی نفی بھی کیا ہے؟ دراصل مدح ہی ہے، دراصل کیا ہے؟ مدح۔ تو حرفِ استثناء سے ماقبل بھی کیا آ گئی؟ مدح، حرفِ استثناء کے بعد بھی کیا آ گئی؟ مدح، تو مدح میں کیا پیدا ہو گئی؟ تاکید پیدا ہو گئی، اور لفظ کس قسم کے تھے کہ اولاً کس چیز کا شبہ ہوتا تھا؟ مذمت کا، اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ تَأْكِيدُ الْمَدْحِ بِمَا يُشْبِهُ الذَّمَّ۔ تو یہاں پر یاد رکھیے، یاد رکھیے مدح میں تاکید آئی دو وجہ سے، یہ یاد رکھنا، دو وجہ سے: اولاً کہ مدح کے بعد پھر مدح آ گئی، تعریف کے بعد پھر تعریف آ گئی، تو تاکید پیدا ہو گئی یا نہیں؟ مدح میں کس طرح توجہ ہے سبق کی طرف بھئی؟ میں تکرار کروا رہا ہوں، بات سمجھ میں آئے تو مجھے جواب دیا کیجیے۔ یہاں مدح میں تاکید کس وجہ سے آئی؟ کیونکہ مدح کتنی دفعہ آ گئی؟ دو دفعہ آ گئی، تو دو دفعہ اثباتِ مدح ہوا اس سے مدح میں تاکید آ گئی۔ نیز، نیز یہاں دَعْوَى الشَّيْءِ بِبَيِّنَةٍ ہے بھئی۔ ایک چیز ایک ہے بھئی ایک چیز کا ویسے دعویٰ کرنا اور ایک ہے دعوے کے ساتھ دلیل بھی پیش کرنا، کون سی صورت قوی ہے بھئی؟ دعوے کے ساتھ دلیل بھی ہو، صرف دعوے سے تو آپ کی بات نہیں ثابت ہوگی، ہاں دعوے کے ساتھ کیا ثابت کیا آ جائے؟ دلیل بھی آ جائے تو پھر آپ کا دعویٰ ثابت ہو جائے گا۔ تو یہاں پر بھی تَأْكِيدُ الْمَدْحِ بِمَا يُشْبِهُ الذَّمَّ کے اندر دعوے کے ساتھ ساتھ دلیل بھی آ گئی۔ گویا شاعر نے یہ کہا: ان لوگوں میں کوئی عیب نہیں، کوئی عیب نہیں۔ ان میں عیب اسی صورت میں یہی ایک عیب ان میں ہو سکتا ہے اگر تم تلواروں میں دندانے ہونے کو کیا شمار کرو؟ عیب۔ ان میں عیب تبھی ہو سکتا ہے اگر اس کو تم کیا شمار کرو؟ عیب شمار کرو۔ اور اس میں ہم نے غور کیا تو ہم نے دیکھا کہ تلواروں میں دندانوں کا ہونا یہ تو عیب نہیں بلکہ یہ تو شجاعت، بلکہ کمالِ شجاعت کی علامت ہے، اور شجاعت کا عیب ہونا تو محال ہے۔ شجاعت اور بہادری تو عیب ہو ہی نہیں سکتی، جس کا تو عیب ہونا محال ہے، معلوم ہوا ان لوگوں میں عیب کا ہونا بھی کیا ہے؟ محال ہے بھئی۔ دلیل سمجھ میں آئی؟ یہ کہ یہاں پر کیا ہوتا ہے؟ دَعْوَى الشَّيْءِ بِبَيِّنَةٍ، دعویٰ ہوا ایک چیز کا دعویٰ ہے اور دعوے کے ساتھ ساتھ کیا آ گئی؟ دلیل بھی آ گئی۔ کس طرح دلیل آئی؟ شاعر نے کیا کہا؟ ان میں کوئی عیب نہیں سوائے اس کے کہ ان میں یہ والا عیب ہے، سوائے اس کے کہ بظاہر یہی لگا نا کہ سوائے اس کے کے بعد کیا ذکر کر رہا ہے؟ عیب ذکر کر رہا ہے، بظاہر یوں لگا، تو گویا ان میں صرف یہی عیب ہے۔ ان میں عیب تبھی ہو سکتا ہے اگر تم اس کو کیا شمار کرو؟ عیب شمار کرو۔ اب ہم نے اس میں غور کیا تو دیکھا کہ تلواروں میں دندانوں کا ہونا یہ تو عیب نہیں ہے بلکہ یہ تو بہادری کی علامت ہے، بلکہ کمالِ بہادری کی علامت ہے، تو تلواروں میں دندانوں کا ہونا شجاعت کی علامت ہے، اور شجاعت عیب ہے؟ شجاعت تو عیب نہیں، شجاعت کا عیب ہونا تو محال ہے، شجاعت کبھی بھی عیب نہیں ہو سکتی، تو جب شجاعت کا عیب ہونا محال ہوا، اور شاعر نے تو کیا کہا تھا؟ ان میں عیب تبھی ہو سکتا ہے جب اس چیز کو تم کیا شمار کرو؟ عیب، اور یہ کیا چیز تھی؟ یہ تو شجاعت نکلی، ہم نے غور کیا تو پتہ چلا یہ تو شجاعت، بہادری بیان ہو رہی ہے، تو بہادری کا عیب ہونا تو محال، تو گویا شاعر نے یہ کہا: میرے ممدوح کے اندر تبھی عیب ہو سکتا ہے جب اس چیز کو تم عیب شمار کرو، اور جس چیز کو ذکر کیا وہ تو کیا ہے؟ اس کا تو عیب ہونا محال، تو گویا ان کے اندر بھی عیب کا ہونا محال ہے، ان کی ذات میں کوئی عیب ہے ہی نہیں بھئی۔ صورت تو یہ کیا آ گئی؟ دعویٰ بھی ہوا اور ساتھ دلیل، کیا دلیل ہوئی؟ کہ ان میں عیب تبھی ہو سکتا ہے جب کب جب کیا ہو؟ اس چیز کو تم کیا شمار کرو؟ عیب، اور اس کو تو کوئی بھی عیب نہیں شمار کرتا، اس کا تو عیب ہونا بہادری کا عیب ہونا تو محال۔ تو شاعر نے کیا کہا تھا؟ ان میں تبھی عیب ہوگا جب اس کو تم کیا شمار کرو؟ عیب، اور اس کا عیب شمار کرنا محال۔ تو گویا شاعر نے یوں کہہ دیا: میرے ممدوح میں تبھی کوئی عیب ہو سکتا ہے اگر یہ محال چیز پائی جائے، اور یہ محال چیز تو پائی ہی نہیں جاتی، معلوم ہوا میرے ممدوح کے اندر کوئی عیب بھی نہیں ہے۔ تو دعویٰ بھی ہوا اور ساتھ دلیل بھی آ گئی کہ دعویٰ کیا تھا؟ ان میں کوئی عیب نہیں، اور دلیل کیا؟ کہ ان میں عیب تبھی ہو سکتا ہے جب یہ محال چیز پائی جائے، اور محال چیز کبھی ہو سکتی ہے؟ اونٹ کبھی سوئی کے ناکے میں سے گزر سکتا ہے؟ مثلاً آپ یوں کہیں کہ ان لوگوں میں عیب تبھی پایا جائے گا جب اونٹ سوئی کے ناکے میں سے گزر جائے، اور اونٹ تو سوئی کے ناکے میں سے نہیں گزر سکتا، معلوم ہوا ان لوگوں میں کوئی عیب بھی نہیں ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ دعویٰ بھی ہوا اور ساتھ دلیل بھی اس نے ذکر کر دی کہ ان میں عیب تبھی ہوگا جب یہ محال جب یہ محال چیز پائی جائے، اور محال چیز تو پائی نہیں جا سکتی، ثابت ہو گیا ان میں کوئی عیب بھی نہیں ہو سکتا۔ تو یہ پہلی صورت تھی کہ اولاً کیا کیا؟ صفتِ ذم کی نفی کی اور پھر حرفِ استثناء، اور حرفِ استثناء کے بعد کس کو ذکر کیا؟ صفتِ مدح کو، یہ فرض کرتے ہوئے کہ یہ بھی کس کے اندر داخل تھی؟ اس صفتِ ذم منفی کے اندر داخل تھی۔ آگے دیکھیے: وَثَانِيهِمَا، اور دوسری قسم یہ ہے: أَنْ يُثْبَتَ لِشَيْءٍ صِفَةُ مَدْحٍ، کہ ثابت کیا جائے کسی چیز کے لیے صفتِ مدح کو۔ بھئی یہ بھی بعینہٖ وہی صورت ہے، یہاں بھی اسی طرح پہلے ایک مدح ہوگی، پھر حرفِ استثناء ائے گا، پھر اس کے بعد دوبارہ دوسری مدح۔ لیکن وہاں پر پہلی مدح کس شکل میں تھی؟ پہلی پہلی مدح، صفتِ ذم کی نفی کی گئی تھی، وہاں پہلی مدح کس صورت میں تھی؟ صفتِ ذم کی نفی کی گئی تھی۔ یہاں دوسری قسم میں صفتِ ذم کی نفی نہیں بلکہ صفتِ مدح ہی کو ثابت کیا جائے گا، وہاں کیا تھا؟ صفتِ ذم کی نفی۔ بھئی دیکھیے نا کسی کی مدح کرنے کی دو صورتیں ہیں: ایک یوں کہے: زید بڑا کامل لڑکا ہے، کوئی نفی والا حرف نہ آیا، میں نے کسی چیز کی نفی کی؟ نہیں، بلکہ صفت کا اثبات کر رہا ہوں براہِ راست، زید بڑا کامل لڑکا ہے، بڑے کامل اوصاف والا ہے، میں نے کس چیز کی نفی کی؟ نہیں۔ دوسری صورت مدح کی یہ ہے میں یوں کہتا ہوں: زید میں کوئی عیب نہیں ہے، یہ بھی مدح ہے، لیکن یہ کس طریقے پر ہے؟ کہ میں صفتِ ذم کی کیا کر رہا ہوں؟ نفی۔ تو مدح کی دو صورتیں ہو گئیں: ایک صورت یہ کہ صفتِ ذم کی نفی کی، دوسری صورت کیا؟ صفتِ مدح ہی کا اثبات کیا جائے براہِ راست بھئی، صفتِ ذم کی نفی نہ کی جائے۔ تو وہاں تھا: "وَلَا عَيْبَ فِيهِمْ"، ان میں کوئی عیب نہیں، صفتِ ذم کی نفی کی گئی تھی۔ آگے اب صفتِ ذم کی بات نہیں آئے گی بلکہ براہِ راست کیا ا جائے گی؟ صفتِ مدح ہی آئے گی بھئی۔ تو کہتے ہیں: أَنْ يُثْبَتَ لِشَيْءٍ صِفَةُ مَدْحٍ، دوسری قسم یہ ہے کہ ثابت کیا جائے کسی چیز کے لیے صفتِ مدح کو، وَيُؤْتَى بَعْدَهَا بِأَدَاةِ اسْتِثْنَاءٍ، اور لایا جائے اس صفتِ مدح کے بعد ایسے اداۃِ استثناء کو، تَلِيهَا صِفَةُ مَدْحٍ، کہ اس اداۃِ استثناء کے ساتھ کیا ملی ہوئی ہو؟ صفتِ مدح۔ بھئی بعینہٖ وہی صورت، ماقبل میں بھی کیا تھا؟ حرفِ استثناء کے بعد کیا آئی تھی؟ صفتِ مدح، تو اداۃِ استثناء کے ساتھ صفتِ مدح ملی ہوئی تھی۔ یہاں پر بھی کیا ہوگا؟ پہلے مدح کی جائے گی اور پھر اداۃِ استثناء یعنی استثناء والا کوئی لفظ آئے گا، پھر اس کے بعد پھر کیا لائی جائے گی؟ صفتِ مدح لائی جائے گی، تو مدح میں کیا پیدا ہو گئی؟ تاکید پیدا ہو گئی۔ یہ معنی ہے: أَنْ يُثْبَتَ لِشَيْءٍ صِفَةُ مَدْحٍ وَيُؤْتَى بَعْدَهَا بِأَدَاةِ اسْتِثْنَاءٍ تَلِيهَا صِفَةُ مَدْحٍ، کہ ثابت کیا جائے کسی چیز کے لیے صفتِ مدح کو اور لایا جائے اس کے بعد ایسے اداۃِ استثناء کو، تَلِيهَا کہ ملی ہوئی ہو اس اداۃِ استثناء کے ساتھ صِفَةُ مَدْحٍ، کیا چیز؟ صفتِ مدح، صِفَةُ مَدْحٍ أُخْرَى، ایک دوسری صفتِ مدح اس کے ساتھ ملی ہوئی ہو، كَقَوْلِهِ، جیسے ایک شاعر کا قول ہے: فَتًى كَمُلَتْ أَوْصَافُهُ غَيْرَ أَنَّهُ جَوَادٌ فَمَا يُبْقِي عَلَى الْمَالِ بَاقِيَا جَوَادٌ جَوَادٌ، واو کی تخفیف کے ساتھ پڑھیں اس کو بھئی، جَوَادٌ۔ فَتًى، أَيْ: هُوَ فَتًى، شاعر کہتا ہے: هُوَ فَتًى، وہ ایک ایسا نوجوان ہے، فتیٰ نوجوان کو کہتے ہیں، هُوَ فَتًى، وہ ایسا جوان ہے كَمُلَتْ أَوْصَافُهُ، جس کے اوصاف کامل ہیں، وہ ایسا توجہ ہے سبق کی طرف بھئی؟ وہ ایسا جوان ہے جس کے اوصاف کامل ہیں، یہ آ گئی مدح بھئی، اس کے اوصاف کامل ہیں، مدح آ گئی۔ اور مدح کس طریقے پر ہے؟ اثباتِ صفت کیا جا رہا ہے یا عیب کی نفی کی جا رہی ہے؟ اثباتِ صفت ہے، تو یہ دوسرا طریقہ ہے۔ اس کے اوصاف کامل ہیں، غَيْرَ أَنَّهُ، سوائے اس کے کہ، کیا؟ أَنَّهُ جَوَادٌ، وہ سخی ہے، جواد سخی کو کہتے ہیں، فَمَا يُبْقِي، فَمَا یبقی بھئی، یبقی نہیں، يُبْقِي پڑھیں اس کو: فَمَا يُبْقِي عَلَى الْمَالِ بَاقِيَا۔ بھئی أَبْقَى عَلَى الشَّيْءِ، أَبْقَى عَلَى الشَّيْءِ کا معنی ہوتا ہے کسی چیز پر ترس کھانا، کسی چیز پر رحم کھانا، أَبْقَى عَلَيْهِ، اس نے اس پر ترس کھایا، تو ابقیٰ سے يُبْقِي پڑھیں۔ يُبْقِي عَلَى الْمَالِ، فَمَا، ما حرفِ نفی ہے، فَمَا يُبْقِي عَلَى الْمَالِ، پس وہ ترس نہیں کھاتا مال پر، بَاقِيَا، یہ حال ہے مال سے، اس حال میں کہ وہ باقی ہو، اس حال میں کہ وہ باقی ہو، بچا ہوا ہو۔ بھئی توجہ رکھنا اس ترجمے پر: فَمَا يُبْقِي عَلَى الْمَالِ بَاقِيَا، پس وہ ترس نہیں کھاتا مال پر اس حال میں کہ وہ بچا کھچا ہو بھئی۔ وہ یوں کرتا ہے مال کو تقسیم کر دیتا ہے، تھوڑا بہت مال بچ جاتا ہے، تھوڑا بہت مال بچ تو یہ جو بچا کھچا مال ہے، یہ باقی ماندہ مال جو ہے وہ اس پر بھی ترس نہیں کھاتا، اس کو بھی کیا کر دیتا ہے؟ لوگوں میں تقسیم کر دیتا ہے، معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ تو وہ "غَيْرَ أَنَّهُ جَوَادٌ"، سوائے اس کے کہ وہ سخی ہے، فَمَا يُبْقِي عَلَى الْمَالِ بَاقِيَا، پس وہ ترس نہیں کھاتا مال پر اس حال میں کہ وہ باقی ماندہ ہو، بچا کچا ہو بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا شعر کا بھئی؟ توجہ ہے؟ ویسے مال پر تو وہ ترس نہیں کھاتا، جو تقسیم کے بعد جو بچ جاتا ہے، تھوڑا سا زائد ہو جاتا ہے، وہ جو بچا ہوا ہے، باقی ہے، اس پر بھی وہ ترس نہیں کھاتا، اس کو بھی خرچ کر دیتا ہے، یعنی بڑا ہی سخی آدمی ہے، بڑا ہی سخی ہے۔ اب دیکھیے: "فَتًى كَمُلَتْ أَوْصَافُهُ"، وہ ایسا نوجوان ہے کہ اس کے اوصاف کامل ہیں، کیا آ گئی؟ مدح مدح۔ آگے غیر حرفِ استثناء آیا اور اس کے بعد آیا: "أَنَّهُ جَوَادٌ فَمَا يُبْقِي عَلَى الْمَالِ بَاقِيَا"، یہ بھی کیا آ گئی؟ مدح آ گئی۔ تو دیکھو اب مدح کے بعد مدح آ گئی اور بظاہر یوں لگتا تھا کہ وہ ایسا نوجوان ہے جس کے اوصاف کامل ہیں سوائے اس کے، اب سوائے اس کے کہتے کہتے ہی ذہن فوراً کس طرف منتقل ہوتا ہے؟ کہ شاید کیا بیان کی جا رہی ہے؟ مذمت بیان کرنے لگا ہے شاعر، لیکن آگے پھر اس نے کیا ذکر کر دی؟ مدح ذکر کر دی، تو یہ تَأْكِيدُ الْمَدْحِ بِمَا يُشْبِهُ الذَّمَّ ہوا۔ تو دونوں طریقوں میں فرق سمجھ میں آیا؟ پہلے میں کیا تھا؟ پہلی مدح کس طرح کی جاتی ہے؟ صفتِ ذم کی نفی کی جاتی ہے اور پھر اس میں سے صفتِ مدح کا استثناء کیا جاتا ہے، کیا فرض کرتے ہوئے؟ کہ یہ اس کے اندر داخل تھی۔ دوسری قسم کیا ہے؟ صفتِ مدح کو ذکر کیا جاتا ہے اور اس کے بعد کس کو لایا جاتا ہے؟ حرفِ استثناء کو، اور اس حرفِ استثناء کے ساتھ کیا ملی ہوئی ہوتی ہے؟ ایک اور صفتِ مدح ملی ہوئی ہوتی ہے۔ دونوں طریقے سمجھ میں آ گئے؟ تو یہاں بھی اسی طرح ہے: ایک صفت کے بعد دوسری صفت آئی، ایک مدح کے بعد دوسری مدح آئی تو مدح میں کیا پیدا ہو گئی؟ تاکید۔ نیز یہ بھی کیا ہوا؟ دَعْوَى الشَّيْءِ بِبَيِّنَةٍ، ایک چیز کا دعویٰ اور ساتھ ساتھ کیا ذکر کر دی؟ دلیل بھی ذکر کر دی کہ وہ ایسا نوجوان ہے اس میں بڑے کامل اوصاف ہیں، ہاں اس میں عیب سوائے اس کے کہ یہ عیب اس میں ہے، یہ والا کامل وصف اس میں نہیں ہے اگر تم اس کو صفتِ کمال شمار نہ کرو۔ لیکن ہم نے غور کیا وہ تو عین صفتِ کمال ہے کہ وہ بڑا ہی سخی آدمی ہے، باقی بچے ہوئے مال پر بھی رحم نہیں کھاتا، اس کو بھی خرچ کر دیتا ہے۔ تو گویا شاعر نے یہ کہا: میرے ممدوح کی صفات بڑی کامل ہیں، اس کی اس کے اندر عیب اسی صورت میں ہو سکتا ہے یعنی اس سے صفتِ کمال اسی صورت میں نفی ہو سکتی ہے اگر تم اس کو کیا شمار کرو؟ عیب شمار یعنی صفتِ کمال شمار نہ کرو، لیکن ہم نے غور کیا وہ تو عین صفتِ کمال ہے، تو گویا اس نے یہ کہا: میرے ممدوح میں صفتِ کمال کی نفی تبھی ہو سکتی ہے جب اس چیز کی جس کی میں نفی کر رہا ہوں کیا شمار کرو؟ عیب شمار کرو، لیکن اس کا عیب ہونا تو محال۔ آگے ہے بھئی: تَأْكِيدُ الذَّمِّ بِمَا يُشْبِهُ الْمَدْحَ، مذمت میں تاکید پیدا کرنا ایسے لفظوں کے ساتھ جو مدح کے مشابہ ہوں، ضَرْبَانِ، یہ بھی کتنی قسم پر ہے؟ دو قسم پر ہے، ضَرْبَانِ أَيْضًا، یہ بھی دو قسم پر ہے، فَالْأَوَّلُ، پہلی قسم، بعینہٖ وہی تعریف، پہلے کیا تھی؟ مدح تھی، اب کیا آئے گی؟ مذمت۔ کہ پہلی قسم یہ ہے: أَنْ يُسْتَثْنَى مِنْ صِفَةِ مَدْحٍ مَنْفِيَّةٍ، کہ استثناء کیا جائے ایسی صفتِ مدح سے جو منفی ہو۔ پہلے کیا تھا بھئی؟ جیسے مدح کے اندر دو صورتیں تھیں، کیا صورت تھی پہلی؟ ایک صورت یہ کہ عیب کی نفی، صفتِ ذم کی نفی کی جائے تو یہ بھی کیا ہے؟ مدح، اور دوسری صورت کیا تھی؟ عین صفتِ مدح ہی کا اثبات۔ صفتِ یہ تَأْكِيدُ الذَّمِّ میں بھی اسی طرح، مذمت میں بھی اسی طرح، مذمت کی ایک صورت یہ کہ صفتِ مدح کی کسی سے نفی کر دو، جیسے کہو: "لَا خَيْرَ فِيهِمْ"، ان لوگوں میں کوئی خیر نہیں۔ اب یہ مدح کی جا رہی ہے یا مذمت کی جا رہی ہے؟ مذمت، تو دیکھو لا خیر صفتِ مدح کی نفی، یہ بھی کیا ہوتی ہے؟ مذمت ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں پہلی قسم یہ ہے: أَنْ يُسْتَثْنَى مِنْ صِفَةِ مَدْحٍ مَنْفِيَّةٍ، کہ استثناء کیا جائے ایسی صفتِ مدح سے جو منفی ہے، کس کا استثناء کیا جائے؟ صِفَةُ ذَمٍّ، صفتِ ذم کا، عَلَى تَقْدِيرِ دُخُولِهَا فِيهَا، اس کے داخل ہونے کو اس میں فرض کرتے ہوئے، یہ فرض کرتے ہوئے کہ یہ صفتِ ذم اس صفتِ مدح منفی کے اندر داخل تھی، نَحْوُ، مثال کے طور پر: فُلَانٌ لَا خَيْرَ فِيهِ إِلَّا أَنَّهُ يَتَصَدَّقُ بِمَا يَسْرِقُ، فلاں جو آدمی ہے اس میں کوئی خیر نہیں سوائے اس کے کہ وہ صدقہ کر دیتا ہے جو چراتا ہے۔ جو چوری کرتا ہے اس کو کیا کر دیتا ہے؟ صدقہ کرتا ہے۔ اب اولاً غور کیا، ابتداءً تو یوں لگتا ہے جب کہا: ان میں کوئی خیر نہیں سوائے اس کے، تو ذہن فوراً اس طرف گیا کہ شاید اب آگے کوئی مدح کرنے لگا ہے، باقی خیروں کی تو نفی کر دی، آگے کسی خیر کا کیا کرنے لگا ہے؟ اثبات۔ اور آگے اس نے کیا کہا: مگر یہ کہ وہ چوری شدہ مال کو چوری کیے ہوئے مال کو صدقہ کر دیتا ہے۔ تو اولاً یوں لگا کہ یہ کوئی صفتِ خیر اس کے لیے ثابت کر رہا ہے، لیکن پھر غور کیا تو پتہ چلا: اوہو، اچھا معلوم ہوا کہ چوری بھی کرتا ہے اور یہ جو کسی کو کچھ دیتا بھی ہے یہ بھی کون سا مال ہوتا ہے؟ وہ چوری کیا ہوا مال ہوتا ہے، تو پتہ چلا یہ بھی مذمت ہی ہے۔ تو "لَا خَيْرَ فِيهِ" یہ بھی مذمت، اور الا کے بعد بھی کیا آ گئی؟ مذمت آ گئی، تو ذم کے اندر تاکید پیدا ہو گئی۔ وَالثَّانِي، اور دوسری قسم یہ ہے: أَنْ يُثْبَتَ لِشَيْءٍ صِفَةُ ذَمٍّ يُؤْتَى بَعْدَهَا بِأَدَاةِ اسْتِثْنَاءٍ تَلِيهَا صِفَةُ ذَمٍّ أُخْرَى، ترجمے پہ نظر رکھنا بھئی، دوسری قسم یہ ہے: أَنْ يُثْبَتَ لِشَيْءٍ صِفَةُ ذَمٍّ، کہ ثابت کیا جائے کسی چیز کے لیے ایسی صفتِ ذم کو، ثابت کیا جائے کسی ایسی صفتِ ذم کو، يُؤْتَى بَعْدَهَا بِأَدَاةِ اسْتِثْنَاءٍ، کہ لایا جائے اس صفتِ ذم کے بعد ایسے اداۃِ استثناء کو، تَلِيهَا صِفَةُ ذَمٍّ، تَلِيهَا صِفَةُ ذَمٍّ أُخْرَى، کہ اس کے ساتھ ملی ہوئی ہو صفتِ ذم تَلِيهَا صِفَةُ ذَمٍّ أُخْرَى، اس کے ساتھ ملی ہوئی ہو ایک دوسری صفتِ ذم، كَقَوْلِهِ، جیسے ایک شاعر کا قول ہے: هُوَ الْكَلْبُ إِلَّا أَنَّ فِيهِ مَلَالَةً وَسُوءَ مُرَاعَاةٍ وَمَا ذَاكَ فِي الْكَلْبِ شاعر کہتا ہے: هُوَ الْكَلْبُ، وہ کتا ہی ہے، إِلَّا أَنَّ فِيهِ مَلَالَةً، مگر یہ کہ اس کے اندر بے چینی ہے۔ ملالہ کسے کہتے ہیں؟ بے چینی۔ وَسُوءَ مُرَاعَاةٍ، مراعاۃ کہتے ہیں لحاظ رکھنا بھئی، سوء مراعاۃ، بدلحاظی یعنی کسی کی رعایت نہ کرنا، کسی کا لحاظ نہ رکھنا۔ تو شاعر کہتا ہے: هُوَ الْكَلْبُ إِلَّا أَنَّ فِيهِ مَلَالَةً وَسُوءَ مُرَاعَاةٍ، وہ کتا ہی ہے مگر یہ کہ اس کے اندر بے چینی اور بدلحاظی بھی ہے۔ ہمیشہ بے چین رہتا ہے، قرار نہیں آتا اس کو، اور کسی کا لحاظ بھی نہیں رکھتا، وَمَا ذَاكَ فِي الْكَلْبِ، اور یہ چیز کتے کے اندر نہیں ہے۔ تو دیکھیے یہاں پر بھی، ماقبل میں بھی مذمت ہے: "هُوَ الْكَلْبُ"، اور آگے جو کہا اس میں بے چینی اور بدلحاظی بھی ہے حالانکہ یہ چیزیں تو کتے کے اندر بھی نہیں ہیں، تو یہ یعنی وہ کتے سے بھی بدتر ہے، تو یہ بھی مذمت آ گئی بھئی۔ تو تَأْكِيدُ الذَّمِّ بِمَا يُشْبِهُ الْمَدْحَ ہے، اولاً جب الّا آیا تو لگا شاید اب آگے کوئی مدح والی صفت آ جائے گی، لیکن پھر کیا آ گئی؟ مذمت والی صفت آ گئی۔ دونوں طریقے آ گئے بھئی؟ تَأْكِيدُ الْمَدْحِ بِمَا يُشْبِهُ الذَّمَّ اور تَأْكِيدُ الذَّمِّ بِمَا يُشْبِهُ الْمَدْحَ، دونوں میں دونوں صورتیں ہیں اور دونوں بالکل ایک جیسی ہیں، البتہ ایک میں مدح ہے تو ایک میں مذمت ہے بھئی۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔