درس نمبر۔71 وَتَنْقَسِمُ الِاسْتِعَارَةُ إِلَى أَصْلِيَّةٍ، وَهِيَ: مَا كَانَ فِيهَا الْمُسْتَعَارُ اسْمًا غَيْرَ مُشْتَقٍّ، كَاسْتِعَارَةِ الظَّلَامِ لِلضَّلَالِ، وَالنُّورِ لِلْهُدَى، وَإِلَى تَبَعِيَّةٍ، وَهِيَ: مَا كَانَ فِيهَا الْمُسْتَعَارُ فِعْلًا أَوْ حَرْفًا أَوِ اسْمًا مُشْتَقًّا، نَحْوُ: فُلَانٌ رَكِبَ كَتِفَيْ غَرِيمِهِ، أَيْ: لَازَمَهُ مُلَازَمَةً شَدِيدَةً، وَقَوْلِهِ تَعَالَى: أُولَئِكَ عَلَى هُدًى مِنْ رَبِّهِمْ۔ بھئی گزشتہ سبق میں آپ نے استعارۂ مصرحہ اور استعارۂ مکنیہ کے بارے میں پڑھا تھا۔ آپ نے پڑھا تھا کہ استعارہ دو قسم پر ہے اور اس استعارہ کے اندر اگر مشبہ بہ ذکر ہو تو اس کو استعارۂ مصرحہ اور استعارۂ تصریحیّہ کہتے ہیں۔ اور اگر استعارے کے اندر مشبہ کا لفظ ذکر ہو تو اس کو استعارۂ مکنیہ اور استعارہ بالکنایہ کہتے ہیں۔ اور استعارہ بالکنایہ کے لیے استعارۂ تخییلیہ جو ہے وہ قرینہ ہوتا ہے، اس کے ذریعے پتہ چلتا ہے کہ یہاں پر یہ جو مشبہ مذکور ہے اس کو کس کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے؟ مشبہ بہ کے ساتھ بھئی، مشبہ بہ کے ساتھ۔ اور استعارہ بالکنایہ میں نے بتلایا تھا کہ کسے کہتے ہیں؟ کہ ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ تشبیہ دی جائے اور پھر اس مشبہ بہ کے لفظ کو مستعار لے لیا جائے کس کے لیے؟ مشبہ کے لیے، اور پھر اس کو حذف کر دیا جائے اور عبارت میں صرف مشبہ ذکر ہو۔ اور پھر اس کی طرف جو وہ جو حذف کر دیا مشبہ بہ کا لفظ، اس کی طرف اشارہ کیا جائے مشبہ بہ کے کسی لازم کے ذریعے اور اس لازم کو ثابت کیا جاتا ہے مشبہ کے لیے، تو یہ مشبہ بہ کا لازم جس کو مشبہ کے لیے ثابت کیا گیا، اس کو استعارۂ تخییلیہ کہتے ہیں بھئی، کیا کہتے ہیں؟ استعارۂ تخییلیہ۔ پھر اس کے بعد ایک اور تقسیم پڑھی تھی آپ نے استعارہ کی کہ ایک استعارۂ اصلیہ ہے اور ایک استعارۂ تبعیہ ہے۔ استعارۂ اصلیہ وہ ہے جس میں مستعار وہ ایسا اسم ہو جو مشتق نہ ہو، جس میں مستعار ایسا اسم ہو جو مشتق نہ ہو۔ جبکہ استعارۂ تبعیہ وہ ہے جس میں مستعار یعنی وہ لفظ جس کو عاریۃً لیا گیا ہے وہ مستعار یا فعل ہو، یا حرف ہو، یا ایسا اسم ہو جو مشتق ہو بھئی، مشتق ہو؛ جیسے اسمِ فاعل ہے، اسمِ مفعول ہے، ظرف ہے وغیرہ بھئی، تو یہ سارے کیا ہیں؟ مشتقات ہیں۔ اور اس کی مثال آپ نے پڑھی تھی: فُلَانٌ رَكِبَ كَتِفَيْ غَرِيمِهِ، فلاں سوار ہو گیا اپنے مقروض کے کندھوں پر، فلاں سوار ہو گیا اپنے مقروض کے کندھوں پر۔ تو یہاں سوار ہونے کو یعنی "رَكِبَ" فعل کو ذکر کیا گیا اور مراد ہے ساتھ لازم ہونا۔ سوار ہونے سے کیا مراد ہے؟ لازم ہونا، شدید طور پر کسی کے لازم ہو جانا یعنی اس کے پیچھے ہی بالکل پڑ جانا بھئی، تو اس کے لیے "رَكِبَ" کا فعل استعمال کیا گیا۔ اب "رَكِبَ" کا معنی تو ساتھ لازم ہونے کے نہیں ہے بلکہ "رَكِبَ" کا معنی کیا ہے؟ سوار ہونا، لیکن یہاں اس کو کس معنی میں استعمال کیا گیا؟ یوں کہیں پیچھے پڑنے کے معنی میں، ملازمتِ شدیدۃ یعنی پیچھے پڑنا شدید طور پر، تو پیچھے پڑنے کے معنی میں استعمال کیا گیا تو یہ معنی غیر موضوع لہ میں استعمال ہوا تو اس کو کیا کہیں گے؟ استعارہ۔ استعارۂ تبعیہ ہے کیونکہ فعل کے اندر استعارہ ہے، مستعار کیا ہے؟ فعل ہے، "رَكِبَ" بھئی "رَكِبَ"۔ اور یہ یاد رکھیے بھئی کہ استعارۂ مصرحہ اور استعارہ یہ دو قسم کا ہی ہوگا، جہاں کہیں بھی آ جائے یا وہ مصرحہ ہوگا یا مکنیہ ہوگا۔ پھر یہ جو اصلیہ اور تبعیہ ہے یہ انہی کے اندر تقسیم جاری ہوگی، انہی کے اندر تقسیم جاری ہوگی۔ معلوم ہوا استعارۂ اصلیہ وہ تصریحیّہ بھی ہو سکتا ہے اور مکنیہ بھی ہو سکتا ہے، کیونکہ استعارے میں مشبہ یا مشبہ بہ میں سے ایک کو تو ضرور ذکر کرنا ہے، جب ایک کو ذکر کریں گے تو وہ مشبہ ہوگا یا مشبہ، مشبہ بہ۔ مشبہ بہ ہوا تو مصرحہ ہے، مشبہ ذکر ہوا تو مکنیہ ہے، اور پھر دیکھ لو کہ جس لفظ پہ مستعار لیا گیا ہے وہ اسم غیر مشتق ہے تو وہ استعارۂ اصلیہ ہوگا، اور اگر وہ فعل ہے یا حرف ہے یا اسمِ مشتق ہے تو پھر وہ استعارۂ تبعیہ ہے بھئی، استعارۂ تبعیہ ہے۔ اور دیکھیے انہوں نے تعریف کی بھئی، تعریف: اصلیہ کی کیا تعریف کی؟ "وَهِيَ: مَا كَانَ فِيهَا الْمُسْتَعَارُ اسْمًا غَيْرَ مُشْتَقٍّ"، کہ وہ استعارہ ہے جس کے اندر مستعار ایسا اسم ہو جو غیر مشتق ہو، ایسا اسم جو غیر، تو دیکھو جب "اسماً" کہا تو فعل بھی نکل گیا اور حرف بھی نکل گیا۔ ہاں باقی کچھ مشتقات اسماء رہ گئے تھے، اسمِ فاعل، اسمِ مفعول، ظرف وغیرہ، تو وہ آگے "غَيْرَ مُشْتَقٍّ" کی قید کے ذریعے ان کو بھی نکال دیا۔ استعارۂ اصلیہ میں مستعار ہمیشہ ایسا اسم ہوگا یعنی فعل اور حرف نہیں، اور وہ اسم بھی ہوگا غیر مشتق، تو معلوم ہوا مشتقات بھی نکل گئے بھئی، مشتقات بھی نکل گئے۔ اچھا بھئی اس کو استعارۂ اصلیہ اور تبعیہ، ان کو یہ نام کیوں رکھا گیا؟ تو اگرچہ یہ بات ضروری تو نہیں آپ کے لیے، لیکن بہرحال سمجھ لیں تو اچھی بات ہے آپ کے آگے بھی کام آ جائے گی۔ استعارۂ تبعیہ کو تبعیہ کیوں کہتے ہیں؟ اصلیہ کو اصلیہ کیوں کہتے ہیں بھئی؟ استعارۂ تبعیہ تابع سے ہے، تابع۔ وہاں پر جو استعارہ آتا ہے، کس میں ائے گا استعارہ؟ فعل میں، یا حرف میں، یا مشتق میں۔ یہ استعارہ دراصل ایک اور استعارے کے تابع ہوتا ہے، کیا ہوتا ہے؟ یعنی اس کی بنیاد ایک اور استعارے پر ہوتی ہے، وہ اصل ہوتا ہے اور یہ اس کے تابع ہوتا ہے اس لیے اس کو استعارۂ تبعیہ کہتے ہیں۔ اور جبکہ استعارۂ اصلیہ اس میں وہاں پر اس استعارہ جو عبارت میں موجود ہوتا ہے جو استعارہ، اس کی بنیاد کسی دوسرے استعارے پر چونکہ نہیں ہوتی اس لیے اس کو استعارۂ اصلیہ کہتے ہیں۔ جبکہ یہ فعل کے اندر، حرف کے اندر اور مشتق کے اندر جو استعارہ ہوتا ہے اس کی بنیاد ایک اور استعارے پر ہوتی ہے، وہ ہوتا ہے اصل اور یہ ہوتا ہے اس کے تابع ہوتا ہے بھئی، تابع ہوتا ہے۔ کس طرح؟ بھئی دیکھیے یہ جو فعل ہے اور مشتق ہے، مشتق ہے، ان کی ان کا اشتقاق ہوتا ہے مصدر سے، کس سے؟ مصدر سے۔ تو جب ان میں استعارہ ہے تو معلوم ہوا پہلے ان کے مصادر میں استعارہ کیا گیا اور ان کے مصدر، جیسے یہاں پر دیکھو: یہاں "فُلَانٌ رَكِبَ"، فلاں سوار ہوا، اور سوار ہونے سے کیا مراد ہے؟ ملازمتِ شدیدۃ، کسی کے ساتھ لازم ہو جانا شدید طور پر، بہت ہی اسی کے ساتھ بہت زیادہ لازم ہو جائے یعنی اس کے پیچھے پڑ جانا، پیچھے پڑ جانا۔ اب سب سے پہلے یہاں اسی فعل کے اندر استعارہ نہیں بلکہ ان کے مصدروں کے اندر استعارہ کیا گیا، مصدر میں استعارہ کیا گیا کہ اس کا مصدر کیا ہے "رَكِبَ" کا مصدر؟ رُکُوْب۔ معلوم ہوا یہاں فعل میں استعارہ ہے، معلوم ہوا پہلے مصدر میں استعارہ کیا گیا کہ وہ جو رکوب مصدر تھا، اس کو کس معنی میں کر لیا گیا؟ ملازمتِ شدیدۃ کے معنی میں، مصدر کو کس معنی میں لے لیا؟ ملازمتِ شدیدۃ۔ تو یہ اس کا حقیقی معنی ہوا یا مجازی معنی؟ مجازی معنی ہوا، تو رکوب بول کر ملازمتِ شدیدۃ مراد لی گئی، مصدر میں استعارہ کیا گیا، تو مصدر میں استعارہ ہوا تو رکوب بمعنی ہوا ملازمتِ شدیدۃ کے۔ اور یہ کس معنی میں استعمال ہو رہا ہے؟ معنی مجازی، تو یہ جو مصدر جو معنی مجازی میں استعمال ہو رہا تھا، اس کے اندر استعارہ ہوا اصلاً۔ تو اس کے اندر استعارہ ہوا اصلاً۔ پھر یہ جو رکوب جو ملازمتِ شدیدۃ کے معنی میں تھا، اس رکوب مصدر سے "رَكِبَ" فعل کا اشتقاق کیا گیا، کس کا اشتقاق کیا گیا؟ "رَكِبَ" فعل کا، اور یہ مصدر ملازمتِ شدیدۃ کے معنی میں تھا تو "رَكِبَ" بھی اسی معنی میں ہوا یعنی لَازَمَ، مُلَازَمَةً شَدِيدَةً بھئی۔ بھئی مصدر معنی حقیقی میں استعمال ہو رہا تھا یا معنی مجازی میں؟ معنی مجازی میں، تو اس سے جو فعل بنے گا وہ بھی اسی طرح ہوگا، وہ بھی کس معنی میں استعمال ہو رہا ہے؟ معنی مجازی میں، معنی حقیقی میں استعمال نہیں ہو رہا، تو لہٰذا اس لیے اس کو تبعیہ کہتے ہیں کہ یہاں اصل میں پہلے استعارہ کس کے اندر ہوا؟ مصدر میں، اور پھر وہ جو مصدر جو مجاز تھا اسی مجازی مصدر سے اس کا اشتقاق کیا گیا تو یہ بھی اسی کی طرح ہوا یعنی معنی حقیقی کے بجائے کس میں استعمال ہے؟ معنی مجازی میں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ دوسری مثال بھئی تاکہ اور اچھی طرح وضاحت ہو جائے۔ بھئی فرض کیجیے، فرض کیجیے آپ کے ہاتھ یہاں کا ایک وزیر آپ کے ہاتھ آ گیا بھئی، وزیر آ گیا۔ آپ نے اس کو پکڑا اور ایک کونے میں لے جا کر اس کی جوتوں کے ساتھ خوب زبردست پٹائی کی بھئی، خوب زبردست پٹائی کی، اور پھر پٹائی کرنے کے بعد جب مجھے بتانے آئے تو اس کونے میں جہاں آپ نے اس کی پٹائی کی تھی اس کونے کی طرف اشارہ کر کے آپ کہنے لگے: "هَذَا مَقْتَلُ فُلَانٍ"، "هَذَا مَقْتَلُ فُلَانٍ"، یہ فلاں وزیر کے قتل کی جگہ ہے، قتل کی جگہ ہے، چونکہ آپ نے پٹائی بڑی زبردست کی تھی، جوتوں سے کی تھی اور جوتے بھی سارے سر پر ہی مارے تھے تو آپ نے اس کو کس کے ساتھ تعبیر کر دیا؟ قتل کے ساتھ، کہ گویا اتنی زبردست میں نے پٹائی کی کہ یوں سمجھیں گویا قتل ہی کر دیا۔ تو اب دیکھیے بھئی آپ نے کیا کہا: "هَذَا مَقْتَلُ فُلَانٍ"، مقتل ہے ظرف کا صیغہ اور ظرف ہے مشتق، ظرف کیا ہے؟ مشتق۔ تو یہ استعارہ کس کے اندر ہوا؟ مقتل بول کر کیا مراد ہے؟ مقتل بول کر مضرب، پٹائی کی جگہ مراد ہے، پٹائی بھی کس قسم کی؟ زبردست پٹائی بھئی۔ تو اب دیکھیے، اب آپ اس کی مضرب کو مقتل کے ساتھ کوئی تشبیہ نہیں دے رہے، اس کی اس پٹائی کی جگہ کو کوئی قتل کی جگہ کے ساتھ تشبیہ نہیں دے رہے، بلکہ یہاں پہلے مصدر کے اندر کیا ہوا؟ استعارہ، اور پھر استعارہ کس کی طرف آیا؟ مشتق میں بھی، کس طرح؟ کہ وہ جو آپ نے اس کی زبردست پٹائی کی، تھی تو وہ ضربِ شدید، تھی تو وہ ضرب لیکن اس ضرب کو آپ نے کس کے ساتھ تشبیہ دے دی؟ قتل کے ساتھ، سمجھ میں آیا؟ قتل کے ساتھ تشبیہ، اور پھر اس ضرب کے لیے قتل مصدر ہی کو لے لیا کہ یہ تو ضرب نہیں گویا کیا ہے؟ قتل۔ تو قتل کے لفظ کو لے لیا کس کے لیے؟ ضربِ شدید کے لیے۔ تو قتل کا لفظ معنی موضوع لہ میں استعمال ہو رہا ہے یا غیر موضوع لہ میں؟ غیر موضوع لہ میں، تو یہ مصدر میں پہلے استعارہ آیا کہ قتل کا لفظ لے لیا کس کے لیے؟ ضربِ شدید۔ پھر یہ جو قتل، جو کس معنی میں تھا؟ ضربِ شدید کے معنی میں تھا، اسی قتل کے مصدر سے آپ نے مقتل کا اشتقاق کیا، تو اس سے جو ظرف بنے گا وہ بھی اسی طرح ہوگا، وہ بھی کس معنی میں ہوگا؟ معنی مجازی میں ہوگا، تو مقتل بھی جو اس قتل، یہ قتل جو کس معنی میں ہے؟ ضرب کے معنی میں، تو اس سے جو مشتق ہوا مقتل وہ بھی کس معنی میں ہوگا؟ ضرب ہی کے، یعنی مضرب کے معنی میں ہوگا بھئی۔ صورت سمجھ، تو یہاں استعارہ اصل میں کس میں آتا ہے؟ مصدر میں، اور یہ جو فعل اور مشتق میں استعارہ ہوتا ہے یہ اس کے تابع، یعنی پہلے مصدر کے اندر استعارہ کر لیا گیا اور پھر وہ مصدر جو مجازی معنی میں استعمال ہو رہا تھا اور جس میں استعارہ تھا، اسی مصدر سے فعل یا اسمِ مشتق کا اشتقاق کیا، اور جب اس کا اشتقاق اس مصدر سے ہوا ہے جو معنی مجازی میں تھا تو یہ بھی کس معنی میں ہوں گے؟ یہ بھی معنی مجازی میں ہوں گے۔ تو یہ جو فعل اور مشتق کے اندر جو استعارہ آیا، یہ تابع ہے اس استعارے کے جو ان کے مصدر میں پہلے کیا گیا تھا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ لہٰذا آپ نے اس کے پٹائی کی جگہ کو قتل کی جگہ کے ساتھ کوئی تشبیہ نہیں دی، بلکہ ضربِ شدید کو کس کے ساتھ تشبیہ دی ہے؟ قتل کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔ صورت سمجھ، تو اس لیے ان کو کیا کہتے ہیں؟ استعارۂ تبعیہ کہتے ہیں۔ جبکہ جو اسمِ غیر مشتق کے اندر جو استعارہ ہوتا ہے، اس کے اندر اس استعارے کی بنیاد کسی دوسرے استعارے پر اس کی بنیاد نہیں ہوتی اس لیے اس کو استعارۂ اصلیہ کہتے ہیں۔ اور فعل کے اندر ہو، یا مشتق کے اندر ہو، یا اسی طرح حرف کے اندر ہو، اس استعارے کی بنیاد ایک اور استعارے پر ہوتی ہے اس لیے ان کو کیا کہتے ہیں؟ استعارۂ تبعیہ کہتے ہیں۔ یہاں تک بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ ہے وجہ ان کو اصلیہ اور تبعیہ کہنے کی بھئی۔ دیکھیے خود بتلا رہے ہیں: "نَحْوُ: فُلَانٌ رَكِبَ كَتِفَيْ غَرِيمِهِ"، فلاں سوار ہوا اپنے مقروض کے کندھوں پر، یعنی اس کے پیچھے پڑ گیا، "أَيْ: لَازَمَهُ مُلَازَمَةً شَدِيدَةً"، یعنی اس کے ساتھ لازم ہو گیا، ملازمۃ شدیدۃ، شدید طور پر لازم ہونا، معنی سمجھ میں آ گیا۔ "وَقَوْلِهِ تَعَالَى: أُولَئِكَ عَلَى هُدًى مِنْ رَبِّهِمْ"، اور جیسے کہ اللہ تعالی کا قول ہے: وہ لوگ ہدایت پر ہیں اپنے پروردگار کی طرف سے۔ اس ایت سے پہلے اللہ تعالی قرآن میں فرماتے ہیں بھئی، کیا اتا ہے قرآن میں؟ "الم ذَلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ"، کہ یہ کتاب جو ہے یہ ہدایت ہے کس کے لیے؟ متقیوں کے لیے، "الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ"، وہ لوگ جو ایمان لاتے ہیں غیب پر اور نماز قائم کرتے ہیں، اور جو ہم نے ان کو رزق دیا ہے اس کو وہ خرچ کرتے ہیں، "وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ"، اور یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لاتے ہیں اس کتاب پر بھی جو آپ کی طرف نازل کی گئی اور ان کتابوں پر بھی جو آپ سے پہلے نازل کی گئیں، "وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ"، اور یہ لوگ آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ یہ صفات بیان ہوئیں متقیوں کی اور پھر آگے اللہ فرماتے ہیں: "أُولَئِكَ عَلَى هُدًى مِنْ رَبِّهِمْ"، یہ لوگ ہیں ہدایت پر اپنے پروردگار کی جانب سے۔ تو یہاں پر بھی یاد رکھیے یہ جو "عَلَى" آیا، علی، یہ اس کے اندر استعارہ ہے، کیا ہے؟ استعارہ ہے، اور استعارہ حرف میں آیا اور حرف میں جو استعارہ آئے اس کو بھی کیا کہتے ہیں؟ استعارۂ تبعیہ کہتے ہیں بھئی، حرف میں استعارہ ہے۔ اب یہاں پر استعارہ کس طرح ہے، وہ سمجھ لیں بھئی، وہ سمجھ لیں۔ بھئی دیکھیے یہ جو پیچھے متقی ذکر ہوئے یعنی یہ جو پیچھے صحابہ کا ذکر آ گیا، یہ صحابہ کس پر ہیں؟ ہدایت پر ہیں، ان کے ان میں یہ یہ صفات ہیں، ان صفات کی وجہ سے اللہ فرما رہے ہیں کہ یہ کیا ہیں؟ ہدایت پر ہیں، ہدایت پر ہیں۔ تو جب ان کو ہدایت دے دی گئی، معلوم ہوا اللہ کی طرف سے ان کو ہدایت دے دی گئی ہے اس لیے ان میں یہ صفات پائی جا رہی ہیں، تو جب ان کو ہدایت دے دی گئی تو یہ ہوئے ہدایت یافتہ یعنی مہدی ہوئے، مَهْدِيٌّ، مَهْدِيٌّ، مَرْمِيٌّ کے وزن پر اسمِ مفعول ہے۔ مہدی، ایک ہے ہادی، رہنمائی کرنے والا، ہدایت دینے والا، اور ایک ہے مَهْدِيٌّ جس کو ہدایت دے دی گئی، جس کی رہنمائی کر دی گئی۔ تو صحابہ کیا ہوئے؟ مہدی ہوئے، یہ جو متقی پیچھے ذکر ہوئے یہ کیا ہوئے؟ مہدی ہوئے یعنی ہدایت یافتہ ہوئے جن کو ہدایت دے دی گئی۔ تو جب ان کو ہدایت دے دی گئی تو ہدایت میں اور ان میں تعلق اور اتصال آ گیا یا نہیں آ گیا؟ کیونکہ ان کو ہدایت مل گئی تو ان میں اور ہدایت میں کیا آ گیا؟ اتصال اور تعلق آ گیا۔ کیا آ گیا؟ توجہ ہے سبق کی طرف؟ مشکل بات ذکر کر رہا ہوں بھئی۔ یہ کیا ہوئے؟ مہدی، اور مہدی کب ہوں گے؟ جب ان میں اور ہدایت میں اتصال آئے گا تبھی مہدی کہلائیں گے نا، کہ جس کے پاس ہدایت نہ ہو اسے مہدی کہہ سکتے ہیں؟ نہیں، مہدی جس کی ہدایت جس کو مل گئی، دے دی گئی ہدایت۔ مہدی اور ہدایت کے اندر اتصال ہوتا ہے، کیا ہوتا ہے؟ اتصال اور تعلق ہوتا ہے جبھی اس کو مہدی کہا جا رہا ہے ورنہ اس کو مہدی نہ کہا جاتا، تو مہدی اور ہدایت میں اتصال ہوتا ہے، اتصال ہوتا ہے۔ تو یہاں پر بھی اسی بات کو بیان کیا جا رہا ہے: "أُولَئِكَ عَلَى هُدًى"، کہ ان لوگوں اور ہدایت میں اتصال آ گیا ہے مِنْ رَبِّهِمْ، کس کی طرف سے؟ ان کے پروردگار کی طرف سے۔ یہ "أُولَئِكَ" سے کون لوگ مراد ہیں؟ یہ پیچھے ہدایت یافتہ لوگ، اور آگے ہے "هُدًى"، تو ان لوگوں میں اور ہدایت میں یہ کیا ہے؟ اتصال ہے، یہ ذکر کیا جا رہا ہے ایت کے اندر بھئی، اتصال۔ اور اس کے لیے "عَلَى" کا لفظ لفظ استعمال کیا گیا اور "عَلَى" تو اتا ہے استعلاء کے لیے، کس کے لیے؟ استعلاء، استعلاء یعنی ایک چیز دوسری چیز کے اوپر ہو تو اس کے لیے "عَلَى" لاتے ہیں، جیسے میں کہتا ہوں: "زَيْدٌ عَلَى السَّطْحِ"، زید چھت پر ہے، زید چھت پر ہے، تو یہ "عَلَى" نے کیا بتلایا کہ چھت نیچے ہے اور زید اس کے اوپر ہے۔ یا میں کہتا ہوں: "زَيْدٌ رَكِبَ عَلَى الدَّابَّةِ"، زید سوار ہوا کس پر؟ عَلَى الدَّابَّةِ، علی لے کر ایا، یہ "عَلَى" نے کیا بتلایا کہ سواری نیچے ہے اور زید اس کے اوپر ہے، استعلاء والا معنی دیا کہ زید سواری کے اوپر سوار ہے، تو یہ فائدہ کس نے دیا؟ "عَلَى" نے۔ تو "عَلَى" اتا ہے استعلاء کے لیے، "عَلَى" کس لیے اتا ہے؟ استعلاء کے لیے آتا ہے۔ تو یہاں پر یہاں ذکر کیا کیا جا رہا ہے؟ ہدایت اور مہدی کے درمیان تعلق کو ذکر کیا جا رہا ہے کہ یہ لوگ، یہ "أُولَئِكَ" کے ذریعے اشارہ ہوا کس کی طرف؟ مہدی جو ہیں، پیچھے کون ہیں؟ ہدایت یافتہ لوگ ہیں نا، وہ مراد ہیں، اور آگے "عَلَى" کو ذرا چھوڑ دیں، "أُولَئِكَ" کے ذریعے اشارہ کس کی طرف؟ مہدی، یہ جو یہ جو ہدایت یافتہ لوگ ہیں جن میں یہ صفات ہیں، آگے ہے "هُدًى"، تو یہ لوگ اور ہدایت ان کے درمیان کیا ہے؟ اتصال ہے اور تعلق ہے، اتصال اور تعلق ہے۔ تو یہ جو مہدی اور ہدایت کے درمیان اتصال تھا، اس کو تشبیہ دے دی گئی استعلاء کے ساتھ، کس کے ساتھ؟ استعلاء کے ساتھ۔ تو تعلق جو تھا یا یوں کہیں اتصالِ مہدی جو تھا ہدایت کے ساتھ، اس اتصال کو تشبیہ دے دی گئی استعلاء کے ساتھ، اور استعلاء کے لیے تو "عَلَى" اتا ہے، "عَلَى" ہوا کیا؟ مشبہ بہ، لیکن اسی مشبہ بہ کو اٹھا کر کس کے لیے استعمال کر لیا گیا؟ مشبہ کے لیے، کیونکہ یہاں پر استعلاء ہے یا یہاں پر "أُولَئِكَ" ہے ماقبل میں اور مابعد میں ہے ہدایت، "أُولَئِكَ" سے مراد کون ہیں؟ مہدی، وہ جو ہدایت یافتہ لوگ ہیں اور آگے ہدایت ہے، تو ان دونوں میں کیا ہے آیت کے اندر؟ اتصال بیان کیا جا رہا ہے، لیکن اس اتصال کے لیے کون سا لفظ استعمال کیا گیا؟ "عَلَى" کو استعمال کیا گیا اور "عَلَى" تو اتا ہے کس کے لیے؟ استعلاء کے لیے۔ معلوم ہوا یہ جو "أُولَئِكَ" اور "هُدًى" ہے یا یوں کہیں مہدی اور ہدایت جو ہے، ان کے درمیان جو اتصال ہے معلوم ہوا اس کو کس سے تشبیہ دی گئی ہے؟ استعلاء کے ساتھ تشبیہ دے دی گئی، تو وہ جو تعلق تھا وہ ہوا مشبہ، اور استعلاء کیا ہوا؟ مشبہ بہ، اور پھر اس مشبہ بہ کو لا کر یہاں استعمال کر لیا گیا "أُولَئِكَ" اور "هُدًى" کے درمیان۔ حالانکہ "أُولَئِكَ" اور "هُدًى" کے درمیان تو اتصال تھا، استعلاء نہیں تھا، یہاں تو اتصال تھا لیکن اس اس کو تشبیہ دے دی گئی کس کے ساتھ؟ استعلاء کے ساتھ، اور پھر استعلاء یعنی مشبہ بہ کے لیے جو لفظ "عَلَى" استعمال ہوتا تھا اسی کو اٹھا کر کس کے لیے استعمال کر لیا گیا؟ اس اتصال کے لیے، کس کے لیے؟ اس اتصال اور اس تعلق کے لیے "عَلَى" کے لفظ کو استعمال کر لیا گیا، تو "عَلَى" سے یہاں مراد استعلاء ہے یا "عَلَى" سے مراد وہ اتصال ہے؟ ظاہری بات ہے یہاں تو کیا ہے؟ اتصال ہے، ہدایت پر کوئی سوار ہوتا ہے؟ جی، ہدایت پر تو کوئی سوار نہیں ہوتا، ہدایت تو کوئی محسوس چیز تو ہے نہیں کہ اس کے اوپر کیا ہو دوسرا انسان، تو یہاں دراصل کیا مراد ہے؟ اتصال، لیکن اس اتصال کو تعبیر کس سے کیا جا رہا ہے؟ "عَلَى" کے ساتھ، اور "عَلَى" تو کس لیے اتا ہے؟ استعلاء کے لیے، معلوم ہوا اس اتصال کو تشبیہ دی گئی ہے کس کے ساتھ؟ استعلاء کے ساتھ، تو وہ اتصال جو تھا وہ ہوا مشبہ اور استعلاء ہوا مشبہ بہ، پھر اس مشبہ بہ کے لفظ کو اٹھا کر کس کے لیے استعمال کر لیا گیا؟ مشبہ کے لیے، اس اتصال کے لیے۔ تو یہ کون ذکر ہے عبارت میں؟ مشبہ یا مشبہ بہ؟ مشبہ بہ ذکر ہے، تو یہ کون سا استعارہ ہوا؟ مصرحہ یا مکنیہ؟ یہ استعارۂ مصرحہ ہوا، اور کس کے اندر ایا؟ حرف کے اندر، لہٰذا اس کو کیا کہیں گے؟ اصلیہ یا تبعیہ؟ تبعیہ کہیں گے، تو یہ استعارۂ تصریحیّہ تبعیہ ہوا، استعارۂ تصریحیّہ تبعیہ ہوا۔ یہاں تک تقریب سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ ہے استعارہ اس حرف کے اندر بھئی۔ اور وجہِ تشبیہ کیا ہے؟ اتصال کو وہ جو مہدی اور ہدایت میں اتصال ہے، اس کو استعلاء کے ساتھ کیوں تعبیر کیا گیا، اس کے ساتھ کیوں تشبیہ دی گئی؟ کہتے ہیں دونوں میں مشابہت پائی جا رہی ہے۔ کیونکہ جب جب کسی کو ہدایت دے دی جائے تو وہ ہدایت وہ ہدایت کے ساتھ اس کا اتصال اور تعلق آ جاتا ہے، یوں کہو آسان لفظوں میں: ہدایت اس کے قابو میں آ جاتی ہے، کیا آ جاتی ہے؟ ہدایت اس کے قابو میں آ جاتی ہے۔ اسی طرح جب کوئی شخص کسی دوسری چیز کے اوپر سوار ہو تو وہ چیز بھی گویا اس کے قابو میں، جیسے انسان سواری پر سوار ہوتا ہے تو وہ سواری اس کے قابو میں آ جاتی ہے، تو دونوں میں مشابہت ہے کہ جیسے مہدی اور ہدایت میں جو اتصال ہے اس اتصال کی وجہ سے گویا وہ مہدی کیا ہے؟ ہدایت پر اس کا قابو ہے، اسی طرح جب کوئی شخص کسی چیز پر سوار ہوتا ہے تو وہ بھی کیا ہوتی ہے اس کے قابو میں ہوتی ہے، تو دونوں میں چیز کا قابو میں ہونا پایا جا رہا ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی۔ "أَيْ: تَمَكَّنُوا مِنَ الْحُصُولِ عَلَى الْهِدَايَةِ التَّامَّةِ"، یعنی یہ لوگ قادر ہوئے، کس چیز پر قادر ہوئے؟ "مِنَ الْحُصُولِ"، یاد رکھو یہ "تَمَكَّنَ" کا صلہ آتا ہی "مِنْ" کے ساتھ ہے، لہٰذا "سے" کے ساتھ اس کا ترجمہ نہ کرنا "تَمَكَّنُوا مِنْ" کا۔ کسی شخص کے قابو میں کوئی چیز آ جائے تو عربی میں کہتے ہیں: "تَمَكَّنَ مِنْ ذَلِكَ الشَّيْءِ"، وہ اس چیز پر کیا ہو گیا؟ قادر ہو گیا، وہ اس کے قابو میں آ گئی، تو "تَمَكَّنَ" کے ساتھ استعمال ہی کیا ہوتا ہے؟ "مِنْ"۔ "تَمَكَّنَ مِنَ الشَّيْءِ" کا کیا معنی؟ اس چیز پر قادر ہو گیا، یعنی وہ اس کے قابو میں آ گئی۔ یہاں بھی اسی طرح ترجمہ کریں: "أَيْ: تَمَكَّنُوا مِنَ الْحُصُولِ عَلَى الْهِدَايَةِ التَّامَّةِ"، یعنی یہ پوری ہدایت کے حاصل کرنے پر قادر ہو گئے، پوری ہدایت کے حاصل کرنے پر قادر ہو گئے، یعنی ہدایت یوں کہیں پوری ہدایت کا حصول ان کے قابو میں آ گیا، ہدایت یعنی ان کو پورے طور پر حاصل ہو گئی یوں کہیں بھئی، معنی سمجھ میں آ گیا۔ دوبارہ سنیں: یہاں پر "أُولَئِكَ" ہے ماقبل میں، اور یہ "أُولَئِكَ" یہ لوگ، یہ لوگ کون ہیں؟ مہدی ہیں، ہدایت یافتہ ہیں، ان کی طرف اشارہ ہوا، اور آگے ہے "هُدًى"، تو مہدی اور ہدایت میں ان میں استعلاء نہیں ہوتا، ان میں کیا ہوتا ہے؟ اتصال ہوتا ہے، تعلق آ جاتا ہے۔ اور اس اتصال کو تشبیہ دے دی گئی کس کے ساتھ؟ استعلاء کے ساتھ تشبیہ دے دی گئی، اور وجہِ تشبیہ کیا ہے؟ کیوں تشبیہ دی گئی؟ کیونکہ دونوں میں قابو کرنے کا معنی ہے، جیسے مہدی جب ہدایت کے ساتھ اس کا اتصال آ گیا تو ہدایت اس کے قابو میں آ گئی، اسی طرح جب کوئی چیز کسی دوسری کے اوپر ہو تو وہ چیز اس کے قابو میں آتی ہے، تو یہ وجہِ تشبیہ ہے۔ اور پھر یہاں ہونا تو اتصال چاہیے تھا کیونکہ ماقبل میں ہے "أُولَئِكَ" اور مابعد میں ہے "هُدًى"، تو ماقبل میں ہے گویا مہدی کا ذکر اور بعد میں ہے ہدایت کا ذکر، اور مہدی اور ہدایت میں کیا ہوتا ہے؟ اتصال، استعلاء نہیں ہوتا، لیکن اس کے لیے کون سا لفظ استعمال کر لیا گیا؟ "عَلَى"، جو کس لیے آتا ہے؟ استعلاء کے لیے، تو گویا اس اتصال کو تشبیہ دی گئی کس کے ساتھ؟ استعلاء کے ساتھ، تو یہ اتصال ہوا مشبہ اور وہ استعلاء ہوا مشبہ بہ، پھر اس مشبہ بہ کو جس لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے یعنی "عَلَى"، اس کو کس کے لیے استعمال کر لیا گیا؟ مشبہ کے لیے، تو یہ کیا ہوا؟ استعارہ بھئی، کیا ہوا؟ استعارہ، اور استعارۂ تصریحیّہ ہوا کیونکہ مشبہ بہ کا لفظ ذکر ہے، مشبہ کا لفظ ذکر نہیں ہے بھئی۔ یہاں تک بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ اچھا اب اس میں یہ سمجھ لیں کہ اس کو استعارۂ تبعیہ کیوں کہتے ہیں، حرف میں جو آئے؟ فعل اور مشتق میں جو استعارہ آتا تھا اس کو تو استعارۂ تبعیہ کہتے تھے، کیوں؟ کیونکہ وہ وہاں اس استعارے کی بنیاد ایک اور استعارے پر ہوتی تھی، یعنی کس کے استعارے پر ہوتی تھی؟ مصدر پر ہوتی تھی اس کی بنیاد، مصدر کے استعارے پر۔ تو یہ حرف کے اندر جو استعارہ ہے اس کو استعارۂ تبعیہ کیوں کہتے ہیں؟ یہ سمجھ لیں بھئی، سمجھ لیں۔ بھئی دیکھیے، ایک ہوتا ہے عام ایک ہوتا ہے خاص۔ عام جیسے لفظِ انسان ہے، انسان، یہ عام ہے، اس کے بہت سے افراد ہیں: زید بھی انسان ہے، عمر بھی انسان ہے، بکر بھی انسان ہے، خالد بھی انسان ہے، دیکھو کتنے ہی افراد ہیں، تو یہ عام ہوا یا خاص ہوا انسان؟ یہ عام ہے، عام ہے جو بہتوں پر صادق آتا ہے۔ اور ایک ہوتا ہے خاص، جیسے زید خاص ہے، زید کا لفظ زید پر ہی بولا جائے گا، بکر یا عمر پر نہیں۔ اسی طرح بکر بھی خاص ہے، بکر کا لفظ بکر پر ہی بولا جائے گا، زید یا عمر پر نہیں بولا جائے گا، تو یہ زید، عمر، بکر وغیرہ کیا ہوئے؟ خاص، خاص۔ یا یوں کہیں ایک ہے کلی اور ایک ہے جزئی۔ اسی عام اور خاص کو منطق میں کس طرح ذکر کرتے ہیں؟ کلی اور جزئی۔ کلی اسے کہتے ہیں جو کثیرین پر صادق آئے، اور اس کے جو افراد ہیں اس کو جزئی کہتے ہیں، جُزْئِيٌّ، كُلِّيٌّ اور جُزْئِيٌّ۔ تو انسان ہوا کلی، اور زید، عمر، بکر وغیرہ جو اس کے افراد ہیں وہ کیا ہوئے؟ جزئی ہوئے، یا دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لو: انسان ہے عام اور زید، عمر، بکر کیا ہیں؟ خاص ہیں بھئی، خاص ہیں۔ عام اور خاص سمجھ میں آ گیا؟ کلی اور جزئی سمجھ میں آ گیا؟ اچھا اب دیکھیے بھئی، یہ جو ہم کہتے ہیں: "فِي" آتا ہے ظرفیت کے لیے، کس لیے آتا ہے؟ "فِي" جب بھی عبارت میں آئے گا وہ ظرفیت کا معنی فائدہ دے گا، یعنی یہ بتلائے گا کہ یہ جو "فِي" کے بعد جو لفظ آ رہا ہے یہ ماقبل کے لیے ظرف ہے، میں نے کہا: "زَيْدٌ فِي الدَّارِ"، زید کس میں ہے؟ گھر میں ہے، معلوم ہوا "فِي" کے بعد کون سا لفظ آ رہا ہے؟ دار، یہ دار ظرف ہے زید کے لیے، زید اس کے اندر موجود ہے، زید اس کے اندر۔ تو یہ کس نے بتایا کہ زید گھر کے اندر ہے؟ "فِي" نے، تو "فِي" ظرفیت کا فائدہ دیتا ہے۔ میں کہتا ہوں: "زَيْدٌ فِي الْمَسْجِدِ"، کیا پتہ چلا زید کہاں پر ہے؟ مسجد کے اندر ہے، یہ مسجد کے میں اور مسجد کے اندر ہونے کا آپ کو کیسے پتہ چلا، کس لفظ نے یہ فائدہ دیا؟ "فِي" نے، یہ "فِي" ظرفیت کے لیے آتا ہے اور یہ بتلاتا ہے کہ جس لفظ پر یہ داخل ہوا ہے وہ ماقبل کے لیے کیا ہے؟ ظرف۔ کس لفظ پر داخل ہوا؟ مثلاً دار یا مسجد پر "فِي" داخل ہوا، اور ماقبل میں کون سا لفظ تھا؟ زید کا، تو یہ "فِي" نے بتلایا کہ یہ جو میرے مابعد دار یا مسجد کا لفظ ہے، یہ میرے ماقبل یعنی زید کے لیے کیا ہے؟ ظرف ہے، یا یوں کہتے ہیں: "الْمَالُ فِي جَيْبِي"، آپ کیا کہتے ہیں؟ "الْمَالُ فِي جَيْبِي"، مال میری جیب میں ہے۔ تو یہ مال کا جیب کے اندر ہونا یہ کس نے بتلایا؟ "فِي" نے۔ "فِي" بتلاتا ہے کہ میرے مابعد جو چیز لفظ آ رہا ہے یہ یہ جو ہے چیز جو ہے یہ ظرف ہے کس کے لیے؟ جو مجھ سے ماقبل یعنی مال ہے بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ "فِي" ظرفیت کے لیے آتا ہے، اسی طرح "عَلَى" آتا ہے استعلاء کے لیے، کس لیے؟ استعلاء کے لیے، کہ ایک چیز دوسری کے اوپر ہے۔ "زَيْدٌ عَلَى السَّطْحِ"، کیا معنی؟ زید چھت کے اوپر ہے، "زَيْدٌ عَلَى الدَّابَّةِ"، زید سواری کے اوپر ہے، یہ یہ اوپر ہونے کا فائدہ کون دے رہا ہے؟ "عَلَى" دے رہا ہے۔ اسی طرح "مِنْ" آتا ہے ابتدائے غایت کے لیے: "سِرْتُ مِنَ الْمَسْجِدِ إِلَى الْبَيْتِ"، میں مسجد سے گھر تک گیا، تو میرے چلنے کی اور میری سیر کی ابتدا کہاں سے ہوئی؟ مسجد سے، یہ کس نے بتایا؟ "مِنْ" نے، "سِرْتُ مِنَ الْمَسْجِدِ"، یہ "مِنْ" کیا فائدہ دیتا ہے؟ ابتدائے غایت بتلاتا ہے، مسافت کی ابتدا کہاں سے ہو رہی ہے وہ بتلاتا ہے۔ یا اسی طرح آپ کہتے ہیں: "ذَهَبَ عَمْرٌو مِنْ لَاهُور إِلَى إِسْلَامْ آبَادْ"، عمرو گیا کہاں سے؟ لاہور سے کہاں تک؟ اسلام آباد تک، تو یہ اس کے چلنے کے، اس کے جانے کی ابتدا کہاں سے ہے؟ لاہور سے، یہ کس نے بتایا؟ "مِنْ" نے۔ تو دیکھیے یہ حروف کے معانی آتے ہیں: "مِنْ" آتا ہے ابتدائے غایت کے لیے، "فِي" آتا ہے ظرفیت کے لیے، اور "عَلَى" آتا ہے استعلاء کے لیے۔ لیکن یاد رکھنا یہ ان کا معنی نہیں۔ "فِي" کا معنی ظرفیت نہیں، "مِنْ" کا معنی ابتدائے غایت نہیں، "عَلَى" کا معنی استعلاء نہیں، کیونکہ اگر "عَلَى" کا معنی استعلاء ہو جائے پھر تو یہ پورا معنی ہوا، حالانکہ ان کو حرف ہم کہتے ہی اسی لیے ہیں کیونکہ یہ اپنے معنی پر پورے طور پر دلالت نہیں کرتے، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ اسی طرح "فِي" کا معنی اگر ظرفیت ہو تو پھر تو "فِي" گویا اپنے پورے معنی پر دلالت کر رہا ہے، اس کو کیا کہنا چاہیے؟ اسم کہنا چاہیے، حالانکہ اسم اور فعل کا حرف سے فرق ہی کیا ہے؟ کہ وہ اپنے معنی پر مستقلاً دلالت کرتے ہیں اور حرف اپنے معنی پر مستقلاً دلالت نہیں کرتا۔ تو حرف کا کوئی مستقل معنی نہیں ہوتا، لہٰذا اگر "فِي" کا معنی اگر ظرفیت لیا جائے پھر تو یہ اس کا مکمل معنی مستقل معنی ہو گیا، "عَلَى" کا معنی استعلاء کیا جائے تو یہ تو اس کا مکمل معنی ہو گیا، پھر تو اس کو اسم کہنا چاہیے، اور "مِنْ" کا معنی اگر ابتدائے غایت ہو جائے یہ تو اس کا مستقل معنی ہو گیا، پھر تو اس کو کیا کہنا چاہیے؟ اسم یا فعل وغیرہ کہنا چاہیے، حرف نہیں کہنا چاہیے۔ تو یہ ان کا معنی نہیں۔ تو پھر اس کو کیا کہیں گے؟ تعبیر تو اسی طرح کرتے ہیں: "عَلَى" کا معنی کیا ہے؟ استعلاء، "فِي" کا معنی کیا ہے؟ ظرفیت، "مِنْ" کا معنی کیا ہے؟ ابتدائے غایت۔ تو یاد رکھیے علماء فرماتے ہیں، لکھتے ہیں، ذکر تو اسی طرح کرتے ہیں کہ یہ "مِنْ" کا معنی ہے، یہ "عَلَى" کا معنی ہے، لیکن یہ ان کا معنی نہیں، یہ ان کے معنی کا متعلق ہے۔ کیا ہے؟ یہ ان کے معنی کا متعلق ہے، اس کے ساتھ اس کو تعبیر کرتے ہیں، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو "عَلَى" کا معنی کیا؟ استعلاء، تو یہ دراصل اس کا معنی نہیں بلکہ یہ اس کے معنی کا متعلق ہے۔ اسی طرح "فِي" کا معنی کیا؟ ظرفیت، لیکن ظرفیت اس کا معنی نہیں، یہ "فِي" کے معنی کا متعلق ہے۔ "مِنْ" کا معنی کیا ذکر کرتے ہیں آپ ایسے بولتے ہوئے کہ "مِنْ" کا معنی ہے ابتدائے غایت، لیکن یہ ابتدائے غایت اس کا معنی نہیں بلکہ اس کے معنی کا متعلق ہے، چلیے یہ تو ایک زائد بات آپ کو بتا دی بھئی کہ یہ یہ ان کا معنی نہیں ہوتا دراصل، یہ کیا ہے ان کے معنی کا متعلق ہوتا ہے جس کے ساتھ ہم ان کو تعبیر کرتے ہیں بھئی، تعبیر کرتے ہیں۔ تو گویا "عَلَى" آتا ہے استعلاء کے لیے، "فِي" آتا ہے ظرفیت کے لیے، اور "مِنْ" آتا ہے ابتدائے غایت کے لیے۔ اب دیکھیے یہ "عَلَى" کسی ایک جگہ تو آپ نہیں استعمال کرتے، اس کو ہر جگہ آپ استعمال کرتے ہیں۔ کیا کرتے ہیں؟ "زید چھت پر ہے"، آپ کیا کہیں گے؟ "زَيْدٌ عَلَى السَّطْحِ"، دیکھو "عَلَى" لے کر آئے۔ اسی طرح آپ نے کہا: "عَمْرٌو عَلَى الدَّابَّةِ"، عمرو کس پر ہے؟ سواری کے جانور پر ہے، تو یہاں بھی "عَلَى" لے کر آئے۔ تو یاد رکھیے "عَلَى" آتا ہے استعلاء کے لیے، لیکن یہ جو آپ نے بیان کیا نا "عَلَى" استعلاء کے لیے آتا ہے، یہ مطلقِ استعلاء ہے۔ کیا ہے؟ یعنی یہ "عَلَى" یوں کہیں کلی ہے، یہ "عَلَى" کون سا ہے؟ کلی، اور اسی "عَلَى" کو آپ جگہ جگہ عبارتوں میں لاتے ہیں، وہ اس "عَلَى" کے افراد ہوتے ہیں، وہ اس کی جزئیات ہوتی ہیں۔ "عَلَى" کس لیے ہے؟ استعلاء کے لیے، یعنی یہ کیا ہے؟ کلی ہے، یہ "عَلَى" آتا ہے مطلقِ استعلاء کے لیے، کس کے لیے؟ مطلقِ استعلاء کے لیے۔ مطلق یعنی کوئی قید نہیں ہے اس کے اندر، صرف یہ بتلائے گا کہ ایک چیز دوسری چیز کے اوپر ہے، لیکن جب میں نے کہا: "زَيْدٌ عَلَى السَّطْحِ"، زید چھت پر ہے، تو یہ مطلقِ استعلاء ہے یا یہ زید کا چھت پر ہونا بتلا رہا ہے؟ زید، تو زید کا چھت پر ہونا بتلا رہا ہے، عمرو یا بکر کے بارے میں نہیں، معلوم ہوا یہ والا "عَلَى" مقید ہے، یہ خاص ہے، یہ کیا ہے؟ یہ "عَلَى" خاص ہے، اور وہ جو آپ ذکر کرتے تھے کہ "عَلَى" کس لیے آتا ہے؟ استعلاء کے لیے، معلوم ہوا وہ ہے کلی، وہ کیا ہے؟ جیسے انسان کلی ہے، زید، عمرو، بکر وغیرہ اس کے افراد ہیں، اسی طرح ایک "عَلَى" کلی ہے، "عَلَى" کیا ہے؟ کلی، جو استعلاء کے لیے آتا ہے، وہ عام ہے، اس کے ساتھ کوئی قید نہیں، لیکن اسی "عَلَى" کو جب آپ عبارت میں جگہ جگہ استعمال کرتے ہیں تو یہ دراصل اس "عَلَى" کے افراد ہیں، کیونکہ وہ مطلق تھا اور یہ مقید ہیں سارے بھئی، یہ سارے کیا ہیں؟ مقید۔ "عَلَى" کس لیے آتا ہے؟ استعلاء، کسی خاص چیز کا استعلاء یا مطلقِ استعلاء؟ یعنی جہاں استعمال کرو گے یہ کس چیز کا فائدہ دے گا؟ استعلاء کا فائدہ، تو یہ "عَلَى" ہوا مطلق، یہ "عَلَى" کیا ہوا؟ یعنی اس کے ساتھ کسی قسم کی کوئی قید نہیں، لیکن جب عبارت میں جہاں بھی لائیں گے وہ مطلق نہیں رہے گا، وہ خاص ہو جائے گا۔ "زَيْدٌ عَلَى السَّطْحِ"، یہ صرف کس کا استعلاء بتلا رہا ہے؟ زید کا، کہ زید چھت کے اوپر ہے۔ "عَمْرٌو عَلَى الدَّابَّةِ"، یہ "عَلَى" کس کا استعلاء بتلا رہا ہے؟ یہ عمرو کا استعلاء بتلا رہا ہے۔ "بَكْرٌ عَلَى السَّطْحِ"، یہ "عَلَى" کس کا استعلاء بتلا رہا ہے؟ بکر کا۔ تو یہ جو "عَلَى" آئے: "زَيْدٌ عَلَى السَّطْحِ"، یہ "عَلَى" ہے خاص، "بَكْرٌ عَلَى السَّطْحِ"، یہ "عَلَى" بھی کیا ہے؟ خاص، یہ صرف بکر کے بارے میں بتلا رہا ہے، زید یا عمرو کے بارے میں نہیں بتلا رہا۔ تو عبارت میں جہاں بھی آپ استعمال کریں گے وہ "عَلَى" ہوگا خاص، اسی کے مطابق جو اس کے جن کے ساتھ وہ جڑا ہوا ہوگا۔ عبارت میں جب بھی لائیں گے وہ کیا ہوگا؟ خاص ہوگا۔ "عَلَى" کو عربوں نے وضع کیا ہے استعلاء بتلانے کے لیے، کیا بتلانے کے لیے؟ ایک چیز دوسری کے اوپر ہے، تو یہ مطلقِ استعلاء بیان کرنے کے لیے ہے، یعنی یہ کلی ہے، یہ کیا ہے؟ کلی ہے، اس کو اور اس کے بہت سے افراد ہیں، آپ بھی اس کے جہاں بھی عبارت میں استعمال کرتے ہیں وہ اس کے افراد اور اس کی جزئیات میں سے استعمال کرتے ہیں، وہ وہاں مطلق پھر وہ نہیں رہتا بلکہ اس کے ساتھ کیا آ جاتی ہے؟ قید، تو یہ وہ اس کے افراد میں سے ہوتا ہے، کیا ہوتا ہے؟ افراد میں سے۔ یا جیسے اسمِ اشارہ سے سمجھ لیں: دیکھو اسمِ اشارہ "هَذَا"، قریب کی چیز کے لیے عربوں نے وضع کیا، لیکن کسی متعین قریب والی چیز کے لیے یا ہر قریب والی چیز کے لیے انسان اسے استعمال کر سکتا ہے؟ ہر قریب والی چیز کے لیے اشارہ اشارہ کرنے کے لیے اس کی طرف "هَذَا" آپ استعمال کر سکتے ہیں۔ تو عربوں نے جو "هَذَا" کو وضع کیا کس کے لیے؟ قریب والی چیز کے لیے، وہ "هَذَا" ہے کلی، وہ "هَذَا" کیا ہے؟ اور آپ جب بھی استعمال کریں گے، کسی متعین چیز کی طرف اشارہ کریں گے تو وہ "هَذَا" کلی نہ رہا، وہ جزئی بن گیا، وہ کیا ہے؟ جزئی بن گیا۔ تو "هَذَا" کا معنی تو کیا تھا؟ قریب والی چیز کی طرف اشارہ کرنے کے لیے تھا اور وہ تھا کلی، لیکن جب بھی استعمال کریں گے وہ کیا ہوگا؟ جزئی۔ میں نے کہا: "هَذَا الْكِتَابُ"، اب یہ "هَذَا" کے ذریعے میں کتاب کی طرف اشارہ کر رہا ہوں، قلم وغیرہ کی طرف نہیں، معلوم ہوا یہ خاص ہے، یہ "هَذَا" کیا ہے؟ خاص۔ اسی دوسرا ایک اور "هَذَا" میں لایا: "هَذَا الْقَلَمُ"، اب میں "هَذَا" کے ذریعے کس کی طرف اشارہ کر رہا ہوں؟ قلم کی طرف، یہ خاص "هَذَا" ہے جس سے قلم کی طرف اشارہ ہو رہا ہے، وہ جو "هَذَا" جس کے ذریعے کتاب کی طرف اشارہ تھا وہ اور تھا، اس کے ذریعے کتاب کی طرف اشارہ ہوا تھا، اس "هَذَا" کے ذریعے کس کی طرف اشارہ ہوا ہے؟ قلم کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ تیسرا "هَذَا" لے آئیں مثلاً: "هَذَا جِدَارٌ"، یہ کیا ہے؟ دیوار ہے، یہ اور "هَذَا" ہے، سمجھ میں آیا؟ یہ "هَذَا" دیوار کی طرف اشارہ کر رہا ہے، وہ پچھلا "هَذَا" قلم کی طرف اشارہ کر رہا تھا، اس سے پچھلا "هَذَا" کتاب کی طرف اشارہ کر رہا تھا، تو وہ تینوں الگ الگ ہیں۔ تینوں کیا ہیں؟ الگ الگ ہیں، تو یہ اس "هَذَا" کے افراد ہیں، یہ اس "هَذَا" کے جیسے انسان عام ہے۔ اب زید بھی انسان ہے، عمرو بھی انسان ہے، بکر بھی انسان ہے، لیکن یہ خاص ہیں، یہ اس کے افراد ہیں، یہ کیا ہیں؟ افراد۔ اسی طرح "هَذَا" وضع تو ہے عام قریب کی چیز کے لیے وضع ہے، لیکن جہاں بھی استعمال کریں گے لازمی بات ہے کسی خاص متعین چیز کی طرف آپ اشارہ کریں گے، جب متعین چیز کی طرف "هَذَا" کے ذریعے اشارہ کر رہے ہیں تو یہ "هَذَا" عام رہا یا خاص بن گیا؟ یہ تو خاص بن گیا ظاہر سی بات ہے، تو معلوم ہوا کہ یہ جو آپ استعمال کرتے ہیں یہ اس کی جزئیات استعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح "عَلَى" کس لیے وضع ہے؟ استعلاء کے لیے، لیکن آپ جہاں کہیں بھی عبارت میں لائیں گے وہ ایک مخصوص چیز کے لیے لائیں گے، زید کے لیے لائیں گے، یا عمرو کے لیے لائیں گے، یا بکر کے لیے لائیں گے، تو وہ عام رہے گا یا خاص؟ وہ خاص بن جائے گا، تو وہ ہوئے اس کے جزئیات اور افراد، کیا بن گئے؟ جزئیات اور افراد بن گئے۔ تو "عَلَى" آتا ہے استعلاء کے لیے، مطلقِ استعلاء کے لیے، کس کے لیے؟ مطلقِ استعلاء کے لیے وضع کیا گیا ہے، کہیں بھی آپ استعمال کر سکتے ہیں، اور اس کی جزئیات ہیں جو بھی آپ جہاں بھی استعمال کرتے ہیں وہ اس کی جزئیات ہوتی ہیں، کیا ہوتی ہیں؟ جزئیات، کیونکہ وہاں ایک مستعلی بھی ہوتا ہے ایک مستعلیٰ علیہ بھی ہوتا ہے، انہی کے وہ بیان کر رہا ہوتا ہے کہ یہ چیز اوپر ہے یہ چیز نیچے ہے۔ "زَيْدٌ عَلَى السَّطْحِ"، یہ "عَلَى" ہر ایک کے اوپر ہونے کو نہیں بیان کر رہا، یہ صرف زید کے بارے میں بیان کر رہا ہے کہ زید اوپر ہے اور چھت نیچے ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو "عَلَى" کس کے لیے وضع ہے؟ مطلقِ استعلاء کے لیے، کس کے لیے؟ جہاں بھی آپ نے استعلاء بتلانا ہے آپ استعمال کریں، کوئی قید نہیں ہے، لیکن جب استعمال کریں گے وہ کیا ہوگا؟ جب استعمال کر لیں گے وہ کیا ہوگا؟ وہ خاص ہوگا، تو وضع کیا وہ ہے عام اور جو استعمال کر رہے ہیں وہ ہے خاص یعنی اس کے افراد میں سے ایک فرد کو استعمال کر رہے ہیں، صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو دیکھیے، یہاں حرف کے اندر استعارۂ تبعیہ کیسے ہے، حرف کے اندر استعارۂ تبعیہ کیسے ہے وہ میں بیان کر رہا تھا۔ تو یہاں پر وہ جو مہدی اور ہدایت کے اندر اتصال تھا، اس کو تشبیہ دے دی گئی مطلقِ استعلاء کے ساتھ، کس کے ساتھ؟ مطلقِ استعلاء، اور مطلقِ استعلاء کے لیے کیا آتا ہے؟ "عَلَى" آتا ہے، کیا آتا ہے؟ "عَلَى" آتا ہے، اور یہ "عَلَى" ہے کلی کیونکہ مطلقِ استعلاء ہے۔ تو وہ جو مہدی اور ہدایت میں اتصال آیا وہ کون سا تھا؟ مہدی اور ہدایت میں کیا آیا؟ توجہ ہے سبق کی طرف؟ مہدی اور ہدایت میں کیا ہوتا ہے؟ اتصال ہوتا ہے۔ دنیا میں کوئی بھی شخص جس کو ہدایت مل جائے گی اس میں اور ہدایت میں اتصال آئے گا یا نہیں؟ آئے گا۔ تو دیکھو مہدی اور ہدایت میں ادھر دیکھیے بھئی، یہ ہے مہدی یہ ہے ہدایت۔ جب بھی یہ مہدی ہوگا اس کا ہدایت سے اتصال ہوگا، کیا ہوگا؟ اسی لیے تو آپ اس کو مہدی کہہ رہے ہیں ورنہ تو اگر ہدایت کے ساتھ اس کا تعلق نہیں پھر مہدی کہہ سکتے ہیں؟ نہیں، جس کو ہدایت مل گئی ہے اس کا تعلق آ گیا ہے اسی لیے اس کو کیا کہہ رہے ہیں؟ مہدی۔ تو یہ ہے مطلقِ مہدی اور اس کا اتصال ہے مطلقِ ہدایت کے ساتھ، کس کے ساتھ؟ مطلقِ ہدایت۔ اب مثلاً اور اس کے افراد بہت سارے ہیں۔ زید کو ہدایت مل جائے تو زید بھی ہوا مہدی، لیکن اب وہ مطلقِ مہدی ہے یا خاص مہدی؟ خاص مہدی ہے، اور اس کے ساتھ جو ہدایت ہے وہ بھی اسی کے ساتھ ہے لہٰذا وہ بھی خاص ہے۔ تو وہ تو ایک ہوا مطلقِ اتصال مہدی اور ہدایت کے درمیان، اور ایک اس کے افراد کا اتصال ہے وہ خاص ہیں۔ تو لہٰذا بکر کا بھی اتصال، مثلاً بکر کو بھی ہدایت مثلاً مل گئی ہے تو بکر بھی کیا ہوا؟ مہدی، اس کا ہدایت سے اتصال آیا لیکن یہ اتصال عام ہے یا خاص ہے؟ یہ خاص ہے، یہ صرف کس کا اتصال بیان کر رہا ہے؟ بکر کا۔ مثلاً خالد کو بھی ہدایت مل گئی، خالد کا بھی مہدی بن گیا تو اس کا بھی کس سے اتصال آ گیا؟ ہدایت، لیکن یہ جو خالد کا اتصال ہدایت سے ایا یہ عام ہے یا خاص ہے؟ یہ صرف خالد کے ساتھ ہدایت کے اتصال کو بیان کر رہا ہے، کسی چوتھے پانچویں شخص کے اتصال کو بیان نہیں کر رہا۔ معلوم ہوا مہدی کا جو ہدایت کے ساتھ اتصال ہے، یہ بھی دو قسم کا ہوا: عام ہوگا یا خاص۔ عام وہ ہے جو مطلق ہے جس میں کسی قسم کی قید نہیں، اور خاص وہ ہے جس میں کیا ہے؟ جس میں قید ہے جو اس کی جزئیات ہیں جو اس کے افراد ہیں، کیا ہیں؟ افراد ہیں۔ تو اب یہاں پر بھی دیکھیے: "أُولَئِكَ عَلَى هُدًى"، یہ لوگ ہیں ہدایت پر، تو یہ مہدی اور ہدایت میں اتصال بیان کیا جا رہا ہے، اور یہ اتصال عام ہے یا خاص لوگوں کا اتصال بیان کیا جا رہا ہے؟ خاص لوگوں کا، تو یہ بھی اس اتصال کے افراد میں سے ایک فرد ہے، یہ بھی اس اتصال کے افراد میں سے ایک فرد ہے۔ بات ذرا مشکل ہے، چلیے یہ مہدی اور ہدایت کے تو اس یہ بھی عام اور خاص۔ اچھا بات میں یہ بیان کر رہا تھا کہ "عَلَى" کو عربوں نے وضع کیا مطلقِ استعلاء کے لیے، اور جہاں کہیں بھی استعمال ہوگا وہ اس کی جزئیات میں سے کوئی جزئی استعمال ہوگی، یعنی وہ خاص ہوگا اور ہر خاص کے ضمن میں عام پایا جاتا ہے، ہر خاص کے ضمن میں عام پایا جاتا ہے۔ مثلاً زید انسان ہے تو جب زید موجود ہے تو انسان موجود ہے یا نہیں موجود؟ انسان بھی موجود ہے، سمجھ میں آیا؟ تو کلی ہر فرد کے ضمن میں اپنے افراد کے ضمن میں کلی موجود ہوتی ہے، افراد کے ضمن میں۔ تو "عَلَى" دوبارہ سنیں بھئی، دوبارہ سنیں۔ "عَلَى" کو عربوں نے وضع کیا کس لیے؟ استعلاء، مطلقِ استعلاء کے لیے، کس کے لیے؟ اور جو آپ عبارتوں میں کہیں بھی اس کو استعمال کیا جائے وہ مطلقِ استعلاء ہوگا یا وہ خاص استعلاء ہوگا؟ وہ لازمی بات ہے خاص استعلاء ہوگا جو اس سے ماقبل مابعد میں چیزیں ذکر ہیں انہی کا استعلاء بیان کرے گا کہ ایک چیز دوسری چیز کے اوپر ہے۔ تو یہ جو مہدی اور ہدایت میں اتصال تھا، اس کو تشبیہ دے دی گئی مطلقِ استعلاء کے ساتھ، کس کے ساتھ؟ مطلقِ استعلاء کے ساتھ۔ پھر مطلقِ استعلاء کے لیے کیا وضع ہے؟ "عَلَى"، اس "عَلَى" کی جزئیات میں سے ایک جزئی کو لے کر استعارہ کر لیا گیا۔ یا یوں کہیں، یوں کہیں، دوبارہ سنیں۔ مہدی اور ہدایت میں کیا ایا؟ اتصال، اس اتصال کو تشبیہ دی کس کے ساتھ؟ استعلاء، اور اس کے لیے استعلاء کے لیے لفظ کون سا وضع؟ "عَلَى"، تو اس اتصال کے لیے استعلاء والا لفظ یعنی مشبہ بہ کا لفظ "عَلَى" لے لیا گیا۔ کیا لے لیا گیا؟ "عَلَى" لے لیا گیا، اور تو یہ "عَلَى" جو مطلقِ استعلاء کے لیے ہے، کس لیے ہے؟ مطلقِ استعلاء کے لیے، یہ کلی ہے یا جزئی ہے؟ یہ کلی ہے۔ کس کو لیا ہم نے؟ ہم نے "عَلَى" کو لیا، کون سا "عَلَى"؟ جو خاص استعلاء کے لیے ہے یا مطلقِ استعلاء کے لیے؟ مطلقِ استعلاء، تو ہم نے یہ "عَلَى" لے لیا جو مطلقِ استعلاء کے لیے ہے، تو یہ جو یہ "عَلَى" جو مطلقِ استعلاء کے لیے تھا، اس وقت کس معنی میں ہے؟ اتصال کے معنی میں، کس معنی میں؟ اتصال، توجہ ہے بھئی؟ بالکل بات مکمل ہونے والی ہے اب بات سمجھ میں انشاءاللہ آ جائے گی۔ ہم نے مہدی اور ہدایت میں جو اتصال تھا، اس کو تشبیہ دے دی کس کے ساتھ؟ مطلقِ استعلاء کے ساتھ، کس کے ساتھ؟ مطلقِ استعلاء، اور مطلقِ استعلاء کے لیے کیا لفظ اتا ہے؟ "عَلَى"، اس "عَلَى" کو پھر ہم نے مستعار لے لیا اس اتصال کے لیے، تو یہ "عَلَى" اب کس معنی میں ہوا؟ اتصال کے معنی میں، وہ جو مہدی اور ہدایت کے درمیان تھا۔ تو یہ "عَلَى" ہوا کس معنی میں؟ اتصال کے معنی میں، اور یہ "عَلَى" ہے مطلق، یہ "عَلَى" کیا ہے؟ مطلق، تو جب مطلق "عَلَى" اتصال کے معنی میں ہوا تو اس کے سارے افراد بھی کس معنی میں ہو گئے؟ وہ بھی اتصال کے معنی میں ہو گئے۔ تو اس کے افراد میں سے ایک فرد کو یہاں استعمال کر لیا گیا اور مطلق "عَلَى" تو اتصال کے معنی میں تھا، تو اس کا جو فرد یہاں استعمال کیا گیا وہ بھی کس معنی میں ہوا؟ اتصال کے معنی میں ہوا، تو اصلاً استعارہ اس مطلق کے اندر، کلی کے اندر تھا، اور یہ فرد کے اندر جو جزئی کے اندر استعارہ ایا یہ تبعاً ایا بھئی۔ جب کلی کے اندر استعارہ آ گیا، مطلق "عَلَى" کو کس معنی میں لے لیا؟ اتصال کے معنی میں لے لیا، تو اس کے جتنے بھی افراد ہیں وہ بھی کس معنی میں ہو گئے؟ اتصال، تو اس کے افراد میں سے ایک فرد کو استعمال کر لیا گیا۔ تو یہ فرد کے اندر استعارہ ایا، لیکن یہ استعارہ کیوں ایا؟ اس کیونکہ اس کے کلی کے اندر استعارہ ایا تھا، تو اس استعارے کی بنیاد اس کلی استعارے پر ہے اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ استعارۂ تبعیہ کہتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ چلیے جی، بڑی گہری بات تھی، پہلے میں سوچ رہا تھا گزر جائیں ویسے ہی ضرورت نہیں آپ کو، لیکن شاید کبھی کام آ جائے اگلی کتابوں میں بھئی۔ تو کہتے ہیں: "أُولَئِكَ عَلَى هُدًى مِنْ رَبِّهِمْ"، یہ لوگ ہیں ہدایت پر، دیکھیے بھئی عجیب قرآن کی فصاحت و بلاغت، ایک حرف کو سمجھانے کے لیے کتنی لمبی تقریر کرنا پڑی بھئی، اور عجیب فصاحت و بلاغت ہے۔ تو دیکھو مطلقِ اتصال کے لیے کون سا لفظ لایا گیا؟ استعلاء والا، گویا یہ بتلایا گیا کہ یہ صحابہ جو ہیں، یہ متقی جو ہیں یہ ہدایت کے اوپر سوار ہیں اور ہدایت کا ان کے ساتھ اتنا گہرا تعلق ہے جس طرح ایک سوار کا سواری کے ساتھ ہوتا ہے، سوار جدھر کا رخ کرتا ہے سواری اس کے ساتھ جاتی ہے۔ یہ صحابہ، یہ جو پیغمبر کے شاگرد ہیں، یہ جو جن کی تربیت پیغمبر نے کی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے، یہ تلامذہ بھی ایسے ہیں، ہدایت کے ساتھ ان کا اس طرح اتصال آ گیا ہے جیسے سوار کا سواری کے ساتھ ہوتا ہے، یہ جس طرف کا رخ کرتے ہیں ہدایت ان کے ساتھ ہوتی ہے بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو قرآن میں آیا: "وَقَوْلِهِ تَعَالَى"، اور اللہ تعالی کا قول جو ہے: "أُولَئِكَ عَلَى هُدًى مِنْ رَبِّهِمْ"، یہ لوگ ہدایت پر ہیں اپنے پروردگار کی طرف سے، "أَيْ: تَمَكَّنُوا مِنَ الْحُصُولِ عَلَى الْهِدَايَةِ التَّامَّةِ"، یعنی یہ لوگ پوری ہدایت کے حاصل کرنے پر قادر ہیں یعنی اس پر ان کو قابو ہے۔ "وَنَحْوُ قَوْلِهِ"، اور جیسے کہ ایک شاعر کا قول: وَلَئِنْ نَطَقْتُ بِشُكْرِ بِرِّكَ مُفْصِحًا فَلِسَانُ حَالِي بِالشِّكَايَةِ أَنْطَقُ یہ شاعر کسی بادشاہ کے پاس گیا تو بادشاہ کہنے لگا کہ تم آتے نہیں ہو اور تم میری مدح وغیرہ کے اندر اشعار وغیرہ نہیں کہتے، تو شاعر کہنے لگا کہ کہ آپ نے مجھے بھلا ہی دیا ہے، آپ مجھے کہہ رہے ہیں کہ میں نے آپ کی تعریف وغیرہ زیادہ نہیں کی، آپ نے مجھے بھلا ہی دیا ہے، آپ نے انعامات وغیرہ مجھے دینا ہی بند کر دیے ہیں، اب اگر میں اپنی زبان سے ہزار بار بھی آپ کی مدح و ثنا کرتا رہوں تو میری حالت وہ اس کو جھٹلاتی رہے گی۔ کیونکہ میرے پھٹے پرانے کپڑے ہیں اور ادھر میں کہوں بادشاہ نے مجھ پر بڑے انعامات کیے ہیں، تو میری حالت کیا کرے گی اس کو؟ جھٹلاتی رہے گی بھئی۔ تو یہ وہی بات بیان کر رہا ہے، کہتا ہے: "وَلَئِنْ نَطَقْتُ بِشُكْرِ بِرِّكَ مُفْصِحًا"، نطق کہتے ہیں کلام کرنا، اور اگر میں کلام کروں بھی بِشُكْرِ بِرِّكَ، بر نیکی کو کہتے ہیں، آپ کی نیکی کے شکر کے ساتھ یعنی آپ کی نیکی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے میں کلام کروں بھی، مُفْصِحًا، اس حال میں کہ میں فصیح کلام کرنے والا ہوں، یعنی آپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اگر میں خوب فصیح و بلیغ کلام کروں بھی تو اس کا کوئی فائدہ نہیں، "فَلِسَانُ حَالِي بِالشِّكَايَةِ أَنْطَقُ"، تو میرے حالی میرا حال، میرے حال کی زبان، میرے حال کی زبان جو ہے بِالشِّكَايَةِ أَنْطَقُ، وہ زیادہ بولنے والی ہے، زیادہ دلالت کرنے والی ہے شکایت پر، میری حالت کی زبان کیا کر رہی ہے؟ میں زبان سے تو جتنے بھی آپ کی فصیح و بلیغ کلام لاؤں آپ کا شکریہ ادا کر دوں، لیکن میری حالت کی زبان جو ہے وہ زیادہ بیان کرنے والی ہے آپ کی شکایت کو، وہ کیا کر رہی ہے؟ آپ کی شکایت بیان کر رہی ہے۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ تو "أَنْطَقُ"، دیکھیے "أَنْطَقُ" اسمِ تفضیل ہے، اسمِ تفضیل، اور اسمِ تفضیل بھی مشتقات میں سے ہے، کس میں سے ہے؟ مصدر سے، لہٰذا اس کے اندر جو استعارہ ہوگا وہ بھی کیا ہوگا؟ استعارۂ تبعیہ۔ تو زیادہ بولنے والی ہے یعنی زیادہ دلالت کرنے والی ہے، کیونکہ حالت کسی کی وہ بولتی نہیں ہے، وہ دلالت کرتی ہے، کیا کرتی ہے؟ لیکن اس دلالت کرنے کو ہی کس کے ساتھ تعبیر کر دیا گیا؟ بولنے کے ساتھ، تو گویا اس دلالت کرنے کو تشبیہ دے دی گئی کس کے ساتھ؟ بولنے کے ساتھ، کیونکہ جیسے بولنے سے ایک چیز واضح ہو جاتی ہے اسی طرح دلالت سے بھی واضح ہو جاتی ہے، سمجھ میں آ جاتی ہے بھئی۔ تو دلالت کرنے کو کس کے ساتھ تشبیہ دی؟ بولنے کے ساتھ، تو دلالت کرنا ہوا مشبہ اور بولنا ہوا مشبہ بہ، اور اس مشبہ بہ کا لفظ جو ہے یعنی نطق، اسی کو استعمال کر لیا گیا کس کے لیے؟ دلالت کے لیے استعمال کر لیا گیا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ استعارہ سمجھ میں آیا؟ تو کہتے ہیں: "وَلَئِنْ نَطَقْتُ بِشُكْرِ بِرِّكَ مُفْصِحًا فَلِسَانُ حَالِي بِالشِّكَايَةِ أَنْطَقُ"، اور اگر میں بولوں بھی آپ کی نیکی کا آپ کی نیکی کے شکریہ کے ساتھ فصیح کلام کرتے ہوئے، تو میری حالت کی زبان جو ہے وہ زیادہ دلالت کرنے والی ہے شکایت پر، وہ زیادہ بولنے والی ہے شکایت کو۔ استعارہ سمجھ میں آ گیا کہ یہاں "أَنْطَقُ" میں کس طرح استعارہ ہے؟ یہ کس معنی میں ہے؟ دلالت کرنے کے معنی میں، کیونکہ حالت بولتی نہیں ہے بلکہ حالت کیا کرتی ہے؟ دلالت کرتی ہے، تو اس دلالت کرنے کو تشبیہ دے دی کس کے ساتھ؟ بولنے کے ساتھ۔ وجہِ تشبیہ کیا ہے؟ جیسے بولنے سے ایک چیز سمجھ میں آ جاتی ہے اسی طرح دلالت سے بھی ایک چیز سمجھ میں آ جاتی ہے، تو یہ ہوئی وجہِ تشبیہ۔ تو دلالت ہوئی مشبہ، اور بولنا یعنی نطق کیا ہوا؟ مشبہ بہ، اور پھر اس مشبہ بہ یعنی نطق کے لفظ کو کس کے لیے مستعار لے لیا گیا؟ دلالت کے لیے، تو اور یہاں پر کیا ذکر ہے؟ مشبہ ذکر ہے یا مشبہ بہ ذکر ہے؟ کس کو کس سے تشبیہ دی؟ دلالت کو، کس سے؟ بولنے سے، کیونکہ پیچھے "حالي" میری حال کی زبان، حال کی زبان بھئی حال تو بولتا نہیں ہے، وہ کیا کرتا ہے؟ دلالت کرتا ہے، تو معلوم ہوا یہاں "أَنْطَقُ" نطق بول کر کیا مراد ہے؟ دلالت مراد ہے، تو گویا دلالت حال دلالت کرتا ہے تو گویا دلالت کو تشبیہ دی کس کے ساتھ؟ بولنے کے ساتھ، بولنے کے ساتھ، تو دلالت ہوئی مشبہ اور نطق یعنی بولنا کیا ہوا؟ مشبہ بہ، اور عبارت میں کیا ذکر ہے؟ کس کو توجہ نہیں میرا خیال سبق کی طرف آپ کی، دلالت کیا ہے؟ مشبہ، اور بولنا یعنی نطق کیا ہے؟ مشبہ بہ، اور یہاں کیا ذکر ہے؟ "أَنْطَقُ" مشبہ بہ ذکر ہے، اور مشبہ بہ عبارت میں ذکر ہو یہ کون سا استعارہ ہے؟ استعارۂ تصریحیّہ ہے، کیا ہے؟ استعارۂ تصریحیّہ ہے۔ تو یہاں پر بھی یہ استعارۂ تبعیہ ہے، کیا ہے؟ کیونکہ "أَنْطَقُ" اسمِ تفضیل ہے اور اسمِ تفضیل یہ مصدر سے اس کا اشتقاق ہوتا ہے، تو یہاں اس کو اس کو استعارۂ تبعیہ کیوں کہا؟ کیونکہ اولاً استعارہ کس میں ہوا؟ مصدر میں ہوا، یعنی نطق کو کس معنی میں کر لیا گیا؟ دلالت کے معنی میں کر لیا گیا، تو اصلاً استعارہ ہوا مصدر میں اور تبعاً پھر اس مصدر سے یہ نطق مصدر جو کس معنی میں تھا؟ دلالت کے معنی میں تھا، اسی مصدر سے اسمِ تفضیل بنایا گیا تو یہ اسمِ تفضیل بھی کس معنی میں ہوگا؟ دلالت ہی کے معنی میں ہوگا، تو یہ استعارۂ تبعیہ ہوا۔ "وَنَحْوُ: أَذَقْتُهُ لِبَاسَ الْمَوْتِ، أَيْ: أَلْبَسْتُهُ إِيَّاهُ"، اور جیسے میں نے "أَذَقْتُهُ"، اس کو چکھا دیا موت کا لباس، "أَيْ: أَلْبَسْتُهُ إِيَّاهُ"، یعنی وہ اس کو پہنا دیا، یعنی وہ اس کو پہنا دیا۔ تو یہاں "أَذَقْتُ" آیا اور آگے ہے لباس، اور لباس چکھایا جاتا ہے یا پہنایا جاتا ہے؟ پہنایا جاتا ہے، معلوم ہوا "أَذَقْتُ" کس معنی میں ہوا؟ "أَلْبَسْتُ" کے معنی میں ہوا، أَلْبَسَ يُلْبِسُ إلباس کا معنی لباس پہنانا، تو یہ "أَذَقْتُ" کس معنی میں؟ "أَلْبَسْتُ" کے معنی میں، تو معلوم ہوا اس میں استعارہ ہے کیونکہ لفظ اپنے حقیقی معنی میں استعمال نہیں ہو رہا، اور پھر فعل ہے یہ، فعل ہے "أَذَقْتُ"، تو یہ استعارۂ تبعیہ ہوا، کیا ہوا؟ استعارۂ تبعیہ ہوا۔ اور یہ جو "أَذَقْتُ" کے آگے لباس ہے نا یہ قرینہ ہے، یہ قرینہ ہے کس پر؟ استعارے پر، یہ بتلا رہا ہے کہ یہاں "أَذَقْتُ" کس معنی میں ہے؟ "أَلْبَسْتُ" کے معنی میں ہے، "أَلْبَسْتُ" کے معنی میں، سمجھ میں آیا؟ ہر استعارے کے لیے قرینے کا ہونا ضروری ہے، بغیر قرینے کے استعارہ نہیں، جیسے پیچھے آیا تھا "أَنْطَقُ"، "أَنْطَقُ" کس معنی میں تھا؟ دلالت کرنے کے معنی میں تھا، سمجھ میں آیا؟ "أَنْطَقُ"، "أَدَلُّ" کے معنی میں تھا، لیکن پتہ کس سے چلا تھا؟ کیونکہ پیچھے حال کا ذکر تھا، حال تو بولتا نہیں ہے وہ تو کیا کرتا ہے؟ دلالت، اس سے پتہ لگ رہا تھا۔ اسی طرح اوپر تھا: "أُولَئِكَ عَلَى هُدًى"، یہ "عَلَى" کس معنی میں ہے؟ یہ "أُولَئِكَ عَلَى هُدًى"، یہ "عَلَى" کے اندر کیا ہے؟ استعارہ ہے، تو یہاں کس طرح پتہ چلا تھا؟ کیونکہ یہاں "أُولَئِكَ" ماقبل میں ہدایت یافتہ اور مابعد میں کس کا ذکر ہے؟ ہدایت کا، اور ہدایت یافتہ ہدایت کے اوپر سوار نہیں ہوتا کیونکہ ہدایت کوئی محسوس چیز نہیں ہے، تو اس نے بتا دیا تو ہر ایک کے لیے قرینہ ضروری ہوتا ہے بھئی۔ خلاصۂ کلام یہ ہوا کہ استعارے کے اندر یا تو مشبہ ذکر ہوتا ہے یا مشبہ بہ، ہمیشہ ایسا ہی ہوگا یا مشبہ ذکر ہوگا یا مشبہ بہ۔ تو اگر مشبہ بہ ذکر ہو تو وہ تصریحیّہ ہوگا، اگر مشبہ ذکر ہو تو یہ استعارۂ مکنیہ یا استعارہ بالکنایہ ہوگا۔ پھر ان میں تقسیم ہے یا یہ اصلی ہوگا یا تبعی ہوگا، اگر مستعار لفظ جو ہے وہ مشتق ہو یا فعل ہو یا حرف ہو تو اس کو استعارۂ تبعیہ کہیں گے، اور اگر ایسا نہ ہو تو اس کو استعارۂ اصلیہ کہیں گے۔ اور پھر میں نے یہ وجہ ذکر کی استعارۂ تبعیہ کو تبعیہ کیوں کہتے ہیں؟ میں نے بتلایا تھا کہ مشتق کے اندر جب استعارہ ہو تو وہ دراصل اس کی بنیاد ہوتی ہے اس کے مصدر کے اندر پہلے استعارہ ہوتا ہے اور پھر اس کے پھر مشتق میں بھی وہ استعارہ آ جاتا ہے، تو مشتق کے اندر استعارے کی بنیاد ایک اور استعارے پر ہے اور وہ کس میں؟ وہ مصدر کے اندر استعارہ ہے لہٰذا اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ استعارۂ تبعیہ کہتے ہیں۔ اور حرف کے اندر جو استعارہ ہے اس کو بھی تبعیہ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ وہاں پر اولاً استعارہ جو ہے وہ جو حرف کا کے معنی کا متعلق ہے، حرف کے معنی کا متعلق ہے، اس میں اس کے لیے جو لفظ وضع تھا اس میں یعنی اس معنی کلی میں اولاً استعارہ ہوتا ہے، کس میں؟ معنی کلی میں استعارہ ہوتا ہے، عام کے اندر استعارہ ہوتا ہے، کلی کے اندر استعارہ ہوتا ہے اور پھر یہ استعارہ اسی پر بنیاد ہوتی ہے آگے کس کی؟ اس کی جو جزئیات ہیں ان میں بھی کیا آ جاتا ہے؟ استعارہ آ جاتا ہے۔ بات اچھی طرح سب کو سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔