فَصْلٌ فِي عِتْقِ الْبَعْضِ۔ قَالَ: وَمَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ، وَهُوَ مُوسِرٌ قُوِّمَ عَلَيْهِ نَصِيبُ شَرِيكِهِ، فَيُعْطِيهِ قِيمَتَهُ، وَعَتَقَ الْعَبْدُ كُلُّهُ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ، وَقَالَ أَبُو حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا يُقَوَّمُ، وَلَكِنَّ الشَّرِيكَ مُخَيَّرٌ، إِنْ شَاءَ أَعْتَقَ نَصِيبَهُ، وَإِنْ شَاءَ ضَمَّنَ شَرِيكَهُ، وَإِنْ شَاءَ اسْتَسْعَى الْعَبْدَ فِي نِصْفِ قِيمَتِهِ۔ بھئی گزشتہ سبق میں آپ نے یمینِ لجاج اور نذرِ لجاج کے بارے میں پڑھا تھا کہ اگر کوئی شخص غصے کی حالت میں قسم کھائے یا نذر مانے اور اس کا مقصد فعل کی ترغیب یا فعل سے روکنا ہو، تو وہ نذرِ لجاج کہلاتی ہے اور اس میں اس کو اختیار ہوتا ہے کہ چاہے تو وہ فعل کر لے جس کی نذر مانی تھی یا پھر قسم کا کفارہ دے دے۔ اب یہاں سے صاحبِ ہدایہ ایک نیا باب اور فصل شروع فرما رہے ہیں: فَصْلٌ فِي عِتْقِ الْبَعْضِ، یہ فصل ہے غلام کے کچھ حصے کو آزاد کرنے کے بیان میں۔ مسئلہ یہ ہے کہ اگر کسی شخص نے کسی مشترکہ غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا، مثلاً ایک غلام ہے وہ دو آدمیوں کے درمیان مشترک ہے: نصف حصہ زید کا ہے اور نصف حصہ عمر کا ہے، اب زید نے اپنے نصف حصے کو آزاد کر دیا تو کیا پورا غلام آزاد ہو جائے گا یا صرف زید کا حصہ آزاد ہو گا اور عمر کا حصہ غلام ہی رہے گا؟ تو صاحبین رحمہما اللہ یعنی امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ اگر یہ آزاد کرنے والا شریک موسر ہے یعنی مالدار ہے، تو اس پر اس کے شریک کے حصے کی قیمت لگائی جائے گی اور یہ اپنے شریک کو اس کے حصے کی قیمت ادا کرے گا اور پورا کا پورا غلام اسی وقت آزاد ہو جائے گا۔ اور امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، یہ غلام صرف اسی آزاد کرنے والے کے حصے میں آزاد ہو گا اور دوسرے شریک کے حصے میں آزاد نہیں ہو گا۔ البتہ دوسرے شریک کو تین باتوں میں سے ایک کا اختیار حاصل ہو گا: پہلا اختیار یہ ہے کہ وہ بھی اپنے حصے کو آزاد کر دے، تو اس صورت میں پورا غلام آزاد ہو جائے گا اور کسی پر کوئی تاوان نہیں آئے گا۔ دوسرا اختیار یہ ہے کہ وہ اپنے اس شریک سے جس نے اپنا حصہ آزاد کیا ہے، اس سے اپنے حصے کی قیمت مانگ لے اور اس کو ضامن بنا لے اگر وہ مالدار ہے تو وہ اس کے حصے کی قیمت ادا کرے گا۔ اور تیسرا اختیار یہ ہے کہ وہ غلام سے کمائی کروائے یعنی استسعاء کروائے، اسْتَسْعَى يَسْتَسْعِي اسْتِسْعَاءٌ کا معنی ہے غلام سے محنت مزدوری کروا کے اس سے اپنے حصے کی رقم وصول کرنا۔ تو اگر وہ چاہے تو اس غلام کو آزاد نہ کرے بلکہ اس سے کہے کہ تم کما کر میرے حصے کی قیمت ادا کرو، جب وہ کما کر قیمت ادا کر دے گا تو وہ آزاد ہو جائے گا۔ اور اگر یہ آزاد کرنے والا شریک مفلس ہو، معسر ہو یعنی اس کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ وہ دوسرے شریک کے حصے کی قیمت ادا کر سکے، تو پھر امام صاحب کے نزدیک دو ہی اختیارات رہ جائیں گے: یا تو وہ دوسرا شریک بھی اپنے حصے کو آزاد کر دے، یا پھر غلام سے کمائی کروائے (استسعاء کروائے)، کیونکہ مفلس شریک سے قیمت وصول کرنے کا تو کوئی امکان ہی نہیں ہے۔ جبکہ صاحبین رحمہما اللہ کے نزدیک اگر آزاد کرنے والا شریک معسر ہے تو پھر غلام سے کمائی کروائی جائے گی اور وہ غلام کما کر دوسرے شریک کو اس کے حصے کی قیمت ادا کرے گا اور آزاد ہو جائے گا۔ صاحبین رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے کہ حدیثِ پاک میں آتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ، فَكَانَ لَهُ مَالٌ يَبْلُغُ ثَمَنَ الْعَبْدِ، قُوِّمَ عَلَيْهِ قِيمَةَ عَدْلٍ، لَا وَكْسَ وَلَا شَطَطَ، فَأَعْطَى شُرَكَاءَهُ حِصَصَهُمْ، وَعَتَقَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ، وَإِلَّا فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ“ کہ جس شخص نے اپنے مشترکہ غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کیا اور اس کے پاس اتنا مال ہے جو پورے غلام کی قیمت کو پہنچتا ہے، تو اس پر غلام کی عادلانہ قیمت لگائی جائے گی، نہ اس میں کمی ہو گی اور نہ زیادتی، اور وہ اپنے شرکاء کو ان کے حصے ادا کرے گا اور پورا غلام آزاد ہو جائے گا، اور اگر اس کے پاس مال نہیں ہے تو جتنا حصہ اس نے آزاد کیا ہے بس اتنا ہی آزاد ہو گا۔ تو صاحبین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ حدیث سے صاف معلوم ہو رہا ہے کہ اگر وہ مالدار ہے تو پورا غلام آزاد ہو جائے گا اور وہ اپنے شریک کو اس کے حصے کی قیمت ادا کرے گا، اور استسعاء کا حدیث میں ذکر نہیں ہے اس لیے استسعاء جائز نہیں ہے۔ جبکہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک دوسری روایت میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے استسعاء کا صراحۃً ذکر موجود ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وَاسْتُسْعِيَ الْعَبْدُ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ“ کہ اگر وہ مفلس ہے تو غلام سے کمائی کروائی جائے گی بغیر اس پر مشقت ڈالے ہوئے۔ اور عقلی دلیل یہ ہے کہ آزادی ایک جزئی چیز نہیں ہے، آزادی کی صفت جب غلام کے ایک جز میں سرایت کر گئی تو وہ باقی پورے غلام میں سرایت کر جاتی ہے لیکن دوسرے شریک کے حق کی رعایت کرتے ہوئے اس کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ چاہے تو اپنے شریک کو ضامن بنا لے اور چاہے تو غلام سے کمائی کروا لے۔ پھر آگے صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ اگر کسی شخص نے اپنے کفارے کے اندر اس مشترکہ غلام کا اپنا حصہ آزاد کیا، مثلاً اس پر قسم کا کفارہ تھا اور اس نے کہا کہ میں نے اپنے کفارے میں اس غلام کا اپنا آدھا حصہ آزاد کیا، تو کیا اس کا کفارہ ادا ہو گا یا نہیں؟ تو فرماتے ہیں کہ اگر اس نے کفارے کی نیت سے آزاد کیا تھا تو امام صاحب کے نزدیک اس کا کفارہ ادا نہیں ہو گا کیونکہ کفارے کے اندر مکمل غلام کو آزاد کرنا شرط ہے، اور اس نے تو صرف نصف حصہ آزاد کیا ہے اور بقیہ نصف میں اس کو دوسرے شریک کو قیمت دینی پڑتی ہے تو وہ اعتاقِ کامل نہیں ہوا بلکہ وہ تملیک کے درجے میں ہو گیا، اس لیے کفارہ ادا نہیں ہو گا۔ جبکہ صاحبین کے نزدیک اگر وہ مالدار ہے اور اس نے دوسرے شریک کو قیمت ادا کر دی تو پورا غلام آزاد ہو جائے گا اور اس کا کفارہ ادا ہو جائے گا۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔ رَأَيْتُكِ فَأَنْتِ حُرَّةٌ عَنْ كَفَّارَةِ يَمِينِي۔ بھئی اس مسئلے سے پہلے ایک اور پچھلا مسئلہ دہرا لیں جو صاحبِ ہدایہ نے ذکر فرمایا تھا۔ صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ اگر ایک شخص ایک باندی سے نکاح کر لے تو اس باندی سے جو اولاد پیدا ہو گی اس کا نسب اسی خاوند سے ثابت ہو گا کیونکہ یہ اولاد اس کی منکوحہ بیوی سے ہوئی ہے، وہ منکوحہ بیوی جو باندی ہے، البتہ یہ اولاد جو ہے باندی کے آقا کی مملوک ہو گی لیکن بہرحال ان کا نسب ثابت ہے۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ جو شخص اپنی اس منکوحہ بیوی کو خرید لے جس سے اس کی اولاد ہو چکی ہے تو پھر اس صورت کے اندر یہ اس کی امِ ولد بن جائے گی، کیونکہ اولاد ہو چکی ہے اور اولاد کی وجہ سے خاوند اور اس باندی کے درمیان جزئیت آ چکی ہے بھئی۔ تو اب یہاں پر بھی یہی مسئلہ ہے، صورت یہ ہے کہ ایک شخص نے اپنی امِ ولد کو خریدا، امِ ولد کو خریدا، تو آپ کے ذہن میں اشکال پیدا ہو گا کہ امِ ولد تو اپنی مملوک ہوتی ہے، وہ اپنی مملوک باندی جس سے اولاد پیدا ہو تو اس کو خریدنے کا کیا معنی؟ تو صاحبِ ہدایہ پھر آپ کو بتلائیں گے کہ اس مسئلے کا معنی یہ ہے کہ کسی شخص نے اس باندی کو خرید لیا جس سے اس نے نکاح کیا تھا اور جس سے اس کی اولاد ہوئی تھی، تو یہ اس کی امِ ولد بن جائے گی۔ اب ایک شخص نے اپنی اس امِ ولد کو خریدا اور اس نے اپنی اس امِ ولد سے کہا تھا کہ اگر میں تجھے خریدوں تو تو آزاد ہے میری قسم کے کفارے میں، اگر میں تجھے خریدوں تو تو میرے قسم کے کفارے میں آزاد ہے۔ تو اب یہ شخص جیسے ہی اس امِ ولد کو خریدے گا یہ امِ ولد آزاد ہو جائے گی کیونکہ شرط پائی گئی، اس نے بھی کیا کہا تھا اگر میں تجھے خریدوں تو تو آزاد ہے تو یہ آزاد ہو جائے گی، البتہ فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ یہ کفارہ ادا نہیں ہو گا۔ باندی تو آزاد ہو جائے گی لیکن کفارہ ادا نہیں ہو گا، وجہ یہ کہ یہ اس کی امِ ولد ہے اور امِ ولد تو پہلے ہی آزادی کی مستحق ہو چکی ہے، آقا کے مرنے کے بعد اس نے ہر حال میں آزاد ہونا ہے، تو لہذا یہاں پر یہ جو امِ ولد آزاد ہوئی ہے تو یہاں پر اس آزادی کی نسبت کامل طور پر یمین کی طرف نہیں ہے، وہ جو اس نے تعلیق کی تھی کہ اگر میں نے تجھے خریدا تو تو میری قسم کے کفارے میں آزاد ہے، تو اس آزادی کی نسبت کامل طور پر اس یمین کی طرف ہونی چاہیے تھی لیکن یہاں کامل طور پر اس یمین کی طرف آزادی کی نسبت نہیں ہے کیونکہ یہ امِ ولد تو امِ ولد ہونے کی وجہ سے بھی آزادی کی مستحق ہو چکی تھی۔ تو یہ معلوم ہوا کامل آزادی نہیں بھئی، جب کامل آزادی نہیں ہے تو کفارہ ادا نہیں ہو گا کیونکہ کفارے کے اندر کامل غلام کی آزادی چاہیے بھئی جو کسی بھی لحاظ سے پہلے سے آزادی کا مستحق نہ ہو بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: وَلَوِ اشْتَرَى أُمَّ وَلَدِهِ لَمْ يُجْزِئْهُ، اور اگر کسی نے اپنی امِ ولد کو خریدا تو یہ اس کے لیے کافی نہیں، یعنی اس کے کفارے کے اندر کافی نہیں ہے۔ بھئی دیکھیے یہ متن ہے: وَلَوِ اشْتَرَى أُمَّ وَلَدِهِ لَمْ يُجْزِئْهُ، کسی نے اپنی امِ ولد کو خریدا تو یہ اس کے لیے کافی نہیں یعنی کفارے کے اندر کافی نہیں ہے۔ تو یہاں کفارے کو ذکر نہیں کیا کیونکہ پچھلے مسئلے میں کفارے کی بات چل رہی تھی کہ اگر کسی نے اپنے باپ کو خریدا اور کفارہ یمین کی نیت کی تو یہ کافی ہو جائے گا، لیکن اگر اپنی امِ ولد کو خریدا اور کفارہ یمین کی نیت کی تو یہ کافی نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: وَلَوِ اشْتَرَى أُمَّ وَلَدِهِ لَمْ يُجْزِئْهُ اور اگر کسی نے اپنی امِ ولد کو خریدا تو یہ اس کے لیے کافی نہیں یعنی اس سے کفارہ ادا نہیں ہو گا۔ وَمَعْنَى هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ، یہاں سے صاحبِ ہدایہ اس متن کی وضاحت فرما رہے ہیں۔ متن میں آیا اگر کسی نے اپنی امِ ولد کو خریدا تو فورا ذہن میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ امِ ولد تو اپنی مملوکہ باندی ہوتی ہے تو خریدنے کا کیا معنی؟ میں نے آپ کو بتلا دیا کہ ایسی باندی جس سے کسی نے نکاح کیا تھا اور نکاح سے اولاد ہوئی تھی، اس کو یہ خریدتا ہے تو یہ اس کی امِ ولد ہے اس کو اس نے خریدا۔ تو کہتے ہیں: وَمَعْنَى هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ اور اس مسئلے کا معنی یہ ہے: أَنْ يَقُولَ لِأَمَةٍ قَدِ اسْتَوْلَدَهَا بِالنِّكَاحِ کہ کوئی شخص کہتا ہے ایسی باندی سے جس سے اس نے اولاد طلب کی تھی نکاح کے ذریعے، اس باندی سے وہ کہتا ہے: إِنِ اشْتَرَيْتُكِ فَأَنْتِ حُرَّةٌ عَنْ كَفَّارَةِ يَمِينِي کہ اگر میں نے تجھے خریدا تو تو میری قسم کے کفارے میں آزاد ہے، ثُمَّ اشْتَرَاهَا پھر اس آدمی نے اس باندی کو خرید لیا، فَإِنَّهَا تَعْتِقُ لِوُجُودِ الشَّرْطِ تو یہ باندی آزاد ہو جائے گی شرط پائے جانے کی وجہ سے، شرط کیا تھی کہ اگر میں تجھے خریدوں تو یہاں خریدنا پایا گیا، تو فَإِنَّهَا تَعْتِقُ لِوُجُودِ الشَّرْطِ تو یہ باندی آزاد ہو جائے گی شرط پائے جانے کی وجہ سے، وَلَا يُجْزِئُهُ عَنِ الْكَفَّارَةِ لیکن یہ اعتاق جو ہے کفارے سے کافی نہیں ہو گا، لِأَنَّ حُرِّيَّتَهَا مُسْتَحَقَّةٌ بِالِاسْتِيلَادِ اس لیے کیونکہ اس کی آزادی جو ہے اس کا تو استحقاق ہو چکا ہے بالاستیلاد امِ ولد بنانے کی وجہ سے، امِ ولد بنانے کی وجہ سے یہ پہلے سے ہی آزادی کی مستحق ہو چکی ہے۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ حُرِّيَّتَهَا مُسْتَحَقَّةٌ بِالِاسْتِيلَادِ اس لیے کیونکہ اس باندی کی جو آزادی ہے اس کا تو پہلے سے ہی استحقاق ہو چکا ہے امِ ولد بنانے کی وجہ سے، فَلَا تُضَافُ إِلَى الْيَمِينِ مِنْ كُلِّ وَجْهٍ لہذا اس آزادی کی نسبت نہیں کی جا سکتی یمین کی طرف ہر اعتبار سے۔ بھئی اب یہ باندی آزاد تو ہو گئی لیکن یہ تو پہلے سے ہی آزادی کی مستحق ہے لہذا اس آزادی کی نسبت کامل طور پر اس یمین کی طرف نہیں کی جا سکتی، وہ جو اس نے کہا تھا اگر میں نے تجھے خریدا تو تو میری قسم کے کفارے میں آزاد ہے، اس یمین کی طرف اس آزادی کی نسبت کامل طور پر نہیں ہے، یہ معنی ہے: فَلَا تُضَافُ إِلَى الْيَمِينِ مِنْ كُلِّ وَجْهٍ تو لہذا اس کی نسبت نہیں کی جا سکتی اس یمین کی طرف ہر اعتبار سے۔ بِخِلَافِ مَا إِذَا قَالَ لِقِنَّةٍ، بخلاف اس کے کہ جب وہ کسی عام باندی سے کہے، قِنَّةٌ کہتے ہیں عام باندی کو، یہ تو امِ ولد تھی، اس کے بجائے اگر یہ کسی عام باندی سے کہتا کہ اگر میں نے تجھے خریدا تو تو میری قسم کے کفارے میں آزاد ہے پھر یہ اس باندی کو خرید لیتا تو خریدتے ہی آزاد بھی ہو جاتی اور قسم کا کفارہ بھی ادا ہو جاتا، اس لیے کیونکہ یہ عام باندی تو کسی بھی اعتبار سے پہلے سے آزادی کی مستحق نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: بِخِلَافِ مَا إِذَا قَالَ لِقِنَّةٍ بخلاف اس کے کہ جب یہ کسی عام باندی سے کہے: إِنِ اشْتَرَيْتُكِ فَأَنْتِ حُرَّةٌ عَنْ كَفَّارَةِ يَمِينٍ کہ اگر میں تجھے خریدوں تو تو کفارہ یمین کے اندر آزاد ہے، حَيْثُ يُجْزِئُهُ عَنْهَا اس لیے کیونکہ یہ آزادی جو ہے کفارے سے کافی ہو گی، إِذَا اشْتَرَاهَا جب یہ اس باندی کو خرید لے گا، لِأَنَّ حُرِّيَّتَهَا غَيْرُ مُسْتَحَقَّةٍ بِجِهَةٍ أُخْرَى اس لیے کیونکہ اس باندی کی جو آزادی ہے غیر مستحقۃ اس کا استحقاق نہیں ہے بجهۃ اخرى کسی دوسری جہت سے، کسی دوسری وجہ سے یہ آزادی کی مستحق نہیں ہے، فَلَمْ يَخْتَلَّ الْإِضَافَةُ إِلَى الْيَمِينِ تو لہذا یمین کی طرف جو نسبت ہو رہی تھی اس میں خلل نہیں آیا یعنی یہ کامل طور پر اس یمین کی وجہ سے ہی آزاد ہوئی ہے کوئی اور وجہ آزادی کی نہیں ہے، تو یمین کی طرف نسبت ہو رہی تھی آزادی کی اس میں کوئی خلل اور خرابی نہیں آئی۔ تو یہ معنی ہے: فَلَمْ يَخْتَلَّ الْإِضَافَةُ إِلَى الْيَمِينِ تو یمین کی طرف جو نسبت ہے اس میں کوئی خلل نہیں آیا، وَقَدْ قَارَنَتْهُ النِّيَّةُ اور تحقیق اس یمین کے ساتھ نیت بھی ملی ہوئی ہے، اس یمین کے ساتھ اس نے کفارے کی نیت بھی کی تھی، کیا کہا تھا اگر میں تجھے خریدوں تو تو میری قسم کے کفارے میں آزاد ہے تو دیکھو وہاں یمین کے ساتھ ہی کفارے کی نیت بھی ملی ہوئی ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ بھئی میری کتاب میں ہے وَقَدْ قَارَنَتْهُ، یہ ہا ضمیر شراء کی طرف لوٹائی گئی ہے، ہا ضمیر کے نیچے الشراء کا لفظ ہے لیکن یہ درست نہیں بھئی، یاد رکھو شراء جو ہے وہ شرط ہے اور کفارے کی جو نیت ہے وہ آزادی کی علت کے ساتھ ملی ہونی چاہیے، اور آزادی کی علت یمین ہے شراء نہیں، شراء تو شرط تھی اگر میں نے تجھے خریدا، تو یہاں اس قَارَنَتْهُ کی ہا ضمیر یمین کو لوٹائیں، اس پر آپ کے ذہنوں میں اشکال آئے گا کہ یہ ہا ضمیر تو مذکر کی ہے اور یمین تو عربی زبان میں مؤنث استعمال ہوتا ہے، یمین کا لفظ تو مؤنث سماعی ہے، تو جواب یاد رکھنا کہ پھر ایسے مقام پر تاویل کی جاتی ہے تو یہ ہا ضمیر یمین کو لوٹ رہی ہے حلف کی تاویل میں، حلف بھی کسے کہتے ہیں؟ حلف بھی یمین ہی کو کہتے ہیں اور وہ لفظ مذکر ہے بھئی، یا یہ ضمیر لوٹائیں گے یمین کی طرف مذکور کی تاویل میں کہ وہ جو مذکور ہے اس کے ساتھ نیت ملی ہوئی ہے یعنی یمین بھئی۔ کہتے ہیں: وَقَدْ قَارَنَتْهُ النِّيَّةُ اور حال یہ ہے کہ اس یمین کے ساتھ نیت ملی ہوئی ہے، اور یمین جو ہے وہی آزادی کی علت ہے تو اس کے ساتھ کفارے کی نیت کا ملا ہونا ضروری تھا اور وہ یہاں پائی گئی تو یہ باندی آزاد بھی ہو جائے گی اور کفارہ بھی ادا ہو جائے گا۔ آگے دیکھیے: وَمَنْ قَالَ: إِنْ تَسَرَّيْتُ جَارِيَةً فَهِيَ حُرَّةٌ، بھئی یہاں تَسَرِّي کا لفظ آیا، تَسَرَّى يَتَسَرَّى تَسَرِّيًا اس کا معنی ہوتا ہے خفیہ طور پر کوئی فعل کرنا، چھپا کر کوئی فعل کرنا، اور یہاں اس سے مراد جماع ہے، صحبت مراد ہے کیونکہ جماع بھی چھپ کر کیا جاتا ہے۔ تو صورت یہ ہے کہ ایک شخص نے قسم اٹھائی کہ اگر میں نے کسی باندی سے تسری کی یعنی میں نے اگر کسی باندی کے ساتھ صحبت کی تو وہ باندی آزاد ہے۔ تو یاد رکھو ہمارے نزدیک جو اس کی مملوکہ باندیاں ہیں ان کے حق میں تو یہ یمین منعقد ہو گئی، لہذا ان میں سے جس باندی کے ساتھ بھی یہ صحبت کرے گا وہ آزاد ہو جائے گی کیونکہ اس نے بھی کیا کہا تھا اگر میں کسی باندی کے ساتھ صحبت کروں تو وہ آزاد ہے، تو لہذا اس کی جو مملوکہ باندیاں ہیں ان کے حق میں یہ یمین منعقد ہو گئی، ان میں سے کسی کے ساتھ بھی یہ صحبت کرے گا تو وہ آزاد ہو جائے گی۔ لیکن اگر اس یمین کے بعد اس نے کسی نئی باندی کو خریدا اور اس کے ساتھ اس نے صحبت کی تو اس کے حق میں یمین منعقد نہیں ہے لہذا یہ باندی آزاد نہیں ہو گی۔ یہ باندی آزاد نہیں ہو گی، وجہ یہ کہ آپ پڑھ چکے ہیں کہ یمین کے منعقد ہونے کے لیے کسی غلام یا باندی کے بارے میں آپ تعلیق کرتے ہیں یا قسم کھاتے ہیں تو اس تعلیق یا قسم کھانے کے لیے ضروری ہے کہ وہ غلام یا باندی آپ کا مملوک ہو، اور اگر مملوک نہیں ہے تو پھر ضروری ہے کہ ملکیت کی طرف آپ نسبت کریں: إِنْ مَلَكْتُكَ یا إِنْ مَلَكْتُكِ اگر میں تیرا مالک بنا، اگر میں تیرا مالک بنا تو تو آزاد ہے، تو دیکھو جب ملکیت نہ ہو تو پھر ملکیت کی طرف نسبت بھی کر دی جائے تو کافی ہے بھئی، یا ملکیت کی طرف بھی نسبت نہیں کی سببِ ملکیت کی طرف نسبت کر دی، سببِ ملکیت یعنی جو ملکیت کا سبب ہے جیسے خریدنا، کوئی غلام یا باندی کو خریدتا ہے تو اس کا مالک بن جاتا ہے، تو اگر کسی غیر کے غلام سے کہا: إِنِ اشْتَرَيْتُكَ فَأَنْتَ حُرٌّ اگر میں نے تجھے خریدا تو تو آزاد ہے یا إِنِ اشْتَرَيْتُكِ فَأَنْتِ حُرَّةٌ اگر میں نے تجھے خریدا تو تو آزاد ہے، تو معلوم ہوا غلام یا باندی کے حق میں یمین کے منعقد ہونے کے لیے ضروری ہے کہ یمین کے وقت انسان ان کا مالک ہو، یا اگر یمین کے وقت ان کا مالک نہیں ہے تو پھر اس یمین کی نسبت کرے ملکیت یا سببِ ملکیت کی طرف، تو پھر اس صورت میں بھی اس غیر مملوک کے بارے میں بھی وہ یمین منعقد ہو جائے گی، لیکن یہاں پر تو اس نے ملکیت یا سببِ ملکیت کی طرف کوئی نسبت نہیں کی، صرف اتنا کہا ہے: إِنْ تَسَرَّيْتُ جَارِيَةً فَهِيَ حُرَّةٌ کہ اگر میں نے کسی باندی کے ساتھ تسری کی تو وہ آزاد ہے، تو یہاں ملکیت کو ذکر نہیں کیا یا سببِ ملکیت کو ذکر نہیں کیا، تو صرف وہ باندیاں جو اس وقت مملوک ہیں ان کے حق میں یہ قسم اور یہ یمین منعقد ہو گئی، ان سے تسری کرے گا جماع کرے گا تو وہ آزاد ہو جائیں گی لیکن کسی اور باندی کو بعد میں خریدے اور اس سے جماع کرے تو وہ آزاد نہیں ہو گی۔ تو کہتے ہیں: وَمَنْ قَالَ إِنْ تَسَرَّيْتُ جَارِيَةً فَهِيَ حُرَّةٌ اور جس شخص نے کہا اگر میں نے کسی باندی سے صحبت کی تو وہ آزاد ہے، فَتَسَرَّى جَارِيَةً كَانَتْ فِي مِلْكِهِ تو اس نے جماع کر لیا ایسی باندی سے جو اس کی ملکیت میں تھی یعنی قسم کے وقت اس کی ملکیت میں تھی اس سے اس نے صحبت کر لی، عَتَقَتْ تو وہ باندی آزاد ہو جائے گی، لِأَنَّ الْيَمِينَ انْعَقَدَتْ فِي حَقِّهَا اس لیے کیونکہ یہ یمین اس باندی کے حق میں منعقد ہو گئی، لِمُصَادَفَتِهَا الْمِلْكَ اس وجہ سے کہ اس یمین نے ملاقات کی ہے اس ملکیت سے یعنی اس باندی سے جس میں اس آدمی کی ملکیت ہے، تو یمین کے وقت یا ملکیت ہونی چاہیے یا یمین کے اندر ملکیت کی طرف نسبت ہونی چاہیے یا سببِ ملکیت کی طرف نسبت ہونی چاہیے۔ تو کہتے ہیں پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: لِأَنَّ الْيَمِينَ انْعَقَدَتْ فِي حَقِّهَا لِمُصَادَفَتِهَا الْمِلْكَ اس لیے کیونکہ یہ یمین اس باندی کے حق میں بھی منعقد ہو گئی ہے اس لیے کیونکہ اس یمین نے ملاقات کی ہے اس آدمی کی ملکیت سے، وَهَذَا لِأَنَّ الْجَارِيَةَ مُنَكَّرَةٌ فِي هَذَا الشَّرْطِ اور وہ اس لیے کیونکہ جاریہ کا جو لفظ ہے منکرۃ وہ نکرہ ہے فی ھذا الشرط اس شرط میں، یہ جو اس نے کہا تھا إِنْ تَسَرَّيْتُ جَارِيَةً تو یہ جاریہ کا لفظ نکرہ ہے تو لہذا یہ اس کی ہر باندی کو شامل ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَهَذَا لِأَنَّ الْجَارِيَةَ مُنَكَّرَةٌ فِي هَذَا الشَّرْطِ فَيَتَنَاوَلُ كُلَّ جَارِيَةٍ عَلَى الِانْفِرَادِ، اور یہ اس لیے کیونکہ جاریہ کا لفظ نکرہ ہے اس شرط کے اندر فیتناول تو یہ شامل ہو گا کل جاریۃ ہر باندی کو علی الانفراد اکیلے طور پر، اکیلے طور پر یعنی اس کی مملوکہ ہر ہر باندی اس کے اندر داخل ہے لیکن اکٹھی ہو کر نہیں، مجموعاً نہیں کیونکہ مفرد کا لفظ ذکر کیا ہے جَارِيَةً، اور مفرد ایک فرد کو شامل ہوتا ہے مجموعے کو شامل نہیں ہوتا تو اس کی ہر ہر باندی اس کے اندر داخل ہے بھئی لیکن انفراد کے طریقے پر، کیونکہ ایک باندی ہے اس کی وہ بھی جاریہ ہے، دوسری باندی ہے وہ بھی جاریہ ہے، تیسری اس کی باندی ہے وہ بھی کیا ہے جاریہ ہے، تو ہر ہر باندی الگ الگ طور پر اس قسم کے تحت اس یمین کے تحت داخل ہے بھئی، یہ معنی ہے: فَيَتَنَاوَلُ كُلَّ جَارِيَةٍ عَلَى الِانْفِرَادِ تو یہ جاریہ کا لفظ شامل ہے ہر باندی کو علی الانفراد اکیلے بھئی یعنی اکیلی اکیلی باندی اس کے اندر داخل ہے ساری اکٹھی ہو کر مجموعہ نہیں کیونکہ جاریہ کا لفظ مفرد پر بولا جاتا ہے جمع پر نہیں بولا جاتا۔ وَإِنِ اشْتَرَى جَارِيَةً فَتَسَرَّاهَا لَمْ تَعْتِقْ بِهَذِهِ الْيَمِينِ، اور اگر اس نے کوئی اور باندی خریدی پھر اس کے ساتھ اس نے جماع کر لیا تو اس یمین کی وجہ سے یہ والی باندی آزاد نہیں ہو گی کیونکہ یہ اس کی مملوکہ نہیں تھی قسم کے وقت اور نہ اس کی طرف اس نے ملکیت یا سببِ ملکیت کی نسبت کی ہے۔ تو کہتے ہیں: وَإِنِ اشْتَرَى جَارِيَةً فَتَسَرَّاهَا لَمْ تَعْتِقْ بِهَذِهِ الْيَمِينِ اور اگر اس نے کوئی اور باندی خریدی اور پھر اس سے جماع کر لیا تو اس قسم کی وجہ سے یہ والی باندی آزاد نہیں ہو گی، خِلَافًا لِزُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ بخلاف امام زفر رحمہ اللہ کے، وہ فرماتے ہیں یہ والی باندی بھی آزاد ہو جائے گی۔ یہ والی باندی بھی آزاد ہو جائے گی، وہ فرماتے ہیں وجہ یہ ہے کہ آقا نے تسری کا لفظ ذکر کیا ہے جماع کرنے کا، اور جماع کرنا تو صرف اپنی مملوکہ باندی سے جائز ہے غیر مملوکہ کے ساتھ تو جماع جائز ہی نہیں، تو گویا اس شخص نے ذکر تو مطلق تسری کو کیا ہے لیکن اس کے اندر ملکیت کو بھی ہمیں ماننا پڑے گا کہ گویا ساتھ اس نے ملکیت بھی ذکر کر دی، تسری کے ساتھ ملکیت بھی ذکر کر دی کہ اگر میں اپنی کسی مملوکہ باندی سے جماع کروں تو مطلق باندی مراد نہیں ہے بلکہ مملوکہ باندی مراد ہے، کیوں مملوکہ باندی مراد ہے؟ کیونکہ اپنی مملوکہ باندی سے ہی تسری اور جماع جائز ہے غیر مملوکہ سے تو جماع جائز ہی نہیں، تو تسری کا ذکر ایسے ہی ہے گویا اس نے مملوکہ ہونے کو بھی ذکر کر دیا، اور یہ جو نئی باندی اس نے خرید لی ہے یہ بھی اس کی مملوکہ باندی ہے تو اس کے ساتھ بھی جب یہ تسری کرے گا جماع کرے گا تو یہ بھی آزاد ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں: خِلَافًا لِزُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ فَإِنَّهُ يَقُولُ: التَّسَرِّي لَا يَصِحُّ إِلَّا فِي الْمِلْكِ، بخلاف امام زفر رحمہ اللہ کے کیونکہ وہ فرماتے ہیں کہ تسری یعنی جماع تو صحیح نہیں ہوتا مگر اپنی ہی ملکیت میں، فَكَانَ ذِكْرُهُ ذِكْرَ الْمِلْكِ تو تسری کا ذکر جو ہے ملکیت کا ذکر ہے، تسری کو ذکر کر دیا تو گویا ملکیت کو بھی ذکر کر دیا، فَصَارَ كَمَا إِذَا قَالَ لِأَجْنَبِيَّةٍ تو یہ ایسے ہی ہو گیا کہتے ہیں جیسے کوئی شخص کسی اجنبیہ عورت سے کہے۔ ایک شخص ہے وہ ایک اجنبیہ عورت سے کہتا ہے: إِنْ طَلَّقْتُكِ فَعَبْدِي حُرٌّ اگر میں نے تجھے طلاق دی تو میرا غلام آزاد ہے۔ اب یہ تو اجنبیہ عورت ہے بھئی اور یہ تعلیق کرنے والا طلاق کو ذکر کر رہا ہے اور طلاق کے لیے تو نکاح کا ہونا ضروری ہے تو یہاں پر طلاق کا ذکر گویا نکاح کا بھی ذکر ہے۔ اس نے ذکر صرف طلاق کو کیا ہے لیکن یوں سمجھیں گے اس نے نکاح کو بھی ذکر کیا ہے اور یوں کہا ہے کہ اگر میں نے تجھ سے نکاح کیا اور پھر تجھے طلاق دے دی تو میرا غلام آزاد ہے، تو طلاق کے ساتھ ہی نکاح کو بھی ماننا پڑے گا کیونکہ طلاق بغیر نکاح کے نہیں ہو سکتی۔ تو یہاں پر بھی یہ آدمی نے تسری ذکر کی ہے، تسری تو بغیر ملکیت کے نہیں ہو سکتی تو تسری کو ذکر کرنا اسی طرح ہے جیسے ملکیت کو بھی ذکر کر دیا جائے، جیسے طلاق کو ذکر کرنا اسی طرح ہے جیسے نکاح کو بھی ذکر کر دیا جائے۔ تو کہتے ہیں: فَصَارَ كَمَا إِذَا قَالَ لِأَجْنَبِيَّةٍ: إِنْ طَلَّقْتُكِ فَعَبْدِي حُرٌّ يَصِيرُ التَّزَوُّجُ مَذْكُورًا، تو یہ ایسے ہی ہو گیا جیسے کسی شخص نے کسی اجنبیہ سے کہا اگر میں نے تجھے طلاق دی تو میرا غلام آزاد ہے تو نکاح بھی مذکور ہو گا، اگرچہ اس نے نکاح کو ذکر تو نہیں کیا لیکن نکاح بھی یوں سمجھیں گے کہ یہاں مذکور ہے، یہ معنی ہے: يَصِيرُ التَّزَوُّجُ مَذْكُورًا تو نکاح بھی مذکور ہو گا۔ وَلَنَا اب ہماری دلیل آ گئی: وَلَنَا أَنَّ الْمِلْكَ يَصِيرُ مَذْكُورًا ضَرُورَةَ صِحَّةِ التَّسَرِّي، اب ہماری دلیل آ گئی۔ ہم کہتے ہیں کہ امام زفر رحمہ اللہ کی بات صحیح ہے کہ تسری یعنی جماع تو صرف اپنی مملوکہ باندی میں ہی صحیح ہے لہذا تسری کا ذکر یہ تقاضا کرتا ہے کہ ملکیت کو بھی یہاں مذکور مان لیا جائے، تو یہ تسری کس چیز کا تقاضا کر رہی ہے؟ ملکیت کا، لہذا یہاں پر ملکیت کو بھی مانا جائے گا۔ لیکن یہ ملکیت ہم نے کیوں مانی؟ کیونکہ تسری اس کا تقاضا کر رہی تھی، تو اس کے بغیر کلام ہی صحیح نہیں بنتا تھا کیونکہ اپنی باندی ہی کے ساتھ صحبت جائز ہے غیر کی باندی کے ساتھ تو صحبت جائز نہیں، تو یہاں پر ہمیں اس یمین کے اندر ملکیت کو مذکور ماننا پڑا کیونکہ تسری اس کا تقاضا کر رہی ہے، تو یہ اقتضاءً ہمیں ملکیت کو ماننا پڑا، یعنی تسری کے صحیح ہونے کے لیے ملکیت کا ہونا ضروری ہے تو یہاں پر ہمیں ملکیت کو مذکور ماننا پڑا تسری کی ضرورت کی وجہ سے، اور آپ نے ضابطہ پڑھا ہے: اَلضَّرُورِيُّ يَتَقَدَّرُ بِقَدْرِ الضَّرُورَةِ کہ وہ چیز جس کو ضرورت کی وجہ سے ثابت مانا جائے وہ بقدرِ ضرورت ہی ثابت ہوتی ہے، وہ چیز جس کو ضرورت کی وجہ سے ماننا پڑے وہ بقدرِ ضرورت ہی ثابت ہوتی ہے تو لہذا یہاں پر بھی تسری کی ضرورت کی وجہ سے ہمیں ملکیت کو ماننا پڑا لہذا تسری کے حق میں تو ملکیت مذکور ہے لیکن جزا کے حق میں تو ملکیت مذکور نہیں۔ جزا کیا تھی؟ فَهِيَ حُرَّةٌ، إِنْ تَسَرَّيْتُ جَارِيَةً فَهِيَ حُرَّةٌ، تو یہ جو جزا ہے اس کے حق میں تو ملکیت مذکور نہ ہوئی۔ بھئی دیکھیے نا یمین جو ہے وہ شرط اور جزا سے مل کر بنتی ہے: إِنْ تَسَرَّيْتُ جَارِيَةً یہ ہے شرط اور فَهِيَ حُرَّةٌ یہ ہے جزا، تو یمین جو ہے یہ شرط اور جزا سے مرکب ہے بھئی۔ اور آپ کو میں نے ضابطہ بتلایا کہ کسی غلام یا باندی کے بارے میں یمین تبھی منعقد ہو گی جب اس کے اندر آپ کی ملکیت ہو قسم کھاتے وقت یعنی تعلیق کرتے وقت، اور اگر ملکیت نہیں ہے تو پھر آپ کو ملکیت کی طرف نسبت کرنا پڑے گی یا سببِ ملکیت یعنی شراء وغیرہ کی طرف نسبت کرنا پڑے گی، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو لہذا یہاں پر ایک ہے شرط إِنْ تَسَرَّيْتُ جَارِيَةً اور ایک ہے جزا فَهِيَ حُرَّةٌ، تو آپ نے ملکیت کو اقتضاءً مان لیا تسری کی وجہ سے اور تسری تو ذکر ہے شرط کے اندر، تو گویا شرط کے اندر ملکیت مذکور ہو گئی لیکن جزا کے اندر بھی ملکیت کا آنا ضروری ہے لیکن جزا کے اندر تو کوئی ملکیت ذکر نہیں اور نہ ہی وہ باندی اس کی مملوکہ ہے جب یہ یمین منعقد کر رہا ہے، تو لہذا یہ جو باندی اس نے بعد میں خریدی ہے اس کے حق میں یمین منعقد ہی نہیں ہوئی۔ یہ جو باندی اس نے بعد میں خریدی ہے اس کے حق میں یمین منعقد ہی نہیں ہوئی، کیوں؟ کیونکہ یمین کے منعقد ہونے کے لیے کیا ضروری ہے؟ کہ اس غلام یا باندی میں اس یمین کے وقت ہی ملکیت ہو یا اس کی طرف ملکیت یا سببِ ملکیت کی نسبت کی جائے، اور یہاں پر یہ جو نئی باندی خریدی ہے نہ تو یہ قسم کے وقت نا اس کے اندر ملکیت ہے اور نہ اس کی طرف ملکیت یا سببِ ملکیت کی نسبت کی ہے۔ اگر آپ تسری کے اندر ملکیت کو مان بھی لیتے ہیں تو تسری تو شرط کے اندر ذکر ہے إِنْ تَسَرَّيْتُ جَارِيَةً، تو شرط کے اعتبار سے تو ہمیں بھی تسلیم ہے ملکیت آ گئی ملکیت مذکور ہو گئی، لیکن یمین تو صرف شرط کا نام نہیں ہے یمین میں تو جزا بھی ہے تو جزا کے حق میں بھی ملکیت ثابت ہونی چاہیے لیکن جزا کے حق میں یہاں ملکیت ثابت نہیں ہو رہی۔ جزا کے حق میں ملکیت ثابت نہیں ہو رہی تو شرط اور جزا دونوں کے اندر ملکیت کا ہونا ضروری تھا، تو جب دونوں کے اندر ملکیت مذکور نہیں ہے تو لہذا اس نئی باندی کو جس کو اس نے اب خریدا ہے اس کے حق میں یہ یمین منعقد ہی نہیں ہوئی، یہ یمین منعقد ہی نہیں ہوئی۔ تسری جو شرط کے اندر ذکر ہے اس تسری کے حق میں تو ملکیت ظاہر ہو گئی وہاں تو ملکیت کو مذکور مان لیا گیا لیکن اَلضَّرُورِيُّ يَتَقَدَّرُ بِقَدْرِ الضَّرُورَةِ، تو یہ جو ملکیت ثابت ہوئی ہے یہ تسری کی ضرورت کی وجہ سے ثابت ہوئی ہے لہذا یہ صرف تسری یعنی شرط کے لیے ہی مذکور ہوئی ہے جزا کے لیے مذکور نہیں، لہذا جب جزا کے لیے ملکیت مذکور نہیں تو جزا مملوکہ باندیوں کے علاوہ کسی اور باندی کے لیے یہ جزا منعقد نہیں ہوئی یعنی اس کے بارے میں یمین ہی منعقد نہیں ہوئی بھئی۔ تو کہتے ہیں: فَلَا يَظْهَرُ فِي حَقِّ صِحَّةِ الْجَزَاءِ، لہذا یہ ملکیت ظاہر نہیں ہو گی جزا کے صحیح ہونے کے حق میں، اور جزا تو حریت ہے کہ فَهِيَ حُرَّةٌ اس نے کہا تھا، تو اس کے حق میں ملکیت ظاہر نہیں یعنی مملوکہ باندیوں کے علاوہ اور باندیوں کے حق میں جزا منعقد نہیں، اور جب جزا منعقد نہیں تو ان کے حق میں یمین ہی منعقد نہیں کیونکہ یمین تو نام ہے شرط اور جزا کے مجموعے کا بھئی۔ آگے دیکھیے: وَفِي مَسْأَلَةِ الطَّلَاقِ إِنَّمَا يَظْهَرُ فِي حَقِّ الشَّرْطِ دُونَ الْجَزَاءِ، اور طلاق کے مسئلے میں امام زفر رحمہ اللہ نے تسری کے مسئلے کو قیاس کیا تھا طلاق کے مسئلے میں: ایک شخص ایک اجنبیہ سے کہتا ہے إِنْ طَلَّقْتُكِ فَعَبْدِي حُرٌّ اگر میں نے تجھے طلاق دی تو میرا غلام آزاد ہے، اور طلاق کے صحیح ہونے کے لیے نکاح کا ہونا ضروری ہے تو وہاں ہم نے نکاح کو مذکور مان لیا۔ تو اس کا اب جواب دے رہے ہیں امام زفر کو کہ وہاں پر بھی جو نکاح کو مذکور مانا گیا وہ طلاق یعنی شرط کے صحیح ہونے کے لیے ہے، تو شرط کے حق میں تو نکاح ظاہر ہو گیا لیکن جزا کے حق میں بھی نکاح کو ہونا چاہیے تھا لیکن جزا کے حق میں تو نکاح ظاہر نہیں ہے لہذا جزا منعقد نہیں ہوئی، شرط تو منعقد ہو گئی: إِنْ طَلَّقْتُكِ اس کا کیا معنی ہے؟ إِنْ تَزَوَّجْتُكِ فَطَلَّقْتُكِ اگر میں نے تجھ سے نکاح کیا اور پھر تجھے طلاق دی، تو یہاں تو نکاح کا لفظ آ گیا لیکن فَعَبْدِي حُرٌّ جزا کے لیے بھی نکاح کو مذکور ہونا چاہیے تھا، جزا کے حق میں تو نکاح مذکور نہیں لہذا یہ یمین بھی منعقد نہیں ہوئی کیونکہ یمین نام ہے شرط اور جزا دونوں کے مجموعے کا، شرط کے اندر تو نکاح مذکور ہو گیا لیکن جزا کے اندر نکاح مذکور نہیں ہے لہذا یہ یمین منعقد نہیں ہوئی، لہذا اگر یہ اس عورت سے نکاح کر لے گا اور پھر اس کو طلاق دے دے گا تو غلام آزاد نہیں ہو گا کیونکہ یمین ہی منعقد نہیں ہوئی تھی۔ کہتے ہیں بلکہ اس کی وضاحت ایک اور مثال سے ہو جاتی ہے صاحبِ ہدایہ بھی ذکر فرمائیں گے: ایک شخص ایک اجنبیہ سے کہتا ہے: إِنْ طَلَّقْتُكِ فَأَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا، ایک شخص ایک اجنبیہ عورت سے کہتا ہے: إِنْ طَلَّقْتُكِ اگر میں نے تجھے طلاق دی فَأَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا تو تجھے تین طلاقیں ہیں یعنی جب بھی میں تجھے طلاق دوں تو تین طلاقیں ہیں۔ اب یہاں پر یہ عورت تو اجنبیہ ہے، اجنبیہ کو تو وہ طلاق دے ہی نہیں سکتا لہذا إِنْ طَلَّقْتُكِ یہ جو شرط تھی اس کے شرط کے صحیح ہونے کے لیے نکاح کا ہونا یہاں مذکور مان لیا گیا کہ طلاق مذکور ہے تو گویا نکاح بھی مذکور ہے کیونکہ نکاح کے بغیر تو طلاق نہیں ہو سکتی، تو یہاں پر بھی شرط کے حق میں تو نکاح مذکور ہوا لیکن جزا جو تھی کہ فَأَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا اس کے حق میں تو نکاح مذکور نہیں ہوا لہذا یہ جزا بھی اس عورت کے حق میں منعقد نہیں ہوئی۔ جب جزا منعقد نہیں ہوئی تو یمین منعقد نہیں ہوئی کیونکہ یمین تو نام ہے شرط اور جزا کے مجموعے کا، جب یمین منعقد نہیں ہوئی چنانچہ اس آدمی نے بعد میں اس اجنبیہ عورت سے نکاح کر لیا اور نکاح کے بعد اس نے اس کو طلاق دے دی تو اس نے تو کیا کہا تھا اگر میں تجھے طلاق دوں تو تجھے تین طلاقیں ہیں، لیکن یہاں تین طلاقیں واقع نہیں ہوں گی کیونکہ جزا اس عورت کے حق میں منعقد ہی نہیں ہوئی تھی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: وَفِي مَسْأَلَةِ الطَّلَاقِ إِنَّمَا يَظْهَرُ فِي حَقِّ الشَّرْطِ دُونَ الْجَزَاءِ اور طلاق کے مسئلے میں نکاح جو ہے وہ ظاہر ہو گا شرط کے حق میں نہ کہ جزا کے حق میں، یہ امام زفر کو جواب دے رہے ہیں کہ آپ نے تسری کے مسئلے کو طلاق کے مسئلے پر قیاس کیا ہے وہاں طلاق کے مسئلے میں بھی نکاح جو ہے وہ شرط کے لیے تو ظاہر ہو گا لیکن جزا کے لیے ظاہر نہیں لہذا وہ یمین منعقد نہیں ہوئی بھئی۔ حَتَّى لَوْ قَالَ لَهَا یہاں تک کہ اگر اس شخص نے اس اجنبیہ سے کہا: إِنْ طَلَّقْتُكِ فَأَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا فَتَزَوَّجَهَا وَطَلَّقَهَا کہ اگر میں نے تجھے طلاق دی تو تجھے تین طلاقیں ہیں پھر اس شخص نے اس عورت سے نکاح کر لیا اور اسے طلاق دے دی، لَا تُطَلَّقُ ثَلَاثًا تو اس کو تین طلاقیں نہیں ہوں گی، یعنی اس نے ایک دی ہے تو ایک ہی واقع ہو گی اس شرط کی وجہ سے تین نہیں ہو جائیں گی کیونکہ یہ یمین اس عورت کے حق میں منعقد ہی نہیں ہوئی، یہ معنی ہے کہ لَا تُطَلَّقُ ثَلَاثًا تو اس عورت کو تین طلاقیں نہیں ہوں گی۔ فَهَذِهِ وِزَانُ مَسْأَلَتِنَا تو یہ ہمارے مسئلے کے مثل ہے، یہ مسئلہ بھی ہمارے مسئلے جیسا ہی ہے یعنی یہاں بھی یمین منعقد نہیں ہو گی۔ بھئی دیکھو وِزَانٌ لفظ آیا، یاد رکھو وِزَانٌ یہ مصدر ہے بابِ مفاعلہ کا، جیسے قَاتَلَ يُقَاتِلُ مُقَاتَلَةً وَقِتَالًا، تو مفاعلہ اور فعال یہ مصدر آتے ہیں بابِ مفاعلہ سے بھئی، تو یہ وِزَانٌ: وَازَنَ يُوَازِنُ مُوَازَنَةً وَوِزَانًا، تو وِزَانٌ کا معنی ہے کسی کے ہم وزن ہونا، کسی کے برابر ہونا، مراد یہاں مثل ہے کیونکہ مثل بھی دوسری چیز کے برابر ہوتا ہے اس جیسا ہوتا ہے۔ تو کہتے ہیں: فَهَذِهِ وِزَانُ مَسْأَلَتِنَا تو یہ مسئلہ بھی ہمارے مسئلے کے مثل ہے، ہمارے مسئلے کے جیسا ہے۔ آگے دیکھیے: وَمَنْ قَالَ: كُلُّ مَمْلُوكٍ لِي حُرٌّ يَعْتِقُ أُمَّهَاتُ أَوْلَادِهِ وَمُدَبَّرُوهُ وَعَبِيدُهُ، بھئی یہ دو مسئلے ہیں: ایک مسئلہ تو یہ ہے کہ ایک شخص نے قسم اٹھائی کہ كُلُّ مَمْلُوكٍ لِي حُرٌّ کہ میرا ہر مملوک آزاد ہے، میرا ہر مملوک آزاد ہے، اور دوسرا مسئلہ اس کے برعکس ہے کہ اس نے کہا كُلُّ عَبْدٍ لِي حُرٌّ کہ میرا ہر غلام آزاد ہے، ایک میں مملوک کا لفظ ذکر کیا اور دوسرے میں عبد کا لفظ ذکر کیا، تو دونوں کا حکم الگ الگ ہے۔ اگر اس نے مملوک کا لفظ ذکر کیا ہے كُلُّ مَمْلُوكٍ لِي حُرٌّ کہ میرا ہر مملوک آزاد ہے، تو اس میں اس کے تمام عَبِيد یعنی تمام عام غلام وہ بھی آزاد ہو جائیں گے، اسی طرح اس کے مدبر غلام وہ بھی آزاد ہو جائیں گے اور اسی طرح اس کی امہات الاولاد وہ بھی آزاد ہو جائیں گی، کیونکہ مملوک کا لفظ عام ہے یہ سب کو شامل ہے: عام غلام کو بھی شامل ہے، مدبر غلام کو بھی شامل ہے اور امِ ولد کو بھی شامل ہے، البتہ مکاتب اس کے اندر شامل نہیں ہوگا، مکاتب آزاد نہیں ہوگا کیونکہ مکاتب غلام کے اندر شائبہ حریت آ چکا ہے اور وہ اپنے نفس کا خود مالک بن چکا ہے لہذا اب وہ مملوک نہیں ہے بھئی۔ اور اگر اس نے عَبْد کا لفظ بولا كُلُّ عَبْدٍ لِي حُرٌّ کہ میرا ہر غلام آزاد ہے، تو اب اس میں صرف غلام ہی آزاد ہوں گے، باندیاں اور امہات الاولاد اس میں آزاد نہیں ہوں گی، وجہ یہ کہ عبد کا لفظ صرف مذکر پر بولا جاتا ہے مؤنث پر نہیں بولا جاتا۔ مؤنث کے لیے تو امۃ کا لفظ آتا ہے، لہذا عبد کے لفظ میں باندیاں اور امہات الاولاد داخل نہیں ہوں گی، البتہ مدبر غلام جو ہے وہ چونکہ مذکر ہے تو وہ اس کے اندر داخل ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: وَمَنْ قَالَ كُلُّ مَمْلُوكٍ لِي حُرٌّ اور جس شخص نے کہا کہ میرا ہر مملوک آزاد ہے، يَعْتِقُ أُمَّهَاتُ أَوْلَادِهِ وَمُدَبَّرُوهُ وَعَبِيدُهُ، تو اس کی امہات الاولاد اور اس کے مدبر اور اس کے غلام آزاد ہو جائیں گے، لِأَنَّ اس لیے کیونکہ یہ سب کیا ہیں؟ اس کے مملوک ہیں بھئی، لِأَنَّ اس لیے کیونکہ یہ سب اس کے مملوک ہیں اور اس نے کیا کہا تھا میرا ہر مملوک آزاد ہے، دُونَ الْمُكَاتَبِینَ نہ کہ مکاتب، مکاتب آزاد نہیں ہوں گے، لِانْعِدَامِ الرِّقِّ اس لیے کیونکہ غلامی معدوم ہے فِي حَقِّ الْيَدِ ہاتھ کے حق میں، یعنی کمائی کے حق میں اور اپنے تصرفات کے حق میں اس کی غلامی معدوم ہو چکی ہے وہ اپنے نفس کا خود مالک بن چکا ہے، اپنے ہاتھ کا خود مالک ہے وہ جو کمائے گا اس کا وہ خود مالک ہے، وہ جو تصرفات کرے گا تجارت وغیرہ کرے گا اس کا وہ خود مالک ہے تو کمائی اور تصرفات کے حق میں وہ اپنے نفس کا خود مالک بن چکا ہے اس کی غلامی معدوم ہو چکی ہے لہذا وہ مملوک نہیں ہے۔ وَلَوْ قَالَ: كُلُّ عَبْدٍ لِي حُرٌّ لَمْ يَعْتِقْ أُمَّهَاتُ الْأَوْلَادِ، اور اگر اس نے کہا کہ میرا ہر غلام آزاد ہے لم یعتق امہات الاولاد تو امہات الاولاد آزاد نہیں ہوں گی، لِأَنَّ الْعَبْدَ لَا يَتَنَاوَلُ الْأَمَةَ اس لیے کیونکہ عبد کا لفظ شامل نہیں ہوتا امہ کو یعنی باندی کو، عبد کا لفظ صرف مذکر پر بولا جاتا ہے امۃ یعنی باندی کو شامل نہیں ہوتا۔ وَكَذَا الْمُدَبَّرَاتُ اور اسی طرح مدبرات بھی آزاد نہیں ہوں گی کیونکہ وہ بھی مؤنث ہیں، وَيَعْتِقُ الْمُدَبَّرُونَ اور مدبر غلام آزاد ہو جائیں گے لِأَنَّهُمْ عَبِيدٌ اس لیے کیونکہ وہ غلام ہیں، وہ مذکر ہیں لہذا وہ عبد کے لفظ کے اندر داخل ہیں وہ آزاد ہو جائیں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی، حل ہو گیا؟ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔ آگے دو تین مسائل صاحبِ ہدایہ ذکر فرمائیں گے۔ آگے چند سطروں کے بعد نیا باب شروع ہو رہا ہے: بَابُ الْيَمِينِ فِي الْبَيْعِ وَالشِّرَاءِ وَالتَّزَوُّجِ وَغَيْرِ ذَلِكَ۔ تو یہاں یہ جو ”وَمَنْ قَالَ: كُلُّ مَمْلُوكٍ لِي حُرٌّ“ یہاں سے لے کر اس باب کے آخر تک ”لِمَا بَيَّنَّا“ تک، یہ تین چار سطروں میں جو مسئلے ذکر کریں گے صاحبِ ہدایہ، یاد رکھو ان کے اندر نہ تعلیق ذکر ہے اور نہ یمین ذکر ہے۔ اور کتاب چل رہی ہے کتابُ الأیمان بھئی۔ تو یہ دو تین مسائل جو ذکر فرمائیں گے صاحبِ ہدایہ، شارحین فرماتے ہیں کہ ان مسائل کا تعلق یمین سے نہیں ہے کیونکہ ان میں یمین کا ذکر ہی نہیں۔ ہاں صرف طبعاً صاحبِ ہدایہ نے ان کو ذکر فرما دیا کہ اگر اس طرح کا مسئلہ پیش آ جائے اور اس کو یمین میں ذکر کر دیا جائے تو پھر اس کا کیا حکم ہو گا وہ یہاں سے معلوم ہو سکتا ہے۔ تو یہاں تو یمین ذکر نہیں لیکن اگر یمین میں ان کو ذکر کریں گے تو اس کا کیا حکم ہو گا وہ یہاں سے معلوم ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ قَالَ: كُلُّ مَمْلُوكٍ لِي حُرٌّ“ بھئی ایک آدمی نے کہا: ”كُلُّ مَمْلُوكٍ لِي حُرٌّ“ میرا ہر مملوک آزاد ہے، تو اس سے کون کون سے غلام اس کے آزاد ہوں گے اور کون سے غلام آزاد نہیں ہوں گے؟ تو آپ کو بتلائیں گے کہ اس صورت میں اس کی جتنی امِ ولد ہیں وہ بھی آزاد ہو جائیں گی، جتنے مدبر ہیں وہ بھی آزاد ہو جائیں گے، اور جتنے عام غلام یا باندیاں ہیں وہ سب بھی آزاد ہو جائیں گے جب اس نے کیا کہا ہے: ”كُلُّ مَمْلُوكٍ لِي حُرٌّ“ میرا ہر مملوک آزاد ہے۔ تو یہ امہاتِ اولاد، مدبر اور عام غلام اور باندیاں سب آزاد ہو جائیں گے۔ ہاں مکاتب آزاد نہیں ہو گا، مکاتب کے لیے باقاعدہ نیت کرے گا کہ مکاتب کی بھی وہ نیت ساتھ کر لیتا ہے تو پھر مکاتب آزاد ہو گا ویسے نہیں۔ وجہ یہ، وجہ یہ کہ کیونکہ یہ جو مدبر ہے یا امِ ولد ہے یا عام غلام ہیں ان کے اندر اس آقا کی ملکیت ہے رقبہ کے اعتبار سے بھی اور ید یعنی قبضے کے اعتبار سے بھی۔ آقا کی ان کے اندر ملکیت ہے رقبہ کے اعتبار سے بھی یعنی یہ آقا کے غلام اور باندیاں ہیں، اور نیز قبضے کے اعتبار سے بھی آقا کی ملکیت ہے کہ آقا ان سے خدمت لے سکتا ہے، ان سے اجارہ وغیرہ کروا سکتا ہے، کوئی بھی کام کروا سکتا ہے۔ تو یہ رقبہ بھی آقا کا اور قبضہ بھی آقا کا۔ جبکہ مکاتب جو ہے اس کے اندر رقبہ تو آقا کی ہوتی ہے لیکن قبضہ آقا کا نہیں ہوتا، میں نے آپ کو بتلایا تھا مکاتب آزاد آدمی کی طرح ہے، آقا اس سے جبراً خدمت نہیں لے سکتا، یہ جائے گا جا کر پیسے کما کر لائے گا اور اپنے آپ کو آزاد کروائے گا۔ اور نیز اسی طرح اگر مکاتبہ باندی ہے تو آقا کے لیے اس سے صحبت جائز نہیں کیونکہ آقا کا اب مکاتب اور مکاتبہ پر قبضہ باقی نہیں ہے۔ تو معلوم ہوا عام غلام ہے یا مدبر ہے یا امِ ولد اس کے اندر رقبہ کے اندر بھی آقا کی ملکیت اور قبضے کے اندر بھی آقا کی ملکیت، جبکہ مکاتب اور مکاتبہ کے اندر رقبہ کے اندر تو آقا کی ملکیت ہے یہ غلام اور باندیاں تو ہیں لیکن قبضے کے اندر آقا کی ملکیت نہیں ہے، تو ان کی ملکیت میں نقصان آ گیا، کمی آ گئی، جب کمی آ گئی تو اب ان کے لیے باقاعدہ نیت کرے گا تو تب یہ آزاد ہوں گے ویسے آزاد نہیں ہوں گے۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ قَالَ: كُلُّ مَمْلُوكٍ لِي حُرٌّ، يَعْتِقُ أُمَّهَاتُ أَوْلَادِهِ وَمُدَبَّرُوهُ وَعَبِيدُهُ“ اور جس شخص نے کہا کہ میرا ہر مملوک آزاد ہے تو اس شخص کی امہاتِ اولاد اور اس کے مدبر اور اس کے غلام جو ہیں وہ آزاد ہو جائیں گے، ”لِوُجُودِ الْإِضَافَةِ الْمُطْلَقَةِ فِي هَؤُلَاءِ“ اس لیے کیونکہ مطلق اضافت پائی جا رہی ہے ان میں۔ ان میں اضافت مطلقاً یعنی کامل طور پر پائی جا رہی ہے، صرف رقبہ کے اعتبار سے نہیں صرف قبضے کے اعتبار سے نہیں بلکہ دونوں اعتبار سے ان کی نسبت آقا کی طرف ہے۔ یہ رقبہ بھی آقا کا اور قبضہ بھی آقا کا، تو ان کے اندر مطلق نسبت پائی جا رہی ہے آقا کی طرف۔ تو کہتے ہیں: ”لِوُجُودِ الْإِضَافَةِ الْمُطْلَقَةِ فِي هَؤُلَاءِ“ اس لیے کیونکہ ان کے اندر مطلق اضافت پائی جا رہی ہے یعنی کامل درجے کی ملکیت ہے، کامل اضافت ہے ان کے اندر، ”إِذِ الْمِلْكُ ثَابِتٌ فِيهِمْ رَقَبَةً وَيَدًا“ اس لیے کیونکہ ان کے اندر ملکیت ثابت ہے رقبہ کے اعتبار سے یعنی ذات کے اعتبار سے بھی اور ید یعنی قبضے کے اعتبار سے بھی، ”وَلَا يَعْتِقُ مُكَاتَبُوهُ إِلَّا أَنْ يَنْوِيَهُمْ“ اور اس کے مکاتب آزاد نہیں ہوں گے مگر یہ کہ یہ ان کی نیت کر لے، ”لِأَنَّ الْمِلْكَ غَيْرُ ثَابِتٍ يَدًا“ اس لیے کیونکہ آقا کی ملکیت جو ہے وہ قبضے کے اعتبار سے اس مکاتب میں ثابت نہیں ہے، ”وَلِهَذَا لَا يَمْلِكُ أَكْسَابَهُ“ اور اسی لیے آقا اس کی کمائیوں کا مالک نہیں ہوتا، مکاتب جو کمائی کرتا ہے اس کا مالک آقا نہیں ہے، وہ لائے گا اپنی قسطیں ادا کرے گا ہر مہینے جو اس نے رقم ادا کرنی ہے اور اپنے آپ کو آزاد کروائے گا، تو اس کی کمائی اس کی اپنی ملکیت ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِهَذَا لَا يَمْلِكُ أَكْسَابَهُ“ اور اسی لیے آقا اس کی کمائیوں کا مالک نہیں ہے، ”وَلَا يَحِلُّ لَهُ وَطْءُ الْمُكَاتَبَةِ“ اور اسی وجہ سے آقا کے لیے مکاتبہ سے وطی بھی جائز نہیں کیونکہ قبضے کے اعتبار سے آقا کی ملکیت نہیں ہے۔ ”بِخِلَافِ أُمِّ الْوَلَدِ وَالْمُدَبَّرَةِ“ بخلاف امِ ولد اور مدبرہ کے کہ ان کے اندر قبضہ بھی آقا کا ہوتا ہے، ان کی کمائیوں کا بھی آقا حقدار ہوتا ہے اور امِ ولد اور مدبرہ کے ساتھ وطی کا بھی آقا مالک ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ أُمِّ الْوَلَدِ وَالْمُدَبَّرَةِ، فَاخْتَلَّتِ الْإِضَافَةُ“ تو اضافت کے اندر خلل آ گیا، مکاتب کی جو آقا کی طرف اضافت اور نسبت ہو رہی ہے کہ یہ آقا کا مملوک ہے اس میں خلل آ گیا، خرابی آ گئی یعنی کمی آ گئی، رقبہ کے اعتبار سے تو آقا اس کا مالک ہے لیکن قبضے کے اعتبار سے اس کا مالک نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: ”فَاخْتَلَّتِ الْإِضَافَةُ“ تو مکاتب کی جو اضافت ہو رہی ہے نسبت ہو رہی ہے آقا کی طرف اس میں خلل آ گیا، ”فَلَا بُدَّ مِنَ النِّيَّةِ“ تو نیت ضروری ہے، ان کی نیت ضروری ہے آزادی کے لیے۔ آگے دیکھیے: ”وَمَنْ قَالَ لِنِسْوَةٍ لَهُ: هَذِهِ طَالِقٌ أَوْ هَذِهِ وَهَذِهِ، طُلِّقَتِ الْأَخِيرَةُ وَلَهُ الْخِيَارُ فِي الْأُولَيَيْنِ“ صورتِ مسئلہ یہ کہ ایک شخص نے اپنی بیویوں سے کہا: ”هَذِهِ طَالِقٌ أَوْ هَذِهِ وَهَذِهِ“۔ پہلی دو کے درمیان ”أَوْ“ کو لے کر آیا اور ”أَوْ“ آتا ہے احدِ مذکورین کے لیے کہ دو چیزوں میں سے ایک مراد ہے دونوں مراد نہیں، اور آخری سے پہلے وہ واؤ لے کر آیا اور واؤ آتا ہے جمع کے لیے کہ دو چیزوں کو حکم کے اندر جمع کر دیتا ہے۔ میں نے کہا: جَاءَنِي زَيْدٌ وَعَمْرٌو، تو اس کا مطلب ہے آنے میں زید اور عمرو دونوں شریک ہیں دونوں جمع ہیں۔ تو اب صورت یہ: ایک شخص نے اپنی بیویوں سے کہا: ”هَذِهِ طَالِقٌ أَوْ هَذِهِ وَهَذِهِ“، تو اب کیا حکم ہو گا کس کس بیوی کو طلاق ہو گی؟ تو کہتے ہیں تیسری کو تو طلاق ہو گئی، تیسری جو ہے اس کو طلاق ہو گئی، اور پہلی دو میں سے ایک کو طلاق ہوئی اور اس ایک کی تعیین خاوند کے ذمے ہے، وہ متعین کر کے بتائے کس والی کو اس نے طلاق کا ارادہ کیا ہے، تو وہ ایک کی تعیین کر دے گا اس ایک کو بھی طلاق ہو گئی یعنی پہلی دو میں سے ایک کو بھی طلاق ہو گئی اور تیسری کو بھی طلاق ہو گئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ قَالَ لِنِسْوَةٍ لَهُ: هَذِهِ طَالِقٌ أَوْ هَذِهِ وَهَذِهِ، طُلِّقَتِ الْأَخِيرَةُ وَلَهُ الْخِيَارُ فِي الْأُولَيَيْنِ“ اور جس شخص نے اپنی بیویوں سے کہا: ”هَذِهِ طَالِقٌ أَوْ هَذِهِ وَهَذِهِ“، تو آخری بیوی جو ہے اس کو طلاق ہو گئی اور اس خاوند کو اختیار ہے پہلی دو میں، ”لِأَنَّ كَلِمَةَ أَوْ لِإِثْبَاتِ أَحَدِ الْمَذْكُورَيْنِ“ اس لیے کیونکہ کلمۂ ”أَوْ“ جو آیا یہ دو مذکورہ چیزوں میں سے ایک کے اثبات کے لیے ہوتا ہے، یعنی پہلی دو میں سے ایک کے اندر وہ طلاق کو ثابت کر رہا ہے۔ تو یہ جو ”أَوْ“ آتا ہے ”لِإِثْبَاتِ أَحَدِ الْمَذْكُورَيْنِ“ یہ دو مذکورہ چیزوں میں سے ایک کے اثبات کے لیے ہوتا ہے، ”وَقَدْ أَدْخَلَهَا بَيْنَ الْأُولَيَيْنِ“ اور یہ کلمۂ ”أَوْ“ جو ہے اس کو داخل کیا ہے اس شخص نے پہلی دو بیویوں کے درمیان، ”ثُمَّ عَطَفَ الثَّالِثَةَ عَلَى الْمُطَلَّقَةِ“ معلوم ہوا پہلی دو میں سے ایک کو طلاق ہے دونوں کو نہیں، دونوں میں سے ایک کو طلاق ہے، تو وہ جو مطلقہ ہے اس پر اس آخری کا عطف کر دیا۔ آخری بیوی سے پہلے کیا ذکر کیا؟ واؤ، واؤ کس لیے آتا ہے؟ عطف کے لیے۔ اور واؤ حکم کے اندر مشارکت کا فائدہ دیتا ہے کہ جو ماقبل کا حکم ہے وہی واؤ کے مابعد کا حکم ہے۔ ”جَاءَنِي زَيْدٌ وَعَمْرٌو“ یہ دیکھو زید کا کیا حکم ہے کہ وہ آیا ہے: ”جَاءَ زَيْدٌ“، تو ”وَعَمْرٌو“ عمرو کا بھی وہی حکم ہے جو ماقبل زید کا ہے۔ تو یہاں پر بھی آخری میں کیا کہا: ”وَهَذِهِ“، تو یہ ”هَذِهِ“ کا وہی حکم ہے جو پہلی دو میں سے ایک کا حکم ہے اور وہ ایک کیا ہے؟ مطلقہ، تو پہلی دو میں سے ایک مطلقہ ہے اور اسی پر یہ تیسری کا عطف ہو گیا تو یہ بھی کیا ہو گئی؟ مطلقہ ہو گئی۔ تو کہتے ہیں: ”ثُمَّ عَطَفَ الثَّالِثَةَ عَلَى الْمُطَلَّقَةِ“ پھر اس تیسری کا عطف کیا اس نے اس مطلقہ پر یعنی وہ جو پہلی دو میں سے مطلقہ ہے اس پر اس تیسری کا عطف کیا، ”لِأَنَّ الْعَطْفَ لِلْمُشَارَكَةِ فِي الْحُكْمِ“ اس لیے کیونکہ عطف جو ہے وہ حکم کے اندر مشارکت کے لیے ہوتا ہے کہ وہاں حکم کے اندر مشارکت مقصود ہوتی ہے، ”فَيَخْتَصُّ بِمَحَلِّهِ“ لہذا یہ عطف خاص ہو گا محلِ حکم کے ساتھ۔ یہ جو ”وَهَذِهِ“ تیسری بیوی ہے اس کا عطف ماقبل میں جس کے لیے حکم ثابت ہو رہا ہے اس پر عطف ہو گا اور وہ تو دونوں میں سے ایک ہے اور وہ مطلقہ ہے، تو اس پر اس تیسری کا بھی عطف ہوا تو اس تیسری کا بھی وہی حکم ہو جائے گا یہ بھی مطلقہ ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں پھر دیکھیے ترجمہ: کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْعَطْفَ لِلْمُشَارَكَةِ فِي الْحُكْمِ فَيَخْتَصُّ بِمَحَلِّهِ“ اس لیے کیونکہ عطف جو ہے وہ حکم میں مشارکت کے لیے ہوتا ہے لہذا یہ عطف خاص ہو گا اس حکم کے محل یعنی مطلقہ کے ساتھ، ”فَصَارَ كَمَا إِذَا قَالَ: إِحْدَاكُمَا طَالِقٌ وَهَذِهِ“ تو یہ ایسے ہی ہو گیا جیسے اس نے کہا ہے: ”إِحْدَاكُمَا طَالِقٌ وَهَذِهِ“۔ اس نے کہا تو کیا ہے: ”هَذِهِ طَالِقٌ أَوْ هَذِهِ وَهَذِهِ“، لیکن یوں ہی سمجھو گویا اس نے یوں کہا ہے: ”إِحْدَاكُمَا طَالِقٌ وَهَذِهِ“، ”إِحْدَاكُمَا طَالِقٌ“ تم دونوں میں سے ایک کو طلاق ہے ”وَهَذِهِ“ اور اس تیسری کو، تو تیسری کو طلاق ہو جائے گی اور پہلی دو میں سے ایک کو۔ ”وَكَذَا إِذَا قَالَ لِعَبِيدِهِ: هَذَا حُرٌّ أَوْ هَذَا وَهَذَا“ اور اسی طرح جب کسی شخص نے اپنے غلاموں سے کہا: ”هَذَا حُرٌّ أَوْ هَذَا وَهَذَا“، اسی طرح پہلے دو کے درمیان ”أَوْ“ لایا اور تیسرے سے پہلے واؤ لایا، تو یہاں پر بھی تیسرا جو ہے وہ تو آزاد ہو جائے گا اور پہلے دو کے اندر اس کو اختیار ہے کسی ایک کی تعیین کر دے وہ بھی آزاد ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا إِذَا قَالَ لِعَبِيدِهِ: هَذَا حُرٌّ أَوْ هَذَا وَهَذَا، عَتَقَ الْأَخِيرُ وَلَهُ الْخِيَارُ فِي الْأُولَيَيْنِ لِمَا بَيَّنَّا“ اور اسی طرح ہے جب کسی شخص نے اپنے غلاموں سے کہا: ”هَذَا حُرٌّ أَوْ هَذَا وَهَذَا“ کہ یہ آزاد ہے یا یہ اور یہ، تو تیسرا آزاد ہو جائے گا اور اس کو اختیار ہو گا پہلے دو میں اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دیا کہ پہلے دو میں ”أَوْ“ آیا ہے اور ”أَوْ“ احدِ مذکورین کے لیے ہوتا ہے۔ آگے دیکھیے: بَابُ الْيَمِينِ فِي الْبَيْعِ وَالشِّرَاءِ وَالتَّزَوُّجِ وَغَيْرِ ذَلِكَ۔ یہ باب ہے اس قسم کے بیان میں جو بیع یعنی بیچنے کے بارے میں ہو، ”وَالشِّرَاءِ“ اور خریدنے کے بارے میں ہو، ”وَالتَّزَوُّجِ“ اور نکاح کے بارے میں ہو، ”وَغَيْرِ ذَلِكَ“ اور ان کے علاوہ۔ یعنی اس باب میں یہ ذکر فرمائیں گے صاحبِ ہدایہ کہ اگر کوئی شخص یمین کے اندر بیع یا شراء یا نکاح وغیرہ کو ذکر کرے تو اس کا کیا حکم ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: بَابُ الْيَمِينِ فِي الْبَيْعِ وَالشِّرَاءِ وَالتَّزَوُّجِ وَغَيْرِ ذَلِكَ یہ باب ہے اس یمین کے بارے میں جو بیع و شراء اور تزوج وغیرہ کے بارے میں ہو، ”وَمَنْ حَلَفَ لَا يَبِيعُ أَوْ لَا يَشْتَرِي أَوْ لَا يُؤَاجِرُ فَوَكَّلَ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ لَمْ يَحْنَثْ“۔ صورتِ مسئلہ یہ: ایک شخص نے قسم اٹھا لی کہ واللہ میں بیع نہیں کروں گا یعنی بیچنے کا فعل نہیں کروں گا، یا میں شراء یعنی خریدنے کا فعل نہیں کروں گا، یا میں اجارے کا فعل نہیں کروں گا۔ اجارہ کہتے ہیں کسی کو کوئی چیز کرائے پر دینا یا کرائے پر کسی سے کوئی چیز لینا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ اجارہ۔ تو لہذا ایک شخص نے قسم اٹھا لی کہ وہ بیع یا شراء یا اجارے وغیرہ کا فعل نہیں کرے گا اور پھر اس کے بعد اس نے کسی اور کو وکیل بنا دیا کوئی چیز بیچنے کے لیے یا خریدنے کے لیے یا اجارے کے لیے، اور پھر اس کے وکیل نے وہ فعل کر لیا تو کیا یہ شخص حانث ہو گا؟ کہتے ہیں نہیں، یہاں یہ شخص حانث نہیں ہو گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ بھئی یاد رکھنا آگے کئی قسم کے افعال ذکر ہوں گے: بعض افعال وہ ہیں جن میں نیابت جاری ہوتی ہے، اور بعض افعال وہ ہیں جن میں نیابت جاری نہیں ہوتی۔ نیابت یعنی نائب ہونا۔ دیکھو آپ کسی کو وکیل بناتے ہیں ایک کام کے لیے تو آپ اس کو اپنا نائب بنا رہے ہیں۔ تو بعض افعال ہیں ان میں نیابت یعنی توکیل جاری ہوتی ہے وہاں آپ کسی کو وکیل بنا سکتے ہیں، جیسے بیع و شراء اور اجارہ وغیرہ ہے۔ کبھی آپ کو گاڑی کی ضرورت ہے آپ خود خریدنے نہیں جاتے بلکہ اپنے وکیل کو بھیج دیتے ہیں، کسی کو کہہ دیتے ہیں کہ میرے لیے گاڑی خرید لو، تو یہ آپ کا وکیل ہوا، معلوم ہوا بیع و شراء اور اجارہ کے اندر نیابت جاری ہوتی ہے۔ جبکہ بعض افعال ایسے ہیں کہ ان کے اندر نیابت جاری نہیں ہوتی بھئی، نیابت جاری نہیں ہوتی، مثلاً کھانا یا پینا ہے۔ آپ کسی کو وکیل نہیں بنا سکتے اپنے کھانے اور پینے کا، کیونکہ وکیل کے کھانے یا پینے سے آپ کا پیٹ نہیں بھرے گا بھئی۔ تو کھانا پینا ایسا فعل ہے جس میں نیابت جاری نہیں ہو سکتی۔ پھر اس کے بعد یاد رکھنا کہ جن افعال کے اندر نیابت جاری ہوتی ہے ان میں سے بعض وہ افعال ہیں کہ جہاں حقوق کا تعلق وہ عقد کرنے والے سے ہی یعنی وکیل سے ہی ہوتا ہے، اگر وکیل نے عقد کیا ہے تو حقوقِ عقد کا تعلق بھی وکیل سے ہی ہوتا ہے، جیسے بیع و شراء وغیرہ۔ بیع و شراء وغیرہ، تو بیع و شراء اور اجارے میں نیابت جاری ہوتی ہے یعنی اس میں آپ کسی کو وکیل بنا سکتے ہیں اور اس میں حقوقِ عقد کا تعلق وکیل سے ہی ہوتا ہے۔ بھئی دیکھو نا جب آپ کسی سے بیع کرتے ہیں تو بائع کی ذمہ داری ہوتی ہے مبیع حوالے کرے، بائع کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ مبیع میں کوئی عیب نہیں ہونا چاہیے، اور مشتری کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ اس کو ثمن ادا کرنے پڑیں گے، اس سے ثمن کا مطالبہ ہو گا، تو دیکھو یہ ہیں حقوقِ عقد۔ تو یہاں پر یہ جو بیع و شراء وغیرہ ہیں ان میں حقوقِ عقد کا تعلق بھی وکیل سے یعنی عقد کرنے والے سے ہوتا ہے، جس شخص نے یہ عقد کیا ہے اسی سے مبیع یا ثمن وغیرہ کا مطالبہ کیا جاتا ہے، موکل سے آ کر کوئی مطالبہ نہیں کر سکتا اور نہ موکل جا کر ان چیزوں کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ اگر موکل جا کر مطالبہ بھی کرے گا دوسرے شخص سے تو وہ دوسرا شخص کہے گا کہ بھئی میرا تو آپ کے ساتھ عقد نہیں ہوا میرا تو وہ جو آپ کا وکیل ہے اس کے ساتھ عقد ہوا تھا، لہذا یہ مبیع میں اسی کے حوالے کروں گا میں آپ کے حوالے نہیں کر سکتا۔ تو یہ جو بیع و شراء اور اجارہ وغیرہ ہیں ان میں حقوقِ عقد کا تعلق عقد کرنے والے سے ہوتا ہے یعنی اگر وہ وکیل ہے تو حقوقِ عقد کا تعلق اسی وکیل سے ہو گا موکل سے نہیں۔ تو لہذا بیع و شراء اور اجارہ ایسے افعال ہیں جن میں نیابت بھی جاری ہوتی ہے اور جن کے اندر حقوقِ عقد کا تعلق عقد کرنے والے سے ہوتا ہے موکل سے نہیں، لہذا کوئی شخص قسم کھا لے کہ واللہ میں بیع و شراء یا اجارہ نہیں کروں گا اور پھر کسی کو اپنا وکیل بنا کر یہ عمل کروا لے تو یہ شخص حانث نہیں ہے کیونکہ اس نے تو بیع و شراء کا فعل نہیں کیا، اس کے وکیل نے کیا ہے اور نیز حقوقِ عقد کا تعلق بھی وکیل سے ہے اس موکل سے نہیں ہے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں نکاح، طلاق اور عتاق وغیرہ جو ہیں، نکاح، طلاق اور عتاق، اس میں بھی نیابت جاری ہوتی ہے۔ کوئی شخص دوسرے کو کہتا ہے کہ میرا نکاح کروا دو تو یہ اس کا وکیل ہو کر نکاح کرواتا ہے، کوئی شخص دوسرے سے کہتا ہے کہ میری بیوی کو طلاق دے دو تو وہ وکیل بن کر اس کی بیوی کو طلاق دے دیتا ہے، کوئی شخص دوسرے کو وکیل بناتا ہے کہ میرے فلاں غلام کو آزاد کر دو تو وہ اس کا وکیل بن کر اس غلام کو آزاد کر دیتا ہے۔ معلوم ہوا نکاح، طلاق اور عتاق کے اندر بھی نیابت جاری ہوتی ہے لیکن ان میں حقوقِ عقد کا تعلق وکیل سے نہیں ہوتا موکل سے ہوتا ہے۔ مثلاً ایک آدمی جب نکاح کرتا ہے تو بیوی اس سے مہر کا مطالبہ کر سکتی ہے کہ مجھے اسی وقت کیا کرو؟ مہر ادا کرو۔ تو یہاں پر بھی تو یہاں پر جب کسی نے دوسرے کو وکیل بنایا کہ میرا فلاں جگہ نکاح کروا دو، تو یہ جو وکیل ہے یہ صرف سفیر ہے اور معبر ہے، یہ صرف پیغام پہنچا رہا ہے اور لفظوں کو زبان سے ادا کر رہا ہے، حقوقِ عقد کا تعلق اس موکل سے ہے یعنی جس کا نکاح کروایا جا رہا ہے۔ تو اس موکل سے مہر کا مطالبہ ہو سکتا ہے اس وکیل سے مہر کا مطالبہ نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح طلاق اور عتاق بھی ہے، ان میں بھی حقوق کا تعلق موکل سے ہوتا ہے وکیل سے نہیں ہوتا۔ لہذا ایک شخص نے قسم اٹھائی کہ واللہ میں نکاح نہیں کروں گا یا میں اپنی بیوی کو طلاق نہیں دوں گا یا میں اپنے غلام کو آزاد نہیں کروں گا، اور پھر اس نے اپنے وکیل کے ذریعے ان کاموں میں سے کوئی کام کر لیا تو یہاں پر تو یہاں پر یہ شخص حانث ہو جائے گا۔ بیع و شراء اپنے وکیل کے ذریعے کروائے گا تو حانث نہیں کیونکہ وہاں حقوق کا تعلق وکیل سے تھا، اور نکاح اور طلاق اور عتاق یہ اپنے وکیل کے ذریعے کروائے گا تو حانث ہو جائے گا کیونکہ یہاں وکیل صرف پیغام رساں ہے حقوق کا تعلق موکل سے ہی ہے بھئی۔ دیکھیے بھئی اب کتاب پر، کہتے ہیں: ”وَمَنْ حَلَفَ لَا يَبِيعُ أَوْ لَا يَشْتَرِي أَوْ لَا يُؤَاجِرُ فَوَكَّلَ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ لَمْ يَحْنَثْ“ اور جس شخص نے قسم اٹھا لی کہ وہ نہیں بیچے گا یا وہ نہیں خریدے گا یا وہ اجارے والا عمل نہیں کرے گا، تو اس نے وکیل بنا دیا اس شخص کو جس نے یہ کام کیا لم یحنث تو یہ حانث نہیں ہو گا، ”لِأَنَّ الْعَقْدَ وُجِدَ مِنَ الْعَاقِدِ“ اس لیے کیونکہ یہ عقد جو ہے وہ عاقد کی طرف سے پایا گیا ہے یعنی وہ جو وکیل تھا، یہ عقد اس نے نہیں کیا بلکہ کس نے کیا ہے؟ وکیل نے۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْعَقْدَ وُجِدَ مِنَ الْعَاقِدِ، حَتَّى كَانَتِ الْحُقُوقُ عَلَيْهِ“ اس لیے کیونکہ یہ عقد جو ہے عاقد کی طرف سے پایا گیا ہے یہاں تک کہ حقوق بھی اسی عاقد پر ہوتے ہیں، حقوقِ عقد کا تعلق بھی عاقد سے ہو گا یعنی وکیل سے ہو گا۔ تو کہتے ہیں: ”حَتَّى كَانَتِ الْحُقُوقُ عَلَيْهِ، وَلِهَذَا لَوْ كَانَ الْعَاقِدُ هُوَ الْحَالِفُ يَحْنَثُ فِي يَمِينِهِ“ یہاں تک کہ اس عقد کے حقوق بھی اسی عاقد پر ہوتے ہیں، اور اسی لیے اگر یہ عاقد جو ہے جس نے عقد کیا ہے اگر یہی قسم کھانے والا بھی ہوتا تو یہ اپنی قسم کے اندر حانث ہو جاتا، ”فَلَمْ يُوجَدْ مَا هُوَ الشَّرْطُ وَهُوَ الْعَقْدُ مِنَ الْآمِرِ“ تو وہ چیز نہیں پائی گئی جو شرط تھی اور وہ اس عقد کا ہونا آمر کی طرف سے، تو لہذا یہ حانث نہیں ہو گا۔ آمر جو حکم دینے والا ہے جس نے وکیل کو حکم دیا ہے بیع و شراء یا اجارے کا، تو یہ جو آمر ہے اس نے قسم اٹھائی تھی اور اس نے کیا قسم اٹھائی تھی؟ میں بیع و شراء یا اجارہ نہیں کروں گا، تو اس کی طرف سے تو یہ فعل نہیں پایا گیا اس کے وکیل نے کیا ہے۔ تو جب اس کی طرف سے یہ فعل نہیں پایا گیا تو یہ حانث بھی نہیں ہوا کیونکہ حانث ہونے کے لیے شرط تھی کہ یہ فعل اس کی طرف سے پایا جائے یعنی یہ قسم کھانے والے کی طرف سے۔ تو کہتے ہیں: ”فَلَمْ يُوجَدْ مَا هُوَ الشَّرْطُ وَهُوَ الْعَقْدُ مِنَ الْآمِرِ، وَإِنَّمَا الثَّابِتُ لَهُ حُكْمُ الْعَقْدِ“ تو وہ چیز نہیں پائی گئی جو شرط تھی اور وہ اس عقد کا ہونا آمر کی طرف سے، اور وہ چیز جو ثابت ہوئی ہے اس آمر کے لیے وہ عقد کا حکم ہے۔ آمر کے لیے صرف عقد کا حکم ثابت ہو گا، مثلاً ایک شخص نے دوسرے کو بھیجا کہ جاؤ میرے لیے گاڑی خرید کر لاؤ، تو گاڑی خریدنے کا عمل یہ آمر نے نہیں کیا، البتہ عقد کا حکم اس کے لیے ثابت ہو جائے گا، عقد کا کیا حکم تھا؟ کہ جب کوئی بیع کرتا ہے تو مبیع کا مالک بن جاتا ہے، تو یہاں پر یہ جو موکل ہے یہ اس گاڑی کا مالک بن جائے گا، عقد کا حکم تو اس کے لیے ثابت ہوا ہے لیکن یہ عقد کرنے والا بھی نہیں اور حقوقِ عقد کا تعلق بھی اس سے نہیں ہے۔ یہ معنی ہے: ”وَإِنَّمَا الثَّابِتُ لَهُ حُكْمُ الْعَقْدِ، إِلَّا أَنْ يَنْوِيَ ذَلِكَ“ اور یہ جو آمر ہے اس کے لیے تو عقد کا حکم یعنی ملکیت وغیرہ ہی ثابت ہے، مگر یہ کہ یہ اس کی نیت کر لے بھئی۔ انہوں نے آپ کو بتلا دیا اگر کوئی شخص بیع و شراء یا اجارے کی قسم کھا لے کہ میں یہ فعل نہیں کروں گا اور پھر وکیل کے ذریعے کروا لے تو حانث نہیں ہو گا، لیکن اگر یہ وکیل کی بھی نیت کر لیتا ہے، اس نے یہ قسم کھائی کہ میں بیع و شراء اور اجارے کا فعل خود بھی نہیں کروں گا اور کسی اور کے ذریعے بھی نہیں کرواؤں گا، تو پھر اس صورت میں وکیل سے کروائے گا تو حانث ہو گا ویسے حانث نہیں، تو باقاعدہ وکیل کی نیت کرے گا تو پھر حانث ہو گا۔ یہ معنی ہے: ”إِلَّا أَنْ يَنْوِيَ ذَلِكَ“ مگر یہ کہ قسم کھانے والا اس کی نیت کر لے کہ یہ فعل خود بھی نہیں کرے گا اور وکیل کے ذریعے بھی نہیں کروائے گا، ”لِأَنَّ فِيهِ تَشْدِيدًا“ اس لیے کیونکہ اس کے اندر سختی کرنا ہے۔ یہ خود اپنے لیے معاملے کو اور سخت بنا رہا ہے، اس نے جو قسم کھائی تھی اس میں تو صرف یہ خود فعل کرے گا بیع و شراء یا اجارے کا تب حانث ہو گا لیکن اس نے وکیل کی بھی نیت کر لی اب تو معاملہ اور بھی سخت ہو گیا اب تو وکیل بھی اس کے لیے بیع و شراء کرے گا تو یہ پھر بھی حانث ہو جائے گا، تو اس نے اپنے لیے سختی کو بڑھا دیا لہذا نیت کر سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ فِيهِ تَشْدِيدًا“ اس لیے کیونکہ اس کے اندر سختی کرنا ہے یعنی اپنے اوپر وہ سختی کر رہا ہے، ”أَوْ يَكُونَ الْحَالِفُ ذَا سُلْطَانٍ“ یا یہ کہ وہ قسم کھانے والا صاحبِ اختیار ہو، ذا سلطان، بھئی جیسے کہتے ہیں فلاں جو ہے ذو مال ہے، ذو مال کا کیا معنی؟ مال والا، اور حالتِ نصبی میں کیا کہیں گے؟ ذا مال، تو یہاں پر بھی ہے ذا سلطان یعنی جو اختیار والا ہے، جو منصب اور عہدے والا ہے، مراد ہے بادشاہ یا حاکم یا قاضی۔ بادشاہ، حاکم یا قاضی وغیرہ جو اونچے عہدے والے ہیں اور اونچے عہدے والے آپ جانتے ہیں کہ وہ بیع و شراء کا فعل خود نہیں کرتے بلکہ وہ کسی اور کو بھیج کر یہ بیع و شراء کا فعل کرتے ہیں، تو اگر کسی اونچے عہدے والے نے اس طرح کی قسم کھا لی تو پھر اس صورت میں اس کے لیے اگر وکیل بھی بیع و شراء کرے گا تو یہ حانث ہو جائے گا۔ وجہ یہ کہ اس کی عادت اور اس آدمی کا طریقہ ہی یہ ہے، یہ خود تو بیع و شراء کرتا ہی نہیں اپنے وکیل کے ذریعے کرتا ہے اور پھر یہ قسم کھا رہا ہے تو معلوم ہوا جو اس کی عادت ہے اس سے اپنے آپ کو روکنا چاہتا ہے۔ قسم کھانے کا مقصد اپنے آپ کو روکنا نہیں ہے خود تو یہ کرتا ہی نہیں ہے یہ بیع وغیرہ بھئی، بلکہ یہ اپنی عادت سے اپنے آپ کو روکنا مقصود ہے یعنی جو اس کا معتاد طریقہ ہے بھئی، لہذا یہ اپنے وکیل کے ذریعے بیع و شراء کروائے گا تو یہ حانث ہو جائے گا اور اگر خود بھی کرے گا پھر بھی حانث ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”أَوْ يَكُونَ الْحَالِفُ ذَا سُلْطَانٍ لَا يَتَوَلَّى الْعَقْدَ بِنَفْسِهِ“ مگر یہ کہ قسم کھانے والا جو ہے وہ صاحبِ اختیار ہو، صاحبِ منصب ہو، جو خود عقد نہیں کرتا، وہ ایسا صاحبِ اختیار ہے جو عقد خود نہیں کرتا، عقد کا خود متولی نہیں ہوتا بلکہ وکیل کے ذریعے کرواتا ہے، تو اس کے لیے وکیل بھی اگر یہ فعل کرے گا تو یہ حانث ہو جائے گا، ”لِأَنَّهُ يَمْنَعُ نَفْسَهُ عَمَّا يَعْتَادُهُ“ اس لیے کیونکہ یہ اپنے آپ کو روک رہا ہے اس چیز سے جس کی اس کو عادت ہے، اور اس کی عادت تو کیا ہے؟ وکیل بنانا، تو یہ اس سے اپنے آپ کو قسم کھا کر گویا اپنے آپ کو روک رہا ہے لہذا وکیل بھی اس کے لیے بیع و شراء کرے گا تو یہ حانث ہو جائے گا۔ یہ معنی ہے: ”لِأَنَّهُ يَمْنَعُ نَفْسَهُ عَمَّا يَعْتَادُهُ“ اس لیے کیونکہ یہ اپنی ذات کو روک رہا ہے اس چیز سے جس کی اس کو عادت ہے۔ آگے دیکھیے: ”وَمَنْ حَلَفَ لَا يَتَزَوَّجُ أَوْ لَا يُطَلِّقُ أَوْ لَا يُعْتِقُ فَوَكَّلَ بِذَلِكَ حَنِثَ“ میں نے آپ کو بتلایا کہ بیع و شراء کے اندر بھی نیابت جاری ہوتی ہے اور نکاح، طلاق وغیرہ میں بھی نیابت جاری ہوتی ہے ان میں آدمی دوسرے کو وکیل بنا سکتا ہے، لیکن بیع و شراء میں حقوق کا تعلق عاقد سے ہوتا ہے لہذا اگر وکیل کر بھی لے گا بیع و شراء تو وہ قسم کھانے والا حانث نہیں، لیکن نکاح، طلاق وغیرہ میں حقوقِ عقد کا تعلق موکل سے ہوتا ہے لہذا نکاح اور طلاق وغیرہ کی قسم کھائی تو اگر اپنے وکیل کے ذریعے بھی نکاح کرے گا یا طلاق دے گا تو اس صورت میں بھی یہ حانث ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ حَلَفَ لَا يَتَزَوَّجُ أَوْ لَا يُطَلِّقُ أَوْ لَا يُعْتِقُ فَوَكَّلَ بِذَلِكَ حَنِثَ“ اور جس شخص نے قسم کھا لی کہ وہ نکاح نہیں کرے گا یا وہ طلاق نہیں دے گا یا وہ آزاد نہیں کرے گا پھر اس نے اس پر وکیل بنا دیا، اس نے کسی دوسرے کو وکیل بنا دیا حنث تو حانث ہو جائے گا یعنی اس وکیل نے وہ فعل کر لیا، صرف وکیل بنانے سے حانث نہیں ہو گا۔ بظاہر عبارت سے لگتا ہے: ”فَوَكَّلَ بِذَلِكَ حَنِثَ“ کہ اس نے وکیل بھی بنا دیا تو حانث ہو جائے گا، نہیں معنی یہ ہے اس نے وکیل بنا دیا اور وکیل نے وہ فعل کر لیا تو پھر یہ حانث ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”فَوَكَّلَ بِذَلِكَ حَنِثَ، لِأَنَّ الْوَكِيلَ فِي هَذَا سَفِيرٌ وَمُعَبِّرٌ“ اس لیے کیونکہ وکیل اس کے اندر یعنی نکاح، طلاق وغیرہ کے اندر سفیر یہ صرف سفیر ہے، پیغام پہنچانے والا ہے، ”وَمُعَبِّرٌ“ اور صرف الفاظ کی زبان سے تعبیر کرنے والا ہے، الفاظ کو زبان سے ادا کرنے والا ہے۔ تو مثلاً نکاح کے اندر ایک شخص دوسرے کو اپنا وکیل بنا کر بھیجتا ہے تو یہ وکیل جو ہے صرف پیغام پہنچا رہا ہے اور یہ صرف الفاظ کو اپنی زبان سے ادا کر رہا ہے، حقوق کا تعلق اس سے اس وکیل سے نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْوَكِيلَ فِي هَذَا سَفِيرٌ وَمُعَبِّرٌ، وَلِهَذَا لَا يُضِيفُهُ إِلَى نَفْسِهِ بَلْ إِلَى الْآمِرِ“ اس لیے کیونکہ وکیل اس کے اندر پیغام رساں ہے اور زبان سے الفاظ کو تعبیر کرنے والا ہے اور اسی لیے وہ وکیل اس عقد کی نسبت اپنی طرف نہیں کرتا بلکہ آمر کی طرف کرتا ہے۔ ایک آدمی نے دوسرے کو وکیل بنایا کہ جا کر میرا وہاں نکاح پڑھا دو، میرا نکاح کروا دو، تو یہ وکیل چلا گیا اب وکیل جا کر یہ نہیں کہے گا کہ میں اس عورت سے نکاح کرتا ہوں بلکہ موکل کا نام لے گا: میں فلاں کا اس عورت سے نکاح کرواتا ہوں۔ تو معلوم ہوا وکیل صرف پیغام رساں ہے، صرف بات زبان سے ادا کر رہا ہے اور حقوق کا تعلق موکل سے ہے اسی لیے موکل کا یہ باقاعدہ نکاح، طلاق اور عتاق وغیرہ میں اس کا نام ذکر کرتا ہے، اس کی طرف عقد کی نسبت کرتا ہے کہ اس کے ساتھ میں نکاح کرواتا ہوں یا اس کی طرف سے میں طلاق دیتا ہوں یا اس کی طرف سے میں غلام آزاد کرتا ہوں۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِهَذَا لَا يُضِيفُهُ إِلَى نَفْسِهِ بَلْ إِلَى الْآمِرِ، وَحُقُوقُ الْعَقْدِ تَرْجِعُ إِلَى الْآمِرِ لَا إِلَيْهِ“ اور اسی لیے وکیل اس عقد کی نسبت اپنی طرف نہیں کرتا بلکہ حکم دینے والے کی طرف کرتا ہے اور اس عقد کے حقوق جو ہیں وہ آمر کی طرف لوٹتے ہیں نہ کہ وکیل کی طرف یعنی موکل کی طرف حقوق لوٹتے ہیں نہ کہ وکیل کی طرف۔ ”وَلَوْ قَالَ: عَنَيْتُ أَنْ لَا أَتَكَلَّمَ بِهَا، لَمْ يُدَيَّنْ فِي الْقَضَاءِ خَاصَّةً“ بھئی صورت یہ ہے: ایک آدمی نے قسم کھا لی کہ واللہ میں نکاح نہیں کروں گا یا میں طلاق نہیں دوں گا یا میں عتاق نہیں کروں گا، اور پھر اس نے اپنے وکیل کے ذریعے وکیل کے ذریعے اس نے یہ عمل کروا لیا، تو آپ نے اس کا حکم پڑھ لیا کہ اس صورت میں یہ شخص حانث ہو جائے گا۔ لیکن وہ شخص کہتا ہے نہیں میں حانث نہیں ہوں کیونکہ میں نے جب کہا تھا کہ میں نکاح نہیں کروں گا میرا مطلب تھا میں خود نہیں کروں گا، یا میں طلاق نہیں دوں گا میرا مطلب تھا میں خود طلاق نہیں دوں گا، یا میں نے کہا تھا عتاق نہیں کروں گا میرا مطلب تھا میں خود عتاق نہیں کروں گا، تو میں نے خود تو یہ فعل نہیں کیا یہ تو میرے وکیل نے کیے ہیں! کہتے ہیں اس صورت میں دیانۃً اس کی تصدیق کی جائے گی، یہ اس کا اور اللہ کا معاملہ ہے، ہم کہیں گے اگر آپ کی یہی نیت تھی تو معاملہ اسی طرح ہے، لیکن اگر بات قاضی تک چلی گئی تو قاضی اس کی تصدیق نہیں کرے گا۔ قاضی اس کی تصدیق نہیں کرے گا بھئی، تو یہ معنی ہے: ”وَلَوْ قَالَ: عَنَيْتُ أَنْ لَا أَتَكَلَّمَ بِهَا“ اور اگر وہ قسم کھانے والا کہتا ہے کہ میری مراد یہ تھی کہ میں اس پر خود تکلم نہیں کروں گا یعنی خود اپنی زبان سے نکاح یا طلاق وغیرہ نہیں دوں گا، ”لَمْ يُدَيَّنْ فِي الْقَضَاءِ خَاصَّةً“ تو اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی قضاء کے اندر خاص طور پر۔ خاص طور پر قضاء میں اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی، معلوم ہوا دیانۃً اس کی تصدیق کی جائے گی۔ ”وَسَنُشِيرُ إِلَى الْمَعْنَى فِي الْفَرْقِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى“ اور عنقریب ہم اشارہ کریں گے معنی کی طرف، معنی کا لفظ میں نے آپ کو بتلایا تھا فقہ کی کتابوں میں علت اور سبب کے معنی میں عام استعمال ہوتا ہے، تو اس کی علت کیا ہے؟ اس کا سبب کیا ہے؟ صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں آگے ہم فرق بیان کریں گے، دو تین سطروں کے بعد ہی صاحبِ ہدایہ فرق بیان کریں گے تو وہاں پر کہتے ہیں ہم اس کا سبب بتلائیں گے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَسَنُشِيرُ إِلَى الْمَعْنَى فِي الْفَرْقِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى“ اور عنقریب ہم اشارہ کریں گے اس کے سبب کی طرف فرق میں یعنی جہاں ہم فرق بیان کریں گے ان شاء اللہ تعالیٰ۔ آگے دیکھیے: ”وَلَوْ حَلَفَ لَا يَضْرِبُ عَبْدَهُ أَوْ لَا يَذْبَحُ شَاتَهُ فَأَمَرَ غَيْرَهُ فَفَعَلَ يَحْنَثُ فِي يَمِينِهِ“۔ اب اور افعال آ گئے: افعالِ حسیہ، افعالِ حسیہ جو آنکھوں سے نظر آئیں۔ تو ان کا بیان، ان میں اگر کوئی شخص قسم کھا لیتا ہے تو کیا اس کے اندر بھی وکیل کے کرنے سے وہ حانث ہو گا یا نہیں؟ تو کہتے ہیں مثلاً ایک شخص نے کہا کہ واللہ میں اپنے غلام کی پٹائی نہیں کروں گا اور پھر کسی دوسرے کو وکیل بنایا کہ میرے غلام کی پٹائی کرو، کہتے ہیں حانث ہو جائے گا۔ حانث ہو جائے گا، وجہ یہ کہ اس کا فائدہ اسی کو پہنچ رہا ہے، پھر غلام کے دل میں خوف آ جائے گا وہ اس کی زیادہ اطاعت کرے گا، تو لہذا وکیل کا کرنا بھی اس آدمی کے کرنے کی طرح ہی ہے لہذا یہ حانث ہو گا۔ یا اسی طرح ایک شخص نے قسم اٹھائی کہ واللہ میں اپنی بھیڑ بکری ذبح نہیں کروں گا اور پھر اس نے کسی اور سے کہا اور اس نے اس کے لیے بھیڑ بکری ذبح کر دی تو اس صورت میں بھی یہ حانث ہو جائے گا کیونکہ اس کا فائدہ اسی شخص کو ہے۔ اور نیز یہ غلام کی پٹائی یا بکری کا ذبح کرنا یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کا مطالبہ کیا جائے، یہ کوئی عقد نہیں ہے جس میں حقوق کا تعلق وکیل سے ہو، تو یہ تو محض ایک حسی کام ہے جو دوسرے سے کروایا گیا ہے لہذا اس کا اثر براہِ راست قسم کھانے والے کی طرف لوٹے گا اور وہ حانث ہو جائے گا۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔ اس کے حقوق کا تعلق کرنے والے سے ہو۔ اس کے تو کوئی حقوق وغیرہ نہیں ہیں، یہ کوئی عقد وغیرہ تو نہیں ہو رہا کہ جس کے حقوق ہوں۔ بھئی بیع وغیرہ کے مسئلے میں حقوق کا تعلق عاقد سے ہوتا تھا تو وہاں وکیل کے ذریعے کروا لیتا تھا تو حانث نہیں ہوتا تھا، لیکن یہاں غلام کی پٹائی کروانا یا بکری کو ذبح کروانا اس کے تو کوئی حقوق ہی نہیں ہیں اور فائدہ بھی کس کو پہنچ رہا ہے؟ موکل کو، اور اس کے کوئی ایسے حقوق بھی نہیں ہیں جو اس فعل کے کرنے والے کے ساتھ متعلق ہوں، لہذا یہ فعل چاہے یہ خود کرے پھر بھی حانث ہو جائے گا اور اپنے وکیل کے ذریعے کروائے تو بھی حانث ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: وَلَوْ حَلَفَ لَا يَضْرِبُ عَبْدَهُ أَوْ لَا يَذْبَحُ شَاتَهُ فَأَمَرَ غَيْرَهُ فَفَعَلَ يَحْنَثُ فِي يَمِينِهِ، اور اگر کسی شخص نے قسم اٹھائی کہ وہ اپنے غلام کی پٹائی نہیں کرے گا یا وہ اپنی بھیڑ بکری ذبح نہیں کرے گا، شَاةٌ کا لفظ بھئی عموماً طلباء اس کا ترجمہ بکری کے کرتے ہیں، یاد رکھو شَاةٌ صرف بکری کو نہیں کہتے بلکہ بھیڑ بکری دونوں جنسوں کو یہ شامل ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں یا اس نے قسم اٹھائی کہ وہ اپنی بھیڑ بکری کو ذبح نہیں کرے گا فَأَمَرَ غَيْرَهُ پھر اس نے کسی دوسرے کو حکم دیا اس کام کا فَفَعَلَ تو اس نے ایسا کر دیا يَحْنَثُ فِي يَمِينِهِ تو یہ شخص اپنی قسم میں حانث ہو جائے گا، لِأَنَّ الْمَالِكَ لَهُ وِلَايَةُ ضَرْبِ عَبْدِهِ وَذَبْحِ شَاتِهِ اس لیے کہ جو مالک ہوتا ہے اس کو اپنے غلام کی پٹائی کی ولایت ہوتی ہے اور اپنی بھیڑ بکری کے ذبح کرنے کی ولایت ہوتی ہے۔ جب مالک خود اپنے غلام کی پٹائی کر سکتا ہے تو دوسرے کو بھی اپنا نائب بنا سکتا ہے، مالک جب خود اپنی بھیڑ بکری کو ذبح کر سکتا ہے تو دوسرے کو بھی اپنا نائب بنا سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ الْمَالِكَ لَهُ وِلَايَةُ ضَرْبِ عَبْدِهِ وَذَبْحِ شَاتِهِ فَيَمْلِكُ تَوْلِيَتَهُ غَيْرَهُ، تو یہ مالک ہے کہ غیر کو اس کا متولی بنا دے، تَوْلِيَةٌ، وَلَّى يُوَلِّي تَوْلِيَةً کسی دوسرے کو کسی کام کا ذمہ دار بنانا، تو مالک کو خود جب یہ اختیار ہے تو یہ اختیار وہ دوسرے کو بھی دے سکتا ہے۔ فَيَمْلِكُ تَوْلِيَتَهُ غَيْرَهُ تو یہ مالک ہے کہ غیر کو اس کا متولی بنا دے یعنی یہ بتلانا چاہتے ہیں ان افعال میں نیابت جاری ہوتی ہے، ان میں آپ کسی کو وکیل بنا سکتے ہیں لیکن وکیل کا کرنا بھی موکل کے کرنے کی طرح ہی ہے لہذا وکیل بھی کرے گا تو یہ حانث ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: فَيَمْلِكُ تَوْلِيَتَهُ غَيْرَهُ ثُمَّ مَنْفَعَتُهُ رَاجِعَةٌ إِلَى الْآمِرِ، پھر اس کام کا نفع جو ہے امر یعنی موکل کو لوٹ رہا ہے، غلام کی پٹائی ہو گی تو غلام اس کا زیادہ فرمانبردار ہو جائے گا اور بکری اس کے لیے ذبح ہو گی تو اس امر کے لیے آسانی ہو جائے گی، تو دیکھو نفع کس کو پہنچ رہا ہے؟ امر کو۔ یعنی اس کا نفع بھی امر کو پہنچ رہا ہے اور نیز یہاں کوئی ایسے حقوق بھی نہیں ہیں جو اس فعل کے کرنے والے کے ساتھ متعلق ہوں لہذا وکیل کا کرنا بھی ایسا ہی ہے جیسے موکل کا کرنا، لہذا موکل حانث ہو جائے گا۔ کہتے ہیں: ثُمَّ مَنْفَعَتُهُ رَاجِعَةٌ إِلَى الْآمِرِ فَيُجْعَلُ هُوَ مُبَاشِرًا، پھر اس کام کا نفع جو ہے وہ حکم دینے والے کی طرف لوٹتا ہے تو اسی کو سرانجام دینے والا قرار دیا جائے گا، إِذْ لَا حُقُوقَ لَهُ يَرْجِعُ إِلَى الْمَأْمُورِ اس لیے کیونکہ اس فعل کے ایسے حقوق نہیں ہیں جو مامور یعنی وکیل کی طرف لوٹ رہے ہوں، تو حقوق کا تعلق بھی وکیل سے نہیں اور نیز فائدہ بھی کس کو لوٹ رہا ہے؟ موکل کو، تو وکیل کا فعل بھی اسی امر کے فعل کی طرح ہوا تو یہ حانث ہو جائے گا۔ بھئی یہاں لفظ آیا ذَبْحٌ بھئی، یاد رکھو ایک لفظ ہے ذَبْحٌ ذال کے فتحہ کے ساتھ اور ایک ہے ذِبْحٌ ذال کے کسرہ کے ساتھ، ذَبْحٌ ذال کے فتحہ کے ساتھ ہو تو یہ مصدر ہے اس کا معنی ہے ذبح کرنا، اور اگر ذِبْحٌ ذال کے کسرہ کے ساتھ ہو تو یہ اس جانور کو کہا جاتا ہے جس کو ذبح کیا جاتا ہے جس کی قربانی کی جاتی ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: وَلَوْ قَالَ: عَنَيْتُ أَنْ لَا أَتَوَلَّى ذَلِكَ بِنَفْسِي دُيِّنَ فِي الْقَضَاءِ۔ بھئی صورتِ مسئلہ یہ: آپ کو صاحبِ ہدایہ نے بتلا دیا کہ اگر کسی شخص نے غلام کی پٹائی نہ کرنے کی قسم کھائی یا بکری کو ذبح نہ کرنے کی قسم کھائی اور پھر وکیل کے ذریعے یہ فعل کروایا تو بھی یہ شخص حانث ہو جائے گا، لیکن یہ شخص کہتا ہے کہ میری مراد تو یہ تھی کہ میں خود یہ فعل نہیں کروں گا، تو جب میرے وکیل نے کیا ہے میں نے خود تو نہیں کیا لہذا میں حانث نہیں ہوں، تو کہتے ہیں اس صورت میں دیانتاً بھی اس کی تصدیق کی جائے گی اور اگر معاملہ قاضی تک چلا گیا تو قاضی بھی اس کی تصدیق کرے گا، قاضی بھی اس کی تصدیق کرے گا۔ تو کہتے ہیں: وَلَوْ قَالَ عَنَيْتُ أَنْ لَا أَتَوَلَّى ذَلِكَ بِنَفْسِي اور اگر قسم کھانے والے نے کہا عَنَيْتُ کہ میری مراد یہ تھی أَنْ لَا أَتَوَلَّى ذَلِكَ بِنَفْسِي کہ میں خود متولی نہیں بنوں گا اس کام کا یعنی میں خود اس کام کو سرانجام نہیں دوں گا، دُيِّنَ فِي الْقَضَاءِ تو قضاء کے اندر بھی اس کی تصدیق کی جائے گی، بِخِلَافِ مَا تَقَدَّمَ مِنَ الطَّلَاقِ وَغَيْرِهِ بخلاف اس کے جو ماقبل میں گزر گیا یعنی طلاق وغیرہ۔ طلاق، نکاح اور اعتاق میں اگر وہ کہتا ہے کہ میری مراد تو یہ تھی کہ میں خود نکاح نہیں کروں گا یہ تو میرے وکیل نے کروایا ہے، تو وہاں دیانتاً تو اس کی تصدیق کی جائے گی لیکن قضاءً نہیں کی جائے گی، لیکن یہاں پر دیانتاً بھی تصدیق کریں گے اور قضاءً بھی، اب اس کی وجہ بھی آگے صاحبِ ہدایہ ذکر فرمائیں گے۔ وَوَجْهُ الْفَرْقِ، اب بھئی فرق کی وجہ آ گئی، فرق کی وجہ وہ جو صاحبِ ہدایہ نے دو تین سطریں پہلے وعدہ کیا تھا: وَسَنُشِيرُ إِلَى الْمَعْنَى فِي الْفَرْقِ کہ سبب کی طرف ہم اشارہ کریں گے فرق کے اندر، اب وہ فرق ذکر کرنے لگے ہیں، تو اب یہ دونوں کا فرق بیان کریں گے۔ نکاح اور طلاق کے اندر اگر وہ کہتا ہے کہ میرا مطلب یہ تھا کہ میں خود یہ کام نہیں کروں گا تو قضاءً اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی، اور غلام کی پٹائی اور بکری کے ذبح کرنے میں اگر وہ کہتا ہے کہ میری مراد یہ تھی کہ میں خود یہ فعل نہیں کروں گا تو یہاں اس کی قضاءً بھی تصدیق کی جائے گی، تو ان دونوں میں فرق کی وجہ کیا ہے؟ تو اب اسے بیان کریں گے صاحبِ ہدایہ۔ کہتے ہیں: وَوَجْهُ الْفَرْقِ اور فرق کی وجہ یہ ہے: تو دیکھو فرق آیا کن دو چیزوں میں، کس قسم کے افعال میں؟ کچھ ہیں افعالِ حسیہ جو آنکھوں سے نظر آتے ہیں جیسے غلام کی پٹائی کرنا یا بکری کو ذبح کرنا یا اس جیسا کوئی اور کام ہے، وہ افعالِ حسیہ جو آنکھوں سے نظر آتے ہیں، اور نکاح، طلاق اور اعتاق یہ تو صرف زبان سے کہنے سے ہو جاتے ہیں تو یہ افعالِ حسیہ نہیں ہیں بھئی، افعالِ حسیہ نہیں یعنی یہ آنکھوں سے ہمیں نظر نہیں آتے۔ بھئی فعلِ حسی ہے اس کا تو ہمیں اثر آنکھوں سے نظر آتا ہے، بکری ذبح کی ہے تو بکری ذبح ہو گئی ذبح شدہ ہمیں نظر آ رہی ہے، غلام کی پٹائی ہو رہی ہے تو ہمیں آنکھوں سے نظر آ رہی ہے بھئی، تو یہ افعالِ حسیہ ہیں اور وہ جو نکاح، طلاق وغیرہ ہیں وہ افعالِ حکمیہ ہیں، وہ کیا ہیں؟ افعالِ حکمیہ ہیں یعنی حکم کے اعتبار سے وہ افعال ہیں یعنی ان کی کوئی ظاہری صورت نہیں ہے، تو یہ دونوں میں فرق کیوں کیا گیا؟ افعالِ حسیہ میں قضاءً بھی تصدیق کی جائے گی اور افعالِ حکمیہ کے اندر قضاءً تصدیق نہیں کی جائے گی، اب اس کی وجہ ذکر کر رہے ہیں۔ تو کہتے ہیں: وَوَجْهُ الْفَرْقِ أَنَّ الطَّلَاقَ لَيْسَ إِلَّا تَكَلُّمًا اور فرق کی وجہ یہ ہے کہ طلاق نہیں ہے مگر یہ کہ تکلم کیا جائے، بات کرنا، بِكَلَامٍ يُفْضِي إِلَى وُقُوعِ الطَّلَاقِ عَلَيْهَا ایسے کلام پر جو پہنچا دے اس عورت پر طلاق کے واقع ہونے تک۔ بھئی طلاق کس چیز کا نام ہے؟ زبان سے ایسے لفظ ادا کرنا جس سے اس عورت کو طلاق ہو جائے، اعتاق کس چیز کا نام ہے؟ زبان سے ایسے لفظ کہنا جس سے غلام آزاد ہو جائے، نکاح کس چیز کا نام ہے؟ زبان سے ایسے الفاظ کہنا جس سے جس سے نکاح منعقد ہو جائے۔ تو معلوم ہوا نکاح، اعتاق، طلاق وغیرہ یہ سب الفاظ پر تکلم کو کہتے ہیں، تو ان الفاظ کو چاہے یہ خود ادا کرے چاہے کسی دوسرے کے ذریعے کہلوا دے دونوں کا ایک ہی حکم ہے۔ نکاح، اعتاق اور طلاق وغیرہ یہ صرف زبان سے تکلم کا نام ہے تو چاہے یہ خود اس کو کرے چاہے کسی دوسرے کے ذریعے کروائے دونوں کا ایک ہی حکم ہے۔ تو کہتے ہیں: وَوَجْهُ الْفَرْقِ أَنَّ الطَّلَاقَ لَيْسَ إِلَّا تَكَلُّمًا بِكَلَامٍ يُفْضِي إِلَى وُقُوعِ الطَّلَاقِ عَلَيْهَا وَالْأَمْرُ بِذَلِكَ مِثْلُ التَّكَلُّمِ بِهِ، اور فرق کی وجہ یہ ہے کہ طلاق نہیں ہے مگر تکلم کرنا ایسے کلام پر جو اس عورت پر طلاق کے واقع ہونے تک پہنچا دے، اور اس کا حکم دینا بھی اس پر تکلم کی طرح ہی ہے، وکیل کو کہنا بھی خود کرنے ہی کی طرح ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: وَالْأَمْرُ بِذَلِكَ مِثْلُ التَّكَلُّمِ بِهِ اور اس چیز کا حکم دینا بھی اس پر تکلم کرنے کی مثل ہے یعنی گویا خود ہی کرنے کی طرح ہے، یعنی یوں کہو وکیل کو طلاق کا کہنا بھی خود طلاق دینے کی طرح ہے، وکیل کا نکاح کرنا بھی خود نکاح کرنے کی طرح ہی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَالْأَمْرُ بِذَلِكَ مِثْلُ التَّكَلُّمِ بِهِ وَاللَّفْظُ يَنْتَظِمُهُمَا اور یہ لفظ دونوں کو شامل ہے، وَاللَّفْظُ یاد رکھو اس سے مراد وہ جو یمین اس نے ذکر کی تھی، وہ جو اس نے یمین ذکر کی تھی کہ واللہ میں نکاح نہیں کروں گا، تو چاہے یہ خود نکاح کرے چاہے وکیل کے ذریعے نکاح کروائے یہ قسم دونوں کو شامل ہے، دونوں صورتوں میں یہ حانث ہو جائے گا کیونکہ وکیل کے ذریعے بھی کروایا نکاح تو اس نے نکاح کر لیا، یا اسی طرح اس نے کہا تھا واللہ میں طلاق نہیں دوں گا، تو یہ لفظ دونوں کو شامل ہے: خود طلاق دے پھر بھی کہتے ہیں اس نے طلاق دے دی، اور وکیل کے ذریعے طلاق دے پھر بھی کہتے ہیں اس نے طلاق دے دی بھئی۔ تو یہ جو اس نے قسم کھائی تھی اس کے لفظ دونوں کو شامل ہیں چاہے یہ خود اس فعل کو کرے چاہے اس کا وکیل اس فعل کو کرے۔ تو کہتے ہیں: وَاللَّفْظُ يَنْتَظِمُهُمَا اور یہ جو لفظ ہے یمین کا یہ دونوں کو شامل ہے یعنی اس کے فعل کو بھی اور اس کے وکیل کے فعل کو بھی، فَإِذَا نَوَى التَّكَلُّمَ بِهِ فَقَدْ نَوَى الْخُصُوصَ فِي الْعَامِّ، تو جب اس نے اس پر تکلم کی نیت کر لی تو اس نے عام کے اندر خصوص کی نیت کر لی۔ بھئی دیکھیے اس نے جو قسم ذکر کی کہ واللہ میں نکاح نہیں کروں گا، تو چاہے یہ نکاح کر لے یہ اس کو بھی شامل ہے اور وکیل اس کا نکاح کروا دے یہ اس کو بھی شامل ہے، معلوم ہوا یہ لفظ عام ہے، یہ لفظ عام ہے اس کے اپنے نکاح کرنے کو بھی شامل اور وکیل کے نکاح کرنے کو بھی شامل ہے، اور پھر بعد میں یہ کہتا ہے وکیل کے ذریعے نکاح کروا کے کہ میں تو حانث نہیں ہوا، میری تو یہ نیت تھی کہ میں خود نہیں کروں گا اور میں نے تو خود نکاح نہیں کیا بھئی، میرے تو وکیل نے نکاح کروایا ہے لہذا میں حانث نہیں۔ معلوم ہوا اس کے الفاظ عام ہیں جو اس کے نکاح کروانے کو بھی شامل ہیں اور وکیل کے نکاح کروانے کو بھی شامل، اور اس عام میں سے وہ خاص کی یعنی صرف اپنی نیت کرتا ہے، اور آپ پڑھ چکے ہیں عام کے اندر خاص کی نیت جائز ہے۔ عام کے اندر خاص کی نیت جائز ہے، ایک ادمی کہتا ہے واللہ میں طعام نہیں کھاؤں گا، اب طعام کا لفظ تو عام ہے، دنیا کے ہر کھانے کو طعام کہتے ہیں، لیکن یہ کہتا ہے بھئی میری نیت تو تھی فلاں قسم کا کھانا، تو کہتے ہیں یہ عام کے اندر خاص کی نیت کر رہا ہے، لفظ ہے عام اور نیت کر رہا ہے ایک خاص کی، تو یہ دیانتاً اس کی تصدیق کی جاتی ہے قضاءً اس کی تصدیق نہیں کی جاتی۔ یہاں پر بھی اس نے جو الفاظ ذکر کیے ہیں وہ اس کے فعل کو بھی شامل ہیں اور اس کے وکیل کے فعل کو بھی شامل ہیں، تو ان دونوں میں سے وہ اپنی نیت کرتا ہے کہ میرا مطلب تو یہ تھا میں خود نہیں کروں گا، تو اس نے عام کے اندر خاص کی نیت کر لی، تو دیانتاً تو تصدیق کی جائے گی لیکن قضاءً تصدیق نہیں کی جائے گی کیونکہ یہ ظاہر کے خلاف ہے، ظاہر تو یہی ہے اس نے عام لفظ ذکر کیے تھے لہذا یہ خود نکاح کرے تب بھی حانث ہونا چاہیے، وکیل کروائے تو پھر بھی حانث ہونا چاہیے بھئی۔ تو کہتے ہیں: فَإِذَا نَوَى التَّكَلُّمَ بِهِ فَقَدْ نَوَى الْخُصُوصَ فِي الْعَامِّ فَيُدَيَّنُ دِيَانَةً لَا قَضَاءً، تو جب اس نے اس پر تکلم کی نیت کر لی تو اس نے عام کے اندر خصوص کی نیت کر لی یعنی عام کے اندر خاص کی نیت کر لی تو اس کی دیانتاً تصدیق کی جائے گی نہ کہ قضاءً۔ دیانتاً تصدیق کی جائے گی لیکن قضاءً تصدیق نہیں کی جائے گی کیونکہ یہ ظاہر کے خلاف ہے۔ باقی وہ افعالِ حسیہ، وہ جو غلام کی پٹائی تھی یا بکری کو ذبح کرنا، جو آنکھوں سے فعل نظر آتے ہیں، اس میں وہ کہتا ہے میری تو یہ نیت تھی کہ میں خود پٹائی نہیں کروں گا یا میں خود ذبح نہیں کروں گا لہذا میں حانث نہیں ہوں، تو اس میں قضاءً بھی تصدیق کی جائے گی، وجہ یہ کہ یہ افعالِ حسیہ ہیں اور ظاہر آنکھوں سے بھی نظر آ رہا ہے کہ غلام کی پٹائی یہ خود نہیں کر رہا اس کا وکیل ہے وہ پٹائی کر رہا ہے، اور ظاہر آنکھوں سے بھی نظر آ رہا ہے کہ یہ خود بکری کو ذبح نہیں کر رہا بلکہ اس کا وکیل ذبح کر رہا ہے، تو یہاں افعالِ حسیہ کے اندر بھی فعل کی نسبت موکل کی طرف کرتے ہیں کہ یہ فعل اس موکل نے کیا ہے لیکن وہ مجازاً نسبت کی جاتی ہے، حقیقت میں تو اس نے یہ فعل نہیں کیا، مجازاً کہ یہ چونکہ حکم دینے والا تھا اس لیے یوں کہہ دیتے ہیں کہ یہ فعل اس نے کیا ہے۔ تو حقیقت میں تو اس نے یہ فعل کیا ہی نہیں اس کے وکیل نے کیا ہے، تو اس نے بھی کہا کہ میری تو یہ نیت تھی کہ میں خود نہیں کروں گا، کہ میں خود نہیں کروں گا اور میں نے تو خود نہیں کیا میرے تو وکیل نے یہ فعل کیا ہے، تو لہذا اس صورت میں قضاءً بھی تصدیق کریں گے کیونکہ وہ اپنے کلام کے حقیقی معنی کا ارادہ کر رہا ہے۔ حقیقی معنی کیا تھا؟ خود پٹائی کرے یا خود ذبح کرے تو پھر حانث ہوتا ہے اور کوئی اور کرے تو حانث نہیں ہوتا، تو یہ اپنے کلام کے حقیقی معنی کا ارادہ کر رہا ہے لہذا قضاءً بھی اس کی تصدیق کی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: أَمَّا الذَّبْحُ وَالضَّرْبُ فِعْلٌ حِسِّيٌّ يُعْرَفُ بِأَثَرِهِ، باقی ذبح کرنا اور پٹائی کرنا فِعْلٌ حِسِّيٌّ تو یہ تو فعلِ حسی ہیں يُعْرَفُ بِأَثَرِهِ جن کو جانا جاتا ہے ان کے اثر سے۔ فعلِ حسی کو اس کے اثر سے جانا جاتا ہے، فعلِ حسی کا اثر سب کو نظر آتا ہے، بھئی وہ غلام کی پٹائی کر رہا ہے تو سب کو وہ پٹائی ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہے، وہ بکری کو ذبح کر رہا ہے تو سب کو بکری ذبح ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہے، تو فعلِ حسی کی پہچان اس کے اثر سے ہوتی ہے، اور جب دوسرے نے یہ فعل کیا تو اس فعل کا اثر پایا گیا، اور یہ جو فعل کا اثر پایا گیا یہ امر نے یہ اثر پیدا کیا یا مامور یعنی وکیل نے؟ وکیل نے یہ اثر پیدا کیا ہے، توجہ ہے؟ تو وہاں حقیقتاً وہ فعل کرنے والا وہ وکیل ہی ہے وہ پٹائی کر رہا ہے یا وہ بکری ذبح کر رہا ہے، اور یہ جو امر کی طرف فعل کی ہم نسبت کرتے ہیں، بھئی جب آپ کسی چیز میں دوسرے کو وکیل بناتے ہیں کہ یہ کام کر دو تو اس کام کرنے کی نسبت کس کی طرف کرتے ہیں؟ امر کی طرف، تو یہ جو امر کی طرف یہاں اس بکری کے ذبح کرنے یا غلام کے پٹائی کرنے کی نسبت ہو رہی ہے یہ مجازاً ہے۔ یہ حقیقت میں وہ ضرب والا فعل یہ نہیں کر رہا، حقیقت کے اندر اس بکری کو یہ نہیں ذبح کر رہا کیونکہ اس کا اثر ہمیں نظر آ رہا ہے کہ وہ وکیل کر رہا ہے، تو جو امر کی طرف نسبت کی جاتی ہے وہ مجازاً کی جاتی ہے۔ تو جب اس نے کہا کہ جب میں نے قسم کھائی تھی کہ واللہ میں اپنے غلام کی پٹائی نہیں کروں گا یا اپنی بکری ذبح نہیں کروں گا تو میرے کہنے کا مطلب یہ تھا میں خود اپنے ہاتھ سے یہ فعل نہیں کروں گا، تو کہتے ہیں اس صورت میں اس کی قضاءً بھی تصدیق کی جائے گی کیونکہ یہ اپنے کلام کے حقیقی معنی کا ارادہ کر رہا ہے، حقیقی معنی کیا تھا؟ کہ خود کرے، اور وہ جو ہم اس کی طرف نسبت کرتے بھی تھے وہ تو مجاز تھا بھئی، تو جب یہ اپنے کلام کے حقیقی معنی کا ارادہ کر رہا ہے تو قضاءً بھی تصدیق کی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: أَمَّا الذَّبْحُ وَالضَّرْبُ فِعْلٌ حِسِّيٌّ يُعْرَفُ بِأَثَرِهِ وَالنِّسْبَةُ إِلَى الْآمِرِ بِالتَّسْبِيبِ مَجَازًا، اس لیے کیونکہ ذبح کرنا اور پٹائی کرنا یہ تو ایسا فعلِ حسی ہے جس کو اس کے اثر سے جانا جاتا ہے، اور اس فعل کی نسبت جو امر کی طرف کی جاتی ہے بِالتَّسْبِيبِ مَجَازًا یہ سبب بننے کی وجہ سے ہے مجازاً یعنی مجازی طور پر، فَإِذَا نَوَى الْفِعْلَ بِنَفْسِهِ فَقَدْ نَوَى الْحَقِيقَةَ فَيُصَدَّقُ دِيَانَةً وَقَضَاءً، تو جب اس نے فعل کو خود کرنے کی نیت کی فَقَدْ نَوَى الْحَقِيقَةَ تو تحقیق اس نے حقیقت کی نیت کی اپنے کلام کی حقیقت کی یعنی حقیقی معنی کی نیت کی ہے فَيُصَدَّقُ دِيَانَةً وَقَضَاءً تو دیانتاً بھی اس کی تصدیق کی جائے گی اور قضاءً بھی اس کی تصدیق کی جائے گی۔ آگے دیکھیے: وَمَنْ حَلَفَ لَا يَضْرِبُ وَلَدَهُ فَأَمَرَ إِنْسَانًا فَضَرَبَهُ لَمْ يَحْنَثْ فِي يَمِينِهِ۔ صورتِ مسئلہ یہ: ایک شخص نے قسم اٹھائی کہ واللہ میں اپنے بیٹے کی پٹائی نہیں کروں گا، پھر اس نے کسی دوسرے شخص سے کہا کہ میرے بیٹے کی پٹائی کرو، اس دوسرے شخص نے اس کے بیٹے کی پٹائی کر دی، تو کیا یہ حانث ہو گا یا حانث نہیں؟ کہتے ہیں نہیں یہ حانث نہیں ہو گا۔ تو اس پر اشکال ہوتا ہے بھئی ابھی آپ نے ہمیں اوپر غلام کا مسئلہ بتلایا تھا کہ غلام کے اندر وہ قسم کھاتا ہے میں غلام کی پٹائی نہیں کروں گا اور پھر کسی وکیل کے ذریعے غلام کی پٹائی کرواتا ہے تو یہ حانث ہو جاتا ہے، اور بیٹے کا مسئلہ بھی بعینہٖ اسی کی طرح ہے، یہاں بیٹے کے مسئلے کے اندر بھی بیٹے کی پٹائی وکیل اس کے کہنے پر کر رہا ہے اور یہ فعلِ حسی ہے لہذا اس کے اندر اس کہنے والے کو حانث ہونا چاہیے لیکن آپ کہتے ہیں یہ حانث نہیں ہو گا؟ تو وجہ آپ کو بتلائیں گے صاحبِ ہدایہ کہ بھئی دیکھو وہ جو غلام کی پٹائی تھی وہ اور چیز تھی یہ بیٹے کی پٹائی اور چیز ہے۔ غلام کی پٹائی کا فائدہ موکل کو ہو رہا تھا کہ غلام کی پٹائی ہو گی تو غلام اس موکل کے حکم کی زیادہ تعمیل کرے گا، اس کا حکم زیادہ مانے گا، جبکہ بیٹے کی پٹائی کا فائدہ بیٹے کو ہی ہے اس کی اصلاح ہو گی، اس کی اصلاح ہو گی وہ ادب سیکھے گا، تو لہذا دونوں میں فرق ہے: غلام کی پٹائی سے امر کا فائدہ تھا اور بیٹے کی پٹائی سے بیٹے کا فائدہ ہے۔ تو کہتے ہیں: وَمَنْ حَلَفَ لَا يَضْرِبُ وَلَدَهُ فَأَمَرَ إِنْسَانًا فَضَرَبَهُ لَمْ يَحْنَثْ فِي يَمِينِهِ، اور جس شخص نے قسم اٹھائی کہ وہ اپنی اولاد کی پٹائی نہیں کرے گا تو اس نے ایک انسان کو حکم دیا اس نے اس بیٹے کی پٹائی کی لم یحنث فی یمینہ تو یہ شخص اپنی قسم کے اندر حانث نہیں ہو گا، لِأَنَّ مَنْفَعَةَ ضَرْبِ الْوَلَدِ عَائِدَةٌ إِلَيْهِ اس لیے کیونکہ بیٹے کی پٹائی کا جو نفع ہے عَائِدَةٌ إِلَيْهِ وہ اسی بیٹے کی طرف لوٹ رہا ہے یعنی اصل نفع بیٹے کو ہی ہے، کچھ نفع تو باپ کو بھی ہو گا اس کا بیٹا ٹھیک راستے پر آ جائے گا لیکن اصل فائدہ کس کا ہے؟ بیٹے کا فائدہ ہے کہ اس کی اصلاح ہو جائے گی، وہ ادب سیکھ لے گا، وہ راہِ راست پر آ جائے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ مَنْفَعَةَ ضَرْبِ الْوَلَدِ عَائِدَةٌ إِلَيْهِ وَهُوَ التَّأَدُّبُ وَالتَّثَقُّفُ، تاٴدب کا معنی ہے ادب سیکھنا، تثقف ثا کے ساتھ ہے، تثقف کا معنی ہے اصلاح ہونا۔ کہتے ہیں: وَهُوَ التَّأَدُّبُ وَالتَّثَقُّفُ اور وہ ادب سیکھنا ہے اور اصلاح ہونا ہے، یہ بیٹے کو فائدہ پہنچ رہا ہے اس کو وہ ادب سیکھ رہا ہے اور اس کی اصلاح ہو رہی ہے، فَلَمْ يُنْسَبْ فِعْلُهُ إِلَى الْآمِرِ لہذا اس وکیل کے فعل کی نسبت نہیں کی جائے گی امر کی طرف، بِخِلَافِ الْأَمْرِ بِضَرْبِ الْعَبْدِ بخلاف وہ غلام کی پٹائی کا حکم دینے کے، لِأَنَّ مَنْفَعَتَهُ الِائْتِمَارُ بِأَمْرِهِ، ائتمار کہتے ہیں تعمیل کرنا، لِأَنَّ مَنْفَعَتَهُ اس لیے کیونکہ غلام کی پٹائی کا جو نفع ہے الِائْتِمَارُ بِأَمْرِهِ وہ امر کے حکم کی تعمیل کرنا ہے، غلام کی پٹائی کا نفع وہ جو امر ہے اس کے حکم کی تعمیل کرنا ہے، فَيُضَافُ الْفِعْلُ إِلَيْهِ تو لہذا اس فعل کی نسبت امر کی طرف کی جائے گی کہ فائدہ اس کو مل رہا ہے۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: کہتے ہیں لِأَنَّ مَنْفَعَتَهُ الِائْتِمَارُ بِأَمْرِهِ فَيُضَافُ الْفِعْلُ إِلَيْهِ اس لیے کیونکہ غلام کی پٹائی جو ہے اس کا نفع امر کے حکم کی تعمیل ہے لہذا امر کی طرف اس فعل کی نسبت کی جائے گی۔ وَمَنْ قَالَ لِغَيْرِهِ: إِنْ بِعْتُ لَكَ هَذَا الثَّوْبَ فَامْرَأَتُهُ طَالِقٌ فَلَبَّسَ الْمَحْلُوفُ عَلَيْهِ ثَوْبَهُ فِي ثِيَابِ الْحَالِفِ فَبَاعَهُ وَلَمْ يَعْلَمْ لَمْ يَحْنَثْ۔ بھئی یاد رکھو اس مسئلے کے لیے ایک دو باتیں سمجھ لیں بھئی: یاد رکھو یہاں لامِ اختصاص سے متعلق ہے یہ مسئلہ، لامِ اختصاص۔ اس نے قسم کھانے والے نے کیا کہا ہے: إِنْ بِعْتُ لَكَ هَذَا الثَّوْبَ، تو لَكَ دیکھو یہ لام آیا ہے اور اس کو لامِ اختصاص کہتے ہیں، یہ اختصاص کا فائدہ دیتا ہے کہ ایک چیز خاص ہے دوسری چیز کے ساتھ، جیسے عربی میں کہتے ہیں: اَلْجُلُّ لِلْفَرَسِ، جُلٌّ ایک کپڑا ہوتا ہے جو گھوڑے کی پشت پر ڈالا جاتا ہے، زین کے نیچے رکھا جاتا ہے، تو اَلْجُلُّ لِلْفَرَسِ جھول جو ہے وہ خاص ہے گھوڑے کے ساتھ، تو یہ لام کس لیے آتا ہے؟ اختصاص کے لیے، تو دیکھو اس نے بتلا دیا کہ جھول کا اختصاص ہے گھوڑے کے ساتھ۔ تو یہاں پر بھی یہ لامِ اختصاص سے متعلق مسائل ذکر ہوں گے بھئی۔ بھئی ایک ہے فعل اور ایک ہے عین، فعل کے اندر بھی اختصاص ہو سکتا ہے اور عین یعنی کوئی چیز ہے اس کے اندر بھی اختصاص ہو سکتا ہے۔ عین مثلاً کتاب ہے، یہ کتاب آپ کی ملکیت ہے تو ہم کہیں گے یہ کتاب آپ کی ہے یعنی آپ کے ساتھ اس کا اختصاص ہے، یعنی یوں کہیں گے: هَذَا الْكِتَابُ لَكَ اس کتاب کا آپ کے ساتھ اختصاص ہے یعنی آپ اس کے مالک ہیں۔ تو عین یعنی کوئی چیز ہو اس کے اندر اختصاص کس طرح ہو گا کہ وہ اس کی مملوک ہو، عین کا اختصاص کسی انسان کے ساتھ کیسے ہو گا کہ وہ اس کی مملوک ہو۔ اور ایک ہے فعل کا اختصاص، یاد رکھو فعل کا اختصاص کسی کے ساتھ اس طرح ہو گا کہ وہ فعل اس کے کہنے پر کیا جائے۔ مثلاً ایک آدمی کپڑے بیچ رہا ہے، اگر وہ آپ کے کہنے پر کپڑے بیچے گا تو ہم کہیں گے یہ وہ آپ کے لیے فعل کر رہا ہے یعنی آپ موکل ہیں اور وہ وکیل ہے، تو یہ جو وکیل فعل کرتا ہے اس فعل کا اختصاص ہوتا ہے موکل کے ساتھ کہ موکل کے لیے وہ فعل کر رہا ہے، تو عین کا اختصاص کیسے ہوتا ہے کہ وہ مملوک ہو اس انسان کی، اور فعل کا اختصاص کیسے ہوتا ہے کہ وہ اس کے کہنے پر فعل کیا جائے، مثلاً زید کے کہنے پر عمر نے کوئی فعل کیا تو ہم کہیں گے عمر اس کام میں زید کا وکیل تھا، عمر نے یہ کام زید کے لیے کیا ہے یعنی اس فعل کا اختصاص ہے زید کے ساتھ، کیا تو عمر نے لیکن اختصاص کس کے ساتھ ہے؟ زید کے ساتھ ہے کہ زید کا وکیل بن کر اس نے یہ فعل کیا ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ اب یاد رکھنا آپ کو بتلائیں گے کہ جب جملے کے اندر قسم اور یمین کے اندر کوئی شخص لامِ اختصاص کو لائے اور وہ لام ضمیر پر داخل ہو رہا ہے: لَكَ، یہ لام کاف ضمیر پر داخل ہو رہا ہے، تو جب بھی قسم کھانے والا اپنی یمین کے اندر فعلِ متعدی کو ذکر کرے لامِ اختصاص کے ساتھ اور وہ لامِ اختصاص داخل ہو رہا ہے ضمیر پر، تو آگے مفعول بھی آئے گا، کیا آئے گا؟ مفعول، تو وہ اس لام کو فعل اور مفعول کے درمیان ذکر کرے گا یا اس لام کو مفعول کے بعد ذکر کرے گا۔ یوں کہو آسان لفظوں میں کہ وہ اس لام کو مفعول پر مقدم کرے گا یعنی فعل کے ساتھ ذکر کرے گا، یا اس لام کو مفعول کے بعد ذکر کرے گا یعنی مفعول کے ساتھ ملائے گا۔ تو جب بھی فعلِ متعدی یمین میں ذکر کیا جائے اور اس کے ساتھ لامِ اختصاص کو ذکر کیا جائے اور وہ لامِ اختصاص ضمیر پر داخل ہو رہا ہے، تو پھر وہ لامِ اختصاص یا تو مفعول پر مقدم ہو گا یعنی فعل کے ساتھ ہو گا یا مفعول پر مؤخر ہو گا۔ جب جملے کے اندر قسم اور یمین کے اندر کوئی شخص لامِ اختصاص کو لائے اور وہ لامِ اختصاص یا تو مفعول سے پہلے ہو گا یا مفعول کے بعد ہو گا، اور مفعول وہ عین ہے، کوئی چیز ہے، مفعول کیا ہے؟ کوئی چیز ہے مثلاً جس پر وہ فعل واقع ہو رہا ہے، تو وہ لامِ اختصاص اس مفعول سے پہلے ہو گا یعنی فعل کے ساتھ ہو گا۔ سب سے پہلے فعل آیا، پھر لام آیا، پھر مفعول آیا، تو یہ لام مفعول پر مقدم ہے یعنی فعل کے ساتھ ملا ہوا ہے، اور کبھی کبھار یہ لام جو ہے مفعول کے بعد ہو گا۔ تو جب بھی فعلِ متعدی یمین میں ذکر کیا جائے اور اس کے ساتھ لامِ اختصاص کو ذکر کیا جائے اور وہ لامِ اختصاص ضمیر پر داخل ہو رہا ہے، تو پھر وہ لامِ اختصاص یا تو مفعول پر مقدم ہو گا یعنی فعل کے ساتھ ہو گا یا مفعول پر مؤخر ہو گا۔ پھر اس کے اندر یہ دیکھا جائے گا کہ یہ ایسا فعل ہے جس میں نیابت جاری ہوتی ہے یا جاری نہیں ہوتی؟ اگر ایسا فعل ہے جس میں نیابت جاری ہوتی ہے تو پھر تو اگر اس لام کو فعل کے ساتھ ذکر کیا تو اور حکم ہے، لام کو اگر مفعول کے بعد ذکر کیا پھر اور حکم ہے، اور اگر ایسا فعل ہے جس میں نیابت جاری نہیں ہوتی تو پھر چاہے لام کو اس مفعول پر مقدم کرے چاہے مؤخر کرے پھر ایک ہی حکم رہے گا۔ تو لہذا سب سے پہلے آپ نے یہ دیکھنا ہے کہ لامِ اختصاص مفعول پر مقدم ہے یا مفعول سے مؤخر ہے، پھر اس کے بعد آپ نے یہ دیکھنا ہے یہ فعل ایسا ہے کہ جس میں نیابت جاری ہوتی ہے یا اس میں نیابت جاری نہیں ہوتی؟ اگر فعل ایسا ہے کہ اس میں نیابت جاری ہوتی ہے یعنی اس میں کوئی شخص دوسرے کا نائب بن سکتا ہے، اس کا وکیل بن سکتا ہے، اور پھر اس کے بعد وہ لام جو ہے وہ مفعول پر مقدم ہے، وہ لام مفعول پر مقدم ہے، فعل کے ساتھ ہے تو اس کا مطلب ہے یہ فعل یہ فعل خاص ہونا چاہیے جس پر یہ لام داخل ہو رہا ہے۔ جیسے یہ مثال متن کی مثال پر نظر رکھیں: إِنْ بِعْتُ لَكَ هَذَا الثَّوْبَ اگر میں نے یہ کپڑا آپ کے لیے بیچا فَامْرَأَتُهُ طَالِقٌ تو اس کی بیوی کو طلاق ہے، یہ ایک ادمی قسم کھا رہا ہے: إِنْ بِعْتُ لَكَ هَذَا الثَّوْبَ، یہ هَذَا الثَّوْبَ یہ ہے مفعول بہ بھئی، اور لَكَ یہ لام اس پر مقدم ہے اور یہ بِعْتُ، بَیْعٌ کے ساتھ لام ذکر ہے اور بیع کا فعل آپ نے پڑھا ہے اس میں نیابت جاری ہوتی ہے، آپ اس میں دوسرے کو اپنا وکیل بنا سکتے ہیں، تو جب بھی لامِ اختصاص ایسے فعل کے بعد آئے جس میں نیابت جاری ہوتی ہے اور یہ لامِ اختصاص مفعول پر مقدم ہے تو پھر یہ یہ بتلا رہا ہے کہ یہ فعل اس ادمی کے ساتھ خاص ہونا چاہیے جس پر لام داخل ہو رہا ہے۔ بِعْتُ لَكَ، لام کس پر داخل ہو رہا ہے؟ ضمیر پر، کس پر داخل ہو رہا ہے؟ ضمیر پر یعنی مخاطب جس کے ساتھ وہ ادمی بات کر رہا ہے، تو جس پر یہ لام داخل ہو رہا ہے یہ فعل کو اس کے ساتھ خاص کر دے گا۔ لام کس کے بعد آیا؟ فعل کے بعد، اور اس فعل میں نیابت بھی جاری ہوتی ہے، اس میں کوئی شخص دوسرے کا وکیل بن سکتا ہے، تو اس صورت میں یہ شخص تب حانث ہو گا جب دوسرے کے لیے وکیل بن کر یہ فعل کرے گا۔ إِنْ بِعْتُ لَكَ هَذَا الثَّوْبَ، یہ لَكَ کس کے ساتھ ہے؟ بِعْتُ، إِنْ بِعْتُ کے ساتھ جڑا ہوا ہے، تو یہ بیع جو ہے یہ اس مخاطب کے لیے جب کرے گا یعنی اس کا وکیل بن کر، تو پھر اس صورت میں یہ حانث ہو جائے گا۔ دوسرا شخص وہ جو محلوف علیہ ہے بھئی جس سے یہ بات کر رہا ہے، جس کے اوپر قسم کھا رہا ہے کہ اگر میں نے تمہارے لیے یہ کپڑا بیچا تو میری بیوی کو طلاق ہے، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو لہذا جب ایسا فعل ذکر ہو جس میں نیابت جاری ہوتی ہے اور لامِ اختصاص مفعول پر مقدم ہو جائے تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ اس فعل کو اس محلوف علیہ کے ساتھ خاص ہونا چاہیے۔ یہ محلوف علیہ جس سے بات کر رہا ہے، جس کی وجہ سے قسم کھا رہا ہے، تو یہ محلوف علیہ اس کے ساتھ فعل خاص ہو گا پھر یہ حانث ہو گا ویسے حانث نہیں۔ إِنْ بِعْتُ لَكَ معنی یہ ہے اگر میں تمہارے لیے بیچوں یعنی تمہارا وکیل بن کر میں اس کپڑے کو بیچوں، کیونکہ فعل کیسے خاص ہوتا ہے کسی دوسرے کے ساتھ کہ اس کا وکیل بن کر وہ فعل کیا جائے، تو لہذا یہ وکیل بن کر اس کا کپڑا بیچے گا تو حانث ہو جائے گا۔ لیکن اگر اس محلوف علیہ نے جس سے وہ بات کر رہا ہے جس سے اس نے قسم میں ذکر کیا ہے کہ اگر تمہارے لیے میں نے یہ کپڑا بیچا، اگر اس محلوف علیہ نے اپنا کپڑا اس حالف کے کپڑوں میں چھپا دیا، ملا دیا، اب حالف بیچارے کو نہیں پتہ کہ میرے کپڑوں میں اس کا کپڑا بھی موجود ہے اور پھر اس حالف نے یہ کپڑا بھی بیچ دیا، اور اس نے تو کیا کہا تھا: إِنْ بِعْتُ لَكَ هَذَا الثَّوْبَ اگر میں نے تمہارے لیے یہ کپڑا بیچا، تو کہتے ہیں اس صورت میں یہ حانث نہیں ہو گا کیونکہ یہ جو کپڑا بیچ رہا ہے اس کو علم ہی نہیں ہے کہ یہ اس فلاں کا کپڑا ہے، اور اس نے تو کیا کہا تھا اس نے تو لام کو کس کے ساتھ ذکر کیا تھا؟ بیع کے ساتھ ذکر کیا تھا اور یہ کیا تقاضا کرتا ہے کہ یہ بیع کے اندر اس کا وکیل بن کر بیع کرے، اور یہ وکیل بن کر تو بیع نہیں کر رہا کیونکہ اس کو تو اس کپڑے کا پتہ ہی نہیں ہے یہ لا علمی میں اس کو بیچ رہا ہے، تو یہ حانث نہیں ہو گا۔ لیکن اگر یہی لَكَ کو یہ کپڑے کے بعد لے جائے، مثلاً یوں کہتا ہے: إِنْ بِعْتُ ثَوْبًا لَكَ، اب دیکھو ثَوْبًا مفعول بہ کے بعد وہ لَكَ کو لے کر آیا ہے تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ یہ جو ثوب یہ جو مفعول بہ ہے یعنی یہ جو عین ہے، یہ جو چیز ہے، یہ اس محلوف علیہ کے ساتھ خاص ہونی چاہیے۔ إِنْ بِعْتُ ثَوْبًا لَكَ، یہ ثوب کے بعد لام آ رہا ہے، یہ کیا تقاضا کر رہا ہے؟ اس کپڑے کا اختصاص ہونا چاہیے اس محلوف علیہ کے، محلوف علیہ وہ ادمی جس کے جس پر وہ قسم کھا رہا ہے جس سے بات کر رہا ہے، تو یہ کپڑا خاص ہونا چاہیے اس محلوف علیہ کے ساتھ یعنی اس کی ملکیت ہونا چاہیے۔ اب اگر اس نے اس کا کپڑا بیچا چاہے وکیل بن کر بیچے چاہے اصالتاً بیچے یعنی بغیر پوچھے اس کا کپڑا بیچ دے ہر صورت میں حانث ہو جائے گا کیونکہ اس نے کیا کہا تھا: إِنْ بِعْتُ ثَوْبًا لَكَ اگر میں نے وہ کپڑا بیچا جو تمہارا ہے، یعنی تمہاری ملکیت ہے تو اس نے تو کپڑے کو اس کی ملکیت قرار دیا ہے اور پھر اس کو بیچا ہے تو جب بھی اس کا کپڑا بیچے گا یہ حانث ہو جائے گا۔ ضابطہ سمجھ میں آ گیا؟ پھر دہرا لیں بھئی: جب یمین کے اندر فعلِ متعدی آئے اور اس کے بعد لامِ اختصاص ضمیر پر داخل ہو تو وہ لامِ اختصاص یا تو فعل کے ساتھ ملا ہو گا یعنی مفعول پر مقدم ہو گا، یا وہ لامِ اختصاص مفعول کے بعد ہو گا یعنی مؤخر ہو گا۔ اگر وہ لامِ اختصاص فعل کے ساتھ ملا ہوا ہے مفعول پر مقدم ہے تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ وہ فعل اس محلوف علیہ کے ساتھ خاص ہونا چاہیے اور فعل کا اختصاص نیابت کے ذریعے ہوتا ہے یعنی اس کا وکیل بن کر وہ فعل کرے تو حانث ہو گا ورنہ حانث نہیں۔ اور اگر وہ لامِ اختصاص مفعول کے بعد آ رہا ہے تو مفعول تو عین ہے تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ وہ عین اور وہ چیز اس محلوف علیہ کے ساتھ خاص ہونی چاہیے یعنی اس کی مملوک ہونی چاہیے، اب وہ چیز جب بھی بیچے گا یہ حانث ہو جائے گا چاہے اس کا وکیل بن کر بیچے چاہے ویسے ہی اس کی چیز کو بیچ دے۔ تو یہاں پر اس نے لامِ اختصاص کو کس کے ساتھ ملایا؟ فعل کے ساتھ ملایا، مفعول پر مقدم کیا اور کیا کہا: إِنْ بِعْتُ لَكَ هَذَا الثَّوْبَ اگر میں نے تمہارے لیے یہ کپڑا بیچا، تو یہ کیا تقاضا کر رہا ہے؟ کہ یہ بیع اس کے ساتھ خاص ہونی چاہیے یعنی اس کا وکیل بن کر وہ بیع کرے، اور اس نے تو اپنے کپڑوں میں اس کا کپڑا ملا دیا تھا اس کو پتہ ہی نہیں تھا تو یہ اس کا وکیل بن کر بیع نہیں کر رہا لہذا یہ حانث نہیں ہو گا۔ دیکھیے بھئی عبارت: وَمَنْ قَالَ لِغَيْرِهِ: إِنْ بِعْتُ لَكَ هَذَا الثَّوْبَ فَامْرَأَتُهُ طَالِقٌ، اور جس شخص نے دوسرے سے کہا کہ اگر میں نے تیرے لیے یہ کپڑا بیچا تو اس کی بیوی کو طلاق ہے، فَلَبَّسَ الْمَحْلُوفُ عَلَيْهِ ثَوْبَهُ فِي ثِيَابِ الْحَالِفِ فَبَاعَهُ وَلَمْ يَعْلَمْ لَمْ يَحْنَثْ، تو اس محلوف علیہ نے اپنے کپڑے کو حالف کے کپڑوں میں ملا دیا، پوشیدہ کر دیا، پھر اس حالف نے اس کپڑے کو بیچ دیا اور اس کو علم نہیں تھا لم یحنث تو یہ حانث نہیں ہو گا۔ لِأَنَّ اللَّامَ لِلِاخْتِصَاصِ اس لیے کیونکہ لام جو ہے وہ اختصاص کے لیے آتا ہے، وَقَدْ دَخَلَ عَلَى الْفِعْلِ اور یہ لام جو ہے داخل ہوا ہے فعل پر یعنی فعل کے ساتھ ملا ہوا ہے، فَيَقْتَضِي اخْتِصَاصَ الْبَيْعِ بِالْمُخَاطَبِ تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ بیع خاص ہو مخاطب کے ساتھ، وَذَلِكَ بِأَنْ يَبِيعَهُ لَهُ بِأَمْرِهِ اور بیع کا مخاطب کے ساتھ خاص ہونا یہ اس طرح ہوتا ہے کہ یہ اس کے حکم سے اس کے لیے بیچے یعنی اس کا وکیل بن کر بیچے، وَلَمْ يُوجَدْ اور یہ صورت تو یہاں نہیں پائی گئی کیونکہ اس نے تو اس کے حکم سے نہیں بیچا اس کو تو علم ہی نہیں تھا، بِخِلَافِ مَا إِذَا قَالَ: إِنْ بِعْتُ ثَوْبًا لَكَ، بخلاف اس کے جب اس نے کہا اگر میں نے وہ کپڑا بیچا جو تیرا ہے، حَيْثُ يَحْنَثُ کہ اس صورت میں یہ حانث ہو جائے گا، لِأَنَّ اللَّامَ دَخَلَ عَلَى الْعَيْنِ اس لیے کیونکہ لام جو ہے وہ عین پر داخل ہوا ہے یعنی مفعول کے بعد آیا ہے، فَيَقْتَضِي اخْتِصَاصَ الْمَبِيعِ بِهِ تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ مبیع خاص ہو مخاطب کے ساتھ یعنی اس کی مملوک ہو، وَقَدْ وُجِدَ اور یہ صورت تو پائی گئی کہ وہ مبیع اسی کی مملوک تھی۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔ انسان پر حرام، اسی طرح رضاعی بہن بھی انسان پر حرام۔ تو بچے نے جس عورت کا دودھ پی لیا مدتِ رضاعت میں وہ اس کی رضاعی ماں بن گئی اور اس عورت کا خاوند جو ہے وہ اس بچے کا رضاعی باپ بن گیا، اور اس عورت کی جو اولاد ہے وہ اس بچے کے رضاعی بھئی بہن بن گئے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلَا بِأُمِّهِ مِنَ الرَّضَاعَةِ وَلَا بِأُخْتِهِ مِنَ الرَّضَاعَةِ اور جائز نہیں ہے کہ کوئی شخص نکاح کرے اپنی رضاعی ماں سے اور نہ اپنی رضاعی بہن سے، لِقَوْلِهِ تَعَالَى اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے، اب دلیل ذکر کر رہے ہیں کہ یہ کیوں حرام ہیں انسان پر؟ کہتے ہیں: ﴿وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ﴾ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: اور تمہاری وہ مائیں ﴿اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ﴾ جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا، ﴿وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ﴾ اور تمہاری وہ بہنیں جو رضاعت سے ہیں یعنی تمہاری رضاعی بہنیں وہ بھی تم پر حرام ہیں۔ اور نیز وَلِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ حضور علیہ السلام کا فرمانِ مبارک ہے آپ نے فرمایا: ”يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ“ کہ حرام ہو جاتے ہیں رضاعت کی وجہ سے ما وہ رشتے وہ عورتیں يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتی ہیں، جو عورتیں نسب کی وجہ سے حرام ہو جاتی ہیں وہ رضاعت کی وجہ سے بھی حرام ہو جاتی ہیں بھئی۔ اب اس میں یاد رکھیے یہ جو دودھ پلانے والی عورت ہے یہ ہے مرضِعہ، یہ کیا ہے؟ مرضِعہ، دودھ پلانے والی، اور جس بچے نے دودھ پیا ہے وہ ہے رضِیع بھئی، رضِیع دودھ پینے والا بچہ۔ تو یاد رکھو مرضِعہ کی طرف سے سب جو ہیں وہ رضِیع کے رشتہ دار بن جاتے ہیں۔ دودھ پلانے والی کی طرف سے سب رشتہ دار بن جاتے ہیں کس کے؟ رضِیع کے۔ یعنی وہ جو دودھ پلانے والی ہے وہ ماں بن گئی، اس کا خاوند جو ہے وہ اس کا رضاعی باپ بن گیا، اس عورت کی جو اولاد ہے وہ اس کے رضاعی بھئی بہن بن گئے، اور جو رضاعی ماں باپ کے اصول ہیں وہ اس بچے کے رضاعی اصول بن گئے، اور جیسے حقیقی اصول جو ہیں نسبی اصول انسان پر حرام ہوتے ہیں یہ رضاعی اصول بھی کیا ہو گئے؟ بچے پر حرام ہو گئے۔ تو یہ بیان کرنے کے لیے کہ رضاعت کی وجہ سے کون کون سے رشتے جو ہیں حرام ہوتے ہیں، تو علماء نے اس ضابطے کو ایک شعر میں ذکر کیا ہے بھئی، یہ شعر آپ لکھ لیں یہ آپ کو کام ائے گا ہر جگہ بھئی۔ لکھیے بھئی: از جانبِ شِیر دہ ہمہ خویش شوند از جانبِ شِیر دہ دال اور گول ہا ہے: شِیر دہ۔ ہمہ ہا میم ہا بھئی، ہمت والی ہا ہے بھئی ہما، چھوٹی ہا، ہ میم ہ۔ خویش خا واؤ یا شین، یہ واؤ بہت معمولی سا پڑھتے ہیں خویش بھئی۔ کیا لکھا؟ از جانبِ شِیر دہ ہمہ خویش شوند، شین واؤ نون دال: شوند۔ از جانبِ شِیر دہ ہمہ خویش شوند۔ اگلا مصرع ہے: وز جانبِ شِیر خوار زوجان و فروع وز جانبِ شِیر خوار، شِیر ش یا را اور خوار خ واؤ الف را، خ واؤ الف را یہ واؤ بھی معمولی سا پڑھتے ہیں بھئی، وز جانبِ شِیر خوار زوجان و فروع، زوجان زوجان، و فروع و فروع۔ لکھ لیا بھئی؟ دیکھیے پھر اس پورے شعر کو دیکھ لیجیے: از جانبِ شِیر دہ ہمہ خویش شوند وز جانبِ شِیر خوار زوجان و فروع بھئی۔ اس میں پورا ضابطہ ذکر ہو گیا کہ کون کون رشتہ دار بنیں گے۔ دیکھیے: از جانبِ شِیر دہ، شِیر فارسی زبان میں دودھ کو کہتے ہیں، شِیر دہ شِیر دہ وہ جو دودھ پلانے والی ہے بھئی۔ ہمہ، ہمہ کا معنی ہے سب۔ خویش کا معنی ہے رشتہ دار، رشتہ دار۔ از جانبِ شِیر دہ، دودھ پلانے والی کی جانب سے ہمہ خویش شوند سارے رشتہ دار بن جاتے ہیں۔ وز جانبِ شِیر خوار اور دودھ پینے والے کی جانب سے زوجان و فروع، میاں بیوی، زوجان زوج کی تثنیہ ہے، زوجان میاں بیوی و فروع اور ان کی اولاد۔ زوجان تثنیہ ہے زوج کی، میاں بیوی و فروع اور ان کی اولاد۔ بھئی دیکھو: از جانبِ شِیر دہ ہمہ خویش شوند وز جانبِ شِیر خوار زوجان و فروع از جانبِ شِیر دہ، دودھ پلانے والی کی طرف سے ہمہ خویش شوند سب رشتہ دار ہو جاتے ہیں۔ وز جانبِ شِیر خوار اور دودھ پینے والے کی طرف سے زوجان و فروع، میاں بیوی اور ان کی جو اولاد ہے۔ ان کی جو اولاد ہے۔ یاد رکھو دودھ پلانے والی جو مرضِعہ ہے اس کی طرف سے سب رشتہ دار بن گئے۔ یہ بچے نے جس عورت کا دودھ پیا یہ اس کی رضاعی ماں بن گئی، اس عورت کا جو خاوند ہے وہ بچے کا رضاعی باپ بن گیا اور یہ جو رضاعی ماں باپ کے جو اصول ہیں وہ بچے کے دادا دادی اور نانا نانی بن گئے رضاعی طور پر، اور یہ جو دودھ پلانے والی مرضِعہ ہے ان کے جو فروع ہیں یعنی ان کی جو اولاد ہے وہ اس رضِیع کے بھئی بہن بن گئے۔ وہ اس کے رضاعی بھئی بہن بن گئے، تو مرضِعہ کی طرف سے سب رشتہ دار بن گئے اس بچے کے۔ جبکہ رضِیع جو دودھ پینے والا ہے اس کی طرف سے صرف میاں بیوی اور ان کی اولاد حرام ہوتے ہیں۔ مثلاً دودھ پینے والا یا بچہ ہو گا یا بچی۔ اگر وہ بچہ ہے تو بڑا ہو کر یہ جس سے جس عورت سے نکاح کرے گا وہ اس رضاعی ماں باپ کی بہو بن گئی، اور جیسے حقیقی بہو انسان پر حرام ہوتی ہے اسی طرح یہ رضاعی بہو بھی کیا ہے؟ ان پر حرام ہے۔ اور اگر یہ دودھ پینے والی بچی ہوئی تو آگے چل کر بڑی ہو گی اور یہ جس آدمی سے نکاح کرے گی وہ ان کا رضاعی داماد بن گیا، کیا بن گیا؟ رضاعی داماد بن گیا، اور جیسے حقیقی داماد پر ساس حرام ہوتی ہے اسی طرح رضاعی بیٹی کا جو خاوند ہے اس پر بھی یہ رضاعی ساس ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حرام ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو معلوم ہوا دودھ پینے والے کی طرف سے رشتہ دار کون بنے؟ زوجان، میاں بیوی۔ دودھ پینے والا بچہ ہے تو وہ رضاعی بیٹا بن گیا اور اس کی جو بیوی ہو گی وہ بہو بن گئی بھئی، وہ کیا بن گئی؟ بہو۔ اور اگر وہ دودھ پینے والی لڑکی تھی تو اس کا جو خاوند ہے وہ داماد بن گیا جیسے حقیقی بیٹی کا خاوند داماد ہوتا ہے رضاعی بیٹی کا خاوند بھی داماد ہے، تو دودھ پینے والے کی طرف سے یہ میاں بیوی جو ہیں یہ ان پر حرام ہیں۔ اور نیز آگے ان کی اولاد، یہ جو رضاعی بیٹا یا رضاعی بیٹی ہے اس کی جو اولاد ہے وہ بھی اپنے رضاعی ماں باپ پر حرام ہے، جیسے حقیقی بیٹے یا بیٹی کی اولاد انسان پر حرام ہوتی ہے اسی طرح رضاعی بیٹے یا بیٹی کی جو اولاد آگے ہو گی وہ بھی اس رضاعی ماں باپ پر حرام ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ ضابطہ سمجھ میں آ گیا؟ مرضِعہ کی طرف سے سب رشتہ دار بن جاتے ہیں اور رضِیع دودھ پینے والے کی طرف سے صرف میاں بیوی اور ان کی جو اولاد ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: وَلَا يَجْمَعُ بَيْنَ أُخْتَيْنِ نِكَاحًا وَلَا بِمِلْكِ يَمِينٍ وَطْئًا۔ بھئی یاد رکھو یہ جائز نہیں ہے کہ کوئی شخص دو بہنوں کو اپنے نکاح میں جمع کرے۔ مثلاً ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا ہے یہ عورت اس کی بیوی ہے اور اب اس شخص کا ارادہ بنا کہ اپنی بیوی کی بہن سے بھی نکاح کر لے، تو شریعت نے منع کیا ہے کہ جب تک یہ عورت تمہاری بیوی ہے تم اس کی بہن سے نکاح نہیں کر سکتے ورنہ تو کیا خرابی لازم آئے گی؟ جمع بین الاختین لازم آئے گا، دو بہنوں کو جمع کرنا لازم آئے گا۔ کوئی شخص دو بہنوں کو اپنے نکاح میں جمع کرے یہ جائز نہیں ہے بھئی۔ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ﴾ کہ تم پر حرام قرار دیا گیا ہے کہ تم دو بہنوں کو جمع کرو۔ وجہ یہ کہ بہنوں کے درمیان بڑی محبت ہوتی ہے بھئی، لیکن جب ایک شخص دو بہنوں سے نکاح کرے گا تو وہ دونوں ایک دوسرے کی سوکنیں بن جائیں گی اور سوکنوں کے درمیان طبعاً نفرت ہوا کرتی ہے، تو دیکھو یہ دو بہنوں کا نکاح میں جمع کرنا یہ اس بات کی طرف لے گیا کہ ان بہنوں کے درمیان قطعِ تعلق آ جائے گا، آپس میں نفرت آ جائے گی، اور اسلام تو صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے کہ رشتہ داروں کے ساتھ جوڑ کر رکھو بھئی، ان کے ساتھ تعلق بنا کر رکھو، لیکن یہ رشتہ جو ہے دو بہنوں کو ایک شخص کے عقد میں جمع کرنا یہ کس طرف لے گیا؟ قطعِ رحمی کی طرف لے گیا، اسلام درس دیتا ہے صلہ رحمی کا کہ رشتہ داروں سے تعلق جوڑ کر رکھو، اور یہ قطعِ تعلق کی طرف لے گیا لہذا شریعت نے اس پر پابندی لگا دی، شریعت نے اس سے روک دیا، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: وَلَا يَجْمَعُ بَيْنَ أُخْتَيْنِ نِكَاحًا اور جمع نہیں کر سکتا کوئی شخص دو بہنوں کو نکاحاً نکاح کے اعتبار سے کہ وہ دونوں بہنیں اس کے نکاح میں جمع ہو جائیں، وَلَا بِمِلْكِ يَمِينٍ اور کوئی شخص دو بہنوں کو جمع نہیں کر سکتا بملکِ یمین ملکِ یمین کے ذریعے کہ دونوں بہنیں اس کی باندیاں ہوں وَطْئًا بھئی اعتبار وطی کے۔ یاد رکھو جیسے دو بہنوں کو ایک شخص نکاح میں جمع نہیں کر سکتا اسی طرح دو بہنیں کسی ایک شخص کی مملوکہ ہیں تو وہ ان دونوں سے صحبت نہیں کر سکتا۔ جیسے دو بہنوں کو نکاح میں جمع کرنا جائز نہیں اسی طرح دو ایسی باندیاں جو آپس میں بہنیں ہیں ان دونوں کو وطی کے اعتبار سے جمع کرنا بھی جائز نہیں کہ ان کا آقا اور مالک دونوں بہنوں سے وطی کرے، دونوں بہنوں سے صحبت کرے، آپ جانتے ہیں آقا کے لیے اپنی باندی سے صحبت جائز ہے، تو ایک شخص ہے اس کی ملکیت میں دو بہنیں ہیں، تو ان دو بہنوں میں سے یاد رکھو وہ ایک سے صحبت کر سکتا ہے دونوں سے صحبت نہیں کر سکتا بھئی، ورنہ تو کیا لازم آئے گا؟ دو بہنوں کا جمع کرنا با اعتبار وطی کے اور یہ حرام ہے۔ جیسے دو بہنوں کو نکاح کے اعتبار سے جمع کرنا جائز نہیں اسی طرح دو بہنوں کو وطی اور صحبت کے اعتبار سے جمع کرنا بھی جائز نہیں ہے۔ تو دیکھیے کہتے ہیں: وَلَا يَجْمَعُ بَيْنَ أُخْتَيْنِ نِكَاحًا اور جمع نہیں کر سکتا کوئی شخص دو بہنوں کو نکاحاً با اعتبار نکاح کے، وَلَا بِمِلْكِ يَمِينٍ وَطْئًا اور نہ دو بہنوں کو جمع کر سکتا ہے ملکِ یمین کے ذریعے کہ وہ اس کی مملوکہ ہوں، تو ملکِ یمین کے ذریعے وطئاً با اعتبار وطی کے کہ ان دونوں سے وطی کرے یہ جائز نہیں، دلیل کیا؟ دلیل آگے ذکر فرما رہے ہیں صاحبِ ہدایہ: لِقَوْلِهِ تَعَالَى اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے: ﴿وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ﴾ اور یہ کہ تم جمع کرو دو بہنوں کو یعنی تم پر حرام قرار دیا گیا ہے کہ تم دو بہنوں کو جمع کرو، وَلِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کی وجہ سے کہ: ”مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ“ اور جو شخص تم میں سے ایمان رکھتا ہے اللہ پر اور آخرت کے دن پر ”فَلَا يَجْمَعَنَّ مَاءَهُ فِي رَحِمِ أُخْتَيْنِ“ تو وہ ہرگز جمع نہ کرے اپنے پانی کو دو بہنوں کے رحم میں۔ دو بہنوں کے رحم، رَحِمٌ اور رَحْمٌ دونوں طرح آپ پڑھ سکتے ہیں، حا کو ساکن بھی پڑھ سکتے ہیں اور حا کے نیچے کسرہ بھی بھئی۔ اور رحم کہتے ہیں جس میں بچے کی پیدائش ہوتی ہے، پرورش ہوتی ہے یعنی بچہ دانی بھئی۔ اور مَاءَهُ، فَلَا يَجْمَعَنَّ مَاءَهُ وہ ہرگز جمع نہ کرے اپنے پانی کو، ماء سے مراد مادہ منویہ ہے جس سے بچے کی پیدائش ہوتی ہے، تو حضور فرماتے ہیں: مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ جو شخص تم میں سے ایمان رکھتا ہے اللہ پر اور آخرت کے دن پر فَلَا يَجْمَعَنَّ مَاءَهُ فِي رَحِمِ أُخْتَيْنِ تو وہ ہرگز جمع نہ کرے اپنے پانی کو دو بہنوں کے رحم میں۔ آگے دیکھیے: فَإِنْ تَزَوَّجَ أُخْتَ أَمَةٍ لَهُ قَدْ وَطِئَهَا صَحَّ النِّكَاحُ لِصُدُورِهِ مِنْ أَهْلِهِ مُضَافًا إِلَى مَحَلِّهِ۔ ادھر دیکھیے بھئی، یاد رکھو جس عورت سے کوئی انسان نکاح کر لیتا ہے تو یہ جو اس کی منکوحہ ہے اس کو موطوءہ قرار دیا جاتا ہے یعنی موطوءہ ہونے کا اس پر حکم لگا دیا جاتا ہے۔ موطوءہ وہ عورت جس سے صحبت کی جا چکی، تو کوئی شخص جب کسی عورت سے نکاح کرتا ہے ابھی اس نے بے شک اس سے صحبت نہیں کی اپنی بیوی سے لیکن یہ حکماً موطوءہ ہے یعنی اس پر بھی حکم لگا دیا گیا کہ گویا یہ اس سے صحبت کر چکا ہے۔ اسی طرح باندی ہے بھئی باندی، باندی آپ جانتے ہیں کہ کوئی شخص باندی کا جب مالک ہو تو آقا کے لیے باندی سے صحبت جائز ہوتی ہے لیکن باندی کے اندر ایسا نہیں ہے کہ کوئی شخص باندی کو خرید لے اس کا مالک بن جائے اس کو موطوءہ قرار نہیں دیا جائے گا یہاں تک کہ آقا باقاعدہ اس کے ساتھ صحبت کر لے، جب آقا باقاعدہ اس سے صحبت کر لے گا اب یہ موطوءہ بن گئی۔ جبکہ منکوحہ جو ہے وہاں نکاح کرتے ہی اس کو موطوءہ قرار دیا جائے گا یعنی وہ حکماً موطوءہ ہے، اس پر موطوءہ ہونے کا حکم لگا دیا جائے گا۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ فرق کیوں کیا گیا بھئی؟ عورت سے نکاح کیا وہ عورت بھی حلال اس کے لیے، باندی کو خرید لیا باندی کا مالک بن گیا تو یہ باندی بھی اس کے لیے حلال ہو گئی، دونوں عورتیں اس کے لیے حلال ہیں لیکن ایک پر موطوءہ ہونے کا حکم لگا دیا جاتا ہے اور دوسری پر موطوءہ ہونے کا حکم نہیں لگایا جاتا جب تک حقیقتاً اس سے وطی نہ کر لے بھئی؟ تو جواب یہ کہ نکاح کیا ہی وطی کے لیے جاتا ہے، کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرتا ہے وہاں یہی مقصد ہوتا ہے کہ یہ عورت اس کے لیے حلال ہو جائے، عورت اس کے لیے حلال ہو جائے تو نکاح کے اندر چونکہ مقصد ہی وطی اور صحبت ہے تو لہذا اس لیے منکوحہ جو ہے اس پر موطوءہ ہونے کا حکم لگا دیا جاتا ہے کہ یہ کیا ہے اس شخص کی موطوءہ ہے اس سے یہ صحبت کر چکا ہے، جبکہ باندی اس کو تو وطی کے لیے نہیں خریدا جاتا اس کو تو کام کاج کے لیے خریدا جاتا ہے، ہاں جب وہ مملوکہ ہو گئی اس تو مالک کے لیے صحبت بھی جائز ہو جاتی ہے لیکن اس کی مرضی ہے مالک کی اس سے صحبت کرے یا نہ کرے، تو باندی کو کام کاج کے لیے خریدا جاتا ہے صحبت کے لیے عموماً نہیں خریدا جاتا تو اس پر موطوءہ ہونے کا حکم نہیں لگایا جائے گا جب تک آقا اس سے صحبت نہ کر لے۔ ضابطہ سمجھ میں آ گیا کہ منکوحہ نکاح کرتے ہی کیا بن گئی؟ موطوءہ بن گئی یعنی اس پر حکم لگا دیا گیا۔ اسی طرح صاحب ہدایہ نے آپ کو بتایا کہ ملکِ یمین کے ذریعے بھی دو بہنوں کو جمع کرنا با اعتبار وطی کے یہ جائز نہیں، یعنی دو باندیاں ہوں انسان کی اور وہ دونوں بہنیں ہیں اور دونوں سے وہ صحبت کر لے یہ اس کے لیے جائز نہیں ہے بھئی۔ اب ایک شخص ہے اس کی ملکیت میں دو بہنیں ہیں، اس کی باندیاں ہیں، ان میں سے ایک کے ساتھ یہ صحبت کرتا ہے تو یہ اس کی موطوءہ ہے۔ اب بعد میں اس کا ارادہ بنا دوسری بہن سے بھی صحبت کرنے کا تو فقہاء فرماتے ہیں کہ یہ جائز نہیں الا یہ کہ پہلی باندی کو اپنے اوپر حرام کر لے کسی بھی طریقے سے۔ اس لیے کیونکہ ایک بہن سے یہ وطی کرتا ہے دوسری سے بھی وطی کرے گا تو یہ تو اس نے دونوں بہنوں کو وطی کے اعتبار سے جمع کر دیا، لہذا پہلے دوسری بہن جو اس کی موطوءہ ہے اس کو اپنے اوپر حرام کر دے، یعنی وہ بہن کسی اور کو بیچ دے یا کسی کو تحفے میں دے دے، ہبہ کر دے یعنی کسی دوسرے کو مالک بنا دے، جب کسی دوسرے کو مالک بنایا تو اس کی ملکیت سے وہ باندی نکل گئی اس پر حرام ہو گئی، یا اس باندی کا کسی سے نکاح کروا دے، یاد رکھو جب باندی کا کسی سے نکاح کروا دیا جاتا ہے تو اب وہ صرف خاوند کے لیے حلال ہے اب آقا کے لیے اس باندی سے صحبت جائز نہیں۔ یا اسی طرح اگر ایک باندی کئی افراد کے درمیان مشترک ہو تو اس صورت میں بھی کسی کے لیے بھی اس سے صحبت جائز نہیں ہوتی، مثلاً زید اور عمر دونوں نے مل کر ایک باندی خریدی ہے خدمت کے لیے کہ چند دن وہ زید کے گھر خدمت کا کام کیا کرے اور چند دن عمر کے گھر خدمت کا کام کیا کرے، تو یہ جو باندی دو افراد کی مشترکہ ہے زید اور عمر کی، زید اور عمر دونوں کے لیے یہ حرام ہے، دونوں میں سے کسی ایک کے لیے بھی اس سے صحبت جائز نہیں، تو باندی سے کب صحبت جائز ہو گی جب پوری باندی ایک ہی شخص کی ملکیت میں ہو بھئی۔ تو مسئلہ میں ذکر کر رہا تھا ایک شخص کی ملکیت میں دو بہنیں ہیں اور باندیاں ہیں ان میں سے ایک کے ساتھ یہ صحبت کرتا ہے اب یہ دوسری کے ساتھ بھی صحبت کرنا چاہتا ہے تو یہ جائز نہیں ہے الا یہ کہ پہلی والی باندی کو اپنے اوپر حرام کر لے کہ یہ باندی کسی کو بیچ دے یا اس کا کسی اور سے نکاح کروا دے یا اس باندی کا کچھ حصہ دوسرے کو بیچ دے، تو جب کچھ حصہ بھی بیچے گا تو باندی مشترکہ ہو جائے گی اور مشترکہ باندی کے ساتھ کسی بھی مالک کے لیے صحبت جائز نہیں، تو جب یہ آقا اپنی پہلی باندی کو اپنے اوپر حرام کر لے گا تو اب اس باندی کی جو بہن ہے وہ اس آقا کے لیے حلال ہو جائے گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ اسی طرح دوسری صورت بنائیں بھئی: ایک شخص ہے اس کی ملکیت میں دو بہنیں ہیں اور اس کو مسئلے کا پتہ نہیں وہ دونوں سے صحبت کر لیتا ہے، یاد رکھو دونوں بہنیں اب اس پر حرام ہو گئیں۔ اس نے دونوں سے صحبت کر لی تو وطی کے اعتبار سے دو بہنوں کو جمع کر لیا اور آپ نے ضابطہ پڑھا ہے کہ جیسے دو بہنوں کو نکاح کے اعتبار سے کوئی شخص جمع نہیں کر سکتا اسی طرح دو بہنوں کو وطی کے اعتبار سے بھی کوئی شخص جمع نہیں کر سکتا، تو اس شخص کو مسئلے کا پتہ نہیں تھا اس نے دونوں سے صحبت کر لی، بعد میں اس کو مسئلے کا پتہ چلا کہ بھئی یہ تو اب دونوں آپ پر حرام ہو چکی ہیں، تو اب یاد رکھو اب اس کے لیے دونوں میں سے کسی ایک سے بھی صحبت جائز نہیں الا یہ کہ ان میں سے ایک کو اپنے اوپر حرام کر لے۔ جب ایک کو اپنے اوپر حرام کر لے گا مثلاً وہ ایک باندی کو پورا بیچ دیا یا اس کا کچھ حصہ بیچ دیا یا اس باندی کا کسی سے نکاح کروا دیا تو اب پھر دوسری والی اس کے لیے حلال ہو جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اب آئیے مسئلے پر جو متن کے اندر صاحب ہدایہ ذکر فرمائیں گے۔ مسئلہ یہ: ایک شخص ہے ایک عورت اس کی باندی ہے اور یہ اس کے ساتھ صحبت کرتا ہے، اب یہ جو مالک ہے اس کا ارادہ بنا اپنی اس باندی کی بہن سے نکاح کر لے، تو اب ایک بہن اس کی مملوکہ ہے اور دوسری بہن سے آقا نکاح کرنا چاہتا ہے تو شرعاً یہ جائز ہے یہ اس سے نکاح کر سکتا ہے۔ کیا کر سکتا ہے؟ نکاح۔ تو یہ مثلاً اس دوسری بہن سے نکاح کر لیتا ہے تو یہ جس سے اس نے نکاح کر لیا یہ بھی موطوءہ ہو گئی حکماً، یہ کیا ہوئی؟ منکوحہ کیا ہوتی ہے؟ حکماً موطوءہ۔ تو یہ جس بہن سے اس نے نکاح کیا یہ موطوءہ ہوئی حکماً، اور وہ جو اس کی مملوکہ باندی ہے وہ ہے موطوءہ حقیقتاً، اسے حقیقتاً یہ وطی کرتا ہے۔ تو ایک بہن کیا ہوئی موطوءہ حکماً، دوسری کیا ہوئی موطوءہ حقیقتاً، تو یہ شخص جامع بین الاختین ہو گیا وطی کے اعتبار سے، اس نے دو بہنوں کو جمع کر دیا وطی کے اعتبار سے، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ اگرچہ ایک موطوءہ ہے حقیقتاً اور ایک موطوءہ ہے حکماً، لیکن ہیں تو دونوں موطوءہ، اور شریعت نے تو دو بہنوں کو وطی کے اعتبار سے جمع کرنے سے منع فرمایا ہے، اور میں نے وہ صورت ذکر کی تھی اگر ایک شخص کی ملکیت میں دو بہنیں ہیں اور دونوں سے اس نے لا علمی میں صحبت کر لی تو دونوں اس پر حرام ہو جائیں گی، یہاں پر بھی یہ شخص جو ہے کیا بن گیا؟ جامع بین الاختین ہو گیا وطی کے اعتبار سے، اگرچہ ایک حقیقتاً موطوءہ ہے اور ایک حکماً، لیکن ہیں تو دونوں موطوءہ، اور جب دونوں بہنیں موطوءہ ہوں تو دونوں حرام ہو جاتی ہیں ایک کے ساتھ بھی صحبت جائز نہیں ہوتی الا یہ کہ دونوں میں سے ایک کو اپنے اوپر حرام کر لے، تو یہ شخص بھی کیا کرے گا؟ یا تو جس سے نکاح کیا ہے اسی کو چھوڑ دے، جب طلاق دے گا تو یہ منکوحہ حرام ہو گئی، اب وہ باندی کے ساتھ صحبت اس کے لیے پھر جائز ہو گئی۔ یا اس باندی کو اپنے اوپر حرام کر لے یعنی یہ پوری باندی کسی کو بیچ دے یا اس کا جز کسی کو بیچ دے یا اس باندی کا کسی سے نکاح کروا دے، تو جب یہ باندی اس پر حرام ہو جائے گی تو اب اس کی جو منکوحہ ہے وہ اس کے لیے حلال ہو جائے گی۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا۔ اب دیکھیے کتاب پر، کہتے ہیں: فَإِنْ تَزَوَّجَ أُخْتَ أَمَةٍ لَهُ قَدْ وَطِئَهَا صَحَّ النِّكَاحُ، فَإِنْ تَزَوَّجَ أُخْتَ أَمَةٍ لَهُ، أَمَةٌ یہ نکرہ ہے اور لَهُ اس کے بعد جار مجرور آیا اور یاد رکھیں نکرہ کے بعد جار مجرور آ جائے اور وہ کسی سے نہ جڑ رہا ہو تو وہ اسی نکرہ کی صفت بنے گا، تو یہاں پر بھی یہ لَهُ أَمَةٌ کی صفت بنے گا، أَيْ أَمَةٍ ثَابِتَةٍ لَهُ، فَإِنْ تَزَوَّجَ أُخْتَ أَمَةٍ ثَابِتَةٍ لَهُ، أَمَةٌ ایسی باندی ثَابِتَةٍ لَهُ جو اس کے لیے ثابت ہے یعنی جو اس کی ہے، یا یوں کہیں ثَابِتَةٍ کے بجائے مَمْلُوكَةٍ نکال لیں جو اپنے متعلق نکالنا ہے، أَمَةٍ مَمْلُوكَةٍ لَهُ ایسی باندی جو اس آدمی کی مملوک ہے یعنی اس کی اپنی باندی، اس کی اپنی باندی، تو أَمَةٍ لَهُ کا ہم کیا ترجمہ کریں گے؟ اپنی باندی۔ فَإِنْ تَزَوَّجَ أُخْتَ أَمَةٍ لَهُ اور اگر کسی شخص نے نکاح کر لیا أُخْتَ أَمَةٍ لَهُ اپنی باندی کی بہن سے، کس سے نکاح کیا؟ اپنی باندی کی بہن سے نکاح کر لیا، قَدْ وَطِئَهَا اس حال میں کہ اس باندی کے ساتھ یہ صحبت کر چکا ہے یہ باندی اس کی حقیقتاً موطوءہ ہے بھئی، صَحَّ النِّكَاحُ تو یہ نکاح صحیح ہے، یہ نکاح ہو جائے گا۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ باندی سے وہ صحبت کر چکا ہے اب اس کی بہن سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو کہتے ہیں جائز ہے نکاح کر سکتا ہے، لیکن پھر وطی نہیں کر سکے گا کسی ایک سے بھی، نکاح تو جائز ہو گا لیکن وطی اب کسی سے بھی جائز نہیں ہو گی الا یہ کہ دونوں میں سے ایک کو اپنے اوپر حرام کر لے۔ تو کہتے ہیں: فَإِنْ تَزَوَّجَ أُخْتَ أَمَةٍ لَهُ قَدْ وَطِئَهَا صَحَّ النِّكَاحُ، اور اگر کسی شخص نے نکاح کر لیا اپنی باندی کی بہن سے اس حال میں کہ اس باندی کے ساتھ یہ شخص صحبت کر چکا ہے تو یہ نکاح صحیح ہو گا یہ نکاح جائز ہو جائے گا، بھئی کیوں؟ نکاح کیوں جائز ہو گا؟ ایک بہن اس کی باندی ہے تو دوسری بہن سے تو نکاح جائز ہی نہیں ہونا چاہیے، کہتے ہیں نہیں نہیں نکاح جائز ہے نکاح میں کوئی مانع نہیں۔ کیوں نہیں مانع؟ دیکھیے بھئی، کہتے ہیں صَحَّ النِّكَاحُ نکاح صحیح ہو جائے گا لِصُدُورِهِ مِنْ أَهْلِهِ مُضَافًا إِلَى مَحَلِّهِ، لِصُدُورِهِ مِنْ أَهْلِهِ اس لیے کیونکہ یہ نکاح صادر ہوا ہے یہ پیش آیا ہے مِنْ أَهْلِهِ اہلِ نکاح سے، وہ شخص جو نکاح کا اہل ہے بھئی یہ جو آقا ہے جو نکاح کرنا چاہتا ہے یہ عاقل ہے، بالغ ہے، آزاد ہے، یہ اپنا نکاح کرنا چاہے تو؟ بھئی جو بھی عاقل بالغ اور آزاد ہو وہ اپنا نکاح اپنی مرضی سے کر سکتا ہے، تو یہ شخص کیا ہے؟ اہلِ نکاح ہوا، یہ نکاح کر سکتا ہے۔ اور کس سے نکاح کرنا چاہتا ہے؟ اپنی باندی کی بہن سے نکاح کرنا چاہتا ہے، تو وہ بہن اس کے لیے اجنبیہ ہے بھئی، وہ بہن اس آدمی کے لیے اجنبیہ ہے وہاں کوئی مانع موجود نہیں ہے، آپ کہیں گے بھئی اس کی بہن اس کی مملوکہ ہے، بھئی دو بہنوں کو نکاح کے اندر جمع کرنے سے شریعت نے منع کیا ہے اسی طرح دو بہنوں کو وطی کے اعتبار سے جمع کرنے سے شریعت نے منع کیا ہے، تو اگر اس کی بہن سے اب نکاح کرے گا تو نکاح میں تو دونوں نہیں، ایک تو باندی ہے اور دوسری کیا ہو جائے گی؟ منکوحہ، تو نکاح کے اعتبار سے دونوں جمع نہیں، اور نیز وطی کے اعتبار سے بھی دونوں جمع نہیں ہوں گی اس لیے کیونکہ ایک سے وطی کی ہے دوسری سے تو ابھی وطی نہیں کی، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو کہتے ہیں: لِصُدُورِهِ مِنْ أَهْلِهِ اس لیے کیونکہ یہ نکاح جو ہے صادر ہوا ہے پیش آیا ہے اس شخص سے جو اہلِ نکاح ہے یعنی عاقل بالغ آزاد ہے، مُضَافًا إِلَى مَحَلِّهِ اس حال میں کہ اس نکاح کی نسبت ہو رہی ہے اپنے محل کی طرف، یعنی وہ نکاح کا محل بھی ہے، وہ باندی کی بہن نکاح کا محل بھی ہے اس سے نکاح ہو سکتا ہے، وہ ایک اجنبیہ عورت ہے نہ وہاں قرابت رشتہ داری والا کوئی تعلق ہے اور نہ کوئی رضاعت والا تعلق وغیرہ ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو اس کے ساتھ نکاح جائز ہے، وَإِذَا جَازَ اور جب اس عورت کے ساتھ نکاح جائز ہو گیا لَا يَطَأُ الْأَمَةَ اب یہ آقا جو ہے اپنی باندی سے صحبت نہیں کر سکتا، وَإِنْ كَانَ لَمْ يَطَإِ الْمَنْكُوحَةَ اگرچہ اس نے اس منکوحہ سے صحبت نہیں کی، اگرچہ ابھی اس نے منکوحہ سے صحبت نہیں کی لیکن نکاح کرتے ہی باندی کیا ہو گئی؟ حرام ہو گئی اس کے اوپر، کیوں؟ کیونکہ باندی موطوءہ ہے حقیقتاً اور منکوحہ کیا بن گئی؟ موطوءہ ہے حکماً، تو دونوں موطوءہ ہو گئیں، اور جب دونوں موطوءہ ہیں تو اب دونوں میں سے ایک کو اپنے اوپر کیا کرنا پڑے گا؟ حرام کرنا پڑے گا۔ تو کہتے ہیں: وَإِنْ كَانَ لَمْ يَطَإِ الْمَنْكُوحَةَ اگرچہ اس نے منکوحہ سے صحبت نہیں کی ابھی تک لِأَنَّ الْمَنْكُوحَةَ مَوْطُوءَةٌ حُكْمًا اس لیے کیونکہ جو منکوحہ ہوتی ہے حکماً وہ موطوءہ ہوتی ہے، وَلَا يَطَأُ الْمَنْكُوحَةَ لِلْجَمْعِ اور یہ شخص منکوحہ جو ہے اس کے ساتھ صحبت نہیں کر سکتا لِلْجَمْعِ جمع کی وجہ سے، ورنہ کیا خرابی لازم آئے گی؟ جمع بین الاختین لازم آئے گا وطی کے اعتبار سے، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو کہتے ہیں: وَلَا يَطَأُ الْمَنْكُوحَةَ لِلْجَمْعِ اور منکوحہ سے بھی یہ صحبت نہیں کر سکتا ورنہ تو حقیقتاً جمع کرنا لازم آئے گا وطی کے اعتبار سے، إِلَّا إِذَا حَرَّمَ الْمَوْطُوءَةَ عَلَى نَفْسِهِ مگر اس وقت جب یہ شخص حرام کر دے اس موطوءہ باندی کو عَلَى نَفْسِهِ اپنے اوپر بِسَبَبٍ مِنَ الْأَسْبَابِ اسباب میں سے کسی سبب کے ذریعے، مختلف طریقوں میں سے کسی طریقے کے ذریعے کیا کر لے؟ اس باندی کو اپنے اوپر حرام کر لے یعنی اس کا نکاح کروا دے یا کسی کو بیچ دے تو یہ باندی حرام ہو جائے گی اور پھر اس کے لیے اس منکوحہ سے صحبت حلال ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں: فَحِينَئِذٍ يَطَأُ الْمَنْكُوحَةَ تو اس وقت یہ منکوحہ سے صحبت کر سکتا ہے لِعَدَمِ الْجَمْعِ وَطْئًا اس لیے کیونکہ پھر دونوں کو وطی کے اعتبار سے جمع کرنا نہیں ہو گا کیونکہ ایک تو حرام ہو گئی اس پر، وَيَطَأُ الْمَنْكُوحَةَ إِنْ لَمْ يَكُنْ وَطِئَ الْمَمْلُوكَةَ، بھئی دوسری صورت، دوسری صورت بھئی: ایک شخص ہے اس کی ملکیت میں ایک باندی ہے اور اس باندی سے اس نے صحبت نہیں کی یہ صرف کام کاج کے لیے اس نے رکھی ہوئی ہے، اب اس باندی کی بہن سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو کہتے ہیں نکاح کر سکتا ہے اور نکاح کے بعد وطی بھی اب اس سے کر سکتا ہے کیونکہ اب صرف منکوحہ کے ساتھ وطی کر رہا ہے باندی تو اس کی موطوءہ ہے ہی نہیں، تو یہاں جمع بین الاختین وطئاً لازم نہیں آئے گا، وطی کے اعتبار سے دو بہنوں کو جمع کرنا لازم نہیں آتا۔ تو کہتے ہیں: وَيَطَأُ الْمَنْكُوحَةَ اور منکوحہ سے وہ شخص صحبت کر سکتا ہے إِنْ لَمْ يَكُنْ وَطِئَ الْمَمْلُوكَةَ اگر اس نے اپنی مملوکہ باندی سے صحبت نہیں کی، وہ اس کی موطوءہ نہیں ہے تو پھر منکوحہ سے وطی کر سکتا ہے، مسئلہ بھی سمجھ میں آ رہا ہے کہ نہیں؟ کہتے ہیں: لِعَدَمِ الْجَمْعِ وَطْئًا اس لیے کیونکہ اس صورت میں وطی کے اعتبار سے جمع کرنا لازم نہیں آتا کیونکہ یہ باندی کے ساتھ تو یہ وطی کرتا ہی نہیں ہے، تو یہ وطی کے اعتبار سے جمع کرنا لازم نہیں آئے گا تو منکوحہ سے وطی کر سکتا ہے۔ إِذِ الْمَرْقُوقَةُ لَيْسَتْ مَوْطُوءَةً حُكْمًا اس لیے کیونکہ مرقوقہ جو باندی ہوتی ہے، مرقوقہ مرقوقہ یعنی باندی، مملوکہ، مملوکہ، رِقٌّ غلامی کو کہتے ہیں، کس کو؟ رِقٌّ غلامی کو کہتے ہیں، غلام کو کہتے ہیں رَقِيقٌ غلام، اور باندی کو کہتے ہیں رَقِيقَةٌ، رقیقہ۔ اسی طرح مرقوقہ یعنی وہی مملوکہ بھئی، باندی بھئی۔ إِذِ الْمَرْقُوقَةُ لَيْسَتْ مَوْطُوءَةً حُكْمًا اس لیے کیونکہ باندی جو ہوتی ہے وہ حکماً موطوءہ نہیں ہوتی، بیوی تو حکماً موطوءہ ہوتی ہے لیکن باندی حکماً موطوءہ نہیں ہوتی، باندی سے وطی کرے گا تو وہ موطوءہ بنے گی اس سے پہلے وہ حکماً موطوءہ نہیں، نہیں توجہ۔ ایک شخص ہے اس کی ملکیت میں پہلے سے باندی موجود ہے اس سے یہ صحبت نہیں کرتا تو یہ حقیقتاً موطوءہ ہے باندی؟ حقیقتاً موطوءہ نہیں کیونکہ اس سے یہ وطی کرتا ہی نہیں، صحبت کرتا ہی نہیں، اور حکماً بھی موطوءہ نہیں ہے کیونکہ باندی حکماً موطوءہ نہیں ہوتی وہ منکوحہ ہوتی ہے، تو باندی نہ حقیقتاً موطوءہ ہوئی اور نہ حکماً موطوءہ ہوئی اور اب اس باندی کی بہن سے یہ نکاح کرتا ہے تو اس کے لیے صحبت جائز ہے کیونکہ دو بہنیں وطی کے اعتبار سے جمع نہیں ہو رہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔