گزشتہ سبق میں ہم نے پڑھا تھا۔ ماتن نے آپ کو بتلایا کہ ظرف جو ہوتا ہے، جملہ ظرفیہ، مقدر بالفعل ہوتا ہے اصح قول کے مطابق۔ اس لیے کہ فعل، عمل کے اندر اصل کون ہے؟ فعل ہے، تو فعل کو مقدر نکالیں گے۔ اور بعضوں نے کہا کہ اسمِ فاعل کو مقدر نکالیں گے اس لیے کہ خبر کے اندر اصل یہ ہے کہ وہ مفرد ہونی چاہیے۔ تو انہوں نے عمل کا اعتبار کیا اور انہوں نے مقام کا اعتبار کیا کہ اصل مقام مفرد کا ہے۔ اور پھر ترجیح دی گئی اول کو کہ فعل آنا چاہیے، کس پر قیاس کرتے ہوئے؟ موصول کا جو صلہ ہے، کہ موصول کا صلہ وہاں پر ظرف آ جائے تو ظرف کو کیا کرتے ہیں؟ اس کے فعل نکالتے ہیں کیونکہ صلے کا جملہ ہونا ضروری ہے۔ اور اس کا جواب دیا گیا کہ نہیں، آپ کا قیاس قیاس مع الفارق ہے، دونوں جگہوں میں فرق ہے۔ وہ جگہ جملے کی ہے اس لیے جملہ نکالنا پڑا، فعل نکالنا پڑا، اور اس کے مقابلے میں خبر کا جو مقام ہے وہ مفرد کا مقام ہے۔ پھر علامہ تفتازانی نے بتلایا تھا کہ ماتن نے ”إِذْ هِيَ“ کہا، اس کے بجائے اگر ”إِذِ الظَّرْفُ“ کہہ دیتے تو زیادہ بہتر تھا۔ ”إِذِ الظَّرْفُ“ اس لیے کہ ظرف کہہ دیتے تو زیادہ ٹھیک تھا، کیونکہ ابھی بھی تاویل ہو سکتی ہے، ”هِيَ“ کس کی طرف سے کیا ہم مراد لیں؟ ”كَلِمَةُ الظَّرْفِ“ مراد لیں۔ تو کہا زیادہ ٹھیک ہے، ”أَصْوَب“ کا لفظ استعمال کیا۔ اور زیادہ ٹھیک کیوں ہے؟ کہتے ہیں اس لیے کہ یہ جو کلام ہے، یہ تقاضا کر رہا ہے جو لے کر آئے ہیں ”إِذْ هِيَ مُقَدَّرَةٌ بِالْفِعْلِ“، یعنی جملہ فعلیہ مقدر بالفعل ہوگا۔ جملہ فعلیہ مقدر بالفعل ہوگا قولِ صحیح پر۔ جملہ ظرفیہ مقدر بالفعل ہوگا اصح قول کے مطابق۔ معلوم ہوا غیر اصح قول کے مطابق مقدر باسمِ فاعل ہوگا۔ حالانکہ یہ بات درست نہیں بنتی کیونکہ آپ کہہ رہے ہیں جملہ ظرفیہ۔ جب جملہ ہوا تو اس میں پھر اسمِ فاعل نہیں نکال سکتے کیونکہ اسمِ فاعل تو پھر وہ جملہ رہے گا ہی نہیں بلکہ کیا بن جائے گا؟ مفرد بن جائے گا۔ اور کبھی کبھار مسند کو مؤخر کیا جاتا ہے اس لیے کہ مسند الیہ کا ذکر اہم ہوتا ہے۔ اور کبھی کبھار آپ نے پڑھا کہ مسند کو مقدم کیا جاتا ہے اس لیے کہ آپ مسند الیہ کو بند کرنا چاہتے ہیں کس کے اندر؟ مسند کے اندر۔ کیونکہ ”تَقْدِيمُ مَا حَقُّهُ التَّأْخِيرُ يُفِيدُ الْحَصْرَ وَالْقَصْرَ وَالتَّخْصِيصَ“ کہ جس کا حق تاخیر تھا اس کو مقدم کر دیں تو یہ قصر کا فائدہ دے گا۔ اور کس چیز کے قصر کا فائدہ دے گا؟ کل آپ نے پڑھ لیا مولانا، کہ اس صورت میں مسند الیہ بند ہوتا ہے کس میں؟ مسند میں بند ہوتا ہے۔ جیسے ایک شخص کہتا ہے ”تَمِيمِيٌّ أَنَا“، کیا بتلانا چاہتا ہے وہ؟ میں تمیمی ہی ہوں، قیسی یا قریشی نہیں ہوں۔ تو اس نے دیکھا، ”أَنَا“ مسند الیہ کو بند کر دیا تمیمی ہونے کے اندر۔ یہ معنی نہیں کہ میں ہی تمیمی ہوں اور کوئی تمیمی نہیں۔ اور جیسے اس کی مثال دی تھی مولانا: ”لَا فِيهَا غَوْلٌ“۔ جی، تو یہاں دیکھا، ”لَا غَوْلٌ فِيهَا“، ”غَوْلٌ“ مسند الیہ ہے اور ”فِيهَا“ اس کی خبر، اور خبر جو مسند ہے اس کو مقدم کیا گیا۔ تو کیا معنی؟ جنتی شراب ہی میں نشہ اور دردِ سر نہیں ہے، بخلاف دنیاوی شراب کہ اس میں نشہ بھی ہے اور دردِ سر بھی ہے۔ اس پر کسی نے اشکال کیا بھئی کہ آپ نے عدمِ غول کو خمورِ جنت پر بند کیا۔ عدمِ غول کو؟ خمورِ جنت پر بند کیا۔ حالانکہ مسند الیہ کو مسند پر بند ہونا چاہیے، لیکن آپ نے مسند کے جز ”فِيهَا“ کی صرف ”هَا“ ضمیر اس کو، پر اس کو بند کیا بھئی۔ اشکال سمجھ میں آیا بھئی؟ تو مسند الیہ کو مسند پر بند ہونا چاہیے، پورے مسند پر، لیکن یہاں پورے مسند پر نہیں بند بلکہ مسند کے ایک جز پر بند ہے ”فِيهَا“ کی ”هَا“ ضمیر جو خمورِ جنت کو راجع ہے بھئی۔ تو جواب انہوں نے دیا کہ بھئی یہاں پر مقصود یہ ہے، یہاں پورا مسند، مسند الیہ کے اندر ہی بند ہے۔ کس طرح؟ مسند الیہ مسند ہی میں بند ہے کہ ”فِيهَا“ متعلق ہے کس کے ساتھ؟ ”حَاصِلٌ“ کے ساتھ۔ تو کیا کہا گیا ہے؟ کہ عدمِ غول بند ہے حُصولُهُ فِي خُمُورِ الْجَنَّةِ کے اندر۔ عدمِ غول بند ہے مولانا، عدمِ غول بند ہے کس کے اندر؟ ”فِيهَا“ یعنی ”فِي حُصُولِهِ“۔ ”فِيهَا“ نہیں، ”فِي“ تو بعد میں نکالیں گے۔ عدمِ غول بند ہے کس چیز کے اندر؟ ”حُصُولُهُ فِي خُمُورِ الْجَنَّةِ“۔ دیکھو ”فِيهَا“ سے پہلے ”حَاصِلٌ“ نکالتے ہیں یا نہیں نکالتے بھئی؟ تو اس کو مصدر بنا لو، ”حَاصِلٌ“ کے اندر ”هُوَ“ ضمیر ہوتی ہے جو اس کا فاعل ہوتا ہے۔ مصدر نکال کر اس کو، ضمیر کو مضاف کر دو اس کی طرف، مضاف الیہ بنا دو: ”حُصُولُهُ“۔ اور ”فِيهَا“ یعنی ”فِي خُمُورِ الْجَنَّةِ“، ”حُصُولُهَا فِي خُمُورِ الْجَنَّةِ غَوْلٌ“، تو عدمِ غول بند ہوا حصولِ غول فی خمور الجنت کے اندر۔ تو یہ مولانا قصرِ موصوف علی الصفت ہوا، کیونکہ موصوف کون ہے؟ عدمِ غول۔ اور یہ متصف ہو رہا ہے، کس چیز کے ساتھ متصف ہو رہا ہے؟ الحصول فی خمور الجنت کے ساتھ متصف ہو رہا ہے۔ تو یہ موصوف، قصرِ موصوف علی الصفت ہوا۔ اور یہاں پر نفی کا اعتبار دوسری طرف بھی کر سکتے ہیں آپ، مسند میں بھی نفی کا اعتبار کر سکتے ہیں۔ مسند میں کیسے کریں گے؟ اب عدمِ غول کے بجائے عدمِ حصول بنا لیں بھئی۔ غول بند ہے عدمِ حصول فی خمور الجنت میں۔ تو غول بند ہے عدمِ حصول فی خمور الجنت میں۔ جیسے ”لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ“، یہاں پر بھی مولانا ظرف مقدم ہے اور ”دِينُكُمْ“ جو ہے بند ہو رہا ہے حصول، حصولہ لکم کے اندر۔ اور ”وَلِيَ دِينِ“، یعنی میرا دین، تمہارا دین تم ہی میں بند ہے اور میرا دین مجھ ہی میں بند ہے۔ مجھ سے تجاوز کر کے تمہاری طرف نہیں جاتا، اور تمہارا دین تم سے تجاوز کر کے میری طرف نہیں آتا۔ اور یہ سارا قصرِ اضافی ہے تمام میں، کیونکہ تمہارا دین کفار کو کہا گیا تم ہی میں بند ہے، یہ معنی نہیں کہ اور کسی میں یہ دین ہی نہیں ہے، بلکہ صرف اپنی طرف نسبت کی حضور علیہ السلام نے کہ میری طرف یہ تمہارا دین تجاوز نہیں کرتا۔ ہاں وہ الگ بات ہے کہ میری امت کے بعض افراد کی طرف تمہارا دین تجاوز کرے اور وہ بھی کیا ہوں؟ کافر ہوں۔ اسی طرح میرا دین میرے ہی ساتھ خاص ہے، یہ معنی نہیں اور کسی کے پاس بھی نہیں ہے، بلکہ تمہارے مقابلے میں میرے ساتھ خاص ہے اے کافرو، البتہ میری امت کے جو مومنین ہیں ان کو، وہ بھی مختص ہیں کس کے ساتھ؟ میرے دین کے ساتھ۔ اور جیسے اس کی مثال ظرف میں بند ہونے کی مثال یہ ہے مولانا: ”إِنْ حِسَابُهُمْ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّي“۔ تو دیکھا، ”حِسَابُهُمْ“ یہ موصوف ہے، یہ مسند الیہ ہے، اس کو بند کیا کس میں؟ ”عَلَىٰ رَبِّي“ پر، ”عَلَىٰ رَبِّي“ پر۔ تو ”حِسَابُهُمْ“، ”حِسَابُهُمْ“ جو ہے ان کا حساب بند ہے کس چیز پر؟ ”كَوْنُهُ عَلَىٰ رَبِّي“، رب پر ہونے پر۔ رب ہی پر ان کا حساب ہے، کسی اور پر نہیں ہے، اللہ ہی ان کا حساب فرمائیں گے اور کوئی نہیں۔ اور البتہ یہ قصرِ حقیقی ہے مولانا، یہاں قصرِ حقیقی ہے، اور کسی میں، کسی میں یہ صفت نہیں کہ وہ حساب کتاب لے بھئی۔ تو یہ سارے قصر الموصوف علی الصفت کی مثالیں تھیں۔ کہتے ہیں اسی وجہ سے، جی آگے پھر انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ چونکہ مسند الیہ کو مؤخر کر دیں، مسند کو مقدم کر دیں تو یہ تخصیص کا فائدہ دیتی ہے، ابھی جیسے بات ہوئی بھئی ”لَا فِيهَا غَوْلٌ“ کہ عدمِ غول صرف کس کے اندر ہے؟ جنتی شراب ہی میں ہے، دنیاوی شرابوں میں نہیں۔ تو چونکہ تقدیم تخصیص کا فائدہ دیتی ہے اس لیے ”لَا رَيْبَ فِيهِ“ کے اندر مقدم نہیں کیا گیا ورنہ یہاں بھی تخصیص آ جاتی اور اس صورت میں کیا تھا؟ ایک وہم پڑنے کا خدشہ تھا۔ کیا معنی؟ اس صورت میں اگر ”لَا فِيهِ رَيْبٌ“ کہہ دیا جاتا، اس قرآن ہی میں ریب نہیں ہے تو اس کے، کیا ثابت ہوتا؟ کہ باقی آسمانی کتابوں میں ریب ہے، ریب ہے۔ کیونکہ تخصیص کہتے ہی کس کو تھے؟ کہ مذکور کے لیے اثبات ہو تو غیر مذکور سے نفی ہو، اور اگر مذکور کے لیے نفی ہو تو غیر مذکور کے لیے اثبات ہو۔ تو یہاں مذکور سے نفی ہوئی تو غیر کے لیے ثبوت آ جاتا۔ یا مولانا، مقدم کیا جاتا ہے مسند کو اس لیے کہ ابتدائے کلام سے یہ بتلانا مقصود ہوتا ہے کہ یہ جو ذکر ہو رہی ہے یہ خبر ہے، صفت نہیں۔ کیونکہ اگر مؤخر ہوتی تو وہاں صفت بننے کا بھی احتمال تھا یا وہم پڑ سکتا تھا۔ جیسے ”لَهُ هِمَمٌ“ بھئی، یہ ”لَهُ“ کو مقدم کیا یہ بتلانے کے لیے کہ یہ خبر ہے، ”هِمَمٌ“ کے لیے صفت نہیں۔ کیونکہ نکرہ کے بعد جار مجرور آ جائے تو وہ عموماً صفت بنتے ہیں اس کے لیے، تو ”هِمَمٌ“ کے بعد ”لَهُ“ آتے تو صفت کا امکان تھا، لیکن جب ”لَهُ“ مقدم کر دیا اب پتہ چل گیا یہ صفت نہیں بن سکتی بلکہ کیا ہے؟ خبر ہی بنے گی، خبر ہی بنے گی۔ یا نیک فالی کے طور پر مولانا، اس میں نیک فالی کا معنی، اس میں کوئی اچھا معنی ہوتا ہے تو اس صورت میں اس کو مقدم کر دیا جاتا ہے۔ یا مسند کو مقدم کیا جاتا ہے کہ شوق دلانا مقصود ہوتا ہے مخاطب کو، کس کا؟ مسند الیہ کا۔ کیونکہ مسند کے اندر طول ہوتا ہے، اس طول کی وجہ سے مخاطب بے چین ہوتا ہے اور اس کا شوق ہوتا ہے کہ پتہ چلے بھئی یہ حکم کس پر لگایا جا رہا ہے، تو وہ اس کا انتظار کرتا ہے اور انتظار کے بعد جو چیز حاصل ہو وہ اوقع فی الذہن ہوتی ہے۔ جیسے ”ثَلَاثَةٌ“ موصوف ہے، ”تُشْرِقُ الدُّنْيَا بِبَهْجَتِهَا“ یہ صفت ہے، موصوف صفت مل کر خبرِ مقدم۔ اور ”شَمْسُ الضُّحَى أَبُو إِسْحَاقَ وَالْقَمَرُ“، یہ سارے کیا ہیں؟ مبتدائے مؤخر ہیں۔ تو خبر کو مقدم کر دیا، یہ جس کی اور خبر پہ طول تھا مولانا، خبر میں طول تھا جس کی وجہ سے نفس بے چین ہوا، اس میں شوق پیدا ہوا کہ بھئی یہ حکم کس پہ لگایا جا رہا ہے کہ تین چیزیں ایسی ہیں جن کی وجہ سے، جن کے حسن و جمال کی وجہ سے دنیا روشن ہے، تو اس کے بعد ”شَمْسُ الضُّحَى“، ”أَبُو إِسْحَاقَ“ کا ذکر آیا تو یہ اوقع فی الذہن ہوا۔ اس کے بعد تنبیہ کے تحت مولانا ماتن نے آپ کو بتلایا تھا کہ بہت سے وہ احوال جو اس بابِ مسند اور مسند الیہ کے اندر ذکر ہوئے ”غَيْرُ مُخْتَصٍّ بِهِمَا“، وہ ان دونوں کے ساتھ خاص نہیں بلکہ اور ابواب کے اندر بھی پائے جاتے ہیں۔ اور کہا بہت سے بھئی، ”كَثِيرٌ“، بہت سے غیر مختص ہیں، معلوم ہوا بعض مختص ہیں۔ تو علامہ تفتازانی نے بتلایا کہ ”كَثِيرٌ“ کا لفظ لائے، ”جَمِيعٌ“ کا نہیں لائے بھئی، کہ سارے کے سارے غیر مختص نہیں ہیں بلکہ بعض مختص بھی ہیں، یہ بتلانے کے لیے ”كَثِيرٌ“ لائے، ”جَمِيعٌ“ نہیں لائے۔ کہ بعض مختص بھی ہیں۔ اور علامہ خلخالی نے اور تقریر کی تھی اس مقام کی، انہوں نے کہا تھا اگر ”جَمِيعٌ“ کا لفظ لاتے تو کیا معنی ہوتا؟ کہ سارے کے سارے خاص نہیں ہیں ان دونوں میں، یعنی ان کے غیر میں بھی پائے جاتے ہیں۔ تو ان کے جو بھی غیر ہوگا، وہ ان سے کیا ہوگا؟ وہ غیر ہوگا، اور انہوں نے کہا غیر میں بھی پائے جاتے ہیں، سارے کے سارے کس میں پائے جائیں گے؟ غیر میں، تو ہر غیر اس کے اندر کیا پائے جائیں گے؟ سارے کے سارے پائے جائیں گے۔ سارے کے سارے، کلام کیا تقاضا کرتا مولانا؟ بھئی یہاں لفظِ ”جَمِيعٌ“ نہیں لائے، ”كَثِيرٌ“ لے کر آئے۔ علامہ خلخالی فرماتے ہیں اگر یہاں ”جَمِيعٌ“ کا لفظ ذکر کر دیتے تو پھر یہ خرابی لازم آتی۔ کیا معنی؟ معنی یوں ہوتا: سارے کے سارے ان دونوں کے ساتھ خاص نہیں بلکہ سارے کے سارے ان کے غیر میں بھی پائے جاتے ہیں۔ اب مثلاً غیر کے فرض کرو دس افراد ہیں، تو یہ ایک بھی ان دونوں کا کیا ہے؟ غیر ہے، اور انہوں نے کہا سارے کے سارے ان کے غیر میں بھی، تو یہ تقاضا کرتا یہ سارے کے سارے اس میں بھی پائے جائیں۔ دوسرا غیر ہے وہ بھی ان دو سے غیر ہے، اور کلام کیا تقاضا کر رہا تھا سارے کے سارے غیر میں پائے جائیں، تو یہ بھی غیر ہے تو سارے کے سارے اس میں بھی پائے جائیں گے۔ اس طرح ہر ہر فرد کے اندر کیا آنے، کیا ہو جاتا؟ اس میں ثبوت آ جاتا تمام ان احوال کا، حالانکہ ایسا نہیں۔ اسی لیے مصنف نے ”جَمِيعٌ“ نہیں کہا بلکہ کیا کہا؟ ”كَثِيرٌ“ کہا، اس لیے کہ سارے کے سارے ہر ہر غیر میں نہیں پائے جاتے بلکہ بعض بعض کے اندر پائے جاتے ہیں اور بعض بعض کے اندر نہیں پائے جاتے۔ جیسے حال اور تمیز کے اندر تعریف نہیں۔ تعریف کے احوال بھی پڑھے تھے نا ابھی آپ نے کہ معرفہ اس لیے لے کر آتے ہیں، تو حال اور تمیز کبھی معرفہ نہیں آتے بلکہ نکرہ آتے ہیں، اگر کبھی حال معرفہ آ بھی جائے تو تاویل کر کے اس کو نکرہ بنا لیا جاتا ہے۔ اور اسی طرح مضاف الیہ ہے، ایک حال آپ نے تقدیم پڑھا تھا، مسند کو کبھی مقدم کرتے ہیں، یہاں پر مضاف الیہ کے اندر کبھی بھی تقدیم والا حال جاری نہیں ہوتا، وہ ہمیشہ کیا، مؤخر ہی رہتا ہے۔ تو علامہ تفتازانی نے اس قول کو رد کر دیا کہ نہیں، آپ کی یہ بات غلط ہے۔ آپ نے کیا کہا؟ کہ ”جَمِيعٌ“ کا لفظ اس لیے ذکر نہیں کیا کہ اس صورت میں یہ امکان لازم آتا کہ ہر ہر حال کس میں ہے؟ ہر ہر غیر کے اندر پایا جاتا ہے، یہ معنی ہو جاتا۔ کہتے ہیں نہیں بھئی نہیں۔ مثلاً میں، ہم کہتے ہیں کہ وہ جمیع ما، وہ جو سارے ذکر کیے گئے ان بابوں میں، ان کے ساتھ خاص نہیں، سارے کے سارے احوال ان کے ساتھ خاص نہیں۔ سارے کے سارے احوال ان کے ساتھ خاص نہیں، یہ تقاضا نہیں کرتا کہ احوال میں سے کوئی ایک بھی ہر ہر غیر میں پایا جائے۔ میں نے کیا کہا؟ سارے کے سارے غیر مختص ہیں، سارے کے سارے احوال کیا ہیں؟ غیر مختص ہیں، تو کیا یہ کلام تقاضا کرتا ہے کہ کوئی ایک حال ایسا ہو جو ہر ہر غیر کے اندر پایا جائے؟ ایسا نہیں۔ کلام پہ غور بھی کر رہے ہیں یا ویسے ہی سر ہلا رہے ہیں بھئی؟ میں نے کہا کوئی بھی، سارے کے سارے ان دو کے ساتھ خاص نہیں ہیں۔ معلوم ہوا غیر میں بھی پائے جاتے ہیں، لیکن کیا یہ ثابت ہوا کہ ان کا ہر غیر میں ہونا، کوئی ایک فرد بھی ان میں سے ایسا ہے جو ہر ہر غیر کے اندر پایا جائے، یہ کہیں سے نکلا اس کلام سے، یہ ثابت ہوا؟ نہیں۔ یہ اس کلام سے، غور کریں آپ، اس کلام سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کوئی ایک حال بھی ہر ہر غیر میں پایا جائے، تو چہ جائے کہ یہ ثابت ہو اس سے کہ ہر ہر حال ہر ہر غیر میں۔ یہ کلام تقاضا، یہ تقاضا نہیں کرتا کہ کوئی ایک حال ہر غیر میں پایا جائے، کوئی ایک حال۔ تو سارے احوال ہر ہر غیر میں پائے جائیں اس کا تو بطریقِ اولیٰ تقاضا نہیں کرتا، اس لیے کہ عدمِ اختصاص کے لیے کسی ایک غیر میں اس کا وجود کافی ہے، کسی ایک۔ أَحْوَالُ مُتَعَلَّقَاتِ الْفِعْلِ اس باب میں متعلقاتِ فعل کے احوال بیان ہوں گے مولانا۔ گزشتہ صفحے پر تنبیہ کے تحت مصنف نے یہ ذکر کیا تھا کہ بہت سے وہ احوال جو آپ نے بابِ مسند اور بابِ مسند الیہ میں پڑھے، وہ بہت سے احوال غیر مختص ہیں ان دونوں کے ساتھ، یعنی ان دونوں کے غیر میں بھی، غیر میں بھی جاری ہوتے ہیں۔ اور ان کے غیر میں سے ایک متعلقاتِ فعل بھی ہے۔ کیونکہ متعلقاتِ فعل بھی نہ مسند ہیں اور نہ مسند الیہ، تو یہ ان سے غیر ہوئے۔ تو جب یہ بہت سے احوال غیر میں جاری ہوتے ہیں تو یقیناً پھر کس میں جاری ہوتے ہیں؟ متعلقاتِ فعل میں بھی جاری ہوتے ہیں۔ تو یہ گزشتہ عبارت میں بتلا دیا تھا۔ اور یہاں پر تین بنیادی مسئلے ذکر کریں گے۔ پہلا مسئلہ ذکر کریں گے حذفِ مفعول کا کہ حذفِ مفعول کے کیا نکات ہیں، کیوں حذف کیا جاتا ہے۔ دوسرا بڑا مسئلہ جو ذکر کریں گے وہ تقدیمِ مفعول کا ہے علی نفس الفعل، کہ نفسِ فعل پر مفعول کو کیوں مقدم کیا جاتا ہے، اس کے کیا نکات ہیں۔ تیسرا مسئلہ جو ذکر کریں گے وہ تقدیمِ بعضِ معمولاتِ فعل ہے علی بعضِ معمولاتِ الفعل۔ فعل کے کئی معمولات ہیں، تو ایک معمول کو دوسرے پر کیوں مقدم کیا جاتا ہے، اس کے کیا نکات ہیں۔ تو تین بنیادی مسئلے، تین بڑے مسئلے یہاں ذکر ہوں گے اس باب میں۔ پہلا کیا؟ حذفِ مفعول کے نکات۔ ثانی کیا؟ تقدیمِ مفعول کے نکات۔ اور چوتھا، تقدیمِ بعضِ معمولاتِ فعل علی بعضِ معمولاتِ الفعل کے نکات مولانا۔ ”قَدْ أُشِيرَ فِي التَّنْبِيهِ“ تحقیق اشارہ کیا گیا تنبیہ کے اندر گزشتہ صفحے پر ”إِلَى أَنَّ كَثِيرًا مِنَ الِاعْتِبَارَاتِ السَّابِقَةِ“ کہ بہت سے اعتباراتِ سابقہ ”يَجْرِي“ جاری ہوتے ہیں ”فِي مُتَعَلَّقَاتِ الْفِعْلِ“ متعلقاتِ فعل میں بھی جاری ہوتے ہیں۔ ”لَكِنْ ذُكِرَ“ یہاں سے یہ ذکر کر رہے ہیں مولانا۔ وہم پیدا ہوا بھئی، جب پیچھے بتلا دیا کہ بہت سے احوال متعلقاتِ فعل میں بھی جاری ہوتے ہیں تو پھر دوبارہ ان کو یہاں ذکر کرنے کی کیا ضرورت ہے، یہ تو معلوم ہو چکا ہمیں۔ کہتے ہیں لیکن بھئی، بعض کے اندر کچھ زائد بحث تھی جو پہلے مذکور نہیں تھی، تو اس زائد بحث کو ذکر کرنے کے لیے یہ باب منعقد کیا اور اس کو ذکر کیا۔ ”لَكِنْ ذَكَرَ فِي هَذَا الْبَابِ تَفْصِيلَ بَعْضٍ مِنْ ذَلِكَ لِاخْتِصَاصِهِ بِمَزِيدِ بَحْثٍ“، لیکن ذکر کیا اس باب میں ان بعض میں سے بعض کی تفصیل کو، بوجہ ان کے خاص ہونے کے مزید بحث کے ساتھ۔ یعنی بعض میں کیا تھی؟ زائد بحث تھی، اس کے زائد بحث ان میں پائی جا رہی تھی۔ ”وَمَهَّدَ لِذَلِكَ مُقَدِّمَةً فَقَالَ“، اور تمہید باندھی اس کے لیے ایک مقدمے کی، فرمایا۔ جی، پہلے سب سے پہلے مسئلہ ذکر کرنے لگے ہیں مصنف حذفِ مفعول کا۔ حذفِ مفعول کے لیے یہ اب ایک تمہید باندھ رہے ہیں مولانا، مقدمہ ذکر کر رہے ہیں۔ یہ ”اَلْفِعْلُ مَعَ الْمَفْعُولِ“ سے مقدمہ شروع ہوتا ہے اور نیچے متن کی جو عبارت ہے ”لَا إِفَادَةَ وُقُوعِهِ مُطْلَقًا“، یہاں تک یہ مقدمہ ہے، حذفِ مفعول کے لیے مقدمہ ہے۔ یہاں سے شارح، ماتن آپ کو یہ بتلا رہے ہیں کہ فعل کے ساتھ جیسے فاعل کو ذکر کیا جاتا ہے اسی طرح فعلِ متعدی کے ساتھ مفعول کو ذکر کیا جاتا ہے۔ تو فاعل کو ذکر کیا جاتا ہے یہ بتلانے کے لیے کہ اس فعل کا تعلق اس کے ساتھ ہے، اسی طرح مفعول کو بھی جب ذکر کیا جاتا ہے تو یہ فائدہ بتلانا مقصود ہوتا ہے کہ اس فعل کا تعلق اس مفعول کے ساتھ ہے۔ تو فائدہ بتلانا ہوتا ہے کہ فعل کا تعلق اس سے بھی ہے، اس فاعل، اس سے بھی ہے اور اس سے بھی ہے۔ البتہ جہت مختلف ہوتی ہے کہ فاعل کے ساتھ کون سی جہت ہوتی ہے کہ اس سے فعل واقع ہوا ہے، اور مفعول کے ساتھ کیا جہت ہوتی ہے کہ اس پر فعل واقع ہوا ہے۔ تو بس جب بھی فعل کے ساتھ فاعل کو ذکر کیا جاتا ہے اور مفعول کو ذکر کیا جاتا ہے تو مقصد، یہ کیا بتلانا ہوتا ہے کہ فعل کا تعلق ان دونوں کے ساتھ ہے، ان دونوں کے ساتھ ہے۔ نفسِ فعل کے وقوع کا فائدہ دینا مقصد نہیں ہوتا۔ آپ کہہ رہے ہیں بھئی ”ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًا“، زید کو بھی ذکر کر رہے ہیں فاعل کو بھی اور مفعول کو بھی ذکر کر رہے ہیں، کس لیے؟ بتلانا یہ چاہتے ہیں کہ یہ ضرب صادر ہوئی کس سے؟ زید سے، اور اس کا وقوع ہوا کس پر؟ عمرو پر وقوع ہوا۔ یہ بتلانے کے لیے آپ نے زید اور عمرو کو ساتھ ذکر نہیں کیا کہ کیا ہے خارج میں نفسِ فعل واقع ہوا ہے۔ اگر صرف یہ مقصد ہوتا کہ نفسِ فعل واقع ہوا ہے، یہ نہیں بتلانا چاہتی آپ کہ اس فعل کا تعلق زید سے ہے، اس فعل کا تعلق عمرو سے ہے، اگر یہ نہ بتلانا مقصد ہوتا تو پھر آپ زید اور عمرو کو ذکر ہی نہ کرتے، کیونکہ مقصد ہی نہیں ہے، یہ تو بے کار ہے ان کو ذکر کرنا، بلکہ اس کے بجائے آپ یوں کہہ دیتے ”وَقَعَ الضَّرْبُ“ یا ”حَصَلَ الضَّرْبُ“ یا ”وُجِدَ الضَّرْبُ“ وغیرہ کے کلام کو ذکر کرتے۔ تو معلوم ہوا اس عبارت سے بھئی کہ فعل کے ساتھ جب فاعل اور مفعول کو ذکر کیا جائے تو ان کو بغیر وجہ کے ذکر نہیں کیا جاتا بلکہ اس کے، اس کے تعلق کا بتلانا وہاں پر مقصود ہوتا ہے۔ ”فَقَالَ: اَلْفِعْلُ مَعَ الْمَفْعُولِ“ یعنی ”ذِكْرُ الْفِعْلِ مَعَ الْمَفْعُولِ كَالْفِعْلِ مَعَ الْفَاعِلِ“، فعل کا ذکر مفعول کے ساتھ یہ اسی طرح ہے جیسے فعل کا ذکر فاعل کے ساتھ ہوتا ہے۔ کس بات میں بھئی یہ فعل مع، فعل مع المفعول کس کی طرح ہے؟ فعل مع الفاعل کس بات میں؟ اس بات میں کہ ”فِي أَنَّ الْغَرَضَ مِنْ ذِكْرِهِ مَعَهُ“ کہ غرض ذکرِ، ”ذِكْرِهِ“ کی ضمیر راجع کریں مولانا مفعول اور فاعل کی طرف۔ ”ذِكْرِهِ“ کی ضمیر راجع کریں مفعول اور فاعل کی طرف، اور ”مَعَهُ“ کی ضمیر راجع کریں کس کی، فعل کی طرف۔ اس پر یہ اشکال ہوگا کہ ”ذِكْرِهِ“ کی ضمیر تو مفرد ہے، فاعل اور مفعول، مفعول اور فاعل دو چیزیں ہیں، وہ تو تثنیہ ہیں، تو ضمیر اور مرجع میں مطابقت نہیں۔ تو جواب یہ مولانا کہ یہ ضمیر راجع ہے ان دونوں کو بتاویلِ ”كُلِّ وَاحِدٍ“ کے، بتاویلِ ”كُلِّ وَاحِدٍ“ کے۔ تو مولانا فعل مفعول کے ساتھ اسی طرح ہے جیسے کہ فعل فاعل کے ساتھ ہوتا ہے، اس غرض کے، اس بات میں کہ غرض جو ہوتی ہے فعل یا فاعل کا ذکر کرنے کی کس کے ساتھ؟ فاعل یا مفعول کا ذکر کرنے کی کس کے ساتھ؟ فعل کے ساتھ۔ تو آپ نے ”هُ“ ضمیر کس کو لوٹائی؟ فاعل یا مفعول کو، اور ”مَعَهُ“ کی ضمیر کس کو لوٹائی؟ فعل کو۔ اور اگر آپ چاہیں تو عکس کر دیں بھئی، پہلی ضمیر فعل کو لوٹا دیں اور دوسری لوٹا دیں کس کو؟ فاعل اور مفعول کو۔ یہی بات علامہ تفتازانی بھی ذکر کریں گے: ”أَيْ ذِكْرِ كُلٍّ مِنَ الْفَاعِلِ وَالْمَفْعُولِ“، دیکھا ”ذِكْرِ“ کے بعد کیا نکالا؟ ”كُلٍّ مِنَ الْفَاعِلِ وَالْمَفْعُولِ“، اور ”مَعَ“ کے بعد کیا نکالا؟ ”اَلْفِعْلِ“۔ یعنی ذکر ہر ایک کا فاعل اور مفعول میں سے کس کے ساتھ؟ فعل کے ساتھ۔ تو میں نے تاویل کیا کی تھی مولانا؟ ”كُلُّ وَاحِدٍ“، ”كُلُّ وَاحِدٍ“، انہوں نے ”وَاحِدٍ“ کو حذف کر دیا اور اس کے عوض میں ”كُلٌّ“ کو تنوین دے دی مولانا۔ کیا کیا؟ کبھی کبھار تنوین مضاف الیہ کے عوض میں دی جاتی ہے، جیسے آپ نے نحو میں پڑھا ہے ”حِينَئِذٍ“، یہ ”ئِذٍ“ پر تنوین کیوں آئی؟ اصل میں یہاں جملہ تھا ”حِينَ إِذْ كَانَ كَذَا“، تو ”كَانَ كَذَا“ پورا جملہ مضاف الیہ تھا، ہم نے اس کو حذف کر کے اس کو کیا دے دی؟ تنوین۔ تو یہاں بھی ”وَاحِدٍ“ کو حذف کیا اور ”كُلٌّ“ کو کیا دے دی؟ تنوین دے دی مولانا۔ اس لیے کہ ذکر ہر ایک، ہر ایک فاعل اور مفعول میں سے ہر ایک کا ذکر فعل کے ساتھ یا فعل کا ذکر ان دونوں میں سے ہر ایک کے ساتھ، اس میں غرض کیا ہوتی ہے؟ ”إِفَادَةُ تَلَبُّسِهِ بِهِ“، فائدہ دینا ہوتا ہے فعل کے تعلق کا ان دونوں کے ساتھ، ”أَيْ تَلَبُّسُ الْفِعْلِ بِكُلٍّ مِنْهُمَا“ کہ فعل کا تعلق ہے مولانا کس کے ساتھ ان دونوں میں سے؟ ہر ایک کے ساتھ۔ البتہ جہت مختلف ہے: ”أَمَّا بِالْفَاعِلِ فَمِنْ جِهَةِ وُقُوعِهِ عَنْهُ“، فاعل کے ساتھ اس جہت سے کہ فعل کا وقوع ہوا ہے فاعل سے، ”وَأَمَّا بِالْمَفْعُولِ فَمِنْ جِهَةِ وُقُوعِهِ عَلَيْهِ“، اور مفعول کے ساتھ اس جہت سے کہ فعل کا وقوع ہوا ہے اس مفعول پر۔ ”لَا إِفَادَةَ وُقُوعِهِ مُطْلَقًا“، مطلقاً وقوعِ فعل کا افادہ دینا مقصد نہیں۔ ”أَيْ لَيْسَ الْغَرَضُ مِنْ ذِكْرِهِ مَعَهُ“، غرض یہ نہیں ہے، جب فعل یا فاعل، مفعول یا فاعل کو آپ فعل کے ساتھ ذکر کر دیں تو یہ غرض نہیں ہوتی، کیا غرض نہیں ہوتی؟ ”إِفَادَةَ وُقُوعِ الْفِعْلِ وَثُبُوتَهُ فِي نَفْسِهِ“، کہ آپ فائدہ دینا چاہتے ہیں وقوعِ فعل اور ثبوتِ فعل کا فی ذاتہ، ”مِنْ غَيْرِ إِرَادَةِ أَنْ يُعْلَمَ مِمَّنْ وَقَعَ وَعَلَى مَنْ وَقَعَ“، بغیر ارادہ کیے اس بات کا کہ یہ جانا جائے کس سے فعل کا وقوع ہوا ہے اور کس پر وقوع ہوا ہے۔ اس کا ارادہ کیے بغیر ہی آپ زید اور عمرو کو ذکر کر دیں، یہ معنی نہیں کہ آپ، آپ کا مقصد یہ نہیں بتلانا کہ کس سے واقع ہوا ہے، زید سے، اور کس پر ہوا ہے، عمرو پر۔ یہ بتلانا مقصد نہیں، صرف کیا بتلانا مقصد ہے؟ وقوعِ فعل، کہتے ہیں ایسا نہیں، ایسا نہیں۔ ”إِذْ لَوْ أُرِيدَ ذَلِكَ لَقِيلَ وَقَعَ الضَّرْبُ أَوْ وُجِدَ الضَّرْبُ أَوْ ثَبَتَ الضَّرْبُ مِنْ غَيْرِ ذِكْرِ الْفَاعِلِ“، اس لیے کہ اگر یہ ارادہ ہوتا تو یہ کہا جاتا ”وَقَعَ الضَّرْبُ“ یا ”وُجِدَ الضَّرْبُ“ یا ”ثَبَتَ الضَّرْبُ“، بغیر ذکر کیے فاعل کا، یعنی فاعل کا ذکر کیے بغیر آپ یوں کہتے ”وَقَعَ الضَّرْبُ“، اسی طرح مفعول کا ذکر کیے بغیر یوں کہتے ”وَقَعَ الضَّرْبُ“، ”لِكَوْنِهِ عَبَثًا“ اس لیے کہ یہ دونوں کیا ہو گئے مولانا؟ عبث ہو گئے تو ان کو ذکر نہ کرتے۔ اور بلاغت کے، بلاغت کے اندر جب ایک چیز مقصود نہیں تو وہ محتاج الیہ نہیں، اب اس کا ذکر عبث ہے لہٰذا اس کو جملے کے اندر ذکر، تو آپ کا ارادہ نفسِ وقوعِ فعل بتلانا ہے تو یہ بتلانا مقصد ہی نہیں ہے کہ کس سے واقع ہوا، کس پہ واقع ہوا، تو اب دونوں کیا ہو گئے؟ عبث ہو گئے، عبث ہوئے۔ یہ تھا مقدمہ ختم ہوا۔ مقدمے میں آپ کو بتلایا کہ فعل کے ساتھ مفعول کو ذکر کیا جاتا ہے یہ فائدہ دینے کے لیے کہ فعل کا تعلق اس مفعول سے ہے، اور فاعل کا ذکر کیا جاتا ہے یہ بتلانے کے لیے کہ فعل کا تعلق اس فاعل سے ہے۔ کہتے ہیں ”فَإِذَا لَمْ يُذْكَرِ الْمَفْعُولُ بِهِ مَعَهُ“، پس اگر مفعول بہ کو اس کے ساتھ ذکر نہ کیا جائے، فعلِ متعدی کے ساتھ۔ دیکھیے بھئی، پہلے اس بات کا خلاصہ سمجھ لیں اس کے بعد کتاب کی طرف ہم آتے ہیں۔ خلاصہ یہ مولانا، بات شروع کر رہے ہیں حذفِ مفعول کی کہ آپ کیا کرتے ہیں؟ فعلِ متعدی تو مفعول چاہتا ہے، اس کے ساتھ مفعول ذکر کیا جاتا ہے یہ بتلانے کے لیے کہ فعل کا اس کے ساتھ تعلق ہے، لیکن آپ عبارت سے اس کو حذف کر لیتے ہیں۔ عبارت سے کیا کر لیتے ہیں؟ حذف کر لیتے ہیں۔ حذف کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ مخاطب کو یا تو یہ بتلانا چاہیں گے کہ اس فعل کا تعلق اس محذوف کے ساتھ ہے یا ایسا نہیں چاہیں گے۔ یعنی آپ نے جب حذف کر لیا تو دو ہی ارادے ہو سکتے ہیں: یا تو حذف کے باوجود پھر بھی آپ کا یہ ارادہ ہے کہ اس فعل کا تعلق کس سے ہے؟ اس مفعول سے ہے۔ اگر یہ ارادہ ہے، یہ مسئلہ آگے جا کر آئے گا مولانا، اس صورت کے اندر اس کو مقدر ماننا اور مقدر نکالنا واجب ہے۔ مقدر نکالنا واجب ہے، کیونکہ مخاطب نے اگرچہ حذف کیا ہے لیکن اعتبار تو اب بھی کر رہا ہے، ابھی بھی وہ بتلا رہا ہے کہ یہ ضرب عام نہیں ہے، اس کا تعلق کس سے ہے؟ عمرو ہی کے ساتھ ہے، جب عمرو ہی کے ساتھ ہے تو اب اس صورت میں اس کو مقدر نکالنا واجب۔ اب عبارت میں تو نہیں ذکر لیکن ہم کہیں گے ”عَمْرًا“ محذوف ہے یہاں پر، مفعول ہے۔ یا مولانا، اس نے اس کا، اس کو حذف کر دیا اور اس کا وہ اعتبار بھی نہیں کرتا۔ حذف کر دیا اور اعتبار بھی نہیں کرتا، وہ صرف یہ بتلانا چاہتا ہے کہ یہ فعل ثابت ہے اس فاعل کے لیے مطلقاً، بس۔ یہ فعل ثابت ہے اس فاعل کے لیے مطلقاً، مطلقاً ثابت ہے۔ کیا معنی مطلقاً؟ کہ مطلقاً کا معنی یہ ہے کہ فعل کے اندر بھی عموم نہیں، عموم اور خصوص نہیں، اور مفعول کے اندر بھی عموم اور خصوص نہیں۔ مفعول کے اندر تو عموم اور خصوص اس لیے نہیں مولانا کہ مفعول کا تو آپ نے اعتبار ہی نہیں کیا، جب اعتبار ہی نہیں کیا تو عموم اور خصوص کا کیا معنی؟ اگر اعتبار کرتے پھر ہم کہتے اس میں عموم ہے یا اس میں خصوص ہے، تو آپ نے جب اعتبار ہی نہیں کیا تو اب اس میں عموم اور خصوص کا بھی احتمال نہیں رہے گا۔ اور اسی طرح فعل، آپ نے کیا چاہتے ہیں، غرض کیا ہے آپ کی کہ آپ مطلق فعل کو ثابت کرنا چاہتے ہیں فاعل کے لیے؟ کیا کرنا چاہتے ہیں؟ مطلق فعل کو ثابت کرنا چاہتے ہیں فاعل کے لیے، یعنی مفعول کے عموم و خصوص کا ارادہ نہیں ہے بلکہ سرے سے مفعول کا ارادہ ہی نہیں ہے۔ اسی طرح یہ فعل مطلق ہے، یعنی فعل میں بھی عموم و خصوص کا ارادہ نہیں ہے۔ عموم کا یہ معنی کہ فعل کے سارے افراد مراد ہوں مولانا۔ میں نے کہا ”ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًا“، ”ضَرَبَ زَيْدٌ“، تو ضرب کے افراد کتنے ہی ہو سکتے تھے مولانا، ضرب کے کئی افراد۔ بھئی یہ ضرب عمرو پر بھی واقع ہے، یہ ضرب بکر پہ بھی واقع ہے، یہ ضرب کس پہ واقع ہے؟ خالد پہ بھی واقع ہے، تو کئی افراد آ گئے۔ یا مولانا انواع کے اعتبار سے بھی کئی افراد آ گئیں: ایک ضرب جوتے سے ہو گئی مولانا، ایک ضرب ڈنڈے سے ہو گئی، ایک ویسے ہاتھ سے پٹائی ہوئی، تو یعنی یہاں فعل کے اندر عموم و خصوص کا اعتبار نہیں بھئی، عموم اور خصوص کا اعتبار نہیں۔ یعنی اس کے نہ تو تمام افراد مراد ہیں اور نہ بعض خاص افراد مراد ہیں، بس مطلق فعل کا آپ اثبات کرنا چاہتے ہیں فاعل کے لیے، آپ مطلق فعل کا اثبات کرنا چاہتے ہیں۔ مفعول کو آپ نے حذف کر دیا ہے اور اب آپ حذف کے بعد اس کا اعتبار بھی سرے سے نہیں کر رہے، نہیں کر رہے۔ یہ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو جب آپ نے ایسا کر دیا، مفعول کو حذف بھی کر دیا اور حذف کے بعد اس کا اعتبار بھی نہیں کر رہے، تو گویا آپ نے اس فعلِ متعدی کو فعلِ لازم کے درجے میں اتار لیا جو صرف کس کو چاہتا ہے؟ فاعل کو چاہتا ہے، مفعول کو سرے سے چاہتا ہی نہیں ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اب اس کے لیے مفعول مقدر نکالیں گے؟ مفعول مقدر نہیں نکالیں گے، کیونکہ مقدر اگر نکال لیں تو مقدر کس کی طرح ہوتا ہے؟ مذکور ہی کی طرح ہوتا ہے، مذکور ہی کی طرح ہوتا ہے مقدر۔ کیوں؟ بھئی میں کہتا ہوں ”ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًا“، آپ کیا سمجھے کہ یہ فعل جو یرحمک اللہ۔ جس میں اکتفاء کیا گیا ہو مولانا کس پر؟ صرف ظن پر اکتفاء کیا گیا ہو، لا استدلالیاً، مقام استدلالی جب نہ ہو۔ استدلالی کون سا مقام؟ یطلب فیہ الیقین البرھانی، جس کے اندر کس کو طلب کیا جائے؟ یقین برہانی کو طلب کیا جائے۔ یقین برہانی۔ افاد المقام او الفعل ذلک، تو مقام، او بمعنی واو کے ہے، تو وہ مقام اور فعل فائدہ دے گا اس غرض کا۔ کس کا دے گا؟ غرض کا۔ دیکھیے مولانا، ترتیب سے سنو بھئی، لمبی جہاں سے ہم نے بات شروع کی تھی۔ ہم نے کیا کیا، مفعول کو حذف کیا۔ ہماری غرض کیا تھی؟ نفسِ فعل کو ثابت کرنا ہے کس کے لیے؟ فاعل کے لیے۔ چنانچہ ہم نے اس فعلِ متعدی کو کس کے درجے میں اتارا؟ فعلِ لازم کے درجے میں اتارا۔ پھر اس فعلِ لازم کے ذریعے ہم نے کنایہ بھی نہیں کیا۔ کس سے؟ مطلق بول کر مقید مراد بھی نہیں لیا، تو کنایہ بھی نہیں لیا۔ اور پھر مقام بھی کون سا تھا؟ خطابی ہے، کیا ہے؟ خطابی ہے۔ دوبارہ سنو ذرا سا۔ آپ نے کیا کیا، مفعول کو حذف کیا، آپ کی غرض کیا ہے؟ نفسِ فعل کا اثبات کرنا چاہتے ہیں فاعل کے لیے۔ اور آپ نے لہٰذا فعلِ متعدی کو کس کے درجے میں اتارا؟ لازم کے درجے میں اتارا۔ اور پھر مولانا، آپ نے اس کے ذریعے کنایہ بھی نہیں کیا۔ اور پھر مولانا، مقام بھی کون سا تھا؟ خطابی تھا۔ تو یہاں پر یہ خطابی مقام کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ استغراق کا فائدہ دیتا ہے۔ کس چیز کا؟ استغراق کا فائدہ دیتا ہے۔ اور غرض آپ کی کیا تھی؟ نفسِ فعل کا اثبات کس کے لیے؟ فاعل کے لیے۔ تو نفسِ فعل کا اثبات آپ کی غرض بھی حاصل ہو جائے گی اور تعمیم بھی حاصل ہو جائے گی۔ آپ کی غرض بھی حاصل ہو جائے گی اور تعمیم بھی حاصل ہو جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی سب کو؟ کیونکہ یہ تو آپ کی غرض تھی، یہ تو حاصل ہوئی۔ ساتھ مقام خطابی تھا، اس نے کس چیز کا فائدہ دیا؟ تعمیم اور استغراق کا فائدہ دیا، تو یہ دونوں فائدے کیا ہوں گے؟ یہی بات کر رہے ہیں۔ افاد المقام او الفعل ذلک، فائدہ دے گا مقام یا فعل اس کا بھی۔ کس چیز کا؟ ای کون الغرض ثبوتہ لفاعلہ او نفیہ عنہ مطلقاً، کہ غرض کیا تھی؟ ثبوتِ فعل للفاعل یا نفیِ فعل عن الفاعل مطلقاً۔ یہ غرض کا بھی فائدہ دے گا، مع التعمیم، اور ساتھ تعمیم کا بھی فائدہ دے گا، فی افراد الفعل، کس کے اندر؟ افرادِ فعل کے کہ سارے افراد مراد ہیں مولانا۔ دفعاً للتحکم بھئی۔ تعمیم کا فائدہ کیوں دے گا؟ دفعاً للتحکم، تحکم کو دور کرتے ہوئے۔ تحکم کا کیا معنی مولانا؟ ترجیح بلا مرجح، ترجیح بلا مرجح۔ بھئی تعمیم کا فائدہ اس لیے دے گا نا کہ ان میں سے اگر آپ اس کو بھی مراد لیں تو یہ کیا ہے؟ ترجیح بلا مرجح۔ یہ مراد لیں تو یہ بھی ترجیح بلا مرجح۔ تو آپ نے ترجیح بلا مرجح کو ہٹایا بھئی کہ ترجیح بلا مرجح تو درست نہیں ہے۔ جب درست نہیں ہے اور کسی ایک کو ترجیح نہیں دے سکتے تو اب یقیناً کیا ہے؟ سارے ہی مراد ہیں۔ دور کرتے ہوئے مولانا تحکم کو جو لازم آ رہا تھا من حملہ علی فرد دون آخر، کہ اگر آپ اس کو محمول کریں ایک فرد پر نہ کہ دوسرے پر، ایک پر محمول کریں دوسرے پر نہ کریں تو اس سے ترجیح بلا مرجح لازم آ رہی تھی، تو اس کو دور کرنے کے لیے تعمیم کا فائدہ اب حاصل ہو گا۔ وتحقیقہ، تحقیق اس مسئلے کی یہ ہے مولانا، ان معنی یعطی، اس صورت میں یعطی کا معنی کیا ہو جائے گا؟ یفعل الاعطاء، کیا ہو جائے گا؟ یفعل الاعطاء۔ آپ نے کہا فلان یعطی، کیا معنی؟ فلان یفعل الاعطاء، اور مقام اعطاء، تو آپ نے مولانا نفسِ فعل کو ثابت کیا کس چیز کا؟ فاعل کے لیے۔ تو آپ نے فعلِ متعدی کو کس کے درجے میں اتارا؟ لازم کے درجے میں۔ اور آپ نے اس کے ذریعے کنایہ بھی نہیں کیا۔ اور مقام بھی کون سا ہے؟ خطابی ہے۔ خطابی ہے اور آ رہا ہے الف لام، اور الف لام کس چیز کا فائدہ دے گا؟ استغراق کا فائدہ دے گا۔ دیکھا؟ کیسے؟ فلان یعطی کا کیا معنی؟ فلان یفعل الاعطاء۔ الاعطاء آیا یا نہیں؟ الاعطاء پر الف لام ہے اور مقام کون سا؟ خطابی۔ تو یہ کس چیز کا فائدہ دے گا؟ استغراق کا۔ تو دیکھا، فلان یعطی کو ہم نے کس کے معنی میں لیا ہے؟ یفعل الاعطاء کے۔ فالاعطاء المعرف بلام الحقیقۃ، اعطاء جو معرف بلامِ حقیقت ہے وہ محمول ہو گا مقامِ خطابی میں علی استغراق الاعطاءات، کس پر؟ استغراقِ اعطاءات پر کہ تمام اعطاءات کو یہ شامل ہے، و شمولہا، اور ان کے شمول کا۔ مبالغۃً، کس لیے فائدہ دے گا استغراق اور شمول کا؟ مبالغے کی وجہ سے۔ لئلا یلزم ترجیح احد المتساویین علی الآخر، تاکہ دو متساویین میں سے ایک کی ترجیح دوسرے پر لازم نہ آئے۔ اس پر ایک اشکال ہوا۔ آپ کی غرض کیا تھی؟ نفسِ فعل کا اثبات کس کے لیے؟ فاعل کے لیے، مطلقاً، کیا تھا؟ مطلقاً، یعنی فعل میں عموم اور خصوص کا اعتبار نہیں۔ نفسِ فعل ثابت کر رہے ہیں نا، مطلقاً ثابت کر رہے ہیں، اس میں عموم اور خصوص ہے؟ نہیں۔ عموم اور خصوص نہیں۔ اور اب کہہ رہے ہیں مقامِ خطابی فائدہ کس چیز کا دے گا؟ تعمیم کا، استغراق... مقامِ خطابی کس چیز کا فائدہ دے گا؟ استغراق کا۔ استغراق کیا ہوتی ہے؟ تعمیم ہے نا۔ تعمیم کا فائدہ دے گا اور تعمیم کے اندر عموم آئے گا، کیا آئے گا؟ عموم آئے گا۔ تو یہ تو مولانا دو ضدین جمع ہو گئیں۔ آپ نے پہلے کہا تھا فعل مطلق ہے، نہ اس میں عموم کا اعتبار ہے اور نہ خصوص کا، اور اب کہہ رہے ہیں اس میں عموم ہے۔ ادھر کہہ رہے ہیں عموم اور خصوص نہیں ہے، اور ادھر آ رہا ہے عموم، اور یہ دونوں فائدے حاصل ہو رہے ہیں، تو یہ دو ضدین آپس میں حاصل ہو رہی ہیں، یہ درست نہیں ہے۔ تو علامہ تفتازانی جواب دیں گے نہیں بھئی نہیں، یہ ان میں آپس میں کوئی منافات نہیں ہے۔ بھئی غرض یہ ہے کہ عموم اور خصوص کا ارادہ نہیں تھا۔ عموم اور خصوص کا ارادہ نہیں۔ ارادہ نہیں ہے لیکن وہ حاصل ہو رہا ہے، اس میں کیا خرابی ہے بھئی؟ آپ کا ارادہ عموم اور خصوص کا نہیں تھا، تو لیکن وہ پھر بھی حاصل ہو رہا ہے۔ بس صرف اتنا فرق ہے کہ حاصل بلا قصد ہو رہا ہے، حاصل بلا قصد۔ آپ کا قصد عموم اور خصوص کا نہیں تھا، آپ مطلقاً چلے تھے مولانا۔ کیا ثابت کرنا چاہتے تھے؟ مطلقاً فعل کا اثبات، لیکن ساتھ ساتھ کیا آ گئی؟ تعمیم۔ تو یہ آپ کا قصد تو نہیں تھا لیکن حاصل ہو گئی۔ تو اس میں کوئی خرابی نہیں کہ آپ کا ارادہ تو عموم اور خصوص کا نہیں تھا لیکن عموم آ گیا، عموم آ گیا، اس میں کوئی منافات نہیں۔ جی۔ لا یقال، یہ نہ کہا جائے، افادۃ التعمیم ینافی، کہ تعمیم کا افادہ یہ تو منافی ہے، کون الغرض الثبوت او النفی مطلقاً، کہ غرض کیا ہے ثبوت اور نفی مطلقاً غرض ہے، ای من غیر اعتبار عموم ولا خصوص، یعنی نہ عموم کا اعتبار ہے اور نہ خصوص کا اعتبار ہے۔ تو یہ اعتراض نہ کیا جائے کہ تعمیم اس کے منافی ہے۔ لانا نقول، کیونکہ ہم کہتے ہیں، لا نسلم ذلک، ہمیں یہ تسلیم نہیں۔ فان عدم کون الشیء معتبراً فی الغرض لا یستلزم عدم کونہ مفاداً من الکلام، کہ ایک چیز کا معتبر نہ ہونا کس چیز کے اندر؟ غرض میں ایک چیز کا معتبر نہ ہونا، لا یستلزم، یہ مستلزم نہیں ہے کس چیز کو؟ عدم کونہ مفاداً من الکلام، کہ وہ کلام سے مفاد بھی نہ ہو۔ فالتعمیم مفاد غیر مقصود، تو تعمیم اس کا فائدہ ہوا حاصل ہوا اور غیر مقصود ہے۔ ولبعضہم فی ہذا المقام تخیلات فاسدۃ، اور بعض لوگوں کے اس مقامات پر تخیلاتِ فاسدہ ہیں، کچھ خیالاتِ فاسدہ ہیں، لا طائل تحتہا، کہ جن کے تحت ان خیالات کے تحت کوئی فائدہ نہیں، ان کو ذکر کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ فلم نتعرض لہا، تو ہم بھی اس کے پیچھے نہیں پڑے بھئی، ان کے پیچھے ہم نے ان کو ذکر ہی نہیں کیا۔ یہاں تک بحث سمجھ میں آ گئی بھئی سب کو اچھی طرح؟ اچھا۔ والاول، اول سے کیا مراد ہے؟ بتایا تھا نا، وہ جس کو آپ نے فعلِ لازم کے درجے میں اتار لیا، اب یہ مطلق بول کر یہ مقید مراد ہو گا یا مراد نہیں ہو گا؟ اگر مراد ہے تو آپ کنایہ کر رہے ہیں۔ مطلق بول رہے ہیں اور ارادہ کس کا ہے؟ مقید کا۔ تو والاول، اول کون سا؟ وہو ان یجعل الفعل مطلقاً، کہ بنایا جائے وہ فعل جو مطلق تھا اس کو کنایہ بنایا جائے، عنہ، ای عن الفعل، اس فعل سے جو متعلق تھا کس سے؟ مفعولِ مخصوص سے۔ بھئی یہ فعل مطلقاً تھا اور یہ فعل متعلق تھا کس سے؟ مفعولِ مخصوص سے۔ تو آپ نے اس فعلِ مطلق کو کنایہ بنایا اس مفعول سے جو متعلق ہے کس سے؟ مفعولِ مخصوص کے ساتھ۔ کقول البحتری، جیسے بحتری شاعر کہتا ہے، فی المعتز باللہ، معتز باللہ خلیفہ کے بارے میں، تعریضاً بالمستعین باللہ، کس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے؟ مستعین باللہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے۔ یہ دو بھئی تھے مولانا، خلیفہ متوکل علی اللہ کے بیٹے تھے، معتز باللہ اور مستعین باللہ، اور ان دونوں میں خلافت کے بارے میں جھگڑا رہتا تھا۔ خلیفہ معتز باللہ بنا اور مستعین باللہ کیا تھا، اس سے پھر بھی جھگڑتا رہتا تھا۔ تو شاعر اب معتز باللہ جو خلیفہ ہے اس کی مدح کر رہا ہے اور مستعین باللہ کی کیا کر رہا ہے؟ مذمت بیان کر رہا ہے۔ دیکھیے مولانا۔ تو یہ مولانا، اس دیکھنا عجیب مثال ہے۔ ہم مطلق بولیں گے اور مراد کون لیں گے؟ مقید لیں گے۔ شجو حسادہ وغیظ عداہ، عدا جمع ہے عدو کی۔ عِداً۔ شجو حسادہ، اس کے حاسدوں کا غم، شجو: غم مولانا، مغموم ہونا۔ وغیظ، اور غصہ غضب، اس کے حاسدوں کا غضب اور غم اور اس کے دشمنوں کا غضب، ان یری، وہ یہ ہے، ان یری مبصر، کہ دیکھے کوئی دیکھنے والا، ویسمع واع، اور سنے کوئی سننے والا۔ واع کا معنی سن کر یاد رکھنے والا، مراد سننے والا ہے۔ کہ اس کے دشمنوں کے لیے باعثِ غم کیا ہے کہ کوئی دیکھنے والا پایا جائے، کوئی دیکھنے والا ہو، دیکھنا ہے کسی دیکھنے والے کا اور سننا ہے کسی سننے والے کا۔ تو کوئی بھی دیکھنے والا پایا جائے یہ اس کے دشمنوں کے لیے باعثِ غم اور باعثِ غضب ہے، اور کوئی بھی سننے والا پایا جائے تو یہ اس کے دشمن... خلیفہ کے دشمنوں کے لیے باعثِ غم اور باعثِ غضب ہے۔ تو دیکھو مولانا، دو افعال ذکر ہوئے، تقریر میں پہلے ہی سنا دیتا ہوں، سن لو بھئی۔ یہاں پر دو افعال ذکر ہوئے، ایک یری اور ایک یسمع۔ یری بھی دیکھنا کہ بھی مفعول چاہتا ہے، کس چیز کو دیکھا بھئی؟ رایت زیداً۔ اور اسی طرح سمع یہ بھی مفعول چاہتا ہے، سمعت کلامک، میں نے آپ کا کلام سنا۔ تو سننے کے لیے بھی مفعول چاہیے، رؤیت کے لیے بھی مفعول چاہیے، لیکن شاعر نے کیا کیا؟ یری کے مفعول کو حذف کر دیا، اور اسی طرح سمع کے مفعول کو حذف کر دیا، اور اس کی غرض کیا تھی مولانا؟ مطلقِ فعل کو کس کے لیے ثابت کرنا تھا؟ فاعل کے لیے۔ یہ مفعول کو حذف کیا، مطلقِ فعل کو ثابت کرنا تھا کس کے لیے؟ فعل کو فاعل کے لیے ثابت کرنا تھا، یعنی مفعول کا وہاں اعتبار ہی نہیں۔ تو اس فعلِ متعدی کو کس کے درجے میں اتار لیا؟ لازم کے درجے میں اتار لیا، لازم کے درجے میں۔ کہ کوئی دیکھنے والا ہو، کوئی دیکھنے والا دیکھے، کوئی سننے والا سنے۔ پھر مولانا، اس فعل یہ مطلق ہوا، بولا تو مطلق لیکن کنایہ کیا اور مراد کیا لیا؟ مقید بھئی۔ تو یہ مطلق فعل تھا، اس کا تعلق کسی مفعول کے ساتھ نہیں تھا، اور یہ رؤیت ہے اس کا تعلق کس سے ہے؟ ایک خاص مفعول سے ہے، وہ کیا ہے؟ کوئی دیکھے کس چیز کو؟ دیکھنا میرے ممدوح کی خوبیوں کو۔ دیکھنا کس کو؟ ممدوح کی خوبیوں کو۔ تو یہاں دیکھو، یہ فعل رؤیت ہے لیکن مطلق ہے یا اس کا خاص مفعول آ رہا ہے؟ اس کا کیا آ رہا ہے؟ خاص مفعول آ رہا ہے۔ اسی طرح مولانا، سمع سننا، بولا مطلق لیکن مراد مطلق سننا مطلق نہیں، بلکہ مراد کیا ہے؟ خاص سننا۔ کس چیز کو؟ میرے ممدوح کی خوبیوں کو سننا، میرے ممدوح کی خوبیوں اور اس کی خبروں کو سننا۔ تو دیکھو، بولا مطلق اور اس سے مراد کیا لیا؟ مقید۔ یہ والا مقید جس کا تعلق ایک مخصوص مفعول کے ساتھ تھا۔ رؤیت کے ساتھ بھی تعلق تھا کس کا؟ مخصوص مفعول کا، اور سمع کے ساتھ بھی تعلق تھا مفعولِ مخصوص کا۔ دیکھیے مولانا: ای ان یکون ذو رؤیۃ، کہ ہو مولانا کوئی دیکھنے والا، وذو سمع، اور کوئی سننے والا، فیدرک بالبصر، تو وہ پائے گا، پاتا ہے اپنی آنکھوں کے ساتھ کس چیز کو؟ محاسنہ، ہاں، کوئی دیکھنے والا ہو تو وہ پائے گا اپنی نظروں کے ساتھ میرے ممدوح کی خوبیوں کو، وبالسمع اخبارہ، اور کانوں کے سنے گا مولانا، کس کس چیز کو؟ اس کے کانوں کے ساتھ سنے گا اس کی خبروں کو، الظاہرۃ الدالۃ علی استحقاقہ الامامۃ، وہ خبریں جو ظاہر ہیں اور دلالت کر رہی ہیں اس بات پر کہ میرا ممدوح خلافت کا مستحق ہے۔ کیا ہے؟ خلافت کا مستحق ہے۔ بھئی میرے ممدوح کی جو بھی کوئی دیکھنے والا ہو گا، جو بھی کوئی سننے والا ہو گا وہ میرے ممدوح کی خوبیوں کو سنے گا، میرے ممدوح کی خوبیوں کو دیکھے گا، ان خوبیوں کو سن کر، ان خوبیوں کو دیکھ کر اس کو یقین ہو جائے گا، اس کو پتہ چل جائے گا کہ خلافت کا مستحق صرف یہی ہے اس کا بھئی نہیں ہے۔ جو دلالت کر رہی ہیں اس بات پر کہ وہ مستحق ہے امامت کا، دون غیرہ، نہ کہ اس کا غیر۔ فلا یجد، نصب، نصبت عطفاً علی یدرک، علی یدرک، یہ منصوب ہے عطف ہے کس پر مولانا؟ یدرک پر۔ المنصوب، جو یدرک بھی کیا ہے؟ منصوب، کیونکہ اس کا عطف یکون پر ہو رہا ہے اور یکون منصوب ہے۔ فلا یجد اعداء، دیکھا، تو مولانا جب بھی کوئی دیکھنے والا ہو گا وہ کیا دیکھے گا؟ میرے ممدوح کی خوبیوں کو۔ اور جب بھی کوئی سننے والا ہو گا وہ کیا سنے گا؟ میرے ممدوح کی خوبیوں کے بارے میں خبریں سنے گا۔ پس ان کو پتہ چل جائے گا کہ خلافت کا مستحق صرف میرا ممدوح ہے کوئی اور اس کا مستحق نہیں ہے۔ تو لہٰذا جب سب دیکھنے والوں اور سننے والوں کو یہ پتہ چلے گا کہ خلافت کا تو یہی مستحق ہے، اس کا مخالف مستحق نہیں ہے، تو اس کے مخالف کے لیے کوئی راستہ رہے گا کہ جھگڑا کرے کہ مجھے خلافت دو؟ اس کے لیے کوئی راستہ ہی نہیں رہے گا مولانا کیونکہ اس کے اندر استحقاق ہی نہیں ہے۔ فلا یجد اعداءہ، پس نہیں پائیں گے اس کے دشمن، وحسادہ، اور اس کے حاسدین، الذین، وہ حاسدین اور وہ دشمن، یتمنون الامامۃ، جو تمنا کر رہے ہیں کس چیز کی؟ خلافت کی۔ وہ نہیں پائیں گے، کیا نہیں پائیں گے؟ الی منازعتہ الامامۃ، اس سے امامت کا جھگڑا کرنے کی طرف، سبیلاً، کوئی راستہ۔ فالحاصل، حاصلِ بحث یہ ہے کہ شاعر جو ہے انہ نزل یری، اس نے اتارا یری اور یسمع کو، منزلۃ اللازم، کس کے درجے میں؟ لازم کے درجے میں۔ ای من یصدر عنہ السماع، یعنی وہ شخص جس سے سماع کا صدور ہو، والرؤیۃ، اور جس سے صدور ہو... والرؤیۃ، جس سے رؤیت کا صدور ہو، من غیر تعلق بمفعول مخصوص، بغیر اعتبار کیے کہ اس کا تعلق ہے کسی مفعولِ... لازم کے درجے میں اتارا نا، تو کسی مفعول کا اعتبار ہے؟ نہیں۔ ثم جعلہما، پھر بنایا ان دونوں کو شاعر نے، کنایتین، کنایہ، عن الرؤیۃ والسماع، اس رؤیت اور سماع سے، المتعلقین بمفعول مخصوص، کہ جن کا تعلق کس سے تھا؟ مفعولِ مخصوص سے۔ کون سا تھا مفعولِ مخصوص؟ میرے ممدوح کی خوبیاں دیکھنا اور میرے ممدوح کی خوبیوں کے بارے میں خبریں سننا۔ تو اس مطلق کو بول کر وہ مقید مراد لیا۔ بات سمجھ میں بھی آ رہی ہے کہ مشکل ہے؟ اچھا۔ وہو محاسن... مفعولِ مخصوص کے ساتھ اس کے کنایہ بنایا اس رؤیت اور سماع سے جن کا تعلق کس سے تھا؟ مفعولِ مخصوص کے ساتھ۔ بھئی مفعولِ مخصوص کیا تھا؟ وہو محاسنہ واخبارہ، اس کے محاسن تھے اور اس کی خبریں تھیں۔ تو کنایہ مراد لیا، کیا کیا مولانا؟ مطلق بولا اور مراد مقید ہے۔ یعنی اس کا تعلق کسی مفعول سے نہیں اور اس کا تعلق کس سے؟ مفعول سے، مفعولِ مخصوص سے۔ تو یہ مطلق بول کر اس نے کیا مراد لیا؟ مقید مراد لیا۔ اور اس کو انہوں نے کیا کہا؟ کنائے کے طریقے پر۔ بھئی کنائے کے طریقے پر کیسے ہے؟ کنایہ تو کس کو کہتے ہیں؟ ملزوم بول کر لازم مراد لینا۔ مثلاً میں کہتا ہوں کہ فلاں شخص لمبے قد والا ہے، یہ صراحۃً ہے۔ میں کنائے کے طور پر کہتا ہوں، فلاں شخص کی حمائل لمبی ہے، حمائل کیا ہے؟ لمبی ہے۔ بھئی حمائل کے لمبے ہونے کے ساتھ لازم ہے کیا؟ قد کا بھی لمبا ہونا۔ تو میں کہنا تو یہی چاہتا تھا لیکن بطریقِ کنایہ کے میں نے کہا فلاں لمبا ہے کہ فلاں کی حمائل لمبی ہے۔ تو دیکھو، کنایہ کس کو کہتے ہیں؟ ملزوم بول کر لازم مراد لینا۔ کہتے ہیں یہاں تو کنایہ بن ہی نہیں سکتا، آپ نے کیسے کنایہ بنا دیا؟ کنایہ تو کہتے ہیں ملزوم بول کر لازم مراد لینا، اور یہ کون سا فعل ہے؟ مطلق، اور یہ کون سا فعل ہے؟ مقید۔ اور مطلق کے مطلق ملزوم ہونا چاہیے اور مقید کیا ہونا چاہیے؟ لازم۔ پھر کنایہ ہو گا کیونکہ آپ یہ بول کر یہ مراد لے رہے ہیں، تو یہ کیا ہونا چاہیے؟ ملزوم، اور یہ کیا ہونا چاہیے؟ لازم۔ حالانکہ مطلق کے ساتھ مقید لازم نہیں، مطلق کے ساتھ مقید لازم نہیں، بلکہ معاملہ کے برعکس ہے، مقید کے ساتھ کون لازم ہے؟ مطلق لازم ہے۔ مقید کے پیٹ میں مطلق بھی موجود ہے، یہ مقید ہے نا؟ جی، اس میں سے مفعول گرا دو کیا رہ گیا؟ مطلق بن گیا۔ تو ہر مقید کے پیٹ میں مطلق موجود ہے مولانا۔ تو مقید کے ساتھ مطلق لازم ہے نہ کہ مطلق کے ساتھ مقید لازم ہے۔ تو یہ تو کنایہ بن ہی نہیں سکتا، یہ تو آپ برعکس کر رہے ہیں، خود ہی آپ نے ایک ضابطہ بتلایا تھا۔ جواب دیتے ہیں مولانا، ملازمت ہے تو نہیں دونوں کے اندر، یہ اس کے ساتھ یہ لازم تو نہیں لیکن شاعر نے دعویٰ ملازمت کر دیا۔ شاعر نے دعویٰ ملازمت کر دیا کہ اس کے ساتھ یہ لازم ہے، اس کے ساتھ یہ لازم ہے۔ کس طرح؟ جی؟ بھئی اس طرح کہ جو بھی دیکھنے والا ہو گا میرے ممدوح کی خوبیوں کو ضرور سنے گا کیونکہ وہ بڑی شہرت تک پہنچ چکی ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کوئی دیکھنے والا تو ہو اور میرے ممدوح کی خوبیاں نہ دیکھے۔ تو جو بھی دیکھنے والا ہو گا اس کے ساتھ لازم ہے میرے ممدوح کی خوبیوں کو دیکھنا۔ تو دیکھو، لازم اور لزوم آیا یا نہیں؟ اور یہ اس نے دعویٰ کیا۔ یہ معنی ہے مولانا: بادعاء الملازمۃ بین مطلق الرؤیۃ ورؤیۃ آثارہ، ملازمت کا دعویٰ کرتے ہوئے مطلقِ رؤیت اور رؤیتِ آثارہ ومحاسنہ، آثار اور محاسن ایک معنی، اس کی خوبیاں اور اس کی علامت اور نشانات معنی۔ تو مطلقِ رؤیت اور رؤیتِ محاسن کے اندر کیا، کس چیز کا دعویٰ کر دیا؟ ملازمت کا۔ وکذا بین مطلق السماع وسماع اخبارہ، اسی طرح دعویٰ ملازمت کا دعویٰ کر دیا مطلقِ سماع میں اور سماعِ اخبارہ اور اس کی خبروں کے سماع کے اندر۔ للدلالۃ، بھئی ایسا کیوں کیا؟ آپ نے کیا کیا؟ فعلِ متعدی تھا، اس کے مفعول کو حذف کر دیا اور پھر آپ نے اس کو فعلِ لازم کے درجے میں اتار لیا، اور پھر اس سے مراد کیا لیا؟ مقید۔ بھئی آپ یہیں پر کہہ دیتے مفعول محذوف ہے، آسان سی بات تھی، اتنا لمبا چکر چلانے کی ضرورت نہیں تھی۔ پہلے مطلق بنا دیا اور پھر بعد میں پھر کہہ رہے ہیں مطلق بول کر مراد پھر بھی وہی مقید۔ کہتے ہیں مولانا، یہ مبالغے پر دلالت کرتے ہوئے، مبالغے پر دلالت کرتے ہوئے۔ اگر ہم پہلے سے محذوف مان لیتے تو مبالغہ نہ ہوتا، اب کیا آیا؟ مبالغہ آیا۔ دیکھو کس طرح۔ للدلالۃ، اس بات پر دلالت کرنے کے لیے، علی ان آثارہ واخبارہ، کہ اس کے جو نشانات ہیں ممدوح کے، واخبارہ، اور اس کی جو خبریں ہیں، قد بلغت، وہ پہنچ چکی ہیں، من الکثرۃ والاشتہار، کس میں؟ کثرت اور شہرت کے اندر پہنچ چکی ہیں، الی حیث، اس حد تک، یمتنع خفاؤہا، کہ ممتنع ہے ان کا چھپ جانا۔ اس کی اتنی شہرت ہو چکی ہے کہ اس کا چھپنا ممکن ہی نہیں ہے۔ فیبصرہا کل راء، اس کو دیکھتا ہے ہر دیکھنے والا اس کی خوبیوں کو، ویسمعہا کل واع، اور سنتا ہے اس کی خوبیوں کے بارے میں ہر سننے والا۔ بلکہ اس سے ایک قدم اور آگے بڑھتا ہے شاعر، کہتا ہے: بلکہ لا یبصر الرائی الا تلک الآثارا، کہ دیکھنے والا صرف اس کے ممدوح کی خوبیوں ہی کو دیکھتا ہے، اور کسی چیز کو نہیں دیکھتا۔ ولا یسمع الواعی الا تلک الاخبارا، اور سننے والا نہیں سنتا مگر اسی کی خبروں کو، اسی کی خبروں کو۔ اتنی شہرت ہو چکی، اتنی شہرت کہ جب بھی کوئی سننے والا پایا جائے گا وہ میرے ممدوح کی خوبیوں کو دیکھے گا، بلکہ خوبیوں کو ہی دیکھے گا نہیں، صرف خوبیوں کو دیکھے گا اور کسی چیز، اور کسی کی خوبیوں کو نہیں دیکھے گا۔ کیونکہ اوروں کے اندر خوبیاں موجود ہی نہیں، جب موجود ہی نہیں تو دیکھے گا صرف کس کی خوبیاں؟ ممدوح کی۔ فذکر الملزوم، ذکر کیا ملزوم کو، واراد اللازم، اور ارادہ کس کا کیا؟ لازم کا کیا۔ علی ما ہو طریق الکنایۃ، بنا بر اسی طریقے کے جو... بنا بر اسی کے جو کیا ہے، طریقہ ہے کنائے کا۔ وفی ترک المفعول، پس مفعول کو ترک کرنے کے اندر، والاعراض عنہ، اور اس سے اعراض کرنے کے اندر، اشعار، یہ خبر دینا مقصود ہے، بان فضائلہ، کہ اس کے ممدوح کے فضائل جو ہیں، قد بلغت من الظہور والکثرۃ، وہ پہنچ چکے ہیں ظہور اور کثرت میں، الی حیث، اس حد تک، یکفی فیہا، کہ کافی ہے اس کے اندر، مجرد ان یکون ذو سمع وذو بصر، کہ پایا جائے کوئی سننے والا اور پایا جائے کوئی دیکھنے والا، حتی یعلم، تاکہ یہ جان لیا جائے، انہ المتفرد بالفضائل، کہ وہ تنہا ہے کس کے اندر؟ فضائل کے اندر۔ ولا یخفی، اور یہ بات مخفی نہیں ہے، انہ یفوت ہذا المعنی، کہ یہ معنی فوت ہو جاتا ہے، عند ذکر المفعول او تقدیرہ، کہ جب ہم کس کو ذکر کریں؟ مفعول کو ذکر کریں یا اس کو مقدر مانیں۔ اگر مفعول کو ذکر کریں یا مقدر کریں تو اس صورت میں اتنا مبالغہ نہیں۔ لیکن اب شاعر نے کیا کیا؟ مقدر نہیں مانا بلکہ اس کو لازم کے درجے میں اتارا، اور یہ کہا کہ دنیا میں کوئی بھی دیکھنے والا پایا جائے اور کوئی بھی سننے والا پایا جائے تو یہ اس کے دشمنوں کو غضب ناک کرتی ہے یہ بات۔ کیوں؟ کیونکہ جب بھی کوئی دیکھنے والا پایا جائے گا وہ کیا کرے گا؟ دیکھنے والا صرف میرے ممدوح ہی کی خوبیوں کو سنے گا اور صرف میرے ممدوح ہی کی خبروں کو سنے گا، جس کی وجہ سے اس دیکھنے اور سننے والے کو پتہ چل جائے گا کہ خلافت کا مستحق صرف یہی ہے، دوسرا نہیں ہے، دوسرا نہیں ہے۔ تو لہٰذا ہر کوئی بھی سننے والا پایا جائے تو ان کو غضب، غصہ چڑھتا ہے۔ کوئی بھی دیکھنے والا پایا جائے تو ان کو غصہ چڑھتا ہے۔ تو دیکھو کتنا مبالغہ کر دیا کہ میرے ممدوح کے فضائل بے انتہا شہرت کو پہنچ چکے ہیں۔ والا، اور اگر ایسا نہ ہو۔ بھئی آپ کو کیا بتلایا تھا کہ مفعول کو حذف کرتے ہیں، یا تو غرض کیا ہو گی؟ نفسِ فعل کو ثابت کرنا ہو گا کس کے لیے؟ فاعل کے لیے۔ یا یہ غرض نہیں ہو گی بلکہ ساتھ آپ کس کا... مفعول کا تعلق کا اعتبار پھر بھی کر رہے ہیں۔ میں بول تو ضرب زید رہا ہوں، ضرب زید، لیکن عمرو کا اعتبار پھر بھی کر رہا ہوں۔ عمرو کو میں نے اس لیے ذکر نہیں کیا کہ آپ کو عمرو کے بارے میں پہلے سے ہی علم ہے، آپ نے مجھ سے سوال کیا کہ عمرو کو، عمرو کی پٹائی کس نے کی؟ تو میں کیا کہتا ہوں؟ ضرب زید۔ تو عمراً کو محذوف کر دیا کیونکہ آپ کا سوال اس پر قرینہ موجود ہے۔ تو میں نے جو آپ کو کہا ضرب زید، کیا یہ میں نے مطلق فعل کو اثبات کیا زید کے لیے، یا مفعول کا تعلق بھی ملحوظ ہے یہاں؟ مفعول کا تعلق بھی ملحوظ ہے۔ ہاں اس کو تو میں نے صرف حذف کیا، حذف اس لیے کیا کہ اس پر کیا موجود ہے؟ قرینہ موجود ہے۔ ای وان لم یکن الغرض عند عدم ذکر المفعول، اور اگر غرض نہ ہو مولانا جبکہ مفعول کو ذکر نہ کیا گیا ہو کس کے ساتھ؟ فعلِ متعدی کے ساتھ، وہ فعلِ متعدی جس کا اسناد ہو رہا ہے فاعل کی طرف۔ کیا غرض نہ ہو مولانا؟ اثباتہ لفاعلہ او نفیہ عنہ مطلقاً، مطلقاً فاعل کے لیے اثبات یا مطلقاً فاعل سے نفی کی غرض نہ ہو۔ بل، بلکہ، بل قصد تعلقہ بمفعول غیر مذکور، بلکہ ارادہ کیا گیا ہے اس فعل کے تعلق کا مفعولِ غیر مذکور کے ساتھ۔ میں نے کہا تو ضرب زید، لیکن میرا ارادہ یہ نہیں ہے کہ میں مطلق فعل ثابت کرنا چاہتا ہوں، بلکہ میرا ارادہ کیا ہے کہ اس فعل کا تعلق ہے ایک مفعولِ غیر مذکور کے ساتھ ہے۔ تو اس صورت میں، وجب التقدیر، مقدر ماننا واجب ہے مفعول کو، بحسب القرائن، کس اعتبار سے؟ قرائن کے اعتبار سے، الدالۃ علی تعیین المفعول، جو دلالت کر رہے ہیں کس پر مولانا؟ مفعول کے متعین ہونے پر۔ ان عاماً فعام وان خاصاً فخاص، اگر وہ جس دلالت جس پر کر رہے ہیں قرینے وہ... اور جس پر قرینہ دلالت کر رہا ہے، جی، عبارت یوں ہے مولانا: ان کان المدلول علیہ بالقرینۃ عاماً فہو عام، وان کان المدلول علیہ بالقرینۃ خاصاً فہو خاص۔ یعنی جس پر قرینہ دلالت کر رہا ہے کہ یہ عام ہے تو وہ عام ہو گا، اور جس پر قرینہ دلالت کر رہا ہے کہ یہ خاص ہے تو کیا ہو گا؟ خاص ہو گا۔ یعنی کبھی مفعول عام ہو گا، اس میں عموم ہو گا، کبھی مفعول کیا ہو گا؟ خاص ہو گا، اس میں خصوص ہو گا۔ تو قرینہ اگر یہ بتلا رہا ہے کہ یہاں عام ہے تو کیسا مفعول مقدر نکالو؟ عام مقدر نکالو۔ اگر قرینہ یہ بتلا رہا ہے کوئی مخصوص مفعول مراد ہے تو وہاں کیا کرو؟ مخصوص مفعول کو مقدر نکالو۔ اچھا۔ ولما وجب التقدیر، اور جب واجب ہو گیا مقدر ماننا، تعین انہ مراد، تو متعین ہو گئی یہ بات کہ وہ مفعول مراد بھی ہے۔ مفعول کیا ہے؟ مراد ہے۔ ومحذوف من اللفظ لغرض، البتہ محذوف ہے لفظوں سے کسی غرض کی وجہ سے۔ فاشار الی تفصیل الغرض بقولہ، پس اشارہ کیا غرض کی تفصیل کی طرف اپنے اس قول کے ساتھ۔ خلاصۂ کلام یہ مولانا کہ مفعول کے مقدر ماننے کے لیے، وہ مفعول جس کو مقدر ماننا واجب ہے، وہ مفعول جس کو مقدر ماننا واجب ہے اس کے لیے دو شرطیں ہیں مولانا۔ ایک شرط کیا ہے؟ کہ وہاں کوئی قرینہ ہونا چاہیے جو دلالت کر رہا ہو۔ دوسری شرط کیا ہے؟ اس کے لیے کوئی غرض بھی ہونی چاہیے، آپ نے کیوں حذف کیا؟ میں نے کہا ضرب زید، عمراً کو میں نے ذکر نہیں کیا، اس کو کیا کیا؟ محذوف ہے یہاں پر۔ تو اس کو مقدر ماننا واجب ہے، اب کیا ہے؟ مقدر ماننا واجب ہے۔ مقدر ماننے کے لیے کہ یہاں عمراً موجود ہے، آج جو بھی ترکیب کرے گا وہ کیا کہے گا؟ یہاں پر عمراً موجود ہے، اس کو کیا کرو؟ مقدر نکالو۔ تو اس وجوب کے لیے دو شرطیں ہیں مولانا۔ کتنی؟ دو۔ ایک قرینہ ہونا چاہیے، اور قرینہ کیا تھا؟ آپ کا سوال تھا۔ اور دوسرا کوئی غرض ہونی چاہیے، کیا ہونی چاہیے؟ غرض۔ بغیر غرض کے بھی حذف نہیں اور بغیر قرینے کے بھی حذف نہیں۔ ثم الحذف اما للبیان بعد الابہام، پھر غرض یا تو کیا ہو گی مولانا؟ کہ بیان کرنا چاہتے ہیں آپ، کس کے بعد؟ ابہام کے بعد۔ ابہام کے بعد کیا کرنا چاہتے ہیں؟ بیان۔ جیسے کہ فعلِ مشیت۔ دیکھو بھئی، پھر شروع سے ساری بحث سنو۔ آپ نے یہ پڑھا مولانا کہ کبھی کبھار مفعول کو حذف کرتے ہیں۔ جب حذف کیا جائے گا آپ کی غرض یا تو یہ ہو گی کہ آپ نفسِ فعل کو ثابت کرنا چاہتے ہیں کس کے لیے؟ فاعل کے لیے۔ یا نفسِ فعل کو ثابت نہیں کرنا چاہتے بلکہ فعل کے ساتھ اس کے مفعول کے ساتھ تعلق بھی ملحوظ ہو گا۔ ملحوظ فعل کا مفعول کے ساتھ تعلق بھی ملحوظ ہو گا۔ اگر نفسِ فعل کو ثابت کرنا چاہتے ہیں کس کے لیے؟ فاعل کے لیے، تو وہ دو تین صفحوں میں لمبی بحث گزر گئی۔ اب دوسرے حصے کی طرف آ گئے کہ آپ نے مفعول کو حذف بھی کیا اور آپ کا ارادہ یہ نہیں ہے کہ نفسِ فعل کو فاعل کے لیے ثابت کرنا چاہتے ہیں، بلکہ حذف کرنے کے باوجود ابھی بھی وہ مفعول کیا ہے؟ مراد ہے۔ وہ مفعول ابھی بھی کیا ہے؟ مراد ہے۔ تو اس صورت کے اندر مفعول کو مقدر ماننا واجب ہے۔ اور اس پر کوئی قرینہ دلالت کرنا چاہیے، قرینہ ہونا چاہیے جو اس پر کیا کرے؟ دلالت کرے۔ اور دوسری شرط کیا ہے؟ کوئی غرض بھی ہونی چاہیے۔ ایک تو حذف پر... جہاں پر مقدر ماننا واجب ہے اس کے لیے کتنی شرطیں؟ دو۔ پہلی کیا؟ قرینہ موجود ہو۔ اور دوسری شرط؟ غرض بھی ہونی چاہیے۔ تو یہ تو بتلا دیا کہ قرینہ ہونا چاہیے، اوپر عبارت نے: بحسب القرائن الدالۃ۔ اب آگے بتلا رہے ہیں غرض کی تفصیل بتلا رہے ہیں کہ یہ بھی غرض ہو سکتی ہے، یہ بھی غرض ہو سکتی ہے، اور یہ بھی غرض ہو سکتی ہے۔ ثم الحذف اما للبیان بعد الابہام، پھر مولانا، حذف کیوں کیا جاتا ہے؟ اس کی غرض کیا ہوتی ہے؟ کہ آپ ابہام کے بعد ایک چیز کا کیا کرنا چاہتے ہیں؟ بیان کرنا چاہتے ہیں۔ مثلاً مولانا، کما فی فعل المشئیۃ والارادۃ، جیسے کہ فعلِ مشیت اور ارادہ میں۔ فعلِ مشیت اور ارادے کے اندر مولانا آپ عموماً مفعول کو حذف کر دیتے ہیں، وجہ یہ کہ وہ آگے جزا کے اندر ذکر ہوتا ہے۔ فعلِ مشیت اور ارادے میں مفعول کو کیا کرتے ہیں؟ لیکن شرط ہے کہ جب یہ شرط واقع ہو رہا ہو، کیا واقع ہو رہا ہو؟ شرط کے اندر واقع ہو رہا ہو۔ مثلاً، اگر میں چاہتا تو تمہاری مدد کرتا۔ اگر میں چاہتا تو میں تمہاری مدد کرتا، یہ کیا ہے؟ جزا۔ عبارت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ ادھر توجہ کرو بس، تھوڑا سا سبق رہ گیا۔ اگر میں... کیا کہتا ہوں؟ اگر میں چاہتا تو میں تمہاری مدد کرتا۔ تو دیکھو، اگر میں چاہتا یہ کیا ہے؟ شرط۔ میں تمہاری مدد کرتا، یہ کیا ہے؟ جزا۔ تو شرط کیا ہے؟ اگر میں چاہتا۔ تو چاہنے کے لیے کوئی چیز مفعول چاہیے یا نہیں چاہیے؟ کیا چاہتے؟ مفعول ذکر ہے؟ مفعول ذکر نہیں۔ کیوں یہاں پر مفعول کو ذکر نہیں کیا؟ وجہ یہ کہ آگے جزا آ رہی ہے، جزا سے پتہ چل رہا ہے کہ مفعول کیا ہے، کیا مفعول ہے یہاں پر؟ اگر میں تمہاری مدد کرنا چاہتا تو میں تمہاری کیا کرتا؟ مدد کرتا۔ تو میں نے شروع پہلے میں سے مفعول مدد کرنے کو کیا کر لیا؟ حذف کر دیا۔ کیوں؟ کیونکہ میں ابہام پیدا کرنا چاہتا ہوں، ابہام پیدا کرنا چاہتا ہوں۔ وجہ یہ کہ آگے جزا کے اندر اس کی کیا آ رہی ہے؟ اس کا بیان آ رہا ہے۔ تو شروع میں جب ابہام پیدا ہوا، اگر میں چاہتا، ابہام پیدا ہو گیا، ابہام پیدا ہوا تو مخاطب کے ذہن میں طلب پیدا ہوئی کہ کیا ہے اس کا مفعول؟ یہ کیا چاہتا ہے بھئی؟ آگے جزا میں جب اس کا بیان آیا تو اس کے دل میں شوق پیدا ہوا، اور شوق کی وجہ سے کیا ہوا؟ وہ طالب ہو گیا اس کا۔ اور جب طلب کے بعد آگے جا کر اس کو مفعول کا پتہ لگا تو وہ بات اس کے دل میں اچھی طرح راسخ ہو گئی۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو کیا کرتے ہیں مولانا؟ کبھی کبھار کیا کرتے ہیں؟ مفعول کو حذف کرتے ہیں، جیسے کہ افعالِ مشیت کے اندر، کیونکہ آگے اس کا کیا آ رہا ہوتا ہے؟ بیان آ رہا ہوتا ہے۔ لیکن اس کے لیے دو شرطیں ہیں مولانا، کتنی؟ دو۔ ایک شرط یہ کہ فعلِ مشیت کیا ہونا چاہیے؟ شرط میں آنا چاہیے۔ اگر میں چاہتا، شرط ہے یا نہیں مولانا؟ ایک شرط میں آنا چاہیے۔ دوسرا، اس مفعول کا تعلق فعلِ مشیت کے ساتھ غریب اور نادر نہیں ہونا چاہیے۔ اس کے ساتھ استعمال عام ہونا چاہیے، کیا ہونا چاہیے؟ عام ہونا چاہیے، نادر نہیں ہونا چاہیے۔ اگر نادر ہو تو پھر بھی حذف نہیں کر سکتے۔ کما فی فعل المشئیۃ والارادۃ، جیسے کہ فعلِ مشیت اور ارادے کے اندر ہوتا ہے، ونحوہما، اور ان جیسے افعال کے اندر، اذا وقع شرطاً، جبکہ یہ فعلِ مشیت کیا واقع ہو؟ شرط واقع ہو۔ فان الجواب یدل علیہ، اس لیے کہ جواب دلالت کرے گا مفعول پر، ویبینہ، جوابِ شرط دلالت کرے گا مفعول پر اور اس کو بیان کر دے گا۔ لکنہ، لیکن، انما یحذف، اس کو اسی وقت حذف کیا جائے گا، ما لم یکن تعلقہ بہ، ای تعلق الفعل المشئیۃ بالمفعول، جب تک کہ فعلِ مشیت کا تعلق مفعول کے ساتھ، غریباً، غریب نہ ہو۔ جب تک فعلِ مشیت کا تعلق مفعول کے ساتھ انوکھا اور نادر نہ ہو تو پھر حذف کریں گے، اگر انوکھا یا نادر ہو تو پھر حذف نہیں کر سکتے۔ کیسے؟ آگے مثالیں آئیں گی بھئی۔ دیکھیے: فلو شاء لہداکم اجمعین، اگر اللہ چاہتے تو تم سب کو کیا دے دیتے؟ ہدایت دے دیتے۔ تو دیکھو، شاء، فلو شاء شرط، لہداکم اجمعین، یہ کیا ہے؟ جزا۔ تو فلو شاء، اگر اللہ چاہتے، کیا چاہتے؟ مفعول محذوف ہے۔ اور وہ کیا ہے؟ اگلے جملے نے بتلا دیا مولانا، وہ کیا ہے؟ تمہاری ہدایت۔ تو اگر اللہ تمہاری ہدایت چاہتے تو تمہیں کیا دے دیتے؟ ہدایت دے دیتے۔ تو دیکھو، مشیت کا تعلق ہدایت کے ساتھ نادر ہے یا عام ہے؟ عام ہے، نادر نہیں ہے مولانا۔ فلو شاء لہداکم اجمعین، اگر اللہ چاہتے تو تم سب کو ہدایت دے دیتے، ای لو شاء ہدایتکم لہداکم اجمعین، اگر اللہ تمہاری ہدایت چاہتے تو تم سب کو ہدایت دے دیتے۔ فانہ لما قیل، اس لیے کہ جب یہ کہا گیا، لو شاء، اگر اللہ چاہتے، جب صرف یہ کلام... جب اتنا کلام آیا: لو شاء، اگر اللہ چاہتے، پتہ چلا سامع نے، علم السامع، سامع کو پتہ چل گیا، ان ہناک شیئاً، یہاں پر کوئی چیز ہے، علقت المشئیۃ علیہ، جس پر مشیت کیا ہے؟ معلق ہے، جس کے ساتھ مشیت کا تعلق ہے۔ یعنی مفعول محذوف ہے یہاں پر کوئی، لکنہ مبہم، لیکن وہ کیا ہے؟ مبہم ہے۔ فاذا جیء بجواب، تو جب جواب کو لایا گیا، بجواب الشرط، جوابِ شرط کو جب لایا گیا، صار مبیناً، تو وہ جوابِ شرط اس کے لیے کیا بن گیا؟ مبین بن گیا۔ وہذا اوقع فی النفس، اور یہ زیادہ واقع ہے فی النفس، یہ چیز زیادہ واقع ہونے والی ہے نفس میں۔ تو فعلِ مشیت... مفعول کو کبھی حذف کیا جاتا ہے کس لیے؟ بیان بعد الابہام کے لیے۔ پہلے ابہام لانا مقصد ہے، بعد میں اس کا بیان۔ جیسے فعلِ مشیت کے اندر، جب وہ شرط واقع ہو، اس کے مفعول کو کیا کیا جاتا ہے؟ حذف کیا جاتا ہے بشرطیکہ اس مفعول کا تعلق مشیت کے ساتھ انوکھا نہ ہو۔ کیوں؟ کیونکہ اس کی وجہ سے پہلے ابہام آ جائے گا، ابہام کے بعد طلب پیدا ہو گی دل کے اندر، اور طلب کے بعد جب مفعول حاصل ہو گا تو وہ دل میں اچھی طرح جم کر بیٹھ جائے گا۔ بخلاف ما اذا کان تعلق فعل المشئیۃ غریباً، بخلاف اس کے کہ اگر فعلِ مشیت کا تعلق اس مفعول کے ساتھ کیا ہو؟ غریب، انوکھا ہو۔ فانہ لا یحذف حینئذ، تو اس صورت میں اس کو حذف نہیں کیا جائے گا۔ کما فی قولہ، جیسے شاعر کے اس قول کے اندر ہے: ولو شئت ان ابکی دماً لبکیتہ علیہ، ولکن ساحۃ الصبر اوسع۔ شاعر کا بیٹا مولانا مر گیا، تو اس پر اظہارِ غم کرتے ہوئے یہ شعر کہہ رہا ہے: اگر میں چاہتا، ان ابکی دماً، کہ میں اس پر خون روؤں، لبکیتہ، تو میں اس پر خون روتا، علیہ، اس پر، ولکن ساحۃ الصبر اوسع، لیکن صبر کا میدان بڑا وسیع ہے۔ یعنی صبر نے میری مدد کی اور مجھے رونے سے روک لیا۔ تو دیکھا مولانا، ولو شئت، ترکیب دیکھو، ترکیب دیکھو مولانا۔ ولو شئت، لو فعلِ شرط... حرفِ شرط، شئت فعل با فاعل، ان مصدریہ، ابکی فعل، ترکیب پہ غور کرنا بھئی، یہ ساری ترکیب سے متعلق بات ہے۔ ابکی فعل، انا ضمیر اس کے اندر فاعل، دماً مفعول ابکی کے لیے۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ ہوا، ابکی دماً پورا جملہ فعلیہ ہوا۔ پھر مولانا، اس ابکی دماً پر ان داخل ہے، اس ان نے اس کو مصدر کے معنی میں کر دیا۔ تو یہ کیا بنا؟ یہ اب بتاویلِ مفرد یہ مفعول بن گیا کس کے لیے؟ شئت کا۔ تو یہ ان ابکی دماً، یہ مفعول ہے کس کا؟ شئت کا۔ تو اس ان ابکی دماً مفعول کو عبارت میں ذکر کیا شاعر نے۔ کیوں ذکر کیا؟ اس لیے کہ مشیت کا تعلق اس رونے... آنسوؤں کے ساتھ رونے کے ساتھ تو ہے لیکن خون کے ساتھ رونے کے ساتھ اس کا تعلق عام نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ غریب ہے، انوکھا ہے۔ تو چونکہ انوکھا ہے اس لیے اس نے اس کو ذکر نہیں کیا... اور اس کو حذف نہیں کیا اور اس کو یہاں پر ذکر کیا۔ بات سمجھ میں آئی؟ فان تعلق فعل المشئیۃ ببکاء الدم غریب، اس لیے کہ فعلِ مشیت کا تعلق بکاء الدم کے ساتھ کیا ہے؟ غریب ہے۔ فذکرہ، اسی لیے شاعر نے اس کو کیا کر دیا؟ ذکر کیا۔ لیتقرر فی نفس السامع، تاکہ یہ پختہ ہو جائے سامع کے نفس میں، فیأنس بہ السامع، تو سامع اس سے کیا ہو جائے؟ مانوس ہو جائے۔ بھئی دیکھو مولانا، ادھر دیکھو: ولو شئت ان ابکی دماً، اگر میں اس پر خون رونا چاہتا، تو یہ ان ابکی دماً کیا ہے؟ مفعول، مشیت کا۔ اور مشیت کا اس کے ساتھ تعلق عام ہے یا غریب ہے؟ غریب ہے۔ جب غریب ہے تو اب اس کو حذف نہیں کریں گے بلکہ کیا کریں گے؟ ذکر کریں گے۔ تو ایک دفعہ ان ابکی دماً ذکر ہو گیا۔ ایک دفعہ ان ابکی دماً... آگے پھر آ رہا ہے: لبکیتہ، ہ ضمیر بھی کسی کو راجع ہے۔ اگر میں اس پر خون رونا چاہتا تو میں اس پر خون روتا، تو ہ ضمیر بھی کس کو راجع؟ جزا کے اندر، بھئی لبکیتہ نہیں آ رہا بھئی؟ ہ ضمیر بھی کس کو راجع؟ اسی ان ابکی دماً کو راجع ہے مولانا، ان ابکی دماً کو راجع ہے۔ تو کتنی دفعہ ذکر آیا؟ دو دفعہ۔ تو مشیت کا مفعول اگرچہ جزا میں بھی آ رہا ہے، لیکن چونکہ غریب ہے، لہٰذا یہاں بھی ہم نے شرط میں بھی اس کو حذف نہیں کیا، تو یہاں بھی ذکر کر دیا۔ اور پھر اس کے بعد دوسری دفعہ جزا میں جا کر کیا ہوا؟ پھر ذکر ہو گیا۔ اور تھا غریب، لیکن جب ایک دفعہ ذکر ہوا پھر دوبارہ ذکر ہوا، تو اب سامع کے دل میں اچھی طرح بات بیٹھ گئی اور وہ اگرچہ غریب تھا لیکن دو دفعہ آنے کی وجہ سے اب اس سے مانوس ہوا اور بات اس کے دل میں جم گئی۔ یہ معنی ہے: فذکرہ، اس کو ذکر کیا، لیتقرر فی نفس السامع، تاکہ وہ کیا ہو جائے مولانا؟ پختہ ہو جائے سامع کے نفس میں، فیأنس بہ السامع، تو سامع اس سے کیا ہو جائے؟ مانوس ہو جائے۔ واما قولہ، باقی یہ کہنا مولانا... جی۔ ماتن نے کیا بات کی مولانا کہ فعلِ مشیت کے مفعول کو حذف کیا جاتا ہے، کب حذف کیا جاتا ہے؟ جب کہ مشیت کا تعلق اس کے ساتھ غریب نہ ہو۔ اگر غریب ہو تو حذف نہیں کرتے بلکہ کیا کرتے ہیں؟ ذکر کرتے ہیں۔ آگے ایک شعر ذکر ہوا مولانا، اگلا شعر، تو اس کی شرح کرتے ہوئے امام مطرزی فرماتے ہیں کہ وہاں بھی مولانا آ رہا ہے، دیکھیے: فلو شئت ان ابکی، تو یہاں بھی ان ابکی ذکر ہے مولانا۔ تو امام مطرزی فرماتے ہیں کہ یہاں پر مفعول کو کیوں نہیں حذف کیا؟ کہتے ہیں اس لیے کہ فعل کا مشیت کا تعلق اس سے غریب تھا۔ مشیت کا تعلق اس سے کیا تھا؟ غریب تھا۔ اور آپ نے خود ضابطہ بیان... یہی ضابطہ تو آپ بھی بیان کر رہے ہیں کہ مشیت کے ساتھ تعلق غریب ہو تو اس کو کیا کریں گے؟ ذکر کریں گے کہ میں کیا کرتی ہوں؟ اچھا سمجھتی ہوں تیرے اوپر رونے کو بھئی۔ تو دیکھو: ’’رَأَیْتُ‘‘۔ ’’رَأَیْتُ‘‘ افعالِ قلوب میں سے ہے، مولانا آپ نے پڑھا ہے۔ افعالِ قلوب کتنے مفعول چاہتا ہے؟ دو مفعول چاہتا ہے۔ ’’بُکَاءَکَ‘‘ مفعولِ اوّل، ’’الْحَسَنَ الْجَمِیْلَ‘‘ مفعولِ ثانی ہے یہ۔ مفعولِ ثانی ہے۔ اور افعالِ قلوب جیسے: ’’رَأَیْتُ زَیْدًا عَالِمًا‘‘۔ میں نے زید کو کیا جانا؟ عالم جانا۔ عالم جانا۔ تو یہ اصل میں، میں اس لیے ذکر کر رہا ہوں کہ آپ کے ذہن میں اشکال آئے گا کہ ’’الْحَسَنَ الْجَمِیْلَ‘‘ تو مفعول ہے اور ہماری بات چل رہی ہے مسند کی۔ مسند جو ہے وہ کبھی کیا کرتا ہے؟ تخصیص الجنس کا فائدہ دیتا ہے۔ اور یہاں تو یہ کیا ہے؟ مفعول ہے۔ بھئی ’’بُکَاءَکَ‘‘ مفعولِ اوّل، ’’الْحَسَنَ الْجَمِیْلَ‘‘ مفعولِ ثانی ہے۔ تو دیکھیے، یہ افعالِ قلوب اصل میں داخل ہوتے ہیں مبتدا، خبر پر۔ ’’زَیْدٌ قَائِمٌ‘‘، اصل جملہ کیا تھا؟ اِدھر توجہ کرو بھئی، اصل جملہ کیا تھا؟ ’’زَیْدٌ قَائِمٌ‘‘۔ آپ نے اس پر ’’رَأَیْتُ‘‘ داخل کیا: ’’رَأَیْتُ زَیْدًا عَالِمًا‘‘، میں نے زید کو کیا جانا؟ عالم جانا۔ تو دیکھو ’’زَیْدًا‘‘ مفعولِ اوّل، ’’عَالِمًا‘‘ مفعولِ ثانی، لیکن درحقیقت یہ مفعولِ اوّل مسند الیہ ہے اور مفعولِ ثانی مسند ہے، کیونکہ آپس میں مبتدا اور خبر ہیں۔ تو یہاں بھی اسی طرح ’’بُکَاءَکَ‘‘ مفعولِ اوّل یہ دراصل مبتدا ہے اور ’’الْحَسَنَ الْجَمِیْلَ‘‘ دراصل اس کی خبر ہے، اور خبر پر کیا داخل ہوا؟ الف لامِ جنسی۔ اور یہ کس چیز کا فائدہ دے رہا ہے؟ قصر کا فائدہ دیتا ہے، لیکن یہاں پر قصر کا فائدہ نہیں دے رہا۔ قصر کا فائدہ کیوں نہیں دے رہا بھئی؟ کہتے ہیں اس لیے کہ شاعرہ کیا کہتی ہے؟ کہ وہ وقت جب سارے لوگ کیا سمجھتے ہیں؟ مقتول پر رونے کو برا سمجھتے ہیں، اس وقت بھی میں تیرے اوپر رونے کو کیا سمجھتی ہوں؟ اچھا سمجھتی ہوں، اچھا سمجھتی ہوں۔ تو مخاطب سب کے رونے کو برا جب سمجھے تو میں اس وقت بھی... تو اس نے یعنی مخاطب جس وقت سب کے رونے کو برا سمجھ رہا ہے، شاعرہ نے اس وقت بھی اپنے بھئی پر رونے کو اس سے نکال کر کیا بتا دیا کہ اس پر رونا پھر بھی اچھا ہے۔ اس پر رونا اچھا ہے۔ لیکن اگر آپ اس پر قصر کا معنی لیں، پھر کیسے معنی ہوگا؟ پھر معنی ہوگا: میرے بھئی پر رونا ہی اچھا ہے۔ میرے بھئی پر رونا ہی اچھا ہے۔ معلوم ہوا مخاطب سمجھ رہا ہے سب پر رونا اچھا ہے، شاعرہ کہتی ہے: نہیں، صرف میرے بھئی پر رونا ہی اچھا ہے۔ اور یہ کلام کس کے ساتھ ہو رہا ہے؟ مخاطب یہ سمجھ رہا ہے کہ سب پر رونا اچھا ہے یا مخاطب سمجھ رہا ہے سب پر رونا برا ہے؟ مخاطب کیا سمجھ رہا ہے؟ سب پر رونا برا ہے۔ خود بتلا رہی ہے: ’’إِذَا قَبُحَ الْبُکَاءُ عَلَی قَتِیْلٍ‘‘ جب مخاطب، باقی لوگ سمجھنے لگیں کہ قتیل پر رونا برا ہے، تو معلوم ہوا اگر تخصیص کریں تو پھر تو یہ اس سے کلام ہوگا جو سب کو کیا سمجھ رہا ہے؟ اچھا سمجھ رہا ہے۔ تو شاعرہ کہتی ہے: نہیں، سب پر رونا اچھا نہیں ہے بلکہ صرف کس پر رونا اچھا ہے؟ میرے بھئی پر رونا۔ اب تخصیص آ گئی، تو تخصیص کی صورت میں محلِ کلام بدل گیا، اور تخصیص نہ ہو تو محلِ کلام اور رہتا ہے۔ اور جی دیکھیے: ’’فَإِنَّہٗ یُعْرَفُ بِحَسَبِ الذَّوْقِ السَّلِیْمِ‘‘ اس لیے کہ پہچانا گیا ہے ذوقِ سلیم کے ساتھ، ’’وَالطَّبْعِ الْمُسْتَقِیْمِ‘‘ اور مستقیم سیدھی طبیعت کے ساتھ پہچانا گیا ہے، ’’وَالتَّدَرُّبِ فِي مَعْرِفَةِ کَلَامِ الْعَرَبِ‘‘ اور کلامِ عرب کی پہچان میں مہارت کے ساتھ، ’’أَنْ لَّیْسَ الْمَعْنٰی ہٰہُنَا عَلَی الْقَصْرِ‘‘ کہ یہاں پر معنی قصر کا نہیں ہے، ’’وَإِنْ أَمْکَنَ ذٰلِکَ بِحَسَبِ النَّظَرِ الظَّاہِرِ وَالتَّأَمُّلِ الْقَاصِرِ‘‘ اگرچہ ممکن ہے بتکلف آپ کیا کر سکتے ہیں؟ قصر بھی کر سکتے ہیں، نظرِ ظاہر کے اعتبار سے اور تاملِ قاصر، تھوڑا معمولی غور و فکر کریں تو پھر آپ کیا کریں گے؟ قصر کریں گے، لیکن گہرائی میں جائیں تو دیکھیں گے یہاں قصر نہیں۔ ’’وَقِیْلَ فِي نَحْوِ: زَیْدٌ الْمُنْطَلِقُ، وَالْمُنْطَلِقُ زَیْدٌ: اَلْاِسْمُ مُتَعَیَّنٌ لِّلْابْتِدَاءِ‘‘۔ یہاں امام رازی کی ایک بات ذکر کر رہے ہیں بھئی۔ امام رازی فرماتے ہیں کہ جب آپ یہ کہیں: ’’زَیْدٌ الْمُنْطَلِقُ‘‘ تو مبتدا کون؟ زید۔ اور خبر کون؟ المنطلق۔ اور جب آپ کہیں: ’’الْمُنْطَلِقُ زَیْدٌ‘‘، اب مبتدا کون؟ المنطلق۔ اور زید اس کی خبر؟ امام رازی فرماتے ہیں: نہیں، اب بھی مبتدا زید ہی ہے مؤخر ہے، اور المنطلق اس کی کیا ہے؟ خبر مقدم ہے۔ دراصل وہ یہ فرماتے ہیں کہ جب دو چیزیں آ جائیں معرف، ایک اسمِ ذات ہو اور ایک وصف ہو، تو ہمیشہ مبتدا کون بنے گا؟ ذات، اور وصف ہمیشہ اس کی کیا بنے گی؟ خبر۔ تو زید ذات ہے اور منطلق کیا ہے؟ وصف۔ اب ذات کو چاہے مقدم کر دو، چاہے مؤخر کر دو، اس نے مبتدا رہنا ہے، اس پر حکم لگے گا، آپ حکم لگائیں گے۔ اور جو وصف ہے اس کو ہمیشہ کیا کریں گے؟ خبر ہی بنائیں گے، چاہے وہ مقدم آئے اور چاہے مؤخر آ جائے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ ذات خود قائم ہوتی ہے اور وصف قائم بالغیر ہوتا ہے، تو یہ وصف چاہتا ہے کہ اس کی نسبت کسی دوسرے کی طرف کی جائے، تو وصف کسی کے ساتھ قائم ہونا چاہتا ہے نہ کہ ذات کسی کے ساتھ قائم ہونا چاہتی ہے۔ ’’وَقِیْلَ فِي نَحْوِ: زَیْدٌ الْمُنْطَلِقُ‘‘ اور کہا گیا ہے کہ ’’زَیْدٌ الْمُنْطَلِقُ‘‘ یہ دیکھو منطلق مؤخر ہے، ’’وَالْمُنْطَلِقُ زَیْدٌ‘‘ اب منطلق کیا ہے؟ مقدم ہے۔ ’’اَلْاِسْمُ مُتَعَیَّنٌ لِّلْابْتِدَاءِ‘‘ اسم متعین ہے کس کے لیے؟ مبتدا بننے کے لیے، ’’تَقَدَّمَ أَوْ تَأَخَّرَ‘‘ چاہے مقدم ہو اسم، چاہے مؤخر ہو، ’’لِدَلَالَتِہٖ عَلَی الذَّاتِ‘‘ کیونکہ وہ دلالت کر رہا ہے ذات پر، ’’وَالصِّفَةُ مُتَعَیَّنَةٌ لِّلْخَبَرِیَّةِ تَقَدَّمَتْ أَوْ تَأَخَّرَتْ‘‘ اور صفت متعین ہے خبریہ بننے کے لیے، چاہے مقدم ہو جائے چاہے مؤخر ہو جائے، ’’لِدَلَالَتِہَا عَلٰی أَمْرٍ نِّسْبِيٍّ‘‘ بوجہ اس کے کہ یہ دلالت کر رہی ہے ایک ایسے امر پر جو نسبتی ہے، جو کیا ہے؟ نسبتی ہے۔ یعنی صفت ہمیشہ اس کی نسبت کی جاتی ہے غیر کی طرف، وہ غیر کے ساتھ قائم ہوتی ہے، خود قائم نہیں رہتی۔ اس لیے کہ وہ دلالت کرتی ہے ایک امرِ نسبی پر، ’’لِأَنَّ مَعْنَی الْمُبْتَدَأِ: اَلْمَنْسُوْبُ إِلَیْہِ‘‘ اس لیے کہ مبتدا کا کیا معنی ہے؟ منسوب الیہ، منسوب الیہ بھئی، اس کی طرف کسی چیز کی کیا کی جائے؟ نسبت کی جائے، ’’وَمَعْنَی الْخَبَرِ: اَلْمَنْسُوْبُ‘‘ اور خبر کا معنی ہے منسوب، یعنی اس کی نسبت کی جائے۔ مبتدا وہ ہے جس کی طرف نسبت کی جائے، اور خبر جس کی نسبت کی جائے۔ ’’وَالذَّاتُ ہِیَ الْمَنْسُوْبُ إِلَیْہِ‘‘ اور ذات منسوب الیہ ہوتی ہے، اس کی طرف نسبت کی جاتی ہے، ’’وَالصِّفَةُ ہِیَ الْمَنْسُوْبُ‘‘ اور صفت کی نسبت کی جاتی ہے، ’’فَسَوَاءٌ قُلْنَا: زَیْدٌ الْمُنْطَلِقُ‘‘ برابر ہے ہم یہ کہیں ’’زَیْدٌ الْمُنْطَلِقُ‘‘ چاہے یوں کہہ لیں، ’’أَوِ الْمُنْطَلِقُ زَیْدٌ‘‘ یا یوں کہہ لیں، ’’یَکُوْنُ زَیْدٌ مُبْتَدَأً‘‘ زید مبتدا ہوگا، ’’وَالْمُنْطَلِقُ خَبَرًا‘‘ اور منطلق خبر ہوگی۔ ’’وَہٰذَا رَأْيُ الْإِمَامِ الرَّازِي‘‘ اور یہ رائے ہے کس کی؟ امام رازی کی۔ ’’وَرُدَّ‘‘ صاحبِ تلخیص رد کر رہے ہیں اس کو مولانا۔ ’’وَرُدَّ‘‘ اور رد کیا گیا ہے۔ کہتے ہیں بھئی آپ نے کیا کہا؟ ذات کو ہمیشہ کیا بنانا ہے؟ مبتدا، چاہے مؤخر ہو جائے، اور صفت کو ہمیشہ کیا بنانا ہے؟ خبر، چاہے وہ کیا ہو جائے؟ مقدم ہو جائے۔ کہتے ہیں دیکھیے، ہم ایسی تاویل کریں گے ذات کو صفت بنا دیں گے اور صفت کو ذات بنا دیں گے۔ صفت کو کیا بنا دیں گے؟ ذات بنا دیں گے۔ دیکھیے، آپ نے کیا کہا: ’’الْمُنْطَلِقُ زَیْدٌ‘‘، بھئی ’’زَیْدٌ الْمُنْطَلِقُ‘‘ میں کون مبتدا؟ زید، ’’الْمُنْطَلِقُ‘‘ اس کی خبر۔ اس میں تو اختلاف ہی نہیں ہے۔ ’’الْمُنْطَلِقُ زَیْدٌ‘‘ کے اندر اختلاف آ گیا، امام رازی کیا فرماتے ہیں؟ ’’الْمُنْطَلِقُ‘‘ کو کیا بناؤ؟ خبر بناؤ، اور باقی کیا کہتے ہیں؟ اس کو یہ مقدم ہے، اس کو کیا بناؤ؟ مبتدا بناؤ۔ کہتے ہیں نہیں بھئی، ہم اس میں دیکھو ’’الْمُنْطَلِقُ زَیْدٌ‘‘ میں ایسی تاویل کریں گے کہ یہ جو ’’الْمُنْطَلِقُ‘‘ صفت ہے یہ ذات بن جائے گی اور ’’زَیْدٌ‘‘ جو اسمِ ذات ہے وہ کیا بن جائے گی؟ صفت بن جائے گی، اس طرح دیکھو: ’’وَرُدَّ بِأَنَّ الْمَعْنٰی: اَلشَّخْصُ الَّذِي لَہُ الصِّفَةُ صَاحِبُ الِاسْمِ‘‘۔ دیکھا تاویل کی مولانا؟ کہتے ہیں ’’الْمُنْطَلِقُ‘‘ کا کیا معنی ہے؟ وہ ذات، ’’اَلشَّخْصُ‘‘ وہ فرد، ’’اَلَّذِي لَہُ الصِّفَةُ‘‘ جس کے لیے کیا ثابت ہے؟ صفتِ انطلاق بھئی۔ اِدھر دیکھو، ’’الْمُنْطَلِقُ‘‘ مبتدا ہے، ’’زَیْدٌ‘‘ اس کی خبر ہے۔ امام رازی فرماتے ہیں نہیں، یہ پھر بھی خبر ہی رہے گی اور مبتدا مؤخر کو بنانا پڑے گا کیونکہ وہ ذات ہے اور یہ کیا ہے؟ وصف۔ ہم کہتے ہیں ہم ’’الْمُنْطَلِقُ‘‘ کو ذات بنا کر دکھاتے ہیں آپ کو، اور ’’زَیْدٌ‘‘ کو وصف بنا کر دکھاتے ہیں۔ کیسے؟ ’’الْمُنْطَلِقُ‘‘ سے ہم کیا مراد لیتے ہیں؟ ایسی ذات، ’’لَہُ الصِّفَةُ‘‘ جس کے لیے صفتِ انطلاق ہے۔ تو منطلق سے کون مراد؟ ایسی ذات جس کے لیے کیا ثابت ہے؟ صفتِ انطلاق۔ تو دیکھو ’’الْمُنْطَلِقُ‘‘ ذات بن گئی یا نہیں بن گئی؟ اور ’’زَیْدٌ‘‘، زید سے کیا مراد لیتے ہیں؟ ’’صَاحِبُ الِاسْمِ‘‘ نام والا، یعنی مسمیٰ بـ زید۔ زید سے آپ نے کیا مراد لیا تھا؟ ذات، اور ہم نے اس کو کیا بنا دیا؟ مسمیٰ بـ زید، اور مسمیٰ ہونا یہ صفت ہے یا صفت نہیں ہے؟ صفت ہے، نام والا ہونا۔ تو دیکھا ہم نے اس کو ’’صَاحِبُ الِاسْمِ‘‘ بنایا۔ صاحب کون سا صیغہ ہے مولانا؟ اسم فاعل، صفت کا صیغہ ہے۔ تو ہم نے ’’صَاحِبُ الِاسْمِ‘‘ کی تاویل میں کر دیا اس کو، اور یہ کیا بن گیا؟ صفت بن گئی، صفت بن گئی۔ تو اب ’’الْمُنْطَلِقُ‘‘ مبتدا رہا اور ’’زَیْدٌ‘‘ خبر۔ ’’یَعْنِي أَنَّ الصِّفَةَ تُجْعَلُ دَالَّةً عَلَی الذَّاتِ‘‘، صفت جو ہے اس کو کیا بنا دیا جاتا ہے؟ کہ وہ دلالت کرنے والی ہوتی ہے ذات پر، ’’وَمُسْنَدًا إِلَیْہَا‘‘ اور اس کو مسند الیہ بنا دیا جاتا ہے، ’’وَالِاسْمُ یُجْعَلُ دَالًّا‘‘ اور اسم کو بنا دیا جاتا ہے ایسا کہ وہ دلالت کرنے والا ہوتا ہے، ’’عَلٰی أَمْرٍ نِّسْبِيٍّ‘‘ کس پر؟ ایک امرِ نسبی یعنی صفت پر، ’’وَمُسْنَدًا‘‘ اور کیا بنا دیا جاتا ہے اس کو؟ مسند بنا دیا جاتا ہے بھئی۔ سمجھ میں آئی بھئی یہ بات؟ لیکن بہرحال علماء کہتے ہیں بھئی یہ لفظی نزاع ہے اس سے کوئی بات نہیں۔ امام رازی نے کیا فرمایا تھا؟ مبتدا ہمیشہ کون؟ ذات۔ خبر ہمیشہ کون؟ صفت۔ تو بات تو ابھی بھی وہی ہے۔ آپ نے المنطلق کو تو ذات بنا دیا، یہی تو وہ کہہ رہے تھے کہ مبتدا ذات ہوگا۔ آپ نے زید کو صفت بنا دیا، اور وہ یہی تو کہہ رہے تھے خبر ہمیشہ کیا ہوگی؟ صفت ہوگی۔ تو بات پھر بھی ابھی تک اسی طرح ہے۔ ’’وَأَمَّا کَوْنُہٗ‘‘، أي کون المسند، ’’جُمْلَةً فَلِلتَّقَوِّي‘‘ اور باقی مسند کا جملہ ہونا وہ کس لیے ہے؟ تقویٰ کے لیے۔ مسند کو کبھی کبھار جملہ لایا جاتا ہے مولانا، کس لیے جملہ لاتے ہیں؟ تقویٰ کے لیے، یعنی تاکید کلام میں پیدا ہوتی ہے جیسے ’’زَیْدٌ قَامَ‘‘۔ کیسے تاکید ہے؟ قام کا ایک اسناد پہلے ھو ضمیر کی طرف ہوا، پھر اس کا اسناد کس کی طرف؟ زید کی طرف، تو دو اسناد آئے اور دو اسناد سے کلام میں کیا پیدا ہوتی ہے؟ تاکید۔ ’’أَوْ لِکَوْنِہٖ سَبَبِیًّا‘‘ یا جملہ اس لیے لاتے ہیں کہ وہ کیا ہوتا ہے؟ سببی ہوتا ہے: ’’زَیْدٌ أَبُوْہُ مُنْطَلِقٌ‘‘۔ سببی کس کو کہتے ہیں؟ سببی آپ نے پڑھا تھا بھئی، ایک مسندِ سببی ہے، ایک مسندِ غیر سببی ہے۔ غیر سببی میں نے بتایا تھا کہ مسند جملہ ہو اور اس کے اندر ایک وصف ذکر ہوگا، لازمی بات ہے بھئی وصف ہوگا اس میں، وہ وصف اگر اس کے پہلے مبتدا کے لیے ثابت ہے تو مسندِ غیر سببی، اور اگر پہلے مبتدا کے لیے ثابت نہیں تو مسندِ سببی۔ دو چیزیں ذکر ہوئی تھیں یا نہیں؟ دیکھو: ’’زَیْدٌ أَبُوْہُ قَائِمٌ‘‘، ’’زَیْدٌ‘‘ مبتدائے اوّل، ’’أَبُوْہُ‘‘ مبتدائے ثانی، اور ’’قَائِمٌ‘‘ کس کے لیے خبر ہے؟ ’’أَبُوْہُ‘‘ کے لیے، مبتدائے ثانی کے لیے۔ تو مبتدائے ثانی اپنی خبر سے مل کر یہ پورا جملہ اسمیہ ہوا اور پھر یہ پورا جملہ خبر ہوئی کس کی؟ زید کی۔ تو دیکھو زید ہے مبتدائے اوّل، ’’أَبُوْہُ قَائِمٌ‘‘ کے اندر کون سی صفت ہے؟ قیام، یہ قیام زید کے لیے ثابت ہے؟ ثابت نہیں، جب زید کے لیے ثابت نہیں تو یہ کیا ہوا؟ سببی یا غیر سببی؟ سببی۔ دو چیزوں میں سے، یا مولانا غیر کا لفظ لینا ہے یا نہیں کا لفظ لینا ہے۔ ثابت ہے یا ثابت نہیں؟ جی؟ تو یہ قیام زید کے لیے ثابت ہے یا ثابت نہیں ہے؟ ثابت نہیں ہے، آپ نے یہ لے لیا مولانا۔ اب غیر کو لے سکتے ہیں؟ نہیں، تو پھر کیا ہوا؟ سببی ہوا۔ اور اگر ثابت ہوتا، میں کہتا ’’زَیْدٌ ہُوَ قَائِمٌ‘‘، اب یہ زید وہ کھڑا ہے، تو قیام کس کے لیے ثابت؟ زید کے لیے۔ تو اب مولانا قیام زید کے لیے ثابت ہے یا ثابت نہیں؟ ثابت ہے، تو یہ غیر سببی ہوگا۔ کہاں گڑبڑ آئی ہے؟ ایک نہیں ہے اور ایک غیر ہے۔ تو یہاں کیا لیا آپ نے؟ ہے، ہاں نہیں تو آپ نے نہیں لیا بھئی، نہیں کو نہیں لیا۔ تو پھر اب کس کو لینا پڑے گا؟ غیر کو۔ یا تو نہیں لو گے، یا کیا لو گے؟ غیر لو گے۔ اور آپ نے کیا کہا: ’’زَیْدٌ ہُوَ قَائِمٌ‘‘، یہ صفت زید کے لیے ثابت ہے، معلوم ہوا نہیں کو آپ نے چھوڑ دیا بلکہ ثابت ہے کر دی بھئی، اب لہٰذا کس کو لے لو؟ غیر کو۔ تو یہ غیر سببی ہوگا۔ جیسے مولانا صفحہ 135 نکالیں بھئی۔ آپ نے یہاں پڑھا مولانا کہ مسند کبھی کبھار مفرد لایا جاتا ہے، کس لیے مفرد لاتے ہیں؟ کیونکہ مفرد اس لیے کہ وہ غیر سببی ہوتا ہے اور تقویٰ کا فائدہ بھی نہیں دیتا۔ بھئی مفرد کیوں لاتے ہیں؟ ادھر توجہ کرو: غیر سببی ہوتا ہے اور تقویٰ کا فائدہ بھی نہیں دیتا۔ تو معلوم ہوا جملہ اسی وقت لائیں گے جب وہ کیا ہوگا؟ اس کا عکس کرو، غیر سببی کس میں ہے؟ مفرد میں ہے، تو جملے میں کیا ہوگا؟ سببی۔ اور یہاں پر افادۂ تقویٰ نہیں ہے، تو جملے میں افادۂ تقویٰ ہوگا۔ یہی بات تو کہی: ’’فَلِلتَّقَوِّي أَوْ لِکَوْنِہٖ سَبَبِیًّا‘‘، یہ تقویٰ کے لیے ہوگا یا سببی ہونے کے لیے۔ ’’کَمَا مَرَّ‘‘ جیسے کہ بات گزری تھی، ’’أَنَّ إِفْرَادَہٗ لِکَوْنِہٖ غَیْرَ سَبَبِيٍّ مَعَ عَدَمِ إِفَادَةِ التَّقَوِّي‘‘ کہ مسند کو مفرد لانا جو ہوتا ہے کبھی ہوتا ہے اس کے غیر سببی ہونے کی وجہ سے تقویٰ کا فائدہ نہ دینے کے ساتھ، کہ وہ غیر سببی ہوتا ہے اور افادۂ تقویٰ بھی نہیں۔ جب مفرد کی صورت میں غیر سببی ہوتا ہے تو جملے کی صورت میں یقیناً کیا ہوگا؟ سببی۔ نیز مفرد کی صورت میں جب افادۂ تقویٰ نہیں ہے تو جملے کی صورت میں پھر یقیناً کیا ہوگا؟ تقویٰ کا فائدہ ہوگا۔ بھئی وہی پچھلی عبارت ذکر کر رہے ہیں ماتن کی۔ جی۔ ’’وَسَبَبُ التَّقَوِّي‘‘ اور تقویٰ کا سبب کیا ہے مولانا؟ ہاں، اب یہاں دو باتیں ذکر کریں گے۔ صاحبِ تلخیص بتلائیں گے کہ تقویٰ کیسے آئی، اور شیخ عبدالقاہر بتلائیں گے تقویٰ کیسے آئی۔ بڑی بڑی دلچسپ بات ہے، دیکھو بھئی کیا کہتے ہیں علامہ سکاکی: ’’وَسَبَبُ التَّقَوِّي فِي مِثْلِ: زَیْدٌ قَامَ عَلٰی مَا ذَکَرَہٗ صَاحِبُ الْمِفْتَاحِ‘‘ تقویٰ کا سبب ’’زَیْدٌ قَامَ‘‘ کے اندر بنا بر اس کے جس کو ذکر کیا ہے صاحبِ مفتاح علامہ سکاکی نے، علامہ سکاکی کہتے ہیں بھئی تقویٰ کا سبب کیا ہے؟ ’’ہُوَ أَنَّ الْمُبْتَدَأَ لِکَوْنِہٖ مُسْنَدًا إِلَیْہِ یَسْتَدْعِي أَنْ یُّسْنَدَ إِلَیْہِ شَيْءٌ‘‘ کہ وہ جو ہے مبتدا کا مسند الیہ ہونے کی وجہ سے وہ تقاضا کرتا ہے کہ اس کی طرف کسی چیز کا اسناد کیا جائے۔ آپ مسند الیہ کو ذکر کرتے ہیں، مبتدا کو ذکر کرتے ہیں اور مبتدا کیا ہوتا ہے؟ مسند الیہ ہوتا ہے۔ مسند الیہ کس کو کہتے ہیں جس کی طرف کسی چیز کا اسناد کیا جائے۔ تو جب آپ نے مسند الیہ کو ذکر کر دیا اب وہ تقاضا کر رہا ہے کہ میری طرف کسی چیز کا اسناد کرو بھئی، اس کے بعد اب ایک لفظ آتا ہے، اس لفظ کے اندر صلاحیت ہوتی ہے اس کی خبر بننے کی تو آپ اس کو کیا بنا دیتے ہیں؟ خبر بنا دیتے ہیں اور اس کا اسناد اس کی طرف کر دیتے ہیں، تو یہ پھر اس کے بعد یہ ایک اسناد آ گیا۔ اس خبر کا اسناد کس کی طرف ہوا؟ مبتدا کی طرف ہو گیا، پھر اسی خبر کے اندر، یہ خبر تھی جملہ، اس جملے کے اندر ایک ضمیر تھی وہ ضمیر بھی کس کو لوٹ رہی تھی؟ مبتدا کو۔ پھر اس کا اسناد... مثلاً زید کو فرض کریں، زید مولانا مسند الیہ ہے، آپ اس کو لے کر آئے اور یہ چاہ رہا تھا میرے لیے مسند لے کر آؤ بھئی۔ اس کے بعد ’’قَامَ‘‘ آیا، ’’قَامَ‘‘ میں صلاحیت تھی زید کے لیے کیا بن جائے؟ خبر بن جائے، آپ نے جوڑ دیا، اسناد کر دیا۔ تو زید کے لیے کیا ثابت ہوا؟ قیام ثابت ہو گیا، پھر اس ’’قَامَ‘‘ کا اسناد ہوا ھو ضمیر کی طرف اور ھو ضمیر دراصل راجع ہے کس کو؟ زید ہی کو راجع ہے۔ تو مولانا تکرارِ اسناد آ گیا، اور اس تکرارِ اسناد کی وجہ سے حکم کے اندر کیا آ گئی؟ تاکید آ گئی۔ تو اس کے لیے ضروری ہے کہ ’’زَیْدٌ قَامَ‘‘ ہو، ’’زَیْدٌ قَائِمٌ‘‘ نہ ہو، کیونکہ ’’قَائِمٌ‘‘ جو ہے اس کے اندر اس کی مشابہت ’’قَامَ‘‘ کے ساتھ بھی ہے کہ جیسے ’’قَامَ‘‘ میں ضمیر اسی طرح ’’قَائِمٌ‘‘ کے اندر بھی ضمیر، لیکن اس کی مشابہت ’’رَجُلٌ‘‘ کے ساتھ بھی ہے، اسمِ جامد کے ساتھ بھی ہے، جیسے اسمِ جامد بدلتا نہیں خطاب، غیبت، تکلم میں: ’’أَنَا رَجُلٌ، أَنْتَ رَجُلٌ، ہُوَ رَجُلٌ‘‘، یہ خالی عن الضمیر ہے اس لیے بدل نہیں رہا۔ اسی طرح ’’قَائِمٌ‘‘ بھی اس کے مشابہ ہے: ’’أَنَا قَائِمٌ، أَنْتَ قَائِمٌ، ہُوَ قَائِمٌ‘‘، یہ بھی نہیں بدل رہا، تو یہ مشابہ ہوا خالی عن الضمیر کے ساتھ بھی اور نیز یہ مشابہ ہے ضمیر والے کے ساتھ یعنی فعل کے بھی مشابہ ہے۔ تو لہٰذا ’’قَائِمٌ‘‘ نہیں مولانا کیونکہ اس میں شبہ آ گیا، کیا آ گیا؟ شبہ آ گیا، اس میں ضمیر ہے تو لیکن معتبر نہیں ہے، معتبر نہیں ہے۔ دیکھیے: صاحبِ مفتاح ذکر کرتے ہیں کہ مبتدا کا ہونا مسند الیہ، ’’یَسْتَدْعِي أَنْ یُّسْنَدَ إِلَیْہِ شَيْءٌ‘‘ وہ تقاضا کرتا ہے کہ اس کی طرف کسی چیز کا اسناد کیا جائے، ’’فَإِذَا جَاءَ بَعْدَہٗ مَا یَصْلُحُ أَنْ یُّسْنَدَ إِلٰی ذٰلِکَ الْمُبْتَدَأِ‘‘ پس اس کے بعد جب آ جائے ایسی چیز جو صلاحیت رکھتی ہے کہ اس کا اسناد اس مبتدا کی طرف کر دیا جائے، ’’صَرَفَہُ الْمُبْتَدَأُ إِلٰی نَفْسِہٖ‘‘ تو اس مسند کو مبتدا کیا کر لیتا ہے؟ اپنی طرف پھیر لیتا ہے کیونکہ وہ تقاضا کر رہا ہے، ’’سَوَاءٌ کَانَ خَالِیًا عَنِ الضَّمِیْرِ أَوْ مُتَضَمِّنًا لَّہٗ‘‘ برابر ہے چاہے وہ خالی عن الضمیر ہو یا متضمنِ ضمیر ہو، ’’فَیَنْعَقِدُ بَیْنَہُمَا حُکْمٌ‘‘ تو دونوں میں حکم منعقد ہو جاتا ہے، ’’ثُمَّ إِذَا کَانَ مُتَضَمِّنًا لِّضَمِیْرِہِ الْمُعْتَدِّ بِہٖ‘‘ پھر جب وہ متضمن تھا ضمیر کو، ایسی ضمیر جو معتبر بھی ہے، ’’بِأَنْ لَّا یَکُوْنَ مُشَابِہًا لِّلْخَالِي عَنِ الضَّمِیْرِ کَمَا فِي: زَیْدٌ قَائِمٌ‘‘ بایں صورت کہ اس کی مشابہت خالی عن الضمیر کے ساتھ نہ ہو جیسے ’’زَیْدٌ قَائِمٌ‘‘ کے اندر ہے، یعنی ضمیر غیر معتبر نہیں ہونی چاہیے بلکہ معتبر ہونی چاہیے یعنی جملہ ہی ہونا چاہیے، ’’صَرَفَہٗ ذٰلِکَ الضَّمِیْرُ إِلَی الْمُبْتَدَأِ ثَانِیًا‘‘ تو پھیر دیتا ہے اس اسناد کو وہ ضمیر مبتدا کی طرف دوسری مرتبہ۔ کون پھیر دیتا ہے مولانا؟ ’’قَامَ‘‘ آپ نے کہا نا ’’زَیْدٌ قَامَ‘‘، تو قام کا اسناد زید کی طرف ہوا، پھر قام کا اسناد کس کی طرف؟ ھو ضمیر، اور ھو ضمیر کس کو راجع؟ زید کو، تو اس نے دوبارہ اسناد کو پھیر دیا کس کی طرف؟ کس نے پھیرا؟ ضمیر نے۔ جی۔ ’’صَرَفَہٗ ذٰلِکَ الضَّمِیْرُ إِلَی الْمُبْتَدَأِ ثَانِیًا فَیَکْتَسِي الْحُکْمُ قُوَّةً‘‘، پھیر دیا اس اسناد کو اس ضمیر نے مبتدا کی طرف دوسری مرتبہ، پس اوڑھ لیتا ہے حکم قوت کو۔ حکم کس کو اوڑھ لیتا ہے؟ قوت کو اوڑھ لیتا ہے یعنی اس میں قوت آ جاتی ہے۔ ’’فَعَلٰی ہٰذَا یَخْتَصُّ التَّقَوِّي‘‘ بنا بر اس کے مختص ہے تقویٰ۔ معلوم ہوا بھئی مفرد ہوگا تو پھر تقویٰ نہیں کیونکہ اس میں دوبارہ ضمیر... تقویٰ تو کس نے پیدا کی؟ بھئی آپ نے کہا ’’زَیْدٌ قَامَ‘‘، قام کا اسناد زید کی طرف ہوا، پھر قام کا اسناد ھو کی طرف ہوا، اور ھو نے پھر اس کو پھیر دیا کس کی طرف؟ کیونکہ ھو زید ہی کو راجع ہے۔ تو معلوم ہوا جب ضمیر ہوگی تو تقویٰ آئے گی ورنہ تقویٰ... ورنہ تو ایک ہی اسناد آئے گا۔ ’’فَعَلٰی ہٰذَا یَخْتَصُّ التَّقَوِّي بِمَا یَکُوْنُ مُسْنَدًا إِلٰی ضَمِیْرِ الْمُبْتَدَأِ‘‘ اس بنا پر خاص ہے تقویٰ، مختص ہوئی تقویٰ اس مسند کے ساتھ، ’’مَا‘‘ عبارت ہے مسند سے، تقویٰ مختص ہوئی اس مسند سے جو مسند ہو کس کی طرف؟ ضمیرِ مبتدا کی طرف۔ ’’قَامَ‘‘ جو مسند ہے ضمیرِ مبتدا کی طرف، اسی سے تقویٰ آئے گی۔ ’’وَیَخْرُجُ عَنْہُ: زَیْدٌ ضَرَبْتُہٗ‘‘ اور نکل گئی اس سے ’’زَیْدٌ ضَرَبْتُہٗ‘‘، یہ مثال نکل گئی بھئی۔ یہ مثال کیوں نکل گئی؟ کیونکہ اس کے اندر ضمیر جو وہ ضمیر جو مسند الیہ ہے وہ زید مبتدا کو راجع نہیں ہے۔ تو دوبارہ اس... دیکھو ’’زَیْدٌ‘‘ مبتدا، یہ تقاضا کر رہا ہے میری طرف کسی کا اسناد کرو، ’’ضَرَبْتُہٗ‘‘ آیا آپ نے اس کی طرف کیا کر دیا؟ اسناد کر دیا۔ پھر اس کے بعد ضرب فعل، تُ ضمیر اس کے اندر فاعل، تو کیا یہ جو فاعل مسند الیہ ہے یہ زید کو راجع ہے؟ زید کو راجع نہیں، تو اسناد مکرر ہوا؟ مکرر نہیں ہوا، تو لہٰذا یہ خارج ہوا۔ ’’وَیَجِبُ أَنْ یُّجْعَلَ سَبَبِیًّا‘‘ اور واجب ہے کہ اس کو کیا بنایا جائے پھر؟ سببی بنایا جائے۔ کیا معنی سببی بنایا جائے؟ بھئی انہوں نے کہا تھا جملہ دو باتوں کے لیے مسند بن کر آتا ہے، یا تو وہ فائدہ دیتا ہے تقویٰ کا یا اس لیے کہ وہ کیا ہوتا ہے؟ سببی ہوتا ہے، کیا ہوتا ہے؟ سببی ہوتا ہے۔ اور ابھی بتایا ’’زَیْدٌ ضَرَبْتُہٗ‘‘ کے اندر تقویٰ تو ہے نہیں، تو لازمی بات ہے پھر دوسری چیز ثابت ہو جائے گی کہ کس لیے ہوگا یہ؟ سببی ہوگا یہ۔ ’’وَأَمَّا عَلٰی مَا ذَکَرَہُ الشَّیْخُ فِي دَلَائِلِ الْإِعْجَازِ: وَہُوَ أَنَّ الِاسْمَ لَا یُؤْتٰی بِہٖ مُعَرًّی عَنِ الْعَوَامِلِ إِلَّا لِحَدِیْثٍ قَدْ نُوِيَ إِسْنَادُہٗ إِلَیْہِ‘‘۔ اچھا، یہ تو تھا مولانا علامہ سکاکی کا مذہب، اب شیخ عبدالقاہر کا مسلک ذکر کر رہے ہیں۔ خلاصۂ کلام یہ: علامہ سکاکی نے کہا ’’زَیْدٌ ضَرَبْتُہٗ‘‘ کے اندر تقویٰ نہیں۔ ’’زَیْدٌ ضَرَبْتُہٗ‘‘ کے اندر تقویٰ نہیں ہے، اور شیخ عبدالقاہر کے کلام سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ’’زَیْدٌ ضَرَبْتُہٗ‘‘ کے اندر بھی کیا ہے؟ تقویٰ ہے، تقویٰ ہے۔ جی، کس طرح؟ ’’وَأَمَّا عَلٰی مَا ذَکَرَ‘‘ یہ دوسرا انداز ہے، شیخ عبدالقاہر جو واضع ہیں اس فن کے مولانا، سنیے وہ کیا فرماتے ہیں۔ کہتے ہیں دلائل الاعجاز میں کہتے ہیں: ’’وَہُوَ أَنَّ الِاسْمَ لَا یُؤْتٰی بِہٖ مُعَرًّی عَنِ الْعَوَامِلِ إِلَّا لِحَدِیْثٍ قَدْ نُوِيَ إِسْنَادُہٗ إِلَیْہِ‘‘، اسم کو لایا نہیں جاتا عوامل سے خالی کرنے کے لیے مگر کسی بات کی وجہ سے جس کا ارادہ کیا گیا ہے اس کی طرف اسناد کرنے کا۔ دیکھیے، مبتدا اور خبر ان دونوں میں عامل معنوی ہوتا ہے، ان میں عامل کوئی لفظوں میں آتا نہیں ہے۔ تو آپ لے کر آئے ’’زَیْدٌ‘‘، آپ نے اس کو خالی کر دیا کس سے؟ عوامل سے۔ جی، تو اسم کو کبھی بھی عامل سے خالی نہیں لایا جاتا مگر اس لیے کہ آپ یہ ارادہ کرتے ہیں کہ اس کی طرف ایک اور چیز کا اسناد کریں کیونکہ اس کو کیا بنائیں گے؟ مبتدا اور خبر۔ اچھا، تو یہ معنی ہے: اسم کو خالی عن العوامل نہیں لایا جاتا مگر کسی بات کی وجہ سے کہ ارادہ کیا گیا ہے اس کے اسناد کا اس کی طرف۔ زید کو میں لے کر آیا، اس پر کوئی عامل ہے؟ نہیں۔ میں اس لیے اس کو خالی عن العوامل لایا کہ میرا ارادہ ہے کہ آگے جو بات آ رہی ہے اس کا اسناد میں کس کی طرف کر دوں؟ اس کی طرف کر دوں۔ ’’فَإِذَا قُلْتَ: زَیْدٌ، أَشْعَرْتَ قَلْبَ السَّامِعِ بِأَنَّکَ تُرِیْدُ الْإِخْبَارَ عَنْہُ‘‘، جب آپ نے کہا ’’زَیْدٌ‘‘، آپ نے خبر دی سامع کے دل کو کہ آپ زید کے بارے میں کیا کرنا چاہتے ہیں؟ خبر دینا چاہتے ہیں، کیونکہ اس کو آپ عوامل سے خالی لے کر آئے ہیں۔ ’’فَہٰذَا تَوْطِئَةٌ لَّہٗ وَتَقْدِمَةٌ لِّلْإِعْلَامِ بِہٖ‘‘، تو یہ اس کے لیے توطیہ اور تمہید ہے، توطیہ اور تقدیم کا ایک معنی ہے، مقدمہ کا ایک معنی ہے۔ تو یہ اس کے لیے تمہید ہے مولانا اس کے خبر دینے کے بارے میں کہ آپ اس کے بارے میں کیا کرنا چاہتے ہیں۔ ’’فَإِذَا قُلْتَ: قَامَ، دَخَلَ فِي قَلْبِہٖ دُخُوْلَ الْمَأْنُوْسِ‘‘، تو جب آپ نے ’’قَامَ‘‘ کہا، تو یہ جو قام ہے بیٹھ گیا، داخل ہوا اس کے دل کے اندر جیسے ایک مانوس چیز کیا ہوتی ہے؟ داخل ہوتی ہے۔ بھئی آپ نے جب ’’زَیْدٌ‘‘ کہا تو اسم کو خالی عن العوامل اس لیے لایا جاتا ہے کہ آپ اس پر ایک چیز کا حکم لگانا چاہتے ہیں، تو جب آپ نے ’’زَیْدٌ‘‘ کہا تو مخاطب کو پہلے سے اشارہ دے دیا کہ میں اس کو خالی عن العوامل اس لیے لایا ہوں کہ میں اس پر کیا کرنے لگا ہوں؟ حکم لگانے لگا ہوں۔ تو اب وہ مشتاق ہوا اور انتظار کرنے لگا کہ آپ اس پر کیا حکم لگاتے ہیں، تو انتظار کے بعد اب آپ نے قام، ’’زَیْدٌ قَامَ‘‘ کا حکم لگایا تو گویا اب یہ پورا کلام جو ہے یہ اس کے دل میں کس طرح بیٹھ گیا؟ جیسے کہ ایک مانوس چیز ہے، کیونکہ وہ پہلے سے اس کا انتظار کر رہا تھا، اور مانوس چیز ہے۔ تو اس کی وجہ سے کلام میں کیا آیا؟ ثبوت میں شدت آ گئی مولانا، انتظار کے بعد آیا مانوس چیز کی طرح آیا، اور اس کے اندر اب کوئی شک اور شبہ نہیں دل میں خوب جم کر بات بیٹھ گئی۔ ’’دَخَلَ فِي قَلْبِہٖ دُخُوْلَ الْمَأْنُوْسِ‘‘ تو داخل ہوا یہ اسناد اس کے دل کے اندر ایک مانوس چیز کی طرح، ’’وَہٰذَا أَشَدُّ لِلثُّبُوْتِ‘‘ اور یہ زیادہ اشد ہے کس کے اعتبار سے؟ یعنی ایک کا ثبوت ہو رہا ہے دوسرے کے لیے، ’’وَأَمْنَعُ مِنَ الشُّبْہَةِ وَالشَّکِّ‘‘ اور یہ زیادہ مانع ہے شک اور شبہے سے۔ ’’وَبِالْجُمْلَةِ: لَیْسَ الْإِعْلَامُ بِالشَّيْءِ بَغْتَةً مِّثْلَ الْإِعْلَامِ بِہٖ بَعْدَ التَّنْبِیْہِ عَلَیْہِ‘‘ اور بالجملہ اور خلاصۂ کلام یہ مولانا کہ خبر دینا کسی چیز کے بارے میں اچانک، یہ اس طرح نہیں ہے کہ خبر دی جائے اس کو تنبیہ کے بعد۔ بھئی ایک ہے اچانک خبر دینا، ایک ہے تنبیہ کے بعد خبر دینا، تو اچانک جب کوئی بات ذکر کی جائے وہ دل میں اتنی جم کے نہیں بیٹھے گی، لیکن اگر پہلے سے تنبیہ کر چکے ہیں تو پھر خوب جم کر بیٹھے گی۔ تو آپ نے جب کہا ’’زَیْدٌ‘‘، اس کو اشارہ دے دیا: میں اس کو خالی عن العوامل لایا ہوں، میں اس پر کوئی حکم لگانے والا ہوں، تو اب حکم خوب جم کر دل میں بیٹھا جب ’’قَامَ‘‘ آیا۔ اور اگر آپ کیا کہیں؟ جی؟ ’’قَامَ زَیْدٌ‘‘ کہیں۔ جی، عکس کریں اس کا کیا؟ ’’قَامَ زَیْدٌ‘‘۔ ہاں، ’’قَامَ زَیْدٌ‘‘ کہیں مولانا، تو اب مولانا آپ کوئی اسم لائے ہیں؟ اسم خالی عن العوامل اسم کوئی نہیں لائے، تو اب جو حکم آ رہا ہے وہ اچانک آ رہا ہے، بعد الانتظار نہیں آ رہا۔ تو لہٰذا جو بعد الانتظار آئے گا اس میں تاکید ہوگی، پختگی ہوگی، اور جو بعد الانتظار نہیں آئے گا اس کے اندر پختگی نہیں ہوگی۔ معلوم ہوا مبتدا کو مقدم کریں گے تو پختگی آئے گی، مبتدا یا مسند الیہ کو مؤخر کریں گے تو پختگی نہیں ہے۔ یہ معنی ہے: ’’وَبِالْجُمْلَةِ‘‘ خلاصۂ کلام یہ کہ ’’اَلْإِعْلَامُ بِالشَّيْءِ‘‘ کسی چیز کی خبر دینا اچانک، یہ اس طرح نہیں ہے کہ خبر دی جائے تنبیہ کے بعد، اس پر تنبیہ کرنے کے بعد، ’’وَالتَّقْدِمَةِ‘‘ اور تمہید کے بعد۔ ’’فَإِنَّ ذٰلِکَ یَجْرِي مَجْرٰی تspaceاکِیْدِ الْإِعْلَامِ فِي التَّقَوِّي‘‘ اس لیے کہ یہ قائم مقام ہے کس کے؟ تاکیدِ اعلام بھئی، خبر کی تاکید کے قائم مقام ہے تقویٰ کے اندر۔ یہ جو آپ نے پہلے ایک اسم کو ذکر کیا پھر وہ ایک مانوس چیز کی طرح اس کے دل میں جم کر بات بیٹھ گئی، یہ کس کے قائم مقام ہے؟ تاکید ہی کے قائم مقام ہے، بات خوب پکی ہو گئی۔ ’’فِي التَّقَوِّي‘‘ احکام، تقویٰ اور احکام کا ایک معنی ہے، احکام کا معنی پختہ کرنا، مضبوط کرنا۔ ’’فَیَدْخُلُ فِیْہِ‘‘ لہٰذا بھئی شیخ کی بات سے داخل ہو گیا مسندِ تقویٰ میں ’’زَیْدٌ ضَرَبْتُہٗ‘‘ اور ’’زَیْدٌ مَرَرْتُ بِہٖ‘‘، یہ مثالیں بھی کس میں داخل ہو گئیں؟ تقویٰ میں داخل ہو گئیں، کیونکہ ان میں مسند الیہ مقدم ہے، اور مسند الیہ مقدم جب ہو تو سامع کیا کرنے لگتا ہے؟ انتظار کرنے لگتا ہے، تو بعد میں حکم جم کر بیٹھتا ہے اور اس میں تاکید اور پختگی آ جاتی ہے۔ تو معلوم ہوا ’’زَیْدٌ ضَرَبْتُہٗ‘‘ میں بھی تاکید ہے اور ’’زَیْدٌ مَرَرْتُ بِہٖ‘‘ میں بھی، حالانکہ علامہ سکاکی کے نزدیک ’’زَیْدٌ ضَرَبْتُہٗ‘‘ میں تاکید نہیں تھی کیونکہ اسناد دوبارہ زید کی طرف نہیں ہو رہا تھا۔ ’’وَمِمَّا یَکُوْنُ الْمُسْنَدُ فِیْہِ جُمْلَةً لَّا لِلسَّبَبِیَّةِ وَلَا لِلتَّقَوِّي: خَبَرُ ضَمِیْرِ الشَّأْنِ‘‘۔ یہ ایک اعتراض کا جواب ہے بھئی۔ اعتراض یہ کہ ماتن نے کیا کہا کہ مسند کو جملہ لاتے ہیں، جملہ کس لیے لے کر آتے ہیں؟ آپ بتلانا فائدہ تقویٰ کا دینا چاہتے ہیں یا بتلانا چاہتے ہیں کہ یہ مسند کون سا ہے؟ سببی ہے، غیر سببی نہیں۔ بھئی اس کے علاوہ بھی ایک دو مقاصد ہیں، جملہ اس لیے بھی لاتے ہیں: ایک یہ کہ آپ جملہ اس لیے لے کر آتے ہیں کہ مبتدا ضمیرِ شان گزری ہوتی ہے، تو ضمیرِ شان کی وجہ سے بھی کبھی خبر کو کیا لایا جاتا ہے؟ جملہ، کیونکہ ضمیرِ شان کی خبر ہمیشہ جملہ ہوتی ہے، مفرد نہیں ہوتا۔ تو جملہ کبھی لایا جاتا ہے ضمیرِ شان کے لیے بھی، یہ بھی آپ کو کہنا چاہیے تھا، اس کو آپ نے کیوں نہیں ذکر کیا؟ کہتے ہیں بھئی وہ مشہور بات ہے اس لیے اس کو ذکر نہیں کیا۔ نیز اس کا پہلے میں ایک دفعہ کہتے ہیں ذکر کر چکے ہیں ماتن، تو اس کو دوبارہ ذکر نہیں کیا۔ پھر اچھا، تو کبھی کبھی تو بھئی مسند کو مسند الیہ کو مقدم کیا جاتا ہے... نہیں، مسند کو خبر کی صورت میں لاتے ہیں تخصیص کے لیے بھی لاتے ہیں، وہ بھی آپ نے ذکر نہیں کیا، صرف تقویٰ اور سببی کہا، جیسے: ’’أَنَا سَعَیْتُ فِي حَاجَتِکَ‘‘، میں نے ہی آپ کی حاجت میں سعی کی۔ تو دیکھو ’’أَنَا‘‘ مبتدا ہے اور اس کی خبر کیا ہے؟ پورا جملہ: ’’سَعَیْتُ فِي حَاجَتِکَ‘‘، اور اس جملے نے کس چیز کا فائدہ دیا؟ تخصیص کا۔ تو کہتے ہیں تخصیص کو بھی نہیں انہوں نے ذکر کیا۔ کہتے ہیں بھئی یہاں پر یہ بھی تقویٰ میں داخل ہے، ہم آپ کو پہلے بتا چکے ہیں کہ تخصیص... ’’أَنَا‘‘ جب مقدم کیا تو ’’سَعَیْتُ‘‘ کا ایک دفعہ اسناد کس کی طرف ہے؟ تُ ضمیر کی طرف، اس سے بھی متکلم مراد، اور پھر کس کی طرف ہے؟ ’’أَنَا‘‘ کی طرف، تو چاہے تخصیص آ رہی ہے لیکن ساتھ ساتھ کیا آ رہی ہے؟ تقویٰ بھی آ رہی ہے۔ وہ الگ بات ہے، تقویٰ حاصل بلا قصد ہے اور تخصیص حاصل بالقصد، تو تقویٰ کے لیے ہے کلام چاہے حاصل بالقصد ہو چاہے حاصل بلا قصد ہو۔ ’’وَمِمَّا یَکُوْنُ الْمُسْنَدُ فِیْہِ جُمْلَةً‘‘ اور ان میں سے کہ جن کے اندر مسند جملہ ہوتا ہے، ’’لَا لِلسَّبَبِیَّةِ وَلَا لِلتَّقَوِّي‘‘ نہ تو سببی ہونے کے لیے ہوتا ہے اور نہ تقویٰ کے لیے، ان میں سے کیا ہے؟ ’’خَبَرُ ضَمِیْرِ الشَّأْنِ‘‘ ضمیرِ شان کی خبر بھی ہے، ’’وَلَمْ یَتَعَرَّضْ لَہٗ لِشُہْرَةِ أَمْرِہٖ‘‘ اس کے درپے نہیں ہوئے کہ اس کا معاملہ بڑا مشہور ہے، ’’وَکَوْنِہٖ مَعْلُوْمًا مِّمَّا سَبَقَ‘‘ اور بوجہ اس کے معلوم ہونے کے ماقبل سے، ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں۔ ’’وَأَمَّا صُوْرَةُ التَّخْصِیْصِ‘‘ باقی تخصیص کی صورت کو کیوں نہیں ذکر کیا؟ کہتے ہیں: ’’نَحْوُ: أَنَا سَعَیْتُ فِي حَاجَتِکَ‘‘ میں نے ہی کوشش کی آپ کی حاجت میں، ’’وَرَجُلٌ جَاءَنِي‘‘ اور آدمی میرے پاس، آدمی ہی آیا، ’’فَہِیَ دَاخِلَةٌ فِي التَّقَوِّي عَلٰی مَا مَرَّ‘‘ یہ داخل ہے کس کے اندر مولانا؟ تقویٰ کے اندر داخل ہے بنا بر اس کے جو کہ بات گزر چکی ہے۔ ’’وَاسْمِیَّتُہَا وَفِعْلِیَّتُہَا وَشَرْطِیَّتُہَا‘‘ اور کبھی کبھار مولانا جملہ لے کر آتے ہیں، یہ تو آپ کو بتایا کس لیے لے کر آتے ہیں؟ تقویٰ کے لیے یا سببی ہونے کے لیے۔ ابھی بتایا مسند کو کیوں لاتے ہیں؟ تقویٰ کے لیے یا سببی ہونے کے لیے لاتے ہیں۔ پھر اس جملے کو کبھی جملہ اسمیہ لاتے ہیں، کبھی جملہ فعلیہ لاتے ہیں، کبھی جملہ شرطیہ لاتے ہیں، کبھی جملہ ظرفیہ لاتے ہیں۔ جملہ ظرفیہ کس کو کہتے ہیں جانتے ہو بھئی؟ جس کا ایک جز کیا ہو؟ ظرف ہو، ایک جز کیا ہو؟ ظرف ہو۔ ’’زَیْدٌ فِي الدَّارِ‘‘، زید تو ایک اسم ہے اور ’’فِي الدَّارِ‘‘ ظرف ہے، جار مجرور بھی ظرف کہلاتا ہے مجازاً۔ تو جس کا ایک جز ظرف ہو، یا ’’اَلْمَالُ عِنْدِي‘‘ یہ بھی کیا ہے؟ جملہ ظرفیہ ہے۔ اور بعضوں نے یہ کہا جس کا اوّل جز ظرف ہو مولانا، لیکن یہ جس کوئی ایک جز جس کا ظرف ہو وہ جملہ ظرفیہ کہلاتا۔ تو پھر اس جملے کو کبھی اسمیہ لاتے ہیں، کبھی فعلیہ لاتے ہیں، کبھی شرطیہ لاتے ہیں، یہ کیوں؟ کہتے ہیں یہ وجہ ہم بیان کر چکے ہیں جیسے دیکھیے: جملہ اسمیہ کیوں لاتے ہیں بھئی؟ کیونکہ جملہ اسمیہ فائدہ دیتا ہے ثبوت اور دوام کا۔ جملہ فعلیہ کیوں لاتے ہیں؟ وہ فائدہ دیتا ہے استمرار اور تجدد کا۔ اور شرطیہ کس لیے لے کر آتے ہیں بھئی؟ آپ معلق کرنا چاہتے ہیں، اور کبھی یقین کے ساتھ تو ’’إِذَا‘‘ لائیں گے یقینی امر میں، اور کبھی مشکوک امر میں تو ’’إِنْ‘‘ وغیرہ لے کر آئیں گے، یا کبھی ماضی میں تو ’’لَوْ‘‘ لائیں گے۔ ’’یَعْنِي أَنَّ کَوْنَ الْمُسْنَدِ جُمْلَةً لِّلسَّبَبِیَّةِ وَالتَّقَوِّي‘‘، مسند کا جملہ ہونا سببی ہونے کے لیے ہے اور تقویٰ کے لیے ہے، ’’وَکَوْنُ تِلْکَ الْجُمْلَةِ‘‘ پھر اس جملے کا، ’’اسْمِیَّةً لِلدَّوَامِ وَالثُّبُوْتِ‘‘ اسمیہ ہونا دوام اور ثبوت کے لیے ہے، ’’وَکَوْنُہَا فِعْلِیَّةً لِّلتَّجَدُّدِ وَالْحُدُوْثِ‘‘ اور اس کا فعلیہ ہونا تجدد اور حدوث کے لیے ہے، ’’وَالدَّلَالَةِ عَلٰی أَحَدِ الْأَزْمِنَةِ الثَّلَاثَةِ عَلٰی أَقْصَرِ وَجْہٍ‘‘ نیز اس لیے کہ وہ دلالت کرتا ہے کس پر؟ تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے پر مختصر طریقے سے۔ ’’وَکَوْنُہَا شَرْطِیَّةً لِّلِاعْتِبَارَاتِ الْمُخْتَلِفَةِ الْحَاصِلَةِ مِنْ أَدَوَاتِ الشَّرْطِ‘‘ اور اس کا شرطیہ ہونا مختلف اعتبارات کی وجہ سے ہے جو حاصل ہوتے ہیں کس سے؟ ادواتِ شرط سے۔ ’’وَظَرْفِیَّتُہَا لِاخْتِصَارِ الْفِعْلِیَّةِ‘‘ اور کبھی جملہ ظرفیہ لایا جاتا ہے کیوں؟ کیونکہ اختصار کرتے ہیں کس کا؟ فعل کا، فعلیہ کا اختصار کرنے کے لیے۔ دیکھیے، میں کہتا ہوں: ’’زَیْدٌ فِي الدَّارِ‘‘، زید کس میں ہے؟ بھئی جار مجرور ہے، جار مجرور ہمیشہ اپنا کوئی، کسی چیز سے متعلق ہوتے ہیں۔ سات آٹھ چیزیں میں نے آپ کو بتلائی تھیں غالباً بھئی، کس سے؟ فعل سے، اسم فاعل، اسم مفعول، صفت مشبہ وغیرہ، تو یہ متعلق ہوتے ہیں۔ تو جہاں پر ظرفِ مستقر آئے مولانا یعنی اس کا متعلق عبارت کے اندر ذکر نہ ہو، وہاں پر ’’زَیْدٌ فِي الدَّارِ‘‘، آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں: ’’زَیْدٌ ثَابِتٌ فِي الدَّارِ‘‘، آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں: ’’زَیْدٌ ثَبَتَ فِي الدَّارِ‘‘۔ تو بنا بر بصرہ والے نحوی کیا کہتے ہیں؟ فعل نکالو، اور کوفہ والے کیا کہتے ہیں؟ اسم نکالو۔ بصرہ والے کہتے ہیں اس لیے فعل نکالو کہ عمل کے اندر اصل کون ہے؟ فعل، اور یہ جار مجرور یہ بھی تو معمول، ظرف بھی معمول ہوتا ہے، اور عامل کے اندر اصل فعل ہے تو اصلِ عامل کو لے کر آؤ۔ اور کوفہ والے کیا کہتے ہیں؟ وہ کہتے ہیں کہ یہ خبر ہے، اور خبر کے اندر اصل مفرد ہونا ہے اور مفرد کون ہوتا ہے؟ فعل نہیں مفرد، فعل تو جملہ ہے، تو کیا لاؤ؟ اسم فاعل وغیرہ لے کر آؤ، اسم لے کر آؤ۔ اچھا، تو ’’زَیْدٌ فِي الدَّارِ‘‘ اصل میں کیا تھا؟ یہ صاحبِ کتاب کہتے ہیں: اصح مذہب یہ ہے فعل نکالو: ’’زَیْدٌ ثَبَتَ فِي الدَّارِ‘‘۔ تو دیکھو ایک کلام یہ ہے: ’’زَیْدٌ ثَبَتَ فِي الدَّارِ‘‘، ایک ہے: ’’زَیْدٌ فِي الدَّارِ‘‘، کون سا مختصر ہے؟ جس میں فعل کو کیا کر دیا؟ تو دیکھو جملہ ظرفیہ لے کر آئے کس لیے کہ آپ نے جملہ فعلیہ کو کیا کر دیا؟ مختصر کر دیا۔ یہ معنی ہے: ’’وَظَرْفِیَّتُہَا لِاخْتِصَارِ الْفِعْلِیَّةِ‘‘ فعلیہ کا اختصار کرنے کے لیے، ’’إِذْ ہِیَ مُقَدَّرَةٌ بِالْفِعْلِ عَلَی الْأَصَحِّ‘‘ اس لیے کہ یہ جملہ ظرفیہ جو ہے مقدر ہوتا ہے کس کے ساتھ؟ فعل کے ساتھ، قولِ اصح کے مطابق۔ ’’لِأَنَّ الْفِعْلَ ہُوَ الْأَصْلُ فِي الْعَمَلِ‘‘ اس لیے کہ فعل عمل کے اندر اصل ہے، ’’وَقِیْلَ: بِاسْمِ الْفَاعِلِ‘‘ اور بعضوں نے کہا مولانا کس کے ساتھ مقدر کریں گے؟ اسم فاعل کے ساتھ، ’’لِأَنَّ الْأَصْلَ فِي الْخَبَرِ أَنْ یَّکُوْنَ مُفْرَدًا‘‘ کیونکہ خبر کے اندر اصل کیا ہے؟ مفرد ہونا۔ ’’وَرُجِّحَ الْأَوَّلُ بِوُقُوْعِ الظَّرْفِ صِلَةً لِّلْمَوْصُوْلِ‘‘ اور اوّل کو ترجیح دی گئی ہے بوجہ واقع ہونے ظرف کے صلہ موصول کے لیے۔ بھئی جار مجرور کا آپ نے پڑھا متعلق اسم فاعل وغیرہ بھی نکال سکتے ہیں اور فعل بھی، لیکن اگر آپ کہتے ہیں: ’’جَاءَ الَّذِي فِي الدَّارِ‘‘، جاء فعل، الذی اسم موصول، فی الدار جار مجرور مل کر اب کس سے متعلق ہوں گے؟ یہاں آپ ’’ثَابِتٌ‘‘ نہیں کہہ سکتے کیونکہ ثابت سے متعلق ہو کر یہ تو مفرد ہو جائے گا، اور حالانکہ موصول کا صلہ مفرد نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ کیا ہوتا ہے؟ جملہ ہوتا ہے۔ معلوم ہوا ’’اَلَّذِي فِي الدَّارِ‘‘ کے اندر متعین ہے آپ کو کیا نکالنا پڑے گا؟ فعل ہی نکالنا پڑے گا، فعل ہی۔ تو چنانچہ وہ اپنی دلیل دیتے ہیں مولانا بصرہ والے، کہتے ہیں دیکھو باقی ہر جگہ شک ہے، کوئی کہتا ہے فعل لاؤ، فعل کا بھی احتمال ہے اور اسم کا بھی، لیکن ایک جگہ ہے وہاں پر فعل کا ہونا یقینی، تو اس مشکوک کو بھی محمول کر لو کس پر؟ یقینی پر، تو باقی جگہ بھی کیا لے کر آؤ؟ فعل ہی لے کر آؤ۔ ’’وَرُجِّحَ الْأَوَّلُ بِوُقُوْعِ الظَّرْفِ صِلَةً لِّلْمَوْصُوْلِ‘‘ اور ترجیح دی گئی ہے مذہبِ اوّل کو کہ ظرف جو واقع ہوتا ہے صلہ کس کے لیے؟ موصول کے لیے۔ اچھا، وہ ہمیشہ کیا ہوتا ہے؟ فعل ہی ہوتا ہے، تو اس کو ترجیح دی گئی ہے فعل ہونے کو مولانا، ’’نَحْوُ: اَلَّذِي فِي الدَّارِ أَخُوْکَ‘‘ وہ جو گھر کے اندر ہے تیرا بھئی ہے۔ ’’وَأُجِیْبَ بِأَنَّ الصِّلَةَ مِنْ مَّظَانِّ الْجُمْلَةِ‘‘ اور جواب دیا گیا مولانا کہ صلہ ہونا کس میں سے ہے؟ جائے گمان ہے جملے کا، صلہ اصل میں ہوتا ہی جملہ ہے، صلے میں آتا ہی ہمیشہ کیا ہے؟ جملہ آتا ہے، اس وجہ سے مجبوری کی وجہ سے یہاں ہم نے فعل نہیں نکالا بلکہ اسم نہیں نکالا بلکہ کیا نکالا؟ فعل نکالا، ’’بِخِلَافِ الْخَبَرِ‘‘ بخلاف خبر کے کہ وہ آپ قیاس کر رہے ہیں اور خبر یہ قیاس مع الفارق ہے۔ خبر مقام ہے مفرد ہونے کا اور صلہ مقام ہے جملہ ہونے کا، تو آپ ایک جملے کے مقام پر قیاس کر رہے ہیں کس کو؟ مفرد کے مقام کو، لہٰذا آپ کا قیاس صحیح نہیں ہے۔ ’’بِأَنَّ الصِّلَةَ مِنْ مَّظَانِّ الْجُمْلَةِ بِخِلَافِ الْخَبَرِ‘‘ اس لیے کہ صلہ جو ہے وہ جملے کے وقوع کی جگہوں میں سے ہے، بخلاف کس کے؟ خبر کے، کہ وہ جملے کا محل نہیں ہے بلکہ وہ مفرد کا محل ہے۔ چلیے، ہٰذَا ہُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰہُ أَعْلَمُ بِحَقِیْقَةِ الْکَلَامِ۔