دیکھیے بھئی، آگے سبق: ”وَإِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِامْرَأَتِهِ وَهُوَ صَحِيحٌ: إِذَا جَاءَ رَأْسُ الشَّهْرِ، أَوْ إِذَا دَخَلْتِ الدَّارَ، أَوْ إِذَا صَلَّى فُلَانٌ الظُّهْرَ، أَوْ إِذَا دَخَلَ فُلَانٌ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ، فَكَانَتْ هَذِهِ الْأَشْيَاءُ وَالزَّوْجُ مَرِيضٌ لَمْ تَرِثْ، وَإِنْ كَانَ الْقَوْلُ فِي الْمَرَضِ وَرِثَتْ إِلَّا فِي قَوْلِهِ إِذَا دَخَلْتِ الدَّارَ“. گزشتہ سبق میں صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ استثناء جو ہے وہ تکلم بالباقی کا نام ہے، لہٰذا کُل میں سے بعض کا استثناء تو صحیح ہے لیکن کُل میں سے کُل کا استثناء صحیح نہیں ہے بھئی۔ اور پھر اس کے بعد باب طلاق المریض ہم نے شروع کیا تھا کہ کوئی شخص مرض الموت کے اندر اگر اپنی بیوی کو طلاقِ بائن دے دیتا ہے یا تین طلاقیں دے دیتا ہے، تو صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ مرض الموت کے اندر بیوی کا حق خاوند کے مال سے متعلق ہو جاتا ہے۔ خاوند مرض الموت میں مبتلا ہے، مرنے والا ہے، تو اب وارثوں کا حق اس کے مال کے ساتھ متعلق ہو گیا، لہٰذا اس حالت میں اگر خاوند بیوی کو تین طلاقیں دیتا ہے یا طلاقِ بائن دیتا ہے، معلوم ہوا اس کا بھاگنے کا ارادہ ہے، یعنی کہ بیوی کو نقصان پہنچانے کا ارادہ ہے کہ اس کو میرے مال میں سے کچھ بھی نہ ملے۔ تو یہ عورت امرأۃِ فارّ ہوئی بھئی، امرأۃِ فارّ، اور امرأۃِ فارّ یا یوں کہیں زوجۂ فارّ جو ہے وہ وارثہ بنتی ہے عدت کے دوران۔ تو وہ شخص طلاقِ بائن دے کر یا تین طلاقیں دے کر فوراً محروم کرنا چاہتا تھا لیکن بقدر الامکان اس عورت کو وارثہ بنایا جائے گا کیونکہ دلوں میں بدگمانی آتی ہے کہ اگر آپ نے طلاق دینی ہی تھی تو آپ صحت کی حالت میں دیتے، اب جب آپ مرنے والے ہیں، عورت آپ کی وارثہ بننے والی ہے تو اب آپ طلاق دے کر اس سے جان چھڑانا چاہتے ہیں۔ تو اس بدگمانی کی وجہ سے شریعت نے بیوی کا حق باطل کرنے کا جو ارادہ اس نے کیا ہے، اس کو مؤخر کر دیا عدت تک۔ تو عدت کے اندر اگر خاوند کا انتقال ہو گیا تو وہ وارثہ بنے گی، اور اگر عدت کے بعد انتقال ہوا خاوند کا تو پھر وہ وارثہ نہیں بنے گی بھئی۔ پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ اگر عورت نے خود طلاق کا مطالبہ کیا تو پھر اس صورت کے اندر وہ عدت کے اندر بھی اگر خاوند کا انتقال ہو جائے پھر بھی وارثہ نہیں بنے گی، اس لیے کیونکہ خود جب اس نے طلاق کا مطالبہ کیا ہے معلوم ہوا وہ اپنا حق باطل کرنے پر راضی ہو چکی ہے۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ مرض الموت میں خاوند نے بیوی کو سب کے سامنے کہا کہ تجھے میں نے صحت میں تین طلاقیں دی تھیں اور تیری عدت بھی گزر گئی تھی، اور عورت بھی اس کی تصدیق کر لیتی ہے۔ پھر خاوند عدت کے اندر اندر اس کے لیے خاوند اس کے لیے کسی دین کا اقرار کر لیتا ہے یا اس کے لیے وصیت کر دیتا ہے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ وارث کے لیے نہ وصیت جائز ہے اور نہ اقرارِ دین جائز ہے۔ وجہ یہ کہ دلوں میں بدگمانی آتی ہے کہ شاید یہ شخص اس وارث کو زیادہ مال دینا چاہتا ہے، باقیوں کا نقصان کرنا چاہتا ہے، تو لہٰذا اس لیے وارث کے لیے نہ اقرار جائز ہے اور نہ وصیت جائز ہے۔ تو اب صورتِ مسئلہ یہ کہ مرض الموت کے اندر ہی اس شخص نے کہا بیوی سے کہ میں نے تجھے تین طلاقیں بھی دی تھیں اور تیری عدت بھی گزر گئی تھی، تو عورت بھی تصدیق کر دیتی ہے اور اب خاوند اس کے لیے اقرار یا وصیت کرتا ہے، دین کا اقرار کرتا ہے یا وصیت کرتا ہے، تو اس صورت میں امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہاں دلوں میں بدگمانی آتی ہے کہ شاید دونوں نے آپس میں مل کر گٹھ جوڑ کر لیا ہے، خاوند اسے زیادہ فائدہ دینا چاہتا ہے اور باقی وارثوں کا نقصان کرنا چاہتا ہے، تو پھر اس صورت میں اگر خاوند کا اقرار یا وصیت وہ میراث سے زیادہ ہے تو پھر وہ زیادہ نہیں دیا جائے گا بھئی۔ تو جو اقل ہوگا دونوں میں سے وہ دیا جائے گا۔ میراث اور دوسری طرف جو اقرار یا وصیت کی ہے، ان دونوں میں سے جو اقل ہوگا وہ بیوی کو دیا جائے گا بھئی۔ اور جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ یہ عورت اس شخص سے اجنبیہ ہو چکی ہے کیونکہ عدت بھی گزر چکی ہے اس کی، لہٰذا اس لیے اس کے لیے اقرار بھی صحیح ہے یا وصیت کرے تو وہ وصیت بھی صحیح ہے، عورت کو سارا اقرار یا ساری وصیت ملے گی۔ وجہ یہ، کہتے ہیں کہ نکاح پورے طور پر ٹوٹ چکا ہے، اسی لیے تو اس بیوی کی بہن کے ساتھ بھی خاوند کا نکاح جائز ہے حالانکہ ویسے تو بیوی کی بہن کے ساتھ نکاح جائز نہیں کیونکہ کیونکہ منع کیا گیا ہے دو بہنوں کو ایک نکاح میں جمع کرنے سے، لیکن اس خاوند کے لیے بیوی کی بہن سے نکاح بھی جائز ہو چکا ہے، اور نیز یہ اس بیوی کو زکوٰۃ بھی دے سکتا ہے حالانکہ نکاح موجود ہو تو خاوند یا بیوی ایک دوسرے کو زکوٰۃ نہیں دے سکتے، اور نیز خاوند اور بیوی کی گواہی ایک دوسرے کے حق میں قبول نہیں کی جاتی لیکن یہاں پر یہ عورت اجنبیہ ہو چکی ہے لہٰذا خاوند اس کے حق میں گواہی بھی دے سکتا ہے بھئی۔ تو یہ سب چیزیں دلالت کرتی ہیں کہ ان دونوں کا نکاح پورے طور پر ختم ہو چکا ہے۔ جب پورے طور پر ختم ہو چکا ہے یہ عورت اجنبیہ بن چکی ہے تو اس کے لیے اقرار بھی جائز اور وصیت بھی جائز ہے، تو وہی اس عورت کو ملے گا چاہے جتنا زیادہ بھی ہو۔ جبکہ اس کے مقابلے میں اگر خاوند مرض الموت میں مبتلا ہے اور عورت تین طلاقوں کا مطالبہ کرتی ہے اور خاوند اس کو تین طلاقیں دے دیتا ہے، تو اس صورت میں آپ نے پڑھا ہے کہ عورت کے اپنے مطالبے پر جب خاوند اس کو مرض الموت میں طلاق دے تو عورت وارثہ نہیں بنتی، چاہے عدت کے اندر ہی خاوند کا کیوں نہ انتقال ہو جائے پھر بھی عورت وارثہ نہیں بنتی کیونکہ وہ خود طلاق کا مطالبہ کر رہی ہے، وہ خود اپنا حق باطل کرنے پر راضی ہے بھئی۔ لیکن یہاں پر صورت یہ ہے کہ خاوند نے بیوی کے مطالبے پر اس کو مرض الموت میں تین طلاقیں بھی دے دیں اور پھر خاوند نے اس کے لیے وصیت یا اقرار بھی کر دیا بھئی۔ تو یہاں پر عورت عدت کے اندر ہے اور عدت کے اندر خاوند اس کے لیے وصیت یا اقرار کر رہا ہے تو دلوں میں بدگمانی آتی ہے کہ شاید میاں بیوی نے مل کر گٹھ جوڑ کیا ہے، بیوی نے کہا کہ میں تین طلاقوں کا مطالبہ کروں گی، تو مجھے تین طلاقیں دے دینا اور اس طرح تمہارے لیے وصیت یا اقرار کا دروازہ کھل جائے گا، پھر تم میرے لیے وصیت یا اقرار کر دینا، تو دلوں میں بدگمانی آتی ہے۔ تو لہٰذا اس تہمت کی وجہ سے اب عورت کو اقل ملے گا۔ میراث یا اس کے مقابلے میں جو وصیت یا اقرار کیا ہے خاوند، ان میں سے جو اقل ہوگا وہ عورت کو ملے گا۔ اور اس مسئلے کے اندر صاحبین بھی امام صاحب کے ساتھ ہیں۔ صاحبین بھی فرماتے ہیں: اس صورت کے اندر اقل ہی ملے گا عورت کو۔ وجہ یہ کہ خاوند نے جب اقرار یا وصیت کی ہے تو عورت کی عدت موجود ہے اور یہ عدت جو ہے یہ سببِ تہمت ہے۔ بھئی دیکھو، دیکھو شریعت نے وارثوں کے لیے اقرار سے بھی منع کیا ہے اور وصیت سے بھی منع کیا ہے۔ وجہ یہ کہ وارثوں کا حق اللہ تعالیٰ نے مقرر فرما دیا، ہر ایک کے حصے مقرر فرما دیے۔ جب اللہ نے ان کے حصے مقرر فرما دیے ہیں، ان کو ایک مال کی ایک متعین مقدار ملنی ہی ملنی ہے، تو پھر اس کے بعد مورث کا اپنی طرف سے کسی وارث کے لیے اقرار کرنا یا وصیت کرنا معلوم ہوا یہ اس کو فائدہ پہنچانا چاہتا ہے، معلوم ہوا مورث اس وارث کو فائدہ پہنچانا چاہتا ہے اور باقی وارثوں کا نقصان کرنا چاہتا ہے تو شریعت نے یہ راستہ ہی بند کر دیا کہ مورث وارث کے لیے نہ اقرار کر سکتا ہے اور نہ وصیت کر سکتا ہے، تہمت کی وجہ سے کہ یہ شخص کہیں بدنیتی نہ کر رہا ہو۔ لیکن تہمت تو ایک امرِ باطنی ہے بھئی، اس کا تو پتہ نہیں چل سکتا بھئی، یہ تو دل کی بات ہے کہ وہ بدنیتی کر رہا ہے یا بدنیتی نہیں کر رہا۔ تو لہٰذا جب تہمت یعنی اس حکم کی علت کا پتہ نہیں چل سکتا تو پھر حکم کا مدار سبب پر ہو جاتا ہے، یعنی یہاں پھر حکم کا مدار دلیل پر ہو جائے گا یعنی دلیلِ تہمت پر بھئی۔ تہمت تو امرِ باطنی ہے اس کا پتہ نہیں چل سکتا لہٰذا حکم کا مدار دلیلِ تہمت پر ہو جائے گا اور دلیلِ تہمت کیا ہے؟ نکاح اور قریبی رشتہ داری۔ نکاح موجود ہو تو وارث بنتا ہے، قریبی رشتہ داری ہو تو وارث بنتا ہے، اور وارث کے لیے اقرار یا وصیت کرے گا تو یہ محلِ تہمت ہے، یہ کیا ہے؟ محلِ تہمت۔ اور تہمت کا تو پتہ نہیں چل سکتا، جب تہمت کا پتہ نہیں چل سکتا تو لہٰذا تہمت کی جو دلیل ہے یعنی نکاح اور قریبی رشتہ داری، اس پر حکم کا مدار ہو جائے گا۔ تو جہاں نکاح یا قریبی رشتہ داری موجود ہے تو تہمت موجود ہے۔ تہمت کا تو پتہ نہیں لیکن دلیلِ تہمت تو موجود ہے، یہی نکاح اور قریبی رشتہ داری تو دلیلِ تہمت ہیں بھئی۔ تو جب دلیلِ تہمت موجود ہے تو یوں سمجھو تہمت موجود ہے۔ یہ اسی طرح ہے جیسے کوئی شخص سفر میں جاتا ہے، تو چونکہ سفر کے اندر مشقت ہوتی ہے، انسان تکلیف میں ہوتا ہے، لہٰذا شریعت نے احکام کے اندر نرمی کر دی کہ اگر سفر میں روزہ نہیں رکھ سکتے تو پھر بعد میں بھی رکھنے کی اجازت دے دی، اور اسی طرح اگر سفر کے اندر چار رکعت والی نماز ہے تو شریعت نے حکم دیا دو رکعت پڑھ لو۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ شریعت نے آسانی فرما دی کس وجہ سے؟ مشقت کی وجہ سے۔ لیکن مشقت تو ایک امرِ باطنی ہے، اس کا تو پتہ نہیں چل سکتا کہ کس کو کتنی مشقت ہوئی ہے۔ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ ان کو اللہ نے ایسا مضبوط بدن دیا ہوتا ہے کہ کئی کئی دن سفر کر کے بھی ان کو تھکن اور مشقت کا احساس ہی نہیں ہوتا، اور بعض ایسے نازک ہوتے ہیں کہ تھوڑا سا ہی سفر کرتے ہیں تو وہ بڑی مشقت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ تو چونکہ اس حکم کا یہ جو شریعت نے آسانی کی اس کی علت مشقت ہے، لیکن مشقت کا تو پتہ نہیں چل سکتا وہ تو ایک امرِ باطنی ہے، تو پھر اس مشقت کی جو دلیل ہے یعنی سفر، اسی پر حکم کا مدار کر دیا کہ بس تین دن کا سفر ہے تو سمجھو مشقت موجود ہے، لہٰذا چار رکعت کے بجائے دو رکعت پڑھ لو اور روزے اگر اس وقت نہیں رکھ سکتے سفر میں تو پھر بعد میں رکھ لینا۔ تو مشقت کا پتہ نہیں چل سکتا تھا تو حکم کا مدار کس پر کر دیا؟ دلیلِ مشقت یعنی سفر پر۔ تو یہاں پر بھی شریعت نے منع کیا ہے کہ مورث جو ہے وارث کے لیے اقرار یا وصیت نہیں کر سکتا، تہمت کی وجہ سے، کیونکہ دلوں میں بدگمانی آتی ہے۔ لیکن تہمت تو ایک امرِ باطنی ہے، پتہ نہیں یہ شخص واقعی بدنیتی کر رہا ہے یا بدنیتی نہیں کر رہا، تو پھر لہٰذا جب تہمت کا پتہ نہیں چل سکتا تو حکم کا مدار دلیلِ تہمت پر ہو جائے گا اور دلیلِ تہمت کیا ہے؟ نکاح یا قریبی رشتہ دار ہونا۔ تو جب نکاح موجود ہو یا قریبی رشتہ دار ہو تو یہ دلیلِ تہمت ہے۔ اور جب دلیلِ تہمت موجود ہے تو معلوم ہوا تہمت موجود ہے۔ اور جب تہمت موجود ہے تو لہٰذا حکم آ جائے گا: آپ اقرار بھی نہیں کر سکتے، آپ وصیت بھی نہیں کر سکتے۔ تو مسئلہ چل رہا تھا کہ خاوند نے مرض الموت میں بیوی کے مطالبے پر اس کو تین طلاقیں دی ہیں اور پھر خاوند عدت کے اندر اندر اس کے لیے اقرار یا وصیت بھی کر رہا ہے، تو عدت موجود ہے بھئی۔ اور عدت کے اندر آپ نے پڑھ لیا کہ نکاح کے بہت سے اثرات باقی ہوتے ہیں: عدت کا نفقہ بھی خاوند کو دینا پڑتا ہے، عدت کے اندر رہائش بھی خاوند کے ذمے ہے، عدت کے دوران خاوند اسے گھر سے نکلنے سے بھی منع کر سکتا ہے، عدت کے دوران جو ہے اگر اس میں اولاد پیدا ہوئی تو وہ بھی خاوند ہی کی شمار ہوگی وغیرہ، اور نیز عدت کے دوران عورت آگے بھی کہیں نکاح نہیں کر سکتی۔ تو دیکھو عدت کے اندر نکاح کے بہت سے اثرات باقی ہیں، یعنی یوں سمجھو بعض اعتبار سے ابھی بھی نکاح باقی ہے، اور نکاح تو تھا دلیلِ تہمت، نکاح کی وجہ سے تو اقرار یا وصیت جائز نہیں تھی تو یہاں عدت کے اندر بھی نکاح کے اثرات موجود ہیں تو دلیلِ تہمت موجود ہے، اور جب دلیلِ تہمت موجود ہے تو لہٰذا اب بیوی کو میراث اور وصیت یا اقرار میں سے جو اقل ہے وہ دیا جائے گا، اس لیے کیونکہ تہمت کس صورت میں آتی ہے؟ زیادتی کی صورت میں، اگر وصیت یا اقرار میراث سے زیادہ کیا ہے۔ وصیت یا اقرار میراث سے زیادہ کیا ہے تو پھر اس میں تہمت ہے، اگر وصیت یا اقرار میراث کے برابر ہے یا اس سے کم ہے تو اس میں تہمت نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اگر خاوند نے بیوی کے مطالبے پر مرض الموت میں اس کو تین طلاقیں دے دی ہیں اور اس کے لیے وہ وصیت یا اقرار کرنا چاہتا ہے تو عدت کے بعد اقرار کرتا ہے یا وصیت کرتا لیکن عدت موجود ہے، گویا من وجہ نکاح موجود ہے اور وہ اس کے لیے کیا کرنا چاہتا ہے؟ اقرار یا وصیت کرنا چاہتا ہے تو دلوں میں بدگمانی آتی ہے، تو دلیلِ تہمت موجود ہے یعنی بعض اعتبار سے نکاح موجود ہے، اور جب دلیلِ تہمت موجود ہے تو پھر چاہے تہمت ہو یا نہ ہو یوں سمجھا جائے گا تہمت موجود ہے، اور جب تہمت موجود ہے تو لہٰذا بیوی کو اقل ہی ملے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ بعض اور مواقع بھی ان کا بھی وہی حکم ہے جو مرض الموت والا حکم ہے، یعنی وہ چیزیں جن کے اندر ہلاکت غالب ہو تو ان کا حکم بھی مرض الموت والا ہے۔ لہٰذا اس کے اندر اگر خاوند بیوی کو تین طلاقیں دیتا ہے یا طلاقِ بائن دیتا ہے تو عدت کے اندر اگر خاوند مر جائے تو پھر عورت وارثہ بنے گی، اگر عدت کے بعد مرے پھر عورت وارثہ نہیں بنے گی۔ تو مثلاً ایک شخص تلوار کے ساتھ کسی کے ساتھ مقابلہ کرتا ہے، اب اس کے اندر تو ہلاکت غالب ہے لہٰذا یہ بھی مرض الموت کے حکم میں ہے، یا اسی طرح کسی کو قصاص قتل کرنے کے لیے آگے کر دیا گیا میدان میں لے آئے اب اسے قتل کرنا ہے تو اسے آگے کر دیا گیا، یا کسی شخص کو رجم کرنا ہے اور اس کو آگے کر دیا گیا اور اس وقت کے اندر وہ اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیتا ہے تو یہ حالت اس میں تو ہلاکت غالب ہے تو یہ مرض الموت کے حکم میں ہے، اور مرض الموت کے اندر اگر کوئی شخص بیوی کو تین طلاقیں دے تو عدت تک عورت وارثہ رہے گی بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اب آئیے آج کے سبق پر: ”وَإِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِامْرَأَتِهِ وَهُوَ صَحِيحٌ: إِذَا جَاءَ رَأْسُ الشَّهْرِ، أَوْ إِذَا دَخَلْتِ الدَّارَ، أَوْ إِذَا صَلَّى فُلَانٌ الظُّهْرَ، أَوْ إِذَا دَخَلَ فُلَانٌ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ، فَكَانَتْ هَذِهِ الْأَشْيَاءُ وَالزَّوْجُ مَرِيضٌ لَمْ تَرِثْ، وَإِنْ كَانَ الْقَوْلُ فِي الْمَرَضِ وَرِثَتْ إِلَّا فِي قَوْلِهِ إِذَا دَخَلْتِ الدَّارَ“. صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ اس مسئلے کی کئی صورتیں ہیں بھئی۔ اور اس میں خاوند جو ہے اپنی بیوی کی طلاق کو معلق کرتا ہے کسی چیز پر۔ تو یا تو خاوند بیوی کی طلاق کو معلق کرے گا کسی وقت کے ساتھ، کہ مہینے کا آغاز ہو جائے تو تجھے طلاق ہے، یا مہینے کی فلاں تاریخ آ جائے تو تجھے طلاق ہے، یا تین مہینے گزر جائیں تو تجھے طلاق ہے۔ تو ایک صورت یہ ہے کہ خاوند بیوی کی طلاق کو معلق کرتا ہے کسی وقت کے ساتھ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ خاوند طلاق کو معلق کرتا ہے فعل کے ساتھ، اور یہ فعل کسی اجنبی کا بھی ہو سکتا ہے، خاوند کا اپنا فعل بھی ہو سکتا ہے، اور بیوی کا فعل بھی ہو سکتا ہے۔ تو کل چار صورتیں ہو جائیں گی یہاں پر: ایک صورت یہ کہ طلاق کو معلق کیا ہے وقت کے ساتھ، دوسری صورت یہ ہے طلاق کو معلق کیا ہے کسی اجنبی آدمی کے فعل کے ساتھ، کسی غیر کے فعل کے ساتھ، اور تیسری صورت یہ ہے کہ طلاق کو معلق کیا ہے خاوند نے اپنے کسی فعل کے ساتھ، اور چوتھی صورت یہ ہے کہ خاوند طلاق کو معلق کر دیتا ہے بیوی کے فعل کے ساتھ کہ اگر تو نے ایسا کیا تو تجھے طلاق ہے۔ توجہ ہے؟ پھر اس کے اندر تفصیل یاد رکھو: یہ جو فعل ہوگا، یا تو یہ ایسا فعل ہوگا کہ اس کے بغیر بھی گزارا ہو سکتا ہے، یا ایسا فعل ہوگا کہ اس کے سوا چارہ ہی نہیں، وہ کرنا ہی پڑے گا، جیسے کھانا کھانا۔ خاوند بیوی سے کہتا ہے: اگر تو نے کھانا کھایا تو تجھے طلاق ہے۔ اب کھانا کھانا تو ضروری ہے اپنی بقا کے لیے، اس کے بغیر تو گزارا نہیں۔ تو یہ ایک صورت ہے۔ یا خاوند کسی ایسے فعل کے ساتھ طلاق کو معلق کرتا ہے جس کے سوا بھی چارہ ہے، اس کے بغیر بھی گزارا ہو سکتا ہے، مثلاً بیوی سے کہتا ہے: اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے۔ تو اب دیکھو ایک متعین گھر کے اندر جانا، اس کے بغیر بھی گزارا ہو سکتا ہے، بیوی اس گھر میں نہ جائے، اطمینان سے زندگی گزارے، کوئی حاجت نہیں اس گھر میں جانے کی۔ تو معلوم ہوا کتنی قسم کے فعل ہو سکتے ہیں؟ دو قسم کے: وہ فعل جن کے ساتھ خاوند طلاق کو معلق کر رہا ہے، یا تو اس کے بغیر چارہ ہوگا یعنی اس کے بغیر بھی گزارا ہو سکے گا، یا اس کے سوا چارہ ہی نہیں ہوگا مثلاً کیا کہا کہ اگر تو نے کھانا کھایا تو تجھے طلاق ہے، یا اسی طرح کہتا ہے اگر تو نے ظہر کی نماز پڑھی تو تجھے طلاق ہے، اب نماز کے بغیر تو گزارا نہیں، نماز تو فرض ہے ہر مومن پر۔ تو لہٰذا یہ افعال دو قسم کے ہو سکتے ہیں: بعض وہ افعال جن کے بغیر گزارا ہو سکتا ہے، بعض وہ افعال جن کے سوا گزارا ہی نہیں، ان کے بغیر چارہ ہی نہیں ہے بھئی۔ پھر اس کے بعد اس میں مزید تفصیل یہ یاد رکھو کہ خاوند نے یہ جو تعلیق کی ہے، تعلیق کی ہے اور پھر یہ جو شرط آگے پھر پائی گئی، وہ فعل پایا گیا یا وہ والا وقت آ گیا، تعلیق اور شرط دونوں مرض الموت میں ہوں گے، یا تعلیق تو صحت کی حالت میں کی تھی اس وقت خاوند ٹھیک ٹھاک تھا اور بعد میں مرض الموت میں مبتلا ہوا اور پھر وہ شرط پائی گئی۔ تو تعلیق اور شرط یا تو دونوں کس میں ہوں گے؟ مرض الموت میں، یا تعلیق ہوگی صحت میں اور شرط پائی جائے گی مرض الموت میں، تو ان سب کی تفصیل صاحبِ ہدایہ بیان کریں گے بھئی۔ تو اس میں یاد رکھنا ایک بات بھئی: ایک تو یہ یاد رکھنا کہ یہ خاوند جس طلاق کو معلق کر رہا ہے وہ طلاقِ بائن ہونی چاہیے، وہ طلاقِ بائن ہونی چاہیے کیونکہ طلاقِ رجعی کے اندر تو عدت کے اندر عورت بالاتفاق وارثہ بنتی ہے بھئی۔ تو طلاقِ بائن ہونی چاہیے یا تین طلاقیں ہوں بھئی۔ اور نیز یہ بھی یاد رکھنا کہ یہ جو شرط ہے، اس شرط نے تو ہونا ہی مرض الموت میں ہے، بات صرف تعلیق کی رہ جاتی ہے کہ تعلیق بھی مرض الموت میں ہے یا تعلیق مرض الموت سے پہلے تھی یعنی صحت کی حالت میں۔ تو طلاق کونسی ہوگی ان تمام مسائل کے اندر؟ طلاقِ بائن ہوگی یا تین طلاقیں ہوں گی۔ اور نیز شرط بھی ہمیشہ کب پائی جائے گی؟ مرض الموت کے اندر پائی جائے گی کیونکہ مرض الموت کے مسائل چل رہے ہیں۔ اور جبکہ تعلیق جو ہے اس میں احتمال ہے، ہو سکتا ہے تعلیق بھی مرض الموت میں کی ہو اور ہو سکتا ہے تعلیق جو ہے وہ صحت کی حالت میں کی ہو۔ مختصراً سمجھ لیں بھئی، صاحبِ ہدایہ اور مزید اچھے الفاظ میں ذکر کریں گے، خلاصہ سمجھ لیں کلام کا بھئی۔ صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے: اگر خاوند نے طلاق کو معلق کیا ہے کسی وقت کے ساتھ، یا خاوند نے طلاق کو معلق کیا ہے کسی اجنبی کے فعل کے ساتھ، تو جیسے وقت کسی کے اختیار میں نہیں، اس نے آنا ہی آنا ہے، اور تو اسی طرح اجنبی کا فعل بھی انسان کے اختیار میں نہیں ہوتا، اجنبی جو بھی فعل کرتا ہے اپنی مرضی سے کرتا ہے۔ تو یہ دو چیزیں اگر پائی گئیں: اگر طلاق کو کس سے معلق کیا؟ وقت کے ساتھ یا اجنبی کے فعل کے ساتھ۔ تو اگر تعلیق بھی مرض الموت میں تھی اور شرط بھی مرض الموت میں پائی گئی، تو پھر عورت عدت کے دوران وارثہ بنے گی۔ مثلاً خاوند مرض الموت میں مبتلا ہے اور بیوی سے کہتا ہے: اگلے مہینے کی یکم تاریخ کو تمہیں طلاق ہے۔ تو یہ تعلیق کس میں کی ہے؟ مرض الموت میں۔ اور پھر شرط بھی کب آئی؟ وہ تاریخ آ گئی اور خاوند مرض الموت میں مبتلا ہے۔ تو تعلیق بھی مرض الموت میں اور شرط بھی مرض الموت میں۔ یا خاوند نے بیوی سے کہا: اگر فلاں شخص نے یہ والا فعل کیا تو تمہیں طلاق ہے، چاہے وہ فعل ایسا ہو کہ اس کے بغیر گزارا ہو سکے، چاہے ایسا فعل ہو جس کے بغیر گزارا نہ ہو سکے، دونوں کا ایک ہی حکم ہے یہاں اجنبی کے بارے میں، کس کے بارے میں؟ کیونکہ اجنبی پر آپ کا اختیار نہیں ہے، وہ اپنی مرضی سے ہر فعل کرتا ہے۔ تو اس کا فعل چاہے ایسا ہو جس کے سوا چارہ نہ ہو یا ایسا فعل ہو جس کے سوا بھی چارہ ہو۔ مثلاً مثلاً خاوند بیوی سے کہتا ہے: اگر زید نے ظہر کی نماز پڑھی تو تمہیں طلاق ہے، یا اگر زید نے کھانا کھایا تو تمہیں طلاق ہے۔ دیکھو یہ ایسا فعل ذکر کیا اجنبی کا جس کے سوا چارہ نہیں، نماز تو اس نے پڑھنی ہی پڑھنی ہے، کھانا تو اس نے کھانا ہی کھانا ہے بھئی۔ یا اجنبی کا ایسا فعل ذکر کر دیا جس کے سوا بھی چارہ ہے، کہ اگر زید اس گھر میں گیا تو تمہیں طلاق ہے۔ دیکھو اس گھر میں جائے بغیر بھی زید کا گزارا ہو سکتا ہے۔ لیکن بہرحال دونوں کا ایک ہی حکم ہے۔ جب اجنبی کا فعل ذکر کیا جائے تو اس میں چاہے اس فعل کے بغیر چارہ ہو چاہے اس کے بغیر چارہ نہ ہو، دونوں کا ایک ہی حکم ہے۔ تو خاوند نے بیوی کی طلاق کو معلق کیا ہے وقت کے ساتھ یا اجنبی کے فعل کے ساتھ، چاہے وہ فعل ایسا ہو جس کے بغیر گزارا ہو سکے چاہے اس کے بغیر گزارا نہ ہو سکے، دونوں کا ایک ہی حکم ہے۔ تو ان دونوں صورتوں کے اندر اگر تعلیق اور شرط دونوں مرض الموت میں پائے گئے، تو پھر اس صورت کے اندر عورت وارثہ بنے گی، اس لیے کیونکہ قصدِ فرار پایا گیا ہے۔ فرار کا ارادہ پایا گیا ہے کیونکہ خاوند تعلیق مرض الموت میں کر رہا ہے بھئی۔ اگر آپ نے بیوی کو طلاق وغیرہ دینی ہی تھی تو پھر آپ صحت کی حالت میں طلاق دیتے یا تعلیق کرتے، لیکن اب جب آپ مرض الموت میں مبتلا ہیں اور بیوی کا حق آپ کے مال کے ساتھ وابستہ ہو چکا ہے، اب آپ بیوی کی طلاق کی تعلیق کر رہے ہیں معلوم ہوا آپ فرار چاہتے ہیں، آپ بیوی کو وراثت سے محروم کرنا چاہتے ہیں، اسے نقصان دینا چاہتے ہیں، لہٰذا اس صورت کے اندر عورت وارثہ بنے گی اگر عدت کے اندر خاوند کا انتقال ہوا۔ اگر عدت کے بعد انتقال ہوا پھر وارثہ نہیں بنے گی۔ یہ کس کا حکم تھا؟ جب وقت کے ساتھ معلق کیا ہو یا اجنبی کے فعل کے ساتھ، اور دونوں مرض الموت میں ہیں، تعلیق بھی مرض الموت میں اور شرط بھی مرض الموت میں۔ اور اگر تعلیق پائی گئی صحت کے اندر، خاوند نے صحت کی حالت میں کہا تھا بیوی کو کہ اگلے مہینے کی یکم تاریخ کو تمہیں طلاق ہے، یا خاوند نے صحت کی حالت میں اجنبی کے فعل کے ساتھ بیوی کی طلاق کو معلق کیا تھا، تو تعلیق ہوئی صحت میں اور وہ شرط پائی گئی مرض الموت میں، جب یکم تاریخ آئی تو خاوند مرض الموت میں مبتلا ہو چکا ہے، یا زید نے وہ فعل کیا تو خاوند مرض الموت میں مبتلا ہو چکا ہے، تو پھر اس صورت کے اندر عورت وارثہ نہیں بنے گی، اس لیے کیونکہ قصدِ فرار نہیں پایا گیا۔ خاوند نے تو صحت کی حالت میں تعلیق کی تھی، اسے کیا پتہ تھا چند دن کے بعد میں مرض الموت میں گرفتار ہو جاؤں گا۔ تو یہاں قصدِ فرار نہیں، توجہ ہے؟ تو دار و مدار کس پر ہو گیا؟ قصدِ فرار پر۔ اگر خاوند کا فرار کا ارادہ ہے تو پھر عورت وارثہ بنے گی، اگر خاوند کا فرار کا ارادہ نہیں تو پھر عورت وارثہ نہیں بنے گی، اور تعلیق اور شرط دونوں جب مرض الموت میں ہیں معلوم ہوا وہ فرار چاہتا ہے، مرض الموت میں تعلیق کر رہا ہے۔ اور اگر صحت میں تعلیق کی ہے تو مرض الموت میں تو صرف شرط پائی گئی ہے، مرض الموت میں تو خاوند نے کچھ بھی نہیں کیا بھئی، لہٰذا لہٰذا قصدِ فرار نہیں پایا گیا جب تعلیق کب ہو؟ صحت میں، اور شرط کب ہو؟ مرض الموت میں۔ تو پھر اس صورت میں عورت وارثہ نہیں بنے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ دوسری صورت کہ خاوند نے عورت کی طلاق کو معلق کیا ہے اپنے فعل کے ساتھ، اپنے فعل کے ساتھ، چاہے یہ فعل ایسا ہو جس کے بغیر گزارا ہو سکے یا چاہے ایسا فعل ہو کہ جس کے بغیر گزارا نہ ہو سکے، دونوں کا ایک ہی حکم ہے۔ اور نیز یہاں پر خاوند نے تعلیق بھی مرض الموت میں کی اور شرط بھی مرض الموت میں پائی گئی، یا تعلیق تو صحت میں کی ہے لیکن شرط مرض الموت میں پائی گئی، تو ان تمام صورتوں میں عورت وارثہ بنے گی۔ جب خاوند نے عورت کی طلاق کو اپنے فعل کے ساتھ معلق کیا ہے تو چاہے وہ فعل ایسا ہو کہ اس کے بغیر گزارا ہو سکے اور چاہے ایسا فعل ہو جس کے بغیر گزارا نہ ہو سکے، اور چاہے تعلیق اور شرط دونوں مرض الموت میں پائی جائیں، چاہے تعلیق صحت کی حالت میں ہے اور شرط مرض الموت میں ہے، سب کا ایک ہی حکم ہے جب خاوند نے اپنے فعل کے ساتھ طلاق کو معلق کیا ہو، اور ان تمام صورتوں میں عورت وارثہ بنے گی۔ اور اگر خاوند نے طلاق کو معلق کیا ہے عورت کے فعل کے ساتھ، عورت کے فعل کے ساتھ، تو اس صورت میں یا تو اس فعل کے علاوہ گزارا ہو سکتا ہے یا گزارا نہیں ہو سکتا۔ مثلاً خاوند نے بیوی سے کہا: اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے، اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے۔ تو اس صورت میں یاد رکھو اگر عورت اس گھر میں گئی تو طلاق واقع ہوگی، اور پھر چاہے یہ تعلیق خاوند نے مرض الموت میں ہی کیوں نہ کی ہو، پھر بھی عورت وارثہ نہیں بنے گی! چاہے تعلیق کس میں ہو؟ مرض الموت میں ہی یہ تعلیق کیوں نہ ہو، پھر بھی عورت وارثہ نہیں بنے گی، وجہ یہ کہ قصدِ فرار نہیں پایا گیا بھئی۔ کیونکہ خاوند نے طلاق کو معلق کیا ہے عورت کے ایسے فعل کے ساتھ کہ اس کے بغیر عورت کا آرام سے گزارا ہو سکتا ہے، خاوند نے کہا اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے، عورت اس گھر میں نہ جائے، عورت اس گھر میں نہ جائے، لیکن جب خود عورت اس گھر میں جا رہی ہے معلوم ہوا وہ اپنا حق باطل کرنے پر راضی ہو چکی ہے، شوہر کے مال میں اس کا حق آ چکا ہے، خاوند مرض الموت میں مبتلا ہے اور اس وقت مثلاً وہ تعلیق کر رہا ہے، عورت کا حق اس کے مال سے متعلق ہو چکا ہے، عورت اس کی وارث بننے والی ہے قریب کے زمانے میں، لیکن عورت خود ہی اس گھر میں چلی گئی، اس نے وہ فعل کر لیا، معلوم ہوا وہ خود اپنا حق باطل کرنے پر راضی ہے بھئی۔ تو جب مرض الموت میں خاوند تعلیق کرے گا اور عورت اس فعل کو کر لیتی ہے جس کے بغیر چارہ تھا، تو عورت وارثہ نہیں بنتی۔ جب مرض الموت میں تعلیق کے بعد عورت وہ فعل کرے وارثہ نہیں بنتی تو صحت کی حالت میں تو بطریقِ اولیٰ وہ وارث نہیں بنے گی۔ خاوند نے صحت کی حالت میں تعلیق کی: اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے، اور عورت پھر مرض الموت کے اندر اس گھر کے اندر چلی گئی۔ تو جب تعلیق مرض الموت میں ہوتی تھی اور عورت شرط پر عمل کر لیتی تھی تو وہاں وہ وارثہ نہیں بنتی تھی، تو جب تعلیق صحت کے اندر ہے اور شرط مرض الموت میں ہے تو بھی وہاں بطریقِ اولیٰ عورت وارثہ نہیں بنے گی۔ توجہ بھی ہے یا نہیں؟ خاوند نے طلاق کو کس سے معلق کیا ہے؟ عورت کے فعل سے، اور عورت کا فعل بھی کیسا ہے؟ کہ اس کے بغیر بھی گزارا ہو سکتا ہے۔ تو چاہے یہ تعلیق مرض میں ہو چاہے صحت میں ہو، دونوں کا ایک ہی حکم ہے، کہ اس فعل کے بغیر تو گزارا ہو سکتا تھا لیکن عورت پھر بھی چلی گئی اس گھر کے اندر، اس نے شرط پر عمل کر لیا، معلوم ہوا وہ خود اپنا حق ساقط کرنے پر راضی ہے، وہ خود جدائی چاہتی ہے، لہٰذا وارثہ نہیں بنے گی۔ لیکن اگر خاوند نے عورت کے ایسے فعل کو ذکر کیا ہے جس کے بغیر چارہ ہی نہیں، کہ مثلاً اگر تو نے کھانا کھایا تو تجھے طلاق ہے، یا تو نے ظہر کی نماز پڑھی تو تجھے طلاق ہے۔ یہ تو عورت کے ایسے فعل کو ذکر کیا ہے خاوند نے جس کے بغیر چارہ ہی نہیں۔ تو اس صورت میں یاد رکھو، شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک ہو چاہے تعلیق صحت میں ہو اور شرط مرض الموت میں، یا چاہے تعلیق اور شرط دونوں مرض الموت میں پائے جائیں لیکن عورت کا فعل ایسا ہو جس کے بغیر چارہ نہیں، تو ان صورتوں میں قصدِ فرار پایا گیا۔ ان صورتوں میں قصدِ فرار پایا گیا ہے، لہٰذا عورت وارثہ بنے گی بھئی۔ کیونکہ عورت مجبور ہے، اس کو تو وہ فعل کرنا ہی پڑے گا بھئی۔ تو چاہے تعلیق صحت میں ہو اور شرط مرض الموت میں، یا چاہے تعلیق اور شرط دونوں مرض الموت میں ہوں، دونوں کا حکم ایک ہی ہے۔ تو معلوم ہوا حاصلِ کلام یہ کہ اگر خاوند عورت کے فعل کے ساتھ طلاق کو معلق کرتا ہے، پھر چاہے تعلیق صحت میں ہو اور شرط مرض الموت میں یا دونوں مرض الموت میں ہوں، اگر وہ فعل ایسا ہے کہ اس کے بغیر چارہ ہے تو عورت وارثہ نہیں بنے گی دونوں صورتوں میں۔ اور اگر وہ فعل ایسا ہے کہ اس کے بغیر چارہ ہی نہیں ہے تو پھر عورت وارثہ بنے گی، چاہے دونوں چیزیں مرض الموت میں ہوں، چاہے ایک صحت میں ہو اور ایک مرض میں ہو۔ بات سمجھ میں آ گئی جی۔ اب دیکھیے بھئی، اسی کو صاحبِ ہدایہ بیان فرمائیں گے۔ ”وَإِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِامْرَأَتِهِ“ جب کہا کسی شخص نے اپنی بیوی سے، ”وَهُوَ صَحِيحٌ“ اس حال میں کہ وہ شخص تندرست ہے، صحت کی حالت میں ہے، خاوند کہتا ہے: ”إِذَا جَاءَ رَأْسُ الشَّهْرِ، أَوْ إِذَا دَخَلْتِ الدَّارَ، أَوْ إِذَا صَلَّى فُلَانٌ الظُّهْرَ، أَوْ إِذَا دَخَلَ فُلَانٌ الدَّارَ“ یہ کئی شرطیں ذکر کر دیں کہ ان میں سے کوئی ایک شرط خاوند ذکر کرتا ہے اور آگے کہتا ہے: ”فَأَنْتِ طَالِقٌ“ تو تجھے طلاق ہے، جی۔ تو اب وہ شرطیں کیا ہیں؟ ”إِذَا جَاءَ رَأْسُ الشَّهْرِ“، رأس الشہر کہتے ہیں مہینے کے آغاز کو، مہینے کے شروع کو۔ ”إِذَا جَاءَ رَأْسُ الشَّهْرِ“ جب فلاں مہینے کا جب آغاز آ جائے، جب فلاں مہینہ شروع ہو جائے تو تجھے طلاق ہے، اور یہ کس وقت کہہ رہا ہے؟ صحت کی حالت میں۔ کس وقت؟ صحت کی حالت میں۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ جب طلاق کو معلق کرے وقت کے ساتھ یا اجنبی کے فعل کے ساتھ، تو اگر تعلیق اور شرط دونوں مرض الموت میں ہوئے تو عورت وارثہ بنے گی، اور اگر تعلیق صحت میں ہوئی اور شرط مرض الموت میں ہوئی تو عورت وارثہ نہیں بنے گی۔ اب آپ مجھے بتائیے، خاوند نے کیا کہا صحت کی حالت میں: ”إِذَا جَاءَ رَأْسُ الشَّهْرِ“ اگر جب اس مہینے کا آغاز آ جائے تو تجھے طلاق ہے، اور پھر یہ مہینہ جب شروع ہوا خاوند مرض الموت میں مبتلا ہو چکا ہے۔ تو تعلیق تھی صحت کی حالت میں اور وقت کب آیا؟ مرض الموت میں، تو اب کیا حکم لگائیں گے؟ عورت وارثہ بنے گی یا نہیں؟ عورت وارثہ نہیں بنے گی۔ تعلیق کس وقت ہے؟ صحت کی حالت میں، اور شرط کب پائی جا رہی ہے؟ مرض الموت میں، تو قصدِ فرار نہیں پایا۔ گیا، بھئی اس نے تو صحت کی حالت میں تعلیق کی تھی۔ جی۔ اسی طرح اجنبی آدمی کے فعل کے ساتھ معلق کرتا ہے خاوند طلاق کو، اور صحت کی حالت میں ہے کہ: ”إِذَا صَلَّى فُلَانٌ الظُّهْرَ فَأَنْتِ طَالِقٌ“، یا ”إِذَا دَخَلَ فُلَانٌ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ“، چاہے فعل ایسا ہو جس کے سوا چارہ ہو چاہے اس کے سوا چارہ نہ ہو، لیکن یہ تعلیق کب کر رہا ہے؟ صحت کی حالت میں، اور شرط کب پائی جا رہی ہے؟ مرض الموت میں، تو اس صورت میں عورت وارثہ نہیں بنے گی کیونکہ قصدِ فرار نہیں پایا گیا کیونکہ تعلیق تو اس نے صحت میں کی تھی بھئی۔ اور اس کے بجائے اگر خاوند یوں کہتا ہے: ”إِذَا دَخَلْتِ الدَّارَ“ عورت کے فعل سے طلاق کو معلق کرتا ہے، ”إِذَا دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ“ اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے، اور یہ تعلیق کس وقت کی ہے؟ صحت کی حالت میں، اور عورت اس گھر میں مرض الموت کی حالت میں گئی ہے، تو اس صورت کے اندر یہ ایسا فعل تھا جس کے سوا چارہ ہے، لہٰذا عورت وارثہ نہیں بنے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِامْرَأَتِهِ وَهُوَ صَحِيحٌ“ اور جب کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا اس حال میں کہ وہ صحیح تھا، وہ تندرست تھا: ”إِذَا جَاءَ رَأْسُ الشَّهْرِ“ جب اس مہینے کا آغاز آ جائے، ”أَوْ إِذَا دَخَلْتِ الدَّارَ“ یا جب تو اس گھر میں داخل ہو، دیکھو یہ ایسا فعل ہے جس کے سوا چارہ ہے، ”أَوْ إِذَا صَلَّى فُلَانٌ الظُّهْرَ“ جب فلاں ظہر کی نماز پڑھ لے، دیکھو یہ ایسا فعل ہے جس کے سوا چارہ نہیں ہے، ”أَوْ إِذَا دَخَلَ فُلَانٌ الدَّارَ“ یا جب فلاں اس گھر کے اندر داخل ہو جائے، یہ ایسا فعل ہے جس کے سوا چارہ ہے بھئی۔ تو ان میں سے کوئی شرط مقرر کی اور آگے کہا: ”فَأَنْتِ طَالِقٌ“ تو تجھے طلاق ہے۔ کون سی طلاق ذکر کی؟ طلاقِ بائن یا تین طلاقیں۔ کیونکہ طلاقِ رجعی میں تو نکاح برقرار رہتا ہے، اس میں تو وہ وارثہ بنتی ہی ہے، بات کس کی چل رہی ہے؟ طلاقِ بائن کی۔ خاوند جب بیوی کو طلاقِ بائن دے دے تو عورت وارثہ نہیں بنتی بھئی۔ جی۔ کیونکہ نکاح ٹوٹ گیا پورے طور پر، لیکن مرض الموت میں اگر طلاقِ بائن یا تین طلاقیں دے گا تو معلوم ہوا یہ رجلِ فار ہے، یہ فرار کا ارادہ کر رہا ہے، اس لیے تو یہ مرض الموت کے مسئلے ذکر ہو رہے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ ویسے تو طلاقِ بائن یا تین طلاقیں دے گا تو عورت وارثہ نہیں بنے گی چاہے عدت کے اندر ہی خاوند کا انتقال کیوں نہ ہو جائے۔ تو کہتے ہیں: ”فَكَانَتْ هَذِهِ الْأَشْيَاءُ“، ”فَكَانَتْ“ یہ کانہ تامہ ہے، کانہ تامہ جہاں صرف فاعل پر بات پوری ہو جاتی ہے، أَيْ ثَبَتَتْ، ”أَيْ ثَبَتَتْ هَذِهِ الْأَشْيَاءُ“ یہ چیزیں ثابت ہو گئیں، یا یوں کہیں: ”وُجِدَتْ هَذِهِ الْأَشْيَاءُ“ یہ چیزیں پائی گئیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَكَانَتْ هَذِهِ الْأَشْيَاءُ“ تو یہ چیزیں پائی گئیں ”وَالزَّوْجُ مَرِيضٌ“ اس حال میں کہ خاوند مریض تھا، یعنی مرض الموت میں مبتلا تھا، ”لَمْ تَرِثْ“ عورت وارثہ نہیں بنے گی۔ کیوں نہیں بنے گی؟ کیونکہ تعلیق صحت میں ہے۔ جی۔ اور قصدِ فرار نہیں پایا گیا، شرط مرض الموت میں ہے۔ ”وَإِنْ كَانَ الْقَوْلُ فِي الْمَرَضِ“ اور اگر یہ قول مرض کی حالت میں تھا ”وَرِثَتْ“ تو عورت وارثہ بنے گی کیونکہ قصدِ فرار پایا گیا ہے، تعلیق ہی وہ مرض الموت میں کر رہا ہے، ”إِلَّا فِي قَوْلِهِ“ مگر خاوند کے اس قول میں وارثہ نہیں بنے گی: ”إِذَا دَخَلْتِ الدَّارَ“ جب عورت سے کہا: جب تو اس گھر میں گئی۔ توجہ ہے؟ تو یہ ”إِذَا“ کا ترجمہ ”جب“ کے ساتھ کریں بھئی، جب۔ ”إِذَا جَاءَ رَأْسُ الشَّهْرِ“ جب اس مہینے کا آغاز آ جائے، ”أَوْ إِذَا دَخَلْتِ الدَّارَ“ جب تو اس گھر میں جائے، ”أَوْ إِذَا صَلَّى فُلَانٌ الظُّهْرَ“ جب فلاں ظہر کی نماز پڑھے، ”أَوْ إِذَا دَخَلَ فُلَانٌ الدَّارَ“ جب فلاں اس گھر کے اندر جائے۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ كَانَ الْقَوْلُ فِي الْمَرَضِ“ اور اگر یہ قول خاوند کا، یعنی یہ جو تعلیق تھی، یہ بھی مرض الموت میں تھی اور شرط بھی کب ہوئی؟ مرض الموت میں، تو ”وَرِثَتْ“ عورت وارثہ بنے گی، ”إِلَّا فِي قَوْلِهِ إِذَا دَخَلْتِ الدَّارَ“ مگر خاوند کے اس قول کے اندر ”إِذَا دَخَلْتِ الدَّارَ“ جب تو اس گھر میں جائے، اس میں وارثہ نہیں بنے گی کیونکہ اس فعل کے بغیر بھی چارہ ہے۔ تو تعلیق تو صحت کی حالت میں کی ہے اور عورت اس گھر میں مرض الموت کی حالت میں گئی ہے، لیکن اس کا جانا بتلا رہا ہے کہ وہ خود اپنا حق باطل کرنے پر راضی ہے بھئی۔ اب دیکھیے صاحبِ ہدایہ اس کو تفصیل سے بیان کریں گے، یہاں تک متن تھا، اب آگے شرح ہے۔ کہتے ہیں: ”وَهَذَا عَلَى وُجُوهٍ“ اور یہ جو ذکر کیا گیا یہ کئی صورتوں پر ہے: ”إِمَّا أَنْ يُعَلِّقَ الطَّلَاقَ بِمَجِيءِ الْوَقْتِ“ یا تو خاوند طلاق کو معلق کرے گا کسی وقت کے آنے کے ساتھ، ”أَوْ بِفِعْلِ الْأَجْنَبِيِّ“ یا کسی اجنبی کے فعل کے ساتھ، ”أَوْ بِفِعْلِ نَفْسِهِ“ یا خاوند اپنے فعل کے ساتھ طلاق کو معلق کرے گا، ”أَوْ بِفِعْلِ الْمَرْأَةِ“ یا خاوند اس کی بیوی کے فعل کے ساتھ طلاق کو معلق کرے گا، ”وَكُلُّ وَجْهٍ عَلَى وَجْهَيْنِ“ اور پھر ان میں سے ہر صورت جو ہے وہ دو صورتوں پر ہے: ”إِمَّا أَنْ كَانَ التَّعْلِيقُ فِي الصِّحَّةِ وَالشَّرْطُ فِي الْمَرَضِ“ یا تو تعلیق صحت میں ہو گی ”وَالشَّرْطُ فِي الْمَرَضِ“ اور شرط مرض الموت میں ہو گی، ”أَوْ كِلَاهُمَا فِي الْمَرَضِ“ یا دونوں مرض الموت میں ہوں گے۔ ”أَمَّا الْوَجْهَانِ الْأَوَّلَانِ“ تو پہلی دو وجہیں جو ہیں، ”وَهُوَ مَا إِنْ كَانَ التَّعْلِيقُ بِمَجِيءِ الْوَقْتِ“ وہ جس وقت کہ تعلیق جو ہے وہ ”بِمَجِيءِ الْوَقْتِ“ وقت کے آنے کے ساتھ ہو، خاوند نے طلاق کو معلق کیا ہے وقت کے آنے کے ساتھ، ”بِأَنْ قَالَ“ یہ با تفسیریہ ہے، صورت بتلا رہے ہیں، ”بِأَنْ قَالَ“ بایں صورت کہ خاوند نے یوں کہا ہے: ”إِذَا جَاءَ رَأْسُ الشَّهْرِ فَأَنْتِ طَالِقٌ“ جب اس مہینے کا آغاز آئے تو تجھے طلاق ہے، تو وقت کے ساتھ معلق کیا، ”أَوْ بِفِعْلِ الْأَجْنَبِيِّ“ یا تعلیق کس کے ساتھ کر دی؟ اجنبی کے فعل کے ساتھ، ”بِأَنْ قَالَ“ بایں صورت کہ خاوند نے یوں کہا: ”إِذَا دَخَلَ فُلَانٌ الدَّارَ“ کہ جب فلاں اس گھر میں داخل ہو، اجنبی کا ایسا فعل ذکر کیا جس کے سوا چارہ ہے، ”أَوْ صَلَّى فُلَانٌ الظُّهْرَ“ جب فلاں جو ہے ظہر کی نماز پڑھے، تو دیکھو اجنبی کا ایسا فعل ذکر کیا جس کے سوا چارہ نہیں، دونوں کا ایک ہی حکم ہے، ”وَكَانَ التَّعْلِيقُ وَالشَّرْطُ فِي الْمَرَضِ“ اور یہ تعلیق اور شرط دونوں مرض میں تھے، ”فَلَهَا الْمِيرَاثُ“ تو عورت کے لیے میراث ہو گی کب؟ جب عدت کے اندر خاوند کا انتقال ہو، ”لِأَنَّ الْقَصْدَ إِلَى الْفِرَارِ قَدْ تَحَقَّقَ مِنْهُ“ اس لیے کیونکہ فرار کا ارادہ قد تحقق تحقیق وہ پایا گیا منہ خاوند کی طرف سے، ”بِمُبَاشَرَةِ التَّعْلِيقِ“ مباشرت کا معنی سرانجام دینا، ”بِمُبَاشَرَةِ التَّعْلِيقِ“ بوجہ تعلیق سرانجام دینے کے ”فِي حَالٍ“ ایسی حالت میں ”تَعَلَّقَ حَقُّهَا بِمَالِهِ“ کہ عورت کا حق متعلق ہو چکا ہے ”بِمَالِهِ“ خاوند کے مال کے ساتھ۔ خاوند تعلیق کب کر رہا ہے؟ مرض الموت میں، اور مرض الموت میں تو عورت کا حق خاوند کے مال کے ساتھ متعلق ہو چکا ہے، لہٰذا قصدِ فرار پایا گیا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے۔ کہتے ہیں: ”فَلَهَا الْمِيرَاثُ“ تو عورت کے لیے میراث ہو گی، ”لِأَنَّ الْقَصْدَ إِلَى الْفِرَارِ قَدْ تَحَقَّقَ مِنْهُ“ اس لیے کیونکہ فرار کا ارادہ جو ہے قد تحقق منہ وہ خاوند کی طرف سے پایا گیا ہے، ”بِمُبَاشَرَةِ التَّعْلِيقِ فِي حَالٍ“ بوجہ تعلیق کو سرانجام دینے کے، یعنی تعلیق کرنے کے ایسی حالت میں ”تَعَلَّقَ حَقُّهَا بِمَالِهِ“ کہ عورت کا حق اس کے خاوند کے مال کے ساتھ متعلق ہو چکا ہے، ”وَإِنْ كَانَ التَّعْلِيقُ فِي الصِّحَّةِ وَالشَّرْطُ فِي الْمَرَضِ“ اور اگر تعلیق تو صحت کی حالت میں تھی اور شرط مرض الموت میں تھی، ”لَمْ تَرِثْ“ عورت وارثہ نہیں بنے گی کیونکہ قصدِ فرار نہیں پایا گیا، صحت کی حالت میں تعلیق کی ہے خاوند نے۔ ”وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”تَرِثُ“ عورت وارثہ بنے گی، ”لِأَنَّ الْمُعَلَّقَ بِالشَّرْطِ يَنْزِلُ عِنْدَ وُجُودِ الشَّرْطِ كَالْمُنَجَّزِ“۔ بھئی دیکھو! تعلیق جو ہے وہ صحت کی حالت میں ہے، اور شرط کب پائی گئی؟ مرض الموت میں پائی گئی، تو ہمارے نزدیک قصدِ فرار نہیں پایا گیا کیونکہ تعلیق تو اس نے صحت کی حالت میں کی تھی۔ لیکن امام زفر فرماتے ہیں: نہیں، اس حالت میں بھی عورت وارثہ بنے گی اگر عدت کے اندر خاوند کا انتقال ہو جائے، چاہے تعلیق صحت میں ہی کیوں نہ ہو۔ وجہ کیا؟ وجہ یہ ضابطہ ہے، جیسے پہلے میں نے ذکر کیا تھا کہ معلق جو ہے وہ سبب بنتا ہے عند وجود الشرط۔ معلق جو ہے وہ سبب بنتا ہے عند وجود الشرط عند الاحناف، اور عند الشوافع معلق جو ہے وہ سبب بنتا ہے عند التکلم بھئی۔ خاوند نے بیوی سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ“ اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے، تو امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ اسی وقت طلاق کا سبب بن رہا ہے، یعنی ایقاعِ طلاق اسی وقت ہو رہا ہے لیکن وقوع نہیں ہو رہا ہے یعنی اس کا حکم نہیں آ رہا اس شرط کی وجہ سے۔ عورت جب اس گھر میں جائے گی تو تب وقوعِ طلاق بھی ہو جائے گا۔ تو ان کے نزدیک یہ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ یہ طلاق کا سبب بن رہا ہے تکلم کے وقت ہی، جبکہ ہمارے نزدیک ”أَنْتِ طَالِقٌ“ یہ علت ہے اور طلاق کا واقع ہونا اس کا معلول ہے، اور علت اور معلول ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتے، جب علت پائی جائے معلول کا پایا جانا ضروری ہے بھئی۔ ورنہ تو پھر یہ علت اور معلول ہی نہیں ہے بھئی، علت اور معلول کہتے ہی اس کو ہیں کہ علت جب بھی پائی جائے معلول ضرور پایا جائے۔ جیسے سورج جب بھی نکلے گا دن ضرور ہو گا۔ آپ جب بھی تالے میں چابی گھمائیں گے تالا ضرور کھلے گا۔ علت جب بھی پائی جائے معلول ضرور پایا جاتا ہے، معلول علت سے جدا نہیں ہو سکتا۔ اگر جدا ہو جاتا ہے معلوم ہوا یہ اس کی علت ہی نہیں ہے بھئی۔ تو ہمارے نزدیک خاوند نے بیوی سے کہا: ”إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ“ اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے، تو خاوند نے طلاق کو معلق کر دیا ہے دخولِ دار کے ساتھ۔ تو یہ جو معلق ہے ہمارے نزدیک یہ والا ”أَنْتِ طَالِقٌ“ فی الحال طلاق کا سبب بن ہی نہیں رہا۔ جب عورت اس گھر میں جائے گی تو اس وقت ”أَنْتِ طَالِقٌ“ آئے گا اور عورت پر طلاق واقع ہو جائے گی۔ تو معلوم ہوا ہمارے نزدیک معلق بالشرط وہ کب سبب بنتا ہے؟ وجودِ شرط کے وقت۔ ہمارے نزدیک معلق جو ہے وہ سبب بنتا ہے وجودِ شرط کے وقت۔ تو لہٰذا امام زفر کی یہی دلیل پیش فرما رہے ہیں۔ کہتے ہیں: خاوند نے تعلیق صحت کے زمانے میں کی تھی، لیکن وہ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ تو طلاق کا سبب بن ہی نہیں رہا تھا، اور اس وقت مرض الموت میں وہ شرط پائی گئی، تو اس وقت گویا ”أَنْتِ طَالِقٌ“ آیا اور عورت کو کیا ہو گئی؟ طلاق۔ یہ اسی طرح ہے گویا خاوند اسی وقت مرض الموت، دیکھو یہ شرط کب پائی گئی ہے؟ مرض الموت میں، تعلیق کب ہے؟ صحت میں، اور شرط کب ہے؟ مرض الموت میں، تو گویا مرض الموت میں ”أَنْتِ طَالِقٌ“ پایا گیا ہے، یہ اسی طرح ہے خاوند جیسے اسی وقت منجز طلاق دے رہا ہے، اس وقت خاوند بیوی کو ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کہہ رہا ہے۔ وہ جو معلق تھا وہ اس وقت سبب بن رہا ہے، گویا اس وقت خاوند ”أَنْتِ طَالِقٌ“ بیوی کو کہہ رہا ہے، اور اس وقت تو خاوند مرض الموت میں مبتلا ہے۔ اور جب مرض الموت میں مبتلا ہو خاوند اپنی بیوی کو منجز طلاق دے تو عورت عدت کے اندر وارثہ بنتی ہے، تو لہٰذا یہاں بھی عورت وارثہ بنے گی۔ دلیل ان کی سمجھ میں آئی؟ ہمارے نزدیک تو تعلیق صحت میں تھی، شرط مرض میں ہے، اور خاوند کی طرف سے قصدِ فرار نہیں پایا گیا۔ لیکن امام زفر کیا فرماتے ہیں؟ وہ جو معلق طلاق ہے وہ تو اس وقت تو طلاق کا سبب نہیں بنی، وہ اس وقت طلاق کا سبب بنے گی، اس وقت ”أَنْتِ طَالِقٌ“ آئے گا، گویا اس وقت مرض الموت میں خاوند بیوی کو کہہ رہا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ“، اور مرض الموت میں خاوند بیوی کو ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کہے تو بیوی وارثہ بنتی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”تَرِثُ“ کہ عورت وارثہ بنے گی اگرچہ تعلیق صحت میں ہے، لیکن شرط تو مرض الموت میں ہے بھئی، ”لِأَنَّ الْمُعَلَّقَ بِالشَّرْطِ يَنْزِلُ عِنْدَ وُجُودِ الشَّرْطِ“ اس لیے کیونکہ وہ طلاق جو شرط کے ساتھ معلق ہوتی ہے ”يَنْزِلُ“ وہ نازل ہوتی ہے، وہ اترتی ہے ”عِنْدَ وُجُودِ الشَّرْطِ“ جب شرط پائی جائے بھئی، ”كَالْمُنَجَّزِ“ جیسے کہ منجز طلاق، جیسے منجز طلاق یعنی جو اسی وقت خاوند دے دے، معلق نہ کرے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو گویا اس وقت جب وہ شخص وہ فعل کرے گا یا وہ وقت آئے گا، اور خاوند تو کس میں ہے؟ مرض الموت میں، تو وہ جب شرط پائی جائے گی تو اس وقت گویا خاوند ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کہہ رہا ہے، اور اس وقت تو خاوند مرض الموت میں ہے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْمُعَلَّقَ بِالشَّرْطِ يَنْزِلُ عِنْدَ وُجُودِ الشَّرْطِ كَالْمُنَجَّزِ فَكَانَ إِيقَاعًا فِي الْمَرَضِ“، منجز طلاق میں نے بتایا: ایک ہے معلق جس کو معلق کر دیا جائے، اور ایک منجز ہے جو اسی وقت طلاق دی جائے اس کو منجز کہتے ہیں۔ تو یہ معلق بھی کس کی طرح ہوئی؟ منجز کی طرح ہوئی، ”فَكَانَ إِيقَاعًا فِي الْمَرَضِ“ تو یہ مرض الموت میں طلاق واقع کرنے کی طرح ہوا، لہٰذا عورت وارثہ بنے گی۔ ”وَلَنَا أَنَّ التَّعْلِيقَ السَّابِقَ يَصِيرُ تَطْلِيقًا عِنْدَ الشَّرْطِ حُكْمًا لَا قَصْدًا“ ہم کہتے ہیں: آپ کی بات ہمیں تسلیم ہے کہ معلق معلق سبب بنتا ہے عند وجود الشرط، لیکن ”حُكْمًا لَا قَصْدًا“، حكماً وہ اس وقت طلاق کا سبب بنتا ہے، قصداً نہیں۔ ”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ ”أَنَّ التَّعْلِيقَ السَّابِقَ“ کہ وہ سابقہ تعلیق جو ہے، کون سی تعلیق؟ وہ جو صحت کی حالت میں کی تھی، کہ وہ جو سابقہ تعلیق ہے ”يَصِيرُ تَطْلِيقًا“ یہ تطلیق بنے گی، تطلیق کا کیا معنی؟ طلاق دینا، یعنی ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کہنا، کہ وہ جو سابقہ تعلیق تھی ”يَصِيرُ تَطْلِيقًا عِنْدَ الشَّرْطِ“ یہ تطلیق بنے گی، کس وقت؟ جب شرط پائی جائے گی، ہمیں آپ کی بات تسلیم ہے کہ سابقہ تعلیق وہ وہ تطلیق بنے گی کب؟ جب شرط پائی جائے گی، لیکن یہ حکماً ہے، ”لَا قَصْدًا“ قصداً نہیں ہے۔ یعنی یہ حکم لگایا جاتا ہے، قصداً ایسا نہیں۔ یاد رکھو! بات یہ چل رہی ہے، بات یہ چل رہی ہے کہ خاوند جب مرض الموت میں مبتلا ہے، اب یہ مرنے والا ہے، بیوی اس کی وارثہ بننے والی ہے، اور اس حالت کے اندر یہ بیوی کو طلاقِ بائن دیتا ہے یا تین طلاقیں دیتا ہے، معلوم ہوا یہ عورت پر ظلم کر رہا ہے، اس کو اس کے حق سے محروم کرنا چاہتا ہے بھئی۔ تو یہ عورت کو اس کے حق سے محروم کرنا چاہتا ہے، یہ ظلم کرنا چاہتا ہے، لہٰذا اس کے اس کے اس تصرف کو مؤخر کر دیا جائے گا عدت تک۔ وہ عورت کے حق کو باطل کرنا چاہتا ہے اسی وقت، لیکن اس ابطالِ حق کو کیا کر دیا جائے گا؟ مؤخر کر دیا جائے گا عدت تک۔ عدت تک اگر اگر اس کا انتقال ہو گیا تو عورت وارثہ بنے گی، اور اگر عدت کے بعد انتقال ہوا پھر وارثہ نہیں بنے گی کیونکہ عدت گزر چکی ہے۔ معلوم ہوا خاوند جب مرض الموت میں طلاقِ بائن یا تین طلاقیں دیتا ہے وہ ظلم کر رہا ہے اور قصداً کر رہا ہے، اپنے ارادے سے کر رہا ہے۔ لیکن یہاں پر وہ تعلیق سابق ہے، پہلے ہے، وہ تو صحت کی حالت میں خاوند نے طلاق کو معلق کیا تھا کہ اگر فلاں مہینے کا آغاز آیا تو تمہیں طلاق ہے، یا زید نے فلاں فعل کیا تو تمہیں طلاق ہے، یہ خاوند نے کس وقت کی تھی تعلیق؟ صحت کی حالت میں، اور یہ شرط کب پائی گئی؟ مرض الموت میں۔ تو وہ جو سابقہ تعلیق تھی اس مرض الموت کے اندر تطلیق بن رہی ہے، اس وقت ”أَنْتِ طَالِقٌ“ آ رہا ہے، لیکن اس وقت جو ”أَنْتِ طَالِقٌ“ آ رہا ہے وہ حکماً آ رہا ہے یا قصداً آ رہا ہے؟ حکماً اس وقت ”أَنْتِ طَالِقٌ“ آ رہا ہے، قصداً نہیں، خاوند کا اپنا ارادہ نہیں ہے، اور ظلم؟ ظلم تو ہمیشہ قصد سے ہوتا ہے، بغیر قصد اور ارادے کے تو ظلم نہیں ہوتا، لہٰذا یہاں پر بے شک اس وقت طلاق ”أَنْتِ طَالِقٌ“ آ رہا ہے مرض الموت میں، لیکن یہ یہ تطلیق حکماً ہے، قصداً نہیں۔ اگر یہ قصداً تطلیق ہوتی، قصداً خاوند اس وقت طلاق دے رہا ہوتا تو پھر ظلم تھا، لیکن یہ تطلیق تو کیا ہے؟ حکماً ہے، قصداً نہیں، لہٰذا اس کا وہ حکم نہیں ہو گا جو قصداً تطلیق کا حکم ہوتا ہے۔ یہ اسی طرح ہے، یہ اسی طرح ہے جیسے ایک شخص ہے، اس نے اپنی بیوی کی طلاق کو معلق کر دیا: اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے۔ ایک آدمی نے کیا کیا؟ معلق کر دیا اپنی بیوی کی طلاق کو دخولِ دار پر، اور پھر اتفاق سے بعد میں ایسا ہوا کہ اس شخص کو جنون کے دورے پڑنے لگے، اور آپ جانتے ہیں مجنون کی طلاق واقع نہیں ہوتی۔ تو یہ شخص جنون کی حالت میں تھا اور عورت اس گھر میں چلی گئی، عورت جیسے ہی اس گھر میں گئی کیا آ گیا؟ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ اور ساتھ ہی کیا ہو گئی؟ طلاق ہو گئی۔ حالانکہ اگر یہ قصداً تطلیق ہوتی تو اس وقت تو خاوند مجنون ہے، اور مجنون کی تو طلاق واقع ہی نہیں ہوتی، تو یہ طلاق واقع نہیں ہونی چاہیے تھی، لیکن سب کیا کہتے ہیں؟ طلاق واقع ہو جائے گی کیونکہ یہ تطلیق حکماً ہے، قصداً نہیں ہے۔ حکماً اس وقت تطلیق پائی جا رہی ہے، یہ حکم لگا دیا گیا ہے، قصداً یعنی ارادے سے اس وقت تطلیق نہیں ہے، اس وقت خاوند نے ”أَنْتِ طَالِقٌ“ نہیں کہا کیونکہ اس وقت وہ مجنون ہے بھئی۔ یا دوسری صورت لے لیں: ایک شخص ہے، اس نے اپنی بیوی کی طلاق کو معلق کر دیا: اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے۔ توجہ ہے؟ طلاق معلق ہو گئی، اور بعد میں اس شخص نے اپنی بیوی کو قسم کھا کر کہہ دیا کہ واللہ! میں تمہیں زندگی بھر کبھی طلاق نہیں دوں گا۔ واللہ! میں تمہیں زندگی بھر کبھی طلاق نہیں دوں گا۔ بعد میں کسی وقت وہ عورت اس گھر کے اندر چلی گئی، تو وہی ”أَنْتِ طَالِقٌ“ جو معلق تھا وہ آ گیا، اور آتے ہی عورت کو طلاق واقع ہو گئی۔ لیکن یہ جو ”أَنْتِ طَالِقٌ“ آیا یہ حکماً آیا ہے، قصداً نہیں، اسی لیے یہ شخص حانث بھی نہیں۔ ورنہ اس نے تو قسم کھائی تھی کہ میں بیوی کو طلاق نہیں دوں گا، معلوم ہوا یہ جو طلاق ہے یہ حکماً ہے، قصداً نہیں، ورنہ یہ شخص حانث ہو جاتا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ لہٰذا تطلیق تو کی تھی خاوند نے صحت کی حالت میں، اور شرط کب پائی گئی؟ مرض الموت میں، تو مرض الموت میں گویا تطلیق پائی گئی، لیکن یہ تطلیق، تطلیق کا کیا معنی ہے؟ خاوند کا طلاق دینا، یعنی ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کہنا۔ تو اس وقت جب شرط مرض الموت میں پائی گئی تو ”أَنْتِ طَالِقٌ“ بھی کب پایا گیا؟ مرض الموت میں، یعنی تطلیق مرض الموت میں پائی گئی، لیکن یہ تطلیق حکماً ہے، قصداً نہیں، لہٰذا اس میں ظلم نہیں، خاوند کوئی ظلم نہیں کرنا چاہتا، اور عورت تو وارثہ کیوں بنتی تھی؟ کیونکہ خاوند قصداً ظلم کرنا چاہتا تھا۔ لیکن یہاں خاوند کے قصد کا دخل نہیں ہے بھئی۔ ”وَلَنَا أَنَّ التَّعْلِيقَ السَّابِقَ يَصِيرُ تَطْلِيقًا عِنْدَ الشَّرْطِ حُكْمًا لَا قَصْدًا“ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ سابقہ تعلیق جو ہے وہ تطلیق بن جاتی ہے عند الشرط شرط کے وقت حکماً لا قصداً، اور یہ جو سابقہ تعلیق تطلیق بنتی ہے ”حُكْمًا لَا قَصْدًا“ یہ حکماً تطلیق بنتی ہے قصداً نہیں، یعنی اس پر حکم لگا دیا جاتا ہے کہ اس وقت تطلیق ہے بھئی، ”وَلَا ظُلْمَ إِلَّا عَنْ قَصْدٍ“ اور ظلم تو نہیں ہوتا مگر ارادے سے ہی، تو لہٰذا یہاں ظلم نہیں ہے، ”فَلَا يُرَدُّ تَصَرُّفُهُ“ لہٰذا خاوند کے تصرف کو رد نہیں کیا جائے گا۔ کون سا تصرف؟ مثلاً یہاں خاوند نے طلاقِ بائن کو معلق کیا ہے، طلاقِ رجعی نہیں بھئی، یہ ساری بحث ہی کس کے بارے میں چل رہی ہے؟ مرض الموت میں طلاقِ بائن دینے کی بات چل رہی ہے، کیونکہ طلاقِ رجعی میں تو بالاتفاق عورت وارثہ بنتی ہے بھئی عدت کے اندر خاوند کا انتقال ہو جائے۔ تو لہٰذا خاوند کے تصرف کو رد نہیں کیا جائے گا، ”فَلَا يُرَدُّ تَصَرُّفُهُ“ تو خاوند کے تصرف کو رد نہیں کیا جائے گا کہ خاوند نے جو طلاق دی ہے اس کے عمل کو مؤخر کر دیا جائے عدت کے گزرنے تک، ایسا نہیں ہو گا کیونکہ یہاں ظلم نہیں ہے، لہٰذا جیسے ہی مرض الموت میں شرط پائی جائے گی اور نکاح ٹوٹ گیا، اب عورت وارثہ نہیں بنے گی کیونکہ ظلم نہیں پایا گیا۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ یہ معنی ہے: ”فَلَا يُرَدُّ تَصَرُّفُهُ“ لہٰذا خاوند کے تصرف کو رد نہیں کیا جائے گا، یعنی اس کے عمل کو عدت تک مؤخر نہیں کیا جائے گا۔ آگے دیکھیے: ”فَأَمَّا الْوَجْهُ الثَّالِثُ“ باقی تیسری وجہ جو ہے ”وَهُوَ مَا إِذَا عَلَّقَهُ بِفِعْلِ نَفْسِهِ“ اور وہ صورت جب خاوند اگر اپنے فعل کے ساتھ بیوی کی طلاق کو معلق کرتا ہے، میں نے آپ کو بتلا دیا کہ چاہے وہ فعل ایسا ہو جس کے سوا چارہ ہو، چاہے ایسا فعل ہو جس کے بغیر گزارا نہ ہو، جو مرضی فعل ہو، اور نیز چاہے تعلیق اور شرط دونوں مرض الموت میں ہوں یا تعلیق صحت میں ہے اور شرط مرض الموت میں ہے، تمام صورتوں کے اندر عورت وارثہ بنے گی، عورت وارثہ بنے گی۔ اب وہی بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”فَأَمَّا الْوَجْهُ الثَّالِثُ وَهُوَ مَا إِذَا عَلَّقَهُ بِفِعْلِ نَفْسِهِ“ تو تیسری وجہ جو ہے جب خاوند نے طلاق کو معلق کر دیا اپنے ذاتی فعل کے ساتھ، ”فَسَوَاءٌ كَانَ التَّعْلِيقُ فِي الصِّحَّةِ وَالشَّرْطُ فِي الْمَرَضِ أَوْ كَانَا فِي الْمَرَضِ“ تو برابر ہے کہ تعلیق صحت میں ہو اور شرط مرض میں ہو یا دونوں ہی مرض میں ہوں، ”وَالْفِعْلُ مِمَّا لَهُ مِنْهُ بُدٌّ“ اور فعل جو ہے مما ان افعال میں سے ہو ”لَهُ مِنْهُ بُدٌّ“ کہ خاوند کے لیے اس کے سوا بھی چارہ ہو، لا بد، لا بد کا کیا معنی ہوتا ہے؟ ضروری، لا بد، ضروری یعنی جس کے سوا چارہ نہ ہو۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْفِعْلُ مِمَّا لَهُ مِنْهُ بُدٌّ“ اور فعل جو ہے مما ان افعال میں سے ہو ”لَهُ مِنْهُ بُدٌّ“ کہ خاوند کے لیے اس کے سوا چارہ ہو، ”أَوْ لَا بُدَّ لَهُ مِنْهُ“ یا خاوند کے لیے اس کے سوا چارہ ہی نہ ہو، جو مرضی فعل ہو، اور چاہے تعلیق اور شرط دونوں مرض میں ہوں یا تعلیق صحت میں ہو اور شرط مرض میں ہو، سب کا حکم بتلا رہے ہیں، یہ سب صورتیں برابر ہیں، یہ سب صورتیں، ”فَسَوَاءٌ“ آیا تھا ”فَسَوَاءٌ“ یہ سب صورتیں برابر ہیں، ”فَيَصِيرُ فَارًّا لِوُجُودِ قَصْدِ الْإِبْطَالِ“ تو لہٰذا خاوند فار بن جائے گا، یعنی بھاگنے والا بن جائے گا، ”لِوُجُودِ قَصْدِ الْإِبْطَالِ“ ابطال کا قصد پائے جانے کی وجہ سے، معلوم ہو وہ بیوی کے حق کو باطل کرنا چاہتا ہے۔ تو ”فَيَصِيرُ فَارًّا لِوُجُودِ قَصْدِ الْإِبْطَالِ“ تو بیوی کا حق باطل کرنے کا قصد پائے جانے کی وجہ سے وہ فار بن جائے گا، ”إِمَّا بِالتَّعْلِيقِ أَوْ بِمُبَاشَرَةِ الشَّرْطِ فِي الْمَرَضِ“ یا تو تعلیق کرنے کی وجہ سے، مرض الموت میں تعلیق کر رہا ہے، معلوم ہوا یہ فار ہے، یہ رجلِ فار ہے، را مشدد ہے، ”رَجُلٌ فَارٌّ“، تو یہ رجلِ فار بن جائے گا، ”إِمَّا بِالتَّعْلِيقِ“ یا تو کس کی وجہ سے؟ تعلیق کی وجہ سے کہ مرض الموت میں تعلیق کر رہا ہے، معلوم ہوا یہ کیا ہے؟ رجلِ فار، ”أَوْ بِمُبَاشَرَةِ الشَّرْطِ فِي الْمَرَضِ“ یا مرض کے اندر شرط سرانجام دینے کی وجہ سے۔ تعلیق کب کی ہے؟ اگر تو تعلیق ہی مرض الموت میں کر رہا ہے پھر تو یہ رجلِ فار ہے، ثابت ہو گیا۔ اور اگر تعلیق صحت میں کی ہے لیکن یہ فعل کب کر رہا ہے؟ مرض الموت میں، تو مرض الموت میں بھی فعل جب خود سرانجام دے رہا ہے تو یہ رجلِ فار ثابت ہو جائے گا، رجلِ فار ثابت ہو جائے گا۔ اس پر ذہنوں میں اشکال آتا ہے، ذہنوں میں اشکال آتا ہے مثلاً خاوند کے فعل تو دو طرح کے ہو سکتے ہیں: کچھ وہ ہیں جن کے بغیر گزارا ہے، کچھ وہ ہیں جن کے بغیر گزارا نہیں۔ مثلاً اگر خاوند نے کہا، خاوند نے ایسا فعل ذکر کیا جس کے سوا چارہ ہے کہ اگر میں اس گھر میں گیا تو تجھے طلاق ہے، اپنا فعل ذکر کیا اور یہ ایسا فعل ہے کہ اس گھر میں جائے بغیر بھی گزارا ہو سکتا ہے۔ تو اس صورت میں یہ تعلیق اس نے کب کی ہے مثلاً صحت کی حالت میں، اور اس گھر میں یہ کب گیا ہے؟ مرض الموت کی حالت میں، تو بھئی یہ تو ایسا فعل تھا کہ اس کے سوا بھی چارہ تھا اور آپ مرض الموت میں اس گھر کے اندر جا رہے ہیں، معلوم ہوا آپ کا فرار کا ارادہ ہے، آپ کا فرار کا ارادہ ہے لہٰذا بیوی وارثہ بنے گی اگر عدت کے اندر آپ کا انتقال ہوا۔ لیکن اگر ایسا فعل ہوا جس کے سوا چارہ ہی نہیں ہے، پھر تو قصدِ فرار نہیں پایا گیا، مثلاً خاوند نے صحت کی حالت میں تعلیق کی کہ اگر میں نے ظہر کی نماز پڑھی تو تجھے طلاق ہے۔ اب ظہر کی نماز پڑھنا تو فرض ہے وہ تو ضرور پڑھنی پڑے گی۔ یا اسی طرح اگر میں نے کھانا کھایا تو تجھے طلاق ہے، اب کھانا تو ضرور کھانا پڑے گا۔ تو خاوند نے اپنا ایسا فعل ذکر کیا جس کے سوا چارہ ہی نہیں ہے، اور یہ تعلیق اس نے کب کی ہے؟ صحت کی حالت میں، لیکن پھر مرض الموت میں مبتلا ہو گیا۔ اب مرض الموت کے اندر یہ فعل وہ والا کر رہا ہے، تو اب تو قصدِ فار نہیں ہے، اب بیچار اب تو وہ مجبور ہے۔ اس نے تو تعلیق کب کی تھی؟ صحت کی حالت میں، اسے کیا پتہ تھا میں مرض الموت میں مبتلا ہو جاؤں گا۔ لیکن مرض الموت میں مبتلا ہوا اب وہ وہ والا فعل کر رہا ہے جو کرنا ہی پڑے گا اس کو ہر حال میں، تو اس میں تو قصدِ فرار نہیں ہے، وہ بیچارہ مجبور ہے خاوند، مرض الموت میں یہ فعل کر رہا ہے لیکن مجبور ہے، کرنا ہی پڑے گا۔ تو یہ شبہ آتا ہے کہ اس صورت میں تو قصدِ فرار ثابت نہیں ہوتا کیونکہ خاوند مجبور ہے، تو صاحبِ ہدایہ اس کا آگے جواب دیں گے کہ بھئی اگرچہ یہ فعل کرنے میں تو خاوند مجبور تھا لیکن جو تعلیق اس نے کی تھی تعلیق کرنے میں تو مجبور نہ تھا نا، تعلیق نہ کرتا بھئی! بات سمجھ میں آ گئی؟ لہٰذا جب اس نے تعلیق کی تھی اور ایسے فعل کی تعلیق کی ہے جو اس کو کرنا ہی پڑے گا اور مرض الموت میں وہ فعل کرنا پڑا تب بھی ہم کہیں گے کہ یہ رجلِ فار ہی ہے بھئی، کیونکہ فعل کے بغیر تو چارہ نہیں لیکن تعلیق کے بغیر تو چارہ تھا، کیا ضرورت تھی تعلیق کرنے کی بھئی؟ لہٰذا ہر حال میں قصدِ فرار پایا گیا بھئی۔ دیکھیے پھر ترجمہ تھوڑا سا دوبارہ دیکھ لیجیے: ”فَيَصِيرُ فَارًّا لِوُجُودِ قَصْدِ الْإِبْطَالِ“ تو خاوند جو ہے وہ فار ہو جائے گا یعنی رجلِ فار ہو جائے گا ”لِوُجُودِ قَصْدِ الْإِبْطَالِ“ اس وجہ سے کہ ابطال کا ارادہ پایا گیا، ”إِمَّا بِالتَّعْلِيقِ أَوْ بِمُبَاشَرَةِ الشَّرْطِ فِي الْمَرَضِ“ یا تو مرض میں تعلیق کرنے کی وجہ سے یا مرض کے اندر شرط والا فعل سرانجام دینے کی وجہ سے فرار کا قصد پایا گیا، ”وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مِنْ فِعْلِ الشَّرْطِ بُدٌّ“، ”وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ“ اور اگرچہ خاوند کے لیے نہیں ہے ”مِنْ فِعْلِ الشَّرْطِ بُدٌّ“ فعلِ شرط سے چارہ، اگرچہ خاوند کے لیے فعلِ شرط سے چارہ نہیں ہے، یعنی کوئی ایسا فعل ذکر کیا ہے کہ جو اس کو کرنا ہی پڑے گا، ”فَلَهُ مِنَ التَّعْلِيقِ أَلْفُ بُدٍّ“ لیکن خاوند کے لیے تعلیق سے تو ہزار چارے تھے، تعلیق نہ کرتا بھئی! بات سمجھ میں آ گئی؟ فعل کے کرنے سے تو اب کوئی چارہ نہیں فعل تو کرنا ہی پڑے گا، لیکن تعلیق سے تو چارے موجود تھے بھئی، تعلیق نہ کرتا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مِنْ فِعْلِ الشَّرْطِ بُدٌّ فَلَهُ مِنَ التَّعْلِيقِ أَلْفُ بُدٍّ“ اگرچہ خاوند کے لیے فعلِ شرط سے چارہ نہیں ہے وہ اس کو کرنا ہی پڑے گا لیکن خاوند کے لیے تعلیق سے تو ہزار چارے تھے، ”فَيُرَدُّ تَصَرُّفُهُ“ لہٰذا خاوند کے تصرف کو رد کر دیا جائے گا، یعنی اس کے عمل کو مؤخر کر دیں گے عدت کے گزرنے تک، عدت کے اندر خاوند کا انتقال ہوا تو عورت وارثہ بنے گی۔ ”فَيُرَدُّ تَصَرُّفُهُ“ تو خاوند کے تصرف کو رد کر دیا جائے گا، یعنی اس کے عمل کو مؤخر کر دیا جائے گا ”دَفْعًا لِلضَّرَرِ عَنْهَا“ عورت سے ضرر کو اور نقصان کو دور کرنے کے لیے۔ ”وَأَمَّا الْوَجْهُ الرَّابِعُ“ اور باقی چوتھی صورت جو ہے ”وَهُوَ مَا إِذَا عَلَّقَهُ بِفِعْلِهَا“ کہ جب خاوند نے طلاق کو معلق کیا ہے ”بِفِعْلِهَا“ اسی بیوی کے فعل کے ساتھ، ”فَإِنْ كَانَتِ التَّعْلِيقُ وَالشَّرْطُ فِي الْمَرَضِ“ اگر تعلیق اور شرط دونوں مرض الموت میں ہیں ”وَالْفِعْلُ مِمَّا لَهَا مِنْهُ بُدٌّ“ اور فعل ایسا ہے کہ عورت کا اس کے بغیر بھی گزارا ہے، اس کے بغیر بھی عورت کا چارہ ہے، ”كَكَلَامِ زَيْدٍ وَنَحْوِهِ“ جیسے زید کے ساتھ کلام ہے ”وَنَحْوِهِ“ اور اس جیسے، مثلاً خاوند نے بیوی سے کہا: اگر تو نے زید سے بات کی تو تجھے طلاق ہے۔ تو تعلیق خاوند نے مرض الموت میں کی اور بیوی نے زید سے کلام بھی مرض الموت میں کر لیا، تو بے شک یہ تعلیق مرض الموت میں ہے لیکن یہ تو ایسا کام تھا کہ اس کے بغیر بھی عورت کا گزارا ہو سکتا تھا، پھر بھی اس نے یہ بات کی ہے معلوم ہوا وہ خود اپنا حق باطل کرنے پر راضی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْفِعْلُ مِمَّا لَهَا مِنْهُ بُدٌّ“ اور فعل جو ہے وہ ان افعال میں سے ہے کہ عورت کے لیے اس کے سوا بھی چارہ ہے ”كَكَلَامِ زَيْدٍ“ جیسے زید کا کلام ہے ”وَنَحْوِهِ“ اور اس جیسے، ”لَمْ تَرِثْ“ تو عورت وارثہ نہیں بنے گی، ”لِأَنَّهَا رَاضِيَةٌ بِذَلِكَ“ اس لیے کیونکہ وہ خود اس پر راضی ہے، وہ خود اس طلاق پر راضی ہے یا یوں کہیں وہ خود اپنا حق باطل کرنے پر راضی ہے، زید سے بات نہ کرتی کیا ضرورت تھی اس کے بغیر بھی گزارا تھا لیکن اس نے خود بات کر کے خود اپنا حق باطل کیا ہے بھئی۔ ”وَإِنْ كَانَ الْفِعْلُ لَا بُدَّ لَهَا مِنْهُ“ اور اگر فعل ایسا ہے کہ اس کے بغیر چارہ نہیں ہے، ”كَأَكْلِ الطَّعَامِ“ جیسے کہ کھانا کھانا، ”وَصَلَاةِ الظُّهْرِ“ اور ظہر کی نماز، ”وَكَلَامِ الْأَبَوَيْنِ“ اور ماں باپ سے کلام، بھئی دیکھیے تین مثالیں صاحبِ کافیہ نے ذکر کر دیں، ایسا فعل جس کے سوا چارہ ہی نہیں ہے، جیسے کھانا کھانا، یا نماز پڑھنا، یا والدین سے بات کرنا۔ تین مثالیں ذکر کیں: پہلی مثال: کھانا کھانا، یہ نفس کا حق ہے، یہ نفس کا حق ہے کھانا کھانا پڑے گا آپ کو اپنی زندگی کے لیے، اور ظہر کی نماز پڑھنا، یہ مثال ہے حق اللہ کی بھئی، اللہ کا حق ہے اللہ نے حکم دیا ہے نماز پڑھنے کا، اور ”وَكَلَامِ الْأَبَوَيْنِ“ اور ماں باپ سے بات چیت، یہ والدین کا حق ہے کیونکہ خدمت کی جائے ان سے بات چیت کی جائے، تو یہ حق العبد ہے، تو تینوں کی مثالیں دے دیں صاحبِ کافیہ نے: حق النفس کی مثال بھی، اور حق اللہ کی مثال بھی، اور حق العبد کی مثال بھی۔ تو ایسا فعل ذکر کیا تو پھر عورت وارثہ بنے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ كَانَ الْفِعْلُ لَا بُدَّ لَهَا مِنْهُ“ اور اگر فعل جو ہے ایسا ہے کہ عورت کے لیے اس کے سوا چارہ نہیں ہے، ”كَأَكْلِ الطَّعَامِ“ جیسے کہ کھانا کھانا، ”وَصَلَاةِ الظُّهْرِ“ اور ظہر کی نماز پڑھنا، ”وَكَلَامِ الْأَبَوَيْنِ“ اور ماں باپ سے کلام جو ہے، ”تَرِثُ“ تو اس صورت میں عورت وارثہ بنے گی، ”لِأَنَّهَا مُضْطَرَّةٌ فِي الْمُبَاشَرَةِ“، ”لِأَنَّهَا مُضْطَرَّةٌ“ کیونکہ عورت مجبور ہے ”فِي الْمُبَاشَرَةِ“ ان کاموں کے سرانجام دینے میں، عورت ان کاموں کے کرنے میں مجبور ہے۔ بھئی کیوں مجبور کیوں ہے؟ کہتے ہیں: ”لِمَا لَهَا فِي الِامْتِنَاعِ مِنْ خَوْفِ الْهَلَاكِ“، ”لِمَا“ اس وجہ سے جو ”لَهَا“ اس عورت کے لیے ہے ”فِي الِامْتِنَاعِ“ باز رہنے میں، رک جانے میں، اس چیز کی وجہ سے جو باز رہنے میں ہے اور وہ کیا چیز ہے؟ من کے ساتھ بیان کر رہے ہیں: ”مِنْ خَوْفِ الْهَلَاكِ فِي الدُّنْيَا أَوْ فِي الْعُقْبَى“ یعنی دنیا میں ہلاکت کا خوف ”أَوْ فِي الْعُقْبَى“ یا آخرت میں ہلاکت کا خوف۔ بعض چیزوں کے بغیر گزارا نہیں، اگر وہ نہیں کرے گی تو دنیا میں ہلاکت کا خوف ہے مثلاً کھانا نہیں کھاتی تو دنیا میں ہلاک ہو جائے گی، اور بعض چیزوں کی وجہ سے آخرت تک ہلاکت کا خوف ہے مثلاً نماز نہیں پڑھتی یا والدین سے بات نہیں کرتی تو اس صورت میں آخرت میں ہلاکت کا خوف ہے کہ آخرت میں اس کا مواخذہ ہوگا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهَا مُضْطَرَّةٌ فِي الْمُبَاشَرَةِ“ اس لیے کیونکہ یہ عورت جو ہے مجبور ہے ان افعال کو سرانجام دینے میں، ”لِمَا لَهَا فِي الِامْتِنَاعِ مِنْ خَوْفِ الْهَلَاكِ فِي الدُّنْيَا أَوْ فِي الْعُقْبَى“ اس وجہ سے کہ اس عورت کے لیے ان افعال سے باز رہنے میں، ان افعال سے رکنے میں دنیا یا آخرت کے اندر ہلاکت کا خوف ہے، ”وَلَا رِضَاءَ مَعَ الِاضْطِرَارِ“ اور رضامندی نہیں ہوتی اضطرار اور مجبوری کے ساتھ۔ یہ تو مجبور ہے ان افعال کے کرنے میں اور مجبوری کے ساتھ رضامندی نہیں ہو سکتی۔ مجبوری اور چیز ہے اور رضامندی اور چیز، دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں بھئی۔ جب مجبوری ہے تو رضامندی نہیں، اور جب رضامندی ہے تو مجبوری نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا رِضَاءَ مَعَ الِاضْطِرَارِ“ اور رضامندی کے ساتھ تو مجبوری نہیں ہوتی۔ ”وَأَمَّا إِذَا كَانَ التَّعْلِيقُ فِي الصِّحَّةِ وَالشَّرْطُ فِي الْمَرَضِ“ اور اگر تعلیق جو ہے وہ تو صحت کی حالت میں تھی اور شرط مرض الموت میں تھی، تو کہتے ہیں: ”إِنْ كَانَ الْفِعْلُ مِمَّا لَهَا مِنْهُ بُدٌّ“ تو اگر فعل ان افعال میں سے ہے کہ اس کے سوا بھی چارہ ہے، ”فَلَا إِشْكَالَ أَنَّهُ لَا مِيرَاثَ لَهَا“ تو کوئی اشکال نہیں کہ اس عورت کے لیے میراث نہیں ہوگی۔ خاوند نے صحت میں تعلیق کی ہے کہ اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے، اور مرض الموت کے اندر عورت اس گھر میں چلی گئی تو تعلیق بے شک صحت میں ہے لیکن عورت کا اس فعل کے بغیر گزارا ہو سکتا تھا، لہٰذا معلوم ہوا وہ خود اپنا حق باطل کرنے پر راضی ہے تو وارثہ نہیں بنے گی۔ تو کہتے ہیں: ”فَلَا إِشْكَالَ أَنَّهُ لَا مِيرَاثَ لَهَا“ تو اس بات میں کوئی اشکال نہیں کہ اس کے لیے کوئی میراث نہیں ہوگی کیونکہ فعل کے بغیر گزارا ہو سکتا تھا۔ ”وَإِنْ كَانَ مِمَّا لَا بُدَّ لَهَا مِنْهُ“ اور اگر فعل ان افعال میں سے ہے کہ عورت کے لیے اس کے سوا چارہ ہی نہیں، ”فَكَذَلِكَ الْجَوَابُ عِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ وَهُوَ قَوْلُ زُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ تو بھی اسی طرح جواب ہے امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک، اور یہی قول ہے امام زفر کا بھی۔ بھئی اب اس فعل کی بات چل رہی ہے جس کے سوا چارہ نہیں ہے۔ خاوند نے تعلیق جو ہے وہ صحت کی حالت میں کی ہے کہ اگر تو نے ظہر کی نماز پڑھی یا کھانا کھایا تو تجھے طلاق ہے، اور شرط کب پائی گئی ہے؟ مرض الموت میں۔ تو اس صورت کے اندر شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں عورت پھر بھی وارثہ بنے گی۔ عورت پھر بھی وارثہ بنے گی کیونکہ ان افعال کے بغیر گزارا نہیں ہے، جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اور یہی قول امام زفر کا بھی ہے کہ اس صورت کے اندر عورت وارثہ نہیں بنے گی۔ فعل کیسا ہے؟ کہ اس کے بغیر چارہ نہیں۔ فعل ایسا ہے کہ اس کے بغیر گزارا اور چارہ نہیں، اور تعلیق کب کی ہے؟ صحت کی حالت میں، اور یہ فعل عورت کب کر رہی ہے؟ مرض الموت میں۔ تو امام محمد اور امام زفر فرماتے ہیں اب وہ عورت وارثہ نہیں بنے گی۔ بھئی کیوں نہیں بنے گی؟ کہتے ہیں وجہ یہ ہے کہ خاوند نے صحت کی حالت میں تعلیق کی ہے۔ مرض الموت میں تو خاوند کی طرف سے کوئی فعل نہیں پایا گیا۔ وہ شرط پائی گئی ہے لیکن اس میں تو خاوند کا دخل نہیں ہے۔ خاوند نے تو تعلیق کس وقت کی تھی؟ صحت کی حالت میں۔ وہ فعل اگرچہ ایسا ہے کہ عورت کو کرنا ہی پڑے گا لیکن مرض الموت میں جب یہ عورت یہ فعل کر رہی ہے اور اس کے کرنے پر مجبور ہے تو خاوند کا تو کوئی اس میں دخل نہیں ہے کیونکہ خاوند نے تو تعلیق صحت کی حالت میں کی تھی، مرض کی حالت میں تو خاوند نے کوئی فعل نہیں کیا۔ بات سمجھ میں آگئی۔ لہٰذا قصدِ فرار نہیں پایا گیا۔ جب قصدِ فرار نہیں پایا گیا تو عورت وارثہ نہیں بنے گی۔ یہ کس کا مذہب ہے؟ امام محمد اور امام زفر کا۔ جبکہ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک بے شک تعلیق صحت میں تھی لیکن یہ فعل ایسا ہے کہ عورت کا اس کے سوا چارہ ہی نہیں، تو لہٰذا یہاں عورت وارثہ بنے گی۔ اب اس کی دلیل بھی آگے صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ شیخین کی کیا دلیل ہے عورت کیوں وارثہ بنے گی؟ بات تو امام محمد اور امام زفر رحمہ اللہ کی ظاہر معلوم ہوتی ہے بھئی کہ خاوند نے تو تعلیق صحت میں کی ہے، بے شک وہ کام عورت کے لیے ضروری ہے لیکن تعلیق کب کی ہے؟ صحت میں، اور اس وقت تو عورت کا حق اس کے مال کے ساتھ وابستہ نہیں ہوا تھا۔ اب مرض الموت میں وہ فعل عورت کر رہی ہے اب حق وابستہ ہو چکا ہے لیکن اب تو خاوند نے تو کچھ بھی نہیں کیا۔ جو کچھ خاوند نے کیا تھا وہ تو صحت میں کیا تھا، مرض میں تو اس نے کچھ نہیں کیا۔ بات سمجھ میں آگئی۔ کہتے ہیں: ”وَإِنْ كَانَ مِمَّا لَا بُدَّ لَهَا مِنْهُ“ اور اگر فعل ان افعال میں سے ہے کہ عورت کا اس کے سوا چارہ نہیں ہے، ”فَكَذَلِكَ الْجَوَابُ عِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ“ تو بھی اسی طرح ہے جواب امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک، یعنی اسی طرح ہے مسئلہ کہ عورت وارثہ نہیں بنے گی، ”وَهُوَ قَوْلُ زُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور یہی قول ہے امام زفر رحمہ اللہ کا بھی، ”لِأَنَّهُ لَمْ يُوجَدْ مِنَ الزَّوْجِ صُنْعٌ“ صُنْعٌ صاد کے ساتھ ہے بھئی، صنع کا معنی ہے عمل عمل، ”لِأَنَّهُ لَمْ يُوجَدْ مِنَ الزَّوْجِ صُنْعٌ بَعْدَمَا تَعَلَّقَ حَقُّهَا بِمَالِهِ“ کیونکہ خاوند کی طرف سے کوئی عمل نہیں پایا گیا بعد اس کے کہ جب عورت کا حق خاوند کے مال کے ساتھ متعلق ہو گیا تھا۔ مرض الموت میں خاوند کے مال کے ساتھ عورت کا حق تو متعلق ہو گیا ہے لیکن اس کے بعد تو خاوند نے کچھ نہیں کیا، یہ تو سابقہ تعلیق کا اثر ہے بھئی۔ ”وَعِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَرِثُ“ اور جبکہ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہ عورت وارثہ بنے گی، ”لِأَنَّ الزَّوْجَ أَلْجَأَهَا إِلَى الْمُبَاشَرَةِ“ اس لیے کیونکہ خاوند نے اس کو مجبور کر دیا ہے، الجأ یلجئ کا معنی مجبور کرنا، اس لیے کیونکہ خاوند نے اس عورت کو مجبور کر دیا ہے اس فعل کے کرنے پر۔ خاوند نے ایسا فعل ذکر کیا ہے کہ عورت کو کرنا ہی پڑے گا۔ تعلیق بے شک صحت میں کی ہے لیکن یہ عمل تو کس وقت پایا جا رہا ہے؟ مرض الموت، لیکن عورت مجبور ہے اس کے کرنے میں، اس کے بغیر اس کا گزارا نہیں، اور جب کسی کو کسی کام پر مجبور کر دیا جائے تو وہ فعل مجبور کرنے والے کی طرف منتقل ہو جاتا ہے جیسے یہ وہ کر رہا ہے۔ جب کسی کو کسی فعل پر مجبور کر دیا جائے اس پر زبردستی کی جائے تو وہ فعل کس کی طرف منتقل ہو جاتا ہے؟ زبردستی کرنے والے کی طرف، جو زبردستی کر رہا ہے گویا وہ یہ فعل کر رہا ہے۔ مثلاً دیکھو ایک شخص آیا اور اس نے تلوار نکالی اور زید سے کہا کہ میں تمہیں تلوار سے قتل کر دوں گا یا میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دوں گا الّا یہ کہ تم عمرو کے اس سامان کو آگ لگا دو اور اس کو جلا دو۔ اب زید اپنی جان بچانے کے لیے مجبور ہے، مجبورا زید کو عمرو کا سامان جلانا پڑا اور اس کی وجہ سے ضمان آئے گا۔ لیکن زید تو مجبور تھا، تو زید کا عمل اس مجبور کرنے والے کی طرف منتقل ہو جائے گا گویا وہ شخص جس نے تلوار پکڑی ہوئی ہے وہ جلا رہا ہے سامان کو، لہٰذا ضمان اس پر آئے گا۔ بعد میں عمرو ضمان کس سے وصول کرے گا؟ اس زبردستی کرنے والے سے یعنی مکْرِہ، مکْرِہ جو زبردستی کر رہا ہے، وہ مکْرِہ سے اپنا ضمان وصول کرے گا۔ مکْرَہ یعنی جس پر زبردستی کی گئی یعنی زید، اس سے اپنا ضمان وصول نہیں کرے گا۔ تو مکْرَہ کا فعل کس کی طرف منتقل ہو جاتا ہے؟ مکْرِہ کی طرف۔ یہاں پر بھی خاوند نے تعلیق بے شک صحت میں کی ہے لیکن عورت کا ایسا فعل ذکر کیا ہے کہ اس کے سوا عورت کا چارہ ہی نہیں ہے، عورت کو وہ کام کرنا ہی پڑے گا، تو عورت مجبور ہو گئی اس کام کے کرنے پہ اور مرض الموت میں وہ یہ کام مجبوری کی حالت میں وہ کر رہی ہے، اور مجبور کرنے والا کون ہے؟ خاوند۔ تو عورت کا یہ فعل کس کی طرف منتقل ہو گیا؟ خاوند کی طرف، گویا خاوند یہ فعل کر رہا ہے، اور خاوند کا تو جو بھی فعل ہوتا تھا اس پر آپ نے پڑھا خاوند اپنے فعل کے ساتھ طلاق کو معلق کرے گا تو وارثہ بنتی ہے عورت بھئی، تو یہاں بھی یہ عورت وارثہ بنے گی کیونکہ مرض الموت میں یہ عورت یہ فعل کر رہی ہے لیکن یوں سمجھیں گے یہ مرض الموت میں خاوند کر رہا ہے بھئی۔ عورت کا فعل کس کی طرف منتقل ہو جائے گا؟ مجبور کرنے والے یعنی خاوند کی طرف۔ اور خاوند کے بارے میں آپ نے پڑھا کہ خاوند کا جو بھی فعل ہو چاہے تعلیق صحت میں ہو اور شرط مرض میں، یا چاہے دونوں مرض میں ہوں، اور چاہے فعل کے سوا چارہ ہو چاہے چارہ نہ ہو، تمام صورتوں میں عورت وارثہ بنتی ہے عدت کے اندر۔ تو یہاں بھی عورت کا فعل کس کی طرف منتقل ہو گیا؟ خاوند کی طرف، اور خاوند کے فعل میں تو عورت وارثہ بنتی ہے تو یہاں بھی وارثہ بنے گی۔ یہ بات سمجھ میں آگئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَعِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى تَرِثُ لِأَنَّ الزَّوْجَ أَلْجَأَهَا إِلَى الْمُبَاشَرَةِ فَيَنْتَقِلُ الْفِعْلُ إِلَيْهِ كَأَنَّهَا آلَةٌ لَهُ“ اور شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک یہ عورت وارثہ بنے گی، اس لیے کیونکہ خاوند نے اس عورت کو مجبور کر دیا ہے اس کام کے کرنے کی طرف، تو یہ فعل خاوند کی طرف منتقل ہو جائے گا گویا کہ عورت اس کے لیے آلہ ہے۔ جیسے دیکھو وہ شخص نے تلوار نکالی اور زید سے کہا کہ عمرو کا سامان جلا دو، تو اس وقت یہ جو زید ہے، یہ جو مکْرَہ ہے، یہ آلے کے درجے میں ہوا، یہ کیا ہے؟ آلہ۔ آلہ وہ چیز جس کے ذریعے کوئی کام سرانجام دیا جائے، مثلاً قلم ہے لکھنے کا آلہ، تلوار ہے جنگ کرنے کا آلہ، گاڑی ہے سفر کا آلہ، تو وہ آلہ اسے کہتے ہیں جس کے ذریعے کوئی کام کیا جائے۔ تو یہاں پر بھی جب زید جو ہے عمرو کا سامان جلا رہا ہے مکْرِہ کے کہنے پر، تو زید صرف آلے کے درجے میں ہوا، کس کے؟ آلے کے درجے میں۔ اور اصل اعتبار آلے کا نہیں ہوتا، آلے کو استعمال کرنے والے کا ہوتا ہے۔ جیسے تلوار جنگ کا آلہ ہے لیکن تلوار سے کوئی قتل کرے گا تو وہ اس آلے کو استعمال کرنے والا جو شخص ہے وہ مجرم ہوتا ہے، تو یہاں بھی یہ عورت یہ فعل کرنے پر مجبور ہے، یہ آلے کے درجے میں ہوئی تو خاوند فعل کو کرنے والا شمار ہوگا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”كَأَنَّهَا آلَةٌ لَهُ كَمَا فِي الْإِكْرَاهِ“ گویا کہ وہ عورت خاوند کے لیے آلہ ہے، جیسے کس کے اندر ہوتا ہے؟ اکراہ کے اندر، جو میں نے مثال ذکر کر دی کہ کسی نے تلوار نکالی اور زید سے کہا کہ یہ عمرو کا سامان جلا دو۔ تو یہ اکراہ، اکراہ کا معنی ہے زبردستی کرنا، تو زید کیا ہوا مکْرَہ، اور وہ شخص کیا ہوا مکْرِہ، زبردستی کرنے والا بھئی۔ مسئلہ سمجھ میں آگیا۔ حاصلِ کلام کیا ہوا؟ کہ اگر طلاق کو خاوند نے معلق کیا وقت کے ساتھ یا اجنبی کے فعل کے ساتھ، تو اس صورت میں اگر تعلیق اور شرط دونوں مرض الموت میں ہیں تو عورت وارثہ بنے گی۔ اور اگر تعلیق تو صحت میں ہے لیکن شرط مرض الموت میں ہے تو پھر عورت وارثہ نہیں بنے گی، جبکہ امام زفر فرماتے ہیں وارثہ بنے گی۔ لیکن ہم کہتے ہیں یہ تعلیق تطلیق بن گئی مرض الموت میں، یہ حكماً تطلیق بنی ہے قصداً تطلیق نہیں بنی، لہٰذا خاوند کی طرف سے ظلم کا قصد نہیں پایا گیا۔ جب ظلم کا قصد اور ارادہ نہیں پایا گیا خاوند کی طرف سے تو لہٰذا عورت وارثہ نہیں بنے گی۔ اور اگر خاوند نے طلاق کو معلق کیا اپنے فعل کے ساتھ اور چاہے یہ ایسا فعل ہے جس کے سوا چارہ ہے یا چارہ نہیں ہے، اور چاہے یہ تعلیق اور شرط دونوں مرض الموت میں ہیں یا تعلیق صحت میں ہے اور شرط مرض الموت میں ہے، تمام صورتوں کا حکم ایک ہی ہے کہ عورت وارثہ بنے گی عدت کے دوران بھئی۔ اور اگر خاوند نے طلاق کو معلق کیا ہے عورت کے فعل کے ساتھ، تو اگر وہ فعل ایسا ہے کہ اس کے سوا بھی چارہ ہے عورت گزارا کر سکتی ہے اس کے بغیر، اور پھر وہ عورت وہ فعل کرتی ہے تو پھر اس صورت میں تو چاہے تعلیق صحت میں ہو چاہے تعلیق مرض الموت میں ہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، دونوں کا ایک ہی حکم ہے کہ یہ فعل تو اس کے بغیر بھی عورت کا گزارا ہو سکتا تھا عورت نے کیا ہے، معلوم ہوا وہ اپنا حق ساقط کرنے پر خود ہی راضی ہے بھئی۔ اور اگر ایسا فعل ہے کہ عورت اس کے کرنے پر مجبور ہے، تو پھر اس صورت میں چاہے تعلیق اور شرط دونوں مرض الموت میں ہوں چاہے تعلیق صحت میں ہو اور شرط مرض الموت میں ہو شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک دونوں صورتوں میں عورت وارثہ بنے گی۔ اگر تعلیق صحت میں ہے اور شرط کب ہے؟ مرض الموت میں ہے، لیکن ایسا فعل ہے عورت اس کے کرنے پر مجبور ہے تو پھر یہ فعل کس کی طرف منتقل ہو گیا؟ خاوند کی طرف، گویا خاوند یہ فعل کر رہا ہے، لہٰذا عورت وارثہ بنے گی بھئی۔ خاوند جب بھی اپنے فعل کے ساتھ طلاق کو معلق کرتا تھا عورت وارثہ بنتی تھی تو یہاں بھی عورت وارثہ بنے گی۔ جبکہ امام زفر اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ چاہے ایسا فعل ہو جس کے سوا چارہ نہ ہو لیکن تعلیق تو صحت میں کی ہے، مرض الموت میں تو خاوند نے کچھ نہیں کیا، لہٰذا اس صورت میں جب مرض الموت میں وہ شرط پائی جا رہی ہے تو عورت وارثہ نہیں بنے گی۔ بات سمجھ میں آگئی۔ اب آگے دیکھیے بھئی۔ ”قَالَ: وَإِذَا طَلَّقَهَا ثَلَاثًا وَهُوَ مَرِيضٌ ثُمَّ صَحَّ ثُمَّ مَاتَ لَمْ تَرِثْ“ صورتِ مسئلہ یہ ہے: ایک شخص بہت زیادہ بیمار ہو گیا، لوگوں نے کہا اب تو شاید اس کا بچنا مشکل ہے، موت کے آثار نمودار ہو رہے ہیں، تو اس حالت کے اندر اس شخص نے بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، لیکن پھر بعد میں وہ شخص تندرست ہو گیا، وہ شخص تندرست ہو گیا اور پھر عدت کے اندر اس کا انتقال ہوا، تو کیا یہ عورت وارثہ بنے گی یا نہیں جس کو اس نے تین طلاقیں مرض کی حالت میں دی تھیں؟ تو ہمارے فقہاء فرماتے ہیں کہ جب وہ شخص تندرست ہو گیا معلوم ہوا وہ مرض الموت ہی نہیں تھا۔ جب مرض الموت نہیں تھا اس کو بھی صحت شمار کریں گے، جب صحت کی حالت میں خاوند بیوی کو تین طلاقیں دے تو وہ عورت وارثہ نہیں بنتی چاہے عدت کے اندر ہی خاوند کا انتقال ہو جائے، تو یہاں بھی یہ عورت وارثہ نہیں بنے گی۔ تو کہتے ہیں: ”قَالَ“ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جامع صغیر میں: ”وَإِذَا طَلَّقَهَا ثَلَاثًا وَهُوَ مَرِيضٌ ثُمَّ صَحَّ ثُمَّ مَاتَ لَمْ تَرِثْ“ اور جب خاوند نے بیوی کو تین طلاقیں دیں اس حال میں کہ خاوند مریض ہے، پھر خاوند تندرست ہو گیا، پھر خاوند کا انتقال ہو گیا عدت کے اندر اندر ہی تو عورت وارثہ نہیں بنے گی۔ ”وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ تَرِثُ“ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں عورت وارثہ بنے گی، ”لِأَنَّهُ قَصَدَ الْفِرَارَ حِينَ أَوْقَعَ فِي الْمَرَضِ“ اس لیے کیونکہ خاوند نے فرار کا ارادہ کیا جس وقت مرض کے اندر اس نے طلاق کو واقع کیا، معلوم ہوا اس کا فرار کا ارادہ تھا، ”وَقَدْ مَاتَ“ اور حال یہ ہے کہ خاوند عدت کے اندر ہی مر گیا ہے، ”وَهِيَ فِي الْعِدَّةِ“ اور اس حال میں کہ بیوی ابھی عدت ہی میں ہے، تو وہ وارثہ بنے گی۔ ”وَلَكِنَّا نَقُولُ: الْمَرَضُ إِذَا تَعَقَّبَهُ بُرْءٌ“ بُرْءٌ کا معنی ہے تندرست ہونا، عقب یعقب کا معنی ہے پیچھے آنا، ”وَلَكِنَّا نَقُولُ: الْمَرَضُ إِذَا تَعَقَّبَهُ بُرْءٌ فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ الصِّحَّةِ“ لیکن ہم کہتے ہیں کہ مرض جب اس کے بعد تندرستی آ جائے تو یہ مرض بھی صحت ہی کے درجے میں ہے، ”لِأَنَّهُ يَنْعَدِمُ بِهِ مَرَضُ الْمَوْتِ“ کیونکہ اس کی وجہ سے مرض الموت معدوم ہو گیا، مرض الموت تو تھا ہی نہیں، ”فَتَبَيَّنَ أَنَّهُ لَا حَقَّ لَهَا يَتَعَلَّقُ بِمَالِهِ فَلَا يَصِيرُ الزَّوْجُ فَارًّا“ تو معلوم ہوا کہ عورت کا کوئی حق وابستہ نہیں ہوا تھا خاوند کے مال کے ساتھ، تو خاوند فارّ نہ ہوا۔ عورت کا حق ہی نہیں متعلق کیونکہ یہ مرض الموت ہی نہیں تھا، تو جب حق متعلق نہیں ہوا اور خاوند طلاق دے رہا ہے تو رجلِ فارّ نہ بنا بھئی۔ رجلِ فارّ تو کب بنے گا؟ جب عورت کا حق متعلق ہو چکا ہو اور پھر وہ طلاق دے اور وہ مرض الموت میں ہوتا ہے۔ آگے دیکھیے: ”وَلَوْ طَلَّقَهَا فَارْتَدَّتْ وَالْعِيَاذُ بِاللَّهِ ثُمَّ أَسْلَمَتْ ثُمَّ مَاتَ مِنْ مَرَضِ مَوْتِهِ وَهِيَ فِي الْعِدَّةِ لَمْ تَرِثْ، وَإِنْ لَمْ تَرْتَدَّ بَلْ طَاوَعَتِ ابْنَ زَوْجِهَا فِي الْجِمَاعِ وَرِثَتْ“ صورتِ مسئلہ یہ ہے: خاوند مرض الموت میں مبتلا ہے اور اس نے بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، اور آپ نے پڑھا ہے مرض الموت میں بیوی کو تین طلاقیں دے یا طلاقِ بائن دے تو عورت عدت کے اندر وارثہ بنتی ہے اگر خاوند کا انتقال عدت کے اندر ہو جائے۔ لیکن یہاں پر خاوند نے طلاق دے دی عورت نے وارثہ بننا ہے لیکن اسی دوران عورت مرتدہ ہو گئی، العیاذ باللہ۔ عورت کیا ہوئی؟ مرتدہ ہوئی، پھر دوبارہ مسلمان ہو گئی، تو کیا اب بھی وارثہ بنے گی یا نہیں؟ کہتے ہیں نہیں۔ ہم نے تو حکم لگا دیا تھا کہ یہ زوجِ فارّ ہے یہ بھاگنے کا ارادہ کر رہا ہے عورت وارثہ بنے گی، لیکن عورت خود ہی مرتدہ ہو گئی اور مرتد جو ہے وہ آپ پیچھے پڑھ چکے ہیں مرتد کسی کا وارث نہیں ہو سکتا بھئی۔ مرتد کسی کا وارث نہیں ہو سکتا کیونکہ مرتد میں اہلیت ہی نہیں ہے وارث ہونے کی، تو لہٰذا اس میں اہلیت ہی ختم ہو گئی اب یہ وارثہ نہیں بنے گی۔ پھر یہ دوبارہ مسلمان ہو گئی لیکن ایک دفعہ کیا ہوا اہلیت ختم ہو گئی تھی تو وہ حکم ختم ہو چکا بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ طَلَّقَهَا فَارْتَدَّتْ وَالْعِيَاذُ بِاللَّهِ“ اور اگر عورت کو خاوند نے طلاقِ بائن یا تین طلاقیں دیں پھر وہ عورت مرتدہ ہو گئی والعیاذ باللہ، ہمارے علماء کا طریقہ ہے بھئی جہاں بھی ارتداد کا ذکر آتا ہے تو اس سے پھر اللہ کی پناہ مانگتے ہیں بھئی، کیونکہ ارتداد ایسی چیز ہے اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے، ہماری نسلوں کی بھی حفاظت فرمائے، یہ ارتداد ایسی چیز ہے سارا کچھ برباد ہو گیا ختم ہو گیا بھئی۔ تو کہتے ہیں وہ عورت مرتد ہو گئی والعیاذ باللہ اور ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، ”ثُمَّ أَسْلَمَتْ“ پھر وہ عورت دوبارہ مسلمان ہو گئی، ”ثُمَّ مَاتَ مِنْ مَرَضِ مَوْتِهِ وَهِيَ فِي الْعِدَّةِ لَمْ تَرِثْ“ پھر مرضِ موت سے اس خاوند کا انتقال ہو گیا اس حال میں کہ عورت ابھی عدت میں ہی ہے، یہ وارثہ نہیں بنے گی۔ دوسری صورت: خاوند نے مرض الموت میں بیوی کو طلاقِ بائن دی یا تین طلاقیں دے دیں اور پھر ہم نے حکم لگا دیا کہ معلوم ہوا یہ زوجِ فارّ ہے یہ فرار کا ارادہ کرتا ہے یہ بیوی وارثہ بنے گی اگر عدت کے اندر خاوند کا انتقال ہو گیا۔ پھر اسی بیوی نے خاوند کی دوسری بیوی کے بیٹے سے غلط تعلق قائم کر لیا، اس بیوی نے جس کو خاوند نے طلاق دی ہے اس نے خاوند کی دوسری بیوی کے بیٹے سے غلط تعلق قائم کر لیا، اس کو کہتے ہیں مطاوعت۔ کیا کہتے ہیں؟ مطاوعت کا معنی ہے کسی کا ساتھ دینا، تو اس بیوی نے خاوند کے بیٹے کا ساتھ دیا غلط فعل کے اندر، تو لہٰذا بیوی نے مطاوعت کر لی تین طلاقوں کے بعد۔ اور آپ جانتے ہیں کہ مطاوعت کی وجہ سے حرمتِ مصاہرت آ جاتی ہے، یہ عورت اب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاوند پر حرام ہو گئی کیونکہ آپ نے مسئلہ پڑھا ہے کہ زنا کی وجہ سے بھی حرمتِ مصاہرت آ جاتی ہے۔ تو یہ عورت نے جب خاوند کے بیٹے سے غلط تعلق قائم کیا تو یہ خاوند کے لیے بہو کے درجے میں ہو گئی۔ کس کے درجے میں؟ بہو کے درجے میں ہو گئی، اور بہو تو انسان پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوتی ہے، لہٰذا یہ عورت بھی اب خاوند پر ہمیشہ کے لیے حرام ہو گئی۔ تو کیا اب عدت کے اندر خاوند کا انتقال ہو تو یہ وارثہ بنے گی؟ یہ عورت جس کو خاوند نے مرض الموت میں طلاقِ بائن یا تین طلاقیں دی ہیں اور پھر اسی عدت کے اندر اس نے خاوند کے بیٹے سے مطاوعت کر لی ہے، تو کیا اب یہ وارثہ بنے گی اگر عدت کے اندر خاوند کا انتقال ہو جائے؟ کہتے ہیں ہاں وارثہ بنے گی، ہاں یہ وارثہ بنے گی۔ وجہ یہ کہ پچھلے مسئلے میں ارتداد تھا مرتد ہونا، وراثت کے منافی تھا، جو مرتد ہو وہ کسی کا وارث نہیں ہو سکتا۔ جبکہ مطاوعت کی وجہ سے حرمتِ مصاہرت آتی ہے یعنی وہ عورت خاوند کی محرم بن گئی یعنی ہمیشہ کے لیے اس پر حرام ہو گئی۔ محرم وہ عورت جو کسی پر ہمیشہ کے لیے حرام ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ محرم۔ تو یہ جو عورت نے خاوند کے بیٹے سے ناجائز تعلق قائم کیا تو خاوند پر ہمیشہ کے لیے حرام بن گئی یعنی محرم بن گئی، اور محرمیت، محرم ہونا یہ وارث ہونے کے منافی نہیں ہے۔ محرم وارث بنتے ہیں یا نہیں؟ ایک شخص کا انتقال ہوتا ہے اس کی ماں بھی وارث ہوگی حالانکہ ماں محرم ہے، اس کی بیٹی بھی وارث ہوگی حالانکہ بیٹی بھی کیا ہے؟ محرم۔ معلوم ہوا محرم ہونا وارث ہونے کے منافی نہیں، محرم ہونا نکاح کے منافی ہے، محرم ہو تو اس سے نکاح نہیں ہو سکتا تو محرم ہونا وراثت کے منافی نہیں۔ تو اس عورت نے جو مطاوعت کی ہے اس کی وجہ سے محرمیت آئی ہے لیکن محرمیت وارث ہونے کے منافی نہیں لہٰذا وارث بنے گی یہ بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ لَمْ تَرْتَدَّ بَلْ طَاوَعَتِ ابْنَ زَوْجِهَا فِي الْجِمَاعِ وَرِثَتْ“ اور اگر یہ عورت مرتد نہیں ہوئی بلکہ اس نے ساتھ دیا اپنے خاوند کے بیٹے کا جماع میں تو یہ عورت وارثہ بنے گی۔ ”وَجْهُ الْفَرْقِ“ ان دونوں مسئلوں میں فرق بھئی کہ مرتد ہوتی تھی تو وارثہ ہی نہیں بنتی ہے اور مطاوعت کرتی ہے تو وارثہ بنتی ہے اس کی وجہ۔ تو ان دونوں میں کیا فرق ہے وہ اب ذکر کریں گے، میں نے بیان کر دیا کہ مرتد ہونا وارث ہونے کے منافی ہے لیکن محرمیت وارث ہونے کے منافی نہیں ہے۔ ”وَجْهُ الْفَرْقِ: أَنَّهَا بِالرِّدَّةِ أَبْطَلَتْ أَهْلِيَّةَ الْإِرْثِ“ تو ان دونوں میں فرق کی وجہ یہ ہے کہ اس عورت نے مرتدہ ہونے کی وجہ سے وارث ہونے کی اہلیت کو باطل کر دیا، اب اس میں وارث ہونے کی اہلیت ہی نہ رہی، ”إِذِ الْمُرْتَدُّ لَا يَرِثُ أَحَدًا“ اس لیے کیونکہ مرتد کسی کا وارث نہیں ہوتا، ”وَلَا بَقَاءَ لَهُ بِدُونِ الْأَهْلِيَّةِ“ اور وراثت تو باقی نہیں رہ سکتی بغیر اہلیت کے، اہلیت ہوگی تو وراثت بھی ہوگی، اہلیت نہیں تو وراثت بھی نہیں، تو مرتدہ میں اہلیت ہی نہ رہی تو وہاں وہ وارثہ بھی نہیں بنے گی۔ ”وَبِالْمُطَاوَعَةِ مَا أَبْطَلَتِ الْأَهْلِيَّةَ“ اور مطاوعت کی وجہ سے اس نے وراثت کی اہلیت کو باطل نہیں کیا، ”لِأَنَّ الْمَحْرَمِيَّةَ لَا تُنَافِي الْإِرْثَ“ اس لیے کیونکہ محرم ہونا یہ منافی نہیں ہے ارث کے یعنی وارث ہونے کے، محرمیت نکاح کے منافی ہے وارث ہونے کے منافی نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْمَحْرَمِيَّةَ لَا تُنَافِي الْإِرْثَ وَهُوَ الْبَاقِي“ اور محرم ہونا یہ وارث ہونے کے منافی نہیں ہے اور وارث ہونا تو ابھی بھی باقی ہے لہٰذا وارثہ بنے گی۔ ”بِخِلَافِ مَا إِذَا طَاوَعَتْ“ دوسری صورت: یہ تو صورت تھی خاوند نے طلاقِ بائن یا تین طلاقیں دی ہیں مرض الموت میں اور پھر عورت نے مطاوعت کی ہے۔ اگر اس کے بجائے مرض الموت میں خاوند نے کوئی طلاق ابھی نہیں دی عورت نے مطاوعت کر لی، پہلے طلاقیں مقدم تھیں مطاوعت پر۔ توجہ ہے؟ پہلے طلاقیں، پہلے طلاقیں کیا تھیں؟ مقدم تھیں مطاوعت پر، اب مطاوعت کو ذرا پہلے لے آؤ کہ عورت نے مطاوعت کر لی، جب عورت نے مطاوعت پہلے کر لی خاوند نے طلاقیں نہیں دی تھیں لیکن محرمیت آ گئی، جب محرمیت آ گئی، محرمیت آ گئی اب یاد رکھو اس صورت میں یہ عورت وارثہ نہیں بنے گی۔ بھئی کیوں نہیں وارثہ بنے گی؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ یہاں پہلے جو جدائی آئی تھی وہ خاوند کی طلاقوں کی وجہ سے آئی تھی۔ خاوند نے کیا کیا تھا؟ طلاقیں دی تھیں تو جدائی آ چکی تھی، اس جدائی کے بعد مطاوعت کی ہے عورت نے اور اس سے محرمیت آئی ہے لیکن جدائی تو اس سے پہلے ہی آ چکی تھی۔ لیکن یہاں پر ابھی خاوند نے طلاقیں وغیرہ نہیں دیں عورت نے مطاوعت کر لی تو اس مطاوعت کی وجہ سے کیا آ گئی؟ محرمیت آ گئی، تو جدائی کس کی طرف سے آئی؟ عورت کی طرف سے آئی، جب عورت کی طرف سے جدائی آ گئی ہے معلوم ہوا اس نے خود ہی اپنا حق ساقط کر دیا۔ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ مَا إِذَا طَاوَعَتْ فِي حَالِ قِيَامِ النِّكَاحِ“ بخلاف اس صورت کے کہ جب عورت مطاوعت کر لے نکاح قائم ہونے کی حالت میں، ”لِأَنَّهَا تُثْبِتُ الْفُرْقَةَ“ اس لیے کیونکہ وہ عورت خود جو ہے جدائی کو ثابت کر دیتی ہے، نکاح کے اندر مطاوعت کر رہی ہے تو وہ خود جدائی کو ثابت کر دیتی ہے، ”فَتَكُونُ رَاضِيَةً بِبُطْلَانِ السَّبَبِ“ تو وہ راضی ہے وراثت کے سبب کے باطل ہونے پر، وہ خود وراثت کے سبب کے باطل ہونے پر راضی ہے، ”وَبَعْدَ الطَّلَقَاتِ الثَّلَاثِ لَا تُثْبِتُ الْحُرْمَةَ بِالْمُطَاوَعَةِ لِتَقَدُّمِهَا عَلَيْهَا فَافْتَرَقَا“ جبکہ پہلے مسئلے میں تین طلاقوں کے بعد عورت جو ہے وہ حرمت کو ثابت نہیں کر رہی مطاوعت کی وجہ سے اس لیے کیونکہ حرمت جو ہے وہ تو مقدم ہو چکی ہے مطاوعت پر، حرمت تو پہلے ہی آ چکی ہے تو یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا ہو گئے بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی۔ آگے دیکھیے بھئی: ”وَمَنْ قَذَفَ امْرَأَتَهُ وَهُوَ صَحِيحٌ وَلَاعَنَ فِي الْمَرَضِ وَرِثَتْ“ صورتِ مسئلہ یہ ہے: ایک شخص نے بیوی سے لعان کیا بھئی، لعان۔ یاد رکھو کوئی عام آدمی کسی اجنبیہ عورت یا کسی اجنبی مرد پر زنا کا الزام لگائے تو شریعت نے ان کو حق دیا ہے جن پر الزام لگایا گیا ہے وہ اس کو قاضی کے پاس لے جا سکتے ہیں، اور قاضی کے پاس جا کر مقدمہ کریں کہ اس نے ہم پر زنا کا الزام لگایا ہے۔ قاضی اس شخص کو طلب کرے گا اور اس سے کہے گا کہ تم نے زنا جیسا عظیم الزام اس مسلمان مرد یا عورت پر لگایا ہے اب چار گواہ زنا پر پیش کرو۔ اگر وہ چار گواہ پیش کر دے پھر تو اس کی جان چھوٹ جائے گی اور ان کا ان کو سزا ملے گی زنا کرنے والوں کو، لیکن اگر وہ چار گواہ پیش نہ کر سکا تو پھر اس پر حدِ قذف لگے گی اس کو اسی کوڑے لگائے جائیں گے کہ اس نے ایک پاکدامن مسلمان مرد یا عورت پر زنا کا الزام لگایا بھئی۔ تو یہ تو تھا اگر کوئی شخص کسی اجنبی مرد یا عورت پر زنا کا الزام لگائے، لیکن اگر خاوند اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگائے اب خاوند چار گواہ کہاں سے لا سکتا ہے بھئی؟ توجہ ہے؟ اگر اس نے بیوی کو زنا کرتے ہوئے دیکھا یا کسی آدمی کو اس کے پاس آتے جاتے ہوئے دیکھا وہ بیچارہ تو کہیں سے گواہ نہیں لا سکتا، تو پھر اس مسئلے کے اندر شریعت نے لعان مقرر کر دیا۔ اور لعان یہ کہ مثلاً خاوند قاضی کے پاس چلا جاتا ہے یا بیوی پر زنا کا الزام لگایا ہے اور بیوی قاضی کے پاس چلی گئی، تو قاضی دونوں کو طلب کرے گا اور پھر لعان کروائے گا۔ لعان یاد رکھو، لعان یہ ہے کہ مرد چار شہادتیں دے گا، چار گواہیاں دے گا اور ہر گواہی کے ساتھ قسم بھی کھائے گا اور یوں کہے گا کہ میں گواہی دیتا ہوں واللہ قاضی صاحب میں نے اس عورت پر جو زنا کا الزام لگایا ہے میں اس میں سچا ہوں۔ پھر کہے گا کہ میں گواہی دیتا ہوں واللہ میں نے اس عورت پر جو زنا کا الزام لگایا ہے میں اس میں سچا ہوں۔ اس طرح چار شہادتیں دے گا اور ہر شہادت کے ساتھ قسم بھی کھائے گا بھئی، اور پانچویں مرتبہ کہے گا کہ اگر میں جھوٹا ہوں یہ جو میں نے اس عورت پر زنا کا الزام لگایا ہے تو مجھ پر اللہ کی لعنت ہو بھئی۔ یہ چار شہادتیں دے گا اور پانچویں مرتبہ یوں کہے گا کہ اگر یہ جو میں نے اس عورت پر زنا کا الزام لگایا ہے اس میں اگر میں جھوٹا ہوں تو مجھ پر اللہ کی لعنت ہو بھئی۔ پھر اس کے بعد قاضی عورت کی طرف متوجہ ہوگا اب وہ عورت چار شہادتیں دے گی اور یوں کہے گی کہ میں گواہی دیتی ہوں واللہ اس شخص نے مجھ پر جو زنا کا الزام لگایا ہے اس میں یہ جھوٹا ہے۔ پھر کہے گی میں گواہی دیتی ہوں کہ واللہ اس شخص نے مجھ پر زنا کا جو الزام لگایا ہے یہ اس میں جھوٹا ہے۔ چار مرتبہ اس طرح چار گواہیاں دے گی، ہر گواہی کے ساتھ قسم بھی کھائے گی، اور پانچویں مرتبہ وہ عورت کہے گی کہ اگر اس شخص نے مجھ پر زنا کا جو الزام لگایا ہے اس میں اگر یہ سچا ہے تو مجھ پر اللہ کا غضب نازل ہو۔ بات سمجھ میں آگئی۔ تو خاوند جو ہے پانچویں مرتبہ میں اپنے لیے لعنت کو ذکر کرے گا اور عورت اپنے لیے غضب کو ذکر کرے گی۔ علماء نے اس میں نکتہ بیان کیا ہے کہ یہ عورت کے لیے غضب کا ذکر کیوں ہے، لعنت کا ذکر کیوں نہیں ہے؟ تو وجہ یہ کہ عورتیں چونکہ ایک دوسرے پر لعنت بھیجتی رہتی ہیں ان کی عادت ہی اس طرح ہوتی ہے اکثر تو لعنت ان کے نزدیک کوئی بڑی چیز ہی نہیں ہے، لہٰذا اس لیے وہ لعنت کا لفظ ذکر نہیں کریں گی بلکہ اللہ کے غضب کو ذکر کریں گی کہ اگر میں جھوٹ بول رہی ہوں تو مجھ پر اللہ کا غضب ہو بھئی۔ اور پھر یہ بھی یاد رکھو لعان کے بعد پھر قاضی دونوں میں جدائی کروا دیتا ہے، قاضی دونوں میں جدائی کروا دیتا ہے اور یہ جدائی بھی طلاقِ بائن کے حکم میں ہے۔ تو یہ ہے لعان بھئی، یہ کیا ہے؟ لعان۔ تو اب صورتِ مسئلہ یہ ہے: خاوند نے بیوی پر زنا کا الزام لگا دیا اور پھر دونوں کو قاضی کے پاس جا کر لعان کرنا پڑا، تو خاوند نے زنا کا الزام لگایا اور پھر قاضی کے پاس جا کر لعان کرنا پڑا۔ تو اگر تو یہ خاوند نے جو الزام لگایا تھا وہ بھی مرض الموت میں تھا اور لعان بھی مرض الموت میں تھا، پھر تو قصدِ فرار پایا گیا، پھر تو قصدِ فرار پایا گیا تو لہٰذا عورت وارثہ بنے گی بھئی۔ اور اگر خاوند نے الزام لگایا تھا صحت کی حالت میں اور لعان کرنا پڑا مرض الموت میں، تو پھر اس صورت میں امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ عورت وارثہ نہیں بنے گی، عدت کے اندر بھی خاوند کا انتقال ہو جائے تو یہ عورت وارثہ نہیں بنے گی۔ وجہ یہ کہ لعان میں پہلے خاوند چار گواہیاں وغیرہ ذکر کرتا ہے پھر بعد میں عورت ذکر کرتی ہے، تو آخری فعل کس کا ہوا؟ عورت کا، اور پھر اس کے بعد قاضی دونوں میں جدائی کروا دیتا ہے، تو گویا جدائی کا سبب عورت بنی ہے، آخری لعان کس نے کیا؟ عورت نے، تو لہٰذا جدائی کا سبب عورت بنی ہے، اور جب جدائی کا سبب عورت بنی ہے معلوم ہوا وہ خود اپنا حق باطل کرنے پر راضی ہے لہٰذا وہ وارثہ نہیں بنے گی۔ جبکہ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہ بے شک آخر میں لعان عورت نے کیا ہے لیکن عورت مجبور ہے اس کے کرنے میں۔ بھئی کیوں مجبور ہے؟ وجہ یہ کہ خاوند نے اس پر زنا کا الزام لگایا ہے اگر وہ اپنی صفائی پیش نہیں کرے گی تو ساری زندگی کے لیے اس کے لیے طعنہ بن جائے گا بھئی، تو وہ اپنی عزت بچانے کے لیے اور اپنے آپ کو طعنوں سے بچانے کے لیے عورت مجبور ہے یہ لعان کرنے پر۔ تو جب یہ مجبور ہے تو عورت کا فعل کس کی طرف منتقل ہو جائے گا؟ خاوند کی طرف، گویا خاوند یہ فعل کر رہا ہے، اور جب خاوند ایک فعل کرے مرض الموت میں تو پھر اس صورت میں عورت وارثہ بنتی تھی تو یہاں بھی یہ عورت وارثہ بنے گی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ قَذَفَ امْرَأَتَهُ وَهُوَ صَحِيحٌ“ اور جس شخص نے اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائی، ”وَهُوَ صَحِيحٌ“ اس حال میں کہ یہ شخص تندرست تھا یعنی صحت کی حالت میں اس نے الزام لگایا ہے، ”وَلَاعَنَ فِي الْمَرَضِ وَرِثَتْ“ اور لعان کیا ہے مرض کے اندر تو عورت وارثہ بنے گی شیخین فرماتے ہیں، ”وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ لَا تَرِثُ“ اور امام محمد فرماتے ہیں کہ عورت وارثہ نہیں بنے گی، ”وَإِنْ كَانَ الْقَذْفُ فِي الْمَرَضِ وَرِثَتْهُ فِي قَوْلِهِمْ جَمِيعًا“ اور اگر قذف بھی مرض میں تھا یعنی زنا کا الزام بھی مرض ہی میں تھا تو عورت وارثہ بنے گی ان سب کے قول میں یعنی ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک، ”وَهَذَا مُلْحَقٌ بِالتَّعْلِيقِ بِفِعْلٍ لَا بُدَّ لَهَا مِنْهُ“ اور یہ جو لعان ہے اس کو ملایا گیا ہے اس فعل کی تعلیق کے ساتھ کہ جس کے سوا چارہ نہ ہو، لعان کو بھی کن افعال کے ساتھ ملایا گیا ہے؟ جن کے سوا چارہ نہ ہو۔ چارہ نہ ہو، اور جس کے سوا چارہ نہیں ہے وہ فعل خاوند کی طرف منتقل ہو جاتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَهٰذَا مُلْحَقٌ بِالتَّعْلِيقِ بِفِعْلٍ لَا بُدَّ لَهَا مِنْهُ﴾ اور اس کو ملایا گیا ہے اس فعل کی تعلیق کے ساتھ کہ جس کے سوا چارہ نہ ہو، ﴿إِذْ هِيَ مُلْجَأَةٌ إِلَى الْخُصُومَةِ﴾ اس لیے کیونکہ یہ عورت مجبور ہے الخصومة پر، یعنی جھگڑا اور مقدمہ کرنے پر، ﴿لِدَفْعِ عَارِ الزِّنَا عَنْ نَفْسِهَا﴾ تاکہ اپنی ذات سے زنا کے عار کو دور کر سکے، ﴿وَقَدْ بَيَّنَّا الْوَجْهَ فِيهِ﴾ اور تحقیق ہم نے اس کے اندر وجہ بیان کر دی کہ عورت کیا ہے؟ مجبور ہے۔ تو عورت کا فعل کس کی طرف منتقل ہو جائے گا؟ خاوند کی طرف، اور خاوند کا فعل تو مرض الموت میں پایا جائے تو پھر عورت وارثہ بنتی تھی تو یہاں یہ وارثہ بنے گی۔ یہ وہ صورت ہے جب الزام صحت میں لگایا اور لعان مرض میں کیا ہے، اور اگر الزام بھی مرض الموت میں لگایا ہے پھر تو بالاتفاق وہ وارثہ بنے گی بھئی۔ ﴿وَإِنْ آلَىٰ امْرَأَتَهُ وَهُوَ صَحِيحٌ﴾ اب ایلاء کا ذکر آگیا۔ ایلاء یاد رکھو یہ آگے صاحبِ ہدایہ بھی بیان فرمائیں گے، ایلاء کا الگ باب آجائے گا۔ ایلاء اسے کہتے ہیں کہ کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس چار ماہ تک نہ جانے کی قسم کھا لے، کہ واللہ میں چار ماہ تک تم سے صحبت نہیں کروں گا۔ تو چار ماہ تک صحبت نہ کرنے کی قسم اٹھا لے تو یہ ظلمِ کبیر ہے بھئی، لہٰذا اس کی شریعت نے سزا مقرر کی ہے۔ چار ماہ سے کم کی بھی خاوند قسم اٹھائے وہ بھی ظلم ہے بھئی، لیکن اس کی شریعت نے کوئی سزا مقرر نہیں کی۔ لیکن اگر کوئی شخص چار ماہ یا اس سے زیادہ تک بیوی کے پاس نہ جانے کی قسم اٹھا لے تو یہ ظلمِ کبیر ہے، باقاعدہ شریعت نے اس کی سزا مقرر کی ہے، کہ یا تو اس شخص کو اپنی قسم توڑنا پڑے گی اور بیوی سے صحبت کرنا پڑے گی اور پھر اس کو قسم کا کفارہ دینا پڑے گا، اور اگر یہ بیوی سے صحبت نہیں کرتا اور وہ وقت گزر جاتا ہے تو چار مہینے کے بعد خود بخود طلاقِ بائن ہو جائے گی۔ خود بخود طلاقِ بائن ہو جائے گی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿لِلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ﴾ اور وہ لوگ جو ایلاء کر لیتے ہیں اپنی بیویوں سے، یعنی چار مہینے تک اپنی بیویوں کے ساتھ صحبت نہ کرنے کی قسم کھا لیتے ہیں، تو ان لوگوں کے لیے ﴿تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ﴾ ان کے لیے چار ماہ کا ٹھہرنا ہے، یعنی چار ماہ کی مہلت ہے۔ اس مہلت میں آ سکتے ہو تو واپس رجوع کر لو، ورنہ بیوی ہاتھ سے نکل جائے گی۔ تو ان کے لیے ﴿تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ﴾ چار ماہ کی مہلت ہے۔ ﴿فَإِنْ فَاءُوا﴾ پس اگر وہ رجوع کر لیں ﴿فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ﴾ تو اللہ بڑے ہی مغفرت کرنے والے اور نہایت رحم کرنے والے ہیں۔ تو اس کو ایلاء کہتے ہیں۔ اب صورتِ مسئلہ یہ: خاوند نے بیوی سے ایلاء کر لیا۔ کیا کر لیا؟ ایلاء، چار ماہ یا اس سے زیادہ بیوی سے صحبت نہ کرنے کی قسم کھا لی۔ تو یا تو ایلاء بھی مرض الموت میں ہوگا اور شرط بھی مرض الموت میں، یعنی چار ماہ بھی پورے ہو گئے مرض الموت میں ہی، تو پھر اس صورت میں تو یہ عورت وارثہ بنے گی، کیونکہ جب ایلاء مرض الموت میں کر رہا ہے معلوم ہوا قصدِ فرار پایا جا رہا ہے۔ جیسے پچھلے مسئلے میں الزام مرض الموت میں لگایا تھا تو قصدِ فرار پایا گیا تھا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ اور اگر صحت کی حالت میں ایلاء کیا، اور پھر وہ وقت پورا جب ہوا تو چار ماہ جب پورے ہوئے تو خاوند مرض الموت میں مبتلا ہے۔ تو پھر اس صورت کے اندر وارثہ نہیں بنے گی، کیونکہ قصدِ فرار نہیں پایا گیا۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَإِنْ آلَىٰ امْرَأَتَهُ وَهُوَ صَحِيحٌ﴾ اور اگر کسی نے اپنی بیوی سے ایلاء کیا اس حال میں کہ وہ تندرست ہے، ﴿ثُمَّ بَانَتْ بِالْإِيلَاءِ وَهُوَ مَرِيضٌ﴾ پھر وہ عورت اس سے جدا ہو گئی ایلاء کی وجہ سے، ﴿وَهُوَ مَرِيضٌ﴾ اس حال میں کہ یہ شخص مریض ہے، یعنی مرض الموت میں مبتلا ہے۔ جدا ہو گئی، کیا معنی؟ یعنی چار مہینے پورے ہو گئے۔ چار مہینے جیسے ہی پورے ہوں گے، خود بخود جدائی آجائے گی اور طلاقِ بائن ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ﴿ثُمَّ بَانَتْ بِالْإِيلَاءِ وَهُوَ مَرِيضٌ﴾ پھر وہ عورت اس سے جدا ہو گئی ایلاء کی وجہ سے اس حال میں کہ یہ مریض ہے، ﴿لَمْ تَرِثْ﴾ تو یہ عورت وارثہ نہیں بنے گی کیونکہ یہ رجلِ فار نہیں ہے بھئی، کیونکہ ایلاء اس نے صحت میں کیا تھا۔ ﴿وَإِنْ كَانَ الْإِيلَاءُ أَيْضًا فِي الْمَرَضِ﴾ اور اگر ایلاء بھی مرض ہی میں تھا اور شرط بھی مرض ہی میں پائی گئی تو پھر وارثہ بنے گی۔ ﴿وَإِنْ كَانَ الْإِيلَاءُ أَيْضًا فِي الْمَرَضِ وَرِثَتْ﴾ اور اگر ایلاء بھی مرض میں تھا تو یہ عورت وارثہ بنے گی، ﴿لِأَنَّ الْإِيلَاءَ فِي مَعْنَى تَعْلِيقِ الطَّلَاقِ بِمُضِيِّ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ خَالٍ عَنِ الْوِقَاعِ﴾ بھئی یاد رکھو، آپ کو صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ ایلاء جو ہے یہ طلاق کو معلق کرنا ہے وقت کے ساتھ۔ ایلاء میں کیا کیا جا رہا ہے؟ یہ ایلاء اسی درجے میں ہے۔ ایلاء اسی درجے میں ہے، گویا خاوند اپنی بیوی کی طلاق کو معلق کر رہا ہے وقت کے ساتھ۔ اور کیسا وقت؟ ایسے چار مہینے جو صحبت سے خالی ہوں۔ کس کے ساتھ معلق کر رہا ہے اپنی بیوی کی طلاق کو؟ وقت کے ساتھ۔ کیا معنی وقت؟ یعنی ایسے چار مہینے جو صحبت سے خالی ہوں گے۔ اور وقت کے ساتھ خاوند اپنی بیوی کی طلاق کو معلق کرتا تھا تو آپ نے پیچھے مسئلہ پڑھا تھا: ﴿إِذَا جَاءَ رَأْسُ الشَّهْرِ﴾ جب اس مہینے کا آغاز آجائے تو تجھے طلاق ہے۔ تو اگر صحت کی حالت میں تعلیق کی ہے اور شرط جو ہے وہ مرض کی حالت میں پائی گئی تو عورت وارثہ نہیں بنتی۔ لیکن اگر تعلیق اور شرط دونوں مرض الموت میں ہیں تو عورت وارثہ بنتی ہے۔ یہاں بھی اسی طرح ہے، اگر ایلاء اور شرط دونوں مرض الموت میں ہیں تو عورت وارثہ بنے گی، اور اگر ایلاء صحت میں ہے اور شرط مرض الموت میں ہے تو عورت وارثہ نہیں بنے گی۔ تو کہتے ہیں: ﴿لِأَنَّ الْإِيلَاءَ فِي مَعْنَى تَعْلِيقِ الطَّلَاقِ﴾ اس لیے کیونکہ ایلاء اس معنی میں ہے کہ طلاق کو معلق کیا جائے ﴿بِمُضِيِّ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ﴾ چار مہینوں کے گزرنے کے ساتھ، ایسے چار مہینے ﴿خَالٍ عَنِ الْوِقَاعِ﴾ جو صحبت سے خالی ہوں۔ وقاع، یہ جماع کو کہتے ہیں، صحبت کرنے کو۔ ترجمہ سمجھ میں آیا؟ پھر دیکھ لیجیے: ﴿لِأَنَّ الْإِيلَاءَ فِي مَعْنَى تَعْلِيقِ الطَّلَاقِ بِمُضِيِّ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ خَالٍ عَنِ الْوِقَاعِ﴾ اس لیے کیونکہ ایلاء جو ہے وہ اس معنی میں ہے کہ طلاق کو معلق کر دیا جائے چار ایسے مہینوں کے گزرنے کے ساتھ جو جماع سے خالی ہوں، ﴿فَيَكُونُ مُلْحَقًا بِالتَّعْلِيقِ بِمَجِيءِ الْوَقْتِ﴾ تو لہٰذا یہ ایلاء جو ہے یہ ملحق ہوگا بالتعلیق بمجیء الوقت، وہ جو وقت کے آنے کے ساتھ تعلیق تھی اس کے ساتھ یہ ملحق ہوگا اور وہی والا حکم یہاں بھی آئے گا، ﴿وَقَدْ ذَكَرْنَا وَجْهَهُ﴾ اور تحقیق اس کی وجہ ہم پیچھے ذکر کر چکے ہیں بھئی۔ ﴿قَالَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَالطَّلَاقُ الَّذِي يَمْلِكُ فِيهِ الرَّجْعَةَ تَرِثُ بِهِ فِي جَمِيعِ الْوُجُوهِ﴾ صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: اور وہ طلاق ﴿يَمْلِكُ فِيهِ الرَّجْعَةَ﴾ جس میں خاوند رجوع کا مالک ہوتا ہے، یعنی طلاقِ رجعی۔ طلاقِ رجعی میں تو عورت وارثہ بنے گی بھئی، عدت کے اندر اگر خاوند کا انتقال ہو جائے تو عورت وارثہ بنے گی کیونکہ طلاقِ رجعی میں نکاح ہر اعتبار سے باقی ہے۔ قال، صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: ﴿وَالطَّلَاقُ الَّذِي يَمْلِكُ فِيهِ الرَّجْعَةَ﴾ اور وہ طلاق جس کے اندر خاوند رجوع کا مالک ہوتا ہے ﴿تَرِثُ بِهِ فِي جَمِيعِ الْوُجُوهِ﴾ تو عورت اس کی وارثہ بنے گی تمام صورتوں میں، ﴿لِمَا بَيَّنَّا أَنَّهُ لَا يُزِيلُ النِّكَاحَ حَتَّى يَحِلُّ الْوَطْءُ﴾ اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دیا کہ طلاقِ رجعی نکاح کو ختم نہیں کرتی ﴿حَتَّى يَحِلُّ الْوَطْءُ﴾ بھئی یاد رکھنا، یہاں پر بھی حتیٰ نصب نہیں دے گا، کیونکہ حتیٰ کے نصب کی شرائط یہاں پر پوری نہیں، تو يحلُّ کو مرفوع پڑھیں گے۔ کیونکہ حتیٰ کے نصب دینے کے لیے میں نے بتلایا تھا آپ کو کہ دو شرطیں ہیں: ایک شرط یہ ہے کہ حتیٰ کا مابعد وہ مستقبل ہونا چاہیے حتیٰ کے ماقبل کی طرف نسبت کرتے ہوئے، اور دوسری شرط یہ کہ وہ حتیٰ سببیّت یا غایت کا فائدہ دے۔ حتى سببیّت کا فائدہ دے، یعنی ماقبل کو سبب ہونا چاہیے حتیٰ کے مابعد کے لیے، یا حتیٰ غایت کا فائدہ دے، یعنی حتیٰ کا مابعد غایت ہونا چاہیے ماقبل کے لیے، یعنی حتیٰ کے مابعد پر حتیٰ کے ماقبل کی انتہا ہو رہی ہو بھئی۔ تو یہ شرطیں یہاں نہیں پوری، لہٰذا یہاں يحلُّ پر رفع پڑھیں گے۔ ﴿حَتَّى يَحِلُّ الْوَطْءُ﴾ یہاں تک کہ خاوند کے لیے وطی بھی حلال ہوتی ہے۔ وطی بھی حلال ہوتی ہے، طلاقِ رجعی کے بعد عدت کے دوران خاوند کے لیے وطی بھی حلال ہوتی ہے، اور وہ وطی کرے گا تو رجوع ہو جائے گا۔ وطی کر سکتا ہے لیکن جب کرے گا تو رجوع ہو جائے گا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ ﴿فَكَانَ السَّبَبُ قَائِمًا﴾ تو وراثت کا سبب یعنی نکاح موجود ہے، ﴿وَكُلُّ مَا ذَكَرْنَا أَنَّهَا تَرِثُ إِنَّمَا تَرِثُ إِذَا مَاتَ وَهِيَ فِي الْعِدَّةِ﴾ اور ہر وہ صورت جس میں ہم نے ذکر کیا کہ عورت وارثہ بنے گی، یہ عورت اسی وقت وارثہ بنے گی جس وقت خاوند کا انتقال ہو اس حال میں کہ عورت عدت میں ہو، ﴿وَقَدْ بَيَّنَّاهُ﴾ اور تحقیق یہ بھی ہم بیان کر چکے۔ یہ جتنی صورتیں ہم نے ذکر کیں کہ عورت وارثہ بنے گی یہ کب ہے؟ جب عدت کے اندر خاوند کا انتقال ہو، ورنہ عورت وارثہ نہیں بنے گی، یہ بھی پیچھے بالکل باب کی پہلی سطر میں ہی صاحبِ ہدایہ نے بیان کیا تھا۔ آگے دیکھیے: ﴿بَابُ الرَّجْعَةِ﴾ یہ باب ہے رجوع کے بیان میں۔ ﴿وَإِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً رَجْعِيَّةً أَوْ تَطْلِيقَتَيْنِ﴾ اور جب طلاق دے دی ایک شخص نے اپنی بیوی کو ﴿تَطْلِيقَةً رَجْعِيَّةً﴾ ایک رجعی طلاق ﴿أَوْ تَطْلِيقَتَيْنِ﴾ یا دو رجعی طلاقیں۔ بھئی رجعی طلاقیں دو تک ہی ہو سکتی ہیں۔ تین طلاقیں دے دیں تو پھر رجوع کی کوئی صورت نہیں ہے بھئی، تین طلاقوں پر حرمتِ مغلظہ آجاتی ہے۔ اب وہ عورت کسی اور خاوند سے نکاح کرے اور پھر زندگی میں کبھی اس کا انتقال ہو یا وہ طلاق دے دے تو پھر پہلا خاوند نکاح کر سکتا ہے، ویسے نکاح کی کوئی صورت نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَإِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً رَجْعِيَّةً أَوْ تَطْلِيقَتَيْنِ﴾ جب کسی شخص نے اپنی بیوی کو ایک طلاقِ رجعی یا دو طلاقِ رجعی دے دیں ﴿فَلَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا فِي عِدَّتِهَا﴾ تو خاوند کے لیے جائز ہے کہ وہ عورت سے رجوع کر سکتا ہے اس کی عدت میں، ﴿رَضِيَتْ بِذٰلِكَ أَوْ لَمْ تَرْضَ﴾ عورت اس پر راضی ہو یا راضی نہ ہو۔ یہ رجوع کرنا یہ خالص خاوند کا حق ہے، عورت کی رضامندی کا اس میں کوئی دخل نہیں۔ جیسے طلاق دینا خالص خاوند کا حق ہے، عورت کی رضامندی کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ خاوند طلاق دے گا، عورت راضی ہو یا نہ ہو طلاق ہو جائے گی۔ اسی طرح عدت کے اندر خاوند رجوع کرے گا جبکہ طلاقِ رجعی دی ہو، تو عدت کے اندر خاوند رجوع کرے گا تو رجوع ہو جائے گا چاہے عورت راضی ہو چاہے راضی نہ ہو بھئی۔ دلیل ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ﴿لِقَوْلِهِ تَعَالَىٰ: فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ﴾ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے: ﴿فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ﴾ پس ان کو روک لو اچھے طریقے سے۔ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں بھئی: ﴿وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ﴾ اور جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دے دو پھر یہ عورتیں اپنی مدت کو پہنچ جائیں، یعنی مدت کے پہنچنے کے قریب ہو جائیں، یعنی مدت تک اگر پہنچ گئیں عدت پوری ہو گئی پھر تو رجوع نہیں ہو سکتا، تو ﴿فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ﴾ کا کیا معنی؟ اپنی مدت کے پہنچنے کے قریب ہو جائیں۔ بات سمجھ میں آگئی؟ یعنی عدت کے پورا ہونے سے پہلے کی بات ہو رہی ہے۔ تو اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: ﴿وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ﴾ اور جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دے دو تو یہ اپنی مدت کے پہنچنے کے قریب ہو جائیں یعنی ابھی عدت باقی ہے، ﴿فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ﴾ تو ان کو اچھے طریقے سے روک لو ﴿أَوْ فَارِقُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ﴾ یا ان کو اچھے طریقے سے جدا کر دو ﴿وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ﴾ اور دو قابلِ اعتماد آدمیوں کو اس پر گواہ بنا لو۔ دو قابلِ اعتماد آدمیوں کو اس پر، اس رجوع پر گواہ بنا لو۔ اس رجوع پر گواہ بنا لو یا اس جدائی پر گواہ بنا لو، اور یاد رکھو یہ گواہ بنانا ہمارے نزدیک کوئی لازم نہیں ہے، ہاں یہ مستحب ہے۔ خاوند نے اگر رجوع کیا ہے تو مستحب ہے دو آدمیوں کو گواہ بنا لے تاکہ بعد میں عورت انکار نہ کرے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿لِقَوْلِهِ تَعَالَىٰ: فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ﴾ بوجہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے کہ اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: ﴿فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ﴾ پس تم روک لو ان کو اچھے طریقے سے، ﴿مِنْ غَيْرِ فَصْلٍ﴾ اس میں کوئی فصل اور کوئی فرق نہیں کیا گیا عورت کی رضامندی ہو یا عورت کی رضامندی نہ ہو اس میں فرق نہیں کیا گیا، معلوم ہوا یہ خاوند کا اختیار ہے، عورت چاہے راضی ہو یا راضی نہ ہو وہ رجوع کر سکتا ہے۔ ﴿وَلَا بُدَّ مِنْ قِيَامِ الْعِدَّةِ﴾ اور عدت کا قائم ہونا ضروری ہے، عدت کا موجود ہونا ضروری ہے، ﴿لِأَنَّ الرَّجْعَةَ اسْتِدَامَةُ الْمِلْكِ﴾ اس لیے کیونکہ رجوع کرنا استدامة الملک ہے۔ استدامت کا معنی ہے: برقرار رکھنا۔ استدام یستدیم کا معنی کسی چیز کو برقرار رکھنا۔ استدامت یہ دوام سے ہے بھئی، اور س-ت طلب کے لیے ہے، یعنی دوام کو طلب کرنا۔ ایک چیز کے دوام کو طلب کرنا یعنی اس کو برقرار رکھنا۔ تو کہتے ہیں: ﴿لِأَنَّ الرَّجْعَةَ اسْتِدَامَةُ الْمِلْكِ﴾ اس لیے کیونکہ رجوع کرنا یہ ملکیت کو برقرار رکھنا ہے۔ یاد رکھو ہمارے نزدیک رجوع جو ہے ملکیت کو برقرار رکھنے کا نام ہے۔ رجوع میں انسان کیا کرتا ہے؟ اپنی ملکیت کو برقرار رکھتا ہے۔ تو ہمارے نزدیک رجوع استدامتِ ملک کا نام ہے۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک رجوع ابتدائے نکاح کے درجے میں ہے۔ کس درجے میں ہے؟ ابتدائے نکاح کے درجے میں ہے۔ جی، یہ آگے صاحبِ ہدایہ بھی ذکر فرمائیں گے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿لِأَنَّ الرَّجْعَةَ اسْتِدَامَةُ الْمِلْكِ﴾ اس لیے کیونکہ رجوع جو ہے وہ ملکیت کو برقرار رکھنے کا نام ہے، ﴿أَلَا تَرَىٰ أَنَّهُ سُمِّيَ إِمْسَاكًا﴾ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ اس کو قرآن میں امساک کہا گیا ہے؟ ﴿فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ﴾ اس امساک سے کیا مراد ہے؟ رجوع۔ اور امساک کا کیا معنی ہوتا ہے؟ روک لینا، باقی رکھنا۔ امساک کا کیا معنی ہے؟ روک لینا اور باقی رکھنا، اور باقی رکھنا وہیں ہوگا جہاں ملکیت ہو، اگر ملکیت ختم ہو جائے پھر تو باقی رکھنے والا معنی نہیں ہو سکتا بھئی۔ تو عدت کے اندر اندر ہی ملکیت ہوتی ہے، لہٰذا عدت کے اندر اندر رجوع ہو سکتا ہے۔ عدت گزر گئی تو ملکیت ختم، اب تو امساک پر عمل نہیں ہو سکتا۔ توجہ بھی ہے کہ نہیں؟ امساک کا کیا معنی؟ روک لینا۔ اور روکنے کا کیا معنی ہے؟ ملکیت ابھی موجود ہے، باقی ہے۔ اور روکنا کب ہوگا؟ ملکیت کے اندر ہی ہوگا، اور ملکیت کب تک ہوتی ہے؟ عدت تک، لہٰذا جب عدت گزر گئی پھر تو بالاتفاق ملکیت ختم ہو گئی، پھر امساک نہیں پایا جا سکتا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿أَلَا تَرَىٰ أَنَّهُ سُمِّيَ إِمْسَاكًا﴾ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ اس رجوع جو ہے اس کو امساک کہا گیا ہے قرآن کے اندر، ﴿وَهُوَ الْإِبْقَاءُ﴾ اور امساک کسے کہتے ہیں؟ ابقاء کو کہتے ہیں، ایک چیز کو باقی رکھنا، ﴿وَإِنَّمَا يَتَحَقَّقُ الِاسْتِدَامَةُ فِي الْعِدَّةِ﴾ اور یہ برقرار رکھنا عدت کے اندر ہی پایا جا سکتا ہے، ﴿لِأَنَّهُ لَا مِلْكَ بَعْدَ انْقِضَائِهَا﴾ اس لیے کیونکہ عدت کے گزرنے کے بعد تو کوئی ملکیت نہیں ہوتی۔ ﴿وَالرَّجْعَةُ أَنْ يَقُولَ﴾ اب رجوع کا طریقہ بتلا رہے ہیں۔ یاد رکھو ہمارے نزدیک رجوع قول کے ذریعے بھی ہو سکتا ہے اور فعل کے ذریعے بھی۔ قول کے ساتھ رجوع یہ ہے کہ مثلاً بیوی سے کہتا ہے: "میں نے تجھ سے رجوع کر لیا"، یا کہتا ہے: "میں نے تجھے رکھ لیا، میرا طلاق کا ارادہ نہیں ہے"، یا عربی میں کہتا ہے: "رَاجَعْتُكِ"، میں نے تجھ سے رجوع کر لیا۔ توجہ ہے؟ اور اگر بیوی موجود نہیں ہے، کسی اور کے سامنے کہتا ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ رجوع کے اندر بیوی کا سامنے موجود ہونا ضروری نہیں ہے، جیسے طلاق کے وقت عورت کا سامنے موجود ہونا ضروری نہیں ہے۔ ایک آدمی ہے وہ خلوت کے اندر بیوی کو طلاق دیتا ہے تو طلاق واقع ہو گئی بھئی، بے شک اس کی بیوی یہاں موجود نہیں ہے لیکن طلاق واقع ہو گئی۔ اسی طرح رجوع کے اندر بھی بیوی کا سامنے موجود ہونا ضروری نہیں ہے۔ خاوند کسی اور کے سامنے کہتا ہے: "رَاجَعْتُ امْرَأَتِي"، میں نے اپنی بیوی سے رجوع کر لیا، تو رجوع ہو جائے گا بھئی۔ یہ تو تھا زبان سے رجوع بھئی، زبان سے رجوع۔ اور ایک ہے فعل کے ساتھ رجوع، فعل کے ساتھ بھی عند الاحناف رجوع ہو جائے گا جب خاوند ایسا کوئی فعل کرے جو بیوی کے ساتھ خاص ہے، بیوی کے ساتھ جائز ہے اور کسی کے ساتھ جائز نہیں۔ مثلاً خاوند جو ہے اس کے ساتھ صحبت کر لیتا ہے، طلاق دینے کے بعد عدت کے اندر خاوند اس سے صحبت کر لیتا ہے، معلوم ہوا خاوند رجوع کر رہا ہے۔ خاوند اس کو بیوی بنا کر رکھنا چاہتا ہے، جبھی تو صحبت کر رہا ہے۔ توجہ ہے؟ یا خاوند شہوت کے ساتھ اس کا بوسہ لے لیتا ہے، یا شہوت کے ساتھ اس کو چھو لیتا ہے، شہوت کے ساتھ اس کو چھو لیتا ہے، اس کو ہاتھ لگاتا ہے، معلوم ہوا وہ رجوع کر رہا ہے، کیونکہ یہ چیزیں تو بیوی کے علاوہ اور کسی عورت کے ساتھ جائز نہیں، معلوم ہوا وہ اس کو بیوی بنا کر رکھنا چاہتا ہے۔ یا اسی طرح صرف دیکھنے سے بھی رجوع ہو جائے گا، جیسے خاوند شہوت کے ساتھ عورت کی شرمگاہ کی طرف دیکھ لے، اور یہ مسئلہ پیچھے بھی ذکر ہوا تھا اور اس میں فرجِ داخل کا اعتبار ہے، شہوت کے ساتھ فرجِ داخل کو دیکھ لے تو پھر رجوع ہوگا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ جہاں حرمتِ مصاہرت کا مسئلہ ذکر ہوا تھا وہاں ذکر تھا کہ کوئی شخص اگر کسی عورت کے فرجِ داخل کو شہوت سے دیکھ لے گا تو حرمتِ مصاہرت ثابت ہو جائے گی۔ تو یہاں پر بھی خاوند اگر شہوت کے ساتھ فرجِ داخل کو دیکھ لے گا تو رجوع ثابت ہو جائے گا بھئی۔ وجہ یہ کہ اصل میں تو فرج داخل ہی کا نام ہے، خارج تو من وجہ فرج ہے، من وجہ فرج نہیں۔ تو اصل تو فرج داخل کا نام ہے، تو فرجِ داخل کو خاوند شہوت کے ساتھ دیکھے گا تو پھر رجوع ثابت ہو جائے گا، کیونکہ یہ چیزیں بیوی کے علاوہ اور کسی عورت کے ساتھ جائز نہیں ہیں بھئی۔ دیکھیے بھئی: کہتے ہیں: ﴿وَالرَّجْعَةُ أَنْ يَقُولَ: رَاجَعْتُكِ﴾ اور رجوع یہ ہے کہ خاوند یوں کہے: "رَاجَعْتُكِ"، میں نے تجھ سے رجوع کر لیا، جب بیوی موجود ہے، ﴿أَوْ رَاجَعْتُ امْرَأَتِي﴾ یا بیوی موجود نہیں ہے تو یوں کہتا ہے: "رَاجَعْتُ امْرَأَتِي"، میں نے اپنی بیوی سے رجوع کر لیا، ﴿وَهٰذَا صَرِيحٌ فِي الرَّجْعَةِ﴾ اور یہ صریح ہے رجوع میں، یعنی صاف لفظوں میں رجوع ہے۔ اور اگر گول مول الفاظ ذکر کرتا ہے پھر وہاں نیت ضروری ہے، وہاں نیت ضروری ہے۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَهٰذَا صَرِيحٌ فِي الرَّجْعَةِ﴾ اور یہ صریح الفاظ ہیں رجوع میں یعنی ان میں رجوع کے علاوہ اور کوئی معنی نہیں ہے، ﴿وَلَا خِلَافَ فِيهِ بَيْنَ الْأَئِمَّةِ﴾ اور اس میں ائمہ کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے، سب کے نزدیک بالاتفاق "رَاجَعْتُكِ" یا "رَاجَعْتُ امْرَأَتِي" کہنے سے، کہنے سے رجوع ہو جائے گا۔ ﴿قَالَ: أَوْ يَطَأَهَا﴾ صاحبِ قدوری آگے فرماتے ہیں: یا خاوند بیوی سے صحبت کر لے، یہ عمل کے ذریعے رجوع بھئی۔ خاوند بیوی سے صحبت کر لے، ﴿أَوْ يُقَبِّلَهَا أَوْ يَلْمِسَهَا بِشَهْوَةٍ﴾ یا بیوی کا بوسہ لے لے یا اس کو چھو لے یعنی ہاتھ لگائے بشہوة، شہوت کے ساتھ۔ یہ شہوت کی قید ضروری ہے۔ ﴿أَوْ يَنْظُرَ إِلَىٰ فَرْجِهَا بِشَهْوَةٍ﴾ یا خاوند دیکھے اس عورت کی شرمگاہ کی طرف شہوت سے، ﴿وَهٰذَا عِنْدَنَا﴾ اور یہ ہمارے نزدیک ہے، یعنی فعل کے ذریعے رجوع کرنا یہ عند الاحناف ہے بھئی۔ ﴿وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا تَصِحُّ الرَّجْعَةُ إِلَّا بِالْقَوْلِ﴾ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رجوع صحیح نہیں ہے مگر قول کے ساتھ ہی، زبان سے ہی "رَاجَعْتُكِ" کہنا پڑے گا یا "رَاجَعْتُ امْرَأَتِي" کہنا پڑے گا، فعل کے ذریعے رجوع صحیح نہیں۔ وجہ یہ کہ وہ فرماتے ہیں کہ رجوع ابتدائے نکاح کے درجے میں ہے۔ جیسے نکاح کرتے ہیں تو ابتدائے نکاح دیکھو، وہاں بوسہ لینے سے یا شہوت سے ہاتھ لگانے سے نکاح نہیں ہوتا، زبان سے کہنا پڑے گا۔ ابتدائے نکاح جیسے کسی فعل وغیرہ سے ابتدائے نکاح نہیں ہوتی، وہاں زبان سے ایجاب و قبول کرنا پڑتا ہے یعنی وہاں قول ضروری ہوتا ہے، تو رجوع کے اندر بھی قول ضروری ہے، فعل کے ذریعے رجوع نہیں ہو سکتا جیسے ابتدائے نکاح کسی ایسے فعل کے ذریعے نہیں ہو سکتا بھئی۔ تو جیسے ابتدائے نکاح میں قول ضروری ہے اسی طرح یہاں رجوع کے اندر بھی قول ضروری ہے بھئی، الا یہ کہ کوئی قول پر قادر ہی نہ رہے یا قادر ہی نہیں ہے، مثلاً گونگا ہے یا کسی کی زبان بند ہو گئی ہے وہ بات ہی نہیں کر سکتا تو پھر اس صورت میں اشارے سے بھی رجوع صحیح ہو جائے گا ورنہ، ورنہ قول ضروری ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا تَصِحُّ الرَّجْعَةُ إِلَّا بِالْقَوْلِ مَعَ الْقُدْرَةِ عَلَيْهِ﴾ اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک رجوع صحیح نہیں ﴿إِلَّا بِالْقَوْلِ﴾ مگر قول کے ساتھ ہی ﴿مَعَ الْقُدْرَةِ عَلَيْهِ﴾ قول پر قدرت ہونے کے ساتھ، ﴿لِأَنَّ الرَّجْعَةَ بِمَنْزِلَةِ ابْتِدَاءِ النِّكَاحِ﴾ اس لیے کیونکہ رجوع کرنا یہ ابتدائے نکاح کے درجے میں ہے، اور ابتدائے نکاح تو کسی فعل سے نہیں ہوتا بلکہ قول سے ہوتا ہے تو یہاں رجوع بھی قول سے ہوگا، تو کہتے ہیں: ﴿لِأَنَّ الرَّجْعَةَ بِمَنْزِلَةِ ابْتِدَاءِ النِّكَاحِ حَتَّى يَحْرُمَ وَطْؤُهَا﴾ اس لیے کیونکہ رجوع کرنا ابتدائے نکاح کے درجے میں ہے، حتیٰ کہ عورت سے صحبت بھی حرام ہوتی ہے۔ بھئی ہمارے نزدیک طلاقِ رجعی کے بعد بھی خاوند بیوی سے صحبت کر سکتا ہے، اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک وطی نہیں کر سکتا، وطی حرام ہو چکی ہے۔ تو ان کے نزدیک اسی لیے یہ رجوع ابتدائے نکاح کے درجے میں ہے، یہ گویا پھر نکاح کر رہا ہے بیوی کے ساتھ۔ تو طلاقِ رجعی دی، بیوی حرام ہو گئی اب وہ کہتے ہیں صحبت کر ہی نہیں سکتا، ہاں رجوع کر لو گے تو گویا پھر نکاح کر لیا، اب صحبت حلال ہو جائے گی۔ جبکہ ہمارے نزدیک تو طلاقِ رجعی سے نکاح ختم ہوتا ہی نہیں، طلاقِ رجعی کے باوجود خاوند صحبت کر سکتا ہے بھئی۔ توجہ ہے؟ خاوند ابھی بھی مالک ہے۔ یہ دیکھو یہ جو باب الرجعۃ آپ نے پڑھا، باب الرجعۃ اس سے پچھلی سطر میں دیکھیں: ﴿لِمَا بَيَّنَّا أَنَّهُ لَا يُزِيلُ النِّكَاحَ حَتَّى يَحِلُّ الْوَطْءُ﴾ ہمارے نزدیک تو طلاقِ رجعی میں وطی بھی حلال ہوتی ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک وطی، وطی حرام ہوتی ہے۔ توجہ بھی ہے کہ نہیں؟ تو کہتے ہیں: ﴿لِأَنَّ الرَّجْعَةَ بِمَنْزِلَةِ ابْتِدَاءِ النِّكَاحِ حَتَّى يَحْرُمَ وَطْؤُهَا﴾ اس لیے کیونکہ رجوع جو ہے یہ ابتدائے نکاح کے درجے میں ہے حتیٰ کہ اس عورت کی وطی بھی حرام ہوتی ہے خاوند پر، ﴿وَعِنْدَنَا هُوَ اسْتِدَامَةُ النِّكَاحِ﴾ اور ہمارے نزدیک جو ہے یہ رجوع جو ہے استدامة النکاح یہ نکاح کو برقرار رکھنے کا نام ہے ﴿عَلَىٰ مَا بَيَّنَّاهُ﴾ اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دی، ﴿وَسَنُقَرِّرُهُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَىٰ﴾ اور عنقریب ہم اس کو ثابت کریں گے ان شاء اللہ تعالیٰ، یعنی اس باب کے آخر میں، کہ یہ رجوع استدامتِ نکاح کا نام ہے، ابتدائے نکاح کا نام نہیں ہے بھئی۔ ﴿وَالْفِعْلُ قَدْ يَقَعُ دَلَالَةً عَلَى الِاسْتِدَامَةِ﴾ اور فعل بھی کبھی کبھار دلیل ہو جاتا ہے علی الاستدامة، برقرار رکھنے پر۔ کبھی کبھار فعل بھی برقرار رکھنے پر دلیل ہو جاتا ہے، ﴿كَمَا فِي إِسْقَاطِ الْخِيَارِ﴾ جیسے خیار کے ساقط کرنے میں، جیسے خیار کے ساقط کرنے میں۔ آپ کو میں نے بتلایا تھا کہ بائع اور مشتری دونوں خیارِ شرط رکھ سکتے ہیں۔ خیارِ شرط یہ ہے کہ بائع یا مشتری میں سے کوئی ایک اپنے لیے اختیار رکھ لیتا ہے بیع کے وقت، کہ بھئی میں آپ سے یہ بیع کر رہا ہوں لیکن پتہ نہیں میں اس بیع میں میرا فائدہ ہے یا فائدہ نہیں، میں اپنے ساتھیوں سے مشورہ کروں گا، مجھے تین دن تک اختیار ہے میں چاہوں تو اس بیع کو فسخ کر سکتا ہوں۔ تو ان دونوں میں سے کوئی ایک فسخِ بیع کا اختیار رکھ لیتا ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ خیارِ شرط۔ تو صورتِ مسئلہ یہ: ایک شخص نے اپنی باندی کو فروخت کیا۔ باندی کو فروخت کیا اور خود تین دن کے لیے خیار رکھ لیا۔ بیع کر لی ہے، باندی بیچ دی ہے لیکن بیچنے والے نے، بائع نے تین دن کے لیے خیارِ شرط رکھ لیا اور باندی ابھی اسی کے پاس ہے۔ یہ تین دن کے اندر بیع کو فسخ کرنا چاہے تو فسخ کر سکتا ہے۔ دوسرے یا تیسرے دن ابھی وہ وقت پورا نہیں ہوا تھا کہ اس بائع نے اس باندی سے صحبت کر لی۔ اس بائع کا باندی سے صحبت کرنا بتلا رہا ہے کہ یہ بیع کو فسخ کر رہا ہے۔ اس کا یہ وطی کرنا باندی سے یہ کیا بتلا رہا ہے؟ کہ یہ بیع کو فسخ کر رہا ہے، تو دیکھو قول کے ذریعے تو اس نے بیع کو فسخ نہیں کیا لیکن اپنے فعل کے ذریعے بیع کو فسخ کر دیا۔ آپ کہیں گے کس طرح بیع فسخ ہوئی؟ بھئی دیکھیے نا، آپ جانتے ہیں کہ بیع ہوتے ہی مشتری مبیع کا مالک بن جاتا ہے۔ آپ کی جیب پر ایک قلم لگا ہوا ہے اور آپ نے مجھے کہا میں نے یہ قلم آپ کو سو روپے میں بیچ دیا، میں نے کہا مجھے قبول ہے، جیسے ہی میں نے قبول ہے کہا میں ساتھ ہی اس قلم کا مالک بن گیا۔ قلم بے شک آپ کی جیب پر ہے مگر میں مالک بن چکا ہوں۔ تو یہاں پر بھی جب اس شخص نے بیع کی تھی تو مشتری باندی کا مالک بن گیا تھا۔ باندی کا مالک بن گیا تھا، لہٰذا بائع کے لیے وطی جائز نہیں تھی، لیکن بائع کا وطی کرنا بتلا رہا ہے کہ یہ اس بیع کو کیا کر رہا ہے؟ فسخ کر رہا ہے ورنہ تو اس کے لیے وطی جائز نہیں تھی۔ وجہ سمجھ میں آگئی؟ معلوم ہوا بعض اوقات فعل کے ذریعے بھی ملکیت برقرار رکھنے پر دلالت کی جاتی ہے بھئی۔ تو یہ معنی ہے: ﴿وَالْفِعْلُ قَدْ يَقَعُ دَلَالَةً عَلَى الِاسْتِدَامَةِ﴾ اور فعل بھی کبھی کبھار دلیل بن جاتا ہے ملکیت برقرار رکھنے پر ﴿كَمَا فِي إِسْقَاطِ الْخِيَارِ﴾ جیسے اپنا خیارِ شرط ساقط کرنے میں، ﴿وَالدَّلَالَةُ فِعْلٌ يَخُصُّ بِالنِّكَاحِ﴾ اور یہ دلالت ایسے فعل کے ساتھ ہوگی ﴿يَخُصُّ بِالنِّكَاحِ﴾ جو نکاح کے ساتھ خاص ہو۔ خاوند رجوع کرنا چاہتا ہے فعل کے ساتھ تو ایسا فعل ہونا چاہیے جو نکاح کے ساتھ خاص ہو۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَالدَّلَالَةُ فِعْلٌ يَخُصُّ بِالنِّكَاحِ﴾ اور یہ دلالت ایسے فعل کے ذریعے ہوگی جو نکاح کے ساتھ خاص ہو، ﴿وَهٰذِهِ الْأَفَاعِيلُ تَخُصُّ بِهِ﴾ اور یہ والے افعال جو ہیں یہ نکاح کے ساتھ خاص ہیں، کون سے افعال؟ جو ہم نے متن میں ذکر کیے، یہ افعال نکاح ہی میں جائز ہیں، نکاح کے بغیر یہ افعال جائز نہیں، یعنی صحبت کرنا، یا شہوت سے بوسہ لینا، یا شہوت سے ہاتھ لگانا، یا شہوت سے فرجِ داخل کو دیکھنا، یہ چیزیں نکاح میں تو جائز ہیں نکاح کے بغیر جائز نہیں ہیں، تو لہٰذا یہ افعال نکاح کے ساتھ خاص ہوئے، ﴿خُصُوصًا فِي حَقِّ الْحُرَّةِ﴾ خاص طور پر آزاد عورت کے حق میں۔ آزاد عورت کے حق میں تو یہ افعال نکاح ہی کے ساتھ خاص ہیں، البتہ باندی کے اندر آقا کے لیے بھی یہ افعال جائز ہیں اور وہاں نکاح نہیں ہوتا، لیکن آزاد عورت میں تو یہ بغیر نکاح کے جائز ہی نہیں ہیں بھئی۔ ﴿بِخِلَافِ الْمَسِّ وَالنَّظَرِ بِغَيْرِ شَهْوَةٍ﴾ بخلاف چھونا اور دیکھنا بغیر شہوت کے۔ بھئی متن کے اندر قید آئی تھی کہ خاوند بیوی کا بوسہ لے لے شہوت سے، یا ہاتھ لگا لے شہوت سے، یا شہوت کے ساتھ اس کے فرجِ داخل کو دیکھ لے تو اس صورت میں رجوع ثابت ہو جائے گا، کیونکہ افعال نکاح کے ساتھ خاص ہیں بھئی، جبکہ بغیر شہوت کے دیکھنا یا بغیر شہوت کے چھونا یہ تو بغیر نکاح کے بھی کبھی حلال ہو جاتا ہے۔ بغیر نکاح کے بھی کبھی حلال ہو جاتا ہے، جیسے مثلاً دائی جو ہے، یعنی وہ عورت جو بچے کی پیدائش کے وقت موجود ہو، جیسے دائی ہے یا اسی طرح طبیب ہے، تو دیکھو ان کے لیے عورت کو دیکھنا بھی حلال ہوا اور عورت کو چھونا بھی حلال ہوا ضرورت کی وجہ سے، تو معلوم ہوا بغیر شہوت کے دیکھنا اور بغیر شہوت کے چھونا یہ تو نکاح کے بغیر بھی کبھی کبھار حلال ہو جاتا ہے، تو اس لیے ہم نے شہوت کی قید لگائی بھئی، کہ شہوت کے ساتھ چھوئے یا شہوت کے ساتھ فرجِ داخل کو دیکھے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿بِخِلَافِ الْمَسِّ وَالنَّظَرِ بِغَيْرِ شَهْوَةٍ﴾ بخلاف چھونا اور دیکھنا بغیر شہوت کے، ﴿لِأَنَّهُ قَدْ يَحِلُّ بِدُونِ النِّكَاحِ﴾ اس لیے کیونکہ یہ تو کبھی کبھار بغیر نکاح کے بھی حلال ہو جاتا ہے، ﴿كَمَا فِي الْقَابِلَةِ وَالطَّبِيبِ وَغَيْرِهِمَا﴾ جیسے کہ قابِلہ، قابِلہ کہتے ہیں دائی کو، وہ عورت جو بچے کی پیدائش کے وقت موجود ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ قابِلہ بھئی، ﴿كَمَا فِي الْقَابِلَةِ﴾ جیسے کہ دائی میں ﴿وَالطَّبِيبِ﴾ اور طبیب میں بھئی کوئی طبیب ہے ڈاکٹر وغیرہ، ﴿وَغَيْرِهِمَا﴾ یا ان کے علاوہ کوئی اور، مثلاً کوئی عورت کے خلاف گواہی دینا چاہتا ہے کسی وجہ سے، کسی شخص کو قاضی کے پاس کسی عورت کے خلاف گواہی دینا پڑی، تو گواہوں کے لیے عورت کے چہرے کو دیکھنا جائز ہے، کیونکہ عورت کے چہرے کو دیکھیں گے تو ان کو پتہ چلے گا کہ یہ وہی عورت ہے جس کے خلاف ہم گواہی دے رہے ہیں، اگر عورت کے چہرے کو ہی نہیں دیکھا تو پھر ان کو کیسے پتہ چلے گا کہ یہ وہی عورت ہے یا وہ یہ عورت نہیں ہے جس کے خلاف وہ گواہی دے رہے ہیں؟ تو وہاں پر بھی دیکھو ان کے لیے بھی ان گواہوں کے لیے بھی عورت کو دیکھنا جائز ہو گیا، تو معلوم ہوا بغیر شہوت کے دیکھنا تو کبھی بغیر نکاح کے بھی جائز ہو جاتا ہے، اس لیے ہم نے شہوت کی قید لگائی۔ تو کہتے ہیں: ﴿كَمَا فِي الْقَابِلَةِ وَالطَّبِيبِ وَغَيْرِهِمَا﴾ جیسے کہ دائی میں اور طبیب میں اور ان کے علاوہ میں، ﴿وَالنَّظَرُ إِلَىٰ غَيْرِ الْفَرْجِ قَدْ يَقَعُ بَيْنَ الْمُسَاكِنِينَ﴾ ساکَن یُساکِن مساکنۃً کا معنی ہے: کسی کے ساتھ ایک گھر میں رہنا، کسی کے ساتھ ایک گھر میں رہنا۔ اب صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلا رہے ہیں کہ ہم نے شہوت کے ساتھ چھونے یا شہوت کے ساتھ فرجِ داخل کو دیکھنے کی قید لگائی، اور شرمگاہ کے علاوہ کی طرف دیکھنا، شرمگاہ کے علاوہ کی طرف دیکھنا یعنی چہرہ یا ہاتھ یا پاؤں کے اوپر نظر پڑنا، یہ تو ایک گھر میں رہنے والوں کے درمیان بھی ہوتا ہے، ایک گھر میں رہنے والوں کے درمیان بھی ہوتا ہے، تو خاوند بھی بیوی کے ساتھ عدت کے دوران ایک ہی گھر میں رہ رہا ہے، تو لہٰذا عدت کے دوران خاوند کی بھی نظر پڑ سکتی ہے بیوی پر۔ شرمگاہ کے علاوہ کی طرف دیکھنا یہ تو ایک گھر میں رہنے والوں کے درمیان بھی ہو سکتا ہے کہ کبھی چہرے پر یا ہاتھ وغیرہ پر نظر پڑ گئی، تو خاوند بھی بیوی کے ساتھ عدت کے دوران اسی ایک گھر میں ہے، کیونکہ عدت کے دوران رہائش دینا کس کے ذمے ہے؟ خاوند کے ذمے ہے، تو عورت بھی اسی گھر میں ہے خاوند بھی اسی گھر میں ہے تو ایک گھر میں رہنے والوں کی تو ایک دوسرے پر نظر پڑتی ہے، لہٰذا خاوند کی اگر عورت پر نظر پڑتی ہے شرمگاہ کے علاوہ، چاہے شہوت سے نظر پڑے چاہے بغیر شہوت کے، کیونکہ صرف فرجِ داخل پر شہوت سے نظر پڑے گی تو رجوع ہوگا، ویسے چہرے یا ہاتھ یا پاؤں پر نظر پڑتی ہے چاہے شہوت کے ساتھ ہو چاہے بغیر شہوت کے ہو، صرف دیکھنے کی وجہ سے رجوع نہیں ہوگا، ہاں شہوت سے چھوئے گا یا بوسہ لے گا تو پھر رجوع ہو جائے گا۔ تو خاوند بھی بیوی کے ساتھ ایک گھر میں رہ رہا ہے، لہٰذا شرمگاہ کے علاوہ اور جسم کے حصوں پر اگر نظر پڑتی بھی ہے تو اس کی وجہ سے رجوع نہیں ہوگا بھئی۔ کیونکہ اگر ہم اس کو بھی رجوع قرار دے دیں گے تو پھر عورت کو نقصان پہنچے گا۔ کس طرح؟ کہ خاوند کی نظر پڑ گئی اور آپ نے اس کو رجوع قرار دے دیا اور خاوند تو اس سے جان چھڑانا چاہتا ہے، تو خاوند کو دوبارہ طلاق دینا پڑے گی۔ اور پھر دوبارہ نظر اگر پڑ گئی تو پھر خاوند کو پھر طلاق دینا پڑے گی، تو عدت عورت پر لمبی ہو جائے گی اور نیز پھر جب تینوں طلاقیں دے دے گا تو بعد میں کبھی تلافی کی صورت بھی نہ رہی بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ لہٰذا اس لیے شرمگاہ کے علاوہ پر نظر پڑنے سے رجوع نہیں ہو گا، کیونکہ ایک گھر میں رہ رہے ہیں اور ایک گھر میں رہنے والوں کی تو ایک دوسرے پر نظر پڑ جاتی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالنَّظَرُ إِلَى غَيْرِ الْفَرْجِ“ اور شرمگاہ کے علاوہ کی طرف دیکھنا ”قَدْ يَقَعُ بَيْنَ الْمُسَاكِنَيْنِ“ وہ تو کبھی کبھار ایک گھر میں رہنے والوں کے درمیان بھی واقع ہوتی ہے، ”وَالزَّوْجُ يُسَاكِنُهَا فِي الْعِدَّةِ“ اور خاوند بھی اس عورت کے ساتھ ایک گھر میں رہ رہا ہے عدت کے دوران، ”فَلَوْ كَانَتْ رَجْعَةً“ اگر یہ شرمگاہ کے علاوہ کی طرف دیکھنا اس کو بھی اگر رجوع کہا جاتا ”لَطَلَّقَهَا“ تو پھر خاوند اس کو دوبارہ طلاق دیتا ”فَيَطُولُ الْعِدَّةُ عَلَيْهَا“ تو عورت پر عدت لمبی ہو جاتی، یعنی اس کو نقصان ہوتا بھئی۔ اس لیے ہم نے کہا کہ فرج داخل کے علاوہ کی طرف صرف دیکھنے سے رجوع نہیں ہو گا، باقی میں شہوت سے چھونے سے جو ہے وہ رجوع ہو گا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ آگے دیکھیے: ”قَالَ: وَيُسْتَحَبُّ أَنْ يُشْهِدَ عَلَى الرَّجْعَةِ شَاهِدَيْنِ“ میں نے آپ کو بتلایا کہ رجوع پر مستحب ہے دو گواہ بنا لے۔ رجوع پر مستحب ہے کہ دو گواہ بنا لے تاکہ عورت بعد میں انکار نہ کر سکے۔ ”قَالَ“ صاحب قدوری فرماتے ہیں: ”وَيُسْتَحَبُّ أَنْ يُشْهِدَ عَلَى الرَّجْعَةِ شَاهِدَيْنِ“ کہ خاوند رجوع پر دو گواہ بنا لے ”فَإِنْ لَمْ يُشْهِدْ صَحَّتِ الرَّجْعَةُ“ اگر گواہ نہ بھی بنائے پھر بھی رجوع صحیح ہے۔ تو گواہ بنانا مستحب ہے بھئی، کوئی لازم نہیں ہے۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي أَحَدِ قَوْلَيْهِ: لَا يَصِحُّ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اپنے دو قولوں میں سے ایک کے اندر کہ رجوع صحیح ہی نہیں، بغیر گواہ بنائے رجوع صحیح ہی نہیں، ”وَهُوَ قَوْلُ مَالِكٍ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور یہی قول ہے امام مالک رحمہ اللہ کا بھی، ”لِقَوْلِهِ تَعَالَى“ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے وہ فرماتے ہیں، قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنكُمْ﴾ اور تم اپنے سے دو قابلِ اعتماد آدمیوں کو گواہ بنا لو۔ ”ذَوَیْ عَدْلٍ“ عدل والے، تو عادل مراد ہیں اور عادل کا کیا معنی کریں گے؟ قابلِ اعتماد بھئی۔ تو اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں کہ اپنے میں سے دو عادل آدمیوں کو، دو قابلِ اعتماد آدمیوں کو گواہ بنا لو۔ معلوم ہوا گواہ بنانا لازم ہے، ”أَشْهِدُوا“ امر کا صیغہ آیا، تو امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی ایک قول یہی ہے اور امام مالک رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ تو کہتے ہیں اس میں امر آیا ہے ”وَالْأَمْرُ لِلْإِيجَابِ“ اور امر کس لیے ہوتا ہے؟ ایجاب کے لیے۔ ”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل جو ہے ”إِطْلَاقُ النُّصُوصِ عَنْ قَيْدِ الْإِشْهَادِ“ وہ نصوص کا مطلق ہونا ہے اشہاد کی قید سے۔ ہم کہتے ہیں نصوص کے اندر، نصوص کسے کہتے ہیں؟ قرآن اور حدیث۔ قرآن اور حدیث کے اندر رجوع کے ساتھ اشہاد کی قید موجود نہیں۔ رجوع کے ساتھ گواہ بنانے کی قید نہیں ہے۔ مثلاً دیکھو یہ حاشیے میں کئی انہوں نے نصوص ذکر کی ہیں۔ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ﴾ تم ان کو روک لو اچھے طریقے سے۔ اور اس روکنے سے رجوع مراد ہے۔ اس روکنے سے رجوع مراد ہے اور یہاں اشہاد کا ذکر ساتھ نہیں ہے۔ نیز دوسری جگہ اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ﴾ کہ طلاق دو مرتبہ ہے یعنی رجعی طلاقیں دو ہیں ﴿فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ﴾ پھر اچھے طریقے سے روکنا ہے ﴿أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾ یا اچھے طریقے سے احسان کے ساتھ رخصت کرنا ہے۔ دیکھو یہاں پر بھی گواہ بنانے کا ذکر نہیں ہے بھئی۔ نیز دوسری جگہ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ﴾ اور ان کے جو خاوند ہیں، ”أَحَقُّ“ وہ زیادہ لائق ہیں ”بِرَدِّهِنَّ“ ان کے لوٹانے کے۔ ان کے خاوند زیادہ حقدار ہیں ان کے لوٹانے کے کہ وہ ان کو لوٹا لیں یعنی رجوع کر لیں، تو یہاں بھی لوٹانے سے کیا مراد ہے؟ رجوع، اور یہاں بھی اشہاد کی قید نہیں کہ گواہ بنانا پڑیں گے بھئی۔ اور نیز قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَن يَتَرَاجَعَا﴾ کہ ان دونوں پر کوئی حرج نہیں ہے میاں بیوی پر اگر یہ باہم رجوع کر لیں۔ اس میں بھی دیکھو اشہاد کی قید نہیں ہے بھئی۔ اور نیز حضور علیہ السلام نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا تھا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے حضرت عبد اللہ ابن عمر نے اپنی بیوی کو حیض کے اندر طلاق دے دی تھی تو حضور علیہ السلام نے ناراضگی کا اظہار فرمایا اور حضرت عمر کو کہا: ”مُرِ ابْنَكَ فَلْيُرَاجِعْهَا“ اپنے بیٹے کو حکم دو کہ وہ اس سے رجوع کر لے۔ دیکھو یہاں بھی رجوع کا حکم ہے لیکن گواہ بنانے کا ذکر نہیں ہے۔ تو ان تمام نصوص سے پتہ چلا کہ اشہاد ضروری نہیں ہے بھئی۔ ”وَلَنَا: إِطْلَاقُ النُّصُوصِ عَنْ قَيْدِ الْإِشْهَادِ“ اور ہماری دلیل جو ہے نصوص کا مطلق ہونا ہے اشہاد کی قید سے، ”وَلِأَنَّهُ اسْتِدَامَةٌ لِلنِّكَاحِ“ اور نیز اس لیے کیونکہ یہ رجوع جو ہے یہ نکاح کو برقرار رکھنا ہے ”وَالشَّهَادَةُ لَيْسَتْ شَرْطًا فِيهِ فِي حَالَةِ الْبَقَاءِ“ اور گواہی یہ تو شرط نہیں ہے نکاح میں حالت بقا میں۔ بھئی دیکھو! ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا اور نکاح کے وقت دو مرد گواہ ہونے چاہییں یا ایک مرد اور دو عورتیں۔ تو اس شخص نے نکاح کر لیا ایک عورت سے اور دو گواہ موجود تھے، نکاح ہو گیا۔ بعد میں ان دونوں گواہوں کا انتقال ہو گیا تو کیا اس سے نکاح پر اثر پڑے گا؟ نہیں، نکاح تو اسی طرح برقرار رہے گا۔ معلوم ہوا ابتداءً نکاح کے لیے اشہاد ضروری ہے، گواہ بنانا ضروری ہے، بقائے نکاح کے لیے شہادت شرط نہیں ہے اور رجوع کے اندر بھی بقائے نکاح ہوتا ہے۔ ابھی تو ہم نے بتایا، رجوع کس کا نام ہے؟ بقائے نکاح کا نام ہے، استدامتِ نکاح کا نام ہے، نکاح کو برقرار رکھنا اور بقائے نکاح کے اندر تو گواہوں کی شرط نہیں ہوتی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّهُ اسْتِدَامَةٌ لِلنِّكَاحِ“ اور اس لیے کیونکہ رجوع جو ہے یہ نکاح کو برقرار رکھنا ہے ”وَالشَّهَادَةُ لَيْسَتْ شَرْطًا فِيهِ فِي حَالَةِ الْبَقَاءِ“ اور شہادت یہ تو شرط نہیں ہے نکاح میں بقا کی حالت میں، ”كَمَا فِي الْفَيْءِ فِي الْإِيلَاءِ“ جیسے کہ ایلاء میں رجوع کے اندر۔ ایلاء بھئی ابھی میں نے آپ کو بتلایا، اگر کوئی شخص قسم اٹھا لیتا ہے اپنی بیوی سے صحبت نہ کرنے کی چار ماہ یا اس سے زیادہ کی، تو اس کو ایلاء کہتے ہیں۔ اس کو ایلاء کہتے ہیں اور ایلاء کے اندر ضروری ہے کہ آپ چار ماہ سے قبل قبل رجوع کر لیں۔ اگر رجوع نہ کیا تو بیوی ہاتھ سے نکل جائے گی، طلاق بائن ہو جائے گی۔ پھر اس کے بعد بیوی کو رکھنا ہے تو نئے سرے سے نکاح کرنا پڑے گا نئے مہر کے ساتھ بھئی۔ تو اللہ قرآن میں کیا فرماتے ہیں؟ ﴿لِّلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِن نِّسَائِهِمْ تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ ۖ فَإِن فَاءُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ﴾ وہ لوگ جو اپنی بیویوں سے ایلاء کر لیتے ہیں ان کے لیے چار ماہ کی مہلت ہے، ”فَإِن فَاءُوا“ اگر وہ رجوع کر لیں تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ تو ایلاء سے جو رجوع ہے اس کو قرآن میں ”فَيْء“ کے لفظ سے ذکر کیا گیا ہے: ”فَإِن فَاءُوا“، تو ایلاء کے اندر رجوع کو کیا کہا گیا ہے؟ فئی کہا گیا ہے، اسی لیے فقہاء بھی قرآن ہی کا لفظ استعمال کرتے ہیں جیسے یہاں پر ہے: ”كَمَا فِي الْفَيْءِ فِي الْإِيلَاءِ“، یہ فئی ان سے کیا مراد ہے؟ رجوع، لیکن لفظ کس کا استعمال کر لیا؟ قرآن کا۔ ”كَمَا فِي الْفَيْءِ فِي الْإِيلَاءِ“ جیسے ایلاء کے اندر رجوع میں ہے۔ بھئی ایلاء کے اندر جب رجوع کیا جائے تو اس میں تو بالاتفاق گواہ بنانے شرط نہیں ہیں اور وہاں بھی رجوع ہے، بقائے نکاح ہے، تو جیسے وہاں بقائے نکاح ہے اور تو وہاں پر گواہوں کی شرط نہیں، تو طلاقِ رجعی کے بعد رجوع کے اندر بھی گواہوں کی شرط نہیں ہو گی۔ ”إِلَّا أَنَّهَا تُسْتَحَبُّ لِزِيَادَةِ الِاحْتِيَاطِ“ مگر یہ کہ یہ گواہ بنانا مستحب ہو گا زیادہ احتیاط کے طور پر۔ یاد رکھو صاحبِ ہدایہ نے یہ نہیں فرمایا کہ اشہاد مستحب ہو گا ”لِلِاحْتِيَاطِ“ احتیاط کی وجہ سے، بطورِ احتیاط کے نہیں بلکہ فرمایا: ”لِزِيَادَةِ الِاحْتِيَاطِ“ زیادہ احتیاط کے طور پر۔ تو صاحبِ ہدایہ نے یہاں احتیاط کے ساتھ زیادت کی قید لگا دی بھئی کہ یہ جو ہم نے حکم دیا ہے یہ زیادہ احتیاط کے طور پر ہے۔ وجہ یہ کہ اگر صاحبِ ہدایہ یہ کہتے کہ یہ مستحب ہے احتیاط کے طور پر، زیادہ کی قید نہ لگاتے کہ یہ مستحب ہے احتیاط کے طور پر ہم نے اشہاد کو ہم نے مستحب قرار دیا ہے، تو پھر کوئی معترض اعتراض کر سکتا تھا کہ بھئی آپ نے ہمیں پیچھے کتنے ہی مسائل بتائے جہاں احتیاط کی وجہ سے آپ نے وجوب کا حکم دیا تھا کہ ایسا کرنا واجب ہے، ضروری ہے اور بطورِ احتیاط کے ہم نے یہ حکم دیا ہے، تو اگر صاحبِ ہدایہ یہاں بھی احتیاط کہہ دیتے تو معترض اعتراض کر سکتا تھا کہ احتیاط کے طور پر بھی تو بعض اوقات چیز کو واجب قرار دے دیا جاتا ہے لہٰذا آپ کو اشہاد کو بھی واجب قرار دینا چاہیے۔ کیونکہ احتیاط کی وجہ سے بھی بعض اوقات چیزوں کو واجب قرار دیا جاتا ہے اور آپ بھی احتیاط کی بات کر رہے ہیں تو احتیاط کے طور پر اس کو بھی آپ واجب قرار دے دیتے۔ تو صاحبِ ہدایہ نے احتیاط کے ساتھ زیادت کا لفظ بڑھا دیا کہ ہم نے یہ جو گواہی کو مستحب قرار دیا ہے یہ زیادہ احتیاط کے طور پر ہے۔ تو احتیاط کے طور پر تو کوئی چیز واجب ہو جاتی ہے لیکن زیادہ احتیاط کے طور پر تو کسی چیز کو واجب قرار نہیں دیا جاتا بھئی۔ تو اس لیے صاحبِ ہدایہ نے یہاں ”لِزِيَادَةِ الِاحْتِيَاطِ“ کا لفظ ذکر کیا یعنی زیادت کے لفظ کو بڑھا دیا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”إِلَّا أَنَّهَا تُسْتَحَبُّ لِزِيَادَةِ الِاحْتِيَاطِ“ مگر یہ کہ یہ گواہ بنانا مستحب ہے زیادہ احتیاط کے لیے، ”كَيْ لَا يَجْرِيَ التَّنَاكُرُ فِيهَا“ تناکر کہتے ہیں باہم انکار۔ باب تفاعل ہے جو جانبین سے فعل چاہتا ہے: ”كَيْ لَا يَجْرِيَ التَّنَاكُرُ فِيهَا“ تاکہ کہیں باہم انکار جاری نہ ہو رجوع میں، خاوند یا بیوی میں سے کوئی انکار نہ کر دے بھئی۔ خاوند یا بیوی میں سے کوئی انکار نہ کر دے تو اس لیے گواہ بنانا مستحب ہے تاکہ کوئی بعد میں انکار نہ کر سکے۔ دوبارہ ترجمہ دیکھ لیجیے: ”إِلَّا أَنَّهَا تُسْتَحَبُّ لِزِيَادَةِ الِاحْتِيَاطِ كَيْ لَا يَجْرِيَ التَّنَاكُرُ فِيهَا“ مگر یہ کہ اشہاد جو ہے مستحب ہے زیادہ احتیاط کے لیے تاکہ کہیں ان دونوں کے درمیان باہمی انکار جاری نہ ہو رجوع میں، ”وَمَا تَلَاهُ مَحْمُولٌ عَلَيْهِ“ اور وہ آیت جو امام شافعی رحمہ اللہ نے تلاوت کی ”مَحْمُولٌ عَلَيْهِ“ وہ بھی اسی پر محمول ہے۔ یعنی اس کے اندر بھی جو ”أَشْهِدُوا“ امر آیا ہے وہ استحباب کے لیے ہے، وجوب کے لیے نہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَا تَلَاهُ مَحْمُولٌ عَلَيْهِ“ اور وہ آیت جو امام شافعی رحمہ اللہ نے تلاوت کی وہ بھی اسی استحباب پر محمول ہے، ”أَلَا تَرَى أَنَّهُ قَرَنَهَا بِالْمُفَارَقَةِ وَهُوَ فِيهَا مُسْتَحَبٌّ“ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے رجوع کے ساتھ ملایا ہے مفارقت کو اور اس کے اندر اشہاد مستحب ہے۔ بھئی قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ فَارِقُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ﴾، توجہ ہے؟ پہلے ﴿فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ﴾ امساک کا ذکر ہے، ﴿أَوْ فَارِقُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ﴾ پھر مفارقت کا ذکر ہے اور مفارقت کے بعد ﴿وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنكُم﴾ اشہاد کا ذکر ہے۔ تو اشہاد تو ملا ہوا ہے مفارقت کے ساتھ۔ توجہ ہے؟ اور مفارقت کے اندر تو بالاتفاق اشہاد مستحب ہے، واجب نہیں۔ خاوند اگر بیوی سے جدائی اختیار کرتا ہے، رجوع نہیں کرتا، تو اس پر گواہ بنانے کی ضرورت نہیں ہے بھئی، اس میں تو گواہ مستحب ہیں بھئی۔ تو جب مفارقت جس کے ساتھ اشہاد ملا ہوا ہے، جب اس مفارقت کے اندر اشہاد مستحب ہے، تو اس سے ماقبل جو رجوع کا ذکر ہو رہا ہے، امساک کا ذکر ہو رہا ہے، اس میں بطریق اولیٰ اشہاد مستحب ہو گا۔ ”أَلَا تَرَى أَنَّهُ قَرَنَهَا بِالْمُفَارَقَةِ“ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے رجعت کو ملایا ہے مفارقت کے ساتھ ”وَهُوَ فِيهَا مُسْتَحَبٌّ“ اور اشہاد اس کے اندر تو مستحب ہے۔ ”وَيُسْتَحَبُّ أَنْ يُعْلِمَهَا“ اور مستحب ہے کہ خاوند اس عورت کو بھی خبر دے دے۔ اگر خاوند نے عورت کی غیر موجودگی میں رجوع کیا ہے تو مستحب یہ ہے کہ عورت کو بھی اطلاع دے دے کہ میں نے رجوع کر لیا ہے تاکہ کہیں ایسا نہ ہو عورت یہ سمجھے کہ خاوند نے تو رجوع نہیں کیا، میری تو عدت گزر گئی، پھر وہ کہیں اور نکاح کر لے اور پھر وہ دوسرا خاوند بھی اس سے صحبت کرے، تو یہ تو عورت معصیت، گناہ میں مبتلا ہو گئی۔ کس میں؟ گناہ میں مبتلا ہو گئی کیونکہ اس کو پتہ ہی نہیں ہے کہ میرا خاوند تو مجھ سے رجوع کر چکا ہے، میرا تو اگلا نکاح جائز ہی نہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو کہتے ہیں: ”وَيُسْتَحَبُّ أَنْ يُعْلِمَهَا“ اور خاوند کے لیے مستحب ہے کہ اس عورت کو بھی خبر دے دے ”كَيْ لَا تَقَعَ فِي الْمَعْصِيَةِ“ تاکہ کہیں جو ہے عورت گناہ میں نہ واقع ہو جائے۔ سوال: جب عورت کو ایک معاملے کی خبر ہی نہیں ہے، خاوند نے رجوع کر لیا لیکن اس بیچاری کو تو نہیں پتہ کہ خاوند رجوع کر چکا ہے اور پھر وہ آگے نکاح کر لیتی ہے اور دوسرا خاوند اس کے ساتھ صحبت کرتا ہے، تو عورت کو تو مسئلے کا پتہ ہی نہیں ہے تو وہ گناہ گار کیسے ہے اس نکاح کے اندر بھئی؟ اعتراض سمجھ میں آ رہا ہے؟ تو پھر صاحب ہدایہ کے کہنے کا کیا مطلب ہے: ”كَيْ لَا تَقَعَ فِي الْمَعْصِيَةِ“ تاکہ کہیں وہ گناہ میں مبتلا نہ ہو جائے؟ تو شارحین جواب دیتے ہیں کہ گناہ گناہ ہے چاہے علم ہو یا علم نہ ہو۔ ہاں، بعض اوقات علم نہ ہو تو پھر سزا نہیں ہو گی، جیسے یہ عورت ہے اس کو پتہ ہی نہیں کہ میرا خاوند رجوع کر چکا ہے، یہ آگے نکاح کر لیتی ہے اور دوسرا خاوند اس سے صحبت کرتا ہے تو یہ سارا گناہ ہے۔ ہاں، وہ الگ بات ہے اس گناہ کی وجہ سے آخرت میں اس عورت کی پکڑ نہیں ہو گی، اس کو سزا نہیں ملے گی کیونکہ اس بیچاری کو پتہ نہیں تھا، تو عدمِ علم کی وجہ سے سزا تو نہیں ملے گی لیکن بہرحال معصیت تو معصیت ہی ہے بھئی، تو وہ معصیت ہی رہے گی بھئی۔ تو جب خاوند اس عورت کو خبر نہیں دے گا تو یہ آگے نکاح کرے گی اور دوسرا خاوند اس سے صحبت بھی کرے گا تو یہ معصیت میں مبتلا ہو جائے گی۔ یہ معنی ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو کہتے ہیں: ”وَيُسْتَحَبُّ أَنْ يُعْلِمَهَا“ اور خاوند کے لیے مستحب ہے کہ اس عورت کو بھی رجوع کی خبر دے دے ”كَيْ لَا تَقَعَ فِي الْمَعْصِيَةِ“ تاکہ کہیں وہ گناہ میں مبتلا نہ ہو جائے۔ آگے دیکھیے: ”وَإِذَا انْقَضَتِ الْعِدَّةُ فَقَالَ: كُنْتُ رَاجَعْتُهَا فِي الْعِدَّةِ“ صورت مسئلہ یہ ہے: عدت گزر گئی، بعد میں خاوند اور بیوی کا اختلاف ہوا، خاوند کہتا ہے میں نے عدت کے اندر رجوع کر لیا تھا اور عورت کہتی ہے نہیں اس نے رجوع نہیں کیا تھا، تو یاد رکھو پھر عورت کا قول معتبر ہے۔ عورت کا قول معتبر ہے اور اگر عورت نے خاوند کی تصدیق کر دی تو پھر اس صورت میں رجوع صحیح ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا انْقَضَتِ الْعِدَّةُ فَقَالَ: كُنْتُ رَاجَعْتُهَا فِي الْعِدَّةِ“ اور جب عدت گزر جائے پھر خاوند کہتا ہے کہ میں نے اس عورت سے عدت میں رجوع کر لیا تھا ”فَصَدَّقَتْهُ“ تو عورت بھی اس کی تصدیق کر دیتی ہے ”فَهِيَ رَجْعَةٌ“ تو یہ رجوع ہے، ”وَإِنْ كَذَّبَتْهُ فَالْقَوْلُ قَوْلُهَا“ اور اگر عورت نے خاوند کو جھٹلا دیا تو عورت کا قول معتبر ہے ”لِأَنَّهُ أَخْبَرَ عَمَّا لَا يَمْلِكُ إِنْشَاءَهُ فِي الْحَالِ فَكَانَ مُتَّهَمًا“ دیکھو عدت گزر چکی ہے اور عدت کے بعد خاوند کہتا ہے میں نے رجوع کر لیا تھا عدت کے اندر اور عورت اس کو جھٹلا دیتی ہے تو اس صورت میں عورت کا قول معتبر ہے۔ بھئی عورت کا قول کیوں معتبر ہے؟ خاوند کا قول کیوں نہیں معتبر؟ کہتے ہیں وجہ یہ کہ خاوند ایک ایسی بات ذکر کر رہا ہے جس پر فی الحال وہ قادر نہیں۔ اب تو عدت گزر چکی ہے، اس وقت تو خاوند رجوع نہیں کر سکتا، اس وقت تو خاوند رجوع کو وجود نہیں دے سکتا۔ جب ایک چیز کو یہ وجود نہیں دے سکتا اور پھر اس کو ذکر کر رہا ہے تو دلوں میں بدگمانی آتی ہے کہ یہ اس وقت رجوع کو وجود نہیں دے سکتا، اس وقت یہ رجوع نہیں کر سکتا، جب یہ رجوع نہیں کر سکتا تو اب ماضی کے اعتبار سے ویسے ہی جھوٹی خبر دے رہا ہے کہ میں نے رجوع کر لیا تھا۔ اس وقت تو کر نہیں سکتے، اب ماضی کی خبر دینا شروع کر دی کہ میں نے ماضی میں رجوع کر لیا تھا، تو دلوں میں بدگمانی آتی ہے۔ اس لیے خاوند کا قول معتبر نہیں بلکہ عورت کا قول معتبر ہے۔ یہ معنی ہے: ”لِأَنَّهُ أَخْبَرَ عَمَّا لَا يَمْلِكُ إِنْشَاءَهُ فِي الْحَالِ“ اس لیے کیونکہ خاوند نے خبر دی ہے عما اس چیز کی یعنی اس رجوع کی ”لَا يَمْلِكُ إِنْشَاءَهُ“ کہ خاوند اس کو وجود دینے کا مالک نہیں ہے ”فِي الْحَالِ“ فی الحال ”فَكَانَ مُتَّهَمًا“ تو خاوند کیا ہوا؟ متہم ہوا یعنی اس کے بارے میں دلوں میں بدگمانی آتی ہے۔ ”إِلَّا أَنَّ بِالتَّصْدِيقِ تَرْتَفِعُ التُّهْمَةُ“ مگر یہ کہ عورت کے تصدیق کر دینے سے وہ تہمت اٹھ جاتی ہے۔ عورت تصدیق کر دے تو تہمت ختم ہو گئی، رجوع ثابت ہو جائے گا۔ ”وَلَا يَمِينَ عَلَيْهَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور عورت پر اس معاملے کے اندر قسم بھی نہیں ہے۔ عورت پر اس معاملے میں قسم بھی نہیں ہے۔ یاد رکھو یہ صاحبِ ہدایہ بھی آگے ذکر کریں گے، پیچھے بھی صاحب ہدایہ نے اسی طرح ذکر فرمایا تھا۔ چھ مسئلے ایسے ہیں کہ جن کے اندر امام صاحب فرماتے ہیں کہ انکار کرنے والے پر قسم نہیں ہے۔ بھئی قسم کس چیز پر کھائی جاتی ہے؟ انکار پر، اس بات کے لیے بینہ چاہیے۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں چھ چیزیں ایسی ہیں کہ جن میں انکار کرنے والے کے ذمے قسم بھی نہیں ہے، وہ صرف عام لفظوں میں صرف رد کر دے تو کافی ہے، قسم کھانے کی حاجت نہیں ہے۔ اور یہ ذکر کیا تھا پیچھے بھی اسی طرح صاحبِ ہدایہ نے مختصر لفظوں میں بس اشارہ ہی کیا تھا وہ جہاں ذکر آیا تھا صغیر اور صغیرہ کا نکاح۔ ”بَابٌ فِي الْأَوْلِيَاءِ وَالْأَكْفَاءِ“ کے اندر بھئی صغیر اور صغیرہ کے نکاح کی بات آئی تھی کہ ولی ان کا نکاح کروا سکتا ہے، تو وہاں صاحب ہدایہ نے بتلایا تھا کہ چھ چیزیں جو ہیں ان میں قسم طلب کرنے کے معاملے میں اختلاف ہے اور وہ چھ چیزیں وہ کون سی تھیں؟ وہ وہیں حاشیے میں دی ہوئی تھیں: ایک نکاح ہے، ایک رجعت ہے یعنی رجوع کرنا، اور ایک فئی فی الایلاء ہے ایلاء کے اندر رجوع کرنا، اسی طرح الرق اور غلامی ہے، والاستیلاد اور ام ولد ہونا، والنسب اور نسب۔ یہ چھ چیزیں ہیں، ان میں اگر کوئی انکار کر رہا ہے، ایک دعویٰ کر رہا ہے اور دوسرا انکار کر رہا ہے تو منکر پر قسم بھی نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا يَمِينَ عَلَيْهَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور اس عورت پر قسم بھی نہیں ہے امام صاحب کے نزدیک ”وَهِيَ مَسْأَلَةُ الِاسْتِحْلَافِ فِي الْأَشْيَاءِ السِّتَّةِ“ اور یہ وہ چھ چیزوں کے اندر قسم طلب کرنے کا مسئلہ ہے ”وَقَدْ مَرَّ فِي كِتَابِ النِّكَاحِ“ اور تحقیق یہ بات کتاب النکاح میں گزر چکی ہے بھئی۔ امام صاحب کے نزدیک اس مسئلے کے اندر عورت پر قسم بھی نہیں ہے لیکن یاد رکھو صاحبین کے نزدیک ان مسائل کے اندر بھی منکر پر قسم آئے گی بھئی اور فتویٰ صاحبین کے قول پر ہے بھئی، تو لہٰذا یہاں پر بھی صاحبین کے نزدیک عورت سے قسم لی جائے گی اور پھر ہی عورت کا قول قبول کیا جائے گا بھئی۔ آگے دیکھیے: ”وَإِذَا قَالَ الزَّوْجُ: قَدْ رَاجَعْتُكِ، فَقَالَتْ مُجِيبَةً لَهُ: قَدِ انْقَضَتْ عِدَّتِي، لَمْ تَصِحَّ الرَّجْعَةُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ فقہاء پر اللہ کی کروڑہا رحمتیں ہوں بھئی، ایک ایک مسئلے کی صورت ذکر فرما دی۔ اب اگلا مسئلہ سنو ذرا۔ صورت مسئلہ یہ ہے: خاوند نے بیوی سے کہا: ”قَدْ رَاجَعْتُكِ“ میں نے رجوع کر لیا، بیوی فوراً بولی: میری عدت تو گزر چکی ہے۔ ادھر خاوند نے کہا، ادھر بیوی نے کہا، درمیان میں ایک لمحے کا بھی وقفہ نہیں ہے۔ خاوند نے کہا ”قَدْ رَاجَعْتُكِ“ میں نے تجھ سے رجوع کیا، بیوی فوراً بولی، بالکل متصل بولی، ایک لمحہ بھی بیچ میں نہیں رکی، ادھر خاوند کی بات پوری ہو رہی تھی ادھر بیوی کی بات شروع ہو رہی تھی، خاوند کہتا ہے میں نے رجوع کر لیا وہ فوراً کہتی ہے میری تو عدت گزر چکی، تو امام صاحب فرماتے ہیں رجوع صحیح نہیں۔ رجوع صحیح نہیں، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں رجوع صحیح ہے۔ بھئی رجوع کیسے صحیح ہے؟ صاحبین فرماتے ہیں دیکھو عدت کے گزرنے کا پتہ ہمیں تبھی چلے گا جب بیوی خبر دے گی اور بیوی نے خبر بعد میں دی ہے اور خاوند نے رجوع پہلے کیا ہے، معلوم ہوا عدت کے اندر ہی خاوند رجوع کر چکا ہے اور جب عورت نے عدت کے گزرنے کی خبر دی تو اس سے تو خاوند نے پہلے ہی رجوع کر لیا تھا، ویسے تو ہمیں عدت کے گزرنے کا پتہ نہیں چلے گا، کس سے پتہ چلے گا؟ عورت کے خبر دینے سے، اور عورت خاوند کے رجوع کے بعد خبر دے رہی ہے، معلوم ہوا عدت بعد میں ختم ہوئی ہے اور خاوند کا قول پہلے آیا ہے۔ دیکھیے بھئی پھر آگے امام صاحب کی دلیل بھی ذکر کریں گے۔ ”وَإِذَا قَالَ الزَّوْجُ“ اور جس وقت خاوند نے بیوی سے کہا ”قَدْ رَاجَعْتُكِ“ کہ میں نے تحقیق تجھ سے رجوع کر لیا ”فَقَالَتْ مُجِيبَةً لَهُ“ تو بیوی نے فوراً اس کو جواب دیتے ہوئے کہا، یہ یاد رکھنا بیوی نے ساتھ ملا کر کہا ہے درمیان میں وقفہ نہیں، اگر کچھ دیر سکوت رہا پھر بیوی نے کہا پھر تو بالاتفاق رجوع ہو جائے گا بھئی، ”فَقَالَتْ مُجِيبَةً لَهُ“ تو عورت نے اس کو جواب دیتے ہوئے کہا ”قَدِ انْقَضَتْ عِدَّتِي“ کہ تحقیق میری عدت تو گزر چکی ہے ”لَمْ تَصِحَّ الرَّجْعَةُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ تو امام صاحب کے نزدیک رجوع صحیح نہیں ہے، ”وَقَالَا: تَصِحُّ“ اور صاحبین فرماتے ہیں رجوع صحیح ہے ”لِأَنَّهَا صَادَفَتِ الْعِدَّةَ“ اس لیے کیونکہ رجوع نے ملاقات کر لی، صادف یصادف کا کیا معنی؟ ملاقات کرنا، ”لِأَنَّهَا صَادَفَتِ الْعِدَّةَ“ اس لیے کیونکہ رجوع نے عدت کے ساتھ ملاقات کر لی۔ عورت نے جب خبر دی وہ بعد میں دی اور خاوند نے پہلے رجوع کر لیا۔ عورت کی عدت کے گزرنے کا پتہ ہمیں کیسے چلے گا؟ وہ خبر دے گی، اور خبر تو وہ بعد میں دے رہی ہے خاوند تو اس سے پہلے رجوع کر رہا ہے، تو رجوع نے کس سے ملاقات کر لی؟ عدت سے، تو لہٰذا رجوع ہو گیا۔ یہ معنی ہے: ”لِأَنَّهَا صَادَفَتِ الْعِدَّةَ“ اس لیے کیونکہ رجوع نے عدت کے ساتھ ملاقات کر لی ”إِذْ هِيَ بَاقِيَةٌ ظَاهِرًا إِلَى أَنْ تُخْبِرَ“ اس لیے کیونکہ ظاہر یہی ہے کہ عدت باقی ہے ”إِلَى أَنْ تُخْبِرَ“ یہاں تک کہ عورت خبر دے دے اس کے گزرنے کی، ”وَقَدْ سَبَقَتْهُ الرَّجْعَةُ“ اور تحقیق وہ خبر دینے پر تو رجوع مقدم ہو گیا، رجوع پہلے ہو گیا، ”وَلِهَذَا لَوْ قَالَ لَهَا: طَلَّقْتُكِ“ اور اسی لیے اگر خاوند نے بیوی سے کہا: ”طَلَّقْتُكِ“۔ دوسری صورت، صاحبین اس کو قیاس کرتے ہیں طلاق پر۔ اس رجوع کو کس پر قیاس کرتے ہیں؟ طلاق پر۔ تو آپ جانتے ہیں کہ عدت کے اندر بھی خاوند طلاق دے سکتا ہے۔ خاوند نے بیوی کو طلاق دے دی ہے اب عورت عدت گزار رہی ہے، عدت کے اندر بھی خاوند اور طلاقیں دے گا وہ واقع ہوتی چلی جائیں گی۔ توجہ ہے؟ تو اب صورت مسئلہ یہ ہے خاوند نے ایک طلاق دے دی ہے عورت عدت گزار رہی ہے، اب عدت کے آخری دنوں میں خاوند بیوی کو کہتا ہے کہ میں نے تجھے طلاق دے دی، عورت ساتھ ہی ملا کر کہتی ہے میری تو عدت گزر چکی، ادھر خاوند کے لفظ ختم ہو رہے ہیں ادھر عورت کے لفظ شروع ہو رہے ہیں درمیان میں وقفہ نہیں، تو خاوند نے کہا میں نے تجھے طلاق دے دی ساتھ ہی عورت کہتی ہے میری تو عدت گزر گئی، تو یہاں اس صورت میں یاد رکھو بالاتفاق طلاق واقع ہو جائے گی۔ بالاتفاق طلاق واقع ہو جائے گی۔ کیوں واقع ہو جائے گی؟ کیونکہ جب عورت نے خبر دی ہے تب عدت ختم ہوئی ہے اور خاوند نے تو عورت کے خبر دینے سے پہلے طلاق دے دی ہے بھئی۔ تو صاحبین فرماتے ہیں جیسے عورت کے خبر دینے سے پہلے طلاق صحیح ہے اسی طرح رجوع بھی صحیح ہے بھئی۔ توجہ ہے؟ جیسے رجوع عدت کے بعد نہیں ہو سکتا اسی طرح طلاق بھی عدت کے بعد نہیں ہو سکتی، تو جب طلاق صحیح ہے تو رجوع بھی صحیح ہو گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ ”وَلِهَذَا لَوْ قَالَ لَهَا: طَلَّقْتُكِ“ اور اسی وجہ سے خاوند نے اگر بیوی سے کہا ”طَلَّقْتُكِ“ میں نے تجھے طلاق دے دی ”فَقَالَتْ مُجِيبَةً لَهُ: قَدِ انْقَضَتْ عِدَّتِي“ عورت نے اس کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ تحقیق میری عدت گزر چکی ہے ”يَقَعُ الطَّلَاقُ“ تو طلاق واقع ہو جائے گی۔ ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ امام صاحب کی دلیل یہ ہے۔ صاحبین کی کیا دلیل تھی؟ کہ جب عورت نے خبر دی ہے تب عدت ختم ہوئی ہے تو خاوند کا قول عدت کے اندر آ گیا اور عدت کے اندر تو رجوع ہو سکتا ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ عورت جس وقت خبر دے رہی ہے معلوم ہوا عدت اس سے پہلے گزری ہے، عدت گزرنے کے بعد خبر وہ دے رہی ہے، توجہ ہے؟ تو عدت پہلے ختم ہو چکی ہے، پتہ نہیں کل ختم ہوئی ہے یا پرسوں ہوئی ہے، ترسوں ہوئی ہے، عدت ختم ہو چکی ہے لیکن سب سے قریب وقت عورت کے قول سے پہلے کا ہے۔ ہم یہ نہیں کہتے کل ختم ہوئی ہے یا پرسوں ختم ہوئی ہے، ہم کہتے ہیں جس وقت عورت نے اطلاع دی ہے اس سے پہلے ختم ہوئی ہے، عین اس سے پہلے عدت ختم ہوئی اور عورت نے فوراً کیا کیا؟ اطلاع دے دی، اور عین جس وقت عدت ختم ہو رہی ہے اسی وقت خاوند انت طالق بھی کہہ رہا ہے۔ تو خاوند کے انت طالق نے عدت سے ملاقات نہیں کی بلکہ انقضائے عدت سے ملاقات کی ہے۔ صاحبین تو کیا کہتے تھے؟ خاوند کا قول کس میں آ گیا؟ عدت کے اندر آ گیا، امام صاحب فرماتے ہیں نہیں عورت جب خبر دے رہی ہے تو عدت پہلے ختم ہو چکی ہے اور سب سے قریب وقت وہی ہے جو اس کے ساتھ متصل جس میں خاوند قول کر رہا ہے، معلوم ہوا جس وقت خاوند قول کر رہا ہے عین اس وقت عدت ختم ہو رہی ہے۔ تو خاوند کے قول نے عدت سے ملاقات کی ہے یا انقضائے عدت سے ملاقات کی ہے؟ انقضائے عدت سے، عدت کے ختم ہونے کے ساتھ ملاقات کی ہے۔ تو رجوع عدت کے اندر ہو سکتا ہے، ختمِ عدت کے موقع پر رجوع نہیں ہو سکتا لہٰذا رجوع صحیح نہیں ہے بھئی۔ ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ: أَنَّهَا صَادَفَتْ حَالَةَ الِانْقِضَاءِ“ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ رجوع نے ملاقات کی ہے انقضائے عدت کی حالت سے، عدت کے گزرنے کی حالت سے، ”لِأَنَّهَا أَمِينَةٌ فِي الْإِخْبَارِ عَنِ الِانْقِضَاءِ“ اس لیے کیونکہ عورت جو ہے امانت دار ہے عدت کے گزرنے کی خبر دینے میں۔ جب وہ کہہ رہی ہے عدت گزر گئی، معلوم ہوا اس بولنے سے پہلے کیا ہوئی ہے؟ عدت ختم ہو چکی ہے، تو اس کی بات مانی جائے گی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهَا أَمِينَةٌ فِي الْإِخْبَارِ عَنِ الِانْقِضَاءِ“ اس لیے کیونکہ عورت امانت دار ہے عدت کے گزرنے کی خبر دینے میں، ”فَإِذَا أَخْبَرَتْ دَلَّ ذَلِكَ عَلَى سَبْقِ الِانْقِضَاءِ“ جب عورت نے خبر دے دی عدت کے گزرنے کی اس بات نے دلالت کر دی کہ عدت کا گزرنا پہلے ہو چکا ہے، خبر اس کے بعد دے رہی ہے، ”وَأَقْرَبُ أَحْوَالِهِ حَالُ قَوْلِ الزَّوْجِ“ اور سب سے قریبی حالت اس کے وہ خاوند کے قول کی حالت ہے، یعنی جس وقت خاوند قول کر رہا ہے ”قَدْ رَاجَعْتُكِ“ کہہ رہا ہے عین اسی وقت عدت بھی ختم ہو رہی ہے، سب سے قریب یہی ہے، سب سے قریب صورت یہی ہے بھئی۔ ”وَأَقْرَبُ أَحْوَالِهِ“ اور عدت کے گزرنے کی سب سے قریبی حالت جو ہے ”حَالُ قَوْلِ الزَّوْجِ“ وہ خاوند کے قول کی حالت ہے، ”وَمَسْأَلَةُ الطَّلَاقِ عَلَى الْخِلَافِ“ اچھا بھئی صاحبین نے رجوع کو قیاس کیا تھا طلاق پر کہ اس حالت میں طلاق دے تو طلاق واقع ہو جاتی ہے تو رجوع اس حالت میں کرے تو وہ بھی واقع ہونا چاہیے۔ تو اب اس کا جواب دے رہے ہیں کہ طلاق کے مسئلے میں بھی اختلاف ہے، ہمیں یہ بات آپ کی تسلیم ہی نہیں ہے کہ یہ مسئلہ اتفاقی ہے۔ صاحبین نے تو قیاس کیا تھا رجوع کو کس پر؟ طلاق پر، کہ طلاق میں تو بالاتفاق طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ کہتے ہیں نہیں، طلاق میں بھی اسی طرح امام صاحب اختلاف کرتے ہیں کہ طلاق نے بھی عدت سے ملاقات نہیں کی بلکہ انقضائے عدت سے ملاقات کی ہے لہٰذا طلاق بھی واقع نہیں ہو گی۔ طلاق بھی واقع نہیں ہو گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَسْأَلَةُ الطَّلَاقِ عَلَى الْخِلَافِ“ اور طلاق کا مسئلہ بھی اسی اختلاف پر ہے، ”وَلَوْ كَانَتْ عَلَى الِاتِّفَاقِ“ اور اگر وہ اتفاق پر ہو، بھئی اگر ہم آپ کی بات تسلیم بھی کر لیں کہ طلاق کا مسئلہ اتفاقی ہے اس میں امام صاحب بھی فرماتے ہیں کہ طلاق ہو جائے گی تو اس کی وجہ اب ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ”وَلَوْ كَانَتْ عَلَى الِاتِّفَاقِ: فَالطَّلَاقُ يَقَعُ بِإِقْرَارِهِ بَعْدَ الِانْقِضَاءِ، وَالْمُرَاجَعَةُ لَا تَثْبُتُ بِهِ“ کہتے ہیں طلاق بعد میں بھی طلاق کا اقرار کرے گا تو طلاق واقع ہو جائے گی۔ عدت کے گزرنے کے بعد بھی طلاق کا اقرار کرے گا تو طلاق ثابت ہو جائے گی لیکن عدت کے گزرنے کے بعد رجوع کا اقرار کرے گا تو رجوع ثابت نہیں ہو گا۔ طلاق ثابت ہو جائے گی، رجوع ثابت نہیں۔ وجہ یہ کہ طلاق کے اندر خاوند کا نقصان ہے، خاوند عدت کے گزرنے کے بعد کیا کہتا ہے؟ میں نے اس کو ایک اور طلاق بھی دی تھی عدت میں، تو اس میں خاوند کا فائدہ ہے یا نقصان ہے؟ اس میں خاوند کا نقصان ہے لہٰذا طلاق کے مسئلے میں تو عدت کے بعد بھی خاوند اقرار کرے تو اس کا قول قبول کر لیا جاتا ہے لیکن رجوع کے اندر تو خاوند کا فائدہ ہے، بیوی ہاتھ میں رہے گی، توجہ ہے؟ لہٰذا عدت کے گزرنے کے بعد رجوع کے بارے میں خاوند اقرار کرتا ہے کہ میں نے بیوی سے رجوع کر لیا تھا تو وہاں خاوند کی بات قبول نہیں کی جاتی کیونکہ دلوں میں بدگمانی آتی ہے۔ بھئی دیکھو نا عدت گزر گئی، پچھلا مسئلہ ذکر ہوا تھا کہ عدت کے گزرنے کے بعد خاوند کہہ رہا ہے میں نے رجوع کر لیا تھا اگر بیوی تصدیق کر دے خاوند کی تو رجوع ہے، بیوی تکذیب کرے تو رجوع نہیں ہے، عورت کا قول معتبر ہے۔ کیوں؟ کیونکہ عدت گزر چکی ہے خاوند اس وقت رجوع کو وجود نہیں دے سکتا، رجوع اس وقت تو کر نہیں سکتا تو وہ اس لیے ماضی کی خبر دے رہا ہے، دلوں میں بدگمانی آتی ہے یہ جھوٹ بول رہا ہے اپنے نفع کی خاطر۔ تو طلاق میں تو خاوند کا نقصان ہے اور عدت کے اندر خاوند کا فائدہ ہے لہٰذا عدت کے گزرنے کے بعد خاوند اگر طلاق کے بارے میں اقرار کرے کہ میں نے ایک اور طلاق بھی عدت کے اندر بیوی کو دی تھی تو اس کے اقرار کو تو قبول کر لیا جائے گا طلاق کے بارے میں لیکن عدت کے اندر خاوند کے اقرار کو قبول نہیں کیا جائے گا کیونکہ اس میں اس کا فائدہ ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ كَانَتْ عَلَى الِاتِّفَاقِ“ اور اگر یہ طلاق کا مسئلہ اتفاق پر ہو یعنی اس میں امام صاحب کا قول بھی یہی ہو جو صاحبین نے ذکر کیا کہ طلاق واقع ہو جائے گی، تو کہتے ہیں اس لیے کیونکہ ”فَالطَّلَاقُ يَقَعُ بِإِقْرَارِهِ بَعْدَ الِانْقِضَاءِ“ اس لیے کیونکہ طلاق جو ہے وہ واقع ہو جاتی ہے عدت کے گزرنے کے بعد بھی خاوند کے اقرار کرنے سے ”وَالْمُرَاجَعَةُ لَا تَثْبُتُ بِهِ“ اور رجوع کرنا جو ہے وہ خاوند کے اقرار سے ثابت نہیں ہوتا عدت کے گزرنے کے بعد۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ چلیے بس بھئی ”هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“۔