آگے سبق دیکھیے بھئی: بَابُ الْمُسْتَأْمَنِ ”وَإِذَا دَخَلَ الْمُسْلِمُ دَارَ الْحَرْبِ تَاجِرًا فَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَتَعَرَّضَ بِشَيْءٍ مِنْ أَمْوَالِهِمْ وَلَا مِنْ دِمَائِهِمْ لِأَنَّهُ ضَمِنَ أَنْ لَا يَتَعَرَّضَ لَهُمْ بِالِاسْتِئْمَانِ فالتَّعَرُّضُ بَعْدَ ذَلِكَ يَكُونُ غَدْرًا وَالْغَدْرُ حَرَامٌ“ بھئی گزشتہ سبق میں آپ نے مسئلہ پڑھا تھا کہ اگر کوئی حربی امان لے کر دار الاسلام میں داخل ہوا اور یہاں اس نے کسی مسلمان غلام کو خرید لیا اور پھر اس مسلمان غلام کو لے کر وہ دار الحرب چلا گیا، تو امام صاحب کے نزدیک دار الحرب کے اندر داخل ہوتے ہی یہ مسلمان غلام آزاد ہو جائے گا، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ یہ غلام آزاد نہیں ہوگا بلکہ یہ اسی حربی کا مملوک رہے گا۔ صاحبین فرماتے ہیں وجہ یہ ہے کہ حربی یہاں آ کر جب مسلمان غلام کا مالک بنا، تو یہ غلام اس بات کا مستحق ہو گیا کہ اس پر سے حربی کی ملکیت کو ختم کیا جائے اور حربی کی ملکیت کو ختم کرنے کا ایک معین طریقہ تھا کہ قاضی اس حربی کو حکم دے کہ اس غلام کو بیچ دو اور اگر وہ خود نہیں بیچتا تو پھر قاضی اس غلام کو بیچ کر وہ ثمن حربی کے حوالے کر دیتا لیکن اب تو وہ حربی مسلمان غلام کو لے کر دار الحرب جا چکا ہے اور وہاں پر قاضی کو ولایت حاصل نہیں ہے، اب اس غلام پر سے حربی کی ملکیت ختم کرنے کی کوئی صورت نہ رہی لہٰذا یہ غلام اب بھی اسی حربی کا مملوک رہے گا۔ جبکہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حربی ایک مسلمان غلام کا مالک ہوا ہے اور مسلمان غلام کو کافر کے ذلت سے چھڑانا واجب ہے، یہ بات مسلمان غلام کے لیے ذلت کا باعث ہے کہ وہ کسی کافر کا غلام بن کر رہے، لہٰذا اس کافر کی غلامی سے اس کو نجات دلانا ضروری ہے کہ اس کافر کی ملکیت اس پر سے ختم کی جائے۔ تو جب تک یہ مستأمن دار الاسلام میں ہے ہم غلام کو ویسے ہی آزاد نہیں کر سکتے کیونکہ حربی کو ہم نے امان دی ہے، اس کی جان بھی محترم ہے اور اس کا مال بھی محترم ہے، لہٰذا یہاں پر اس کے مال کا عوض دے کر اس غلام کو آزاد کروایا جائے گا لیکن یہ تو غلام کو لے کر دار الحرب جا چکا تو جب یہ دار الحرب میں گیا تو اس حربی کی جان کی عصمت بھی ختم اور مال کی عصمت بھی ختم، تو اب اس حربی کی ملکیت اس مسلمان غلام پر سے ویسے ہی بلا عوض ہی ختم کی جائے گی یعنی اس مسلمان غلام کو آزاد کروایا جائے گا لیکن قاضی کو تو وہاں پر ولایت حاصل نہیں قاضی وہاں پر تو مسلمان غلام کو آزاد نہیں کروا سکتا۔ تو یہاں پر، تو یہاں پر حربی کی ملکیت کو ختم کرنا یہ ہے حکم اور اس کی علت جو ہے قاضی کا اعتاق ہے کہ قاضی کیا کرے اس غلام کو آزاد کروا دے، چنانچہ اس حربی کی ملکیت اس غلام پر سے ختم ہو جائے گی لیکن اس حربی کی ملکیت کے ختم کرنے کی نسبت قاضی کے اعتاق یعنی علت کی طرف نہیں ہو سکتی اور جب حکم کی نسبت علت کی طرف نہ کی جا سکے تو پھر علت کی نسبت کبھی سبب کی طرف کی جاتی ہے اور کبھی پھر شرط کی طرف کی جاتی ہے، تو یہاں پر بھی اس حربی کی ملکیت کے ختم کرنے کی نسبت شرط یعنی تباینِ دار کی طرف کر دی جائے گی۔ آپ جانتے ہیں کہ مسلمان جب مال غنیمت لے کر آتے ہیں تو جب دار الاسلام میں داخل ہوتے ہیں تو حربیوں کی ملکیت اس پر سے ختم ہو جاتی ہے اور مسلمان اس کے مالک بن جاتے ہیں، معلوم ہوا تباینِ دار کی وجہ سے ملکیت ختم ہو جاتی ہے۔ اسی طرح حربی ہمارا مال لوٹ کر لے کر جاتے ہیں تو جب وہ دار الحرب لے جاتے ہیں تو تب مسلمانوں کی اس مال پر سے ملکیت ختم ہو جاتی ہے، تو معلوم ہوا تباینِ دار جو ہے وہ ملکیت ختم کرنے کے لیے شرط ہے، تباینِ دار ہوگا تو ملکیت ختم ہوگی تباینِ دار نہیں تو ملکیت بھی ختم نہیں، تو لہٰذا یہاں پر بھی اس حربی کی ملکیت کے ختم کرنے کی نسبت جب علت یعنی اعتاقِ قاضی کی طرف نہیں ہو سکتی تو پھر اس کی نسبت ازالۂ ملکیت کے لیے جو شرط ہے یعنی تباینِ دار اس کی طرف کر دی جائے گی، لہٰذا یہ حربی اس مسلمان غلام کو لے کر جیسے ہی دار الحرب میں داخل ہوگا تو وہ مسلمان غلام خود بخود آزاد ہو جائے گا۔ اور صاحبِ ہدایہ نے اس کی مثال بھی ذکر کی تھی کہ دار الاسلام کے اندر اگر میاں بیوی میں سے کوئی ایک مسلمان ہو جائے تو قاضی دوسرے پر اسلام کو پیش کرتا ہے اور جب وہ اسلام سے انکار کر دے تو یہ اسلام سے انکار سبب بنتا ہے بینونت اور جدائی کا اور پھر قاضی اس کی وجہ سے دونوں میں تفریق کروا دیتا ہے، تو معلوم ہوا دار الاسلام میں میاں بیوی میں سے کوئی ایک مسلمان ہو جائے تو بینونت کے لیے جو علت ہے وہ تفریقِ قاضی ہے کہ قاضی ان میں تفریق کروا دے جدائی کروا دے لیکن اگر دار الحرب کے اندر میاں بیوی میں سے کوئی ایک مسلمان ہو جائے تو وہاں پر بھی اب بینونت چاہیے لیکن بینونت کی نسبت تفریقِ قاضی کی طرف نہیں کی جا سکتی کیونکہ وہاں پر قاضی کو ولایت حاصل ہی نہیں ہے قاضی وہاں دونوں میں تفریق نہیں کروا سکتا تو پھر اس صورت کے اندر اس بینونت کی نسبت شرط کی طرف کر دی جائے گی۔ آپ جانتے ہیں کہ کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاقِ رجعی دے دے تو بینونت کے لیے عدت کا گزارنا شرط ہے عورت عدت گزارے گی یعنی تین حیض گزارے گی اس کے بعد بینونت آگئی جدائی آگئی اب عورت جہاں چاہے نکاح کر سکتی ہے، معلوم ہوا تین حیضوں کا گزرنا یہ بینونت کے لیے شرط ہے، تو دار الحرب کے اندر جب میاں بیوی میں سے کوئی ایک مسلمان ہو گیا تو اب بینونت کی نسبت قاضی کی تفریق کی طرف تو نہیں کی جا سکتی کیونکہ قاضی کو وہاں ولایت نہیں ہے تو وہاں بینونت کی نسبت پھر بینونت کی جو شرط ہے یعنی تین حیضوں کا گزارنا اس کی طرف کر دی جائے گی اور وہ عورت جب تین حیض گزار لے گی تو میاں بیوی کے درمیان جدائی آجائے گی لیکن اگر تین حیض گزرنے سے پہلے وہ دوسرا شخص بھی مسلمان ہو گیا، خاوند اور بیوی میں سے ایک تو پہلے ہی مسلمان ہو چکا ہے اگر دوسرا بھی مسلمان ہو گیا تو پھر یہ اسی طرح میاں بیوی رہیں گے۔ بات سمجھ میں آگئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ اگر دار الحرب کے اندر کوئی غلام مسلمان ہو گیا اور پھر وہ بھاگ کر دار الاسلام آگیا یا وہیں پر مسلمانوں نے غلبہ حاصل کر لیا اور اس علاقے کو دار الاسلام بنا دیا گیا یا کفار کے غلام مسلمان ہو گئے اور بھاگ کر مسلمانوں کے لشکر میں آگئے تو ان تمام صورتوں میں یہ غلام آزاد ہو جائیں گے اور دلیل ذکر کی تھی کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف طائف کے غلام مسلمان ہو کر نکل کر آئے تھے تو حضور علیہ السلام نے ان سب کو آزاد قرار دیا اور فرمایا: ”هُمْ عُتَقَاءُ اللَّهِ“ یہ اللہ کے آزاد کردہ ہیں، یہ اللہ کے آزاد کردہ ہیں، اور نیز عقلی دلیل بھی صاحبِ ہدایہ نے ذکر کی تھی کہتے ہیں اس لیے کیونکہ غلام جب مسلمان ہو کر دار الاسلام آگیا یا مسلمانوں کے لشکر کی طرف آگیا تو اس نے اپنی جان کو محفوظ کر لیا، اس نے اپنی جان کو محفوظ کر لیا، اور یہاں پر ایک قبضہ ہے اس مسلمان غلام کا اپنی ذات پر اور ایک قبضہ ہے لشکر والوں کا اس کی ذات پر، تو مسلمان غلام کا اپنی ذات پر جو قبضہ ہے اس کا اعتبار کرنا بہتر ہے بجائے اس کے کہ لشکر کے قبضے کا اعتبار کیا جائے، وجہ یہ کہ مسلمان غلام کا اپنی ذات پر جو قبضہ ہے وہ لشکر کے قبضے پر مقدم ہے تو غلام کے حق میں صرف اسی قبضے کو پکا کرنے کی حاجت ہے۔ مسلمان غلام کو تو اپنی ذات پر پہلے سے ہی قبضہ حاصل ہے صرف اسی قبضے کو پکا کرنے کی ضرورت ہے اور اگر لشکر کا قبضہ اس پر ثابت کیا جائے تو وہ ابتداءً ایک نیا قبضہ ثابت کرنا پڑے گا اور تاکید جو ہے وہ آسان ہوتی ہے ابتداء کے مقابلے میں، تاکید کے اندر ایک چیز پہلے سے ثابت ہے اسی کو پکا قرار دینا ہے اور ابتداء کے اندر ایک نئی چیز کو ثابت کرنا پڑتا ہے تو تاکید آسان ہے ابتداء کے مقابلے میں کیونکہ تاکید میں کوئی نئی چیز نہیں ثابت کرنا پڑتی بلکہ اسی ثابت شدہ چیز کو پختہ اور پکا قرار دینا پڑتا ہے، تو لہٰذا اس مسلمان غلام کا اپنی ذات پر قبضہ مقدم ہے اور اسی کو پکا قرار دے دیا جائے گا بھئی، اسی کو پکا قرار دے دیا جائے گا اور یہ آزاد شمار ہوگا بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی۔ اب آئیے آج کے سبق پر: ”بَابُ الْمُسْتَأْمَنِ“ یہ باب ہے مستأمن کے بیان میں، آپ جانتے ہیں کہ کوئی حربی امان لے کر دار الاسلام میں آ جائے تو اس کو مستأمن کہتے ہیں یعنی امان لینے والا، مستأمن کا کیا معنی؟ امان لینے والا۔ اسی طرح یاد رکھو کہ مسلمان بھی تجارت وغیرہ کی غرض سے دار الحرب جاتے ہیں تو وہ بھی امان لے کر جاتے ہیں، تو کوئی مسلمان امان لے کر دار الحرب چلا جائے تو وہ بھی مستأمن ہے، حربی دار الاسلام میں امان لے کر آئے وہ بھی مستأمن اور کوئی مسلمان امان لے کر دار الحرب جائے وہ بھی مستأمن ہے، تو اس باب میں مستأمن کے احکام بیان فرمائیں گے۔ صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ مسلمان جب امان لے کر دار الحرب گیا ہے تو اس نے گویا ان لوگوں کو ضمانت دے دی ہے کہ میں تمہاری جان اور مال کو کوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گا، ویسے تو دار الحرب والوں کے ساتھ ہم حالتِ جنگ میں ہیں لیکن جب مسلمان امان لے کر وہاں جاتا ہے تو وہ ان کو ضمانت دے رہا ہے کہ میں یہاں تمہاری جان اور مال کو کوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گا، لہٰذا مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ جب وہ امان لے کر دار الحرب جائے تو وہاں کسی چیز کو نقصان پہنچائے اور ان کو دھوکا دے۔ مسلمان کے لیے ان کو دھوکا دینا جائز نہیں ہے کیونکہ اگر یہ ان کے مال کو نقصان پہنچائے گا یا ان میں سے کسی کی جان کو نقصان پہنچاتا ہے یہ تو مسلمان دھوکا دے رہا ہے اس نے ایک وعدہ کیا تھا وعدہ خلافی کر رہا ہے اور دھوکا دینا یہ تو حرام ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی۔ تو کہتے ہیں: ”بَابُ الْمُسْتَأْمَنِ“ یہ باب ہے مستأمن کے بیان میں، ”وَإِذَا دَخَلَ الْمُسْلِمُ دَارَ الْحَرْبِ تَاجِرًا“ اور جب کوئی مسلمان دار الحرب میں تاجر ہو کر داخل ہوا ”فَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَتَعَرَّضَ بِشَيْءٍ مِنْ أَمْوَالِهِمْ وَلَا مِنْ دِمَائِهِمْ“ تو اس مسلمان کے لیے حلال نہیں ہے کہ کسی بھی چیز سے تعرض کرے ان کے اموال اور ان کے خونوں میں سے، ان کے اموال اور خون میں سے کسی چیز کے ساتھ تعرض کرنا مسلمان کے لیے جائز نہیں۔ یاد رکھنا یہ ”مِنْ أَمْوَالِهِمْ وَلَا مِنْ دِمَائِهِمْ“ یہ ”شَيْءٍ“ کا بیان ہے، یہ بیان ہے، یہ ”مِنْ“ کس لیے آتا ہے؟ بیان کے لیے، مسلمان کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ کسی چیز کے ساتھ تعرض کرے، اور پھر کسی چیز سے کیا مراد ہے؟ کہتے ہیں: ”مِنْ أَمْوَالِهِمْ وَلَا مِنْ دِمَائِهِمْ“ یعنی ان کے مال اور ان کے جو خون ہیں۔ تو یہ جو ”مِنْ أَمْوَالِهِمْ وَلَا مِنْ دِمَائِهِمْ“ آیا یہ بیان ہے ”شَيْءٍ“ کا، لہٰذا ترجمے کے اندر ”شَيْءٍ“ کی جگہ اسی بیان کو لے آئیں، تو یوں ترجمہ کریں: ”فَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَتَعَرَّضَ بِشَيْءٍ مِنْ أَمْوَالِهِمْ وَلَا مِنْ دِمَائِهِمْ“ تو مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ ان کفار کے مالوں اور خونوں کے ساتھ تعرض کرے، ترجمہ سمجھ میں آگیا۔ ”لِأَنَّهُ ضَمِنَ أَنْ لَا يَتَعَرَّضَ لَهُمْ بِالِاسْتِئْمَانِ“ ”لِأَنَّهُ ضَمِنَ“ کیونکہ مسلمان نے ان کو ضمانت دی ہے ”أَنْ لَا يَتَعَرَّضَ لَهُمْ“ کہ وہ ان سے تعرض نہیں کرے گا یعنی کسی چیز میں ان کے جان اور مال کو کوئی نقصان نہیں دے گا، کہ اس نے ضمانت دی ہے ”أَنْ لَا يَتَعَرَّضَ لَهُمْ“ کہ وہ ان سے تعرض نہیں کرے گا ”بِالِاسْتِئْمَانِ“ امان لینے کی وجہ سے، مسلمان نے ضمانت دی ہے ”بِالِاسْتِئْمَانِ“ کس کی وجہ سے؟ امان لینے کی وجہ سے اس نے گویا ضمانت دی ہے ان کو، ”فَالتَّعَرُّضُ بَعْدَ ذَلِكَ يَكُونُ غَدْرًا“ تو اس کے بعد یعنی امان لینے کے بعد پھر تعرض کرنا یہ غدر ہے یہ دھوکا ہے، غدر کسے کہتے ہیں؟ دھوکا اور عہد شکنی کرنا معاہدے کو توڑنا، تو کہتے ہیں ”فَالتَّعَرُّضُ بَعْدَ ذَلِكَ يَكُونُ غَدْرًا“ تو اس کے بعد تعرض کرنا جو ہے وہ دھوکا اور عہد شکنی ہے ”وَالْغَدْرُ حَرَامٌ“ اور دھوکا تو حرام ہے یا یوں ترجمہ کر لیں ”وَالْغَدْرُ حَرَامٌ“ اور عہد شکنی تو حرام ہے۔ ”إِلَّا إِذَا غَدَرَ بِهِمْ مَلِكُهُمْ“ مگر اس صورت میں کہ جب کفار کا بادشاہ ان سے بد عہدی کرے، وہ اپنا معاہدہ توڑ دے۔ بھئی مسلمان وہاں گیا ہے امان لے کر گیا ہے گویا مسلمان میں اور ان میں معاہدہ ہو گیا کہ وہ مسلمان کی جان اور مال کو کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے اور مسلمان ان کے جان اور مال کو نقصان نہیں پہنچائے گا، تو مسلمان کے لیے عہد شکنی جائز نہیں لیکن اگر ان کی طرف سے عہد شکنی ہوئی یعنی ان کا بادشاہ عہد شکنی کرتا ہے تو پھر اس صورت میں مسلمان ان کے جان اور مال سے تعرض کر سکتا ہے بھئی، تو کہتے ہیں ”إِلَّا إِذَا غَدَرَ بِهِمْ مَلِكُهُمْ“ مگر یہ کہ مسلمانوں کے ساتھ ان کا بادشاہ جو ہے وہ عہد شکنی کرے، کس طرح عہد شکنی کرے گا؟ اس کی صورت بھی بتلا رہے ہیں کہ بادشاہ ان کا عہد شکنی کرے ”فَأَخَذَ أَمْوَالَهُمْ“ تو مسلمانوں کا مال لے لے ”أَوْ حَبَسَهُمْ“ یا مسلمانوں کو قید کر دے ”أَوْ فَعَلَ غَيْرُهُ بِعِلْمِ الْمَلِكِ“ یا بادشاہ کے علاوہ کوئی اور جو ہے اس طرح کرے ”بِعِلْمِ الْمَلِكِ“ بادشاہ کے جانتے ہوئے یعنی کفار کے بادشاہ کو علم ہے اور کوئی شخص مسلمانوں کو جانی یا مالی نقصان پہنچا رہا ہے تو پھر اس صورت میں معلوم ہوا ان کفار نے عہد شکنی کی ہے بھئی تو اب مسلمان بھی اس معاہدے کا پابند نہیں اب وہ ان کے جان اور مال سے تعرض کر سکتا ہے۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: ”إِلَّا إِذَا غَدَرَ بِهِمْ مَلِكُهُمْ“ مگر یہ کہ کفار کا بادشاہ مسلمانوں کے ساتھ عہد شکنی کرے ”فَأَخَذَ أَمْوَالَهُمْ أَوْ حَبَسَهُمْ“ تو مسلمانوں کے مالوں کو وہ لے لے ”أَوْ حَبَسَهُمْ“ یا مسلمانوں کو وہ قید کر دے ”أَوْ فَعَلَ غَيْرُهُ بِعِلْمِ الْمَلِكِ“ یا بادشاہ کے علاوہ کوئی اور کرے بادشاہ کے جانتے ہوئے ”وَلَمْ يَمْنَعْهُ“ اور حال یہ ہے کہ بادشاہ ان کو منع نہیں کرتا، بادشاہ کے جانتے ہوئے کوئی اور اس طرح کر رہا ہے اور بادشاہ ان کو منع نہیں کر رہا تو پھر اس کو اجازت ہے تعرض کی، ”لِأَنَّهُمْ هُمُ الَّذِينَ نَقَضُوا الْعَهْدَ“ اس لیے کیونکہ وہی ہیں جنہوں نے معاہدے کو توڑ دیا ہے، نقض کا کیا معنی؟ توڑنا، ”لِأَنَّهُمْ هُمُ الَّذِينَ نَقَضُوا الْعَهْدَ“ اس لیے کیونکہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے معاہدے کو توڑ دیا ہے۔ ”بِخِلَافِ الْأَسِيرِ“ اسیر کہتے ہیں قیدی کو، بخلاف مسلمان قیدی کے، بھئی اگر کوئی مسلمان قیدی ان کے پاس ہے وہ یہاں سے پکڑ کر لے گئے تھے اور پھر اس قیدی کو وہ چھوڑ دیتے ہیں تو اس قیدی کے لیے ان کے جان اور مال سے تعرض جائز ہے، اس قیدی کے لیے ان کے جان اور مال سے تعرض جائز ہے اس لیے کیونکہ اس نے ان کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں کیا ہوا امان والا، ہاں اگر انہوں نے قیدی کو چھوڑتے ہوئے اس کے ساتھ معاہدہ کیا کہ تم یہاں کسی کے جان یا مال کو نقصان نہیں پہنچاؤ گے پھر اس مسلمان قیدی پر بھی یہ لازم ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں ”بِخِلَافِ الْأَسِيرِ“ بخلاف قیدی کے ”لِأَنَّهُ غَيْرُ مُسْتَأْمِنٍ“ اس لیے کیونکہ وہ تو مستأمن نہیں ہے ”فَيُبَاحُ لَهُ التَّعَرُّضُ“ تو اس کے لیے تعرض کرنا مباح ہے ”وَإِنْ أَطْلَقُوهُ طَوْعًا“ اطلق یطلق اطلاق کا معنی ہے آزاد کرنا، تو کہتے ہیں ”فَيُبَاحُ لَهُ التَّعَرُّضُ“ تو اس مسلمان قیدی کے لیے ان سے تعرض جائز ہوگا ”وَإِنْ أَطْلَقُوهُ طَوْعًا“ اگرچہ انہوں نے اس کو خوشی سے آزاد کیا ہو، چاہے وہ خوشی سے ہی قیدی کو آزاد کر دیں پھر بھی مسلمان قیدی کے ہاتھ جو مال آئے یا جس کو وہ قتل کر سکے وہ اس کے لیے جائز ہے بھئی کیونکہ دار الحرب والوں سے ہم حالتِ جنگ میں ہیں بھئی، تو کہتے ہیں ”وَإِنْ أَطْلَقُوهُ طَوْعًا“ اگرچہ وہ مسلمان قیدی کو خوشی سے چھوڑ دیں ”فَإِنْ غَدَرَ بِهِمْ“ پھر اگر اس نے ان کے ساتھ عہد شکنی کی ”أَعْنِي التَّاجِرَ“ یعنی کہ تاجر، صاحبِ ہدایہ بتلانا چاہتے ہیں کہ یہ غدر کی ضمیر کس کو لوٹ رہی ہے؟ تاجر کو، یعنی کسی مسلمان تاجر نے ان کے ساتھ غداری کی، بھئی صورت یہ ہے ایک مسلمان تاجر امان لے کر دار الحرب گیا ہے تو جب اس نے امان لی ہے تو گویا ضمانت دے دی کہ میں تمہارے جان اور مال کو نقصان نہیں پہنچاؤں گا لیکن اس نے وہاں پر عہد شکنی کی اور کسی کا مال چھین کر آگیا، کسی کا مال چھین کر لے آیا دار الاسلام میں تو یہ اس نے غداری کی ہے لہٰذا یہ اس مال کا مالک تو بن جائے گا کیونکہ دار الحرب والوں کا مال ہمارے لیے مباح ہے، تو مال کا تو مالک بن جائے گا لیکن اس ملکیت کے اندر خباثت آگئی خرابی اور برائی آگئی کہ اس نے عہد شکنی کی ہے اس نے دھوکا دے کر اس مال پر قبضہ کیا ہے لہٰذا اس کو اب یہ مال صدقہ کرنا چاہیے، یہ مال اس کے لیے استعمال کرنا جائز نہیں ہے بھئی، تو کہتے ہیں ”فَإِنْ غَدَرَ بِهِمْ أَعْنِي التَّاجِرَ“ اور اگر ان کے ساتھ غداری کی یعنی کہ تاجر نے ”فَأَخَذَ شَيْئًا“ تو اس نے کوئی چیز لے لی ”وَخَرَجَ بِهِ“ اور اس کو لے کر نکل آیا یعنی دار الاسلام لے آیا ”مَلَكَهُ مِلْكًا مَحْظُورًا“ تو وہ ممنوع ملکیت کے ساتھ اس کا مالک ہو جائے گا، تو وہ ممنوع ملکیت کے ساتھ اس کا مالک ہو جائے گا یا یوں ترجمہ کر لیجیے ”مَلَكَهُ مِلْكًا مَحْظُورًا“ اس چیز پر اس کی ممنوع ملکیت آجائے گی اس چیز پر اس کی ممنوع ملکیت یعنی حرام ملکیت آجائے گی۔ ”لِوُرُودِ الِاسْتِيلَاءِ عَلَى مَالٍ مُبَاحٍ“ یہاں سے علت ذکر کر رہے ہیں کہ تاجر اگر دھوکا دے کر کوئی چیز لاتا ہے تو مالک کیوں بنے گا اور پھر یہ ملکیت حرام کیوں ہے؟ تو بتلائیں گے کہ مالک اس لیے بنے گا کیونکہ حربیوں کا مال ہمارے لیے مباح ہے آپ جانتے ہیں کہ مال محفوظ تب ہوگا جب اس کو ہم دار الاسلام منتقل کر لیا جائے تو حربیوں کا مال ہمارے لیے مباح، تو مباح مال پر مسلمان تاجر نے قبضہ کیا ہے لہٰذا مالک بن جائے گا البتہ یہ ملکیت حرام ہے ممنوع ہے اس لیے کیونکہ اس نے عہد شکنی کر کے اس مال پر قبضہ کیا ہے تو یہ مال حرام تو ہوا اس کے لیے لیکن حرام لغیرہ ہوا یعنی غداری کی وجہ سے دھوکا دینے کی وجہ سے۔ تو کہتے ہیں ”لِوُرُودِ الِاسْتِيلَاءِ عَلَى مَالٍ مُبَاحٍ“ اب یہ ملکیت کی وجہ بیان کر رہے ہیں کہ مالک کیوں بنے گا، کہتے ہیں ”لِوُرُودِ الِاسْتِيلَاءِ عَلَى مَالٍ مُبَاحٍ“ اس وجہ سے کہ غلبہ آگیا ہے مال مباح پر ”إِلَّا أَنَّهُ حَصَلَ بِسَبَبِ الْغَدْرِ“ مگر یہ کہ یہ جو غلبہ آیا ہے یہ عہد شکنی کی وجہ سے آیا ہے ”فَأَوْجَبَ ذَلِكَ خُبْثًا فِيهِ“ تو اس نے اس ملکیت کے اندر خبث ثابت کر دیا اس ملکیت میں خباثت آگئی یعنی اس میں خرابی آگئی ”فَيُؤْمَرُ بِالتَّصَدُّقِ بِهِ“ تو اس مسلمان کو حکم دیا جائے گا اس کے صدقہ کرنے کا، مسلمان کو کہا جائے گا کہ یہ صدقہ کرے اس کے لیے یہ استعمال کرنا جائز نہیں ہے اور یاد رکھو یہ جو مسلمان تاجر کو حکم دیا جائے گا صدقہ کرنے کا اس سے مراد ہے فتویٰ، اس کو فتویٰ یہ دیا جائے گا، قاضی نہیں اس کو حکم دے گا یعنی یوں کہو اس کو دیانۃً حکم ہے کہ یہ مال صدقہ کرے قضاءً یہ حکم نہیں کیونکہ مالک تو بہرحال یہ بن چکا ہے بھئی، تو کہتے ہیں ”فَيُؤْمَرُ بِالتَّصَدُّقِ بِهِ“ تو اس کو دیانۃً اس کے صدقہ کرنے کا حکم دیا جائے گا۔ ”وَهَذَا“ اور یہ اس وجہ سے، بھئی یہاں سوال پیدا ہوتا ہے نا کہ یہ قبضہ جب ممنوع ہے اس نے تو امان لیا ہوا تھا تو پھر یہ ملکیت کا سبب کیسے بنے گا؟ تو آپ پڑھ چکے ہیں کہ ممنوع لغیرہ جو ہوتا ہے وہ ملکیت کا سبب بن جاتا ہے، تو کہتے ہیں ”وَهَذَا“ اور یہ ممنوع ملکیت کا ہونا اس وجہ سے ہے ”لِأَنَّ الْحَظْرَ لِغَيْرِهِ“ اس لیے کیونکہ غیر کی وجہ سے جو ممانعت ہوتی ہے ”لَا يَمْنَعُ انْعِقَادَ السَّبَبِ“ یہ ملکیت کے سبب کو منعقد ہونے سے نہیں روکتی ”عَلَى مَا بَيَّنَّاهُ“ اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دیا کہ محظور لغیرہ کی وجہ سے ارضِ مغصوبہ کے اندر نماز ہو جاتی ہے تو محظور لغیرہ کی وجہ سے ملکیت جو ادنیٰ ہے وہ کیوں نہیں ثابت ہوگی بھئی، بات سمجھ میں آگئی، پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: ”لِأَنَّ الْحَظْرَ لِغَيْرِهِ“ حظر بھئی ظاء کے ساتھ ہے ”لِأَنَّ الْحَظْرَ لِغَيْرِهِ“ اس لیے کیونکہ غیر کی وجہ سے جو ممانعت ہوتی ہے ”لَا يَمْنَعُ“ وہ منع نہیں کرتی ”انْعِقَادَ السَّبَبِ“ ملکیت کے سبب کے منعقد ہونے کو، ملکیت کے سبب کے منعقد ہونے کو وہ منع نہیں کرتی ”عَلَى مَا بَيَّنَّاهُ“ اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دیا۔ آگے دیکھیے: ”وَإِذَا دَخَلَ الْمُسْلِمُ دَارَ الْحَرْبِ بِأَمَانٍ فَأَدَانَهُ حَرْبِيٌّ أَوْ أَدَّانَ هُوَ حَرْبِيًّا أَوْ غَصَبَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْنَا وَاسْتَأْمَنَ الْحَرْبِيُّ لَمْ يُقْضَ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ بِشَيْءٍ“ یہ سارا متن ہے بھئی۔ صورتِ مسئلہ یہ ہے کہ ایک مسلمان دار الحرب گیا امان لے کر اور وہاں جا کر اس نے ایک حربی کے ساتھ دین والا معاملہ کیا یعنی کوئی چیز حربی کو ادھار بیچ دی، حربی نے اب ادھار دینا ہے وہ دین حربی کے ذمے ہے یا حربی نے مسلمان کو کوئی چیز بیچی ہے دین کے بدلے مسلمان نے اس کا دین ادا کرنا ہے، توجہ ہے؟ تو مسلمان اور حربی کے درمیان دین والا معاملہ ہوا، دونوں میں سے کسی ایک پر دین آگیا چاہے مسلمان پر آئے چاہے حربی پر آئے، یا غصب والا معاملہ پایا گیا مسلمان اور حربی کے درمیان، مسلمان نے حربی کا مال چھین لیا یا حربی نے مسلمان کا مال چھین لیا اور پھر مسلمان دار الاسلام آگیا اور وہ حربی بھی امان لے کر دار الاسلام آگیا، تو کیا قاضی ان کے درمیان فیصلہ کرے گا اگر یہ قاضی کے پاس چلے جاتے ہیں؟ توجہ ہے؟ مسلمان اور حربی کے درمیان دین والا معاملہ ہوا دار الحرب میں یا مسلمان اور حربی کے درمیان غصب والی صورت پیش آگئی دار الحرب میں، پھر یہ دونوں یہاں آگئے مسلمان کا تو یہ وطن ہے مسلمان اپنے وطن واپس آگیا حربی بھی امان لے کر آگیا، پھر ان دونوں میں سے کوئی ایک قاضی کے پاس چلا جاتا ہے مسلمان قاضی کے پاس چلا گیا کہ قاضی صاحب اس نے میرا دین دینا ہے یا اس نے میری چیز غصب کی تھی یا وہ مستأمن جو ہے وہ قاضی کے پاس چلا گیا کہ قاضی صاحب اس مسلمان نے میرا دین دینا ہے یا اس نے میری چیز غصب کی تھی، تو کیا قاضی ان کے درمیان فیصلہ کر سکتا ہے یا نہیں کر سکتا؟ کہتے ہیں نہیں قاضی ان کے درمیان فیصلہ نہیں کر سکتا، قاضی ان کے درمیان فیصلہ نہیں کر سکتا۔ وجہ یہ کہ جس وقت دونوں کے درمیان یہ دین والا معاملہ ہوا تھا یا جس وقت یہ مال غصب کیا تھا ایک شخص نے تو اس مقام پر قاضی کو ولایت ہی حاصل نہیں تھی کیونکہ یہ معاملہ دار الحرب میں ہوا تھا تو جہاں یہ معاملہ پیش آیا وہاں بھی قاضی کو ولایت حاصل نہیں اور اب جب یہ دونوں قاضی کے پاس آئے ہیں اس وقت اگرچہ قاضی کو ان پر ولایت حاصل ہے لیکن وہ بات ہے ماضی کی بھئی، تو مسلمان اس پر تو قاضی کا حکم ماننا لازم ہے، مسلمان پر تو قاضی کا حکم ماننا لازم ہے چاہے ماضی کا ہو چاہے حال کا ہو لیکن مستأمن امان لے کر آیا ہے اس نے تو صرف مستقبل کے اندر ہمارے احکام کو ماننے کا التزام کیا ہے، جب وہ داخل ہو رہا تھا اس وقت اس نے کہا آئندہ جب تک میں دار الاسلام میں ہوں میں آپ کے احکام مانتا رہوں گا لیکن ماضی کی چیزوں کے اندر تو اس نے ہمارے احکام ماننے کا التزام نہیں کیا اور یہ معاملہ تو ماضی کا ہے بھئی، تو لہٰذا جس وقت معاملہ ہوا تھا اس وقت تو قاضی کو کسی پر بھی ولایت نہیں نہ مسلمان پر نہ حربی پر کیونکہ یہ معاملہ دار الحرب میں ہو رہا تھا اور اس وقت اگرچہ مسلمان پر قاضی کو ولایت حاصل ہے لیکن مستأمن پر ولایت حاصل نہیں ماضی کے اعتبار سے کیونکہ وہ معاملہ ماضی میں پیش آیا تھا لہٰذا قاضی ان دونوں کے درمیان فیصلہ نہیں کر سکتا۔ تو کہتے ہیں ”وَإِذَا دَخَلَ الْمُسْلِمُ دَارَ الْحَرْبِ بِأَمَانٍ“ اور جب کوئی مسلمان دار الحرب میں داخل ہوا امان کے ساتھ ”فَأَدَانَهُ حَرْبِيٌّ أَوْ أَدَّانَ هُوَ حَرْبِيًّا“ بھئی دیکھو یہاں متن میں دو لفظ آ رہے ہیں: ”فَأَدَانَهُ حَرْبِيٌّ أَوْ أَدَّانَ هُوَ حَرْبِيًّا“ تو ادان یدین یہ باب افعال ہے اور ادّان یہ باب افتعال ہے، اصل میں کیا تھا؟ ادتیَنَ، پھر ت کو بھی د کر کے د میں ادغام کر دیا گیا اور ی کو الف سے بدل دیا گیا تو ”أَدَّانَ هُوَ“، بات سمجھ میں آگئی، تو شارحین لکھتے ہیں کہ اہل لغت تو دونوں میں فرق نہیں کرتے، ادان کا بھی وہی معنی ہے جو ادّان کا ہے، ادان کا معنی ہے قرض لینا یا قرض دینا، قرض لینا یا قرض دینا دونوں معنی آتے ہیں، تو اہل لغت جو ہیں وہ ادان اور ادّان ان دونوں میں فرق نہیں کرتے جبکہ فقہاء ان میں فرق کرتے ہیں، ادان یدین ادانۃً کا معنی ہے دوسرے کو کوئی چیز دین کے بدلے بیچنا اور ادّان باب افتعال سے ہو تو اس کا معنی ہے دین کو قبول کرنا۔ دیکھیے ترجمے کے ساتھ بات اور واضح ہو جائے گی، دیکھیے کہتے ہیں: ”وَإِذَا دَخَلَ الْمُسْلِمُ دَارَ الْحَرْبِ بِأَمَانٍ“ اور جب کوئی مسلمان دار الحرب میں امان کے ساتھ داخل ہوا ”فَأَدَانَهُ حَرْبِيٌّ“ تو ایک حربی نے اس کے ساتھ دین والی بیع کر لی، تو ادان کا فاعل کیا ہے؟ حربی، یعنی حربی نے کوئی چیز بیچی مسلمان کو دین کے بدلے میں کہ مسلمان ایک مہینے بعد پیسے ادا کرے گا یہ مال اس کے ذمے دین ہے، تو یہ فاعل کون ہے؟ حربی، معلوم ہوا یہ ادانت والا فعل کس نے کیا ہے؟ حربی نے، تو مسلمان کے اوپر دین آگیا، تو کہتے ہیں ”فَأَدَانَهُ حَرْبِيٌّ“ تو ایک حربی نے مسلمان کو کوئی چیز دین کے بدلے بیچی ”أَوْ أَدَّانَ هُوَ حَرْبِيًّا“ یا مسلمان نے دین قبول کر لیا حربی سے، ادّان کا کیا معنی ہے؟ دین قبول کرنا، کس نے دین قبول کیا ہے؟ ”أَدَّانَ هُوَ“ مسلمان نے دین قبول کر لیا ”حَرْبِيًّا“ کس پر؟ حربی پر یعنی حربی نے مسلمان کو دین دینا ہے، تو بات ایک ہی ہے دونوں کے درمیان بیع والی بات ہوئی ہے لیکن ادان کے معنی ہیں دوسرے کو دین پر کوئی چیز بیچنا اور ادّان کا معنی ہے دین قبول کرنا بھئی۔ آگے دیکھیے: ”أَوْ غَصَبَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ“ یا دونوں میں سے ایک نے غصب کر لیا ”صَاحِبَهُ“ اپنے ساتھی کو یعنی اپنے ساتھی کے مال کو، بھئی غصب تو مال کا ہوتا ہے آزاد آدمی کا غصب نہیں ہوتا، تو یہاں آیا عبارت پہ نظر رکھیے: ”أَوْ غَصَبَ أَحَدُهُمَا“ یا دونوں میں سے ایک نے غصب کر لیا ”صَاحِبَهُ“ اپنے ساتھی کو یعنی ”مَالَ صَاحِبِهِ“ اپنے ساتھی کے مال کو غصب کر لیا، تو یہاں ”صَاحِبَهُ“ سے پہلے مال کا لفظ مضاف محذوف ہے بھئی، کہتے ہیں ”أَوْ غَصَبَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ“ یا دونوں میں سے ایک نے اپنے ساتھی کو یعنی اس کے مال کو غصب کر لیا ”ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْنَا“ پھر وہ مسلمان ہماری طرف نکل آیا یعنی دار الاسلام آگیا ”وَاسْتَأْمَنَ الْحَرْبِيُّ“ اور حربی نے بھی امان لے لیا یعنی وہ بھی امان لے کر دار الاسلام آگیا ”لَمْ يُقْضَ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا“ تو کسی ایک کے حق میں بھی فیصلہ نہیں کیا جائے گا ”عَلَى صَاحِبِهِ“ اس کے ساتھی کے خلاف ”بِشَيْءٍ“ کسی چیز کا، یعنی چاہے ادانت والا معاملہ ہو چاہے غصب والا معاملہ ہو دونوں صورتوں میں سے کسی ایک کے اندر بھی قاضی فیصلہ نہیں کر سکتا۔ تو کہتے ہیں ”لَمْ يُقْضَ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ بِشَيْءٍ“ تو ان دونوں میں سے کسی ایک کے حق میں بھی فیصلہ نہیں کیا جائے گا اس کے ساتھی کے خلاف کسی چیز کا۔ ”أَمَّا الْإِدَانَةُ فَلِأَنَّ الْقَضَاءَ يَعْتَمِدُ الْوِلَايَةَ“ ”أَمَّا الْإِدَانَةُ“ اور وہ جو دین پر بیع کا معاملہ ہے، ادانت کسے کہتے ہیں؟ دین کے بدلے بیع کرنا، اور چاہے یہ ادانت والا معاملہ مسلمان کی طرف سے ہو چاہے حربی کی طرف سے دونوں اس میں داخل ہیں، کہتے ہیں ”أَمَّا الْإِدَانَةُ“ اور باقی وہ جو دین پر بیع کا معاملہ ہے ”فَلِأَنَّ الْقَضَاءَ يَعْتَمِدُ الْوِلَايَةَ“ اس لیے کیونکہ قضاء جو ہے اس کا اعتماد ولایت پر ہوتا ہے، قضاء کا اعتماد کس پر ہوتا ہے؟ ولایت پر، قاضی کو ولایت ہے تو وہ فیصلہ کر سکتا ہے ولایت نہیں تو وہ فیصلہ بھی نہیں کر سکتا، تو کہتے ہیں ”فَلِأَنَّ الْقَضَاءَ يَعْتَمِدُ الْوِلَايَةَ“ اس لیے کیونکہ قضائے قاضی جو ہے اس کا اعتماد ولایت پر ہوتا ہے ”وَلَا وِلَايَةَ وَقْتَ الْإِدَانَةِ أَصْلًا“ اور قاضی کو کوئی ولایت حاصل نہیں ہے ”وَقْتَ الْإِدَانَةِ“ دین والی بیع کے وقت میں ”أَصْلًا“ سرے سے ہی، اصلاً ای قطعاً بھئی، جس وقت یہ ادانت کا معاملہ ہوا اس وقت تو مسلمان اور حربی دونوں دار الحرب میں تھے تو نہ مسلمان پر قاضی کو ولایت حاصل ہے اور نہ حربی پر، تو یہ معنی ہے کہ اس وقت سرے سے قاضی کو ولایت ہی نہیں حاصل، نہ مسلمان پر ولایت ہے اور نہ حربی پر۔ تو کہتے ہیں ”وَلَا وِلَايَةَ وَقْتَ الْإِدَانَةِ أَصْلًا“ اور ادانت کے وقت تو قاضی کو ولایت ہی حاصل نہیں ہے اصلاً ای قطعاً ”وَلَا وَقْتَ الْقَضَاءِ عَلَى الْمُسْتَأْمِنِ“ تو معلوم ہوا ادانت کے وقت بھی قاضی کو ولایت نہیں اور اب اگر قاضی فیصلہ کرتا ہے تو اس وقت بھی اس کو مستأمن پر ولایت نہیں، بھئی کیسے ولایت نہیں ہے مستأمن دار الاسلام آیا ہوا ہے اس نے ہمارے احکام ماننے کا التزام کیا ہے؟ کہتے ہیں بھئی ادانت کا معاملہ ماضی کے اندر ہوا تھا اور امان لے کر اس نے مستقبل میں ہماری باتیں ماننے کا التزام کیا ہے ماضی کے اندر اسلامی احکام کو ماننے کا التزام نہیں کیا، تو کہتے ہیں ”وَلَا وَقْتَ الْقَضَاءِ عَلَى الْمُسْتَأْمِنِ“ اور قاضی کے فیصلے کے وقت جو ہے ولایت حاصل نہیں ہے اس کو مستأمن پر ”لِأَنَّهُ مَا الْتَزَمَ حُكْمَ الْإِسْلَامِ فِيمَا مَضَى مِنْ أَفْعَالِهِ“ ”لِأَنَّهُ مَا الْتَزَمَ حُكْمَ الْإِسْلَامِ“ اس لیے کیونکہ مستأمن نے اسلامی حکم ماننے کو اپنے اوپر لازم نہیں کیا ”فِيمَا مَضَى مِنْ أَفْعَالِهِ“ وہ جو اس کے افعال گزر چکے ہیں ان کے اندر ”وَإِنَّمَا الْتَزَمَ ذَلِكَ فِي الْمُسْتَقْبَلِ“ اور اس نے اسلامی احکام کو اپنے اوپر لازم کیا ہے مستقبل میں۔ ”وَأَمَّا الْغَصْبُ“ اور باقی غصب جو ہے، بھئی یہ تو ادانت والی صورت تھی اس میں قاضی فیصلہ نہیں کر سکتا اب غصب والی صورت ہے اس میں بھی قاضی فیصلہ نہیں کر سکتا، کہتے ہیں ”وَأَمَّا الْغَصْبُ“ اور باقی غصب جو ہے ”فَلِأَنَّهُ صَارَ مِلْكًا لِلَّذِي غَصَبَهُ“ اس لیے کیونکہ وہ مال مغصوب ملکیت بن گیا اس شخص کی جس نے اس کو غصب کیا تھا، بھئی دار الحرب جو ہے وہاں تو مال محفوظ نہیں، دار الحرب کے اندر تو مال محفوظ نہیں دار الاسلام جب لائیں گے تب مال محفوظ ہوگا، تو دار الحرب کے اندر چاہے حربی نے مسلمان کے مال پر قبضہ کیا یا مسلمان نے حربی کے مال پر قبضہ کیا تو وہ مال مباح پر قبضہ ہے اور مال مباح پر جب کوئی قبضہ کرتا ہے تو وہ اس کا مالک بن جاتا ہے لہٰذا غصب کی صورت میں دونوں مالک بن چکے ہیں، اگر مسلمان نے غصب کیا تھا تو مسلمان حربی کے مال کا مالک بن چکا ہے اور اگر حربی نے غصب کیا تھا تو حربی مسلمان کے مال کا مالک بن چکا ہے بھئی، کہتے ہیں ”فَلِأَنَّهُ صَارَ مِلْكًا لِلَّذِي غَصَبَهُ“ اس لیے کیونکہ وہ مال مغصوب ملکیت بن گیا اس شخص کی جس نے اس کو غصب کیا تھا ”وَاسْتَوْلَى عَلَيْهِ“ عَلَيْهِ اور وہ شخص جس نے اس پر غلبہ پایا تھا۔ یہ ”وَاسْتَوْلَى عَلَيْهِ“ اس کا عطف ”غَصَبَهُ“ پر ہے اور ”غَصَبَهُ“ جو ہے صلہ ہے موصول کا۔ تو یہ بھی ”اسْتَوْلَى عَلَيْهِ“ یہ بھی صلہ ہے موصول کا۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: ”فَلِأَنَّهُ صَارَ مِلْكًا لِلَّذِي غَصَبَهُ وَاسْتَوْلَى عَلَيْهِ“ اس لیے کیونکہ وہ مال مغصوب ملکیت بن گیا اس شخص کا جس نے اس کو غصب کیا اور اس پر غلبہ پا لیا۔ ”لِمُصَادَفَتِهِ مَالًا غَيْرَ مَعْصُومٍ“ بوجہ اس کے کہ اس غلبے نے ملاقات کی ہے ”مَالًا غَيْرَ مَعْصُومٍ“ ایسے مال سے جو غیر محفوظ تھا۔ ”عَلَى مَا بَيَّنَّاهُ“ اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دیا کہ دار الحرب کے اندر مال محفوظ نہیں ہوتا بھئی۔ تو کہتے ہیں ”لِمُصَادَفَتِهِ مَالًا غَيْرَ مَعْصُومٍ“ اس وجہ سے کہ اس غلبے نے یعنی اس استیلاء نے ملاقات کی ہے مال غیر معصوم سے۔ آپ پڑھ چکے ہیں: استیلاء مال مباح پر آئے تو وہ معتبر ہے، وہ ملکیت کا فائدہ دے گا۔ تو یہاں پر بھی استیلاء کس پر ہوا ہے؟ مال غیر معصوم یعنی مال مباح پر۔ یہ معنی ہے ”لِمُصَادَفَتِهِ مَالًا غَيْرَ مَعْصُومٍ“ اس وجہ سے کہ استیلاء نے ملاقات کی ہے مال غیر محفوظ سے، ”عَلَى مَا بَيَّنَّاهُ“ اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دیا۔ ”وَكَذَلِكَ لَوْ كَانَا حَرْبِيَّيْنِ فَعَلَا ذَلِكَ“ بھئی یہ دوسری صورت آگئی۔ پہلی صورت کیا تھی کہ ایک مسلمان دار الحرب گیا تھا اور یہ ادانت اور غصب والا معاملہ مسلمان اور حربی کے درمیان ہوا۔ اب دوسری صورت ذکر کر رہے ہیں کہ یہ ادانت یا غصب والا معاملہ دو حربیوں میں ہوا اور پھر دونوں امان لے کر دار الاسلام آگئے، دونوں مستأمن بن گئے۔ اب یہ اگر ان میں سے کوئی ایک قاضی کے پاس جاتا ہے، تو کیا قاضی فیصلہ کر سکتا ہے ان دونوں کے درمیان؟ کہتے ہیں نہیں، یہاں پر بھی معاملہ اسی طرح ہے کیونکہ جب انہوں نے معاملہ کیا تھا، اس وقت قاضی کو ولایت حاصل نہیں تھی اور اب جب یہ امان لے کر یہاں آگئے ہیں تو اس کے اندر بھی وہ انہوں نے مستقبل کے اندر اسلامی احکام ماننے کا التزام کیا ہے، ماضی کی باتوں پر تو انہوں نے اسلامی احکام کو اپنے اوپر لازم نہیں کیا بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَكَذَلِكَ لَوْ كَانَا حَرْبِيَّيْنِ فَعَلَا ذَلِكَ“ اور اسی طرح ہے یعنی قاضی فیصلہ نہیں کر سکتا اگر وہ دو حربی ہیں جنہوں نے ایسا کیا ہے۔ ”ثُمَّ خَرَجَا مُسْتَأْمِنَيْنِ“ پھر یہ دونوں مستأمن ہو کر دار الاسلام نکل آئے، تو بھی اسی طرح یعنی قاضی فیصلہ نہیں کر سکتا۔ ”لِمَا قُلْنَا“ اس وجہ سے جو ہم نے کہہ دیا کہ قضاء کی بنیاد ولایت پر ہوتی ہے اور قاضی کو اس وقت ولایت حاصل نہیں تھی بھئی۔ آگے دیکھیے: ”وَلَوْ خَرَجَا مُسْلِمَيْنِ“ اب تیسری صورت آگئی کہ یہی معاملہ دو حربیوں کے درمیان ہوا، ادانت والا یا غصب والا، لیکن پھر وہ حربی مسلمان ہو گئے اور مسلمان ہو کر دار الاسلام آگئے۔ تو کیا اب قاضی ان کے درمیان فیصلہ کر سکتا ہے؟ تو کہتے ہیں بھئی اب قاضی وہ صرف ادانت والے معاملے میں فیصلہ کر سکتا ہے، غصب والے معاملے میں فیصلہ نہیں کر سکتا کیونکہ جب غصب کیا تھا وہ مالک بن گئے تھے بھئی۔ تو البتہ ادانت والے معاملے میں فیصلہ کر سکتا ہے کیونکہ وہ جو دین کا معاملہ دونوں کے درمیان ہوا تھا وہ دونوں کی باہمی رضامندی سے ہوا تھا تو اس میں قاضی فیصلہ کر سکتا ہے۔ کہتے ہیں ”وَلَوْ خَرَجَا مُسْلِمَيْنِ“ اور اگر یہ دونوں حربی جن کے درمیان ادانت یا غصب والا معاملہ ہوا ہے، ”وَلَوْ خَرَجَا مُسْلِمَيْنِ“ اگر یہ دونوں حربی مسلمان ہو کر نکل آئے ”قُضِيَ بِالدَّيْنِ بَيْنَهُمَا“ تو ان کے درمیان دین کا فیصلہ کر دیا جائے گا ”وَلَمْ يُقْضَ بِالْغَصْبِ“ اور غصب کا فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔ اب وجہ ذکر کرنے لگے، میں نے وجہ بیان کر دی۔ کہتے ہیں ”أَمَّا الْمُدَايَنَةُ“ مداینہ کہتے ہیں باہم ایک دوسرے کے ساتھ دین والا معاملہ کرنا۔ کہتے ہیں ”أَمَّا الْمُدَايَنَةُ“ تو دین والا جو معاملہ ہے، قاضی اس کا فیصلہ کرے گا ”فَلِأَنَّهَا وَقَعَتْ صَحِيحَةً“ اس لیے کیونکہ وہ معاملہ صحیح ہو کر واقع ہوا تھا ”لِوُقُوعِهَا بِالتَّرَاضِي“ اس وجہ سے کہ وہ باہمی رضامندی سے واقع ہوا تھا ”وَالْوِلَايَةُ ثَابِتَةٌ حَالَةَ الْقَضَاءِ“ اور قاضی کو ولایت ثابت ہے قضاء کی حالت میں۔ جی۔ بھئی اس وقت تو دونوں مسلمان ہیں، اسلامی احکام ان پر لازم ہیں، تو لہٰذا اس وقت قاضی اس مداینت کے معاملے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔ تو یہ معنی ہے ”وَالْوِلَايَةُ ثَابِتَةٌ حَالَةَ الْقَضَاءِ“ اور ولایت جو ہے وہ ثابت ہے فیصلے کی حالت میں ”لِالْتِزَامِهِمَا الْأَحْكَامَ بِالْإِسْلَامِ“ اس وجہ سے کہ دونوں نے اسلامی احکام کا التزام کر لیا ہے، دونوں مسلمان ہو گئے ہیں۔ ”وَأَمَّا الْغَصْبُ“ باقی غصب کا فیصلہ قاضی نہیں کر سکتا، اب اس کی وجہ ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں ”وَأَمَّا الْغَصْبُ“ اور باقی غصب جو ہے ”فَلِمَا بَيَّنَّا“ تو وہ اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دیا ”أَنَّهُ مَلَكَهُ“ کہ وہ غاصب اس مال کا مالک بن چکا ہے ”وَلَا خُبْثَ فِي مِلْكِ الْحَرْبِيِّ“ یہاں اعتراض ہوتا ہے کہ آپ نے ہمیں بتایا تھا مسلمان تاجر اگر دار الحرب جائے اور وہاں دھوکا کر کے کسی کا مال چھین کر لے آئے تو مال کے اندر خباثت آگئی، لہٰذا اس کو فتویٰ دیا جائے گا کہ اس مال کو صدقہ کر دے۔ تو یہاں آپ ہمیں کہہ رہے ہیں یہ دو حربی جن کے درمیان غصب کی صورت پیش آگئی اور پھر یہ دونوں مسلمان ہو کر دار الاسلام آگئے ہیں، تو اس میں قاضی فیصلہ نہیں کر سکتا۔ بھئی اس کے اندر بھی اس کو کم از کم فتویٰ تو دیا جائے گا کہ جس نے مال غصب کیا ہے وہ اس کو صدقہ کرے کیونکہ اس ملکیت کے اندر خباثت آچکی ہے۔ کہتے ہیں نہیں بھئی، جس وقت اس نے قبضہ کیا تھا اس وقت یہ حربی تھا اور حربی کے مال کے اندر تو خباثت نہیں ہے، حربی تو خود ہی کافر تھا تو اس کے مال میں خباثت کا کیا معنی بھئی! تو کہتے ہیں ”وَلَا خُبْثَ فِي مِلْكِ الْحَرْبِيِّ“ اور حربی کی ملکیت میں کوئی خباثت اور کوئی خرابی نہیں ہے ”حَتَّى يُؤْمَرَ بِالرَّدِّ“ یہاں تک کہ اس کو حکم دیا جائے اس کو لوٹانے کا۔ ”وَإِذَا دَخَلَ الْمُسْلِمُ دَارَ الْحَرْبِ بِأَمَانٍ“ اور جب کوئی مسلمان دار الحرب میں داخل ہوا امان کے ساتھ ”فَغَصَبَ حَرْبِيًّا“ تو اس نے ایک حربی کو غصب کر لیا، یعنی اس کے مال کو غصب کر لیا، تو یہاں ”حَرْبِيًّا“ سے پہلے مال کا لفظ مضاف محذوف ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں جب کوئی مسلمان امان کے ساتھ دار الحرب میں داخل ہوا ”فَغَصَبَ حَرْبِيًّا“ تو اس نے حربی کو یعنی اس کے مال کو غصب کر لیا ”ثُمَّ خَرَجَا مُسْلِمَيْنِ“ پھر دونوں نکل آئے ”مُسْلِمَيْنِ“ اس حال میں کہ مسلمان تھے، یعنی مسلمان نے حربی کا مال غصب کیا اور پھر دار الاسلام آیا، حربی بھی مسلمان ہو کر دار الاسلام آگیا مسلمان ہو کر۔ تو کہتے ہیں اس صورت میں ”أُمِرَ بِرَدِّ الْغَصْبِ“ تو اس مسلمان کو حکم دیا جائے گا اس غصب کو واپس کرنے کا۔ ”أُمِرَ بِرَدِّ الْغَصْبِ“ مسلمان کو اس مغصوبہ مال کے واپس کرنے کا حکم دیا جائے گا ”وَلَمْ يُقْضَ عَلَيْهِ“ اور اس کے خلاف فیصلہ نہیں کیا جائے گا، یعنی مسلمان کو دیانۃً حکم دیا جائے گا، غصب شدہ مال تمہارے لیے حرام لغیرہ ہوا، یہ تمہیں واپس کرنا چاہیے کیونکہ تم نے دھوکا دیا ہے، عہد شکنی کی ہے، تم تو امان لے کر گئے تھے پھر کس طرح کسی حربی کے مال پر تم قبضہ کر سکتے ہو۔ تو کہتے ہیں ”أُمِرَ بِرَدِّ الْغَصْبِ وَلَمْ يُقْضَ عَلَيْهِ“ اس مسلمان کو دیانۃً وہ غصب واپس کرنے کا حکم دیا جائے گا لیکن اس کے خلاف فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ یہی مسئلہ تو پیچھے بھی ذکر ہو گیا تھا متن میں، اب دوبارہ متن میں اس کو ذکر کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ جی، توجہ ہے؟ بھئی پیچھے کیا ذکر ہوا تھا؟ ایک مسلمان دار الحرب گیا اور اس کے اور حربی کے درمیان ادانت یا غصب والا معاملہ ہوا۔ یہیں سے تو بات شروع ہوئی تھی اس مسئلے کی، اور اب پھر ذکر کر رہے ہیں کہ ایک مسلمان دار الحرب گیا ہے اور اس نے حربی کا مال غصب کر لیا۔ فرق صرف اتنا ہے اس میں کہ یہاں حربی بھی مسلمان ہو کر اس کے ساتھ آیا ہے۔ دونوں مسلمان ہو کر آئے ہیں لیکن یاد رکھو حربی مسلمان ہو یا نہ ہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، چاہے حربی اسی طرح کفر کی حالت میں مستأمن بن کر آ جائے یا چاہے مسلمان ہو کر آ جائے، دونوں صورتوں میں قاضی فیصلہ نہیں کر سکتا۔ تو پھر اس مسئلے کو دوبارہ ذکر کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ کیونکہ دوسرا آدمی چاہے مسلمان ہو کر آئے چاہے مستأمن ہو کر آئے حکم تو ایک ہی جیسا رہتا ہے، اور یہ بات آپ پیچھے بیان کر چکے ہیں کہ مسلمان بھی واپس آگیا اور حربی بھی مستأمن بن کر واپس آگیا۔ تو اس کا جواب یاد رکھنا کہ پیچھے متن میں یہ ذکر نہیں ہوا تھا کہ مسلمان کے لیے یہ مال پسندیدہ نہیں ہے اگر مسلمان نے غصب کیا ہے۔ جی، توجہ ہے؟ تو یہاں صرف یہ بتلانے کے لیے کہ ”أُمِرَ بِرَدِّ الْغَصْبِ وَلَمْ يُقْضَ عَلَيْهِ“ کہ مسلمان کو دیانۃً وہ مال واپس کرنے کا حکم دیا جائے گا البتہ اس کے خلاف فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔ تو صرف یہ بتلانے کے لیے کہ مسلمان کے لیے یہ مال بہتر نہیں اس کو یہ مال واپس کرنا چاہیے، یہ بیان کرنے کے لیے اس بات کو دوبارہ ذکر کیا۔ جی۔ تو کہتے ہیں ”أُمِرَ بِرَدِّ الْغَصْبِ وَلَمْ يُقْضَ عَلَيْهِ“ تو مسلمان کو دیانۃً حکم دیا جائے گا اس مغصوبہ مال کے واپس کرنے کا اور اس کے خلاف فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔ ”أَمَّا عَدَمُ الْقَضَاءِ فَلِمَا بَيَّنَّا“ باقی فیصلہ نہ کرنا تو اس وجہ سے ہے جو ہم نے بیان کر دیا ”أَنَّهُ مَلَكَهُ“ کہ مسلمان اس مال کا مالک بن چکا ہے۔ ”وَأَمَّا الْأَمْرُ بِالرَّدِّ“ اور باقی واپس کرنے کا جو حکم ہے ”وَمُرَادُهُ الْفَتْوَى بِهِ“ اور اس سے مراد اس کا فتویٰ ہے کہ مسلمان کو اس بات کا فتویٰ دیا جائے گا یعنی دیانۃً اسے کہا جائے گا۔ تو کہتے ہیں ”وَأَمَّا الْأَمْرُ بِالرَّدِّ وَمُرَادُهُ الْفَتْوَى بِهِ“ اور امام محمد رحمہ اللہ کی اس سے مراد جو ہے اس کا فتویٰ ہے ”فَلِأَنَّهُ فَسَدَ الْمِلْكُ“ اس لیے کیونکہ مسلمان کی ملکیت فاسد ہے ”لِمَا يُقَارِنُهُ مِنَ الْمُحَرَّمِ“ اس وجہ سے کہ اس کے ساتھ ایک حرام چیز ملی ہوئی ہے ”وَهُوَ نَقْضُ الْعَهْدِ“ اور وہ معاہدے کو توڑنا ہے۔ تو معاہدہ توڑنے کی وجہ سے اس نے غدر کیا ہے اور غدر کی وجہ سے مال میں خرابی آچکی ہے، لہٰذا اس مسلمان کو دیانۃً حکم دیا جائے گا کہ یہ مال واپس کر دے۔ بات سمجھ میں آگئی۔ تو یہاں مسلمان کو دیانۃً حکم دیا جائے گا کہ اس کو مال واپس کر دے اور پچھلی صورت میں مسلمان کو مال صدقہ کرنے کا حکم تھا۔ وجہ یہ کہ پچھلی صورت میں مسلمان مال چھین لایا ہے اور دوسرا شخص ابھی بھی حربی ہی ہے وہاں پر دار الحرب میں، تو مال اس حربی کو تو واپس نہیں کیا جائے گا لہٰذا یہیں پر اس کو صدقہ کرنے کا حکم دیں گے۔ اور اس مسئلے کے اندر وہ دوسرا حربی بھی مسلمان ہو کر ساتھ آگیا ہے دار الاسلام میں، تو اس لیے مسلمان کو حکم دیا جائے گا کہ یہ مال اس کو واپس کرے۔ جی۔ آگے دیکھیے بھئی: ”وَإِذَا دَخَلَ مُسْلِمَانِ دَارَ الْحَرْبِ بِأَمَانٍ فَقَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ عَمْدًا أَوْ خَطَأً“ بھئی صورت مسئلہ یہ کہ دو مسلمان جو ہیں وہ دار الحرب گئے ہیں امان لے کر اور وہاں ایک مسلمان نے دوسرے مسلمان کو قتل کر دیا، چاہے یہ قتل اس نے جان بوجھ کر کیا ہو یعنی قتل عمد ہو آلۂ قتل کے ذریعے، یا غلطی سے قتل ہوا ہو۔ تو دونوں صورتوں کے اندر یاد رکھو یہ جو قاتل ہے اس پر دیت آئے گی اور اگر اس نے غلطی سے یہ قتل کیا ہے تو کفارہ بھی آئے گا۔ جی، توجہ ہے؟ پہلے تو ایک ضابطہ یہ یاد رکھیں کہ عند الاحناف قتل عمد کے اندر قصاص آتا ہے اور کفارہ نہیں آتا۔ قتل عمد میں قصاص آتا ہے اور کفارہ نہیں آتا، جبکہ قتل خطا کے اندر دیت آتی ہے اور ساتھ کفارہ بھی آتا ہے۔ دیت آتی ہے اور کفارہ، اور قتل کا کفارہ یاد رکھو وہ ایک مسلمان غلام یا باندی کو آزاد کرنا ہے، اور اگر کسی کو یہ غلام یا باندی میسر نہیں ہے تو پھر اس کو ساٹھ مسلسل روزے رکھنے پڑیں گے۔ یہ قتل خطا کے اندر ہے، توجہ ہے؟ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ”وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً“ اور جس نے کسی مومن کو غلطی سے قتل کر دیا ”فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ“ تو ایک مومن گردن کا آزاد کرنا ہے۔ جی، ایک مومن گردن یعنی مسلمان غلام یا باندی کو آزاد کرنا پڑے گا، کافر غلام یا باندی کو آزاد کرے گا تو یہ کفارہ ادا نہیں ہوگا۔ اور پھر اسی آیت کے آخر میں اللہ فرماتے ہیں: ”فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ“ جس کو یہ مومن غلام یا باندی میسر نہ ہو تو اس پر دو ماہ کے مسلسل روزے ہیں۔ تو کفارۂ قتل جو ہے وہ قتل خطا کے اندر آئے گا اور اس کے اندر ایک مسلمان غلام یا باندی کو آزاد کرنا پڑے گا اور اگر یہ کسی کو میسر نہیں ہے تو اس کو مسلسل ساٹھ روزے رکھنا پڑیں گے۔ تو عند الاحناف قتل عمد کے اندر کفارہ نہیں آتا، البتہ قتل خطا کے اندر دیت کے ساتھ ساتھ کفارہ بھی آتا ہے بھئی۔ تو اب مسئلہ چل رہا تھا، دو مسلمان دار الحرب چلے گئے ہیں اور ان میں سے ایک مسلمان نے دوسرے کو قتل کر دیا ہے، تو یاد رکھو چاہے یہ قتل عمد ہو، چاہے قتل خطا ہو، دونوں صورتوں میں دیت آئے گی۔ دونوں صورتوں میں دیت آئے گی۔ یہاں قتل عمد میں قصاص نہیں آ سکتا۔ اگرچہ قتل عمد میں اصل کیا ہے؟ قصاص آتا ہے، لیکن چونکہ یہ قتل اس نے دار الحرب میں کیا ہے لہٰذا وہاں قصاص نہیں آ سکتا کیونکہ قصاص وصول کرنے کے لیے قوت چاہیے، ایک شخص کو قتل کرنا ہے اس کے لیے قوت چاہیے اور قوت تو مسلمانوں کو دار الاسلام میں حاصل ہے دار الحرب میں حاصل نہیں۔ لہٰذا دار الحرب میں قصاص تو نہیں آ سکتا تو پھر قصاص کی جگہ دیت آجائے گی۔ تو مسلمان نے دوسرے مسلمان کو دار الحرب میں قتل کیا چاہے جان بوجھ کر قتل کیا ہے چاہے غلطی سے، دونوں صورتوں میں قاتل پر دیت آئے گی۔ اور عمد کی صورت میں تو کفارہ نہیں آتا لیکن قتل خطا اگر کیا ہے تو پھر اس میں کفارہ بھی آئے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی۔ بھئی کیا وجہ ہے؟ یہ دیت کیوں آئے گی اور یہ کفارہ کیوں آئے گا؟ تو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے، وجہ یہ، وجہ یہ کہ آپ پیچھے پڑھ چکے ہیں: ایک ہے عصمتِ مؤثمہ اور ایک ہے عصمتِ متقومہ۔ کوئی شخص دار الحرب میں جب مسلمان ہو جاتا ہے تو اس کو عصمتِ مؤثمہ حاصل ہو جاتی ہے۔ عصمتِ مؤثمہ، عصمت کا کیا معنی؟ حفاظت بھئی، اور مؤثمہ گناہگار بنانے والی، یعنی اگر کوئی اس سے تعرض کرے گا، اس کو کوئی جانی نقصان پہنچائے گا تو وہ گناہگار ہوگا۔ دنیا میں کہیں بھی کوئی شخص مسلمان ہو جائے چاہے دار الحرب میں ہی کیوں نہ ہو، اس کے ساتھ تعرض کرنا اور اس کو قتل کرنا حرام ہے، اگر کوئی قتل کرے گا تو اس کو قتل کا عظیم گناہ ہوگا بھئی۔ تو جہاں بھی کوئی شخص مسلمان ہو جائے اس کو عصمتِ مؤثمہ حاصل ہو جاتی ہے، اس سے تعرض حرام ہو جاتا ہے، اس کو کوئی جانی نقصان پہنچانا جائز نہیں ہے بھئی۔ اور پھر جب یہی مسلمان اگر دار الاسلام آ جائے پھر اس کو عصمتِ متقومہ بھی حاصل ہو گئی۔ یعنی اب اگر اس کو کوئی قتل کرے گا تو اس کی وجہ سے قصاص اور دیت بھی آئے گی۔ دار الحرب میں اگر کوئی شخص مسلمان ہوا تو وہاں اس کو عصمتِ مؤثمہ تو حاصل ہے لیکن عصمتِ متقومہ حاصل نہیں، تو وہاں قصاص اور دیت نہیں آ سکتی، نہ قصاص اور نہ دیت۔ تو دار الاسلام جب آئے گا یہ مسلمان تو اب اس کو عصمتِ متقومہ بھی حاصل ہو گئی۔ توجہ ہے؟ اور عصمتِ متقومہ کی وجہ سے دیت یا قصاص آتا ہے اور عصمتِ مؤثمہ کی وجہ سے قتل کا عظیم گناہ ہوتا ہے اور کفارہ دینا پڑتا ہے۔ تو یہ جو دو مسلمان دار الحرب گئے تھے اور ایک نے دوسرے کو قتل کر دیا ہے، تو اگر یہ قتل عمد کیا ہے تو پھر صرف دیت دینا پڑے گی اور اگر غلطی سے قتل کیا ہے تو کفارہ بھی دینا پڑے گا۔ دیت بھی دینا پڑے گی، دیت کیوں دیں گے؟ کیونکہ اس کو عصمتِ متقومہ حاصل تھی، یہ مسلمان تھا بھئی، دار الاسلام سے گیا ہے۔ دار الاسلام کے اندر اس کو عصمتِ مؤثمہ بھی حاصل تھی اور عصمتِ متقومہ بھی حاصل تھی تو اب یہ جب یہ امان لے کر دار الحرب گیا ہے تو بھی اس نے واپس لوٹنا ہے، یہ واپسی کے ارادے سے گیا ہے۔ تو یوں سمجھو گویا یہ ابھی بھی دار الاسلام میں ہی ہے، لہٰذا ابھی بھی اس کو عصمتِ مؤثمہ بھی حاصل اور عصمتِ متقومہ بھی حاصل ہے۔ اور عصمتِ مؤثمہ کی وجہ سے گناہ ہوتا ہے اور اگر قتل خطا ہو تو کفارہ بھی آتا ہے، اور عصمتِ متقومہ کی وجہ سے قصاص اور دیت آیا کرتی ہیں۔ تو یہاں پر قصاص تو نہیں آ سکتا البتہ دیت دونوں صورتوں میں آئے گی، چاہے قتل عمد ہے اور چاہے قتل خطا ہے۔ اور کیوں آئے گی دیت؟ عصمتِ متقومہ کی وجہ سے۔ اور قتل خطا کے اندر کفارہ بھی آئے گا، کس وجہ سے؟ عصمتِ مؤثمہ کی وجہ سے۔ البتہ قتل عمد کے اندر کفارہ نہیں آتا، بات سمجھ میں آگئی۔ وہاں قتل کا عظیم گناہ تو ہوا ہے عصمتِ مؤثمہ کی وجہ سے لیکن کفارہ نہیں آتا۔ تفصیل سمجھ میں آگئی۔ جی، دیکھیے اب کتاب پر: کہتے ہیں ”وَإِذَا دَخَلَ مُسْلِمَانِ دَارَ الْحَرْبِ بِأَمَانٍ فَقَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ عَمْدًا أَوْ خَطَأً“ اور جب دو مسلمان دار الحرب میں امان کے ساتھ داخل ہوئے تو ان دونوں میں سے ایک نے اپنے ساتھی کو قتل کر دیا جان بوجھ کر یا غلطی سے ”فَعَلَى الْقَاتِلِ الدِّيَةُ فِي مَالِهِ“ تو قاتل پر دیت واجب ہوگی قاتل کے مال میں ہی۔ بھئی ویسے تو دیت کے اندر سارے قبیلے والے مل کر دیت ادا کرتے ہیں اور تین سال کے عرصے میں ادا کی جاتی ہے۔ جی، توجہ ہے؟ ایک انسانی جان کی قیمت کتنی ہے؟ سو اونٹ ہیں اور یہ تین سال کے عرصے میں ادا کیے جاتے ہیں تین قسطوں کے اندر اور سارے قبیلے والے مل کر ادا کرتے ہیں لیکن یہاں پر یہ جو قاتل ہے اس کو اکیلے یہ دیت ادا کرنا پڑے گی اور اس کی وجہ کیا ہے وہ آگے صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے۔ تو کہتے ہیں ”فَعَلَى الْقَاتِلِ الدِّيَةُ فِي مَالِهِ“ قاتل پر دیت واجب ہوگی اسی کے مال میں، دیت واجب ہوگی چاہے قتل عمد ہو چاہے قتل خطا ہو۔ ”وَعَلَيْهِ الْكَفَّارَةُ فِي الْخَطَإِ“ اور قاتل پر کفارہ بھی واجب ہوگا خطا کی صورت میں، اگر اس نے غلطی سے قتل کیا ہے۔ کہتے ہیں ”أَمَّا الْكَفَّارَةُ“ تو جو کفارہ ہے، اب ایک ایک کی وجہ بیان فرمائیں گے کہ کفارہ کیوں آئے گا، دیت کیوں آئے گی اور صرف قاتل کے مال میں کیوں آئے گی؟ کہتے ہیں ”أَمَّا الْكَفَّارَةُ“ تو کفارہ جو ہے ”فَلِإِطْلَاقِ الْكِتَابِ“ کتاب اللہ کے مطلق ہونے کی وجہ سے۔ کتاب اللہ کے اندر مطلقاً ذکر ہے کہ کسی سے غلطی سے قتل ہو جائے تو اس کو ایک مسلمان غلام یا باندی آزاد کرنا پڑے گا اور اگر یہ میسر نہ ہو تو ساٹھ روزے رکھنا پڑیں گے۔ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ”وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ“ اور جس نے غلطی سے کسی مومن کو قتل کر دیا تو ایک مومن گردن کا آزاد کرنا ہے۔ اس میں کوئی قید نہیں ہے کہ دار الاسلام میں ہو تو پھر کفارہ آئے گا اور دار الحرب میں ہو تو کفارہ نہیں آئے گا۔ تو کتاب اللہ میں مطلقاً کفارے کا ذکر ہے تو چاہے یہ قتل دار الاسلام میں ہو پھر بھی کفارہ آئے گا اور چاہے دار الحرب میں ہو تو پھر بھی کفارہ آئے گا۔ تو کہتے ہیں ”أَمَّا الْكَفَّارَةُ فَلِإِطْلَاقِ الْكِتَابِ“ تو کفارہ جو ہے وہ کتاب کے مطلق ہونے کی وجہ سے ہے ”وَالدِّيَةُ لِأَنَّ الْعِصْمَةَ الثَّابِتَةَ بِالْإِحْرَازِ بِدَارِ الْإِسْلَامِ لَا تَبْطُلُ“ اور دیت آئے گی اس لیے کیونکہ وہ عصمت جو دار الاسلام میں محفوظ ہونے کی وجہ سے ثابت ہے ”لَا تَبْطُلُ بِعَارِضِ الدُّخُولِ بِالْأَمَانِ“ تو وہ امان کے ساتھ دار الحرب میں داخل ہونے کے عارض کی وجہ سے باطل نہیں ہوگی۔ تو وہ امان کے ساتھ دار الحرب میں داخل ہونے کے عارض کی وجہ سے یہ عصمت باطل نہیں ہوگی اس لیے کیونکہ اس نے واپس لوٹنا ہے تو گویا تقدیراً ابھی بھی دار الاسلام میں ہے تو اس کو عصمتِ مؤثمہ بھی حاصل ہے اور عصمتِ متقومہ بھی۔ حاصل کلام یہ کہ ہمارے نزدیک جو مسلمان دار الحرب امان لے کر جاتا ہے، یہ جو مستأمن ہے، یہ مسلمان مستأمن جو ہے اس کو وہاں پر بھی عصمتِ متقومہ بھی حاصل ہے اور عصمتِ مؤثمہ بھی حاصل ہے بھئی۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: کہتے ہیں ”لِأَنَّ الْعِصْمَةَ الثَّابِتَةَ بِالْإِحْرَازِ بِدَارِ الْإِسْلَامِ“ اور اس لیے کیونکہ وہ عصمت جو دار الاسلام میں محفوظ ہونے کی وجہ سے ثابت ہے ”لَا تَبْطُلُ بِعَارِضِ الدُّخُولِ بِالْأَمَانِ“ یہ عصمت باطل نہیں ہوگی امان کے ساتھ دار الحرب میں داخل ہونے کے عارض کی وجہ سے۔ ”وَإِنَّمَا لَا يَجِبُ الْقِصَاصُ“ یہاں سے سوال کا جواب دے رہے ہیں کہ قصاص کیوں نہیں آئے گا اگر ایک مسلمان نے دوسرے مسلمان کو دار الحرب میں قتل کیا ہے تو قصاص کیوں نہیں آئے گا؟ کہتے ہیں ”وَإِنَّمَا لَا يَجِبُ الْقِصَاصُ“ اور قصاص واجب نہیں ہوگا ”لِأَنَّهُ لَا يُمْكِنُ اسْتِيفَاؤُهُ إِلَّا بِمَنَعَةٍ“ اس لیے کیونکہ قصاص کو وصول کرنا ممکن نہیں ہے مگر قوت کے ذریعے ”وَلَا مَنَعَةَ بِدُونِ الْإِمَامِ وَجَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ“ اور کوئی قوت نہیں ہے بغیر امام اور بغیر مسلمانوں کی جماعت کے ”وَلَمْ يُوجَدْ ذَلِكَ فِي دَارِ الْحَرْبِ“ اور دار الحرب میں تو یہ چیز نہیں پائی جاتی، نہ تو وہاں امام ہے مسلمانوں کا اور نہ وہاں مسلمانوں کی جماعت ہے تو وہاں مسلمانوں کو قوت نہیں۔ جب قوت نہیں تو وہاں قصاص لینا ممکن نہیں ہے۔ آگے دیکھیے، کہتے ہیں ”وَإِنَّمَا تَجِبُ الدِّيَةُ فِي مَالِهِ فِي الْعَمْدِ“ بھئی متن میں آیا تھا کہ یہ جو دیت آئے گی یہ قاتل کے مال میں سے ادا کی جائے گی چاہے اس نے قتل عمد کیا ہو چاہے قتل خطا کیا ہو، اب اس کی وجہ بیان کریں گے۔ یاد رکھو یہ جو دیت ادا کرتے ہیں قبیلے والے، یہ صرف قتل خطا کے اندر دیت ادا کرتے ہیں، قتل عمد کے اندر نہیں۔ قتل عمد میں نہیں، قتل عمد میں تو ایک آدمی نے جان بوجھ کر آلۂ قتل کے ذریعے دوسرے آدمی کو قتل کیا ہے یعنی اس کا ارادہ ہی جرم کرنے کا تھا تو اس کے اندر قبیلے والے ساتھ نہیں دیتے کہ تم نے خود جرم کیا ہے لہٰذا خود ہی یہ سارا مال ادا کرنا پڑے گا۔ لیکن اگر کسی فرد سے غلطی سے قتل ہو جائے تو پھر سارے قبیلے والے مل کر اس کی مدد کرتے ہیں کیونکہ اس نے یہ قتل جان بوجھ کر نہیں کیا بلکہ غلطی سے ہوا ہے، اور قبیلے والوں کی بھی کوتاہی ہے، قبیلے والوں کا کام تھا کہ اپنے ہر آدمی کی حفاظت کریں قتل کرنے سے، اپنے ہر آدمی کو روک کر رکھیں جرم کرنے سے۔ تو جب ان کے آدمی نے جرم کیا تو قبیلے والوں کی بھی کوتاہی ہوئی، جب ان کی کوتاہی ہوئی ہے اس نے غلطی سے اس سے جرم ہوا ہے تو وہ اس کی مدد کریں گے بھئی، لیکن قتل عمد میں اس نے جان بوجھ کر آلۂ قتل سے قتل کیا ہے وہاں قبیلے والے اس کا ساتھ نہیں دیں گے۔ تو کہتے ہیں ”وَإِنَّمَا تَجِبُ الدِّيَةُ فِي مَالِهِ فِي الْعَمْدِ“ اور دیت واجب ہوگی قاتل ہی کے مال میں قتل عمد کے اندر ”لِأَنَّ الْعَوَاقِلَ لَا تَعْقِلُ الْعَمْدَ“ عقل یعقل کے معنی ہوتے ہیں دیت ادا کرنا اور عواقل کا معنی ہے دیت ادا کرنے والے، مراد وہ قبیلے والے ہیں۔ کہتے ہیں ”لِأَنَّ الْعَوَاقِلَ لَا تَعْقِلُ الْعَمْدَ“ اس لیے کیونکہ دیت ادا کرنے والے وہ قتل عمد کی دیت ادا نہیں کرتے۔ ”لِأَنَّ الْعَوَاقِلَ لَا تَعْقِلُ الْعَمْدَ“ اس لیے کیونکہ عواقل جو ہیں یعنی وہ قبیلے والے جو ہیں ”لَا تَعْقِلُ الْعَمْدَ“ وہ قتل عمد کی دیت ادا نہیں کرتے۔ ”وَفِي الْخَطَإِ“ بھئی دوسری صورت یہ تھی کہ غلطی سے دار الحرب میں ایک مسلمان نے دوسرے کو قتل کیا ہے تو اس کے اندر بھی قبیلے والے ساتھ شریک نہیں ہوں گے۔ وجہ یہ کہ قبیلے والوں پر یہ جو دیت آتی ہے اس لیے کیونکہ قبیلے والوں کی بھی کوتاہی ہے۔ ان کا کام تھا اپنے آدمی کو اس بات سے بچا کر رکھیں کہ وہ کسی دوسرے کو قتل کرے، تو ان کی طرف سے چونکہ کوتاہی ہوتی ہے لہٰذا ان کو بھی یہ مال ادا کرنا پڑتا ہے، لیکن یہاں تو اس آدمی نے جو قتل کیا ہے وہ دار الحرب میں کیا ہے تو وہاں تو وہ کسی کو قتل سے روکنے پر قادر نہیں تھے لہٰذا قبیلے والوں کی طرف سے کوئی کوتاہی نہیں پائی گئی۔ جب کوئی کوتاہی نہیں پائی گئی تو قبیلے والوں پر یہ دیت کا مال بھی نہیں آئے گا، وہ قاتل کو خود ہی ادا کرنا پڑے گا اگرچہ اس نے غلطی سے قتل کیا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَفِي الْخَطَإِ“ اور خطا کے اندر بھی قاتل کے مال میں سے دیت ہوگی۔ کہتے ہیں ”لِأَنَّهُ لَا قُدْرَةَ لَهُمْ عَلَى الصِّيَانَةِ“ اس لیے کیونکہ عاقلہ جو ہے ان کو کوئی قدرت نہیں ہے ”عَلَى الصِّيَانَةِ“ اس قاتل کی حفاظت کرنے کی، کہ اس قاتل کی حفاظت کرتے قتل کرنے سے۔ ”لِأَنَّهُ لَا قُدْرَةَ لَهُمْ عَلَى الصِّيَانَةِ“ اس لیے کیونکہ قبیلے والوں کو کوئی قدرت نہیں ہے اس قاتل کی حفاظت کرنے پر ”مَعَ تَبَايُنِ الدَّارَيْنِ“ دونوں داروں کے مختلف ہونے کے ساتھ۔ دونوں دار مختلف تھے اس لیے ان کو قدرت ہی نہیں تھی بچانے کی ”وَالْوُجُوبُ عَلَيْهِمْ عَلَى اعْتِبَارِ تَرْكِهَا“ اور یہ جو دیت کا وجوب ہوتا ہے عاقلہ پر ”عَلَى اعْتِبَارِ تَرْكِهَا“ وہ اس صیانت کو وہ اس حفاظت کو ترک کرنے کے اعتبار سے ہوتا ہے کہ انہوں نے کوتاہی کی ہے، لیکن یہاں تو ان کی طرف سے کوئی کوتاہی نہیں پائی گئی کیونکہ تباینِ دارین تھا بھئی۔ آگے دیکھیے: ”وَإِنْ كَانَا أَسِيرَيْنِ فَقَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ أَوْ قَتَلَ مُسْلِمٌ تَاجِرٌ أَسِيرًا فَلَا شَيْءَ عَلَى الْقَاتِلِ إِلَّا الْكَفَّارَةُ فِي الْخَطَإِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ ”وَقَالَا فِي الْأَسِيرَيْنِ الدِّيَةُ فِي الْخَطَإِ وَالْعَمْدِ“ بھئی اب صورت یہ ہے کہ دو مسلمان قیدی ہیں دار الحرب میں، ان میں سے ایک قیدی دوسرے کو قتل کر دیتا ہے یا ایک مسلمان تاجر جو ہے وہ مسلمان قیدی کو قتل کر دیتا ہے، تو اس صورت میں امام صاحب کے نزدیک صرف خطا کی صورت میں کفارہ آئے گا اور دیت نہ عمد کی صورت میں آئے گی اور نہ خطا کی صورت میں آئے گی، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ نہیں، یہ مسئلہ بھی اسی طرح ہے جس طرح مستأمن والا مسئلہ تھا اور مستأمن جو ہے وہ مسلمان جو امان لے کر دار الحرب میں گیا ہے، جیسے اس کو عصمتِ مؤثمہ حاصل ہوتی ہے اسی طرح اس کو عصمتِ مقومہ بھی حاصل ہوتی ہے لہٰذا قصاص تو نہیں آئے گا لیکن دیت ہر حال میں آئے گی۔ تو صاحبین کے نزدیک چاہے قتل عمد ہو قیدی کا چاہے قتل خطا ہو، دونوں صورتوں میں قاتل پر دیت آئے گی اور اگر قتل غلطی سے ہوا ہے تو اس میں کفارہ بھی آئے گا۔ جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ چاہے قیدی کو عمداً قتل کیا جائے چاہے خطأً قتل کیا جائے، دونوں صورتوں میں دیت نہیں آئے گی، ہاں البتہ اگر قتل خطا ہوا ہے تو پھر کفارہ آئے گا۔ وجہ یہ ہے کہ امام صاحب اور صاحبین کا آپس میں اختلاف ہے۔ امام صاحب کے نزدیک جو مسلمان قیدی ہے اس کو صرف عصمتِ مؤثمہ حاصل ہے، اس کی عصمتِ متقومہ ختم ہو گئی، اس کی عصمتِ متقومہ ختم ہو گئی۔ جب عصمتِ متقومہ ختم ہو گئی تو اسی کی وجہ سے تو قصاص اور دیت آیا کرتی ہے تو لہٰذا یہاں مسلمان قیدی کو قتل کرنے سے دیت نہیں آئے گی، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں نہیں، مسلمان قیدی جو ہے اس کو بھی مستأمن کی طرح عصمتِ متقومہ بھی حاصل ہے اور عصمتِ مؤثمہ بھی حاصل ہے۔ بات سمجھ میں آگئی۔ تو کہتے ہیں ”وَإِنْ كَانَا أَسِيرَيْنِ“ اور اگر وہ دونوں مسلمان جو ہیں وہ قیدی تھے ”فَقَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ“ تو ان دونوں قیدیوں میں سے ایک نے اپنے ساتھی کو قتل کر دیا ”أَوْ قَتَلَ مُسْلِمٌ تَاجِرٌ أَسِيرًا“ یا کسی مسلمان تاجر نے قیدی کو قتل کر دیا ”فَلَا شَيْءَ عَلَى الْقَاتِلِ“ تو قاتل پر کوئی چیز نہیں ہے یعنی اس پر دیت نہیں آئے گی ”إِلَّا الْكَفَّارَةُ فِي الْخَطَإِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ صرف کفارہ آئے گا خطا کی صورت میں امام صاحب کے نزدیک۔ امام صاحب کے نزدیک صرف کفارہ آئے گا کیونکہ صرف عصمتِ مؤثمہ ہے اس قیدی کی، عصمتِ متقومہ نہیں، اور عصمتِ مؤثمہ کی وجہ سے تو گناہ ہوتا ہے اور کفارہ آتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”إِلَّا الْكَفَّارَةُ فِي الْخَطَإِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ صرف کفارہ آئے گا خطا کی صورت میں امام صاحب کے نزدیک۔ ”وَقَالَا فِي الْأَسِيرَيْنِ“ اور صاحبین جو ہیں ان قیدیوں کے بارے میں فرماتے ہیں ”الدِّيَةُ فِي الْخَطَإِ وَالْعَمْدِ“ کہ دیت آئے گی خطا کے اندر اور عمد کے اندر، دونوں صورتوں میں دیت آئے گی بھئی۔ ”وَقَالَا فِي الْأَسِيرَيْنِ“ اور صاحبین ان دو قیدیوں کے بارے میں فرماتے ہیں، کون سے دو قیدی؟ وہ جس کو قتل کیا گیا ہے چاہے قیدی نے قتل کیا ہے چاہے تاجر نے قتل کیا ہے۔ تو ان دو قیدیوں کے بارے میں صاحبین فرماتے ہیں ”الدِّيَةُ فِي الْخَطَإِ وَالْعَمْدِ“ کہ دیت آئے گی خطا کے اندر اور عمد کے اندر یعنی دونوں صورتوں میں ”لِأَنَّ الْعِصْمَةَ لَا تَبْطُلُ بِعَارِضِ الْأَسْرِ“ أَسَرَ يَأْسِرُ أَسْرًا کا معنی ہے قیدی بنانا، ”لِأَنَّ الْعِصْمَةَ لَا تَبْطُلُ بِعَارِضِ الْأَسْرِ“ اس لیے کیونکہ عصمت جو ہے وہ باطل نہیں ہوتی قیدی بنانے کے عارض کی وجہ سے۔ اگر قیدی بنانے کا عارض پیش آگیا ہے تو اس کی وجہ سے عصمت باطل نہیں، اس قیدی کو بھی عصمتِ مؤثمہ بھی حاصل ہے اور عصمتِ متقومہ بھی۔ تو کہتے ہیں ”لِأَنَّ الْعِصْمَةَ لَا تَبْطُلُ بِعَارِضِ الْأَسْرِ كَمَا لَا تَبْطُلُ بِعَارِضِ الِاسْتِئْمَانِ“ اس لیے کیونکہ عصمت باطل نہیں ہوتی قیدی بنانے کے عارض کی وجہ سے جیسے کہ عصمت باطل نہیں ہوتی امان لینے کے عارض کی وجہ سے ”عَلَى مَا بَيَّنَّاهُ“ اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دیا کہ دار الاسلام کی وجہ سے عصمت حاصل ہے تو دار الحرب میں امان لے کر جانے سے بھی وہ عصمت ساقط نہیں ہوتی۔ ”وَامْتِنَاعُ الْقِصَاصِ“ اور قصاص کا ممتنع ہونا یعنی قصاص کا نہ آنا، پچھلے مسئلے میں بھی بتلایا تھا قصاص نہیں آ سکتا اور یہاں بھی قصاص نہیں آ سکتا کیونکہ دار الحرب میں مسلمانوں کو قوت حاصل نہیں ہے اور قصاص کی وصولی کے لیے قوت چاہیے۔ تو کہتے ہیں ”وَامْتِنَاعُ الْقِصَاصِ لِعَدَمِ الْمَنَعَةِ“ اور قصاص کا ممتنع ہونا یعنی نہ آنا وہ قوت نہ ہونے کی وجہ سے ہے ”وَيَجِبُ الدِّيَةُ فِي مَالِهِ“ اور دیت جو ہے وہ قاتل ہی کے مال میں واجب ہوگی ”لِمَا قُلْنَا“ اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دیا کہ قتل عمد میں تو عاقلہ شریک ہی نہیں ہوتے اور قتل خطا میں شریک ہوتے ہیں کیونکہ انہوں نے حفاظت کے اندر کوتاہی کی تھی لیکن یہاں تو دار الحرب کے اندر مسئلہ پیش آیا ہے، یہاں تو اس کے عاقلہ کو قدرت ہی حاصل نہیں ہے تو ان کی طرف سے کوئی کوتاہی نہیں ہوئی لہٰذا ان پر مال نہیں آئے گا، سارا مال قاتل ہی کو ادا کرنا پڑے گا۔ یہ معنی ہے ”وَيَجِبُ الدِّيَةُ فِي مَالِهِ لِمَا قُلْنَا“ اور دیت قاتل ہی کے مال میں واجب ہوگی اس وجہ سے جو ہم نے کہہ دیا۔ ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اب امام صاحب کی دلیل آگئی۔ امام صاحب کیا فرماتے ہیں کہ قید کی وجہ سے مسلمان قیدی کی عصمتِ متقومہ ختم ہو گئی بھئی۔ جب عصمتِ متقومہ ختم ہوئی تو اب اس قیدی کو قتل کرنے کی وجہ سے قصاص یا دیت نہیں آ سکتا۔ البتہ عصمتِ مؤثمہ اس کو حاصل ہے کیونکہ مسلمان ہے یہ، تو اس کی وجہ سے صرف گناہ ہوگا اور اگر قتل خطا ہے تو کفارہ دینا پڑے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے ”أَنَّ بِالْأَسْرِ صَارَ تَبَعًا لَهُمْ“ ”أَنَّ بِالْأَسْرِ“ میں نے بتایا أَسَرَ يَأْسِرُ أَسْرًا کا معنی ہے قیدی بنانا، امام صاحب کی دلیل یہ ہے ”أَنَّ بِالْأَسْرِ“ کہ قیدی بنانے کی وجہ سے ”صَارَ تَبَعًا لَهُمْ“ یہ مسلمان قیدی بھی ان دار الحرب دار الحرب والوں کے تابع ہو گیا، یہ قیدی بھی ان کے تابع ہو گیا، اور دار الحرب والے اصل اور قیدی تابع، تو اصل کو جب عصمتِ متقومہ حاصل نہیں تو قیدی کو کیسے عصمتِ متقومہ حاصل ہو سکتی ہے؟ تو امام صاحب فرماتے ہیں: ”أَنَّ بِالأَسْرِ صَارَ تَبَعًا لَهُمْ“ کہ قیدی بنانے کی وجہ سے یہ مسلمان قیدی دار الحرب والوں کے تابع ہو گیا، ”بِصَيْرُورَتِهِ مَقْهُورًا فِي أَيْدِيهِمْ“۔ اب یہاں سے وجہ ذکر کر رہے ہیں کہ مسلمان قیدی دار الحرب والوں کے تابع کیسے ہو گیا؟ کہتے ہیں وجہ یہ کہ ”بِصَيْرُورَتِهِ مَقْهُورًا“ اس وجہ سے کہ وہ مغلوب ہو گیا ہے ”فِي أَيْدِيهِمْ“ ان کے قبضے میں۔ مسلمان قیدی ان کے قبضے میں مغلوب ہو گیا ہے، وہ پوری طرح اس کے اوپر غالب آ گئے ہیں، یہاں تک کہ جب وہ سفر پر نکلتے ہیں قیدی کو لے کر تو مسلمان قیدی بھی مسافر بن جاتا ہے، اور جب وہ کہیں پر پڑاؤ ڈالتے ہیں تو مسلمان قیدی بھی مقیم بن جاتا ہے، تو اتنا تابع بن گیا کہ اب مسافر یا مقیم بننا بھی ان کے تابع ہو گیا۔ معلوم ہوا مسلمان قیدی مغلوب ہو چکا ہے پوری طرح۔ تو کہتے ہیں: ”بِصَيْرُورَتِهِ مَقْهُورًا فِي أَيْدِيهِمْ“ اس وجہ سے کہ مسلمان قیدی مغلوب ہو گیا ان کے قبضے میں، ”وَلِهَذَا يَصِيرُ مُقِيمًا بِإِقَامَتِهِمْ“ اور اسی لیے مسلمان قیدی مقیم بن جاتا ہے ان حربیوں کے اقامت کرنے کی وجہ سے، ”وَمُسَافِرًا بِسَفَرِهِمْ“ اور مسلمان قیدی مسافر بن جاتا ہے ان حربیوں کے سفر کی وجہ سے، ”فَيَبْطُلُ بِهِ الإِحْرَازُ أَصْلًا“ تو اس کی وجہ سے احراز جو ہے قطعی طور پر باطل ہو گیا، اب مسلمان کی جان معصوم نہ رہی یعنی عصمتِ متقومہ ختم ہو گئی۔ ”وَصَارَ كَالْمُسْلِمِ الَّذِي لَمْ يُهَاجِرْ إِلَيْنَا“ اور یہ مسلمان قیدی بھی اسی مسلمان کی طرح ہو گیا جس نے ہماری طرف ہجرت نہیں کی۔ بھئی میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ دار الحرب کے اندر بھی اگر کوئی کافر مسلمان ہو جاتا ہے تو اس کو عصمتِ مؤثمہ حاصل ہو گئی لیکن عصمتِ متقومہ نہیں، عصمتِ متقومہ تب حاصل ہو گی جب دار الاسلام آ جائے گا۔ توجہ ہے؟ جب کوئی حربی دار الحرب میں مسلمان ہوتا ہے تو اس کے ساتھ تعرض حرام ہو جاتا ہے، اسے قتل کرنا حرام ہو گیا، کوئی قتل کرے گا تو قتل کا عظیم گناہ ملے گا، اس کو عصمتِ مؤثمہ حاصل ہو گئی، لیکن عصمتِ متقومہ یعنی جس کی وجہ سے قصاص یا دیت آتی ہے وہ ابھی بھی اس کو حاصل نہیں۔ وہ جب دار الاسلام آئے گا پھر اس کو عصمتِ متقومہ بھی حاصل ہو جائے گی۔ تو جس طرح دار الحرب میں کوئی حربی مسلمان ہو جائے تو اس کو صرف عصمتِ مؤثمہ حاصل ہوتی ہے عصمتِ متقومہ نہیں، اسی طرح یہ مسلمان قیدی بھی جب مغلوب ہو گیا تو یہ بھی اسی مسلمان کی طرح بن گیا جو دار الحرب میں ہی مسلمان ہوا ہے، اور اس کو صرف عصمتِ مؤثمہ حاصل تھی تو اس مسلمان قیدی کو بھی صرف عصمتِ مؤثمہ حاصل ہے۔ یہ معنی ہے ”وَصَارَ كَالْمُسْلِمِ الَّذِي لَمْ يُهَاجِرْ إِلَيْنَا“ اور یہ مسلمان قیدی اس مسلمان کی طرح ہو گیا جس نے ہماری طرف ہجرت نہیں کی۔ ”وَخُصَّ الْخَطَأُ بِالْكَفَّارَةِ“ یہاں سے وجہ ذکر کر رہے ہیں، متن کے اندر آیا تھا کہ خطا کے اندر کفارہ آئے گا، عمد کے اندر کفارہ نہیں بلکہ صرف خطا کے اندر کفارہ آئے گا، اس کی وجہ بیان کر رہے ہیں۔ میں نے وجہ ذکر کر دی کہ عند الاحناف قتل عمد کے اندر کفارہ نہیں آتا، قتل خطا کے اندر کفارہ آتا ہے، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک قتل عمد میں بھی کفارہ آتا ہے اور قتل خطا میں بھی۔ وہ فرماتے ہیں، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب قتل خطا کے اندر کفارہ آ رہا ہے حالانکہ قتل خطا کم جرم ہے قتل عمد کے مقابلے میں، قتل عمد میں تو باقاعدہ آلۂ قتل کے ذریعے کوئی دوسرے کو قتل کرتا ہے، تو قتل خطا کم جرم ہے، جب اس کے اندر کفارہ آ رہا ہے تو بڑا جرم جو ہے یعنی قتل عمد اس میں بطریق اولیٰ کفارہ آئے گا۔ توجہ ہے؟ جبکہ ہم کہتے ہیں نہیں، قتل عمد کے اندر کفارہ نہیں آ سکتا، وجہ یہ کہ کفارہ جو ہے اس کے اندر دو پہلو ہیں: ایک اعتبار سے دیکھیں تو یہ سزا ہے جرم کیا ہے، دوسرے اعتبار سے دیکھیں تو یہ عبادت بھی ہے مثلاً کفارے کے اندر روزے رکھے جاتے ہیں اور روزے تو عبادت ہیں بھئی۔ تو معلوم ہوا کفارے کے اندر سزا کا بھی پہلو اور عبادت کا بھی پہلو، لہٰذا کفارہ انہی چیزوں میں آئے گا جس میں دونوں پہلو ہوں: حرام ہونے کا بھی پہلو ہو اور حلال ہونے کا بھی پہلو ہو، اور یہ قتل خطا میں ہے۔ قتل خطا کے اندر مثلاً ایک آدمی تیر چلا رہا ہے، اس نے شکار پر تیر چلایا اور وہ غلطی سے ایک انسان کو جا کر لگا، تو اس کے ارادے کو دیکھیں تو یہ فعل اس کا جائز تھا، وہ ایک شکار پر تیر چلا رہا تھا، تو اس اعتبار سے دیکھیں اس کا تیر چلانا جائز، لیکن اس اعتبار سے دیکھیں کہ اس کی وجہ سے ایک جان چلی گئی ہے اس کا تیر چلانا حرام، تو دیکھو اس تیر چلانے میں دونوں پہلو آ گئے، حلال ہونے کا بھی پہلو اور حرام ہونے کا بھی پہلو، لہٰذا اس کی وجہ سے کفارہ آئے گا کہ کفارے کے اندر بھی دونوں پہلو ہیں، سزا والا پہلو بھی ہے اور عبادت والا پہلو بھی ہے، جبکہ قتل عمد جو ہے وہ تو ہر اعتبار سے جرم ہی جرم ہے، وہاں تو اباحت والی اور جواز کی کوئی صورت نہیں، لہٰذا اس کی وجہ سے کفارہ بھی نہیں آ سکتا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَخُصَّ الْخَطَأُ بِالْكَفَّارَةِ“ اور خطا کو خاص کیا گیا کفارے کے ساتھ کہ صرف خطا کے اندر کفارہ آئے گا، ”لِأَنَّهُ لَا كَفَّارَةَ فِي الْعَمْدِ عِنْدَنَا“ اس لیے کیونکہ قتل عمد کے اندر ہمارے نزدیک کفارہ نہیں ہے، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک قتل عمد میں بھی کفارہ ہے بھئی۔ آگے دیکھیے بھئی: ”فَصْلٌ“ بھئی اس فصل کے اندر جو اہل حرب میں سے امان لے کر دار الاسلام آتا ہے یعنی وہ حربی مستأمن جو ہے اس کے احکام ذکر فرمائیں گے۔ ”قَالَ:“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَإِذَا دَخَلَ الْحَرْبِيُّ إِلَيْنَا مُسْتَأْمِنًا“ اور جب کوئی حربی ہماری طرف داخل ہوا مستأمن ہو کر، ”لَمْ يُمَكَّنْ أَنْ يُقِيمَ فِي دَارِنَا سَنَةً“ تو اس کو قدرت نہیں دی جائے گی کہ وہ ہمارے دار میں ایک سال تک رہے، ”وَيَقُولُ لَهُ الإِمَامُ:“ اور امام اس سے کہے گا: ”إِنْ أَقَمْتَ تَمَامَ السَّنَةِ وَضَعْتُ عَلَيْكَ الْجِزْيَةَ“ اگر تم نے قیام کیا پورا سال تو میں تمہارے اوپر جزیہ مقرر کر دوں گا۔ بھئی یاد رکھو حربی ہمارے وطن میں آتا ہے امان لے کر تو اس کو زیادہ عرصہ یہاں رہنے کی اجازت نہیں ہو گی، وجہ یہ کہ پھر یہاں کی وہ زبان سیکھ لے گا، یہاں کے لوگوں کے رہنے سہنے کے طریقے سیکھ لے گا، تو یہ جاسوسی کرے گا اور کفار کو یہاں کی خبریں پہنچائے گا بھئی، تو لہٰذا اس کو زیادہ عرصہ یہاں رہنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالأَصْلُ“ اور ضابطہ یہ ہے ”أَنَّ الْحَرْبِيَّ لَا يُمَكَّنُ مِنْ إِقَامَةٍ دَائِمَةٍ فِي دَارِنَا“ کہ حربی کو قدرت نہیں دی جائے گی کہ وہ دائمی طور پر اقامت اختیار کرے ہمارے دار میں یعنی دار الاسلام میں، ”إِلَّا بِالاسْتِرْقَاقِ أَوِ الْجِزْيَةِ“ مگر غلام بنانے کے ذریعے یا جزیہ کے ذریعے، یعنی اگر اس کو غلام بنا لیا جائے پھر وہ یہاں رہ سکتا ہے ہمیشہ کے لیے یا اس کو ذمی بنا دیا جائے اور اس سے جزیہ لیا جائے پھر وہ ہمیشہ کے لیے یہاں رہ سکتا ہے، تو یہ معنی ہے ”إِلَّا بِالاسْتِرْقَاقِ أَوِ الْجِزْيَةِ“ مگر صرف غلام بنانے کی وجہ سے یا جزیے کی وجہ سے، ”لِأَنَّهُ يَصِيرُ عَيْنًا لَهُمْ“ اس لیے کیونکہ یہ ان کے لیے جاسوس بن جائے گا، عَیْن بھئی، عَیْن آنکھ کو کہتے ہیں اور اسی کا ایک معنی جاسوس کے بھی آتے ہیں، کہتے ہیں ”لِأَنَّهُ يَصِيرُ عَيْنًا لَهُمْ“ اس لیے کیونکہ یہ ان کے لیے جاسوس بن جائے گا، ”وَعَوْنًا عَلَيْنَا“ اور یہ ہمارے خلاف ان کا مددگار بن جائے گا، عَوْن کا کیا معنی؟ مددگار بھئی، تو ”وَعَوْنًا عَلَيْنَا“ تو وہ مددگار بن جائے گا علینا ہمارے خلاف، ”فَيَلْتَحِقُ الْمَضَرَّةُ بِالْمُسْلِمِينَ“ تو مسلمانوں کو اس سے نقصان ہو گا، ”وَيُمَكَّنُ مِنَ الإِقَامَةِ الْيَسِيرَةِ“ اور اس کو تھوڑی سی اقامت کی قدرت دی جائے گی یعنی تھوڑے عرصے کے لیے وہ آ سکتا ہے، ”لِأَنَّ فِي مَنْعِهَا“ اس لیے کیونکہ تھوڑے عرصے کی اقامت سے بھی منع کرنے میں ”قَطْعَ الْمِيرَةِ وَالْجَلَبِ وَسَدَّ بَابِ التِّجَارَةِ“ قطع میرہ، میرہ کہتے ہیں وہ خوراک جسے سفر کے لیے جمع کیا جائے، یہاں یہ مطلقاً خوراک کے معنی میں ہے، میرہ کا کیا معنی؟ خوراک۔ جلب بھئی، جلب کا معنی ہے سامانِ تجارت، جلب کے کئی معنی آتے ہیں یہاں اس کا مناسب معنی جو بنتا ہے وہ ہے سامانِ تجارت، اس لیے کیونکہ اگر ہم حربیوں کو معمولی مدت کے لیے بھی یہاں آنے نہیں دیں گے تو پھر تو خوراک کا راستہ بھی بند ہو جائے گا اور نیز سامانِ تجارت کا راستہ بھی بند ہو جائے گا اور نیز تجارت بھی ختم ہو جائے گی کیونکہ جب ہم ان کو یہاں نہیں آنے دیں گے تو وہ ہمارے مسلمانوں کو بھی اپنے ملک میں نہیں آنے دیں گے، تو اس کے اندر مسلمانوں کا نقصان ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”لِأَنَّ فِي مَنْعِهَا“ اس لیے کیونکہ تھوڑی سی اقامت کو منع کرنے میں ”قَطْعَ الْمِيرَةِ وَالْجَلَبِ“ اس میں خوراک اور سامانِ تجارت کو کاٹنا ہے ”وَسَدَّ بَابِ التِّجَارَةِ“ اور اس کے اندر تجارت کے دروازے کو بند کرنا ہے، ”فَفَصَلْنَا بَيْنَهُمَا بِسَنَةٍ“ تو ہم نے فرق کیا ان دونوں کے درمیان ایک سال کے ذریعے، بھئی صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ حربی کو مدتِ کثیرہ کے لیے تو دار الاسلام میں رہنے کی اجازت نہیں ہو گی لیکن مدتِ قلیلہ کے لیے اس کو دار الاسلام میں رہنے کی اجازت ہو گی، تو اب ہم نے مدتِ کثیرہ اور مدتِ قلیلہ کے درمیان فرق سال کے ذریعے کیا کہ اگر ایک سال سے کم ہے تو یہ مدتِ قلیلہ ہے اور ایک سال یا اس سے زیادہ ہے تو یہ مدتِ کثیرہ ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”فَفَصَلْنَا بَيْنَهُمَا بِسَنَةٍ“ تو ہم نے ان دونوں میں فرق کیا ایک سال کے ذریعے، ”لِأَنَّهَا مُدَّةٌ تَجِبُ فِيهَا الْجِزْيَةُ“ اس لیے کیونکہ ایک سال ایسی مدت ہے کہ اس کے اندر جزیہ واجب ہو جاتا ہے، آپ جانتے ہیں کہ وہ کافر جو دار الاسلام میں ذمی بن کر رہتے ہیں ہر سال ان کو جزیہ دینا پڑتا ہے، وہ بڑا معمولی سا ہوتا ہے، البتہ اس جزیے کی وجہ سے پورا سال اسلامی حکومت ان کی جان اور مال کی حفاظت کرتی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”لِأَنَّهَا مُدَّةٌ تَجِبُ فِيهَا الْجِزْيَةُ“ اس لیے کیونکہ یہ ایک سال ایسی مدت ہے کہ اس کے اندر جزیہ واجب ہو جاتا ہے، ”فَيَكُونُ الإِقَامَةُ لِمَصْلَحَةِ الْجِزْيَةِ“ تو اس صورت کے اندر جو اقامت ہو گی وہ جزیے کی مصلحت کی وجہ سے ہو گی، جزیے کا فائدہ حاصل ہو گا، ”ثُمَّ إِنْ رَجَعَ بَعْدَ مَقَالَةِ الإِمَامِ“ پھر اس کے بعد اگر وہ واپس لوٹ گیا امام کے کہنے کے بعد، مقالہ، مقالۃٌ یاد رکھو مقالہ یہ مصدر ہے، قال یقول قولاً ومقالاً ومقالۃً، تو قول مصدر بھی آتا ہے، مقال مصدر بھی آتا ہے اور مقالہ مصدر بھی آتا ہے، کہتے ہیں ”ثُمَّ إِنْ رَجَعَ بَعْدَ مَقَالَةِ الإِمَامِ“ پھر اگر وہ شخص امام کے کہنے کے بعد واپس لوٹ گیا ”قَبْلَ تَمَامِ السَّنَةِ إِلَى وَطَنِهِ“ سال پورا ہونے سے پہلے ہی اپنے وطن کو، ”فَلَا سَبِيلَ عَلَيْهِ“ تو اس پر کوئی راستہ نہیں ہے یعنی اس کے ساتھ کوئی تعرض نہیں کیا جائے گا، اگر سال سے پہلے مستأمن جو ہے اپنے وطن واپس چلا جاتا ہے تو مسلمانوں کا اس پر کوئی راستہ نہیں، مسلمان اس سے کوئی تعرض نہیں کر سکتے نہ اس کے جان میں اور نہ اس کے مال میں، ”وَإِذَا مَكَثَ سَنَةً فَهُوَ ذِمِّيٌّ“ اور اگر وہ ایک سال ٹھہرا رہا تو وہ ذمی ہے، ”لِأَنَّهُ لَمَّا أَقَامَ سَنَةً“ اس لیے کیونکہ جب وہ ایک سال تک ٹھہرا رہا ”بَعْدَ تَقَدُّمِ الإِمَامِ إِلَيْهِ“ بعد امام کا اس کو حکم دینے کے، تَقَدُّم بھئی، تقدم کا ایک معنی ہے حکم دینا، اسی طرح تقدم کا ایک معنی ہے کسی پر کوئی چیز پیش کرنا، تو جب امام نے ایک دفعہ اس پر یہ بات پیش کر دی تھی کہ اگر ایک سال تک رہے تو تم ذمی بن جاؤ گے اور تمہیں جزیہ دینا پڑے گا اور پھر تمہیں واپس جانے کی اجازت نہیں ہو گی، تو امام کے یہ کہنے کے بعد بھی اگر یہ ایک سال رہتا ہے معلوم ہوا وہ ذمی بننے پر راضی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”لِأَنَّهُ لَمَّا أَقَامَ سَنَةً“ اس لیے کیونکہ جب اس نے ایک سال اقامت اختیار کر لی ”بَعْدَ تَقَدُّمِ الإِمَامِ إِلَيْهِ“ امام کے اس کو حکم دینے کے بعد ”صَارَ مُلْتَزِمًا لِلْجِزْيَةِ“ تو یہ شخص التزام کرنے والا ہو گیا جزیے کا کہ اس نے اپنے اوپر جزیے کو لازم کر لیا، ”فَيَصِيرُ ذِمِّيًّا“ تو یہ ذمی بن جائے گا، ”وَلِلإِمَامِ أَنْ يُوَقِّتَ فِي ذَلِكَ مَا دُونَ السَّنَةِ كَالشَّهْرِ وَالشَّهْرَيْنِ“ یہاں سے بتلا رہے ہیں کہ ہم نے کہا کہ مستأمن جو ہے وہ ایک سال سے کم مدت دار الاسلام میں رہ سکتا ہے لیکن یہ کوئی قطعی بات نہیں ہے، یہ امام کی رائے کے سپرد ہے، امام جو مدت مقرر کرنا چاہے وہ کر سکتا ہے کہ مثلاً ایک مہینے سے زیادہ کسی کو نہ رہنے دے یا دو مہینے سے کسی کو زیادہ نہ رہنے دے، تو کہتے ہیں ”وَلِلإِمَامِ أَنْ يُوَقِّتَ فِي ذَلِكَ“ اور امام کے لیے جائز ہے کہ وہ اس کے اندر وقت متعین کرے ”مَا دُونَ السَّنَةِ“ ایک سال سے کم کا ”كَالشَّهْرِ وَالشَّهْرَيْنِ“ جیسے ایک مہینہ ہے اور دو مہینے ہیں، ”وَإِذَا أَقَامَهَا بَعْدَ مَقَالَةِ الإِمَامِ“ یہاں سے صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ تین صورتوں کے اندر مستأمن ذمی بن جائے گا، تین صورتیں ذکر کریں گے جن میں مستأمن ذمی بن جائے گا: ایک صورت یہ ہے کہ مثلاً امام کے کہنے کے باوجود یہ ایک سال یہاں رہا تو اب بھی ذمی بن جائے گا اور اس پر جزیہ لاگو کر دیا جائے گا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اس نے یہاں کوئی زمین خریدی اور اس پر خراج مقرر کر دیا گیا، اور خراج یہ زمین پر ٹیکس ہے بھئی اور یہ بھی سال میں ایک دفعہ دینا پڑتا ہے، تو اگر اس کی زمین پر خراج مقرر کر دیا گیا تو اس صورت میں بھی یہ ذمی بن جائے گا، جب اس کی زمین پر خراج مقرر ہوا تو اس کی اپنی ذات پر بھی جزیہ آ جائے گا۔ تو یہ دوسری صورت ہے۔ اور تیسری صورت یہ ہے کہ کوئی حربیہ عورت جو ہے دار الاسلام آتی ہے اور کسی ذمی سے یا مسلمان سے نکاح کر لیتی ہے، کوئی حربیہ ہے بھئی عیسائیہ یہودیہ ہے تو مسلمان کے لیے بھی اس سے نکاح جائز، تو حربیہ عورت دار الاسلام آئی اور یہاں کے رہنے والے ذمی سے یا مسلمان سے اس نے نکاح کر لیا تو اس صورت میں بھی یہ ذمیہ بن جائے گی۔ تو اب یہ پہلی صورت ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ”وَإِذَا أَقَامَهَا بَعْدَ مَقَالَةِ الإِمَامِ“ اور جب وہ مستأمن اتنی مدت رہا امام کے کہنے کے بعد، اَقَامَهَا، ہا ضمیر راجع ہے مدت کو، ”وَإِذَا أَقَامَهَا“ اور جب وہ مستأمن یہ مدت اس نے اقامت اختیار کر لی ”بَعْدَ مَقَالَةِ الإِمَامِ“ امام کے کہنے کے بعد، ”يَصِيرُ ذِمِّيًّا“ تو یہ ذمی بن جائے گا ”لِمَا قُلْنَا“ اس وجہ سے جو ہم نے کہا کہ امام کے کہنے کے بعد بھی ایک سال رہتا ہے معلوم ہوا یہ خود ہی ذمی بننے پر راضی ہے۔ ”ثُمَّ لَا يُتْرَكُ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى دَارِ الْحَرْبِ“ پھر اس کو نہیں چھوڑا جائے گا کہ یہ دار الحرب واپس چلا جائے، پھر اس کو دار الحرب واپس جانے کی اجازت نہیں ہو گی یہ ذمی بن گیا ہے، ہاں البتہ اگر اس پر اطمینان ہے پھر اس کو تجارت کے لیے جانے کی اجازت ہو گی، جیسے کسی مسلمان کو دار الحرب جانے کی اجازت ہوتی ہے تجارت کے لیے، یہ جو نیا ذمی ہے اس کو بھی وہاں جانے کی اجازت ہو گی جب یہ اطمینان ہو کہ یہ واپس آئے گا بھئی۔ کہتے ہیں ”ثُمَّ لَا يُتْرَكُ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى دَارِ الْحَرْبِ“ پھر اس کو نہیں چھوڑا جائے گا کہ یہ دار الحرب واپس چلا جائے ”لِأَنَّ عَقْدَ الذِّمَّةِ لَا يُنْقَضُ“ اس لیے کیونکہ عقدِ ذمہ جو ہے اس کو توڑا نہیں جا سکتا، ”كَيْفَ“ اور اس کو کیسے توڑا جا سکتا ہے ”وَأَنَّ فِيهِ قَطْعَ الْجِزْيَةِ وَجَعْلَ وَلَدِهِ حَرْبًا عَلَيْنَا وَفِيهِ مَضَرَّةٌ بِالْمُسْلِمِينَ“ کہتے ہیں بھئی عقدِ ذمہ کو نہیں توڑا جا سکتا اور اس کے توڑنے کی اجازت کیسے دی جا سکتی ہے اس میں تو مسلمانوں کا نقصان ہے کہ اس سے پہلے سالانہ جزیہ وصول ہوتا تھا اب وہ جزیہ بھی ختم ہو جائے گا، اور نیز یہ دار الحرب میں جا کر رہے گا تو اس کی جو اولاد ہے وہ تو ہمارے دشمن ہوں گے وہ مستقبل میں ہمارے ساتھ لڑائی کریں گے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”لِأَنَّ عَقْدَ الذِّمَّةِ لَا يُنْقَضُ“ اس لیے کیونکہ عقدِ ذمہ جو ہے اس کو نہیں توڑا جا سکتا، ”كَيْفَ“ اور اس کو کیسے توڑا جا سکتا ہے ”وَأَنَّ فِيهِ قَطْعَ الْجِزْيَةِ“ اور اس کے اندر تو جزیے کو کاٹنا ہے ”وَجَعْلَ وَلَدِهِ حَرْبًا عَلَيْنَا“ اور اس کی اولاد کو ہمارے خلاف دشمن بنانا ہے ”وَفِيهِ مَضَرَّةٌ بِالْمُسْلِمِينَ“ اور اس کے اندر مسلمانوں کا نقصان ہے۔ آگے دیکھیے: ”فَإِنْ دَخَلَ الْحَرْبِيُّ دَارَنَا“ میں نے بتلایا تھا بھئی تین صورتیں ذکر کریں گے ذمی بننے کی تین صورتیں: ایک صورت یہ کہ سال سے زیادہ رہا تب بھی ذمی بن جائے گا، اور اگر اس کی زمین پر خراج مقرر کر دیا گیا پھر بھی وہ ذمی بن جائے گا، اب وہ ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ”فَإِنْ دَخَلَ الْحَرْبِيُّ دَارَنَا بِأَمَانٍ فَاشْتَرَى أَرْضَ خَرَاجٍ فَإِذَا وُضِعَ عَلَيْهِ الْخَرَاجُ فَهُوَ ذِمِّيٌّ“ اگر کوئی حربی ہمارے دار میں داخل ہوا امان لے کر پھر اس نے کوئی خراجی زمین خرید لی، تو جب اس پر خراج مقرر کر دیا جائے تو وہ ذمی ہے، جب اس پر خراج مقرر کر دیا جائے تو وہ ذمی بن گیا، معلوم ہوا خراج کا مقرر کرنا شرط ہے اور جب شرط پائی جائے گی تو مشروط بھی پایا جائے گا یعنی یہ ذمی بن جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَإِذَا وُضِعَ عَلَيْهِ الْخَرَاجُ فَهُوَ ذِمِّيٌّ“ تو جب اس پر خراج مقرر کر دیا جائے تو وہ ذمی ہے، ”لِأَنَّ خَرَاجَ الأَرْضِ بِمَنْزِلَةِ خَرَاجِ الرَّأْسِ“ اس لیے کیونکہ زمین کا خراج یہ رأس کے خراج کے درجے میں ہے۔ بھئی ایک ہے زمین کا خراج وہ جو سالانہ ٹیکس دیا جاتا ہے، اور ایک ہے رأس کا خراج، رأس سے مراد ذات ہے کیونکہ رأس بول کر پوری ذات عربی میں مراد لی جاتی ہے تو خراج الرأس جو ہے یہ جزیے کو کہتے ہیں۔ جزیہ کافر کے ہر فرد پر آتا ہے تو وہ کیا ہوا؟ خراج الرأس، اور ایک زمین پر ٹیکس ہوتا ہے اسے کیا کہتے ہیں؟ خراج الارض بھئی۔ تو جیسے خراج الارض جو ہے وہ مملکتِ اسلامیہ کے احکام میں سے ایک حکم ہے کہ خراج الارض وصول کیا جائے گا، اسی طرح خراج الرأس یعنی جزیہ جو ہے وہ بھی مملکتِ اسلامیہ کے احکامات میں سے ایک حکم ہے کہ کفار سے سالانہ جزیہ وصول کیا جائے گا، تو جب دار الاسلام کا ایک حکم یعنی خراج الارض اس کے اوپر آ گیا تو دوسرا حکم یعنی خراج الرأس یعنی جزیہ بھی اس پر آ جائے گا بھئی۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ خَرَاجَ الأَرْضِ بِمَنْزِلَةِ خَرَاجِ الرَّأْسِ“ اس لیے کیونکہ خراج الارض جو ہے وہ خراج الرأس یعنی جزیہ کے درجے میں ہے، ”فَإِذَا الْتَزَمَهُ“ جب اس نے خراج الارض کا التزام کر لیا یعنی اپنے اوپر خراج الارض کو لازم کر لیا، ”صَارَ مُلْتَزِمًا لِلْمُقَامِ فِي دَارِنَا“ تو اس نے ہمارے دار میں اقامت کا بھی التزام کر لیا۔ مُقَام بھئی، یاد رکھو مُقَام مصدر ہے: أَقَامَ يُقِيمُ إِقَامَةً فَهُوَ مُقِيمٌ وَأُقِيمَ يُقَامُ إِقَامَةً فَذَاكَ مُقَامٌ، یہ مقام اسم مفعول بھی ہے، یہی اسم ظرف بھی ہے اور یہی مصدرِ میمی بھی ہے بھئی، تو اس مقام کا کیا معنی ہے؟ اس مقام کا معنی اقامت کے بھی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”فَإِذَا الْتَزَمَهُ“ تو جب اس نے اس خراج الارض کا اپنے اوپر التزام کر لیا ”صَارَ مُلْتَزِمًا لِلْمُقَامِ فِي دَارِنَا“ تو اس نے اقامت کا بھی التزام کر لیا ہمارے دار میں، اس نے ہمارے دار میں اقامت کو بھی اپنے اوپر لازم کر لیا۔ ”أَمَّا بِمُجَرَّدِ الشِّرَاءِ لَا يَصِيرُ ذِمِّيًّا“ باقی صرف زمین کو خریدنے کی وجہ سے یہ ذمی نہیں بنے گا، ”لِأَنَّهُ قَدْ يَشْتَرِيهَا لِلتِّجَارَةِ“ اس لیے کیونکہ کبھی کبھار مستأمن جو ہے وہ زمین کو تجارت کے لیے خریدتا ہے، اس کو خریدتا ہے اور پھر آگے بیچ دیتا ہے بھئی، تو کہتے ہیں ”لِأَنَّهُ قَدْ يَشْتَرِيهَا لِلتِّجَارَةِ“ اس لیے کیونکہ مستأمن کبھی کبھار زمین کو تجارت کے لیے خریدتا ہے، ”وَإِذَا لَزِمَهُ خَرَاجُ الأَرْضِ فَبَعْدَ ذَلِكَ تَلْزَمُهُ الْجِزْيَةُ لِسَنَةٍ مُسْتَقْبَلَةٍ“ اور جب اس مستأمن پر زمین کا خراج لازم ہو گیا تو اس کے بعد اس پر جزیہ بھی لازم ہو گیا آنے والے سال کے لیے۔ بھئی جس وقت اس شخص پر خراج الارض لازم ہو گیا تو یہ ذمی بن گیا، جب ذمی بن گیا اب اس کو جزیہ بھی دینا پڑے گا لیکن جزیے کا اعتبار ابھی سے کریں گے یعنی اس کی مدت اس وقت سے شروع ہو گی اور پورے سال کے اندر ایک دفعہ جزیہ ادا کرنا ہوتا ہے، تو جو زمانہ گزر چکا ہے اس کے اندر جزیہ نہیں ہے بلکہ جس وقت یہ ذمی بنا ہے، اور ذمی کب بنا؟ جب اس کی زمین پر خراج مقرر کر دیا گیا تو اب یہ ذمی بن گیا تو اب مستقبل والے سال میں جزیہ اس سے لیا جائے گا۔ یہ معنی ہے کہ ”وَإِذَا لَزِمَهُ خَرَاجُ الأَرْضِ فَبَعْدَ ذَلِكَ تَلْزَمُهُ الْجِزْيَةُ لِسَنَةٍ مُسْتَقْبَلَةٍ“ کہ جب اس پر زمین کا خراج لازم ہو گیا تو اس کے بعد اس پر جزیہ بھی لازم ہو گیا آنے والے سال کے لیے، ”لِأَنَّهُ يَصِيرُ ذِمِّيًّا بِلُزُومِ الْخَرَاجِ“ اس لیے کیونکہ یہ ذمی بن گیا خراج کے لازم ہونے کی وجہ سے ”فَتُعْتَبَرُ الْمُدَّةُ مِنْ وَقْتِ وُجُوبِهِ“ لہٰذا جزیے کی مدت کا اعتبار کیا جائے گا اس خراج کے وجوب کے وقت سے، جس وقت خراج واجب ہوا ہے اس وقت سے جزیے کی مدت شمار کی جائے گی، تو یہ معنی ہے ”فَتُعْتَبَرُ الْمُدَّةُ مِنْ وَقْتِ وُجُوبِهِ“ لہٰذا مدت معتبر ہو گی اس خراج کے وجوب کے وقت سے۔ ”وَقَوْلُهُ فِي الْكِتَابِ:“ بھئی یہ جو اوپر متن آیا تھا یہ جامع صغیر کی عبارت ہے اور اس کے اندر امام محمد رحمہ اللہ نے ذکر فرمایا: ”فَإِذَا وُضِعَ عَلَيْهِ الْخَرَاجُ فَهُوَ ذِمِّيٌّ“ کہ جب اس پر خراج مقرر کر دیا جائے تو وہ ذمی ہے۔ معلوم ہوا خراج کا مقرر کرنا یہ شرط ہے اور ذمی ہونا مشروط ہے، تو جب خراج مقرر ہو جائے گا یہ آدمی ذمی بن جائے گا، اب اسی کی وضاحت کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ، کہتے ہیں ”وَقَوْلُهُ فِي الْكِتَابِ:“ اور امام محمد رحمہ اللہ کا جو قول آیا کتاب کے اندر یعنی ان کی جامع صغیر کے اندر کہ ”فَإِذَا وُضِعَ عَلَيْهِ الْخَرَاجُ فَهُوَ ذِمِّيٌّ“ یہ متن کی عبارت نقل کر دی کہ امام محمد رحمہ اللہ کا یہ جو قول آیا ”فَإِذَا وُضِعَ عَلَيْهِ الْخَرَاجُ فَهُوَ ذِمِّيٌّ تَصْرِيحٌ بِشَرْطِ الْوَضْعِ“ اس کے اندر خراج مقرر کرنے کی شرط کی تصریح ہے کہ یہ شخص ذمی کب بنے گا؟ جب اس کی زمین پر خراج مقرر کر دیا جائے، معلوم ہوا خراج کا مقرر کرنا یہ شرط ہے اور ذمی ہونا مشروط ہے، تو یہی بات بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں امام محمد رحمہ اللہ کا یہ جو قول ہے ”تَصْرِيحٌ بِشَرْطِ الْوَضْعِ“ یہ خراج کے مقرر کرنے کی شرط کی تصریح ہے، ”فَيُخَرَّجُ عَلَيْهِ أَحْكَامٌ جَمَّةٌ“ جمہ کا معنی کثیر، ”فَيُخَرَّجُ عَلَيْهِ أَحْكَامٌ جَمَّةٌ“ تو اس پر کثیر احکام نکالے جائیں گے، ”فَلَا يُغْفَلُ عَنْهُ“ لہٰذا اس سے غافل نہ ہوا جائے، اس شرط سے غافل نہ ہوا جائے۔ توجہ ہے؟ یعنی اس کی وجہ سے بہت سارے احکام آ جائیں گے، جب اس مستأمن کی زمین پر خراج مقرر کر دیا تو وہ ذمی بن گیا، جب ذمی بن گیا تو اب بہت سے احکام آ جائیں گے: اب یہ دار الحرب واپس نہیں جا سکتا، اسی طرح اب اس کے اور مسلمانوں کے درمیان قصاص جاری ہو گا، حالانکہ اس سے پہلے یہ مستأمن تھا مستأمن کو کوئی قتل کر دے تو نہ وہاں قصاص آتا ہے اور نہ دیت آتی ہے کیونکہ اس کا خون ہمیشہ کے لیے محفوظ نہیں وہ تو تھوڑے دنوں کے لیے آیا ہے تو اس کو حرمتِ مؤبدہ حاصل نہیں، تو مستأمن کو دار الاسلام میں کوئی قتل کر دے تو وہاں نہ قصاص آتا ہے اور نہ دیت آتی ہے، لیکن جب یہ ذمی بن گیا تو اس کے قتل کی وجہ سے قصاص بھی آئے گا اور دیت بھی آئے گی بھئی، اور اسی طرح اگر اس کے شراب یا خنزیر ہیں ان کو کوئی مسلمان نقصان پہنچا دے گا تو مسلمان کو ضمان دینا پڑے گا کیونکہ اس ذمی کے نزدیک تو یہ مالِ متقوم ہے بھئی، اسی طرح کسی مسلمان کو اجازت نہیں ہو گی کہ اس کے جان یا مال کو کسی قسم کا نقصان پہنچائے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے ”فَيُخَرَّجُ عَلَيْهِ أَحْكَامٌ جَمَّةٌ“ تو اس پر بہت سے احکام نکالے جائیں گے ”فَلَا يُغْفَلُ عَنْهُ“ لہٰذا اس شرط سے غافل نہ ہوا جائے۔ ”وَإِذَا دَخَلَتْ حَرْبِيَّةٌ بِأَمَانٍ فَتَزَوَّجَتْ ذِمِّيًّا صَارَتْ ذِمِّيَّةً“ یہ تیسری صورت ذکر کر رہے ہیں، ایک حربیہ دار الاسلام آئی اور یہاں آ کر اس نے کسی ذمی سے یا مسلمان سے نکاح کر لیا تو یہ ذمیہ بن جائے گی۔ تو کہتے ہیں ”وَإِذَا دَخَلَتْ حَرْبِيَّةٌ بِأَمَانٍ“ اور جب کوئی حربیہ عورت جو ہے امان کے ساتھ داخل ہوئی یعنی دار الاسلام میں ”فَتَزَوَّجَتْ ذِمِّيًّا“ تو پھر اس نے ذمی سے نکاح کر لیا ”صَارَتْ ذِمِّيَّةً“ تو یہ ذمیہ بن جائے گی، جب ذمی سے نکاح کی وجہ سے ذمیہ بن رہی ہے تو مسلمان سے نکاح کی وجہ سے بھی ذمیہ بنے گی بھئی۔ تو کہتے ہیں ”صَارَتْ ذِمِّيَّةً“ یہ ذمیہ بن جائے گی، ”لِأَنَّهَا الْتَزَمَتِ الْمُقَامَ“ اس لیے کیونکہ اس نے اقامت کا التزام کر لیا، اس نے یہاں پر اقامت کا یعنی رہنے کو اپنے اوپر لازم کر لیا ”تَبَعًا لِلزَّوْجِ“ خاوند کے تابع ہو کر۔ لیکن اس کے برعکس بھئی ایک حربی دار الاسلام آیا اور اس نے یہاں ایک ذمیہ عورت سے نکاح کر لیا تو یہ حربی مرد جو ہے یہ ذمی نہیں بنے گا، وجہ یہ ہے کیونکہ یہ تو کسی بھی وقت اس عورت کو طلاق دے کر دار الحرب واپس جا سکتا ہے، جبکہ عورت جب آئی تھی اور اس نے ذمی سے نکاح کیا تھا تو وہاں تو طلاق خاوند کے اختیار میں تھی لہٰذا وہ جدائی اختیار کر کے واپس جانے پر قادر نہ رہی بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَإِذَا دَخَلَ حَرْبِيٌّ بِأَمَانٍ فَتَزَوَّجَ ذِمِّيَّةً لَمْ يَصِرْ ذِمِّيًّا“ اور جب کوئی حربی امان کے ساتھ داخل ہوا تو اس نے کسی ذمیہ سے نکاح کر لیا تو یہ حربی کافر جو ہے یہ ذمی نہیں بنے گا، ”لِأَنَّهُ يُمْكِنُهُ أَنْ يُطَلِّقَهَا فَيَرْجِعَ إِلَى بَلَدِهِ“ اس لیے کیونکہ اس کے لیے یہ ممکن ہے کہ اس عورت کو طلاق دے دے پھر واپس اپنے شہر چلا جائے ”فَلَمْ يَكُنْ مُلْتَزِمًا لِلْمُقَامِ“ تو یہ اقامت کا التزام کرنے والا نہ ہوا، اس نے یہاں پر اقامت کو اپنے اوپر لازم نہیں کیا۔ آگے دیکھیے: ”وَلَوْ أَنَّ حَرْبِيًّا دَخَلَ دَارَنَا بِأَمَانٍ“ بھئی صورتِ مسئلہ یہ: ایک حربی امان لے کر دار الاسلام میں آیا ہے اور یہاں اس نے کوئی امانت رکھوا دی کسی مسلمان یا ذمی کے پاس یا مسلمان یا ذمی سے اس نے کوئی بیع والا معاملہ کیا اور ان پر دین ہے، اس مسلمان یا ذمی نے دین ادا کرنا ہے اس سے، پھر یہ واپس چلا گیا دار الحرب، پھر اس کو خیال آیا کہ میں نے تو اپنے پیسے وصول کرنے تھے، یہ واپس آ گیا، کہتے ہیں بھئی اس کا امان باطل ہو چکا ہے، اس لیے کیونکہ جیسے ہی یہ دار الحرب میں داخل ہوا امان ختم ہوا، لہٰذا اب اگر یہ آیا ہے بغیر امان کے تو اس کی جان بھی محفوظ نہیں اور مال بھی محفوظ نہیں ہے بھئی۔ کہتے ہیں: ”وَلَوْ أَنَّ حَرْبِيًّا دَخَلَ دَارَنَا بِأَمَانٍ“ اور اگر کوئی حربی ہمارے دار میں امان کے ساتھ داخل ہوا ”ثُمَّ عَادَ إِلَى دَارِ الْحَرْبِ“ پھر وہ دار الحرب واپس لوٹ گیا ”وَتَرَكَ وَدِيعَةً عِنْدَ مُسْلِمٍ أَوْ ذِمِّيٍّ“ اور اس نے کوئی امانت کسی مسلمان یا ذمی کے پاس چھوڑی ”أَوْ دَيْنًا فِي ذِمَّتِهِمْ“ یا ان کے ذمے میں کوئی دین چھوڑا ”فَقَدْ صَارَ دَمُهُ مُبَاحًا بِالْعَوْدِ“ تو اس حربی کا خون مباح ہو جائے گا بالعود واپس لوٹنے کی وجہ سے، ”لِأَنَّهُ أَبْطَلَ أَمَانَهُ“ اس لیے کیونکہ اس نے خود امان کو باطل کر دیا، یہ جب دار الحرب چلا گیا تو امان ختم، اب اگر آنا چاہتا ہے نیا امان لے کر آنا پڑے گا ورنہ اس کا خون مباح ہے بھئی۔ ”وَمَا فِي دَارِ الإِسْلَامِ مِنْ مَالِهِ عَلَى خَطَرٍ“ اور وہ جو دار الاسلام میں اس کا مال ہے وہ خطرے میں ہے، یہ حربی جو واپس آیا ہے اس کا خون مباح ہو گیا اور اس کا مال جو یہاں اس نے چھوڑا ہے وہ خطرے میں ہے بھئی، کہتے ہیں ”وَمَا فِي دَارِ الإِسْلَامِ مِنْ مَالِهِ عَلَى خَطَرٍ“ اور اس کا وہ مال جو دار الاسلام میں ہے وہ خطرے میں ہے، بھئی خطرے میں کس طرح ہے؟ کہتے ہیں: ”فَإِنْ أُسِرَ أَوْ ظُهِرَ عَلَى الدَّارِ فَقُتِلَ سَقَطَتْ دُيُونُهُ وَصَارَتِ الْوَدِيعَةُ فَيْئًا“ کہ اگر اس کو قیدی بنا لیا گیا، مسلمانوں نے اس کو قیدی بنا لیا ”أَوْ ظُهِرَ عَلَى الدَّارِ“ یا اس کے دار پر غلبہ پا لیا گیا مسلمانوں نے اسے فتح کر لیا ”فَقُتِلَ“ پھر اس کو قتل کر دیا گیا ”سَقَطَتْ دُيُونُهُ“ تو اس کے سارے دیون جو یہاں مسلمانوں اور ذمیوں پر تھے وہ سارے ساقط ہو جائیں گے، تو کہتے ہیں ”سَقَطَتْ دُيُونُهُ“ اس کے سارے دیون ساقط ہو جائیں گے ”وَصَارَتِ الْوَدِيعَةُ فَيْئًا“ اور اس کی جو امانت ہے وہ مالِ غنیمت ہو جائے گی۔ مالِ فئی، مالِ فئی میں نے بتلایا تھا ایک ہے مالِ فئی اور ایک ہے مالِ غنیمت، مالِ غنیمت وہ ہے جسے مسلمان لڑائی کے ذریعے حاصل کریں اور مالِ فئی وہ ہے جو مسلمانوں کو بغیر لڑائی کے حاصل ہو جائے، تو یہاں تو فئی ذکر آیا لیکن مراد ہے غنیمت بھئی، کہ اس کا جو مال بطور امانت کے تھا کسی مسلمان یا ذمی کے پاس وہ مالِ غنیمت ہے یعنی اس کو بھی مالِ غنیمت میں شمار کیا جائے گا اور اسی طرح تقسیم کیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں ”وَصَارَتِ الْوَدِيعَةُ فَيْئًا“ اور اس کی امانت جو ہے وہ مالِ غنیمت ہو جائے گی۔ اب وجہ ذکر کریں گے کہ امانت وہ مالِ غنیمت کیوں بنے گی؟ تو کہتے ہیں: ”أَمَّا الْوَدِيعَةُ فَلِأَنَّهَا فِي يَدِهِ تَقْدِيرًا“ تو امانت جو ہے اس لیے کیونکہ وہ امانت تقدیراً ابھی بھی اسی کے قبضے میں ہے یعنی فرض کر لو یہ ابھی بھی اسی کے قبضے میں ہے، اس لیے کیونکہ آپ پڑھ چکے ہیں کہ مودَع بھئی جس کے پاس امانت رکھوائی جائے مودَع کا قبضہ بھی مالک کے قبضے کی طرح ہے وہ مالک کا نائب ہے، توجہ ہے؟ تو وہ مالک کا نائب ہے مالک نے خود اسے مال دیا تھا اس کے پاس رکھوایا تھا، تو مودَع کا قبضہ کس کی طرح؟ مالک کی طرح، اور مالک کو تو ہم نے قیدی بنایا یا قتل کر دیا وہ تو مالِ فئی تھا، جب مالک مالِ فئی تھا تو اس نے جو مال یہاں رکھوایا ہے وہ بھی سارا کیا بن جائے گا؟ مالِ فئی بن جائے گا۔ تو کہتے ہیں ”أَمَّا الْوَدِيعَةُ فَلِأَنَّهَا فِي يَدِهِ تَقْدِيرًا“ تو جو امانت ہے اس لیے کیونکہ وہ امانت ابھی بھی تقدیراً اسی کے قبضے میں ہے ”لِأَنَّ يَدَ الْمُودَعِ كَيَدِهِ“ اس لیے کیونکہ مودَع کا قبضہ بھی اسی حربی کے قبضے کی طرح ہے ”فَيَصِيرُ فَيْئًا تَبَعًا لِنَفْسِهِ“ تو یہ مال جو ہے یہ مالِ فئی بن جائے گا اس کی ذات کے تابع ہو کر، اس حربی کی ذات اس کو ہم نے قید کر لیا یا قتل کر دیا تو اس کی ذات جب مالِ غنیمت تھی تو اس کا مال بھی مالِ غنیمت ہے بھئی۔ ”وَأَمَّا الدَّيْنُ“ آپ نے کہا اس کا دین ساقط ہو جائے گا اس کی کیا وجہ ہے؟ بھئی یاد رکھو، دین کے اندر ایک آدمی کے ذمے میں مال ہوتا ہے، ایک آدمی کے ذمے میں مال ہے کوئی مال متعین نہیں ہے کون سا مال ہے، ہاں بس اس کے ذمے ہے کہ وہ اتنا مال ادا کرے گا، تو دین جو ہے وہ کسی کے ذمے میں ہوتا ہے اور وہ مطالبے کے ذریعے ثابت ہوتا ہے کہ آپ اس سے مطالبہ کریں گے تو وہ پھر آپ کے حوالے کرے گا۔ تو جب یہاں مطالبہ ہی نہ رہا، تو وہ دین بھی ساقط ہو گیا؛ کیونکہ حربی کو تو ہم نے قید کر لیا ہے یا قتل کر دیا ہے، تو اب مطالبہ نہ رہا، اور دین کا اثبات ہی کس طرح ہوتا تھا؟ مطالبے کے ذریعے کہ جس کا قرض ہوتا تھا وہ اس کا مطالبہ کرتا ہے بھئی۔ تو جب مطالبہ ساقط ہوا تو دین بھی ساقط ہو گیا۔ کہتے ہیں: ”وَأَمَّا الدَّيْنُ فَلِأَنَّ إِثْبَاتَ الْيَدِ عَلَيْهِ بِوَاسِطَةِ الْمُطَالَبَةِ، وَقَدْ سَقَطَتْ، وَيَدُ مَنْ عَلَيْهِ أَسْبَقُ إِلَيْهِ مِنْ يَدِ الْعَامَّةِ فَيَخْتَصُّ بِهِ فَيَسْقُطُ“ اور نیز اس لیے کیونکہ دین پر اس شخص کا قبضہ ہے۔ دین اس مسلمان یا ذمی کے ذمے ہے تو ان کا اس دین پر قبضہ ہے، تو ان کا قبضہ اس دین پر مقدم ہے مسلمانوں کے قبضے سے۔ جب مسلمانوں کے قبضے سے مقدم ہے تو لہٰذا وہ دین جس کے ذمے ہے وہی دین کا مالک بن جائے گا یعنی دین ساقط ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَيَدُ مَنْ عَلَيْهِ“ اور قبضہ اس آدمی کا جس کے اوپر وہ دین ہے ”أَسْبَقُ إِلَيْهِ“ اس کا قبضہ مقدم ہے اس دین پر ”مِنْ يَدِ الْعَامَّةِ“ عام مسلمانوں کے قبضے سے ”فَيَخْتَصُّ بِهِ“ تو یہ دین اسی کے ساتھ خاص ہو جائے گا ”فَيَسْقُطُ“ تو ساقط ہو جائے گا۔ ترجمہ سمجھ میں آیا؟ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: ”وَيَدُ مَنْ عَلَيْهِ أَسْبَقُ إِلَيْهِ“ اور وہ آدمی جس کا اس دین پر قبضہ ہے وہ قبضہ اس پر مقدم ہے ”مِنْ يَدِ الْعَامَّةِ“ عام مسلمانوں کے قبضے سے ”فَيَخْتَصُّ بِهِ“ لہٰذا یہ دین اسی کے ساتھ خاص ہو جائے گا ”فَيَسْقُطُ“ تو یہ ساقط ہو جائے گا۔ اس پر آپ کے ذہن میں اشکال آئے گا کہ اگر صاحبِ دین کا قبضہ مقدم ہے دین پر تو صاحبِ ودیعت کا قبضہ بھی تو مقدم تھا دین پر، لہٰذا وہ ودیعت کا مالک اسی کو ہو جانا چاہیے لیکن اسے آپ مالِ غنیمت قرار دیتے ہیں؟ کہتے ہیں: نہیں بھئی! دونوں میں فرق ہے۔ ہم نے آپ کو بتلایا دین جو ہوتا ہے وہ کسی کے ذمے میں ثابت ہوتا ہے، دین کوئی متعین مال نہیں ہوتا بھئی، بلکہ ایک شخص کے ذمے میں ہوتا ہے۔ جبکہ امانت، امانت تو ایک الگ مال ہے اور اس پر جو مودَع کا قبضہ ہے وہ کس کی طرح ہے؟ مودِع کے قبضے کی طرح، امانت رکھوانے والے کے قبضے کی طرح ہے۔ تو ودیعت پر جو قبضہ تھا وہ تقدیراً ابھی بھی اسی حربی کا تھا، لیکن دین پر حربی کا قبضہ نہیں تھا تو دونوں میں فرق ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ آگے دیکھیے: ”وَإِنْ قُتِلَ وَلَمْ يُظْهَرْ عَلَى الدَّارِ“ بھئی حربی جو ہے، حربی امان لے کر آیا تھا اور کسی مسلمان یا ذمی کے پاس اس کی امانت ہے یا اس کا دین ہے اور پھر حربی واپس چلا گیا۔ تو انہوں نے آپ کو بتلایا کہ اگر اس کو مسلمانوں نے قید کر لیا یا وہاں پر ہم نے قبضہ کر لیا اور اس کو قتل کر دیا تو پھر اس صورت کے اندر دیون ساقط ہو جائیں گے اور وہ جو امانت ہے وہ مالِ فئی ہے بھئی، وہ مالِ غنیمت ہے بھئی۔ لیکن اگر مسلمانوں نے ان کے دار کو فتح نہیں کیا اور ویسے ہی اس ذمی کو کسی نے قتل کر دیا یا وہ ویسے ہی طبعی موت مر گیا تو ان تمام صورتوں میں ابھی بھی وہ امانت اور وہ دین اسی کا ہے، وہ مال ابھی بھی اسی کا ہے، لہٰذا وہ اس کے وارثوں کو دیا جائے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ قُتِلَ وَلَمْ يُظْهَرْ عَلَى الدَّارِ“ اور اگر اس حربی کو قتل کر دیا گیا ”وَلَمْ يُظْهَرْ عَلَى الدَّارِ“ اس حال میں کہ اس کے دار پر قبضہ نہیں کیا گیا ”فَالْقَرْضُ وَالْوَدِيعَةُ لِوَرَثَتِهِ“ تو وہ جو قرض ہے اور وہ جو امانت ہے اس کے وارثوں کے لیے ہے ”وَكَذَلِكَ إِذَا مَاتَ“ اور اسی طرح ہے حکم جب یہ خود مر جائے یعنی طبعی موت مر جائے ”لِأَنَّ نَفْسَهُ لَمْ تَصِرْ مَغْنُومَةً“ اس لیے کیونکہ اس کی اپنی ذات مالِ غنیمت نہیں بنی ”فَكَذَلِكَ مَالُهُ“ تو اسی طرح اس کا مال بھی ہو گا یعنی وہ بھی مالِ غنیمت نہیں بنے گا ”وَهَذَا“ اور یہ اس وجہ سے ”لِأَنَّ حُكْمَ الْأَمَانِ بَاقٍ فِي مَالِهِ“ اس لیے کیونکہ امان کا حکم باقی ہے اس کے مال میں ”فَيُرَدُّ عَلَيْهِ“ تو یہ مال اس کو لوٹایا جائے گا ”أَوْ عَلَى وَرَثَتِهِ مِنْ بَعْدِهِ“ یا اس کے وارثوں کو لوٹایا جائے گا اس کے مرنے کے بعد۔ توجہ ہے؟ اگر حربی یہاں مال امانت کے طور پر چھوڑ گیا یا دین کے طور پر چھوڑ گیا تو یہ مال اسی کا ہے۔ اگر وہ زندہ ہے تو اسی کو لوٹایا جائے گا اور اگر اسے کسی نے قتل کر دیا ہے یا وہ طبعی موت مر گیا ہے تو اس کے وارثوں کو دے دیا جائے گا۔ آگے دیکھیے بھئی: ”قَالَ: وَمَا أَوْجَفَ الْمُسْلِمُونَ عَلَيْهِ مِنْ أَمْوَالِ أَهْلِ الْحَرْبِ بِغَيْرِ قِتَالٍ يُصْرَفُ فِي مَصَالِحِ الْمُسْلِمِينَ كَمَا يُصْرَفُ الْخَرَاجُ“ بھئی یہاں سے صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ وہ مال جو مسلمانوں کو بغیر لڑائی کے حاصل ہو اس کو مالِ فئی کہتے ہیں، اور مالِ فئی کے اندر سے خمس نہیں نکالا جائے گا۔ مالِ غنیمت کے اندر تو خمس نکالا جاتا ہے اور باقی کا مال غازیوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، لیکن وہ مال جو بغیر لڑائی کے مسلمانوں کو حاصل ہو وہ مالِ فئی ہے اور اس کو مسلمانوں کی مصلحت کے کاموں میں خرچ کیا جائے گا، یعنی مملکت کے جتنے امور ہیں ان میں خرچ کیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”قَالَ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَمَا أَوْجَفَ الْمُسْلِمُونَ“ أَوْجَفَ يُوْجِفُ إِيْجَافًا کا معنی ہے: اپنی سواری کو یا چوپائے کو تیز دوڑانا۔ أَوْجَفَ يُوْجِفُ إِيْجَاف کا کیا معنی؟ اپنی سواری کو یا چوپائے کو تیز دوڑانا۔ تو یہاں مراد ہے مسلمانوں کا گھوڑے دوڑانا، یعنی مسلمان جہاد کے لیے گئے اور ان کے رعب اور خوف کی وجہ سے کفار نے ویسے ہی شکست مان لی، تو یہاں مسلمانوں کو جو مال حاصل ہوا ہے وہ بغیر لڑائی کے حاصل ہوا ہے تو یہ مالِ فئی ہے بھئی، اس میں سے خمس نہیں نکالا جائے گا، اس کو تمام مسلمانوں کے مصلحت کے کاموں میں خرچ کیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”قَالَ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَمَا أَوْجَفَ الْمُسْلِمُونَ عَلَيْهِ مِنْ أَمْوَالِ أَهْلِ الْحَرْبِ“ اور اہل حرب کے وہ مال جن پر مسلمان اپنی سواریوں کو دوڑائیں ”بِغَيْرِ قِتَالٍ“ بغیر لڑائی کے ”يُصْرَفُ فِي مَصَالِحِ الْمُسْلِمِينَ“ اس کو مسلمانوں کی مصلحت کے کاموں میں خرچ کیا جائے گا ”كَمَا يُصْرَفُ الْخَرَاجُ“ جیسے کہ خراج کو خرچ کیا جاتا ہے۔ جیسے خراج کو مسلمانوں کے مصلحت کے کاموں میں خرچ کیا جاتا ہے اسی طرح یہ مالِ فئی کو بھی۔ ”قَالُوا: هُوَ مِثْلُ الْأَرَاضِي الَّتِي أَجْلَوْا أَهْلَهَا عَنْهَا وَالْجِزْيَةِ“ فقہاء فرماتے ہیں کہ یہ جو مالِ فئی ہے یہ بھی ان زمینوں کے مثل ہے جن کے رہنے والوں کو وہاں سے نکال دیا گیا ہو، اور نیز یہ جزیہ کی طرح ہے۔ اور جیسے جزیہ اور یہ جو زمینیں تھیں یہ ساری مسلمانوں کے مصلحت کے کاموں کے لیے ہوں گی، اسی طرح یہ مالِ فئی بھی مسلمانوں کے مصلحت کے کاموں میں خرچ کیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”قَالُوا“ فقہاء فرماتے ہیں: ”هُوَ مِثْلُ الْأَرَاضِي“ کہ یہ مالِ فئی ان زمینوں کے مثل ہے ”الَّتِي أَجْلَوْا أَهْلَهَا عَنْهَا“ أَجْلَى يُجْلِي کا معنی ہوتا ہے کسی کو کسی جگہ سے نکالنا۔ تو مثلاً مسلمانوں نے کسی جگہ پر قبضہ کیا اور وہاں کے رہنے والوں کو وہاں سے نکال دیا اور ان کی زمینوں پر قبضہ کر لیا۔ ”قَالُوا“ فقہاء فرماتے ہیں: ”هُوَ مِثْلُ الْأَرَاضِي الَّتِي أَجْلَوْا أَهْلَهَا عَنْهَا“ کہتے ہیں یہ ان زمینوں کے مثل ہے ”الَّتِي أَجْلَوْا أَهْلَهَا عَنْهَا“ کہ جن کے رہنے والوں کو وہاں سے مسلمانوں نے نکال دیا ہو، یہ مالِ فئی اس کے مثل ہے ”وَالْجِزْيَةِ“ اور یہ جزیے کے مثل ہے ”وَلَا خُمُسَ فِي ذَلِكَ“ اور ان کے اندر تو خمس نہیں ہوتا، یہ زمینیں جن کے رہنے والوں کو وہاں سے نکال دیا گیا یا جیسے جزیہ ہے ان کے اندر تو خمس نہیں ہوتا تو یہ جو مالِ فئی ہے اس کے اندر بھی خمس نہیں ہو گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا خُمُسَ فِي ذَلِكَ“ اور اس کے اندر تو کوئی خمس نہیں ہے ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: فِيهِمَا الْخُمُسُ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان دونوں میں خمس ہے، یعنی یہ زمینیں، یہ زمینیں جن کے رہنے والوں کو وہاں سے نکال دیا گیا اور جو جزیہ ہے ان کے اندر خمس ہو گا۔ جبکہ شارحین فرماتے ہیں کہ یہاں تو آیا امام شافعی رحمہ اللہ کا قول ذکر ہوا ”فِيهِمَا الْخُمُسُ“ جبکہ بعض نسخوں کے اندر یہاں واحد مؤنث کی ضمیر ہے ”فِيهَا الْخُمُسُ“ کہ ان سب میں خمس ہے، یعنی چاہے خراج ہو یا یہ زمینیں ہیں یا یہ جو جزیہ ہے ان سب کے اندر خمس ہو گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: فِيهِمَا الْخُمُسُ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان دونوں میں خمس ہے ”اعْتِبَارًا بِالْغَنِيمَةِ“ غنیمت پر قیاس کرتے ہوئے۔ ”اعْتِبَارًا بِالْغَنِيمَةِ“ غنیمت پر قیاس کرتے ہوئے امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جیسے غنیمت کے اندر خمس ہوتا ہے اسی طرح یہ جزیے وغیرہ میں بھی خمس ہو گا۔ ”وَلَنَا مَا رُوِيَ أَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ أَخَذَ الْجِزْيَةَ وَكَذَا عُمَرُ وَمُعَاذٌ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا، وَوُضِعَ فِي بَيْتِ الْمَالِ وَلَمْ يُخْمَسْ“ اور ہماری دلیل جو ہے وہ حدیث ہے جس کو روایت کیا گیا ہے کہ حضور علیہ السلام نے بھی جزیہ لیا اور اسی طرح حضرت عمر اور حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بھی جزیہ لیا اور وہ جزیہ بیت المال میں رکھا گیا اور اس میں سے خمس نہیں نکالا گیا، معلوم ہوا جزیے کے اندر خمس نہیں ہے۔ ”وَلِأَنَّهُ مَالٌ مَأْخُوذٌ بِقُوَّةِ الْمُسْلِمِينَ مِنْ غَيْرِ قِتَالٍ“ اور اس لیے کیونکہ یہ جو مال ہے یہ جس پر مسلمانوں نے گھوڑے دوڑائے ہیں بھئی یہ جو مالِ فئی ہے، کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّهُ مَالٌ مَأْخُوذٌ بِقُوَّةِ الْمُسْلِمِينَ مِنْ غَيْرِ قِتَالٍ“ اس لیے کیونکہ یہ ایسا مال ہے جس کو مسلمانوں کی قوت کے ذریعے لیا گیا ہے ”مِنْ غَيْرِ قِتَالٍ“ بغیر لڑائی کے، تو اس کے اندر خمس نہیں ہو گا۔ ”بِخِلَافِ الْغَنِيمَةِ لِأَنَّهُ مَمْلُوكٌ بِمُبَاشَرَةِ الْغَانِمِينَ“ بخلاف غنیمت کے اس لیے کیونکہ مالِ غنیمت مملوک ہوتا ہے ”بِمُبَاشَرَةِ الْغَانِمِينَ“ غنیمت حاصل کرنے والوں کے سرانجام دینے کی وجہ سے۔ مباشرت کا معنی: سرانجام دینا۔ ”مُبَاشَرَةِ الْغَانِمِينَ“ غنیمت حاصل کرنے والوں کا سرانجام دینا۔ بھئی کس چیز کو سرانجام دینا؟ مفعول محذوف ہے یعنی قتال کو، لڑائی کو بھئی۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ مَمْلُوكٌ“ اس لیے کیونکہ مالِ غنیمت جو ہے وہ مملوک ہوتا ہے ”بِمُبَاشَرَةِ الْغَانِمِينَ“ غنیمت حاصل کرنے والوں کے لڑائی کو سرانجام دینے کی وجہ سے ”وَبِقُوَّةِ الْمُسْلِمِينَ“ اور مسلمانوں کی قوت کی وجہ سے۔ بھئی دیکھیے یہ جو مالِ غنیمت ہے، مسلمان اس کے مالک بنتے ہیں دو وجہ سے، یہاں دو سبب ہیں۔ ایک مسلمانوں کی قوت اور رعب ہے اور دوسرا مسلمانوں کی لڑائی ہے۔ تو مالِ غنیمت میں دو سبب پائے گئے تو لہٰذا اس میں خمس بھی آئے گا اور غازیوں کا حصہ بھی آئے گا۔ لیکن مالِ فئی اس کو تو مسلمانوں نے بغیر لڑائی کے حاصل کیا ہے تو وہاں صرف ایک سبب ہے اس کے مملوک ہونے کا، لہٰذا اس کے اندر خمس نہیں آئے گا۔ مالِ غنیمت کے اندر اس کے مالک بننے کے دو سبب تھے، ایک سبب مسلمانوں کی لڑائی اور ایک مسلمانوں کی قوت۔ تو وہاں دو سبب تھے لہٰذا وہاں خمس نکالا جائے گا اور باقی غازیوں کا حصہ ہو گا۔ اور یہ مالِ فئی کو تو صرف مسلمانوں کی قوت اور رعب کے ذریعے حاصل کیا گیا ہے یہاں لڑائی نہیں ہوئی تو یہاں صرف ایک سبب ہے۔ جب ایک سبب ہے تو یہاں پر خمس نہیں نکالا جائے گا۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: ”لِأَنَّهُ مَمْلُوكٌ بِمُبَاشَرَةِ الْغَانِمِينَ وَبِقُوَّةِ الْمُسْلِمِينَ“ اس لیے کیونکہ مالِ غنیمت جو ہے وہ مسلمانوں کا مملوک ہے غنیمت حاصل کرنے والوں کے لڑائی سرانجام دینے کی وجہ سے اور مسلمانوں کی قوت کی وجہ سے ”فَاسْتُحِقَّ الْخُمُسُ بِمَعْنًى“ تو خمس کا استحقاق آ گیا ”بِمَعْنًى“ ایک سبب کی وجہ سے ”وَاسْتَحَقَّهُ الْغَانِمُونَ بِمَعْنًى“ اور غنیمت حاصل کرنے والے بھی اس کے مستحق ہو گئے ”بِمَعْنًى“ ایک سبب کی وجہ سے۔ اس میں خمس کا بھی استحقاق آ گیا اور لڑنے والوں کا بھی استحقاق آ گیا۔ ”وَفِي هَذَا السَّبَبُ وَاحِدٌ“ اور یہ جس کے اوپر مسلمانوں نے گھوڑے دوڑائے ہیں لیکن لڑائی نہیں کی اس کے اندر جو ہے ایک ہی سبب ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَفِي هَذَا السَّبَبُ وَاحِدٌ“ اور اس کے اندر ایک ہی سبب ہے ”وَهُوَ مَا ذَكَرْنَاهُ“ اور وہ وہ ہے جو ہم نے ذکر کر دیا، یعنی لڑائی کے بغیر صرف مسلمانوں کی قوت اور رعب بھئی ”فَلَا مَعْنَى لِإِيجَابِ الْخُمُسِ“ لہٰذا کوئی سبب نہیں ہے خمس واجب کرنے کا۔ دلیل سمجھ میں آ گئی بھئی۔ آگے دیکھیے: ”وَإِذَا دَخَلَ الْحَرْبِيُّ دَارَنَا بِأَمَانٍ وَلَهُ امْرَأَةٌ فِي دَارِ الْحَرْبِ“ بھئی یہاں سے یہ بیان فرمائیں گے کہ کوئی حربی اگر مسلمان ہو جائے تو اس کے مال وغیرہ کا کیا حکم ہے؟ تو یہاں تین صورتیں بنتی ہیں۔ ایک صورت یہ ہے کہ وہ حربی امان لے کر دار الاسلام آیا اور پھر یہاں مسلمان ہو گیا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ وہ دار الحرب میں ہی مسلمان ہو گیا اور پھر ہجرت کر کے دار الاسلام آ گیا۔ تیسری صورت یہ ہے کہ دار الحرب میں مسلمان ہو گیا لیکن ہجرت نہیں کی وہیں پر رہتا ہے۔ تو اب تینوں کے اندر بتلائیں گے کہ کس صورت میں اس کا مال محفوظ ہے اور کس صورت میں اس کا مال محفوظ نہیں ہے۔ کہتے ہیں: ”وَإِذَا دَخَلَ الْحَرْبِيُّ دَارَنَا بِأَمَانٍ“ اور جب کوئی حربی ہمارے دار میں داخل ہوا امان کے ساتھ ”وَلَهُ امْرَأَةٌ فِي دَارِ الْحَرْبِ“ اور اس کی ایک بیوی ہے جو دار الحرب میں ہے ”وَأَوْلَادٌ صِغَارٌ وَكِبَارٌ“ اور اسی طرح اس کی نابالغ اور بالغ اولاد بھی ہے ”وَمَالٌ أَوْدَعَ بَعْضَهُ ذِمِّيًّا“ اور اس کا کچھ مال بھی ہے جو اس نے امانت رکھوایا ہے ”بَعْضَهُ ذِمِّيًّا“ اس کا کچھ حصہ ایک ذمی کے پاس ”وَبَعْضَهُ حَرْبِيًّا“ اور کچھ مال اس نے حربی کے پاس امانت رکھوایا ہے ”وَبَعْضَهُ مُسْلِمًا“ اور اس مال کا کچھ حصہ اس نے مسلمان کے پاس امانت رکھوایا ہے ”فَأَسْلَمَ هَاهُنَا“ پھر وہ حربی یہاں مسلمان ہو گیا۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ حربی امان لے کر دار الاسلام آیا اور یہاں آ کر وہ مسلمان ہوا ہے، اور اس کی بیوی اور اس کی اولاد چاہے بالغ ہے یا نابالغ ہے وہ سارے دار الحرب میں ہیں۔ اسی طرح دار الحرب میں ہی اس نے اپنا کچھ مال کوئی مسلمان وہاں گیا ہوا ہے یا کوئی ذمی وہاں گیا ہوا ہے ان کے پاس اس نے بطورِ امانت رکھوایا ہے، یا وہیں کے کسی رہنے والے حربی کے پاس اس نے اپنا کچھ مال بطورِ امانت کے رکھوایا ہے، اور پھر اس کے بعد اس کے دار پر مسلمانوں نے قبضہ حاصل کر لیا، مسلمانوں نے اس علاقے کو فتح کر لیا، تو کہتے ہیں اس کا سارا مال وہ مالِ غنیمت شمار ہو گا۔ چاہے اس کی بیوی ہے، چاہے اس کے بالغ یا نابالغ اولاد ہے، چاہے وہ مال جو اس نے دار الحرب میں ہی کسی مسلمان یا ذمی یا حربی کے پاس بطورِ امانت کے رکھوایا تھا یہ سارا کچھ مالِ غنیمت میں شمار ہو گا۔ بھئی کیوں؟ کیا وجہ ہے مالِ غنیمت میں کیوں شمار ہو گا؟ کہتے ہیں وجہ یہ کہ یہ مال اس کے قبضے میں نہیں ہے۔ جو شخص مسلمان ہو جائے وہ اپنی جان کو بھی محفوظ کر لیتا ہے اور جو مال اس کے قبضے میں ہوتا ہے اس کو بھی محفوظ کر لیتا ہے، لیکن یہ تو دار الاسلام کے اندر مسلمان ہوا ہے اور اس کا مال چاہے وہ امانت کے طور پر ہے کسی ذمی یا مسلمان کے پاس لیکن وہ مسلمان یا ذمی تو دار الحرب میں ہیں بھئی، تو لہٰذا وہ مال اس کے قبضے میں نہیں۔ جب اس کے قبضے میں نہیں تو وہ سارا مالِ غنیمت شمار ہو گا۔ اور نیز نابالغ اولاد جو ہے وہ بھی مالِ غنیمت شمار ہو گی۔ بھئی اس کی کیا وجہ ہے؟ نابالغ اولاد تو اگر باپ مسلمان ہو جائے تو نابالغ اولاد بھی مسلمان شمار ہوتی ہے؟ کہتے ہیں بھئی: نابالغ اولاد تب مسلمان شمار ہو گی جب باپ کو ان پر ولایت حاصل ہو، اور باپ تو اس وقت دار الاسلام میں ہے اور نابالغ اولاد تو دار الحرب میں ہے تو اس کو ان پر ولایت ہی حاصل نہیں ہے۔ جب ولایت حاصل نہیں تو ان کو اس کی وجہ سے مسلمان شمار نہیں کیا جائے گا لہٰذا وہ بھی مالِ غنیمت میں شمار ہوں گے۔ تفصیل سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں کہ اس کی بیوی بھی دار الحرب میں ہے ”وَأَوْلَادٌ صِغَارٌ وَكِبَارٌ“ اور اس کی نابالغ اور بالغ اولاد جو ہے وہ بھی دار الحرب میں ہے ”وَمَالٌ أَوْدَعَ بَعْضَهُ ذِمِّيًّا وَبَعْضَهُ حَرْبِيًّا وَبَعْضَهُ مُسْلِمًا“ اور اس کا کچھ مال ہے کہ اس کا کچھ حصہ اس نے ذمی کے پاس بطورِ امانت رکھوایا ہے اور کچھ حصہ حربی کے پاس اور بعض حصہ اس نے مسلمان کے پاس امانت رکھوایا ہے، اور یہ یاد رکھنا یہ مسلمان اور ذمی جن کے پاس اس نے مال امانت رکھوایا ہے یہ دار الحرب میں ہی ہیں۔ اگر دار الاسلام کے اندر ہیں، اگر یہ مسلمان یا ذمی جن کے پاس اس نے امانت رکھوائی ہے اگر یہ دار الاسلام میں ہیں تو مسلمان اور ذمی ہوئے مودَع، اور مودَع کا قبضہ بھی کس کی طرح ہوتا ہے؟ مالک کے قبضے کی طرح۔ تو جب یہ ذمی مسلمان ہوا تو اس نے اپنی جان بھی محفوظ کر لی اور جو مال اس کے قبضے میں ہے اس کو بھی محفوظ کر لیا۔ تو یہ وہ صورت ذکر ہو رہی ہے کہ اس نے جو مال امانت رکھوایا ہے وہ ذمی یا مسلمان وہ بھی دار الحرب میں ہی ہیں۔ تو کہتے ہیں ان کے پاس اس نے امانت رکھوایا ہے ”فَأَسْلَمَ هَاهُنَا“ تو یہاں پر یہ ذمی مسلمان ہو گیا ”ثُمَّ ظُهِرَ عَلَى الدَّارِ“ پھر ان کے دار پر غلبہ پا لیا گیا یعنی مسلمانوں نے اسے فتح کر لیا ”فَذَلِكَ كُلُّهُ فَيْءٌ“ تو اس کا یہ سارا مال فئی ہے یعنی مالِ غنیمت ہے ”أَمَّا الْمَرْأَةُ وَأَوْلَادُهُ الْكِبَارُ“ باقی اس کی بیوی اور اس کی جو بڑی اولاد ہے یعنی جو بالغ اولاد ہے ”فَظَاهِرٌ“ تو وہ ظاہر ہے، یعنی ان کا مالِ غنیمت ہونا ظاہر ہے کیونکہ وہ اس کے تابع نہیں ”لِأَنَّهُمْ حَرْبِيُّونَ كِبَارٌ“ اس لیے کیونکہ وہ حربی ہیں کبار بالغ ہیں، وہ بالغ حربی ہیں ”وَلَيْسُوا بِأَتْبَاعٍ“ اور وہ اس کے تابع نہیں ہیں ”وَكَذَلِكَ مَا فِي بَطْنِهَا لَوْ كَانَتْ حَامِلًا“ اور اسی طرح اس کی وہ اولاد جو اس کی بیوی کے پیٹ میں ہے اگر اس کی بیوی حاملہ ہے وہ بھی مالِ فئی ہے ”لِمَا قُلْنَا“ اس وجہ سے جو ہم نے کہا۔ پیچھے ذکر کیا تھا کہ بیوی بھی مالِ فئی ہے اور اگر یہ حاملہ ہے تو اس کا حمل بھی بیوی کا جز ہے اور بیوی مالِ فئی ہے تو اس کا جز بھی مالِ فئی ہے۔ یہ معنی ہے ”وَكَذَلِكَ مَا فِي بَطْنِهَا لَوْ كَانَتْ حَامِلًا لِمَا قُلْنَا مِنْ قَبْلُ“ اور اسی طرح ہے وہ حمل بھی جو اس کی بیوی کے پیٹ میں ہے اگر وہ حاملہ ہے اس وجہ سے جو ہم نے پہلے کہا۔ ”وَأَمَّا أَوْلَادُهُ الصِّغَارُ فَلِأَنَّ الصَّغِيرَ إِنَّمَا يَصِيرُ مُسْلِمًا تَبَعًا لِإِسْلَامِ أَبِيهِ إِذَا كَانَ فِي يَدِهِ وَتَحْتَ وِلَايَتِهِ“ اور باقی اس کی جو نابالغ اولاد ہے اس لیے کیونکہ نابالغ جو ہوتا ہے وہ بھی اپنے باپ کے اسلام کی وجہ سے تابع ہو کر مسلمان ہو جاتا ہے جب وہ نابالغ جو ہے اپنے باپ کے قبضے میں ہو اور اس کی ولایت کے تحت ہو ”وَمَعَ تَبَايُنِ الدَّارَيْنِ لَا يَتَحَقَّقُ ذَلِكَ“ اور دونوں داروں کے مختلف ہونے کی وجہ سے یہ قبضہ اور ولایت بھی نہیں پائی جا رہی، باپ کا اپنے نابالغ اولاد پر قبضہ اور ولایت بھی نہیں ہے تو لہٰذا وہ بھی مالِ غنیمت ہوں گے۔ ”وَكَذَا أَمْوَالُهُ لَا تَصِيرُ مُحْرَزَةً بِإِحْرَازِهِ نَفْسَهُ“ اور اسی طرح اس کے مال بھی محفوظ نہیں ہوں گے اس کے اپنی ذات کو محفوظ کر لینے کی وجہ سے۔ اس کی اپنی ذات تو محفوظ ہو گئی لیکن اس کے اموال محفوظ نہیں کیونکہ وہ دوسرے دار میں ہیں تو اس کے اموال بھی محفوظ نہیں ہیں ”لِاخْتِلَافِ الدَّارَيْنِ“ دونوں داروں کے مختلف ہونے کی وجہ سے ”فَبَقِيَ الْكُلُّ فَيْئًا وَغَنِيمَةً“ تو یہ سارا کچھ جو ہے باقی رہا فئی اور غنیمت ہو کر۔ یہ سارا کچھ مالِ فئی اور مالِ غنیمت ہو کر باقی رہا۔ آگے دیکھیے: ”وَإِنْ أَسْلَمَ فِي دَارِ الْحَرْبِ“ بھئی اب دوسری صورت ہے کہ حربی دار الحرب میں ہی مسلمان ہو گیا اور پھر وہ دار الاسلام آ گیا۔ تو اب اس کی جو نابالغ اولاد ہے وہ بھی محفوظ ہو گئی، کیونکہ یہ دار الحرب میں ہی تھا جب مسلمان ہوا ہے تو اولاد اس کے قبضے میں ہے اور اس کی ولایت میں ہے۔ اور نیز اس نے جو مال کسی مسلمان کے پاس بطورِ امانت کے رکھوایا تھا یا کسی ذمی کے پاس وہ مال بھی محفوظ ہو گیا، کیونکہ یہ دار الحرب میں ہی تھا جب مسلمان ہوا ہے تو اس کا مال بھی اسی کے اپنے قبضے میں ہے۔ جب یہ محفوظ تو اس کا مال بھی محفوظ، اور جو ذمی اور مسلمان کا مال پر قبضہ ہے وہ بھی اسی کے اپنے قبضے کی طرح ہے۔ تو جب اسلام کی وجہ سے اس کی اپنی جان محفوظ ہوئی تو اس کا وہ مال بھی محفوظ ہو گیا۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ أَسْلَمَ فِي دَارِ الْحَرْبِ“ اور اگر حربی دار الحرب میں ہی مسلمان ہو گیا ”ثُمَّ جَاءَ“ پھر وہ دار الاسلام آ گیا ”فَظُهِرَ عَلَى الدَّارِ“ پھر ان کے دار پر غلبہ حاصل کر لیا گیا ”فَأَوْلَادُهُ الصِّغَارُ أَحْرَارٌ مُسْلِمُونَ“ تو اس کی جو نابالغ اولاد ہے وہ آزاد ہوں گے، مسلمان ہوں گے ”تَبَعًا لِأَبِيهِمْ“ اپنے باپ کے تابع ہو کر ”لِأَنَّهُمْ كَانُوا تَحْتَ وِلَايَتِهِ حِينَ أَسْلَمَ“ اس لیے کیونکہ وہ سارے اس باپ کی ولایت کے تحت تھے جس وقت یہ مسلمان ہوا کیونکہ دار الحرب میں ہی مسلمان ہوا تھا ”إِذِ الدَّارُ وَاحِدَةٌ“ اس لیے کیونکہ دار ایک ہی ہے، یہ بھی دار الحرب میں مسلمان ہوا اور اس کی نابالغ اولاد بھی دار الحرب میں ہی تھی، تو اس کی اولاد بھی محفوظ ہو گئی۔ ”وَمَا كَانَ مِنْ مَالٍ أَوْدَعَهُ مُسْلِمًا أَوْ ذِمِّيًّا فَهُوَ لَهُ“ اور اس کا وہ مال جو اس نے بطورِ امانت کے رکھوایا ہے کسی مسلمان کے پاس یا ذمی کے پاس تو وہ مال بھی اسی کا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ کیونکہ مودَع کا قبضہ بھی کس کی طرح ہے؟ مودِع کے قبضے کی طرح ہے، گویا وہ اسی کے قبضے میں ہے۔ تو کہتے ہیں ”فَهُوَ لَهُ“ تو وہ مال بھی اسی کا ہے ”لِأَنَّهُ فِي يَدٍ مُحْتَرَمَةٍ“ اس لیے کیونکہ وہ مال جو ہے وہ ایک محترم قبضے میں ہے کیونکہ ذمی اور مسلمان کا قبضہ محترم ہے، عزت والا ہے ”وَيَدُهُ كَيَدِهِ“ اور اس مسلمان یا ذمی کا قبضہ جو ہے اسی مالک کے قبضے کی طرح ہے ”وَمَا سِوَى ذَلِكَ فَيْءٌ“ اور اس کے علاوہ جو اس کا مال ہے وہ مالِ فئی ہے یعنی مالِ غنیمت ہے، یعنی اس کی بیوی ہے یا اسی طرح بالغ اولاد ہے یا اس کا مال جو کسی مسلمان یا ذمی نے یا حربی نے غصب کیا ہے تو یہ سارا مالِ فئی ہے۔ اسی طرح اگر اس نے کسی حربی کے پاس امانت رکھوائی ہے تو حربی کا قبضہ تو محترم نہیں لہٰذا وہ بھی مالِ فئی ہے یعنی مالِ غنیمت ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَا سِوَى ذَلِكَ فَيْءٌ“ اور اس کے علاوہ جو مال ہے اس کا وہ مالِ فئی ہے ”أَمَّا الْمَرْأَةُ وَأَوْلَادُهُ الْكِبَارُ فَلِمَا قُلْنَا“ تو اس کی بیوی اور جو اس کی بالغ اولاد ہے وہ مالِ فئی ہے اس وجہ سے جو ہم نے کہا کیونکہ وہ اس کے تابع نہیں، وہ بالغ حربی ہیں ”وَأَمَّا الْمَالُ الَّذِي فِي يَدِ الْحَرْبِيِّ فَلِأَنَّهُ لَمْ يَصِرْ مَعْصُومًا لِأَنَّ يَدَ الْحَرْبِيِّ لَيْسَتْ يَدًا مُحْتَرَمَةً“ اور باقی وہ مال جو حربی کے قبضے میں ہے تو وہ معصوم اور محفوظ نہیں ہوا اس لیے کیونکہ حربی کا قبضہ جو ہے وہ محترم قبضہ نہیں، اس کا کوئی احترام نہیں ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ آگے دیکھیے بھئی: ”وَإِذَا أَسْلَمَ الْحَرْبِيُّ فِي دَارِ الْحَرْبِ فَقَتَلَهُ مُسْلِمٌ عَمْدًا أَوْ خَطَأً وَلَهُ وَرَثَةٌ مُسْلِمُونَ هُنَالِكَ فَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ إِلَّا الْكَفَّارَةُ فِي الْخَطَإِ“ بھئی یہ مسئلہ پہلے گزر چکا ہے کہ دار الحرب میں اگر کوئی شخص مسلمان ہو جائے تو اس کو عصمتِ مؤثمہ تو حاصل ہو جاتی ہے لیکن عصمتِ متقومہ نہیں۔ لہٰذا کوئی مسلمان اگر اس کو قتل کر دیتا ہے تو اس کی وجہ سے نہ قصاص واجب ہو گا اور نہ دیت واجب ہو گی، کیونکہ یہ جو دار الحرب میں جو مسلمان ہوا تھا اس کو ابھی تک عصمتِ متقومہ حاصل نہیں۔ اور یہ جو قصاص اور دیت آتی ہے وہ عصمتِ متقومہ کی وجہ سے آتی ہے۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، یہ جو دار الحرب میں یہ شخص مسلمان ہوا ہے اس کو عصمتِ مؤثمہ بھی حاصل ہے اور اس کو عصمتِ متقومہ بھی حاصل ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ عصمتِ مؤثمہ اصل ہے اور عصمتِ متقومہ اس کی صفت ہے، تو جب اس آدمی کو عصمتِ مؤثمہ حاصل ہے اور بالاتفاق احناف بھی کہتے ہیں کہ یہ شخص جو دار الحرب میں مسلمان ہو گیا اس کو عصمتِ مؤثمہ حاصل ہے اور عصمتِ مؤثمہ ہے اصل اور عصمتِ متقومہ اس کے تابع ہے یہ اس کے لیے وصف کے درجے میں ہے، تو اس شخص کو جب عصمتِ مؤثمہ حاصل ہوئی تو عصمتِ متقومہ بھی حاصل ہو گئی۔ لہٰذا اس آدمی کو اگر کسی نے قتل کیا ہے تو اس کو قتل کا عظیم گناہ بھی ہو گا اور اس پر کفارہ بھی آئے گا اور اگر اس نے یہ جان بوجھ کر اس کو قتل کیا ہے تو قصاص آئے گا اور اگر غلطی سے قتل کیا ہے تو دیت آئے گی۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا مذہب چل رہا ہے بھئی۔ ہمارے نزدیک تو اس شخص کو عصمتِ متقومہ حاصل ہی نہیں۔ لیکن امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کو عصمتِ متقومہ حاصل ہے لہٰذا قتلِ عمد کی صورت میں قصاص آئے گا اور قتلِ خطا کی صورت میں دیت آئے گی اور نیز عصمتِ مؤثمہ بھی اس آدمی کو حاصل ہے لہٰذا اس کی وجہ سے کفارہ بھی واجب ہو گا بھئی۔ دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: ”وَإِذَا أَسْلَمَ الْحَرْبِيُّ فِي دَارِ الْحَرْبِ“ جب کوئی حربی مسلمان ہو گیا دار الحرب میں ”فَقَتَلَهُ مُسْلِمٌ عَمْدًا أَوْ خَطَأً“ پھر اس کو کسی مسلمان نے جان بوجھ کر یا غلطی سے قتل کر دیا ”وَلَهُ وَرَثَةٌ مُسْلِمُونَ هُنَالِكَ“ اور اس مقتول کے وہاں پر ورثاء بھی ہیں، اس مقتول کے وہاں پر ورثاء بھی ہیں جو یعنی قصاص یا دیت وصول کر سکتے ہیں، تو کہتے ہیں ”وَلَهُ وَرَثَةٌ مُسْلِمُونَ هُنَالِكَ“ اور اس مقتول کے وہاں پر مسلمان ورثاء بھی ہیں ”فَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ“ تو ہمارے نزدیک اس قاتل پر کوئی چیز نہیں ہے یعنی نہ قصاص آئے گا اور نہ دیت آئے گی ”إِلَّا الْكَفَّارَةُ فِي الْخَطَإِ“ سوائے کفارے کے قتلِ خطا کے اندر۔ تو ہمارے نزدیک صرف کفارہ آئے گا اور وہ بھی قتلِ خطا کی صورت میں کیونکہ قتلِ عمد کے اندر ہمارے نزدیک کفارہ نہیں آتا بھئی۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: تَجِبُ الدِّيَةُ فِي الْخَطَإِ وَالْقِصَاصُ فِي الْعَمْدِ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قتلِ خطا کے اندر دیت واجب ہو گی اور قتلِ عمد کے اندر قصاص واجب ہو گا ”لِأَنَّهُ أَرَاقَ دَمًا مَعْصُومًا“ اس لیے کیونکہ اس شخص نے ایک معصوم اور محفوظ خون کو بہایا ہے ”لِوُجُودِ الْعَاصِمِ“ بوجہ عاصم کے پائے جانے کے۔ عاصم یعنی بچانے والی چیز، عصمت دینے والی چیز، اور عصمت دینے والی چیز کیا ہے؟ وہ فرماتے ہیں اسلام ہے۔ ہمارے نزدیک تو عصمتِ متقومہ دار الاسلام سے ثابت ہوتی ہے، لیکن امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دار الاسلام؟ دار الاسلام کا کوئی اعتبار نہیں۔ دار الاسلام تو زمین کے ایک ٹکڑے کا نام ہے، یہ تو جمادات میں سے ایک بے جان چیز ہے بھئی، بلکہ یہاں پر جو عصمت حاصل ہو رہی ہے وہ اسلام کی وجہ سے حاصل ہو رہی ہے، اس لیے کیونکہ اسلام کی وجہ سے انسان کو ہر طرح کی عزت حاصل ہوتی ہے اور عصمت کا حاصل ہونا یہ بھی ایک عزت اور انعام کی بات ہے، لہٰذا اسلام کی وجہ سے انسان کو عصمت حاصل ہوتی ہے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ أَرَاقَ دَمًا مَعْصُومًا لِوُجُودِ الْعَاصِمِ وَهُوَ الْإِسْلَامُ“ اس لیے کیونکہ اس شخص نے معصوم خون بہایا ہے بوجہ عصمت دینے والی چیز کے پائے جانے کے اور وہ اسلام ہے ”لِكَوْنِهِ مُسْتَجْلِبًا لِلْكَرَامَةِ“ اس لیے کیونکہ اسلام جو ہے وہ لانے والا ہے عزت اور بزرگی کو۔ کرامت کا کیا معنی؟ عزت اور بزرگی۔ اسلام جو ہے بزرگی اور عزت لاتا ہے، اس کی وجہ سے انسان جو ہے معزز بن جاتا ہے اور عصمت کا حاصل ہونا یہ بھی اعزاز کی بات ہے، تو لہٰذا اسلام کی وجہ سے اس کو عصمت حاصل ہوئی ہے۔ تو کہتے ہیں ”لِكَوْنِهِ مُسْتَجْلِبًا لِلْكَرَامَةِ“ اس لیے کیونکہ اسلام جو ہے وہ بزرگی کو اور عزت کو لانے والا ہے ”وَهَذَا“ اور یہ اس وجہ سے، امام شافعی رحمہ اللہ کی تقریر چل رہی ہے، کہتے ہیں یہ جو دیت اور قصاص واجب ہو گا اس کی وجہ یہ ہے اب وہ بیان کرنے لگے ہیں: کہتے ہیں ”وَهَذَا“ اور یہ جو دیت اور قصاص کا واجب ہونا ہے وہ اس وجہ سے ہے ”لِأَنَّ الْعِصْمَةَ أَصْلُهَا الْمُؤَثِّمَةُ“ اس لیے کیونکہ عصمت جو ہے اس کے اندر اصل عصمتِ مؤثمہ ہے ”لِحُصُولِ أَصْلِ الزَّجْرِ بِهَا“ کیونکہ اصل ڈانٹ اور اصل سزا اسی کے ذریعے ہے۔ اصل ڈانٹ اور سزا اسی کے ذریعے ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو بھی انسان، جو بھی انسان فطرتِ سلیمہ پر ہوتا ہے وہ اپنے آپ کو آخرت کے گناہ سے بچانے کی کوشش کرتا ہے، تو اس شخص کو جو بھی قتل کرے گا اس کو قتل کا عظیم گناہ ہو گا۔ تو جو بھی فطرتِ سلیمہ والا ہو گا وہ اس گناہ سے اپنے آپ کو بچائے گا۔ تو جب بھی کوئی شخص اسلام لے آتا ہے تو بالاتفاق سب کے نزدیک اس کو عصمتِ مؤثمہ حاصل ہو جاتی ہے۔ جو بھی اس کو قتل کرے گا اس کو قتل کا عظیم گناہ ہو گا اور ہر سلیم الفطرت انسان گناہ سے اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کرتا ہے، لہٰذا یہ عصمتِ مؤثمہ ہی ڈانٹ اور سزا کے طور پر کافی ہے۔ دار الحرب میں یہ شخص مسلمان ہوا تو اس کو عصمتِ مؤثمہ حاصل ہو گئی اور عصمتِ مؤثمہ اصل ہے کیونکہ اصل ڈانٹ اسی کی وجہ سے حاصل ہو جائے گی، اسی کی وجہ سے کوئی بھی شخص اس مسلمان کی جان نہیں لے گا بھئی۔ یہ معنی ہے، کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْعِصْمَةَ أَصْلُهَا الْمُؤَثِّمَةُ لِحُصُولِ أَصْلِ الزَّجْرِ بِهَا“ اس لیے کیونکہ عصمت جو ہے اصل اس کے اندر عصمتِ مؤثمہ ہے اس لیے کیونکہ اصل زجر یعنی ڈانٹ اور سزا اس کے ذریعے حاصل ہو جاتی ہے ”وَهِيَ ثَابِتَةٌ إِجْمَاعًا“ اور یہ عصمتِ مؤثمہ تو بالاجماع اس مسلمان ہونے والے کے لیے ثابت ہے ”وَالْمُقَوِّمَةُ كَمَالٌ فِيهِ“ اور عصمتِ مقومہ جو ہے وہ اسی عصمتِ مؤثمہ کے اندر کمال کا نام ہے کہ یہی عصمتِ مؤثمہ کامل ہو جاتی ہے عصمتِ متقومہ کی وجہ سے۔ اصل کیا ہے؟ عصمتِ مؤثمہ، تو وہ اصل ہے اور عصمتِ متقومہ اس کا وصف ہے، تو اس وصف کے ذریعے وہی عصمتِ مؤثمہ کامل ہو جاتی ہے۔ کہتے ہیں: ”وَالْمُقَوِّمَةُ كَمَالٌ فِيهِ“ اور عصمتِ متقومہ جو ہے وہ عصمتِ مؤثمہ کے اندر کمال ہے یعنی اس کا کامل ہونا ہے ”لِكَمَالِ الِامْتِنَاعِ بِهِ“ اس لیے کیونکہ اس کے ذریعے کامل طور پر رکنا ہو گا۔ بھئی اصل تو عصمتِ مؤثمہ ہے۔ جب ایک شخص کو پتہ ہے کہ میں نے اگر اس آدمی کو قتل کیا تو مجھے گناہ ہو گا اور آخرت میں سخت سزا ملے گی تو فطرتِ سلیمہ والا شخص اسی خوف کی وجہ سے اس سے تعرض ہی نہیں کرے گا۔ لیکن پھر بھی بعض کم عقل لوگ، بعض کم عقل لوگ پھر بھی اس چیز سے باز نہیں آئیں گے، لیکن جب عصمتِ متقومہ بھی آ جائے گی تو اب وہ بھی اس خوف سے قتل سے رک جائیں گے کہ ہمیں دنیاوی سزا ملے گی، قصاص یا دیت آئے گی۔ تو فطرتِ سلیمہ والا تو اس گناہ کی وجہ سے ہی رک جائے گا، لیکن کچھ کم عقل لوگ ہو سکتا ہے صرف اس گناہ سے نہ رکیں تو دنیاوی سزا کی وجہ سے رک جائیں گے۔ تو عصمتِ متقومہ جو ہے وہ کامل روکنے والی چیز ہے۔ تو عصمتِ متقومہ وصف کے درجے میں ہے اور عصمتِ مؤثمہ اصل ہے۔ تو جب اصل ثابت ہے تو اس کا وصف یعنی کمال بھی ثابت ہو گا۔ اس لیے امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس شخص کو عصمتِ متقومہ بھی حاصل ہے اور عصمتِ مؤثمہ بھی حاصل ہے۔ جب دونوں حاصل ہیں تو قتلِ عمد میں قصاص آئے گا اور قتلِ خطا میں دیت آئے گی اور دونوں صورتوں میں کفارہ بھی آئے گا۔ نہ روکیں، لیکن جب عصمتِ متقومہ بھی حاصل ہو جائے گی تو وہ کم عقل لوگ بھی اس کے ساتھ تعرض سے رک جائیں گے۔ معلوم ہوا اصل عصمتِ مؤثمہ ہی ہے اور عصمتِ متقومہ اسی کا وصف ہے اور عصمتِ متقومہ کے ذریعے وہ عصمتِ مؤثمہ کامل ہو جاتی ہے۔ جب وہ کامل ہو گئی تو اس کے ذریعے کامل رکنا پایا گیا۔ اب سلیم الفطرت لوگ بھی رکیں گے اس قتل سے اور کم عقل بھی رکیں گے، کیونکہ کامل درجے کی عصمت آ گئی تو اب رکنا بھی کامل درجے کا پایا جائے گا بھئی۔ یہ معنی ہے: ”وَالْمُقَوِّمَةُ كَمَالٌ فِيهِ“ اور عصمتِ متقومہ جو ہے وہ اس عصمتِ مؤثمہ کے اندر کمال ہے یعنی اس کے ذریعے وہ کامل ہوتی ہے، ”لِكَمَالِ الِامْتِنَاعِ بِهِ“ اس لیے کیونکہ عصمتِ متقومہ کے ذریعے امتناع کامل ہو جائے گا یعنی اس سے رکنا اور باز آنا کامل ہو جائے گا۔ اب ہر ایک اس سے رکے گا، سلیم الفطرت بھی اور کم عقل بھی بھئی۔ ”فَيَكُونُ وَصْفًا فِيهِ“ تو یہ عصمتِ متقومہ جو ہے یہ وصف ہو گا عصمتِ مؤثمہ میں، ”فَيَتَعَلَّقُ بِمَا عُلِّقَ بِهِ الْأَصْلُ“ تو لہٰذا یہ عصمتِ متقومہ بھی متعلق ہو گی اسی چیز کے ساتھ جس کے ساتھ اصل متعلق ہے۔ عصمتِ متقومہ یہ وصف ہے اور عصمتِ مؤثمہ اصل ہے اور عصمتِ مؤثمہ تو اسلام سے حاصل ہو رہی ہے، تو جب اصل جو عصمتِ مؤثمہ ہے اس کا تعلق اسلام سے ہے، اسلام کی وجہ سے عصمتِ مؤثمہ حاصل ہوتی ہے، تو عصمتِ متقومہ جو تابع ہے اور جو وصف ہے اس کا تعلق بھی اسلام سے ہو گا، وہ بھی اسلام کی وجہ سے ہی حاصل ہو جائے گی۔ لہٰذا یہ شخص جب مسلمان ہو گیا ہے چاہے دار الحرب میں ہے لیکن اسلام کی وجہ سے اس کو عصمتِ مؤثمہ حاصل ہوئی اور جب عصمتِ مؤثمہ حاصل ہوئی تو عصمتِ متقومہ بھی حاصل ہو گئی کیونکہ وہ بھی اسی عصمت کے تابع ہے بھئی۔ تو یہ معنی ہے: ”فَيَتَعَلَّقُ بِمَا عُلِّقَ بِهِ الْأَصْلُ“ تو یہ عصمتِ متقومہ بھی اسی سے متعلق ہو گی جس کے ساتھ اصل یعنی عصمتِ مؤثمہ متعلق ہے۔ ”وَلَنَا“ اب ہماری دلیل آ گئی۔ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل کا حاصل یہ ہے کہ ان کے نزدیک عصمتِ مؤثمہ اصل ہے اور عصمتِ مؤثمہ تو بالاتفاق سب کے نزدیک اس مسلمان ہونے والے کو حاصل ہے، تو وہ فرماتے ہیں عصمتِ متقومہ اس کے تابع ہے وہ بھی اس کو حاصل ہو جائے گی۔ ہم کہتے ہیں نہیں، عصمتِ متقومہ اور عصمتِ مؤثمہ دونوں میں سے ہر ایک اصل ہے، کوئی ایک بھی دوسری کے تابع نہیں ہے بھئی۔ ”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل جو ہے: ”قَوْلُهُ تَعَالَى“ وہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: ”فَإِن كَانَ مِن قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ“ ”فَإِن كَانَ مِن قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّكُمْ“ اور اگر وہ جو مقتول ہے جس کو قتل کیا گیا ہے اگر یہ ان لوگوں میں سے ہے جو تمہارے دشمن ہیں یعنی یہ شخص اگر دار الحرب میں ہے، اگر کوئی شخص دار الحرب میں مسلمان ہو گیا اور اس کو قتل کر دیا گیا، تو دیکھو یہ مقتول کن لوگوں میں سے تھا؟ ان لوگوں میں سے ہے یعنی جو ہمارے دشمن ہیں یعنی دار الحرب میں یہ مقتول ہے، دار الحرب میں اس کو قتل کیا گیا ہے، تو وہی صورت قرآن میں بیان ہو رہی ہے: ”فَإِن كَانَ مِن قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّكُمْ“ اور اگر یہ مقتول ان لوگوں میں سے ہے جو تمہارے دشمن ہیں، ”وَهُوَ مُؤْمِنٌ“ اس حال میں کہ مقتول مسلمان تھا مومن تھا بھئی۔ تھا کن لوگوں میں سے؟ جو مسلمانوں کے دشمن ہیں یعنی دار الحرب میں تھا، لیکن یہ خود کیا تھا؟ مومن تھا۔ تو کہتے ہیں: ”فَإِن كَانَ مِن قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّكُمْ“ اور اگر یہ مقتول ان لوگوں میں سے ہوا جو تمہارے دشمن ہیں، ”وَهُوَ مُؤْمِنٌ“ اس حال میں کہ یہ مقتول مومن ہے، ”فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ“ تو ایک مومن گردن کا آزاد کرنا ہے، دیکھو کفارہ ذکر ہو رہا ہے بھئی، کفارہ۔ توجہ ہے؟ بھئی دیکھیے، یہ آیت کا مزید کچھ حصہ یہ حاشیے میں دیا ہوا ہے، اس کو بھی ذرا دیکھ لیں پھر بات پوری واضح ہو جائے گی۔ دیکھیے، قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ”وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ أَن يَقْتُلَ مُؤْمِنًا“ اور کسی مومن کے شایانِ شان نہیں ہے کہ وہ کسی دوسرے مومن کو قتل کرے، ”إِلَّا خَطَأً“ مگر غلطی سے یعنی غلطی سے کوئی قتل ہو جائے، ”وَمَن قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً“ اور جو شخص کسی مومن کو غلطی سے قتل کر دے، ”فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ“ تو ایک مومن گردن کا آزاد کرنا ہے یعنی ایک مسلمان غلام یا باندی کو آزاد کرنا پڑے گا بطور کفارے کے، ”وَدِيَةٌ مُّسَلَّمَةٌ إِلَىٰ أَهْلِهِ“ اور دیت حوالے کرنی پڑے گی اس مقتول کے اولیاء کے۔ اگر کوئی مسلمان دوسرے مسلمان کو غلطی سے قتل کر دے تو اس صورت میں ایک مسلمان غلام یا باندی کو بھی آزاد کرنا پڑے گا بطور کفارے کے، ”وَدِيَةٌ مُّسَلَّمَةٌ إِلَىٰ أَهْلِهِ“ اور اس مقتول کے اولیاء کو دیت بھی سپرد کرنی پڑے گی، ”إِلَّا أَن يَصَّدَّقُوا“ مگر یہ کہ وہ مقتول کے اولیاء صدقہ کر دیں یعنی اس دیت کو معاف کر دیں۔ مقتول کے اولیاء، دیت بھی دینی پڑے گی، ”إِلَّا أَن يَصَّدَّقُوا“ مگر یہ کہ وہ اس دیت کو معاف کر دیں۔ پھر آگے اللہ فرماتے ہیں: ”فَإِن كَانَ مِن قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّكُمْ“ اگر وہ جو مقتول ہے وہ ایسے لوگوں میں سے ہے جو تمہارے دشمن ہیں، ”وَهُوَ مُؤْمِنٌ“ اس حال میں کہ یہ مقتول مومن ہے، ”فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ“ تو پھر ایک مومنہ گردن کا آزاد کرنا ہے۔ تو قرآن میں یہ ذکر ہے۔ دیکھو، ویسے عام مومن کو کوئی غلطی سے قتل کرے تو وہاں اللہ نے دو چیزیں ذکر فرمائیں: ”فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُّسَلَّمَةٌ إِلَىٰ أَهْلِهِ“ کہ کفارہ بھی دینا پڑے گا اور دیت بھی دینی پڑے گی، لیکن جب دار الحرب کے اندر کسی مومن کو قتل کیا جائے تو اس کے بارے میں اللہ فرماتے ہیں: ”فَإِن كَانَ مِن قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ“ تو دار الحرب میں اگر کسی کو قتل کیا جائے اس کے بارے میں اللہ صرف کفارے کو ذکر فرما رہے ہیں، دیت کو ذکر نہیں فرمایا۔ معلوم ہوا یہاں صرف کفارہ آئے گا، دیت نہیں آئے گی۔ معلوم ہوا وہ مسلمان جو دار الحرب میں رہتا ہے اس کو عصمتِ مؤثمہ تو حاصل ہے لیکن عصمتِ متقومہ حاصل نہیں ہے۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ ”وَلَنَا قَوْلُهُ تَعَالَى“ اور ہماری دلیل جو ہے اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: ”فَإِن كَانَ مِن قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ“ اور اگر وہ مقتول ایسے لوگوں میں سے ہوا جو تمہارے دشمن ہیں اس حال میں کہ وہ مقتول مومن ہے، ”فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ“ تو ایک مومن گردن کو آزاد کرنا ہے یعنی ایک مسلمان غلام یا باندی کو آزاد کرنا ہے، ”الْآيَةَ“. ”جَعَلَ التَّحْرِيرَ كُلَّ الْمُوجَبِ رُجُوعًا إِلَى حَرْفِ الْفَاءِ أَوْ إِلَى كَوْنِهِ كُلَّ الْمَذْكُورِ فَيَنْتَفِي غَيْرُهُ“ بھئی اب صاحبِ ہدایہ دلیل ذکر کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں دیکھیے، اس آیت کے اندر اللہ فرما رہے ہیں یہ جو آیت کا حصہ ہے: ”فَإِن كَانَ مِن قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ“ یہاں فا کے بعد صرف تحریرِ رقبہ مؤمنہ ذکر ہے۔ معلوم ہوا کہ یہی جزا ہے۔ اگر دار الحرب کے اندر کسی مسلمان کو کوئی قتل کر دے تو صرف یہی جزا ہے۔ تو یہاں دو طریقے سے صاحبِ ہدایہ اس کو دلیل بنائیں گے۔ ایک صورت میں وہ فا کو دلیل بناتے ہیں کہ یہ فا جو ہے یہ جزا پر داخل ہوتی ہے۔ یہ جزا پر داخل ہوتی ہے، تو گویا اصل کلام یوں ہے، آیت میں تو کیا آیا: ”فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ“ لیکن گویا یوں کہا جا رہا ہے: ”فَجَزَاؤُهُ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ“ اور جزا یاد رکھو، جَزَى يَجْزِي جَزَاءً عَنْ کا معنی ہے کافی ہونا، جزی یجزی جزاء عن کا ایک معنی ہے بدلہ دینا اور ایک اس کا معنی ہے کافی ہونا، تو تقدیرِ کلام یوں ہو گیا: ”فَجَزَاؤُهُ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ“ تو اس کے لیے ایک مومن گردن کا آزاد کرنا کافی ہے۔ اس کے لیے ایک مومن گردن کا آزاد کرنا کافی ہے۔ تقریر سمجھ میں آئی؟ کس کو دلیل بنایا؟ فا کو، اور فا کس پر داخل ہوتی ہے؟ جزا پر، تو گویا یہ جزا ذکر کی جا رہی ہے، تو گویا تقدیرِ کلام یوں ہے: ”فَجَزَاؤُهُ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ“. یہ جزا کا لفظ ہم کہاں سے لائے؟ بھئی اس پر فا دلالت کر رہی تھی، توجہ ہے؟ تو جزا کا لفظ مقدر ہے لیکن اس پر فا دلالت کر رہی تھی اور جزا کا معنی ہے کافی ہونا، معلوم ہوا دار الحرب میں کسی مسلمان کو کوئی قتل کر دیتا ہے تو اس کے لیے تحریرِ رقبہ یعنی کفارہ کافی ہے بھئی۔ کفارہ کافی ہے، اور نیز اسی کو دوسرے انداز میں یوں دلیل بناتے ہیں صاحبِ ہدایہ کہ فا کے بعد جزا ذکر ہے اور یہ جزا کے اندر صرف کفارہ ذکر ہے معلوم ہوا صرف کفارہ ہی آئے گا، یعنی جو سارا ذکر کیا گیا، جزا ساری وہی ہے اس کے علاوہ اور کوئی نہیں، کیونکہ اگر اور چیز بھی جزا ہوتی تو اللہ اس کو بھی ذکر فرماتے جیسے اس سے پیچھے اسی آیت کے اندر کیا آیا: ”فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُّسَلَّمَةٌ إِلَىٰ أَهْلِهِ“ وہاں دیت کو بھی ذکر فرمایا لیکن یہاں اللہ نے دیت کو ذکر نہیں فرمایا۔ تو کہتے ہیں: ”جَعَلَ التَّحْرِيرَ كُلَّ الْمُوجَبِ“ موجب کا معنی ہے حکم اور مقتضی، تو ”جَعَلَ التَّحْرِيرَ كُلَّ الْمُوجَبِ“ تو اللہ تعالیٰ نے آزاد کرنے کو اس قتل کا پورا مقتضی قرار دیا، ”رُجُوعًا إِلَى حَرْفِ الْفَاءِ“ حرفِ فا کی طرف رجوع کرتے ہوئے کہ اس پر فا داخل ہے معلوم ہوا اس قتل کا یہی حکم ہے بھئی، اس کی یہی جزا ہے، ”أَوْ إِلَى كَوْنِهِ كُلَّ الْمَذْكُورِ“ یا اس بات کی طرف رجوع کرتے ہوئے کہ یہی سارا مذکور ہے اور کچھ اللہ نے ذکر نہیں فرمایا، ”فَيَنْتَفِي غَيْرُهُ“ تو اس کے علاوہ اور چیزیں منتفی ہو جائیں گی یعنی قصاص یا دیت نہیں آ سکتی۔ ”وَلِأَنَّ الْعِصْمَةَ الْمُؤَثِّمَةَ بِالْآدَمِيَّةِ“ یہاں سے اب صاحبِ ہدایہ بیان فرمانے لگے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک عصمتِ مؤثمہ اصل تھی اور عصمتِ متقومہ اس کا وصف، لیکن ہمارے نزدیک عصمتِ مؤثمہ بھی اصل اور عصمتِ متقومہ بھی اصل۔ عصمتِ مؤثمہ جو ہے وہ آدمی ہونے کی وجہ سے ہے۔ عصمتِ مؤثمہ کیوں حاصل؟ آدمی ہونے کی وجہ سے۔ یہ دلیل پیچھے بھی گزری تھی کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مکلف بنایا ہے اور اس کے اوپر ذمہ داریاں ڈالی ہیں اور اس کو شرعی احکام کا پابند کیا ہے اور انسان شرعی احکام پر تبھی عمل کر سکتا ہے جب وہ باقی رہے اور زندہ رہے اور زندہ وہ تبھی رہ سکتا ہے جب اس کے ساتھ تعرض کرنا اور اسے قتل کرنا حرام ہو۔ تو لہٰذا انسان کو جو عصمتِ مؤثمہ حاصل ہوتی ہے وہ آدمی ہونے کی وجہ سے ہے کیونکہ وہ مکلف ہے۔ وہ آدمی ہونے کی وجہ سے کیونکہ وہ مکلف ہے۔ ہاں، اگر اس آدمی کو کوئی شر والا عارض پیش آ گیا کہ یہ آدمی حربی ہے، پھر اس صورت میں تعرض حرام نہیں رہتا پھر اس کو قتل کیا جا سکتا ہے، لیکن اگر یہ مسلمان ہو جاتا ہے تو اس کا شر چلا گیا، وہ جو شر اس کو عارض ہوا تھا حربی ہونے والا، وہ جو شر اس کو عارض تھا بطور حربی کے وہ شر چلا گیا، جب شر چلا گیا تو آدمی ہونے کے اعتبار سے اس کو عصمتِ مؤثمہ واپس حاصل ہو گئی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ الْعِصْمَةَ الْمُؤَثِّمَةَ بِالْآدَمِيَّةِ“ اور اس لیے کیونکہ عصمتِ مؤثمہ جو ہے وہ آدمی ہونے کی وجہ سے ہے، وہ آدمی ہونے کی وجہ سے ہے اسلام کی وجہ سے نہیں ہے ہمارے نزدیک۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ الْعِصْمَةَ الْمُؤَثِّمَةَ بِالْآدَمِيَّةِ“ اور اس لیے کیونکہ عصمتِ مؤثمہ آدمی ہونے کی وجہ سے ہے، ”لِأَنَّ الْآدَمِيَّ خُلِقَ مُتَحَمِّلًا أَعْبَاءَ التَّكْلِيفِ“ ”لِأَنَّ الْآدَمِيَّ خُلِقَ“ اس لیے کیونکہ آدمی کو پیدا کیا گیا ہے ”مُتَحَمِّلًا“ اس حال میں کہ یہ اٹھانے والا ہے ”أَعْبَاءَ التَّكْلِيفِ“ تکلیف کے بوجھوں کو۔ تکلیف کا معنی ہے ذمہ دار بنانا، انسان کیا ہے؟ مکلف، مکلف کا کیا معنی؟ جس کو ذمہ دار بنایا گیا ہو، کَلَّفَ يُكَلِّفُ تَكْلِيفًا کا معنی ہوتا ہے دوسرے کو ذمہ دار بنانا، تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْآدَمِيَّ خُلِقَ“ اس لیے کیونکہ آدمی کو پیدا کیا گیا ہے ”مُتَحَمِّلًا أَعْبَاءَ التَّكْلِيفِ“ اس حال میں کہ یہ اٹھانے والا ہے ذمہ داریوں کے بوجھوں کو، ”وَالْقِيَامُ بِهَا“ اور ذمہ داریوں کے بوجھوں کو ادا کرنا ”بِحُرْمَةِ التَّعَرُّضِ“ وہ تعرض کے حرام ہونے سے ہو گا۔ وہ شریعت پر تبھی عمل کر سکتا ہے جب اس کو زندہ رہنے دیا جائے اور اس کے ساتھ تعرض حرام قرار دیا جائے۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ ”وَالْقِيَامُ بِهَا“ ہا ضمیر راجع ہے یہ جو پیچھے آیا اعباء التکلیف بھئی، تکلیف کے جو بوجھ ہیں۔ یاد رکھو اعباء جمع ہے عِبْءٌ کی، اور عبء کہتے ہیں بوجھ کو، اعباء التکلیف یعنی تکلیف کے جو بوجھ ہیں۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: ”لِأَنَّ الْآدَمِيَّ خُلِقَ“ اس لیے کیونکہ آدمی کو پیدا کیا گیا ہے ”مُتَحَمِّلًا أَعْبَاءَ التَّكْلِيفِ“ اس حال میں کہ وہ ذمہ داریوں کے بوجھوں کو اٹھانے والا ہے ”وَالْقِيَامُ بِهَا“ اور ان ذمہ داریوں کے بوجھوں کو ادا کرنا ”بِحُرْمَةِ التَّعَرُّضِ“ تعرض کے حرام ہونے کے ذریعے ہو گا، ”وَالْأَمْوَالُ تَابِعَةٌ لَهَا“ اور اموال اس آدمی ہونے کے تابع ہیں، لہا ضمیر راجع ہے آدمیت کو اوپر جو آدمیت گزرا تھا کہ عصمتِ مؤثمہ حاصل ہے آدمی ہونے کی وجہ سے، ”وَالْأَمْوَالُ تَابِعَةٌ لَهَا“ اور اموال جو ہیں وہ اس آدمی ہونے کے تابع ہیں اس لیے کیونکہ انسان کو حاجت ہے۔ یہ دلیل بھی پیچھے گزری تھی، انسان کو اللہ نے مکلف بنایا ہے اور مکلف جو ہے وہ چیزوں سے فائدہ اٹھانے کا محتاج ہے اور چیزوں سے فائدہ اٹھانا تبھی اس کے لیے ممکن ہو گا جب اس کے لیے مال کی عصمت اور حفاظت ثابت کی جائے، ورنہ تو قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ”خَلَقَ لَكُم مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا“ کہ زمین میں جو کچھ ہے وہ اللہ نے تمہارے فائدے کے لیے پیدا کیا ہے، معلوم ہوا زمین کا ہر مال جو ہے مباح ہے۔ تو یہ آیت تقاضا کرتی ہے کہ کسی کو بھی مال کا مالک نہیں ہونا چاہیے، ہر ایک کے لیے مال مباح ہونا چاہیے لیکن مکلف جو ہے یعنی انسان جو ہے وہ اس مال سے نفع اٹھانے کا محتاج ہے، اگر اس کو مال کا مالک ہم نہیں قرار دیں گے تو پھر تو جو بھی آئے گا وہ اس کا مال اٹھا کر لے جائے گا تو یہ مال سے فائدہ نہیں اٹھا سکے گا، تو ضرورت اور حاجت کی وجہ سے اس مکلف کو اس مال کا مالک قرار دیا گیا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: ”وَالْأَمْوَالُ تَابِعَةٌ لَهَا“ اور یہ جو مال ہیں یہ آدمی ہونے کے تابع ہیں کیونکہ آدمی محتاج ہے ان سے فائدہ اٹھانے کا۔ معلوم ہوا عصمتِ مؤثمہ کے اندر جان اصل ہے اور مال اس کے تابع ہے، جبکہ آگے بتائیں گے عصمتِ متقومہ میں اس کے برعکس ہے، مال اصل ہے اور جان اس کے تابع ہے۔ تو کہتے ہیں: ”أَمَّا الْمُقَوِّمَةُ“ باقی عصمتِ متقومہ جو ہے، ”فَالْأَصْلُ فِيهَا الْأَمْوَالُ“ تو اس کے اندر مال اصل ہیں، ”لِأَنَّ التَّقَوُّمَ يُؤْذِنُ بِجَبْرِ الْفَائِتِ“ ”لِأَنَّ التَّقَوُّمَ“ تقوّم کا معنی ہے قیمت والا ہونا، ”لِأَنَّ التَّقَوُّمَ“ اس لیے کیونکہ قیمت والا ہونا ”يُؤْذِنُ“ یہ خبر دیتا ہے ”بِجَبْرِ الْفَائِتِ“ فوت شدہ چیز کی تلافی کی، بھئی ایک چیز قیمت والی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ نے کسی کو یہ نقصان دیا تو آپ کو تلافی کرنا پڑے گی۔ کوئی چیز قیمت والی ہے اس سے کیا پتہ چلتا ہے؟ کہ اگر کسی نے تلف کر دی تو اس کو نقصان پورا کرنا پڑے گا۔ تو یہ معنی ہے: ”لِأَنَّ التَّقَوُّمَ يُؤْذِنُ بِجَبْرِ الْفَائِتِ“ اس لیے کیونکہ قیمت والا ہونا یہ فوت شدہ چیز کی تلافی کی خبر دیتا ہے، ”وَذَلِكَ فِي الْأَمْوَالِ دُونَ النُّفُوسِ“ اور یہ تلافی جو ہے یہ تو مالوں کے اندر ہو سکتی ہے نہ کہ جانوں کے اندر، کیونکہ مال ایک دوسرے کے مثل ہوتے ہیں جان ایک دوسرے کے مثل نہیں ہے۔ دیکھو مال کسی کا کوئی ضائع کر دے تو بدلے میں اس کو بھی مال دینا پڑتا ہے، لیکن اگر کوئی شخص دوسرے کو قتل کر دے تو کیا آپ نے کبھی سنا ہے بدلے میں کہیں چلو جی ہماری طرف سے یہ ایک آدمی آپ لے لو؟ توجہ ہے؟ جان کو جان کے مثل شمار نہیں کیا جاتا، ہاں مال کو مال کے مثل شمار کیا جاتا ہے۔ تو کہتے ہیں قیمت والا ہونا یہ فوت شدہ چیز کی تلافی کی خبر دیتا ہے، ”وَذَلِكَ فِي الْأَمْوَالِ دُونَ النُّفُوسِ“ اور یہ تلافی مالوں میں ہو سکتی ہے نہ کہ نفسوں میں، ”لِأَنَّ مِنْ شَرْطِهِ التَّمَاثُلَ“ اس لیے کیونکہ تلافی کی شرط جو ہے تماثل ہے، ایک دوسرے کے مثل ہو۔ جس مال کے ذریعے تلافی کی جا رہی ہے وہ اس فوت شدہ مال کے مثل ہونا چاہیے، اور آپ جانتے ہیں کہ کبھی کبھار ایک چیز دوسری کے مثل ہوتی ہے صورت کے اعتبار سے بھی اور معنی کے اعتبار سے بھی اور کبھی ایک چیز دوسری کے مثل ہوتی ہے صرف معنی کے اعتبار سے، جیسے مثلاً دیکھو آپ گاڑی خریدنے گئے، آپ نے مال دیا اور گاڑی خرید لی، اب دیکھو مال جو روپے آپ دے رہے ہیں یہ صورت کے اعتبار سے گاڑی کے مثل نہیں ہیں، ہاں معنی کے اعتبار سے یہ گاڑی کے مثل ہے کہ ان کی بھی وہی قیمت ہے جو گاڑی کی ہے بھئی، اور کبھی کبھار جو عوض دیا جاتا ہے وہ صورت اور معنی دونوں کے اعتبار سے اسی چیز کی طرح ہوتا ہے جیسے آپ کسی کو ایک بوری گندم دیتے ہیں اور اس سے ایک بوری گندم لے لیتے ہیں، تو دیکھو دونوں طرف سے جو مال ہے وہ صورت کے اعتبار سے بھی ایک جیسا اور معنی کے اعتبار سے بھی ایک جیسا ہے بھئی، یا جیسے کوئی شخص کسی کی گندم ضائع کر دے تو بدلے کے اندر اسی جیسی گندم اس کو دینی پڑے گی، تو دیکھو یہاں پر یہ جو گندم دے رہا ہے یہ اس فوت شدہ گندم کے مثل ہے، صورت کے اعتبار سے بھی اسی کی طرح اور معنی یعنی قیمت کے اعتبار سے بھی اسی کی طرح۔ معلوم ہوا مثل ہونا کبھی صورۃً اور معنًی دونوں اعتبار سے ہوتا ہے اور کبھی صرف معنی کے اعتبار سے مثل ہوتا ہے، لیکن یہ مال کے اندر ہوتا ہے جانوں کے اندر نہیں، یہ معنی ہے: ”وَذَلِكَ فِي الْأَمْوَالِ دُونَ النُّفُوسِ“ اور یہ تلافی جو ہے مالوں میں ہوتی ہے نہ کہ نفسوں میں، ”لِأَنَّ مِنْ شَرْطِهِ التَّمَاثُلَ“ اس لیے کیونکہ تلافی کی شرط میں تماثل ہے کہ دونوں چیزیں ایک دوسرے کے مثل ہوں، ”وَهُوَ فِي الْمَالِ دُونَ النَّفْسِ“ اور تماثل تو مال میں ہوتا ہے نہ کہ نفس میں، مال ایک دوسرے کے مثل ہوتے ہیں، ”فَكَانَتِ النُّفُوسُ تَابِعَةً“ تو نفس جو ہیں وہ مالوں کے تابع ہوں گے۔ عصمتِ متقومہ میں مال اصل ہے اور نفس اس کے تابع، معلوم ہوا دونوں عصمتیں اصل ہیں۔ عصمتِ مؤثمہ جان میں اصل ہے اور مال میں تابع، اور عصمتِ متقومہ مال میں اصل ہے اور جان میں تابع ہے۔ تو کہتے ہیں: ”فَكَانَتِ النُّفُوسُ تَابِعَةً“ تو جانیں جو ہیں وہ تابع ہوں گی، ”ثُمَّ الْعِصْمَةُ الْمُقَوِّمَةُ فِي الْأَمْوَالِ بِالْإِحْرَازِ بِالدَّارِ“ اور پھر عصمتِ متقومہ مالوں کے اندر دار الاسلام میں محفوظ کرنے سے ہوتی ہے، بھئی آپ دار الاسلام کے اندر کوئی مال لے جائیں تو اب یہ مالِ معصوم بن گیا۔ مال کیا بن گیا؟ مال معصوم بن گیا، اور عصمتِ متقومہ میں مال اصل ہے اور نفس اس کے تابع ہیں، تو جب مال کو دار الاسلام میں لے جانے سے مال معصوم ہو جاتا ہے اور اس کو عصمتِ متقومہ حاصل ہو جاتی ہے تو اسی طرح جان بھی جب دار الاسلام کے اندر آئے گی پھر ہی اس کو عصمتِ متقومہ حاصل ہو گی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”ثُمَّ الْعِصْمَةُ الْمُقَوِّمَةُ فِي الْأَمْوَالِ بِالْإِحْرَازِ بِالدَّارِ“ پھر عصمتِ مقوّمہ جو ہے مالوں کے اندر دار الاسلام میں محفوظ کرنے سے ہوتی ہے، ”لِأَنَّ الْعِزَّةَ بِالْمَنَعَةِ“ اس لیے کیونکہ عزت جو ہے وہ قوت کے ذریعے ہوتی ہے، عزت کس کے ذریعے ہے؟ قوت۔ عزت سے مراد ہے کسی چیز کا قیمتی ہونا۔ بھئی یہ چیزیں جو قیمتی ہیں یہ عزت کے اعتبار سے ہیں، جتنی چیز زیادہ عزت والی ہے اتنی ہی اس کی قیمت بھی زیادہ ہے، اور یہ یاد رکھو یہ قیمتی ہونا یہ قوت کے ذریعے ہو گا، اگر آپ کے پاس قوت نہیں ہے پھر تو کوئی بھی آپ کا مال لے جائے تو پھر تو مال کی کوئی قیمت ہی نہیں رہے گی بھئی، تو عزت کس کے ذریعے ہوتی ہے؟ قوت کے ذریعے ہوتی ہے۔ توجہ ہے؟ جب قوت حاصل ہو گی تو کوئی دوسرے کا مال نہیں لے سکے گا بھئی، اور قوت حاصل نہیں ہے مال ایک دوسرے کا لے کر جاتے ہیں تو معلوم ہوا مال کی کوئی عزت اور قیمت نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْعِزَّةَ بِالْمَنَعَةِ“ اس لیے کیونکہ مال کی جو عزت ہے یعنی اس کا قیمتی ہونا جو ہے ”بِالْمَنَعَةِ“ وہ قوت کے ذریعے ہوتا ہے، ”فَكَذَلِكَ فِي النُّفُوسِ“ تو اسی طرح نفسوں میں بھی ہو گا۔ جب دار الاسلام کے اندر مال لے جایا جائے تو وہ معصوم ہو جاتا ہے تو کوئی نفس بھی جب دار الاسلام میں آئے گا تب اس کو عصمتِ متقومہ حاصل ہو گی۔ ”إِلَّا أَنَّ الشَّرْعَ أَسْقَطَ اعْتِبَارَ مَنَعَةِ الْكَفَرَةِ“ یہاں سے ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں۔ اعتراض یہ کہ اگر چیز کی قیمت قوت کے ذریعے حاصل ہوتی ہے پھر دار الحرب کے اندر بھی تو دار الحرب والوں کو قوت حاصل ہے، تو وہاں پر بھی ان کے مال اور جان کو عصمتِ متقومہ حاصل ہونی چاہیے، تو اس کا جواب دے رہے ہیں کہ ہاں وہاں پر اگرچہ ان کو قوت حاصل ہے لیکن شریعت نے ان کی قوت کو ختم کرنے کا حکم دیا ہے، ان سے جہاد کرنے کا حکم دیا ہے لہٰذا اس لیے ان کی قوت کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: ”إِلَّا أَنَّ الشَّرْعَ أَسْقَطَ“ مگر یہ کہ شریعت نے ساقط کر دیا ہے ”اعْتِبَارَ مَنَعَةِ الْكَفَرَةِ“ کفار کی طاقت کے اعتبار کرنے کو، شریعت نے کفار کی طاقت کے اعتبار کو ساقط کر دیا ہے ”لِمَا أَنَّهُ أَوْجَبَ إِبْطَالَهَا“ اس لیے کیونکہ شریعت نے واجب کیا ہے ان کی قوت کو باطل کرنے کو کہ ان سے جہاد کیا جائے اور ان کی قوت کو ختم کیا جائے۔ ”وَالْمُرْتَدُّ وَالْمُسْتَأْمِنُ“ یہ ایک اور اعتراض کا جواب۔ اعتراض یہ کہ مستأمن جو ہے دار الاسلام کے اندر آیا ہے امان لے کر، آپ نے کہا اس کو اگر کوئی قتل کر دے تو نہ قصاص آتا ہے اور نہ دیت آتی ہے، حالانکہ دار الاسلام کے اندر آ کر اس کو بھی عصمتِ متقومہ حاصل ہونی چاہیے۔ اور اسی طرح اگر کوئی شخص دار الاسلام میں مرتد ہو جاتا ہے تو اس کو بھی کوئی قتل کر دے تو آپ کہتے ہیں نہ قصاص آئے گا نہ دیت آئے گی حالانکہ دار الاسلام میں تو جان کو عصمتِ متقومہ حاصل ہوتی ہے، تو اس کا بھی جواب دیں گے کہ یہ جو حربی مستأمن ہے اس نے واپس جانا ہے دار الحرب اور یہ مرتد بھی وہی دار الحرب بھاگ کر جانا چاہتا ہے، جب ان کا ارادہ ہی وہاں جانے کا ہے تو تقدیراً یہ ابھی بھی انہی میں شمار ہوں گے، جب یہ انہی میں شمار ہیں تو ان کو عصمتِ متقومہ حاصل نہیں، ان کے قتل کی وجہ سے نہ قصاص آئے گا اور نہ دیت آئے گی۔ کہتے ہیں: ”وَالْمُرْتَدُّ وَالْمُسْتَأْمِنُ فِي دَارِنَا“ اور وہ شخص جو مرتد ہے اور وہ شخص جو مستأمن ہے فی دارنا ہمارے دار میں، ”مِنْ أَهْلِ دَارِهِمْ حُكْمًا“ یہ بھی ان دار الحرب والوں میں سے ہیں حکم کے اعتبار سے، ”لِقَصْدِهِمَا الِانْتِقَالَ إِلَيْهَا“ اس وجہ سے کہ ان کا ارادہ ہے ان کی طرف منتقل ہونے کا، بات سمجھ میں آ گئی؟ آگے دیکھیے بھئی: ”وَمَنْ قَتَلَ مُسْلِمًا خَطَأً لَا وَلِيَّ لَهُ أَوْ قَتَلَ حَرْبِيًّا دَخَلَ إِلَيْنَا بِأَمَانٍ فَأَسْلَمَ فَالْدِّيَةُ عَلَى عَاقِلَتِهِ لِلْإِمَامِ وَعَلَيْهِ الْكَفَّارَةُ“ بھئی صورتِ مسئلہ یہ کہ کسی شخص نے دار الاسلام کے اندر ایسے مسلمان کو قتل کر دیا جس کا کوئی ولی نہیں ہے یا کوئی حربی امان لے کر دار الاسلام آیا تھا اور یہاں وہ مسلمان ہو گیا اور پھر اس کو کسی نے قتل کر دیا، تو اب اس صورت میں یاد رکھو اگر وہ قتلِ خطا ہے، قتلِ خطا ہے تو قاتل کی عاقلہ پر دیت آئے گی۔ بھئی اس آدمی جس کو قتل کیا گیا ہے اس کا تو کوئی ولی ہی نہیں ہے، کہتے ہیں اس کی دیت امام وصول کر لے گا اور پھر اس کو بیت المال میں جمع کر دے گا اور مسلمانوں کی مصلحت کے کاموں میں اسے خرچ کیا جائے گا۔ تو قاتل پر دیت بھی آئے گی قتلِ خطا میں اور کفارہ بھی آئے گا بھئی، اور قتل کا کفارہ میں پیچھے بیان کر چکا ہوں کہ ایک مسلمان غلام یا باندی کو آزاد کرنا پڑے گا اور پھر اسی آیت میں آگے اللہ فرماتے ہیں: ”فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ“ کہ جس کو مسلمان غلام یا باندی میسر نہ ہو تو اسے دو ماہ کے مسلسل روزے رکھنے پڑیں گے۔ تو اگر یہ قتلِ خطا تھا تو اس میں دیت بھی دینا پڑے گی اس قاتل کو اور نیز اس پر کفارہ بھی آئے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ قَتَلَ مُسْلِمًا خَطَأً لَا وَلِيَّ لَهُ“ اور جس نے غلطی سے ایسے مسلمان کو قتل کر دیا جس کا کوئی ولی نہیں ہے ”أَوْ قَتَلَ حَرْبِيًّا دَخَلَ إِلَيْنَا بِأَمَانٍ فَأَسْلَمَ“ یا ایسے حربی کو قتل کر دیا جو ہمارے پاس امان لے کر آیا تھا اور پھر مسلمان ہو گیا تھا، ”فَالْدِّيَةُ عَلَى عَاقِلَتِهِ لِلْإِمَامِ“ تو دیت جو ہے اس قاتل کی عاقلہ پر ہو گی امام کے لیے، امام کے لیے معنی یہ ہے کہ اس دیت کو لینے کا حق امام کا ہے، یہ معنی نہیں کہ یہ مال ہی امام کا ہو گا بلکہ یہ مال بیت المال میں جمع کروایا جائے گا البتہ لینے کا حق وہ امام کا ہے بھئی۔ یہ معنی ہے: ”فَالْدِّيَةُ عَلَى عَاقِلَتِهِ لِلْإِمَامِ“ تو اس مقتول کی جو دیت ہے وہ اس قاتل کی عاقلہ پر ہو گی امام کے لیے یعنی اسے وصول کرنے کا حق امام کا ہے، ”وَعَلَيْهِ الْكَفَّارَةُ“ اور اس قاتل پر کفارہ بھی ہو گا، ”لِأَنَّهُ قَتَلَ نَفْسًا مَعْصُومَةً خَطَأً“ اس لیے کیونکہ قاتل نے ایک معصوم جان کو غلطی سے قتل کیا ہے، ”فَيُعْتَبَرُ بِسَائِرِ النُّفُوسِ الْمَعْصُومَةِ“ تو اس کو قیاس کیا جائے گا باقی معصوم جانوں پر، اور باقی معصوم جانوں میں تو قتلِ خطا کے اندر دیت اور کفارہ آتا ہے تو یہاں بھی دیت اور کفارہ آئے گا۔ ”وَمَعْنَى قَوْلِهِ لِلْإِمَامِ“ اور متن کے اندر امام محمد رحمہ اللہ کا جو قول آیا ”لِلْإِمَامِ“ اس کا معنی یہ ہے ”أَنَّ حَقَّ الْأَخْذِ لَهُ“ کہ اس دیت کو لینے کا حق امام کا ہے، اس دیت کو لینے کا حق امام کا ہے، ”لِأَنَّهُ لَا وَارِثَ لَهُ“ اس لیے کیونکہ اس مقتول کا کوئی وارث نہیں ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو صاحبِ ہدایہ نے ”لِلْإِمَامِ“ کا معنی ذکر کیا کہ امام کو لینے کا حق ہے، معلوم ہوا امام اس کا مالک نہیں لینے کا حق امام کا ہے البتہ پھر بیت المال میں جمع کیا جائے گا اس کو۔ ”وَإِنْ كَانَ عَمْدًا فَإِنْ شَاءَ الْإِمَامُ قَتَلَهُ وَإِنْ شَاءَ أَخَذَ الدِّيَةَ“ یہ سارا متن ہے بھئی: ”وَإِنْ كَانَ عَمْدًا فَإِنْ شَاءَ الْإِمَامُ قَتَلَهُ وَإِنْ شَاءَ أَخَذَ الدِّيَةَ“. ”فَإِنْ شَاءَ الْإِمَامُ قَتَلَهُ“ تو اگر امام چاہے تو اس قاتل کو قتل کر دے، ”وَإِنْ شَاءَ أَخَذَ الدِّيَةَ“ اور اگر امام چاہے تو دیت لے لے، امام چاہے تو اس قاتل کو قتل کر دے اور چاہے تو دیت لے لے۔ آگے صاحبِ ہدایہ بھی ذکر فرمائیں گے کہ قتلِ عمد کے اندر تو قصاص آتا ہے اور یہاں اختیار ذکر ہو رہا ہے کہ امام اس کو قصاص میں قتل بھی کروا سکتا ہے اور دیت بھی لے سکتا ہے تو اس کا جواب دیں گے صاحبِ ہدایہ کہ بطور صلح کے، بطور صلح کے، ورنہ تو قتلِ عمد میں قصاص ہی آتا ہے لیکن بطور صلح کے امام اگر دیت لینا چاہے تو دیت بھی لے سکتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ النَّفْسَ مَعْصُومَةٌ“ اس لیے کیونکہ یہ جان معصوم اور محفوظ تھی، ”وَالْقَتْلُ عَمْدٌ“ اور یہ قتل جان بوجھ کر تھا، ”وَالْوَلِيُّ مَعْلُومٌ“ اور اس قتل کا ولی معلوم ہے۔ بھئی قتل کا ولی کیسے معلوم ہے؟ اس مقتول کا تو کوئی ولی ہی نہیں ہے۔ کہتے ہیں بھئی: ”وَهُوَ الْعَامَّةُ أَوِ السُّلْطَانُ“ وہ عام مسلمان ہیں یا بادشاہ ہے، اس مقتول کا ولی جس کا کوئی اور ولی نہیں عام مسلمان یا بادشاہ اس کا ولی ہے۔ ”قَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”السُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ“ کہ بادشاہ اس شخص کا ولی ہے جس کا کوئی ولی نہ ہو، ”وَقَوْلُهُ“ اور امام محمد رحمہ اللہ کا جو قول آیا متن میں ”وَإِنْ شَاءَ أَخَذَ الدِّيَةَ“ بھئی متن میں آیا تھا: ”فَإِنْ شَاءَ الْإِمَامُ قَتَلَهُ وَإِنْ شَاءَ أَخَذَ الدِّيَةَ“ اب اسی کا معنی بیان کر رہے ہیں کہ بظاہر اس کلام سے لگتا ہے شاید امام کو اختیار ہے چاہے وہ قتل کروا دے اور چاہے دیت لے لے، تو صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں کہ نہیں، قتلِ عمد میں قصاص ہی آتا ہے اور یہ جو دیت ذکر کی جا رہی ہے یہ بطور صلح کے ہے کہ اگر صلح کے طور پر وہ دیت دینے پر راضی ہیں تو امام دیت بھی لے سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَوْلُهُ“ اور امام محمد رحمہ اللہ کا جو قول آیا متن میں کہ ”وَإِنْ شَاءَ أَخَذَ الدِّيَةَ“ ”مَعْنَاهُ“ اس قول کا معنی یہ ہے ”بِطَرِيقِ الصُّلْحِ“ کہ امام صلح کے طریقے پر دیت لے سکتا ہے، ”لِأَنَّ مُوجَبَ الْعَمْدِ هُوَ الْقَوَدُ عَيْنًا“ اس لیے کیونکہ قتلِ عمد کا جو حکم ہے وہ عینِ قود ہی ہے۔ یاد رکھو قود کا معنی بھی قصاص، قود کا معنی بھی قصاص۔ تو ہمارے نزدیک قتلِ عمد میں قصاص ہی آتا ہے، وہاں قصاص اور دیت میں اختیار نہیں ہوتا۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ مُوجَبَ الْعَمْدِ هُوَ الْقَوَدُ عَيْنًا“ اس لیے کیونکہ قتلِ عمد کا جو حکم ہے اور جو مقتضا ہے ”هُوَ الْقَوَدُ عَيْنًا“ وہ عینِ قود ہی ہے، وہاں اختیار نہیں ہوتا بلکہ عینِ قود یعنی قصاص ہی آتا ہے، ”وَهَذَا لِأَنَّ الدِّيَةَ أَنْفَعُ فِي هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ مِنَ الْقَوَدِ“ ”وَهَذَا“ اور یہ اس وجہ سے کہ امام کے لیے دیت لینا بھی جائز ہے وہ اس وجہ سے ”لِأَنَّ الدِّيَةَ أَنْفَعُ فِي هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ مِنَ الْقَوَدِ“ اس لیے کیونکہ دیت زیادہ نفع والی ہے اس مسئلے کے اندر قصاص کے مقابلے میں، اس مسئلے میں دیت جو ہے وہ زیادہ نفع والی ہے قصاص کے مقابلے میں، ”فَلِهَذَا كَانَ لَهُ وِلَايَةُ الصُّلْحِ عَلَى الْمَالِ“ لہٰذا اسی لیے امام کو مال پر صلح کی ولایت بھی حاصل ہو گی، ”فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَعْفُوَ“ تو امام کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ معاف کر دے، ”لِأَنَّ الْحَقَّ لِلْعَامَّةِ“ اس لیے کیونکہ یہ عام مسلمانوں کا حق ہے، ”وَوِلَايَتُهُ نَظَرِيَّةٌ“ اور امام کی جو ولایت ہے وہ شفقت والی ہے، امام کو تمام مسلمانوں پر جو ولایت دی گئی ہے وہ شفقت کی وجہ سے دی گئی ہے کہ یہ مسلمانوں کا خیال رکھے گا، تو اگر یہ اس قاتل کو ویسے ہی معاف کر دیتا ہے اس کے اندر تو مسلمانوں کا کوئی نفع نہیں، اس میں تو کوئی شفقت نہیں ہے مسلمانوں پر، لہٰذا اس کی اسے اجازت نہیں ہو گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَوِلَايَتُهُ نَظَرِيَّةٌ“ اور امام کی ولایت جو ہے وہ تو شفقت والی ہے، ”وَلَيْسَ مِنَ النَّظَرِ“ اور شفقت میں سے نہیں ہے ”إِسْقَاطُ حَقِّهِمْ مِنْ غَيْرِ عِوَضٍ“ کہ مسلمانوں کا حق ساقط کر دیا جائے بغیر کسی عوض کے۔ مسلمانوں کا حق بغیر کسی عوض کے ساقط کر دیا جائے اس میں کوئی شفقت والی بات نہیں ہے، لہٰذا امام کو اس کی ولایت نہیں ہو گی، وہ قاتل کو معاف نہیں کر سکتا، اسے اختیار ہی نہیں ہے اس بات کا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ حل ہو گیا۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام واللہ اعلم بحقیقة الکلام۔