آگے سبق دیکھیے بھئی: قَالَ: ”وَيَقْسِمُ الْإِمَامُ الْغَنِيمَةَ فَيُخْرِجُ خُمُسَهَا؛ لِقَوْلِهِ تَعَالَىٰ: ﴿فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ﴾، اسْتَثْنَى الْخُمُسَ، وَيَقْسِمُ أَرْبَعَةَ الْأَخْمَاسِ بَيْنَ الْغَانِمِينَ؛ لِأَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ قَسَمَهَا بَيْنَ الْغَانِمِينَ“. بھئی غنیمتوں اور ان کی تقسیم کا باب چل رہا ہے بھئی، اور صاحبِ ہدایہ نے یہاں کئی بحثیں فرمائیں اس باب کے اندر۔ پہلی بحث کے اندر غنیمتوں کی تفصیل بیان فرمائی کہ غنیمتیں دو قسم پر ہیں؛ کچھ منقولی ہیں اور کچھ غیر منقولی ہیں، اور پھر ہر ایک کا حکم بتلایا۔ اور پھر اسی طرح قیدیوں کی تفصیل بھی بیان فرمائی کہ امام کو کیا کیا اختیار ہے ان قیدیوں کے سلسلے میں۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ اگر غنیمتوں میں سے بعض چیزوں کو مسلمان دار الاسلام منتقل نہیں کر سکتے، تو پھر امام ان کو ضائع کر دے گا تاکہ وہ کفار کے کام بھی نہ آئیں بھئی۔ اور اس کے بعد دوسری بحث ہم نے پڑھی تھی اس باب کے اندر کہ غنیمتوں کو کہاں پر تقسیم کیا جائے گا؟ تو صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ عند الاحناف غنیمتوں کو دار الاسلام منتقل کرنے کے بعد تقسیم کیا جائے گا، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دار الحرب کے اندر بھی غنیمتوں کو تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ اور اس کے بعد تیسری بحث میں صاحبِ ہدایہ نے یہ ذکر فرمایا کہ غنیمت کا مستحق کون ہے اور کون نہیں ہے؟ صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ ہمارے نزدیک غنیمت کے مستحق ہونے کا سبب جو ہے وہ مجاوزت ہے، یعنی دار الاسلام کی سرحد عبور کرنا دار الحرب کی طرف جہاد کی نیت سے، یہ ہے غنیمت کا ظاہری سبب۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک لڑائی میں حاضر ہونا یہ ہے غنیمت کا سبب۔ تو ہمارے نزدیک قاتل اور مددگار جو ہیں دونوں مالِ غنیمت کے مستحق ہیں، لیکن اگر کوئی شخص صرف تجارت کی نیت سے لشکر کے ساتھ گیا ہے تو وہ غنیمت کا مستحق نہیں ہے۔ اور صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ اگر امام کے پاس باربرداری کے جانور نہ ہوں، تو پھر وہ ان غنیمتوں کو بطورِ امانت کے غازیوں میں تقسیم کر دے تاکہ وہ اس کو دار الاسلام منتقل کریں، اور پھر وہاں ان سے ان غنیمتوں کو دوبارہ جمع کر لیا جائے گا اور اس کے بعد پھر اس کی تقسیم کی جائے گی۔ اور صاحبِ ہدایہ نے یہ مسئلہ بھی ذکر فرمایا کہ دار الاسلام جب غنیمتیں منتقل ہو جائیں گی تب یہ غازی ان غنیمتوں کے مالک بنیں گے، تو اس کے بعد اگر کسی غازی کا انتقال ہوتا ہے تو اس کا حصہ اس کے وارثوں کو ملے گا۔ لیکن دار الاسلام منتقل کرنے سے پہلے دار الحرب کے اندر غازیوں کا غنیمتوں کے اندر صرف حق آیا ہے، وہ اس کے مالک نہیں بنے، لہٰذا اگر دار الحرب میں کسی غازی کا انتقال ہو جاتا ہے تو اس کا حصہ اس کے وارثوں کو نہیں ملے گا بھئی۔ اور اس کے بعد چوتھی بحث ہم نے پڑھی تھی کہ دار الحرب کے اندر مالِ غنیمت کی کن چیزوں سے نفع اٹھانا جائز ہے اور کن چیزوں سے نفع اٹھانا جائز نہیں۔ صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ وہ چیزیں جن کو غازی اپنے ساتھ رکھتا ہے جیسے اسلحہ، کپڑے، سواری وغیرہ، یہ تو غازی اپنے ساتھ لے کر چلتا ہے، لہٰذا مالِ غنیمت میں سے ان چیزوں کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، الا یہ کہ غازی کو اس کی حاجت اور ضرورت ہو، یعنی لڑائی میں اس کے کپڑے پھٹ گئے ہیں یا اس کا اسلحہ ٹوٹ گیا ہے تو پھر ضرورت اور حاجت کی وجہ سے وہ یہ چیزیں استعمال کر سکتا ہے۔ تو معلوم ہوا اسلحہ، کپڑے اور سامان وغیرہ صرف حاجت کی صورت میں استعمال کرنے کی اجازت ہے، جبکہ اپنے جانوروں کی گھاس اور چارہ وغیرہ ہے یا اسی طرح اپنی خوراک جو ہے، اس کی ضرورت اور حاجت ہے کیونکہ مجاہدین دار الحرب میں ہیں اور یہاں پر چارے کا یا خوراک کا پہنچانا ممکن نہیں، تو لہٰذا وہاں پر خوراک اور چارہ استعمال کرنا جائز ہے، وہ ان غازیوں کے لیے مباح ہے بھئی۔ اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے یہ مسئلہ بھی ذکر فرمایا کہ اگر دار الحرب والوں میں سے کوئی شخص قیدی بنائے جانے سے پہلے ہی مسلمان ہو گیا، تو اس نے اپنی جان بھی محفوظ کر لی اور اس کا وہ منقولی سامان جو اس کے قبضے میں ہے اس کو بھی محفوظ کر لیا، اسی طرح اس کی جو نابالغ اولاد ہے وہ بھی اس کے تابع ہو کر مسلمان شمار ہوگی، وہ بھی محفوظ ہو گئی۔ اور اسی طرح اگر اس کا کوئی مال کسی مسلمان یا ذمی کے پاس بطورِ امانت کے ہے تو وہ مال بھی محفوظ ہو گیا۔ لیکن اگر اس کی زمین جائیداد وغیرہ ہے دار الحرب کے اندر، تو وہ مالِ غنیمت میں شمار ہوگی۔ وجہ یہ ہے کہ اس کی زمین وغیرہ دار الحرب میں ہے اور دار الحرب تو دار الحرب والوں اور ان کے بادشاہ کے قبضے میں ہے۔ اور نیز شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک زمین اور جائیداد وغیرہ پر جو قبضہ ہوتا ہے وہ حقیقۃً نہیں ہوتا صرف حکماً ہوتا ہے، اور حکماً قبضے کا تو دار الحرب میں کوئی اعتبار نہیں ہے، لہٰذا اس کی غیر منقولی جائیداد جو ہے وہ مالِ غنیمت میں شمار ہوگی بھئی۔ اور اگر اس کی بیوی ہے اور وہ غیر مسلمہ ہے، یا اسی طرح اس کی بالغ اولاد ہے اور وہ کفار ہیں تو وہ سب بھی مالِ غنیمت میں شمار ہوں گے۔ اور اگر اس کے قبضے میں کچھ غلام ہیں، تو وہ غلام اگر اس کے قبضے میں ہیں تو پھر وہ بھی محفوظ ہیں، لیکن اگر اس کا کوئی غلام اہلِ حرب کی طرف سے لڑنے آتا ہے تو پھر وہ مالک کا چونکہ نافرمان ہے لہٰذا وہ اہلِ حرب کے حکم میں ہے اور اگر وہ بھی پکڑا گیا تو وہ مالِ غنیمت میں شمار ہوگا بھئی۔ جبکہ اس کے مقابلے میں اگر اس مسلمان ہونے والے کا کوئی مال کسی حربی کے پاس ہے، چاہے بطورِ امانت کے ہے چاہے بطورِ غصب کے ہے، تو یہ مالِ غنیمت ہے کیونکہ حربی کے قبضے کا کوئی احترام نہیں ہے۔ اور اسی طرح اگر اس مسلمان ہونے والے کا کوئی مال کسی مسلمان یا ذمی نے غصب کیا تھا، تو وہ بھی مالِ غنیمت میں شمار ہوگا امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ یہ مسلمان ہونے والے کا وہ مال جو کسی مسلمان یا ذمی کے قبضے میں ہے بطورِ غصب کے، وہ مالِ غنیمت میں شمار نہیں، وجہ یہ کہ یہ شخص جب مسلمان ہو گیا تو اس کی جان معصوم اور محفوظ ہو گئی اور مال جو ہے وہ تو ذات کے تابع ہوتا ہے تو اس کا مال بھی محفوظ ہو گیا۔ جبکہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مال جو ہے مال معصوم اور محفوظ نہیں ہے، لہٰذا وہ جب مسلمانوں کے قبضے میں آئے گا تو وہ مالِ غنیمت میں شمار ہوگا۔ اور صاحبین نے ذکر کیا تھا کہ اسلام کی وجہ سے اس کی ذات معصوم اور محفوظ ہو گئی، تو اس کا بھی جواب دیا کہ اس کی ذات جو ہے اسلام کی وجہ سے معصوم اور محفوظ نہیں ہوئی، چنانچہ اسی لیے دار الحرب کے اندر اگر اس مسلمان ہونے والے حربی کو کسی مسلمان یا ذمی نے قتل کر دیا تو اس کی وجہ سے قصاص یا دیت نہیں آئے گی۔ معلوم ہوا اس کو عصمتِ متقومہ ابھی بھی حاصل نہیں ہوئی، اس کو عصمتِ متقومہ تب حاصل ہوگی جب یہ دار الاسلام منتقل ہو جائے گا، یا اس سارے علاقے کو مسلمان فتح کر لیں اور یہ سارا دار الاسلام بن جائے، تو پھر اس صورت کے اندر اس کو عصمتِ متقومہ حاصل ہو جائے گی، یعنی اب اس کی جان قیمت والی ہو گئی، اگر اس کو کوئی قتل کرے گا تو اس کی وجہ سے قصاص یا دیت آئے گی، لیکن اس سے پہلے اس کو عصمتِ متقومہ حاصل نہیں ہے۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ اگر اسلام کی وجہ سے اس آدمی کی جان معصوم اور محفوظ نہیں ہوئی پھر تو اس کا قتل جائز ہونا چاہیے، لیکن آپ فرماتے ہیں کہ اس کا قتل بھی جائز نہیں، تو اس کا بھی جواب دیا تھا کہ یہ شخص جب اسلام لے آیا تو اب اس کے ساتھ تعرض کرنا حرام ہو گیا۔ اس سے پہلے اس کے ساتھ تعرض کرنا اور اسے قتل کرنا جائز تھا اس کے شر کی وجہ سے، اور وہ شر اس کو عارض ہوا تھا حربی ہونے کی وجہ سے کہ یہ حربی تھا، یہ اسلام اور مسلمانوں کا دشمن تھا۔ تو جب یہ مسلمان ہو گیا تو اس کا شر ختم ہوا، جب شر ختم ہوا تو اب اس کے ساتھ تعرض نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ ایک ہے انسانی جان اور ایک ہے مال۔ انسانی جان کے اندر اصل جو ہے حرمت ہے، کسی انسان کے ساتھ تعرض نہیں کیا جا سکتا، قتل نہیں کیا جا سکتا۔ وجہ یہ کہ انسانی جان معصوم ہے کیونکہ اللہ نے اس کو مکلف بنایا ہے، یعنی اس کے لیے اللہ نے احکام نازل فرمائے ہیں کہ ان احکام پر چلے اور زندگی گزارے، اور ان احکام پر وہ تبھی عمل کر سکتا ہے جب وہ زندہ رہے، جب وہ باقی رہے، اور یہ تبھی زندہ رہ سکتا ہے اور احکام پر عمل کر سکتا ہے جب اس کے ساتھ تعرض حرام ہو، اس کو قتل کرنا حرام ہو۔ تو اسلام کی وجہ سے اس کا شر ختم ہوا لہٰذا اب اس کو قتل کرنا جائز نہیں۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ عصمت دو قسم پر ہے: ایک عصمتِ مؤثمہ ہے اور ایک عصمتِ متقومہ ہے۔ تو یہ شخص جو مسلمان ہوا ہے اور دار الحرب میں ہے، اس کو عصمتِ مؤثمہ حاصل ہو گئی، یعنی اگر کوئی اس کے ساتھ تعرض کرے گا، اسے قتل کرے گا، اسے نقصان پہنچائے گا تو وہ گناہ گار ہوگا۔ لیکن اس کو عصمتِ متقومہ حاصل نہیں ہے، وہ دار الاسلام میں اسے حاصل ہوگی، عصمتِ متقومہ کا معنی یہ ہے کہ اس کے قتل کی وجہ سے قصاص یا دیت واجب ہوگی بھئی۔ تو لہٰذا معلوم ہوا جب یہ شخص مسلمان ہو گیا تو اس کا شر دور ہوا، جب شر دور ہوا تو اس کی جان معصوم ہو گئی، اس کو عصمتِ مؤثمہ حاصل ہو گئی۔ جبکہ اس کے مقابلے میں جو مال ہے اس کو تو پیدا ہی اس لیے کیا گیا ہے تاکہ اس کو خرچ کیا جائے، اس کے ذریعے اپنی ضرورتیں پوری کی جائیں، لہٰذا معلوم ہوا مال جو ہے وہ معصوم اور محفوظ نہیں ہے، وہ مباح ہے، جس کے قبضے میں بھی آ جائے وہ اس کا مالک بن جاتا ہے۔ اور یہاں پر یہ جو شخص مسلمان ہوا ہے اور اس کا مال جو ہے مسلمان یا ذمی نے غصب کیا تھا، تو اس مال پر نہ تو اس شخص کا حقیقۃً قبضہ ہے اور نہ حکماً قبضہ ہے۔ حقیقۃً قبضہ اس لیے نہیں کیونکہ ظاہر سی بات ہے وہ مال اس کے قبضے میں ہی نہیں ہے، وہ تو اس غاصب کے قبضے میں ہے، تو حقیقۃً بھی اس کا قبضہ نہیں، اور حکماً بھی اس کا قبضہ نہیں ہے کیونکہ وہ غاصب کا قبضہ وہ مالک کا قبضہ نہیں ہے، وہ مالک کا نائب نہیں ہے، تو نہ اس مال پر اس کا حقیقۃً قبضہ اور نہ حکماً قبضہ، لہٰذا یہ مالِ مباح ہے، یہ مسلمانوں کے ہاتھ آ گیا تو یہ مالِ غنیمت شمار ہوگا۔ اور اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے ذکر فرمایا تھا کہ جب مسلمان غازی دار الاسلام منتقل ہو جائیں، تو ان کے پاس اگر کوئی زائد چارہ یا زائد کھانا وغیرہ ہے تو اب وہ ان کو مالِ غنیمت میں واپس کرنا پڑے گا بھئی۔ تو اگر مالِ غنیمت تقسیم نہیں ہوا تو اس کو مالِ غنیمت میں واپس کر دیں گے، اور اگر مالِ غنیمت تقسیم ہو چکا ہے تو اگر وہ غازی مالدار ہے جس کے پاس یہ مال بچا ہوا ہے تو وہ اس چیز کو فقراء پر صدقہ کر دے، اور اگر وہ ضرورت مند ہے وہ غازی تو پھر وہ خود بھی استعمال کر سکتا ہے بھئی۔ اور اگر دار الاسلام منتقل ہونے کے بعد ان چیزوں میں سے بعض چیزوں کو انہوں نے استعمال کر لیا تھا تو پھر اگر وہ شخص مالدار تھا تو اس کی قیمت جو ہے وہ اس اصل کے قائم مقام ہو جائے گی، تو لہٰذا اگر مالِ غنیمت ابھی تقسیم نہیں ہوا تو اس کی قیمت وہ مالِ غنیمت میں جمع کروا دے گا، اور اگر مالِ غنیمت تقسیم ہو چکا ہے تو پھر وہ قیمت فقراء پر صدقہ کر دے گا۔ اب آئیے آج کے سبق پر: ”فَصْلٌ فِي كَيْفِيَّةِ الْقِسْمَةِ“ یہ فصل ہے تقسیم کی کیفیت کے بیان میں کہ مالِ غنیمت کیسے تقسیم کیا جائے گا؟ بھئی یہ باب چل رہا ہے غنیمتوں کا اور ان کی تقسیم کا، اور یہاں اب اس فصل میں اب وہ تقسیم کا بیان فرمائیں گے صاحبِ ہدایہ بھئی۔ تو کہتے ہیں ”فَصْلٌ فِي كَيْفِيَّةِ الْقِسْمَةِ“، یہ فصل ہے مالِ غنیمت کی تقسیم کے طریقے کے بیان میں کہ کس طرح مالِ غنیمت کو تقسیم کیا جائے گا۔ قَالَ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَيَقْسِمُ الْإِمَامُ الْغَنِيمَةَ“ کہ امام جو ہے وہ غنیمت کو تقسیم کرے گا، ”فَيُخْرِجُ خُمُسَهَا“ تو اس میں سے خمس نکال لے گا، اس مالِ غنیمت کا خمس یعنی پانچواں حصہ نکال لے گا؛ ”لِقَوْلِهِ تَعَالَىٰ“ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے کہ اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: ﴿فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ﴾۔ بھئی یہ حاشیے میں آیت کا اور حصہ بھی ذکر ہے۔ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ﴾، ﴿وَاعْلَمُوا﴾ اور تم جان لو ﴿أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ﴾ کہ جو کچھ تمہیں غنیمت کے اندر حاصل ہو ﴿فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ﴾ تو اس کا پانچواں حصہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہے، ﴿وَلِذِي الْقُرْبَىٰ﴾ اور پیغمبر کے رشتہ داروں کے لیے ہے، ﴿وَالْيَتَامَىٰ﴾ اور یتیموں کے لیے ہے، ﴿وَالْمَسَاكِينِ﴾ اور مساکین کے لیے ہے، یعنی جو فقراء ہیں ان کے لیے ہے، ﴿وَابْنِ السَّبِيلِ﴾ اور مسافروں کے لیے ہے۔ ابن السبیل بھئی راستے کا بیٹا، مسافر کو کہتے ہیں عربی زبان میں، مسافر کی کنیت ہے کیونکہ وہ راستوں پر سفر کرتا ہے تو اس کو عربی میں ابن السبیل کہتے ہیں بھئی۔ تو دیکھو اس آیت کے اندر اللہ تعالیٰ خمس کے مصارف بیان فرما رہے ہیں کہ جو کچھ تمہیں غنیمت کے اندر حاصل ہو تو اس کا پانچواں حصہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہے، پیغمبر علیہ الصلاۃ والسلام کے رشتہ داروں کے لیے ہے، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے۔ تو اس آیت کے اندر خمس کے پانچ مصارف بیان ہوئے: ایک حصہ ہے اللہ اور اس کے رسول کا، ایک حصہ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ داروں کا، ایک حصہ ہے یتیموں کا، ایک حصہ ہے مساکین کا یعنی فقراء کا، اور ایک حصہ مسافروں کا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو پانچ مصرف یہاں پر ذکر ہوئے۔ صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ یہاں آیت کے اندر اگرچہ پانچ مصارف ذکر ہیں، لیکن خمس کے اب تین مصرف باقی رہ گئے ہیں۔ ایک حصہ تو اللہ اور اس کے رسول کا تھا، اور یہاں آپ کو بتلائیں گے کہ یہ جو اللہ کے نام کو جو ذکر کیا گیا یہ صرف بطورِ برکت کے ذکر کیا گیا کیونکہ اللہ کو مال کی حاجت نہیں ہے۔ تو ایک حصہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو وفات پا چکے تو ان کا حصہ ساقط ہو گیا، ان کا حصہ ساقط ہو گیا۔ اور ایک حصہ تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ داروں کا، اور وہ ان کا حصہ بھی اس لیے تھا کیونکہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کرتے تھے، حضور علیہ السلام کی مدد کرتے تھے۔ یاد رکھو اس زمانے کے اندر عربوں کے اندر قومی غیرت بہت زیادہ تھی، وہ عرب جو ہے کسی کو اجازت نہیں دیتے تھے کہ ہماری قوم کے کسی آدمی کو ہاتھ لگائیں۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نیا دین لے کر آئے اور کفار جو ہیں وہ ان کے سخت جانی دشمن بن گئے، لیکن کسی کی جرأت نہیں تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کی کوشش کرے، وجہ یہ کہ وہ جانتے تھے کہ اگر ہم نے ان کو نقصان پہنچایا تو ان کا پورا قبیلہ ہمارے ساتھ لڑنے کے لیے تیار ہو جائے گا۔ تو لہٰذا وہ اور تکلیفیں تو پہنچاتے تھے لیکن قتل کرنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی۔ اور پھر آخر میں انہوں نے میٹنگ کی بھئی، اور اس میں شیطان بھی ایک بوڑھے سردار کی صورت میں شریک ہو گیا، اور پھر وہاں پر اس شیطان نے مشورہ دیا کہ سارے قبیلوں سے ایک ایک نوجوان کو چن لو، تو اس طرح مل کر محمد کو قتل کر دو، ان کا قبیلہ جو ہے وہ ایک قبیلے کا تو مقابلہ کر سکتا ہے لیکن تمام قبیلے جب مل کر قتل کریں گے تو وہ سب کا مقابلہ تو نہیں کر سکتے۔ چنانچہ پھر سارے قبیلوں میں سے ایک ایک نوجوان لیا گیا، اور پھر حضور علیہ السلام آرام فرما تھے گھر کے اندر تو وہ آئے اور انہوں نے اس جگہ کو گھیرے میں لے لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کے ذریعے اطلاع ملی تو آپ نے اپنی جگہ پر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو لٹایا بھئی، اور آپ اس گھر سے نکلے کہ ان میں سے کسی کو نظر نہیں آ رہے تھے، چنانچہ آپ نے مٹی اٹھائی اور وہ جو نوجوان جو وہاں گھیرا ڈال کر کھڑے تھے ان سب کے سروں پر تھوڑی تھوڑی مٹی ڈالی، اور پھر اس کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو لے کر ہجرت فرما گئے مدینہ منورہ کی طرف بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا یہ جو حضور علیہ السلام کے رشتہ داروں کا حصہ تھا وہ حضور علیہ السلام کی مدد اور نصرت کرنے کی وجہ سے تھا۔ تو جب حضور علیہ السلام وفات پا گئے تو حضور کا حصہ بھی ساقط ہوا اور وہ رشتہ داروں کی جو مدد تھی وہ بھی اب کیا ہو گئی؟ ختم ہو گئی، تو اب ان کا حصہ بھی ساقط ہو گیا۔ اب جو خمس کا مصرف ہیں وہ صرف یتیم، مسکین اور مسافر ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: ”فَيُخْرِجُ خُمُسَهَا“ کہ اس مالِ غنیمت میں سے امام خمس نکال لے گا؛ ”لِقَوْلِهِ تَعَالَىٰ“ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے: ﴿فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ﴾ کہ اللہ کے لیے ہے اس مالِ غنیمت کا پانچواں حصہ اور اس کے رسول کے لیے ہے۔ ”اسْتَثْنَى الْخُمُسَ“ اللہ تعالیٰ نے استثناء فرمایا خمس کا، یعنی مالِ غنیمت کے پانچویں حصے کو اللہ نے نکال لیا، یہ غازیوں کا حصہ نہیں ہے، باقی چار خمس جو ہیں وہ تو غازیوں میں تقسیم ہوں گے لیکن اس خمس کا اللہ نے استثناء فرمایا۔ تو یہاں آیت کے اندر تو کہیں استثناء نہیں، حرفِ استثناء ”إِلَّا“ وغیرہ ذکر نہیں، تو مراد استثناء سے یہاں مراد ہے اخراج بھئی، کہ مالِ غنیمت میں سے پانچواں حصہ اللہ نے نکال لیا، جدا کر دیا کہ یہ غازیوں کا حصہ نہیں ہے، اس کے یہ یہ مصرف ہیں بھئی، تو استثناء سے کیا مراد ہے؟ اخراج ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”اسْتَثْنَى الْخُمُسَ“، اللہ تعالیٰ نے استثناء فرمایا خمس کا، ”وَيَقْسِمُ أَرْبَعَةَ الْأَخْمَاسِ بَيْنَ الْغَانِمِينَ“ اور امام تقسیم کرے گا چار خمس ان غنیمت والوں کے درمیان۔ بھئی دیکھیے! مالِ غنیمت کے کل پانچ حصے کیے، پانچ میں سے ایک خمس جو ہے وہ تو اس کے مصارف آیت کے اندر ذکر ہو گئے بھئی، اور باقی چار خمس رہ گئے، کتنے رہ گئے؟ چار خمس، وہی ذکر کر رہے ہیں: ”وَيَقْسِمُ أَرْبَعَةَ الْأَخْمَاسِ بَيْنَ الْغَانِمِينَ“، اور امام جو ہے وہ چار خمس ان غنیمت والوں کے درمیان تقسیم کر دے گا؛ ”لِأَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ قَسَمَهَا بَيْنَ الْغَانِمِينَ“ اس لیے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہ تقسیم فرمائے غنیمت والوں کے درمیان، یعنی ایک خمس نکال کر باقی جو چار خمس بچ گئے تھے انہیں حضور علیہ السلام نے غازیوں میں تقسیم فرمایا۔ ”ثُمَّ لِلْفَارِسِ سَهْمَانِ، وَلِلرَّاجِلِ سَهْمٌ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ بھئی یاد رکھو! مالِ غنیمت جب تقسیم کیا جائے گا تو جو پیدل جنگ لڑ رہے تھے، جو پیادے تھے ان کو ایک حصہ ملے گا، اور جو گھڑ سوار تھے ان کو دو حصے یعنی پیدل کے مقابلے میں دوگنا حصہ ملے گا بھئی۔ یہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا مذہب ہے بھئی۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ جو گھڑ سوار ہے اس کو تین حصے ملیں گے، یعنی پیادے کے مقابلے میں تین گنا مال ملے گا سوار کو بھئی۔ کہتے ہیں: ”ثُمَّ لِلْفَارِسِ سَهْمَانِ“، فارس کہتے ہیں گھڑ سوار کو بھئی یعنی شہ سوار، گھڑ سوار اور شہ سوار دونوں کا معنی ہے وہ جو گھوڑے پر سوار ہو بھئی۔ کہتے ہیں: ”ثُمَّ لِلْفَارِسِ سَهْمَانِ“، پھر گھڑ سوار کے دو حصے ہیں، ”وَلِلرَّاجِلِ سَهْمٌ“ اور جو پیدل ہے اس کا ایک حصہ ہے، ”عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ امام صاحب کے نزدیک۔ ”وَقَالَا: لِلْفَارِسِ ثَلَاثَةُ أَسْهُمٍ“ اور صاحبین فرماتے ہیں کہ گھڑ سوار کے لیے تین حصے ہیں، ”وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور یہی قول ہے امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی؛ ”لِمَا رَوَى ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ أَسْهَمَ لِلْفَارِسِ ثَلَاثَةَ أَسْهُمٍ، وَلِلرَّاجِلِ سَهْمًا“ بوجہ اس حدیث کے جس کو روایت کیا ہے حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہ حضور علیہ السلام نے شہ سوار کے لیے تین حصے نکالے اور پیادے کے لیے ایک حصہ نکالا۔ ”وَلِأَنَّ الِاسْتِحْقَاقَ بِالْغَنَاءِ“ جی، یہاں سے عقلی دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں کہ عقل بھی اس بات کی تائید کرتی ہے کہ گھڑ سوار کے تین حصے ہونے چاہئیں۔ یہ صاحبین کی دلیل چل رہی ہے کہ حضور علیہ السلام نے گھڑ سوار کو تین حصے دیے تھے۔ ”وَلِأَنَّ الِاسْتِحْقَاقَ بِالْغَنَاءِ“، یاد رکھو بھئی غناء! غناء کا معنی ہے فائدہ، فائدہ۔ ایک فائدہ ہے پیادے کا، تو گھڑ سوار کے اس کے مقابلے میں تین فائدے ہیں بھئی، تو لہٰذا گھڑ سوار کو تین حصے ملیں گے۔ تو غناء کا کیا معنی؟ فائدہ، فائدہ۔ میری کتاب میں یہاں اس کا معنی لکھا ہے بین السطور کارکردگی بھئی، ہاں یہ بہترین ترجمہ ہے بھئی، اس کا فائدہ زیادہ ہے یعنی کارکردگی زیادہ ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ الِاسْتِحْقَاقَ بِالْغَنَاءِ“، اور اس لیے کیونکہ مستحق ہونا وہ کارکردگی کی وجہ سے ہوتا ہے، ”وَغَنَاؤُهُ عَلَى ثَلَاثَةِ أَمْثَالِ الرَّاجِلِ“ اور گھڑ سوار کی کارکردگی جو ہے وہ پیادے کے تین مثل کے برابر ہے، وہ پیادے کے تین گنا ہے یعنی گھڑ سوار کا فائدہ اور اس کی کارکردگی پیدل والے سے تین گنا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَغَنَاؤُهُ“ اور گھڑ سوار کی جو کارکردگی ہے ”عَلَى ثَلَاثَةِ أَمْثَالِ الرَّاجِلِ“ وہ پیادے کے تین مثل ہے، ”لِأَنَّهُ لِلْكَرِّ وَالْفَرِّ وَالثَّبَاتِ، وَالرَّاجِلُ لِلثَّبَاتِ لَا غَيْرُ“، کرٌّ کا معنی ہے حملہ کرنا، کرٌّ کا معنی ہے حملہ کرنا، ”وَالْفَرِّ“، فرٌّ کا معنی ہے بھاگنا، بھاگنا۔ بھئی گھڑ سوار کبھی حملہ کرتا ہے، کبھی وہ واپس مڑتا ہے، بھاگتا ہے اور پھر گھوم کر آتا ہے اور دوبارہ حملہ کرتا ہے۔ جو پیدل لڑ رہا ہے بھئی وہ تو ظاہر ہے ایک ہی جگہ پر لڑ رہا ہوگا، لیکن جو گھوڑے پر سوار ہے وہ تو گھوڑا اس کے قابو میں ہے، وہ کبھی ایک طرف حملہ کرے گا اور کبھی گھوڑے کو گھمائے گا دوسری طرف گھوم کر آ جائے گا اور پھر حملہ کرے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو معلوم ہوا گھڑ سوار وہ کبھی آگے بڑھ کر حملہ کرتا ہے، کبھی پیچھے مڑ کر لمبا چکر کاٹ کر آ کر پھر دوبارہ حملہ کرتا ہے، اور کبھی ایک ہی جگہ جم کر لڑتا ہے۔ تو گھڑ سوار کے تین فائدے ہو گئے: ایک کرٌّ ہے حملہ کرنا، دوسرا فرٌّ ہے پلٹنا پلٹ کر پیچھے سے آنا، اور تیسرا ہے ثبات بھئی ایک جگہ جم کر لڑنا۔ تو پیادہ اس میں صرف ثبات ہے، وہ ایک جگہ جم کر لڑ رہا ہے، اور گھڑ سوار کے فائدے تین ہیں بھئی۔ تو میری کتاب میں کرٌّ کا معنی لکھا ہے جھپٹنا، میں نے کیا معنی کیا؟ حملہ کرنا، تو وہی جھپٹنا یعنی حملہ کرنا وہی مراد ہے، تو اس کے لیے یہ لفظ اور زیادہ بہتر ہے۔ ”لِأَنَّهُ لِلْكَرِّ وَالْفَرِّ“ اس لیے کیونکہ جو گھڑ سوار ہوتا ہے ”لِلْكَرِّ وَالْفَرِّ وَالثَّبَاتِ“ وہ جھپٹنے کے لیے ہے اور پلٹنے کے لیے ہے ”وَالثَّبَاتِ“ اور ایک جگہ جم کر لڑنے کے لیے ہے، اس کے تینوں فائدے ہیں۔ ”وَالرَّاجِلُ لِلثَّبَاتِ لَا غَيْرُ“ اور جو پیادہ ہوتا ہے وہ تو ایک جگہ جمنے کے لیے ہوتا ہے ”لَا غَيْرُ“ اس کے علاوہ کے لیے نہیں، وہ تو ایک ہی جگہ جم کر لڑ سکتا ہے۔ تو معلوم ہوا عقل بھی یہی کہتی ہے کہ گھڑ سوار کا حصہ تین گنا ہونا چاہیے پیادے کے مقابلے میں۔ ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ امام صاحب فرماتے ہیں کہ نہیں، گھڑ سوار کے دو حصے ہوں گے، پیادے کے مقابلے میں دوگنا حصہ ملے گا۔ تو اب ان کی دلیل ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام صاحب کی دلیل جو ہے ”مَا رَوَى ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ أَعْطَى الْفَارِسَ سَهْمَيْنِ، وَالرَّاجِلَ سَهْمًا“ وہ حدیث ہے جس کو روایت کیا ہے حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”أَعْطَى الْفَارِسَ سَهْمَيْنِ“ شہ سوار کو دو حصے دیے ”وَالرَّاجِلَ سَهْمًا“ اور پیادے کو ایک حصہ دیا۔ یہ حدیث دلیل ہے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی۔ تو دو حدیثیں آ گئیں: ایک حدیث ہے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی اور اس میں ہے کہ حضور علیہ السلام نے گھڑ سوار کو تین حصے دیے، اور ایک ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی حدیث ہے اس میں ہے کہ حضور علیہ السلام نے گھڑ سوار کو دو حصے دیے، اور دونوں کے اندر حضور علیہ السلام کا فعل ذکر ہے۔ دونوں میں حضور علیہ السلام کا فعل ذکر ہے، قول نہیں ذکر۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی حدیث میں بھی ہے کہ حضور نے تین حصے دیے یعنی حضور کا فعل ذکر ہے، اور ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی حدیث میں بھی حضور کا فعل ذکر ہے کہ آپ نے دو حصے دیے۔ تو کہتے ہیں: ”فَتَعَارَضَ فِعْلَاهُ“ تو تعارض آ گیا حضور علیہ السلام کے دو فعلوں میں، یعنی ان میں ٹکراؤ آ گیا، ایک سے پتہ چلا آپ نے تین حصے دیے اور ایک سے پتہ چلا دو حصے دیے۔ ”فَيُرْجَعُ إِلَى قَوْلِهِ“ تو رجوع کیا جائے گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کی طرف، ”وَقَدْ قَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: لِلْفَارِسِ سَهْمَانِ، وَلِلرَّاجِلِ سَهْمٌ“ اور تحقیق حضور علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ گھڑ سوار کے دو حصے ہیں اور پیادے کا ایک حصہ ہے۔ تو حضور علیہ السلام کے دو افعال میں تعارض آیا تو ہم حضور علیہ السلام کے قول کی طرف چلے گئے، اور قول کے اندر تو حضور علیہ السلام نے دو حصے ذکر فرمائے ہیں گھڑ سوار کے بھئی، تو حضور علیہ السلام کے قول کی طرف ہم چلے گئے۔ اور نیز ہم ان احادیث میں تطبیق دیتے ہیں، تطبیق دیتے ہیں۔ بظاہر احادیث میں ٹکراؤ معلوم ہو رہا ہے، ایک حدیث سے پتہ چلا حضور علیہ السلام نے گھڑ سوار کو تین حصے دیے اور ایک حدیث سے پتہ چلا حضور علیہ السلام نے گھڑ سوار کو دو حصے دیے، بظاہر دونوں میں تعارض ہے تو ہم دونوں میں تطبیق دیتے ہیں، ایسی توجیہ کرتے ہیں، ایسی تقریر کرتے ہیں کہ جس سے دونوں حدیثوں کا ٹکراؤ ختم ہو جائے۔ تو ہم یوں کہتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی جو حدیث کے اندر تین حصے ہیں اس میں دو حصے وہ تھے جو گھڑ سوار کا حق بنتا تھا مالِ غنیمت میں اور ایک حصہ حضور علیہ السلام نے زائد بطورِ انعام کے دیا۔ تو آپ کو آگے چل کر صاحبِ ہدایہ بھی بتلائیں گے کہ امام کو اختیار دیا ہے شریعت نے، وہ زائد حصہ بھی دے سکتا ہے غنیمت میں سے اگر کسی کی کارکردگی اچھی ہو تو اس کو زائد حصہ بھی دے سکتا ہے یا ان کو ابھارنے کے لیے انعام کا اعلان کر سکتا ہے کہ جس نے فلاں بہادری دکھائی تو اس کے لیے اتنا اتنا انعام ہے بھئی۔ تو اب دیکھو احادیث میں تعارض ختم ہوا۔ معلوم ہوا حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی حدیث میں دو حصے ذکر ہیں اور دو حصے ہی بنتے تھے، اور ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی حدیث میں تین حصے ذکر ہیں ان میں سے دو حصے وہ جو سوار کا حصہ تھا اور ایک حصہ اس کو زائد دیا بطورِ انعام کے، اور امام کو اختیار ہوتا ہے وہ زائد انعام بھی دے سکتا ہے بھئی، تو دیکھو اب حدیث میں تعارض ختم ہوا۔ جی بات سمجھ میں آ گئی؟ آگے دیکھیے: ”كَيْفَ وَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ قَسَمَ لِلْفَارِسِ سَهْمَيْنِ، وَلِلرَّاجِلِ سَهْمًا“ اور کیسے تین حصے ہو سکتے ہیں؟ حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی حدیث میں کیا آیا؟ تین حصے دیں گے۔ کہتے ہیں تین حصے کیسے ہو سکتے ہیں؟ حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما ہی کی ایک اور حدیث ہے اس میں وہ بھی دو حصے ذکر فرماتے ہیں، معلوم ہوا حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی دونوں حدیثوں میں ہی آپس میں تعارض آ رہا ہے، ایک حدیث سے پتہ چلا حضور نے تین حصے دیے اور دوسری حدیث سے پتہ چلا دو حصے دیے۔ ”كَيْفَ“ اور تین حصے کیسے ہو سکتے ہیں؟ ”وَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ قَسَمَ لِلْفَارِسِ سَهْمَيْنِ، وَلِلرَّاجِلِ سَهْمًا“ اور تحقیق روایت کیا گیا ہے حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے کہ حضور علیہ السلام نے تقسیم فرمایا گھڑ سوار کے لیے دو حصے اور پیادے کے لیے ایک حصہ۔ ”وَإِذَا تَعَارَضَتْ رِوَايَتَاهُ“ اور جب حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی دونوں حدیثوں میں آپس میں تعارض آ گیا یعنی ان میں ٹکراؤ آ گیا، ”تُرَجَّحُ رِوَايَةُ غَيْرِهِ“ تو ترجیح دی جائے گی ان کے علاوہ کی روایت کو۔ ان کی اپنی روایتوں میں جب ٹکراؤ آ گیا تو اب ان کے علاوہ اوروں کی روایت یعنی حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی روایت کو ترجیح ہوگی۔ ”وَلِأَنَّ الْكَرَّ وَالْفَرَّ مِنْ جِنْسٍ وَاحِدٍ“ یہاں سے جواب دے رہے ہیں ان کی عقلی دلیل کا۔ صاحبین فرماتے تھے کہ گھڑ سوار کی کارکردگی تین گنا ہے، اس کے لیے جھپٹنا بھی ہے، پلٹنا بھی ہے اور ایک جگہ جم کر لڑنا بھی ہے۔ تو اس کا جواب دے رہے ہیں کہ بھئی جھپٹنا اور پلٹنا یہ تو ایک ہی جنس میں سے ہیں کیونکہ پلٹنا کس لیے ہے؟ جھپٹنے کے لیے ہی بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو دونوں ایک ہی جنس ہے، ایک ہی چیز ہے، آپ ان دونوں کو الگ الگ کیسے شمار کر رہے ہیں؟ لہٰذا جب ایک جنس ہے تو معلوم ہوا گھڑ سوار کے لیے ایک کرّ اور فرّ ہے اور ایک اپنی جگہ پر لڑنا ہے، تو دگنی کارکردگی ہے پیدل کے مقابلے میں تو دو حصے ملنے چاہئیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ الْكَرَّ وَالْفَرَّ مِنْ جِنْسٍ وَاحِدٍ“، اور نیز اس لیے کیونکہ جھپٹنا اور پلٹنا یہ تو ایک ہی جنس میں سے ہے، ”فَيَكُونُ غَنَاؤُهُ مِثْلَيْ غَنَاءِ الرَّاجِلِ“، ”فَيَكُونُ غَنَاؤُهُ“ تو اس گھڑ سوار کی جو کارکردگی ہے ”مِثْلَيْ غَنَاءِ الرَّاجِلِ“، اصل میں کیا تھا؟ ”مِثْلَيْنِ“، نون اضافت سے گر گیا، دو مثل بھئی۔ کہتے ہیں ”فَيَكُونُ غَنَاؤُهُ“، تو اس گھڑ سوار کی جو کارکردگی ہے ”مِثْلَيْ غَنَاءِ الرَّاجِلِ“ وہ پیادے کی کارکردگی کے دو مثل ہے اس سے دگنی ہے، ”فَيُفَضَّلُ عَلَيْهِ بِمِثْلِهِ“ تو فضیلت دی جائے گی اس گھڑ سوار کو پیادے پر اس کے مثل کے ساتھ، یعنی پیادے کو ایک حصہ اور گھڑ سوار کو اس کے مثل مزید ایک حصہ یعنی کل دو حصے ملیں گے۔ فَيُفَضَّلُ عَلَيْهِ بِسَهْمٍ، لہٰذا اس کو اس پر ترجیح دی جائے گی ایک حصے کے ساتھ۔ جب کارکردگی اس سے دگنی ہے تو حصہ بھی اس سے دگنا ہی ملنا چاہیے، ایک حصہ اس سے زائد ملنا چاہیے۔ تو کہتے ہیں: فَيُفَضَّلُ عَلَيْهِ بِسَهْمٍ، تو اس کو ترجیح دی جائے گی اس پر ایک حصے کے ساتھ۔ وَلِأَنَّهُ تَعَذَّرَ اعْتِبَارُ مِقْدَارِ الزِّيَادَةِ، اور نیز اس لیے کیونکہ زیادتی کی مقدار کا اعتبار کرنا ممکن نہیں ہے۔ بھئی دیکھیے! لڑائی کے اندر آپ کہہ رہے ہیں کہ گھڑ سوار کی کارکردگی زیادہ ہے پیادے کے مقابلے میں، لیکن لڑائی کے اندر تو کارکردگی کا پتہ ہی نہیں چل سکتا۔ ہر آدمی جنگ کے اندر مشغول ہے تو کچھ پتہ نہیں کس کی کارکردگی اچھی ہے اور کس کی کارکردگی اچھی نہیں۔ یہ پتہ ہی نہیں چل سکتا۔ تو جب پتہ ہی نہیں چل سکتا کارکردگی کا تو پھر ظاہری سبب کو دیکھا جائے گا اور ظاہری سبب تو پیادہ ایک ہے جبکہ گھڑ سوار میں گھڑ سوار خود بھی ہے اور اس کا گھوڑا بھی ہے تو وہ دو کے برابر ہوا بھئی۔ جی۔ ایک اس کا گھوڑا اور ایک وہ خود بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلِأَنَّهُ تَعَذَّرَ اعْتِبَارُ مِقْدَارِ الزِّيَادَةِ، اور اس لیے کیونکہ زیادتی کی مقدار کا اعتبار کرنا ممکن نہ رہا۔ لِتَعَذُّرِ مَعْرِفَتِهِ، اس لیے کیونکہ اس کو جاننا ممکن نہ رہا، کیونکہ ہر ایک جنگ میں مشغول ہے۔ تو لِتَعَذُّرِ مَعْرِفَتِهِ، اس وجہ سے کہ اس کو جاننا ممکن نہیں ہے۔ فَيُدَارُ الْحُكْمُ عَلَى سَبَبٍ ظَاهِرٍ، تو حکم کا مدار ہوگا ظاہری سبب پر۔ وَلِلْفَارِسِ سَبَبَانِ، اور گھڑ سوار کے لیے دو سبب ہیں، اَلنَّفْسُ وَالْفَرَسُ، ایک اس کی اپنی ذات ہے اور ایک گھوڑا ہے۔ وَلِلرَّاجِلِ سَبَبٌ وَاحِدٌ، اور پیادے کے لیے ایک ہی سبب ہے۔ فَكَانَ اسْتِحْقَاقُهُ عَلَى ضِعْفِهِ، لہٰذا گھڑ سوار کا جو استحقاق ہے عَلَى ضِعْفِهِ وہ پیادے سے دگنا ہوگا۔ جی۔ وہ پیادے سے دگنا ہوگا۔ بات سمجھ میں آگئی۔ آگے دیکھیے: وَلَا يُسْهَمُ إِلَّا لِفَرَسٍ وَاحِدٍ، بھئی صورتِ مسئلہ یہ کہ ایک مجاہد یہاں سے اپنے ساتھ دو گھوڑے لے گیا یا ایک مجاہد اپنے ساتھ تین گھوڑے لے گیا تو کیا ہر گھوڑے کے مطابق الگ الگ حصہ اس کو ملے گا؟ یعنی اسے صرف ایک ہی گھوڑے کا حصہ ملے گا یا باقی گھوڑوں کے حصے بھی ملیں گے؟ کہتے ہیں: نہیں، صرف ایک ہی گھوڑے کا حصہ ملے گا۔ کہتے ہیں: وَلَا يُسْهَمُ، اور حصہ نہیں نکالا جائے گا، إِلَّا لِفَرَسٍ وَاحِدٍ، مگر ایک ہی گھوڑے کے لیے۔ وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالَى يُسْهَمُ لِفَرَسَيْنِ، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دو گھوڑوں کے لیے حصے نکالے جائیں گے۔ جب یہاں سے وہ کتنے گھوڑے لے کر گیا ہے؟ دو۔ ہاں، دو سے زیادہ گھوڑے، اس میں تو بالاتفاق تیسرے گھوڑے کا حصہ نہیں ہوگا۔ جی۔ البتہ دو گھوڑے اگر لے کر گیا ہے، دو گھوڑے لے کر اس نے جہاد کی نیت سے سرحد عبور کی ہے تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اب یہ دونوں گھوڑوں کا حصہ اس کو ملے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالَى يُسْهَمُ لِفَرَسَيْنِ، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دو گھوڑوں کے لیے حصے نکالے جائیں گے، لِمَا رُوِيَ، بوجہ اس حدیث کے جس کو روایت کیا گیا ہے، أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ أَسْهَمَ لِفَرَسَيْنِ، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حصہ نکالا دو گھوڑوں کے لیے۔ وَلِأَنَّ الْوَاحِدَ قَدْ يَعْيَا، عَيِيَ يَعْيَا کا معنی ہے تھک جانا۔ عقلی دلیل ذکر کر رہے ہیں کہ دو گھوڑوں کا حصہ ہونا چاہیے۔ کہتے ہیں: وَلِأَنَّ الْوَاحِدَ قَدْ يَعْيَا، اس لیے کیونکہ ایک گھوڑا تو کبھی تھک جاتا ہے، فَيُحْتَاجُ إِلَى الْآخَرِ، تو حاجت پیش آتی ہے دوسرے گھوڑے کی۔ وَلَهُمَا، اب طرفین کی دلیل آگئی۔ جی۔ طرفین فرماتے ہیں نہیں، ایک ہی گھوڑے کا حصہ ملے گا۔ وَلَهُمَا، طرفین کی دلیل یہ ہے، أَنَّ الْبَرَاءَ بْنَ أَوْسٍ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالَى عَنْهُ قَادَ فَرَسَيْنِ، کہ حضرت براء ابن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ قَادَ فَرَسَيْنِ وہ دو گھوڑے لے کر گئے۔ قَادَ يَقُودُ کا معنی ہے آگے سے جانور کو لے کر چلنا، کہ لے جانے والا آگے ہو اور جانور اس کے پیچھے ہو۔ یہاں مراد ہے لے جانا بھئی، لے جانا۔ کہتے ہیں: وَلَهُمَا، اور طرفین کی دلیل یہ ہے، أَنَّ الْبَرَاءَ بْنَ أَوْسٍ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالَى عَنْهُ قَادَ فَرَسَيْنِ، کہ حضرت براء ابن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ دو گھوڑے لے کر گئے، وَلَمْ يُسْهِمْ رَسُولُ اللّٰهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ إِلَّا لِفَرَسٍ وَاحِدٍ، مگر حصہ نہیں نکالا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مگر ایک ہی گھوڑے کا۔ وَلِأَنَّ الْقِتَالَ لَا يَتَحَقَّقُ بِفَرَسَيْنِ دَفْعَةً وَاحِدَةً، تو بھئی روایات میں تعارض آیا۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے حدیث ذکر کی کہ حضور نے دو گھوڑوں کا حصہ دیا تھا، ہم نے حدیث ذکر کی کہ حضور علیہ السلام نے ایک گھوڑے کا حصہ دیا تھا، تو روایات میں، احادیث میں تعارض آگیا، تو اس سے نچلے درجے کی دلیل یعنی ہم قیاس کی طرف چلے جائیں گے، اور قیاس اور عقل یہی تقاضا کرتی ہے کہ ایک گھوڑے کا حصہ ملنا چاہیے، کیونکہ جب لڑائی کی جاتی ہے تو اس وقت ایک ہی گھوڑے پر سوار ہو کر لڑائی کی جاتی ہے۔ وَلِأَنَّ الْقِتَالَ لَا يَتَحَقَّقُ بِفَرَسَيْنِ دَفْعَةً وَاحِدَةً، اور اس لیے کیونکہ لڑائی جو ہے وہ دو گھوڑوں کے ساتھ نہیں پائی جاتی دَفْعَةً وَاحِدَةً ایک ہی مرتبہ میں، یعنی ایک ہی مرتبہ میں دو گھوڑوں پر بیٹھ کر لڑائی نہیں کی جا سکتی۔ فَلَا يَكُونُ السَّبَبُ الظَّاهِرُ مُفْضِيًا إِلَى الْقِتَالِ عَلَيْهِمَا، فَلَا يَكُونُ السَّبَبُ الظَّاهِرُ، تو سببِ ظاہری جو ہے وہ نہیں ہے، مُفْضِيًا پہنچانے والا، إِلَى الْقِتَالِ عَلَيْهِمَا ان دونوں پر لڑائی کی طرف۔ بھئی دیکھیے! ہمارے نزدیک، ہمارے نزدیک غنیمت کا مستحق ہونے کا ظاہری سبب کیا ہے؟ کہ سرحد عبور کی جائے جہاد کی نیت سے، تو اگر کوئی آدمی دو گھوڑے لے کر بھی سرحد عبور کرتا ہے جہاد کی نیت سے، پھر بھی یہ ان دونوں پر بیٹھ کر تو نہیں لڑ سکتا، ایک وقت میں تو وہ ایک ہی گھوڑے پر لڑے گا۔ توجہ ہے؟ سببِ ظاہری کے اعتبار سے دیکھیں کہ اس نے دو گھوڑے لے کر سرحد عبور کی ہے، لیکن یہ سببِ ظاہری دونوں گھوڑوں پر لڑائی تک پہنچانے والا نہیں، لڑائی تو ایک ہی گھوڑے پر ہوگی۔ یہ معنی ہے فَلَا يَكُونُ السَّبَبُ الظَّاهِرُ، تو وہ جو سببِ ظاہری ہے یعنی وہ جو مجاوزت ہے، وہ جو سرحد عبور کرنا ہے، وہ نہیں ہے مُفْضِيًا إِلَى الْقِتَالِ عَلَيْهِمَا، وہ نہیں ہے کہ وہ پہنچا دے إِلَى الْقِتَالِ عَلَيْهِمَا کہ لڑائی کی جائے ان دونوں پر۔ فَيُسْهَمُ لِوَاحِدٍ، لہٰذا حصہ نکالا جائے گا ایک گھوڑے کے لیے۔ وَلِهَذَا لَا يُسْهَمُ لِثَلَاثَةِ أَفْرَاسٍ، اور اسی لیے تو تین گھوڑوں کا حصہ نہیں نکالا جائے گا، یعنی یہ بالاتفاق ہے، بالاجماع۔ جی۔ اگر کوئی مجاہد تین گھوڑے لے گیا تو بالاتفاق تین گھوڑوں کا حصہ نہیں نکالا جائے گا، وہ اسی وجہ سے کہ جو اس نے لڑائی کرنی ہے وہ تو ایک ہی گھوڑے پر کرنی ہے بھئی۔ تو جب تین گھوڑوں کا حصہ بالاتفاق نہیں ہے تو پھر دو گھوڑوں کا بھی حصہ نہیں ہونا چاہیے، ایک ہی گھوڑے کا ہونا چاہیے کیونکہ لڑائی تو وہ ایک ہی گھوڑے پر کرے گا۔ یہ معنی ہے وَلِهَذَا لَا يُسْهَمُ لِثَلَاثَةِ أَفْرَاسٍ، اور اسی لیے بالاتفاق تین گھوڑوں کا حصہ نہیں نکالا جاتا۔ وَمَا رَوَاهُ مَحْمُولٌ عَلَى التَّنْفِيلِ، اور وہ حدیث جس کو امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے روایت کیا، مَحْمُولٌ عَلَى التَّنْفِيلِ، وہ تنفیل پر محمول ہے۔ نفل، نفل کہتے ہیں زائد حصہ دینا۔ جی۔ نفل کا کیا معنی ہے؟ زائد۔ تو امام اپنی طرف سے کسی کو زائد حصہ دے سکتا ہے، میں نے آپ کو بتلایا۔ تو کہتے ہیں: یہ حدیث جو امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے روایت کی کہ حضور علیہ السلام نے دو گھوڑوں کا حصہ دیا تھا تو ہم اس کو تنفیل پر محمول کرتے ہیں کہ حضور علیہ السلام نے ایک حصہ زائد بطورِ انعام کے دیا تھا بھئی، تو اب روایات میں تطبیق آگئی۔ جی۔ معلوم ہوا دونوں حدیثوں میں کوئی ٹکراؤ نہیں ہے۔ حضرت براء ابن اوس دو گھوڑے لے کر گئے تھے لیکن ان کو ایک گھوڑے کا حصہ دیا کیونکہ ایک گھوڑے کا ہی حصہ بنتا تھا، اور دوسری جگہ حضور علیہ السلام نے دو گھوڑوں کے حصے دیے، وہ بطورِ انعام کے تھا، تو دیکھو احادیث میں تعارض ختم ہوا بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَمَا رَوَاهُ مَحْمُولٌ عَلَى التَّنْفِيلِ، اور وہ حدیث جس کو امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے روایت کیا وہ تنفیل پر محمول ہے، كَمَا أَعْطَى سَلَمَةَ بْنَ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالَى عَنْهُ سَهْمَيْنِ وَهُوَ رَاجِلٌ، جیسے کہ حضور علیہ السلام نے حضرت سلمہ ابن الاکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دو حصے دیے اور وہ پیادے تھے۔ جی۔ وہ پیدل جنگ کر رہے تھے لیکن حضور علیہ السلام نے ان کو دو حصے دیے، معلوم ہوا ایک حصہ زائد دیا بطورِ انعام کے بھئی۔ تو کہتے ہیں: كَمَا أَعْطَى، جیسے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عطا کیا، سَلَمَةَ بْنَ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالَى عَنْهُ سَهْمَيْنِ، حضرت سلمہ ابن الاکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دو حصے، وَهُوَ رَاجِلٌ، اس حال میں کہ وہ پیادے تھے۔ آگے دیکھیے: وَالْبَرَازِينُ وَالْعِتَاقُ سَوَاءٌ، برازین جمع ہے برذون کی اور برذون کہتے ہیں غیر عربی گھوڑا۔ جی۔ برذون کہتے ہیں غیر عربی گھوڑا۔ اور عتاق جمع ہے عتیق کی۔ جی۔ اور عتیق کہتے ہیں عمدہ اور اعلیٰ گھوڑا یعنی عربی نسل کا گھوڑا۔ بھئی یاد رکھو آج بھی دنیا کے اندر عربی گھوڑے انتہائی پسندیدہ ہیں اور انتہائی قیمتی شمار ہوتے ہیں۔ عرب گھوڑوں کے بھی نسب یاد رکھتے تھے بھئی کہ یہ فلاں گھوڑے کا بچہ ہے اور یہ فلاں کا بچہ ہے، بات سمجھ میں آگئی، اور یہ انتہائی قیمتی شمار ہوتے تھے عربوں کے ہاں بھئی۔ تو اب ایک عجمی گھوڑا ہے اور ایک عربی گھوڑا ہے، کیا دونوں کا حصہ برابر ہوگا؟ تو صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ ہاں، عربی اور غیر عربی گھوڑے برابر ہیں بھئی۔ کہتے ہیں: وَالْبَرَازِينُ وَالْعِتَاقُ سَوَاءٌ، اور غیر عربی گھوڑے اور عربی گھوڑے برابر ہیں، لِأَنَّ الْإِرْهَابَ مُضَافٌ إِلَى جِنْسِ الْخَيْلِ فِي الْكِتَابِ، أَرْهَبَ يُرْهِبُ إِرْهَابٌ کا معنی ہے دوسرے کو ڈرانا، اس کو خوفزدہ کرنا، اس پر ہیبت طاری کرنا۔ لِأَنَّ الْإِرْهَابَ، اس لیے کیونکہ ارہاب جو ہے، مُضَافٌ إِلَى جِنْسِ الْخَيْلِ، اس کی نسبت کی گئی ہے جنسِ خیل کی طرف، فِي الْكِتَابِ، کتاب اللہ کے اندر۔ بھئی یہ آیت آگے آ رہی ہے: ﴿وَمِنْ رِبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللّٰهِ وَعَدُوَّكُمْ﴾، قرآن میں اللہ فرماتے ہیں کہ دشمنوں کے لیے جس قدر قوت تم تیار کر سکتے ہو وہ قوت بھی تیار کرو، ﴿وَمِنْ رِبَاطِ الْخَيْلِ﴾، یاد رکھو رباط الخیل کہتے ہیں گھوڑوں کا اصطبل۔ جی۔ رباط الخیل؟ گھوڑوں کا اصطبل، یعنی یوں کہو گھوڑوں کی چھاؤنیاں۔ اللہ حکم دے رہے ہیں مومنین کو کہ کفار کے لیے جس قدر قوت تم تیار کر سکتے ہو وہ قوت بھی تیار کرو، ﴿وَمِنْ رِبَاطِ الْخَيْلِ﴾، اور گھوڑوں کی چھاؤنیاں بھی ان کے لیے تیار کرو، ﴿تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللّٰهِ وَعَدُوَّكُمْ﴾، کہ اس کے ذریعے تم ہیبت طاری کرو اللہ کے دشمنوں پر اور اپنے دشمنوں پر یعنی ان کفار پر۔ جی۔ تو أَرْهَبَ يُرْهِبُ إِرْهَابٌ کا کیا معنی؟ ہیبت طاری کرنا، خوفزدہ کرنا۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ الْإِرْهَابَ مُضَافٌ إِلَى جِنْسِ الْخَيْلِ فِي الْكِتَابِ، اس لیے کیونکہ ہیبت طاری کرنا اس کی نسبت کی گئی ہے جنسِ خیل کی طرف کتاب اللہ میں۔ قَالَ اللّٰهُ تَعَالَى، اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں: ﴿وَمِنْ رِبَاطِ الْخَيْلِ﴾، اور تیار کرو ان کے لیے گھوڑوں کی چھاؤنیاں، ﴿تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللّٰهِ﴾، جس کے ذریعے تم ہیبت طاری کرو اللہ کے دشمن پر، ﴿وَعَدُوَّكُمْ﴾، اور اپنے دشمن پر۔ وَاسْمُ الْخَيْلِ يُطْلَقُ عَلَى الْبَرَازِينِ وَالْعِتَاقِ وَالْهَجِينِ وَالْمُقْرِفِ إِطْلَاقًا وَاحِدًا، برازین بھئی میں نے آپ کو بتلا دیا، برازین جمع ہے برذون کی اور یہ غیر عربی گھوڑے کو کہتے ہیں۔ عتاق میں نے بتلایا یہ جمع ہے عتیق کی اور یہ عربی گھوڑے کو کہتے ہیں۔ ہجین بھئی، یاد رکھو ہجین وہ گھوڑا ہے کہ جس کا باپ جو ہے وہ عجمی ہے اور ماں جو ہے وہ عربی ہے بھئی۔ جی۔ باپ جو ہے وہ غیر عربی گھوڑا ہے اور ماں جو ہے وہ عربی نسل کی گھوڑی ہے بھئی۔ تو اس سے جو بچہ پیدا ہوگا وہ ہجین کہلاتا ہے۔ اور مقرف بھئی، مقرف اس کے برعکس ہے، یعنی وہ گھوڑا کہ اس کا باپ تو عربی نسل کا گھوڑا ہے اور ماں جو ہے وہ غیر عربی نسل کی ہے بھئی۔ جی۔ تو ان دو کے ملاپ سے جو بچہ پیدا ہوگا اس کو مقرف کہیں گے۔ صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ خیل کا لفظ، خیل گھوڑوں کی جماعت، خیل کا لفظ چاہے برازین ہوں، چاہے عتاق ہوں، چاہے ہجین ہوں اور چاہے مقرف ہوں، سب پر یہ ایک ہی طرح بولا جاتا ہے بھئی۔ یہ معنی ہے: وَاسْمُ الْخَيْلِ، اور خیل کا اسم جو ہے، يُطْلَقُ، اس کا اطلاق کیا جاتا ہے، یعنی اس کو بولا جاتا ہے، عَلَى الْبَرَازِينِ وَالْعِتَاقِ وَالْهَجِينِ وَالْمُقْرِفِ إِطْلَاقًا وَاحِدًا، یعنی ان سب پر ایک ہی جیسا اطلاق کیا جاتا ہے لفظِ خیل کا، تو یہ سب اس میں داخل ہیں بھئی۔ جی۔ اور نیز یہ بھی یاد رکھنا، یہ جو حصہ نکالا جائے گا یہ صرف گھوڑے کا حصہ نکالا جائے گا۔ اگر کوئی جہاد پر اپنے ساتھ اونٹ لے گیا ہے یا خچر یا گدھا وغیرہ لے گیا ہے ان کا الگ حصہ نہیں ہوگا بھئی۔ یہ فضیلت صرف کس کی ہے؟ گھوڑے کی ہے بھئی، تو لہٰذا اس کا حصہ ہوگا بھئی۔ کہتے ہیں: وَلِأَنَّ الْعَرَبِيَّ إِنْ كَانَ فِي الطَّلَبِ وَالْهَرَبِ أَقْوَى، فَالْبِرْذَوْنُ أَصْبَرُ وَأَلْيَنُ عِطْفًا، فَفِي كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مَنْفَعَةٌ مُعْتَبَرَةٌ فَاسْتَوَيَا، یہاں سے بتلا رہے ہیں کہ بھئی عربی اور غیر عربی گھوڑا برابر ہیں اس لیے کیونکہ عربی گھوڑا اس کے اندر اگر ایک صفت پائی جاتی ہے تو عجمی گھوڑے میں بھی اس کے مقابلے میں ایک صفت پائی جاتی ہے۔ عربی گھوڑا طلب میں اور دوڑ میں بہت تیز ہے بھئی۔ جی۔ عربی گھوڑا طلب اور دوڑ میں بہت تیز ہے، مثلاً کسی چیز کی طلب میں اس کو دوڑا رہے ہیں مثلاً شکار کر رہے ہیں یا دشمن کے پیچھے بھاگ رہے ہیں، تو طلب میں اور دوڑ میں عربی گھوڑا بے انتہا تیز رفتار ہے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں جو غیر عربی گھوڑا ہے وہ بڑا صبر والا ہے، یعنی وہ زیادہ بوجھ اٹھا سکتا ہے اور نیز وہ قابو میں بھی آسانی سے آ جاتا ہے۔ عربی گھوڑا جتنا اعلیٰ ہے یہ اتنی جلدی ہر ایک کے قابو میں بھی نہیں آتا۔ ہاں، جب وہ قابو میں آگیا تو کوئی اور اس کا پھر مقابلہ نہیں کر سکتا، البتہ قابو کرنا اس کو عجمی گھوڑے کے مقابلے میں وہ ذرا وہ ذرا مشکل ہے بھئی، بات سمجھ میں آگئی۔ تو کہتے ہیں: وَلِأَنَّ الْعَرَبِيَّ إِنْ كَانَ فِي الطَّلَبِ وَالْهَرَبِ أَقْوَى، اور اس لیے کیونکہ عربی گھوڑا جو ہے وہ اگرچہ طلب اور دوڑنے میں زیادہ قوی ہے، ہرب کا معنی ہے دوڑنا، وہ طلب اور دوڑنے میں زیادہ قوی ہے، فَالْبِرْذَوْنُ أَصْبَرُ، تو غیر عربی گھوڑا زیادہ صبر والا ہے، یعنی وہ زیادہ مشقت برداشت کرتا ہے، زیادہ بوجھ اٹھا سکتا ہے، وَأَلْيَنُ عِطْفًا، اور وہ زیادہ نرم ہے باعتبار جھکنے کے۔ جی۔ عَطَفَ يَعْطِفُ کا معنی ہے جھکنا اور مائل ہونا، یعنی جھکنے میں زیادہ نرم ہے یعنی جلدی قابو میں آ جاتا ہے۔ تو کہتے ہیں: وَأَلْيَنُ عِطْفًا، اور وہ زیادہ نرم ہے باعتبار جھکنے کے یعنی قابو میں آنے کے۔ فَفِي كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مَنْفَعَةٌ مُعْتَبَرَةٌ، تو ان دونوں میں سے ہر ایک کے اندر ایسا فائدہ ہے جو معتبر ہے، فَاسْتَوَيَا، تو دونوں برابر ہوگئے۔ جی۔ ایک گھوڑے میں اگر ایک فائدہ ہے تو دوسرے میں دوسرا فائدہ ہے تو دونوں برابر ہوگئے تو دونوں کا حصہ برابر ہوگا بھئی۔ آگے دیکھیے: وَمَنْ دَخَلَ دَارَ الْحَرْبِ فَارِسًا فَنَفَقَ فَرَسُهُ اسْتَحَقَّ سَهْمَ الْفُرْسَانِ، وَمَنْ دَخَلَ رَاجِلًا فَاشْتَرَى فَرَسًا اسْتَحَقَّ سَهْمَ رَاجِلٍ، بھئی صورتِ مسئلہ یہ کہ ایک مجاہد یہاں سے گھوڑا اپنے ساتھ لے کر گیا اور پھر راستے میں ہی اس کا گھوڑا مر گیا اور اس کو پیدل جنگ کرنا پڑی، کہتے ہیں: اس کو پھر بھی دو حصے ملیں گے کیونکہ اعتبار سرحد کو عبور کرنے کا ہے، اور مجاوزت کے وقت تو اس کے پاس گھوڑا موجود تھا لہٰذا اس کو گھوڑے کا بھی حصہ ملے گا۔ جبکہ اس کے برعکس ایک آدمی یہاں سے اس نے سرحد پیدل عبور کی ہے اور وہاں جا کر اس نے گھوڑا خریدا اور اس پر لڑائی کی ہے تو کہتے ہیں: اس صورت میں اس کو پیدل آدمی کا حصہ ملے گا، اس لیے کیونکہ اعتبار مجاوزت کا ہے، یعنی سرحد سے تجاوز کرنے کا اعتبار ہے بھئی۔ کہتے ہیں: وَمَنْ دَخَلَ دَارَ الْحَرْبِ فَارِسًا، اور جو شخص دار الحرب میں گھڑ سوار ہو کر داخل ہوا، فَنَفَقَ فَرَسُهُ، تو اس کا گھوڑا ہلاک ہوگیا، اسْتَحَقَّ سَهْمَ الْفُرْسَانِ، تو یہ گھڑ سواروں کے حصے کا مستحق ہوگا، فرسان جمع ہے فارس کی اور فارس کا معنی ہے گھڑ سوار۔ تو کہتے ہیں: اسْتَحَقَّ سَهْمَ الْفُرْسَانِ، تو یہ گھڑ سواروں کے حصے کا مستحق ہوگا، وَمَنْ دَخَلَ رَاجِلًا، اور جو پیادہ پا داخل ہوا، فَاشْتَرَى فَرَسًا، تو اس نے گھوڑا خرید لیا، اسْتَحَقَّ سَهْمَ رَاجِلٍ، تو یہ پیادے کے حصے کا مستحق ہوگا۔ وَجَوَابُ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالَى عَلَى عَكْسِهِ فِي الْفَصْلَيْنِ، اور امام شافعی رحمہ اللہ کا جواب اس کے برعکس ہے دونوں فصلوں میں۔ جی۔ بھئی امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک سرحد عبور کرنے کا اعتبار ہی نہیں ہے بلکہ لڑائی میں حاضر ہونے کا اعتبار ہے۔ لہٰذا اگر کوئی شخص گھوڑے کو لے کر سرحد عبور کرتا ہے لیکن اس کا گھوڑا جنگ سے پہلے ہی مر گیا تو امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک لڑائی میں جب یہ حاضر ہوا تو پیدل تھا لہٰذا اس کو پیدل کا حصہ ملے گا۔ اور اگر کوئی شخص سرحد تو پیدل عبور کر کے گیا لیکن وہاں اس نے گھوڑا خرید لیا اور اس پر لڑائی کی تو ان کے نزدیک اس کو گھڑ سوار کا حصہ ملے گا۔ یہ معنی ہے: وَجَوَابُ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالَى عَلَى عَكْسِهِ فِي الْفَصْلَيْنِ، اور امام شافعی رحمہ اللہ کا جواب اس کے برعکس ہے دونوں فصلوں میں۔ وَهَكَذَا رَوَى ابْنُ الْمُبَارَكِ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالَى عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ فِي الْفَصْلِ الثَّانِي، اور اسی طرح روایت کیا ہے عبد اللہ ابن مبارک رحمہ اللہ نے امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے دوسری فصل میں۔ جی۔ اسی طرح روایت کیا ہے عبد اللہ ابن مبارک رحمہ اللہ نے امام صاحب سے دوسری فصل میں۔ دوسری فصل، یعنی جب وہاں جا کر مجاہد نے گھوڑا خریدا اور اس پر لڑائی کی۔ تو امام صاحب سے ایک روایت عبد اللہ ابن مبارک رحمہ اللہ یہ نقل کرتے ہیں کہ اس نے گھوڑے پر سوار ہو کر لڑائی کی ہے لہٰذا اس کو گھڑ سوار کا حصہ ملے گا۔ یہ معنی ہے: وَهَكَذَا رَوَى ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُمَا اللّٰهُ تَعَالَى فِي الْفَصْلِ الثَّانِي، اور اسی طرح روایت کیا ہے عبد اللہ ابن مبارک نے امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہما اللہ تعالیٰ سے دوسری فصل میں، أَنَّهُ يَسْتَحِقُّ سَهْمَ الْفُرْسَانِ، کہ یہ شخص جو ہے گھڑ سواروں کے حصے کا مستحق ہوگا، جس نے وہاں جا کر گھوڑا خریدا اور اس پر لڑائی کی تو وہ گھڑ سواروں کے حصے کا مستحق ہوگا۔ وَالْحَاصِلُ، اور حاصلِ کلام یہ ہے، أَنَّ الْمُعْتَبَرَ عِنْدَنَا حَالَةُ الْمُجَاوَزَةِ، کہ ہمارے نزدیک مجاوزت کی حالت معتبر ہے، یعنی اس نے سرحد کس طرح عبور کی تھی اس کا اعتبار کیا جائے گا، وَعِنْدَهُ حَالُ انْقِضَاءِ الْحَرْبِ، اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک جنگ کے گزرنے کی حالت معتبر ہے۔ اِنْقِضَاءُ الْحَرْبِ، جنگ کا گزر جانا۔ جنگ کا گزر جانا، تو ہمارے نزدیک مجاوزت کی حالت معتبر ہے یعنی سرحد عبور کرتے ہوئے وہ پیدل تھا یا سوار تھا یہ دیکھا جائے گا اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک لڑائی کے گزرنے کا اعتبار ہے۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ یہ تو آپ نے ایک نئی وجہ ذکر کر دی۔ اس سے پہلے آپ نے ہمیں بتایا تھا کہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک لڑائی میں حاضر ہونے کا اعتبار ہے اور اب آپ کہہ رہے ہیں لڑائی کے گزرنے کا اعتبار ہے۔ توجہ ہے؟ تو اس کا بھی جواب دیتے ہیں علماء کہ یہاں دراصل امام شافعی رحمہ اللہ سے دو روایتیں ہیں۔ ایک روایت کے مطابق لڑائی کے گزرنے کا اعتبار ہے اور ایک روایت کے مطابق لڑائی میں حاضر ہونے کا اعتبار ہے۔ تو یہاں صاحبِ ہدایہ نے اعتبار کے اندر جنگ کے گزرنے کو ذکر کر دیا اور آگے اب دلیل ذکر کریں گے تو اس میں لڑائی کے اندر حاضر ہونے کو ذکر کریں گے، یعنی صاحبِ ہدایہ امام شافعی رحمہ اللہ کی دونوں روایتوں کی طرف اشارہ فرما رہے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَعِنْدَهُ حَالُ انْقِضَاءِ الْحَرْبِ، اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک جنگ کے گزرنے کی حالت معتبر ہے۔ لَهُ، امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے، أَنَّ السَّبَبَ هُوَ الْقَهْرُ وَالْقِتَالُ، کہ غنیمت کے مستحق ہونے کا سبب جو ہے، هُوَ الْقَهْرُ وَالْقِتَالُ، وہ غلبہ اور لڑائی ہے، فَيُعْتَبَرُ حَالُ الشَّخْصِ عِنْدَهُ، لہٰذا کسی شخص کی وہ حالت معتبر ہوگی، عِنْدَهُ جو لڑائی میں حاضر ہوتے وقت ہے، فَيُعْتَبَرُ حَالُ الشَّخْصِ عِنْدَهُ، لہٰذا کسی شخص کی وہ حالت معتبر ہوگی جو اس لڑائی کے وقت ہو۔ وَالْمُجَاوَزَةُ وَسِيلَةٌ إِلَى السَّبَبِ، اور یہ سرحد عبور کرنا یہ تو وسیلہ ہے سبب تک پہنچنے کا۔ سبب کیا ہے؟ لڑائی میں حاضر ہونا، اور سرحد عبور کرنا وہ وسیلہ ہے وہ اس سبب تک پہنچنے کا ذریعہ ہے، اور ذریعے کا اعتبار نہیں ہوتا سبب کا اعتبار ہوتا ہے، جیسے مجاہد کا گھر سے نکلنا، مجاہد گھر سے نکلے گا تو لڑائی میں پہنچے گا۔ جی۔ تو جیسے گھر سے نکلنا یہ لڑائی تک پہنچنے کا ذریعہ اور وسیلہ ہے اور گھر سے نکلنا یہ تو بالاتفاق کسی کے نزدیک بھی معتبر نہیں، کسی کے نزدیک بھی یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ گھر سے نکلتے وقت یہ پیدل تھا یا سوار تھا، کیونکہ یہ وسیلہ ہے۔ وسیلے کا اعتبار نہیں ہوتا بلکہ کس کا اعتبار ہوتا ہے؟ سبب کا۔ تو سرحد عبور کرنا بھی وسیلہ اور ذریعہ ہے سبب تک پہنچنے کا، تو سبب کا اعتبار ہوگا وسیلے کا اعتبار نہیں ہوگا۔ یہ معنی ہے: وَالْمُجَاوَزَةُ وَسِيلَةٌ إِلَى السَّبَبِ، اور سرحد سے تجاوز کرنا وہ وسیلہ ہے سبب تک پہنچنے کا، كَالْخُرُوجِ مِنَ الْبَيْتِ، جیسے کہ گھر سے نکلنا۔ وَتَعْلِيقُ الْأَحْكَامِ بِالْقِتَالِ يَدُلُّ عَلَى إِمْكَانِ الْوُقُوفِ عَلَيْهِ، یہاں سے جواب دے رہے ہیں امام شافعی رحمہ اللہ ہماری دلیل کا۔ ہماری دلیل آگے ذکر ہوگی۔ یاد رکھو ہمارے نزدیک لڑائی میں حاضر ہونے کا کوئی اعتبار نہیں۔ جی۔ لڑائی میں حاضر ہونے کا کوئی اعتبار نہیں، وجہ یہ ہے کہ اس وقت تو لڑائی کا موقع ہے، صفیں بنائی جا رہی ہیں، دشمن کا مقابلہ کیا جا رہا ہے، لہٰذا اس وقت تو امام کو پتہ چل ہی نہیں سکتا کہ کون سوار ہے اور کون پیدل ہے اور کون کس طریقے سے لڑ رہا ہے اور کس کی کارکردگی کیا ہے بھئی۔ تو لڑائی کے وقت تو صفیں بنائی جا رہی ہیں، دشمن کا مقابلہ کیا جا رہا ہے، لہٰذا وہاں امام یا اس کا نائب ان چیزوں پر مطلع نہیں ہو سکتے۔ جب ان پر مطلع نہیں ہو سکتے تو سبب کو دیکھا جائے گا کہ انہوں نے سرحد کس طرح عبور کی تھی، جیسے سفر کے اندر قصر نماز کا حکم دیا گیا مشقت کی وجہ سے لیکن مشقت پر ہم مطلع نہیں ہو سکتے تو اس حکم کا مدار سفر پر ہی کر دیا گیا، تو یہاں پر بھی جب لڑائی کے اندر پتہ نہیں چل سکتا تو سرحد عبور کرنے کو ہی دیکھا جائے گا بھئی۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے، وہ ہمیں جواب دیتے ہیں کہ اے احناف! آپ نے کہا کہ لڑائی کے وقت ان چیزوں کا پتہ نہیں چل سکتا، تو کہتے ہیں: نہیں، لڑائی کے وقت بھی ان چیزوں کا پتہ چل سکتا ہے۔ چنانچہ اسی لیے جہاد کے بعض احکام کا تعلق لڑائی سے ہے۔ جی۔ آگے صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ اگر نابالغ جو تھے یعنی ایسے بچے جو بالغ ہونے کے قریب ہیں لیکن ابھی بالغ نہیں ہوئے، اگر ان کو امام نے لڑائی کی اجازت دی یا اسی طرح غلام لڑائی کے لیے آگئے اور انہوں نے باقاعدہ لڑائی میں حصہ لیا، جی، تو پھر ان کو بھی کچھ مال دیا جائے گا، ان کو پورا حصہ تو نہیں دیں گے لیکن تھوڑا سا مال ان کو بھی دیا جائے گا یعنی حصے سے کم بھئی، حصے سے کم۔ اور کب دیا جائے گا؟ جب یہ لڑائی میں حصہ لیں۔ معلوم ہوا لڑائی کے اندر بھی چیزوں کا پتہ چل سکتا ہے بھئی۔ اگر غلام آیا تو ہے لشکر کے ساتھ لیکن لڑائی نہیں کی یا بچہ آیا تو ہے لیکن لڑائی نہیں کی تو پھر ان کا حصہ نہیں ہوگا بھئی۔ اور اسی طرح لڑائی کے اندر جو مارا جائے، لڑائی کے اندر جو شہید ہو جائے ان کو غسل نہیں دیا جاتا۔ تو جہاد کے بعض احکام کا تعلق کس سے ہے؟ عینِ لڑائی سے ہے، معلوم ہوا لڑائی کے اندر بھی ان چیزوں کا پتہ چل سکتا ہے۔ جب پتہ چل سکتا ہے تو آپ کا یہ کہنا جی کہ لڑائی کے اندر تو ان چیزوں کا پتہ نہیں چلے گا، آپ سرحد عبور کرنے کو ہی سبب قرار دیتے ہیں، آپ کا یہ دعویٰ صحیح نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: وَتَعْلِيقُ الْأَحْكَامِ بِالْقِتَالِ، اور احکام کو معلق کرنا لڑائی کے ساتھ، يَدُلُّ عَلَى إِمْكَانِ الْوُقُوفِ عَلَيْهِ، وہ ان پر مطلع ہونے کے امکان پر دلالت کرتا ہے کہ ان چیزوں پر مطلع ہونا ممکن ہے۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: وَتَعْلِيقُ الْأَحْكَامِ بِالْقِتَالِ، اور احکام کو معلق کرنا لڑائی کے ساتھ، يَدُلُّ عَلَى إِمْكَانِ الْوُقُوفِ عَلَيْهِ، یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ان پر مطلع ہونا ممکن ہے۔ وَلَوْ تَعَذَّرَ، یہاں سے دوسرا جواب دے رہے ہیں۔ پہلا جواب تو انکاری دیا۔ کہ آپ نے کہا لڑائی میں ان چیزوں پر مطلع نہیں ہو سکتے، ہم کہتے ہیں نہیں، ہمیں آپ کی یہ بات تسلیم نہیں، ان لڑائی میں بھی ان چیزوں پر مطلع ہو سکتے ہیں، اسی لیے تو شریعت نے بعض احکام کا تعلق ہی لڑائی سے رکھا ہے۔ اور دوسرا جواب دے رہے ہیں امام شافعی رحمہ اللہ ہمیں کہ اگر آپ کی بات مان لی جائے کہ لڑائی کے اندر ان چیزوں پر ہم مطلع نہیں ہو سکتے، تو پھر بھی، پھر بھی ایک ہے سرحد عبور کرنا، ایک ہے لڑائی کے موقع پر حاضر ہونا اور پھر اس کے بعد ایک ہے لڑائی کے اندر شرکت کرنا۔ بھئی دیکھو قدیم زمانے میں جنگ یوں ہوتی تھی کہ دونوں فوجیں آ کر آمنے سامنے پڑاؤ ڈال لیتی تھیں، اور پھر ہر روز جو ہے صبح کے وقت دشمن کی طرف سے بھی صفیں بنتیں اور مسلمانوں کی طرف سے بھی صفیں بنتی تھیں اور پھر اس کے بعد ان میں لڑائی ہوتی تھی بھئی، اور باقی لشکر والے پیچھے ہوتے تھے، سارا لشکر اکٹھا لڑنے کے لیے نہیں آتا تھا بلکہ کچھ صفیں آگے لڑنے کے لیے آگئیں، وہ سارا دن لڑائی کرتی رہیں، اور شام ہوتے ہی لڑائی ختم ہو جاتی، اور پھر لوگ زخمیوں کو سنبھالتے تھے اور اگلے دن پھر اسی طرح صبح صفیں بنائی جاتیں اور لڑائی شروع ہو جاتی تھی، بات سمجھ میں آگئی۔ تو لہٰذا اب یہاں ایک صورت یہ ہے کہ لشکر جو ہے وہ سرحد عبور کر کے آیا، اور ایک یہ ہے کہ دشمن کے سامنے آ کر لشکر نے پڑاؤ ڈال لیا، یہ اس کو کہیں گے یہ لڑائی میں حاضر ہیں، کہاں آگئے؟ اب دشمن کی فوجیں سامنے ہیں بھئی، تو یہ ہے شہودِ وقعہ، لڑائی میں حاضر ہونا، اور پھر اس کے بعد آگے صفیں بنائی جائیں گی اور باقاعدہ لڑائی ہوگی۔ توجہ ہے؟ تو یہاں تین چیزیں ہوگئیں: ایک ہے سرحد عبور کرنا، ایک ہے اس لشکر کے اندر موجود ہونا جو لڑائی کر رہا ہے، اور تیسرا ہے آگے جا کر باقاعدہ لڑائی کرنا بھئی۔ جی۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے، وہ فرماتے ہیں: اے احناف! آپ نے کہا لڑائی میں ان چیزوں کا پتہ نہیں چل سکتا کہ کون سوار ہے اور کون پیدل ہے، تو آپ نے کس کو سبب قرار دیا؟ سرحد عبور کرنے کو، جبکہ اس کے بجائے لڑائی کے اندر حاضر ہونا یعنی لشکر کے اندر حاضر ہونا لڑائی کے وقت، اس کو سبب قرار دینا چاہیے کیونکہ یہ لڑائی کے قریب ہے۔ جی۔ جب لشکروں نے آ کر آمنے سامنے پڑاؤ ڈال دیا، اب آگے چل کر کیا ہوگی؟ لڑائی ہوگی۔ تو لشکر کے اندر حاضر ہونا لڑائی کے موقع پر، جی، یہ لڑائی کے قریب ہے بنسبت سرحد عبور کرنے کے کہ وہ تو بات بہت پیچھے گزر چکی ہے، تو لہٰذا وہ فرماتے ہیں کس کا اعتبار کرنا چاہیے؟ لڑائی کے وقت اس لشکر میں حاضر ہونے کا اعتبار کرنا چاہیے، سرحد عبور کرنے کا اعتبار نہیں کرنا چاہیے۔ توجہ ہے؟ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل پھر سن لیں بھئی، وہ فرماتے ہیں کہ سرحد عبور کرنا یہ وسیلہ ہے سبب تک پہنچنے کا یعنی لڑائی تک پہنچنے کا، جی، اور وسیلے کا اعتبار نہیں کیا جاتا، سبب کا اعتبار کیا جاتا ہے، لہٰذا یہاں لڑائی کا اعتبار کرنا چاہیے، جی، کہ لڑائی کے اندر وہ کس طرح حاضر تھا، گھوڑے پر سوار تھا یا پیدل تھا بھئی۔ اور پھر امام شافعی رحمہ اللہ ہماری دلیل کا جواب دیتے ہیں، ہماری دلیل آگے ذکر ہوگی کہ لڑائی کے اندر یا لڑائی کے موقع پر جو حاضر ہوتے ہیں، اس وقت ان کی حالت پر مطلع ہونا ممکن نہیں ہے کیونکہ اس وقت سب لڑائی کی تیاری میں مصروف ہوتے ہیں، لہٰذا اس سرحد عبور کرنے کا ہی اعتبار کرنا پڑے گا۔ تو پہلا جواب امام شافعی رحمہ اللہ انکاری دیتے ہیں کہ جہاد کے بعض احکام کا تعلق عینِ لڑائی سے ہوتا ہے، جی، جیسے بچہ یا غلام لڑائی میں حصہ لیں تو ان کو تھوڑا سا مال دیا جاتا ہے، یا اسی طرح لڑائی کے اندر جو شہید ہو جائے تو اس کو غسل نہیں دیا جاتا، معلوم ہوا کچھ احکام کا تعلق عینِ لڑائی سے ہے، معلوم ہوا لڑائی کے وقت بھی ان چیزوں پر مطلع ہونا ممکن ہے۔ اور دوسرا جواب تسلیمی دیا، اگر آپ کی بات ہم تسلیم کر لیں کہ لڑائی کے وقت ان چیزوں پر مطلع ہونا ممکن نہیں، تو پھر بھی، پھر بھی ایک ہے سرحد کا عبور کرنا اور ایک ہے لڑائی کے وقت اس لشکر میں حاضر ہونا، تو یہ جو لشکر میں حاضر ہونا ہے یہ لڑائی کے زیادہ قریب ہے، لہٰذا اس کو سبب قرار دینا چاہیے، سرحد کو عبور کرنا وہ تو بات بہت پہلے گزر چکی ہے، اس کو سبب قرار نہیں دینا چاہیے۔ بات سمجھ میں آگئی۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: وَتَعْلِيقُ الْأَحْكَامِ بِالْقِتَالِ، اور لڑائی کے ساتھ احکام کو معلق کرنا، يَدُلُّ عَلَى إِمْكَانِ الْوُقُوفِ عَلَيْهِ، وہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس پر مطلع ہونا ممکن ہے کہ یہ پیدل لڑا ہے یا گھڑ سوار ہو کر لڑا ہے۔ وَلَوْ تَعَذَّرَ أَوْ تَعَسَّرَ، اور اگر آپ کی بات... مان لی جائے کہ لڑائی کے وقت ان چیزوں پر مطلع ہونا ممکن نہیں ہے ”أَوْ تَعَسَّرَ“ یا مشکل ہے تو ”يُعَلَّقُ بِشُهُودِ الْوَقْعَةِ“ تو پھر بھی احکام کا تعلق جو ہے لڑائی کے اندر حاضر ہونے کے ساتھ ہونا چاہیے ”لِأَنَّهُ أَقْرَبُ إِلَى الْقِتَالِ“ کیونکہ یہ لڑائی کے زیادہ قریب ہے۔ اور مجاوزت؟ وہ تو دور ہے بھئی، وہ تو بہت پہلے ہو چکی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو حاصلِ کلام یہ کہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک ایک ہے لڑائی، اور ایک ہے لڑائی سے پہلے وہ جو دونوں لشکر ایک دوسرے کے سامنے آ گئے، یعنی شہودِ وقعہ، لڑائی میں حاضر ہونا یعنی لڑائی کے وقت لشکر میں حاضر ہونا، توجہ ہے؟ تو ایک ہے لڑائی اور ایک ہے لڑائی کے وقت لشکر میں حاضر ہونا، اور ایک ہے سرحد کو عبور کرنا۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اصل میں تو غنیمت کا مستحق ہونے کا سبب لڑائی کو قرار دینا چاہیے۔ کس کو؟ لڑائی کو قرار دینا چاہیے کیونکہ لڑائی کے اندر بھی امام دوسروں کی حالت پر مطلع ہو سکتا ہے، اسی لیے تو جہاد کے بعض احکام جو ہیں وہ لڑائی کی حالت سے ہی متعلق ہیں۔ اور اگر ہم آپ کی بات مان بھی لیں کہ لڑائی کے اندر امام یا اس کا نائب سب کی حالت پر مطلع نہیں ہو سکتے، تو پھر بھی لڑائی سے پہلے جو شہودِ وقعہ ہے یعنی لشکر کے اندر حاضر ہونا اس کو سبب قرار دینا چاہیے، نہ کہ سرحد کو عبور کرنے کو، کیونکہ سرحد کو عبور کرنا وہ بات تو دور گزر چکی ہے بھئی، اس کو تو وقت گزر گیا ہے، جبکہ لشکر کے اندر حاضر ہونا یہ تو لڑائی کے قریب ہے۔ تو قریب والی چیز کو سبب قرار دینا چاہیے غنیمت کا، نہ کہ دور والی چیز کو۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ ”وَلَنَا“ اب ہماری دلیل آ گئی۔ ”وَلَنَا“ ہماری دلیل یہ ہے ”أَنَّ الْمُجَاوَزَةَ نَفْسَهَا قِتَالٌ“ ”نَفْسَهَا“ اس کو منصوب پڑھنا ہے بھئی کیونکہ یہ تاکید ہے مجاوزت کی اور مجاوزت ”أَنَّ“ کا اسم ہے منصوب ہے اور تاکید کا وہی اعراب ہوتا ہے جو مؤکد کا اعراب ہوتا ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل یہ ہے ”أَنَّ الْمُجَاوَزَةَ نَفْسَهَا قِتَالٌ“ کہ مجاوزت خود ہی لڑائی ہے۔ ہم کیا کہتے ہیں؟ کہ مجاوزت یہ سرحد کو عبور کرنا ہی لڑائی ہے۔ بھئی کیوں؟ یہ کس طرح لڑائی ہے؟ کہتے ہیں ”لِأَنَّهُ يَلْحَقُهُمُ الْخَوْفُ بِهَا“ کیونکہ اس کی وجہ سے دشمن کو خوف لاحق ہو گا۔ جب مسلمان سرحد عبور کریں گے تو اسی کی خبریں دشمن کو پہنچیں گی اور اس پر ہیبت طاری ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں ”لِأَنَّهُ يَلْحَقُهُمُ الْخَوْفُ بِهَا“ اس لیے کیونکہ اس کی وجہ سے دشمن کو خوف ہو گا ”وَالْحَالُ بَعْدَهَا حَالَةُ الدَّوَامِ“ اور اس سرحد عبور کرنے کے بعد کی جو حالت ہے ”حَالَةُ الدَّوَامِ“ وہ تو دوام کی حالت ہے۔ ایک ہے ابتدائے قتال اور ایک ہے دوامِ قتال۔ ابتدائے قتال کا اعتبار ہے، دوامِ قتال کا اعتبار نہیں۔ توجہ ہے؟ بالاتفاق ہمارے نزدیک بھی اور شوافع کے نزدیک بھی، لڑائی کی آغاز کا اعتبار ہے دوامِ قتال کا اعتبار نہیں۔ ایک آدمی گھوڑا لے کر میدانِ جنگ میں آ گیا، لڑائی شروع کر دی، تو اس کو شہسوار کا حصہ ملے گا اگرچہ لڑائی کا دوام گھوڑے پر نہ ہوا، اس آدمی کا گھوڑا مارا گیا۔ اس آدمی کا گھوڑا مارا گیا یا کسی جگہ پر گھوڑے سے اتر کر لڑنا پڑا کیونکہ وہ جگہ ہی اتنی تنگ ہے کہ گھوڑے پر رہ کر لڑائی کی ہی نہیں جا سکتی، تو اس صورت میں بھی دیکھو، دوامِ قتال کے اندر گھوڑا موجود نہیں لیکن پھر بھی ہمارے نزدیک بھی اس آدمی کو شہسوار کا حصہ ملے گا اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بھی اس کو شہسوار کا حصہ ملے گا۔ معلوم ہوا اعتبار کس کا ہے؟ ابتدائے قتال کا ہے، دوامِ قتال کا اعتبار نہیں ہے۔ دلیل سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں ”وَالْحَالُ بَعْدَهَا حَالَةُ الدَّوَامِ“ اور سرحد عبور کرنے کے بعد جو ہے وہ تو دوامِ قتال کی حالت ہے ”وَلَا مُعْتَبَرَ بِهَا“ اور حالتِ دوام تو بالاتفاق معتبر نہیں ہے ”لِأَنَّ الْوُقُوفَ عَلَى حَقِيقَةِ الْقِتَالِ مُتَعَسِّرٌ“ اس لیے کیونکہ حقیقۃً قتال پر مطلع ہونا مشکل ہے، کس شخص نے حقیقۃً لڑائی کس طرح کی ہے اس پر مطلع ہونا مشکل ہے۔ تو کہتے ہیں ”لِأَنَّ الْوُقُوفَ عَلَى حَقِيقَةِ الْقِتَالِ مُتَعَسِّرٌ“ اس لیے کیونکہ حقیقی لڑائی پر مطلع ہونا تو مشکل ہے یعنی امام اور اس کے نائب کے لیے ”وَكَذَا عَلَى شُهُودِ الْوَقْعَةِ“ اور اسی طرح لڑائی میں حاضری پر یعنی اس پر مطلع ہونا بھی مشکل ہے۔ میں نے بتلایا تھا شہود کا معنی حاضر ہونا اور وقعۃ کا معنی ہے لڑائی، اور اسی طرح لڑائی کے اندر حاضر ہونا اس پر بھی مطلع ہونا مشکل ہے کیونکہ سب لڑائی کی تیاریوں میں مصروف ہیں بھئی، دشمن کی فوج سامنے آ چکی ہے بھئی ”لِأَنَّهُ حَالُ الْتِقَاءِ الصَّفَّيْنِ“ اس لیے کیونکہ یہ دو صفوں کے ملنے کی حالت ہے۔ ایک صف دشمن کی ہے اور ایک ہماری ہے تو ان دو صفوں کے ملنے کی حالت ہے تیاریاں ہو رہی ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں ”لِأَنَّهُ حَالُ الْتِقَاءِ الصَّفَّيْنِ“ اس لیے کیونکہ یہ دو صفوں کے ملنے کی حالت ہے ”فَتُقَامُ الْمُجَاوَزَةُ مَقَامَهُ“ تو لہٰذا مجاوزت کو ہی اس کے قائم مقام کیا جائے گا، مجاوزت کو ہی اس لڑائی کے قائم مقام کر دیا جائے گا کیونکہ لڑائی کے اندر حاضر ہونا اس پر بھی مطلع ہونا مشکل ہے اور لڑائی پر مطلع ہونا بھی مشکل ہے، تو مجاوزت کو ہی اس سبب کے قائم مقام کر دیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں ”فَتُقَامُ الْمُجَاوَزَةُ مَقَامَهُ“ لہٰذا مجاوزت کو ہی اس لڑائی کے قائم مقام کر دیا جائے گا ”إِذْ هُوَ السَّبَبُ الْمُفْضِي إِلَيْهِ ظَاهِرًا“ اس لیے کیونکہ مجاوزت ہی وہ سبب ہے جو ظاہر کے اعتبار سے اس تک پہنچانے والا ہے ”إِذَا كَانَ عَلَى قَصْدِ الْقِتَالِ“ جب وہ مجاوزت لڑائی کے ارادے سے ہو، مجاوزت ہی اس لڑائی تک پہنچانے والی ہے، سرحد عبور کریں گے تو پھر ہی لڑائی تک پہنچیں گے تو مجاوزت سبب ہے۔ تو یہ معنی ہے ”إِذْ هُوَ السَّبَبُ الْمُفْضِي إِلَيْهِ ظَاهِرًا“ اس لیے کیونکہ ظاہرًا یہی سبب ہے لڑائی تک پہنچانے والا ”إِذَا كَانَ عَلَى قَصْدِ الْقِتَالِ“ جب یہ مجاوزت لڑائی کے ارادے سے ہو، اگر کوئی تجارت کے ارادے سے مجاوزت کرتا ہے اس کا حصہ نہیں ہو گا بھئی۔ تو کہتے ہیں ”إِذَا كَانَ عَلَى قَصْدِ الْقِتَالِ“ جب لڑائی کے ارادے سے یہ مجاوزت ہو ”فَيُعْتَبَرُ حَالُ الشَّخْصِ حَالَةَ الْمُجَاوَزَةِ فَارِسًا كَانَ أَوْ رَاجِلًا“ ”فَيُعْتَبَرُ حَالُ الشَّخْصِ حَالَةَ الْمُجَاوَزَةِ“ تو مجاوزت کی حالت میں اس شخص کی حالت کا اعتبار کیا جائے گا ”فَارِسًا كَانَ أَوْ رَاجِلًا“ شہسوار ہو یا وہ پیدل ہو۔ ”وَلَوْ دَخَلَ فَارِسًا وَقَاتَلَ رَاجِلًا“ اور اگر ایک شخص داخل تو ہوا شہسوار ہو کر یعنی دار الحرب میں ”وَقَاتَلَ رَاجِلًا“ لیکن اس نے لڑائی کی پیدل ہو کر ”لِضِيقِ الْمَكَانِ“ جگہ کے تنگ ہونے کی وجہ سے کہ وہاں گھوڑوں پر لڑائی ہی نہیں کی جا سکتی تھی ”يَسْتَحِقُّ سَهْمَ الْفُرْسَانِ بِالِاتِّفَاقِ“ تو یہ شخص بالاتفاق شہسواروں کے حصے کا مستحق ہو گا بالاتفاق یعنی ہمارے نزدیک بھی اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بھی۔ ”وَلَوْ دَخَلَ فَارِسًا“ اور اگر ایک شخص شہسوار ہو کر داخل ہوا ”ثُمَّ بَاعَ فَرَسَهُ“ پھر اس نے اپنا گھوڑا بیچ دیا ”أَوْ وَهَبَ“ یا گھوڑا اس نے کسی کو ہبہ کر دیا ”أَوْ آجَرَ“ یا اس نے وہ گھوڑا کرائے پر دے دیا ”أَوْ رَهَنَ“ یا اس نے وہ گھوڑا کسی کے پاس بطورِ رہن کے رکھوا دیا، قرض کے بدلے میں بطورِ رہن کے رکھوا دیا ”فَفِي رِوَايَةِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُمَا اللهُ“ تو حسن ابن زیاد رحمہ اللہ کی جو روایت ہے امام صاحب سے اس کے مطابق ”يَسْتَحِقُّ سَهْمَ الْفُرْسَانِ“ یہ شہسواروں کے حصے کا مستحق ہو گا ”اعْتِبَارًا لِلْمُجَاوَزَةِ“ مجاوزت کا اعتبار کرتے ہوئے کہ مجاوزت کے وقت تو یہ شہسوار۔ بھئی دیکھیے، ایک شخص جو ہے گھوڑے کے ساتھ اس نے سرحد عبور کر لی لیکن آگے جا کر وہ گھوڑے کو بیچ دیتا ہے یا کسی کو تحفہ وغیرہ دے دیتا ہے اور لڑائی پیدل کرتا ہے، تو کیا اس کو شہسواروں والا حصہ ملے گا یا نہیں؟ تو اس میں یاد رکھو، تین صورتیں بنتی ہیں۔ یا تو وہ لڑائی سے پہلے ہی گھوڑا بیچ دیتا ہے یا اس کو رہن وغیرہ پر رکھوا دیتا ہے، دوسری صورت ہے لڑائی کے بیچ میں وہ گھوڑا بیچتا ہے، تیسری صورت ہے لڑائی کے بعد وہ گھوڑا بیچتا ہے۔ تو اگر لڑائی کے بعد وہ گھوڑا بیچتا ہے پھر تو بالاتفاق اس کو شہسواروں کا حصہ ملے گا کیونکہ اس نے لڑائی کے گزر جانے کے بعد گھوڑے کو بیچا ہے، لیکن اگر لڑائی کے بیچ میں گھوڑا بیچا یا لڑائی سے پہلے گھوڑا بیچا تو پھر اس صورت میں یاد رکھو اس کو شہسواروں والا حصہ نہیں ملے گا۔ معلوم ہوا، معلوم ہوا یہ جو گھوڑے کو یہاں لایا تھا اس کا مقصد اس گھوڑے پر جہاد نہیں تھا کیونکہ جہاد سے پہلے ہی اس نے بیچ دیا ہے، جہاد سے، لڑائی سے پہلے ہی اس نے اس کو بیچ دیا ہے۔ البتہ حسن ابن زیاد رحمہ اللہ ایک روایت ذکر کرتے ہیں امام صاحب سے کہ ظاہری سبب کو دیکھا جائے گا اور ظاہری سبب تو یہ تھا کہ اس نے جب سرحد عبور کی تھی اس وقت یہ شہسوار تھا تو لہٰذا اس کو شہسواروں والا حصہ ملے گا۔ تو کہتے ہیں ”فَفِي رِوَايَةِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُمَا اللهُ“ تو حسن ابن زیاد رحمہ اللہ کی جو روایت ہے امام صاحب سے ”يَسْتَحِقُّ سَهْمَ الْفُرْسَانِ“ یہ شہسواروں کے حصے کا مستحق ہو گا ”اعْتِبَارًا لِلْمُجَاوَزَةِ“ مجاوزت کا اعتبار کرتے ہوئے کہ اس وقت تو یہ شہسوار تھا ”وَفِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ يَسْتَحِقُّ سَهْمَ الرَّجَّالَةِ“ اور ظاہرِ روایت میں یہ پیادوں کے حصے کا مستحق ہو گا۔ رجالہ بھئی، رجالہ جمع ہے راجل کی، جمع ہے راجل کی جیسے فرسان جمع ہے فارس کی۔ تو کہتے ہیں ”وَفِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ يَسْتَحِقُّ سَهْمَ الرَّجَّالَةِ“ تو ظاہرِ روایت کے مطابق یہ جو ہے پیادوں کے حصے کا مستحق ہو گا ”لِأَنَّ الْإِقْدَامَ عَلَى هَذِهِ التَّصَرُّفَاتِ“ اس لیے کیونکہ اس کی پیش قدمی کرنا ان تصرفات پر، یہ جو اس نے گھوڑا بیچ دیا یا ہبہ کر دیا یا کرائے وغیرہ پر دے دیا تو اس کا پیش قدمی کرنا ان تصرفات پر ”يَدُلُّ“ یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے ”عَلَى أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ مِنْ قَصْدِهِ بِالْمُجَاوَزَةِ الْقِتَالُ فَارِسًا“ ”يَدُلُّ“ یہ دلالت کرتا ہے ”عَلَى أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ مِنْ قَصْدِهِ“ کہ اس کا ارادہ نہیں تھا ”بِالْمُجَاوَزَةِ“ سرحد کو عبور کرنے کے ذریعے ”الْقِتَالُ فَارِسًا“ شہسوار ہو کر لڑائی کا۔ اس کا ارادہ نہیں تھا کہ وہ شہسوار ہو کر لڑائی کرے گا کیونکہ جب اس نے گھوڑا بیچ دیا یا تحفے میں دے دیا یا کرائے پر دے دیا یا رہن وغیرہ رکھوا دیا معلوم ہوا سرحد عبور کرتے وقت ہی اس کا ارادہ نہیں تھا شہسوار ہو کر لڑنے کا۔ معنی سمجھ میں آ گیا۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں ”لِأَنَّ الْإِقْدَامَ عَلَى هَذِهِ التَّصَرُّفَاتِ“ اس لیے کیونکہ ان تصرفات پر پیش قدمی کرنا ”يَدُلُّ“ یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے ”عَلَى أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ مِنْ قَصْدِهِ بِالْمُجَاوَزَةِ“ کہ مجاوزت کے ذریعے اس کا ارادہ نہیں تھا ”الْقِتَالُ فَارِسًا“ شہسوار ہو کر لڑنے کا۔ ”وَلَوْ بَاعَهُ بَعْدَ الْفَرَاغِ“ اور اگر اس نے گھوڑا بیچا ہے لڑائی سے فارغ ہونے کے بعد ”لَمْ يَسْقُطْ سَهْمُ الْفُرْسَانِ“ تو اب شہسواروں کا حصہ ساقط نہیں ہو گا ”وَكَذَا إِذَا بَاعَ فِي حَالَةِ الْقِتَالِ“ اور اسی طرح اگر اس نے گھوڑا بیچ دیا لڑائی کی حالت میں یعنی لڑائی کے درمیان میں ”عِنْدَ الْبَعْضِ“ بعض فقہاء کے نزدیک، یعنی بعض فقہاء فرماتے ہیں لڑائی کے بیچ میں بھی اگر یہ گھوڑا بیچ دے تو بھی اس کو شہسواروں والا حصہ ملے گا۔ کہتے ہیں ”وَالْأَصَحُّ أَنَّهُ يَسْقُطُ“ اور زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ شہسواروں کا حصہ ساقط ہو جائے گا۔ لڑائی کے بیچ میں بھی اگر یہ گھوڑا بیچتا ہے تو شہسواروں کا حصہ ساقط ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں ”وَالْأَصَحُّ أَنَّهُ يَسْقُطُ“ اور زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ لڑائی کے بیچ اگر اس نے گھوڑا بیچا تو شہسواروں کا حصہ ساقط ہو جائے گا ”لِأَنَّ الْبَيْعَ يَدُلُّ عَلَى أَنَّ غَرَضَهُ التِّجَارَةُ فِيهِ“ اس لیے کیونکہ گھوڑے کا بیچنا وہ دلالت کرتا ہے ”عَلَى أَنَّ غَرَضَهُ التِّجَارَةُ فِيهِ“ کہ اس کی غرض اس کے اندر تجارت تھی۔ لڑائی کے دوران اس نے بیچا ہے معلوم ہے اس گھوڑے کے اندر اس کی غرض تجارت تھی، جہاد میں حصہ لینا نہیں تھا۔ کہتے ہیں بھئی لڑائی کے بیچ میں اس نے بیچا ہے؟ تو کہتے ہیں بھئی یہ لڑائی کے درمیان میں اس نے اس لیے بیچا کہ اب لڑائی شروع ہو گئی ہے اور لڑائی جب شروع ہوئی گھوڑوں کی قیمت اور زیادہ بڑھ گئی، ان کی اہمیت اور زیادہ بڑھ گئی، تو اب گھوڑے زیادہ قیمت پر بکے گا۔ معلوم ہوا یہ لڑائی کے دوران اس نے اس لیے بیچا ہے تاکہ گھوڑوں کی قیمت بڑھ جائے بھئی، معلوم ہوا اس کا مقصد اس گھوڑے پر جہاد نہیں تھا۔ کہتے ہیں ”لِأَنَّ الْبَيْعَ يَدُلُّ عَلَى أَنَّ غَرَضَهُ التِّجَارَةُ فِيهِ“ اس لیے کیونکہ اس کا بیچنا دلالت کرتا ہے کہ اس کا مقصد اس کے اندر تجارت تھی ”إِلَّا أَنَّهُ يَنْتَظِرُ عِزَّتَهُ“ مگر یہ کہ یہ اس کے معزز ہونے کا انتظار کر رہا تھا، اس گھوڑے کے معزز ہونے کا یعنی قیمتی ہونے کا انتظار کر رہا تھا کہ لڑائی شروع ہو گی تو گھوڑے کی اہمیت اور زیادہ بڑھ جائے گی تو اور زیادہ قیمت کے ساتھ وہ اسے بیچ سکے گا۔ تو یہ معنی ہے ”إِلَّا أَنَّهُ يَنْتَظِرُ عِزَّتَهُ“ مگر یہ کہ وہ اس گھوڑے کے معزز ہونے کا انتظار کر رہا تھا۔ آگے دیکھیے: ”وَلَا يُسْهَمُ لِمَمْلُوكٍ وَلَا امْرَأَةٍ وَلَا صَبِيٍّ وَلَا مَجْنُونٍ وَلَا ذِمِّيٍّ“ بھئی اب ان لوگوں کا ذکر آ گیا جن کو پورا حصہ نہیں ملے گا۔ بالغ مسلمان مرد اگر پیدل ہے تو اس کو ایک حصہ، اگر شہسوار ہے تو اس کو دو حصے ملیں گے، لیکن اگر کوئی بچہ ہے یا مجنون ہے یا عورت ہے یا کوئی ذمی ہے اور انہوں نے لڑائی میں حصہ لیا ہے تو پھر ان کو پورا حصہ تو نہیں ملے گا البتہ کچھ مال ان کو بھی دیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں ”وَلَا يُسْهَمُ لِمَمْلُوكٍ“ اور حصہ نہیں نکالا جائے گا مملوک کے لیے یعنی غلام اور باندی کے لیے ”وَلَا امْرَأَةٍ“ اور نہ کسی عورت کے لیے ”وَلَا صَبِيٍّ“ اور نہ کسی بچے کے لیے ”وَلَا مَجْنُونٍ“ اور نہ کسی مجنون کے لیے ”وَلَا ذِمِّيٍّ“ اور نہ کسی ذمی کے لیے ”وَلَكِنْ يُرْزَخُ لَهُمْ عَلَى حَسَبِ مَا يَرَى الْإِمَامُ“ رَزَخَ يَرْزَخُ کے معنی ہیں تھوڑا سا مال دینا، حصے میں سے تھوڑا سا مال دینا ”وَلَكِنْ يُرْزَخُ لَهُمْ“ لیکن ان کو تھوڑا سا مال دیا جائے گا ”عَلَى حَسَبِ مَا يَرَى الْإِمَامُ“ اسی کے مطابق جو امام کی رائے ہو ”لِمَا رُوِيَ“ بوجہ اس حدیث کے جس کو روایت کیا گیا ہے ”أَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ كَانَ لَا يُسْهِمُ لِلنِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ وَالْعَبِيدِ وَلَكِنْ كَانَ يَرْزَخُ لَهُمْ“ بوجہ اس حدیث کے جس کو روایت کیا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ”كَانَ لَا يُسْهِمُ لِلنِّسَاءِ“ کہ وہ حصہ نہیں نکالتے تھے عورتوں کے لیے ”وَالصِّبْيَانِ وَالْعَبِيدِ“ اور بچوں اور غلاموں کے لیے ”وَلَكِنْ كَانَ يَرْزَخُ لَهُمْ“ لیکن ان کو حضور تھوڑا سا مال دیتے تھے ”وَلَمَّا اسْتَعَانَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ بِالْيَهُودِ عَلَى الْيَهُودِ“ اور جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدد لی یہودیوں سے یہودیوں کے مقابلے میں، خیبر کے اندر بعض یہودیوں سے حضور علیہ السلام نے مدد لی دوسرے یہودیوں کے مقابلے میں، تو کہتے ہیں ”وَلَمَّا اسْتَعَانَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ بِالْيَهُودِ عَلَى الْيَهُودِ“ اور جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کے خلاف یہودیوں سے مدد لی ”لَمْ يُعْطِهِمْ شَيْئًا مِنَ الْغَنِيمَةِ“ تو ان کو غنیمت میں سے کچھ نہیں دیا، ان کو غنیمت میں سے کچھ نہیں دیا۔ صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ بھئی یہ معنی نہیں کہ ان کو کچھ مال بھی نہیں دیا، معنی یہ ہے کہ غنیمت میں سے باقاعدہ ان کو حصہ نہیں دیا، معنی کیا ہے؟ باقاعدہ حصہ نہیں دیا، ہاں تھوڑا سا مال دیا۔ دیکھو خود بتلا رہے ہیں، کہتے ہیں ”يَعْنِي أَنَّهُ لَمْ يُسْهِمْ لَهُمْ“ یعنی حضور نے ان کے لیے حصہ نہیں نکالا، تھوڑا سا مال تو دیا لیکن باقاعدہ حصہ نہیں دیا۔ ”وَلِأَنَّ الْجِهَادَ عِبَادَةٌ“ اور نیز اس لیے کیونکہ جہاد عبادت ہے ”وَالذِّمِّيُّ لَيْسَ مِنْ أَهْلِ الْعِبَادَةِ“ اور ذمی جو ہے وہ تو اہلِ عبادت نہیں ہے لہٰذا اس کو پورا حصہ نہیں دیا جا سکتا ”وَالصَّبِيُّ وَالْمَرْأَةُ عَاجِزَانِ عَنْهُ“ اور بچہ اور عورت جو ہیں وہ تو لڑائی سے عاجز ہیں ”وَلِهَذَا لَمْ يَلْحَقْهُمَا فَرْضُهُ“ اور اسی لیے ان کے ساتھ اس جہاد کا فرض لاحق نہیں ہے یعنی ان پر جہاد فرض نہیں ہے۔ یہ چونکہ بچہ اور عورت تو لڑائی سے عاجز ہیں لہٰذا اسی لیے ان پر جہاد فرض بھی نہیں ہے۔ یہ معنی ہے، کہتے ہیں ”وَالصَّبِيُّ وَالْمَرْأَةُ عَاجِزَانِ عَنْهُ“ اور بچہ اور عورت جو ہیں وہ جہاد سے عاجز ہیں ”وَلِهَذَا لَمْ يَلْحَقْهُمَا فَرْضُهُ“ اسی لیے جہاد کا فرض ان کے ساتھ لاحق نہیں یعنی جہاد ان پر فرض نہیں ہے ”وَالْعَبْدُ لَا يُمَكِّنُهُ الْمَوْلَى“ اور غلام جو ہے اس کو تو آقا قدرت نہیں دے گا، آقا جہاد کی اجازت نہیں دے گا ”وَلَهُ مَنْعُهُ“ اور نیز آقا کے لیے جائز ہے اس کو روکنا، آقا اس کو لڑائی سے روک سکتا ہے ”إِلَّا أَنَّهُ يُرْزَخُ لَهُمْ“ مگر یہ کہ ان سب کو تھوڑا سا حصہ دیا جائے گا، یہ جو ذمی ہے، غلام ہے، یا عورتیں اور بچے ہیں جنہوں نے لڑائی میں حصہ لیا ہے۔ تو کہتے ہیں ”إِلَّا أَنَّهُ يُرْزَخُ لَهُمْ“ مگر یہ کہ ان کو تھوڑا سا مال دیا جائے گا ”تَحْرِيضًا عَلَى الْقِتَالِ“ لڑائی پر ابھارنے کے لیے ”مَعَ إِظْهَارِ انْحِطَاطِ رُتْبَتِهِمْ“ انحطاط کا معنی ہے پست ہونا، ”مَعَ إِظْهَارِ انْحِطَاطِ رُتْبَتِهِمْ“ ساتھ ان کے رتبے کے کم ہونے کا اظہار کرتے ہوئے، یعنی ان کو کچھ مال دے دیں گے تاکہ لڑائی پر تحریص بھی ہو جائے کہ ان کو لڑائی پر بھی ابھارا جائے اور نیز ان کا رتبہ کم ہونے کا اظہار بھی کیا جائے۔ یہ معنی ہے ”إِلَّا أَنَّهُ يُرْزَخُ لَهُمْ تَحْرِيضًا عَلَى الْقِتَالِ“ مگر یہ کہ ان کو تھوڑا سا مال دیا جائے گا لڑائی پر ان کو ابھارنے کے لیے ”مَعَ إِظْهَارِ انْحِطَاطِ رُتْبَتِهِمْ“ اور ساتھ ان کے رتبے کے کم ہونے کا اظہار کرتے ہوئے ”وَالْمُكَاتَبُ بِمَنْزِلَةِ الْعَبْدِ“ اور مکاتب جو ہے وہ غلام کے درجے میں ہے۔ بھئی مکاتب وہ غلام جسے آقا نے عقدِ کتابت کر لیا ہے کہ مثلاً دو سال تک ہر مہینے تم ایک لاکھ روپیہ لے آؤ تو تم آزاد ہو، تو یہ مکاتب آپ نے پڑھا ہے، یہ آزاد آدمی کی طرح ہو گیا ہے، آقا اس سے اب جبراً خدمت نہیں لے سکتا، یہ جائے گا جا کر پیسے کمائے گا اور اپنے آپ کو آزاد کروائے گا، لیکن اگر مکاتب عاجز آ جائے تو پھر وہ پہلے جیسا غلام بن جائے گا۔ تو کہتے ہیں ”وَالْمُكَاتَبُ بِمَنْزِلَةِ الْعَبْدِ“ اور مکاتب جو ہے وہ بھی عام غلام کے درجے میں ہے ”لِقِيَامِ الرِّقِّ“ غلامی پائے جانے کی وجہ سے ”وَتَوَهُّمِ عَجْزِهِ“ اور اس کے عاجز ہونے کے وہم کی وجہ سے۔ بھئی مکاتب کا آزاد ہونا تو یقینی نہیں، آزاد ہونا یقینی نہیں، اگر یہ کمائی سے عاجز آ گیا تو یہ پھر پہلے جیسا غلام بن جائے گا، اور جب پھر پہلے جیسا غلام بن جائے گا تو اب اس کا آقا اس کو لڑائی سے منع کر سکتا ہے، لہٰذا معلوم ہوا یہ مکاتب عام غلام کے درجے میں ہے۔ یہ معنی ہے ”لِقِيَامِ الرِّقِّ“ غلامی پائے جانے کی وجہ سے ”وَتَوَهُّمِ عَجْزِهِ“ اور اس کے عاجز آنے کے وہم کی وجہ سے ”فَيَمْنَعُهُ الْمَوْلَى عَنِ الْخُرُوجِ إِلَى الْقِتَالِ“ تو اس کا آقا اس کو منع کرے گا لڑائی کی طرف نکلنے سے، جب یہ عاجز آ جائے گا تو اس کا آقا اسے منع کرے گا۔ ”ثُمَّ الْعَبْدُ إِنَّمَا يُرْزَخُ لَهُ إِذَا قَاتَلَ“ اب بتلانے لگے ہیں کہ تھوڑا سا غلام کو مال دیں گے کب دیں گے؟ کیا وہ لڑائی کے وقت حاضر ہو تو اسے اس کا حصہ دیں گے یا وہ باقاعدہ لڑائی میں حصہ لے؟ کہتے ہیں بھئی اگر وہ باقاعدہ لڑائی میں حصہ لے پھر اس کو کچھ مال دیں گے۔ کہتے ہیں ”ثُمَّ الْعَبْدُ إِنَّمَا يُرْزَخُ لَهُ إِذَا قَاتَلَ“ اور پھر غلام کو کچھ مال دیا جائے گا جب وہ لڑائی کرے ”لِأَنَّهُ دَخَلَ لِخِدْمَةِ الْمَوْلَى“ اس لیے کیونکہ وہ تو لشکر میں داخل ہوا ہے اپنے آقا کی خدمت کے لیے، لہٰذا خدمت کی وجہ سے اس کو مال نہیں دیا جائے گا بھئی ”فَصَارَ كَالتَّاجِرِ“ تو وہ بھی تاجر کی طرح ہو گیا اور جو شخص تجارت کے لیے آیا ہے اس کا حصہ بھی مالِ غنیمت میں نہیں ہوتا، تو کہتے ہیں ”فَصَارَ كَالتَّاجِرِ“ تو یہ غلام بھی تاجر کی طرح ہو گیا تو اس کا بھی حصہ نہیں ہو گا۔ ”وَالْمَرْأَةُ تُرْزَخُ لَهَا إِذَا كَانَتْ تُدَاوِي الْجَرْحَى وَتَقُومُ عَلَى الْمَرْضَى“ بھئی عورت یاد رکھو، عورت تو لڑائی نہیں کر سکتی تو وہ اگر لوگوں کا علاج معالجہ کرتی ہے اور مریضوں کی دیکھ بھال کرتی ہے تو اس کا یہی عمل اس کی طرف سے قتال اور لڑائی ہے، تو اس کی وجہ سے اس کو بھی مال دیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں ”وَالْمَرْأَةُ تُرْزَخُ لَهَا“ اور عورت کو کچھ مال دیا جائے گا ”إِذَا كَانَتْ تُدَاوِي الْجَرْحَى“ جرحى جمع ہے جریح کی، زخمی کو کہتے ہیں، ”إِذَا كَانَتْ تُدَاوِي الْجَرْحَى“ جب وہ زخمیوں کا علاج معالجہ کرے ”وَتَقُومُ عَلَى الْمَرْضَى“ اور وہ مریضوں کی دیکھ بھال کرے ”لِأَنَّهَا عَاجِزَةٌ عَنْ حَقِيقَةِ الْقِتَالِ“ اس لیے کیونکہ وہ حقیقی لڑائی سے تو عاجز ہے ”فَتُقَامُ هَذَا النَّوْعُ مِنَ الْإِعَانَةِ مَقَامَ الْقِتَالِ“ تو اس قسم کی جو مدد ہے وہ لڑائی کے قائم مقام ہو جائے گی ”بِخِلَافِ الْعَبْدِ“ بخلاف غلام کے کہ غلام کی خدمت کی وجہ سے اس کو مال نہیں ملے گا بلکہ وہ حقیقت میں لڑائی کر سکتا ہے تو اس میں پھر حقیقۃً لڑائی کرنے پر اس کو کچھ مال دیا جائے گا۔ کہتے ہیں ”بِخِلَافِ الْعَبْدِ“ بخلاف غلام کے ”لِأَنَّهُ قَادِرٌ عَلَى حَقِيقَةِ الْقِتَالِ“ اس لیے کیونکہ وہ حقیقی لڑائی پر قادر ہے ”وَالذِّمِّيُّ إِنَّمَا يُرْزَخُ لَهُ إِذَا قَاتَلَ أَوْ دَلَّ عَلَى الطَّرِيقِ“ اور ذمی کو بھی کچھ مال دیا جائے گا جب اس نے لڑائی کی ہو ”أَوْ دَلَّ عَلَى الطَّرِيقِ“ یا اس نے راستے پر رہنمائی کی ہو۔ بھئی ذمی نے لڑائی کی ہے تو اس کو بھی کچھ مال دیا جائے گا اور اگر اس نے مسلمانوں کی راستے کے اندر رہنمائی کی، مثلاً مسلمانوں کو لے گیا وہ ایسے راستوں پر جہاں سے مسلمانوں نے حملہ کیا اور ان کو فوراً فتح حاصل ہو گئی، تو اگر اس قسم کی مدد کی ہے تو یاد رکھو پھر اس ذمی کو حصے سے بھی زیادہ مال دیا جا سکتا ہے۔ اگر لڑائی کی ہے پھر حصے سے کم ہی مال دیں گے کیونکہ یہ لڑائی جہاد کا حصہ ہے اور جہاد کے اندر ذمی کو مسلمان کے برابر مال نہیں دیا جا سکتا، لیکن اگر اس نے راستے کی رہنمائی کی ہے، مسلمانوں کو لے گیا کہ فلاں فلاں طرف سے اگر تم قلعے کے آؤ تو تم آرام سے اس کو فتح کر لو گے، تو اگر اس نے راستے پر رہنمائی کی ہے تو یہ تو جہاد کا حصہ نہیں ہے، جہاد کا حصہ نہیں ہے لہٰذا اس کے اندر جتنا بھی انعام امام دینا چاہے اس کو دے سکتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ جو چیز جہاد کا حصہ ہے اس میں مسلمانوں سے کم ہی مال دیں گے، مسلمانوں کے برابر نہیں دیں گے، لیکن جو حصہ جہاد کا نہیں ہے اس کے اندر زیادہ مال بھی اس کو دیا جا سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَالذِّمِّيُّ إِنَّمَا يُرْزَخُ لَهُ إِذَا قَاتَلَ أَوْ دَلَّ عَلَى الطَّرِيقِ وَلَمْ يُقَاتِلْ“ اور ذمی جو ہے اس کے لیے تھوڑا سا مال نکالا جائے گا جب وہ لڑائی کرے یا اس نے راستے پر رہنمائی کی اور لڑائی نہیں کی تو پھر بھی مال دیا جا سکتا ہے ”لِأَنَّ فِيهِ مَنْفَعَةً لِلْمُسْلِمِينَ“ اس لیے کیونکہ اس کے لڑنے میں یا اس کی دلالت میں بھی مسلمانوں کا فائدہ ہے ”إِلَّا أَنَّهُ يُزَادُ عَلَى السَّهْمِ فِي الدَّلَالَةِ إِذَا كَانَتْ فِيهِ مَنْفَعَةٌ عَظِيمَةٌ“ ”إِلَّا أَنَّهُ يُزَادُ عَلَى السَّهْمِ“ مگر یہ کہ اس کے لیے حصے پر بھی زیادتی کی جا سکتی ہے ”فِي الدَّلَالَةِ“ رہنمائی کرنے میں ”إِذَا كَانَتْ فِيهِ مَنْفَعَةٌ عَظِيمَةٌ“ جب اس کے اندر عظیم فائدہ ہو بھئی ”وَلَا يُبَلَّغُ بِهِ السَّهْمُ إِذَا قَاتَلَ“ اور حصے تک نہیں پہنچایا جائے گا جب یہ لڑائی کرے، جب یہ لڑائی کرے تو حصے تک نہیں پہنچائیں گے یعنی اگر پیدل اس نے لڑائی کی ہے تو پیدل کے حصے سے کم دیں گے اسے، اور اگر اس نے سوار ہو کر لڑائی کی ہے تو سوار کے حصے سے کم مال اس کو دیں گے۔ تو کہتے ہیں ”وَلَا يُبَلَّغُ بِهِ السَّهْمُ إِذَا قَاتَلَ“ اور حصے تک نہیں پہنچایا جائے گا جب یہ ذمی لڑائی کرے ”لِأَنَّهُ جِهَادٌ“ اس لیے کیونکہ لڑائی جو ہے وہ تو جہاد ہے ”وَالْأَوَّلُ لَيْسَ مِنْ عَمَلِهِ“ اور اول جو ہے یعنی دلالت کرنا وہ تو جہاد کے عمل میں سے نہیں ہے، وہ جہاد کے عمل میں سے نہیں ہے لہٰذا اس میں زیادہ بھی دیا جا سکتا ہے ”وَلَا يُسَوَّى بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْمُسْلِمِ فِي حُكْمِ الْجِهَادِ“ اور برابری نہیں کی جائے گی ذمی اور مسلمان کے درمیان جہاد کے حکم میں، یعنی لڑائی کے اندر مسلمان جتنا مال ہم اسے نہیں دیں گے۔ آگے دیکھیے: ”وَأَمَّا الْخُمُسُ فَيُقَسَّمُ عَلَى ثَلَاثَةِ أَسْهُمٍ“ بھئی چار خمس جو تھے وہ غازیوں کا حق تھا۔ تو غازیوں میں کس کس کو کتنا حصہ دیں گے وہ صاحبِ ہدایہ نے بیان فرما دیا۔ اب وہ جو خمس نکالا تھا، پانچواں حصہ، اب اس کی تفصیل بیان کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں ”وَأَمَّا الْخُمُسُ“ اور باقی خمس جو ہے ”فَيُقَسَّمُ عَلَى ثَلَاثَةِ أَسْهُمٍ“ تو اس کو تین حصوں پر تقسیم کیا جائے گا ”سَهْمٌ لِلْيَتَامَى“ ایک حصہ یتیموں کے لیے ہو گا ”وَسَهْمٌ لِلْمَسَاكِينِ“ اور ایک حصہ مساکین کے لیے یعنی فقراء کے لیے ہو گا ”وَسَهْمٌ لِابْنِ السَّبِيلِ“ اور ایک حصہ مسافروں کے لیے ہو گا۔ اور یاد رکھنا یہ سارے مصارف ہیں، مستحق نہیں۔ اگر مستحق ہوں تو پھر تو ہر ایک کو دینا پڑے گا، لیکن یہ سارے مصارف ہیں تو امام چاہے ان میں سے ایک ہی مصرف پر سارا مال خرچ کر دے، چاہے تینوں پر خرچ کرے یہ امام کی مرضی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَسَهْمٌ لِابْنِ السَّبِيلِ“ اور ایک حصہ مسافر کا ہے ”يَدْخُلُ فُقَرَاءُ ذَوِي الْقُرْبَى فِيهِمْ“ اور حضور علیہ السلام کے رشتہ داروں میں سے جو فقراء ہیں، جو محتاج ہیں وہ بھی انہی کے اندر داخل ہیں انہی تین قسموں میں۔ میں نے آپ کو بتلایا بھئی کہ آیت کے اندر اللہ کا نام بھی ذکر ہے تو وہ بطورِ برکت کے ہے، اور حضور علیہ السلام کا حصہ ان کی وفات کی وجہ سے ختم ہو گیا، اور حضور علیہ السلام کے رشتہ داروں کا حصہ بھی ختم کیونکہ ان کا حصہ حضور کی مدد کی وجہ سے تھا اور حضور کا انتقال ہوا تو ان رشتہ داروں کی وہ جو حضور کی مدد کرتے تھے وہ مدد بھی کیا ہو گئی؟ ختم۔ اور باقی تین قسمیں رہ گئیں تو ان کا حصہ ہے۔ البتہ حضور علیہ السلام کے رشتہ داروں میں سے اگر کوئی فقراء اور محتاج ہیں تو وہ بھی انہی تین قسموں کے اندر داخل ہوں گے۔ اگر وہ یتیم ہیں تو وہ یتیموں میں داخل ہو گئے، اور اگر وہ محتاج اور مسکین ہیں تو وہ مساکین میں داخل ہو گئے، اور اگر وہ مسافر ہیں تو مسافروں کے اندر داخل ہو گئے۔ البتہ عام یتیموں، عام مسکینوں اور عام مسافروں پر حضور علیہ السلام کے خاندان والوں کو مقدم رکھا جائے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں ”يَدْخُلُ فُقَرَاءُ ذَوِي الْقُرْبَى فِيهِمْ“ حضور علیہ السلام کے وہ قریبی رشتہ دار جو فقراء ہیں وہ بھی انہی تین قسموں میں داخل ہو گئے ”وَيُقَدَّمُونَ“ اور حضور کے رشتہ داروں کو ان لوگوں پر مقدم کیا جائے گا ”وَلَا يُدْفَعُ إِلَى أَغْنِيَائِهِمْ“ اور حضور کے رشتہ داروں میں سے جو مالدار ہیں ان کو نہیں دیا جائے گا۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ“ تو معلوم ہوا بھئی ادھر دیکھیے، ہمارے نزدیک معلوم ہوا اب خمس کے تین مصرف ہیں بھئی۔ کتنے مصرف ہیں؟ تین۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں، خمس کے ابھی بھی پانچ مصرف ہیں۔ حضور علیہ السلام انتقال فرما گئے تو حضور علیہ السلام کا حصہ خلفاء کو دیا جائے گا اور وہ اس حصے کو پھر عوام پر خرچ کریں گے، اور حضور علیہ السلام کے رشتہ دار چاہے مالدار ہوں چاہے غیر مالدار ان کو بھی حصہ ملے گا کیونکہ آیت میں ان کا بھی ذکر ہے، اور اسی طرح یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کا بھی حصہ ہے۔ تو معلوم ہوا ہمارے نزدیک اب خمس کے مصارف تین ہیں جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک اب بھی خمس کے پانچ مصارف ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”لَهُمْ خُمُسُ الْخُمُسِ“ ان کے لیے خمس کا خمس ہے، خمس کا خمس۔ بھئی مالِ غنیمت میں سے پانچواں حصہ نکال لیا گیا، یہ ہے خمس، اور پھر اس خمس کے قرآن میں کتنے مصرف ذکر ہوئے ہیں؟ پانچ، تو جب اس خمس کو ان پانچ میں تقسیم کریں گے تو ہر ایک کو خمس کا خمس مل جائے گا، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”لَهُمْ خُمُسُ الْخُمُسِ“ کہ حضور علیہ السلام کے رشتہ داروں کے لیے خمس کا پانچواں حصہ ہو گا ”يَسْتَوِي فِيهِ غَنِيُّهُمْ وَفَقِيرُهُمْ“ اور اس میں ان کے مالدار اور فقیر برابر ہیں یعنی سب کو ملے گا ”وَيُقَسَّمُ بَيْنَهُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ“ اور اس کو تقسیم کیا جائے گا ان کے درمیان کہ مذکر کے لیے دو مؤنث کے برابر حصہ ہو گا یعنی مردوں کو عورتوں سے دوگنا حصہ دیا جائے گا ”وَيَكُونُ لِبَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ دُونَ غَيْرِهِمْ“ اور حضور علیہ السلام کے خاندان والوں میں سے صرف بنو ہاشم اور بنو المطلب کو دیا جائے گا اوروں کو نہیں۔ بھئی یاد رکھو، حضور علیہ السلام بیٹے ہیں عبد اللہ کے اور وہ بیٹے ہیں عبد المطلب کے۔ مطلب؟ اس کے اندر یاد رکھو طاء مشدد ہے۔ تو حضور علیہ السلام کا نسب کس طرح ہے؟ محمد ابن عبد اللہ ابن عبد المطلب ابن ہاشم۔ تو یہ جو ہاشم کی اولاد ہے یہ بنو ہاشم کہلاتے ہیں بھئی۔ یہ ہاشم حضور علیہ السلام کے پردادا ہیں۔ اور یاد رکھنا یہ پانچ بھئی تھے بھئی، توجہ ہے؟ یہ ہاشم جو ہیں ان کے چار اور بھئی بھی تھے تو یہ کل پانچ بھئی تھے۔ ایک بھئی جو ہے انہوں نے اپنے پیچھے اولاد نہیں چھوڑی، باقی چار بھئی جو ہیں ان کی اولاد ہوئی اور یہ سارے حضور علیہ السلام کے خاندان والے ہیں، لیکن ان میں سے صرف ایک ہاشم اور ایک ان کے بھئی مطلب، ان کی جو اولاد ہے صرف ان کا حصہ ہو گا یعنی بنو ہاشم، بنو ہاشم کا کیا معنی؟ ہاشم کے بیٹے، اور بنو المطلب کا کیا معنی؟ مطلب کے بیٹے، یعنی ان دو بھائیوں کی جو اولاد ہے خمس میں سے ان کو حصہ ملے گا جبکہ باقی دو بھئی جو ہیں وہ ان کا حصہ نہیں ہو گا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور اس کی وجہ بھی ذکر کریں گے کہ یہ جو بنو ہاشم تھے اور بنو المطلب تھے یہ حضور علیہ السلام کے ساتھ تھے ہر معاملے میں، لڑائی تو نہیں کی... لیکن باقی ہر اعتبار سے حضور علیہ السلام کے ساتھ تھے بھئی، اور انہی کی وجہ سے کفار کی ہمت نہیں ہوتی تھی کہ حضور علیہ السلام کو کوئی نقصان پہنچائیں بھئی۔ تو لہٰذا یہ بنو ہاشم اور بنو المطلب ان کا حصہ ہوگا مالِ غنیمت میں۔ تو حضور علیہ السلام کے دادا کا نام عبد المطلب، اور حضور کے پردادا کے جو بھئی ہیں، یعنی ہاشم کے جو بھئی ہیں ان کا نام ہے مطلب بھئی۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضور علیہ السلام کے خاندان میں سے بنو ہاشم اور بنو المطلب کو خمس میں سے حصہ دیں گے۔ تو کہتے ہیں: ”وَيَكُونُ لِبَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ دُونَ غَيْرِهِمْ“ اور یہ حصہ جو ہے یہ بنو ہاشم اور بنو المطلب کے لیے ہوگا ”دُونَ غَيْرِهِمْ“ نہ کہ ان کے علاوہ کے لیے ”لِقَوْلِهِ تَعَالَى“ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے وہ فرماتے ہیں: ”وَلِذِي الْقُرْبَى“ کہ قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں؟ کہ خمس کس کے لیے ہے؟ حضور علیہ السلام کے رشتہ داروں کے لیے ہے۔ تو کہتے ہیں: ”لِقَوْلِهِ تَعَالَى: {وَلِذِي الْقُرْبَى} مِنْ غَيْرِ فَصْلٍ بَيْنَ الْغَنِيِّ وَالْفَقِيرِ“ بغیر کوئی فرق کیے مالدار اور فقیر میں۔ آیت کے اندر مطلقاً حضور علیہ السلام کے رشتہ داروں کا ذکر ہے، اس میں امیر اور غریب کا کوئی فرق نہیں کیا گیا۔ اور یاد رکھو احناف جو ہیں وہ امام شافعی رحمہ اللہ کے ساتھ اس بات میں تو اتفاق کرتے ہیں کہ حضور علیہ السلام کے خاندان والوں میں سے صرف بنو ہاشم اور بنو المطلب کو ملے گا، اس بات میں تو ہم بھی امام شافعی رحمہ اللہ کے ساتھ اتفاق کرتے ہیں۔ البتہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان میں سے جو مالدار ہیں ان کو بھی ملے گا، اس میں احناف امام شافعی رحمہ اللہ سے اختلاف کرتے ہیں کہ حضور علیہ السلام کے خاندان میں سے جو فقراء ہیں ان کو خمس میں سے حصہ دیا جائے گا، جو مالدار ہیں ان کو حصہ نہیں دیا جائے گا۔ اب آگے ہماری دلیل آ گئی: ”وَلَنَا أَنَّ الْخُلَفَاءَ الْأَرْبَعَةَ الرَّاشِدِينَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ قَسَمُوهُ“ کہ خلفائے راشدین جو ہیں انہوں نے اس خمس کو تقسیم کیا ”عَلَى ثَلَاثَةِ أَسْهُمٍ“ تین حصوں پر۔ ہماری دلیل کیا ہے؟ کہ خلفائے راشدین نے بھی اس خمس کو تین حصوں پر تقسیم کیا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَنَا أَنَّ الْخُلَفَاءَ الْأَرْبَعَةَ الرَّاشِدِينَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ قَسَمُوهُ عَلَى ثَلَاثَةِ أَسْهُمٍ عَلَى نَحْوِ مَا قُلْنَاهُ“ اسی طریقے پر جو ہم نے کہا ہے، جیسے ہم نے ذکر کیا، ”وَكَفَى بِهِمْ قُدْوَةً“ اور یہ کافی ہیں باعتبار پیشوا ہونے کے، یعنی ان کی اقتداء ہمارے لیے کافی ہے، کیونکہ حضور علیہ السلام نے بھی اپنی اور خلفائے راشدین کی پیروی اور اتباع کا حکم دیا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَكَفَى بِهِمْ قُدْوَةً“ اور یہ خلفائے راشدین کافی ہیں باعتبار پیشوا ہونے کے، ”وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: يَا مَعْشَرَ بَنِي هَاشِمٍ، إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى كَرِهَ لَكُمْ غُسَالَةَ النَّاسِ وَأَوْسَاخَهُمْ“ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے ناپسند کیا ”غُسَالَةَ النَّاسِ“۔ غسالہ بھئی، یاد رکھو غسالہ کسی چیز کو دھونے سے جو میل کچیل نکلتا ہے اس کو غسالہ کہتے ہیں۔ وہ جو کسی چیز کی دھوون ہے، وہ جو کسی چیز کا میل کچیل دھونے سے نکلا ہے، اس کو غسالہ کہتے ہیں، اور اوساخ جو ہے یہ بھی میل کچیل کو کہتے ہیں۔ تو حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”يَا مَعْشَرَ بَنِي هَاشِمٍ، إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى كَرِهَ لَكُمْ غُسَالَةَ النَّاسِ وَأَوْسَاخَهُمْ“ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے لوگوں کا غسالہ اور ان کے میل کچیل کو ناپسند کیا ہے۔ بھئی یہ زکوٰۃ، یہ مال کا میل کچیل ہے، تو لہٰذا حضور علیہ السلام کے خاندان والوں کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں ہے بھئی۔ اے بنو ہاشم کے خاندان والو! اللہ نے تمہارے لیے لوگوں کا غسالہ اور ان کے میل کچیل کو ناپسند کیا ہے، ”وَعَوَّضَكُمْ مِنْهَا بِخُمُسِ الْخُمُسِ“ اور اس کے عوض تمہیں خمس الخمس دیا ہے۔ اس کے عوض میں تمہیں خمس الخمس یعنی خمس کا پانچواں حصہ دیا ہے۔ دلیل ابھی چل رہی ہے بھئی: ”وَالْعِوَضُ إِنَّمَا يَثْبُتُ فِي حَقِّ مَنْ يَثْبُتُ فِي حَقِّهِ الْمُعَوَّضُ“ ہم کہتے ہیں دیکھو، اس حدیث کے اندر آیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنو ہاشم کے خاندان والوں سے کیا فرما رہے ہیں؟ کہ اللہ نے تمہارے لیے لوگوں کے میل کچیل کو ناپسند کیا ہے، یعنی تمہیں زکوٰۃ دی جائے یہ اللہ کو پسند نہیں، بلکہ اس کے بدلے میں اللہ نے تمہارے لیے خمس کا پانچواں حصہ مقرر کیا ہے۔ اور زکوٰۃ کس کو دی جاتی ہے؟ فقراء کو، تو معلوم ہوا زکوٰۃ کا جو عوض ہے، یعنی خمس الخمس، وہ بھی کس کو دیا جائے گا؟ جو ان کے فقراء ہیں بھئی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی۔ یہ معنی ہے: ”وَالْعِوَضُ إِنَّمَا يَثْبُتُ فِي حَقِّ مَنْ يَثْبُتُ فِي حَقِّهِ الْمُعَوَّضُ“ اور عوض تو ثابت ہوتا ہے اسی کے حق میں جس کے حق میں معوض یعنی زکوٰۃ ثابت ہو، اور زکوٰۃ تو صرف فقیر کو دی جاتی ہے، لہٰذا معلوم ہوا حضور علیہ السلام کے رشتہ داروں میں سے جو فقراء ہیں انہی کو خمس دیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْعِوَضُ إِنَّمَا يَثْبُتُ فِي حَقِّ مَنْ يَثْبُتُ فِي حَقِّهِ الْمُعَوَّضُ وَهُمُ الْفُقَرَاءُ“ اور عوض تو اسی کے حق میں ثابت ہوگا جس کے حق میں معوض یعنی زکوٰۃ ثابت ہوگی، ”وَهُمُ الْفُقَرَاءُ“ اور وہ فقراء ہیں۔ فقراء کو زکوٰۃ دی جاتی ہے، معلوم ہوا حضور علیہ السلام کے خاندان میں سے جو فقراء ہیں خمس کا خمس بھی انہی کو ملے گا۔ ”وَالنَّبِيُّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ أَعْطَاهُمْ لِلنُّصْرَةِ“ اور نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خاندان والوں کو جو عطا کیا ”لِلنُّصْرَةِ“ وہ مدد کی وجہ سے تھا، ”أَلَا تَرَى أَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَّلَ“ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ حضور علیہ السلام نے علت بیان فرمائی، ”فَقَالَ: إِنَّهُمْ لَنْ يَزَالُوا مَعِي هَكَذَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَالْإِسْلَامِ“۔ بھئی یہ روایات میں آتا ہے بھئی، غزوۂ خیبر کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خمس میں سے بنو ہاشم والوں کو بھی حصہ دیا اور بنو المطلب والوں کو بھی حصہ دیا۔ تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور اسی طرح حضرت زبیر ابن مطعم رضی اللہ تعالیٰ عنہ، یہ بھی حضور علیہ السلام کے رشتہ دار ہیں، البتہ یہ بنو ہاشم یا بنو المطلب میں سے نہیں ہیں، بلکہ ان کے بھائیوں کی اولاد میں سے ہیں۔ ہاشم کے جو دوسرے بھئی تھے ان کی اولاد میں سے ہیں۔ تو یہ حضور علیہ السلام کے پاس آئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! آپ نے بنو ہاشم کو بھی حصہ دیا، آپ نے بنو المطلب کو بھی حصہ دیا، ہم بھی تو آپ کے اتنے ہی قریبی رشتہ دار ہیں۔ ہم بھی تو آپ کے اتنے ہی قریبی رشتہ دار ہیں، آپ نے ہمیں اس میں سے حصہ نہیں دیا۔ تو حضور علیہ السلام نے اس موقع پر اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ لوگ ہمیشہ میرے ساتھ اسی طرح رہے جاہلیت میں بھی اور اسلام کے اندر بھی، یعنی انہوں نے میری بڑی مدد کی ہے، اس لیے ان کو حصہ دیا گیا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالنَّبِيُّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ أَعْطَاهُمْ لِلنُّصْرَةِ، أَلَا تَرَى أَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَّلَ فَقَالَ: إِنَّهُمْ لَنْ يَزَالُوا مَعِي هَكَذَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَالْإِسْلَامِ، وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ“ اور حضور علیہ السلام نے اپنی انگلیوں میں تشبیک فرمائی، یعنی ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کیا اور فرمایا کہ یہ لوگ ہمیشہ میرے ساتھ اسی طرح رہے ہیں جاہلیت میں بھی اور اسلام میں بھی۔ تو کہتے ہیں: ”دَلَّ عَلَى أَنَّ الْمُرَادَ مِنَ النَّصِّ قُرْبُ النُّصْرَةِ لَا قُرْبُ الْقَرَابَةِ“ اس نے اس بات پر دلالت کی کہ نص کے اندر جو مراد ہے وہ مدد والی قربت ہے نہ کہ رشتہ داری والی قربت۔ آیت میں کیا آیا؟ ”وَلِذِي الْقُرْبَى“، تو یہاں قربت سے کون سی قربت مراد ہے؟ رشتہ داری والی قربت مراد نہیں ہے، بلکہ نصرت اور مدد والی قربت مراد ہے۔ یہ معنی ہے کہ ”دَلَّ عَلَى أَنَّ الْمُرَادَ مِنَ النَّصِّ قُرْبُ النُّصْرَةِ لَا قُرْبُ الْقَرَابَةِ“ اس نے اس بات پر دلالت کر دی کہ نص کے اندر یعنی آیت کے اندر مراد جو ہے وہ مدد کی قربت ہے، رشتہ داری کی قربت نہیں ہے۔ آگے دیکھیے: ”قَالَ: فَأَمَّا ذِكْرُ اللَّهِ تَعَالَى فِي الْخُمُسِ فَإِنَّهُ لِافْتِتَاحِ الْكَلَامِ تَبَرُّكًا بِاسْمِهِ“ اور باقی اللہ تعالیٰ کا ذکر خمس کے اندر، تو وہ کلام کے آغاز کے لیے ہے اللہ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے۔ خمس کے اندر جو اللہ کا نام ذکر کیا گیا ”فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ“، تو یہ اللہ کا نام بطورِ برکت کے ذکر کیا گیا۔ تو کہتے ہیں: ”فَإِنَّهُ لِافْتِتَاحِ الْكَلَامِ تَبَرُّكًا بِاسْمِهِ“ یہ کلام کے آغاز کے لیے ہے اللہ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے، ”وَسَهْمُ النَّبِيِّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ سَقَطَ بِمَوْتِهِ كَمَا سَقَطَ الصَّفِيُّ“ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ ساقط ہو گیا حضور علیہ السلام کی موت کی وجہ سے، جیسے کہ صفی ساقط ہو گیا۔ صفی کا معنی ہے چنا ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار دیا تھا کہ وہ مالِ غنیمت میں سے کوئی بھی چیز اپنے لیے پسند کر سکتے ہیں، مثلاً ان کو کوئی زرہ پسند آ گئی، یا ان کو کوئی گھوڑا پسند آ گیا، یا کوئی تلوار پسند آ گئی، یا کوئی باندی پسند آ گئی، یا کوئی غلام وغیرہ پسند آ گیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ نے اختیار دیا تھا کہ وہ مالِ غنیمت کے اندر تقسیم سے پہلے جو بھی چیز پسند کرنا چاہیں وہ پسند کر سکتے ہیں اپنے لیے بھئی۔ اس کو صفی کہتے تھے۔ صفی کا معنی؟ چنا ہوا، یعنی چنی ہوئی چیز جو ہے، ”صَفِيٌّ“۔ تو کہتے ہیں: ”وَسَهْمُ النَّبِيِّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ سَقَطَ بِمَوْتِهِ كَمَا سَقَطَ الصَّفِيُّ“ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ ساقط ہو گیا حضور علیہ السلام کی موت کی وجہ سے جیسے کہ صفی ساقط ہو گیا۔ صفی کس کے لیے ہوتا تھا؟ حضور کے لیے، تو حضور کا انتقال ہوا تو صفی بھی ساقط ہو گیا۔ ”لِأَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ كَانَ يَسْتَحِقُّهُ بِرِسَالَتِهِ“ اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام جو ہیں وہ اس حصے کے مستحق ہوتے تھے ”بِرِسَالَتِهِ“ اپنی رسالت کی وجہ سے، پیغمبر ہونے کی وجہ سے۔ معلوم ہوا قرآن میں جو اللہ فرماتے ہیں: ”فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ“، تو یہاں رسول کو ذکر کیا گیا اور رسول مشتق ہے رسالت سے، اور مشتق پر جب کوئی حکم لگایا جائے تو اس کی علت مشتق منہ یعنی وہ مصدر ہوتا ہے۔ معلوم ہوا حضور علیہ السلام کو جو خمس میں سے حصہ دیا جاتا تھا وہ حضور کے پیغمبر ہونے کی وجہ سے ملتا تھا، اور حضور علیہ السلام جب انتقال فرما گئے تو اب وہ حصہ خلفاء کو نہیں ملے گا، کیونکہ وہ حصہ حضور کو ملتا تھا کس وجہ سے؟ رسالت کی وجہ سے، اور حضور کے بعد تو کوئی رسول نہیں ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ كَانَ يَسْتَحِقُّهُ بِرِسَالَتِهِ، وَلَا رَسُولَ بَعْدَهُ“ اور اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام جو ہیں اپنے حصے کے مستحق ہوتے تھے رسول ہونے کی وجہ سے اور حضور علیہ السلام کے بعد تو کوئی رسول نہیں، لہٰذا وہ حصہ کسی خلیفہ وغیرہ کو بھی نہیں ملے گا۔ ”وَالصَّفِيُّ شَيْءٌ“ متن میں آیا تھا ”كَمَا سَقَطَ الصَّفِيُّ“، اب صاحبِ ہدایہ اس کی وضاحت فرما رہے ہیں، کہتے ہیں: ”وَالصَّفِيُّ شَيْءٌ كَانَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ يَصْطَفِيهِ لِنَفْسِهِ مِنَ الْغَنِيمَةِ مِثْلُ دِرْعٍ أَوْ سَيْفٍ أَوْ جَارِيَةٍ“ اور صفی جو ہے ایسی چیز ہوتی جس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لیے چن لیتے تھے غنیمت میں سے، جیسے کہ زرہ ہے—دِرعٌ بھئی زرہ، لوہے کی جو قمیص ہوتی تھی—”مِثْلُ دِرْعٍ“ جیسے کہ زرہ ہے، ”أَوْ سَيْفٍ“ یا تلوار ہے، ”أَوْ جَارِيَةٍ“ یا باندی ہے۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: يُصْرَفُ سَهْمُ الرَّسُولِ إِلَى الْخَلِيفَةِ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خرچ کیا جائے گا حضور علیہ السلام کے حصے کو خلیفہ کی طرف، یعنی حضور کا حصہ وہ خلیفہ کو ملے گا۔ ”وَالْحُجَّةُ عَلَيْهِ مَا قَدَّمْنَاهُ“ اور ان کے خلاف حجت جو ہے، ان کے خلاف دلیل جو ہے ”مَا قَدَّمْنَاهُ“ وہ چیز ہے جس کو ہم نے مقدم ذکر کر دیا، یعنی خلفائے راشدین کا عمل۔ خلفائے راشدین خمس میں سے اپنا حصہ نہیں نکالتے تھے، بلکہ تین مصرفوں پر اس کو خرچ فرماتے تھے بھئی۔ آگے دیکھیے: ”وَسَهْمُ ذَوِي الْقُرْبَى كَانُوا يَسْتَحِقُّونَهُ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ بِالنُّصْرَةِ“ اب بھئی وہ وجہ ذکر کر رہے ہیں کہ حضور علیہ السلام کے جو رشتہ داروں کو حصہ ملتا تھا وہ حضور کی مدد کی وجہ سے ملتا تھا۔ پیچھے شرح کے اندر تو یہ بات ذکر کر دی صاحبِ ہدایہ نے، لیکن متن میں تو یہ بات ابھی ذکر نہیں ہوئی تھی، اب اس کو ذکر کر رہے ہیں متن کے اندر۔ کہتے ہیں: ”وَسَهْمُ ذَوِي الْقُرْبَى كَانُوا يَسْتَحِقُّونَهُ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ بِالنُّصْرَةِ لِمَا رَوَيْنَا“ اس حدیث کی وجہ سے جو ہم نے روایت کر دی بھئی۔ ”قَالَ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَبَعْدَهُ بِالْفَقْرِ“ اور حضور علیہ السلام کے بعد حضور کے رشتہ داروں کو حصہ ملے گا ”بِالْفَقْرِ“ فقر کی وجہ سے، محتاج ہونے کی وجہ سے۔ ”قَالَ الْعَبْدُ الضَّعِيفُ“ اس ”قَالَ الْعَبْدُ الضَّعِيفُ“ سے مراد صاحبِ ہدایہ ہیں۔ ”قَالَ الْعَبْدُ الضَّعِيفُ عَصَمَهُ اللَّهُ: هَذَا الَّذِي ذَكَرَهُ قَوْلُ الْكَرْخِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اللہ کا کمزور بندہ کہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت فرمائے، یہ جو صاحبِ قدوری نے ذکر فرمایا یہ امام کرخی رحمہ اللہ کا قول ہے۔ بھئی متن میں آیا کہ حضور علیہ السلام کے رشتہ داروں کو حضور کی زندگی میں ملتا تھا اس لیے کیونکہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد فرماتے تھے، اور حضور کے بعد اب وہ اس کے مستحق ہوں گے محتاج ہونے کی وجہ سے۔ یہ صاحبِ قدوری نے ذکر فرمایا، اور صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں یہ امام کرخی رحمہ اللہ کا قول ہے۔ امام کرخی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضور علیہ السلام کے رشتہ داروں میں سے جو محتاج ہیں اس خمس میں سے ان محتاجوں کو بھی دیا جائے گا۔ جبکہ امام طحاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں، حضور علیہ السلام کے رشتہ داروں میں سے جو فقراء ہیں ان کو بھی خمس میں سے مال نہیں دیا جائے گا۔ ان کو بھی خمس میں سے مال نہیں دیا جائے گا بھئی۔ وجہ یہ کہ یہ خمس جو ہے یہ بھی زکوٰۃ کے مثل ہو گیا۔ کیوں زکوٰۃ کے مثل کیسے ہوا؟ کہتے ہیں دیکھتے نہیں مصرف کو آپ دیکھ لیں، یہ صرف کس کو دیا جا رہا ہے؟ حضور کے خاندان کے فقراء کو، معلوم ہوا یہ بھی کس کے معنی میں ہے؟ زکوٰۃ کے معنی میں ہے، اور جب یہ زکوٰۃ کے معنی میں ہے تو زکوٰۃ دینا تو ان کو حرام ہے، لہٰذا اس خمس میں سے بھی ان کو حصہ دینا حرام ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”هَذَا الَّذِي ذَكَرَهُ قَوْلُ الْكَرْخِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ، وَقَالَ الطَّحَاوِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: سَهْمُ الْفَقِيرِ مِنْهُمْ سَاقِطٌ أَيْضًا“ کہ حضور کے رشتہ داروں میں سے جو فقیر ہے اس کا حصہ بھی ساقط ہے، اس کو بھی نہیں ملے گا، ”لِمَا رَوَيْنَا مِنَ الْإِجْمَاعِ“ اس اجماع کی وجہ سے جو ہم نے روایت کر دیا کہ خلفائے راشدین جو ہیں اس کے تین حصے کرتے تھے۔ خلفائے راشدین اس کے تین حصے کرتے تھے، معلوم ہوا حضور کے رشتہ داروں کا حصہ وہ نہیں نکالتے تھے۔ تو کہتے ہیں: ”لِمَا رَوَيْنَا مِنَ الْإِجْمَاعِ، وَلِأَنَّ فِيهِ مَعْنَى الصَّدَقَةِ نَظَرًا إِلَى الْمَصْرِفِ“ اور نیز اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام کے رشتہ داروں کے حصے کے اندر بھی صدقے اور زکوٰۃ والا معنی ہے مصرف کی طرف نظر کرتے ہوئے، کہ یہ صرف کس کو ملتا ہے؟ فقراء کو، معلوم ہوا اس میں بھی زکوٰۃ والا معنی ہے۔ ”فَيُحْرَمُ كَمَا يُحْرَمُ الْعُمَالَةُ“۔ بھئی حَرَمَ يَحْرِمُ کے معنی ہوتے ہیں محروم کرنا۔ ”فَيُحْرَمُ“ تو ان کو محروم کیا جائے گا اس سے، ”كَمَا يُحْرَمُ الْعُمَالَةُ“ جیسے کہ ان کو عمالہ سے محروم کیا جاتا ہے۔ عمالہ کہتے ہیں وہ مال جو عاملینِ زکوٰۃ کو دیا جاتا تھا۔ بھئی جو لوگ خلیفہ کی طرف سے مقرر ہوتے تھے بھئی اور ایک ایک بستی جاتے، گھومتے اور لوگوں سے زکوٰۃ اکٹھی کر کے لاتے تھے، تو دیکھو وہ اپنا وقت دے رہے ہیں، کئی کئی دن لگا رہے ہیں زکوٰۃ اکٹھی کرنے میں، تو ان کو بھی کچھ اس میں سے مال دیا جاتا تھا، اس کو عمالہ کہتے تھے۔ تو جیسے حضور علیہ السلام کے خاندان والوں کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں، اسی طرح ان کو یہ عمالہ، اجرت کے طور پر یہ عمالہ دینا بھی جائز نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: ”فَيُحْرَمُ كَمَا يُحْرَمُ الْعُمَالَةُ“ تو ان کو اس خمس سے بھی محروم کیا جائے گا جیسے ان کو عمالہ سے محروم کیا جاتا ہے۔ تو یا تو یہ آپ مجرد سے پڑھ لیں، اور آپ چاہیں تو بابِ تفعیل سے بھی پڑھ سکتے ہیں: ”فَيُحَرَّمُ كَمَا يُحَرَّمُ الْعُمَالَةُ“ تو ان پر اس خمس کو بھی حرام قرار دیا جائے گا جیسے کہ عمالہ کو ان پر حرام قرار دیا گیا ہے۔ ”وَجْهُ الْأَوَّلِ“ پہلے قول کی وجہ، پہلا قول کس کا تھا؟ امام کرخی کا، وہ فرماتے ہیں حضور علیہ السلام کے خاندان میں سے جو فقراء ہیں ان کو یہ مال دیا جا سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَجْهُ الْأَوَّلِ“ پہلے قول کی جو وجہ ہے، ”وَقِيلَ هُوَ الْأَصَحُّ“ اور کہا گیا ہے کہ وہ قول زیادہ صحیح ہے، اس کی دلیل جو ہے ”مَا رُوِيَ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ أَعْطَى الْفُقَرَاءَ مِنْهُمْ“ کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور علیہ السلام کے جو رشتہ دار فقراء تھے ان کو دیتے تھے، ان کو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ خمس میں سے دیتے تھے بھئی۔ پھر دیکھ لیجیے ترجمہ: ”وَجْهُ الْأَوَّلِ وَقِيلَ هُوَ الْأَصَحُّ مَا رُوِيَ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ أَعْطَى الْفُقَرَاءَ مِنْهُمْ، وَالْإِجْمَاعُ انْعَقَدَ عَلَى سُقُوطِ حَقِّ الْأَغْنِيَاءِ“ اور اجماع جو منعقد ہوا ہے وہ مالداروں کا حق ساقط ہونے پر ہے۔ بھئی امام طحاوی رحمہ اللہ نے دلیل ذکر کی تھی کہ ”لِمَا رَوَيْنَا مِنَ الْإِجْمَاعِ“ وہ جو اجماع ہم نے روایت کر دیا کہ خلفائے راشدین صرف تین حصے کرتے تھے، تو اس کا جواب دے رہے ہیں کہ خلفائے راشدین کا جو اجماع منعقد ہوا تھا وہ ان کے مالداروں کے حصے کے ساقط ہونے پر اجماع ہوا تھا، ان کے جو فقراء ہیں ان کے حصے کے ساقط ہونے پر اجماع نہیں، اسی لیے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان میں سے جو فقراء ہوتے تھے ان کو دیا کرتے تھے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْإِجْمَاعُ انْعَقَدَ عَلَى سُقُوطِ حَقِّ الْأَغْنِيَاءِ، أَمَّا فُقَرَاؤُهُمْ يَدْخُلُونَ فِي الْأَصْنَافِ الثَّلَاثَةِ“ اور باقی ان میں سے جو فقراء ہیں تو وہ ان تین قسموں کے اندر ہی داخل ہیں، یعنی وہ یتیموں یا مسکینوں یا مسافروں ہی میں داخل ہیں۔ آگے دیکھیے: ”وَإِذَا دَخَلَ الْوَاحِدُ أَوِ الِاثْنَانِ دَارَ الْحَرْبِ“ بھئی دو چار مسلمان گئے دار الحرب کے اندر اور وہاں کچھ مال چھین کر لے آئے، تو کیا اس میں سے بھی خمس نکالا جائے گا؟ تو آپ کو بتلائیں گے کہ نہیں۔ خمس مالِ غنیمت میں سے نکالا جاتا ہے اور مالِ غنیمت اسے کہتے ہیں جسے مسلمان قوت کے ذریعے چھین کر لائیں، اور یہ دو چار جو ہیں جو مال چھین کر لائے ہیں ان کو تو کوئی قوت حاصل نہیں ہے، دیکھو مال وہاں سے چھینتے ہی یہ فوراً وہاں سے نکلے ہیں بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا دَخَلَ الْوَاحِدُ أَوِ الِاثْنَانِ دَارَ الْحَرْبِ مُغِيرِينَ“ اور جب ایک یا دو افراد دار الحرب میں داخل ہوئے ”مُغِيرِينَ“ اس حال میں کہ وہ حملہ کرنے والے ہیں۔ اغار یغیر اغارۃً کا کیا معنی ہے؟ حملہ کرنا۔ کہ اگر ایک یا دو افراد دار الحرب میں داخل ہوئے ہیں، ”مُغِيرِينَ“ اس حال میں کہ انہوں نے حملہ کیا ہے، ”بِغَيْرِ إِذْنِ الْإِمَامِ“ امام کی اجازت کے بغیر، ”فَأَخَذُوا شَيْئًا“ پھر انہوں نے کوئی چیز لے لی، ”لَمْ يُخْمَسْ“ تو اس میں سے خمس نہیں لیا جائے گا۔ بھئی میری کتاب میں ہے ”لَمْ يُخَمَّسْ“، یہ مناسب نہیں ہے بھئی۔ خَمَسَ يَخْمُسُ کا معنی ہوتا ہے مال میں سے پانچواں حصہ لینا۔ اور خَمَّسَ يُخَمِّسُ تخمیس اگر بابِ تفعیل میں ہو تو اس کا معنی ہوتا ہے مال کے پانچ حصے کرنا۔ تو وہ معنی بھی اگرچہ یہاں ہو جائے گا ”لَمْ يُخَمَّسْ“ بھی، لیکن زیادہ بہتر کیا ہے؟ ”لَمْ يُخْمَسْ“ کہ اس میں سے خمس نہیں نکالا جائے گا۔ ”فَأَخَذُوا شَيْئًا لَمْ يُخْمَسْ لِأَنَّ الْغَنِيمَةَ هُوَ الْمَأْخُوذُ قَهْرًا وَغَلَبَةً“ اس لیے کیونکہ غنیمت وہ مال ہے جس کو لیا گیا ہو ”قَهْرًا وَغَلَبَةً“ غلبے کے طور پر۔ قہراً اور غلبۃً دونوں کا ایک ہی معنی ہے، قہراً کا معنی بھی ہے غلبہ بھئی، تو یہ جو آگے ”وَغَلَبَةً“ آ رہا ہے یہ عطفِ تفسیری ہے، اسی قہراً کا معنی بیان فرما رہے ہیں صاحبِ ہدایہ۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْغَنِيمَةَ هُوَ الْمَأْخُوذُ قَهْرًا وَغَلَبَةً“ اس لیے کیونکہ غنیمت وہ مال ہے جس کو غلبے کے ذریعے لیا گیا ہو یعنی قوت کے ذریعے لیا گیا ہو، ”لَا اخْتِلَاسًا وَسَرِقَةً“۔ اختلاس کہتے ہیں کوئی چیز اچک لینا۔ لوگ غفلت میں ہیں اور ایک آدمی ایک چیز اٹھا کر لے جائے، اس کو کہتے ہیں اختلاس بھئی، اچک لینا۔ تو کہتے ہیں غنیمت وہ مال ہے جس کو غلبے کے ذریعے لیا جائے، ”لَا اخْتِلَاسًا وَسَرِقَةً“ نہ کہ بطورِ اچکنے کے یا چوری کے، یعنی جو مال اچک لیا ہے یا چوری کر لیا ہے اس کو مالِ غنیمت نہیں کہتے۔ ”وَالْخُمُسُ وَظِيفَتُهَا“ اور خمس جو ہے وہ تو غنیمت کا وظیفہ ہے، خمس تو کس میں سے لیتے ہیں؟ مالِ غنیمت میں سے لیتے ہیں اور غنیمت وہ ہے جسے قوتِ بازو کے ذریعے چھینا جائے بھئی۔ ”وَلَوْ دَخَلَ الْوَاحِدُ أَوِ الِاثْنَانِ بِإِذْنِ الْإِمَامِ“ بھئی اب صورت یہ ہے ایک یا دو مسلمان دار الحرب گئے ہیں لیکن امام کی اجازت سے گئے ہیں، تو کیا یہ جو مال لے کر آئے ہیں اس میں سے خمس نکالا جائے گا؟ تو ایک روایت کے مطابق اس میں سے خمس نہیں نکالا جائے گا اور دوسری روایت کے مطابق اس میں سے خمس نکالا جائے گا، کیونکہ امام کی جب اجازت سے گئے ہیں تو معلوم ہوا امام ان کی مدد کرے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ دَخَلَ الْوَاحِدُ أَوِ الِاثْنَانِ بِإِذْنِ الْإِمَامِ فَفِيهِ رِوَايَتَانِ، وَالْمَشْهُورُ أَنَّهُ يُخْمَسُ“ اور مشہور روایت یہ ہے کہ اس میں سے خمس نکالا جائے گا، ”لِأَنَّهُ لَمَّا أَذِنَ لَهُمُ الْإِمَامُ فَقَدِ الْتَزَمَ نُصْرَتَهُمْ بِالْإِمْدَادِ“۔ امدّ یمدّ امداد کا معنی ہے فوجی کمک پہنچانا۔ امدّ یمدّ امداد کا کیا معنی؟ فوجی امداد پہنچانا۔ پیچھے مدد کا لفظ بھی ذکر ہوا تھا، میں نے بتلایا تھا مدد جو ہے عربی زبان میں مدد کا معنی مدد کرنا بھی ہے اور اسی طرح مدد جو ہے وہ فوجی کمک کو بھی کہتے ہیں، یعنی اور مجاہدین مدد کے لیے پہنچیں اس کو کیا کہتے ہیں؟ مدد بھئی۔ اور امدّ یمدّ امداد کا کیا معنی ہے؟ مدد پہنچانا، یعنی فوجی کمک پہنچانا۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ لَمَّا أَذِنَ لَهُمُ الْإِمَامُ فَقَدِ الْتَزَمَ نُصْرَتَهُمْ بِالْإِمْدَادِ فَصَارَ كَالْمَنَعَةِ“ تو یہ بھی لشکر کی طرح ہو گئے کہ ان کے پیچھے مدد پہنچے گی۔ ”فَإِنْ دَخَلَتْ جَمَاعَةٌ لَهَا مَنَعَةٌ“ اب بھئی ایک بڑی جماعت مسلمانوں کی گئی دار الحرب کے اندر اور ان کو قوت حاصل ہے، یہ جو مال لے کر آئیں گے اس میں سے خمس نکالا جائے گا۔ کہتے ہیں: ”فَإِنْ دَخَلَتْ جَمَاعَةٌ لَهَا مَنَعَةٌ فَأَخَذُوا شَيْئًا خُمِّسَ، وَإِنْ لَمْ يَأْذَنْ لَهُمُ الْإِمَامُ“ اگرچہ امام نے ان کو اجازت نہ دی ہو، ”لِأَنَّهُ مَأْخُوذٌ قَهْرًا وَغَلَبَةً فَكَانَ غَنِيمَةً“ اس لیے کیونکہ اس مال کو بطورِ غلبے کے لیا گیا ہے تو یہ مال جو ہے غنیمت ہوگا، ”وَلِأَنَّهُ يَجِبُ عَلَى الْإِمَامِ أَنْ يَنْصُرَهُمْ“ بھئی اگرچہ یہ امام کی اجازت کے بغیر گئے ہیں لیکن پھر بھی امام پر واجب ہے ان کی مدد کرنا، اس لیے کیونکہ اگر امام ان کی مدد نہیں کرے گا اور ان کو بے یار و مددگار چھوڑ دے گا یہ تو گویا وہ مسلمانوں کو کمزور کر رہا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّهُ يَجِبُ عَلَى الْإِمَامِ أَنْ يَنْصُرَهُمْ إِذْ لَوْ خَذَلَهُمْ“ خذل یخذل کا معنی ہے کسی کی مدد نہ کرنا، یعنی اس کو بے یار و مددگار چھوڑ دینا۔ کہتے ہیں: ”إِذْ لَوْ خَذَلَهُمْ كَانَ فِيهِ وَهْنُ الْمُسْلِمِينَ“ تو اس میں تو مسلمانوں کو کمزور کرنا ہے، لہٰذا یہ اس کے لیے جائز نہیں، اس پر واجب ہے ان کی مدد کرے۔ ”بِخِلَافِ الْوَاحِدِ وَالِاثْنَيْنِ“ بخلاف ایک یا دو افراد کے، کہ اگر ایک یا دو افراد گئے ہیں، تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ الْوَاحِدِ وَالِاثْنَيْنِ لِأَنَّهُ لَا يَجِبُ عَلَيْهِ نُصْرَتُهُمْ“ اس لیے کیونکہ امام پر ان کی مدد کرنا واجب نہیں ہے۔ آگے دیکھیے: ”فَصْلٌ فِي التَّنْفِيلِ“ یہ فصل ہے تنفیل کے بیان میں۔ میں نے بتلایا تھا بھئی تنفیل کا کیا معنی ہے؟ زائد دینا، حصے سے زائد دینا۔ ”فَصْلٌ فِي التَّنْفِيلِ“ یہ فصل ہے تنفیل کے بیان میں یعنی زائد مال دینے کے بیان میں۔ ”قَالَ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَلَا بَأْسَ بِأَنْ يُنَفِّلَ الْإِمَامُ فِي حَالِ الْقِتَالِ“ اور کوئی حرج نہیں ہے کہ امام جو ہے وہ زائد مال دے لڑائی کی حالت میں۔ امام زائد مال دے لڑائی کی حالت میں، اور یاد رکھنا صاحبِ قدوری کے الفاظ ہیں ”وَلَا بَأْسَ“ اس میں کوئی حرج نہیں، لیکن یاد رکھو علماء فرماتے ہیں کہ اس سے مراد عدمِ حرج نہیں ہے بلکہ اس سے مراد استحباب ہے۔ اس سے مراد استحباب ہے کیونکہ امام محمد رحمہ اللہ نے مبسوط کے اندر تصریح کی ہے کہ امام کا مجاہدین کو ابھارنا یہ مستحب ہے بھئی۔ خود قرآن میں اللہ فرماتے ہیں، آگے صاحبِ ہدایہ بھی ذکر فرمائیں گے: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى الْقِتَالِ}، اے پیغمبر! مومنین کو قتال پر ابھاریے۔ تو یہاں امر آیا: ”حَرِّضِ الْمُؤْمِنِينَ“، اے پیغمبر! مومنین کو قتال پر ابھاریے، اور امر آتا ہے وجوب کے لیے۔ معلوم ہوا مومنین کو لڑائی پر ابھارنا واجب ہے، لیکن لڑائی پر ابھارنا وہ صرف انعام کے ذریعے ہی ابھارنا نہیں ہوتا بلکہ ویسے ان کو وعظ و نصیحت کرنا اور ان کو جہاد کی ترغیب دینا اور اسی طرح انعام کے ذریعے ان کو ابھارنا، جس طریقے سے بھی ہو مسلمانوں کو جہاد پر ابھارا جائے گا۔ تو مطلقاً ابھارنا یہ تو ہے واجب کیونکہ ”حَرِّضِ الْمُؤْمِنِينَ“ امر آیا قرآن کے اندر بھئی، اور البتہ اس ابھارنے کے اندر ایک خاص نوع ہے کہ انعام کے وعدے کے ذریعے ان کو ابھارے، تو وہ ایک خاص نوع ہے وہ واجب نہیں البتہ وہ مستحب ہے۔ تو مطلقاً ابھارنا واجب اور خاص نوع یعنی انعام کے ذریعے ابھارنا یہ مستحب ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”قَالَ: وَلَا بَأْسَ بِأَنْ يُنَفِّلَ الْإِمَامُ فِي حَالِ الْقِتَالِ وَيُحَرِّضَ عَلَى الْقِتَالِ“ اور کوئی حرج نہیں کہ امام لڑائی پر ابھارے—”وَيُحَرِّضَ“ اس کا عطف ہے ”بِأَنْ يُنَفِّلَ“ پر، تو وہ منصوب تھا تو یہ بھی منصوب—”وَيُحَرِّضَ عَلَى الْقِتَالِ فَيَقُولَ“ اس کا بھی اسی پر عطف ہے، یہ بھی منصوب ہے، ”فَيَقُولَ: مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا فَلَهُ سَلَبُهُ“ جس نے کسی مقتول کو قتل کیا تو اس کے لیے اس سے چھینا ہوا مال ہے۔ سَلَب، سلب کہتے ہیں چھینا ہوا مال بھئی، لام پر بھی فتحہ ہے۔ اور ”مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا فَلَهُ سَلَبُهُ“ یاد رکھو یہ حدیث ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جہاد کے اندر: ”مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا فَلَهُ سَلَبُهُ“، جس نے کسی مقتول کو قتل کیا تو اس کے لیے ہے اس کا چھینا ہوا مال، یعنی اس مقتول سے چھینا ہوا مال وہ اسی قتل کرنے والے کو ملے گا۔ اور یہاں آیا ”مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا“، قتیل سے مراد ہے مقتول بھئی۔ اور مجھے بتائیے، زندہ آدمی کو قتل کیا جاتا ہے یا مقتول کو قتل کیا جاتا ہے؟ زندہ کو قتل کیا جاتا ہے، لیکن یہاں اس زندہ آدمی کو مقتول کے ساتھ ذکر کر دیا گیا۔ اس کو کہتے ہیں مجاز بالمشارفہ، یعنی ایک چیز جس حالت کی طرف لوٹنے والی ہے پہلے سے ہی اسی نام کے ساتھ اس کو ذکر کر دیا جائے۔ تو چونکہ یہ جو زندہ ہیں یہ اب مقتول ہونے والے ہیں تو ابھی سے ان کو مقتول کہہ دیا گیا۔ تو حضور فرماتے ہیں: ”مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا فَلَهُ سَلَبُهُ“، جس نے کسی مقتول کو قتل کیا تو اسی کے لیے ہے اس کا چھینا ہوا مال۔ یہ تو صورت تھی کہ امام عام اعلان کرتا ہے افراد میں، افراد میں کہ جو فرد جس مقتول کو قتل کرے گا اس کے لیے اس کا سلب ہوگا۔ اور اگر ایک جماعت ہے پوری اس کو امام بھیج رہا ہے کسی جگہ پر، تو امام ان سے کہہ سکتا ہے کہ جو... جو مال غنیمت ملے گا اس میں سے خمس نکالنے کے بعد باقی جو مال بچے گا اس کا چوتھا حصہ میں تمہیں دوں گا۔ پورے لشکر میں سے ایک چھوٹی سی جماعت کو امام کسی طرف بھیج رہا ہے کہ یہ کام کر کے آؤ، دشمن کو فلاں جگہ نقصان پہنچا کے آؤ، اور کہتا ہے اگر تم کامیاب لوٹے تو جتنا مال غنیمت ملے گا اس میں سے خمس نکالنے کے بعد جو مال باقی بچے گا اس کا چوتھا حصہ میں تمہیں دوں گا۔ تو دیکھو معلوم ہوا ایک ایک فرد کو بھی امام ابھار سکتا ہے اور پوری جماعت کو بھی ابھار سکتا ہے انعام کے ذریعے۔ تو یہ معنی ہے: ”وَيَقُولَ لِلسَّرِيَّةِ“ اور سریہ سے یعنی مجاہدین کے دستے سے امام کہے: ”قَدْ جَعَلْتُ لَكُمُ الرُّبُعَ بَعْدَ الْخُمُسِ“ کہ میں نے تمہارے لیے ربع کر دیا خمس کے بعد، خمس کے بعد میں نے تمہارے لیے ربع کر دیا۔ بھئی ادھر دیکھیے، کل مال کے پانچ حصے کیے، اس میں سے ایک خمس نکال دیا، باقی کتنے خمس بچے؟ چار خمس بچے، ان میں سے ایک پورا خمس یہ باقی بچ جانے والے مال کا ربع ہے۔ تو یہ مراد ہے کہ باقی بچنے والے مال کا ربع میں تمہیں دوں گا۔ ”وَيَقُولَ لِلسَّرِيَّةِ“ اور یہ کہ امام فوجی دستے سے کہے: ”قَدْ جَعَلْتُ لَكُمُ الرُّبُعَ بَعْدَ الْخُمُسِ“ کہ خمس کے بعد ربع جو ہے وہ میں نے تمہارے لیے کر دیا، ”مَعْنَاهُ بَعْدَ مَا رُفِعَ الْخُمُسُ“ صاحبِ ہدایہ وضاحت فرما رہے ہیں متن کی، متن میں کیا آیا؟ ”قَدْ جَعَلْتُ لَكُمُ الرُّبُعَ بَعْدَ الْخُمُسِ“ میں نے تمہارے لیے ربع کر دیا خمس کے بعد۔ صاحبِ ہدایہ وضاحت فرما رہے ہیں خمس کے بعد کا معنی یہ ہے خمس نکالنے کے بعد۔ کہتے ہیں: ”مَعْنَاهُ“ معنی اس قول کا یہ ہے ”بَعْدَ مَا رُفِعَ الْخُمُسُ“ بعد اس کے کہ جب خمس نکال لیا جائے۔ ”لِأَنَّ التَّحْرِيضَ مَندُوبٌ إِلَيْهِ“ اس لیے کیونکہ ابھارنا جو ہے وہ مندوب الیہ ہے مستحب ہے، ”قَالَ اللّٰهُ تَعَالَىٰ“ اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: ”يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى الْقِتَالِ“ اے پیغمبر! مومنین کو قتال پر ابھاریے، ”وَهٰذَا نَوْعُ تَحْرِيضٍ“ اور یہ جو نفل ہے یعنی زائد مال دینا، یہ بھی ایک قسم کی تحریص ہے، ”ثُمَّ قَدْ يَكُونُ التَّنْفِيلُ بِمَا ذَكَرَ“ پھر تنفیل تو کبھی اس طریقے پر ہوگی جو امام قدوری نے ذکر کر دیا۔ امام قدوری نے کیا ذکر کیا؟ کہ الگ افراد کو ابھارنا چاہتا ہے تو یوں کہہ سکتا ہے: ”مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا فَلَهُ سَلَبُهُ“، اور پورے ایک دستے کو ابھارنا چاہتا ہے تو یوں کہہ سکتا ہے: ”قَدْ جَعَلْتُ لَكُمُ الرُّبُعَ بَعْدَ الْخُمُسِ“۔ لیکن اسی طریقے پر تنفیل ضروری نہیں ہے، کسی بھی طریقے سے امام ابھار سکتا ہے، یوں بھی کہہ سکتا ہے کہ خمس نکالنے کے بعد جتنا مال بچے گا وہ نصف میں تمہیں دے دوں گا، ربع نہیں بلکہ نصف تمہیں دے دوں گا، تو جس طرح بھی ابھارنا چاہے۔ کہتے ہیں: ”ثُمَّ قَدْ يَكُونُ التَّنْفِيلُ بِمَا ذَكَرَ“ اور پھر کبھی کبھار تنفیل اس طریقے سے ہوگی جو صاحبِ قدوری نے ذکر فرمایا، ”وَقَدْ يَكُونُ بِغَيْرِهِ“ اور کبھی اس کے علاوہ ہوگی یعنی اور بھی جو انعام وہ ذکر کرنا چاہے، ”إِلَّا أَنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِلْإِمَامِ“ ہاں ایک بات ہے کہتے ہیں: امام کے لیے مناسب نہیں ہے کہ سارا ہی مال ان کو دے دے۔ مجاہدین کے ایک دستے کو ایک طرف بھیجا امام نے اور ان کو کہتا ہے: خمس نکالنے کے بعد جتنا بھی مال غنیمت ہوا وہ سارا میں تمہیں دے دوں گا۔ بھئی اس کے اندر تو باقیوں کا حق بھی باطل کیا جا رہا ہے، لہٰذا یہ پسندیدہ نہیں، لیکن کہتے ہیں اگر امام کی رائے یہی ہے تو امام ساری غنیمت بھی ان کو دے سکتا ہے کیونکہ بعض اوقات مصلحت اسی میں ہوتی ہے۔ کوئی اتنا مشکل کام ہے کہ اس کے بغیر فتح کی صورت نہیں تو پھر امام اس طرح بھی کر سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”إِلَّا أَنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِلْإِمَامِ“ مگر یہ کہ امام کے لیے یہ مناسب نہیں ہے ”أَنْ يُنَفِّلَ بِكُلِّ الْمَأْخُوذِ“ کہ وہ تنفیل کرے سارے لیے ہوئے مال کے ساتھ، کہ سارا لیا ہوا مال جو یعنی سارا مال غنیمت ہے وہ بطور نفل کے بطور انعام کے دے، یہ اس کے لیے مناسب نہیں، ”لِأَنَّ فِيهِ إِبْطَالَ حَقِّ الْكُلِّ“ اس لیے کیونکہ اس کے اندر تمام غازیوں کے حق کو باطل کرنا ہے، ”فَإِنْ فَعَلَهُ مَعَ السَّرِيَّةِ جَازَ“ لیکن اگر امام نے کسی دستے کے ساتھ ایسا کر دیا ”جَازَ“ تو یہ جائز ہے کہ سارا مال ان کو دے دے، ”لِأَنَّ التَّصَرُّفَ إِلَيْهِ“ اس لیے کیونکہ مال غنیمت کے اندر تصرف وہ امام کے سپرد ہے، ”وَقَدْ تَكُونُ الْمَصْلَحَةُ فِيهِ“ اور کبھی کبھار مصلحت اسی میں ہوتی ہے۔ آگے دیکھیے: ”وَلَا يُنَفِّلُ بَعْدَ إِحْرَازِ الْغَنِيمَةِ بِدَارِ الْإِسْلَامِ“ اور امام تنفیل نہیں کر سکتا یعنی زائد انعام نہیں دے سکتا ”بَعْدَ إِحْرَازِ الْغَنِيمَةِ بِدَارِ الْإِسْلَامِ“ دار الاسلام میں غنیمت کے محفوظ کرنے کے بعد۔ جب دار الاسلام میں ایک دفعہ مال غنیمت لے آئے تو آپ جانتے ہیں غازی اس مال کے مالک بن جاتے ہیں، تو اب امام اس میں سے دوسروں کو بطور انعام کے زائد مال نہیں دے سکتا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا يُنَفِّلُ بَعْدَ إِحْرَازِ الْغَنِيمَةِ بِدَارِ الْإِسْلَامِ“ اور امام جو ہے وہ زائد انعام نہیں دے سکتا دار الاسلام میں غنیمت کے جمع کرنے کے بعد، ”لِأَنَّ حَقَّ الْغَيْرِ قَدْ تَأَكَّدَ فِيهِ بِالْإِحْرَازِ“ اس لیے کیونکہ غیروں کا حق اس کے اندر پختہ ہو گیا ہے اس کو محفوظ کرنے کی وجہ سے، ”قَالَ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”إِلَّا مِنَ الْخُمُسِ“ مگر خمس میں سے۔ خمس جو ہے اس میں سے دے سکتا ہے بھئی۔ توجہ ہے؟ کیونکہ چار خمس تو غازیوں کا حق ہے، اگر اس میں سے انعام دے گا یہ تو امام غازیوں کے حق کو باطل کر رہا ہے اور امام کے لیے جائز نہیں ہے غازیوں کے حق کو باطل کرے۔ تو جو خمس نکالا جائے گا اس میں سے انعام دے سکتا ہے۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ خمس بھی تو یتیموں، محتاجوں اور مسافروں کا حق ہے، تو اس کے اندر بھی تو امام تصرف کر رہا ہے؟ کہتے ہیں بھئی یہ بھی اس صورت میں امام زائد انعام دے سکتا ہے جب وہ غازی ان تین قسموں میں سے کسی کے اندر داخل ہو، یعنی وہ فقیر ہے یا محتاج وغیرہ ہے پھر ہی دے سکتا ہے، تو جب وہ غازی خود فقیر اور محتاج ہے تو یہ تین اقسام کے اندر ہی داخل ہوا بھئی، تو ان کا بھی حق باطل نہیں ہوگا۔ تو کہتے ہیں: ”إِلَّا مِنَ الْخُمُسِ“ مگر خمس میں سے دے سکتا ہے امام، ”لِأَنَّهُ لَا حَقَّ لِلْغَانِمِينَ فِي الْخُمُسِ“ اس لیے کیونکہ غنیمت والوں کا خمس کے اندر کوئی حق نہیں ہے، ”وَإِذَا لَمْ يَجْعَلِ السَّلَبَ لِلْقَاتِلِ“ اور جب امام نے چھینا ہوا مال قاتل کے لیے نہیں کیا، امام نے یہ اعلان نہیں کیا کہ مقتول سے جو کچھ ملے گا وہ قاتل کا ہوگا، تو اگر یہ اعلان نہیں کیا تو پھر یہ بھی سارا مال غنیمت میں ہی شمار ہوگا اور تمام غازیوں کا اس میں حق ہوگا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا لَمْ يَجْعَلِ السَّلَبَ لِلْقَاتِلِ“ اور جب امام نے چھینے ہوئے مال کو قاتل کے لیے خاص نہیں کیا ”فَهُوَ مِنْ جُمْلَةِ الْغَنِيمَةِ“ تو وہ سلب جو ہے وہ بھی مجموعۂ غنیمت میں سے ہوگا، ”وَالْقَاتِلُ وَغَيْرُهُ فِي ذٰلِكَ سَوَاءٌ“ اور قاتل اور غیر قاتل اس میں برابر ہوں گے۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”السَّلَبُ لِلْقَاتِلِ“ کہ وہ چھینا ہوا مال قاتل ہی کے لیے ہوگا ”إِذَا كَانَ مِنْ أَهْلِ أَنْ يُسْهَمَ لَهُ“ جب وہ ان لوگوں میں سے ہو کہ جس میں اہلیت ہو کہ اس کے لیے حصہ نکالا جائے، بھئی آپ پڑھ چکے ہیں کہ بچہ ہے یا غلام ہے یا عورت ہے یا ذمی ہے، ان کے لیے تو حصہ نہیں نکالا جائے گا، ان کو تھوڑا سا مال دیا جائے گا، تو معلوم ہوا یہ اہل سہام نہیں۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر قاتل اہل سہام میں سے ہے تو پھر جو کچھ مقتول کے پاس ہے وہ سارا اسی قاتل کا ہوگا کیونکہ حضور علیہ السلام نے فرمایا ہے: ”مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا فَلَهُ سَلَبُهُ“ جس نے بھی مقتول کو قتل کیا تو اس کا چھینا ہوا مال اسی کے لیے ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”السَّلَبُ لِلْقَاتِلِ“ کہ سلب جو ہے وہ قاتل کے لیے ہی ہے ”إِذَا كَانَ مِنْ أَهْلِ أَنْ يُسْهَمَ لَهُ“ جب وہ قاتل ان لوگوں میں سے ہو کہ جس کے لیے حصہ نکالا جا سکتا ہو ”وَقَدْ قَتَلَهُ مُقْبِلًا“ اس حال میں کہ اس قاتل نے اس کو قتل کیا ہو ”مُقْبِلًا“ متوجہ ہونے کی حالت میں۔ بھئی دیکھیے، ایک مسلمان جہاد میں کافر کو قتل کرتا ہے، یا تو وہ کافر بھی اس کی طرف متوجہ تھا وہ بھی لڑائی کر رہا تھا، یا دوسری صورت یہ ہے کہ شکست ہو گئی اب کفار بھاگ رہے ہیں، بھاگتے ہوئے ایک کافر کو ایک مسلمان قتل کرتا ہے، یا ایک سویا ہوا کافر ہے ان میں اس کو جا کر مسلمان قتل کرتا ہے، تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نہیں، اگر وہ کافر متوجہ ہے یعنی اس کا رخ ادھر کو ہی ہے وہ مقابلہ کر رہا ہے، اس کو قتل کرے گا تو پھر قاتل کو اس کا سارا سلب ملے گا اور اگر اس نے بھاگتے ہوئے کافر کو یا سوئے ہوئے کافر کو قتل کیا ہے پھر یہ سلب اس قاتل کے لیے نہیں ہوگا بھئی۔ یہ معنی ہے: ”وَقَدْ قَتَلَهُ مُقْبِلًا“ اور تحقیق اس قاتل نے اس کافر کو قتل کیا ہو ”مُقْبِلًا“ اس کے متوجہ ہونے کی حالت میں، ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ“ بوجہ حضور علیہ السلام کے قول کے، یہ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے، وہ فرماتے ہیں حضور علیہ السلام کے قول کی وجہ سے کہ ”مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا فَلَهُ سَلَبُهُ“ کہ جس نے کسی مقتول کو قتل کیا تو اسی کے لیے ہے اس سے چھینا ہوا مال، ”وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ نَصْبُ شَرْعٍ“ اور ظاہر یہی ہے کہ یہ جو ہے شریعت نصب کی جا رہی ہے، ظاہر یہی ہے یہ شریعت قائم کی جا رہی ہے یعنی حضور علیہ السلام ایک شرعی حکم بتلا رہے ہیں، حضور علیہ السلام ایک شرعی حکم بتلا رہے ہیں ”مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا فَلَهُ سَلَبُهُ“، کیونکہ حضور علیہ السلام شرعی احکام بتلانے کے لیے ہی بھیجے گئے تھے، بات سمجھ میں آگئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ نَصْبُ شَرْعٍ“ اور ظاہر یہی ہے کہ یہ شریعت نصب کی جا رہی ہے یعنی شرعی حکم دیا جا رہا ہے ”لِأَنَّهُ بُعِثَ لَهُ“ اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام کو شرعی احکام قائم کرنے کے لیے ہی بھیجا گیا تھا، ”وَلِأَنَّ الْقَاتِلَ مُقْبِلًا أَكْثَرُ غَنَاءً“ اس لیے کیونکہ وہ شخص جو قتل کرنے والا ہے متوجہ ہونے والے کافر کو، ”أَكْثَرُ غَنَاءً“ یہ والا قاتل زیادہ ہے کارکردگی کے اعتبار سے۔ ایک وہ شخص ہے جو بھاگتے ہوئے کافر کو قتل کرتا ہے اور ایک وہ شخص ہے جو اس طرف متوجہ ہونے والے کافر کو قتل کرتا ہے، ظاہر سی بات ہے اس متوجہ کافر کو قتل کرنے والے کی کارکردگی زیادہ ہے لہٰذا اس کو سلب ملنا چاہیے بھئی۔ یہ معنی ہے، کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ الْقَاتِلَ مُقْبِلًا“ اس لیے کیونکہ وہ شخص جو قتل کرنے والا ہے متوجہ ہونے والے کافر کو ”أَكْثَرُ غَنَاءً“ وہ زیادہ ہے کارکردگی کے اعتبار سے ”فَيَخْتَصُّ بِسَلَبِهِ“ لہٰذا یہ اس سے چھینے ہوئے مال کے ساتھ خاص ہوگا یعنی یہ مال اسی قاتل کا ہوگا ”إِظْهَارًا لِلتَّفَاوُتِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ غَيْرِهِ“ تاکہ اس قاتل اور دوسرے قاتل میں فرق ہو جائے، ایک یہ قاتل ہے جو متوجہ ہونے والے کافر کو قتل کرتا ہے اور ایک وہ قاتل ہے جو بھاگتے ہوئے یا سوئے ہوئے کافر کو قتل کرتا ہے تاکہ دونوں میں فرق واضح ہو جائے۔ یہ معنی ہے ”إِظْهَارًا لِلتَّفَاوُتِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ غَيْرِهِ“ فرق کو ظاہر کرنے کے لیے اس قاتل میں اور دوسرے قاتل میں، بات سمجھ میں آگئی۔ ”وَلَنَا“ اب ہماری دلیل آگئی، ”وَلَنَا أَنَّهُ مَأْخُوذٌ بِقُوَّةِ الْجَيْشِ“ ہم کہتے ہیں کہ یہ جو مال چھینا گیا ہے یہ لشکر کی قوت کی وجہ سے چھینا گیا ہے ”فَيَكُونُ غَنِيمَةً“ تو یہ غنیمت ہوگا، اگر امام نے اعلان نہیں کیا ”مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا فَلَهُ سَلَبُهُ“ کا تو پھر اس صورت میں یہ غنیمت میں سے ہوگا کیونکہ اس نے لشکر کی قوت سے یہ مال چھینا ہے، تو کہتے ہیں: ”وَلَنَا“ ہماری دلیل یہ ہے ”أَنَّهُ مَأْخُوذٌ بِقُوَّةِ الْجَيْشِ“ کہ یہ مال جو چھینا گیا ہے یہ لشکر کی قوت کی وجہ سے ہے ”فَيَكُونُ غَنِيمَةً“ تو یہ غنیمت ہوگا ”فَيُقْسَمُ قِسْمَةَ الْغَنَائِمِ“ تو اس کو بھی غنیمتوں کی طرح تقسیم کیا جائے گا ”كَمَا نَطَقَ بِهِ النَّصُّ“ جیسے کہ نص نے اس پر نطق کیا ہے، نص میں جیسے اس کا ذکر ہوا ہے، وہ جو پیچھے آیت گزری بھئی: ”وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُم“، تو اس کے اندر مطلقاً غنیمت کا حکم ذکر کیا گیا کہ اس میں سے خمس نکالا جائے گا اور باقی کس کا حصہ ہوگا؟ مجاہدین کا حصہ ہوگا بھئی۔ ”وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ لِحَبِيبِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ“ بھئی ہدایہ کے نسخوں میں اسی طرح ہے بھئی، شارحین فرماتے ہیں کہ ہدایہ کے نسخوں میں اسی طرح ہے: حبیب بن ابی سلمہ، لیکن یہ درست نہیں ہے، یہ حبیب بن مسلمہ ہے بھئی، یہ اصل میں کیا ہے؟ حبیب بن مسلمہ، وجہ یہ کہ صحابہ کے اندر اس نام کے صرف ایک ہی صحابی ہیں بھئی: حبیب بن مسلمہ، تو یہ معلوم ہوا کسی لکھنے والے سے غلطی ہوگئی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَالَ عَلَيْهِ السَّلَامُ لِحَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالَىٰ عَنْهُ“ اور حضور علیہ السلام نے حبیب بن مسلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: ”لَيْسَ لَكَ مِنْ سَلَبِ قَتِيلِكَ“ کہ نہیں ہے تیرے لیے تیرے مقتول سے چھینا ہوا مال ”إِلَّا مَا طَابَتْ بِهِ نَفْسُ إِمَامِكَ“ مگر وہ جو پسند کرے تیرے لیے امام کا نفس، امام کی ذات جو تیرے لیے پسند کرے وہ ہوگا تیرے لیے، تیرے مقتول کا سلب تیرے لیے نہیں ہے۔ یاد رکھو شارحین اس پر بھی کلام فرماتے ہیں کہ یہ حضور علیہ السلام کا قول نہیں ہے بلکہ یہ حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے۔ یہ حبیب بن مسلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کو خبر ملی کہ کوئی حربی جو ہے وہ سفر پر نکلا ہے بڑا مال و اسباب لے کر، چنانچہ یہ اس کے پیچھے گئے اور اس کو قتل کر کے اس کا سارا مال و اسباب لے آئے بھئی، تو حضرت ابو عبیدہ بن الجراح جو تھے، جو حاکم تھے اس علاقے کے، انہوں نے اس مال میں سے خمس نکالنا چاہا، تو حضرت حبیب بن مسلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ انکار فرمانے لگے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا ہے: ”مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا فَلَهُ سَلَبُهُ“ تو یہ مال سارا میرا ہے، اور پھر حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی وہیں پر تھے ان کو پتہ چلا وہ تشریف لائے اور پھر انہوں نے آ کر کہا کہ ”لَيْسَ لَكَ مِنْ سَلَبِ قَتِيلِكَ إِلَّا مَا طَابَتْ بِهِ نَفْسُ إِمَامِكَ“ کہ مقتول سے چھینا ہوا مال تیرے لیے نہیں ہے بلکہ جو تیرے لیے تیرا امام پسند کرے وہ ہے تیرے لیے، تو یہ حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے، البتہ اس کی اصل حضور علیہ السلام ہی کا قول ہے، یہ بات انہوں نے کن سے سنی تھی؟ حضور علیہ السلام سے ہی سنی تھی بھئی۔ تو حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت حبیب بن مسلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: ”لَيْسَ لَكَ مِنْ سَلَبِ قَتِيلِكَ“ کہ تمہارے لیے تمہارے مقتول کا چھینا ہوا مال نہیں ہے ”إِلَّا مَا طَابَتْ بِهِ نَفْسُ إِمَامِكَ“ مگر وہ جو تمہارے لیے تمہارے امام کی ذات پسند کر لے، ”وَمَا رَوَاهُ يَحْتَمِلُ نَصْبَ الشَّرْعِ وَيَحْتَمِلُ التَّنْفِيلَ“ اور وہ حدیث جس کو امام شافعی رحمہ اللہ نے روایت فرمایا وہ نصبِ شریعت کا احتمال بھی رکھتی ہے اور تنفیل کا احتمال بھی رکھتی ہے، ہم کہتے ہیں کہ وہ جو حضور علیہ السلام نے ذکر فرمایا تھا ”مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا فَلَهُ سَلَبُهُ“ اس میں اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ حضور علیہ السلام ایک شرعی حکم بیان فرما رہے ہوں ہمیشہ کے لیے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہاں اس خاص موقع پر حضور علیہ السلام انعام کا اعلان فرما رہے ہوں، تو اس میں دونوں احتمال ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَا رَوَاهُ يَحْتَمِلُ نَصْبَ الشَّرْعِ“ اور وہ حدیث جس کو امام شافعی رحمہ اللہ نے روایت فرمایا وہ شریعت نصب کرنے کا احتمال بھی رکھتی ہے یعنی شرعی حکم بتلایا جا رہا ہے ”وَيَحْتَمِلُ التَّنْفِيلَ“ اور تنفیل کا احتمال بھی رکھتی ہے کہ حضور علیہ السلام زائد انعام کا اعلان فرما رہے ہیں، ”فَنَحْمِلُهُ عَلَى الثَّانِي“ تو ہم اس کو دوسری صورت پر محمول کرتے ہیں یعنی تنفیل پر، ”لِمَا رَوَيْنَاهُ“ اس حدیث کی وجہ سے جو ہم نے روایت کر دی یعنی یہ جو حضرت حبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث ابھی ذکر ہوئی بھئی، بات سمجھ میں آگئی۔ اس پر اشکال ہوتا ہے بھئی کہ یہ جو حضرت حبیب بن مسلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ والی حدیث ہے یہ حدیث ضعیف ہے بھئی، یہ حدیث ضعیف ہے لہٰذا اس کو بطور دلیل کے ذکر نہیں کیا جا سکتا، تو علماء جواب دیتے ہیں کہ اس حدیث کو احناف کا مذہب ثابت کرنے کے لیے پیش نہیں کیا جا رہا بلکہ اس کے ذریعے حضور علیہ السلام کے قول میں جو دو احتمال تھے، ایک تنفیل والا احتمال تھا اور ایک شرعی حکم ہونے کا احتمال تھا، تو اس ایک احتمال کو ترجیح دینے کے لیے ہم نے یہ حدیث ذکر کی ہے، بات سمجھ میں آگئی؟ تو ہم نے اس کو تنفیل پر محمول کر لیا اور اس صورت میں دیکھو دونوں حدیثوں پر عمل ہو گیا، ”مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا فَلَهُ سَلَبُهُ“ پر بھی عمل ہو گیا، معلوم ہوا اس کے اندر بھی حضور علیہ السلام زائد انعام کا اعلان فرما رہے ہیں اور حضرت حبیب بن مسلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث پر بھی عمل ہو گیا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَنَحْمِلُهُ عَلَى الثَّانِي لِمَا رَوَيْنَاهُ“ تو ہم اس حدیث کو محمول کرتے ہیں اس دوسری وجہ پر یعنی تنفیل پر ”لِمَا رَوَيْنَاهُ“ اس حدیث کی وجہ سے جو ہم نے روایت کر دی، ”وَزِيَادَةُ الْغَنَاءِ لَا يُعْتَبَرُ فِي جِنْسٍ وَاحِدٍ كَمَا ذَكَرْنَاهُ“ اور کارکردگی کا زیادہ ہونا ”لَا يُعْتَبَرُ فِي جِنْسٍ وَاحِدٍ“ ایک جنس کے اندر یہ معتبر نہیں ہے ”كَمَا ذَكَرْنَاهُ“ جیسے ہم نے ذکر کر دیا، ہم نے ذکر کر دیا پیچھے کہ جیسے کر اور فر کیا ہیں؟ ایک ہی جنس، تو ایک جنس کے اندر کارکردگی کا زیادہ ہونا معتبر نہیں ہے یعنی کافر کو قتل کرنے والا چاہے کافرِ مقبل کو قتل کرے چاہے سوئے ہوئے یا بھاگے ہوئے کو قتل کرے بہرحال کافروں کو کیا کر رہا ہے؟ قتل کر رہا ہے، تو ایک جنس کے اندر کارکردگی کا زیادہ ہونا معتبر نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَزِيَادَةُ الْغَنَاءِ لَا يُعْتَبَرُ فِي جِنْسٍ وَاحِدٍ“ اور کارکردگی کا زیادہ ہونا ایک جنس کے اندر معتبر نہیں ہے ”كَمَا ذَكَرْنَاهُ“ جیسے کہ ہم نے ذکر کر دیا، ”وَالسَّلَبُ مَا عَلَى الْمَقْتُولِ مِنْ ثِيَابِهِ وَسِلَاحِهِ وَمَرْكَبُهُ“ اب بھئی بتلا رہے ہیں سلب کہتے کس کو ہیں، آپ کو بتلائیں گے کہ مقتول کے بدن پر جو اس کے کپڑے ہیں، جو اس کا اسلحہ ہے، جو اس کی سواری ہے، سواری کے ساتھ اگر اس نے کوئی تھیلا باندھا ہوا ہے اس میں کوئی سامان ہے یا اسی طرح اس مقتول نے خود اپنی کمر کے ساتھ کوئی تھیلی باندھی ہوئی ہے اور اس کے اندر مال وغیرہ ہے، تو سلب میں یہ ساری چیزیں داخل ہیں لیکن اس کے علاوہ اور چیزیں داخل نہیں، مثلاً اسی مقتول کا ایک غلام بھی ہے وہ بھی لڑ رہا ہے تو اس مقتول کا جو غلام ہے وہ اس سلب کے اندر داخل نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَالسَّلَبُ مَا عَلَى الْمَقْتُولِ“ سلب جو ہے وہ ہے جو مقتول پر ہے ”مِنْ ثِيَابِهِ وَسِلَاحِهِ“ یعنی اس کے کپڑے اور اس کا اسلحہ ”وَمَرْكَبُهُ“ یہ مرکبہ اس پر رفع پڑھیں گے بھئی، اس پر رفع پڑھیں گے اس کا عطف ہے ”مَا“ پر بھئی ”مَا“، ”وَالسَّلَبُ مَا عَلَى الْمَقْتُولِ وَمَرْكَبُهُ“، سلب کیا ہے؟ وہ جو مقتول کے اوپر ہے اور جو اس کی سواری ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالسَّلَبُ مَا عَلَى الْمَقْتُولِ“ سلب وہ چیز ہے جو مقتول پر ہے ”مِنْ ثِيَابِهِ وَسِلَاحِهِ“ یعنی اس کے کپڑے اور اس کا اسلحہ ”وَمَرْكَبُهُ“ اور اس کی سواری، ”وَكَذَا مَا كَانَ عَلَى مَرْكَبِهِ مِنَ السَّرْجِ وَالْآلَةِ“ اور اسی طرح وہ جو اس کی سواری پر ہے ”مِنَ السَّرْجِ“ یعنی زین، گھوڑے پر زین لدی ہوتی ہے وہ، ”وَالْآلَةِ“ اور اسی طرح اس کے جو آلات ہیں یعنی لگام وغیرہ یہ سب کس میں داخل ہیں؟ سلب کے اندر۔ تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا مَا كَانَ عَلَى مَرْكَبِهِ“ اور اسی طرح جو کچھ اس مقتول کی سواری پر ہے ”مِنَ السَّرْجِ وَالْآلَةِ“ یعنی زین اور زین کا آلہ یعنی لگام وغیرہ، ”وَكَذَا مَا مَعَهُ عَلَى الدَّابَّةِ مِنْ مَالِهِ فِي حَقِيبَتِهِ“ حَقیبہ کہتے ہیں تھیلے کو، ”وَكَذَا مَا مَعَهُ عَلَى الدَّابَّةِ“ اور اسی طرح وہ چیز جو اس مقتول کے ساتھ تھی اس کے سواری کے جانور پر ”مِنْ مَالِهِ“ یعنی کہ اس کا مال ”فِي حَقِيبَتِهِ“ اس کے تھیلی میں، اس گھوڑے کے ساتھ کوئی تھیلا ہے اس میں اس نے مال وغیرہ رکھا ہوا تھا کچھ تو وہ بھی سلب کے اندر داخل ہے بھئی، پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: ”وَكَذَا مَا مَعَهُ عَلَى الدَّابَّةِ“ اور اسی طرح جو کچھ مقتول کے ساتھ ہے اس کی سواری پر ”مِنْ مَالِهِ فِي حَقِيبَتِهِ“ یعنی اس کا مال جو اس کے تھیلے میں ہے ”أَوْ عَلَىٰ وَسَطِهِ“ یا وہ مال جو اس کے وسط میں ہے، وسط درمیان کو کہتے ہیں یعنی اس نے اپنی کمر کے ساتھ کوئی مال باندھا ہوا ہے، ”أَوْ عَلَىٰ وَسَطِهِ“ یا جو اس کے وسط میں ہے یعنی کوئی تھیلی وغیرہ اور اس میں مال ہے، ”وَمَا عَدَا ذٰلِكَ فَلَيْسَ بِسَلَبٍ“ اور اس کے علاوہ جو ہے وہ سلب نہیں ہے، ”وَمَا كَانَ مَعَ غُلَامِهِ عَلَىٰ دَابَّةٍ أُخْرَىٰ“ اور جو کچھ اس مقتول کے غلام کے پاس ہے دوسرے سواری کے جانور پر ”فَلَيْسَ بِسَلَبِهِ“ وہ اس کا سلب نہیں ہے، بات سمجھ میں آگئی۔ ”ثُمَّ حُكْمُ التَّنْفِيلِ قَطْعُ حَقِّ الْبَاقِينَ“ اچھا بھئی تنفیل کا حکم کیا ہے؟ امام نے اعلان کر دیا تو کیا وہیں دار الحرب میں ہی وہ شخص اس زائد کا مالک بن جائے گا؟ کہتے ہیں: نہیں، صرف باقیوں کا حق اس چیز سے کٹ جائے گا، باقی غازیوں کا حق اس مال سے ختم ہو جائے گا جبکہ یہ جس کو انعام دینے کا اعلان کیا ہے امام نے، یہ اس کا مالک ابھی بھی نہیں بنا، جب اس مال کو دار الاسلام لایا جائے گا اس کے بعد یہ نفل کا یہ شخص مالک بنے گا۔ کہتے ہیں: ”ثُمَّ حُكْمُ التَّنْفِيلِ قَطْعُ حَقِّ الْبَاقِينَ“ پھر تنفیل کا جو حکم ہے وہ باقیوں کے حق کو قطع کرنا ہے یعنی باقیوں کا حق ختم ہو جاتا ہے، ”فَأَمَّا الْمِلْكُ“ باقی اس کی ملکیت جو ہے ”فَإِنَّمَا يَثْبُتُ بَعْدَ الْإِحْرَازِ بِدَارِ الْإِسْلَامِ“ تو وہ دار الاسلام کے اندر محفوظ کرنے کے بعد ثابت ہوگی ”لِمَا مَرَّ مِنْ قَبْلُ“ اس وجہ سے جو ماقبل میں گزر گئی، اس وجہ سے جو ماقبل میں بات گزر گئی کہ استیلاء کی وجہ سے مالک بنے گا اور استیلاء دو قسم پر ہے: ایک یدِ حافظہ اور ایک یدِ ناقلہ، اور اس وقت دار الحرب میں یدِ حافظہ تو ہے یدِ ناقلہ یعنی ہر قسم کے تصرف والا قبضہ ابھی نہیں، وہ دار الاسلام میں ہوگا، تو کہتے ہیں: ”لِمَا مَرَّ مِنْ قَبْلُ“ اس وجہ سے جو ماقبل میں بات گزر گئی، ”حَتَّى لَوْ قَالَ الْإِمَامُ“ یہاں تک کہ اگر امام نے کہا ”مَنْ أَصَابَ جَارِيَةً فَهِيَ لَهُ“ کہ جس کو کوئی باندی مل گئی ”فَهِيَ لَهُ“ تو یہ اسی کی ہے، ”فَأَصَابَهَا مُسْلِمٌ“ تو ایک مسلمان کو ایک باندی مل گئی ”وَاسْتَبْرَأَهَا“ اور اس نے اس مسلمان نے اسے دار الحرب میں ہی باندی سے استبراء بھی کروا لیا، میں نے آپ کو بتلایا تھا استبراء اسے کہتے ہیں کہ ایک حیض تک انتظار کیا جائے کہ باندی کو ایک حیض آ جائے تاکہ پتہ چل جائے کہ یہ حاملہ نہیں ہے، تو کہتے ہیں: ”فَأَصَابَهَا مُسْلِمٌ“ تو ایک باندی کو ایک مسلمان نے پا لیا ”وَاسْتَبْرَأَهَا“ اور اس نے اس کا استبراء بھی کروا لیا، ایک حیض کا انتظار بھی کر لیا، تو بھی ”لَمْ يَحِلَّ لَهُ وَطْؤُهَا“ اس مسلمان کے لیے اس سے وطی حلال نہیں ہے کیونکہ یہ ابھی اس کا مالک نہیں بنا جب تک دار الاسلام نہیں لے جاتا، تو کہتے ہیں: ”لَمْ يَحِلَّ لَهُ وَطْؤُهَا“ اس کے لیے اس سے وطی حلال نہیں ہے ”وَكَذَا لَا يَبِيعُهَا“ اور اسی طرح یہ اس کو بیچ بھی نہیں سکتا، ”وَهٰذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللّٰهُ“ اور یہ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک ہے، شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک وہ جو زائد انعام جس کا امام نے اعلان کیا تھا تو جب تک دار الحرب میں ہے وہ شخص ابھی بھی اس کا مالک نہیں ہے، ہاں جب دار الاسلام اس کو وہ نکال کر لے جائیں گے پھر وہ شخص اس انعام کا مالک بن جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَهٰذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللّٰهُ تَعَالَىٰ“ اور یہ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک ہے، ”وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالَىٰ: لَهُ أَنْ يَطَأَهَا وَيَبِيعَهَا“ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس شخص کے لیے اس باندی سے وطی بھی جائز ہے اور یہ اس کو بیچ بھی سکتا ہے، بھئی امام نے یہ انعام کے طور پر اعلان کیا تھا یہ نفل ہے یہ انعام ہے اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک دار الحرب کے اندر ہی وہ شخص اس انعام کا مالک بن جاتا ہے، تو لہٰذا یہ شخص جس کو باندی ملی ہے اور امام نے اعلان کیا تھا کہ جس کو باندی مل گئی وہی اس کا مالک ہے تو یہ شخص دار الحرب میں ہی اس باندی کا مالک بن گیا لہٰذا اس کے لیے اس باندی سے استبراء کے بعد وطی بھی جائز ہے اور اس کے لیے اس باندی کو بیچنا بھی جائز ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالَىٰ لَهُ أَنْ يَطَأَهَا وَيَبِيعَهَا“ اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس آدمی کے لیے جائز ہے کہ اس باندی سے یہ وطی کر سکتا ہے اور اسے بیچ سکتا ہے، ”لِأَنَّ التَّنْفِيلَ يَثْبُتُ بِهِ الْمِلْكُ عِنْدَهُ“ اس لیے کیونکہ تنفیل جو ہے اس کے ذریعے ملکیت ثابت ہو جاتی ہے امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک، امام محمد رحمہ اللہ کا مذہب کیا ہے؟ کہ تنفیل کی وجہ سے دار الحرب میں ہی ملکیت ثابت ہو جاتی ہے، تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ التَّنْفِيلَ يَثْبُتُ بِهِ الْمِلْكُ عِنْدَهُ“ اس لیے کیونکہ تنفیل جو ہے اس کی وجہ سے ملکیت ثابت ہو جاتی ہے ”عِنْدَهُ“ یعنی عند محمد رحمہ اللہ تعالی امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک، ”كَمَا يَثْبُتُ بِالْقِسْمَةِ فِي دَارِ الْحَرْبِ وَبِالشِّرَاءِ مِنَ الْحَرْبِيِّ“ بھئی جیسے آپ جانتے ہیں آپ کو صاحبِ ہدایہ نے پیچھے بتلایا تھا کہ مسلمان مالِ غنیمت کے مالک تین صورتوں میں بن سکتے ہیں: ایک صورت تو یہ ہے کہ وہ مال جب مسلمان دار الاسلام میں لے جائیں گے اور محفوظ کر لیں گے تو غازی اس مال کے مالک بن جائیں گے، اور دوسری صورت یہ ہے کہ امام وہیں پر حاجت اور ضرورت کی وجہ سے اس مال کو تمام غازیوں میں تقسیم کر دے، تو جب تمام غازیوں میں تقسیم کر دیا تو اس صورت میں بھی غازی اس مال کے اس مالِ غنیمت کے مالک بن جاتے ہیں، اور تیسری صورت یہ ذکر کی تھی کہ اگر امام ضرورت اور حاجت کی وجہ سے اس مال کو دار الحرب میں ہی بیچ دیتا ہے تو اس صورت میں بھی غازی اس مال کے مالک بن جائیں گے اس لیے کیونکہ بیچنا یہ ملکیت کا حکم ہے، کسی چیز کو تبھی بیچا جا سکتا ہے جب انسان اس کا مالک بن جائے بھئی، بات سمجھ میں آگئی۔ تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ جو نفل ہے وہ جو انعام ہے غازی وہیں دار الحرب میں ہی اس کا مالک بن جاتا ہے جیسے امام تمام غازیوں کے اندر مال تقسیم کرے تو تمام غازی اس کے مالک بن جاتے ہیں یا جیسے حربی سے کسی چیز کو خریدا جائے دار الحرب میں تو خریدار اس کا مالک بن جاتا ہے، تو یہاں پر بھی وہ جو نفل ہے وہ جو انعام ہے دار الحرب میں ہی وہ شخص اس انعام کا مالک بن جائے گا، تو یہ معنی ہے ”كَمَا يَثْبُتُ بِالْقِسْمَةِ فِي دَارِ الْحَرْبِ“ جیسے کہ دار الحرب میں ہی ملکیت ثابت ہو جاتی ہے تقسیم کی وجہ سے ”وَبِالشِّرَاءِ مِنَ الْحَرْبِيِّ“ اور جیسے دار الحرب میں ہی ملکیت ثابت ہو جاتی ہے حربی سے کوئی چیز خریدنے کی وجہ سے۔ ”وَوُجُوبُ الضَّمَانِ بِالْإِتْلَافِ قَدْ قِيلَ عَلَىٰ هٰذَا الِاخْتِلَافِ“ یہ ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں بھئی، اعتراض یہ ہوتا ہے کہ امام محمد رحمہ اللہ نے زیادات کے اندر یہ مسئلہ ذکر فرمایا ہے کہ اگر یہ جو زائد انعام جس کا اعلان امام نے کیا تھا مثلاً کسی کے ہاتھ باندی آ گئی تو وہ اس کا مالک ہے یا ”مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا فَلَهُ سَلَبُهُ“ جس نے کسی کافر کو قتل کیا تو اس کا اس کا سلب اس سے چھینا ہوا مال اسی کے لیے ہے، تو امام محمد رحمہ اللہ زیادات میں ذکر فرماتے ہیں کہ اگر دار الحرب کے اندر ہی کسی نے وہ جو نفل انعام جو تھا اس کو تلف کر دیا اس کو ہلاک کر دیا تو اس شخص پر ضمان آئے گا، جس نے اس باندی کو قتل کیا ہے اس پر ضمان آئے گا، وہ شخص جو اس باندی کا حقدار تھا جس کو امام نے انعام کے طور پر اس باندی کا مالک قرار دیا تھا تو اگر کسی نے مثلاً اس انعام کو ہلاک کر دیا یا جیسے وہ باندی تھی اس کو ہلاک کر دیا تو جس کا انعام بنتا تھا تو اس تلف کرنے والے کو ضمان دینا پڑے گا اس انعام والے کو، بات سمجھ میں آگئی؟ تو امام محمد رحمہ اللہ نے یہ مسئلہ زیادات میں ذکر فرمایا ہے اور وہاں انہوں نے اختلاف ذکر نہیں فرمایا اس مسئلے میں۔ یہاں تو ذکر کیا صاحبِ ہدایہ نے کہ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک یہ انعام جب دار الاسلام منتقل کیا جائے گا پھر یہ شخص اس کا مالک بنے گا اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں دار الحرب میں ہی یہ انعام والا اس انعام کا مالک بن جائے گا، تو یہاں تو صاحبِ ہدایہ نے اختلاف ذکر کیا لیکن امام محمد رحمہ اللہ نے زیادات میں یہ اختلاف ذکر نہیں کیا، مطلقاً اتنا ذکر کیا ہے کہ اگر دار الحرب میں ہی کوئی اس انعام کو تلف کر دے، ہلاک کر دے تو اس پر ضمان آئے گا، تو زیادات کی اس عبارت سے پتہ چلا کہ یہ مسئلہ ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک ہے کیونکہ وہاں اختلاف ذکر نہیں۔ اور جب یہ تینوں ائمہ کے نزدیک ہے کہ اس پر ضمان آئے گا اور ضمان تو تب آتا ہے کسی شخص پر جب وہ کسی کا مملوکہ مال ہلاک کر دے، معلوم ہوا دار الحرب میں ہی وہ انعام والا اس مال کا مالک بن چکا ہے جبھی تو دوسرے ہلاک کرنے والے پر ضمان آ رہا ہے ورنہ تو اس پر ضمان نہ آ سکتا، تو زیادات کے مسئلے سے معلوم ہو رہا ہے کہ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک بھی دار الحرب کے اندر ہی وہ انعام والا غازی اس انعام کا مالک بن چکا ہے اسی لیے تو ضمان آئے گا ورنہ تو ضمان نہ آتا، تو اس کا جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ کہ ضمان کے واجب ہونے کا جو مسئلہ ہے اس کے اندر بھی کہا گیا ہے کہ اسی طرح اختلاف ہے، امام محمد رحمہ اللہ نے تو زیادات میں ذکر نہیں فرمایا لیکن شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک اس میں ضمان نہیں آئے گا کیونکہ ابھی تک انعام والا اس کا مالک نہیں بنا دار الحرب میں، اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک وہ مالک بن چکا ہے لہٰذا ان کے نزدیک ضمان آئے گا، معلوم ہوا ضمان کے واجب ہونے کے مسئلے میں بھی اسی طرح اختلاف ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَوُجُوبُ الضَّمَانِ بِالْإِتْلَافِ قَدْ قِيلَ عَلَىٰ هٰذَا الِاخْتِلَافِ“، ”وَوُجُوبُ الضَّمَانِ بِالْإِتْلَافِ“ اور ضمان کا واجب ہونا اس انعام کو تلف کر دینے کی وجہ سے ”قَدْ قِيلَ“ تحقیق کہا گیا ہے ”عَلَىٰ هٰذَا الِاخْتِلَافِ“ وہ بھی اسی اختلاف پر ہے، انعام کو تلف کر دینے کی وجہ سے ضمان کا واجب ہونا ”قَدْ قِيلَ عَلَىٰ هٰذَا الِاخْتِلَافِ“ تحقیق کہا گیا ہے وہ بھی اسی اختلاف پر ہے، امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک ضمان آئے گا اور شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک ضمان نہیں آئے گا، بات سمجھ میں آگئی، حل ہو گیا۔ چلیے بس بھئی، هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔