آگے سبق دیکھیے بھئی: "وَإِذَا قَذَفَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ صَغِيرَةٌ أَوْ مَجْنُونَةٌ فَلَا لِعَانَ بَيْنَهُمَا لِأَنَّهُ لَا يُحَدُّ قَاذِفُهَا لَوْ كَانَ أَجْنَبِيًّا فَكَذَا لَا يُلَاعِنُ الزَّوْجُ لِقِيَامِهِ مَقَامَهُ، وَكَذَا إِذَا كَانَ الزَّوْجُ صَغِيرًا أَوْ مَجْنُونًا لِعَدَمِ أَهْلِيَّةِ الشَّهَادَةِ، وَقَذْفُ الْأَخْرَسِ لَا يَتَعَلَّقُ بِهِ اللِّعَانُ"۔ گزشتہ سبق میں صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ اگر کوئی شخص ہے اس نے دو ظہار کر لیے ہیں اور اب وہ ہر مسکین کو دونوں کی مقدار ملا کر دیتا ہے، یعنی جیسے ظہار کے اندر ہر مسکین کو نصف صاع گندم دینی پڑے گی، تو وہ ہر مسکین کو ایک ایک صاع دے رہا ہے، دونوں کی مقدار ملا کر دے رہا ہے، تو اس صورت میں شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہ ایک ہی کفارہ ادا ہوگا۔ اس سے دونوں کفارے ادا نہیں ہوں گے۔ وجہ یہ کہ یہ ایک کا کفارہ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے، کیونکہ ظہار کے اندر ایک مسکین کو کم سے کم نصف صاع دینے کا حکم ہے، نصف سے کم نہیں کی جا سکتی، البتہ نصف صاع سے زیادہ تو دی جا سکتی ہے، تو وہ ہر مسکین کو ایک ایک صاع دے رہا ہے، تو اسی طرح سمجھا جائے گا جیسے وہ ایک ہی ظہار کا کفارہ دے رہا ہے اور کچھ مقدار بڑھا کر دے رہا ہے۔ تو اگر وہ دونوں کا ادا کرنا چاہتا ہے تو پھر وہ دونوں کفاروں کی مقدار الگ الگ کر کے دے۔ پہلے ایک کفارے کی مقدار دے دے اور پھر دوسرے کفارے کی مقدار اسی مسکین کو دے دے، تو اس طرح پھر ادا ہو جائے گا۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے کہ نہیں، دونوں کی مقدار ملا کر بھی دے گا تو بھی دونوں کا کفارہ ادا ہو جائے گا۔ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ جب کفارات کی جنس متحد ہو تو پھر وہاں تعیینِ نیت لغو ہوتی ہے، نیت کا اعتبار نہیں ہوتا، اور اگر کفارات کی جنس الگ الگ ہو تو پھر وہاں تعیینِ نیت معتبر ہے بھئی۔ تعیینِ نیت معتبر ہے بھئی۔ اور کفارات کی جنس کا پتہ کیسے چلے گا کہ ایک جنس ہے یا الگ جنس ہے؟ تو صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ کفارے کے سبب کو دیکھا جائے گا۔ اگر سبب ایک ہے تو معلوم ہوا جنس ایک ہی ہے، اور اگر سبب الگ ہے تو معلوم ہوا جنس الگ الگ ہے، چاہے حکم ایک جیسا ہی کیوں نہ ہو۔ اس کے بعد ہم نے لعان کے بارے میں پڑھنا شروع کیا تھا۔ صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ لعان جو ہے عند الاحناف یہ شہادتوں کا نام ہے جن کو قسم کے ساتھ مضبوط کیا گیا ہو۔ اور دلیل ذکر فرمائی تھی کہ لعان شہادتوں کا نام اس لیے ہے کیونکہ اس کے بارے میں اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: "وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنْفُسُهُمْ"۔ یہاں "أَنْفُسُهُمْ" سے مراد ازواج ہیں جنہوں نے الزام لگایا ہے بیوی پر زنا کا۔ تو ان کا استثناء فرما رہے ہیں اللہ شہداء سے، اور مستثنیٰ کے اندر اصل یہ ہے کہ وہ مستثنیٰ منہ کی جنس میں سے ہوتا ہے۔ معلوم ہوا یہ "أَنْفُسُهُمْ" یہ بھی ما قبل میں جو شہداء کا ذکر آیا انہی کی جنس میں سے ہیں۔ معلوم ہوا یہ بھی گواہ ہیں بھئی، اور گواہ تو اسی کو کہتے ہیں جو گواہی ادا کرے، معلوم ہوا یہ جو الفاظ ادا کریں گے یہ شہادتیں ہی ہیں بھئی۔ یہ کیا ہیں؟ شہادتیں ہیں۔ جب یہ شہادتیں ہیں تو عند الاحناف لعان میں ضروری ہے کہ میاں بیوی دونوں اہلِ شہادت ہوں، یعنی آزاد، عاقل، بالغ اور مسلمان ہوں۔ تب ہی وہ اہلِ شہادت ہوں گے اور پھر ہی لعان کر سکتے ہیں۔ اگر وہ اہلِ شہادت ہی نہیں تو پھر لعان بھی نہیں کر سکتے کیونکہ لعان تو شہادتوں کا نام ہے بھئی۔ اور نیز عورت بھی ان عورتوں میں سے ہو کہ جس پر کوئی زنا کی تہمت لگائے تو اس پر حد لگائی جا سکے، یعنی اس عورت میں احصان القذف کی صفت پائی جائے۔ اور احصان القذف میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ اس میں پانچ صفتیں ہیں: کہ عورت آزاد ہو، عاقل ہو، بالغ ہو، مسلمان ہو اور نیز پاک دامن ہو بھئی۔ تو اس طرح کی عورت پر اگر کوئی زنا کا الزام لگائے گا تو یہ عورت قاضی کے پاس لے جا کر اس پر حد جاری کروا سکتی ہے بھئی۔ اور پھر یہ بھی بتلایا تھا کہ ایک صراحۃً قذف ہے، ایک کنایۃً قذف ہے۔ صراحۃً زنا کی تہمت لگاتا ہے خاوند، مثلاً کہتا ہے کہ تو نے زنا کیا ہے۔ اور ایک صورت یہ ہے کہ خاوند زنا کا لفظ ذکر نہیں کرتا، صرف اتنا کہتا ہے کہ یہ اولاد میری نہیں ہے، عورت نے بچے کو جنم دیا اور خاوند کیا کہتا ہے؟ یہ اولاد میری نہیں ہے۔ تو اس کے اندر دیکھو اب وہ صراحۃً تو زنا کا الزام نہیں لگا رہا لیکن ضمناً یہ زنا ہی کا الزام ہے بھئی۔ تو ان دونوں صورتوں میں لعان کرنا پڑے گا بھئی۔ اور اگر لعان کرنے سے خاوند رکتا ہے یا بیوی رکتی ہے تو قاضی ان کو جیل میں ڈالے گا یہاں تک کہ وہ لعان کر لیں یا اپنے آپ کو جھٹلا دیں بھئی۔ تو خاوند اگر اپنے آپ کو جھٹلا دے گا تو پھر اس پر حدِ قذف جاری کی جائے گی بھئی، جبکہ عورت اگر خاوند کی تصدیق کر دے یا اپنے آپ کو جھٹلا دے تو پھر اس صورت میں لعان نہیں ہوگا البتہ حد کسی پر بھی نہیں آئے گی۔ عورت پر بھی حدِ زنا نہیں آئے گی، اس لیے کیونکہ زنا کے لیے ضروری ہے کہ قصداً زنا کے اقرار کی نیت سے چار مرتبہ اقرار کیا جائے بھئی، جبکہ یہاں پر جو وہ اگر وہ خاوند کی تصدیق بھی کر دیتی ہے تو یہاں اصل مقصود زنا کا اقرار نہیں ہے، تو لہٰذا اس سے زنا ثابت نہیں ہوگا بھئی۔ تو اس میں صراحۃً زنا کا اقرار نہیں، اور نیز یہاں وہ صرف ایک مرتبہ خاوند کی تصدیق کر رہی ہے حالانکہ زنا میں کیا ضروری ہے؟ زنا کے اقرار کے ارادے سے چار مرتبہ اقرار کرے عورت بھئی۔ تو یہ ہر اقرار ایک گواہ کے درجے میں ہے، اور زنا کے اندر چار گواہ ہونے چاہییں، تو یہ ہر اقرار ایک گواہ کے درجے میں ہو جائے گا اور چار مرتبہ اقرار کر لے گی تو پھر زنا ثابت ہو جائے گا بھئی۔ اور اگر خاوند جو ہے اس نے بیوی پر زنا کا الزام لگایا ہے لیکن وہ اہلِ شہادت ہی نہیں ہے، یعنی غلام ہے یا کافر ہے یا محدود فی القذف ہے، اور محدود فی القذف آپ جانتے ہیں جس پر حدِ قذف جاری ہو جائے اس کو اسی کوڑے بھی لگتے ہیں اور وہ اہلِ شہادت بھی نہیں رہتا، یعنی وہ ادائے شہادت نہیں کر سکتا بھئی۔ تو لہٰذا اگر خاوند اس قسم کا ہے تو اس نے زنا کا الزام لگایا ہے کہ یہ اہلِ شہادت نہیں ہے مثلاً غلام ہے یا کافر ہے یا محدود فی القذف ہے، تو اس صورت میں خاوند پر حدِ قذف جاری ہوگی۔ اور اگر عورت جو ہے وہ باندی ہے یا کافرہ ہے یا محدود فی القذف ہے تو معلوم ہوا وہ اہلِ شہادت نہیں، یا وہ ایسی عورت ہے کہ جس پر کوئی شخص زنا کا الزام لگائے تو اس پر حد جاری نہیں کی جا سکتی، تو پھر اس صورت میں نہ حد آئے گی اور نہ لعان آئے گا بھئی۔ لعان تو اس لیے نہیں آئے گا کیونکہ عورت اہلِ شہادت ہی نہیں ہے، اور حد اس لیے نہیں آئے گی کیونکہ یہاں جو مانع آ رہا ہے لعان کے اندر وہ عورت کی طرف سے آ رہا ہے۔ وہ اہلِ شہادت نہیں ہے، وہ شہادتیں نہیں دے سکتی، لہٰذا جب مانع عورت کی طرف سے آیا ہے تو اب لعان بھی نہیں ہو سکتا اور خاوند پر حد بھی جاری نہیں کی جا سکتی بھئی۔ اور پھر لعان کا طریقہ بتلایا تھا صاحبِ ہدایہ نے کہ لعان کا طریقہ یہ ہے کہ خاوند سے ابتداء کی جائے گی اور وہ چار مرتبہ یہ شہادتیں دے گا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ واللہ میں نے اس عورت پر جو زنا کا الزام لگایا ہے میں اس میں سچا ہوں۔ چار مرتبہ یہ کہے گا اور پانچویں مرتبہ میں کہے گا کہ میں نے اس عورت پر جو زنا کا الزام لگایا ہے اگر میں اس میں جھوٹا ہوں تو مجھ پر اللہ کی لعنت ہو بھئی۔ اور پھر اس کے بعد عورت چار گواہیاں دے گی قسم کے ساتھ کہ میں گواہی دیتی ہوں کہ واللہ اس شخص نے مجھ پر جو زنا کا الزام لگایا ہے اس میں جھوٹا ہے۔ اور پانچویں مرتبہ کہے گی کہ اگر اس شخص نے مجھ پر جو زنا کا الزام لگایا ہے اس میں اگر یہ سچا ہے تو مجھ پر اللہ کا غضب نازل ہو۔ اور پھر اس کے بعد قاضی ان دونوں میں جدائی کروائے گا بھئی۔ تو امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لعان سے خود بخود جدائی آ جائے گی، قاضی کو جدائی کروانے کی ضرورت نہیں کیونکہ حدیث کے اندر آیا ہے: "الْمُتَلَاعِنَانِ لَا يَجْتَمِعَانِ أَبَدًا"، لعان کرنے والے کبھی بھی جمع نہیں ہو سکتے۔ معلوم ہوا ان میں ابدی حرمت آ گئی، جب ابدی حرمت آ گئی تو وہ خود بخود جدا ہو گئے، قاضی کو جدا کروانے کی ضرورت نہیں۔ لیکن ہمارے ائمہ فرماتے ہیں کہ نہیں، لعان کی وجہ سے حرمت آئی ہے لیکن جدائی نہیں آئی، تو قاضی جو ہے ان دونوں کے درمیان جدائی کروائے گا بھئی۔ کیا کروائے گا؟ جدائی کروائے گا۔ اور کہتے ہیں اس پر دلیل جو ہے وہ جو حضور علیہ السلام کے پاس حضرت عویمر عجلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لعان کیا تھا، انہوں نے بیوی کو زنا کرتے ہوئے دیکھا تھا اور پھر حضور علیہ السلام سے آ کر ذکر فرمایا تو حضور نے فرمایا اس بارے میں اللہ حکم نازل فرما چکے ہیں، جاؤ اپنی بیوی کو بلا کر لاؤ۔ چنانچہ وہ اپنی بیوی کو بلا کر لائے اور پھر حضور علیہ السلام نے ان دونوں میں لعان کروایا۔ اور لعان کرنے کے بعد حضرت عویمر فرمانے لگے: "كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا"، کہ میں نے اس پر جھوٹ باندھا ہے اگر میں اس کو اب روک لوں۔ یعنی اگر میں اب بھی اس کو اپنی بیوی بنا کر رکھوں تو لوگ تو یہی سمجھیں گے کہ اس نے جھوٹ بولا ہے، تو ان کے الفاظ یہ تھے بھئی: "كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا"۔ تو یہ "إِنْ أَمْسَكْتُهَا" کو "كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ" کے ساتھ جوڑیں بھئی: "كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا"۔ اور اس کے بعد پھر فوراً ہی انہوں نے بیوی کو تین طلاقیں دے دیں بھئی۔ اور حضور علیہ السلام نے ان پر رد نہیں فرمایا کہ بھئی تم نے لعان کر لیا ہے، تمہارے درمیان پہلے ہی جدائی آ چکی ہے، لہٰذا طلاقوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ تو حضور نے ان پر رد نہیں فرمایا، ان پر انکار نہیں فرمایا، معلوم ہوا کہ لعان سے خود بخود جدائی نہیں آتی بلکہ قاضی کو جدائی کروانا پڑتی ہے بھئی۔ اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہاں ہدایہ کی عبارت صحیح نہیں ہے بھئی، درمیان میں یہ جو آیا ہے "فَقَالَ لَهُ أَمْسِكْهَا"، حضور علیہ السلام اس سے فرما رہے ہیں کہ اس عورت کو روک لو، یہ درست نہیں ہے بھئی۔ یہ درست نہیں، حضور علیہ السلام کیسے فرما سکتے ہیں اس عورت کو روک لو جبکہ حدیث میں خود حضور فرما رہے ہیں: "الْمُتَلَاعِنَانِ لَا يَجْتَمِعَانِ أَبَدًا"، کہ لعان کرنے والے کبھی بھی جمع نہیں ہو سکتے یعنی کبھی بھی اکٹھے نہیں رہ سکتے۔ جب لعان کر لیا ہے اور اب وہ کبھی اکٹھے رہ ہی نہیں سکتے تو حضور علیہ السلام کیسے فرما سکتے ہیں کہ اس کو اب روک لو اپنے پاس لعان کے بعد؟ تو یہ کسی لکھنے والے نے غلطی سے یہاں درج کیا اور وہی نسخہ پھیل گیا بھئی، تو یہ عبارت صحیح نہیں بھئی۔ اصل یوں ہے کہ انہوں نے حضرت عویمر نے لعان کے بعد خود فرمایا: "كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا"، کہ اب میں اگر اس کو روک لوں تو پھر تو میں نے جھوٹ بولا ہے یا رسول اللہ، اور پھر فوراً ہی طلاقیں بھی دے دیں بھئی۔ اور پھر اس کے بعد بتلایا تھا کہ طرفین کے نزدیک یہ جو حرمت آئی ہے یہ طلاقِ بائن ہے بھئی، کیونکہ قاضی نے خاوند کا نائب بن کر تسریح باحسان پر عمل کیا ہے، تو یہ طلاقِ بائن ہے۔ اور اگر یہ شخص اپنے آپ کو جھٹلا دیتا ہے تو پھر یہ دوبارہ آپس میں نکاح کر سکتے ہیں، کیونکہ جب اس نے اپنے آپ کو جھٹلا دیا تو اب یہ دونوں ایک دوسرے کی تکذیب کرنے والے نہ رہے حالانکہ لعان میں تو دونوں ایک دوسرے کی تکذیب کرتے ہیں۔ خاوند بیوی کو جھوٹا کہتا ہے اور بیوی خاوند کو جھوٹا کہتی ہے، تو جب خاوند اپنے آپ کو جھٹلا لے گا تو پھر اس صورت کے اندر اب لعان ختم ہو گیا، اب دونوں متلاعنین نہ رہے، جب متلاعنین نہ رہے تو لعان بھی ختم، اور جب لعان ختم تو لعان کا جو حکم تھا تحریمِ مؤبد وہ بھی کیا ہو گئی؟ ختم ہو گئی بھئی۔ یا اسی طرح عورت جو ہے خاوند کی تصدیق کر دے بعد میں، تو بھی اس صورت میں لعان ختم ہو جائے گا۔ یا اسی طرح دونوں اہلِ شہادت نہ رہے، مطلب دونوں میں سے کسی پر حدِ قذف بعد میں جاری ہو گئی تو اس صورت میں بھی لعان ختم ہو جائے گا کیونکہ اہلِ شہادت نہ رہے۔ جب اہلِ شہادت نہ رہے تو لعان ختم، جب لعان ختم تو لعان کا حکم یعنی تحریمِ مؤبد بھی ختم ہو گئی بھئی۔ پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ اگر خاوند نے زنا کا الزام صراحۃً نہیں لگایا بلکہ ضمناً لگایا ہے، مثلاً بچے کے نسب کی نفی کی ہے۔ ایک تو صورت یہ ہے نا خاوند صراحۃً بیوی سے کہے تو نے زنا کیا ہے، اور ایک صورت یہ ہے کہ خاوند کہتا ہے یہ جو تو نے بچے کو جنم دیا ہے یہ میرا نہیں ہے۔ اب یہاں پر صاف لفظوں میں تو وہ زنا کی بات نہیں کر رہا لیکن ضمناً یہ زنا ہی کا الزام ہے، کیونکہ معلوم ہوا بچہ جب کسی اور کا ہے تو معلوم ہوا اس نے زنا کیا ہے۔ تو لہٰذا جب بچے کے نسب کی نفی کرے خاوند یعنی ضمناً زنا کا الزام لگائے تو پھر اس صورت کے اندر پھر اس لعان کے اندر نسب کی نفی کو ذکر کیا جائے گا۔ خاوند کیا کہے گا؟ میں گواہی دیتا ہوں واللہ اس بچے کے نسب کی جو میں نے اپنے آپ سے نفی کی ہے میں اس کے اندر سچا ہوں، اور عورت کہے گی کہ میں گواہی دیتی ہوں کہ واللہ اس نے جو اپنے آپ سے بچے کے نسب کی نفی کی ہے اس کے اندر یہ جھوٹا ہے۔ اور اگر خاوند نے زنا کا بھی الزام لگایا اور بچے کے نسب کی بھی نفی کی، توجہ ہے؟ پچھلی صورت میں تھا خاوند نے بچے کے نسب کی نفی کی تھی صرف، صراحۃً زنا کا الزام نہیں لگایا۔ لیکن بچے کے نسب کی نفی بھی یہ ضمناً یہ کیا ہے؟ زنا ہی کا الزام ہے۔ جبکہ تیسری صورت یہ ہے کہ باقاعدہ زنا کا الزام بھی لگاتا ہے اور بچے کے نسب کی بھی نفی کرتا ہے، یعنی دونوں چیزیں ذکر کر دیتا ہے، صراحۃً بھی زنا کا الزام اور بچے کے نسب کی نفی کر کے ضمناً بھی زنا کا الزام آ گیا۔ تو اس صورت میں پھر یاد رکھو لعان کے اندر بھی دونوں چیزوں کو ذکر کیا جائے گا۔ وہ شخص کیا کہے گا؟ کہ میں گواہی دیتا ہوں واللہ اس عورت پر جو میں نے زنا کا الزام لگایا ہے اور جو میں نے بچے کے نسب کی اپنے سے نفی کی ہے میں اس کے اندر سچا ہوں، اور عورت جواب میں کیا شہادتیں دے گی؟ کہ میں گواہی دیتی ہوں واللہ کہ اس شخص نے جو مجھ پر زنا کا الزام لگایا ہے اور جو بچے کے نسب کی اپنے آپ سے نفی کی ہے اس کے اندر یہ جھوٹا ہے بھئی۔ تو پھر جب یہ بچے کے نسب کی نفی پر لعان کر لیں گے تو پھر اس کے بعد قاضی بچے کا نسب کاٹ کر صرف عورت کے ساتھ جوڑ دے گا بھئی۔ اور اس میں پھر کہتے ہیں قاضی کا صراحۃً نسب کی نفی کرنا ضروری نہیں۔ لیکن امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے کہ نہیں، قاضی کو صراحۃً نسب کی نفی بھی کرنا پڑے گی، اور اسی کو علماء نے صحیح قرار دیا ہے کہ قاضی صرف تفریق نہیں کروائے گا بلکہ باقاعدہ بچے کے نسب کی نفی بھی اپنے فیصلے کے اندر درج کرے گا کہ میں اس بچے کو اس خاوند کے نسب سے کاٹ کر صرف ماں کے ساتھ لازم کرتا ہوں بھئی۔ اور دلیل اس کی کہ نسب کی نفی ہو جائے گی اس کی دلیل ذکر کی صاحبِ ہدایہ نے کہ حضرت ہلال ابن امیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ انہوں نے اپنی بیوی کے پاس کسی شخص کو دیکھا بھئی، تو وہ حضور علیہ السلام کے پاس تشریف لائے اور پھر حضور علیہ السلام نے لعان کروایا اور پھر حضور علیہ السلام نے بچے کا نسب حضرت ہلال سے کاٹ کر صرف ان کی بیوی کے ساتھ جوڑ دیا۔ معلوم ہوا جب بچے کے نسب کی نفی پر لعان ہوگا تو بچے کے نسب کو اس خاوند سے کاٹ کر صرف اس بیوی کے ساتھ جوڑ دیا جائے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اب آئیے آج کے سبق پر۔ کہتے ہیں: "وَإِذَا قَذَفَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ صَغِيرَةٌ أَوْ مَجْنُونَةٌ فَلَا لِعَانَ بَيْنَهُمَا لِأَنَّهُ لَا يُحَدُّ قَاذِفُهَا لَوْ كَانَ أَجْنَبِيًّا فَكَذَا لَا يُلَاعِنُ الزَّوْجُ" صورتِ مسئلہ یہ ہے کہ خاوند نے بیوی پر زنا کی تہمت لگائی لیکن بیوی صغیرہ ہے نابالغہ ہے یا مجنونہ ہے، تو پھر اس صورت میں لعان نہیں ہوگا بھئی۔ اس لیے کیونکہ صغیرہ یا مجنونہ وہ عورتیں ہیں کہ جن پر کوئی تہمت لگائے تو وہاں حدِ قذف نہیں آتی بھئی، کیونکہ احصان القذف نہیں پایا گیا۔ احصان القذف کیا تھا؟ کہ عورت آزاد ہو، عاقل ہو، بالغ ہو، مسلمان ہو اور نیز پاک دامن ہو۔ جبکہ یہ تو ایک صغیرہ ہے نابالغہ ہے بھئی حالانکہ بالغہ ہونا ضروری ہے، یا یہ تو مجنونہ ہے حالانکہ عاقلہ ہونا ضروری ہے، تو ان کے اندر احصان القذف ہی نہیں ہے۔ جب احصان القذف نہیں ہے تو ان پر کوئی زنا کا الزام لگائے تو اس پر حدِ قذف نہیں آتی۔ جب کسی اجنبی پر حدِ قذف نہیں آ سکتی اس کی وجہ سے تو خاوند پر بھی اس کی وجہ سے لعان نہیں آئے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: "وَإِذَا قَذَفَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ صَغِيرَةٌ أَوْ مَجْنُونَةٌ" اور جب خاوند نے اپنی بیوی پر تہمت لگائی اس حال میں کہ وہ نابالغہ ہے یا مجنونہ ہے، "فَلَا لِعَانَ بَيْنَهُمَا" تو ان دونوں کے درمیان کوئی لعان نہیں ہے، "لِأَنَّهُ لَا يُحَدُّ قَاذِفُهَا" اس لیے کیونکہ ان پر تہمت لگانے والے پر حد نہیں جاری کی جاتی، "لَوْ كَانَ أَجْنَبِيًّا" اگر تہمت لگانے والا اجنبی ہو، تو اجنبی پر بھی حد جاری نہیں کی جاتی، "فَكَذَا لَا يُلَاعِنُ الزَّوْجُ" تو اسی طرح خاوند بھی لعان نہیں کرے گا، "لِقِيَامِهِ مَقَامَهُ" اس لیے کیونکہ خاوند کے حق میں یہ لعان کیا ہے؟ حدِ قذف ہی کے درجے میں ہے۔ "وَكَذَا إِذَا كَانَ الزَّوْجُ صَغِيرًا أَوْ مَجْنُونًا" اور اسی طرح حکم ہوگا یعنی لعان نہیں ہوگا جب خاوند صغیر ہے یعنی نابالغ ہے یا مجنون ہے، "لِعَدَمِ أَهْلِيَّةِ الشَّهَادَةِ" اس وجہ سے کہ خاوند میں شہادت کی اہلیت نہیں ہے۔ شہادت کے اندر کتنی شرطیں تھیں؟ چار: آزاد، عاقل، بالغ، مسلمان۔ اور یہ تو نابالغ ہے حالانکہ بالغ ہونا ضروری ہے، یا یہ مجنون ہے حالانکہ عاقل ہونا ضروری ہے، تو یہ اہلِ شہادت نہیں ہے۔ "وَقَذْفُ الْأَخْرَسِ لَا يَتَعَلَّقُ بِهِ اللِّعَانُ" اخرس کہتے ہیں گونگا بھئی۔ اور گونگے کی تہمت اس سے لعان کا تعلق نہیں ہوتا۔ یاد رکھو اگر گونگا اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگاتا ہے اشاروں کے ذریعے، تو اس صورت میں اس کی وجہ سے لعان نہیں آئے گا۔ وجہ یہ کہ گونگے کے اشارے کی وجہ سے حدِ قذف بھی ساقط ہو جاتی ہے۔ بھئی ویسے تو کوئی شخص کسی عورت پر زنا کا الزام لگائے تو اس پر حدِ قذف آتی ہے لیکن گونگا جو ہے وہ اشاروں کے ذریعے کسی عورت پر زنا کا الزام لگا رہا ہے تو اس پر حدِ قذف بھی نہیں آئے گی، کیونکہ حدود جو ہیں "الْحُدُودُ تَنْدَرِئُ بِالشُّبُهَاتِ"، حدود جو ہیں وہ شبہات کی وجہ سے ساقط ہو جاتی ہیں۔ تو جب گونگے پر حدِ قذف نہیں آ سکتی تو اس پر لعان بھی نہیں آ سکتا کیونکہ لعان خاوند کے حق میں حدِ قذف ہی کے قائم مقام ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: "وَقَذْفُ الْأَخْرَسِ لَا يَتَعَلَّقُ بِهِ اللِّعَانُ" اور گونگے کی تہمت جو ہے اس سے لعان کا تعلق نہیں ہوتا، "لِأَنَّهُ يَتَعَلَّقُ بِالصَّرِيحِ كَحَدِّ الْقَذْفِ" اس لیے کیونکہ لعان کا تعلق صریح الفاظ سے ہوتا ہے اشاروں سے نہیں، جیسے کہ حدِ قذف ہے، یعنی جیسے حدِ قذف جو ہے اس کا تعلق اشارے سے نہیں ہوتا بلکہ صریح الفاظ سے کوئی الزام لگائے پھر حدِ قذف آتی ہے۔ "وَفِيهِ خِلَافُ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ" اور اس میں امام شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف ہے، وہ فرماتے ہیں گونگے کے اشارے سے بھی حدِ قذف بھی آئے گی اور لعان بھی آئے گا بھئی۔ اب ہماری دلیل آ گئی، امام شافعی رحمہ اللہ کے بارے میں صرف اتنا بتایا کہ وہ اختلاف کرتے ہیں، آگے اب ہماری دلیل آ گئی: "وَهَذَا لِأَنَّهُ لَا يَعْرَى عَنِ الشُّبْهَةِ" کہتے ہیں اس لیے کیونکہ گونگے کا جو اشارہ ہے وہ شبہے سے خالی نہیں، "وَالْحُدُودُ تَنْدَرِئُ بِهَا" اور حدود جو ہیں وہ تو شبہات سے ساقط ہو جاتی ہیں۔ "وَإِذَا قَالَ الزَّوْجُ لَيْسَ حَمْلُكِ مِنِّي فَلَا لِعَانَ" صورتِ مسئلہ یہ ہے: بیوی حاملہ ہے اور خاوند کہتا ہے یہ جو حمل تمہارے پیٹ میں ہے یہ مجھ سے نہیں ہے، تو پھر کہتے ہیں اس صورت میں لعان نہیں۔ اس صورت میں یہ امام صاحب کے نزدیک ہے جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ نہیں، اس سے بھی لعان آئے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: "وَإِذَا قَالَ الزَّوْجُ لَيْسَ حَمْلُكِ مِنِّي فَلَا لِعَانَ" اور جب خاوند نے بیوی سے کہا کہ تیرا یہ حمل مجھ سے نہیں ہے تو لعان نہیں ہوگا، "وَهَذَا قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ وَزُفَرَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ" یہ امام ابو حنیفہ اور امام زفر رحمہما اللہ کا قول ہے۔ بھئی کیوں، لعان کیوں نہیں آئے گا؟ وہ حمل کی نفی کر رہا ہے۔ کہتے ہیں: "لِأَنَّهُ لَا يُتَيَقَّنُ بِقِيَامِ الْحَمْلِ" اس لیے کیونکہ حمل کا قیام یقینی نہیں، ہو سکتا ہے عورت کا پیٹ کسی مرض کی وجہ سے پھول گیا ہو، تو لہٰذا حمل کا قیام یقینی نہیں۔ تو کہتے ہیں: "لِأَنَّهُ لَا يُتَيَقَّنُ بِقِيَامِ الْحَمْلِ فَلَمْ يَصِرْ قَاذِفًا" اس لیے کیونکہ حمل کا قیام تو یقینی نہیں، تو یہ شخص تہمت لگانے والا نہ ہوا۔ حمل ہوتا تو تہمت لگانے والا تھا، حمل نہیں تو یہ تہمت لگانے والا بھی نہیں کیونکہ حمل یقینی نہیں۔ "وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ وَمُحَمَّدٌ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى اللِّعَانُ يَجِبُ بِنَفْيِ الْحَمْلِ إِذَا جَاءَتْ بِهِ لِأَقَلَّ مِنْ سِتَّةِ أَشْهُرٍ" اور صاحبین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ لعان واجب ہوگا حمل کی نفی سے جب عورت اس بچے کو لے آئے چھ ماہ سے کم میں۔ بھئی چھ ماہ کم سے کم مدت ہے جس کے اندر ایک عورت ایک صحیح سلامت تندرست بچے کو جنم دے سکتی ہے۔ تو اگر اس شخص نے بیوی پر الزام لگایا کہ یہ حمل مجھ سے نہیں ہے اور پھر چھ ماہ سے قبل قبل عورت نے بچے کو جنم دیا، معلوم ہوا جس وقت تہمت لگائی تھی حمل موجود تھا، اس کے بعد اگر حمل ٹھہرا ہوتا وہ تو اتنی مدت میں پیدا نہیں ہو سکتا تھا بھئی، معلوم ہوا جب اس نے الزام لگایا حمل موجود تھا۔ جب حمل موجود تھا تو اب نسب کی اس نے نفی کی ہے تو اب لعان ثابت ہو گیا، لعان کرنا پڑے گا۔ صاحبین فرماتے ہیں: "اللِّعَانُ يَجِبُ بِنَفْيِ الْحَمْلِ إِذَا جَاءَتْ بِهِ لِأَقَلَّ مِنْ سِتَّةِ أَشْهُرٍ" کہ حمل کی نفی سے بھی لعان واجب ہو جائے گا جب وہ عورت بچے کو لے آئے چھ ماہ سے کم کے عرصے میں، "وَهُوَ مَعْنَى مَا ذَكَرَ فِي الْأَصْلِ" اور یہی معنی ہے جو ذکر کیا ہے امام محمد رحمہ اللہ نے اصل میں یعنی مبسوط میں، "مَا ذَكَرَ فِي الْأَصْلِ" جو امام محمد رحمہ اللہ نے اصل میں ذکر کیا ہے، یا یوں پڑھ لیں: "وَهُوَ مَعْنَى مَا ذُكِرَ فِي الْأَصْلِ"، اور یہی معنی ہے وہ جو اصل یعنی مبسوط کے اندر ذکر کیا گیا ہے۔ مبسوط میں آیا ہے کہ لعان ہوگا، وہاں یہی مراد ہے کہ جب چھ ماہ سے کم کے اندر عورت بچے کو جنم دے دے گی۔ معلوم ہوا جس وقت الزام لگایا تب حمل موجود تھا، تو کہتے ہیں: "وَهُوَ مَعْنَى مَا ذُكِرَ فِي الْأَصْلِ لِأَنَّا تَيَقَّنَّا بِقِيَامِ الْحَمْلِ عِنْدَهُ" اور یہی معنی ہے وہ جو اصل یعنی مبسوط میں ذکر کیا گیا ہے، اس لیے کیونکہ ہمیں یقین ہو گیا حمل کے موجود ہونے کا "عِنْدَهُ" یعنی عند القذف تہمت کے وقت، جب چھ ماہ سے کم میں اس نے بچے کو جنم دیا ہے معلوم ہوا جب تہمت لگائی تھی تو حمل موجود تھا بھئی، "فَيَتَحَقَّقُ الْقَذْفُ" تو قذف پایا گیا، "قُلْنَا" ہم کہتے ہیں، اب یہ امام صاحب کی طرف سے جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ: "قُلْنَا إِذَا لَمْ يَكُنْ قَذْفًا فِي الْحَالِ يَصِيرُ كَالْمُعَلَّقِ بِالشَّرْطِ" تو دیکھو صاحبین بھی کیا فرماتے ہیں کہ حمل کی نفی کرے گا تو تب بھی لعان ثابت ہو جائے گا، اور پتہ کیسے چلے گا؟ جب چھ ماہ سے کم کے اندر وہ بچے کو جنم دے دے گی۔ چھ ماہ سے کم میں اس نے ایک صحیح سلامت بچے کو جنم دیا اور چھ ماہ سے کم میں تو صحیح سلامت بچہ نہیں ہو سکتا، معلوم ہوا جس وقت الزام لگایا اس وقت حمل موجود تھا۔ تو معلوم ہوا جب بچے کو جنم دے گی تب پتہ چلے گا اور تب لعان ہوگا، تو امام صاحب کی طرف سے جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ کہ بچے کی پیدائش کے بعد جا کر لعان ثابت ہوگا، معلوم ہوا ابھی نہیں ثابت، جس وقت الزام لگا رہا ہے ابھی لعان ثابت نہیں۔ تو یہ تو اسی طرح ہو گیا جیسے کوئی قذف کو معلق کر رہا ہے کہ اگر تو نے چھ ماہ سے کم کے اندر بچے کو جنم دیا تو یہ حمل میرا نہیں ہے، تو یہ تو گویا قذف کو معلق کر رہا ہے اور قذف کو تو معلق نہیں کیا جا سکتا بھئی۔ "قُلْنَا إِذَا لَمْ يَكُنْ قَذْفًا فِي الْحَالِ" ہم کہتے ہیں کہ جب فی الحال یہ تہمت نہیں ہے "يَصِيرُ كَالْمُعَلَّقِ بِالشَّرْطِ" تو یہ ایسے ہی ہو گیا جیسے اس کو شرط کے ساتھ معلق کیا گیا ہو، "فَيَصِيرُ كَأَنَّهُ قَالَ إِنْ كَانَ بِكِ حَمْلٌ فَلَيْسَ مِنِّي" تو یہ اسی طرح ہو گیا گویا خاوند نے یوں کہا ہے اگر تو حاملہ ہوئی تو یہ حمل مجھ سے نہ ہوگا، تو یہ تو تعلیق ہو جائے گی، "وَالْقَذْفُ لَا يَصِحُّ تَعْلِيقُهُ بِالشَّرْطِ" اور قذف جو ہے شرط کے ساتھ اس کی تعلیق صحیح نہیں ہے۔ قذف کا کیا معنی ہے؟ زنا کا الزام۔ اور جب بچے کو جنم دے گی پھر زنا کا الزام ہے، فی الحال زنا کا الزام نہیں، جب بچے کو جنم دے گی تو پھر زنا کا الزام ہوگا، ایسا نہیں ہو سکتا۔ اگر اس وقت زنا کا الزام ہے تو ابھی بھی زنا کا الزام ہونا چاہیے بھئی۔ "فَإِنْ قَالَ لَهَا زَنَيْتِ وَهَذَا الْحَبَلُ مِنَ الزِّنَا تَلَاعَنَا" اور اگر حمل کی نفی کے ساتھ ساتھ صریح زنا کا الزام بھی لگا دیا، پہلی صورت کیا تھی؟ عورت حاملہ ہے اور خاوند نے صرف حمل کی نفی کی ہے۔ دوسری صورت ہے وہ صریح زنا کا الزام بھی لگاتا ہے ساتھ کہ تو نے زنا کیا ہے اور یہ حمل مجھ سے نہیں ہے، تو حمل کی بھی نفی کر رہا ہے اور زنا کا بھی الزام لگا رہا ہے تو اب لعان کرنا پڑے گا کیونکہ اب اس نے صریح زنا کا الزام لگایا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: "فَإِنْ قَالَ لَهَا زَنَيْتِ" اور اگر خاوند نے اس حمل کی نفی کے ساتھ ساتھ اسے یہ بھی کہا زَنَيْتِ کہ تو نے زنا کیا ہے "وَهَذَا الْحَبَلُ مِنَ الزِّنَا" اور یہ حمل بھی زنا سے ہے، حَبَل یاد رکھو یہ حمل کو کہتے ہیں اور حَبَل کے اندر با ساکن نہیں ہے، با پر فتحہ ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: اگر خاوند نے اسے کہا زَنَيْتِ تو نے زنا کیا ہے "وَهَذَا الْحَبَلُ مِنَ الزِّنَا" اور یہ حمل جو ہے زنا سے ہے "تَلَاعَنَا" تو اب دونوں لعان کریں گے، "لِوُجُودِ الْقَذْفِ حَيْثُ ذَكَرَ الزِّنَا صَرِيحًا" قذف پائے جانے کی وجہ سے کیونکہ خاوند نے زنا کو صراحۃً ذکر کیا ہے، "وَلَمْ يَنْفِ الْقَاضِي الْحَمْلَ" اور قاضی حمل کی نفی نہیں کرے گا۔ اگر اب لعان کریں گے تو قاضی حمل کی نفی نہیں کرے گا کیونکہ ابھی تو حمل پیدا ہی نہیں ہوا، ابھی تو حمل یقینی ہی نہیں ہے۔ "وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ يَنْفِيهِ" اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، یہاں بھی قاضی حمل کی نفی کر دے گا، "لِأَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ نَفَى الْوَلَدَ عَنْ هِلَالٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ وَقَدْ قَذَفَهَا حَامِلًا" امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے کیونکہ حضور علیہ السلام نے بھی حضرت ہلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بچے کی نفی کی تھی اس حال میں کہ انہوں نے اپنی حاملہ بیوی پر تہمت لگائی تھی، تو اس وقت تو حمل کی بھی حضور نے نفی فرما دی تھی۔ "وَلَنَا أَنَّ الْأَحْكَامَ لَا تَتَرَتَّبُ عَلَيْهِ إِلَّا بَعْدَ الْوِلَادَةِ" ہماری دلیل یہ ہے کہ یہ جو بچہ ہے اس پر احکام مرتب نہیں ہوتے مگر اس کی ولادت کے بعد، حمل پر احکام مرتب نہیں ہوتے بلکہ اس کی ولادت کے بعد اس پر احکام مرتب ہوتے ہیں، مثلاً وہ وارث بنے گا یا اس کو کسی مال کا مالک بنایا جا سکتا ہے وغیرہ، یہ ولادت کے بعد ہو سکتا ہے ولادت سے پہلے نہیں، لہٰذا ولادت سے پہلے حمل کی نفی بھی نہیں ہو سکتی۔ تو بعد میں پھر خاوند دوبارہ نفی کر دے، جب بچہ پیدا ہو جائے تو پھر اسی پیدائش کے دنوں میں دوبارہ نفی کر سکتا ہے۔ "وَلَنَا أَنَّ الْأَحْكَامَ لَا تَتَرَتَّبُ عَلَيْهِ إِلَّا بَعْدَ الْوِلَادَةِ لِتَمَكُّنِ الِاحْتِمَالِ قَبْلَهُ" اور ہماری دلیل یہ ہے کہ احکام جو ہیں وہ حمل پر مرتب نہیں ہوتے مگر اس کی ولادت کے بعد اس لیے کیونکہ اس سے پہلے احتمال موجود ہے کہ ہو سکتا ہے یہ حمل نہ ہو، بیماری کی وجہ سے عورت کا پیٹ پھولا ہو۔ "وَالْحَدِيثُ مَحْمُولٌ عَلَى أَنَّهُ عَرَفَ قِيَامَ الْحَبَلِ بِطَرِيقِ الْوَحْيِ" اور امام شافعی رحمہ اللہ نے تو حدیث بھی ذکر کی تھی کہ حضور علیہ السلام نے حمل کی نفی کر دی تھی، تو اس کا جواب ہمارے فقہاء یہ دیتے ہیں کہ حضور علیہ السلام کو وحی کے ذریعے حمل کا پتہ چل گیا تھا کہ حمل ہے، اس لیے آپ نے نفی فرمائی تھی۔ تو کہتے ہیں: اور حدیث اس بات پر محمول ہے کہ حضور علیہ السلام نے حمل کے موجود ہونے کو جان لیا تھا وحی کے طریقے سے۔ چنانچہ حضور نے باقاعدہ بچے کی نشانیاں بتلائی تھیں بھئی، اگر اس اس طرح کا بچہ ہوا تو ہلال کا ہوگا اور اگر اس اس طرح کا بچہ ہوا تو اس فلاں آدمی کا ہوگا جس پر زنا کا الزام لگا ہے۔ تو معلوم ہوا آج کل کے زمانے میں تو مشینوں کے ذریعے آلات کے ذریعے پتہ چل جاتا ہے کہ حمل ہے یا حمل نہیں ہے، لہٰذا اگر زنا کے الزام کے ساتھ ساتھ حمل کا بھی پتہ چل چکا ہے تو پھر قاضی لعان کے بعد حمل کی نفی بھی کر دے گا۔ آگے دیکھیے: "وَإِذَا نَفَى الرَّجُلُ وَلَدَ امْرَأَتِهِ عَقِيبَ الْوِلَادَةِ" بھئی وہی بات بیان کر رہے ہیں جو میں نے پہلے بتلایا تھا: کوئی شخص اپنے بچے کے نسب کی نفی کرنا چاہتا ہے تو یاد رکھو یہ بچے کی پیدائش کے ابتدائی دنوں میں کر سکتا ہے۔ جن دنوں بچہ پیدا ہوا ہے جب اس کی مبارکبادیں وصول کی جا رہی ہیں اور جب اس کے لیے چیزیں خریدی جا رہی ہیں، اس زمانے کے اندر خاوند نسب کی نفی کر سکتا ہے اور پھر لعان ہوگا اور بچے کے نسب کی خاوند سے نفی کر دی جائے گی۔ لیکن اگر اس زمانے میں خاوند خاموش رہا اور بعد میں جا کر کسی وقت نفی کرتا ہے، نہیں بھئی، اس وقت آپ کا خاموش رہنا وہ دلیل تھا کہ گویا اس نے مان لیا ہے یہ میرا ہی بچہ ہے، تو جب ایک دفعہ مان لیا ہے یہ میرا بچہ ہے اقرار کر لیا ہے اب اس کے بعد وہ نفی نہیں کر سکتا۔ تو کہتے ہیں: "وَإِذَا نَفَى الرَّجُلُ وَلَدَ امْرَأَتِهِ عَقِيبَ الْوِلَادَةِ" اور جب کسی شخص نے اپنی بیوی کے بچے کی نفی کی اس کی پیدائش کے بعد "أَوْ فِي الْحَالَةِ الَّتِي تُقْبَلُ التَّهْنِئَةُ" یا اس حالت کے اندر جس کے اندر مبارکبادیں قبول کی جاتی ہیں، تہنئۃ کسے کہتے ہیں؟ مبارکباد۔ یا اس حالت میں جس میں مبارکباد قبول کی جاتی ہے "وَتُبْتَاعُ آلَةُ الْوِلَادَةِ" اور ولادت کے آلات اور چیزیں خریدی جاتی ہیں، بچے کے لیے سامان وغیرہ خریدا جاتا ہے ابتدائی دنوں میں، تو ان دنوں میں اگر اس نے نفی کی "صَحَّ نَفْيُهُ وَلَاعَنَ بِهِ" تو اس وقت اس کی نفی صحیح ہے اور اس کی وجہ سے یہ لعان کرے گا، "وَإِنْ نَفَاهُ بَعْدَ ذَلِكَ" اور اگر اس کے بعد اس نے نفی کی ہے یعنی اس مدت میں نہیں کی بعد میں کسی اور وقت کو بچے کے نسب کی نفی کر رہا ہے، تو کہتے ہیں: "وَإِنْ نَفَاهُ بَعْدَ ذَلِكَ لَاعَنَ وَيَثْبُتُ النَّسَبُ" اور اگر اس مدت کے بعد اس نے نفی کی تو لعان کرے گا اور نسب ثابت ہو جائے گا۔ لعان ہوگا کیونکہ اس نے دراصل زنا کا الزام لگایا ہے، لیکن نسب کی نفی نہیں ہوگی۔ تو یہ معنی ہے "لَاعَنَ وَيَثْبُتُ النَّسَبُ" کہ لعان کرے گا اور نسب ثابت ہو جائے گا۔ "هَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ" یہ امام صاحب کے نزدیک ہے، "وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ وَمُحَمَّدٌ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى يَصِحُّ نَفْيُهُ فِي مُدَّةِ النِّفَاسِ" اور صاحبین فرماتے ہیں کہ مدتِ نفاس کے اندر بھی اس کی نفی صحیح ہے۔ جب تک عورت کے ایامِ نفاس چل رہے ہیں، بچے کی پیدائش کے بعد جو خون جاری ہے وہ ابھی رکا نہیں، تو اس دوران خاوند نسب کی نفی کر سکتا ہے۔ تو صاحبین فرماتے ہیں: "يَصِحُّ نَفْيُهُ فِي مُدَّةِ النِّفَاسِ" کہ مدتِ نفاس کے اندر نسب کی نفی صحیح ہے، "لِأَنَّ النَّفْيَ يَصِحُّ فِي مُدَّةٍ قَصِيرَةٍ وَلَا يَصِحُّ فِي مُدَّةٍ طَوِيلَةٍ" صاحبین کی دلیل آ گئی، وہ فرماتے ہیں دیکھو یہ جو خاوند بچے کے نسب کی نفی کرنا چاہتا ہے یہ تھوڑی مدت میں تو ٹھیک ہوگی، نفی کر سکتا ہے ابتدائی دنوں میں، بعد میں نہیں کر سکتا، یہ بات تو طے ہے، یہ بات تو طے ہے کہ تھوڑی مدت میں نفی کر سکتا ہے لمبی مدت میں نفی نہیں کر سکتا۔ تو اب ہم نے اس تھوڑی مدت کا اندازہ نفاس کے ساتھ لگایا ہے کہ نفاس بھی چند دن تک ہوتا ہے، لہٰذا اس کے اندر نفی کر سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: اس لیے کیونکہ نسب کی نفی وہ چھوٹی مدت میں تو صحیح ہے اور لمبی مدت میں صحیح نہیں ہے "فَفَصَّلْنَا بَيْنَهُمَا بِمُدَّةِ النِّفَاسِ" تو ان دونوں میں ہم نے فرق کیا مدتِ نفاس کے ذریعے، کہ مدتِ نفاس چھوٹی مدت ہے اور اس سے زائد ہو جائے تو وہ لمبی مدت ہے، "فَفَصَّلْنَا بَيْنَهُمَا بِمُدَّةِ النِّفَاسِ لِأَنَّهُ أَثَرُ الْوِلَادَةِ" تو ہم نے اس چھوٹی اور لمبی مدت کے درمیان فرق کیا ہے نفاس کی مدت کے ذریعے اس لیے کیونکہ یہ جو نفاس ہے یہ ولادت کا اثر ہے۔ "وَلَهُ" اب امام صاحب کی دلیل آ گئی۔ امام صاحب کی دلیل یہ ہے: "أَنَّهُ لَا مَعْنَى لِلتَّقْدِيرِ" کہ اندازہ لگانے کی کوئی وجہ نہیں ہے، یا یوں کہو: کہ کوئی علت نہیں ہے مقرر کرنے کی، کوئی مدت مقرر کرنے کی کوئی علت اور سبب نہیں ہے، تو کہتے ہیں: "أَنَّهُ لَا مَعْنَى لِلتَّقْدِيرِ لِأَنَّ الزَّمَانَ لِلتَّأَمُّلِ" کہ کوئی معنی نہیں ہے اس مدت کو مقرر کرنے کا، اس لیے کیونکہ زمانہ تو غور و فکر کے لیے ہوتا ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں مدت مقرر کرنے کی ضرورت نہیں ہے اس لیے کیونکہ اگر آپ مدت دیں گے تو مدت تو غور و فکر کے لیے ہوتی ہے، اور نسب کی نفی کرنی ہے اس میں تو کسی غور و فکر کی ضرورت نہیں ہے بھئی، اور نیز مدت تو غور و فکر کے لیے ہوتی ہے اور غور و فکر کے اندر لوگوں کی حالتیں مختلف ہیں، کوئی ایک منٹ میں ایک بات کا فیصلہ کر لیتا ہے اور کوئی کئی کئی دنوں تک بھی ایک بات کا فیصلہ نہیں کر پاتا، تو لہٰذا یہاں اول تو یہاں غور و فکر کی حاجت ہی نہیں، اگر بالفرض حاجت مان بھی لی جائے تو وہ بھی لوگوں کے لیے ایک جیسی نہیں ہوتی، کسی کے لیے تھوڑی مدت چاہیے کسی کے لیے زیادہ مدت چاہیے۔ تو کہتے ہیں: کوئی علت نہیں ہے مدت مقرر کرنے کی اس لیے کیونکہ زمانہ تو غور و فکر کے لیے ہوتا ہے "وَأَحْوَالُ النَّاسِ فِيهِ مُخْتَلِفَةٌ" اور لوگوں کے احوال غور و فکر کے اندر مختلف ہوتے ہیں، "فَاعْتَبَرْنَا مَا يَدُلُّ عَلَيْهِ" تو ہم نے اعتبار کیا اس چیز کا جو اس پر دلالت کرے یعنی عدمِ نفی پر دلالت کرے۔ اور وہ کون سے دن ہیں؟ مبارکبادیں مل رہی ہیں اور یہ نفی نہیں کر رہا، معلوم ہوا یہ اقرار کر رہا ہے کہ یہ میرا ہی بچہ ہے، ورنہ یہ مبارکبادیں نہ وصول کرتا لوگوں سے، یا بچے کے لیے چیزیں خریدی جا رہی ہیں یہ بھی جا کر بچے کے لیے چیزیں خرید رہا ہے، یہ دلالت کر رہا ہے اس کے اقرار پر کہ یہ میرا ہی بچہ ہے، تو ہم نے دلالت کا اعتبار کیا ہے مدت کا اعتبار نہیں کیا۔ تو کہتے ہیں: "فَاعْتَبَرْنَا مَا يَدُلُّ عَلَيْهِ" تو ہم نے اعتبار کیا ہے اس چیز کا جو اس عدمِ نفی پر دلالت کرے "وَهُوَ قَبُولُهُ التَّهْنِئَةَ" اور وہ اس کا مبارکباد کو قبول کرنا ہے، یہ دلالت کر رہی ہے کہ یہ اقرار کر رہا ہے، "أَوْ سُكُوتُهُ عِنْدَ التَّهْنِئَةِ" یا اس کا خاموش رہنا مبارکباد کے وقت، لوگ اس کو مبارکبادیں دے رہے ہیں اور یہ خاموش ہے، معلوم ہوا یہ اقرار کر رہا ہے کہ یہ میرا ہی بچہ ہے بھئی۔ یا اس کا خاموش ہونا مبارکباد کے وقت، "أَوِ ابْتِيَاعُهُ مَتَاعَ الْوِلَادَةِ" یا اس کا خریدنا متاعِ ولادت ولادت کے سامان کو، بچے کے لیے چیزیں خرید رہا ہے، یہ دلالت کر رہا ہے کہ یہ اقرار کر رہا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: یا اس کا سامانِ ولادت خریدنا "أَوْ مُضِيُّ ذَلِكَ الْوَقْتِ وَهُوَ مُمْتَنِعٌ عَنِ النَّفْيِ" یا اس وقت کا گزر جانا اس حال میں کہ یہ نفی کرنے سے باز رہا، یہ مدت گزر گئی اور اس نے نفی نہیں کی، معلوم ہوا اس نے اقرار کر لیا کہ یہ میرا ہی بچہ ہے۔ تو کہتے ہیں: یا اس وقت کا گزر جانا اس حال میں کہ یہ نفی سے رکا رہا۔ "وَلَوْ كَانَ غَائِبًا" اور اگر خاوند غائب تھا، ادھر بیوی کی اولاد ہوئی ہے خاوند کہیں سفر پر گیا ہوا ہے اور کچھ عرصے کے بعد آیا، تو اب تو ولادت والے دن گزر چکے ہیں مبارکبادوں والے دن گزر چکے ہیں، تو کیا اب بھی یہ نسب کی نفی کر سکتا ہے؟ کہتے ہیں جب اس کو اب آ کر خبر ملی ہے پہلے خبر ہی نہیں تھی میرا بچہ ہوا ہے، تو اب بھی اسی طرح ابتدائی چند دن جس کے اندر لوگ آ کر اس کو بچے کی مبارکباد دے رہے ہوں تو اتنی ہی مدت معتبر ہے بھئی، اب بھی یہ نفی کر سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: "وَلَوْ كَانَ غَائِبًا وَلَمْ يَعْلَمْ بِالْوِلَادَةِ ثُمَّ قَدِمَ تُعْتَبَرُ الْمُدَّةُ الَّتِي ذَكَرْنَاهَا عَلَى الْأَصْلَيْنِ" اور اگر خاوند غائب تھا اور اس کو ولادت کا علم نہیں تھا پھر وہ آیا تو معتبر ہے وہی مدت جو ہم نے ذکر کر دی علی الاصلین دونوں اصلوں پر۔ یعنی صاحبین کے نزدیک اس کے آنے کے بعد وہ نفاس کے بقدر مدت گزرے گی تو پھر یہ نسب کی نفی نہیں کر سکتا اس کے اندر کر سکتا ہے، اور امام صاحب کے نزدیک ابتدائی چند دن جن کے اندر اس کو مبارکبادیں دی جا رہی ہیں بھئی۔ تو یہ معنی ہے کہ پھر وہی مدت معتبر ہوگی جس کو ہم نے ذکر کر دیا دونوں اصلوں پر۔ "قَالَ: وَإِذَا وَلَدَتْ وَلَدَيْنِ فِي بَطْنٍ وَاحِدٍ فَنَفَى الْأَوَّلَ وَاعْتَرَفَ بِالثَّانِي يَثْبُتُ نَسَبُهُمَا" صورتِ مسئلہ یہ ہے: ایک عورت نے ایک بچے کو جنم دیا اور پھر کچھ مدت کے بعد دوسرے بچے کو جنم دیا۔ میں نے آپ کو پہلے بھی بتلایا تھا کہ جڑواں بچے بھئی، ہمارے ہاں تو جڑواں بچے ان کو شمار کرتے ہیں جو اکٹھے پیدا ہو جائیں لیکن شریعت میں جڑواں بچے وہ شمار ہوتے ہیں جو بطنِ واحد سے پیدا ہوں ایک ہی پیٹ سے، ایک ہی حمل سے۔ اور وہ اس طرح کہ دو بچوں کے درمیان چھ ماہ سے کم کا وقفہ ہو۔ دو بچوں کے درمیان چھ ماہ سے کم کا وقفہ ہو تو ان کو بطنِ واحد سے شمار کیا جاتا ہے کہ یہ دونوں ایک ہی حمل سے ہیں، اس لیے کیونکہ ایک بچے کے پیدا ہونے کے بعد پانچ مہینے بعد وہ عورت دوسرے بچے کو جنم دے رہی ہے اور دوسرا بچہ بھی صحیح سلامت ہے، بھئی یہ پانچ مہینے کے اندر تو نیا حمل بھی ٹھہرے اور صحیح سلامت بچہ بھی پیدا ہو جائے یہ تو نہیں ہو سکتا۔ معلوم ہوا یہ پرانا ہی حمل تھا، یہ جس وقت پہلے بچے کو جنم دیا تھا اس وقت بھی حمل ایک بچے کو جنم دے دیا تھا اور ایک حمل ابھی بھی باقی تھا بھئی۔ تو ان کو شریعت میں جڑواں کہتے ہیں اور ان میں سے ایک کا خاوند اقرار کر لے تو دوسرا بھی اسی کا شمار ہوتا ہے، کیونکہ یہ دونوں بطنِ واحد سے ہیں ایک ہی حمل سے ہیں۔ توجہ ہے؟ لہٰذا ایک عورت نے دو بچوں کو جنم دیا اور دونوں کے درمیان مثلاً پانچ ماہ کی مدت ہے، پہلے ایک بچے کو جنم دیا پھر پانچ ماہ بعد دوسرے بچے کو جنم دیا۔ خاوند نے پہلے بچے کا اقرار کر لیا کہ یہ میرا بچہ ہے اور پھر جب دوسرا بچہ پیدا ہوا تو کہنے لگا یہ میرا نہیں ہے، تو بھئی نسب تو دونوں کا ثابت ہو جائے گا کیونکہ یہ دونوں ایک ہی حمل سے ہیں ایک ہی پیٹ سے ہیں، یہ کوئی الگ حمل نہیں ٹھہرا، تو نسب تو ہر حال میں ثابت ہو گیا۔ البتہ لعان اب کرنا پڑے گا، اس نے پہلے میں اقرار کیا ہے اور دوسرے میں نفی کی ہے تو اب لعان کرنا پڑے گا، اس نے زنا کی تہمت لگائی ہے بیوی پر، کیونکہ بچے کے نسب کی نفی یہ ضمناً زنا کا الزام ہے۔ اور اگر اس کے برعکس ہوا، پہلی صورت کیا تھی؟ اس نے پہلے کا اقرار کیا دوسرے کی نفی کی ہے تو لعان کریں گے۔ اور اگر برعکس ہوا، پہلے کی نفی کی اور دوسرے کا اقرار کر لیا، پہلا بچہ پیدا ہوا تو کہنے لگا یہ بچہ میرا نہیں، تو گویا اس نے زنا کی تہمت لگا دی، اور دوسرا بچہ پیدا ہوا تو کہتا ہے یہ میرا ہے، بھئی یہ تو ایک ہی حمل سے ہیں ایک ہی پیٹ سے ہیں، تو لہٰذا اس کا مطلب ہے اس نے دوسرے بچے کا اقرار کر کے اپنے آپ کو جھوٹا کہہ دیا، پہلے زنا کا الزام لگایا تھا بعد میں اپنے آپ کو جھوٹا کہہ دیا دوسرے کے بچے کا اقرار کر کے۔ تو اس صورت میں یاد رکھو خاوند پر حدِ قذف جاری ہوگی۔ حدِ قذف جاری ہوگی، یہاں لعان نہیں آئے گا، اس نے خود ہی اپنے آپ کو جھٹلا دیا ہے۔ توجہ ہے؟ دونوں صورتوں میں فرق سمجھ میں آ رہا ہے؟ ایک میں پہلے اقرار کیا پھر بعد میں انکار کیا تو گویا اپنے آپ کو جھٹلا دیا، دوسری صورت میں پہلے اس نے اقرار کیا ہے پہلے بچے کا اور دوسرے کا انکار کیا ہے، تو انکار کے بعد تو اس نے اپنے آپ کو جھوٹا نہیں کہا، تو لہٰذا یہاں لعان ہوگا لیکن پہلی صورت میں حدِ قذف آئے گی بھئی۔ تو کہتے ہیں: "قَالَ" صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: "وَإِذَا وَلَدَتْ وَلَدَيْنِ فِي بَطْنٍ وَاحِدٍ فَنَفَى الْأَوَّلَ وَاعْتَرَفَ بِالثَّانِي يَثْبُتُ نَسَبُهُمَا" اور جب کسی عورت نے دو بچوں کو جنم دیا ایک ہی پیٹ سے تو خاوند نے پہلے بچے کی نفی کر دی کہ یہ میرا نہیں ہے اور دوسرے کا اعتراف کر لیا کہ یہ میرا ہے، نسب تو دونوں کا ثابت ہو جائے گا، "لِأَنَّهُمَا تَوْأَمَانِ" توأم کہتے ہیں جڑواں کو بھئی، توأمانِ دو جڑواں بھئی، اس لیے کیونکہ یہ دو جڑواں ہیں، "خُلِقَا مِنْ مَاءٍ وَاحِدٍ" یہ دونوں ایک ہی پانی سے پیدا ہوئے ہیں یعنی ایک ہی حمل سے ہوئے ہیں، "وَحُدَّ الزَّوْجُ لِأَنَّهُ أَكْذَبَ نَفْسَهُ بِدَعْوَى الثَّانِي" اور خاوند پر حد لگائی جائے گی اس لیے کیونکہ اس نے اپنے آپ کو جھٹلا دیا دوسرے کا دعویٰ کر کے۔ پہلے میں تو اس نے زنا کا الزام لگایا تھا اور دوسرے کو اب قبول کر رہا ہے اقرار کر رہا ہے، تو گویا اپنے پہلے پہلے جو دعویٰ تھا اس میں اپنے آپ کو جھٹلا دیا بھئی۔ "وَإِنِ اعْتَرَفَ بِالْأَوَّلِ وَنَفَى الثَّانِيَ يَثْبُتُ نَسَبُهُمَا لِمَا ذَكَرْنَا" اور اگر اس نے پہلے بچے کا اعتراف کر لیا اور دوسرے کی نفی کر دی دونوں کا نسب ثابت ہو جائے گا اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دی، "وَتَلَاعَنَا لِتَعَذُّرِ الْحَدِّ بِالشُّبْهَةِ" اور دونوں لعان کریں گے شبہے کی وجہ سے حد کے متعذر ہونے کی وجہ سے۔ پہلے بچے کا اس نے اقرار کیا اور دوسرے کی نفی کی تو نسب دونوں کا ثابت ہوگا لیکن اب لعان ہوگا، کیونکہ حد نہیں لگائی جا سکتی شبہے کی وجہ سے، "لِأَنَّهُ لَمْ يُكَذِّبْ نَفْسَهُ صَرِيحًا" اس لیے کیونکہ اس نے اپنے آپ کو صراحۃً جھوٹا نہیں کہا۔ یہاں اس نے پہلے اقرار کیا ہے اور بعد میں نفی کی ہے تو بعد میں نفی کرنے سے اپنے آپ کو جھوٹا کہنا لازم نہیں آتا، لہٰذا صراحۃً اپنے آپ کو جھوٹا نہیں کہا، اس لیے اس پر حد نہیں آئے گی بلکہ لعان آئے گا بھئی۔ "وَاللِّعَانُ حُكْمُهُ حُكْمُ نَفْيِ الْوَلَدِ" اور اس لعان کا حکم بچے کی نفی کا حکم ہے، یعنی یہاں لعان سے زنا کا الزام تو دفع ہوگا لیکن بچے کی نفی نہیں ہوگی کیونکہ نسب تو پہلے ہی ثابت ہو چکا ہے۔ تو یہ معنی ہے کہ اس لعان کا حکم بچے کی نفی کا حکم ہے۔ "وَقَدْ بَيَّنَّاهُ" اور اس کو ہم نے بیان کر دیا ہے یعنی پہلے ہم نے اس کی تفصیل ذکر کر دی ہے۔ چلو بھئی، بس یہیں تک سبق رکھتے ہیں۔ باقی انشاء اللہ آئندہ سبق میں پڑھیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ وصلی اللہ علی النبی الکریم۔ جو ہم نے ذکر کر دی کیونکہ یہ دونوں جڑواں ہیں بھئی۔ اور جب ایک کا نسب ثابت تو دوسرے کا بھی ثابت بھئی۔ وَلَاعَنَ اور اس صورت میں اب خاوند لعان کرے گا، جب پہلے اقرار کیا ہے اور بعد میں انکار، تو لعان کرے گا۔ لِأَنَّهُ قَاذِفٌ بِنَفْيِ الثَّانِي اس لیے کیونکہ یہ تہمت لگانے والا ہو گیا دوسرے بچے کی نفی کر کے۔ وَلَمْ يَرْجِعْ عَنْهُ اور یہ دوسرے کی نفی کے بعد اس نے اس سے رجوع تو نہیں کیا۔ وَالْإِقْرَارُ بِالْعِفَّةِ سَابِقٌ عَلَى الْقَذْفِ اور وہ جو اس نے پاکدامنی کا اقرار کیا تھا وہ مقدم ہے اس قذف پر۔ بھئی دیکھو! ایک شخص اپنی بیوی کے بارے میں کہتا ہے یہ پاک دامن ہے، اور پھر بعد میں کیا کہتا ہے؟ یہ زانیہ ہے۔ تو پہلے عفت کا کہنے کے بعد اب بعد میں اس نے زنا کا الزام لگایا ہے، تو اس میں اپنے آپ کو جھوٹا کہنا نہیں ہے بھئی۔ اس میں اپنے آپ کو جھٹلانا نہیں، پہلے اس کا خیال یہ تھا یہ پاک دامن ہے، اس نے بتا دیا، بعد میں اس کو پتہ چلا تو اس نے زانیہ کہہ دیا۔ تو لہٰذا اس صورت میں لعان ہوتا ہے۔ لیکن معاملہ اگر اس کے برعکس ہو، خاوند پہلے کہے یہ زانیہ ہے اور بعد میں کہے یہ پاک دامن ہے، یہ تو اس کا مطلب ہے اپنے آپ کو ہی جھٹلا رہا ہے۔ زنا کا الزام بھی لگایا اور پھر اپنے آپ کو جھٹلا بھی دیا، لہٰذا اس پر حد قذف آئے گی۔ تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے، جب پہلے بچے کا خاوند نے کیا کر لیا؟ اقرار، اور دوسرے کی نفی کی ہے، تو دوسرے میں عورت کو گویا اس نے زانیہ کہا ہے اور اس صورت میں لعان ہوتا ہے کیونکہ اس نے اپنے آپ کو جھوٹا نہیں کہا بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَالْإِقْرَارُ بِالْعِفَّةِ اور پاکدامنی کا جو اقرار تھا سَابِقٌ عَلَى الْقَذْفِ وہ تو اس تہمت پر مقدم تھا فَصَارَ كَمَا إِذَا قَالَ تو یہ ایسے ہی ہو گیا جیسے خاوند نے یوں کہا ہو: إِنَّهَا عَفِيفَةٌ کہ یہ پاک دامن ہے ثُمَّ قَالَ پھر اس کے بعد وہ کہتا ہے: هِيَ زَانِيَةٌ یہ زانیہ ہے وَفِي ذَلِكَ التَّلَاعُنُ اور اس صورت میں تو تلاعن ہوتا ہے، لعان ہوتا ہے كَذَا هَذَا تو یہاں حمل کے مسئلے میں بھی اسی طرح ہو گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ بَابُ الْعِنِّينِ وَغَيْرِهِ یہ باب ہے عنین وغیرہ کے بیان میں۔ عنین وغیرہ، کوئی عنین ہے یا مجبوب ہے یا خصی ہے ان کے احکام بیان کریں گے۔ عنین میں آپ کو بتلا چکا، وہ شخص جو نامرد ہے، جو بیوی کے ساتھ صحبت پر قادر نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَإِذَا كَانَ الزَّوْجُ عِنِّينًا اور اگر خاوند عنین ہے یعنی نامرد ہے أَجَّلَهُ الْحَاكِمُ سَنَةً تو حاکم اس کو ایک سال کی مہلت دے گا فَإِنْ وَصَلَ إِلَيْهَا فَبِهَا اگر یہ اس عورت تک پہنچ گیا تو اچھی بات ہے، یعنی اگر وہ صحبت کرنے میں کامیاب ہو گیا، صحبت کر لی، ٹھیک ہو گیا، تو اچھی بات ہے وَإِلَّا فَرَّقَ بَيْنَهُمَا إِذَا طَلَبَتْ الْمَرْأَةُ ذَلِكَ ورنہ حاکم ان میں جدائی کروا دے گا جب عورت اس کا مطالبہ کرے۔ هَكَذَا رُوِيَ عَنْ عُمَرَ وَعَلِيٍّ وَابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ اسی طرح روایت کیا گیا ہے حضرت عمر اور حضرت علی اور حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے۔ وَلِأَنَّ الْحَقَّ ثَابِتٌ لَهَا فِي الْوَطْءِ اس لیے کیونکہ عورت کا حق جو ہے وطی میں ثابت ہے۔ وطی میں عورت کا بھی حق ہے، یہاں تک کہ اگر خاوند اس کے ساتھ صحبت نہیں کرتا تو وہ قاضی کے پاس جا کر بھی مطالبہ کر سکتی ہے اور قاضی پھر خاوند کو حکم دے گا کہ اس کے عورت کے حقوق ادا کرے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلِأَنَّ الْحَقَّ ثَابِتٌ لَهَا فِي الْوَطْءِ اس لیے کیونکہ عورت کا حق بھی وطی میں ثابت ہے وَيَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ الِامْتِنَاعُ لِعِلَّةٍ مُعْتَرِضَةٍ بھئی حاکم ایک سال کی مہلت کیوں دے گا؟ اب اس کی وجہ بیان کر رہے ہیں۔ کہ کیونکہ بھئی ہو سکتا ہے کہ یہ جو خاوند نامرد ہے، ہو سکتا ہے یہ کسی بیماری کی وجہ سے ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے یہ اصل خلقتًا، پیدائشی طور پر ایسا ہے۔ تو ایک سال کی مدت دیں گے، اگر ایک سال کے اندر یہ علاج کروا لیتا ہے، ٹھیک ہو جاتا ہے، معلوم ہوا یہ کوئی بیماری پیش آئی تھی اور وہ ختم ہو گئی۔ اور اگر ایک سال کی مدت کے اندر بھی وہ اپنا علاج نہیں کروا پاتا، وہ ٹھیک نہیں ہوتا، معلوم ہوا یہ کوئی پیدائشی نقص ہے، اس کا علاج نہیں ہو سکتا، تو پھر عورت کے مطالبے پر قاضی ان میں جدائی کروا دے گا۔ وَيَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ الِامْتِنَاعُ لِعِلَّةٍ مُعْتَرِضَةٍ اور یہ بھی احتمال ہے کہ یہ جو رکنا ہے یعنی صحبت سے، یہ خاوند صحبت نہیں کر سکتا، لِعِلَّةٍ، علت کہتے ہیں بیماری کو، معترض کا معنی ہے پیش آنا، لِعِلَّةٍ مُعْتَرِضَةٍ تو علت معترضہ، ایسی بیماری جو پیش آئی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَيَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ الِامْتِنَاعُ لِعِلَّةٍ مُعْتَرِضَةٍ اس لیے کیونکہ یہ بھی احتمال ہے کہ یہ صحبت سے رکنا کسی ایسی بیماری کی وجہ سے ہے جو پیش آ گئی ہے وَيَحْتَمِلُ لِآفَةٍ أَصْلِيَّةٍ اور یہ بھی احتمال ہے کہ یہ جو رکنا ہے کسی آفت اصلیہ کی وجہ سے ہے یعنی پیدائشی نقص ہے فَلَا بُدَّ مِنْ مُدَّةٍ مُعَرِّفَةٍ لِذَلِكَ لہٰذا ضروری ہے ایسی مدت کے مُعَرِّفَةً لِذَلِكَ جو اس کی پہچان کروا دے۔ اتنی مدت ہو جس سے پتہ چل جائے کہ یہ بیماری ہے یا پیدائشی نقص ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: فَلَا بُدَّ مِنْ مُدَّةٍ مُعَرِّفَةٍ لِذَلِكَ تو ضروری ہے ایسی مدت کہ جو اس کی پہچان کروا دے کہ یہ بیماری ہے یا پیدائشی نقص ہے۔ وَقَدَّرْنَاهَا بِالسَّنَةِ اور ہم نے اس کا اندازہ سال کے ساتھ لگایا ہے لِاشْتِمَالِهَا عَلَى الْفُصُولِ الْأَرْبَعَةِ اس لیے کیونکہ سال جو ہے چار فصلوں پر مشتمل ہوتا ہے، چار موسموں پر مشتمل ہوتا ہے سال بھئی۔ سردی، گرمی، بہار، خزاں، یہ چار موسم آتے ہیں۔ تو یہ اگر اس شخص کو کوئی بیماری ہے اور ہو سکتا ہے موسم کی وجہ سے یہ موسم اس کے موافق نہیں ہے، اس لیے وہ بیوی کے ساتھ صحبت پر قادر نہ ہو سکا۔ تو اب سال کے اندر تو ہر طرح کے موسم آتے ہیں۔ تو اگر یہ عارضی بیماری ہوئی کسی موسم وغیرہ کی وجہ سے، تو سال میں تو ہر طرح کا موسم آئے گا تو اس کے موافق موسم آ گیا تو پھر اس کے اندر تو یہ صحبت پر قادر ہو جائے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَقَدَّرْنَاهَا بِالسَّنَةِ اور ہم نے اس مدت کا اندازہ ایک سال کے ساتھ لگایا ہے لِاشْتِمَالِهَا عَلَى الْفُصُولِ الْأَرْبَعَةِ اس لیے کیونکہ یہ چار موسموں پر مشتمل ہوتا ہے فَإِذَا مَضَتْ الْمُدَّةُ وَلَمْ يَصِلْ إِلَيْهَا جب یہ مدت گزر گئی اور یہ شخص اس عورت تک نہ پہنچ سکا یعنی صحبت نہ کر سکا تَبَيَّنَ أَنَّ الْعَجْزَ بِآفَةٍ أَصْلِيَّةٍ تو یہ بات ظاہر ہو گئی کہ یہ عاجزی جو ہے آفت اصلیہ کی وجہ سے ہے یعنی پیدائشی نقص ہے فَفَاتَ الْإِمْسَاكُ بِالْمَعْرُوفِ تو امساک بالمعروف فوت ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں خاوندوں کو کیا اختیار دیا ہے؟ فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌۢ بِاِحْسَانٍ کہ خاوند یا تو بیوی کو معروف طریقے سے روکے یا اس کو اچھے طریقے سے اور احسان کے ساتھ رخصت کر دے۔ تو یہاں اب خاوند صحبت پر قادر نہیں تو امساک بالمعروف ختم ہو گیا۔ جب امساک بالمعروف نہ رہا تو اب کس پر عمل کرنا پڑے گا؟ تسریح بالاحسان پر، عورت کو رخصت کرنا پڑے گا۔ تو خاوند اگر رخصت نہیں کرتا، جدا نہیں کرتا تو پھر قاضی اس کا نائب بن کر جدا کر دے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: فَفَاتَ الْإِمْسَاكُ بِالْمَعْرُوفِ تو امساک بالمعروف جو ہے وہ فوت ہو گیا وَوَجَبَ عَلَيْهِ التَّسْرِيحُ بِالْإِحْسَانِ اور اس شخص پر واجب ہوا تسریح بالاحسان کہ اچھے طریقے سے رخصت کر دے، احسان کے ساتھ رخصت کر دے فَإِذَا امْتَنَعَ جب یہ رخصت کرنے سے باز رہا نَابَ الْقَاضِي مَنَابَهُ تو قاضی اس کا قائم مقام ہو جائے گا فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا تو ان دونوں میں جدائی کروا دے گا وَلَا بُدَّ مِنْ طَلَبِهَا عورت کا مطالبہ بھی ضروری ہے۔ عورت مطالبہ کرے گی تو پھر قاضی جدائی کروائے گا، یہ نہیں کہ قاضی خود ہی ویسے ان دونوں میں جدائی کروا دے، عورت کا مطالبہ ضروری ہے۔ تو کہتے ہیں: وَلَا بُدَّ مِنْ طَلَبِهَا اور عورت کا مطالبہ بھی ضروری ہے لِأَنَّ التَّفْرِيقَ حَقُّهَا اس لیے کیونکہ جدائی اس کا حق ہے۔ تو صاحب حق، حق کا مطالبہ کرے گا تو اس کو اس کا حق دلایا جائے گا، ویسے نہیں بھئی۔ وَتِلْكَ الْفُرْقَةُ تَطْلِيقَةٌ بَائِنَةٌ اور یہ جو جدائی ہو گی یہ طلاق بائن ہو گی لِأَنَّ فِعْلَ الْقَاضِي أُضِيفَ إِلَى فِعْلِ الزَّوْجِ اس لیے کیونکہ قاضی کے فعل کی نسبت کی جائے گی خاوند کے فعل کی طرف فَكَأَنَّهُ طَلَّقَهَا بِنَفْسِهِ تو یہ ایسے ہی ہو گا جیسے خاوند نے خود اس کو طلاق دی ہے۔ قاضی اس کا نائب بن کر جدا کروا رہا ہے تو قاضی کی جدائی کی نسبت خاوند کی طرف کی جائے گی گویا خاوند اس کو خود طلاق دے رہا ہے۔ وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: هُوَ فَسْخٌ کہ یہ فسخ نکاح ہے۔ یہ جو قاضی جدائی کروائے گا یہ فسخ نکاح ہے، لیکن ہمارے نزدیک طلاق بائن ہے۔ چنانچہ بعد میں اگر یہ خاوند ٹھیک ہو جاتا ہے اور یہ اسی عورت سے دوبارہ نکاح کرتا ہے، تو اب ہمارے نزدیک ایک طلاق بائن دے چکا، لہٰذا اب تمام زندگی صرف دو طلاقوں کا حق ہے۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک نکاح فسخ ہو گیا تھا گویا ہوا ہی نہیں تھا، تو اب نکاح کرے گا تو دوبارہ تین طلاقوں کا مالک ہو گا۔ فرق سمجھ میں آیا؟ تو کہتے ہیں: وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: هُوَ فَسْخٌ کہ یہ فسخ ہے لَكِنَّ النِّكَاحَ لَا يَقْبَلُ الْفَسْخَ عِنْدَنَا لیکن نکاح ہمارے نزدیک فسخ کو قبول نہیں کرتا۔ یاد رکھو عند الاحناف نکاح فسخ کو قبول نہیں کرتا، اس پر اشکال ہوتا ہے کہ اے صاحبِ ہدایہ! پیچھے کتنے ہی مسائل گزرے جہاں آپ نے ہمیں بتایا تھا کہ جدائی عورت کی طرف سے آئی ہے۔ جدائی عورت کی طرف سے آئی ہے اور عورت تو طلاق کی اہل نہیں ہے لہٰذا یہ فسخ نکاح ہے۔ مثلاً ایک صغیرہ کا نکاح ولی نے کروا دیا، تو جس وقت یہ بالغہ ہو گی اس کو خیار بلوغ ملے گا اور جس مجلس میں یہ بالغہ ہو گی اسی کے اندر یہ اپنے نکاح کو فسخ کر سکتی ہے۔ تو یہ خیار بلوغ میں بھی وہ نکاح فسخ کرتی ہے۔ اسی طرح باندی تھی اس کا نکاح ہوا ہے، تو اس کو خاوند نے آزاد کیا، تو پہلے باندی کی طلاقیں دو تھیں اب باندی کی طلاقیں تین ہونے جا رہی ہیں، تو باندی کو شریعت نے اختیار دیا ہے خیار عتق کا، جس مجلس میں آقا اس کو آزاد کرے اسی مجلس میں وہ اپنے اس نکاح کو فسخ کر سکتی ہے۔ اسی طرح اگر عورت نے غیر کفو کے اندر نکاح کیا ہے، عورت نے خود نکاح کر لیا تھا اپنا اور برابر والوں میں نہیں کیا، تو ولی کو حق ہے وہ قاضی کے پاس جا کر نکاح فسخ کروا سکتا ہے۔ تو کتنی ہی جگہ آپ نے ہمیں بتایا تھا کہ نکاح فسخ کیا جا سکتا ہے اور آج آپ فرما رہے ہیں: لَكِنَّ النِّكَاحَ لَا يَقْبَلُ الْفَسْخَ عِنْدَنَا ہمارے نزدیک نکاح فسخ کو قبول نہیں کرتا۔ تو اس کا جواب دیتے ہیں علماء کہ بھئی مراد یہ ہے نکاح تام جو ہوتا ہے، وہ نکاح جو تام ہو جائے، کامل ہو جائے، وہ فسخ کو قبول نہیں کرتا۔ اگر تام ہونے سے پہلے اس کو فسخ کیا جائے تب فسخ ہو سکتا ہے، تام ہو جانے کے بعد کامل ہو جانے کے بعد یہ فسخ کو قبول نہیں کرتا۔ اور وہ جو باندی کو خیار عتق ملا تھا تو ہم کہیں گے یہاں ابھی بھی نکاح تام نہیں تھا اس لیے یہ فسخ کر سکتی ہے۔ اسی طرح صغیرہ کا نکاح کروایا تھا یہ بالغ ہونے کے بعد اس نکاح کو فسخ کرتی ہے، خیار بلوغ ملتا ہے اس کو، تو یہاں بھی ہم کہیں گے نکاح تام نہیں ہوا تھا ابھی۔ تو جہاں جہاں بھی ہم نے ذکر کیا کہ نکاح فسخ کیا جا سکتا ہے دراصل وہاں نکاح ابھی تام نہیں ہوا تھا، کامل نہیں ہوا تھا، لیکن جب ایک دفعہ نکاح کامل ہو جائے پھر وہ فسخ نہیں ہو سکتا، جیسے یہاں پر ہے۔ جیسے یہاں پر ہے، یہاں نکاح تام ہو چکا ہے، لہٰذا اس کو فسخ نہیں کیا جا سکتا بھئی۔ تو کہتے ہیں: لَكِنَّ النِّكَاحَ لَا يَقْبَلُ الْفَسْخَ عِنْدَنَا لیکن نکاح جو ہے ہمارے نزدیک فسخ کو قبول نہیں کرتا وَإِنَّمَا تَقَعُ بَائِنَةً اچھا بھئی یہ طلاق ہو گی لیکن طلاق بائن کیوں کہا آپ نے؟ اس کو طلاق رجعی کیوں نہیں قرار دیا؟ کہتے ہیں: اس لیے کیونکہ عورت سے ظلم کو دور کرنا ہے اور عورت سے ظلم طلاق بائن کے ذریعے ہی دور ہو سکتا ہے، طلاق رجعی کے ذریعے نہیں ہو سکتا کیونکہ اس میں تو خاوند پھر رجوع کر لے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَإِنَّمَا تَقَعُ بَائِنَةً اور طلاق جو ہے وہ بائنہ ہو کر واقع ہو گی لِأَنَّ الْمَقْصُودَ اس لیے کیونکہ مقصود جو ہے، بھئی مقصود کیا ہے؟ کہتے ہیں: وَهُوَ دَفْعُ الظُّلْمِ عَنْهَا وہ عورت سے ظلم کو دور کرنا ہے۔ تو یہ جو مقصود ہے، یہ جو عورت سے ظلم کو دفع کرنا ہے لَا يَحْصُلُ إِلَّا بِهَا یہ حاصل نہیں ہو گا مگر طلاق بائنہ کے ذریعے ہی لِأَنَّهَا لَوْ لَمْ تَكُنْ بَائِنَةً اس لیے کیونکہ اگر یہ طلاق بائنہ نہ ہوئی تَعُودُ تو یہ عورت پھر لوٹ آئے گی مُعَلَّقَةً معلق ہو کر بِالْمُرَاجَعَةِ خاوند کے رجوع کرنے کی وجہ سے۔ خاوند پھر رجوع کر لے گا اور یہ عورت معلقہ ہو کر لوٹ آئے گی۔ معلقہ یعنی کیونکہ خاوند بھی وطی پر قادر نہیں اور اس کو طلاق بھی نہیں دے رہا کہ کسی اور سے جا کر نکاح کر لے، تو یہ معلقہ ہی ہوئی بھئی۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّهَا لَوْ لَمْ تَكُنْ بَائِنَةً اس لیے کیونکہ اگر یہ طلاق بائنہ نہ ہوئی تَعُودُ مُعَلَّقَةً بِالْمُرَاجَعَةِ تو یہ خاوند کے رجوع کرنے کی وجہ سے معلقہ ہو کر واپس لوٹ آئے گی۔ تو لہٰذا طلاق کا بائنہ ہونا ضروری ہے تاکہ ظلم ختم ہو جائے اور تاکہ خاوند رجوع نہ کر سکے۔ وَلَهَا كَمَالُ مَهْرِهَا إِنْ كَانَ خَلَا بِهَا اور اس عورت کے لیے کامل مہر ہو گا اگر خاوند اس کے ساتھ خلوت کر چکا ہے فَإِنَّ خَلْوَةَ الْعِنِّينِ صَحِيحَةٌ اس لیے کیونکہ عنین کی خلوت بھی صحیح ہے، یہ بات ہم پیچھے بیان کر چکے۔ کیونکہ عورت نے تو اپنے آپ کو سپرد کر دیا تھا بھئی، تو مانع جو آیا وہ خاوند کی طرف سے آیا، لہٰذا مہر پورا ہی دینا پڑے گا اگر اس نے خلوت کر لی ہے بھئی۔ وَيَجِبُ الْعِدَّةُ اور عدت بھی واجب ہو گی عورت پر۔ اگرچہ خاوند نے صحبت نہیں کی لیکن پھر بھی عدت واجب ہو گی۔ وجہ یہ ہے کہ یہ بات پیچھے باب المہر کے اندر صاحب ہدایہ نے ذکر کی تھی کہ یہ جو عدت ہے یہ شریعت کا حق ہے، شریعت نے واجب کیا ہے اور نیز یہ بچے کا حق ہے تاکہ بچے کا نسب کہیں مشتبہ نہ ہو جائے۔ تو یہ عدت کس کا حق ہے؟ شریعت کا حق ہے اور بچے کا حق ہے۔ تو لہٰذا ان دونوں نے تو کہا ہے یہ عنین ہے، نامرد ہے، خاوند بھی مان رہا ہے کہ میں نے صحبت نہیں کی اور بیوی بھی کہہ رہی ہے اس نے صحبت نہیں کی، تو یہ اپنے قول کے ذریعے شریعت یا بچے کے حق کو باطل نہیں کر سکتے۔ اپنے حق کو تو باطل کر سکتے ہیں، کسی اور کے حق کو باطل نہیں کر سکتے، لہٰذا عدت واجب ہو گی بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَيَجِبُ الْعِدَّةُ اور عدت واجب ہو گی لِمَا بَيَّنَّا مِنْ قَبْلُ اس وجہ سے جو ہم نے پہلے بیان کر دی یعنی باب المہر کے اندر۔ هَذَا إِذَا أَقَرَّ الزَّوْجُ أَنَّهُ لَمْ يَصِلْ إِلَيْهَا یہ اس وقت ہے جب خاوند اقرار کر لے أَنَّهُ لَمْ يَصِلْ إِلَيْهَا کہ وہ اس عورت تک نہیں پہنچا یعنی اس نے اس کے ساتھ صحبت نہیں کی۔ تو اس صورت میں پھر قاضی اس کو ایک سال کی مدت دے گا اور پھر اس کے بعد جدائی کروائے گا۔ اور اگر دونوں میں اختلاف آتا ہے، بیوی کہتی ہے اس نے صحبت نہیں کی اور خاوند کہتا ہے میں نے صحبت کی ہے، تو اب اس کو بیان کریں گے۔ کہتے ہیں: وَلَوْ اخْتَلَفَ الزَّوْجُ وَالْمَرْأَةُ فِي الْوُصُولِ إِلَيْهَا اور اگر اختلاف کیا خاوند نے اور بیوی نے اس عورت تک پہنچنے میں، خاوند کہتا ہے میں نے صحبت کر لی تھی، بیوی کہتی ہے نہیں یہ نامرد ہے، اس نے صحبت نہیں کی، تو اب اس میں یاد رکھو دو صورتیں ہیں۔ یہ جو خاوند نے اس عورت سے جب نکاح کیا تھا تو یہ عورت باکرہ تھی یا ثیبہ؟ یا تو یہ باکرہ ہو گی، اس کا پہلے کہیں نکاح نہیں ہوا تھا، یہ پہلا نکاح ہے اس آدمی کے ساتھ، یا ہو سکتا ہے اس کا پہلے بھی کوئی خاوند تھا اس نے طلاق دی تھی، اب اس خاوند نے اس سے نکاح کر لیا ہے۔ تو بیوی اصل میں کیا تھی، یہ دیکھا جائے گا، وہ باکرہ تھی یا ثیبہ؟ اگر وہ پہلے سے ہی ثیبہ ہے تو پھر اس صورت کے اندر، پھر اس صورت کے اندر کہتے ہیں خاوند کا قول معتبر ہے۔ دونوں میں اختلاف آ گیا، بیوی کہتی ہے اس نے صحبت نہیں کی اور خاوند کہتا ہے میں صحبت کر چکا ہوں، تو پھر خاوند کا قول معتبر ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلَوْ اخْتَلَفَ الزَّوْجُ وَالْمَرْأَةُ فِي الْوُصُولِ إِلَيْهَا اور اگر اختلاف کیا خاوند اور بیوی نے اس تک پہنچنے میں فَإِنْ كَانَتْ ثَيِّبًا اگر یہ عورت اصل میں کیا تھی؟ ثیبہ تھی جب اس خاوند سے نکاح کیا فَالْقَوْلُ قَوْلُهُ مَعَ يَمِينِهِ تو اس صورت میں خاوند کا قول معتبر ہو گا ساتھ اس کی قسم کے۔ بھئی خاوند کا قول کیوں معتبر ہے؟ عورت کا قول معتبر ہونا چاہیے۔ خاوند کہہ رہا ہے میں نے صحبت کی تھی، بیوی کہہ رہی ہے اس نے نہیں کی تھی، تو منکرہ تو عورت ہے بھئی اور ضابطہ ہے: الْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي وَالْيَمِينُ عَلَى مَنْ أَنْكَرَ، تو جواب یہ ہے کہ خاوند صورۃً مدعی ہے، حقیقت میں منکر ہے۔ صورۃً مدعی ہے لیکن حقیقت میں منکر۔ بھئی حقیقت میں منکر کیسے ہے؟ کہتے ہیں بایں لحاظ کہ گویا عورت نے جو دعویٰ کیا وہ جدائی چاہتی ہے، تو وہ جدائی کا دعویٰ کر رہی ہے کہ جدائی اس کا حق ہے اور خاوند انکار کر رہا ہے کہ جدائی اس کا حق نہیں ہے، میں صحبت کر چکا ہوں۔ تو لہٰذا منکر کون ہوا؟ خاوند، لہٰذا اس کا قول معتبر ہے۔ تو کہتے ہیں: فَالْقَوْلُ قَوْلُهُ مَعَ يَمِينِهِ تو قول جو ہے وہ خاوند کا معتبر ہے ساتھ اس کی قسم کے لِأَنَّهُ يُنْكِرُ اسْتِحْقَاقَ حَقِّ الْفُرْقَةِ اس لیے کیونکہ خاوند جو ہے وہ انکار کر رہا ہے استحقاقِ حقِ فرقت کہ عورت جو ہے وہ جدائی کے حق کی مستحق نہیں ہے، عورت جدائی کے حق کی مستحق نہیں ہے وَالْأَصْلُ هُوَ السَّلَامَةُ فِي الْجِبِلَّةِ، جبلت کہتے ہیں فطرت کو جس پر کسی چیز کی پیدائش ہو۔ جیسے آپ حیوانات کو دیکھتے ہیں بھئی، پرندوں وغیرہ کو دیکھتے ہیں، یہ انڈے دیتے ہیں اور ان انڈوں سے بچے نکلتے ہیں اور پھر وہ بچے جب بڑے ہوتے ہیں، وہ پھر جب ان کے انڈے دینے کا وقت آتا ہے وہ گھونسلے بناتے ہیں، حالانکہ ان کو کسی نے یہ تربیت نہیں دی، یہ اللہ نے ان کی فطرت میں رکھا ہوا ہے۔ توجہ ہے؟ تو لہٰذا یہ چیز جو پیدائش کے اعتبار سے کسی میں ہو اس کو جبلت کہتے ہیں اور فطرت کہتے ہیں۔ تو یہاں پر بھی خاوند کہہ رہا ہے کہ میں نے صحبت کر لی ہے اور اصل بھی یہ ہے فطرت کے اندر کہ مرد کا آلہ تناسل سلامت ہوتا ہے، صحیح ہوتا ہے۔ فطرت بھی کیا ہے کہ مرد کا آلہ تناسل صحیح ہوتا ہے، تو خاوند کا قول اصل کے موافق ہوا۔ خاوند کہہ رہا ہے میں ٹھیک ہوں، میں نے صحبت کر لی ہے۔ تو خاوند کا قول اصل کے موافق ہے اور عورت کا قول اصل کے مخالف ہے بھئی، تو قول اس کا معتبر ہوتا ہے جو اصل کے موافق ہو، جو اصل کے موافق ہو۔ تو جو اصل کو دلیل بناتا ہے اس کا قول معتبر ہوتا ہے۔ تو کہتے ہیں: وَالْأَصْلُ هُوَ السَّلَامَةُ فِي الْجِبِلَّةِ اور اصل جو ہے وہ اس آلہ تناسل کا سلامت ہونا ہے فی الجبلۃ فطرت میں ثُمَّ إِنْ حَلَفَ بَطَلَ حَقُّهَا پھر اگر خاوند نے قسم اٹھا لی تو عورت کا حق باطل ہو جائے گا، اب عورت جدائی اختیار نہیں کر سکتی وَإِنْ نَكَلَ اور اگر خاوند نے انکار کر دیا يُؤَجَّلُ سَنَةً تو اب خاوند کو ایک سال کی مہلت دی جائے گی۔ وَإِنْ كَانَتْ بِكْرًا اور اگر وہ عورت اصل میں باکرہ تھی، جب خاوند نے نکاح کیا تھا اس سے تو یہ باکرہ تھی، اب بعد میں آ کر اس نے دعویٰ کر دیا قاضی کے پاس کہ یہ میرا خاوند نامرد ہے، یہ میرے ساتھ صحبت پر قادر نہیں ہے، تو پھر اس صورت میں قاضی عورتوں سے کہے گا، عورتیں دیکھیں گی کہ یہ جو عورت ہے یہ اس وقت باکرہ ہے یا ثیبہ؟ اگر اس وقت بھی یہ باکرہ ہوئی تو معلوم ہوا خاوند جھوٹ بول رہا ہے، خاوند تو کہہ رہا ہے میں نے صحبت کر لی ہے، تو اگر صحبت کر لی ہے تو یہ باکرہ کیسے ہے بھئی؟ لہٰذا اس صورت میں پھر خاوند کو ایک سال کی مہلت دے دے گا قاضی، اور پھر ایک سال کے بعد بھی اگر یہ صحبت پر قادر نہ ہو سکا تو پھر جدائی کروا دے گا۔ اور اگر عورتوں نے اس بیوی کو دیکھا اور پھر انہوں نے قاضی کو بتایا کہ یہ تو ثیبہ ہے، یہ تو ثیبہ ہے، معلوم ہوا خاوند صحبت کر چکا ہے اس کے ساتھ، تو پھر اس صورت کے اندر کہتے ہیں قاضی خاوند کو قسم دے گا اور جب خاوند قسم کھا لے گا تو پھر اس کے حق میں فیصلہ کر دے گا۔ یہاں بھی قسم ضرور دے گا قاضی اگرچہ عورت ثیبہ ہے لیکن ہو سکتا ہے وہ کسی اور وجہ سے ثیبہ ہوئی ہو صحبت کے بغیر ہی۔ تو کہتے ہیں: وَإِنْ كَانَتْ بِكْرًا اور اگر وہ عورت جو ہے نکاح کے وقت باکرہ تھی نَظَرَ إِلَيْهَا النِّسَاءُ تو اب عورتیں اس کو دیکھیں گی فَإِنْ قُلْنَ هِيَ بِكْرٌ اگر ان عورتوں نے کہا کہ یہ باکرہ ہے أُجِّلَ سَنَةً تو اب اس خاوند کو ایک سال کی مہلت دی جائے گی لِظُهُورِ كَذِبِهِ کیونکہ اس کا جھوٹ ظاہر ہو گیا، وہ تو کہہ رہا تھا میں نے صحبت کر لی ہے بھئی وَإِنْ قُلْنَ اور اگر عورتوں نے کہا هِيَ ثَيِّبٌ کہ یہ عورت تو ثیبہ ہے حُلِّفَ الزَّوْجُ تو خاوند کو قسم دی جائے گی فَإِنْ حَلَفَ لَا حَقَّ لَهَا اگر اس نے قسم اٹھا لی تو پھر عورت کے لیے کوئی حق نہیں ہے جدائی کا وَإِنْ نَكَلَ اور اگر خاوند نے انکار کر دیا قسم کھانے سے يُؤَجَّلُ سَنَةً تو اب اس کو ایک سال کی مہلت دی جائے گی۔ وَإِنْ كَانَ مَجْبُوبًا اور اگر خاوند مجبوب ہے، میں نے آپ کو بتلایا تھا مجبوب وہ مرد جس کا آلہ تناسل کٹ چکا ہو، تو اگر خاوند مجبوب ہے تو پھر اسی وقت قاضی جدائی کروا دے گا کیونکہ مجبوب کو تو مہلت دینے کا کوئی فائدہ نہیں ہے بھئی۔ وَإِنْ كَانَ مَجْبُوبًا اور اگر خاوند مجبوب تھا فُرِّقَ بَيْنَهُمَا فِي الْحَالِ إِنْ طَلَبَتْ تو فی الحال ہی جدائی کروا دی جائے گی اگر عورت مطالبہ کرے لِأَنَّهُ لَا فَائِدَةَ فِي التَّأْجِيلِ اس لیے کیونکہ اس کو مدت دینے میں کوئی فائدہ نہیں، اس کے تو علاج کی کوئی صورت نہیں۔ وَالْخَصِيُّ يُؤَجَّلُ كَمَا يُؤَجَّلُ الْعِنِّينُ، خصی بھئی، خصی کہتے ہیں وہ شخص جس کے خصیین کچل دیے گئے ہوں یا خصیین نکال دیے گئے ہوں تو اس کو خصی کہتے ہیں۔ تو کہتے ہیں کہ اگر خاوند خصی ہے تو پھر کیا اس کو مدت دیں گے؟ کہتے ہیں: ہاں، اس کو بھی ایک سال کی مدت دی جائے گی کہ ہو سکتا ہے یہ کسی طرح اس کا علاج ہو جائے اور یہ صحبت پر قادر ہو جائے۔ تو کہتے ہیں: وَالْخَصِيُّ يُؤَجَّلُ اور خصی جو ہے اس کو بھی مدت دی جائے گی كَمَا يُؤَجَّلُ الْعِنِّينُ جیسے کہ نامرد کو مدت دی جاتی ہے لِأَنَّ وَطْأَهَا مَرْجُوٌّ اس لیے کیونکہ خصی کی صحبت کی بھی امید کی جا سکتی ہے۔ آگے دیکھیے: وَإِذَا أُجِّلَ الْعِنِّينُ سَنَةً اور جب نامرد کو ایک سال کی مہلت دے دی گئی وَقَالَ اور اس نے کہا قَدْ جَامَعْتُهَا کہ میں نے بیوی سے صحبت کر لی، سال کے دوران میں نے بیوی سے صحبت کر لی، وَأَنْكَرَتْ اور عورت انکار کر رہی ہے کہ نہیں اس نے صحبت ابھی بھی نہیں کی، نَظَرَ إِلَيْهَا النِّسَاءُ تو اب عورتیں دوبارہ اس عورت کو دیکھیں گی جو پہلے کیا تھی؟ باکرہ تھی۔ دیکھیں گی فَإِنْ قُلْنَ اگر ان عورتوں نے کہا هِيَ بِكْرٌ کہ یہ ابھی بھی باکرہ ہے، معلوم ہوا خاوند جھوٹ بول رہا ہے، سال کی مدت بھی دے دی اور یہ ٹھیک نہیں ہوا، خُيِّرَتْ تو پھر اس صورت میں اس عورت کو اختیار دیا جائے گا، اور جدائی کو اختیار کرے گی تو قاضی جدائی کروا دے گا، تو پھر اس کو اختیار دیا جائے گا لِأَنَّ شَهَادَتَهُنَّ تَأَيَّدَتْ بِمُؤَيِّدٍ وَهِيَ الْبَكَارَةُ اس لیے کیونکہ یہ عورتوں کی جو شہادت تھی تَأَيَّدَتْ اس کی تائید ہو گئی بِمُؤَيِّدٍ ایک مؤید کے ذریعے وَهِيَ الْبَكَارَةُ اور وہ باکرہ ہونا ہے۔ باکرہ ہونے سے تائید ہو گئی معلوم ہوا خاوند نے صحبت نہیں کی بھئی۔ وَإِنْ قُلْنَ هِيَ ثَيِّبٌ اور اگر ان عورتوں نے کہا کہ یہ ثیبہ ہے حُلِّفَ الزَّوْجُ تو پھر خاوند کو قسم دی جائے گی فَإِنْ نَكَلَ خُيِّرَتْ اگر خاوند قسم سے انکار کرتا ہے تو پھر بھی اس عورت کو اختیار دیا جائے گا لِتَأَيُّدِهَا بِالنُّكُولِ اس لیے کیونکہ اس عورت کی تائید ہو گئی خاوند کے انکار کی وجہ سے، خاوند قسم کھانے سے انکار کر رہا ہے معلوم ہوا یہ جھوٹ بول رہا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: فَإِنْ نَكَلَ خُيِّرَتْ اگر خاوند نے قسم سے انکار کیا تو عورت کو اختیار دیا جائے گا لِتَأَيُّدِهَا بِالنُّكُولِ اس لیے کیونکہ عورت کی تائید ہو رہی ہے بالنوکول، خاوند کے انکار کی وجہ سے وَإِنْ حَلَفَ لَا تُخَيَّرُ اور اگر خاوند نے قسم اٹھا لی تو لَا تُخَيَّرُ پھر عورت کو اختیار نہیں دیا جائے گا۔ وَإِنْ كَانَتْ ثَيِّبًا فِي الْأَصْلِ اب دوسری صورت آ گئی۔ وَإِنْ كَانَتْ ثَيِّبًا فِي الْأَصْلِ اور اگر یہ عورت اصل میں ثیبہ تھی، یعنی جس وقت نکاح کیا تھا اس وقت ہی یہ ثیبہ تھی، تو کہتے ہیں: وَإِنْ كَانَتْ ثَيِّبًا فِي الْأَصْلِ اور اگر یہ عورت اصل میں ہی ثیبہ تھی فَالْقَوْلُ قَوْلُهُ مَعَ يَمِينِهِ تو اس صورت میں خاوند کا قول معتبر ہے ساتھ اس کی قسم کے وَقَدْ ذَكَرْنَاهُ اور تحقیق یہ بات ہم ذکر کر چکے، بالکل شروع میں یہی ذکر کیا تھا۔ فَإِنْ اخْتَارَتْ زَوْجَهَا اگر عورت نے خاوند کو اختیار کر لیا، قاضی نے عورت کو اختیار دے دیا، خاوند نے قسم سے انکار کیا ہے یا عورتوں نے آ کر کہا کہ یہ باکرہ ہے، تو قاضی نے عورت کو اختیار دیا۔ اس نے اپنے خاوند کو اختیار کر لیا، جدائی کو اختیار نہیں کیا، تو اب عورت کا حق ختم ہو گیا، اب بعد میں بھی آ کر یہ جدائی کا مطالبہ نہیں کر سکتی کیونکہ اس نے اپنا حق خود باطل کیا ہے، خود اپنے خاوند کو اختیار کیا ہے۔ تو کہتے ہیں: فَإِنْ اخْتَارَتْ زَوْجَهَا اگر اس عورت نے اپنے خاوند کو اختیار کر لیا لَمْ يَكُنْ لَهَا بَعْدَ ذَلِكَ خِيَارٌ تو اس کے بعد اب اس کے لیے خیار نہیں ہو گا، اب بعد میں بھی کبھی آ کر جدائی کا مطالبہ نہیں کر سکتی لِأَنَّهَا رَضِيَتْ بِبُطْلَانِ حَقِّهَا اس لیے کیونکہ یہ عورت خود راضی ہو گئی اپنا حق باطل کرنے پر۔ وَفِي التَّأْجِيلِ تُعْتَبَرُ السَّنَةُ الْقَمَرِيَّةُ هُوَ الصَّحِيحُ اچھا بھئی قاضی یا حاکم ایک سال کی مدت دے گا تو کون سا سال معتبر ہے؟ قمری سال یا شمسی سال؟ قمری سال جو چاند کے حساب سے بارہ مہینے ہیں۔ یاد رکھو قمری سال 354 دن اور چند گھنٹے کا ہوتا ہے۔ 354 دن اور چند گھنٹے۔ جبکہ شمسی سال وہ گیارہ دن اس پر زائد ہوتا ہے، 365 دن اور چند گھنٹے کا ہوتا ہے۔ تو اب کس سال کا حساب کیا جائے گا؟ تو امام صاحب سے ایک روایت یہ ہے کہ شمسی سال کا اعتبار کیا جائے گا جبکہ صاحب ہدایہ فرما رہے ہیں کہ صحیح یہ ہے کہ قمری سال کا اعتبار کیا جائے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَفِي التَّأْجِيلِ اور مدت دینے میں تُعْتَبَرُ السَّنَةُ الْقَمَرِيَّةُ قمری سال کا اعتبار کیا جائے گا هُوَ الصَّحِيحُ یہی قول صحیح ہے۔ وَيُحْتَسَبُ بِأَيَّامِ الْحَيْضِ وَبِشَهْرِ رَمَضَانَ اچھا بھئی سال کے دوران تو حیض کے ایام بھی آتے ہیں، کیا ان کو بھی سال کے اندر ہی شمار کریں گے یا کچھ مدت زائد دیں گے خاوند کو؟ اسی طرح سال میں تو رمضان بھی آ جاتا ہے اور رمضان کے اندر بھی صحبت نہیں ہو سکتی تو کیا خاوند کو کچھ مزید مدت دیں گے یا نہیں دیں گے؟ تو کہتے ہیں: نہیں بھئی، حیض اور رمضان یہ تو ہر سال میں آتے ہیں لہٰذا ان کو الگ شمار نہیں کریں گے۔ ہاں اگر خاوند یا بیوی میں سے کوئی بیمار ہو گیا، خاوند دو تین مہینے بیمار ہو گیا یا بیوی دو تین مہینے بیمار ہو گئی، تو بیماری تو ہر سال میں نہیں آتی، لہٰذا اس صورت میں پھر اتنی ہی مدت زائد دی جائے گی خاوند کو بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَيُحْتَسَبُ بِأَيَّامِ الْحَيْضِ وَبِشَهْرِ رَمَضَانَ اور حساب کیا جائے گا ایام حیض کو بھی اسی سال میں اور رمضان کے مہینے کو بھی لِوُجُودِ ذَلِكَ فِي السَّنَةِ اس لیے کیونکہ یہ سال کے اندر پائے جاتے ہیں وَلَا يُحْتَسَبُ بِمَرَضِهِ وَمَرَضِهَا اور اس مرد کی بیماری کو یا اس عورت کی بیماری کو شمار نہیں کیا جائے گا سال میں سے لِأَنَّ السَّنَةَ قَدْ تَخْلُو عَنْهُ اس لیے کیونکہ کبھی کبھار سال ان سے خالی بھی ہوتا ہے۔ آگے دیکھیے: وَإِذَا كَانَ بِالزَّوْجَةِ عَيْبٌ فَلَا خِيَارَ لِلزَّوْجِ اور اگر بیوی کے اندر کوئی عیب ہے تو خاوند کو کوئی اختیار نہیں ہے۔ بھئی بیوی کے اندر عیب ہے تو خاوند کو کوئی اختیار نہیں نکاح فسخ کرنے کا۔ اگر ناپسند ہے یہ تو خاوند ہے، طلاق دے سکتا ہے بھئی، جان چھڑا سکتا ہے، لیکن فسخ نکاح کا اختیار نہیں۔ کیونکہ طلاق دے گا خاوند صحبت سے پہلے دے گا تو نصف مہر دینا پڑے گا اور صحبت کے بعد دے گا تو پورا مہر دینا پڑے گا۔ تو یہ فسخ نکاح کر کے مہر سے اپنی جان چھڑانا چاہتا ہے بھئی، تو کہتے ہیں نہیں، یہاں فسخ نکاح کا اختیار نہیں ہے خاوند کو۔ تو کہتے ہیں: وَإِنْ كَانَ بِالزَّوْجَةِ عَيْبٌ فَلَا خِيَارَ لِلزَّوْجِ اور اگر بیوی میں کوئی عیب ہو تو خاوند کو کوئی اختیار نہیں ہے یعنی فسخ نکاح کا اختیار نہیں ہے۔ وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: يُرَدُّ بِالْعُيُوبِ الْخَمْسَةِ کہ نکاح کو رد کیا جا سکتا ہے پانچ عیبوں کی وجہ سے وَهِيَ الْجُذَامُ وَالْبَرَصُ وَالْجُنُونُ وَالرَّتَقُ وَالْقَرْنُ اور وہ پانچ امراض یہ ہیں: الْجُذَامُ، جذام بھئی یہ ایک نہایت خوفناک بیماری ہے، اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے بھئی۔ اس کے اندر جسم کا گوشت کٹ کٹ کر گرتا ہے بھئی۔ جسم کا گوشت کٹ کٹ کر گرتا ہے، اس کو جذام کہتے ہیں۔ بَرَص بھئی، ص کے ساتھ، برص، برص یہ جسم پر سفید سفید داغ بن جاتے ہیں جا بجا اور بعض اوقات پورا جسم ہی سفید ہو جاتا ہے، یہ بھی مرض ہے بھئی۔ اور اسی طرح جُنُون بھئی کہ بیوی کو پاگل پن کے دورے پڑتے ہیں مثلاً۔ وَالرَّتَقُ، رتق کہتے ہیں، یہ لفظ پہلے بھی گزر چکا ہے رتقاء بھئی، رتقاء۔ رتقاء اس عورت کو کہتے ہیں جس کا صحبت کا مقام بالکل بند ہے، پیشاب وغیرہ کی جگہ تو ہے لیکن صحبت کا مقام بند ہے، اس کو رتقاء کہتے ہیں۔ وَالْقَرْنُ، قرن بھی اسی طرح اس عورت کا صحبت کا مقام تو ہے لیکن وہاں کوئی ہڈی وغیرہ یا ایسا مسئلہ ہے کہ صحبت نہیں کی جا سکتی، کہ صحبت نہیں کی جا سکتی۔ تو یہ پانچ امراض ہیں، یہ پانچ عیب ہیں جن کی وجہ سے امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں نکاح کو رد کیا جا سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: يُرَدُّ بِالْعُيُوبِ الْخَمْسَةِ کہ نکاح کو رد کیا جا سکتا ہے پانچ عیبوں کی وجہ سے وَهِيَ الْجُذَامُ وَالْبَرَصُ وَالْجُنُونُ وَالرَّتَقُ وَالْقَرْنُ اور یہ پانچ عیب ہیں لِأَنَّهَا تَمْنَعُ الِاسْتِيفَاءَ حِسًّا وَطَبْعًا اس لیے کیونکہ یہ جو عیب ہیں یہ منع کرتے ہیں الاستیفاء وصول کرنے کو، یعنی صحبت وصول کرنے کو حسًا و طبعًا، حسًا اور طبعًا۔ بعض تو ایسے ہیں وہ حسًا یعنی ظاہری طور پر ہی صحبت نہیں کر سکتا خاوند، مثلاً بیوی رتقاء ہے یا قرناء ہے بھئی، توجہ ہے؟ تو یہاں دیکھو مانع حسی آ گیا۔ اور کبھی مانع طبعی ہو گا، طبیعت نفرت کرے گی اس عورت سے کہ مثلاً اسے جذام ہے یا برص ہے یا جنون ہے، تو مانع حسی بھی ہو سکتا ہے اور طبعی بھی بھئی۔ لِأَنَّهَا تَمْنَعُ الِاسْتِيفَاءَ اس لیے کیونکہ یہ صحبت کرنے کو منع کرتے ہیں حِسًّا وَطَبْعًا ظاہری طور پر اور طبیعت کے اعتبار سے وَالطَّبْعُ مُؤَيَّدٌ بِالشَّرْعِ اور طبیعت کی تائید ہوتی ہے شریعت سے بھی قَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: فِرَّ مِنْ الْمَجْذُومِ فِرَارَكَ مِنْ الْأَسَدِ، فِرَّ مِنْ الْمَجْذُومِ، فِرَّ امر ہے، امر ہے، فِرَّ مِنْ الْمَجْذُومِ کہ تم مجذوم سے بھاگو فِرَارَكَ مِنْ الْأَسَدِ أَيْ مِثْلَ فِرَارِكَ مِنْ الْأَسَدِ جس طرح آپ شیر سے بھاگتے ہیں، جس طرح آپ شیر سے بھاگتے ہیں۔ لیکن ہمارے نزدیک فسخ نہیں کر سکتا، حدیث کی مراد یہ ہے کہ طلاق دے دے، خاوند کیا کرے؟ طلاق دے کر اس سے اپنی جان چھڑا سکتا ہے۔ تو وَلَنَا ہماری دلیل یہ ہے أَنَّ فَوْتَ الِاسْتِيفَاءِ أَصْلًا بِالْمَوْتِ لَا يُوجِبُ الْفَسْخَ ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا، ابھی رخصتی نہیں ہوئی، رخصتی سے پہلے ہی عورت کا انتقال ہو گیا۔ تو جب انتقال کی وجہ سے نکاح فسخ نہیں ہوتا، پورا مہر دینا پڑتا ہے، آپ جانتے ہیں میاں بیوی میں سے اگر کسی کا انتقال ہو جائے چاہے بے شک ابھی صحبت نہیں کی، مہر پورا دینا پڑے گا۔ ہاں اگر صحبت سے پہلے طلاق دے گا پھر نصف مہر ہے۔ صحبت سے پہلے بیوی یا خاوند کا انتقال ہو تو پھر پورا مہر دینا پڑتا ہے۔ تو ہم کہتے ہیں اگر صحبت سے پہلے عورت کا انتقال ہو جائے تو وہاں نکاح فسخ نہیں ہوتا حالانکہ وہاں پر تو سرے سے صحبت کی گنجائش ہی نہ رہی، جبکہ یہ جو عیب ہیں ان میں کوئی نہ کوئی صورت صحبت کی ہو جاتی ہے بھئی، تو لہٰذا ان میں بطریق اولیٰ فسخ کی گنجائش نہیں ہو گی۔ وَلَنَا ہماری دلیل یہ ہے أَنَّ فَوْتَ الِاسْتِيفَاءِ أَصْلًا بِالْمَوْتِ کہ موت کے ذریعے سرے سے ہی جب صحبت کی وصولی فوت ہو جائے لَا يُوجِبُ الْفَسْخَ یہ فسخ کو ثابت نہیں کرتا فَاخْتِلَالُهُ بِهَذِهِ الْعُيُوبِ أَوْلَى تو ان عیبوں کی وجہ سے صحبت میں خلل کا آنا یہ بطریق اولیٰ فسخ کو ثابت نہیں کرے گا وَهَذَا لِأَنَّ الِاسْتِيفَاءَ مِنْ الثَّمَرَاتِ اور اس لیے کیونکہ صحبت کو وصول کرنا یہ نکاح کے ثمرات میں سے ہے، نکاح کے فوائد اور نتیجوں میں سے ہے وَالْمُسْتَحَقُّ هُوَ التَّمَكُّنُ اور وہ جو مستحق ہے یعنی جس کا خاوند کا استحقاق ہے، جو خاوند کا حق ہے هُوَ التَّمَكُّنُ وہ وطی پر قدرت ہے وَهُوَ حَاصِلٌ اور وہ حاصل ہے بھئی۔ بھئی یاد رکھو خاوند کا بیوی سے وطی کو وصول کرنا یعنی بالفعل خاوند کا بیوی کے ساتھ صحبت کرنا، اس کے ساتھ وطی کرنا یہ نکاح کے ثمرات اور فوائد میں سے ہے، اور فوائد اور ثمرات کے فوت ہو جانے سے عقد پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ یہاں اگرچہ عورت کو جذام، برص یا جنون کی بیماری ہے یا وہ رتقاء اور قرناء ہے تو خاوند بالفعل وطی نہیں کر سکا تو اس کی وجہ سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ بالفعل وطی کرنا یعنی عملی طور پر صحبت کرنا یہ نکاح کے فوائد اور ثمرات میں سے ہے۔ اور یہاں خاوند کا جو حق ہے وہ وطی پر قدرت ہے، خاوند کو وطی پر قادر ہونا چاہیے اور وطی پر قدرت خاوند کو حاصل ہے کیونکہ بیوی گھر پر موجود ہے، بیوی نے اپنے آپ کو خاوند کے حوالے کر دیا ہے تو خاوند وطی پر قادر ہے کیونکہ بیوی اس کے پاس گھر میں موجود ہے اور بالفعل وطی کرنا یہ نکاح کے ثمرات اور فوائد میں سے ہے، اور نکاح کے ثمرات اور فوائد فوت ہو جانے سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا، یہ اسی طرح ہے جیسے اولاد۔ اولاد جو ہے وہ نکاح کے ثمرات اور فوائد میں سے ہے، تو اولاد حاصل نہ بھی ہو بالفعل تو اس سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ تو یہاں پر بھی اگر خاوند بالفعل وطی نہیں کر سکا تو بھی نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ خاوند کا حق تو صرف کیا ہے؟ وطی پر قدرت ہو بھئی، اور بیوی اس کے پاس اس کے گھر میں موجود ہے، بیوی نے اپنے آپ کو اس کے حوالے کیا ہوا ہے تو وطی پر خاوند کی قدرت پائی جا رہی ہے بھئی۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے بھئی خاوند وطی پر کیسے قادر ہے؟ چلو جذام، برص اور جنون ان تین کے اندر تو خاوند وطی پر قادر ہے، عورت کو بے شک یہ بیماریاں ہیں یا جنون وغیرہ ہے لیکن خاوند وطی کر سکتا ہے۔ لیکن رتقاء اور قرناء، رتقاء وہ عورت جس کا صحبت کا مقام ہی نہیں ہے وہاں جلد ملی ہوئی ہے، یا قرناء وہ عورت جس کے صحبت کے مقام میں ہڈی وغیرہ ہے، وہاں تو خاوند صحبت پر قادر ہی نہیں ہے اور آپ کہہ رہے ہیں کہ وطی پر قدرت موجود ہے؟ تو جواب یہ ہے کہ وہاں پر بھی صحبت کا احتمال موجود ہے کہ مثلاً، مثلاً آپریشن وغیرہ کے ذریعے وطی کی صورت بن سکتی ہے بھئی۔ عورت کے وہ صحبت کا مقام ہی نہیں ہے وہ جلد بند ہے لیکن اوپر جلد ملی ہوئی ہو گی اندر صحبت کا مقام تو موجود ہو گا، یا ہڈی سامنے ہے لیکن صحبت کا مقام تو موجود ہو گا، تو آپریشن وغیرہ کے ذریعے وہاں بھی صحبت کا احتمال ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ لہٰذا ان تمام صورتوں کے اندر ہمارے ائمہ فرماتے ہیں کہ خاوند کو وطی پر قدرت حاصل ہے، خاوند کا یہی حق بنتا تھا کہ اس کو وطی پر قدرت ہونی چاہیے اور یہاں بیوی نے اپنے آپ کو اس کے حوالے کر دیا ہے، اس کے گھر موجود ہے تو خاوند کو وطی پر قدرت حاصل ہے۔ اگرچہ، اگرچہ بالفعل وطی نہ بھی ہو یعنی نکاح کے ثمرات اور فوائد حاصل نہ بھی ہوں تو اس سے کوئی اثر نہیں پڑتا کیونکہ بالفعل وطی کیا ہے؟ نکاح کے ثمرات اور فوائد میں سے ہے اور ثمرات اور فوائد اگر وصول نہ بھی ہو سکیں تو اس سے عقد نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا، جس طرح اولاد بھی نکاح کے ثمرات میں سے ہے تو اولاد حاصل نہ ہو تو اس سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: وَهَذَا لِأَنَّ الِاسْتِيفَاءَ مِنْ الثَّمَرَاتِ اس لیے کیونکہ وطی کا وصول کرنا مِنَ الثَّمَرَاتِ یہ نکاح کے ثمرات میں سے ہے وَالْمُسْتَحَقُّ هُوَ التَّمَكُّنُ اور وہ چیز جس کا خاوند کا استحقاق ہے، جو خاوند کا حق ہے هُوَ التَّمَكُّنُ وہ اس کا وطی پر قادر ہونا ہے وَهُوَ حَاصِلٌ اور وہ تو خاوند کو حاصل ہے۔ تو بہرحال یہ نکاح کے ثمرات اور فوائد ہیں، لہٰذا اصل چیز قدرت ہے وطی پر اور خاوند کو وطی پر قدرت حاصل ہے ان سب میں، بعض میں حقیقۃً قدرت حاصل ہے، بعض میں تقدیراً قدرت حاصل ہے کہ رتقاء اور قرناء کے اندر کوئی آپریشن وغیرہ سے کر لے، بات سمجھ میں آ گئی۔ وَإِذَا كَانَ بِالزَّوْجِ جُنُونٌ أَوْ بَرَصٌ أَوْ جُذَامٌ اب صورت اس کے برعکس ہے، خاوند کو جنون، برص یا جذام ہے۔ تو ہمارے نزدیک تو جب بیوی کو یہ امراض تھے تو خاوند کو فسخ نکاح کا اختیار نہیں تھا، تو اگر خاوند کو ہیں تو بیوی کو بھی یہ اختیار حاصل نہیں ہو گا۔ ہاں البتہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر خاوند میں یہ عیب ہوئے تو بیوی کو اختیار ہو گا فسخ کا، بیوی کو اختیار ہو گا فسخ کا، وہ قاضی کے پاس جا کر نکاح فسخ کروا سکتی ہے۔ تو کہتے ہیں: وَإِذَا كَانَ بِالزَّوْجِ جُنُونٌ أَوْ بَرَصٌ أَوْ جُذَامٌ فَلَا خِيَارَ لَهَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ اور اگر خاوند کو جنون، برص یا جذام کی بیماری ہے تو شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک اس صورت میں بھی عورت کو کوئی اختیار نہیں وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ لَهَا الْخِيَارُ اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عورت کو اختیار ہو گا دَفْعًا لِلضَّرَرِ عَنْهَا اس عورت سے نقصان کو دور کرنے کے لیے كَمَا فِي الْجَبِّ وَالْعُنَّةِ جیسے مجبوب ہونے اور عنین ہونے میں عورت کو اختیار تھا۔ خاوند مجبوب یا عنین ہو تو عورت قاضی کے پاس جا کر فسخ نکاح کا مطالبہ کر سکتی ہے تو یہاں بھی اس کو نقصان سے بچانے کے لیے اس کو یہ اختیار ہو گا۔ بِخِلَافِ جَانِبِهِ بخلاف خاوند کی جانب میں، خاوند کو نہیں اختیار کیونکہ خاوند کو تو فسخ کا اختیار نہ بھی ہو وہ پھر بھی طلاق دینے کا اہل ہے، وہ طلاق دے کر جان چھڑا سکتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: بِخِلَافِ جَانِبِهِ بخلاف خاوند کی جانب کے لِأَنَّهُ مُتَمَكِّنٌ مِنْ دَفْعِ الضَّرَرِ بِالطَّلَاقِ اس لیے کیونکہ وہ تو قادر ہے کہ نقصان کو دور کر دے طلاق کے ذریعے وَلَهُمَا، شیخین کیا فرماتے ہیں کہ خاوند میں بھی یہ مرض ہوں پھر بھی عورت کو اختیار نہیں ہے، اب اس کی وجہ ذکر کر رہے ہیں۔ وَلَهُمَا شیخین رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے أَنَّ الْأَصْلَ عَدَمُ الْخِيَارِ لِمَا فِيهِ مِنْ إِبْطَالِ حَقِّ الزَّوْجِ کہ اصل جو ہے عورت کو عدمِ خیار ہے، اصل یہ ہے کہ عورت کو اختیار نہیں ہونا چاہیے لِمَا فِيهِ مِنْ إِبْطَالِ حَقِّ الزَّوْجِ اس لیے کیونکہ اس کے اندر خاوند کا حق باطل کرنا لازم آتا ہے۔ تو اگر عورت کو اختیار ہو گا تو اس صورت میں تو خاوند کا حق باطل ہوتا ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ کہ نکاح ختم ہو جائے گا۔ وَإِنَّمَا يَثْبُتُ فِي الْجَبِّ وَالْعُنَّةِ لِأَنَّهُمَا يُخِلَّانِ بِالْمَقْصُودِ الْمَشْرُوعِ لَهُ النِّكَاحُ، امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں عورت کو اختیار ہے اور انہوں نے قیاس کیا تھا مجبوب ہونے اور عنین ہونے پر، تو اس کا جواب دے رہے ہیں کہ مجبوب اور عنین کے اندر وہ تو مقصود کے اندر ہی ان کی وجہ سے خلل آ گیا تھا، نکاح میں مقصود کیا تھا؟ صحبت پر قدرت بھئی، اور مجبوب اور عنین تو صحبت پر قادر ہی نہیں تھے تو نکاح کے مقصود میں خلل آ گیا تھا، اس لیے وہاں عورت کو اختیار تھا، جبکہ ان عیوب میں اگر خاوند میں بے شک جنون، برص یا جذام ہے، اس کو کبھی کبھی جنون کے دورے پڑتے ہیں یا اس کو برص ہے یا جذام ہے تو ان کے باوجود وطی کے اندر تو کوئی خلل نہیں، ان امراض کے باوجود خاوند وطی کر سکتا ہے۔ وَإِنَّمَا يَثْبُتُ فِي الْجَبِّ وَالْعُنَّةِ اور مجبوب ہونے اور عنین ہونے میں عورت کے لیے اختیار ثابت ہوتا ہے لِأَنَّهُمَا يُخِلَّانِ بِالْمَقْصُودِ الْمَشْرُوعِ لَهُ النِّكَاحُ اس لیے کیونکہ یہ دونوں خلل ڈالتے ہیں اس مقصود کے اندر المشرووع لہ النکاح جس کی وجہ سے نکاح جائز ہوا ہے، اور وہ کیا ہے؟ صحبت پر قدرت، تو اس میں خلل آ گیا۔ وَهَذِهِ الْعُيُوبُ غَيْرُ مُخِلَّةٍ بِهِ اور یہ والے جو عیب ہیں یہ تو صحبت کے اندر خلل نہیں ڈالتے فَافْتَرَقَا تو یہ دونوں جدا ہو گئے۔ امام محمد رحمہ اللہ نے خاوند کے جنون، برص اور جذام کو قیاس کیا تھا خاوند کے مجبوب اور عنین ہونے پر، شیخین نے ان میں فرق بیان کر دیا کہ یہ دونوں الگ الگ چیزیں ہیں بھئی۔ تو ایک جیسی چیزوں کو ایک دوسرے پر قیاس کرتے ہیں، دو مختلف چیزوں کو ایک دوسرے پر قیاس نہیں کرتے، لہٰذا آپ جنون، برص اور جذام کو مجبوب ہونے اور عنین ہونے پر قیاس نہیں کر سکتے، کیونکہ مجبوب اور عنین کے اندر تو نکاح کا جو اصل مقصود ہے، وطی، اس کے اندر خلل آ رہا ہے جبکہ برص، جذام اور جنون کے اندر صحبت کے اندر خلل نہیں آ رہا۔ تو کہتے ہیں: وَهَذِهِ الْعُيُوبُ غَيْرُ مُخِلَّةٍ بِهِ اور یہ والے عیب تو اس مقصود کے اندر خلل نہیں ڈالتے فَافْتَرَقَا تو یہ دونوں آپس میں جدا ہو گئے۔ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ اور اللہ خوب جاننے والے ہیں درست بات کو۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ حل ہو گیا۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔ عدت واجب ہوگی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَيَجِبُ الْعِدَّةُ“ اور عدت واجب ہوگی، ”لِمَا بَيَّنَّا مِنْ قَبْلُ“ اس وجہ سے جو ہم نے پہلے بیان کر دی، یعنی باب المہر کے اندر۔ ”هَذَا إِذَا أَقَرَّ الزَّوْجُ أَنَّهُ لَمْ يَصِلْ إِلَيْهَا“ یہ اس وقت ہے جب خاوند اقرار کر لے: ”أَنَّهُ لَمْ يَصِلْ إِلَيْهَا“ کہ وہ اس عورت تک نہیں پہنچا، یعنی اس نے اس کے ساتھ صحبت نہیں کی۔ تو اس صورت میں پھر قاضی اس کو ایک سال کی مدت دے گا اور پھر اس کے بعد جدائی کروائے گا۔ اور اگر دونوں میں اختلاف آتا ہے، بیوی کہتی ہے: اس نے صحبت نہیں کی، اور خاوند کہتا ہے: میں نے صحبت کی ہے، تو اب اس کو بیان کریں گے۔ کہتے ہیں: ”وَلَوِ اخْتَلَفَ الزَّوْجُ وَالْمَرْأَةُ فِي الْوُصُولِ إِلَيْهَا“ اور اگر اختلاف کیا خاوند نے اور بیوی نے، ”فِي الْوُصُولِ إِلَيْهَا“ اس عورت تک پہنچنے میں۔ خاوند کہتا ہے: میں نے صحبت کر لی تھی، بیوی کہتی ہے: نہیں، یہ نامرد ہے، اس نے صحبت نہیں کی۔ تو اب اس میں یاد رکھو دو صورتیں ہیں۔ یہ جو خاوند نے اس عورت سے جب نکاح کیا تھا تو یہ عورت باکرہ تھی یا ثیبہ؟ یا تو یہ باکرہ ہوگی، اس کا پہلے کہیں نکاح نہیں ہوا تھا، یہ پہلا نکاح ہے اس آدمی کے ساتھ، یا ہو سکتا ہے اس کا پہلے بھی کوئی خاوند تھا، اس نے طلاق دی تھی، اب اس خاوند نے اس سے نکاح کر لیا ہے۔ تو بیوی اصل میں کیا تھی؟ یہ دیکھا جائے گا۔ وہ باکرہ تھی یا ثیبہ۔ اگر وہ پہلے سے ہی ثیبہ ہے، تو پھر اس صورت کے اندر، کہتے ہیں: خاوند کا قول معتبر ہے۔ دونوں میں اختلاف آ گیا، بیوی کہتی ہے: اس نے صحبت نہیں کی، اور خاوند کہتا ہے: میں صحبت کر چکا ہوں، تو پھر خاوند کا قول معتبر ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوِ اخْتَلَفَ الزَّوْجُ وَالْمَرْأَةُ فِي الْوُصُولِ إِلَيْهَا“ اور اگر اختلاف کیا خاوند اور بیوی نے اس تک پہنچنے میں، ”فَإِنْ كَانَتْ ثَيِّبًا“ اگر یہ عورت اصل میں کیا تھی؟ ثیبہ تھی جب اس خاوند سے نکاح کیا، ”فَالْقَوْلُ قَوْلُهُ مَعَ يَمِينِهِ“ تو اس صورت میں خاوند کا قول معتبر ہوگا ساتھ اس کی قسم کے۔ بھئی، خاوند کا قول کیوں معتبر ہے؟ عورت کا قول معتبر ہونا چاہیے، خاوند کہہ رہا ہے: میں نے صحبت کی تھی، بیوی کہہ رہی ہے: اس نے نہیں کی تھی، تو منکرہ تو عورت ہے بھئی، اور ضابطہ ہے: ”اَلْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي وَالْيَمِينُ عَلَى مَنْ أَنْكَرَ“ تو جواب یہ کہ خاوند صورۃً مدعی ہے، حقیقت میں منکر ہے۔ صورۃً مدعی ہے لیکن حقیقت میں منکر۔ بھئی، حقیقت میں منکر کیسے ہے؟ کہتے ہیں: بایں لحاظ کہ گویا عورت نے جو دعویٰ کیا وہ جدائی چاہتی ہے، تو وہ جدائی کا دعویٰ کر رہی ہے کہ جدائی اس کا حق ہے، اور خاوند انکار کر رہا ہے کہ جدائی اس کا حق نہیں ہے، میں صحبت کر چکا ہوں۔ لہٰذا منکر کون ہوا؟ خاوند۔ لہٰذا اس کا قول معتبر ہے۔ تو کہتے ہیں: ”فَالْقَوْلُ قَوْلُهُ مَعَ يَمِينِهِ“ تو قول جو ہے وہ خاوند کا معتبر ہے ساتھ اس کی قسم کے، ”لِأَنَّهُ يُنْكِرُ اسْتِحْقَاقَ حَقِّ الْفُرْقَةِ“ اس لیے کیونکہ خاوند جو ہے وہ انکار کر رہا ہے، ”اسْتِحْقَاقَ حَقِّ الْفُرْقَةِ“ کہ عورت جو ہے وہ جدائی کے حق کی مستحق نہیں ہے۔ عورت جدائی کے حق کی مستحق نہیں ہے۔ ”وَالْأَصْلُ هُوَ السَّلَامَةُ فِي الْجِبِلَّةِ“ جبلت کہتے ہیں فطرت کو جس پر کسی چیز کی پیدائش ہو۔ جیسے آپ حیوانات کو دیکھتے ہیں بھئی، یہ پرندوں وغیرہ کو دیکھتے ہیں، یہ انڈے دیتے ہیں اور ان انڈوں سے بچے نکلتے ہیں اور پھر وہ بچے جب بڑے ہوتے ہیں وہ پھر جب ان کے انڈے دینے کا وقت آتا ہے وہ گھونسلے بناتے ہیں حالانکہ ان کو کسی نے یہ تربیت نہیں دی، یہ اللہ نے ان کی فطرت میں رکھا ہوا ہے۔ توجہ ہے؟ تو لہٰذا یہ چیز جو پیدائش کے اعتبار سے کسی میں ہو اس کو جبلت کہتے ہیں اور فطرت کہتے ہیں۔ تو یہاں پر بھی خاوند کہہ رہا ہے کہ میں نے صحبت کر لی ہے اور اصل بھی یہ ہے فطرت کے اندر کہ مرد کا آلۂ تناسل سلامت ہوتا ہے، صحیح ہوتا ہے۔ فطرت بھی کیا ہے کہ مرد کا آلۂ تناسل صحیح ہوتا ہے۔ تو خاوند کا قول اصل کے موافق ہوا، خاوند کہہ رہا ہے: میں ٹھیک ہوں، میں نے صحبت کر لی ہے، تو خاوند کا قول اصل کے موافق ہے، اور عورت کا قول اصل کے مخالف ہے بھئی، تو قول اس کا معتبر ہوتا ہے جو اصل کے موافق ہو، جو اصل کے موافق ہو، تو جو اصل کو دلیل بناتا ہے اس کا قول معتبر ہوتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْأَصْلُ هُوَ السَّلَامَةُ فِي الْجِبِلَّةِ“ اور اصل جو ہے وہ اس آلۂ تناسل کا سلامت ہونا ہے، ”فِي الْجِبِلَّةِ“ فطرت میں۔ ”ثُمَّ إِنْ حَلَفَ بَطَلَ حَقُّهَا“ پھر اگر خاوند نے قسم اٹھا لی تو عورت کا حق باطل ہو جائے گا، اب عورت جدائی اختیار نہیں کر سکتی۔ ”وَإِنْ نَكَلَ“ اور اگر خاوند نے انکار کر دیا، ”يُؤَجَّلُ سَنَةً“ تو اب خاوند کو ایک سال کی مہلت دی جائے گی۔ ”وَإِنْ كَانَتْ بِكْرًا“ اور اگر وہ عورت اصل میں باکرہ تھی، جب خاوند نے نکاح کیا تھا اس سے تو یہ باکرہ تھی، اب بعد میں آ کر اس نے دعویٰ کر دیا قاضی کے پاس کہ یہ میرا خاوند نامرد ہے، یہ میرے ساتھ صحبت پر قادر نہیں ہے، تو پھر اس صورت میں قاضی عورتوں سے کہے گا، عورتیں دیکھیں گی کہ یہ جو عورت ہے یہ اس وقت باکرہ ہے یا ثیبہ۔ اگر اس وقت بھی یہ باکرہ ہوئی تو معلوم ہوا خاوند جھوٹ بول رہا ہے، خاوند تو کہہ رہا ہے: میں نے صحبت کر لی ہے، تو اگر صحبت کر لی ہے تو یہ باکرہ کیسے ہے بھئی؟ لہٰذا اس صورت میں پھر خاوند کو ایک سال کی مہلت دے دے گا قاضی، اور پھر ایک سال کے بعد بھی اگر یہ صحبت پر قادر نہ ہو سکا تو پھر جدائی کروا دے گا۔ اور اگر عورتوں نے اس کی بیوی کو دیکھا اور پھر انہوں نے قاضی کو بتایا کہ یہ تو ثیبہ ہے، یہ تو ثیبہ ہے، معلوم ہوا خاوند صحبت کر چکا ہے اس کے ساتھ، تو پھر اس صورت کے اندر کہتے ہیں: قاضی خاوند کو قسم دے گا اور جب خاوند قسم کھا لے گا تو پھر اس کے حق میں فیصلہ کر دے گا۔ یہاں بھی قسم ضرور دے گا قاضی، اگرچہ عورت ثیبہ ہے لیکن ہو سکتا ہے وہ کسی اور وجہ سے ثیبہ ہوئی ہو صحبت کے بغیر ہی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ كَانَتْ بِكْرًا“ اور اگر وہ عورت جو ہے نکاح کے وقت باکرہ تھی، ”نَظَرَ إِلَيْهَا النِّسَاءُ“ تو اب عورتیں اس کو دیکھیں گی، ”فَإِنْ قُلْنَ هِيَ بِكْرٌ“ اگر ان عورتوں نے کہا کہ یہ باکرہ ہے، ”أُجِّلَ سَنَةً“ تو اب اس خاوند کو ایک سال کی مہلت دی جائے گی، ”لِظُهُورِ كَذِبِهِ“ کیونکہ اس کا جھوٹ ظاہر ہو گیا۔ وہ تو کہہ رہا تھا: میں نے صحبت کر لی ہے بھئی۔ ”وَإِنْ قُلْنَ“ اور اگر عورتوں نے کہا: ”هِيَ ثَيِّبٌ“ کہ یہ عورت تو ثیبہ ہے، ”يُحَلَّفُ الزَّوْجُ“ تو خاوند کو قسم دی جائے گی، ”فَإِنْ حَلَفَ لَا حَقَّ لَهَا“ اگر اس نے قسم اٹھا لی تو پھر عورت کے لیے کوئی حق نہیں ہے جدائی کا، ”وَإِنْ نَكَلَ“ اور اگر خاوند نے انکار کر دیا قسم کھانے سے، ”يُؤَجَّلُ سَنَةً“ تو اب اس کو ایک سال کی مہلت دی جائے گی۔ ”وَإِنْ كَانَ مَجْبُوبًا“ اور اگر خاوند مجبوب ہے، میں نے آپ کو بتلایا تھا مجبوب وہ مرد جس کا آلۂ تناسل کٹ چکا ہو، تو اگر خاوند مجبوب ہے تو پھر اسی وقت قاضی جدائی کروا دے گا کیونکہ مجبوب کو تو مہلت دینے کا کوئی فائدہ نہیں ہے بھئی۔ ”وَإِنْ كَانَ مَجْبُوبًا“ اور اگر خاوند مجبوب تھا، ”فُرِّقَ بَيْنَهُمَا فِي الْحَالِ إِنْ طَلَبَتْ“ تو فی الحال ہی جدائی کروا دی جائے گی اگر عورت مطالبہ کرے، ”لِأَنَّهُ لَا فَائِدَةَ فِي التَّأْجِيلِ“ اس لیے کیونکہ اس کو مدت دینے میں کوئی فائدہ نہیں، اس کے تو علاج کی کوئی صورت نہیں۔ ”وَالْخَصِيُّ يُؤَجَّلُ كَمَا يُؤَجَّلُ الْعِنِّينُ“ خصی بھئی، خصی کہتے ہیں وہ شخص جس کے خصیطین کچل دیے گئے ہوں یا خصیطین نکال دیے گئے ہوں تو اس کو خصی کہتے ہیں۔ تو کہتے ہیں کہ اگر خاوند خصی ہے تو پھر کیا اس کو مدت دیں گے؟ کہتے ہیں: ہاں، اس کو بھی ایک سال کی مدت دی جائے گی کہ ہو سکتا ہے یہ کسی طرح اس کا علاج ہو جائے اور یہ صحبت پر قادر ہو جائے۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْخَصِيُّ يُؤَجَّلُ“ اور خصی جو ہے اس کو بھی مدت دی جائے گی، ”كَمَا يُؤَجَّلُ الْعِنِّينُ“ جیسے کہ نامرد کو مدت دی جاتی ہے، ”لِأَنَّ وَطْأَهَا مَرْجُوٌّ“ اس لیے کیونکہ خصی کی صحبت کی بھی امید کی جا سکتی ہے۔ آگے دیکھیے: ”وَإِذَا أُجِّلَ الْعِنِّينُ سَنَةً“ اور جب نامرد کو ایک سال کی مہلت دے دی گئی، ”وَقَالَ“ اور اس نے کہا: ”قَدْ جَامَعْتُهَا“ کہ میں نے بیوی سے صحبت کر لی، سال کے دوران میں نے بیوی سے صحبت کر لی، ”وَأَنْكَرَتْ“ اور عورت انکار کر رہی ہے کہ نہیں، اس نے صحبت ابھی بھی نہیں کی، ”نَظَرَ إِلَيْهَا النِّسَاءُ“ تو اب عورتیں دوبارہ اس عورت کو دیکھیں گی جو پہلے کیا تھی؟ باکرہ تھی۔ دیکھیں گی، ”فَإِنْ قُلْنَ“ اگر ان عورتوں نے کہا: ”هِيَ بِكْرٌ“ کہ یہ ابھی بھی باکرہ ہے، معلوم ہوا خاوند جھوٹ بول رہا ہے، سال کی مدت بھی دے دی اور یہ ٹھیک نہیں ہوا، ”خُيِّرَتْ“ تو پھر اس صورت میں اس عورت کو اختیار دیا جائے گا اور جدائی کو اختیار کرے گی تو قاضی جدائی کروا دے گا۔ تو پھر اس کو اختیار دیا جائے گا، ”لِأَنَّ شَهَادَتَهُنَّ تَأَيَّدَتْ بِمُؤَيِّدٍ وَهِيَ الْبَكَارَةُ“ اس لیے کیونکہ یہ عورتوں کی جو شہادت تھی ”تَأَيَّدَتْ“ اس کی تائید ہو گئی ”بِمُؤَيِّدٍ“ ایک مؤید کے ذریعے ”وَهِيَ الْبَكَارَةُ“ اور وہ باکرہ ہونا ہے۔ باکرہ ہونے سے تائید ہو گئی، معلوم ہوا خاوند نے صحبت نہیں کی بھئی۔ ”وَإِنْ قُلْنَ هِيَ ثَيِّبٌ“ اور اگر ان عورتوں نے کہا کہ یہ ثیبہ ہے، ”حُلِّفَ الزَّوْجُ“ تو پھر خاوند کو قسم دی جائے گی، ”فَإِنْ نَكَلَ خُيِّرَتْ“ اگر خاوند قسم سے انکار کرتا ہے تو پھر بھی اس عورت کو اختیار دیا جائے گا، ”لِتَأَيُّدِهَا بِالنُّكُولِ“ اس لیے کیونکہ اس عورت کی تائید ہو گئی خاوند کے انکار کی وجہ سے۔ خاوند قسم کھانے سے انکار کر رہا ہے، معلوم ہوا یہ جھوٹ بول رہا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَإِنْ نَكَلَ خُيِّرَتْ“ اگر خاوند نے قسم سے انکار کیا تو عورت کو اختیار دیا جائے گا، ”لِتَأَيُّدِهَا بِالنُّكُولِ“ اس لیے کیونکہ عورت کی تائید ہو رہی ہے خاوند کے انکار کی وجہ سے۔ ”وَإِنْ حَلَفَ لَا تُخَيَّرُ“ اور اگر خاوند نے قسم اٹھا لی تو ”لَا تُخَيَّرُ“ پھر عورت کو اختیار نہیں دیا جائے گا۔ ”وَإِنْ كَانَتْ ثَيِّبًا فِي الْأَصْلِ“ اب دوسری صورت آ گئی: ”وَإِنْ كَانَتْ ثَيِّبًا فِي الْأَصْلِ“ اور اگر یہ عورت اصل میں ثیبہ تھی، یعنی جس وقت نکاح کیا تھا اس وقت ہی یہ ثیبہ تھی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ كَانَتْ ثَيِّبًا فِي الْأَصْلِ“ اور اگر یہ عورت اصل میں ہی ثیبہ تھی، ”فَالْقَوْلُ قَوْلُهُ مَعَ يَمِينِهِ“ تو اس صورت میں خاوند کا قول معتبر ہے ساتھ اس کی قسم کے، ”وَقَدْ ذَكَرْنَاهُ“ اور تحقیق یہ بات ہم ذکر کر چکے، بالکل شروع میں یہی ذکر کیا تھا۔ ”فَإِنِ اخْتَارَتْ زَوْجَهَا“ اگر عورت نے خاوند کو اختیار کر لیا، قاضی نے عورت کو اختیار دے دیا، خاوند نے قسم سے انکار کیا ہے یا عورتوں نے آ کر کہا کہ یہ باکرہ ہے، تو قاضی نے عورت کو اختیار دیا۔ اس نے اپنے خاوند کو اختیار کر لیا، جدائی کو اختیار نہیں کیا، تو اب عورت کا حق ختم ہو گیا۔ اب بعد میں بھی آ کر یہ جدائی کا مطالبہ نہیں کر سکتی، کیونکہ اس نے اپنا حق خود باطل کیا ہے، خود اپنے خاوند کو اختیار کیا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”فَإِنِ اخْتَارَتْ زَوْجَهَا“ اگر اس عورت نے اپنے خاوند کو اختیار کر لیا، ”لَمْ يَكُنْ لَهَا بَعْدَ ذَلِكَ خِيَارٌ“ تو اس کے بعد اب اس کے لیے خیار نہیں ہوگا، اب بعد میں بھی کبھی آ کر جدائی کا مطالبہ نہیں کر سکتی، ”لِأَنَّهَا رَضِيَتْ بِبُطْلَانِ حَقِّهَا“ اس لیے کیونکہ یہ عورت خود راضی ہو گئی اپنا حق باطل کرنے پر۔ ”وَفِي التَّأْجِيلِ تُعْتَبَرُ السَّنَةُ الْقَمَرِيَّةُ هُوَ الصَّحِيحُ“ اچھا بھئی، قاضی یا حاکم ایک سال کی مدت دے گا تو کون سا سال معتبر ہے؟ قمری سال یا شمسی سال؟ قمری سال جو چاند کے حساب سے بارہ مہینے ہیں۔ یاد رکھو قمری سال 354 دن اور چند گھنٹے کا ہوتا ہے۔ 354 دن اور چند گھنٹے۔ جبکہ شمسی سال وہ گیارہ دن اس پر زائد ہوتا ہے، 365 دن اور چند گھنٹے کا ہوتا ہے۔ تو اب کس سال کا حساب کیا جائے گا؟ تو امام صاحب سے ایک روایت یہ ہے کہ شمسی سال کا اعتبار کیا جائے گا، جبکہ صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ صحیح یہ ہے کہ قمری سال کا اعتبار کیا جائے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَفِي التَّأْجِيلِ“ اور مدت دینے میں، ”تُعْتَبَرُ السَّنَةُ الْقَمَرِيَّةُ“ قمری سال کا اعتبار کیا جائے گا، ”هُوَ الصَّحِيحُ“ یہی قول صحیح ہے۔ ”وَيُحْتَسَبُ بِأَيَّامِ الْحَيْضِ وَبِشَهْرِ رَمَضَانَ“ اچھا بھئی، سال کے دوران تو حیض کے ایام بھی آتے ہیں، کیا ان کو بھی سال کے اندر ہی شمار کریں گے یا کچھ مدت زائد دیں گے خاوند کو؟ اسی طرح سال میں تو رمضان بھی آ جاتا ہے، اور رمضان کے اندر بھی صحبت نہیں ہو سکتی، تو کیا خاوند کو کچھ مزید مدت دیں گے یا نہیں دیں گے؟ تو کہتے ہیں: نہیں بھئی، حیض اور رمضان یہ تو ہر سال میں آتے ہیں، لہٰذا ان کو الگ شمار نہیں کریں گے۔ ہاں اگر خاوند یا بیوی میں سے کوئی بیمار ہو گیا، خاوند دو تین مہینے بیمار ہو گیا، یا بیوی دو تین مہینے بیمار ہو گئی، تو بیماری تو ہر سال میں نہیں آتی، لہٰذا اس صورت میں پھر اتنی ہی مدت زائد دی جائے گی خاوند کو بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَيُحْتَسَبُ بِأَيَّامِ الْحَيْضِ وَبِشَهْرِ رَمَضَانَ“ اور حساب کیا جائے گا ایامِ حیض کو بھی اسی سال میں اور رمضان کے مہینے کو بھی، ”لِوُجُودِ ذَلِكَ فِي السَّنَةِ“ اس لیے کیونکہ یہ سال کے اندر پائے جاتے ہیں، ”وَلَا يُحْتَسَبُ بِمَرَضِهِ وَمَرَضِهَا“ اور اس مرد کی بیماری کو یا اس عورت کی بیماری کو شمار نہیں کیا جائے گا سال میں سے، ”لِأَنَّ السَّنَةَ قَدْ تَخْلُو عَنْهُ“ اس لیے کیونکہ کبھی کبھار سال ان سے خالی بھی ہوتا ہے۔ آگے دیکھیے: ”وَإِذَا كَانَ بِالزَّوْجَةِ عَيْبٌ فَلَا خِيَارَ لِلزَّوْجِ“ اور اگر بیوی کے اندر کوئی عیب ہے تو خاوند کو کوئی اختیار نہیں ہے۔ بھئی، بیوی کے اندر عیب ہے تو خاوند کو کوئی اختیار نہیں نکاح فسخ کرنے کا۔ اگر ناپسند ہے یہ تو خاوند ہے، طلاق دے سکتا ہے بھئی، جان چھڑا سکتا ہے، لیکن فسخِ نکاح کا اختیار نہیں۔ کیونکہ طلاق دے گا خاوند، صحبت سے پہلے دے گا تو نصفِ مہر دینا پڑے گا، اور صحبت کے بعد دے گا تو پورا مہر دینا پڑے گا۔ تو یہ فسخِ نکاح کر کے مہر سے اپنی جان چھڑانا چاہتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: نہیں، یہاں فسخِ نکاح کا اختیار نہیں ہے خاوند کو۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ كَانَ بِالزَّوْجَةِ عَيْبٌ فَلَا خِيَارَ لِلزَّوْجِ“ اور اگر بیوی میں کوئی عیب ہو تو خاوند کو کوئی اختیار نہیں ہے، یعنی فسخِ نکاح کا اختیار نہیں ہے۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”يُرَدُّ بِالْعُيُوبِ الْخَمْسَةِ“ کہ نکاح کو رد کیا جا سکتا ہے پانچ عیبوں کی وجہ سے، ”وَهِيَ الْجُذَامُ وَالْبَرَصُ وَالْجُنُونُ وَالرَّتَقُ وَالْقَرَنُ“ اور وہ پانچ امراض یہ ہیں: ”الْجُذَامُ“ جذام بھئی، یہ ایک نہایت خوفناک بیماری ہے، اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے بھئی، اس کے اندر جسم کا گوشت کٹ کٹ کر گرتا ہے بھئی۔ جسم کا گوشت کٹ کٹ کر گرتا ہے، اس کو جذام کہتے ہیں۔ برص بھئی، ص کے ساتھ، برص، برص یہ جسم پر سفید سفید داغ بن جاتے ہیں جا بجا، اور بعض اوقات پورا جسم ہی سفید ہو جاتا ہے، یہ بھی مرض ہے بھئی۔ اور اسی طرح جنون بھئی، کہ بیوی کو پاگل پن کے دورے پڑتے ہیں مثلاً۔ ”وَالرَّتَقُ“ رتَق کہتے ہیں، یہ لفظ پہلے بھی گزر چکا ہے رتقاء بھئی، رتقاء۔ رتقاء اس عورت کو کہتے ہیں جس کا صحبت کا مقام بالکل بند ہے، پیشاب وغیرہ کی جگہ تو ہے لیکن صحبت کا مقام بند ہے، اس کو رتقاء کہتے ہیں۔ ”وَالْقَرَنُ“ قرَن بھی اسی طرح، اس عورت کا صحبت کا مقام تو ہے لیکن وہاں کوئی ہڈی وغیرہ یا ایسا مسئلہ ہے کہ صحبت نہیں کی جا سکتی، کہ صحبت نہیں کی جا سکتی۔ تو یہ پانچ امراض ہیں، یہ پانچ عیب ہیں جن کی وجہ سے امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نکاح کو رد کیا جا سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”يُرَدُّ بِالْعُيُوبِ الْخَمْسَةِ“ کہ نکاح کو رد کیا جا سکتا ہے پانچ عیبوں کی وجہ سے، ”وَهِيَ الْجُذَامُ وَالْبَرَصُ وَالْجُنُونُ وَالرَّتَقُ وَالْقَرَنُ“ اور یہ پانچ امراض، عیب ہیں، ”لِأَنَّهَا تَمْنَعُ الِاسْتِيفَاءَ حِسًّا وَطَبْعًا“ اس لیے کیونکہ یہ جو عیب ہیں یہ منع کرتے ہیں، ”الِاسْتِيفَاءَ“ وصول کرنے کو، یعنی صحبت وصول کرنے کو، ”حِسًّا وَطَبْعًا“ حساً اور طبعاً۔ بعض تو ایسے ہیں وہ حساً یعنی ظاہری طور پر ہی صحبت نہیں کر سکتا خاوند، مثلاً بیوی رتقاء ہے یا قرناء ہے بھئی، توجہ ہے؟ تو یہاں دیکھو مانعِ حسی آ گیا۔ اور کبھی مانعِ طبعی ہوگا، طبیعت نفرت کرے گی اس عورت سے کہ مثلاً اسے جذام ہے یا برص ہے یا جنون ہے، تو مانع حسی بھی ہو سکتا ہے اور طبعی بھی بھئی۔ ”لِأَنَّهَا تَمْنَعُ الِاسْتِيفَاءَ“ اس لیے کیونکہ یہ صحبت کرنے کو منع کرتے ہیں، ”حِسًّا وَطَبْعًا“ ظاہری طور پر اور طبیعت کے اعتبار سے، ”وَالطَّبْعُ مُؤَيَّدٌ بِالشَّرْعِ“ اور طبیعت کی تائید ہوتی ہے شریعت سے بھی۔ ”قَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ“ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”فِرَّ مِنَ الْمَجْذُومِ فِرَارَكَ مِنَ الْأَسَدِ“ ”فِرَّ مِنَ الْمَجْذُومِ“ ”فِرَّ“ امر ہے۔ امر ہے: ”فِرَّ مِنَ الْمَجْذُومِ“ کہ تم مجذوم سے بھاگو، ”فِرَارَكَ مِنَ الْأَسَدِ“ ”أَيْ مِثْلَ فِرَارِكَ مِنَ الْأَسَدِ“ جس طرح آپ شیر سے بھاگتے ہیں، جس طرح آپ شیر سے بھاگتے ہیں، لیکن ہمارے نزدیک فسخ نہیں کر سکتا، حدیث کی مراد یہ ہے کہ طلاق دے دے، خاوند کیا کرے؟ طلاق دے کر اس سے اپنی جان چھڑا سکتا ہے۔ ”وَلَنَا“ ہماری دلیل یہ ہے: ”أَنَّ فَوْتَ الِاسْتِيفَاءِ أَصْلًا بِالْمَوْتِ لَا يُوجِبُ الْفَسْخَ“ ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا، ابھی رخصتی نہیں ہوئی، رخصتی سے پہلے ہی عورت کا انتقال ہو گیا۔ تو جب انتقال کی وجہ سے نکاح فسخ نہیں ہوتا، پورا مہر دینا پڑتا ہے۔ آپ جانتے ہیں میاں بیوی میں سے اگر کسی کا انتقال ہو جائے چاہے بے شک ابھی صحبت نہیں کی، مہر پورا دینا پڑے گا۔ ہاں اگر صحبت سے پہلے طلاق دے گا پھر نصفِ مہر ہے۔ صحبت سے پہلے بیوی یا خاوند کا انتقال ہو تو پھر پورا مہر دینا پڑتا ہے۔ تو ہم کہتے ہیں: اگر صحبت سے پہلے عورت کا انتقال ہو جائے تو وہاں نکاح فسخ نہیں ہوتا، حالانکہ وہاں پر تو سرے سے صحبت کی گنجائش ہی نہ رہی، جبکہ یہ جو عیب ہیں ان میں کوئی نہ کوئی صورت صحبت کی ہو جاتی ہے بھئی، تو لہٰذا ان میں بطریقِ اولیٰ فسخ کی گنجائش نہیں ہوگی۔ ”وَلَنَا“ ہماری دلیل یہ ہے: ”أَنَّ فَوْتَ الِاسْتِيفَاءِ أَصْلًا بِالْمَوْتِ“ کہ موت کے ذریعے سرے سے ہی جب صحبت کی وصولی فوت ہو جائے، ”لَا يُوجِبُ الْفَسْخَ“ تو یہ فسخ کو ثابت نہیں کرتا، ”فَاخْتِلَالُهُ بِهَذِهِ الْعُيُوبِ أَوْلَى“ تو ان عیبوں کی وجہ سے صحبت میں خلل کا آنا یہ بطریقِ اولیٰ فسخ کو ثابت نہیں کرے گا۔ ”وَهَذَا لِأَنَّ الِاسْتِيفَاءَ مِنَ الثَّمَرَاتِ“ اور اس لیے کیونکہ صحبت کو وصول کرنا یہ نکاح کے ثمرات میں سے ہے، نکاح کے فوائد اور نتیجوں میں سے ہے، ”وَالْمُسْتَحَقُّ هُوَ التَّمَكُّنُ“ اور وہ جو مستحق ہے یعنی جس کا خاوند کا استحقاق ہے، جو خاوند کا حق ہے، ”هُوَ التَّمَكُّنُ“ وہ وطی پر قدرت ہے، ”وَهُوَ حَاصِلٌ“ اور وہ حاصل ہے بھئی۔ بھئی، یاد رکھو خاوند کا بیوی سے وطی کو وصول کرنا یعنی بالفعل خاوند کا بیوی کے ساتھ صحبت کرنا، اس کے ساتھ وطی کرنا یہ نکاح کے ثمرات اور فوائد میں سے ہے، اور فوائد اور ثمرات کے فوت ہو جانے سے عقد پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ یہاں اگرچہ عورت کو جذام، برص یا جنون کی بیماری ہے یا وہ رتقاء اور قرناء ہے تو خاوند بالفعل وطی نہیں کر سکا تو اس کی وجہ سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ بالفعل وطی کرنا یعنی عملی طور پر صحبت کرنا یہ نکاح کے فوائد اور ثمرات میں سے ہے، اور یہاں خاوند کا جو حق ہے وہ وطی پر قدرت ہے۔ خاوند کو وطی پر قادر ہونا چاہیے، اور وطی پر قدرت خاوند کو حاصل ہے کیونکہ بیوی گھر پر موجود ہے، بیوی نے اپنے آپ کو خاوند کے حوالے کر دیا ہے، تو خاوند وطی پر قادر ہے کیونکہ بیوی اس کے پاس گھر میں موجود ہے، اور بالفعل وطی کرنا یہ نکاح کے ثمرات اور فوائد میں سے ہے، اور نکاح کے ثمرات اور فوائد فوت ہو جانے سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ یہ اسی طرح ہے جیسے اولاد، اولاد جو ہے وہ نکاح کے ثمرات اور فوائد میں سے ہے، تو اولاد حاصل نہ بھی ہو بالفعل تو اس سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ تو یہاں پر بھی اگر خاوند بالفعل وطی نہیں کر سکا تو بھی نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، کیونکہ خاوند کا حق تو صرف کیا ہے؟ وطی پر قدرت ہو بھئی، اور بیوی اس کے پاس اس کے گھر میں موجود ہے، بیوی نے اپنے آپ کو اس کے حوالے کیا ہوا ہے تو وطی پر خاوند کی قدرت پائی جا رہی ہے بھئی۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے: بھئی، خاوند وطی پر کیسے قادر ہے؟ چلو جذام، برص اور جنون ان تین کے اندر تو خاوند وطی پر قادر ہے، عورت کو بے شک یہ بیماریاں ہیں یا جنون وغیرہ ہے لیکن خاوند وطی کر سکتا ہے۔ لیکن رتقاء اور قرناء، رتقاء وہ عورت جس کا صحبت کا مقام ہی نہیں ہے، وہاں جلد ملی ہوئی ہے، یا قرناء وہ عورت جس کے صحبت کے مقام میں ہڈی وغیرہ ہے، وہاں تو خاوند صحبت پر قادر ہی نہیں ہے، اور آپ کہہ رہے ہیں کہ وطی پر قدرت موجود ہے، تو جواب یہ کہ وہاں پر بھی صحبت کا احتمال موجود ہے کہ مثلاً آپریشن وغیرہ کے ذریعے وطی کی صورت بن سکتی ہے بھئی۔ عورت کے وہ صحبت کا مقام ہی نہیں ہے، وہ جلد بند ہے، لیکن اوپر جلد ملی ہوئی ہوگی اندر صحبت کا مقام تو موجود ہوگا، یا ہڈی سامنے ہے لیکن صحبت کا مقام تو موجود ہوگا، تو آپریشن وغیرہ کے ذریعے وہاں بھی صحبت کا احتمال ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ لہٰذا ان تمام صورتوں کے اندر ہمارے ائمہ فرماتے ہیں کہ خاوند کو وطی پر قدرت حاصل ہے، خاوند کا یہی حق بنتا تھا کہ اس کو وطی پر قدرت ہونی چاہیے، اور یہاں بیوی نے اپنے آپ کو اس کے حوالے کر دیا ہے، اس کے گھر موجود ہے تو خاوند کو وطی پر قدرت حاصل ہے۔ اگرچہ بالفعل وطی نہ بھی ہو یعنی نکاح کے ثمرات اور فوائد حاصل نہ بھی ہوں تو اس سے کوئی اثر نہیں پڑتا کیونکہ بالفعل وطی کیا ہے؟ نکاح کے ثمرات اور فوائد میں سے ہے، اور ثمرات اور فوائد اگر وصول نہ بھی ہو سکیں تو اس سے عقدِ نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا، جس طرح اولاد بھی نکاح کے ثمرات میں سے ہے تو اولاد حاصل نہ ہو تو اس سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَهَذَا لِأَنَّ الِاسْتِيفَاءَ مِنَ الثَّمَرَاتِ“ اس لیے کیونکہ وطی کا وصول کرنا، ”مِنَ الثَّمَرَاتِ“ یہ نکاح کے ثمرات میں سے ہے، ”وَالْمُسْتَحَقُّ هُوَ التَّمَكُّنُ“ اور وہ چیز جس کا خاوند کا استحقاق ہے، جو خاوند کا حق ہے، ”هُوَ التَّمَكُّنُ“ وہ اس کا وطی پر قادر ہونا ہے، ”وَهُوَ حَاصِلٌ“ اور وہ تو خاوند کو حاصل ہے۔ تو بہرحال یہ نکاح کے ثمرات اور فوائد ہیں، لہٰذا اصل چیز قدرت ہے وطی پر اور خاوند کو وطی پر قدرت حاصل ہے ان سب میں۔ بعض میں حقیقۃً قدرت حاصل ہے، بعض میں تقدیراً قدرت حاصل ہے، رتقاء اور قرناء کے اندر کوئی آپریشن وغیرہ سے کر لے، بات سمجھ میں آ گئی۔ ”وَإِذَا كَانَ بِالزَّوْجِ جُنُونٌ أَوْ بَرَصٌ أَوْ جُذَامٌ“ اب صورت اس کے برعکس ہے، خاوند کو جنون، برص یا جذام ہے۔ تو ہمارے نزدیک تو جب بیوی کو یہ امراض تھے تو خاوند کو فسخِ نکاح کا اختیار نہیں تھا، تو اگر خاوند کو ہیں تو بیوی کو بھی یہ اختیار حاصل نہیں ہوگا۔ ہاں البتہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر خاوند میں یہ عیب ہوئے تو بیوی کو اختیار ہوگا فسخ کا، بیوی کو اختیار ہوگا فسخ کا، وہ قاضی کے پاس جا کر نکاح فسخ کروا سکتی ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا كَانَ بِالزَّوْجِ جُنُونٌ أَوْ بَرَصٌ أَوْ جُذَامٌ“ اور اگر خاوند کو جنون، برص یا جذام کی بیماری ہے، ”فَلَا خِيَارَ لَهَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ“ تو شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک اس صورت میں بھی عورت کو کوئی اختیار نہیں، ”وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ لَهَا الْخِيَارُ“ اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عورت کو اختیار ہوگا، ”دَفْعًا لِلضَّرَرِ عَنْهَا“ اس عورت سے نقصان کو دور کرنے کے لیے، ”كَمَا فِي الْجَبِّ وَالْعُنَّةِ“ جیسے مجبوب ہونے اور عنین ہونے میں عورت کو اختیار تھا، خاوند مجبوب یا عنین ہو تو عورت قاضی کے پاس جا کر فسخِ نکاح کا مطالبہ کر سکتی ہے، تو یہاں بھی اس کو نقصان سے بچانے کے لیے اس کو یہ اختیار ہوگا، ”بِخِلَافِ جَانِبِهِ“ بخلاف خاوند کی جانب میں، خاوند کو نہیں اختیار کیونکہ خاوند کو تو فسخ کا اختیار نہ بھی ہو وہ پھر بھی طلاق دینے کا اہل ہے، وہ طلاق دے کر جان چھڑا سکتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ جَانِبِهِ“ بخلاف خاوند کی جانب کے، ”لِأَنَّهُ مُتَمَكِّنٌ مِنْ دَفْعِ الضَّرَرِ بِالطَّلَاقِ“ اس لیے کیونکہ وہ تو قادر ہے کہ نقصان کو دور کر دے طلاق کے ذریعے، ”وَلَهُمَا“ شیخین کیا فرماتے ہیں کہ خاوند میں یہ مرض ہوں پھر بھی عورت کو اختیار نہیں ہے؟ اب اس کی وجہ ذکر کر رہے ہیں۔ ”وَلَهُمَا“ شیخین رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے: ”أَنَّ الْأَصْلَ عَدَمُ الْخِيَارِ لِمَا فِيهِ مِنْ إِبْطَالِ حَقِّ الزَّوْجِ“ کہ اصل جو ہے عورت کو عدمِ خیار ہے، اصل یہ ہے کہ عورت کو اختیار نہیں ہونا چاہیے، ”لِمَا فِيهِ مِنْ إِبْطَالِ حَقِّ الزَّوْجِ“ اس لیے کیونکہ اس کے اندر خاوند کا حق باطل کرنا لازم آتا ہے۔ تو اگر عورت کو اختیار ہوگا تو اس صورت میں تو خاوند کا حق باطل ہوتا ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ کہ نکاح ختم ہو جائے گا۔ ”وَإِنَّمَا يَثْبُتُ فِي الْجَبِّ وَالْعُنَّةِ لِأَنَّهُمَا يُخِلَّانِ بِالْمَقْصُودِ الْمَشْرُوعِ لَهُ النِّكَاحُ“ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عورت کو اختیار ہے، اور انہوں نے قیاس کیا تھا مجبوب ہونے اور عنین ہونے پر، تو اس کا جواب دے رہے ہیں کہ مجبوب اور عنین کے اندر وہ تو مقصود کے اندر ہی ان کی وجہ سے خلل آ گیا تھا، نکاح میں مقصود کیا تھا؟ صحبت پر قدرت بھئی، اور مجبوب اور عنین تو صحبت پر قادر ہی نہیں تھے، تو نکاح کے مقصود میں خلل آ گیا تھا اس لیے وہاں عورت کو اختیار تھا، جبکہ ان عیوب میں اگر خاوند میں بے شک جنون، برص یا جذام ہے، اس کو کبھی کبھی جنون کے دورے پڑتے ہیں یا اس کو برص ہے یا جذام ہے، تو ان کے باوجود وطی کے اندر تو کوئی خلل نہیں، ان امراض کے باوجود خاوند وطی کر سکتا ہے۔ ”وَإِنَّمَا يَثْبُتُ فِي الْجَبِّ وَالْعُنَّةِ“ اور مجبوب ہونے اور عنین ہونے میں عورت کے لیے اختیار ثابت ہوتا ہے، ”لِأَنَّهُمَا يُخِلَّانِ بِالْمَقْصُودِ الْمَشْرُوعِ لَهُ النِّكَاحُ“ اس لیے کیونکہ یہ دونوں خلل ڈالتے ہیں اس مقصود کے اندر، ”الْمَشْرُوعِ لَهُ النِّكَاحُ“ جس کی وجہ سے نکاح جائز ہوا ہے، اور وہ کیا ہے؟ صحبت پر قدرت۔ تو اس میں خلل آ گیا۔ ”وَهَذِهِ الْعُيُوبُ غَيْرُ مُخِلَّةٍ بِهِ“ اور یہ والے جو عیب ہیں یہ تو صحبت کے اندر خلل نہیں ڈالتے، ”فَافْتَرَقَا“ تو یہ دونوں جدا ہو گئے۔ امام محمد رحمہ اللہ نے خاوند کے جنون، برص اور جذام کو قیاس کیا تھا خاوند کے مجبوب اور عنین ہونے پر، شیخین نے ان میں فرق بیان کر دیا کہ یہ دونوں الگ الگ چیزیں ہیں بھئی۔ تو ایک جیسی چیزوں کو ایک دوسرے پر قیاس کرتے ہیں، دو مختلف چیزوں کو ایک دوسرے پر قیاس نہیں کرتے، لہٰذا آپ جنون، برص اور جذام کو مجبوب ہونے اور عنین ہونے پر قیاس نہیں کر سکتے، کیونکہ مجبوب اور عنین کے اندر تو نکاح کا جو اصل مقصود ہے وطی، اس کے اندر خلل آ رہا ہے جبکہ برص، جذام اور جنون کے اندر صحبت کے اندر خلل نہیں آ رہا۔ تو کہتے ہیں: ”وَهَذِهِ الْعُيُوبُ غَيْرُ مُخِلَّةٍ بِهِ“ اور یہ والے عیب تو اس مقصود کے اندر خلل نہیں ڈالتے، ”فَافْتَرَقَا“ تو یہ دونوں آپس میں جدا ہو گئے۔ ”وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ“ اور اللہ خوب جاننے والے ہیں درست بات کو۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ حل ہو گیا۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔