آگے سبق دیکھیے بھئی: ”وَلَوْ قَالَ إِذَا جَاءَ غَدٌ فَأَنْتِ طَالِقٌ ثِنْتَيْنِ، وَقَالَ الْمَوْلَى إِذَا جَاءَ غَدٌ فَأَنْتِ حُرَّةٌ، فَجَاءَ الْغَدُ لَمْ تَحِلَّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ وَعِدَّتُهَا ثَلَاثُ حِيَضٍ، وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى، وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: زَوْجُهَا يَمْلِكُ الرَّجْعَةَ“. گزشتہ سبق میں متن کے اندر مسئلہ ذکر ہوا تھا کہ خاوند نے اگر بیوی سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً أَوْ لَا“، اور پھر متن میں ذکر ہوا تھا کہ یہ کچھ بھی نہیں ہے یعنی اس سے طلاق واقع نہیں ہوگی بھئی۔ اور صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ یہ عبارت جو ہے، یہ متن جامع صغیر سے لیا گیا ہے، اور جامع صغیر کے اندر یہاں پر کوئی اختلاف ذکر نہیں ہے، حالانکہ یہ امام صاحب کا قول ہے اور نیز یہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا دوسرا قول ہے، جبکہ امام محمد رحمہ اللہ کا قول اس کے خلاف ہے، ان کے نزدیک عورت کو طلاقِ رجعی ہو جائے گی اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا بھی یہی قول تھا پہلے بھئی۔ تو لہذا یہاں پر تو اختلاف ذکر نہیں کیا گیا لیکن اس مسئلے میں اختلاف موجود ہے۔ اور پھر حوالہ دیا صاحبِ ہدایہ نے مبسوط کا کہ مبسوط کی کتاب الطلاق سے امام محمد رحمہ اللہ کے مذہب کا پتہ چلتا ہے اس مسئلے کے اندر۔ وہ فرماتے ہیں: اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہتا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً أَوْ لَا شَيْئًا“، تو وہاں مبسوط میں ”وَاحِدَةً أَوْ لَا شَيْئًا“ یعنی ”لَا“ کے ساتھ ”شَيْء“ کا لفظ بھی ذکر ہے بھئی، اور دونوں مسئلوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ تو وہاں پر امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک طلاقِ رجعی ہو جائے گی، تو اس کا تقاضا ہے کہ یہاں پر بھی ان کے قول کے مطابق ایک طلاق ہونی چاہیے بھئی۔ تو لہذا معلوم ہوا جو متن کے اندر ذکر کیا گیا ہے یہ حضرت شیخین رحمہما اللہ کا قول ہے، لیکن اگر یہ مان لیا جائے کہ یہ سب کا قول ہے، تو پھر اس صورت میں کہنا پڑے گا کہ امام محمد رحمہ اللہ سے اس سلسلے میں دو روایتیں ہیں۔ ایک روایت تو یہی جو متن میں آ گئی کہ کچھ بھی واقع نہیں ہوگا، اور دوسری وہ روایت جو مبسوط کی کتاب الطلاق میں ذکر ہے کہ ایک طلاقِ رجعی واقع ہو جائے گی۔ اور وجہ اس کی ذکر فرماتے ہیں صاحبِ ہدایہ کہ ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً أَوْ لَا“، یہاں پر متکلم جو ہے اس نے ”وَاحِدَةً“ اور ”لَا“ کے درمیان ”أَوْ“ کو ذکر کر دیا کہ تمہیں ایک طلاق ہے یا نہیں ہے، تو اس کی وجہ سے شک واقع ہو گیا، تو یہ ”وَاحِدَةً“ تو ساقط ہو جائے گا لیکن اس سے ماقبل ”أَنْتِ طَالِقٌ“ تو موجود ہے، وہ اپنا اثر دکھائے گا اور وہ صریح ہے تو اس سے ایک رجعی طلاق ہو جائے گی۔ جبکہ شیخین رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے کہ جب بھی وصف کے ساتھ عدد کو ذکر کیا جائے تو طلاق عدد سے واقع ہوتی ہے بھئی، اور لہذا یہاں پر جب ”وَاحِدَةً أَوْ لَا“ کہا تو یہاں عدد موجود ہے تو طلاق نے اسی عدد سے واقع ہونا ہے، لیکن یہیں پر اس کے ساتھ ”أَوْ لَا“ کو بھی ذکر کر دیا، تو اب اس کی طلاق کے واقع ہونے میں شک آ گیا، اور شک کی وجہ سے طلاق کو واقع قرار نہیں دیا جا سکتا، تو لہذا یہ کلام لغو ہو جائے گا بھئی۔ اور پھر یہ مسئلہ ذکر کیا: اگر خاوند اپنی بیوی سے کہتا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ مَعَ مَوْتِي“ کہ تجھے طلاق ہے میری موت کے ساتھ، یا خاوند اسے کہتا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ مَعَ مَوْتِكِ“ کہ تجھے تیری موت کے ساتھ طلاق ہے، تو پھر اس صورت کے اندر اس سے بھی طلاق واقع نہیں ہوگی بھئی۔ اس لیے کیونکہ یہاں پر طلاق کو معلق کر دیا ہے موت کے ساتھ، جیسے آگے صاحبِ ہدایہ نے بھی پھر ایک مثال میں ذکر فرمایا۔ تو تطلیق کو معلق کر دیا، میں نے بتلایا ایک ہے طلاق اور ایک ہے تطلیق۔ تطلیق جو ہے یہ خاوند کا فعل ہے یعنی طلاق دینا، اور طلاق جو ہے وہ اس تطلیق کا اثر ہے، خاوند جب طلاق دے گا تو عورت طلاق والی ہو جائے گی، تو یہ طلاق جو ہے یہ تطلیق کا اثر ہے۔ تو لہذا یہاں پر جب خاوند نے بیوی سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ مَعَ مَوْتِي“، تو یہاں پر اس نے تطلیق کو معلق کر دیا موت کے ساتھ، اور میں نے بتلایا تھا کہ عند الاحناف معلق جو ہے وہ سبب بنتا ہے شرط کے وقت، جب شرط پائی جائے گی تو پھر اس وقت یہ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ آئے گا اور عورت کو طلاق واقع ہو جائے گی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ جبکہ شوافع کے نزدیک معلق جو ہوتا ہے وہ سبب بنتا ہے عند التکلم، البتہ حکم نہیں آتا۔ مثلاً ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ“ کہ تجھے طلاق ہے اگر تو اس گھر میں گئی، تو یہ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ اس وقت طلاق کا سبب بن رہا ہے جب خاوند نے تکلم کیا۔ لیکن آگے آنے والی جو شرط ہے ”إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ“ اگر تو اس گھر میں گئی، اس شرط نے اس کے حکم کو روک دیا۔ تو ”أَنْتِ طَالِقٌ“ طلاق کا سبب بن رہا ہے لیکن حکم یعنی طلاق نہیں آ رہی ”إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ“ کی وجہ سے، اور جب یہ شرط پائی جائے گی یعنی عورت جب اس گھر میں جائے گی تو ساتھ ہی پھر طلاق آ جائے گی۔ تو ”أَنْتِ طَالِقٌ“ طلاق کا سبب بنا تکلم کے وقت لیکن حکم مؤخر ہو گیا، حکم پایا جائے گا جب شرط پائی جائے گی۔ جبکہ عند الاحناف معلق جو ہے وہ تکلم کے وقت طلاق کا سبب بنتا ہی نہیں بھئی، بلکہ یہ طلاق کا سبب تب بنے گا جب دخولِ دار پایا جائے گا۔ جب عورت اس گھر میں داخل ہوگی تو اس وقت ”أَنْتِ طَالِقٌ“ طلاق کا سبب بنے گا، تو گویا اس وقت ”أَنْتِ طَالِقٌ“ آئے گا اور ساتھ ہی عورت کو طلاق ہو جائے گی۔ تو ضابطہ کیا ہوا؟ عند الشوافع معلق وہ سبب بنتا ہے عند التکلم، البتہ حکم مؤخر ہو جاتا ہے، اور جبکہ عند الاحناف معلق جو ہے وہ سبب بنتا ہے عند الشرط، جب شرط کا وجود پایا جائے گا بھئی۔ تو لہذا یہ ”أَنْتِ طَالِقٌ مَعَ مَوْتِي“، تو یہاں پر جب موت آئے گی خاوند کی تو اس وقت ”أَنْتِ طَالِقٌ“ سبب بنے گا، تو اس وقت تطلیق پائی جائے گی اور جب تطلیق پائی جائے گی تو اس کے بعد طلاق آیا کرتی ہے، ”أَنْتِ طَالِقٌ“ پورا ہوگا تو طلاق آئے گی، اور ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کے وقت تو موت آ رہی ہے، جب تک ”أَنْتِ طَالِقٌ“ پورا ہوا موت بھی ہو چکی ہے اور اس کے بعد طلاق آ رہی ہے، اور اب تو خاوند میں طلاق دینے کی اہلیت ہی نہیں ہے، وہ تو مر چکا ہے، لہذا یہ کلام لغو ہو جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یا اگر عورت کی موت پر معلق کیا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ مَعَ مَوْتِكِ“، تو پھر عین عورت کی موت کے وقت ”أَنْتِ طَالِقٌ“ آ رہا ہے یعنی تطلیق آ رہی ہے اور پھر جب عورت مر چکی تو تب طلاق آئے گی، اب تو عورت مر چکی ہے وہ تو طلاق کا محل ہی نہیں ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو طلاق کے لیے ضروری ہے کہ خاوند میں طلاق کی اہلیت ہو اور بیوی جو ہے وہ طلاق کا محل ہو، پھر ہی طلاق ہوتی ہے، ویسے نہیں۔ تو دونوں صورتوں میں ایک میں یا تو خاوند کی اہلیت فوت ہو چکی ہے لہذا طلاق نہیں ہوگی، یا بیوی کا محل ہونا فوت ہو چکا ہے لہذا طلاق واقع نہیں ہوگی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی مسئلہ ذکر کیا کہ اگر خاوند بیوی کا مالک بن جائے، چاہے پوری اس کی ذات کا مالک بنے یا جز کا مالک بنے، تو اس صورت میں نکاح ختم ہو جائے گا، یا بیوی خاوند کی مالک بن جائے، چاہے پورے خاوند کی مالک بنے چاہے اس کے جز کی مالک بنے، دونوں صورتوں میں نکاح جو ہے وہ ختم ہو جائے گا۔ وجہ یہ، اس لیے کیونکہ اگر عورت مالک بنے گی تو عورت جو ہے وہ تو مملوکہ تھی، اسی لیے تو خاوند کو ناکح کہتے ہیں نکاح کرنے والا اور عورت کو منکوحہ کہتے ہیں، تو خاوند کو ملکِ نکاح حاصل ہے اور کس پر حاصل ہے؟ بیوی پر، تو وہ مملوکہ ہوئی۔ اس میں کیا ہے؟ خاوند کی ملکِ نکاح ہے، تو معلوم ہوا بیوی مملوکہ ہے، لیکن جب اس نے خاوند کو خریدا تو یہ خاوند کی مالک بن گئی، تو وہی عورت خاوند کی نسبت سے مالک بھی ہے مملوک بھی ہے، ایسا نہیں ہو سکتا بھئی۔ ایک وقت میں ایک شخص مالک بن سکتا ہے ایک چیز کا یا اس کا مملوک بن سکتا ہے، دونوں صفتیں اکٹھی ایک ہی حیثیت سے نہیں آ سکتیں بھئی، توجہ ہے؟ تو لہذا اس صورت میں جب بیوی خاوند کی مالکن بن گئی ہے تو خاوند کی اس کے اوپر جو ملکِ نکاح تھی وہ ختم ہو چکی، وہ باقی نہیں رہ سکتی۔ اور اگر اس کے مقابلے میں خاوند نے بیوی کو خریدا ہے تب بھی نکاح باقی نہیں رہے گا۔ اس لیے کیونکہ خاوند کو جو عورت پر شریعت نے ملکِ نکاح دی ہے وہ ضرورت کی وجہ سے ہے بقائے نسل کے لیے تاکہ اس کی نسل باقی رہ سکے۔ تاکہ نسل باقی رہ سکے، تو یہ ملکیت، یہ جو ملکِ نکاح شریعت نے دی ہے خاوند کو یہ ضرورت کی بنا پر ہے کیونکہ خاوند اپنی بقائے نسل کا محتاج ہے، انسان کیا ہے؟ اپنی بقائے نسل کا محتاج ہے، تو اس ضرورت کی وجہ سے شریعت نے اس کو ملکِ نکاح دی ہے ورنہ تو حرہ پر کسی کو ملکیت حاصل نہیں ہو سکتی، آزاد عورت ہے تو اس پر ملکیت نہیں ہونی چاہیے، لیکن ضرورت کی وجہ سے اور حاجت کی وجہ سے شریعت نے ملکِ نکاح دی ہے۔ اور جب ملکِ یمین آ گئی تو جب اصل ملکیت آ گئی تو یہ جو ملکیت جو ضرورت کی وجہ سے تھی، اب اس کی کوئی حاجت اور ضرورت نہ رہی، لہذا یہ ختم ہو گئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ لہذا دونوں میں سے کوئی ایک بھی دوسرے کا مالک بنے گا، فوراً نکاح ختم ہو جائے گا، اور پھر خاوند طلاق دیتا ہے تو وہ لغو چلی جائے گی، کیونکہ نکاح ختم ہو چکا، حالانکہ طلاق کے لیے تو نکاح کا پورے طور پر باقی رہنا یا بعض اعتبار سے باقی رہنا ضروری ہے بھئی۔ اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا تھا کہ ایک شخص نے کسی کی باندی سے نکاح کیا ہوا ہے اور وہ اس باندی سے کہتا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ ثِنْتَيْنِ مَعَ عِتْقِ مَوْلَاكِ إِيَّاكِ“ کہ تجھے دو طلاقیں ہیں تیرے آقا کے تجھے آزاد کرنے کے ساتھ۔ صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ یہاں عتق کا لفظ ذکر ہے متن میں، لیکن یہ عتق اپنے حقیقی معنی میں بھی ہو سکتا ہے اور یہ اعتاق کے معنی میں بھی ہو سکتا ہے۔ تو اگر عتق بمعنی اعتاق کے ہوا تو یہ اس کا مجازی معنی ہے، اور اگر عتق کو اپنے ہی معنی میں رکھتے ہیں تو پھر اعتاق یہاں مقدر نکال لیں گے: ”أَنْتِ طَالِقٌ ثِنْتَيْنِ مَعَ عِتْقٍ بِإِعْتَاقِ مَوْلَاكِ إِيَّاكِ“۔ تو یہاں اعتاق ہونا ضروری ہے، میں نے بتایا تھا، اس لیے کیونکہ اعتاق یہ ہے آقا کا فعل، آقا آزاد کرے گا تو عورت آزاد ہوگی۔ تو اعتاق ہے علت، اور عتق اس کا معلول ہے، اس کا اثر ہے، اس کا حکم ہے۔ تو جب مالک اعتاق کرے گا تو عتق آ جائے گا۔ تو لہذا یا تو اس عتق کو ہی اعتاق کے معنی میں لینا پڑے گا یا یہاں پر اعتاق کو مقدر نکالنا پڑے گا کیونکہ اعتاق کے بغیر عتق نہیں ہو سکتا۔ تو لہذا، چاہے آپ عتق کو اپنے معنی میں رکھیں چاہے اس کو آپ اعتاق کے معنی میں لے لیں، دونوں صورتوں میں یہ جو ہے یہ شرط بنے گی ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کے لیے۔ کیا بنے گی؟ شرط بنے گی ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کے لیے، یعنی وہ جو تطلیق ہے، ”أَنْتِ طَالِقٌ“ میں خاوند کیا کر رہا ہے؟ طلاق دے رہا ہے تو یہ تطلیق ہے۔ تو معلوم ہوا تطلیق کے لیے اعتاق جو ہے وہ شرط ہے بھئی۔ اور شرط کیسے ہے؟ تو صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ شرط اسے کہتے ہیں جو تکلم کے وقت معدوم ہو اور اس کے ہونے کا امکان ہو۔ اس کے ہونے کا امکان ہو، ہو سکتا ہے ہو جائے ہو سکتا ہے نہ ہو، تو شرط اسے کہتے ہیں جو تکلم کے وقت معدوم ہے اور اس کے ہونے کا امکان ہے اور نیز حکم کا اس کے ساتھ تعلق ہے، جیسے یہاں پر بھی جب خاوند نے ”أَنْتِ طَالِقٌ ثِنْتَيْنِ مَعَ عِتْقِ مَوْلَاكِ إِيَّاكِ“ کہا تو ابھی عورت آزاد نہیں، تو ابھی اعتاق نہیں، لیکن اس اعتاق کے ہونے کا امکان ہے اور نیز اس کے ساتھ حکم کا بھی تعلق ہے بھئی کہ اعتاق ہوگا تو طلاق واقع ہو جائے گی بھئی۔ معلوم ہوا یہ شرط ہے، اور جب یہ شرط ہے تو پھر جب یہ شرط پائی جائے گی تو پھر وہ تطلیق بھی ہو جائے گی بھئی۔ البتہ یہاں پر پھر اشکال ہوتا ہے کہ یہاں تو ”مَعَ“ کا لفظ ذکر ہے، کیا لفظ ذکر ہے؟ ”مَعَ“ کا لفظ ذکر ہے اور ”مَعَ“ کا معنی ہوتا ہے ساتھ بھئی، ”مَعَ“ کا کیا معنی ہے؟ ساتھ۔ معلوم ہوا آزادی کے ساتھ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ آنا چاہیے، حالانکہ شرط تو مقدم ہوتی ہے اور مشروط مؤخر ہوتا ہے۔ خاوند نے بیوی سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ“ تجھے طلاق ہے اگر تو اس گھر میں گئی، تو جب گھر میں جائے گی پھر طلاق ہوگی، معلوم ہوا شرط پہلے ہوتی ہے اور مشروط بعد میں، لیکن یہاں تو ”مَعَ“ کا لفظ آ رہا ہے، تو اس کا بھی جواب دیا صاحبِ ہدایہ نے کہ ”مَعَ“ کبھی کبھار تاخر کے لیے بھی عربی زبان میں استعمال ہو جاتا ہے یعنی ”بَعْدَ“ کے معنی میں بھی استعمال ہو جاتا ہے، اور یہاں پر بھی جب آگے اعتاق جو ہے وہ شرط ہے تو لہذا یہاں پر ”مَعَ“ کو ”بَعْدَ“ کے معنی میں لے لیں گے کیونکہ شرط مقدم ہوتی ہے اور مشروط مؤخر ہوتا ہے، اس لیے ”مَعَ“ کو ”بَعْدَ“ کے معنی میں لے لیں گے۔ تو لہذا اعتاق کے بعد جو ہے وہ تطلیق واقع ہوگی بھئی، اور جب اعتاق ہو چکا ہے اس کے بعد تطلیق واقع ہو رہی ہے تو آزاد عورت پر طلاق واقع ہو رہی ہے اور اس کی طلاقیں پہلے دو تھیں لیکن اب کیا ہو چکیں؟ تین، اور اب وہ دو طلاقیں واقع ہوئیں تو ابھی بھی ایک طلاق باقی ہے، خاوند رجوع کر سکتا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اب آئیے آج کے سبق پر: ”وَلَوْ قَالَ إِذَا جَاءَ غَدٌ فَأَنْتِ طَالِقٌ ثِنْتَيْنِ، وَقَالَ الْمَوْلَى إِذَا جَاءَ غَدٌ فَأَنْتِ حُرَّةٌ، فَجَاءَ الْغَدُ لَمْ تَحِلَّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ وَعِدَّتُهَا ثَلَاثُ حِيَضٍ“. یہ مسئلہ اچھی طرح سمجھ لیں بھئی، یہ ذرا مشکل مسئلہ ہے۔ صورتِ مسئلہ یہ کہ ایک شخص نے ایک باندی سے نکاح کیا ہوا ہے، وہ باندی سے کہتا ہے: ”إِذَا جَاءَ غَدٌ فَأَنْتِ طَالِقٌ ثِنْتَيْنِ“۔ میں نے بتلایا تھا آپ کو کہ ”غَدٌ“ کا معنی ہے آنے والا کل۔ تو خاوند نے بیوی سے کہا: ”إِذَا جَاءَ غَدٌ“، جب کل کا دن آئے، ”فَأَنْتِ طَالِقٌ ثِنْتَيْنِ“ تو تجھے دو طلاقیں ہیں۔ اور آپ جانتے ہیں باندی کی دو ہی طلاقیں ہوتی ہیں، تو ان دو طلاقوں سے حرمتِ مغلظہ آتی ہے بھئی۔ پھر اس کے بعد اس باندی سے دوبارہ نکاح جائز نہیں الا یہ کہ کسی اور سے وہ نکاح کرے اور پھر اس کا انتقال ہو جائے یا وہ طلاق دے دے، پھر پہلا خاوند نکاح کر سکتا ہے ویسے نکاح نہیں کر سکتا۔ تو اب خاوند نے بیوی سے کہا: جب کل کا دن آئے تو تجھے دو طلاقیں ہیں۔ ادھر آقا نے بھی اپنی اس باندی سے کہہ دیا: ”إِذَا جَاءَ غَدٌ فَأَنْتِ حُرَّةٌ“، جب کل کا دن آئے تو تو آزاد ہے۔ کل کا دن آئے؟ تو آزاد ہے۔ تو خاوند نے دو طلاقوں کو کل کے دن کے ساتھ معلق کر دیا، اور آقا نے آزادی کو کل کے دن کے ساتھ معلق کر دیا، تو اس صورت میں جب کل کا دن آئے گا تو وہ اس وقت آزاد بھی ہوگی اور اس وقت طلاقیں بھی واقع ہوں گی۔ تو کیا اس کے بعد خاوند کے لیے رجوع کا حق رہے گا یا یہ حرمتِ مغلظہ آ جائے گی اور بغیر کسی دوسرے سے نکاح کیے پہلے خاوند کے ساتھ وہ حلال نہیں ہوگی؟ تو یاد رکھو، شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ اس صورت میں حرمتِ غلیظہ آ جائے گی، یعنی سخت قسم کی حرمت آ جائے گی۔ اب دو طلاقیں واقع ہوئی ہیں اور ابھی باندی ہی تھی اسی حالت میں دو طلاقیں واقع ہو گئی ہیں لہذا حرمتِ غلیظہ آ گئی، اور اب خاوند کے لیے یہ باندی حلال نہیں ہے، اور نیز یہ باندی تین حیض گزارے گی، عدت کے تین حیض گزارے گی، اگرچہ باندی کی عدت دو حیض ہے لیکن یہاں یہ تین حیض گزارے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے بھئی آگے دلیل بھی ذکر کریں گے، توجہ سے بھئی، یہ ذرا مشکل مسئلہ ہے۔ ”وَلَوْ قَالَ إِذَا جَاءَ غَدٌ فَأَنْتِ طَالِقٌ ثِنْتَيْنِ“، اور اگر خاوند نے کہا کہ جب کل کا دن آ جائے تو تجھے دو طلاقیں ہیں، ”وَقَالَ الْمَوْلَى إِذَا جَاءَ غَدٌ فَأَنْتِ حُرَّةٌ“، اور آقا نے بھی کہا کہ جب کل کا دن آ جائے تو تو آزاد ہے، یعنی ایک ہی شرط کے ساتھ دونوں نے آزادی اور طلاقوں کو معلق کر دیا ہے، ”فَجَاءَ الْغَدُ“، تو اگر اگلا دن آ گیا، ”لَمْ تَحِلَّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ“، تو اب یہ باندی اس خاوند کے لیے حلال نہیں ہے یہاں تک کہ وہ اس کے علاوہ کسی دوسرے خاوند سے نکاح کر لے، ”وَعِدَّتُهَا ثَلَاثُ حِيَضٍ“، اور نیز اس باندی کی جو عدت ہے وہ تین حیض ہیں، ”وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى“، اور یہ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک ہے، ”وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: زَوْجُهَا يَمْلِكُ الرَّجْعَةَ“، امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کا خاوند رجوع کا مالک ہے۔ وہ فرماتے ہیں یہ مسئلہ بھی پچھلے مسئلے کی طرح ہے، اور پچھلے مسئلے کے اندر کیا ذکر تھا؟ خاوند نے بیوی سے کیا کہا تھا؟ ”أَنْتِ طَالِقٌ ثِنْتَيْنِ مَعَ عِتْقِ مَوْلَاكِ إِيَّاكِ“، وہاں پر آزادی پہلے آئی اور طلاق بعد میں آئی تو طلاقیں بڑھ کر تین ہو گئی تھیں، لہذا تین طلاقوں والی عورت کو صرف دو ملی ہیں لہذا ابھی بھی ایک باقی تھی اور خاوند وہاں رجوع کر سکتا تھا۔ تو یہاں پر بھی حرمتِ غلیظہ نہیں آئے گی بلکہ آزادی کے بعد یہ طلاق واقع ہوگی، اور آزادی کے بعد تو اس کی طلاقیں بڑھ کر تین ہو گئیں لہذا دو کی وجہ سے حرمتِ غلیظہ نہیں آئے گی بلکہ ابھی بھی خاوند رجوع کر سکتا ہے، ایک طلاق کا ابھی بھی وہ مالک ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: زَوْجُهَا يَمْلِكُ الرَّجْعَةَ“، کہ اس کا خاوند جو ہے وہ رجوع کا مالک ہے، ”لِأَنَّ الزَّوْجَ قَرَنَ الْإِيقَاعَ بِإِعْتَاقِ الْمَوْلَى حَيْثُ عَلَّقَهُ بِالشَّرْطِ الَّذِي عَلَّقَ بِهِ الْمَوْلَى الْعِتْقَ“۔ ”لِأَنَّ الزَّوْجَ“، امام محمد رحمہ اللہ کی دلیل ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں کہ خاوند نے ایقاعِ طلاق کو اعتاق کے ساتھ ملا دیا۔ توجہ ہے؟ خاوند نے بھی کیا کہا؟ جب کل کا دن آئے تو تجھے طلاق ہے، اور جب شرط پائی جائے گی کل کا دن آئے گا تو اس وقت ”أَنْتِ طَالِقٌ“ بھی آئے گا، عند الاحناف جب شرط پائی جائے تو اس وقت معلق سبب بنتا ہے بھئی، تو لہذا اس وقت ”أَنْتِ طَالِقٌ“ آئے گا۔ اور اسی طرح اگلا دن جب آئے گا تو اس وقت ہی آقا کی طرف سے ”أَنْتِ حُرَّةٌ“ بھی آئے گا، کیونکہ آقا نے بھی کیا کہا ہے: جب کل کا دن آئے تو تو آزاد ہے۔ تو معلوم ہوا آقا نے آزادی کو معلق کر دیا کل کے دن کے آنے کے ساتھ، لہذا جیسے ہی کل کا دن آئے گا تو اس وقت یہ ”أَنْتِ حُرَّةٌ“ سبب بنے گا اور پھر عتق آ جائے گا۔ اور آپ پڑھ چکے ہیں، توجہ ہے؟ کہ اعتاق یہ علت ہے، آقا آزاد کرے گا تو باندی آزاد ہوگی، تو اعتاق یہ ہے علت، اعتاق ہے علت اور عتق جو ہے وہ اس کا معلول ہے، عتق کیا ہے؟ اس کا معلول ہے۔ یاد رکھو، علت اور معلول کا زمانہ ایک ہوتا ہے۔ علت اور معلول کا زمانہ ایک ہوتا ہے، علت کہتے ہی اس کو ہیں جس سے معلول جدا نہیں ہو سکتا۔ جیسے ہی علت پائی جائے گی اسی لمحے میں معلول کا پایا جانا ضروری ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ علت پہلے ہو اور معلول بعد میں ہو، نہیں نہیں، علت اور معلول دونوں کا زمانہ ایک ہی ہوتا ہے۔ جیسے دیکھو، سورج نکلے گا تو دن ہوگا، سورج کا نکلنا علت ہے اور دن کا ہونا معلول ہے، اور یاد رکھو یہ دونوں کا زمانہ ایک ہی ہے، آپ یہ نہ کہیں پہلے سورج نکلے گا پھر اس کے بعد دن ہوگا، نہیں نہیں، بالکل ایک زمانہ ہے، جوں جوں سورج نکلتا جا رہا ہے ساتھ ساتھ دن ہوتا جا رہا ہے، ایک لمحے کا بھی دونوں میں فرق نہیں ہے۔ تو یاد رکھو، علت ہے تو معلول ہے، علت نہیں تو معلول بھی نہیں، تو علت معلول کو وجود دینے والی ہے، تو آپ کے ذہن میں آئے گا جو چیز وجود دینے والی ہے اس کو پہلے ہونا چاہیے اور معلول کو بعد میں ہونا چاہیے، نہیں بھئی، جس لمحے میں علت ہوگی اسی لمحے میں معلول بھی ہوگا۔ یہ جو علت ہے یہ معلول کے وجود کا سبب ہے، لہذا یہ مقدم تو ہوگی، کیا ہوگی؟ مقدم، لیکن زمانے کے اعتبار سے نہیں مقدم، اپنی ذات کے اعتبار سے مقدم ہے۔ کس اعتبار سے؟ زمانہ دونوں کا ایک ہے علت اور معلول کا، ہاں علت کو صرف تقدمِ ذاتی حاصل ہے، علت ذات کے اعتبار سے مقدم ہے زمانے کے اعتبار سے مقدم نہیں ہے بھئی۔ توجہ ہے؟ علت ذات کے اعتبار سے مقدم ہے زمانے کے اعتبار سے مقدم نہیں ہے، تو علت کو تقدمِ ذاتی تو حاصل ہے معلول پر لیکن تقدمِ زمانی حاصل نہیں ہے۔ میں نے بتایا کہ سورج نکلتا ہے تو دن ہوتا ہے، تو سورج کا نکلنا ہوا علت، دن کا ہونا معلول، لیکن دونوں کا زمانہ ایک ہے، ایسا نہیں کہ سورج پہلے نکل رہا ہے اور دن بعد میں ہو رہا ہے، نہیں، جوں جوں سورج نکلتا جا رہا ہے ساتھ ساتھ دن ہوتا جا رہا ہے، دونوں کا بالکل ایک زمانہ ہے۔ ہاں البتہ سورج کا نکلنا وہ علت ہے، اس کو تقدمِ ذاتی حاصل ہے، ذات اس کی مقدم ہے، وہ ہوگی تو معلول بھی ہوگا، وہ نہیں تو معلول بھی نہیں، تو تقدمِ ذاتی تو علت کو حاصل ہوتا ہے تقدمِ زمانی نہیں حاصل ہوتا بھئی۔ تقدمِ زمانی حاصل نہیں ہوتا بھئی۔ یا اسی طرح دیکھو، آپ چابی گھمائیں گے تو تالا کھل جائے گا، تو چابی کا گھمانا ہے علت اور تالے کا کھلنا یہ ہے معلول، اور علت اور معلول کا زمانہ ایک ہوتا ہے۔ آپ یہ نہ کہیں کہ چابی پہلے گھومتی ہے تالا بعد میں کھلتا ہے، نہیں نہیں، آپ جوں جوں چابی گھماتے جا رہے ہیں تالا کھلتا جا رہا ہے، جب چابی پوری گھومے گی تالا بھی پورا کھل جائے گا، تو دیکھو دونوں کا زمانہ ایک ہے، البتہ صرف چونکہ چابی کا گھمانا وہ ہے علت تو وہ ذات کے اعتبار سے مقدم ہے زمانے کے اعتبار سے مقدم نہیں ہے، تو علت کو معلول پر تقدمِ ذاتی ہوتا ہے تقدمِ زمانی نہیں ہوتا بھئی۔ لہذا، آقا کا ”أَنْتِ حُرَّةٌ“ کہنا یہ ہے اعتاق، یہ کیا ہے؟ اعتاق، آزاد کرنا، اور آقا آزاد کرے گا تو عتق یعنی اس کا حکم بھی آ جائے گا، تو اعتاق یہ ہے علت اور عتق یہ ہے معلول، اور علت اور معلول کا زمانہ ایک ہوتا ہے۔ علت اور معلول کا زمانہ ایک ہوتا ہے۔ اسی طرح یاد رکھو، تطلیق یعنی ”أَنْتِ طَالِقٌ“، خاوند کا ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کہنا یہ تطلیق ہے یعنی طلاق دینا ہے، اور تطلیق یہ علت ہے طلاق کی، تطلیق آئے گی تو طلاق بھی آ جائے گی، تو طلاق کیا ہے اس کا؟ حکم ہے، اس کا اثر ہے۔ خاوند طلاق دے گا تو بیوی کو طلاق ہو جائے گی، تو تطلیق یہ علت ہے اور طلاق اس کا معلول ہے بھئی۔ امام محمد رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے، وہ فرماتے ہیں، دیکھیے بھئی: ”لِأَنَّ الزَّوْجَ قَرَنَ الْإِيقَاعَ بِإِعْتَاقِ الْمَوْلَى“، خاوند نے ایقاعِ طلاق کو ملا دیا اعتاقِ مولیٰ کے ساتھ، کیونکہ خاوند نے بھی کیا کہا ہے: تجھے طلاق ہے اگلے دن کے آنے پر، اور آقا نے بھی کہا ہے: تو آزاد ہے اگلے دن کے آنے پر، تو معلوم ہوا ایقاعِ طلاق اور اعتاق دونوں کا زمانہ ایک ہو گیا۔ جب اگلا دن آئے گا، جیسے ہی اگلے دن کا پہلا لمحہ آئے گا، اسی وقت ”أَنْتِ طَالِقٌ ثِنْتَيْنِ“ بھی آئے گا اور اسی وقت ”أَنْتِ حُرَّةٌ“ بھی آئے گا۔ تو معلوم ہوا خاوند نے ایقاعِ طلاق کو کس کے ساتھ ملا دیا ہے؟ اعتاقِ مولیٰ کے ساتھ، کس کے ساتھ؟ دونوں کا زمانہ ایک ہے، توجہ ہے؟ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الزَّوْجَ قَرَنَ الْإِيقَاعَ بِإِعْتَاقِ الْمَوْلَى“، اس لیے کیونکہ خاوند نے ایقاعِ طلاق کو ملا دیا ہے اعتاقِ مولیٰ کے ساتھ، ”حَيْثُ عَلَّقَهُ بِالشَّرْطِ الَّذِي عَلَّقَ بِهِ الْمَوْلَى الْعِتْقَ“، ”حَيْثُ“، ”حَيْثُ“ یاد رکھو کبھی علت بیان کرنے کے لیے بھی آتا ہے، تو اس کا ترجمہ کریں گے کیونکہ، کیونکہ، یا اس وجہ سے کہ۔ تو خاوند نے ایقاعِ طلاق کو اعتاقِ مولیٰ کے ساتھ ملا دیا ہے، ”حَيْثُ عَلَّقَهُ بِالشَّرْطِ“، کیونکہ خاوند نے ایقاعِ طلاق کو معلق کر دیا ہے اس شرط کے ساتھ، ”الَّذِي عَلَّقَ بِهِ الْمَوْلَى الْعِتْقَ“، جس کے ساتھ مولیٰ نے عتق کو معلق کیا تھا، یعنی اگلے دن کا آنا جو ہے اس کے ساتھ۔ ”وَإِنَّمَا يَنْعَقِدُ الْمُعَلَّقُ سَبَبًا عِنْدَ الشَّرْطِ“، اور معلق جو ہوتا ہے، میں نے کیا بتایا؟ عند الاحناف معلق سبب بنتا ہے عند التکلم یا عند الشرط؟ عند الشرط، تو وہی بیان کر رہے ہیں: ”وَإِنَّمَا يَنْعَقِدُ الْمُعَلَّقُ سَبَبًا عِنْدَ الشَّرْطِ“، اور معلق جو ہے وہ سبب شرط کے وقت ہی بنتا ہے، ”وَالْعِتْقُ يُقَارِنُ الْإِعْتَاقَ“، تو معلوم ہوا جس وقت شرط پائی جائے گی جب اگلا دن آئے گا تو اسی وقت اعتاق بھی آئے گا، کیا آئے گا؟ اعتاق آئے گا، ”أَنْتِ حُرَّةٌ“ آئے گا، اور اعتاق علت ہے اور عتق کیا ہے اس کا؟ معلول ہے، اور علت اور معلول کا زمانہ ایک ہوتا ہے۔ تو جس زمانے کے اندر اعتاق آئے گا اسی زمانے کے اندر عتق بھی آ جائے گا۔ میں نے بتایا کہ علت کو معلول پر تقدمِ ذاتی حاصل ہوتا ہے تقدمِ زمانی حاصل نہیں، تو اعتاق یہ ہے علت اور عتق یہ ہے معلول، تو علت اور معلول کا زمانہ ایک ہوتا ہے۔ جس زمانے میں اعتاق ہے اسی زمانے کے اندر کیا پایا جائے گا؟ عتق بھی، توجہ ہے؟ تو کہتے ہیں: ”وَالْعِتْقُ يُقَارِنُ الْإِعْتَاقَ“، اور عتق جو ہے وہ ملا ہوا ہے اعتاق کے ساتھ، ”لِأَنَّهُ عِلَّتُهُ“، کیونکہ یہ اس کی علت ہے اور علت اور معلول کا زمانہ ایک ہوتا ہے، ”أَصْلُهُ الِاسْتِطَاعَةُ مَعَ الْفِعْلِ“، اور اصل اس کی جو ہم نے ذکر کر دیا وہ استطاعت مع الفعل ہے۔ استطاعت کا معنی ہے قدرت۔ یاد رکھو، آپ جو بھی کوئی کام کرتے ہیں تو قدرت اس کی علت ہے۔ آپ مثلاً کھانا کھا رہے ہیں تو معلوم ہوا آپ کو اللہ نے قدرت دی ہے کھانا کھانے کی۔ اگر کوئی بیمار ہے مریض ہے دیکھو اس کو کھانے کی قدرت نہیں ہوتی، وہ کھانا نہیں کھا سکتا، توجہ ہے؟ تو معلوم ہوا کہ استطاعت یعنی قدرت وہ فعل کے ساتھ ملی ہوئی ہوتی ہے۔ قدرت، جب بھی آپ کوئی کام کرتے ہیں، معلوم ہوا آپ کو اس کام پر قدرت ہے، تو قدرت ہوئی علت اور وہ فعل ہوا معلول۔ قدرت ہے تو وہ فعل کر رہے ہیں، قدرت نہیں تو آپ وہ فعل بھی نہیں کر سکتے، تو قدرت اور فعل دونوں کا زمانہ ایک ہوگا۔ جس لمحے کے اندر آپ کھانا کھا رہے ہیں، اسی لمحے میں آپ کو قدرت بھی ہے اور اسی لمحے میں آپ یہ فعل بھی کر رہے ہیں۔ بتلانا یہ چاہتے ہیں علت اور معلول کا زمانہ ایک ہوتا ہے، وہی بات جو میں نے وضاحت کر دی۔ تو قدرت کیا ہے؟ علت، اور فعل کیا ہوتا ہے؟ معلول، اور قدرت ہے تو آپ کوئی فعل کر سکتے ہیں، قدرت نہیں تو آپ فعل بھی نہیں کر سکتے۔ آپ جو بھی فعل کر رہے ہیں آپ میں اس کی قدرت ہے، مثلاً آپ اس وقت چل رہے ہیں تو آپ میں قدرت ہے تو آپ چل رہے ہیں، تو قدرت اور فعل دونوں کا زمانہ ایک ہے۔ یا آپ کھیل رہے ہیں تو بھی قدرت اور کھیلنا دونوں کا زمانہ ایک ہے، آپ میں قدرت ہے کھیلنے کی تو آپ کھیل رہے ہیں، قدرت نہ ہوتی تو آپ کھیلتے بھی نہ۔ تو جو بھی آپ فعل کرتے ہیں اس کے ساتھ قدرت ہوتی ہے، اور قدرت ہے علت اور وہ فعل ہوتا ہے معلول، اور علت اور معلول کا زمانہ ایک ہوتا ہے۔ اگر آپ کہیں نہیں جی قدرت پہلے ہے اور فعل بعد میں ہے؟ قدرت ہے تو فعل کرے گا، معلوم ہوا قدرت پہلے ہے، کہتے ہیں نہیں، قدرت علت ہے اور علت اور معلول کا زمانہ ایک ہوتا ہے۔ اگر آپ یہ کہیں: قدرت پہلے تھی اور فعل بعد میں ہے، تو معلوم ہوا جس وقت فعل پایا جائے گا، اس وقت قدرت نہیں! اور بغیر قدرت کے فعل کیسے ہو سکتا ہے بھئی؟ بغیر قدرت کے تو فعل ہو ہی نہیں سکتا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا علت اور معلول کا زمانہ ایک ہوتا ہے۔ قدرت اور فعل کا زمانہ ایک ہوتا ہے۔ لہٰذا اعتاق اور عتق کا زمانہ ایک ہی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: "أَصْلُهُ الِاسْتِطَاعَةُ مَعَ الْفِعْلِ" اصل اس کی جو ہم نے ذکر کر دیا وہ استطاعت مع الفعل ہے، یعنی قدرت مع الفعل ہے۔ "فَيَكُونُ التَّطْلِيقُ مُقَارِنًا لِلْعِتْقِ ضَرُورَةً" جی، دلیل چل رہی ہے۔ صاحبِ ہدایہ دلیل بیان فرما رہے ہیں امام محمد رحمہ اللہ کے مذہب کی۔ امام محمد رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ خاوند نے دو طلاقوں کو معلق کیا ہے کل کے آنے پر، اور آقا نے آزادی کو معلق کیا ہے کل کے آنے پر۔ تو شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں حرمتِ غلیظہ آئے گی، جس وقت آزادی آ رہی ہے اسی زمانے میں دو طلاقیں بھی آ رہی ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ آزادی پہلے ہے اور طلاقیں بعد میں ہیں۔ اگر آزادی پہلے ہوتی تو طلاقیں بڑھ کر تین ہو جاتیں اور پھر دو واقع ہو جاتیں تو بھی عورت حلال رہتی خاوند کے لیے۔ لیکن یہاں عتق اور طلاق کا زمانہ بالکل ایک ہی ہے۔ جس زمانے میں عتق آ رہا ہے اسی زمانے میں طلاق آ رہی ہے، اور عتق تو کس پر آ رہا ہے؟ باندی پر، تو طلاقیں بھی کس پر آ رہی ہیں؟ باندی پر، لہٰذا حرمتِ غلیظہ آ جائے گی۔ دلیل سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو کہتے ہیں: "فَيَكُونُ التَّطْلِيقُ مُقَارِنًا لِلْعِتْقِ" تو تطلیق جو ہے وہ ملی ہوئی ہو گی عتق کے ساتھ "ضَرُورَةً" یقینی طور پر۔ میں نے بتلایا تھا ضرورت کا کیا ترجمہ کریں؟ بدیہی اور یقینی کے، جو بھی آپ کو مناسب لگے۔ تو بدیہی وہ چیز ہوتی ہے جس کا ہر ایک کو پتا ہے جس کے لیے کسی دلیل کی ضرورت اور حاجت نہیں ہوتی بھئی۔ ادھر دیکھیے، آقا نے اعتاق کو معلق کر دیا کل کے دن کے ساتھ، تو کل کے دن کا جیسے ہی پہلا لمحہ آئے گا اعتاق آئے گا۔ اور اعتاق تو علت ہے اور عتق اس کا معلول ہے۔ تو جس لمحے میں اعتاق آئے گا اسی لمحے میں عتق بھی آ جائے گا۔ دونوں کا زمانہ کیا ہے؟ ایک۔ اور نیز خاوند نے کیا کہا؟ کل کا دن آئے تو تجھے دو طلاقیں ہیں۔ تو عین جب کل کا پہلا لمحہ آئے گا عین اسی لمحے میں أنتِ طالقٌ ثنتین بھی آ رہا ہے۔ تو معلوم ہوا یہ جو پہلا لمحہ ہے یہی ہے اعتاق کا بھی زمانہ اور یہی ہے عتق کا بھی زمانہ۔ اور اسی عتق کے زمانے میں أنتِ طالقٌ ثنتین بھی آ رہا ہے۔ تو أنتِ طالقٌ ثنتین عتق کے ساتھ آ رہا ہے۔ أنتِ طالقٌ ثنتین عتق کے ساتھ آ رہا ہے اور أنتِ طالقٌ ثنتین پورا ہو گا تو پھر ہی طلاق آئے گی۔ تو لہٰذا یہ أنتِ طالقٌ ثنتین یہ تو آزادی کے ساتھ آ رہا ہے اور أنتِ طالقٌ ثنتین کے بعد طلاق نے آنا ہے، تو أنتِ طالقٌ ثنتین کے ساتھ کیا آیا؟ عتق۔ تو ادھر عتق پورا ہوا ادھر أنتِ طالقٌ پورا ہوا اور اس کے بعد طلاق آئی اور طلاق آزاد عورت پر واقع ہو گئی، تو دو طلاقیں واقع ہو گئیں لیکن ابھی بھی ایک طلاق باقی ہے، خاوند رجوع کر سکتا ہے۔ دلیل سمجھ میں آئی؟ امام محمد رحمہ اللہ کی کیا دلیل؟ کہ اعتاق اور عتق کا زمانہ ایک ہے۔ معلوم ہوا پہلے لمحے میں ہی اعتاق ہے تو عتق بھی ہے۔ اور تطلیق، تطلیق بھی اسی پہلے لمحے میں ہے۔ تو تطلیق اور عتق کا زمانہ ایک ہو گیا۔ توجہ ہے؟ علت کیا؟ اعتاق۔ معلول کیا؟ عتق۔ دونوں کا زمانہ ایک۔ تو جو زمانہ اعتاق کا وہی زمانہ عتق کا بھی اور یہی زمانہ تطلیق کا بھی ہے۔ کیونکہ یہ پہلا لمحہ ہے۔ تو یہی زمانہ کیا ہے؟ تطلیق کا بھی ہے اور تطلیق کے بعد طلاق آتی ہے تو تطلیق تو عتق کے ساتھ آ رہی تھی، تطلیق أنتِ طالقٌ کب آ رہا تھا؟ عتق کے ساتھ آ رہا تھا تو طلاق تو اس کے بعد آئے گی جب تک عتق ہو چکا ہے۔ لہٰذا آزادی کے بعد دو طلاقیں آئیں اور آزادی کے بعد تو تین ہو چکی تھیں، لہٰذا ابھی بھی خاوند کو رجوع کا حق ہے۔ دلیل ان کی سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: "فَيَكُونُ التَّطْلِيقُ مُقَارِنًا لِلْعِتْقِ ضَرُورَةً" تو تطلیق جو ہے "مُقَارِنًا" وہ ملی ہوئی ہو گی "لِلْعِتْقِ" عتق کے ساتھ، یعنی معلول کے ساتھ، وہ جو اعتاق کا معلول تھا اس کے ساتھ "ضَرُورَةً" یقینی طور پر۔ "فَتُطَلَّقُ بَعْدَ الْعِتْقِ" تو اس عورت کو طلاقیں ہوں گی "بَعْدَ الْعِتْقِ" آزادی کے بعد۔ "فَصَارَ كَالْمَسْأَلَةِ الْأُولَى" تو یہ بھی اسی طرح ہو گیا جیسے پہلا مسئلہ تھا کہ وہاں اعتاق کے بعد طلاقیں آئی تھیں تو خاوند رجوع کا مالک تھا تو یہاں بھی اعتاق کے بعد طلاقیں آئی ہیں لہٰذا خاوند رجوع کا مالک ہو گا۔ "وَلِهَذَا يُقَدَّرُ عِدَّتُهَا بِثَلَاثِ حِيَضٍ" اور اسی لیے اس کی عدت کو تین حیضوں کے ساتھ مقرر کیا گیا ہے۔ امام محمد رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ حرمتِ غلیظہ آ گئی، کیا آ گئی؟ حرمتِ غلیظہ۔ معلوم ہوا طلاق کس پر واقع ہوئی ہے؟ باندی پر۔ باندی پر۔ تو جب باندی پر طلاق واقع ہوئی ہے تو عدت دو حیض ہونے چاہیے تھے کیونکہ باندی کی عدت کتنی ہے؟ دو حیض ہیں، لیکن شیخین رحمہما اللہ بھی فرماتے ہیں کہ یہاں تین حیض گزارنے پڑیں گے اس عورت کو۔ تو معلوم ہوا یہ طلاق کس پر واقع ہو رہی ہے؟ آزاد عورت پر، جبھی تو وہ تین حیض کو عدت قرار دے رہے ہیں۔ یہ کس کی دلیل چل رہی ہے؟ امام محمد رحمہ اللہ کی۔ تو کہتے ہیں: "وَلِهَذَا يُقَدَّرُ عِدَّتُهَا بِثَلَاثِ حِيَضٍ" اور اسی لیے مقرر کیا جائے گا اس کی عدت کو تین حیضوں کے ساتھ۔ تین حیضوں کے ساتھ۔ یہاں شارحین فرماتے ہیں کہ جیسے اعتاق علت ہے اور عتق اس کا معلول ہے، تو اعتاق اور عتق دونوں کا زمانہ ایک ہو گا کیونکہ علت اور معلول کا زمانہ ایک ہوتا ہے۔ علت ذات کے اعتبار سے مقدم ہوتی ہے زمانے کے اعتبار سے مقدم نہیں ہوتی۔ تو جیسے اعتاق علت ہے اور عتق معلول ہے، اسی طرح أنتِ طالقٌ یہ علت ہے اور طلاق اس کا معلول ہے۔ أنتِ طالقٌ یعنی طلاق دینا، تطلیق جو ہے یہ علت ہے اور طلاق اس کا معلول ہے۔ اور علت اور معلول کا زمانہ ایک ہوتا ہے۔ علت اور معلول کا زمانہ ایک ہوتا ہے۔ تو جو زمانہ اعتاق کا تھا وہی زمانہ عتق کا بھی ہے اور وہی زمانہ تطلیق کا بھی ہے تو وہی زمانہ طلاق کا بھی ہے بھئی۔ وہی زمانہ طلاق کا۔ تو معلوم ہوا عتق اور طلاق کا زمانہ تو ایک ہوا اور عتق کس پر آ رہا ہے؟ باندی پر، تو طلاق بھی کس پر آ رہی ہے؟ باندی پر، لہٰذا ابھی بھی اشکال پوری طرح حل نہیں ہے۔ یہ کیسے کہ آپ کہہ رہے ہیں عتق پہلے آ گیا اور طلاق بعد میں آ گئی؟ صاحبِ ہدایہ نے تو کیا فرمایا؟ عتق پہلے آیا اور طلاق بعد، کیونکہ عتق کے ساتھ تطلیق پائی گئی اور تطلیق کے بعد طلاق آتی ہے۔ تو یہ جو امام محمد رحمہ اللہ کی دلیل میں صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: "فَتُطَلَّقُ بَعْدَ الْعِتْقِ" لہٰذا عورت کو آزادی کے بعد طلاق ہو گی، آزادی کے بعد طلاق ہو گی، حالانکہ ضابطے کے مطابق تو سب کچھ اکٹھا ہونا چاہیے، جب اعتاق ہے اسی وقت عتق بھی ہے، اور جب تطلیق ہے اسی وقت طلاق بھی ہے، تو سب کا زمانہ ایک ہی ہے کیونکہ ان میں سے ہر ایک علت اور معلول ہے بھئی۔ تو پھر بعض شارحین نے کہا کہ عتق پہلے آئے گا اور طلاق بعد میں، وجہ یہ کہ آزاد کرنا یہ مندوب ہے، مستحب ہے، پسندیدہ ہے بھئی۔ اور طلاق دینا یہ ممنوع ہے۔ تو دونوں میں سے ایک چیز پسندیدہ ہے ایک چیز ممنوع ہے، تو جو چیز پسندیدہ ہے وہ فوراً آ جائے گی اور جو چیز ممنوع ہے وہ ذرا تاخیر سے آئے گی۔ تو عتق پہلے آ جائے گا اور طلاق جو ممنوع ہے وہ ذرا بعد میں آئے گی جس کی وجہ سے عتق کے بعد طلاق آئی تو ابھی بھی خاوند رجوع کر سکتا ہے۔ تو بہرحال بعضوں نے پھر یہ جواب ذکر کیا کہ عتق پہلے کیوں؟ کیونکہ وہ مستحب ہے، اور طلاق بعد میں کیوں؟ کیونکہ وہ ممنوع ہے۔ جبکہ بعضوں نے کہا، بعضوں نے کہا کہ عتق پہلے آئے گا اس لیے کیونکہ عتق آ رہا ہے آقا کے قول أنتِ حرّةٌ کہنے سے۔ آقا نے کیا کہا تھا؟ "إِذَا جَاءَ غَدٌ فَأَنْتِ حُرَّةٌ" تو أنتِ حرّةٌ کی وجہ سے عتق آ رہا ہے۔ اور طلاق آ رہی ہے خاوند کے قول أنتِ طالقٌ ثنتین سے، تجھے دو طلاقیں ہیں۔ أنتِ طالقٌ ثنتین سے طلاق آ رہی ہے، لہٰذا گویا جیسے ہی اگلا دن آئے گا ساتھ ہی أنتِ حرّةٌ آیا اور ساتھ ہی أنتِ طالقٌ ثنتین آیا۔ لیکن أنتِ حرّةٌ چھوٹا تھا، دو لفظ ہیں أنتِ، حرّةٌ، تو ساتھ ہی آزادی آ گئی۔ اور أنتِ طالقٌ ثنتین اس میں تین لفظ تھے، توجہ ہے؟ اس میں تین لفظ تھے تو لہٰذا طلاق تھوڑی سی مؤخر ہو گئی۔ أنتِ حرّةٌ میں لفظ دو تھے لہٰذا آزادی جلدی آ گئی اور أنتِ طالقٌ ثنتین کے اندر تین لفظ تھے لہٰذا طلاق تھوڑی مؤخر ہو گئی، جب مؤخر ہوئی تو آزاد عورت پر طلاق واقع ہوئی لہٰذا خاوند ابھی بھی رجوع کا مالک ہے۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ یا یوں کہو أنتِ حرّةٌ کے آتے ہی عورت آزاد ہو گئی اور أنتِ طالقٌ ثنتین اس میں آپ نے پڑھا تھا جب عدد ساتھ ملا ہو تو عدد کے ذریعے طلاق واقع ہوتی ہے، أنتِ طالقٌ کے ذریعے طلاق واقع نہیں ہوتی بھئی۔ تو أنتِ حرّةٌ اور ادھر آ رہا ہے أنتِ طالقٌ ثنتین، تو أنتِ طالقٌ تو أنتِ حرّةٌ کے ساتھ آ رہا ہے دونوں کے دو دو لفظ ہیں، تو أنتِ حرّةٌ جیسے ہی آیا عتق آیا لیکن أنتِ طالقٌ کے ساتھ تو ابھی طلاق نہیں آئی وہ تو ثنتین کے ساتھ آئے گی وہ ذرا مؤخر ہو گئی۔ لہٰذا آزاد عورت پر طلاق آئی لہٰذا ابھی بھی خاوند رجوع کا مالک ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ تو تھی امام محمد رحمہ اللہ کی دلیل۔ آگے: "وَلَهُمَا أَنَّهُ عَلَّقَ الطَّلَاقَ بِمَا عَلَّقَ بِهِ الْمَوْلَى الْعِتْقَ" شیخین رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے کہ خاوند نے بھی طلاق کو اسی چیز کے ساتھ معلق کیا ہے جس کے ساتھ آقا نے عتق کو معلق کیا ہے۔ "ثُمَّ الْعِتْقُ يُصَادِفُهَا وَهِيَ أَمَةٌ" پھر یہ عتق یعنی آزادی يصادفها، صادَفَ يُصَادِفُ کے معنی ملاقات کرنا، ص کے ساتھ بھئی۔ "ثُمَّ الْعِتْقُ يُصَادِفُهَا وَهِيَ أَمَةٌ" پھر یہ آزادی اس عورت سے ملاقات کرے گی "وَهِيَ أَمَةٌ" اس حال میں کہ یہ باندی ہے۔ آزادی کس پر آئے گی؟ باندی پر آئے گی نا، تو باندی پر آئے گی اور پھر وہ آزاد ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں: "ثُمَّ الْعِتْقُ يُصَادِفُهَا وَهِيَ أَمَةٌ" پھر یہ عتق جو ہے یہ اس عورت سے ملاقات کرے گا اس حال میں کہ یہ باندی ہو گی۔ "فَكَذَا الطَّلَاقُ" تو طلاق بھی اسی طرح ہے، طلاق بھی اس عورت سے ملاقات کرے گا اس حال میں کہ ابھی وہ کیا ہے؟ باندی ہے۔ توجہ ہے؟ تو اگلا دن جیسے ہی آئے گا اسی پہلے لمحے کے اندر أنتِ حرّةٌ بھی آئے گا اور أنتِ طالقٌ ثنتین بھی آئے گا۔ اور جیسے ہی أنتِ حرّةٌ آئے گا ساتھ ہی عتق بھی آ جائے گا، اور جیسے ہی أنتِ طالقٌ ثنتین آئے گا ساتھ ہی طلاق بھی آ جائے گی کیونکہ دونوں علت اور معلول ہیں۔ توجہ ہے؟ دونوں کا زمانہ ایک ہے۔ تو جس لمحے کے اندر اعتاق ہے اسی لمحے میں عتق بھی ہے، اور جس لمحے کے اندر تطلیق ہے اسی لمحے کے اندر طلاق بھی ہے۔ تو عتق نے ملاقات کی ہے باندی سے تو طلاق نے بھی ملاقات کی ہے باندی سے کیونکہ سب کا زمانہ ایک ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو طلاق باندی پر آئی ہے اور باندی تو دو طلاقوں سے اس میں حرمتِ مغلظہ آ جاتی ہے تو یہاں بھی حرمتِ مغلظہ آ جائے گی۔ تو یہ معنی ہے۔ کہتے ہیں: "ثُمَّ الْعِتْقُ يُصَادِفُهَا وَهِيَ أَمَةٌ فَكَذَا الطَّلَاقُ" پھر یہ عتق اس عورت سے ملاقات کرتا ہے اس حال میں کہ یہ باندی ہے، تو اسی طرح طلاق بھی ہے، یعنی وہ بھی اس سے ملاقات کرے گی اس حال میں کہ یہ باندی ہے۔ "وَالطَّلْقَتَانِ تُحَرِّمَانِ الْأَمَةَ حُرْمَةً غَلِيظَةً" اور دو طلاقیں یہ تو باندی کو حرام کر دیتی ہیں حرمتِ غلیظہ کے ساتھ۔ "بِخِلَافِ الْمَسْأَلَةِ الْأُولَى" بخلاف مسئلہ اولیٰ کے۔ "لِأَنَّهُ عَلَّقَ التَّطْلِيقَ بِإِعْتَاقِ الْمَوْلَى" وہاں پر اس نے طلاق دینے کو معلق کیا تھا آقا کے آزاد کرنے پر۔ "فَيَقَعُ الطَّلَاقُ بَعْدَ الْعِتْقِ عَلَى مَا قَرَّرْنَاهُ" تو طلاق عتق کے بعد واقع ہو گی اس وجہ سے جو ہم نے ثابت کر دیا۔ کیونکہ وہاں پر پچھلے مسئلے میں کیا تھا؟ کہ تجھے دو طلاقیں ہیں مع عتق مولاکِ إیاکِ، اور ہم نے بتایا تھا یہ مع کس معنی میں ہے؟ بعد کے معنی میں ہے اور اعتاق شرط ہے اور أنتِ طالقٌ ثنتین یہ مشروط ہے، اور شرط پہلے ہوتی ہے اور اس کے بعد مشروط پایا جاتا ہے۔ تو وہاں پہلے اعتاق ہوا پھر اس کے بعد طلاق آئی تھی، اس لیے وہاں پر آزاد عورت پر طلاق آئی تھی تو وہاں دو طلاقوں سے وہ حرمتِ مغلظہ نہیں ہوئی تھی، وہاں پھر بھی خاوند کو رجوع کا حق تھا۔ تو کہتے ہیں: "بِخِلَافِ الْمَسْأَلَةِ الْأُولَى لِأَنَّهُ عَلَّقَ التَّطْلِيقَ بِإِعْتَاقِ الْمَوْلَى فَيَقَعُ الطَّلَاقُ بَعْدَ الْعِتْقِ عَلَى مَا قَرَّرْنَاهُ" بخلاف پہلے مسئلے کے، کیونکہ وہاں پر خاوند نے تطلیق کو معلق کیا تھا آقا کے اعتاق کے ساتھ، تو طلاق آزادی کے بعد واقع ہو گی کیونکہ آزادی شرط ہے اور طلاق مشروط ہے، تو طلاق آزادی کے بعد واقع ہو گی اس وجہ سے جو ہم نے ثابت کر دیا۔ "وَبِخِلَافِ الْعِدَّةِ" امام محمد رحمہ اللہ کیا فرماتے تھے؟ امام محمد رحمہ اللہ نے اپنی دلیل میں ذکر فرمایا کہ یہ طلاق آزادی کے بعد واقع ہوئی ہے اور اسی لیے تو شیخین بھی اس کی عدت تین حیض قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ اگر یہ طلاق اگر یہ طلاق باندی پر واقع ہوئی ہوتی پھر تو اس کی عدت دو حیض ہونے چاہیے تھے، لیکن شیخین بھی کیا فرماتے ہیں؟ اس کی عدت کتنی ہے؟ تین حیض۔ تو اس کا بھی جواب دے رہے ہیں کہ یہ جو عدت کے اندر ہم نے تین حیض کا حکم دیا یہ بطورِ احتیاط کے دیا ہے۔ بطورِ احتیاط کے دیا ہے، کیونکہ آگے اگر نکاح کرنا ہے تو پھر احتیاط اسی میں ہے کہ ایک حیض اور انتظار کر کے، یا ایک ماہ اور انتظار کر کے پھر نکاح کر لے بھئی۔ کہتے ہیں: "وَبِخِلَافِ الْعِدَّةِ لِأَنَّهُ يُؤْخَذُ فِيهَا بِالِاحْتِيَاطِ" اور بخلاف عدت کے، اس لیے کیونکہ اس کے اندر احتیاط کو لیا جاتا ہے۔ "وَكَذَا الْحُرْمَةُ الْغَلِيظَةُ يُؤْخَذُ فِيهَا بِالِاحْتِيَاطِ" اور اسی طرح حرمتِ غلیظہ، شیخین کے نزدیک کیا آ جائے گی؟ حرمتِ غلیظہ۔ تو کہتے ہیں: "وَكَذَا الْحُرْمَةُ الْغَلِيظَةُ يُؤْخَذُ فِيهَا بِالِاحْتِيَاطِ" اور اسی طرح حرمتِ غلیظہ جو ہے اس کے اندر بھی احتیاط کو لیا جاتا ہے۔ اس میں بھی احتیاط کو لیا جاتا ہے۔ "وَلَا وَجْهَ إِلَى مَا قَالَا" اور کوئی وجہ نہیں ہے اس کی جو امام محمد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ عتق پہلے ہے اور طلاق بعد میں ہے، ایسا نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: "وَلَا وَجْهَ إِلَى مَا قَالَا" اور کوئی وجہ نہیں ہے اس کی جو امام محمد رحمہ اللہ نے فرمایا۔ "لِأَنَّ الْعِتْقَ لَوْ كَانَ يُقَارِنُ الْإِعْتَاقَ لِأَنَّهُ عِلَّتُهُ فَالطَّلَاقُ يُقَارِنُ التَّطْلِيقَ لِأَنَّهُ عِلَّتُهُ فَيَقْتَرِنَانِ" اس لیے کیونکہ اگر عتق وہ ملا ہوا ہے اعتاق کے ساتھ کیونکہ اعتاق اس کی علت ہے تو طلاق بھی ملی ہوئی ہے تطلیق کے ساتھ کیونکہ تطلیق بھی طلاق کی علت ہے تو دونوں مل جائیں گے، یعنی ایک ہی زمانے میں عتق اور طلاق آئے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ حاصلِ کلام یہ کہ صاحبِ ہدایہ نے امام محمد رحمہ اللہ کے قول کی توجیہ کی۔ امام محمد رحمہ اللہ کے قول کے مطابق یہاں بھی خاوند کو رجوع کا حق ہو گا۔ معلوم ہوا عتق پہلے آئے گا اور طلاق بعد میں آئے گی، تو طلاق آزاد عورت پر آئی اور آزاد عورت کی طلاقیں تو تین ہو چکی ہیں لہٰذا اب دو طلاقوں سے حرمتِ مغلظہ نہیں آئے گی بلکہ ابھی بھی خاوند رجوع کر سکتا ہے۔ اور اس کے لیے صاحبِ ہدایہ نے یہ توجیہ ذکر کی کہ یہ اعتاق یہ علت ہے اور عتق اس کا معلول ہے، اور علت اور معلول کا زمانہ ایک ہوتا ہے۔ تو لہٰذا جو زمانہ اعتاق کا ہے وہی زمانہ عتق کا بھی ہے اور وہی زمانہ تطلیق کا بھی ہے کیونکہ خاوند نے بھی یہی کہا تھا: "إِذَا جَاءَ غَدٌ فَأَنْتِ طَالِقٌ ثِنْتَيْنِ" تو معلوم ہوا عتق اور تطلیق کا زمانہ ایک ہو گیا اور تطلیق کے بعد طلاق آئے گی تو طلاق عتق کے بعد آئی بھئی، کیونکہ تطلیق اور عتق کا زمانہ ایک، اور پھر تطلیق کے بعد طلاق آئے گی تو طلاق مؤخر ہو گئی عتق سے۔ لیکن دیگر شارحین نے صاحبِ ہدایہ کی اس توجیہ کو پسند نہیں فرمایا۔ یہ جو صاحبِ ہدایہ نے امام محمد رحمہ اللہ کے قول کی توجیہ کی اور وجہ ذکر کی ہے اس کو دیگر شارحین نے پسند نہیں فرمایا، کہ اگر اعتاق علت ہے عتق کی تو اسی طرح تطلیق علت ہے طلاق کی، تو دونوں کا زمانہ ایک ہی ہے بھئی۔ تو جب تطلیق اور عتق کا زمانہ ایک ہوا تو طلاق اور عتق کا زمانہ بھی ایک ہی ہو گا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو شارحین نے اس صاحبِ ہدایہ کی اس توجیہ کو پسند نہیں کیا، اور شارحین پھر جواب دیتے ہیں کہ یہاں پر یہ طلاق عتق کے بعد اس لیے ہو گی کیونکہ عتق جو ہے وہ مندوب ہے اور طلاق جو ہے وہ شرعاً ممنوع ہے، تو لہٰذا جو چیز شرعاً مندوب اور پسندیدہ ہے وہ فوراً آ جائے گی اور جو چیز شرعاً ممنوع ہے وہ تھوڑی سی تاخیر سے آئے گی، تو اس لیے عتق پہلے اور طلاق بعد میں۔ جبکہ دیگر شارحین نے اور توجیہ کی، وہ فرماتے ہیں کہ یہاں پر عتق اس لیے پہلے ہے کیونکہ عتق آیا أنتِ حرّةٌ سے اور طلاق آئی أنتِ طالقٌ ثنتین سے، اور أنتِ حرّةٌ مختصر ہے اور أنتِ طالقٌ ثنتین یہ ذرا لمبا ہے اس میں تین لفظ ہیں۔ أنتِ حرّةٌ میں دو لفظ اور أنتِ طالقٌ ثنتین میں تین لفظ ہیں، تو ظاہر سی بات ہے أنتِ حرّةٌ مختصر ہے تو اس کی وجہ سے عتق بھی جلدی آئے گا اور أنتِ طالقٌ ثنتین اس میں ذرا طول ہے تو اس کی وجہ سے طلاق بھی ذرا دیر سے آئے گی، تو اس وجہ سے عتق مقدم ہو جائے گا اور طلاق مؤخر ہو جائے گی۔ تو اس لیے امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک اس خاوند کو ابھی بھی رجوع کا حق حاصل ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ جبکہ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، دونوں اکٹھے واقع ہوں گے۔ اعتاق علت ہے عتق کی تو تطلیق علت ہے طلاق کی، تو سب کا زمانہ ایک ہی ہے، لہٰذا جس وقت میں عتق آ رہا ہے اسی وقت میں طلاق آ رہی ہے، اور عتق تو باندی پر آ رہا ہے تو طلاق بھی باندی پر آ رہی ہے، لہٰذا دو طلاقوں سے حرمتِ غلیظہ ثابت ہو جائے گی بھئی۔ اور باقی یہاں جو ہم نے کہا کہ تین حیض گزارنے پڑیں گے بطورِ عدت کے اس عورت کو، تو وہ بطورِ احتیاط کے ہے، کیونکہ آگے اگر نکاح کرنا ہے حلت اور حرمت کا معاملہ ہے تو احتیاط اسی میں ہے کہ تین حیض یہ عورت گزار لے اور پھر نکاح کر سکتی ہے۔ آگے دیکھیے بھئی: "فَصْلٌ فِي تَشْبِيهِ الطَّلَاقِ وَوَصْفِهِ" یہ فصل ہے طلاق کی تشبیہ اور اس کے وصف کے بیان میں۔ مثلاً خاوند طلاق کو تشبیہ دیتا ہے، تشبیہ دیتا ہے، بیوی سے کہتا ہے: تجھے پہاڑ جیسی طلاق ہے۔ تو تشبیہ دیتا ہے یا طلاق کی کوئی صفت بیان کرتا ہے کہ تجھے بدترین طلاق ہے۔ تو اس صورت میں کیا حکم ہو گا؟ اب وہ بیان کریں گے۔ تو کہتے ہیں: "فَصْلٌ فِي تَشْبِيهِ الطَّلَاقِ وَوَصْفِهِ" یہ فصل ہے طلاق کی تشبیہ اور اس کی صفت لانے کے بیان میں۔ "وَمَنْ قَالَ لِامْرَأَتِهِ أَنْتِ طَالِقٌ هَكَذَا يُشِيرُ بِالْإِبْهَامِ وَالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى فَهِيَ ثَلَاثٌ" صورتِ مسئلہ یہ: ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا: "أَنْتِ طَالِقٌ هَكَذَا" تجھے اتنی طلاق ہے، تجھے ایسی طلاق ہے، اور ساتھ تین انگلیوں سے اشارہ کیا، ابہام کہتے ہیں انگوٹھے کو، ابہام انگوٹھا، سبابہ یہ شہادت کی جو انگلی ہے، اور وسطیٰ یہ درمیان والی انگلی ہے۔ تو انگوٹھا اور شہادت کی انگلی اور درمیان والی انگلی، یہ تین انگلیوں کے ساتھ عورت کی طرف اشارہ کر کے کہا: "أَنْتِ طَالِقٌ هَكَذَا" تجھے اتنی طلاق ہے یا تجھے ایسی طلاق ہے، تو علماء فرماتے ہیں تین طلاقیں ہو جائیں گی۔ اس لیے کیونکہ انگلیوں سے وہ اشارہ تین کا کر رہا ہے معلوم ہوا وہ تین طلاقیں دینا چاہتا ہے۔ تو کہتے ہیں: "وَمَنْ قَالَ لِامْرَأَتِهِ" اور جس شخص نے اپنی بیوی سے کہا: "أَنْتِ طَالِقٌ هَكَذَا" کہ تجھے اس طرح طلاق ہے، "يُشِيرُ بِالْإِبْهَامِ وَالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى" اشارہ کرتے ہوئے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی سے، "فَهِيَ ثَلَاثٌ" تو یہ تین طلاقیں ہوں گی۔ "لِأَنَّ الْإِشَارَةَ بِالْأَصَابِعِ تُفِيدُ الْعِلْمَ بِالْعَدَدِ فِي مَجْرَى الْعَادَةِ" اس لیے کیونکہ انگلیوں سے اشارہ کرنا "تُفِيدُ الْعِلْمَ بِالْعَدَدِ" یہ عدد کے علم کا فائدہ دیتا ہے، اس سے عدد کا پتا چلتا ہے۔ انگلیوں سے اشارہ اس سے عدد کا پتا چلتا ہے۔ تو کہتے ہیں: "لِأَنَّ الْإِشَارَةَ بِالْأَصَابِعِ" اس لیے کیونکہ انگلیوں کے ذریعے اشارہ کرنا "تُفِيدُ الْعِلْمَ بِالْعَدَدِ" یہ عدد کے جاننے کا فائدہ دیتا ہے "فِي مَجْرَى الْعَادَةِ" عام لوگوں کی عادت میں، "إِذَا اقْتَرَنَتْ بِالْعَدَدِ الْمُبْهَمِ" جب یہ اشارہ مل جائے عددِ مبہم کے ساتھ۔ خاوند نے عددِ مبہم بھی ذکر کیا: "أَنْتِ طَالِقٌ هَكَذَا" یہ جو ھکذا کا لفظ لایا، یہ عددِ مبہم تھا۔ اتنی طلاقیں، اور کتنی ہیں وہ اس نے عدد انگلیوں کے ذریعے بتلا دیا۔ تو ھکذا عددِ مبہم تھا اس سے عدد کا پتا نہیں چل رہا تھا لیکن انگلیوں کے اشارے سے عدد کا پتا چل گیا۔ تو یہ معنی ہے: "إِذَا اقْتَرَنَتْ بِالْعَدَدِ الْمُبْهَمِ" جب وہ اشارہ مل جائے مبہم عدد کے ساتھ۔ "قَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ" نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: "الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا" حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ صحابہ کوئی مہینے کے بارے میں کوئی بات ہوئی تو حضور علیہ السلام نے دونوں ہاتھوں کی دس انگلیوں سے اشارہ فرمایا کہ مہینہ جو ہے وہ اس طرح ہوتا ہے: "هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا" تین دفعہ یہ دونوں ہاتھوں کی دس انگلیوں سے اشارہ فرمایا، اور تیسری مرتبہ میں ایک انگوٹھے کو موڑ لیا۔ تیسری دفعہ میں ایک انگوٹھے کو موڑ لیا، یعنی مہینہ انتیس کا بھی ہوتا ہے۔ مہینہ انتیس کا بھی ہوتا ہے، ہمیشہ مہینے کا تیس دنوں کا ہونا ضروری نہیں۔ تو اس حدیث کے اندر بھی: "الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا" دیکھو ھکذا عددِ مبہم ہے اور انگلیوں کے ساتھ اس کی تعداد حضور علیہ السلام بتلا رہے ہیں۔ تو کہتے ہیں: "قَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ" حضور علیہ السلام نے فرمایا: "الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا" کہ مہینہ جو ہے اتنا ہوتا ہے اور اتنا اور اتنا، "الْحَدِيثَ"۔ "وَإِنْ أَشَارَ بِوَاحِدَةٍ فَهِيَ وَاحِدَةٌ" جی وہی طلاق کا مسئلہ، اور اگر خاوند نے ایک انگلی سے اشارہ کیا: "أَنْتِ طَالِقٌ هَكَذَا" اور ایک انگلی سے اشارہ کیا تو پھر ایک طلاق ہو گی۔ تو کہتے ہیں: "وَإِنْ أَشَارَ بِوَاحِدَةٍ فَهِيَ وَاحِدَةٌ" اور اگر خاوند نے ایک انگلی سے اشارہ کیا تو ایک طلاق ہو گی، "وَإِنْ أَشَارَ بِثِنْتَيْنِ فَهِيَ ثِنْتَانِ" اور اگر دو انگلیوں سے اشارہ کیا تو دو طلاقیں ہوں گی، "لِمَا قُلْنَا" اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دیا، کہ انگلیاں جو ہیں ان سے عددِ مبہم کا پتا چل جاتا ہے۔ آگے دیکھیے: "وَالْإِشَارَةُ تَقَعُ بِالْمَنْشُورَةِ مِنْهَا" اچھا بھئی، جب خاوند نے اشارہ کیا تو تین انگلیاں کھلی ہوئی ہیں اور دو انگلیاں بند ہیں۔ دو انگلیاں بند ہیں، تو اب کس کا اعتبار کریں گے، کھلی ہوئی انگلیوں کا یا بند انگلیوں کا؟ تو یاد رکھو کھلی ہوئی انگلیوں کا اعتبار ہے۔ کس کا اعتبار ہے؟ کھلی ہوئی انگلیوں کا اعتبار ہے۔ جبکہ بعض فقہاء فرماتے ہیں، دیکھو یہ ایک ہاتھ کا ظاہر ہے اور ایک باطن۔ ہاتھ کا باطن یہ ہتھیلی کی جانب، یہ کیا ہے؟ ہاتھ کا باطن۔ اور یہ ہاتھ کی پشت کی جانب جو ہے یہ جس طرف ناخن ہیں انگلیوں پر، یہ جانب یہ ظاہر ہے، یہ ہاتھ کا ظاہر اور ہتھیلی کیا ہے ہاتھ کا باطن۔ تو بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ اگر ہاتھ کے باطن جو ہے عورت کی طرف کیا ہے، تو پھر کھلی انگلیوں کا اعتبار ہے، اور اگر ہاتھ کا ظاہر عورت کی طرف کیا ہے تو پھر بند انگلیوں کا اعتبار ہے۔ بعض فقہاء کیا فرماتے ہیں؟ کہ اگر ہاتھ کا باطن عورت کی طرف کیا یعنی ہتھیلی کا رخ عورت کی طرف کیا ہے تو پھر کھلی انگلیوں کا اعتبار ہے، اور اگر ہاتھ کے ظاہر کو عورت کی طرف کیا ہے یعنی ہتھیلی اپنی طرف ہے تو پھر بند انگلیوں کا اعتبار ہے۔ لیکن یاد رکھو یہ بعض فقہاء کی رائے ہے، جبکہ صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ اعتبار کھلی انگلیوں کا ہے۔ کس کا ہے؟ کھلی انگلیوں کا ہے، ظاہر اور باطن کو نہیں دیکھا جائے گا بھئی، چاہے ہاتھ کے ظاہر سے اشارہ کرے چاہے باطن سے، کھلی انگلیوں کا اعتبار ہے۔ تو کہتے ہیں: "وَالْإِشَارَةُ تَقَعُ بِالْمَنْشُورَةِ مِنْهَا" اور اشارہ واقع ہو گا "بِالْمَنْشُورَةِ مِنْهَا" ان میں سے جو کھلی ہوئی ہیں ان کے ذریعے، "وَقِيلَ" اور کہا گیا ہے، بعض فقہاء فرماتے ہیں: "إِذَا أَشَارَ بِظُهُورِهَا" کہ جب اشارہ کیا ان انگلیوں کے ظاہر کے ساتھ، یعنی ان کے ظاہر عورت کی طرف کیا "فَبِالْمَضْمُومَةِ مِنْهَا" تو پھر اشارہ جو ہے جو انگلیاں ملائی ہوئی ہیں بند کی ہوئی ہیں ان کے ذریعے ہو گا۔ تو صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلا دیا کھلی ہوئی انگلیوں کا اعتبار ہے۔ لیکن اگر خاوند نے بعد میں کہا میں نے تو بند انگلیوں کی نیت کی تھی، کھلی انگلیاں تو تین ہیں لیکن بند تو دو ہیں، میں نے تو دو طلاقوں کی نیت کی تھی، تین کی نیت نہیں کی تھی، تو کہتے ہیں اس صورت میں دیانۃً تو اس کی تصدیق کی جائے گی، یہ اس کا اور اللہ کا معاملہ ہے، لیکن اگر قاضی کے پاس مسئلہ چلا گیا تو قضاءً اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی، اس لیے کیونکہ یہ ظاہر کے خلاف ہے۔ ظاہر یہی ہے کہ اشارہ کھلی انگلیوں سے کیا جاتا ہے۔ تو کہتے ہیں: "وَإِذَا كَانَ تَقَعُ الْإِشَارَةُ بِالْمَنْشُورَةِ مِنْهَا فَلَوْ نَوَى الْإِشَارَةَ بِالْمَضْمُومَتَيْنِ يُصَدَّقُ دِيَانَةً لَا قَضَاءً" اور جب اشارہ جو ہے ان میں سے کھلی ہوئی انگلیوں کے ذریعے ہوتا ہے، تو اگر خاوند نے ان دو بند انگلیوں کے ذریعے اشارے کی نیت کر لی تو دیانۃً اس کی تصدیق کی جائے گی نہ کہ قضاءً۔ "وَكَذَا إِذَا نَوَى الْإِشَارَةَ بِالْكَفِّ" حتیٰ، اچھا، دوسری صورت: خاوند نے بیوی کی طرف اشارہ کیا، بیوی کی طرف، اور کہتا ہے میں نے تو ہتھیلی کے ذریعے اشارے کا ارادہ کیا تھا، انگلیوں کے ذریعے اشارہ مقصود نہیں تھا، ہتھیلی کے ذریعے، اور ہتھیلی تو ایک ہے، یعنی میرا ایک طلاق کا ارادہ تھا۔ تو کہتے ہیں اس صورت میں بھی دیانۃً اس کی تصدیق کی جائے گی، یہ اس کا اور اللہ کا معاملہ ہے، لیکن اگر قاضی کے پاس بات گئی تو قاضی اس کی تصدیق نہیں کرے گا۔ تو کہتے ہیں: "وَكَذَا إِذَا نَوَى الْإِشَارَةَ بِالْكَفِّ" اور اسی طرح اگر خاوند نے ہتھیلی کے ذریعے اشارے کی نیت کی، یعنی وہاں بھی دیانۃً تصدیق کریں گے، "حَتَّى يَقَعُ فِي الْأُولَى ثِنْتَانِ دِيَانَةً" بھئی یاد رکھیے یہاں پر بھی یہ حتى ناصب نہیں دے گا، کیونکہ حتیٰ کے ناصب کے لیے میں نے بتلایا تھا دو شرطیں ہیں کہ ایک تو یہ کہ حتیٰ کا ما بعد مستقبل ہونا چاہیے حتیٰ کے ما قبل کی طرف نسبت کرتے ہوئے، اور دوسری شرط یہ تھی کہ حتیٰ جو ہے وہاں سببیّت یا غایت کا فائدہ دے رہا ہو، یعنی حتیٰ کے ما قبل کو سبب ہونا چاہیے ما بعد کے لیے، یا حتیٰ کے ما بعد کو غایت ہونا چاہیے ما قبل کے لیے، پھر حتى کے بعد أن مقدر ہوتا ہے، تو یہاں یہ شرطیں پوری نہیں، لہٰذا حتى ناصب نہیں دے گا، یعنی اس حتى کے بعد أن مقدر نہیں ہو گا۔ "حَتَّى يَقَعُ فِي الْأُولَى ثِنْتَانِ دِيَانَةً" یہاں تک کہ پہلی صورت میں دو طلاقیں ہوں گی دیانۃً، یعنی دو انگلیاں بند تھیں اور اس نے بھی بند انگلیوں سے اشارے کی نیت کی ہے تو دو طلاقیں ہوں گی دیانۃً، اور اگر اس نے کہا میں نے ہتھیلی کے ذریعے اشارے کی نیت کی تھی تو اس صورت میں پھر ایک ہی طلاق واقع ہو گی دیانۃً، نہ کہ قضاءً بھئی۔ تو کہتے ہیں: "حَتَّى يَقَعُ فِي الْأُولَى ثِنْتَانِ دِيَانَةً وَفِي الثَّانِيَةِ وَاحِدَةٌ" یہاں تک کہ پہلی صورت میں دو طلاقیں واقع ہوں گی دیانۃً اور دوسری صورت میں ایک طلاق واقع ہو گی، "لِأَنَّهُ يَحْتَمِلُهُ" کیونکہ یہ اشارہ اس کا بھی احتمال رکھتا ہے۔ یہ جو ہاتھ سے اشارہ کر رہا ہے یہ ہتھیلی سے بھی اشارے کا احتمال رکھتا ہے اور بند انگلیوں سے بھی اشارے کا احتمال رکھتا ہے، تو دیانۃً تو ہم تصدیق کریں گے لیکن قضاءً نہیں کیونکہ یہ خلافِ ظاہر ہے۔ تو کہتے ہیں: "لِأَنَّهُ يَحْتَمِلُهُ لَكِنَّهُ خِلَافُ الظَّاهِرِ" کیونکہ یہ اس کا بھی احتمال رکھتا ہے لیکن یہ ظاہر کے خلاف ہے، "وَلَوْ لَمْ يَقُلْ هَكَذَا يَقَعُ وَاحِدَةٌ"۔ بھئی، خاوند نے کیا کہا تھا بیوی سے؟ "أَنْتِ طَالِقٌ هَكَذَا" اور ساتھ اشارہ کر رہا ہے۔ صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ اگر یہ خاوند ھکذا کا لفظ ذکر نہ کرتا، یعنی عددِ مبہم کو ذکر نہ کرتا، صرف یوں کہتا: "أَنْتِ طَالِقٌ" اور انگلیوں سے اشارہ کر دیتا دو یا تین کا، تو پھر ایک ہی طلاق واقع ہونی تھی۔ یہ جو ھکذا اس نے ساتھ ذکر کیا ہے ھکذا کا لفظ، اس عدد کے اندر ابہام تھا اور انگلیوں نے آ کر اس ابہام کو دور کیا تھا، لیکن أنتِ طالقٌ کے اندر تو کوئی ابہام نہیں ہے، لہٰذا اس کے ساتھ انگلیوں کا بے شک اشارہ بھی کرے اس اشارے کا کوئی اعتبار نہیں، أنتِ طالقٌ کا اعتبار ہے اور ایک ہی طلاق ہو گی، چاہے وہ دو انگلیوں کا ساتھ اشارہ کرے چاہے تین انگلیوں کا۔ توجہ ہے؟ یہ تو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے، لیکن شامی کے اندر صاحبِ... شامی فرماتے ہیں کہ اگر صرف ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کے ساتھ بھی انگلیوں کا اشارہ کرے گا تو وہ معتبر ہے۔ تین انگلیوں کا اشارہ کیا تو تینوں ہو جائیں گی، دو کا اشارہ کیا تو دو ہو جائیں گی، ”هٰكَذَا“ کا لفظ ساتھ لانے کی ضرورت نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَلَوْ لَمْ يَقُلْ هٰكَذَا“ اور اگر خاوند ”هٰكَذَا“ کا لفظ نہ کہتا ”يَقَعُ وَاحِدَةٌ“ تو ایک ہی طلاق واقع ہوتی، صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں لیکن میں نے بتایا شامی میں ہے کہ عدد کا پھر بھی اعتبار ہو گا بھئی۔ تو کہتے ہیں اس صورت میں ایک ہی طلاق واقع ہو گی ”لِأَنَّهُ لَمْ تَقْتَرِنْ بِالْعَدَدِ الْمُبْهَمِ“ اس لیے کیونکہ طلاق جو ہے وہ عددِ مبہم کے ساتھ نہیں ملی ”فَبَقِيَ الِاعْتِبَارُ لِقَوْلِهِ أَنْتِ طَالِقٌ“ لہٰذا خاوند کے قول ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کا اعتبار باقی رہا، اسی کا اعتبار کریں گے اور اس سے تو ایک طلاق ہوتی ہے۔ آگے دیکھیے: ”وَإِذَا وَصَفَ الطَّلَاقَ بِضَرْبٍ مِنَ الزِّيَادَةِ أَوِ الشِّدَّةِ كَانَ بَائِنًا“ اگر خاوند نے طلاق کو موصوف کیا زیادتی یا شدت کے ساتھ، تو اس صورت میں پھر طلاقِ بائن ہو گی۔ کیا ہو گی؟ طلاقِ بائن ہو گی۔ جی، کہتے ہیں ”وَإِذَا وَصَفَ الطَّلَاقَ بِضَرْبٍ مِنَ الزِّيَادَةِ أَوِ الشِّدَّةِ“ اور اگر خاوند نے طلاق کو موصوف کیا بضرب، ضرب کا معنی ہے قسم، نوع ”بِضَرْبٍ مِنَ الزِّيَادَةِ أَوِ الشِّدَّةِ“ زیادتی یا شدت کی نوع میں سے کسی کے ساتھ طلاق کو موصوف کیا ”كَانَ بَائِنًا“ تو طلاقِ بائن ہو گی، یعنی طلاق کا وصف بھی بڑھ جائے گا۔ طلاقِ رجعی تو عام طلاق ہے اور جب وصف بڑھائے گا تو اب طلاق کے اندر بھی شدت آ جائے گی اسی کے مطابق، اب طلاقِ رجعی نہ رہے گی بلکہ وہ کیا بن جائے گی؟ طلاقِ بائن۔ ”مِثْلُ أَنْ يَقُولَ“ مثال کے طور پر خاوند یوں کہتا ہے ”أَنْتِ طَالِقٌ بَائِنٌ“، ”أَنْتِ طَالِقٌ بَائِنٌ“ تو دیکھو ”طَالِقٌ“ کے ساتھ ”بَائِنٌ“ کی صفت بڑھا دی، تجھے ایسی طلاق ہے بائن جو جدا کرنے والی ہے، تو طلاقِ بائن ہو گی بھئی۔ یا ”أَنْتِ طَالِقٌ الْبَتَّةَ“، بَتٌّ کا معنی بھی قطع ہے، ”الْبَتَّةَ“ یعنی کاٹنے والی طلاق، تو لہٰذا ”أَنْتِ طَالِقٌ الْبَتَّةَ“ اس سے بھی طلاقِ بائن ہو جائے گی، بَتٌّ کا معنی کاٹنا ہے اور طلاقِ رجعی نکاح کو کاٹتی ہے یا طلاقِ بائن نکاح کو کاٹتی ہے؟ بائن کاٹتی ہے تو اس لیے یہاں پر طلاقِ بائن ہو گی۔ تو کہتے ہیں ”مِثْلُ أَنْ يَقُولَ“ مثال کے طور پر خاوند یوں کہتا ہے ”أَنْتِ طَالِقٌ بَائِنٌ أَوِ الْبَتَّةَ“ تو اس صورت میں طلاقِ بائن ہو گی۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالَى يَقَعُ رَجْعِيًّا إِذَا كَانَ بَعْدَ الدُّخُولِ“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں طلاقِ رجعی واقع ہو گی چاہے ”بَائِنٌ“ یا ”الْبَتَّةَ“ کو بھی ساتھ ملا دے، پھر بھی رجعی واقع ہو گی ”إِذَا كَانَ بَعْدَ الدُّخُولِ“ جب یہ طلاق صحبت کے بعد ہو۔ رجعی ہی ہو گی۔ بھئی کیوں؟ یہ دخول کے بعد کی قید کیوں لگائی؟ صحبت کے بعد کی قید کیوں لگائی؟ وجہ یہ کہ غیر مدخول بہا میں آپ پڑھ چکے ہیں، وہ عورت جس سے خاوند نے ابھی صحبت ہی نہیں کی اس کو طلاقِ رجعی بھی دے گا وہ خود بخود کیا ہو جائے گی؟ بائن ہو جائے گی، طلاق دیتے ہی فوراً نکاح ٹوٹ گیا اب اس پر عدت بھی نہیں ہے۔ تو غیر مدخول بہا کو رجعی بھی دے گا وہ کیا ہو جائے گی؟ طلاقِ بائن ہو جائے گی۔ تو اسی لیے کہا، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”يَقَعُ رَجْعِيًّا“ کہ طلاقِ رجعی واقع ہو گی ”إِذَا كَانَ بَعْدَ الدُّخُولِ“ جبکہ یہ صحبت کے بعد ہو ”لِأَنَّ الطَّلَاقَ“، امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل، وہ فرماتے ہیں کہ شریعت نے طلاق کے بعد رجعت کو ثابت کیا ہے کہ طلاق کے بعد خاوند رجوع کر سکتا ہے عدت کے اندر اندر، تو طلاق کے پیچھے رجوع آتا ہے اور یہ شخص طلاقِ بائن دے کر کیا کرنا چاہتا ہے؟ اس رجوع کو ساقط کرنا چاہتا ہے، یعنی شریعت کے حکم کو بدلنا چاہتا ہے لہٰذا اس کے قول کا کوئی اعتبار نہیں اور رجوع کا حق خاوند کو پھر بھی رہے گا۔ معلوم ہوا ”أَنْتِ طَالِقٌ بَائِنٌ“ کہہ دے یا ”أَنْتِ طَالِقٌ الْبَتَّةَ“ کہہ دے دونوں صورتوں میں رجوع کا حق پھر بھی خاوند کے پاس رہے گا، تو طلاقِ رجعی ہو گی طلاقِ بائن نہیں ہو گی۔ وجہ سمجھ میں آ گئی؟ کیا وجہ؟ کہ شریعت نے طلاق کے بعد رجوع کا حق دیا ہے خاوند کو اور یہ کہنے والا ”أَنْتِ طَالِقٌ بَائِنٌ“ یا ”أَنْتِ طَالِقٌ الْبَتَّةَ“ کہہ کر شریعت کے اس حکم کو بدلنا چاہتا ہے کہ میں ایسی طلاق دوں جس کے بعد مجھے رجوع کا حق ہی نہ رہے، بھئی آپ کیسے شریعت کا حکم بدل سکتے ہیں؟ آپ کو شریعت کا حکم بدلنے کی اجازت نہیں ہو گی لہٰذا رجوع کا حق ابھی بھی خاوند کے پاس رہے گا۔ معلوم ہوا ”أَنْتِ طَالِقٌ بَائِنٌ“ یا ”أَنْتِ طَالِقٌ الْبَتَّةَ“ کہنے سے طلاقِ بائن نہیں ہو گی طلاقِ رجعی ہی ہو گی۔ تو کہتے ہیں ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”يَقَعُ رَجْعِيًّا إِذَا كَانَ بَعْدَ الدُّخُولِ“ کہ طلاقِ رجعی واقع ہو گی جب یہ صحبت کے بعد ہو ”لِأَنَّ الطَّلَاقَ شُرِعَ مُعَقِّبًا لِلرَّجْعَةِ“، عَقَّبَ يُعَقِّبُ تعقیب کا معنی ہے ایک چیز کو دوسری چیز کے پیچھے لانا، بعد میں لانا، تو ”لِأَنَّ الطَّلَاقَ شُرِعَ مُعَقِّبًا لِلرَّجْعَةِ“ اس لیے کیونکہ طلاق جو ہے وہ مشروع ہوئی ہے کہ وہ اپنے پیچھے رجعت کو لاتی ہے، طلاق کس طریقے پر مشروع ہوئی ہے؟ کس طریقے پر شریعت نے اجازت دی ہے؟ کہ اس کے پیچھے رجوع کا حکم آئے گا، خاوند رجوع کر سکے گا۔ تو کہتے ہیں ”لِأَنَّ الطَّلَاقَ شُرِعَ مُعَقِّبًا لِلرَّجْعَةِ“ اس لیے کیونکہ طلاق مشروع ہوئی ہے کہ وہ اپنے پیچھے رجعت کو لاتی ہے ”فَكَانَ وَصْفُهُ بِالْبَيْنُونَةِ خِلَافَ الْمَشْرُوعِ“ لہٰذا خاوند کا طلاق کو بینونت کے ساتھ موصوف کرنا، بینونت یعنی جدائی، تو خاوند کا طلاق کو جدائی کے ساتھ موصوف کرنا ”خِلَافَ الْمَشْرُوعِ“ یہ مشروع طریقے کے خلاف ہے، مشروع طلاق کے خلاف ہو گا ”فَيَلْغُو“ لہٰذا یہ لغو ہو جائے گا اس کا کوئی اعتبار نہیں، وہ شرعی حکم کو نہیں بدل سکتا۔ ”كَمَا إِذَا قَالَ“ کہتے ہیں یہ اسی طرح ہے جیسے خاوند اپنی بیوی سے کہتا ہے ”أَنْتِ طَالِقٌ عَلَى أَنْ لَا رَجْعَةَ لِي عَلَيْكِ“ خاوند بیوی سے کہتا ہے ”أَنْتِ طَالِقٌ“ تجھے طلاق ہے ”عَلَى أَنْ لَا رَجْعَةَ لِي عَلَيْكِ“، عَلَى شرط کے لیے آتا ہے، عَلَى اس شرط پر ”أَنْ لَا رَجْعَةَ لِي عَلَيْكِ“ کہ مجھے تجھ پر رجوع کا حق نہیں ہے۔ مجھے تجھ پر رجوع کا حق... امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے، وہ فرماتے ہیں یہ اسی طرح ہے خاوند بیوی سے کہے تجھے طلاق ہے اس شرط پر کہ مجھے رجوع کا حق نہیں ہو گا اور اے احناف! آپ کے نزدیک بھی اس صورت میں طلاقِ رجعی ہی ہو گی۔ خاوند کا یہ کہنا: اس شرط پر کہ مجھے رجوع کا حق نہیں ہو گا، یہ تو شریعت کے حکم کو بدل رہا ہے، طلاق کے بعد تو خاوند کو رجوع کا حق ہوتا ہے لہٰذا یہ اس کا کوئی اعتبار نہیں اور اے احناف! آپ کے نزدیک بھی اس صورت کے اندر طلاقِ رجعی ہو گی جب خاوند نے کیا کہا ”أَنْتِ طَالِقٌ عَلَى أَنْ لَا رَجْعَةَ لِي عَلَيْكِ“ کہ تمہیں طلاق ہے اس شرط پر کہ مجھے تم پر رجوع کا حق نہیں، اس صورت میں اے احناف! آپ کے نزدیک بھی طلاقِ رجعی ہو گی تو یہ ”أَنْتِ طَالِقٌ بَائِنٌ“ بھی اسی طرح ہے۔ گویا ”بَائِنٌ“ لا کر خاوند یہ کہنا چاہ رہا ہے کہ اس شرط پر میں طلاق دے رہا ہوں کہ مجھے رجوع کا حق نہیں ہو گا لہٰذا اس کی یہ نیت لغو ہو گی بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں ”كَمَا إِذَا قَالَ“ یہ اسی طرح ہے جیسے کوئی شخص کہتا ہے ”أَنْتِ طَالِقٌ عَلَى أَنْ لَا رَجْعَةَ لِي عَلَيْكِ“ کہ تجھے طلاق ہے اس شرط پر کہ میرے لیے تجھ پر رجوع کا حق نہیں ہو گا۔ ”وَلَنَا“ اب ہماری دلیل آ گئی۔ ”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل یہ ہے ”أَنَّهُ وَصَفَهُ بِمَا يَحْتَمِلُهُ لَفْظُهُ“ کہ خاوند نے طلاق کو موصوف کیا ہے اس چیز کے ساتھ جس کا لفظ بھی احتمال رکھتا ہے، ”أَنْتِ طَالِقٌ“ تجھے طلاق ہے، یہ رجعی کا بھی احتمال رکھتا ہے اور بینونت کا بھی احتمال رکھتا ہے اور لفظ کے اندر جب ایک احتمال ہو تو اس کو کسی لفظ کے ذریعے متعین کرنے سے وہ متعین ہو جاتا ہے۔ متعین کرنے سے وہ متعین ہو جاتا ہے۔ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ میں طلاقِ رجعی کا بھی احتمال اور طلاقِ بائن کا بھی احتمال، تو جب وہ آگے ”بَائِنٌ“ کا لفظ لے آیا تو لفظ کے احتمال میں سے ہی ایک احتمال کو متعین کر دیا۔ نئی توجہ، پھر سنو، ہماری دلیل چل رہی ہے۔ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کے اندر ہم کہتے ہیں طلاقِ رجعی کا بھی احتمال طلاقِ بائن کا بھی احتمال ہے اور آگے وہ ”بَائِنٌ“ یا ”الْبَتَّةَ“ کا لفظ لے آتا ہے تو اس نے وہی جو ایک احتمال طلاق کے اندر تھا بائن والا اسی کو متعین کر دیا کہ یہاں میری مراد طلاق سے رجعی نہیں ہے بلکہ کونسی ہے؟ بائن ہے۔ پھر سنو، ”أَنْتِ طَالِقٌ“ میں دو احتمال، کونسے احتمال؟ رجعی بھی اور بائن بھی، رجعی بھی اور بائن بھی، تو اگر ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کے آگے وہ کچھ بھی نہ لائے تو رجعی ادنیٰ درجہ ہے اور بائن اعلیٰ درجہ ہے تو ادنیٰ خود بخود ثابت ہو جاتا ہے، طلاقِ رجعی ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر وہ ”بَائِنٌ“ کا یا ”الْبَتَّةَ“ کا لفظ آگے لاتا ہے تو یہ بائن کا احتمال تو طلاق کے اندر موجود تھا، تو اسی ایک احتمال کو اس بائن لفظ کے ذریعے کیا کر دیا اس نے؟ متعین کر دیا کہ اس طلاق سے میری مراد رجعی والی طلاق نہیں ہے بلکہ کونسی والی ہے؟ بائن والی ہے اور لفظ کے اندر جب ایک چیز کا احتمال ہو تو آپ اس کو کیا کر سکتے ہیں؟ متعین کر سکتے ہیں۔ تو کہتے ہیں ”وَلَنَا أَنَّهُ وَصَفَهُ بِمَا يَحْتَمِلُهُ لَفْظُهُ“ ہماری دلیل یہ ہے کہ خاوند نے اس طلاق کو موصوف کیا ہے اس صفت کے ساتھ کہ جس کا یہ لفظ احتمال بھی رکھتا ہے یعنی بینونت کا اس میں احتمال بھی ہے۔ ”أَلَا تَرَى أَنَّ الْبَيْنُونَةَ قَبْلَ الدُّخُولِ وَبَعْدَ الْعِدَّةِ تَحْصُلُ بِهِ“ کیا آپ دیکھتے نہیں ”أَنَّ الْبَيْنُونَةَ قَبْلَ الدُّخُولِ“ کہ وہ جدائی جو صحبت سے پہلے آتی ہے ”وَبَعْدَ الْعِدَّةِ“ اسی طرح وہ جدائی جو عدت کے بعد آتی ہے ”تَحْصُلُ بِهِ“ وہ اسی ”أَنْتِ طَالِقٌ“ سے حاصل ہوتی ہے۔ معلوم ہوا اس کے اندر بینونت کا بھی احتمال ہے۔ سوال: ”أَنْتِ طَالِقٌ“ میں بائن کا احتمال کہاں سے آپ لے آئے؟ یہ تو آپ نے ایک نئی بات کر دی۔ یہ تو آپ نے نئی بات کر دی، تو کہتے ہیں بھئی آپ دیکھتے نہیں، خاوند غیر مدخول بہا عورت کو ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کہتا ہے جس سے ابھی صحبت نہیں کی، جس کی ابھی رخصتی نہیں ہوئی، اس کو خاوند ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کہے گا کونسی طلاق ہو گی؟ طلاقِ بائن ہو جائے گی نکاح ٹوٹ جائے گا، دیکھا؟ معلوم ہوا اس ”أَنْتِ طَالِقٌ“ میں بائن کا احتمال تھا جبھی تو ہوئی بائن طلاق ورنہ نہ ہوتی بھئی۔ اور نیز خاوند اگر مدخول بہا جو ہے جس سے صحبت کر چکا ہے اس کو ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کہتا ہے تو عورت کو طلاق ہو گئی اور عورت عدت گزارے گی، اس عدت کے اندر خاوند رجوع کر سکتا ہے لیکن اگر خاوند نے رجوع نہ کیا اور عدت گزر گئی تو عورت جدا ہو جائے گی، عورت جدا... اور مجھے بتائیے یہ جو عورت جدا ہوئی یہ اسی ”أَنْتِ طَالِقٌ“ سے ہوئی یا کسی اور طلاق سے ہوئی؟ اسی ”أَنْتِ طَالِقٌ“ سے ہوئی، اسی ”أَنْتِ طَالِقٌ“ سے یہ جدائی آئی ہے، معلوم ہوا ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کے اندر رجعی کا بھی احتمال ہے اور بائن کا بھی احتمال ہے، تو جب لفظ کے اندر ایک چیز کا احتمال ہو تو اس کو متکلم متعین کر سکتا ہے، تو ”بَائِنٌ“ یا ”الْبَتَّةَ“ کا لفظ لا کر اس نے اس کو متعین کر دیا بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَلَنَا أَنَّهُ وَصَفَهُ بِمَا يَحْتَمِلُهُ لَفْظُهُ“ ہماری دلیل یہ ہے کہ خاوند نے طلاق کو موصوف کیا ہے اس صفت کے ساتھ کہ جس کا یہ لفظ احتمال بھی رکھتا ہے یعنی بینونت کا اس میں احتمال بھی ہے ”أَلَا تَرَى أَنَّ الْبَيْنُونَةَ قَبْلَ الدُّخُولِ وَبَعْدَ الْعِدَّةِ تَحْصُلُ بِهِ“ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ وہ جدائی جو صحبت سے پہلے آتی ہے اور بعد العدۃ اسی طرح وہ جدائی جو عدت کے بعد آتی ہے وہ اسی ”أَنْتِ طَالِقٌ“ سے حاصل ہوتی ہے، معلوم ہوا اس کے اندر بینونت کا بھی احتمال ہے ”فَيَكُونُ هٰذَا الْوَصْفُ لِتَعْيِينِ أَحَدِ الْمُحْتَمَلَيْنِ“ تو لہٰذا یہ جو وصف خاوند لایا ہے یعنی ”بَائِنٌ“ یا ”الْبَتَّةَ“، یہ جو وصف خاوند لایا ہے ”لِتَعْيِينِ أَحَدِ الْمُحْتَمَلَيْنِ“ یہ ان دو محتملوں میں سے ایک کی تعیین کے لیے لایا ہے۔ ”وَمَسْأَلَةُ الرَّجْعَةِ مَمْنُوعَةٌ“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے تھے: جیسے خاوند بیوی سے کہے کہ تجھے طلاق ہے اس شرط پر کہ میں رجوع نہیں کر سکتا، تجھے طلاق ہے اس شرط پر کہ میں رجوع نہیں کر سکتا، کہ یہ اے احناف! آپ کے نزدیک بھی اس صورت میں طلاقِ رجعی ہو گی۔ تو اس کا جواب دے رہے ہیں کہ ”وَمَسْأَلَةُ الرَّجْعَةِ مَمْنُوعَةٌ“ کہ رجعت والا مسئلہ ممنوع ہے یعنی ہمیں تسلیم نہیں۔ آپ ہمیں کہہ رہے ہیں کہ اے احناف! آپ کے نزدیک بھی اس صورت میں طلاقِ رجعی ہو گی جب خاوند بیوی سے کیا کہے کہ تجھے طلاق ہے اس شرط پر کہ میں رجوع نہیں کر سکتا، خاوند یہ شرط ذکر کر دیتا ہے، تو ہمیں یہ تسلیم نہیں، ہمارے نزدیک اس صورت میں رجعی نہیں ہو گی بائن ہو گی۔ ہمارے نزدیک بائن ہو گی لہٰذا اس کو آپ دلیل کے طور پر پیش نہیں کر سکتے۔ یہ معنی ہے ”وَمَسْأَلَةُ الرَّجْعَةِ مَمْنُوعَةٌ“ اور رجوع والا مسئلہ وہ ممنوع ہے یعنی ہمیں تسلیم نہیں۔ ”فَتَقَعُ وَاحِدَةٌ بَائِنَةٌ إِذَا لَمْ تَكُنْ لَهُ نِيَّةٌ“ اچھا، ادھر دیکھیے: ”أَنْتِ طَالِقٌ بَائِنٌ“، ”أَنْتِ طَالِقٌ بَائِنٌ“ تو خاوند نے بیوی سے کہا ہے ”أَنْتِ طَالِقٌ بَائِنٌ“ یا ”أَنْتِ طَالِقٌ الْبَتَّةَ“ تو آپ کو بتلائیں گے، اگر خاوند اس کے ذریعے کوئی نیت نہ کرے تو بھی ایک طلاق ہو جائے گی اور طلاقِ بائن ہو گی کیونکہ یہ صریح ہے اور صریح کے اندر نیت کی ضرورت نہیں، اس کے اندر اور کوئی معنی ہے ہی نہیں، ”أَنْتِ طَالِقٌ بَائِنٌ“ کا معنی ہے وہ طلاق دے رہا ہے لہٰذا وہ نیت کرے یا نہ کرے ایک طلاقِ بائن ہو جائے گی۔ اور اگر اس نے ایک کی نیت کی پھر بھی ایک ہی ہو گی۔ اور اگر اس نے دو کی نیت کی پھر بھی ایک ہی ہو گی۔ پھر بھی ایک ہی ہو گی۔ لیکن اگر اس نے تین کی نیت کی تو تین بھی ہو جائیں گی۔ ”أَنْتِ طَالِقٌ بَائِنٌ“ یا ”أَنْتِ طَالِقٌ الْبَتَّةَ“ تو اس صورت میں تین کی نیت کی تو تین بھی ہو جائیں گی۔ اس وجہ سے تین ہوں گی کہ یہ دراصل صفت ہیں مصدرِ محذوف کی، یہ ”بَائِنٌ“ اور ”الْبَتَّةَ“ یہ کس کی صفت ہیں؟ مصدرِ محذوف کی اور مصدر وہ اسم جنس ہوتا ہے اس کا اطلاق قلیل پر بھی ہوتا ہے اور پوری جنس پر بھی ہوتا ہے اور پوری جنس طلاق کتنی ہے؟ تین، لہٰذا تین کی نیت بھی یہاں صحیح ہے۔ تین کی نیت بھی... مثلاً خاوند نے بیوی سے کہا ہے ”أَنْتِ طَالِقٌ بَائِنٌ“ اصل میں گویا خاوند یوں کہہ رہا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ طَلَاقًا هِيَ بَائِنٌ“، ”أَنْتِ طَالِقٌ طَلَاقًا هِيَ بَائِنٌ“ یا ”هُوَ بَائِنٌ“ تجھے ایسی طلاق ہے کہ وہ بائن ہے۔ تو اسی طرح یہ ”الْبَتَّةَ“ اس کو بھی کیا کریں گے؟ مصدرِ محذوف کی صفت بنائیں گے۔ ”أَنْتِ طَالِقٌ طَلَاقًا الْبَتَّةَ“ یا ”الطَّلَاقَ الْبَتَّةَ“، تو لہٰذا یہاں طلاق مصدر یہاں محذوف نکال لیں گے۔ تو معلوم ہوا یہ صفت ہے مصدرِ محذوف کی اور مصدر وہ تو اسم جنس ہے اس کا اطلاق قلیل پر یعنی ایک پر بھی صحیح ہے اور پوری جنس یعنی تین طلاقوں پر بھی صحیح ہے، تو تین کی نیت کرے گا تو تین طلاقیں بھی ہو جائیں گی۔ یا تو یہ مصدر کی صفت ہیں اس وجہ سے تین کی نیت بھی صحیح ہے یا اس وجہ سے کہ جدائی جو ہے، ”بَائِنٌ“ کا معنی بھی جدائی اور ”بَتٌّ“ کا معنی بھی جدائی، ”بَتٌّ“ کا معنی بھی کاٹنا، جدا کرنا، تو دونوں میں جدائی کا معنی ہے اور آگے صاحبِ ہدایہ بھی آپ کو بتلائیں گے جدائی دو قسم کی ہے: ایک بینونتِ خفیفہ ہے، ایک غلیظہ ہے۔ بیوی سے خاوند کی جدائی آتی ہے تو ایک بینونتِ خفیفہ ہے یعنی ہلکی جدائی ہے اور اس میں دوبارہ نکاح کی گنجائش ہوتی ہے، خاوند نے ایک یا دو طلاقیں دی ہیں اور طلاقِ بائن دی ہے تو خاوند ابھی بھی نکاح کر سکتا ہے اس عورت سے، نکاح تو ٹوٹ گیا لیکن نیا نکاح کر سکتا ہے اور اب اس کو ساری زندگی ایک طلاق کا حق ہو گا، تو یہ بینونتِ خفیفہ ہے۔ اور ایک بینونتِ غلیظہ ہے، سخت جدائی، وہ تین طلاقوں کی صورت میں آتی ہے کہ جس میں پھر خاوند دوبارہ اس عورت سے نکاح بھی نہیں کر سکتا الّا یہ کہ یہ عورت کسی اور شخص سے نکاح کرے اور وہ اس کے ساتھ صحبت بھی کرے، یاد رکھو یہ صحبت بھی دوسرے خاوند کی ضروری ہے، صرف کسی سے نکاح کرے اور وہ طلاق دے دے نہیں، پھر پہلے خاوند کے لیے حلال نہیں ہو گی بھئی۔ تو دوسرے خاوند سے نکاح کرے اور وہ صحبت بھی کرے پھر کسی وقت اس کا انتقال ہو جاتا ہے یا وہ بیوی کو طلاق دے دیتا ہے تو پھر یہ پہلے خاوند سے نکاح کر سکتی ہے۔ تو معلوم ہوا بینونت اور جدائی بھی کتنی قسم پر ہے؟ دو، ایک بینونتِ خفیفہ، ایک بینونتِ غلیظہ اور یہ ”بَائِنٌ“ اور ”الْبَتَّةَ“ میں دونوں کا احتمال ہے اس لیے بینونت جدائی مراد ہے، جدائی ہلکی بھی ہو سکتی ہے یعنی ایک طلاق اور جدائی سخت بھی ہو سکتی ہے یعنی تین طلاقیں، تو تین کی بھی نیت کر سکتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں ”فَتَقَعُ وَاحِدَةٌ بَائِنَةٌ إِذَا لَمْ تَكُنْ لَهُ نِيَّةٌ“ کہ ایک بائنہ طلاق واقع ہو گی جب اس شخص کی کوئی نیت نہ ہو ”أَوْ نَوَى ثِنْتَيْنِ“ یا اس نے دو کی نیت کی ہے تب بھی ایک ہی واقع ہو گی۔ ”أَمَّا إِذَا نَوَى ثَلَاثًا فَثَلَاثٌ لِمَا مَرَّ مِنْ قَبْلُ“، ”أَمَّا إِذَا نَوَى ثَلَاثًا“ باقی خاوند نے جب تین کی نیت کی ہے ”فَثَلَاثٌ“ تو تین طلاقیں واقع ہو جائیں گی ”لِمَا مَرَّ مِنْ قَبْلُ“ اس وجہ سے جو ماقبل میں بات گزر گئی کہ یہاں مصدر محذوف ہے اور مصدر سے پوری جنس کا ارادہ بھی صحیح ہے بھئی۔ ”وَلَوْ عَنَى بِقَوْلِهِ“ دوسری صورت: خاوند نے بیوی سے کہا ”أَنْتِ طَالِقٌ بَائِنٌ“ اور کہتا ہے ”طَالِقٌ“ کے ذریعے میری ایک طلاق کی نیت تھی اور ”بَائِنٌ“ کے ذریعے میری... ”بَائِنٌ“ کے ذریعے میری دوسری طلاق کی نیت تھی، تو یاد رکھو اس صورت میں پھر دو طلاقیں واقع ہو جائیں گی۔ یا اسی طرح خاوند کہتا ہے ”أَنْتِ طَالِقٌ الْبَتَّةَ“ اور کہتا ہے ”طَالِقٌ“ کے ذریعے میری ایک طلاق کی نیت تھی اور ”الْبَتَّةَ“ کے ذریعے میری دوسری طلاق کی نیت تھی تو اس صورت میں بھی دو طلاقیں واقع ہو جائیں گی بھئی۔ ”وَلَوْ عَنَى بِقَوْلِهِ أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً“ اور اگر خاوند نے ارادہ کیا اپنے قول ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کے ذریعے ”وَاحِدَةً“ ایک طلاق کا ”وَبِقَوْلِهِ بَائِنٌ أَوِ الْبَتَّةَ أُخْرَى“ اور اپنے قول ”بَائِنٌ“ یا ”الْبَتَّةَ“ کے ذریعے دوسری طلاق کا ”يَقَعُ تَطْلِيقَتَانِ بَائِنَتَانِ“ تو دو طلاقیں بائن واقع ہو جائیں گی ”لِأَنَّ هٰذَا الْوَصْفَ يَصْلُحُ لِابْتِدَاءِ الْإِيقَاعِ“ اس لیے کیونکہ یہ وصف صلاحیت رکھتا ہے ابتدائے ایقاع کی، خاوند اگر اپنی بیوی سے یہ کہتا ہے ”أَنْتِ بَائِنٌ“، ”أَنْتِ بَائِنٌ“ تو جدا ہے، یا ”أَنْتِ الْبَتَّةَ“ تو جدا ہے، تو یاد رکھو یہ کنایہ ہے۔ کیونکہ جدا ہے اس کا معنی یہ بھی ہو سکتا ہے کہ میں نے تجھے طلاق دے دی ہے تو مجھ سے جدا ہے، طلاق کا بھی اس میں احتمال، اور نیز اس کا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ تو اور عورتوں سے جدا ہے یعنی حسن و جمال میں تیرے جیسی کوئی بھی نہیں۔ تو یہ کنایہ ہوا، کیا ہوا؟ کنایہ، اور کنائے کے اندر خاوند نیت کرے تو طلاق واقع ہو جاتی ہے، خاوند نے بیوی سے کہا ”أَنْتِ بَائِنٌ“ اور نیت طلاق کی کی تو طلاق ہو جائے گی، یا خاوند نے بیوی سے کہا ”أَنْتِ الْبَتَّةَ“ اور نیت طلاق کی کی تو طلاق واقع ہو جائے گی۔ تو جب ”أَنْتِ بَائِنٌ“ اکیلے کے ساتھ یہ طلاق ہو جاتی ہے، ”أَنْتِ الْبَتَّةَ“ کے ساتھ اکیلے کے ساتھ طلاق ہو جاتی ہے تو یہاں پر بھی اس کے ساتھ طلاق کی نیت کرنا صحیح ہے بھئی۔ یہ معنی ہے ”لِأَنَّ هٰذَا الْوَصْفَ يَصْلُحُ لِابْتِدَاءِ الْإِيقَاعِ“ اس لیے کیونکہ یہ وصف صلاحیت رکھتا ہے ابتدائے ایقاع کی، کہ صرف اس کے ذریعے ہی ابتداءً ایقاعِ طلاق کر دیا جائے، ”أَنْتِ بَائِنٌ“ کہا جائے اور اس کے ذریعے ابتدائے ایقاع کی نیت کی جائے کہ اس سے طلاق واقع ہو جائے، بات سمجھ میں آ گئی۔ آگے دیکھیے، کہتے ہیں ”وَكَذَا إِذَا قَالَ أَنْتِ طَالِقٌ أَفْحَشَ الطَّلَاقِ“ خاوند بیوی سے کہتا ہے ”أَنْتِ طَالِقٌ أَفْحَشَ الطَّلَاقِ“، أَفْحَش کا معنی ہے حد سے بڑھی ہوئی۔ پیچھے ذکر ہوا تھا غبنِ... غبنِ فاحش کا، غبنِ فاحش کا ذکر ہوا تھا تو فاحش کا معنی کیا ہوتا ہے؟ حد سے بڑھا ہوا، حد سے زیادہ۔ تو کہتے ہیں ”وَكَذَا إِذَا قَالَ أَنْتِ طَالِقٌ أَفْحَشَ الطَّلَاقِ“ کہ تجھے حد سے بڑھی ہوئی طلاق ہے تو اس صورت میں بھی، ”وَكَذَا“ بتلایا ”وَكَذَا“ اسی طرح ہے جب خاوند نے ”أَنْتِ طَالِقٌ أَفْحَشَ الطَّلَاقِ“ کہا یعنی اس میں بھی طلاقِ بائن ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں ”وَكَذَا“ اور اسی طرح ہے یعنی طلاقِ بائن ہو جائے گی ”إِذَا قَالَ أَنْتِ طَالِقٌ أَفْحَشَ الطَّلَاقِ“ جب خاوند نے بیوی سے کہا تجھے حد سے بڑھی ہوئی طلاق ہے ”لِأَنَّهُ إِنَّمَا يُوصَفُ بِهٰذَا الْوَصْفِ بِاعْتِبَارِ أَثَرِهِ“ اس لیے کیونکہ طلاق کو اس وصف کے ساتھ موصوف کیا جاتا ہے اس کے اثر کے اعتبار سے، اس کے اثر کے... ”أَفْحَشَ الطَّلَاقِ“ حد سے بڑھی ہوئی طلاق، تو یہ اس کے اثر کے اعتبار سے بتلا رہا ہے، خود طلاق وہ تو غیر محسوس ہے وہ تو آنکھوں سے نظر نہیں آتی لہٰذا وہ مراد نہیں ہے اور اس کے موصوف کرنے کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ اس کا اثر مراد ہے اور اس کا اثر کس طرح ہو گا؟ کہ رجعی کے بجائے بائن طلاق ہو جائے گی بھئی۔ تو کہتے ہیں ”لِأَنَّهُ إِنَّمَا يُوصَفُ بِهٰذَا الْوَصْفِ بِاعْتِبَارِ أَثَرِهِ“ اس لیے کیونکہ طلاق جو ہے اس کو اس وصف یعنی افحش کے وصف کے ساتھ موصوف کیا جاتا ہے اس کے اثر کے اعتبار سے ”وَهُوَ الْبَيْنُونَةُ فِي الْحَالِ“ اور وہ فی الحال بینونت ہے، عام طلاق دے گا تو وہاں تو رجوع کا حق ہے، عدت کے بعد بینونت اور جدائی آئے گی لیکن یہاں اس کا اثر ظاہر ہو گا اور فی الحال ہی بینونت آ جائے گی یعنی طلاقِ بائن ہو جائے گی۔ یہ معنی ہے ”وَهُوَ الْبَيْنُونَةُ فِي الْحَالِ“ اور وہ فی الحال ہی جدائی ہے یعنی وہ اثر جو ہے ”فَصَارَ كَقَوْلِهِ بَائِنٌ“ تو یہ اسی طرح ہو گیا جیسے خاوند کا قول ”بَائِنٌ“ تھا۔ ”وَكَذَا إِذَا قَالَ أَخْبَثَ الطَّلَاقِ أَوْ أَسْوَأَهُ“ اور اسی طرح ہے یعنی طلاقِ بائن ہو جائے گی ”إِذَا قَالَ“ جب خاوند نے بیوی سے کہا ”أَخْبَثَ الطَّلَاقِ“ أي ”أَنْتِ طَالِقٌ أَخْبَثَ الطَّلَاقِ أَوْ أَسْوَأَهُ“، أَخْبَث اور أَسْوَأ کا دونوں کا ایک ہی معنی ہے، بدترین بھئی۔ اخبث کا معنی بھی بدترین، اسوأ بھئی، اسوأ کا بھی کیا معنی؟ بدترین بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَكَذَا إِذَا قَالَ أَخْبَثَ الطَّلَاقِ أَوْ أَسْوَأَهُ“ اور اسی طرح ہے یعنی طلاقِ بائن ہو گی جب خاوند نے بیوی سے کہا کہ تجھے بدترین طلاق ہے ”لِمَا ذَكَرْنَا“ اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دی کہ اس کے ذریعے اس کا اثر بڑھے گا اور اثر کا بڑھنا کیا ہے؟ کہ فی الحال ہی جدائی ہو جائے گی۔ ”وَكَذَا إِذَا قَالَ طَلَاقَ الشَّيْطَانِ أَوْ طَلَاقَ الْبِدْعَةِ“ اسی طرح اگر خاوند نے بیوی سے کہا ”أَنْتِ طَالِقٌ طَلَاقَ الشَّيْطَانِ“ تجھے شیطان والی طلاق ہے ”أَوْ أَنْتِ طَالِقٌ طَلَاقَ الْبِدْعَةِ“ تجھے بدعت والی طلاق ہے تو اس صورت میں بھی طلاقِ بائن ہو جائے گی، اس لیے کیونکہ طلاق کی نسبت شیطان اور بدعت کی طرف کی، معلوم ہوا خلافِ سنت مراد ہے اور سنت تو ہے طلاقِ رجعی دینا اور اس کے مخالف کیا ہو گی؟ طلاقِ بائن ہو گی بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَكَذَا إِذَا قَالَ“ اور اسی طرح ہے یعنی طلاقِ بائن ہو گی ”إِذَا قَالَ“ جب خاوند نے بیوی سے کہا ”طَلَاقَ الشَّيْطَانِ أَوْ طَلَاقَ الْبِدْعَةِ لِأَنَّ الرَّجْعِيَّ هُوَ السُّنَّةُ“ کیونکہ طلاقِ رجعی وہ تو سنت ہے ”فَيَكُونُ الْبِدْعَةُ وَطَلَاقُ الشَّيْطَانِ بَائِنًا“ تو بدعت اور طلاقِ شیطان وہ طلاقِ بائن ہو گی۔ ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ فِي قَوْلِهِ أَنْتِ طَالِقٌ لِلْبِدْعَةِ أَنَّهُ لَا يَكُونُ بَائِنًا إِلَّا بِالنِّيَّةِ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں ”أَنْتِ طَالِقٌ لِلْبِدْعَةِ“ اس صورت میں طلاقِ بائن نہیں ہو گی بلکہ طلاقِ رجعی ہو گی، الّا یہ کہ خاوند خود کہتا ہے میں نے بائن کی نیت کی تھی۔ خاوند اگر بائن کی نیت کرتا ہے پھر تو بائن ہو جائے گی ویسے اس سے بائن نہیں۔ بھئی کیوں نہیں بائن ہو گی؟ طلاقِ سنت تو رجعی ہوتی ہے اور یہ بدعت کہہ رہا ہے تو بدعت سے تو رجعی نہیں ہونی چاہیے بلکہ کونسی ہونی چاہیے؟ بائن ہونی... اس نے کیا کہا ہے؟ بدعت کہا ہے، بدعت کیا ہے؟ سنت کے مخالف ہے، سنت تو طلاقِ رجعی ہے، تو لیکن امام ابو یوسف کیا فرماتے ہیں؟ بدعت کی صورت میں بھی طلاقِ رجعی ہی ہو گی، الّا یہ کہ خاوند باقاعدہ بائن کی نیت کرے پھر بائن ہو جائے گی۔ بھئی کیسے؟ یہ تو بدعت کہا ہے پھر بھی آپ اس کو رجعی قرار دے رہے ہیں؟ کہتے ہیں بعض اوقات طلاقِ رجعی کو بھی بدعت کہتے ہیں مثلاً حیض میں طلاق دے دی، جب حیض میں طلاق دی، حیض میں تو طلاق دینا منع تھا بھئی، تو ہوئی تو رجعی طلاق ہی البتہ بدعت ہے، معلوم ہوا طلاقِ بدعت رجعی بھی ہو سکتی ہے تو رجعی ہی ہو گی الّا یہ کہ خاوند بائن کی نیت کر لے۔ تو کہتے ہیں ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ فِي قَوْلِهِ أَنْتِ طَالِقٌ لِلْبِدْعَةِ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے خاوند کے قول ”أَنْتِ طَالِقٌ لِلْبِدْعَةِ“ کے بارے میں ”أَنَّهُ لَا يَكُونُ بَائِنًا إِلَّا بِالنِّيَّةِ“ کہ یہ طلاق بائن نہیں ہو گی مگر خاوند کی نیت سے ہی ”لِأَنَّ الْبِدْعَةَ قَدْ تَكُونُ مِنْ حَيْثُ الْإِيقَاعِ فِي حَالَةِ حَيْضٍ“ اس لیے کیونکہ بدعت جو ہے کبھی کبھار حالتِ حیض میں طلاق کے واقع کرنے کے اعتبار سے ہوتی ہے ”فَلَا بُدَّ مِنَ النِّيَّةِ“ لہٰذا نیت کا ہونا ضروری ہے بائن کے لیے۔ ”وَعَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللّٰهُ أَنَّهُ إِذَا قَالَ أَنْتِ طَالِقٌ لِلْبِدْعَةِ أَوْ طَلَاقَ الشَّيْطَانِ“ اور امام محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ خاوند نے جب یوں کہا ”أَنْتِ طَالِقٌ لِلْبِدْعَةِ“ یا ”أَنْتِ طَالِقٌ طَلَاقَ الشَّيْطَانِ“ کہا تو دونوں صورتوں میں ”يَكُونُ رَجْعِيًّا“ طلاق کونسی ہو گی؟ رجعی ہو گی ”لِأَنَّ هٰذَا الْوَصْفَ قَدْ يَتَحَقَّقُ بِالطَّلَاقِ فِي حَالَةِ الْحَيْضِ“ اس لیے کیونکہ یہ بدعت والا وصف کبھی طلاق میں پایا جاتا ہے حالتِ حیض میں، تو طلاق رجعی ہی ہو گی بائن نہیں ہو گی ”فَلَا يَثْبُتُ الْبَيْنُونَةُ بِالشَّكِّ“ تو شک کی وجہ سے بینونت ثابت نہیں ہو گی، بات سمجھ میں آ گئی۔ ”وَكَذَا إِذَا قَالَ كَالْجَبَلِ“ خاوند نے بیوی سے کہا ”أَنْتِ طَالِقٌ كَالْجَبَلِ“ تجھے پہاڑ جیسی طلاق ہے، یا ”مِثْلَ الْجَبَلِ“ تجھے طلاق ہے پہاڑ کے مثل، پہاڑ جیسی تجھے طلاق ہے، تو اس صورت میں بھی طلاقِ بائن ہو گی۔ کیا ہو گی؟ طلاقِ بائن ہو گی۔ معلوم ہوا عظمت کے اندر وہ تشبیہ دے رہا ہے کہ جیسے پہاڑ بہت بڑا ہے اسی طرح جو میں طلاق دے رہا ہوں وہ بھی عام طلاق نہیں ہے بلکہ بہت بڑی ہے تو وصف میں زیادتی آئی لہٰذا بائن ہو گی رجعی نہیں ہو گی۔ تو کہتے ہیں ”وَكَذَا إِذَا قَالَ كَالْجَبَلِ“ اور اسی طرح خاوند نے جب کہا ”كَالْجَبَلِ“، ”لِأَنَّ تَشْبِيهَهٗ بِهٖ يُوجِبُ زِيَادَةً لَا مَحَالَةَ“ اس لیے کیونکہ پہاڑ کے ساتھ تشبیہ دینا ”يُوجِبُ زِيَادَةً“ یہ زیادتی کو ثابت کرتا ہے کہ طلاق کے وصف میں زیادتی ہو رہی ہے ”لَا مَحَالَةَ“ قطعی طور پر، پھر ترجمہ دیکھیے، کہتے ہیں ”لِأَنَّ تَشْبِيهَهٗ بِهٖ يُوجِبُ زِيَادَةً لَا مَحَالَةَ“ اس لیے کیونکہ پہاڑ کے ساتھ تشبیہ دینا یہ زیادتی کو ثابت کرتا ہے لا محالة قطعی طور پر ”وَذٰلِكَ بِإِثْبَاتِ زِيَادَةِ الْوَصْفِ“ اور یہ وصف کی زیادتی کو ثابت کرنے سے ہی ہو گا، طلاق میں زیادتی تو آ رہی ہے اور زیادتی کس اعتبار سے آئے؟ وصف کے اعتبار سے زیادتی آئے گی، تعداد کے اعتبار سے زیادتی نہیں آئے گی، ہو گی ایک ہی طلاق البتہ رجعی نہیں ہو گی بلکہ بائن ہو گی۔ ”وَكَذَا إِذَا قَالَ مِثْلَ الْجَبَلِ لِمَا قُلْنَا“ اور اسی طرح ہے جب خاوند نے کہا ”أَنْتِ طَالِقٌ مِثْلَ الْجَبَلِ لِمَا قُلْنَا“ اس وجہ سے جو ہم نے کہہ دیا کہ وصف میں زیادتی آئے گی اور وصف میں زیادتی کی یہی صورت ہے کہ طلاقِ رجعی نہ ہو بلکہ طلاقِ بائن ہو بھئی۔ ”وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ يَكُونُ رَجْعِيًّا“ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر خاوند نے بیوی سے کہا تجھے پہاڑ جیسی طلاق ہے تو بھی طلاقِ رجعی ہو گی۔ تو بھی طلاقِ رجعی، وہ کہتے ہیں یہاں تشبیہ بڑا ہونے میں نہیں ہے بلکہ تشبیہ واحد ہونے میں ہے، جیسے پہاڑ ایک ہے اسی طرح یہ طلاق بھی ایک ہے، تو واحد ہونے میں تشبیہ ہے بڑا ہونے میں تشبیہ نہیں ہے۔ ”وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”يَكُونُ رَجْعِيًّا“ کہ طلاق جو ہو گی وہ رجعی ہو گی ”لِأَنَّ الْجَبَلَ شَيْءٌ وَاحِدٌ“ اس لیے کیونکہ پہاڑ ایک چیز ہے ”فَكَانَ تَشْبِيهًا بِهِ فِي تَوَحُّدِهِ“ تو اس کے ساتھ جو تشبیہ دی گئی ہے ”فِي تَوَحُّدِهِ“ اس کے ایک ہونے میں ہے، یعنی ایک طلاق ہے تجھے اور وہ رجعی ہو گی۔ ”وَلَوْ قَالَ لَهَا أَنْتِ طَالِقٌ أَشَدَّ الطَّلَاقِ أَوْ كَأَلْفٍ أَوْ مِلْءَ الْبَيْتِ فَهِيَ وَاحِدَةٌ بَائِنَةٌ إِلَّا أَنْ يَنْوِيَ ثَلَاثًا“ صورتِ مسئلہ یہ: خاوند نے بیوی سے کہا ”أَنْتِ طَالِقٌ أَشَدَّ الطَّلَاقِ“ تجھے طلاق ہے سخت ترین طلاق، یا کہتا ہے ”أَنْتِ طَالِقٌ كَأَلْفٍ“ تجھے طلاق ہے ہزار جیسی، تجھے طلاق ہے ہزار جیسی، یا خاوند بیوی سے کہتا ہے ”أَنْتِ طَالِقٌ مِلْءَ الْبَيْتِ“ کہ تجھے طلاق ہے گھر بھر کر، گھر بھر کر تجھے طلاق ہے، تو اس صورت میں ہمارے فقہاء فرماتے ہیں ایک ہی طلاق ہو گی اور وہ طلاقِ بائن ہو گی۔ لیکن اگر خاوند نے تین کی نیت کر لی تو ان لفظوں سے تین بھی ہو جائیں گی۔ ان لفظوں سے تین بھی ہو جائیں گی۔ تو کہتے ہیں ”وَلَوْ قَالَ لَهَا أَنْتِ طَالِقٌ أَشَدَّ الطَّلَاقِ“ اور اگر خاوند نے بیوی سے کہا تجھے سخت ترین طلاق ہے ”أَوْ كَأَلْفٍ“ یا تجھے ہزار کی مثل طلاق ہے ”أَوْ مِلْءَ الْبَيْتِ“ یا گھر بھر کے تجھے طلاق ہے ”فَهِيَ وَاحِدَةٌ بَائِنَةٌ“ تو یہ ایک بائنہ طلاق ہو گی ”إِلَّا أَنْ يَنْوِيَ ثَلَاثًا“ مگر یہ کہ خاوند تین کی نیت کر لے، ”أَمَّا الْأَوَّلُ“ اب ایک ایک لفظ کے بارے میں الگ بحث کریں گے، تین لفظ ہیں یہاں پر: ”أَنْتِ طَالِقٌ أَشَدَّ الطَّلَاقِ“، ”أَنْتِ طَالِقٌ كَأَلْفٍ“ اور ”أَنْتِ طَالِقٌ مِلْءَ الْبَيْتِ“ تو ہر ایک کو الگ الگ بیان کریں گے۔ پہلا لفظ کیا ہے؟ ”أَنْتِ طَالِقٌ أَشَدَّ الطَّلَاقِ“ تو اس کے اندر دیکھو ”أَشَدَّ الطَّلَاقِ“ شدت کو بیان کر رہا ہے اور شدت وصف میں ہو گی، سخت طلاق، سخت... طلاق کون سی ہے؟ رجعی یا بائن؟ بائن۔ بائن ہے کہ اس سے فوراً نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔ تو وصف کے اندر وہ اس شدت کو بیان کر رہا ہے، لہٰذا طلاق بائن ہو گی۔ اور تین کی نیت کرنا چاہے، تین بھی ہو سکتی ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ اس نے کیا لفظ کہا ہے؟ ”أَنْتِ طَالِقٌ أَشَدَّ الطَّلَاقِ“ تو ”أَشَدَّ الطَّلَاقِ“، دیکھو مصدر آ رہا ہے۔ کیا آ رہا ہے؟ مصدر۔ اور مصدر کیا ہے؟ اسم جنس، اور اسم جنس کا اطلاق قلیل پر بھی ہوتا ہے اور کثیر یعنی پوری جنس پر بھی، تو پوری جنس یعنی تین کا ارادہ بھی وہ کر سکتا ہے۔ یہ تھا پہلے لفظ کے بارے میں، ”أَنْتِ طَالِقٌ أَشَدَّ الطَّلَاقِ“ کے بارے میں۔ تو کہتے ہیں: ”أَمَّا الْأَوَّلُ“ تو جو پہلا لفظ ہے، یعنی ”أَنْتِ طَالِقٌ أَشَدَّ الطَّلَاقِ“ کا جو لفظ ہے، ”فَلِأَنَّهُ وَصَفَهُ بِشِدَّةٍ“ اس لیے کیونکہ خاوند نے طلاق کو موصوف کیا ہے شدت یعنی سختی کے ساتھ، ”وَهُوَ الْبَائِنُ“ اور سخت طلاق کون سی ہے؟ بائن ہے، ”لِأَنَّهُ لَا يَحْتَمِلُ الِانْتِقَاضَ وَالِارْتِفَاضَ“ انتقاض کا معنیٰ ہے ٹوٹنا، ارتفاض کا معنیٰ بھی ٹوٹنا، رد ہو جانا۔ تو یہ جو طلاق بائن ہے، یہ ٹوٹنے یا رد ہونے کا احتمال نہیں رکھتی۔ لیکن طلاق رجعی، وہ ٹوٹنے کا احتمال رکھتی ہے کہ خاوند پھر رجوع کر لے۔ جبکہ طلاق بائن میں خاوند رجوع کر ہی نہیں سکتا۔ وہاں اگر دوبارہ عورت کو رکھنا ہے، نیا نکاح کرنا پڑے گا، نیا مہر مقرر کرنا پڑے گا۔ تو معلوم ہوا ٹوٹنے اور اٹھنے کا احتمال بائن میں نہیں ہے، رجعی میں ہے۔ تو سخت طلاق کون سی ہوئی؟ بائن ہوئی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَلِأَنَّهُ وَصَفَهُ بِشِدَّةٍ وَهُوَ الْبَائِنُ لِأَنَّهُ لَا يَحْتَمِلُ الِانْتِقَاضَ وَالِارْتِفَاضَ“ اس لیے کیونکہ یہ طلاق بائن جو ہے، وہ ٹوٹنے اور اٹھ جانے کا احتمال نہیں رکھتی۔ ”أَمَّا الرَّجْعِيُّ فَيَحْتَمِلُهُ“ جبکہ باقی طلاق رجعی جو ہے، وہ ٹوٹنے اور اٹھنے کا احتمال رکھتی ہے۔ ”وَإِنَّمَا تَصِحُّ“ ”أَنْتِ طَالِقٌ أَشَدَّ الطَّلَاقِ“، اس سے طلاق بائن ہو گی۔ اور تین کی نیت بھی صحیح ہے، وہ کیوں صحیح ہے؟ اب وہ بیان کر رہے ہیں۔ میں نے وجہ بیان کر دی، تین کی نیت کیوں صحیح؟ کیونکہ اس کے اندر مصدر ذکر ہے، ”أَشَدَّ الطَّلَاقِ“ بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنَّمَا تَصِحُّ نِيَّةُ الثَّلَاثِ لِذِكْرِهِ الْمَصْدَرَ“ اور تین کی نیت بھی صحیح ہے بوجہ خاوند کے مصدر کو ذکر کر دینے کے۔ ”وَأَمَّا الثَّانِي“ دوسری طلاق بھئی، کون سی تھی؟ ”أَنْتِ طَالِقٌ كَأَلْفٍ“ تجھے طلاق ہے ہزار کے مثل۔ اس میں ایک طلاق بائن تو ضرور ہو گی، اور اگر تین کی نیت کرے گا تو تین بھی واقع ہو جائیں گی۔ اب اس کو بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَأَمَّا الثَّانِي فَلِأَنَّهُ قَدْ يُرَادُ بِهَذَا التَّشْبِيهُ فِي الْقُوَّةِ تَارَةً وَفِي الْعَدَدِ أُخْرَى“ کہتے ہیں یہ جو الف کو جو ذکر کیا جاتا ہے، الف کو، کبھی کبھار قوت کے طور پر الف کے ساتھ تشبیہ دی جاتی ہے اور کبھی اس کے ذریعے عدد میں تشبیہ دی جاتی ہے۔ ”أَنْتِ طَالِقٌ كَأَلْفٍ“، تجھے طلاق ہے ہزار جیسی، تو یہ ہزار کے ساتھ جو تشبیہ دی جا رہی ہے، کبھی قوت کے اعتبار سے تشبیہ مقصود ہوتی ہے۔ جیسے ہزار میں قوت زیادہ ہے، اسی طرح اس چیز میں بھی قوت زیادہ ہے۔ عرب کے اندر یاد رکھو جو بڑے بڑے بہادر ہوتے تھے، جن کی بہادری کی شہرت ہوتی تھی، ان کے بارے میں لوگ کہتے تھے: یہ ہزار آدمیوں کے برابر ہے۔ کیا کہتے تھے؟ ہزار آدمیوں کے برابر ہے۔ دیکھو یہ ایک آدمی ہے اور کہتے تھے یہ ہزار کے برابر ہے، یعنی قوت کے اندر۔ کس چیز میں؟ قوت کے اندر۔ چنانچہ روایات میں آتا ہے حضرت خالد ابن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ جہاد میں ایک موقع پر مخالفین کی طرف سے بہت بڑا لشکر مقابلے پر آیا، ایران کی بہت بڑی فوج تھی بھئی، فارس بھئی فارس۔ کئی لاکھ پر مشتمل فوج تھی۔ تو قدیم زمانے میں جنگ کا طریقہ یہ تھا کہ دونوں لشکر آمنے سامنے آ کر پڑاؤ ڈال دیتے۔ اور پھر ہر روز صبح لڑائی شروع ہوتی اور شام تک جاری رہتی، پھر شام کو لڑائی رک جاتی تھی بھئی۔ اور پھر وہ زخمیوں وغیرہ کو سنبھالتے۔ اگلے دن پھر ان کی طرف سے کچھ لوگ نکلتے صفیں بنا کر کھڑے ہو جاتے، ادھر مسلمانوں کی طرف سے نکلتے اور پھر جنگ ہوتی تھی بھئی۔ تو پہلے دن جو ان کی طرف سے لڑنے کے لیے آئے ساٹھ ہزار، یعنی باقی لشکر تو لاکھوں میں تھا وہ پیچھے تھا، ساٹھ ہزار آدمی ان میں سے نکل کر آئے صفیں بنا لیں، اسلحے سے لیس ہیں، اسلحے میں چھپے ہوئے ہیں اور اب جنگ کے لیے تیار کھڑے ہو گئے۔ حضرت خالد ابن ولید کمانڈر ان چیف تھے مسلمانوں کے بھئی، حضرت خالد ابن ولید اپنے لشکر کے سامنے چکر لگا رہے ہیں اور ایک کو اشارہ کرتے ہیں: آؤ بھئی تم آگے آ جاؤ۔ پھر دوسرے کو اشارہ کرتے ہیں: آؤ بھئی تم آگے آ جاؤ۔ یہاں تک کہ تیس آدمی نکال لیے۔ تیس آدمی نکال لیے اور کہنے لگے: آؤ چلو اب لڑنے چلیں۔ ادھر ساٹھ ہزار ہیں ادھر تیس ہیں، آپ سوچیں تو سہی! تیس آدمی تو ایک چھوٹے سے کمرے کے اندر آ جاتے ہیں اور ساٹھ ہزار، کتنی بڑی تعداد ہے بھئی۔ تو ساتھیوں نے کہا کہ حضرت یہ تو مناسب نہیں، ان کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ لیکن حضرت خالد مان ہی نہیں رہے کہ نہیں انہی تیس کو لے کر میں لڑوں گا ان کے ساتھ۔ آخر بہت زیادہ ساتھیوں کے اصرار پر مجبور ہو کر آپ نے اسی طرح کے تیس مزید اور نوجوان نکال لیے اور وہ تھے ساٹھ ہزار، ادھر ساٹھ۔ اور فرمایا: بس بھئی، اس سے زیادہ میں ایک آدمی نہیں لے کر جاؤں گا۔ اور یہ جو ساٹھ آدمی حضرت خالد ابن ولید نے نکالے تھے، ان میں سے ہر ایک عرب کے اندر مشہور تھا کہ یہ ایک ہزار جوانوں کے برابر ہے بھئی۔ تو یہ چوٹی کے بہادروں کو لے کر، ساٹھ افراد کو لے کر حضرت خالد ابن ولید میدان میں نکل آئے اور کفار سے جنگ شروع کر دی۔ تو کہتے ہیں مسلمان ان کے لشکر میں جس طرف کا رخ کرتے تھے، ان کی صفوں کو الٹا دیتے تھے۔ چنانچہ شام تک جنگ ہوتی رہی۔ آپ ذرا تصور تو کریں کہ جنگ ہو رہی ہے اور تلواروں سے ہو رہی ہے، وہ آپ کو قتل کرنا چاہتے ہیں، آپ ان کو قتل کرنا چاہتے ہیں، لہٰذا آپ کا ہر وار پورے زور اور شور کے ساتھ ہو گا کہ جو مقابل ہے تاکہ وہ بچے نہ، ورنہ وہ مجھے نہیں چھوڑے گا بھئی۔ اور ان صحابہ کی اور ان لوگوں کی آپ تلوار بازی کے اندر مہارت کا اندازہ لگائیں، صبح سے شام تک یہ تلوار چلا رہے ہیں اور لڑتے جا رہے ہیں، حالانکہ تلوار، تلوار کا تو اچھا خاصا وزن ہوتا ہے بھئی، اور پھر اس کو آپ چند چکر بھی دے دیں تو شاید آپ کے بازو میں کئی دن تک درد رہے بھئی۔ کتنی اس کی انہوں نے مشق کی ہو گی کہ صبح سے شام تک لڑتے رہے اور شام کو پھر جب واپسی ہوئی تو مسلمانوں میں سے صرف ایک یا دو شہید ہوئے تھے، ایک یا دو ہی غالباً گرفتار ہوئے تھے، اور سینکڑوں دشمنوں کو انہوں نے قتل کر دیا تھا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ عرب کے اندر جو بڑا بہادر ہوتا تو اس کو ہزار کے ساتھ تشبیہ دی جاتی تھی۔ تو بات چل رہی ہے کہ خاوند نے بیوی سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ كَأَلْفٍ“، تجھے ہزار کے جیسی طلاق ہے۔ تو اس ہزار کے ذریعے کبھی قوت کے اندر تشبیہ مقصود ہوتی ہے اور کبھی عدد کے اندر۔ توجہ ہے؟ تو قوت کے اندر اگر تشبیہ مقصود ہے، معلوم ہوا سخت طلاق دینا چاہتا ہے، قوت والی طلاق دینا چاہتا ہے اور وہ تو بائن ہے، اس کے ذریعے نکاح فوراً ٹوٹ جاتا ہے۔ اور اگر عدد کا ارادہ کیا جائے گا تو کہنے کا مطلب ہے تجھے ہزار طلاقیں ہیں، لیکن طلاقوں کی تعداد تو زیادہ سے زیادہ تین ہے، تو لہٰذا صرف تین واقع ہو جائیں گی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَأَمَّا الثَّانِي فَلِأَنَّهُ قَدْ يُرَادُ بِهَذَا التَّشْبِيهُ فِي الْقُوَّةِ تَارَةً“ اور جو دوسرا لفظ ہے، یعنی ”أَنْتِ طَالِقٌ كَأَلْفٍ“ یہ والا جو لفظ ہے، اس لیے کیونکہ کبھی کبھار اس تشبیہ کے ذریعے ارادہ کیا جاتا ہے قوت میں تارةً کبھی کبھار، ”وَفِي الْعَدَدِ أُخْرَى“ اور کبھی عدد کے اندر تشبیہ کا ارادہ کیا جاتا ہے اخریٰ دوسری مرتبہ، أَيْ: تَارَةً أُخْرَى ”وَفِي الْعَدَدِ تَارَةً أُخْرَى“ اور دوسرے موقع پر اس میں عدد کا ارادہ کیا جاتا ہے۔ ”يُقَالُ: هُوَ أَلْفُ رَجُلٍ“ عربی زبان میں کہا جاتا ہے: ”هُوَ أَلْفُ رَجُلٍ“، وہ ہزار آدمی ہے، یعنی ہزار آدمیوں کے برابر ہے۔ ”وَيُرَادُ بِهِ الْقُوَّةُ“ اور اس کے ذریعے قوت کا ارادہ کیا جاتا ہے۔ ”فَيَصِحُّ نِيَّةُ الْأَمْرَيْنِ“ تو دونوں امروں کی نیت صحیح ہے، قوت کا ارادہ بھی یہاں ٹھیک، اور قوت کا ارادہ کیا تو ایک طلاق بائن ہو جائے گی، اور عدد کا ارادہ بھی صحیح اور عدد کی صورت میں پھر تین طلاقیں ہو جائیں گی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَيَصِحُّ نِيَّةُ الْأَمْرَيْنِ“ تو دونوں امروں کی نیت صحیح ہے، یعنی قوت کی بھی اور عدد کی بھی۔ ”وَعِنْدَ فُقْدَانِهَا“ تو بھئی، دونوں کی نیت صحیح ہے، قوت کی نیت بھی صحیح اور عدد کی نیت بھی صحیح۔ لیکن اگر نیت نہیں ہے کسی بھی چیز کی تو پھر ایک بائن تو کم از کم ضرور ہو جائے گی۔ ادنیٰ ادنیٰ، اس لفظ سے ”أَنْتِ طَالِقٌ كَأَلْفٍ“، ادنیٰ ایک ہے اور زیادہ سے زیادہ تین ہے۔ قوت کی نیت کرے تو ایک ہو گی اور عدد کی نیت کرے تو تین ہوں گی۔ تو جب کوئی نیت نہ ہو تو اقل تو ضرور ثابت ہو جائے گی، یعنی ایک طلاق تو ضرور ہو جائے گی بھئی۔ یہ معنیٰ ہے: ”وَعِنْدَ فُقْدَانِهَا يَثْبُتُ أَقَلُّهُمَا“ اور جب نیت نہ پائی جائے تو ان دونوں میں سے جو اقل ہے یعنی ایک طلاق بائن، وہ تو ضرور ثابت ہو جائے گی۔ ”وَعَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهُ يَقَعُ الثَّلَاثُ عِنْدَ عَدَمِ النِّيَّةِ“ امام محمد رحمہ اللہ سے ایک روایت ہے کہ تین طلاقیں واقع ہو جائیں گی جب کوئی نیت نہ ہو، جب کوئی نیت نہ ہو ”أَنْتِ طَالِقٌ كَأَلْفٍ“ میں، تو پھر تین واقع ہو جائیں گی۔ ”لِأَنَّهُ عَدَدٌ“ کیونکہ الف کیا ہے؟ عدد ہے، لہٰذا عدد میں تشبیہ مقصود ہے۔ تو لہٰذا یہ تو تقاضا کرتا ہے ہزار طلاقیں ہونی چاہئیں، لیکن طلاقیں تو زیادہ سے زیادہ ہیں ہی کتنی؟ تین، لہٰذا تین واقع ہو جائیں گی جب کوئی نیت نہ ہو۔ یہ امام محمد رحمہ اللہ سے ایک روایت ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَعَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهُ يَقَعُ الثَّلَاثُ عِنْدَ عَدَمِ النِّيَّةِ لِأَنَّهُ عَدَدٌ فَيُرَادُ بِهِ التَّشْبِيهُ فِي الْعَدَدِ ظَاهِرًا“ کہ تین طلاقیں واقع ہو جائیں گی نیت نہ ہوتے وقت، کیونکہ یہ الف جو ہے یہ عدد ہے، تو اس کے ذریعے عدد میں ہی تشبیہ مراد ہو گی ظاہراً ظاہری طور پر۔ ”فَصَارَ كَمَا إِذَا قَالَ: أَنْتِ طَالِقٌ كَعَدَدِ أَلْفٍ“ تو یہ ایسے ہی ہو گیا جیسے اس شخص نے یوں کہا ہو: ”أَنْتِ طَالِقٌ كَعَدَدِ أَلْفٍ“ کہ تجھے طلاق ہے ہزار کے عدد کے مثل۔ اور اس کے اندر تو بالاتفاق تین طلاقیں ہوتی ہیں۔ ”أَنْتِ طَالِقٌ كَعَدَدِ أَلْفٍ“، دیکھو یہاں قوت کا ارادہ نہیں ہو سکتا کیونکہ خود عدد کا لفظ خاوند لا رہا ہے، ”أَنْتِ طَالِقٌ كَعَدَدِ أَلْفٍ“، اور یہاں بالاتفاق ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک تین طلاقیں ہو جائیں گی۔ تو ”كَأَلْفٍ“ کہنا بھی اسی طرح ہے ”كَعَدَدِ أَلْفٍ“ کہنا، تو لہٰذا جیسے ”كَعَدَدِ أَلْفٍ“ میں تین طلاقیں ہیں تو ”كَأَلْفٍ“ میں بھی تین طلاقیں ہوں گی، امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔ ”فَصَارَ كَمَا إِذَا قَالَ: أَنْتِ طَالِقٌ كَعَدَدِ أَلْفٍ“ تو یہ اسی طرح ہو گیا جیسے خاوند نے یوں کہا ہو: ”أَنْتِ طَالِقٌ كَعَدَدِ أَلْفٍ“ کہ تجھے طلاق ہے جیسے کہ ہزار کا عدد ہے۔ ”وَأَمَّا الثَّالِثُ“ اب تیسرا لفظ آ گیا۔ تیسرا لفظ کیا تھا؟ ملء البیت، ”أَنْتِ طَالِقٌ مِلْءَ الْبَيْتِ“۔ کہتے ہیں: ”وَأَمَّا الثَّالِثُ“، اور تیسرا لفظ جو ہے، ”فَلِأَنَّ الشَّيْءَ قَدْ يَمْلَأُ الْبَيْتَ لِعِظَمَةٍ فِي نَفْسِهِ“ تو کہتے ہیں: ”فَلِأَنَّ الشَّيْءَ قَدْ يَمْلَأُ الْبَيْتَ لِعِظَمَةٍ فِي نَفْسِهِ“، اس لیے کیونکہ کوئی چیز کبھی کبھار پورے گھر کو بھر دیتی ہے اپنی ذات میں بڑا ہونے کی وجہ سے۔ کوئی چیز بڑی ہوتی ہے، وہ پورے گھر کو بھر دیتی ہے۔ ”وَقَدْ يَمْلَأُ لِكَثْرَتِهِ“ اور کبھی کبھار کوئی چیز گھر کو بھر دیتی ہے اپنی کثرت کی وجہ سے۔ تو لہٰذا اس کے اندر بھی دونوں احتمال ہیں۔ عظمت کا بھی، کہ بڑی طلاق ہے، مراد یہ ہے بڑی طلاق ہے، جیسے کوئی بڑی چیز ایک ہی چیز پورے گھر کو بھر دے۔ اور نیز اس میں کثرت کا بھی احتمال ہے کہ اتنی زیادہ طلاقیں ہیں تجھے کہ پورے گھر کو بھر دیں۔ توجہ ہے؟ تو لہٰذا اگر کوئی نیت نہیں کی تو پھر تو ایک تو ضرور ہو جائے گی، اور اگر اس نے کثرت کی نیت کی ہے تو پھر تین ہو جائیں گی۔ تو کہتے ہیں: ”فَلِأَنَّ الشَّيْءَ قَدْ يَمْلَأُ الْبَيْتَ لِعِظَمَةٍ فِي نَفْسِهِ وَقَدْ يَمْلَأُ لِكَثْرَتِهِ، فَأَيَّ ذَلِكَ نَوَى صَحَّتْ نِيَّتُهُ“ اس لیے کیونکہ کوئی چیز کبھی کبھار پورے گھر کو بھر دیتی ہے اپنی ذات میں بڑا ہونے کے اعتبار سے، اور کبھی کبھار کوئی چیز پورے گھر کو بھر دیتی ہے اپنی کثرت کی وجہ سے، تو اس نے ان میں سے جس کی بھی نیت کی ہے، تو خاوند کی نیت صحیح ہے۔ ”وَعِنْدَ انْعِدَامِ النِّيَّةِ ثَبَتَ الْأَقَلُّ“ اور نیت کے معدوم ہوتے وقت اقل جو ہے وہ ثابت ہو جائے گا، کم سے کم وہ تو ایک طلاق بائن ہے، وہ ضرور ثابت ہو جائے گی۔ ”ثُمَّ الْأَصْلُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اب ضابطہ ذکر کر رہے ہیں تشبیہ وغیرہ کا۔ یاد رکھو، امام صاحب کے نزدیک جب بھی طلاق کو کسی چیز سے تشبیہ دی جائے، تو اس صورت میں طلاق بائن واقع ہو گی، چاہے بڑی چیز سے تشبیہ دیں چاہے چھوٹی چیز سے۔ خاوند بیوی سے کہتا ہے: تجھے پہاڑ جیسی طلاق ہے، دیکھو پہاڑ بڑی چیز ہے، تب بھی طلاق بائن۔ خاوند بیوی سے کہتا ہے: تجھے سوئی جیسی طلاق ہے، تشبیہ دی ہے، تو امام صاحب کے نزدیک جب بھی کسی چیز سے طلاق کو تشبیہ دی جائے، یہ وصف میں زیادتی کا تقاضا کرتی ہے کہ طلاق کے وصف میں زیادتی ہو گئی۔ اور زیادتی کیسے ہو سکتی ہے؟ کہ رجعی نہ رہے طلاق بلکہ کون سی ہو جائے؟ بائن ہو جائے۔ توجہ ہے؟ جیسے مثلاً میں کہتا ہوں: ”زَيْدٌ كَالْأَسَدِ“، زید کس کی طرح ہے؟ اسد یعنی شیر کی طرح ہے۔ دیکھو زید کا وصف بڑھ گیا، پتہ چل گیا معلوم ہوا وہ شیر کی طرح بہادر ہے۔ تو بہادری کے وصف کا پتہ چلا۔ تو جب بھی تشبیہ دی جاتی ہے تو وہ کس چیز کا تقاضا کرتی ہے؟ وصف میں زیادتی کا، وصف کیا ہوا؟ بڑھ گیا ایک چیز کا۔ اور طلاق کے اندر وصف کا بڑھنا اسی طرح ہو سکتا ہے کہ وہ رجعی کے بجائے کیا بن جائے؟ بائن بن جائے، اور طرح وصف نہیں بڑھ سکتا۔ ”ثُمَّ الْأَصْلُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهُ مَتَى شَبَّهَ الطَّلَاقَ بِشَيْءٍ يَقَعُ بَائِنًا“ پھر ضابطہ یہ ہے امام صاحب کے نزدیک کہ جب بھی خاوند طلاق کو تشبیہ دے کسی چیز کے ساتھ تو طلاق بائن واقع ہو گی، ”أَيَّ شَيْءٍ كَانَ الْمُشَبَّهُ بِهِ، ذَكَرَ الْعِظَمَ أَوْ لَمْ يَذْكُرْ“ مشبہ بہ جو بھی چیز ہو، چاہے چھوٹی ہو چاہے بڑی، چاہے خاوند بڑے ہونے کو ذکر کرے یا ذکر نہ کرے۔ خاوند نے کہا: تجھے پہاڑ جیسی طلاق ہے۔ اور ایک صورت یوں ہے خاوند بڑے ہونے کو بھی ذکر کرتا ہے: تجھے پہاڑ جیسی بڑی طلاق ہے۔ تو چاہے بڑے ہونے کو ذکر کرے یا نہ کرے، بس امام صاحب کا ضابطہ یہ ہے جب بھی طلاق کو کسی چیز سے تشبیہ دی جائے گی تو طلاق بائن واقع ہو گی۔ جبکہ آگے بتائیں گے امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر بڑے ہونے کو ذکر کیا تو پھر طلاق بائن ہو گی، بڑے ہونے کو ذکر نہیں کیا تو طلاق بائن بھی نہیں۔ مثلاً خاوند نے بیوی سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ كَالْجَبَلِ“، تجھے پہاڑ جیسی طلاق ہے، تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں ایک ہی طلاق ہو گی اور رجعی ہو گی بائن نہیں ہو گی، کیونکہ عظمت کو ساتھ ذکر نہیں کیا۔ بڑا ہونے کو ذکر... ہاں اگر خاوند یوں کہتا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ كَعِظَمِ الْجَبَلِ“، تجھے پہاڑ جیسی بڑی طلاق ہے، پھر عظم کا لفظ اس نے ذکر کیا ہے اب بائن ہو جائے گی، اب... یا اسی طرح خاوند جو ہے وہ بیوی سے کہتا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ مِثْلَ الْإِبْرَةِ“، ”مِثْلَ الْإِبْرَةِ“، ابرۃ سوئی کو کہتے ہیں، تجھے طلاق ہے سوئی کے مثل، امام صاحب فرماتے ہیں طلاق بائن ہو گی۔ طلاق بائن۔ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہاں عظمت وغیرہ کوئی ذکر نہیں، لہٰذا طلاق رجعی ہو گی۔ ہاں اگر عظمت کو ذکر کر دیتا یوں کہتا: تجھے طلاق ہے مثل عظم الإبرة، سوئی کے عظمت کے برابر تجھے طلاق ہے، سوئی جتنی بڑی تجھے طلاق ہے، تو بھی امام صاحب کے نزدیک معاملہ اسی طرح طلاق بائن ہو گی، اور امام ابو یوسف فرماتے ہیں یہاں بڑا ہونے کو ذکر کر دیا ہے لہٰذا اس میں بھی طلاق بائن ہو گی۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ تشبیہ کے اندر طلاق بائن کب ہو گی؟ جب عظمت کو ساتھ ذکر کرے، اگر عظمت کو ذکر نہیں کرے گا تو طلاق بائن نہیں ہو گی۔ تو کہتے ہیں امام صاحب فرماتے ہیں کہ: ”ذَكَرَ الْعِظَمَ أَوْ لَمْ يَذْكُرْ“ خاوند نے عظمت کو ذکر کیا یا نہ کیا، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، ”لِمَا مَرَّ أَنَّ التَّشْبِيهَ يَقْتَضِي زِيَادَةَ وَصْفٍ“ اس وجہ سے جو بات گزر گئی کہ تشبیہ جو ہے وہ زیادتِ وصف کا تقاضا کرتی ہے، اور وصف کی زیادتی بینونت کے ذریعے ہی ہو گی۔ ”وَعِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ إِنْ ذَكَرَ الْعِظَمَ يَكُونُ بَائِنًا وَإِلَّا فَلَا“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک کہ اگر خاوند نے عظمت کو، بڑا ہونے کو ذکر کیا تو طلاق بائن ہو گی ورنہ نہیں ہو گی، ”أَيَّ شَيْءٍ كَانَ الْمُشَبَّهُ بِهِ“ مشبہ بہ جو کچھ بھی ہو، اس سے فرق نہیں پڑتا، ”لِأَنَّ التَّشْبِيهَ قَدْ يَكُونُ فِي التَّوَحُّدِ عَلَى التَّجْرِيدِ“ اس لیے کیونکہ تشبیہ کبھی کبھار ایک ہونے میں بھی ہوتی ہے علی التجرید۔ تجرید کا معنیٰ جَرَّدَ يُجَرِّدُ تَجْرِيد کا معنیٰ ہے خالی کرنا، خالی کرنا۔ تو بعض اوقات وہ فرماتے ہیں عظمت سے خالی کر کے صرف واحد ہونے میں تشبیہ مقصود ہوتی ہے۔ مثلاً خاوند بیوی سے کہتا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ كَالْجَبَلِ“، تجھے پہاڑ جیسی طلاق ہے، تو پہاڑ میں ایک عظمت ہے اور ایک ہے اس کا واحد ہونا۔ تو کبھی کبھار صرف واحد ہونے میں تشبیہ مقصود ہوتی ہے عظمت کے بغیر ہی، عظمت کے بغیر ہی، لہٰذا اس لیے یہاں شک آ گیا اور شک کی وجہ سے طلاق بائن واقع نہیں ہو گی، کیونکہ کبھی کبھار تشبیہ میں کیا مقصود ہوتا ہے؟ صرف وحدت مقصود ہوتی ہے، عظمت مقصود نہیں ہوتی۔ یہ معنیٰ ہے: ”لِأَنَّ التَّشْبِيهَ قَدْ يَكُونُ فِي التَّوَحُّدِ عَلَى التَّجْرِيدِ“ اس لیے کیونکہ تشبیہ کبھی کبھار واحد ہونے میں ہوتی ہے خالی کرنے کے طریقے پر، یعنی عظمت سے خالی کرتے ہوئے۔ ”أَمَّا ذِكْرُ الْعِظَمِ فَلِلزِّيَادَةِ لَا مَحَالَةَ“ اور باقی عظمت کو ذکر کرنا تو یہ زیادتی کے لیے ہوتا ہے لا محالة قطعی طور پر، لہٰذا اس صورت میں وصف میں زیادتی آئے گی اور طلاق بائن ہو جائے گی۔ یہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا ضابطہ تھا۔ ”وَعِنْدَ زُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ: إِنْ كَانَ الْمُشَبَّهُ بِهِ مِمَّا يُوصَفُ بِالْعِظَمِ عِنْدَ النَّاسِ يَقَعُ بَائِنًا وَإِلَّا فَهُوَ رَجْعِيٌّ“ اور امام زفر رحمہ اللہ کے نزدیک: امام زفر فرماتے ہیں مشبہ بہ کو دیکھیں گے، اگر مشبہ بہ جو ہے وہ لوگوں کے درمیان عظمت کے ساتھ موصوف ہے، لوگ اس کو بڑا سمجھتے ہیں تو پھر طلاق بائن ہو گی، اور اگر مشبہ بہ ایسا ہے کہ لوگ اس کو بڑا نہیں سمجھتے تو پھر طلاق رجعی ہو گی۔ لہٰذا اگر خاوند نے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ كَالْجَبَلِ“، تو جبل کو تو لوگ بڑا سمجھتے ہیں، لہٰذا طلاق بائن ہو گی۔ اور اگر کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ كَالْإِبْرَةِ“ کہ تجھے طلاق ہے سوئی جیسی، سوئی کو تو لوگ بڑا نہیں سمجھتے، لہٰذا طلاق رجعی ہی ہو گی۔ تو امام زفر کا کیا ضابطہ؟ کہ مشبہ بہ کو دیکھیں گے، اگر لوگ اس کو بڑا سمجھتے ہیں تو طلاق بائن ہو گی، اگر لوگ بڑا نہیں سمجھتے تو طلاق بائن نہیں ہو گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَعِنْدَ زُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ: إِنْ كَانَ الْمُشَبَّهُ بِهِ مِمَّا يُوصَفُ بِالْعِظَمِ عِنْدَ النَّاسِ يَقَعُ بَائِنًا وَإِلَّا فَهُوَ رَجْعِيٌّ“ اور امام زفر رحمہ اللہ کے نزدیک کہ اگر مشبہ بہ ان چیزوں میں سے ہے کہ جو عظمت کے ساتھ موصوف ہوتا ہے لوگوں کے نزدیک، یعنی لوگ اس کو بڑا سمجھتے ہیں، تو اس صورت میں طلاق بائن واقع ہو گی، اور اگر ایسا نہ ہو تو پھر طلاق رجعی ہے۔ بھئی یہ ”وَإِلَّا“ آیا، میں پہلے بھی ذکر کر چکا ہوں، الا سے پہلے واؤ آ جائے تو یہ دراصل الا حرفِ استثنا نہیں ہے، یہ ان اور لا سے مرکب ہے، أَيْ: وَإِنْ لَمْ يَكُنْ كَذَلِكَ، اگر ایسا نہ ہو۔ ”وَإِلَّا فَهُوَ رَجْعِيٌّ“ اور اگر ایسا نہ ہو تو پھر طلاق رجعی ہے۔ ”وَقِيلَ: مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ مَعَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، وَقِيلَ: مَعَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ امام محمد رحمہ اللہ کے بارے میں روایات واضح نہیں۔ بعض فرماتے ہیں کہ وہ اس مسئلے میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں، کہ جس چیز سے بھی تشبیہ دے دو، طلاق بائن ہو گی۔ اور بعض کہتے ہیں وہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں، کہ عظمت کو ذکر کریں گے تو پھر طلاق بائن ہو گی ورنہ طلاق بائن نہیں ہو گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَقِيلَ: مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ مَعَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور کہا گیا ہے کہ امام محمد رحمہ اللہ امام صاحب کے ساتھ ہیں اس مسئلے میں، ”وَقِيلَ: مَعَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور کہا گیا ہے کہ وہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں، ”وَبَيَانُهُ فِي قَوْلِهِ: مِثْلَ رَأْسِ الْإِبْرَةِ، وَمِثْلَ عِظَمِ رَأْسِ الْإِبْرَةِ، وَمِثْلَ الْجَبَلِ، وَمِثْلَ عِظَمِ الْجَبَلِ“ اور اس اختلاف کا بیان خاوند کے اس قسم کے قول میں ہو گا: ”مِثْلَ رَأْسِ الْإِبْرَةِ“، ”مِثْلَ عِظَمِ رَأْسِ الْإِبْرَةِ“، ”وَمِثْلَ الْجَبَلِ“، ”وَمِثْلَ عِظَمِ الْجَبَلِ“۔ دیکھو ان لفظوں سے ان کے اختلاف کا اندازہ ہو گا۔ مثلاً اگر خاوند نے بیوی سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ مِثْلَ رَأْسِ الْإِبْرَةِ“، کہ تجھے سوئی کے سر کے مثل طلاق ہے، سوئی کے سر کے برابر تجھے طلاق ہے، تو امام صاحب کے نزدیک تشبیہ پائی گئی، اور جو بھی تشبیہ پائی جائے اس کی وجہ سے طلاق بائن ہوتی ہے، تو امام صاحب کے نزدیک اس صورت میں طلاق بائن ہو گی۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہاں کوئی عظمت کا ذکر نہیں ہے، بڑا ہونے کا ذکر نہیں، لہٰذا اس صورت میں طلاق رجعی ہو گی۔ اور امام زفر کیا فرماتے ہیں کہ مشبہ بہ کو دیکھیں گے، مشبہ بہ کیا ہے؟ اگر لوگوں میں اس کو بڑا سمجھا جاتا ہے تو پھر طلاق بائن ہو گی ورنہ رجعی، اور سوئی کو تو لوگوں میں بڑا نہیں سمجھا جاتا تو وہ فرماتے ہیں اس صورت میں طلاق رجعی ہو گی۔ تو ”أَنْتِ طَالِقٌ مِثْلَ رَأْسِ الْإِبْرَةِ“، امام صاحب کے نزدیک طلاق بائن، اور امام زفر اور امام ابو یوسف رحمہما اللہ کے نزدیک طلاق رجعی ہو گی۔ دوسرا لفظ ہے: ”مِثْلَ عِظَمِ رَأْسِ الْإِبْرَةِ“ خاوند نے بیوی سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ مِثْلَ عِظَمِ رَأْسِ الْإِبْرَةِ“، تجھے سوئی کے سر کے بڑے ہونے کے برابر طلاق ہے۔ تو امام صاحب کے نزدیک تشبیہ آ گئی اور تشبیہ جب بھی آ جائے تو طلاق بائن ہوتی ہے، تو امام صاحب کے نزدیک اس میں بھی طلاق بائن۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک بھی طلاق بائن کیونکہ عظم یعنی عظمت کا ذکر آ گیا۔ اور امام زفر جو ہیں وہ فرماتے ہیں کہ اس صورت کے اندر مشبہ بہ یعنی سوئی جو ہے اس کو تو لوگ بڑا نہیں سمجھتے، لہٰذا اس صورت میں طلاق رجعی ہو گی۔ اور اگر خاوند نے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ مِثْلَ الْجَبَلِ“، تو امام صاحب کے نزدیک تشبیہ آ گئی لہٰذا طلاق بائن۔ امام زفر کے نزدیک بھی پہاڑ کو لوگ بڑا سمجھتے ہیں، طلاق بائن۔ لیکن امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک عظمت کا ذکر نہیں ہے، لہٰذا طلاق رجعی۔ اور اگر خاوند نے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ مِثْلَ عِظَمِ الْجَبَلِ“، ”مِثْلَ عِظَمِ الْجَبَلِ“، تو اس صورت میں سب کے نزدیک طلاق بائن ہو گی۔ امام صاحب کے نزدیک تو اس لیے کیونکہ تشبیہ آ گئی اور تشبیہ سے طلاق بائن ہوتی ہے۔ امام زفر رحمہ اللہ کے نزدیک اس لیے کیونکہ پہاڑ کو لوگ بڑا سمجھتے ہیں، مشبہ بہ عظیم ہے۔ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک چونکہ یہاں عظم کا ذکر ہے، عظمت کا ذکر ہے، بڑا ہونے کا ذکر ہے، تو تینوں کے نزدیک اس صورت میں طلاق بائن ہو گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَبَيَانُهُ فِي قَوْلِهِ: مِثْلَ رَأْسِ الْإِبْرَةِ، وَمِثْلَ عِظَمِ رَأْسِ الْإِبْرَةِ، وَمِثْلَ الْجَبَلِ، وَمِثْلَ عِظَمِ الْجَبَلِ“ اور اس اختلاف کا بیان خاوند کے اس قول کے اندر ہو گا: ”مِثْلَ رَأْسِ الْإِبْرَةِ“، ”وَمِثْلَ عِظَمِ رَأْسِ الْإِبْرَةِ“، ”وَمِثْلَ الْجَبَلِ“، ”وَمِثْلَ عِظَمِ الْجَبَلِ“۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ ”وَلَوْ قَالَ: أَنْتِ طَالِقٌ تَطْلِيقَةً شَدِيدَةً أَوْ عَرِيضَةً أَوْ طَوِيلَةً فَهِيَ وَاحِدَةٌ بَائِنَةٌ“ صورتِ مسئلہ یہ: خاوند نے اپنی بیوی سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ تَطْلِيقَةً شَدِيدَةً“، تجھے سخت قسم کی طلاق ہے۔ یا ”أَنْتِ طَالِقٌ تَطْلِيقَةً عَرِيضَةً“، تجھے خوب چوڑی طلاق ہے۔ ”أَوْ أَنْتِ طَالِقٌ تَطْلِيقَةً طَوِيلَةً“، تجھے لمبی طلاق ہے۔ تو ان سب صورتوں میں وصف کی زیادتی آ رہی ہے، لہٰذا طلاق بائن ہو گی۔ کیا ہو گی؟ طلاق بائن۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ قَالَ: أَنْتِ طَالِقٌ تَطْلِيقَةً شَدِيدَةً أَوْ عَرِيضَةً أَوْ طَوِيلَةً فَهِيَ وَاحِدَةٌ بَائِنَةٌ“ یہ الفاظ خاوند نے اگر کہے تو اس صورت میں ایک طلاق بائن ہو گی، ”لِأَنَّ مَا لَا يُمْكِنُ تَدَارُكُهُ يَشْتَدُّ عَلَيْهِ“ اب ایک ایک کی وجہ ذکر کر رہے ہیں۔ خاوند نے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ تَطْلِيقَةً شَدِيدَةً“، تجھے سخت طلاق ہے۔ اور خاوند کے لیے سخت طلاق کون سی ہے؟ رجعی یا بائن؟ بائن ہے، رجعی میں تو وہ رجوع کر لے گا لیکن بائن اس پر بھی سخت ہے وہ رجوع نہیں کر سکتا، تو اس لیے اس سے طلاق بائن مراد ہو گی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ مَا لَا يُمْكِنُ تَدَارُكُهُ يَشْتَدُّ عَلَيْهِ وَهُوَ الْبَائِنُ“ اس لیے کیونکہ وہ طلاق جس کی تلافی ممکن نہ ہو وہ خاوند پر سخت ہو گی اور وہ طلاق بائن ہے۔ ”وَمَا يَصْعُبُ تَدَارُكُهُ يُقَالُ: لِهَذَا الْأَمْرِ طُولٌ وَعَرْضٌ“ اسی طرح لمبائی یا چوڑائی کو ذکر کیا، تو عربی زبان میں وہ چیز جس کی تلافی نہ ہو سکے، جس کی تلافی مشکل ہو تو اس کام کے بارے میں عرب کہتے ہیں: ”لِهَذَا الْأَمْرِ طُولٌ وَعَرْضٌ“، اس معاملے کی بڑی لمبائی اور چوڑائی ہے۔ ایسا کام جس میں جو مشکل ہے جس کی تلافی نہ ہو سکے تو عرب کیا کہتے ہیں؟ یہ بڑا لمبا چوڑا کام ہے۔ معلوم ہوا طول اور عرض کے ذریعے بھی مشکل چیز کو بیان کیا جاتا ہے۔ تو لہٰذا خاوند کے لیے سختی اور مشکل کس طلاق میں ہے؟ بائن میں ہے کیونکہ وہ پھر رجوع نہیں کر سکتا، اس لیے اس سے طلاق بائن ہو گی جب خاوند لمبائی یا چوڑائی ذکر کر دے۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَا يَصْعُبُ تَدَارُكُهُ يُقَالُ: لِهَذَا الْأَمْرِ طُولٌ وَعَرْضٌ“ اور وہ چیز جس کی تلافی مشکل ہو، تو عربی میں کہتے ہیں ”لِهَذَا الْأَمْرِ طُولٌ وَعَرْضٌ“ کہ اس کام کی لمبائی اور چوڑائی ہے، یعنی یہ بڑا سخت کام ہے۔ ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهُ يَقَعُ بِهَا رَجْعِيَّةٌ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ان سب سے رجعی طلاق واقع ہو گی، سخت طلاق کہے یا لمبی طلاق کہے یا چوڑی طلاق کہے۔ ”أَنَّهُ يَقَعُ بِهَا رَجْعِيَّةٌ لِأَنَّ هَذَا الْوَصْفَ لَا يَلِيقُ بِهِ فَيَلْغُو“ کہ ان کے ذریعے رجعی طلاق واقع ہو گی، کیونکہ یہ وصف جو ہیں طلاق کے لائق نہیں تو یہ لغو ہو جائیں گے۔ یہ اوصاف طلاق کے لائق نہیں ہیں، اس لیے کیونکہ طلاق جو ہے اس کی کوئی لمبائی، چوڑائی یا اس میں کوئی سختی نہیں ہوتی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ هَذَا الْوَصْفَ لَا يَلِيقُ بِهِ“ اس لیے کیونکہ یہ وصف جو ہیں یہ طلاق کے لائق نہیں ہیں، اس لیے کیونکہ یہ اوصاف جو ہیں یہ تو جسم، جس چیز کا کوئی جسم ہو اس کے اوصاف ہیں، جس چیز کا جسم ہو اس کے بارے میں کہتے ہیں یہ بہت شدید ہے بہت سخت ہے یا بہت لمبا ہے یا بہت چوڑا ہے، اور طلاق، طلاق کا تو کوئی اپنا الگ جسم نہیں وہ تو ایک صفت ہے۔ طلاق کا تو اپنا الگ کوئی جسم نہیں، لہٰذا یہ اوصاف طلاق کے ہو ہی نہیں سکتے، لہٰذا یہ لغو ہو جائیں گے ان کا کوئی اعتبار نہیں اور طلاق رجعی واقع ہو گی۔ یہ معنیٰ ہے: ”لِأَنَّ هَذَا الْوَصْفَ لَا يَلِيقُ بِهِ فَيَلْغُو“ اس لیے کیونکہ یہ جو وصف ہے یہ طلاق کے لائق نہیں ہے تو یہ لغو ہو جائے گا۔ ”وَلَوْ نَوَى الثَّلَاثَ فِي هَذِهِ الْفُصُولِ صَحَّتْ نِيَّتُهُ“ اور اگر خاوند نے تین کی نیت کی ان فصلوں میں تو اس کی نیت صحیح ہے۔ مثلاً یہ جو ہم نے کہا، ادھر دیکھیے، وہ جو شروع میں آیا تھا: ”أَنْتِ طَالِقٌ بَائِنٌ“، یا ”أَنْتِ طَالِقٌ الْبَتَّةَ“، یا ”أَنْتِ طَالِقٌ أَفْحَشَ الطَّلَاقِ“، یا ”أَنْتِ طَالِقٌ أَخْبَثَ الطَّلَاقِ“ یا ”أَسْوَأَ الطَّلَاقِ“ وغیرہ، یہ سارے الفاظ جتنے یہاں تک گزرے، ان سب کے اندر اگر خاوند تین کی نیت بھی کرے گا تو تین طلاقیں بھی ہو جائیں گی۔ بھئی تین کیسے واقع ہوں گی؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ ہم نے بتلا دیا ان سب کے ذریعے کون سی طلاق ہو گی؟ طلاق بائن، یعنی اس سے بینونت آئے گی جدائی آئے گی، اور بینونت دو قسم پر ہے: ایک بینونتِ خفیفہ ہے ایک بینونتِ غلیظہ ہے۔ ایک ہلکی جدائی ہے کہ جس میں خاوند دوبارہ اس سے نکاح کر سکتا ہے، اور ایک بینونتِ غلیظہ ہے سخت قسم کی جدائی اور وہ تین طلاقوں میں آتی ہے جہاں دوبارہ خاوند اس عورت سے نکاح نہیں کر سکتا۔ تو ان سب جتنے لفظ ذکر ہوئے ان سے کون سی طلاق آئے گی؟ طلاق بائن۔ اور بائن کے اندر وہ پھر بینونت جو ہے وہ خفیفہ بھی ہو سکتی ہے اور غلیظہ بھی ہو سکتی ہے، اس میں دو قسمیں ہیں، تو لہٰذا وہ بینونتِ غلیظہ کی بھی نیت کر سکتا ہے یعنی تین طلاقوں کی بھی نیت کر سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ نَوَى الثَّلَاثَ فِي هَذِهِ الْفُصُولِ صَحَّتْ نِيَّتُهُ لِتَنَوُّعِ الْبَيْنُونَةِ“ اور اگر خاوند نے تین طلاقوں کی نیت کی ان فصلوں میں یعنی جو اوپر جو صورتیں ذکر ہوئیں، تو خاوند کی نیت صحیح ہے بوجہ بینونت کے متنوع ہونے کے، بینونت کی قسمیں ہونے کے کہ بینونت کی قسمیں ہیں۔ ”عَلَى مَا مَرَّ“ اس وجہ سے جو گزر گئیں، یعنی وہ غلیظہ بھی ہے اور خفیفہ بھی ہے۔ ”وَالْوَاقِعُ بِهَا بَائِنٌ“ اور ان الفاظ کے ذریعے جو طلاق ہوتی ہے وہ تو بائن ہوتی ہے، اور بینونت دو قسم پر ہے، بینونتِ خفیفہ اور بینونتِ غلیظہ، تو جس کی وہ نیت کرے گا وہ واقع ہو جائے گی۔ چلیے، یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔