درس نمبر۔67 اَلْمَبْحَثُ الثَّانِي فِي أَقْسَامِ التَّشْبِيهِ: يَنْقَسِمُ التَّشْبِيهُ بِاعْتِبَارِ طَرَفَيْهِ إِلَى أَرْبَعَةِ أَقْسَامٍ: تَشْبِيهُ مُفْرَدٍ بِمُفْرَدٍ، نَحْوُ: هَذَا الشَّيْءُ كَالْمِسْكِ فِي الرَّائِحَةِ، وَتَشْبِيهُ مُرَكَّبٍ بِمُرَكَّبٍ، بِأَنْ يَكُونَ كُلٌّ مِنَ الْمُشَبَّهِ وَالْمُشَبَّهِ بِهِ هَيْئَةً حَاصِلَةً مِنْ عِدَّةِ أُمُورٍ۔ گزشتہ سبق میں ہم نے علم البیان پڑھنا شروع کیا تھا اور آپ نے پڑھا تھا کہ علمِ بیان جو ہے، اس کے اندر تشبیہ، مجاز اور کنایہ کے بارے میں بحث کی جائے گی۔ اور اس علم کی جو تعریف ہے وہ بھی میں نے آپ کے سامنے ذکر کی تھی کہ علمِ بیان اس علم کا نام ہے جس کے ذریعے ایک ہی معنی کو مختلف طریقوں سے ادا کرنے کا طریقہ آتا ہے بھئی۔ ایک ہی معنی کو مختلف طریقوں سے ادا کرنا، اور وہ طریقے مختلف ہوتے ہیں اس معنی پر دلالت کے اندر۔ بعض طریقوں کی دلالت اس معنی پر واضح ہوتی ہے، بعض کی اوضح، زیادہ واضح ہوتی ہے بھئی، اور بعض کی دوسروں کے مقابلے میں کم واضح ہوتی ہے۔ اس کے بعد تشبیہ کی تعریف انہوں نے کی تھی کہ: إِلْحَاقُ أَمْرٍ بِأَمْرٍ فِي وَصْفٍ بِأَدَاةٍ لِغَرَضٍ، ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ ملانا کسی وصف کے اندر بِأَدَاةٍ، ادات کے ذریعے، اداتِ تشبیہ کے ذریعے، لِغَرَضٍ، کسی مقصد کے لیے۔ اور آپ نے یہ بھی پڑھا تھا کہ ارکانِ تشبیہ چار ہیں، ارکانِ تشبیہ: مشبہ ہے، مشبہ بہ ہے، اور وجہِ تشبیہ ہے اور اداتِ تشبیہ ہے۔ اور ان میں سے جو مشبہ اور مشبہ بہ ہیں، ان کو تشبیہ کی طرفین کہتے ہیں، طَرَفَيِ التَّشْبِيهِ۔ اور مشبہ وہ ہے جس کو تشبیہ دی جائے، مشبہ بہ وہ جس کے ساتھ تشبیہ دی جائے۔ اور یہ دونوں طرفین یعنی مشبہ اور مشبہ بہ یا تو حسی ہوں گے یا عقلی ہوں گے یا مختلف ہوں گے، یعنی ایک حسی ہوگا اور ایک عقلی۔ حسی ہونے کا معنی یہ ہے کہ وہ مشبہ یا مشبہ بہ جو ہے اس کا ادراک حواسِ خمسہ ظاہرہ کے ذریعے ہو، یا وہ خود تو خیالی چیز ہے البتہ اس کے مادے کا ادراک کس کے ذریعے ہوتا ہے؟ حواسِ خمسہ ظاہرہ کے ذریعے، جبکہ مشبہ اور مشبہ بہ عقلی وہ ہیں جن کا ادراک حواسِ خمسہ ظاہرہ کے ذریعے نہ ہو، اسی طرح ان کے مادے کا ادراک بھی حواسِ خمسہ ظاہرہ کے ذریعے نہ ہو بھئی، نہ ہو۔ اور وجہِ تشبیہ آپ نے پڑھا تھا، وہ خاص وصف ہے جس کے اندر طرفین کے اشتراک کا ارادہ کیا جاتا ہے، اور اداتِ تشبیہ وہ لفظ ہے جو مشابہت کے معنی پر دلالت کرتا ہے۔ آج ہم دوسری بحث پڑھیں گے تشبیہ کی اقسام کے بارے میں۔ تو کہتے ہیں: اَلْمَبْحَثُ الثَّانِي فِي أَقْسَامِ التَّشْبِيهِ، دوسری بحث ہے تشبیہ کی اقسام کے بیان میں۔ يَنْقَسِمُ التَّشْبِيهُ بِاعْتِبَارِ طَرَفَيْهِ إِلَى أَرْبَعَةِ أَقْسَامٍ، تقسیم ہوتی ہے تشبیہ اپنے طرفین کے اعتبار سے چار اقسام کی طرف۔ تو اپنے طرفین یعنی مشبہ اور مشبہ بہ کے اعتبار سے تشبیہ کی چار قسمیں ہیں، اور وہ چار قسمیں اس طرح ہیں کہ مشبہ اور مشبہ بہ دونوں مفرد ہوں گے، یا دونوں کیا ہوں گے؟ مرکب ہوں گے، یا اول مرکب ہوگا ثانی مفرد ہوگا، یا اول مفرد ہوگا اور ثانی مرکب ہوگا۔ تو اس طرح یہ ان کی چار قسمیں بن جاتی ہیں بھئی، چار قسمیں۔ اب ان چاروں کو بیان کرنے لگے ہیں۔ سب سے پہلی قسم ہے: تَشْبِيهُ مُفْرَدٍ بِمُفْرَدٍ، مفرد کی تشبیہ مفرد کے ساتھ، یعنی مشبہ جو ہے وہ بھی مفرد ہے اور مشبہ بہ وہ بھی کیا ہے؟ مفرد ہے۔ نَحْوُ، مثال کے طور پر آپ کہتے ہیں: هَذَا الشَّيْءُ كَالْمِسْكِ فِي الرَّائِحَةِ، یہ چیز مشک کی طرح ہے فِي الرَّائِحَةِ، خوشبو میں۔ یہ چیز مشک کی طرح ہے۔ تو مشک آپ جانتے ہیں نہایت قیمتی خوشبو ہے، تو آپ ایک چیز کو اس کے ساتھ تشبیہ دیتے ہوئے کہتے ہیں: یہ چیز مشک جیسی ہے فِي الرَّائِحَةِ، کس کے اندر؟ خوشبو میں۔ هَذَا الشَّيْءُ، یہ چیز، دیکھیں کوئی مشبہ کسی چیز کی طرف آپ نے اشارہ کیا اور وہ مفرد ہے بھئی، کوئی چیز ایک چیز ہے وہ کیا ہے؟ مفرد ہے۔ اور یہ ہوا مشبہ، تو مشبہ مفرد، اور مشک جس کے ساتھ تشبیہ دے رہے ہیں وہ بھی کیا ہے؟ مفرد ہے، تو یہ ہوا مفرد کی تشبیہ مفرد کے ساتھ، یہ پہلی قسم ہوئی۔ وَتَشْبِيهُ مُرَكَّبٍ بِمُرَكَّبٍ، اور مرکب کی تشبیہ مرکب کے ساتھ، یہ دوسری قسم ہے، بِأَنْ يَكُونَ كُلٌّ مِنَ الْمُشَبَّهِ وَالْمُشَبَّهِ بِهِ هَيْئَةً حَاصِلَةً مِنْ عِدَّةِ أُمُورٍ، بایں صورت کہ مشبہ اور مشبہ بہ میں سے ہر ایک جو ہے هَيْئَةً حَاصِلَةً مِنْ عِدَّةِ أُمُورٍ، وہ ایسی ہیئت ہے، ایسی صورت ہے جو حاصل ہو رہی ہے کئی امور سے، کئی چیزوں سے۔ مشبہ بھی وہ ایک ہیئت کا نام ہے، ایک صورت ہے جو کئی چیزوں کے ملنے سے بن رہی ہے، اور مشبہ بہ بھی ایک ایسی صورت ہے جو کئی چیزوں کے ملنے سے بن رہی ہے، تو مشبہ بھی ہوا مرکب اور مشبہ بہ بھی کیا ہوا؟ مرکب۔ تو اس کو کہیں گے تشبیہ المرکب بالمرکب، مرکب کی تشبیہ مرکب۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ مفرد کی تشبیہ مفرد میں، اس میں مشبہ وہ کسی کوئی ہیئت نہیں تھی جو کئی چیزوں سے مل کر بن رہی تھی، بلکہ ایک چیز کی تشبیہ تھی کس چیز کے ساتھ؟ دوسری میں۔ لیکن مرکب کے اندر کیا ہوگا؟ کئی چیزوں کے ملنے سے ایک ہیئت اور ایک صورت حاصل ہوگی، اس صورت کو آپ تشبیہ دیں گے ایک ایسی ہی دوسری صورت کے ساتھ جو کئی چیزوں سے مل کر حاصل ہو رہی ہے۔ دیکھیے مثالوں سے وضاحت ہوگی: كَقَوْلِ بَشَّارٍ، جیسے بشار شاعر کا قول ہے: كَأَنَّ مُثَارَ النَّقْعِ فَوْقَ رُءُوسِنَا وَأَسْيَافَنَا لَيْلٌ تََهَاوَى كَوَاكِبُهُ كَأَنَّ مُثَارَ، آپ کی کتابوں میں میم پر فتحہ ہے بھئی؟ یہ کتابت کی غلطی ہے، مُثَارَ، میم پر ضمہ ہونا چاہیے، كَأَنَّ مُثَارَ النَّقْعِ۔ اور آخر میں میری کتاب میں ہے كَوَاكِبْ، كَوَاكِبْ نہیں ہے، كواکب کے ساتھ ہا ضمیر ملی ہونی چاہیے: كَوَاكِبُهُ، كَوَاكِبُهُ۔ تو شاعر کہتا ہے: كَأَنَّ مُثَارَ النَّقْعِ فَوْقَ رُءُوسِنَا وَأَسْيَافَنَا لَيْلٌ تََهَاوَى كَوَاكِبُهُ شاعر کسی جنگ کا منظر بیان کر رہا ہے کہ اس جنگ کے اندر تیز رفتار گھوڑے ادھر ادھر حرکت کے اندر ہیں اور ان کے گھوڑوں کے سموں سے اور ان کے کھروں کی وجہ سے اور ان کی حرکت کی وجہ سے زمین سے بڑا گرد و غبار اڑنے لگ پڑا، بڑا گرد و غبار۔ فضا میں ہر طرف گرد و غبار پھیل گیا، جنگ ہو رہی ہے، لڑائی ہو رہی ہے بھئی، اور اس غبار کے اندر لڑائی ہو رہی ہے تو تلواریں چمک رہی ہیں بھئی، تلواریں ادھر ادھر بے ترتیب حرکت ہے، کوئی ایک طرف تلوار مار رہا ہے کوئی دوسری طرف تلوار مار رہا ہے، تو اس گرد و غبار اور اس تاریکی کے اندر تلواریں چمک رہی تھیں۔ تو یہ ایسا ہی منظر تھا جیسے رات کے اندر ستارے ٹوٹ کر بہت سے ستارے ٹوٹ کر ادھر ادھر گر رہے ہوں بھئی۔ تو دیکھیے، رات کے وقت آپ نے اگر کبھی ستارہ ٹوٹتے ہوئے دیکھا ہو، شہابِ ثاقب بھئی، کہ آسمان پر ایک دم تیز ستارہ ایک حرکت کرتا ہوا نظر آتا ہے اور تھوڑی سی حرکت کے بعد وہ ختم ہو جاتا ہے، اور یہ تو آپ کبھی کبھار ایک آدھ کا مشاہدہ کر لیتے ہیں۔ بعض اوقات بعض جگہ بہت سے شہابِ ثاقب ٹوٹتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، آج کل تو اخبارات ہیں ان میں بھی بعض اوقات خبر آتی ہے کہ اس طرح کا واقعہ فلاں جگہ پیش آیا اور لوگ پھر اس کا مشاہدے کے لیے ماہرین بھی جمع ہوتے ہیں اور اس کو دیکھتے ہیں، تو وہ وہ آسمان پر بہت سے شہابِ ثاقب ٹوٹتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، کوئی ایک طرف جا رہا ہے، کوئی دوسری طرف جا رہا ہے، کوئی تیسری طرف جا رہا ہے، اور وہ ختم ہوتے ہیں اور نظر آتے ہیں، وہ ختم ہوتے ہیں اور نظر آنے لگتے ہیں بھئی، اس طرح ایک سلسلہ جاری ہوتا ہے۔ تو شاعر اپنی اس جنگ کے اندر اور جو گرد و غبار اڑا اور تاریکی چھا گئی، اس کے اندر جو تلواریں بے ترتیبی سے ادھر ادھر چمک رہی ہیں اور حرکت کر رہی ہیں، اس کو تشبیہ دے رہا ہے اس رات کے ساتھ جس کے اندر بہت سے شہابِ ثاقب ٹوٹ کر گر رہے ہوں بھئی۔ تو اب دیکھیے، اب یہاں پر تلواروں کی تشبیہ شہابِ ثاقب کے ساتھ صرف نہیں ہے، گرد کی تشبیہ صرف رات کے ساتھ نہیں ہے، بلکہ ایک ہیئت حاصل ہو رہی ہے۔ اس وہ گرد و غبار جو اڑا ہے، اس گرد و غبار کے اندر جو تلواریں بے ترتیبی سے حرکت کر رہی ہیں اور اس میں چمک رہی ہیں، یہ ایک ہیئت ہے، ایک صورت حاصل ہوئی اس سے۔ اس صورت کو تشبیہ دی کس کے ساتھ؟ ایسی رات کے ساتھ جس کے اندر بہت سے شہابِ ثاقب ٹوٹ کر گر رہے ہوں، تو اس ہیئت اور اس صورت کو اس ہیئت اور صورت کے ساتھ تشبیہ دی۔ اور آپ دیکھ رہے ہیں کہ مشبہ جس کو تشبیہ دی وہ بھی مرکب ہے کہ گرد و غبار اڑا ہوا ہے اور اس کے اندر تلواریں ادھر ادھر بے ترتیبی سے چمکتی ہوئی چمکتی ہوئی ادھر ادھر حرکت کر رہی ہیں بھئی، اور دوسری طرف مشبہ بہ وہ بھی مرکب ہے کہ رات کا منظر ہے اور اس میں شہابِ ثاقب بے ترتیبی سے مختلف سمتوں میں حرکت کرتے ہوئے جلتے ہوئے اور ختم ہوتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اور جیسے تلواروں کی بھی ایک تلواریں چمک رہی ہیں، ان کی ایک مخصوص لمبائی ہے، مخصوص کیا ہے؟ مخصوص لمبائی ہوتی ہے، نہ بہت زیادہ لمبی ہیں نہ بہت زیادہ چھوٹی ہیں، تلواروں میں فرق ہے، مختلف قسم کی ہیں۔ اسی طرح شہابِ ثاقب بھی کوئی تھوڑا سا زیادہ دور تک چمکتا ہوا دکھائی دیتا ہے، کوئی تھوڑا سا دکھائی دیتا ہے، اور کوئی کس طرف کو حرکت کر رہا ہے، کوئی کس طرف کو حرکت کر رہا ہے، تو دیکھو ایک مرکب ہیئت کو تشبیہ دی مرکب ہیئت کے ساتھ۔ اس کو کہتے ہیں تشبیہ المرکب بالمرکب۔ اس میں ایک چیز کو دوسری چیز سے نہیں تشبیہ دی گئی، ایک ہیئت کو، ہیئت جو صورت بن رہی ہے مختلف چیزوں کے ملنے سے اس صورت کو تشبیہ دی کس کے ساتھ؟ ایک دوسری ہیئت کے ساتھ، ایک دوسری حالت کے ساتھ جو مختلف چیزوں سے حاصل ہو رہی ہے۔ بات سب کو سمجھ میں آ گئی؟ اب شعر کا ترجمہ دیکھیے: كَأَنَّ، گویا کہ، مُثَارَ النَّقْعِ، نَقْعٌ کہتے ہیں عربی زبان میں غبار کو، گرد و غبار کو کیا کہتے ہیں؟ نَقْعٌ بھئی، اور مُثَارَ، مُثَارَ، أَثَارَ يُثِيرُ، أَثَارَ يُثِيرُ سے یہ اسمِ مفعول ہے۔ عربی زبان میں کہتے ہیں: أَثَارَ الْغُبَارَ، غبار کو اڑایا، اس نے غبار کو اڑایا، تو کہتے ہیں: أَثَارَ الْغُبَارَ۔ تو أَثَارَ يُثِيرُ کے معنی ہوتے ہیں اڑانے کے بھئی، برانگیختہ کرنا، تو أَثَارَ الْغُبَارَ کا معنی ہوا اس نے غبار کو اڑایا۔ اسی سے مُثَار اسمِ مفعول ہے، وہ غبار جس کو اڑایا گیا ہے، مُثَار اڑایا ہوا جس کو اڑایا گیا ہو۔ مُثَار کا کیا معنی؟ اڑایا ہوا، اور یہ صفت کی اضافت ہو رہی ہے موصوف کی طرف، یعنی یہ جَرْدُ قَطِيفَةٍ کی قبیل سے ہے، آپ علمِ نحو میں پڑھ چکے ہیں کہ بعض اوقات عربی زبان میں کیا کیا جاتا ہے؟ موصوف پہلے آتا ہے، صفت بعد میں آتی ہے، لیکن صفت کو اٹھا کر موصوف پر مقدم کر دیا جاتا ہے اور اس کی موصوف کی طرف اضافت کر دی جاتی ہے، کیا کر دی جاتی ہے؟ اضافت کر دی جاتی ہے، تو یہاں بھی ایسا ہے۔ یہ مُثَار صفت ہے نَقْعٌ کی: اَلنَّقْعُ الْمُثَارُ، وہ غبار جو اڑ رہا ہے، جو اڑایا گیا ہے بھئی۔ معنی سمجھ میں آیا؟ میں نے آپ کو بتلایا کہ یہ مُثَارَ النَّقْعِ اضافت ہے صفت کی موصوف کی طرف یعنی یہ جَرْدُ قَطِيفَةٍ کی قبیل سے ہے۔ کس قبیل سے ہے؟ تو شروحات میں یہ لفظ اسی طرح جب ائے گا مختلف جگہ پر، اگلی کتابیں آپ پڑھیں گے، حاشیہ پڑھ رہے ہوں گے، شرح دیکھ رہے ہوں گے، وہاں وہ یہ شارح یہ کہتا ہوا آگے نکل جائے گا کہ یہ جَرْدُ قَطِيفَةٍ کی قبیل سے ہے، بس، اور کچھ بھی نہیں کہے گا۔ آپ فوراً سمجھ جائیں یہ کیا بتلانا چاہتا ہے کہ یہ جو عبارت میں لفظ آ رہے ہیں، یہ اس میں کیا ہے؟ موصوف کی طرف کس کی اضافت ہو رہی ہے؟ صفت کی اضافت کی گئی ہے۔ تو شاعر کہتا ہے: كَأَنَّ مُثَارَ النَّقْعِ، گویا کہ وہ اڑایا ہوا غبار فَوْقَ رُءُوسِنَا، ہمارے سروں کے اوپر، یعنی وہ ہر طرف پھیلا ہوا تھا، وہ اڑتا وہ اڑایا ہوا غبار ہمارے سروں کے اوپر، وَأَسْيَافَنَا، یاد رکھیے یہ مفعول معہ ہے۔ مفعول معہ کسے کہتے ہیں؟ جو واو بمعنی مع کے بعد آئے۔ جَاءَ زَيْدٌ وَعَمْرًا، أَيْ مَعَ عَمْرٍو، زید آیا کس کے ساتھ؟ عمرو کے ساتھ، تو یہ واو بمعنی مع کے بعد جو آتا ہے اس کو مفعول معہ کہتے ہیں۔ تو گویا کہ وہ اڑتا ہوا غبار ہمارے سروں کے اوپر مَعَ أَسْيَافِنَا ساتھ ہماری تلواروں کے، وہ جو تھا، لَيْلٌ، گویا کہ ایک ایسی رات ہے، تَهَاوَى، تَهَاوَى يَتَهَاوَى کا معنی ہوتا ہے گرنا بھئی، ٹوٹ کر گرنا بھئی۔ تَهَاوَى كَوَاكِبُهُ، کہ ٹوٹ کر گر رہے ہوں اس کے ستارے۔ لَيْلٌ تَهَاوَى كَوَاكِبُهُ، ایسی رات کہ جس کے ستارے ٹوٹ کر گر رہے ہوں۔ كَأَنَّ مُثَارَ النَّقْعِ فَوْقَ رُءُوسِنَا وَأَسْيَافَنَا لَيْلٌ تَهَاوَى كَوَاكِبُهُ گویا کہ وہ اڑایا ہوا غبار ہمارے سروں کے اوپر ساتھ ہماری تلواروں کے، ایک ایسی رات تھا جس کے ستارے ٹوٹ کر گر رہے ہوں۔ فَإِنَّهُ شَبَّهَ هَيْئَةَ الْغُبَارِ وَفِيهِ سُيُوفٌ مُضْطَرِبَةٌ، ترجمے پہ نظر رکھنا: فَإِنَّهُ شَبَّهَ، اس شاعر نے کیا کیا ہے؟ تشبیہ دی ہے، کس کو؟ هَيْئَةَ الْغُبَارِ، یہ کیا ہیں آپس میں؟ مضاف مضاف الیہ، لیکن ہیئت کا ترجمہ میں آخر میں کروں گا۔ تشبیہ دی ہے شاعر نے کس کو؟ غبار اور وہ جو اس کے اندر مضطرب تلواریں تھیں، مضطرب بے ترتیب حرکت کرنے والی، غبار اور اس کے اندر جو مضطرب یعنی بے ترتیب حرکت کرتی ہوئی تلواریں تھیں ان کی ہیئت کو تشبیہ دی ہے، بِهَيْئَةِ اللَّيْلِ وَفِيهِ الْكَوَاكِبُ تَتَسَاقَطُ فِي جِهَاتٍ مُخْتَلِفَةٍ، کس کے ساتھ تشبیہ دی ہے؟ رات، آگے بھی بِهَيْئَةِ اللَّيْلِ مضاف مضاف الیہ ہے، ہیئت کا ترجمہ میں آخر میں کروں گا دیکھیے گا بھئی۔ اس غبار اور اس کے اندر بے چینی سے مضطرب طریقے سے حرکت کرتی ہوئی تلواروں کی ہیئت کو تشبیہ دی ہے رات اور اس کے اندر ستاروں کے مختلف جانب میں گرنے کی ہیئت کے ساتھ۔ اس ہیئت کو تشبیہ دی ہے اس ہیئت کے ساتھ، اور یہ ہیئت کس چیز کی تھی؟ کہ غبار تھا اور اس میں مضطرب تلواریں تھیں، تو غبار اور اس کے اندر مضطرب تلواروں کی ہیئت کو تشبیہ دی ہے، کس کے ساتھ؟ رات اور اس کے اندر مختلف جانب ٹوٹتے ہوئے ستاروں کی ہیئت کے ساتھ۔ ترجمہ سمجھ میں ایا بھئی؟ کہ نہیں سمجھ میں آیا؟ ایک ہیئت کو کیا کیا ہے؟ دوسری ہیئت کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔ تو دیکھیے: فَإِنَّهُ شَبَّهَ هَيْئَةَ الْغُبَارِ وَفِيهِ سُيُوفٌ مُضْطَرِبَةٌ، تو شاعر نے تشبیہ دی ہے غبار کی ہیئت کو اور اس کے اندر جو تلواریں تھیں مضطربۃ بے ترتیب حرکت کرتی ہوئی، تو اس غبار اور اس کے اندر جو تلواریں حرکت کر رہی تھیں ان کی ہیئت کو تشبیہ دی ہے بِهَيْئَةِ اللَّيْلِ، رات کی ہیئت کے ساتھ، اور اس کے اندر الْكَوَاكِبُ تَتَسَاقَطُ، ستارے جو ہیں وہ ٹوٹ کر گر رہے ہوں فِي جِهَاتٍ مُخْتَلِفَةٍ، مختلف جہتوں میں، مختلف جانبوں میں۔ وَتَشْبِيهُ مُفْرَدٍ بِمُرَكَّبٍ، تیسری قسم یہ ہے کہ مفرد کی تشبیہ دی جائے مرکب کے ساتھ، كَتَشْبِيهِ الشَّقِيقِ بِهَيْئَةِ أَعْلَامٍ يَاقُوتِيَّةٍ مَنْشُورَةٍ عَلَى رِمَاحٍ زَبَرْجَدِيَّةٍ۔ شقیق بھئی، شقیق کہتے ہیں گلِ لالہ کو۔ یہ ایک پھول ہے، سرخ رنگ کا ہوتا ہے اور عموماً پہاڑی علاقوں میں، تو سرخ رنگ کا ایک پھول ہے جسے جو مشہور ہے اور اسے کیا کہتے ہیں؟ گلِ لالہ بھئی۔ أَعْلَامٍ، جمع ہے عَلَمٌ کی، جھنڈے کو کہتے ہیں۔ اعلام جمع ہے علم کی، جھنڈے کو کہتے ہیں۔ يَاقُوتِيَّةٍ، یاقوتی جھنڈے، یاقوت بھئی یہ ایک قیمتی پتھر ہے اور یہ مختلف رنگوں کا ہوتا ہے لیکن ان میں سب سے زیادہ مشہور جو ہے وہ سرخ رنگ کا ہے اور وہی یہاں مراد ہے۔ سرخ اعلامِ یاقوتی، کیا معنی یاقوتی جھنڈے؟ یعنی سرخ رنگ کے یاقوت کے جھنڈے۔ مَنْشُورَةٍ، پھیلائے گئے ہیں، عَلَى رِمَاحٍ، رماح جمع ہے رُمْحٌ کی اور رمح کہتے ہیں نیزے کو، نیزے کو۔ زَبَرْجَدِيَّةٍ، زَبَرْجَدْ بھئی یہ بھی ایک قیمتی پتھر ہے اور یہ بھی مختلف رنگوں میں ہوتا ہے لیکن اس میں سب سے مشہور جو ہے وہ سبز رنگ کا ہے بھئی، کس رنگ کا ہے؟ سبز رنگ کا ہے، وہ عام پایا جاتا ہے زیادہ مشہور ہے۔ شاعر نے تشبیہ دی ہے: كَتَشْبِيهِ الشَّقِيقِ، جیسے کہ گلِ لالہ کی تشبیہ بِهَيْئَةِ أَعْلَامٍ يَاقُوتِيَّةٍ مَنْشُورَةٍ عَلَى رِمَاحٍ زَبَرْجَدِيَّةٍ، کس چیز کی ہیئت کے ساتھ؟ یاقوتی جھنڈے جو پھیلائے گئے ہوں زبرجد کے نیزوں پر۔ یاقوتی جھنڈے جو کس پر پھیلائے گئے ہوں؟ زبرجد کے نیزوں پر۔ نیزے سے مراد یہ ہے، یعنی وہ ڈنڈا جس پر جھنڈا لگایا جاتا ہے، سمجھ میں آیا؟ وہ بھی نیزے کی صورت کا ہوتا ہے، تو وہ مراد ہے۔ تو جیسے بھئی زبرجد، یوں کہیں زبرجد کے ڈنڈوں پر یاقوت کے جھنڈے لہرا رہے ہوں۔ اس کے ساتھ تشبیہ دی، کس نے؟ کس چیز کو؟ گلِ لالہ کو تشبیہ دی جائے، گلِ لالہ کو۔ تو یہ ایک دراصل شعر کا ایک شعر کو جو ہے انہوں نے نثر کی صورت کر دے دی ہے اس کو، جس میں شاعر نے یہ تشبیہ بیان کی تھی۔ شاعر کہتا ہے اس شعر کے اندر کہ بہت سے گلِ لالہ جو ہیں وہ تیز ہوا میں یوں لہلہا رہے ہیں، بھئی تیز ہوا چلتی ہے وہ گلِ لالہ کے پھول جو ہیں وہ تیز ہوا کی وجہ سے کبھی جھکتے ہیں، کبھی سیدھے ہوتے ہیں، کبھی جھکتے ہیں اور کبھی سیدھے، تو یہ شاعر کہتا ہے یہ اسی طرح ہے جیسے یاقوتی جھنڈے، یعنی یوں کہیں جھنڈیاں، یہاں پھول چھوٹا ہے تو اس کے مطابق ترجمہ کر لیں، جیسے یاقوتی سرخ رنگ کی جھنڈیاں وہ سبز رنگ کے زبرجد کے نیزوں پر لہرا رہی ہوں۔ بھئی دیکھیے پھول تو ہوا سرخ رنگ کا اور پھول کی ڈنڈی جو ہے وہ کس رنگ کی ہے؟ سبز رنگ کی، تو اس کو تشبیہ دی کس کے ساتھ؟ یاقوتی جھنڈیاں جو ہیں وہ ان کے اوپر کا حصہ کس رنگ کا ہوا؟ سرخ رنگ، اور وہ زبرجد کے نیزے ہیں تو ان کے ڈنڈے کس قسم کے ہوئے؟ سبز رنگ کے، تو اس کے ساتھ اس کی تشبیہ بیان کی ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ تشبیہ ہے دیکھو گلِ لالہ کی، اور گلِ لالہ وہ مفرد ہے، گلِ لالہ کیا ہے؟ مفرد، اور اس کو تشبیہ کس کے ساتھ دی؟ ایسی جھنڈیوں کے ساتھ جس کے نیزے کس کے ہوں؟ زبرجد کے، اور اوپر جھنڈیاں کس چیز کی ہوں؟ یاقوت کی ہوں، تو دیکھو ایک مرکب ہیئت کے ساتھ تشبیہ دی، تو مفرد کو تشبیہ دی کس کے ساتھ؟ مرکب کے ساتھ، تو مشبہ مفرد ہے اور مشبہ بہ ایک ہیئت ہے جو کئی چیزوں سے مل کر بن رہی ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی۔ وَتَشْبِيهُ مُرَكَّبٍ بِمُفْرَدٍ، اور چوتھی قسم جو اس کا عکس ہے، یہاں تو تھا مفرد کی تشبیہ تھی مرکب کے ساتھ، اب مرکب کی تشبیہ ہوگی کس کے ساتھ؟ مفرد کے ساتھ۔ نَحْوُ قَوْلِهِ، جیسے ایک شاعر کا قول ہے: يَا صَاحِبَيَّ تَقَصَّيَا نَظَرَيْكُمَا تَرَيَا وُجُوهَ الْأَرْضِ كَيْفَ تُصَوَّرُ تَرَيَا نَهَارًا مُشْمِسًا قَدْ شَابَهُ زَهْرُ الرُّبَا فَكَأَنَّمَا هُوَ مُقْمِرُ يَا صَاحِبَيَّ، اصل میں تھا صَاحِبَيْنِ اور آخر میں یا متکلم کی آ گئی، صاحبين تثنیہ تھا اور نون پھر اضافت سے گر گیا تو کیا بن گیا؟ صَاحِبَيَّ، اے میرے دو ساتھیو! صاحب کس کو کہتے ہیں؟ ساتھی کو۔ يَا صَاحِبَيَّ، اے میرے دو ساتھیو! تَقَصَّيَا نَظَرَيْكُمَا، تَقَصَّى کا معنی ہوتا ہے بات کی تہہ تک پہنچنا، کھوج لگانا، سراغ لگانا۔ تَقَصَّيَا، تم دونوں کھوج لگاؤ، نَظَرَيْكُمَا، یہ پھر تثنیہ آ گیا، نَظَرَيْنِ، نون اضافت کی وجہ سے گر گیا۔ تو تَقَصَّى کا معنی ہے کھوج لگانا، تہہ تک پہنچنا، یہاں مراد ہے گہری نظر ڈالنا، کیا معنی ہے؟ گہرا، یعنی گہرا کرنا۔ تَقَصَّيَا نَظَرَيْكُمَا، اے میرے دو ساتھیو! تم ذرا گہری کرو نَظَرَيْكُمَا، اپنی نظروں کو۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ اے میرے دو ساتھیو! تم گہری کرو نَظَرَيْكُمَا، اپنی نظروں کو، اور یہ شاعر خطاب کر رہا ہے اپنی ہی آنکھوں کو، کس کو خطاب کر رہا ہے؟ اپنی ہی آنکھوں سے کہہ رہا ہے: اے میرے دو ساتھیو! یعنی اے میری دو آنکھو! تَقَصَّيَا نَظَرَيْكُمَا، تم ذرا اپنی نگاہیں گہری ڈالو، تم کیا کرو؟ تَقَصَّيَا، تم ذرا گہری کرو نَظَرَيْكُمَا، اپنی نگاہوں کو، اپنی نظروں کو۔ تَرَيَا، تو تم دیکھو گے، یہاں نون گر گیا کیونکہ یہ جوابِ امر ہے، کیا ہے؟ آپ جانتے ہیں جوابِ امر بھی مجزوم ہوتا ہے، مجزوم ہوتا ہے۔ تو تَقَصَّيَا، یہ امر کا صیغہ آیا، اور تَرَيَانِ، یہ نون آتا ہے مضارع کے اندر لیکن یہاں نون گر گیا کیونکہ یہ جوابِ امر ہے۔ تو تَرَيَا، تو تم دیکھو گے تم دونوں، وُجُوهَ الْأَرْضِ، زمین کے چہروں کو۔ زمین کے چہروں سے مراد زمین کی جگہیں ہیں، آبادیاں ہیں، بستیاں ہیں، کیا مراد ہیں؟ زمین کی جگہیں اور بستیاں وغیرہ مراد ہیں۔ تو تم دیکھو گے زمین کی جگہوں کو، كَيْفَ تُصَوَّرُ، کہ اس نے کہ وہ کیسی صورتیں اختیار کرتی ہیں، زمین کی جگہیں كَيْفَ تُصَوَّرُ، وہ کیسی صورتیں اختیار کرتی ہیں۔ تُصَوَّرُ، یاد رکھیے یہ مضارع کا صیغہ ہے اور ایک تا گر گئی اس میں، اصل میں تھا تَتَصَوَّرُ، کیا تھا؟ تَتَصَوَّرُ، اور آپ نے علمِ صرف میں ضابطہ پڑھا ہے کہ فعلِ مضارع کے شروع میں جب دو تا مفتوحہ اکٹھی ہو جائیں تو ایک کو گرانا جائز ہے۔ جب مضارع کے شروع میں کیا آ جائیں؟ دو تا آئیں، دو، اور وہ دونوں کیا ہوں؟ مفتوح ہوں یعنی دونوں پر زبر ہو، تو پھر ایک کو گرانا جائز ہے، تو یہاں بھی تَتَصَوَّرُ، دو تا آ گئی تھیں اور دونوں مفتوح تھیں تو ایک کو حذف کر لیا گیا۔ جیسے قرآن میں بھی ہے: تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ، تو وہاں مفسرین حضرات آپ کو بتاتے ہیں کہ تَنَزَّلُ اصل میں کیا تھا؟ تَتَنَزَّلُ تھا بھئی۔ تو تَرَيَا، تم دونوں دیکھو گے، وُجُوهَ الْأَرْضِ كَيْفَ تُصَوَّرُ، زمین کے چہروں کو کہ وہ کیسی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ تو یہاں ایک تا گر گئی، جیسے اوپر والے شعر میں: تََهَاوَى اصل میں تھا تَتَهَاوَى، تََهَاوَى کیا تھا؟ تَتَهَاوَى، وہاں بھی ایک تا گری ہے۔ تَرَيَا وُجُوهَ الْأَرْضِ كَيْفَ تُصَوَّرُ، اے میرے دو ساتھیو! تم ذرا گہری کرو اپنی نگاہوں کو تو تم دونوں دیکھو گے زمین کی جگہوں کو وہ کیسی صورت اختیار کرتی ہیں: تَرَيَا نَهَارًا مُشْمِسًا بھئی مُشْمِسًا، مُشْمِسٌ ہے بھئی لفظ۔ مُشَمِّسٌ یا مُشَمَّسٌ یہ کتابت کی غلطی ہے، مُشَمَّسٌ نہیں لفظ بھئی۔ أَشْمَسَ النَّهَارُ، عربی میں کہتے ہیں: أَشْمَسَ النَّهَارُ، جب خوب سورج والا دن ہو، یعنی بادل وغیرہ نہ ہوں، دھوپ کھلی ہو، تو کہتے ہیں: أَشْمَسَ النَّهَارُ، سمجھ میں آیا بھئی؟ اور شَمَّسَ يُشَمِّسُ کے معنی تو دھوپ لگانے کے ہوتے ہیں، دھوپ لگانا یہاں نہیں، دھوپ والا یا سورج والا دن مراد ہے۔ تَرَيَا نَهَارًا، بھئی دیکھیے، یہاں شاعر تشبیہ دے رہا ہے ایک سورج والے دن کی جس میں سورج نکلا ہوا ہے، بادل نہیں ہے، اور سورج کی روشنی سبزے کے ساتھ مل کر کم پڑ گئی تو گویا یہ ایک چاندنی رات کی طرح ہے، کس کی طرح؟ بھئی دیکھیے، دھوپ تیز بھی ہو لیکن اگر ہر طرف گہرا سبز سبزہ چھایا ہوا ہو، تو وہ سبزہ بھی جب خوب گہرا ہو تو کچھ سیاہی مائل ہوتا ہے، کیا ہوتا ہے؟ کچھ سیاہ کچھ سیاہی کی جانب مائل ہوتا ہے جتنا گہرا سبزہ ہو، تو خوب گہرا سبزہ ہر طرف چھایا ہوا ہو تو اس کے اندر وہ دھوپ کی تیزی بھی کچھ کم معلوم ہوتی ہے، دھوپ کی تیزی بھی کچھ کم معلوم، اثر پڑتا ہے یا نہیں پڑتا بھئی؟ ایک صاف زمین ہے یا ریت والے ریت والے میدان میں کھڑے ہیں یا کھلے میدان میں کھڑے ہیں وہاں سبزہ نہیں، وہاں دھوپ کے کی روشنی تیز لگے گی، اور جب ہر طرف گہرا سبز سبزہ چھایا ہو تو یقیناً اس سے دھوپ کی تیزی بھی کچھ کم معلوم ہوتی ہے۔ تو شاعر کہتا ہے کہ اے میری دو آنکھو! تم ذرا گہری نظر ڈالو، تمہیں زمین کی جگہیں کیسی صورت اختیار کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں، اور تم دیکھو گی کہ تیز دن والا تیز دھوپ والا دن جو ہے، جب وہ مل جاتا ہے گہرے سبزے کے ساتھ، تو وہ بھی چاندنی رات کی طرح معلوم ہوتا ہے، کس کی طرح؟ تو دیکھو دھوپ تیز ہے اور ہر طرف کیا چھایا ہوا ہے؟ گہرا سبز سبزہ چھایا ہوا ہے، اس میں وہ دھوپ کی تیزی کم ہو گئی، اس کو تشبیہ دے دی شاعر نے کس کے ساتھ؟ چاندنی رات کے ساتھ، جیسے تو یہ یہ بھی اسی طرح ہے گویا جیسے اس میں ہر طرف کچھ تاریکی چھائی ہوتی ہے اور چاند نکلا ہوتا ہے، تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے جیسے کچھ تاریکی سی ہے اور اس میں سورج نکلا ہوا ہے چاند کی طرح بھئی۔ تشبیہ سمجھ میں آئی بھئی؟ تو کہتا ہے: تَرَيَا نَهَارًا مُشْمِسًا، تم دونوں دیکھو گے نَهَارًا مُشْمِسًا، سورج والے دن کو، قَدْ شَابَهُ، شَابَ يَشُوبُ کا معنی ہوتا ہے مل جانا، مخلوط ہو جانا۔ قَدْ شَابَهُ، کہ وہ سورج والا دن جو ہے وہ مل گیا ہے، کس کے ساتھ ملا ہے؟ زَهْرَ الرُّبَا، یہ مفعول ہے شاب کے لیے، یہ دن مل گیا ہے کس کے ساتھ؟ زَهْرَ الرُّبَا، زَهْرٌ اور زَهَرٌ یہ پھول کو کہتے ہیں، زَهْرٌ کسے کہتے ہیں؟ پھول کو، لیکن یہاں مراد سبزہ ہے۔ یہاں کیا مراد ہے؟ سبزہ مراد ہے، اور الرُّبَا، رُبَا جمع ہے رَبْوَةٌ کی، اور ربوۃ کہتے ہیں اونچی جگہ کو، ٹیلے کو، ٹیلے کو۔ زَهْرَ الرُّبَا، کیا معنی ہوا؟ ٹیلوں کا جو سبزہ ہے۔ زہر کس معنی میں ہے یہاں؟ سبزے کے، زہر ویسے تو پھول کو کہتے ہیں لیکن یہاں مجازاً کس معنی میں استعمال کیا شاعر نے؟ سبزے کے معنی میں استعمال کیا۔ تو کہتے ہیں: تَرَيَا نَهَارًا مُشْمِسًا قَدْ شَابَهُ زَهْرُ الرُّبَا، تم دونوں دیکھو گے کہ تیز دھوپ والا دن جو ہے، تیز سورج والا دن جو ہے، قَدْ شَابَهُ زَهْرُ الرُّبَا، کہ وہ مل گیا ہے ٹیلوں کے سبزے کے ساتھ، بلند جگہوں کے سبزے کے ساتھ وہ دن مل گیا ہے، فَكَأَنَّمَا هُوَ مُقْمِرُ، لَيْلٌ مُقْمِرٌ کہتے ہیں چاند والی رات کو، لَيْلٌ مُقْمِرٌ، چاند۔ فَكَأَنَّمَا هُوَ مُقْمِرُ، تو گویا کہ وہ دن جو ہے مُقْمِرُ، چاند والا ہے، یعنی وہ چاند والی رات ہے، چاندنی رات ہے، گویا کہ وہ چاندنی رات ہے۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ اب دوبارہ ترجمہ دیکھ لیجیے: يَا صَاحِبَيَّ تَقَصَّيَا نَظَرَيْكُمَا تَرَيَا وُجُوهَ الْأَرْضِ كَيْفَ تُصَوَّرُ تَرَيَا نَهَارًا مُشْمِسًا قَدْ شَابَهُ زَهْرُ الرُّبَا فَكَأَنَّمَا هُوَ مُقْمِرُ اے میرے دو ساتھیو! تم ذرا اپنی نگاہوں کو گہرا ڈالو، تَرَيَا، تو تم دیکھو گے، وُجُوهَ الْأَرْضِ كَيْفَ تُصَوَّرُ، کہ زمین کی جگہیں جو ہیں وہ کیسی صورت اختیار کرتی ہیں، تَرَيَا نَهَارًا مُشْمِسًا، تم دیکھو گے کہ دھوپ والا دن جو ہے، سورج والا دن جو ہے، قَدْ شَابَهُ زَهْرُ الرُّبَا، وہ تحقیق مل گیا ہے ٹیلوں کے سبزے کے ساتھ، فَكَأَنَّمَا هُوَ مُقْمِرُ، تو گویا کہ وہ چاندنی رات ہے، گویا کہ وہ چاندنی رات ہے۔ تو اب دیکھیے بھئی، مشبہ، مشبہ کیا ہے؟ دن ہو جس کے اندر دھوپ نکلی ہوئی ہے، سورج نکلا ہوا ہے، بادل نہیں ہے، اور یہ سورج والا دن کس کے ساتھ ملا؟ بلندی کے، بلند جگہ کے سبزے کے ساتھ ملا، اس سے ایک مرکب ہیئت حاصل ہوئی ان ساری چیزوں سے، اس کو تشبیہ دے دی چاندنی رات کے ساتھ۔ تو یہ مشبہ ہوا مرکب اور مشبہ بہ ہے چاندنی رات، وہ کیا ہے؟ مفرد ہے، تو مرکب کو تشبیہ دی گئی مفرد کے ساتھ۔ دیکھیے خود تشریح کر رہے ہیں: فَإِنَّهُ شَبَّهَ هَيْئَةَ النَّهَارِ الْمُشْمِسِ، یہاں بھی مشمس لفظ ہونا چاہیے بھئی، یہ مشمس غلطی ہے کتابت کی، فَإِنَّهُ شَبَّهَ هَيْئَةَ النَّهَارِ الْمُشْمِسِ، پس شاعر نے تشبیہ دی ہے وہ سورج والے دن کی ہیئت کو الَّذِي اخْتَلَطَتْ بِهِ أَزْهَارُ الرَّبَوَاتِ، جس کے ساتھ مل گئی ہیں کیا مل گئے ہیں اس کے ساتھ؟ أَزْهَارُ الرَّبَوَاتِ، ازہار وہی زہر کی جمع ہے، مراد کیا ہے؟ سبزہ، بلند جگہوں کے سبزے کے ساتھ وہ دن سورج والا دن جو مل گیا ہے بلند ٹیلوں کے سبزے کے ساتھ، اس کی تشبیہ دی ہے بِاللَّيْلِ الْمُقْمِرِ، کس کے ساتھ؟ چاندنی رات کے ساتھ۔ جی، یہ تو ایک تقسیم تھی کہ تشبیہ طرفین یعنی مشبہ اور مشبہ بہ کے اعتبار سے کتنی قسم کی ہوئی؟ چار قسم کی ہوئی، پہلی تقسیم تھی، اور چار صورتیں کیا تھیں؟ کہ مفرد کی تشبیہ مفرد کے ساتھ ہوگی، یا مرکب کی تشبیہ مرکب کے ساتھ ہوگی، یا تیسری صورت: مفرد کی تشبیہ مرکب کے ساتھ، یا مرکب کی تشبیہ مفرد کے ساتھ، یہ چار صورتیں ہوئیں۔ اب دوسری تقسیم کر رہے ہیں، کہتے ہیں: وَيَنْقَسِمُ بِاعْتِبَارِ الطَّرَفَيْنِ أَيْضًا إِلَى مَلْفُوفٍ وَمَفْرُوقٍ، اور تشبیہ تقسیم ہوتی ہے طرفین ہی کے اعتبار سے ملفوف اور مفروق کی طرف بھئی، یہ دو اور قسمیں بیان کر رہے ہیں۔ بھئی دیکھیے، دوسری تقسیم یہ ہے کہ آپ ایک کلام کرتے ہیں، ادھر توجہ کیجیے، آپ ایک کلام کرتے ہیں، آپ اس کلام میں ایک مشبہ اور ایک مشبہ بہ لائیں ایسا نہیں، بلکہ مشبہ بھی ایک سے زیادہ اور مشبہ بہ بھی ایک سے زیادہ، یعنی دو یا تین یا چار چیزیں ذکر کرتے ہیں اور ان کی تشبیہ دیتے ہیں اتنی ہی چیزوں کے ساتھ۔ جتنے مشبہ لا رہے ہیں اتنے ہی مشبہ بہ، مشبہ بہ۔ تو اس کی دو صورتیں ہیں پھر، دو صورتیں۔ ایک صورت یہ، آپ مثلاً دو یا تین مشبہ ہیں اور کتنے ہی مشبہ بہ ہیں؟ وہ بھی دو تین ہی ہیں، ایک مشبہ کے لیے ایک مشبہ بہ ہے، دوسرے کے لیے دوسرا ہے، تیسرے کے لیے تیسرا، تو ایک صورت ذکر کی یہ ہے کہ آپ پہلے سارے مشبہ اکٹھے ذکر کر دیتے ہیں، پھر ترتیب سے ہر ایک کے مشبہ بہ کو ذکر کر دیتے ہیں، تو یہ ہے تشبیہ ملفوف۔ لَفٌّ کے معنی ہوتے ہیں لپیٹنا کے، آپ نے کئی تشبیہوں کو لپیٹ دیا، اکٹھا کر دیا، کس طرح اکٹھا کیا؟ یعنی سارے مشبہ اکٹھے کر دیے ان کو لپیٹ دیا، پھر سارے مشبہ بہ اکٹھے کر دیے ان کو لپیٹ دیا۔ ہونا تو کس طرح چاہیے تھا؟ مشبہ آیا تو ساتھ ہی اس کا مشبہ بہ ہونا چاہیے، پھر دوسرا مشبہ آیا تو ساتھ ہی کیا ہونا چاہیے؟ اس کا مشبہ بہ، پھر تیسرا مشبہ ائے تو ساتھ ہی اس کا کیا انا چاہیے؟ اس کا مشبہ بہ، لیکن آپ یوں نہیں کرتے، آپ مشبہ نکال کر سارے پہلے لے آتے ہیں، ایک مشبہ ذکر ساتھ ہی دوسرا مشبہ ذکر اور اگر اور ہیں تو ساتھ ہی مثلاً تیسرا بھی مشبہ ذکر، اور پھر اس کے بعد مشبہ بہ سارے اکٹھے جمع کر دیتے ہیں، تو آگے مشبہ بہ اکٹھے لاتے ہیں، پہلے پہلے والے مشبہ کے لیے مشبہ بہ لاتے ہیں، پھر دوسرے والے کے لیے مشبہ بہ لاتے ہیں، پھر تیسرے والے کے لیے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ یہ تشبیہ ملفوف ہے، لَفٌّ کا معنی لپیٹنا، آپ نے بھی سارے مشبہ لپیٹ کر اکٹھے کر دیے اور سارے مشبہ بہ لپیٹ کر اکٹھے کر دیے۔ اور دوسری قسم ہے تشبیہ مفروق، اس میں ساری تشبیہات کو آپ الگ الگ رکھتے ہیں، اس میں بھی یہی ہے، لیکن اس میں آپ یوں کرتے ہیں: پہلا مشبہ لائے تو ساتھ ہی اس کے ساتھ ہی اس کا مشبہ بہ بھی لے آئے، دوسرا مشبہ لائے تو ساتھ ہی اس کا کیا لے آئے؟ مشبہ بہ بھی لے آئے، تیسرا مشبہ لائے تو ساتھ ہی اس کے کیا لے آئے؟ تیسرا مشبہ بہ بھی لے آئے، فرق سمجھ میں ایا دونوں میں؟ تو یہ یہ معنی ہے: وَيَنْقَسِمُ بِاعْتِبَارِ الطَّرَفَيْنِ أَيْضًا إِلَى مَلْفُوفٍ وَمَفْرُوقٍ، اور تشبیہ تقسیم ہوتی ہے طرفین ہی کے اعتبار سے ملفوف اور مفروق کی طرف، فَالْمَلْفُوفُ: أَنْ يُؤْتَى بِمُشَبَّهَيْنِ أَوْ أَكْثَرَ ثُمَّ بِالْمُشَبَّهِ بِهَا، تو ملفوف تشبیہ یہ ہے کہ لایا جائے بِمُشَبَّهَيْنِ، کتنوں کو؟ کم از کم دو، دو مشبہ کو، أَوْ أَكْثَرَ، یا دو سے زیادہ مشبہ کو لایا جائے، ثُمَّ بِالْمُشَبَّهِ بِهَا، پھر ان کے مشبہ بہ کو آخر میں لایا جائے اکٹھا۔ نَحْوُ، مثال کے طور پر: كَأَنَّ قُلُوبَ الطَّيْرِ رَطْبًا وَيَابِسًا لَدَى وَكْرِهَا الْعُنَّابُ وَالْحَشَفُ الْبَالِي شاعر عقاب کی تعریف کر رہا ہے، امرؤ القیس بھئی۔ عقاب، شکاری پرندہ آپ جانتے ہیں، عقاب کی تعریف بیان کر رہا ہے کہ وہ بہت زیادہ پرندوں کا شکار کرنے والا ہے اور اگر آپ اس کے گھونسلے کے پاس چلے جائیں تو آپ دیکھیں گے کہ اس کے گھونسلے کے پاس پرندوں کے جو دل ہیں بکھرے پڑے ہیں۔ پرندوں کے دل بکھرے پڑے ہیں، یہ پرندے شکار کر کے لاتا ہے اور باقی گوشت وغیرہ تو ان کا کھا جاتا ہے، وہ دل وغیرہ کچھ حصے جو ہیں وہ وہاں بکھرے پڑے ہیں اس کے گھونسلے کے پاس۔ اب وہ ان کی تشبیہ بیان کر رہا ہے کہ کچھ دل ترو تازہ ہیں، یعنی نیا نیا ان کو اس نے شکار شکار کو کھایا ہے، اور کچھ تو پرانے ہو چکے، پرانے ہو گئے، خشک ہو گئے ہیں، تو یہ جو تازہ دل ہیں یہ عناب کی طرح ہیں، کس کی طرح؟ عناب، عناب یہ ایک بیر کی طرح یا زیتون کی طرح کا ایک پھل ہے پودے کا اور یہ سرخ رنگ کا ہوتا ہے بھئی، اور اس کو مختلف دوائیوں وغیرہ میں بھی استعمال کرتے ہیں، ویسے بھی کھاتے ہیں اور دوائیوں وغیرہ میں بھی استعمال کرتے ہیں، تو اس کو کہتے ہیں عناب۔ تو شاعر کہتا ہے: یہ جو تازہ دل ہیں یہ عناب کی طرح ہیں، اور جو خشک دل ہیں جو پرانے ہو چکے وہ خشک ردی کھجور کی طرح ہیں، کس کی طرح ہیں؟ خشک ردی کھجور کی طرح۔ تو تشبیہ سمجھ میں آئی؟ کہ اس کے گھونسلے کے پاس خشک اور تازہ دل بکھرے پڑے ہیں اور وہ یوں معلوم ہوتا ہے جیسے کہ عناب اور ردی کھجوریں ہوں، عناب اور ردی کھجوریں ہوں۔ تو دیکھیے: كَأَنَّ قُلُوبَ الطَّيْرِ، گویا کہ پرندوں کے جو دل ہیں، رَطْبًا وَيَابِسًا، رَطْبٌ، تر یعنی ترو تازہ، وَيَابِسًا، اور خشک جو ہیں، تو گویا کہ پرندوں کے دل جو ہیں ترو تازہ اور خشک جو ہیں، یا یوں کہیں گیلے تر بھئی، تر اور خشک جو ہیں، لَدَى وَكْرِهَا، لَدَى کا معنی پاس، عِنْدَ کے معنی میں، وَكْرِهَا، وَكْرٌ کہتے ہیں گھونسلے کو، لَدَى وَكْرِهَا، اس عقاب کے گھونسلے کے پاس، اَلْعُنَّابُ، وہ کیا ہیں؟ عناب ہیں، عناب وہ پھل جو میں نے بتایا، وَالْحَشَفُ الْبَالِي، اور بوسیدہ ردی کھجوریں ہیں۔ حَشَفٌ، حَشَفٌ وہ کھجور جو سب سے ردی کھجور ہوتی ہے۔ بھئی یہ وہ کھجور ہے جو پکنے سے پہلے ہی درخت پر سوکھ جائے، جو پکنے سے پہلے ہی درخت پر سوکھ جائے، تو نہ اس میں مٹھاس ہوتی ہے نہ اس کے اندر گھٹلی بنی ہوتی ہے، اوپر ہی بننے سے پہلے ہی یہ کیا ہو گئی؟ پکنے سے پہلے ہی خراب ہو گئی، تو یہ سب سے ردی کھجور ہوتی ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ حشف۔ اور اَلْبَالِي، بالی کا معنی گلی ہوئی، بوسیدہ۔ بَلِيَ يَبْلَى کا معنی ہوتا ہے بوسیدہ ہونا، بوسیدہ ہونا، تو اَلْحَشَفُ الْبَالِي، وہ جو بوسیدہ ردی کھجور، سب سے ردی کھجوریں ہیں۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ تو شاعر کہتا ہے: كَأَنَّ قُلُوبَ الطَّيْرِ رَطْبًا وَيَابِسًا لَدَى وَكْرِهَا الْعُنَّابُ وَالْحَشَفُ الْبَالِي گویا کہ پرندوں کے تازہ اور خشک دل جو ہیں اس عقاب کے گھونسلے کے پاس وہ عناب اور بوسیدہ خشک کھجوریں ہیں، پرانی خشک کھجوریں ہیں۔ تو دیکھیے، دو مشبہ ہیں اور دو ہی مشبہ بہ۔ تازہ دلوں کو کس کے ساتھ تشبیہ دی؟ عناب کے ساتھ، اور خشک دلوں کو کس کے ساتھ تشبیہ دی؟ حشفِ بالی کے ساتھ۔ اور مشبہ سارے پہلے اکٹھے ذکر کر دیے: رَطْبًا وَيَابِسًا، یہ دونوں کیا ہیں؟ مشبہ، یہ سارے اکٹھے ذکر، پھر آگے دونوں مشبہ بہ بھی اکٹھے ذکر: اَلْعُنَّابُ وَالْحَشَفُ الْبَالِي، تو یہ ہے تشبیہ ملفوف، بات سمجھ میں آ گئی۔ فَإِنَّهُ شَبَّهَ الرَّطْبَ الطَّرِيَّ مِنْ قُلُوبِ الطَّيْرِ، پس شاعر نے تشبیہ دی وہ رطب جو تازہ ہیں، طری، رطب جو تر ہیں، طری تازہ ہیں مِنْ قُلُوبِ الطَّيْرِ پرندوں کے دلوں میں سے، اس کو تشبیہ دی ہے بِالْعُنَّابِ کس کے ساتھ؟ عناب کے ساتھ، وَالْيَابِسَ الْعَتِيقَ مِنْهَا، اور یابس جو خشک ہیں، عتیق پرانے جو ہیں ان میں سے، اس کو تشبیہ دی ہے بِالتَّمْرِ الرَّدِيءِ، ردی کھجور کے ساتھ۔ سمجھ میں ایا بھئی؟ تو ہونا تو کس طرح چاہیے تھا؟ رطب کے بعد عناب آنا چاہیے تھا اس کا مشبہ بہ، اور یابس کے بعد حشف البالی آنا چاہیے تھا اس کا مشبہ بہ، لیکن شاعر نے کیا کیا؟ مشبہ سارے پہلے اکٹھے کر دیے اور پھر مشبہ بہ سارے اکٹھے کر دیے، تشبیہ ملفوف ہے۔ وَالْمَفْرُوقُ: أَنْ يُؤْتَى بِمُشَبَّهٍ وَمُشَبَّهٍ بِهِ، مفروق تشبیہ یہ ہے کہ مشبہ کو لایا جائے وَمُشَبَّهٍ بِهِ اور اس کے اور مشبہ بہ کو لایا جائے، ثُمَّ آخَرَ وَآخَرَ، پھر پہلے آخر سے مراد ہے مشبہ اور دوسرے آخر سے مراد ہے مشبہ بہ، کہ مفروق تشبیہ یہ ہے: أَنْ يُؤْتَى بِمُشَبَّهٍ وَمُشَبَّهٍ بِهِ، کہ لایا جائے مشبہ کو اور مشبہ بہ کو، ثُمَّ آخَرَ وَآخَرَ، اور پھر دوسرے مشبہ اور دوسرے مشبہ بہ کو۔ نَحْوُ، مثال کے طور پر: اَلنَّشْرُ مِسْكٌ وَالْوُجُوهُ دَنَا نِيرٌ وَأَطْرَافُ الْأَكُفِّ عَنَمْ بھئی شاعر عورتوں کے حسن و جمال کی تعریف کر رہا ہے، کہتا ہے: اَلنَّشْرُ مِسْكٌ، نشر کہتے ہیں خوشبو کو، مسک یعنی مشک بھئی، وہ قیمتی خوشبو۔ شاعر کہتا ہے: ان عورتوں کی خوشبو مسک، کس کی طرح ہے؟ مشک کی طرح ہے، تو نشر ہوا مشبہ اور مسک ہوا مشبہ بہ، تو ان کی خوشبو جو ہے وہ مشک کی طرح ہے۔ وَالْوُجُوهُ دَنَانِيرُ، اور ان کے اور چہرے جو ہیں، دنانیر یہ ایک لفظ ہے، ادھا ایک مصرعے میں اور ادھا دوسرے میں، اور عربی زبان میں ایسا ہوتا ہے کہ ایک لفظ ایک ادھا ایک مصرعے میں اور ادھا دوسرے میں، کیونکہ اشعار کے اوزان ہوتے ہیں تو اگر ایسا نہ کیا جائے شعر کا وزن باقی نہیں رہتا۔ وَالْوُجُوهُ دَنَانِيرُ، اور ان چہرے جو ہیں وہ دینار ہیں، وہ کیا ہیں؟ دینار ہیں، جیسے دینار جو ہے وہ خوشنما زرد رنگ کا ہوتا ہے، اس طرح ان کے چہرے بھی کیا ہیں؟ خوشنما زرد رنگ کے ہیں بھئی، اور عربوں کے ہاں زرد رنگ عورتوں میں حسن و جمال کی علامت سمجھا جاتا ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو یہ اس کے ذکر کیا۔ وَالْوُجُوهُ دَنَانِيرُ، اور دنانیر یاد رکھیے یہ ہے تو غیر منصرف، دنانیر، سمجھ میں آیا؟ جمع منتہی الجموع ہے۔ لیکن یہاں ضرورتِ شعری کی وجہ سے اس کو منصرف پڑھا جائے گا، کس کی بناء پر؟ منصرف، یعنی اس پر تنوین پڑھیں گے ورنہ شعر کا وزن نہیں بنتا۔ وَالْوُجُوهُ دَنَانِيرٌ، اور ان کے چہرے جو ہیں وہ دینار ہیں، اشرفیاں ہیں، وَأَطْرَافُ الْأَكُفِّ، اطراف، کنارے، اکف جمع ہے کف کی، کف ہتھیلی کو کہتے ہیں، تو ان کی ہتھیلیوں کے جو کنارے ہیں، مراد ہیں ان کی انگلیاں اور ان کے پورے۔ انگلیوں کے پورے مراد ہیں۔ عَنَمٌ، عنم یہ ایک پودا ہے، ایک پودا ہے جو جس کی شاخیں بڑی نرم ہوتی ہیں اور اس کے پھول جو ہیں سرخ رنگ کے ہوتے ہیں، پھول یا اس کی شاخیں بھی کیا ہیں ان میں بھی کچھ سرخی ہوتی ہے، پھول بھی سرخ رنگ کے ہیں، تو یہ ایک پودا ہے سرخ رنگ کا اور نرم شاخیں ہوتی ہیں، اور عربوں کے ہاں عورتوں کے ہاتھوں کی تشبیہ اس سے دی جاتی ہے، یعنی وہ ہاتھ جن پر مہندی لگی ہوئی ہو، تو وہ بھی سرخ رنگ کے اور اس پودے کی شاخیں بھی نرم جیسے عورتوں کے ہاتھ بھی نرم اسی طرح اس کی شاخیں بھی نرم، اور جیسے ان کے ہاتھ مہندی لگے ہیں انگلیوں پر تو وہ انگلیاں بھی سرخ ہیں، اسی طرح اس پودے کے پھول اور یا شاخیں بھی کیا ہیں؟ سرخ ہیں۔ تو کہتے ہیں: وَأَطْرَافُ الْأَكُفِّ، اور ہتھیلیوں کے کنارے جو ہیں یعنی انگلیاں اور پورے جو ہیں ان کے، عَنَمٌ، وہ کس کی طرح ہیں؟ عنم پودے کی طرح ہیں۔ تو دیکھیے تین چیزیں، تین مشبہ ہیں اور تین ہی مشبہ بہ، لیکن ہر مشبہ کے ساتھ اس کا مشبہ بہ ذکر کر دیا، تو یہ ہے تشبیہ مفروق بھئی: اَلنَّشْرُ مِسْكٌ وَالْوُجُوهُ دَنَا نِيرٌ وَأَطْرَافُ الْأَكُفِّ عَنَمْ خوشبو ان کی مشک ہے اور چہرے ان کے اشرفیاں ہیں اور ہاتھوں کے کنارے یعنی پورے اور انگلیاں جو ہیں ان کی، عنم وہ عنم پودے ہیں۔ وَإِنْ تَعَدَّدَ الْمُشَبَّهُ دُونَ الْمُشَبَّهِ بِهِ سُمِّيَ تَشْبِيهَ التَّسْوِيَةِ۔ یہ الگ قسم بیان کر رہے ہیں بھئی، اگر مشبہ کئی ہیں اور مشبہ بہ ایک ہے، تو اس کو کہتے ہیں تشبیہ تسویہ۔ بھئی ادھر دیکھیے، آپ دو یا تین چیزیں بطورِ مشبہ کے ذکر کرتے ہیں، دو یا تین، اور ان کی تشبیہ بیان کرتے ہیں ایک ہی چیز کے ساتھ، کس کے ساتھ؟ ایک ہی چیز۔ یعنی یہ پہلی چیز بھی اس کے مشابہ، دوسری بھی اس کے مشابہ، تیسری بھی اس کے مشابہ، تو گویا تین چیزوں میں آپ نے برابری کر دی، کیا کر دی؟ برابری، کہ یہ برابر ہیں یہ ساری ہی اس جیسی ہیں، تو اس کو کہتے ہیں تشبیہ تسویہ۔ تسویہ کا بھی کیا معنی ہے؟ برابری کرنا۔ تو کہتے ہیں: وَإِنْ تَعَدَّدَ الْمُشَبَّهُ دُونَ الْمُشَبَّهِ بِهِ، اور اگر تعدد ہو مشبہ کے اندر نہ کہ مشبہ بہ میں، سُمِّيَ تَشْبِيهَ التَّسْوِيَةِ، تو اس کو تشبیہ تسویہ کہتے ہیں۔ نَحْوُ، مثال کے طور پر: صُدْغُ الْحَبِيبِ وَحَالِي كِلَاهُمَا كَاللَّيَالِي صُدْغٌ، ص کے ساتھ، صُدْغٌ، صدغ کہتے ہیں بھئی یہ آنکھ اور کان کے درمیان کا حصہ یعنی کنپٹی، آنکھ اور کان کے درمیان کا حصہ، اس کو صدغ کہتے ہیں عربی میں۔ تو شاعر کہتا ہے: صُدْغُ الْحَبِيبِ، حبیب کی جو کنپٹی ہے، یعنی محبوب کی جو کنپٹی ہے، تو یہاں کچھ حصے پر تو بال ہیں بھئی آنکھ اور کان کے درمیان اور کچھ حصے پر بال نہیں، یہ بالوں والا حصہ مراد ہے۔ کہتے ہیں محبوب کے جو محبوب ہے اس کی کنپٹی، وَحَالِي، اور میرا حال جو ہے، دونوں، كِلَاهُمَا، دونوں جو ہیں، كَاللَّيَالِي، وہ راتوں کی طرح ہیں۔ دونوں کس کی طرح ہیں؟ راتوں کی طرح ہیں، یعنی میرے محبوب کے بال بھی سیاہ ہیں، خوب سیاہ بال ہیں اور یہ حسن کی علامت ہے بھئی، اور میری حالت بھی سیاہ ہے، یعنی بتلانا یہ چاہتا ہے کہ میں تو غموں کے اندر ڈوبا ہوا ہوں، محبوب سے ملاقات کا موقع ہی نہیں ملتا بھئی۔ کہتا ہے: صُدْغُ الْحَبِيبِ وَحَالِي كِلَاهُمَا كَاللَّيَالِي محبوب کی کنپٹی جو ہے اور میری حالت دونوں جو ہیں، كَاللَّيَالِي، کس کی طرح ہیں؟ راتوں کی طرح ہیں۔ اب دیکھیے دو چیزیں ہیں، مشبہ دو ہیں: صُدْغُ الْحَبِيبِ اور حَالِي، اور مشبہ بہ ایک ہی ہے: اَللَّيَالِي۔ تو یہ تشبیہ مشبہ تشبیہ تسویہ ہے، مشبہ میں تعدد ہے، مشبہ بہ میں نہیں۔ وَإِنْ تَعَدَّدَ الْمُشَبَّهُ بِهِ دُونَ الْمُشَبَّهِ، اور اگر اس کا عکس ہو بھئی، اور اگر مشبہ بہ کے اندر تعدد ہو نہ کہ مشبہ میں، سُمِّيَ تَشْبِيهَ الْجَمْعِ، تو اس کو تشبیہ الجمع کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ تشبیہ الجمع کہتے ہیں۔ كَأَنَّمَا يَبْسِمُ عَنْ لُؤْلُؤٍ مُنَضَّدٍ أَوْ بَرَدٍ أَوْ أَقَاحِ اس میں پھر شاعر عورتوں کے حسن و جمال کی تعریف کر رہا ہے اور کہتا ہے: كَأَنَّمَا يَبْسِمُ، بَسَمَ يَبْسِمُ کے معنی ہوتے ہیں مسکرانا، كَأَنَّمَا يَبْسِمُ، گویا کہ وہ نازک بدن مسکراتے ہیں، عَنْ لُؤْلُؤٍ، کس سے؟ موتیوں سے، یعنی ان کے دانت موتیوں کی طرح ہیں، کہنا یہ چاہتا ہے۔ ان کے دانت کس کی طرح ہیں؟ اور لُؤْلُؤٍ مُنَضَّدٍ، منضد کا معنی ہے مرتب، ترتیب سے جیسے ترتیب سے موتی رکھے ہوئے ہوں، اسی طرح ان کے دانت ہیں۔ كَأَنَّمَا يَبْسِمُ عَنْ، يَبْسِمُ میں اسی لیے میں نے ترجمہ کیا وہ نازک بدن، کیونکہ پچھلے شعر میں لفظ آیا اس کی طرف ضمیر راجع ہے تو آپ یہ نہ کہیں يَبْسِمُ تو مذکر کا صیغہ ہے، کون سا صیغہ ہے؟ اور تعریف کر رہا ہے عورتوں کی بھئی، تو یہ مذکر کا صیغہ کس اعتبار سے لایا کہ پیچھے لفظ ایسا ذکر تھا نازک بدن، اس کے ضمیر اس کی طرف لوٹائی گئی۔ كَأَنَّمَا يَبْسِمُ عَنْ لُؤْلُؤٍ، گویا کہ وہ نازک بدن مسکراتے ہیں عَنْ لُؤْلُؤٍ مُنَضَّدٍ، ترتیب سے رکھے ہوئے موتیوں کے ساتھ، یعنی ان جیسے دانتوں کے ساتھ۔ پھر شاعر کہتا ہے: پہلے تشبیہ کس کے ساتھ دی؟ ترتیب سے رکھے ہوئے موتیوں کے ساتھ، پھر کہتا ہے نہیں نہیں، ترتیب سے موتی رکھے ہوئے نہیں، موتی تو خشک ہوتے ہیں اور ان کے دانتوں پر تو لعاب بھی لگا ہوتا ہے، تو ان کے دانت اولوں کی طرح ہیں، کس کی طرح ہیں؟ اولے جو بارش کے ساتھ برستے ہیں، وہ گیلے ہوتے ہیں بھئی اور ان میں بھی سفیدی اور اسی طرح چمک ہوتی ہے جیسے موتی میں ہوتی ہے، تو کہتا ہے: أَوْ بَرَدٍ، بلکہ یا وہ اولے ہیں، یعنی اولوں کے ساتھ مسکراتی ہیں۔ پھر کہتا ہے: نہیں بھئی، اولے گیلے تو ہیں لیکن ان میں تو خوشبو نہیں، ان کی تو سانسوں کی بھی مہک ہوتی ہے، تو کہتا ہے: أَوْ أَقَاحِ، یا وہ گلِ بابونہ ہیں بھئی، ان کے ساتھ ہنستی ہیں، یعنی ان کے دانت کس کی طرح ہیں؟ گلِ بابونہ، یہ کوئی سفید رنگ کے خوبصورت پھول ہوتے ہیں جن کی خوشبو مہک بھی ہوتی ہے، تو یہ ان کی طرح ہیں۔ تشبیہ سمجھ میں آئی؟ تو اب مشبہ ایک ہی ہے، ان کے دانت، اور مشبہ بہ پہلے کس سے تشبیہ دی؟ موتیوں سے، پھر کس سے تشبیہ دی؟ اولوں کے ساتھ، اور پھر کس کے ساتھ تشبیہ دی؟ پھول گلِ بابونہ کے ساتھ، تو مشبہ بہ میں تعدد ہے، مشبہ میں نہیں۔ کہتا ہے: كَأَنَّمَا يَبْسِمُ عَنْ لُؤْلُؤٍ مُنَضَّدٍ أَوْ بَرَدٍ أَوْ أَقَاحِ گویا کہ وہ نازک بدن مسکراتے ہیں موتیوں کے ساتھ، منضد، ترتیب سے رکھے ہوئے، أَوْ بَرَدٍ، یا اولوں کے ساتھ، أَوْ أَقَاحِ، یا گلِ بابونہ کے ساتھ۔ وَيَنْقَسِمُ بِاعْتِبَارِ وَجْهِ الشَّبَهِ إِلَى تَمْثِيلٍ وَغَيْرِ تَمْثِيلٍ، اور تشبیہ تقسیم ہوتی ہے وجہِ تشبیہ کے اعتبار سے۔ بھئی پہلی تقسیم ابھی تک چل رہی تھی مشبہ اور مشبہ بہ کے اعتبار سے۔ اولاً بتایا چار قسمیں ہیں: تشبیہ مفرد بمفرد، یا تشبیہ مرکب بمرکب، یا تشبیہ مفرد بمرکب، یا تشبیہ مرکب بمفرد، وہ چار قسمیں۔ پھر بتلایا ایک اور تقسیم بھی ہے کہ تشبیہ یا ملفوف ہوگی یا مفروق ہوگی، پھر اس کے بعد ایک اور تقسیم بھی بتائی کہ تشبیہ یا تشبیہ تسویہ ہوگی یا تشبیہ جمع ہوگی۔ لیکن یہ ساری تقسیم کس اعتبار سے تھی؟ مشبہ اور مشبہ بہ کے اعتبار سے۔ اب بتلانے لگے ہیں، وجہِ تشبیہ کے اعتبار سے تقسیم کرتے ہیں وہ اور قسمیں بناتے ہیں۔ کہتے ہیں: وَيَنْقَسِمُ بِاعْتِبَارِ وَجْهِ الشَّبَهِ إِلَى تَمْثِيلٍ وَغَيْرِ تَمْثِيلٍ، اور تشبیہ تقسیم ہوتی ہے وجہِ تشبیہ کے اعتبار سے تمثیل اور غیرِ تمثیل کی طرف۔ فَالتَّمْثِيلُ: تمثیل جو ہے وہ: مَا كَانَ وَجْهُهُ مُنْتَزَعًا مِنْ مُتَعَدِّدٍ، تمثیل وہ تشبیہ ہے کہ جس کی وجہ یعنی وجہِ تشبیہ منتزع، وہ نکالی گئی ہے من متعدد، متعدد چیزوں سے۔ جس میں وجہِ تشبیہ کس سے بنائی کس سے بنی ہے؟ بھئی وجہِ تشبیہ: زَيْدٌ كَالْبَحْرِ فِي السَّخَاءِ، زید سمندر کی طرح ہے کس چیز میں؟ سخاوت میں، تو وجہِ تشبیہ کیا ہے؟ سخاوت ہے، تو یہ سخاوت تو دیکھو مفرد ہے، لیکن بعض اوقات وجہِ تشبیہ کیا ہوگی؟ مرکب ہوگی، وہ کئی چیزوں سے مل کر ایک ہیئت حاصل ہو رہی ہوگی، تو بس جہاں وجہِ تشبیہ مرکب ہو اس کو کہیں گے تمثیل، کیا کہیں گے؟ اور جہاں وجہِ تشبیہ مرکب نہ ہو اس کو کیا کہیں گے؟ غیرِ تمثیل۔ یہی بیان کر رہے ہیں: فَالتَّمْثِيلُ مَا كَانَ وَجْهُهُ مُنْتَزَعًا مِنْ مُتَعَدِّدٍ، تمثیل جو ہے وہ تشبیہ ہے کہ جس میں وجہِ تشبیہ اس کو نکالا گیا ہو کئی چیزوں سے یعنی وجہِ تشبیہ مرکب ہو، كَتَشْبِيهِ الثُّرَيَّا بِعُنْقُودِ الْعِنَبِ الْمُنَوَّرِ، جیسے کہ تشبیہ دینا ثریا کو، ثریا میں نے آپ کو بتلایا تھا ستاروں کا ایک مجموعہ ہے اور بڑے قریب قریب ستارے ہیں اس کے اندر، اور اردو میں اور فارسی میں اس کو پروین کہتے ہیں، پروین۔ كَتَشْبِيهِ الثُّرَيَّا، جیسے ثریا ستاروں کا جو مجموعہ ہے اس کی تشبیہ، کس کے ساتھ؟ بِعُنْقُودٍ، عُنْقُودٌ یہ خوشے کو کہتے ہیں، خوشہ، گچھا بھئی، گچھا۔ بِعُنْقُودِ الْعِنَبِ، عنب کہتے ہیں انگور کو، الْمُنَوَّرِ، منور نَوْرٌ سے ہے، نَوْرٌ، نَوْرٌ، نَوْرٌ کلی اور پھول کو کہتے ہیں۔ پودے پر پہلے کلی آتی ہے اور اس کلی سے پھر کیا بنتا ہے؟ پھول بنتا ہے، تو یہ جو کلی اور پھول ہے اس کو نَوْرٌ کہتے ہیں، اور پودے پر پھول آ جائیں، کلیاں آ جائیں تو کہتے ہیں: نَوَّرَ، نَوَّرَ الشَّجَرُ کہہ دیتے ہیں، نَوَّرَ کلیوں والا ہو گیا، اور جس پر کلیاں آ گئی ہیں اس کو کہیں گے منور، منور، اسمِ مفعول، سمجھ میں ایا بھئی؟ تو كَتَشْبِيهِ الثُّرَيَّا بِعُنْقُودِ الْعِنَبِ الْمُنَوَّرِ، جیسے کہ ثریا ستاروں کا جو مجموعہ ہے اس کی تشبیہ کس کے ساتھ؟ بِعُنْقُودِ الْعِنَبِ الْمُنَوَّرِ، وہ انگور جس پر پھول آ گئے ہوں، اس کے خوشے کے ساتھ۔ وہ انگور جس پر پھول آ گئے ہوں اس کے خوشے کے ساتھ۔ دیکھو، ثریا ایک ستاروں کا مجموعہ ہے، اس میں دیکھو چھوٹے چھوٹے گول گول ستارے ایک دوسرے کے قریب قریب ہیں، اسی طرح انگور کا خوشہ اس کے اندر بھی چھوٹی گول گول یہ جو انگور ہیں گول گول چیزیں سفید رنگ کی ایک دوسرے کے قریب قریب ہیں، اور اس سے ایک مرکب ہیئت حاصل ہوئی۔ تو ثریا کو تشبیہ دی کس کے ساتھ؟ انگور کے اس خوشے کے ساتھ جس پر پھول آ گئے ہیں، اور تشبیہ کس چیز میں دی ہے؟ وجہِ تشبیہ یہاں مرکب ہے۔ جیسے ثریا کیا تھا؟ ایک ستارہ تھا یا کئی ستارے ہیں؟ کئی ستارے، اور وہ کس طرح کے ہیں؟ گول ہیں اور چمکدار ہیں اور ایک دوسرے کے قریب قریب ہیں، یہی ساری چیزیں ادھر بھی ہیں، انگور کے خوشے کے اندر بھی، کیا؟ گول چیزیں ہیں، سفید رنگ کی ہیں، قریب قریب ہیں اور کافی ساری ہیں، دیکھو یہ ایک مرکب ہیئت ہوئی، اس کے ساتھ اس کی تشبیہ دی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: كَتَشْبِيهِ الثُّرَيَّا بِعُنْقُودِ الْعِنَبِ الْمُنَوَّرِ، جیسے کہ ثریا کو تشبیہ دینا پھولوں والے انگور کے خوشے کے ساتھ۔ یہ تو کون سی تشبیہ تھی؟ تمثیل، جس میں وجہِ تشبیہ کیا ہوتی ہے؟ مرکب ہوتی ہے۔ وَغَيْرُ التَّمْثِيلِ، اور غیرِ تمثیل جو ہے: مَا لَيْسَ كَذَلِكَ، جو ایسی نہ ہو، یعنی جس میں وجہِ تشبیہ مرکب نہ ہو، كَتَشْبِيهِ النَّجْمِ بِالدِّرْهَمِ، جیسے ستارے کو تشبیہ دینا درہم یعنی درہم کے ساتھ۔ ستارے کو کس سے تشبیہ دینا؟ درہم، جیسے ستارہ گول اور چمکدار ہوتا ہے اور اسی طرح درہم بھی کیا ہے؟ گول اور چمکدار ہے، تو یہاں وجہِ تشبیہ متعدد چیزوں سے نہیں اخذ کی گئی، مرکب نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ مفرد ہے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ وَيَنْقَسِمُ بِهَذَا الِاعْتِبَارِ أَيْضًا إِلَى مُفَصَّلٍ وَمُجْمَلٍ، اور تقسیم ہوتی ہے تشبیہ اس اعتبار سے بھی دو قسموں کی طرف: مفصل اور مجمل، مجمل، یعنی کس اعتبار سے؟ اسی وجہِ تشبیہ کے اعتبار سے، ایک اور تقسیم ہے۔ پہلی تقسیم کیا تھی وجہِ تشبیہ کے اعتبار سے؟ تمثیل ہوگی یا غیرِ تمثیل۔ تمثیل جس میں وجہِ تشبیہ مرکب ہو، غیرِ تمثیل جس میں وجہِ تشبیہ مرکب نہ ہو۔ اور اسی وجہِ تشبیہ کے اعتبار سے تشبیہ تقسیم ہوتی ہے إِلَى مُفَصَّلٍ وَمُجْمَلٍ، کس کی طرف؟ مفصل اور مجمل۔ مفصل جس میں تفصیل ہو، مجمل جس میں اجمال ہو یعنی تفصیل نہ ہو۔ آسان ہے، مفصل تشبیہ اسے کہیں گے جس میں وجہِ تشبیہ ذکر کر دی جائے، تفصیل آ گئی گویا، یہ ہے مفصل۔ اور جس تشبیہ میں وجہِ تشبیہ ذکر نہیں، حذف کر دی گئی، تو تفصیل آئی یا اجمال آ گیا؟ اجمال، تو اس کو ہی مجمل کہیں گے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: وَيَنْقَسِمُ بِهَذَا الِاعْتِبَارِ أَيْضًا إِلَى مُفَصَّلٍ وَمُجْمَلٍ، اور تقسیم ہوتی ہے تشبیہ اسی اعتبار سے یعنی وجہِ تشبیہ کے اعتبار سے مفصل اور مجمل کی طرف، فَالْأَوَّلُ مَا ذُكِرَ فِيهِ وَجْهُ الشَّبَهِ، پس پہلی قسم وہ ہے یعنی مفصل وہ ہے جس کے اندر وجہِ تشبیہ ذکر کر دی جائے، نَحْوُ، مثال کے طور پر: وَثَغْرُهُ فِي صَفَاءٍ وَأَدْمُعِي كَاللَّآلِي وَثَغْرُهُ، ثغر منہ کو بھی کہتے ہیں اور اگلے دانتوں کو بھی کہتے ہیں، وَثَغْرُهُ، اور اس کے جو دانت ہیں، فِي صَفَاءٍ، صاف شفاف ہونے میں، وَأَدْمُعِي، اور میرے جو آنسو ہیں، كَاللَّآلِي، لآلی جمع ہے لؤلؤ کی، ابھی گزرا، موتی کو کہتے ہیں، وہ کہتے ہیں موتیوں کی طرح ہیں، كَاللَّآلِي۔ تو شاعر کیا کہتا ہے؟ وہ جو میرا محبوب ہے، اس کے دانت اور میرے آنسو صاف و شفاف ہونے میں كَاللَّآلِي، کس کی طرح ہیں؟ موتیوں کی طرح ہیں بھئی۔ تو جیسے اس کے دانت موتیوں کی طرح ہیں، اسی طرح میرے آنسو بھی صاف شفاف موتیوں کی طرح ہیں۔ اس میں اس طرف بھی اشارہ کر دیا کہ مجھ پر بڑے غم اور تکالیف ہیں، محبوب سے میری ملاقات ہی نہیں ہوتی، ہر وقت میرے آنسو بہتے رہتے ہیں، اسی لیے میرے آنسو صاف و شفاف ہیں، کیونکہ کثرت سے آنسو نکلیں گے تو وہ صاف و شفاف ہوں گے، اگر تھوڑے سے آنسو نکلے تو پھر اس میں تو کچھ نہ کچھ آنکھ کا میل کچیل ہوگا بھئی، لیکن جب کثرت سے نکلتے جا رہے ہیں تو میل کچیل تو شروع میں ختم ہو گیا، اس کے بعد جو آنسو نکلیں گے وہ کیسے ہوں گے؟ صاف و شفاف ہوں گے۔ تو اب دیکھیے بھئی، اس کے دانت اور میرے آنسو موتیوں کی طرح ہیں کس چیز میں؟ صاف و شفاف ہونے میں، فِي صَفَاءٍ، وجہِ تشبیہ کو ذکر کر دیا، تو اس کو کیا کہیں گے؟ تشبیہ مفصل۔ وَالثَّانِي مَا لَيْسَ كَذَلِكَ، اور دوسری قسم وہ ہے جو اس طرح نہ ہو، یعنی مجمل وہ ہے جس میں وجہِ تشبیہ ذکر نہ ہو، نَحْوُ، مثال کے طور پر: اَلنَّحْوُ فِي الْكَلَامِ كَالْمِلْحِ فِي الطَّعَامِ، نحو کلام کے اندر وہ اسی طرح ہے جیسے نمک ہوتا ہے کھانے کے اندر۔ جیسے نمک کھانے میں ہوتا ہے، یعنی نحو ہے تو کلام بھی صحیح ہے، اور نحو نہیں تو کلام بھی فاسد ہے۔ اسی طرح نمک ہے تو کھانا بھی صحیح ہے، نمک نہیں تو کھانا کیا ہے؟ فاسد ہے، کوئی اس کو کھانا پسند نہیں کرتا۔ تو اب دیکھیے یہ کوئی ذکر ہے اس کے اندر وجہِ تشبیہ؟ کہ نحو کلام میں یہ اسی طرح ہے جیسے نمک ہوتا ہے کھانے کے اندر، کس چیز میں؟ یہ ذکر نہیں، وہ میں نے ذکر کر دیا کہ استعمال کریں تو چیز ٹھیک ہے، چھوڑ دیں تو چیز کیا ہو جاتی ہے؟ فاسد، سمجھ میں آیا؟ أَيْ اَلْإِصْلَاحُ بِالْإِعْمَالِ، اَلْإِصْلَاحُ بِالْإِعْمَالِ وَالْإِفْسَادُ بِالْإِهْمَالِ، یعنی عمل دینے سے چیز کی اصلاح ہوتی ہے، یعنی اس کو استعمال کریں، یعنی نحو ہے اس کو استعمال کیا کلام میں تو کلام اصلاح والا ہے، درست ہے، اور اگر اس کو اس کا اہمال کیا یعنی چھوڑ دیا تو وہ چیز کیا ہو جاتی ہے؟ فاسد ہو جاتی ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو وجہِ تشبیہ وہ یہاں ذکر نہیں، اور وہ کیا ہے؟ یا یوں کہیں حاشیے میں دی ہوئی ہے: اَلصَّلَاحُ بِالْإِعْمَالِ وَالْفَسَادُ بِالْإِهْمَالِ۔ حاشیہ بھئی، مَا لَيْسَ كَذَلِكَ پہ جو حاشیہ دیا ہوا ہے اس کی تیسری سطر میں آ رہا ہے: اَلصَّلَاحُ بِالْأَعْمَالِ نہیں ہے، بِالْإِعْمَالِ ہے، عمل دینا۔ صلاح درست ہونا چیز کا عمل دینے سے، وَالْفَسَادُ بِالْإِهْمَالِ، اور چیز کا فاسد ہو جانا بِالْإِهْمَالِ، کس کی وجہ سے؟ چھوڑ دینے کی وجہ سے۔ إِعْمَال، استعمال کرنا، عمل دینا، اور إِهْمَال، چھوڑ دینا۔ تو ان دونوں میں اسی طرح ہے، نحو کلام میں ہے تو کلام صحیح ہے، کلام میں نہیں تو کلام فاسد ہے۔ نمک کھانے میں ہے تو کھانا کھانا درست ہے، اور اگر کھانے میں نہیں تو پھر کھانا فاسد ہے یعنی اس کو کوئی کھانا پسند نہیں کرتا۔ وَيَنْقَسِمُ بِاعْتِبَارِ أَدَاتِهِ إِلَى مُؤَكَّدٍ، اچھا اب تیسری تقسیم کر رہے ہیں اداتِ تشبیہ کے اعتبار سے، کس کے اعتبار سے؟ اداتِ تشبیہ، وہ جو کاف وغیرہ ذکر ہوتا تھا جس کے لیے مشابہت بیان کی جاتی ہے: زَيْدٌ كَالْبَحْرِ، زید سمندر جیسا ہے، یہ "جیسا" کا معنی کس نے ادا کیا؟ کاف نے، یہ ہے اداتِ تشبیہ۔ تو اداتِ تشبیہ کے اعتبار سے تشبیہ دو قسم پر ہے: ایک مؤکد، ایک غیر مؤکد، اور ایک ہے مرسل۔ مؤکد وہ ہے جس میں اداتِ تشبیہ حذف ہو، اور مرسل وہ ہے جس میں اداتِ تشبیہ ذکر ہو۔ مثلاً: زَيْدٌ كَالْبَحْرِ، زید سمندر جیسا ہے۔ حرفِ اداتِ تشبیہ کیا ہے؟ کاف، اور وہ ذکر ہے، اس کو کیا کہیں گے؟ مرسل، مرسل۔ اور اگر اس کاف کو حذف کر دیں اور یوں کہیں: زَيْدٌ بَحْرٌ، زید سمندر ہے، تو اس تشبیہ کو کیا کہیں گے؟ مؤکد ہے، مؤکد، یعنی اس میں تاکید ہے۔ تاکید پیدا کی گئی ہے، تاکید کس طرح؟ کہ زَيْدٌ بَحْرٌ، گویا زید کو عینِ سمندر ہی آپ نے قرار دے دیا تو اس میں تاکید آ گئی۔ صرف مشابہت ہی نہیں بیان کی سمندر کے ساتھ، بلکہ زید کو خود ہی کیا قرار دے دیا؟ عینِ مشبہ بہ قرار دے دیا گیا۔ تو کہتے ہیں: وَيَنْقَسِمُ بِاعْتِبَارِ أَدَاتِهِ إِلَى مُؤَكَّدٍ، إِلَى مُؤَكَّدِهِ تو نہیں آپ کی کتابوں میں؟ ہا ضمیر نہیں ہونی چاہیے، یہ کتابت کی غلطی ہے، تو یہ تقسیم ہوتی ہے تشبیہ جو ہے اداتِ تشبیہ کے اعتبار سے مؤکد کی طرف، وَهُوَ مَا حُذِفَتْ أَدَاتُهُ، اور یہ وہ تشبیہ ہے کہ جس کے ادات کو حذف کر لیا جائے، نَحْوُ: وَهُوَ بَحْرٌ فِي الْجُودِ، اور وہ شخص سمندر ہے کس میں؟ سخاوت میں۔ یہ نہیں کہا: "وهو كالبحر"، کس کی طرح ہے؟ سمندر، بلکہ: وَهُوَ بَحْرٌ فِي الْجُودِ، وہ سخاوت میں سمندر ہے، یہ مؤکد ہے۔ وَمُرْسَلٍ، اور دوسری قسم جو ہے وہ مرسل ہے، وَهُوَ مَا لَيْسَ كَذَلِكَ، جو ایسی نہ ہو یعنی جس میں اداتِ تشبیہ کو حذف نہ کیا جائے، نَحْوُ: هُوَ كَالْبَحْرِ كَرَمًا، وہ سمندر جیسا ہے کرماً باعتبار سخاوت کے، تو دیکھو اس میں کاف ذکر ہے، اداتِ تشبیہ ذکر ہے۔ وَمِنَ الْمُؤَكَّدِ مَا أُضِيفَ فِيهِ الْمُشَبَّهُ بِهِ إِلَى الْمُشَبَّهِ، اور مؤکد ہی کی قبیل میں سے وہ تشبیہ بھی ہے جس میں نسبت جس میں اضافت کر دی جائے مشبہ بہ کی مشبہ کی طرف۔ جس میں مشبہ بہ کی اضافت کس کی طرف کر دیں؟ مشبہ کی طرف کر دیں، بعض اوقات ایسا کیا جاتا ہے کلامِ عرب میں، مشبہ کی مشبہ بہ کی اضافت کر دی جاتی ہے کس کی طرف؟ مشبہ کی طرف۔ مثلاً آپ کہنا چاہتے تھے: اَلْمَاءُ كَاللُّجَيْنِ، پانی جو ہے، یہ پانی چاندی جیسا ہے، لجین کہتے ہیں چاندی کو۔ اَلْمَاءُ كَاللُّجَيْنِ، پانی کس کی طرح کا؟ یہ پانی چاندی جیسا ہے۔ تو اَلْمَاءُ کیا ہوا؟ مشبہ، اور مشبہ بہ کون؟ لجین۔ اس لجین کو آپ اٹھا کر مضاف بنا دیتے ہیں: لُجَيْنُ الْمَاءِ، لجین مضاف یعنی مشبہ بہ، اور الماء مشبہ وہ کیا بن گیا؟ مضاف الیہ۔ تو اس کو کہتے ہیں یہ اس کو یہ عام کلامِ عرب میں استعمال ہوتا ہے، مختلف کتابوں میں بھی آپ پڑھیں گے، جو شارحین حضرات ہیں شرح کرنے والے، وہ آپ کو وہاں بتائیں گے: یہ لُجَيْنُ الْمَاءِ کی قبیل سے ہے۔ صرف اتنا کہہ کے آگے نکل جائیں گے، تفصیل نہیں کریں گے، کیا لکھیں گے؟ یہ لُجَيْنُ الْمَاءِ کی قبیل سے ہے، آپ فوراً سمجھ جائیں، معلوم ہوا یہاں مشبہ بہ کی اضافت کس کی طرف ہو رہی ہے؟ مشبہ کی طرف ہو رہی ہے۔ تو لُجَيْنُ الْمَاءِ کا کیا معنی؟ اَلْمَاءُ كَاللُّجَيْنِ۔ تو اب دیکھیے، لُجَيْنُ الْمَاءِ، حرفِ تشبیہ ذکر ہے؟ نہیں بھئی، تو یہ بھی اسی مؤکد کی قبیل سے ہے جس میں اداتِ تشبیہ کو کیا کر لیا گیا؟ حذف کر لیا گیا۔ تو کہتے ہیں: وَمِنَ الْمُؤَكَّدِ، اور مؤکد ہی میں سے وہ، مَا أُضِيفَ فِيهِ الْمُشَبَّهُ بِهِ إِلَى الْمُشَبَّهِ، وہ تشبیہ ہے جس میں مشبہ بہ کی اضافت کی جائے مشبہ کی طرف، نَحْوُ، مثال کے طور پر: وَالرِّيحُ تَعْبَثُ بِالْغُصُونِ وَقَدْ جَرَى ذَهَبُ الْأَصِيلِ عَلَى لُجَيْنِ الْمَاءِ وَالرِّيحُ، ہوا جو ہے تیز ہوا، تَعْبَثُ، عَبِثَ يَعْبَثُ کے معنی ہوتے ہیں کھیلنا، بے کار کام کرنا۔ تَعْبَثُ بِالْغُصُونِ، غُصْنٌ ص کے ساتھ یہ شاخ کو کہتے ہیں، شاخ۔ اور تیز ہوا جو ہے وہ کھیلتی ہے بِالْغُصُونِ شاخوں کے ساتھ، یعنی ان کو ادھر ادھر حرکت دیتی ہے، ہلاتی ہے۔ وَقَدْ جَرَى، یا یوں کہیں: وَالرِّيحُ تَعْبَثُ بِالْغُصُونِ، اور تیز ہوا کھیل رہی ہے شاخوں کے ساتھ، وَقَدْ جَرَى، جَرَى یہاں بمعنی ظَهَرَ کے ہے، ظاہر ہوا۔ جری کس معنی میں ہے؟ ظاہر۔ وَقَدْ جَرَى، اور تحقیق ظاہر ہو گیا ہے، ذَهَبُ الْأَصِيلِ، ذَهَبٌ کہتے ہیں سونے کو، سونا بھئی وہ قیمتی دھات جو ہے جس سے زیور بنتا ہے، تو ذَهَبٌ۔ اور اَلْأَصِيلُ، اصیل کہتے ہیں یہ شام کا وقت بھئی، عصر کے بعد سے شام کا جو وقت ہے اس کو کہتے ہیں اصیل۔ اور اس وقت آپ دیکھتے ہیں جوں کے سورج میں زردی انا شروع ہو جاتی ہے، سورج کا رنگ کس طرح پڑنے لگتا ہے؟ زرد رنگ کا بھئی، تو تو گویا اس رنگ کو وہ سونے کی طرح کا رنگ ہے جو زیور جس سے بنتے ہیں، تو یہ وقت اس وقت بھی گویا کس طرح کا رنگ پھیل جاتا ہے فضا میں؟ سونے کے جیسا رنگ پھیل جاتا ہے۔ وَقَدْ جَرَى ذَهَبُ الْأَصِيلِ، اور تحقیق ظاہر ہو گیا ہے شام کا سونا، شام کا سونا، یعنی اس وقت میں جو یہ سونے کی طرح سنہرا رنگ جو ہوتا ہے یہ ظاہر ہو گیا ہے، عَلَى لُجَيْنِ الْمَاءِ، کس پر؟ پانی کی چاندی پر، یعنی اس پانی پر جو چاندی جیسا ہے۔ معنی سمجھ میں آیا؟ تو شاعر کہنا یہ چاہتا ہے کہ تیز ہوا چل رہی ہے اور وہ شاخوں کو ادھر ادھر حرکت دے رہی ہے، اور شام کے وقت کا وہ سنہرا وقت ظاہر اس وقت ظاہر ہو گیا ہے کس پر؟ عَلَى لُجَيْنِ الْمَاءِ، اس پانی پر جو کس جیسا ہے؟ چاندی جیسا ہے، اس پر یہ شام کی یہ زرد رنگ اس پر پھیل گیا ہے۔ وَالرِّيحُ تَعْبَثُ بِالْغُصُونِ وَقَدْ جَرَى ذَهَبُ الْأَصِيلِ عَلَى لُجَيْنِ الْمَاءِ اور ہوا جو ہے وہ کھیل رہی ہے شاخوں کے ساتھ اور تحقیق ظاہر ہو گیا ہے شام کے وقت کا سونا پانی کی چاندی پر۔ تو محلِ استشہاد کیا ہے؟ لُجَيْنُ الْمَاءِ بھئی، پانی کی چاندی، اس میں مشبہ بہ کی اضافت ہے کس کی طرف؟ مشبہ۔ تو یہ کتابوں میں آئے گا آپ نے ہمیشہ یاد رکھنا ہے، شارح صرف یہ کہہ کر آگے چلا جائے گا کہ یہ لُجَيْنُ الْمَاءِ کی قبیل سے ہے، آپ سمجھ جائیں کہ یہ کیا بتلانا چاہتے ہیں کہ مشبہ بہ کی اضافت ہو رہی ہے مشبہ کی طرف بھئی۔ یا اسی طرح جیسے میں نے ایک اور لفظ پہلے ذکر کیا، شارح وہاں یہ کہتا ہوا چلا جائے گا: یہ جَرْدُ قَطِيفَةٍ کی قبیل سے ہے، کس قبیل سے ہے؟ جَرْدُ قَطِيفَةٍ، اور جَرْدُ قَطِيفَةٍ اس میں صفت کی اضافت ہے کس کی طرف؟ موصوف کی طرف، جیسے مُثَارُ النَّقْعِ اس کے اندر ایا تھا پہلے شعر کے اندر، سمجھ میں ایا؟ اس میں وہ مُثَار صفت تھی نَقْعٌ کی اور صفت کی اضافت کر دی گئی تھی کس کی طرف؟ موصوف کی طرف بھئی۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔