آگے سبق دیکھیے بھئی شرح میں دیکھیے شرح میں۔ قَوْلُهُ الْقَضِيَّةُ قَوْلٌ. اَلْقَوْلُ فِي عُرْفِ هٰذَا الْفَنِّ يُقَالُ لِلْمُرَكَّبِ سَوَاءٌ كَانَ مُرَكَّبًا مَعْقُوْلًا أَوْ مَلْفُوْظًا، فَالـتَّعْرِيْفُ يَشْمَلُ الْقَضِيَّةَ الْمَعْقُوْلَةَ وَالْمَلْفُوْظَةَ. قَوْلُهُ يَحْتَمِلُ الصِّدْقَ. اَلصِّدْقُ هُوَ الْمُطَابَقَةُ لِلْوَاقِعِ وَالْكِذْبُ هُوَ اللَّامُطَابَقَةُ لَهُ، وَهٰذَا الْمَعْنَى لَا يَتَوَقَّفُ مَعْرِفَتُهُ عَلَى مَعْرِفَةِ الْخَبَرِ وَالْقَضِيَّةِ فَلَا يَلْزَمُ الدَّوْرُ. اچھا بھئی گزشتہ سبق میں ہم نے تصدیقات کی بحث شروع کی تھی اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ منطق کا موضوع جو ہے وہ معرف اور حجت ہیں، معرف وہ معلوم تصورات جو ہمیں کہاں تک پہنچا دیں؟ مجهول تصور تک، اور حجت جو ہے وہ معلوم تصدیقات جو ہمیں مجهول تصدیق تک پہنچا دیں۔ تو یہ جو معرف اور حجت ہیں یہ منطق کا موضوع ہیں اور ماقبل میں معرف کا بیان چل رہا تھا تو اب حجت کا بیان چاہیے، لیکن چونکہ حجت کا سمجھنا موقوف ہے تصدیقات کے سمجھنے پر اور ان کی تفصیل پر لہٰذا اب تصدیقات کی تفصیل بیان کرنے لگے، اور انہوں نے آپ کو بتلایا کہ قضیہ جو ہے ایسے قول کو کہتے ہیں يَحْتَمِلُ الصِّدْقَ وَالْكِذْبَ جو صدق اور کذب دونوں کا احتمال رکھتا ہو۔ قضیہ ایسے قول کو کہتے ہیں جو صدق و کذب دونوں کا احتمال رکھتا ہو۔ اس پر ایک اشکال تو ذہن میں یہ آتا تھا کہ قول تو عربی زبان میں لفظ کو کہتے ہیں اور قضیہ تو دو قسم پر ہے: ایک قضیہ ملفوظہ ہے جس پر ہم زبان سے تلفظ کریں اور ایک قضیہ معقولہ ہے جو ہمارے ذہن میں ہے۔ تو مصنف کی یہ تعریف، یہ تو قضیہ ملفوظہ کو تو شامل ہوئی لیکن قضیہ معقولہ کو شامل نہیں، حالانکہ منطقی کی اصل توجہ تو قول معقول کی طرف ہوتی ہے، قول ملفوظ کی طرف تو صرف ضرورت کی وجہ سے وہ اس سے بحث کرتا ہے، ورنہ منطقی کی اصل توجہ کس کی طرف ہے؟ قول معقول یعنی وہ باتیں وہ چیزیں جو ہمارے ذہن میں آتی ہیں۔ تو اس کا جواب میں نے ذکر کیا تھا شرح میں بھی وہ ذکر کریں گے کہ عربی زبان میں تو قول لفظ کو کہتے ہیں لیکن اس علم منطق کے اندر قول کا لفظ مرکب کے لیے بولا جاتا ہے، قول سے مرکب مراد ہوتا ہے اور وہ مرکب عام ہے چاہے وہ مرکب ملفوظ ہو چاہے معقول ہو۔ تو یہ قضیہ ملفوظہ کے ساتھ ساتھ قضیہ معقولہ کو بھی یہ تعریف شامل ہوئی۔ اس کے بعد اس پر دوسرا اشکال یہ ہوا تھا کہ انہوں نے کہا کہ قضیہ وہ ایسے قول کا نام ہے جو صدق و کذب دونوں کا احتمال رکھتا ہو، حالانکہ کچھ قضیے تو ایسے ہوتے ہیں جن میں صدق ہی صدق ہوتا ہے وہاں تو کذب کا کوئی احتمال نہیں ہوتا، جیسے جیسے اللہ تعالیٰ کا کوئی قول یا جیسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی قول یا اسی طرح بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو خارج میں ہم مشاہدہ کرتے ہیں جس کا سب کو پتہ ہوتا ہے جیسے اَلْأَرْضُ تَحْتَنَا زمین ہمارے نیچے ہے۔ اس میں بھی دیکھو صدق ہی صدق ہے کذب کا کوئی احتمال نہیں تو یہ تو قضیہ کی تعریف سے نکل گئے کیونکہ قضیہ کی تعریف تو آپ نے یہ کی کہ وہ صدق اور کذب دونوں کا احتمال رکھتا ہو، اور بعض قضیے ایسے ہوتے ہیں جو صرف کذب ہی کذب ہوتا ہے ان میں، وہاں صدق کا کوئی احتمال نہیں ہوتا جیسے اَلْأَرْضُ فَوْقَنَا زمین ہمارے اوپر ہے۔ اب یہ کذب ہی کذب ہے اس میں صدق کا کوئی احتمال نہیں تو یہ بھی قضیہ کی تعریف سے نکل گیا کیونکہ اس میں دونوں احتمال نہیں ہیں اور آپ نے تو کیا تعریف کی؟ قضیہ وہ ہے جس میں دونوں احتمال ہوں، صدق کا بھی اور کذب کا بھی احتمال ہو تو آپ کی یہ تعریف جامع نہیں یعنی اس میں تمام قضایا اس کے اندر داخل نہیں۔ تو جواب بھی اس کا ذکر کر دیا تھا کہ بھئی مراد یہ ہے کہ قطع نظر دلائل خارجیہ سے، دلائل خارجیہ سے قطع نظر اس قضیے کے اندر دیکھیں تو اس میں صدق اور کذب دونوں کا احتمال ہے بھئی، یا اسی کو دوسرے لفظوں میں یوں کہیں کہ اس خاص موضوع اور محمول سے قطع نظر، اس خاص موضوع اور محمول سے قطع نظر نفس مفہوم کی طرف نظر کرتے ہوئے اس میں صدق کا بھی احتمال اور کذب کا، اور وہ کس طرح ہوگا؟ میں نے بتلایا تھا دیکھو اَلْأَرْضُ تَحْتَنَا زمین ہمارے نیچے ہے، خاص یہی موضوع اور خاص یہی محمول ہو تو پھر یہاں صدق ہی صدق ہے اَلْأَرْضُ تَحْتَنَا، لیکن قطع نظر یہ خاص موضوع اور خاص محمول کے یوں کہا جائے اس موضوع کے لیے یہ والا محمول ثابت ہے، اس موضوع کے لیے یہ والا محمول ثابت ہے، موضوع کوئی بھی چیز لے آئیں اور محمول کوئی بھی چیز لے آئیں وہاں صدق کا بھی احتمال ہوگا اور کذب کا، لیکن جب آپ خاص طور پر اس پر نظر کریں اَلْأَرْضُ موضوع یہی ہو اور محمول تَحْتَنَا یہی ہو پھر تو صدق ہی صدق ہے کذب کا احتمال نہیں، لیکن قطع نظر اس خاص موضوع اور خاص محمول کے یوں کہا جائے کہ کوئی بھی موضوع لے آئیں، موضوع جو ہے اس کے لیے محمول ثابت ہے تو اس اعتبار سے اس میں صدق کا بھی احتمال اور کذب کا، یعنی وہ خاص متعین موضوع اور محمول سے قطع نظر بھئی، اس سے قطع نظر جہاں بھی کوئی موضوع آئے گا اور جہاں بھی کوئی کیا آئے گا؟ محمول آئے گا اس میں کیا ہوگا؟ صدق کا بھی اور کذب کا، قطع نظر اس خاص موضوع سے اور قطع نظر اس خاص محمول سے، یوں کہا جائے اس موضوع کے لیے یہ والا محمول ثابت ہے، کوئی متعین نہیں اس موضوع کے لیے محمول ثابت ہے تو وہاں صدق کا بھی احتمال کہ ہو سکتا ہے ثابت ہو ہو سکتا ہے ثابت نہ ہو، بات سمجھ میں آگئی؟ اور اس کے بعد پھر انہوں نے تقسیم کی تھی کہ قضیہ دو قسم پر ہے: یا قضیہ حملیہ ہوگا یا قضیہ شرطیہ۔ قضیہ حملیہ وہ ہے جس میں ایک شے کے لیے دوسری شے کا ثبوت ہو یا ایک شے سے دوسری شے کی نفی ہو، اگر ثبوت ہے تو اس کو موجبه کہیں گے اور اگر نفی ہے تو اس کو سالبه کہیں گے۔ زَيْدٌ قَائِمٌ زید کے لیے قیام کا ثبوت ہے تو یہ حملیہ موجبه ہوا اور زَيْدٌ لَيْسَ بِقَائِمٍ اس میں زید سے قیام کی نفی ہے تو یہ حملیہ سالبه ہے۔ تو قضیہ حملیہ کسے کہتے ہیں؟ جس میں ایک شے کا ثبوت ہو دوسری شے کے لیے یا ایک شے سے دوسری شے کی نفی ہو تو یہ یا موجبه ہوگا یا سالبه۔ اچھا تو قضیہ حملیہ کی کیا تعریف کی؟ جس میں ایک شے کے لیے دوسری شے کا ثبوت ہو یا ایک شے سے دوسری شے کی نفی ہو اور اگر ایسا نہ ہو تو وہ قضیہ شرطیہ ہے، دیکھو عبارت کیا لائے تھے وَإِلَّا اور اگر ایسا نہ ہو فَشَرَطِيَّةٌ وہ شرطیہ ہے بھئی شرطیہ ہے۔ اور یہ جو قضیہ حملیہ ہے اس میں جو محکوم علیہ ہوتا ہے اس کو موضوع کہتے ہیں اور جو محکوم بہ ہوتا ہے اس کو محمول کہتے ہیں، اور وہ لفظ جو نسبت پر دلالت کرتا ہے اس کو رابطہ کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ رابطہ، جیسے زَيْدٌ هُوَ قَائِمٌ زَيْدٌ ہے موضوع اور قَائِمٌ ہے محمول اور هُوَ یہ رابطہ ہے، یہ ربط پر دلالت کر رہا ہے، یہ ربط نہیں دے رہا یہ ربط پر دلالت کر رہا ہے، ربط تو کیا ہے وہ نسبت حکمیہ ہے درمیان میں یہ اس پر دلالت کر رہا ہے۔ میں نے مثال ذکر کی تھی کہ دیکھو ایک کو موضوع اور ایک کو آپ محمول کہہ رہے ہیں کیوں؟ کیونکہ ان کے درمیان ربط آچکا ہے، یا یوں کہیں ایک کو آپ مبتدا کہتے ہیں اور ایک کو خبر، مبتدا اور خبر تبھی کہیں گے جب ان کے درمیان ربط آجائے جوڑ آجائے، جیسے میاں اور بیوی، مرد اور عورت کو میاں اور بیوی تبھی کہیں گے جب ان میں نکاح ہو، نکاح والا ربط اور جوڑ ہوگا تو مرد کو میاں کہیں گے اور عورت کو بیوی کہیں گے، یہاں پر بھی مبتدا اور خبر یہ تو دو لفظ تھے لیکن جب آپ نے ان دونوں کو جوڑ دیا ربط دے دیا اس خبر کا حمل کس پر کر دیا؟ مبتدا پر کر دیا تو درمیان میں ربط آگیا جوڑ آگیا تو اس ربط اور جوڑ جو ہے یہ نسبت حکمیہ کہلاتی ہے اور دوسرا نام ہے اس کا نسبت خبریہ، نسبت حکمیہ اور نسبت خبریہ، اور اس نسبت حکمیہ اور نسبت خبریہ پر جو چیز دلالت کرے جو لفظ دلالت کرے اس کو رابطہ کہتے ہیں۔ تو معلوم ہوا قضیہ حملیہ کے تین جز ہیں: موضوع، محمول اور رابطہ، لیکن رابطہ اکثر ذکر نہیں کیا جاتا، رابطہ اکثر ذکر نہیں کیا جاتا کبھی کبھار ذکر کر دیا جاتا ہے زَيْدٌ هُوَ قَائِمٌ یہ هُوَ کبھی کبھار ذکر ہوگا ہمیشہ ذکر نہیں۔ بلکہ ان کی اعرابی حرکتیں ہی اس نسبت پر دلالت کرتی ہیں، توجہ ہے؟ زَيْدٌ قَائِمٌ ان دونوں میں نسبت ہے ربط ہے جوڑ ہے اور یہ دونوں نحو میں کیا کہلاتے ہیں؟ مبتدا اور خبر۔ یہ زَيْدٌ پر میں نے رفع پڑھا، رفع خود بخود آتا ہے یا عامل چاہیے؟ عامل چاہیے، قَائِمٌ پر بھی میں نے رفع پڑھا، رفع خود بخود آتا ہے یا عامل چاہیے؟ عامل چاہیے، تو عامل کیا؟ کہ ان دونوں کو جو آپس میں جوڑ دیا تو ان کے اندر ابتداء عامل ہے، کیا عامل ہے؟ اور ابتداء کسے کہتے ہیں؟ عوامل لفظی کا نہ ہونا، دیکھو مبتدا کے اندر کوئی عامل لفظی نہیں ہوتا اور خبر میں بھی کوئی عامل لفظی نہیں ہوتا، تو عامل لفظی نہ ہو اور مسند یا مسند علیہ ہو رہا ہو، ایک چیز کیا ہو؟ مسند ہو یا مسند علیہ تاکہ صرف مبتدا خبر اس میں داخل رہیں اور کوئی اس کے اندر داخل نہ ہو، تو مسند علیہ ہو اور عامل لفظی نہ ہو تو ہم کہیں گے اس کے اندر عامل ابتداء ہے۔ بھئی کیا معنی ابتداء عامل ہے؟ معنی یہ ہے یعنی معنٰی عامل ہے، کیا ہے؟ یعنی اس کا مسند علیہ ہونا اس طور پر کہ اس میں کوئی عامل لفظی نہیں، جب عامل لفظی نہیں تو پھر عامل معنوی ہے بھئی۔ تو طلبہ پریشان ہوتے ہیں کہ پتہ نہیں ابتداء کیا چیز ہے؟ بھئی ابتداء وہی عامل لفظی کا نہ ہونا، لیکن دو شرطیں بڑھا دو: یا مسند علیہ ہو یا مسند ہو تاکہ صرف مبتدا اور خبر اس میں داخل رہیں اور کوئی اس میں داخل نہ ہو سکے، ایک لفظ مسند علیہ ہو اور عامل لفظی نہ ہو تو اس پر رفع پڑھیں گے اور اس میں عامل کیا کہیں گے عامل کیا چیز ہے؟ ابتداء ہے، ابتداء کس چیز کا نام؟ عامل لفظی کا نہ ہونا بس عامل لفظی کا نہ ہونا یہ ہے ابتداء بھئی۔ تو مبتدا پر رفع آیا عامل کیا؟ ابتداء، اور رفع پڑھا، اور خبر پر بھی رفع آیا اس میں بھی عامل کیا؟ ابتداء، تو یہ ابتداء صرف مبتدا اور خبر میں عامل ہے اور کسی چیز میں عامل نہیں۔ تو یہ جو مبتدا اور خبر ہیں ان کا رفع بتلاتا ہے ان میں ربط آچکا ہے جوڑ آچکا ہے۔ بھئی ابتداء کس میں عامل ہوگی؟ مبتدا میں، مبتدا کون ہوتا ہے؟ مسند علیہ ہوتا ہے، مسند علیہ تبھی بنے گا جب اس کے لیے پہلے کیا موجود ہو؟ مسند بھی موجود ہو، معلوم ہوا دونوں میں ربط بھی آچکا ہے، جب ربط آگیا جوڑ آگیا اس کے بعد جب اسناد کر دیا پھر ہی ایک کو مسند علیہ کہیں گے اس سے پہلے مسند علیہ نہیں، جیسے میاں اور بیوی، جب نکاح ہو گیا تب ہی میاں بیوی کہیں گے اس سے پہلے نہیں، تو جب ایک لفظ کو مبتدا کہہ رہے ہیں یا مسند علیہ کہہ رہے ہیں معلوم ہوا اس کی طرف اسناد کیا گیا ہے، اور ایک کو آپ مسند بہ کہہ رہے ہیں معلوم ہوا اس کا اسناد کیا گیا ہے، مسند علیہ کی طرف اسناد کیا اور کس کا کیا؟ مسند بہ کا، تو ان دونوں کے درمیان اسناد آچکا ہے اور جب اسناد آگیا تو اب ان پر رفع آیا کیونکہ ان کے اندر عامل کیا ہے؟ ابتداء، اور ابتداء اب اسی طرح مسند علیہ اور مسند میں عامل ہوتی ہے جب کہ وہ عوامل لفظی سے خالی ہوں اور وہ صرف مبتدا اور خبر ہیں۔ تو مبتدا اور خبر میں زَيْدٌ قَائِمٌ یہ زید پر جو میں نے رفع پڑھا اور یہ جو قَائِمٌ پر میں نے رفع پڑھا، خود بخود رفع آیا یا عامل کی وجہ سے آیا؟ اور عامل کیا ہے؟ ابتداء، اور ابتداء کیوں عمل کر رہی ہے؟ کیوں؟ کیونکہ ایک ان میں سے کیا ہے؟ مسند علیہ اور ایک کیا ہے؟ مسند، اور کوئی عامل لفظی نہیں تو اب عامل کون ہے؟ عامل تو چاہیے رفع تو خود نہیں آتا، تو ہم کہیں گے ان میں ابتداء عامل ہے۔ تو ان کا جو رفع ہے وہ دلالت کر رہا ہے نسبت حکمیہ پر، ان کا رفع دلالت کر رہا ہے کہ ان میں نسبت حکمیہ ہے، نسبت حکمیہ نہیں تو پھر رفع خود بخود نہیں آسکتا، بات سمجھ میں آگئی؟ یہ اتنی لمبی بات کرنے کا مقصد یہ بتلانا تھا کہ یہ جو عربی زبان میں ہے رابطہ کے لیے هُوَ یہ بتا رہے ہیں هُوَ استعمال ہوتا ہے، لیکن یہ هُوَ بھی زیادہ استعمال نہیں ہوتا کم استعمال ہوتا ہے، بلکہ یہ جو حرکات اعرابی ہیں یہ جو حرکات اعرابی ہیں یہی اس رابطے پر دلالت کر دیتی ہیں، اسی سے رابطے کا پتہ چل جاتا ہے، بات سمجھ میں آگئی؟ رابطے کے لیے الگ لفظ کم ذکر کیا جاتا ہے کم ذکر کیا جاتا ہے۔ تو قضیہ جو ہے قضیہ حملیہ اس کے گویا پھر اکثر زیادہ تر دو جز ہوتے ہیں، اور اگر رابطہ بھی ذکر کر دیا جائے پھر کتنے جز ہو گئے؟ تین جز ہو گئے، تو اگر دو جز ہیں صرف رابطہ محذوف ہے تو پھر اس کو ثنائی کہیں گے قَضِيَّةٌ ثُنَائِيَّةٌ، قَضِيَّةٌ حَمْلِيَّةٌ ثُنَائِيَّةٌ جیسے مثال زَيْدٌ قَائِمٌ، زَيْدٌ قَائِمٌ اور کبھی تین جز ہوں گے رابطہ بھی ذکر ہوگا زَيْدٌ هُوَ قَائِمٌ تو پھر اس کو کیا کہیں گے؟ ثلاثی ثلاثیہ کہیں گے قَضِيَّةٌ ثُلَاثِيَّةٌ یا قَضِيَّةٌ حَمْلِيَّةٌ ثُلَاثِيَّةٌ بھئی۔ اور پھر انہوں نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ یہ جو رابطہ ہے اس کے لیے هُوَ کا لفظ مستعار لیا گیا ہے، استعارہ میں نے آپ کو بتایا تھا استعارہ میں یہ جو سین ہے طلب کے لیے ہے یعنی کوئی چیز عاریتاً طلب کرنا، جیسے مہمان آجاتے ہیں تو ہم سائیوں سے برتن مانگ لیے جاتے ہیں استعمال کے لیے، یہ ہے عاریتاً، برتن کو عارضی استعمال کے لیے جو لیا یہ کیا ہے؟ عاریت، اور یہ برتن مانگنا یہ ہے استعارہ، عاریتاً مانگنا ایک چیز کو۔ تو یہاں پر بھی یہ جو نسبت ہے اس کے لیے ان کو عربی زبان میں کوئی لفظ نہیں ملا، آگے چل کر یہ آپ کو بتائیں گے کہ یہ جو رابطہ ہے یہ دو قسم پر ہوتا ہے: ایک رابطہ زمانیہ ہے یعنی جس میں ربط کے ساتھ ساتھ زمانہ بھی ہوتا ہے، اور ایک رابطہ غیر زمانیہ ہے جس میں زمانہ نہیں ہوتا، جیسے اس کی مثال جس میں زمانہ ہے مثلاً ایک ہے زَيْدٌ قَائِمٌ کیا معنی؟ زید کھڑا ہے، اور ایک میں کہتا ہوں زَيْدٌ كَانَ قَائِمًا یا كَانَ زَيْدٌ قَائِمًا، كَانَ زَيْدٌ قَائِمًا ترجمہ کیا ہے؟ زید کھڑا تھا، دیکھو یہ تھا گزشتہ زمانہ اس میں آگیا، تو یہ رابطہ کون سا ہے؟ زمانیہ ہے، اس میں زمانے پر بھی ساتھ ربط بھی ربط پر بھی دلالت ہو رہی ہے اور زمانہ ماضی پر بھی دلالت ہو رہی ہے، تو یہ رابطہ زمانیہ ہے، اور ایک رابطہ غیر زمانیہ ہوتا ہے۔ تو یہ جو منطق اور فلسفہ کی کتابیں جب عربی زبان کی طرف نقل کیں علماء نے تو ان کو رابطہ زمانیہ کے لیے تو افعال ناقصہ مل گئے كَانَ، يَكُوْنُ وغیرہ، لیکن رابطہ غیر زمانیہ کے لیے عربی میں کوئی لفظ نہیں ہے، تو اس کے لیے انہوں نے مجبوراً پھر هُوَ کا لفظ استعمال کر لیا یعنی غائب کی ضمیروں کو استعمال کر لیا: هُوَ، هُمَا، هُمْ، هِيَ، هُمَا، هُنَّ وغیرہ یہ جو غائب کی ضمیریں ہیں ان کو استعمال کر لیا گیا۔ حالانکہ یہ تو اسم، ضمیریں تو کیا ہیں؟ اسم، تو یہ بھی استعارہ ہے، استعارہ میں بھی جیسے ایک چیز مانگ کر عارضی طور پر ایک چیز کے لیے استعمال کر لی جاتی ہے اسی طرح یہاں پر بھی وہ اسم والا لفظ جو ہے یعنی جو ضمیر ہے اس کو اس رابطہ کے لیے عارضی طور پر استعمال کر لیا گیا، بات سمجھ میں آگئی؟ کیونکہ رابطہ اصل میں تو وہ نسبت کا نام ہے، ربط کس نے دیا؟ نسبت حکمیہ نے، نسبت خبریہ نے، زَيْدٌ الگ لفظ تھا قَائِمٌ الگ لفظ تھا پھر آپ نے دونوں کو جوڑا تو ان میں کیا آگئی؟ ربط آیا، وہ ربط کس نے دیا اس کا نام کیا ہے؟ نسبت حکمیہ، وہ نسبت حکمیہ یا نسبت خبریہ، تو وہ ہے اصل میں رابطہ ربط دینے والی چیز، تو اس کے لیے جو لفظ لیا استعمال کیا اس لفظ کو بھی رابطہ کہنے لگے، تو اس لفظ کو بھی رابطہ کہنے لگے اور وہ نسبت خود غیر مستقل ہے۔ توجہ ہے؟ وہ نسبت کیا ہے؟ غیر مستقل، غیر مستقل ہے اس لیے کیونکہ اس کے لیے محکوم علیہ بھی چاہیے اور محکوم بہ بھی چاہیے، دو لفظ ہوں گے تو بیچ میں نسبت آئے گی، اگر ایک لفظ ہو تو درمیان میں نسبت آ ہی نہیں سکتی، نسبت کے لیے جانبین چاہیے محکوم علیہ بھی چاہیے اور محکوم بہ بھی چاہیے، دونوں نہ ہوں پھر نسبت آسکتی ہے بیچ میں؟ نہیں، تو نسبت محتاج ہوئی ان دونوں کی، تو نسبت غیر مستقل ہوئی، کیا ہوئی؟ غیر مستقل، جیسے حرف، حرف اپنا معنی ادا کرنے کے لیے اور کلموں کا محتاج ہے، اسی طرح یہ نسبت اپنے وجود کے لیے محکوم علیہ اور محکوم بہ دو لفظوں کی محتاج ہے۔ تو یہ نسبت کیا ہوئی؟ غیر مستقل، تو جب غیر مستقل ہوئی تو اس پر جو لفظ دلالت کرے وہ بھی غیر مستقل ہونا چاہیے، اور غیر مستقل اسم ہے، کلمہ ہے، یا ادات ہے؟ ادات ہے، اسم، کلمہ اور ادات۔ نحو میں نحو میں آپ نے پڑھا تھا اسم، فعل اور حرف، لیکن منطق میں انہی کے نام ہیں اسم، کلمہ اور ادات۔ اسم کو اسم ہی کہتے ہیں، فعل کو منطق میں کلمہ کہتے ہیں، اور حرف کو منطق میں ادات کہتے ہیں۔ تو یہ نسبت غیر مستقل ہے تو اس کے لیے اس کے لیے لفظ بھی غیر مستقل ہونا چاہیے جو ادات ہے یعنی جو حرف ہے، لیکن کوئی حرف عربی میں ملا نہیں مجبوراً هُوَ جو ضمیر ہے، جو اسم ہے، جو مستقل ہے اسی کو استعمال کر لیا، تو مستقل کو غیر مستقل کے لیے استعمال کر لیا اس لیے کہتے ہیں یہ استعارہ ہے مستعار ہے یعنی مجازاً لیا گیا ہے، جیسے بہادر آدمی کو شیر کہہ دیتے ہیں، شیر تو جنگلی درندے کے لیے وضع ہے لیکن بہادر آدمی کے لیے بھی کیا لفظ بول دیتے ہیں؟ کہ یہ شیر ہے، تو یہاں پر اس نسبت حکمیہ کے لیے عربی میں کوئی لفظ نہیں تھا تو مستعار جو ہے ضمیر کے لفظ کو اس کے لیے استعمال کر لیا گیا۔ اور اگر قضیہ حملیہ نہ ہو تو پھر وہ قضیہ شرطیہ ہوگا، اور قضیہ حملیہ کے دو جز کیا کیا تھے؟ موضوع اور محمول، جبکہ قضیہ شرطیہ کے اندر اول جز کو مقدم کہتے ہیں اور دوسرے جز کو تالی کہتے ہیں۔ اب آگے سبق دیکھیے بھئی شرح کے اندر، دیکھو جتنی باتیں میں نے بیان کیں اب انہی کو شرح میں بھی وہ تفصیل سے بیان کریں گے۔ قَوْلُهُ الْقَضِيَّةُ قَوْلٌ ماتن کا قول جو اوپر آیا تھا اَلْقَضِيَّةُ قَوْلٌ، قول پر کیا اعتراض میں نے ذکر کیا تھا؟ کہ عربی میں یہ تو صرف لفظ کو کہتے ہیں تو منطقی تو اصل بحث کس سے کرتا ہے؟ قول معقول سے، تو قول ملفوظ تو اس میں آگیا قول معقول تو نہ آیا، تو جواب دیں گے کہ یہ منطق کی کتاب ہے اور یہاں منطق کی اصطلاح استعمال ہوگی، اور منطق کے اندر قول لفظ کو نہیں کہتے مرکب کو کہتے ہیں، کس کو؟ مرکب، چاہے وہ مرکب تام ہو چاہے مرکب ناقص ہو بہرحال ہونا مرکب چاہیے، اور مرکب پھر وہ دو قسم پر ہے یا وہ مرکب ملفوظ ہوتا ہے یا معقول ہوتا ہے تو دونوں داخل ہو گئے، تو یہ لغت کے اعتبار سے نہیں بلکہ منطق کی اصطلاح کے اعتبار سے دونوں اس میں داخل ہیں اور منطق کی کتاب ہے تو اس میں منطق ہی کی اصطلاح استعمال ہوگی بھئی۔ قَوْلُهُ الْقَضِيَّةُ قَوْلٌ ماتن کا قول جو ہے اَلْقَضِيَّةُ قَوْلٌ، اب دیکھو بتانے لگے ہیں کہتے ہیں اَلْقَوْلُ فِي عُرْفِ هٰذَا الْفَنِّ قول جو ہے اس فن کے عرف میں، اس فن کے عرف، عرف کہتے ہیں عادت کو عادت کو، قول کا لفظ جو ہے اس فن یعنی منطق کے عرف میں یعنی منطق کی عادت میں يُقَالُ لِلْمُرَكَّبِ یہ کس کو کہا جاتا ہے؟ مرکب کو، میں نے بتایا چاہے مرکب تام ہو چاہے مرکب ناقص لیکن ہوگا مرکب ہی، تو یہ يُقَالُ لِلْمُرَكَّبِ یہ قول کا لفظ اس منطق کی اصطلاح میں مرکب کو کہا جاتا ہے سَوَاءٌ كَانَ مُرَكَّبًا مَعْقُوْلًا أَوْ مَلْفُوْظًا برابر ہے کہ چاہے وہ مرکب معقول ہو یا مرکب ملفوظ ہو تو دونوں داخل ہو گئے، فَالـتَّعْرِيْفُ يَشْمَلُ الْقَضِيَّةَ الْمَعْقُوْلَةَ وَالْمَلْفُوْظَةَ تو یہ تعریف شامل ہوئی قضیہ معقولہ کو بھی اور قضیہ ملفوظہ کو بھی۔ اعتراض کیا تھا؟ کہ آپ کی تعریف قضیہ ملفوظہ کو تو شامل ہے قضیہ معقولہ کو شامل نہیں جو ذہن میں ہوتا ہے، تو جواب دے دیا کہ نہیں یہ تعریف قضیہ معقولہ کو بھی شامل ہے کیونکہ قول کا لفظ علم منطق کی اصطلاح میں مرکب کے لیے استعمال ہوتا ہے اور وہ مرکب عام ہے چاہے ملفوظ ہو چاہے معقول ہو، تو قضیہ معقولہ بھی اس میں داخل ہو گیا، یہ معنی ہے فَالـتَّعْرِيْفُ يَشْمَلُ الْقَضِيَّةَ الْمَعْقُوْلَةَ وَالْمَلْفُوْظَةَ تو یہ تعریف شامل ہوئی۔ تو یہ تعریف، ترجمہ سن رہے ہیں؟ میں کیا ترجمہ کر رہا ہوں؟ فَالـتَّعْرِيْفُ تو یہ تعریف، یہ "یہ" کا لفظ میں کہاں سے لا رہا ہوں؟ الف لام شاباش، یہ جو الف لام ہے اس کے لیے اشارہ ہوتا ہے اوپر جو تعریف ذکر ہوئی اس کی طرف اشارہ ہے، یہ تعریف یہ یہ تعریف جو اوپر ذکر ہوئی يَشْمَلُ الْقَضِيَّةَ الْمَعْقُوْلَةَ وَالْمَلْفُوْظَةَ یہ قضیہ معقولہ کو بھی شامل ہے اور قضیہ ملفوظہ کو بھی۔ قَوْلُهُ يَحْتَمِلُ الصِّدْقَ ماتن کا قول جو ہے يَحْتَمِلُ الصِّدْقَ کہتے ہیں اَلصِّدْقُ هُوَ الْمُطَابَقَةُ لِلْوَاقِعِ وَالْكِذْبُ هُوَ اللَّامُطَابَقَةُ لَهُ صدق وہ مطابقت للواقع کو کہتے ہیں اور کذب وہ لامطابقت للواقع کو، یہ دراصل ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں۔ اعتراض ہوتا ہے قضیہ کی تعریف پر، قضیہ کو نحو میں جملہ خبریہ کہتے ہیں، قضیہ کسے کہتے ہیں جس میں صدق اور کذب کا احتمال ہو وہی نحو میں جملہ خبریہ ہے، جملہ خبریہ کسے کہتے ہیں جس میں صدق اور کذب کا احتمال ہوتا ہے۔ تو قضیہ، جملہ خبریہ دونوں برابر ہیں دونوں مترادف ہیں، چاہے آپ قضیہ کہہ دیں چاہے جملہ خبریہ کہہ دیں، یا یوں کہیں خبر کہہ دو، کیا کہہ دو؟ خبر، اسی جملہ خبریہ کو خبر کہہ دیتے ہیں یہ کیا ہے؟ خبر ہے یا انشاء ہے، تو جملہ خبریہ کا مختصر نام کیا؟ خبر، خبر۔ اب دیکھو یہ جو قضیہ اور خبر ہیں یہ دونوں مترادف ہیں، یہ دونوں مترادف ہیں اور قضیہ کی تعریف کیا کی؟ قَوْلٌ يَحْتَمِلُ الصِّدْقَ وَالْكِذْبَ قضیہ وہ قول ہے جو صدق اور کذب کا احتمال رکھتا ہو۔ اچھا صدق کسے کہتے ہیں پہلے ہمیں یہ تو بتائیں؟ یاد رکھو صدق کی تعریف کی جاتی ہے اَلصِّدْقُ هُوَ مُطَابَقَةُ الْخَبَرِ لِلْوَاقِعِ، صدق کسے کہتے ہیں؟ مُطَابَقَةُ الْخَبَرِ لِلْوَاقِعِ خبر کا مطابق ہونا للواقع کس کے؟ واقع کے، اور کذب کسے کہتے ہیں؟ عَدَمُ مُطَابَقَةِ الْخَبَرِ لِلْوَاقِعِ خبر جو ہے واقع کے مطابق نہ ہو تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ کذب۔ مثلاً خارج میں زید کھڑا ہے، واقع میں زید کھڑا اور میں بھی زبان سے کہتا ہوں زَيْدٌ قَائِمٌ تو یہ جو جملہ خبریہ ہے یعنی یوں کہو یہ جو خبر ہے یہ کیا ہے؟ واقع کے مطابق ہے تو ہم کہیں گے یہ صدق ہے، اور اگر زید بیٹھا ہوا ہے اور میں کہوں زَيْدٌ قَائِمٌ تو یہ واقع کے مطابق نہیں تو ہم کہیں گے یہ خبر کیا ہے؟ کذب ہے۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ صدق کسے کہتے ہیں؟ خبر کا واقع کے مطابق ہونا، اور کذب کسے کہتے ہیں؟ خبر کا واقع کے مطابق نہ ہونا، یہاں تک بات سمجھ میں آگئی؟ اعتراض یہ ہوتا ہے کہ آپ کی اس تعریف سے دور لازم آتا ہے، کیا لازم آتا ہے؟ دور لازم آتا ہے آپ کی یہ تعریف صحیح نہیں۔ دور اسے کہتے ہیں دور کی تعریف لکھ لیں بھئی لکھ لیں: اَلدَّوْرُ هُوَ تَوَقُّفُ الشَّيْءِ عَلَى مَا يَتَوَقَّفُ عَلَيْهِ لکھ لیا بھئی؟ پھر سن لیں: اَلدَّوْرُ هُوَ تَوَقُّفُ الشَّيْءِ عَلَى مَا يَتَوَقَّفُ عَلَيْهِ دور کہتے ہیں ترجمہ سمجھ لو: اَلدَّوْرُ دور جو ہے هُوَ تَوَقُّفُ الشَّيْءِ وہ ایک چیز کا موقوف ہونا ہے عَلَى مَا ایسی چیز پر يَتَوَقَّفُ عَلَيْهِ جو اس پر موقوف ہے۔ یوں کہیں ایک چیز کا جاننا ایسی چیز پر موقوف ہے کہ اس کا جاننا اس چیز پر کیا ہے؟ موقوف ہے۔ مثلاً آپ سے کسی نے پوچھا "ا" کسے کہتے ہیں؟ ا، ب، ج یہ منطق میں عام استعمال ہوتے ہیں، موضوع کے لیے "ا" بول دیتے ہیں، محمول کے لیے "ب" بول دیتے ہیں، جیسے كُلُّ ا ب، كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ یہ بات لمبی ہو گئی، كُلُّ ا ب ہر "ا" کیا ہے؟ "ب" ہے، اب اس "ا" کی جگہ کوئی بھی آپ دنیا کا موضوع لے آئیں اور "ب" کی جگہ دنیا کا کوئی بھی محمول لے آئیں لیکن صدق ہونا چاہیے: كُلُّ ا ب ہر "ا" کیا ہے؟ "ب" ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ اچھا دور بتلا رہا تھا، دور اسے کہتے ہیں کہ آپ ایک چیز کو جاننا چاہتے ہیں، ایک چیز کو جاننا، دوسرے نے تعریف کی، تعریف میں ایسی چیز لے آیا کہ وہ چیز آپ کو تب سمجھ میں آئے گی جب یہ معرف آپ کو سمجھ میں آئے، جس کی تعریف کر رہے ہیں وہ کیا ہے؟ معرف، اور جو آگے تعریف ہے وہ ہے معرف، تو آپ کو معرف کا پتہ نہیں ہے آپ معرف کو جاننا چاہتے ہیں وہ آگے معرف لاتا ہے، لیکن معرف ایسا لایا کہ معرف کا آپ کو تب پتہ چلے گا جب آپ کو کس کا پتہ چلے؟ معرف، تو معرف کا سمجھنا موقوف ہو گیا معرف پر، معرف تبھی سمجھ میں آئے گا جب آپ کو کیا سمجھ میں آئے؟ معرف، اور معرف کا سمجھنا کس پر موقوف ہو گیا؟ معرف پر، تو ایک بھی نہیں آپ کو سمجھ میں آئے گا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ ایک بھی آپ کو سمجھ میں نہیں آئے گا، جیسے دیکھو کسی نے آپ سے پوچھا "زید کا گھر کہاں ہے؟" آپ نے کہا "بکر کے گھر کے سامنے"، معلوم ہوا زید کے گھر کا تبھی پتہ چلے گا جب کس کے گھر کا پتہ چلے؟ بکر، تو آپ نے پوچھا "زید کا گھر کہاں؟" اس نے کہا "بکر کے گھر کے سامنے"، آپ نے پوچھا "بکر کا گھر کہاں؟" اس نے کہا "زید کے گھر کے سامنے"، تو زید کے گھر کا تب پتہ چلے گا جب بکر کے گھر کا پتہ چلے اور بکر کے گھر کا تب پتہ چلے گا جب آپ کو زید کے گھر کا پتہ چلے، تو دیکھو دونوں میں سے ایک کا بھی آپ کو پتہ نہیں چلے گا، آپ نے دونوں کا پوچھا دونوں کہاں ہیں؟ اس نے کہا "آمنے سامنے ہیں"، دونوں گھر کیا ہیں؟ آمنے سامنے، دیکھو کسی کا بھی پتہ نہیں چلا کیونکہ زید کے گھر کا تب پتہ چلے گا، زید کا گھر کہاں ہے؟ بکر کے سامنے، تو بکر کے گھر کا پتہ چلنا چاہیے، اور بکر کے گھر کے بارے میں آپ نے پوچھا وہ کہاں ہے؟ تو اس نے کیا کہا؟ زید کے گھر کے سامنے، تو معلوم ہوا بکر کے گھر کا تب پتہ چلے گا جب کس کے گھر کا پتہ چلے؟ زید کے گھر کا پتہ چلے، تو دیکھو دونوں میں سے ایک کا بھی پتہ نہیں چلے گا، زید کا گھر موقوف ہو گیا کس پر؟ بکر کے گھر پر، اور بکر کا گھر موقوف ہو گیا کس پر؟ زید کے گھر پر، اس کو کہتے ہیں دور، اور دور میں ایک بھی چیز کا پتہ نہیں چلتا کیونکہ ایک چیز موقوف ہوئی دوسری پر اور دوسری موقوف ہو گئی پہلی چیز پر۔ تعریف سمجھ میں آگئی؟ دیکھو پھر دیکھو اَلدَّوْرُ دور جو ہے هُوَ تَوَقُّفُ الشَّيْءِ وہ ایک چیز کا موقوف ہونا ہے عَلَى مَا ایسی چیز پر يَتَوَقَّفُ عَلَيْهِ جو خود کیا تھی؟ اس پر موقوف۔ زید کے گھر کا پتہ کس سے چلے گا؟ بکر، اور بکر کا گھر وہ تو خود موقوف ہے کس پر؟ زید کے گھر پر، بات سمجھ میں آگئی؟ یہ معنی ہے اَلدَّوْرُ هُوَ تَوَقُّفُ الشَّيْءِ عَلَى مَا يَتَوَقَّفُ عَلَيْهِ دور جو ہے وہ موقوف ہونا ہے ایک چیز کا عَلَى مَا اس چیز پر يَتَوَقَّفُ عَلَيْهِ جو اس چیز پر موقوف ہے۔ اور یاد رکھنا یہ دور باطل ہے، دور باطل ہے کیونکہ اس میں کسی بھی چیز کا پتہ نہیں چلے گا، پہلی چیز کو جاننے کے لیے دوسری چیز کا جاننا ضروری اور دوسری چیز کو جاننے کے لیے پہلی چیز کا جاننا ضروری ہے، تو اس میں کسی ایک بھی چیز کا پتہ نہیں چلے گا تو دور باطل ہے بھئی، دور باطل ہے۔ اور پھر یاد رکھو یہ دور کبھی، کبھی ایک درجے کے ساتھ ہوگا کبھی کئی درجوں کے ساتھ ہوگا، کبھی کئی درجے لیکن ہوگا دور ہی۔ ابھی تو آپ نے دیکھا زید کا گھر موقوف ہے کس پر؟ بکر پر، اور بکر کا گھر موقوف ہے کس پر؟ زید پر، ایک ہی درجہ ہے درمیان میں۔ اور کبھی کئی درجے ہوتے ہیں، آپ نے پوچھا "زید کا گھر کہاں؟" اس نے کہا "بکر کے گھر کے سامنے"، "بکر کا گھر کہاں؟" "خالد کے گھر کے سامنے"، "خالد کا گھر کہاں؟" "عمر کے گھر کے سامنے"، اور "عمر کا گھر کہاں؟" "زید کے گھر کے سامنے"، دیکھا؟ کبھی ایک ہی درجہ ہوگا اور کبھی ایک سے زیادہ درجے ہو سکتے ہیں دور کے اندر، بات سمجھ میں آگئی؟ تو اس میں ایک بھی چیز کا پتہ نہیں چلتا تو دور باطل ہے یعنی درست نہیں ہے، بات سمجھ میں آگئی؟ اچھا تفصیل میں یہ بیان کر رہا تھا کہ انہوں نے کیا کہا کہ آپ نے قضیہ یعنی خبر کی کیا تعریف کی؟ قضیہ اور خبر مترادف ہیں، قضیہ اور جملہ خبریہ، اسی جملہ خبریہ کا دوسرا نام کیا؟ خبر، خبر، تو قضیہ اور خبر کیا ہیں؟ مترادف۔ قضیہ کی تعریف انہوں نے کیا کی؟ قَوْلٌ يَحْتَمِلُ الصِّدْقَ وَالْكِذْبَ معلوم ہوا قضیہ کا پتہ آپ کو تب چلے گا جب آپ کو صدق اور کذب کا پتہ چل جائے، اور صدق اور کذب کسے کہتے ہیں؟ تو صدق کی کیا تعریف کی؟ خبر کا واقع کے مطابق ہونا، اور کذب کیا ہے؟ خبر کا واقع کے مطابق نہ ہونا۔ بھئی یہ خبر یہی تو قضیہ ہے، یہی تو، قضیے کو جاننے کے لیے صدق اور کذب کا جاننا ضروری اور صدق اور کذب کو جاننے کے لیے خبر کا جاننا ضروری کیونکہ صدق کی کیا تعریف کی؟ خبر کا واقع کے مطابق ہونا، پہلے خبر کو جاننا پڑے گا یا نہیں؟ تو صدق کا جاننا کس پر موقوف؟ خبر پر، کذب کا جاننا بھی کس پر موقوف؟ خبر پر، اور خبر وہی قضیہ تو ہے، قضیہ اور خبر دونوں کیا ہیں؟ مترادف۔ بات سمجھ بھی آرہی ہے کہ نہیں؟ قضیہ کی کیا تعریف کی؟ قَوْلٌ يَحْتَمِلُ الصِّدْقَ وَالْكِذْبَ قضیے کو جاننے کے لیے کس کو جاننا پڑے گا؟ صدق اور کذب کو، اور صدق اور کذب کسے کہتے ہیں؟ خبر کا واقع کے مطابق ہونا یا مطابق نہ ہونا، معلوم ہوا اس کے صدق اور کذب کو جاننے کے لیے خبر کو جاننا پڑے گا اور خبر وہی قضیہ تو ہے، تو قضیے کو جاننے کے لیے صدق اور کذب کو جاننا پڑے گا اور صدق اور کذب کو جاننے کے لیے قضیے کو جاننا پڑے گا اور یہ دور ہے، اور دور باطل ہے یعنی درست نہیں ہے، اشکال سمجھ میں آیا؟ تو اس اشکال کا آپ کو شرح میں جواب دیں گے کہ آپ نے صدق کی تعریف درست نہیں کی، ہم صدق کی وہ تعریف نہیں کرتے جس سے دور لازم آئے، صدق کی آپ نے کیا تعریف کی؟ خبر کا واقع کے مطابق ہونا، اور کذب کی کیا تعریف کی؟ خبر کا واقع کے مطابق نہ ہونا، کہتے ہیں نہیں اس میں سے خبر کو نکال دو، صدق کہتے ہیں اَلْمُطَابَقَةُ لِلْوَاقِعِ واقع کے ساتھ مطابقت، واقع کے ساتھ مطابقت ہونا یہ ہے صدق، اور واقع کے ساتھ مطابقت نہ ہونا یہ کیا ہے؟ کذب، دیکھو ہم نے خبر کا لفظ ہی بیچ سے نکال دیا۔ یا یوں کہو نسبت جو ہے نسبت حکمیہ کی واقع کے ساتھ مطابقت یہ کیا ہے؟ صدق، اور نسبت حکمیہ کی واقع کے ساتھ عدم مطابقت وہ کیا ہے؟ کذب ہے، تو یہاں صدق اور کذب کی تعریف میں خبر کی جگہ ہم نسبت کا لفظ لے آتے ہیں اب دور لازم نہیں آئے گا۔ دیکھو قضیہ کی کیا تعریف کی؟ اَلْقَضِيَّةُ قَوْلٌ يَحْتَمِلُ الصِّدْقَ وَالْكِذْبَ تو معلوم ہوا قضیہ کو جاننے کے لیے کس کا جاننا ضروری؟ صدق اور کذب کا، اور صدق اور کذب کی پہلے کیا تعریف تھی؟ مُطَابَقَةُ الْخَبَرِ لِلْوَاقِعِ ہم خبر کے بجائے نسبت لے آتے ہیں مُطَابَقَةُ النِّسْبَةِ لِلْوَاقِعِ نسبت کی واقع کے ساتھ مطابقت ہو یعنی نسبت خبریہ، یا یوں کہو نسبت حکمیہ، نسبت حکمیہ کی واقع کے ساتھ مطابقت ہو تو وہ کیا ہے؟ صدق ہے، اور نسبت حکمیہ کی واقع کے ساتھ مطابقت نہ ہو تو یہ کذب ہے، تو دیکھا ہم نے صدق اور کذب کی وہ تعریف کر دی جس میں خبر کا لفظ نہیں آرہا، لہٰذا صدق اور کذب کو جاننے کے لیے قضیے کا جاننا ضروری نہیں بلکہ نسبت کا جاننا ضروری ہے تو اب دور لازم نہیں آئے گا، تو اعتراض ختم ہوا، بات سمجھ میں آگئی؟ دیکھیے بھئی کتاب پر، کہتے ہیں اَلصِّدْقُ هُوَ الْمُطَابَقَةُ لِلْوَاقِعِ صدق جو ہے وہ واقع کے ساتھ مطابقت ہے وَالْكِذْبُ هُوَ اللَّامُطَابَقَةُ لَهُ اور کذب جو ہے وہ اللَّامُطَابَقَةُ لَهُ اَيْ لِلْوَاقِعِ وہ واقع کے ساتھ لا مطابقت ہے یعنی عدم مطابقت ہے وَهٰذَا الْمَعْنَى لَا يَتَوَقَّفُ مَعْرِفَتُهُ عَلَى مَعْرِفَةِ الْخَبَرِ وَالْقَضِيَّةِ اور یہ والا جو معنی ہے ہم نے کیا کس کا؟ صدق اور کذب کا، لَا يَتَوَقَّفُ مَعْرِفَتُهُ یہ جو معنی ہے اس کا جاننا موقوف نہیں ہے عَلَى مَعْرِفَةِ الْخَبَرِ وَالْقَضِيَّةِ کس پر؟ خبر اور قضیہ کے جاننے پر یہ موقوف نہیں ہے، کیونکہ اس میں خبر اور قضیہ کا ذکر ہی نہیں ہے اس صدق اور کذب کی تعریف میں۔ تو دیکھو لَا يَتَوَقَّفُ مَعْرِفَتُهُ عَلَى مَعْرِفَةِ الْخَبَرِ وَالْقَضِيَّةِ خبر اور قضیہ کو اکٹھا ذکر کیا بتلا دیا کہ یہ دونوں آپس میں مترادف ہیں، قضیہ کا عطف کس پر کر رہے ہیں؟ خبر پر کر رہے ہیں، یہ عطف تفسیری کہہ لو، یہ کیا ہے؟ عطف تفسیری۔ بھئی معطوف ایک ہوتا ہے معطوف جو پہلے آئے اس کو کہتے ہیں معطوف علیہ اور جو بعد میں آئے اس کو کہتے ہیں معطوف، یہ جو معطوف علیہ اور معطوف ہوتے ہیں یہ ایک دوسرے سے غیر ہوتے ہیں جَاءَنِيْ زَيْدٌ وَعَمْرٌو، جَاءَنِيْ زَيْدٌ وَعَمْرٌو یہ زید اور عمرو کے درمیان یہ جو واؤ آیا اس نے بتا دیا یہ دونوں الگ الگ ہیں، اردو میں دیکھ لیں "میرے پاس زید اور عمرو آیا" "زید اور عمرو آیا" دیکھا یہ "اور" بتلا رہا ہے دونوں الگ الگ ہیں، تو یہ عطف کیا بتلاتا ہے؟ کہ معطوف علیہ اور معطوف آپس میں ایک دوسرے سے غیر ہیں الگ ہیں، تو عطف مغایرت کا تقاضا کرتا ہے، لیکن کبھی کبھار ایسا کیا جاتا ہے کہ عطف کیا جاتا ہے معنی بیان کرنے کے لیے اس کو عطف تفسیری کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ عطف تفسیری کہتے ہیں، شاید غالباً اس کتاب کے شروع میں اس کی ایک آدھ مثال بھی گزر چکی ہے، عطف تفسیری مثلاً یہاں کیا آیا؟ لَا يَتَوَقَّفُ مَعْرِفَتُهُ عَلَى مَعْرِفَةِ الْخَبَرِ اور خبر کے آگے وَالْقَضِيَّةِ عطف کر دیا، حالانکہ خبر اور قضیہ ایک چیز ہیں یا الگ الگ ہیں؟ دونوں ایک ہی چیز ہیں، تو یہ گویا اسی خبر کا معنی بتلا رہے ہیں خبر سے کیا مراد ہے؟ قضیہ مراد ہے، تو اس کو عطف تفسیری کہتے ہیں، بس یہاں تو اتنی واضح مثال نہیں اور جگہوں پر واضح مثال مل جاتی ہے جہاں معطوف آکر وضاحت کر دیتا ہے معطوف علیہ کی، اس کو کیا کہتے ہیں؟ عطف تفسیری، اور وہاں وہ ایک دوسرے سے غیر نہیں ہوتے کیونکہ وہ اسی کا تو معنی بیان کر رہا ہوتا ہے۔ پھر دیکھئے ترجمہ، کہتے ہیں اَلصِّدْقُ هُوَ الْمُطَابَقَةُ لِلْوَاقِعِ وَالْكِذْبُ هُوَ اللَّامُطَابَقَةُ لَهُ صدق جو ہے وہ واقع کے ساتھ مطابقت ہے اور کذب جو ہے وہ واقع کے ساتھ عدم مطابقت ہے، وَهٰذَا الْمَعْنَى لَا يَتَوَقَّفُ مَعْرِفَتُهُ عَلَى مَعْرِفَةِ الْخَبَرِ وَالْقَضِيَّةِ اور یہ والا جو معنی ہے یعنی مطابقت للواقع اور عدم مطابقت للواقع، یہ والا معنی موقوف نہیں ہے اس کی معرفت خبر اور قضیہ کی معرفت پر، اس کی معرفت خبر اور قضیہ کی معرفت پر موقوف نہیں ہے فَلَا يَلْزَمُ الدَّوْرُ تو اس سے دور بھی لازم نہیں آتا۔ موضوعٌ یعنی اس کو وضع کیا گیا ہے، متعین کیا گیا ہے، مقرر کیا گیا ہے۔ کس کے لیے مقرر کیا گیا ہے؟ آگے آنے والی خبر، آگے آنے والے محمول کے لیے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ یہ یوں کہیں، اس کو حمل کے لیے اس کو متعین کیا گیا ہے۔ زیدٌ قائمٌ، آگے قائمٌ میں اس کے لیے لایا۔ حالانکہ یہ قائمٌ میں خالد کے لیے بھی لا سکتا تھا، بکر کے لیے بھی، لیکن میں نے کس کو متعین کیا؟ زید کو۔ تو چونکہ یہ متعین ہوتا ہے حکم کے لیے، اس لیے اس کو موضوع کہتے ہیں۔ کہتے ہیں: قَوْلُهُ موضوعًا لِأَنَّهُ وُضِعَ وَعُيِّنَ، اس لیے کیونکہ اس کو وضع کیا گیا ہے وَعُيِّنَ اور متعین کیا گیا ہے لِيُحْكَمَ عَلَيْهِ تاکہ اس پر حمل کیا جائے۔ دیکھو: لِأَنَّهُ وُضِعَ وَعُيِّنَ، وضع پر عطف ہے کس کا؟ عُيِّنَ کا۔ دیکھو، یہ اسی کا معنی بیان کیا جا رہا ہے۔ وضع کا کیا معنی ہے؟ متعین کیا گیا ہے۔ لِأَنَّهُ وُضِعَ وَعُيِّنَ اس لیے کیونکہ اس کو متعین کیا گیا ہے لِيُحْكَمَ عَلَيْهِ تاکہ اس پر حکم لگایا جائے۔ قَوْلُهُ محمولًا، مصنف کا قول محمول، کہ محمول کو محمول کیوں کہتے ہیں، اس کی وجہ ذکر کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں: لِأَنَّهُ أَمْرٌ جُعِلَ محمولًا لموضوعِهِ۔ بھئی، ادھر دیکھیے۔ زیدٌ قائمٌ، یہ قائمٌ کیا ہے؟ محمول۔ بھئی، اس کو محمول کیوں کہتے ہیں؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ یہ ایسی چیز ہے، اس کا حمل کیا گیا ہے کس پر؟ موضوع پر۔ محمول کو محمول کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ اس کا حمل کیا گیا ہے۔ تو جس چیز کا حمل کیا جائے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ وہ محمول ہو گئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ حمل کیا گیا ہے، یعنی حکم لگایا گیا ہے۔ یہ معنی ہے: لِأَنَّهُ أَمْرٌ جُعِلَ محمولًا، اس لیے کیونکہ یہ ایسی چیز ہے جس کو محمول بنایا گیا ہے لموضوعِهِ، اپنے موضوع کے لیے۔ یعنی اس پر اس کا حمل کیا گیا ہے۔ باتیں سمجھ بھی آ رہی ہیں اچھی طرح؟ قَوْلُهُ وَالدَّالُّ عَلَى النِّسْبَةِ، مصنف کا قول: وَالدَّالُّ عَلَى النِّسْبَةِ، اوپر کیا آیا تھا؟ وَالدَّالُّ عَلَى النِّسْبَةِ رابطةً، اور وہ جو دال علی النسبت ہوتی ہے، اس کو رابطہ کہتے ہیں۔ وہ لفظ جو دال علی النسبت ہو، اس کو رابطہ۔ اب اس کی شرح کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں: أَيِ اللَّفْظَةُ الْمَذْكُورَةُ فِي الْقَضِيَّةِ الْمَلْفُوظَةِ، یعنی وہ لفظ جو ذکر کیا جاتا ہے فِي الْقَضِيَّةِ الْمَلْفُوظَةِ، کس میں؟ زیدٌ هُوَ قائمٌ، یہ قضیہ ملفوظہ ہے جس پر میں کیا کر رہا ہوں؟ تلفظ کر رہا ہوں۔ اس کے اندر یہ جو هُوَ ہے، یہ کیا ہے؟ دال علی النسبت ہے۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ رابطہ۔ یہی بیان کر رہے ہیں۔ یعنی وہ لفظ جو ذکر کیا جاتا ہے فی القضیۃ الملفوظۃ۔ أَيِ اللَّفْظَةُ الْمَذْكُورَةُ فِي الْقَضِيَّةِ الْمَلْفُوظَةِ، یعنی وہ لفظ جس کو ذکر کیا جاتا ہے قضیہ ملفوظہ کے اندر الَّتِي تَدُلُّ عَلَى النِّسْبَةِ الْحُكْمِيَّةِ، وہ جو دلالت کرتا ہے نسبت حکمیہ پر تُسَمَّى رابطةً، اس کو رابطہ کہتے ہیں تسمیۃ الدال باسم المدلول۔ تسمیۃ الدال باسم المدلول کی قبیل سے۔ یعنی اس کو رابطہ کہتے ہیں تسمیۃ الدال باسم المدلول کی قبیل سے۔ بائی دیکھو، رابطہ کا کیا ترجمہ ہے؟ ربط دینے والا۔ رابطہ کا کیا ترجمہ؟ ربط دینے والا۔ اور زیدٌ قائمٌ، اس میں ربط دینے والا هُوَ ہے یا نسبت حکمیہ ہے؟ نسبت حکمیہ۔ تو اصل میں تو رابطہ وہ نسبت حکمیہ ہے، لیکن اس نسبت حکمیہ پر جو لفظ دلالت کرتا ہے، اسی کو رابطہ کہہ دیتے ہیں۔ اسی کو کیا کہہ دیتے ہیں؟ رابطہ۔ تو یہ جو لفظ ہے، یہ ہے دال، اور کس پر دلالت کر رہا ہے؟ نسبت حکمیہ پر، اور اصل میں رابطہ کون ہے؟ وہ نسبت حکمیہ یعنی مدلول۔ یعنی تو یہ رابطہ تو اصل میں مدلول ہے، لیکن دال ہی کو کیا کہہ دیتے ہیں؟ رابطہ کہہ دیتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ چونکہ یہ لفظ اس نسبت حکمیہ پر دلالت کر رہا ہے، لہذا اسی کو رابطہ کہہ دیتے ہیں، ورنہ حقیقت میں یہ رابطہ نہیں، رابطہ کیا ہے؟ نسبت حکمیہ۔ تو کہتے ہیں: تُسَمَّى رابطةً تسميةَ الدَّالِّ بِاسْمِ الْمَدْلُولِ، تو اس کو تسمیۃ الدال باسم المدلول کی قبیل سے رابطہ کہتے ہیں۔ یہ کیا بن رہا ہے؟ عبارت میں کیا بن رہا ہے تسمیۃ الدال باسم المدلول؟ یہ مفعول مطلق ہے، شاباش! تُسَمَّى پیچھے آیا یا نہیں آیا؟ اور آگے کیا آیا؟ تسمیۃ الدال باسم المدلول۔ اور مفعول مطلق تو کبھی یہ تاکید کے لیے آتا ہے، کبھی نوع بیان کرنے کے لیے، اور کبھی عدد۔ یہاں یہ کس لیے ہے؟ تُسَمَّى، تُسَمَّى سے کیا سمجھ میں آیا؟ مصدر، تسمیہ۔ اور آگے تسمیہ ہے یا تسمیۃ الدال باسم المدلول ہے؟ یہ تو جامی کی بحث آ گئی۔ چلو، اب ذکر آ گیا، مختصراً ذکر کر دیتا ہوں۔ یہ جو مفعول مطلق ہے نا، اس کے تین فائدے ہیں۔ کبھی یہ تاکید کے لیے لاتے ہیں، کبھی یہ عدد بیان کرنے کے لیے، اور کبھی نوع۔ تاکید کے لیے، تاکید کا معنی یہ ہے کلام سے مجاز اور غلطی کے احتمال کو یہ ختم کر دیتا ہے۔ مثلاً میں نے آپ سے کہا: ضربتُ زیدًا، میں نے زید کی پٹائی کی۔ سننے والے کے ذہن میں آ سکتا ہے کہ زید تو بڑا طاقتور آدمی ہے، یہ ضربتُ شاید غلطی سے منہ سے لفظ نکل گیا، کچھ اور کہنا چاہتے تھے، ضربتُ نہیں کہنا چاہتے تھے۔ میں نے تو کیا کہا؟ ضربتُ زیدًا، میں نے زید کی پٹائی کی، لیکن سننے والے کے ذہن میں آ سکتا ہے کہ نہیں بھئی، یہ زبان سے غلطی سے ضربتُ کہہ دیا ہے، کیونکہ زید تو بڑا طاقتور آدمی ہے۔ لیکن آگے میں مفعول مطلق لاتا ہوں: ضربتُ زیدًا ضربًا۔ اس ضربًا نے آ کر ماقبل والے ضربتُ فعل کو پکا کر دیا۔ یعنی غلطی کے احتمال کو ختم کر دیا۔ اس اگلے ضربًا نے بتا دیا، یہ جو میں نے ضربتُ کہا تھا، یہ غلطی سے نہیں کہا، ضربتُ سے ضربتُ ہی مراد ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ غلطی کے احتمال کو اس ضربًا نے کیا کر دیا؟ ختم۔ یا کبھی مجاز کے احتمال کو ختم کرے گا۔ مثلاً میں نے کہا: ضربتُ زیدًا۔ سننے والے کے ذہن میں آ سکتا ہے کہ زید تو بڑا طاقتور آدمی ہے، اس کی پٹائی کون کر سکتا ہے؟ ہاں، اس کو ڈانٹا ہوگا، لیکن زیادہ ڈانٹ دیا تو اس ڈانٹنے کو ہی کس سے تعبیر کر دیا؟ مارنے سے، یوں سمجھو میں نے پٹائی ہی کر دی، اتنا ڈانٹا اس کو بھئی۔ تو ضربتُ زیدًا جب میں نے کہا، پہلا احتمال کیا آ سکتا تھا؟ غلطی کا۔ تو آگے ضربًا نے آ کر کیا کیا؟ غلطی کے احتمال کو ختم کر دیا۔ اسی طرح کبھی احتمال ہو سکتا ہے سننے والا سمجھے شاید یہ مجاز مراد ہے، جیسے شیر کا لفظ، شیر جنگلی درندے کو بھی کہتے ہیں اور بہادر آدمی کو بھی کہتے ہیں۔ تو مثلاً میں نے آپ کو کہا: میں نے کل چڑیا گھر میں شیر دیکھا، معلوم ہوا شیر سے کیا مراد ہے؟ جنگلی درندہ۔ دوسری مثال لے لو: میں نے کل ایک شیر کو تیر چلاتے ہوئے دیکھا۔ اس شیر سے کیا مراد ہے؟ بہادر آدمی۔ کیسے پتہ چلا؟ جو تیر چلانے کا قرینہ بتلا رہا ہے، کیونکہ جنگلی درندہ جو ہے، وہ تو تیر نہیں چلا سکتا، معلوم ہوا اس سے بہادر آدمی مراد ہے۔ تو یہاں پر بھی، جب میں نے کہا ضربتُ زیدًا، تو سننے والے نے کہا بھئی، یہ حقیقی معنی پٹائی نہیں مراد ہوگی، بلکہ کیا مراد ہوگی؟ ڈانٹ مراد ہوگی۔ ڈانٹ مراد ہوگی، لیکن آگے جب میں نے ضربتُ زیدًا ضربًا کہہ دیا، اس ضربًا نے مجاز کے احتمال کو ختم کر دیا اور بتلا دیا کہ ضرب سے ضرب ہی مراد ہے، ڈانٹ وغیرہ کوئی اور مجازی معنی مراد نہیں۔ یہ ہے تاکید۔ یہ کیا ہے؟ تو مفعول مطلق کا ایک فائدہ کیا؟ یہ تاکید پیدا کرتا ہے۔ کیا معنی تاکید؟ یعنی غلطی اور مجاز کے احتمال کو ختم کر دیتا ہے۔ تاکید کا کیا معنی ہے یہاں؟ غلطی اور مجاز کے احتمال کو ختم کر دیتے ہیں۔ ضربتُ زیدًا ضربًا، اس ضربًا نے غلطی کے احتمال کو بھی ختم کر دیا اور مجاز کے احتمال کو بھی ختم کر دیا۔ اور کبھی مفعول مطلق عدد بیان کرنے کے لیے آتا ہے۔ جیسے جلسْتُ جَلْسَةً۔ فَعْلَةٌ وزن آتا ہے عدد کے لیے۔ جلسْتُ جَلْسَةً، میں ایک دفعہ بیٹھا۔ جلسْتُ جَلْسَتَيْنِ، میں دو دفعہ بیٹھا۔ جلسْتُ جَلَسَاتٍ، میں کئی مرتبہ بیٹھا۔ تو کبھی عدد بیان کرنے کے لیے مفعول مطلق کو استعمال کیا جاتا ہے۔ کبھی مرۃً کا لفظ بھی اس کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ جلسْتُ مَرَّةً، میں ایک دفعہ بیٹھا۔ جلسْتُ مَرَّتَيْنِ، میں دو دفعہ بیٹھا۔ جلسْتُ مَرَّاتٍ، میں کئی مرتبہ بیٹھا۔ تو مفعول مطلق بھی یہ عدد بیان کرنے کے لیے استعمال ہو جاتا ہے۔ اور کبھی مفعول مطلق نوع بیان کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ جیسے جلسْتُ جِلْسَةَ الْقَارِي، میں بیٹھا، کس کی طرح؟ قاری کی طرح، یعنی جس انداز میں قاری حضرات بیٹھتے ہیں، میں اس انداز میں بیٹھا، تو اس نے بیٹھنے کی نوع بیان کر دی۔ تو مفعول مطلق کے تین بڑے فائدے ہیں: کیا؟ یہ کبھی تاکید کے لیے آتا ہے، کبھی نوع کے لیے، اور کبھی عدد بیان کرنے کے لیے آتا ہے۔ اب تاکید کے لیے جو آئے گا نا، یاد رکھو، تاکید کے لیے وہ مفعول مطلق ہوگا جس میں کوئی زائد معنی نہ ہو، جس میں کوئی زائد معنی نہ ہو۔ ضربتُ ضربًا۔ ضربتُ سے کیا پتہ چلا؟ ضرب سمجھ میں آ رہی ہے یا نہیں؟ ضربتُ سے بھی آپ کو ضرب سمجھ میں آ رہی ہے۔ مثلاً: ضربَ زیدٌ۔ ضربَ، میں نے آپ سے پوچھا: زید نے کیا کام کیا؟ آپ کیا کہیں گے؟ ضرب، آپ کہیں گے ضرب کی، دیکھا آپ کو اس سے ضرب سمجھ میں آ رہی ہے۔ ضربتُ سے کیا سمجھ میں آ رہی ہے؟ ضرب۔ ضرب سے کوئی زائد چیز سمجھ میں آ رہی ہے؟ نہیں، لہذا آگے میں نے کہا: ضربتُ زیدًا ضربًا۔ ضربتُ زیدًا۔ ضربتُ سے بھی ضرب سمجھ میں آ رہی ہے، اور آگے بھی میں نے کیا کہا؟ ضربًا۔ تو یہ مفعول مطلق تاکید کے لیے ہے۔ جب یہ جو مفعول مطلق صرف وہی چیز بتلائے جو فعل سے سمجھ میں آ رہی ہے، کوئی زائد چیز اس کے ساتھ سمجھ میں نہ آئے، تو یہ کس کے لیے ہے؟ تاکید کے لیے۔ ضربتُ سے بھی کیا سمجھ میں آئی؟ ضرب۔ آگے مفعول مطلق بھی کیا ہے؟ ضرب۔ ضربتُ زیدًا ضربًا، ضربًا سے کوئی زائد چیز سمجھ میں آ رہی ہے؟ نہیں، صرف ضرب ہی سمجھ میں آ رہا ہے اور کچھ بھی نہیں۔ ہاں، اس میں ذرا اضافہ کر دو: ضربتُ زیدًا ضربًا شدیدًا، اب میں ضربًا کی صفت بھی لے آیا۔ اب مفعول مطلق کے ساتھ جب صفت آ گئی، تو مفعول مطلق کیا؟ ضربًا شدیدًا، مفعول مطلق کیا؟ اور فعل سے کیا سمجھ میں آیا؟ ضرب، فعل سے صرف ضرب سمجھ میں آئی، اور مفعول مطلق سے وہی سمجھ میں آیا یا زائد چیز؟ زائد چیز سمجھ میں آ رہی ہے، جب مفعول مطلق میں زائد چیز سمجھ میں آ رہی ہو، تو سمجھ جاؤ وہ تاکید کے لیے نہیں ہے، بلکہ کس لیے ہے؟ نوع یا عدد کے لیے ہے، اور یہاں کس لیے ہے؟ نوع کے لیے ہے، کیونکہ ضرب ہلکی بھی ہو سکتی ہے اور سخت بھی ہو سکتی ہے، تو بتلا دی کس طرح کی ضرب لگائی؟ شدید ضرب لگائی۔ بات سمجھ میں آ گئی کہ مفعول مطلق تاکید کے لیے کب ہو سکتا ہے؟ جب وہی مصدر آگے ہو جو کس سے سمجھ میں آیا؟ فعل سے، اس میں کسی قسم کی زیادتی نہ ہو۔ اب یہاں دیکھو: تُسَمَّى رابطةً تسميةَ الدَّالِّ بِاسْمِ الْمَدْلُولِ، تُسَمَّى سے کون سا مصدر سمجھ میں آیا؟ تسمیہ، سمّی یسمّی تسمیہ۔ تو تُسَمَّى سے تسمیہ سمجھ میں آیا، اور آگے تسميَةَ الدَّالِّ بِاسْمِ الْمَدْلُولِ، اس سے صرف تسمیہ سمجھ میں آیا یا زائد چیز سمجھ میں آ رہی ہے؟ زائد چیز ہے: تسمیۃ الدال باسم المدلول، دال کو مدلول کا نام دینا۔ تو یہ زائد چیز سمجھ میں آ رہی ہے، معلوم ہوا یہ نوع بتلا رہا ہے۔ کیا بتلا رہا ہے؟ نوع۔ چلو، بات لمبی ہو گئی۔ پھر دیکھیں ترجمہ۔ کہتے ہیں: أَيِ اللَّفْظَةُ الْمَذْكُورَةُ فِي الْقَضِيَّةِ الْمَلْفُوظَةِ، یعنی وہ لفظ جس کو ذکر کیا جاتا ہے قضیہ ملفوظہ میں الَّتِي تَدُلُّ عَلَى النِّسْبَةِ الْحُكْمِيَّةِ، وہ لفظ جو دلالت کرتا ہے نسبت حکمیہ پر تُسَمَّى رابطةً، اس کو رابطہ کہتے ہیں تسميةَ الدَّالِّ بِاسْمِ الْمَدْلُولِ، یہ کس قبیل سے ہے؟ تسمیۃ الدال باسم المدلول، یعنی مدلول کا نام کس کو دے دینا؟ دال کو دے دینا، یہ اس قبیل سے ہے۔ فَإِنَّ الرَّابِطَةَ حَقِيقَةً هُوَ النِّسْبَةُ الْحُكْمِيَّةُ، اس لیے کیونکہ رابطہ حقیقت میں وہ نسبت حکمیہ ہے۔ رابطہ یہ لفظ دے رہا ہے یا نسبت حکمیہ ربط دے رہی ہے؟ فَإِنَّ الرَّابِطَةَ حَقِيقَةً هُوَ النِّسْبَةُ الْحُكْمِيَّةُ، تو ربط دینے والی چیز جو حقیقت میں ہے، وہ نسبت حکمیہ ہے۔ وَفِي قَوْلِهِ، اور مصنف کا جو قول آیا تھا اوپر متن میں: وَالدَّالُّ عَلَى النِّسْبَةِ، متن میں کیا آیا تھا؟ وَالدَّالُّ عَلَى النِّسْبَةِ رابطةً، یہ جو دال علی النسبت کا لفظ مصنف نے بولا، कहते ہیں: قَوْلُهُ وَالدَّالُّ عَلَى النِّسْبَةِ، مصنف کا قول جو ہے الدال علی النسبت، إشارةٌ، اس میں اشارہ ہے إِلَى أَنَّ الرَّابِطَةَ أَدَاةٌ، کہ رابطہ کیا چیز ہے؟ ادات ہے۔ رابطہ جو ہے، وہ ادات ہے لِدَلَالَتِهَا عَلَى النِّسْبَةِ الَّتِي هُوَ مَعْنًى حَرْفِيٌّ غَيْرُ مُسْتَقِلٍّ، اس لیے کیونکہ یہ دلالت کر رہا ہے، یہ هُوَ کس پر دلالت کر رہا ہے؟ یہ دلالت کر رہا ہے عَلَى النِّسْبَةِ، اس نسبت پر الَّتِي هُوَ مَعْنًى حَرْفِيٌّ، جو حرفی معنی ہے غَيْرُ مُسْتَقِلٍّ، غیر مستقل۔ ادھر دیکھیے۔ کہتے ہیں: الدَّالُّ عَلَى النِّسْبَةِ، جو دال علی النسبت ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ رابطہ۔ معلوم ہوا یہ دال علی النسبت ہے، نسبت پر دلالت کر رہا ہے، اور نسبت خود کیا ہے؟ غیر مستقل ہے، تو اس پر جو دلالت کرے گا، وہ بھی کیا ہوگا؟ غیر مستقل ہوگا، اور غیر مستقل اسم ہے، کلمہ ہے یا ادات ہے؟ ادات ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے کہ مصنف کا قول الدال علی النسبت، إشارةٌ، یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف كَأَنَّ الرَّابِطَةَ أَدَاةٌ، کہ رابطہ جو ہے، وہ ادات ہے لِدَلَالَتِهَا عَلَى النِّسْبَةِ الَّتِي هُوَ مَعْنًى حَرْفِيٌّ غَيْرُ مُسْتَقِلٍّ، اس وجہ سے کیونکہ یہ دلالت کر رہا ہے اس نسبت پر جو حرفی معنی ہے، یعنی حرف والا معنی ہے غَيْرُ مُسْتَقِلٍّ، اور مستقل نہیں ہے۔ وَاعْلَمْ، اور تو جان لے كَأَنَّ الرَّابِطَةَ قَدْ تُذْكَرُ فِي الْقَضِيَّةِ، کہ رابطہ جو ہے، کبھی اس کو ذکر کیا جاتا ہے قضیہ میں وَقَدْ تُحْذَفُ، اور کبھی اس کو حذف کیا جاتا ہے۔ فَالْقَضِيَّةُ عَلَى الْأَوَّلِ تُسَمَّى ثُلَاثِيَّةً، وَعَلَى الثَّانِي ثُنَائِيَّةً، اور قضیہ جو ہے، پہلی صورت میں، یعنی جب رابطہ ذکر ہو، اس کو ثلاثیہ کہتے ہیں، وَعَلَى الثَّانِي، اور دوسری صورت میں، یعنی جب رابطہ کو حذف کر لیا جائے، تو اس صورت میں قضیہ کو ثنائیہ کہتے ہیں۔ قَوْلُهُ وَقَدِ اسْتُعِيرَ لَهَا هُوَ، مصنف کا قول جو ہے: وَقَدِ اسْتُعِيرَ لَهَا هُوَ، جی، اب شرح کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں: اعْلَمْ، تو جان لے أَنَّ الرَّابِطَةَ تَنْقَسِمُ إِلَى زَمَانِيَّةٍ، کہ رابطہ تقسیم ہوتا ہے کس کی طرف؟ زمانہ، رابطہ دو قسم پر ہے: ایک زمانایہ اور ایک غیر زمانہ۔ ایک رابطہ تقسیم ہوتا ہے إِلَى زَمَانِيَّةٍ، زمانایہ کی طرف۔ زمانایہ کون سا ہے؟ درمیان میں شرح بھی کر رہے ہیں: تَدُلُّ عَلَى اقْتِرَانِ النِّسْبَةِ الْحُكْمِيَّةِ بِأَحَدِ الْأَزْمِنَةِ الثَّلَاثَةِ، یعنی جو دلالت کرتا ہے نسبت حکمیہ کے ملنے پر بِأَحَدِ الْأَزْمِنَةِ الثَّلَاثَةِ، تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے کے ساتھ۔ میں نے بتایا تھا کہ رابطہ دو قسم پر ہے: رابطہ زمانایہ اور ایک رابطہ غیر زمانایہ۔ رابطہ زمانایہ وہ ہے جو نسبت کے ساتھ ساتھ تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ بھی اس کے ساتھ ملا ہوا ہو، اور غیر زمانایہ وہ جو صرف نسبت پر تو دلالت کر رہا ہے، لیکن تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ اس کے ساتھ ملا ہوا نہیں ہے۔ تو پھر دیکھیں بھئی۔ اعْلَمْ أَنَّ الرَّابِطَةَ تَنْقَسِمُ إِلَى زَمَانِيَّةٍ، تو جان لے کہ رابطہ جو ہے، وہ تقسیم ہوتا ہے رابطہ زمانایہ کی طرف تَدُلُّ عَلَى اقْتِرَانِ النِّسْبَةِ الْحُكْمِيَّةِ بِأَحَدِ الْأَزْمِنَةِ الثَّلَاثَةِ، جو دلالت کرتا ہے نسبت حکمیہ کے ملے ہونے پر، نسبت حکمیہ کے جڑے ہونے پر بِأَحَدِ الْأَزْمِنَةِ الثَّلَاثَةِ، تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے کے ساتھ وَغَيْرِ زَمَانِيَّةٍ، اور دوسرا رابطہ کیا ہے؟ غیر زمانایہ ہے بِخِلَافِ ذَلِكَ، جو اس کے برخلاف ہو، یعنی وہ تین زمانوں میں سے کسی زمانے کے ساتھ جڑنے پر دلالت نہیں کرتا۔ وَذَكَرَ الْفَارَابِيُّ، اور فارابی نے ذکر کیا ہے أَنَّ الْحِكْمَةَ الْفَلْسَفِيَّةَ لَمَّا نُقِلَتْ مِنَ اللُّغَةِ الْيُونَانِيَّةِ إِلَى الْعَرَبِيَّةِ۔ یہاں یاد رکھو، یہ جو فارابی کا ذکر آیا بھئی، فارابی، ان کو معلم ثانی کہتے ہیں۔ معلم ثانی، دوسرا معلم۔ جبکہ ارسطو جو ہے، ارسطو یونان کا مشہور فلسفی، اس کو معلم اول کہتے ہیں۔ ارسطو کو کیا کہتے ہیں؟ معلم اول، اور یہ فارابی کو معلم ثانی کہا جاتا ہے۔ تو منطق کی کتابوں میں ذکر ان کا کثرت سے ملے گا، کہیں وہ معلم اول ذکر کر دیں تو آپ سمجھ جائیں ارسطو مراد ہے، اور کہیں وہ معلم ثانی ذکر کر دیں تو سمجھ جائیں اس سے فارابی مراد ہے۔ ارسطو جو ہے، ارسطو یا ارسطاطالیس بھئی۔ ارسطاطالیس، ارسطا، طا اور الف۔ یہ دونوں اسی کے نام ہیں۔ ارسطو بھی استعمال ہوتا ہے اور ارسطاطالیس، دو دفعہ طا اور الف ہیں، درمیان میں ارسطاطالیس۔ ارسطو یا ارسطاطالیس بھئی، یہ یونان کا مشہور فلسفی گزرا ہے، اور یہ کوئی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے تقریباً تین، ساڑھے تین سو سال قبل گزرا ہے۔ تین، ساڑھے تین سو سال قبل تقریباً یہ گزرا ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے، اور اس کو معلم اول کہتے ہیں کیونکہ اس نے منطق کی بنیاد رکھی۔ اس نے باقی فلاسفہ کے علوم سے اخذ کرتے ہوئے علم منطق کو مرتب کیا۔ علم منطق کی اس نے بنیاد رکھی، اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ معلم اول کہتے ہیں، اور یہ افلاطون کا شاگرد تھا بھئی، مشہور فلسفی افلاطون کا شاگرد تھا، اور مشہور فاتح سکندر اعظم کا یہ استاد تھا بھئی۔ سکندر اعظم کا استاد اور افلاطون کا شاگرد تھا۔ اور یہ جو فارابی ہے، یہ ابو نصر محمد فارابی بھئی، یہ مسلمان فلسفی ہیں بھئی۔ مسلمان، سب سے بڑے فلسفیوں میں سے یہ ہیں۔ اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ جو فلسفہ ہے، یہ یونانی علم تھا، پھر بادشاہوں نے بڑے بڑے علماء مقرر کیے جنہوں نے منطق کی کتابوں کا ترجمہ کیا عربی کی طرف، تو ان میں جو سب سے بڑے فلسفی گزرے، ان میں سے فارابی ہیں بھئی، اور ان کو معلم ثانی کہتے ہیں، معلم ثانی، اس لیے کیونکہ انہوں نے ارسطو کی منطق کی کتابوں کی شرح لکھی۔ اس کی شرح کی، اس لیے ان کو کیا کہتے ہیں؟ معلم ثانی کہتے ہیں، اور ان کی تصانیف 100 سے زیادہ ہیں، اور یہ جو ترجمہ کرنے والے تھے، ان کے یعنی بڑے تھے بھئی، ان میں سے یہ بڑے تھے، ترجمہ کرنے کے بڑے ماہر تھے، تو انہوں نے ان علوم کو منتقل کیا بھئی۔ اور ان کو فارابی اس لیے کہتے ہیں کہ یہ فاراب کے رہنے والے تھے، فاراب شہر کے، ترکستان کا کوئی شہر تھا فاراب، یہ اس کے رہنے والے تھے، اس نسبت سے ان کو فارابی کہتے ہیں۔ اور یہ، یہ گزرے ہیں، یہ تقریباً تیسری صدی کے آخر میں۔ 260 ہجری ان کی پیدائش ہے اور 339 ہجری ان کی وفات ہے۔ 260 ہجری ان کی پیدائش ہے۔ معلوم ہوا یہ کس صدی میں پیدا ہوئے؟ ہاں، تیسری میں، شاباش! دوسری نہیں کہنا۔ 260، 200 کا مطلب ہے دو صدیاں گزر گئیں، تو 260 سال گزر چکے حضور علیہ السلام کی ہجرت کو، یعنی تیسری صدی چل رہی تھی، اس وقت اس کی پیدائش ہوئی۔ تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ معلم ثانی کہتے ہیں۔ تو وہ ذکر کرتے ہیں، وہ چونکہ ترجمہ کر رہے تھے یونانی کتابوں کا، تو انہوں نے دیکھا کہ یونانی زبان کے اندر یونانی زبان میں دو طرح کے رابطے ہیں: کچھ رابطے زمانایہ ہیں اور کچھ رابطے غیر زمانایہ ہیں۔ لیکن جب عربی میں غور کیا، تو عربی میں ان کو رابطہ زمانایہ تو مل گیا، افعال ناقصہ۔ افعال ناقصہ، کان یکون وغیرہ، لیکن رابطہ غیر زمانایہ کوئی نہیں مل رہا۔ تو اس کے لیے انہوں نے پھر هُوَ، هِيَ، هُمَا وغیرہ کو استعمال کیا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے بھئی، کتاب پر۔ کہتے ہیں: وَذَكَرَ الْفَارَابِيُّ أَنَّ الْحِكْمَةَ الْفَلْسَفِيَّةَ لَمَّا نُقِلَتْ مِنَ اللُّغَةِ الْيُونَانِيَّةِ إِلَى الْعَرَبِيَّةِ، کہ حکمت فلسفی کو جب نقل کیا گیا، حکمت، جب فلسفی حکمت کو نقل کیا گیا مِنَ اللُّغَةِ الْيُونَانِيَّةِ، یونانی زبان سے إِلَى الْعَرَبِيَّةِ، عربی زبان کی طرف وَجَدَ الْقَوْمُ، تو ان لوگوں نے پایا۔ وہ علماء جو اس کو نقل کر رہے تھے یونانی زبان سے عربی زبان کی طرف، تو وَجَدَ الْقَوْمُ، ان لوگوں نے پایا أَنَّ الرَّابِطَةَ الزَّمَانِيَّةَ فِي لُغَةِ الْعَرَبِ هِيَ الْأَفْعَالُ النَّاقِصَةُ، کہ وہ رابطہ زمانایہ جو ہے عربی زبان میں هِيَ الْأَفْعَالُ النَّاقِصَةُ، وہ کیا ہے؟ افعال ناقصہ ہیں، یعنی کان یکون وغیرہ۔ میری کتاب میں ہے: افعال۔ الافعال ہونا چاہیے۔ آگے الناقصۃ اس کی صفت ہے، اور وہ معرفہ ہے، تو الافعال اس کو بھی کیا ہونا چاہیے؟ معرفہ۔ تو یہاں لام الف بیچ میں رہ گیا ہے۔ تو کہتے ہیں کہ انہوں نے پایا أَنَّ الرَّابِطَةَ الزَّمَانِيَّةَ فِي لُغَةِ الْعَرَبِ هِيَ الْأَفْعَالُ النَّاقِصَةُ، کہ رابطہ زمانایہ جو ہے عربی زبان کے اندر، وہ افعال ناقصہ ہیں وَلَكِنْ لَمْ يَجِدُوا فِي تِلْكَ اللُّغَةِ رابطةً غَيْرَ زَمَانِيَّةٍ، لیکن ان لوگوں نے نہیں پایا اس زبان میں۔ یعنی عربی زبان میں رابطةً غَيْرَ زَمَانِيَّةٍ، کوئی رابطہ غیر زمانایہ نہیں پایا تَقُومُ مَقَامَ هست فِي الْفَارِسِيَّةِ وَإِسْتَن فِي الْيُونَانِيَّةِ، جو فارسی میں هست کے قائم مقام ہو جائے وَإِسْتَن فِي الْيُونَانِيَّةِ، اور یونانی کے إستن کے قائم مقام ہو جائے۔ فارسی میں هست کہہ لیں یا است کہہ لیں۔ یہ رابطہ غیر زمانایہ ہے۔ یہ رابطہ غیر زمانایہ۔ جیسے زید ضارب است، زید ضارب است، دیکھو است آیا، جیسے اردو میں "ہے" ہے۔ زید ضارب ہے۔ تو فارسی میں است یا جو هست ہے، وہ رابطہ غیر زمانایہ ہے، اور یونانی زبان میں إستن، إستن کا لفظ تھا رابطہ غیر زمانایہ کے لیے۔ لیکن عربی میں کوئی اس کے مقابل ان کو لفظ نہیں ملا، تو مستعار ان ضمیروں کو انہوں نے استعمال کر لیا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: وَلَكِنْ لَمْ يَجِدُوا فِي تِلْكَ اللُّغَةِ رابطةً غَيْرَ زَمَانِيَّةٍ تَقُومُ مَقَامَ هست فِي الْفَارِسِيَّةِ وَإِسْتَن فِي الْيُونَانِيَّةِ، لیکن ان لوگوں نے نہیں پایا اس زبان یعنی عربی زبان میں کوئی ایسا رابطہ جو غیر زمانایہ ہو، جو قائم مقام ہو جائے فارسی میں هست کے اور یونانی میں إستن جو ہے، اس کے قائم مقام۔ فارسی میں جو هست ہے اور یونانی میں جو إستن ہے، اس کے جو قائم مقام ہو جائے۔ انہوں نے عربی زبان میں کوئی ایسا رابطہ نہیں پایا جو فارسی میں جو هست ہے اور یونانی میں جو إستن ہے، اس کے قائم مقام ہو جائے، جیسے هست فارسی میں غیر زمانایہ ہے اور جیسے إستن یونانی زبان میں غیر زمانایہ ہے، عربی زبان میں ان کو کوئی ایسا رابطہ غیر زمانایہ نہیں ملا۔ فَاسْتَعَارُوا لِلرَّابِطَةِ الْغَيْرِ الزَّمَانِيَّةِ لَفْظَةَ هُوَ وَهِيَ وَنَحْوِهِمَا، تو انہوں نے اس رابطہ غیر زمانایہ کے لیے مستعار لے لیا هُوَ، هِيَ اور ان جیسے لفظوں کو مَعَ كَوْنِهِمَا فِي الْأَصْلِ أَسْمَاءً لَا أَدَوَاتٍ، باوجود اس کے کہ یہ اصل کے اندر اسماء ہیں، یعنی ضمیریں ہیں لَا أَدَوَاتٍ، یہ ادات نہیں ہیں، حروف نہیں ہیں۔ فَهَذَا مَا أَشَارَ إِلَيْهِ الْمُصَنِّفُ رَحِمَهُ اللَّهُ بِقَوْلِهِ: وَقَدِ اسْتُعِيرَ لَهَا هُوَ، اور یہی ہے جس کی طرف اشارہ کیا ہے مصنف نے اپنے قول: وَقَدِ اسْتُعِيرَ لَهَا هُوَ۔ اسی بات کی طرف مصنف نے اشارہ کیا ہے، کہ مستعار کیوں لیا گیا؟ یہ وجہ، وجہ یہ تھی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ بھئی، عبارت پہ توجہ ہے؟ میں نے کیا پڑھا: مَعَ كَوْنِهِمَا فِي الْأَصْلِ أَسْمَاءً لَا أَدَوَاتٍ۔ أَسْمَاءً پر میں نے فتحہ پڑھا، اور أَدَوَاتٍ اس پر میں نے کسرہ پڑھا۔ عبارت سمجھ میں آ رہی ہے؟ یاد رکھو، یہ جو ادوات ہے، اس کا عطف ہے اسماء پر۔ ادوات کا عطف کس پر؟ اسماء پر، اور یہ لَا حرف عطف ہے۔ آپ نے حروف عاطفہ پڑھے ہوں گے، 10 حروف عاطفہ ہیں: واو، او، فا، ثم وغیرہ، اور اس میں لَا بھی ہے، لَا بھی ہے، تو یہ لَا کیا ہے؟ حرف عطف، اور اس ادوات کا عطف کس پر ہو رہا ہے؟ اسماء پر، اور اسماء جو ہے، یہ كَوْنِهِمَا، یہ کَون کی خبر ہے۔ کانَ کیا کرتا ہے؟ اپنے اسم کو رفع دیتا ہے اور خبر کو نصب، تو یہ کَون جو اس کا مصدر ہے، یہ بھی اسی طرح اپنے اسم کو رفع دیتا ہے اور خبر کو نصب۔ تو مَعَ كَوْنِهِمَا، یہ جو ہما ضمیر کَون لفظ کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، یہ ہے اس کا اسم، یہ ہے مرفوع محلاً۔ اور یہ جو اسماء ہے، یہ اس کی خبر ہے، اور خبر، کَون کی خبر کیا ہوتی ہے؟ منصوب، تو یہ منصوب ہے۔ اور لَا أَدَوَاتٍ، اس کا اسی پر عطف ہے، تو یہ بھی منصوب ہے۔ آپ کہیں گے اس پر تو ہم کسرہ پڑھ رہے ہیں، بھئی، کسرہ ہے، لیکن یہ نصب ہی ہے، کیونکہ جمع مؤنث سالم ہے، اور جمع مؤنث سالم: مسلماتٌ اور مسلماتٍ، اس کا نصب کسرہ کے ساتھ آتا ہے۔ رفع آئے گا مسلماتٌ، نصب اور جر کیسے آئے گا؟ مسلماتٍ، یہ مسلماتٍ نصب کی صورت میں بھی پڑھیں گے اور جر کی صورت میں بھی، تو لہذا یہ ادواتٍ یہ منصوب ہے، لیکن اس کا نصب آتا ہی کسرہ کی شکل میں ہے، تو اسماءً بھی منصوب، یعنی جو معطوف علیہ ہے، وہ بھی منصوب، اور جو معطوف ہے، وہ بھی منصوب، تو معطوف کا وہی اعراب ہوتا ہے جو معطوف علیہ کا ہوتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ آگے دیکھیے: وَقَدْ يُذْكَرُ لِلرَّابِطَةِ الْغَيْرِ الزَّمَانِيَّةِ أَسْمَاءٌ مُشْتَقَّةٌ مِنَ الْأَفْعَالِ النَّاقِصَةِ، اور کبھی کبھار ذکر کیا جاتا ہے رابطہ غیر زمانایہ کے لیے ان اسماء کو جو مشتق ہوتے ہیں افعال ناقصہ سے نَحْوُ كَائِنٍ وَمَوْجُودٍ، جیسے كَائِنٍ اور مَوْجُودٍ کا لفظ ہے فِي قَوْلِنَا، ہمارے اس قول میں: زيدٌ كَائِنٌ قَائِمًا۔ زيدٌ كَائِنٌ قَائِمًا، یہ كَائِنٌ، یہ رابطے کے لیے ہے، یہ کانَ فعل سے مشتق جو ہے، صفت کا صیغہ لے لیا۔ اور اسی طرح: وَعُمَيْرِسٌ مَوْجُودٌ شَاعِرًا، عمیرس شاعر ہے۔ عمیرس، عُمَيْرِسُ، یہ غیر منصرف ہے، کیونکہ عجمی نام ہے، تو ایک علمیت ہوئی اور ایک عجمہ، لہذا تنوین نہیں آئے گی۔ وَعُمَيْرِسٌ مَوْجُودٌ شَاعِرًا، عمیرس شاعر ہے۔ یہ كَائِنٌ اور مَوْجُودٌ، ان کا الگ ترجمہ نہیں کریں گے بھئی۔ زيدٌ كَائِنٌ قَائِمًا، یہ كَائِنٌ کا الگ ترجمہ نہیں کریں گے، یہ وہی "ہے" کا ترجمہ ادا کر رہا ہے۔ زيدٌ كَائِنٌ قَائِمًا، زید کھڑا ہے۔ عُمَيْرِسٌ مَوْجُودٌ شَاعِرًا، کیا ترجمہ؟ عمیرس شاعر ہے۔ تو یہی جو افعال ناقصہ سے جو ان کے اسماء مشتقہ ہیں، ان کو کیا کر لیا؟ رابطہ غیر زمانایہ کے لیے ان کو بھی کبھی استعمال کرتے ہیں، لیکن یہ بہت ہی قلیل استعمال ہوتے ہیں۔ دوبارہ دیکھیں بھئی: وَقَدْ يُذْكَرُ لِلرَّابِطَةِ الْغَيْرِ الزَّمَانِيَّةِ أَسْمَاءٌ مُشْتَقَّةٌ مِنَ الْأَفْعَالِ النَّاقِصَةِ، عبارت پر نظر ہے؟ کہتے ہیں: اور کبھی کبھار ذکر کیا جاتا ہے رابطہ غیر زمانایہ کے لیے أَسْمَاءٌ، ایسے اسماء کو مُشْتَقَّةٌ مِنَ الْأَفْعَالِ النَّاقِصَةِ، جو مشتق ہوتے ہیں کس سے؟ افعال ناقصہ سے نَحْوُ كَائِنٍ وَمَوْجُودٍ فِي قَوْلِنَا، اس کو كَائِنٍ اور مَوْجُودٍ، کسرہ کے ساتھ بھی پڑھ سکتے ہیں، کیونکہ نحوُ ہے مضاف، اور كَائِنٍ اور مَوْجُودٍ کیا ہیں؟ مضاف الیہ، اور آپ چاہیں تو اس پر اعراب حکائی پڑھ دیں۔ اعراب حکائی کیا؟ کہ جملے میں جو اعراب آیا تھا، وہی یہاں پڑھ دو: زيدٌ كَائِنٌ قَائِمًا، یہاں كَائِنٌ پر کیا ہے؟ رفع، اور وَعُمَيْرِسٌ مَوْجُودٌ شَاعِرًا، یہاں مَوْجُودٌ پر کیا ہے؟ رفع۔ تو انہی دو لفظوں کو یہاں لیا، تو وہی اعراب ان پر پڑھ دیا، اس کو اعراب حکائی کہتے ہیں، یعنی جہاں سے اس لفظ کو نقل کیا گیا، اس حکایت میں، اس بات میں، اس پر یہ والا اعراب تھا، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ اعراب حکائی، تو وہاں پر اس جملو، ان جملوں میں كَائِنٌ اور مَوْجُودٌ پر کیا پڑھا جا رہا ہے؟ رفع، تو یہاں پر بھی آپ وہی اعراب پڑھ دیں: نَحْوُ كَائِنٌ وَمَوْجُودٌ فِي قَوْلِنَا زيدٌ كَائِنٌ قَائِمًا۔ اور اس صورت میں یہ كَائِنٌ مرفوع ہے لفظاً، اعراب حکائی ہے، لیکن محلاً یہ مجرور ہی ہے، کیونکہ یہ مضاف الیہ ہے کس کے لیے؟ نحوُ کے لیے، تو محلاً یہ مجرور ہی ہے، البتہ لفظاً مرفوع ہے اعراب حکائی کی وجہ سے۔ اچھا، یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ انہوں نے کیا کہا؟ کہ رابطہ غیر زمانایہ کے لیے انہوں نے هُوَ کو مستعار لے لیا، توجہ ہے؟ رابطہ غیر زمانایہ کے لیے انہوں نے هُوَ کو مستعار لے لیا، اور اب آگے کہہ رہے ہیں کہ کبھی کبھار رابطہ غیر زمانایہ کے لیے اسماء مشتقہ جو ہیں افعال ناقصہ سے، ان کو بھی استعمال کر لیتے ہیں، جیسے كَائِنٌ اور مَوْجُودٌ۔ ان كَائِنٌ اور مَوْجُودٌ وغیرہ کو کس کے لیے استعمال کر رہے ہیں؟ غیر زمانایہ، رابطہ غیر زمانہ، اور كَائِنٌ اور مَوْجُودٌ عربی میں موجود ہیں یا نہیں ہیں؟ جب یہ عربی میں موجود ہیں، تو پھر هُوَ کو مستعار لینے کی کیا ضرورت ہے؟ انہی کو استعمال کر لیتے، تو جواب یاد رکھنا کہ یہ بہت ہی قلیل استعمال ہوتے ہیں، لہذا ان کو نہیں لیا، بلکہ اس کے بجائے کس کو لے لیا؟ هُوَ، هِيَ، هُمَا ضمیروں، غائب کی ضمیروں کو لے لیا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہاں آپ کے ذہن میں ایک اور اشکال آئے گا۔ انہوں نے کہا: وہ اسماء جو مشتق ہیں کس سے؟ افعال ناقصہ سے، اور آگے کہا: كَائِنٌ وَمَوْجُودٌ۔ كَائِنٌ، یہ تو ٹھیک ہے کانَ سے مشتق ہے، لیکن مَوْجُودٌ، یہ تو وُجِدَ سے مشتق ہے بھئی، یہ تو افعال ناقصہ میں سے نہیں ہے۔ افعال ناقصہ میں سے نہیں ہے، تو یاد رکھو، اس سے مراد وہ افعال ہیں جو وجود اور ثبوت پر دلالت کریں، وجود اور ثبوت پر دلالت کریں، تو کانَ وغیرہ بھی کس پر دلالت کرتے ہیں؟ ثبوت اور وجود پر، اسی طرح یہ افعال عامہ جو ہیں، یہ بھی کس پر دلالت کرتے ہیں؟ افعال عامہ جانتے ہو؟ افعال عامہ، یہ یاد رکھو، افعال عامہ مشہور چار ہیں: کون، ثبوت، حصول، اور وجود۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو افعال عامہ مشہور چار ہیں: کون، ثبوت، وجود، اور حصول بھئی۔ ان کو افعال عامہ اس لیے کہتے ہیں، کیونکہ ہر فعل کے اندر ان کا معنی موجود ہے۔ ان سب کا معنی ہے ہونا: کون، ثبوت، وجود، اور حصول، سب کا کیا معنی ہے؟ ہونا۔ تو یہ افعال عامہ ہیں، ہر فعل میں ان کا معنی ہے، ضرب ہو، یا شرب ہو، یا اکل ہو، اس میں ان چاروں کا معنی پایا جائے گا۔ ہر ہر فعل میں ان چاروں کا معنی ہوگا۔ جبکہ باقی افعال، افعال خاصہ کہلاتے ہیں، ان کا معنی ہر جگہ نہیں ہوتا، جیسے جہاں ضرب ہے، وہاں شرب نہیں، اور جہاں شرب ہے، وہاں ضرب نہیں۔ افعال عامہ کا معنی ہر فعل میں پایا جاتا ہے۔ مثلاً: ضربَ زیدٌ، زید نے پٹائی کی۔ تو اس میں ایک چیز کا ہونا ہے، کیا ہے؟ پٹائی کا ہونا ہے، تو دیکھو ثبوت پٹائی ہے یا نہیں؟ وجود پٹائی ہے یا نہیں؟ حصول پٹائی ہے یا نہیں؟ اور کون پٹائی، یعنی پٹائی کا ہونا، کانَ یکونُ کونًا، تو پٹائی کا ہونا ہے۔ تو یہ جو افعال عامہ ہیں، کون کون سے؟ کون، ثبوت، وجود، اور حصول۔ ان سب کا معنی ہے ہونا، اور ہر فعل کے اندر ان کا معنی ہوتا ہے، جیسے میں نے مثال ذکر کر دی: ضربَ زیدٌ، زید نے پٹائی کی، تو دیکھو اس میں ایک چیز کا ہونا ہے، کون ہے ایک چیز کا، اور ایک چیز کا ثبوت ہے، یعنی پٹائی کا، اور ایک چیز کا حصول ہے، یعنی پٹائی کا، اور ایک چیز کا وجود ہے، یعنی پٹائی کا۔ دوسری مثال لے لیں۔ شربَ زیدٌ، یہ شربَ زیدٌ، اس میں بھی دیکھو شرب کا وجود ہے، شرب کا ثبوت ہے، شرب کا حصول ہے، اور شرب کا کون ہے، یعنی ہونا ہے۔ تو دیکھو یہ افعال عامہ وہ افعال ہیں جن کا معنی ہر فعل میں پایا جاتا ہے۔ اور مثال لے لیں: فرَّ زیدٌ، زید دوڑا۔ زید دوڑا، دیکھو اس میں دوڑنے کا ثبوت ہے، اس میں دوڑنے کا حصول ہے، اس میں دوڑنے کا وجود ہے، اور اس میں دوڑنے کا کون ہے، یعنی ہونا ہے، کانَ یکونُ کا معنی ہونا، اس میں دوڑ کا ہونا ہے۔ جبکہ باقی افعال، افعال خاصہ کہلاتے ہیں، ان کا معنی ہر جگہ نہیں ہوتا، جیسے ضرب، ضربَ زیدٌ، اس میں شرب والا معنی ہے؟ نہیں، تو یہ ضربَ افعال خاصہ میں سے ہے۔ اسی طرح شربَ عمروٌ، اس شرب میں کیا ضرب والا معنی ہے؟ نہیں، تو باقی افعال وہ افعال خاصہ کہلاتے ہیں، باقی افعال میں ان کا معنی نہیں ہوتا، ضرب ہے تو شرب نہیں، شرب ہے تو ضرب نہیں، یہ افعال خاصہ ہیں، لیکن افعال عامہ: کون، ثبوت، وجود، حصول، ان سب کا معنی ہے ہونا، ہونا، ایک چیز کا ہونا، اور ہر فعل میں ان کا معنی پایا جاتا ہے۔ تو افعال ناقصہ، افعال ناقصہ سے کہہ لیں جو مشتق ہیں یا افعال عامہ سے جو مشتق ہوتے ہیں، وہ استعمال کر لیتے ہیں۔ یعنی جو بھی وجود پر دلالت کریں، چاہے وہ افعال ناقصہ میں سے ہو، چاہے افعال عامہ میں سے ہو۔ تو یہ معنی ہے: أَسْمَاءٌ مُشْتَقَّةٌ مِنَ الْأَفْعَالِ النَّاقِصَةِ، وہ افعال جو مشتق ہیں کس سے؟ افعال ناقصہ سے، اور اسی طرح افعال عامہ سے۔ تو یہ مَوْجُودٌ، یہ افعال عامہ میں سے ہے، اسی طرح كَائِنٌ، یہ افعال عامہ میں سے ہے بھئی۔ تو یوں کہہ لیں یہاں کہ کبھی کبھار رابطہ غیر زمانایہ کے لیے وہ اسماء جو مشتق ہیں افعال ناقصہ اور افعال عامہ سے، ان کو استعمال کر لیا جاتا ہے جو کسی چیز کے ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔ تو یہاں بھی كَائِنٌ اور مَوْجُودٌ کس پر دلالت کر رہے ہیں؟ ہونے پر دلالت کر رہے ہیں۔ زيدٌ كَائِنٌ قَائِمًا، یعنی زید کھڑا ہے، تو كَائِنٌ زید کے لیے قیام کے ہونے پر دلالت کر رہا ہے کہ زید کھڑا ہے، وَعُمَيْرِسٌ مَوْجُودٌ شَاعِرًا، عمیرس شاعر ہے، تو یہاں پر مَوْجُودٌ جو ہے عمیرس کے شاعر ہونے پر دلالت کر رہا ہے، اور ان کو رابطہ غیر زمانایہ کہا کیونکہ یہ اسماء مشتقہ ہیں، یہ اسماء ہیں، فعل ہو تو فعل میں زمانہ ہوتا ہے، لیکن اسماء مشتقہ کے ساتھ زمانہ نہیں ہوتا، تو اس لیے ان افعال کے جو اسماء مشتقہ ہیں، ان کو کبھی کبھار رابطہ غیر زمانایہ کے لیے استعمال کر لیتے ہیں۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ پھر دیکھ لیے ترجمہ۔ کہتے ہیں: وَقَدْ يُذْكَرُ لِلرَّابِطَةِ الْغَيْرِ الزَّمَانِيَّةِ، اور کبھی کبھار ذکر کیا جاتا ہے رابطہ غیر زمانایہ کے لیے أَسْمَاءٌ مُشْتَقَّةٌ مِنَ الْأَفْعَالِ النَّاقِصَةِ، ان اسماء کو جو مشتق ہوتے ہیں افعال ناقصہ سے نَحْوُ كَائِنٍ وَمَوْجُودٍ فِي قَوْلِنَا، جیسے كَائِنٍ اور مَوْجُودٍ کا لفظ ہے ہمارے اس قول میں: زيدٌ كَائِنٌ قَائِمًا، زید کھڑا ہے، وَعُمَيْرِسٌ مَوْجُودٌ شَاعِرًا، اور عمیرس شاعر ہے۔ عمیرس شاعر ہے۔ چلیے، بس کریں، بس بھئی! هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔