آگے سبق دیکھیے بھئی۔ فَصْلٌ: وَعَلَى الزَّوْجِ أَنْ يُسْكِنَهَا فِي دَارٍ مُفْرَدَةٍ لَيْسَ فِيهَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِهِ إِلَّا أَنْ تَخْتَارَ ذَلِكَ؛ لِأَنَّ السُّكْنَى مِنْ كِفَايَتِهَا فَيَجِبُ لَهَا كَالنَّفَقَةِ، وَقَدْ أَوْجَبَهُ اللَّهُ تَعَالَى مَقْرُونًا بِالنَّفَقَةِ، وَإِذَا وَجَبَ حَقًّا لَهَا لَيْسَ لَهُ أَنْ يُشْرِكَ غَيْرَهَا فِيهِ؛ لِأَنَّهَا تَتَضَرَّرُ بِهِ۔ اچھا بھئی! گزشتہ سبق میں صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ اگر خاوند اور بیوی میں جدائی ہو جائے تو پھر اس صورت میں لڑکے میں سات سال کی عمر تک اور لڑکی میں نو سال کی عمر تک یہ والدہ زیادہ زیادہ حق دار ہے بچے کی پرورش کی۔ اب یہ ماں بچے کو لے کر کسی دوسری بستی میں یا دوسرے شہر میں منتقل ہونا چاہتی ہے یا اس کا سفر کرنا چاہتی ہے تو کیا اس کو اس بات کی اجازت ہوگی؟ تو صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ اس کے لیے دو شرطیں ہیں۔ ایک تو یہ کہ جس بستی یا شہر کی طرف وہ جانا چاہتی ہے وہ اس کا وطن ہو۔ اور نیز اس خاوند کے ساتھ اس کی شادی بھی اسی جگہ پر ہو تو پھر اس کو وہاں پر جانے کی اجازت ہے بھئی۔ اور کہتے ہیں یہ ساری تفصیل اس وقت ہے جب بستیوں کے درمیان فاصلہ اور بُعد زیادہ ہو، اور اگر بستیوں کے درمیان فاصلہ اور بُعد کم ہے یعنی ایک وہ بستی جس میں وہ رہ رہی ہے اور ایک وہ بستی جس کی طرف وہ منتقل ہونا چاہتی ہے اگر یہ دونوں قریب قریب ہیں کہ وہ جو بچے کا باپ ہے وہ ایک ہی دن میں وہاں جا کر واپس رات تک اپنے گھر آ سکتا ہے تو پھر اس میں کوئی حرج نہیں ہے بھئی۔ البتہ اگر بچے کو لے کر وہ بستی سے شہر منتقل ہونا چاہتی ہے وہ تو ٹھیک ہے، اس کی اجازت ہوگی کیونکہ شہر میں تعلیم کے مواقع زیادہ ہوتے ہیں اور لہٰذا بچہ شہر والوں کے اخلاق سیکھے گا۔ لیکن اگر وہ شہر سے گاؤں میں منتقل ہونا چاہتی ہے تو گاؤں کے لوگوں پر تو جہالت کا غلبہ ہوتا ہے تو بچے کو گاؤں لے کر جائے گی تو بچہ گاؤں والوں کے، دیہات والوں کے اخلاق سیکھے گا اور اس میں بچے کا نقصان ہے لہٰذا اس کی اجازت نہیں ہوگی بھئی۔ اس کے بعد نفقات کے بارے میں ہم نے پڑھنا شروع کیا تھا کہ خاوند پر بیوی کا نفقہ واجب ہوتا ہے چاہے بیوی مسلمان ہو چاہے مسلمان نہ ہو بھئی، اور نیز اس کے اندر دونوں کی حالت معتبر ہے امام خصاف رحمہ اللہ کے قول کے مطابق بھئی، اور انہی کے قول پر فتویٰ بھی ہے۔ یعنی خاوند اور بیوی دونوں کی حالت کا اعتبار کیا جائے گا۔ یعنی اگر دونوں خوش حال ہیں تو خاوند پر خوش حالوں والا یعنی مال داروں والا نفقہ واجب ہوگا، اور اگر میاں اور بیوی دونوں تنگ دست ہیں تو خاوند پر تنگ دستوں والا نفقہ ہوگا، اور اگر دونوں میں سے ایک مال دار ہے اور ایک تنگ دست ہے تو پھر خاوند پر متوسط درجے کا نفقہ ہوگا۔ جبکہ امام کرخی اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس میں صرف خاوند کی حالت معتبر ہے کیونکہ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: {لِيُنْفِقْ ذُو سَعَةٍ مِنْ سَعَتِهِ} کہ چاہیے کہ گنجائش والا اپنی گنجائش میں سے خرچ کرے، تو اس میں دیکھو صرف خاوند کا ذکر ہے معلوم ہوا خاوند کی حالت معتبر ہے۔ جبکہ ہماری دلیل ایک تو وہ آیت ہے: {وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ} کہ بچے کے باپ پر ان عورتوں کا یعنی ان بچوں کی ماؤں کا رزق بھی ہے اور ان کے کپڑے بھی ہیں بالمعروف متوسط طریقے سے، اور متوسط یہی ہے کہ دونوں کی حالت کی رعایت رکھی جائے، تو اس آیت سے معلوم ہوا کہ دونوں کی حالت کی رعایت رکھی جائے گی۔ اور نیز ہماری دلیل حدیث بھی ہے کہ ہند رضی اللہ تعالیٰ عنہا جو بیوی تھیں حضرت ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی، وہ حضور علیہ السلام کے پاس تشریف لائیں اور شکایت کی۔ میں نے بتایا حضرت ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ مکہ کے سرداروں میں سے تھے، مال دار آدمی تھے لیکن ہاتھ ان کا کچھ تنگ تھا یعنی خرچے کے اندر ہاتھ وہ تنگ رکھتے تھے، تو ہند رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضور علیہ السلام سے شکایت فرمائی کہ وہ ہمیں گزارے کے بقدر خرچہ نہیں دیتے۔ تو حضور علیہ السلام نے ان سے فرمایا: ”خُذِي مِنْ مَالِ زَوْجِكِ مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ“ کہ خاوند کے مال میں سے خود لے لیا کرو جو تمہارے اور تمہارے بچے کے لیے کافی ہو بالمعروف اچھے طریقے سے۔ معلوم ہوا کہ اگر خاوند جو ہے گنجائش کے باوجود بیوی کو ضرورت کے بقدر خرچہ نہیں دیتا تو بیوی خود بھی اس کے مال میں سے بقدرِ ضرورت لے سکتی ہے، لیکن یہ فضول خرچی کے لیے نہیں ہونا چاہیے، رسموں کے لیے نہیں ہونا چاہیے، صرف ضرورت کے بقدر لینے کی اجازت ہوگی، اس سے زیادہ لینے کی اجازت نہیں ہوگی بھئی۔ تو دیکھو اس حدیث میں حضور علیہ السلام فرما رہے ہیں: ”مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ“ کہ جو تیرے اور تیرے بچے کے لیے کافی ہو، معلوم ہوا عورت کی حالت کا بھی اعتبار کیا جائے گا بھئی۔ اور باقی اس آیت کا ہم نے جواب دیا تھا کہ {لِيُنْفِقْ ذُو سَعَةٍ مِنْ سَعَتِهِ} کہ اس کے اندر خاوند کو یہ کہا گیا ہے، مثلاً خاوند اگر تنگ دست ہے اور بیوی مال دار ہے اور خاوند پر متوسط درجے کا نفقہ آگیا لیکن خاوند تو تنگ دست ہے وہ متوسط درجے کا نفقہ بھی نہیں لا سکتا تو اس کو کہا گیا کہ اس کے پاس جتنی گنجائش ہے وہ خرچ کرتا رہے اور باقی اس کے ذمے دین ہوگا بھئی۔ اس کے بعد پھر صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ اگر عورت اپنا مہر وصول کرنے کے لیے اپنے آپ کو خاوند کے سپرد نہیں کرتی تو یہ ناشزہ نہیں ہے، اس صورت میں بھی اس کو نفقہ ملے گا۔ اور اگر عورت خاوند کی اجازت کے بغیر اس کے گھر سے نکل گئی تو پھر اس صورت میں احتباس فوت ہو گیا۔ احتباس فوت ہو گیا، جب احتباس فوت ہو گیا کیونکہ عورت پر تو واجب تھا کہ اپنے آپ کو خاوند کے لیے گھر میں روک کر رکھے، تو وہ احتباس جب فوت ہو گیا تو اب عورت کو نفقہ نہیں ملے گا۔ لیکن جب عورت واپس آ جائے گی تو پھر احتباس آ جائے گا تو پھر خاوند کے ذمے نفقہ آ جائے گا بھئی۔ اور اگر صغیرہ ہے جس سے صحبت نہیں کی جا سکتی تو پھر اس کا نفقہ بھی خاوند پر نہیں ہوگا چاہے خاوند کے گھر رہے چاہے اپنے ماں باپ کے گھر رہے۔ اور اگر خاوند صغیر ہے، مانع خاوند کی طرف سے ہے اور بیوی جو ہے بالغہ ہے تو اس صورت میں مانع خاوند کی طرف سے ہے لہٰذا اس پر نفقہ آئے گا بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ اگر کسی عورت کو دین کی وجہ سے جیل میں ڈال دیا گیا، قید کر دیا گیا تو اس صورت میں اس کے لیے نفقہ نہیں ہوگا کیونکہ احتباس فوت ہو گیا ہے۔ اور یہی حکم ہے مغصوبہ عورت کا بھی کہ جس کو کوئی شخص زبردستی چھین کر لے گیا تو اس کے لیے بھی نفقہ نہیں ہوگا بھئی۔ اسی طرح مسئلہ ہے اگر کوئی عورت اپنے محرم کے ساتھ حج کے لیے گئی اپنے خاوند کے بجائے کسی اور محرم کے ساتھ حج کے لیے گئی تو اس صورت میں بھی چونکہ احتباس فوت ہو رہا ہے تو لہٰذا خاوند پر نفقہ نہیں ہوگا۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کے لیے نفقہ ہوگا اس لیے کیونکہ یہ اپنا فرض حج ادا کر رہی ہے اور فرض قائم کرنا یہ عذر ہے، تو فرض کی وجہ سے جو احتباس فوت بھی ہو رہا ہے اس کو ایسے ہی سمجھیں گے جیسے لا فوت ہے یعنی جیسے احتباس فوت ہوا ہی نہیں۔ تو یہ فوت بھی لا فوت ہی کی طرح ہے تو لہٰذا اس صورت میں عورت کو وہ نفقہ ملے گا امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں بھئی۔ ہاں البتہ وہ فرماتے ہیں کہ اقامت والا نفقہ ملے گا سفر والا نہیں کیونکہ اقامت والا نفقہ خاوند پر واجب ہوا ہے بھئی۔ اور اگر خاوند خود اس کے ساتھ حج کے سفر پر جا رہا ہے تو اس صورت میں پھر احتباس موجود ہے کیونکہ خاوند خود ساتھ موجود ہے تو لہٰذا اس صورت میں نفقہ ملے گا۔ البتہ نفقہ اقامت والا ہی ملے گا سفر والا نہیں اور نیز خاوند پر کرایہ وغیرہ بھی واجب نہیں ہوگا بھئی، کیونکہ خاوند پر صرف نفقہ ہے کرایہ نہیں ہے۔ ہاں اگر وہ خرچ کرتا ہے وہ اس کی اپنی مرضی ہے وہ خرچ کر سکتا ہے بھئی۔ اور اگر کوئی عورت بیمار ہے، مریضہ ہے اور اتنی بیمار ہے کہ اس کے ساتھ خاوند صحبت نہیں کر سکتا تو کیا اس کو نفقہ ملے گا یا نہیں؟ تو بتلایا کہ اس کو نفقہ ملے گا۔ قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ اس کو نفقہ نہیں ملنا چاہیے کیونکہ احتباس فوت ہو گیا، خاوند اس کے ساتھ صحبت نہیں کر سکتا لیکن استحساناً جو ہے اس کے لیے نفقہ ہوگا کیونکہ احتباس ابھی بھی موجود ہے۔ کیونکہ خاوند اگرچہ اس کے ساتھ صحبت تو نہیں کر سکتا لیکن اس سے باتیں کر سکتا ہے، انس حاصل کر سکتا ہے اور نیز اس کو چھو سکتا ہے اور نیز یہ گھر کی بھی حفاظت کرے گی تو لہٰذا احتباس موجود ہے لہٰذا اس کو نفقہ ملے گا۔ اور پھر دوسری روایت ذکر فرمائی امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے کہ وہ فرماتے ہیں کہ اگر عورت نے اپنے آپ کو خاوند کے سپرد کیا تو اس وقت وہ صحیح سلامت تھی اور بعد میں ایسی بیمار ہوئی ہے گھر کے اندر تو پھر خاوند کو نفقہ دینا پڑے گا کیونکہ جب اس نے اپنے آپ کو سپرد کیا تھا تو وہ تندرست تھی، لیکن اگر رخصتی کے وقت ہی وہ عورت اس حال میں آئی ہے کہ خاوند اس کے ساتھ صحبت نہیں کر سکتا تو پھر تو سپرد کرنا ہی نہ پایا گیا صحیح طور پر لہٰذا خاوند پر نفقہ بھی واجب نہیں ہوگا اور کہتے ہیں فقہاء نے اس تفصیل کو پسند فرمایا ہے بھئی۔ اور پھر بتلایا کہ خاوند اگر خوش حال ہو تو اس پر بیوی کے خادم کا نفقہ بھی واجب ہوگا بھئی، اور صرف ایک ہی خادم کا نفقہ خاوند پر واجب کیا جائے گا بھئی، اور وہ نفقہ جو ہے وہ ہے جو ادنیٰ کفایت ہے یعنی وہ جو تنگ دست خاوند پر بیوی کا نفقہ واجب ہوتا ہے اتنا ہی نفقہ خاوند پر اس عورت کے خادم کے لیے بھی واجب ہوگا بھئی۔ اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ اگر کوئی شخص جو ہے وہ اپنی بیوی کا نفقہ ادا کرنے سے بھی عاجز آگیا تو عند الاحناف ان دونوں میں جدائی نہیں کروائی جائے گی۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس صورت میں جب خاوند نفقہ بھی نہیں دے سکتا تو پھر دونوں میں جدائی کروا دی جائے گی جیسے مجبوب اور عنین کے مسئلے میں قاضی جدائی کرواتا تھا، تو یہاں پر تو اس سے بھی بڑھ کر یہ تفریق اور جدائی کے لائق ہے کیونکہ وطی کے بغیر تو انسان گزارا کر سکتا ہے لیکن نفقے کے بغیر تو گزارا نہیں کر سکتا لہٰذا یہ اس سے بھی بڑھ کر تفریق کا مستحق ہو چکا لہٰذا قاضی جدائی کروا دے گا۔ جبکہ ہم کہتے ہیں کہ اگر قاضی جدائی کروائے گا تو خاوند کا حق باطل ہو جائے گا مکمل طور پر، اور اگر قاضی اس عورت کا نفقہ مقرر کر دے گا اور اسے قرض لینے کا حکم دے گا کہ تو قرض لیتی رہ، تو جب قاضی نے نفقہ مقرر کر دیا اب تو چاہے قرض لے یا نہ لے لیکن اب اس کا نفقہ خاوند کے ذمے دین بنتا جا رہا ہے تو بعد میں وہ اکٹھا بھی وصول کر سکتی ہے، لہٰذا لہٰذا عورت کا حق صرف مؤخر ہو رہا ہے یہاں پر۔ اگر تفریق کروائی جائے تو خاوند کا حق بالکل باطل ہو جائے گا کیونکہ جدائی آگئی اب خاوند اس سے صحبت نہیں کر سکتا، لیکن اگر قاضی اس کا نفقہ مقرر کر دے اور اسے قرض لینے کا حکم دے دے تو اس صورت میں زیادہ سے زیادہ عورت کا حق مؤخر ہو رہا ہے کہ بعد میں جا کر یہ سارا کچھ وصول کر سکے گی بھئی۔ تو لہٰذا اس کے اندر عورت کا حق باطل نہیں بلکہ صرف مؤخر ہو رہا ہے، تو ضرر تو دونوں صورتوں میں ہے لیکن خاوند کا ضرر زیادہ ہے بھئی، لہٰذا اس صورت کو اختیار نہیں کیا جائے گا بلکہ اس صورت کو اختیار کیا جائے گا کہ قاضی عورت کا نفقہ مقرر کر دے گا اور اسے قرض لینے کا حکم دے دے گا، اس میں زیادہ سے زیادہ عورت کا حق مؤخر ہوا ہے اس کا حق باطل نہیں لہٰذا اس میں نقصان کم ہے تو لہٰذا اس کو اختیار کیا جائے گا۔ اور پھر امام شافعی رحمہ اللہ کے قیاس کا جواب بھی دیا تھا، امام شافعی رحمہ اللہ نے اس نفقہ نہ دینے والے خاوند کو قیاس کیا تھا مجبوب اور عنین پر، ہم کہتے ہیں کہ نکاح کے اندر مال تابع ہوتا ہے اور اصل مقصود جو ہے وہ افزائشِ نسل ہے اولاد کا حاصل کرنا ہے تو لہٰذا آپ مال کے مسئلے کو جو تابع ہے اس کو مجبوب اور عنین کے مسئلے پر قیاس نہیں کر سکتے کیونکہ مجبوب اور عنین کے مسئلے میں اصل مقصودِ نکاح کے اندر خلل آ رہا تھا اور یہاں پر جو خاوند نفقہ نہیں دے سکتا یہاں صرف وہ مال ادا نہیں کر رہا اور مال تو نکاح کے اندر تابع ہوتا ہے نکاح میں اصل مقصود نہیں ہوتا، تو غیرِ مقصود کو آپ مقصود پر قیاس نہیں کر سکتے بھئی۔ اور پھر بتلایا تھا کہ قاضی جو عورت کو قرض لینے کا حکم دے گا اس کا فائدہ یہ ہے کہ عورت قرض وصول کرتی رہے گی اور قرض جو ہے خاوند کے حوالے کرتی رہے گی یعنی ادائیگی خاوند کو کرنا پڑے گی بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ اگر کچھ مدت گزر گئی، چند مہینے گزر گئے اور خاوند نفقہ نہیں دے رہا بیوی کو بعد میں بیوی قاضی کے پاس چلی گئی تو کیا گزشتہ ایام کا نفقہ بھی اس کو دلایا جائے گا؟ کہتے ہیں نہیں بھئی گزشتہ ایام کا نفقہ عورت کو نہیں دلایا جائے گا کیونکہ نفقہ جو ہے وہ صلہ ہے، احسان ہے، وہ خاوند کے ذمے کوئی دین نہیں ہے، وہ عوض نہیں ہے بھئی۔ ہاں البتہ دو صورتوں میں گزشتہ ایام کا نفقہ بھی قاضی عورت کو دلوائے گا۔ ایک صورت یہ ہے کہ قاضی مقرر کر دے اس کے لیے نفقہ۔ جب قاضی نے مقرر کر دیا اب اس کے بعد اگر کچھ مہینے گزر گئے اور خاوند نے نفقہ ادا نہیں کیا تو وہ خاوند کے ذمے دین ہوتا جا رہا ہے لہٰذا وہ قاضی اس عورت کو دلوائے گا، اس کا فیصلہ کرے گا۔ یا اسی طرح اگر خاوند اور بیوی دونوں نے مل کر آپس میں صلح کر لی، اسی نفقے کے مسئلے پر دونوں میں جھگڑا تھا اور پھر بالآخر خاوند نے کہا کہ میں اتنا نفقہ میں تمہیں دیتا رہوں گا بھئی، اب جب خاوند نے خود مان لیا ہے کہ میں اتنا نفقہ دیا کروں گا تو اب یہ نفقہ بھی خاوند کے ذمے دین ہے۔ یہ نفقہ بھی خاوند کے ذمے دین ہے اس لیے کیونکہ خاوند کو اپنی ذات پر قاضی سے بھی بڑھ کر ولایت حاصل ہے۔ مثلاً قاضی نے اس عورت کے لیے پانچ سو روپے روزانہ کا نفقہ مقرر کیا تو خاوند کو اختیار ہے وہ پانچ سو کے بجائے کہے میں ہر روز تمہیں ہزار روپیہ نفقے کے طور پر دیا کروں گا، تو قاضی کو تو اختیار ہے صرف متوسط درجے تک نفقہ لازم کرنے کا جبکہ خاوند تو اپنے اوپر اس سے بھی بڑھ کر نفقے کو لازم کر سکتا ہے بھئی۔ اور نیز نیز قاضی کے پاس جو مقدمہ جائے گا اسی کے بارے میں فیصلہ کرے گا، مثلاً یہ بیوی مقدمہ لے کر گئی ہے تو قاضی بیوی کا نفقہ اس شخص پر لازم کر دے گا لیکن زید، عمر یا بکر وغیرہ کے کوئی پیسے قاضی اس پر لازم نہیں کر سکتا جب تک مقدمہ نہیں جائے گا، جبکہ یہ خود آدمی اس کو اپنے اوپر ولایت حاصل ہے یہ زید کے لیے بھی اپنے اوپر پیسے لازم کر سکتا ہے کہ میں نے زید کا ایک لاکھ روپیہ ادا کرنا ہے تو یہ اب اس پر لازم ہو گیا اس کو ادا کرنا پڑے گا، ورنہ زید اس کو قاضی کے پاس لے جا کر یہ پیسے وصول کر سکتا ہے۔ تو معلوم ہوا کسی شخص کو اپنی ذات پر قاضی سے بھی بڑھ کر ولایت حاصل ہوتی ہے، اسے وہ تمام اختیارات حاصل ہوتے ہیں جو قاضی کو بھی حاصل نہیں اپنی ذات کے بارے میں، تو جب قاضی کے فیصلے سے اس خاوند پر نفقہ لازم ہو گیا تھا تو یہ اپنے بارے میں خود جب اس نے متعین کر دیا کہ وہ اتنا نفقہ دے گا تو یہ بھی اب اس پر لازم ہے اس کو ادا کرنا پڑے گا، حتیٰ کہ اگر یہ متعین کرنے کے بعد اگر کچھ مدت تک اس نے ادا نہ کیا تو قاضی وہ بھی عورت کو دلوائے گا، بات سمجھ میں آگئی۔ اور پھر اس کے بعد بتلایا تھا کہ اگر خاوند نے کچھ مہینوں کا نفقہ ادا نہیں کیا، قاضی نے مقرر کر دیا تھا اور خاوند نے کچھ مدت تک پھر بھی ادا نہیں کیا تو یہ سارا خاوند کے ذمے دین ہے، لیکن اگر خاوند یا بیوی میں سے کسی ایک کا انتقال ہو گیا تو اس صورت میں یہ ساقط ہو جائے گا کیونکہ نفقے کے اندر صلے والا معنیٰ ہے، یہ عطیہ ہے، یہ احسان ہے، یہ تبرع ہے، یہ خاوند اپنی طرف سے دے رہا ہے، یہ عوض نہیں ہے بھئی۔ اور صلہ جو ہے اس پر قبضہ کیا جائے گا تو تب وہ پکا ہوگا، جب تک اس پر قبضہ نہیں وہ پکا بھی نہیں، تو یہاں قبضے سے پہلے ہی خاوند کا انتقال ہو گیا یا بیوی کا انتقال ہو گیا تو یہ ساقط ہو جائے گا بھئی۔ اور اگر خاوند نے بیوی کو ایک سال کا پیشگی نفقہ دے دیا یعنی آنے والے پورے سال کا نفقہ ابھی سے اس کو دے دیا اور پھر چند دن کے بعد خاوند کا انتقال ہوا یا بیوی کا انتقال ہوا، اس نفقے کی مستحق تو عورت احتباس کی وجہ سے ہوتی ہے اور احتباس تو پایا ہی نہیں گیا کیونکہ خود خاوند کا انتقال ہو گیا ہے یا بیوی کا انتقال ہو گیا ہے تو کیا یہ جو باقی نفقہ عورت کے پاس ہے یہ واپس لیا جائے گا یا نہیں؟ تو شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں نہیں، یہ صلہ ہے اور صلہ کے اندر جب قبضہ شامل ہو جائے اور پھر دونوں میں سے وہ صلہ دینے والا یا لینے والا ان میں سے کسی کا انتقال ہو جائے تو اس کا حکم اپنی انتہا کو پہنچ جاتا ہے یعنی حکم ختم ہوا اب وہاں رجوع کی کوئی صورت نہیں۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا ہبہ کے اندر رجوع کیا جا سکتا ہے۔ ہبہ پکا کب ہوگا؟ جب دوسرا شخص جس کو تحفہ دیا گیا ہے وہ اس پر قبضہ کر لے، تو وہ قبضہ کر لیتا ہے وہ پکا ہو جائے گا۔ البتہ اس کے اندر ہبہ دینے والا رجوع کر سکتا ہے لیکن جس کو ہبہ دیا ہے اس کی بھی مرضی ضروری ہے، تو اگر دونوں کی مرضی ہے تو اس سے پھر ہبہ واپس لے سکتا ہے اور اگر وہ ہبہ واپس نہیں کر رہا تو پھر وہ قاضی کے پاس جائے گا اور پھر قاضی اس کو وہ چیز دلوا دے گا۔ لیکن یہاں پر تو دونوں میں سے خاوند یا بیوی میں سے ایک کا انتقال ہو چکا ہے لہٰذا جو صلہ کے طور پر ایک سال کا پیشگی نفقہ دیا تھا اب وہ واپس نہیں لیا جا سکتا۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں یہاں یہ جو زائد نفقہ ہے یہ واپس لیا جائے گا۔ جتنے دن گزر گئے تھے خاوند کی زندگی میں ان دنوں کا حساب لگایا جائے گا اور جو باقی ایام کا نفقہ ہے وہ عورت سے واپس لے کر خاوند کے مالِ وراثت میں شامل کیا جائے گا۔ اور امام محمد رحمہ اللہ سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ اگر عورت نے مہینے یا مہینے سے کم کے نفقے پر قبضہ کیا یعنی خاوند نے ایک مہینے کا یا چند دنوں کا نفقہ پہلے سے ہی پیشگی دے دیا عورت کو تو پھر اس صورت میں یہ نفقہ واپس نہیں لیا جائے گا کیونکہ یہ تھوڑا سا ہے بھئی، تو یہ حال کے حکم میں ہی ہو جائے گا۔ کس کے حکم میں؟ حال کے حکم میں ہی ہو جائے گا، یعنی جیسے فی الحال کا نفقہ خاوند پر واجب ہوتا ہے مثلاً آج کا نفقہ ہے وہ خاوند پر واجب ہے وہ اس کو ادا کرنا پڑے گا، اگلا دن آئے گا تو وہ خاوند پر واجب ہوگا خاوند کو ادا کرنا پڑے گا، تو جیسے فی الحال کا نفقہ جو ہے خاوند پر واجب ہو جاتا ہے اس کو دینا پڑتا ہے تو یہ بھی جو ایک مہینے کا پیشگی نفقہ خاوند نے دیا تھا یہ بھی تھوڑا سا ہے بھئی تو اس کو بھی فی الحال والا ہی حکم دے دیں گے یعنی گویا یہ خاوند پر واجب ہو چکا تھا، یہ خاوند پر واجب ہو چکا تھا اور اس نے واجب کی ادائیگی کی ہے لہٰذا اس میں لہٰذا یہ عورت سے واپس نہیں لیا جائے گا۔ تو یہ معنیٰ ہے کہ ”لِأَنَّهُ يَسِيرٌ فَصَارَ فِي حُكْمِ الْحَالِ“ اس لیے کیونکہ یہ نفقہ تھوڑا سا ہے تو یہ حال کے حکم میں ہی ہے۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ اگر غلام نے کسی آزاد عورت سے نکاح کیا تو اس عورت کا نفقہ غلام پر آئے گا تو یہ نفقہ خاوند پر دین ہوگا اور اس دین کے اندر اس غلام کو بیچا جائے گا۔ یا تو اس کا آقا ادا کرے نفقہ یا اس غلام کو بیچا جائے گا اور نفقہ ادا کریں گے اور باقی مال اگر کچھ بچ گیا تو وہ آقا کو واپس کر دیں گے بھئی، کیونکہ یہ دین جو ہے آقا کے حق میں بھی ظاہر ہے، اس کی اجازت سے غلام نے نکاح کیا تھا لہٰذا آقا کو ہی ادا کرنا پڑے گا۔ اگر ادا نہیں کرے گا تو اسی آقا کے اس غلام کو پکڑ کر بیچ دیں گے، دیکھا یہ غلام بھی تو اسی آقا کا ہے بھئی تو اسی کے مال سے ادائیگی ہوگی بھئی۔ اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ اگر کوئی شخص باندی کے ساتھ نکاح کر لیتا ہے تو کیا باندی کا نفقہ خاوند پر ہوگا؟ کہتے ہیں اگر آقا نے اس باندی سے خدمت لینا چھوڑ دی اور اس کو خاوند کے ساتھ الگ گھر میں رہنے کی اجازت دے دی تو پھر تو احتباس پایا گیا لہٰذا خاوند پر نفقہ ہوگا۔ لیکن اگر آقا نے خدمت لینا نہیں چھوڑی تو پھر اس صورت میں احتباس نہیں ہے تو لہٰذا خاوند پر نفقہ بھی نہیں ہوگا۔ بات سمجھ میں آگئی۔ اب آئیے آج کے سبق پر: {فَصْلٌ: وَعَلَى الزَّوْجِ أَنْ يُسْكِنَهَا فِي دَارٍ مُفْرَدَةٍ لَيْسَ فِيهَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِهِ إِلَّا أَنْ تَخْتَارَ ذَلِكَ} بھئی نفقے کی بات گزر گئی، اب رہائش کی بات بیان فرمائیں گے صاحبِ ہدایہ۔ خاوند کے ذمے بیوی کا نفقہ بھی ہے اور اس کی رہائش بھی ہے بھئی، تو اب وہ بیان کر رہے ہیں۔ صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ خاوند پر بیوی کا یہ حق ہے کہ اس کو ایک الگ گھر میں ٹھہرائے۔ عورت مطالبہ کر سکتی ہے کہ میں کسی کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی، مجھے الگ گھر لے کر دو۔ تو اگر خاوند کے پاس گنجائش ہے تو اس کو الگ گھر لے کر دینا پڑے گا۔ تو کہتے ہیں: {وَعَلَى الزَّوْجِ أَنْ يُسْكِنَهَا فِي دَارٍ مُفْرَدَةٍ} اور خاوند پر بیوی کا یہ حق ہے {أَنْ يُسْكِنَهَا فِي دَارٍ مُفْرَدَةٍ} کہ وہ اس بیوی کو ٹھہرائے {فِي دَارٍ مُفْرَدَةٍ} الگ گھر میں، {لَيْسَ فِيهَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِهِ} جس میں خاوند کے گھر والوں میں سے، رشتہ داروں میں سے کوئی بھی نہ ہو بھئی، {إِلَّا أَنْ تَخْتَارَ ذَلِكَ} مگر یہ کہ عورت اس کو اختیار کر لے۔ اگر عورت اور رشتہ داروں کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہنا قبول کر لے تو پھر تو وہ خود اپنا حق ساقط کر رہی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: {إِلَّا أَنْ تَخْتَارَ ذَلِكَ} مگر یہ کہ عورت خود اس کو اختیار کر لے کہ وہ غیروں کے ساتھ رہے گی۔ {لِأَنَّ السُّكْنَى مِنْ كِفَايَتِهَا} اس لیے کیونکہ یہ جو رہائش ہے {مِنْ كِفَايَتِهَا} یہ عورت کی کفایت میں سے ہے۔ خاوند کے ذمے لازم ہے عورت کی کفایت کرنا یعنی وہ چیزیں مہیا کرنا جس سے اس کی کفایت ہو جائے، جو اس کے لیے کافی ہو جائیں، اور رہائش بھی اس کی کفایت میں سے ہے لہٰذا یہ دینا بھی خاوند کے ذمے ہے۔ تو کہتے ہیں: {لِأَنَّ السُّكْنَى مِنْ كِفَايَتِهَا} اس لیے کیونکہ یہ جو رہائش ہے یہ عورت کی کفایت میں سے ہے، {فَيَجِبُ لَهَا كَالنَّفَقَةِ} تو یہ رہائش بھی واجب ہوگی اس عورت کے لیے {كَالنَّفَقَةِ} جیسے کہ نفقہ واجب ہے۔ {وَقَدْ أَوْجَبَهُ اللَّهُ تَعَالَى مَقْرُونًا بِالنَّفَقَةِ} اور تحقیق یہ رہائش اس کو اللہ نے واجب فرمایا ہے {مَقْرُونًا بِالنَّفَقَةِ} نفقہ کے ساتھ جوڑ کر، نفقہ کے ساتھ ملا کر۔ اللہ تعالیٰ نے نفقے کے ساتھ رہائش کو جوڑ کر بیان فرمایا ہے۔ علماء فرماتے ہیں اس کے ذریعے صاحبِ ہدایہ کا اشارہ ہے حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قرات کی طرف۔ کس کی طرف اشارہ ہے؟ حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قرات ہے بھئی۔ آپ تو بھئی قرآن میں پڑھتے ہیں، سورۂ طلاق کے اندر اللہ فرماتے ہیں: {أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِنْ وُجْدِكُمْ}، {أَسْكِنُوهُنَّ} کہ ان عورتوں کو ٹھہراؤ {مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ} جہاں تم خود ٹھہرو {مِنْ وُجْدِكُمْ}، وجد کہتے ہیں طاقت بھئی، طاقت اور گنجائش اور مال داری کو بھئی، {مِنْ وُجْدِكُمْ} اپنی گنجائش کے بقدر، اپنی طاقت کے بقدر۔ تو یہ قرآن کے اندر تو اس طرح ہے بھئی: {أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِنْ وُجْدِكُمْ} کہ ان عورتوں کو بھی وہیں ٹھہراؤ جہاں تم ٹھہرو {مِنْ وُجْدِكُمْ} اپنی حیثیت کے مطابق، اپنی گنجائش کے مطابق بھئی۔ جبکہ حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قرات ہے بھئی، ان کی قرات میں یہ {مِنْ وُجْدِكُمْ} سے پہلے {وَأَنْفِقُوا عَلَيْهِنَّ}، تو ان کے نزدیک یہ آیت اس طرح ہے: {أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ وَأَنْفِقُوا عَلَيْهِنَّ مِنْ وُجْدِكُمْ} کہ ان کو ان عورتوں کو بھی وہیں ٹھہراؤ جہاں تم ٹھہرو، {وَأَنْفِقُوا عَلَيْهِنَّ مِنْ وُجْدِكُمْ} اور تم ان پر خرچ کرو {مِنْ وُجْدِكُمْ} اپنی مال داری میں سے، اپنی گنجائش میں سے بھئی۔ تو تو یہاں پر دیکھو نفقے کے ساتھ ساتھ اللہ نے رہائش کو ذکر فرمایا ہے۔ نفقے کے ساتھ رہائش کو ملا کر اللہ نے ذکر فرمایا ہے۔ قرآن کے اندر تو نفقے کے ساتھ رہائش کا حکم نہیں ہے۔ رہائش کا حکم الگ ہے اور نفقے کا حکم الگ ہے۔ نفقے کی تفصیل پیچھے گزر گئی کہ {وَلْيُنْفِقْ ذُو سَعَةٍ مِنْ سَعَتِهِ} اور اسی طرح دوسری جگہ ہے {وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ} تو وہاں تو نفقے کا ذکر الگ ہے اور {أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِنْ وُجْدِكُمْ} یہ الگ ہے، لیکن حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قرات میں یہ دونوں چیزیں اکٹھی ہیں بھئی۔ تو صاحبِ ہدایہ اسی کی طرف اشارہ فرما رہے ہیں۔ کہتے ہیں: {وَقَدْ أَوْجَبَهُ اللَّهُ تَعَالَى} اور تحقیق اس رہائش کو اللہ نے واجب فرمایا ہے {مَقْرُونًا بِالنَّفَقَةِ} نفقے کے ساتھ ملا کر۔ تو یہ حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قرات ہے، اس کی طرف اشارہ ہے۔ جبکہ قراتِ متواترہ کے اندر یہ {وَأَنْفِقُوا عَلَيْهِنَّ} کا لفظ یہاں پر نہیں ہے۔ البتہ بعض علماء فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قرات اس کے لیے بیان بن سکتی ہے۔ کیا بن سکتی ہے؟ بیان بن سکتی ہے۔ وجہ یہ کہ اللہ فرما رہے ہیں ان عورتوں کو ٹھہراؤ جہاں تم خود ٹھہرتے ہو {مِنْ وُجْدِكُمْ} اپنی حیثیت کے مطابق، اپنی یعنی مال داری کے مطابق یعنی اپنی ملکیت میں سے۔ مراد کیا ہے؟ اپنی ملکیت میں سے۔ اور حالانکہ انسان جہاں رہتا ہے وہ ہمیشہ اس کی اپنی ملکیت ہونا ضروری نہیں۔ ہو سکتا ہے اس کا اپنا گھر ہو، ہو سکتا ہے وہ کرائے پر گھر لے کر اس میں رہ رہا ہو۔ لہٰذا خاوند کے لیے ممکن ہے کہ وہ بیوی کو ایسے گھر میں ٹھہرائے جس کا وہ مالک نہیں ہے، کرائے پر رہتا ہے، تو وہاں خود رہتا ہے تو بیوی کو بھی وہاں ٹھہرائے۔ لیکن نفقہ جو دینا پڑتا ہے وہ تو اپنی ملکیت سے ہی دینا پڑتا ہے، وہ تو غیرِ ملک سے نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا یہاں تقدیرِ عبارت وہی ہے جو حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قرات میں ہے کہ {أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ} کہ ان عورتوں کو بھی ٹھہراؤ جہاں تم ٹھہرو {وَأَنْفِقُوا عَلَيْهِنَّ مِنْ وُجْدِكُمْ} اور ان کو اپنی ملکیت میں سے کھلاؤ۔ تو اس عام قرات سے بھی معلوم ہوا بعض علماء کے نزدیک وہی معنیٰ مفہوم ہو رہا ہے جو حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قرات سے مفہوم ہو رہا ہے۔ تو یہ {مِنْ وُجْدِكُمْ} یہ {أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ} کے لیے قید نہیں ہے بلکہ {أَنْفِقُوا} کے لیے قید ہے کیونکہ رہائش میں اپنی ملکیت ہونا ضروری نہیں لیکن نفقے میں اپنی ملکیت ہونا ضروری ہے، تو وہ علماء فرماتے ہیں کہ قرآن کے اندر اس میں بھی تقدیرِ کلام اسی طرح ہے جو حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قرات میں ہے بھئی۔ اور یہاں پر دیکھو نفقے کے ساتھ ساتھ رہائش کا بھی ذکر ہے، دونوں کو اللہ نے ملا کر ذکر فرمایا ہے، تو اس کی طرف اشارہ ہے۔ کہتے ہیں: {وَقَدْ أَوْجَبَهُ اللَّهُ تَعَالَى مَقْرُونًا بِالنَّفَقَةِ} اور تحقیق یہ جو رہائش ہے اس کو اللہ نے واجب فرمایا ہے نفقے کے ساتھ ملا کر۔ تو چنانچہ بعض شارحین فرماتے ہیں کہ یہ جو ”مَقْرُونًا“ کی قید صاحبِ ہدایہ نے ذکر کی، یہ اس کے ذکر کی کوئی حاجت نہیں تھی۔ کیونکہ نفقے کے ساتھ رہائش کا حکم ملا ہونا ضروری نہیں ہے۔ نفقے کا حکم ایک جگہ سے معلوم ہو اور رہائش کا حکم دوسری جگہ سے معلوم ہو تو بھی دونوں پر عمل کرنا پڑے گا بھئی، تو دونوں کا ملا ہونا ضروری نہیں۔ چنانچہ یہ شارحین فرماتے ہیں کہ صاحبِ ہدایہ کو ”مَقْرُونًا“ کی قید نہیں لگانی چاہیے تھی۔ لیکن صاحبِ ہدایہ اپنی فصیح و بلیغ عبارت کے ذریعے شاید اسی نکتے کی طرف اشارہ فرمانا چاہتے تھے کہ قرآن کے اندر بھی تقدیرِ کلام وہی ہے جو حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قرات ہے یعنی دونوں چیزیں ملا کر اللہ نے ذکر فرمائی ہیں۔ یعنی دونوں کے وجوب کے لیے ملا ہونا تو ضروری نہیں لیکن وہ اشارہ فرمانا چاہتے تھے کہ قرآن میں بھی تقدیرِ کلام وہی ہے جو حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قرات میں ہے۔ تو کہتے ہیں: {وَقَدْ أَوْجَبَهُ اللَّهُ تَعَالَى مَقْرُونًا بِالنَّفَقَةِ} اور تحقیق یہ جو رہائش ہے اس کو اللہ نے نفقے کے ساتھ ملا کر واجب فرمایا ہے، {وَإِذَا وَجَبَ حَقًّا لَهَا لَيْسَ لَهُ أَنْ يُشْرِكَ غَيْرَهَا فِيهِ} اور جب یہ رہائش عورت کے لیے حق ہو کر واجب ہے تو خاوند کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ شریک کرے عورت کے علاوہ کسی اور کو فیہ اس رہائش میں۔ جب یہ رہائش عورت کا حق ہو کر خاوند پر واجب ہے تو خاوند پر واجب ہے کہ اس میں کسی اور کو شریک نہ کرے، یہ صرف عورت کا حق ہے، تو وہ ایسے گھر کا انتظام کرے جس میں عورت اکیلی ہو بھئی اگر گنجائش ہے۔ تو کہتے ہیں: {وَإِذَا وَجَبَ حَقًّا لَهَا} اور جب یہ رہائش جو ہے عورت کا حق ہو کر واجب ہوئی ہے خاوند پر {لَيْسَ لَهُ أَنْ يُشْرِكَ غَيْرَهَا فِيهِ} تو خاوند کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اس رہائش کے اندر عورت کے علاوہ کسی اور کو شریک کرے {لِأَنَّهَا تَتَضَرَّرُ بِهِ} اس لیے کیونکہ اس سے اس کو ضرر ہوگا، نقصان ہوگا، تکلیف ہوگی عورت کو، {فَإِنَّهَا لَا تَأْمَنُ عَلَى مَتَاعِهَا} اس لیے کیونکہ عورت مامون نہیں رہے گی اپنے سامان پر، اسے اپنے سامان کی فکر ہوگی، سامان محفوظ اس کا سامان وغیرہ محفوظ نہیں رہے گا، {وَيَمْنَعُهَا عَنِ الْمُعَاشَرَةِ مَعَ زَوْجِهَا} معاشرت کا معنیٰ ہے مل جل کر رہنا، {وَيَمْنَعُهَا} اور وہ یہ جو کسی کو شریک کرے گا خاوند یہ منع کرے گا بیوی کو {عَنِ الْمُعَاشَرَةِ} خاوند کے ساتھ مل جل کر یعنی گھل مل کر رہنے سے۔ {يَمْنَعُهَا} یہ جو شریک کرنا ہے کسی غیر کو شریک کرنا یہ روکے گا اس عورت کو {عَنِ الْمُعَاشَرَةِ مَعَ زَوْجِهَا} اپنے خاوند کے ساتھ گھل مل کر رہنے سے یعنی بے تکلفی سے رہنے سے مانع بنے گا، بے تکلفی سے مانع بنے گا، {وَمِنَ الِاسْتِمْتَاعِ} اور نیز اس سے استمتاع سے بھئی یعنی نفع اٹھانے سے، کہ خاوند بھی جو ہے اس غیر کی وجہ سے عورت سے جب چاہے استمتاع نہیں کر سکے گا، نفع نہیں اٹھا سکے گا۔ تو کہتے ہیں دوبارہ ترجمہ دیکھ لیجیے: {فَإِنَّهَا لَا تَأْمَنُ عَلَى مَتَاعِهَا} اس لیے کیونکہ جب کوئی اور ساتھ شریک ہوگا تو عورت مامون نہیں ہوگی، محفوظ نہیں رہے گی {عَلَى مَتَاعِهَا} اپنے سامان پر، {وَيَمْنَعُهَا عَنِ الْمُعَاشَرَةِ مَعَ زَوْجِهَا} اور نیز یہ شریک کرنا مانع بنے گا اس عورت کے لیے اپنے خاوند کے ساتھ بے تکلفی سے مل جل کر رہنے سے {وَمِنَ الِاسْتِمْتَاعِ} اور اور نفع اٹھانے سے۔ {إِلَّا أَنْ تَخْتَارَ ذَلِكَ} مگر یہ کہ عورت خود اختیار کر لے کہ میں اور گھر میں سب کے ساتھ رہوں گی، {لِأَنَّهَا رَضِيَتْ بِانْتِقَاصِ حَقِّهَا} اس لیے کیونکہ عورت خود راضی ہو گئی {بِانْتِقَاصِ حَقِّهَا} اپنے حق کے کم ہونے پر، اپنے حق کے کم ہونے پر عورت خود راضی ہو گئی تو پھر خاوند رکھ سکتا ہے سب کے ساتھ۔ {وَإِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ مِنْ غَيْرِهَا} اور اگر خاوند کے کوئی اولاد ہے {مِنْ غَيْرِهَا} اس بیوی کے علاوہ کسی اور بیوی سے، اگر اس خاوند کی اس بیوی کے علاوہ کسی اور بیوی سے اولاد ہے تو اس کو بھی اس کے ساتھ ٹھہرانا خاوند کے لیے جائز نہیں۔ اس اولاد کو بھی اس بیوی کے ساتھ ٹھہرانا جائز نہیں۔ تو کہتے ہیں: {وَإِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ مِنْ غَيْرِهَا} اور اگر خاوند کی اولاد ہے اس بیوی کے علاوہ کسی دوسری بیوی سے {فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يُسْكِنَهُ مَعَهَا} تو خاوند کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنی اس اولاد کو ٹھہرائے {مَعَهَا} اپنی اس بیوی کے ساتھ {لِمَا بَيَّنَّا} اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دی کہ عورت کو اپنے سامان کا بھی خوف ہوگا اور نیز وہ خاوند کے ساتھ بے تکلفی سے نہیں رہ سکے گی۔ {وَلَوْ أَسْكَنَهَا فِي بَيْتٍ مِنَ الدَّارِ مُفْرَدٍ وَلَهُ غَلَقٌ كَفَاهَا} اگر خاوند نے بیوی کو ایسے گھر میں ٹھہرایا جس میں اور لوگ بھی ہیں اور رشتہ دار بھی ہیں لیکن بیوی کو الگ کمرہ دے دیا جس کا اپنا تالا وغیرہ ہے جس کی چابی اس عورت کے پاس ہوتی ہے، اس بیوی کے پاس، تو پھر اس صورت میں یہ کافی ہو گیا۔ یہ اس عورت کے لیے کافی ہو گیا لہٰذا اب عورت الگ گھر کا مطالبہ نہیں کر سکتی۔ کیونکہ اس کو اپنے سامان کا خوف تھا اور نیز اس کو خاوند کے ساتھ بے تکلفی سے رہنے میں مانع آ رہا تھا لیکن اب جب الگ کمرہ ہے جس کی چابی اسی عورت کے پاس ہے، کوئی اور اس کمرے میں اس عورت کی اجازت کے بغیر نہیں آ جا سکتا تو عورت کا حق ادا ہو گیا لہٰذا اب عورت الگ گھر کا مطالبہ نہیں کر سکتی۔ تو کہتے ہیں: {وَلَوْ أَسْكَنَهَا فِي بَيْتٍ مِنَ الدَّارِ مُفْرَدٍ} بیت کمرے کو کہتے ہیں، {وَلَوْ أَسْكَنَهَا} اور اگر خاوند نے بیوی کو ٹھہرایا {فِي بَيْتٍ مِنَ الدَّارِ} گھر کے اندر ایسے کمرے میں {مُفْرَدٍ} جو الگ ہے {وَلَهُ غَلَقٌ} اور اس کمرے کا تالا ہے {كَفَاهَا} تو یہ اس عورت کے لیے کافی ہے، {لِأَنَّ الْمَقْصُودَ قَدْ حَصَلَ} اس لیے کیونکہ مقصود جو ہے وہ حاصل ہو گیا، سامان بھی محفوظ ہوا اور خاوند کے ساتھ بے تکلفی کے ساتھ گھل مل کر رہنا بھی اب اس میں بھی رکاوٹ نہیں ہے۔ {وَلَهُ أَنْ يَمْنَعَ وَالِدَيْهَا وَوَلَدَهَا مِنْ غَيْرِهِ وَأَهْلَهَا مِنَ الدُّخُولِ عَلَيْهَا} بھئی دیکھیے یہ جو گھر ہے یہ خاوند کی ملکیت ہے، یہ خاوند کا گھر ہے۔ تو لہٰذا جس طرح عورت کا حق ہے کہ وہ اپنا الگ گھر کا مطالبہ کر سکتی ہے اور خاوند کے پاس گنجائش ہو تو اس کو الگ گھر میں رکھنا پڑے گا اسی طرح خاوند کو بھی شریعت نے حق دیا ہے... کہ یہ گھر اس کی ملکیت ہے، لہٰذا وہ اس گھر کے اندر عورت کے رشتے داروں میں سے کسی کو بھی نہ آنے دے، حتیٰ کہ اس کے ماں باپ کو بھی نہ آنے دے، یہ خاوند کر سکتا ہے بھئی۔ ہاں ماں باپ کے ساتھ بات چیت وغیرہ سے خاوند نہیں روک سکتا۔ بات چیت کرنے سے نہیں روک سکتا، یعنی دروازے میں آ کر وہ بات چیت کرتے ہیں یا کھڑکی میں آ کر بات چیت کرتے ہیں تو اس سے خاوند نہیں روک سکتا بھئی، البتہ گھر کے اندر آنے سے روک سکتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَهُ أَنْ يَمْنَعَ وَالِدَيْهَا وَوَلَدَهَا مِنْ غَيْرِهِ“ اور خاوند کے لیے جائز ہے کہ وہ منع کرے ”وَالِدَيْهَا“ اس عورت کے والدین کو ”وَوَلَدَهَا مِنْ غَيْرِهِ“ یا اس عورت کی اور اولاد ہے کسی اور سے، یعنی پہلے اس کی جس خاوند سے نکاح ہوا تھا اس سے اولاد ہے ”وَأَهْلَهَا“ اور نیز اسی طرح اس عورت کے جو اور رشتے دار ہیں، بھئی ہیں، بہنیں وغیرہ ہیں، ان سب کو خاوند منع کر سکتا ہے ”مِنَ الدُّخُولِ عَلَيْهَا“ اس عورت کے پاس داخل ہونے سے، اس عورت کے پاس آنے سے ”لِأَنَّ الْمَنْزِلَ مِلْكُهُ“ اس لیے کیونکہ یہ گھر خاوند کی ملکیت ہے ”فَلَهُ حَقُّ الْمَنْعِ مِنْ دُخُولِ مِلْكِهِ“ لہٰذا خاوند کو روکنے کا حق ہے اپنی ملکیت میں داخل ہونے سے۔ ”وَلَا يَمْنَعُهُمْ مِنَ النَّظَرِ إِلَيْهَا وَكَلَامِهَا فِي أَيِّ وَقْتٍ اخْتَارُوا“ لیکن خاوند منع نہیں کر سکتا ”مِنَ النَّظَرِ إِلَيْهَا“ ان کو اس عورت کی طرف دیکھنے سے، کہ دروازے یا کھڑکی میں کھڑے ہو کر دیکھتے ہیں، اس سے بات کرتے ہیں، تو کہتے ہیں: ”وَلَا يَمْنَعُهُمْ مِنَ النَّظَرِ إِلَيْهَا“ اور وہ منع نہیں کر سکتا ان کو اس بیوی کی طرف دیکھنے سے ”وَكَلَامِهَا“ اور اس عورت کے ساتھ بات کرنے سے ”فِي أَيِّ وَقْتٍ اخْتَارُوا“ جس وقت بھی وہ اختیار کریں، جب بھی یعنی وہ چاہیں ”لِمَا فِيهِ مِنْ قَطِيعَةِ الرَّحِمِ“ اس لیے کیونکہ اس کے اندر قطع رحمی ہے، یعنی اگر دیکھنے اور بات چیت کرنے سے بھی خاوند منع کرتا ہے اس میں تو قطع رحمی ہے۔ قطع رحمی، یعنی رشتہ توڑنا ہے، اور رشتہ توڑنے سے تو اللہ نے ہمیں منع فرمایا ہے، رشتہ توڑنا تو حرام ہے۔ ہاں، گھر خاوند کی ملکیت ہے، وہ اجازت نہ دے کہ اندر آنے کی کسی کو اجازت نہیں ہے۔ بہرحال یہ ایک قول ہے، آگے اور اقوال بھی آ رہے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں بات چیت اور دیکھنے سے منع نہیں کر سکتا ”لِمَا فِيهِ مِنْ قَطِيعَةِ الرَّحِمِ“ اس لیے کیونکہ اس کے اندر قطع رحمی ہے، یعنی رشتے کو توڑنا ہے ”وَلَيْسَ لَهُ فِي ذٰلِكَ ضَرَرٌ“ اور نیز اس میں خاوند کا بھی کوئی نقصان نہیں ہے، اگر دروازے میں کھڑے ہو کر وہ بات کرتے ہیں۔ ”وَقِيلَ“ اور کہا گیا ہے، یہ دوسرا قول آ گیا: ”وَقِيلَ: لَا يَمْنَعُ مِنَ الدُّخُولِ وَالْكَلَامِ، وَإِنَّمَا يَمْنَعُهُمْ مِنَ الْقَرَارِ“ اور کہا گیا ہے کہ خاوند ان کو گھر کے اندر داخل ہونے سے اور بات چیت کرنے سے نہیں روک سکتا، خاوند ان کو ٹھہرنے سے روک سکتا ہے۔ آئیں، آ کر ملیں اور پھر جلدی چلے جائیں، یعنی یہاں دیر تک ٹھہرنا یا یہاں کئی دن گزارنا، اس سے خاوند منع کر سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنَّمَا يَمْنَعُهُمْ مِنَ الْقَرَارِ“ اور خاوند ان کو منع کر سکتا ہے ٹھہرنے سے ”لِأَنَّ الْفِتْنَةَ فِي اللَّبَاثِ وَتَطْوِيلِ الْكَلَامِ“ اس لیے کیونکہ فتنہ جو ہوتا ہے، ”فِي اللَّبَاثِ“ ث کے ساتھ ہے: لَبِثَ يَلْبَثُ لَبْثًا وَلَبَاثًا، اس کا معنی ہے ٹھہرنا، قیام کرنا۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْفِتْنَةَ فِي اللَّبَاثِ وَتَطْوِيلِ الْكَلَامِ“ اس لیے کیونکہ فتنہ جو ہے وہ ٹھہرنے میں ہوتا ہے اور کلام کے لمبا کرنے میں ہوتا ہے۔ بھئی جب ملاقات کم ہوگی تو بس صرف ضرورت کی باتیں کر لیں گے بھئی، اور اگر ملاقات طویل، لمبی ہوگی تو لمبی گفتگو ہوگی اور اس میں پھر ہر طرح کی باتیں آتی ہیں تو اس کے اندر پھر شر اور فساد کا خطرہ ہوتا ہے بھئی۔ تو یہ دوسرے قول کے مطابق خاوند اس ماں باپ یا بیوی کی پہلے خاوند سے جو اولاد ہے ان کو آنے سے تو منع نہیں کر سکتا، لیکن البتہ ان کو ٹھہرنے سے منع کر سکتا ہے کہ یہاں زیادہ دیر نہ ٹھہریں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْفِتْنَةَ فِي اللَّبَاثِ وَتَطْوِيلِ الْكَلَامِ“ اس لیے کیونکہ فتنہ جو ہوتا ہے وہ ٹھہرنے میں اور کلام کے لمبا کرنے میں ہوتا ہے۔ ”وَقِيلَ“ اور تیسرا قول یہ ہے: ”وَقِيلَ: لَا يَمْنَعُهَا مِنَ الْخُرُوجِ إِلَى الْوَالِدَيْنِ، وَلَا يَمْنَعُهُمَا مِنَ الدُّخُولِ عَلَيْهَا فِي كُلِّ جُمْعَةٍ“ کہ خاوند منع نہیں کر سکتا بیوی کو نکلنے سے ”إِلَى الْوَالِدَيْنِ“ اپنے والدین کی طرف ”وَلَا يَمْنَعُهُمَا مِنَ الدُّخُولِ عَلَيْهَا“ اور ان کے والدین کو بھی منع نہیں کر سکتا اس عورت کے پاس داخل ہونے سے، کہ وہ اس عورت کے پاس آئیں ”فِي كُلِّ جُمْعَةٍ“ ہر جمعے میں۔ تیسرا قول یہ ہے کہ ہر جمعے کے اندر بیوی والدین سے ایک مرتبہ ملنے جا سکتی ہے یا وہ ملنے آ سکتے ہیں بھئی، اور کہتے ہیں اسی قول پر فتویٰ ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَقِيلَ: لَا يَمْنَعُهَا مِنَ الْخُرُوجِ إِلَى الْوَالِدَيْنِ وَلَا يَمْنَعُهُمَا مِنَ الدُّخُولِ عَلَيْهَا فِي كُلِّ جُمْعَةٍ“ کہ خاوند منع نہیں کر سکتا بیوی کو اپنے والدین کے پاس جانے سے اور نہ والدین کو منع کر سکتا ہے بیوی کے پاس آنے سے ہر جمعے میں۔ ”وَفِي غَيْرِهِمَا مِنَ الْمَحَارِمِ التَّقْدِيرُ بِسَنَةٍ“ اور ان والدین کے علاوہ اور جو محرم رشتے دار ہیں ”التَّقْدِيرُ بِسَنَةٍ“ اس میں اندازہ ایک سال کے ساتھ لگایا گیا ہے، کہ ان کے ساتھ ایک سال میں بیوی ملنے جا سکتی ہے یا وہ ملنے آ سکتے ہیں بھئی۔ ”وَهُوَ الصَّحِيحُ“ یہی قول صحیح ہے بھئی۔ اس کے ذریعے احتراز ہے دوسرے قول سے کہ بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ دوسرے محرم رشتے داروں سے ہر مہینے میں ایک دفعہ ملاقات کر سکتی ہے، بیوی جا سکتی ہے یا وہ آ سکتے ہیں، لیکن صحیح قول کے مطابق والدین کے علاوہ اور رشتے داروں کے ساتھ ایک سال کے اندر بیوی ان سے ملاقات کے لیے جا سکتی ہے یا وہ ملاقات کے لیے آ سکتے ہیں بھئی۔ آگے دیکھیے: ”وَإِذَا غَابَ الرَّجُلُ وَلَهُ مَالٌ فِي يَدِ رَجُلٍ يَعْتَرِفُ بِهِ وَبِالزَّوْجِيَّةِ فَرَضَ الْقَاضِي فِي ذٰلِكَ الْمَالِ نَفَقَةَ زَوْجَةِ الْغَائِبِ وَوُلْدِهِ الصِّغَارِ وَوَالِدَيْهِ، وَكَذَا إِذَا عَلِمَ الْقَاضِي ذٰلِكَ وَلَمْ يَعْتَرِفْ بِهِ“ اچھا بھئی، یہ مسئلہ اچھی طرح سمجھ لیں بھئی، اس میں خوب تفصیل بیان کریں گے صاحبِ ہدایہ۔ صورتِ مسئلہ یہ کہ ایک شخص جو ہے وہ غائب ہے، خاوند جو ہے وہ غائب ہے، کہیں چلا گیا ہے، اب پتہ ہی نہیں کہ وہ کدھر گیا ہے اور کب آئے گا بھئی۔ اور اس خاوند کا مال ایک آدمی کے پاس بطورِ امانت کے موجود ہے، اور وہ آدمی اپنے پاس امانت کے ہونے کا بھی اعتراف کرتا ہے اور یہ جو خاوند کی بیوی ہے، اس کے بیوی ہونے کا بھی اعتراف کرتا ہے کہ یہ اسی شخص کی بیوی ہے، تو پھر اس صورت میں قاضی بیوی کا نفقہ اسی مال میں سے مقرر کر دے گا۔ اسی مال میں سے بیوی کا نفقہ مقرر کر دے گا بھئی۔ اس آدمی کے پاس اس کے خاوند کی امانت موجود ہے، یہ آدمی امانت کا بھی اقرار کر رہا ہے اور اس عورت کے اس کی بیوی ہونے کا بھی اقرار کر رہا ہے، دونوں چیزیں ضروری ہیں۔ مال کا بھی اقرار کرے اور بیوی ہونے کا بھی اقرار کرے، تو پھر اس صورت کے اندر قاضی اسی مال کے اندر اس بیوی کا نفقہ مقرر کر دے گا اور بیوی کو یہ نفقہ ملتا رہے گا۔ البتہ آگے چل کر صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ قاضی اس عورت سے قسم لے لے گا۔ عورت قسم کھائے گی کہ خاوند اس کو نفقہ دے کر نہیں گیا، کیونکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ خاوند پہلے سے ہی عورت کو نفقہ دے کر گیا تھا اور عورت اب کچھ زائد مال وصول کرنا چاہتی ہے، لہٰذا قاضی جو ہے اس عورت کو قسم بھی کھلائے گا اس بات پر کہ خاوند اسے نفقہ دے کر نہیں گیا۔ اور نیز اس عورت سے قاضی جو ہے ایک ضامن بھی لے لے گا، ایک شخص جو ضمانت دے دے کہ اگر وہ خاوند جو ہے اس عورت کو نفقہ دے کر گیا ہوا تو پھر اس صورت میں وہ ضامن ہوگا اور وہ مال پھر اس عورت کو یا اس ضامن کو ادا کرنا پڑے گا زیادتی کی صورت میں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو صورتِ مسئلہ کیا؟ ایک خاوند ہے، وہ غائب ہے اور معلوم نہیں کہاں گیا ہے، کب آتا ہے، کچھ پتہ نہیں اس کے بارے میں، اور اس کی بیوی قاضی کے پاس آ گئی، وہ نفقے کا مطالبہ کر رہی ہے اور ایک شخص کو بھی لے آئی کہ یہ شخص ہے، اس کے پاس میرے خاوند امانت کے طور پر مال رکھوا کر گیا ہے۔ اور وہ شخص اس امانت کا بھی اقرار کر رہا ہے، وہ جو مودَع ہے جس کے پاس امانت رکھوائی گئی تھی، مودَع جو ہے امانت کا بھی اقرار کر رہا ہے اور اس عورت کے بیوی ہونے کا بھی اعتراف کر رہا ہے۔ توجہ ہے؟ یاد رکھو، مودَع کا دونوں چیزوں کا اعتراف کرنا ضروری ہے۔ وہ امانت کا بھی اعتراف کرے اور نیز اس عورت کے اس غائب کی بیوی ہونے کا بھی اعتراف کرے، تو پھر قاضی اسی مال میں سے اس غائب شخص کی بیوی کا نفقہ مقرر کر دے گا۔ اور صاحبِ ہدایہ آپ کو یہ بھی بتلائیں گے کہ اسی مال میں سے قاضی اس عورت کا نفقہ بھی مقرر کر سکتا ہے اور اس غائب آدمی کے اگر کوئی نابالغ اولاد ہیں ان کا نفقہ بھی مقرر کر سکتا ہے اور نیز اگر اس غائب شخص کے والدین ہیں اور وہ فقیر اور محتاج ہیں تو ان کا بھی نفقہ مقرر کر سکتا ہے۔ تو غائب شخص کے مال میں سے قاضی اس کی بیوی کا، اس کے نابالغ اولاد کا اور اس کے والدین کا نفقہ مقرر کر سکتا ہے، لیکن شرط وہی ہے کہ یہ مودَع اس امانت کا بھی اقرار کرے اور اس عورت کے بیوی ہونے کا بھی اعتراف کرے بھئی۔ دوسری صورت یہ ہے کہ یہ شخص تو اعتراف نہیں کر رہا، یا تو وہ دونوں چیزوں کا ہی اعتراف نہیں کرے گا، یعنی امانت کا بھی اعتراف نہیں کر رہا اور اس عورت کے بیوی ہونے کا بھی اعتراف نہیں کر رہا، یا دونوں میں سے کسی ایک کا اعتراف کرے گا اور ایک کا اعتراف وہ نہیں کرتا۔ مثلاً مال کا وہ اعتراف کر رہا ہے کہ میرے پاس فلاں غائب آدمی جو ہے اس نے میرے پاس امانت کے طور پر مال رکھوایا تھا، لیکن یہ عورت اسی شخص کی بیوی ہے اس کا وہ اعتراف نہیں کرتا، اس کا اس کو علم نہیں ہے بھئی۔ تو دیکھو مال کا اعتراف کر رہا ہے اور اس عورت کے بیوی ہونے کا اعتراف نہیں کر رہا، یا اس کا برعکس کر لیں، اس عورت کے بیوی ہونے کا تو اعتراف کرتا ہے، یہ اسی غائب آدمی کی بیوی ہے، لیکن مال کا اعتراف نہیں کرتا۔ تو اب اگر قاضی کو ان چیزوں کا پتہ ہے، مثلاً قاضی کے سامنے اس شخص نے اس آدمی کے پاس اپنی امانت رکھوائی تھی، یا قاضی کو پتہ ہے کہ یہ عورت واقعی اسی غائب آدمی کی بیوی ہے، تو پھر اگر قاضی کو علم ہے پھر وہ شخص چاہے اعتراف کرے یا نہ کرے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، قاضی اس مال میں سے اس عورت کا اور اس شخص کے نابالغ بچوں کا اور اس کے والدین کا نفقہ مقرر کر دے گا۔ پھر سنیے، ایک شخص جو ہے وہ غائب ہے اور اس کا مال ایک آدمی کے پاس موجود ہے اور یہ آدمی مال کا بھی اقرار کر رہا ہے اور نیز اس عورت کے بیوی ہونے کا بھی اقرار کر رہا ہے، تو پھر اس صورت میں قاضی اس میں سے عورت کا نفقہ مقرر کر دے گا۔ البتہ عورت سے قسم بھی لے لے گا کہ خاوند اس کو خرچہ دے کر نہیں گیا بھئی، اور نیز اس سے ضامن بھی لے لے گا کہ اگر یہ کوئی زیادتی ثابت ہوئی تو پھر وہ پیسے اس کو ادا کرنے پڑیں گے بھئی۔ اور اگر وہ ان دو چیزوں کا اقرار نہیں کرتا، یا تو دونوں کا ہی وہ انکار کرتا ہے یا دونوں میں سے ایک کا انکار کرتا ہے لیکن قاضی کو پتہ ہے، تو پھر اگر قاضی کو علم ہے پھر وہ شخص چاہے اعتراف کرے یا نہ کرے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، قاضی اس مال میں سے اس عورت کا اور اس شخص کے نابالغ بچوں کا اور اس کے والدین کا نفقہ مقرر کر دے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور نیز یہ بھی یاد رکھنا، صاحبِ ہدایہ آگے چل کر آپ کو بتلائیں گے، ایک دو باتیں تو میں نے ذکر کر دیں اور وہ کیا کہ اس عورت سے قسم بھی لے لے گا کہ خاوند اس کو نفقہ دے کر نہیں گیا، اور نیز اس عورت سے ضامن بھی لے لے گا کہ اگر خاوند نفقہ دے کر گیا ہوا یا تمہارا حق نہ بنتا ہوا تو پھر اس صورت میں یہ مال تمہیں واپس کرنا پڑے گا۔ اور نیز اس کے ساتھ یہ بھی یاد رکھنا کہ وہ جو شخص جو امانت رکھوا کر گیا ہے جو مال، وہ اسی مال کی جنس میں سے ہونا چاہیے جو عورت کا حق بنتا ہے۔ یعنی وہ غائب شخص درہم رکھوا کر گیا ہے یا دینار رکھوا کر گیا ہے یا اس کے پاس غلہ یعنی گندم رکھوا کر گیا ہے یا ایسے کپڑے رکھوا کر گیا ہے جو اس عورت کا حق بنتے ہیں۔ تو اگر یہ مال بھی اسی مال جیسا ہے جو اس عورت کا حق بنتا ہے، پھر تو قاضی ان کے اندر نفقہ مقرر کر دے گا۔ لیکن اگر وہ مال اس عورت کے حق کی جنس میں سے نہیں ہے، عورت کا حق تو کیا بنتا ہے کہ اس کو درہم یا دینار ملنے چاہئیں اپنے خرچے کے لیے، یا اس کو گندم ملنی چاہیے اپنے کھانے پینے کا انتظام کرنے کے لیے، یا اس کو وہ جو کپڑے ملنے چاہئیں۔ لیکن اگر اس کے علاوہ اور مال رکھوایا تھا اس غائب آدمی نے، مثلاً وہ غائب آدمی اس کے پاس اپنا غلام رکھوا کر گیا تھا، یا اس کے پاس اپنی زمین اس کے حوالے کر کے گیا ہے، یا کوئی اور سامانِ تجارت وغیرہ کا جو تھا وہ اس کے حوالے کر کے گیا ہے، تو پھر یاد رکھو قاضی ان لوگوں کا نفقہ اس میں سے مقرر نہیں کر سکتا۔ اس لیے کیونکہ بعینہٖ یہی مال ان لوگوں کا حق نہیں، یہ بیوی کا یا نابالغ اولاد کا یا والدین کا یہ حق نہیں ہے، بلکہ ان کے نفقے کے لیے یا تو یہ جو غلام رکھوا کر گیا ہے اس غلام کو بیچنا پڑے گا، یا اس زمین کو بیچنا پڑے گا جو وہ رکھوا کر گیا ہے، یا وہ جو سامانِ تجارت رکھوا کر گیا ہے اس کو بیچنا پڑے گا، پھر درہم اور دینار ملیں گے اور پھر وہ عورت کو دینے پڑیں گے۔ تو لہٰذا اس صورت میں غائب کے خلاف قاضی اس کے سامان کو نہیں بیچ سکتا۔ تو لہٰذا ضروری ہے کہ وہ غائب شخص جو مال رکھوا کر گیا ہے وہ اسی جنس میں سے ہو جو اس عورت کا حق بنتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اب دیکھیے صاحبِ ہدایہ اس کو مزید وضاحت کے ساتھ اور تفصیل کے ساتھ بیان فرمائیں گے۔ کہتے ہیں: ”وَإِذَا غَابَ الرَّجُلُ“ اور جب کوئی آدمی غائب ہو جائے ”وَلَهُ مَالٌ فِي يَدِ رَجُلٍ“ اور اس غائب آدمی کا کچھ مال ہے ایک ایسے آدمی کے قبضے میں ”يَعْتَرِفُ بِهِ“ جو اس مال کا بھی اعتراف کر رہا ہے کہ غائب نے میرے پاس امانت رکھوائی ہے ”وَبِالزَّوْجِيَّةِ“ اور نیز اس عورت کے بیوی ہونے کا بھی اعتراف کر رہا ہے کہ یہ اسی غائب کی بیوی ہے ”فَرَضَ الْقَاضِي فِي ذٰلِكَ الْمَالِ“ تو قاضی مقرر کر دے گا اس مال کے اندر ”نَفَقَةَ زَوْجَةِ الْغَائِبِ“ اس غائب شخص کی بیوی کا نفقہ ”وَوُلْدِهِ الصِّغَارِ“ وُلد جمع ہے ولد کی، ”وَوُلْدِهِ الصِّغَارِ“ اور اسی طرح اس غائب شخص کی چھوٹی اولاد، یعنی جو نابالغ اولاد ہے، ان کا بھی خرچہ مقرر کر دے گا ”وَوَالِدَيْهِ“ اور اس غائب شخص کے والدین کا نفقہ بھی مقرر کر دے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ جب یہ مودَع دونوں چیزوں کا اعتراف کر رہا ہو۔ ”وَكَذَا إِذَا عَلِمَ الْقَاضِي ذٰلِكَ وَلَمْ يَعْتَرِفْ بِهِ“ ”وَكَذَا“ اور اسی طرح ہوگا مسئلہ، یعنی قاضی نفقہ مقرر کر دے گا ”إِذَا عَلِمَ الْقَاضِي ذٰلِكَ“ جب قاضی کو اس بات کا علم ہو ”وَلَمْ يَعْتَرِفْ بِهِ“ اس حال میں کہ وہ مودَع ان کا اعتراف نہیں کرتا۔ ان میں سے کسی چیز کا وہ اعتراف نہیں کرتا لیکن قاضی کو علم ہے۔ مثلاً وہ امانت کا اعتراف ہی نہیں کر رہا، لیکن قاضی کو علم ہے، وہ غائب آدمی نے قاضی کے سامنے اس کے پاس امانت رکھوائی تھی بھئی، یا مودَع مال کا تو اقرار کر رہا ہے لیکن اس عورت کے اس غائب کی بیوی ہونے کا اعتراف نہیں کر رہا لیکن قاضی کو علم ہے کہ یہ عورت اسی غائب کی بیوی ہے، تو تب بھی قاضی اس کا نفقہ مقرر کر سکتا ہے بھئی۔ کہتے ہیں: ”وَكَذَا إِذَا عَلِمَ الْقَاضِي ذٰلِكَ وَلَمْ يَعْتَرِفْ بِهِ“ اور اسی طرح ہے جب قاضی کو علم ہو اس کا اور اس حال میں کہ یہ مودَع اس کا اعتراف نہیں کرتا۔ ”لِأَنَّهُ لَمَّا أَقَرَّ بِالزَّوْجِيَّةِ وَالْوَدِيعَةِ“ بھئی قاضی نفقہ مقرر کرے گا اگر وہ شخص مال کا بھی اقرار کر لے اور اس عورت کے بیوی ہونے کا بھی اقرار کر لے۔ بھئی یہ تو غائب آدمی کا مال ہے، جب غائب آدمی کا مال ہے اور آپ کو آگے صاحبِ ہدایہ بھی بتلائیں گے کہ غائب آدمی کے خلاف قاضی فیصلہ نہیں کر سکتا، یاد رکھو جب بھی کوئی شخص غائب ہو اس کے خلاف قاضی فیصلہ نہیں کر سکتا، اس کی موجودگی ضروری ہے بھئی۔ تو یہاں پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ بھئی یہ شخص تو غائب ہے جس کے مال میں سے قاضی نفقہ مقرر کر رہا ہے، یہ تو غائب ہے تو یہ تو اس کے خلاف فیصلہ ہوا اور قضاء علی الغائب تو جائز نہیں، غائب آدمی کے خلاف تو فیصلہ جائز نہیں۔ تو اس کا جواب دیں گے کہ بھئی یہ اس شخص کی بیوی ہے اور بیوی کو شریعت نے اجازت دی ہے وہ خاوند کی اجازت اور اس کی رضامندی کے بغیر بھی اس کے مال میں سے اپنا نفقہ وصول کر سکتی ہے۔ چنانچہ ابھی پیچھے حدیث گزری تھی گزشتہ سبق کے اندر کہ حضور علیہ السلام نے حضرت ہند رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا تھا: ”خُذِي مِنْ مَالِ زَوْجِكِ مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ“ کہ اپنے خاوند کے مال میں سے لے لیا کرو جو تمہارے لیے اور تمہاری اولاد کے لیے کافی ہو بالمعروف اچھے طریقے سے۔ معلوم ہوا عورت خاوند کے مال میں سے اپنے نفقے کے بقدر اس کی اجازت اور رضامندی کے بغیر بھی لے سکتی ہے جب خاوند ادائیگی نہ کر رہا ہو، یا ضرورت کے بقدر نہ دے رہا ہو۔ تو یہاں پر بھی جب اس شخص نے اقرار کر لیا کہ یہ اسی غائب آدمی کی بیوی ہے اور میرے پاس مال بھی ہے، تو گویا اس نے اقرار کر لیا کہ یہ اس مال میں سے اس عورت کو لینے کا حق ہے بھئی۔ توجہ ہے؟ تو جب اس نے اقرار کر لیا کہ اس عورت کا اس مال کو وصول کرنے کا اور لینے کا حق ہے نفقے کے طور پر، تو اب قاضی بھی فیصلہ کر دے گا۔ ”لِأَنَّهُ لَمَّا أَقَرَّ بِالزَّوْجِيَّةِ وَالْوَدِيعَةِ فَقَدْ أَقَرَّ أَنَّ حَقَّ الْأَخْذِ لَهَا“ اس لیے کیونکہ یہ جو مودَع ہے، أَوْدَعَ يُودِعُ إِيدَاعًا کا معنی ہوتا ہے امانت رکھوانا، مُودَع جس کے پاس امانت رکھوائی گئی۔ ”لِأَنَّهُ لَمَّا أَقَرَّ بِالزَّوْجِيَّةِ وَالْوَدِيعَةِ فَقَدْ أَقَرَّ أَنَّ حَقَّ الْأَخْذِ لَهَا“ اس لیے کیونکہ مودَع نے جب اقرار کر لیا ”بِالزَّوْجِيَّةِ“ اس عورت کے بیوی ہونے کا بھی ”وَالْوَدِيعَةِ“ اور امانت کا بھی ”فَقَدْ أَقَرَّ“ تو تحقیق اس نے اقرار کر لیا ”أَنَّ حَقَّ الْأَخْذِ لَهَا“ کہ اس عورت کو یہ مال لینے کا حق ہے ”لِأَنَّ لَهَا أَنْ تَأْخُذَ مِنْ مَالِ الزَّوْجِ حَقَّهَا مِنْ غَيْرِ رِضَاهُ“ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ یہ جو عورت ہے ”لِأَنَّ لَهَا“ اس کے لیے جائز ہے ”أَنْ تَأْخُذَ مِنْ مَالِ الزَّوْجِ حَقَّهَا“ کہ یہ خاوند کے مال میں سے اپنا حق لے لے ”مِنْ غَيْرِ رِضَاهُ“ اس کی رضامندی کے بغیر۔ اس عورت کے لیے جائز ہے یہ اپنے خاوند کے مال میں سے اس کی رضامندی کے بغیر اپنا حق لے سکتی ہے۔ ”وَإِقْرَارُ صَاحِبِ الْيَدِ مَقْبُولٌ فِي حَقِّ نَفْسِهِ، لَا سِيَّمَا هَاهُنَا“ اور صاحبِ ید، صاحبِ ید یعنی جو صاحبِ قبضہ ہے، یعنی مودَع جس نے اقرار کیا ہے کہ میرے پاس اس غائب آدمی کا مال ہے، تو کہتے ہیں: ”وَإِقْرَارُ صَاحِبِ الْيَدِ مَقْبُولٌ فِي حَقِّ نَفْسِهِ“ اور صاحبِ قبضہ کا اقرار جو ہے وہ قبول کیا جاتا ہے ”فِي حَقِّ نَفْسِهِ“ اس کی اپنی ذات کے بارے میں ”لَا سِيَّمَا هَاهُنَا“ خاص طور پر یہاں پر۔ بھئی دیکھیے، یاد رکھیے، قاضی کے فیصلہ کرنے کے تین طریقے ہیں بھئی۔ قاضی جب بھی کسی مقدمے میں فیصلہ کرتا ہے اس کے تین طریقے ہیں۔ یا تو بینہ یا قسم کے ذریعے قاضی فیصلہ کرتا ہے۔ ایک مسئلے میں زید اور عمرو کا جھگڑا ہوا ہے، زید نے ایک دعویٰ کیا ہے اور عمرو مدعیٰ علیہ ہے، تو زید بینہ پیش کرے گا، دو مرد عادل گواہ پیش کرے گا یا ایک مرد اور دو عورتیں گواہ پیش کرے گا، اور اگر زید کے پاس گواہ نہیں ہیں تو پھر عمرو قسم کھائے گا بھئی، اور اس پر فیصلہ کر دیا جائے گا۔ تو یہ ایک صورت ہے، بینہ اور قسم پر فیصلہ کیا جاتا ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ مدعیٰ علیہ خود ایک چیز کا اقرار کر لے۔ زید نے عمرو پر دعویٰ کر دیا کہ اس نے میرے دس لاکھ روپے ادا کرنے ہیں، اور عمرو نے اقرار کر لیا کہ ہاں میں نے اس کے دس لاکھ روپے دینے ہیں بھئی، تو دیکھو مدعیٰ علیہ کے اقرار سے بھی صاحبِ حق جو ہے اس کا حق ثابت ہو جائے گا اور قاضی اس کے حق میں فیصلہ کر دے گا۔ اور تیسری صورت یہ ہے کہ قاضی کو ایک معاملے کا علم ہو۔ جب قاضی کو خود ایک معاملے کا علم ہے تو اس پر بھی قاضی فیصلہ کر سکتا ہے۔ توجہ ہے؟ معلوم ہوا قاضی کے فیصلہ کرنے کے تین ہی طریقے ہیں: یا تو بینہ اور قسم کے ذریعے وہ فیصلہ کرے گا، یا وہ اقرار پر فیصلہ کر دے گا اگر ایک شخص خود ایک چیز کا اقرار کر لے، یا قاضی اپنے علم پر فیصلہ کرے گا جب اس کو ایک بات کا علم ہو۔ اور یاد رکھنا، یہاں پر اس مسئلے کے اندر صاحبِ ہدایہ آگے آپ کو بتائیں گے، اگلی سطر ہی میں آپ کو بتائیں گے صاحبِ ہدایہ کہ اگر یہ شخص ان چیزوں کا انکار کر دے، مثلاً وہ امانت کا ہی اعتراف نہیں کر رہا، یا وہ اس عورت کے بیوی ہونے کا اعتراف نہیں کر رہا، یا وہ دونوں میں سے کسی ایک کا بھی اعتراف نہیں کر رہا اور قاضی کو بھی مسئلے کا علم نہیں ہے، تو یہاں اس مسئلے میں بینہ اور قسم کے ذریعے بھی عورت کے حق میں فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ قاضی کے فیصلے کے کتنے طریقے ہیں؟ تین طریقے ہیں: یا تو بینہ آئے گی، بینہ نہ آئے تو دوسرے پر قسم آ جائے گی، قسم کو تو ہٹا دیں وہ بینہ کے ساتھ ہی ہے، اس کو ذکر ہی نہ کریں، قاضی کے فیصلے کے گویا تین ہی طریقے ہیں: یا بینہ کے ذریعے ہوگا یا اقرار کے ذریعے ہوگا یا قاضی کے علم کے ذریعے ہوگا۔ تو یہاں اگر یہ شخص اقرار کرتا ہے یعنی دونوں چیزوں کا اعتراف کرتا ہے تب بھی عورت کے حق میں فیصلہ کر دیا جائے گا، اگر قاضی کو علم ہے تو تب بھی عورت کے حق میں فیصلہ کر دیا جائے گا، لیکن اگر یہ شخص اقرار بھی نہیں کر رہا ایک چیز کا اور قاضی کو علم بھی نہیں ہے، تو پھر یاد رکھو بینہ کے ذریعے بھی عورت کے حق میں قاضی فیصلہ نہیں کر سکتا۔ بینہ کے ذریعے بھی قاضی عورت کے حق میں فیصلہ نہیں کر سکتا۔ مثلاً یہ شخص امانت کا ہی اعتراف نہیں کر رہا سرے سے، عورت دو گواہ لے کر آ گئی قاضی کے پاس کہ قاضی صاحب یہ دو گواہ ہیں ان کے سامنے میرے خاوند نے اس کے پاس مال رکھوایا تھا، تو یاد رکھو یہ قاضی یہ بینہ نہیں سنے گا۔ وجہ یہ کہ یہ جو مودَع ہے یہ اس عورت کا فریقِ مخالف نہیں۔ بینہ اس کے خلاف سنی جاتی ہے جو فریقِ مخالف ہوتا ہے، جس پر آپ کا دعویٰ ہوتا ہے، جس کے خلاف آپ نے مقدمہ کیا ہے وہ ہوتا ہے فریقِ مخالف، اس کے خلاف بینہ سنی جاتی ہے اور یہاں پر یہ جو شخص ہے یہ جو مودَع ہے یہ اس عورت کا فریقِ مخالف نہیں کسی بھی اعتبار سے۔ مثلاً عورت یہ ثابت کرنا چاہتی ہے کہ میرا خاوند اس آدمی کے پاس مال رکھوا کر گیا تھا، تو بھئی وہ تو آپ کے خاوند کا مال ہے، خاوند آ کر مقدمہ کر سکتا ہے اس آدمی کے خلاف، خاوند آ کر بینہ پیش کر سکتا ہے اس آدمی کے خلاف کہ قاضی صاحب میں نے اس کے پاس اپنا مال رکھوایا تھا۔ تو یہ مودَع جو ہے یہ وہ جو غائب خاوند ہے اس کا تو فریقِ مخالف بن سکتا ہے لیکن اس عورت کے لیے فریقِ مخالف نہیں ہے۔ عورت نے کوئی اپنا مال اس کے پاس نہیں رکھوایا بھئی، وہ تو خاوند کے مال کا دعویٰ کر رہی ہے۔ اور خاوند کے مال کے مسئلے میں خاوند ہی فریقِ مخالف بن سکتا ہے، خاوند ہی دعویٰ کر سکتا ہے اور خاوند ہی بینہ پیش کر سکتا ہے، عورت بینہ پیش نہیں کر سکتی۔ معلوم ہوا اگر یہ مودَع مال کا اعتراف نہیں کرتا اور عورت بینہ کے ذریعے ثابت کرنا چاہتی ہے تو یہ شخص اس عورت کا فریقِ مخالف نہیں۔ فریقِ مخالف کو کہتے ہیں خَصْمٌ، تو یہ شخص عورت کا فریقِ مخالف نہیں، لہٰذا مال کے اس بات کے سلسلے میں قاضی اس عورت کی بینہ نہیں سنے گا۔ اور اگر یہ شخص مال کا تو اعتراف کر رہا ہے لیکن اس عورت کے بیوی ہونے کا اعتراف نہیں کرتا، وہ کہتا ہے مجھے نہیں پتہ کہ یہ اس غائب آدمی کی بیوی ہے یا نہیں۔ اور عورت دو گواہ لے آئی کہ قاضی صاحب میں اسی غائب آدمی کی بیوی ہوں، تو اس صورت میں بھی قاضی اس مودَع کے خلاف اس عورت کی گواہی نہیں سنے گا۔ وجہ یہ کہ عورت نے ثابت کرنا ہے کہ میں وہ جو غائب آدمی ہے اس کی بیوی ہوں بھئی، تو بھئی آپ جس شخص کی بیوی ہیں اس کے خلاف آپ مقدمہ کر سکتے ہیں، مثلاً خاوند انکار کر رہا ہے کہ یہ عورت میری بیوی نہیں، اور عورت جو ہے وہ دو گواہ لے آئی کہ قاضی صاحب یہ دو گواہ موجود تھے میرا اس آدمی سے نکاح ہوا تھا، تو اب یہ خاوند تو اس عورت کا فریقِ مخالف بن سکتا ہے زوجیت کے لیے، لیکن ایک اجنبی آدمی، ایک اجنبی آدمی کے سامنے وہ گواہ پیش کرے کہ میں فلاں آدمی کی بیوی ہوں، بھئی یہ تو اجنبی آدمی ہے، یہ تو آپ کا فریقِ مخالف ہی نہیں ہے بھئی، لہٰذا زوجیت کے سلسلے میں بھی قاضی اس عورت کی بینہ یہاں قبول نہیں کرے گا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ کیا بات ہوئی؟ اگر یہ اعتراف کرنے والا اگر دونوں چیزوں میں سے کسی ایک کا اعتراف کرتا ہے اور کسی ایک کا اعتراف نہیں کرتا، یا دونوں میں سے کسی ایک کا بھی اعتراف نہیں کرتا اور عورت بینہ کے ذریعے ثابت کرنا چاہتی ہے کہ میرا خاوند اس کے پاس مال رکھوا کر گیا تھا یا میں اس فلاں آدمی کی بیوی ہوں، تو اس صورت میں یہ آدمی اس کا فریقِ مخالف نہیں، قاضی اس کے خلاف اس عورت کی گواہی قبول نہیں کرے گا۔ اس عورت کی بینہ قبول نہیں کرے گا، مال کے سلسلے میں بھی اس عورت کی گواہی قبول نہیں کیونکہ مال کے سلسلے میں تو خاوند آ کر مقدمہ کر سکتا ہے، بیوی اس کی طرف سے مقدمہ نہیں کر سکتی، اور نیز بیوی ہونے کے سلسلے میں بھی عورت کی بینہ قاضی قبول نہیں کرے گا اس لیے کیونکہ عورت اپنا بیوی ہونا ثابت کرنا چاہتی ہے تو وہ تو خاوند اس عورت کا فریقِ مخالف ہو سکتا ہے اگر وہ انکار کرے، کسی اجنبی کے سامنے یہ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ تو حاصلِ کلام یہ کہ اس مسئلے کے اندر اگر یہ شخص جس کے پاس امانت رکھوائی گئی ہے، یہ دونوں میں سے کسی ایک چیز کا اعتراف نہیں کرتا یا دونوں کا ہی اعتراف نہیں کرتا اور عورت اس چیز کو بینہ کے ذریعے ثابت کرنا چاہتی ہے تو قاضی اس عورت کی بینہ نہیں سنے گا اور نہ اس پر وہ قاضی فیصلہ کر سکتا ہے، کیونکہ یہ مودَع اس عورت کا فریقِ مخالف نہیں، نہ مال کے سلسلے میں کیونکہ اس عورت کا مال اس کے پاس نہیں ہے، اس کے خاوند کا مال ہے، خاوند بینہ پیش کر سکتا ہے یہ عورت بینہ پیش نہیں کر سکتی، اور نیز بیوی ہونے کے سلسلے میں بھی اس عورت کی بینہ قاضی اس آدمی کے خلاف نہیں سنے گا کیونکہ بیوی ہونے کے سلسلے میں خاوند اس عورت کا فریقِ مخالف بن سکتا ہے اگر وہ انکار کرے، کسی اجنبی کے سامنے یہ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تو بات چل رہی تھی صاحبِ ہدایہ نے ذکر فرمایا: ”وَإِقْرَارُ صَاحِبِ الْيَدِ مَقْبُولٌ فِي حَقِّ نَفْسِهِ، لَا سِيَّمَا هَاهُنَا“ کہ صاحبِ قبضہ کا اقرار وہ قبول کیا جاتا ہے اپنی ذات کے بارے میں ”لَا سِيَّمَا هَاهُنَا“ خاص طور پر یہاں پر۔ خاص طور پر یہاں پر، تو یہ جو صاحبِ ہدایہ نے فرمایا نا خاص طور پر یہاں اس کا اقرار قبول کیا جائے گا، اس کی وجہ میں بتلانا چاہ رہا تھا، یہ جو اتنی میں نے تفصیل بیان کی یہ ”لَا سِيَّمَا هَاهُنَا“ کو سمجھانے کے لیے۔ کہ صاحبِ حق کا اقرار اپنی ذات کے بارے میں قبول کیا جاتا ہے خاص طور پر یہاں پر، یہ خاص طور پر یہاں پر یہ قید کیوں لگائی صاحبِ ہدایہ نے؟ بھئی دیکھیے اور معاملات کے اندر، اور معاملات کے اندر اگر ایک شخص اقرار کر لیتا ہے تو اس سے بھی صاحبِ حق کا حق ثابت ہو جاتا ہے، اور اگر وہ اقرار نہ کرے تو پھر وہاں صاحبِ حق بینہ کے ذریعے اپنا حق ثابت کر سکتا ہے، تو جب اور معاملات کے اندر اقرار کے علاوہ اپنا حق ثابت کرنے کی اور بھی صورت ہوتی ہے، اور معاملات میں اپنا حق کو ثابت کرنے کے لیے صرف اقرار والی صورت ہی نہیں ہوتی بلکہ اگر فریقِ مخالف اقرار نہیں کرتا تو صاحبِ حق کیا کر سکتا ہے؟ بینہ پیش کر سکتا ہے۔ تو جب اور معاملات کے اندر اقرار کے علاوہ اور بھی صورتیں ہوتی ہیں یعنی بینہ وغیرہ کے ذریعے صاحبِ حق اپنا حق ثابت کر سکتا ہے، تو جب ان معاملات کے اندر صاحبِ قبضہ کا اقرار قبول کیا جاتا ہے جہاں اور بھی صورت ہے صاحبِ حق کے اپنا حق وصول کرنے کی، تو یہاں پر تو ابھی میں نے آپ کو بتلایا کہ عورت اگر بینہ پیش کرے گی تو بینہ عورت کا قبول نہیں کیا جائے گا، یہ آدمی اس کا فریقِ مخالف ہی نہیں بنتا، تو یہاں پر تو اقرار کے علاوہ اور صورت نہیں اپنا حق ثابت کرنے کی، تو یہاں بطریقِ اولیٰ اس آدمی کا اقرار قبول کیا جائے گا۔ حاصلِ کلام کیا؟ کہ اور مقامات پر اقرار کے علاوہ اپنا حق ثابت کرنے کی اور بھی صورتیں ہوتی ہیں پھر بھی وہاں اقرار قبول کیا جاتا ہے، اور یہاں پر تو اقرار کے علاوہ اور کوئی صورت ہی نہیں ہے تو یہاں بطریقِ اولیٰ اس آدمی کے اقرار کو قبول کیا جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَإِقْرَارُ صَاحِبِ الْيَدِ مَقْبُولٌ فِي حَقِّ نَفْسِهِ، لَا سِيَّمَا هَاهُنَا“ کہ صاحبِ قبضہ کا اقرار قبول کیا جاتا ہے اپنی ذات کے بارے میں، خاص طور پر یہاں پر، کیونکہ یہاں پر تو بینہ یا قسم کی صورت ممکن نہیں ہے بھئی۔ ”فَإِنَّهُ لَوْ أَنْكَرَ أَحَدَ الْأَمْرَيْنِ لَا تُقْبَلُ بَيِّنَةُ الْمَرْأَةِ فِيهِ“ اب وہی صاحبِ ہدایہ بیان کریں گے جو میں نے تقریر کر دی، کہ یہ شخص اگر مال کا اعتراف نہیں کرتا یا اس عورت کے بیوی ہونے کا اعتراف نہیں کرتا اور عورت بینہ کے ذریعے یہ چیزیں ثابت کرنا چاہتی ہے تو اس عورت کا بینہ قاضی نہیں سنے گا کیونکہ یہ شخص اس کا فریقِ مخالف ہی نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَإِنَّهُ لَوْ أَنْكَرَ أَحَدَ الْأَمْرَيْنِ“ اس لیے کیونکہ اگر یہ مودَع جو ہے اس نے انکار کر دیا دو چیزوں میں سے کسی ایک کا ”لَا تُقْبَلُ بَيِّنَةُ الْمَرْأَةِ فِيهِ“ تو اس میں عورت کا بینہ قبول نہیں کیا جائے گا ”لِأَنَّ الْمُودَعَ لَيْسَ بِخَصْمٍ فِي إِثْبَاتِ الزَّوْجِيَّةِ عَلَيْهِ“ اس لیے کیونکہ مودَع جو ہے وہ اس عورت کا فریقِ مخالف نہیں ہے اس کے خلاف اپنی زوجیت ثابت کرنے میں۔ عورت اپنا بیوی ہونا ثابت کرنا چاہتی ہے تو یہ تو تیسرا آدمی ہے، یہ تو اجنبی ہے۔ اپنے بیوی ہونے کو ثابت کرنا ہے تو خاوند تو فریقِ مخالف بن سکتا ہے اگر وہ نہیں مان رہا، لیکن یہ آدمی تو اجنبی ہے، یہ فریقِ مخالف نہیں۔ یہ معنی ہے: ”لِأَنَّ الْمُودَعَ لَيْسَ بِخَصْمٍ فِي إِثْبَاتِ الزَّوْجِيَّةِ عَلَيْهِ“ اس لیے کیونکہ مودَع جو ہے وہ فریقِ مخالف نہیں ہے اس کے خلاف اس عورت کا غائب کی بیوی ہونا ثابت کرنے کے لیے۔ ”وَلَا الْمَرْأَةُ خَصْمٌ فِي إِثْبَاتِ حُقُوقِ الْغَائِبِ“ اور نیز عورت فریقِ مخالف نہیں ہے غائب کے حقوق ثابت کرنے میں۔ یعنی اگر یہ شخص مال کا انکار کرتا ہے تو اس میں بھی یہ آدمی اس عورت کا فریقِ مخالف نہیں، کیونکہ وہ خاوند کے مال کا انکار کر رہا ہے اس عورت کے مال کا انکار نہیں کر رہا، لہٰذا یہاں بھی عورت بینہ پیش کرے تو وہ قبول نہیں کی جائے گی۔ یہ معنی ہے: ”وَلَا الْمَرْأَةُ خَصْمٌ فِي إِثْبَاتِ حُقُوقِ الْغَائِبِ“ اور نیز عورت جو ہے وہ بھی فریقِ مخالف نہیں ہے اپنے غائب خاوند کے حقوق کے ثابت کرنے میں۔ ”فَإِذَا ثَبَتَ فِي حَقِّهِ تَعَدَّى إِلَى الْغَائِبِ“ ”فَإِذَا ثَبَتَ فِي حَقِّهِ“ تو جب صاحبِ قبضہ کا اقرار ثابت ہو گیا ”فِي حَقِّهِ“ اس کے اپنے حق میں ”تَعَدَّى إِلَى الْغَائِبِ“ تو پھر یہ اقرار متعدی ہو جائے گا غائب کی طرف بھی۔ بھئی دیکھیے، اس صاحبِ قبضہ کے پاس مال کس کا ہے؟ خاوند کا ہے جو غائب ہے۔ تو اب یہ جو اقرار کر رہا ہے، اقرار تو اس کی اپنی ذات کے بارے میں قبول کیا جاتا ہے، لیکن یہاں تو خاوند کے حق میں قبول کیا جا رہا ہے اور خاوند کے مال میں سے قاضی عورت کا نفقہ مقرر کر رہا ہے۔ توجہ ہے؟ کسی آدمی کا اقرار اپنی ذات کے بارے میں تو قبول ہوتا ہے لیکن غیر کے بارے میں تو قبول نہیں ہوتا، لیکن کہتے ہیں یہاں پر اس مودَع کا اقرار اپنی ذات کے بارے میں قبول ہوگا اور پھر یہ متعدی ہو جائے گا غائب یعنی خاوند کی طرف بھی۔ کس کی طرف متعدی ہو جائے گا؟ خاوند کی طرف۔ کیونکہ جب اس آدمی نے اقرار کر لیا کہ یہ جو میرے پاس مال رکھوایا ہے یہ اس غائب خاوند کا ہے، اور نیز وہ یہ بھی اقرار کر لیتا ہے کہ یہ اسی آدمی کی بیوی ہے، تو گویا اس نے یہ اعتراف کر لیا کہ اس مال کے اندر اس عورت کا حق ہے وہ اس کو لے سکتی ہے بھئی۔ تو لہٰذا یہاں پر چونکہ نفقے کا معاملہ ہے اور عورت خاوند کے مال میں سے اس کی اجازت کے بغیر بھی لے سکتی ہے، تو جب خاوند کا مال ثابت ہو گیا اور اس عورت کا بیوی ہونا ثابت ہو گیا تو اس مال میں سے عورت کا لینا بھی ثابت ہو گیا، یعنی یہ اقرار متعدی ہو گیا اس غائب خاوند کی طرف بھی۔ یہ معنی ہے ”فَإِذَا ثَبَتَ فِي حَقِّهِ تَعَدَّى إِلَى الْغَائِبِ“ جب اس مودَع کے حق میں اس کا اقرار ثابت ہو گیا تو یہ اقرار متعدی ہو جائے گا اس غائب خاوند کی طرف بھی۔ ”وَكَذَا إِذَا كَانَ الْمَالُ فِي يَدِهِ مُضَارَبَةً“ اور اسی طرح ہوگا جب یہ مال جو اس کے قبضے میں ہے ”مُضَارَبَةً“ وہ بطورِ مضاربت کے ہے۔ مضاربت اسے کہتے ہیں کہ مال ایک آدمی کا ہو اور محنت دوسرے آدمی کی ہو اور نفع آپس میں تقسیم کریں۔ مثلاً زید کے پاس مال تو موجود ہے لیکن اسے تجارت نہیں آتی، اور عمرو کو تجارت آتی ہے لیکن اس کے پاس مال نہیں ہے، تو زید اس کو اپنا مال دیتا ہے کہ آپ میرے مال کے ذریعے تجارت کریں اور جو نفع آئے گا اس کو تقسیم کریں گے آپس میں، وہ جتنا آپس میں طے کر لیں بھئی، چاہے نصف نصف طے کریں یا چاہے کمی بیشی کے ساتھ طے کریں کہ مثلاً ایک کے لیے تیس فیصد مقرر کر لیتے ہیں، دوسرے کے لیے ستر فیصد نفع مقرر کر لیتے ہیں، تو وہ جتنا آپس میں طے کر لیں۔ تو اس کو کہتے ہیں مضاربت، کہ مال ایک کا ہو، محنت دوسرے کی ہو اور نفع آپس میں تقسیم کر لیں۔ اور یاد رکھو مضاربت کے اندر جو مال دیا جاتا ہے مضارب کو وہ امانت ہوتا ہے، اور یہ مسئلہ ہم پہلے پڑھ چکے ہیں، گزشتہ سبق کے اندر، اور وہ مسئلہ کیا تھا؟ وہ بھی ہم پیچھے پڑھ کر آ چکے ہیں۔ اب یہاں پر اس کی تھوڑی سی وضاحت صاحبِ ہدایہ کریں گے کہ مضاربت کے اندر جب مالِ مضاربت میں سے عورت کا نفقہ مقرر کر دیا جائے تو قاضی کس طریقے سے فیصلہ کرے گا، اس کی کیا تفصیل ہے، وہ اگلے سبق کے اندر ہم پڑھیں گے۔ سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، نَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ، نَسْتَغْفِرُكَ وَنَتُوبُ إِلَيْكَ، وَالسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ۔ امانت کے حکم میں ہوتا ہے۔ لہٰذا اگر مضارب کے پاس وہ مال ہلاک ہو گیا، یعنی اس نے کوئی زیادتی نہیں کی لیکن خود بخود کوئی ایسا واقعہ پیش آیا کہ مال اس کے پاس ہلاک ہو گیا یا چوری ہو گیا یا ضائع ہو گیا، یا پھر کاروبار کے اندر نقصان ہوا اور مال ضائع ہو گیا، تو اس صورت میں جو مضارب ہے اس پر ضمان نہیں آتا، کیونکہ یہ جو مال مضاربت ہوتا ہے یہ امانت کے حکم میں ہوتا ہے۔ مال مضاربت کس کے حکم میں ہے؟ امانت کے حکم میں ہے۔ لہٰذا مضارب کے پاس یہ مال ہلاک ہو جائے یا کاروبار میں ختم ہو جائے تو اس صورت میں اس پر ضمان نہیں آتا۔ پہلی صورت کیا بیان کی کتاب کے اندر؟ ایک شخص کے پاس خاوند امانت رکھوا کر گیا تھا، اپنا مال رکھوا کر گیا ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ خاوند نے امانت نہیں رکھوائی بلکہ اپنا مال مضاربت کے طور پر کسی کو دے کر گیا ہے، اور وہ آدمی بھی اقرار کر رہا ہے کہ مجھے خاوند نے مضاربت کے طور پر مال دیا ہے، اور نیز اس عورت کے بیوی ہونے کا بھی اعتراف کر رہا ہے، یا قاضی کو ان چیزوں کا پتہ ہے، تو پھر اس صورت کے اندر بھی قاضی اس مال میں سے، یہ جو مضاربت کا مال ہے اس میں سے اس عورت کا اور اسی طرح اس غائب کے نابالغ بچوں کا اور اسی طرح اس غائب کے والدین کا نفقہ مقرر کر سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا إِذَا كَانَ الْمَالُ فِي يَدِهِ مُضَارَبَةً“ اور اسی طرح ہے جب یہ مال جو ہے اس شخص کے قبضے میں بطورِ مضاربت کے ہو، ”وَكَذَا الْجَوَابُ فِي الدَّيْنِ“ اور اسی طرح جواب ہے دین کے اندر۔ کس کے اندر؟ دین کے اندر۔ مثلاً ایک آدمی ہے، اس کے ذمے اس غائب خاوند کا دین ہے بھئی، مثلاً اس غائب آدمی نے خاوند سے غلام خریدا تھا اور اس کے پیسے ابھی اس نے ادا نہیں کیے، تو وہ پیسے اس کے ذمے دین ہیں۔ کس کا دین ہے؟ خاوند کا، جو اس نے خاوند کو ادا کرنا ہے، جو وہ خاوند جو غائب ہے اس کا دین ہے۔ یا اس خاوند نے اس کو زمین فروخت کی تھی اور کچھ رقم اس نے ادا کر دی تھی، کچھ رقم ابھی ادا نہیں کی تھی، تو یہ جو دین ہے دوسرے آدمی پر، اس کے اندر اس میں بھی مسئلہ اسی طرح ہوگا۔ اگر یہ دین والا اقرار کر لیتا ہے کہ میرے ذمے اس غائب آدمی کا اتنا دین ہے اور نیز یہ بھی اقرار کر لیتا ہے کہ یہ اسی آدمی کی بیوی ہے یا قاضی کو ان چیزوں کا پتہ ہے، تو اس صورت میں بھی قاضی اس مال کے اندر اس غائب کی بیوی کا یا اس کے بچوں کا اور یا اس کے والدین کا نفقہ مقرر کر سکتا ہے بھئی۔ تو یہ معنی ہے: ”وَكَذَا الْجَوَابُ فِي الدَّيْنِ“ اور اسی طرح ہے جواب دین کے مسئلے میں بھی، یعنی دین میں بھی مسئلہ اسی طرح ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ حاصل کلام کیا؟ کہ ایک شخص کے پاس غائب خاوند نے امانت رکھوائی ہے، یا مال مضاربت ہے اس کے پاس خاوند کا، یا اس کے ذمے غائب خاوند کا دین ہے، تو ان میں قاضی فیصلہ کر دے گا اس غائب کی بیوی اور اس کے نابالغ بچوں اور اس کے والدین کے نفقے کا۔ آگے دیکھیے: ”وَهَذَا كُلُّهُ إِذَا كَانَ الْمَالُ مِنْ جِنْسِ حَقِّهَا“ بھئی وہی بات جو میں نے پہلے بیان کی تھی کہ یہ جو مال جو اس امین کے پاس ہے وہ اسی عورت کے حق کی جنس میں سے ہونا چاہیے۔ کہتے ہیں: ”وَهَذَا كُلُّهُ“ اور یہ سارا اس وقت ہے ”إِذَا كَانَ الْمَالُ مِنْ جِنْسِ حَقِّهَا“ جب یہ جو مال ہے اسی عورت کے حق کی جنس میں سے ہو، ”دَرَاهِمَ أَوْ دَنَانِيرَ“ درہم ہوں یا دینار ہوں، ”أَوْ طَعَامًا“ یا گندم ہو، یاد رکھو طعام کا اطلاق عموماً گندم پر کیا جاتا ہے، ”أَوْ طَعَامًا“ یا وہ گندم ہو، ”أَوْ كِسْوَةً مِنْ جِنْسِ حَقِّهَا“ یا کپڑے ہوں اسی عورت کے حق کی جنس میں سے، تو اس صورت میں قاضی اس عورت کے لیے اسی میں سے نفقہ مقرر کر دے گا۔ ”أَمَّا إِذَا كَانَ مِنْ خِلَافِ جِنْسِهِ“ اور اگر یہ جو مال ہے یہ اس عورت کے حق کی جنس کے خلاف ہے، یعنی جو اس عورت کا حق بنتا ہے۔ عورت کا حق کیا بنتا ہے؟ یا تو اس کو درہم ملنے چاہئیں یا دینار ملنے چاہئیں یا گندم ملنی چاہیے یا کپڑے جو اس کا حق بنتا ہے، لیکن ان کے علاوہ اگر کوئی اور جنس ہے، مثلاً غلام رکھوایا ہے امانت یا زمین رکھوائی ہے یا کوئی اور سامان تجارت رکھوایا ہے، تو پھر اس صورت میں قاضی عورت کا نفقہ اس میں سے مقرر نہیں کرے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”أَمَّا إِذَا كَانَ مِنْ خِلَافِ جِنْسِهِ“ اور اگر یہ جو مال ہے یہ عورت کے حق کی جنس کے خلاف ہوا، ”لَا تُفْرَضُ النَّفَقَةُ فِيهِ“ تو اس کے اندر اس عورت کا نفقہ مقرر نہیں کیا جائے گا، ”لِأَنَّهُ يُحْتَاجُ إِلَى الْبَيْعِ“ اس لیے کیونکہ یہ محتاج ہوگا بیع کا۔ بھئی اگر غلام رکھوایا ہے اور عورت کا نفقہ ادا کرنا ہے تو پھر اس غلام کو تو بیچنا پڑے گا، یا زمین رکھوائی ہے تو اس زمین کو بیچنا پڑے گا، یا اور سامان تجارت ہے اس کو بیچنا پڑے گا اور پھر درہم اور دینار وغیرہ عورت کو دینے پڑیں گے۔ تو اس صورت میں بیع کی ضرورت پیش آئے گی اور یاد رکھو غائب آدمی کے مال کو قاضی بیچ نہیں سکتا۔ غائب آدمی کے مال کو قاضی نہیں بیچ سکتا۔ تو کہتے ہیں: ”لَا تُفْرَضُ النَّفَقَةُ فِيهِ“ تو اس کے اندر قاضی اس عورت کا نفقہ مقرر نہیں کرے گا، ”لِأَنَّهُ يُحْتَاجُ إِلَى الْبَيْعِ“ کیونکہ اس کے اندر بیع کی حاجت ہوگی، ”وَلَا يُبَاعُ مَالُ الْغَائِبِ بِالِاتِّفَاقِ“ اور غائب آدمی کے مال کو نہیں بیچا جا سکتا بالاتفاق۔ بھئی ہمارے تینوں ائمہ کا اس پر اتفاق ہے کہ غائب آدمی کے مال کو نہیں بیچا جا سکتا۔ ”أَمَّا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اچھا بھئی، بھئی کیوں نہیں بیچا جا سکتا؟ اب اس کی وجہ ذکر کرنے لگے ہیں۔ یاد رکھو امام صاحب کے نزدیک حاضر آدمی کے مال کو بھی نہیں بیچا جا سکتا اور غائب آدمی کے مال کو بھی نہیں بیچا جا سکتا۔ وہ خود بیچتا ہے تو بیچ سکتا ہے لیکن قاضی اس کی مرضی کے بغیر اس کے مال کو نہیں بیچ سکتا۔ وجہ یہ کہ جب مال کسی کا بیچنا ہے قاضی نے تو اس کا مطلب ہے اس آدمی پر قاضی نے پابندی لگا دی۔ جیسے دیکھو غلام ہے، غلام پر پابندی ہوتی ہے وہ اپنا نکاح خود نہیں کر سکتا، غلام پر پابندی ہوتی ہے وہ تجارت نہیں کر سکتا۔ تو اسی طرح یہاں پر بھی جب قاضی اس آدمی کے سامان کو بیچنا چاہتا ہے اس کی مرضی کے بغیر تو اس کا مطلب ہے قاضی نے اس آدمی پر پابندی لگا دی ہے اس مال کے بیچنے کی اور اب قاضی بیچ رہا ہے۔ اور امام صاحب فرماتے ہیں: عاقل بالغ شخص پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔ عاقل بالغ آدمی پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی، لہٰذا قاضی اگر حاضر آدمی کے مال کو بھی بیچنا چاہتا ہے تو اس حاضر آدمی پر پابندی لگانا پڑے گی، اور حاضر آدمی پر امام صاحب فرماتے ہیں جب وہ عاقل بالغ ہے قاضی اس پر پابندی نہیں لگا سکتا۔ تو جب حاضر کے مال کو بیچنا جائز نہیں ہے امام صاحب کے نزدیک تو غائب کا مال بطریق اولیٰ قاضی کے لیے بیچنا جائز نہیں ہے۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ قاضی حاضر آدمی کے مال کو تو بیچ سکتا ہے غائب آدمی کے مال کو نہیں بیچ سکتا۔ وہ فرماتے ہیں کہ حاضر آدمی کے مال کو قاضی اس لیے بیچ سکتا ہے کہ مثلاً زید ہے اس کے ذمے کسی کا حق ہے اور زید وہ حق ادا ہی نہیں کر رہا، مثلاً زید کے ذمے دس لاکھ روپیہ قرضہ ہے، وہ قرضہ ادا ہی نہیں کر رہا حالانکہ اس کے پاس سامان وغیرہ موجود ہے جس کو بیچ کر وہ قرضہ ادا کر سکتا ہے۔ تو صاحبین فرماتے ہیں یہ جو مدعا علیہ ہے یہ دوسرے کا حق نہیں ادا کر رہا، جب یہ دوسرے کا حق ادا نہیں کر رہا تو قاضی اس پر پابندی لگا دے گا اور اس کا سامان بیچ کر اس صاحبِ حق کا حق ادا کر دے گا۔ یہ جس پر مقدمہ ہے یہ جو مدعا علیہ ہے یہ صاحبِ حق کا حق ادا نہیں کر رہا، یہ دوسرے کا حق ادا کرنے سے رک گیا ہے، تو قاضی اس پر پابندی لگا دے گا اس کی بیع پر اور خود اس کا سامان بیچ کر اس صاحبِ حق کا حق ادا کر دے گا۔ تو صاحبین کے نزدیک حاضر آدمی پر قاضی پابندی لگا کر اس کے سامان کو بیچ کر صاحبِ حق کا حق ادا کر سکتا ہے، لیکن غائب آدمی کے سلسلے میں صاحبین بھی فرماتے ہیں کہ قاضی اس کا مال نہیں بیچ سکتا۔ بھئی کیوں نہیں بیچ سکتا؟ کہتے ہیں بھئی حاضر آدمی کا مال کیوں بیچا تھا قاضی نے؟ کیونکہ وہ حق نہیں ادا کر رہا تھا، وہ حق ادا کرنے سے رکا ہوا تھا، اور غائب آدمی تو یہاں موجود ہی نہیں ہے۔ ابھی تو اس کا حق ادا کرنے سے رکنا ثابت ہی نہیں ہوا، ہو سکتا ہے وہ یہاں موجود ہوتا تو خود ہی ادا کر دیتا سارا کچھ۔ تو اس کا حق کی ادائیگی سے رکنا ابھی معلوم نہیں، جب اس کا حق سے رکنا معلوم ہوگا تو پھر اس کے بعد قاضی فیصلہ کر سکتا ہے، اور وہ تو اس وقت غائب ہے بھئی، تو اس کا حق ادا کرنے سے رکنا ابھی معلوم نہیں، لہٰذا قاضی اس کے سامان کو نہیں بیچ سکتا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو حاصل کلام یہ کہ غائب آدمی کا مال بیچنا قاضی کے لیے بالاتفاق جائز نہیں ہے بھئی۔ ہاں حاضر آدمی کا مال امام صاحب کے نزدیک قاضی نہیں بیچ سکتا جبکہ صاحبین کے نزدیک جب وہ حق ادا نہ کر رہا ہو تو قاضی بیچ سکتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا يُبَاعُ مَالُ الْغَائِبِ بِالِاتِّفَاقِ“ اور غائب آدمی کا مال بالاتفاق نہیں بیچا جا سکتا، ”أَمَّا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ تو امام صاحب کے نزدیک ”فَلِأَنَّهُ لَا يُبَاعُ عَلَى الْحَاضِرِ“ اس لیے کیونکہ مال نہیں بیچا جا سکتا حاضر آدمی کے خلاف، ”وَكَذَا عَلَى الْغَائِبِ“ تو اسی طرح غائب کے خلاف بھی ہوگا، یعنی اس کا مال بھی قاضی فروخت نہیں کر سکتا۔ ”وَأَمَّا عِنْدَهُمَا“ اور باقی صاحبین کے نزدیک ”فَلِأَنَّهُ إِنْ كَانَ يُقْضَى عَلَى الْحَاضِرِ“ ان کے نزدیک اگرچہ حاضر آدمی کے خلاف فیصلہ کیا جا سکتا ہے یعنی اس کا مال بیچا جا سکتا ہے ”لِأَنَّهُ يُعْرَفُ امْتِنَاعُهُ“ اس لیے کیونکہ اس کا حق کی ادائیگی سے رکنا معلوم ہو رہا ہے، تو کہتے ہیں ”لِأَنَّهُ يُعْرَفُ امْتِنَاعُهُ“ اس لیے کیونکہ اس حاضر آدمی کا حق کی ادائیگی سے رکنا معلوم ہو رہا ہے، ”لَكِنْ لَا يُقْضَى عَلَى الْغَائِبِ“ لیکن غائب کے خلاف فیصلہ نہیں کیا جائے گا یعنی اس کے سامان کو نہیں بیچا جائے گا ”لِأَنَّهُ لَا يُعْرَفُ امْتِنَاعُهُ“ اس لیے کیونکہ اس کا حق کی ادائیگی سے رکنا معلوم نہیں ہو رہا۔ آگے دیکھیے: ”قَالَ: وَيَأْخُذُ مِنْهَا كَفِيلًا“ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ قاضی یہ فیصلہ کرنے سے پہلے عورت سے قسم بھی لے گا کہ کہیں ایسا نہ ہو خاوند اس کو پہلے سے ہی نفقہ دے کر گیا ہو، اور نیز اس عورت سے ضامن بھی لیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”قَالَ: وَيَأْخُذُ مِنْهَا كَفِيلًا“ یہ ”قَالَ“ سے مراد صاحب قدوری ہیں، قال صاحب قدوری فرماتے ہیں: ”وَيَأْخُذُ مِنْهَا كَفِيلًا“ کہ قاضی اس عورت سے ضامن لے لے گا ”نَظَرًا لِلْغَائِبِ“ اس غائب خاوند پر شفقت کرتے ہوئے، یعنی اس کی رعایت رکھتے ہوئے۔ نظراً کا کیا ترجمہ کر لیں؟ ”نَظَرًا لِلْغَائِبِ“ اس غائب آدمی پر شفقت کرتے ہوئے، یا ”نَظَرًا لِلْغَائِبِ“ اس غائب آدمی کی رعایت رکھتے ہوئے، تاکہ اس کی بھی رعایت ہو جائے، اس کا بھی لحاظ ہو جائے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَيَأْخُذُ مِنْهَا كَفِيلًا“ قاضی اس عورت سے ضامن لے لے گا ”نَظَرًا لِلْغَائِبِ“ اس غائب آدمی کی رعایت کرتے ہوئے ”لِأَنَّهَا رُبَّمَا اسْتَوْفَتِ النَّفَقَةَ“ اس لیے کیونکہ بسا اوقات عورت نفقہ وصول کر لیتی ہے، بسا اوقات عورت پہلے ہی نفقہ وصول کر چکی ہے، خاوند جانے سے پہلے اس کو نفقہ دے کر گیا تھا اب یہ زائد مال وصول کرنا چاہتی ہے۔ یا دوسری صورت یہ ہے ہو سکتا ہے خاوند اس عورت کو طلاق دے کر گیا ہو اور اس عورت کی عدت گزر چکی ہے، اور طلاق کے بعد جب عورت کی عدت گزر جائے پھر تو وہ اجنبیہ بن گئی، اب تو اس کا نفقہ خاوند کے ذمے نہیں ہے، تو لہٰذا اس لیے ضروری ہے کہ قاضی ضامن لے لے اس عورت سے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهَا رُبَّمَا اسْتَوْفَتِ النَّفَقَةَ“ اس لیے کیونکہ بسا اوقات عورت نفقہ وصول کر چکی ہوتی ہے ”أَوْ طَلَّقَهَا الزَّوْجُ“ یا خاوند اس کو طلاق دے چکا ہوتا ہے ”وَانْقَضَتْ عِدَّتُهَا“ اور اس کی عدت گزر چکی ہے تو اب اس کا تو نفقہ خاوند کے ذمے نہیں بنتا، تو قاضی ضامن لے لے گا۔ ”فَرَّقَ بَيْنَ هَذَا وَبَيْنَ الْمِيرَاثِ إِذَا قُسِمَ بَيْنَ وَرَثَةٍ حُضُورٍ بِالْبَيِّنَةِ“ بھئی دیکھیے، امام صاحب اس مسئلے کے اندر تو فرماتے ہیں کہ قاضی اس عورت سے ضامن لے لے گا، لیکن میراث کے مسئلے میں امام صاحب ضامن لینے کا حکم نہیں دیتے۔ میراث کا مسئلہ کیا؟ مثلاً بینہ کے ذریعے کچھ لوگوں کا ایک شخص کا وارث ہونا ثابت ہو جائے۔ وارث گواہ لے آئے قاضی کے پاس اور گواہوں نے گواہی دے دی کہ قاضی صاحب یہ مرنے والے کے وارث ہیں۔ تو اس صورت میں اب دیکھو ان گواہوں نے یہ نہیں کہا کہ ان کے علاوہ اور وارث ہمیں معلوم نہیں۔ صرف انہوں نے اتنی گواہی دی ہے کہ قاضی صاحب یہ افراد مرنے والے کے وارث ہیں۔ تو احتمال ہے، ہو سکتا ہے ان کے علاوہ کوئی اور بھی وارث ہو، کوئی اور بھی وارث ہو۔ تو اب وارثوں کا ثبوت ہوا بینہ کے ذریعے اور گواہوں نے یہ نہیں کہا کہ ہمیں ان کے علاوہ اور وارثوں کا علم نہیں۔ پھر بھی امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہاں پر وارثوں سے ضامن نہیں لیا جائے گا۔ وارثوں سے ضامن نہیں لیا جائے گا۔ حالانکہ احتمال ہے، ہو سکتا ہے کوئی اور وارث ہو جو اس وقت موجود نہیں ہے، سارا مال یہ آپس میں تقسیم کر لیں گے تو اس بیچارے کا تو حق مارا جائے گا۔ تو بظاہر شبہ ہوتا ہے کہ ان وارثوں سے ضامن لینا چاہیے کہ یہ مال ہم تمہارے اندر تقسیم کر رہے ہیں لیکن اگر کل کوئی اور وارث ظاہر ہوا تو تم اس وارث کا حصہ اسے ادا کرو گے۔ لیکن امام صاحب فرماتے ہیں نہیں، اگرچہ گواہوں نے یہ نہیں کہا کہ ہمیں اور وارثوں کا علم نہیں، پھر بھی ان وارثوں سے ضامن نہیں لیا جائے گا۔ تو معلوم ہوا امام صاحب نے دونوں مسئلوں میں فرق کیا ہے۔ یہ جو عورت ہے جس کے لیے قاضی نفقے کا فیصلہ کر رہا ہے اس سے تو ضامن لیا جائے گا لیکن وارثوں سے ضامن نہیں لیا جائے گا، دونوں میں امام صاحب نے فرق کیا ہے۔ اس کی وجہ ذکر فرما رہے ہیں صاحبِ ہدایہ، وجہ کہتے ہیں یہ ہے کہ اس مسئلے کے اندر، یہ جو عورت والے مسئلہ ہے اس میں مکفول لہ معلوم ہے اور وارثوں کے مسئلے میں مکفول لہ معلوم نہیں۔ مکفول لہ اس کو کہتے ہیں جس کو ضمانت دی جائے۔ جس کو ضمانت دی جائے۔ تو یہاں پر دیکھو، عورت ضامن لے کر آئے گی اور یہ کس کو ضمانت دے گا ضامن؟ یہ دراصل اس خاوند کو ضمانت دے رہا ہے کہ اگر اس عورت نے ناحق مال وصول کیا تو یہ مال ادا کرے گی نہیں تو میں ادا کر دوں گا۔ تو یہ مکفول لہ کون ہے؟ کس کو ضامن دیا جا رہا ہے؟ وہ جو غائب خاوند ہے اس کو ضامن دیا جا رہا ہے۔ تو امام صاحب نے دونوں مسئلوں میں فرق کیا، وجہ یہ کہ یہاں پر اس عورت کے مسئلے میں تو مکفول لہ معلوم ہے، وہ خاوند ہے جو غائب ہے، وہ مکفول لہ ہے اس کو ضمانت دی جا رہی ہے۔ لیکن وارثوں کے مسئلے کے اندر تو کسی اور وارث کا ہونا یہ تو صرف ایک احتمال ہے، ایک وہمی چیز ہے، یقینی نہیں، تو وہاں مکفول لہ معلوم نہیں۔ وہاں مکفول لہ معلوم نہیں، مجہول ہے، لہٰذا اس لیے وہاں پر تو ضامن نہیں لیا جائے گا جبکہ یہاں پر تو مکفول لہ وہ خاوند ہے لہٰذا یہاں پر ضامن لیا جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”فَرَّقَ بَيْنَ هَذَا وَبَيْنَ الْمِيرَاثِ“ امام صاحب نے فرق کیا ہے اس مسئلے کے اندر اور میراث کے مسئلے میں ”إِذَا قُسِمَ بَيْنَ وَرَثَةٍ حُضُورٍ“ جب میراث تقسیم کر دی جائے حاضر وارثوں میں ”بِالْبَيِّنَةِ“ گواہی کے ذریعے، جب میراث کو کیا کر دیا جائے حاضر وارثوں میں تقسیم کر دیا جائے، پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: ”فَرَّقَ بَيْنَ هَذَا وَبَيْنَ الْمِيرَاثِ“ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے اس مسئلے کے اندر اور میراث کے مسئلے میں فرق کیا ہے ”إِذَا قُسِمَ بَيْنَ وَرَثَةٍ حُضُورٍ بِالْبَيِّنَةِ“ جب میراث کو حاضر وارثوں میں تقسیم کیا جائے بینہ کے ذریعے ”وَلَمْ يَقُولُوا“ اور حال یہ ہے کہ گواہوں نے یہ نہیں کہا ”لَا نَعْلَمُ لَهُ وَارِثًا آخَرَ“ کہ ہم اس کے کسی اور وارث کو نہیں جانتے، ہمیں اور وارثوں کا علم نہیں، یہ انہوں نے نہیں کہا، انہوں نے صرف اتنا کہا ہے کہ یہ وارث ہیں، تو احتمال تو ہے ہو سکتا ہے اور بھی وارث ہوں، اور گواہوں نے بھی نہیں کہا کہ ہم اور وارثوں کو نہیں جانتے، پھر بھی امام صاحب فرماتے ہیں کہ وارثوں سے ضامن نہیں لیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”حَيْثُ لَا يُؤْخَذُ مِنْهُمُ الْكَفِيلُ“ کیونکہ یہ جو وارث ہیں ان سے کفیل نہیں لیا جائے گا، ان سے ضامن نہیں لیا جائے گا ”عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ امام صاحب کے نزدیک ”لِأَنَّ هُنَاكَ الْمَكْفُولَ لَهُ مَجْهُولٌ“ اس لیے کیونکہ میراث کے مسئلے میں مکفول لہ جو ہے مجہول ہے، ان کے علاوہ کسی اور وارث کا ہونا وہ ایک احتمال ہے، اس کا ہونا یقینی نہیں، تو مکفول لہ وہاں مجہول ہے ”وَهَا هُنَا مَعْلُومٌ وَهُوَ الزَّوْجُ“ اور یہاں پر مکفول لہ معلوم ہے اور وہ خاوند ہے جو غائب ہے۔ ”وَيُحَلِّفُهَا“ اور نیز قاضی اس عورت کو قسم دے گا ”بِاللَّهِ مَا أَعْطَاهَا النَّفَقَةَ“ کہ وہ قسم کھا کر کہے کہ اس کو خاوند نے نفقہ نہیں دیا تھا، کہیں ایسا نہ ہو خاوند جانے سے پہلے اس کو نفقہ دے چکا ہو، تو قاضی اس عورت کو قسم دے گا ”بِاللَّهِ مَا أَعْطَاهَا النَّفَقَةَ“ کہ وہ قسم کھا کر کہے کہ خاوند نے اس کو نفقہ نہیں دیا تھا ”نَظَرًا لِلْغَائِبِ“ اس غائب خاوند کی رعایت کرتے ہوئے۔ آگے دیکھیے: ”قَالَ: وَلَا يُقْضَى بِالنَّفَقَةِ فِي مَالِ غَائِبٍ إِلَّا لِهَؤُلَاءِ“ قال صاحب قدوری فرماتے ہیں: ”وَلَا يُقْضَى بِالنَّفَقَةِ“ کہ نفقے کا فیصلہ نہیں کیا جائے گا ”فِي مَالِ غَائِبٍ“ کسی غائب آدمی کے مال میں سے ”إِلَّا لِهَؤُلَاءِ“ مگر انہی لوگوں کے لیے۔ بھئی یاد رکھو، غائب کے مال میں سے قاضی نفقے کا فیصلہ کرتا ہے تو صرف یہ جو پیچھے افراد ذکر ہوئے: بیوی ہے، اور اسی طرح غائب ہونے والے شخص کی نابالغ اولاد ہے، یا غائب ہونے والے شخص کے والدین ہیں۔ ان کے لیے نفقہ قاضی مقرر کرے گا۔ اگر اس کے علاوہ کوئی اور رشتہ دار ہیں اور وہ غریب ہیں، تو ان کے لیے قاضی اس شخص کی غیر موجودگی میں نفقہ مقرر نہیں کرے گا۔ تو کہتے ہیں: ”قَالَ“ صاحب قدوری فرماتے ہیں: ”وَلَا يُقْضَى بِالنَّفَقَةِ“ کہ نفقے کا فیصلہ نہیں کیا جائے گا ”فِي مَالِ غَائِبٍ“ کسی غائب آدمی کے مال میں ”إِلَّا لِهَؤُلَاءِ“ مگر انہی لوگوں کے لیے، ”وَوَجْهُ الْفَرْقِ“ اور فرق کی وجہ، یعنی یہ کیوں فرق کیا گیا ہے؟ بیوی، نابالغ اولاد اور والدین، ان کے نفقے کا فیصلہ قاضی غائب کے مال میں سے کر سکتا ہے، باقی کوئی قریبی محرم رشتہ دار ہے اور وہ بھی فقیر اور مسکین ہے اس کے نفقے کا فیصلہ قاضی غائب کے مال میں سے نہیں کر سکتا، تو ان میں فرق کیوں کیا گیا وہ اب بیان فرما رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَوَجْهُ الْفَرْقِ“ ان رشتہ داروں میں اور دوسرے رشتہ داروں میں فرق کی وجہ یہ ہے ”هُوَ أَنَّ نَفَقَةَ هَؤُلَاءِ وَاجِبَةٌ قَبْلَ قَضَاءِ الْقَاضِي“ ”أَنَّ نَفَقَةَ هَؤُلَاءِ“ کہ یہ جو مذکورہ رشتہ دار ہیں ان کا نفقہ ”وَاجِبَةٌ قَبْلَ قَضَاءِ الْقَاضِي“ ان کا نفقہ قضائے قاضی سے پہلے ہی واجب تھا، قاضی کے فیصلے سے پہلے ہی ان کا نفقہ واجب تھا ”وَلِهَذَا كَانَ لَهُمْ أَنْ يَأْخُذُوا قَبْلَ الْقَضَاءِ“ اور اسی لیے ان لوگوں کے لیے جائز ہے ”أَنْ يَأْخُذُوا“ کہ وہ اپنا نفقہ لے لیں ”قَبْلَ الْقَضَاءِ“ قاضی کے فیصلے سے پہلے ہی۔ ان لوگوں کے لیے جائز ہے کہ قاضی کے فیصلے سے پہلے ہی یہ نفقہ لے لیں، یعنی اگر ان لوگوں کے پاس خاوند کا... اس عورت کے پاس خاوند کا مال ہے یا والدین کے پاس خاوند کا مال ہے تو اس صورت میں اس شخص کی مرضی کے بغیر بھی یہ اس میں سے اپنا نفقہ لے سکتے ہیں، قاضی کے فیصلے کے بغیر ہی اور اس شخص کی مرضی کے بغیر بھی یہ اس میں سے اپنا نفقہ لے سکتے ہیں۔ تو قضائے قاضی سے پہلے ہی ان کا نفقہ واجب تھا، قاضی صرف ان کی مدد کر رہا ہے۔ یہ قاضی کے پاس آ گئے کہ ہمارا نفقہ دلایا جائے تو ان کا نفقہ تو پہلے ہی واجب تھا، یہ اس شخص کی مرضی کے بغیر بھی اس کے مال میں سے وصول کر سکتے تھے، قاضی صرف ان کی مدد کر رہا ہے، یعنی یوں کہو قاضی جو ہے صرف فتویٰ دے رہا ہے۔ دوبارہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: ”وَوَجْهُ الْفَرْقِ“ اور فرق کی وجہ جو ہے ”هُوَ أَنَّ نَفَقَةَ هَؤُلَاءِ وَاجِبَةٌ قَبْلَ قَضَاءِ الْقَاضِي“ کہ ان مذکورہ رشتہ داروں کا نفقہ جو ہے وہ قاضی کے فیصلے سے پہلے ہی واجب تھا ”وَلِهَذَا كَانَ لَهُمْ أَنْ يَأْخُذُوا قَبْلَ الْقَضَاءِ“ اور اسی لیے ان کے لیے جائز ہے کہ قاضی کے فیصلے سے پہلے ہی اس نفقے کو لے لیں ”فَكَانَ قَضَاءُ الْقَاضِي إِعَانَةً لَهُمْ“ تو قاضی کا جو فیصلہ ہے وہ ان کی مدد ہے، قاضی صرف ان کی مدد کر رہا ہے نفقہ تو پہلے سے ہی واجب تھا، کوئی قاضی کے فیصلے سے نفقہ نہیں واجب ہوا۔ تو کہتے ہیں: ”فَكَانَ قَضَاءُ الْقَاضِي إِعَانَةً لَهُمْ“ تو قاضی کا فیصلہ جو ہے وہ ان کی مدد تھی، ”أَمَّا غَيْرُهُمْ مِنَ الْمَحَارِمِ“ جبکہ ان کے علاوہ باقی جو محرم ہیں ”فَنَفَقَتُهُمْ إِنَّمَا تَجِبُ بِالْقَضَاءِ“ ان کا نفقہ تو قاضی کے فیصلے سے واجب ہوتا ہے ”لِأَنَّهُ مُجْتَهَدٌ فِيهِ“ اس لیے کیونکہ وہ مجتہد فیہ ہے، یعنی اس میں اجتہاد کی گنجائش ہے۔ باقی رشتہ داروں کے نفقے میں اجتہاد کی گنجائش ہے، حتیٰ کہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اور رشتہ داروں کا نفقہ آدمی پر واجب ہی نہیں ہوتا، چاہے وہ فقیر اور مسکین ہی کیوں نہ ہوں، ویسے اخلاقی طور پر آدمی کو ان کی رشتہ داروں کی مدد کرنی چاہیے لیکن قضاءً اس آدمی پر واجب نہیں کیا جا سکتا۔ جبکہ عند الاحناف اور قریبی رشتہ دار جو محرم ہیں وہ اگر فقیر ہیں اور یہ شخص مالدار ہے تو ان کا نفقہ بھی اس آدمی پر قاضی واجب کرے گا۔ تو معلوم ہوا باقی قریبی محرم رشتہ داروں کا جو نفقہ ہے وہ مجتہد فیہ ہے، اس میں اجتہاد کی گنجائش ہے، بعض فقہاء اس کے وجوب کے قائل ہیں تو بعض اس کے عدمِ وجوب کے قائل ہیں، لہٰذا وہاں قاضی کا فیصلہ اب ضروری ہے۔ قاضی کا فیصلہ ضروری ہے، اس کے بغیر نفقہ واجب نہیں ہوگا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”أَمَّا غَيْرُهُمْ مِنَ الْمَحَارِمِ“ باقی ان رشتہ داروں کے علاوہ باقی جو محرم رشتہ دار ہیں ”فَنَفَقَتُهُمْ إِنَّمَا تَجِبُ بِالْقَضَاءِ“ تو ان کا نفقہ جو ہے وہ قاضی کے فیصلے سے واجب ہوگا ”لِأَنَّهُ مُجْتَهَدٌ فِيهِ“ اس لیے کیونکہ وہ مجتہد فیہ ہے یعنی اس میں اجتہاد کی گنجائش ہے ”وَالْقَضَاءُ عَلَى الْغَائِبِ لَا يَجُوزُ“ اور غائب کے خلاف تو قاضی کا فیصلہ جائز نہیں ہے۔ یاد رکھو یہ اہم ضابطہ ہے بھئی: ”وَالْقَضَاءُ عَلَى الْغَائِبِ لَا يَجُوزُ“ جو شخص غائب ہے اس کے خلاف قاضی فیصلہ نہیں کر سکتا، وہ شخص کو وہاں موجود ہونا چاہیے۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْقَضَاءُ عَلَى الْغَائِبِ لَا يَجُوزُ“ اور غائب کے خلاف فیصلہ جو ہے وہ تو جائز نہیں ہے، بھئی دیکھو نا بیوی ہے یا اس غائب شخص کے نابالغ بچے ہیں یا اس غائب شخص کے والدین ہیں، ان کا نفقہ تو پہلے سے ہی واجب ہے، ان کا نفقہ پہلے سے ہی واجب ہے لہٰذا اب قاضی ان کا نفقہ واجب کرے گا تو یہ کوئی قاضی کے فیصلے کی وجہ سے واجب نہیں ہوئے، یہ پہلے سے ہی واجب تھا، یہ اس شخص کی اجازت کے بغیر بھی اس میں سے لے سکتے تھے، تو قاضی صرف ان کی مدد کر رہا ہے۔ جبکہ اور رشتہ داروں کا نفقہ ہے اس میں قاضی کا فیصلہ ضروری ہے اور قاضی کا فیصلہ کسی شخص کی موجودگی میں ہو سکتا ہے، اس کے غائب ہوتے ہوئے نہیں ہو سکتا، اور یہاں تو وہ شخص غائب ہے لہٰذا اور رشتہ داروں کے نفقے کا فیصلہ قاضی نہیں کر سکتا۔ اگر اور رشتہ داروں کا نفقہ بھی قاضی واجب کرے گا تو یہ آدمی تو غائب ہے، تو گویا غائب کے خلاف فیصلہ آ جائے گا اور غائب کے خلاف تو فیصلہ جائز نہیں ہے۔ یہ معنی ہے ”وَالْقَضَاءُ عَلَى الْغَائِبِ لَا يَجُوزُ“ اور غائب کے خلاف فیصلہ جو ہے وہ تو جائز نہیں ہے۔ ”وَلَوْ لَمْ يَعْلَمِ الْقَاضِي بِذَلِكَ وَلَمْ يَكُنْ مُقِرًّا بِهِ“ صورتِ مسئلہ یہ کہ جس شخص کے پاس امانت رکھوائی تھی وہ امانت کا تو اعتراف کر رہا ہے کہ میرے پاس فلاں آدمی امانت رکھوا کر گیا ہے اتنا مال، لیکن اس عورت کے بیوی ہونے کا اعتراف نہیں کر رہا کہ میں نہیں جانتا یہ اس آدمی کی بیوی ہے یا بیوی نہیں۔ اور قاضی کو بھی نہیں علم کہ یہ عورت اس شخص کی بیوی ہے یا بیوی نہیں۔ اب عورت نے بینہ قائم کر دی کہ میں اس شخص کی بیوی ہوں۔ یا وہ شخص مال چھوڑ کر ہی نہیں گیا سرے سے، کسی کے پاس کوئی امانت وغیرہ بھی نہیں رکھوائی، نہ مال چھوڑ کر گیا ہے۔ البتہ عورت آ گئی اس نے دعویٰ کر دیا اور اس نے دو گواہ بھی پیش کر دیے کہ قاضی صاحب میرا اس شخص سے نکاح ہوا تھا، یہ میرے گواہ موجود ہیں، میں اس شخص کی بیوی ہوں، اور وہ کوئی مال نہیں چھوڑ کر گیا، لہٰذا آپ میرا نفقہ مقرر کریں اور مجھے قرض لینے کا حکم دیں، میں اس کے نام پر اس کے ذمہ داری پر دوسرے لوگوں سے قرض لے کر اپنا گزارا کروں گی۔ کہتے ہیں اس صورت میں قاضی یہ فیصلہ نہیں کرے گا۔ اگر اس عورت کے بیوی ہونے کا پتہ نہ قاضی کو ہے اور نہ وہ مودع اعتراف کر رہا ہے کہ یہ اس کی بیوی ہے، البتہ عورت بینہ کے ذریعے اپنی بیوی ہونا ثابت کر رہی ہے، یا عورت نے اپنی بیوی ہونے پر بینہ قائم کر دیا اور قاضی سے کہا کہ وہ کوئی مال نہیں چھوڑ کر گیا، آپ میرے لیے نفقہ بھی مقرر فرمائیں اور مجھے اس کے ذمے پر قرض لینے کی بھی، قرض لینے کی بھی اجازت دیں، تو اس صورت میں کہتے ہیں قاضی یہ فیصلہ نہیں کرے گا، وجہ یہ اس لیے کیونکہ یہ قضاء علی الغائب ہے بھئی، قضاء علی الغائب۔ بھئی پیچھے جو تھا اس شخص نے اعتراف کیا تھا کہ میرے پاس مال بھی ہے اور یہ اس کی بیوی بھی ہے، یا قاضی کو پتہ تھا کہ یہ اس شخص کی بیوی ہے، تو لہٰذا وہاں تو قاضی نے پھر فیصلہ کر دیا تھا، لیکن اگر اس کے بیوی ہونے کا پتہ ہی نہیں ہے اب بینہ کے ذریعے وہ بیوی ہونا ثابت کر رہی ہے تو اس صورت میں قاضی فیصلہ نہیں کرے گا، اس لیے کیونکہ یہ قضاء علی الغائب ہو جائے گا، قضاء علی الغائب ہو جائے گا۔ کہتے ہیں: ”وَلَوْ لَمْ يَعْلَمِ الْقَاضِي بِذَلِكَ“ اور اگر قاضی کو اس بات کا علم نہ ہو یعنی اس عورت کے بیوی ہونے کا ”وَلَمْ يَكُنْ مُقِرًّا بِهِ“ اور اس مودع نے بھی اس کے بیوی ہونے کا اقرار نہیں کیا ”فَأَقَامَتِ الْبَيِّنَةَ عَلَى الزَّوْجِيَّةِ“ تو بیوی نے اپنے بیوی ہونے پر بینہ قائم کر دی، تو اس صورت میں بھی بینہ قبول نہیں ہوگی، اور دوسری صورت آگے ذکر کریں گے اس میں بھی بینہ قبول نہیں، ورنہ تو کیا خرابی لازم آئے گی؟ غائب کے خلاف فیصلہ لازم آئے گا اور غائب کے خلاف تو فیصلہ جائز نہیں، تو ایک یہ صورت ہے جس میں عورت نے بینہ قائم کر دی۔ ”أَوْ لَمْ يُخْلِفْ مَالًا“ یا اس خاوند نے کوئی مال پیچھے چھوڑا ہی نہیں، دوسری صورت اس مسئلے سے ہٹ کر بھئی، ایک آدمی غائب ہے اور وہ کوئی مال نہیں چھوڑ کر گیا، کسی کے پاس امانت بھی نہیں رکھوا کر گیا، لیکن اس کی بیوی قاضی کے پاس آ گئی اور آ کر مقدمہ کیا اور اس نے کہا کہ قاضی صاحب میرا خاوند عرصے سے غائب ہے اور وہ مجھے نفقہ دے کر نہیں گیا، میں اس کی بیوی ہوں، میں گواہ پیش کر سکتی ہوں، میں گواہ پیش کر سکتی ہوں تو آپ میرے لیے نفقہ مقرر فرما دیں اور مجھے خاوند کے ذمے پر قرض لینے کی اجازت دیں تاکہ میں قرض لے کر اپنا گزارا چلاؤں اور میرا خاوند جب آئے گا تو وہ سارے اس دین کی ادائیگی کر دے گا۔ تو یاد رکھو اس صورت میں بھی ہمارے ائمہ فرماتے ہیں کہ قاضی اس عورت کے لیے نفقہ مقرر نہیں کر سکتا اور نہ اس کو قرض لینے کی اجازت دے سکتا ہے، اس لیے کیونکہ یہ غائب کے خلاف فیصلہ ہو جائے گا اور غائب کے خلاف تو فیصلہ جائز نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو وہی بیان کر رہے ہیں: ”أَوْ لَمْ يُخْلِفْ مَالًا“ یا خاوند نے کوئی مال نہیں چھوڑا ”فَأَقَامَتِ الْبَيِّنَةَ“ تو عورت نے بینہ قائم کر دی یعنی اپنے بیوی ہونے پر بینہ قائم کر دی ”لِيَفْرِضَ الْقَاضِي نَفَقَتَهَا عَلَى الْغَائِبِ“ تاکہ قاضی اس کا نفقہ مقرر کر دے علی الغائب اس غائب خاوند پر ”وَيَأْمُرَهَا بِالِاسْتِدَانَةِ“ اور اس کو قرضہ لینے کا حکم دے دے، ”لَا يَقْضِي الْقَاضِي بِذَلِكَ“ تو قاضی اس کا فیصلہ نہیں کرے گا ”لِأَنَّ فِي ذَلِكَ قَضَاءً عَلَى الْغَائِبِ“ اس لیے کیونکہ اس کے اندر قضاء علی الغائب ہے، غائب آدمی کے خلاف فیصلہ ہے اور یہ جائز نہیں بھئی۔ تو ہمارے ائمہ کیا فرماتے ہیں؟ کہ اگر عورت اپنے بیوی ہونے پر بینہ پیش کر دے غائب آدمی کے خلاف تو قاضی اس پر فیصلہ نہیں کرے گا۔ ”وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ يَقْضِي فِيهِ“ جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قاضی اس میں فیصلہ کر دے گا، غائب کے خلاف بھی کیا کر دے گا؟ فیصلہ کر دے گا۔ قاضی کو علم نہیں یہ اس کی بیوی ہے، یا وہ اعتراف کرنے والا مال کا تو اعتراف کر رہا ہے لیکن اس کو بھی اس بات کا پتہ نہیں کہ یہ اس کی بیوی ہے، اور عورت نے بینہ قائم کر دی اپنے بیوی ہونے پر۔ یا عورت نے ہی مقدمہ کر دیا، الگ مسئلہ ہے ایک عورت خود ہی مقدمہ لے کر آ گئی اور کہا کہ میرا خاوند غائب ہے اور اس نے کوئی مال پیچھے نہیں چھوڑا، میں گواہ پیش کرتی ہوں کہ میں اس کی بیوی ہوں، تو میرے لیے نفقہ بھی مقرر فرمائیں اور مجھے قرض لینے کی بھی اجازت دیں۔ تو ہمارے ائمہ فرماتے ہیں نہیں، یہ تو قضاء علی الغائب ہو جائے گا اور قاضی کو اس کی اجازت نہیں۔ جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس صورت کے اندر جب بیوی نے بینہ کے ذریعے اپنا بیوی ہونا ثابت کر دیا ہے تو اب قاضی اس کے حق میں فیصلہ کر دے گا۔ اور یاد رکھو اس مسئلے کے اندر فتویٰ امام زفر رحمہ اللہ کے قول پر ہے۔ توجہ ہے؟ میں نے بتلایا تھا بھئی فقہ کے اندر صرف چند مسائل ہی ہیں جن میں امام زفر رحمہ اللہ کے قول پر فتویٰ ہے بھئی، اور یہ میری کتاب میں بین السطور لکھا ہوا ہے: ”هَذَا مِنَ الْمَسَائِلِ الْعِشْرِينَ الَّتِي يُفْتَى فِيهَا بِقَوْلِ زُفَرَ“ کہ یہ ان بیس مسائل میں سے ہے جن میں امام زفر رحمہ اللہ کے قول پر فتویٰ ہے۔ معلوم ہوا کہ بیس مسائل ایسے ہیں جن میں فتویٰ امام زفر رحمہ اللہ کے قول پر ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ يَقْضِي فِيهِ“ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قاضی اس کے اندر فیصلہ کر دے گا ”لِأَنَّ فِيهِ نَظَرًا لَهَا“ اس لیے کیونکہ اس کے اندر عورت پر شفقت ہے ”وَلَا ضَرَرَ فِيهِ عَلَى الْغَائِبِ“ اور نیز اس کے اندر غائب پر کوئی نقصان بھی نہیں ہے۔ بھئی نقصان کیسے نہیں ہے اس کا مال جا رہا ہے؟ تو کہتے ہیں بھئی اس کا ہم نے ضامن لے لیا ہے، اگر عورت کا حق نہ ہوا تو وہ اپنا نقصان وصول کر سکتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ فِيهِ نَظَرًا لَهَا“ کیونکہ اس کے اندر اس عورت پر شفقت ہے ”وَلَا ضَرَرَ فِيهِ عَلَى الْغَائِبِ“ اور نیز اس کے اندر اس غائب خاوند کا بھی اس میں کوئی نقصان نہیں ہے، ”فَإِنَّهُ لَوْ حَضَرَ“ اس لیے کیونکہ اگر خاوند حاضر ہوتا ”وَصَدَّقَهَا“ اور وہ اس عورت کی تصدیق کر دیتا کہ ہاں یہ میری بیوی ہے ”أَخَذَتْ حَقَّهَا“ تو وہ عورت اپنا حق لے لیتی، ”وَإِنْ جَحَدَ“ اور اگر خاوند انکار کرتا اس کے بیوی ہونے کا ”يُحَلَّفُ“ تو پھر خاوند کو قسم دی جاتی، ”فَإِنْ نَكَلَ“ اگر وہ پھر قسم سے انکار کر دیتا ”فَقَدْ صَدَّقَ“ تو پھر اس نے عورت کی کیا کر دی؟ تصدیق کر دی، ”وَإِنْ أَقَامَتْ بَيِّنَةً“ اور اگر عورت بینہ قائم کر دیتی ”فَقَدْ ثَبَتَ حَقُّهَا“ تو اس صورت میں بھی عورت کا حق ثابت ہو جاتا، ”وَإِنْ عَجَزَتْ“ اور اگر عورت بینہ سے عاجز آ جائے، اور اگر عورت بینہ پیش کرنے سے عاجز آ جائے ”يَضْمَنُ الْكَفِيلُ أَوِ الْمَرْأَةُ“ تو وہ کفیل یا عورت ضامن ہوں گے، ان کو وہ مال واپس ادا کرنا پڑے گا بھئی۔ تو صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ امام زفر فرماتے ہیں بھئی اگر وہ خاوند موجود ہوتا، عورت کی تصدیق کر لیتا تو بھی عورت اپنا حق لے لیتی، اور اگر عورت بینہ پیش کر دیتی، خاوند انکار کر رہا ہے اور عورت بینہ پیش کر دیتی تب بھی عورت کا حق ثابت ہو جاتا وہ حق لے لیتی، اور اگر وہ بینہ پیش نہ کر سکتی تو خاوند پر قسم آتی، خاوند قسم سے انکار کر دیتا تب بھی گویا اس نے عورت کی تصدیق کر دی تو عورت کا حق ثابت ہو جاتا، اور اگر وہ عورت بینہ پیش نہ کر سکی تو بھی وہ کفیل یا عورت اس مال کے ضامن ہو جائیں گے۔ تو لہٰذا وہ کہتے ہیں یہاں پر قاضی غائب کے خلاف ہی فیصلہ کر دے گا اس نفقے کے مسئلے میں، کس میں؟ نفقے کے مسئلے میں۔ تو آگے دیکھیے کہتے ہیں: ”وَعَمَلُ الْقُضَاةِ الْيَوْمَ عَلَى هَذَا“ قضاة بھئی، گول تا ہے آخر میں قضاة، یہ جمع ہے قاضی کی۔ صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں: ”وَعَمَلُ الْقُضَاةِ الْيَوْمَ“ کہ آج جو ہے قاضیوں کا جو عمل ہے ”عَلَى هَذَا“ وہ اسی پر ہے، یعنی وہ امام زفر رحمہ اللہ کے قول پر عمل کرتے ہیں، ”أَنَّهُ يُقْضَى بِالنَّفَقَةِ عَلَى الْغَائِبِ“ کہ یہ کہ فیصلہ کر دیا جاتا ہے نفقے کا غائب پر بھی ”لِحَاجَةِ النَّاسِ“ لوگوں کی حاجت کی وجہ سے، کیونکہ عورت بھی محتاج ہے اس شخص کے بچے بھی محتاج ہیں نابالغ بچے جو ہیں اور اس کے ماں باپ بھی محتاج ہیں۔ تو کہتے ہیں اس پر فیصلہ کر دیا جاتا ہے ”لِحَاجَةِ النَّاسِ“ لوگوں کی حاجت کی وجہ سے۔ تو کہتے ہیں اس لیے کیونکہ لوگوں کو حاجت ہے اکثر خاوند اس طرح غائب ہو جاتے ہیں نفقہ ادا نہیں کرتے، تو لہٰذا قاضی غائب کے خلاف ہی یہاں فیصلہ کر دے گا۔ ”وَهُوَ مُجْتَهَدٌ فِيهِ“ اور نیز یہ مسئلہ بھی مجتہد فیہ ہے، اس میں اجتہاد کی گنجائش ہے، جبھی تو امام زفر فرماتے ہیں یہاں غائب کے خلاف فیصلہ کیا جائے گا، اگرچہ ہمارے باقی ائمہ فرماتے ہیں غائب کے خلاف فیصلہ جائز نہیں لیکن امام زفر یہاں فرما رہے ہیں ہاں غائب کے خلاف بھی فیصلہ جائز ہے، معلوم ہوا یہاں اجتہاد کی گنجائش ہے۔ جب اجتہاد کی گنجائش ہے تو یہاں لوگوں کی حاجت کی وجہ سے قاضی فیصلہ کر دے گا۔ کہتے ہیں: ”وَفِي هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ أَقَاوِيلُ مَرْجُوعٌ عَنْهَا فَلَمْ نَذْكُرْهَا“ کہتے ہیں صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں: ”وَفِي هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ“ اس مسئلہ کے اندر ”أَقَاوِيلُ“ ایسے کئی اقوال ہیں ”مَرْجُوعٌ عَنْهَا“ جن سے رجوع کر لیا گیا، یعنی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ، امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے کئی اس میں اقوال ہیں جن سے انہوں نے رجوع کر لیا تھا، اس لیے ہم ان کو یہاں ذکر نہیں کر رہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَفِي هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ أَقَاوِيلُ“ اور اس مسئلے میں کئی ایسے قول ہیں ”مَرْجُوعٌ عَنْهَا“ جن سے رجوع کر لیا گیا تھا ”فَلَمْ نَذْكُرْهَا“ تو ہم نے بھی ان کو ذکر نہیں کیا۔ یہاں کئی ایسے اقوال ہیں جن سے امام صاحب اور امام ابو یوسف رحمہما اللہ نے رجوع فرما لیا تھا تو ہم نے بھی ان کو یہاں ذکر نہیں کیا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔