آگے سبق دیکھیے بھئی۔ بَابُ الْعُشْرِ وَالْخَرَاجِ قَالَ أَرْضُ الْعَرَبِ كُلُّهَا أَرْضُ عُشْرٍ وَهِيَ مَا بَيْنَ الْعُذَيْبِ إِلَى أَقْصَى حَجَرٍ بِالْيَمَنِ بِمَهْرَةَ إِلَى حَدِّ الشَّامِ وَالسَّوَادُ أَرْضُ خَرَاجٍ وَهُوَ مَا بَيْنَ الْعُذَيْبِ إِلَى عَقَبَةِ حُلْوَانَ وَمِنَ الثَّعْلَبِيَّةِ وَيُقَالُ مِنَ الْعَلْسِ إِلَى عَبَّادَانَ۔ بھئی گزشتہ سبق میں ہم نے باب المستأمن شروع کیا تھا۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ کوئی حربی دار الاسلام کے اندر امان لے کر آئے اس کو بھی مستأمن کہتے ہیں، اور کوئی مسلمان امان لے کر دار الحرب میں جائے تو اسے بھی مستأمن کہتے ہیں۔ تو صاحب ہدایہ نے بتلایا کہ جب مسلمان امان لے کر تجارت کے لیے دار الحرب جائے تو اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ ان حربیوں کے مالوں اور جانوں کے ساتھ تعرض کرے اور ان کو کسی قسم کا نقصان پہنچائے۔ وجہ یہ کہ جب اس نے ان سے امان لیا ہے تو انہیں ضمانت دے دی ہے کہ وہ ان کے مالوں اور جانوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔ تو اس ضمانت دینے کے بعد اگر وہ انہیں کوئی نقصان پہنچاتا ہے تو یہ عہد شکنی ہے بھئی، اور عہد شکنی اور دھوکہ تو شریعت کے اندر حرام ہے۔ لیکن اگر کوئی تاجر عہد شکنی کر کے وہاں سے کوئی مال چھین کر لے آیا تو یہ اس کا مالک تو بن جائے گا البتہ دیانۃً اس کو حکم دیا جائے گا کہ وہ اس مال کو صدقہ کرے۔ اور صاحب ہدایہ نے یہ مسئلہ بھی ذکر فرمایا کہ اگر کوئی مسلمان دار الحرب چلا جائے اور وہاں پھر کسی حربی کے ساتھ دین والا معاملہ کرے، یا مسلمان اور حربی کے درمیان غصب والی صورت پیش آ جائے کہ دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے کا مال غصب کر لے، اور پھر اس کے بعد مسلمان واپس دار الاسلام آ گیا اور وہ حربی بھی امان لے کر یہاں آ گیا، تو کیا قاضی ان دونوں کے درمیان فیصلہ کر سکتا ہے یا نہیں؟ تو صاحب ہدایہ نے بتلایا کہ نہیں، قاضی ان دونوں کے درمیان فیصلہ نہیں کر سکتا۔ وجہ یہ کہ جس وقت یہ دین کا معاملہ ہوا تھا اس وقت یہ مسلمان اور حربی دار الحرب میں تھے، اور دار الحرب میں تو قاضی کو ولایت حاصل نہیں۔ اور اس وقت قاضی کو مسلمان پر تو ولایت حاصل ہے لیکن اس دین کے معاملے میں حربی پر ولایت حاصل نہیں کیونکہ وہ دین ماضی کی بات ہے، اور مستأمن جب دار الاسلام میں آیا ہے تو اس نے مستقبل میں تو ہمارے احکام کے ماننے کا التزام کیا ہے لیکن ماضی کے اندر تو اس نے اسلام کے احکام کے ماننے کا التزام نہیں کیا تھا، لہٰذا اس میں قاضی کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا۔ اور پھر صاحب ہدایہ نے بتلایا اگر یہی صورت دو حربیوں میں پیش آ گئی کہ انہوں نے دار الحرب میں آپس میں دین والا معاملہ کیا یا ان کے درمیان غصب کی صورت پیش آئی، اور پھر یہ دونوں امان لے کر دار الاسلام آئے تو پھر بھی قاضی ان دونوں کے درمیان کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا۔ لیکن اگر یہ دونوں حربی مسلمان ہو کر دار الاسلام آئے ہیں تو پھر دین کے مسئلے کے اندر تو قاضی فیصلہ کر سکتا ہے کیونکہ ان دونوں نے اسلامی احکام کو ماننے کا التزام کیا ہے اور یہ دین دونوں کے درمیان باہمی رضامندی سے ہوا تھا، لیکن غصب کے اندر قاضی فیصلہ نہیں کر سکتا کیونکہ دار الحرب میں اگر کوئی کسی کا مال غصب کرے تو وہ اس کا مالک بن جاتا ہے، تو لہٰذا غصب کے مسئلے میں قاضی فیصلہ نہیں کر سکتا۔ اور پھر صاحب ہدایہ نے یہ مسئلہ ذکر فرمایا کہ اگر دو مسلمان دار الحرب امان لے کر جائیں اور پھر وہاں پر دونوں میں سے ایک دوسرے کو قتل کر دے تو پھر قاتل پر دیت بھی آئے گی چاہے قتل عمد ہو چاہے قتل خطا ہو، اور یہ دیت قاتل ہی کے مال میں سے ادا کی جائے گی اس کے اندر عاقلہ اس کے ساتھ شریک نہیں ہوں گے۔ اور نیز اس قاتل پر قتل خطا کے اندر کفارہ بھی آئے گا کیونکہ عند الاحناف قتل عمد میں کفارہ نہیں آتا البتہ قتل خطا کے اندر کفارہ آتا ہے بھئی، تو کفارہ بھی آئے گا وہاں پر۔ اور وجہ اس کی یہ ہے کہ دونوں مسلمانوں کی جانیں دار الاسلام کے اندر محفوظ اور معصوم تھیں تو دار الحرب اگر وہ عارضی طور پر کچھ وقت کے لیے گئے ہیں تو بھی اس کو ایسے ہی شمار کیا جائے گا جیسے وہ دار الاسلام ہی میں ہیں کیونکہ ان کا واپس آنے کا ارادہ ہے۔ اور دار الاسلام کے اندر تو ان کی جان معصوم تھی ان کو عصمت مؤثمہ بھی حاصل تھی اور عصمت متقومہ بھی حاصل تھی، لہٰذا وہاں دار الحرب میں بھی ان کو یہ حاصل ہے، لہٰذا دیت بھی آئے گی اور کفارہ بھی آئے گا بھئی۔ البتہ دار الحرب کے اندر قصاص نہیں آ سکتا اس لیے کیونکہ قصاص کی وصولی کے لیے قوت چاہیے، اور قوت تو امام اور مسلمانوں کی جماعت کے ذریعے ہو گی اور یہ تو دار الحرب میں موجود نہیں بھئی۔ اور نیز یہ بھی بتلایا صاحب ہدایہ نے کہ یہ دیت جو ہے قاتل ہی کے مال میں سے لی جائے گی۔ وجہ یہ کہ قتل عمد میں تو بات ظاہر ہے کہ عاقلہ جو ہیں وہ قتل عمد کے اندر دیت ادا کرنے میں شریک نہیں ہوتے، البتہ قتل خطا میں وہ دیت ادا کرنے کے اندر شریک ہوتے ہیں لیکن اس کی وجہ دراصل یہ ہوتی ہے کہ ان کی طرف سے بھی کوتاہی پائی گئی، ان کا کام تھا کہ اپنے اس آدمی کی حفاظت کرتے قتل کرنے سے، یعنی اس کو قتل کرنے سے منع کرتے، لیکن انہوں نے اس کی حفاظت نہیں کی لہٰذا ان سے بھی کوتاہی ہوئی ہے تو یہ بھی دیت ادا کرنے میں شریک ہوں گے۔ لیکن یہاں پر تو یہ جو آدمی نے قتل کیا ہے یہ دار الحرب کے اندر قتل کیا ہے، اور وہاں پر تو عاقلہ اس کو روکنے پر قادر نہیں لہٰذا عاقلہ کی طرف سے کوئی کوتاہی نہیں پائی گئی تو وہ دیت ادا کرنے میں شریک نہیں ہوں گے۔ اور اس کے بعد صاحب ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ اگر دار الحرب میں کوئی مسلمان قیدی ہے اس کو کوئی دوسرا مسلمان قیدی قتل کر دیتا ہے یا کوئی مسلمان تاجر قتل کر دیتا ہے تو اس صورت کے اندر امام صاحب کے نزدیک صرف کفارہ آئے گا دیت نہیں آئے گی۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ نہیں، یہ مسلمان قیدی بھی مستأمن کے درجے میں ہے اس کو عصمت مؤثمہ بھی حاصل ہے اور عصمت متقومہ بھی، تو لہٰذا اس کے اندر کفارہ بھی آئے گا اور دیت بھی آئے گی۔ جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہ جو قیدی ہے یہ مغلوب ہو گیا ہے اور یہ پورے طور پر دار الحرب والوں کے قبضے میں آ گیا ہے یہاں تک کہ ان کے سفر سے یہ بھی مسافر بن جاتا ہے اور ان کی اقامت سے یہ مقیم بن جاتا ہے، تو جب یہ تابع ہو گیا تو یہ ان کے حکم میں ہو گیا، اور دار الحرب والے تو معصوم اور محفوظ نہیں ہیں لہٰذا یہ بھی معصوم اور محفوظ نہیں ہے۔ البتہ عصمت مؤثمہ اس کو حاصل ہے اسلام کی وجہ سے تو کفارہ آئے گا اس کے قتل سے البتہ دیت نہیں آئے گی بھئی۔ اور اس کے بعد اگلا مسئلہ آپ نے پڑھا تھا کہ اگر کوئی حربی امان لے کر دار الاسلام آئے تو اس کو زیادہ مدت تک یہاں نہیں رہنے دیا جائے گا، اس لیے کیونکہ وہ یہاں کی زبان سیکھ لے گا، یہاں کے طور طریقے سیکھ لے گا تو جاسوس بن جائے گا اور مسلمانوں کے خلاف دشمن کی مدد کرے گا۔ تو لہٰذا اس کو زیادہ مدت یہاں ٹھہرنے نہیں دیا جائے گا، البتہ تھوڑی مدت رہنے کی اس کو اجازت ہو گی کیونکہ اگر ہم اس سے بھی منع کر دیں پھر تو تجارت وغیرہ کا راستہ ہی بند ہو جائے گا۔ اور آپ نے پڑھا کہ اگر کوئی ذمی جو ہے امان لے کر دار الاسلام میں آیا اور امام نے ایک مدت ذکر کر دی کہ اگر اس مدت سے زیادہ تم یہاں رہے تو تم ذمی بن جاؤ گے، تو اگر اس مدت سے وہ زیادہ رہا تو اس صورت میں وہ ذمی بن جائے گا۔ یا اسی طرح اگر اس نے کوئی زمین خریدی اور اس زمین پر خراج مقرر کر دیا گیا تو اس صورت کے اندر بھی یہ ذمی بن جائے گا۔ اور نیز اسی طرح اگر حربیہ دار الاسلام آئی اور اس نے کسی ذمی یا مسلمان سے نکاح کر لیا تو یہ حربیہ بھی ذمیہ بن جائے گی۔ لیکن اس کے مقابلے میں کوئی حربی دار الاسلام آیا اور اس نے کسی ذمیہ سے نکاح کر لیا تو یہ حربی جو ہے یہ ذمی نہیں بنے گا کیونکہ یہ تو طلاق دے کر واپس دار الحرب جا سکتا ہے بھئی، تو اس نے نکاح کی وجہ سے یہاں اقامت کو اپنے اوپر لازم نہیں کیا بھئی۔ اور پھر اس کے بعد آپ نے مسئلہ پڑھا کہ اگر کوئی حربی امان لے کر دار الاسلام کے اندر آیا اور اس نے کسی مسلمان یا ذمی کے ساتھ دین والا معاملہ کیا یعنی مسلمان اور ذمی کے ذمے اس کا دین آ گیا، یا اس نے ان کے پاس کوئی اپنی امانت رکھوائی اور پھر یہ واپس چلا گیا دار الحرب، اور پھر اس کو اپنا دین یا امانت جو ہے وہ یاد آئی اور یہ واپس دار الاسلام آیا تو اس مرتبہ یاد رکھو اس کو امان حاصل نہیں ہے لہٰذا اس کا خون جو ہے مباح ہے۔ البتہ اگر یہ دوسری مرتبہ بھی امان لے کر آیا ہے تو پھر اس کو اسی طرح امان حاصل ہو گا۔ اور باقی جو اس کا مال ہے یعنی دار الاسلام کے اندر وہ جو دین ہے یا امانت ہے صاحب ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ وہ خطرے میں ہے۔ خطرے میں ہونے کا معنی یہ ہے کہ اگر اس کو قیدی بنا لیا گیا یا اس کے دار پر مسلمانوں نے قبضہ کر لیا اور اس کو قتل کر دیا تو اس صورت کے اندر جو اس نے امانتیں رکھوائی تھیں وہ جو ہیں مال فیء بن جائیں گی یعنی غنیمت بن جائیں گی کیونکہ امانتوں پر تقدیراً مالک ہی کا قبضہ ہوتا ہے، تو جب یہ خود غنیمت بن گیا تو اس کا مال بھی غنیمت بن گیا۔ جبکہ اس کے مقابلے میں اس کا دین جو ہے وہ اگر اس کو قتل کر دیا گیا یا قیدی بنا لیا گیا تو اس کا دین ساقط ہو جائے گا۔ وجہ یہ کہ دین تو کوئی معین مال نہیں ہے، دین تو ایک شخص کے ذمے میں ہوتا ہے اور مطالبے کے ذریعے ثابت ہوتا ہے، تو لہٰذا یہاں پر مطالبہ ہی ساقط ہو گیا کیونکہ یہ آدمی قید کر لیا گیا، مسلمانوں نے اس کو قید کر لیا ہے یا اس کو قتل کر دیا ہے، تو مطالبہ ساقط ہوا اور جب مطالبہ ساقط ہوا تو وہ دین بھی ساقط ہو گیا۔ یا یوں کہیں کہ اس دین پر اس دین والے کا قبضہ مقدم ہے مسلمانوں کے لشکر کے قبضے سے، تو لہٰذا جب قبضہ مقدم ہے تو وہی اس کا مالک بن جائے گا۔ اور اس پر آپ کے ذہنوں میں اشکال آئے گا کہ جس کے پاس اس کی امانت تھی تو وہ امانت والے کا قبضہ بھی تو مقدم تھا، امانت والے کو تو آپ نے امانت کا مالک قرار نہیں دیا لیکن دین والے کو آپ نے دین کا مالک قرار دے دیا، تو میں نے بتلایا تھا کہ دونوں میں فرق ہے۔ وجہ یہ ہے کہ امانت والے مسئلے کے اندر وہ مودَع کا قبضہ بھی مالک کے قبضے کی طرح ہے جبکہ یہ دین والے کا قبضہ مالک کے قبضے کی طرح نہیں ہے بھئی۔ اور اگر مسلمانوں نے ان کے دار پر قبضہ نہیں کیا اور حربی کو ویسے کسی نے قتل کر دیا یا وہ طبعی موت مر گیا تو اس صورت میں اس کی امانت یا اس کا دین یہ اس کے وارثوں کا حق ہے، یہ ان کو دیا جائے گا بھئی۔ اس کے بعد آپ نے مال فیء کے بارے میں پڑھا کہ مال فیء وہ مال جو لڑائی کے بغیر ہی صرف قوت اور رعب کے ذریعے مسلمانوں نے حاصل کر لیا۔ مثلاً مسلمان کسی جگہ جہاد کے لیے گئے لیکن ان لوگوں نے مسلمانوں کے خوف اور رعب کی وجہ سے ویسے ہی شکست تسلیم کر لی لڑائی کی ضرورت ہی پیش نہ آئی، تو اب یہ جو مال حاصل ہو گا یہ مال فیء ہے بھئی، اور مال فیء کے اندر یاد رکھو خمس نہیں نکالا جاتا اور یہ غازیوں کا حق بھی نہیں ہے، یہ مسلمانوں کی مصلحت کے کاموں میں خرچ کیا جائے گا جس طرح خراج جو ہے مسلمانوں کی مصلحت کے کاموں میں خرچ کیا جاتا ہے بھئی۔ اور اس کے بعد صاحب ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ اگر کوئی حربی مسلمان ہوتا ہے تو وہاں تین صورتیں بنتی ہیں۔ یا تو حربی امان لے کر دار الاسلام آتا ہے اور یہاں مسلمان ہو جاتا ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ وہ دار الحرب میں ہی مسلمان ہوتا ہے لیکن ہجرت کر کے دار الاسلام آ جاتا ہے اس کو اپنا وطن بنا لیتا ہے۔ اور تیسری صورت یہ ہے کہ حربی مسلمان تو ہوا لیکن وہیں پر وہ دار الحرب میں ہے۔ تو اس صورت میں اس کا کون سا مال محفوظ ہو گا اور کون سا مال محفوظ نہیں؟ تو صاحب ہدایہ نے بتلایا کہ حربی اگر امان لے کر دار الاسلام میں آیا ہے اور یہاں مسلمان ہوا ہے تو دار الحرب میں اس کا جتنا مال ہے وہ سارا مال فیء ہے اس لیے کیونکہ وہ مال اس کے قبضے میں نہیں ہے، حتیٰ کہ اس کی نابالغ اولاد جو باپ کے تابع ہو کر مسلمان شمار ہوتی ہے وہ بھی مسلمان شمار نہیں ہو گی کیونکہ وہ الگ دار میں ہے بھئی، اور وہ بھی مال غنیمت کے اندر داخل ہوں گے بھئی۔ لیکن اس کے برعکس اگر حربی دار الحرب میں ہی مسلمان ہوا اور پھر اس کے بعد دار الاسلام آیا ہے تو جب یہ مسلمان ہوا تھا یہ دار الحرب میں تھا لہٰذا وہاں جو مال اس کے قبضے میں ہے وہ مال بھی محفوظ ہوا، اور اسی طرح اس کی نابالغ اولاد بھی اس کی ولایت میں تھی لہٰذا وہ بھی اس کے تابع ہو کر مسلمان شمار ہو گی، یا اسی طرح اس نے کسی مسلمان یا ذمی کے پاس کوئی امانت رکھوائی تھی تو وہ بھی اسی کے قبضے میں ہے کیونکہ مودَع کا قبضہ بھی مالک کے قبضے کی طرح ہوتا ہے تو وہ بھی مال محفوظ ہے۔ البتہ اس کا باقی مال جو ہے وہ مال فیء ہے، مثلاً اس کی بیوی ہے، اس کی بالغ اولاد ہے، یا اسی طرح اس کا کوئی مال جو ہے حربی کے پاس ہے چاہے بطور امانت کے ہے چاہے بطور غصب کے ہے، کیونکہ حربی کا قبضہ محترم اور مکرم نہیں ہے لہٰذا وہ سب مال فیء میں شمار ہو گا بھئی۔ اور اگر وہ مسلمان ہوا اور ہجرت نہیں کی وہیں دار الحرب میں ہے تو اس صورت میں بھی یہی مسئلہ ہے بھئی۔ اس کی اولاد بھی اس کے تابع ہو کر مسلمان شمار ہو گی اور اس کا جو مال ہے اس کے قبضے میں وہ بھی وہ بھی اسی کا شمار ہو گا بھئی۔ اور اس کے بعد آپ نے مسئلہ پڑھا تھا کہ دار الحرب میں اگر کوئی حربی مسلمان ہو گیا اور پھر کسی مسلمان نے اسے عمداً یا خطأً قتل کر دیا تو ہمارے نزدیک وہاں پر صرف کفارہ آئے گا، وہاں قصاص بھی نہیں اور دیت بھی نہیں۔ قصاص تو اس لیے نہیں کیونکہ دار الحرب میں مسلمانوں کو قوت حاصل نہیں ہے، اور دیت اس لیے نہیں آئے گی کیونکہ اس کو عصمت متقومہ حاصل نہیں۔ یہ جو حربی دار الحرب میں مسلمان ہوا ہے تو مسلمان ہونے کی وجہ سے اس کو عصمت مؤثمہ تو حاصل ہو گئی البتہ عصمت متقومہ وہ دار الاسلام آنے سے حاصل ہو گی اور اس کی وجہ سے قصاص اور دیت آتی ہے، تو لہٰذا یہاں قصاص اور دیت نہیں آئے گا، صرف کفارہ آئے گا کیونکہ کفارہ جو ہے اس کا سبب عصمت مؤثمہ ہے بھئی۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس شخص کے قتل کی وجہ سے قصاص بھی آئے گا اگر اس کو جان بوجھ کر قتل کیا گیا ہے اور دیت آئے گی اگر اس کو غلطی سے قتل کیا گیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں وجہ یہ ہے کہ اس شخص کو عصمت حاصل ہو گئی اسلام کی وجہ سے، اس لیے کیونکہ اسلام عزت کا باعث ہے اور عصمت کا حاصل ہونا یہ بھی عزت والی چیزوں میں سے ہے، تو اسلام کی وجہ سے اس کو عصمت حاصل ہو گئی بھئی۔ اور نیز وہ فرماتے ہیں کہ عصمت کے اندر اصل جو ہے وہ عصمت مؤثمہ ہے اس لیے کیونکہ اسی کی وجہ سے زجر حاصل ہو جاتا ہے۔ جو بھی سلیم الفطرت انسان ہو جب اسے پتہ ہو کہ اس قتل کی وجہ سے مجھے آخرت میں میرا مواخذہ ہو گا تو وہ قتل سے رکے گا بھئی۔ تو معلوم ہوا عصمت کے اندر اصل عصمت مؤثمہ ہے کیونکہ اسی کے ذریعے ڈانٹ حاصل ہو گئی۔ اصل مقصد کیا تھا؟ ڈانٹ اور زجر تھی کہ لوگ اس جرم سے رک جائیں، تو فطرت سلیمہ والا شخص تو اسی کی وجہ سے رک جائے گا۔ البتہ عصمت متقومہ کی وجہ سے یہ عصمت مؤثمہ کامل ہو جائے گی کیونکہ اس کے ذریعے کامل طور پر رکنا پایا جائے گا قتل جیسے جرم سے۔ وجہ یہ کہ فطرت سلیمہ والا وہ تو عصمت مؤثمہ کی وجہ سے ہی رک جاتا ہے لیکن بعض کم عقل لوگ جو ہیں جب تک دنیاوی سزا نہ ہو وہ جرم سے باز نہیں آتے، تو لہٰذا جب دنیاوی سزا بھی آ جائے گی یعنی عصمت متقومہ تو اب لوگ کامل طور پر اس جرم سے اس قتل والے جرم سے رک جائیں گے۔ تو معلوم ہوا کہ عصمت مؤثمہ اصل ہے اسی کی وجہ سے انسان اس جرم سے رک جاتا ہے، البتہ عصمت متقومہ کے ذریعے یہی رکنا کامل طور پر پایا جائے گا۔ معلوم ہوا عصمت مؤثمہ جو ہے وہ کامل ہو جاتی ہے عصمت متقومہ کے ذریعے، تو عصمت متقومہ وصف کے درجے میں ہو گئی عصمت مؤثمہ کے لیے۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک عصمت مؤثمہ اصل اور عصمت متقومہ اس کے لیے وصف کے درجے میں، اور اصل یعنی عصمت مؤثمہ جب اسلام کی وجہ سے حاصل ہو رہی ہے تو جو وصف ہے یعنی عصمت متقومہ وہ بھی اسلام کی وجہ سے ہی حاصل ہو جائے گی، تو اس شخص کو دونوں عصمتیں حاصل تھیں۔ تو عصمت متقومہ کی وجہ سے قصاص آئے گا قتل عمد میں اور دیت آئے گی قتل خطا کے اندر، اور عصمت مؤثمہ کی وجہ سے کفارہ آئے گا۔ جبکہ ہم کہتے ہیں کہ یہ شخص جو دار الحرب میں مسلمان ہوا ہے اسے عصمت مؤثمہ تو حاصل ہو گئی لیکن عصمت متقومہ ابھی بھی حاصل نہیں ہوئی بھئی۔ وجہ یہ کہ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿فَإِن كَانَ مِن قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ﴾ اگر وہ مقتول ان لوگوں میں سے ہوا جو تمہارے دشمن ہیں اس حال میں کہ وہ مقتول مومن ہے، مسلمان ہے تو پھر ایک مومن گردن کا آزاد کرنا ہے یعنی ایک مومن غلام یا باندی کو آزاد کرنا پڑے گا۔ تو صاحب ہدایہ نے اس کو دلیل بنایا دو طرح سے: کہ یا تو یہ جو فاء ہے یہ فاء جزا والی ہے، اور معلوم ہوا یہی جزا ہے اور چیز نہیں۔ اسی آیت کے شروع میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿وَمَن قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُّسَلَّمَةٌ إِلَىٰ أَهْلِهِ﴾ وہاں ذکر ہے کہ اگر کسی نے مومن کو غلطی سے قتل کر دیا تو وہاں کفارہ بھی آئے گا اور دیت بھی آئے گی، لیکن یہاں پر ﴿فَإِن كَانَ مِن قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ﴾ یہاں صرف کفارے کا ذکر ہے یہاں دیت کا ذکر نہیں۔ تو صاحب ہدایہ فرماتے ہیں کہ ہماری دلیل یا تو یہ فاء ہے، فاء آتی ہے جزا پر، اور معلوم ہوا یہی ساری جزا ہے، یہی کرنا کافی ہے یعنی یہ کفارہ دینا ہی کافی ہے کیونکہ میں نے بتلایا کہ فاء آتی ہے جزا کے لیے، تو گویا تقدیر کلام یوں ہے: فجزاؤه تحریر رقبۃ مؤمنۃ، اور جزا جزی یجزی جزاءً عن کا معنی ہوتا ہے کافی ہونا، یعنی اللہ فرما رہے ہیں کہ تحریر رقبہ ہی اس کے لیے کافی ہے بھئی۔ یا اس آیت کو ہم دلیل بناتے ہیں اس طور پر کہ یہاں پر جو جزا اللہ نے ذکر فرمائی وہ صرف تحریر رقبہ ہی کو ذکر فرمایا ہے اور کوئی چیز ذکر نہیں کی، حالانکہ یہ بیان کا مقام تھا، اگر کوئی اور چیز بھی جزا کے طور پر آ رہی ہے تو اللہ اس کو بھی ذکر فرماتے، جب اللہ نے اور کسی چیز کو ذکر نہیں فرمایا صرف اسی چیز کو ذکر فرمایا ہے تو معلوم ہوا صرف یہی جزا ہے، یہی جزا ہے یعنی صرف کفارہ آئے گا یہاں دیت نہیں آئے گی، بات سمجھ میں آ گئی۔ اور نیز ہم امام شافعی رحمہ اللہ کو جواب دیتے ہیں کہ آپ کے نزدیک تو عصمت مؤثمہ اصل ہے اور عصمت متقومہ اس کا وصف ہے لیکن ہمارے نزدیک دونوں عصمتیں اصل ہیں۔ عصمت مؤثمہ اصل ہے آدمی ہونے کی وجہ سے، تو اس میں آدمی ہونا اصل ہے اور مال اس کے تابع ہے۔ اور عصمت متقومہ جو ہے متقوم کے لفظ سے ہی پتہ چل رہا ہے قیمت والا ہونا، اور قیمت والا تو مال ہوتا ہے، تو عصمت متقومہ کے اندر مال اصل ہے اور نفس اس کے تابع ہے بھئی۔ تو عصمت مؤثمہ کے اندر آدمی ہونا اصل ہے اور مال اس کے تابع ہے۔ وجہ یہ کہ انسان کو اللہ نے مکلف بنایا ہے اس کے لیے شرعی احکام نازل فرمائے ہیں، اور انسان شرعی احکام پر تبھی عمل کر سکتا ہے جب وہ باقی رہے، جب وہ زندہ رہے، اور زندہ وہ تبھی رہ سکتا ہے جب اس کے ساتھ تعرض کرنا اور اسے قتل کرنا حرام ہو۔ اگر اس کے ساتھ تعرض حرام نہیں پھر تو وہ زندہ نہیں رہے گا تو وہ شرعی احکام پر عمل کیسے کرے گا؟ تو لہٰذا معلوم ہوا عصمت مؤثمہ جو ہے آدمی ہونے کی وجہ سے انسان کو حاصل ہوتی ہے کیونکہ وہ مکلف ہے۔ اور جبکہ مال کی عصمت وہ آدمی ہونے کے تابع ہے کہ اس کے مال کو بھی عصمت حاصل ہو جاتی ہے، وہ اس مال کا مالک بن جاتا ہے، وہ معصوم اور محفوظ بن جاتا ہے۔ وجہ یہ کہ مکلف محتاج ہے کہ ان چیزوں سے فائدہ اٹھائے، حالانکہ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿خَلَقَ لَكُم مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا﴾ کہ زمین میں جو کچھ ہے وہ اللہ نے تمہارے لیے پیدا فرمایا ہے، اور یہ آیت تقاضا کر رہی ہے کہ زمین کی ہر چیز سے فائدہ اٹھانا مباح ہے، اس کا مطلب ہے کہ کوئی شخص شکار پکڑ کر لے آئے پھر بھی مباح ہی رہے گا، کوئی شخص جنگل سے لکڑیاں لے آئے وہ پھر بھی مال مباح ہی رہے گا، لیکن انسان تو محتاج ہے ان چیزوں سے نفع اٹھانے کے لیے کہ اسے ان چیزوں کا مالک قرار دیا جائے، کیونکہ اگر مالک قرار نہیں دیں گے تو یہ چیزیں تو دوسرے لے جائیں گے اس سے یہ ان سے فائدہ نہیں اٹھا سکے گا۔ تو لہٰذا اس کے مال کو بھی عصمت حاصل ہو گئی اس آدمی ہونے کی وجہ سے۔ تو عصمت مؤثمہ میں آدمی ہونا اصل ہے اور مال اس کے تابع۔ جبکہ عصمت متقومہ کے اندر مال اصل ہے، اس لیے کیونکہ قیمت والا ہونا بتلاتا ہے کہ اگر اس کو نقصان پہنچایا تو تلافی کرنا پڑے گی، اور تلافی تو مال کے اندر ہو سکتی ہے جانوں کے اندر نہیں، کیونکہ مال ایک دوسرے کے مثل ہوتے ہیں جانیں ایک دوسرے کے مثل نہیں ہوتیں، اور مال تو محفوظ ہوتا ہے دار الاسلام کے اندر لانے سے۔ جب مال دار الاسلام لایا جائے گا پھر ہی وہ مال محفوظ بنے گا۔ تو جب مال جو عصمت متقومہ میں اصل ہے وہ جب دار الاسلام میں آنے سے معصوم ہو رہا ہے تو نفس جو ہے، جان جو ہے وہ بھی دار الاسلام میں لانے سے ہی وہ محفوظ ہو گی، اس کو عصمت حاصل ہو جائے گی، بات سمجھ میں آ گئی۔ اس پر پھر اشکال ہوتا ہے کہ اگر دار کی وجہ سے عصمت متقومہ حاصل ہوتی ہے پھر تو حربیوں کو بھی اپنے دار میں قوت حاصل ہے تو وہاں ان کو عصمت متقومہ حاصل ہونی چاہیے؟ کہتے ہیں ہاں آپ کی بات ٹھیک ہے، حربیوں کو دار الحرب میں قوت حاصل ہے اور یہ تقاضا یہی کرتا ہے کہ ان کو وہاں عصمت حاصل ہونی چاہیے، لیکن شریعت نے، لیکن شریعت نے ان کی قوت کا اعتبار نہیں کیا، شریعت نے ان کی قوت کو توڑنے اور ختم کرنے کا حکم دیا ہے، شریعت نے ان سے جہاد کرنے کا حکم دیا ہے، معلوم ہوا شریعت کے نزدیک کفار کی طاقت معتبر نہیں، جب کفار کی طاقت معتبر نہیں تو ان کو دار الحرب میں عصمت بھی حاصل نہیں ہو گی، بات سمجھ میں آ گئی۔ اور پھر اشکال ہوا کہ مرتد اور مستأمن جو ہے، مرتد جو دار الاسلام میں ہی مرتد ہو گیا یا مستأمن جو وہ حربی جو امان لے کر دار الاسلام میں آیا ہے، یہ تو دار الاسلام میں موجود ہیں تو ان کو بھی عصمت متقومہ حاصل ہونی چاہیے کیونکہ یہ دار الاسلام میں ہیں اور آپ نے ہمیں بتایا کہ دار الاسلام کے اندر جان کو عصمت متقومہ حاصل ہو جاتی ہے، تو اس کا جواب بھی دیا صاحب ہدایہ نے کہ بھئی اگرچہ یہ دار الاسلام میں ہیں لیکن ان کا ارادہ جو ہے وہ دار الحرب جانے کا ہے تو گویا تقدیراً یہ ابھی بھی وہیں پر ہیں، جب تقدیراً یہ ابھی بھی وہیں پر ہیں تو لہٰذا ان کو عصمت متقومہ حاصل نہیں، لہٰذا اس مرتد کو کوئی قتل کرے یا مستأمن کو کوئی قتل کرے تو نہ اس کی وجہ سے دیت آئے گی اور نہ قصاص آئے گا۔ اور پھر صاحب ہدایہ نے آخر میں مسئلہ ذکر فرمایا کہ اگر کسی مسلمان کا کوئی ولی نہ ہو تو پھر امام جو ہے یعنی مسلمانوں کا خلیفہ اور حاکم جو ہے وہ اس مسلمان کا ولی ہے، تو اگر اس مسلمان کو کسی نے خطأً قتل کیا ہے تو قاتل سے دیت وصول کرنا یہ امام کا حق ہے، وہ اس دیت کو وصول کرے گا اور بیت المال میں جمع کروائے گا۔ اور اگر اس مسلمان کو جس کا کوئی ولی نہیں ہے اس کو کسی نے جان بوجھ کر قتل کر دیا تو پھر اس صورت کے اندر امام کو اختیار ہے کہ وہ چاہے قصاص لے لے اور چاہے تو دیت لے لے۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ قتل عمد کے اندر تو قصاص آیا کرتا ہے، یہاں آپ امام کو اختیار کس طرح دے رہے ہیں کہ چاہے وہ قصاص لے لے اور چاہے وہ دیت لے لے؟ تو صاحب ہدایہ نے بتلایا کہ مراد یہ ہے کہ بطور صلح کے دیت لے لے، یعنی یہاں اصل تو قصاص ہی ہے لیکن بطور صلح کے امام دیت بھی لے سکتا ہے، اور یہاں دیت لینے میں مسلمانوں کا فائدہ ہے لہٰذا امام دیت بھی لے سکتا ہے۔ البتہ، البتہ امام کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ اس قاتل کو معاف کر دے، معاف کر دے کیونکہ امام کو جو شریعت نے ولایت دی ہے وہ شفقت کی وجہ سے ہے، تو جہاں شفقت ہو گی وہیں پر امام کو ولایت حاصل ہو گی اور جہاں شفقت نہیں وہاں امام کو ولایت بھی نہیں ہے، اور یہاں اس قاتل کو معاف کرنے میں کوئی شفقت نہیں ہے اس میں تو مسلمانوں کا نقصان ہے، لہٰذا امام کو ولایت نہیں ہو گی کہ وہ اس قاتل کو معاف کرے۔ اب آئیے آج کے سبق پر: بَابُ الْعُشْرِ وَالْخَرَاجِ یہ باب ہے عشر اور خراج کے بیان میں۔ آپ جانتے ہیں بھئی، کچھ زمینیں عشری ہوتی ہیں اور کچھ زمینیں خراجی ہوتی ہیں۔ عشر جو ہے پیداوار پر ہوتا ہے، ہر پیداوار میں سے دسواں حصہ دینا پڑے گا بطور زکوٰۃ کے فقراء کو، اس کو عشر کہتے ہیں۔ یہ اس صورت میں ہے جب کاشت وغیرہ کے اندر خرچہ وغیرہ نہ کرنا پڑتا ہو۔ اور اگر کسان کا خرچہ وغیرہ ہوتا ہے اور محنت ہوتی ہے تو پھر اس صورت کے اندر شریعت نے اور بھی نرمی کر دی، پھر عشر نہیں دینا پڑے گا بلکہ نصف عشر یعنی بیسواں حصہ دینا پڑے گا۔ تو عام زمین پر پیداوار کے اندر دسواں حصہ دیا جائے گا، اور اگر کسان کا اس پر خرچہ ہوتا ہے، ٹیوب ویل وغیرہ سے پانی لگانا پڑتا ہے تو پھر عشر بھی واجب نہیں بلکہ نصف عشر یعنی بیسواں حصہ واجب ہے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں خراج ہے، کچھ زمینیں خراجی ہوتی ہیں اور یاد رکھو خراج جو ہے وہ سال میں ایک ہی مرتبہ وصول کیا جاتا ہے۔ خراج پورے سال میں ایک ہی مرتبہ وصول کیا جاتا ہے اور اس کا تعلق پیداوار سے نہیں ہے بلکہ صرف پیداوار پر قدرت سے ہے۔ اگر کسان کاشت کرنے پر قادر ہے تو پھر اسے خراج دینا پڑے گا چاہے وہ کچھ کاشت کرے یا کاشت نہ کرے۔ اگر وہ کچھ کاشت نہیں کرتا پھر بھی اس کو خراج دینا پڑے گا کیونکہ اس کی طرف سے کوتاہی پائی گئی ہے، وہ تو کاشت کر سکتا تھا، زمین سے پیداوار حاصل کر سکتا تھا لیکن اس نے بلاوجہ ہی زمین کو بے کار چھوڑ دیا تو اس کو خراج دینا پڑے گا۔ جبکہ عشر کا تعلق حقیقی پیداوار سے ہے، پیداوار پر قدرت نہیں بلکہ حقیقی قدرت، خراج میں تو پیداوار پر قدرت کافی تھی لیکن عشر جو ہے وہ حقیقی پیداوار پر آئے گا، لہٰذا اگر کوئی فصل کاشت کی ہے تو اس میں سے عشر بھی دیا جائے گا، اگر کوئی فصل ہی نہیں کاشت کی تو عشر بھی نہیں آئے گا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ اور ایک اور بات یاد رکھنا صاحب ہدایہ بھی آگے ذکر فرمائیں گے کہ عشر کے اندر عبادت کا پہلو ہے اور خراج کے اندر جو ہے وہ سزا والا پہلو ہے، لہٰذا مسلمانوں کی زمینوں پر عشر آتا ہے اور کفار کی زمینوں پر خراج آتا ہے۔ لیکن ایک بات ہے کہ ایک دفعہ زمین خراجی ہو گئی یعنی مسلمانوں نے ایک علاقے پر قبضہ کر لیا اور وہاں کے کفار سے وہ زمینیں نہیں چھینیں بلکہ انہی کے پاس وہ زمینیں رہنے دیں تو ان زمینوں پر خراج آ جائے گا، اور خراجی زمین اب خراجی ہی رہے گی حتیٰ کہ اگر کوئی مسلمان بھی اس کو خرید لے گا تو اس کو خراج ہی ادا کرنا پڑے گا بھئی، اس کو خراج ہی ادا کرنا پڑے گا۔ اسی طرح اگر ایک عشری زمین تھی اس کو کسی کافر نے خرید لیا تو یاد رکھو وہ زمین بھی خراجی بن جائے گی۔ تو معلوم ہوا عشری زمین تو خراجی بن جاتی ہے لیکن خراجی زمین عشری نہیں بنتی بھئی۔ تو کہتے ہیں: بَابُ الْعُشْرِ وَالْخَرَاجِ، یہ باب ہے عشر اور خراج کے بیان میں۔ قَالَ صاحب قدوری فرماتے ہیں: أَرْضُ الْعَرَبِ كُلُّهَا أَرْضُ عُشْرٍ، کہ عرب کی زمین جو ہے وہ ساری عشری زمین ہے۔ آگے بتلائیں گے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین نے عرب کی زمین پر خراج مقرر نہیں فرمایا۔ زمین پر دو چیزوں میں سے ایک چیز تو ضرور آتی ہے، یا خراج آتا ہے یا عشر آتا ہے، تو جب خراج مقرر نہیں فرمایا تو ظاہر سی بات ہے کہ ان پر عشر آئے گا، تو عرب کی ساری زمین عشری ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: قَالَ صاحب قدوری فرماتے ہیں: أَرْضُ الْعَرَبِ كُلُّهَا أَرْضُ عُشْرٍ، کہ عرب کی ساری زمین جو ہے وہ عشری زمین ہے، وَهِيَ مَا بَيْنَ الْعُذَيْبِ إِلَى أَقْصَى حَجَرٍ بِالْيَمَنِ بِمَهْرَةَ إِلَى حَدِّ الشَّامِ، اب اس کی حدود بیان فرما رہے ہیں، یہ جو عرب کی زمین ہے یہ کہاں سے کہاں تک ہے؟ اس کی حدود کیا ہیں؟ کہتے ہیں: وَهِيَ اور یہ جو عرب کی زمین ہے، مَا بَيْنَ الْعُذَيْبِ إِلَى أَقْصَى حَجَرٍ بِالْيَمَنِ یہ وہ ہے جو عذیب سے لے کر إِلَى أَقْصَى حَجَرٍ بِالْيَمَنِ، اقصی کہتے ہیں آخری کنارے کو، إِلَى أَقْصَى حَجَرٍ بِالْيَمَنِ یمن کے اندر حجر مقام کے آخری کنارے تک ہے۔ یہ عرب کی زمین اس کی لمبائی بیان فرما رہے ہیں، اس کی لمبائی ذکر کی جا رہی ہے کہ لمبائی کے اندر یہ عذیب مقام سے لے کر یمن کے اندر جو حجر مقام ہے اس کے آخری کنارے تک، یہ ہے اس زمین کی لمبائی بھئی۔ اور چوڑائی بھی آگے بتلائیں گے کہ اس کی چوڑائی جو ہے وہ شام کی سرحد تک ہے، کہاں تک؟ شام کی سرحد تک ہے، یعنی ایک طرف تو اس کے سمندر ہے بھئی یعنی جدہ جو ہے، جدہ سمندر کے کنارے ہے، تو جدہ کے ساحل سے لے کر شام کی سرحد تک یہ اس زمین کی چوڑائی ہے۔ یہ ساری سرزمین عرب ہے، اس کے اوپر عشر ہے خراج نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: وَهِيَ مَا بَيْنَ الْعُذَيْبِ إِلَى أَقْصَى حَجَرٍ بِالْيَمَنِ اور یہ وہ زمین ہے جو عذیب سے لے کر یمن کے اندر حجر کے آخری کنارے تک ہے، بِمَهْرَةَ، مہرہ یہ بھی یمن کے اندر ایک علاقہ ہے بھئی۔ جیسے ملک کے اندر ایک صوبہ ہوتا ہے اور پھر اس میں شہر ہوتا ہے، تو اسی طرح یہ بِمَهْرَةَ یہ بدل ہے بِالْيَمَنِ سے، یہ بدل ہے یمن سے۔ تو ترجمہ کیا ہوا تھا؟ یمن کے اندر حجر کے آخری کنارے تک، یعنی مہرہ کے اندر حجر کے آخری کنارے تک۔ معلوم ہوا یہ حجر مقام یہ مہرہ علاقے کے اندر واقع ہے، اور مہرہ علاقہ جو ہے وہ یمن کے اندر ہے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو کہتے ہیں: وَهِيَ مَا بَيْنَ الْعُذَيْبِ إِلَى أَقْصَى حَجَرٍ بِالْيَمَنِ بِمَهْرَةَ، میں نے بتلایا یہ بِمَهْرَةَ بدل ہے بِالْيَمَنِ سے بھئی۔ تو اب ترجمہ توجہ سے سنیے، کہتے ہیں: وَهِيَ مَا بَيْنَ الْعُذَيْبِ إِلَى أَقْصَى حَجَرٍ بِالْيَمَنِ بِمَهْرَةَ اور یہ عرب کی سرزمین جو ہے یہ عذیب مقام سے لے کر یمن کے اندر یعنی مہرہ کے اندر حجر کے آخری کنارے تک ہے، یہ یمن کے اندر یعنی مہرہ کے اندر حجر کے آخری کنارے تک ہے، إِلَى حَدِّ الشَّامِ شام کی حد تک، شام کی حدود تک ہے یہ سرزمین عرب بھئی۔ تو یہاں متن کے اندر صرف تین حدود ذکر ہوئیں۔ لمبائی کے اندر ذکر کیا عذیب سے لے کر اقصی حجر تک، اور چوڑائی کے اندر صرف حد شام کو ذکر کیا، چوڑائی کے اندر صرف حد شام کو ذکر کیا، یعنی تین جہتیں بیان کیں، چوتھی جانب بیان نہیں کی کیونکہ چوتھی جانب سمندر ہے بھئی۔ تو میں نے بتلایا کہ جدہ کے ساحل سے لے کر شام کی حد تک ہے یہ سرزمین عرب بھئی۔ آگے دیکھیے: وَالسَّوَادُ أَرْضُ خَرَاجٍ اور سواد جو ہے وہ خراجی زمین ہے۔ سواد سے مراد ہے سواد عراق بھئی۔ اس کا ذکر ماقبل میں غنیمتوں کے بیان میں اس کا ذکر ہو چکا ہے کہ یہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانے میں یہ سواد عراق کا علاقہ فتح کیا گیا، اور یہ بہت بڑا علاقہ ہے اور بے انتہا سرسبز و شاداب ہے، بڑی اعلیٰ زمینیں ہیں یہاں کی، بہت بہترین پیداوار ہوتی ہے، اور اس کو سواد اس لیے کہتے ہیں کہ آپ جانتے ہیں کہ جب زمین پر سبزہ وغیرہ زیادہ ہو تو دور سے دیکھیں تو کچھ سیاہی معلوم ہوتی ہے تو اس لیے اس کو سواد عراق کہتے ہیں، عراق کی سیاہی بھئی۔ تو یہ جو سواد عراق ہے اس پر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے خراج مقرر فرمایا تھا صحابہ کے مشورے سے، تو اسی کو ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: وَالسَّوَادُ أَرْضُ خَرَاجٍ اور سواد جو ہے وہ خراجی زمین ہے، وَهُوَ مَا بَيْنَ الْعُذَيْبِ إِلَى عَقَبَةِ حُلْوَانَ اب اس کی حدود بیان کر رہے ہیں بھئی، حدود۔ بھئی، عذیب تک سرزمین عرب ہے اور عذیب سے آگے پھر سواد عراق شروع ہوتا ہے۔ تو کہتے ہیں: وَهُوَ مَا بَيْنَ الْعُذَيْبِ إِلَى عَقَبَةِ حُلْوَانَ، حلوان یا حلوان بھئی یہ جگہ کا نام ہے، اور عقبہ، یاد رکھو عقبہ کہتے ہیں دشوار گزار پہاڑی راستے کو، دشوار گزار پہاڑی راستے کو عقبہ کہتے ہیں یعنی گھاٹی جو ہے گھاٹی۔ تو إِلَى عَقَبَةِ حُلْوَانَ حلوان کی گھاٹی تک، عذیب سے لے کر یہ ارض سواد کہاں تک ہے؟ عذیب سے لے کر حلوان کی گھاٹی تک۔ معلوم ہوا حلوان کے پاس کچھ پہاڑیاں وغیرہ ہوں گی تو ان تک یہ اس کی حدود ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَهُوَ مَا بَيْنَ الْعُذَيْبِ إِلَى عَقَبَةِ حُلْوَانَ اور یہ سواد عراق جو ہے وہ عذیب سے لے کر حلوان کی گھاٹی تک ہے، وَمِنَ الثَّعْلَبِيَّةِ وَمِنَ الثَّعْلَبِيَّةِ، بھئی میری کتاب میں الثَّعْلَبَة ہے لیکن ہدایہ کے دیگر نسخوں میں اور دیگر کتابوں میں یہ الثَّعْلَبِيَّة ہے، ثعلبہ نہیں ہے بلکہ ثعلبیہ ہے یائے مشدد بھی آخر میں ہے بھئی۔ کہتے ہیں: وَمِنَ الثَّعْلَبِيَّةِ وَيُقَالُ مِنَ الْعَلْسِ إِلَى عَبَّادَانَ، اب لمبائی بیان کر رہے ہیں کہ یہ سواد عراق جو ہے لمبائی کے اندر ثعلبیہ سے لے کر عبادان تک ہے، ثعلبیہ سے لے کر عبادان تک ہے، اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ علس سے لے کر عبادان تک ہے۔ ثعلبیہ سے لے کر عبادان تک ہے یا علس سے لے کر عبادان تک، یہ ہے سواد عراق کی لمبائی۔ کہتے ہیں: وَمِنَ الثَّعْلَبِيَّةِ اور ثعلبیہ سے لے کر، وَيُقَالُ مِنَ الْعَلْسِ اور کہا جاتا ہے علس سے لے کر، إِلَى عَبَّادَانَ عبادان تک، یہ اس سواد عراق کی لمبائی ہے۔ لِأَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ وَالْخُلَفَاءَ الرَّاشِدِينَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ لَمْ يَأْخُذُوا الْخَرَاجَ مِنْ أَرَاضِي الْعَرَبِ، بھئی یہاں سے دلیل ذکر کر رہے ہیں۔ متن میں ذکر کیا کہ عرب کی ساری زمین عشری ہے اور سواد عراق کی ساری زمین خراجی ہے، تو اب دلیل ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: لِأَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ وَالْخُلَفَاءَ الرَّاشِدِينَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ اس لیے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین جو ہیں انہوں نے لَمْ يَأْخُذُوا الْخَرَاجَ مِنْ أَرَاضِي الْعَرَبِ انہوں نے عرب کی زمینوں سے خراج نہیں لیا، ان سے خراج نہیں لیا، جب خراج نہیں لیا معلوم ہوا وہ عشری زمینیں ہیں۔ وَلِأَنَّهُ بِمَنْزِلَةِ الْفَيْءِ اور اس لیے کیونکہ یہ جو ہے فیء کے درجے میں ہے، مال فیء بھئی جو بغیر لڑائی کے حاصل ہوتا ہے، کہتے ہیں: وَلِأَنَّهُ بِمَنْزِلَةِ الْفَيْءِ اور اس لیے کیونکہ یہ مال فیء کے درجے میں ہے، فَلَا يَثْبُتُ فِي أَرَاضِيهِمْ كَمَا لَا يَثْبُتُ فِي رِقَابِهِمْ لہٰذا ان کی زمینوں میں خراج ثابت نہیں ہو گا جیسے کہ ان کی گردنوں میں خراج ثابت نہیں ہو سکتا۔ بھئی آپ پڑھ چکے ہیں کہ اگر مسلمان کسی علاقے پر قبضہ کر لیں اور زمینوں کو غازیوں میں تقسیم کرنے کے بجائے انہی کفار کے پاس رہنے دیں تو اس زمین پر خراج آئے گا، سالانہ ٹیکس آئے گا جسے کیا کہتے ہیں خراج، اور وہ کافر بھی چونکہ مملکت اسلامیہ کے اندر آ گئے لہٰذا ان پر جزیہ آئے گا، اور جزیے کو خراج الرأس کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ خراج الرأس کہتے ہیں۔ یہ بات پہلے بھی گزری تھی کہ مشرکین عرب جو ہیں ان سے جزیہ قبول نہیں کیا جا سکتا چونکہ ان کی زبان میں قرآن نازل ہوا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عربوں کے اندر بھیجے گئے ہیں، لہٰذا ان کے ساتھ فیصلہ صرف اسلام یا تلوار کے ذریعے ہوگا، یا تو وہ اسلام لے آئیں تو ان کی جانیں محفوظ ہو جائیں گی یا تلوار کے ساتھ ان کا مقابلہ کر کے ان کو قتل کر دیا جائے گا۔ تو مشرکینِ عرب جو ہیں ان سے جزیہ قبول نہیں کیا جا سکتا یعنی خراجُ الرأس ان سے قبول نہیں کیا جا سکتا۔ جب مشرکینِ عرب سے خراجُ الرأس قبول نہیں کیا جا سکتا تو ان کی زمینوں پر خراجُ الارض بھی نہیں آئے گا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ کیونکہ خراجُ الارض کن پر آتا ہے؟ جن پر خراجُ الرأس بھی آتا ہے، توجہ ہے؟ کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّهُ بِمَنْزِلَةِ الْفَيْءِ فَلَا يَثْبُتُ فِي أَرَاضِيهِمْ كَمَا لَا يَثْبُتُ فِي رِقَابِهِمْ“ اور اس لیے کیونکہ یہ خراج جو ہے یہ مالِ فئے کے درجے میں ہے لہٰذا عربوں کی زمینوں میں خراج ثابت نہیں ہوگا جیسے کہ خراج ان کی گردنوں میں ثابت نہیں ہو سکتا یعنی ان پر جزیہ نہیں آ سکتا۔ ”وَهٰذَا لِأَنَّ وَضْعَ الْخَرَاجِ مِنْ شَرْطِهِ أَنْ يُقَرَّ أَهْلُهَا عَلَى الْكُفْرِ“ بھئی وجہ ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں وجہ یہ کہ خراج کو مقرر کرنے کے لیے شرط ہے کہ اس زمین کے مالکوں کو کفر پر ہی برقرار رہنے دیا جائے، ان کو کفر پر رہنے کی اجازت ہو۔ جب زمین والے کفر پر رہیں گے تو ان کے اوپر جزیہ آئے گا اور ان کی زمینوں پر خراج آئے گا، لیکن مشرکینِ عرب سے تو صرف یا اسلام قبول کیا جائے گا یا تلوار سے ان کو قتل کر دیا جائے گا۔ تو جب مشرکینِ عرب پر جزیہ نہیں آ سکتا تو ان کی زمینوں پر خراج بھی نہیں آ سکتا۔ کہتے ہیں: ”وَهٰذَا لِأَنَّ وَضْعَ الْخَرَاجِ مِنْ شَرْطِهِ أَنْ يُقَرَّ أَهْلُهَا عَلَى الْكُفْرِ كَمَا فِي سَوَادِ الْعِرَاقِ“ اور یہ اس وجہ سے اس لیے کیونکہ خراج مقرر کرنے کی شرط میں سے ہے کہ اس زمین والوں کو برقرار رہنے دیا جائے کفر پر جیسے کہ سوادِ عراق میں تھا کہ ان کے رہنے والوں کو کفر پر ہی رہنے کی اجازت دی گئی۔ ”وَمُشْرِكُو الْعَرَبِ لَا يُقْبَلُ مِنْهُمْ إِلَّا الْإِسْلَامُ أَوِ السَّيْفُ“ اور عرب کے جو مشرکین ہیں ان سے تو قبول نہیں کیا جائے گا مگر صرف اسلام یا تلوار۔ ”وَعُمَرُ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ حِينَ فَتَحَ السَّوَادَ وَضَعَ الْخَرَاجَ عَلَيْهَا بِمَحْضَرٍ مِنَ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ“ یہاں سے دلیل ذکر فرما رہے ہیں وہ جو متن کے اندر دوسری بات ذکر ہوئی تھی کہ سوادِ عراق کی ساری زمین خراجی ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَعُمَرُ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ حِينَ فَتَحَ السَّوَادَ وَضَعَ الْخَرَاجَ عَلَيْهَا بِمَحْضَرٍ مِنَ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ“ اور جس وقت حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سوادِ عراق کو فتح فرمایا تو انہوں نے اس زمین پر خراج مقرر فرمایا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی موجودگی میں، یعنی صحابہ کی موجودگی میں حضرت عمر نے اس پر خراج مقرر فرمایا۔ ”وَوَضَعَ عَلَى مِصْرَ حِينَ افْتَتَحَهَا عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ“ اور اسی طرح حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مصر پر بھی خراج مقرر فرمایا جس وقت حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے مصر کو فتح فرمایا۔ ”وَكَذَا اجْتَمَعَتِ الصَّحَابَةُ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ عَلَى وَضْعِ الْخَرَاجِ عَلَى الشَّامِ“ اور اسی طرح صحابہ اکٹھے ہوئے شام پر بھی خراج مقرر کرنے پر۔ تو ان سب میں صحابہ کا اجماع ہو گیا کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صحابہ کی موجودگی میں اس کا فیصلہ فرمایا اور کسی نے اس کا انکار نہیں کیا، تو معلوم ہوا سب کی طرف سے اس پر اجماع ہو گیا۔ آگے دیکھیے: ”قَالَ: وَأَرْضُ السَّوَادِ مَمْلُوكَةٌ لِأَهْلِهَا يَجُوزُ بَيْعُهُمْ لَهَا وَتَصَرُّفُهُمْ فِيهَا“ یہاں سے صاحبِ قدوری بتلا رہے ہیں کہ سوادِ عراق کی ساری زمین جو ہے ان پر خراج تو مقرر کر دیا گیا لیکن یہ زمینیں وہیں کے رہنے والے کافروں کے پاس رہنے دی گئیں تو وہی اس کے مالک ہیں، تو وہ اس کے اندر ہر طرح کا تصرف کر سکتے ہیں: وہ اس کو بیچ سکتے ہیں، وہ اس کو ہبہ کر سکتے ہیں، وہ اس کو رہن رکھوا سکتے ہیں، وہ جس طرح کا بھی تصرف کرنا چاہیں اس زمین میں کر سکتے ہیں، البتہ اس زمین سے خراج وصول ہوتا رہے گا چاہے اس کا مالک کوئی بھی ہو بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”قَالَ: وَأَرْضُ السَّوَادِ مَمْلُوكَةٌ لِأَهْلِهَا يَجُوزُ بَيْعُهُمْ لَهَا وَتَصَرُّفُهُمْ فِيهَا“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں اور سوادِ عراق کی زمین جو ہے وہ اس کے رہنے والوں کی مملوکہ ہے، ان کے لیے اس زمین کو بیچنا جائز ہے اور ان کے لیے اس میں تصرف کرنا جائز ہے۔ ”لِأَنَّ الْإِمَامَ إِذَا فَتَحَ أَرْضًا عَنْوَةً وَقَهْرًا“ عنوۃً، یہ لفظ پہلے بھی گزرا ہے بھئی، عنوہ کا معنی ہے زورِ بازو کے ذریعے، قوت کے ذریعے یعنی مغلوب کر کے۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْإِمَامَ إِذَا فَتَحَ أَرْضًا عَنْوَةً وَقَهْرًا“ اس لیے کیونکہ جب امام کسی زمین کو فتح کرے عنوۃً قوتِ بازو کے ذریعے اور قہراً اور غلبے کے ذریعے، یہ قہراً کا بھی وہی معنی ہے جو عنوۃً کا ہے، غلبہ پاتے ہوئے ان کو مغلوب کر کے زورِ بازو کے ذریعے، تو یہ عطفِ تفسیری ہے بھئی۔ عنوۃً کے بعد جو قہراً آیا تو یہ قہراً کے ذریعے اسی عنوۃً کا معنی بیان فرما دیا صاحبِ ہدایہ نے۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْإِمَامَ إِذَا فَتَحَ أَرْضًا عَنْوَةً وَقَهْرًا لَهُ أَنْ يُقِرَّ أَهْلَهَا عَلَيْهَا وَيَضَعَ عَلَيْهَا وَعَلَى رُءُوسِهِمُ الْخَرَاجَ“ اس لیے کیونکہ امام نے جب کسی زمین کو فتح فرمایا عنوۃً زورِ بازو کے ذریعے یعنی قوت کے ذریعے اور غلبہ پاتے ہوئے، تو امام کے لیے جائز ہے کہ وہ اس کے رہنے والوں کو انہی زمینوں پر برقرار رہنے دے اور یہ کہ امام مقرر کر دے ان زمینوں پر اور ان لوگوں کے سروں پر خراج کو۔ امام کے لیے جائز ہے کہ کسی جگہ کو فتح کرے تو وہ زمینیں انہی کفار کے پاس رہنے دے اور ان کفار پر اور ان کی زمینوں پر خراج مقرر کر دے، تو زمین پر خراج آ جائے گا اور کافروں کے افراد پر خراجُ الرأس آ جائے گا یعنی جزیہ آ جائے گا۔ تو کہتے ہیں امام کے لیے جائز ہے کہ کافروں کو ان کی زمینوں پر برقرار رکھے ”وَيَضَعَ عَلَيْهَا وَعَلَى رُءُوسِهِمُ الْخَرَاجَ“ اور ان کی زمینوں پر اور ان کے افراد پر خراج مقرر کر دے ”فَتَبْقَى الْأَرَاضِي مَمْلُوكَةً لِأَهْلِهَا“ تو وہ زمینیں انہی لوگوں کی مملوک رہیں گی ”وَقَدْ قَدَّمْنَاهُ مِنْ قَبْلُ“ اور تحقیق یہ بات ہم مقدم بیان کر چکے ہیں، یہ بات ہم مقدم ذکر کر چکے ہیں جہاں غنیمتوں کی تقسیم کا بیان آیا تھا تو صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ غنیمتیں دو قسم پر ہیں: کچھ منقولی ہیں اور کچھ غیر منقولی، وہاں پر یہ مسئلہ انہوں نے ذکر فرمایا تھا۔ آگے دیکھیے: ”قَالَ: وَكُلُّ أَرْضٍ أَسْلَمَ أَهْلُهَا أَوْ فُتِحَتْ عَنْوَةً وَقُسِمَتْ بَيْنَ الْغَانِمِينَ فَهِيَ أَرْضُ عُشْرٍ“ یہاں سے صاحبِ ہدایہ یہ بیان فرمائیں گے کہ عشری زمین کون سی ہے۔ آپ کو صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ جس زمین والے لوگ خود مسلمان ہو گئے اور یا اسی طرح امام نے کسی علاقے کو فتح کر لیا اور ان کے کفار سے زمینیں چھین کر غازیوں میں تقسیم کر دیں، تو یہ لوگ جو مسلمان ہو گئے یا یہ زمینیں جو غازیوں کو مل گئیں اب ان کے اوپر کیا عشر واجب کیا جائے یا خراج واجب کیا جائے؟ تو کہتے ہیں یہاں پر ابتداء ہو رہی ہے اور مسلمان پر ابتداءً خراج کو لازم نہیں کیا جا سکتا، وجہ یہ کہ خراج میں سزا والا پہلو ہے اور عشر میں عبادت والا پہلو ہے، تو مسلمان پر ابتداءً جو ہے پھر عشر ہی لازم کیا جائے گا۔ تو وہ زمینوں والے جو خود مسلمان ہو جائیں یا وہ زمینیں جو غازیوں میں تقسیم کر دی جائیں تو وہ عشری زمینیں ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”قَالَ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَكُلُّ أَرْضٍ أَسْلَمَ أَهْلُهَا“ اور ہر ایسی زمین کہ اس کے رہنے والے مسلمان ہو جائیں ”أَوْ فُتِحَتْ عَنْوَةً وَقُسِمَتْ بَيْنَ الْغَانِمِينَ فَهِيَ أَرْضُ عُشْرٍ“ یا ایسی زمین کہ جس کو قوتِ بازو سے فتح کر لیا جائے اور پھر وہ زمینیں غنیمت والوں کے درمیان تقسیم کر دی جائیں تو یہ عشری زمین ہے ”لِأَنَّ الْحَاجَةَ إِلَى ابْتِدَاءِ التَّوْظِيفِ عَلَى الْمُسْلِمِ“ توظیف بھئی، وظّف یوظّف توظیف کا معنی ہے وظیفہ مقرر کرنا۔ تو اب اس پر عشر کا وظیفہ مقرر کیا جائے گا یا خراج والا؟ تو بتلائیں گے کہ مسلمان پر ابتداءً وظیفہ مقرر کیا جا رہا ہے اور عشر مسلمان کے مناسب ہے لہٰذا اس پر عشر مقرر کیا جائے گا۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْحَاجَةَ إِلَى ابْتِدَاءِ التَّوْظِيفِ عَلَى الْمُسْلِمِ“ اس لیے کیونکہ یہاں پر حاجت ہے مسلمان پر وظیفہ مقرر کرنے کی ابتداء کی ”وَالْعُشْرُ أَلْيَقُ بِهِ“ اور عشر جو ہے مسلمان کے زیادہ لائق ہے ”لِمَا فِيهِ مِنْ مَعْنَى الْعِبَادَةِ“ اس وجہ سے کہ عشر کے اندر عبادت والا معنی ہے کہ عشر صرف پیداوار پر آئے گا، جب تک پیداوار نہیں عشر بھی نہیں، اور نیز اس کا مصرف دیکھیں تو وہ زکوٰۃ والا مصرف ہے اور جیسے زکوٰۃ کا دینا عبادت ہے اسی طرح یہ عشر بھی عبادت ہے مصرف کی طرف نظر کرتے ہوئے بھی بھئی۔ تو جیسے زکوٰۃ فقراء کو دی جاتی ہے اور زکوٰۃ عبادت ہے بھئی، اسی طرح یہ عشر جو ہے یہ بھی فقراء ہی پر خرچ کیا جاتا ہے تو اس عشر کے مصرف سے پتہ چلتا ہے کہ یہ عبادت ہے بھئی، یہ بھی کس کی طرح ہے؟ زکوٰۃ کی طرح ہے اور زکوٰۃ عبادت ہے تو معلوم ہوا عشر بھی عبادت ہے، یہ معنی ہے: ”لِمَا فِيهِ مِنْ مَعْنَى الْعِبَادَةِ“ اس وجہ سے کہ عشر کے اندر عبادت والا معنی ہے ”وَكَذَا هُوَ أَخَفُّ“ اور اسی طرح عشر جو ہے وہ زیادہ ہلکا ہے۔ ایک ہے عشر، ایک ہے خراج، عشر ہلکا ہے کیونکہ عشر کے اندر پیداوار حاصل ہوگی تو پھر اس پیداوار کا دسواں حصہ دیا جائے گا بھئی، تو نو حصے تو نو حصے پھر بھی اس زمین والے کے لیے بچ گئے تو اس کی ادائیگی میں آسانی ہے۔ جبکہ خراج جو ہے اس کے اندر پیداوار کو نہیں دیکھا جائے گا بلکہ زمین پر کاشت کی قدرت ہونی چاہیے، زمین پر کاشت کی قدرت حاصل ہے پھر وہ شخص کچھ کاشت کرے یا کاشت نہ کرے ہر حال میں خراج دینا پڑے گا، معلوم ہوا عشر ہلکا ہے وہ صرف پیداوار کی صورت میں ہے بغیر پیداوار کے نہیں ہے بھئی۔ کہتے ہیں: ”وَكَذَا هُوَ أَخَفُّ“ اور اسی طرح عشر جو ہے وہ زیادہ ہلکا ہے خراج کے مقابلے میں ”حَيْثُ يَتَعَلَّقُ بِنَفْسِ الْخَارِجِ“ کیونکہ اس کا تعلق نفسِ پیداوار سے ہے۔ خارج کا کیا معنی کریں گے یہاں؟ وہ چیز جو زمین سے نکلتی ہے یعنی پیداوار۔ کہتے ہیں: ”حَيْثُ يَتَعَلَّقُ بِنَفْسِ الْخَارِجِ“ کیونکہ عشر کا تعلق نفسِ پیداوار سے ہے۔ آگے دیکھیے: ”وَكُلُّ أَرْضٍ فُتِحَتْ عَنْوَةً فَأُقِرَّ أَهْلُهَا عَلَيْهَا فَهِيَ أَرْضُ خَرَاجٍ، وَكَذَا إِذَا صَالَحَهُمْ“ اور ہر وہ زمین جسے قوتِ بازو سے فتح کر لیا جائے پھر اس زمین والوں کو ہی اس زمین پر برقرار رکھا جائے تو یہ خراجی زمین ہے، ”وَكَذَا إِذَا صَالَحَهُمْ“ اور اسی طرح جب امام ان سے صلح کر لے، کفار کے ساتھ صلح کر لے تو کفار کی زمینیں ہیں لہٰذا اس پر خراج ہی آئے گا بھئی۔ کہتے ہیں: ”وَكَذَا إِذَا صَالَحَهُمْ“ اور اسی طرح جب امام ان کفار سے صلح کر لے ”لِأَنَّ الْحَاجَةَ إِلَى ابْتِدَاءِ التَّوْظِيفِ عَلَى الْكَافِرِ“ اس لیے کیونکہ یہاں پر جو حاجت ہے وہ کافر پر وظیفہ مقرر کرنے کی ابتداء ہے، کس چیز کی حاجت ہے؟ کہ کافر پر ابتداءً جو ہے وظیفہ مقرر کیا جا رہا ہے تو کافر کے مناسب خراج ہے کیونکہ اس میں سزا کا پہلو ہے لہٰذا ان پر خراج مقرر کیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْحَاجَةَ إِلَى ابْتِدَاءِ التَّوْظِيفِ عَلَى الْكَافِرِ“ اس لیے کیونکہ یہاں پر جو حاجت ہے وہ کافر پر وظیفہ مقرر کرنے کی ابتداء ہے ”وَالْخَرَاجُ أَلْيَقُ بِهِ“ اور خراج اس کافر کے زیادہ لائق ہے۔ ”وَمَكَّةُ مَخْصُوصَةٌ مِنْ هٰذَا“ اور مکہ اس میں سے مخصوص ہے۔ بھئی مکہ کو بھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قوتِ بازو سے فتح فرمایا تھا تو یہ تقاضا کیا کرتا ہے کہ مکہ والوں کی زمینوں پر بھی خراج ہونا چاہیے، لیکن ان پر حضور نے خراج مقرر نہیں فرمایا۔ معلوم ہوا مکہ جو ہے وہ اس حکم سے مخصوص ہے، اس کا یہ حکم نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَكَّةُ مَخْصُوصَةٌ مِنْ هٰذَا“ اور مکہ جو ہے وہ اس حکم سے مخصوص ہے ”فَإِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ فَتَحَهَا عَنْوَةً وَتَرَكَهَا لِأَهْلِهَا وَلَمْ يُوَظِّفِ الْخَرَاجَ“ اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام نے مکہ کو قوتِ بازو سے فتح فرمایا اور اس کو اس کے رہنے والوں کے لیے ہی چھوڑ دیا اور ان پر خراج مقرر نہیں فرمایا۔ مکہ فتح فرمایا اور ان کی زمینیں انہی کے پاس رہنے دی گئیں لیکن ان پر خراج حضور نے مقرر نہیں فرمایا۔ آگے دیکھیے: ”وَفِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ: كُلُّ أَرْضٍ فُتِحَتْ عَنْوَةً فَوَصَلَ إِلَيْهَا مَاءُ الْأَنْهَارِ فَهِيَ أَرْضُ خَرَاجٍ، وَمَا لَمْ يَصِلْ إِلَيْهَا مَاءُ الْأَنْهَارِ وَاسْتُخْرِجَ مِنْهَا عَيْنٌ فَهِيَ أَرْضُ عُشْرٍ“ بھئی یہاں سے صاحبِ ہدایہ جامعِ صغیر کی عبارت ذکر فرما رہے ہیں۔ آپ کو صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ یہ جو متن ہے اس کا نام ہے ”بِدَايَةُ الْمُبْتَدِي“ اور اس متن کو انہوں نے اخذ فرمایا ہے قدوری سے اور جامعِ صغیر سے۔ یہ پیچھے جو آیا ”وَكُلُّ أَرْضٍ فُتِحَتْ عَنْوَةً فَأُقِرَّ أَهْلُهَا عَلَيْهَا فَهِيَ أَرْضُ خَرَاجٍ“ یہ قدوری کی عبارت تھی، لیکن اگر کہیں پر جامعِ صغیر کی عبارت جو ہے قدوری سے ذرا مختلف ہو، جامعِ صغیر کے اندر کوئی اور بات بھی، کوئی فائدہ ذکر ہو تو صاحبِ ہدایہ اس کو بھی ذکر فرماتے ہیں ساتھ، تو اسی لیے یہاں بھی وہ اب جامعِ صغیر کی عبارت ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَفِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ“ اور جامعِ صغیر کے اندر ہے: ”كُلُّ أَرْضٍ فُتِحَتْ عَنْوَةً فَوَصَلَ إِلَيْهَا مَاءُ الْأَنْهَارِ فَهِيَ أَرْضُ خَرَاجٍ“ کہ ہر ایسی زمین جس کو قوتِ بازو سے فتح کر لیا جائے تو ان زمینوں کو پہنچا نہروں کا پانی، ان زمینوں کو نہروں کا پانی پہنچا تو وہ خراجی زمین ہے ”وَمَا لَمْ يَصِلْ إِلَيْهَا مَاءُ الْأَنْهَارِ وَاسْتُخْرِجَ مِنْهَا عَيْنٌ فَهِيَ أَرْضُ عُشْرٍ“ اور وہ زمینیں جن کو نہروں کا پانی نہیں پہنچا اور اس میں سے چشمہ نکال لیا گیا، ان زمینوں میں کوئی پانی کا چشمہ نکال لیا گیا تو یہ عشری زمین ہے۔ بھئی پیچھے قدوری کے اندر، متن کے اندر یہ بات ذکر ہوئی تھی کہ اگر کسی زمین والے لوگ خود ہی مسلمان ہو جائیں یا مسلمان کسی علاقے کو قوتِ بازو سے فتح کریں اور ان زمینوں کو امام غازیوں میں ہی تقسیم کر دے تو وہ عشری زمین ہے، لیکن امام محمد رحمہ اللہ جامعِ صغیر میں فرماتے ہیں کہ ان کے اندر پانی کو دیکھا جائے گا جس پانی کے ساتھ ان زمینوں کو سیراب کیا جاتا ہے۔ اس لیے کیونکہ زمین سے جو پیداوار حاصل ہوتی ہے وہ پانی کے ذریعے حاصل ہوتی ہے، لہٰذا آگے چل کر متن میں اور بھی تفصیل آ جائے گی اس مسئلے کی۔ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر مسلمان کی زمین ہے اور اس کو وہ کنویں کے ذریعے سیراب کرتا ہے جو اس نے کھودا ہے کہ اس نے کنواں کھودا ہے اور اس کے ذریعے زمین سیراب کرتا ہے، یا کوئی اس نے چشمہ نکالا ہے اور اس کے ذریعے زمین کو سیراب کرتا ہے، یا کسی بڑے دریا کے پانی کے ذریعے اس زمین کو سیراب کرتا ہے تو پھر اس صورت میں تو یہ عشری زمین ہی ہے، مالک بھی کون؟ مسلمان، اور اس کو سیراب بھی چشمے یا کنویں کے پانی سے یا عام دریا کے پانی سے اس کو سیراب کرتا ہے یعنی ایسا دریا جس کا مالک کوئی نہیں ہے۔ لیکن اگر وہ مسلمان اس زمین کو عجمی بادشاہوں کی کھدوائی ہوئی کسی نہر سے سیراب کرتا ہے، عجمی بادشاہوں کی عجمی بادشاہوں کی کھدوائی ہوئی کسی نہر کے پانی سے سیراب کرتا ہے تو پھر اس صورت کے اندر اس زمین پر عشر نہیں آئے گا بلکہ خراج آئے گا کیونکہ اعتبار پانی کا ہے۔ زمین پیداوار دیتی ہے کس کے ذریعے؟ پانی کے ذریعے، تو پانی کا اعتبار کیا جائے گا، تو اگر عام پانی، بارش کا پانی ہے یا کنویں یا چشمے کا پانی یا عام دریا کا پانی ہے تو پھر اس صورت میں تو یہ عشری زمین ہی ہے، لیکن اگر کسی ایسی نہر سے زمین کو سیراب کیا جو عجمی بادشاہوں کی مملوکہ نہریں تھیں انہوں نے کھدوائی تھیں تو پھر اس صورت کے اندر اس زمین پر بھی خراج ہی آئے گا اگرچہ مسلمان ہی اس کا مالک کیوں نہ ہو بھئی۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: ”وَفِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ: كُلُّ أَرْضٍ فُتِحَتْ عَنْوَةً فَوَصَلَ إِلَيْهَا مَاءُ الْأَنْهَارِ فَهِيَ أَرْضُ خَرَاجٍ“ اور جامعِ صغیر کے اندر ہے کہ ہر وہ زمین جسے قوتِ بازو سے فتح کر لیا جائے تو اس زمین کو پہنچ گیا نہروں کا پانی، یہاں مطلق نہریں ذکر ہیں لیکن آگے چند سطروں کے بعد متن میں ذکر کریں گے، امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایسی نہر کے پانی سے زمین کو سیراب کرنا جو عجمی بادشاہوں کی مملوکہ ہیں انہوں نے کھدوائی ہیں تو ان زمینوں پر خراج آئے گا۔ تو یہاں یہ جو انہار آیا اس سے عام نہریں یا دریا مراد نہیں، یاد رکھو عربی زبان میں دریا کو بھی نہر کہتے ہیں، تو کہتے ہیں: ”فَوَصَلَ إِلَيْهَا مَاءُ الْأَنْهَارِ فَهِيَ أَرْضُ خَرَاجٍ“ تو ان زمینوں کو عجمی بادشاہوں کی مملوکہ نہروں کا پانی پہنچ گیا یعنی اس کے ذریعے اس کو سیراب کیا جاتا ہے تو یہ خراجی زمین ہے ”وَمَا لَمْ يَصِلْ إِلَيْهَا مَاءُ الْأَنْهَارِ وَاسْتُخْرِجَ مِنْهَا عَيْنٌ فَهِيَ أَرْضُ عُشْرٍ“ اور جن زمینوں کو عجمی بادشاہوں کی مملوکہ نہروں کا پانی نہیں پہنچا یعنی اس کے ذریعے سیراب نہیں کرتے اور اس زمین میں چشمہ نکال لیا گیا یعنی اس کے ذریعے سیراب کرتے ہیں، یا اسی طرح آگے بتلائیں گے بارش کے پانی سے سیراب کرتے ہیں یا کنواں کھود لیا اس کے ذریعے سیراب کرتے ہیں یا ایسے دریا کا پانی ہے جو کسی کا مملوک نہیں ہے، قدرتی طور پر ہے وہ دریا، تو پھر اس صورت میں یہ عشری زمین ہی ہے جبکہ اس کا مالک مسلمان ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَا لَمْ يَصِلْ إِلَيْهَا مَاءُ الْأَنْهَارِ وَاسْتُخْرِجَ مِنْهَا عَيْنٌ فَهِيَ أَرْضُ عُشْرٍ“ اور جن تک ان مملوکہ نہروں کا پانی نہیں پہنچا اور اس زمین میں سے چشمہ نکال لیا گیا تو یہ عشری زمین ہے ”لِأَنَّ الْعُشْرَ يَتَعَلَّقُ بِالْأَرْضِ النَّامِيَةِ“ اس لیے کیونکہ عشر کا تعلق نامی زمین سے ہوتا ہے، نامی، نماء سے ہے، جس میں بڑھوتری ہو، افزائش ہو یعنی پیداوار دینے والی زمین۔ ارضِ نامیہ کسے کہیں گے؟ پیداوار دینے والی زمین بھئی۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْعُشْرَ يَتَعَلَّقُ بِالْأَرْضِ النَّامِيَةِ وَنَمَاؤُهَا بِمَائِهَا فَيُعْتَبَرُ السَّقْيُ بِمَاءِ الْعُشْرِ أَوْ بِمَاءِ الْخَرَاجِ“ اس لیے کیونکہ عشر کا تعلق پیداوار دینے والی زمین سے ہوتا ہے اور زمین کی جو افزائش ہوتی ہے، زمین کے اندر جو بڑھوتری ہوتی ہے یعنی اس کی جو پیداوار ہے تو کہتے ہیں اور زمین کی جو پیداوار ہے وہ اس کے پانی کے ذریعے ہوتی ہے لہٰذا اعتبار کیا جائے گا اس کے سیراب کرنے کا عشری پانی سے یا خراجی پانی سے۔ زمین کس کی ہے؟ مسلمان کی۔ بھئی کافر کی زمین ہے پھر تو اس میں آنا ہی خراج ہے، مسلمان کی زمین کی بات ہو رہی ہے۔ مسلمان کی زمین ہے تو وہ اگر اس کو عشری پانی سے سیراب کرتا ہے تو عشر ہی آئے گا لیکن اگر وہ خراجی پانی کے ذریعے اس کو سیراب کرے گا تو پھر مسلمان کی زمین ہونے کے باوجود اس پر خراج آئے گا بھئی، کیونکہ اعتبار پانی کا ہے۔ یہ مذہب ہے امام محمد رحمہ اللہ کا، آگے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا مذہب بھی ذکر ہونے لگا ہے بھئی۔ کہتے ہیں: ”فَيُعْتَبَرُ السَّقْيُ بِمَاءِ الْعُشْرِ أَوْ بِمَاءِ الْخَرَاجِ“ تو عشری یا خراجی پانی کے ذریعے سیراب کرنے کا اعتبار کیا جائے گا۔ ”قَالَ: وَمَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَوَاتًا“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں اور جس نے بے آباد زمین کو آباد کیا۔ ارضِ موات بھئی، ارضِ موات کہتے ہیں بے آباد زمین، بے آباد زمین یعنی جس پر کاشتکاری وغیرہ نہیں ہوتی ویسے ہی ایک زمین پڑی ہوئی ہے تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ ارضِ موات، یہ موت سے ہے یعنی یہ مردہ زمین ہے اس سے کوئی فصل وغیرہ حاصل نہیں ہوتی، اور اسی زمین کو آباد کرنا اس کو کہتے ہیں احیاء، احیائے ارضِ موات، بے آباد زمین کو زندہ کرنا یعنی اس کو آباد کرنا، اس کو کاشت کے قابل بنانا۔ یاد رکھو یہ جو زمینیں ہیں جن پر آپ دیکھتے ہیں لوگ فصلیں کاشت کر رہے ہیں یہ ابتداء میں ایسی نہیں تھیں، یہ لوگوں نے بڑی محنتیں کی ہیں اور پھر یہ کاشت کے لیے آہستہ آہستہ زمین تیار ہوتی چلی جاتی ہے۔ سخت زمین ہوتی ہے، اس کے اندر پتھر وغیرہ اور چیزیں ہوتی ہیں اور پھر کاشتکار اس پر محنت کرتے ہیں آہستہ آہستہ جو ہے وہ زمین بہتر سے بہتر ہوتی چلی جاتی ہے، تو یہ جتنی زمینیں آپ دیکھتے ہیں جن پر کاشتکاری ہوتی ہے ان کو بے انتہا محنت کے بعد اس حالت تک پہنچایا گیا ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو بہرحال ایک دفعہ جب زمین تیار ہو گئی اور اب اس کو استعمال کرتے رہیں گے تو سلسلہ چلتا رہے گا۔ تو اب صورت یہ ہے کہ مملکتِ اسلامیہ کے اندر بے آباد زمینیں بعض پڑی ہوئی ہیں تو یاد رکھو جو ان کو آباد کرے گا وہ ان کا مالک بنے گا لیکن عند الاحناف ایک شرط اور بھی ضروری ہے کہ بادشاہ کی اجازت سے زمین کو آباد کرے، بھئی ایک بے آباد ویران زمین پڑی ہوئی ہے، بنجر زمین پڑی ہوئی ہے اور ایک شخص اس کو آباد کرتا ہے تو عند الاحناف مالک نہیں بنے گا جب تک امام کی اجازت نہ ہو۔ وجہ یہ کہ اگر بغیر اجازت کے جو بھی زمین کو آباد کرے اور اس کا مالک بنتا چلا جائے تو پھر تو مملکت کے کاموں کے لیے جگہیں تنگ پڑ جائیں گی بھئی، جس کا جہاں جی چاہے گا زمین پر قبضہ کر کے اس کو آباد کرنا شروع کر دے گا۔ تو عند الاحناف امام کی اجازت سے کوئی بے آباد زمین کو محنت کر کے آباد کر لیتا ہے یعنی اسے کاشت کے قابل بنا لیتا ہے تو وہ اس کا مالک بن جائے گا۔ مثلاً امام نے ایک آدمی کو زمین دے دی کہ یہ ساری زمین جو ہے اگر تم نے اس کو قابلِ کاشت بنا دیا تو یہ تمہاری ہو گئی، تم اس کے مالک ہو گئے، تو وہ اگر اس کو آباد کر لیتا ہے تو وہ مالک بن جائے گا اور اگر وہ آباد نہیں کرتا تو امام اس سے لے کر کسی اور کو دے دے گا کہ وہ آباد کرے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”قَالَ: وَمَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَوَاتًا فَهِيَ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ مُعْتَبَرَةٌ بِحَيِّزِهَا“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں اور جس نے بے آباد زمین کو آباد کیا تو یہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک معتبرۃ بحیزہا، حیز کا معنی ہے جگہ، جگہ۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ زمین جو ہے معتبرۃ بحیزہا اس کا اعتبار کیا جائے گا اس کی جگہ کے لحاظ سے، اس زمین کا اعتبار کیا جائے گا جگہ کے لحاظ سے یعنی اس کے آس پاس کی زمینوں کو دیکھا جائے گا، توجہ ہے؟ مسئلہ کیا چل رہا ہے؟ ایک شخص نے ایک بے آباد زمین کو آباد کیا ہے تو اب اس زمین پر خراج آئے گا یا عشر آئے گا؟ آباد کرنے والا مسلمان ہے، اگر ذمی آباد کر رہا ہے پھر تو ظاہر سی بات ہے خراج ہی آئے گا، بات چل رہی ہے مسلمان ایک بے آباد زمین کو آباد کرتا ہے تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ پانی کا اعتبار نہیں کریں گے بلکہ آس پاس کی زمینوں کو دیکھیں گے۔ اگر اس زمین کے آس پاس جو زمینیں ہیں وہ خراجی ہیں تو یہ زمین بھی خراجی قرار دی جائے گی جس کو مسلمان نے آباد کیا ہے اور اس پر خراج مقرر کیا جائے گا، اور اگر آس پاس کی زمینیں عشری ہیں تو پھر اس زمین کو بھی عشری قرار دیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”فَهِيَ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ مُعْتَبَرَةٌ بِحَيِّزِهَا فَإِنْ كَانَتْ مِنْ حَيِّزِ أَرْضِ الْخَرَاجِ“ تو یہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک اس کا اعتبار کیا جائے گا اس کی جگہ کے لحاظ سے، اگر یہ زمین جو ہے خراجی زمین کے حیز میں ہوئی، خراجی زمین کے حیز یعنی خراجی زمین کی جگہ میں ہوئی۔ کہتے ہیں: ”فَإِنْ كَانَتْ مِنْ حَيِّزِ أَرْضِ الْخَرَاجِ وَمَعْنَاهُ بِقُرْبِهِ فَهِيَ خَرَاجِيَّةٌ“ اگر یہ زمین جو ہے یہ خراجی زمین کی جگہ میں ہوئی اور اس کا معنی یہ ہے یعنی اس کے قریب ہوئی، یہاں سے صاحبِ ہدایہ حیز کا معنی بیان فرما رہے ہیں کہ خراجی زمین کی جگہ میں ہوئی یعنی اس کے قریب ہوئی، یہ زمین جو آباد کی ہے یہ خراجی زمین کے قریب ہوئی تو اس کو خراجی قرار دیں گے اور اگر یہ عشری زمین کے قریب ہوئی تو اس کو عشری زمین قرار دیں گے۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَعْنَاهُ بِقُرْبِهِ فَهِيَ خَرَاجِيَّةٌ“ کہتے ہیں صاحبِ قدوری کے قول کا معنی یہ ہے کہ وہ خراجی زمین کے قریب ہوئی تو یہ نئی زمین جس کو آباد کیا گیا ہے یہ بھی خراجی ہوگی ”وَإِنْ كَانَتْ مِنْ حَيِّزِ أَرْضِ الْعُشْرِ فَهِيَ عُشْرِيَّةٌ“ اور اگر یہ عشری زمین کی جگہ میں ہوئی یعنی اس کے قریب ہوئی تو یہ عشری زمین ہوگی ”وَالْبَصْرَةُ عِنْدَهُ كُلُّهَا عُشْرِيَّةٌ بِإِجْمَاعِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ“ اور بصرہ جو ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک وہ سارا کا سارا عشری ہے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اجماع کی وجہ سے، اجماع کی وجہ سے۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ بصرہ کی زمینوں کو خراجی قرار دینا چاہیے کیونکہ اس کے قریب والی زمینیں ساری خراجی ہیں، اور جس زمین کے قریب ہو اسی کا اعتبار کیا جاتا ہے تو بصرہ کی زمینوں کو بھی خراجی قرار دینا چاہیے لیکن صحابہ نے اس کے اوپر عشر مقرر فرمایا، صحابہ نے عشر، تو صحابہ کے اجماع کی وجہ سے یہاں قیاس کو ترک کر دیا گیا۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْبَصْرَةُ عِنْدَهُ كُلُّهَا عُشْرِيَّةٌ بِإِجْمَاعِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ“ اور بصرہ جو ہے وہ سارا کا سارا عشری ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اجماع کی وجہ سے ”لِأَنَّ حَيِّزَ الشَّيْءِ يُعْطَى لَهُ حُكْمُهُ كَفِنَاءِ الدَّارِ يُعْطَى لَهُ حُكْمُ الدَّارِ“ یہاں سے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل ذکر فرما رہے ہیں صاحبِ ہدایہ۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قریب والی زمینوں کا اعتبار کیا جائے گا، وجہ یہ کہ جو چیز کسی کے قریب ہوتی ہے اس کے لیے اسی چیز والا حکم ہو جاتا ہے، قریب الی الشیء فی حکم الشیء ہوتی ہے، جو جس چیز کے قریب ہو اس کا وہی حکم ہوتا ہے۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ حَيِّزَ الشَّيْءِ يُعْطَى لَهُ حُكْمُهُ“ اس لیے کیونکہ کسی چیز کا جو حیز ہوتا ہے یعنی کسی چیز کے جو قریب ہوتا ہے اس کو اسی کا حکم دے دیا جاتا ہے ”كَفِنَاءِ الدَّارِ يُعْطَى لَهُ حُكْمُ الدَّارِ“ جیسے کہ گھر کا صحن ہے اس کو گھر کا حکم دے دیا جاتا ہے۔ بھئی فناء الدار، گھر کا صحن، مراد وہ صحن نہیں ہے جو گھر کے اندر داخل ہوتا ہے، جو مملوک ہوتا ہے، نہیں، مراد ہے گھر کے قریب جو کھلی جگہ ہے، گھر کے گھر کے قریب جو باہر کھلی جگہ ہے جو اس شخص کی اس گھر والے کی مملوکہ نہیں ہے اس کھلی جگہ کا حکم بھی اس گھر کی طرح ہی ہے یعنی اس گھر والے کے لیے اس زمین سے نفع اٹھانا جائز ہے، یعنی اس گھر والے کے لیے اس زمین سے نفع اٹھانا جائز ہے کیونکہ یہ جو باہر کی زمین ہے یہ اس کے گھر کے قریب ہے، تو معلوم ہوا کسی چیز کے جو قریب شے ہوتی ہے اس کا وہی حکم ہوتا ہے جو اس شے کا ہوتا ہے بھئی۔ یہ معنی ہے: ”لِأَنَّ حَيِّزَ الشَّيْءِ يُعْطَى لَهُ حُكْمُهُ كَفِنَاءِ الدَّارِ يُعْطَى لَهُ حُكْمُ الدَّارِ حَتَّى يَجُوزَ لِصَاحِبِهَا الِانْتِفَاعُ بِهِ“ اس لیے کیونکہ کسی چیز کے جو قریب ہو اس کو اسی چیز کا حکم دے دیا جاتا ہے جیسے کہ گھر کا صحن ہے اس کو گھر کا حکم دے دیا جاتا ہے یہاں تک کہ گھر والے کے لیے اس سے نفع اٹھانا جائز ہوتا ہے ”وَكَذَا لَا يَجُوزُ أَخْذُ مَا قَرُبَ مِنَ الْعَامِرِ“ اور اسی طرح جائز نہیں ہے لینا اس کو جو آبادی کے قریب ہو، بھئی یاد رکھو بے آباد زمین کو جو آباد کرے گا امام کی اجازت سے وہ اس کا مالک بن جائے گا، لیکن دیہات کے قریب، بستی کے قریب کی زمینیں ان کو آباد کر کے ان کا مالک نہیں بنا جا سکتا۔ وجہ یہ کہ دیہات کے ساتھ ملی ہوئی جو زمینیں ہیں وہ دیہات والوں کے اپنے کام آتی ہیں، دیکھو گھروں کے باہر جو کھلی جگہ ہوتی ہے دیہات میں آس پاس، دیہات والے لوگ کبھی وہاں جا کر بیٹھ جاتے ہیں، گپ شپ لگاتے ہیں، ان کے بچے وہاں چلے جاتے ہیں وہ کھیلتے ہیں، اسی طرح وہ فصلیں کبھی کاٹ کر لے آتے ہیں وہاں لا کر ان فصلوں کو جمع کرتے ہیں، تو دیہات کے گھروں کے ساتھ جو زمینیں ہوتی ہیں وہ دیہات والوں کے فائدے کے لیے ہوتی ہیں لہٰذا ان کو آباد کرنا اور ان کا مالک بننا جائز نہیں ہے بھئی۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے، وہ فرماتے ہیں جو جس چیز کے قریب ہو اس کے لیے اسی چیز والا حکم ہو جاتا ہے تو یہاں بھی دیکھو دیہات کے قریب کی زمینیں جو ہیں وہ دیہات ہی کے حکم میں ہیں، ان پر قبضہ کر کے مالک نہیں بنا جا سکتا۔ یہ معنی ہے: ”وَكَذَا لَا يَجُوزُ أَخْذُ مَا قَرُبَ مِنَ الْعَامِرِ“ اور اسی طرح جائز نہیں ہے اس زمین کو لینا جو آبادی کے قریب ہو، عامر کا معنی آبادی۔ تو یہاں آیا ”وَكَذَا لَا يَجُوزُ أَخْذُ مَا قَرُبَ مِنَ الْعَامِرِ“ اور اسی طرح جائز نہیں ہے اس زمین کو جو آبادی کے قریب ہے، جبکہ ہدایہ کے بعض نسخوں میں یہاں اخذ کی جگہ احیاء کا لفظ آیا ہے اور وہ لفظ زیادہ مناسب ہے: ”وَكَذَا لَا يَجُوزُ إِحْيَاءُ مَا قَرُبَ مِنَ الْعَامِرِ“ اور اسی طرح آباد کرنا ان زمینوں کو جو آبادی کے قریب ہیں وہ جائز نہیں ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: ”وَكَانَ الْقِيَاسُ فِي الْبَصْرَةِ أَنْ تَكُونَ خَرَاجِيَّةً لِأَنَّهَا مِنْ حَيِّزِ أَرْضِ الْخَرَاجِ إِلَّا أَنَّ الصَّحَابَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَظَّفُوا عَلَيْهَا الْعُشْرَ فَتُرِكَ الْقِيَاسُ لِإِجْمَاعِهِمْ“ اور بصرہ کے اندر تو قیاس یہ تھا کہ بصرہ کی زمین خراجی ہونی چاہیے اس لیے کیونکہ بصرہ جو ہے وہ خراجی زمین کے حیز میں ہے یعنی اس کے قریب ہے، مگر یہ کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے انہوں نے بصرہ پر عشر کا وظیفہ مقرر کیا لہٰذا قیاس کو چھوڑ دیا گیا صحابہ کے اجماع کی وجہ سے، فترک القیاس لاجماعہم۔ اور آپ چاہیں تو اس کو فعلِ معروف بھی پڑھ سکتے ہیں: ”فَتَرَكَ الْقِيَاسَ لِإِجْمَاعِهِمْ“ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے قیاس کو ترک فرما دیا صحابہ کے اجماع کی وجہ سے۔ آگے دیکھیے: ”وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللّٰهُ: إِنْ أَحْيَاهَا بِبِئْرٍ حَفَرَهَا أَوْ بِعَيْنٍ اسْتَخْرَجَهَا أَوْ مَاءِ دِجْلَةَ وَالْفُرَاتِ وَالْأَنْهَارِ الْعِظَامِ الَّتِي لَا يَمْلِكُهَا أَحَدٌ فَهِيَ عُشْرِيَّةٌ، وَكَذَا إِنْ أَحْيَاهَا بِمَاءِ السَّمَاءِ، وَإِنْ أَحْيَاهَا بِمَاءِ الْأَنْهَارِ الَّتِي احْتَفَرَهَا الْأَعَاجِمُ مِثْلُ نَهْرِ الْمَلِكِ وَنَهْرِ يَزْدَجِرْدَ فَهِيَ خَرَاجِيَّةٌ لِمَا ذَكَرْنَا مِنْ اعْتِبَارِ الْمَاءِ إِذْ هُوَ السَّبَبُ لِلنَّمَاءِ“ بھئی یہاں تک بات چل رہی تھی امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا مذہب ذکر ہوا، ان کے نزدیک کسی مسلمان کی آباد کی ہوئی زمین کو خراجی قرار دیں گے یا عشری، وہ اس کے آس پاس کی زمینوں کو دیکھ کر اس پر حکم لگایا جائے گا، جبکہ امام محمد رحمہ اللہ کے بارے میں کچھ تفصیل میں نے پہلے ذکر کر دی تھی، ان کے نزدیک اعتبار اس پانی کا ہے جس کے ذریعے زمین کو سیراب کیا جا رہا ہے۔ اگر عشری پانی سے زمین کو سیراب کیا تو یہ عشری زمین ہے یعنی بارش کا پانی ہے یا کنویں کا پانی ہے یا چشموں کا پانی ہے یا ایسے دریا جو کسی کے مملوک نہیں تو اس صورت میں یہ عشری زمین ہے، اور اگر خراجی پانی کے ذریعے اس زمین کو سیراب کیا یعنی ان نہروں کے پانی سے کہ جو عجمی بادشاہوں نے کھدوائی تھیں اور جو ان کی مملوکہ ہیں تو پھر یہ زمین خراجی ہوگی۔ اور یاد رکھو علماء فرماتے ہیں کہ فتویٰ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول پر ہے، فتویٰ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول پر ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللّٰهُ: إِنْ أَحْيَاهَا بِبِئْرٍ حَفَرَهَا أَوْ بِعَيْنٍ اسْتَخْرَجَهَا أَوْ مَاءِ دِجْلَةَ وَالْفُرَاتِ وَالْأَنْهَارِ الْعِظَامِ الَّتِي لَا يَمْلِكُهَا أَحَدٌ فَهِيَ عُشْرِيَّةٌ“ اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر اس مسلمان نے اس زمین کو آباد کیا ایسے کنویں کے ذریعے جو اس نے خود کھودا ہے، یا ایسے چشمے کے ذریعے سیراب کیا جو اس نے خود نکالا ہے، یا اس زمین کو اس نے دجلہ یا فرات کے پانی سے سیراب کیا، دجلہ اور فرات یہ دریا ہیں بھئی، عراق کے دو مشہور دریا ہیں بھئی، یا اس نے اس کو دریائے دجلہ یا دریائے فرات کے پانی سے سیراب کیا یا اس زمین کو اس مسلمان نے ان بڑی نہروں کے ذریعے سیراب کیا، بڑی نہریں یعنی دریا، ان بڑی نہروں کے ذریعے سیراب کیا کہ جن کا مالک کوئی نہیں ہے تو یہ عشری زمین ہے ”وَكَذَا إِنْ أَحْيَاهَا بِمَاءِ السَّمَاءِ“ اور اسی طرح یہ زمین عشری ہوگی اگر اس کو آسمان کے پانی یعنی بارش کے پانی کے ذریعے اس کو آباد کیا ”وَإِنْ أَحْيَاهَا بِمَاءِ الْأَنْهَارِ الَّتِي احْتَفَرَهَا الْأَعَاجِمُ مِثْلُ نَهْرِ الْمَلِكِ وَنَهْرِ يَزْدَجِرْدَ فَهِيَ خَرَاجِيَّةٌ“ اور اگر اس نے اس زمین کو آباد کیا ان نہروں کے پانی کے ذریعے جن کو عجمیوں نے کھودا ہے یعنی عجمی بادشاہوں نے کھدوایا ہے، جیسے کہ نہرِ ملک ہے اور جیسے نہرِ یزدجرد ہے، یہ پرانے بادشاہوں نے کوئی نہریں کھدوائی تھیں تو یہ مملوکہ نہریں تھیں لہٰذا ان سے زمین کو سیراب کرے گا تو وہ خراجی زمین ہوگی۔ کہتے ہیں: ”مِثْلُ نَهْرِ الْمَلِكِ وَنَهْرِ يَزْدَجِرْدَ فَهِيَ خَرَاجِيَّةٌ“ جیسے کہ نہرِ ملک ہے اور جیسے نہرِ یزدجرد ہے تو یہ زمین خراجی ہے، اگرچہ مسلمان نے آباد کیا ہے لیکن پانی تو خراجی ہے لہٰذا زمین بھی خراجی ہوگی امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک ”لِمَا ذَكَرْنَا مِنْ اعْتِبَارِ الْمَاءِ إِذْ هُوَ السَّبَبُ لِلنَّمَاءِ“ وہ جو ہم نے ذکر کر دیا یعنی پانی کا معتبر ہونا اس لیے کیونکہ پانی ہی افزائش کا یعنی بڑھوتری کا سبب ہے، نماء کا کیا معنی؟ افزائش اور بڑھوتری یعنی پیداوار مراد ہے، اس لیے کیونکہ پانی ہی پیداوار کا سبب ہے۔ ”وَلِأَنَّهُ لَا يُمْكِنُ تَوْظِيفُ الْخَرَاجِ ابْتِدَاءً عَلَى الْمُسْلِمِ كُرْهًا فَيُعْتَبَرُ فِي ذٰلِكَ الْمَاءُ لِأَنَّ السَّقْيَ بِمَاءِ الْخَرَاجِ دَلَالَةٌ الْتِزَامِيَّةٌ“ اور اس لیے کیونکہ ممکن نہیں ہے کہ خراج کو مقرر کیا جائے ابتداءً مسلمان پر کرہاً یعنی جبراً۔ مسلمان پر ابتداءً سے ہی جبراً جبراً خراج مقرر کر دیا جائے یہ ممکن نہیں ہے، مسلمان پر عشر لازم کیا جائے گا لیکن اگر اس نے خود کوئی ایسا کام کر لیا مثلاً اس نے خراجی پانی سے زمین کو سیراب کیا ہے تو پھر اس وجہ سے خراج مقرر کیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّهُ لَا يُمْكِنُ تَوْظِيفُ الْخَرَاجِ ابْتِدَاءً عَلَى الْمُسْلِمِ كُرْهًا فَيُعْتَبَرُ فِي ذٰلِكَ الْمَاءُ“ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ ممکن نہیں ہے کہ ابتداء سے ہی خراج کا وظیفہ مسلمان پر جبراً مقرر کر دیا جائے تو اس کے اندر پانی کا اعتبار کیا جائے گا ”لِأَنَّ السَّقْيَ بِمَاءِ الْخَرَاجِ دَلَالَةٌ الْتِزَامِيَّةٌ“ اس لیے کیونکہ خراجی پانی سے سیراب کرنا دلالتِ التزامی ہے، یہ دلالتِ التزامی ہے یعنی مسلمان خود اپنے اوپر خراج کا التزام کر رہا ہے، اپنے اوپر خود خراج کو لازم کر رہا ہے اپنے فعل کے ذریعے، یہ معنی ہے کہتے ہیں اس لیے کیونکہ خراجی پانی سے سیراب کرنا یہ دلالتِ التزامی ہے کہ وہ خراج کو اپنے اوپر لازم کر رہا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔ سبحانک اللّٰہم وبحمدک، نشہد أن لا إلہ إلا أنت، نستغفرک ونتوب الیک۔ هَذَا، اور مکہ اس میں سے مخصوص ہے۔ بھئی مکہ کو بھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قوتِ بازو سے فتح فرمایا تھا، تو یہ تقاضا کیا کرتا ہے کہ مکہ والوں کی زمینوں پر بھی خراج ہونا چاہیے، لیکن ان پر حضور نے خراج مقرر نہیں فرمایا۔ معلوم ہوا مکہ جو ہے وہ اس حکم سے مخصوص ہے، اس کا یہ حکم نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: وَمَكَّةُ مَخْصُوصَةٌ مِنْ هَذَا اور مکہ جو ہے وہ اس حکم سے مخصوص ہے، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ فَتَحَهَا عَنْوَةً اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام نے مکہ کو قوتِ بازو سے فتح فرمایا، وَتَرَكَهَا لِأَهْلِهَا اور اس کو اس کے رہنے والوں کے لیے ہی چھوڑ دیا، وَلَمْ يُوَظِّفِ الْخَرَاجَ اور ان پر خراج مقرر نہیں فرمایا۔ مکہ فتح فرمایا اور ان کی زمینیں انہی کے پاس رہنے دی گئیں لیکن ان پر خراج حضور نے مقرر نہیں فرمایا۔ آگے دیکھیے: وَفِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ: كُلُّ أَرْضٍ فُتِحَتْ عَنْوَةً فَوَصَلَ إِلَيْهَا مَاءُ الْأَنْهَارِ، بھئی یہاں سے صاحبِ ہدایہ جامعِ صغیر کی عبارت ذکر فرما رہے ہیں۔ آپ کو صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ یہ جو متن ہے اس کا نام ہے ’ہدایۃ المبتدی‘ اور اس متن کو انہوں نے اخذ فرمایا ہے قدوری سے اور جامعِ صغیر سے۔ یہ پیچھے جو آیا: وَكُلُّ أَرْضٍ فُتِحَتْ عَنْوَةً فَأُقِرَّ أَهْلُهَا عَلَيْهَا فَهِيَ أَرْضُ خَرَاجٍ، یہ قدوری کی عبارت تھی۔ لیکن اگر کہیں پر جامعِ صغیر کی عبارت جو ہے قدوری سے ذرا مختلف ہو، جامعِ صغیر کے اندر کوئی اور بات بھی کوئی فائدہ ذکر ہو، تو صاحبِ ہدایہ اس کو بھی ذکر فرماتے ہیں ساتھ۔ تو اسی لیے یہاں بھی وہ اب جامعِ صغیر کی عبارت ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: وَفِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ اور جامعِ صغیر کے اندر ہے: كُلُّ أَرْضٍ فُتِحَتْ عَنْوَةً کہ ہر ایسی زمین جس کو قوتِ بازو سے فتح کر لیا جائے، فَوَصَلَ إِلَيْهَا مَاءُ الْأَنْهَارِ تو ان زمینوں کو پہنچا نہروں کا پانی، ان زمینوں کو نہروں کا پانی پہنچا، فَهِيَ أَرْضُ خَرَاجٍ تو وہ خراجی زمین ہے، وَمَا لَمْ يَصِلْ إِلَيْهَا مَاءُ الْأَنْهَارِ اور وہ زمینیں جن کو نہروں کا پانی نہیں پہنچا، وَاسْتُخْرِجَ مِنْهَا عَيْنٌ اور اس میں سے چشمہ نکال لیا گیا، ان زمینوں میں کوئی پانی کا چشمہ نکال لیا گیا، فَهِيَ أَرْضُ عُشْرٍ تو یہ عشری زمین ہے۔ بھئی پیچھے قدوری کے اندر، متن کے اندر یہ بات ذکر ہوئی تھی کہ اگر کسی زمین والے لوگ خود ہی مسلمان ہو جائیں، یا مسلمان کسی علاقے کو قوتِ بازو سے فتح کریں اور ان زمینوں کو امام غازیوں میں ہی تقسیم کر دے تو وہ عشری زمین ہے، لیکن امام محمد رحمہ اللہ جامعِ صغیر میں فرماتے ہیں کہ ان کے اندر پانی کو دیکھا جائے گا جس پانی کے ساتھ ان زمینوں کو سیراب کیا جاتا ہے۔ اس لیے کیونکہ زمین سے جو پیداوار حاصل ہوتی ہے وہ پانی کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ لہٰذا آگے چل کر متن میں اور بھی تفصیل آ جائے گی اس مسئلے کی، امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر مسلمان کی زمین ہے اور اس کو وہ کنوئیں کے ذریعے سیراب کرتا ہے جو اس نے کھودا ہے، کہ اس نے کنواں کھودا ہے اور اس کے ذریعے زمین سیراب کرتا ہے، یا کوئی اس نے چشمہ نکالا ہے اور اس کے ذریعے زمین کو سیراب کرتا ہے، یا کسی بڑے دریا کے پانی کے ذریعے اس زمین کو سیراب کرتا ہے، تو پھر اس صورت میں تو یہ عشری زمین ہی ہے۔ مالک بھی کون؟ مسلمان، اور اس کو سیراب بھی چشمے یا کنوئیں کے پانی سے یا عام دریا کے پانی سے اس کو سیراب کرتا ہے، یعنی ایسا دریا جس کا مالک کوئی نہیں ہے۔ لیکن اگر وہ مسلمان اس زمین کو عجمی بادشاہوں کی کھدوائی ہوئی کسی نہر سے سیراب کرتا ہے، عجمی بادشاہوں کی کھدوائی ہوئی کسی نہر کے پانی سے سیراب کرتا ہے، تو پھر اس صورت کے اندر اس زمین پر عشر نہیں آئے گا بلکہ خراج آئے گا، کیونکہ اعتبار پانی کا ہے۔ زمین پیداوار دیتی ہے کس کے ذریعے؟ پانی کے ذریعے، تو پانی کا اعتبار کیا جائے گا۔ تو اگر عام پانی، بارش کا پانی ہے یا کنوئیں یا چشمے کا پانی یا عام دریا کا پانی ہے، تو پھر اس صورت میں تو یہ عشری زمین ہی ہے، لیکن اگر کسی ایسی نہر سے زمین کو سیراب کیا جو عجمی بادشاہوں کی مملوکہ نہریں تھیں، انہوں نے کھدوائی تھیں، تو پھر اس صورت کے اندر اس زمین پر بھی خراج ہی آئے گا اگرچہ مسلمان ہی اس کا مالک کیوں نہ ہو۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: وَفِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ اور جامعِ صغیر کے اندر ہے: كُلُّ أَرْضٍ فُتِحَتْ عَنْوَةً کہ ہر وہ زمین جسے قوتِ بازو سے فتح کر لیا جائے، فَوَصَلَ إِلَيْهَا مَاءُ الْأَنْهَارِ اس زمین کو پہنچ گیا نہروں کا پانی، یہاں مطلق نہریں ذکر ہیں لیکن آگے چند سطروں کے بعد متن میں ذکر کریں گے، امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ایسی نہر کے پانی سے زمین کو سیراب کرنا جو عجمی بادشاہوں کی مملوکہ ہے، انہوں نے کھدوائی ہیں، تو ان زمینوں پر خراج آئے گا۔ تو یہاں یہ جو انہار آیا، اس سے عام نہریں یا دریا مراد نہیں، یاد رکھو عربی زبان میں دریا کو بھی نہر کہتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: فَوَصَلَ إِلَيْهَا مَاءُ الْأَنْهَارِ تو ان زمینوں کو عجمی بادشاہوں کی مملوکہ نہروں کا پانی پہنچ گیا یعنی اس کے ذریعے اس کو سیراب کیا جاتا ہے، فَهِيَ أَرْضُ خَرَاجٍ تو یہ خراجی زمین ہے، وَمَا لَمْ يَصِلْ إِلَيْهَا مَاءُ الْأَنْهَارِ اور جن زمینوں کو عجمی بادشاہوں کی مملوکہ نہروں کا پانی نہیں پہنچا، یعنی اس کے ذریعے سیراب نہیں کرتے، وَاسْتُخْرِجَ مِنْهَا عَيْنٌ اور اس زمین میں چشمہ نکال لیا گیا یعنی اس کے ذریعے سیراب کرتے ہیں، یا اسی طرح آگے بتلائیں گے بارش کے پانی سے سیراب کرتے ہیں، یا کنواں کھود لیا اس کے ذریعے سیراب کرتے ہیں، یا ایسے دریا کا پانی ہے جو کسی کا مملوک نہیں ہے قدرتی طور پر ہے وہ دریا، تو پھر اس صورت میں یہ عشری زمین ہی ہے جبکہ اس کا مالک مسلمان ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَمَا لَمْ يَصِلْ إِلَيْهَا مَاءُ الْأَنْهَارِ اور جن تک ان مملوکہ نہروں کا پانی نہیں پہنچا، وَاسْتُخْرِجَ مِنْهَا عَيْنٌ اور اس زمین میں سے چشمہ نکال لیا گیا، فَهِيَ أَرْضُ عُشْرٍ تو یہ عشری زمین ہے، لِأَنَّ الْعُشْرَ يَتَعَلَّقُ بِالْأَرْضِ النَّامِيَةِ اس لیے کیونکہ عشر کا تعلق نامی زمین سے ہوتا ہے۔ نامی نما سے ہے، بڑھنے جس میں بڑھوتری ہو، افزائش ہو، یعنی پیداوار دینے والی زمین۔ ارضِ نامی کسے کہیں گے؟ پیداوار دینے والی زمین بھئی۔ کہتے ہیں: لِأَنَّ الْعُشْرَ يَتَعَلَّقُ بِالْأَرْضِ النَّامِيَةِ اس لیے کیونکہ عشر کا تعلق پیداوار دینے والی زمین سے ہوتا ہے، وَنَمَاؤُهَا بِمَائِهَا اور زمین کی جو افزائش ہوتی ہے، زمین کے اندر جو بڑھوتری ہوتی ہے یعنی اس کی جو پیداوار ہے، تو کہتے ہیں: وَنَمَاؤُهَا بِمَائِهَا اور زمین کی جو پیداوار ہے وہ اس کے پانی کے ذریعے ہوتی ہے، فَيُعْتَبَرُ السَّقْيُ بِمَاءِ الْعُشْرِ أَوْ بِمَاءِ الْخَرَاجِ تو لہٰذا اعتبار کیا جائے گا اس کے سیراب کرنے کا عشری پانی سے یا خراجی پانی سے۔ زمین کس کی ہے؟ مسلمان کی۔ بھئی کافر کی زمین ہے پھر تو اس میں آنا ہی خراج ہے۔ مسلمان کی زمین کی بات ہو رہی ہے۔ مسلمان کی زمین ہے تو وہ اگر اس کو عشری پانی سے سیراب کرتا ہے تو عشر ہی آئے گا، لیکن اگر وہ خراجی پانی کے ذریعے اس کو سیراب کرے گا تو پھر مسلمان کی زمین ہونے کے باوجود اس پر خراج آئے گا بھئی، کیونکہ اعتبار پانی کا ہے۔ یہ مذہب ہے امام محمد رحمہ اللہ کا، آگے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا مذہب بھی ذکر ہونے لگا ہے بھئی۔ کہتے ہیں: فَيُعْتَبَرُ السَّقْيُ بِمَاءِ الْعُشْرِ أَوْ بِمَاءِ الْخَرَاجِ تو عشری یا خراجی پانی کے ذریعے سیراب کرنے کا اعتبار کیا جائے گا۔ قَالَ: صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: وَمَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَوَاتًا اور جس نے بےآباد زمین کو آباد کیا، ارضِ موات بھئی، ارضِ موات کہتے ہیں بےآباد زمین، بےآباد زمین یعنی جس پر کاشتکاری وغیرہ نہیں ہوتی، ویسے ہی ایک زمین پڑی ہوئی ہے، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ ارضِ موات، یہ موت سے ہے، یعنی مردہ زمین ہے، اس سے کوئی فصل وغیرہ حاصل نہیں ہوتی، اور اسی زمین کو آباد کرنا اس کو کہتے ہیں احیاء، احیائے ارضِ موات، بےآباد زمین کو زندہ کرنا یعنی اس کو آباد کرنا، اس کو کاشت کے قابل بنانا۔ یاد رکھو یہ جو زمینیں ہیں جن پر آپ دیکھتے ہیں لوگ فصلیں کاشت کر رہے ہیں یہ ابتداء میں ایسی نہیں تھیں، یہ لوگوں نے بڑی محنتیں کی ہیں اور پھر یہ کاشت کے لیے آہستہ آہستہ زمین تیار ہوتی چلی جاتی ہے۔ سخت زمین ہوتی ہے، اس کے اندر پتھر وغیرہ اور چیزیں ہوتی ہیں اور پھر کاشتکار اس پر محنت کرتے ہیں، آہستہ آہستہ جو ہے وہ زمین بہتر سے بہتر ہوتی چلی جاتی ہے۔ تو یہ جتنی زمینیں آپ دیکھتے ہیں جن پر کاشتکاری ہوتی ہے ان کو بےانتہا محنت کے بعد اس حالت تک پہنچایا گیا ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو بہرحال ایک دفعہ جب زمین تیار ہو گئی اور اب اس کو استعمال کرتے رہیں گے تو سلسلہ چلتا رہے گا۔ تو اب صورت یہ ہے کہ مملکتِ اسلامیہ کے اندر بےآباد زمینیں بعض پڑی ہوئی ہیں، تو یاد رکھو جو ان کو آباد کرے گا وہ ان کا مالک بنے گا، لیکن عند الاحناف ایک شرط اور بھی ضروری ہے کہ بادشاہ کی اجازت سے زمین کو آباد کرے۔ بھئی ایک بےآباد ویران زمین پڑی ہوئی ہے بنجر زمین پڑی ہوئی ہے اور ایک شخص اس کو آباد کرتا ہے تو عند الاحناف مالک نہیں بنے گا جب تک امام کی اجازت نہ ہو، وجہ یہ کہ اگر بغیر اجازت کے جو بھی زمین کو آباد کرے اور اس کا مالک بنتا چلا جائے تو پھر تو مملکت کے کاموں کے لیے جگہیں تنگ پڑ جائیں گی بھئی۔ جس کا جہاں جی چاہے گا زمین پر قبضہ کر کے اس کو آباد کرنا شروع کر دے گا۔ تو عند الاحناف امام کی اجازت سے کوئی بےآباد زمین کو محنت کر کے آباد کر لیتا ہے، یعنی اسے کاشت کے قابل بنا لیتا ہے تو وہ اس کا مالک بن جائے گا۔ مثلاً امام نے ایک آدمی کو زمین دے دی کہ یہ ساری زمین جو ہے اگر تم نے اس کو قابلِ کاشت بنا دیا تو یہ تمہاری ہو گئی، تم اس کے مالک ہو گئے۔ تو وہ اگر اس کو آباد کر لیتا ہے تو وہ مالک بن جائے گا اور اگر وہ آباد نہیں کرتا تو امام اس سے لے کر کسی اور کو دے دے گا کہ وہ آباد کرے بھئی۔ تو کہتے ہیں: قَالَ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: وَمَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَوَاتًا اور جس نے بےآباد زمین کو آباد کیا، فَهِيَ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى مُعْتَبَرَةٌ بِحَيِّزِهَا، حیز کا معنی ہے جگہ، جگہ، تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ زمین جو ہے مُعْتَبَرَةٌ بِحَيِّزِهَا اس کا اعتبار کیا جائے گا اس کی جگہ کے لحاظ سے۔ اس زمین کا اعتبار کیا جائے گا جگہ کے لحاظ سے، یعنی اس کے آس پاس کی زمینوں کو دیکھا جائے گا۔ توجہ ہے؟ مسئلہ کیا چل رہا ہے؟ ایک شخص نے ایک بےآباد زمین کو آباد کیا ہے۔ تو اب اس زمین پر خراج آئے گا یا عشر آئے گا؟ آباد کرنے والا مسلمان ہے، اگر ذمی آباد کر رہا ہے پھر تو ظاہر سی بات ہے خراج ہی آئے گا۔ بات چل رہی ہے مسلمان ایک بےآباد زمین کو آباد کرتا ہے تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ پانی کا اعتبار نہیں کریں گے بلکہ آس پاس کی زمینوں کو دیکھیں گے۔ اگر اس زمین کے آس پاس جو زمینیں ہیں وہ خراجی ہیں تو یہ زمین بھی خراجی قرار دی جائے گی جس کو مسلمان نے آباد کیا ہے اور اس پر خراج مقرر کیا جائے گا، اور اگر آس پاس کی زمینیں عشری ہیں تو پھر اس زمین کو بھی عشری قرار دیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: وہ جس نے بےآباد زمین کو آباد کیا فَهِيَ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى مُعْتَبَرَةٌ بِحَيِّزِهَا تو یہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک اس کا اعتبار کیا جائے گا اس کی جگہ کے لحاظ سے، فَإِنْ كَانَتْ مِنْ حَيِّزِ أَرْضِ الْخَرَاجِ اگر یہ زمین جو ہے خراجی زمین کے حیز میں ہوئی، خراجی زمین کے حیز یعنی خراجی زمین کی جگہ میں ہوئی۔ کہتے ہیں: فَإِنْ كَانَتْ مِنْ حَيِّزِ أَرْضِ الْخَرَاجِ اگر یہ زمین جو ہے یہ خراجی زمین کی جگہ میں ہوئی، وَمَعْنَاهُ بِقُرْبِهِ، یہاں سے صاحبِ ہدایہ حیز کا معنی بیان فرما رہے ہیں کہ خراجی زمین کی جگہ میں ہوئی یعنی اس کے قریب ہوئی۔ یہ زمین جو آباد کی ہے یہ خراجی زمین کے قریب ہوئی تو اس کو خراجی قرار دیں گے اور اگر یہ عشری زمین کے قریب ہوئی تو اس کو عشری زمین قرار دیں گے۔ تو کہتے ہیں: وَمَعْنَاهُ بِقُرْبِهِ کہتے ہیں صاحبِ قدوری کے قول کا معنی یہ ہے کہ وہ خراجی زمین کے قریب ہوئی، فَهِيَ خَرَاجِيَّةٌ تو یہ نئی زمین جس کو آباد کیا گیا ہے یہ بھی خراجی ہو گی، وَإِنْ كَانَتْ مِنْ حَيِّزِ أَرْضِ الْعُشْرِ اور اگر یہ عشری زمین کی جگہ میں ہوئی یعنی اس کے قریب ہوئی، فَهِيَ عُشْرِيَّةٌ تو یہ عشری زمین ہو گی، وَالْبَصْرَةُ عِنْدَهُ كُلُّهَا عُشْرِيَّةٌ بِإِجْمَاعِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ، وَالْبَصْرَةُ اور بصرہ جو ہے عِنْدَهُ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک كُلُّهَا عُشْرِيَّةٌ وہ سارا کا سارا عشری ہے، بِإِجْمَاعِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے اجماع کی وجہ سے۔ اجماع کی وجہ سے۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ بصرہ کی زمینوں کو خراجی قرار دینا چاہیے کیونکہ اس کے قریب والی زمینیں ساری خراجی ہیں، اور جس زمین کے قریب ہو اسی کا اعتبار کیا جاتا ہے تو بصرہ کی زمینوں کو بھی خراجی قرار دینا چاہیے، لیکن صحابہ نے اس کے اوپر عشر مقرر فرمایا، صحابہ نے عشر، تو صحابہ کے اجماع کی وجہ سے یہاں قیاس کو ترک کر دیا گیا۔ تو کہتے ہیں: وَالْبَصْرَةُ عِنْدَهُ كُلُّهَا عُشْرِيَّةٌ اور بصرہ جو ہے وہ سارا کا سارا عشری ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک، بِإِجْمَاعِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے اجماع کی وجہ سے، لِأَنَّ حَيِّزَ الشَّيْءِ يُعْطَى لَهُ حُكْمُهُ كَفَنَاءِ الدَّارِ يُعْطَى لَهُ حُكْمُ الدَّارِ، یہاں سے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل ذکر فرما رہے ہیں صاحبِ ہدایہ۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قریب والی زمینوں کا اعتبار کیا جائے گا، وجہ یہ کہ جو چیز کسی کے قریب ہوتی ہے اس کے لیے اسی چیز والا حکم ہو جاتا ہے، قریب الی الشیء فی حکم الشیء ہوتی ہے، جو جس چیز کے قریب ہو اس کا وہی حکم ہوتا ہے۔ کہتے ہیں: لِأَنَّ حَيِّزَ الشَّيْءِ اس لیے کیونکہ کسی چیز کی جگہ، مراد ہے قریب ہونا، کہتے ہیں: لِأَنَّ حَيِّزَ الشَّيْءِ اس لیے کیونکہ کسی چیز کا جو حیز ہوتا ہے یعنی کسی چیز کے جو قریب ہوتا ہے، يُعْطَى لَهُ حُكْمُهُ اس کو اسی کا حکم دے دیا جاتا ہے، كَفَنَاءِ الدَّارِ جیسے کہ گھر کا صحن ہے، يُعْطَى لَهُ حُكْمُ الدَّارِ اس کو گھر کا حکم دے دیا جاتا ہے۔ بھئی فناء الدار، گھر کا صحن، مراد وہ صحن نہیں ہے جو گھر کے اندر داخل ہوتا ہے، جو مملوک ہوتا ہے، نہیں، مراد ہے گھر کے قریب جو کھلی جگہ ہے۔ گھر کے قریب جو باہر کھلی جگہ ہے جو اس شخص کی، اس گھر والے کی مملوکہ نہیں ہے، اس کھلی جگہ کا حکم بھی اس گھر کی طرح ہی ہے یعنی اس گھر والے کے لیے اس زمین سے نفع اٹھانا جائز ہے۔ یعنی اس گھر والے کے لیے اس زمین سے نفع اٹھانا جائز ہے کیونکہ یہ جو باہر کی زمین ہے یہ اس کے گھر کے قریب ہے۔ تو معلوم ہوا کسی چیز کے جو قریب شے ہوتی ہے اس کا وہی حکم ہوتا ہے جو اس شے کا ہوتا ہے بھئی۔ یہ معنی ہے: لِأَنَّ حَيِّزَ الشَّيْءِ اس لیے کیونکہ کسی چیز کے جو قریب ہو، يُعْطَى لَهُ حُكْمُهُ اس کو اسی چیز کا حکم دے دیا جاتا ہے، كَفَنَاءِ الدَّارِ جیسے کہ گھر کا صحن ہے، يُعْطَى لَهُ حُكْمُ الدَّارِ اس کو گھر کا حکم دے دیا جاتا ہے، حَتَّى يَجُوزَ لِصَاحِبِهَا الِانْتِفَاعُ بِهِ یہاں تک کہ گھر والے کے لیے اس سے نفع اٹھانا جائز ہوتا ہے، وَكَذَا لَا يَجُوزُ أَخْذُ مَا قَرُبَ مِنَ الْعَامِرِ اور اسی طرح جائز نہیں ہے لینا اس کو جو آبادی کے قریب ہو۔ بھئی یاد رکھو، بےآباد زمین کو جو آباد کرے گا امام کی اجازت سے وہ اس کا مالک بن جائے گا لیکن دیہات کے قریب بستی کے قریب کی زمینیں ان کو آباد کر کے ان کا مالک نہیں بنا جا سکتا۔ وجہ یہ کہ دیہات کے ساتھ ملی ہوئی جو زمینیں ہیں وہ دیہات والوں کے اپنے کام آتی ہیں۔ دیکھو گھروں کے باہر جو کھلی جگہ ہوتی ہے دیہات میں آس پاس، دیہات والے لوگ کبھی وہاں جا کر بیٹھ جاتے ہیں گپ شپ لگاتے ہیں، ان کے بچے وہاں چلے جاتے ہیں وہ کھیلتے ہیں، اسی طرح وہ فصلیں کبھی کاٹ کر لے آتے ہیں وہاں لا کر ان فصلوں کو جمع کرتے ہیں، تو دیہات کے گھروں کے ساتھ جو زمینیں ہوتی ہیں وہ دیہات والوں کے فائدے کے لیے ہوتی ہیں، لہٰذا ان کو آباد کرنا اور ان کا مالک بننا جائز نہیں ہے بھئی۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے، وہ فرماتے ہیں جو جس چیز کے قریب ہو اس کے لیے اسی چیز والا حکم ہو جاتا ہے، تو یہاں بھی دیکھو دیہات کے قریب کی زمینیں جو ہیں وہ دیہات ہی کے حکم میں ہیں، ان پر قبضہ کر کے مالک نہیں بنا جا سکتا۔ یہ معنی ہے: وَكَذَا لَا يَجُوزُ أَخْذُ مَا قَرُبَ مِنَ الْعَامِرِ اور اسی طرح جائز نہیں ہے اس زمین کو لینا جو آبادی کے قریب ہو، عامر کا معنی آبادی۔ تو یہاں آیا: وَكَذَا لَا يَجُوزُ اور اسی طرح جائز نہیں ہے، أَخْذُ مَا قَرُبَ مِنَ الْعَامِرِ اس زمین کو جو آبادی کے قریب ہے۔ جبکہ ہدایہ کے بعض نسخوں میں یہاں اخذ کی جگہ احیاء کا لفظ آیا ہے اور وہ لفظ زیادہ مناسب ہے: وَكَذَا لَا يَجُوزُ إِحْيَاءُ مَا قَرُبَ مِنَ الْعَامِرِ اور اسی طرح آباد کرنا ان زمینوں کو جو آبادی کے قریب ہیں وہ جائز نہیں ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: وَكَانَ الْقِيَاسُ فِي الْبَصْرَةِ اور بصرہ کے اندر تو قیاس یہ تھا، أَنْ تَكُونَ خَرَاجِيَّةً کہ بصرہ کی زمین خراجی ہونی چاہیے، لِأَنَّهَا مِنْ حَيِّزِ أَرْضِ الْخَرَاجِ اس لیے کیونکہ بصرہ جو ہے وہ خراجی زمین کے حیز میں ہے یعنی اس کے قریب ہے، إِلَّا أَنَّ الصَّحَابَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ وَظَّفُوا عَلَيْهَا الْعُشْرَ مگر یہ کہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے، وَظَّفُوا عَلَيْهَا الْعُشْرَ انہوں نے بصرہ پر عشر کا وظیفہ مقرر کیا، فَتُرِكَ الْقِيَاسُ لِإِجْمَاعِهِمْ لہٰذا قیاس کو چھوڑ دیا گیا صحابہ کے اجماع کی وجہ سے، فَتُرِكَ الْقِيَاسُ لِإِجْمَاعِهِمْ اور آپ چاہیں تو اس کو آپ فعل معروف بھی پڑھ سکتے ہیں: فَتَرَكَ الْقِيَاسَ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے قیاس کو ترک فرما دیا، لِإِجْمَاعِهِمْ صحابہ کے اجماع کی وجہ سے۔ آگے دیکھیے: وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ بھئی یہاں تک بات چل رہی تھی امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا مذہب ذکر ہوا، ان کے نزدیک کسی مسلمان کی آباد کی ہوئی زمین کو خراجی قرار دیں گے یا عشری، وہ اس کے آس پاس کی زمینوں کو دیکھ کر اس پر حکم لگایا جائے گا۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ کے بارے میں کچھ تفصیل میں نے پہلے ذکر کر دی تھی، ان کے نزدیک اعتبار اس پانی کا ہے جس کے ذریعے زمین کو سیراب کیا جا رہا ہے، اگر عشری پانی سے زمین کو سیراب کیا تو یہ عشری زمین ہے، یعنی بارش کا پانی ہے یا کنوؤں کا پانی ہے یا چشموں کا پانی ہے یا ایسے دریا جو کسی کے مملوک نہیں، تو اس صورت میں یہ عشری زمین ہے۔ اور اگر خراجی پانی کے ذریعے اس زمین کو سیراب کیا یعنی ان نہروں کے پانی سے جو عجمی بادشاہوں نے کھدوائی تھیں اور جو ان کی مملوکہ ہیں تو پھر یہ زمین خراجی ہو گی۔ اور یاد رکھو علماء فرماتے ہیں کہ فتویٰ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول پر ہے۔ فتویٰ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول پر ہے۔ کہتے ہیں: وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: إِنْ أَحْيَاهَا بِبِئْرٍ حَفَرَهَا اگر اس مسلمان نے اس زمین کو آباد کیا بِبِئْرٍ ایسے کنوئیں کے ذریعے، حَفَرَهَا جو اس نے خود کھودا ہے، أَوْ بِعَيْنٍ اسْتَخْرَجَهَا یا ایسے چشمے کے ذریعے سیراب کیا جو اس نے خود نکالا ہے، أَوْ مَاءِ دِجْلَةَ وَالْفُرَاتِ یا اس زمین کو اس نے دجلہ یا فرات کے پانی سے سیراب کیا، دجلہ اور فرات یہ دریا ہیں بھئی، عراق کے دو مشہور دریا ہیں بھئی، یا اس نے اس کو دریائے دجلہ یا دریائے فرات کے پانی سے سیراب کیا، وَالْأَنْهَارِ الْعِظَامِ، أَيْ وَمَاءِ الْأَنْهَارِ الْعِظَامِ یا اس زمین کو اس مسلمان نے ان بڑی نہروں کے ذریعے سیراب کیا، بڑی نہریں یعنی دریا، ان بڑی نہروں کے ذریعے سیراب کیا، الَّتِي لَا يَمْلِكُهَا أَحَدٌ کہ جن کا مالک کوئی نہیں ہے، فَهِيَ عُشْرِيَّةٌ تو یہ عشری زمین ہے، وَكَذَا إِنْ أَحْيَاهَا بِمَاءِ السَّمَاءِ اور اسی طرح یہ زمین عشری ہو گی اگر اس کو آسمان کے پانی یعنی بارش کے پانی کے ذریعے اس کو آباد کیا، وَإِنْ أَحْيَاهَا بِمَاءِ الْأَنْهَارِ اور اگر اس نے اس زمین کو آباد کیا بِمَاءِ الْأَنْهَارِ ان نہروں کے پانی کے ذریعے، الَّتِي احْتَفَرَهَا الْأَعَاجِمُ جن کو عجمیوں نے کھودا ہے، یعنی عجمی بادشاہوں نے کھدوایا ہے، اور اگر اس نے اس زمین کو آباد کیا بِمَاءِ الْأَنْهَارِ الَّتِي احْتَفَرَهَا الْأَعَاجِمُ ان نہروں کے ذریعے جن کو عجمیوں نے کھودا ہے، مِثْلُ نَهْرِ الْمَلِكِ جیسے کہ نہرِ ملک ہے، وَنَهْرِ يَزْدَجِرْدَ اور جیسے نہرِ یزدجرد ہے، یہ پرانے بادشاہوں نے کوئی نہریں کھدوائی تھیں تو یہ مملوکہ نہریں تھیں لہٰذا ان سے زمین کو سیراب کرے گا تو وہ خراجی زمین ہو گی۔ کہتے ہیں: مِثْلُ نَهْرِ الْمَلِكِ جیسے کہ نہرِ ملک ہے، وَنَهْرِ يَزْدَجِرْدَ اور جیسے نہرِ یزدجرد ہے، فَهِيَ خَرَاجِيَّةٌ تو یہ زمین خراجی ہے، اگرچہ مسلمان نے آباد کیا ہے لیکن پانی تو خراجی ہے، لہٰذا زمین بھی خراجی ہو گی امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک، لِمَا ذَكَرْنَا مِنِ اعْتِبَارِ الْمَاءِ وہ جو ہم نے ذکر کر دیا یعنی پانی کا معتبر ہونا، إِذْ هُوَ السَّبَبُ لِلنَّمَاءِ اس لیے کیونکہ پانی ہی افزائش کا یعنی بڑھوتری کا سبب ہے، نما کا کیا معنی؟ افزائش اور بڑھوتری یعنی پیداوار مراد ہے، إِذْ هُوَ السَّبَبُ لِلنَّمَاءِ اس لیے کیونکہ پانی ہی پیداوار کا سبب ہے، وَلِأَنَّهُ لَا يُمْكِنُ تَوْظِيفُ الْخَرَاجِ ابْتِدَاءً عَلَى الْمُسْلِمِ كُرْهًا، وَلِأَنَّهُ لَا يُمْكِنُ اور اس لیے کیونکہ ممکن نہیں ہے، تَوْظِيفُ الْخَرَاجِ کہ خراج کو مقرر کیا جائے، ابْتِدَاءً عَلَى الْمُسْلِمِ ابتدا سے ہی مسلمان پر، كُرْهًا یعنی جبراً۔ مسلمان پر ابتدا سے ہی جبراً، جبراً خراج مقرر کر دیا جائے یہ ممکن نہیں ہے، مسلمان پر عشر لازم کیا جائے گا لیکن اگر اس نے خود کوئی ایسا کام کر لیا مثلاً اس نے خراجی پانی سے زمین کو سیراب کیا ہے تو پھر اس وجہ سے خراج مقرر کیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: وَلِأَنَّهُ لَا يُمْكِنُ تَوْظِيفُ الْخَرَاجِ ابْتِدَاءً عَلَى الْمُسْلِمِ كُرْهًا کہتے ہیں اس لیے کیونکہ ممکن نہیں ہے کہ ابتدا سے ہی خراج کا وظیفہ مسلمان پر جبراً مقرر کر دیا جائے، فَيُعْتَبَرُ فِي ذَلِكَ الْمَاءُ تو اس کے اندر پانی کا اعتبار کیا جائے گا، لِأَنَّ السَّقْيَ بِمَاءِ الْخَرَاجِ دَلَالَةٌ الْتِزَامِيَّةٌ اس لیے کیونکہ خراجی پانی سے سیراب کرنا دَلَالَةٌ الْتِزَامِيَّةٌ یہ دلالتِ التزامی ہے، یہ دلالتِ التزامی ہے، یعنی مسلمان خود اپنے اوپر خراج کا التزام کر رہا ہے، اپنے اوپر خود خراج کو لازم کر رہا ہے اپنے فعل کے ذریعے، یہ معنی ہے۔ کہتے ہیں: لِأَنَّ السَّقْيَ بِمَاءِ الْخَرَاجِ اس لیے کیونکہ خراجی پانی سے سیراب کرنا دَلَالَةٌ الْتِزَامِيَّةٌ یہ دلالتِ التزامی ہے کہ وہ خراج کو اپنے اوپر لازم کر رہا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔