آگے سبق دیکھیے بھئی۔ بَابُ الِاسْتِيلَادِ ”إِذَا وَلَدَتِ الْأَمَةُ مِنْ مَوْلَاهَا فَقَدْ صَارَتْ أُمَّ وَلَدٍ لَهُ لَا يَجُوزُ بَيْعُهَا وَلَا تَمْلِيكُهَا لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: أَعْتَقَهَا وَلَدُهَا، أَخْبَرَ عَنْ إِعْتَاقِهَا فَيَثْبُتُ بَعْضُ مُوجَبِهِ وَهُوَ حُرْمَةُ الْبَيْعِ“ بھئی گزشتہ سبق میں آپ نے مسئلہ پڑھا تھا کہ اگر آقا یوں کہے کہ: ”كُلُّ مَمْلُوكٍ أَمْلِكُهُ فَهُوَ حُرٌّ بَعْدَ غَدٍ“، تو اس صورت میں یہ ”أَمْلِكُهُ“ فعلِ مضارع ہے اور فعلِ مضارع جو ہے وہ حال کے لیے حقیقت ہے، لہٰذا جب یہ بغیر قرینے کے مطلقاً استعمال ہو تو پھر یہ حال کے لیے ہوگا بھئی۔ تو لہٰذا اس صورت میں جب آقا نے کہا: ”كُلُّ مَمْلُوكٍ أَمْلِكُهُ“ کہ میرا جو بھی مملوک ہے، یعنی فی الحال میرا جو مملوک ہے، ”فَهُوَ حُرٌّ بَعْدَ غَدٍ“ وہ کل کے بعد یعنی پرسوں آزاد ہے۔ تو فی الحال جو مملوک ہیں وہ پرسوں آزاد ہو جائیں گے۔ لیکن اس تعلیق کے بعد پرسوں سے پہلے اگر آقا نے کوئی اور غلام خریدا تو وہ اس قسم کے تحت داخل نہیں، وہ غلام آزاد نہیں ہوں گے۔ اسی طرح ہے حکم اگر ”أَمْلِكُهُ“ کے بجائے آقا ”لِي“ کہہ دیتا ہے، یعنی جار مجرور، کہ: ”كُلُّ مَمْلُوكٍ لِي“ کہ میرا جو بھی مملوک ہے۔ اور صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ ”كُلُّ مَمْلُوكٍ لِي“ یہ بھی حال کے لیے ہے بھئی۔ اور اگر آقا نے کہا: ”كُلُّ مَمْلُوكٍ أَمْلِكُهُ فَهُوَ حُرٌّ بَعْدَ مَوْتِي“ کہ وہ میری موت کے بعد آزاد ہے، تو پھر اس صورت میں یاد رکھو یہ بعض اعتبار سے دیکھیں تو ایجابِ عتق ہے، اور بعض اعتبار سے دیکھیں تو یہ وصیت ہے، کیونکہ موت کے بعد کی طرف نسبت کی گئی ہے۔ تو لہٰذا یہاں پر دونوں مشابہتوں پر عمل کیا جائے گا۔ تو لہٰذا فی الحال جو مملوک ہوں گے وہ مدبر بن جائیں گے۔ بعد میں جو خریدے گا وہ مدبر تو نہیں بنیں گے لیکن وہ موت کے وقت وہ بھی ثلث میں سے آزاد ہو جائیں گے۔ تو یہاں پر ایجابِ عتق کا بھی اعتبار کیا گیا یعنی فی الحال اثباتِ عتق ہے تو فی الحال جو مملوک ہیں وہ اس میں شامل ہوئے اور مدبر بن گئے۔ اور نیز اس کے اندر آنے والی حالت کا بھی اعتبار کیا گیا کیونکہ یہ وصیت بھی ہے اور وصیت تو موت کے بعد نافذ ہوتی ہے، تو موت کے وقت جتنے بھی مملوک ہوں گے چاہے یمین کے بعد ہی کیوں نہ خریدے ہوں وہ سب بھی وصیت میں شامل ہیں، تو وہ ثلث میں سے آزاد ہو جائیں گے بھئی۔ اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ اگر کوئی اپنے غلام کو مال کے عوض پر آزاد کرتا ہے تو غلام کے قبول کرتے ہی وہ آزاد ہو جائے گا۔ اس لیے کیونکہ یہ عقدِ معاوضہ ہو رہا ہے۔ غلام کو آزادی مل رہی ہے تو دوسری طرف غلام کو مال دینا پڑ رہا ہے۔ تو لہٰذا یہ عقدِ معاوضہ ہے اور عقدِ معاوضہ میں قبول کرتے ہی اس کا حکم ثابت ہو جاتا ہے۔ جیسے بیع ہے، بیع کے اندر ایجاب و قبول ہوتے ہی بیع ثابت ہو جاتی ہے اور مشتری مبیع کا مالک بن جاتا ہے۔ اور صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ یہاں پر یہ جو اعتاق علی مال ہے، یہ نکاح کے اور طلاق کے اور صلح عن دم العمد کے مشابہ ہے۔ لہٰذا یہاں پر اگر مال کے اندر معمولی جہالت بھی آ جائے تو پھر بھی یہ عقد صحیح ہے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں بیع جو ہے اس کی بنیاد تنگی پر ہے، بیع کے معاملے میں لوگ تنگی کرتے ہیں، بائع کی کوشش ہوتی ہے کہ اسے زیادہ سے زیادہ قیمت مل جائے چیز کی، اور مشتری کی کوشش ہوتی ہے کہ اسے کم قیمت کے اندر چیز مل جائے۔ تو بیع کی بنیاد تنگی پر ہے لہٰذا بیع کے اندر تھوڑی سی بھی جہالت آئے گی تو بیع ہی فاسد ہو جائے گی کیونکہ یہ جھگڑے تک پہنچا دے گی۔ اور جبکہ اس کے مقابلے میں نکاح، طلاق اور یہ اعتاق علی مال جو ہیں ان کی بنیاد نرمی پر ہے، ان میں نرمی کی جاتی ہے، کیونکہ یہاں پر ایک طرف تو مال ہے لیکن دوسری طرف مال نہیں ہے بھئی۔ تو لہٰذا یہاں پر اگر مال کے اندر تھوڑی بہت جہالت بھی آ جائے تو کوئی حرج نہیں، یہ عقد پھر بھی صحیح ہے بھئی۔ اور اگر آقا نے غلام کی آزادی کو مال کی ادائیگی کے ساتھ معلق کیا کہ اگر تم نے مجھے ایک ہزار درہم ادا کر دیے تو پھر تم آزاد ہو، تو اس صورت میں غلام جب مال ادا کرے گا تب آزاد ہوگا کیونکہ غلام کی آزادی کی شرط کیا ذکر کی ہے آقا نے کہ اگر غلام اس کو مال ادا کر دے۔ تو لہٰذا مال کی ادائیگی ضروری ہے۔ اور نیز اگر غلام مال حاضر کر دے تو آقا کو مجبور کیا جائے گا مال کے لینے پر۔ مجبور کرنے کا معنی یہ ہے کہ مال کے درمیان اور آقا کے درمیان تخلیہ کر دیا جائے گا کہ وہ چیز آقا کے سامنے لا کر رکھ دی گئی کہ وہ اس کو لینا چاہے تو لے سکے، یعنی ہر قسم کے مانع کو دور کر دیا جائے۔ تو اس صورت میں جب آقا کے سامنے مال کو لا کر رکھ دیا گیا تو آقا کو قابض ہی شمار کیا جائے گا کہ گویا اس نے مال پر قبضہ کر لیا ہے۔ تو ادائیگی ہو گئی، جب ادائیگی ہو گئی تو غلام بھی آزاد ہو جائے گا۔ جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ تو تعلیق ہے، آقا نے کیا کہا ہے کہ اگر تو نے مجھے ہزار درہم ادا کر دیے تو تو آزاد ہے، تو یہ تعلیق ہے اور تعلیق جو ہے اس کو فسخ بھی نہیں کیا جا سکتا اور نیز تعلیق جو ہے وہ غلام کے قبول پر بھی اس کا دارومدار نہیں ہوتا اور یہاں بھی ایسا ہی ہے، نہ غلام کے قبول کی ضرورت ہے اور نہ اس کو اب آقا فسخ کر سکتا ہے، تو یہ تعلیق ہے۔ اور تعلیق کا ضابطہ یہ ہے کہ تعلیق کے اندر کسی کو شرط کے وجود پر مجبور نہیں کیا جا سکتا کہ وہ شرط کو وجود دے۔ تو یہاں پر بھی یہ ادائیگی جو ہے یہ تو شرط ہے لہٰذا آقا کو مال کے لینے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ جبکہ صاحبین اور امام صاحب اس مسئلے میں فرماتے ہیں کہ یہ جو آقا نے ذکر کیا کہ اگر تو نے مجھے ہزار درہم ادا کیے تو تو آزاد ہے، یہ لفظوں کے اعتبار سے دیکھیں تو یہ تعلیق ہے، اور یہ مقصد کے اعتبار سے دیکھیں تو یہ معاوضہ ہے، معلوم ہوا آقا غلام کو ویسے ہی نہیں آزاد کرنا چاہتا بلکہ عوض لینا چاہتا ہے۔ تو لہٰذا ہم نے دونوں کی رعایت کی، تو ابتدا کے اعتبار سے جب یہ تعلیق ہے تو آقا کے لیے غلام کا بیچنا جائز ہے، غلام مکاتب نہیں بنا، لیکن جب غلام ادائیگی کر رہا ہے تو یہ بدلِ کتابت کے درجے میں ہے، اور بدلِ کتابت کے لینے پر تو آقا کو مجبور کیا جاتا ہے لہٰذا یہاں پر بھی یہ غلام جو مال ادا کر رہا ہے اس کے لینے پر آقا کو مجبور کیا جائے گا۔ اور صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ اسی پر فقہ کا مدار ہے۔ اسی پر فقہ کا مدار ہے یعنی اسی پر فقہی مسائل کا مدار ہے، اسی پر فقہی مسائل کی تخریج کی جائے گی، یعنی وہ چیزیں کہ ابتدا کے اعتبار سے وہ اور چیز ہے اور انتہا کے اعتبار سے اور چیز ہے تو وہاں دونوں کی رعایت رکھی جائے گی، ابتدا کا بھی لحاظ رکھا جائے گا اور انتہا کا بھی، یعنی دونوں مشابہتوں پر عمل کیا جائے گا۔ تو یہاں پر بھی ابتدا کے اعتبار سے یہ تعلیق ہے تو اس پر بھی عمل کیا جائے گا اور انتہا کے اعتبار سے یہ معاوضہ ہے یعنی بدلِ کتابت کے درجے میں ہے تو اس پر بھی عمل کیا جائے گا۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ یہاں پر اگر آقا نے ”إِنْ“ ذکر کیا ہے: ”إِنْ أَدَّيْتَ إِلَيَّ أَلْفَ دِرْهَمٍ فَأَنْتَ حُرٌّ“، تو اگر آقا نے ”إِنْ“ ذکر کیا ہے تو آقا اختیار دے رہا ہے اور اختیار جو ہے وہ مجلس تک رہتا ہے لہٰذا اسی مجلس میں غلام کا مال ادا کرنا ضروری ہے۔ اگر اس مجلس میں وہ مال ادا نہیں کرے گا تو یہ غلام کا اختیار ختم ہو جائے گا، وہ بعد میں ادائیگی کرنے سے بھی آزاد نہیں ہوگا۔ لیکن اگر آقا نے ”إِذَا“ کا لفظ استعمال کیا تو ”إِذَا“ کا لفظ تو وقت کے لیے استعمال ہوتا ہے ”مَتَى“ کے درجے میں، تو جب بھی غلام ادا کرے گا وہ آزاد ہو جائے گا بھئی۔ اور اگر آقا نے غلام سے کہا کہ تو میری موت کے بعد ایک ہزار درہم کی شرط پر آزاد ہے، تو یہاں پر آزادی موت کے بعد آئے گی لہٰذا قبول بھی موت کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے، اس سے پہلے قبول یا رد نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ فقہاء فرماتے ہیں کہ موت کے بعد بھی وہ قبول کرے گا تو آزاد نہیں ہوگا، اس لیے کیونکہ معتق مر چکا ہے اور یہ غلام اب وارثوں کی طرف منتقل ہو چکا ہے، تو لہٰذا وارثوں کا اسے اب آزاد کرنا ضروری ہے، ویسے آزاد نہیں ہوگا بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ اگر کسی نے اپنے غلام کو آزاد کیا چار سال کی خدمت کی شرط پر اور غلام نے قبول کر لیا، تو قبول کرتے ہی غلام آزاد ہو جائے گا۔ اور پھر اس کے بعد اسی وقت غلام کا انتقال ہو گیا تو پھر اس صورت میں امام محمد اور شیخین رحمہما اللہ کا اختلاف ہے۔ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ عقدِ معاوضہ ہے، ایک طرف سے خدمت ہے تو دوسری طرف غیرِ مال ہے یعنی آزادی ہے اور آزادی تو غیرِ مال ہے۔ تو یہ عقدِ معاوضہ ہوا اور عقدِ معاوضہ کا حکم قبول کرتے ہی ثابت ہو جاتا ہے لہٰذا غلام تو آزاد ہو گیا۔ لیکن اگر آقا غلام میں سے کوئی ایک مر گیا یعنی خدمت سے پہلے ہی، تو اب خدمت متعذر ہو گئی تو اب خدمت کی قیمت دی جائے گی۔ اس لیے کیونکہ خدمت بدل ہے آزادی کا، آزادی مبدل ہے، اور مبدل کی تو کوئی قیمت ہی نہیں ہے، تو بدل جب دینا متعذر ہوا تو بدل ہی کی قیمت دینا پڑے گی کیونکہ مبدل کی کوئی قیمت نہیں ہے۔ جبکہ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں پر خدمت جو ہے یہ آزادی کا بدل نہیں ہے بلکہ غلام کی ذات کا بدل ہے، اور غلام کی ذات بھی مال ہے، تو یہاں دونوں طرف سے مال ہے، خدمت بھی مال اور غلام کی ذات بھی مال ہے، تو یہ عقدِ معاوضہ ہے مال کے بدلے مال۔ تو یہاں پر جب بدل یعنی خدمت متعذر ہو گئی تو پھر مبدل واپس کیا جائے گا، لیکن یہاں مبدل تو یعنی غلام کی ذات کو تو سپرد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ تو آزاد ہو چکا ہے قبول کرتے ہی بھئی، اور لہٰذا اب اس کو واپس دوبارہ غلام نہیں بنایا جا سکتا، تو جب مبدل کو سپرد کرنا متعذر ہو گیا تو پھر اب اس کی قیمت دینا پڑے گی، اور غلام مال ہے اور اس کی قیمت ہے تو وہ قیمت اب دی جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بیان کیا کہ اس اختلافی مسئلے کی بنیاد ایک اور اختلافی مسئلے پر ہے اور وہ اختلافی مسئلہ یہ ہے کہ اگر آقا نے غلام کی ذات کو اسی غلام کے ہاتھ فروخت کر دیا ایک معین باندی کے بدلے میں کہ یہ باندی مجھے لا کر دو گے، تو قبول کرتے ہی غلام آزاد ہو گیا اور اب اس غلام نے باندی آقا کے حوالے کرنی ہے، غلام وہ باندی لے آیا لیکن پھر اس باندی کا کوئی اور مستحق نکل آیا یا وہ باندی ادائیگی سے پہلے ہی غلام کے پاس ہلاک ہو گئی، تو یہاں پر اب یہ بدل دینا متعذر ہو گیا کیونکہ باندی ہلاک ہو چکی ہے۔ تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ باندی بدل ہے اور آزادی مبدل ہے، تو باندی تو مال ہے لیکن آزادی تو مال نہیں ہے، لہٰذا جب بدل دینا ممکن نہ رہا تو مبدل کی تو قیمت ہی نہیں ہے اس کی قیمت تو نہیں آ سکتی کیونکہ وہ آزادی ہے، تو اسی بدل ہی کی قیمت اب دینا پڑے گی۔ جبکہ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ قبول کرتے ہی غلام آزاد ہو گیا ہے تو یہ جو باندی بدلے کے طور پر دے گا یہ غلام کی ذات کا عوض ہے، تو باندی ہے بدل اور غلام کی ذات ہے مبدل، اور بدل دینا متعذر ہو گیا کیونکہ باندی کا استحقاق نکل آیا یا باندی ہلاک ہو گئی، تو لہٰذا جب بدل کا دینا ممکن نہ رہا تو مبدل کو واپس کیا جائے گا، اور مبدل کا واپس کرنا تو ممکن نہیں ہے کیونکہ غلام آزاد ہو چکا ہے اور دوبارہ اب اس کو غلام نہیں بنایا جا سکتا، تو جب مبدل کی واپسی ممکن نہ رہی تو پھر مبدل کی قیمت دینا پڑے گی۔ تو یہ باندی والا مسئلہ بھی اس خدمت والے مسئلے کی طرح ہے، جیسے یہاں پر باندی کا دینا متعذر ہوا ہے وہاں پر خدمت کا دینا متعذر ہو گیا تھا کیونکہ آقا یا غلام کا انتقال ہو گیا تھا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ اگر ایک شخص نے دوسرے سے کہا کہ اپنی باندی ایک ہزار درہم کے عوض پر آزاد کر دو اس شرط پر کہ تم میرے ساتھ اس کا نکاح کرواؤ گے، تو چنانچہ آقا نے اس باندی کو آزاد کر دیا اور پھر باندی سے کہا کہ اس آدمی سے نکاح کرو، تو وہ باندی چونکہ آزاد ہو چکی ہے تو اس نے انکار کر دیا کہ میں اس شخص سے نکاح نہیں کروں گی۔ تو اس صورت میں فقہاء فرماتے ہیں کہ آمر پر اس باندی کی قیمت واجب نہیں۔ آمر پر اس باندی کی قیمت واجب نہیں، وجہ یہ کہ ایک ہے بدلِ اعتاق اور ایک ہے بدلِ طلاق، بدلِ اعتاق جو ہے وہ اجنبی پر واجب نہیں کیا جا سکتا جبکہ بدلِ طلاق جو ہے وہ اجنبی پر واجب کیا جا سکتا ہے۔ وجہ یہ کہ بدلِ طلاق کے اندر اجنبی بھی اسی طلاق والی عورت کی طرح ہو گیا، جیسے طلاق کی وجہ سے عورت کو کوئی نیا اختیار نہیں ملا، کوئی نئی چیز نہیں ملی، صرف اس پر سے پابندیاں ختم ہوئی ہیں۔ اسی طرح یہ اجنبی بھی اسی عورت کی طرح ہے کہ اس طلاق کی وجہ سے اس اجنبی کو کچھ حاصل نہیں ہوا، تو وہ اجنبی اس عورت کی طرح ہوا اور اس عورت پر تو بدلِ طلاق کو واجب کیا جا سکتا ہے تو وہ اجنبی جب اس عورت کی طرح ہے تو اس پر بھی بدلِ طلاق کو واجب کیا جا سکتا ہے۔ جبکہ بدلِ اعتاق میں ایسا نہیں ہے، بدلِ اعتاق کے اندر غلام کو آزادی کی وجہ سے وہ تصرفات حاصل ہو جاتے ہیں جو اس سے پہلے اس کو حاصل نہیں تھے، جبکہ اس کے مقابلے میں اجنبی کو تو اس اعتاق سے کچھ حاصل نہ ہوا، تو اجنبی غلام جیسا نہیں، کیونکہ غلام کو فائدہ حاصل ہوا ہے اور اجنبی کو کوئی فائدہ حاصل نہیں، تو جب یہ اجنبی غلام جیسا نہیں تو پھر اس کا حکم بھی غلام والا نہیں ہوگا، یعنی غلام پر تو بدلِ اعتاق کو واجب کیا جا سکتا ہے لیکن اجنبی پر بدلِ اعتاق کو واجب نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ غلام کی طرح نہیں ہے بھئی۔ تو لہٰذا یہاں پر اس اجنبی پر بدلِ اعتاق واجب نہیں ہوگا، اس کے ذمے قیمت نہیں ہوگی، اور یہ باندی جو ہے مامور کی طرف سے ہی آزاد ہو جائے گی۔ لیکن اس کے بجائے اگر آمر نے ”عَنِّي“ کا لفظ بڑھا دیا کہ اس باندی کو میری طرف سے آزاد کر دو، تو اس صورت میں آپ نے اصولِ فقہ کے اندر پڑھا ہے کہ یہاں اقتضاءً بیع اور توکیل کو مانا جائے گا، گویا آمر یہ کہہ رہا ہے کہ یہ باندی مجھے بیچ دو اور پھر بیچنے کے بعد میری طرف سے وکیل بن جاؤ اور اس کو میری طرف سے آزاد کر دو۔ تو یہاں اقتضاءً بیع ثابت ہو گئی، جب اقتضاءً بیع ثابت ہو گئی تو اب آمر کو قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ اور نیز اس نے نکاح کو بھی ذکر کیا تھا تو معلوم ہوا کہ آمر نے جو ایک ہزار درہم عوض ذکر کیا تھا وہ دو چیزوں کا عوض تھا، ایک باندی کی قیمت بھی اور ایک باندی کا مہر بھی۔ تو لہٰذا یہاں پر باندی کی قیمت اور اس کے مہرِ مثل دونوں کو دیکھا جائے گا، مثلاً باندی کی قیمت ہے ایک ہزار درہم اور اس جیسی باندی کا مہرِ مثل ہوتا ہے 500 درہم، تو معلوم ہوا جو قیمت ہے وہ مہر کے مقابلے میں دگنی ہے بھئی۔ اگر مہر ایک گنا ہے تو قیمت اس کے مقابلے میں دو گنا ہے، تو گویا کل تین حصے ہو گئے۔ تو اس ہزار کے کل تین حصے کر دیے جائیں گے، اور تین حصوں میں سے ایک حصہ مہر کے مقابلے میں ہے اور دو حصے قیمت کے مقابلے میں ہیں۔ تو یہاں پر اب باندی نے نکاح تو نہیں کیا لہٰذا ہزار میں سے ایک ثلث یعنی مہر والا حصہ تو ساقط ہو جائے گا، وہ ادا نہیں کرنا کیونکہ باندی نے نکاح ہی نہیں کیا۔ البتہ دو ثلث جو ہیں وہ قیمت ہے، وہ ادا کرنے پڑیں گے۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ مسئلہ بھی ذکر فرمایا کہ اگر ان دونوں صورتوں کے اندر باندی نکاح کر لیتی ہے اس آدمی سے تو پھر کہتے ہیں اسی طرح کیا جائے گا یہ جو ہزار درہم ہیں اس کو اس باندی کی قیمت اور اس کے مہر پر تقسیم کیا جائے گا، تو مہر کے مقابلے میں ایک ثلث آ رہا ہے اور قیمت کے مقابلے میں دو ثلث۔ اور یہاں دو صورتیں بنتی ہیں، ایک صورت میں اس نے ”عَنِّي“ نہیں کہا، جب ”عَنِّي“ نہیں کہا تو اس اجنبی پر بدلِ اعتاق واجب نہیں ہوگا، تو لہٰذا صرف باندی کو اس کا مہر مل جائے گا اور باقی دو ثلث جو ہیں وہ ساقط ہو جائیں گے۔ اور اگر اجنبی نے ”عَنِّي“ کا لفظ کہا تھا کہ میری طرف سے آزاد کر دو تو پھر اس صورت میں اس پر باندی کی قیمت بھی واجب اور باندی نے نکاح کر لیا ہے تو باندی کا مہر بھی واجب ہے، تو مہر جو ہے وہ باندی کو دے گا اور قیمت جو ہے یعنی ہزار میں سے دو ثلث وہ باندی کے آقا کو دے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اور اس کے بعد پھر ہم نے باب التدبیر شروع کیا تھا، آپ کو صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ بعض الفاظ جو ہیں وہ تدبیر کے اندر صریح ہیں، لہٰذا آقا جب وہ الفاظ کہے گا تو ان کا اور کوئی معنی نہیں سوائے تدبیر کے، لہٰذا وہ الفاظ کہتے ہی غلام مدبر بن جائے گا۔ مثلاً آقا کہتا ہے: جب میں مر جاؤں تو تو آزاد ہے، یا آقا کہتا ہے کہ تو میرے پیچھے یعنی میرے مرنے کے بعد تو آزاد ہے، یا آقا کہتا ہے کہ: ”أَنْتَ مُدَبَّرٌ“ تو مدبر ہے، یا آقا کہتا ہے: میں نے تجھے مدبر بنا دیا ”قَدْ دَبَّرْتُكَ“، تو ان تمام الفاظ کے اندر وہ مدبر بن جائے گا بھئی۔ اور پھر مدبر کو بیچنا بھی جائز نہیں، اس کی ہبہ بھی جائز نہیں اور اس کو ملکیت سے نکال کر کسی دوسرے کو مالک بنانا بھی جائز نہیں، ہاں صرف اس کو آزاد کیا جا سکتا ہے۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مدبر کی بیع اور ہبہ جائز ہے، اس لیے کیونکہ تدبیر بھی تعلیق ہے، اور جیسے اور جگہ پر تعلیق کرنے سے اس چیز کو بیچنا یا ہبہ کرنا ممتنع نہیں ہوتا تو یہاں تدبیر کے اندر بھی اس غلام یا باندی کو بیچنا یا ہبہ کرنا ممتنع نہیں ہوگا۔ اور نیز یہ مدبر بھی کس کی طرح ہے؟ مدبرِ مقید کی طرح ہے، اور مدبرِ مقید تو اے احناف آپ بھی مانتے ہیں کہ اس کو بیچنا بھی جائز ہے اور ہبہ کرنا بھی جائز ہے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ مدبرِ مقید وہ ہے جسے آقا کہتا ہے کہ مثلاً اگر میں اسی مرض میں مر گیا یا میں اس سفر میں مر گیا تو تو آزاد ہو۔ تو اب اس صورت میں یہ مدبرِ مقید ہے یعنی اس کا آزاد ہونا یقینی نہیں کیونکہ یقینی نہیں کہ آقا اس سفر میں یا اس مرض میں مر جائے، تو لہٰذا یہ مدبرِ مقید ہے اس کو بیچا بھی جا سکتا ہے اور اس کو ہبہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ جبکہ آقا جب اپنی موت کے ساتھ غلام کی آزادی کو معلق کرتا ہے تو آقا کی موت تو یقینی ہے تو اس غلام کی آزادی اب یقینی ہو گئی، تو وہ غلام آزادی کا مستحق ہو گیا لہٰذا اس کو بیچنا اور ہبہ کرنا جائز نہیں۔ تو دلیل چل رہی تھی امام شافعی رحمہ اللہ کی، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تدبیر بھی تعلیق ہے اور تعلیق سے کسی چیز کی بیع اور ہبہ ممتنع نہیں ہوتی تو تدبیر سے بھی غلام کی بیع اور ہبہ ممتنع نہیں ہوگی۔ اور نیز وہ فرماتے ہیں کہ یہ تدبیر جو ہے یہ وصیت ہے اور کسی چیز کی وصیت کر دی جائے تو اس کی بیع اور ہبہ ممتنع نہیں ہوتی لہٰذا اس غلام کی بیع اور ہبہ بھی ممتنع نہیں ہوگی بھئی۔ جبکہ ہم کہتے ہیں ہماری دلیل حضور علیہ السلام کا قول ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”الْمُدَبَّرُ لَا يُبَاعُ وَلَا يُوهَبُ وَلَا يُورَثُ وَهُوَ حُرٌّ مِنَ الثُّلُثِ“ کہ مدبر کو نہ بیچا جا سکتا ہے، نہ ہبہ کیا جا سکتا ہے، اور نہ اس میں وراثت جاری ہوتی ہے اور وہ ثلث میں سے آزاد ہوتا ہے۔ اور نیز عقلی دلیل یہ ہے کہ یہ جو مدبر ہے اس نے آزاد ہونا ہے اور اس کی آزادی کا سبب وہ جو آقا نے کہا تھا: ”أَنْتَ حُرٌّ بَعْدَ مَوْتِي“، تو یہ ”أَنْتَ حُرٌّ“ اس کی آزادی کا سبب ہے اور فی الحال یہ سبب ہے تو فی الحال ہی اس کو سبب قرار دے دیا جائے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ عند الاحناف معلق جو ہے وہ سبب بنتا ہے عند وجود الشرط، جب شرط پائی جائے گی تب معلق سبب بنے گا اس سے پہلے وہ ہے ہی نہیں۔ جیسے خاوند نے بیوی سے کہا: ”إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ“، اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے، تو اس ”فَأَنْتِ طَالِقٌ“ سے طلاق ہونی ہے لیکن یہ اس وقت سبب نہیں ہے، جب بیوی اس گھر میں جائے گی اس وقت ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کا قول پایا جائے گا اور بیوی کو طلاق ہو جائے گی۔ تو عند الاحناف معلق جو ہے وہ وجودِ شرط کے وقت سبب بنتا ہے فی الحال سبب نہیں بنتا، جبکہ عند الشوافع جو معلق ہوتا ہے وہ سبب بنتا ہے عند التکلم یعنی جب اس پر تکلم کیا جائے اسی وقت سبب بنتا ہے، البتہ وہاں ایک مانع ہوتا ہے یعنی شرط ہوتی ہے وہ اس کو واقع نہیں ہونے دے رہی۔ تو لہٰذا یہاں میں نے بتلایا مدبر کے مسئلے کے اندر ہمارا بھی وہی قول ہے جو امام شافعی رحمہ اللہ کا قول ہے، اس لیے کیونکہ آقا نے زندگی میں غلام سے کیا کہا: ”أَنْتَ حُرٌّ بَعْدَ مَوْتِي“، تو فی الحال یہ ”أَنْتَ حُرٌّ“ موجود ہے اور موت کے بعد تو یہ موجود نہیں ہوگا، لہٰذا فی الحال ہی اس کو سبب بناؤ بعد میں سبب نہ بناؤ۔ اور نیز اس لیے کیونکہ موت کے بعد تو آقا میں اہلیت ہی نہ رہے گی آزاد کرنے کی کیونکہ آقا مر چکا ہے بھئی، تو لہٰذا موت کے بعد تو یہ ”أَنْتَ حُرٌّ“ آزادی کا سبب بن ہی نہیں سکتا لہٰذا اس کو فی الحال ہی سبب بناؤ۔ جبکہ باقی تعلیقات جو ہیں ان میں سببیّت کو مؤخر کرنا ممکن ہے کیونکہ تعلیق کے وقت بھی تعلیق کرنے والے میں اہلیت ہوتی ہے اور جب شرط پائی جاتی ہے اس وقت بھی تعلیق کرنے والے میں اہلیت ہوتی ہے تو اس لیے وہاں تو مؤخر کرنا ممکن ہے، سببیّت کو عام تعلیقات میں شرط تک مؤخر کرنا ممکن ہے لیکن تدبیر کے اندر سببیّت کو شرط کے پائے جانے تک مؤخر کرنا ممکن نہیں ہے بھئی۔ اور نیز عام تعلیق میں اور تدبیر میں فرق ہے کیونکہ تدبیر جو ہے یہ وصیت ہے اور وصیت جو ہے وہ فی الحال کسی کو اپنے مال کے اندر اپنا نائب بنانا ہے، جیسے وارث جو ہے فی الحال ہی کسی کے مال کے اندر اس کا نائب ہوتا ہے، جیسے کہ وارث جو ہے مال کے اندر فی الحال نائب ہوتا ہے، ہاں ابھی فی الحال اس کو مال ملے گا نہیں کیونکہ اصل موجود ہے اور جب تک اصل ہو تب تک نائب اس کی جگہ پر نہیں آتا بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بیان کیا کہ آقا یہ جو مدبر ہے اس سے خدمت بھی لے سکتا ہے، اس سے مزدوری بھی کروا سکتا ہے، اجارے پر بھی دے سکتا ہے، اور اگر یہ باندی ہے تو اس سے آقا صحبت بھی کر سکتا ہے اور آقا اس کا کسی اور سے نکاح بھی کروا سکتا ہے بھئی، اور اگر آقا مر جائے تو یہ مدبر اس کے ثلثِ مال میں سے آزاد ہوتا ہے بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ مدبرہ کی جو اولاد ہے وہ بھی مدبر ہی ہوگی، اس پر تمام صحابہ کا اجماع ہے۔ اور اگر تدبیرِ مقید ہوئی، آقا نے غلام سے کہا کہ اگر میں اس مرض میں مر گیا یا اس سفر میں مر گیا، تو اگر آقا کے اندر وہ صفت پائی گئی، اسی سفر میں وہ مر گیا یا اسی بیماری سے وہ مر گیا، تو پھر اس صورت میں یہ مدبرِ مقید بھی اسی طرح آزاد ہو جائے گا جیسے مدبرِ مطلق ہوتا ہے۔ بھئی کیا معنی کہ یہ بھی اسی مدبرِ مطلق کی طرح آزاد ہو جائے گا؟ معنی یہ ہے کہ جس طرح مدبرِ مطلق ثلثِ مال سے آزاد ہوتا ہے یہ مدبرِ مقید بھی ثلثِ مال سے ہی آزاد ہوگا بھئی۔ اب آئیے آج کے سبق پر: ”بَابُ الِاسْتِيلَادِ: إِذَا وَلَدَتِ الْأَمَةُ مِنْ مَوْلَاهَا فَقَدْ صَارَتْ أُمَّ وَلَدٍ لَهُ لَا يَجُوزُ بَيْعُهَا وَلَا تَمْلِيكُهَا لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: أَعْتَقَهَا وَلَدُهَا“ بھئی اب استیلاد کا باب آیا۔ استیلاد بابِ استفعال ہے اور آپ نے پڑھا ہے کہ بابِ استفعال کے اندر یہ جو سین ہے یہ طلب کے لیے آتا ہے، تو استیلاد کا معنی ہے اولاد کو طلب کرنا۔ اس کا مادہ جو ہے، اس کا مادہ و، ل، د ہے۔ تو استیلاد اصل میں تھا ”اِسْتِوْلَاد“، یہ یا کی جگہ واؤ تھا، استولاد یعنی اولاد کو طلب کرنا۔ اور اولاد کا طلب کرنا جس طرح باندی سے ہوتا ہے اسی طرح بیوی سے بھی ہوتا ہے، بیوی سے نکاح کس لیے کیا جاتا ہے؟ اولاد کو طلب کرنے کے لیے، تو بیوی کے اندر بھی استیلاد ہے اولاد کو طلب کرنا ہے، اور باندی سے بھی کبھی کبھار اولاد کو طلب کیا جاتا ہے، تو بیوی میں بھی استیلاد ہے باندی میں بھی استیلاد ہے، لیکن یہ استیلاد کا لفظ باندی کے ساتھ خاص ہے، یہ باندی کے لیے ہی استعمال ہوتا ہے۔ اگرچہ اولاد کا طلب کرنا وہ بیوی میں بھی ہے لیکن استیلاد کا لفظ کس کے ساتھ خاص ہے؟ باندی کے ساتھ بھئی۔ تو باندی سے اولاد طلب کرنا یعنی اس کو ام ولد بنانا۔ تو کہتے ہیں: ”بَابُ الِاسْتِيلَادِ“ یہ باب ہے استیلاد کا۔ ”إِذَا وَلَدَتِ الْأَمَةُ مِنْ مَوْلَاهَا فَقَدْ صَارَتْ أُمَّ وَلَدٍ لَهُ“ آپ پڑھ چکے ہیں کہ اگر باندی سے آقا کی اولاد ہو تو یہ باندی اس آقا کی ام ولد بن جائے گی۔ اور میں نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ آقا کا اقرار بھی ضروری ہے، آقا خود اقرار کرے کہ یہ میری اولاد ہے۔ اگر آقا اقرار نہیں کرے گا تو اس صورت میں اس بچے کا نسب آقا سے ثابت نہیں ہوگا اور جب نسب ثابت نہیں ہوگا تو یہ باندی اس آقا کی ام ولد بھی نہیں بنے گی۔ تو معلوم ہوا ام ولد میں آقا کا اقرار ضروری ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”إِذَا وَلَدَتِ الْأَمَةُ مِنْ مَوْلَاهَا“ جب باندی جنم دے دے اولاد کو ”مِنْ مَوْلَاهَا“ اپنے آقا سے، ”فَقَدْ صَارَتْ أُمَّ وَلَدٍ لَهُ“ تو تحقیق یہ باندی اپنے آقا کی ام ولد ہو گئی، ”لَا يَجُوزُ بَيْعُهَا وَلَا تَمْلِيكُهَا“ نہ تو اس باندی کو بیچنا جائز ہے اور نہ اس کی تملیک جائز ہے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا ”مَلَّكَ يُمَلِّكُ تَمْلِيك“ کا معنی ہے کسی دوسرے کو مالک بنانا۔ تو اس باندی کو بیچا بھی نہیں جا سکتا اور کسی دوسرے کو اس کا مالک بھی نہیں بنایا جا سکتا یعنی ہبہ یا صدقہ وغیرہ بھی نہیں کر سکتے۔ تو کہتے ہیں: ”لَا يَجُوزُ بَيْعُهَا وَلَا تَمْلِيكُهَا“ اس باندی کو بیچنا بھی جائز نہیں ہے اور کسی دوسرے کو اس کا مالک بنانا بھی جائز نہیں ہے، ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ“ حضور علیہ السلام کے اس فرمانِ مبارک کی وجہ سے کہ آپ نے فرمایا: ”أَعْتَقَهَا وَلَدُهَا“ کہ اس کو اس کے بچے نے آزاد کر دیا ہے۔ یہ حضور علیہ السلام نے حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بارے میں فرمایا۔ حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا یہ حضور علیہ السلام کی باندی تھیں اور انہوں نے حضور علیہ السلام کے بیٹے ابراہیم کو جنم دیا، اور حضور علیہ السلام کے یہ بیٹے ابراہیم یہ تقریباً ڈیڑھ سال کی عمر میں ان کا انتقال ہوا، تو پھر حضور علیہ السلام سے کسی نے پوچھا: کیا آپ ان کو آزاد نہیں کریں گے؟ حضور علیہ السلام سے کسی نے پوچھا کہ آپ ماریہ قبطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو آزاد نہیں کریں گے؟ تو حضور علیہ السلام نے جواب میں فرمایا: ”أَعْتَقَهَا وَلَدُهَا“ ان کے بچے نے ان کو آزاد کر دیا ہے، ان کے بچے نے ان کو آزاد کر دیا ہے۔ اور احناف کہتے ہیں کہ اس حدیث کا یہ معنی نہیں ہے کہ وہ آزاد ہو چکی ہیں، معنی یہ ہے کہ وہ بچے کی وجہ سے آزادی کی مستحق ہو چکی ہیں، ان کا بچہ ان کی آزادی کا سبب بن گیا ہے اب انہوں نے ہر حال میں آزاد ہونا ہے۔ تو اس پر اشکال ہوتا ہے کہ حدیث میں تو آیا: ”أَعْتَقَهَا وَلَدُهَا“ کہ ان کے بچے نے ان کو آزاد کر دیا ہے، اور اے احناف آپ اس حدیث کا دوسرا ترجمہ کر رہے ہیں کہ بچے نے آزاد نہیں کیا بلکہ آزادی کا مستحق بنایا ہے؟ تو ہم جواب دیتے ہیں کہ یہاں اور احادیث بھی ہیں، چنانچہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے حدیث ہے اور اس کے اندر ذکر آتا ہے کہ آقا کے مرنے کے بعد جو ہے ام ولد آزاد ہوتی ہے۔ اس میں ذکر ہے آقا کے مرنے کے بعد جو ہے ام ولد آزاد ہوتی ہے تو ہم نے دونوں حدیثوں میں موافقت پیدا کر دی کہ دونوں پر عمل ہو جائے۔ چنانچہ لہٰذا ”أَعْتَقَهَا وَلَدُهَا“ کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ بچے کی وجہ سے آزادی کی مستحق ہو چکی ہے اور جب آقا مر جائے گا تو وہ آزاد ہو جائے گی۔ چنانچہ کہتے ہیں: ”أَخْبَرَ عَنْ إِعْتَاقِهَا فَيَثْبُتُ بَعْضُ مُوجَبِهِ وَهُوَ حُرْمَةُ الْبَيْعِ“ ”أَخْبَرَ عَنْ إِعْتَاقِهَا“ یعنی حضور علیہ السلام نے اس باندی کے اعتاق سے خبر دی، اعتاق کا مطلب آزاد کرنا، کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ بچے نے اس کو آزاد کر دیا، تو اعتاق سے خبر دی۔ تو اعتاق کا ایک موجب تو یہ ہے کہ باندی فی الحال آزاد ہو جائے اور ایک موجب یہ ہے کہ اس باندی کی بیع اور ہبہ وغیرہ باطل ہو جائیں۔ تو ہم کہتے ہیں: ”فَيَثْبُتُ بَعْضُ مُوجَبِهِ“ تو اعتاق کا بعض موجب ثابت ہو جائے گا اور وہ بعض موجب کیا ہے؟ ”وَهُوَ حُرْمَةُ الْبَيْعِ“ کہ اس باندی کو بیچنا حرام ہے۔ اس باندی کو بیچنا حرام ہے یہ بعض موجب تو ثابت ہو جائے گا اور وہ جو کامل آزادی ہے وہ آقا کے مرنے کے بعد اس باندی کو حاصل ہوگی، تو دونوں حدیثوں پر عمل ہو جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ جی۔ کہتے ہیں: ”أَخْبَرَ عَنْ إِعْتَاقِهَا“ حضور علیہ السلام نے اس کے آزاد کرنے سے خبر دی، ”فَيَثْبُتُ بَعْضُ مُوجَبِهِ“ تو اس کے آزاد کرنے کا بعض موجب ثابت ہوگا، ”وَهُوَ حُرْمَةُ الْبَيْعِ“ اور وہ بعض موجب اس کو بیچنے کا حرام ہونا ہے۔ آگے دیکھیے: ”وَلَا بَأْسَ بِاسْتِخْدَامِهَا وَالْوَطْءِ لَهَا وَذَلِكَ لَا يُنَافِي الِاسْتِيلَادَ كَمَا فِي الْمُدَبَّرِ“ اور اس باندی سے خدمت لینا اور اس سے وطء کرنا جائز ہے اس لیے کیونکہ یہ استیلاد کے منافی نہیں ہے جیسا کہ مدبر کے اندر ہے۔ کہتے ہیں: ”وَلَا بَأْسَ بِاسْتِخْدَامِهَا“ اس باندی سے خدمت لینے میں کوئی حرج نہیں ہے اور اس باندی کے ساتھ صحبت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، اس لیے کیونکہ آقا کی ملکیت اس باندی کے اندر ابھی بھی باقی ہے اور آقا جب تک زندہ ہے اس باندی کی ملکیت آقا کے لیے باقی رہے گی، آقا کے مرنے کے بعد یہ آزاد ہوگی، تو لہٰذا جب تک زندہ ہے ملکیت باقی ہے تو آقا اس سے خدمت بھی لے سکتا ہے اور اس سے صحبت بھی کر سکتا ہے۔ اور مدبرہ کے اندر بھی تو یہی ہے کہ مدبرہ بھی آقا کے مرنے کے بعد آزاد ہوتی ہے تو آقا مدبرہ سے خدمت بھی لے سکتا ہے اور مدبرہ کے ساتھ صحبت بھی کر سکتا ہے تو یہاں ام ولد کے اندر بھی یہی حکم ہوگا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ جی۔ کہتے ہیں: ”وَلَا بَأْسَ بِاسْتِخْدَامِهَا“ اور اس ام ولد سے خدمت لینے میں کوئی حرج نہیں ہے، ”وَالْوَطْءِ لَهَا“ اور اس کے ساتھ وطء کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، ”وَذَلِكَ لَا يُنَافِي الِاسْتِيلَادَ“ اور یہ خدمت اور وطء استیلاد کے منافی نہیں ہے، ”كَمَا فِي الْمُدَبَّرِ“ جیسا کہ مدبر کے اندر ہے۔ آگے دیکھیے: ”وَتُعْتَقُ بَعْدَ مَوْتِهِ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ“ اور یہ ام ولد آقا کے مرنے کے بعد آزاد ہو جائے گی تمام مال میں سے۔ ”مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ“ تمام مال میں سے یعنی ثلث میں سے آزاد نہیں ہوگی بلکہ جمیع مال میں سے آزاد ہوگی۔ خواہ آقا کے پاس اس ام ولد کے علاوہ کوئی اور مال نہ بھی ہو پھر بھی یہ ام ولد پوری کی پوری آزاد ہوگی۔ اس لیے کیونکہ اس کی آزادی کا سبب جو ہے وہ ولد ہے اور ولد نے تمام مال میں اس کو آزاد کیا ہے، کیونکہ باپ کی وفات کے بعد بیٹا باپ کے پورے مال کا وارث ہوتا ہے نہ کہ صرف ثلث کا، تو اس بیٹے نے ماں کو آزاد کیا ہے تو یہ ماں بھی تمام مال میں سے آزاد ہوگی نہ کہ ثلث مال میں سے۔ بخلاف مدبر کے کہ مدبر کی تدبیر جو ہے وہ وصیت ہے اور وصیت تو ثلث میں نافذ ہوتی ہے اس لیے مدبر جو ہے وہ ثلث میں سے آزاد ہوتا ہے۔ اور ام ولد کی آزادی کا سبب چونکہ ولد ہے اور ولد تو جمیع مال کا وارث ہوتا ہے تو اس لیے ام ولد جمیع مال میں سے آزاد ہوگی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ جی۔ کہتے ہیں: ”وَتُعْتَقُ بَعْدَ مَوْتِهِ“ اور ام ولد آزاد ہو جائے گی آقا کے مرنے کے بعد ”مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ“ تمام مال میں سے۔ آگے دیکھیے: ”وَالْمُدَبَّرُ يُعْتَقُ مِنَ الثُّلُثِ كَمَا قَدَّمْنَاهُ“ اور مدبر ثلث میں سے آزاد ہوتا ہے جیسا کہ ہم نے اس کو پہلے بیان کر دیا۔ آگے دیکھیے: ”وَالْفَرْقُ بَيْنَهُمَا أَنَّ سَبَبَ الْعِتْقِ هُنَا هُوَ الْوَلَدُ وَقَدْ دَخَلَ فِي مِلْكِهِ جَمِيعُ مَالِ أَبِيهِ فَصَارَ كَأَنَّهُ أَعْتَقَهَا فِي حَيَاتِهِ فَتُعْتَقُ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ، وَهُنَاكَ السَّبَبُ هُوَ الْقَوْلُ الصَّادِرُ مِنْهُ وَهُوَ مُعْتَبَرٌ بِالْوَصِيَّةِ لِمَا بَيَّنَّا فَتُعْتَقُ مِنَ الثُّلُثِ“ اور ام ولد اور مدبر کے درمیان فرق یہ ہے کہ ام ولد کے اندر آزادی کا سبب وہ ولد ہے، ”وَقَدْ دَخَلَ فِي مِلْكِهِ جَمِيعُ مَالِ أَبِيهِ“ اور تحقیق اس ولد کی ملک میں اس کے باپ کا تمام مال داخل ہو جاتا ہے، ”فَصَارَ كَأَنَّهُ أَعْتَقَهَا فِي حَيَاتِهِ فَتُعْتَقُ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ“ تو گویا کہ اس آقا نے اپنی زندگی ہی میں اس ام ولد کو آزاد کیا ہے لہٰذا وہ جمیع مال میں سے آزاد ہوگی۔ ”وَهُنَاكَ السَّبَبُ هُوَ الْقَوْلُ الصَّادِرُ مِنْهُ“ اور مدبر کے اندر آزادی کا سبب آقا سے صادر ہونے والا قول ہے، ”وَهُوَ مُعْتَبَرٌ بِالْوَصِيَّةِ“ اور وہ قول وصیت کے درجے میں معتبر ہے، ”لِمَا بَيَّنَّا“ اس دلیل کی وجہ سے جو ہم نے پہلے بیان کی، ”فَتُعْتَقُ مِنَ الثُّلُثِ“ تو وہ مدبر ثلث مال میں سے آزاد ہوگا۔ چلیے بھئی آگے! ”وَوَلَدُهَا مِنْ غَيْرِ مَوْلَاهَا بِمَنْزِلَتِهَا كَمَا فِي الْمُدَبَّرَةِ“ اور ام ولد کا بچہ جو غیر مولا سے ہو وہ ام ولد ہی کے درجے میں ہے جیسا کہ مدبرہ کے اندر ہے۔ بھئی ام ولد کے دو طرح کے بچے ہو سکتے ہیں، ایک وہ بچہ جو آقا کے نطفے سے ہے تو وہ تو ظاہر ہے وہ تو آقا کا بیٹا ہے تو وہ تو آزاد ہے۔ اور ام ولد کا دوسرا بچہ جو آقا کے نطفے سے نہیں ہے کسی اور کے نطفے سے ہے، مثلاً آقا نے ام ولد کا نکاح کسی غلام سے کر دیا اور اس غلام سے اس ام ولد کے ہاں بچہ پیدا ہو گیا، یا مثلاً زنا کا بچہ پیدا ہو گیا، تو اب یہ بچہ جو غیر مولا سے ہے اس کا کیا حکم ہوگا؟ تو کہتے ہیں: ”وَوَلَدُهَا مِنْ غَيْرِ مَوْلَاهَا بِمَنْزِلَتِهَا“ اس ام ولد کا بچہ جو غیر مولا سے ہو وہ ”بِمَنْزِلَتِهَا“ اس ام ولد ہی کے درجے میں ہے۔ کیا مطلب؟ یعنی جس طرح آقا کے مرنے کے بعد ام ولد جمیع مال میں سے آزاد ہو جائے گی اسی طرح یہ بچہ بھی آقا کے مرنے کے بعد جمیع مال میں سے آزاد ہو جائے گا۔ اور آقا کی زندگی میں اس بچے کو نہ بیچا جا سکتا ہے اور نہ اس کا ہبہ کیا جا سکتا ہے بالکل ام ولد کی طرح، اور نہ اس بچے کو کسی دوسرے کی ملک میں دیا جا سکتا ہے۔ اور اس بچے سے خدمت لی جا سکتی ہے اور اگر وہ لڑکی ہے تو اس سے وطء نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ام ولد کی بیٹی ہے تو وہ تو آقا کی ربیبہ بن گئی تو ربیبہ کے ساتھ وطء حرام ہے۔ تو اس بچے کا حکم ام ولد والا ہوگا۔ ”كَمَا فِي الْمُدَبَّرَةِ“ جیسا کہ مدبرہ کے بچے کے اندر ہے کہ مدبرہ کا بچہ جو غیر مولا سے ہو وہ بھی مدبرہ ہی کے درجے میں ہوتا ہے تو ام ولد کا بچہ جو غیر مولا سے ہو وہ بھی ام ولد ہی کے درجے میں ہوگا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ جی۔ کہتے ہیں: ”وَوَلَدُهَا مِنْ غَيْرِ مَوْلَاهَا بِمَنْزِلَتِهَا“ اور ام ولد کا بچہ جو غیر مولا سے ہو وہ ام ولد ہی کے درجے میں ہے، ”كَمَا فِي الْمُدَبَّرَةِ“ جیسا کہ مدبرہ کے اندر ہے۔ چلیے بھئی آگے! ”وَإِذَا وَلَدَتْ مِنْ زَوْجِهَا بَعْدَ مَا صَارَتْ أُمَّ وَلَدٍ فَجَاءَتْ بِوَلَدٍ فَادَّعَاهُ الْمَوْلَى فَهُوَ ابْنُهُ“ اور جب ام ولد نے بچہ جنا اپنے شوہر سے بعد ما صارت ام ولد اس کے بعد کہ وہ ام ولد بن چکی تھی، ”فَجَاءَتْ بِوَلَدٍ“ تو وہ ایک بچہ لے کر آئی، ”فَادَّعَاهُ الْمَوْلَى“ اور آقا نے اس بچے کا دعویٰ کر دیا، ”فَهُوَ ابْنُهُ“ تو وہ آقا کا بیٹا بن جائے گا۔ اس مسئلے کو ذرا سمجھیے، ایک باندی ہے وہ اپنے آقا کی ام ولد بن گئی، آقا نے اس کا نکاح کر دیا کسی سے، اور نکاح کے بعد پھر اس ام ولد کے ہاں ایک اور بچہ پیدا ہوا، تو اب یہ جو دوسرا بچہ پیدا ہوا ہے یہ کس کا ہوگا؟ آقا کہتا ہے کہ یہ بچہ میرا ہے، اور ادھر جو شوہر ہے وہ کہتا ہے کہ یہ بچہ میرا ہے کیونکہ یہ بچہ میرے فراش پر پیدا ہوا ہے میری بیوی ہے تو بچہ تو میرا ہونا چاہیے، تو اب یہ بچہ کس کا شمار ہوگا آقا کا یا شوہر کا؟ تو صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: ”فَهُوَ ابْنُهُ“ یہ بچہ آقا کا شمار ہوگا، شوہر کا شمار نہیں ہوگا۔ کیوں؟ اس لیے کیونکہ آقا کا فراش جو ہے وہ شوہر کے فراش سے زیادہ قوی ہے، اس لیے کیونکہ آقا کے لیے باندی کے اندر ملکِ یمین ہے اور شوہر کے لیے اس باندی کے اندر صرف ملکِ نکاح ہے اور ظاہر ہے ملکِ یمین زیادہ قوی ہوتی ہے ملکِ نکاح سے، کیونکہ ملکِ یمین کے اندر رقبہ اور منفعت دونوں حاصل ہوتی ہیں جبکہ ملکِ نکاح کے اندر صرف منفعت حاصل ہوتی ہے رقبہ حاصل نہیں ہوتی۔ تو ملکِ یمین زیادہ قوی ہے ملکِ نکاح سے، لہٰذا ملکِ یمین والا فراش وہ بھی زیادہ قوی ہوگا ملکِ نکاح والے فراش سے، تو آقا کا فراش زیادہ قوی ہے شوہر کے فراش سے لہٰذا یہ بچہ آقا ہی کا شمار ہوگا۔ اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا ہے: ”الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ“ کہ بچہ فراش والے کا ہوتا ہے اور زانی کے لیے پتھر ہیں، اور یہاں باندی کا شوہر جو ہے وہ فراش والا ہے کیونکہ فراش نکاح کی وجہ سے بنتا ہے تو یہاں فراش والا تو شوہر ہے آقا تو فراش والا نہیں ہے، تو پھر یہ بچہ تو شوہر کا ہونا چاہیے آقا کا کیسے ہو گیا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ آقا بھی فراش والا ہے کیونکہ آقا کے لیے ملکِ یمین ہے اور ملکِ یمین سے بھی فراش ثابت ہوتا ہے۔ تو شوہر بھی فراش والا آقا بھی فراش والا، اب دیکھا جائے گا کس کا فراش زیادہ قوی ہے؟ تو آقا کا فراش زیادہ قوی ہے اس لیے بچہ آقا کا شمار ہوگا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ جی۔ دیکھیے عبارت: ”وَإِذَا وَلَدَتْ مِنْ زَوْجِهَا بَعْدَ مَا صَارَتْ أُمَّ وَلَدٍ“ اور جب ام ولد نے بچہ جنا اپنے شوہر سے بعد ما صارت ام ولد اس کے بعد کہ وہ ام ولد بن چکی تھی، ”فَجَاءَتْ بِوَلَدٍ“ تو وہ ایک بچہ لے کر آئی، ”فَادَّعَاهُ الْمَوْلَى“ اور آقا نے اس بچے کے بارے میں دعویٰ کیا، ”فَهُوَ ابْنُهُ“ تو وہ بچہ آقا کا بیٹا بن جائے گا۔ آگے دیکھیے: ”وَالْوَلَاءُ لَهُ وَيَزُولُ النِّكَاحُ وَعَلَيْهِ الْعُقْرُ لِلزَّوْجِ“ اور اس بچے کا ولاء آقا ہی کے لیے ہوگا، ”وَيَزُولُ النِّكَاحُ“ اور اس باندی کا نکاح زائل ہو جائے گا یعنی نکاح ٹوٹ جائے گا، ”وَعَلَيْهِ الْعُقْرُ لِلزَّوْجِ“ اور آقا پر شوہر کے لیے عقر واجب ہوگا۔ بھئی جب یہ بچہ آقا کا بن گیا تو اس کا کیا مطلب؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ آقا نے نکاح کے بعد بھی اس باندی کے ساتھ صحبت کی ہے، اور جب نکاح کے بعد آقا نے باندی کے ساتھ صحبت کی ہے تو یہ صحبت بالشبہہ شمار ہوگی، تو صحبت بالشبہہ کی وجہ سے اس شوہر پر حرمتِ مصاہرت آ جائے گی، اور جب حرمتِ مصاہرت آ جائے گی تو شوہر کے لیے یہ عورت حرام ہو جائے گی لہٰذا ”وَيَزُولُ النِّكَاحُ“ اس باندی کا نکاح ٹوٹ جائے گا۔ اور دوسری بات کہ ”وَعَلَيْهِ الْعُقْرُ لِلزَّوْجِ“ آقا پر شوہر کے لیے عقر لازم ہوگا، کیونکہ آقا نے شوہر کے حق کو باطل کیا ہے شوہر کے فراش کو ضائع کیا ہے تو اس کا تاوان آقا کو دینا پڑے گا اور وہ تاوان عقر ہے یعنی مہرِ مثل ہے۔ اور ”وَالْوَلَاءُ لَهُ“ اور اس بچے کی ولاء آقا ہی کے لیے ہوگی کیونکہ یہ تو آقا کا بیٹا ہے تو ولاء تو ظاہر ہے آقا کے لیے ہوگی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ جی۔ دیکھیے عبارت: ”وَالْوَلَاءُ لَهُ“ اور ولاء آقا کے لیے ہوگی، ”وَيَزُولُ النِّكَاحُ“ اور باندی کا نکاح ختم ہو جائے گا، ”وَعَلَيْهِ الْعُقْرُ لِلزَّوْجِ“ اور آقا پر شوہر کے لیے عقر لازم ہوگا۔ چلیے بھئی آگے! ”وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ“ اور اس ام ولد پر عدت لازم ہوگی، اس لیے کیونکہ شوہر کے ساتھ نکاح ٹوٹ گیا ہے اور جب نکاح ٹوٹ گیا ہے تو عدت لازم ہوگی۔ آگے دیکھیے: ”وَلِلزَّوْجِ أَنْ يَدَّعِيَهُ فَيَثْبُتَ نَسَبُهُ مِنْهُ وَلَا يُصَدَّقُ الْمَوْلَى بَعْدَ ذَلِكَ“ اور اگر شوہر نے اس بچے کا دعویٰ کر دیا ”فَيَثْبُتَ نَسَبُهُ مِنْهُ“ تو اس بچے کا نسب شوہر سے ثابت ہو جائے گا ”وَلَا يُصَدَّقُ الْمَوْلَى بَعْدَ ذَلِكَ“ اور اس کے بعد آقا کی تصدیق نہیں کی جائے گی۔ بھئی یہ صورت اس وقت ہے جب پہلے شوہر نے دعویٰ کیا ہو۔ ام ولد کے ہاں بچہ پیدا ہوا شوہر نے کہہ دیا کہ یہ بچہ میرا ہے تو شوہر کا دعویٰ کرتے ہی یہ بچہ شوہر کا بن جائے گا۔ اب اس کے بعد اگر آقا کہے کہ نہیں یہ بچہ میرا ہے تو آقا کی بات کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا کیونکہ شوہر کا دعویٰ کرتے ہی بچے کا نسب شوہر سے ثابت ہو چکا ہے اور جب ایک دفعہ نسب ثابت ہو جائے تو پھر وہ باطل نہیں ہوتا لہٰذا اب آقا کا دعویٰ قابل قبول نہیں ہوگا۔ اور پہلی صورت جو آپ نے پڑھی کہ آقا نے دعویٰ کر دیا تو وہ بچہ آقا کا بن جائے گا وہ اس صورت میں ہے جب شوہر نے پہلے دعویٰ نہ کیا ہو آقا نے دعویٰ کر دیا ہو تو وہ بچہ آقا کا بن جائے گا شوہر کا دعویٰ اس کے بعد قابل قبول نہیں ہوگا، اور اگر شوہر نے پہلے دعویٰ کر دیا تو بچہ شوہر کا بن جائے گا آقا کا دعویٰ قابل قبول نہیں ہوگا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ جی۔ دیکھیے عبارت: ”وَلِلزَّوْجِ أَنْ يَدَّعِيَهُ“ اور شوہر کے لیے یہ حق ہے کہ وہ اس بچے کا دعویٰ کرے، ”فَيَثْبُتَ نَسَبُهُ مِنْهُ“ تو اس بچے کا نسب شوہر سے ثابت ہو جائے گا، ”وَلَا يُصَدَّقُ الْمَوْلَى بَعْدَ ذَلِكَ“ اور اس کے بعد آقا کی تصدیق نہیں کی جائے گی۔ آگے دیکھیے: ”وَالْجَامِعُ أَنَّ الْفِرَاشَيْنِ لَمَّا تَعَارَضَا تَعَيَّنَ أَقْوَاهُمَا بِالدَّعْوَةِ كَمَا إِذَا ادَّعَيَا مَعًا، فَأَمَّا إِذَا ثَبَتَ بِالنَّسَبِ لِلْفِرَاشِ الْقَائِمِ لَمْ يَبْطُلْ بِدَعْوَةِ غَيْرِهِ“ اور جامع دلیل یہ ہے کہ جب دو فراش باہم متعارض ہو جائیں ”تَعَيَّنَ أَقْوَاهُمَا بِالدَّعْوَةِ“ تو جو اقویٰ فراش ہوگا وہ متعین ہو جائے گا دعویٰ کرنے کے ساتھ، وہ اقویٰ فراش متعین ہو جائے گا دعویٰ کرنے کے ساتھ۔ یعنی آقا کا فراش وہ اقویٰ تھا نا، تو آقا نے جب دعویٰ کیا تو اس کا فراش متعین ہو گیا۔ آگے دیکھیے: ”كَمَا إِذَا ادَّعَيَا مَعًا“ جیسا کہ جب دونوں اکٹھے دعویٰ کر دیں تو وہاں پر بھی آقا ہی کا فراش معتبر ہوگا کیونکہ آقا کا فراش اقویٰ ہے۔ ”فَأَمَّا إِذَا ثَبَتَ بِالنَّسَبِ لِلْفِرَاشِ الْقَائِمِ لَمْ يَبْطُلْ بِدَعْوَةِ غَيْرِهِ“ لیکن جب بچے کا نسب ثابت ہو جائے اس فراش کے لیے جو قائم ہے تو ”لَمْ يَبْطُلْ بِدَعْوَةِ غَيْرِهِ“ تو وہ نسب کسی دوسرے کے دعوے سے باطل نہیں ہوگا، یعنی جب شوہر نے دعویٰ کر دیا اور شوہر کا فراش قائم تھا تو شوہر کے فراش سے بچے کا نسب ثابت ہو گیا تو اب آقا کے دعویٰ کرنے سے وہ نسب باطل نہیں ہوگا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ جی۔ دیکھیے عبارت: ”وَالْجَامِعُ أَنَّ الْفِرَاشَيْنِ لَمَّا تَعَارَضَا“ اور جامع دلیل یہ ہے کہ دونوں فراش جب باہم متعارض ہو گئے، ”تَعَيَّنَ أَقْوَاهُمَا بِالدَّعْوَةِ“ تو دونوں میں سے جو اقویٰ ہے وہ متعین ہو جائے گا دعویٰ کرنے کے ساتھ، ”كَمَا إِذَا ادَّعَيَا مَعًا“ جیسا کہ جب دونوں اکٹھے دعویٰ کر دیں، ”فَأَمَّا إِذَا ثَبَتَ بِالنَّسَبِ لِلْفِرَاشِ الْقَائِمِ“ لیکن جب بچے کا نسب ثابت ہو گیا قائم فراش کے لیے، ”لَمْ يَبْطُلْ بِدَعْوَةِ غَيْرِهِ“ تو وہ کسی دوسرے کے دعوے سے باطل نہیں ہوگا۔ چلیے بھئی سبق یہیں تک رکھتے ہیں، اللہ تعالیٰ فہمِ سلیم عطا فرمائے اور پڑھنے پڑھانے کو اپنی بارگاہ میں قبول و منظور فرمائے۔ آمین۔ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔ کہ اس حدیث کے ذریعے ہم کہتے ہیں کہ آقا کے مرتے ہی ام ولد آزاد ہو جائے گی اور اس حدیث پر بھی ہم نے عمل کیا کہ اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ یہ ام ولد آزادی کی مستحق ہو چکی ہے۔ لہٰذا جب یہ آزادی کی مستحق ہو گئی تو آزاد لوگوں کے کچھ احکام ابھی سے آ گئے۔ آزاد لوگوں کے کچھ احکام ابھی سے آ گئے۔ اور آزاد لوگوں کا کیا حکم ہے؟ آزاد کو بیچا نہیں جا سکتا، آزاد کو ہبہ نہیں کیا جا سکتا۔ تو یہ جو ام ولد ہے اس کو بھی بیچا نہیں جا سکتا، کسی دوسرے کو اس کا مالک نہیں بنایا جا سکتا۔ تو ہم نے دونوں حدیثوں پر عمل کیا۔ ایک حدیث سے پتہ چل رہا تھا کہ موت کے بعد آزاد ہوں گی اور اس حدیث سے بظاہر لگ رہا تھا کہ فی الحال ہی آزاد ہو چکی ہیں۔ لیکن ہم نے اس کا معنی یہ کیا کہ یہ آزادی کی مستحق ہو چکی ہیں۔ تو اب دونوں حدیثوں میں موافقت آ گئی، بظاہر دونوں میں تعارض معلوم ہو رہا تھا۔ تو ہم نے دونوں حدیثوں پر عمل کیا۔ ایک حدیث سے موت کے بعد آزادی کا پتہ چل رہا تھا تو ہم نے بھی کہا موت کے بعد یہ ام ولد آزاد ہو گی۔ اور دوسری حدیث سے فی الحال آزادی کا پتہ چل رہا تھا تو ہم نے آزاد لوگوں والا حکم دے دیا کہ اب اس ام ولد کو بیچنا یا ہبہ کرنا جائز نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: أَعْتَقَهَا وَلَدُهَا“ بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے کہ آپ نے فرمایا: ”أَعْتَقَهَا وَلَدُهَا“ کہ اسے اس کے بچے نے آزاد کر دیا ہے۔ ”أَخْبَرَ عَنْ إِعْتَاقِهَا“ حضور علیہ السلام نے اس ام ولد کے اعتاق کی خبر دی۔ ”فَيَثْبُتُ بَعْضُ مُوجَبِهِ“ لہٰذا اعتاق کے بعض احکام جو ہیں وہ ثابت ہو جائیں گے۔ ”وَهُوَ حُرْمَةُ الْبَيْعِ“ اور وہ بیع کا حرام ہونا ہے، کیونکہ آزاد آدمی کو بیچا یا ہبہ نہیں کیا جا سکتا۔ ”وَلِأَنَّ الْجُزْئِيَّةَ“ یہاں سے عقلی دلیل ذکر کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ۔ ایک تو نقلی دلیل ذکر کر دی یعنی حدیث اور ایک اب عقلی دلیل ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ الْجُزْئِيَّةَ قَدْ حَصَلَتْ بَيْنَ الْوَاطِئِ وَالْمَوْطُوءَةِ بِوَاسِطَةِ الْوَلَدِ“ بھئی آپ پڑھ چکے ہیں حرمتِ مصاہرت کے مسئلے کے اندر کہ جب خاوند اپنی بیوی سے صحبت کرتا ہے تو یہ صحبت اولاد تک پہنچانے والی ہے۔ اور اولاد جو ہے وہ خاوند کا بھی جز ہے اور بیوی کا بھی جز ہے۔ تو اولاد کے اندر دونوں کے جزوں کے اندر اتحاد آ گیا، خاوند اور بیوی ایک دوسرے کا جز بن گئے۔ جب دونوں ایک دوسرے کا جز بن گئے تو خاوند کے اصول و فروع بیوی کے اصول و فروع بن گئے اور بیوی کے اصول اور فروع وہ خاوند کے اصول اور فروع بن گئے۔ تو لہٰذا دونوں کے اصول اور فروع ایک دوسرے پر حرام ہو گئے۔ اور نیز جب خاوند بیوی کا جز بن گیا اور بیوی خاوند کا جز بن گئی تو جز تو انسان پر حرام ہوتا ہے۔ یہ تو تقاضا کرتا ہے کہ اب ایک ہی صحبت کے بعد بیوی کو انسان پر حرام ہو جانا چاہیے، کیونکہ بیوی خاوند کا جز بن گئی، اور اپنا جز انسان پر حرام ہوتا ہے جیسے اپنی بیٹی یا پوتی نواسی وغیرہ، یہ انسان کا جز ہے تو یہ اس پر حرام ہوتی ہے۔ تو یہ حرمتِ مصاہرت تقاضا کر رہی ہے کہ بیوی کو بھی خاوند پر حرام ہو جانا چاہیے ایک ہی وطی کے بعد۔ لیکن وہاں ضرورت اور حاجت کی وجہ سے شریعت نے بیوی کو حرام قرار نہیں دیا بھئی۔ تو بات چل رہی تھی ام ولد کی۔ ام ولد سے آقا کی اولاد ہوئی ہے تو اس کی وجہ سے آقا اور اس کی اس باندی کے درمیان جزئیت والا تعلق آ گیا، دونوں ایک دوسرے کا جز بن گئے بھئی۔ اور کس طرح جز بنے؟ کہتے ہیں اس طرح کہ آقا نے جب باندی سے صحبت کی تو باندی کے اندر آقا اور باندی کا نطفہ مل گئے۔ آقا اور باندی دونوں کا نطفہ مل گئے اور ایسے ملے کہ اب ان کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ جب ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا تو دونوں ایک دوسرے کا جز بن گئے۔ اور پھر اسی نطفے سے آگے بچہ بنا تو وہ جو حمل ہے اور وہ جو بچہ ہے وہ بھی دونوں کا جز ہے۔ تو یہ بچہ دونوں کا جز ہے تو اس بچے کے اندر دونوں کے اندر اتحاد آ رہا ہے۔ آقا اور باندی کے درمیان اتحاد آ رہا ہے، جزئیت آ رہی ہے اس بچے کے اندر۔ لیکن پھر جب یہ بچے کی پیدائش ہو گئی تو اب آقا اور باندی کے درمیان جزئیت جو تھی وہ حقیقتاً باقی نہ رہی۔ دونوں ایک دوسرے کا جز کس اعتبار سے تھے؟ وہ بچے کے اعتبار سے کہ بچے میں دونوں کے جز مل گئے تھے، دونوں کے نطفے مل گئے تھے بھئی۔ لیکن وہ بچہ تو پیدا ہو گیا، پیدائش کے بعد اب وہ ماں سے جدا ہو گیا۔ اور یہ بچہ پہلے ماں کے پیٹ میں تھا تو اس اعتبار سے یہ بچہ دونوں کا جز ہے، اور یہ بچہ کس کا جز تھا؟ باندی کا جز تھا تو لہٰذا آقا اور باندی ایک دوسرے کا جز بن گئے تھے۔ لیکن پھر جب اس بچے کی پیدائش ہو گئی یہ بچہ باندی سے جدا ہو گیا تو اب آقا اور باندی حقیقتاً ایک دوسرے کا جز نہ رہے، کیونکہ وہ جو جز جس میں دونوں کا اتحاد تھا وہ تو باندی سے الگ ہو گیا۔ اس بچے کی تو پیدائش ہو گئی، باندی سے الگ ہو گیا۔ تو اب آقا اور باندی کے درمیان حقیقتاً جزئیت باقی نہ رہی، صرف حکماً جزئیت باقی رہ گئی۔ صرف حکماً، یعنی حکم لگا دیا گیا یہ آقا اور باندی ایک دوسرے کا جز ہیں۔ حقیقتاً یہ ایک دوسرے کا جز نہیں ہیں، کیونکہ وہ جز جس کے اندر اتحاد تھا وہ تو الگ ہو چکا ہے، وہ بچہ تو پیدا ہو چکا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے بھئی صاحبِ ہدایہ اسی کو اور بہترین الفاظ میں ذکر فرمائیں گے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ الْجُزْئِيَّةَ قَدْ حَصَلَتْ بَيْنَ الْوَاطِئِ وَالْمَوْطُوءَةِ بِوَاسِطَةِ الْوَلَدِ“ اور اس لیے کیونکہ جز ہونا وہ حاصل ہو چکا ہے واطئ اور موطوءہ کے درمیان بواسطۂ ولد بچے کے ذریعے، بچے کے واسطے سے۔ ”فَإِنَّ الْمَاءَيْنِ قَدِ اخْتَلَطَا“ اس لیے کیونکہ دونوں کے نطفے جو ہیں، آقا اور باندی دونوں، اس لیے ”فَإِنَّ الْمَاءَيْنِ“ اس لیے کیونکہ اس مرد اور عورت دونوں کا نطفہ جو ہے ”قَدِ اخْتَلَطَا“ اس میں اختلاط آ گیا وہ آپس میں مل گئے ہیں۔ ”بِحَيْثُ لَا يُمْكِنُ الْمَيْزُ بَيْنَهُمَا“ میز زا کے ساتھ ہے، اس کا معنی ہے ممتاز کرنا، جدا کرنا۔ ”فَإِنَّ الْمَاءَيْنِ قَدِ اخْتَلَطَا“ اس لیے کیونکہ دونوں نطفے تحقیق وہ مل گئے ہیں، ”بِحَيْثُ“ اس طور پر ”لَا يُمْكِنُ الْمَيْزُ بَيْنَهُمَا“ کہ ان دونوں کے درمیان امتیاز کرنا ممکن نہیں ہے۔ ”عَلَى مَا عُرِفَ فِي حُرْمَةِ الْمُصَاهَرَةِ“ اس وجہ سے جس کو حرمتِ مصاہرت کے مسئلے میں جان لیا گیا۔ ”إِلَّا أَنَّ بَعْدَ الِانْفِصَالِ“ یہ ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں۔ اعتراض یہ کہ جب یہ باندی آقا کا جز بن گئی تو انسان تو اپنے جز کا مالک نہیں ہو سکتا، وہ جز فوراً آزاد ہو جاتا ہے، جیسے کوئی شخص اپنے بیٹے کو خریدے تو خریدتے ہی بیٹا خود بخود آزاد ہو جائے گا۔ تو یہاں پر بھی جب یہ باندی آقا کا جز ہو گئی تو یہ جزئیت تو تقاضا کر رہی ہے کہ باندی کو فوراً آزاد ہو جانا چاہیے۔ تو اس کا جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ، میں نے تفصیل ذکر کر دی کہ بھئی جب بچے کی پیدائش ہو گئی، بچہ جدا ہو گیا تو اب تو اب آقا اور باندی کے درمیان حقیقتاً جزئیت باقی نہ رہی، صرف حکماً جزئیت ہے، یعنی ہم نے حکم لگا دیا ہے ایک دوسرے کا جز ہیں، حقیقت میں یہ ایک دوسرے کا جز نہیں۔ معلوم ہوا وہ آزادی کا سبب ضعیف ہو گیا۔ یہ باندی آقا کا جز تھی اور یہ جزئیت کیا تقاضا کر رہی تھی؟ کہ اس کو فوراً آزاد ہونا چاہیے، لیکن بچہ پیدا ہو چکا ہے لہٰذا وہ جزئیت اب صرف حکم کے اعتبار سے باقی ہے حقیقتاً جز نہیں، جب صرف حکماً جز باقی ہے تو آزادی کا سبب ضعیف ہو گیا۔ انسان پر اپنا جز آزاد ہوتا ہے، لیکن یہاں جزئیت کیا ہو گئی؟ ضعیف ہو گئی، صرف حکماً ہے۔ جب جزئیت صرف حکماً ہے تو اس لیے باندی فی الحال آزاد نہیں ہو گی، البتہ آزاد لوگوں والا حکم آ جائے گا کہ اس کو بیچا نہیں جا سکتا اور ہبہ نہیں کیا جا سکتا۔ تو کہتے ہیں: ”إِلَّا أَنَّ بَعْدَ الِانْفِصَالِ“ مگر یہ کہ جدائی کے بعد۔ کس کی جدائی؟ بچے کی ماں سے جدائی یعنی بچے کی پیدائش ہو گئی۔ ”إِلَّا أَنَّ بَعْدَ الِانْفِصَالِ“ مگر یہ کہ بچے کی جدائی کے بعد ”تَبْقَى الْجُزْئِيَّةُ حُكْمًا لَا حَقِيقَةً“ جزئیت باقی رہی حکم کے اعتبار سے نہ کہ حقیقت کے اعتبار سے۔ ”فَضَعُفَ السَّبَبُ“ تو آزادی کا سبب ضعیف ہو گیا۔ ”فَأَوْجَبَ حُكْمًا مُؤَجَّلًا إِلَى مَا بَعْدَ الْمَوْتِ“ ”فَأَوْجَبَ“ تو اس نے ثابت کر دیا ”حُكْمًا مُؤَجَّلًا“ ایک مؤخر حکم کو۔ یہ جزئیت آئی تو ہے لیکن یہ جزئیت ضعیف ہے، حکماً ہے صرف حقیقتاً نہیں، تو لہٰذا اس کی وجہ سے آزادی آئے گی تو ضرور لیکن فی الحال نہیں موت کے بعد آئے گی۔ تو یہ معنی ہے: ”فَأَوْجَبَ حُكْمًا مُؤَجَّلًا إِلَى مَا بَعْدَ الْمَوْتِ“ تو اس نے ثابت کیا ایسا حکم جو مؤخر ہے موت کے مابعد تک بھئی۔ ”وَبَقَاءُ الْجُزْئِيَّةِ حُكْمًا بِاعْتِبَارِ النَّسَبِ“ اچھا، یہاں سے اب ایک اور اعتراض کا جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ۔ احناف کی باتیں بہت گہری ہوتی ہیں بھئی۔ بھئی دیکھیے اب سوال پیدا ہوتا ہے آپ نے کہا کہ آقا اور باندی میں جزئیت آ گئی، کس کی وجہ سے آئی؟ اولاد کی وجہ سے آئی۔ اگر اولاد کی وجہ سے جزئیت آ چکی ہے تو جیسے آقا کے مرنے کے بعد یہ اس کی مملوکہ باندی آزاد ہو جائے گی، کیوں آزاد ہو گی؟ کیونکہ دونوں میں جزئیت آ چکی ہے، تو اس کا تقاضا یہ ہے کہ اگر بیوی اپنے خاوند کی مالکن بن جائے تو خاوند کو بھی خاوند کو بھی اس مالکن کے مرنے کے بعد آزاد ہونا چاہیے۔ مثلاً دیکھو ایک غلام نے ایک آزاد عورت سے نکاح کر لیا، غلام نے ایک آزاد عورت سے نکاح کر لیا، اور بعد میں اسی آزاد عورت نے اپنے اس خاوند کو خرید لیا، تو خریدتے ہی آپ نے پڑھا ہے نکاح ختم، اب یہ جو خاوند ہے یہ اس بیوی کا مملوک ہو گیا۔ اور اس خاوند سے اس عورت کی اولاد بھی ہو چکی ہے، معلوم ہوا دونوں میں جزئیت والا تعلق بھی آ چکا ہے۔ جب یہ مملوک اپنی مالکن کا جز ہے تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ جس دن یہ مالکن مرے گی یہ اس کے اس سابقہ خاوند کو جو اس وقت اس کا مملوک ہے، اس کو مالکن کے مرنے پر آزاد ہونا چاہیے کیونکہ جزئیت ہے۔ آپ نے بھی ہمیں کیا بتایا کہ جزئیت کی وجہ سے آزادی مؤخر ہو گئی، موت کے وقت آزادی ثابت ہو گی، تو لہٰذا جب ایک عورت اپنے خاوند کی مالکن بن گئی جس کے ساتھ جزئیت ثابت ہے اولاد ہو چکی ہے، تو لہٰذا یہ تقاضا کرتا ہے کہ دونوں میں چونکہ جزئیت والا تعلق ہے لہٰذا اس عورت کے مرتے ہی اس کے اس مملوک کو بھی آزاد ہونا چاہیے، لیکن کیا وجہ ہے کہ آپ کہتے ہیں یہ مملوک عورت یعنی مالکن کے مرنے پر بھی آزاد نہیں ہو گا؟ ام ولد تو آزاد ہو جاتی ہے جب آقا مرتا ہے، لیکن یہ سابقہ خاوند جو ہے یہ مالکن کے مرنے پر آزاد نہیں ہو رہا اگرچہ یہاں بھی جزئیت والا تعلق موجود ہے۔ تو اس کا جواب دے رہے ہیں کہ بھئی اس جزئیت کے اندر نسب کا اعتبار ہے، اور نسب مردوں کی طرف سے چلتا ہے۔ اس جزئیت میں نسب کا اعتبار ہے اور نسب مردوں کی طرف سے چلتا ہے عورتوں کی طرف سے نہیں۔ لہٰذا مرد کی جزئیت ثابت ہو رہی ہے اپنی باندی میں تو وہاں مرد کی طرف سے معاملہ ہے، لہٰذا یہ باندی جو ہے آقا کے مرنے کے بعد آزاد ہو گی۔ لیکن دوسری طرف وہ جو مالکن ہے اپنے خاوند کی، وہ جو اس کا اب مملوک بن گیا ہے، وہاں وہ تو عورت ہے اور عورت کی طرف سے تو نسب نہیں چلتا، تو جب نسب نہیں چلتا عورت کی طرف سے تو اس عورت کا جز بھی اس عورت کے مرنے پر آزاد نہیں ہو گا۔ فرق سمجھ میں آیا؟ تو کہتے ہیں: ”وَبَقَاءُ الْجُزْئِيَّةِ حُكْمًا“ اور حکم کے اعتبار سے جزئیت کا باقی رہنا ”بِاعْتِبَارِ النَّسَبِ“ یہ نسب کے اعتبار سے ہوتا ہے، ”وَهُوَ مِنْ جَانِبِ الرِّجَالِ“ اور نسب تو مردوں کی جانب سے ہوتا ہے، ”فَكَذَا الْحُرِّيَّةُ تَثْبُتُ فِي حَقِّهِمْ“ تو اسی طرح حریت جو ہے وہ مردوں کے حق میں ثابت ہو گی ”لَا فِي حَقِّهِنَّ“ نہ عورتوں کے حق میں ثابت نہیں ہو گی۔ وہ جزئیت نہیں ثابت تو حریت بھی نہیں ثابت۔ ”حَتَّى إِذَا مَلَكَتِ الْحُرَّةُ زَوْجَهَا“ یہاں تک کہ اگر کوئی آزاد عورت وہ اپنے خاوند کی مالکن بن گئی ”وَقَدْ وَلَدَتْ مِنْهُ“ اور حال یہ ہے کہ یہ مالکن اس خاوند سے بچے کو جنم دے چکی ہے ”لَا يَعْتِقُ بِمَوْتِهَا“ تو یہ خاوند اس مالکن کی موت سے آزاد نہیں ہو گا بھئی۔ ”وَثُبُوتُ عِتْقٍ مُؤَجَّلٍ يُثْبِتُ حَقَّ الْحُرِّيَّةِ فِي الْحَالِ“ بھئی دیکھیے یہ جو ام ولد ہے یہ فی الحال آزاد ہے یا فی الحال آزادی کی مستحق بنی ہے؟ صرف یہ آزادی کی مستحق بنی ہے، مرنے کے بعد اس نے آزاد ہونا ہے۔ تو جب یہ فی الحال آزادی کی مستحق بن گئی تو آزاد لوگوں والے احکام بھی آ جائیں گے، لہٰذا اس کی بیع بھی منع اور ہبہ بھی منع۔ یہ معنی ہے: ”وَثُبُوتُ عِتْقٍ مُؤَجَّلٍ“ اور ثابت ہونا ایسی آزادی کا جو مؤخر ہے، ایسی آزادی کا ثابت ہونا جو مؤخر ہے ”يُثْبِتُ حَقَّ الْحُرِّيَّةِ فِي الْحَالِ“ یہ ثابت کر دے گا آزادی کے حق کو فی الحال ہی۔ ”فَيَمْنَعُ جَوَازَ الْبَيْعِ وَإِخْرَاجَهَا لَا إِلَى الْحُرِّيَّةِ فِي الْحَالِ“ لہٰذا ممنوع ہو گا۔ آخر میں آ رہا ہے: ”فِي الْحَالِ“ اس فی الحال کو ”يَمْنَعُ“ سے جوڑیں: ”فَيَمْنَعُ جَوَازَ الْبَيْعِ وَإِخْرَاجَهَا لَا إِلَى الْحُرِّيَّةِ فِي الْحَالِ“ لہٰذا فی الحال ممنوع ہو گا اس باندی کی بیع کا جائز ہونا ”وَإِخْرَاجَهَا لَا إِلَى الْحُرِّيَّةِ“ اور اس کو نکالنا یعنی اپنی ملکیت سے نکالنا ”لَا إِلَى الْحُرِّيَّةِ“ غیر حریت کی طرف۔ بھئی یہ ام ولد بن گئی، اس کو بیچنا بھی جائز نہیں اور کسی دوسرے کو مالک بنانا بھی جائز نہیں، جب کسی دوسرے کو مالک بنایا جاتا ہے تو مملوک اس شخص کی ملکیت سے نکل جاتا ہے، لہٰذا اس باندی کو بھی اپنی ملکیت سے نکالنا جائز نہیں ”إِلَّا إِلَى الْحُرِّيَّةِ“ سوائے آزادی کی طرف۔ آزادی میں بھی اپنی ملکیت سے نکال دیتا ہے انسان لیکن آزاد کرنا اس کا جائز ہے، آزادی کے علاوہ کسی اور طریقے سے ملکیت سے نکالنا جائز نہیں، یہی بیان کر رہے ہیں۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: ”وَثُبُوتُ عِتْقٍ مُؤَجَّلٍ يُثْبِتُ حَقَّ الْحُرِّيَّةِ فِي الْحَالِ“ اور ایسی آزادی کا ثابت ہونا جو مؤخر ہے یہ ثابت کرتا ہے آزادی کے حق کو فی الحال ہی ”فَيَمْنَعُ جَوَازَ الْبَيْعِ وَإِخْرَاجَهَا لَا إِلَى الْحُرِّيَّةِ فِي الْحَالِ“ لہٰذا یہ فی الحال منع کرتا ہے اس باندی کی بیع کے جائز ہونے کو بھی ”وَإِخْرَاجَهَا لَا إِلَى الْحُرِّيَّةِ“ اور اس کو اپنی ملکیت سے نکالنا غیر آزادی کی طرف، آزادی کے علاوہ کی طرف، اس کو اپنی ملکیت سے نکالنا اس کو بھی یہ منع کرتا ہے۔ اس کو بھی یہ منع کرتا ہے یعنی اس کو آزادی کے علاوہ اپنی ملکیت سے نکالنا بھی ممنوع ہے بھئی۔ ”وَيُوجِبُ عِتْقَهَا بَعْدَ مَوْتِهِ“ اور یہ ثابت کرتا ہے اس کی آزادی کو اس کی موت کے بعد۔ یہ جو یہ جو باندی کے اندر مؤخر آزادی ثابت ہو رہی ہے، یہ باندی کے اندر جو مؤخر آزادی ثابت ہو رہی ہے، یہ جو پیچھے آیا نا: ”وَثُبُوتُ عِتْقٍ مُؤَجَّلٍ“ اور ایسی آزادی جو مؤخر ہے یعنی فی الحال نہیں ہے، تو یہ عتقِ مؤخر کا ثابت ہونا یہ جو ہے ”يُوجِبُ عِتْقَهَا بَعْدَ مَوْتِهِ“ یہ اس کی آزادی کو ثابت کر دیتا ہے اس آقا کی موت کے بعد۔ ”وَكَذَا إِذَا كَانَ بَعْضُهَا مَمْلُوكًا لَهُ“ اور اسی طرح جب اس باندی کا بعض جو ہے وہ اس کا مملوک ہو۔ صورتِ مسئلہ یہ: ایک باندی دو آدمیوں کے درمیان مشترکہ ہے اور آپ نے پڑھا ہے کہ جب ایک باندی کے اندر دو یا زیادہ آدمی شریک ہوں تو کسی ایک کے لیے بھی اس سے صحبت جائز نہیں، لیکن ان دونوں میں سے ایک نے اس کے ساتھ صحبت کر لی اور اس باندی نے بچے کو جنم دیا اور پھر اس وطی کرنے والے نے دعویٰ کر دیا کہ یہ میرا بچہ ہے، تو یاد رکھو اس صورت میں یہ باندی اس کی ام ولد بن جائے گی اور یہ ساری باندی کا مالک بن جائے گا، تو جب یہ اپنے شریک کے حصے کا بھی مالک بن گیا ہے تو اس کو اب ضمان دینا پڑے گا، اس حصے کی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ تو یہی بیان کر رہے ہیں کہتے ہیں: ”وَكَذَا إِذَا كَانَ بَعْضُهَا مَمْلُوكًا لَهُ“ اور اسی طرح ہو گا جب کہ اس باندی کا بعض حصہ جو ہے اس کا مملوک ہو یعنی یہ اس کی ام ولد بن جائے گی، ”لِأَنَّ الِاسْتِيلَادَ لَا يَتَجَزَّأُ“ اس لیے کیونکہ ام ولد بنانا جو ہے اس کی تقسیم نہیں ہو سکتی۔ اس کی تقسیم نہیں ہو سکتی۔ بھئی آپ نے پیچھے پڑھا تھا امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ام ولد میں تقسیم ہو سکتی ہے، اور یہاں صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ ام ولد میں تقسیم نہیں ہو سکتی، تو بظاہر دونوں باتوں میں تعارض نظر آ رہا ہے۔ بھئی پیچھے تفصیل ذکر ہوئی تھی صاحبین کے نزدیک استیلاد میں تدبیر میں تقسیم نہیں ہو سکتی، دو شریکوں میں سے ایک اپنے غلام کو مدبر بنائے گا تو سارا غلام ہی مدبر بن جائے گا، اسی طرح دو شریکوں میں سے ایک اس باندی کو ام ولد بنائے گا تو ساری ہی ام ولد بن جائے گی، کیونکہ صاحبین کے نزدیک استیلاد اور تدبیر میں تقسیم نہیں ہو سکتی، جبکہ امام صاحب کے نزدیک اعتاق کے اندر تقسیم ہو سکتی ہے اور جب اعتاق کے اندر تقسیم ہوتی ہے تو تدبیر اور استیلاد یہ بھی اعتاق کی فرع ہیں کیونکہ انہوں نے بھی بالاخر آزاد ہی ہونا ہے، تو یہ بھی اعتاق کی فرع ہیں تو جب اعتاق کے اندر تقسیم ہو سکتی ہے تو تدبیر اور استیلاد کے اندر بھی امام صاحب کے نزدیک تقسیم ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ اس وقت ہے یہ اس وقت ہے جب اس باندی کے اندر تبدلِ ملک ممکن ہو۔ تبدلِ ملک ممکن ہو، اگر تبدلِ ملک ممکن نہ ہو تو پھر تو پھر استیلاد میں تقسیم ہو گی۔ توجہ ہے؟ دیکھو بات کو اچھی طرح سمجھ لیں۔ ایک باندی دو آدمیوں کے درمیان مشترکہ ہے، ان دونوں میں سے ایک نے اس کو ام ولد بنایا تو صاحبین کے نزدیک ام ولد کی تقسیم نہیں ہو سکتی لہٰذا یہ ساری باندی ام ولد بن گئی اور یہ اسی شریک کی ہو گئی، تو اب اس کو ضمان دینا پڑے گا دوسرے کو۔ جبکہ امام صاحب کے نزدیک جب دو شریکوں میں سے ایک نے اپنے حصے کو ام ولد بنایا ہے ام ولد بنایا ہے تو دوسرا حصہ ابھی عام باندی ہے اور عام باندی تو تبدلِ ملک کو قبول کر لیتی ہے، عام باندی تو تبدلِ ملک کو قبول کر لیتی ہے لہٰذا وہ حصہ جو ہے وہ بھی اس کی طرف منتقل ہو جائے گا۔ استیلاد میں تقسیم آئی تھی لیکن پھر دوسرے کا حصہ بھی اسی کی طرف منتقل ہو گیا اور یہ ساری باندی ام ولد بن گئی اور چونکہ یہ شریک اپنے ساتھی کے بھی حصے کا مالک بن گیا ہے لہٰذا اس کو اب اس حصے کی قیمت دینا پڑے گی، ضمان دینا پڑے گا۔ لیکن یہ اس صورت میں ہے جب تبدلِ ملک باندی میں ممکن ہو، اگر ممکن ہی نہ ہو تو پھر پھر وہاں تقسیم ہی رہے گی۔ مثلاً دیکھو ایک باندی دو آدمیوں کے درمیان مشترکہ ہے دونوں نے اس کو مدبرہ بنا دیا، تو یہ مدبرہ ہے اور آپ نے پڑھا ہے مدبرہ انتقالِ ملک کو قبول نہیں کرتی، اس کو بیچا نہیں جا سکتا، اس کو ہبہ نہیں کیا جا سکتا۔ تو یہ جو مدبرہ ہے اس کو ان شریکوں میں سے ایک نے ام ولد بنا دیا، جب اس ایک نے اس کو ام ولد بنایا ہے تو صاحبین کے نزدیک تو ساری باندی ہی ام ولد بن گئی کیونکہ استیلاد میں تقسیم نہیں ہو سکتی، جبکہ امام صاحب کے نزدیک تو استیلاد میں تقسیم ہو سکتی ہے لہٰذا اس آدمی کا حصہ ام ولد بن گیا۔ اب دوسرے آدمی کے حصے نے بھی اس کی طرف منتقل ہونا ہے لیکن دوسرے آدمی کا حصہ تو مدبرہ ہے، کیا ہے؟ اس کا حصہ بھی پہلے مدبرہ تھا لیکن اب ام ولد بن گیا، تو دوسرے کا حصہ تو مدبرہ ہے اور مدبرات وہ تو انتقالِ ملک کو قبول نہیں کرتی لہٰذا یہاں وہ اس دوسرے کے حصے کا مالک نہیں بنے گا، تو نصف باندی ام ولد رہے گی اور نصف مدبرہ رہے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں جو آیا: ”لِأَنَّ الِاسْتِيلَادَ لَا يَتَجَزَّأُ“ کہ استیلاد جو ہے وہ تقسیم کو قبول نہیں کرتا، یہ اس صورت میں ہے جب اس باندی میں تبدلِ ملک ہو سکے۔ اور اگر وہ مدبرہ ہے تو تبدلِ ملک نہیں ہو سکتا تو پھر استیلاد میں تقسیم آئے گی بھئی امام صاحب کے نزدیک، مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الِاسْتِيلَادَ لَا يَتَجَزَّأُ“ اس لیے کیونکہ ام ولد بنانا جو ہے اس کی تقسیم نہیں ہو سکتی ”فَإِنَّهُ فَرْعُ النَّسَبِ“ اس لیے کیونکہ یہ استیلاد فرع ہے نسب کی۔ یہ استیلاد فرع ہے نسب کی، اور نسب کے اندر تقسیم نہیں ہو سکتی، نسب کی تقسیم نہیں ہو سکتی کیونکہ نسب کی بنیاد ہے حمل ٹھہرنے پر، اور حمل تو ایک ہی آدمی سے ٹھہرے گا، حمل تو کوئی بھی حمل ٹھہرے وہ ایک ہی آدمی کے نطفے سے وہ حمل ٹھہرے گا، تو لہٰذا اس حمل ٹھہرنے میں جب جب حمل ٹھہرنے میں تقسیم نہیں تو اسی کی وجہ سے نسب ثابت ہو گا تو نسب کے اندر بھی تقسیم نہیں ہو سکتی، اور اسی نسب پر بنیاد ہے ام ولد ہونے کی۔ باندی سے جو بچہ ہے اس کا نسب ثابت ہوتا ہے نا تب ہی وہ ام ولد بنتی ہے تو اس ام ولد بنانے کی بنیاد کس پر ہے؟ نسب پر تو یہ نسب کی فرع ہے بھئی، تو جب نسب کے اندر تقسیم نہیں ہو سکتی تو ام ولد کے اندر بھی تقسیم نہیں ہو سکتی۔ یہ معنی ہے: ”لِأَنَّ الِاسْتِيلَادَ لَا يَتَجَزَّأُ“ اس لیے کیونکہ استیلاد جو ہے اس کی تقسیم نہیں ہو سکتی ”فَإِنَّهُ فَرْعُ النَّسَبِ“ اس لیے کیونکہ یہ جو استیلاد ہے یہ نسب کی فرع ہے ”فَيُعْتَبَرُ بِأَصْلِهِ“ تو لہٰذا اس استیلاد کو قیاس کیا جائے گا اپنی اصل پر یعنی نسب پر، اور نسب میں تقسیم نہیں تو استیلاد میں بھی تقسیم نہیں ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: ”قَالَ: وَلَهُ وَطْؤُهَا وَاسْتِخْدَامُهَا وَإِجَارَتُهَا وَتَزْوِيجُهَا“ ”قَالَ“ اس قال سے مراد صاحبِ قدوری ہیں۔ صاحبِ قدوری اب وہ تصرفات بتلا رہے ہیں جو ام ولد میں جائز ہیں۔ ام ولد کو بیچنا یا ہبہ کرنا تو جائز نہیں البتہ باقی تصرفات جائز ہیں۔ آقا اس سے خدمت بھی لے سکتا ہے، آقا اس سے اجارے پر بھی دے سکتا ہے کسی دوسرے کی خدمت بھی کروا سکتا ہے، اور نیز آقا اس کا نکاح بھی کسی اور سے کروا سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں ”قَالَ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَلَهُ وَطْؤُهَا“ اور آقا کے لیے جائز ہے اس ام ولد سے وطی ”وَاسْتِخْدَامُهَا“ اور اس سے خدمت لینا ”وَإِجَارَتُهَا“ اور آقا کے لیے جائز ہے اس باندی کا اجارہ یعنی کسی دوسرے کو خدمت پر دینا ”وَتَزْوِيجُهَا“ اور آقا کے لیے جائز ہے اس کا نکاح کروانا ”لِأَنَّ الْمِلْكَ فِيهَا قَائِمٌ“ اس لیے کیونکہ آقا کی ملکیت اس کے اندر قائم ہے، موجود ہے ”فَأَشْبَهَتِ الْمُدَبَّرَةَ“ تو یہ مدبرہ کے مشابہ ہوئی، اور مدبرہ کے اندر یہ سارے تصرفات جائز ہیں تو ام ولد میں بھی یہ سارے تصرفات جائز ہیں۔ ”وَلَا يَثْبُتُ نَسَبُ وَلَدِهَا إِلَّا أَنْ يَعْتَرِفَ بِهِ“ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ باندی سے جو اولاد ہو وہ خود بخود آقا کی شمار نہیں ہوتی بلکہ آقا کا اقرار اور اعتراف ضروری ہے، وہی ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَلَا يَثْبُتُ نَسَبُ وَلَدِهَا“ اور باندی کی اولاد جو ہے اس کا نسب ثابت نہیں ہوتا ”إِلَّا أَنْ يَعْتَرِفَ بِهِ“ مگر یہ کہ آقا اس کا اعتراف کر لے، ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: يَثْبُتُ نَسَبُهُ مِنْهُ وَإِنْ لَمْ يَدَّعِ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”يَثْبُتُ نَسَبُهُ مِنْهُ“ کہ باندی کے بچے کا نسب آقا سے ثابت ہو جاتا ہے ”وَإِنْ لَمْ يَدَّعِ“ اگرچہ آقا دعویٰ نہ کرے، تو ہمارے نزدیک باندی کے بچے کا نسب آقا کے دعوے کے بغیر ثابت نہیں جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک آقا کے دعوے کے بغیر ہی باندی کے بچے کا نسب آقا سے ثابت ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”يَثْبُتُ نَسَبُهُ مِنْهُ“ کہ باندی کے بچے کا نسب آقا سے ثابت ہو جاتا ہے ”وَإِنْ لَمْ يَدَّعِ“ اگرچہ آقا اس کا دعویٰ نہ کرے ”لِأَنَّهُ لَمَّا ثَبَتَ النَّسَبُ بِالْعَقْدِ“ اس لیے کیونکہ یہ نسب جب عقد یعنی نکاح کے ذریعے ثابت ہو جاتا ہے ”فَلِأَنْ يَثْبُتَ بِالْوَطْءِ“ تو یہ کہ یہ نسب وطی کے ذریعے بھی ثابت ہو جائے، آخر میں آ رہا ہے: ”أَوْلَى“ یہ زیادہ لائق ہے۔ بھئی جب ایک شخص کسی عورت سے نکاح کر لیتا ہے تو اس عورت سے جو بھی اولاد پیدا ہو گی وہ خود بخود خاوند کی شمار ہو گی، تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک ہے عقدِ نکاح اور ایک ہے وطی، جب عقدِ نکاح کے ذریعے نسب خود بخود ثابت ہو جاتا ہے تو وطی جو ہے وہ تو زیادہ اولاد تک پہنچانے والی ہے لہٰذا اس کے ذریعے بطریقِ اولیٰ نسب ثابت ہو گا۔ تو ”فَلِأَنْ يَثْبُتَ بِالْوَطْءِ“ تو یہ کہ نسب وطی کے ذریعے ثابت ہو جائے ”وَأَنَّهُ أَكْثَرُ إِفْضَاءً“ اور حال یہ ہے کہ یہ وطی جو ہے یہ زیادہ پہنچانے والی ہے یعنی اولاد تک، تو ”أَوْلَى“ اس کے ذریعے بطریقِ اولیٰ نسب ثابت ہو گا۔ یہ ذرا عبارت پر غور کیجیے، عبارت دیکھیے: ”فَلِأَنْ يَثْبُتَ بِالْوَطْءِ وَأَنَّهُ أَكْثَرُ إِفْضَاءً“ یہ اس جملے کو ذرا درمیان سے نکال دیں ”وَأَنَّهُ أَكْثَرُ إِفْضَاءً“ اور حال یہ ہے کہ وطی زیادہ پہنچانے والی ہے اولاد تک، اس کو ذرا نکال دیں اور یہ اولیٰ کو پیچھے جوڑ دیں: ”فَلِأَنْ يَثْبُتَ بِالْوَطْءِ أَوْلَى“ تو یہ کہ وطی کے ذریعے نسب ثابت ہو جائے، اولیٰ یہ زیادہ لائق ہے۔ جب نکاح کے ذریعے نسب ثابت ہوتا ہے تو وطی کے ذریعے نسب کا ثابت ہونا بطریقِ اولیٰ ہو گا، کیوں؟ کیونکہ وطی اولاد تک زیادہ پہنچانے والی ہے عقدِ نکاح کے مقابلے میں بھئی۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ لَمَّا ثَبَتَ النَّسَبُ بِالْعَقْدِ“ اس لیے کیونکہ جب عقدِ نکاح کے ذریعے نسب ثابت ہو جاتا ہے ”فَلِأَنْ يَثْبُتَ بِالْوَطْءِ“ تو یہ کہ نسب وطی کے ذریعے ثابت ہو جائے ”وَأَنَّهُ أَكْثَرُ إِفْضَاءً“ اور حال یہ ہے کہ وطی جو ہے اولاد تک زیادہ پہنچانے والی ہے تو یہ کہ نسب وطی کے ذریعے ثابت ہو جائے ”أَوْلَى“ یہ بطریقِ اولیٰ ہو گا۔ ترجمہ سمجھ میں آ گیا۔ آگے دیکھیے: ”وَلَنَا“ اب ہماری دلیل آ گئی۔ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل گزر گئی، وہ فرماتے ہیں کہ باندی سے جو بھی بچہ ہو وہ خود بخود آقا کا شمار ہو گا، ہم کہتے ہیں نہیں آقا کا دعویٰ ضروری ہے۔ اب ہماری دلیل آ گئی: ”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل یہ ہے ”أَنَّ وَطْءَ الْأَمَةِ يُقْصَدُ بِهِ قَضَاءُ الشَّهْوَةِ دُونَ الْوَلَدِ“ ہم کہتے ہیں کہ باندی کے ساتھ جو وطی ہے اس کے ذریعے مقصود اولاد نہیں ہوتی بلکہ صرف قضائے شہوت ہوتی ہے۔ باندی کے ساتھ وطی میں صرف شہوت کو پورا کرنا مقصود ہوتا ہے، اولاد مقصود نہیں ہوتی کیونکہ اولاد کے اندر وہاں مانع موجود ہے۔ وہاں اولاد کے اندر مانع موجود ہے۔ کیا مانع ہے؟ بھئی دیکھیے آپ پڑھ چکے ہیں کہ ایک ہے عام باندی، ایک ہے ام ولد۔ عام باندی کی جو قیمت ہوتی ہے، ام ولد کی قیمت کم ہو جاتی ہے اس کے مقابلے میں صرف ایک تہائی رہ جاتی ہے صاحبین کے نزدیک۔ مثلاً عام باندی تھی تو اس کی قیمت تھی تین سو درہم، تو جب اس کو ام ولد بنائیں گے تو اب اس کی قیمت تین میں سے صرف ایک حصہ رہ جائے گی یعنی صرف سو درہم صاحبین کے نزدیک۔ جبکہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک آپ پڑھ چکے ہیں کہ ام ولد جو ہے وہ غیر متقوم ہے اس کی کوئی قیمت نہیں ہوتی، حتیٰ کہ اگر کوئی غاصب ام ولد کو غصب کر کے لے جائے اور پھر اسی کے پاس وہ ام ولد ہلاک ہو گئی تو غاصب پر کوئی ضمان نہیں آئے گا کیونکہ ام ولد امام صاحب کے نزدیک غیر متقوم ہے بھئی۔ تو لہٰذا معلوم ہوا باندی کے ساتھ جو وطی کی جاتی ہے وہ شہوت کو پورا کرنے کے لیے کی جاتی ہے اولاد کے لیے نہیں، کیونکہ اولاد سے وہاں مانع موجود ہے، اور وہ مانع کیا کہ آقا کی اولاد ہو گی باندی سے تو باندی ہی غیر متقوم ہو جائے گی امام صاحب کے نزدیک، اس کی کوئی قیمت ہی نہیں رہے گی۔ جبکہ صاحبین کے نزدیک بھی تین میں سے صرف ایک حصہ قیمت رہ جائے گی، اگر پہلے تین سو درہم قیمت تھی تو اب صرف سو درہم قیمت رہ جائے گی، اور نیز اس لیے بھی کہ باندی سے جو اولاد ہے اس کو اعلیٰ شمار نہیں کیا جاتا بھئی۔ باندی کی اولاد کو اعلیٰ شمار نہیں کیا جاتا، تو لہٰذا باندی سے اولاد کے اندر مانع موجود ہے۔ اب دیکھیے پھر کتاب پر: ”وَلَنَا: أَنَّ وَطْءَ الْأَمَةِ يُقْصَدُ بِهِ قَضَاءُ الشَّهْوَةِ“ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ باندی کی جو وطی ہوتی ہے اس کے ذریعے قضائے شہوت مقصود ہوتی ہے ”دُونَ الْوَلَدِ“ اولاد نہیں ”لِوُجُودِ الْمَانِعِ عَنْهُ“ اس لیے کیونکہ اولاد سے مانع پایا جا رہا ہے۔ کیا مانع ہے؟ کہ امام صاحب کے نزدیک ام ولد بنے گی تو غیر متقوم ہو جائے گی اور صاحبین کے نزدیک تین میں سے صرف ایک حصہ قیمت رہ جائے گی تو یہ بھی مانع ہیں اور نیز باندی کی اولاد کو عمدہ بھی نہیں سمجھا جاتا تو یہ سب چیزیں مانع ہیں اولاد سے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَلَا بُدَّ مِنَ الدَّعْوَى“ ”فَلَا بُدَّ مِنَ الدَّعْوَةِ“ تو لہٰذا باندی کے اندر دعویٰ ضروری ہے، تو یہاں دعوت کا لفظ آیا بھئی۔ دعوت کا کیا معنیٰ؟ دعویٰ کرنا اور میں نے آپ کو بتلایا کہ بعض علماء فرماتے ہیں کہ نسب کا دعویٰ کیا جائے تو اس کے لیے دِعوت کا لفظ استعمال ہوتا ہے دال کے کسرہ کے ساتھ، تو آپ اس کو دال کے فتحہ کے ساتھ بھی پڑھ سکتے ہیں اور دال کے کسرہ کے ساتھ بھی پڑھ سکتے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَلَا بُدَّ مِنَ الدَّعْوَةِ“ تو لہٰذا باندی کے اندر دعویٰ ضروری ہے۔ باندی سے اولاد ہو تو اس میں دعویٰ ضروری ہے، ”بِمَنْزِلَةِ مِلْكِ الْيَمِينِ مِنْ غَيْرِ وَطْءٍ“۔ مِلکِ یمین بھئی، یعنی باندی مراد ہے جس کے اندر ملکِ یمین ہے بھئی۔ تو دیکھو بھئی ایک وہ باندی ہے جس کے ساتھ آقا صحبت کرتا ہے اور ایک وہ باندی ہے جس سے آقا صحبت نہیں کرتا، تو جس باندی سے آقا صحبت نہیں کرتا اگرچہ وہ اس کی باندی ہے لیکن آقا اس سے صحبت نہیں کرتا اور اس قسم کی باندی جب بچے کو جنم دے تو وہ آقا کا شمار نہیں ہوگا، کیونکہ آقا تو اس سے وطی ہی نہیں کرتا۔ تو ہم کہتے ہیں کہ یہ باندی جس سے آقا وطی کرتا ہے، یہ بھی اسی باندی کی طرح ہے جس سے آقا وطی نہیں کرتا، اور جس سے آقا وطی نہیں کرتا اس سے تو بچہ پیدا ہو تو آقا کا شمار نہیں ہوتا، تو اس سے بھی جو بچہ پیدا ہوگا جس سے آقا وطی کرتا ہے اس سے بھی جو بچہ پیدا ہوگا وہ بھی آقا کا شمار نہیں ہوگا الّا یہ کہ آقا خود اس کا دعویٰ کر دے۔ تو یہ باندی جو موطوءۃ ہے یہ بھی کس کی طرح ہو گئی؟ اس باندی کی طرح جو غیر موطوءۃ ہے۔ دونوں کا حکم ایک ہی ہوگا۔ تو یہ معنیٰ ہے ”بِمَنْزِلَةِ مِلْكِ الْيَمِينِ مِنْ غَيْرِ وَطْءٍ“ تو یہ باندی بھی اس باندی کے، اس ملکِ یمین کے درجے میں ہے جو غیر وطی سے ہے، یعنی جس کے ساتھ آقا وطی نہیں کرتا۔ ”بِخِلَافِ الْعَقْدِ“۔ امام شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے تھے؟ کہ عقدِ نکاح جب اس کے ذریعے نسب ثابت ہو جاتا ہے تو وطی کے ذریعے بطریقِ اولیٰ نسب ثابت ہونا چاہیے۔ تو اب اس کا جواب دے رہے ہیں کہ بھئی عقدِ نکاح کے ذریعے مقصود ہی اولاد ہوتی ہے، لہٰذا وہاں پر خود بخود نسب ثابت ہو جائے گا اور باندی کے ساتھ جو وطی کی جاتی ہے وہاں اولاد مقصود نہیں ہوتی، لہٰذا وہاں خود بخود نسب ثابت نہیں ہوگا۔ ”بِخِلَافِ الْعَقْدِ“ بخلاف عقدِ نکاح کے ”لِأَنَّ الْوَلَدَ يَتَعَيَّنُ مَقْصُودًا مِنْهُ“ اس لیے کیونکہ بچہ جو ہے وہ متعین ہوتا ہے نکاح سے مقصود ہو کر، بچہ ہی مقصود ہوتا ہے نکاح سے، ”فَلَا حَاجَةَ إِلَى الدَّعْوَةِ“ لہٰذا کوئی حاجت نہیں ہے دعویٰ کرنے کی۔ نکاح کے اندر کوئی ضرورت نہیں ہے دعویٰ کرنے کی، کیونکہ نکاح کے اندر مقصود ہی اولاد ہے بھئی۔ تو جو بھی اولاد ہوگی خود بخود اس کا نسب خاوند سے ثابت ہو جائے گا بھئی۔ آگے دیکھیے: ”فَإِنْ جَاءَتْ بَعْدَ ذَلِكَ بِوَلَدٍ ثَبَتَ نَسَبُهُ بِغَيْرِ إِقْرَارٍ“۔ بھئی میں نے آپ کو بتلایا تھا فراش بھئی، فراش۔ یہ جو منکوحہ ہے یہ آدمی کا فراش ہے، خاوند کا فراش ہے۔ فراش کا ویسے معنیٰ تو ہے بچھونا، لیکن یہاں فراش اصطلاحی لفظ ہے۔ فراش کا معنیٰ ہے کسی عورت کا کسی مرد کے بچوں کو جنم دینے کے لیے مختص ہو جانا۔ جب ایک شخص ایک عورت سے نکاح کر لیتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ عورت اب اس مرد کے بچوں کو جنم دے گی۔ تو یہ جو منکوحہ ہوتی ہے یہ خاوند کا فراش ہے۔ اور میں نے بتلایا تھا کہ یہ جو فراش ہے یہ تین قسم پر ہے۔ ایک فراشِ قوی ہے، ایک فراشِ متوسط ہے اور ایک فراشِ ضعیف ہے۔ فراشِ قوی منکوحہ بیوی ہے، یہ فراشِ قوی ہے حتیٰ کہ اس سے جو بھی بچہ پیدا ہوگا خود بخود خاوند کا شمار ہوگا، اور اگر خاوند بچے کی نفی کرنا چاہتا ہے تو ویسے نفی نہیں کر سکتا بلکہ لعان کرنا پڑے گا۔ جبکہ فراشِ ضعیف جو ہے وہ عام باندی ہے۔ عام باندی سے جو بچہ پیدا ہو وہ خود بخود آقا کا شمار ہی نہیں ہوتا جب تک آقا اس کا اعتراف نہ کر لے، اور فراشِ متوسط یہ ام ولد ہے۔ یعنی وہ باندی جس سے ایک دفعہ ایک بچہ ہو چکا ہے اور آقا کہہ چکا ہے کہ یہ میرا بچہ ہے تو یہ ام ولد بن گئی۔ جب یہ ام ولد بن گئی معلوم ہوا آقا اس کے ذریعے بچوں کی پیدائش چاہتا ہے۔ اس باندی کے ذریعے آقا اپنے بچوں کی پیدائش چاہتا ہے، تو یہ آقا کا فراش ہو گئی اور یہ فراشِ متوسط ہے، یعنی یہ منکوحہ کی طرح زیادہ قوی فراش بھی نہیں اور یہ عام باندی کی طرح بہت کمزور فراش بھی نہیں، بلکہ متوسط درجے کا فراش ہے، اور متوسط درجے کا بایں لحاظ ہے کہ اس ام ولد سے جب آگے آئندہ کوئی اور اولاد ہوگی وہ خود بخود آقا کی شمار ہوگی بغیر دعوے کے ہی، لیکن اگر آقا اس اولاد کی نفی کرنا چاہے تو بغیر لعان کے بھی نفی کر سکتا ہے۔ بغیر لعان کے بھی نفی کر سکتا ہے۔ تو فراش کتنی قسم کے؟ تین۔ ایک فراشِ قوی اور وہ منکوحہ بیوی ہے، اور دوسرا فراشِ متوسط اور وہ ام ولد ہے، اور تیسرا فراشِ ضعیف وہ جو عام باندی ہے بھئی۔ اور بیوی کے اندر جو بھی بچہ ہوگا خود بخود خاوند کا شمار ہوگا اور بغیر لعان کے نفی بھی نہیں ہو سکتی۔ جبکہ عام باندی جو ہے وہ فراشِ ضعیف ہے، اس کے اندر جو بچہ ہوگا وہ خود بخود آقا کا شمار ہی نہیں ہوگا، اور جو ام ولد ہے جو پہلے ایک بچے کو جنم دے چکی ہے آقا کے لیے، تو یہ ام ولد فراشِ متوسط ہے۔ اس سے جو اگلا بچہ ہوگا وہ خود بخود آقا ہی کا شمار ہوگا، البتہ اگر آقا اس بچے کی نفی کرنا چاہتا ہے تو بغیر لعان کے بھی نفی کر سکتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اب اسی فراشِ متوسط کو بیان کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ۔ تو کہتے ہیں: ”فَإِنْ جَاءَتْ بَعْدَ ذَلِكَ بِوَلَدٍ“ تو اگر ام ولد جو ہے اس کے بعد ایک اور بچے کو لے آئی، یعنی اس نے ایک اور بچے کو جنم دیا، ”ثَبَتَ نَسَبُهُ بِغَيْرِ إِقْرَارٍ“ تو اس بچے کا نسب آقا کے اقرار کے بغیر ہی آقا سے ثابت ہو جائے گا، ”مَعْنَاهُ“ معنیٰ یہ ہے، یعنی صاحبِ قدوری کے قول کی وضاحت کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ۔ کہتے ہیں ”مَعْنَاهُ: بَعْدَ اعْتِرَافٍ مِنْهُ بِالْوَلَدِ الْأَوَّلِ“ کہ پہلے بچے کا اعتراف آقا کی طرف سے ہونے کے بعد۔ یہ جو باندی ہے، یہ جو ام ولد ہے، اس نے بچے کو جنم دیا، یہ خود بخود آقا کا شمار ہوگا۔ یہ خود بخود آقا کا شمار ہوگا۔ صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں صاحبِ قدوری کے قول کا مطلب یہ ہے کہ جب پہلے بچے کا آقا اعتراف کر چکا ہو، تو پھر یہ دوسرا بچہ خود بخود آقا کا شمار ہوگا۔ یہ معنیٰ ہے ”مَعْنَاهُ“ صاحبِ قدوری کے قول کا معنیٰ یہ ہے ”بَعْدَ اعْتِرَافٍ مِنْهُ بِالْوَلَدِ الْأَوَّلِ“ کہ بعد اس کے کہ جب آقا کی طرف سے پہلے بچے کا اعتراف ہو چکا ہو، ”لِأَنَّهُ بِدَعْوَى الْوَلَدِ الْأَوَّلِ تَعَيَّنَ الْوَلَدُ مَقْصُودًا مِنْهَا“ اس لیے کیونکہ پہلے بچے کے دعوے سے ”تَعَيَّنَ الْوَلَدُ مَقْصُودًا مِنْهَا“ یہ بات متعین ہو گئی کہ اولاد ہی مقصود ہے اس باندی سے۔ جب آقا نے پہلے بچے کا اعتراف کر لیا تھا معلوم ہوا اس باندی سے اولاد مقصود ہے۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ بِدَعْوَى الْوَلَدِ الْأَوَّلِ“ اس لیے کیونکہ پہلے بچے کے دعوے کی وجہ سے ”تَعَيَّنَ الْوَلَدُ مَقْصُودًا مِنْهَا“ یہ بات متعین ہو گئی کہ اولاد ہی مقصود ہے اس باندی سے، ”فَصَارَتْ فِرَاشًا“ تو یہ باندی بھی آقا کا فراش ہو گئی، ”كَالْمَعْقُودَةِ بَعْدَ النِّكَاحِ“ جیسے وہ عورت جس سے عقد کیا گیا ہے وہ فراش بن جاتی ہے ”بَعْدَ النِّكَاحِ“ نکاح کے بعد۔ ”كَالْمَعْقُودَةِ“ جس سے عقد کیا گیا ہے یعنی بیوی مراد ہے، جیسے وہ فراش بن جاتی ہے ”بَعْدَ النِّكَاحِ“ کس کے بعد؟ نکاح کے بعد۔ تو یہ باندی بھی فراش بن گئی۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: ”فَصَارَتْ فِرَاشًا“ تو یہ ام ولد اس آقا کا فراش بن گئی ”كَالْمَعْقُودَةِ بَعْدَ النِّكَاحِ“ جیسے معقودہ بیوی جو ہے یعنی جس سے عقد کیا گیا ہے وہ فراش بن جاتی ہے خاوند کا ”بَعْدَ النِّكَاحِ“ نکاح کے بعد۔ ”إِلَّا أَنَّهُ إِذَا نَفَاهُ يَنْتَفِي بِقَوْلِهِ“ مگر یہ کہ آقا جب اس بچے کی نفی کرے گا تو ”يَنْتَفِي بِقَوْلِهِ“ تو یہ دوسرا بچہ منتفی ہو جائے گا ”بِقَوْلِهِ“ آقا کے قول سے ہی۔ ام ولد نے بچے کو جنم دیا تو یہ خود بخود آقا کا شمار، لیکن اگر آقا نفی کرے گا تو بچہ منتفی ہو جائے گا، اب یہ آقا کا بچہ شمار نہیں ہوگا، اور صرف آقا کے کہنے سے ہی منتفی ہو جائے گا، کسی لعان کی یہاں ضرورت نہیں ہے بھئی۔ یہ معنیٰ ہے ”إِلَّا أَنَّهُ إِذَا نَفَاهُ“ مگر یہ کہ جب آقا اس بچے کی نفی کر دے گا ”يَنْتَفِي بِقَوْلِهِ“ تو یہ بچہ منتفی ہو جائے گا آقا کے قول سے ہی۔ لیکن یہ یاد رکھنا، آپ پڑھ چکے ہیں لعان کے اندر صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ بچے کی اگر نفی کرنی ہے تو ابتدائی دنوں میں نفی کرنا پڑے گی، اور امام صاحب کے نزدیک ابتدائی دن وہ ہیں جن میں بچے کی مبارکبادیں قبول کی جاتی ہیں اور بچے کے لیے چیزیں خریدی جاتی ہیں۔ اگر کوئی شخص بچے کی نفی کرنا چاہتا ہے تو اس ابتدائی دنوں میں نفی کرنا پڑے گی۔ اگر اس کے اندر وہ خاموش رہا تو اس کا مطلب ہے اس نے اقرار کر لیا کہ یہ میرا ہی بچہ ہے، یہ لوگوں سے مبارکبادیں بھی وصول کر رہا ہے، بچے کے لیے چیزیں بھی خرید رہا ہے، معلوم ہوا یہ اعتراف کر چکا ہے یہ میرا بچہ ہے تو اس کے بعد اگر یہ نفی کرے گا پھر نفی نہیں ہو سکتی بھئی۔ جبکہ صاحبین کے نزدیک بھی ابتدائی دنوں میں نفی ضروری ہے، اور صاحبین نے اس کا اندازہ نفاس کی مدت کے ساتھ لگایا ہے کہ مدتِ نفاس کے اندر اندر اگر خاوند یا آقا بچے کے نسب کی نفی کرنا چاہتا ہے تو نفی کر سکتا ہے بھئی۔ تو یہاں پر بھی کہا کہ جب آقا نفی کرے گا تو آقا کے قول سے ہی نفی ہو جائے گی، لیکن یہ ابتدائی دنوں میں ضروری ہے، بعد میں نفی کرے گا تو نفی نہیں ہوگی۔ یہ معنیٰ ہے ”إِلَّا أَنَّهُ إِذَا نَفَاهُ يَنْتَفِي بِقَوْلِهِ“ مگر یہ کہ جب آقا اس بچے کی نفی کرے گا تو بچہ منتفی ہو جائے گا آقا کے کہنے سے ہی، ”لِأَنَّ فِرَاشَهَا ضَعِيفٌ“ اس لیے کیونکہ ام ولد کا فراش ضعیف ہے، یعنی متوسط درجے کا ہے زیادہ قوی نہیں ہے، ”حَتَّى يَمْلِكُ نَقْلَهُ بِالتَّزْوِيجِ“۔ یہاں بھی حتّٰی کے بعد ”يَمْلِكُ“ پڑھیں۔ میں نے آپ کو بتلایا کہ حتّٰی کا مابعد اگر ماقبل کی طرف نسبت کرتے ہوئے مستقبل ہو تو پھر حتّٰی کے بعد ان مقدر ہوگا اور یہ پھر نصب دے گا، ورنہ نصب نہیں دے گا۔ تو کہتے ہیں: ”حَتَّى يَمْلِكُ نَقْلَهُ بِالتَّزْوِيجِ“ یہاں تک کہ آقا مالک ہے کہ اس فراش کو نقل کر دے ”بِالتَّزْوِيجِ“ نکاح کروا کر۔ بھئی ام ولد جو ہے وہ آقا کا فراش بن چکی ہے لیکن آقا اس فراش کو نقل بھی کر سکتا ہے، کسی دوسرے کو بھی دے سکتا ہے، یعنی آقا کسی دوسرے کے ساتھ اس باندی کا نکاح کروا دے۔ جب آقا کسی دوسرے سے نکاح کروا دے گا تو اب یہ باندی اپنے خاوند کا فراش بن گئی، اب آقا کے لیے اس سے صحبت جائز نہیں۔ تو معلوم ہوا ام ولد جو فراشِ متوسط ہے اس کے اندر آقا اس کے فراش کو نقل کر سکتا ہے نکاح کے ذریعے، جبکہ بیوی میں یہ ممکن نہیں ہے۔ خاوند اپنی بیوی کا کسی اور سے نکاح کروا کر اس کے فراش کو منتقل کر دے، ایسا نہیں کر سکتا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں ”حَتَّى يَمْلِكُ نَقْلَهُ بِالتَّزْوِيجِ“ یہاں تک کہ آقا مالک ہے کہ اس کے فراش کو نقل کر دے تزویج کے ذریعے، یعنی نکاح کروا کے، ”بِخِلَافِ الْمَنْكُوحَةِ“ بخلاف منکوحہ کے، یعنی وہ عورت جس سے خاوند نے نکاح کیا ہے۔ تو کہتے ہیں ”بِخِلَافِ الْمَنْكُوحَةِ“ بخلاف منکوحہ کے ”حَيْثُ لَا يَنْتَفِي الْوَلَدُ بِنَفْيِهِ“ کیونکہ یہاں پر یہ جو بچہ ہے یہ منتفی نہیں ہوتا ”بِنَفْيِهِ“ خاوند کی نفی کرنے سے ”إِلَّا بِاللِّعَانِ“ مگر لعان کے ذریعے ہی، ”لِتَأَكُّدِ الْفِرَاشِ“ بوجہ فراش کے پکا ہو جانے کے، کہ یہاں بیوی کا جو فراش ہے وہ پکا ہے مضبوط ہے۔ ”لِتَأَكُّدِ الْفِرَاشِ“ فراش کے پکا ہونے کی وجہ سے ”حَتَّى لَا يَمْلِكُ إِبْطَالَهُ بِالتَّزْوِيجِ“ یہاں تک کہ خاوند مالک نہیں ہے کہ اس فراش کو باطل کر دے ”بِالتَّزْوِيجِ“ نکاح کروا کے۔ یعنی خاوند ایسا نہیں کر سکتا کہ اپنی بیوی کا کسی اور سے نکاح کروا دے اور اپنا فراش باطل کر دے، دوسرے کو اس فراش کا مالک بنا دے، نہیں۔ یہ فراش بڑا پکا ہے، یہ نکاح کے ذریعے بھی منتقل نہیں کیا جا سکتا، جبکہ ام ولد کا فراش متوسط درجے کا ہے اس کو نکاح کے ذریعے منتقل کیا جا سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں ”حَتَّى لَا يَمْلِكُ إِبْطَالَهُ بِالتَّزْوِيجِ“ یہاں تک کہ خاوند مالک نہیں ہے کہ وہ اس فراش کو باطل کر دے نکاح کروا کر۔ ”وَهَذَا الَّذِي ذَكَرْنَاهُ حُكْمٌ“۔ ”وَهَذَا الَّذِي ذَكَرْنَاهُ“ اور یہ جو ہم نے ذکر کیا ”حُكْمٌ“ یہ حکم ہے۔ یہ جو ہم نے ذکر کیا یہ حکم ہے یعنی یہ قضاءِ قاضی ہے، یہ قاضی کا فیصلہ ہے۔ قاضی کے پاس اگر مسئلہ چلا جائے تو پھر باندی کی اولاد آقا کی شمار نہیں ہوگی جب تک آقا نے اعتراف نہ کیا ہو، تو قاضی یہی فیصلہ کرے گا۔ یعنی اب باندی کی اولاد کا نسب خود بخود آقا سے ثابت نہیں ہوگا، یہ ہم نے حکم بتلایا ہے شریعت کا، یعنی قاضی یہ فیصلہ کرے گا۔ باقی دیانۃً یعنی اللہ اور اس بندے کا معاملہ ہے، اگر یہ آقا اس باندی سے صحبت کرتا تھا اور وہ اس کی حفاظت کرتا تھا بیویوں کی طرح، جیسے بیویوں کو غیر سے بچا کر رکھا جاتا ہے اسی طرح یہ اس باندی کو بھی بیویوں کی طرح اس کی حفاظت کرتا تھا اور اسے وطی کرتا تھا اور نیز اس سے صحبت کرتے ہوئے عزل بھی نہیں کرتا تھا۔ عزل کہتے ہیں کہ بیوی کے ساتھ صحبت کی جائے اور جب اخراجِ منی کا وقت آئے تو اس وقت اخراجِ منی خارج میں کر دے تاکہ حمل نہ ٹھہرے۔ تو اگر آقا اس باندی کے ساتھ صحبت بھی کرتا تھا اور بیویوں کی طرح اس کو حفاظت سے بھی رکھتا تھا کہ زنا وغیرہ سے اس کو بچا کر رکھے، اور آقا اس سے صحبت کے وقت عزل بھی نہیں کرتا تھا، تو دیانۃً آقا پر لازم ہے کہ وہ نسب کا اعتراف کرے۔ اس جیسی باندی سے بچہ ہو جائے تو آقا پر دیانۃً لازم ہے یعنی یہ اس کا اور اللہ کا معاملہ ہے، اس کو دعویٰ کرنا چاہیے بھئی، دیانۃً اس پر لازم ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَهَذَا الَّذِي ذَكَرْنَاهُ حُكْمٌ“ اور یہ جو ہم نے ذکر کیا یہ حکم ہے، ”فَأَمَّا الدِّيَانَةُ“ تو باقی دیانۃً جو ہے، یعنی اللہ اور اس بندے کا معاملہ جو ہے ”فَإِنْ كَانَ وَطِئَهَا“ تو اگر آقا اس باندی سے وطی کرتا تھا ”وَحَصَّنَهَا“ اور اس کی حفاظت کرتا تھا، ”حَصَّنَهَا“ صاد کے ساتھ بھئی، حَصَّنَ يُحَصِّنُ تَحْصِیْن کا معنیٰ ہے حفاظت کرنا، جیسے بیوی کی انسان حفاظت کرتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”فَإِنْ كَانَ وَطِئَهَا“ اگر آقا اس باندی سے وطی کرتا تھا ”وَحَصَّنَهَا“ اور اس کی حفاظت کرتا تھا ”وَلَمْ يَعْزِلْ عَنْهَا“ اور اس سے عزل بھی نہیں کرتا تھا، یعنی خارج میں منی کا اخراج نہیں کرتا تھا، ”يَلْزَمُهُ أَنْ يَعْتَرِفَ بِهِ وَيَدَّعِيَهُ“ تو لازم ہے اس آقا پر کہ وہ نسب کا اعتراف کرے ”وَيَدَّعِيَهُ“ اور اس کا دعویٰ کرے، ”لِأَنَّ الظَّاهِرَ أَنَّ الْوَلَدَ مِنْهُ“ اس لیے کیونکہ ظاہر یہی ہے کہ یہ بچہ آقا سے ہی ہے، ”وَإِنْ عَزَلَ عَنْهَا“ اور اگر آقا اس باندی سے عزل کرتا تھا ”أَوْ لَمْ يُحَصِّنْهَا“ یا آقا اس کی حفاظت نہیں کرتا تھا، یعنی کام کاج کے لیے باہر بھیج رہا ہے ہر طرف بھیج رہا ہے، بیوی کی طرح اس کی حفاظت نہیں کرتا تھا، ”جَازَ لَهُ أَنْ يَنْفِيَهُ“ تو اب آقا کے لیے جائز ہے وہ نسب کی نفی کر سکتا ہے، ”لِأَنَّ هَذَا الظَّاهِرَ“ اس لیے کیونکہ یہ جو ظاہر ہے ”يُقَابِلُهُ ظَاهِرٌ آخَرُ“ اس کے مقابلے میں ایک اور ظاہر ہے۔ بھئی پہلے بتایا اگر آقا باندی سے صحبت بھی کرتا ہے اور اس کی حفاظت بھی کرتا ہے اور عزل بھی نہیں کرتا تو اس کو اعتراف کرنا چاہیے کیونکہ ظاہر یہی ہے، ان سب چیزوں سے ظاہر یہی ہے کہ یہ اسی کی اولاد ہے تو آقا کو اعتراف کرنا چاہیے بھئی، دیانۃً اس پر لازم ہے بھئی۔ اور اگر آقا اس باندی کی حفاظت نہیں کرتا تھا یا اس سے عزل کرتا تھا تو پھر آقا اس بچے کے نسب کی نفی کر سکتا ہے، یعنی دیانۃً، دیانۃً وہ بچے کے نسب کی نفی کر سکتا ہے اس لیے کیونکہ یہاں پر یہ ظاہر جو ہے، کون سا ظاہر؟ کہ یہ اس کی باندی کا بچہ ہے لہٰذا اسی کا ہونا چاہیے، اس ظاہر کے مقابلے میں ایک اور ظاہر آ گیا اور وہ کیا ظاہر ہے؟ کہ آقا اس سے عزل کرتا ہے اور آقا اس کی حفاظت نہیں کرتا، تو ایک ظاہر کے مقابلے میں دوسرا ظاہر آ گیا۔ ایک ظاہر کیا؟ کہ یہ بچہ آقا کا ہونا چاہیے کیونکہ یہ اسی کی باندی ہے اور اسی کی مملوک ہے اور آقا اس سے وطی تو کرتا ہے بہرحال، چاہے عزل کرتا ہے لیکن وطی تو کرتا ہے، تو یہ ایک ظاہر ہے، لیکن اس کے مقابلے میں ایک دوسرا ظاہر ہے کہ آقا بے شک وطی کرتا ہے لیکن عزل کرتا ہے اور آقا اس کی حفاظت نہیں کرتا بیوی کی طرح، باہر کام کاج کے لیے بھی اس کو بھیجتا رہتا ہے، تو لہٰذا یہ ظاہر اس پہلے ظاہر کے مقابل ہے۔ ایک ظاہر کیا تقاضا کر رہا ہے؟ یہ بچہ آقا سے ہی ہونا چاہیے، اور دوسرا ظاہر کہ آقا تو عزل کرتا ہے اور اس کی حفاظت نہیں کرتا، تو یہ اس پہلے ظاہر کے مقابلے میں آ گیا، تو لہٰذا یہاں پر آقا کے لیے نسب کی نفی جائز ہے دیانۃً بھئی۔ یہ معنیٰ ہے: ”وَإِنْ عَزَلَ عَنْهَا أَوْ لَمْ يُحَصِّنْهَا“ اور اگر آقا اس باندی سے عزل کرتا ہے یا اس کی حفاظت نہیں کرتا ”جَازَ لَهُ أَنْ يَنْفِيَهُ“ تو آقا کے لیے جائز ہے کہ وہ اس بچے کی نفی کر دے ”لِأَنَّ هَذَا الظَّاهِرَ“ اس لیے کیونکہ یہ جو ظاہر ہے کہ اس کی باندی کا بچہ ہے لہٰذا آقا سے ہی ہونا چاہیے، اس لیے کیونکہ یہ جو ظاہر ہے ”يُقَابِلُهُ ظَاهِرٌ آخَرُ“ اس کے مقابل ایک اور ظاہر بھی ہے، تو یہ بچہ آقا کا ہے یا نہیں؟ اس میں شک آ گیا۔ جب شک آ گیا تو آقا کے لیے نفی جائز ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”هَكَذَا رُوِيَ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ“ رحمہ اللہ، اسی طرح روایت کیا گیا ہے امام صاحب سے۔ امام صاحب سے اسی طرح روایت کیا گیا ہے، یعنی پہلی صورت کے اندر آقا کو دیانۃً اعتراف کرنا چاہیے اور دوسری صورت میں آقا پر اعتراف لازم نہیں وہ نفی کر سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں ”هَكَذَا رُوِيَ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ“ رحمہ اللہ، اسی طرح روایت کیا گیا ہے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے، ”وَفِيهِ رِوَايَتَانِ أُخْرَيَانِ عَنْ أَبِي يُوسُفَ وَعَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ“ اور اس کے اندر دو اور روایتیں بھی ہیں، ایک امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے ہے اور ایک امام محمد رحمہ اللہ سے ہے، اس میں دو اور روایتیں بھی ہیں بھئی۔ ”ذَكَرْنَاهُمَا فِي كِفَايَةِ الْمُنْتَهَى“ ان دونوں روایتوں کو ہم نے کفایۃ المنتہی میں ذکر کیا ہے، ان دونوں کو ہم نے کفایۃ المنتہی میں ذکر کیا ہے بھئی۔ حاشیے میں وہ دو روایتیں بھی دی ہوئی ہیں بھئی۔ وہ دو روایتیں یہ ہیں: امام ابو یوسف رحمہ اللہ روایت فرماتے ہیں کہ جب آقا باندی سے وطی کرتا ہے اور آقا نے استبراء نہیں کروایا، میں نے بتلایا تھا استبراء کا معنیٰ ہے رحم کی صفائی طلب کرنا، یعنی ایک حیض انتظار کرنا تاکہ پتہ چل جائے کہ یہ باندی حاملہ نہیں ہے۔ جب صحبت کے بعد باندی کو حیض آ گیا معلوم ہوا کہ یہ باندی حاملہ نہیں، تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر آقا باندی سے وطی کرتا ہے اور آقا نے باندی سے استبراء نہیں کروایا، یعنی ایک حیض انتظار کیا کہ کہیں یہ حاملہ تو نہیں، تو اگر استبراء نہیں کروایا تو اس صورت میں پھر آقا کو دعویٰ کرنا چاہیے اور اعتراف کرنا چاہیے کہ یہ بچہ میرا ہے کیونکہ آقا نے استبراء نہیں کروایا۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ روایت فرماتے ہیں کہ اگر آقا باندی سے وطی کرتا ہے اور پھر آقا نے استبراء نہیں کروایا ہے تو اس صورت میں باندی نے بچے کو جنم دیا تو آقا پر اس کا اعتراف لازم ہے، چاہے آقا عزل کرتا ہو یا عزل نہ کرتا ہو، چاہے اس کی حفاظت کرتا ہو یا حفاظت نہ کرتا ہو۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ روایت فرماتے ہیں کہ اگر آقا کو یہ یقین نہیں ہے کہ یہ بچہ مجھ سے ہے، تو پھر اس صورت کے اندر آقا اس بچے کو آزاد کر دے۔ آقا کیا کرے؟ بچے کو آزاد کرے، باندی سے نفع اٹھاتا رہے لیکن بچے کو آزاد کر دے کیونکہ احتمال ہے ہو سکتا ہے یہ بچہ اسی آقا سے ہو، تو اس بچے کو مملوک بنا کر نہ رکھے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ معنیٰ ہے: ”وَفِيهِ رِوَايَتَانِ أُخْرَيَانِ عَنْ أَبِي يُوسُفَ وَعَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى“ اور اس کے اندر دو اور روایتیں بھی ہیں امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہما اللہ سے، ”ذَكَرْنَاهُمَا فِي كِفَايَةِ الْمُنْتَهَى“ ان دونوں روایتوں کو ہم نے ذکر کیا ہے کفایۃ المنتہی میں۔ آگے دیکھیے: ”وَإِنْ زَوَّجَهَا فَجَاءَتْ بِوَلَدٍ فَهِيَ فِي حُكْمِ أُمِّهِ“۔ بھئی یاد رکھو، یہ جو بچہ ہے یہ ماں کے تابع ہوتا ہے۔ اگر ماں آزاد تو بچہ بھی آزاد، اور اگر ماں باندی ہے تو بچہ بھی مملوک ہوگا، غلام یا باندی ہوگا۔ تو یہ جو ام ولد ہے اس کا جو بچہ ہے، یاد رکھو ام ولد کا جو بچہ ہے وہ بھی ام ولد کے حکم میں ہے۔ یہ بھی ام ولد کے حکم میں ہے۔ بھئی صورت یہ ہے: آقا کی ایک ام ولد ہے، تو اس ام ولد سے جو بچہ ہوا تھا آقا نے کہا تھا یہ میرا بچہ ہے تو وہ بچہ تو آزاد ہے، لیکن آقا نے پھر اس ام ولد کا کسی دوسرے سے نکاح کروا دیا اور اس خاوند سے اس باندی کی اولاد ہوئی، اس ام ولد کی، تو آپ نے پڑھا ہے کہ یہ بچہ ماں کے حکم میں ہے، یہ ماں آقا کی مملوک ہے تو بچہ بھی آقا کا مملوک ہے۔ اگرچہ اس بچے کا نسب ثابت ہے کیونکہ نکاح سے یہ بچہ پیدا ہوا ہے، یہ اس خاوند کا بچہ ہے، لیکن اس آقا کا مملوک ہے۔ تو یہ جو بچہ ہے یہ ام ولد کے حکم میں ہے، یعنی جیسے ام ولد آقا کے مرنے پر آزاد ہوگی اسی طرح یہ بچہ جو آقا کا مملوک ہے یہ بھی اس آقا کے مرنے پر آزاد ہو جائے گا۔ اور جیسے ام ولد سارے مال میں سے آزاد ہوتی ہے اور اس پر سعی نہیں ہوتی، اسی طرح یہ بچہ بھی سارے مال میں سے آزاد ہوگا اور اس پر کوئی سعی وغیرہ نہیں ہوگی۔ تو کہتے ہیں ”وَإِنْ زَوَّجَهَا“ اور اگر آقا نے ام ولد کا نکاح کروا دیا ”فَجَاءَتْ بِوَلَدٍ“ تو پھر یہ ایک بچے کو لے آئی، یعنی اس نے ایک بچے کو جنم دیا، ”فَهُوَ فِي حُكْمِ أُمِّهِ“ تو یہ بچہ بھی اپنی ماں کے حکم میں ہے، یعنی دونوں آزاد ہوں گے اور سارے مال میں سے آزاد ہوں گے، ”لِأَنَّ حَقَّ الْحُرِّيَّةِ يَسْرِي إِلَى الْوَلَدِ“ اس لیے کیونکہ آزادی کا حق جو ہے وہ سرایت کر جائے گا بچے تک، ”كَالتَّدْبِيرِ“ جیسے کہ تدبیر ہے، اگر ماں مدبرہ ہو تو اس کی اولاد بھی مدبر ہی ہوتی ہے۔ تو کہتے ہیں ”كَالتَّدْبِيرِ“ جیسے کہ تدبیر ہے، ”أَلَا تَرَى“ کیا آپ دیکھتے نہیں ”أَنَّ وَلَدَ الْحُرَّةِ حُرٌّ“ کہ آزاد عورت کا بچہ آزاد ہوتا ہے ”وَوَلَدَ الْقِنَّةِ رَقِيقٌ“ اور باندی کا جو بچہ ہوتا ہے رقیق وہ غلام ہوتا ہے۔ ”وَالنَّسَبُ يَثْبُتُ مِنَ الزَّوْجِ“ اور یہ جو بچہ ہے اس کا نسب خاوند سے ثابت ہو جائے گا، ”لِأَنَّ الْفِرَاشَ لَهُ“ اس لیے کیونکہ یہ فراش اسی کا ہے، یہ باندی اس کی منکوحہ ہے تو بچے کا نسب خاوند سے ثابت ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں ”لِأَنَّ الْفِرَاشَ لَهُ“ اس لیے کیونکہ یہ فراش اسی خاوند کا ہے، ”وَإِنْ كَانَ النِّكَاحُ فَاسِدًا“ اگرچہ نکاح فاسد ہو۔ چاہے آقا نے نکاحِ فاسد ہی کروایا ہو، آپ پڑھ چکے ہیں نکاحِ فاسد اور نکاحِ باطل ایک ہی چیز ہیں، اور نکاحِ فاسد یہ ہے مثلاً گواہوں کے بغیر نکاح کر لیا یا عدت کے اندر ایک عورت سے نکاح کر لیا تو یہ سب کیا ہیں؟ نکاحِ فاسد، اور آپ کو میں نے بتلایا تھا نکاحِ فاسد کا کوئی حکم نہیں، یہ لغو ہے باطل ہے اس کا کوئی اعتبار ہی نہیں ہے۔ ہاں البتہ نکاحِ فاسد میں جب وطی کر لے گا تو اب نکاح کے احکام ثابت ہو جائیں گے۔ اس وطی کی وجہ سے اب اس شخص پر مہر بھی لازم ہو جائے گا اور اس وطی سے اگر کوئی بچہ پیدا ہوا تو اس کا نسب بھی اس آدمی سے ثابت ہو جائے گا، یعنی اس بچے کو ولد الزنا نہیں سمجھا جائے گا بلکہ وہ اس شخص کا بچہ شمار ہوگا، اور نیز وطی کی وجہ سے اب جب آپس میں ایک دوسرے کو چھوڑیں گے تو پھر عورت پر عدت بھی واجب ہوگی۔ تو نکاحِ فاسد کا کوئی حکم نہیں ہوتا مگر جب وطی کر لی جائے تو پھر نکاح کے احکام آ جاتے ہیں۔ تو کہتے ہیں کہ یہ بچے کا نسب ثابت ہو جائے گا خاوند سے ”لِأَنَّ الْفِرَاشَ لَهُ“ اس لیے کیونکہ یہ باندی اس خاوند کا فراش ہے، ”وَإِنْ كَانَ النِّكَاحُ فَاسِدًا“ اگرچہ نکاح فاسد ہو، ”إِذِ الْفَاسِدُ مُلْحَقٌ بِالصَّحِيحِ“ اس لیے کیونکہ نکاحِ فاسد کو بھی ملایا گیا ہے صحیح نکاح کے ساتھ ”فِي حَقِّ الْأَحْكَامِ“ احکام کے حق میں۔ جیسے صحیح نکاح سے نسب ثابت ہوتا ہے، مہر واجب ہوتا ہے اور عورت پر جدائی میں عدت واجب ہوتی ہے تو نکاحِ فاسد میں بھی اسی طرح ہوگا۔ یہ معنیٰ ہے ”إِذِ الْفَاسِدُ مُلْحَقٌ بِالصَّحِيحِ فِي حَقِّ الْأَحْكَامِ“ اس لیے کیونکہ نکاحِ فاسد کو ملایا گیا ہے نکاحِ صحیح کے ساتھ احکام کے حق میں۔ ”وَلَوِ ادَّعَاهُ الْمَوْلَى“ اور اگر اس بچے کا دعویٰ آقا نے کر دیا، آقا کی ام ولد ہے اور آقا نے اس ام ولد کا کسی دوسرے سے نکاح کر دیا، اب اس خاوند سے باندی نے ایک اور بچے کو جنم دیا، تو اس صورت میں یہ بچہ خاوند کا شمار ہوگا کیونکہ یہ باندی خاوند کا فراش ہے، لیکن آقا نے دعویٰ کر دیا یہ میرا بچہ ہے تو پھر اس صورت میں یاد رکھو نسب تو ثابت نہیں ہوگا کیونکہ بچہ پہلے ہی ثابت النسب ہے، ہاں یہ بچہ آقا کا مملوک تھا کیونکہ یہ باندی آقا کی ہے تو یہ بچہ بھی آقا کا ہے، تو جب آقا نے کہا کہ یہ بچہ میرا ہے تو نسب تو ثابت نہیں ہوگا لیکن بچہ آزاد ہو جائے گا۔ بچہ آزاد ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوِ ادَّعَاهُ الْمَوْلَى“ اور اگر آقا نے اس بچے کا دعویٰ کر دیا ”لَا يَثْبُتُ نَسَبُهُ مِنْهُ“ تو اس بچے کا نسب آقا سے ثابت نہیں ہوگا، ”لِأَنَّهُ ثَابِتُ النَّسَبِ مِنْ غَيْرِهِ“ اس لیے کیونکہ وہ بچہ ثابت النسب ہے آقا کے علاوہ سے یعنی خاوند سے، ”وَيَعْتِقُ الْوَلَدُ“ اور وہ بچہ آزاد ہو جائے گا، کیونکہ آقا کا کیا خیال ہے؟ یہ میرا بچہ ہے، لہٰذا اس کے اقرار پر اس کا مؤاخذہ ہوگا بھئی اور یہ بچہ آزاد ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں ”وَيَعْتِقُ الْوَلَدُ“ اور وہ بچہ آزاد ہو جائے گا ”وَتَصِيرُ أُمُّهُ أُمَّ وَلَدٍ لَهُ لِإِقْرَارِهِ“ اور یہ باندی جو ہے آقا کی ام ولد ہو جائے گی ”لِإِقْرَارِهِ“ آقا کے اقرار کرنے کی وجہ سے۔ یہ باندی آقا کی ام ولد بن جائے گی آقا کے اقرار کرنے کی وجہ سے۔ تو اشکال ہوتا ہے کہ ام ولد ہی کی تو بات چل رہی ہے، یہ تو پہلے سے ہی آقا کی ام ولد تھی۔ اس نے پہلے ایک بچے کو جنم دیا تھا اور آقا نے کہا تھا یہ میرا بچہ ہے، تو یہ تو پہلے ہی ام ولد تھی پھر آقا نے اس کا کسی سے نکاح کروایا تھا۔ پھر آقا نے اس کا کسی سے نکاح کروایا تھا، تو یہ کہنا کہ آقا نے جب خاوند کے بچے کا اقرار کیا تو بچہ تو آزاد ہو جائے گا اور یہ باندی تو پہلے ہی آقا کی ام ولد ہے، پھر کیا معنیٰ کہ یہ باندی اس اقرار کی وجہ سے آقا کی ام ولد بن جائے گی؟ توجہ ہے؟ اعتراض سمجھ میں آ رہا ہے؟ تو پھر شارحین جواب دیتے ہیں کہ ”وَلَوِ ادَّعَاهُ الْمَوْلَى“ یہاں الگ صورت بنا لیں۔ آقا نے اپنی ام ولد کا نکاح نہیں کروایا بلکہ عام باندی تھی آقا کی، اس سے آقا کی کوئی اولاد نہیں ہے، اور اس باندی کا آقا نے کسی سے نکاح کروا دیا۔ اب یہ عام باندی ہے آقا کی ام ولد نہیں ہے، اس باندی کا آقا نے کسی سے نکاح کروا دیا اور خاوند سے باندی نے ایک بچے کو جنم دیا، تو یہ بچہ خود بخود اس خاوند کا شمار ہوگا کیونکہ یہ باندی اس کی منکوحہ ہے اس کا فراش ہے، اور پھر آقا نے کہہ دیا یہ بچہ میرا ہے تو نسب تو ثابت نہیں ہوگا البتہ بچہ آزاد ہو جائے گا، اور نسب تو ثابت نہیں ہوگا لیکن یہ باندی اب آقا کی ام ولد بن جائے گی کیونکہ آقا کا یہ گمان ہے کہ یہ میرے بچے کی ماں ہے۔ تو یہ صورت بنا لیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہاں جو آقا دعویٰ کر رہا ہے وہ اپنی ام ولد کے بچے کا دعویٰ نہیں کر رہا بلکہ اپنی عام باندی کے بچے کا دعویٰ کر رہا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو پھر اس صورت میں یہ بات ٹھیک ہو جاتی ہے ”وَتَصِيرُ أُمُّهُ أُمَّ وَلَدٍ لَهُ لِإِقْرَارِهِ“ اور یہ بچے کی جو ماں ہے یہ آقا کی ام ولد بن جائے گی ”لِإِقْرَارِهِ“ آقا کے اقرار کی وجہ سے۔ نسب تو ثابت نہیں لیکن بچہ بھی آزاد اور باندی بھی ام ولد بن گئی۔ آگے دیکھیے بھئی: ”وَإِذَا مَاتَ الْمَوْلَى عَتَقَتْ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ“ اور جب آقا مر جائے تو ام ولد آزاد ہو جاتی ہے سارے مال سے، یعنی ثلث میں سے نہیں آزاد ہوگی مدبر کی طرح بلکہ سارے مال میں سے آزاد ہو جائے گی، یعنی اگر آقا کا سارا مال یہی ام ولد ہے اور کوئی مال ہی نہیں ہے پھر بھی یہ آزاد ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَإِذَا مَاتَ الْمَوْلَى عَتَقَتْ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ﴾، اور جب آقا مر جائے تو یہ ام ولد آزاد ہو جائے گی سارے مال سے، ﴿لِحَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ رَحِمَهُ اللهُ﴾، حضرت سعید ابن المسیب رحمہ اللہ کی حدیث کی وجہ سے۔ حضرت سعید ابن المسیب یاد رکھو یہ جلیل القدر تابعی گزرے ہیں بھئی۔ حضرت سعید ابن المسیب بھی اور اسی طرح سعید ابن جبیر بھی، یہ دونوں جلیل القدر تابعی ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں حضرت سعید ابن المسیب رحمہ اللہ کی حدیث کی وجہ سے: ﴿أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ أَمَرَ بِعِتْقِ أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ﴾، کہ حضور علیہ السلام نے امہاتِ اولاد کی آزادی کا فیصلہ فرمایا۔ "أَمَرَ"، امر کا یہاں معنی حکم دینا نہیں۔ یعنی یہ معنی نہیں ہے کہ حضور نے حکم دیا کہ امہاتِ اولاد کو آزاد کرو، بلکہ حضور نے فیصلہ فرمایا، یعنی شرعی حکم بتلایا سب کو کہ امہاتِ اولاد آزاد ہو جاتی ہیں آقا کے مرنے کے بعد۔ یہ معنی ہے۔ کہ حضرت سعید ابن المسیب رحمہ اللہ کی حدیث کی وجہ سے: ﴿أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ أَمَرَ بِعِتْقِ أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ﴾، کہ حضور علیہ السلام نے فیصلہ فرمایا امہاتِ اولاد کی آزادی کا، ﴿وَأَنْ لَا يُبَعْنَ فِي دَيْنٍ﴾، اور یہ کہ امہاتِ اولاد کو دین کے اندر نہ بیچا جائے، ﴿وَلَا يُجْعَلْنَ مِنَ الثُّلُثِ﴾، اور یہ کہ امہاتِ اولاد کو ثلث میں سے قرار نہ دیا جائے۔ یہاں تک ہے حدیث بھئی۔ تو حضور علیہ السلام نے امہاتِ اولاد کی آزادی کا بھی فیصلہ فرمایا اور یہ کہ ان کو دین کے اندر بھی نہیں بیچا جا سکتا اور ان کو ثلث میں سے بھی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ﴿وَلِأَنَّ الْحَاجَةَ إِلَى الْوَلَدِ أَصْلِيَّةٌ﴾، یہاں سے عقلی دلیل ذکر کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ۔ پہلی نقلی دلیل تھی یعنی حدیث اور دوسری اب عقلی دلیل ہے۔ کہتے ہیں: ﴿وَلِأَنَّ الْحَاجَةَ إِلَى الْوَلَدِ أَصْلِيَّةٌ﴾، اس لیے کیونکہ اولاد کی جو حاجت ہے اصلیۃ، وہ اصلی ہے۔ یاد رکھو انسان کی حاجات دو قسم کی ہیں، کچھ حاجاتِ اصلیہ ہیں اور کچھ حاجاتِ زائدہ ہیں۔ حاجاتِ اصلیہ وہ ہیں کہ ان کے بغیر چارہ ہی نہیں، ان کے بغیر گزارا ہی نہیں۔ جیسے ہر انسان کھانے پینے کا محتاج ہے، تو یہ اس کی حاجاتِ اصلیہ میں سے ہے۔ اسی طرح ہر انسان کپڑے پہننے کا محتاج ہے، تو یہ کپڑے اس کی حاجاتِ اصلیہ میں سے ہیں۔ جبکہ اس کے مقابلے میں کچھ حاجاتِ زائدہ ہیں، زائد حاجتیں۔ زائد حاجتیں یعنی انسان تمام چیزوں میں سہولت چاہتا ہے، زیادہ سے زیادہ اس کے لیے آسانی ہوتی چلی جائے، تو جتنی سہولت والی چیزیں ہیں وہ جمع کرتا چلا جاتا ہے، تو یہ ساری کیا ہیں؟ حاجاتِ زائدہ ہیں، حاجاتِ اصلیہ میں داخل نہیں ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ ایک ہے ابقاءِ نفس کی حاجت اور ایک ہے ابقاءِ نسل کی حاجت۔ ابقاءِ نفس یہ بھی حاجتِ اصلی ہے، ابقاءِ نفس یعنی اپنی ذات کو باقی رکھنا۔ ہر انسان اپنی ذات کو باقی رکھنے کے لیے کھانے پینے کا محتاج ہے، تو یہ کیا ہے؟ ابقاءِ نفس، یہ اس کی حاجتِ اصلیہ ہے۔ اور اسی طرح ہر انسان چاہتا ہے کہ اس کی نسل باقی رہے، اس کی اولاد کا سلسلہ جاری رہے، تو یہ ابقاءِ نسل ہے اور یاد رکھو ابقاءِ نسل بھی حاجاتِ اصلیہ میں سے ہے۔ یہ انسان کی حاجاتِ اصلیہ میں سے ہے۔ تو صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں: ﴿وَلِأَنَّ الْحَاجَةَ إِلَى الْوَلَدِ أَصْلِيَّةٌ﴾، اور اس لیے کیونکہ اولاد کی جو حاجت ہے وہ حاجتِ اصلی ہے، ﴿فَتُقَدَّمُ عَلَى حَقِّ الْوَرَثَةِ وَالدَّيْنِ﴾، لہٰذا اس کو مقدم کیا جائے گا وارثوں کے حق پر اور دین پر، ﴿كَالتَّكْفِينِ﴾، جیسے کہ کفن دفن ہے۔ بھئی دیکھیے، جب کسی شخص کا انتقال ہوتا ہے تو سب سے پہلے وہ کفن دفن کا محتاج ہے وہ مرنے والا، تو یہ اس کی حاجتِ اصلیہ ہے اور حاجتِ اصلیہ کو سب چیزوں پر مقدم کیا جاتا ہے۔ اسی لیے کفن دفن سب پر مقدم ہے، اس کے بعد مرنے والے کے دیون بعد میں ادا کیے جائیں گے اور وصیت اور وارثوں کو مال بھی اس کے بعد دیا جائے گا۔ تو حاجتِ اصلی باقی تمام چیزوں پر مقدم ہوتی ہے، یہاں تک کہ وارثوں کے حق پر بھی مقدم ہوتی ہے اور دین پر بھی مقدم ہوتی ہے۔ تو یہاں پر بھی یہ جو ام ولد ہے، یہ سارے مال میں سے آزاد ہو جائے گی۔ اس کے اندر وارثوں کا حق بھی نہیں ہے اور اس کے اندر قرض خواہوں کا بھی کوئی حق نہیں ہے کیونکہ یہ انسان کی حاجاتِ اصلیہ میں سے ہے۔ اس باندی سے اس کو اولاد حاصل ہو رہی تھی، تو یہ اس کی حاجاتِ اصلیہ میں سے ہے۔ جب یہ حاجاتِ اصلیہ میں سے ہے تو یہ کفن دفن کی طرح مقدم ہوگی، یعنی اس میں وارثوں کا حق بھی نہیں ہوگا اور قرض خواہوں کا بھی اس میں حق نہیں ہوگا، تو یہ سارے مال میں سے آزاد ہوگی بھئی۔ یہ معنی ہے: ﴿وَلِأَنَّ الْحَاجَةَ إِلَى الْوَلَدِ أَصْلِيَّةٌ فَتُقَدَّمُ عَلَى حَقِّ الْوَرَثَةِ وَالدَّيْنِ كَالتَّكْفِينِ﴾، اور اس لیے کیونکہ اولاد کی جو حاجت ہے وہ اصلی ہے، تو لہٰذا یہ مقدم ہوگی وارثوں کے حق پر بھی اور دین پر بھی، جیسے کہ کفن دفن ہے، ﴿بِخِلَافِ التَّدْبِيرِ﴾، بخلاف مدبر بنانا، ﴿لِأَنَّهُ وَصِيَّةٌ﴾، کیونکہ وہ تو وصیت ہے، ﴿بِمَا هُوَ مِنْ زَوَائِدِ الْحَوَائِجِ﴾، "بِمَا هُوَ مِنْ زَوَائِدِ الْحَوَائِجِ"، یہ اضافت ہو رہی ہے صفت کی موصوف کی طرف، حوائجِ زائدہ بھئی۔ حوائج یعنی حاجتیں، ایسی حاجتیں زوائد جو زائد ہیں بھئی۔ تو یہ زوائد صفت ہے حوائج کی اور اس کو پھر موصوف پر مقدم کرکے اس کی طرف اضافت کر دی گئی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿لِأَنَّهُ وَصِيَّةٌ بِمَا هُوَ مِنْ زَوَائِدِ الْحَوَائِجِ﴾، کیونکہ تدبیر جو ہے وہ تو وصیت ہے اس چیز کی جو کہ زائد حاجتوں میں سے ہو۔ وصیت یہ زائد حاجتوں میں سے ہے کیونکہ اس میں غیر کو مال دیا جا رہا ہے، یہ اس میت کی اصل حاجتوں میں سے نہیں ہے۔ لہٰذا تدبیر جو ہے وہ دین سے مؤخر ہوگی بھئی، کیونکہ وہ حاجاتِ زائدہ میں سے ہے۔ یہ معنی ہے: ﴿لِأَنَّهُ وَصِيَّةٌ بِمَا هُوَ مِنْ زَوَائِدِ الْحَوَائِجِ﴾، اس لیے کیونکہ یہ وصیت ہے اس چیز کی جو کہ زائد حاجتوں میں سے ہے۔ آگے دیکھیے: ﴿وَلَا سِعَايَةَ عَلَيْهَا فِي دَيْنِ الْمَوْلَى لِلْغُرَمَاءِ﴾، اور اس ام ولد پر سعی بھی نہیں ہے ﴿فِي دَيْنِ الْمَوْلَى لِلْغُرَمَاءِ﴾ جو آقا کا دین ہے قرض خواہوں کے لیے۔ اگر آقا پر کوئی دین تھا تو اس دین کے اندر بھی ام ولد کے ذمے کوئی سعی نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَلَا سِعَايَةَ عَلَيْهَا فِي دَيْنِ الْمَوْلَى لِلْغُرَمَاءِ﴾، اور اس ام ولد پر سعی بھی نہیں ہے قرض خواہوں کے لیے آقا کے دین میں، ﴿لِمَا رَوَيْنَا﴾، اس حدیث کی وجہ سے جو ہم نے روایت کر دی۔ وہ جو سعید ابن المسیب رحمہ اللہ نے حدیث روایت کی کہ حضور علیہ السلام نے امہاتِ اولاد کی آزادی کا فیصلہ فرمایا اور یہ کہ ان کو بیچا نہ جائے اور نہ ان کو ثلث میں سے قرار دیا جائے۔ تو اس حدیث کے اندر آیا کہ ام ولد کو بیچا بھی نہیں جا سکتا، معلوم ہوا یہ مالِ متقوم نہیں ہے۔ جب یہ مالِ متقوم نہیں ہے تو اس کے اندر قرض خواہوں کا بھی کوئی حق نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿لِمَا رَوَيْنَا﴾، اس حدیث کی وجہ سے جو ہم نے روایت کر دی، ﴿وَلِأَنَّهَا لَيْسَتْ بِمَالٍ مُتَقَوِّمٍ﴾، میری کتاب میں ہے "مُتَقَوَّمٍ" بھئی، واؤ کے اوپر شد کے ساتھ ساتھ زبر بھی ہے، یہ درست نہیں ہے بھئی، یہ لفظ "مُتَقَوِّمٍ" ہے بھئی، مالِ متقوم۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَلِأَنَّهَا لَيْسَتْ بِمَالٍ مُتَقَوِّمٍ﴾، اور اس وجہ سے کہ ام ولد جو ہے وہ مالِ متقوم نہیں ہے، یعنی ایسا مال جس کی قیمت ہو، ام ولد ایسا مال نہیں ہے، ﴿حَتَّى لَا تُضْمَنُ بِالْغَصْبِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ﴾، "حَتَّى لَا تُضْمَنَ"، میری کتاب میں نون پر زبر ہے بھئی، لیکن یہ درست نہیں، یہاں پر بھی "لَا تُضْمَنُ" پڑھیں گے، کیونکہ حتی کا مابعد ماقبل کی طرف نسبت کرتے ہوئے مستقبل نہیں ہے بھئی۔ ﴿حَتَّى لَا تُضْمَنُ بِالْغَصْبِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ﴾، یہاں تک کہ یہ ام ولد جو ہے وہ مضمون نہیں ہوگی غصب کی وجہ سے امام صاحب کے نزدیک۔ بھئی صورت یہ ایک شخص نے کسی دوسرے کی ام ولد کو غصب کر لیا اور یہ ام ولد اسی غاصب کے پاس ہلاک ہو گئی اور آپ نے پڑھا ہے اس صورت میں غاصب پر ضمان آیا کرتا ہے جب وہ چیز، جب وہ غصب شدہ چیز اسی کے پاس ہلاک ہو جائے، لیکن ام ولد تو غیر متقوم ہے، لہٰذا غاصب کے پاس اگر ام ولد ہلاک بھی ہو جائے تو غاصب پر کوئی ضمان نہیں آئے گا۔ یہ معنی ہے کہ ﴿وَلِأَنَّهَا لَيْسَتْ بِمَالٍ مُتَقَوِّمٍ حَتَّى لَا تُضْمَنُ بِالْغَصْبِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ﴾، اس لیے کیونکہ ام ولد جو ہے وہ قیمت والا مال نہیں ہے یہاں تک کہ یہ باندی جو ہے اس کا ضمان بھی نہیں لیا جائے گا غصب کی وجہ سے امام صاحب کے نزدیک، ﴿فَلَا يَتَعَلَّقُ بِهَا حَقُّ الْغُرَمَاءِ﴾، لہٰذا اس ام ولد کے ساتھ قرض خواہوں کا حق بھی متعلق نہیں ہوگا، کیونکہ یہ مالِ متقوم نہیں ہے بھئی۔ اگر کوئی قیمت والی چیز ہوتی تو اس سے قرض خواہوں کا حق متعلق ہوتا کہ اس کے ذریعے قرض خواہوں کا قرض ادا کیا جائے، لیکن یہ تو مالِ متقوم ہی نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: ﴿فَلَا يَتَعَلَّقُ بِهَا حَقُّ الْغُرَمَاءِ﴾، لہٰذا اس ام ولد کے ساتھ قرض خواہوں کا حق بھی متعلق نہیں ہوگا، ﴿كَالْقِصَاصِ﴾، جیسے کہ قصاص ہے۔ قصاص بھی حق ہے، لیکن قصاص مالِ متقوم نہیں ہے۔ لہٰذا قصاص کے ساتھ بھی قرض خواہوں کا حق متعلق نہیں ہوگا۔ صورت یہ، ایک آدمی ہے اس پر بہت سارے قرضے ہیں، اور اسی آدمی نے کسی شخص سے قصاص لینا ہے۔ اس قاتل نے اس آدمی کے بیٹے یا باپ کو قتل کر دیا۔ تو یہ جو مقروض آدمی ہے اس نے اس قاتل سے قصاص لینا ہے اور قصاص کوئی مالِ متقوم نہیں ہے، وہ اس کا حق ہے لیکن مال نہیں۔ ہاں البتہ کبھی کبھار قصاص میں صلح کر لی جاتی ہے اور قصاص کو چھوڑ کر مال لے لیا جاتا ہے۔ توجہ ہے؟ لہٰذا اب یہ شخص جو مقروض ہے جس نے کسی دوسرے سے قصاص بھی وصول کرنا ہے، اس مقروض کا انتقال ہو گیا۔ جب اس مقروض کا انتقال ہو گیا تو اب وہ قرض خواہ آ گئے اور قاتل کے پاس پہنچ گئے کہ بھئی وہ جو مقروض تھا جس نے ہمارے پیسے دینے تھے، اس کا حق تھا آپ پر، آپ سے اس نے قصاص لینا تھا، اب ہمیں اس کے بدلے میں مال دو۔ ہمیں مال دو کیونکہ مرنے والا ہمارا مقروض تھا اور اس کا تمہارے اوپر حق تھا، تو اب تم ادائیگی کرو۔ کہتے ہیں نہیں، قصاص حق تو تھا اس مرنے والے کا لیکن وہ مالِ متقوم نہیں ہے، لہٰذا قاتل سے وہ قرض خواہ مال کا مطالبہ نہیں کر سکتے۔ تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے، یہ جو ام ولد ہے یہ بھی غیر متقوم ہے، لہٰذا اس سے بھی قرض خواہ اپنے حق کا مطالبہ نہیں کر سکتے، اس سے سعی نہیں کروائی جا سکتی۔ تو یہ معنی ہے: ﴿فَلَا يَتَعَلَّقُ بِهَا حَقُّ الْغُرَمَاءِ كَالْقِصَاصِ﴾، تو ام ولد کے ساتھ قرض خواہوں کے حق کا تعلق نہیں ہوگا جیسے کہ قصاص ہے، ﴿بِخِلَافِ الْمُدَبَّرِ﴾، بخلاف مدبر کے، ﴿لِأَنَّهُ مَالٌ مُتَقَوَّمٌ﴾، کیونکہ وہ مالِ متقوم ہے بالاتفاق بھئی۔ لہٰذا اس سے قرض خواہ دین کا مطالبہ کر سکتے ہیں اور پھر وہ سعی کرکے وہ قرض ادا کرے گا بھئی۔ آگے دیکھیے: ﴿وَإِذَا أَسْلَمَتْ أُمُّ وَلَدِ النَّصْرَانِيِّ فَعَلَيْهَا أَنْ تَسْعَى فِي قِيمَتِهَا﴾، بھئی یہ مسئلہ پہلے بھی گزر چکا ہے۔ صورتِ مسئلہ یہ، ایک عیسائی ہے اور اس کی باندی ہے، اس باندی کو اس عیسائی نے ام ولد بنا دیا۔ تو اب یہ عیسائی کی ام ولد ہے۔ پھر یہ ام ولد مسلمان ہو گئی اور کوئی مسلمان باندی کسی کافر کے تحت نہیں رہ سکتی، تو لہٰذا فقہاء فرماتے ہیں کہ یہ جو ام ولد ہے اب یہ سعی کرے گی اور اپنی قیمت لا کر اپنے عیسائی آقا کو ادا کرے گی اور پھر آزاد ہو جائے گی۔ کیونکہ ام ولد مسلمان ہو چکی ہے، اب یہ کافر کے تحت نہیں رہ سکتی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَإِذَا أَسْلَمَتْ أُمُّ وَلَدِ النَّصْرَانِيِّ﴾، اور جب عیسائی کی ام ولد مسلمان ہو گئی، ﴿فَعَلَيْهَا أَنْ تَسْعَى فِي قِيمَتِهَا﴾، تو اس پر واجب ہے کہ وہ سعی کرے گی اپنی قیمت میں۔ اور آپ پڑھ چکے ہیں ام ولد کی قیمت عام باندی کی قیمت کا تیسرا حصہ ہوتی ہے۔ اگر اس باندی کی قیمت تین سو درہم تھی تو ام ولد ہونے کے بعد اب اس کی قیمت صرف سو درہم ہے، تو یہ اپنے سو درہم جو قیمت ہے وہ لا کر اس عیسائی آقا کو دے گی اور آزاد ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ﴿فَعَلَيْهَا أَنْ تَسْعَى فِي قِيمَتِهَا﴾، تو اس ام ولد پر واجب ہے کہ یہ سعی کرے گی اپنی قیمت میں، ﴿وَهِيَ بِمَنْزِلَةِ الْمُكَاتَبَةِ﴾، اور یہ ام ولد جو ہے مکاتبہ کے درجے میں ہے، ﴿لَا تَعْتِقُ حَتَّى تُؤَدِّيَ السِّعَايَةَ﴾، یہ آزاد نہیں ہوگی یہاں تک کہ یہ سعی ادا کر دے، یعنی وہ کمائی لا کر حوالے کر دے پھر آزاد ہوگی۔ ﴿وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللهُ: تَعْتِقُ فِي الْحَالِ وَالسِّعَايَةُ دَيْنٌ عَلَيْهَا﴾، اور امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں تعتق فی الحال کہ یہ فی الحال ہی آزاد ہو جائے گی اور سعی جو ہے وہ اس پر دین ہوگا۔ ہمارے نزدیک تو یہ باندی جو ہے، یہ عیسائی کی جو ام ولد ہے جو مسلمان ہو گئی ہے، یہ مکاتبہ کے درجے میں ہو گئی ہے، ابھی آزاد نہیں، یہ پیسے کما کر لائے گی اور جب ادائیگی کر دے گی پھر آزاد ہوگی۔ جبکہ امام زفر فرماتے ہیں نہیں، یہ فی الحال ہی آزاد ہو گئی، البتہ اب اس کی قیمت اس کے اوپر دین ہے اور یہ کمائی کرے گی اور لا کر وہ دین ادا کرے گی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللهُ: تَعْتِقُ فِي الْحَالِ وَالسِّعَايَةُ دَيْنٌ عَلَيْهَا﴾، اور امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ ام ولد فی الحال ہی آزاد ہو جائے گی اور یہ سعی اب اس کے اوپر دین ہے، ﴿وَهَذَا الْخِلَافُ فِيمَا إِذَا عُرِضَ عَلَى الْمَوْلَى الْإِسْلَامُ فَأَبَى﴾، صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ یہ جو امام زفر کا ہمارے ائمہ سے اختلاف ہے، وہ اس وقت ہے جب آقا پر بھی اسلام کو پیش کیا گیا اور اس نے انکار کر دیا۔ بھئی یاد رکھو ام ولد مسلمان ہو گئی ہے تو آقا پر اسلام کو پیش کیا جائے گا۔ اگر آقا بھی مسلمان ہو جاتا ہے تو یہ اسی کی ام ولد رہے گی، لیکن اگر آقا اسلام لانے سے انکار کر دیتا ہے تو پھر اس صورت کے اندر ہمارا اور امام زفر کا اختلاف ہے۔ امام زفر کے نزدیک یہ باندی فوراً آزاد ہو جائے گی، البتہ اب اس کے اوپر دین ہے، سعی کرے گی اور وہ دین ادا کرے گی۔ جبکہ ہمارے نزدیک یہ ابھی باندی ہی ہے اور یہ مکاتبہ کے درجے میں ہے، یہ جب پوری ادائیگی کر دے گی پھر آزاد ہوگی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَهَذَا الْخِلَافُ فِيمَا إِذَا عُرِضَ عَلَى الْمَوْلَى الْإِسْلَامُ فَأَبَى﴾، اور یہ اختلاف اس صورت میں ہے جب آقا پر اسلام کو پیش کیا گیا فاَبَی تو آقا نے انکار کر دیا، ﴿فَإِنْ أَسْلَمَ تَبْقَى عَلَى حَالِهَا﴾، اگر آقا مسلمان ہو گیا تو یہ ام ولد اپنے حال پر باقی رہے گی، یعنی اسی طرح اس کی ام ولد رہے گی۔ ﴿لَهُ﴾، اب دلیل آ گئی امام زفر کی، ﴿لَهُ﴾ امام زفر رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے: ﴿أَنَّ إِزَالَةَ الذُّلِّ عَنْهَا بَعْدَمَا أَسْلَمَتْ وَاجِبٌ﴾، امام زفر فرماتے ہیں کہ مسلمان باندی کا عیسائی کے تحت رہنا یہ اس کے لیے ذلت کا باعث ہے، لہٰذا اس باندی کو ذلت سے نجات دلانا واجب ہے۔ لہٰذا اس باندی کو یا تو بیچا جائے گا یا آزاد کیا جائے گا اور بیچا تو نہیں جا سکتا کیونکہ یہ ام ولد ہے، تو دوسری صورت آزادی ہی رہ گئی، لہٰذا اس کے آزاد ہونے کا حکم لگایا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ﴿لَهُ أَنَّ إِزَالَةَ الذُّلِّ عَنْهَا بَعْدَمَا أَسْلَمَتْ وَاجِبٌ﴾، امام زفر رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے کہ اس ام ولد سے ذلت کو دور کرنا بعد اس کے کہ جب وہ مسلمان ہو گئی ہے یہ واجب ہے، ﴿وَذَلِكَ بِالْبَيْعِ أَوِ الْإِعْتَاقِ﴾، اور یہ جو ہے بیع کے ذریعے یا اعتاق کے ذریعے ہوگا کہ اس سے ذلت کو دور کیا جائے، ﴿وَقَدْ تَعَذَّرَ الْبَيْعُ فَتَعَيَّنَ الْإِعْتَاقُ﴾، اور بیع تو متعذر ہو گئی ممکن نہ رہی، تو اعتاق متعین ہو گیا۔ ﴿وَلَنَا﴾ اور ہماری دلیل یہ ہے: ﴿أَنَّ النَّظَرَ مِنَ الْجَانِبَيْنِ فِي جَعْلِهَا مُكَاتَبَةً﴾، ہم کہتے ہیں کہ اگر آپ ام ولد کی آزادی کا فیصلہ کریں تو پھر تو یہ آپ نے دونوں کی رعایت نہ رکھی۔ آپ نے تو باندی کی رعایت رکھی، وہ جو عیسائی آقا ہے اس کی آپ نے کوئی رعایت نہیں رکھی۔ حالانکہ یہاں دونوں کی رعایت بھی ہو سکتی ہے، وہ اس طرح کہ اس باندی کو مکاتبہ قرار دے دیا جائے کہ جاؤ جا کر پیسے کما کر لاؤ، آقا کو ادا کرو اور جب تم ادا کر دو گی تو تم آزاد ہو جاؤ گی۔ تو اس میں دونوں کی رعایت ہو گئی۔ باندی مکاتبہ کے درجے میں ہو گئی، جب مکاتبہ کے درجے میں ہو گئی تو آقا کا قبضہ اس پر سے ختم ہو گیا، اب آقا اس سے خدمت وغیرہ نہیں لے سکتا، اور آقا کی بھی رعایت ہو گئی کہ آقا کو اس کا بدل مل جائے گا، اس کے ہاتھ سے باندی مفت میں نہیں نکلے گی بلکہ بدل کے ذریعے نکلے گی، تو یہاں دونوں کی رعایت رکھی جائے گی بھئی۔ ﴿وَلَنَا أَنَّ النَّظَرَ مِنَ الْجَانِبَيْنِ فِي جَعْلِهَا مُكَاتَبَةً﴾، اور ہماری دلیل یہ ہے کہ رعایت جو ہے دونوں جانب سے ہوگی اس باندی کو مکاتبہ قرار دینے میں، ﴿لِأَنَّهُ يَنْدَفِعُ الذُّلُّ عَنْهَا لِصَيْرُورَتِهَا حُرَّةً يَدًا﴾، اس لیے کیونکہ باندی سے بھی ذلت دور ہو جائے گی اس لیے کیونکہ وہ قبضے کے اعتبار سے آزاد ہو گئی، کیونکہ مکاتب قبضے کے اعتبار سے آزاد کی طرح ہوتا ہے، آقا اس سے خدمت وغیرہ نہیں لے سکتا۔ تو کہتے ہیں: ﴿لِأَنَّهُ يَنْدَفِعُ الذُّلُّ عَنْهَا لِصَيْرُورَتِهَا حُرَّةً يَدًا﴾، اس لیے کیونکہ باندی سے بھی ذلت دور ہو جائے گی اس وجہ سے کہ وہ آزاد ہوگی قبضے کے اعتبار سے، ﴿وَالضَّرَرُ عَنِ الذِّمِّيِّ لِانْبِعَاثِهَا عَلَى الْكَسْبِ﴾، اور اسی طرح اس ذمی سے یعنی عیسائی سے نقصان بھی دور ہو جائے گا ﴿لِانْبِعَاثِهَا عَلَى الْكَسْبِ﴾، انبعاث کا معنی ہے یہاں تیار ہونا، انبعث ینبعث انبعاثاً، ثا کے ساتھ ہے۔ ﴿لِانْبِعَاثِهَا عَلَى الْكَسْبِ﴾، بوجہ اس باندی کے تیار ہونے کے کمائی پر۔ ذمی سے بھی نقصان دور ہو گیا کیونکہ یہ باندی کمائی پر تیار ہوگی، کیونکہ اس کمائی کی وجہ سے اس کو آزادی مل رہی ہے۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَالضَّرَرُ عَنِ الذِّمِّيِّ لِانْبِعَاثِهَا عَلَى الْكَسْبِ نَيْلًا لِشَرَفِ الْحُرِّيَّةِ﴾، اور نقصان بھی دور ہو گیا اس ذمی سے بوجہ اس باندی کے تیار ہونے کے کمائی پر آزادی کے شرف کو پانے کے لیے۔ باندی بھی کمائی پر تیار ہوگی آزادی کے شرف کو پانے کے لیے کہ اسے آزادی کا اعزاز مل جائے، ﴿فَيَصِلُ الذِّمِّيُّ إِلَى بَدَلِ مِلْكِهِ﴾، فیصل، وصل یصل کے معنی پہنچنا، ﴿فَيَصِلُ الذِّمِّيُّ إِلَى بَدَلِ مِلْكِهِ﴾، تو ذمی جو ہے وہ اپنی ملکیت کے بدل کو پہنچ جائے گا، یعنی ذمی کو اس کی ملکیت کا بدل مل جائے گا، باندی کی قیمت مل جائے گی۔ تو ﴿فَيَصِلُ الذِّمِّيُّ إِلَى بَدَلِ مِلْكِهِ﴾ تو ذمی جو ہے اپنی ملکیت کے بدل کو پہنچ جائے گا، ﴿أَمَّا لَوْ أُعْتِقَتْ وَهِيَ مُفْلِسَةٌ﴾، باقی اگر اس کو آزاد کر دیا جائے ﴿وَهِيَ مُفْلِسَةٌ﴾ اور حال یہ ہے کہ یہ مفلسہ ہے، اس کے پاس کوئی مال نہیں۔ اگر امام زفر رحمہ اللہ کا قول لیا جائے تو فی الحال ہی اس باندی کو آزاد قرار دینا پڑے گا اور اس وقت تو اس کے پاس مال ہے نہیں، تو اس کو سعی کرکے کمائی کرکے مال ادا کرنا ہے، تو پھر تو یہ کمائی میں سستی کرے گی، کیونکہ آزادی تو اس کو مل چکی ہے۔ آزادی تو اس کو مل چکی ہے تو یہ کہے گی مجھے کیا ضرورت ہے محنت مشقت اٹھا کر پیسے لا کر آقا کو دینے کی، میں تو پہلے ہی آزاد ہو چکی ہوں۔ تو لہٰذا اگر اسی وقت باندی کی آزادی کا فیصلہ کیا جائے تو پھر یہ کمائی میں سستی کرے گی، تو اس میں آقا کا نقصان ہے۔ لہٰذا فی الحال اس کی آزادی کا فیصلہ نہ کیا جائے بلکہ اس کی آزادی مشروط ہوگی ادائیگی کے ساتھ، جب ادائیگی کر دے گی تب آزاد ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ﴿أَمَّا لَوْ أُعْتِقَتْ وَهِيَ مُفْلِسَةٌ فَتَتَوَانَى فِي الْكَسْبِ﴾، اور باقی اگر اس کو آزاد کر دیا گیا ہے اور حال یہ ہے کہ یہ مفلسہ ہے، تو یہ سستی کرے گی کمائی میں۔ ﴿وَمَالِيَّةُ أُمِّ الْوَلَدِ يَعْتَقِدُهَا الذِّمِّيُّ مُتَقَوَّمَةً﴾، اچھا بھئی، یہاں اب اعتراض ہوتا ہے امام صاحب پر، کہ اے امام صاحب آپ کے نزدیک تو ام ولد غیر متقوم ہے، لیکن یہاں اس عیسائی کی ام ولد کے مسئلے میں آپ بھی فرماتے ہیں کہ یہ ام ولد جو ہے یہ سعی کرے گی اور اپنی قیمت کما کر لا کر آقا کو دے گی۔ تو جب ام ولد غیر متقوم ہے تو پھر اس پر سعی کیسے واجب کی جا سکتی ہے؟ تو اس کا جواب دیں گے صاحبِ ہدایہ، دو جواب ذکر کریں گے۔ ایک جواب یہ کہ بھئی اگرچہ ہمارے نزدیک یہ ام ولد غیر متقوم ہے لیکن عیسائی کے نزدیک تو وہ مالِ متقوم ہے، لہٰذا عیسائی کو اسی کے اعتقاد پر چھوڑ دیا جائے گا، اسی کے اعتقاد والا معاملہ اس کے ساتھ کیا جائے گا، اور اس کے خیال میں تو یہ ام ولد متقوم ہے، لہٰذا ام ولد کمائی کرکے قیمت ادا کرے گی اور آزاد ہو جائے گی۔ تو ایک جواب تو یہ دیں گے صاحبِ ہدایہ کہ ام ولد غیر متقوم ہے لیکن عیسائی کے ساتھ اسی کے اعتقاد کا معاملہ کیا جائے گا۔ آگے دوسرا جواب بھی ذکر کریں گے۔ کہتے ہیں: ﴿وَمَالِيَّةُ أُمِّ الْوَلَدِ يَعْتَقِدُهَا الذِّمِّيُّ مُتَقَوَّمَةً﴾، اور ام ولد کی مالیت جو ہے، ذمی کا اعتقاد ہے اس کے بارے میں کہ وہ قیمت والی ہے، ام ولد کی مالیت قیمت والی ہے ذمی کا یہ اعتقاد ہے، ﴿فَيُتْرَكُ وَمَا يَعْتَقِدُهُ﴾، تو ذمی کو چھوڑ دیا جائے گا اور جس کا وہ اعتقاد کرتا ہے، یہ واؤ بمعنی مع کے ہے، ﴿فَيُتْرَكُ وَمَا يَعْتَقِدُهُ﴾ تو اس ذمی کو اس کے اعتقاد کے ساتھ ہی چھوڑ دیا جائے گا، یعنی اس کو اس کے حال پر ہی چھوڑ دیا جائے گا، اس کے اعتقاد کے مطابق اس سے سلوک کیا جائے گا، اور اس کے خیال میں تو ام ولد متقوم ہے تو ام ولد سعی کرے گی اس کے لیے بھئی۔ یہ معنی ہے: ﴿فَيُتْرَكُ وَمَا يَعْتَقِدُهُ﴾، تو اس ذمی کو اس کے اعتقاد کے ساتھ چھوڑ دیا جائے گا۔ ﴿وَلِأَنَّهَا﴾، یہاں سے دوسرا جواب دے رہے ہیں کہ یہ ام ولد کیوں سعی کرے گی۔ تو دوسرا جواب یہ ہے کہ ام ولد اگرچہ غیر متقوم ہے، لیکن یہ حقِ محترم تو ہے۔ بھئی دیکھیے، یاد رکھو آپ جتنی چیزوں کے مالک ہیں وہ سب چیزیں قابلِ احترام ہیں۔ آپ جتنی چیزوں کے مالک ہیں وہ سب چیزیں قابلِ احترام ہیں، کسی کو اجازت نہیں ہے آپ کی کوئی چیز ضائع کرے یا خراب کرے۔ اگر کوئی ضائع کرے گا یا خراب کرے گا تو اس کو ضمان دینا پڑے گا، کیوں؟ کیونکہ اس نے آپ کا مال ضائع کیا ہے۔ تو یہ مال کیا ہے؟ محترم ہے، اس کا احترام ہے، اس کی عزت ہے بھئی۔ تو اسلامی مملکت کے اندر ہر شخص کی جان بھی محفوظ ہے اور اس کا مال بھی محفوظ ہے۔ جیسے جان محترم ہے اسی طرح مال بھی محترم ہے۔ تو یہاں پر بھی ہم کہتے ہیں، یہ جو ام ولد ہے یہ اگرچہ مالِ متقوم تو نہیں لیکن مالِ محترم تو ہے۔ احترام تو اس کا ہے، عیسائی اس کا مالک تو تھا نا، تو محترم تو ہے، تو اس کا محترم ہونا ہی کافی ہے سعی کے لیے، کہ اس پر ضمان کو واجب کیا جائے، مفت میں یہ اس کے ہاتھ سے نہ نکلے بھئی۔ یہ اسی طرح ہے جیسے قصاص بھئی۔ قصاص دیکھو، قصاص کوئی مالِ متقوم نہیں ہے، قصاص ایک حق ہے اور حقِ محترم ہے، وہ اس مقتول کے اولیاء کو دلایا جاتا ہے مملکتِ اسلامیہ کے اندر۔ قصاص کوئی مالِ متقوم نہیں ہے لیکن ایک حقِ محترم ہے، وہ مقتول کے اولیاء کا حق ہے، اس کا احترام ہے، لہٰذا یہ حق ان کو دلایا جاتا ہے اور قاتل کو بھی قصاصاً قتل کیا جاتا ہے۔ لیکن اگر مقتول کے اولیاء میں سے کوئی ایک بھی معاف کر دے تو قصاص ساقط ہو جاتا ہے۔ مثلاً ایک آدمی کو کسی نے قتل کر دیا اور اس آدمی کے پانچ بیٹے ہیں، تو یہ پانچوں جو ہیں یہ مقتول کے یعنی اپنے والد کے اولیاء بن گئے قصاص کے اندر۔ اب یہ پانچوں قصاص لیں گے اس قاتل سے، تو یہ جو قصاص ہے یہ ان پانچ بیٹوں کا حق بن گیا۔ اب ان میں سے ایک بیٹا جو ہے وہ نیک تھا، تبلیغی جماعت سے اس کا تعلق تھا، اس نے قاتل کو اپنا حقِ قصاص معاف کر دیا۔ تو اب جب قصاص ایک بیٹے نے معاف کیا تو قصاص کے اندر تقسیم نہیں ہو سکتی۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ قاتل کو کچھ قتل کر دیا جائے اور کچھ چھوڑ دیا جائے، قتل ہوگا تو پورا ہی قتل ہوگا، چھوڑا جائے گا تو پورا ہی چھوڑا جائے گا۔ تو قصاص میں تقسیم نہیں ہو سکتی، تو جب ایک بیٹے نے بھی اپنا قصاص ساقط کر دیا، معاف کر دیا، تو پھر باقی سب کا قصاص بھی ساقط ہو گیا۔ لیکن یہاں ایک قیمتی بات یاد رکھنا کہ قصاص صرف اس بیٹے کا تو حق نہیں تھا، باقی بیٹوں کا بھی تو حق تھا، لہٰذا باقیوں کے لیے اب وہ قصاص جو ہے وہ مال سے بدل جائے گا۔ قصاص جو تھا وہ ان کا حقِ محترم تھا، لہٰذا حقِ محترم ہونا کافی ہے، لہٰذا اس پر اب مال واجب ہو جائے گا قاتل پر، یعنی دیت آ جائے گی۔ کیا آ جائے گی؟ دیت۔ اس کو قتل تو نہیں کیا جا سکتا لیکن اس پر دیت آ جائے گی۔ اور دیت مثلاً سو اونٹ ہیں، سو اونٹ، تو ہر بیٹے کا حصہ بیس اونٹ بن رہے ہیں، تو ایک بیٹے نے معاف کر دیا تو اس کا حصہ بیس اونٹ تو ساقط ہو گئے، جبکہ باقی بیٹے جو ہیں ان میں سے ہر بیٹے کا حصہ بیس اونٹ ہیں وہ اس قاتل کو ادا کرنے پڑیں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو قصاص دیکھو، وہ کوئی مالِ متقوم نہیں تھا، وہ حقِ محترم تھا، تو اس حقِ محترم کی وجہ سے مال واجب ہو گیا۔ مال واجب ہو گیا۔ تو یہاں پر بھی ام ولد جو ہے وہ مالِ متقوم تو نہیں ہے لیکن محترم تو ہے، تو اس احترام کی وجہ سے بھی وہ عیسائی کی ملکیت سے مفت میں نہیں نکلے گی، کیونکہ یہ اس کا مالِ محترم ہے، لہٰذا اس پر ضمان آ جائے گا، وہ قیمت ادا کرے گی پھر اس کی ملکیت سے نکل جائے گی۔ تو ضمان کے واجب ہونے کے لیے مالِ متقوم کا ہونا ضروری نہیں ہے بلکہ حقِ محترم بھی کافی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَلِأَنَّهَا إِنْ لَمْ يَكُنْ مُتَقَوَّمَةً فَهِيَ مُحْتَرَمَةٌ﴾، اور اس لیے کیونکہ ام ولد کی مالیت اگرچہ متقوم نہیں ہے فھی محترمہ تو یہ محترم ہے، مالِ متقوم تو نہیں ہے لیکن محترم تو ہے، ﴿وَهَذَا يَكْفِي لِوُجُوبِ الضَّمَانِ كَمَا فِي الْقِصَاصِ الْمُشْتَرَكِ إِذَا عَفَا أَحَدُ الْأَوْلِيَاءِ يَجِبُ الْمَالُ لِلْبَاقِينَ﴾، اور یہ احترام کافی ہے ضمان کے واجب ہونے کے لیے، جیسے کہ اس قصاص کے اندر جو مشترک ہو کئی اولیاء کے درمیان، جب ان اولیاء میں سے کوئی ایک معاف کر دے تو باقیوں کے لیے مال واجب ہوگا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ آگے دیکھیے: ﴿وَلَوْ مَاتَ مَوْلَاهَا عَتَقَتْ بِلَا سِعَايَةٍ﴾، یہی ام ولد ہے عیسائی کی، اگر آقا کا انتقال ہو گیا تو پھر یہ بغیر مال کے ہی آزاد ہو جائے گی، کیونکہ ام ولد آقا کے مرنے پر ویسے ہی آزاد ہو جاتی ہے۔ کہتے ہیں: ﴿وَلَوْ مَاتَ مَوْلَاهَا عَتَقَتْ بِلَا سِعَايَةٍ لِأَنَّهَا أُمُّ وَلَدٍ﴾، اور اگر اس ام ولد کا عیسائی آقا مر گیا تو یہ آزاد ہو جائے گی بغیر سعی کے، کیونکہ یہ ام ولد ہے، ﴿وَلَوْ عَجَزَتْ فِي حَيَاتِهِ لَا تُرَدُّ قِنَّةً﴾، صورت یہ بھئی، کہ یہ عیسائی کی ام ولد جو ہے یہ سعی کر رہی ہے اپنی قیمت کے اندر، تو اگر یہ اپنے آقا کی زندگی میں عاجز آ گئی، عاجز آ گئی اپنی قیمت ادا کرنے سے عاجز آ گئی، تو کہتے ہیں اس کو دوبارہ عام باندی نہیں بنایا جا سکتا۔ اس کو دوبارہ عام باندی نہیں بنایا جا سکتا، اس لیے کیونکہ اگر آپ اس کو پھر اس آقا کی طرف لوٹائیں گے عام باندی بنا کر، تو مکاتبہ بنانے کا سبب ابھی بھی موجود ہے اور مکاتبہ بنانے کا سبب کیا تھا؟ ام ولد کا مسلمان ہونا اور آقا کا عیسائی ہونا، وہ سبب تو ابھی بھی موجود ہے، تو لہٰذا اگر آپ اس کو عام باندی بنا کر پھر آقا کی طرف لوٹائیں گے تو وہ سبب موجود ہے تو یہ دوبارہ مکاتبہ بن جائے گی بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ لہٰذا اس کو عام باندی بنا کر دوبارہ آقا کی طرف نہیں لوٹایا جا سکتا اگرچہ یہ کمائی سے عاجز ہی کیوں نہ آ جائے۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَلَوْ عَجَزَتْ فِي حَيَاتِهِ لَا تُرَدُّ قِنَّةً﴾، اور اگر یہ ام ولد کمائی سے عاجز آ گئی آقا کی زندگی میں تو اس کو عام باندی بنا کر لوٹایا نہیں جائے گا، ﴿لِأَنَّهَا لَوْ رُدَّتْ قِنَّةً أُعِيدَتْ مُكَاتَبَةً لِقِيَامِ الْمُوجِبِ﴾، اس لیے کیونکہ اگر اس کو عام باندی بنا کر لوٹایا جائے تو پھر اس کو لوٹایا جائے گا مکاتبہ بنا کر، اس لیے کیونکہ وہ موجب موجود ہے، وہ سبب، وہ جو کتابت کا سبب تھا وہ موجود ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔