آگے سبق دیکھیے بھئی: ﴿وَإِذَا أَطْعَمَ عَنْ ظِهَارَيْنِ سِتِّينَ مِسْكِينًا لِكُلِّ مِسْكِينٍ صَاعًا مِنْ بُرٍّ لَمْ يُجْزِئْهُ إِلَّا عَنْ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ، وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: يُجْزِئُهُ عَنْهُمَا، وَإِنْ أَطْعَمَ ذَلِكَ عَنْ إِفْطَارٍ وَظِهَارٍ أَجْزَأَهُ عَنْهُمَا﴾۔ بھئی ظہار کے مسائل چل رہے ہیں بھئی، اور ظہار آپ نے پڑھا اسے کہتے ہیں کہ کوئی شخص اپنی بیوی کو اپنی ماں کے ساتھ تشبیہ دے یا اپنی بیوی کو ان عورتوں کے ساتھ تشبیہ دے جو انسان پر حرام ہیں تابید کے طریقے پر۔ مثلاً بیوی سے کہتا ہے: ”أَنْتِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي“، تو یہ اس شخص نے نہایت ناپسندیدہ بات کہی اور جھوٹ کہا ہے۔ تو لہٰذا اس کی وجہ سے شریعت نے اس پر بیوی کو حرام کر دیا جب تک وہ کفارہ نہ ادا کر دے۔ اور ظہار کا کفارہ جو ہے وہ ایک غلام یا باندی کو آزاد کرنا ہے باہم صحبت کرنے سے پہلے۔ اور اگر غلام یا باندی میسر نہ ہو تو پھر مسلسل دو ماہ کے روزے رکھنے پڑیں گے، اور یہ بھی ﴿مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا﴾ کی قید کے ساتھ ہیں کہ باہم صحبت کرنے سے پہلے۔ اور اگر کسی میں روزے رکھنے کی بھی استطاعت نہ ہو مثلاً وہ بہت بیمار ہے یا بہت بوڑھا ہے تو پھر اس صورت کے اندر اس کو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا پڑے گا، اور یہ کھانا بھی دو وقت کا ہوگا تاکہ ان کی ایک دن کی ضرورت پوری ہو جائے، کیونکہ ایک انسان دن میں دو مرتبہ کھانا کھانے کا محتاج ہے بھئی۔ اور پھر گزشتہ سبق میں صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ جب غلام آزاد کرنا چاہے تو ایسا غلام ہونا چاہیے کہ جس کا کوئی جنسِ نفع فوت نہ ہوا ہو۔ اور اگر مجنون غلام کفارے میں آزاد کرنا چاہتا ہے تو یہ کافی نہیں بھئی، اس لیے کیونکہ انسان اپنے اعضاء سے جو نفع اٹھاتا ہے وہ عقل کے ذریعے اٹھاتا ہے۔ تو جب ایک غلام مجنون ہے، اس کی عقل ہی نہیں ہے تو گویا اس کے تمام منافع ہی ہلاک ہو چکے ہیں بھئی۔ تو لہٰذا اس کو آزاد کرنا کافی نہیں، اس سے کفارہ ادا نہیں ہوگا۔ لیکن اگر ایسا غلام ہے کہ جس کو جنون کے دورے پڑتے ہیں، کبھی ٹھیک ہوتا ہے اور کبھی جنون کے دورے پڑتے ہیں، تو پھر اس صورت میں اس غلام کو آزاد کیا جا سکتا ہے۔ اور پھر یہ بھی بتایا صاحبِ ہدایہ نے کہ کامل غلام ہونا چاہیے جس کو وہ کفارے کے اندر آزاد کرے۔ لہٰذا مدبّر اور ام ولد کو آزاد کرنا کافی نہیں، اس لیے کیونکہ وہ آزادی کے مستحق ہو چکے ہیں بھئی۔ اسی طرح اگر مکاتب نے کچھ بدلِ کتابت ادا کر دیا ہے تو اس کو بھی آزاد نہیں کر سکتے، کیونکہ غلام جس کو آزاد کیا جائے وہ بدل کے ساتھ نہیں ہونا چاہیے، بغیر بدل کے خالص اللہ کی رضا کے لیے ہونا چاہیے۔ اور اگر ایسا مکاتب ہے جس نے کوئی مال ادا نہیں کیا تو پھر اس صورت کے اندر اس مکاتب کو آزاد کیا جا سکتا ہے بھئی۔ اور اگر یہ ظہار کرنے والا ہے، یہ اپنے کسی قریبی محرم رشتہ دار کو خریدتا ہے تو وہ خریدتے ہی آزاد ہو جائے گا فوراً، تو اگر اس کے اندر وہ ظہار کی نیت کرتا ہے اس کو خریدتے وقت تو اس سے بھی ظہار کا کفارہ ادا ہو جائے گا۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ امام صاحب کے نزدیک اعتاق تجزی کو قبول کر لیتا ہے، جبکہ صاحبین کے نزدیک اعتاق تجزی کو قبول نہیں کرتا۔ آپ آدھے غلام کو آزاد کریں گے تو سارا ہی آزاد ہو جائے گا، ایسا نہیں ہو سکتا آدھا غلام آزاد ہو اور آدھا نہ ہو۔ لیکن امام صاحب کے نزدیک اعتاق تجزی کو قبول کر لیتا ہے۔ تو لہٰذا اب صورتِ مسئلہ یہ کہ دو آدمیوں کے درمیان ایک غلام مشترک ہے، ان میں سے ایک نے ظہار کر لیا تو اس نے اپنے حصے کے نصف غلام کو آزاد کر لیا اور پھر یہ دوسرے نصف کا بھی ضامن بن گیا اور دوسرے نصف کو بھی پھر اس نے بعد میں آزاد کر دیا، تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ اس غلام کی وجہ سے کفارہ ادا نہیں ہوگا۔ وجہ یہ کہ جب اس نے نصفِ غلام کو آزاد کر دیا تو یہ اعتاق جو ہے تجزی کو قبول کر لیتا ہے، نصف غلام تو آزاد ہو گیا لیکن نصف ابھی بھی دوسرے شخص کا مملوک ہے۔ لیکن اس کے اندر نقصان آ گیا، وجہ یہ کہ اب اس غلام نے ہر حال میں آزاد ہونا ہے کیونکہ اس کا نصف آزاد ہو چکا ہے۔ اب وہ جو مالک ہے اس کو مستقل غلام بنا کر نہیں رکھ سکتا، اور نیز وہ اس کو بیچ بھی نہیں سکتا کیونکہ نصف تو یہ آزاد ہو چکا ہے۔ تو یہ دوسرا مالک جو ہے اب اس غلام کو مستقل غلام بنا کر نہیں رکھ سکتا، اس پر اپنی ملکیت کو برقرار نہیں رکھ سکتا، بلکہ اب اس غلام نے آزاد ہونا ہے ہر حال میں۔ تو لہٰذا معلوم ہوا اس غلام کے اندر نقصان آ گیا، حتیٰ کہ اس کے لیے اب اس کو بیچنا بھی جائز نہیں ہے۔ تو اس آدھے ناقص غلام کا بھی ضامن بن گیا اور پھر اس نے اس کو آزاد کر دیا، تو یہ ناقص غلام آزاد ہوا کامل غلام آزاد نہیں ہوا، اور ناقص غلام کی آزادی سے تو کفارہ ادا نہیں ہوتا۔ جیسے مدبّر اور ام ولد آزادی ان کا حق بن جاتی ہے، تو جیسے ان کو کفارے میں آزاد کرنا جائز نہیں، اسی طرح اس غلام کو بھی کفارے میں آزاد کرنا جائز نہیں۔ بلکہ جو مدبّر اور ام ولد کی غلامی میں نقصان آیا تھا، ان کے اندر رقیت ناقص ہو گئی تھی کیونکہ انہوں نے ہر حال میں آزاد ہونا ہے، اس غلام کے اندر جو نقصان آیا ہے وہ ان سے بھی بڑھ کر ہے، کیونکہ وہ تو مالک کے مرنے کے بعد آزاد ہوں گے جبکہ اس نے فی الحال ہی بدل دے گا اور آزاد ہو جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا اس کے اندر اس سے بھی بڑھ کر نقصان آ گیا تو اس سے ضمان ادا نہیں ہوگا۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ نہیں، جب اس شخص نے نصفِ غلام کو آزاد کیا تو باقی نصف بھی خود بخود آزاد ہو گیا، تو گویا پورا غلام ہی آزاد ہوا کفارے کے اندر، اور اس شخص کو اب ضمان دینا پڑے گا تو اس کا کفارہ ادا ہو گیا۔ جبکہ اس کے مقابلے میں اگر ایک شخص پورے غلام کا مالک ہے اور وہ کفارۂ ظہار کے اندر اس غلام کو پہلے نصف آزاد کرتا ہے اور پھر بعد میں نصف آزاد کرتا ہے، تو اس صورت میں یہ کفارے سے ادا ہو جائے گا، اس کے ذریعے کفارہ ادا ہو جائے گا بھئی۔ وجہ یہ کہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہاں پر جب نصفِ غلام کو آزاد کیا تو باقی نصف میں نقصان آیا لیکن باقی نصف کا بھی یہی شخص مالک ہے، باقی نصف کا بھی یہی شخص مالک ہے اور اس کے اندر جو نقصان آیا ہے وہ کفارے میں آزاد کرنے کی وجہ سے آیا ہے، لہٰذا اس نقصان کو برداشت کیا جائے گا اور یہ کفارے کی ادائیگی سے مانع نہیں ہوگا بھئی۔ کہتے ہیں یہ اسی طرح ہے جیسے قربانی کے جانور کو عیب سے پاک ہونا چاہیے لیکن اگر عین قربانی کرتے وقت اس جانور میں کوئی عیب آ جائے تو وہ وہی جانور کافی ہے، کیونکہ قربانی کے فعل کی وجہ سے اس میں نقصان آیا ہے۔ تو یہاں پر بھی اس غلام کے اندر جو نقصان آیا ہے وہ کفارے کے فعل کی وجہ سے آیا ہے، لہٰذا یہ کفارے کے اندر آزاد کیا جائے تو کافی ہو جائے گا۔ تو گویا اس شخص نے اپنے غلام کو دو کلاموں کے ساتھ آزاد کیا، پہلے آدھا آزاد کیا اور پھر دوسرا آدھا آزاد کیا۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ نہیں، اعتاق میں تجزی نہیں ہو سکتی، جب اس نے نصف آزاد کیا تو پورا ہی غلام آزاد ہو گیا، تو یہ غلام ایک ہی کلام سے آزاد ہوا ہے دو کلاموں سے آزاد نہیں ہوا، لہٰذا اس سے کفارہ ادا ہو گیا۔ اور اس کے بعد پھر صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ اگر ایک شخص جو ہے اس نے آدھا غلام آزاد کیا کفارے سے، پھر بیوی سے صحبت کر لی اور صحبت کے بعد باقی آدھا غلام آزاد کیا، تو امام صاحب کے نزدیک یہ کفارہ ادا نہیں ہوا۔ وجہ یہ کہ نص کے اندر قید ہے کہ غلام کا آزاد کرنا صحبت سے پہلے ہونا چاہیے، اور اس نے تو پورے غلام کو صحبت سے پہلے آزاد نہیں کیا بلکہ نصف کو آزاد کیا ہے اور نصف تو صحبت کے بعد ہے، لہٰذا اس سے کفارہ ادا نہیں ہوگا۔ جبکہ صاحبین کے نزدیک جب اس نے پہلا نصف آزاد کیا تو اعتاق میں تجزی نہیں ہوتی لہٰذا پورا غلام ہی آزاد ہو گیا، لہٰذا اس سے کفارہ ادا ہو گیا۔ اور پھر اگر غلام یا باندی میسر نہ ہو تو پھر دو ماہ کے مسلسل روزے رکھنا پڑیں گے، اور اس میں صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ ان دو ماہ کے دوران رمضان کا مہینہ بھی نہیں آنا چاہیے، عید الفطر کا دن بھی نہیں آنا چاہیے اور عید الاضحیٰ اور اس سے اگلے تین دن یعنی ایامِ تشریق بھی نہیں آنے چاہئیں۔ وجہ یہ کہ یہ جو پانچ دن ہیں، یعنی عید الفطر کا دن ہے، عید الاضحیٰ کا دن ہے اور اس سے اگلے تین دن جو ایامِ تشریق ہیں، ان پانچ دنوں کے اندر شریعت نے روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ لہٰذا ان کے اندر اگر روزہ رکھے گا تو وہ کامل نہیں ہوگا بلکہ ناقص ہوگا۔ کیا ہوگا؟ ناقص ہوگا۔ وجہ یہ کہ روزے کی اپنی ذات میں کوئی خرابی نہیں ہے لیکن یہاں ان ایام کی وجہ سے روزے میں کیا آ رہی ہے؟ خرابی آ رہی ہے، تو روزہ اپنی ذات کے اعتبار سے تو جائز لیکن غیر کی وجہ سے جائز نہیں ہے، تو اس میں نقصان آ گیا تو یہ ناقص ہوا۔ اور وہ جو واجب ہوا تھا کفارہ وہ تو کامل واجب ہوا ہے، تو ناقص روزے کے ذریعے کامل کفارے کی ادائیگی نہیں ہو سکتی بھئی۔ اور اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا: اگر ان روزوں کے دوران درمیان میں کوئی شخص بیوی سے صحبت کر لیتا ہے لیکن ایسی صحبت ہے کہ جس کی وجہ سے روزوں کے مسلسل ہونے میں کوئی خلل نہ آئے، یعنی رات کو صحبت کر لی یا دن میں صحبت کی لیکن یہ بھول گیا تھا کہ میرا روزہ ہے، تو ان مسلسل روزوں کے درمیان اگر وطی پائی گئی تو کیا پھر یہی مسلسل روزے کافی ہیں یا نئے سرے سے رکھنا پڑیں گے؟ تو طرفین فرماتے ہیں: نئے سرے سے دو ماہ کے روزے رکھنا پڑیں گے۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہی روزوں کو مکمل کر لے، وجہ یہ کہ صحبت کی وجہ سے تتابع میں کوئی اثر نہیں پڑا تو تتابع اسی طرح برقرار ہے۔ ہاں، ایک قید تھی نص کے اندر کہ صحبت سے یہ پہلے ہونے چاہییں، لیکن انہی روزوں کو جاری رکھے گا تو کچھ روزے تو صحبت سے پہلے گزر گئے تھے اور کچھ صحبت کے بعد آ جائیں گے، تو جبکہ اگر طرفین کے قول کو لیا جائے تو پھر سارے روزے ہی صحبت کے بعد ہو جائیں گے۔ اگر نئے سرے سے رکھے گا تو سارے ہی روزے صحبت کے بعد ہو جائیں گے، لہٰذا بہتر یہ ہے کہ کچھ روزے تو صحبت پر مقدم ہوں بھئی، لہٰذا انہی روزوں کو مکمل کر لے بھئی۔ جبکہ طرفین فرماتے ہیں کہ روزوں کے اندر جو شریعت نے شرط لگائی ہے کہ یہ صحبت پر مقدم ہونے چاہییں، یہ دیکھنے میں ایک شرط ہے لیکن حقیقت میں یہاں دو شرطیں ہیں۔ کیونکہ جب روزے صحبت پر مقدم ہوں گے تو معلوم ہوا روزے صحبت سے بھی خالی ہوں گے۔ جب روزے صحبت پر مقدم ہوں تو اس کے ساتھ لازم ہے کہ روزے صحبت سے خالی بھی ہوں گے۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ روزوں کے بیچ میں صحبت ہو، کیونکہ اگر روزوں کے بیچ میں صحبت ہے پھر تو روزے صحبت پر مقدم نہ ہوئے۔ تو جب بھی روزے صحبت پر مقدم ہوں گے اس کے ساتھ لازم ہے کہ روزے صحبت سے خالی ہوں گے۔ تو یہاں پر اس شخص نے جب بیچ میں صحبت کر لی تو روزوں کا مقدم ہونا تو ممکن نہ رہا، لیکن روزوں کا صحبت سے خالی ہونا تو ممکن ہے، ابھی بھی یہ اس پر عمل کر سکتا ہے کہ نئے سرے سے روزے رکھے تو اب روزے صحبت سے خالی ہو جائیں گے۔ صحبت پر مقدم تو نہ ہو سکے لیکن صحبت سے خالی ہو جائیں گے، لہٰذا اس کو بعد میں نئے سرے سے روزے رکھنا پڑیں گے بھئی۔ اور نیز ان ساٹھ روزوں کے اندر اگر کوئی ایک روزہ بھی چھوٹ گیا، چاہے کسی عذر کی وجہ سے ہو چاہے بغیر عذر کے ہو، تو روزے دوبارہ نئے سرے سے رکھنا پڑیں گے بھئی۔ اور اگر غلام نے ظہار کیا تو پھر اس کو ساٹھ روزے ہی رکھنا پڑیں گے۔ آقا اس کی طرف سے کوئی غلام آزاد کرتا ہے یا اس کی طرف سے ساٹھ لوگوں کو کھانا کھلاتا ہے تو یہ جو آقا کا فعل ہے وہ غلام کا فعل نہیں بن سکتا بھئی، کفارہ تو غلام پر آیا ہے آقا پر نہیں آیا، اور آقا اس کو مالک بنائے بھی تو بھی یہ مالک نہیں بنتا کیونکہ اس میں مالک بننے کی صلاحیت ہی نہیں ہے، لہٰذا اس کو روزوں سے ہی کفارہ ادا کرنا پڑے گا۔ اور اگر روزوں کی استطاعت بھی نہ ہوئی کسی شخص میں، وہ بہت بوڑھا ہے یا بہت بیمار ہے، تو پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا پڑے گا۔ اور اس کے اندر پھر ہر مسکین کو نصف صاع گندم دے دے، یا اگر کھجور یا جو دینا چاہتا ہے تو ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو دینا پڑے گی۔ اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ صاع سے مراد صاعِ عراقی ہے بھئی عند الاحناف، کیونکہ صاع تین قسم کے ہیں: ایک صاعِ ہاشمی ہے اور وہ بتیس رطل کا ہوتا ہے، ایک صاعِ حجازی ہے یہ سب سے چھوٹا ہے یہ پانچ رطل اور ثلثِ رطل یعنی پانچ رطل پورے اور ایک رطل کا تیسرا حصہ یہ ہے صاعِ حجازی، اور جبکہ صاعِ عراقی آٹھ رطل کا ہوتا ہے۔ اور عند الاحناف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مدینہ میں صاعِ عراقی رائج تھا بھئی۔ اور میں نے بتلایا تھا کہ یہ صاع جو ہے چار مد بنتا ہے، چار مد اس کی مقدار ہے، اور ہر مد میں دو رطل ہوتے ہیں، یہ آٹھ رطل کا ہے نا تو ہر مد میں دو رطل ہوتے ہیں۔ اور ہر رطل پونے چونتیس تولے کا ہے، اگر تولوں کے اندر آپ دیکھنا چاہتے ہیں تو ہر رطل پونے چونتیس تولے کا ہے۔ اور میں نے بتلایا تھا کہ مد اور من یہ ایک ہی چیز کا نام ہے، تو اگر صاع جو ہے چار مد ہے تو اسی طرح یہ چار من بھی ہے بھئی۔ اور میں نے بتلایا تھا کہ یہ صاع جو ہے تولوں کے اعتبار سے دو سو ستر تولے ہے۔ اور سیر کے اعتبار سے دیکھا جائے تو تین سیر چھ چھٹانک ہے یعنی ڈیڑھ پاؤ ہے، یعنی ساڑھے تین سیر سے کچھ کم ہے۔ تو یہ نصف صاع گندم دے گا، یا کھجور یا جو دینا چاہتا ہے تو ایک صاع بھئی۔ اور اگر دونوں میں سے نصف نصف دے دے تو بھی کافی ہے۔ مثلاً ایک فقیر کو نصف صاع گندم دینی تھی، وہ نصف صاع گندم نہیں بلکہ اس نصف صاع کا بھی نصف یعنی ربع صاع دیتا ہے، اور دوسری طرف سے کھجور کو ساتھ ملاتا ہے اور کھجور کا ایک صاع دینا تھا وہ بھی نصف دیتا ہے، تو نصف مقدار کس سے لے لی؟ کھجور سے، اور نصف مقدار کس سے لے لی؟ گندم سے، تو اس طرح بھی مقدار پوری کر سکتا ہے۔ اور اگر ظہار والے نے کسی اور سے کہا کہ میری طرف سے ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو اور دوسرے نے کھلا دیا تو پھر بھی کفارہ ادا ہو جائے گا۔ وجہ یہ کہ یہ ظاہر میں تو اس کو وکیل بنا رہا ہے کہ میری طرف سے کھانا کھلا دو، لیکن حقیقت میں وہ قرض مانگ رہا ہے۔ اور قرض پر قبضہ ضروری ہوتا ہے، تو یہاں پر وہ جو فقیر قبضہ کرے گا تو اولاً اس ظہار والے کی طرف سے قبضہ کرے گا جس نے حکم دیا تھا، اس کی طرف سے قبضہ کرے گا تو گویا یہ مالک بن گیا اس کی طرف سے قبضہ آ گیا، اور پھر جو فقیر ہے وہ اپنے لیے اس کا قبضہ ہو جائے گا، تو لہٰذا اس طرح یہ کفارہ ادا ہو جائے گا۔ اور اگر ظہار والا مسکینوں کو کھانا کھلاتا ہے، ان کو غلے یا کھجور وغیرہ کا مالک نہیں بناتا بلکہ ان کو کھانا کھلاتا ہے دو وقت کا تو کھانا بھی کھلا سکتا ہے بھئی۔ اور اگر ایک ہی مسکین کو ایک شخص اکھٹا ساٹھ مسکینوں کا غلہ دے دیتا ہے، کہتے ہیں نہیں، اکھٹا دے گا تو پھر ادا نہیں ہوگا۔ ہاں، اس کو الگ الگ ہر روز ایک ایک فقیر کے بقدر دیتا رہے تو ہر روز گویا یہ ایک نئے مسکین کے درجے میں ہوگا، کیونکہ ہر روز نئی حاجت پیش آتی ہے کھانے کی۔ تو لہٰذا ساٹھ دن تک اس کو ہر روز نصف صاع گندم دیتا رہے یا ایک صاع کھجور دیتا رہے تو بھی کفارہ ادا ہو جائے گا۔ اور اگر کھانا بھی کھلانا چاہتا ہے تو ساٹھ روز تک اس ایک مسکین کو صبح اور شام کھانا کھلاتا رہے تو اس سے بھی کفارہ ادا ہو جائے گا بھئی۔ اور اگر ایک ہی دن کے اندر ساٹھ مرتبہ اس کے سامنے کھانا لا کر رکھتا ہے تو اس صورت میں بالاتفاق کفارہ ادا نہیں ہوگا، کیونکہ دن میں دو مرتبہ کھانے کی حاجت پیش آتی ہے اس سے زیادہ تو حاجت ہی پیش نہیں آتی۔ اور اگر ایک ہی دن میں متفرق کر کے وہ نصف صاع گندم ایک فقیر کو دیتا ہے ساٹھ مرتبہ تو اس میں بھی بعض کہتے ہیں ادا نہیں ہوگا بھئی، جبکہ بعض کہتے ہیں اس صورت میں ادا ہو جائے گا۔ اس لیے کیونکہ اس میں اگرچہ فقیر کی حاجت تو نئی نئی فقیر کی حاجت تو نئی نہیں ہے لیکن ادا کرنے والے کی حاجت نئی ہے۔ ایک مرتبہ ادا کرنے کے بعد پھر اس کو حاجت ہے وہ اور ادا کرتا ہے، پھر اس کے بعد حاجت ہے، تو لہٰذا فقیر کی حاجت تو نئی نہیں ہو رہی لیکن مالک بنانے والے کی حاجت نئی ہو رہی ہے اس کو حاجت ہے، تو اس اعتبار سے یہ کفارہ ادا ہو جائے گا بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا اگر کھانے کے دوران صحبت کر لی کھانے کے دوران، تو پھر نئے سرے سے کھانا کھلانے کی ضرورت نہیں، یہی کھانا کافی ہو جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اب آئیے آج کے سبق پر۔ کہتے ہیں: ﴿وَإِذَا أَطْعَمَ عَنْ ظِهَارَيْنِ سِتِّينَ مِسْكِينًا لِكُلِّ مِسْكِينٍ صَاعًا مِنْ بُرٍّ لَمْ يُجْزِئْهُ إِلَّا عَنْ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ، وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: يُجْزِئُهُ عَنْهُمَا﴾۔ صورتِ مسئلہ یہ: ایک شخص نے دو ظہار کر لیے، اس کی مثلاً دو بیویاں ہیں اور دونوں سے اس نے ظہار کر لیا ہے، اب اس پر دو کفارے آ گئے۔ تو اب اس کو غلام بھی میسر نہیں اور وہ ساٹھ روزے بھی نہیں رکھ سکتا کیونکہ بیمار ہے یا بہت بوڑھا ہے، اب وہ ہر ظہار کے کفارے میں ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا چاہتا ہے۔ تو اب اس نے یوں کیا کہ ایک مسکین کا حصہ بنتا ہے نصف صاع، تو وہ ہر مسکین کو ایک ایک صاع گندم دے رہا ہے، یعنی دونوں ظہاروں کا کفارہ ملا کر دے رہا ہے۔ تو ایک فقیر کا حصہ کتنا بنتا ہے؟ نصف صاع، لیکن اس نے پورا صاع دے دیا تاکہ دونوں ظہاروں کا ایک فقیر کو ادا ہو گیا، پھر اگلے فقیر کو بھی پورا صاع دے دیا، تو اس طرح اس نے ساٹھ مسکینوں کو ایک ایک صاع ادا کیا تاکہ یہ دونوں ظہاروں کا کفارہ ہو جائے، اور اس نے نیت کیا کی ہے؟ دونوں ظہاروں کے کفارے کی۔ تو شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ایک ہی ظہار کا کفارہ ادا ہوگا دونوں کا ادا نہیں، اگر دونوں کا وہ ادا کرنا چاہتا ہے تو الگ الگ کر کے دے۔ یعنی نصف صاع پہلے الگ دے ایک محتاج کو اور پھر دوبارہ اس کو نصف صاع الگ دے دے بھئی، اس طرح ہر فقیر کو وہ الگ الگ کر کے ادا کرے گا تو پھر اس طرح دو کفارے ادا ہوں گے۔ لیکن اگر وہ اکھٹا ایک ایک صاع دے رہا ہے اور نیت دو کفاروں کی کر رہا ہے تو دو کفارے ادا نہیں ہوں گے۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، دونوں کفارے ادا ہو جائیں گے، دونوں کفارے ادا ہو جائیں گے کیونکہ اس نے دو کفاروں کی نیت کی ہے اور یہ جو مقدار وہ ادا کر رہا ہے اس سے دونوں کفارے ادا ہو سکتے ہیں۔ ایک ایک صاع ادا کر رہا ہے تو نصف صاع ایک ظہار کا ہو گیا اور نصف صاع دوسرے ظہار کا ہو گیا، اور ساٹھ مسکینوں کو اس طرح ادا کرے گا تو دونوں کفارے ادا ہو گئے۔ لیکن شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، ایک ظہار کا کفارہ ادا ہوگا۔ وجہ یہ کہ یہاں دونوں کفاروں کی جنس ایک ہے، وجہ یہ دونوں کفاروں کی جنس ایک ہے، دونوں ظہار کے کفارے ہیں۔ جب دونوں ظہار کے کفارے ہیں تو جنس ایک ہے، اور جب جنس ایک ہو تو وہاں پر یاد رکھو تعین کی نیت لغو ہوتی ہے، اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ وہ تو تعین کر رہا ہے، ہر فقیر کو دیتے ہوئے دو کفاروں کی تعین کر رہا ہے لیکن کفارے دونوں ایک ہی جنس کے ہیں دونوں ظہار کے کفارے ہیں، اور جب کفاروں کی جنس ایک ہو تو وہاں تعین کی نیت لغو ہوتی ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ تو یوں سمجھیں گے وہ وہ صرف کفارے کی نیت سے دے رہا ہے، دو کفاروں کی نیت نہیں کر رہا بس صرف کیا کر رہا ہے؟ یہ جو گندم دے رہا ہے صرف کفارے کی نیت ہے اس کے ذہن میں، ایک اور دو کی تعین اس کے ذہن میں نہیں، اور جب صرف اصلِ کفارہ کی نیت سے جب یہ ادا کرے گا تو پھر بالاتفاق ایک کفارہ ادا ہوگا۔ جبکہ اس کے مقابلے میں اگر وہ الگ الگ کر کے دیتا ہے تو پھر اس صورت میں بالاتفاق ہمارے تینوں ائمہ فرماتے ہیں کہ پھر دونوں کفاروں سے ادا ہو جائے گا۔ مثلاً ایک ہی مسکین کو پہلے نصف صاع الگ دیتا ہے اور پھر نصف صاع الگ، پھر دوسرا مسکین آتا ہے اس کو نصف صاع الگ دیتا ہے اور پھر نصف صاع الگ دیتا ہے، تو اس طرح الگ الگ کر کے دے گا دو کفاروں کی نیت کے ساتھ تو پھر تو دونوں ادا ہو جائیں گے ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک۔ لیکن اگر اکھٹا کر کے دے گا، پورا پورا صاع ملا کر دے رہا ہے تو ایک کفارہ ادا ہوگا شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک، جبکہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک دونوں کا کفارہ ادا ہو جائے گا۔ اسی طرح اگر دونوں کفاروں کی جنس الگ ہوئی، مثلاً ایک شخص پر دو کفارے ہیں لیکن ایک کفارہ ہے ظہار کا اور ایک کفارہ ہے روزہ توڑنے کا، اس نے رمضان کا روزہ توڑ دیا تھا جان بوجھ کر، تو اس صورت میں بھی آپ جانتے ہیں کہ رمضان کا روزہ بھی جان بوجھ کر توڑ دیا جائے تو وہاں پر بھی دو ماہ کے مسلسل روزے رکھنا پڑیں گے بطورِ کفارے کے۔ اور یاد رکھنا یہ صرف رمضان کے روزے میں ایسا ہے، اگر رمضان کا روزہ کوئی توڑے گا تو کفارے کے طور پر دو ماہ کے مسلسل روزے بھی رکھنا پڑیں گے، اگر ایک روزہ بھی بیچ میں چھوٹ گیا پھر نئے سرے سے روزے رکھنا پڑیں گے، تو یہ ساٹھ روزے بھی رکھنا پڑیں گے کفارے والے اور ایک وہ جو روزہ توڑا ہے اس کی قضا بھی کرنا پڑے گی۔ تو یہ صرف رمضان کے روزے کے اندر یہ کفارہ آتا ہے، اس کے علاوہ اگر کوئی بھی روزہ ہو چاہے کسی نے منت مانی ہے یا رمضان کی قضا کر رہا ہے وغیرہ ان کو توڑنے سے کفارہ نہیں آئے گا بھئی، وہاں انہی کی قضا کرنا پڑے گی لیکن کفارہ نہیں، لیکن رمضان کے روزے میں کفارہ بھی آتا ہے۔ تو اب ایک شخص ہے اس نے ظہار کا بھی کفارہ ادا کرنا ہے اور اس نے رمضان کا ایک روزہ بھی جان بوجھ کر توڑ دیا تھا اس کا بھی کفارہ ادا کرنا ہے۔ اب دونوں کفاروں کی جنس الگ الگ ہے: ایک ظہار کا کفارہ اور ایک افطار کا کفارہ ہے رمضان کے روزے توڑنے کا۔ تو یاد رکھو اب چونکہ کفاروں کی جنس الگ الگ ہے لہٰذا یہاں تعینِ نیت معتبر ہے۔ یہاں تعینِ نیت معتبر ہے، اب یہ شخص ہر مسکین کو ایک ایک صاع گندم دے رہا ہے اور نیت یہ کرتا ہے کہ اس میں سے آدھی گندم ظہار کے کفارے کے طور پر ہے اور آدھی گندم افطار کے کفارے کے طور پر ہے، تو یہاں چونکہ دونوں کفاروں کی جنس الگ ہے لہٰذا یہ تعینِ نیت معتبر ہے تو اب دونوں کفارے ادا ہو جائیں گے۔ جب اس طرح وہ ساٹھ مسکینوں کو کو ایک ایک صاع گندم دے دے گا دونوں کی نیت کے ساتھ تو دونوں کفارے ادا ہو جائیں گے۔ تو حاصلِ کلام کیا؟ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک جنسِ واحد کے اندر تعینِ نیت کا اعتبار نہیں، نیت لغو ہے، اور الگ الگ جنسیں ہوں تو وہاں تعینِ نیت معتبر ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے بھئی کہتے ہیں: ﴿وَإِذَا أَطْعَمَ عَنْ ظِهَارَيْنِ سِتِّينَ مِسْكِينًا﴾ اور جب ظہار کرنے والے نے دو ظہاروں سے ساٹھ مسکینوں کو کھلایا، ﴿لِكُلِّ مِسْكِينٍ صَاعًا مِنْ بُرٍّ﴾ ہر مسکین کو اس نے ایک صاع گندم میں سے دیا، ﴿لَمْ يُجْزِئْهُ إِلَّا عَنْ وَاحِدٍ مِنْهُمَا﴾ تو یہ کفارہ اس کے لیے کافی نہیں ہے مگر ایک ظہار سے ہی، ان دونوں میں سے ایک ظہار سے یہ کفارہ ہوگا، ﴿عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ﴾ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک، ﴿وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: يُجْزِئُهُ عَنْهُمَا﴾ اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ دونوں ظہار سے یہ کفارہ کافی ہو جائے گا، ﴿وَإِنْ أَطْعَمَ ذَلِكَ عَنْ إِفْطَارٍ وَظِهَارٍ﴾ اور اگر اس ظہار کرنے والے نے یہ کھلایا افطار اور ظہار کے کفارے سے، یعنی دو الگ الگ جنس کے کفارے ہیں، اب اسی طرح ایک ایک صاع دے رہا ہے تو کہتے ہیں: ﴿أَجْزَأَهُ عَنْهُمَا﴾ تو یہ دونوں سے کافی ہو جائے گا۔ ﴿لَهُ﴾ امام محمد رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے کہ: ﴿أَنَّ بِالْمُؤَدَّى وَفَاءً بِهِمَا﴾، مؤدیٰ: وہ جس کو ادا کر دیا گیا، وفاء: وفاء کا معنی ہے تکمیل بھئی، ادائیگی اور تکمیل۔ تو وہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: ﴿أَنَّ بِالْمُؤَدَّى وَفَاءً بِهِمَا﴾ کہ وہ جو ادا کر دیا گیا یعنی ہر مسکین کو جو ایک صاع ادا کیا گیا ﴿وَفَاءً بِهِمَا﴾ اس کے ذریعے دونوں کفاروں کی تکمیل ہو رہی ہے، دونوں کفاروں کی ادائیگی ہو رہی ہے، ﴿وَالْمَصْرُوفُ إِلَيْهِ مَحَلٌّ لَهُمَا﴾ اور جس کی طرف اس کو پھیرا گیا ہے یعنی جس کو یہ ادا کیا جا رہا ہے وہ ان دونوں کفاروں کا محل ہے یعنی وہ مسکین، وہ مسکین جو ہے وہ دونوں کفاروں کا محل ہے۔ توجہ ہے؟ تو لہٰذا جو مقدار ادا کر رہا ہے اس کے ذریعے بھی دونوں کی ادائیگی ہو سکتی ہے، اور جس کو ادا کر رہا ہے وہ محل بھی ہے دونوں کفاروں کا، تو لہٰذا ادائیگی ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ﴿لَهُ أَنَّ بِالْمُؤَدَّى وَفَاءً بِهِمَا وَالْمَصْرُوفُ إِلَيْهِ مَحَلٌّ لَهُمَا فَيَقَعُ عَنْهُمَا كَمَا لَوِ اخْتَلَفَ السَّبَبُ أَوْ فَرَّقَ فِي الدَّفْعِ﴾ امام محمد رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے کہ وہ جو ادا کیا جا رہا ہے اس کے ذریعے دونوں کی تکمیل ہو جاتی ہے اور وہ جس پر خرچ کیا جا رہا ہے وہ بھی دونوں کفاروں کا محل ہے یعنی وہ جو مسکین ہے، تو یہ دونوں سے کفارے واقع ہو جائیں گے، جیسے کہ سبب مختلف ہو، جیسے اگر سبب مختلف تھا مثلاً ایک ظہار کا کفارہ ہے اور ایک افطار کا کفارہ ہے تو اس میں تو شیخین رحمہما اللہ بھی فرماتے ہیں کہ ملا کر بھی دے گا لیکن نیت دونوں کی کی ہے تو دونوں ادا ہو جائیں گے۔ تو یہاں پر بھی جب دونوں کی نیت کر رہا ہے اور مقدار بھی پوری ہے اور جس کو دے رہا ہے وہ اس کا محل بھی ہے تو دونوں کی ادائیگی ہو جائے گی۔ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جیسے دو مختلف جنسوں کے اندر فقیر کو یہ مقدار دی جائے تو دونوں ادا ہو جاتے ہیں تو ایک جنس کے اندر بھی یہ دونوں کفارے ادا ہو جائیں گے۔ یا یہ کہتے ہیں: اسی طرح ہے جیسے ایک ہی مسکین کو الگ الگ کر کے دے، پہلے نصف صاع دیا ایک کفارے کا پھر نصف صاع دیا دوسرے کفارے کا، تو جیسے الگ الگ کر کے ایک ہی فقیر کو اتنی مقدار دیں گے تو دونوں کفارے ادا ہو جائیں گے تو ملا کر دینے سے بھی دونوں کفارے ادا ہو جائیں گے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو کہتے ہیں: ﴿فَيَقَعُ عَنْهُمَا كَمَا لَوِ اخْتَلَفَ السَّبَبُ أَوْ فَرَّقَ فِي الدَّفْعِ﴾ تو یہ دونوں کفاروں سے واقع ہو جائے گا جیسے کہ کفارے کا سبب جو مختلف ہو اس صورت میں ہوتا ہے، یا جیسے اس صورت میں ہوتا ہے جب دینے کے اندر جدائی کر دے دونوں کفاروں کا الگ الگ ادا کرے۔ ﴿وَلَهُمَا﴾ شیخین رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے کہ: ﴿أَنَّ النِّيَّةَ فِي الْجِنْسِ الْوَاحِدِ لَغْوٌ﴾ کہ نیت جو ہے ایک جنس کے اندر لغو ہے۔ کیا معنی ایک جنس کے اندر نیت لغو ہے؟ مراد یہ ہے تعین کی نیت۔ کفارے کی نیت تو ضروری ہے اس کے بغیر تو کفارہ ہی نہیں ادا ہوگا، لیکن تعین کی نیت کہ یہ جو میں دے رہا ہوں یہ اس کفارے کا بھی ہے اور اس کفارے کا بھی ہے، یا یوں کہو یہ اس ظہار کا بھی ہے اور اس ظہار کا بھی ہے، یہ جو تعینِ نیت ہے یہ جنسِ واحد میں معتبر نہیں ہوتی۔ لہٰذا لہٰذا آگے صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے آپ کو ایک آدمی ہے اس نے دو بیویوں سے ظہار کر لیا، اس پر دو کفارے آ گئے۔ اس نے ایک ہی غلام آزاد کیا۔ ایک ہی غلام دونوں کی نیت سے آزاد کر دیا، تو کہتے ہیں: اس صورت میں آدھا غلام ایک کی طرف گویا وہ تقسیم کر رہا ہے اور آدھا غلام دوسرے کی طرف، لیکن ایک ہی جنس ہے کفاروں کی کیونکہ دونوں کفارے کس کے ہیں؟ ظہار کے۔ اور جب ایک ہی جنس ہو تو وہاں نیت معتبر نہیں، لہٰذا اس نے تو آدھے آدھے غلام کی تقسیم کر دی کہ آدھا غلام اس ظہار کی طرف سے آدھا غلام اس ظہار کی طرف سے، لیکن یہ نیت معتبر نہیں، یہ بعد میں جس ظہار سے چاہے اس کو قرار دے دے۔ بعد میں کہہ دیتا ہے کہ یہ فلاں بیوی سے جو میں نے ظہار کیا تھا اس کی طرف سے ہے، تو وہ بیوی اس کے لیے حلال ہو جائے گی اور دوسری ابھی بھی حرام ہے۔ معلوم ہوا ایک ہی جنس کے کفارے ہوں تو ایک ہی جنس کے اندر نیت لغو ہوتی ہے اس کا اعتبار نہیں۔ اگر نیت معتبر ہوتی تو اس نے تو غلام آزاد کرتے ہوئے دونوں کی نیت کی ہے، اور دونوں کی نیت سے تو دونوں کا کفارہ ادا نہیں ہو سکتا کیونکہ ہر ایک کے اندر پورا غلام آزاد کرنا ہے، اور اب تو غلام یہ آزاد کر چکا ہے معاملہ تو اس کے ہاتھ سے نکل گیا۔ یہ کیا کر چکا ہے؟ اس نے تو غلام آزاد کر دیا اور نیت دونوں کی کی ہے، تو اگر نیت معتبر ہوتی تو ایک کا بھی کفارہ ادا نہیں ہونا تھا اور معاملہ بھی اس کے ہاتھ سے نکل گیا، اب بعد میں کسی ایک کی تعین نہیں کر سکتا وہ کیونکہ وہ نیت تو آزادی کے وقت نیت ضروری ہوتی ہے، بعد میں تو نیت سے کفارہ ادا نہیں ہوگا بھئی۔ معلوم ہوا جنسِ واحد کے اندر تعینِ نیت لغو ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں، اگر ابھی تعین کر بھی دی ہے کہ یہ دونوں کی طرف سے میں آزاد کر رہا ہوں لیکن یہ معتبر ہی نہیں، بعد میں وہ کسی ایک کی بھی تعین کر سکتا ہے۔ توجہ ہے؟ لیکن اس کے مقابلے میں اگر ایک شخص پر روزہ توڑنے کا بھی کفارہ ہے اور ظہار کا بھی کفارہ ہے اور اس نے غلام آزاد کرتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں کی طرف سے ہے، اب چونکہ جنسیں الگ الگ ہیں لہٰذا یہ نیت معتبر ہے اور یہ آدھا غلام ایک کفارے کی طرف سے ادا ہوا اور آدھا دوسرے کی طرف سے ادا ہو گیا، لیکن ایک بھی کفارہ ادا نہیں ہوا کیونکہ نصفِ غلام سے تو کفارہ ادا نہیں ہوگا وہ تو پورے غلام سے کفارہ ادا ہوگا۔ اب بعد میں یہ چاہتا ہے کہ اوہو یہ تو مجھ سے غلطی ہو گئی، ایک بھی کفارہ ادا نہیں ہوا، اب بعد میں چاہتا ہے کہ اس کفارے کو میں کسی ایک کی طرف پھیر دوں، یا وہ جو روزہ توڑا تھا اس کا کفارہ بنا دوں یا جو ظہار کیا تھا اس کا کفارہ بنا دوں۔ نہیں بھئی، اب آپ نہیں کر سکتے معاملہ آپ کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ معاملہ آپ کے ہاتھ سے کیونکہ دو جنسیں مختلف جنسیں تھیں اور وہاں آپ نے نیت کی تھی اور وہاں نیت معتبر تھی، جب نیت معتبر تھی تو دونوں سے یہ غلام آزاد ہوا ہے ایک سے نہیں، تو اب آپ ایک کی طرف اس کو نہیں پھیر سکتے کیونکہ نیت پہلے کی جاتی ہے بعد میں نیت نہیں کی جاتی بھئی۔ فرق سمجھ میں آ رہا ہے؟ اگر ایک ہی جنس ہے دونوں ظہار ہیں اور اس کے اندر اس نے غلام آزاد کیا ہے اور دونوں کی نیت کی ہے لیکن پھر بھی یہ نیت لغو ہے، یہ دونوں سے نہیں ہوگا، بعد میں کسی ایک کی وہ نیت کر لیتا ہے تو اسی کا کفارہ ہو جائے گا اور دوسرے ظہار کا کفارہ باقی رہ گیا۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَلَهُمَا﴾ اور شیخین رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے: ﴿أَنَّ النِّيَّةَ فِي الْجِنْسِ الْوَاحِدِ لَغْوٌ﴾ کہ تعینِ نیت، نیت سے کیا مراد ہے؟ مطلق نیت نہیں، مطلق نیت تو ہونی چاہیے میں کفارہ ادا کر رہا ہوں، اگر کفارے کی نیت ہی نہیں کی تو پھر تو کفارہ ہی نہیں ادا ہوگا، کفارے کی نیت یہاں مراد نہیں ہے تعینِ نیت لغو ہے۔ توجہ ہے؟ وہ ایک ایک صاع دے رہا ہے اور تعین کر رہا ہے یہ دونوں کا کفارہ ہے، یہ تعینِ نیت لغو ہے، یہ تعینِ نیت دونوں کا کفارہ نہیں ادا ہوگا ایک کا کفارہ ادا ہوگا۔ تو ﴿وَلَهُمَا أَنَّ النِّيَّةَ فِي الْجِنْسِ الْوَاحِدِ لَغْوٌ وَفِي الْجِنْسَيْنِ مُعْتَبَرَةٌ﴾ شیخین رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے کہ جنسِ واحد کے اندر نیت لغو ہے یعنی تعینِ نیت لغو ہے، اور دو جنسوں کے اندر نیت معتبر ہے یعنی تعینِ نیت معتبر ہے، ﴿وَإِذَا لَغَتِ النِّيَّةُ وَالْمُؤَدَّى يَصْلُحُ كَفَّارَةً وَاحِدَةً﴾ اور جب نیت لغو ہو گئی اور وہ جو ادا کیا گیا ہے وہ صلاحیت رکھتا ہے ایک کفارے کی، ظہار کرنے والا ہر مسکین کو ایک ایک صاع دے رہا ہے اور نیت دونوں ظہاروں کے کفارے کی کر رہا ہے، لیکن جب جنسِ واحد ہو تو تعینِ نیت لغو ہو گئی۔ تو تعینِ نیت لغو ہو گئی، اور جب تعینِ نیت لغو ہو گئی اور یہ جو ادا کر رہا ہے یہ ایک کا کفارہ بننے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے، ایک کا کفارہ بننے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے بھئی، کس طرح ایک کا کفارہ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے؟ کہتے ہیں بھئی دیکھیے ہمیں شریعت نے ساٹھ مسکینوں کو کھلانے کا حکم دیا ہے اور ہر مسکین کو کتنا دیا جائے گا اگر گندم دینا چاہتا ہے؟ نصف صاع۔ لیکن کیا نصف صاع دینا ہی ضروری ہے یا اس سے زائد بھی دیا جا سکتا ہے؟ زائد بھی، کم نہیں ہونا چاہیے زائد دیا جا سکتا ہے بھئی۔ تو لہٰذا یوں سمجھا جائے گا یہ ایک ہی کا کفارہ دے رہا ہے البتہ ہر ایک کو کچھ زائد دے رہا ہے۔ بنتا تو نصف صاع تھا، یہ ایک ایک صاع دیتا جا رہا ہے کچھ زائد دیتا جا رہا ہے، تو لہٰذا یہ جو ادا کر رہا ہے اس کے اندر اس نے تعین کی نیت کی لیکن وہ نیت لغو ہو گئی۔ جب نیت لغو ہو گئی تو یہ مقدار تو ایک کا کفارہ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے، تو جب صلاحیت رکھتا ہے ایک کا کفارہ بننے کی تو ایک ہی کا کفارہ اس کو قرار دیا جائے گا بھئی۔ کہتے ہیں: ﴿وَإِذَا لَغَتِ النِّيَّةُ وَالْمُؤَدَّى يَصْلُحُ كَفَّارَةً وَاحِدَةً لِأَنَّ نِصْفَ صَاعٍ أَدْنَى الْمَقَادِيرِ فَيَمْنَعُ النُّقْصَانَ دُونَ الزِّيَادَةِ فَيَقَعُ عَنْهَا كَمَا إِذَا نَوَى أَصْلَ الْكَفَّارَةِ﴾ اور جب نیت لغو ہو گئی اور وہ جو ادا کیا گیا ہے وہ صلاحیت رکھتا ہے ایک کفارے کی، اس لیے کیونکہ نصف صاع جو ہے وہ تو کم سے کم مقدار ہے مقداروں میں سے کم سے کم مقدار ہے اتنا دینا پڑے گا، تو یہ کمی کو روکتا ہے نہ کہ زیادتی کو، کہ اس سے کم نہیں دے سکتے زیادہ دے سکتے ہیں زیادتی کو منع نہیں کرتا، تو لہٰذا یہ جو ادا کیا گیا ہے یہ ایک ہی کفارے سے ادا ہوگا ایک ہی کفارے سے واقع ہوگا، جیسے کہ وہ ظہار کرنے والا نیت کرے اصلِ کفارہ کی بھئی۔ ایک ہے اصلِ کفارہ کی نیت، ایک ہے تعینِ نیت۔ تعینِ نیت کیا تھی؟ کہ یہ دونوں کا کفارہ ہے۔ وہ تعینِ نیت لغو ہو گئی تو گویا اس نے صرف کفارے کی نیت کی ہے، تو جب صرف کفارے کی نیت کی ہے تو پھر ایک کفارہ ادا ہوگا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بھئی، آگے سبق انشاء اللہ کل پڑھیں گے۔ سبحانک اللھم وبحمدک نشھد ان لا الہ الا انت نستغفرک ونتوب الیک۔ ظہاروں کے میں کفارے دے رہا ہوں۔ ہر ایک کی دونوں کی تعین کر رہا تھا اور ایک اصل نیت اصل نیت یہ ہے کہ تعین نہیں کی، بس میں یہ کفارے کے طور پر دے رہا ہوں۔ جب مطلق کفارے کی نیت سے دے گا تو ایک ظہار کا کفارہ ادا ہوگا دونوں کا نہیں۔ یہ تو بالاتفاق ہے۔ جب مطلق کفارے کی نیت سے ادا کرے گا پھر تو امام محمد رحمہ اللہ بھی فرماتے ہیں ایک ہی کا کفارہ ادا ہوگا۔ ہاں اگر دونوں کی تعین کے ساتھ ادا کرے گا تو پھر امام محمد فرماتے ہیں دونوں کا کفارہ ادا ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں فَيَقَعُ عَنْهَا تو یہ ایک ہی کفارے سے واقع ہوگا یہ جو اس نے ادا کیا ہے كَمَا إِذَا نَوَى أَصْلَ الْكَفَّارَةِ یہ اسی طرح ہے جیسے یہ شخص اصل کفارہ کی نیت کرے، تعین کی نیت نہ کرے، صرف اصل کفارہ۔ یہ ایک ایک صاع دے رہا ہے لیکن صرف کفارے کی نیت کرتا ہے تو اس صورت میں تو بالاتفاق ایک ہی کا کفارہ ادا ہوگا دونوں کا نہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں كَمَا إِذَا نَوَى أَصْلَ الْكَفَّارَةِ جیسے کہ وہ شخص اصل کفارہ کی نیت کرے اور تعین کی نیت نہ کرے بِخِلَافِ مَا إِذَا فَرَّقَ فِي الدَّفْعِ بخلاف اس صورت کے کہ جب اس شخص نے جدا کر دیا فِي الدَّفْعِ دیتے ہوئے۔ پہلے نصف صاع دیا اور پھر دوبارہ الگ نصف صاع دیا دوسرے ظہار کی نیت سے، تو اس صورت میں دونوں سے ادا ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں بِخِلَافِ مَا إِذَا فَرَّقَ فِي الدَّفْعِ بخلاف اس صورت کے کہ اس نے جدا کر دیا فِي الدَّفْعِ حوالے کرنے میں لِأَنَّهُ فِي الدَّفْعَةِ الثَّانِيَةِ فِي حُكْمِ مِسْكِينٍ آخَرَ اس لیے کیونکہ یہ دوسری مرتبہ دینے میں دوسرے مسکین کے حکم میں ہوگا۔ پہلے ایک دفعہ ایک مسکین اس مسکین کو دے دیا نصف صاع، پھر جب دوبارہ نصف صاع دے رہا ہے تو یہ گویا ایک مسکین آخر ہے، کوئی دوسرا مسکین ہے۔ تو اس طرح دونوں کفارے ادا ہو جائیں گے بھئی۔ ہر مسکین کو دو دو دفعہ دے رہا ہے اور دوسری دفعہ جب دے رہا ہے تو گویا ایک نیا مسکین ہے۔ تو گویا ساٹھ مسکینوں کو نہیں دیا، ایک سو بیس کو دے دیا، اور جب ایک سو بیس کو دے دیا ہے تو دونوں کفارے ادا ہو گئے۔ آگے دیکھیے: وَمَنْ وَجَبَتْ عَلَيْهِ كَفَّارَتَا ظِهَارٍ فَأَعْتَقَ رَقَبَتَيْنِ صورت مسئلہ یہ: ایک شخص پر دو کفارے آئے تھے ظہار کے، اس نے دو غلام آزاد کر دیے لیکن تعین نہیں کی کہ یہ والا غلام کس ظہار سے ہے اور یہ والا غلام کس ظہار سے ہے۔ تو کہتے ہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، دونوں کفارے ادا ہو گئے۔ دونوں کفارے ادا ہو گئے کیونکہ دونوں کی جنس ایک ہے اور جب جنس ایک ہو تو وہاں تعین کی ضرورت نہیں کہ یہ والا غلام فلاں ظہار کا ہے اور یہ والا فلاں ظہار کا، اس کی ضرورت نہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں وَمَنْ وَجَبَتْ عَلَيْهِ كَفَّارَتَا ظِهَارٍ اور جس شخص پر ظہار کے دو کفارے واجب ہو گئے فَأَعْتَقَ رَقَبَتَيْنِ اس نے دو غلام آزاد کر دیے لَا يَنْوِي عَنْ إِحْدَاهُمَا بِعَيْنِهَا اور یہ شخص نیت نہیں کرتا ان دونوں ظہاروں میں سے کسی ایک کے بارے میں بھی بِعَيْنِهَا اس معین رقبے کی، کسی معین رقبے کی وہ تعین نہیں کرتا کہ یہ رقبہ اس ظہار کی طرف سے ہے اور یہ والا رقبہ اس ظہار سے۔ تو کہتے ہیں لَا يَنْوِي عَنْ إِحْدَاهُمَا بِعَيْنِهَا اور وہ نیت نہیں کرتا ان دونوں ظہاروں سے کسی ایک کسی معین غلام کی جَازَ عَنْهُمَا تو یہ غلام یہ دونوں کفاروں سے جائز ہو جائیں گے وَكَذَا إِذَا صَامَ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ اور اسی طرح ہے اگر اس شخص نے چار ماہ روزے رکھے۔ تعین نہیں کی، پہلے دو مہینے کس ظہار کے ہیں اور دوسرے دو مہینے کس کے ہیں کیونکہ دونوں کی جنس ایک ہے، دونوں ظہار کے کفارے ہیں، تو وہاں تعین نیت لغو ہے، اس کا کوئی اعتبار ہی نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں وَكَذَا إِذَا صَامَ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ اسی طرح جب اس نے چار ماہ روزے رکھے أَوْ أَطْعَمَ مِائَةً وَعِشْرِينَ مِسْكِينًا یا اس نے ایک سو بیس مسکینوں کو کھانا کھلا دیا جَازَ تو یہ بھی جائز ہے لِأَنَّ الْجِنْسَ مُتَّحِدٌ اس لیے کیونکہ یہاں کفارے کی جنس متحد ہے فَلَا حَاجَةَ إِلَى نِيَّةٍ مُعَيَّنَةٍ لہٰذا کوئی حاجت نہیں ہے کسی معین نیت کی۔ اصل نیت تو ہونی چاہیے کہ یہ میں کفارے میں کر رہا ہوں لیکن تعین کی حاجت نہیں ہے بھئی۔ وَإِنْ أَعْتَقَ عَنْهُمَا رَقَبَةً وَاحِدَةً یہ وہ مسئلہ آ گیا جو ابھی میں نے پہلے بھی ذکر کیا تھا بھئی۔ کہتے ہیں وَإِنْ أَعْتَقَ عَنْهُمَا رَقَبَةً وَاحِدَةً اور اگر اس شخص نے ایک ہی غلام یا باندی کو آزاد کیا عَنْهُمَا دونوں کفاروں سے۔ وَإِنْ أَعْتَقَ عَنْهُمَا اور اگر اس شخص نے ان دونوں کفاروں سے آزاد کیا رَقَبَةً وَاحِدَةً ایک ہی رقبہ کو أَوْ صَامَ شَهْرَيْنِ اور یا دو ماہ کے روزے رکھے، کتنے ظہار ہیں اس پر؟ دو، اور غلام ایک آزاد کیا یا صرف دو ماہ کے روزے رکھے اور نیت دونوں کی کی ہے کہ یہ دونوں سے ہے، تو کہتے ہیں یہ جنس چونکہ ایک ہے کفاروں کی لہٰذا تعین نیت لغو ہے۔ لہٰذا یہ دونوں سے نہیں ہوگا۔ تو بعد میں یہ جس ایک ظہار سے بھی اس کو کرنا چاہے اس اسی کی طرف اس کو پھیر دے۔ اگر وہ چاہتا ہے فلاں بیوی سے جو میں نے ظہار کیا تھا یہ کفارہ اس کی طرف سے ہو گیا تو وہ بیوی حلال ہو گئی اور دوسری ابھی بھی حلال نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں وَإِنْ أَعْتَقَ عَنْهُمَا رَقَبَةً وَاحِدَةً أَوْ صَامَ شَهْرَيْنِ اور اگر اس نے ان دو ظہاروں سے ایک ہی رقبہ آزاد کی یا دو ماہ کے روزے رکھے كَانَ لَهُ أَنْ يَجْعَلَ ذَلِكَ عَنْ أَيِّهِمَا شَاءَ تو اس شخص کے لیے جائز ہے کہ وہ اس کفارے کو قرار دے دے عَنْ أَيِّهِمَا شَاءَ ان دو ظہاروں میں سے جس کے لیے بھی چاہے۔ اس کفارے کو وہ ان دو ظہاروں میں سے جس کے لیے بھی چاہے قرار دے دے۔ توجہ ہے؟ دونوں کی جنس ایک تھی اور غلام آزاد کرتے ہوئے اس نے دونوں کی نیت کی ہے یا ساٹھ روزے رکھتے ہوئے اس نے دونوں کی نیت کی ہے لیکن یہ نیت تو لغو ہے۔ لہٰذا بعد میں یہ نیت کر سکتا ہے جس ظہار کی طرف بھی اس کو پھیرنا چاہے پھیر سکتا ہے۔ لیکن اگر اس کے بجائے دو الگ الگ جنسیں ہوئیں کفاروں کی، ایک کفارہ ہے ظہار کا اور ایک کفارہ ہے روزے کا، روزہ توڑا تھا۔ تو اب یہ شخص ایک غلام آزاد کرتا ہے دونوں کی طرف سے، تو اب جنسیں مختلف ہیں لہٰذا نیت معتبر۔ جب نیت معتبر ہے تو یہ دونوں طرف سے آزاد ہوا غلام۔ جب دونوں طرف سے آزاد ہوا تو نصف غلام ایک کفارے میں ہے اور نصف غلام دوسرے کفارے میں ہے، لہٰذا ایک بھی کفارہ ادا نہیں ہوا کیونکہ ہر ایک کفارے کے اندر پورا پورا غلام آزاد کرنا ضروری تھا۔ اور اب بعد میں یہ نیت کرتا ہے کہ چلو اچھا میں اس غلام کو پھر ظہار کی طرف پھیر دیتا ہوں، کہتے ہیں نہیں اب معاملہ اس کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ دو الگ الگ جنسیں تھیں اس نے آزاد کر دیا۔ جب آزاد کر رہا تھا اس وقت نیت ضروری تھی، بعد میں نیت کا اعتبار نہیں، لہٰذا یہ غلام دونوں کی طرف سے ہے یا یہ روزے دونوں کی طرف سے ہیں، لہٰذا کسی ایک کی طرف اب وہ ان کو نہیں پھیر سکتا بھئی۔ تو کہتے ہیں وَإِنْ أَعْتَقَ عَنْ ظِهَارٍ وَقَتْلٍ اور اگر اس نے ایک غلام یا باندی کو آزاد کیا عَنْ ظِهَارٍ وَقَتْلٍ ظہار اور قتل سے، بھئی جس طرح ظہار کا کفارہ تحریر رقبہ ہے اسی طرح قتل کا کفارہ بھی کیا ہے؟ تحریر رقبہ۔ تو ایک شخص نے ایک غلام یا باندی کو آزاد کیا ہے اور ظہار اور قتل دونوں کے کفاروں کی نیت کر لی، تو لہٰذا یہ دونوں سے ہو جائے گا اور جب دونوں سے ہوا تو نصف ایک کفارے میں ہو گیا اور نصف دوسرے کفارے میں، تو ایک بھی کفارہ ادا نہیں ہوا کیونکہ ہر کفارے میں پورا پورا غلام آزاد کرنا ضروری تھا اور بعد میں بھی اب وہ ان میں سے کسی ایک کی طرف اس کو نہیں پھیر سکتا کیونکہ معاملہ اس کے ہاتھ سے نکل چکا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں وَإِنْ أَعْتَقَ عَنْ ظِهَارٍ وَقَتْلٍ لَمْ يَجْزِ عَنْ وَاحِدٍ مِنْهُمَا اور اگر ایک ہی غلام یا باندی کو آزاد کیا ظہار سے بھی اور قتل سے بھی تو ان دونوں میں سے کسی ایک سے بھی یہ جائز نہیں ہوگا یعنی کوئی ایک کفارہ بھی ادا نہیں ہوا وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى لَا يُجْزِئُهُ عَنْ أَحَدِهِمَا فِي الْفَصْلَيْنِ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ کافی نہیں ہے کسی ایک سے بھی دونوں فصلوں میں، دونوں مسئلوں میں۔ بھئی ایک صورت کیا تھی؟ دو ظہار تھے اور ان کے لیے ایک غلام کو آزاد کیا یا ساٹھ روزے رکھے ہیں اور دونوں کی نیت کی ہے اور تو ہمارے نزدیک یہ نیت لغو ہے، بعد میں کسی ایک کی طرف پھیرنا چاہے تو پھیر سکتا ہے، لیکن اگر دونوں کفاروں کی جنس الگ الگ ہے، ایک قتل کا کفارہ ہے اور ایک ظہار کا کفارہ ہے اور اس میں ایک غلام یا باندی کو دونوں کی طرف سے آزاد کرتا ہے تو لہٰذا یہ دونوں کی طرف سے آزاد ہوگا، وہ بعد میں اب کسی ایک کی طرف اس کو نہیں پھیر سکتا۔ توجہ ہے؟ تو امام زفر فرماتے ہیں چاہے کفاروں کی جنس متحد ہو چاہے مختلف ہو، دونوں صورتوں میں جب اس نے دونوں کی نیت کی ہے تو دونوں کی طرف سے غلام آزاد ہوگا۔ جب دونوں کی طرف سے غلام آزاد ہوگا تو دونوں کفاروں میں سے ایک بھی ادا نہیں ہوا بھئی، کیونکہ ہر کفارے میں پورے غلام کا آزاد کرنا ہے نصف کا آزاد کرنا نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں لَا يُجْزِئُهُ عَنْ أَحَدِهِمَا فِي الْفَصْلَيْنِ کہ یہ کافی نہیں ہے ان دونوں میں سے کسی ایک سے بھی فِي الْفَصْلَيْنِ دونوں فصلوں میں یعنی چاہے متحد الجنس ہو یا مختلف الجنس ہو۔ وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں لَهُ أَنْ يَجْعَلَ ذَلِكَ عَنْ أَحَدِهِمَا فِي الْفَصْلَيْنِ کہ اس کے لیے جائز ہے کہ وہ اس کو کر دے دونوں فصلوں میں کسی ایک سے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تمام کفارات کی جنس ایک ہی ہے۔ ہمارے نزدیک تو کفارات کی جنس الگ ہے، سبب الگ ہوگا تو کفارے کی جنس بھی الگ۔ ایک کفارہ آیا ہے روزہ توڑنے کی وجہ سے، روزہ توڑنے کی وجہ سے اس میں بھی ساٹھ روزے آئے، ظہار کی وجہ سے بھی مثلاً کیا آئے؟ ساٹھ روزے۔ تو ہم کہیں گے یہ والے ساٹھ روزوں کی جنس الگ ہے کیونکہ ان کا سبب الگ ہے، یہ روزہ توڑنے کی وجہ سے آئے ہیں، اور دوسرے ظہار کی وجہ سے جو ساٹھ روزے آئے ہیں ان کی جنس الگ ہے کیونکہ ان کا سبب ظہار ہے بھئی۔ تو کفارے کی جنس ہمارے نزدیک بدل جاتی ہے سبب کے بدلنے سے۔ سبب الگ تو کفارہ بھی الگ جنس شمار ہوگا، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں، تمام کفارات کی ایک ہی جنس ہے، سب کا ایک ہی مقصد ہے اور وہ ہے گناہ پر پردہ ڈالنا، گناہ کے اثر کو ختم کرنا۔ اس نے ظہار کیا ہے، کفارہ دے گا تو اس گناہ کا اثر ختم ہو جائے گا۔ اور اسی طرح اس نے روزہ توڑا ہے، کفارہ دے گا تو یہ گناہ کا اثر ختم ہو جائے گا، اس گناہ پر پردہ پڑ جائے گا۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک تمام کفارات کی جنس ایک ہی ہے۔ اور جب جنس ایک ہو تو بعد میں جس طرف بھی آپ پھیرنا چاہیں پھیر سکتے ہیں۔ جیسے دو ظہار تھے ایک غلام آزاد کیا دونوں کی نیت کر کے، تو دونوں میں سے جس کی طرف پھیرنا چاہے اس کو پھیر سکتا ہے۔ اسی طرح اگر ایک قتل کا کفارہ ہے اور ایک ظہار کا کفارہ ہے اور یہ ایک ہی غلام آزاد کرتا ہے تو ہمارے نزدیک کفاروں کی جنس الگ ہے لہٰذا یہاں پر نیت معتبر ہے تو جب دونوں کی نیت کی ہے تو دونوں طرف سے آزاد ہوگا ایک کی طرف اب نہیں پھیر سکتا، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں دونوں کی جنس ایک ہی ہے کیونکہ دونوں کفارے ہیں، تو لہٰذا بعد میں بھی جس کی طرف پھیرنا چاہے پھیر سکتا ہے، وہ قتل کا کفارہ قرار دے دے گا تو وہ قتل کا کفارہ ادا ہو گیا اور ظہار کا رہ گیا، اور اگر ظہار کا اس کو قرار دے دیتا ہے تو ظہار کا کفارہ ادا ہو گیا اور قتل کا رہ گیا۔ تو کہتے ہیں وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں لَهُ أَنْ يَجْعَلَ ذَلِكَ عَنْ أَحَدِهِمَا فِي الْفَصْلَيْنِ کہ اس کے لیے جائز ہے کہ وہ دونوں فصلوں کے اندر ان دونوں میں سے کسی ایک سے اس کو کر دے لِأَنَّ الْكَفَّارَاتِ كُلَّهَا بِاعْتِبَارِ اتِّحَادِ الْمَقْصُودِ جِنْسٌ وَاحِدٌ لِأَنَّ الْكَفَّارَاتِ كُلَّهَا اس لیے کیونکہ سارے کے سارے جو کفارات ہیں بِاعْتِبَارِ اتِّحَادِ الْمَقْصُودِ مقصد کے متحد ہونے کے اعتبار سے جِنْسٌ وَاحِدٌ ایک ہی جنس ہیں، کہ ان کا مقصد کیا ہے؟ ان سب کا مقصد ایک ہی ہے اور وہ گناہ پر پردہ ڈالنا ہے، گناہ کے اثر کو ختم کرنا ہے بھئی۔ تو دیکھیے میں نے عبارت کیا پڑھی: لِأَنَّ الْكَفَّارَاتِ كُلَّهَا، یہ كُلَّهَا یہ تاکید ہے الْكَفَّارَاتِ کی، اور مؤکد تاکید کا اعراب ایک ہوتا ہے تو آپ کے ذہن میں آئے گا کہ الْكَفَّارَاتِ یہ تو مجرور ہے اور كُلَّهَا یہ تو منصوب ہے اور تاکید کا تو وہی اعراب ہوتا ہے جو مؤکد کا ہوتا ہے، تو یاد رکھنا یہ الْكَفَّارَاتِ یہ مجرور نہیں ہے یہ بھی منصوب ہے کیونکہ یہ أَنَّ کا اسم ہے اور البتہ یہ جمع مؤنث سالم ہے اور جمع مؤنث سالم کا نصب آتا ہی کسرہ کی شکل میں ہے تو یہ ہے نصب ہی، یہ جر نہیں ہے تو یہ الْكَفَّارَاتِ یہ بھی منصوب اور كُلَّهَا یہ بھی منصوب ہے تو مؤکد اور تاکید کا ایک ہی اعراب ہے۔ تو کہتے ہیں لِأَنَّ الْكَفَّارَاتِ كُلَّهَا بِاعْتِبَارِ اتِّحَادِ الْمَقْصُودِ جِنْسٌ وَاحِدٌ اس لیے کیونکہ سارے کفارات جو ہیں وہ مقصد کے متحد ہونے کے اعتبار سے ایک ہی جنس ہیں وَوَجْهُ قَوْلِ زُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ اور امام زفر رحمہ اللہ کے قول کی وجہ یہ ہے، وہ فرماتے تھے کسی ایک کی طرف بھی نہیں پھیر سکتا، چاہے متحد الجنس ہوں چاہے مختلف الجنس ہوں۔ کہتے ہیں وَوَجْهُ قَوْلِ زُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ اور امام زفر رحمہ اللہ کے قول کی وجہ یہ ہے أَنَّهُ أَعْتَقَ عَنْ كُلِّ ظِهَارٍ نِصْفَ الْعَبْدِ کہ اس نے آزاد کیا ہے ہر ظہار سے نصف غلام کو وَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَجْعَلَ عَنْ أَحَدِهِمَا اور اس کے لیے اب یہ جائز نہیں ہے کہ یہ اس اعتاق کو قرار دے دے عَنْ أَحَدِهِمَا کسی ایک سے بَعْدَمَا أَعْتَقَ عَنْهُمَا بعد اس کے کہ جب اس نے دونوں سے آزاد کیا تھا، جب دونوں سے آزاد کیا تھا تو یہ دونوں سے ہی شمار ہوگا اب کسی ایک کی طرف وہ اس کو نہیں پھیر سکتا بھئی۔ تو کہتے ہیں وَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَجْعَلَ عَنْ أَحَدِهِمَا بَعْدَمَا أَعْتَقَ عَنْهُمَا اور اس کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ ان دونوں میں سے کسی ایک کے لیے اس کو قرار دے دے بعد اس کے کہ جب اس نے دونوں سے آزاد کیا تھا، جب دونوں سے آزاد کیا تو دونوں سے ہی ہوگا کسی ایک سے وہ اس کو قرار نہیں دے سکتا لِخُرُوجِ الْأَمْرِ مِنْ يَدِهِ اس لیے کیونکہ معاملہ اس کے ہاتھ سے نکل گیا ہے، جب آزاد کر رہا تھا اس وقت نیت کرنی چاہیے تھی بھئی، بعد میں تو نیت کی بھی جائے اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے بھئی۔ وَلَنَا اب ہماری دلیل آ گئی، وَلَنَا اور ہماری دلیل یہ ہے أَنَّ نِيَّةَ التَّعْيِينِ فِي الْجِنْسِ الْمُتَّحِدِ غَيْرُ مُفِيدٍ کہ تعین کی نیت جو ہے فِي الْجِنْسِ الْمُتَّحِدِ ایک ہی جنس کے اندر غَيْرُ مُفِيدٍ وہ فائدہ نہیں دیتی۔ ایک ہی جنس کے اندر تعین نیت غَيْرُ مُفِيدٍ یہ فائدہ نہیں دیتی فَتَلْغُو تو یہ لغو ہو جائے گی وَفِي الْجِنْسِ الْمُخْتَلِفِ مُفِيدٌ اور مختلف جنسوں کے اندر تعین نیت فائدہ دیتی ہے وَاخْتِلَافُ الْجِنْسِ فِي الْحُكْمِ وَهُوَ الْكَفَّارَةُ هَاهُنَا بِاخْتِلَافِ السَّبَبِ یہاں سے یہ بیان کر رہے ہیں کہ بھئی قتل کے اندر بھی غلام یا باندی کو آزاد کرنا ہے اور ظہار کے اندر بھی غلام یا باندی کو آزاد کرنا ہے، توجہ ہے؟ تو لہٰذا یہ تو کفارے دونوں ایک جیسے ہیں تو پھر آپ ان کو الگ الگ جنسیں کیسے قرار دیتے ہیں؟ تو وجہ میں نے ذکر کر دی کہ کفارے کے سبب کو دیکھا جائے گا۔ کفارہ آیا کس وجہ سے ہے؟ اگر وہ سبب الگ تو یہ جنس بھی الگ ہے۔ تو ظہار کی وجہ سے بھی غلام کو آزاد کرنا پڑتا ہے اور قتل کی وجہ سے بھی غلام یا باندی کو آزاد کرنا پڑے گا لیکن ہر ایک کا سبب الگ ہے تو یہ اس کو الگ جنس شمار کریں گے۔ تو کہتے ہیں وَاخْتِلَافُ الْجِنْسِ اور جنسوں کا مختلف ہونا فِي الْحُكْمِ حکم میں، بھئی قتل کا کفارہ بھی کیا ہے؟ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ، مومن غلام یا باندی کو آزاد کرنا، اور ظہار کا کفارہ بھی کیا ہے؟ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ، ایک غلام یا باندی کو آزاد کرنا ہے تو لہٰذا یہ جو جنسیں مختلف ہیں یہ ہم حکم لگا رہے ہیں، ظاہر میں تو دونوں میں کیا ہے؟ ظاہر میں تو دونوں میں تحریر رقبہ ہے لیکن ہم حکم لگا رہے ہیں کہ یہ مختلف ہیں، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو حکم کے اعتبار سے جنسیں مختلف ہیں اور وہ کس اعتبار سے مختلف ہیں؟ سبب کے اعتبار سے۔ تو کہتے ہیں وَاخْتِلَافُ الْجِنْسِ فِي الْحُكْمِ اور یہ جنسوں کا مختلف ہونا فِي الْحُكْمِ کس چیز میں؟ حکم کے اندر، یعنی یہ ہم حکم اس میں جو لگا رہے ہیں کہ یہ جنسیں مختلف ہیں وَهُوَ الْكَفَّارَةُ هَاهُنَا اور وہ جنس جس کی مختلف ہے وہ کیا چیز ہے یہاں پر؟ وَهُوَ الْكَفَّارَةُ هَاهُنَا یہاں کفارہ ہے وہ جس کی ہم بات کر رہے ہیں، وہ بِاخْتِلَافِ السَّبَبِ وہ سبب کے مختلف ہونے سے ہوتا ہے۔ وَاخْتِلَافُ الْجِنْسِ فِي الْحُكْمِ اور جنس کا مختلف ہونا حکم میں بِاخْتِلَافِ السَّبَبِ یہ کس وجہ سے ہوتا ہے؟ سبب کے مختلف ہونے سے۔ تو درمیان میں وَهُوَ الْكَفَّارَةُ هَاهُنَا درمیان میں بتلا دیا کہ یہاں پر جس جنس کی بات ہو رہی ہے وہ یہاں کفارہ ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں وَاخْتِلَافُ الْجِنْسِ فِي الْحُكْمِ اور حکم کے اندر جنس کا مختلف ہونا وَهُوَ الْكَفَّارَةُ هَاهُنَا اور وہ جنس یہاں پر کفارہ ہے تو اس کا حکم میں مختلف ہونا بِاخْتِلَافِ السَّبَبِ وہ سبب کے مختلف ہونے سے ہوگا نَظِيرُ الْأَوَّلِ پہلے کی نظیر یعنی متحد الجنس کی نظیر بھئی کہتے ہیں إِذَا صَامَ يَوْمًا صورت مسئلہ یہ: ایک شخص جو ہے اس پر رمضان کے دو روزے باقی ہیں، اس کے ذمے قضا ہیں، وہ سفر پر تھا تو رمضان کے دو روزے نہ رکھ سکا، اب بعد میں وہ ان کی قضا کرنا چاہتا ہے تو یہ دونوں روزے متحد الجنس ہیں۔ دونوں کی قضا کیوں آئی؟ دونوں کی قضا کیوں آئی؟ رمضان کا روزہ چھوڑا ہے، پہلا بھی اسی لیے واجب اور دوسرا بھی اسی لیے واجب ہے تو دونوں متحد الجنس ہیں، جب متحد الجنس ہیں تو وہاں تعین کی کوئی ضرورت نہیں۔ یہ شخص جب بعد میں قضا کرے تو تعین کی ضرورت نہیں کہ یہ وہ میں نے پہلے روزہ جو چھوڑا تھا اس کے لیے قضا کر رہا ہوں اور یہ جو میں نے دوسرا روزہ چھوڑا تھا اب میں اس کی قضا کر رہا ہوں، نہیں کوئی تعین کی ضرورت نہیں، بس ایک روزہ قضا کی نیت سے رکھ لے تو ان دونوں میں سے ایک ہو گیا ایک رہ گیا، پھر دوسرا بھی رکھ لے گا تو دوسرا بھی ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں وَنَظِيرُ الْأَوَّلِ اور پہلے کی نظیر یعنی جن کی جنس متحد ہو إِذَا صَامَ يَوْمًا فِي قَضَاءِ رَمَضَانَ عَنْ يَوْمَيْنِ جب کسی شخص نے ایک روزہ رکھا فِي قَضَاءِ رَمَضَانَ قضاء رمضان میں کہ وہ رمضان کی قضا کر رہا ہے عَنْ يَوْمَيْنِ دو دن سے، قضا کتنے ہوئے تھے؟ دو روزے، تو دو دن قضا سے اس نے ایک روزہ رکھا يُجْزِئُهُ عَنْ قَضَاءِ يَوْمٍ وَاحِدٍ تو یہ کافی ہو جائے گا اس کے لیے ایک دن کی قضا سے۔ یہاں کوئی تعین کی ضرورت نہیں، جیسے ایک روزہ رکھے گا تو ایک کی قضا ہو گئی تو جب دوسرے کی قضا کرے گا تو وہ بھی اس کی بھی قضا ہو جائے گی بھئی۔ وَنَظِيرُ الثَّانِي اور دوسرے کی نظیر یعنی جن کی جنسیں مختلف ہوں إِذَا كَانَ عَلَيْهِ صَوْمُ الْقَضَاءِ وَالنَّذْرِ جیسے ایک شخص جو ہے اس پر قضا کا بھی روزہ ہے وَالنَّذْرِ اور منت کا بھی روزہ ہے، اس نے ویسے ہی اللہ کے لیے اپنے اوپر ایک روزہ لازم کر لیا تھا کہ میں اللہ کے لیے ایک روزہ رکھوں گا تو یہ روزہ اب اس پر لازم ہو گیا، یا اس نے کہا تھا اگر میرا فلاں کام ہو گیا تو میں ایک روزہ رکھوں گا اور پھر وہ کام ہو گیا تو اب اس کے ذمے ایک روزہ لازم ہے اور نیز اس کے ذمے رمضان کا ایک قضا روزہ بھی ہے۔ اب دونوں کی جنسیں الگ الگ ہیں بھئی، ایک روزہ رمضان کا روزہ چھوڑنے کی وجہ سے قضا کرنا پڑے گا اور ایک روزے کا سبب منت ہے تو دونوں کی جنسیں الگ ہیں، جب جنسیں الگ ہیں تو لہٰذا اب رات سے ہی تعین کرنا پڑے گی کہ یہ میں روزہ رمضان کا روزہ رکھ رہا ہوں یا منت کا رکھ رہا ہوں، وہ رات سے ہی تعین ضروری ہے۔ اگر نیت نہیں کرے گا تو کسی ایک سے بھی وہ نہیں ہوگا بھئی۔ تو کہتے ہیں وَنَظِيرُ الثَّانِي اور دوسرے کی نظیر جو ہے إِذَا كَانَ عَلَيْهِ صَوْمُ الْقَضَاءِ وَالنَّذْرِ کہ جب اس شخص پر ایک قضا روزہ ہے وَالنَّذْرِ اور ایک منت کا روزہ ہے فَإِنَّهُ لَا بُدَّ فِيهِ مِنَ التَّمْيِيزِ تو اس کے اندر جو ہے امتیاز کرنا ضروری ہے، ان کے اندر فرق کرنا ضروری ہے نیت کے ذریعے، وَاللَّهُ أَعْلَمُ اور اللہ خوب جاننے والے ہیں۔ بَابُ اللِّعَانِ یہ باب ہے لعان کے بارے میں۔ اچھا بھئی بَابُ اللِّعَانِ، بھئی لعان کا ذکر آ گیا۔ بھئی دیکھیے ایک شخص اگر کسی اجنبیہ عورت پر زنا کی تہمت لگائے یا کسی اجنبی شخص پر زنا کی تہمت لگائے تو اس صورت میں وہ شخص اس کو قاضی کے پاس لے جا سکتا ہے کہ قاضی صاحب اس نے مجھ پر زنا کا الزام لگایا ہے، تو قاضی اس شخص سے گواہ طلب کرے گا کہ چار گواہ پیش کرو، اگر یہ شخص گواہ نہ پیش کر سکے تو پھر اس پر حد قذف جاری کی جائے گی یعنی اس کو اسی کوڑے لگائے جائیں گے بھئی، اور نیز زندگی بھر اب اس کی گواہی کسی بھی معاملے میں قبول نہیں کی جائے گی۔ لیکن اگر کوئی خاوند جو ہے اپنی بیوی کے پاس کسی آدمی کو آتے جاتے دیکھ لے یا زنا کرتے دیکھ لے، اب اس کے پاس تو کوئی گواہ نہیں، اس کے پاس تو کوئی گواہ موجود نہیں ہے تو اس کے لیے پھر اللہ تعالیٰ نے لعان کا حکم نازل فرمایا کہ اگر خاوند بیوی پر زنا کا الزام لگاتا ہے تو اب خاوند سے چار گواہ نہیں طلب کیے جائیں گے، خاوند کہاں سے چار گواہ لے کر آئے گا، لہٰذا وہاں دونوں میں لعان کروایا جائے گا۔ اور لعان آگے صاحب ہدایہ آپ کو بتلائیں گے، لعان یہ ہے: وہ چار شہادتیں ہوں گی اس میں، پہلے خاوند چار شہادتیں دے گا قسم کے ساتھ کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ واللہ میں نے اس عورت پر جو زنا کا الزام لگایا ہے میں اس میں سچا ہوں، پھر دوبارہ اسی طرح کہے گا کہ میں گواہی دیتا ہوں واللہ میں نے اس عورت پر جو زنا کا الزام لگایا ہے میں اس میں سچا ہوں، چار اس طرح گواہیاں دے دے گا خاوند تو اس کے بعد پانچویں مرتبہ کہے گا کہ اگر میں نے اس عورت پر جو زنا کا الزام لگایا ہے اس میں میں جھوٹا ہوں تو مجھ پر اللہ کی لعنت ہو بھئی، تو یہ خاوند کہے گا۔ اس کے بعد پھر بیوی اسی طرح کہے گی، بیوی کہے گی کہ میں گواہی دیتی ہوں کہ واللہ اس شخص نے مجھ پر جو زنا کا الزام لگایا ہے یہ اس میں جھوٹا ہے، تو اس طرح چار شہادتیں دے گی قسم کے ساتھ۔ تو چار شہادتیں جب دے دے اس کے بعد پانچویں مرتبہ میں وہ کہے گی کہ اس شخص نے مجھ پر جو زنا کا الزام لگایا ہے اگر اس کے اندر یہ سچا ہے تو مجھ پر اللہ کا غضب نازل ہو بھئی۔ تو اس کو کہتے ہیں لعان بھئی، اور اس کے بعد پھر قاضی ان میں جدائی کروا دے گا۔ اور جب جدائی کروا دے گا تو اب یہ دونوں ایک دوسرے پر حرام ہو گئے، اب آپس میں نکاح نہیں کر سکتے۔ لیکن اگر خاوند اپنے آپ کو جھٹلا دیتا ہے یا بیوی اپنے آپ کو جھٹلا دیتی ہے بعد میں کہتی ہے کہ میں نے جھوٹ بولا تھا تو پھر اس صورت میں پھر اس صورت میں نکاح کی گنجائش ہوگی، پھر دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ صاحب ہدایہ ذکر فرمائیں گے۔ تو چنانچہ ان کا حکم اللہ قرآن میں بیان فرماتے ہیں سورۂ نور کے اندر بھئی، سورۂ نور کے اندر آغاز ہی میں اللہ فرماتے ہیں: وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ اور وہ لوگ جو پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگاتے ہیں ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ پھر اس کے بعد وہ چار گواہ نہ لے کر آئیں فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً تو پھر ان کو اسی کوڑے لگاؤ وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا اور ان کی گواہی کبھی بھی قبول نہ کرو۔ تو عند الاحناف حد کے اندر اسی کوڑے بھی لگائے جائیں گے اور پھر زندگی بھر اب اس شخص کی گواہی کسی بھی معاملے میں قبول نہیں کی جائے گی، تو گواہی کا قبول نہ کرنا یہ باقاعدہ حد کا حصہ ہے عند الاحناف، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو پہلے یہی حکم تھا بھئی کہ جو شخص بھی کسی عورت پر زنا کا الزام لگائے گا اس کو چار گواہ پیش کرنا پڑیں گے ورنہ اس کو اسی کوڑے لگائے جائیں گے، لیکن بعد میں اللہ نے دوسرا حکم نازل فرمایا کہ اگر کوئی خاوند جو ہے وہ اپنی بیوی پر اس طرح کا الزام لگاتا ہے تو اس کے پاس تو چار گواہ نہیں ہو سکتے تو اس کے لیے اللہ نے الگ حکم نازل فرمایا، تو وہ آگے پھر اللہ فرماتے ہیں: وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ اور وہ لوگ جو تہمت لگاتے ہیں أَزْوَاجَهُمْ اپنی بیویوں پر وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنْفُسُهُمْ اور ان کے پاس اور گواہ نہیں ہے سوائے اپنی جانوں کے، وہ خود ہی گواہ ہیں اور کوئی گواہ نہیں ہے فَشَهَادَةُ أَحَدِهِمْ أَرْبَعُ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ تو ان میں سے ہر ایک کی گواہی جو ہے وہ چار گواہیاں ہوں گی بِاللَّهِ اللہ کے نام کے ساتھ یعنی اللہ کی قسم کے ساتھ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ کہ وہ سچوں میں سے ہے وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَتَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ اور پانچویں مرتبہ وہ یہ کہے گا کہ اس پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹوں میں سے ہے وَيَدْرَأُ عَنْهَا الْعَذَابَ اور عورت سے بھی سزا جو ہے وہ ختم ہو جائے گی، ٹل جائے گی أَنْ تَشْهَدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ کہ وہ گواہی دے بھئی چار گواہیاں بِاللَّهِ اللہ کے نام کے ساتھ إِنَّهُ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ کہ یہ شخص جھوٹوں میں سے ہے بھئی وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ اور پانچویں مرتبہ یہ کہے گی کہ اس پر اللہ کا غضب ہو اگر یہ شخص سچوں میں سے ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو اگر کوئی خاوند بیوی پر زنا کا الزام لگاتا ہے تو اس کے لیے اللہ نے یہ حکم نازل فرمایا اور اس کو لعان کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ لعان بھئی، تو یہ جو لعان ہے یہ عند الاحناف یہ شہادتوں کا نام ہے جن کے ساتھ قسم بھی کھائی جائے گی بھئی، شہادت بھی ہے اور ساتھ قسم بھی کھائی جائے گی۔ تو کہتے ہیں بَابُ اللِّعَانِ قَالَ: إِذَا قَذَفَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ بِالزِّنَا صاحب قدوری فرماتے ہیں إِذَا قَذَفَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ بِالزِّنَا جب ایک شخص نے تہمت لگائی اپنی بیوی پر زنا کی وَهُمَا مِنْ أَهْلِ الشَّهَادَةِ اس حال میں کہ یہ دونوں اہل شہادت میں سے ہیں یعنی دونوں میں شہادت کی صلاحیت ہے بھئی، گواہ بن سکتے ہیں۔ گواہ کون بن سکتا ہے؟ جہاں نکاح کا باب ہم نے شروع کیا تھا وہاں آپ نے پڑھا تھا کہ نکاح میں دو گواہوں کا ہونا ضروری اور اس کی شرائط ذکر ہوئی تھیں، کون سی شرائط ہیں؟ آزاد ہو، غلام جو ہے وہ گواہی نہیں دے سکتا۔ عاقل ہو، مجنون نکل گیا۔ بالغ ہو، نابالغ نکل گیا۔ اور مسلمان ہو، تو کافر نکل گیا بھئی۔ تو گواہ کے اندر یہ چار شرطوں کا ہونا ضروری ہے پھر ہی اس کی گواہی قبول کی جائے گی۔ تو کہتے ہیں وَهُمَا مِنْ أَهْلِ الشَّهَادَةِ اس حال میں کہ یہ دونوں کیا ہوں؟ یہ خاوند اور بیوی دونوں اہل شہادت میں سے ہونے چاہئیں۔ بھئی دیکھیے یہ جو خاوند نے کلمات کہنے ہیں وہ بھی شہادتیں ہیں اور بیوی نے جو کلمات کہنے ہیں وہ بھی شہادتیں ہیں، لہٰذا یہ اہل شہادت ہوں گے تو پھر ہی یہ شہادتیں ادا کر سکتے ہیں، اگر یہ اہل شہادت ہی نہیں ہیں تو پھر لعان بھی نہیں ہوگا بھئی، پھر لعان نہیں ہوگا بھئی، لعان میں ضروری ہے کہ دونوں اہل شہادت ہوں بھئی۔ مثلاً بیوی جو ہے وہ یہودیہ یا عیسائی ہے تو وہ تو مسلمان نہ ہوئی حالانکہ گواہ کے لیے کیا ضروری؟ آزاد، عاقل، بالغ اور مسلمان ہونا، تو اگر بیوی یہودیہ یا عیسائی ہے اور اس پر خاوند نے اس پر خاوند نے زنا کی تہمت لگائی ہے تو پھر اب لعان نہیں ہوگا کیونکہ بیوی اہل شہادت ہی نہیں ہے بھئی، تو پھر یہاں پر خاوند پر حد جاری ہوگی، حد قذف جاری ہوگی۔ تو کہتے ہیں وَهُمَا مِنْ أَهْلِ الشَّهَادَةِ اس حال میں کہ یہ دونوں اہل شہادت میں سے ہیں وَالْمَرْأَةُ مِمَّنْ يُحَدُّ قَاذِفُهَا اور عورت ان عورتوں میں سے ہے يُحَدُّ قَاذِفُهَا کہ حد لگائی جاتی ہے اس پر تہمت لگانے والے پر یعنی پاک دامن عورت ہے۔ بھئی اگر ایک عورت جو ہے اس نے پہلے زنا کیا تھا اور وہ ثابت بھی ہو گیا تھا اور اس کو زنا کی سزا بھی ملی تھی، اس کو سو کوڑے بھی اس کو لگ گئے تھے، تو اس عورت کو اگر کوئی زانیہ کہتا ہے تو پھر اس صورت میں حد قذف نہیں آتی بھئی، کیونکہ یہ عورت پاک دامن نہیں ہے یہ زنا کر چکی ہے پہلے بھئی، تو لہٰذا ضروری ہے کہ خاوند جب بیوی پر زنا کی تہمت لگائے تو لعان تبھی ہوگا جب دونوں اہل شہادت بھی ہوں اور نیز بیوی ان عورتوں میں سے ہو کہ اس پر زنا کا الزام لگانے والے پر حد آتی ہو بھئی، حد آتی ہو تو اس کے لیے یاد رکھو، یاد رکھو احصان الرجم۔ عورت محصنہ ہونی چاہیے، کیا؟ محصن، محصن کا معنی ہے پاک دامن، مرد ہو تو محصن، عورت ہو تو محصنہ، ص کے ساتھ ہے۔ اور یہ پھر یاد رکھنا یہ احسان بھئی یہ احسان دو قسم پر ہے: ایک احصان القذف ہے اور ایک احصان الرجم ہے۔ ایک احصان القذف ہے اور ایک احصان الرجم ہے۔ احصان القذف یہ عورت کے اندر ہوگا تو پھر ہی اس پر جو زنا کا الزام لگائے گا اس پر حد جاری ہوگی، اسی کوڑے لگیں گے۔ اگر عورت محصنہ نہیں، پاک دامن نہیں ہے، اس میں احصان القذف موجود نہیں تو پھر اس پر حد نہیں آئے گی۔ جیسے میں نے مثال ذکر کی، ایک عورت ہے اس نے زنا کیا تھا اور وہ ثابت بھی ہوا تھا اور اس کو سو کوڑے بھی لگے تھے، اس عورت کو اگر کوئی زانیہ کہتا ہے تو اس عورت کو زانیہ کہنے والے پر حد قذف نہیں لگے گی کیونکہ وہ سچ بول رہا ہے وہ کوئی جھوٹ نہیں بول رہا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ لہٰذا یہ جو بیوی ہے یہ ان عورتوں میں سے ہونی چاہیے کہ جس پر زنا کا الزام لگانے والے پر حد آتی ہو یعنی یہ محصنہ ہو، کیا ہو؟ محصنہ۔ اور اس میں پانچ شرطیں ہیں، پانچ شرطیں ہیں، وہی جو گواہ کے اندر چار شرطیں تھیں: آزاد، عاقل، بالغ، مسلمان اور پانچویں شرط ہے پاک دامن ہو، عفیفہ ہو یعنی اس نے زنا نہیں کیا یعنی اس پر زنا ثابت نہیں ہوا بھئی، تو یہ احصان القذف ہے بھئی۔ جس عورت میں یہ صفات ہوں گی اس پر کوئی الزام لگائے گا زنا کا تو اس کو گواہ پیش کرنے پڑیں گے ورنہ اس پر حد قذف لگے گی۔ تو کہتے ہیں وَالْمَرْأَةُ مِمَّنْ يُحَدُّ قَاذِفُهَا اور عورت جو ہے وہ ان عورتوں میں سے ہو کہ حد لگائی جاتی ہو ان پر تہمت لگانے والے کو أَوْ نَفَى نَسَبَ وَلَدِهَا یا خاوند نے اس عورت کے اولاد کی کے نسب کی نفی کر دی، عورت نے بچے کو جنم دیا اور خاوند نے کہا یہ میری اولاد نہیں، یہ میری اولاد نہیں، تو یہ اولاد کی نفی بھی حقیقت میں زنا ہی کا الزام ہے بھئی۔ اس نے کہا تو نہیں کہ تو نے زنا کیا ہے لیکن اولاد کی نفی کرنے کا معنی ہی یہ ہے معلوم ہوا وہ بیوی پر زنا کا الزام لگا رہا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں أَوْ نَفَى نَسَبَ وَلَدِهَا یا خاوند نے اس عورت کی اولاد کے نسب کی نفی کی، یاد رکھو صاحب ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ خاوند اپنے سے اولاد کے نسب کی نفی کر سکتا ہے لیکن یہ بچے کی پیدائش کے ابتدائی دنوں میں۔ جب بچہ پیدا ہوا انہی دنوں میں خاوند کہتا ہے یہ میری اولاد نہیں تو اب قاضی کے پاس جائیں گے اور جا کر لعان کریں گے اور لعان کے بعد پھر قاضی ان میں جدائی بھی کروا دے گا اور اس بچے کا نسب خاوند سے کاٹ کر صرف عورت کے ساتھ جوڑ دیا جائے گا، اب یہ صرف اس عورت کا بچہ شمار ہوگا خاوند کا بچہ شمار نہیں ہوگا بھئی۔ لیکن یہ بچے کی پیدائش کے ابتدائی دنوں میں اس طرح وہ نسب کی نفی کر سکتا ہے، بعد میں نفی نہیں کر سکتا بھئی۔ تو کہتے ہیں أَوْ نَفَى نَسَبَ وَلَدِهَا یا خاوند نے اس عورت کی اولاد کے نسب کی نفی کر دی وَطَالَبَتْهُ بِمُوجَبِ الْقَذْفِ وَطَالَبَتْهُ اور عورت نے خاوند سے مطالبہ کیا بِمُوجَبِ الْقَذْفِ تہمت لگانے کے مقتضی کا کہ تم نے مجھ پر تہمت لگائی ہے اب چلو میرے ساتھ قاضی کے پاس، مقدمہ کر دیتی ہے وہ بھئی۔ تو کہتے ہیں وَطَالَبَتْهُ بِمُوجَبِ الْقَذْفِ اور اس عورت نے خاوند سے مطالبہ کیا بِمُوجَبِ الْقَذْفِ، موجب کہتے ہیں مقتضی یعنی حکم، تو اس نے مطالبہ کیا بِمُوجَبِ الْقَذْفِ قذف کے حکم کا، تو موجب کا ترجمہ حکم کے کر لیں یا مقتضی کے، دونوں ترجمے آپ کر سکتے ہیں۔ تو کہتے ہیں وَطَالَبَتْهُ بِمُوجَبِ الْقَذْفِ اور اس عورت نے قذف کے مقتضی یا قذف کے حکم کا مطالبہ کیا فَعَلَيْهِ اللِّعَانُ تو اس خاوند پر لعان واجب ہے وَالْأَصْلُ اور اصل یہ ہے أَنَّ اللِّعَانَ عِنْدَنَا شَهَادَاتٌ مُؤَكَّدَاتٌ بِالْأَيْمَانِ کہ لعان جو ہے ہمارے نزدیک شَهَادَاتٌ ایسی شہادتیں ہیں مُؤَكَّدَاتٌ بِالْأَيْمَانِ جن کو پختہ کیا گیا ہو قسموں کے ساتھ، شہادت بھی ہوگی اور قسم بھی ہوگی، تو ہمارے نزدیک لعان جو ہے وہ ایسی شہادتیں ہیں مُؤَكَّدَاتٌ بِالْأَيْمَانِ جن کو قسموں کے ساتھ پختہ کیا گیا ہو مَقْرُونَةٌ بِاللَّعْنِ اور وہ ملی ہوئی ہوں لعنت کے ساتھ قَائِمَةٌ مَقَامَ حَدِّ الْقَذْفِ فِي حَقِّهِ اور یہ جو شہادتیں ہیں یہ قائم مقام ہیں حد قذف کے فِي حَقِّهِ خاوند کے حق میں وَمَقَامَ حَدِّ الزِّنَا فِي حَقِّهَا اور حد زنا کے قائم مقام ہے عورت کے حق میں۔ تو یہ شہادتیں مرد کے لیے حد قذف کے قائم مقام ہیں اور عورت کے لیے حد زنا کے قائم مقام ہیں۔ توجہ ہے؟ خاوند پر حد قذف آنی تھی کیونکہ اس نے بیوی پر زنا کا الزام لگایا ہے لیکن یہ شہادتوں کی وجہ سے، یہ لعان کی وجہ سے اب اس پر حد قذف نہیں آئے گی بھئی، تو یہ حد قذف ہی کے قائم مقام ہے۔ تو کہتے ہیں قَائِمَةٌ مَقَامَ حَدِّ الْقَذْفِ فِي حَقِّهِ یہ جو شہادتیں ہیں یہ حد قذف کے قائم مقام ہیں فِي حَقِّهِ اس مرد کے حق میں، اس خاوند کے حق میں وَمَقَامَ حَدِّ الزِّنَا فِي حَقِّهَا اور یہ زنا کے قائم مقام ہیں اس عورت کے حق میں۔ تو یہ خاوند کے لیے حد قذف کے قائم مقام ہیں یہ شہادتیں اگر اس نے جھوٹ بولا ہے، اور عورت کے لیے حد زنا کے قائم مقام ہیں اگر اس نے جھوٹ بولا ہے بھئی۔ لِقَوْلِهِ تَعَالَى اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے: وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنْفُسُهُمْ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ اور نہ ہوں ان کے لیے اور گواہ إِلَّا أَنْفُسُهُمْ سوائے اپنی جانوں کے فَشَهَادَةُ أَحَدِهِمْ أَرْبَعُ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ تو ان میں سے ہر ایک کی گواہی چار گواہیاں ہوں گی اللہ کے نام کے ساتھ۔ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ، سوائے اپنی جانوں کے۔ یعنی اپنے علاوہ ان خاوندوں کے پاس اور کوئی گواہ نہ ہوں۔ وَالِاسْتِثْنَاءُ إِنَّمَا يَكُونُ مِنَ الْجِنْسِ، اچھا بھئی بات یہ چل رہی ہے کہ ہمارے نزدیک لعان شہادتوں کا نام ہے۔ لعان کس کا نام ہے؟ شہادتوں کا نام ہے۔ اب اس پر دلیل پیش کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ کہ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنْفُسُهُمْ اور نہ ہوں ان کے لیے اور گواہ إِلَّا أَنْفُسُهُمْ سوائے اپنی جانوں کے۔ تو یہ إِلَّا أَنْفُسُهُمْ یہ ہے مستثنیٰ۔ الّا کے بعد جو آئے اس کو کیا کہتے ہیں؟ مستثنیٰ، اور جو ماقبل میں آئے اس کو کہتے ہیں مستثنیٰ منہ۔ اور اصل یہ ہے مستثنیٰ جو ہوتا ہے وہ مستثنیٰ منہ کی جنس میں سے ہوتا ہے۔ تو ماقبل میں جب شہداء کا ذکر ہے اور مابعد میں أَنْفُسُهُمْ وہ خاوندوں کی ذات ذکر ہے، معلوم ہوا یہ بھی شہداء میں سے ہیں، گواہوں میں سے ہیں۔ یہ بھی کس میں سے ہیں؟ گواہوں میں سے ہیں، اور گواہ کس کو کہتے ہیں؟ جو گواہی دیتا ہے۔ معلوم ہوا ان کا جو کلام ہے خاوندوں کا وہ شہادتیں ہیں بھئی۔ دلیل سمجھ میں آئی؟ دلیل کیا ہوئی؟ کہ أَنْفُسُهُمْ اس کا استثنا کیا گیا شہداء سے اور یہ مستثنیٰ ہے اور مستثنیٰ کے اندر اصل یہ ہے کہ وہ مستثنیٰ منہ کی جنس میں سے ہوتا ہے اور ماقبل میں تو گواہوں کا ذکر ہے، معلوم ہوا یہ أَنْفُسُهُمْ بھی کون مراد ہیں؟ گواہ ہی مراد ہیں، معلوم ہوا یہ خود گواہ ہیں اور گواہ کسے کہتے ہیں؟ جو گواہی دیتا ہے، معلوم ہوا ان کے جو کلمات ہیں یہ بھی گواہی ہی ہیں بھئی، تو اس اعتبار سے یہ گواہ ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَالِاسْتِثْنَاءُ إِنَّمَا يَكُونُ مِنَ الْجِنْسِ، اور استثنا جو ہوتا ہے وہ اپنی ہی جنس سے ہوتا ہے۔ وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى، اور قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: فَشَهَادَةُ أَحَدِهِمْ أَرْبَعُ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ، تو ان میں سے ہر ایک کی شہادت جو ہے وہ چار شہادتیں ہوں گی بِاللَّهِ اللہ کے نام کے ساتھ۔ دیکھا یہاں بھی اللہ کیا فرما رہے ہیں: فَشَهَادَةُ أَحَدِهِمْ، ان میں سے ہر ایک کی شہادت جو ہے، تو دیکھو ان کے کلام کو شہادت کہا گیا، معلوم ہوا لعان شہادتوں کا نام ہے بھئی۔ تو وہ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کا یہ جو قول ہے: نَصٌّ عَلَى الشَّهَادَةِ وَالْيَمِينِ، یہ نص ہے شہادت اور یمین پر کہ یہ لعان شہادت اور یمین کا نام ہے۔ فَقُلْنَا، تو پس ہم کہتے ہیں: الرُّكْنُ هُوَ الشَّهَادَةُ الْمُؤَكَّدَةُ بِالْيَمِينِ، کہ لعان کا رکن جو ہے وہ ایسی شہادت ہے الْمُؤَكَّدَةُ بِالْيَمِينِ جس کو پختہ کیا گیا ہو قسم کے ساتھ، جس کو مضبوط کیا گیا ہو قسم کے ساتھ۔ ثُمَّ قُرِنَ الرُّكْنُ فِي جَانِبِهِ بِاللَّعْنِ، پھر اس رکن کو، یہ جو یمین کے ساتھ جو شہادت ہے، اس رکن کو ملایا گیا ہے فِي جَانِبِهِ خاوند کی جانب میں بِاللَّعْنِ لعنت کے ساتھ۔ خاوند کی جانب میں اس کو لعنت کے ساتھ ملایا گیا ہے، لَوْ كَانَ كَاذِبًا اگر وہ جھوٹا ہو، وَهُوَ قَائِمٌ مَقَامَ حَدِّ الْقَذْفِ، اور یہ حدِ قذف کے قائم مقام ہے اس خاوند کے حق میں۔ وَفِي جَانِبِهَا بِالْغَضَبِ، اور اس رکن کو ملایا گیا ہے عورت کی جانب میں بِالْغَضَبِ غضب کے ساتھ، وَهُوَ قَائِمٌ مَقَامَ حَدِّ الزِّنَا، اور یہ عورت کے حق میں حدِ زنا کے قائم مقام ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: إِذَا ثَبَتَ هَذَا، جب یہ بات ثابت ہو گئی۔ کیا بات ثابت ہوئی؟ کہ لعان ہمارے نزدیک شہادتوں کا نام ہے قسموں کے ساتھ بھئی۔ تو جب یہ بات ثابت ہو گئی، نَقُولُ ہم کہتے ہیں: لَا بُدَّ أَنْ يَكُونَا مِنْ أَهْلِ الشَّهَادَةِ، کہ ضروری ہے کہ خاوند اور بیوی دونوں اہلِ شہادت میں سے ہوں، لِأَنَّ الرُّكْنَ فِيهِ الشَّهَادَةُ، اس لیے کیونکہ لعان کے اندر رکن جو ہے وہ شہادت ہے، گواہی ہے۔ وہ کیا ہے؟ گواہی ہے، جب گواہی ہے تو میاں بیوی دونوں میں شہادت کی اہلیت ہونی چاہیے تبھی لعان ہو سکتا ہے، ویسے لعان نہیں ہو سکتا۔ تو یہ معنی ہے۔ کہتے ہیں: نَقُولُ ہم کہتے ہیں: لَا بُدَّ أَنْ يَكُونَا مِنْ أَهْلِ الشَّهَادَةِ، ضروری ہے کہ یہ دونوں اہلِ شہادت میں سے ہوں، لِأَنَّ الرُّكْنَ فِيهِ الشَّهَادَةُ، اس لیے کیونکہ لعان کے اندر جو رکن ہے وہ شہادت ہے، وَلَا بُدَّ أَنْ تَكُونَ هِيَ مِمَّنْ يُحَدُّ قَاذِفُهَا، اور ضروری ہے کہ یہ عورت ان عورتوں میں سے ہو کہ ان پر تہمت لگانے والے پر حد لگائی جاتی ہو۔ ان پر حد لگائی جاتی ہو۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا بھئی کہ قاضی جو سزائیں دیتا ہے وہ دو قسم کی ہیں۔ کچھ سزائیں اللہ کی طرف سے مقرر ہیں، ان کو حدود کہتے ہیں، جیسے حدِ قذف ہے، حدِ زنا ہے، حدِ سرقہ وغیرہ ہے، چوری کر لے اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے، ڈاکو کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمت کے کاٹے جاتے ہیں، اور اسی طرح زنا کرنے والے کو اگر غیر شادی شدہ ہے سو کوڑے لگائے جاتے ہیں اور اگر شادی شدہ ہو تو رجم کیا جاتا ہے، اسی طرح حدِ قذف ہے کوئی کسی پر زنا کا الزام لگائے تو اسی کوڑے لگائے جاتے ہیں، تو یہ سب حدود ہیں۔ تو یہ سزائیں اللہ کی طرف سے مقرر ہیں، ان کو حدود کہتے ہیں۔ اور باقی سزائیں جو قاضی اپنی طرف سے دیتا ہے ان کو تعزیر کہتے ہیں، تعزیر۔ تو کہتے ہیں: وَلَا بُدَّ أَنْ تَكُونَ هِيَ مِمَّنْ يُحَدُّ قَاذِفُهَا، اور ضروری ہے کہ یہ عورت ان عورتوں میں سے ہو کہ ان پر تہمت لگانے والے کو حد لگائی جاتی ہو، لِأَنَّهُ قَائِمٌ فِي حَقِّهِ مَقَامَ حَدِّ الْقَذْفِ، اس لیے کیونکہ یہ لعان جو ہے اس خاوند کے حق میں یہ قائم مقام ہے حدِ قذف کے۔ کس کے قائم مقام ہے؟ یہ جو خاوند لعان کر رہا ہے یہ حدِ قذف کے قائم مقام ہے، گویا اس خاوند پر حدِ قذف لگ رہی ہے، اور حدِ قذف تو تب ہی لگتی ہے جب کسی پاک دامن عورت پر الزام لگایا ہو، لہٰذا عورت کا پاک دامن ہونا، محصنہ ہونا ضروری ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّهُ قَائِمٌ فِي حَقِّهِ مَقَامَ حَدِّ الْقَذْفِ، اس لیے کیونکہ یہ لعان خاوند کے حق میں جو ہے حدِ قذف کے قائم مقام ہے، فَلَا بُدَّ مِنْ إِحْصَانِهَا، لہٰذا عورت کا محصنہ ہونا ضروری ہے۔ تو احصان القذف کیا ہے؟ احصان القذف، کہ عورت کیا ہو؟ آزاد ہو، عاقلہ ہو، بالغہ ہو، مسلمان ہو، اور عفیفہ ہو، پاک دامن ہو، یہ پانچ شرطیں ہیں۔ تو کہتے ہیں: فَلَا بُدَّ مِنْ إِحْصَانِهَا، لہٰذا اس عورت کا محصنہ ہونا ضروری ہے۔ وَيَجِبُ بِنَفْيِ الْوَلَدِ، اور اسی طرح لعان واجب ہو جاتا ہے اولاد کی نفی سے بھی، لِأَنَّهُ لَمَّا نَفَى وَلَدَهَا صَارَ قَاذِفًا لَهَا ظَاهِرًا، اس لیے کیونکہ خاوند نے جب اس عورت کی اولاد کی نفی کر دی تو صَارَ قَاذِفًا لَهَا تو یہ اس پر تہمت لگانے والا ہو گیا ظَاهِرًا ظاہر کے اعتبار سے۔ یہ ظاہرًا اس پر زنا ہی کی تہمت لگا رہا ہے۔ وَلَا يُعْتَبَرُ احْتِمَالُ أَنْ يَكُونَ، جی یہ ایک سوال کا جواب دے رہے ہیں۔ سوال یہ کہ خاوند نے اولاد کی نفی کی ہے، لیکن اولاد کی نفی کرنے سے تو زنا کا الزام لازم نہیں آتا۔ زنا کا الزام لازم نہیں آتا، بعض اوقات عورت سے وطی بالشبہ بھی کر لی جاتی ہے اس سے بھی تو اولاد ہو سکتی ہے۔ عورت سے وطی بالشبہ کر لی جائے، مثلاً آپ پڑھ چکے ہیں وطی بالشبہ کہ ایک عورت کو طلاق مل گئی اور اس نے عدت کے اندر کسی آگے کسی اور سے نکاح کر لیا، تو لہٰذا یہ نکاح نہیں ہوا۔ جب نکاح نہیں ہوا تو اب یہ جو دوسرا خاوند ہے یہ صحبت کرے گا تو یہ وطی بالشبہ ہوئی بھئی۔ تو وطی بالشبہ کی وجہ سے بھی تو اولاد ہو سکتی ہے اور اس صورت میں یہ اولاد اسی دوسرے خاوند کی شمار ہو گی، کیونکہ اس نے تو زنا کی نیت سے صحبت نہیں کی تھی، اس نے تو سمجھا تھا میرا نکاح ہو گیا ہے، تو یہ بچہ اس خاوند کا شمار ہو گا۔ تو یہاں اعتراض ہوتا ہے کہ خاوند نے اپنی اولاد کی نفی کی ہے، تو اپنی اولاد کی نفی سے تو آپ فوراً بات کو زنا کی طرف نہ لے کر جائیں بلکہ یہاں یہ بھی تو احتمال ہے کہ یہ اولاد کس وجہ سے ہوئی ہو؟ وطی بالشبہ کی وجہ سے ہوئی ہو۔ اور وطی بالشبہ کی وجہ سے جو اولاد ہو وہ ولد الزنا نہیں کہلاتی، وہ اسی دوسرے خاوند کی اولاد شمار ہوتی ہے۔ تو اس کا جواب دیں گے صاحبِ ہدایہ کہ بھئی یہ ایک احتمال ہے، اور وطی بالشبہ کے لیے ثبوت چاہیے بھئی، کہ پہلے وطی بالشبہ کا ثبوت تو ہو، اور یہاں تو کوئی وطی بالشبہ کا ثبوت نہیں ہے، اس عورت نے تو کسی سے اور نکاح نہیں کیا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ لہٰذا وطی بالشبہ کا جب ثبوت نہیں ہے تو اس کو زنا پر ہی محمول کرنا پڑے گا۔ خاوند نے جب اولاد کی نفی کی ہے اور وطی بالشبہ کا کوئی ثبوت نہیں ہے تو یہ زنا ہی کا الزام لگا رہا ہے۔ کہتے ہیں یہ اسی طرح ہے جیسے کوئی شخص ایک بچہ ہے اس کے والد کا پتہ ہے سب کو کہ یہ فلاں کا بچہ ہے، ایک آدمی آیا اور اس نے آ کر کہا اس لڑکے کے بارے میں کہتا ہے، باپ کے بارے میں اس کے کہ یہ فلاں کا بیٹا نہیں ہے۔ یہ فلاں کا بیٹا نہیں ہے، تو اس کو بھی زنا پر محمول کیا جاتا ہے۔ گویا اس نے اس لڑکے کی ماں پر زنا کا الزام لگایا ہے، لہٰذا یہ عورت اس کو قاضی کے پاس لے جا کر اس پر حدِ قذف جاری کروا سکتی ہے۔ تو جب کوئی شخص کسی اجنبیہ عورت کے بچے کے بارے میں کہتا ہے کہ یہ اس کے خاوند کا بچہ نہیں ہے تو وہاں بھی وطی بالشبہ کا احتمال تو ہو سکتا ہے، لیکن اس کو بھی وطی بالشبہ پر محمول نہیں کیا جاتا بلکہ تہمتِ زنا پر ہی محمول کیا جاتا ہے کہ یہ شخص زنا کی تہمت لگا رہا ہے۔ تو جب وہاں پر اس کو زنا پر محمول کیا جاتا ہے تو یہاں پر بھی جب خاوند نے اپنی اولاد کی نفی کی ہے تو اس کو زنا کی تہمت پر ہی محمول کیا جائے گا، کیونکہ وطی بالشبہ کے لیے ثبوت چاہیے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ وَلَا يُعْتَبَرُ احْتِمَالُ أَنْ يَكُونَ الْوَلَدُ مِنْ غَيْرِهِ بِالْوَطْءِ مِنْ شُبْهَةٍ، اور یہ احتمال معتبر نہیں ہے کہ یہ لڑکا جو ہے مِنْ غَيْرِهِ خاوند کے علاوہ سے ہو بِالْوَطْءِ مِنْ شُبْهَةٍ وطی بالشبہ کی وجہ سے، یہ احتمال جو ہے یہ معتبر نہیں ہے، كَمَا إِذَا نَفَى أَجْنَبِيٌّ نَسَبَهُ عَنْ أَبِيهِ الْمَعْرُوفِ، جیسے کوئی اجنبی وہ نفی کر دے نَسَبَهُ اس لڑکے کے نسب کی عَنْ أَبِيهِ الْمَعْرُوفِ اس کے معروف باپ سے۔ اس کا باپ جو معروف ہے سب کو پتہ ہے یہ اس کا باپ ہے، تو وہاں پر بھی وطی بالشبہ کا احتمال ہے، لیکن کوئی اجنبی بھی اس بچے کے نسب کی نفی کرے تو اس کو کوئی بھی وطی بالشبہ پر محمول نہیں کرتا بلکہ اس کو تہمتِ زنا ہی سمجھا جاتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَهَذَا لِأَنَّ الْأَصْلَ فِي النَّسَبِ، اور یہ اس وجہ سے، یہ جو انہوں نے کہا نا کہ وطی بالشبہ کا احتمال معتبر نہیں۔ وطی بالشبہ کا احتمال معتبر نہیں، اب اس کی وجہ ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: وَهَذَا لِأَنَّ الْأَصْلَ فِي النَّسَبِ الْفِرَاشُ الصَّحِيحُ، اس لیے کیونکہ اصل جو ہے نسب کے اندر الْفِرَاشُ الصَّحِيحُ وہ فراشِ صحیح ہے، وَالْفَاسِدُ مُلْحَقٌ بِهِ، اور فراشِ فاسد اس کے ساتھ ملحق ہے۔ بھئی دیکھیے، میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ جو بیوی ہوتی ہے یہ خاوند کا فراش ہے۔ فراش فراش کا ویسے معنی تو ہے بچھونا، لیکن یہاں فراش اصطلاحی لفظ ہے۔ فراش کا معنی ہے کسی عورت کا کسی شخص کے بچوں کو جنم دینے کے لیے مختص ہو جانا۔ جب ایک شخص ایک عورت سے نکاح کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ عورت اب اسی شخص کے بچوں کو جنم دے گی، تو یہ عورت اس شخص کی فراش ہو گئی، کیا ہو گئی؟ فراش ہو گئی۔ اور میں نے بتایا تھا کہ فراش تین قسم پر ہیں: ایک فراشِ قوی ہے، ایک فراشِ متوسط ہے، اور ایک فراشِ ضعیف ہے۔ فراشِ قوی بیوی ہے بھئی، بیوی سے جو بھی اولاد پیدا ہو وہ خود بخود خاوند کی شمار ہوتی ہے، اور اگر خاوند اس اولاد کی اپنے سے نفی کرنا چاہتا ہے تو اس کو پیدائش کے ابتدائی دنوں میں لعان کرنا پڑے گا۔ لعان کے بغیر یہ اپنے سے بچے کے نسب کی نفی نہیں کر سکتا بھئی۔ تو لہٰذا سب سے قوی فراش عورت ہے۔ اس سے جو بھی بچہ پیدا ہو گا خاوند کا شمار ہو گا اور اگر خاوند نفی کرنا چاہتا ہے تو لعان کے بغیر نفی بھی نہیں کر سکتا۔ اور سب سے کمزور فراش جو ہے وہ باندی ہے۔ یاد رکھو باندی سے جو بھی بچہ پیدا ہو وہ خود بخود آقا کا شمار نہیں ہوتا بلکہ جب آقا کہہ دے کہ یہ میری اولاد ہے پھر اب یہ آقا کا بچہ شمار ہو گا اور اب یہ عورت اس کی ام ولد بن گئی اور آقا کے مرنے کے بعد یہ آزاد ہو جائے گی۔ تو یہ جو باندی ہے، یہ جو عام باندی ہے یہ سب سے ضعیف فراش ہے۔ اس سے جو بھی بچہ پیدا ہو وہ خود بخود آقا کا شمار ہی نہیں ہوتا۔ اور ہاں جب ایک دفعہ ایک باندی نے بچے کو جنم دیا اور آقا نے کہہ دیا یہ میری اولاد ہے تو یہ اس کی ام ولد بن گئی، اور یہ جو ام ولد ہے یہ فراشِ متوسط ہے۔ اب ام ولد آگے جس بچے کو بھی جنم دے گی وہ خود بخود اسی آقا کا شمار ہو گا۔ لیکن اگر آقا نفی کرنا چاہتا ہے تو بغیر لعان کے ہی نفی کر سکتا ہے، کہہ دے یہ میری اولاد نہیں، بس اب یہ اس کا بچہ شمار نہیں ہو گا بھئی۔ تو بیوی جو ہے وہ سب سے قوی فراش ہے۔ تو یہ بیوی جو ہے یہ فراشِ صحیح ہے بھئی۔ اور اگر کوئی شخص نکاحِ فاسد کرتا ہے، مثلاً عدت کے اندر کسی عورت سے نکاح کر لیا یا بغیر گواہوں کے نکاح کر لیا، تو یہ نکاحِ فاسد ہے بھئی۔ نکاحِ فاسد ہے، تو یہاں چونکہ نکاحِ فاسد ہوا ہے تو فراش فاسد ہے، فراش بھی کیا ہے؟ فراشِ فاسد ہے، لیکن فراشِ فاسد کو بھی فراشِ صحیح والا حکم دیا گیا کہ فراشِ فاسد سے بھی اگر آگے بچہ پیدا ہو گیا اب وہ اسی خاوند کا شمار ہو گا جس نے وطی بالشبہ کی تھی، کیونکہ اس کا تو خیال تھا شاید میرا نکاح ہو گیا ہے بھئی، تو اس کو بچے کو ولد الزنا شمار نہیں کیا جاتا۔ تو فراشِ فاسد کو ملایا گیا ہے کس کے ساتھ؟ فراشِ صحیح کے ساتھ۔ تو اصل فراشِ صحیح ہے اور فراشِ فاسد کو فراشِ صحیح کے ساتھ ملایا گیا ہے، لیکن اس کے لیے بھی ثبوت چاہیے، بغیر ثبوت کے فراشِ فاسد ثابت نہیں ہو سکتا۔ تو کہتے ہیں: وَهَذَا، اوپر کیا کہا تھا؟ کہ وطی بالشبہ کا احتمال معتبر نہیں ہے بھئی۔ اب بیان کر رہے ہیں: وَهَذَا، اور یہ اس وجہ سے کہ یہ وطی بالشبہ کا احتمال معتبر نہیں ہے یہ اس وجہ سے، لِأَنَّ الْأَصْلَ فِي النَّسَبِ الْفِرَاشُ الصَّحِيحُ، اس لیے کیونکہ اصل جو ہے نسب کے اندر وہ فراشِ صحیح ہے، وَالْفَاسِدُ مُلْحَقٌ بِهِ، اور فراشِ فاسد کو اس کے ساتھ ملایا گیا ہے، اس کو بھی یہی والا حکم دیا گیا ہے، فَنَفْيُهُ عَنِ الْفِرَاشِ الصَّحِيحِ قَذْفٌ، تو نسب کی نفی کرنا فراشِ صحیح سے یہ تہمت ہے زنا کی، حَتَّى يَظْهَرَ الْمُلْحَقُ بِهِ، یہاں تک کہ ملحق بہ ظاہر ہو جائے یعنی فراشِ فاسد ہونا ظاہر ہو جائے۔ پہلے فراشِ فاسد ہونا یعنی اس کا کوئی ثبوت تو ہو جس سے پتہ چلے کہ اس سے بھی اس عورت نے نکاح کیا تھا بھئی، تو اس کے لیے ثبوت چاہیے، بغیر ثبوت کے فراشِ فاسد کا ثبوت نہیں ہو سکتا۔ تو کہتے ہیں: فَنَفْيُهُ عَنِ الْفِرَاشِ الصَّحِيحِ قَذْفٌ، تو فراشِ صحیح سے نسب کی نفی کرنا یہ تہمت ہے، حَتَّى يَظْهَرَ الْمُلْحَقُ بِهِ، یہاں تک کہ فراشِ ملحق بہ ظاہر ہو جائے، جب تک اس کا ثبوت نہ ہو جائے اس کو قذف ہی شمار کیا جائے گا۔ وَيُشْتَرَطُ طَلَبُهَا، متن میں یہ بھی آیا تھا کہ وَطَالَبَتْهُ بِمُوجَبِ الْقَذْفِ کہ عورت جو ہے قذف کے حکم کا تقاضا کرتی ہے۔ یہ ضروری ہے کیونکہ یہ عورت کا حق ہے۔ عورت پر زنا کا الزام لگایا ہے تو اس کے لیے مطالبہ ضرور چاہیے، اگر ایک شخص نے ایک عورت پر زنا کا الزام لگایا ہے اور وہ عورت اس کو قاضی کے پاس نہیں لے کر جا رہی تو کوئی اور بھی نہیں لے کر جا سکتا بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَيُشْتَرَطُ طَلَبُهَا، اور اس عورت کا مطالبہ بھی شرط ہو گا، لِأَنَّهُ حَقُّهَا، کیونکہ یہ لعان اس عورت کا حق ہے، فَلَا بُدَّ مِنْ طَلَبِهَا كَسَائِرِ الْحُقُوقِ، تو لہٰذا اس عورت کا طلب کرنا ضروری ہے كَسَائِرِ الْحُقُوقِ جیسے کہ باقی حقوق میں ہوتا ہے، ان میں بھی مطالبہ ضروری ہوتا ہے۔ آگے دیکھیے: فَإِنِ امْتَنَعَ مِنْهُ حَبَسَهُ الْحَاكِمُ حَتَّى يُلَاعِنَ أَوْ يُكَذِّبَ نَفْسَهُ، صورتِ مسئلہ یہ کہ عورت قاضی کے پاس لے گئی اپنے خاوند کو، اب قاضی ان دونوں میں لعان کروائے گا۔ اب خاوند لعان ہی نہیں کر رہا، لعان نہیں کر رہا لعان سے رک گیا ہے، تو یاد رکھو یہ اس عورت کا حق ہے اس خاوند پر، اس کو لعان کرنا پڑے گا اس نے اس پر زنا کا الزام لگایا ہے، تو یہ خاوند حق ادا کرنے پر قادر ہے اور پھر بھی حق ادا نہیں کر رہا، یعنی یہ لعان کر سکتا ہے یہ پھر بھی لعان نہیں کر رہا تو قاضی اس کو جیل میں ڈال دے گا، یہاں تک کہ یا تو یہ لعان کر لے یا اپنے جھوٹا ہونے کا اقرار کر لے کہ میں نے جھوٹ بولا تھا، اور جب یہ کہہ دے گا میں نے جھوٹ بولا تھا تو اب اس کو حدِ قذف لگا دی جائے گی۔ تو یہاں یہ حق ادا کرنے پر قادر ہے اس لیے اس کو جیل میں ڈالیں گے، لیکن اگر یہ حق ادا کرنے پر قادر ہی نہ ہوتا پھر جیل میں نہ ڈالتے، جیسے مثلاً ایک آدمی ہے اس نے کسی سے قرضہ لیا تھا اور اس کا سارا مال ڈوب گیا ختم ہو گیا، اب وہ قرض خواہ جو ہیں وہ اس سے بار بار مال کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن اس بیچارے کے پاس مال ہے ہی نہیں، کہاں سے ادا کرے؟ وہ اس کو قاضی کے پاس لے گئے۔ قاضی نے اس کو بلوایا اور کہا ہاں بھئی تم ان کا قرض کیوں نہیں ادا کرتے؟ اس نے کہا قاضی صاحب میرے پاس مال ہی نہیں ہے، اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں ضرور ادا کر دیتا۔ تو اس شخص کو قاضی جیل میں نہیں ڈالے گا۔ کیوں؟ کیونکہ اس کے پاس مال ہے ہی نہیں۔ توجہ ہے؟ تو یہ جو مفلس ہے یہ حق ادا کرنے پر قادر نہیں ہے لہٰذا اس کو قاضی جیل میں نہیں ڈالے گا، لیکن اگر اس کے پاس مال ہے اور وہ پھر بھی ادا نہیں کر رہا پھر اس کو قاضی جیل میں ڈالتا ہے بھئی، یہاں تک کہ وہ مال ادا کر دے۔ تو کہتے ہیں: فَإِنِ امْتَنَعَ مِنْهُ حَبَسَهُ الْحَاكِمُ، اگر خاوند اس لعان سے رک گیا حَبَسَهُ الْحَاكِمُ تو حاکم اس کو قید میں ڈال دے گا حَتَّى يُلَاعِنَ یہاں تک کہ یہ لعان کر دے أَوْ يُكَذِّبَ نَفْسَهُ یا اپنے آپ کو جھٹلا دے، تو پھر اس پر حدِ قذف لگ جائے گی، لِأَنَّهُ حَقٌّ مُسْتَحَقٌّ عَلَيْهِ، لِأَنَّهُ حَقٌّ اس لیے کیونکہ یہ ایسا حق ہے مُسْتَحَقٌّ عَلَيْهِ جس کا اس پر استحقاق ہے، مستحق کا ترجمہ کر لیں واجب کے، کیا ترجمہ کر لیں؟ واجب، اب بہترین ترجمہ ہو جائے گا۔ کہتے ہیں: لِأَنَّهُ حَقٌّ مُسْتَحَقٌّ عَلَيْهِ، اس لیے کیونکہ یہ ایسا حق ہے جو اس پر واجب ہے، وَهُوَ قَادِرٌ عَلَى إِيفَائِهِ، اور خاوند اس کی ادائیگی پر قادر بھی ہے، فَيُحْبَسُ بِهِ، تو اس کی وجہ سے اس کو قید میں ڈالا جائے گا حَتَّى يَأْتِيَ بِمَا هُوَ عَلَيْهِ، یہاں تک کہ خاوند لے آئے اس چیز کو جو اس پر ہے یعنی لعان کر لے، أَوْ يُكَذِّبَ نَفْسَهُ یا اپنے آپ کو جھٹلا دے لِيَرْتَفِعَ السَّبَبُ، تاکہ یہ لعان کا سبب اٹھ جائے۔ جب اپنے آپ کو جھٹلا دے گا تو لعان کا سبب ختم ہو گیا۔ بھئی دیکھو یہ لعان خاوند اور بیوی کیوں کرتے ہیں؟ کیونکہ دونوں ایک دوسرے کو جھٹلاتے ہیں۔ خاوند بیوی کو جھٹلا رہا ہے اور بیوی خاوند کو جھٹلا رہی ہے، لیکن جب خاوند نے اقرار کر لیا کہ میں نے جھوٹ بولا تھا اپنے آپ کو جھٹلا دیا، جب جھٹلا دیا تو لعان کا سبب ہی ختم ہو گیا، لعان کا سبب تو کیا تھا؟ دونوں کا ایک دوسرے کو جھٹلانا، اب تو خاوند کا جھٹلانا نہیں پایا جا رہا لہٰذا اب لعان کا سبب ہی ختم ہو گیا، بات سمجھ میں آ گئی؟ اور اس صورت میں پھر قاضی اس پر حدِ قذف لگا دے گا۔ تو کہتے ہیں: لِيَرْتَفِعَ السَّبَبُ تاکہ اس لعان کا سبب اٹھ جائے یعنی ختم ہو جائے، وَلَوْ لَاعَنَ وَجَبَ عَلَيْهَا اللِّعَانُ، اور جب خاوند لعان کر لے تو اب اس عورت پر بھی لعان واجب ہو گیا لِمَا تَلَوْنَا مِنَ النَّصِّ، اس نص کی وجہ سے جو ہم نے تلاوت کی، وہ جو آیت پیچھے آئی تھی: فَشَهَادَةُ أَحَدِهِمْ أَرْبَعُ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ، تو دیکھا معلوم ہوا ان میں سے ہر ایک پر یہ شہادتیں ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں اور عورت پر بھی لعان واجب ہو گا لِمَا تَلَوْنَا مِنَ النَّصِّ اس نص کی وجہ سے جو ہم نے تلاوت کی، إِلَّا أَنَّهُ يُبْتَدَأُ بِالزَّوْجِ، مگر یہ کہ ابتدا خاوند سے کی جائے گی۔ لعان کی ابتدا کون کرے گا؟ خاوند، لِأَنَّهُ هُوَ الْمُدَّعِي، اس لیے کیونکہ وہی مدعی ہے، اسی نے زنا کا دعویٰ کیا تھا بیوی پر، تو وہ مدعی ہے تو اس سے ابتدا کروائی جائے گی۔ فَإِنِ امْتَنَعَتْ، اور اگر یہ عورت رکی رہی، یعنی اس نے لعان نہیں کیا، حَبَسَهَا الْحَاكِمُ حَتَّى تُلاعِنَ أَوْ تُصَدِّقَهُ، تو حاکم اس کو قید میں ڈالے گا حَتَّى تُلاعِنَ یہاں تک کہ عورت لعان کر لے أَوْ تُصَدِّقَهُ یا خاوند کی تصدیق کر دے کہ خاوند سچ کہہ رہا ہے۔ یا لعان کر لے یا خاوند کی تصدیق کر لے، لعان کر لے گی لعان کر لے گی تو پھر قاضی دونوں میں جدائی کروا دے گا اور بچے کے نسب کی اگر نفی کی تھی تو اب بچے کا نسب خاوند سے کاٹ کر صرف بیوی کے ساتھ جوڑ دے گا، اب وہ صرف اس عورت کا بچہ شمار ہو گا اس خاوند کا بچہ شمار نہیں ہو گا۔ اور اگر عورت خاوند کی تصدیق کر دیتی ہے کہ یہ سچ کہہ رہا ہے تو پھر یاد رکھو، تو پھر پھر لعان ختم، کیونکہ لعان کا سبب کیا تھا؟ کیونکہ دونوں ایک دوسرے کو جھٹلا رہے تھے، اب تو عورت نے جھٹلانا ختم کر دیا اس نے تو خاوند کی تصدیق کر دی ہے تو لعان ختم، اور نیز عورت پر حدِ زنا بھی نہیں آئے گی، بھئی کیوں؟ اس نے تصدیق کر دی ہے، کہتے ہیں بھئی حدِ زنا کے لیے قصداً چار مرتبہ اقرار ضروری ہے، کتنی مرتبہ؟ چار، کیونکہ ہر اقرار ایک گواہ کے قائم مقام ہے، اور نیز یہ اقرار بھی قصداً زنا کے اقرار کے طور پر ہو، یہ جو اقرار بھی ہو یہ قصداً ہو اور زنا کے اقرار کے طور پر ہی یہ بات وہ کہے، یہاں لعان کے اندر اپنی جان چھڑانے کے لیے یہ تو کہہ رہی ہے۔ تو کہتے ہیں: فَإِنِ امْتَنَعَتْ حَبَسَهَا الْحَاكِمُ حَتَّى تُلاعِنَ أَوْ تُصَدِّقَهُ، اور اگر عورت رکی رہی لعان سے تو حاکم اس کو جیل میں ڈال دے گا حَتَّى تُلاعِنَ یہاں تک کہ وہ لعان کر لے أَوْ تُصَدِّقَهُ یا وہ خاوند کی تصدیق کر دے، لِأَنَّهُ حَقٌّ مُسْتَحَقٌّ عَلَيْهَا، اس لیے کیونکہ یہ ایسا حق ہے جو اس عورت پر واجب ہے، وَهِيَ قَادِرَةٌ عَلَى إِيفَائِهِ، اور عورت اس کی ادائیگی پر قادر ہے، فَتُحْبَسُ فِيهِ، تو اس کے اندر اس کو قید کیا جائے گا۔ وَإِذَا كَانَ الزَّوْجُ عَبْدًا أَوْ كَافِرًا أَوْ مَحْدُودًا فِي قَذْفٍ، صورتِ مسئلہ یہ کہ خاوند غلام ہے اس نے بیوی پر زنا کا الزام لگا دیا، تو اب لعان نہیں ہو گا کیونکہ خاوند غلام ہے وہ اہلِ شہادت ہی نہیں اور لعان تو شہادتوں کا نام تھا۔ لہٰذا اب خاوند سے گواہ طلب کیے جائیں گے، زنا کا الزام لگایا ہے چار گواہ لے کر آؤ نہیں تو حدِ قذف جاری کر دی جائے گی۔ یا اسی طرح اگر خاوند کافر ہے اور اس نے مسلمان بیوی پر زنا کا الزام لگا دیا، تو اس صورت میں بھی یہ تو کافر ہے یہ تو اہلِ شہادت ہی نہیں ہے، لہٰذا یہاں پر بھی اس سے چار گواہ طلب کیے جائیں گے زنا پر اگر نہ لایا تو حدِ قذف جاری کر دی جائے گی۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ خاوند کافر ہو اور مسلمان بیوی پر تہمت لگا دے یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ مسلمان عورت کا تو کافر مرد سے نکاح ہی نہیں جائز۔ کہتے ہیں اس کی صورت یہ ہے کہ میاں بیوی دونوں کافر تھے، پھر بیوی مسلمان ہو گئی اور ابھی قاضی نے دونوں میں جدائی نہیں کروائی اس سے پہلے ہی خاوند نے بیوی پر زنا کا الزام لگا دیا۔ تو کہتے ہیں: وَإِذَا كَانَ الزَّوْجُ عَبْدًا أَوْ كَافِرًا، اور اگر خاوند جو ہے وہ غلام ہے أَوْ كَافِرًا یا کافر ہے أَوْ مَحْدُودًا فِي قَذْفٍ یا محدود فی القذف ہے، خاوند پہلے بھی کسی پر زنا کا الزام لگا چکا اور گواہ پیش نہ کر سکا تھا تو خاوند پر حدِ قذف جاری ہوئی تھی، اسی کوڑے لگے تھے، اور حدِ قذف میں یہ بھی سزا ہے کہ آئندہ زندگی بھر اب اس آدمی کی گواہی قبول نہیں کرنی، تو یہ ادائے شہادت نہیں کر سکتا اور لعان میں تو ادائے شہادت ہوتا ہے، تو اس شخص نے جو محدود فی القذف ہے اس نے اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگا دیا اب یہ لعان تو نہیں کر سکتا، جب لعان نہیں کر سکتا تو اب اس پر حدِ قذف لگا دی جائے گی، یا چار گواہ پیش کرے یا حدِ قذف لگا دی جائے گی، صورت سمجھ میں آ گئی۔ یہ معنی ہے: أَوْ مَحْدُودًا فِي قَذْفٍ یا یہ خاوند جو ہے محدود فی القذف تھا، فَقَذَفَ امْرَأَتَهُ تو اس نے تہمت لگائی اپنی بیوی پر۔ خاوند غلام تھا یا کافر تھا یا محدود فی القذف تھا، اور اس نے فَقَذَفَ امْرَأَتَهُ اور اس نے اپنی بیوی پر تہمت لگائی، فَعَلَيْهِ الْحَدُّ، تو اس پر حد ہو گی، ان تینوں پر حد آئے گی الّا یہ کہ چار گواہ پیش کر دیں۔ لِأَنَّهُ تَعَذَّرَ اللِّعَانُ، اس لیے کیونکہ لعان متعذر ہو گیا، ممکن نہ رہا، لِمَعْنًى مِنْ جِهَتِهِ، لِمَعْنًى معنی کا یہاں ترجمہ علت اور سبب کے کریں گے، لِمَعْنًى ایک ایسے سبب کی وجہ سے مِنْ جِهَتِهِ جو اس خاوند کی جہت سے ہے۔ خاوند اہلِ شہادت نہیں ہے اس لیے لعان نہیں ہو سکتا، تو لعان کے اندر مانع کس کی طرف سے آیا؟ خاوند کی طرف سے آیا، فَيُصَارُ إِلَى الْمُوجَبِ الْأَصْلِيِّ، تو قذف کے موجبِ اصلی کی طرف جایا جائے گا، اور قذف کا موجبِ اصلی کیا ہے؟ اسی کوڑے لگتے ہیں، تو جب لعان نہیں ہو سکتا تو موجبِ اصلی کی طرف چلے جائیں گے۔ تو کہتے ہیں: فَيُصَارُ تو رجوع کیا جائے گا إِلَى الْمُوجَبِ الْأَصْلِيِّ قذف کے مقتضائے اصلی کی طرف، وَهُوَ ثَابِتٌ بِقَوْلِهِ تَعَالَى، اور وہ ثابت ہے اللہ کے اس قول سے: وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ، اور وہ لوگ جو زنا کی تہمت لگاتے ہیں پاک دامن عورتوں پر، الْآيَةَ، أَيِ: اقْرَأِ الْآيَةَ کہ آیت پڑھ لیجیے، وَاللِّعَانُ خَلَفٌ عَنْهُ، اور لعان جو ہے وہ اس سے نائب ہے۔ لعان تو وہ اس موجبِ اصلی سے نائب ہے، اس کا بدل ہے وہ بھئی، تو وہ اصل جو ہے یعنی حدِ قذف آ جائے گی بھئی۔ وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الشَّهَادَةِ، اور اگر خاوند جو ہے وہ تو اہلِ شہادت میں سے ہے، وَهِيَ أَمَةٌ، اب دوسری صورت، بیوی جو ہے وہ اہلِ شہادت نہیں۔ ایک شخص نے ایک باندی سے نکاح کیا ہوا ہے، اب خاوند نے اس پر زنا کی تہمت لگائی، خاوند تو اہلِ شہادت ہے لیکن بیوی جو ہے وہ تو باندی ہے اور باندی تو اہلِ شہادت نہیں، یا بیوی جو ہے یہودیہ یا عیسائی عورت ہے بھئی تو وہ بھی اہلِ شہادت نہیں ہے، یا بیوی جو ہے محدودہ فی القذف ہے، بیوی کیا ہے؟ محدودہ فی القذف، بیوی نے کسی پر زنا کا الزام لگایا تھا اور پھر چار گواہ پیش نہ کر سکی تو اس کو حدِ قذف لگ چکی ہے، اور حدِ قذف والوں کے بارے میں اللہ کیا فرماتے ہیں: وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا کہ ان کی گواہی کبھی قبول نہ کرو، معلوم ہوا بیوی کی گواہی بھی قبول نہیں کی یہ ادائے شہادت نہیں کر سکتی بھئی، تو بیوی یا باندی ہے یا کافرہ ہے یا محدودہ فی القذف ہے، یا بیوی پاک دامن نہیں ہے، خاوند نے بیوی پر زنا کا الزام لگایا اور اس عورت نے پہلے بھی ایک دفعہ زنا کیا تھا اور وہ ثابت بھی ہو گیا تھا اور اس پر حدِ زنا جاری ہوئی تھی، سو کوڑے اس کو لگے تھے بھئی، تو یہ عورت پاک دامنہ نہیں، یعنی احصان القذف اس کے اندر نہیں ہے۔ تو اس صورت میں کہتے ہیں نہ حد آئے گی اور نہ لعان آئے گا۔ لعان اس لیے نہیں آ سکتا کہ عورت میں صلاحیت ہی نہیں ہے لعان کی، حد بھی نہیں آئے گی کیونکہ مانع عورت کی طرف سے آیا ہے وہ لعان نہیں کر سکتی بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الشَّهَادَةِ، اور اگر خاوند جو ہے وہ تو اہلِ شہادت میں سے ہے، وَهِيَ أَمَةٌ أَوْ كَافِرَةٌ أَوْ مَحْدُودَةٌ فِي قَذْفٍ، اور یہ بیوی جو ہے اس کی وہ باندی ہے یا کافرہ ہے یا محدودہ فی القذف ہے، أَوْ كَانَتْ مِمَّنْ لَا يُحَدُّ قَاذِفُهَا، یا عورت ان عورتوں میں سے ہے کہ حد نہیں لگائی جاتی ان پر تہمت لگانے والوں کو، بِأَنْ كَانَتْ صَبِيَّةً، بایں صورت کہ وہ بچی ہے یعنی نابالغہ ہے۔ کیا ہے؟ نابالغہ۔ احصان القذف، کتنی شرطیں تھیں؟ پانچ۔ پہلی شرط: آزاد، عاقل، بالغ، دیکھا عاقل بالغ ہونا ضروری ہے عورت کا۔ ایسی عورت پر زنا کا الزام لگایا جائے جو آزاد ہے، عاقل ہے، بالغ ہے، مسلمان ہے، اور پاک دامن ہے۔ تو یہ بچی جو ہے نابالغہ ہے یہ تو بالغ ہی نہیں ہے، تو یہ بھی محصنہ نہیں۔ محصنہ نہیں۔ أَوْ مَجْنُونَةً، یا وہ عورت کیا ہے؟ مجنونہ ہے تو اس میں عقل نہیں ہے، جب عقل نہیں تو وہ بھی محصنہ نہیں۔ أَوْ زَانِيَةً، یا وہ عورت زانیہ ہے یعنی اس نے زنا کیا تھا اور اس کو حدِ زنا اس پر لگ چکی ہے ایک دفعہ، تو ان تمام صورتوں میں لعان سے جو مانع آیا وہ کس کی طرف سے آیا ہے؟ عورت کی طرف سے کہ وہ اہلِ شہادت نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: أَوْ كَانَتْ مِمَّنْ لَا يُحَدُّ قَاذِفُهَا، یا عورت ان عورتوں میں سے ہے کہ اس پر تہمت لگانے والے پر حد نہیں لگائی جاتی، بِأَنْ كَانَتْ صَبِيَّةً، بایں صورت کہ وہ بیوی جو ہے صَبِيَّةً بچی ہے یعنی نابالغہ ہے، أَوْ مَجْنُونَةً یا مجنونہ ہے، أَوْ زَانِيَةً یا زانیہ ہے، فَلَا حَدَّ عَلَيْهِ وَلَا لِعَانَ، تو خاوند پر حد بھی نہیں آئے گی اور لعان بھی نہیں ہو گا۔ بھئی لعان کیوں نہیں آئے گا؟ اس کی وجہ ذکر کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ، کہتے ہیں: لِانْعِدَامِ أَهْلِيَّةِ الشَّهَادَةِ، اس لیے کیونکہ یہ جو عورتیں اوپر ذکر ہوئیں ان میں سے بعض کے اندر شہادت کی اہلیت ہی نہیں ہے۔ بھئی دیکھیے نا اوپر دو قسم کی عورتیں ذکر ہوئیں: باندی، یا کافرہ، یا محدودہ فی القذف، یہ اہلِ شہادت نہیں ہیں۔ یہ اہلِ شہادت نہیں ہیں۔ أَوْ كَانَتْ مِمَّا لَا يُحَدُّ قَاذِفُهَا، یہ دوسری قسم کی عورتیں ذکر ہوئیں جن پر الزام لگانے والے پر حد جاری نہیں کی جاتی بھئی، تو یہ دو قسم کی عورتیں ہو گئیں۔ تو کہتے ہیں خاوند پر نہ حد آئے گی اور نہ لعان۔ کیوں نہیں آئے گا لعان؟ کہتے ہیں: لِانْعِدَامِ أَهْلِيَّةِ الشَّهَادَةِ، شہادت کی اہلیت نہ ہونے کی وجہ سے۔ وہ جو باندی ہے، یا کافرہ ہے، یا محدودہ فی القذف ہے، وہ اہلِ شہادت ہی نہیں اور لعان تو شہادتوں کا نام ہے۔ اور نیز جو دوسری تھی کہ وہ عورت جس پر تہمت لگانے والے پر حد جاری نہیں کی جاتی، اس کے بارے میں بھی لعان نہیں آئے گا۔ کیوں؟ کہتے ہیں: وَعَدَمِ الْإِحْصَانِ فِي جَانِبِهَا، کہ اس کی جانب سے عدمِ احصان ہے وہ محصنہ نہیں ہے، تو حد بھی ساقط ہو جائے گی، حد بھی ساقط ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں: لِانْعِدَامِ أَهْلِيَّةِ الشَّهَادَةِ وَعَدَمِ الْإِحْصَانِ فِي جَانِبِهَا، اس لیے کیونکہ شہادت کی اہلیت معدوم ہے اور محصنہ ہونا نہیں پایا جا رہا فِي جَانِبِهَا اس عورت کی جانب میں، تو یہ لعان نہیں ہو گا، اور حد بھی نہیں آئے گی بھئی، حد کیوں نہیں آئے گی خاوند پر حدِ قذف؟ کہتے ہیں: وَامْتِنَاعُ اللِّعَانِ لِمَعْنًى مِنْ جِهَتِهَا، اور لعان کا ممتنع ہونا لِمَعْنًى وہ ایک ایسے سبب کی وجہ سے ہے مِنْ جِهَتِهَا جو عورت کی طرف سے ہے۔ لعان کا ممتنع ہونا ایک ایسے سبب کی وجہ سے ہے مِنْ جِهَتِهَا جو اس بیوی کی طرف سے ہے، فَيَسْقُطُ الْحَدُّ، تو حد بھی ساقط ہو جائے گی، حد بھی ساقط ہو جائے گی۔ كَمَا إِذَا صَدَّقَتْهُ، یہ اسی طرح ہے جیسے کہ بیوی جب خاوند کی تصدیق کر دے۔ جیسے بیوی جب خاوند کی تصدیق کر دے تو اس صورت میں بھی نہ لعان آتا ہے اور نہ حد آتی ہے۔ خاوند نے بیوی پر زنا کا الزام لگایا اور بیوی نے کہا تم سچ کہہ رہے ہو، تو اب تو لعان ہی نہیں، لعان میں تو کیا تھا؟ دونوں ایک دوسرے کی تکذیب کرتے تھے اور یہاں تو بیوی کیا کر رہی ہے؟ خاوند کی تصدیق کر رہی ہے، تو لہٰذا اس صورت میں لعان بھی نہیں اور حد بھی نہیں آئے گی کیونکہ بیوی خود خاوند کی تصدیق کر رہی ہے بھئی۔ بیوی تو خود خاوند کی تصدیق کر رہی ہے، لہٰذا حد بھی نہیں اور لعان بھی نہیں ہے بھئی۔ تو لعان کیوں نہیں ہوا؟ کیونکہ عورت نے تصدیق کر دی، تو لعان کا مانع عورت کی طرف سے آیا ہے، جب عورت کی طرف سے لعان کا مانع ہے تو حد بھی نہیں آئے گی بھئی۔ تو کہتے ہیں: كَمَا إِذَا صَدَّقَتْهُ، جیسے کہ عورت جو ہے خاوند کی تصدیق کر دے۔ وَالْأَصْلُ فِي ذَلِكَ قَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، اور دلیل جو ہے اس کے اندر حضور علیہ الصلاۃ والسلام کا قول ہے، آپ نے فرمایا: ”أَرْبَعَةٌ لَا لِعَانَ بَيْنَهُمْ“ کہ چار افراد ایسے ہیں ”لَا لِعَانَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ أَزْوَاجِهِمْ“ کہ ان کے اور ان کی ازواج کے درمیان لعان نہیں ہوتا: ”الْيَهُودِيَّةُ وَالنَّصْرَانِيَّةُ تَحْتَ الْمُسْلِمِ“ وہ یہودیہ اور وہ عیسائی عورت تَحْتَ الْمُسْلِمِ جو کسی مسلمان کے تحت ہو، یعنی خاوند مسلمان ہے اور بیوی یہودیہ عیسائی ہے، ”وَالْمَمْلُوكَةُ تَحْتَ الْحُرِّ“ اور اسی طرح وہ مملوکہ وہ باندی تَحْتَ الْحُرِّ جو آزاد آدمی کے تحت ہو، ”وَالْحُرَّةُ تَحْتَ الْمَمْلُوكِ“ اور اسی طرح وہ آزاد عورت جو مملوک یعنی غلام کے تحت ہو، غلام کی بیوی ہو۔ تو ان سب میں لعان نہیں آتا بھئی، یہ حدیث ہے بھئی۔ وَلَوْ كَانَا مَحْدُودَيْنِ فِي قَذْفٍ، اور اگر یہ دونوں محدود فی القذف ہوئے، فَعَلَيْهِ الْحَدُّ، تو خاوند پر حد آئے گی۔ اگر یہ دونوں محدود فی القذف ہیں، خاوند نے بھی کسی پر زنا کا الزام لگایا تھا اس پر بھی حدِ قذف جاری ہو چکی لہٰذا وہ ادائے شہادت نہیں کر سکتا، اور بیوی نے بھی کسی پر کسی زمانے میں زنا کا الزام لگایا تھا اس پر بھی حدِ قذف جاری ہو چکی ہے، تو دونوں محدود فی القذف ہیں اور دونوں ادائے شہادت نہیں کر سکتے۔ اب اس حال میں خاوند نے بیوی پر زنا کا الزام لگا دیا، جب بیوی پر زنا کا الزام لگایا تو اب خاوند پر حدِ قذف جاری ہو گی۔ اب خاوند پر حدِ قذف جاری ہو گی، بھئی کیسے حدِ قذف خاوند پر جاری ہو گی؟ یہاں اگر خاوند کی طرف سے مانع ہے لعان کا تو بیوی کی طرف سے بھی تو مانع موجود ہے؟ کہتے ہیں بھئی خاوند کی طرف سے مانع نہ ہو پھر بیوی کو دیکھا جائے گا۔ خاوند کی طرف سے مانع نہ ہو پھر اس کے بعد بیوی کی طرف دیکھا جائے گا کہ ادھر مانع ہے یا نہیں، لیکن یہاں تو خاوند کی طرف سے ہی مانع آ گیا، جب خاوند کی طرف سے مانع آ گیا اور اس نے زنا کا الزام لگایا ہے تو اب بیوی کی طرف سے جو مانع آیا ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں کیا جائے گا کیونکہ مانع خاوند کی طرف سے ہی موجود ہے، تو لہٰذا خاوند پر حدِ قذف جاری کر دی جائے گی، الّا یہ کہ وہ چار گواہ پیش کر دے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلَوْ كَانَا مَحْدُودَيْنِ فِي قَذْفٍ فَعَلَيْهِ الْحَدُّ، اور اگر یہ دونوں محدود فی القذف ہوئے تو خاوند پر حد واجب ہو گی۔ وَصِفَةُ اللِّعَانِ، اور لعان کی صفت یہ ہے یعنی اس کا طریقہ یہ ہے: أَنْ يَبْتَدِئَ الْقَاضِي بِالزَّوْجِ، کہ قاضی جو ہے خاوند سے ابتدا کرے گا، فَيَشْهَدُ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، تو خاوند گواہی دے گا چار مرتبہ، يَقُولُ فِي كُلِّ مَرَّةٍ، ہر مرتبہ میں وہ کہے گا: ”أَشْهَدُ بِاللَّهِ إِنِّي لَمِنَ الصَّادِقِينَ فِيمَا رَمَيْتُهَا بِهِ مِنَ الزِّنَا“، أَشْهَدُ میں گواہی دیتا ہوں بِاللَّهِ کہ اللہ کی قسم إِنِّي لَمِنَ الصَّادِقِينَ کہ بے شک میں سچوں میں سے ہوں فِيمَا رَمَيْتُهَا بِهِ مِنَ الزِّنَا اس الزام کے اندر جو میں نے اس عورت پر زنا کا لگایا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں واللہ میں نے اس عورت پر جو زنا کا الزام لگایا ہے میں اس میں سچا ہوں بھئی، ترجمہ سمجھ میں آ گیا۔ کہا: ”أَشْهَدُ“ میں گواہی دیتا ہوں، ”بِاللّٰهِ إِنِّي لَمِنَ الصَّادِقِينَ“ کہ بے شک میں سچوں میں سے ہوں، ”فِيمَا رَمَيْتُهَا بِهِ مِنَ الزِّنَى“ اس الزام کے اندر جو میں نے اس عورت پر زنا کا لگایا ہے۔ جی۔ ”رَمْيٌ“ کا معنی پھینکنا، یعنی زنا کا الزام لگانا یہاں مراد ہے۔ ”وَيَقُولُ فِي الْخَامِسَةِ“ اور پانچویں مرتبہ میں خاوند کہے گا: ”لَعْنَتُ اللّٰهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ فِيمَا رَمَاهَا بِهِ مِنَ الزِّنَى“ کہ اس پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹوں میں سے ہے، فیما رماها به اس الزام کے اندر جو اس نے اس عورت پر لگایا ہے، من الزنا یعنی زنا کا۔ جی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یعنی یوں کہے گا کہ اس پر اللہ کی لعنت ہو اگر اس نے اس عورت پر جو زنا کا الزام لگایا ہے، اس میں یہ جھوٹ بول رہا ہے بھئی۔ ”يُشِيرُ إِلَيْهَا فِي جَمِيعِ ذٰلِكَ“ خاوند جو ہے اس عورت کی طرف اشارہ کرے گا ان سب میں۔ جی۔ دیکھو یہاں غائب کی ضمیریں ہیں، ”فِيمَا رَمَيْتُهَا“ غائب کی ضمیریں ہیں۔ لیکن یہاں خاوند ہاتھ سے بھی اشارہ کرے گا، کیونکہ ضمیروں کے اندر وہ تاویل کر سکتا ہے، ضمیر کسی غائب کی طرف لوٹانی ہے۔ خاوند جو ہے اس عورت کے بجائے کسی اور عورت کی نیت کر لیتا ہے، اس کی طرف ضمیر لوٹا رہا ہے، تو لہٰذا خاوند پر ضروری ہے کہ وہ ہاتھ سے بھی اشارہ کرے۔ تو جب ضمیر بھی آ گئی اور ہاتھ سے اشارہ بھی ہو گیا، اب کوئی تاویل نہیں ہو سکتی، معلوم ہوا وہ اسی عورت کی بات کر رہا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”يُشِيرُ إِلَيْهَا فِي جَمِيعِ ذٰلِكَ“ خاوند جو ہے اس بیوی کی طرف اشارہ کرے گا ان تمام شہادتوں میں۔ ”ثُمَّ تَشْهَدُ الْمَرْأَةُ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ“ پھر وہ عورت گواہی دے گی چار مرتبہ، ”تَقُولُ فِي كُلِّ مَرَّةٍ“ ہر مرتبہ میں وہ کہے گی: ”أَشْهَدُ“ کہ میں گواہی دیتی ہوں، ”بِاللّٰهِ“ کہ اللہ کی قسم! ”إِنَّهُ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ“ کہ یہ شخص جھوٹوں میں سے ہے، ”فِيمَا رَمَانِي بِهِ مِنَ الزِّنَى“ اس الزام کے اندر جو اس نے مجھ پر زنا کا لگایا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یوں کہے گی عورت کہ میں گواہی دیتی ہوں کہ واللہ! اس شخص نے مجھ پر جو زنا کا الزام لگایا ہے، اس میں یہ جھوٹا ہے۔ ”وَتَقُولُ فِي الْخَامِسَةِ“ اور پانچویں مرتبہ میں عورت کہے گی: ”غَضَبُ اللّٰهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ فِيمَا رَمَانِي بِهِ مِنَ الزِّنَى“ کہ اس عورت پر اللہ کا غضب ہو اگر یہ شخص سچا ہے اس الزام کے اندر جو اس نے اس عورت پر زنا کا لگایا ہے۔ ”وَالأَصْلُ فِيهِ مَا تَلَوْنَاهُ مِنَ النَّصِّ“ اور دلیل اس کے اندر جو ہے، ”مَا تَلَوْنَاهُ مِنَ النَّصِّ“ وہ جو ہم نے تلاوت کی نص میں سے، وہ جو ”فَشَهَادَةُ أَحَدِهِمْ أَرْبَعُ شَهَادَاتٍ بِاللّٰهِ“، اسی آیت میں آگے اللہ تعالیٰ پوری تفصیل ذکر فرماتے ہیں بھئی۔ ”وَرَوَى الْحَسَنُ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ اور حسن ابن زیاد رحمہ اللہ جو امام صاحب کے شاگرد ہیں، وہ امام صاحب سے روایت کرتے ہیں: ”أَنَّهُ يَأْتِي بِلَفْظَةِ الْمُوَاجَهَةِ“ کہ یہ خاوند جو ہے لے کر آئے گا بلفظة المواجهة مواجهت والے الفاظ، یعنی خطاب والے الفاظ لائے گا۔ یہاں تو غائب کی ضمیریں ہیں ”فِيمَا رَمَيْتُهَا“، بلکہ وہ فرماتے ہیں مخاطب کے صیغے لائے گا: ”فِيمَا رَمَيْتُكِ“ وہ جو میں نے تجھ پر الزام لگایا ہے۔ تو حسن ابن زیاد امام صاحب سے روایت کرتے ہیں: ”أَنَّهُ يَأْتِي بِلَفْظَةِ الْمُوَاجَهَةِ“ کہ خاوند جو ہے مواجهت والے لفظ لائے گا، یعنی خطاب والے الفاظ ذکر کرے گا۔ ”يَقُولُ“ اور کہے گا: ”فِيمَا رَمَيْتُكِ بِهِ مِنَ الزِّنَى“ وہ جو میں نے تجھ پر زنا کا الزام لگایا ہے، ”لِأَنَّهُ أَقْطَعُ لِلِاحْتِمَالِ“ اس لیے کیونکہ یہ احتمال کو زیادہ کاٹنے والا ہے۔ جی۔ غائب کی ضمیر میں تو احتمال ہے خاوند کسی اور کی نیت کر لے، لیکن جب مخاطب کی ضمیر لے کر آئے گا تو وہاں تو اور کوئی احتمال نہیں ہو گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ أَقْطَعُ لِلِاحْتِمَالِ“ اس لیے کیونکہ یہ مخاطب کی ضمیر ہے، یہ احتمال کو زیادہ ختم کرنے والی ہے۔ ”وَوَجْهُ مَا ذَكَرَ فِي الْكِتَابِ“ اور وجہ اس کی جس کو صاحبِ قدوری نے کتاب میں ذکر فرمایا، انہوں نے تو غائب کے صیغے ذکر فرمائے، تو اس کی کیا وجہ ہے؟ اب وہ بھی بیان فرما رہے ہیں کہ اس کی وجہ یہ ہے: ”أَنَّ لَفْظَةَ الْمُغَايَبَةِ إِذَا انْضَمَّتْ إِلَيْهَا الإِشَارَةُ انْقَطَعَ الِاحْتِمَالُ“ کہ غائب کا جو لفظ ہے، یعنی غائب کی جو ضمیر ہے، إذا جب انضمت إليها الإشارة جب اس کے ساتھ اشارہ مل گیا، انقطع الاحتمال تو اب بھی احتمال ختم ہو گیا۔ جی۔ اب بھی کسی اور کا احتمال یہاں نہیں، کیونکہ ضمیر کے ساتھ اشارہ بھی آ گیا۔ ”قَالَ: وَإِذَا الْتَعَنَا لَا تَقَعُ الْفُرْقَةُ حَتَّى يُفَرِّقَ الْقَاضِي بَيْنَهُمَا“ بھئی، اب دونوں نے لعان کر لیا، تو کیا لعان کرنا ہی کافی ہے، اسی سے جدائی آ جائے گی، یا قاضی دونوں کے اندر باقاعدہ جدائی کروائے گا؟ تو آپ کو بتلائیں گے کہ نہیں، لعان سے جدائی نہیں آئے گی، بلکہ باقاعدہ قاضی جدائی کروائے گا کہ میں نے تم دونوں میں جدائی کروا دی۔ تو کہتے ہیں: ”قَالَ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَإِذَا الْتَعَنَا“ جب دونوں نے لعان کر لیا، ”لَا تَقَعُ الْفُرْقَةُ حَتَّى يُفَرِّقَ الْقَاضِي بَيْنَهُمَا“ تو جدائی واقع نہیں ہو گی یہاں تک کہ قاضی ان کے درمیان جدائی کروا دے۔ ”وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللّٰهُ: تَقَعُ بِتَلَاعُنِهِمَا“ اور امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان دونوں کے باہم لعان کرنے سے ہی جدائی واقع ہو جائے گی، قاضی کی جدائی کی کوئی ضرورت نہیں۔ ”لِأَنَّهُ تَثْبُتُ الْحُرْمَةُ الْمُؤَبَّدَةُ بِالْحَدِيثِ“ اس لیے کیونکہ حدیث کی وجہ سے حرمتِ مؤبدہ ثابت ہو جائے گی۔ یہ حدیث آ رہی ہے بھئی دو تین سطروں کے بعد، کہ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”الْمُتَلَاعِنَانِ لَا يَجْتَمِعَانِ أَبَدًا“۔ جی۔ ”الْمُتَلَاعِنَانِ لَا يَجْتَمِعَانِ أَبَدًا“ لعان کرنے والے کبھی بھی جمع نہیں ہو سکتے، یعنی اب دونوں اکٹھے نہیں رہ سکتے میاں بیوی بن کر بھئی۔ تو امام زفر فرماتے ہیں: دیکھا! اس حدیث سے پتا چل گیا وہ اکٹھے نہیں رہ سکتے، تو معلوم ہوا ان میں جدائی آ گئی ہے۔ تو معلوم ہوا لعان سے ہی ان کے اندر جدائی آ جائے گی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللّٰهُ: تَقَعُ بِتَلَاعُنِهِمَا“ کہ جدائی ان کے لعان سے ہی واقع ہو جائے گی، ”لِأَنَّهُ تَثْبُتُ الْحُرْمَةُ الْمُؤَبَّدَةُ بِالْحَدِيثِ“ اس لیے کیونکہ حرمتِ مؤبدہ ثابت ہو جاتی ہے حدیث کی وجہ سے۔ ”وَلَنَا“ ہماری دلیل، ہمارے نزدیک قاضی جدائی کروائے گا۔ جی۔ تو ہماری ”وَلَنَا“ ہماری دلیل یہ ہے: ”أَنَّ ثُبُوتَ الْحُرْمَةِ بِفَوْتِ الإِمْسَاكِ بِالْمَعْرُوفِ“ کہ حرمت کا ثبوت جو ہے وہ امساک بالمعروف کے فوت ہو جانے کی وجہ سے ہے، ”فَيَلْزَمُهُ التَّسْرِيحُ بِالإِحْسَانِ“ تو اب اس خاوند پر لازم ہے تسريح بالإحسان۔ بھئی، دیکھو قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ”الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ“ کہ رجعی طلاقیں دو مرتبہ ہیں، ”فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ“، پھر اس کے بعد اچھے طریقے سے بیوی کو روکنا ہے، ”أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ“ یا احسان کے ساتھ اس کو رخصت کرنا ہے۔ تو یہ صرف طلاق کے ساتھ یہ حکم نہیں ہے، یہ ویسے ہی خاوند کے لیے یہی حکم ہے۔ اللہ نے اس خاوند کو اختیار دیا ہے دو چیزوں میں سے ایک کا: یا تو وہ بیوی کو اچھے طریقے سے ضابطے کے مطابق روک کر رکھے، جیسے معاشرے میں بیوی کو رکھا جاتا ہے، تو یہ ہے امساک بالمعروف، اچھے طریقے سے روکنا، یا یوں کہو ضابطے اور قانون کے مطابق بیوی کو روکنا، جو معروف ضابطہ ہے لوگوں کے درمیان۔ تو خاوند کو شریعت نے اختیار دیا ہے دو چیزوں میں سے ایک کو اختیار کر لے۔ اگر بیوی کو رکھنا چاہتا ہے تو امساک بالمعروف پر عمل کرے، معروف طریقے سے بیوی کو رکھے، اچھے طریقے سے بیوی کو رکھے، ”أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ“ یا تسريح بالإحسان پر عمل کرے اگر نہیں رکھنا چاہتا تو اس کو اچھے طریقے سے رخصت کر دے، احسان کے ساتھ اس کو رخصت کر دے۔ تو یہ صرف طلاق کے ساتھ خاص نہیں ہے، بلکہ یہ حکم عام ہے۔ خاوند کو شریعت نے دو چیزوں کا اختیار دیا ہے۔ بیوی کو رکھنا ہے تو اچھے طریقے سے روک کر رکھے، معروف طریقے سے، جیسے معاشرے میں رکھا جاتا ہے، تو اس طرح ضابطے اور قاعدے کے موافق اچھے طریقے سے بیوی کو رکھے، اور اگر اچھے طریقے سے بیوی کو نہیں رکھنا چاہتا، ”فَتَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ“ تو اس کو احسان کے ساتھ، نیکی کے ساتھ رخصت کر دے۔ جی۔ بعض لوگ بیوی کو رکھتے بھی نہیں اور اس کو طلاق بھی نہیں دیتے، اس کو معلق کر کے رکھتے ہیں بھئی۔ اس خاوند نے بھی اس کو بیوی کی طرح نہیں رکھا ہوا اور وہ طلاق بھی نہیں دے رہا کہ وہ آگے کہیں اور نکاح کر لے۔ تو اس سے اللہ تعالیٰ منع فرما رہے ہیں۔ تو لہٰذا خاوند کو دو چیزوں میں سے ایک کا اختیار ہے: یا تو وہ امساک بالمعروف پر عمل کرے، اگر اس پر عمل نہ کر سکے تو پھر دوسری صورت یہی ہے کہ اس کو تسريح بالإحسان پر عمل کرنا پڑے گا اور بیوی کو احسان کے ساتھ رخصت کرنا پڑے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں پر بھی دیکھو، صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں: ”وَلَنَا: أَنَّ ثُبُوتَ الْحُرْمَةِ بِفَوْتِ الإِمْسَاكِ بِالْمَعْرُوفِ“ کہ یہاں یہ جو حرمت کا ثبوت آیا ہے، وہ امساک بالمعروف فوت کر دینے کی وجہ سے آیا ہے۔ جی۔ خاوند کو تو شریعت نے کیا حکم دیا ہے کہ بیوی کو اچھے طریقے سے روک کر رکھو، تو یہ خاوند جو اس پر زنا کا الزام لگا رہا ہے اور اس کے ساتھ لعان کر رہا ہے، تو اس نے امساک بالمعروف پر عمل نہیں کیا۔ جب اچھے طریقے سے بیوی کو نہیں روکا تو حرمت آ گئی، لیکن پھر بھی خاوند پر لازم ہے کہ وہ کیا کرے گا؟ تسريح بالإحسان پر اب اس کو عمل کرنا پڑے گا۔ جی۔ تو ہم کہتے ہیں: ”أَنَّ ثُبُوتَ الْحُرْمَةِ بِفَوْتِ الإِمْسَاكِ بِالْمَعْرُوفِ“ کہ حرمت کا ثبوت جو ہے امساک بالمعروف کے فوت ہو جانے سے ہو جاتا ہے، ”فَيَلْزَمُهُ التَّسْرِيحُ بِالإِحْسَانِ“ تو خاوند پر اب لازم ہو گیا تسريح بالإحسان، ”فَإِذَا امْتَنَعَ“ جب خاوند اس سے باز رہا، وہ رکا رہا، اس نے تسريح بالإحسان نہیں کیا، ”نَابَ الْقَاضِي مَنَابَهُ“ تو قاضی اس کا قائم مقام ہو جائے گا اور تسريح بالإحسان کر دے گا، ”دَفْعًا لِلظُّلْمِ“ ظلم کو دور کرنے کے لیے، عورت پر سے ظلم کو دور کرنے کے لیے۔ ”دَلَّ عَلَيْهِ قَوْلُ ذٰلِكَ الْمُلَاعِنِ عِنْدَ النَّبِيِّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ“ دلالت کرتا ہے اس پر لعان کرنے والے کا قول عند النبی علیہ السلام حضور علیہ السلام کے پاس۔ بھئی، یہ ایک صحابی بھئی، حضرت عُوَيمِر عَجْلَانِی رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْهُ، تو یہ حضرت عویمر عجلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، انہوں نے بیوی کو زنا کرتے ہوئے دیکھا تو پھر آ کر حضور علیہ السلام سے فرمانے لگے کہ یا رسول اللہ! کوئی شخص اگر اپنی بیوی کے ساتھ کسی اور آدمی کو دیکھے تو اگر یہ اس کو قتل کرتا ہے تو آپ لوگ اس کو قتل کر دیں گے یعنی قصاص میں، تو پھر وہ کیا کرے؟ جی۔ کوئی شخص اپنی بیوی کو زنا کرتے ہوئے دیکھے تو اس آدمی کو اگر وہ قتل کر دے تو پھر آپ لوگ اس کو قتل کر دیں گے، تو پھر وہ خاوند کیا کرے؟ تو حضور علیہ السلام فرمانے لگے کہ بھئی تمہارے معاملے میں اللہ حکم نازل فرما چکے ہیں، جاؤ اپنی بیوی کو بلا کر لاؤ۔ چنانچہ وہ گئے اور اپنی بیوی کو لے آئے اور پھر وہاں حضور علیہ السلام نے دونوں میں لعان کروایا۔ اور لعان کروانے کے بعد حضرت عویمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمانے لگے: ”كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا“ کہ میں نے اس پر جھوٹ بولا ہے اگر میں اس کو روک لوں۔ یعنی یا رسول اللہ! اب اگر میں اس کو روک کر اور اپنی بیوی بنا کر رکھوں تو لوگ یہی سمجھیں گے کہ اس نے تو جھوٹ بولا ہے، تو چنانچہ لعان کے بعد انہوں نے یہ جملہ فرمایا: ”كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا“ میں نے اس پر جھوٹ بولا ہے یا رسول اللہ اگر میں اس کو روک لوں۔ جی۔ یعنی اب بھی اگر اس کو اپنی بیوی بنا کر رکھوں۔ اور پھر فوراً ہی آگے فرمایا کہ ”هِيَ طَالِقٌ ثَلَاثًا“ اس کو تین طلاقیں ہیں۔ جی۔ تو فوراً ہی اس کو تین طلاقیں دے دیں، اور یہ لعان کے بعد طلاقیں دیں۔ تو دیکھو، یہاں پر اگر لعان سے ہی جدائی آ چکی ہوتی تو حضور علیہ السلام ان کو، ان کو رد فرماتے کہ تم میں پہلے ہی جدائی آ چکی ہے، تین طلاقیں دینے کا کوئی فائدہ نہیں، لیکن حضور نے کوئی منع نہیں فرمایا بھئی۔ جی۔ اس سے معلوم ہوا کہ لعان سے جدائی نہیں آتی، قاضی کو جدائی کروانا پڑے گی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”دَلَّ عَلَيْهِ قَوْلُ ذٰلِكَ الْمُلَاعِنِ عِنْدَ النَّبِيِّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ“ کہتے ہیں اس پر وہ لعان کرنے والے کا قول دلالت کرتا ہے جو حضور علیہ السلام کے پاس انہوں نے کہا۔ آگے دیکھیے بھئی: ”كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللّٰهِ، فَقَالَ لَهُ: أَمْسِكْهَا، فَقَالَ: إِنْ أَمْسَكْتُهَا فَهِيَ طَالِقٌ ثَلَاثًا، قَالَهُ بَعْدَ اللِّعَانِ“۔ بھئی دیکھو یہاں حدیث کے الفاظ میں بڑی تقدیم و تاخیر ہے، اس طرح ترجمہ ٹھیک نہیں بن رہا۔ تو یہ معلوم نہیں کسی لکھنے والے سے غلطی ہوئی ہے یا کیا ہوا ہے، حدیث کے اندر جو ذکر الفاظ آتے ہیں وہ، یہ جو شروع میں آیا نا ”كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللّٰهِ“ جی۔ اور آگے آ رہا ہے ”إِنْ أَمْسَكْتُهَا“۔ جی۔ یہ شرط ہے، اس کو اس کے ساتھ جوڑیں: ”كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا“ جی۔ کہ میں نے تو اس پر جھوٹ بولا ہے یا رسول اللہ اگر میں اس کو روک لوں۔ جی۔ توجہ ہے؟ اور ”فَهِيَ طَالِقٌ ثَلَاثًا“ یہ الگ ہے، یہ پھر انہوں نے الگ طلاق دے دی۔ جی۔ لیکن بظاہر کتاب کو دیکھیں تو یوں لگتا ہے کہ انہوں نے ”كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللّٰهِ“ میں نے اس کے اوپر جھوٹ بولا ہے، یہ تو گویا اقرار کر رہے ہیں کہ میں نے جھوٹا الزام لگایا تھا۔ جی۔ بظاہر، کیونکہ آگے آ رہا ہے ”فَقَالَ لَهُ: أَمْسِكْهَا“ حضور نے ان سے کہا کہ اس کو روک لو۔ جی۔ تو یہاں ہدایہ کی عبارت درست نہیں ہے بھئی۔ یہاں پر ہدایہ کے اندر ہے ”كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللّٰهِ فَقَالَ لَهُ أَمْسِكْهَا“، حضور نے فرمایا ”أَمْسِكْهَا“ اس کو روک لو، لیکن یہ عبارت درست نہیں بھئی۔ حضور علیہ السلام کیسے روکنے کا حکم دے سکتے ہیں؟ حالانکہ ابھی میں نے حدیث بتلائی، حدیث میں کیا آتا ہے: ”الْمُتَلَاعِنَانِ لَا يَجْتَمِعَانِ أَبَدًا“ کہ لعان کرنے والے کبھی بھی جمع نہیں ہو سکتے، یعنی کبھی بھی اکٹھے نہیں رہ سکتے، ان دونوں میں معلوم ہوا حرمتِ مؤبدہ آ چکی ہے بھئی۔ جب حضور علیہ السلام ایک جگہ فرما رہے ہیں حرمتِ مؤبدہ آ چکی ہے، تو دوسری جگہ حضور علیہ السلام یہ کیسے فرما سکتے ہیں ”أَمْسِكْهَا“ کہ اس کو روک لو، لعان کے بعد فرما رہے ہیں اس کو روک لو۔ معلوم ہوا یہ کتابت کی غلطی ہے بھئی۔ جی۔ یہ ”فَقَالَ لَهُ: أَمْسِكْهَا“ حضور علیہ السلام نے ان سے کہا کہ اس کو روک لو، یہ، یہ درست نہیں ہے بھئی۔ یہ حدیث میں بھی یہ الفاظ ذکر نہیں ہیں۔ اس لفظ کو نکال دیں تو پھر باقی عبارت صحیح بن جائے گی: ”كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا“ میں نے اس پر جھوٹ بولا ہے یا رسول اللہ اگر میں اس کو روک لوں، لعان کے بعد یہ فرمایا اور پھر ”فَهِيَ طَالِقٌ ثَلَاثًا“ فرمایا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ جی۔ ”قَالَهُ بَعْدَ اللِّعَانِ“ اور یہ انہوں نے لعان کے بعد فرمایا تھا۔ یہ جو تین طلاقیں دیں یہ لعان کے بعد دی تھیں بھئی۔ معلوم ہوا صرف لعان سے جدائی نہیں آتی بلکہ قاضی کو جدائی کروانا پڑتی ہے بھئی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ آگے دیکھیے: ”وَتَكُونُ الْفُرْقَةُ تَطْلِيقَةً بَائِنَةً عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللّٰهُ“ اور طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک یہ جو جدائی ہے یہ طلاقِ بائن ہو گی، ”لِأَنَّ فِعْلَ الْقَاضِي انْتَسَبَ إِلَيْهِ“ اس لیے کیونکہ قاضی کا فعل اس خاوند کی طرف منسوب ہو گا۔ قاضی کا فعل خاوند کی طرف منسوب ہو گا کہ قاضی نے خاوند کا نائب ہو کر جدائی کروائی ہے۔ جی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ فِعْلَ الْقَاضِي انْتَسَبَ إِلَيْهِ“ اس لیے کیونکہ قاضی کا فعل جو ہے وہ خاوند کی طرف منسوب ہو گا، ”كَمَا فِي الْعِنِّينِ“ جیسے کہ نامرد کے اندر ہوتا ہے۔ نامرد جو ہے اس کو بھی قاضی ایک سال کی مہلت دیتا ہے، اگر وہ صحبت پر قادر نہ ہو سکا تو پھر قاضی جدائی کرتا ہے۔ تو قاضی اس کا نائب بن کر جدائی کرتا ہے لہٰذا وہ جدائی بھی کس کے حکم میں ہوتی ہے؟ طلاقِ بائن کے حکم میں، تو یہاں بھی قاضی نے جدائی کروائی ہے خاوند کی طرف سے، تو یہ بھی طلاقِ بائن کے حکم میں ہے۔ آگے دیکھیے: ”وَهُوَ خَاطِبٌ إِذَا أَكْذَبَ نَفْسَهُ“ خاطب بھئی، خاطب بھئی ط کے ساتھ ہے۔ خَطَبَ يَخْطُبُ خُطْبَةً اور خِطْبَةً۔ جی۔ اگر خَطَبَ يَخْطُبُ کا مصدر خُطْبَةً لائیں تو اس کا معنی ہے تقریر کرنا: خَطَبَ يَخْطُبُ خُطْبَةً، اور اگر خ کے نیچے کسرہ پڑھیں: خَطَبَ يَخْطُبُ خِطْبَةً تو اس کا معنی ہوتا ہے پیغامِ نکاح بھیجنا۔ جی۔ تو یہاں یہ پیغامِ نکاح بھیجنے کے معنی میں ہے۔ کہتے ہیں: ”وَهُوَ خَاطِبٌ إِذَا أَكْذَبَ نَفْسَهُ“ اچھا بھئی، یہ جدائی طلاقِ بائن کے حکم میں ہے طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک، جبکہ آگے آپ کو بتلائیں گے امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ تحریمِ مؤبد ہے۔ ہمیشہ کے لیے یہ خاوند اور بیوی ایک دوسرے پر حرام ہو گئے بھئی۔ لیکن طرفین فرماتے ہیں یہ طلاقِ بائن ہے۔ ہاں، اب یہ دونوں نکاح نہیں کر سکتے یہ خاوند اور بیوی، جدائی آ گئی ہے، لیکن اگر خاوند اپنے آپ کو جھٹلا دے، خاوند اپنے آپ کو جھٹلا دے کہ میں نے جھوٹ بولا تھا، تو اس صورت میں خاوند پر حدِ قذف لگے گی، اور وہ اب لعان ختم ہو گیا دونوں کے بیچ، اب دونوں متلاعنان نہ رہے، حدیث میں تو کیا آیا تھا؟ ”الْمُتَلَاعِنَانِ لَا يَجْتَمِعَانِ أَبَدًا“ متلاعنان کبھی بھی جمع نہیں ہو سکتے، لیکن جب خاوند نے اپنے آپ کو جھٹلا دیا تو اب وہ متلاعن رہا ہی نہیں، متلاعن جو ہوتا ہے وہ تو دوسرے کو جھٹلا رہا ہوتا ہے۔ جی۔ توجہ ہے؟ تو لہٰذا یہاں خاوند نے گویا اپنی ان شہادتوں سے رجوع کر لیا، اور جب شہادتوں سے رجوع کر لیا تو ان کا کوئی حکم نہیں ہے، وہ کالعدم ہو گئیں، جب کالعدم ہو گئیں تو اب خاوند متلاعن نہ رہا، یہ بیوی بھی اب متلاعنہ نہ رہی، تو جب دونوں متلاعن نہ رہے تو اب نکاح کر سکتے ہیں۔ جی۔ تو کہتے ہیں: ”وَهُوَ خَاطِبٌ“ اور خاوند جو ہے اس کو پیغامِ نکاح بھیج سکتا ہے، ”إِذَا أَكْذَبَ نَفْسَهُ“ جب وہ اپنے آپ کو جھٹلا دے، ”عِنْدَهُمَا“ طرفین کے نزدیک۔ ”وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ: هُوَ تَحْرِيمٌ مُؤَبَّدٌ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ تحریمِ مؤبد ہے، یہ جو لعان ہے اس سے، اس سے جو جدائی آئے گی یہ تحریمِ مؤبد ہے، ہمیشہ کی جدائی ہے، ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: الْمُتَلَاعِنَانِ لَا يَجْتَمِعَانِ أَبَدًا“ حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے کہ آپ نے فرمایا: ”الْمُتَلَاعِنَانِ لَا يَجْتَمِعَانِ أَبَدًا“ کہ متلاعنان کبھی بھی اکٹھے نہیں ہو سکتے، ”نَصَّ عَلَى التَّأْبِيدِ“ اس کے اندر حضور علیہ السلام نے تصریح کی ہے تابد پر، اس تحریم کے ہمیشہ ہونے پر تصریح کی ہے۔ ”وَلَهُمَا“ طرفین کی دلیل یہ ہے: ”أَنَّ الإِكْذَابَ رُجُوعٌ“ کہ اپنے آپ کو جھٹلانا یہ رجوع ہے، ”وَالشَّهَادَةُ بَعْدَ الرُّجُوعِ لَا حُكْمَ لَهَا“ اور شہادت جو ہے رجوع کے بعد اس کا کوئی حکم نہیں ہوتا۔ جی۔ وہ جو لعان میں شہادتیں دی تھیں وہ ان کا کوئی حکم اب نہیں، وہ ختم ہو گئیں، اس نے رجوع کر لیا، ”وَلَا يَجْتَمِعَانِ مَا دَامَا مُتَلَاعِنَيْنِ“ اور یہ خاوند اور بیوی جمع نہیں ہو سکتے جب تک کہ متلاعنین ہیں، ”وَلَمْ يَبْقَ التَّلَاعُنُ وَلَا حُكْمُهُ بَعْدَ الإِكْذَابِ“ لیکن تلاعن اور اس کا حکم تو باقی نہ رہا بعد الإکذاب اپنے آپ کو جھٹلانے کے بعد، اب تو یہ متلاعن نہیں ہیں، ”فَيَجْتَمِعَانِ“ تو یہ جمع ہو سکتے ہیں، اب نکاح کر سکتے ہیں۔ ”وَلَوْ كَانَ الْقَذْفُ بِنَفْيِ الْوَلَدِ“ اور اگر قذف جو ہے بچے کی نفی کے ذریعے تھا، خاوند نے صراحتاً بیوی پر زنا کا الزام نہیں لگایا بلکہ صرف بچے کے نسب کی نفی کی، تو اب اس کا بھی بتلانے لگے کہ اس صورت میں یاد رکھو، اب بچے کے نسب کی نفی کو بھی ذکر کیا جائے گا لعان میں۔ خاوند یوں کہے گا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ واللہ! اس عورت کے بچے کے نسب کی نفی کی ہے میں نے اپنے آپ سے، میں اس میں سچا ہوں بھئی۔ جی۔ تو دیکھا بچے کے نسب کو وہاں ذکر کرے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ كَانَ الْقَذْفُ بِنَفْيِ الْوَلَدِ“ اور اگر قذف جو تھا، تہمت جو تھی بچے کی نفی کے ذریعے تھی، ”نَفَى الْقَاضِي نَسَبَهُ وَأَلْحَقَهُ بِأُمِّهِ“ تو قاضی اس بچے کے نسب کی نفی کر دے گا باپ سے، ”وَأَلْحَقَهُ بِأُمِّهِ“ اور اس بچے کو اس کی ماں کے ساتھ ملا دے گا، اب یہ صرف اس عورت کا بچہ شمار ہو گا۔ ”وَصُورَةُ اللِّعَانِ“ اور لعان کی صورت یہ ہے: ”أَنْ يَأْمُرَ الْحَاكِمُ الرَّجُلَ“ کہ حاکم حکم دے گا اس آدمی کو، ”فَيَقُولَ“ تو وہ شخص کہے گا: ”أَشْهَدُ“ میں گواہی دیتا ہوں، ”بِاللّٰهِ“ اللہ کے نام کے ساتھ، اللہ کی قسم کھا کر، ”إِنِّي لَمِنَ الصَّادِقِينَ“ کہ بے شک میں سچوں میں سے ہوں، یا یوں کہیں بے شک میں سچا ہوں، ”فِيمَا رَمَيْتُكِ بِهِ“ اس الزام کے اندر جو میں نے تجھ پر لگایا ہے، ”مِنْ نَفْيِ الْوَلَدِ“ یعنی بچے کی نفی کا، میں اس الزام میں سچا ہوں بھئی۔ ”وَكَذَا فِي جَانِبِ الْمَرْأَةِ“ اور اسی طرح عورت کی جانب میں بھی ہو گا، وہ بھی بچے کے نسب کو ذکر کرے گی۔ ”وَلَوْ قَذَفَهَا بِالزِّنَى وَنَفَى الْوَلَدَ“ اور اگر خاوند نے بیوی پر زنا کی تہمت بھی لگائی اور بچے کی بھی نفی کی، اولاد کی بھی نفی کی۔ بھئی دیکھو یہ صورت اوپر والی صورت سے مختلف ہے۔ یاد رکھو یہ جو خاوند زنا کا الزام لگاتا ہے، یہ دو قسم کا ہو سکتا ہے: ایک یہ کہ خاوند صراحتاً زنا کا الزام لگائے، بیوی سے کہے: تو نے زنا کیا ہے۔ جی۔ اور ایک زنا کا الزام جو ہے وہ کنایۃً بھی ہو سکتا ہے یا ضمناً بھی ہو سکتا ہے، مثلاً خاوند نے بچے کے نسب کی نفی کر دی۔ بیوی نے بچے کو جنم دیا اور خاوند کہتا ہے: یہ میرا بچہ نہیں ہے۔ اب وہ صراحتاً تو زنا کا الزام نہیں لگا رہا، اس نے تو زنا کو ذکر بھی نہیں کیا، لیکن ضمناً یہ بھی زنا ہی کا الزام ہے بھئی۔ تو معلوم ہوا زنا کا الزام صراحتاً بھی ہو سکتا ہے اور بچے کے نسب کی نفی کر کے ضمناً بھی زنا کا الزام ہو سکتا ہے، تو ان دونوں صورتوں میں لعان کیا جائے گا بھئی۔ کیونکہ بچے کے نسب کی نفی بھی دراصل کیا ہے؟ یہ زنا ہی کا الزام ہے۔ اور اگر خاوند نے دونوں چیزیں ذکر کیں، بچے کے نسب کی نفی بھی کی ہے اور ساتھ زنا کو بھی ذکر کیا ہے، بیوی سے کہتا ہے: تو نے زنا کیا ہے، یہ بچہ میرا نہیں ہے، تو اب تو دونوں باتیں آ گئیں، زنا کا الزام بھی صراحتاً آ گیا اور بچے کے نسب کی نفی بھی کر دی۔ تو یہاں یہ صورت ذکر ہو رہی ہے: ”وَلَوْ قَذَفَهَا بِالزِّنَى وَنَفَى الْوَلَدَ“ اور اگر خاوند نے زنا کی تہمت بھی لگائی ہے اور نفی الولد اور بچے کے نسب کی نفی بھی کی ہے، تو پھر ”ذَكَرَ فِي اللِّعَانِ الأَمْرَيْنِ“ تو پھر لعان کے اندر بھی دونوں امر ذکر کرے گا، دونوں چیزیں ذکر کرے گا۔ خاوند یوں کہے گا کہ میں گواہی دیتا ہوں واللہ! میں نے اس عورت پر جو زنا کا الزام لگایا ہے اور جو میں نے بچے کے نسب کی اپنے آپ سے نفی کی ہے، میں اس میں سچا ہوں بھئی۔ جی۔ اور عورت بھی جواب کے اندر یہ دونوں چیزیں ذکر کرے گی کہ میں گواہی دیتی ہوں واللہ! اس شخص نے مجھ پر جو زنا کا الزام لگایا ہے اور بچے کے نسب کی جو اس نے اپنے آپ سے نفی کی ہے، ان دونوں چیزوں کے اندر یہ جھوٹا ہے بھئی۔ تو لہٰذا یہ ”وَلَوْ قَذَفَهَا بِالزِّنَى وَنَفَى الْوَلَدَ“ اس کا یہ مطلب ہے کہ دونوں چیزیں خاوند ذکر کر دیتا ہے، زنا کا الزام بھی لگایا ہے اور ساتھ ہی بچے کے نسب کی نفی بھی کی ہے، تو پھر دونوں ذکر کرنے پڑیں گے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ قَذَفَهَا بِالزِّنَى وَنَفَى الْوَلَدَ ذَكَرَ فِي اللِّعَانِ الأَمْرَيْنِ“ اور اگر خاوند نے عورت پر زنا کی تہمت بھی لگائی اور ولد کی نفی بھی کی، تو ذکر کرے گا لعان میں دونوں چیزیں۔ ”ثُمَّ يَنْفِي الْقَاضِي نَسَبَ الْوَلَدِ“ پھر نفی کر دے گا قاضی بچے کے نسب کی اس باپ سے، ”وَيُلْحِقُهُ بِأُمِّهِ“ اور اس کو ملا دے گا اس کی ماں کے ساتھ، ”لِمَا رُوِيَ أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ نَفَى وَلَدَ امْرَأَةِ هِلَالِ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ هِلَالٍ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالَى عَنْهُ“ اس حدیث کی وجہ سے جو روایت کی گئی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نفی فرما دی ہلال ابن امیہ کی بیوی کے بچے کی ہلال رضی اللہ تعالی عنہ حضرت ہلال سے۔ بھئی حضرت ہلال ابن امیہ رضی اللہ تعالی عنہ بھئی، یہ، انہوں نے یہ رات کو اپنے گھر آئے تو انہوں نے بیوی کو کسی آدمی کے ساتھ دیکھا بھئی۔ تو ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھا بھی اور کانوں سے سنا بھی۔ تو اگلے دن حضور علیہ السلام کے پاس تشریف لائے اور یہ بات ذکر فرمائی کہ اس طرح میں گھر والوں کے پاس آیا اور میں نے ایک شخص کو گھر والوں کے پاس دیکھا، میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا بھی اور سنا بھی۔ تو حضور علیہ السلام کے چہرے پر ناگواری کے اثرات نمودار ہوئے، وجہ یہ کہ اس وقت تک صرف پہلا حکم نازل ہوا تھا کہ جو لوگ پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگائیں اور چار گواہ پیش نہ کر سکیں تو ان کو اسّی کوڑے لگائے جائیں گے۔ تو اب بظاہر حضرت ہلال ابن امیہ پر بھی حدِ قذف آ رہی تھی بھئی، انہوں نے اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگایا تھا۔ اور پھر حضور علیہ السلام پر وحی کے آثار نمودار ہوئے اور پھر تھوڑی دیر بعد فرمانے لگے کہ اے ہلال! مبارک ہو، اللہ نے تمہاری نجات کا راستہ نکال دیا۔ تو وہ فرمانے لگے: مجھے یقین تھا میرا رب مجھے بچا لے گا۔ تو اس وقت پھر یہ لعان کا حکم نازل ہوا۔ حضور علیہ السلام نے ان کی بیوی کو بلوایا اور پھر دونوں میں لعان کروایا۔ حضرت ہلال ابن امیہ رضی اللہ تعالی عنہ نے چار شہادتیں ذکر کیں اور پانچواں جملہ کہنے لگے، تو حضور علیہ السلام فرمانے لگے: اللہ سے ڈرو، آخرت کا عذاب بڑا سخت ہے، اور یہ جملہ جو اب تم کہنے جا رہے ہو اس کی وجہ سے تم عذاب کے مستحق بن جاؤ گے۔ لیکن حضرت ہلال فرمانے لگے: میں سچ کہہ رہا ہوں یا رسول اللہ! انہوں نے وہ جملہ بھی کہہ دیا کہ اگر میں نے یہ جھوٹا الزام لگایا ہے تو مجھ پر اللہ کی لعنت ہو۔ اور پھر اس کے بعد ان کی بیوی نے چار شہادتیں دیں اور پھر پانچویں بات جب وہ کرنے لگیں تو حضور علیہ السلام نے ان سے بھی فرمایا کہ اللہ سے ڈرو اور آخرت کا عذاب بڑا سخت ہے، یہ جو جملہ یہ بات جو تم کرنے جا رہی ہو اس سے تم پر عذاب واجب ہو جائے گا۔ تو وہ ایک لمحے کے لیے رکیں وہ عورت بھئی، لیکن پھر کہنے لگیں کہ میں کبھی اپنے قبیلے کو رسوا نہیں کروں گی، اور پھر انہوں نے وہ جملہ بھی کہہ دیا۔ تو پھر اس کے بعد حضور علیہ السلام نے ان دونوں میں جدائی کروا دی اور بچے کا نسب کاٹ کر صرف بیوی کے ساتھ جوڑ دیا، اور پھر باقاعدہ حضور نے نشانیاں ذکر فرمائیں کہ اگر اس عورت نے ایسے ایسے بچے کو جنم دیا تو وہ ہلال کا ہو گا، اور اگر اس نے اس اس طرح کے بچے کو جنم دیا تو وہ اس آدمی کا ہو گا جس کے بارے میں وہ زنا کا الزام تھا۔ چنانچہ بعد میں اس عورت نے جو بچے کو جنم دیا تو وہ اس آدمی کے ساتھ ملتا تھا جن کے بارے میں حضرت ہلال نے الزام لگایا تھا۔ تو حضور علیہ السلام کو بتلایا گیا کہ اس عورت نے بچے کو جنم دیا ہے اور اس اس طرح کا ہے جو آپ نے ذکر فرمایا تھا، تو حضور بڑے غضب کی حالت میں آ گئے اور فرمانے لگے کہ اگر یہ قسمیں نہ ہوتیں، یہ قسمیں نہ ہوتیں یعنی یہ شریعت کا حکم نہ ہوتا تو پھر ہم دیکھتے اس کو۔ تو یہ واقعہ ہے، حضرت ہلال ابن امیہ کی بیوی کا جو بچہ تھا، اس کا نسب حضور نے حضرت ہلال سے کاٹ کر صرف ان کی بیوی کے ساتھ جوڑ دیا تھا۔ تو لہٰذا اگر خاوند بھی بچے کے نسب کی نفی کرتا ہے تو اس کے نسب کو کاٹ کر صرف بیوی کے ساتھ اس بچے کو لازم کر دیا جائے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِمَا رُوِيَ“ بوجہ اس حدیث کے جس کو روایت کیا گیا ہے: ”أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ نَفَى وَلَدَ امْرَأَةِ هِلَالِ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ هِلَالٍ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالَى عَنْهُ“ کہ حضور علیہ السلام نے نفی فرما دی ہلال ابن امیہ کی بیوی کے بچے کی، حضرت ہلال سے، حضرت ہلال سے ان کی بیوی کے بچے کے نسب کی نفی فرما دی، ”وَأَلْحَقَهُ بِهَا“ اور اس بچے کو صرف اسی عورت کے ساتھ ہی ملا دیا۔ ”وَلِأَنَّ الْمَقْصُودَ مِنْ هٰذَا اللِّعَانِ نَفْيُ الْوَلَدِ“ اب یہ عقلی دلیل ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ الْمَقْصُودَ مِنْ هٰذَا اللِّعَانِ نَفْيُ الْوَلَدِ“ اور نیز اس لیے کیونکہ اس لعان کے ذریعے مقصود جو ہے ولد کی نفی ہے، یہ جو خاوند ولد کی نفی کی وجہ سے لعان کر رہا ہے تو مقصود ہی کیا ہے؟ وہ اپنے سے بچے کے نسب کی نفی کرنا چاہتا ہے۔ ”فَيُوَفَّرُ عَلَيْهِ مَقْصُودُهُ“ وفر یوفر کا معنی ہے پورا ادا کرنا۔ کہتے ہیں: ”فَيُوَفَّرُ عَلَيْهِ مَقْصُودُهُ“ تو خاوند کو اس کا مقصود پورا دیا جائے گا، یعنی نسب کی اس سے نفی کر دی جائے گی، ”فَيَتَضَمَّنُهُ الْقَضَاءُ بِالتَّفْرِيقِ“ لہٰذا یہ نفی کو متضمن ہو گی قضاء بالتفریق۔ قاضی جب جدائی کا فیصلہ کرے گا، تو اس جدائی کے ضمن میں ہی نسب کی بھی نفی ہو جائے گی، قاضی کو الگ ذکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ جی۔ قاضی کو نسب کی الگ نفی کرنے کی ضرورت نہیں، قاضی صرف جدائی کا فیصلہ کرے گا اور خاوند سے خود بخود نسب کی بھی نفی ہو جائے گی۔ لیکن آپ کو آگے بتلائیں گے کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، قاضی باقاعدہ نسب کی بھی نفی کو ذکر کرے گا۔ جی۔ قاضی باقاعدہ نسب کی نفی کو ذکر کرے گا، اور اسی کو علماء نے صحیح قرار دیا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَيَتَضَمَّنُهُ الْقَضَاءُ بِالتَّفْرِيقِ“ تو یہ نسب کی جو نفی ہے اس کو متضمن ہو گا جدائی کا فیصلہ، یعنی جدائی کے فیصلے کے ضمن میں ہی نسب کی نفی بھی آ جائے گی۔ ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ: أَنَّ الْقَاضِيَ يُفَرِّقُ وَيَقُولُ: قَدْ أَلْزَمْتُهُ أُمَّهُ وَأَخْرَجْتُهُ مِنْ نَسَبِ الأَبِ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ قاضی جدائی کروائے گا اور یوں کہے گا: ”قَدْ أَلْزَمْتُهُ أُمَّهُ“ کہ اس بچے کو میں نے اس کی ماں کے ساتھ لازم کر دیا، ”وَأَخْرَجْتُهُ مِنْ نَسَبِ الأَبِ“ اور اس کو میں نے باپ کے نسب سے نکال دیا، یہ قاضی کہے گا ساتھ فیصلے میں لکھے گا، ”لِأَنَّهُ يَنْفَكُّ عَنْهُ“ اس لیے کیونکہ یہ نفیِ نسب جدا ہو جاتی ہے تفریق سے۔ بھئی انہوں نے تو بتایا کہ قاضی جدائی کروائے گا، جدائی کے ضمن میں ہی بچے کے نسب کی نفی بھی آ جائے گی چاہے قاضی اس کو ذکر کرے چاہے ذکر نہ کرے۔ لیکن کہتے ہیں: نہیں، تفریق کے ساتھ نسب کی نفی ضروری نہیں۔ کس طرح؟ مثلاً قاضی نے ابھی تفریق نہیں کروائی تھی کہ بچے کا انتقال ہو گیا۔ اب صرف قاضی تفریق کروائے گا، بچہ تو مر چکا ہے، نسب کی نفی کی کوئی ضرورت نہیں۔ معلوم ہوا تفریق نسب کے بغیر ہو سکتی ہے۔ جب تفریق نسب کے بغیر ہو سکتی ہے تو یہاں تو نسب کی نفی بھی باقاعدہ مقصود تھی، لہٰذا اس کو الگ قاضی ذکر کرے گا بھئی، کیونکہ وہ خود مقصود ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ يَنْفَكُّ عَنْهُ“ اس لیے کیونکہ نسب کی نفی جو ہے وہ جدا ہو جاتی ہے اس تفریق سے، ”فَلَا بُدَّ مِنْ ذِكْرِهِ“ لہٰذا اس کا ذکر ضروری ہے بھئی۔ ”فَإِنْ عَادَ الزَّوْجُ وَأَكْذَبَ نَفْسَهُ“ اور اگر خاوند لوٹا اور اس نے اپنے آپ کو جھٹلایا، لعان کے بعد یا بچے کی نفی کے بعد وہ شخص پھر اپنے آپ کو جھٹلا دیتا ہے کہ میں نے جھوٹ بولا تھا۔ تو کہتے ہیں: ”فَإِنْ عَادَ الزَّوْجُ وَأَكْذَبَ نَفْسَهُ“ اگر خاوند لوٹا اور اس نے اپنے آپ کو جھٹلا دیا یعنی لعان کے بعد، ”حَدَّهُ الْقَاضِي“ تو قاضی اس کو حد لگائے گا، اس پر حدِ قذف لگائی جائے گی، ”لِإِقْرَارِهِ بِوُجُوبِ الْحَدِّ عَلَيْهِ“ اس لیے کیونکہ اس خاوند نے خود اقرار کر لیا ہے اپنے اوپر حد کے واجب ہونے کا، ”وَحَلَّ لَهُ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا“ اور اب اس خاوند کے لیے حلال ہے کہ اس عورت سے نکاح کر سکتا ہے۔ جی۔ کیونکہ اس نے رجوع کر لیا، جب رجوع کر لیا اب دونوں متلاعنان نہ رہے، جب متلاعنان نہ رہے تو اب یہ نکاح کر سکتے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَهٰذَا عِنْدَهُمَا“ اور یہ طرفین کے نزدیک ہے، ”لِأَنَّهُ لَمَّا حُدَّ لَمْ يَبْقَ أَهْلًا لِلِّعَانِ“ اس لیے کیونکہ خاوند پر جب حد جاری کر دی گئی تو وہ اہل لعان میں سے نہ رہا، وہ اہل لعان میں سے نہ رہا۔ توجہ سے سنو بھئی، خاوند پر حدِ قذف لگ گئی، اب وہ اہل شہادت میں سے نہ رہا، اور اہل لعان تو کون ہوتے ہیں؟ اہل شہادت ہوتے ہیں، تو جب یہ اہل شہادت نہ رہا تو اب یہ اہل لعان بھی نہ رہا، لہٰذا اب یہ متلاعنان نہیں ہیں، اب یہ آپس میں نکاح کر سکتے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ لَمَّا حُدَّ“ اس لیے کیونکہ جب خاوند پر حدِ قذف لگا دی گئی، ”لَمْ يَبْقَ أَهْلًا لِلِّعَانِ“ تو یہ اہل لعان ہو کر باقی نہ رہا، ”فَارْتَفَعَ حُكْمُهُ الْمَنُوطُ بِهِ“ تو اٹھ جائے گا وہ حکم بھی جو اس لعان کے ساتھ متعلق تھا۔ اس لعان کی وجہ سے دونوں میں تحریم تھی، میاں بیوی ایک دوسرے سے نکاح اب نہیں کر سکتے تھے، لیکن جب لعان اٹھ گیا تو لعان کا حکم جو تحریم ہے وہ بھی اٹھ گیا، اب یہ نکاح کر سکتے ہیں۔ کہتے ہیں: ”فَارْتَفَعَ حُكْمُهُ الْمَنُوطُ بِهِ“ تو اٹھ گیا وہ حکم المنوط به، منوط بھئی ط کے ساتھ، اس کا معنی ہوتا ہے متعلق بھئی، ”فَارْتَفَعَ حُكْمُهُ الْمَنُوطُ بِهِ“ تو لعان کا وہ حکم جو اس کے ساتھ متعلق تھا وہ بھی اٹھ گیا، ”وَهُوَ التَّحْرِيمُ“ اور وہ تحریم تھی کہ میاں بیوی ایک دوسرے پر حرام تھے۔ ”وَكَذٰلِكَ إِنْ قَذَفَ غَيْرَهَا فَحُدَّ بِهِ لِمَا بَيَّنَّا“ ادھر دیکھیے، خاوند اور بیوی جب تک متلاعنین ہیں ان کا نکاح جائز نہیں۔ متلاعنین نہ رہیں گے تو پھر نکاح جائز ہو جائے گا، اور متلاعنین کب نہ رہیں گے؟ اگر میاں بیوی میں سے کوئی ایک اپنے آپ کو جھوٹا کہہ دیتا ہے یا دوسرے کی کیا کر دیتا ہے؟ تصدیق کر دیتا ہے، تو پھر ان میں نکاح جائز ہو جائے گا کیونکہ اب یہ متلاعنان نہ رہے بھئی، متلاعنان تو ایک دوسرے کو جھٹلاتے ہیں بھئی۔ اور نیز اسی طرح میاں بیوی نے لعان کر لیا، توجہ ہے؟ جدائی آ گئی۔ بعد میں خاوند نے کسی اور عورت پر زنا کا الزام لگایا اور وہاں گواہ پیش نہ کر سکا تو خاوند پر حدِ قذف جاری ہو گئی۔ جب خاوند پر حدِ قذف جاری ہو گئی اب یہ اہل شہادت میں سے نہ رہا، یہ اہل لعان میں سے نہ رہا، جب یہ اہل لعان میں سے نہ رہا جب لعان ختم تو بیوی کے ساتھ وہ تحریم والا حکم بھی ختم، اب یہ اپنی بیوی سے نکاح کر سکتا ہے۔ جی۔ تہمت کسی اور عورت پر لگائی لیکن خاوند پر کیا جاری ہو گئی؟ حدِ قذف، تو لعان ختم، لعان ختم تو اس کا حکم تحریم بھی ختم۔ یا خاوند اور بیوی نے لعان کر لیا، دونوں میں جدائی آ گئی، اس کے بعد اس عورت نے زنا کیا کسی کے ساتھ، زنا کیا اور جب زنا کیا تو عورت پر حد جاری کی گئی، حدِ زنا بھئی۔ جی۔ کیا جاری کی گئی؟ حدِ زنا، جب عورت پر حدِ زنا جاری ہو گئی تو وہ اہل لعان ہی نہ رہی۔ جی۔ اہل لعان ہی نہ رہی کیونکہ اہل لعان میں کیا ضروری تھا کہ وہ عورت محصنہ ہو، پاک دامن ہو، اس نے زنا نہ کیا ہو، تو اس نے تو زنا کر لیا ثابت ہو گیا لہٰذا یہ اہل لعان نہ رہی، جب یہ عورت اہل لعان نہ رہی تو لعان ختم، جب لعان ختم تو لعان کا حکم تحریم ختم، تحریم ختم تو اب وہ اس خاوند سے نکاح کر سکتی ہے۔ جی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَكَذٰلِكَ“ اور اسی طرح ہے، یعنی نکاح جائز ہے، ”إِنْ قَذَفَ غَيْرَهَا“ اگر لعان کے بعد خاوند نے کسی دوسری عورت پر تہمت لگا دی، ”فَحُدَّ بِهِ“ پھر خاوند پر اس کی وجہ سے حد جاری کی گئی، حد اجنبی عورت نے جاری کروائی ہے اور حلال اپنی بیوی ہو گئی اس کے لیے۔ جی۔ تو کہتے ہیں یہ اس کے لیے حلال ہو جائے گی ”لِمَا بَيَّنَّا“ اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دی، کہ جب یہ اہل لعان نہ رہے تو لعان کا حکم بھی ختم ہو جائے گا۔ ”وَكَذَا إِذَا زَنَتْ فَحُدَّتْ“ اور اسی طرح ہے جب وہ عورت جس نے لعان کیا تھا اس نے زنا کر لیا اور اس پر حد آ گئی، جب حد لگ گئی تو وہ پاک دامن نہ رہی، جب پاک دامن نہ رہی تو وہ اہل لعان نہ رہی، جب اہل لعان نہ رہی لعان ختم تو لعان کا حکم تحریم بھی ختم، لہٰذا وہ اپنے خاوند سے نکاح کر سکتی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا إِذَا زَنَتْ فَحُدَّتْ“ اور اسی طرح ہے جب اس عورت نے جس نے لعان کیا تھا اس نے زنا کر لیا ”فَحُدَّتْ“ پھر اس پر حد جاری کی گئی، ”لِانْتِفَاءِ أَهْلِيَّةِ اللِّعَانِ مِنْ جَانِبِهَا“ اس لیے کیونکہ اس عورت کی جانب سے لعان کی اہلیت منتفی ہو گئی، اس میں لعان کی اہلیت ہی نہ رہی، تو اب نکاح جائز ہو جائے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی، ”هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ، وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“۔