باب السلم: السلم بيع الشيء على أن يكون المبيع دينا على البائع بالشرايط المعتبرة شرعا، فالمبيع يسمى مسلما فيه والثمن رأس المال والبائع مسلما إليه والمشتري رب السلم. جي، بيع السلم کے بارے میں ہم پڑھیں گے آج بھئی، بیع السلم بھئی۔ بھئی بیع السلم اس کو کہتے ہیں کہ ثمن آپ آج ادا کر دیتے ہیں، عقد کرتے ہیں، ثمن اسی وقت ادا کر دیتے ہیں اور مبیعہ وہ آپ کو مہینے، دو مہینے، چار مہینے کے بعد دے گا بھئی۔ اس کو کیا کہتے ہیں بیع السلم کہتے ہیں بھئی۔ تو اس کی آسان تعریف جو ہے وہ بيع عاجل با عاجل بھئی۔ بيع عاجل با عاجل بھئی، یہ لکھ لیجیے بھئی آسان تعریف ہے۔ هو بيع عاجل عاجل اجل سے ہے بھئی، با عاجل بھئی عاجل۔ تو دیکھو ثمن کا اسی مجلس میں ثمن حوالے کی جاتی ہے اور مبیعہ مہینے، دو مہینے یا تین مہینے بعد ملے گا بھئی۔ تو عاجل کا مطلب ہے اجل بھئی، اجل والی ہو جو اور عاجل عجلت سے ہے جلدی بھئی۔ تو کیا چیز جلدی دی جاتی ہے؟ ثمن یا مبیعہ بھئی؟ ثمن جلدی تو ثمن ہوئے عاجل بھئی، ثمن کیا ہوئے؟ اور مبیعہ کیا ہوا؟ عاجل ہوا ہاں جی اجل کس سے بھئی؟ اجل والا۔ اور ثمن پر کیا داخل کی جاتی ہے؟ با داخل کی جاتی ہے، اسی لیے میں نے کہا بیع عاجل با عاجل۔ معلوم ہوا جس پر با داخل ہو رہی ہے وہ ثمن اور وہ عاجل ہوگا یا عاجل ہوگا بھئی؟ عاجل ہوگا۔ تو کہتے ہیں السلم بيع الشيء على أن يكون المبيع دينا على البائع بالشرايط المعتبرة شرعا کہ وہ بیچنا ہے کسی چیز کا اس شرط پر کہ مبیعہ دین ہوگا بائع پر بالشرايط المعتبرة شرعا ان شرائط کے ساتھ جو شرعا معتبر ہیں، جی شرعا جو اس کی شرائط ہیں بھئی، آگے ذکر ہو جائیں گی کیا کیا شرائط ہیں بھئی۔ فالمبيع يسمى مسلما فيه، جي یہاں سے یہ نام بھئی یاد رکھ لو ہمیشہ بھئی۔ مبیعہ جو ہوتا ہے بیع السلم میں اس کو مسلم فیہ کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ مسلم فیہ بھئی۔ ثمن کو رأس المال کہتے ہیں بھئی۔ بائع کو مسلم مسلم الیہ کہتے ہیں بھئی۔ اور مشتری کو کیا کہتے ہیں؟ رب السلم بھئی۔ آپ ایک دکاندار کے پاس گئے، آپ نے اس کو 1000 روپے دیے کہ مجھے ایک مہینے بعد اس کے فلاں وہ گندم فلاں قسم کی دے دینا بھئی۔ تو آپ کون ہوئے بھئی؟ رب السلم۔ آپ کون ہوئے؟ رب السلم۔ دکاندار کون ہوا؟ مسلم الیہ بھئی۔ اور جو آپ نے ثمن حوالے کیے وہ کیا ہے؟ رأس المال۔ اور مہینے بعد جو وہ گندم دے گا وہ کیا ہے؟ وہ مسلم فیہ ہے بھئی۔ جي اب کن چیزوں میں بیع السلم صحیح ہے اور کن میں صحیح نہیں بھئی؟ تو دیکھیے بھئی کہتے ہیں يصح فيما يعلم قدره وصفته بیع السلم صحیح ہے ان چیزوں میں يعلم قدره وصفته کہ جانا جا سکتا ہو جن کی مقدار کو بھی اور ان کی ان کی مقدار کی بھی کیا ہو؟ معلوم ہو اور ان کی صفت بھی معلوم ہو کالمكيلي والموزوني جیسے ماپی جانے والی چیزیں ہیں اور وزنی چیزیں ہیں مسمنان بھئی، وہ موزون اس حال میں کہ مسمن ہو بھئی، کیا ہو؟ مسمن ہو۔ یعنی مبیعہ ہو، کیا ہو؟ مسمن کیا ہے؟ ایک طرف ثمن ہے تو دوسری طرف جو عوض آئے گا اسے کیا کہتے ہیں؟ مسمن وہ مبیعہ۔ یہ احتراز ہے ثمن سے مولانا، مسمن کی قید لگا کر ثمن سے احتراز کیا۔ اس لیے کہ درہم و دینار ان کو نکالنا مقصود ہے بھئی، کن کو نکالنا مقصود ہے؟ درہم و دینار کو موزون سے نکالنا ہے کیونکہ درہم و دینار کو بھی وزن کیا جاتا ہے بھئی وزن کیا جاتا ہے۔ تو موزون کا جب کہا تو وہ بھی داخل ہو رہے تھے تو ان کو خارج کرنے کے لیے قید کیا کیا قید لگا دی کہ وہ موزون کیا ہونا چاہیے؟ مسمن ہو یعنی تعیین سے متعین ہوتا ہو۔ تعیین سے کیا ہوتا ہو؟ جبکہ درہم و دینار کے بارے میں آپ نے پڑھا ہے بھئی کہ وہ تعیین سے متعین نہیں ہوتے، جی تو مسمن جو تعیین سے متعین ہو بھئی۔ تو وہ موزون جو ہے اس حال میں کہ وہ مسمن ہو یعنی تعیین سے متعین ہوتا ہو۔ انما قال مسمنان ماتن نے مسمن فرمايا احترازا عن الموزون الذي يكون سمنا كالدراهم والدنانير پھر بیع السلم نہیں صحیح بھئی وہاں کہ اگر وہ جو چیز بعد میں دے گا وہ موزون ہو اور مسمن ہو تو ٹھیک، لیکن موزون سمن ہو یعنی درہم و دینار آپ کو مہینے دو مہینے بعد دے گا پھر یہ درست نہیں ہے بھئی۔ کیونکہ وہ مبیعہ نہیں بن سکتے بھئی، وہ سمن ہی ہیں خلقتنا بھی عرفا بھی۔ والمزروبي کالمكيلي والموزوني والمزروبي اور جیسے ماپی جانے والی ناپی جانے والی چیزیں کثوبي جیسے کیا ہے؟ کپڑا ہے بھئی، کپڑا مبینان اس حال میں کہ بیان کیا گیا ہو بھئی۔ کیا بیان کیا گیا ہو بھئی؟ طوله وعرضه ورقعته اس کی لمبائی وعرضه اور اس کی چوڑائی ورقعته اور اس کی بنائی بھئی۔ رقعہ کس کو کہتے ہیں بھئی؟ نسیج اصلی کو کہتے ہیں، وہ اصل بنائی جو ہوتی ہے بھئی، بنائی۔ समझ میں آیا؟ تو ایسا کپڑا کہ بیان کیا اس حال میں ہو کہ بیان کیا گیا ہو اس کی لمبائی اور چوڑائی اور بنائی کو، بھئی بنائی کو بیان کیا گیا ہو کیا معنی بھئی؟ علامہ صدر الشریعہ بتا رہے ہیں غلظته وسخافته سخافته یعنی اس کی موٹائی اور اس کی باریکی، غلظت موٹائی بھئی، سخافت باریکی بھئی۔ موٹائی اور باریکی بیان کی گئی ہو ورنہ تو پھر جھگڑا ہوگا مولانا، پہلے بتایا جائے اس قسم کا موٹا کپڑا ہو یا اس قسم کا باریک کپڑا ہو بھئی۔ والمعدودي اور کس کے اندر صحیح ہے بھئی؟ بھئی وہ چیزیں جن کی قدر اور صفت معلوم ہو سکے بھئی اور وہ کون کون سی ہیں؟ مکيل ہیں، موزون ہیں، مزروع ہیں اور معدود اس حال میں کہ متقارب وہ کیا ہوں بھئی؟ قریب قریب ہوں اس کے افراد ایک جیسے جیسے اخروٹ ہیں، انڈے ہیں وغیرہ بھئی۔ مثال خود ذکر کر رہے ہیں كالجوز والبيض والفلس واللبين والآجر بملبن معين جیسے اخروٹ ہے بھئی، والبيض اور انڈے، والفلس اور وہ پیسے بھئی، سکے جو لوہے تانبے وغیرہ کے ہوتے ہیں، واللبين لبین کہتے ہیں مولانا کچی اینٹ کو۔ کچی اینٹ بھئی۔ اینٹوں کو آپ جانتے ہیں بھئی بھٹے میں پکاتے ہیں تو جو کچی ہو اس کو لبین کہتے ہیں اور پک جائے پھر اس کو آجُر کہتے ہیں، آجُر بھئی۔ را مشدد ہے۔ اسی طرح یہ جیسے کیا ہے؟ لبین کچی اینٹ ہے والآجر اور پکی اینٹ ہے بملبن معين بھئی کس کے ساتھ ہو؟ ملبن کہتے ہیں سانچے کو، سانچے کے ساتھ۔ معین سانچے کے ساتھ ہو بھئی، جب معین سانچے کچی اینٹوں میں بھی بھئی بیع السلم صحیح، پکی اینٹوں کے اندر بھی بیع السلم صحیح لیکن کب جبکہ یہ کس کے ساتھ ہوں بھئی؟ معین سانچہ ہو ورنہ تو جھگڑا ہوگا بھئی، اینٹیں کوئی چھوٹی ہوتی ہیں کوئی بڑی ہوتی ہیں، وہ بایع مشتری کہے گا میں نے بڑی والی اینٹ کہا تھا، مشتری کہے گا بڑی اینٹ میں نے کہا تھا اور بایع کیا چاہے گا کہ میں چھوٹی اینٹیں دوں بھئی، تو لہذا سانچہ معین ہونا چاہیے بھئی۔ فصح في السمك المليح فصحیح ہے بھئی بیع سمک ملیح کے اندر بھئی نمک لگا کر خشک کی ہوئی مچھلی بھئی۔ أي القديد بالملح خود معنی بتا رہے ہیں، قدید کا معنی خشک کی ہوئی بالملح نمک کے ساتھ بھئی، نمک لگا کر خشک کی ہوئی ۔ يققال سمك مليح ومملوح۔ عربی میں کہتے ہیں سمک ملیح یہ لفظ بھی استعمال ہوتا ہے بھئی، وسمك مملوح مملوح کا لفظ بھی استعمال ہوتا ہے، ولا يققال صالح الا في لغت ردیۃ اور صالح سمک صالح نہیں کہتے بھئی، مگر کس میں؟ ردی لغت بھئی۔ (یعنی ردی لغت میں کہتے ہیں، فصیح کلمہ نہیں بھئی سمجھ میں آیا؟) কিন্তু علامہ زرنو جی فرماتے زرنو جی فرماتے ہیں کہ یہ درست نہیں بھئی علامہ صدر الشریعہ کی بات بھئی، صاحب ہدایہ نے سمک صالح کا لفظ ذکر کیا ہے بھئی، پھر تو ان پہ اعتراض ہوتا ہے بھئی، حالانکہ ہدایہ کی کی تو عبارتیں تو بڑی فصیح و بلیغ ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ بڑی فصیح و بلیغ، اتنی فصیح و بلیغ عبارتیں ہیں اس کی کہ علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ فرماتے تھے، جو جن کو اللہ نے غضب کا حافظہ اور غضب کی ذہانت عطا کی تھی، وہ فرماتے تھے میں جس قسم کی کتاب چاہوں لکھ سکتا ہوں بھئی۔ کئی علماء نے کئی کتابوں کا پوچھا، حضرت اس جیسی فرماۓ، اس سے بھی مثلاً فتح القدیر کا پوچھا فرماۓ، اس سے بھی بہتر کتاب میں لکھ سکتا ہوں، فلاں کی اس سے بھی بہتر لکھ سکتا ہوں۔ लेकिन چند کتابوں کا استثناء کیا، ان میں سے ایک ہدایہ بھی تھی، فرمایا ہدایہ جیسی میں چند سطریں بھی نہیں لکھ سکتا بھئی، اتنی فصیح و بلیغ کتاب ہے۔ تو وہ صالح کا لفظ لے کر آئے ہیں، لہذا معلوم ہوا یہ لغت ردی نہیں ہے بھئی یہ بلکہ لکھتے ہیں یہ اہل حجاز کی لغت ہے بھئی، اشعار میں بھی شعراء، فصیح شعراء نے صالح کا لفظ استعمال کیا ہے۔ وتریی اي صح في السمك التريي بھئی اور تازہ مچھلی کے اندر بھی بیع السلم صحیح ہے بھئی۔ آپ نے بیع نمک لگی ہوئی مچھلی کے اندر بیع السلم کی کہ یہ لو بھئی اتنے پیسے لو ایک مہینے کے بعد مجھے اتنی مچھلی اتنے کلو دے دینا بھئی، یہ صحیح ہے۔ تازہ مچھلی کے اندر کہتے ہیں بھئی، تازہ مچھلی اگر ایسی ہے جو سال کے کچھ حصوں میں ملتی ہے اور سال کے کچھ حصوں میں دریا میں سردیوں میں مثلاً ختم ہو جاتی ہے، ملتی نہیں ہے، تو کہتے ہیں موسم کے اندر اندر تو بیع السلم صحیح ہے، ثمن آج دے دیں اور مچھلی وہ کتنے مہینے ڈیڑھ، دو بعد لے لیں اس سے تو اور موسم کے علاوہ میں صحیح نہیں ہے بھئی۔ اس لیے کہ آگے جا کر آپ کو بتلائیں گے بھئی، کہ بیع السلم کے اندر ضروری ہے کہ مبیعہ عقد سے لے کر ادائیگ کے وقت تک سارا وقت وہ دستیاب ہونا چاہیے مارکیٹ میں، منڈی میں بھئی۔ کیا ہونا چاہیے؟ دستیاب ہونا چاہیے تا کہ وہ بایع اس کے تسلیم پر قادر ہو بھئی، وہ حاصل کرکے آپ کے حوالے کر سکے بھئی، حوالے کر سکے، اگر وہ ملتی ہی نہیں ہے وہ چیز ختم ہو جائے، پھر تو وہ اس کی تحصیل پر ہی قادر نہیں رہے گا، تو لہذا تحصیل کے لیے ضروری ہے کہ وہ دستیاب رہے۔ تو کہتے ہیں اور تازہ مچھلی کے اندر بھی فی حينه اس کے موسم میں فقط صرف اس کے موسم میں بیع السلم صحیح ہے ویسے نہیں۔ أي السلم في السمك الطري لا يجوز إلا في حين يوجد السمك في الماء، سلم تازہ مچھلی کے اندر جائز نہیں ہے مگر اس موسم ایسے موسم کے اندر کہ وہ مچھلی پائی جاتی ہو پانی کے اندر بھئی، صرف اس موسم میں بھئی۔ وزنا وضرب معلومینی وزن اور نو ضرب بمعنی نوع کے ہے، وزن اور نوع کے اعتبار سے معلومینی اس حال میں کہ یہ دونوں معلوم ہوں۔ وزن بھی معلوم ہو بھئی، آپ کیا کرنا چاہتے ہیں؟ تازہ مچھلی کی بیع کرنا چاہتے ہیں، بیع السلم کرنا چاہتے ہیں بھئی، مہینے کے بعد وہ آپ کو وہ مچھلی دے گا، لیکن وزن بھی معلوم ہونا چاہیے اتنے کلو دو گے بھئی۔ اور نوع بھی معلوم ہونا چاہیے فلاں قسم کی مچھلی مجھے دو گے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تا کہ پھر جھگڑے کا امکان نہ ہو۔ أي لابد أن يذكر وزن معلوم ونوع معلوم، یعنی ضروری ہے کہ ایک معلوم وزن اور معلوم نوع کو ذکر کیا جائے۔ والطست أي في في يصح في الطست والققمة طست کہتے ہیں بھئی ہاتھ وغیرہ دھو نے کا جو برتن ہوتا ہے، اسے کیا کہتے ہیں؟ طست کہتے ہیں۔ سمجھ میں آیا؟ یہاں پر تو استعمال نہیں ہوتا بھئی، باقی سرحد کی طرف، بلوچستان، افغانستان کے علاقوں میں عام استعمال ہوتا ہے بھئی، مہمان کوئی آتا ہے وہیں اس کے سامنے ہی برتن لے آتے ہیں، وہیں بیٹھے بیٹھے وہ ہاتھ دھو لیتا ہے اس کے اندر بھئی، طست کہتے ہیں اسے۔ اور قمقمہ، یہ تانبے یا پیتل کا گول برتن ہوتا ہے، صراحی نما جسے زینت کے لیے رکھتے ہیں، آپ نے بھی دیکھا ہوگا، گھروں کے اندر کیا کرتے ہیں؟ زینت کے لیے برتن رکھے جاتے ہیں بعض، تو یہ تانبے یا پیتل کا ہوتا ہے اسے قمقمہ کہتے ہیں بھئی۔ تو طست کے اندر بھی بیع السلم صحیح ہے، قمقمے کے اندر بھی، والقفين، اور کس کے اندر بھئی؟ موزوں کے اندر بھی بیع السلم صحیح ہے، إلا إذا لم يعرف به، مگر اس وقت جب ان کو نہ جانا جاتا ہو، أي بالصفة، کس کے ذریعے؟ بہی کا ضمیر کا مرجع بتایا، أي بالصفة، صفت کے ذریعے ان کو جانا نہ جا۔ بھئی، ان کے اوصاف ایسے ذکر کر دیے جائیں جس سے پتہ چل جائے بھئی، بعد میں جھگڑے کا امکان نہ رہے۔ اگر کوئی ایسی چیز ہے کہ جس کا اوصاف کے ذریعے پتہ نہیں لگایا جا سکتا، تو پھر اس صورت میں بیع السلم صحیح نہیں، مثلاً جیسے آگے حیوان کے بارے میں بتلائیں گے بھئی کہ کوئی جانور ہو، اس کے اندر بیع السلم صحیح نہیں بھئی، مثلاً آپ کیا کہتے ہیں، ثمن آج دیتے ہیں، مہینے کے بعد وہ بیل دے گا بھئی، اس اس قسم کا بیل دینا، اس یا اس اس قسم کی گائے دینا، بھئی جتنی بھی صفات ذکر کر دے، پھر بھی فرق بہت زیادہ ہوتا ہے، بعد میں کس چیز کا امکان ہوگا؟ جھگڑے کا امکان ہوگا۔ تو یہاں ان چیزوں کے اندر بھی بیع السلم صحیح ہے، کب؟ جب ان کی اوصاف کے ذریعے کیا کیا جا سکے؟ ان کو، ان کی معرفت ممکن ہو، ان کا ضبط ہو سکے، اگر ان کا ضبط ممکن نہ ہو، تو پھر صحیح نہیں۔ لا في ما، یعنی نہ کہ ان چیزوں کے اندر لا يعلم قدره وصفته، کہ معلوم ہی نہ ہو، جن کی، نہ ہو سکے، جن کی مقدار اور صفت بھئی۔ جن کی مقدار صفت معلوم نہ ہو، كالحيوان، جیسے کہ حیوان ہے بھئی، وعند الشافعي رحمه اللہ يجوز في الحيوان، اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک جائز ہے حیوان کے اندر بھی، لأنه يعلم بذكر الجنس والنوع والصفة، اس لیے کہ وہ معلوم ہو جائے گا، کس کے ذریعے بھئی؟ معلوم کیا جائے گا اس کو، جنس ذکر کر دی جائے، مثلاً کہ گائے چاہیے، بکری نہیں، بلکہ گائے۔ والنوع، نوع بھی ذکر کر دی جائے بھئی، فلاں قسم کی گائے چاہیے۔ والصفة، صفت بھی ذکر کر دی جائے، موٹی ہو، پتلی ہو بھئی، کس قسم کی بھئی؟ قلنا في ذلك فاحش التفاوت، ہم جواب میں کہتے ہیں، امام شافعی رحمہ اللہ کو کہ ان کے کہ ان میں کیا ہے؟ حیوانات میں بہت زیادہ تفاوت ہوتا ہے بھئی، جتنے بھی اوصاف ذکر کر دیے جائیں، پھر بھی اوصاف ظاہری اگر ہو بھی جائیں، اوصاف باطنی میں کیا ہوتا ہے؟ بڑا فرق ہوتا ہے۔ ایک جیسی گائے ہوتی ہے سارا کچھ، لیکن اس کے باوجود قیمتوں میں بعض اوقات کیا ہوتا ہے؟ بہت زیادہ فرق ہوتا ہے۔ وأطرافه، جي، كالحيوان وأطرافه، مجرور پڑھتے جائیں آگے بھئی، اور اس کے اطراف میں، یعنی اعضاء کے اندر۔ حیوان میں بھی بیع السلم نہیں، اس کے اعضاء میں بھی، كروؤس والأعارع، جیسے اس کی سریاں والأعارع اور پائے بھئی۔ أعارع جمع ہے قرع کی، قرع بھئی۔ قرع کہتے ہیں پائے کو۔ سرے پائے کے اندر بھی بھئی، ان کے اندر بھی بیع السلم صحیح نہیں۔ آپ نے بھئی بیع السلم کے ہزار روپے دیے بھئی، فلاں ایک ڈیڑھ مہینے کے بعد مجھے دس گائے کی سریاں دینا، یا دس بکرے کی سریاں یا پائے ان کے نہیں بھئی، ان میں بھی بڑا فرق ہوتا ہے، کیا ہوتا ہے؟ لہذا یہ صحیح نہیں۔ وجلوده، اور اسی طرح کس کے اندر بھئی؟ ان کے چمڑوں میں، ان کی کھالوں کے اندر بھی عدداً، کسے اعتبار سے؟ عدد کے اعتبار سے بھئی، عدد کے اعتبار سے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ ان میں بھی بڑا فرق ہوتا ہے، والحطب حزما، حطب کہتے ہیں لکڑی بھئی۔ جی، حزم کہتے ہیں گٹھوں کو بھئی، گٹھے جو ہیں۔ لکڑیوں کو گٹھوں کی صورت میں باندھا۔ والرتبة، رتبہ کہتے ہیں سبزی کو۔ جرز اور جرز جو ہے، یہ گٹھیوں کو کہتے ہیں چھوٹی بھئی۔ समझ میں آیا، دیکھا ہے بھئی آپ نے، یہ سبزی وغیرہ جو ہوتی ہے، گٹھیوں کی صورت میں فروخت۔ اور اسی طرح بھئی، لکڑیوں میں، لکڑیاں بھئی، یہ وہ چیزیں ذکر ہو رہی ہیں، جن کی قدر اور صفت معلوم نہیں ہو سکتی بھئی، جیسے لکڑیاں ہیں بھئی، حزما کس اعتبار سے؟ گٹھوں کے اعتبار سے، والربتی، اور سبزی بھئی، جرزا، گٹھی کے اعتبا، گٹھیوں کے اعتبار سے بھئی۔ والحزم جمع الحزمتی، حزم کس کی جمع ہے؟ حزمہ کی جمع ہے، وہی بال فارسی بند حزم بھئی، فارسی میں اس کو کیا کہتے ہیں؟ بند حزم لکڑی، بند حزم کا گٹھا بھئی، لکڑیوں کا گٹھا۔ والجرز جمع الجرزتی، اور جرز کس کی جمع ہے؟ جرزہ کی جمع ہے، وہی بال فارسی دستی تر، فارسی میں کیا کہتے ہیں اس کو؟ دستی تر کہتے ہیں، وانما لا يجوز في الحطب، اور جائز نہیں ہے لکڑیوں کے اندر للتفاوت، فرق ہونے کی وجہ سے بھئی، بڑا فرق ہے۔ آپ نے ایک شخص سے کہا، ایک ہزار روپے دیے بھئی، مجھے مہینے کے بعد دس گٹھے لکڑیوں کے دے دینا، وہ کیا کرے گا؟ باریک باریک اور ایک ایک گز کی لکڑیاں گٹھے میں باندھ کر آپ کے حوالے کر دے گا۔ اور آپ چاہتے ہیں کہ کم از کم دو دو، تین تین گز لمبی لکڑیاں ہونی چاہئیں جن کو، اور گٹھا بھی خوب موٹا سا ہونا چاہیے بھئی، تو جھگڑا ہوگا۔ ہاں، اگر صفت اس طریقے پر بیان کر دی جائے کہ جس کے ذریعے پھر جھگڑے کا امکان نہ رہے، تو پھر ٹھیک ہو جائے گی۔ مثلاً، اس لکڑی کی لمبائی بیان کر دی بھئی، کیا بیان کر دی؟ لکڑی نہیں، ہاں، لکڑی کی لمبائی بیان کر دی، اور اسی طرح وہ جو رسی جس سے باندھنا ہے بھئی، ایک گز کی رسی ہو بھئی، جس کے ذریعے تم باندھو گے، اس میں جتنی آجائیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو پھر جھگڑے کا امکان نہیں۔ حتى ان بين طول ما يشد به الحزما حزمة يجوز، یہاں تک کہ اگر بیان کر دیا گیا لمبائی اس رسی کی جس کے ذریعے باندھا جائے گا حزمہ کو بھئی، اس گٹھے کو، يجوز، پھر کیا ہے؟ جائز ہے۔ والجواهر والخرز، اور اسی طرح جواہرات کے اندر بھئی، جواہر کہتے ہیں قیمتی پتھر بھئی، جو قیمتی پتھر بھئی۔ ان کے اندر بھی بیع السلم نہیں صحیح، کیونکہ ان میں تو بہت ہی زیادہ فرق ہوتا ہے، ایک پتھر کتنے کا ہے، ایک پتھر کتنے کا، کوئی چھوٹا، کوئی بڑا۔ تو ان میں تفاوت فاحش ہے بھئی۔ والخرز، اور خرز کہتے ہیں موتی کو بھئی، موتی بھی مختلف قسم کے ہوتے ہیں بھئی، لہذا ان کے اندر بھی نہیں صحیح۔ وبصاع وذراع معين، لم يدر قدره، اور ایسے صاع اور ایسے معین صاع اور ایسے معین ذراع کے ساتھ لم يدر قدره، جس کی مقدار معلوم نہ ہو، اس میں بھی بیع السلم صحیح نہیں بھئی۔ اس میں بھی بیع السلم صحیح نہیں۔ مثلا بھئی، آپ کے پاس ایک پیمانہ ہے، آپ لے گئے دکاندار کے پاس، کہ میرے سے یہ 1000 روپے لے لو، اور آپ نے مجھے ایک مہینے بعد گندم دینی ہے، یہ جو میں برتن لے کر آیا ہوں، یہ 100 دفعہ بھر کر آپ نے مجھے دینا ہے، کتنی مرتبہ؟ 100 پیمانے یہ والے دینے ہیں۔ اب یہ اس برتن کی مقدار کا پتہ ہی نہیں، اس میں گندم کلو آتی ہے، سوا کلو آتی ہے یا ڈیڑھ کلو آتی ہے، تو اب اس نے مبیعہ حوالے کرنا ہے مہینے کے بعد یا دو مہینے کے بعد یا چھ مہینے کے بعد، تو اس دوران ہو سکتا ہے، امکان ہے بھئی، یہ برتن ٹوٹ جائے، گم ہو جائے، خراب ہو جائے، تو اب اس صورت میں جھگڑا آئے گا بعد میں بھئی۔ ہاں، اگر اس برتن کی مقدار معلوم ہے، پھر جھگڑے کا امکان نہیں۔ پھر تو یہ گم بھی ہو گیا، کسی اور برتن کے ذریعے کیا کیا جا سکتا ہے؟ اتنی مقدار جی۔ جي، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اسی لیے کہا معین صاع اور معین ذراع کے ساتھ نہیں صحیح کب؟ لم يدر قدره، ایسا معین صاع اور ذراع ہوں جن کی مقدار معلوم نہ ہو۔ اگر معلوم ہو، پھر صحیح۔ و بر قرية، اي، سمجھ میں آیا؟ اسی طرح بھئی، کسی بستی کی گندم میں بھئی۔ وثمر نخلة، اور کسی کھجور کے پھल میں، معينين، اس حال میں کہ دونوں معین ہوں۔ نخلہ اور قریہ کیا ہوں بھئی؟ معین بھئی، آپ نے ایک شخص سے گندم خریدی اور اس کو کیا کہا؟ بیع السلم کی، یہ لو بھئی 1000 روپے، اور مجھے ایک مہینے بعد گندم پک جائے گی، تیار ہو جائے گی، یا چھ مہینے کے بعد فلاں گاؤں والی گندم بڑی اچھی ہوتی ہے، وہ والی گندم مجھے دینا بھئی۔ وہ والی گندم تو آپ نے کیا، آپ نے کیا کیا؟ ایک معین بستی کی گندم کے بیع السلم کی، یہ نہیں درست بھئی، کیونکہ ہو سکتا ہے کوئی آفت آئے، وہ ساری گندم خراب ہو جائے ان کی، تو پھر اس صورت میں وہ کہاں سے ادائیگي کرے گا بھئی؟ समझ میں آیا، اسی طرح کوئی معین کھجور، فلاں باغ کی جو کھجوریں ہیں وہ مجھے آپ نے دینی ہے، ڈیڑھ مہینے بعد، اور یہ لو ابھی سے پیسے، بھئی نہیں بھئی، یہ بیع السلم صحیح نہیں بھئی۔ تعیین نہ کرو بھئی۔ ہاں، اس جیسی کہہ دو، یوں کہہ سکتے ہو، اس بستی کی جیسی گندم تھی، جیسی گندم ہے، اس جیسی گندم مجھے دینا بھئی، چاہے اس بستی کی ہو چاہے کسی اور بستی کی، اس جیسی ہو، یا اس کھجور کے باغ جیسی کھجوریں ہوں بھئی، تو، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اس جیسی صفت ہو سکتی ہے، لیکن متعین نہیں۔ ہو سکتا ہے آپ نے ایک معین کھجور کے درختوں کی شرط لگائی اور اس پر پھل ہی اس کا سارا خراب ہو جائے، ضائع ہو جائے۔ تو کہتے ہیں وبر قرية وثمر نخلة معينين، اور جیسے کہ معین بستی کی گندم بھئی، اور ایک کھجور کی پھل، اس حال میں کہ دونوں کیا ہوں؟ معین۔ یعنی معین بستی اور معین کھجور کے پھل میں بھئی، وفيما لم يوجد، اور اسی طرح ان چیزوں میں بھی صحیح نہیں ہے بیع السلم، جو نہ پائی جائیں من حين العقد الى حين المحلي، عقد سے کے وقت سے لے کر ادائیگي کے وقت تک بھئی۔ بھئی بیع السلم کے لیے میں نے کیا بتلایا تھا آپ کو، کہ اس مبیعہ کو عقد کے وقت سے لے کر ادائیگي کے وقت تک سارا وقت وہ دستیاب ہونا چاہیے مارکیٹ میں، منڈی میں بھئی۔ کیا ہونا چاہیے؟ دستیاب ہونا چاہیے، تاکہ وہ بایع اس کے تسلیم پر قادر ہو بھئی، وہ حاصل کرکے آپ کے حوالے کر سکے بھئی، حوالے کر سکے، اگر وہ ملتی ہی نہیں ہے وہ چیز ختم ہو جائے، پھر تو وہ اس کی تحصیل پر ہی قادر نہیں رہے گا، تو لہذا تحصیل کے لیے ضروری ہے کہ وہ دستیاب رہے۔ تو کہتے ہیں اور تازہ مچھلی کے اندر بھی في حينه، اس کے موسم میں فقط صرف اس کے موسم میں بیع السلم صحیح ہے ویسے نہیں۔ أي السلم في السمك الطري لا يجوز إلا في حين يوجد السمك في الماء، سلم تازہ مچھلی کے اندر جائز نہیں ہے مگر اس موسم ایسے موسم کے اندر کہ وہ مچھلی پائی جاتی ہو پانی کے اندر بھئی، صرف اس موسم میں بھئی۔ وزنا وضرب معلومینی، وزن اور نو، ضرب بمعنی نوع کے ہے، وزن اور نوع کے اعتبار سے معلومینی اس حال میں کہ یہ دونوں معلوم ہوں۔ وزن بھی معلوم ہو بھئی، آپ کیا کرنا چاہتے ہیں؟ تازہ مچھلی کی بیع کرنا چاہتے ہیں، بیع السلم کرنا چاہتے ہیں بھئی، مہینے کے بعد وہ آپ کو وہ مچھلی دے گا، لیکن وزن بھی معلوم ہونا چاہیے اتنے کلو دو گے بھئی۔ اور نوع بھی معلوم ہونا چاہیے فلاں قسم کی مچھلی مجھے دو گے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تا کہ پھر جھگڑے کا امکان نہ ہو۔ أي لابد أن يذكر وزن معلوم ونوع معلوم، یعنی ضروری ہے کہ ایک معلوم وزن اور معلوم نوع کو ذکر کیا جائے۔ اور ہماری دلیل قوله عليه السلام، حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے لا تسلفو بھئی، آپ کی کتابوں میں لا تسلمو ہے بھئی، تسلفو ہونا چاہیے بھئی، لا تسلفو۔ لا تسلفو في الثمار حتى يبدو صلاحها۔ بیع السلم اور اسی طرح بیع سلف بھئی، ایک ہی چیز ہے بھئی، دونوں یہ دو نام ہیں، سمجھ میں آیا؟ بیع السلم اور بیع سلف بھئی۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا لا تسلفو، بیع السلم نہ کرو فی الثمار، کس کے اندر؟ پھلوں کے اندر حتى يبدو صلاحها، یہاں تک کہ بدو صلاح ہو جائے، ان میں صلاح کیا ہو جائے؟ ظاہر ہو جائے بھئی۔ بدو صلاح کا میں نے معنی بتلایا تھا عند الاحناف کیا معنی ہے بھئی؟ کہ پھل فساد سے محفوظ ہو جائے، کیا ہو جائے؟ تھوڑا سا پھل بن گیا، اب فساد سے کیا ہو گیا؟ محفوظ ہو گیا، ابھی پھل بنا ہی نہیں ہے، اور پھول ہیں، یہ بھی بدو صلاح نہیں۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک پھل جب پک جائے، اس میں مٹھاس آ جائے، تب بدو صلاح ہے۔ تو حضور علیہ السلام فرما رہے ہیں، دیکھیے اس حدیث کے اندر کہ، کہ تم بیع السلم نہ کرو پھلوں میں حتى يبدو صلاحها، یہاں تک کہ ان میں کیا ہو جائے؟ بدو صلاح ہو جائے، یعنی وہ کچھ نہ کچھ فساد سے محفوظ ہو جائیں بھئی، قابل انتفاع ہو جائیں کسی نہ کسی درجے میں۔ یہ حدیث بتلا رہی ہے۔ کیا بتلا رہی ہے؟ کہ صرف ادائیگي کے وقت چیز کا ہونا ضروری نہیں ہے، بلکہ بیع السلم کرتے وقت بھی اس چیز کا ہونا بتلا رہی ہے، یعنی یہ حدیث پھلوں میں نہ کرو، جب تک ان میں بدو صلاح معلوم ہوا بدو صلاح ہوگی، تو پھل پایا جا رہا ہے یا نہیں پایا جا رہا؟ معلوم ہوا عقد کے وقت بھی اس چیز کا ہونا ضروری، صرف ادائیگي کے وقت ہونا کافی نہیں بھئی۔ عقد کے وقت بھی ہو، جی۔ اور عقد سے لے کر ادائیگي کے وقت تک بھی وہ کیا چیز ہو، وہ دستیاب ہو، یہ حدیث ان دونوں چیزوں پر دلالت کر رہی ہے بھئی۔ سمجھ میں آ گیا بھئی اس سے دلالت ہمارا؟ ولانه عقد المفالیس بھئی، دوسری وجہ، اس لیے کہ یہ عقد مفلیسوں کا عقد ہے، مفالس جمع ہے مفلس کی، یہ مفلس لوگوں کا عقد ہے بھئی، دیکھیے یہ بیع السلم مفلس لوگوں کا عقد ہے بھئی، مفلسین مفلسوں کا عقد۔ کیسے؟ بھئی دیکھو آپ دکاندار کے پاس گئے، اس کو کہا بھئی، مجھے چھ مہینے کے بعد 100 ٹرک بھئی، آپ نے گندم دینی ہے، وہ کہاں سے 100 ٹرک لائے گا، اس کے پاس اتنے پیسے ہی نہیں ہیں، آپ ابھی سارے سامان اس کے حوالے کر دیتے ہیں اور وہ پھر کیا کرے گا؟ آپ کے لیے حاصل کرے گا اور آپ کے حوالے کرے گا، تو یہ دیکھا، وہ مفلس تھا بھئی، وہ اس کے پاس پیسے ہی نہیں ہیں، کہاں سے خریدے اتنا؟ تو لہذا چونکہ یہ مفلسوں کی بیع ہے بھئی، حاجت، فلا بد من استمرار الوجود، لہذا ضروری ہے اس میں اس چیز کا اس کے وجود کا پایا جانا، استمرار، استمرار وجود ضروری ہے فی مدة الاجلال، اس مدت اجل کے اندر۔ کیوں ضروری ہے؟ لیتمكن من التحصيل، تاکہ وہ قادر ہو کس پر بھئی؟ اس کے حاصل کرنے پر وہ قادر ہو جائے، جب اس کے حاصل کرنے پر قادر ہوگا، تو پھر وہ آپ کے بھی حوالے کر سکے گا۔ اگر وہ حاصل کرنے پر ہی قادر نہیں، تو آپ کے حوالے بھی کیسے کرے گا بھئی؟ دلیل سمجھ میں آئی بھئی؟ ولا في اللحم، اور صحیح نہیں ہے بیع السلم گوشت کے اندر بھئی، هذا عند ابي حنيفة رحمه اللہ یہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ہے بھئی، کہتے ہیں کیونکہ بڑا فرق آتا ہے بھئی۔ آپ کہیں گے ایسا گوشت ہے جس میں ہڈیاں تھوڑی ہوں بھئی، وہ کیا چاہے گا؟ ساری ہڈیاں ہی آپ کے حوالے کر دے۔ یہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ہے، وقال لا يصح، اور صاحبین فرماتے ہیں صحیح ہے گوشت کے اندر بیع السلم، ان بين جنسه یا ان بين جنسه، اگر بیان کر دیا اس کی جنس کو، ونوعه، اور اس کی، جنس بیان کر دی، مثلاً کتنے کا، بکری کا گوشت ہونا چاہیے، گائے کا گوشت نہیں، جنس بیان کر دی۔ ونوعه، نوع بھی بیان کر دی، مثلاً، مولانا فلاں قسم کی بکری ہو بھئی، وسنه، اور اس کی عمر بھی بیان کر دی۔ دو سال کی بکری ہو، مثلاً، وصفته، اور صفت بھی بیان کر دی، کہ کس قسم کی بکری ہو، دپلی پتلی ہو یا موٹی ہو۔ موٹے، اور گوشت کا جگہ بھی بیان کر دی، مثلاً پسلیوں کا گوشت چاہیے، سمجھ میں آیا؟ تو اب جھگڑے کا امکان نہیں۔ وقدره، اور مقدار بھی بیان کر دی، مثلاً کتنے کلو گوشت چاہیے؟ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ صاحبین کے نزدیک یہ چیزیں اگر بیان کر دے، پھر جھگڑے کا امکان نہیں، تو صحیح بھئی۔ جی، کتنی چیزیں ذکر کی ہیں انہوں نے؟ جنس، نوع، سن، عمر، صفت، موضہ، جگہ اور قدر۔ دیکھیے ساروں کی ایک مثال میں ذکر کر رہے ہیں۔ كشاة، جیسے کہ ایسی بکری بھئی، شات دیکھا، جنس بیان ہو گئی بھئی، گائے نہیں بلکہ بکری۔ آگے کیا تھا؟ نوع بیان کر دی، خسی، کیسی ہو؟ خسی۔ अच्छा। اچھا۔ اس لیے تو مجھے ہنسی آئی۔ دیکھا، یہ ارشاد کا معنی کیا کرو گے؟ بکری کرو گے، تو خسی کا لفظ ہی نہیں جڑتا بھئی۔ اسی لیے میں نے کہا تھا شات جو ہے یہ اس میں جنس ہے، بھیڑ بکری دونوں پر اور دونوں کے مذکر اور مونث دونوں پر بولا جاتا ہے بھئی۔ كشاة خسي، جیسے ایسی شات جو کیا ہو بھئی؟ اب کیا ترجمہ کریں؟ جیسے ایسا بکرا ہو یا ایسا دنبہ ہو بھئی، خسي، بھئی کیا ہو؟ جی، سمجھ میں آیا تو شات کا لفظ یہ اس میں جنس ہے، بھیڑ اور بکری دونوں پر بولا جاتا ہے، مذکر کو بھی شامل اور مونث کو بھی۔ بھئی خسی کے لفظ میں بتایا یہاں مذکر مراد ہے، كشاة خسي، جیسے ایسا دنبہ یا بکرا ہو جو خسی ہو۔ سنی، وپنی، و یہ غلط ہے مولانا، کتابت کی غلطی ہے، یہ نہیں ہونا چاہیے۔ وسن، سنی ہے، سنی کا سنی لفظ ہے۔ خسين، سني، سني، دو سال والا بھئی، دو سال والا۔ بھئی بھیڑ بکری میں آپ جانتے ہیں بھئی، دو سال کے اندر وہ ان کے دو دانت ہوتے ہیں اگلے وہ گرتے ہیں اور دوسرے آتے ہیں بھئی، جو قربانی پر لینے جاتے ہیں وہ دانت دیکھتے ہیں پھر خرید کر لاتے ہیں بھئی۔ سال بعد آتے ہیں دو سال بعد۔ تو سني، دو سال والی ہو، سمین، اچھا، خسی کے ذریعے کیا بیان ہوئی؟ نوع۔ اور سني کے ذریعے، عمر، سن، بیان ہوا۔ آگے صفت بیان ہو رہی ہے بھئی، سميني، کیسی ہو؟ موٹی۔ وموضے، موضے آگے بیان ہو رہا ہے من الجنب، پسلی سے ہو، پہلو سے یعنی پسلی میں سے ہو، اور قدر، آگے مقدار بیان ہو رہی ہے، کتنی بھئی؟ صد من، بھئی، کتنا ہو؟ 100 من، بھئی، کتنا ہو؟ 100 من، بھئی۔ یہ آپ والا من نہیں مراد بھئی، یہ 40 شیر والا من، بلکہ یہ من شرعی، یہ تقریبا نصف شیر کے قریب ہوتا ہے۔ تو 100 من کتنا بن گیا بھئی؟ جی۔ تو یہ تقریبا 50 شیر بھی بمشکل بنے گا بھئی، تو 100 من۔ अच्छा, تو دیکھا انہوں نے کیا بیان کیا یہاں تک بھئی؟ کہ وہ چیز جس کی صفت، مقدار وغیرہ معلوم ہو بھئی، اس میں تو بیع السلم صحیح، جس کی صفت وغیرہ کو جانا نہ جا سکے، اس میں بیع السلم صحیح نہیں۔ چلیے بس، ہو المرام، واللہ اعلم بحقیقة الکلام۔