آگے سبق دیکھیے بھئی۔ قَالَ: ”وَإِذَا كَانَتِ الحُرَّةُ تَحْتَ عَبْدٍ، فَقَالَتْ لِمَوْلَاهُ: أَعْتِقْهُ عَنِّي بِأَلْفٍ، فَفَعَلَ فَسَدَ النِّكَاحُ“. ”وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: لَا يَفْسُدُ“. ”وَأَصْلُهُ أَنَّهُ يَقَعُ العِتْقُ عَنِ الْآمِرِ عِنْدَنَا حَتَّى يَكُونُ الْوَلَاءُ لَهُ، وَلَوْ نَوَى بِهِ الْكَفَّارَةَ يَخْرُجُ عَنْ عُهْدَتِهَا“. گزشتہ سبق میں ہم نے خیار عتق کا مسئلہ پڑھا تھا۔ عند الاحناف جب بھی کسی منکوحہ باندی کو آقا آزاد کرے گا، اس کو خیار عتق ملے گا۔ وجہ یہ کہ یہاں پر باندی کی دو طلاقیں ہوتی ہیں اور آزاد عورت کی تین طلاقیں۔ تو جب باندی تھی تو اس کا خاوند دو طلاقوں کا مالک تھا اور جب آزاد ہوگی تو وہ تین طلاقوں کا مالک بن جائے گا۔ تو باندی کے اوپر چونکہ خاوند کی ملکیت بڑھ رہی ہے، تو شریعت نے اس کو اختیار دیا ہے کہ وہ اس کو دفع کر سکتی ہے، یعنی نکاح کو فسخ کر سکتی ہے جس مجلس میں اس کو آزادی کا پتہ چلے۔ تو ہمارے نزدیک ہر منکوحہ باندی کو آزادی پر خیار عتق ملتا ہے۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ اگر منکوحہ باندی کا خاوند غلام ہو پھر اس کو خیار عتق ملے گا، اور ان کے نزدیک علت جو ہے وہ عدم کفاءت ہے۔ ہمارے نزدیک علت کیا ہے؟ ازدیاد ملک کہ خاوند کی ملکیت اس پر بڑھ رہی ہے۔ اور ان کے نزدیک عدم کفاءت ہے کہ باندی آزاد ہو گئی اور اس کا خاوند غلام ہے، تو خاوند اس کا کفو نہ رہا، اس کا ہم پلہ اور برابر کا نہ رہا، تو شریعت اس کو اختیار دیتی ہے۔ لیکن اگر باندی کا خاوند آزاد ہو تو پھر وہ فرماتے ہیں کہ اس صورت میں باندی کو خیار عتق نہیں ملے گا۔ تو ہمارے نزدیک جو ہے ہر باندی کو مطلقاً خیار عتق ملے گا اگر وہ منکوحہ ہے آزادی کے وقت بھئی۔ اور دلیل ہماری جو ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو اختیار دیا تھا اور آپ نے فرمایا تھا: ”مَلَكْتِ بُضْعَكِ فَاخْتَارِي“ کہ تو اپنے بضع کی مالک ہو گئی ہے، فَاخْتَارِي پس تو اختیار کر لے، یعنی چاہے اپنی ذات کو اور چاہے اپنے خاوند کو اختیار کر لے۔ تو یہ حدیث بھی ہماری دلیل ہے اور نیز ہمارے نزدیک علت ملکیت کا بڑھنا ہے اور وہ پائی جا رہی ہے، لہٰذا باندی کو خیار عتق ہوگا۔ اور نیز اسی طرح مکاتبہ بھی ہے۔ ہمارے نزدیک مکاتبہ جو ہے اس کو بھی خیار عتق ملے گا، جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مکاتبہ جو ہے اس کی تو مرضی کے بغیر آقا نکاح نہیں کروا سکتا اور نیز جو مہر ملتا ہے وہ بھی مکاتبہ ہی کا حق ہوتا ہے، اسی کو ملتا ہے، تو جب نکاح مکاتبہ کی مرضی سے ہوا ہے اور مہر بھی اس نے وصول کیا ہے، تو اس مکاتبہ کو کوئی خیار عتق نہیں ہوگا کیونکہ اس کو اختیار دینے کی کوئی وجہ اور کوئی سبب نہیں ہے، جب کیونکہ نکاح اس کی مرضی سے ہوا ہے۔ جبکہ ہمارے نزدیک جو ہے کہ علت جو ہے ملکیت کا بڑھنا ہے اور وہ مکاتبہ میں بھی پائی جا رہی ہے، اس لیے کیونکہ مکاتبہ کی عدت بھی دو حیض ہیں اور اس کی طلاقیں بھی دو ہیں۔ تو جب وہ آزاد ہوگی تو تو یہ طلاقیں بڑھیں گی، لہٰذا اس لیے اس کو اختیار ملے گا بھئی۔ اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے دوسرا مسئلہ ذکر فرمایا تھا کہ اگر ایک باندی نے آقا کی اجازت کے بغیر نکاح کر لیا ہے، تو یہ نکاح آقا کی اجازت پر موقوف ہے۔ لیکن اس سے پہلے ہی آقا نے اس کو آزاد کر دیا۔ تو اب یہ جو نکاح تھا یہ موقوف تھا آقا کے حق کی وجہ سے، اور جب آقا نے آزاد کر دیا تو آقا نے اپنا حق ساقط کر دیا، تو لہٰذا آزاد ہوتے ہی یہ نکاح جو ہے نافذ ہو جائے گا کیونکہ مانع چلا گیا۔ مانع کیا تھا؟ آقا کا حق۔ تو آزاد ہوتے ہی آقا کا حق ساقط ہوا، مانع ختم ہوا تو نکاح نافذ ہوا۔ اور یہ نکاح چونکہ آزادی کے اندر نافذ ہو رہا ہے تو ابتدا سے ہی خاوند کو تین طلاقوں کا حق مل رہا ہے، لہٰذا یہ نکاح صحیح ہو جائے گا اور یہ جو عورت ہے اس کو خیار عتق نہیں ملے گا، کیونکہ نکاح نافذ ہوا ہی کتنی طلاقوں کے ساتھ ہے؟ تین طلاقوں کے ساتھ۔ ایسا نہیں کہ پہلے دو طلاقیں تھیں اور اب بڑھ کر تین ہو رہی ہیں بھئی۔ اس کے بعد پھر صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ ایک باندی ہے وہ اپنے آقا کی اجازت کے بغیر نکاح کر لیتی ہے اور پھر اس کے بعد خاوند اس سے صحبت کرتا ہے اور پھر آقا اس کو آزاد کرتا ہے، تو ایک صورت یہ ہے کہ خاوند کی صحبت کے بعد آقا نے اس کو آزاد کیا ہے، تو اس صورت میں یاد رکھو یہ سارا مہر جو ہے یہ آقا کو ملے گا، کیونکہ آزادی سے پہلے باندی کے منافع کا مالک آقا تھا، تو خاوند نے آقا کے حق میں تصرف کیا ہے لہٰذا اب مہر بھی کس کو دینا پڑے گا؟ آقا ہی کو دے گا وہ۔ جبکہ اگر باندی نے نکاح تو بغیر اجازت کے کر لیا لیکن خاوند کے صحبت کرنے سے پہلے ہی آقا نے اس کو آزاد کر دیا، تو آزادی کے بعد خاوند نے اس کے ساتھ صحبت کی ہے، تو اس صورت کے اندر تو باندی کے منافع کا مالک آقا نہیں ہے، لہٰذا اس صورت میں سارا مہر باندی کا حق ہوگا۔ یہاں پر پھر اشکال ہوتا تھا کہ باندی کا مہر مثل مثلاً سو درہم ہے اور اس نے نکاح جو کیا تھا وہ ہزار درہم پر کیا ہے، تو آقا کو تو صرف سو درہم ملنے چاہئیں کیونکہ باندی کے منافع کی قیمت کتنی ہے؟ سو درہم، تو آقا کو اس کے حق کے بقدر ملنا چاہیے۔ لیکن صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں کہ نہیں، سارا مہر مسمیٰ جو ہے وہ آقا کو ملے گا۔ وجہ یہ کہ یہاں پر جب آزادی کے بعد نکاح نافذ ہوگا تو یہ کوئی الگ نکاح نافذ نہیں ہو رہا، یہ وہی نکاح ہے، اس کے نافذ ہونے کی نسبت ماضی کی طرف کی جائے گی۔ کس کی طرف؟ ماضی کی طرف کہ جس وقت نکاح کیا تھا اسی وقت سے نافذ ہو گیا ہے بھئی، اور اس وقت تو ایک ہزار درہم مہر ذکر کیا تھا، یعنی مہر مسمیٰ تھا، اور آقا جب باندی کا نکاح کروائے تو جتنا بھی مہر مسمیٰ ہوتا ہے وہ آقا کا حق ہوتا ہے، لہٰذا اس صورت میں بھی مہر مسمیٰ آیا ہے تو وہ سارا آقا کا حق ہوگا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہاں ایسا نہیں ہے کہ وہاں وہ جو عقد کیا تھا اس میں اور مہر تھا اور بعد میں جب نافذ ہوا تو اور مہر ہے، نہیں، ایک ہی عقد ہے اور ایک ہی مہر ہے، تو وہ سارا مہر ہی آقا کا حق ہوگا اگر خاوند نے آزادی سے پہلے صحبت کر لی بھئی۔ اس کے بعد پھر اگلا مسئلہ صاحبِ ہدایہ نے یہ ذکر فرمایا تھا کہ اگر باپ اپنے بیٹے کی باندی کے ساتھ صحبت کر لے اور پھر اس باندی سے اولاد پیدا ہوئی اور باپ نے دعویٰ کر دیا کہ یہ میری اولاد ہے، تو عند الاحناف یہ باندی باپ کی ام ولد بن جائے گی اور اس بیٹے کا باپ سے نسب ثابت ہو جائے گا، اور یہ باندی تو بیٹے کی تھی لیکن اب باپ اس کا مالک بن گیا ہے تو باپ کو اس باندی کی قیمت ادا کرنا پڑے گی، وہ بیٹے کو اس کی قیمت ادا کرے گا۔ وجہ یہ کہ ہمارے نزدیک جو ہے، جب باپ بیٹے کی باندی سے صحبت کرنے لگا ہے اور پھر آگے یہ ام ولد بنے گی، ام ولد تو وہی باندی بن سکتی ہے جس کے اندر کسی شخص کی حقیقتاً ملکیت ہو یا اس باندی کے اندر اس کا حقِ ملک ہو۔ حقیقتاً اس شخص کی ملکیت ہو اس باندی میں یعنی حقیقتاً اس پوری باندی کا مالک ہو، پھر ام ولد بن سکتی ہے یا اس باندی کے اندر اس کا حقِ ملک ہو، جیسے مکاتبہ۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ آقا جب اپنی باندی کو مکاتبہ بنا دیتا ہے تو وہ باندی آزاد لوگوں کے حکم میں ہو گئی، اب آقا اس سے جبراً خدمت نہیں لے سکتا، وہ اپنی مرضی سے خدمت کرتی ہے تو وہ الگ بات ہے لیکن آقا اس سے خدمت جبراً نہیں لے سکتا، اور نیز آقا اس باندی کے ساتھ صحبت بھی نہیں کر سکتا، اور آقا اگر اس کا نکاح کروائے گا تو اس میں بھی اس مکاتبہ کی اجازت ضروری ہے، اس کی مرضی کے بغیر آقا اس کا نکاح بھی نہیں کروا سکتا۔ تو یہ جو مکاتبہ ہے یہ آزاد عورتوں کی طرح ہو گئی، یعنی اس کے اندر آقا کی حقیقتاً ملکیت باقی نہیں رہی لیکن اس کے اندر حقِ ملک ہے آقا کے لیے، اس لیے کیونکہ یہ باندی اگر عاجز آ گئی، بدلِ کتابت ادا نہ کر سکی تو پھر یہ عام باندیوں کی طرح بن جائے گی اور پھر آقا کی اس کے اندر پوری ملکیت واپس آ جائے گی۔ تو مکاتبہ کے اندر آقا کی حقیقتاً ملکیت تو نہیں ہے لیکن حقِ ملکیت ہے بھئی۔ یعنی بعض اعتبار سے آقا اب بھی اس کا مالک ہے، کیونکہ اگر یہ عاجز آ گئی تو پھر یہ پہلے جیسی باندی بن جائے گی، آقا پھر اس کا حقیقتاً مالک بن جائے گا۔ معلوم ہوا ابھی بھی مکاتبہ کے اندر آقا کا حقِ ملکیت ہے بھئی۔ تو کسی باندی کو بھی ام ولد بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے اندر حقیقتاً ملکیت ہو یا حقِ ملکیت ہو بھئی۔ تو یہاں جب باپ اپنے بیٹے کی باندی سے صحبت کر رہا ہے اس کو اپنی ام ولد بنا رہا ہے اور ام ولد کے اندر تو شرط ہے کہ یا تو حقیقتِ ملک ہونی چاہیے یا حقِ ملکیت ہونی چاہیے، تو اس مجبوری کی وجہ سے کہ اس کے بغیر تو باپ اس کو ام ولد بنا ہی نہیں سکتا، تو عند الاحناف یہاں باپ کے لیے پہلے ملکیت ثابت کر دی جائے گی۔ کیونکہ ایک صحابی سے حضور علیہ السلام نے کیا فرمایا تھا: ”أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ“ تو اور تیرا مال دونوں تیرے باپ کے ہیں بھئی۔ تو لہٰذا معلوم ہوا باپ کے لیے بیٹے کے مال میں حقِ تملک ہے، وہ اس کے اندر مالک بن سکتا ہے بیٹے کے مال کا۔ تو لہٰذا یہاں پر بھی حاجت اور ضرورت کی وجہ سے تاکہ باپ کا ماء جو ہے وہ محفوظ ہو جائے۔ باپ کا ماء کیا ہو جائے؟ محفوظ ہو جائے یعنی بچے کا آگے نسب ثابت ہو سکے، اس کے لیے ضروری ہے کہ پہلے باپ کے لیے ملکیت ثابت کی جائے، کیونکہ اگر ملکیت نہیں ہوگی تو پھر یہ اس کی ام ولد بھی نہیں بن سکتی۔ تو لہٰذا باپ کے لیے پہلے ملکیت ثابت کی جائے گی تو پھر باپ جب صحبت کر رہا ہے تو اب اپنی باندی سے صحبت کر رہا ہے، لہٰذا یہ فعل بھی اس کا حرام نہ رہا، اور نیز جب اس باندی سے اولاد ہوگی اور باپ دعویٰ کر دے گا تو یہ اپنی باندی کی اولاد کا دعویٰ کر رہا ہے، لہٰذا نسب بھی ثابت ہو جائے گا۔ تو چونکہ باپ نے یہاں پر اپنی باندی سے صحبت کی ہے، لہٰذا باپ پر مہر بھی واجب نہیں ہوگا۔ ہاں، صرف قیمت اس کو دینا پڑے گی۔ جبکہ امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ اس صورت کے اندر باپ پر مہر بھی واجب ہوگا۔ دراصل وہ ملکیت کو استیلاد کا حکم قرار دیتے ہیں۔ ہم نے تو ملکیت کو استیلاد کے لیے شرط قرار دیا تھا کہ کوئی شخص باندی کو ام ولد تبھی بنا سکتا ہے جب اس کے اندر اس کی ملکیت ہو یا حقِ ملک ہو، تو پہلے ملکیت کا ہونا ضروری ہے۔ جبکہ وہ اس ملکیت کو استیلاد کا حکم قرار دیتے ہیں، اور حکمِ شئے، شئے کے بعد ہوا کرتا ہے، جیسے مشتری بیع کرے گا تو پھر مبیع کا مالک بنے گا، جیسے ایک مرد اور عورت نکاح کریں گے تو پھر وہ ایک میاں بیوی بنیں گے، تو حکمِ شئے، شئے کے بعد ہوا کرتا ہے۔ تو ان کے نزدیک استیلاد کے بعد ملکیت ثابت ہوگی، لہٰذا ابھی جب باپ صحبت کر رہا ہے ابھی ملکیت ثابت نہیں، جب ملکیت ثابت نہیں تو باپ نے بیٹے کی باندی سے صحبت کی ہے اور یہ منافع کا مالک تو بیٹا تھا، باپ نے وصول کر لیے لہٰذا باپ کو عقر دینا پڑے گا۔ باپ کو عقر دینا پڑے گا، پورا عقر، جبکہ ہمارے نزدیک عقر نہیں دینا پڑے گا کیونکہ باپ اس سے پہلے ہی مالک بن چکا ہے، وہ اپنی باندی کے ساتھ صحبت کر رہا ہے۔ اور میں نے بتلایا تھا عقر یہ بھی مہر کو کہتے ہیں، لیکن یہ اس وقت مہر کو عقر کہتے ہیں جب وطی شبہے کی وجہ سے کر لی جائے، تو جو مال وطی پر لازم ہوتا ہے اس کو مہر نہیں کہتے کیونکہ وہاں نکاح نہیں ہے، مہر کا لفظ تو نکاح کے اندر استعمال ہوتا ہے اور یہاں تو کوئی نکاح نہیں شبہے کی وجہ سے وطی کی گئی ہے، تو اس کو پھر عقر کہتے ہیں۔ اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ آزاد عورت کے اندر عقر جو ہے وہ اس کا مہر مثل ہوتا ہے، جبکہ باندی کے اندر یہ دیکھا جائے گا کہ آقا اس جیسی حسن و جمال والی باندی کا نکاح کتنے مہر میں کروائے گا، اگر اس جیسے حسن و جمال والی باندی کسی آقا کی ہو تو وہ عموماً کتنے میں اس کا نکاح کرواتے ہیں، تو وہ جو مہر ہوگا وہی یہاں پر عقر ہو جائے گا۔ تو امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ باپ کو قیمت کے ساتھ ساتھ عقر بھی دینا پڑے گا۔ وہ اس کو قیاس کرتے ہیں مشترکہ باندی پر، باپ اور بیٹا مل کر ایک باندی خرید لیتے ہیں، کچھ پیسے باپ نے ملائے اور کچھ پیسے بیٹے نے ملائے، تو اب یہ جو مشترکہ باندی ہے اس کے اندر دونوں کی ملکیت ہے، اور دونوں میں سے کسی ایک کے لیے بھی اس کے ساتھ صحبت کرنا جائز نہیں، لیکن بہرحال دونوں کی ملکیت تو ہے، باپ کے لیے وطی تو حرام تھی لیکن اس نے پھر بھی اس باندی کے ساتھ صحبت کر لی اور پھر اس باندی نے ایک بچے کو جنم دیا اور باپ نے دعویٰ کر دیا کہ یہ میرا بیٹا ہے، تو یاد رکھو اس صورت میں یہ باندی اس باپ کی ام ولد بن جائے گی اور اس بچے کا نسب بھی ثابت ہو جائے گا، اس لیے کیونکہ نسب ثابت کرنے کے لیے کیا ضروری تھا؟ کہ باندی کے اندر حقیقتِ ملک ہو یا حقِ ملک ہو بھئی، اور باپ بھی اس باندی کے اندر ملکیت رکھتا ہے نصف باندی کا وہ مالک ہے، تو جب ملکیت موجود ہے لہٰذا بچے کا نسب ثابت ہو جائے گا۔ اور اس صورت میں بالاتفاق باپ کو نصف عقر دینا پڑے گا بیٹے کو۔ وجہ یہ کہ نصف باندی تو باپ کی اپنی ہے بھئی اور نصف بیٹے کی ہے تو بیٹے کو نصف عقر ادا کرے گا۔ تو امام شافعی اور امام زفر رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ اے احناف دیکھو مشترکہ باندی کے اندر جب بیٹا نصف باندی کا مالک تھا تو آپ نے کہا نصف عقر اس کو دینا پڑے گا، اور جب اس باندی کے اندر پوری باندی ہی بیٹے کی ہے تو اس کے اندر پھر پورا عقر باپ کو دینا پڑے گا بھئی۔ تو ہم کہتے ہیں کہ نہیں، آپ یہ جو بیٹے کی باندی تھی اس کو مشترکہ باندی پر قیاس نہیں کر سکتے بھئی۔ وجہ یہ کہ مشترکہ باندی کے اندر باپ کی ملکیت پہلے سے موجود ہے، لہٰذا وہاں صحبت سے پہلے الگ کوئی اور ملکیت ثابت کرنے کی ضرورت نہیں، باپ آدھی کا تو پہلے سے ہی مالک ہے، جب آدھی کا مالک ہے تو وہ کافی ہے، اس کے ذریعے استیلاد ہو سکتا ہے، وہ ام ولد بن سکتی ہے کیونکہ ملکیت چاہیے تھی اور ملکیت موجود ہے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں دوسری صورت میں جب پوری باندی ہی بیٹے کی ہے اور باپ اس سے صحبت کرتا ہے تو اس صورت کے اندر تو اس بیٹے کی باندی کے اندر نہ باپ حقیقتاً مالک ہے نہ اس کا حقِ ملکیت ہے، لہٰذا یہاں استیلاد ہو ہی نہیں سکتا جب تک ملکیت کو ثابت نہ کیا جائے۔ مشترکہ باندی میں استیلاد ہو سکتا ہے کیونکہ وہاں نصف کا مالک باپ ہے، لیکن یہاں استیلاد نہیں ہو سکتا اس لیے ہمیں پہلے ملکیت کو ثابت ماننا پڑے گا پھر ہی استیلاد ممکن ہو سکے گا۔ تو ہمارے نزدیک استیلاد کے لیے ملکیت شرط ہے، پہلے ملکیت ہو پھر ہی استیلاد ہو سکتا ہے۔ استیلاد کا کیا معنی؟ میں نے بتلایا تھا استیلاد کا معنی ہے ام ولد بنانا۔ استیلاد کا کیا معنی ہے؟ ام ولد بنانا، تو ہمارے نزدیک ملکیت ہوگی تو استیلاد ہو سکے گا یعنی ام ولد بنا سکے گا، اور ملکیت نہیں تو استیلاد بھی نہیں ہو سکتا۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک ملکیت جو ہے وہ استیلاد کا حکم ہے بھئی، تو وہ ملکیت استیلاد کے بعد ثابت کرتے ہیں، استیلاد کے بعد جو ہے باپ اس باندی کا مالک بنے گا اور پھر اس کو قیمت بھی پوری دینی پڑے گی۔ تو ہمارے نزدیک باپ کو صرف قیمت دینا پڑے گی اور ان کے نزدیک عقر بھی دینا پڑے گا اور قیمت بھی دینا پڑے گی، بات سمجھ میں آ گئی۔ اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ اگر بیٹا اپنی باندی کا باپ سے نکاح کروا دیتا ہے تو یہ نکاح جائز ہے۔ یہ نکاح جائز ہے۔ یاد رکھو میں نے آپ کو ضابطہ بتلایا تھا کہ ملکِ نکاح اور ملکِ رقبی جمع نہیں ہو سکتے۔ ایک عورت کے اندر ایک شخص کو ملکِ رقبی حاصل ہے یعنی وہ اس کی باندی ہے، اور اب وہ اس کے ساتھ نکاح کرنا چاہتا ہے تو یاد رکھو یہ جائز نہیں۔ اس لیے کیونکہ ملکِ رقبی اعلیٰ ہے، اس میں پوری باندی کی ذات کا مالک ہے آقا، جبکہ ملکِ نکاح ادنیٰ ہے، اس میں صرف خاوند منافع کا مالک ہوتا ہے، تو جب ایک شخص کے لیے اعلیٰ ملکیت پہلے سے ثابت ہے تو اس کے ساتھ ادنیٰ ملکیت باقی نہیں رہ سکتی بھئی۔ لہٰذا وہ باندی جس کے اندر آقا کے لیے حقیقتاً ملکیت ہو یا حقِ ملکیت ہو، اس کے ساتھ وہ نکاح نہیں کر سکتا۔ لہٰذا اپنی باندی کے ساتھ آقا کے لیے نکاح جائز نہیں، اسی طرح اپنی مکاتبہ کے ساتھ بھی اس کے لیے نکاح جائز نہیں کیونکہ باندی کے اندر اس کی حقیقتِ ملک ہے اور مکاتبہ کے اندر آقا کے لیے حقِ ملکیت ہے بھئی۔ تو ہمارے نزدیک بیٹا اپنی باندی کا نکاح باپ سے کرواتا ہے تو اس بیٹے کی باندی میں نہ باپ کی حقیقتاً ملکیت ہے اور نہ حقِ ملکیت ہے، لہٰذا بیٹے کی اس باندی سے باپ کا نکاح جائز ہے۔ اور جب باپ کا نکاح جائز ہے تو پھر اس سے جو اولاد پیدا ہوگی وہ باپ کی شمار ہوگی، اس کا نسب ثابت ہو جائے گا۔ جب اس کا نسب اسی طرح نکاح کی وجہ سے ثابت ہو رہا ہے لہٰذا یہاں اس ملکیت ثابت کرنے کی کوئی حاجت نہیں ہے، کیونکہ ویسے ہی بچے کا نسب ثابت ہو رہا ہے۔ اور پھر بتلایا کہ یہ بچہ بھی آزاد ہوگا، اس لیے کیونکہ منکوحہ باندی سے جو بچے پیدا ہوتے ہیں وہ آقا کے مملوک ہوتے ہیں، تو یہ بچہ بھی اپنے بھئی کا مملوک ہوا، اور حدیث میں آتا ہے: ”مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ مِنْهُ عَتَقَ عَلَيْهِ“ کہ جو شخص بھی اپنے قریبی محرم رشتہ دار کا مالک بنا تو وہ اس پر آزاد ہو جائے گا، لہٰذا یہ بچہ خود بخود آزاد ہو جائے گا، بات سمجھ میں آ گئی۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک باپ کا نکاح اپنے بیٹے کی باندی سے جائز نہیں۔ وہ فرماتے ہیں اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام نے فرمایا تھا: ”أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ“۔ بیٹے سے کیا کہا: ”أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ“ تو اور تیرا مال تیرے باپ کے ہیں، معلوم ہوا بیٹے کے مال میں باپ کا حقِ ملک ہے۔ کیا ہے؟ بعض اعتبار سے باپ ہی اس کا مالک ہے، لہٰذا جب حقِ ملک ہے تو وہاں نکاح نہیں ہو سکتا باپ کا۔ جبکہ ہمارے نزدیک بیٹے کے مال میں باپ کے لیے حقِ ملک نہیں ہے بلکہ حقِ تملک ہے، یعنی ضرورت اور حاجت کی وجہ سے باپ مالک بن سکتا ہے، مالک بن سکتا ہے تو اس کے لیے حقِ تملک ہے، حقِ ملک نہیں ہے، ایسا نہیں ہے کہ بعض اعتبار سے باپ اس کا مالک ہو بھئی۔ تو جب حقِ ملک نہیں ہے تو ہمارے نزدیک یہ باپ کا نکاح بیٹے کی باندی سے جائز ہوگا جبکہ ان کے نزدیک یہ جائز نہیں ہے بھئی۔ اب آئیے آج کے سبق پر۔ ”قَالَ: وَإِذَا كَانَتِ الحُرَّةُ تَحْتَ عَبْدٍ فَقَالَتْ لِمَوْلَاهُ: أَعْتِقْهُ عَنِّي بِأَلْفٍ فَفَعَلَ فَسَدَ النِّكَاحُ“. صورتِ مسئلہ یہ کہ ایک آزاد عورت نے ایک غلام سے نکاح کیا ہوا ہے، اور پھر یہ آزاد عورت یہ اس غلام کے آقا سے کہتی ہے کہ: ”أَعْتِقْهُ عَنِّي بِأَلْفٍ“ کہ اس غلام کو میری طرف سے آزاد کر دو ایک ہزار درہم کے بدلے میں۔ اس غلام کو میری طرف سے ایک ہزار درہم کے بدلے میں آزاد کر دو۔ تو آقا نے ایسا ہی کیا یعنی اس نے غلام کو آزاد کر دیا۔ تو یاد رکھو اس صورت میں عورت پر اب ایک ہزار درہم لازم ہو گئے، اور نیز یہ نکاح فاسد ہو گیا، یہ جو اس عورت کا اس غلام کے ساتھ نکاح تھا وہ فاسد ہو گیا۔ وجہ اس کی یہ ہے، ہمارے فقہاء فرماتے ہیں کہ عاقل بالغ آدمی کے کلام کو جس قدر ممکن ہو سکے اس کی تصحیح کی کوشش کی جائے گی کہ کسی طرح اس کو صحیح رکھا جائے، اس کو خرابی اور غلطی سے بچایا جائے۔ تو یہاں پر بھی جب اس عورت نے اپنے خاوند کے آقا سے کہا: ”أَعْتِقْهُ عَنِّي بِأَلْفٍ“ کہ اس غلام کو میری طرف سے ایک ہزار کے بدلے آزاد کر دو، اب بظاہر دیکھا جائے تو یہ بات محال ہے، اس لیے کیونکہ غلام تو آقا کا ہے، تو وہ عورت کی طرف سے کیسے آزاد ہو سکتا ہے؟ لیکن اس عورت کے کلام کو صحیح کیا جائے گا بایں لحاظ کہ یہاں اقتضاءً بیع کو مانا جائے گا، بیع اور توکیل۔ عورت نے لفظ کیا کہے ہیں؟ اس غلام کو میری طرف سے ہزار کے بدلے آزاد کر دو، لیکن گویا یوں سمجھو کہ عورت نے یوں کہا کہ یہ غلام مجھے ایک ہزار درہم میں بیچ دو، اور پھر میری طرف سے وکیل بن کر اس میرے مملوکہ غلام کو آزاد کر دو۔ کہ یہ غلام مجھے ایک ہزار میں بیچ دو اور پھر میری طرف سے وکیل بن کر اس غلام کو آزاد کر دو۔ تو یہاں پر دیکھو اقتضاءً بیع کو ماننا پڑے گا۔ اس عورت کا کلام تب ہی صحیح ہو سکتا ہے جب اس سے پہلے اقتضاءً بیع کو مانا جائے، اور یہاں بیع کا ماننا ممکن ہے، لہٰذا یہاں ہم اقتضاءً بیع کو ثابت کریں گے، اور پھر اس کے بعد توکیل آ جائے گی کہ وہ آقا اس کی طرف سے وکیل بن کر اس غلام کو آزاد کر دے گا۔ اور جب اقتضاءً بیع کو مانا تو بیوی اپنے خاوند کی مالک بن گئی۔ جیسے ہی بیع ہوتی ہے مشتری مبیع کا مالک بن جاتا ہے، تو بیوی اپنے خاوند کی مالک بن گئی، اور آپ کو میں نے بتلایا تھا کہ ملکِ نکاح ملکِ رقبی کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتی کیونکہ ملکِ رقبی اعلیٰ ہے اور ملکِ نکاح ادنیٰ ہے، تو لہٰذا بیوی کو جیسے ہی اپنے خاوند کی ملکِ رقبی حاصل ہوئی، ساتھ ہی نکاح فاسد ہو گیا۔ نکاح کیا ہو گیا؟ فاسد ہو گیا، اب بعد میں پھر الگ نکاح کرنا پڑے گا بھئی۔ ”قَالَ“ تو امام محمد رحمہ اللہ جامع صغیر میں فرماتے ہیں: ”وَإِذَا كَانَتِ الحُرَّةُ تَحْتَ عَبْدٍ“ جب کوئی آزاد عورت کسی غلام کے تحت ہو یعنی اس کی منکوحہ ہو، ”فَقَالَتْ لِمَوْلَاهُ: أَعْتِقْهُ عَنِّي بِأَلْفٍ“ تو اس عورت نے اس غلام کے آقا سے کہا کہ اس کو آزاد کر دے میری طرف سے ایک ہزار درہم کے بدلے میں، ”فَفَعَلَ“ تو آقا نے ایسا ہی کیا، اس نے غلام کو آزاد کر دیا، ”فَسَدَ النِّكَاحُ“ تو نکاح کیا ہو گیا؟ فاسد ہو گیا۔ تو کس وجہ سے نکاح فاسد ہوا؟ کیونکہ بیوی کو ملکِ رقبی حاصل ہو گئی اپنے خاوند کی، اور ملکِ رقبی کے ساتھ ملکِ نکاح باقی نہیں رہ سکتا ہے، اور نیز اس لیے بھی کیونکہ جب یہ خاوند تھا خاوند تو مالک ہوتا ہے بیوی کے منافع کا، خاوند مالک ہوتا ہے اور جب بیوی اس کی مالکن بن گئی تو خاوند اس کا مملوک بن گیا، اور ایک ہی شخص مالک اور مملوک نہیں ہو سکتا۔ ایک چیز بنے گا، یا وہ مالک بنے گا یا مملوک، اور مملوک ہونا قوی تھا کیونکہ وہ ملکِ رقبی تھی، تو لہٰذا جو مالک ہونا تھا یعنی ملکِ نکاح اس کو اس نے ختم کر دیا، اس ملکِ رقبی نے ملکِ نکاح کو ختم کر دیا۔ تو دو وجہیں میں نے ذکر کر دیں: ایک وجہ کیا کہ ملکِ رقبی کے ساتھ ملکِ نکاح جمع نہیں ہو سکتا، اور نیز اس لیے بھی کیونکہ مالکیت اور مملوکیت کا جمع ہونا لازم آئے گا ایک ہی شخص میں، ایک شخص یا تو مالک ہو سکتا ہے یا مملوک ہو سکتا ہے دونوں نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ متنافیین ہیں ایک دوسرے کے مخالف ہیں، تو خاوند جو ہے وہ مملوک بھی ہو گیا اور مالک بھی ہوا، اور مملوک اور مالک ایک شخص نہیں ہو سکتا۔ مملوک ہوا اپنی بیوی کا اور مالک بھی کس کا ہوا؟ اپنی بیوی کا کہ اس کے منافع کا مالک ہے، تو لہٰذا اس صورت میں نکاح فاسد ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں ”فَفَعَلَ“ تو اس آقا نے ایسا ہی کیا ”فَسَدَ النِّكَاحُ“ تو نکاح فاسد ہو جائے گا۔ ”وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللهُ: لَا يَفْسُدُ“ اور امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ نکاح فاسد نہیں ہوگا۔ امام زفر فرماتے ہیں کہ بیوی نے آقا سے کہا ہے کہ اس غلام کو میری طرف سے آزاد کر دو، تو کہتے ہیں یہ نہیں ہو سکتا۔ غلام آقا کا ہے اور آزاد بیوی کی طرف سے ہو جائے، ایسا نہیں ہو سکتا۔ یا تو پہلے اس کو خریدو پھر ہی تم آزاد کر سکتی ہو، بغیر مالک ہوئے تم اس کو آزاد نہیں کر سکتی۔ لہٰذا یہ جو غلام جس کو آقا نے آزاد کیا ہے، امام زفر فرماتے ہیں یہ آقا کی طرف سے ہی آزاد ہوگا، اس عورت کی طرف سے آزاد نہیں، عورت اس کی مالکن ہی نہ بنی، جب مالکن نہیں تو نکاح بھی اب فاسد نہیں ہوگا، تو امام زفر کے نزدیک نکاح صحیح رہے گا۔ تو کہتے ہیں ”وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللهُ: لَا يَفْسُدُ“ اور امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ نکاح فاسد نہیں ہوگا، ”وَأَصْلُهُ“ اور اس اختلاف کی اصل یعنی اس کا ضابطہ یہ ہے ”أَنَّهُ يَقَعُ العِتْقُ عَنِ الْآمِرِ عِنْدَنَا“ کہ ہمارے نزدیک آزادی جو ہے وہ حکم دینے والے کی طرف سے واقع ہوگی۔ حکم کس نے دیا تھا؟ بیوی نے۔ تو جو آمر ہے آزادی اسی کی طرف سے ہوگی۔ کیسے آزادی اس کی طرف سے ہوگی؟ کہ وہاں اقتضاءً بیع کو مانا جائے گا اور پھر توکیل کو مانا جائے گا اور تو چنانچہ بیوی یعنی آمر کی طرف سے غلام آزاد ہوگا۔ جبکہ ان کے نزدیک آمر کی طرف سے نہیں بلکہ مامور یعنی جس کو حکم دیا گیا تھا جو آقا ہے، آقا ہی کی طرف سے غلام آزاد ہوگا کیونکہ بیوی تو اس کی مالک ہی نہیں ہے بھئی۔ ”وَأَصْلُهُ“ اور اس اختلاف کا ضابطہ یہ ہے ”أَنَّهُ يَقَعُ العِتْقُ عَنِ الْآمِرِ عِنْدَنَا“ کہ یہ جو آزادی ہے حکم دینے والے کی طرف سے واقع ہوگی ہمارے نزدیک ”حَتَّى يَكُونُ الْوَلَاءُ لَهُ“ بھئی یہاں پر بھی ”حَتَّى“ نصب نہیں دے گا، یہاں پر بھی ”حَتَّى“ نصب نہیں دے گا، ”يَكُونُ“ پر رفع پڑھیں گے۔ میں نے آپ کو بتلایا کہ ”حَتَّى“ کے نصب دینے کے لیے دو شرطیں ہیں: ایک تو یہ کہ ”حَتَّى“ کا ما بعد ما قبل کی طرف نسبت کرتے ہوئے مستقبل ہو، اور نیز وہ ”حَتَّى“ سببیّت کا یا غایت کا فائدہ دے رہا ہو۔ تو یہاں یہ شرطیں پوری نہیں لہٰذا ”حَتَّى“ نصب نہیں دے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَأَصْلُهُ أَنَّهُ يَقَعُ العِتْقُ عَنِ الْآمِرِ“ اور اصل اس کی یہ ہے کہ یہ آزادی آمر کی طرف سے واقع ہوگی ”عِنْدَنَا“ ہمارے نزدیک ”حَتَّى يَكُونُ الْوَلَاءُ لَهُ“ یہاں تک کہ ولاء بھی اسی کے لیے ہوگی۔ گزشتہ سبق میں میں نے آپ کو بتلایا تھا ولاء کسے کہتے ہیں؟ مالِ میراث کو۔ معتق کو، آزاد کرنے والے کو جو مالِ میراث ملتا ہے معتق کی طرف سے اس کو ولاء کہتے ہیں، اس کو ولاء کہتے ہیں۔ میں نے بتایا کہ میت کے مال میں سب سے پہلے کفن دفن کا انتظام کرتے ہیں، پھر اس کے قرضے ادا کیے جاتے ہیں، پھر اگر اس نے کوئی وصیت کی ہے تو ثلث کے اندر وہ وصیت نافذ کی جاتی ہے، اس کے بعد وارثوں کا نمبر آتا ہے، اور وارثوں کے اندر سب سے پہلا درجہ ذوی الفروض کا ہے جن کے حصے مقرر ہیں، اور ان کو دینے کے بعد مال بچ جائے تو وہ سارا مال عصبات لے جاتے ہیں، عصبۂ نسبی، جو نسب کے اعتبار سے عصبات ہیں وہ لے جائیں گے، اور اگر عصبۂ نسبی نہ ہوں تو پھر اس صورت میں مال بچا ہوا ہے اگلا درجہ پھر عصبۂ سببی کا ہے، یعنی معتقِ میت کا ہے، اور یہ جو معتق کو مال ملے گا اس کو ولاء کہتے ہیں، اس کو کیا کہتے ہیں؟ ولاء۔ مثلاً کسی زمانے میں فرض کرو وہ میت کیا تھی؟ غلام تھی، اس کو کسی نے آزاد کیا تھا، تو اگر اس میت کا کوئی معتق موجود ہے تو پھر اس صورت میں وہ اس کا عصبۂ سببی ہے، کیا ہے؟ عصبۂ سببی ہے، کیونکہ وہ اس کی زندگی کا سبب بنا تھا۔ بھئی دیکھو یہ جو باپ ہے یہ بیٹے کا وارث کیوں بنتا ہے؟ کیونکہ باپ اس کی زندگی کا سبب بنا ہے۔ باپ بیٹے کی زندگی کا سبب بنا ہے۔ ہے، اس لیے باپ دادا وغیرہ وارث بنتے ہیں۔ اسی طرح یہ جو غلامی ہے یہ موت کی طرح ہے، کیونکہ غلام کے کوئی اختیارات نہیں ہوتے۔ تو جس شخص نے اس غلام کو آزاد کیا، اس نے اس غلام کو گویا نئی زندگی دے دی بھئی۔ تو جب نئی زندگی دی ہے، تو یہ بھی وارث بنے گا جیسے باپ نے زندگی دی تھی تو وہ وارث بن رہا ہے، تو یہ مُعْتِق بھی وارث بنے گا۔ لیکن اس کا درجہ عصبۂ نسبی کے بعد ہے۔ تو اگر میت کا کوئی معتق ہے تو پھر اب اس کو سارا مال مل جائے گا اور اگر معتق ہی نہیں ہے تو پھر اس کے بعد ذوی الارحام وغیرہ کو مال ملے گا، بات سمجھ میں آ رہی ہے۔ ”وَأَصْلُهُ“ اور اس کا ضابطہ ہمارے نزدیک یہ ہے اس اختلاف کا: ”أَنَّهُ يَقَعُ الْعِتْقُ عَنِ الْآمِرِ عِنْدَنَا“ کہ یہ آزادی ہماری طرف سے حکم دینے والے کی طرف سے ہوگی، ”حَتَّى يَكُونَ الْوَلَاءُ لَهُ“ یہاں تک کہ ولاء جو ہے وہ بھی اسی آمر کے لیے ہوگا، حکم دینے والے کے لیے، اسی کو معتق شمار کریں گے۔ لہٰذا یہ جو غلام یا باندی جس کو آزاد کیا ہے، اگر اس کا انتقال ہوا، تو پھر اسی طرح ترتیب سے اس کا مال کفن دفن پر لگائیں گے، پھر قرضے ادا کریں گے، پھر باقی جو بچ جائے اس کے ثلث میں وصیت نافذ کریں گے، پھر اس غلام کے اگر کوئی ذوی الفروض ہیں ان میں مال تقسیم کریں گے۔ پھر اگر مال بچ گیا تو اگر غلام کے کوئی عصبات ہیں، اولاد وغیرہ ہے، تو پھر ان کو مال ملے گا۔ لیکن اگر عصبات نہیں ہیں تو پھر یہ جو معتق ہے جس نے اس غلام کو آزاد کیا تھا، اس کو سارا مال دے دیں گے۔ وہ ہے عصبۂ سببی بھئی۔ تو لہٰذا ”حَتَّى يَكُونَ الْوَلَاءُ لَهُ“ یہاں تک کہ ولاء بھی اس آزاد کرنے والے کے لیے ہوگی، یعنی یہ جو آمر ہے حکم دینے والا ہے۔ ”وَلَوْ نَوَى بِهِ الْكَفَّارَةَ يَخْرُجُ عَنْ عُهْدَتِهَا“ دیکھو! ہمارے نزدیک یہ جو عورت نے کہا تھا: ”أَعْتِقْهُ عَنِّي بِأَلْفٍ“، یہ حکم دینے والی ہے۔ تو ہمارے نزدیک یہ غلام کو اگر آقا آزاد کرتا ہے اس بات پر، تو یہ آزادی کس کی طرف سے شمار ہوگی؟ اس عورت کی طرف سے، وہ جو حکم دینے والی ہے۔ جب اس کی طرف سے شمار ہے تو وہ ہوئی معتقہ، آزاد کرنے والی، تو ولاء بھی اس کو ملے گی اور اگر اس نے اس کے ذریعے کسی کفارے کی نیت کی تو کفارہ بھی ادا ہو جائے گا۔ آپ پڑھ چکے ہیں بعض کفارات کے اندر شریعت نے غلام آزاد کرنے کا حکم دیا ہے، مثلاً کوئی ظہار کر لے اپنی بیوی سے، یعنی اس کو ماں وغیرہ سے تشبیہ دے دے، تو پھر اس صورت میں کفارۂ ظہار کیا ہے؟ ایک غلام یا باندی کو آزاد کرنا پڑے گا، اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو پھر ساٹھ مسلسل روزے رکھنا پڑیں گے، اور اگر اس کی بھی استطاعت نہ ہو تو پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا پڑے گا۔ تو دیکھا کفارۂ ظہار میں بھی غلام یا باندی کا آزاد کرنا ہے۔ اسی طرح کفارۂ یمین کے اندر بھی ہے، کوئی قسم توڑ دیتا ہے تو اس کا کفارہ کیا ہے؟ ایک غلام یا باندی کو آزاد کرنا پڑے گا یا دس مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلانا پڑے گا یا دس مسکینوں کو لباس پہنانا پڑے گا ان کو کپڑے دینے پڑیں گے، اور اگر ان کی استطاعت نہ ہو تو پھر تین روزے مسلسل رکھنے پڑیں گے۔ تو دیکھو قسم کے کفارے میں بھی غلام آزاد کیا جاتا ہے اور اسی طرح قتل کا جو کفارہ ہے، قتل کے اندر بھی اگر کسی شخص سے غلطی سے کوئی مسلمان قتل ہو گیا، تو اس صورت میں اس پر کفارہ بھی آتا ہے کہ ایک مومن غلام یا باندی کو آزاد کرنا پڑے گا یا ساٹھ روزے مسلسل رکھنا پڑیں گے۔ تو دیکھو کفارات کے اندر بھی غلام آزاد کرنے کا حکم دیا ہے شریعت نے۔ تو اگر یہ جو حکم دینے والا تھا کہ اس غلام کو میری طرف سے آزاد کر دو اور یہ اس میں کفارے کی نیت کرتا ہے تو ہمارے نزدیک یہ آزادی اسی کی طرف سے ہوئی ہے، لہٰذا اس کا کفارہ بھی ادا ہو جائے گا۔ یہ معنی ہے: ”وَلَوْ نَوَى بِهِ الْكَفَّارَةَ“ اور اگر اس کے ذریعے آمر نے کسی کفارے کا ارادہ کر لیا ”يَخْرُجُ عَنْ عُهْدَتِهَا“ تو وہ اس کے ذریعے اپنی ذمہ داری سے نکل جائے گا، یعنی کفارہ ادا ہو جائے گا۔ ”وَعِنْدَهُ يَقَعُ عَنِ الْمَأْمُورِ“ جبکہ امام زفر رحمہ اللہ کے نزدیک یہ جو آزادی ہے یہ مامور کی طرف سے واقع ہوگی۔ آمر حکم دینے والا، مامور جس کو حکم دیا گیا ہے، یعنی وہ جو غلام کا آقا ہے۔ تو امام زفر فرماتے ہیں کہ یہ آزادی ”يَقَعُ عَنِ الْمَأْمُورِ“ یہ مامور کی طرف سے، یعنی غلام کا جو آقا ہے اس کی طرف سے آزادی واقع ہوگی، ”لِأَنَّهُ طَلَبَ أَنْ يُعْتِقَ الْمَأْمُورُ عَبْدَهُ عَنْهُ وَهَذَا مُحَالٌ“ وہ فرماتے ہیں کہ دیکھو! آمر نے مامور سے کہا، آمر نے مامور سے کہا کہ تم اپنے غلام کو میری طرف سے ہزار کے بدلے آزاد کر دو۔ ذرا ہزار کو، پیسوں کو ایک طرف رکھ دیں۔ آمر نے مامور کو کہا کہ تم اپنے غلام کو میری طرف سے آزاد کر دو، کہتے ہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ غلام ایک کا ہے اور آزاد دوسرے کی طرف سے ہو جائے! یہ نہیں ہو سکتا، یہ محال ہے بھئی۔ تو وہ فرماتے ہیں: ”لِأَنَّهُ طَلَبَ“ اس لیے کیونکہ آمر نے یہ بات طلب کی ہے، اس نے اس بات کا مطالبہ کیا ہے ”أَنْ يُعْتِقَ الْمَأْمُورُ عَبْدَهُ عَنْهُ“ کہ مامور اپنے غلام کو آزاد کر دے اس آمر کی طرف سے، ”وَهَذَا مُحَالٌ“ اور یہ بات تو محال ہے، ”لِأَنَّهُ لَا عِتْقَ فِيمَا لَا يَمْلِكُهُ ابْنُ آدَمَ“ اس لیے کیونکہ آزادی نہیں ہو سکتی اس چیز کے اندر جس کا ابن آدم مالک نہ ہو۔ ابن آدم یعنی انسان جس چیز کا مالک نہ ہو اس کے اندر اس کی طرف سے آزادی بھی نہیں ہو سکتی، پہلے مالک تو ہو پھر اس کی طرف سے آزادی ہوگی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ لَا عِتْقَ فِيمَا لَا يَمْلِكُهُ ابْنُ آدَمَ“ اس لیے کیونکہ آزادی نہیں ہے اس غلام باندی کے اندر جس کا ابن آدم مالک نہ ہو، ”فَلَمْ يَصِحَّ الطَّلَبُ“ لہٰذا اس آمر کی طلب ہی صحیح نہیں ہے، اس کا مطالبہ ہی صحیح نہیں ہے، ”فَيَقَعُ الْعِتْقُ عَنِ الْمَأْمُورِ“ لہٰذا یہ آزادی جو ہے مامور یعنی آقا کی طرف سے ہوگی۔ تو جب آقا کی طرف سے آزادی ہوئی ہے تو عورت غلام کی مالکہ بھی نہ بنی، جب مالکہ نہیں بنی تو نکاح بھی فاسد نہ ہوا بھئی۔ یہ کس کی دلیل ہے؟ امام زفر کی۔ اب ہماری دلیل آ گئی۔ ”وَلَنَا أَنَّهُ أَمْكَنَ تَصْحِيحُهُ“ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ آمر کے کلام کی تصحیح ممکن ہے۔ میں نے آپ کو بتلایا کہ فقہاء کی کوشش ہوتی ہے کہ عاقل بالغ کے کلام کو صحیح صورت پر محمول کیا جائے، بجائے اس کے کہ اس کے کلام کو لغو قرار دیا جائے، کوشش کی جاتی ہے کہ کلام کی اصلاح ہو سکے۔ اور یہاں پر بھی ”أَعْتِقْهُ عَنِّي بِأَلْفٍ“ کہ اس غلام کو میری طرف سے ہزار درہم کے بدلے آزاد کر دو، اس کلام کی اصلاح ہو سکتی ہے، کس طرح؟ کہ اس سے پہلے اقتضاءً بیع کو مان لیا جائے۔ ”وَلَنَا أَنَّهُ أَمْكَنَ تَصْحِيحُهُ“ اور ہمارے نزدیک آمر کے کلام کی تصحیح ممکن ہے، اس کو درست کرنا ممکن ہے، ”بِتَقْدِيمِ الْمِلْكِ بِطَرِيقِ الِاقْتِضَاءِ“ کہ اس کی ملکیت کو مقدم کر دیا جائے اقتضاء کے طریقے پر، یعنی اقتضاءً بیع کو ثابت کیا جائے۔ یہ کلام تقاضا کر رہا ہے ”أَعْتِقْهُ عَنِّي بِأَلْفٍ“، یہ کلام تقاضا کر رہا ہے کہ اس سے پہلے کیا مانو؟ بیع کو مان لو پھر یہ ٹھیک ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَنَا أَنَّهُ أَمْكَنَ تَصْحِيحُهُ“ کہ آمر کے کلام کی تصحیح ہو سکتی ہے، ”بِتَقْدِيمِ الْمِلْكِ“ کہ اس کی ملکیت کو مقدم کر دیا جائے ”بِطَرِيقِ الِاقْتِضَاءِ“ اقتضاء کے طریقے پر، ”إِذِ الْمِلْكُ شَرْطٌ لِصِحَّةِ الْعِتْقِ عَنْهُ“ اس لیے کیونکہ ملکیت شرط ہے آمر کی طرف سے آزادی کے صحیح ہونے کے لیے۔ آمر کی طرف سے آزادی تب ہی صحیح ہو سکتی ہے جب پہلے ملکیت ہو اس کی، تو لہٰذا ملکیت کو اقتضاءً مان لیا جائے۔ تو کہتے ہیں: ”إِذِ الْمِلْكُ شَرْطٌ لِصِحَّةِ الْعِتْقِ عَنْهُ“ اس لیے کیونکہ آمر کی ملکیت شرط ہے اس کی طرف سے آزادی کے صحیح ہونے کے لیے، ”فَيَصِيرُ قَوْلُهُ أَعْتِقْ“ تو آمر کا یہ جو قول آیا تھا نا ”أَعْتِقْ“ کہ آزاد کر دے، یہ ”طَلَبَ التَّمْلِيكِ مِنْهُ“ یہ اس غلام کے آقا سے تملیک کو طلب کیا جا رہا ہے۔ ”طَلَبَ التَّمْلِيكِ مِنْهُ“، تملیک دوسرے کو مالک بنانا۔ یعنی آمر نے کیا کہا؟ ”أَعْتِقْ“ تو آزاد کر دے، معلوم ہوا اس سے تملیک کا مطالبہ کر رہا ہے، مجھے مالک بناؤ کیونکہ پھر ہی میری طرف سے آزادی ہو سکتی ہے ویسے آزادی نہیں ہو سکتی۔ تو کہتے ہیں: ”فَيَصِيرُ قَوْلُهُ أَعْتِقْ“ تو آمر کا یہ جو قول ہے ”أَعْتِقْ“ یہ ہو جائے گا، کیا ہو جائے گا؟ ”طَلَبَ التَّمْلِيكِ مِنْهُ“، یہ ”طَلَبَ“ یہ خبر ہے ”يَصِيرُ“ کی۔ اور ”يَصِيرُ“ کس میں سے ہے؟ افعال ناقصہ میں سے، اور افعال ناقصہ کیا کرتے ہیں؟ اپنی خبر کو نصب دیتے ہیں۔ توجہ ہے؟ اور نیز یہ یاد رکھنا ”طَلَبَ التَّمْلِيكِ مِنْهُ“، یہ ”طَلَبَ“ کو فعل نہ سمجھ لینا، یہ فعل نہیں ہے۔ بظاہر تو ”طَلَبَ“، ”فَعَلَ“ وزن بن رہا ہے تو آپ کے ذہن میں آئے گا شاید یہ فعل ہے، نہیں یہ مصدر ہے، مصدر ہے، اور آخری حرف پر جو فتحہ آ رہا ہے وہ اس ”يَصِيرُ“ کی خبر ہونے کی وجہ سے ہے۔ تو کہتے ہیں: ”فَيَصِيرُ قَوْلُهُ أَعْتِقْ“ تو آمر کا یہ جو قول ہے ”أَعْتِقْ“ یہ ہو گیا، یہ بن گیا، کیا بن گیا؟ ”طَلَبَ التَّمْلِيكِ مِنْهُ“ اس مامور سے تملیک کا طلب کرنا، کہ وہ اس سے تملیک کو طلب کر رہا ہے یعنی مامور سے تملیک کو طلب کر رہا ہے کہ وہ اس کو مالک بنا دے ”بِالْأَلْفِ“ کتنے کے بدلے؟ ہزار درہم کے بدلے، ”ثُمَّ أَمْرَهُ“ ”ثُمَّ أَمْرَهُ“ یاد رکھو یہ بھی مصدر ہے اور یہ ”أَمْرَهُ“ کا عطف ہے ”طَلَبَ التَّمْلِيكِ“ پر۔ ”طَلَبَ“ بھی کیا تھا؟ مصدر، اور یہ ”أَمْرَهُ“ امر بھی کیا ہے؟ مصدر ہے، اور ”طَلَبَ“ منصوب تھا ”يَصِيرُ“ کی خبر ہے، تو ”أَمْرَهُ“ یہ بھی کیا ہے؟ منصوب پڑھیں گے اس کو۔ تو ”ثُمَّ أَمْرَهُ بِإِعْتَاقِ عَبْدِ الْآمِرِ عَنْهُ“ دیکھو ”يَصِيرُ“ کا اسم ہے ”قَوْلُهُ أَعْتِقْ“، آمر کا جو قول ”أَعْتِقْ“ ہے ”فَيَصِيرُ“ یہ ہو جائے گا، کیا ہو جائے گا؟ ”طَلَبَ التَّمْلِيكِ مِنْهُ بِالْأَلْفِ“ کہ وہ اس سے تملیک کا مطالبہ کر رہا ہے ایک ہزار کے بدلے، ”ثُمَّ أَمْرَهُ بِإِعْتَاقِ عَبْدِ الْآمِرِ“ پھر وہ حکم دے رہا ہے کہ وہ آمر کے غلام کو آزاد کر دے ”عَنْهُ“ آمر کی طرف سے۔ وہ حکم دے رہا ہے، آمر نے کیا کہا؟ ”أَعْتِقْ“ میری طرف سے غلام کو کیا کر دے؟ آزاد۔ تو یہ جو ”أَعْتِقْ“ کہا، اس کے اندر گویا وہ مطالبہ کر رہا ہے کہ مجھے اس غلام کا مالک بناؤ اور پھر میری طرف سے کیا کر دو؟ آزاد کر دو، کیونکہ بغیر مالک بنائے تو آزاد اس کی طرف سے نہیں ہو سکتا، تو گویا اسی کے ضمن میں تملیک کا بھی مطالبہ آ گیا اقتضاءً، کس طریقے سے؟ اقتضاءً، کیونکہ اس کے بغیر اس کی طرف سے آزاد نہیں ہو سکتا بھئی۔ تو لہٰذا آمر کا قول ”أَعْتِقْ“ جو ہے یہ طلبِ تملیک بھی ہو گیا اور امر بالاعتاق بھی ہو گیا۔ کیا ہو گیا؟ آمر کا قول ”أَعْتِقْ“ یہ کیا بن گیا؟ طلبِ تملیک بھی بن گیا اور امر بالاعتاق بھی بن گیا۔ توجہ ہے؟ یا عبارت پہ پھر ذرا نظر ڈالو۔ کہتے ہیں: ”فَيَصِيرُ قَوْلُهُ أَعْتِقْ“ آمر کا قول جو ”أَعْتِقْ“ ہے وہ بن گیا، کیا بن گیا؟ ”طَلَبَ التَّمْلِيكِ ثُمَّ أَمْرَهُ بِالْإِعْتَاقِ“، باقی لفظوں کو ذرا چھوڑ دیں۔ ”طَلَبَ التَّمْلِيكِ ثُمَّ أَمْرَهُ بِالْإِعْتَاقِ“، تو آمر کا قول ”أَعْتِقْ“ جو ہے وہ طلبِ تملیک بھی بن گیا، ”ثُمَّ أَمْرَهُ بِالْإِعْتَاقِ“ اور پھر امر بالاعتاق بھی بن گیا۔ اب عبارت سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَيَصِيرُ قَوْلُهُ أَعْتِقْ“ تو آمر کا قول ”أَعْتِقْ“ جو ہے ”طَلَبَ التَّمْلِيكِ مِنْهُ بِالْأَلْفِ“ یہ ہو گیا مامور سے تملیک کا مطالبہ کرنا الف کے بدلے میں، ”ثُمَّ أَمْرَهُ بِإِعْتَاقِ عَبْدِ الْآمِرِ“ پھر یہ آمر کے غلام کو آزاد کرنے کا حکم بن گیا ”عَنْهُ“ آمر کی طرف سے، کہ وہ غلام آزاد کرے کس کی طرف سے؟ آمر کی طرف سے۔ ”وَقَوْلُهُ أَعْتَقْتُ“ پھر اس کے بعد آمر نے تو کہا تھا ”أَعْتِقْ“، اس ”أَعْتِقْ“ کے اندر تملیک کا مطالبہ بھی آ گیا اور آزاد کرنے کا حکم بھی آ گیا۔ پھر اب ”وَقَوْلُهُ أَعْتَقْتُ“ اب آقا نے کیا کہا تھا؟ ”أَعْتَقْتُ“ میں نے غلام آزاد کر دیا، تو اس میں وہ دونوں چیزیں آ جائیں گی۔ آمر نے کن چیزوں کا مطالبہ کیا تھا؟ آمر نے ”أَعْتِقْ“ کہا تھا، لیکن یہی ”أَعْتِقْ“ طلبِ تملیک بھی ہو گئی اور امر بالاعتاق بھی ہو گیا۔ لہٰذا جب جواب کے اندر آقا نے کہا ”أَعْتَقْتُ“ میں نے آزاد کر دیا، تو اس میں وہ دونوں چیزیں آ گئیں، اس میں تملیک بھی ہو گئی اور پھر اس کی طرف سے اعتاق بھی ہو گیا۔ یہ معنی ہے ”وَقَوْلُهُ“ اور مامور کا یعنی آقا کا جو قول ہے ”أَعْتَقْتُ“ کہ میں نے غلام کو آزاد کر دیا، ”تَمْلِيكًا مِنْهُ“ یہ اس کی طرف سے مالک بنانا بھی ہے ”ثُمَّ الْإِعْتَاقَ عَنْهُ“ پھر آمر کی طرف سے آزاد کرنا بھی ہے، دونوں چیزیں ہو گئیں۔ ”وَإِذَا ثَبَتَ الْمِلْكُ لِلْآمِرِ“ اور جب ملکیت آمر کے لیے ثابت ہو گئی ”فَسَدَ النِّكَاحُ“ تو وہ نکاح فاسد ہو گیا ”لِلتَّنَافِي بَيْنَ الْمِلْكَيْنِ“ اس لیے کیونکہ ان دونوں ملکیتوں کے اندر منافات ہے، ملکِ نکاح اور ملکِ رقبی یہ دونوں جمع نہیں ہو سکتے۔ بات سمجھ میں آ گئی، مسئلہ سمجھ میں آ گیا۔ تو ہمارے نزدیک جب ایک عورت نے غلام سے نکاح کیا ہے اور اس کے آقا سے وہ کہتی ہے: ”أَعْتِقْهُ عَنِّي بِأَلْفٍ“ کہ اس کو میری طرف سے ایک ہزار درہم کے بدلے آزاد کر دے اور پھر آقا ایسا کر دے، تو اس صورت میں نکاح فاسد ہو جائے گا۔ کیونکہ ملکِ رقبی کے ساتھ ملکِ نکاح جمع ہو گئی اور ملکِ نکاح تو ملکِ رقبی کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتی کیونکہ ملکِ رقبی اعلیٰ ہے، تو جو ادنیٰ ہے وہ فاسد ہو جائے گا یعنی ملکِ نکاح، اور جبکہ امام زفر رحمہ اللہ کے نزدیک نکاح فاسد نہیں ہو گا۔ آگے دیکھیے: ”وَلَوْ قَالَتْ أَعْتِقْهُ عَنِّي وَلَمْ تُسَمِّ مَالًا لَمْ يَفْسُدِ النِّكَاحُ وَالْوَلَاءُ لِلْمُعْتِقِ“ اب دوسری صورت ہے۔ پہلی میں بیوی نے مال ذکر کیا تھا: ”أَعْتِقْهُ عَنِّي بِأَلْفٍ“، اس غلام کو میری طرف سے آزاد کر دے ایک ہزار کے بدلے۔ دوسری صورت ہے وہ مال ذکر نہیں کرتی صرف یہ کہتی ہے: ”أَعْتِقْهُ عَنِّي“، اس کو میری طرف سے آزاد کر دے، اور آقا نے اسی طرح ”أَعْتَقْتُ“ میں نے کیا کر دیا ہے؟ اس غلام کو آزاد کر دیا۔ تو ہمارے فقہاء فرماتے ہیں طرفین رحمہما اللہ کہ اس صورت میں یہ جو عورت نے کہا ہے ”أَعْتِقْهُ عَنِّي“، میری طرف سے آزاد کر دے، اس صورت میں عورت نے مال ذکر نہیں کیا تو یہاں پر بھی اسی طرح مسئلہ ہو گا۔ عورت نے کیا کہا ہے؟ میری طرف سے غلام آزاد کر دے، مال ذکر نہیں کیا، تو گویا کن چیزوں کا مطالبہ کر دیا؟ کہ مجھے اس کا مالک بنا دو اور پھر میری طرف سے اس کو آزاد کر دو، دونوں چیزوں کا مطالبہ کیا ہے۔ اور مالک بنانا یہاں تو عوض کے بغیر مالک بنانا ہو گا، اور عوض کے بغیر مالک بنانے کو کیا کہتے ہیں؟ ہبہ کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ ہبہ۔ اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ ہبہ کے اندر قبضہ ضروری ہے۔ یہ کتاب میرے سامنے پڑی ہے اور میں آپ سے کہتا ہوں میں نے یہ کتاب آپ کو تحفے کے طور پر دے دی، تو صرف میرے کہنے سے آپ مالک نہیں بنے بلکہ جب آپ قبضہ کر لیں گے پھر آپ اس کتاب کے مالک بنیں گے۔ تو ہبہ کب تام ہو گا؟ کب کامل ہو گا؟ جب شےِ موہوب پر کیا کر لیا جائے؟ قبضہ کر لیا جائے۔ تو گویا یہاں پر بھی بیوی نے کہا ہے اس غلام کو میری طرف سے آزاد کر دو اور کوئی عوض ذکر نہیں کیا، تو گویا وہ تملیک کا بھی مطالبہ کر رہی ہے اور آزاد کرنے کا بھی، اور یہ تملیک بلا عوض ہے معلوم ہوا وہ ہبہ کا تقاضا کر رہی ہے کہ مجھے ہبہ کے طریقے پر مالک بنا دو، اور پھر آقا نے اس کو آزاد کر دیا۔ تو پھر یاد رکھو اس صورت میں طرفین فرماتے ہیں کہ یہ غلام عورت کی طرف سے آزاد نہیں ہو گا۔ وجہ یہ کہ یہاں پر تملیک کو اگر مقدم مانیں گے تو وہ ہبہ کے طریقے پر ہو سکتی ہے اور ہبہ جو ہے وہ تو قبضے کے بغیر تام نہیں ہوتا۔ ہبہ قبضے کے بغیر تام نہیں ہوتا، لہٰذا یہاں جب آقا آزاد کرے گا تو آقا کی طرف سے ہی آزاد ہو گا کیونکہ عورت کی طرف سے تو اس غلام پر قبضہ ہی نہیں پایا گیا بھئی۔ لہٰذا اس صورت میں جب آقا کی طرف سے غلام آزاد ہوا ہے تو عورت کو ملکِ رقبی حاصل ہی نہیں ہوئی۔ جب ملکِ رقبی اسے حاصل ہی نہیں ہوئی تو نکاح بھی فاسد نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ ”وَلَوْ قَالَتْ أَعْتِقْهُ عَنِّي“ اور اگر اس عورت نے کہا کہ اس غلام کو میری طرف سے آزاد کر دے، دیکھو پیسے ذکر نہیں کیے، عوض ذکر نہیں کیا، ”وَلَمْ تُسَمِّ مَالًا“ اور اس نے مال ذکر نہیں کیا، ”لَمْ يَفْسُدِ النِّكَاحُ“ تو پھر اس صورت میں نکاح فاسد نہیں ہو گا اگر آقا ایسا کر دیتا ہے، ”وَالْوَلَاءُ لِلْمُعْتِقِ“ اور ولاء معتق کے لیے ہو گی، اس صورت میں معتق کون بن رہا ہے؟ آقا بن رہا ہے، آمر نہیں کیونکہ آمر قبضہ کرے گا تو تب ہبہ پورا ہو گا اور پھر اس کی طرف سے آزاد ہو سکتا ہے۔ توجہ ہے؟ دیکھو وہاں وہ جو آقا نے کہا تھا ”أَعْتَقْتُ“، وہاں ”أَعْتَقْتُ“ کے ضمن میں ہم نے بیع کو بھی مان لیا تھا۔ بھئی دیکھو نا عورت کا کلام تو بغیر بیع کے مانے صحیح ہو ہی نہیں سکتا، غلام کسی اور کا ہے اور عورت کہہ رہی ہے میری طرف سے آزاد کر دو، تو یہ تو کلام صحیح ہو ہی نہیں سکتا عورت کی طرف سے وہ آزاد ہو ہی نہیں سکتا الا یہ کہ وہاں اقتضاءً پہلے کیا مان لیا جائے؟ بیع کو۔ توجہ ہے؟ تو معلوم ہوا جو آقا غلام کو آزاد کرتا ہے ”أَعْتَقْتُ“ وہاں اقتضاءً پہلے بیع کو ماننا پڑے گا۔ کیونکہ عورت نے جو کہا ”أَعْتِقْ“ تو آزاد کر دے، تو وہ تملیک کو بھی طلب کر رہی ہے اور اپنی طرف سے اعتاق کو بھی طلب کر رہی ہے کہ میری طرف سے آزاد کر دو، اور ساتھ عوض ذکر کیا ہے تو وہ تملیک بالعوض کیا بن گئی؟ بیع۔ تو تملیک بالعوض یعنی بیع کا بھی اس نے مطالبہ کیا اور پھر اپنی طرف سے اس کو آزاد کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ چنانچہ جب آقا نے کہا ”أَعْتَقْتُ“ میں نے آزاد کر دیا، تو اسی ”أَعْتَقْتُ“ کے ضمن میں بیع بھی ثابت ہو گئی اور پھر اس کے بعد آقا کی طرف سے غلام بھی آزاد ہو گیا۔ تو ہمارے فقہاء فرماتے ہیں کہ ”أَعْتَقْتُ“ ایک قول ہے اور قول کے ضمن میں قول کو تو مانا جا سکتا ہے، قول کے ضمن میں قول کو تو مانا جا سکتا ہے قول کے ضمن میں فعل کو نہیں مانا جا سکتا۔ یاد رکھو یہ جو بیع ہے، یہ بیع کس چیز کا نام ہے؟ ایجاب و قبول کا۔ میں نے کہا یہ کتاب میں نے آپ سے خرید لی سو روپے میں اور آپ نے کہا میں نے بیچ دی، تو دیکھو بیع ہو گئی، تو بیع کس چیز کا نام ہے؟ ایجاب و قبول کا یعنی قول کا نام ہے، کس کا نام ہے؟ قول کا نام ہے، اور ”أَعْتَقْتُ“ کے ضمن میں ہم نے بیع کو مانا ہے، ”أَعْتَقْتُ“ بھی کیا ہے؟ قول، لفظ ہے، اور بیع بھی کس چیز کا نام ہے؟ قول یعنی ایجاب و قبول کا۔ تو ایک قول کے ضمن میں اقتضاءً دوسرے قول کو ثابت کیا جا سکتا ہے۔ ”أَعْتَقْتُ“ بھی قول اور اس کے ضمن میں جس بیع کو ثابت کیا وہ بھی قول ہے، تو ایک قول کے ضمن میں دوسرے قول کو تو اقتضاءً مانا جا سکتا ہے لیکن ایک قول کے ضمن میں فعل کو اقتضاءً نہیں مانا جا سکتا، کیونکہ ہبہ کے اندر قبضہ شرط ہے۔ ہبہ کے اندر قبضہ ہو گا پھر ہی ہبہ تام ہو گا، اس کے بغیر ہبہ تام نہیں، اور قبضہ تو ایک فعل کا نام ہے، قبضہ تو قول کا نام نہیں ہے، اس میں تو باقاعدہ فعل کرنا پڑتا ہے، چیز کو اپنے قبضے میں لینا پڑتا ہے۔ تو پچھلے مسئلے کے اندر عورت نے عوض ذکر کیا تھا اور تملیک کا مطالبہ کیا تھا اور عوض کے ساتھ جو تملیک ہوتی ہے وہ بیع، لہٰذا ”أَعْتَقْتُ“ بھی قول ہے اور اس کے ضمن میں ہم نے بیع کو ثابت کرنا ہے، تو ایک قول کے ضمن میں دوسرا قول اقتضاءً ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن یہاں پر عورت نے عوض ذکر نہیں کیا اور وہ تملیک کا مطالبہ بھی کر رہی ہے اور اپنی طرف سے آزاد کرنے کا مطالبہ بھی کر رہی ہے اور بغیر عوض کے تملیک کا مطالبہ یہ دراصل کس چیز کا مطالبہ ہے؟ ہبہ کا، اور ہبہ کے اندر کیا ضروری ہے؟ قبضہ ضروری ہے۔ لہٰذا ”أَعْتَقْتُ“ کے ضمن میں ہم بیع جو قول ہے اس کو تو ثابت کر سکتے ہیں اقتضاءً، تو ایک قول کے ضمن میں دوسرے قول کو تو اقتضاءً ثابت کیا جا سکتا ہے لیکن قول کے ضمن میں فعل کو اقتضاءً ثابت نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ قبضہ ایک فعلِ حسی ہے بھئی، جو آنکھوں سے نظر آتا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو قول کے ضمن میں قول کو تو اقتضاءً ثابت کیا جا سکتا ہے لیکن قول کے ضمن میں فعل کو ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا یہاں پر اقتضاءً ہبہ ثابت نہیں ہو گا کیونکہ اس میں قبضہ ضروری ہے۔ جب اقتضاءً ہبہ نہیں ثابت تو عورت اس کی مالکہ نہ بنی اس غلام کی، جب عورت مالکہ نہ بنی تو یہ غلام جو آزاد ہوا یہ آقا کی طرف سے آزاد ہوا۔ جب آقا کی طرف سے آزاد ہوا تو پھر نکاح بھی فاسد نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ قَالَتْ أَعْتِقْهُ عَنِّي“ اور اگر عورت نے کہا کہ اس غلام کو میری طرف سے آزاد کر دے ”وَلَمْ تُسَمِّ مَالًا“ اور اس نے مال ذکر نہیں کیا ”لَمْ يَفْسُدِ النِّكَاحُ“ تو نکاح فاسد نہیں ہو گا ”وَالْوَلَاءُ لِلْمُعْتِقِ“ اور ولاء آزاد کرنے والے کے لیے ہو گی یعنی آقا کے لیے ہو گی، آمر کے لیے نہیں ہو گی۔ ”وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى“ اور یہ طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک ہے، ”وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ: هَذَا وَالأَوَّلُ سَوَاءٌ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ اور پہلی صورت برابر ہیں۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جیسے پچھلے مسئلے کے اندر آپ نے اقتضاءً بیع کو مانا تھا، یہاں اقتضاءً ہبہ کو مان لیں گے اور دونوں صورتوں کے اندر نکاح فاسد ہو جائے گا۔ اقتضاءً ہبہ کو مان لیں گے، عورت مالک بن گئی۔ بھئی ہم کہتے ہیں ہبہ کے اندر تو قبضہ ضروری ہے، کہتے ہیں نہیں یہاں قبضے کا اعتبار ساقط ہو جائے گا، قبضے کا اعتبار کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تو جیسے بیع اقتضاءً ثابت ہوئی تھی اس طرح ہبہ بھی وہ اقتضاءً ثابت مانتے ہیں، جب ہبہ اقتضاءً ثابت ہو گیا تو عورت مالک بن گئی، جب عورت مالک بن گئی تو یہ غلام اب عورت کی طرف سے آزاد ہوا، لہٰذا نکاح فاسد ہو گیا۔ یہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرما رہے ہیں اور نیز ولاء بھی اس عورت ہی کے لیے ہو گی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ: هَذَا وَالأَوَّلُ سَوَاءٌ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ اور پچھلا مسئلہ یہ دونوں برابر ہیں، ”لِأَنَّهُ يُقَدِّمُ التَّمْلِيكَ بِغَيْرِ عِوَضٍ تَصْحِيحًا لِتَصَرُّفِهِ“ ”لِأَنَّهُ يُقَدِّمُ التَّمْلِيكَ“ کیونکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ اس تملیک کو مقدم کرتے ہیں ”بِغَيْرِ عِوَضٍ“ یہ جو تملیک بغیر عوض کے ہے۔ بیع میں بھی تملیک ہوتی ہے دوسرے کو مالک بنایا جاتا ہے لیکن عوض کے بدلے میں، کس کے بدلے میں؟ عوض کے بدلے میں، پیسے یا درہم دینار وغیرہ وصول کیے جائیں گے، اور ہبہ میں بھی دوسرے کو مالک بناتے ہیں لیکن وہ بغیر عوض ہوتا ہے۔ تو وہاں پر امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں وہاں جیسے آپ نے تملیک بالعوض کو اقتضاءً مانا تھا، کس کو؟ تملیک بالعوض کو آپ نے اقتضاءً مانا تھا یعنی بیع کو، تو یہاں پر تملیک بغیر عوض کو بھی اقتضاءً مان لیں گے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ يُقَدِّمُ التَّمْلِيكَ بِغَيْرِ عِوَضٍ“ اس لیے کیونکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ جو ہیں تملیک بغیر عوض اس کو مقدم کرتے ہیں، یعنی بلا عوض تملیک کو مقدم مانتے ہیں، ”تَصْحِيحًا لِتَصَرُّفِهِ“ اس آمر کے تصرف کو درست کرنے کے لیے، کہ پھر ہی اس کا تصرف درست ہو سکتا ہے، وہ جو اس نے کہا تھا نا ”أَعْتِقْهُ عَنِّي“، پھر ہی وہ تصرف صحیح ہو سکتا ہے۔ ”وَيُسْقِطُ اعْتِبَارَ الْقَبْضِ“ اور وہ قبضے کے اعتبار کو ساقط کر دیتے ہیں، امام ابو یوسف رحمہ اللہ قبضے کے اعتبار کو ساقط کر دیتے ہیں۔ ”لِأَنَّهُ يُقَدِّمُ التَّمْلِيكَ بِغَيْرِ عِوَضٍ“ اس لیے کیونکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ تملیک بغیر عوض کو مقدم کرتے ہیں ”تَصْحِيحًا لِتَصَرُّفِهِ“ اس آمر کے تصرف کو درست کرنے کے لیے ”وَيُسْقِطُ اعْتِبَارَ الْقَبْضِ“ اور وہ قبضے کے اعتبار کو ساقط کرتے ہیں، ”كَمَا إِذَا كَانَ عَلَيْهِ كَفَّارَةُ ظِهَارٍ“ جیسے کہ کسی شخص پر کفارۂ ظہار ہو ”فَأَمَرَ غَيْرَهُ أَنْ يُطْعِمَ عَنْهُ“ تو وہ کسی دوسرے کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس کی طرف سے کھلا دے۔ بھئی دیکھیے امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہبہ کے اندر بھی بعض اوقات قبضے کا اعتبار ساقط ہو جاتا ہے، جیسے ایک شخص پر کفارۂ ظہار ہے اور وہ غلام یا باندی بھی آزاد نہیں کر سکتا اور ساٹھ روزے بھی مسلسل نہیں رکھ سکتا، تو پھر اب وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاتا ہے۔ اور ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کے پیسے بھی اس کے پاس نہیں ہیں، وہ اپنے کسی جاننے والے سے کہتا ہے کہ میری طرف سے ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو۔ تو اس صورت میں بالاتفاق ہمارے ائمہ فرماتے ہیں کہ اگر وہ شخص مسکینوں کو کھانا کھلائے گا تو یہ حکم دینے والے کی طرف سے ادا ہو گا۔ جس نے اس کو کھانا کھلانے کا کہا تھا اس کی طرف سے ادا ہو جائے گا اور اس کا کفارۂ ظہار ادا ہو جائے گا۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں دیکھو یہاں پر بھی اس نے جب دوسرے سے کہا کہ میری طرف سے کھانا کھلا دو، مطلب یہ تھا کہ مجھے پہلے کھانے کا مالک بناؤ پھر میری طرف سے فقیروں کو کھلا دو، توجہ ہے؟ تو یہاں پر گویا وہ ہبہ کا مطالبہ کر رہا ہے اور پھر اپنی طرف سے کھانا کھلانے کا مطالبہ کر رہا ہے، اور بالاتفاق یہاں پر اگر وہ کھانا کھلا دے گا وہ شخص تو یہ آمر ہی کی طرف سے شمار ہو گا، معلوم ہوا یہاں پر بھی ہبہ کے اندر قبضے کا اعتبار ساقط ہو گیا کیونکہ آمر نے تو کھانے پر قبضہ نہیں کیا بھئی، اس آدمی نے غریبوں کو بلوایا اور کھلا دیا، تو ہمارے ائمہ فرماتے ہیں یہ آمر کی طرف سے ادا ہو گیا۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں جیسے اس اطعامِ طعام کے اندر قبضے کا اعتبار ساقط ہو گیا ہے، اسی طرح یہاں پر اس مسئلے کے اندر بھی قبضے کا اعتبار ساقط ہو جائے گا اور یہ غلام عورت کی طرف سے ہی آزاد ہو گا اور نکاح فاسد ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَيُسْقِطُ اعْتِبَارَ الْقَبْضِ“ امام ابو یوسف رحمہ اللہ قبضے کے اعتبار کو ساقط کر دیتے ہیں، ”كَمَا إِذَا كَانَ عَلَيْهِ كَفَّارَةُ ظِهَارٍ“ جیسے کہ کسی شخص پر کفارۂ ظہار ہو ”فَأَمَرَ غَيْرَهُ أَنْ يُطْعِمَ عَنْهُ“ تو وہ دوسرے کو حکم دیتا ہے کہ اس کی طرف سے کھانا کھلا دے۔ دلیل سمجھ میں آئی؟ معلوم ہوا امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کبھی کبھار قبضے کا اعتبار ہبہ میں ساقط ہو جاتا ہے، لہٰذا یہاں بھی ساقط ہو جائے گا۔ ”وَلَهُمَا“ جبکہ طرفین کی دلیل یہ ہے: ”أَنَّ الْهِبَةَ مِنْ شَرْطِهَا الْقَبْضُ بِالنَّصِّ“ کہ ہبہ کی شرط میں سے ہے قبضہ کرنا بنص، نص کی وجہ سے۔ میں نے بتایا بھئی قرآن اور حدیث کو نص کہتے ہیں، تو طرفین جواب دیتے ہیں کہ ہبہ کے اندر قبضہ شرط ہے، نص کے اندر اس کا ذکر آیا ہے۔ چنانچہ حدیث میں آتا ہے، یہ میری کتاب میں بین السطور حدیث دی ہوئی ہے، حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”لَا تَصِحُّ الْهِبَةُ إِلَّا مَقْبُوضَةً“ کہ ہبہ صحیح نہیں ہوتا مگر مقبوض ہی، یعنی جب اس پر قبضہ کر لیا جائے اس چیز پر۔ تو طرفین فرماتے ہیں کہ دیکھو یہاں پر ”لَا“ اور ”إِلَّا“ کے ساتھ کلام ذکر ہے، ہبہ قبضے کے بغیر صحیح ہی نہیں ہوتا حدیث کے اندر آ گیا۔ توجہ ہے؟ معلوم ہوا ہبہ بغیر قبضے کے ہو ہی نہیں سکتا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَهُمَا“ طرفین کی دلیل یہ ہے ”أَنَّ الْهِبَةَ مِنْ شَرْطِهَا الْقَبْضُ بِالنَّصِّ“ کہ ہبہ جو ہے اس کی شرط میں سے قبضہ کرنا ہے نص کی وجہ سے، ”فَلَا يُمْكِنُ إِسْقَاطُهُ وَلَا إِثْبَاتُهُ اقْتِضَاءً“۔ فَلَا يُمْكِنُ إِسْقَاطُهُ، لہٰذا اس قبضے کو ساقط کرنا ممکن نہیں ہے۔ یہ قبضہ کس سے ثابت ہے؟ نص سے، اور نص میں بھی کس کے ساتھ ہے؟ "لَا" اور "إِلَّا" کے ساتھ، کہ قبضے کے بغیر ہبہ ہو ہی نہیں سکتا، تو لہٰذا اس قبضے کو ساقط نہیں کیا جا سکتا، نص سے پتہ چل رہا ہے۔ تو اس کو ساقط کرنا ممکن نہیں۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ بھئی بیع کو بھی آپ نے اقتضاءً مانا تھا، اور بیع کے ارکان ایجاب اور قبول ہیں، اور ارکان شے کے بغیر تو کوئی شے نہیں ہو سکتی، تو وہاں پھر آپ نے کیسے ارکان بیع کے بغیر ہی بیع کو اقتضاءً مان لیا تھا؟ جیسے ہبہ کے اندر اگر قبضہ ضروری ہے تو بیع کے اندر ایجاب اور قبول ضروری ہیں، وہ ارکان ہیں، ارکان شے کے بغیر کسی شے کا وجود کیسے ہو سکتا ہے؟ تو اس کا جواب یاد رکھنا، کہ یاد رکھو بیع کے اندر یہ جو ایجاب اور قبول ہیں، یہ ارکان تو ہیں لیکن ارکان زائد ہیں، یعنی ان کے بغیر بھی بیع ہو سکتی ہے۔ یہ اسقاط کا احتمال رکھتے ہیں، لیکن قبضہ اسقاط کا احتمال نہیں رکھتا، اس کو ساقط نہیں کیا جا سکتا، جبکہ ایجاب اور قبول ساقط ہو سکتے ہیں۔ کیسے؟ بیع تعاطی کے اندر۔ تعاطی، عطا سے ہے عطا، ط آ رہی ہے درمیان میں۔ دیکھو، یہ جو ہم اکثر بیوعات کرتے ہیں ہماری بیوع اکثر بیع تعاطی ہوتی ہیں۔ مثلاً آپ دکان پر جاتے ہیں اور آپ دکاندار سے کہتے ہیں: مجھے ایک کلو چینی دے دو۔ وہ چینی کا ایک پیکٹ اٹھا کر آپ کو دے دیتا ہے جس میں پہلے سے ہی ایک کلو چینی بند ہے اس کے اندر بھئی۔ اب حالانکہ بیع کا ضابطہ ہے کہ جب آپ کوئی چیز وزن کے اعتبار سے لیتے ہیں تو ضروری ہے دکاندار آپ کے سامنے اس چیز کو تولے ورنہ آپ کی یہ بیع فاسد ہے بھئی۔ یہ بیع فاسد۔ تو دیکھو آپ گئے آپ نے کہا مجھے ایک کلو چینی دے دو، اس نے ایک پیکٹ اٹھا کر آپ کو دیا اور آپ نے جیب میں ہاتھ ڈالا، پیسے اس کو دیے اور وہ چینی اٹھا کر آگئے۔ اس نے آپ کے سامنے چینی کا وزن نہیں کیا۔ حالانکہ فقہ کا ضابطہ ہے اس صورت میں بیع کیا ہو جاتی ہے؟ فاسد ہو جاتی ہے۔ جو چیز آپ وزن یا کیل وغیرہ کے اعتبار سے لے رہے ہوں، اس خریدار کے سامنے اس کا وزن کرنا یا اس کا ماپنا ضروری ہوتا ہے۔ تو اس سے تو بظاہر شبہ ہوتا ہے شاید ہماری ساری بیوعات ہی فاسد ہوں، تو جواب کہ نہیں، یہ جو ہماری جتنی بیوعات ہیں یہ بیع تعاطی کی قبیل سے ہیں۔ تعاطی عطا سے ہے، عطا کا معنی ایک چیز دینا، اور اسی کو باب تفاعل میں لے گئے، تعاطی یعنی دونوں طرف سے ایک شخص ایک چیز دیتا ہے، دوسرا دوسری چیز اس کا عوض دیتا ہے، اور بیع ہو جاتی ہے۔ تو یہ جو دیکھو آپ دکان پر گئے اور آپ نے چینی طلب کی، آپ نے کیا کہا؟ کہ مجھے ایک کلو چینی دے دو، دیکھو آپ حکم دے رہے ہیں امر ہے اور حالانکہ ایجاب اور قبول تو ماضی کے صیغے ہونے چاہییں۔ تو دیکھو آپ کی طرف سے کوئی ایجاب نہیں آیا اور دکاندار کی طرف سے کوئی قبول نہیں آیا، اس نے وہ چینی اٹھائی اور آپ کو دے دی اور آپ نے پیسے اس کو دیے اور چینی اٹھا کر آگئے، اس کو بیع تعاطی کہتے ہیں جو بغیر ایجاب اور قبول کے ہو رہی ہے، دونوں طرف سے اعطاء پایا جا رہا ہے، دکاندار نے چینی دی ہے تو آپ نے پیسے دیے ہیں۔ تو ہماری اکثر بیوعات کس قسم کی ہیں؟ بیع تعاطی ہیں، ہم ایجاب اور قبول بہت کم کرتے ہیں بھئی۔ تو جب یہ بیع تعاطی ہے تو اس میں گویا آپ نے وہ چینی کا پیکٹ اتنے پیسوں میں لے لیا، وزن کی بات ہی نہیں ہوئی۔ وہ جو آپ نے کہا تھا ایک کلو چینی دے دو، بھئی وہ ایجاب نہیں تھا اس لیے کیونکہ وہ امر کا صیغہ ہے، ایجاب تو ماضی، مع عربی ہو تو ماضی کا صیغہ ہونا ضروری ہے ایجاب اور قبول کا، اور اردو ہو تو ماضی کے صیغے بھی جائز ہیں اور حال کے صیغے بھی جائز ہیں بھئی۔ تو یہاں نہ ایجاب پایا گیا اور نہ قبول، گویا وزن کی کوئی بات ہی نہیں ہوئی، بس آپ نے ایک پیکٹ چینی لی اور اس کے عوض دیا، دکاندار نے بھی لے کر رکھ لیا اور آپ چینی لے کر آگئے، تو یہ کونسی بیع ہوئی؟ بیع تعاطی۔ تو دیکھو اس بیع تعاطی کے اندر نہ ایجاب ہے اور نہ قبول۔ معلوم ہوا بیع کے اندر یہ ایجاب اور قبول ارکان تو ہیں لیکن ارکان زائد ہیں، یہ بھی ساقط ہونے کا احتمال رکھتے ہیں جبکہ ہبہ کے اندر جو قبضہ ہے وہ ساقط ہونے کا احتمال نہیں رکھتا۔ تو کہتے ہیں: فَلَا يُمْكِنُ إِسْقَاطُهُ، لہٰذا اس قبضے کو ساقط کرنا ممکن نہیں ہے، وَلَا إِثْبَاتُهُ اقْتِضَاءً، اور نہ ہی اس قبضے کو ثابت کیا جا سکتا ہے اقتضاءً۔ اقتضاءً قبضے کو ثابت بھی نہیں کیا جا سکتا، کیوں؟ کیونکہ میں نے وجہ بتلا دی، کہ أَعْتَقْتُ کے ضمن میں ہم نے کیا ثابت کیا تھا؟ بیع کو، أَعْتَقْتُ بھی قول اور بیع بھی کس کا نام ہے؟ قول کا نام ہے، تو ایک قول کے ضمن میں دوسرا قول اقتضاءً ثابت ہو سکتا ہے، لیکن قبضہ تو فعل کا نام ہے، تو قول کے ضمن میں قبضہ یعنی فعل ثابت نہیں ہو سکتا۔ کہتے ہیں: وَلَا إِثْبَاتُهُ اقْتِضَاءً، اور نہ ہی قبضے کو اقتضاءً ثابت کیا جا سکتا ہے، لِأَنَّهُ فِعْلٌ حِسِّيٌّ، اس لیے کیونکہ قبضہ جو ہے وہ تو ایک فعل حسی ہے جو آنکھوں سے نظر آتا ہے، فعل حسی ہے، بِخِلَافِ الْبَيْعِ، بخلاف بیع کے، لِأَنَّهُ تَصَرُّفٌ شَرْعِيٌّ، وہ تو تصرف شرعی ہے، وہ ایک تصرف شرعی قولی ہے، یعنی قول والا تصرف ہے۔ بھئی یہاں فعل حسی آیا اور ساتھ تصرف شرعی آیا۔ آپ نے اصول فقہ میں پڑھا ہوگا کہ افعال دو قسم کے ہیں، کچھ افعال حسیہ ہیں اور کچھ افعال شرعیہ ہیں۔ افعال حسیہ، یاد رکھو افعال حسیہ وہ ہیں کہ شریعت نے ان کے معنی میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ شریعت کے آنے سے پہلے لوگ اس کا جو معنی سمجھتے تھے، شریعت نے بھی اسی معنی کو برقرار رکھا، شریعت نے بھی اس کو برقرار رکھا، اس کو کہتے ہیں فعل حسی۔ جیسے زنا، زنا شریعت کے آنے سے پہلے بھی لوگ سمجھتے تھے کہ زنا جو ہے غیر ملک کے اندر وطء کرنا، کہ کسی چیز کا انسان مالک نہیں ہے ایک عورت کا اور اس سے وطء کر لے، اس کو کیا سمجھتے تھے؟ زنا، اور شریعت نے بھی اسی معنی کو برقرار رکھا کہ غیر ملک کے اندر صحبت کی جائے یہ کیا ہے؟ زنا ہے بھئی۔ تو دیکھو زنا ایک فعل حسی ہے، شریعت نے اس کے معنی میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں کی، اور ایک ہوتا ہے فعل شرعی۔ فعل شرعی وہ ہے کہ جس کے معنی میں شریعت تبدیلی پیدا کر دے، جیسے شریعت کے آنے سے پہلے لوگ کہتے تھے کہ بیع جو ہے وہ مبادلۃ المال بالمال ہے۔ یعنی دونوں افراد کی طرف سے مال آتا ہے، ایک کی طرف سے اگر مبیعہ ہے تو دوسرے کی طرف سے بھی مال ہے بھئی۔ تو شریعت کے آنے سے پہلے لوگ بیع کسے کہتے تھے؟ مبادلۃ المال بالمال، لیکن شریعت نے آکر بتلایا: نہیں، تم لوگوں کو بیع کا پتہ ہی نہیں ہے، اس کے اندر صرف مبادلۃ المال بالمال نہیں ہے بلکہ اس میں باہمی رضامندی بھی ضروری ہے، دونوں آدمیوں کی آپس میں۔ تو دیکھا، معلوم ہوا شریعت نے بتلایا کہ بیع جو ہے وہ مُبَادَلَةُ الْمَالِ بِالْمَالِ بِالتَّرَاضِي، یعنی باہمی رضامندی بھی ہو۔ تو اس کو فعل شرعی کہتے ہیں، یعنی ہمیں شریعت نے آکر بیع بتلائی، اس سے پہلے تو ہمیں بیع کا پتہ ہی نہیں تھا بھئی، ہم اس کا غلط معنی سمجھتے تھے، تو اس کو فعل شرعی کہتے ہیں۔ سمجھ میں آیا فعل حسی کسے کہتے ہیں؟ جس کے معنی میں شریعت نے کوئی تبدیلی نہیں کی، جو پہلے لوگ سمجھتے تھے شریعت نے بھی وہی معنی رکھا ہے۔ معلوم ہوا لوگ اس فعل کو حسّاً جانتے تھے اور وہ صحیح سمجھتے تھے۔ اور فعل شرعی وہ ہے کہ جس کے معنی میں آکر شریعت نے تبدیلی پیدا کر دی، معلوم ہوا لوگوں کو اس کا پہلے پتہ ہی نہیں تھا، شریعت نے آکر ان کو بتلایا ہے۔ تو یہاں پر بھی یہ جو بیع ہے یہ ایک تصرف شرعی ہے جبکہ قبضہ جو ہے وہ تصرف حسی ہے۔ قبضہ کیا ہے؟ تصرف حسی، حس جس کا تعلق حواس سے ہو، یعنی جو آنکھوں سے نظر آئے، تو قبضہ کیا ہے؟ تصرف حسی یا یوں کہو فعل حسی ہے، اور بیع کیا ہے؟ وہ تصرف شرعی ہے یعنی وہ قول کی قبیل سے ہے۔ تو وہی بات جو میں نے پہلے ذکر کر دی تھی کہ أَعْتَقْتُ قول تھا، اس أَعْتَقْتُ کے ضمن میں بیع کو تو ہم مان سکتے ہیں کیونکہ بیع بھی قول کا نام ہے، ایجاب اور قبول کا نام ہے، تو ایک قول کے ضمن میں دوسرے قول کو اقتضاءً ثابت کیا جا سکتا ہے، لیکن قول کے ضمن میں فعل کو اقتضاءً ثابت نہیں کیا جا سکتا کیونکہ فعل اور چیز ہے، قول اور چیز ہے بھئی۔ تو صاحب ہدایہ فرماتے ہیں کہ قبضہ ایک فعل حسی ہے یعنی فعل کا نام ہے، ایسا فعل جو حسّاً نظر آتا ہے کہ انسان کیا کر لے؟ ایک چیز پر قبضہ کر لے۔ اور جبکہ بیع جو ہے وہ ایک تصرف شرعی ہے یعنی تصرف شرعی قولی ہے، یعنی قول کی قبیل سے ہے۔ اور أَعْتَقْتُ وہ قول ہے، تو أَعْتَقْتُ کے ضمن کے اندر تصرف شرعی قولی یعنی بیع کو تو ثابت کیا جا سکتا ہے، لیکن أَعْتَقْتُ قول کے ضمن میں فعل حسی کو ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ وہی بات، یعنی ایک قول کے ضمن میں دوسرے قول کو تو اقتضاءً ثابت کیا جا سکتا ہے، لیکن ایک قول کے ضمن میں کسی فعل کو اقتضاءً ثابت نہیں کیا جا سکتا کیونکہ فعل ایک حسی چیز ہے جو آنکھوں سے نظر آتی ہے، اور وہ تو یہاں موجود نہیں، یعنی وہ قبضۂ حسی تو یہاں موجود نہیں ہے، لہٰذا اس أَعْتَقْتُ کے ضمن میں قبضے کو ثابت نہیں مانا جا سکتا۔ اور جب قبضہ ثابت نہیں مانا جا سکتا تو آمر مالک نہ بنا، وہ عورت اس کی مالک نہ بنی، تو یہ غلام آقا کی طرف سے ہی آزاد ہوا، لہٰذا لہٰذا یہ نکاح فاسد نہیں ہوگا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو کہتے ہیں: وَلَا إِثْبَاتُهُ اقْتِضَاءً، اور نہ ہی قبضے کو اقتضاءً ثابت کیا جا سکتا ہے، لِأَنَّهُ فِعْلٌ حِسِّيٌّ، اس لیے کیونکہ قبضہ فعل حسی ہے، بِخِلَافِ الْبَيْعِ، بخلاف بیع کے، لِأَنَّهُ تَصَرُّفٌ شَرْعِيٌّ، وہ ایک تصرف شرعی ہے، یعنی وہ تصرف شرعی قولی ہے، اس کا تعلق قول سے ہے۔ وَفِي تِلْكَ الْمَسْأَلَةِ الْفَقِيرُ يَنُوبُ عَنِ الْآمِرِ فِي الْقَبْضِ، اب یہ جواب دے رہے ہیں امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قیاس کا۔ انہوں نے اس مسئلے کو قیاس کیا تھا وہ جو کفارۂ ظہار کے اندر ایک شخص دوسرے کو کہتا ہے کہ میری طرف سے فقیروں کو کھانا کھلا دو، تو وہاں پر وہ بالاتفاق آمر کی طرف سے ہوتا ہے، تو امام ابو یوسف فرماتے ہیں یہاں پر بھی اعتاق آمر کی طرف سے ہوگا، تو جواب دے رہے ہیں کہ نہیں، آپ اس پر قیاس نہیں کر سکتے، دونوں میں فرق ہے۔ وہاں پر جو فقیر تھا محتاج تھا جس کو طعام دیا گیا، جس کو وہ غلہ وغیرہ دیا گیا، وہ اس پر جب قبضہ کرتا ہے تو اولاً اس نے آمر کی طرف سے قبضہ کیا تو قبضہ پایا گیا، اور پھر فقیر نے اپنے لیے قبضہ کیا۔ جیسے زکوٰۃ ہے، آپ نے زکوٰۃ میں پڑھا ہے بھئی کہ یہ زکوٰۃ حق شریعت بھی ہے کیونکہ اللہ نے حکم دیا ہے، زکوٰۃ کا حکم کس نے دیا ہے؟ اللہ نے، تو یہ حق شریعت بھی ہے، اور نیز یہ زکوٰۃ کا پیسہ ملتا کس کو ہے؟ غریبوں کو ملتا ہے، تو یہ حق العبد بھی ہے بھئی ان کی مدد ہو جاتی ہے۔ تو زکوٰۃ حق شریعت بھی ہے اور حق العبد بھی ہے، بندے کا حق بھی ہے۔ تو معلوم ہوا یہ حق شریعت ہے یعنی اللہ کا حق ہے، اللہ نے حکم دیا ہے، تو جب بھی ہم کسی فقیر کو زکوٰۃ دیتے ہیں، یاد رکھو فقیر جب اس کو لیتا ہے اس پر قبضہ کرتا ہے تو اولاً وہ اللہ کا نائب ہو کر اللہ کی طرف سے قبضہ کرتا ہے، کیونکہ یہ حق شرع بھی ہے اللہ کو بھی ہم نے یہ ادا کرنا ہے، تو وہی جو فقیر کا قبضہ ہے اس کو نائب قرار دیا ہے فقہاء نے، کہ یہ قبضہ کر رہا ہے کس کا نائب ہو کر؟ کس کی طرف سے؟ اللہ کی طرف سے کہ یہ اللہ کا حق ہے، تو فقیر نے اس پر اللہ کا نائب ہو کر قبضہ کیا، دیکھو اللہ کا حق ادا ہو گیا، اور پھر اس کے بعد اپنے لیے قبضہ ہو گیا اس کا، اپنے لیے قبضہ کر لیا تو اس کا اپنا حق بھی ادا ہو گیا۔ تو فقیر جیسے زکوٰۃ کے اندر اولاً اللہ کا نائب ہو کر قبضہ کرتا ہے پھر اپنے لیے قبضہ کرتا ہے، بات سمجھ میں آگئی، تو یہاں پر بھی اسی طرح جب یہ کھانا کھلانے والا یہ مسکینوں کو کھانا دے گا تو اولاً جو فقیر قبضہ کرے گا وہ کس کی طرف سے ہوا؟ آمر جس نے حکم دیا تھا، جیسے زکوٰۃ کے مسئلے میں زکوٰۃ کا حکم کس نے دیا تھا؟ اللہ نے، تو فقیر نے جو قبضہ کیا وہ کس کی طرف سے ہوا؟ آمر کی طرف سے ہوا، یہاں پر بھی جو فقیر کھانے پر قبضہ کرے گا اولاً یہ قبضہ کس کی طرف سے ہوگا؟ آمر کی طرف سے ہوگا، آمر نے بھی ہبہ کا کہا تھا، اور فقیر نے اس کی طرف سے نائب ہو کر قبضہ کر لیا، تو ہبہ قبضے کے ساتھ پایا گیا یا بغیر قبضے کے؟ قبضے کے ساتھ، بھئی دیکھو نا یہ جو فقیر نے قبضہ کیا ہے یہ کس کی طرف سے کیا اولاً؟ آمر کی طرف سے، تو آمر کی طرف سے قبضہ پایا گیا، فقیر نے اس کا نائب بن کر قبضہ کر لیا، اور قبضے سے ہبہ کیا ہو جاتا ہے؟ تام ہو جاتا ہے، لہٰذا آمر اس کا مالک بنا، اور پھر اس کے بعد فقیر نے اپنے لیے قبضہ کر لیا۔ بات سمجھ میں آگئی، معلوم ہوا امام ابو یوسف رحمہ اللہ کو جواب دے رہے ہیں طرفین، امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے اس عورت جس نے أَعْتِقْهُ عَنِّي کہا تھا اس کے مسئلے کو انہوں نے قیاس کیا تھا طعام کے مسئلے پر، کہ جیسے طعام کے مسئلے میں قبضے کا کوئی اعتبار نہیں، قبضہ ساقط ہو جاتا ہے، یہاں اس عورت کے مسئلے کے اندر بھی قبضہ ساقط ہو جائے گا اور یہ غلام عورت کی طرف سے آزاد ہوگا تو نکاح فاسد ہو جائے گا۔ تو جواب دیا کہ نہیں، وہاں پر جو ہبہ ہوا تھا وہاں باقاعدہ قبضہ پایا گیا تھا، قبضہ ساقط نہیں ہوا تھا، قبضے کا تو ہم نے بتا دیا قبضہ ساقط ہو ہی نہیں سکتا، حدیث میں آگیا اس کا ذکر بھئی، کہ حدیث میں آگیا: "لَا تَصِحُّ الْهِبَةُ إِلَّا مَقْبُوضَةً"، کہ قبضے کے بغیر ہبہ صحیح نہیں ہو سکتا۔ تو یہاں پر جو فقیر قبضہ کر رہا ہے یہ اولاً کس کی طرف سے قبضہ کر رہا ہے؟ آمر، جس نے وہ کھانا کھلانے کا کہا تھا، تو آمر کی طرف سے قبضہ آگیا، ہبہ تام ہو گیا، پھر اس کے بعد فقیر نے اپنے لیے قبضہ کر لیا، تو لہٰذا یہ آمر کی طرف سے فقیر کو پہنچ گیا بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَفِي تِلْكَ الْمَسْأَلَةِ، اور اس مسئلے کے اندر، وہ جو اطعام طعام والا مسئلہ تھا، الْفَقِيرُ يَنُوبُ عَنِ الْآمِرِ، فقیر جو ہے نائب ہو جاتا ہے عن الآمر، حکم دینے والے کی طرف سے، فِي الْقَبْضِ، قبضے کے اندر، أَمَّا الْعَبْدُ فَلَا يَقَعُ فِي يَدِهِ شَيْءٌ لِيَنُوبَ عَنْهُ، باقی غلام تو اس کے قبضے میں تو کوئی چیز نہیں آتی تاکہ وہ نائب بن جائے اس میں آمر کی طرف سے۔ بھئی دیکھو، جب آپ کسی غلام کو آزاد کرتے ہیں، جب آپ آزاد کر رہے ہیں تو آپ کسی کو اس غلام کا مالک نہیں بنا رہے، جب آپ ایک غلام کو آزاد کر رہے ہیں تو آپ کسی کو اس غلام کا مالک نہیں بنا رہے بلکہ آپ اپنی ملکیت کو ضائع کر رہے ہیں، اور اس کو یاد رکھو یہ غلام کا جو آزاد کرنا ہے اس کو اہلاک کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ اہلاک، آپ اپنا مال ہلاک کر رہے ہیں بھئی، یہ اسی طرح ہے جیسے آپ اپنی گاڑی کو آگ لگا دیں، جلا دیں، ختم کر دیں، آپ نے اہلاک کر دیا، اتلاف کر دیا اپنی چیز کو، تو غلام کو آزاد کرنا کیا ہے؟ یہ اتلاف ہے، دنیاوی اعتبار سے اتلاف ہے، آپ اپنا مال ضائع کر رہے ہیں، کسی دوسرے کو تو مالک نہیں بنا رہے اس غلام کا۔ توجہ ہے؟ تو اعتاق کیا ہے؟ اتلاف ہے، دنیاوی اعتبار سے اتلاف ہے اگرچہ اخروی اعتبار سے عظیم اجر و ثواب کا باعث ہے بھئی، تو دنیاوی اعتبار سے اعتاق کیا ہے؟ اتلاف ہے، اس میں کسی کو مالک نہیں بنایا جاتا، جبکہ وہاں پر وہ جو طعام کھلایا جاتا تھا اس میں فقیر کو مالک بنایا جاتا تھا، تو وہاں پر فقیر کو مالک بناتے تھے فقیر اس پر قبضہ کرتا تھا، اور یہاں تو اعتاق ہے اعتاق کے اندر تو اتلاف ہے، اس میں تو کسی کو مالک بنانا یا کسی کا قبضہ نہیں، جب قبضہ نہیں ہے تو یہاں پر یہ آپ نہیں کہہ سکتے کہ غلام جو ہے آمر کی طرف سے نائب ہو کر قبضہ کر رہا ہے۔ وہاں وہ قبضہ کس نے کیا تھا؟ فقیر نے، کس کا نائب بنا تھا؟ حکم دینے والے کا، آمر کا نائب بنا تھا، لیکن یہاں غلام کو جب آپ آزاد کر رہے ہیں تو غلام کے قبضے میں کوئی چیز آ رہی ہے؟ غلام تو کسی چیز پر قبضہ نہیں کر رہا، تو یہاں قبضہ ہے ہی نہیں، یہاں قبضہ ہے ہی نہیں کہ آپ کہیں یہ آمر کی طرف سے نائب ہو کر قبضہ کر رہا ہے۔ بات سمجھ میں آگئی، تو اعتاق میں قبضہ ہوتا ہی نہیں، وہاں پر اتلاف ہوتا ہے، لہٰذا یہاں آپ اس غلام کے مسئلے کو اس اطعام طعام کے مسئلے پر قیاس نہیں کر سکتے، یہ طرفین جواب دے رہے ہیں امام ابو یوسف رحمہ اللہ کو۔ تو دیکھیے پھر ترجمہ، کہتے ہیں: وَفِي تِلْكَ الْمَسْأَلَةِ، اور اس اطعام طعام کے مسئلے میں، الْفَقِيرُ يَنُوبُ عَنِ الْآمِرِ فِي الْقَبْضِ، کہ فقیر جو ہے وہ حکم دینے والے کی طرف سے نائب بن جاتا ہے قبضے میں، تو ہبہ بغیر قبضے کے نہ رہا، ہبہ قبضے کے ساتھ ہو گیا، أَمَّا الْعَبْدُ، باقی یہ غلام جو ہے، فَلَا يَقَعُ فِي يَدِهِ شَيْءٌ، اس کے قبضے میں تو کوئی چیز نہیں آئی، لِيَنُوبَ عَنْهُ، تاکہ یہ اس آمر کی طرف سے نائب ہو سکے، بات سمجھ میں آگئی۔ تو لہٰذا یہ دونوں ایک دوسرے سے مختلف ہیں تو آپ اس غلام کے مسئلے کو اطعام طعام پر قیاس نہیں کر سکتے۔ آگے دیکھیے بھئی: بَابُ نِكَاحِ أَهْلِ الشِّرْكِ یہ باب ہے اہل شرک کے نکاح کے بارے میں۔ بھئی اہل شرک سے یہاں مطلقاً غیر مسلم مراد ہیں، یعنی ذمیوں کے نکاح کے مسائل ذکر کر رہے ہیں یہاں صاحب ہدایہ۔ تو کہتے ہیں: وَإِذَا تَزَوَّجَ الْكَافِرُ بِغَيْرِ شُهُودٍ أَوْ فِي عِدَّةِ كَافِرٍ وَذَلِكَ فِي دِينِهِمْ جَائِزٌ ثُمَّ أَسْلَمَا أُقِرَّا عَلَيْهِ. صورت مسئلہ یہ کہ دار الاسلام کے اندر ایک کافر نے، ایک ذمی نے ایک ذمیہ سے نکاح کر لیا بغیر گواہوں کے، اور پھر بعد میں یہ دونوں مسلمان ہو گئے۔ تو یہ جو میاں بیوی ہیں جنہوں نے بغیر گواہوں کے نکاح کیا تھا اسلام لانے کے بعد کیا ان کے اسی نکاح کو برقرار رکھا جائے گا یا یا یہ حکم لگایا جائے گا کہ یہ نکاح تو ہوا ہی نہیں تھا بغیر گواہوں کے، تمہیں دوبارہ نئے سرے سے نکاح کرنا پڑے گا؟ تو امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب انہوں نے نکاح کیا تھا اس وقت تو یہ غیر مسلم تھے اور ان کے نزدیک یعنی ان کے دین کے اندر یہ جائز تھا، یہ ضروری ہے، ان کے دین میں یہ جائز ہو تو پھر ان کو اسی نکاح پر برقرار رکھا جائے گا اسلام لانے کے بعد بھی، بات سمجھ میں آگئی۔ دوسری صورت: ایک ذمی نے ذمیہ سے نکاح کر لیا عدت کے دوران، اس ذمیہ کو کسی کافر نے، کسی ذمی نے طلاق دی تھی، عدت کے اندر ہی اس ذمی نے اس عورت کے ساتھ نکاح کر لیا، اب عدت کے اندر تو نکاح ہمارے نزدیک نہیں ہو سکتا، پھر بعد میں یہ دونوں مسلمان ہوئے تو کیا ان کو اسی نکاح پر برقرار رکھا جائے گا یا ان کو نئے سرے سے نکاح کرنا پڑے گا؟ تو امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان کو اسی نکاح پر برقرار رکھا جائے گا۔ دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: وَإِذَا تَزَوَّجَ الْكَافِرُ بِغَيْرِ شُهُودٍ، اور جب کسی کافر نے نکاح کر لیا بغیر گواہوں کے، أَوْ فِي عِدَّةِ كَافِرٍ، یا کسی دوسرے کافر کی عدت کے اندر، وَذَلِكَ فِي دِينِهِمْ جَائِزٌ، اس حال میں کہ یہ ان کے دین میں جائز ہے، یہ ضروری قید ہے کیونکہ انہوں نے اپنے اعتقاد کے مطابق صحیح نکاح کیا ہے، کہتے ہیں: ثُمَّ أَسْلَمَا، پھر یہ دونوں مسلمان ہو گئے، أُقِرَّا عَلَيْهِ، تو ان دونوں کو اسی نکاح پر برقرار رکھا جائے گا، وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، یہ امام صاحب کے نزدیک ہے، وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ، اور امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: النِّكَاحُ فَاسِدٌ فِي الْوَجْهَيْنِ، کہ یہ نکاح دونوں صورتوں میں فاسد ہے، چاہے بغیر گواہوں کے نکاح کیا ہو پھر بھی فاسد، یا عدت کے اندر نکاح کیا ہو پھر بھی فاسد ہے، إِلَّا أَنَّهُ لَا يُتَعَرَّضُ لَهُمْ قَبْلَ الْإِسْلَامِ وَالْمُرَافَعَةِ إِلَى الْحُكَّامِ. تعرض کا معنی، یاد رکھو تعرض کا معنی ہے کسی چیز کے پیچھے پڑنا، کسی چیز میں دخل دینا۔ یاد رکھو یہ جو ذمی ہیں ان کے ساتھ ہم نے عقد ذمہ کیا ہوا ہے، لہٰذا ان کے دینی معاملات میں اور وہ معاملات جن میں وہ ہمارے مخالف عقیدہ رکھتے ہیں اس کے اندر ہم ان کے ساتھ تعرض نہیں کریں گے، یعنی ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں کریں گے، یوں کہیں ہم دخل نہیں دیں گے، کیونکہ ہم نے عقد ذمہ لیا ہوا ہے کہ ہم تمہاری جان و مال کی حفاظت کریں گے اور تمہیں اپنے دین کے مطابق زندگی گزارنے کی اجازت ہے بھئی۔ لیکن اگر دونوں مسلمان ہو جائیں یا یہ مرافعہ کریں بھئی، مرافعہ الی الحکام، مرافعہ بھی سمجھ لو، مرافعہ اس کو کہتے ہیں کہ وہ حکام کے پاس یعنی قاضی کے پاس آگئے، ایک مسئلہ ذکر کرتے ہیں کہ ہمیں اس میں اسلامی حکم بتا دیں، قاضی کے پاس کوئی مقدمہ لے کر وہ نہیں آئے، صرف ایک معاملے کے اندر اسلامی حکم معلوم کرنا چاہتے ہیں وہ کہتے ہیں ہم بھی اس پر عمل کرنا چاہتے ہیں، ہمیں اس معاملے میں اسلامی حکم کا پتہ نہیں ہمیں اسلامی حکم بتایا جائے تاکہ ہم بھی کیا کر لیں اس پر؟ عمل کر لیں، تو امام زفر کی دلیل چل رہی ہے وہ فرماتے ہیں کہ اگر بغیر گواہوں کے نکاح کیا ہے یا عدت کے اندر نکاح کیا ہے تو ہم ان کے ساتھ تعرض نہیں کریں گے، ہم ان کے معاملات میں دخل نہیں دیں گے ان کے نکاح کو اسی طرح چلنے دیں گے، لیکن اگر وہ مسلمان ہو گئے یا وہ قاضی کے پاس آئے اور مرافعہ کیا، حکم معلوم کیا تو پھر اس صورت کے اندر اب ہم دخل دیں گے، کیونکہ اگر مسلمان ہو گئے ہیں تو اب شریعت کے احکام کے مطابق عمل کرنا پڑے گا اور اگر مرافعہ کیا ہے وہ خود آکر کہہ رہے ہیں کہ ہمیں اسلامی حکم بتایا جائے تو اب ہم ان کے معاملے میں دخل دیں گے، اب ان میں جدائی کروا دیں گے، کیا کروا دیں گے؟ ابھی تک تو ہم دخل نہیں دے رہے تھے کہ بھئی مرضی ہے آپ اپنے دین کے مطابق زندگی گزاریں لیکن جب وہ خود آگئے مسئلہ پوچھنے کے لیے قاضی کے پاس تو قاضی ان میں جدائی کروا دے گا۔ تو مرافعہ الی الحکام کسے کہتے ہیں؟ کہ حکام کے پاس یعنی قاضی وغیرہ کے پاس آکر کسی معاملے میں اسلامی حکم کا پتہ کرنا کہ ہم بھی اس پر عمل کرنا چاہتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ، امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: النِّكَاحُ فَاسِدٌ فِي الْوَجْهَيْنِ، کہ یہ نکاح دونوں صورتوں میں فاسد ہے، یعنی چاہے بغیر گواہوں کے ہو چاہے عدت کے اندر ہو، إِلَّا أَنَّهُ لَا يُتَعَرَّضُ لَهُمْ قَبْلَ الْإِسْلَامِ وَالْمُرَافَعَةِ إِلَى الْحُكَّامِ، مگر یہ کہ ان کے ساتھ تعرض نہیں کیا جائے گا، یعنی ان کے معاملے میں دخل نہیں دیا جائے گا، اسلام لانے سے پہلے اور حکام کی طرف مرافعہ کرنے سے پہلے۔ وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ وَمُحَمَّدٌ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى فِي الْوَجْهِ الْأَوَّلِ كَمَا قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، وَفِي الْوَجْهِ الثَّانِي كَمَا قَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ. صاحبین جو ہیں، صاحبین پہلے مسئلے کے اندر امام صاحب کے ساتھ ہیں اور دوسرے مسئلے کے اندر امام زفر کے ساتھ ہیں۔ امام صاحب تو فرماتے ہیں دونوں صورتوں میں چاہے وہ اسلام لے آئیں یا مرافعہ کریں دونوں صورتوں میں ان کو اسی حکم پر برقرار رکھا جائے گا، جبکہ امام زفر فرماتے ہیں دونوں صورتوں کے اندر ان میں جدائی کروا دی جائے گی، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں پہلے مسئلے کے اندر کہ اگر بغیر گواہوں کے نکاح کیا ہے تو اس صورت کے اندر اس نکاح کو اسی طرح برقرار رکھا جائے گا، یہ دونوں اسلام لے آتے ہیں یا مرافعہ کرتے ہیں تو اس حکم کو برقرار رکھا جائے گا، لیکن دوسرے مسئلے کے اندر ان دونوں میں جدائی کروائی جائے گی۔ صاحبین دراصل فرق کرتے ہیں، صاحبین فرماتے ہیں ایک ہے اتفاقی مسئلہ اور ایک ہے اختلافی مسئلہ، اتفاقی مسئلے کے اندر ان کے لیے وہی حکم ہوگا جو شریعت کا حکم ہے، اور اختلافی مسئلہ ان پر لازم نہیں ہے کیونکہ اس میں ہمارے اپنے فقہاء کا جب اختلاف ہے تو وہ ہم کیسے دوسروں پر لازم کر سکتے ہیں؟ توجہ ہے؟ لیکن اتفاقی مسئلہ ان پر لاگو کیا جائے گا۔ اور نکاح بغیر گواہوں کے یہ تو اختلافی مسئلہ ہے، یہ تو اختلافی مسئلہ ہے ہمارے احناف کے ہاں گواہوں کا ہونا شرط ہے، امام مالک رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں اعلان کرنا پڑے گا، گواہوں کی شرط وہ نہیں لگاتے، توجہ ہے؟ تو بعض فقہاء جو ہیں وہ گواہوں کی شرط لگاتے ہیں اور بعض فقہاء گواہوں کی شرط نہیں لگاتے، تو یہ اختلافی مسئلہ ہوا، لہٰذا بغیر گواہوں کے جو نکاح ہے اس میں ان کو اسی پر برقرار رکھا جائے گا، چاہے وہ اسلام لے آئیں چاہے وہ مرافعہ کریں، صرف مسئلہ پوچھنے آئیں، قاضی ان میں جدائی نہیں کروائے گا۔ لیکن عدت کے اندر نکاح یہ تو اتفاقی مسئلہ ہے، تمام فقہاء کے نزدیک عدت کے اندر عورت آگے نکاح نہیں کر سکتی۔ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ﴾، تو بالاتفاق عورت عدت کے اندر نکاح نہیں کر سکتی، تو یہ اتفاقی مسئلہ ان پر بھی لازم ہوگا۔ تو یہ اتفاقی مسئلہ ان پر بھی لازم تھا، وہ بھی عدت کے اندر نکاح نہیں کر سکتے تھے لیکن انہوں نے اپنے مذہب کے مطابق کیا اور ہم نے دخل نہیں دیا، لیکن اب تو اسلام لے آئے ہیں یا مرافعہ کر لیا ہے تو اب اسلامی حکم نافذ ہوگا، وہ نکاح کالعدم قرار دیا جائے گا، اور پھر نئے سرے سے ان کو آپس میں نکاح کرنا پڑے گا۔ بات سمجھ میں آگئی، تو امام زفر کیا فرماتے ہیں؟ دونوں مسئلوں میں قاضی ان میں جدائی کروائے گا، اور امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں دونوں مسئلوں میں ان کو نکاح پر برقرار رکھا جائے گا، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں اتفاقی مسئلے کے اندر ان میں جدائی کروائیں گے یعنی عدت کے اندر اگر نکاح کیا ہے، اور اختلافی مسئلہ جو گواہوں والا ہے اس میں اسی نکاح پر ان کو برقرار رکھا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ وَمُحَمَّدٌ رَحِمَهُمَا اللَّهُ فِي الْوَجْهِ الْأَوَّلِ كَمَا قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، اور صاحبین فرماتے ہیں پہلی صورت کے اندر یعنی بغیر گواہوں کے جو نکاح ہے اس میں وہ اسی طرح فرماتے ہیں كَمَا قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ جیسے امام صاحب نے فرمایا، وَفِي الْوَجْهِ الثَّانِي، اور دوسری صورت کے اندر جس میں عدت کے اندر نکاح کیا تھا، كَمَا قَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ، وہ اسی طرح فرماتے ہیں جیسے امام زفر رحمہ اللہ نے فرمایا۔ لَهُ، امام زفر رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے: أَنَّ الْخِطَابَاتِ عَامَّةٌ عَلَى مَا مَرَّ مِنْ قَبْلُ فَتَلْزَمُهُمْ. بھئی یہ بات پہلے بھی گزر چکی ہے، یہ مسئلہ ذکر ہوا تھا کہ اگر ذمی آپس میں نکاح کرتے ہیں اور مہر کچھ بھی مقرر نہیں کرتے یا مردار کو مہر مقرر کرتے ہیں، تو امام زفر رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ وہاں پر مہر مثل آ جائے گا خود بخود، اس لیے کیونکہ احکام شریعت عام ہیں بھئی، یہ سب حضور علیہ السلام کی امت میں سے ہیں، اگرچہ یہ اسلام نہیں لائے لیکن یہ حضور علیہ السلام کی امت میں سے ہیں، تو یہ احکام سب کے لیے ہیں، لہٰذا ان کو بھی اس پر عمل کرنا پڑے گا۔ توجہ ہے؟ لہٰذا بغیر گواہوں کے نکاح کرنا ان کے لیے بھی جائز نہیں، اور عدت کے اندر نکاح کرنا ان کے لیے بھی جائز نہیں۔ ہاں ابھی تک یہ اسلام نہیں لائے تھے یا انہوں نے مرافعہ نہیں کیا تھا آکر مسئلہ نہیں پوچھا تھا تو ہم نے بھی دخل نہیں دیا، ہم نے بھی دخل نہیں دیا کیونکہ ہم نے ان کے ساتھ عقد ذمہ کیا ہوا ہے کہ ہم آپ کی دینی باتوں میں اور معاملات میں دخل نہیں دیں گے، اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کے وہ معاملات جائز ہو گئے تھے، صرف ہم نے دخل نہیں دیا تھا لیکن اب تو وہ اسلام لے آئے ہیں یا انہوں نے مرافعہ کر لیا ہے تو اب ہم دخل دیں گے اور ان میں جدائی کروائیں گے بھئی، پھر نئے سرے سے ان کو نکاح کرنا پڑے گا۔ لَهُ، امام زفر رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے: أَنَّ الْخِطَابَاتِ عَامَّةٌ، أَنَّ الْخِطَابَاتِ عَامَّةٌ، الْخِطَابَاتِ، میں نے اس پر جر پڑھا، کیا وجہ ہے؟ شاباش، یہ منصوب ہے، جمع مؤنث سالم اس کا نصب آتا ہی کس شکل میں ہے؟ کسرہ کی صورت میں، تو یہ منصوب ہی ہے، مجرور نہیں ہے بھئی، أَنَّ کا اسم ہے بھئی۔ لَهُ، امام زفر کی دلیل یہ ہے کہ ”أَنَّ الْخِطَابَاتِ عَامَّةٌ“ کہ خطابات عام ہیں۔ خطاب؟ بھئی خطاب کہتے ہیں وہ کلام جو دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر کیا جائے۔ یہ جو میں اس وقت تقریر کر رہا ہوں، آپ کی طرف متوجہ ہو کر، یہ سارا خطاب ہے۔ تو دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر جو کلام کیا جائے اسے کیا کہتے ہیں؟ خطاب۔ مراد اسلامی احکام ہیں۔ مراد کیا ہیں؟ اسلامی احکام۔ اس میں بھی تو شریعت ہم سے خطاب کرتی ہے، قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو، حج کرو، تو یہ جو سارے احکام ہیں، یہ سب خطاب ہیں۔ تو امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو شریعت کے خطاب ہیں، یعنی شریعت جو حکم دے رہی ہے، یہ عام ہیں، سب کو شامل ہیں، چاہے مسلمان ہو، چاہے کافر، سب کے لیے ہیں یہ احکام؛ کیونکہ یہ سب حضور علیہ السلام کی امت میں سے ہیں۔ ”لَهُ“ امام زفر رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے کہ ”أَنَّ الْخِطَابَاتِ عَامَّةٌ“ کہ یہ شریعت کے خطاب جو ہیں وہ عام ہیں، ”عَلَى مَا مَرَّ مِنْ قَبْلُ“ بوجہ اس کے جو ما قبل میں گزر گیا کہ یہ سب حضور کی امت ہیں، ”فَتَلْزَمُهُمْ“ تو یہ خطاب ان کافروں پر بھی لازم ہوں گے، ”وَإِنَّمَا لَا يُتَعَرَّضُ لَهُمْ لِذِمَّتِهِمْ“ اور ہم ان کے ساتھ تعرض نہیں کرتے، یعنی ہم ان میں دخل نہیں دیتے، ”لِذِمَّتِهِمْ“ ان کے ذمہ کی وجہ سے؛ کیونکہ ہم نے ان سے عہدِ ذمہ کیا ہوا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنَّمَا لَا يُتَعَرَّضُ لَهُمْ لِذِمَّتِهِمْ“ اور ان کے ساتھ تعرض نہیں کیا جائے گا ان کے ذمی ہونے کی وجہ سے، ”إِعْرَاضًا لَا تَقْرِيرًا“ یہ بطورِ اعراض کے ہوگا، نہ کہ بطورِ تقریر کے۔ اعراض کا معنی ہوتا ہے ایک چیز سے منہ موڑ لینا۔ اور تقریر کا معنی ہوتا ہے ایک چیز کو ثابت کرنا۔ تو یاد رکھو جب آپ کسی چیز میں دخل نہیں دیتے وہاں دو وجہیں ہو سکتی ہیں۔ یا تو مثلاً ایک شخص ایک کام کر رہا ہے، آپ کوئی دخل نہیں دیتے کیونکہ آپ کے خیال میں وہ ٹھیک کام کر رہا ہے، تو آپ کا دخل نہ دینا یہ تقريراً ہے، اثباتاً ہے کہ آپ اس کے کام کا اثبات کر رہے ہیں۔ توجہ ہے؟ اور بعض اوقات آپ کسی کام میں دخل نہیں دیتے، اعراض کرتے ہوئے رخ موڑ لیتے ہیں۔ اب ایک شخص ایک غلط کام کر رہا ہے لیکن آپ اس کام میں دخل نہیں دیتے، آپ کا مقصد یہ نہیں ہے کہ یہ ٹھیک کام کر رہا ہے، سب کو نظر آ رہا ہے یہ غلط کام کر رہا ہے، لیکن آپ بس اعراض کر لیتے ہیں، اس کے معاملے میں دخل نہیں دیتے کہ میں پہلے بھی اس کو بہت دفعہ سمجھا چکا ہوں، اب مجھے اس کے معاملے میں دخل نہیں دینا چاہیے۔ تو معلوم ہوا دخل نہ دینا یہ اعراض کے طور پر بھی ہو سکتا ہے اور تقریر کے طور پر بھی ہو سکتا ہے۔ تو امام زفر رحمہ اللہ کی دلیل ذکر فرما رہے ہیں صاحبِ ہدایہ کہ امام زفر کیا فرماتے ہیں؟ یہ ذمی کہ ان کے لیے بھی بغیر گواہوں کے نکاح جائز نہیں، ان کے لیے بھی عدت کے اندر نکاح جائز نہیں، لیکن ہم ان کے معاملات میں دخل نہیں دیں گے، اور یہ دخل کیوں نہیں دے رہے ہم؟ اعراض کرتے ہوئے، منہ موڑتے ہوئے۔ ایسا نہیں ہے کہ ہم بطورِ اثبات کے دخل نہیں دے رہے کہ ہم کہیں یہ ٹھیک ہے، بلکہ ہمارا دخل نہ دینا ان کے ذمی ہونے کی وجہ سے ہے، ہم ان سے اعراض کرتے ہوئے دخل نہیں دیتے، ان کے باطل کاموں پر اثبات کرتے ہوئے دخل نہ دیں ایسا نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنَّمَا لَا يُتَعَرَّضُ لَهُمْ لِذِمَّتِهِمْ“ اور تعرض ان سے نہیں کیا جائے گا ”لِذِمَّتِهِمْ“ ان کے ذمی ہونے کی وجہ سے، ”إِعْرَاضًا“ بطورِ اعراض کے ”لَا تَقْرِيرًا“ نہ کہ بطورِ اثبات کے۔ ”وَإِذَا تَرَافَعُوا أَوْ أَسْلَمُوا وَالْحُرْمَةُ قَائِمَةٌ وَجَبَتِ التَّفْرِيقُ“ امام زفر فرماتے ہیں: ”وَإِذَا تَرَافَعُوا“ اور جب انہوں نے خود مرافعہ کر لیا حکام کے پاس مسئلہ پوچھنے آ گئے ”أَوْ أَسْلَمُوا“ یا یہ خود مسلمان ہو گئے ”وَالْحُرْمَةُ قَائِمَةٌ“ اس حال میں کہ نکاح کی حرمت ابھی بھی موجود ہے، نکاح تو جو انہوں نے کیا تھا وہ تو حرام کیا تھا بھئی، شریعت نے تو اس کی اجازت نہیں دی تھی، تو وہ نکاح کی حرمت ابھی بھی موجود ہے کیونکہ شریعت کا حکم اسی طرح ہے، ”وَجَبَتِ التَّفْرِيقُ“ تو واجب ہو گئی جدائی کروانا۔ ان میں اب کیا کروائی جائے گی؟ جدائی کروائی جائے گی کیونکہ یہ مسلمان ہو گئے ہیں یا انہوں نے خود آ کر مسئلہ پوچھا ہے، اب قاضی دخل دے گا۔ پہلے تو دخل نہیں دیا تھا لیکن اب دخل دے گا اور اب ان میں جدائی کروائی جائے گی۔ ”وَلَهُمَا“ اور صاحبین کی دلیل یہ ہے، صاحبین کی دلیل میں نے کیا بتلائی؟ صاحبین فرماتے ہیں: اتفاقی مسئلہ جو ہے وہ ان پر بھی لازم ہے اور اختلافی مسئلہ ان پر لازم نہیں۔ یہ بات پیچھے بھی گزری تھی وہی جہاں ایک ذمی نے ذمیہ سے نکاح کیا مردار پر یا بغیر مہر کے۔ تو صاحبین کیا فرماتے تھے؟ صاحبین فرماتے تھے کہ یہ جو ذمی ہیں انہوں نے عہدِ ذمہ، انہوں نے ہمارے ساتھ معاہدہ کیا ہے کہ یہ ہمارے قوانین کی پابندی کریں گے۔ تو انہوں نے اپنے اوپر التزام بھی کیا ہے، اپنے اوپر ان قوانین کو تسلیم کیا ہے جن کا تعلق معاملات سے ہے۔ بھئی دیکھو نا! جب ذمی دار الاسلام میں رہتے ہیں تو مسلمانوں کو بھی ان کے ساتھ معاملات کرنے کی حاجت پیش آئے گی۔ اب دو صورتیں ہیں: یا تو مسلمانوں کو ان کے تابع کر دیا جائے معاملات میں، یا ان کو مسلمانوں کے تابع کر دیا جائے۔ مسلمانوں کو تو ذمیوں کے تابع نہیں کیا جا سکتا۔ مسلمانوں کو تو ذمیوں کے تابع نہیں کیا جا سکتا کیونکہ دار الاسلام ہے، تو پھر ظاہر سی بات ہے ذمیوں کو مسلمانوں کے تابع قرار دیا جائے گا اور ان کو معاملات مسلمانوں کے مطابق کرنا پڑیں گے، کیونکہ ہمیں بھی ان کے ساتھ معاملات کی ضرورت پیش آئے گی، تو ان کو پابند کیا جائے گا کہ یہ معاملات صرف تمہیں آپس میں نہیں کرنے بلکہ مسلمانوں کے ساتھ بھی تمہیں ضرورت پیش آئے گی، لہٰذا تمہیں اسلامی قوانین کے مطابق ہی یہ معاملات کرنے پڑیں گے۔ تو انہوں نے جب ہمارے ساتھ معاہدہ کر لیا ہے ذمی بن کر رہیں گے تو انہوں نے خود اپنے اوپر ہمارے قوانین کو لازم کر لیا۔ اور نیز ہمارے پاس حکومت بھی موجود ہے، اسلامی حکومت ہے، ہمارے پاس ولایتِ الزام بھی ہے، ہم جبراً بھی ان پر قوانین کیا کر سکتے ہیں؟ لازم کر سکتے ہیں۔ تو یہاں پر جب اسلامی سلطنت میں رہتے ہیں تو یہاں انہوں نے التزام بھی کیا ہوا ہے اور نیز ہمیں ولایتِ الزام بھی ہے کیونکہ اسلامی حکومت ہے، ہماری حکومت ہے، تو لہٰذا اب ان پر یہ قوانین لازم ہوں گے۔ تو وہی بات ذکر کر رہے ہیں یہاں پر: ”وَلَهُمَا أَنَّ حُرْمَةَ نِكَاحِ الْمُعْتَدَّةِ مُجْمَعٌ عَلَيْهَا“ اور صاحبین کی دلیل یہ ہے کہ معتدہ کے نکاح کا حرام ہونا ”مُجْمَعٌ عَلَيْهَا“ یہ تو مجمع علیہ مسئلہ ہے، یعنی جس پر تمام امت کا اجماع ہے بھئی، کیونکہ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ﴾، تو لہٰذا یہ تو اجماعی مسئلہ ہے، یعنی مجمع علیہ مسئلہ ہے جس پر ساری امت کا اجماع ہے۔ تو لہٰذا اس کی تو ان کو بھی اجازت نہیں ہوگی بھئی۔ البتہ اختلافی مسئلے میں ان کے لیے گنجائش ہوگی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَهُمَا“ صاحبین کی دلیل یہ ہے کہ ”أَنَّ حُرْمَةَ نِكَاحِ الْمُعْتَدَّةِ مُجْمَعٌ عَلَيْهَا“ کہ معتدہ کے نکاح کا حرام ہونا یہ تو مجمع علیہ مسئلہ ہے، ”فَكَانُوا مُلْتَزِمِينَ لَهَا“ تو یہ اس کا التزام کرنے والے ہیں، یعنی انہوں نے ہمارے ساتھ عہدِ ذمہ کر کے خود ہی ان قوانین کا اپنے اوپر التزام کیا ہوا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”فَكَانُوا مُلْتَزِمِينَ لَهَا“ تو یہ اس کا اپنے اوپر التزام کرنے والے ہیں، ”وَحُرْمَةُ نِكَاحٍ بِغَيْرِ شُهُودٍ مُخْتَلَفٌ فِيهِ“ اور بغیر گواہوں کے جو نکاح کی حرمت ہے ”مُخْتَلَفٌ فِيهِ“ وہ تو مختلف فیہ ہے، اس میں تو مجتہدین کا آپس میں اختلاف ہے بھئی، فقہاء کا آپس میں اختلاف ہے، ”وَلَمْ يَلْتَزِمُوا أَحْكَامَنَا بِجَمِيعِ الِاخْتِلَافَاتِ“ اور انہوں نے التزام نہیں کیا ہمارے احکام کا تمام اختلافات کے ساتھ، یعنی وہ اختلافات کے ساتھ جو احکام ہیں ان کا اپنے اوپر التزام نہیں کیا، اس میں تو فقہاء خود آپس میں اختلاف کرتے ہیں، تو وہ ان پر لازم نہیں، اس کا انہوں نے اپنے اوپر التزام نہیں کیا، یہ معنی ہے ”وَلَمْ يَلْتَزِمُوا أَحْكَامَنَا“ اور انہوں نے ہمارے احکام کا التزام نہیں کیا ”بِجَمِيعِ الِاخْتِلَافَاتِ“ تمام اختلافات کے ساتھ۔ ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ“ اب امام صاحب کی دلیل آ گئی۔ ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ“ امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ ”أَنَّ الْحُرْمَةَ لَا يُمْكِنُ إِثْبَاتُهَا حَقًّا لِلشَّرْعِ“۔ ”أَنَّ الْحُرْمَةَ“ یہ جو حرمت ہے، یہ جو انہوں نے پیچھے بتایا بغیر گواہوں کے نکاح کرنا اور اسی طرح عدت کے اندر نکاح کرنا، دیکھو یہ حرام ہیں۔ بغیر گواہوں کے نکاح کرنا شریعت میں حرام، اسی طرح عدت کے اندر نکاح کرنا یہ شریعت میں حرام۔ تو یہاں یہ جو ”الْحُرْمَةَ“ آیا اس سے مراد یہ جو ما قبل میں نکاح ذکر ہوئے ان کی حرمت مراد ہے۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں: ”أَنَّ الْحُرْمَةَ“ کہ یہ والے جو نکاح ہیں ان کی جو حرمت ہے، ان کا جو حرام ہونا ہے ”لَا يُمْكِنُ إِثْبَاتُهَا حَقًّا لِلشَّرْعِ“ ممکن نہیں ہے کہ اس حرمت کو ثابت کیا جائے بطورِ شریعت کے حق کے، یعنی ذمیوں کے حق میں اس نکاح کی حرمت کو ثابت کیا جائے کہ ذمیوں کے لیے بھی یہ نکاح حرام ہے، نہیں، ذمیوں کے حق میں ان نکاحوں کی حرمت کو ہم ثابت نہیں کر سکتے بطورِ حقِ شرع کے بھی، کیونکہ یہ شریعت کے مخاطب نہیں ہیں بھئی۔ آسان لفظوں میں یوں کہو، شرعی احکام کو ان کے اوپر لازم نہیں کیا جا سکتا کہ شریعت کا حق ہے تمہیں بھی کرنا پڑیں گے، نہیں بھئی، شرعی احکام ان پر لازم نہیں ہیں بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ چنانچہ اسی لیے شریعت کے اندر تو شراب اور خنزیر ان کا کھانا پینا بھی حرام اور ان کی بیع و شراء بھی حرام ہے، لیکن مملکتِ اسلامیہ کے اندر رہنے کے باوجود ان کے لیے شراب اور خنزیر کا کھانا پینا بھی جائز اور اس کی بیع و شراء بھی ان کے لیے جائز ہے۔ معلوم ہوا کہ یہ شریعتِ اسلامیہ کے احکام ان پر لازم نہیں ہیں بھئی۔ ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ“ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ ”أَنَّ الْحُرْمَةَ لَا يُمْكِنُ إِثْبَاتُهَا حَقًّا لِلشَّرْعِ“ کہ یہ جو حرمت ہے ممکن نہیں ہے اس کو ثابت کیا جائے ”حَقًّا لِلشَّرْعِ“ بطورِ حقِ شرع کے، شریعت کے حق کے طور پر بھی اس حرمت کو ان کے حق میں ثابت نہیں کیا جا سکتا، اس لیے کیونکہ انہوں نے شریعتِ اسلامیہ کے قوانین کا اپنے اوپر التزام نہیں کیا۔ نہ انہوں نے التزام کیا ہے، نہ ہمارے پاس ولایتِ الزام ہے، کیونکہ ولایتِ الزام تو تلوار کے ذریعے ہوگی یا بحث و مباحثے کے ذریعے ہوگی، جیسے چند صفحے قبل یہ مسئلہ گزرا تھا، تو نہ ہمارے پاس ولایتِ الزام ہے۔ ولایتِ الزام کیوں نہیں؟ کیونکہ ہم نے خود ان سے معاہدہ کیا ہوا ہے، یہ ذمی ہیں بھئی کہ ہم تمہارے معاملات میں دخل نہیں دیں گے، تو لہٰذا ہم ان پر جبر بھی نہیں کر سکتے، اور نیز انہوں نے خود بھی شریعت کے قوانین کا اپنے اوپر التزام نہیں کیا۔ تو یہ جو نکاح حرام تھا، اس حرمت کو ان کے حق میں ثابت نہیں کیا جا سکتا شریعت کے حق کے طور پر۔ بطورِ حقِ شریعت کے ان کے اوپر یہ جو انہوں نے نکاح کیا ہے بغیر گواہوں کے، عدت کے اندر، اس کی حرمت کو ان کے لیے ثابت نہیں کیا جا سکتا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ“ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ ”أَنَّ الْحُرْمَةَ لَا يُمْكِنُ إِثْبَاتُهَا“ کہ یہ جو نکاح کی حرمت ہے ممکن نہیں ہے اس کو ثابت کیا جائے ”حَقًّا لِلشَّرْعِ“ بطورِ شریعت کے حق کے، ”لِأَنَّهُمْ لَا يُخَاطَبُونَ بِحُقُوقِهِ“ اس لیے کیونکہ یہ جو ذمی ہیں یہ حقوقِ شریعت کے مخاطب نہیں ہیں، احکامِ شریعت ان کی طرف متوجہ نہیں ہیں۔ جیسے میں نے مثال ذکر کر دی: شراب اور خنزیر، شریعت میں شراب کا پینا اور خنزیر کا کھانا منع ہے، اور ان کی بیع و شراء بھی منع ہے، لیکن یہ ذمی شراب پیتے ہیں اور خنزیر کھاتے ہیں اور ان کی بیع و شراء بھی کرتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُمْ لَا يُخَاطَبُونَ بِحُقُوقِهِ“ اس لیے کیونکہ یہ ذمی جو ہیں یہ حقوقِ شرع کے مخاطب نہیں ہیں، یعنی شرعی احکام کے مخاطب نہیں ہیں۔ ”وَلَا وَجْهَ إِلَى إِيجَابِ الْعِدَّةِ حَقًّا لِلزَّوْجِ“ دوسری صورت یہ ہے کہ یہ جو عدت والا مسئلہ تھا، عدت والا مسئلہ تھا اس میں، اس میں تو حق العبد بھی تھا۔ کیا تھا؟ حق العبد۔ بھئی بغیر گواہوں کے آپ نکاح نہیں کر سکتے یہ حقِ شرع ہے، لیکن آپ عدت کے اندر نکاح نہیں کر سکتے یہ حقِ شرع بھی ہے، شریعت نے بھی منع کیا ہے، اور نیز یہ حق العبد بھی ہے، یہ اس خاوند کا حق ہے۔ یہ اس خاوند کا حق ہے کہ اس کی عدت کے اندر بیوی نکاح نہ کرے کیونکہ ہو سکتا ہے بیوی خاوند سے حاملہ ہو۔ تو نسب کی حفاظت کے لیے یہ خاوند کا حق ہے عورت پر کہ وہ اس دوران نکاح نہیں کر سکتی۔ یہ کس کا حق ہے؟ خاوند کا حق ہے کہ کہیں عورت اس سے حاملہ نہ ہو بھئی۔ تو لہٰذا بغیر گواہوں کے نکاح یہ بھی حقِ شرع ہے، تو اس میں تو بتلا دیا کہ یہ حقوقِ شرع کے مخاطب نہیں ہیں، اور عدت کے اندر تو حق العبد بھی ہے، خاوند کا حق ہے۔ اس میں خاوند کا حق ہے، کہتے ہیں خاوند کے حق کے طور پر بھی عدت کو ان پر ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ عدت میں خاوند کا حق ہے لیکن خاوند کے حق کے طور پر بھی ذمیہ پر عدت کو واجب نہیں کر سکتے۔ بھئی کیوں نہیں کر سکتے؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ خاوند کا اعتقاد نہیں۔ ایک ذمی نے اس عورت کو طلاق دی تھی اور پھر اس عورت نے عدت کے اندر ایک اور ذمی سے نکاح کر لیا، اور یہ ان کے دین میں بھی جائز ہے۔ یہ ان کے دین میں بھی جائز ہے۔ معلوم ہوا جس ذمی نے طلاق دی تھی اس کا یہ عقیدہ ہی نہیں ہے کہ میرا حق ہے اس عورت پر کہ یہ عدت گزارے۔ معلوم ہوا اس ذمی کا یہ اعتقاد نہیں، جب اس کا یہ اعتقاد ہی نہیں ہے، وہ اس عدت کو اپنا حق سمجھتا ہی نہیں ہے، تو بطورِ حق العبد کے بھی یہ عدت عورت پر واجب نہیں کی جا سکتی۔ حقِ شرع کے طور پر بھی عدت واجب نہیں ہو سکتی کیونکہ شرعی احکام اس کی طرف متوجہ نہیں، اور نیز خاوند کے حق کے طور پر بھی ذمیہ پر عدت کو واجب قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ خاوند کا یہ اعتقاد نہیں ہے، کیونکہ ان کے نزدیک تو عدت میں بھی نکاح جائز ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَلَا وَجْهَ إِلَى إِيجَابِ الْعِدَّةِ حَقًّا لِلزَّوْجِ“ اور اس کی بھی کوئی صورت نہیں ہے کہ عدت کو واجب کر دیا جائے خاوند کے حق کے طور پر، ”لِأَنَّهُ لَا يَعْتَقِدُهُ“ اس لیے کیونکہ خاوند کا تو یہ اعتقاد ہی نہیں ہے، وہ تو اس کو اپنا حق سمجھتا ہی نہیں ہے۔ مسلمان جب کسی عورت کو طلاق دیتا ہے تو پھر اس صورت میں یاد رکھو مسلمان کو پتہ ہے عورت پر عدت واجب ہوگی، یہ عدت کے اندر آگے نکاح نہیں کر سکتی، تو مسلمان تو اس عدت کو اپنا حق سمجھتا ہے، لیکن کافر کا تو یہ اعتقاد ہی نہیں، وہ اس کو اپنا حق سمجھتا ہی نہیں۔ جب وہ اس کو اپنا حق نہیں سمجھتا تو آپ اس کے حق کے طور پر عورت پر کیسے واجب کر سکتے ہیں؟ تو یہ معنی ہے: ”لِأَنَّهُ لَا يَعْتَقِدُهُ“ اس لیے کیونکہ وہ خاوند جو ہے وہ تو اس کا اعتقاد ہی نہیں رکھتا، ”بِخِلَافِ مَا إِذَا كَانَتْ تَحْتَ مُسْلِمٍ“ بخلاف اس کے کہ اگر وہ ذمیہ کسی مسلمان کے تحت تھی، ”لِأَنَّهُ يَعْتَقِدُهُ“ مسلمان تو اس وجوبِ عدت کا اعتقاد رکھتا ہے، تو پھر اس صورت کے اندر جدائی کروائے گا قاضی۔ امام صاحب کیا فرماتے ہیں کہ بغیر گواہوں کے ذمیوں نے نکاح کر لیا، یا عدت کے اندر ذمی نے نکاح کر لیا ایک عورت سے، اور پھر یہ اسلام لے آئے یا مرافعہ کیا، تو ان کے نکاح کو برقرار رکھا جائے گا۔ اس لیے کیونکہ یہ شرعی احکام ان کی طرف متوجہ نہیں ہیں، یہ شرعی احکام کے مخاطب نہیں ہیں۔ جب یہ اس کے مخاطب نہیں ہیں تو یہ جو حرمت ہے یہ شریعت کے حق کے طور پر بھی ان پر لازم نہیں کی جا سکتی کہ تمہارے لیے تو یہ نکاح حرام تھا یہ ان کو نہیں کہا جا سکتا، شریعت کے حق کے طور پر۔ اور نیز خاوند کے حق کے طور پر عورت پر عدت کو بھی واجب قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ خاوند کا تو اعتقاد ہی نہیں ہے کہ یہ اس کا حق ہے بھئی۔ لیکن اگر یہ ذمیہ مسلمان کے نکاح میں تھی، آپ جانتے ہیں اہلِ کتاب عورتوں سے مسلمان کے لیے نکاح جائز ہے، تو اگر یہ ذمیہ کسی مسلمان کے نکاح میں تھی اور اس مسلمان نے اس کو طلاق دی ہے، توجہ ہے؟ اور پھر اس نے عدت کے اندر کسی اور ذمی سے نکاح کر لیا ہے، ویسے تو ہم دخل نہیں دیں گے لیکن اگر انہوں نے مرافعہ کیا یا یہ اسلام لائے دونوں، پھر جدائی کروائی جائے گی کیونکہ اب یہاں اگرچہ وہ عدت حقِ شرع کے طور پر تو عورت پر واجب نہیں ہو سکتی تھی لیکن خاوند تو مسلمان تھا، خاوند کا تو یہ اعتقاد تھا کہ اس عورت کو کیا گزارنی پڑے گی؟ عدت گزارنا پڑے گی بھئی، تو لہٰذا پھر اس صورت میں عورت پر عدت کو واجب قرار دیا جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: ”بِخِلَافِ مَا إِذَا كَانَتْ تَحْتَ مُسْلِمٍ“ بخلاف اس کے کہ جب یہ ذمیہ کسی مسلمان کے تحت تھی یعنی مسلمان کی بیوی تھی، ”لِأَنَّهُ يَعْتَقِدُهُ“ کیونکہ مسلمان تو اس عدت کا اعتقاد رکھتا ہے کہ یہ اس پر واجب ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا صَحَّ النِّكَاحُ“ تو جب یہ نکاح صحیح ہو گیا، جب یہ نکاح صحیح ہو گیا، کون سی صورت؟ وہ جو متن میں آیا تھا: بغیر گواہوں کے نکاح کر لیا ہے یا کافر کی عدت کے اندر ایک ذمیہ نے نکاح کر لیا ہے، تو امام صاحب کے نزدیک ان کا نکاح صحیح ہوا۔ اور جب نکاح صحیح ہوا اور اب یہ دونوں مسلمان ہوئے ہیں، دونوں مسلمان ہوئے ہیں یا ان دونوں نے مرافعہ کیا ہے، تو یہ تو حالتِ بقاء ہے۔ ایک ہے ابتداءِ نکاح، ایک ہے بقاءِ نکاح۔ جب عقد کرنے لگے وہ تھا ابتداءِ نکاح، نکاح کی ابتداء ہو رہی تھی، اور عقد تو گزر گیا، اب کون سی صورت ہے؟ بقاءِ نکاح ہے، نکاح ابھی باقی ہے ان دونوں کے درمیان۔ تو یہ دونوں نے جب مرافعہ کیا اور قاضی کے پاس آئے ہیں یا دونوں مسلمان ہو گئے ہیں، تو یہ بقاءِ نکاح کی حالت ہے یا ابتداءِ نکاح کی حالت ہے؟ ابتداءِ نکاح کب تھا؟ جب عقد کیا تھا بھئی، جب ایجاب اور قبول کر رہے تھے اس وقت نکاح کا آغاز ہو رہا تھا، وہ تھا ابتداءِ نکاح، اور اس کے بعد اب سارا کیا ہے؟ بقاءِ نکاح ہے۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ جس وقت انہوں نے یہ نکاح کیا تھا تو اس وقت ان کے لیے یہ عقد حرام نہیں تھا ہم نے بتا دیا، نہ تو بطورِ شریعت کے حق کے یہ نکاح ان کے لیے حرام تھا کیونکہ شریعتِ اسلامی تو ان کی طرف متوجہ ہی نہیں ہے، اور نہ خاوند کے حق کے طور پر اس عدت کے اندر نکاح حرام تھا۔ اب یہ قاضی کے پاس آئے ہیں، مرافعہ کیا ہے یا دونوں مسلمان ہو گئے ہیں، تو یہ بقاءِ نکاح کی حالت ہے، ابتداءِ نکاح کی حالت نہیں۔ ابتداءِ نکاح کے اندر گواہ نہ ہوں تو نکاح نہیں ہو سکتا مسلمانوں میں، لیکن اب یہ مسلمان ہوئے ہیں یا اسلامی حکم معلوم کرنے آئے ہیں، اب تو ابتداءِ نکاح نہیں ہے، اب یہ تو بقاءِ نکاح کی حالت ہے، اور بقاءِ نکاح کے لیے گواہوں کا ہونا شرط نہیں ہے۔ بقاءِ نکاح کے لیے گواہوں کا ہونا شرط نہیں، بھئی دیکھو مثلاً ایک مسلمان ایک مسلمان عورت کے ساتھ نکاح کرتا ہے، دو گواہوں کی موجودگی میں دونوں نے نکاح کر لیا، تو دیکھو یہ نکاح جو ہے بغیر گواہوں کے نہیں ہو سکتا، ابتداءِ نکاح میں ان گواہوں کا ہونا ضروری ہے، لیکن بعد میں ان گواہوں کی کوئی اب ضرورت نہیں، اب بعد میں اگر ان گواہوں کا انتقال بھی ہو جائے اس نکاح پر اب کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ معلوم ہوا ابتداءِ نکاح میں تو گواہوں کا ہونا ضروری ہے، بقاءِ نکاح کے اندر گواہوں کا ہونا ضروری نہیں۔ تو لہٰذا امام صاحب کی دلیل چل رہی ہے، امام صاحب فرماتے ہیں کہ ابتداءِ نکاح میں گواہ نہیں تھے لیکن اس وقت تو شریعت ان کی طرف متوجہ ہی نہیں، ان کا نکاح ہو گیا۔ اب جب یہ دونوں مسلمان ہوئے ہیں یا مرافعہ کیا ہے تو اب بقاءِ نکاح کی حالت ہے، اور بقاءِ نکاح کے اندر تو گواہوں کا ہونا ضروری نہیں، گواہوں کا ہونا شرط نہیں ہے، لہٰذا اسی نکاح کو برقرار رکھیں گے کیونکہ اب بقاءِ نکاح کا معاملہ ہے، ابتداءِ نکاح کا معاملہ نہیں۔ یہ اب جب دونوں مسلمان ہو رہے ہیں یا مرافعہ کر رہے ہیں تو یہ کون سا وقت ہے؟ بقاءِ نکاح کا وقت ہے اور بقاءِ نکاح کے لیے تو گواہوں کی شرط نہیں، لہٰذا اسی نکاح کو برقرار رکھا جائے گا۔ دوسری صورت لے لیں، امام صاحب کی دلیل چل رہی ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ عدت کے اندر انہوں نے نکاح کیا تھا، اور اس وقت نکاح کو ہم حرام نہیں کہہ سکتے اس لیے کیونکہ شریعت ان کی طرف متوجہ ہی نہیں ہے، وہ مخاطب ہی نہیں ہے شریعت احکام کے، تو معلوم ہوا ابتداءِ نکاح ان کے حق میں ٹھیک ہو گیا۔ ابتداءِ نکاح ٹھیک ہو گیا، اب دونوں مسلمان ہو گئے ہیں یا انہوں نے مرافعہ کیا ہے، لیکن یہ بقاءِ نکاح کی حالت میں کیا ہے۔ دونوں مسلمان ہو گئے یا مرافعہ کیا کس حالت میں؟ بقاءِ نکاح کی حالت میں، اور عدت بقاءِ نکاح کے منافی نہیں ہے، لہٰذا یہاں پر بھی ان میں جدائی نہیں کروائیں گے۔ یہاں بھی جدائی نہیں، کیونکہ عدت بقاءِ نکاح کے منافی نہیں ہے۔ یعنی یعنی نکاح کے ساتھ عدت بھی آ سکتی ہے، توجہ ہے؟ تو اس پر اشکال ہوتا ہے کہ نکاح بھی ہو اور عدت بھی آ جائے، یہ کیسے؟ امام صاحب فرما رہے ہیں نا: عدت بقاءِ نکاح کے منافی نہیں ہے، عدت بقاءِ نکاح کے ساتھ جمع ہو سکتی ہے۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ عدت تو نکاح ٹوٹنے کے بعد آیا کرتی ہے، طلاق دینے کے بعد عدت آتی ہے، تو معلوم ہوا نکاح کے ساتھ تو عدت نہیں آتی، نکاح کے بعد عدت آیا کرتی ہے، لیکن صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ نہیں بھئی، عدت بھی نکاح کے منافی نہیں۔ کس کی دلیل ذکر ہو رہی ہے؟ امام صاحب کی، امام صاحب فرماتے ہیں: عدت بھی بقاءِ نکاح کے منافی نہیں ہے، نکاح بھی ہو اور عدت بھی عورت پر آ جائے ایسا ہو سکتا ہے۔ مثلاً ایک شخص ہے وہ غائب ہے بھئی، عورت نے ایک آدمی سے نکاح کیا تھا اور وہ شخص غائب ہو گیا، اب کئی سال گزر گئے اس کا پتہ ہی نہیں ہے، تو عورت نے خیال کیا کہ یقیناً وہ مر گیا ہوگا، اس عورت نے ایک شخص سے نکاح کر لیا اور کیا کہا: میرا خاوند مر چکا ہے۔ اس شخص نے اس کے ساتھ صحبت کر لی، لیکن اتفاق سے چند دن کے بعد وہ پہلا خاوند پھر واپس آ گیا۔ تو یاد رکھو یہ جو بیوی ہے اس کا دوسرا نکاح شمار نہیں ہوگا کیونکہ ابھی وہ پہلے خاوند کی منکوحہ ہے، تو یہ دوسرا نکاح کالعدم ہو جائے گا، لیکن اس دوسرے خاوند نے صحبت تو کی ہے اس کے ساتھ، توجہ ہے؟ صحبت تو کی ہے، تو اس صورت میں عورت پر عدت واجب ہوگی، وہ پہلا خاوند اس بیوی کے ساتھ فوراً صحبت نہیں کر سکتا بلکہ عورت کو پوری عدت گزارنا پڑے گی پھر پہلا خاوند اس کے ساتھ صحبت کر سکتا ہے۔ توجہ ہے؟ تو دیکھو نکاح بھی موجود ہے اور عورت عدت بھی گزار رہی ہے، معلوم ہوا عدت بقاءِ نکاح کے منافی نہیں ہے۔ ابتداءِ نکاح کے تو منافی ہے عدت، جب عدت میں ہو تو نکاح نہیں ہو سکتا، لیکن بقاءِ نکاح کے منافی نہیں ہے عدت بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا صَحَّ النِّكَاحُ“ اور جب ان کا نکاح صحیح ہو گیا، یہ ذمی اور ذمیہ کا نکاح صحیح ہو گیا کیونکہ شریعت کے یہ مخاطب نہیں ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا صَحَّ النِّكَاحُ“ اور جب ان کا یہ نکاح صحیح ہو گیا، ”فَحَالَةُ الْمُرَافَعَةِ وَالْإِسْلَامِ حَالَةُ الْبَقَاءِ“ تو یہ جو مرافعہ اور اسلام لانے کی حالت ہے ”حَالَةُ الْبَقَاءِ“ یہ کون سی حالت ہے؟ بقاءِ نکاح کی حالت ہے، ”وَالشَّهَادَةُ لَيْسَتْ شَرْطًا فِيهَا“ اور اس بقاءِ نکاح کی حالت میں تو شہادت شرط نہیں ہے، گواہ مر بھی جائیں نکاح باقی رہتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَالشَّهَادَةُ لَيْسَتْ شَرْطًا فِيهَا“ اور بقاءِ نکاح کی حالت میں تو گواہی شرط نہیں ہے، ”وَكَذَا الْعِدَّةُ لَا تُنَافِيهَا“ اور اسی طرح عدت جو ہے وہ بھی بقاءِ نکاح کی حالت کے منافی نہیں ہے، بقاءِ نکاح کے ساتھ عدت آ سکتی ہے، ”كَالْمَنْكُوحَةِ إِذَا وُطِئَتْ بِشُبْهَةٍ“ جیسے وہ عورت جو منکوحہ ہے جس کا نکاح ہو چکا ہے ”إِذَا وُطِئَتْ بِشُبْهَةٍ“ جب اس سے صحبت کر لی جائے شبہے کی وجہ سے۔ بھئی وہی مسئلہ جو میں نے ابھی بیان کیا: ایک عورت کا خاوند بڑے عرصے سے غائب ہے اور وہ سمجھی وہ مر چکا ہے اور اس نے آگے نکاح کر لیا اور دوسرے شخص نے پھر اس سے صحبت بھی کر لی، اس کا کیا خیال تھا کہ اس عورت کا خاوند مر چکا ہے بھئی، تو اس نے نکاح کر لیا اور پھر اس عورت سے صحبت کر لی، اور بعد میں پھر وہ خاوند واپس آ گیا تو پھر یہ عورت پہلے ہی خاوند کی بیوی ہے اور دوسرا نکاح کالعدم ہے، اس کا کوئی اعتبار نہیں، جب دوسرے نکاح کا کوئی اعتبار نہیں تو معلوم ہوا اس دوسرے خاوند نے جو صحبت کی ہے وہ وطی بالشبہہ ہے۔ وہ وطی بالشبہہ ہے، اس نے تو اس شبہے میں صحبت کی کہ شاید میرا نکاح ہو چکا ہے، یہ میری منکوحہ ہے، حالانکہ حقیقت میں تو یہ نکاح ہوا ہی نہیں، تو یہ جو وطی تھی یہ وطی شبہ کی وجہ سے ہوئی تھی اور اس کی وجہ سے اب اس عورت پر عدت آئے گی، اب پہلا خاوند اس عورت سے صحبت نہیں کر سکتا جب تک کہ عورت عدت نہ گزار لے۔ تو یہ جو منکوحہ ہے اس کے ساتھ جو وطی کی گئی یہ کیا تھی؟ وطی بالشبہہ تھی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”كَالْمَنْكُوحَةِ إِذَا وُطِئَتْ بِشُبْهَةٍ“ جیسے کہ منکوحہ عورت ”إِذَا وُطِئَتْ“ جب اس سے وطی کر لی جائے ”بِشُبْهَةٍ“ شبہے کی وجہ سے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو حاصلِ کلام کیا؟ کہ ذمیوں نے آپس میں بغیر گواہوں کے نکاح کیا ہے یا عدت کے اندر عورت نے نکاح کیا ہے، توجہ ہے؟ تو پھر اس صورت کے اندر امام صاحب فرماتے ہیں: اگر یہ اسلام لے آئے یا مرافعہ کیا تو یہ بقاءِ نکاح کی حالت ہے، لہٰذا ان کو اسی نکاح پر برقرار رکھا جائے گا، دوبارہ نئے سرے سے نکاح کرنے کی حاجت نہیں ہے بھئی۔ یہاں پر، یہاں پر بعض محشی حضرات نے بڑی قیمتی بات لکھی۔ کہتے ہیں یہ جو عدت کے مسئلے میں اختلاف ذکر ہوا امام صاحب کا اور صاحبین کا، یہ اختلاف اس صورت میں ہے کہ جب عدت ابھی چل رہی ہو، ایک ذمیہ عورت نے ذمی کے ساتھ نکاح کیا ہے عدت کے اندر، اور ابھی یہ عدت پوری نہیں ہوئی، عدت چل رہی ہے، اسی دوران دونوں مسلمان ہو گئے یا دونوں نے مرافعہ کر لیا۔ تو کہتے ہیں اس صورت میں اختلاف ہے۔ اس صورت میں جب ابھی عدت چل رہی ہے، اس وقت صاحبین فرماتے ہیں ان میں مرافعہ یا اسلام کی صورت میں قاضی جدائی کروائے گا، جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ نہیں، قاضی جدائی نہیں کرے گا کیونکہ یہ بقاءِ نکاح کی حالت ہے بھئی۔ تو یہ اختلاف کس صورت میں ہے؟ بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ اختلاف جب ابھی عدت چل رہی ہو اس صورت میں اختلاف ہے، اور اگر عدت گزر چکی ہے، ایک عورت نے ایک ذمی سے نکاح کیا تھا اور ایک سال پہلے نکاح کیا تھا عدت کے اندر، اب تو عدت گزر چکی ہے، اب آ کر وہ مرافعہ کرتے ہیں یا اسلام لے کر آتے ہیں دونوں، تو اس صورت میں کہتے ہیں صاحبین بھی امام صاحب کے ساتھ ہی ہیں کہ وہ عدت تو گزر چکی ہے، لہٰذا وہ بھی فرماتے ہیں کہ اس نکاح کو اسی طرح برقرار رکھا جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور کہتے ہیں چنانچہ اسی لیے صاحبِ ہدایہ کی عبارت میں بھی اس کی طرف اشارہ ہے۔ صاحبِ ہدایہ نے کس طرح ذکر کیا: ”وَكَذَا الْعِدَّةُ لَا تُنَافِيهَا“ کہ عدت بھی منافی نہیں ہے بقاءِ نکاح کی حالت کے، عدت منافی نہیں ہے بقاءِ نکاح کی حالت میں، تو عدت ابھی موجود ہے اور مرافعہ کر لیا یا اسلام لے آئے، تو یہ عدت بقاءِ نکاح کی حالت کے منافی نہیں ہے، یہ عدت جو اس وقت بھی موجود ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے۔ مسئلہ بھی سمجھ میں آیا کہ نہیں؟ تو کہتے ہیں صاحبِ ہدایہ نے بھی اسی بات کی طرف اشارہ کیا ہے اپنی عبارت کے ذریعے کہ وہ فرماتے ہیں: ”وَكَذَا الْعِدَّةُ لَا تُنَافِيهَا“ عدت بھی بقاءِ نکاح کے منافی نہیں ہے، معلوم ہوا عدت ابھی موجود ہے پھر بھی اس کی منافات نہیں ہے۔ اگر عدت گزر گئی تو پھر تو عدت گزر چکی ہے تو اب منافات، اب کہاں سے منافات بھئی؟ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں صاحبِ ہدایہ کی جو عبارت ہے ”وَكَذَا الْعِدَّةُ لَا تُنَافِيهَا“ اس میں اسی بات کی طرف اشارہ ہے۔ چلیے بس کریں، بات سمجھ میں آ گئی۔ چلیے بس بھئی، ”هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“۔