درس نمبر۔61 أقسام الإطناب: الإطناب يكون بأمور كثيرة، منها: ذكر الخاص بعد العام نحو: «اجتهدوا في دروسكم واللغة العربية»، وفائدته التنبيه على فضل الخاص كأنه لرفعته جنس آخر مغاير لما قبله، ومنها: ذكر العام بعد الخاص كقوله تعالى: ﴿رَبِّ اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَيْتِيَ مُؤْمِنًا وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ﴾. گزشتہ سبق میں آپ نے دواعیِ ایجاز اور دواعیِ اطناب پڑھے تھے اور مصنف نے آپ کو بتلایا تھا کہ دواعیِ ایجاز میں سے ایک «تسهيل الحفظ» ہے، یاد کرنے کو آسان بنانا۔ کیونکہ بات جب مختصر ہوگی تو یاد کرنے میں آسانی ہوگی، تو یاد کرنے کو آسان بنانے کے لیے ایجاز کیا جاتا ہے۔ اسی طرح «وتقريب الفهم»، دواعیِ ایجاز میں سے ایک تقریب الفہم ہے یعنی فہم کے بات کو قریب کرنا کہ بات سمجھنا آسان ہو جائے، بعض اوقات لمبی بات کا سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے اور مختصر بات کا سمجھنا آسان ہوتا ہے۔ «وضيق المقام»، اور دواعیِ ایجاز میں سے ایک مقام کا تنگ ہونا ہے کہ موقع ہی نہیں ہے کہ لمبی بات کی جائے۔ «والإخفاء»، اور اسی طرح دواعیِ ایجاز میں سے ایک اخفاء ہے، بات کو چھپانا۔ آپ مختصر کلام کرتے ہیں، طویل اور مفصل کلام نہیں کرتے کیونکہ آپ وہ بات صرف کسی ایک یا دو کو بتلانا چاہتے ہیں اور باقیوں سے اس بات کو چھپانا چاہتے ہیں۔ اور اسی طرح دواعیِ ایجاز میں سے «سآمة المحادثة» ہے، گفتگو کی اکتاہٹ بھئی، گفتگو کی، تو بعض اوقات انسان غم میں ہے، پریشانی میں ہے، تکلیف میں ہے، تو وہ گفتگو کی اکتاہٹ سے بچنے کے لیے مختصر کلام کرتا ہے۔ اور اطناب کے دواعی میں سے جو تھے، وہ «تثبيت المعنى» تھا، معنی کو ثابت کرنا یعنی سننے والے کے ذہن میں بات کو اچھی طرح جما دینا، اچھی طرح بٹھا دینا، اور جب بات کو ذرا بات لمبی کی جائے گی اس کی خوب وضاحت کی جائے گی تو سننے والے کے ذہن میں اچھی طرح بیٹھ جائے گی۔ اسی طرح دواعیِ اطناب میں سے ایک «توضيح المراد» تھا، مراد کی وضاحت کرنا، اور یہ ظاہر سی بات ہے کہ بات جب ذرا لمبی کی جائے گی تو معنیٰ مراد اچھی طرح واضح ہو جائے گا۔ اور اسی طرح دواعیِ اطناب میں سے ایک «توكيد» تھا یعنی بات کو پختہ کرنا۔ جب ایک ہی بات مثلاً پہلی مرتبہ اجمالاً کی اور دوسری دفعہ تفصیلی کی تو وہ بات ذہن میں اچھی طرح بیٹھ جائے گی۔ اور اسی طرح دواعیِ اطناب میں سے ایک «دفع الإيهام» تھا یعنی خلافِ مقصود کے وہم کو دور کرنا، اور جب بات کی خوب وضاحت ہوگی، بات ذرا لمبی ہوگی تو خلافِ مقصود کا وہم ختم ہو جائے گا بھئی۔ اس کے بعد ایجاز کی اقسام آپ نے پڑھی تھیں اور انہوں نے آپ کو بتلایا کہ ایجاز دو قسم پر ہے: ایک ایجازِ قصر اور ایک ایجازِ حذف بھئی۔ ایجازِ حذف تو نام سے ہی پتہ چل رہا ہے جس میں کیا کیا جائے؟ حذف کیا جائے اور حذف کے ذریعے بات کو مختصر کیا جائے۔ اور دوسرا ایجازِ قصر تھا اور بتلایا تھا کہ یہ ہے بلغاء کی اصل توجہ اس کی طرف ہوتی ہے، ایجازِ قصر جو ہے جو چھوٹا چھوٹے پن کا ایجاز ہے جس میں بات چھوٹی ہوتی ہے اور معانی بہت زیادہ ہوتے ہیں اور اسی کے ذریعے بلیغ لوگوں کے درجوں کا پتہ چلتا ہے، جو جتنا بلیغ ہوگا وہ اتنی ہی زیادہ معانی کو مختصر لفظوں میں سمیٹ لے گا بھئی، مختصر لفظوں میں۔ اور پھر مثال اس کی ذکر ہوئی تھی: ﴿وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ﴾ اور تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے۔ اور میں نے بتلایا تھا کہ عربوں میں اسی معنی کے لیے جو مختصر ترین کلام استعمال ہوتا تھا، وہ «القتل أنفى للقتل» تھا بھئی۔ اور اس قرآنی کلام کو، اس کلام اللہ کو عربوں کے کلام پر کئی وجوہ سے، کئی اعتبار سے فضیلت حاصل ہے اور میں نے بتلایا تھا علماء نے بیس یا بیس سے بھی زیادہ وجوہات ذکر کی ہیں قرآنی کلام کے افضل ہونے کی اور اس کی فضیلت کی، اور ان میں سے چند ایک میں نے ذکر کی تھیں: مثلاً ایک یہ ذکر کیا تھا کہ قرآن کا کلام جو ہے اس میں حروف تھوڑے ہیں جبکہ عربوں کے کلام میں حروف زیادہ ہیں۔ کلام اللہ کے اندر اسی معنی کو ادا کرنے کے لیے گیارہ حروف استعمال ہوئے جبکہ عربوں کے کلام میں چودہ حروف استعمال ہوئے اور یہ بات ظاہر ہے کہ جو کلام مختصر ہو اور معنیٰ مراد کو پوری طرح ادا کر رہا ہو، وہ لمبے کلام کی بہ نسبت اعلیٰ ہوتا ہے، افضل ہوتا ہے۔ نیز قرآنی کلام کو اس وجہ سے بھی فضیلت حاصل تھی کہ اس کے اندر مطلوب کی تصریح کی گئی تھی کیونکہ مقصود اور مطلوب حیات ہے، زندگی ہے، اور حیات کی تصریح کلام اللہ کے اندر تو ہے، عربوں کے کلام میں نہیں۔ اور یقیناً وہ کلام جس کے اندر مطلوب کی تصریح ہو وہ اعلیٰ ہوتا ہے اس کلام کے مقابلے میں جس میں مطلوب کی تصریح نہ ہو۔ اسی طرح قرآن کا جو کلام ہے اس کے اندر نکرہ آیا تھا اور وہ نکرہ تعظیم یا نوعیت کا فائدہ دے رہا تھا جبکہ کلامِ عرب اس فائدے سے خالی ہے، تو کلام اللہ کو فضیلت حاصل ہوئی۔ اور اسی طرح قرآن کا جو کلام ہے وہ عام ہے، وہ ہر جہاں بھی قصاص آئے وہ کلام صادق آئے گا کہ ﴿فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ﴾، اور ان کا کلام عام نہیں، وہاں قید نکالنا پڑتی ہے کہ کون سے قتل، کون سا قتل؟ جو قصاصاً ہو۔ تو صرف وہاں تو ان کا کلام صادق آئے گا اور جو قتل ظلماً ہو، ظلم کرتے ہوئے ہو، وہاں پر وہ صادق نہیں آتا اور یہ بات ظاہر ہے کہ جو کلام عام ہو تمام صورتوں کو شامل ہو، وہ اعلیٰ ہوتا ہے دوسرے کلام کے مقابلے میں جو تمام صورتوں کو شامل نہ ہو بھئی۔ اور نیز قرآن کا کلام جو ہے وہ تکرار سے خالی ہے، اس میں کسی لفظ کو دوبارہ نہیں ذکر کیا گیا جبکہ عربوں کے کلام کے اندر قتل کا لفظ دو دفعہ ذکر ہے تو اس میں تکرار آیا، اور وہ کلام اعلیٰ ہوتا ہے جو تکرار سے خالی ہو بہ نسبت اس کلام کے جس میں تکرار ہو۔ اور نیز قرآن کا جو کلام ہے اس میں کسی لفظ کو محذوف نہیں نکالنا پڑتا: ﴿فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ﴾، قصاص میں زندگی ہے، دیکھو کوئی محذوف نہیں یہاں پر، اور جبکہ عربوں کے کلام کے اندر محذوف «من تركه» یہ قید محذوف نکالنا پڑتی ہے کیونکہ اس کے بغیر بات پوری نہیں ہوتی: قتل زیادہ نفی کرنے والا ہے قتل کی، کس کے مقابلے میں؟ وہ تو ذکر ہی نہیں، تو وہ آگے محذوف ہے «من تركه أي من ترك القتل»، ترکِ قتل کے مقابلے میں قتل جو ہے وہ قتل کی زیادہ نفی کرنے والا ہے۔ اور یہ بات ظاہر ہے کہ وہ کلام جو جس میں محذوف کی حاجت ہی نہ ہو وہ اعلیٰ ہوتا ہے اس کلام کے مقابلے میں جو محذوف کا محتاج ہو بھئی۔ اور ساتویں وجہ یہ ذکر کی تھی کہ قرآن کا کلام ہے اس میں صنعتِ مطابقت ہے اور دو متضاد معانی کو جمع کیا گیا ہے اور یہ بات بھی ظاہر ہے کہ وہ کلام جس کے اندر کوئی صنعت ہو مثلاً صنعتِ طباق ہو، وہ اعلیٰ ہوگا اس کلام کے مقابلے میں جس میں اس قسم کی کوئی صنعت نہ ہو بھئی، نہ ہو۔ اور اسی طرح اس کی پھر مزید مثالیں بھی ذکر ہوئی تھیں۔ آج ہم اطناب کے بارے میں پڑھیں گے بھئی، اطناب۔ تو کہتے ہیں: «أقسام الإطناب»، اطناب کی اقسام۔ «الإطناب يكون بأمور كثيرة»، اطناب جو ہے بہت سی چیزوں کے ساتھ ہوتا ہے یعنی اس کی بہت سی صورتیں ہیں، بہت سی قسمیں ہیں۔ «منها»، ان قسموں میں سے ایک جو ہے، ان چیزوں میں سے ایک چیز جو ہے: «ذكر الخاص بعد العام»، خاص کے اندر یاد رکھیے یہ صاد مشدد ہے «ذكر الخاصِّ» اور عام کے اندر بھی میم مشدد ہے «العامِّ»، تو ان میں سے ایک «ذكر الخاص بعد العام» عام کے ذکر کے بعد خاص کو ذکر کرنا، نحو، مثال کے طور پر: «اجتهدوا في دروسكم واللغة العربية»، تم لوگ محنت کرو اپنے درسوں میں، اپنے سبقوں میں «واللغة العربية»، اور عربی زبان میں۔ تو یہ دیکھیے بھئی، «دروسكم» کو جب ذکر کر دیا گیا، اپنے تمہارے سبق جو ہیں، تو اس میں عربی زبان بھی آ گئی تھی، اس کا سبق بھی بیچ میں آ گیا تھا، لیکن پھر «واللغة العربية» کو دوبارہ ذکر کیا گیا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ بات دوبارہ، تو حالانکہ یہ «دروسكم» کے اندر بھی آ گیا تھا، کیونکہ وہ بھی ایک سبق ہے تو وہ بھی ان سبقوں کے اندر آ گیا، تو پھر اس کو بعد میں ذکر کرنا، یہ ہے اطناب بھئی، کیا ہے؟ اطناب ہے، اور آپ جانتے ہیں اطناب جو کیا جاتا ہے وہ بھی بغیر فائدے کے نہیں ہوتا، اس میں بھی کوئی نہ کوئی فائدہ ہوتا ہے، اگر بغیر فائدے کے ہوگا وہ تو تطویل بن جائے گی بھئی۔ تو اس میں فائدہ کیا ہے اس کو دوبارہ ذکر کرنے کا؟ کہتے ہیں: «وفائدته التنبيه على فضل الخاص»، اور اس کا فائدہ جو ہے وہ متنبہ کرنا ہے اس خاص کی فضیلت پر۔ وہ جو خاص جس کو جو پہلے عام کے، بھئی پہلے «دروسكم» آیا وہ عام ہے، اس عام کے بعد پھر خاص کو یعنی ایک کو ذکر کر دیا گیا، تو اس میں تنبیہ کر دی گئی اس خاص کی فضیلت پر یعنی باقی درسوں کے اندر یہ عربی زبان کا جو درس ہے اس کو خاص فضیلت حاصل ہے۔ «كأنه لرفعته جنس آخر مغاير لما قبله»، گویا کہ یہ اپنی بلندی کی وجہ سے ایک اور ہی جنس ہے «مغاير لما قبله» جو اپنے سے ماقبل سے جدا ہے، غیر ہے بھئی، اپنے سے ماقبل سے جدا۔ بھئی دیکھیے، عربی زبان کا درس اس کو بعد میں الگ ذکر کیا گیا، اگرچہ «دروسكم» کا لفظ ماقبل میں آیا تھا اس کے اندر بھی عربی درس داخل ہو گیا تھا، لیکن بعد میں اس کو عطف کے ساتھ دوبارہ ذکر کیا گیا اور عطف تو تقاضا کرتا ہے مغایرت کا، عطف تو کس چیز کا تقاضا کرتا ہے؟ «جاءني زيد وزيد»، اس طرح کوئی بھی نہیں کہتا کیونکہ زیدِ ثانی، زیدِ اول دونوں ایک ہی چیز ہے، ہاں «جاءني زيد وعمرو»، تو عمرو کا عطف زید پر کیا جاتا ہے کیونکہ عمرو کیا ہے؟ زید سے جدا ہے، الگ ہے، تو عطف مغایرت کا تقاضا کرتا ہے کہ معطوف جو ہے وہ جدا اور علیحدہ ہو کس سے؟ معطوف علیہ سے۔ تو یہاں پر بھی اگرچہ وہ خاص پہلے اس کے اندر عام کے اندر داخل تھا، لیکن پھر اس کو بعد میں علیحدہ بھی ذکر کر دیا گیا یہ بتلانے کے لیے کہ ان میں سے یہ اتنا اعلیٰ اور ارفع اور بلند ہے کہ گویا یہ ماقبل کی جنس ہے ہی نہیں، یہ ان میں داخل ہی نہیں ہے، یہ ایک الگ ہی چیز ہے بھئی، ایک الگ ہی چیز ہے۔ کس بنا پر کس بنا پر اس کو الگ جنس قرار دیا جاتا ہے؟ اس کی اعلیٰ صفات کی وجہ سے، اس کے فائدوں کی وجہ سے بھئی۔ تو گویا ماقبل میں یوں سمجھو اس کا اس کی اس کا ذکر ہی نہیں ہوا، یہ تو جنس ہی اور ہے، یہ تو چیز ہی اور ہے، تو ماقبل والی چیزوں میں یہ داخل ہی نہیں، جب ماقبل والی چیزوں میں داخل ہی نہیں تو اس کے حکم کا تو پتہ ہی نہیں ہے۔ باقیوں کے بارے میں تو بتا دیا کہ اس ان سبقوں میں کیا کرو؟ محنت کرو، اور گویا عربی زبان کا درس جو ہے وہ تو ایک الگ ہی چیز ہے، اس کی تو ابھی بات ہی نہیں آئی کہ اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں آپ؟ تو اس کا بھی بتلا دیا کہ اس میں بھی کیا کرو؟ محنت کرو بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ خاص کو ذکر کیا جاتا ہے کس کے بعد؟ عام کے بعد، کیا بتلانے کے لیے؟ اس کی فضیلت بتلانے کے لیے کہ گویا یہ ایک علیحدہ ہی جنس ہے، ماقبل سے جدا ہے، اس کے اندر داخل ہی نہیں ہے بھئی۔ جب ان میں داخل ہی نہیں ہے تو باقیوں کے حکم کا تو پتہ چل گیا، اس کے حکم کا گویا ابھی تک پتہ ہی نہیں، تو پھر اس کو اس لیے تو ذکر کر دیتے ہیں علیحدہ سے۔ جیسے قرآن میں ہے بھئی: ﴿تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ﴾ کہ لیلۃ القدر کے اندر فرشتے اترتے ہیں، ﴿تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ﴾ فرشتے اترتے ہیں ﴿وَالرُّوحُ﴾ اور حضرت جبرائیل امین علیہ السلام وہ بھی۔ اب «الروح» سے مراد حضرت جبرائیل علیہ السلام ہیں اور وہ بھی جب ماقبل میں ملائکہ کا ذکر آیا تو حضرت جبرائیل علیہ السلام بھی ملائکہ میں سے ہیں، وہ بھی اس کے اندر داخل تھے لیکن پھر ان کو علیحدہ ذکر کر دیا گیا، تو عام کے بعد کس کو ذکر کیا گیا؟ خاص کو، کیا بتلانے کے لیے؟ کہ یہ جو ہیں حضرت جبرائیل علیہ السلام، اپنی صفات کی وجہ سے اتنی اعلیٰ صفات ہیں ان کی گویا کہ یہ ان کی جنس میں سے ہیں ہی نہیں، یہ جنس ہی الگ ہیں، یہ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ ہے نکتہ اس کے اندر بھئی۔ نکتہ سمجھ بھی آیا کہ ویسے سر ہلا رہے ہیں بھئی؟ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو اس کی فضیلت بیان کرنے کے لیے اس طرح کیا جاتا ہے۔ یہ معنی ہے: «وفائدته التنبيه على فضل الخاص كأنه لرفعته جنس آخر مغاير لما قبله»، اور اس کا فائدہ جو ہے وہ متنبہ کرنا ہے اس خاص کے فضل پر، اس کی فضیلت پر «كأنه لرفعته»، گویا کہ وہ خاص جو ہے اپنی بلندی کی وجہ سے «جنس آخر»، ایک اور ہی جنس ہے «مغاير لما قبله» جو اپنے سے ماقبل سے جدا ہے، غیر ہے۔ دوسری صورت اطناب کی: «ومنها ذكر العام بعد الخاص»، اور اطناب جن امور کے ساتھ کیا جاتا ہے ان میں سے ایک جو ہے عام کو ذکر کرنا بعد الخاص، کس کے بعد؟ خاص کے۔ یہ پہلے کا عکس ہے۔ پہلے میں تھا عام پہلے ذکر ہوتا تھا اور خاص بعد میں، اب خاص پہلے ذکر ہوگا اور عام بعد میں۔ «كقوله تعالى»، جیسے کہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے: ﴿رَبِّ اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَيْتِيَ مُؤْمِنًا وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ﴾۔ حضرت نوح علیہ السلام اللہ سے دعا فرما رہے ہیں: ﴿رَبِّ اغْفِرْ لِي﴾، اے میرے پروردگار میری مغفرت فرما دیجیے، مجھے بخش دیجیے، ﴿وَلِوَالِدَيَّ﴾ اور میرے والدین کو، ﴿وَلِمَنْ دَخَلَ بَيْتِيَ مُؤْمِنًا﴾ اور وہ شخص جو داخل ہو میرے گھر میں مومن ہو کر، ﴿وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ﴾ اور تمام مومنین اور تمام مومنات کی، تمام مومنین اور تمام، یعنی جتنے اہلِ ایمان ہیں تا قیامت ان سب کی، چاہے مرد ہیں یا عورتیں ان سب کی، اے اللہ مغفرت فرما دیجیے۔ اب دیکھیے، اگر صرف یہ کہہ دیا جائے: ﴿رَبِّ اغْفِرْ لِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ﴾ اے اللہ تمام مومنین اور مومنات کی مغفرت فرما دیجیے، تو اس کے اندر بھی وہ داخل تھے، حضرت نوح علیہ السلام بھی اہلِ ایمان میں سے وہ بھی ان میں داخل، اور ان کے والدین بھی اہلِ ایمان میں سے وہ بھی ان میں داخل، اور جو ان کے گھر اہلِ ایمان لا کر داخل ہوگا وہ بھی ان میں داخل۔ لیکن اس کے باوجود ان کو الگ ذکر کیا گیا، تو خاص کو الگ ذکر کیا گیا اور مومنین اور مومنات جو عام ہے اس کو بعد میں علیحدہ ذکر کیا گیا۔ یہ بتلانے کے لیے کہ یہ حکم اگرچہ عام ہے، سب کو شامل ہے، سب کے لیے دعا ہے، لیکن جن کو مقدم کیا گیا وہ زیادہ لائق ہیں اس حکم کے، وہ کیا ہیں؟ تو ان کو یہ بتلانے کے لیے کہ وہ اس حکم کے زیادہ لائق ہیں، تو ان کو مقدم کیا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو مومنین اور مومنات کے اندر سب داخل تھے، یہ ہے عام، اور اس سے ماقبل میں جو اپنا ذکر کیا، اپنے والدین کا ذکر کیا اور اپنے گھر میں داخل ایمان کی حالت میں داخل ہونے والے افراد کا ذکر کیا، تو یہ ہے خاص بھئی خاص، تو خاص پہلے ذکر ہے اور عام بعد میں۔ تو یہ ہے «ذكر العام بعد الخاص»۔ تو یہ بتلانے کے لیے کہ یہ جو مقدم ہیں، یہ اس حکم کے زیادہ لائق ہیں اگرچہ یہ حکم ان کے ساتھ خاص نہیں ہے، یہ عام ہے۔ «ومنها الإيضاح بعد الإبهام»، اور اطناب کی جن چیزوں کے ساتھ کیا جاتا ہے ان میں سے ایک ایضاح بعد الابہام ہے یعنی ابہام کے بعد وضاحت کرنا، ابہام کے بعد یعنی کلام دو طرح لایا جائے: اولاً ایک چیز کو اجمالاً ذکر کیا جائے، اجمالی طور پر، اور پھر اس کے بعد اس کی تفصیل ذکر کی جائے۔ تو دیکھیے وہی چیز دو دفعہ آ گئی، پہلے اجمالاً اور پھر تفصیلاً، تو اطناب آ گیا، کیا آ گیا؟ اطناب آ گیا، بات لمبی ہو گئی بھئی۔ اور فائدہ اس کا کیا ہوتا ہے؟ فائدہ اس کا یہ ہے تاکہ سننے والے کے ذہن میں بات اچھی طرح بیٹھ جائے بھئی، کیونکہ ایک ہی چیز جب دو دفعہ ذکر ہوگی تو ذہن میں اچھی طرح بیٹھ جائے گی، پہلے اجمالاً آئی اور پھر اس کے بعد تفصیلاً آ گئی بھئی۔ سننے والے، اور نیز اس لیے کیونکہ اس سے اس علم کی لذت بڑھ جائے گی۔ پہلے جب ایک چیز کو مبہم طریقے سے ذکر کیا جائے گا تو سننے والے کے دل میں شوق پیدا ہوگا کہ بھئی پوری تفصیل تو نہیں بیان کی گئی، اس سے کیا مراد ہے، کیا کیا چیزیں اس کے اندر داخل ہیں؟ آگے پھر جب پوری تفصیل آئے گی تو وہ ذہن کے اندر طلب پیدا ہو چکی تھی، اب بات ذہن کے اندر اچھی طرح بیٹھ جائے گی اور اس علم کی لذت بھی محسوس ہوگی اس لیے کیونکہ دل میں شوق اور طلب پیدا ہو گئی تھی پہلا حصہ کلام کا سنتے ہی بھئی۔ بات سمجھ میں آئی؟ تو وہ چیزیں جن کے ساتھ اطناب کیا جاتا ہے ان میں سے ایک ایضاح بعد الابہام ہے یعنی ابہام کے بعد ایضاح کرنا، وضاحت کرنا۔ نحو، مثال کے طور پر: «أمدكم بما تعلمون، أمدكم بأنعام وبنين»، حضرت ہود علیہ السلام جو ہیں وہ اپنی قوم کو دعوت دیتے ہوئے فرما رہے ہیں کہ اللہ کہ تم ڈرو اس ذات سے جس نے تمہاری مدد کی، «أمدكم»، جس نے تمہاری، وہ ذات جس نے تمہاری مدد کی «بما تعلمون»، ان چیزوں کے ساتھ جو تم جانتے ہو۔ «أمدكم بأنعام وبنين»، وہ ذات جس نے تمہاری مدد کی «بأنعام وبنين»، مویشیوں کے ساتھ اور اور بیٹوں کے ساتھ، «وجنات وعيون»، اور باغات اور چشموں کے ساتھ۔ تو دیکھیے، پہلے اسی بات کو اجمالاً ذکر کیا گیا: وہ ذات جس نے تمہاری مدد کی ان چیزوں کے ساتھ جو تم جانتے ہو۔ اس میں وہ ساری چیزیں آ گئیں جن کو وہ جانتے تھے اور پھر آگے انہی کی تفصیل بھی آ گئی کہ وہ کیا کیا چیزیں ہیں مثلاً مویشی ہیں، اور بیٹے ہیں، اور باغات ہیں اور چشمے ہیں وغیرہ بھئی۔ تو پہلے بات اجمالاً آئی تھی یعنی ابہام تھا، آگے اس کی کیا آ گئی؟ وضاحت آ گئی، تو ایضاح بعد الابہام ہوا اور بات اس سے ذہن میں اچھی طرح بیٹھ جاتی ہے۔ «ومنها التوشيع»، اور ان چیزوں میں سے جن کے ساتھ اطناب کیا جاتا ہے ان میں سے ایک توشیع ہے، توشیع۔ توشیع یہ: «وهو أن يؤتى في آخر الكلام بمثنى»، وہ یہ کہ لایا جائے کلام کے آخر میں ایک تثنیہ کو، «بمثنى مفسر باثنين»، ایسے تثنیہ کو جس کی تفسیر کی گئی ہو دو کے ساتھ۔ کلام کے آخر میں کیا لایا جائے؟ ایک تثنیہ کو لایا جائے اور ایسا تثنیہ ہو جس کی آگے تفسیر کتنی چیزوں کے ساتھ کی جائے؟ دو چیزوں کے ساتھ کی جائے۔ «كقوله»، جیسے ایک شاعر کا قول ہے: أُمسي وأُصبح من تذكاركم وصِبا ... يرثي ليَ المشفقان الأهل والولدُ شاعر کسی جو اس کے احباب میں سے جو اس سے جدا ہو گئے ہیں یا جو جو اس دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں، ان کی یاد میں یہ شعر کہتا ہے اور کہتا ہے: «أمسي وأصبح»، میں شام کرتا ہوں اور صبح کرتا ہوں، «وصِباً»، وصب کہتے ہیں تکلیف محسوس کرنا، دکھ اٹھانا، دکھ اٹھاتے ہوئے «من تذكاركم»، تذکار کا معنی ہے یاد، یاد، تا پر فتحہ پڑھنا ہے، تِذکار نہیں ہے، تَذکار ہے۔ تو تکلیف اٹھاتے ہوئے «من تذكاركم»، تمہاری یاد سے، یعنی یوں با محاورہ ترجمہ کریں: بے قرار ہوتے ہوئے تمہاری یاد سے، میں صبح کرتا ہوں اور شام کرتا ہوں تمہاری یاد میں بے قرار ہوتے ہوئے۔ «يرثي لي»، رثى يرثي کے ویسے معنی ہوتے ہیں مرثیہ کہنا، کسی کے انتقال پر غم کے اشعار کہنا، یہ کیا ہے؟ مرثیہ، لیکن يرثي کا صلہ لام آ جائے جیسے یہاں پر لام ہے، تو اس کا معنی ہوتا ہے ترس کھانا، رحم کرنا۔ «يرثي لي»، مجھ پر رحم کھاتے ہیں، مجھ پر ترس کھاتے ہیں «المشفقان»، دو شفقت کرنے والے۔ مجھ پر مجھ پر کون ترس کھاتے ہیں؟ دو شفقت کرنے والے لوگ جو ہیں، وہ کون ہیں؟ «الأهل والولد»، بیوی اور اولاد جو ہے، بیوی اور اولاد۔ شاعر کہتا ہے جن کا وہ تذکرہ کر رہا ہے ان سے خطاب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ میں صبح اور شام تمہاری یاد میں بے قرار رہتا ہوں، یہاں تک کہ مجھ پر دو شفقت کرنے والے، دو مہربان لوگ جو ہیں وہ مجھ پر ترس کھانے لگتے ہیں میری اس حالت کو دیکھ کر، اور وہ دو مہربان لوگ کون ہیں؟ بیوی ہے اور میری اولاد ہے، وہ مجھ پر ترس کھانے لگتے ہیں کہ اتنا غم کرنا ٹھیک نہیں ہے بھئی، اتنا میں غم غمگین رہتا ہوں اور اتنا بے قرار رہتا ہوں تمہاری یاد کے اندر۔ تو مقامِ استشہاد ہے: «المشفقان الأهل والولد»، «المشفقان» دیکھو یہ تثنیہ لایا گیا۔ کتنے ہیں شفقت کرنے والے؟ دو ہیں، تو یہ تثنیہ لایا گیا اور آگے پھر تفسیر بھی کر دی گئی اس تثنیہ کی کہ وہ شفقت کرنے والی دو ذاتیں کون سی ہیں؟ «الأهل والولد»، بیوی ہے اور اولاد ہیں بھئی، اولاد ہیں۔ دیکھیے یہاں اطناب آیا، اطناب آیا اور اس کو کہتے ہیں توشیع، توشیع۔ اطناب، اطناب کس طرح آیا؟ بھئی دیکھیے، اگر مشفقان کو نکال کر کلام یوں کر لیا جاتا: «يرثي لي الأهل والولد»، مجھ پر شفقت مجھ پر ترس کھاتے ہیں کون؟ بیوی اور اولاد، تو بھی بات پوری تھی۔ تو یہ المشفقان کے تو ذکر کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی کیونکہ مشفقان سے یہی اہل اور اولاد ہی تو مراد ہیں اور ان کا تو آگے ذکر آ رہا ہے، تو یہ جو المشفقان کو بیچ میں ذکر کیا گیا، یہ کیا ہے؟ اطناب ہے، یہ کیا ہے؟ اطناب ہے، بات لمبی ہو گئی بھئی، بات لمبی ہو گئی۔ اور نیز اس میں بھی یہ وہی ایضاح بعد الابہام ہے۔ پہلے مبہم چیزوں کو ذکر کیا گیا: دو شفقت کرنے والے، کون ہیں؟ یہ پتہ ہی نہیں تھا، آگے پھر اسی کی وضاحت آ گئی کہ وہ کون ہیں؟ بیوی اور اولاد ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی کہ یہاں اطناب کس طرح ایا؟ اس تثنیہ کے ذکر سے، اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صرف تثنیہ ہی کو نہیں ذکر کیا جاتا بلکہ بعض اوقات جمع کو ذکر کیا جاتا ہے اور آگے پھر کئی افراد کے ساتھ اس کی تفصیل کر دی جاتی ہے، لیکن یہاں خاص طور پر تثنیہ کو ذکر کر دیا، اس لیے کیونکہ کم از کم دو تو ضرور ہوں گے جن کے ساتھ آگے پھر تفصیل ہوگی، تو دو یا دو سے زیادہ سب صورتیں اس میں داخل ہیں۔ «ومنها التكرير لغرض كطول الفصل في قوله»، اور جن چیزوں کے ساتھ اطناب کیا جاتا ہے ان میں سے ایک تکریر ہے، تکریر اور تکرار دونوں طرح یہ لفظ استعمال ہوتا ہے، تکرار کہتے ہیں ایک چیز کو کم از کم دو بار ذکر کرنا، یہ کیا ہے؟ تکرار ہے۔ تو تکرار سے بھی کلام میں اطناب آئے گا۔ «لغرض»، اور وہ تکرار بھی کس لیے ہوگا؟ کسی غرض اور مقصد کے لیے ہوگا کیونکہ اگر بغیر کسی مقصد کے تکرار ہوگا پھر تو وہ تطویل بن جائے گا اور تطویل تو بلاغت سے خارج ہے بھئی۔ تو تکریر تکرار ہوگا «لغرض»، کسی مقصد کی وجہ سے، «كطول الفصل»، جیسے کہ لمبا فصل ہے «في قوله»، شاعر کے اس قول میں۔ شاعر کہتا ہے: وإن امرأ دامت مواثيق عهده ... على مثل هذا إنه لكريم بھئی آپ کی میری کتاب میں انہوں نے لکھا ہے: «وإن امرؤ»، آپ کی کتابوں میں بھی اسی طرح ہے؟ جی، «وإن امرؤ» نہیں بھئی، «وإن امرأ»، تو یہ شروع میں ہے واؤ کے بعد اِنَّ ہے، اِنَّ، اس کو اِنَّ کریں، اور آگے ہے «امرأ» کیونکہ اِنَّ نصب دیتا ہے تو واؤ نہیں ہونا چاہیے، الف پر حمزہ ہونی چاہیے «امرأ»، واؤ پر حمزہ نہیں بلکہ الف پر حمزہ ہونی چاہیے: «وإن امرأ»، لکھ لیا بھئی؟ اور «دامت مواثيق» ہے میری کتاب میں بس، حالانکہ آگے لفظ بھی ہے: «عهده»، «دامت مواثيق عهده»، تو یہاں عہدِہِ کا لفظ بھی ہے اور حاشیے میں البتہ یہ لفظ انہوں نے دیا ہوا ہے شعر کے اندر بھئی: «مواثيق عهده»، تو مواثیق کے بعد عہدِہِ کا لفظ لکھیں۔ تو دیکھیے، یہاں پر «وإن امرأ»، «وإنَّ»، تو اِنَّ حرف از حروفِ مشبہ بالفعل ہے اور یہ ایک اسم چاہتا ہے اور ایک خبر۔ اِنَّ کیا کرتا ہے؟ اپنے اسم کو نصب دیتا ہے اور خبر کو رفع دیتا ہے، تو یہ جو «امرأ» ایا ساتھ اِنَّ کے، یہ ہے اِنَّ کا اسم، اور شعر کے بالکل آخر میں جو آ رہا ہے: «لكريم»، یہ ہے اِنَّ کی خبر، یہ کیا ہے؟ اور ان کے درمیان ایک لمبا فصل آ گیا تھا، بہت سے الفاظ جمع ہو گئے۔ اِنَّ کے اسم اور اِنَّ کی خبر، دیکھو درمیان میں کیا کیا آیا: «دامت مواثيق عهده على مثل هذا»، دیکھو کتنے سارے لفظ آ گئے کس کے درمیان؟ اِنَّ کے اسم اور اِنَّ کی خبر، تو لمبا فصل آ گیا تھا، اسی لیے شاعر نے آگے اِنَّ کے اسم اور اِنَّ کا دوبارہ تکرار کیا: «إنه»، یہ وہی «وإن امرأ» ہے بھئی، یہ وہی «وإن امرأ»، اسی کا دوبارہ تکرار کیا اِنَّ وہی دوبارہ لے آیا اور «امرأ» کہنے کے بجائے اس کی طرف ضمیر لوٹا دی، تاکہ یہ «إنه» جڑ جائے «لكريم» کے ساتھ اپنی خبر کے ساتھ، اِنَّ تاکہ اپنی خبر کے ساتھ جڑ جائے، بات بھی سمجھ بھی آ رہی ہے کہ نہیں بھئی؟ تو درمیان میں طولِ فصل تھا، لمبی جدائی تھی، لمبا فاصل فصل آ گیا تھا، جدائی آ گئی تھی، اس لیے اس اِنَّ اور اس کے اسم کو شاعر نے خبر کے پاس دوبارہ ذکر کیا۔ تو یہ ہے تکرار، اور یہ تکرار کس لیے کیا اس نے؟ کیونکہ درمیان میں کیا آ گیا تھا؟ لمبا فصل آیا تھا۔ تو یہ غرض تھی، تو لمبا فصل آ گیا تھا تو یہ نہ ہو سننے والے کو بات ہی سمجھ میں نہ آئے یا وہ اس کا کوئی اور معنی سمجھ لے، تو اس لیے اس شاعر نے اِنَّ اور اس کے اسم کو مکرر ذکر کیا۔ ترجمہ کیا ہے؟ «وإن امرأ دامت»، دام یدوم کے معنی ہوتے ہیں دائم رہنا، مسلسل رہنا۔ «مواثيق عهده»، مواثیق جمع ہے میثاق کی، میثاق اور عہد کا ایک معنی ہے، میثاق کا معنی بھی وعدہ اور عہد بھی کہتے ہیں وعدے کو عربی زبان میں۔ تو شاعر کیا کہتا ہے: «وإن امرأ دامت»، دیکھو «امرأ» نکرہ آیا، «امرأ»، اور نکرہ کے بعد فعل آیا اور نکرہ کے بعد فعل آئے تو وہ اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت بنتا ہے۔ تو شاعر کہتا ہے: «وإن امرأ دامت مواثيق عهده على مثل هذا»، اور بیشک ایسا ادمی کہ دائم رہے اس کا اس کے وعدے اور اس کے عہد و قرار «على مثل هذا»، اس جیسی چیزوں پر، کہ بیشک وہ آدمی جس کا وعدہ برقرار رہے اس جیسی چیزوں پر، «إنه لكريم»، وہ کیا ہے؟ معزز ادمی ہے، کیونکہ ہر ایک اس طرح نہیں کر سکتا۔ تو کوئی بات ہوگی جس کی طرف شاعر اشارہ کر رہا ہے کہ اس جیسی چیزوں پر جو اپنے وعدے کو برقرار رکھتا ہے اور ان پر دائم رہتا ہے، «إنه لكريم»، بیشک ایسا ادمی کریم ادمی ہے، معزز ادمی ہے بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ «وكزيادة الترغيب في العفو في قوله تعالى»، اور جیسے ترغیب کی زیادتی ہے فی العفو، معاف کر دینے میں، «في قوله تعالى»، اللہ تعالیٰ کے اس قول میں: ﴿إِنَّ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ وَأَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَكُمْ فَاحْذَرُوهُمْ وَإِنْ تَعْفُوا وَتَصْفَحُوا وَتَغْفِرُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ﴾۔ اللہ فرماتے ہیں: ﴿إِنَّ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ﴾، بیشک تمہاری بیویوں میں سے، ﴿وَأَوْلَادِكُمْ﴾ اور تمہاری اولاد میں سے، ﴿عَدُوًّا لَكُمْ﴾ تمہارے لیے دشمن ہیں، تمہاری بیویوں میں اور تمہاری اولاد میں بعض کیا ہیں؟ تمہارے دشمن ہیں، بھئی دشمن ہیں کس اعتبار سے؟ معنی یہ ہے یعنی وہ تمہیں آخرت سے غافل کر دیتے ہیں، وہ کیا کرتے ہیں؟ آخرت سے غافل کر دیتے ہیں، تو تمہیں اس اعتبار سے نقصان پہنچتا ہے، تو بایں اعتبار وہ تمہارے دشمن ہیں، ﴿فَاحْذَرُوهُمْ﴾ تو تم ان سے بچو یعنی خبردار رہو، آخرت سے غافل نہ ہو، ان کی محبت میں کہیں آخرت سے تم غافل نہ ہو جانا، ہوشیار رہنا۔ ﴿فَاحْذَرُوهُمْ﴾، تو تم ان سے بچو، ﴿وَإِنْ تَعْفُوا وَتَصْفَحُوا وَتَغْفِرُوا﴾، اور اگر تم معاف کر دو، ﴿وَإِنْ تَعْفُوا﴾ اور اگر تم معاف کر دو، ﴿وَتَصْفَحُوا﴾ اور درگزر کرو، ﴿وَتَغْفِرُوا﴾ اور بخش دو، ﴿فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ﴾، پس یقیناً اللہ بخشنے والے ہیں، رحم کرنے والے ہیں۔ اب دیکھیے، یہاں پر ایا: ﴿وَإِنْ تَعْفُوا وَتَصْفَحُوا وَتَغْفِرُوا﴾ اور تینوں کا ایک ہی معنی ہے، تینوں کا ایک ہی معنی ہے: معاف کر دینا، درگزر کرنا، بخش دینا، دیکھو سب ایک ہی معنی ہے بھئی، سب کیا کر رہے ہیں؟ ایک ہی معنی۔ تو یہاں پر ایک سے بھی کام چل سکتا تھا لیکن تین کو ذکر کر دیا گیا، تین لفظوں کو اور معنی سب کا ایک ہی ہے تو کلام میں اطناب آ گیا، کیا آ گیا؟ اطناب آ گیا، اور یہاں کیا مقصد ہے اطناب کا؟ تاکہ زیادہ ترغیب ہو جائے، تاکہ کیا ہو جائے؟ زیادہ ترغیب ہو جائے، ایک ایک دفعہ ذکر ہوگا اس میں ترغیب آ گئی، لیکن یہاں صرف ترغیب نہیں بلکہ زیادہ ترغیب دی جا رہی ہے تاکہ زیادہ ترغیب ہو جائے، تو تین دفعہ لفظ کو ذکر کر دیا گیا بھئی، تین لفظوں کو ذکر کر دیا گیا، بات سمجھ میں آ گئی؟ یعنی خوب ترغیب دی جا رہی ہے ان سے درگزر کرنے کی اور ان کو معاف کرنے کی اور ان سے اچھا برتاؤ کرنے کی۔ یہاں تک سب کو بات سمجھ میں آ گئی؟ «وكتأكيد الإنذار في قوله تعالى»، اور جیسے کہ انذار کہتے ہیں کسی کو ڈرانا، کسی کو خبردار کرنا، اور جیسے کہ ڈرانے کی تاکید ہے یعنی اس میں قوت پیدا کرنا، اس میں زور اس میں زور پیدا کرنا، «في قوله تعالى»، اللہ کے اس قول میں: ﴿كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ ثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ﴾۔ «كلا»، حرفِ ردع ہے، آپ جانتے ہیں، ڈانٹ کے طور پر یہ لفظ استعمال ہوتا ہے کلامِ عرب کے اندر بھئی۔ «كلا»، ہرگز نہیں، «سوف تعلمون»، عنقریب تم لوگ جان لو گے، تمہیں پتہ چل جائے گا۔ «ثم كلا سوف تعلمون»، پھر ہرگز نہیں، عنقریب تم کو پتہ چل جائے گا، تم لوگ جان لو گے۔ تو یہاں دیکھیے، یہ «كلا» ڈانٹ کے طور پر ہے، کسی چیز سے کسی کو روکنے کے لیے ہے، ڈانٹنے کے لیے ہے، تو یہاں اللہ تعالیٰ جو اللہ خطاب فرما رہے ہیں مشرکین سے کہ تم غلطی پر ہو، تم دنیا کے اندر لگے ہوئے ہو اور آخرت کے احوال سے اور آخرت سے پورے طور پر تم غافل ہو، «كلا»، ہرگز نہیں، یعنی تمہیں دنیا میں منہمک نہیں ہونا چاہیے، دنیا ہی میں نہیں لگے رہنا چاہیے بلکہ توجہ کس طرف ہونی چاہیے؟ آخرت کی طرف ہونی چاہیے، اور ابھی تو تمہیں اپنی اس غلطی کا احساس نہیں ہو رہا، «سوف تعلمون»، عنقریب تم جان لو گے جب اللہ سے ملاقات ہوگی اور قیامت کی ہولناکیاں سامنے آئیں گی تو پھر تمہیں اپنی غلطیوں کا احساس ہوگا اور اندازہ ہوگا، «ثم كلا سوف تعلمون»، پھر ہرگز نہیں یعنی تمہیں دنیا کے اندر منہمک نہیں ہونا چاہیے، اس غلطی سے اپنے آپ کو بچاؤ، آخرت کی طرف توجہ کرو، «سوف تعلمون»، عنقریب تم لوگ جان لو گے بھئی۔ تو یہاں پر دیکھیے بھئی، «كلا سوف تعلمون» ایک دفعہ ذکر ہوا، پھر «كلا سوف تعلمون» دوبارہ ذکر ہوا، تو دیکھیے تکرار آیا، کیا ایا؟ تکرار آیا اور تکرار بھی یہ کسی نکتے کی وجہ سے ہوگا، ویسے نہیں، اور یہاں پر نکتہ کیا ہے؟ کہ اس خبردار کرنے میں زور پیدا کرنا ہے، کیا پیدا کرنا ہے؟ صرف خبردار نہیں بلکہ زوردار طریقے سے کیا کیا جا رہا ہے؟ خبردار کیا جا رہا ہے۔ چنانچہ اسی لیے «ثم» بیچ میں ذکر کیا گیا اور «ثم» کس لیے آتا ہے؟ بعدِ زمانی کے لیے، بعدِ زمان زمانے میں بعد اور دوری کو بیان کرنے کے لیے آتا ہے۔ مثلاً میں کہتا ہوں: «جاءني زيد ثم عمرو»، کیا ترجمہ ہوتا ہے اس کا؟ کہ میرے پاس زید آیا پھر اس کے کافی دیر بعد کون آیا؟ عمرو آیا۔ دیکھو زمانہ بیچ میں طویل آیا، لمبا زمانہ، اس کے لیے «ثم» آتا ہے، تھوڑا زمانہ ہو تو اس کے لیے «فا» آتی ہے۔ تو «ثم» کس لیے آتا ہے؟ بعدِ زمانی کے لیے، تو ہوتا تو یہ بعدِ زمانی کے لیے ہے لیکن یہاں اس کو بعدِ مرتبی کے لیے استعمال کر لیا گیا، کس لیے؟ بعدِ مرتبی یا یوں کہیں بعدِ مکانی کے لیے۔ «ثم» آتا تو ہے دو زمانوں میں دوری بیان کرنے کے لیے، دو زمانوں میں «جاءني زيد ثم عمرو»، معلوم ہوا زید کا آنا اور عمرو کا آنا ان میں کافی طویل زمانہ ہے، کافی وقت بیچ میں ہے، تو یہ آتا ہے کس لیے؟ بعدِ زمانی، زمانے کی دوری کو بیان کرنے کے لیے، لیکن یہاں اس کو بعدِ مکانی، جگہ کی دوری کے لیے یعنی مرتبے کی دوری کے لیے استعمال کیا گیا ہے، کس لیے؟ مرتبے کی دوری کے لیے۔ اس لیے کیونکہ ایک ہے پہلا انذار: «كلا سوف تعلمون»، اور ایک ہے دوسرا انذار: «كلا سوف تعلمون»، بیچ میں «ثم» ذکر کیا گیا یہ بتلانے کے لیے کہ یہ جو دوسرا انذار ہے، یہ جو دوسرا خبردار کیا جا رہا ہے، یہ پہلے سے بھی بڑھ کر ہے اور اس سے بہت اونچا ہے، یہ پہلے سے بھی بڑھ کر۔ بھئی دو چیزوں کے اندر جب مرتبے میں دوری ہوگی تو ایک چیز نیچے ہوگی، دوسری اس سے بہت اوپر ہوگی، بہت اوپر، تو «ثم» آتا ہے بعدِ زمانی کے لیے لیکن یہ بعدِ مرتبہ کو بیان کرنے کے لیے یہاں لایا گیا کہ یہ جو دوسرا انذار ہے، یہ پہلے انذار سے بھی بہت اونچا ہے یعنی اس میں اور زیادہ تمہیں کیا کیا جا رہا ہے؟ خبردار کیا جا رہا ہے، دونوں انذار برابر درجے کے نہیں ہیں۔ معنی بھی سمجھ میں آیا کہ نہیں سمجھ میں آیا بھئی؟ تو پہلا ایک پہلا انذار ہے، ایک دوسرا، پہلا اس درجے کا ہے تو دوسرا اس سے بہت اونچے درجے کا ہے، تو دونوں میں بعد آ گیا یا نہیں؟ لیکن یہ بعد مکان کے اعتبار سے ہے، درجے کے اعتبار سے ہے، زمانے کے اعتبار سے تو نہیں، اور «ثم» تو آتا ہے کس لیے؟ زمانے کے لیے، لیکن اسی «ثم» کو یہاں لے استعمال کر لیا گیا، کیا بتلانے کے لیے؟ بعدِ مرتبی بتلانے کے لیے کہ ایک پہلا انذار ہے، دوسرا اس کے برابر درجے کا نہیں ہے بلکہ اس سے بہت اونچے درجے کا ہے یعنی اس سے بھی بڑھ کر تمہیں خبردار کیا جاتا ہے کہ ہرگز دنیا کے اندر مشغول نہ رہو، «سوف تعلمون»، عنقریب تم جان لو گے جب یہ ہولناکیاں اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ بھئی ایک ایک چیز کو ڈرانا اور خبردار کرنے کی بھی مختلف درجے ہو سکتے ہیں نا، ایک ہی درجے کا تو ڈرانا نہیں، ڈرانے اور خبردار کرنے کے بھی مختلف درجے، ایک ہے ذرا ہلکے درجے میں کسی کو خبردار کیا جائے، ایک ہے زوردار درجے میں، ایک اس سے بھی بڑھ کر، تو یہاں «ثم» کے ذریعے بتلایا گیا کہ یہ جو دوسرا انذار ہے، یہ اس انذار سے بھی بڑھ کر ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ «ثم» کے ذریعے بتلایا گیا کہ یہ دوسرا انذار پہلے انذار سے بھی بڑھ کر ہے بھئی۔ «ومنها الاعتراض وهو توسط لفظ بين أجزاء جملة أو بين جملتين مرتبطتين معنى لغرض»، اور وہ چیزیں جن کے ساتھ اطناب کیا جاتا ہے ان میں سے ایک اعتراض ہے، کیا ہے؟ اعتراض۔ بھئی وہ آپ پڑھتے رہتے ہیں کلام میں کبھی کبھار کتاب کے اندر درمیان میں ایک بات چل رہی ہوتی ہے، کسی بزرگ کا نام آتا ہے تو وہاں لکھا ہوتا ہے «رحمه الله»، تو استاد آپ کو بتلاتے ہیں یہ جملہ معترضہ ہے، اور جملہ معترضہ اسے کہتے ہیں جس کا ماقبل اور مابعد سے کوئی ربط نہیں ہوتا، ایک بات چل رہی ہے لیکن ایک شخص کا نام آیا تو مصنف اس کو دعا دینا چاہتا ہے تو بیچ میں وہ «رحمه الله» لکھ دیتا ہے، تو اس کا ماقبل اور مابعد سے تعلق نہیں ہوتا، یہ بیچ میں الگ دعا ہوتی ہے۔ یا اسی طرح بھئی کتاب کے اندر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نام آتا ہے، تو جو بات ذکر ہو رہی ہو وہ تو ہوتی ہے، حضور کے نام کے ساتھ ہی درود لکھا ہوتا ہے یعنی حضور کے لیے صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دعا ہوتی ہے، تو یہ دعا کیا ہے؟ جملہ معترضہ ہے، جملہ معترضہ یعنی اس کا مابعد اور ماقبل سے تعلق نہیں ہوتا۔ یا اسی طرح صحابہ کا نام آتا ہے تو وہاں «رضي الله عنه» لکھا ہوتا ہے، تو یہ سب کیا ہیں؟ جملہ معترضہ، اسی کو اب ذکر کرنے لگے ہیں کہ یہ جو اعتراض ہے، یہ جو جملے کا بیچ میں آنا ہے، یہ بھی کیا ہے؟ اطناب ہے، یہ کیا کس کی قسم ہے؟ اطناب کی اقسام میں سے ایک قسم ہے۔ تو کہتے ہیں: «ومنها»، اور وہ چیزیں جن کے ساتھ اطناب کیا جاتا ہے ان میں سے ایک اعتراض ہے، «وهو توسط لفظ»، اور وہ کسی لفظ کو بیچ میں لانا ہے، اور لفظ مصدر ہے، اس کا اطلاق قلیل پر بھی ہوتا ہے، ایک ہو اس کو بھی کہیں گے لفظ، دس ہوں ان کو بھی کیا کہیں گے؟ لفظ، تو مراد یہاں جملہ ہے، کیا مراد ہے؟ جملہ ہوگا پورا، ادھورا جو کچھ لفظ نہیں ہوں گے بھئی۔ تو کہتے ہیں: «وهو توسط لفظ»، اور وہ لانا ہے کسی لفظ کو یعنی جملے کو «بين أجزاء جملة»، کسی ایک جملے کے اجزاء کے درمیان میں لانا ہے کسی دوسرے جملے کو، «أو بين جملتين»، یا دو جملوں کے درمیان لانا، ایسے دو جملے «مرتبطتين»، جو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہوں یعنی ان میں اتصال ہو یعنی کیا ہو؟ اتصال ہو، «معنى»، با اعتبار معنی کے، با اعتبار معنی کے۔ تو دو جملے ہوں اور «مرتبطتين معنى»، جن میں اتصال ہو معنی کے اعتبار سے، کیا معنی معنی کے اعتبار سے اتصال ہو ان میں؟ یعنی دوسرا جملہ پہلے کے لیے تاکید ہو، یا بدل ہو، یا یا بیان ہو، یا اسی پر معطوف ہو بھئی۔ تو مثلاً دو جملے آئے بھئی اور ان میں اتصال ہے، تعلق ہے، کیونکہ پہلا کیونکہ دوسرا جملہ کیا ہے؟ پہلے سے بدل ہے، توجہ ہے سبق کی طرف؟ فصل اور وصل میں تفصیل آئی تھی، دو جملوں میں کامل اتصال ہوگا جب ثانی کیا ہو؟ بدل ہو، یا جب ثانی کیا ہو؟ بیان ہو، یا جب ثانی کیا ہو؟ تاکید ہو۔ اسی طرح جو جملوں میں اتصال ہوگا جب درمیان میں واؤ ا جائے، کیونکہ واؤ کچھ مغایرت چاہتا ہے تو کچھ مناسبت اور اتصال چاہتا ہے۔ تو جب دو جملے ہیں اور ان میں معنی کے اعتبار سے اتصال ہے، تو معنی اور اس میں کتنی صورتیں میں نے ذکر کر دیں؟ چار: دوسرا جملہ پہلے کے لیے بدل ہو، یا دوسرا جملہ پہلے کے لیے بیان ہو، یا دوسرا جملہ پہلے کے لیے تاکید ہو، یا دوسرا جملہ دوسرے جملے کا پہلے جملے پر عطف ہو جائے، تو اس قسم کے دو جملوں کے درمیان کسی جملے کو لانا یہ ہے اعتراض، یہ کیا ہے؟ اعتراض۔ «لغرض»، اس کا تعلق توسط سے ہے، توسط سے ہے، وہ بیچ میں جو جملہ لایا جاتا ہے یعنی جملہ معترضہ، وہ کس لیے لایا جائے گا؟ «لغرض»، کسی غرض کے لیے اور کسی مقصد کے لیے ہوگا، بات سمجھ میں آئی؟ اعتراض کی بات ہو رہی ہے، جملہ معترضہ، اور یہ ہمیشہ جملہ ہوگا میں نے بتلایا، یہاں جو لفظ آیا نا «لفظ»، اس سے کیا مراد ہے؟ جملہ، کیونکہ جملہ معترضہ وہ ہمیشہ جملہ ہی ہوگا، جملے کا جز نہیں ہوگا۔ اور اس کو کہاں لایا جاتا ہے؟ کسی ایک جملے کے بیچ میں بھی لایا جا سکتا ہے اور دو جملوں کے درمیان بھی۔ ایک جملے کے بیچ میں لانے کا معنی یہ ہے یعنی ایک جملے میں مسند آئے گا، ایک مسند مسند آئے گا اور مسند الیہ آئے گا، کبھی اسی طرح ان کے متعلقات ذکر ہوں گے، جار مجرور وغیرہ ذکر ہوں گے، مفعول وغیرہ ذکر ہوں گے، حال وغیرہ ان جیسی ساری چیزیں ذکر ہوں گی، تو یہ جو سارے اجزاء ہیں جملے کے، ان کے بیچ میں کہیں پر بھی وہ آ سکتا ہے، ان کے بیچ میں کہیں پر بھی جملہ معترضہ آ سکتا ہے، اور ہمیشہ اس کو کسی غرض کے لیے لایا جائے گا، بغیر غرض کے نہیں ہوگا۔ دیکھیے دوبارہ ترجمہ: «ومنها الاعتراض»، اور اطناب جن چیزوں کے ساتھ کیا جاتا ہے ان میں سے ایک اعتراض ہے، «وهو توسط لفظ بين أجزاء جملة أو بين جملتين مرتبطتين معنى لغرض»، اور وہ لانا ہے کسی لفظ کو یعنی جملے کو کسی ایک جملے کے اجزاء کے درمیان یا دو ایسے متصل جملوں کے درمیان یا دو ایسے جملوں کے درمیان «مرتبطتين معنى»، جو آپس میں متصلین ہوں، جن میں جو آپس میں متصل ہوں معنی کے اعتبار سے، اور یہ بیچ میں لفظ یعنی جملہ کیوں لایا جاتا ہے؟ «لغرض»، کسی غرض کے لیے، نحو، مثال کے طور پر: «إن الثمانين وبلغتها قد أحوجت سمعي إلى ترجمان». «إن الثمانين»، یہ شاعر ذکر کر رہا ہے، شاعر اسی (80) سال کا ہو چکا ہے بھئی، اسی سال کا۔ اب شعر کہہ رہا ہے اور اسی بات کو ذکر کر رہا ہے کہ میں اسی سال کا ہو گیا ہوں: «إن الثمانين»، بیشک اسی، بیشک اسی، اور مراد کیا ہے؟ اسی اور چیزیں نہیں مراد بلکہ اس کی زندگی کے اسی سال مراد ہیں۔ آگے ہے: «وبلغتها»، یہ دعا ہے: «وبلغتها»، اور تو بھی پہنچایا جائے ہا: ان اسی سالوں کو، یعنی تجھے بھی اللہ اتنی لمبی زندگی دے، «وبلغتها»، اور تو بھی اس کو ان اسی سالوں کو پہنچایا جائے یعنی اللہ تمہیں بھی طویل اور لمبی زندگی دے۔ تو یہ جو «إن الثمانين»، آگے خبر ا رہی ہے، یہ جو اسی بیشک جو اسی سال ہیں، «قد أحوجت»، تحقیق انہوں نے محتاج کر دیا ہے «سمعي»، میری سماعت یعنی میرے کانوں کو «إلى ترجمان»، کس کی طرف؟ ترجمان کی طرف، کس کی طرف؟ ترجمان، ترجمان جیم پر فتحہ بھی جائز، ترجمان جیم پر ضمہ بھی جائز، لیکن زیادہ رائج اور زیادہ استعمال جیم کے فتحہ کے ساتھ ہے۔ گویا جملہ یوں ہوا: «إن الثمانين قد أحوجت سمعي إلى ترجمان»، بیشک اسی سال جو ہیں انہوں نے محتاج کر دیا ہے میرے کانوں کو ترجمان کی طرف، کس کی طرف؟ ترجمان کی طرف محتاج کر دیا ہے، اور بیچ میں دعا دے دی: «وبلغتها»، کہ تو بھی اے مخاطب تجھے بھی اللہ اس عمر تک پہنچائے یعنی تجھے بھی اللہ طویل زندگی نصیب فرمائے۔ اب دیکھیے، یہاں ترجمان آیا، اسی سالوں نے میرے کانوں کو کس کا محتاج بنا دیا ہے؟ ترجمان، بھئی ترجمان تو اس کو کہتے ہیں جو ایک زبان سے دوسری زبان کی طرف بات کی تفسیر کرے، وضاحت کرے، ایک زبان سے دوسری زبان کی طرف وضاحت کرے کسی بات کی، لیکن یہاں وہ مراد نہیں ہے بلکہ مراد ہے کوئی تکرار کر دے، وہی بات جو کسی نے کہی ہوتی ہے اسی کا کوئی تکرار کر دے اونچی آواز سے، اسی کو دہرا دے۔ تو اسی سالوں نے میرے کانوں کی سماعت جو ہے وہ کم ہو گئی ہے، اب انہوں نے مجھے کسی ترجمان کا محتاج بنا دیا ہے، اور ترجمان سے کیا مراد ہے یعنی مجھ سے کوئی بات کہے تو مجھے تو سنائی نہیں دیتی، تو ترجمان چاہیے ہوتا ہے جو اسی بات کا تکرار کر دے، دوبارہ اس کو دہرا دے ذرا اونچے لفظوں کے ساتھ، معنی سمجھ میں آ گیا؟ اب شاعر نے درمیان میں «وبلغتها» کہا، تو یہ ہے جملہ معترضہ کہ تو بھی اس مخاطب تجھے بھی اللہ اتنی ہی زندگی نصیب فرمائے، اتنی ہی زندگی۔ اور یہ جو واؤ ہے، اس واؤ کو بھی واؤ اعتراضیہ کہیں گے، اس کو بھی کیا کہتے ہیں؟ واؤ اعتراضیہ کہتے ہیں جو جملہ معترضہ کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے۔ تو اب یہاں غرض کیا ہے؟ دعا دے رہا ہے شاعر، غرض کیا ہے، کیوں دعا دے رہا ہے؟ وجہ یہ کہ شاعر شعر میں ایک بات کہہ رہا ہے اور شروع میں اسی ذکر کر دیا اور اسی کے فوراً بعد سننے والے کو دعا دے دی، اور انسان تو ہر ایک چاہتا ہے کہ اس کی لمبی زندگی ہو، تو جب دعا ا گئی اور اسی کے بعد ا گئی، تو سننے والے کی فوراً توجہ ہو گئی بھئی، اور کیونکہ اس کا اس کی پسند کی بات ا گئی، اس کو کیا کیا جا رہا ہے؟ اسی سال کی عمر کی دعا دی جا رہی ہے، اس کی پسند کی بات ا گئی تو وہ متوجہ ہو جائے گا اور جو بات شاعر کہہ رہا ہے اس کو توجہ سے سن لے گا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتا ہے: «إن الثمانين وبلغتها قد أحوجت سمعي إلى ترجمان»، بیشک اسی سال جو ہیں اور تو بھی اس عمر کو پہنچایا جائے یعنی تجھے بھی اتنی عمر عطا کی جائے، تو تحقیق انہوں نے محتاج کر دیا ہے میرے کانوں کو ترجمان کا۔ «ونحو قوله تعالى: ويجعلون لله البنات سبحانه ولهم ما يشتهون»، ﴿وَيَجْعَلُونَ لِلَّهِ الْبَنَاتِ﴾، اور وہ جو مشرکین ہیں، وہ تجویز کرتے ہیں اللہ کے لیے بیٹیاں، ﴿سُبْحَانَهُ﴾، اللہ کی ذات ان چیزوں سے پاک ہے، اللہ کی ذات ان چیزوں سے پاک ہے، ﴿وَلَهُمْ مَا يَشْتَهُونَ﴾، اور اپنے لیے وہ تجویز کرتے ہیں جو جس کو وہ پسند کرتے ہیں، جس کی وہ خواہش رکھتے ہیں۔ تو دیکھیے، ذرا ﴿سُبْحَانَهُ﴾ کو درمیان سے ہٹائیے، اب دیکھیے بھئی پورا کلام: ﴿وَيَجْعَلُونَ لِلَّهِ الْبَنَاتِ﴾، اور وہ اللہ کے لیے بیٹیاں تجویز کرتے ہیں، ﴿وَلَهُمْ مَا يَشْتَهُونَ﴾، اور اپنے لیے وہ جس کی وہ خواہش کرتے ہیں یعنی بیٹے۔ اللہ کے لیے یہ بیٹیاں تجویز کرتے ہیں، کہتے ہیں فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں، اور اپنے لیے کیا پسند کرتے ہیں؟ بیٹے پسند کرتے ہیں، بیٹی کوئی پیدا ہوتی ہے تو اس کو زندہ زمین میں یہ دفن کر دیتے ہیں، یہ اتنے ظالم لوگ ہیں۔ تو یہ ایک کلام ہے اور اس میں دیکھیے ﴿لِلَّهِ الْبَنَاتِ﴾ یہ جار مجرور، ﴿وَلَهُمْ مَا يَشْتَهُونَ﴾ یہ بھی کیا ہیں؟ جار مجرور، تو معطوف اور معطوف علیہ کے درمیان کیا ذکر کر دیا گیا؟ ﴿سُبْحَانَهُ﴾، اللہ کی ذات ان چیزوں سے پاک ہے بھئی، پاک ہے۔ اور یاد رکھیے، یہ پورے جملے کے معنی میں ہے، ﴿سُبْحَانَهُ﴾ کس معنی میں ہے؟ کیونکہ میں نے ذکر کیا تھا اعتراض کا جملہ ہونا ضروری ہے، وہ ہمیشہ جملہ ہوگا، جملہ معترضہ، اور یہ ﴿سُبْحَانَهُ﴾ یہ مفعولِ مطلق ہونے کی بنا پر محذوف ہے، مفعولِ مطلق: «ضربت ضربا»، مفعولِ مطلق کسے کہتے ہیں؟ وہ مصدر جو ماقبل فعل کے معنی میں ہو، تو یہ سبحان یہ عَلَمِ مصدر ہے، یہ کیا ہے؟ عَلَمِ مصدر ہے، اور یہ تسبیح کے معنی میں ہے، تسبیح: «سبح يسبح تسبيحا» کا معنی پاکی بیان کرنا، تو گویا یوں کہا گیا: «أسبحه تسبيحا»، میں پاکی بیان کرتا ہوں اس اللہ کی «تسبيحا»، پاکی بیان کرنا: «أسبحه تسبيحا»۔ تو پھر کیا کیا گیا؟ اس فعل کو حذف کر دیا گیا اور تسبیح کی جگہ سبحان عَلَمِ مصدر استعمال کر لیا گیا کیونکہ تسبیح کا بھی وہی معنی جو سبحان کا معنی ہے، اور وہ جو مفعول تھا اس کی طرف سبحان کی اضافت کر دی گئی: «سبحانه»، تو یہ کس معنی میں ہوا؟ «أسبحه تسبيحا» کے معنی میں ہے۔ تو یہاں پر اللہ کی پاکی بیان کی جا رہی ہے، اس غرض کے لیے اس کو یہاں ذکر کیا گیا کہ یہ لوگ اللہ کے لیے بیٹیاں تجویز کرتے ہیں، فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے ہیں، اللہ ان چیزوں سے پاک ہے، اللہ کو ان چیزوں کی حاجت نہیں ہے۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔