آگے سبق دیکھیے بھئی: ”وَإِذَا دَخَلَ الْحَرْبِيُّ دَارَنَا بِأَمَانٍ وَاشْتَرَى عَبْدًا مُسْلِمًا وَأَدْخَلَهُ دَارَ الْحَرْبِ عَتَقَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى، وَقَالَا رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى: لَا يَعْتِقُ، لِأَنَّ الْإِزَالَةَ كَانَتْ مُسْتَحَقَّةً بِطَرِيقٍ مُعَيَّنٍ وَهُوَ الْبَيْعُ وَقَدِ انْقَطَعَتْ وِلَايَةُ الْجَبْرِ عَلَيْهِ فَبَقِيَ فِي يَدِهِ عَبْدًا“ بھئی گزشتہ سبق میں ”بَابُ اسْتِيلَاءِ الْكُفَّارِ“ ہم پڑھ رہے تھے کہ کفار کسی جگہ پر غلبہ حاصل کر لیں تو پھر کیا حکم ہوگا؟ صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ اگر ایک ملک کے کفار دوسرے ملک کے کفار پر غلبہ حاصل کر لیں اور پھر ان کو قیدی بنا لیں اور ان کے اموال کو لے لیں تو وہ اس کے مالک بن جائیں گے۔ اور پھر اس کے بعد اگر ہم ان کفار پر غالب آ گئے تو ہمارے لیے حلال ہوگا ان کے پاس جو مال بھی ہے، جو انہوں نے دوسرے کفار سے چھینا تھا وہ بھی ہمارے لیے حلال ہوگا اور خود ان کفار کا مال بھی ہمارے لیے حلال ہوگا بھئی۔ اس کے بعد آپ نے مسئلہ پڑھا کہ اگر کفار ہمارے مالوں پر غالب آ گئے اور ان کو اپنے دار میں لے گئے تو وہ اس کے مالک بن جائیں گے۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ اس کے مالک نہیں بنیں گے اس لیے کیونکہ ان کا یہ غلبہ ممنوع ہے، حرام ہے ابتداء کے اعتبار سے بھی اور انتہاء کے اعتبار سے بھی۔ ابتداء کے اعتبار سے یعنی دار الاسلام میں جب انہوں نے ہمارے مال پر قبضہ کیا، اور انتہاء کے اعتبار سے بھی یہ قبضہ حرام ہے جب وہ اس کو دار الحرب میں لے گئے۔ اور جو چیز حرام اور ممنوع ہو وہ ملکیت کا سبب نہیں بن سکتی اس لیے کیونکہ ملکیت تو اللہ کی طرف سے نعمت ہے اور انعام ہے، اور وہ چیز جو منہی عنہ ہو، جو حرام ہو وہ نعمت کا سبب نہیں بن سکتی۔ جیسے زنا حرام ہے تو یہ مصاہرت کا سبب نہیں بن سکتا، اور جیسے سفر کے اندر رخصت ہوتی ہے لیکن اگر گناہ کا سفر ہے یعنی ڈاکے یا چوری کی نیت سے کوئی سفر کر رہا ہے تو اس کو یہ رخصت حاصل نہیں ہوگی بھئی۔ اور نیز یہ ان کا فعل حرام ہے کیونکہ بالاتفاق کفار جو ہیں وہ عبادتوں کے مکلف تو نہیں لیکن حرمات کے مکلف ہیں۔ جن چیزوں سے مسلمانوں کو روکا گیا ہے ان سے کفار کو بھی روکا گیا ہے، تو کفار کا مسلمانوں کے مال پر یہ استیلاء ابتداءً بھی حرام اور انتہاءً بھی حرام لہٰذا وہ مالک نہیں بنیں گے۔ جبکہ ہمارے نزدیک اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: ”لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ“ اللہ نے ان ہجرت کرنے والوں کو فقراء قرار دیا، وہ مسلمان جو مکہ سے مدینہ ہجرت کر کے آئے تھے ان کو قرآن میں فقراء کہا گیا حالانکہ ان میں بعض بڑے مالدار تھے، ان کی جائیدادیں تھیں اور مال بھی پیچھے چھوڑ کر آئے تھے، لیکن معلوم ہوا وہ مال ان کی ملکیت سے نکل گیا تھا اسی لیے قرآن میں ان کو فقراء کہا گیا، اگر وہ مال اب بھی ان کی ملکیت میں باقی ہوتا تو ان کو فقراء نہیں کہا جا سکتا، بات سمجھ میں آ گئی؟ اور نیز اسی طرح پھر صاحبِ ہدایہ نے دلیل ذکر کی کہ کفار نے یہ جو مسلمانوں کے مال پر قبضہ کیا ہے یہ مالِ مباح پر قبضہ کیا ہے، اور مالِ مباح پر جو بھی قبضہ کر لے وہ اس کا مالک بن جاتا ہے جیسے شکار ہے یا جنگل کی لکڑیاں ہیں یا جنگل کی گھاس ہے، جو بھی ان کو اکٹھا کر لے اور جمع کر لے وہ اس کا مالک بن جاتا ہے۔ تو یہ جو مال مسلمانوں کا وہ لوٹ کر لے گئے ہیں یہ بھی ان کے لیے مالِ مباح ہیں بھئی۔ تو جب یہ مالِ مباح ہے تو یہ ملکیت کا سبب بنے گا مکلف کی حاجت دور کرنے کے لیے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا بھئی کہ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ”خَلَقَ لَكُمْ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا“ کہ زمین کی تمام چیزوں کو اللہ نے تمہارے فائدے کے لیے پیدا کیا ہے، تو یہ آیت تقاضا کر رہی ہے کہ ہر مال مباح ہونا چاہیے، لیکن مکلف اس مال سے تبھی فائدہ اٹھا سکتا ہے جب مکلف کو اس کا مالک قرار دیا جائے کیونکہ مکلف کو حاجت ہے، وہ اس مال سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے اور فائدہ تبھی اٹھا سکتا ہے جب اسے اس مال کا مالک قرار دیا جائے، اس مال کو مالِ معصوم اور محفوظ قرار دیا جائے۔ تو لہٰذا اس مکلف کی ضرورت اور حاجت کی وجہ سے اس کے لیے مال کی عصمت ثابت ہو جائے گی، یہ مال اس کے لیے محفوظ ہو جائے گا۔ ورنہ ورنہ اگر مال کی عصمت اس کے لیے ثابت نہیں ہوگی وہ تو مال سے فائدہ ہی نہیں اٹھا سکے گا۔ مثلاً کوئی آدمی جنگل سے لکڑیاں لے آیا اور اگر یہ کہا جائے کہ یہ لکڑیاں ابھی بھی مباح ہیں، پھر تو کسی اور شخص کا بھی اس سے یہ لکڑیاں لے جانا اور استعمال کرنا جائز ہو جائے گا تو یہ جو شخص جنگل سے لکڑیاں لایا تھا یہ تو ان لکڑیوں سے فائدہ نہیں اٹھا سکے گا۔ یا اسی طرح کوئی شکار پکڑ کر لے آتا ہے، اگر اب بھی یہ کہا جائے کہ یہ شکار کا مالک نہیں ہے تو پھر تو کسی اور کے لیے بھی یہ شکار لے جانا اس سے جائز ہو جائے گا، تو یہ شخص تو اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکے گا۔ تو مکلف یعنی انسان جو ہے وہ چیزوں سے فائدہ اٹھانے کا محتاج ہے لہٰذا ضروری ہے کہ اس کو اس مال کا مالک قرار دیا جائے، تو لہٰذا مکلف کے لیے مالِ مباح کی ملکیت ثابت ہو جائے گی اس آیت کے منافی ہو کر۔ کیونکہ اس آیت سے تو پتہ چل رہا ہے ہر مال مباح ہے لیکن ضرورت اور حاجت کی وجہ سے آپ جانتے ہیں ”الضَّرُورَاتُ تُبِيحُ الْمَحْظُورَاتِ“ ضرورت کی وجہ سے تو حرام چیز کو بھی حلال قرار دے دیا جاتا ہے، تو لہٰذا یہاں پر بھی اس شخص کو ضرورت اور حاجت ہے ان چیزوں سے فائدہ اٹھانے کی، لہٰذا اس کو اس مال کا مالک قرار دیا جائے گا تو اس آیت کے منافی ہو کر اس کے لیے ملکیت کا حکم ثابت ہو جائے گا۔ تو مالک کا مال سے فائدہ اٹھانے کی قدرت کے لیے ضروری ہے کہ مالک مال سے فائدہ اٹھانے پر قادر ہو، اس کے لیے ضروری ہے کہ مالک کے لیے اس مال کی عصمت ثابت کی جائے کہ یہ مال محفوظ ہے اور یہ شخص اس کا مالک بن چکا ہے بھئی۔ لیکن جب کفار اس مال کو چھین کر دار الحرب میں لے گئے تو اب مالک کے لیے قدرت نہ رہی اس مال سے فائدہ اٹھانے کی، توجہ ہے؟ اس مال کو ہم نے معصوم قرار دیا تھا، کس لیے معصوم قرار دیا تھا؟ تاکہ مالک کو قدرت حاصل ہو جائے اس سے فائدہ اٹھانے کی، اور جب وہ دار الحرب میں لے گئے تو مالک کو اس مال سے فائدہ اٹھانے کی قدرت نہ رہی۔ جب مالک کو قدرت نہ رہی تو وہ مال پھر مالِ مباح بن جائے گا، قدرت کی ضرورت کی وجہ سے ہی تو مال کو معصوم اور محفوظ قرار دیا گیا تھا، اب جب مالک کی قدرت ہی نہ رہی تو وہ مال پھر مالِ مباح بن گیا اور کفار کا مالِ مباح پر قبضہ ہوا تو وہ اس کے مالک بن جائیں گے بھئی۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ نے ذکر فرمایا تھا کہ جو چیز ممنوع ہو وہ ملکیت کا سبب نہیں بن سکتی، تو اس کا بھی جواب دیا صاحبِ ہدایہ نے کہ ممنوع چیز دو قسم پر ہے: ایک ممنوع لعینہٖ ہے اور ایک ممنوع لغیرہٖ ہے۔ ممنوع لعینہٖ جس کو اپنی ذات کی وجہ سے ہی ممنوع اور حرام قرار دیا گیا ہے، اور ممنوع لغیرہٖ وہ چیز جس کو اپنی ذات کی وجہ سے ممنوع یا حرام قرار نہیں دیا گیا بلکہ دوسری چیز کی وجہ سے اس کو ممنوع اور حرام قرار دیا گیا ہے۔ اور ممنوع لغیرہٖ جو ہے وہ غیر کی وجہ سے تو ممنوع ہے لیکن اپنی ذات کے اعتبار سے ممنوع نہیں ہے لہٰذا وہ ملکیت کا سبب بن سکتی ہے، جیسے ارضِ مغصوبہ کے اندر نماز۔ کوئی شخص کسی کی زمین غصب کر لیتا ہے، چھین لیتا ہے، اس پر زبردستی قبضہ کر لیتا ہے، اب اس ارضِ مغصوبہ کے اندر وہ نماز ادا کرتا ہے اگرچہ اس ارضِ مغصوبہ کے اندر یہ نماز جو ہے پسندیدہ نہیں، یہ اللہ کی رضا کا باعث نہیں ہے لیکن بہرحال فقہاء فرماتے ہیں اس نماز کی وجہ سے اس کا فرض ادا ہو جائے گا، اس کے ذمے سے وہ نماز ساقط ہو جائے گی، اور فرض کا ادا ہونا یہ بھی تو ایک نوع کا ثواب ہے، معلوم ہوا یہ نماز جو ارضِ مغصوبہ میں ادا کی گئی یہ ممنوع لغیرہٖ تھی لیکن ممنوع لغیرہٖ ہونے کے باوجود یہ یہ ثواب کا سبب بن رہی ہے، جب یہ ثواب کا سبب بن رہی ہے جو اخروی چیز ہے تو دنیاوی ملکیت جو اس سے ادنیٰ درجے کی ہے اس کے لیے تو یہ بطریقِ اولیٰ سبب بنے گی بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ اگر مسلمان دار الحرب پر پھر قبضہ کر لیں اور پھر وہی مال واپس غنیمت کے اندر دار الاسلام آ جائے، تو مالک جو ہے وہ تقسیم سے پہلے اس مال کو لینا چاہے تو ویسے ہی مفت میں لے لے گا، لیکن اگر تقسیم کے بعد وہ اس مال کو لینا چاہتا ہے تو پھر وہ غازی جس کے حصے میں یہ مال آیا تھا اس کو اس مال کی قیمت ادا کرے گا اور پھر یہ چیز اس سے لے لے گا بھئی۔ اسی طرح اگر کوئی تاجر وہ چیز کفار سے خرید کر لے آیا تو بھی مالک کو اختیار ہے، وہ اس کو لینا چاہتا ہے تو وہ ثمن جو تاجر نے ادا کیے تھے وہی ادا کرے اس تاجر کو اور یہ مال اس سے لے لے۔ اسی طرح اگر کسی مسلمان کو یہ مال کفار نے تحفے کے طور پر دے دیا تو بھی اصل مالک کو اختیار ہے، وہ اس موہوب لہ کو یعنی یہ شخص جس کو یہ تحفہ دیا گیا تھا اس کو اس کی قیمت ادا کر کے یہ مال اس سے لے سکتا ہے۔ اور اگر وہ مال جو کفار نے چھینا تھا وہ مثلیات میں سے تھا تو اس کے بارے میں صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ اگر تقسیم سے پہلے مالک کو اس مال کا پتہ چلا تو وہ اس کو مفت لے لے گا، لیکن تقسیم کے بعد وہ اس مال کو نہیں لے سکتا، اس لیے کیونکہ اسی جیسی چیز دے کر اس مال کو لینے میں کوئی فائدہ نہیں، مثلاً کفار اس کا 10 مثقال عمدہ قسم کا سونا لے گئے تھے تو اب اس کو اسی قسم کا مال دے کر یہ اپنا مال چھڑانا ہوگا تو اس میں تو کوئی فائدہ نہیں ہے کہ اپنا عمدہ قسم کا 10 مثقال سونا چھڑانے کے لیے اس کو بھی عمدہ قسم کا 10 مثقال ہی سونا دینا پڑے تو اس میں کوئی فائدہ نہیں ہے۔ البتہ البتہ اگر تاجر جو ہے کسی اور چیز کے بدلے اس مال کو لے کر آیا ہے تو پھر وہ دوسرا مال تاجر کو دے کر یہ اس سے وہ اپنا اپنی مثلی چیز لے سکتا ہے بھئی۔ اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ اگر کفار مسلمانوں کے کسی غلام کو پکڑ کر لے گئے اور اس کو قید کر لیا اور پھر اس کو کوئی آدمی وہاں سے خرید کر لے آیا اور اس آدمی کے پاس اس غلام کی آنکھ کسی نے پھوڑ دی اور اس مشتری نے اس مجرم سے اس آنکھ کا ارش وصول کر لیا یعنی غلام کی نصف قیمت اس سے وصول کر لی، اور اس کے بعد آقا کو اپنے اس غلام کا پتہ چلا جبکہ اس غلام کی ایک آنکھ پھوڑ دی گئی ہے تو بھی پرانا آقا اگر اس غلام کو لینا چاہتا ہے تو پورے ثمن ادا کرنے پڑیں گے بھئی۔ اس لیے کیونکہ آنکھ جو ہے وصف کے درجے میں ہے، اور ملکِ صحیح کے اندر اوصاف کے مقابلے میں ثمن یا مال نہیں ہوتا تو لہٰذا یہ جو آنکھ ضائع ہوئی ہے اس کی وجہ سے ثمن میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ تو ملکِ صحیح کے اندر اوصاف کے مقابلے میں ثمن یا مال نہیں ہوتا جبکہ ملکِ فاسد کے اندر اوصاف کے مقابلے میں مال یا ثمن ہوتے ہیں، جیسے بیعِ فاسد ہے۔ بیعِ فاسد مثلاً بائع اور مشتری جو ہیں وہ بیع کرتے ہیں لیکن کوئی ایسی شرط لگا دیتے ہیں جو مقتضائے عقد کے خلاف ہے تو اس صورت میں یہ بیع فاسد ہے، شرعاً اس کا کوئی اعتبار نہیں لہٰذا ایجاب و قبول کرنے کے باوجود مشتری جو ہے مال کا مالک نہیں بنے گا۔ ہاں مشتری اگر بیعِ فاسد کے اندر بائع کی رضامندی سے اس مبیع پر قبضہ کر لے گا پھر مالک بنے گا، لیکن یہاں پر بھی اس ملکیت کے اندر خرابی آ گئی وجہ یہ کہ شریعت نے اس طرح کی بیع سے منع کیا تھا تو لہٰذا دونوں پر اس بیع کو توڑنا اور مبیع کو واپس کرنا ضروری ہے بھئی۔ تو لہٰذا معلوم ہوا بیعِ فاسد کے اندر جو ملکیت آتی ہے اس کے اندر فساد ہے، خرابی ہے لہٰذا وہاں اوصاف کے مقابلے میں ثمن آئیں گے، لہٰذا اگر مشتری کے پاس اس مبیع کے اندر اس کے وصف میں کوئی کمی آ گئی تو اس صورت کے اندر اس مشتری پر بھی ضمان آئے گا بھئی اور جتنا نقصان آیا ہے اس وصف کی وجہ سے مبیع کے اندر اتنا ہی ضمان اس مشتری پر آ جائے گا۔ اور اسی طرح شفعہ بھی ہے بھئی، شفعہ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ شفعہ اسے کہتے ہیں کہ کوئی شخص اپنی زمین کو بیچے تو اس کے پڑوسی کو اللہ نے حق دیا ہے وہ شفعہ کر کے زمین کو نئے مالک سے جبراً لے سکتا ہے بھئی، اس کو شفعہ کہتے ہیں۔ تو اس کے اندر بھی نئے خریدار کو چونکہ وہ زمین اس شفیع کو دینا پڑے گی تو اس کی مشابہت آ گئی شراءِ فاسد کے ساتھ، جیسے شراءِ فاسد کے اندر مبیع کو واپس کرنا ضروری ہوتا ہے اسی طرح شفعے کے اندر بھی زمین کو شفیع کے حوالے کرنا ضروری ہوتا ہے، اور بیعِ فاسد کے اندر تو اوصاف کے مقابلے میں ثمن ہوتے ہیں لہٰذا شفعے کے اندر بھی زمین کے وصف میں کوئی کمی آئی ہے تو اوصاف کے مقابلے میں ثمن ہوں گے اور اسی کے مطابق ثمن کم ہو جائیں گے بھئی۔ تو معلوم ہوا ملکِ صحیح کے اندر اوصاف کے مقابلے میں ثمن اور مال نہیں ہوتا اور ملکِ فاسد کے اندر اوصاف کے مقابلے میں ثمن اور مال ہوتا ہے، اور یہاں پر یہ جو مشتری جو اس غلام کو کفار سے خرید کر لایا تھا اس کی ملکیت صحیح ہے، اس کی ملکیت صحیح ہے تو اوصاف میں اگر کمی بھی آ گئی ہے، غلام کی ایک آنکھ کسی نے پھوڑ دی ہے تو اس کے مقابلے میں ثمن نہیں ہوں گے، لہٰذا وہ پرانا مالک اگر اس غلام کو لینا چاہتا ہے تو اس کو پورے ثمن کی ادائیگی کر کے ہی اس غلام کو لینا پڑے گا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ کفار نے دار الاسلام پر حملہ کیا اور کسی شخص کے غلام کو پکڑ کر لے گئے، ایک تاجر گیا اور اس نے اس غلام کو 1000 درہم میں خرید لیا تو یہ ہے مشتریِ اول، پھر یہ غلام مشتریِ اول کے پاس تھا کہ کفار نے دوبارہ حملہ کیا اور دوبارہ اس غلام کو چھین کر لے گئے، اب ایک اور شخص گیا اور وہ اسی غلام کو خرید کر لے آیا تو یہ ہے مشتریِ ثانی۔ تو کیا وہ پرانا مالک اس مشتریِ ثانی سے اس غلام کو زبردستی لے سکتا ہے 1000 درہم کے بدلے میں؟ کہتے ہیں نہیں، پرانا مالک اس سے نہیں لے سکتا۔ وجہ یہ ہے کہ اس مرتبہ کفار نے جو غلام کو چھینا تھا وہ اس پرانے مالک سے نہیں چھینا تھا بلکہ مشتریِ اول سے چھینا تھا، لہٰذا مشتریِ اول جو ہے وہ مشتریِ ثانی کو 1000 درہم دے کر یہ غلام جبراً اس سے لے سکتا ہے، اور پھر جب یہ مشتریِ اول لے لے گا اس کے بعد اگر مالک اس غلام کو لینا چاہتا ہے تو مشتریِ اول کو اب وہ دو ثمن ادا کرے گا کیونکہ مشتریِ اول نے دو ثمن ادا کیے ہیں اس غلام کے: ایک مرتبہ اس نے پیسے ادا کیے تھے کفار کو اور دوسری مرتبہ اس نے ثمن ادا کیے ہیں مشتریِ ثانی کو، تو اگر پرانا مالک اس غلام کو مشتریِ اول سے لینا چاہتا ہے تو اس کو بھی یہ دونوں ثمن یعنی 2000 درہم دینے پڑیں گے بھئی۔ اور صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ اگر مشتریِ اول موجود نہ ہو، وہ غائب ہے معلوم نہیں کہاں گیا ہوا ہے، پھر بھی پرانا مالک اس غلام کو مشتریِ ثانی سے جبراً نہیں لے سکتا، بات سمجھ میں آ گئی۔ اور صاحبِ ہدایہ نے یہ مسئلہ بھی ذکر فرمایا کہ اگر دار الحرب والوں نے ہمارے ملک پر حملہ کیا اور وہ ہمارے آزاد لوگوں کو پکڑ کر لے گئے یا ہمارے مدبر، مکاتب اور امہات الاولاد کو پکڑ کر لے گئے پھر وہ اس کے مالک نہیں بنیں گے۔ وجہ یہ ہے کہ آزاد آدمی جو ہے وہ تو معصوم بنفسہٖ ہے، وہ اپنی ذات کے اعتبار سے ہی محفوظ ہے، اور یہ مدبر اور امہات الاولاد آزادی ان کا حق بن چکی ہے تو یہ بھی بعض اعتبار سے گویا آزاد ہی ہیں، اور مکاتب؟ مکاتب تو ویسے ہی آزاد آدمی کے درجے میں ہوتا ہے، ذات کے اعتبار سے اگرچہ وہ غلام ہے لیکن قبضے کے اعتبار سے وہ آزاد آدمی کی طرح ہوتا ہے حتیٰ کہ مالک اس سے جبراً اپنی خدمت بھی نہیں لے سکتا۔ تو معلوم ہوا مدبر، امہات الاولاد اور مکاتب جب آزاد آدمی کے درجے میں ہیں تو یہ بھی معصوم بنفسہم ہیں، جب یہ معصوم بنفسہم ہیں تو ان پر اگر کفار غلبہ بھی حاصل کر لیں تو وہ مالک نہیں بنیں گے کیونکہ استیلاء کے ذریعے ملکیت اس چیز میں آتی ہے جو استیلاء کا محل بھی ہو اور استیلاء کا محل تو مالِ مباح ہے، اور یہ جو افراد ذکر ہوئے یہ تو مالِ مباح نہیں ہیں، یہ تو معصوم بنفسہم ہیں اپنی ذات کے اعتبار سے ہی معصوم اور محفوظ ہیں بھئی، لہٰذا کفار ان کے مالک نہیں بنیں گے۔ ہاں اگر مسلمانوں نے کفار کے آزاد لوگوں کو پکڑ لیا یا ان کے مدبر یا امہات الاولاد یا ان کے مکاتبوں کو پکڑ لیا تو مسلمان ان کے مالک بن جائیں گے، اور دراصل یہ ان کے جرم کی سزا ہے کہ یہ اللہ پر ایمان نہیں لاتے، یہ کفر پر جمے ہوئے ہیں تو اس جرم کی وجہ سے اللہ نے ان کو اپنے غلاموں کا غلام بنا دیا، انہوں نے اللہ کا غلام، اللہ کا بندہ بننے سے انکار کیا تو اللہ نے ان کو اپنے غلاموں کا غلام یعنی اپنے بندوں کا بندہ بنا دیا۔ تو لہٰذا ان کو ہم پکڑیں گے تو ہم ان کے مالک بن جائیں گے لیکن ہمارے آزاد لوگ جو ہیں یا ہمارے مدبر، مکاتب اور امہات الاولاد جو ہیں ان میں تو کوئی کفر والا جرم یا جنایت نہیں ہے لہٰذا وہ ان کے مالک نہیں بنیں گے بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ اگر ہمارا کوئی مسلمان بھاگ کر دار الحرب چلا جائے تو امام صاحب کے نزدیک کفار اس کے مالک نہیں بنیں گے جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ کفار اس کے مالک بن جائیں گے، اس لیے کیونکہ یہ غلام جو تھا یہ مالِ معصوم تھا آقا کے حق کی وجہ سے کیونکہ آقا کے قبضے میں تھا لیکن جب یہ دار الحرب چلا گیا تو یہ آقا کا قبضہ ختم، جب آقا کا قبضہ ختم تو یہ مالِ معصوم نہ رہا یہ مالِ مباح بن گیا اور مالِ مباح جب ان کفار کے قبضے میں آ گیا ہے اس پر ان کا غلبہ ہو گیا ہے تو وہ اس کے مالک بن جاتے ہیں، جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں نہیں، یہ جیسے ہی دار الاسلام سے نکلے گا تو اس کا اپنی ذات پر قبضہ آ جائے گا۔ دار الاسلام کے اندر اس کا اپنی ذات پر قبضہ ظاہر نہیں ہو رہا تھا وجہ یہ کہ یہاں وہ مالک کے قبضے میں تھا اور مالک اس سے تبھی فائدہ اٹھا سکتا ہے جب اس کا اپنی ذات پر قبضہ نہ ہو، تو دار الاسلام میں غلام کا اپنی ذات پر جو قبضہ تھا وہ ظاہر نہیں ہو رہا تھا آقا کے قبضے کی وجہ سے۔ تو جب یہ دار الحرب چلا گیا تو آقا کا قبضہ ختم اور جب آقا کا قبضہ ختم ہوا تو غلام کا اپنی ذات پر قبضہ ظاہر ہو گیا، جب اپنی ذات پر قبضہ ظاہر ہو گیا تو وہ محفوظ بنفسہٖ بن گیا، اور جب وہ محفوظ بنفسہٖ ہے وہ مالِ مباح نہیں ہے تو کفار اس کو پکڑ بھی لیں پھر بھی وہ اس کے مالک نہیں بنیں گے۔ لہٰذا اگر اس غلام کو جس صورت میں بھی واپس لایا جائے، چاہے کوئی خرید کر لائے، چاہے کسی کو تحفہ ملے، چاہے مالِ غنیمت میں آئے، اور چاہے تقسیم سے پہلے ہو یا چاہے تقسیم کے بعد ہو، ہر صورت میں وہ پرانا مالک اس کو لے لے گا کیونکہ ابھی بھی وہی اس کا مالک ہے۔ ہاں البتہ اگر وہ تقسیم سے پہلے لے گا تو پھر یہ غلام وہ مفت لے لے گا لیکن اگر تقسیم کے بعد یہ غلام لیتا ہے، اب یہ غلام کسی غازی کے حصے میں آیا ہے تو اس غازی کو عوض دینا پڑے گا لیکن یہ عوض مالک نہیں دے گا کیونکہ مالک تو اپنا ہی غلام واپس لے رہا ہے وہ کوئی اس سے نئی چیز نہیں لے رہا، کیونکہ وہ پرانا آقا ہی اس غلام کا ابھی بھی مالک ہے، البتہ غازی کا نقصان ہو رہا ہے تو اس کو عوض دیا جائے گا، تو لہٰذا یہ عوض اب بیت المال سے ادا کیا جائے گا کیونکہ بیت المال کا مال جو ہے وہ مسلمانوں ہی کے نفع کے لیے ہے تو اس کے ذریعے ادائیگی کر دی جائے گی اس غازی کو بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ اور صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ اگر ہمارا کوئی جانور بدک کر دار الحرب چلا جائے اور کفار اس کو پکڑ لیں تو کفار اس کے مالک بن جائیں گے، اور کوئی آدمی اس جانور کو خرید کر لے آتا ہے اور اس جانور کا پرانا مالک جو ہے وہ اس حیوان کو واپس لینا چاہتا ہے تو اس کو یہ حیوان لینے کے لیے ثمن ادا کرنے پڑیں گے، بات سمجھ میں آ گئی۔ اب آئیے آج کے سبق پر: ”وَإِذَا دَخَلَ الْحَرْبِيُّ دَارَنَا بِأَمَانٍ وَاشْتَرَى عَبْدًا مُسْلِمًا وَأَدْخَلَهُ دَارَ الْحَرْبِ عَتَقَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى، وَقَالَا رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى: لَا يَعْتِقُ“ بھئی صورتِ مسئلہ یہ ہے کہ ایک حربی امان لے کر ہمارے دار الاسلام کے اندر آیا یعنی مستأمن بن گیا، کیا بن گیا؟ مستأمن بن گیا، اور پھر اس نے یہاں ایک مسلمان غلام کو خرید لیا اور اس مسلمان غلام کو لے کر وہ دار الحرب چلا گیا، تو یاد رکھو امام صاحب فرماتے ہیں اس کے دار الحرب میں داخل ہوتے ہی یہ غلام آزاد ہو جائے گا، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں نہیں، یہ غلام اب بھی اسی حربی کا مملوک رہے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا دَخَلَ الْحَرْبِيُّ دَارَنَا بِأَمَانٍ“ اور جب کوئی حربی ہمارے دار میں داخل ہوا امان لے کر یعنی دار الاسلام میں داخل ہوا امان لے کر ”وَاشْتَرَى عَبْدًا مُسْلِمًا“ اور اس نے کوئی مسلمان غلام خریدا ”وَأَدْخَلَهُ دَارَ الْحَرْبِ“ اور اس کو اس نے دار الحرب میں داخل کر دیا ”عَتَقَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى“ تو یہ غلام آزاد ہو جائے گا امام صاحب کے نزدیک ”وَقَالَا: لَا يَعْتِقُ“ اور صاحبین فرماتے ہیں یہ غلام آزاد نہیں ہوگا ”لِأَنَّ الْإِزَالَةَ كَانَتْ مُسْتَحَقَّةً بِطَرِيقٍ مُعَيَّنٍ وَهُوَ الْبَيْعُ“۔ حربی دار الاسلام آیا امان لے کر اور اس نے کسی مسلمان غلام کو خرید لیا تو یہ اس مسلمان غلام کا مالک بن گیا لیکن یاد رکھو، اب لازم ہے کہ اس حربی کی ملکیت اس مسلمان غلام پر سے ختم کی جائے۔ اب لازم ہے کہ یہ جو حربی کی مسلمان غلام پر ملکیت آئی ہے اس کو ختم کیا جائے کیونکہ مسلمان کے لیے یہ ذلت اور بے عزتی کی بات ہے کہ وہ کسی حربی کے ماتحت رہے بھئی۔ لہٰذا اس غلام کو آزاد کروایا جائے گا، چنانچہ قاضی جو ہے وہ اس حربی سے کہے گا کہ اس غلام کو بیچ دو، اگر وہ حربی خود غلام کو بیچ دے تو اچھی بات ہے، اگر وہ خود نہیں بیچتا تو قاضی اس غلام کو بیچ دے گا اور بیچ کر جو ثمن ملیں گے وہ حربی کو دے دے گا۔ یعنی اس غلام کو اس حربی کی ملکیت سے نکالنا لازم ہو گیا تاکہ مسلمان کو کافر کے ماتحت ہونے کی ذلت سے نجات دلائی جائے بھئی۔ تو صاحبین کی دلیل چل رہی ہے، صاحبین فرماتے ہیں کہ حربی آیا، اس نے مسلمان غلام کو خریدا یہ اس کا مالک بن گیا اور اب لازم ہوا کہ اس مسلمان غلام کو اس کی ملکیت سے نکالا جائے، لیکن اس مسلمان غلام کو اس کی ملکیت سے نکالنے سے پہلے ہی یہ اس کو لے کر دار الحرب چلا گیا۔ جب دار الحرب چلا گیا تو اب وہاں پر تو قاضی قاضی جبراً کوئی فیصلہ اس پر نافذ نہیں کر سکتا، لہٰذا یہ اب بھی اسی کے قبضے میں غلام بن کر رہے گا، قاضی اس غلام کو اس کی ملکیت سے نہیں نکال سکا تو یہ غلام اب بھی اسی حربی کی ملکیت میں رہے گا بھئی۔ جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں نہیں، یہ غلام دار الحرب میں داخل ہوتے ہی آزاد ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَالَا: لَا يَعْتِقُ“ اور صاحبین فرماتے ہیں یہ غلام آزاد نہیں ہوگا ”لِأَنَّ الْإِزَالَةَ كَانَتْ مُسْتَحَقَّةً بِطَرِيقٍ مُعَيَّنٍ وَهُوَ الْبَيْعُ“۔ ازالہ، ازال یزیل ازالۃً کا معنی ہے ختم کرنا، مراد ہے اس حربی کے قبضے کو ختم کرنا۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْإِزَالَةَ كَانَتْ مُسْتَحَقَّةً“ اس لیے کیونکہ اس حربی کے قبضے کو ختم کرنے کا استحقاق ہو چکا تھا ”بِطَرِيقٍ مُعَيَّنٍ“ ایک معین طریقے کے ذریعے ”وَهُوَ الْبَيْعُ“ اور وہ بیع ہے۔ صاحبین کی دلیل چل رہی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ حربی نے جب اس مسلمان غلام کو خرید لیا ہے دار الاسلام کے اندر تو اب ضروری ہے کہ حربی کے قبضے کو ختم کیا جائے ایک معین طریقے سے اور وہ طریقہ بیع ہے کہ قاضی اس کو کہے گا اس غلام کو بیچ دو، اگر وہ نہیں بیچتا تو قاضی خود اس غلام کو بیچ دے گا۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْإِزَالَةَ“ اس لیے کیونکہ اس حربی کے قبضے کو ختم کرنا ”كَانَتْ مُسْتَحَقَّةً“ اس کا استحقاق ہو چکا تھا ”بِطَرِيقٍ مُعَيَّنٍ“ ایک معین طریقے کے ذریعے ”وَهُوَ الْبَيْعُ“ اور وہ بیع ہے ”وَقَدِ انْقَطَعَتْ وِلَايَةُ الْجَبْرِ عَلَيْهِ“ اور تحقیق اس حربی کے اوپر جو ہے جبر کی ولایت تو منقطع ہو گئی، قاضی کو اب اس پر جبر کی ولایت نہ رہی۔ کہتے ہیں: ”وَقَدِ انْقَطَعَتْ وِلَايَةُ الْجَبْرِ عَلَيْهِ“ اور اس حربی پر جبر کی ولایت تو منقطع ہو گئی، ختم ہو گئی ”فَبَقِيَ فِي يَدِهِ عَبْدًا“ تو لہٰذا یہ مسلمان جو ہے اسی کے قبضے میں غلام ہو کر باقی رہے گا۔ ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے ”أَنَّ تَخْلِيصَ الْمُسْلِمِ عَنْ ذُلِّ الْكَافِرِ وَاجِبٌ“ تخلیص، صاد کے ساتھ ہے، اس کا معنی ہے چھڑانا۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں: ”أَنَّ تَخْلِيصَ الْمُسْلِمِ“ کہ مسلمان کو چھڑانا ”عَنْ ذُلِّ الْكَافِرِ“ کافر کی ذلت سے، کافر کی بے عزتی سے ”وَاجِبٌ“ یہ واجب ہے۔ مسلمان کسی کافر کے تحت رہے یہ مسلمان کے لیے ذلت اور بے عزتی کی بات ہے اور اس ذلت اور بے عزتی سے مسلمان کو چھٹکارا دلانا واجب ہے۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں: ”أَنَّ تَخْلِيصَ الْمُسْلِمِ عَنْ ذُلِّ الْكَافِرِ وَاجِبٌ“ مسلمان کو کافر کی ذلت سے چھٹکارا دلانا واجب ہے ”فَيُقَامُ الشَّرْطُ وَهُوَ تَبَايُنُ الدَّارِ مَقَامَ الْعِلَّةِ وَهُوَ الْإِعْتَاقُ تَخْلِيصًا لَهُ“۔ تو لہٰذا شرط کو علت کے قائم مقام کیا جائے گا اس کو چھٹکارا دلانے کے لیے۔ بھئی یاد رکھو، امام صاحب فرماتے ہیں کہ حربی دار الاسلام میں آیا ہے اور اس نے ایک مسلمان کو خرید لیا ہے اور یہ اس کا مالک بن گیا ہے اور مسلمان کو کافر کی ماتحتی کی ذلت سے نجات دلانا واجب ہے بھئی۔ تو لہٰذا چونکہ یہ امان لے کر یہ حربی یہاں آیا ہے، یہ مستأمن ہے اور مستأمن کا مال جو ہے وہ محترم ہوتا ہے کیونکہ ہم نے اس کو امان دی ہے بھئی۔ تو لہٰذا اس سے یہ غلام ویسے تو نہیں چھینا جا سکتا کیونکہ یہ اس کا مالِ محترم ہے، ہاں البتہ اس کو یہاں اس کا عوض دے دیا جائے گا یعنی بیع کے ذریعے یہ غلام اس سے چھڑوا لیا جائے گا۔ لیکن یہ تو اس غلام کو لے کر دار الحرب چلا گیا، جب دار الحرب چلا گیا تو اس مال کی عصمت ختم ہو گئی بھئی کیونکہ جب تک یہ مستأمن تھا اس کا مال محفوظ اور معصوم تھا لیکن جب یہ اس مال کو لے کر دار الحرب میں داخل ہوا تو امان ختم، جب امان ختم تو حربی کا مال اب معصوم اور محفوظ نہ رہا۔ جب معصوم اور محفوظ نہ رہا تو اب اس مال کو چھڑانے میں عوض نہیں دیا جائے گا بلکہ اب امام پر لازم ہے کہ اس غلام کو بغیر عوض کے ہی آزاد کروا کر اس کافر کی ماتحتی سے اس کو نجات دلائے۔ لیکن یہ تو دار الحرب ہے، یہاں تو امام کا یا قاضی کا حکم نہیں چلتا، یہاں تو ان کو ولایت حاصل نہیں ہے، تو لہٰذا یہاں حکم کی نسبت علت کے بجائے شرط کی طرف کر دی جائے گی۔ بھئی اس غلام کو اس حربی کی ملکیت سے نکالا جائے گا، کس طریقے سے؟ اس کی ملکیت ختم کی جائے گی یعنی اعتاق کے ذریعے، تو اعتاق علت ہے اس غلام کو اس کی ملکیت سے نکالنے کا۔ اعتاق علت ہے اس حربی کی ملکیت کو ختم کرنے کی، اس کی وجہ سے غلام آزاد ہو جائے گا لیکن اعتاق تو ہو نہیں سکتا کیونکہ یہاں قاضی یا امام کو ولایت حاصل نہیں ہے، تو جب علت کی طرف اس حکم کی نسبت نہیں ہو سکتی تو پھر شرط کی طرف اس حکم کی نسبت کر دی جائے گی اور شرط جو ہے وہ تباینِ دار ہے۔ وہ کیا ہے؟ تباینِ دار۔ آپ جانتے ہیں تباینِ دار کی وجہ سے ملکیت ختم ہو جایا کرتی ہے۔ جیسے مسلمان مالِ غنیمت لے کر آتے ہیں تو جب اس کو وہ دار الاسلام میں لے آئیں گے تو اب ان حربیوں کی ملکیت اس مال پر سے ختم ہو گئی اور مسلمان اس کے مالک بن گئے۔ اور اسی طرح حربی جو ہیں جب ہمارا مال چھین کر اپنے دار میں لے جاتے ہیں تو مسلمانوں کی ملکیت ختم ہو جاتی ہے اور حربی اس کے مالک بن جاتے ہیں۔ معلوم ہوا تباینِ دار جو ہے یعنی ایک ملک سے دوسرے ملک جانا یہ ملکیت کے زوال کی شرط ہے تو یہاں چونکہ علت کے ذریعے ملکیت کو زائل نہیں کیا جا سکتا تھا، یعنی اعتاق کے ذریعے اس کافر کی ملکیت کو زائل نہیں کیا جا سکتا تھا کیونکہ قاضی کو ولایت حاصل نہیں تھی، تو لہٰذا اب یہاں پر شرط کی طرف نسبت کر دی جائے گی یعنی تباینِ دار کی طرف، تو تباینِ دار کی وجہ سے اس کافر کی ملکیت زائل ہو جائے گی اور یہ مسلمان غلام آزاد ہو جائے گا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَيُقَامُ الشَّرْطُ وَهُوَ تَبَايُنُ الدَّارِ مَقَامَ الْعِلَّةِ وَهُوَ الْإِعْتَاقُ تَخْلِيصًا لَهُ“۔ تو لہٰذا شرط کو جو کہ تباینِ دار ہے، یعنی دونوں ملکوں کا الگ الگ ہونا دار الاسلام اور دار الحرب کا، اس کو قائم مقام کیا جائے گا علت کے جو کہ اعتاق ہے اس مسلمان کو چھٹکارا دلانے کے لیے، کیونکہ مسلمان کو کافر کی ماتحتی سے چھٹکارا دلانا واجب ہے اور علت پائی نہیں جا سکتی تھی تو شرط کو علت کے قائم مقام کر دیا گیا تاکہ مسلمان آزاد ہو جائے۔ ”وَقَدْ أَمْكَنَ جَعْلُهُ سَبَبًا لِلْعِتْقِ لِمَا فِيهِ مِنْ مَعْنَى التَّحْرِيرِ“ تحریر، حا اور را کے ساتھ، اس کا معنی ہے آزاد کرنا۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَدْ أَمْكَنَ جَعْلُهُ سَبَبًا لِلْعِتْقِ“ اور تحقیق ممکن ہے تباینِ دار کو آزادی کا سبب بنانا ”لِمَا فِيهِ مِنْ مَعْنَى التَّحْرِيرِ“ اس لیے کیونکہ اس تباینِ دار کے اندر آزادی کا معنی پایا جا رہا ہے۔ اس لیے کیونکہ حربی جب ہمارے دار سے اپنے دار میں چلا گیا تو اب وہ حربی جو ہے وہ ہمارے قابو سے نکل گیا اور جب وہ ہمارے قابو سے نکل گیا تو اب وہ ہم سے آزاد ہو گیا تو اس کے اندر تباینِ دار کے اندر تحریر کا یعنی آزادی کا معنی پایا گیا، تو جب تباینِ دار میں آزادی کا معنی پایا گیا تو اب اس تباینِ دار کو آزادی کا سبب بنانا ممکن ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَدْ أَمْكَنَ جَعْلُهُ سَبَبًا لِلْعِتْقِ لِمَا فِيهِ مِنْ مَعْنَى التَّحْرِيرِ“ اور ممکن ہے اس تباینِ دار کو آزادی کا سبب قرار دینا اس لیے کیونکہ اس کے اندر آزادی کا معنی پایا جا رہا ہے ”عَلَى مَا بَيَّنَّاهُ فِي الْمُسْتَأْمَنِ إِذَا رَجَعَ إِلَى دَارِ الْحَرْبِ“ اس وجہ سے جس کو ہم نے بیان کیا تھا مستأمن کے بارے میں جب وہ دار الحرب کی طرف لوٹ جائے۔ آپ نے پڑھا تھا کہ مستأمن جب دار الحرب کی طرف لوٹ جاتا ہے تو اس کے مدبر اور ام ولد آزاد ہو جاتے ہیں تو وہاں پر بھی ہم نے بتلایا تھا کہ تباینِ دار کو علت کے قائم مقام کیا جائے گا آزادی کے لیے، تو یہاں پر بھی تباینِ دار کو علت کے قائم مقام کیا جائے گا اور یہ مسلمان غلام آزاد ہو جائے گا بھئی۔ ”بِخِلَافِ مَا إِذَا اشْتَرَى ذِمِّيٌّ عَبْدًا مُسْلِمًا“ یہاں سے امام صاحب ایک اشکال کا جواب دے رہے ہیں۔ اشکال یہ ہوتا ہے کہ اے امام صاحب! اگر کوئی ذمی یعنی وہ غیر مسلم جو دار الاسلام کے اندر رہتا ہے جزیہ ادا کر کے، اگر کوئی ذمی کسی مسلمان غلام کو خرید لے تو آپ فرماتے ہیں کہ قاضی اس ذمی کو مجبور کرے گا کہ اس مسلمان غلام کو بیچ دو، وہاں تو آپ نہیں فرماتے کہ یہ غلام آزاد ہو جائے گا۔ اور یہاں حربی نے مسلمان غلام کو خریدا تو آپ فرماتے ہیں کہ یہ غلام آزاد ہو جائے گا، تو دونوں میں فرق کیوں؟ تو امام صاحب اس کا جواب دیتے ہیں کہ بھئی ذمی تو ہمارے دار الاسلام میں رہتا ہے اور قاضی کو اس پر ولایت حاصل ہے، قاضی اس کو جبراً مجبور کر سکتا ہے اس غلام کو بیچنے پر، اور اگر وہ نہیں بیچتا تو قاضی خود بیچ سکتا ہے تو وہاں تو قاضی کو ولایت حاصل ہے لہٰذا وہاں بیع ممکن ہے، جبکہ حربی تو دار الحرب چلا گیا وہاں قاضی کو ولایت حاصل نہیں ہے لہٰذا وہاں بیع ممکن نہیں ہے تو وہاں اس مسلمان کو کافر کی ماتحتی سے چھڑانے کے لیے اس کو آزاد ہی قرار دیا جائے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ مَا إِذَا اشْتَرَى ذِمِّيٌّ عَبْدًا مُسْلِمًا“ بخلاف اس صورت کے جب کسی ذمی نے مسلمان غلام خریدا ”لِأَنَّ جَبْرَهُ عَلَى الْبَيْعِ هُنَاكَ مُمْكِنٌ“ اس لیے کیونکہ اس ذمی کو بیع پر مجبور کرنا وہاں ممکن ہے، قاضی اس پر مجبور کر سکتا ہے ”فَلَا حَاجَةَ إِلَى الْإِعْتَاقِ“ تو لہٰذا اعتاق کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ بیع کے ذریعے بھی مسلمان کو کافر کی ماتحتی سے نجات دلائی جا سکتی ہے تو بیع پر ہی اکتفاء کیا جائے گا، اعتاق کی ضرورت نہیں ہے۔ جبکہ حربی جو ہے اس کو تو بیع پر مجبور کرنا ممکن نہیں ہے لہٰذا اس غلام کو آزاد ہی قرار دیا جائے گا تاکہ وہ کافر کی ماتحتی سے چھوٹ جائے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ ”وَلَوْ كَانَ الْعَبْدُ ذِمِّيًّا لَمْ يَعْتِقْ بِالْإِجْمَاعِ“ اور اگر وہ غلام ذمی تھا، یعنی حربی نے جو غلام خریدا وہ مسلمان نہیں تھا بلکہ ذمی تھا، غیر مسلم تھا، ”لَمْ يَعْتِقْ بِالْإِجْمَاعِ“ تو وہ بالاجماع آزاد نہیں ہوگا، امام صاحب کے نزدیک بھی آزاد نہیں ہوگا۔ کیوں؟ اس لیے کیونکہ کفر کا کافر کے ماتحت ہونا یہ کوئی ذلت کی بات نہیں ہے، مسلمان کا کافر کے ماتحت ہونا یہ ذلت کی بات تھی تو مسلمان کو کافر کی ماتحتی سے چھڑانا تو ضروری تھا، لیکن کافر کافر کے ماتحت رہے اس میں تو کوئی مضائقہ نہیں ہے لہٰذا اگر وہ غلام ذمی تھا تو وہ بالاجماع آزاد نہیں ہوگا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ كَانَ الْعَبْدُ ذِمِّيًّا لَمْ يَعْتِقْ بِالْإِجْمَاعِ“ اور اگر وہ غلام ذمی ہو تو بالاجماع آزاد نہیں ہوگا ”إِذْ لَا ذُلَّ فِي اسْتِخْدَامِ الْكَافِرِ الْكَافِرَ“ اس لیے کیونکہ کوئی ذلت نہیں ہے کافر کے کافر سے خدمت لینے میں، کافر کافر سے خدمت لے اس میں کوئی ذلت نہیں ہے لہٰذا وہ غلام آزاد نہیں ہوگا بھئی۔ چلیے سبق یہیں تک رکھتے ہیں، باقی انشاء اللہ آئندہ پڑھیں گے۔ سبحانک اللّٰہم وبحمدک، نشہد أن لا إلہ إلا أنت، نستغفرک ونتوب الیک۔ کی جا سکتی تو پھر شرط کی طرف اس حکم کی نسبت کر دی جائے گی اور شرط جو ہے وہ تباینِ دار ہے۔ وہ کیا ہے؟ تباینِ دار۔ آپ جانتے ہیں تباینِ دار کی وجہ سے ملکیت ختم ہو جایا کرتی ہے۔ جیسے مسلمان مالِ غنیمت لے کر آتے ہیں تو جب اس کو وہ دار الاسلام میں لے آئیں گے تو اب ان حربیوں کی ملکیت اس مال پر سے ختم ہو گئی اور مسلمان اس کے مالک بن گئے۔ اور اسی طرح حربی جو ہیں جب ہمارا مال چھین کر اپنے دار میں لے جاتے ہیں تو مسلمانوں کی ملکیت ختم ہو جاتی ہے اور حربی اس کے مالک بن جاتے ہیں۔ معلوم ہوا تباینِ دار جو ہے یعنی دار کا مختلف ہونا یہ شرط ہے ملکیت کے ختم کرنے کے لیے۔ دار مختلف ہو گا تو مال پر سے اس پرانے مالک کی ملکیت ختم ہو جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا تباینِ دار شرط ہے ملکیت ختم کرنے کے لیے۔ اور یہاں پر حربی ایک مسلمان غلام کو اپنے دار میں لے گیا ہے تو یہاں اصل تو یہ تھا کہ قاضی اس غلام کو آزاد کروائے، اس کا اعتاق کرے۔ اور اعتاق کی وجہ سے اس حربی کی ملکیت ختم ہو جائے گی لیکن یہاں زوالِ ملک کی نسبت اعتاق کی طرف نہیں کی جا سکتی کیونکہ اعتاق پر ہم قادر نہیں ہیں۔ تو جب حکم کی نسبت، حکم کیا ہے؟ اس حربی کی ملکیت ختم کرنی ہے تو لہٰذا جب اس حربی کی ملکیت کے ختم کرنے کی نسبت اعتاق کی طرف نہیں کی جا سکتی کیونکہ اعتاق پر ہم قادر نہیں تو پھر اس حکم کی نسبت جو ہے شرط کی طرف کی جائے گی۔ اور شرط کیا ہے؟ تباینِ دار۔ تباینِ دار کی وجہ سے ملکیت ختم ہو جایا کرتی ہے۔ لہٰذا ہم یہاں بھی کہیں گے کہ تباینِ دار کی وجہ سے حربی کی ملکیت ختم ہو گئی اور غلام آزاد ہو گیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ پھر سن لیجیے بھئی مشکل مسئلہ ہے۔ صورت یہ ہے: ایک حربی دار الاسلام میں آیا اور اس نے ایک مسلمان غلام کو خرید لیا اور پھر اس مسلمان غلام کو لے کر وہ دار الحرب چلا گیا تو صاحبین فرماتے ہیں کہ یہ غلام اب بھی اسی کا مملوک ہے جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں نہیں یہ غلام آزاد ہو چکا ہے۔ صاحبین فرماتے ہیں کہ حربی نے جب یہاں غلام کو خریدا تھا تو اس غلام کو چھڑانے کا ایک ہی متعین طریقہ تھا کہ اس غلام کو بیچا جائے اور اس کا عوض اس حربی کو دلایا جائے۔ لیکن حربی جو ہے اس غلام کو جب دار الحرب میں لے گیا ہے تو اب قاضی کی وہاں ولایت ہی نہیں ہے وہ اب اس غلام کو بیچنے پر قادر ہی نہیں ہے لہٰذا وہ غلام ابھی بھی اسی حربی کا مملوک ہے۔ جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں نہیں، اس مسلمان غلام کو کافر کی ذلت سے بچانا اور نکالنا ضروری ہے بھئی، اور یہاں پر جب علت کی طرف حکم کی نسبت نہیں کی جا سکتی تو شرط کی طرف حکم کی نسبت کی جائے گی اور وہ یہ کہ تباینِ دار کی وجہ سے اس غلام پر سے اس حربی کی ملکیت ختم ہو جائے گی اور غلام آزاد ہو جائے گا بھئی۔ غلام آزاد ہو جائے گا۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ حکم کی نسبت علت کی طرف کی جاتی ہے لیکن علت کی طرف حکم کی نسبت نہ ہو سکے تو حکم کی نسبت سبب کی طرف کی جاتی ہے اور اگر سبب کی طرف بھی حکم کی نسبت نہ ہو سکے تو پھر حکم کی نسبت شرط کی طرف کی جاتی ہے جیسے اس کی مثال پیچھے بھی گزری تھی کہ راستے میں ایک آدمی نے کنواں کھودا اور اس کے اندر کوئی شخص گر کر مر گیا تو پھر اس صورت میں اس قتل کی نسبت اس شرط کی طرف یعنی کنواں کھودنے والے کی طرف کی جائے گی کہ اگر یہ کنواں نہ کھودتا تو یہ کنویں میں یہ شخص بھی گر کر نہ مرتا بھئی۔ حالانکہ مرنے کی اصل علت جو ہے وہ تو اس شخص کا وزنی ہونا ہے۔ یہ وزنی نہ ہوتا تو کنویں کے اندر بھی نہ گرتا اور گر کر نہ مرتا بھئی۔ لیکن یہاں پر اس مرنے کی نسبت جو ہے علت یعنی وزنی ہونے کی طرف نہیں کی جا سکتی کیونکہ اللہ نے چیزوں کو پیدا ہی اس طرح کیا ہے، کچھ چیزوں کا وزن ہے اور کچھ چیزوں کا وزن نہیں ہے بھئی۔ تو جب علت کی طرف حکم کی نسبت نہ ہو سکے تو پھر سبب کی طرف کی جاتی ہے اور سبب جو ہے یہاں وہ اس آدمی کا راستے پر چلنا ہے۔ اگر وہ اس راستے پر نہ چلتا تو کنویں میں نہ گرتا اور نہ مرتا۔ لیکن راستے پر چلنا تو سب کے لیے مباح ہے لہٰذا اس راستے پر چلنے کی طرف بھی اس قتل کی نسبت نہیں کی جا سکتی۔ تو پھر اس قتل کی نسبت شرط کی طرف کی جائے گی۔ شرط ہے تو مشروط ہے، شرط نہیں تو مشروط بھی نہیں۔ اس آدمی نے کنواں کھودا ہے تو یہ اس میں دوسرا گرا اور مرا، اگر یہ کنواں نہ کھودتا تو یہ اس میں گر کر نہ مرتا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا اس شرط کی طرف حکم کی نسبت کی جائے گی اور وہ جو آدمی ہے جو کنواں کھودنے والا ہے اس کو دیت ادا کرنا پڑے گی۔ تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے، حربی دار الاسلام کے اندر آیا ہے اور اس نے ایک مسلمان غلام کو خریدا ہے اور یہ اس غلام کا مالک بن گیا اور یہ امان لے کر یہاں آیا ہے تو یہ مستامن ہے اور مستامن کی جان بھی محفوظ ہے اور مال بھی یہاں پر محفوظ ہے۔ لہٰذا یہ غلام ہم اس سے مفت میں تو نہیں چھڑا سکتے البتہ پھر اس کو ہم اس کا عوض دیں گے کیونکہ یہ مالِ محترم ہے بھئی۔ عوض دیں گے اور یعنی بیع کے ذریعے اس سے اس غلام کو چھڑوائیں گے۔ لیکن یہ اس غلام کو لے کر دار الحرب چلا گیا، جب دار الحرب چلا گیا تو اب اس کے مال کی عصمت باقی نہ رہی۔ جب یہ مالِ معصوم نہیں ہے تو اب عوض دے کر نہیں چھڑائیں گے، ویسے ہی ملکیت کو ختم کیا جائے گا۔ اور وہ یہ کہ قاضی اس غلام کا اعتاق کروائے گا، اس کو آزاد کروائے گا۔ توجہ ہے؟ اور اس اعتاق کی وجہ سے اس حربی کی ملکیت ختم ہو جائے گی۔ تو یہاں پر حکم کیا ہے؟ اس حربی کی ملکیت ختم کرنا۔ اور علت کیا ہے؟ اعتاق کہ اس غلام کو آزاد کروایا جائے۔ توجہ ہے؟ لیکن اس ملکیت کے ختم کرنے کی نسبت اعتاق کی طرف نہیں کی جا سکتی کیونکہ وہ شخص دار الحرب میں ہے اور وہاں پر قاضی یا امام کو ولایت ہی حاصل نہیں ہے کہ وہ اس کا اعتاق کروائے۔ تو اس حربی کی ملکیت کے ختم کرنے کی نسبت جب علت یعنی اعتاق کی طرف نہیں کی جا سکتی تو پھر اس کی نسبت شرط کی طرف کی جائے گی اور آپ جانتے ہیں کہ تباینِ دار شرط ہے ملکیت کے ختم ہونے کے لیے۔ مسلمانوں کا مال کفار چھین کر دار الحرب میں لے جائیں تو مسلمان کی ملکیت ختم ہو جاتی ہے، یا مسلمان حربیوں کا مال چھین کر دار الاسلام میں لے آئیں تو حربیوں کی ملکیت ختم ہو جاتی ہے۔ معلوم ہوا دار کا مختلف ہونا یہ شرط ہے ملکیت کے ختم کرنے کے لیے۔ تو لہٰذا جب اس حربی کی ملکیت کے ختم کرنے کی نسبت اعتاق کی طرف نہیں ہو سکتی تو ملکیت ختم کرنے کے لیے جو شرط ہے یعنی تباینِ دار اس کی طرف نسبت کی جائے گی، لہٰذا تباینِ دار کی وجہ سے ہی غلام آزاد ہو جائے گا۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَبِيْ حَنِيْفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے ”أَنَّ تَخْلِيْصَ الْمُسْلِمِ عَنْ ذُلِّ الْكَافِرِ وَاجِبٌ“ کہ مسلمان کو کافر کی ذلت سے نجات دلانا واجب ہے ”فَيُقَامُ الشَّرْطُ“ تو شرط کو قائم کیا جائے گا ”وَهُوَ تَبَايُنُ الدَّارَيْنِ“ اور وہ دونوں داروں کا مختلف ہونا ہے۔ شرط کیا ہے؟ تباینِ دارین بھئی۔ تو کہتے ہیں ”فَيُقَامُ الشَّرْطُ وَهُوَ تَبَايُنُ الدَّارَيْنِ“ اور وہ دونوں داروں کا مختلف ہونا ہے، تو اس شرط کو قائم کیا جائے گا ”مَقَامَ الْعِلَّةِ“ علت کے، اور علت کیا ہے؟ ”وَهُوَ الْإِعْتَاقُ“ وہ اس غلام کا اعتاق ہے کہ قاضی اس کا اعتاق کرے، تو شرط کو علت کے قائم مقام کیا جائے گا ”تَخْلِيْصًا لَّهُ“ اس غلام کو چھڑانے کے لیے۔ توجہ ہے؟ بھئی دیکھیے، یہ جملہ جو ہے ذرا طویل ہو گیا ترجمہ مشکل ہو گیا۔ یہاں درمیان میں ذکر کیا کہ شرط کیا ہے؟ ”وَهُوَ تَبَايُنُ الدَّارَيْنِ“۔ شرط کا لفظ آیا تو ساتھ ہی صاحبِ ہدایہ نے بتلا دیا شرط کیا ہے؟ دونوں داروں کا مختلف ہونا۔ اور پھر علت کا ذکر آیا تو ساتھ ہی صاحبِ ہدایہ نے بتلا دیا ”وَهُوَ الْإِعْتَاقُ“، اس حربی کی ملکیت ختم کرنے کی علت کیا ہے؟ اعتاق ہے کہ قاضی اس غلام کو آزاد کروائے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ جو شرط بیان کی ”وَهُوَ تَبَايُنُ الدَّارَيْنِ“ اور یہ جو علت بیان کی ”وَهُوَ الْإِعْتَاقُ“ ان دو کو ذرا نکال دیں اور پھر جملہ دیکھیں پھر ترجمہ آپ کو بہترین سمجھ میں آئے گا۔ کہتے ہیں: ”فَيُقَامُ الشَّرْطُ مَقَامَ الْعِلَّةِ تَخْلِيْصًا لَّهُ“ تو شرط کو علت کے قائم مقام کر دیا جائے گا، ”تَخْلِيْصًا لَّهُ“ مسلمان کو نجات دلانے کے لیے۔ آگے دیکھیے: ”كَمَا يُقَامُ مُضِيُّ ثَلَاثِ حِيَضٍ مَّقَامَ التَّفْرِيْقِ“ صاحبِ ہدایہ مثال ذکر کر رہے ہیں کہ کبھی کبھار شرط کو علت کے قائم مقام کر دیا جاتا ہے، حکم کی نسبت شرط کی طرف ہی کر دی جاتی ہے۔ میں نے ایک مثال ذکر کر دی وہ کنویں کے اندر کوئی شخص گر کر مر جائے۔ توجہ ہے؟ اسی طرح دوسری مثال ہے کہ حکم کی نسبت شرط کی طرف کی جاتی ہے، مثلاً آپ جانتے ہیں بھئی کہ دار الاسلام کے اندر اگر میاں بیوی میں سے کوئی ایک مسلمان ہو جائے تو قاضی جو ہے دوسرے پر اسلام کو پیش کرے گا اور اگر وہ دوسرا اسلام قبول کر لیتا ہے تو یہ اسی طرح میاں بیوی رہیں گے لیکن اگر دوسرے نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا تو یہ اسلام سے جو انکار ہے یہ دونوں کے درمیان جدائی کا سبب بنے گا اور پھر قاضی ان میں تفریق کروا دے گا تو ان میں بینونت آ جائے گی یعنی جدائی۔ تو معلوم ہوا دار الاسلام کے اندر میاں بیوی میں سے کوئی ایک مسلمان ہو جائے تو وہاں بینونت یعنی جدائی کی جو علت ہے وہ قاضی کی تفریق ہے کہ قاضی ان میں جدائی کروا دیتا ہے۔ قاضی جدائی کرواتا ہے تو جدائی آ جاتی ہے، تو معلوم ہوا قاضی کی تفریق یہ علت ہے اور میاں بیوی کے درمیان جدائی یعنی بینونت وہ اس کا حکم ہے بھئی۔ میاں بیوی ایک دوسرے سے جدا ہو جاتے ہیں ان میں بینونت آ جاتی ہے۔ توجہ ہے؟ تو حاصلِ کلام یہ کہ دار الاسلام میں میاں بیوی میں سے کوئی ایک مسلمان ہو جائے تو بینونت کی علت جو ہے وہ قاضی کی تفریق ہے۔ لیکن اگر یہی مسئلہ دار الحرب میں پیش آیا کہ میاں بیوی میں سے کوئی ایک مسلمان ہو گیا اب ان کے درمیان جدائی چاہیے بھئی۔ میاں بیوی میں سے ایک مسلمان ہو گیا ہے تو ان میں جدائی چاہیے، بینونت چاہیے لیکن اس بینونت کی نسبت قاضی کی تفریق کی طرف نہیں کی جا سکتی کیونکہ قاضی کو تو اس بات کی ولایت نہیں ہے کہ وہ دار الحرب میں دوسرے پر اسلام کو پیش کرے اور پھر اس کے انکار کی وجہ سے دونوں میں تفریق کر دے۔ تو معلوم ہوا دار الحرب میں میاں بیوی میں سے کوئی ایک مسلمان ہو جائے تو وہاں بینونت کی نسبت قاضی کی تفریق یعنی علت کی طرف نہیں کی جا سکتی۔ تو جب حکم کی نسبت علت کی طرف نہ کی جا سکے تو پھر حکم کی نسبت شرط کی طرف کر دی جاتی ہے اور آپ جانتے ہیں کہ بینونت کے لیے تین حیض شرط ہیں۔ کوئی خاوند اپنی بیوی کو طلاقِ رجعی دے دے تو عورت جو ہے تین حیض گزارنے کے بعد خاوند سے بائنہ ہو جائے گی، جدا ہو جائے گی اور وہ جہاں چاہے نکاح کر سکتی ہے۔ معلوم ہوا تین حیض گزارنا یہ شرط ہے بینونت کے لیے۔ تو جب دار الحرب کے اندر بینونت کی نسبت علت یعنی قاضی کی تفریق کی طرف نہیں کی جا سکتی تو پھر اس بینونت کی نسبت شرط یعنی تین حیضوں کی طرف کر دی جائے گی، ان تین حیضوں کو ہی علت یعنی قاضی کی تفریق کے قائم مقام کر دیا جائے گا۔ تو وہاں پر وہ عورت جب تین حیض گزار لے گی تو خاوند اور بیوی میں جدائی آ جائے گی۔ تو حکم کی نسبت جب علت کی طرف نہ کی جا سکے تو حکم کی نسبت شرط کی طرف کی جاتی ہے جیسے دار الحرب کے اندر بینونت کی نسبت قاضی کی تفریق کی طرف نہیں ہو سکتی تو پھر اس کی نسبت شرط یعنی تین حیضوں کی طرف کر دی جائے گی اور تین حیض گزارنے پر وہ بیوی خاوند سے جدا ہو جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہی بیان کر رہے ہیں: کہتے ہیں: ”كَمَا يُقَامُ مُضِيُّ ثَلَاثِ حِيَضٍ مَّقَامَ التَّفْرِيْقِ“ جیسے کہ تین حیضوں کا گزرنا اس کو قائم مقام کیا جائے گا تفریق کے یعنی قاضی کی تفریق کے کہ قاضی ان میں جدائی کرواتا ہے۔ تو کہتے ہیں ”كَمَا يُقَامُ مُضِيُّ ثَلَاثِ حِيَضٍ مَّقَامَ التَّفْرِيْقِ“ جیسے کہ تین حیضوں کا گزرنا اس کو قاضی کی تفریق کے قائم مقام کر دیا جائے گا ”فِيْمَا إِذَا أَسْلَمَ أَحَدُ الزَّوْجَيْنِ فِيْ دَارِ الْحَرْبِ“ اس صورت میں جب کہ میاں بیوی میں سے کوئی ایک دار الحرب میں مسلمان ہو جائے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہاں پر ایک اعتراض ہوتا ہے۔ اعتراض یہ ہوتا ہے کہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہ مستامن جو دار الاسلام سے مسلمان غلام کو خرید کر لے گیا، جیسے ہی یہ دار الحرب میں داخل ہو گا اس مسلمان غلام کو لے کر تو یہ مسلمان غلام آزاد ہو جائے گا۔ تو اس پر اشکال ہوتا ہے کہ اپنے دار کے اندر کسی چیز کو لانا یہ تو ملکیت کا سبب ہوتا ہے جیسے آپ نے پڑھا پیچھے کہ مسلمان جب مالِ غنیمت کو اپنے دار میں یعنی دار الاسلام میں لائیں گے تو مسلمان مالک بن جائیں گے۔ حربیوں کی ملکیت تو ختم ہوئی لیکن مسلمانوں کی ملکیت تو ثابت ہو گئی۔ اسی طرح حربی جو ہیں جب ہمارا مال لوٹ کر اپنے ملک لے کر جائیں گے تو مسلمانوں کی ملکیت تو ختم ہوئی لیکن حربی تو اس کے مالک بن گئے۔ معلوم ہوا کسی مال کو اپنے دار کے اندر لانا یہ تو مالک ہونے کا سبب ہے، لہٰذا آپ اس کو زوالِ ملکیت کا سبب قرار نہیں دے سکتے۔ آپ نے کیا کہا کہ حربی اس مسلمان غلام کو جیسے ہی اپنے دار میں لے کر جائے گا تو یہ مسلمان غلام آزاد ہو جائے گا حالانکہ اپنے دار کے اندر مال کو لانا یہ تو مالک ہونے کا سبب ہے اور آپ اس کو زوالِ ملکیت کا سبب قرار دے رہے ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو علماء اس کا جواب دیتے ہیں کہ یہاں دونوں صورتوں میں فرق ہے۔ ایک صورت یہ ہے کہ حربی دار الاسلام پر حملہ آور ہوتے ہیں اور کسی مسلمان غلام کو پکڑ کر دار الحرب لے جاتے ہیں تو وہ مالک بن جائیں گے، اور ایک صورت یہ ہے کہ کوئی حربی امان لے کر دار الاسلام آتا ہے اور وہ کسی مسلمان غلام کو خریدتا ہے تو جیسے ہی وہ اس مسلمان غلام کو لے کر دار الحرب میں داخل ہو گا تو یہ مسلمان غلام آزاد ہو جائے گا۔ وجہ یہ کہ جب حربی امان لے کر دار الاسلام میں آیا اور اس نے ایک مسلمان غلام کو خریدا تو یہ مسلمان غلام مستحق بن گیا اس بات کا کہ اس پر سے حربی کی ملکیت کو ختم کیا جائے۔ حربی دار الاسلام آیا ہے اس نے غلام خریدا تو یہیں پر وہ حربی اس غلام کا مالک بن گیا، وہ حربی جو مستامن ہے وہ اس مسلمان غلام کا مالک بن گیا۔ تو یہ مسلمان غلام یہ مستحق ہو گیا اس بات کا کہ اس پر سے حربی کی ملکیت کو ختم کیا جائے تاکہ مسلمان کو کافر کے ماتحت ہونے کی ذلت سے نجات دلائی جائے بھئی۔ اور جب ہم حربی کی ملکیت کو اس پر سے ختم نہ کر سکے اور اسی طرح حربی اس کو دار الحرب لے گیا تو وہاں خود بخود اس کی ملکیت ختم ہو جائے گی تباینِ دار کی وجہ سے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں جب حربی دار الاسلام پر حملہ آور ہوتے ہیں اور یہاں پر وہ کسی مسلمان غلام کو قید کر لیتے ہیں تو جب تک یہ دار الاسلام میں ہیں یہ اس مسلمان غلام کے مالک ہی نہیں بنے۔ جب یہ اس کے مالک نہیں بنے تو ابھی بھی غلام اس بات کا مستحق نہیں ہوا کہ اس پر سے حربی کی ملکیت ختم کی جائے۔ ابھی بھی غلام اس بات کا مستحق نہیں ہوا کہ اس پر سے حربی کی ملکیت ختم کی جائے کیونکہ حربی کی ملکیت ہے ہی نہیں تو اس کو ختم کرنے کا کیا معنیٰ؟ ملکیت تو تب ختم کریں گے جب پہلے ملکیت ثابت تو ہو جائے۔ تو جب حربیوں نے ایک مسلمان غلام کو دار الاسلام میں پکڑ لیا تو یہ مسلمان غلام ابھی تک اس حربی کی ملکیت کے ختم کرنے کا مستحق نہیں ہوا بھئی۔ تو معلوم ہوا یہ اس غلام سے مختلف ہے۔ وہ جو حربیِ مستامن نے خریدا تھا وہ حربی کی ملکیت کے ختم کرنے کا مستحق ہو چکا تھا اور یہ غلام جس کو حربیوں نے قید کر لیا ہے یہ غلام حربیوں کی ملکیت کے ختم کرنے کا ابھی بھی مستحق نہیں ہوا کیونکہ ابھی تک حربی اس کے مالک ہی نہیں بنے، وہ مالک ہی تب بنیں گے جب اس کو اپنے دار میں لے جائیں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو معلوم ہوا دونوں صورتوں میں فرق ہے۔ وہ اور صورت ہے کہ حربی مسلمان غلام کو پکڑ کر دار الحرب لے جائیں گے تو وہ پھر مالک بنیں گے، اور یہ اور صورت ہے کہ حربی یہ مستامن یہاں سے وہ مسلمان غلام کو خرید کر لے کر جائے گا تو جیسے ہی دار الحرب میں جائے گا وہ آزاد ہو جائے گا کیونکہ یہ غلام مستحق ہو چکا تھا کہ اس پر سے حربی کی ملکیت کو ختم کیا جائے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ آگے دیکھیے بھئی: ”وَإِذَا أَسْلَمَ عَبْدٌ لِحَرْبِيٍّ ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْنَا أَوْ ظُهِرَ عَلَى الدَّارِ فَهُوَ حُرٌّ“ صورتِ مسئلہ یہ بھئی: حربی کا کوئی غلام مسلمان ہوا اور مسلمان ہو کر دار الاسلام آ گیا، یاد رکھو یہ مسلمان اب آزاد ہو گیا۔ یہ مسلمان آزاد ہو گیا کیونکہ یہ مسلمان ہو کر دار الاسلام آیا ہے تو اس نے اپنی جان کو محفوظ کر لیا۔ اسی طرح اگر مسلمانوں نے دار الحرب پر قبضہ کر لیا اور اس کو بھی دار الاسلام میں شامل کر لیا اور وہاں ایک حربی کا غلام تھا جو مسلمان تھا بھئی تو اس صورت کے اندر بھی وہ غلام آزاد ہو جائے گا۔ حربی کا ایک مسلمان غلام تھا اور مسلمانوں نے دار الحرب پر قبضہ کر لیا تو حربی کا یہ مسلمان غلام آزاد ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا أَسْلَمَ عَبْدٌ لِحَرْبِيٍّ“ اور جب کسی حربی کا کوئی غلام مسلمان ہو گیا ”ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْنَا“ پھر وہ غلام ہماری طرف نکل آیا یعنی دار الاسلام آ گیا ”أَوْ ظُهِرَ عَلَى الدَّارِ“ یا غلبہ پا لیا گیا اس دار الحرب پر ”فَهُوَ حُرٌّ“ تو وہ غلام آزاد ہے ”وَكَذٰلِكَ إِذَا خَرَجَ عَبِيْدُهُمْ إِلَى عَسْكَرِ الْمُسْلِمِيْنَ فَهُمْ أَحْرَارٌ“ ”وَكَذٰلِكَ“ اور اسی طرح ”إِذَا خَرَجَ عَبِيْدُهُمْ إِلَى عَسْكَرِ الْمُسْلِمِيْنَ“ جب حربیوں کے غلام جو ہیں وہ مسلمانوں کے لشکر کی طرف نکل آئیں یعنی مسلمان ہو کر ان کے غلام مسلمانوں کے لشکر کی طرف نکل آئیں ”فَهُمْ أَحْرَارٌ“ تو وہ آزاد ہیں۔ مسلمانوں کا لشکر جہاد کے لیے دار الحرب گیا اور ان حربیوں کے کچھ غلام مسلمان ہو کر مسلمانوں کے لشکر میں آ گئے تو یاد رکھو یہ سب غلام بھی آزاد شمار ہوں گے۔ تو کہتے ہیں ”وَكَذٰلِكَ“ اور اسی طرح ”إِذَا خَرَجَ عَبِيْدُهُمْ إِلَى عَسْكَرِ الْمُسْلِمِيْنَ“ جب حربیوں کے غلام مسلمانوں کے لشکر کی طرف نکل آئیں ”فَهُمْ أَحْرَارٌ“ تو وہ آزاد ہیں ”لِمَا رُوِيَ“ اس حدیث کی وجہ سے جس کو روایت کیا گیا ہے ”أَنَّ عَبِيْدًا مِّنْ عَبِيْدِ الطَّائِفِ أَسْلَمُوْا“ کہ طائف کے غلاموں میں سے کچھ غلام مسلمان ہوئے، حضور علیہ السلام لشکر لے کر طائف پر حملہ آور ہوئے بھئی، تو طائف والوں کے کچھ غلام مسلمان ہو کر مسلمانوں کے لشکر میں آ گئے تو حضور علیہ السلام نے ان کو آزاد قرار دیا بھئی۔ تو کہتے ہیں ”لِمَا رُوِيَ“ بوجہ اس حدیث کے جس کو روایت کیا گیا ہے ”أَنَّ عَبِيْدًا مِّنْ عَبِيْدِ الطَّائِفِ أَسْلَمُوْا“ کہ طائف کے غلاموں میں سے کچھ غلام مسلمان ہوئے ”وَخَرَجُوْا إِلَى رَسُوْلِ اللّٰهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ“ اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نکل آئے ”فَقَضَى بِعِتْقِهِمْ“ تو حضور علیہ السلام نے ان کی آزادی کا فیصلہ فرمایا ”وَقَالَ“ اور حضور علیہ السلام نے فرمایا ”هُمْ عُتَقَاءُ اللّٰهِ“ یہ اللہ کے آزاد کردہ ہیں۔ یہ غلام اللہ کے آزاد کردہ ہیں۔ ”وَلِأَنَّهُ أَحْرَزَ نَفْسَهُ بِالْخُرُوْجِ إِلَيْنَا“ یہاں سے عقلی دلیل ذکر کر رہے ہیں کہ یہ جو غلام جو مسلمان ہو کر دار الاسلام آ گیا یا جو مسلمان ہو چکا تھا اور اس کے بعد مسلمانوں نے دار الحرب پر قبضہ کر لیا یا یہ غلام جو مسلمان ہو کر مسلمانوں کے لشکر میں آ گئے، یہ سب آزاد شمار ہوں گے کیونکہ مسلمان ہو کر انہوں نے اپنی جان محفوظ کر لی۔ مسلمان ہو کر انہوں نے اپنی جان محفوظ کر لی تو اب اس کی عقلی دلیل ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں ”وَلِأَنَّهُ أَحْرَزَ نَفْسَهُ“ اس لیے کیونکہ اس غلام نے اپنی جان کو محفوظ کر لیا ”بِالْخُرُوْجِ إِلَيْنَا“ ہماری طرف نکلنے کی وجہ سے ”مُرَاغِمًا لِّمَوْلَاهُ“ اپنے آقا سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے۔ راغم یراغم مراغمة کا معنیٰ ہوتا ہے علیحدگی اختیار کرنا، لیکن ہر علیحدگی نہیں بلکہ ایسی علیحدگی جس کے اندر نفرت اور دشمنی ہو تو صاحبِ ہدایہ کی فصیح و بلیغ عبارات چل رہی ہیں بھئی۔ اور صاحبِ ہدایہ نے ذکر کیا کہ غلام مسلمان ہو کر اپنے آقا کو چھوڑ کر آیا ہے معلوم ہوا یہ چھوڑنا نفرت اور دشمنی کے ساتھ ہے تو اس لیے انہوں نے اس کے لیے ”مُرَاغِمًا“ کا لفظ استعمال فرمایا۔ تو کہتے ہیں ”وَلِأَنَّهُ أَحْرَزَ نَفْسَهُ بِالْخُرُوْجِ إِلَيْنَا“ اور اس لیے کیونکہ اس غلام نے اپنی ذات کو محفوظ کر لیا ہے ہماری طرف نکلنے کی وجہ سے ”مُرَاغِمًا لِّمَوْلَاهُ“ اپنے آقا سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے ”أَوْ بِالِالْتِحَاقِ بِمَنَعَةِ الْمُسْلِمِيْنَ إِذَا ظُهِرَ عَلَى الدَّارِ“ یا اس وجہ سے کہ اس کی جان محفوظ ہو گئی ہے کہ یہ مسلمانوں کے لشکر کے ساتھ مل گیا ہے۔ التحاق کا معنیٰ ہے مل جانا اور منعہ میں نے بتلایا تھا منعہ کا معنیٰ لشکر کے بھی ہیں اور منعہ کے معنیٰ قوت کے بھی ہیں، تو یہاں یہ جو آیا ”بِمَنَعَةِ الْمُسْلِمِيْنَ“ اس سے مراد لشکر ہے بھئی۔ کہتے ہیں ”أَوْ بِالِالْتِحَاقِ بِمَنَعَةِ الْمُسْلِمِيْنَ“ یا اس مسلمان نے اپنی جان محفوظ کر لی ہے مسلمانوں کے لشکر کے ساتھ ملنے کی وجہ سے ”إِذَا ظُهِرَ عَلَى الدَّارِ“ جب ان کفار کے دار پر غلبہ پا لیا گیا۔ بھئی جب کفار کے دار پر غلبہ پا لیا گیا تو یہ غلام پہلے سے مسلمان تھا تو یہ مسلمانوں کے لشکر والوں میں سے ہو گیا، یہ بھی کیا ہوا؟ مسلمانوں کے لشکر والوں میں سے ہو گیا، جب یہ مسلمانوں کے لشکر والوں میں سے ہو گیا تو اس نے اپنی جان محفوظ کر لی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں ”أَوْ بِالِالْتِحَاقِ بِمَنَعَةِ الْمُسْلِمِيْنَ“ یا اس نے اپنی جان محفوظ کر لی اس وجہ سے کہ یہ مسلمانوں کے لشکر کے ساتھ مل گیا ہے ”إِذَا ظُهِرَ عَلَى الدَّارِ“ جب ان کفار کے دار پر غلبہ پا لیا گیا ”وَاعْتِبَارُ يَدِهِ أَوْلَى مِنْ اعْتِبَارِ يَدِ الْمُسْلِمِيْنَ“ صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے بھئی کہ کیا وجہ ہے کہ اس غلام کو آزاد شمار کیا گیا اور اس کو مالِ غنیمت شمار نہیں کیا گیا؟ حالانکہ مسلمانوں نے دار الحرب پر قبضہ کر لیا ہے پھر بھی اس کو آزاد شمار کیا گیا اور اس کو مالِ غنیمت شمار نہیں کیا گیا۔ تو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ ایک ہے اس مسلمان غلام کا اپنی ذات پر قبضہ اور ایک ہے مسلمانوں کا اس پر قبضہ۔ تو جب مسلمانوں نے دار الحرب پر قبضہ کر لیا تو غلام کا اپنی ذات پر قبضہ آ گیا، غلام کا اپنی ذات پر قبضہ آ گیا اور غلام کا قبضہ اپنی ذات پر یہ مقدم ہے لشکر والوں کے قبضے سے۔ مسلمانوں کے لشکر کے قبضے سے مقدم ہے اس غلام کا اپنا قبضہ اپنی ذات پر، توجہ ہے؟ تو مسلمان غلام کا اپنی ذات پر جو قبضہ ہے وہ مقدم ہے اور صرف اب اس قبضے کو پکا کرنے کی ضرورت ہے اور اگر مسلمانوں کے لشکر کا اس پر قبضہ قرار دیا جائے تو وہ ایک نیا قبضہ ثابت کرنا پڑے گا۔ اور ظاہر سی بات ہے کہ ایک ہے تاکید اور ایک ہے کسی چیز کی ابتداء، اور تاکید آسان ہے ابتداء کے مقابلے میں۔ تاکید میں ایک چیز جو پہلے سے موجود ہے اسی کو پکا کر دیا جاتا ہے اور ابتداء کے اندر ایک نئی چیز کو ثابت کیا جاتا ہے۔ تو غلام کا جب اپنی ذات پر قبضہ مقدم ہو گیا تو اب صرف اسی قبضے کو پکا کرنے کی ضرورت ہے لیکن اگر مسلمانوں کے لشکر کا اس پر قبضہ ثابت کرنا ہے تو وہ ایک نیا قبضہ ہے۔ توجہ ہے؟ تو غلام کا اپنی ذات پر جو قبضہ ہے وہ مقدم ہو چکا ہے صرف وہاں تاکید کی ضرورت ہے کہ اسی قبضے کو پختہ قرار دے دیا جائے اور لشکر کا اس پر اگر قبضہ ثابت کرنا ہے وہ تو ایک نیا قبضہ ثابت کرنا پڑے گا اور تاکید کو ثابت کرنا آسان ہے کسی نئی چیز کے مقابلے میں۔ کیونکہ تاکید کے اندر ایک چیز پہلے سے ثابت ہے صرف اس کو پکا کرنا ہے اور ابتداء کے اندر تو ایک نئی چیز کو ثابت کرنا پڑے گا تو تاکید آسان ہے اور بہتر ہے ابتداء کے مقابلے میں۔ تو لہٰذا یہاں پر بھی غلام کے اپنے قبضے کو ہی پکا قرار دے دیا جائے گا اور مسلمانوں کے لشکر کا اس پر نیا قبضہ ثابت نہیں ہو گا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں ”وَاعْتِبَارُ يَدِهِ أَوْلَى مِنْ اعْتِبَارِ يَدِ الْمُسْلِمِيْنَ“ کہتے ہیں ”وَاعْتِبَارُ يَدِهِ“ اور غلام کے اپنے قبضے کا جو اعتبار ہے ”أَوْلَى“ وہ بہتر ہے ”مِنْ اعْتِبَارِ يَدِ الْمُسْلِمِيْنَ“ مسلمانوں کے قبضے کے اعتبار سے۔ ایک صورت یہ ہے کہ غلام کے اپنے قبضے کا اعتبار کیا جائے اور ایک صورت یہ ہے کہ مسلمانوں کے اس پر قبضے کا اعتبار کیا جائے تو غلام کا اپنی ذات پر جو قبضہ ہے اس کا اعتبار کرنا بہتر ہے مسلمانوں کے اس پر قبضے کے اعتبار کرنے کے مقابلے میں۔ تو یہ معنیٰ ہے۔ کہتے ہیں ”وَاعْتِبَارُ يَدِهِ أَوْلَى مِنْ اعْتِبَارِ يَدِ الْمُسْلِمِيْنَ“ اور اس غلام کا اپنی ذات پر جو قبضہ ہے اس کا اعتبار کرنا بہتر ہے مسلمانوں کے قبضے کے اعتبار کرنے سے ”لِأَنَّهَا أَسْبَقُ ثُبُوْتًا عَلَى نَفْسِهِ“ اس لیے کیونکہ غلام کا جو قبضہ ہے ”أَسْبَقُ“ وہ مقدم ہے ”ثُبُوْتًا عَلَى نَفْسِهِ“ اپنی ذات پر ثبوت کے اعتبار سے۔ اس غلام کا اپنی ذات پر جو قبضہ ہے وہ مقدم ہے کس کے قبضے پر؟ اس لشکر والوں کے قبضے سے، مسلمانوں کے لشکر کے قبضے سے مقدم ہے اس غلام کا اپنی ذات پر قبضہ۔ کہتے ہیں ”لِأَنَّهَا أَسْبَقُ ثُبُوْتًا عَلَى نَفْسِهِ“ اس لیے کیونکہ غلام کا جو قبضہ ہے وہ مقدم ہے اپنی ذات پر ثابت ہونے کے اعتبار سے ”فَالْحَاجَةُ فِيْ حَقِّهِ إِلَى زِيَادَةِ تَوْكِيْدٍ“ تو غلام کے اپنے حق میں حاجت جو ہے وہ صرف تاکید کی زیادتی کی ہے۔ غلام کے حق میں صرف تاکید کی زیادتی کی حاجت ہے، وہی قبضہ جو پہلے سے ثابت ہے اسی کو پکا کر دیا جائے، تو کہتے ہیں ”فَالْحَاجَةُ فِيْ حَقِّهِ إِلَى زِيَادَةِ تَوْكِيْدٍ“ تو غلام کے حق میں جس چیز کی حاجت ہے وہ صرف تاکید کی زیادتی ہے ”وَفِيْ حَقِّهِمْ إِلَى إِثْبَاتِ الْيَدِ ابْتِدَاءً“ اور مسلمانوں کے حق میں جس چیز کی حاجت ہے وہ ابتداءً ایک نئے قبضے کو ثابت کرنا ہے ”فَكَانَ أَوْلَى“ لہٰذا غلام کے قبضے کا اعتبار کرنا اولیٰ ہے، بہتر ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيْقَةِ الْكَلَامِ۔