آگے سبق دیکھیے بھئی۔ "وَلَوْ قَالَ: أَنْتِ طَالِقٌ مَا لَمْ أُطَلِّقْكِ أَنْتِ طَالِقٌ فَهِيَ طَالِقٌ بِهَذِهِ التَّطْلِيقَةِ، مَعْنَاهُ: قَالَ ذَلِكَ مَوْصُولًا بِهِ، وَالْقِيَاسُ أَنْ يَقَعَ الْمُضَافُ فَيَقَعَانِ إِنْ كَانَتْ مَدْخُولًا بِهَا، وَهُوَ قَوْلُ زُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ; لِأَنَّهُ وُجِدَ زَمَانٌ لَمْ يُطَلِّقْهَا فِيهِ وَإِنْ قَلَّ، وَهُوَ زَمَانُ قَوْلِهِ: أَنْتِ طَالِقٌ قَبْلَ أَنْ يَفْرُغَ مِنْهَا" بھئی گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا، صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہتا ہے: تمہیں نصفِ طلاق ہے، یا ثلثِ طلاق ہے، یا طلاق کا کوئی بھی جز ذکر کرتا ہے تو طلاق تو ایسی چیز ہے جس کی تقسیم نہیں ہو سکتی، لہٰذا پوری ایک طلاق ہو جائے گی۔ اور اگر خاوند نے بیوی سے کہا کہ تمہیں دو طلاقوں کے تین نصف طلاق ہے، تو دو طلاقوں کا نصف ہے ایک طلاق، یہ ہے نصف، اور تین نصف کہا تو تین طلاقیں ہو جائیں گی۔ اور اگر کہا خاوند نے بیوی سے کہ تجھے ایک طلاق کے تین نصف طلاق ہے، تو ایک طلاق کا نصف ہے آدھی طلاق، اور آدھی طلاق کو تین دفعہ کریں تو یہ ڈیڑھ طلاق بنتی ہے، یعنی ایک پوری اور ایک آدھی، اور آدھی تو ہو نہیں سکتی، لہٰذا وہ بھی پوری ہو جائے گی اور دو طلاقیں ہو جائیں گی، جبکہ بعض علماء فرماتے ہیں کہ اس صورت میں بھی تین طلاقیں ہوں گی، کیونکہ اس نے کہا تھا ایک طلاق کے تین نصف، اور ہر نصف جو ہے وہ اپنی ذات کے اعتبار سے پوری طلاق بن جائے گا، تو تین طلاقیں ہو جائیں گی۔ لیکن میں نے آپ کو بتلایا کہ علماء فرماتے ہیں زیادہ صحیح بات یہی ہے کہ اس صورت میں دو طلاقیں ہوں گی بھئی۔ اس کے بعد پھر مسئلہ یہ ذکر کیا تھا کہ اگر کوئی خاوند اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے اور اس کے ساتھ غایۂ ابتدا اور انتہا کو ذکر کرتا ہے کہ تجھے طلاق ہے ایک سے لے کر دو تک، یا تجھے طلاق ہے ایک سے لے کر تین تک، یا تجھے طلاق ہے وہ جو ایک اور دو کے بیچ میں ہے، یا تجھے طلاق ہے وہ جو ایک اور تین کے بیچ میں ہے، تو میں نے بتلایا تھا کہ اس میں امام صاحب کا ضابطہ یہ ہے کہ ان دونوں طلاقوں کے جو بیچ میں ہے وہ طلاق واقع ہوگی اور ساتھ غایۂ ابتدا بھی داخل ہوگا۔ لیکن یہ اسی صورت میں ہوگا جب ان دونوں کے بیچ میں کوئی طلاق ہو۔ جیسے ایک سے لے کر تین تک خاوند نے کہا: تمہیں طلاق ہے ایک سے لے کر تین تک، تو ایک اور تین کے بیچ میں دوسری طلاق ہے، لیکن دوسری طلاق تو ہو نہیں سکتی جب تک پہلی نہ ہو، لہٰذا غایۂ ابتدا بھی آ جائے گا اور درمیان والی طلاق بھی، تو دو طلاقیں ہو جائیں گی امام صاحب کے نزدیک۔ اور اگر درمیان میں کوئی طلاق ہے ہی نہیں، مثلاً خاوند نے کہا: تمہیں طلاق ہے ایک سے لے کر دو تک، تو اس صورت میں پھر امام صاحب کے نزدیک یہ جو طلاق ہوگی وہ "أَنْتِ طَالِقٌ" سے ہوگی، کیونکہ ایک اور دو کے درمیان تو کچھ ہے نہیں کہ وہ طلاق واقع ہوتی، لیکن پیچھے خاوند نے "أَنْتِ طَالِقٌ" کا لفظ تو کہا ہے، لہٰذا اس سے ایک طلاق ہو جائے گی۔ جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس صورت میں نہ غایۂ ابتدا داخل ہوتا ہے اور نہ غایۂ انتہا، لہٰذا خاوند نے کہا: تجھے طلاق ہے ایک سے تین تک، تو ایک اور تین کے بیچ میں دوسری طلاق ہے تو صرف یہ ایک طلاق ہو جائے گی، اور اگر خاوند نے کہا: تجھے طلاق ہے ایک سے لے کر دو تک، تو ایک اور دو تو غایہ ہیں یہ داخل نہیں اور ان دو کے بیچ میں تو کوئی طلاق نہیں ہے، لہٰذا کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ دونوں غایے داخل ہوتے ہیں، غایۂ ابتدا بھی اور غایۂ انتہا بھی، تو جب خاوند نے بیوی سے کہا کہ تجھے طلاق ہے ایک سے دو تک تو ایک بھی داخل، دو بھی داخل، تو دو طلاقیں ہو جائیں گی۔ اور جب خاوند نے بیوی سے کہا: تجھے طلاق ہے ایک سے لے کر تین تک تو ایک بھی داخل، تین بھی داخل، تو تین طلاقیں ہو جائیں گی۔ اور پھر اس کے بعد اگر خاوند نے بیوی سے کہا: "أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً فِي ثِنْتَيْنِ"، یعنی فی کا لفظ لے کر آیا، اور فی کا لفظ عربی زبان میں ضرب کے لیے استعمال ہوتا ہے: "وَاحِدٌ فِي ثِنْتَيْنِ أَيْ وَاحِدٌ مَضْرُوبٌ فِي ثِنْتَيْنِ"۔ تو لہٰذا یہ ضرب کے لیے استعمال ہوتا ہے تو اس خاوند نے کہتے ہیں اگر ضرب کی نیت کی ہے تو ضرب سے صرف اجزاء بڑھتے ہیں افراد نہیں بڑھتے، لہٰذا ایک ہی طلاق ہوگی بھئی۔ ایک کو ضرب دی دو میں تو اس سے ایک کے اجزاء نہیں بڑھے، ایک ہی طلاق ہوگی۔ تو اگر ضرب کی نیت کرے تب بھی ایک طلاق اور اگر کوئی نیت نہیں کی تب بھی ایک طلاق۔ جبکہ امام زفر فرماتے ہیں کہ یہاں دو طلاقیں ہوں گی، کیونکہ عام لوگوں کی عادت کیا ہے، اس کے ذریعے ضرب کا ارادہ کرتے ہیں بھئی۔ ضرب کا ارادہ کیا جاتا ہے تو ایک کو دو سے ضرب دی جائے تو دو بنتا ہے، لہٰذا دو طلاقیں ہوں گی، اور میں نے بتایا اس مسئلے میں فتویٰ امام زفر رحمہ اللہ کے قول پر ہے بھئی۔ اور اگر اسی کے اندر خاوند نے لفظ تو ذکر کیا فی اور ارادہ کیا واو کا، کہا کیا: "أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً فِي ثِنْتَيْنِ"، اور ارادہ کیا: "وَاحِدَةً وَثِنْتَيْنِ"، تو پھر اس صورت میں تین طلاقیں ہو جائیں گی۔ اور اگر عورت غیر مدخول بہا ہے تو پھر ایک ہی طلاق سے بائنہ ہو جائے گی، کیونکہ "وَاحِدَةً" سے ایک طلاق ہوئی اور "وَثِنْتَيْنِ" جب تک آیا عورت بائنہ ہو چکی تھی تو وہ دو طلاقیں باقی لغو چلی جائیں گی بھئی۔ اور اگر خاوند نے کہا: میں نے فی کا لفظ ذکر کیا ہے لیکن میں نے مع کا ارادہ کیا ہے، "وَاحِدَةً مَعَ ثِنْتَيْنِ"، تو اس صورت میں بھی تین طلاقیں ہو جائیں گی، کیونکہ فی بمعنی مع کے کلامِ عرب میں استعمال ہوتا رہتا ہے بھئی۔ اور اگر خاوند سے پوچھا گیا کیا نیت کی تھی اور وہ کہتا ہے میں نے ظرفیت کی نیت کی تھی: "وَاحِدَةً فِي ثِنْتَيْنِ"، یعنی فی کا ما بعد ظرف بنتا ہے، تو ثنتین جو ہے اس کو میں نے ظرف بنایا تھا، تو دو طلاقوں کو میں نے ظرف بنایا تھا ایک طلاق کے لیے، تو اس میں بھی ہمارے نزدیک جو پہلا عدد ہے اسی کا اعتبار ہوگا، وہی طلاق واقع ہوگی، اس لیے کیونکہ طلاق جو ہے وہ تو ایک صفت کا نام ہے، اس کا تو اپنا الگ کوئی وجود نہیں، یہ کسی چیز کے لیے ظرف نہیں بن سکتی۔ اور پھر یہ مسئلہ آپ نے پڑھا تھا، اگر خاوند نے بیوی سے کہا کہ تجھے یہاں سے لے کر شام تک طلاق ہے، تو امام زفر فرماتے ہیں طلاقِ بائن واقع ہوگی، اس لیے کیونکہ اس نے طلاق کی لمبائی بیان کی جس سے قوت آ گئی طلاق کے اندر اور قوی طلاق وہ طلاقِ بائن ہوتی ہے کیونکہ وہ نکاح کو فوراً توڑ دیتی ہے۔ جبکہ ہم کہتے ہیں نہیں، اس نے طلاق کو چھوٹا کر دیا۔ طلاق تو جب دی جاتی ہے وہ تو ہر جگہ ہوتی ہے، لیکن اس نے صرف شام تک محدود کر دیا تو طلاق کو چھوٹا کر دیا، تو لہٰذا اس سے طلاقِ رجعی ہوگی، بائن نہیں ہوگی۔ اور اگر خاوند نے بیوی سے کہا کہ تجھے مکہ میں طلاق ہے، تو اس صورت میں اسی وقت وہ طلاق ہو جائے گی، اس لیے کیونکہ طلاق جو ہے وہ کسی مکان کے ساتھ مخصوص نہیں ہو سکتی کہ وہاں تو عورت مطلقہ ہو اور وہاں سے نکلے تو مطلقہ نہ ہو، ایسا نہیں ہو سکتا۔ اور اگر طلاق کو کسی فعل کے ساتھ معلق کیا کہ تجھے طلاق ہے "إِذَا دَخَلْتِ مَكَّةَ" جب تو مکہ میں داخل ہو، تو پھر اس صورت میں مکہ میں داخل ہوتے وقت طلاق واقع ہو جائے گی۔ اور اس کے بعد پھر زمانے کی بات شروع کی کہ جب طلاق کی نسبت زمانے کی طرف کی جائے، مثلاً خاوند بیوی سے کہتا ہے: "أَنْتِ طَالِقٌ غَدًا"، اور ایک صورت یہ ہے خاوند بیوی سے کہتا ہے: "أَنْتِ طَالِقٌ فِي غَدٍ"، تو صاحبین کے نزدیک فی کو چاہے ذکر کیا جائے یا ذکر نہ کیا جائے دونوں صورتوں میں یہ غداً یا فی غد یہ تقاضا کرتا ہے کہ یہ استیعاب کر لے طلاق کا۔ یہ استیعاب کر لے طلاق کا، یعنی پورے دن طلاق والی ہو عورت، اور یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب اولِ جز میں طلاق واقع ہو۔ جبکہ امام صاحب کے نزدیک جب فی کو ذکر نہ کیا جائے تو پھر اس وقت تو مثلاً "أَنْتِ طَالِقٌ غَدًا" کہا ہے تو اب یہ غداً منصوب ہے، یہاں فی ذکر نہیں، یہ تو استیعاب کا تقاضا کر رہا ہے، لہٰذا اولِ جز میں طلاق واقع ہو جائے گی۔ لیکن کہا: "أَنْتِ طَالِقٌ فِي غَدٍ"، تو اس صورت میں تو تو طلاق والی ہے کل کے دن میں، تو کل کے کسی ایک جز میں بھی طلاق کا پایا جانا کافی ہے بھئی۔ تو معلوم ہوا فی کو جب ذکر کیا جائے تو وہ استیعاب کا تقاضا نہیں کرتا۔ ہاں البتہ اس صورت میں بھی پہلے جز میں ہی طلاق واقع ہوگی اگر خاوند نے کوئی نیت نہیں کی۔ اس لیے کیونکہ ہر جز تقاضا کرے گا میرے اندر طلاق ہو جائے، اور جب پہلا جز آیا تو باقی ابھی کوئی اس کا مقابل اور دوسرا جز آیا ہی نہیں، لہٰذا مقابل موجود نہیں تو لہٰذا پہلے ہی جز میں طلاق واقع ہو جائے گی۔ لیکن یہ طلاق ضرورت کی وجہ سے واقع ہوئی پہلے جز میں کیونکہ وہ تقاضا کر رہا تھا۔ اور لیکن اگر خاوند آخری جز کا ارادہ کر لیتا ہے تو ایک طرف تعیینِ ضروری ہے، ضرورت کی وجہ سے اولِ جز میں آ رہی تھی، دوسری طرف تعیینِ قصدی ہے یعنی جس کا وہ ارادے کے ساتھ جس کی تعیین کر رہا ہے، تو تعیینِ قصدی اس کا اعتبار کیا جائے گا اور آخری جز میں طلاق واقع ہوگی بھئی۔ اور اگر خاوند نے اپنی بیوی سے کہا: "أَنْتِ طَالِقٌ أَمْسِ"، گزشتہ کل تجھے طلاق ہے، اور حال یہ ہے کہ ان کا نکاح آج ہی ہوا ہے تو پھر اس صورت میں گزشتہ کل میں تو وہ طلاق کا مالک ہی نہیں تھا، لہٰذا اس کا یہ کلام لغو چلا جائے گا۔ اور میں نے بتایا تھا کہ یہ جو "أَنْتِ طَالِقٌ" جو ہے یہ اصل میں تو خبر ہے، اصل میں تو کیا ہے؟ خبر ہے، لیکن چونکہ انشاءِ طلاق کے لیے کوئی لفظ عربی زبان میں الگ ہے ہی نہیں، اس لیے شریعت نے یہ خبر والے لفظوں کو ہی انشاءِ طلاق کا قائم مقام کر دیا۔ توجہ ہے؟ تو یہ جتنے عقد ہم کرتے ہیں ان سب کے اندر جو ایجاب اور قبول کرتے ہیں وہ سارے دراصل وہ خبر کے صیغے ہوتے ہیں، لیکن چونکہ انشاءِ عقد کے لیے عربی زبان میں کوئی لفظ مقرر ہی نہیں ہے تو مجبوراً پھر خبر والے صیغے استعمال کیے جاتے ہیں۔ اور جب خاوند نے کہا: "أَنْتِ طَالِقٌ أَمْسِ"، تو گزشتہ کل تو وہ طلاق کا مالک نہیں تھا، لہٰذا طلاق لغو چلی گئی اور نیز اس کو خبر پر محمول کرنا بھی صحیح ہے۔ اصل میں تو "أَنْتِ طَالِقٌ" خبر ہی ہے بھئی، اور اس کو خبر پر بھی محمول کر سکتے ہیں کہ "أَنْتِ طَالِقٌ" سے اس کی کیا مراد تھی؟ طلاق سے عدمِ نکاح مراد تھا کہ کل تو عدمِ نکاح والی تھی، دیکھو کل تمہارا نکاح نہیں تھا اور آج ہم دونوں کا نکاح ہو چکا ہے بھئی۔ یا خاوند نے کہا: "أَنْتِ طَالِقٌ أَمْسِ"، ہو سکتا ہے بیوی کو پہلے کسی اور خاوند نے طلاق دی ہو تو اس سے بھی اس کو خبر بنایا جا سکتا ہے کہ دیکھو کل تو طلاق والی تھی اور آج تو نکاح والی ہو چکی ہے۔ اور اگر خاوند کا پہلے سے نکاح تھا اس کے ساتھ، خاوند کا نکاح اس سے ایک سال پہلے ہوا تھا اور اب وہ بیوی سے کہتا ہے: "أَنْتِ طَالِقٌ أَمْسِ"، گزشتہ کل تجھے طلاق ہے، تو اب گزشتہ کل تو خاوند طلاق کا مالک تھا، لہٰذا اب طلاق کی نسبت صحیح کر رہا ہے تو طلاق واقع ہوگی، لیکن گزشتہ کل میں نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ تو زمانہ گزر چکا ہے، تو پھر فی الحال ہی طلاق واقع ہو جائے گی بھئی۔ اور اگر خاوند نے بیوی سے کہا کہ تجھے طلاق ہے میرے تجھ سے نکاح کرنے سے پہلے، تو اس صورت میں بھی طلاق واقع نہیں ہوگی کیونکہ نکاح سے پہلے تو یہ طلاق کا مالک ہی نہیں تھا بھئی۔ اس کے بعد کچھ ظرف وغیرہ اور شرط کی صورتیں ذکر کیں صاحبِ ہدایہ نے، کہ اگر خاوند نے بیوی سے کہا: "أَنْتِ طَالِقٌ مَتَى لَمْ أُطَلِّقْكِ"، کہ تجھے طلاق ہے جب میں تجھے طلاق نہ دوں، جس وقت میں تجھے طلاق نہ دوں، تو جیسے ہی خاوند خاموش ہوگا یہ جملہ کہنے کے بعد، فوراً طلاق واقع ہو جائے گی۔ اس لیے کیونکہ اس نے کیا کہا تھا کہ تجھے طلاق ہے جس وقت میں تجھے طلاق نہ دوں، تو تھوڑا سا وقت پایا گیا جس میں اس نے طلاق نہیں دی تو شرط پوری ہو گئی، اور جب شرط پوری ہو جائے تو مشروط پایا جاتا ہے لہٰذا اس کو طلاق ہو جائے گی۔ تو متى کا بھی یہی حکم ہے، ما کا بھی یہی حکم ہے اور متى ما کا بھی یہی حکم ہے۔ اور اگر خاوند إن لے آتا ہے: "أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ لَمْ أُطَلِّقْكِ"، تو پھر اس صورت کے اندر آخرِ عمر کے اندر طلاق واقع ہوگی۔ وجہ یہ کہ خاوند نے کیا کہا: "أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ لَمْ أُطَلِّقْكِ" کہ تجھے طلاق ہے اگر میں تجھے طلاق نہ دوں۔ تو جب شرط پوری ہوگی تب طلاق واقع ہوگی، اور اس نے کیا کہا ہے اگر میں تجھے طلاق نہ دوں، اور وہ تو زندگی کے ہر ہر جز میں احتمال ہے وہ طلاق دے سکتا ہے، لہٰذا طلاق واقع نہیں ہوگی۔ لیکن آخری لمحہ جب زندگی کا آ جائے گا جس میں وہ "أَنْتِ طَالِقٌ" کہہ ہی نہیں سکتا، اب شرط پوری ہو گئی۔ اس نے کہا تھا اگر میں تمہیں طلاق نہ دوں، اور آخری لمحہ آ گیا اور اس نے بھی طلاق نہیں دی اور نہ آگے اب دے سکتا ہے، تو شرط پوری ہو گئی لہٰذا اب طلاق واقع ہو جائے گی۔ اور عورت کے انتقال کی صورت میں بھی یہی حکم ہے۔ عورت کی بھی جب آخری لمحہ آ گیا جس میں خاوند اب "أَنْتِ طَالِقٌ" بھی نہیں کہہ سکتا تو اس وقت اس کو طلاق ہو جائے گی بھئی۔ اور جبکہ إذا کے اندر صاحبین اور امام صاحب کا اختلاف تھا۔ میں نے بتایا تھا کہ دراصل إذا کے اندر علمائے کوفہ اور علمائے بصرہ کا اختلاف ہے۔ یہ إذا ظرف کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے اور شرط کے لیے بھی آتا ہے۔ تو علمائے کوفہ فرماتے ہیں یہ دونوں میں حقیقت ہے۔ ظرف کے لیے آئے تو بھی یہ اس کا حقیقی معنی، اور شرط کے لیے آئے تو یہ بھی اس کا حقیقی معنی۔ جبکہ علمائے بصرہ فرماتے ہیں کہ یہ إذا حقیقت ہے وقت کے لیے اور شرط کے لیے یہ جو استعمال ہوتا ہے وہ مجاز ہے۔ تو صاحبین جو ہیں وہ علمائے بصرہ کے مذہب کے مطابق وہ کہتے ہیں کہ یہ إذا وقت کے لیے ہے۔ کس کے لیے ہے؟ وقت کے لیے، تو اس کا وہی حکم ہوگا جو متى اور متى ما کا تھا۔ اور متى اور متى ما کے اندر تو جیسے ہی خاوند خاموش ہوتا تھا طلاق ہو جاتی تھی، لہٰذا إذا خاوند لائے گا تو بھی خاوند کے خاموش ہوتے ہی فوراً طلاق ہو جائے گی۔ مثلاً خاوند نے بیوی سے کہا: "أَنْتِ طَالِقٌ إِذَا لَمْ أُطَلِّقْكِ" یا "إِذَا مَا لَمْ أُطَلِّقْكِ"، إذا کا بھی وہی حکم اور إذا ما کا بھی وہی حکم ہے۔ جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں، امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہ إذا جو ہے شرط کے لیے بھی آتا ہے اور وقت کے لیے بھی آتا ہے، دونوں اس کے حقیقی معنی ہیں۔ لہٰذا جب خاوند نے کہا: "أَنْتِ طَالِقٌ إِذَا لَمْ أُطَلِّقْكِ"، اب اگر اس إذا کو ہم شرط کے لیے بنائیں تو طلاق واقع ہوگی آخرِ عمر میں، اور اگر ہم اس إذا کو وقت کے لیے قرار دیں تو پھر طلاق فوراً اسی وقت واقع ہو جائے گی جب خاوند خاموش ہوگا بھئی۔ تو اب جب خاوند نے یہ جملہ کہہ دیا تو کچھ لمحے گزر گئے، اب شک آ گیا، پتہ نہیں طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں۔ کیونکہ وقت کے لیے بنایا جائے تو ہو گئی ہے، شرط کے لیے بنایا جائے تو نہیں ہوئی، لہٰذا اس شک اور احتمال کی وجہ سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔ طلاق یقین کے ذریعے ہو سکتی ہے، شک کے ذریعے نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ نکاح تو یقینی ہے تو نکاح کو ختم کرنے کے لیے طلاق بھی کیسی چاہیے؟ یقینی چاہیے، شک کی وجہ سے یہ طلاق واقع نہیں ہوگی، بات سمجھ میں آ گئی۔ اب آئیے آج کے سبق پر: "وَلَوْ قَالَ: أَنْتِ طَالِقٌ مَا لَمْ أُطَلِّقْكِ أَنْتِ طَالِقٌ فَهِيَ طَالِقٌ بِهَذِهِ التَّطْلِيقَةِ" وہی صورت، ادھر دیکھیے۔ خاوند نے بیوی سے کہا، پہلی مثال کیا گزری تھی؟ "أَنْتِ طَالِقٌ مَا لَمْ أُطَلِّقْكِ"، تجھے طلاق ہے جس وقت میں تجھے طلاق نہ دوں۔ تو پچھلے مسئلے میں اتنا کہہ کر خاوند خاموش ہو گیا تھا۔ لیکن اس مسئلے میں وہ خاموش نہیں ہوتا، ساتھ ہی "أَنْتِ طَالِقٌ" بھی کہہ دیتا ہے۔ "أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ لَمْ أُطَلِّقْكِ أَنْتِ طَالِقٌ" / "أَنْتِ طَالِقٌ مَا لَمْ أُطَلِّقْكِ أَنْتِ طَالِقٌ"، تجھے طلاق ہے اگر میں تجھے طلاق نہ دوں تجھے طلاق ہے، ساتھ ہی طلاق بھی دے دیتا ہے۔ تو اس صورت کے اندر یاد رکھو، امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں دو طلاقیں ہو گئیں، کتنی؟ دو طلاقیں۔ جبکہ ہمارے ائمہ فرماتے ہیں کہ نہیں، صرف یہ جو بعد میں اس نے واقع کی ہے طلاق یہ والی واقع ہوگی، کیونکہ اس نے کیا کہا تھا: اگر میں تجھے طلاق نہ دوں تو پھر تجھے طلاق ہے، اور اس نے تو طلاق دے دی، لہٰذا وہ پہلے والی کی شرط پوری نہیں، جب اس کی شرط پوری نہیں تو وہ طلاق بھی واقع نہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ جبکہ امام زفر فرماتے ہیں: نہیں، دونوں ہو گئیں۔ وجہ یہ وہ فرماتے ہیں کہ دیکھو جب اس شخص نے کہا: "أَنْتِ طَالِقٌ مَا لَمْ أُطَلِّقْكِ"، اور اس کے فوراً بعد کیا کہتا ہے ملا کر بغیر وقفہ کیے "أَنْتِ طَالِقٌ" بھی۔ مثلاً یوں کہتا ہے: "أَنْتِ طَالِقٌ مَا لَمْ أُطَلِّقْكِ أَنْتِ طَالِقٌ"، دیکھو سارا ملا کر کہا ہے۔ تو امام زفر فرماتے ہیں کہ دونوں ہو جائیں گی، کیوں؟ کیونکہ اس نے کیا کہا، شرط کیا لگائی؟ جس وقت میں تجھے طلاق نہ دوں تو تجھے طلاق ہے۔ اور یہ کہتے ہی آگے وہ "أَنْتِ طَالِقٌ" کہہ رہا ہے۔ اور مجھے بتائیے جب ابھی اس نے بات پوری نہیں کی، آخر میں صرف یہ کہا "أَنْتِ"، صرف اتنا کہا "أَنْتِ"، طلاق ہوئی صرف أنت کہنے سے؟ نہیں، صرف أنت کہنے سے تو طلاق نہیں ہوتی۔ پھر "أَنْتِ طَا"، ط اور الف کو بھی لے آیا، ابھی بھی طلاق نہیں۔ پھر لام لے آیا "أَنْتِ طَالِ"، ابھی بھی طلاق نہیں۔ ہاں "أَنْتِ طَالِقٌ"، جیسے ہی قاف آیا اب طلاق ہو گئی۔ تو معلوم ہوا تھوڑا سا وقت تو پایا گیا، یہ جو "أَنْتِ طَالِقٌ" کے پورا کرنے سے پہلے پہلے، ابھی جب اس نے صرف "أَنْتِ طَالِ" کہا تھا، "أَنْتِ طَالِ" کہا تھا تو یہ تھوڑا سا وقت تو پایا گیا جس کے اندر اس نے طلاق نہیں دی، لہٰذا وہ پہلی کی بھی شرط پوری ہو گئی، تھوڑا سا وقت پایا گیا جس میں طلاق نہیں دی تھی وہ بھی واقع ہو گئی، اور یہ دوسرے کا بھی قاف پورا ہوا تو ساتھ ہی دوسری بھی ہو گئی۔ تو کہتے ہیں: "وَلَوْ قَالَ: أَنْتِ طَالِقٌ مَا لَمْ أُطَلِّقْكِ أَنْتِ طَالِقٌ فَهِيَ طَالِقٌ بِهَذِهِ التَّطْلِيقَةِ"، اگر خاوند نے یہ الفاظ کہے تو عورت جو ہے وہ طلاق والی ہو جائے گی اس طلاق دینے سے، یعنی اس کو ایک طلاق ہوگی ہمارے ائمہ کے نزدیک۔ "مَعْنَاهُ: قَالَ ذَلِكَ مَوْصُولًا بِهِ"، صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: معنیٰ اس کا یہ ہے، "قَالَ ذَلِكَ مَوْصُولًا بِهِ" کہ خاوند نے یہ جو آخر میں "أَنْتِ طَالِقٌ" کہا ہے "مَوْصُولًا بِهِ" اس نے وہ شرط کے ساتھ ملا کر کہا ہے: "أَنْتِ طَالِقٌ مَا لَمْ أُطَلِّقْكِ أَنْتِ طَالِقٌ"، تو یہ آخری "أَنْتِ طَالِقٌ" کو اس نے موصولاً کہا ہے، ملا کر کہا ہے۔ تو کہتے ہیں: "مَعْنَاهُ: قَالَ ذَلِكَ مَوْصُولًا بِهِ"، معنیٰ اس کا یہ ہے کہ خاوند نے یہ "أَنْتِ طَالِقٌ" ما قبل کے ساتھ ملا کر کہا ہے۔ "وَالْقِيَاسُ أَنْ يَقَعَ الْمُضَافُ"، اور قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ وہ طلاق بھی واقع ہو جائے جو مضاف ہے، جو پہلی طلاق ہے: تجھے طلاق ہے "مَا لَمْ أُطَلِّقْكِ" جس وقت میں تجھے طلاق نہ دوں، تو اس طلاق کی اس نے نسبت کی ہے وقت کی طرف کہ جس وقت میں طلاق تجھے نہ دوں۔ قیاس یہ تقاضا کرتا ہے یہ مضاف طلاق بھی واقع ہونی چاہیے اور آگے دوسری "أَنْتِ طَالِقٌ" بھی واقع ہونی چاہیے۔ تو کہتے ہیں: "وَالْقِيَاسُ أَنْ يَقَعَ الْمُضَافُ"، اور قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ مضاف طلاق جو ہے وہ بھی واقع ہو جائے، "فَيَقَعَانِ" تو دونوں طلاقیں واقع ہو جائیں گی، "إِنْ كَانَتْ مَدْخُولًا بِهَا" اگر وہ عورت مدخول بہا ہے۔ اگر وہ مدخول بہا ہے، کیونکہ غیر مدخول بہا تو ایک ہی طلاق سے بائنہ ہو جاتی ہے، توجہ ہے؟ تو اگر وہ عورت مدخول بہا ہے تو قیاس یہ تقاضا کرتا ہے دونوں ہونی چاہییں۔ "وَهُوَ قَوْلُ زُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ"، اور یہی قول ہے امام زفر رحمہ اللہ کا۔ "لِأَنَّهُ وُجِدَ زَمَانٌ لَمْ يُطَلِّقْهَا فِيهِ"، اس لیے کیونکہ ایسا زمانہ پایا گیا جس کے اندر خاوند نے اس عورت کو طلاق نہیں دی تھی، "وَإِنْ قَلَّ" اگرچہ وہ وقت تھوڑا سا تھا، بھئی اور وہ کون سا زمانہ ہے؟ کہتے ہیں: "وَهُوَ زَمَانُ قَوْلِهِ: أَنْتِ طَالِقٌ"، اور وہ خاوند کے قول "أَنْتِ طَالِقٌ" کا زمانہ ہے، "قَبْلَ أَنْ يَفْرُغَ مِنْهَا" قبل کہ خاوند اس کے کہنے سے فارغ ہو، یعنی اس کے پورا کرنے سے پہلے پہلے جو وقت ہے۔ وجہ الاستحسان، استحسان کی وجہ یہ ہے، امام زفر کا قول وہ قیاس ہے۔ اور ہمارے باقی ائمہ کا قول اس کو استحسان کہا، کیونکہ استحسان اسے کہتے ہیں جس کے مقابلے میں کیا آئے؟ قیاس آئے بھئی، تو یہاں پر بھی قیاسِ خفی کو استحسان کہا۔ "وَجْهُ الِاسْتِحْسَانِ: أَنَّ زَمَانَ الْبِرِّ مُسْتَثْنًى عَنِ الْيَمِينِ بِدَلَالَةِ الْحَالِ"، ہم کہتے ہیں کہ آپ کی بات ٹھیک ہے، جب خاوند نے "أَنْتِ طَالِقٌ مَا لَمْ أُطَلِّقْكِ أَنْتِ طَالِقٌ" کہا تو قیاس تو یہی تقاضا کرتا ہے کہ پہلی بھی ہونی چاہیے اور دوسری بھی ہونی چاہیے، لیکن استحساناً جو ہے پہلی طلاق وہ جو طلاق جس کی نسبت وقت کی طرف کی گئی تھی وہ واقع نہیں ہوگی بھئی۔ استحساناً وہ طلاق واقع نہیں ہوگی، اس لیے کیونکہ قسم کو پورا کرنے کا جو زمانہ ہوتا ہے وہ مستثنیٰ ہوتا ہے۔ کوئی شخص بھی جب قسم اٹھاتا ہے اس کا کیا مقصد ہوتا ہے؟ وہ قسم کو پورا کرنا چاہتا ہے، لہٰذا کم از کم اتنا وقت اس کو ملنا چاہیے جس میں وہ قسم پوری کر سکے۔ کوئی شخص جب قسم اٹھاتا ہے اس کا کیا ارادہ ہوتا ہے؟ قسم کو پورا کرنے کا ارادہ ہوتا ہے، لہٰذا اتنا وقت جس میں وہ قسم کو پورا کر سکے اتنا وقت مستثنیٰ ہوگا۔ اتنا وقت مستثنیٰ ہوگا، اتنا وقت گزرنے سے وہ حانث نہیں ہوگا، قسم نہیں ٹوٹے گی۔ مثلاً ایک شخص نے کپڑے پہنے ہوئے ہیں اور کسی بات پر وہ غصے میں آیا اور کہتا ہے: واللہ یہ کپڑے میں نہیں پہنوں گا، قسم اٹھا لی، اور یہ کہتے ہی اس نے کپڑے اتارنا شروع کر دیے، لیکن لیکن کپڑے اتارتے اتارتے بھی چند لمحے گزریں گے یا نہیں؟ چند لمحے گزر گئے، اور اس نے تو کیا کہا تھا: واللہ میں یہ کپڑے نہیں پہنوں گا، تو اتارتے اتارتے بھی چند لمحے تو ابھی یہ کپڑے پہنے ہی ہوئے ہیں، پوری طرح ابھی اترے نہیں، تو لہٰذا اس کو تو حانث قرار دینا چاہیے کہ تمہاری قسم ٹوٹ گئی ہے۔ یا اسی طرح ایک شخص ایک سواری پر سوار ہے اور کہتا ہے: واللہ میں اس سواری پر سوار نہیں ہوں گا، اس نے قسم کھا لی، اور یہ کہتے ہی اس نے اترنا شروع کر دیا، لیکن پھر بھی اترتے اترتے چند لمحے تو لگ جائیں گے بھئی، تو یہ تو سواری پر ہے چند لمحے، لہٰذا اس کو تو حانث ہونا چاہیے۔ یا اسی طرح دوسری مثال لے لو، ایک شخص جو ہے وہ قسم کھاتا ہے کہ واللہ میں اس گھر میں نہیں رہوں گا، اور یہ کہتے ہی اس نے سامان اٹھانا شروع کر دیا باہر نکالنے کے لیے، تو دیکھو اب جب سامان اٹھا رہا ہے کچھ لمحے تو وہ گھر میں رہا بھئی، تو اس کو کیا ہونا چاہیے؟ حانث۔ لیکن ہمارے علماء فرماتے ہیں ان تینوں صورتوں میں یہ شخص حانث نہیں۔ اس نے قسم اٹھائی واللہ میں یہ کپڑے نہیں پہنوں گا اور ساتھ ہی اتارنا شروع کر دیے تو حانث نہیں، اگرچہ کچھ لمحے کپڑے پہنے ہی ہوئے ہیں۔ وجہ یہ کہ اتنا وقت تو آدمی کو ملنا چاہیے جس میں اس قسم کو کیا کر سکے؟ پورا کر سکے۔ ایک آدمی سواری پر سوار ہے اور کہتا ہے واللہ میں اس سواری پر سوار نہیں ہوں گا تو اترتے اترتے بھی کچھ لمحے گزر گئے، لیکن اتنا وقت تو ہونا چاہیے جس کے اندر یہ کیا کر سکے؟ سواری سے اتر سکے۔ توجہ ہے؟ تو تھوڑا سا وقت جس میں انسان قسم پوری کر سکے کم از کم اتنا وقت اس کو ملنا چاہیے تو یہ وقت مستثنیٰ ہوتا ہے قسم سے۔ یہ وقت قسم سے مستثنیٰ ہوتا ہے تو لہٰذا یہاں پر بھی اسی طرح ہے، اس شخص نے کیا کہا ہے: "أَنْتِ طَالِقٌ مَا لَمْ أُطَلِّقْكِ أَنْتِ طَالِقٌ"، تو قیاس تو کیا تقاضا کر رہا ہے کہ آخر میں یہ جو "أَنْتِ طَالِقٌ" کہہ رہا ہے تو کچھ تھوڑا سا وقت تو پایا گیا، لہٰذا پہلی طلاق بھی واقع ہونی چاہیے اور یہ دوسری والی بھی واقع ہونی چاہیے، قیاس یہ تقاضا کرتا ہے۔ لیکن ہمارے ائمہ فرماتے ہیں: نہیں، یہاں پر جب اس نے قسم کھائی ہے قسم کے ذریعے انسان کی نیت یہ ہوتی ہے کہ وہ اس کو پورا کرنا چاہتا ہے، لہٰذا اس کو اتنا وقت ملنا چاہیے کہ جس کے اندر وہ قسم کو پورا کر سکے بھئی، لہٰذا یہ جو "أَنْتِ طَالِقٌ" کہتے کہتے تھوڑا سا وقت گزرا ہے یہ وقت مستثنیٰ ہوگا۔ کیونکہ کم از کم اتنا تو وقت ملے جس میں وہ "أَنْتِ طَالِقٌ" کہہ سکے بھئی، اپنی قسم کو کیا کر سکے؟ پورا کر سکے بھئی۔ تو کہتے ہیں: "وَجْهُ الِاسْتِحْسَانِ: أَنَّ زَمَانَ الْبِرِّ مُسْتَثْنًى عَنِ الْيَمِينِ"، بِرٌّ کا معنیٰ قسم کا پورا کرنا، "أَنَّ زَمَانَ الْبِرِّ مُسْتَثْنًى عَنِ الْيَمِينِ" کہ قسم پورا کرنے کا جو زمانہ ہے وہ مستثنیٰ ہوتا ہے عن الیمین قسم سے، "بِدَلَالَةِ الْحَالِ" کس وجہ سے مستثنیٰ ہوتا ہے؟ دلالتِ حال کی وجہ سے، بھئی کیا دلالتِ حال ہے؟ کہتے ہیں: "لِأَنَّ الْبِرَّ هُوَ الْمَقْصُودُ"، اس لیے کیونکہ قسم کو پورا کرنا ہی مقصود ہوتا ہے۔ کوئی شخص جب قسم اٹھاتا ہے اس کا کیا مقصد ہوتا ہے؟ ویسے ہی قسم اٹھا رہا ہے یا اس کو پورا کرنا چاہتا ہے؟ اس کو پورا کرنا۔ ایک شخص کہتا ہے: واللہ میں یہ کام ضرور کروں گا، تو یہ قسم اسی لیے اٹھا رہا ہے کہ یہ اس کام کو کرنا چاہتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں یہ جو قسم پورا کرنے کا زمانہ ہے یہ مستثنیٰ ہوگا عن الیمین قسم سے بدلالۃ الحال اس قسم کھانے والے کی دلالتِ حال سے، اس کی حالت اس بات پر دلالت کر رہی ہے، "لِأَنَّ الْبِرَّ هُوَ الْمَقْصُودُ" اس لیے کیونکہ قسم کو پورا کرنا وہ مقصود ہوتا ہے، "وَلَا يُمْكِنُهُ تَحَقُّقُ الْبِرِّ إِلَّا أَنْ يُجْعَلَ هَذَا الْقَدْرُ مُسْتَثْنًى"، اور اس قسم کھانے والے کے لیے ممکن نہیں ہے کہ تحقق البر کہ قسم کا پورا کرنا پایا جائے، "إِلَّا أَنْ يُجْعَلَ هَذَا الْقَدْرُ مُسْتَثْنًى" مگر یہ کہ اتنی مقدار کو مستثنیٰ قرار دیا جائے۔ قسم کھانے والے کے لیے تو قسم پورا کرنا ممکن ہی نہیں رہے گا الا یہ کہ اس وقت کو کیا کیا جائے؟ مستثنیٰ قرار دیا جائے، پھر ہی وہ قسم پوری کر سکتا ہے، تھوڑا وقت تو ملنا چاہیے جس میں وہ قسم پوری کر سکے بھئی۔ مسئلہ بھی سمجھ میں آیا کہ نہیں۔ ایک شخص نے کیا کہا: واللہ میں یہ کپڑے نہیں پہنوں گا اور فوراً اتارنا شروع کر دیے، لیکن کچھ لمحے تو گزر گئے یا نہیں؟ تو لہٰذا اس کو تو حانث ہونا چاہیے، کہتے ہیں: نہیں، اتنا وقت تو کم از کم ملنا چاہیے بھئی جس میں وہ قسم پوری کر سکے بھئی، تو یہ فوری اتار رہا ہے تو یہ جو کپڑے اتارنے کا وقت ہے یہ اس قسم سے مستثنیٰ ہوگا، اس سے وہ حانث نہیں ہوگا۔ تو کہتے ہیں: "وَلَا يُمْكِنُهُ تَحَقُّقُ الْبِرِّ إِلَّا أَنْ يُجْعَلَ هَذَا الْقَدْرُ مُسْتَثْنًى"، اور اس شخص کے لیے ممکن نہیں ہے کہ قسم کا پورا کرنا پایا جائے مگر یہ کہ اتنی مقدار کو مستثنیٰ قرار دیا جائے، "وَأَصْلُهُ: مَنْ حَلَفَ لَا يَسْكُنُ هَذِهِ الدَّارَ"، اور اصل اس کی جو ہے جس شخص نے قسم اٹھا لی کہ وہ اس گھر میں رہائش نہیں رکھے گا، "فَاشْتَغَلَ بِالنَّقْلَةِ مِنْ سَاعَتِهِ"، تو وہ اسی گھڑی کے اندر منتقل ہونے میں مشغول ہو گیا، تو اس میں بھی وہ شخص حانث نہیں ہوگا۔ "وَأَخَوَاتُهُ عَلَى مَا يَأْتِيكَ فِي الْأَيْمَانِ"، اور نیز جو اس کے مشابہ مسئلے ہیں، "عَلَى مَا يَأْتِيكَ فِي الْأَيْمَانِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى" بوجہ اس کے جو آپ پر آ جائیں گے کتاب الایمان میں ان شاء اللہ، یہ مسئلہ کہ اس نے جو سامان منتقل کرنا شروع کر دیا، یا اس کے اخوات جو ہیں اس جیسے اور مسئلے جیسے میں نے ذکر کر دیا۔ ایک آدمی نے قسم اٹھائی واللہ میں یہ کپڑے نہیں پہنوں گا اور ساتھ ہی اتارنا شروع کر دیے تو یہ حانث نہیں بھئی، کیونکہ اتنا وقت مستثنیٰ ہے جس میں وہ قسم پوری کر سکے۔ یا ایک شخص سواری پر سوار ہے اور کہتا ہے واللہ میں اس سواری پر سوار نہیں ہوں گا اور ساتھ ہی اس نے اترنا شروع کر دیا، اب اگرچہ کچھ لمحات گزر گئے لیکن اتنا وقت مستثنیٰ ہے دلالتِ حال سے، کیونکہ قسم کھانے والے کی حالت بتلا رہی ہے وہ اس قسم کو پورا کرنا چاہتا ہے، لہٰذا اتنا وقت ملنا چاہیے جس میں وہ قسم کو پورا کر سکے۔ یہاں آپ کے ذہنوں میں ایک اشکال آئے گا کہ اوپر بات کیا تھی: "أَنْتِ طَالِقٌ مَا لَمْ أُطَلِّقْكِ"، تجھے طلاق ہے جس وقت میں تجھے طلاق نہ دوں، تو یہاں تو شرط اور مشروط ہے، اور یہاں ذکر کر رہے ہیں یمین کو، قسم کو، کس کو؟ شرح کے اندر قسم کو ذکر کر رہے ہیں اور متن میں تو قسم ذکر نہیں ہے، وہاں تو خاوند نے کوئی واللہ وغیرہ نہیں کہا، قسم نہیں کھائی، اس نے تو شرط جزا ذکر کی ہے۔ تو اوپر تو شرط کا ذکر ہے اور آپ شرح کے اندر کس کو ذکر کر رہے ہیں؟ یمین کو، کہ قسم سے اتنا وقت مستثنیٰ ہونا چاہیے بھئی۔ متن میں تو "أَنْتِ طَالِقٌ مَا لَمْ أُطَلِّقْكِ"، وہاں تو تعلیق ہو رہی تھی، اور شرح کے اندر صاحبِ ہدایہ یمین ذکر فرما رہے ہیں۔ تو میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ تعلیق کو بھی شرعاً یمین کہتے ہیں۔ تعلیق کو بھی شرعاً یمین کہتے ہیں، اس لیے کیونکہ جب کسی کام کے کرنے کی قسم اٹھاتا ہے معلوم ہو وہ اپنی ذات کو ابھار رہا ہے کہ یہ کام ضرور کرنا پڑے گا۔ مثلاً ایک شخص کہتا ہے: واللہ میں لاہور ضرور جاؤں گا، تو دیکھو یہ قسم کھا کر گویا وہ اپنے نفس کو ابھار رہا ہے کہ اب تو میں نے قسم کھا لی ہے اب تو یہ کام کرنا ہی پڑے گا، تو قسم کے ذریعے کسی کام کے کرنے پر ابھارا جاتا ہے، اور بعض اوقات قسم کے ذریعے کسی کام سے روکنا مقصود ہوتا ہے، مثلاً کوئی شخص کہتا ہے: واللہ میں یہ کام نہیں کروں گا، تو یہ قسم کے ساتھ نفی کر رہا ہے، مقصد یہ ہے اپنے نفس کو روک رہا ہے کہ یہ کام نہیں کرنا، اب تو میں قسم کھا چکا ہوں اب یہ قسم پوری کرنا پڑے گی۔ تو قسم کے ذریعے کسی کام کے کرنے پر ابھارا جاتا ہے یا کسی کام سے روکنے پر ابھارا جاتا ہے، اور تعلیق کے اندر بھی یہی مقصود ہوتا ہے۔ مثلاً ایک شخص اپنی بیوی سے کہتا ہے: "إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ"، اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے، تو دیکھو معلوم ہوا یہ اس کو اس گھر میں جانے سے روکنا چاہتا ہے۔ تو یہ تو تھا ایک کام سے روکنے کے لیے تعلیق کی، اور کبھی کسی کام کے کرنے کے لیے تعلیق کی جاتی ہے، خاوند بیوی سے کہتا ہے: اگر تو اس گھر میں نہ گئی تو تجھے طلاق ہے، تو دیکھو معلوم ہوا اس کے گھر میں جانے پر وہ اس کو ابھار رہا ہے بھئی۔ تو جیسے قسم کسی کام پر ابھارنے کے لیے یا کسی کام سے روکنے کے لیے کھائی جاتی ہے اسی طرح تعلیق بھی کسی کام پر ابھارنے کے لیے یا کسی کام سے روکنے کے لیے کی جاتی ہے، تو اس لیے فقہ کے اندر تعلیق کو بھی یمین کہتے ہیں۔ اور میں نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا اگر مطلق تعلیق ہے جس کے اندر کسی کام کے کرنے پر ابھارنا نہ ہو یا روکنا نہ ہو تو اس کو یمین نہیں کہتے۔ مثلاً ایک شخص اپنی بیوی سے کہتا ہے: "أَنْتِ طَالِقٌ إِذَا جَاءَ الْغَدُ"، جب کل کا دن آ جائے تو تمہیں طلاق ہے، اب دیکھو یہاں کسی کام سے روکنا نہیں۔ اب ہر حال میں اگلے دن طلاق ہوگی، تو نہ کسی کام پر ابھارنا یہاں مقصود ہے اور نہ کسی کام سے روکنا مقصود ہے، تو اس قسم کی تعلیق اس کو یمین نہیں کہتے بھئی۔ تو لہٰذا اس لیے متن میں جو تعلیق تھی اس کو بھی یمین ہی کہیں گے تو صاحبِ ہدایہ نے بھی یمین کو ذکر کیا شرح کے اندر بھئی۔ تو کہتے ہیں: "وَأَصْلُهُ: مَنْ حَلَفَ لَا يَسْكُنُ هَذِهِ الدَّارَ"، اور اصل اس مسئلے کی یعنی اس مسئلے کی نظیر جو ہے وہ شخص جس نے قسم اٹھا لی کہ وہ اس گھر میں نہیں رہے گا، "فَاشْتَغَلَ بِالنَّقْلَةِ مِنْ سَاعَتِهِ"، تو وہ مشغول ہو گیا منتقل ہونے میں اسی گھڑی کے اندر، "وَأَخَوَاتُهُ"، اور اسی طرح جو اس کے مشابہ مسئلے ہیں، یعنی وہ کپڑے پہننے والے نے قسم اٹھائی ہے یا سوار نے قسم اٹھائی ہے، "عَلَى مَا يَأْتِيكَ فِي الْأَيْمَانِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى"، بوجہ اس کے جو آپ کے پاس کتاب الایمان میں ان شاء اللہ تعالیٰ آ جائے گا۔ "وَمَنْ قَالَ لِامْرَأَةٍ: يَوْمَ أَتَزَوَّجُكِ فَأَنْتِ طَالِقٌ فَتَزَوَّجَهَا لَيْلًا طُلِّقَتْ" یہ مسئلہ اچھی طرح سمجھ لو بھئی، یہ ذرا مشکل مسئلہ ہے۔ "وَمَنْ قَالَ لِامْرَأَةٍ"، اور جس شخص نے کسی عورت سے کہا، بیوی نہیں ہے، کسی اور عورت سے ایک شخص کہتا ہے: "يَوْمَ أَتَزَوَّجُكِ فَأَنْتِ طَالِقٌ"، جس دن میں تجھ سے نکاح کروں تو تجھے طلاق ہے۔ "يَوْمَ أَتَزَوَّجُكِ فَأَنْتِ طَالِقٌ"، جس دن میں تجھ سے نکاح کروں تو تجھے طلاق ہے، "فَتَزَوَّجَهَا لَيْلًا" تو رات کو اس نے اس سے نکاح کیا۔ رات کو، تو کہتے ہیں: "طُلِّقَتْ" پھر بھی طلاق ہو جائے گی۔ بھئی اس نے تو یوم کو ذکر کیا تھا: "يَوْمَ أَتَزَوَّجُكِ فَأَنْتِ طَالِقٌ"، لیکن رات کو بھی اگر نکاح کرے گا تو عورت کو طلاق ہو جائے گی۔ وجہ یہ آپ کو بتلائیں گے بھئی، توجہ سے ضابطہ سمجھ لو، کہ یہ جو یوم کا لفظ ہے یہ کبھی دن کے معنیٰ میں ہوتا ہے، دن یعنی صبح سے شام تک، یہ جو یوم ہے کبھی یہ اس دن کے معنیٰ میں ہوتا ہے، یعنی نہار کے معنیٰ میں ہوتا ہے۔ نہار کسے کہتے ہیں عربی میں؟ صبح سے شام تک کا جو وقت ہے، جو روشنی کا وقت ہے، اجالے کا وقت ہے، اس کو نہار کہتے ہیں۔ تو یہ یوم کا لفظ کبھی نہار کے معنیٰ میں ہوگا اور کبھی کبھار یہ یوم کا لفظ مطلق وقت کے معنیٰ میں ہوتا ہے، مطلق وقت، کوئی بھی وقت ہو چاہے وہ دن ہو چاہے رات ہو بھئی۔ تو لہٰذا اب کہاں پر یہ یوم دن کے معنیٰ میں ہوگا اور کہاں یہ یوم مطلق وقت کے معنیٰ میں ہوگا تو ضابطہ یاد رکھنا۔ علماء اس کے لیے ضابطہ بیان فرماتے ہیں کہ کہاں پر یوم جو ہے وہ نہار کے معنیٰ میں ہوگا اور کہاں یوم مطلقِ وقت کے معنیٰ میں ہوگا۔ پہلے فعلِ ممتد اور غیرِ ممتد کو سمجھ لیں۔ یاد رکھو فعلِ ممتد وہ ہے جس کے اندر امتداد ہو، طول ہو، یعنی جس کے لیے کوئی مدت بیان کی جا سکے، اور فعلِ غیرِ ممتد وہ ہے جس میں امتداد اور لمبائی نہ ہو، یعنی جس کے لیے کوئی مدت بیان نہ کی جا سکے۔ بعض فعل ممتد ہوتے ہیں، ان میں طول ہوتا ہے، وہ کچھ مدت کے لیے ہو سکتے ہیں، مثلاً چلنا۔ جیسے آپ کہتے ہیں: "سِرْتُ يَوْمًا"، میں سارا دن چلتا رہا، تو دیکھو چلنے کے اندر امتداد ہے۔ انسان چلتا رہے تو فعل میں امتداد ہے، گھنٹہ چلے، دو گھنٹے چلے، تین گھنٹے چلے، تو اس سیر کے اندر، چلنے کے اندر امتداد ہے، یہ فعلِ ممتد ہے۔ اور اسی طرح روزہ جو ہے یہ بھی فعلِ ممتد ہے، دیکھو روزہ فجرِ صادق سے لے کر غروبِ آفتاب تک ہوتا ہے تو دیکھو اس میں طول ہے، لمبائی ہے بھئی۔ یا اسی طرح سوار ہونا، سوار ہونا یہ بھی فعلِ ممتد ہے، آپ ایک گھنٹے کے لیے سواری کرتے ہیں یا دو گھنٹے کے لیے یا تین گھنٹے کے لیے۔ تو یہ افعال وہ ہیں جن میں امتداد ہے۔ اور کچھ افعال غیرِ ممتد ہوتے ہیں ان میں امتداد یعنی طول اور لمبائی نہیں ہوتی۔ جیسے طلاق دینا، خاوند بیوی کو طلاق دیتا ہے تو طلاق ایک لمحے میں ہو جائے گی، ایسا نہیں ہو سکتا کہ طلاق آرام سے گھنٹے تک واقع ہوتی چلی جائے۔ تو طلاق دینا کیا ہے؟ غیرِ ممتد ہے۔ یا اسی طرح نکاح کرنا، نکاح کرنے میں بھی امتداد اور طول نہیں ہے، جیسے ہی ایجاب اور قبول کریں گے ساتھ ہی نکاح منعقد ہو جائے گا۔ یا اسی طرح بیع کرنا، بیع کرنا یہ بھی ایجاب اور قبول کا نام ہے، جیسے ہی ایجاب اور قبول کریں گے بیع ہو جائے گی، اس کے اندر بھی امتداد نہیں ہے۔ یا جیسے آنا اور جانا، آنے کے اندر بھی امتداد نہیں ہے، جیسے ہی کوئی شخص سامنے آتا ہے ہم کہتے ہیں وہ آ گیا، اور جیسے ہی شخص نظروں سے ہٹتا ہے ہم کہتے ہیں وہ شخص چلا گیا، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو آنا اور جانا ان کے اندر بھی امتداد نہیں ہے۔ تو بعض افعال جو ہیں ان میں امتداد ہے وہ فعلِ ممتد ہیں اور بعض فعل غیرِ ممتد ہیں۔ بات چل رہی تھی کہ یوم کا لفظ کبھی نہار کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، یعنی دن کے اجالے کے لیے استعمال ہوتا ہے، دن ہے صبح سے شام تک اس کو یوم کہتے ہیں، اور بعض اوقات یوم کا لفظ مطلق وقت کے لیے آتا ہے۔ تو کہاں پر یہ مطلق وقت کے لیے ہوگا یہ یوم کا لفظ اور کہاں یہ دن کے لیے یعنی نہار کے لیے ہوگا؟ تو علماء ضابطہ بیان فرماتے ہیں کہ اگر یوم جو ہے اس کے ساتھ فعل ممتد کو ذکر کیا جائے تو پھر یہ یوم نہار کے معنی میں ہوگا۔ علماء کیا ضابطہ ذکر فرماتے ہیں کہ اگر یوم کے ساتھ فعل ممتد کو ذکر کیا جائے تو پھر یہ یوم کس معنی میں ہوگا؟ نہار کے معنی میں، اور اگر یوم کے ساتھ فعل غیر ممتد کو ذکر کیا جائے تو پھر یہ مطلق وقت کے معنی میں ہوگا۔ توجہ ہے؟ اور پھر یہ بھی یاد رکھنا، یہاں ایک فعل وہ ہوگا جس کی طرف یہ یوم مضاف ہوگا، جیسے اس مثال پہ نظر رکھو: ایک شخص ایک عورت سے کہتا ہے: ”يَوْمَ أَتَزَوَّجُكِ فَأَنْتِ طَالِقٌ“ تو دیکھو یہ یوم کی اضافت ہو رہی ہے ”أَتَزَوَّجُكِ“ اس لفظ کی طرف، یعنی تزوج کی طرف اضافت ہو رہی ہے۔ تو یہاں جس لفظ کی طرف یوم کی اضافت ہو رہی ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ اب آپ یہ نہ کہیں یہ تزوج جو ہے نکاح کرنا، یہ تو غیر ممتد ہے، بھئی نکاح کیا جاتا ہے وہ تو ایک لمحے میں ہو جاتا ہے ایجاب و قبول کرتے ہی۔ توجہ ہے؟ تو ایک فعل وہ ہوگا جس کی طرف یوم کی اضافت ہو رہی ہوگی، یعنی یوم مضاف ہوگا اور وہ مضاف الیہ، تو یاد رکھنا یہ مضاف الیہ فعل اس کو آپ نے نہیں دیکھنا، دوسرے فعل کو دیکھنا ہے جس کے لیے یہ یوم ظرف بن رہا ہے، جس کے لیے یہ یوم ظرف بن رہا ہے اس کو آپ نے دیکھنا ہے۔ جیسے یہاں پر دیکھو: ”يَوْمَ أَتَزَوَّجُكِ“ جس دن میں تجھ سے نکاح کروں ”فَأَنْتِ طَالِقٌ“ تو تجھے طلاق ہے۔ یہاں تو ”أَنْتِ طَالِقٌ“ مؤخر ہے، ذرا ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کو مقدم کر دو پھر بات آپ کو سمجھ میں آئے گی۔ خاوند کسی عورت سے کہتا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ يَوْمَ أَتَزَوَّجُكِ“، ”أَنْتِ طَالِقٌ يَوْمَ أَتَزَوَّجُكِ“ اب دیکھو یوم سے پہلے ”أَنْتِ طَالِقٌ“ ذکر ہے، تجھے طلاق ہے، کب طلاق ہے؟ ”يَوْمَ أَتَزَوَّجُكِ“ جس دن میں تجھ سے نکاح کروں، تو یہ یوم ظرف ہے ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کے لیے۔ تجھے طلاق ہے کس وقت؟ ”يَوْمَ أَتَزَوَّجُكِ“ تو یہ یوم ظرف ہے ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کے لیے، اور یہ یوم مضاف ہو رہا ہے ”أَتَزَوَّجُكِ“ کی طرف بھئی۔ تو دو فعل ذکر ہو گئے: ایک وہ فعل ہے جس کے لیے یوم ظرف بن رہا ہے، اور ایک فعل وہ ہے جس کی طرف یوم مضاف ہو رہا ہے۔ تو یاد رکھو جس کی طرف یوم مضاف ہو رہا ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے، بلکہ وہ فعل جس کے لیے یہ یوم ظرف بن رہا ہے اس کا اعتبار ہے، اور وہ کیا ہے یہاں پر؟ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ تجھے طلاق ہے، یعنی طلاق والا فعل ہے یہاں پر۔ کون سا فعل ہے؟ طلاق دینے والا فعل ہے، اور مجھے بتائیے طلاق دینے کا فعل یہ ممتد ہے یا غیر ممتد ہے؟ غیر ممتد ہے، طلاق ایک لمحے میں واقع ہو جاتی ہے، ایسا نہیں ہو سکتا کہ آہستہ آہستہ آہستہ طلاق واقع ہو رہی ہو۔ تو معلوم ہوا ”أَنْتِ طَالِقٌ يَوْمَ أَتَزَوَّجُكِ“ یہاں یہ جو ”أَنْتِ طَالِقٌ“ ہے یہ فعل غیر ممتد ہے، اور فعل غیر ممتد کے ساتھ جب یوم کو ذکر کیا جائے تو یہ مطلق وقت کے معنی میں ہوتا ہے۔ یہ مطلق وقت کے معنی میں، کیونکہ طلاق میں امتداد ہے ہی نہیں، اس میں لمبائی ہے ہی نہیں کہ وہ پورے دن کا احاطہ کر لے۔ وہ پورے دن کا احاطہ، طلاق پورے دن کا احاطہ نہیں کر سکتی، طلاق تو ایک لمحے میں واقع ہو جائے گی بھئی، تو یہاں پر یوم جو ہے وہ دن کے معنی میں نہیں ہے بلکہ مطلق وقت کے معنی میں ہے۔ تو معنی کیا ہوا؟ ”أَنْتِ طَالِقٌ يَوْمَ أَتَزَوَّجُكِ“ تجھے طلاق ہے، ”يَوْمَ أَتَزَوَّجُكِ“ جس وقت میں تجھ سے نکاح کروں۔ یہ یوم کس معنی میں ہوا؟ وقت کے معنی میں۔ توجہ ہے؟ تجھے طلاق ہے جس وقت میں تجھ سے نکاح کروں، لہٰذا رات کو بھی نکاح کرے گا تو طلاق ہو جائے گی کیونکہ یہاں یوم کا کیا معنی تھا؟ وقت کا۔ توجہ ہے؟ اور اگر فعل ممتد ہو، اگر فعل ممتد ہو جس کے ساتھ یوم کو ذکر کیا گیا ہے تو پھر اس صورت میں یہ یوم سے مراد نہار ہوگا۔ یہ یوم سے کیا مراد ہوگا؟ نہار مراد ہوگا، مثلاً ایک شخص کہتا ہے: ”أَصُومُ يَوْمَ يَقْدَمُ فُلَانٌ“، ”أَصُومُ“ میں روزہ رکھوں گا ”يَوْمَ يَقْدَمُ فُلَانٌ“ جس دن فلاں آئے گا۔ یہاں اب دو فعل ذکر ہیں: ”أَصُومُ“ میں روزہ رکھوں گا ”يَوْمَ يَقْدَمُ فُلَانٌ“، یوم آ رہا ہے اور یوم کی اضافت ہو رہی ہے آگے ”يَقْدَمُ“ کی طرف، تو ”يَقْدَمُ“ کیا ہے؟ مضاف الیہ ہے، توجہ ہے؟ اور میں نے بتایا جو مضاف الیہ ہے اس کو آپ نے نہیں دیکھنا، جس کی طرف یوم مضاف ہو رہا ہے اس کا اعتبار نہیں ہے، بلکہ جس کے لیے یوم ظرف بن رہا ہے اس کا اعتبار ہے، اور یوم کس کے لیے ظرف بن رہا ہے؟ ”أَصُومُ“ میں روزہ رکھوں گا ”يَوْمَ يَقْدَمُ فُلَانٌ“ جس دن وہ آئے گا، تو یہ یوم کس کے لیے ظرف ہے؟ ”أَصُومُ“ کے لیے۔ تو اس ”أَصُومُ“ کا اعتبار ہے، اور روزہ رکھنا یہ تو فعل ممتد ہے۔ یہ فعل ممتد ہے، جبکہ قدوم جو آنا ہے ”يَوْمَ يَقْدَمُ فُلَانٌ“ جس دن فلاں آئے گا، آنا اس میں تو امتداد نہیں ہے، اس میں تو امتداد نہیں ہے، جیسے ہی زید دروازے کے اندر داخل ہوا آپ کہیں گے زید آ گیا، تو آنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کوئی چلتا ہوا آ رہا ہے تو وہ تو چلنا ہے، آنا تو اس کو کہتے ہیں جیسے ہی کوئی شخص سامنے آتا ہے آپ کہتے ہیں یہ آ گیا، توجہ ہے؟ تو لہٰذا قدوم یعنی آنا اس میں تو امتداد نہیں، لیکن روزہ رکھنا اس میں تو کیا ہے؟ امتداد۔ تو ”أَصُومُ يَوْمَ يَقْدَمُ فُلَانٌ“ تو یہ یوم ظرف ہے کس کے لیے؟ ”أَصُومُ“ کے لیے، اور یہ یوم مضاف ہے کس کی طرف؟ ”يَقْدَمُ“ کی طرف، اور ”يَقْدَمُ“ یہ تو فعل غیر ممتد ہے لیکن اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے میں نے بتایا، مضاف الیہ کا کوئی اعتبار نہیں، دوسرے فعل کو دیکھنا ہے، اور ”أَصُومُ“ میں روزہ رکھوں گا، روزہ رکھنا اس میں تو امتداد ہے، روزہ تو صبح سے لے کر شام تک ہوتا ہے، لہٰذا یہاں یہ یوم کا لفظ دن کے معنی میں ہے، نہار کے معنی میں ہے: ”أَصُومُ“ میں روزہ رکھوں گا ”يَوْمَ يَقْدَمُ فُلَانٌ“ جس دن فلاں آئے گا، یہاں یوم دن کے معنی میں ہے وقت کے معنی میں نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ کیا ضابطہ ہوا؟ کہ یوم کبھی نہار کے معنی میں آئے گا اور کبھی مطلق وقت کے معنی میں۔ نہار کے معنی میں کب ہوگا؟ جب فعل ممتد کے ساتھ یہ ذکر ہو، یعنی فعل ممتد کے لیے یہ ظرف بنے، اور یہ وقت کے معنی میں ہوگا جب یہ فعل غیر ممتد کے لیے ظرف بنے بھئی۔ دیکھیے بھئی: ”وَمَنْ قَالَ لِامْرَأَةٍ“ اور جس شخص نے کسی عورت سے کہا: ”يَوْمَ أَتَزَوَّجُكِ فَأَنْتِ طَالِقٌ“ جس دن میں تجھ سے نکاح کروں تو تجھے طلاق ہے، ”فَتَزَوَّجَهَا لَيْلًا“ تو اس نے اس سے رات میں نکاح کیا، ”طُلِّقَتْ“ تو عورت کو طلاق ہو جائے گی، ”لِأَنَّ الْيَوْمَ يُذْكَرُ وَيُرَادُ بِهِ بَيَاضُ النَّهَارِ“ اس لیے کیونکہ یوم کے لفظ کو ذکر کیا جاتا ہے اور اس کے ذریعے ارادہ کیا جاتا ہے بیاض النہار، دن کی روشنی کا، دن کی سفیدی کا، یعنی دن کے اجالے کا ارادہ کیا جاتا ہے، ”فَيُحْمَلُ عَلَيْهِ إِذَا قُرِنَ بِفِعْلٍ يَمْتَدُّ“ لہٰذا اس یوم کو اس نہار کے معنی پر محمول کریں گے ”إِذَا قُرِنَ بِفِعْلٍ يَمْتَدُّ“ جب اس یوم کے لفظ کو ملایا جائے فعل ممتد کے ساتھ، ”كَالصَّوْمِ وَالْأَمْرِ بِالْيَدِ“ جیسے کہ روزہ ہے ”وَالْأَمْرِ بِالْيَدِ“ اور معاملہ ہاتھ میں ہونا، خاوند بیوی سے کہتا ہے: ”أَمْرُكِ بِيَدِكِ“ تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے، تو خاوند نے بیوی کو اختیار دے دیا جدائی کا، خاوند نے بیوی کو جدائی کا اختیار دے دیا، تو دیکھو بیوی کو اختیار دینا اس میں امتداد ہے، ایک گھنٹے کے لیے بھی دے سکتا ہے، دو گھنٹے کے لیے بھی یہ اختیار دے سکتا ہے اور ساری عمر کے لیے بھی یہ اختیار دے سکتا ہے، تو روزہ وہ بھی فعل ممتد اور اختیار کا اپنے ہاتھ میں ہونا یہ بھی کیا ہے؟ فعل ممتد ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَيُحْمَلُ عَلَيْهِ إِذَا قُرِنَ بِفِعْلٍ يَمْتَدُّ“ لہٰذا یہ یوم کا لفظ جو ہے اس نہار کے معنی پر محمول کیا جائے گا ”إِذَا قُرِنَ بِفِعْلٍ يَمْتَدُّ“ جب اس یوم کے لفظ کو ملایا جائے فعل ممتد کے ساتھ، ”كَالصَّوْمِ“ جیسے کہ روزہ ہے، یہ بھی فعل ممتد ہے، ”وَالْأَمْرِ بِالْيَدِ“ اور معاملہ اپنے ہاتھ میں ہونا، یہ بھی فعل ممتد ہے، ”لِأَنَّهُ يُرَادُ بِهِ الْمِعْيَارُ“ اس لیے کیونکہ اس کے ذریعے معیار کا ارادہ کیا جاتا ہے۔ کس کا؟ معیار بھئی، معیار۔ معیار اس ظرف کو کہتے ہیں کہ مظروف اس کا احاطہ کر لے، کوئی زائد وقت نہ بچے، جیسے روزہ صبح صادق سے لے کر شام تک یہ سارے نہار کو گھیر لیتا ہے، نہار کا ایک جزء بھی روزے سے خالی نہ بچا بھئی، تو یہ نہار کو کیا کہیں گے؟ یہ معیار ہے روزے کے لیے، یہ روزے کے لیے یعنی یہ اس کا پیمانہ ہے، پیمانہ ہے، معیار کا معنی پیمانہ، یہ اس کا پیمانہ ہے۔ تو معیار وہ ظرف کہ مظروف اس کو پورا گھیر لے اور اس میں سے کوئی وقت زائد نہ بچے بھئی۔ تو لہٰذا جب فعل ممتد کو ذکر کیا جا رہا ہے، توجہ ہے؟ تو فعل ممتد تو وہ ہے جس کے اندر امتداد ہے، طول ہے، تو جب اس کے ساتھ یوم کو ذکر کیا جا رہا ہے معلوم ہوا یوم کو اس کے لیے معیار بنایا جا رہا ہے کہ سارے یوم کے اندر یہ فعل ہوگا۔ اس سارے یوم میں یہ فعل ہوگا تو یوم کو اس کے لیے معیار بنایا جا رہا ہے، لہٰذا یوم سے نہار مراد لیں گے، مطلق وقت مراد نہیں لیں گے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ يُرَادُ بِهِ الْمِعْيَارُ“ اس لیے کیونکہ اس کے ذریعے اس کے معیار کا ارادہ کیا جائے گا کہ یہ یوم کیا ہے؟ یہ معیار ہے، ”وَهَذَا أَلْيَقُ بِهِ“ اور یہ والا معنی جو ہے یہ زیادہ لائق ہے فعل ممتد کے کہ اس کے ساتھ یوم کا نہار والا معنی کیا جائے۔ ”وَيُرَادُ بِهِ مُطْلَقُ الْوَقْتِ“ اور نیز یوم کا لفظ ذکر کیا جاتا ہے اور اس کے ذریعے مطلق وقت کا ارادہ کیا جاتا ہے، ”قَالَ اللهُ تَعَالَى:“ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں: ”﴿وَمَنْ يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍ دُبُرَهُ﴾“ ”وَمَنْ يُوَلِّهِمْ“ اور جو کوئی ان سے پھیرے گا ”يَوْمَئِذٍ“ اس دن ”دُبُرَهُ“ اپنی پشت، اور جو کوئی اس دن ان مشرکین سے اپنی پشت پھیرے گا، یاد رکھو یہ غزوۂ بدر کے موقع پر اللہ نے، غزوۂ بدر چونکہ اسلام اور مشرکین کے درمیان پہلا معرکہ تھا اور مسلمان بالکل بے سر و سامان تھے، اور کفار پوری طرح اسلحے سے لیس ہو کر آئے تھے اور مسلمانوں سے کئی گنا زیادہ ان کی تعداد تھی، تو اس موقع پر اللہ فرماتے ہیں: ”﴿وَمَنْ يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍ دُبُرَهُ﴾“ اور جو شخص اس دن ان مشرکوں سے اپنی پشت پھیر لے گا، ”﴿إِلَّا مُتَحَرِّفًا لِقِتَالٍ أَوْ مُتَحَيِّزًا إِلَى فِئَةٍ﴾“، ”إِلَّا مُتَحَرِّفًا لِقِتَالٍ“ تحرف کا معنی ہے پلٹنا، ”إِلَّا مُتَحَرِّفًا لِقِتَالٍ“ مگر یہ کہ لڑائی کے لیے وہ پلٹتا ہے، لڑائی کے لیے وہ پلٹتا ہے یعنی کوئی جنگی چال چلتا ہے، ”﴿أَوْ مُتَحَيِّزًا إِلَى فِئَةٍ﴾“ یا وہ کسی جماعت کی طرف مائل ہوتا ہے، تو ان دو کا استثناء کر دیا، باقی جو بھی اس دن پشت پھیرے گا ”﴿فَقَدْ بَاءَ بِغَضَبٍ مِنَ اللهِ﴾“ تو تحقیق وہ، باء کا معنی لوٹنا، تو وہ اللہ کے غضب کے ساتھ لوٹے گا، ”﴿وَمَأْوَاهُ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ﴾“ اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہوگا، اور جہنم بڑا ہی برا ٹھکانہ ہے۔ تو دیکھو یہ غزوۂ بدر کے موقع پر سخت حکم نازل ہوا اللہ کی طرف سے کہ چونکہ مسلمان اور مشرکین کے درمیان پہلا معرکہ تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے مومنوں پر سخت حکم نازل فرمایا تاکہ یہ خوب جم کر لڑیں اور مشرکین کی جڑ کاٹ دیں بھئی۔ تو یہاں پر دیکھو پشت پھیرنے والے کے لیے اللہ تعالیٰ اپنے غضب کا اعلان فرما رہے ہیں اور جہنم کا اعلان فرما رہے ہیں۔ ہاں دو قسم کے لوگوں کا استثناء کر دیا، پشت پھیرنے سے دو قسم کے لوگوں کا استثناء کر دیا: ایک وہ شخص جو پشت پھیرتا ہے کسی جنگی چال کے طور پر، پیچھے پلٹا تھوڑا سا پیچھے گیا اور پھر اس نے پلٹ کر دوبارہ حملہ کیا، تو اگر اس نیت سے کوئی پشت پھیرتا ہے اس کو اجازت ہے وہ کر سکتا ہے، یا کوئی اس لیے پشت پھیرتا ہے کہ پیچھے جا کر اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر پھر دوبارہ لوٹ کر حملہ کرے گا، تو ان دو کا استثناء ہے، اس کے علاوہ اگر کوئی بھی پشت پھیرے گا تو اس کے لیے اللہ نے اپنے غضب کا اور جہنم کا اعلان فرمایا بھئی۔ تو یہ چونکہ یہ پہلا معرکہ تھا اس لیے اس میں خاص طور پر یہ سخت حکم اللہ نے نازل فرمایا بھئی۔ ہاں بعد میں پھر نرمی کر دی گئی اس کے اندر، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو بہرحال بات چل رہی تھی: ”﴿وَمَنْ يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍ دُبُرَهُ﴾“ اور جو ان مشرکین سے اپنی پشت پھیرے گا اس دن، یہاں دیکھو ”يَوْمَ“ کا لفظ آیا، یوم، اور پیچھے کیا ذکر ہے؟ پشت پھیرنا، اور پشت پھیرنا یہ تو فعل ممتد نہیں ہے، پشت پھیرنا تو ایک لمحے کا کام ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ لہٰذا اس میں امتداد نہیں، اور فعل غیر ممتد کے ساتھ جب یوم کو ذکر کیا جائے تو وہ مطلق وقت کے معنی میں ہوتا ہے۔ تو اب آیت کا معنی یہ ہوا: ”﴿وَمَنْ يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍ دُبُرَهُ﴾“ اور جو کوئی پشت پھیرے گا ان مشرکین سے ”يَوْمَئِذٍ“ اس دن یعنی اس وقت، تو یہاں یوم کس معنی میں ہے؟ وقت کے معنی میں ہے، یعنی نہ دن کو پشت پھیرنا جائز ہے اور نہ رات کو پشت پھیرنا جائز ہے، سب کا ایک ہی حکم ہے۔ تو یہاں یوم کس معنی میں ہے؟ یہاں یوم مطلق وقت کے معنی میں ہے، اس لیے کیونکہ اس کے ساتھ جو فعل ذکر ہوا ہے پشت پھیرنا اس میں امتداد نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”قَالَ اللهُ تَعَالَى: ﴿وَمَنْ يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍ دُبُرَهُ﴾ وَالْمُرَادُ بِهِ مُطْلَقُ الْوَقْتِ“ اور اس سے مراد مطلق وقت ہے، ”فَيُحْمَلُ عَلَيْهِ إِذَا قُرِنَ بِفِعْلٍ لَا يَمْتَدُّ“ تو لہٰذا اس مطلق وقت کے معنی پر اس یوم کے لفظ کو محمول کیا جائے گا ”إِذَا قُرِنَ بِفِعْلٍ لَا يَمْتَدُّ“ جب اس کو یوم کے لفظ کو ملایا جائے ایسے فعل کے ساتھ جو غیر ممتد ہو، ”وَالطَّلَاقُ مِنْ هَذَا الْقَبِيلِ“ اور طلاق بھی اسی قبیل سے ہے یعنی اس میں بھی امتداد نہیں ہے، ”فَيَنْتَظِمُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ“ تو یہ رات اور دن دونوں کو شامل ہوگی۔ وہ جو خاوند نے کہا تھا: ”يَوْمَ أَتَزَوَّجُكِ فَأَنْتِ طَالِقٌ“ تو یہاں پر طلاق کو ذکر کر رہا ہے اور طلاق غیر ممتد ہے، اور جب غیر ممتد ہے تو یوم مطلق وقت کے معنی میں ہوگا۔ تو لہٰذا جس وقت وہ شادی کرے گا چاہے دن ہو یا رات، طلاق واقع ہو جائے گی، کیونکہ یہ مطلق وقت کے معنی میں ہے، دن کو بھی شامل ہے اور رات کو بھی شامل ہے۔ یہ معنی ہے: ”وَالطَّلَاقُ مِنْ هَذَا الْقَبِيلِ“ اور طلاق بھی اسی قبیل سے ہے یعنی وہ بھی فعل غیر ممتد ہے، ”فَيَنْتَظِمُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ“ تو لہٰذا یہ جو یوم کا لفظ آیا ہے یہ لیل اور نہار دونوں کو شامل ہوگا یعنی یہ مطلق وقت کے معنی میں ہوگا۔ ”وَلَوْ قَالَ عَنَيْتُ بِهِ بَيَاضَ النَّهَارِ خَاصَّةً“ اور اگر خاوند نے کہا کہ میں نے تو خاص طور پر دن کی سفیدی کا ارادہ کیا تھا، خاوند کیا کہتا ہے؟ میں نے تو دن کی سفیدی یعنی دن کے اجالے کا ارادہ کیا تھا، تو پھر قضاءً بھی اس کی تصدیق کی جائے گی، قضاءً بھی کیونکہ وہ اپنے کلام کے حقیقی معنی کا ارادہ کر رہا ہے، یوم کا لفظ نہار کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے جیسے ابھی ذکر ہوا۔ ”وَلَوْ قَالَ عَنَيْتُ بِهِ بَيَاضَ النَّهَارِ“ اور اگر خاوند کہتا ہے کہ اس کے ذریعے میں نے دن کی روشنی کا ارادہ کیا تھا ”خَاصَّةً“ خاص طور پر، ”دُيِّنَ فِي الْقَضَاءِ“ تو خاوند کی تصدیق کی جائے گی قضاء کے اندر بھی، ”لِأَنَّهُ نَوَى حَقِيقَةَ كَلَامِهِ“ اس لیے کیونکہ اس نے اپنے حقیقتِ کلام کا ارادہ کیا، اپنے کلام کی حقیقت کا ارادہ کیا یعنی حقیقی معنی ہی کا ارادہ کیا ہے، یوم کا لفظ دن کے اجالے پر بولا جاتا ہے اور اس نے بھی اسی کی نیت کی ہے بھئی۔ ”وَاللَّيْلُ لَا يَتَنَاوَلُ إِلَّا السَّوَادَ“ اور رات جو ہے یہ شامل نہیں ہوتی مگر سیاہی کو، ”وَالنَّهَارُ لَا يَتَنَاوَلُ إِلَّا الْبَيَاضَ خَاصَّةً“ اور دن شامل نہیں ہوتا مگر خاص طور پر سفیدی کو، صرف روشنی کے وقت کو نہار کہتے ہیں اور اندھیرے کے وقت کو کیا کہتے ہیں؟ لیل کہتے ہیں۔ تو یہ معنی بیان کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ لیل اور نہار کا، تو کہتے ہیں: ”وَاللَّيْلُ لَا يَتَنَاوَلُ إِلَّا السَّوَادَ“ اور رات جو ہے وہ شامل نہیں ہے مگر صرف سیاہی کو، ”وَالنَّهَارُ لَا يَتَنَاوَلُ إِلَّا الْبَيَاضَ خَاصَّةً“ اور نہار جو ہے وہ شامل نہیں ہے مگر سفیدی کو ہی خاصۃً خاص طور پر، ”وَهُوَ اللُّغَةُ“ اور یہی لغت ہے یعنی یہی عربی زبان ہے، یعنی عربی زبان میں ایسا ہی ہے۔ یوم کا لفظ وہ نہار کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور مطلق وقت کے لیے بھی، لیکن لیل وہ خاص طور پر تاریکی کے لیے بولتے ہیں اور نہار جو ہے وہ اجالے کے لیے بولتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ آگے دیکھیے بھئی: ”فَصْلٌ: وَمَنْ قَالَ لِامْرَأَتِهِ أَنَا مِنْكِ طَالِقٌ فَلَيْسَ بِشَيْءٍ وَإِنْ نَوَى طَلَاقًا“ صورتِ مسئلہ یہ ہے، ویسے تو عام طور پر خاوند بیوی سے کہتا ہے: تجھے طلاق ہے، ”أَنْتِ طَالِقٌ“ لیکن اگر کوئی خاوند برعکس یوں کہتا ہے: تیری طرف سے مجھے طلاق ہے، خاوند کہہ رہا ہے، کیا کہہ رہا ہے بیوی کو؟ تیری طرف سے مجھے طلاق ہے، یعنی اپنے آپ کو طلاق سے موصوف کر رہا ہے، اور نیت بھی طلاق کی کرتا ہے تو کیا اس سے طلاق واقع ہو جائے گی؟ تو عند الاحناف اس سے طلاق واقع نہیں ہوگی بھئی، طلاق کے ساتھ عورت موصوف ہوتی ہے طلاق کے ساتھ خاوند موصوف نہیں ہوتا۔ لیکن اس کے بجائے اگر خاوند یوں کہتا ہے کہ میں تجھ سے جدا ہوں، ویسے تو خاوند یوں کہتا ہے عموماً: تو مجھ سے جدا ہے، لیکن بعض اوقات جدائی کی نسبت خاوند اپنی طرف کرتا ہے: میں تجھ سے جدا ہوں، تو کہتے ہیں اس صورت میں جدائی آ جائے گی، طلاق واقع ہو جائے گی۔ یا اسی طرح حرام کا لفظ بولتا ہے خاوند، ویسے تو عام طور پر خاوند یوں کہے گا: تو مجھ پر حرام ہے، لیکن اگر خاوند یوں کہتا ہے کہ میں تجھ پر حرام ہوں، اپنی طرف حرام ہونے کی نسبت کرتا ہے، تو کہتے ہیں اس صورت میں بھی طلاق واقع ہو جائے گی۔ طلاق کو اپنی صفت بنائے پھر تو طلاق نہیں ہوگی لیکن جدائی اور تحریم کے اندر جدائی آ جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ قَالَ لِامْرَأَتِهِ“ اور جس شخص نے اپنی بیوی سے کہا: ”أَنَا مِنْكِ طَالِقٌ“ کہ میں تیری طرف سے طلاق والا ہوں یعنی تیری طرف سے مجھے طلاق ہے، ”فَلَيْسَ بِشَيْءٍ“ تو یہ کچھ بھی نہیں ہے یعنی اس سے کچھ نہیں ہوگا، ”وَإِنْ نَوَى طَلَاقًا“ اگرچہ خاوند طلاق کی بھی نیت کر لے پھر بھی کچھ نہیں ہوگا، ”وَلَوْ قَالَ أَنَا مِنْكِ بَائِنٌ“ اور اگر خاوند نے یہ کہا کہ میں تیری طرف سے بائن ہوں، جدا ہوں، ”أَوْ عَلَيْكِ حَرَامٌ“ یا خاوند نے یہ کہا کہ ”أَنَا عَلَيْكِ حَرَامٌ“ کہ میں تجھ پر حرام ہوں، ”يَنْوِي الطَّلَاقَ“ اور خاوند اس کے ذریعے طلاق کی نیت کرتا ہے، خاوند کیا کرتا ہے اس کے ذریعے؟ طلاق کی نیت کرتا ہے، کیونکہ ”بَائِنٌ“ یہ کنایہ ہے اور کنایہ کے لیے کیا ضروری ہے؟ نیت کا ہونا ضروری ہے، یا حرام بھئی یہ بھی کیا ہے؟ کنایہ ہے اور اس کے لیے بھی نیت چاہیے۔ تو کہتے ہیں: ”يَنْوِي الطَّلَاقَ“ اس کے ذریعے خاوند طلاق کی نیت کرتا ہے، ”فَهِيَ طَالِقٌ“ تو اس صورت میں وہ عورت طلاق والی ہو جائے گی۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ يَقَعُ الطَّلَاقُ فِي الْوَجْهِ الْأَوَّلِ أَيْضًا إِذَا نَوَى“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”يَقَعُ الطَّلَاقُ فِي الْوَجْهِ الْأَوَّلِ أَيْضًا“ کہ پہلی صورت میں بھی طلاق واقع ہو جائے گی ”إِذَا نَوَى“ جب خاوند نے نیت کی۔ پہلی صورت میں بھی طلاق واقع ہو جائے گی، خاوند نے کہا: ”أَنَا مِنْكِ طَالِقٌ“ کہ تیری طرف سے مجھے طلاق ہے، اور اس میں خاوند کہتے ہیں طلاق کی نیت کرے گا تو طلاق واقع ہو جائے گی۔ کس کا مذہب چل رہا ہے؟ امام شافعی رحمہ اللہ کا، وہ فرماتے ہیں۔ اور کہا ”إِذَا نَوَى“ جب وہ نیت کرے گا، بھئی یہ تو صریح ہے صریح میں تو نیت کی ضرورت نہیں ہوتی، تو جواب یہ ہے چونکہ یہ غیر متعارف ہے، لوگوں میں اس طرح کہنا رائج نہیں ہے لہٰذا اس لیے یہاں نیت بھی کرنا ضروری ہے۔ صریح تو اسے کہتے ہیں نا جس کا معنی ظاہر ہوتا ہے، لیکن یہاں تو لوگ اس طرح استعمال ہی نہیں کرتے لہٰذا یہاں نیت ضروری ہوگی بھئی۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”يَقَعُ الطَّلَاقُ فِي الْوَجْهِ الْأَوَّلِ أَيْضًا“ کہ پہلی صورت میں بھی طلاق واقع ہو جائے گی ”إِذَا نَوَى“ جب خاوند نیت کرے، ”لِأَنَّ مِلْكَ النِّكَاحِ مُشْتَرَكٌ بَيْنَ الزَّوْجَيْنِ“ اس لیے کیونکہ ملکِ نکاح جو ہے وہ مشترک ہے دونوں میاں بیوی میں، دونوں میاں بیوی میں مشترک ہے۔ یاد رکھو آپ کو بتلائیں گے، ہمارے نزدیک ملکِ نکاح خاوند کو حاصل ہے، ملکِ نکاح خاوند کو حاصل ہے اور بیوی مملوکہ کے درجے میں ہے، بیوی مملوکہ کے درجے میں ہے، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ ملکِ نکاح میاں بیوی دونوں کو حاصل ہے، خاوند کو بھی ملکِ نکاح حاصل ہے بیوی پر اور بیوی کو بھی خاوند پر ملکِ نکاح حاصل ہے۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں کیا آپ دیکھتے نہیں کہ اگر کوئی خاوند جو ہے بیوی سے صحبت نہیں کرتا، ایک شخص نے مثلاً اس کی ایک بیوی تھی اب اس نے دوسرا نکاح کر لیا، اب پہلی کو اس نے بالکل ہی معلق چھوڑ دیا ہے، اس کے پاس جاتا ہی نہیں ہے اس سے صحبت ہی نہیں کرتا، تو بیوی کو شریعت نے حق دیا ہے وہ قاضی کے پاس جا کر وطی کا مطالبہ کر سکتی ہے کہ میرے خاوند کو حکم دیا جائے وہ میرے ساتھ صحبت نہیں کرتا۔ توجہ ہے؟ تو دیکھو عورت قاضی کے پاس جا کر وطی کا مطالبہ کر سکتی ہے۔ اسی طرح خاوند بھی قاضی کے پاس جا کر تمکین کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ یاد رکھو وطی کرنا یہ خاوند کا فعل ہے، وطی کرنا خاوند کا فعل ہے، اور قدرت دینا یہ عورت کا فعل ہے، عورت خاوند کو وطی پر قدرت دیتی ہے اور اس کو کہتے ہیں تمکین بھئی، مَکَّنَ یُمَکِّنُ تمکین کا کیا معنی؟ قدرت دینا۔ تو عورت جو ہے اس کو شریعت نے حق دیا ہے اگر خاوند اس کے ساتھ صحبت نہیں کرتا اس کو ویسے ہی چھوڑ دیا ہے تو وہ قاضی کے پاس جا کر مطالبہ بالوطی کر سکتی ہے، وطی کا مطالبہ کر سکتی ہے۔ اور اگر اس کے برعکس معاملہ ہوا، ایک خاوند ہے اس کی بیوی اس کو صحبت ہی نہیں کرنے دیتی تو پھر خاوند قاضی کے پاس جا کر مطالبۂ تمکین کر سکتا ہے کہ قاضی صاحب، میری اس بیوی کو حکم دیں کہ یہ مجھے اپنے اوپر قدرت دے مجھے صحبت کرنے دے، یہ میری بیوی ہے میں نے اس کو گھر دیا ہے، میں اس کو کپڑے دیتا ہوں اور میں اس کو نفقہ دیتا ہوں تو لہٰذا اس کو حکم دیں۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ جیسے بیوی وطی کے مطالبے کی مالک ہے اسی طرح خاوند بھی تمکین کے مطالبے کا مالک ہے، تو دونوں مالک ہیں، ملکِ نکاح عورت کو بھی حاصل ہے وہ وطی کے مطالبے کی مالک ہے وہ وطی کا مطالبہ کر سکتی ہے، اور نیز ملکِ نکاح خاوند کو بھی حاصل ہے وہ تمکین کے مطالبے کا مالک ہے وہ تمکین کا مطالبہ کر سکتا ہے بھئی۔ تو معلوم ہوا ملکِ نکاح دونوں میں مشترک ہے۔ ہمارے نزدیک تو ملکِ نکاح صرف خاوند کو حاصل ہے، خاوند مالک کے درجے میں ہے بیوی کس کے درجے میں؟ مملوکہ کے درجے میں، لیکن ان کے نزدیک ملکِ نکاح دونوں میں مشترک ہے دونوں کو حاصل ہے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ مِلْكَ النِّكَاحِ مُشْتَرَكٌ بَيْنَ الزَّوْجَيْنِ“ اس لیے کیونکہ ملکِ نکاح جو ہے وہ دونوں میاں بیوی کے درمیان مشترک ہے، ”حَتَّى مَلَكَتْ الْمُطَالَبَةَ بِالْوَطْءِ“ یہاں تک کہ عورت جو ہے وطی کے مطالبے کی مالک ہوتی ہے ”كَمَا يَمْلِكُ هُوَ الْمُطَالَبَةَ بِالتَّمْكِينِ“ جیسے کہ خاوند جو ہے وہ تمکین کے مطالبے کا مالک ہوتا ہے، ”وَكَذَا الْحِلُّ مُشْتَرَكٌ بَيْنَهُمَا“ اور اسی طرح حلال ہونا بھی دونوں میں مشترک ہے۔ توجہ ہے؟ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ملکِ نکاح بھی دونوں میں مشترک ہے اور نیز حلت بھی دونوں میں مشترک ہے، خاوند کے لیے بیوی حلال ہے تو بیوی کے لیے خاوند حلال ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا الْحِلُّ مُشْتَرَكٌ بَيْنَهُمَا“ اور اسی طرح حلال ہونا بھی دونوں کے درمیان مشترک ہے، ”وَالطَّلَاقُ وُضِعَ لِإِزَالَتِهِمَا“ اور طلاق کو وضع کیا گیا ہے ان دونوں کو زائل کرنے کے لیے۔ طلاق کس لیے وضع ہے؟ کس لیے مقرر کی گئی ہے؟ اس ملکِ نکاح اور حلت کو ختم کرنے کے لیے۔ طلاق کس لیے وضع ہے؟ توجہ ہے؟ ملکِ نکاح میاں بیوی دونوں کو حاصل، اسی طرح دونوں ایک دوسرے کے لیے حلال بھی ہیں، تو یہ جو طلاق ہے اس کو ان دونوں کے ازالے کے لیے وضع کیا گیا ہے، یعنی طلاق کی وجہ سے دونوں کی ملکِ نکاح بھی ختم ہوگی اور دونوں کی ایک دوسرے کے لیے حلت بھی ختم ہوگی۔ تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا الْحِلُّ مُشْتَرَكٌ بَيْنَهُمَا وَالطَّلَاقُ وُضِعَ لِإِزَالَتِهِمَا“ اور اسی طرح حلال ہونا بھی دونوں کے درمیان مشترک ہے اور طلاق جو ہے اس کو وضع کیا گیا ہے ان دونوں کے ازالے کے لیے یعنی ان دونوں کو زائل کرنے کے لیے، ”فَيَصِحُّ مُضَافًا إِلَيْهِ كَمَا يَصِحُّ مُضَافًا إِلَيْهَا“ لہٰذا طلاق صحیح ہوگی ”مُضَافًا إِلَيْهِ“ اس حال میں کہ اس کی نسبت کی جائے مرد کی طرف ”كَمَا يَصِحُّ مُضَافًا إِلَيْهَا“ جیسے کہ عورت کی طرف طلاق کی اضافت صحیح ہے۔ توجہ ہے؟ بھئی طلاق جو ہے وہ ازالے کے لیے ہے، اور کس چیز کا ازالہ کرتی ہے؟ ملکِ نکاح کا اور حلت کا، اور ملکِ نکاح بھی دونوں کے درمیان مشترک میاں بیوی میں، اور حلت بھی دونوں میں مشترک ہے، تو جب یہ دونوں چیزیں دونوں میں مشترک ہیں تو طلاق اسی کو ختم کرنے کے لیے آتی ہے، لہٰذا طلاق کی نسبت خاوند کی طرف بھی کی جائے تو بھی صحیح، بیوی کی طرف کی جائے تو بھی صحیح، کیونکہ دونوں کے لیے ملکِ نکاح بھی تھی اور حلت بھی تھی۔ بیوی کی طرف طلاق کی نسبت کرتا ہے تو اس سے بھی ملکِ نکاح اور حلت ختم ہوگی اس کی، اور خاوند اپنی طرف نسبت کرتا ہے تو اس صورت میں بیوی کی ملکِ نکاح اور حلت کیا ہو جائے گی؟ ختم ہو جائے گی، تو دونوں نسبتیں صحیح ہیں، بیوی کی طرف بھی طلاق کی نسبت صحیح اور خاوند کی طرف بھی طلاق کی نسبت صحیح ہے۔ تو کہتے ہیں: ”فَيَصِحُّ مُضَافًا إِلَيْهِ كَمَا يَصِحُّ مُضَافًا إِلَيْهَا“ تو طلاق صحیح ہے اس حال میں کہ اس کی اضافت کی جائے خاوند کی طرف ”كَمَا يَصِحُّ مُضَافًا إِلَيْهَا“ جیسے کہ طلاق صحیح ہے اس حال میں کہ اس کی اضافت کی جائے بیوی کی طرف، ”كَمَا فِي الْإِبَانَةِ وَالتَّحْرِيمِ“ جیسے جدائی اور تحریم کے اندر ہے۔ جدائی اور تحریم میں تو آپ نے بھی بتلا دیا جیسے متن میں آپ نے ہمیں بتایا: ابانت یعنی جدائی کی نسبت خاوند چاہے بیوی کی طرف کرے چاہے اپنی طرف کرے دونوں صورتوں میں جدائی آ جاتی ہے، خاوند بیوی سے کہتا ہے تو مجھ سے جدا ہے یا خاوند بیوی کو کہتا ہے میں تجھ سے جدا ہوں دونوں صورتوں میں جدائی آ جائے گی، یا اسی طرح تحریم کی نسبت خاوند کرتا ہے چاہے بیوی کی طرف کرے چاہے اپنی طرف کرے دونوں صورتوں میں جدائی آ جاتی ہے، مثلاً خاوند بیوی سے کہتا ہے کہ تو مجھ پر حرام ہے تب بھی جدائی آ جائے گی، اور یا خاوند بیوی سے کہتا ہے میں تجھ پر حرام ہوں تب بھی جدائی آ جائے گی۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جیسے ابانت اور تحریم کی نسبت دونوں کی طرف ہو سکتی ہے اسی طرح طلاق کی نسبت بھی میاں اور بیوی دونوں کی طرف صحیح ہے اور اس سے طلاق واقع ہو جائے گی۔ آگے دیکھیے: ”وَلَنَا أَنَّ الطَّلَاقَ لِإِزَالَةِ الْقَيْدِ وَهُوَ فِيهَا دُونَ الزَّوْجِ“ امام شافعی رحمہ اللہ نے تو کیا فرمایا تھا طلاق کس لیے ہے؟ یہ طلاق ہے ملکِ نکاح اور حلت کے ازالے کے لیے، طلاق کس لیے ہے؟ ملکِ نکاح اور حلت کے ازالے کے لیے، اور ملکِ نکاح بھی دونوں کو ہوتی ہے اور حلت بھی دونوں کے لیے ہوتی ہے لہٰذا دونوں کی طرف نسبت صحیح ہے طلاق کی۔ ہم کہتے ہیں نہیں، طلاق ملکِ نکاح اور حلت کے ازالے کا نام نہیں ہے بلکہ طلاق نام ہے ازالۂ قید کا۔ طلاق کس چیز کا نام ہے؟ ازالۂ قید کہ قید کو ختم کرنا کسی پر سے، اور قید بیوی میں ہوتی ہے خاوند میں قید نہیں ہوتی۔ بیوی میں کیا قید ہے؟ بیوی آگے کوئی اور نکاح نہیں کر سکتی، خاوند تو اور نکاح کر سکتا ہے، نیز بیوی خاوند کی اجازت کے بغیر گھر سے نہیں نکل سکتی، خاوند تو اس کی اجازت کے بغیر نکل سکتا ہے، تو قید کس میں پائی گئی؟ بیوی کے اندر، کس کے اندر؟ بیوی کے اندر قید پائی جا رہی ہے اور طلاق ازالۂ قید کا نام ہے۔ تو جب طلاق ازالۂ قید کا نام ہے تو قید تو بیوی کے اندر پائی جا رہی ہے لہٰذا بیوی ہی کی طرف نسبت کی جا سکتی ہے طلاق کی پھر ہی واقع ہوگی، خاوند کی طرف نسبت کی جائے تو پھر واقع نہیں ہوگی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ ”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل یہ ہے ”أَنَّ الطَّلَاقَ لِإِزَالَةِ الْقَيْدِ“ کہ طلاق جو ہے وہ ازالۂ قید کے لیے ہے یعنی قید کو زائل کرنے کے لیے ہے ”وَهُوَ فِيهَا دُونَ الزَّوْجِ“ اور یہ قید جو ہے وہ تو عورت میں ہوتی ہے ”دُونَ الزَّوْجِ“ نہ کہ خاوند میں، ”أَلَا تَرَى أَنَّهَا هِيَ الْمَمْنُوعَةُ عَنِ التَّزَوُّجِ بِزَوْجٍ آخَرَ وَالْخُرُوجِ“ کیا آپ دیکھتے نہیں ”أَنَّهَا هِيَ الْمَمْنُوعَةُ“ کہ یہ عورت جو ہے ”عَنِ التَّزَوُّجِ بِزَوْجٍ آخَرَ“ منع کی گئی ہے کسی دوسرے خاوند سے نکاح سے، جب ایک شخص سے ایک عورت کا نکاح ہو چکا ہے تو عورت کسی اور سے نکاح نہیں کر سکتی، ”وَالْخُرُوجِ“ اور اسی طرح عورت جو ہے وہ منع کی گئی ہے کس سے؟ خروج سے، گھر سے نکلنے سے۔ توجہ ہے؟ تو کہتے ہیں: ”أَلَا تَرَى أَنَّهَا هِيَ الْمَمْنُوعَةُ عَنِ التَّزَوُّجِ بِزَوْجٍ آخَرَ وَالْخُرُوجِ“ کیا آپ دیکھتے نہیں ہیں کہ عورت جو ہے اسی کو منع کیا گیا ہے کسی دوسرے خاوند سے نکاح کرنے سے اور نکلنے سے۔ ”وَلَوْ كَانَ لِإِزَالَةِ الْمِلْكِ فَهُوَ عَلَيْهَا“ اگر امام شافعی رحمہ اللہ کی بات مان لیں، امام شافعی رحمہ اللہ کی بات انہوں نے کیا کہا تھا کہ طلاق کس چیز کا نام ہے؟ ازالۂ ملکِ نکاح اور ازالۂ حلت کا نام ہے۔ اگر آپ کی بات ہم مان لیں کہ طلاق ازالۂ ملکیت کا نام ہے، کس کا نام ہے؟ ازالۂ ملکیت کا نام ہے، اگر ہم آپ کی یہ بات مان لیں پھر بھی ملکیت عورت کے اوپر خاوند کی ہے، خاوند پر بیوی کی ملکیت نہیں ہے۔ چنانچہ اسی لیے، چنانچہ اسی لیے خاوند کو ناکح کہتے ہیں، خاوند کو کیا کہتے ہیں؟ ناکح، نکاح کرنے والا، اور عورت کو منکوحہ کہتے ہیں جس سے نکاح کیا گیا ہے، تو معلوم ہوا عورت منکوحہ ہے، مملوکہ ہے، اور خاوند ناکح ہے، مالک ہے، تو لہٰذا اگر آپ کی بات مان بھی لی جائے کہ طلاق ازالۂ ملکیت کا نام ہے تو ملکیت بھی تو عورت میں ہے اسی لیے تو اس کو منکوحہ کہتے ہیں، ورنہ تو اس کو بھی ناکحہ کہنا چاہیے تھا۔ توجہ ہے؟ لیکن اس پر اسمِ مفعول کا لفظ بولا جا رہا ہے معلوم ہوا وہ مملوکہ ہے، جیسے مالک اور مملوک، تو دیکھو جو مملوک ہے اس پر اسمِ مفعول کا لفظ بولا جا رہا ہے مملوک، اسی طرح بیوی پر بھی منکوحہ اسمِ مفعول کا لفظ بولا جا رہا ہے معلوم ہوا ملکیت کس کو حاصل ہے؟ خاوند کو حاصل ہے۔ توجہ ہے؟ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ كَانَ لِإِزَالَةِ الْمِلْكِ“ اور اگر یہ طلاق ازالۂ ملکیت کے لیے ہوتی ”فَهُوَ عَلَيْهَا“ تو ملکیت وہ بھی خاوند کی بیوی پر ہے ”لِأَنَّهَا مَمْلُوكَةٌ“ اس لیے کیونکہ عورت جو ہے وہ مملوکہ ہے ”وَالزَّوْجُ مَالِكٌ“ اور خاوند مالک ہے ”وَلِهَذَا سُمِّيَتْ مَنْكُوحَةً“ اور اسی لیے عورت کو منکوحہ کہتے ہیں۔ تو جب خاوند مالک ہے اور بیوی مملوکہ ہے تو اگر طلاق ازالۂ ملک کا نام ہے تو ملکیت تو عورت کے اوپر ہے لہٰذا ازالۂ ملکیت کی نسبت بھی کس کی طرف ہونی چاہیے؟ عورت ہی کی طرف ہونی چاہیے، خاوند کی طرف نہیں بھئی۔ تو جب عورت پر ملکیت ہے تو ازالۂ ملکیت بھی عورت پر سے ہوگا۔ ملکیت کس پر ہے؟ عورت پر ہے، تو ازالۂ ملکیت بھی عورت پر سے ہوگا، عورت پر سے ملکیت ختم ہوگی لہٰذا طلاق یعنی ازالۂ ملکیت کی نسبت بھی عورت کی طرف ہی درست ہوگی، خاوند پر ملکیت نہیں ہے تو ازالۂ ملکیت کی نسبت بھی خاوند کی طرف صحیح نہیں ہے بھئی۔ ”بِخِلَافِ الْإِبَانَةِ“ ہاں ابانت کے لفظ، توجہ ہے؟ خاوند بیوی سے کہتا ہے: تو مجھ سے جدا ہے، یا خاوند کہتا ہے: میں تجھ سے جدا ہوں، دونوں صورتوں میں جدائی آ گئی۔ اسی طرح تحریم کے اندر بھی ہے خاوند بیوی سے کہتا ہے: تو مجھ پر حرام ہے، یا اپنی طرف حرمت کی نسبت کرتا ہے: میں تجھ پر حرام ہوں، تو پھر دونوں صورتوں میں جدائی آ جائے گی۔ وجہ یہ ہے کہ یہاں دونوں اس میں ایک چیز میں شریک تھے تو اس میں دونوں کی طرف نسبت ہو سکتی ہے، وجہ دیکھو صاحبِ ہدایہ ذکر فرما رہے ہیں، کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ الْإِبَانَةِ“ بخلاف ابانت کے یعنی جدائی کے ”لِأَنَّهَا لِإِزَالَةِ الْوُصْلَةِ“ اس لیے کیونکہ ابانت جو ہے وہ وصلہ کو ختم کرنے کے لیے ہے، وصلۃ ص کے ساتھ ہے بھئی، وصلۃ جوڑ کو کہتے ہیں، جوڑ، اور دیکھو میاں بیوی کے درمیان نکاح ہے یہ جوڑ ہے ان دونوں کے درمیان، تو یہ جو نکاح ہے یہ کس کا نام ہے؟ وصلۃ جوڑ کا نام ہے، اور ابانت کسے کہتے ہیں؟ ابانت یعنی جدائی کرنا، یعنی اس جوڑ کو ختم کر دینا، اور جوڑ میاں بیوی دونوں کے درمیان تھا، جوڑ دونوں کے درمیان تھا اور اسی جوڑ کو ختم کرنے کا نام ابانت ہے، لہٰذا ابانت کی نسبت عورت کی طرف بھی کی جا سکتی ہے اور مرد کی طرف بھی کیونکہ دونوں اس میں شریک تھے۔ اس جوڑ میں دونوں کیا تھے؟ شریک تھے، دونوں کے درمیان یہ نکاح والا جوڑ تھا اور ابانت کا کیا معنی ہوتا ہے؟ اس جوڑ کو توڑنا، اس جوڑ کو توڑنا اور ختم کرنا، تو جب دونوں ایک جوڑ میں شریک ہیں تو ابانت کی نسبت مرد اور عورت دونوں کی طرف کی جا سکتی ہے۔ اور اسی طرح حرمت جو ہے، حرمت وہ نام ہے حلت کو ختم کرنا، اور حلت دونوں کے اندر موجود تھی خاوند بیوی کے لیے حلال تھا تو بیوی خاوند کے لیے حلال تھی، اور اس حلت کو ختم کرنے کا نام تحریم ہے، حرام کرنا، تو یہاں بھی چونکہ حلت دونوں میں تھی تو تحریم کی نسبت بھی دونوں کی طرف کی جا سکتی ہے، خاوند یہ بھی کہہ سکتا ہے تو مجھ پر حرام ہے اور خاوند یہ بھی کہہ سکتا ہے میں تجھ پر حرام ہوں، مآل دونوں کا ایک ہی ہوگا، جدائی آ جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ الْإِبَانَةِ لِأَنَّهَا لِإِزَالَةِ الْوُصْلَةِ“ بخلاف جدائی کے اس لیے کیونکہ ابانت جو ہے وہ جوڑ کو ختم کرنے کے لیے ہے ”وَهِيَ مُشْتَرَكَةٌ“ اور یہ جوڑ تو دونوں کے درمیان مشترک ہے، ”وَبِخِلَافِ التَّحْرِيمِ لِأَنَّهُ لِإِزَالَةِ الْحِلِّ“ اور بخلاف تحریم کے کیونکہ تحریم جو ہے وہ حلت کو زائل کرنے کے لیے ہے ”وَهُوَ مُشْتَرَكٌ“ اور یہ حلت بھی دونوں کے اندر مشترک ہے ”فَصَحَّتْ إِضَافَتُهُمَا إِلَيْهِمَا“ لہٰذا ان دونوں کی نسبت دونوں کی طرف صحیح ہے، یہ تحریم اور ابانت کی نسبت دونوں کی طرف صحیح ہے، ”وَلَا تَصِحُّ إِضَافَةُ الطَّلَاقِ إِلَّا إِلَيْهَا“ لیکن طلاق کی نسبت جو ہے صرف عورت ہی کی طرف صحیح ہے بھئی، مرد کی طرف صحیح نہیں کیونکہ طلاق وہ ازالۂ قید کا نام ہے اور قید صرف عورت میں ہوتی ہے خاوند میں نہیں، جبکہ ابانت وہ جوڑ کو توڑنے کا نام ہے اور جوڑ دونوں کے درمیان ہے لہٰذا اس لیے اس میں دونوں شریک ہیں تو وہاں دونوں کی طرف نسبت ہو سکتی ہے، اسی طرح حرمت جو ہے وہ حلت کو ختم کرنے کا نام ہے اور حلت میں بھی دونوں مشترک ہیں بھئی، تو لہٰذا ابانت اور تحریم کی نسبت تو دونوں کی طرف ہو سکتی ہے لیکن طلاق کی نسبت صرف عورت کی طرف ہی ہو سکتی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی: ”هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“. وہ باء کا معنی لوٹنا، تو وہ اللہ کے غضب کے ساتھ لوٹے گا، ﴿وَمَأْوَاهُ جَهَنَّمُ﴾ اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہوگا، اور جہنم بڑا ہی برا ٹھکانہ ہے۔ تو دیکھو یہ غزوہ بدر کے موقع پر سخت حکم نازل ہوا اللہ کی طرف سے۔ چونکہ مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان پہلا معرکہ تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے مومنوں پر سخت حکم نازل فرمایا، تاکہ یہ خوب جم کر لڑیں اور مشرکین کی جڑ کاٹ دیں بھئی۔ تو یہاں پر دیکھو پشت پھیرنے والے کے لیے اللہ تعالیٰ اپنے غضب کا اعلان فرما رہے ہیں، اور جہنم کا اعلان فرما رہے ہیں۔ ہاں دو قسم کے لوگوں کو استثنیٰ کر دیا۔ پشت پھیرنے سے دو قسم کے لوگوں کو استثنیٰ کر دیا۔ ایک وہ شخص جو پشت پھیرتا ہے کسی جنگی چال کے طور پر۔ پیچھے پلٹا، تھوڑا سا پیچھے گیا، اور پھر اس نے پلٹ کر دوبارہ حملہ کیا، تو اگر اس نیت سے کوئی پشت پھیرتا ہے اس کو اجازت ہے، وہ کر سکتا ہے۔ یا کوئی اس لیے پشت پھیرتا ہے کہ پیچھے جا کر اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر پھر دوبارہ لوٹ کر حملہ کرے گا۔ تو ان دو کا استثنیٰ ہے۔ اس کے علاوہ اگر کوئی بھی پشت پھیرے گا تو اس کے لیے اللہ نے اپنے غضب کا اور جہنم کا اعلان فرمایا بھئی۔ تو چونکہ یہ پہلا معرکہ تھا، اس لیے اس میں خاص طور پر یہ سخت حکم اللہ نے نازل فرمایا بھئی۔ ہاں بعد میں پھر نرمی کر دی گئی اس کے اندر۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو بہرحال بات چل رہی تھی، ﴿وَمَنْ يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍ دُبُرَهُ﴾ اور جو ان مشرکین سے اپنی پشت پھیرے گا اس دن، یہاں دیکھو یوم کا لفظ آیا، یوم۔ اور پیچھے کیا ذکر ہے؟ پشت پھیرنا۔ اور پشت پھیرنا یہ تو فعل ممتد نہیں ہے۔ پشت پھیرنا تو ایک لمحے کا کام ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ لہٰذا اس میں امتداد نہیں، اور فعل غیر ممتد کے ساتھ جب یوم کو ذکر کیا جائے تو وہ مطلق وقت کے معنی میں ہوتا ہے۔ تو اب آیت کا معنی یہ ہوا، ﴿وَمَنْ يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍ دُبُرَهُ﴾ اور جو کوئی پشت پھیرے گا ان مشرکین سے یومئذ، اس دن یعنی اس وقت۔ تو یہاں یوم کس معنی میں ہے؟ وقت کے معنی میں ہے، یعنی نہ دن کو پشت پھیرنا جائز ہے اور نہ رات کو پشت پھیرنا جائز ہے، سب کا ایک ہی حکم ہے۔ تو یہاں یوم کس معنی میں ہے؟ یہاں یوم مطلق وقت کے معنی میں ہے، اس لیے کیونکہ اس کے ساتھ جو فعل ذکر ہوا ہے، پشت پھیرنا، اس میں امتداد نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: قال الله تعالى: ﴿وَمَنْ يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍ دُبُرَهُ﴾ ﴿وَالْمُرَادُ بِهِ مُطْلَقُ الْوَقْتِ﴾ اور اس سے مراد مطلق وقت ہے، ﴿فَيُحْمَلُ عَلَيْهِ إِذَا قُرِنَ بِفِعْلٍ لَا يَمْتَدُّ﴾ تو لہٰذا مطلق وقت کے معنی پر اس یوم کے لفظ کو محمول کیا جائے گا، إذا قرن بفعل لا يمتد، جب اس کو یوم کے لفظ کو ملایا جائے ایسے فعل کے ساتھ جو غیر ممتد ہو، ﴿وَالطَّلَاقُ مِنْ هَذَا الْقَبِيلِ﴾ اور طلاق بھی اسی قبیل سے ہے، یعنی اس میں بھی امتداد نہیں ہے، ﴿فَيَنْتَظِمُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ﴾ تو یہ رات اور دن دونوں کو شامل ہوگی۔ وہ جو خاوند نے کہا تھا: ﴿يَوْمَ أَتَزَوَّجُكِ فَأَنْتِ طَالِقٌ﴾، تو یہاں پر طلاق کو ذکر کر رہا ہے، اور طلاق غیر ممتد ہے، اور جب غیر ممتد ہے تو یوم مطلق وقت کے معنی میں ہوگا۔ تو لہٰذا جس وقت وہ شادی کرے گا، چاہے دن ہو یا رات، طلاق واقع ہو جائے گی، کیونکہ یہ مطلق وقت کے معنی میں ہے، دن کو بھی شامل ہے اور رات کو بھی شامل ہے۔ یہ معنی ہے ﴿وَالطَّلَاقُ مِنْ هَذَا الْقَبِيلِ﴾ اور طلاق بھی اسی قبیل سے ہے، یعنی وہ بھی فعل غیر ممتد ہے، ﴿فَيَنْتَظِمُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ﴾ تو لہٰذا یہ جو یوم کا لفظ آیا، یہ لیل اور نہار دونوں کو شامل ہوگا، یعنی یہ مطلق وقت کے معنی میں ہوگا۔ ﴿وَلَوْ قَالَ عَنَيْتُ بِهِ بَيَاضَ النَّهَارِ خَاصَّةً﴾ اور اگر خاوند نے کہا کہ میں نے تو خاص طور پر دن کی سفیدی کا ارادہ کیا تھا، خاوند کیا کہتا ہے؟ میں نے تو دن کی سفیدی یعنی دن کے اجالے کا ارادہ کیا تھا، تو پھر قضاءً بھی اس کی تصدیق کی جائے گی، قضاءً بھی، کیونکہ وہ اپنے کلام کے حقیقی معنی کا ارادہ کر رہا ہے۔ یوم کا لفظ نہار کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے جیسے ابھی ذکر ہوا۔ ﴿وَلَوْ قَالَ عَنَيْتُ بِهِ بَيَاضَ النَّهَارِ خَاصَّةً﴾ اور اگر خاوند کہتا ہے کہ اس کے ذریعے میں نے دن کی روشنی کا ارادہ کیا تھا خاص طور پر، ﴿دُيِّنَ فِي الْقَضَاءِ﴾ تو خاوند کی تصدیق کی جائے گی قضا کے اندر بھی، ﴿لِأَنَّهُ نَوَى حَقِيقَةَ كَلَامِهِ﴾ اس لیے کیونکہ اس نے اپنے حقیقت کلام کا ارادہ کیا، اپنے کلام کی حقیقت کا ارادہ کیا ہے، یعنی حقیقی معنی ہی کا ارادہ کیا ہے، یوم کا لفظ دن کے اجالے پر بولا جاتا ہے اور اس نے بھی اسی کی نیت کی ہے بھئی۔ ﴿وَاللَّيْلُ لَا يَتَنَاوَلُ إِلَّا السَّوَادَ﴾ اور رات جو ہے یہ شامل نہیں ہوتی مگر سیاہی کو، ﴿وَالنَّهَارُ لَا يَتَنَاوَلُ إِلَّا الْبَيَاضَ خَاصَّةً﴾ اور دن شامل نہیں ہوتا مگر خاص طور پر سفیدی کو۔ صرف روشنی کے وقت کو نہار کہتے ہیں اور اندھیرے کے وقت کو کیا کہتے ہیں؟ لیل کہتے ہیں۔ تو یہ معنی بیان کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ لیل اور نہار کا۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَاللَّيْلُ لَا يَتَنَاوَلُ إِلَّا السَّوَادَ﴾ اور رات جو ہے وہ شامل نہیں ہے مگر صرف سیاہی کو، ﴿وَالنَّهَارُ لَا يَتَنَاوَلُ إِلَّا الْبَيَاضَ خَاصَّةً﴾ اور نہار جو ہے وہ شامل نہیں ہے مگر سفیدی کو ہی خاص طور پر، ﴿وَهُوَ اللُّغَةُ﴾ اور یہی لغت ہے، یعنی یہی عربی زبان ہے، یعنی عربی زبان میں ایسا ہی ہے۔ یوم کا لفظ وہ نہار کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور مطلق وقت کے لیے بھی، لیکن لیل وہ خاص طور پر تاریکی کے لیے بولتے ہیں اور نہار جو ہے وہ اجالے کے لیے بولتے ہیں، بات سمجھ میں آ گئی۔ آگے دیکھیے بھئی: ﴿فَصْلٌ: وَمَنْ قَالَ لِامْرَأَتِهِ: أَنَا مِنْكِ طَالِقٌ فَلَيْسَ بِشَيْءٍ وَإِنْ نَوَى طَلَاقًا﴾۔ صورتِ مسئلہ یہ ہے، ویسے تو عام طور پر خاوند بیوی سے کہتا ہے: تجھے طلاق ہے، أنتِ طالق۔ لیکن اگر کوئی خاوند برعکس یوں کہتا ہے: تیری طرف سے مجھے طلاق ہے، خاوند کہہ رہا ہے، کیا کہہ رہا ہے بیوی کو؟ تیری طرف سے مجھے طلاق ہے، یعنی اپنے آپ کو طلاق سے موصوف کر رہا ہے، اور نیت بھی طلاق کی کرتا ہے تو کیا اس سے طلاق واقع ہو جائے گی؟ تو عند الاحناف اس سے طلاق واقع نہیں ہوگی بھئی۔ طلاق کے ساتھ عورت موصوف ہوتی ہے، طلاق کے ساتھ خاوند موصوف نہیں ہوتا۔ لیکن اس کے بجائے اگر خاوند یوں کہتا ہے کہ میں تجھ سے جدا ہوں، ویسے تو خاوند یوں کہتا ہے عموماً: تو مجھ سے جدا ہے، لیکن بعض اوقات جدائی کی نسبت خاوند اپنی طرف کرتا ہے: میں تجھ سے جدا ہوں۔ تو کہتے ہیں اس صورت میں جدائی آ جائے گی، طلاق واقع ہو جائے گی۔ یا اسی طرح حرام کا لفظ بولتا ہے خاوند، ویسے تو عام طور پر خاوند یوں کہے گا: تو مجھ پر حرام ہے، لیکن اگر خاوند یوں کہتا ہے کہ میں تجھ پر حرام ہوں، اپنی طرف حرام ہونے کی نسبت کرتا ہے تو کہتے ہیں اس صورت میں بھی طلاق واقع ہو جائے گی۔ طلاق کو اپنی صفت بنائے پھر تو طلاق نہیں ہوگی، لیکن جدائی اور تحریم کے اندر جدائی آ جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَمَنْ قَالَ لِامْرَأَتِهِ أَنَا مِنْكِ طَالِقٌ﴾ اور جس شخص نے اپنی بیوی سے کہا: میں تیری طرف سے طلاق والا ہوں، یعنی تیری طرف سے مجھے طلاق ہے، ﴿فَلَيْسَ بِشَيْءٍ﴾ تو یہ کچھ بھی نہیں ہے، یعنی اس سے کچھ نہیں ہوگا، ﴿وَإِنْ نَوَى طَلَاقًا﴾ اگرچہ خاوند طلاق کی بھی نیت کر لے پھر بھی کچھ نہیں ہوگا، ﴿وَلَوْ قَالَ أَنَا مِنْكِ بَائِنٌ﴾ اور اگر خاوند نے یہ کہا کہ میں تیری طرف سے بائن ہوں، جدا ہوں، ﴿أَوْ عَلَيْكِ حَرَامٌ﴾ یا خاوند نے یہ کہا کہ أنا عليكِ حرام، کہ میں تجھ پر حرام ہوں، ﴿يَنْوِي الطَّلَاقَ﴾ اور خاوند اس کے ذریعے طلاق کی نیت کرتا ہے، خاوند کیا کرتا ہے اس کے ذریعے؟ طلاق کی نیت کرتا ہے، کیونکہ بائن یہ کنایہ ہے اور کنایہ کے لیے کیا ضروری ہے؟ نیت کا ہونا ضروری ہے۔ یا حرام بھئی یہ بھی کیا ہے؟ کنایہ ہے اور اس کے لیے بھی نیت چاہیے۔ تو کہتے ہیں: ﴿يَنْوِي الطَّلَاقَ فَهِيَ طَالِقٌ﴾ اس کے ذریعے خاوند طلاق کی نیت کرتا ہے تو اس صورت میں وہ عورت طلاق والی ہو جائے گی۔ ﴿وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: يَقَعُ الطَّلَاقُ فِي الْوَجْهِ الْأَوَّلِ أَيْضًا إِذَا نَوَى﴾ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پہلی صورت میں بھی طلاق واقع ہو جائے گی إذا نوى، جب خاوند نے نیت کی۔ پہلی صورت میں بھی طلاق واقع ہو جائے گی، خاوند نے کہا: أنا منكِ طالق، کہ تیری طرف سے مجھے طلاق ہے، اور اس میں خاوند کہتے ہیں طلاق کی نیت کرے گا تو طلاق واقع ہو جائے گی۔ کس کا مذہب چل رہا ہے؟ امام شافعی رحمہ اللہ کا، وہ فرماتے ہیں۔ اور کہا إذا نوى، جب وہ نیت کرے گا۔ بھئی یہ تو صریح ہے، صریح میں تو نیت کی ضرورت نہیں ہوتی؟ تو جواب یہ ہے چونکہ یہ غیر متعارف ہے، لوگوں میں اس طرح کہنا رائج نہیں ہے، لہٰذا اس لیے یہاں نیت بھی کرنا ضروری ہے۔ صریح تو اسے کہتے ہیں نا جس کا معنی ظاہر ہوتا ہے، لیکن یہاں تو لوگ اس طرح استعمال ہی نہیں کرتے، لہٰذا یہاں نیت ضروری ہوگی بھئی۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ﴿يَقَعُ الطَّلَاقُ فِي الْوَجْهِ الْأَوَّلِ أَيْضًا إِذَا نَوَى﴾ کہ پہلی صورت میں بھی طلاق واقع ہو جائے گی إذا نوى، جب خاوند نیت کرے، ﴿لِأَنَّ مِلْكَ النِّكَاحِ مُشْتَرَكٌ بَيْنَ الزَّوْجَيْنِ﴾ اس لیے کیونکہ ملکِ نکاح جو ہے وہ مشترک ہے دونوں میاں بیوی میں، دونوں میاں بیوی میں مشترک ہے۔ یاد رکھو، آپ کو بتلائیں گے، ہمارے نزدیک ملکِ نکاح خاوند کو حاصل ہے، ملکِ نکاح خاوند کو حاصل ہے اور بیوی مملوکہ کے درجے میں ہے، بیوی مملوکہ کے درجے میں ہے۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ ملکِ نکاح میاں بیوی دونوں کو حاصل ہے، خاوند کو بھی ملکِ نکاح حاصل ہے بیوی پر اور بیوی کو بھی خاوند پر ملکِ نکاح حاصل ہے۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں: کیا آپ دیکھتے نہیں کہ اگر کوئی خاوند جو ہے بیوی سے صحبت نہیں کرتا، ایک شخص نے مثلاً اس کی ایک بیوی تھی اب اس نے دوسرا نکاح کر لیا، اب پہلی کو اس نے بالکل ہی معلق چھوڑ دیا ہے، اس کے پاس جاتا ہی نہیں یا اس سے صحبت ہی نہیں کرتا، تو بیوی کو شریعت نے حق دیا ہے، وہ قاضی کے پاس جا کر وطی کا مطالبہ کر سکتی ہے کہ میرے خاوند کو حکم دیا جائے، وہ میرے ساتھ صحبت نہیں کرتا۔ توجہ ہے؟ تو دیکھو عورت قاضی کے پاس جا کر وطی کا مطالبہ کر سکتی ہے۔ اسی طرح خاوند بھی قاضی کے پاس جا کر تمکین کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ یاد رکھو وطی کرنا یہ خاوند کا فعل ہے، وطی کرنا خاوند کا فعل ہے، اور قدرت دینا یہ عورت کا فعل ہے، عورت خاوند کو وطی پر قدرت دیتی ہے، اور اس کو کہتے ہیں تمکین بھئی۔ مکن یمکن تمکین کا کیا معنی؟ قدرت دینا۔ تو عورت جو ہے اس کو شریعت نے حق دیا ہے اگر خاوند اس کے ساتھ صحبت نہیں کرتا، اس کو ویسے ہی چھوڑ دیا ہے تو وہ قاضی کے پاس جا کر مطالبہ بالوطی کر سکتی ہے، وطی کا مطالبہ کر سکتی ہے۔ اور اگر اس کے برعکس معاملہ ہوا، ایک خاوند ہے اس کی بیوی اس کو صحبت ہی نہیں کرنے دیتی، تو پھر خاوند قاضی کے پاس جا کر مطالبۂ تمکین کر سکتا ہے کہ قاضی صاحب، میری اس بیوی کو حکم دیں کہ یہ مجھے اپنے اوپر قدرت دے، مجھے صحبت کرنے دے۔ یہ میری بیوی ہے، میں نے اس کو گھر دیا ہے، میں اس کو کپڑے دیتا ہوں، اور میں اس کو نفقہ دیتا ہوں، تو لہٰذا اس کو حکم دیں۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ جیسے بیوی وطی کے مطالبے کی مالک ہے اسی طرح خاوند بھی تمکین کے مطالبے کا مالک ہے تو دونوں مالک ہیں۔ ملکِ نکاح عورت کو بھی حاصل ہے، وہ وطی کے مطالبے کی مالک ہے، وہ وطی کا مطالبہ کر سکتی ہے، اور نیز ملکِ نکاح خاوند کو بھی حاصل ہے، وہ تمکین کے مطالبے کا مالک ہے، وہ تمکین کا مطالبہ کر سکتا ہے بھئی۔ تو معلوم ہوا ملکِ نکاح دونوں میں مشترک ہے۔ ہمارے نزدیک تو ملکِ نکاح صرف خاوند کو حاصل ہے، خاوند مالک کے درجے میں ہے، بیوی کس کے درجے میں؟ مملوکہ کے درجے میں، لیکن ان کے نزدیک ملکِ نکاح دونوں میں مشترک ہے، دونوں کو حاصل ہے۔ تو کہتے ہیں: ﴿لِأَنَّ مِلْكَ النِّكَاحِ مُشْتَرَكٌ بَيْنَ الزَّوْجَيْنِ حَتَّى مَلَكَتْ الْمُطَالَبَةَ بِالْوَطْءِ كَمَا يَمْلِكُ هُوَ الْمُطَالَبَةَ بِالتَّمْكِينِ﴾ اس لیے کیونکہ ملکِ نکاح جو ہے وہ دونوں میاں بیوی کے درمیان مشترک ہے، یہاں تک کہ عورت جو ہے وطی کے مطالبے کی مالک ہوتی ہے جیسا کہ خاوند جو ہے وہ تمکین کے مطالبے کا مالک ہوتا ہے، ﴿وَكَذَا الْحِلُّ مُشْتَرَكٌ بَيْنَهُمَا﴾ اور اسی طرح حلال ہونا بھی دونوں میں مشترک ہے۔ توجہ ہے؟ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ملکِ نکاح بھی دونوں میں مشترک ہے اور نیز حلت بھی دونوں میں مشترک ہے، خاوند کے لیے بیوی حلال ہے تو بیوی کے لیے خاوند حلال ہے۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَكَذَا الْحِلُّ مُشْتَرَكٌ بَيْنَهُمَا﴾ اور اسی طرح حلال ہونا بھی دونوں کے درمیان مشترک ہے، ﴿وَالطَّلَاقُ وُضِعَ لِإِزَالَتِهِمَا﴾ اور طلاق کو وضع کیا گیا ہے لإزالتهما، ان دونوں کو زائل کرنے کے لیے۔ طلاق کس لیے وضع ہے، کس لیے مقرر کی گئی ہے؟ اس ملکِ نکاح اور حلت کو ختم کرنے کے لیے۔ طلاق کس لیے وضع ہے؟ توجہ ہے؟ ملکِ نکاح میاں بیوی دونوں کو حاصل، اسی طرح دونوں ایک دوسرے کے لیے حلال بھی ہیں، تو یہ جو طلاق ہے اس کو ان دونوں کے ازالے کے لیے وضع کیا گیا ہے، یعنی طلاق کی وجہ سے دونوں کی ملکِ نکاح بھی ختم ہوگی اور دونوں کی ایک دوسرے کے لیے حلت بھی ختم ہوگی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَكَذَا الْحِلُّ مُشْتَرَكٌ بَيْنَهُمَا وَالطَّلَاقُ وُضِعَ لِإِزَالَتِهِمَا فَيَصِحُّ مُضَافًا إِلَيْهِ كَمَا يَصِحُّ مُضَافًا إِلَيْهَا﴾ لہٰذا طلاق صحیح ہوگی مضافاً إليه، اس حال میں کہ اس کی نسبت کی جائے مرد کی طرف، كما يصح مضافاً إليها، جیسے کہ عورت کی طرف طلاق کی اضافت صحیح ہے، توجہ ہے؟ نہیں، توجہ میرا خیال نہیں۔ بھئی طلاق جو ہے وہ ازالے کے لیے ہے، اور کس چیز کا ازالہ کرتی ہے؟ ملکِ نکاح کا اور حلت کا، اور ملکِ نکاح بھی دونوں کے درمیان مشترک میاں بیوی میں، اور حلت بھی دونوں میں مشترک ہے، تو جب یہ دونوں چیزیں دونوں میں مشترک ہیں تو طلاق اسی کو ختم کرنے کے لیے آتی ہے، لہٰذا طلاق کی نسبت خاوند کی طرف بھی کی جائے تو بھی صحیح، بیوی کی طرف کی جائے تو بھی صحیح، کیونکہ دونوں کے لیے ملکِ نکاح بھی تھی اور حلت بھی تھی۔ بیوی کی طرف طلاق کی نسبت کرتا ہے تو اس سے بھی ملکِ نکاح اور حلت ختم ہوگی اس کی، اور خاوند اپنی طرف نسبت کرتا ہے تو اس صورت میں بیوی کی ملکِ نکاح اور حلت کیا ہو جائے گی؟ ختم ہو جائے گی۔ تو دونوں نسبتیں صحیح ہیں، بیوی کی طرف بھی طلاق کی نسبت صحیح اور خاوند کی طرف بھی طلاق کی نسبت صحیح ہے۔ تو کہتے ہیں: ﴿فَيَصِحُّ مُضَافًا إِلَيْهِ كَمَا يَصِحُّ مُضَافًا إِلَيْهَا﴾ تو طلاق صحیح ہے اس حال میں کہ اس کی اضافت کی جائے خاوند کی طرف، كما يصح مضافاً إليها، جیسے کہ طلاق صحیح ہے اس حال میں کہ اس کی اضافت کی جائے بیوی کی طرف، ﴿كَمَا فِي الْإِبَانَةِ وَالتَّحْرِيمِ﴾ جیسے جدائی اور تحریم کے اندر ہے۔ جدائی اور تحریم میں تو آپ نے بھی بتلا دیا، جیسے متن میں آپ نے ہمیں بتایا۔ ابانت یعنی جدائی کی نسبت خاوند چاہے بیوی کی طرف کرے، چاہے اپنی طرف کرے، دونوں صورتوں میں جدائی آ جاتی ہے۔ خاوند بیوی سے کہتا ہے: تو مجھ سے جدا ہے، یا خاوند بیوی کو کہتا ہے: میں تجھ سے جدا ہوں، دونوں صورتوں میں جدائی آ جائے گی۔ یا اسی طرح تحریم کی نسبت خاوند کرتا ہے چاہے بیوی کی طرف کرے، چاہے اپنی طرف کرے، دونوں صورتوں میں جدائی آ جاتی ہے۔ مثلاً خاوند بیوی سے کہتا ہے: تو مجھ پر حرام ہے، تب بھی جدائی آ جائے گی۔ اور یا خاوند بیوی سے کہتا ہے: میں تجھ پر حرام ہوں، تب بھی جدائی آ جائے گی۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جیسے ابانت اور تحریم کی نسبت دونوں کی طرف ہو سکتی ہے اسی طرح طلاق کی نسبت بھی میاں اور بیوی دونوں کی طرف صحیح ہے اور اس سے طلاق واقع ہو جائے گی۔ آگے دیکھیے: ﴿وَلَنَا أَنَّ الطَّلَاقَ لِإِزَالَةِ الْقَيْدِ وَهُوَ فِيهَا دُونَ الزَّوْجِ﴾، امام شافعی رحمہ اللہ نے تو کیا فرمایا تھا؟ طلاق کس لیے ہے؟ یہ طلاق ہے ملکِ نکاح اور حلت کے ازالے کے لیے۔ طلاق کس لیے ہے؟ ملکِ نکاح اور حلت کے ازالے کے لیے، اور ملکِ نکاح بھی دونوں کو ہوتی ہے اور حلت بھی دونوں کے لیے ہوتی ہے، لہٰذا دونوں کی طرف نسبت صحیح ہے طلاق کی۔ ہم کہتے ہیں: نہیں، طلاق ملکِ نکاح اور حلت کے ازالے کا نام نہیں ہے، بلکہ طلاق نام ہے ازالۂ قید کا۔ طلاق کس چیز کا نام ہے؟ ازالۂ قید کہ قید کو ختم کرنا کسی پر سے۔ اور قید بیوی میں ہوتی ہے، خاوند میں قید نہیں ہوتی۔ بیوی میں کیا قید ہے؟ بیوی آگے کوئی اور نکاح نہیں کر سکتی، خاوند تو اور نکاح کر سکتا ہے۔ نیز بیوی خاوند کی اجازت کے بغیر گھر سے نہیں نکل سکتی، خاوند تو اس کی اجازت کے بغیر نکل سکتا ہے۔ تو قید کس میں پائی گئی؟ بیوی کے اندر، کس کے اندر؟ بیوی کے اندر قید پائی جا رہی ہے اور طلاق ازالۂ قید کا نام ہے۔ تو جب طلاق ازالۂ قید کا نام ہے تو قید تو بیوی کے اندر پائی جا رہی ہے، لہٰذا بیوی ہی کی طرف نسبت کی جا سکتی ہے طلاق کی پھر ہی واقع ہوگی، خاوند کی طرف نسبت کی جائے تو پھر واقع نہیں ہوگی، بات سمجھ میں آ گئی۔ ﴿وَلَنَا أَنَّ الطَّلَاقَ لِإِزَالَةِ الْقَيْدِ﴾ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ طلاق جو ہے وہ ازالۂ قید کے لیے ہے، یعنی قید کو زائل کرنے کے لیے ہے، ﴿وَهُوَ فِيهَا دُونَ الزَّوْجِ﴾ اور یہ قید جو ہے وہ تو عورت میں ہوتی ہے دون الزوج، نہ کہ خاوند میں، ﴿أَلَا تَرَى أَنَّهَا هِيَ الْمَمْنُوعَةُ عَنْ التَّزَوُّجِ بِزَوْجٍ آخَرَ وَالْخُرُوجِ﴾ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ یہ عورت جو ہے ﴿هِيَ الْمَمْنُوعَةُ﴾ یہ منع کی گئی ہے ﴿عَنْ التَّزَوُّجِ بِزَوْجٍ آخَرَ﴾ کسی دوسرے خاوند سے نکاح سے۔ جب ایک شخص سے ایک عورت کا نکاح ہو چکا ہے تو عورت کسی اور سے نکاح نہیں کر سکتی۔ ﴿وَالْخُرُوجِ﴾ اور اسی طرح عورت جو ہے وہ منع کی گئی ہے کس سے؟ خروج سے، گھر سے نکلنے سے۔ توجہ ہے؟ تو کہتے ہیں: ﴿أَلَا تَرَى أَنَّهَا هِيَ الْمَمْنُوعَةُ عَنْ التَّزَوُّجِ بِزَوْجٍ آخَرَ وَالْخُرُوجِ﴾ کہ عورت جو ہے اسی کو منع کیا گیا ہے کسی دوسرے خاوند سے نکاح کرنے سے اور نکلنے سے۔ ﴿وَلَوْ كَانَ لِإِزَالَةِ الْمِلْكِ فَهُوَ عَلَيْهَا﴾ اگر امام شافعی رحمہ اللہ کی بات مان لیں، امام شافعی رحمہ اللہ کی بات انہوں نے کیا کہا تھا کہ طلاق کس چیز کا نام ہے؟ ازالۂ ملکِ نکاح اور ازالۂ حلت کا نام ہے۔ اگر آپ کی بات ہم مان لیں کہ طلاق ازالۂ ملکیت کا نام ہے، کس کا نام ہے؟ ازالۂ ملکیت کا نام ہے، اگر ہم آپ کی یہ بات مان لیں پھر بھی ملکیت عورت کے اوپر خاوند کی ہے، خاوند پر بیوی کی ملکیت نہیں ہے۔ چنانچہ اسی لیے، چنانچہ اسی لیے خاوند کو ناکح کہتے ہیں، خاوند کو کیا کہتے ہیں؟ ناکح، نکاح کرنے والا، اور عورت کو منکوحہ کہتے ہیں جس سے نکاح کیا گیا ہے۔ تو معلوم ہوا عورت منکوحہ ہے، مملوکہ ہے، اور خاوند ناکح ہے، مالک ہے۔ تو لہٰذا اگر آپ کی بات مان بھی لی جائے کہ طلاق ازالۂ ملکیت کا نام ہے تو ملکیت بھی تو عورت میں ہے، اسی لیے تو اس کو منکوحہ کہتے ہیں ورنہ تو اس کو بھی ناکحہ کہنا چاہیے تھا۔ توجہ ہے؟ لیکن اس پر اسمِ مفعول کا لفظ بولا جا رہا ہے، معلوم ہوا وہ مملوکہ ہے۔ جیسے مالک اور مملوک، تو دیکھو جو مملوک ہے اس پر اسمِ مفعول کا لفظ بولا جا رہا ہے مملوک، اسی طرح بیوی پر بھی منکوحہ اسمِ مفعول کا لفظ بولا جا رہا ہے، معلوم ہوا ملکیت کس کو حاصل ہے؟ خاوند کو حاصل ہے، توجہ ہے؟ تو کہتے ہیں: ﴿وَلَوْ كَانَ لِإِزَالَةِ الْمِلْكِ فَهُوَ عَلَيْهَا﴾ اور اگر یہ طلاق ازالۂ ملکیت کے لیے ہوتی تو ملکیت وہ بھی خاوند کی بیوی پر ہے، ﴿لِأَنَّهَا مَمْلُوكَةٌ وَالزَّوْجُ مَالِكٌ﴾ اس لیے کیونکہ عورت جو ہے وہ مملوکہ ہے اور خاوند مالک ہے، ﴿وَلِهَذَا سُمِّيَتْ مَنْكُوحَةً﴾ اور اسی لیے عورت کو منکوحہ کہتے ہیں۔ تو جب خاوند مالک ہے اور بیوی مملوکہ ہے تو اگر طلاق ازالۂ ملک کا نام ہے تو ملکیت تو عورت کے اوپر ہے، لہٰذا ازالۂ ملکیت کی نسبت بھی کس کی طرف ہونی چاہیے؟ عورت ہی کی طرف ہونی چاہیے، خاوند کی طرف نہیں بھئی۔ تو جب عورت پر ملکیت ہے تو ازالۂ ملکیت بھی عورت پر سے ہوگا۔ ملکیت کس پر ہے؟ عورت پر ہے تو ازالۂ ملکیت بھی عورت پر سے ہوگا، عورت پر سے ملکیت ختم ہوگی، لہٰذا طلاق یعنی ازالۂ ملکیت کی نسبت بھی عورت کی طرف ہی درست ہوگی، خاوند پر ملکیت نہیں ہے تو ازالۂ ملکیت کی نسبت بھی خاوند کی طرف صحیح نہیں ہے بھئی۔ ﴿بِخِلَافِ الْإِبَانَةِ﴾ ہاں ابانت کے لفظ، توجہ ہے؟ خاوند بیوی سے کہتا ہے: تو مجھ سے جدا ہے، یا خاوند کہتا ہے: میں تجھ سے جدا ہوں، دونوں صورتوں میں جدائی آ گئی۔ اسی طرح تحریم کے اندر بھی ہے، خاوند بیوی سے کہتا ہے: تو مجھ پر حرام ہے، یا اپنی طرف حرمت کی نسبت کرتا ہے: میں تجھ پر حرام ہوں، تو پھر دونوں صورتوں میں جدائی آ جائے گی۔ وجہ یہ ہے کہ یہاں دونوں اس میں ایک چیز میں شریک تھے تو اس میں دونوں کی طرف نسبت ہو سکتی ہے۔ وجہ دیکھو صاحبِ ہدایہ ذکر فرما رہے ہیں، کہتے ہیں: ﴿بِخِلَافِ الْإِبَانَةِ﴾ بخلاف ابانت کے یعنی جدائی کے، ﴿لِأَنَّهَا لِإِزَالَةِ الْوُصْلَةِ﴾ اس لیے کیونکہ ابانت جو ہے وہ جوڑ کو ختم کرنے کے لیے ہے، وصلۃ ص کے ساتھ ہے بھئی، وصلۃ جوڑ کو کہتے ہیں، جوڑ۔ اور دیکھو میاں بیوی کے درمیان نکاح ہے، یہ جوڑ ہے ان دونوں کے درمیان۔ یہ جو نکاح ہے یہ کس کا نام ہے؟ وصلۃ، جوڑ کا نام ہے، اور ابانت کسے کہتے ہیں؟ ابانت یعنی جدائی کرنا، یعنی اس جوڑ کو ختم کر دینا۔ اور جوڑ میاں بیوی دونوں کے درمیان تھا، جوڑ دونوں کے درمیان تھا، اور اسی جوڑ کو ختم کرنے کا نام ابانت ہے، لہٰذا ابانت کی نسبت عورت کی طرف بھی کی جا سکتی ہے اور مرد کی طرف بھی کیونکہ دونوں اس میں شریک تھے۔ اس جوڑ میں دونوں کیا تھے؟ شریک تھے، دونوں کے درمیان یہ نکاح والا جوڑ تھا، اور ابانت کا کیا معنی ہوتا ہے؟ اس جوڑ کو توڑنا، اس جوڑ کو توڑنا اور ختم کرنا، تو جب دونوں ایک جوڑ میں شریک ہیں تو ابانت کی نسبت مرد اور عورت دونوں کی طرف کی جا سکتی ہے۔ اور اسی طرح حرمت جو ہے، حرمت وہ نام ہے حلت کو ختم کرنا، اور حلت دونوں کے اندر موجود تھی، خاوند بیوی کے لیے حلال تھا تو بیوی خاوند کے لیے حلال تھی، اور اس حلت کو ختم کرنے کا نام تحریم ہے، حرام کرنا۔ تو یہاں بھی چونکہ حلت دونوں میں تھی تو تحریم کی نسبت بھی دونوں کی طرف کی جا سکتی ہے۔ خاوند یہ بھی کہہ سکتا ہے: تو مجھ پر حرام ہے، اور خاوند یہ بھی کہہ سکتا ہے: میں تجھ پر حرام ہوں، مآل دونوں کا ایک ہی ہوگا، جدائی آ جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ﴿بِخِلَافِ الْإِبَانَةِ لِأَنَّهَا لِإِزَالَةِ الْوُصْلَةِ وَهِيَ مُشْتَرَكَةٌ﴾ بخلاف جدائی کے اس لیے کیونکہ ابانت جو ہے وہ جوڑ کو ختم کرنے کے لیے ہے اور یہ جوڑ تو دونوں کے درمیان مشترک ہے، ﴿وَبِخِلَافِ التَّحْرِيمِ لِأَنَّهُ لِإِزَالَةِ الْحِلِّ وَهُوَ مُشْتَرَكٌ﴾ اور بخلاف تحریم کے کیونکہ تحریم جو ہے وہ حلت کو زائل کرنے کے لیے ہے اور یہ حلت بھی دونوں کے اندر مشترک ہے، ﴿فَصَحَّتْ إِضَافَتُهُمَا إِلَيْهِمَا﴾ لہٰذا ان دونوں کی نسبت دونوں کی طرف صحیح ہے۔ یہ تحریم اور ابانت کی نسبت دونوں کی طرف صحیح ہے، ﴿وَلَا تَصِحُّ إِضَافَةُ الطَّلَاقِ إِلَّا إِلَيْهَا﴾ لیکن طلاق کی نسبت جو ہے صرف عورت ہی کی طرف صحیح ہے بھئی، مرد کی طرف صحیح نہیں، کیونکہ طلاق وہ ازالۂ قید کا نام ہے اور قید صرف عورت میں ہوتی ہے خاوند میں نہیں۔ جبکہ ابانت وہ جوڑ کو توڑنے کا نام ہے اور جوڑ دونوں کے درمیان ہے، لہٰذا اس لیے اس میں دونوں شریک ہیں تو وہاں دونوں کی طرف نسبت ہو سکتی ہے۔ اسی طرح حرمت جو ہے وہ حلت کو ختم کرنے کا نام ہے اور حلت میں بھی دونوں مشترک ہیں بھئی، تو لہٰذا ابانت اور تحریم کی نسبت تو دونوں کی طرف ہو سکتی ہے لیکن طلاق کی نسبت صرف عورت کی طرف ہی ہو سکتی ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔