اگے دیکھیے بھئی سبق متن دیکھیے۔ فَصْلٌ اَلْمَفْهُومُ إِنِ امْتَنَعَ فَرْضُ صِدْقِهِ عَلَى كَثِيرِينَ فَجُزْئِيٌّ وَإِلَّا فَكُلِّيٌّ امْتَنَعَتْ أَفْرَادُهُ أَوْ أَمْكَنَتْ وَلَمْ تُوجَدْ أَوْ وُجِدَ الْوَاحِدُ فَقَطْ مَعَ إِمْكَانِ الْغَيْرِ أَوْ امْتِنَاعِهِ أَوِ الْكَثِيرُ مَعَ التَّنَاهِي أَوْ عَدَمِهِ۔ اچھا بھئی آج مقاصد کا بیان شروع ہو رہا ہے بھئی۔ مقاصد کا بیان۔ آپ نے پڑھا تھا کہ علم منطق جو ہے، نظر و فکر میں غلطی سے ہماری حفاظت کرتا ہے۔ علم منطق کیا ہے؟ نظر و فکر میں ہماری حفاظت کرتا ہے۔ اور نظر و فکر کسے کہتے ہیں؟ آپ نے پڑھا۔ کہ معلوم تصورات کو ترتیب دے کر مجہول تصور تک پہنچنا، یہ کیا ہے؟ نظر و فکر۔ اور اسی طرح معلوم تصدیقات کو ترتیب دے کر مجہول تصدیق کو حاصل کرنا، یہ کیا ہے؟ نظر و فکر۔ تو علم منطق نظر و فکر میں غلطی سے ہماری حفاظت کرتا ہے۔ اور نظر و فکر کہتے ہیں چند معلوم چیزوں کو ترتیب دے کر نامعلوم چیز یا یوں کہیں مجہول چیز کو حاصل کرنا۔ اور وہاں آپ نے پڑھا تھا کہ معلوم تصورات، وہ ہمیں کہاں تک پہنچاتے ہیں؟ مجہول تصورات تک پہنچاتے ہیں۔ دو یا زیادہ معلوم تصوروں کو آپ ترتیب دیتے ہیں اور وہ پھر ہمیں مجہول تصور تک پہنچا دیتے ہیں۔ اور یہ بحث گزری تھی جہاں متن میں عبارت آئی تھی وَهُوَ مُلَاحَظَةُ الْمَعْقُولِ لِتَحْصِيلِ الْمَجْهُولِ۔ معقول کو ملاحظہ کرنا تاکہ کس کو حاصل کر لیا جائے؟ مجہول چیز کو حاصل کر لیا جائے۔ نظر و فکر کی تعریف بیان ہو رہی تھی نا؟ کیا بیان تعریف کی تھی نظر و فکر کی؟ وَهُوَ مُلَاحَظَةُ الْمَعْقُولِ لِتَحْصِيلِ الْمَجْهُولِ۔ اور میں نے بتلایا تھا معقول کا معنی ہے معلوم ای مُلَاحَظَةُ الْمَعْلُومِ معلوم چیزوں کو ملاحظہ کرنا، ان کو آپس میں ترتیب دینا لِتَحْصِيلِ الْمَجْهُولِ تاکہ کس کو حاصل کیا جائے؟ تاکہ مجہول چیز کو حاصل کیا جائے بھئی۔ اور یہاں میں نے آپ کو فائدہ بتلایا تھا کہ مصنف نے معقول کا لفظ ذکر کیا حالانکہ عام مناطقہ معلوم کا لفظ ذکر کرتے ہیں کہ معلوم چیزوں کو ملاحظہ کرنا کہ وہ ہمیں کہاں تک پہنچا دیں؟ مجہول تک۔ لیکن انہوں نے معقول کا لفظ ذکر کیا اس کی کیا وجہ ہے؟ تو وجہ یہ میں نے ذکر کی تھی کہ ہم جزیات کا بھی علم حاصل کرتے ہیں اور کلیات کا بھی۔ لیکن جزیات کا علم جو ہے عقل مختلف آلات کے ذریعے حاصل کرتی ہے۔ کس کے ذریعے؟ مختلف آلات کے ذریعے حواس خمسہ باطنہ اور حواس خمسہ ظاہرہ میں نے ذکر کیے تھے۔ جبکہ کلیات کا ادراک عقل براہ راست خود کرتی ہے۔ کس کا؟ کلیات کا ادراک عقل براہ راست خود کرتی ہے۔ تو معقول کا لفظ اس لیے استعمال کیا کیونکہ وہ تصور جو ہمیں مجہول تصور تک پہنچائیں گے ان کا کلی ہونا ضروری ہے۔ کچھ تصور معلوم ہیں، ان کو آپ نے ملایا اور انہوں نے ہمیں کہاں تک پہنچایا؟ مجہول تصور تک پہنچایا۔ تو یاد رکھیے یہ جو معلوم تصور ہیں جن کو آپ ترتیب دیتے ہیں جن کو آپ جوڑتے ہیں ان کا کلی ہونا ضروری ہے، یہ جزی نہیں ہو سکتے۔ اور کلی اور جزی کسے کہتے ہیں؟ آپ پڑھ چکے ہیں۔ جو آج وہ تعریف کریں گے بھی متن کے اندر وہ مفہوم جس میں شرکت نہ ہو بھئی جو زیادہ افراد پر صادق نہ آئے۔ اور وہ کلی وہ ہے کہ جو کثیرین پر صادق آئے۔ تو نظر و فکر میں وہ معلوم تصور جو ہمیں کہاں تک پہنچانے والے ہیں؟ مجہول تک۔ یاد رکھیے یہ جو معلوم تصور ہیں جو ہمیں مجہول تک پہنچا رہے ہیں ان کا کلی ہونا ضروری ہے۔ تو یہ بھی کلی ہوں گے اور آگے جو مجہول تصور حاصل ہو گا وہ بھی کیا ہو گا؟ کلی ہو گا۔ اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ جزی کے ذریعے جزی کو حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ جزی نہ کاسب ہو سکتی ہے اور نہ مکتسب۔ کاسب جس کے ذریعے حاصل کیا جا رہا ہے اور مکتسب جس کو حاصل کیا جا رہا ہے۔ تو جزی نہ کاسب ہو سکتی ہے اور نہ مکتسب۔ ہاں کلی جو ہے وہ کاسب بھی ہو سکتی ہے اور مکتسب بھی ہو سکتی ہے۔ تو اسی لیے مصنف نے معلوم کے بجائے معقول کا لفظ استعمال کیا اور معقول تو صرف کیا ہیں؟ جن کا ادراک عقل کرتی ہے وہ صرف کیا ہیں؟ کلیات ہیں۔ معلوم ہوا نظر و فکر میں کلیات کام آئیں گی جزیات کام نہیں آئیں گی۔ اسی لیے معقول کا لفظ استعمال کیا۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ ذہن میں کچھ باتیں تازہ ہو گئیں؟ تو منطق نظر و فکر میں غلطی سے بچاتا ہے اور نظر و فکر میں کون سے تصورات استعمال ہوں گے؟ کلیات استعمال ہوں گی، جزیات استعمال نہیں ہوں گی۔ تو وہی اب تک جو ہے تمہید وغیرہ اور مختلف باتیں ذکر ہو رہی تھیں اور مختلف اصطلاحات ہمیں بتلائی جا رہی تھیں۔ اب مقاصد کا بیان شروع ہو رہا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں دیکھیے کتاب پر فَصْلٌ أَيْ هَذَا فَصْلٌ یہ فصل ہے۔ اَلْمَفْهُومُ إِنِ امْتَنَعَ فَرْضُ صِدْقِهِ عَلَى كَثِيرِينَ فَجُزْئِيٌّ وَإِلَّا فَكُلِّيٌّ۔ جزی کسے کہتے ہیں اور کلی کسے کہتے ہیں؟ کہتے ہیں اَلْمَفْهُومُ۔ مفہوم کہتے ہیں کسی چیز کی جو صورت ہمارے ذہن میں آئے وہ کیا ہے اس کا؟ مفہوم ہے۔ مثلاً میں نے کہا زید دیکھو ذات زید کی صورت آپ کے ذہن میں آ گئی۔ میں نے کہا گلاس، دیکھو ایک برتن خاص برتن آپ کے ذہن میں آ گیا۔ میں نے کہا مدرسہ، دیکھو ایک خاص جگہ آپ کے ذہن میں آ گئی۔ میں نے کہا مسجد، ایک خاص جگہ آپ کے ذہن میں آ گئی۔ تو کسی بھی لفظ کا جو معنی ہمارے ذہن میں آتا ہے جو صورت ہمیں حاصل ہوتی ہے وہ اس چیز کا مفہوم ہے بھئی۔ کیا ہے؟ مفہوم۔ تو یہ جو مفہوم ہے یا تو یہ کثیرین پر صادق آ سکتا ہے یا کثیرین پر صادق نہیں آ سکتا۔ اگر کثیرین پر صادق نہیں آ سکتا تو وہ جزی ہو گا اور اگر کثیرین پر صادق آ سکتا ہے تو وہ کلی ہو گا۔ تو کلی کسے کہتے ہیں؟ وہ مفہوم جو کثیرین پر صادق آئے۔ اور جزی کسے کہتے ہیں؟ وہ مفہوم جو کثیرین پر صادق نہ آئے۔ بھئی میں نے آپ کو پہلے بتلایا تھا ایک ہے قول معقول، ایک ہے قول ملفوظ۔ قول معقول وہ بات جو ہمارے ذہن میں آئے اور قول ملفوظ وہ بات جس پر ہم تلفظ کریں، جو زبان سے ہم ادا کریں، جو زبان سے ہم بولیں وہ کیا ہے قول ملفوظ۔ اور منطقی کی اصل توجہ قول معقول کی طرف ہوتی ہے یا قول ملفوظ کی طرف؟ قول معقول کی طرف اصل توجہ قول معقول کی طرف ہوتی ہے۔ منطق میں یہ عام باتیں جو ہمارے ذہن میں آ سکتی ہیں انہی سب کو ذکر کیا گیا ہے۔ البتہ ان کو علمی رنگ دے دیا گیا، مختلف نام دے دیے گئے۔ دیکھو ہمارے ذہن میں بھی ہم سوچتے ہیں باتیں آتی ہیں، بعض اوقات مفہوم کیا ہو گا؟ کلی ہو گا جو کثیرین پر صادق آئے گا۔ بعض اوقات ایسا مفہوم ہمارے ذہن میں آئے گا جو کثیرین پر صادق نہیں آئے گا۔ تو کلی لفظ کا نام نہیں ہے، کلی مفہوم کا نام ہے، یعنی قول معقول ہے۔ یہ کیا ہے؟ قول معقول۔ یہی مفہوم اگر عقل جائز سمجھتی ہے، جائز قرار دیتی ہے کہ یہ کثیرین پر صادق آ سکتا ہے، تو اس کو ہم کیا کہیں گے؟ کلی۔ اور اگر مفہوم ایسا ہے کہ عقل یہ جائز نہیں سمجھتی کہ یہ کثیرین پر صادق آئے تو اس کو جزی کہیں گے۔ کیا کہیں گے؟ جزی کہیں گے۔ مثلاً زید۔ زید، میں نے لفظ زید کہا زبان سے، زید، آپ کا ایک ساتھی ہے اس کا نام کیا ہے؟ زید، میں وہ اس وقت موجود نہیں، لیکن میں نے کہا زید، فوراً آپ کے ذہن میں زید کی صورت آ گئی۔ تو یہ کیا ہے؟ زید کا مفہوم، وہ جو صورت آپ کے ذہن میں آئی یہ کیا ہے؟ لفظ زید کا مفہوم ہے۔ جو سمجھ میں آیا، ذہن کے اندر آیا۔ اور مجھے بتائیے، یہ مفہوم کیا عقل اس کو عقل اس کے کثیرین پر صادق آنے کو جائز قرار دیتی ہے؟ زید، میں نے کہا، آپ کے ذہن میں زید کی صورت آ گئی۔ زید کا مفہوم آ گیا۔ اب مجھے بتائیے، یہ جو مفہوم آپ کے ذہن میں آیا، آپ کی عقل کیا سمجھتی ہے یہ کثیرین پر صادق آ سکتا ہے یا کثیرین پر صادق نہیں آ سکتا؟ کثیرین پر ظاہر سی بات ہے اس سے صرف زید ہی کی ذات مراد ہو سکتی ہے، کوئی اور ذات مراد نہیں ہو سکتی۔ حتیٰ کہ زید کی بالکل زید کی صورت والا ایک اور لڑکا بھی آ جائے تو بھی عقل اس کو زید نہیں کہے گی۔ آپ یہ تو کہیں گے یہ زید جیسا ہے، لیکن کبھی بھی اس کو زید نہیں کہیں گے۔ معلوم ہوا یہ ایسا مفہوم ہے کہ عقل اس کے کثیرین پر صادق آنے کو جائز قرار نہیں دیتی۔ توجہ ہے؟ عقل اس کے کثیرین پر صادق آنے کو جائز قرار نہیں دیتی۔ اور اگر مفہوم ایسا ہو کہ عقل اس کے کثیرین پر صادق آنے کو جائز قرار دے تو اس کو کیا کہیں گے؟ کلی کہیں گے۔ مثلاً دیوار دیکھو یہ دائیں طرف ہے یہ بھی کیا؟ دیوار۔ بائیں طرف ہے یہ بھی دیوار۔ باہر وہ دور نظر آ رہی ہے یہ بھی کیا ہے؟ دیوار۔ تو دیکھو یہ ایسا مفہوم ہے کہ عقل کثیرین پر صادق آنے کو جائز سمجھتی ہے۔ تو کلی اور جزی سمجھ میں آ گیا؟ کلی بھی مفہوم کا نام، جزی بھی مفہوم کا نام۔ لفظوں کے نام نہیں ہیں، ہاں لفظوں سے ہم ان کو تعبیر کرتے ہیں ایک دوسرے کو سمجھانے کے لیے، لیکن کلی اور جزی دراصل کس کا نام ہے؟ مفہوم کا نام ہے۔ اگر وہ مفہوم ایسا ہے کہ عقل یہ کہتی ہے کہ یہ کثیرین پر صادق آ سکتا ہے تو وہ کون سا مفہوم ہوا؟ کلی۔ اور اگر عقل یہ کہتی ہے کہ یہ کثیرین پر صادق نہیں آ سکتا تو وہ کون سا مفہوم ہے؟ جزی ہے۔ اچھی طرح بات سمجھ میں آ گئی؟ جزی کی مثال مثلاً زید، عمرو، بکر، خالد، آپ کے ساتھی ہیں جس جس کا جو نام ہے یہ سب کیا ہیں؟ یہ سب آپ جزیات ہیں۔ اور کلی کہ عقل اس کے کثیرین پر صادق آنے کو جائز سمجھے، دیوار ہے، درخت ہے، مدرسہ ہے، مسجد ہے، سڑک ہے، گاڑی ہے، دیکھو یہ ہر یہ مفہوم کیا ہیں کثیرین پر صادق آتے ہیں۔ یہی بیان کر رہے ہیں دیکھیے بھئی فَصْلٌ اَلْمَفْهُومُ إِنِ امْتَنَعَ فَرْضُ صِدْقِهِ عَلَى كَثِيرِينَ فَجُزْئِيٌّ وَإِلَّا فَكُلِّيٌّ۔ اَلْمَفْهُومُ مفہوم جو ہے إِنِ امْتَنَعَ فَرْضُ صِدْقِهِ اگر ممتنع ہو فَرْضُ صِدْقِهِ اس کا صادق آنا عَلَى كَثِيرِينَ کس پر؟ کثیرین پر اس کا صادق آنے کو جائز قرار دینا۔ توجہ ہے؟ فرض کا کیا معنی کر رہا ہوں میں؟ جائز قرار دینا، عقل کا جائز قرار دینا۔ عقل کا جائز سمجھنا۔ اور دیکھیے اب لفظوں پہ ترجمہ ذرا دیکھ لیجیے إِنِ امْتَنَعَ فَرْضُ صِدْقِهِ عَلَى كَثِيرِينَ ترجمہ آخر سے ہو گا۔ اگر کثیرین پر اس کے صادق آنے کو توجہ ہے؟ آخر سے ترجمہ کر رہا ہوں۔ کثیرین پر اس کے صادق آنے کو عقل جائز قرار نہ دے۔ إِنِ امْتَنَعَ آ رہا ہے۔ جائز قرار نہ دے۔ تو اگر کثیرین پر اس کے صادق آنے کو عقل جائز قرار نہ دے فَجُزْئِيٌّ تو وہ کیا ہے؟ جزی ہے۔ وَإِلَّا اور اگر ایسا نہ ہو۔ یعنی عقل کثیرین پر صادق آنے کو جائز قرار دے فَكُلِّيٌّ تو وہ کیا ہے؟ کلی ہے۔ بھئی کلی ہے۔ آگے اب کلی کی تقسیم کرنے لگے ہیں اور کلی کی چھ قسمیں آپ کو بتلائیں گے بھئی۔ اور یاد رکھیے منطق کا موضوع کلیات ہیں، جزیات نہیں۔ کلیات کے بارے میں بحث ہوتی ہے یہاں جزیات کے بارے میں بحث نہیں ہوتی بھئی۔ اس لیے کیونکہ ابھی آپ نے ابھی پڑھا جزی نہ کاسب ہوتی ہے اور نہ مکتسب۔ نہ اس کے ذریعے کسی کو حاصل کیا جا سکتا ہے نہ اس کو کسی کے ذریعے حاصل تو یہ نہ کاسب ہے اور نہ مکتسب۔ ہاں کلیات کاسب بھی ہوتی ہیں اور مکتسب بھی۔ تو لہٰذا منطق میں کلیات کی بحث تو آئے گی لیکن جزیات کی بحث نہیں۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب جزی منطق کا مقصود نہیں، مقاصد میں شامل نہیں ہے تو پھر اس کو ذکر کیوں کرتے ہیں؟ اس کو ذکر ہی نہیں کرنا چاہیے۔ تو جواب یہ کہ جزی کا مفہوم آپ کو سمجھ میں آ جائے گا تو کلی کا مفہوم بھی آپ کو سمجھ میں آ جائے گا۔ کیونکہ بِضِدِّهَا تَتَبَيَّنُ الْأَشْيَاءُ یا یوں کہیں تَتَبَيَّنُ الْأَشْيَاءُ بِأَضْدَادِهَا چیزوں کا پتہ چلتا ہے ان کی ضدوں کے ذریعے۔ آپ کو دن کا پتہ چلے گا تو رات کا خود بخود پتہ چل جائے گا۔ یا رات کا پتہ چلے گا تو دن کا خود بخود پتہ چل جائے گا۔ سردی کا آپ کو پتہ چلے گا تو گرمی بھی سمجھ میں آ جائے گی۔ تو چیزوں کا پتہ کس کے ذریعے چلتا ہے؟ ان کی ضد کے ذریعے چلتا ہے، ان کی مخالف چیز جو ہے اس کا پتہ چل جائے تو اس چیز کا بھی پتہ چل جاتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ بِضِدِّهَا تَتَبَيَّنُ الْأَشْيَاءُ چیزوں کا پتہ ان کی ضد کے ذریعے چلتا ہے بھئی۔ دن کی ضد کیا ہے؟ دن کے مخالف کیا ہے؟ رات۔ تو رات کا پتہ کس سے چلے گا؟ جب دن کا پتہ چل جائے گا، جب آپ کو پتہ چل گیا دن کسے کہتے ہیں تو آپ کو یہ بھی پتہ چل جائے گا رات کسے کہتے ہیں۔ آپ کو یہ پتہ چل جائے کہ روشنی کسے کہتے ہیں تو آپ کو یہ بھی پتہ چل جائے گا اندھیرا کسے کہتے ہیں۔ جب آپ کو یہ پتہ چل جائے کہ سردی کسے کہتے ہیں تو آپ کو گرمی کا بھی خود بخود پتہ چل جائے گا۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ بِضِدِّهَا تَتَبَيَّنُ الْأَشْيَاءُ۔ آگے کہتے ہیں امْتَنَعَتْ أَفْرَادُهُ أَوْ أَمْكَنَتْ کہ کلی جو ہے اس کے افراد یا تو ممتنع ہوں گے۔ یعنی وہ پائے ہی نہیں جائیں گے ان کا وجود ہی نہیں ہو گا۔ ناممکن ہوں گے یوں کہیں۔ امْتَنَعَتْ أَفْرَادُهُ کلی جو ہے بھئی کلی کس کا نام ہے؟ وہ مفہوم جو ہمارے ذہن میں آئے۔ وہ مفہوم جو ہمارے ذہن میں آیا اور وہ کثیرین پر صادق آ سکتا ہے۔ تو خارج میں بھی اس کے افراد ممکن ہوں گے یا ممکن نہیں ہوں گے۔ تو یا تو اس کے افراد کیا ہوں گے؟ ناممکن ہوں گے۔ ان کا وجود ہو ہی نہیں سکتا جیسے لا شے شے کا کیا معنی؟ چیز۔ اور لا شے جس کا جو چیز نہ ہو اور شے تو ہر چیز پر صادق آ سکتا ہے۔ اور لا شے اب دیکھو یہ ایک مفہوم ہے اور اس کا خارج میں وجود ممکن ہی نہیں ہے۔ کیونکہ اگر جب بھی یہ پایا گیا وہ تو لا شے نہیں رہے گا کیا بن جائے گا؟ وہ تو شے بن جائے گا بھئی۔ تو لا شے ایک مفہوم کلی ہے یوں کہیں یعنی کلی ہے اور اس کے افراد کا خارج میں پایا جانا ناممکن ہے۔ تو کلی کے افراد یا تو ناممکن ہوں گے ان کا وجود ہو ہی نہیں سکتا۔ جیسے لا شے لا شے کا بھی افراد کا بھی خارج میں ہونا ناممکن ہے۔ کیونکہ اگر کوئی بھی فرد لا شے کا پایا گیا تو وہ تو لا شے نہیں رہے گا وہ تو کیا بن گیا؟ وہ تو وجود بن جائے گا بھئی۔ تو لا شے ایسی کلی ہے جس کے افراد کا خارج میں پایا جانا ممکن ہی نہیں۔ اسی طرح لا وجود لا وجود ایسی کلی ہے جس کا خارج میں پایا جانا ممکن ہی نہیں۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ یا تیسری مثال لے لو جیسے اللہ تعالیٰ کا شریک۔ اللہ تعالیٰ کا شریک اللہ کا شریک ممکن ہی نہیں ہے بھئی ممکن ہی نہیں ہے۔ تو یہ ایسی کلی ہے کہ جس کے افراد کا وجود ممتنع ہے یعنی ممکن ہی نہیں۔ تو کہتے ہیں امْتَنَعَتْ أَفْرَادُهُ کلی جو ہے اس کے افراد یا تو ممتنع ہوں گے یعنی ممکن ہی نہیں ہوں گے أَوْ أَمْكَنَتْ یا کیا ہوں گے؟ ممکن ہوں گے۔ وَلَمْ تُوجَدْ پھر اس میں، افراد ممکن تو ہیں لیکن آج تک کوئی ایک بھی نہیں ملا۔ جیسے عنقاء عنقاء یہ شرح میں آ رہا ہے، عین، نون، قاف دو نقطوں والا ہے الف اور ہمزہ، عنقاء۔ عنقاء یہ ایک فرضی پرندہ تھا بھئی، فرضی پرندہ ہے۔ کہتے ہیں یہ اتنا بڑا پرندہ ہے کہ اس کا ایک پر مشرق میں ہے تو ایک مغرب میں ہے۔ اور نام اس کا کیا ہے؟ عنقاء۔ اور یہ کلی مفہوم ہے۔ ایک ہو تو اس کا نام بھی عنقاء، دوسرا ایسا ہو اس کا نام بھی عنقاء، تیسرا ہو ایسا وہ بھی عنقاء۔ تو یہ دیکھو یہ ایک کلی مفہوم ہے، کلی ہے اور اس کے افراد ممکن بھی ہیں لیکن آج تک ہمیں ملا نہیں ہم نے کوئی دیکھا نہیں۔ یہ ایک فرضی پرندہ ہے۔ جبکہ بعض نے لکھا کہ یہ قدیم زمانے میں ایک پرندہ تھا بہت بڑا اور انسانوں کے بچے اٹھا کر لے جاتا تھا ان کو کھا لیتا تھا، تو لوگ اپنے پیغمبر کے پاس آئے اور ان سے دعا کی درخواست کی کہ اس کی وجہ سے ہم بڑی تکلیف میں ہیں تو انہوں نے پھر بددعا فرمائی اس پرندے کے لیے تو اللہ نے اس کی نسل کو ختم فرما دیا۔ تو بہرحال اس کا کوئی فرد موجود نہیں۔ تو بہرحال یہاں جو ذکر ہے تو وہ ایک فرضی پرندہ ہے بھئی فرضی پرندہ۔ تو یہ کلی ایسا مفہوم ہے جس کا فرد پایا تو جا سکتا ہے لیکن پایا نہیں گیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ آج تک ہمیں ملا نہیں۔ تو کلی یا تو اس کے افراد ممتنع ہوں گے یعنی ممکن ہی نہیں ہوں گے یا ممکن ہوں گے لیکن کوئی فرد پایا نہیں گیا جیسے عنقاء۔ یا کلی کا ایک ہی فرد پایا گیا ہے۔ اور پھر باقی افراد ممکن ہوں گے یا باقی افراد ممکن نہیں۔ کیا صورت بن رہی ہے؟ دیکھو تقسیم کرتے جاؤ سنو کلی کے افراد یا تو ممتنع ہوں گے یا ممکن ہوں گے۔ یعنی یوں کہو کلی کے افراد کا ہونا یا تو ناممکن ہو گا یا ممکن۔ اگر ممکن ہے پھر کوئی فرد پایا گیا یا کوئی فرد پایا نہیں گیا۔ دو صورتیں ہیں۔ پھر کوئی فرد اگر پایا گیا ہے تو پھر ایک ہی فرد پایا گیا یا ایک سے زیادہ افراد پائے گئے۔ اگر ایک ہی فرد پایا گیا پھر اور افراد کا پایا جانا بھی ممکن ہے یا ممکن نہیں ہے۔ اگر اور افراد کا پایا جانا بھی ممکن ہے تو اس کی یہ مثال ہے سورج اور چاند وغیرہ۔ سورج کیا ہے؟ آسمان پر چمکنے والا ایک گول جسم ہے۔ آپ کہیں گے سورج تو کلی نہیں سورج تو جزی ہے۔ نہیں بھئی سورج کلی ہے۔ اگر بالکل ایسا ہی ایک اور چمکدار سورج آسمان پر نکل آئے تو لوگ کیا کہیں گے؟ دو سورج آ گئے یا نہیں آ گئے لوگ کہیں گے یا نہیں؟ اور اگر تین آ گئے تو لوگ کیا کہیں گے؟ تین سورج آ گئے۔ دیکھا سب کو وہ سورج کہہ رہے ہیں۔ معلوم ہوا سورج کیا ہے؟ ایک کلی ہے۔ توجہ ہے؟ تو آپ کے ذہن میں یہ نہ آئے سورج تو جزی ہے سورج کا تو ایک ہی فرد پایا جا رہا ہے افراد کو نہ دیکھیں مفہوم کو دیکھیں کہ وہ مفہوم عقل کثیرین پر اس کے صادق آنے کو جائز سمجھتی ہے یا جائز نہیں۔ میں نے مثال دے دی یہی سورج نکلا ہوا ہے ایک اور سورج بھی اگر ایسے ہی ایک اور جسم بھی چمکتا ہوا آسمان پر آ جائے تو لوگ کیا کہیں گے آج کتنے سورج نکل آئے ہیں؟ دو سورج نکل آئے ہیں۔ دیکھا معلوم ہوا یہ ایک مفہوم ہے کہ عقل کثیرین پر ان کے صدق کو جائز سمجھتی ہے۔ اس کے بجائے اگر زید ہو مثلاً آپ کے پاس بیٹھا ہے اور بالکل زید کی شکل و صورت والا ایک اور آدمی بھی آ جائے تو کوئی کہے گا دو زید آج آ گئے ہیں؟ نہیں بھئی کوئی بھی نہیں کہے گا۔ دیکھا کیونکہ وہاں عقل سمجھتی ہے کہ یہ ایک زید ہے دوسرا اس جیسا تو ہے لیکن وہ زید نہیں ہے۔ فرق سمجھ میں آیا بھئی؟ اسی طرح چاند جو ہے، چاند یہ بھی کلی ہے بھئی۔ جو رات کے وقت آسمان پر گول جسم چمکنے والا ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ چاند۔ اب اگر بالکل ایسا ہی ایک اور جسم بھی نکل آئے آسمان پر گول جسم چمکدار تو لوگ کیا کہیں گے آج رات کتنے چاند ہیں؟ دو ہیں۔ ایک تیسرا بھی آ جائے تو لوگ کیا کہیں گے؟ آج تین چاند ہیں۔ دیکھا معلوم ہوا یہ کیا ہے؟ چاند کلی ہے بھئی کلی۔ تو بہرحال بات یہ چل رہی تھی پھر سنیں کلی کے افراد یا تو ان کے افراد کا پایا جانا ناممکن ہو گا یا ممکن ہو گا۔ اگر ممکن ہو تو پھر دو حال سے خالی نہیں کوئی فرد پایا بھی گیا ہے یا پایا نہیں گیا۔ اگر نہیں پایا گیا جیسے عنقاء اور اگر پایا گیا ہے پھر ایک ہی فرد پایا گیا ہے یا زیادہ پائے گئے ہیں۔ اگر ایک ہی فرد پایا گیا ہے جیسے سورج اور چاند۔ تو پھر اور افراد کا ہونا بھی ممکن ہو گا یا ممکن نہیں ہو گا۔ اگر اور افراد کا پایا جانا بھی ممکن ہے تو اس کی یہ مثال ہے سورج اور چاند۔ فرد تو ایک ہی پایا گیا اور افراد کا پایا جانا بھی ممکن ہے لیکن ابھی تک ہمیں ملا نہیں۔ اور اگر کلی کا ایک ہی فرد پایا گیا اور افراد کا پایا جانا ممکن ہی نہیں تو یہ الگ قسم ہو گئی جیسے واجب الوجود۔ واجب الوجود آپ یہ نہ کہیں واجب الوجود تو کلی نہیں، وہ تو جزی ہے۔ واجب الوجود تو صرف اللہ تعالیٰ ہیں۔ تو واجب الوجود کیا ہے؟ جزی۔ نہیں بھئی نہیں واجب الوجود جزی نہیں۔ لفظ اللہ بولیں وہ تو جزی ہے۔ جیسے زید، عمرو، بکر ہے، زید کیا ہے؟ جزی، زید کیا ہے اس کا علم۔ تو اسی طرح ذات باری تعالیٰ کے لیے لفظ اللہ علم ہے۔ تو اللہ کہیں تو پھر تو یہ جزی ہے۔ لیکن جب آپ لفظ بولیں واجب الوجود، واجب الوجود کا کیا معنی؟ ایسی ذات جس کا ہونا ضروری ہو، جو خود بخود ہو، جو اپنے وجود میں کسی کی محتاج نہ ہو اور دیکھو یہ مفہوم کلی ہے۔ یہ ایسی ذات صرف اللہ کی ہے لیکن فرض کر لو، فرض کر لو ایک اور ذات بھی ہوتی جو جس کا ہونا ضروری، جو خود بخود ہو، جو اپنے وجود میں کسی کے محتاج نہ تو اسے بھی واجب الوجود کہتے یا نہ کہتے؟ فرض کرو ایک تیسری ذات ہوتی تو اسے بھی واجب الوجود کہتے یا نہ کہتے؟ دیکھا تو واجب الوجود جزی نہیں، واجب الوجود کیا ہے؟ کلی ہے۔ ہاں اس واجب الوجود کا خارج میں ایک ہی فرد ہے۔ اور باقی افراد اس کے ممتنع ہیں اور افراد ہو ہی نہیں سکتے بھئی یعنی شریک باری تعالیٰ ہو ہی نہیں سکتے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ پھر سنو، کلی کے افراد یا تو ممتنع ہوں گے، یعنی ممکن ہی نہیں ہوں گے یا ممکن ہوں گے۔ اگر ممکن ہوں تو پھر کوئی فرد پایا گیا یا کوئی فرد آج تک نہیں پایا گیا۔ اگر کوئی فرد نہیں پایا گیا تو وہ ایک قسم ہو گئی۔ اگر کوئی فرد پایا گیا تو پھر دو حال سے خالی نہیں کہ وہ ایک ہی پایا گیا یا زیادہ پائے گئے۔ اگر ایک ہی فرد پایا گیا جیسے سورج اور چاند تو پھر اور افراد کا ہونا بھی ممکن ہو گا یا ممکن نہیں ہو گا۔ اگر اور افراد کا پایا جانا بھی ممکن ہے تو یہ ایک قسم جیسے سورج اور چاند وغیرہ۔ اور اگر فرد تو ایک ہی پایا گیا اور افراد کا پایا جانا بھی ممکن نہیں تو یہ اور قسم جیسے واجب الوجود بھئی۔ اور اگر کلی کے افراد کثیر ہیں تو پھر وہ دو حال سے خالی نہیں۔ یا تو ان افراد کی کوئی محدود تعداد ہو گی یا محدود تعداد نہیں ہو گی۔ وہ لامحدود ہوں گے۔ اگر تعداد محدود ہو تو یہ ایک قسم ہو گئی جیسے کواکب سیارہ یا انسان ہو گئے۔ اور اگر کلی کے افراد کثیر ہیں لیکن لامحدود ہیں تو یہ اور قسم ہو گئی جیسے اللہ کی معلومات اور فلاسفہ یونان کے مطابق انسان بھئی انسانی ارواح۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اچھی طرح؟ کتنی قسمیں ہو گئیں؟ چھ۔ کس طرح گن لو ذرا ایک قسم کون سی کہ کلی کے افراد کیا ہوں؟ ممتنع ہوں۔ دوسری قسم ممکن تو ہے لیکن کوئی فرد ہمیں ملا نہیں۔ یہ دوسری قسم۔ تیسری قسم ممکن بھی ہے فرد بھی ہمیں ملا لیکن ایک ہی ملا ہے۔ اب اور ممکن ہیں یا اور ممکن نہیں۔ اگر اور ممکن ہیں ایک فرد ملا اور اور ممکن ہیں تو یہ تیسری قسم۔ اگر ایک ہی فرد ملا ہے اور ممکن ہی نہیں تو یہ چوتھی قسم جیسے واجب الوجود۔ اور پانچویں قسم یہ کہ کلی کے افراد کثیر ہیں لیکن محدود ہیں ان کی کوئی حد ہے۔ اور چھٹی قسم کہ کلی کے افراد کثیر ہیں اور لامحدود ہیں۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ اور افراد کا بھی امکان ہوگا أَوْ امْتِنَاعِهِ یا اور افراد ممتنع ہوں گے۔ اور افراد کا امکان ہوگا جیسے سورج اور چاند۔ اور افراد ایک ہی فرد پایا گیا لیکن اور افراد ممکن ہی نہیں۔ جیسے وَاجِبُ الْوُجُودِ۔ أَوِ الْكَثِيرُ، وُجِدَ الْوَاحِدُ أَوِ الْكَثِيرُ، یہ کثیر کا عطف کس پر ہو رہا ہے؟ واحد پر۔ ایک ہی فرد پایا گیا أَوِ الْكَثِيرُ یا زیادہ افراد پائے گئے۔ پھر اس میں دو حال ہیں۔ مَعَ التَّنَاهِي أَوْ عَدَمِهِ، تناہی؟ متناہی ہونا، محدود ہونا۔ یہ کثیر افراد جو ہیں، مَعَ التَّنَاهِي تناہی یعنی کسی حد کے ساتھ ہوں گے أَوْ عَدَمِهِ، أَيْ عَدَمِ التَّنَاهِي، یہ عدم کے ساتھ جو ہا ضمیر ہے یہ کس کو راجع؟ تناہی کو۔ تناہی ہوگا یعنی متناہی ہوں گے أَوْ عَدَمِ التَّنَاهِي یا غیر متناہی ہوں گے۔ یعنی محدود ہوں گے یا لامحدود ہوں گے۔ تو کل کتنی قسمیں ہو گئیں؟ چھ قسمیں۔ پھر گن لو۔ امْتَنَعَتْ أَفْرَادُهُ یہ کیا ہو گئی؟ ایک قسم۔ أَوْ أَمْكَنَتْ وَلَمْ تُوجَدْ یہ کیا ہو گئی؟ دوسری قسم۔ أَوْ وُجِدَ الْوَاحِدُ فَقَطْ مَعَ إِمْكَانِ الْغَيْرِ یہ کیا ہو گئی؟ تیسری قسم۔ أَوْ وُجِدَ الْوَاحِدُ فَقَطْ مَعَ امْتِنَاعِ الْغَيْرِ یہ کون سی قسم ہو گئی؟ چوتھی قسم۔ یا أَوْ وُجِدَ الْكَثِيرُ مَعَ التَّنَاهِي یہ کون سی قسم ہو گئی؟ پانچویں قسم۔ أَوْ وُجِدَ الْكَثِيرُ مَعَ عَدَمِ التَّنَاهِي یہ کون سی قسم ہو گئی؟ چھٹی قسم ہو گئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اب دیکھیے بھئی حاشیہ، شرح میں دیکھ لیجئے بھئی۔ قَوْلُهُ: الْمَفْهُومُ مصنف کا قول الْمَفْهُومُ بھئی مفہوم کسے کہتے ہیں؟ کہتے ہیں أَيْ مَا حَصَلَ فِي الْعَقْلِ وہ صورت جو کس میں حاصل ہو؟ عقل میں حاصل ہو اسے مفہوم کہتے ہیں۔ وَاعْلَمْ جی یہاں سے ایک بڑی قیمتی بات بتلا رہے ہیں۔ کہتے ہیں ایک ہوتا ہے مفہوم ایک ہے معنی اور ایک ہے مدلول۔ توجہ ہے؟ تین لفظ ہیں۔ کیا؟ ایک ہے مفہوم، ایک ہے معنی آپ بولتے ہیں یعنی اس لفظ کا یہ معنی ہے، اس کا یہ معنی ہے اور ایک ہے مدلول جس پر لفظ کیا کرتا ہے؟ دلالت۔ ان تینوں میں کیا فرق ہے؟ مفہوم کسے کہتے ہیں؟ معنی کسے کہتے ہیں؟ مدلول کسے کہتے ہیں؟ تو آپ کو بتلائیں گے کہ یہ دراصل ایک ہی چیز کے تین نام ہیں۔ مفہوم، معنی اور مدلول یہ ایک ہی چیز کے تین نام ہیں۔ لفظوں کا معنی سمجھ میں آ رہا ہے؟ مفہوم، فہم کا کیا معنی ہوتا ہے؟ سمجھنا۔ مفہوم جو سمجھ میں آیا۔ اور معنی عَنَى يَعْنِي سے ہے۔ عَنَى يَعْنِي کا معنی ہے ارادہ کرنا۔ کیا معنی ہے؟ ارادہ کرنا۔ تو معنی جس کا ارادہ کیا گیا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ اور مدلول جس پر دلالت کی گئی۔ تو معنی، مفہوم اور مدلول تینوں ایک ہی چیز ہیں۔ ہاں ان میں فرق اعتباری ہے۔ بہ ایں لحاظ کہ ایک لفظ سے جو صورت آپ کے فہم میں آئی اس کو کیا کہیں گے؟ ایک لفظ میں نے بولا تو اس لفظ سے جو مفہوم جو بات جو صورت آپ کے ذہن میں آئی اس کو کیا کہیں گے؟ مفہوم۔ بہ ایں لحاظ کہ یہ لفظ سے آپ کی فہم میں آیا۔ لفظ سے آپ نے اس کو سمجھا۔ لفظ سے یہ مفہوم ہوا۔ بہ ایں لحاظ اس کو کیا کہیں گے؟ مفہوم۔ اور بہ ایں لحاظ کہ میں نے، بولنے والے نے اس کا ارادہ کیا تھا اس کو کیا کہیں گے؟ معنی۔ عَنَى يَعْنِي کا کیا معنی ہوتا ہے؟ ارادہ کرنا۔ تو بولنے والے نے اس کا ارادہ کیا تھا اس کو کیا کہیں گے؟ معنی۔ اور بہ ایں لحاظ کہ لفظ نے اس پر دلالت کی ہے اس کو کیا کہیں گے؟ مدلول کہیں گے۔ ایک ہی چیز کے تین نام ہیں لیکن مختلف اعتبارات سے۔ بہ ایں اعتبار کہ یہ بات لفظ سے یہ چیز لفظ سے سمجھ میں آ رہی ہے اس کو کیا کہیں گے؟ مفہوم۔ اور بہ ایں لحاظ کہ لفظ نے اس پر دلالت کی ہے اس کو کیا کہیں گے؟ مدلول۔ اور بہ ایں لحاظ کہ بولنے والے نے اس کا ارادہ کیا ہے اس کو کیا کہیں گے؟ معنی کہیں گے۔ تو فرق کیا ہے؟ اعتباری۔ آپ بولنے والے کا اعتبار کریں تو اس کو کہیں گے معنی۔ آپ اس سے سمجھے جانے کا اعتبار کریں تو یہ کیا ہے؟ مفہوم۔ اور اگر آپ اس میں دلالت کا اعتبار کریں تو اس کو کیا کہیں گے؟ مدلول کہیں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ کہتے دوبارہ دیکھیے الْمَفْهُومُ أَيْ مَا حَصَلَ فِي الْعَقْلِ یعنی وہ صورت جو عقل میں حاصل ہو وَاعْلَمْ جان لے أَنَّ مَا يُسْتَفَادُ مِنَ اللَّفْظِ وہ صورت جو حاصل ہو لفظ سے بِاعْتِبَارِ أَنَّهُ فُهِمَ مِنْهُ بہ ایں اعتبار کہ وہ اس لفظ سے سمجھ میں آئی ہے يُسَمَّى مَفْهُومًا اس کو کیا کہتے ہیں؟ مفہوم کہتے ہیں۔ وَبِاعْتِبَارِ أَنَّهُ قُصِدَ مِنْهُ اور بہ ایں اعتبار کہ اس کا اس سے ارادہ کیا گیا ہے يُسَمَّى مَعْنًى وَمَقْصُودًا تو بہ ایں اعتبار اس کو معنی اور مقصود کہتے ہیں۔ مقصود مقصود وہی جس کا ارادہ کیا گیا قصد کیا گیا وَبِاعْتِبَارِ أَنَّ اللَّفْظَ دَالٌّ عَلَيْهِ اور بہ ایں اعتبار کہ لفظ اس پر دلالت کر رہا ہے يُسَمَّى مَدْلُولًا اس کو مدلول کہتے ہیں۔ قَوْلُهُ: فَرْضُ صِدْقِهِ مصنف نے کیا کہا تھا فَرْضُ صِدْقِهِ میں نے کیا بتلایا تھا فرض کا کیا معنی عقل کا جائز قرار دینا۔ فرض کا تو ویسے معنی ہے نا فرض کر لینا کسی چیز کو فرض کر لینا تصور عقل میں کر لینا تو کہتے ہیں فرض یہاں فرض کے معنی میں نہیں ہے بلکہ یہاں عقل کا جائز قرار دینا۔ خود بتلا رہے ہیں کہتے ہیں اَلْفَرْضُ هَاهُنَا بِمَعْنَى تَجْوِيزِ الْعَقْلِ فرض یہاں پر جو ہے عقل کے جائز قرار دینے کے معنی میں ہے۔ جَوَّزَ يُجَوِّزُ تَجْوِيز کا معنی ہوتا ہے جائز قرار دینا جیسے كَفَّرَ يُكَفِّرُ تَكْفِير کا کیا معنی ہے؟ کافر بنانا نہیں، نہیں کافر قرار دینا۔ کفر تو کرنے والے نے خود کیا ہے اس کا اپنا عمل اس نے کفر والا کیا۔ ہاں مفتی پھر حضرات اس کو کافر قرار دیتے ہیں۔ کافر بناتے نہیں کفر تو وہ خود بنا اس کا اپنا عمل اس نے کفر والا کیا۔ ہاں مفتی پھر حضرات مسئلہ بتلاتے ہیں کہ یہ اس نے ایسا کیا اس بناء پر یہ کیا ہے؟ کافر ہے۔ تو کہتے ہیں وَالْفَرْضُ هَاهُنَا بِمَعْنَى تَجْوِيزِ الْعَقْلِ کہ فرض یہاں پر عقل کے جائز قرار دینے کے معنی میں ہے لَا التَّقْدِيرِ فرض کرنے کے معنی میں نہیں ہے۔ فَإِنَّهُ لَا يَسْتَحِيلُ اس لیے کیونکہ ناممکن نہیں ہے محال نہیں ہے کیا تَقْدِيرُ صِدْقِ الْجُزْئِيِّ عَلَى كَثِيرِينَ بھئی کیا وجہ یہاں فرض کا معنی آپ کیا کر رہے ہیں عقل کا جائز قرار دینا، کہتے ہیں بھئی اگر فرض کو فرض کے معنی میں رکھو تو پھر تو بات ہی واضح نہیں پھر تو جزئی رہے گا ہی نہیں۔ یہاں یہ کیا کہہ رہے تھے؟ جزئی کسے کہتے ہیں؟ کہ عقل کثیرین پر اس کے صادق انے کو جائز قرار نہ دے۔ اور اگر فرض کو فرض کے معنی میں لے لو تو پھر؟ پھر تو فرض تو ناممکن چیز بھی انسان فرض کر لیتا ہے۔ فرض تو ناممکن چیز بھی فرض کر لیتا ہے۔ جیسے ابھی آپ نے فرض کیا تھا یا نہیں؟ وَاجِبُ الْوُجُودِ ایک اللہ تعالیٰ ہی ہیں اور دوسرا کوئی ہو سکتا ہے؟ ممکن ہی نہیں ہے۔ شَرِيكِ بَارِي تَعَالَى کیا ہے؟ ممتنع ہے۔ توجہ ہے؟ شَرِيكِ بَارِي تَعَالَى ممتنع۔ تو وَاجِبُ الْوُجُودِ ایک ہے اور ہو سکتے ہیں؟ نہیں لیکن ابھی میں نے کہا تھا فرض کرو ایک اور ہے اس کا بھی نام کیا وَاجِبُ الْوُجُودِ فرض کرو ایک تیسرا ہے اس کا نام بھی کیا ہوگا۔ فرض کیا یا نہیں کیا آپ نے؟ دیکھا ناممکن چیز کو آپ نے فرض کر لیا تو فرض کرنے کا دائرہ تو بڑا وسیع ہے۔ فرض تو ہر چیز کو آپ کر سکتے ہیں ناممکن چیز کو بھی آپ فرض کر سکتے ہیں۔ آپ فرض کر لو ایک جزئی ایسی جزئی فرض کرو جو کثیرین پہ صادق آئے فرض کر لی یا نہیں کر لی؟ دیکھا فرض تو آپ نے ایک ناممکن چیز کیا کر لی؟ فرض کر لی تو یہاں فرض بات بھی سمجھ میں آ رہی ہے کہ نہیں؟ بات کس کی چل رہی ہے جزئی اور کلی جزئی کیا ہے کہ عقل اس کے کثیرین پر صادق انے کو جائز قرار نہ دے۔ اور کلی وہ ہے کہ وہ کثیرین پر صادق آئے۔ وہ کثیرین پر صادق آئے۔ اور جزئی وہ ہے جو کثیرین پر صادق نہ آئے۔ لیکن اگر آپ فرض کر لیں ایک جزئی جو کثیرین پر صادق آ رہی ہے۔ آپ نے فرض کر لی یا نہیں؟ دیکھا تو آپ نے ایک ناممکن چیز فرض کر لی تو فرض کرنا تو اس کا دائرہ تو بڑا وسیع ہے تو یہاں فرض فرض کے معنی میں نہیں ہے بلکہ کس معنی میں ہے؟ جائز قرار دینا۔ ورنہ فرض تو عقل سب کچھ کر سکتی ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ بات کر رہے ہیں جزئی کی کہ جزئی وہ ہے جو کثیرین پر صادق نہ آئے۔ اور اگر آپ فرض کر رہے ہیں تو عقل تو فرض کر لے گی ایسی جزئی جو کس پر صادق آئے گی؟ کثیرین پر صادق آئے گی بھئی پھر تو ساری تعریف ہی خراب ہو جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ لہٰذا یہاں فرض کس معنی میں ہے تَجْوِيزُ الْعَقْلِ عقل کا جائز قرار دینا کہتے ہیں اَلْفَرْضُ هَاهُنَا بِمَعْنَى تَجْوِيزِ الْعَقْلِ لَا التَّقْدِيرِ کہ فرض یہاں پر جو ہے تَجْوِيزُ الْعَقْلِ کے معنی میں ہے عقل کا جائز قرار دینا لَا التَّقْدِيرِ نہ کہ فرض کرنا فَإِنَّهُ لَا يَسْتَحِيلُ اس لیے کیونکہ ناممکن نہیں ہے محال نہیں ہے کیا تَقْدِيرُ صِدْقِ الْجُزْئِيِّ عَلَى كَثِيرِينَ فرض کرنا کہ جزئی صادق آئے عَلَى كَثِيرِينَ کس پر؟ ایسی جزئی کا فرض کرنا جو کثیرین پر صادق آئے یہ فرض کرنا کوئی محال نہیں ہے۔ قَوْلُهُ: امْتَنَعَتْ أَفْرَادُهُ مصنف کا قول کہ اس کے افراد ممتنع ہوں گے۔ كَشَرِيكِ الْبَارِي تَعَالَى جیسے کہ اللہ تعالیٰ کا شریک میں نے اور بھی دو مثالیں دیں جس کے افراد ممتنع ہوں کیا؟ لَا شَيْء اور لَا وُجُود۔ قَوْلُهُ: أَوْ أَمْكَنَتْ یا اس کے افراد ممکن ہوں گے۔ أَمْكَنَتْ أَيْ لَمْ يَمْتَنِعْ یعنی ممتنع نہ اس کے افراد ممکن ہوں گے کیا معنی ناممکن نہیں ہوں گے۔ أَيْ لَمْ يَمْتَنِعْ أَفْرَادُهُ یعنی اس کے افراد ناممکن نہیں ہوں گے فَيَشْمَلُ الْوَاجِبَ وَالْمُمْكِنَ الْخَاصَّ كِلَيْهِمَا تو یہ شامل ہوا وَاجِبُ الْوُجُودِ کو بھی اور ممکن خاص كِلَيْهِمَا دونوں کو۔ واجب اور ممکن خاص دونوں کو یہ شامل ہوا۔ واجب اور توجہ ہے؟ أَمْكَنَتْ کیا معنی؟ أَيْ لَمْ يَمْتَنِعْ أَفْرَادُهُ یعنی اس کے افراد ممتنع کیا معنی ممتنع نہ ہوں؟ یعنی ناممکن نہ ہوں تو پھر یہ واجب کو بھی شامل ہے اور ممکن خاص كِلَيْهِمَا ان دونوں کو واجب کو بھی اور ممکن خاص دونوں کو شامل ہے۔ توجہ ہے؟ ہاں یہ بہت مشکل مقام ہے یہ ان شاء اللہ ہم کل حل کریں گے۔ ٹھیک ہے؟ ان شاء اللہ یہ کل حل کریں گے۔ آگے دیکھیے قَوْلُهُ: وَلَمْ تُوجَدْ اور اس کا کوئی فرد پایا نہیں گیا ممکن تو ہے لیکن کوئی فرد پایا نہیں كَالْعَنْقَاءِ جیسے کہ عنقاء پرندہ ہے۔ قَوْلُهُ: مَعَ إِمْكَانِ الْغَيْرِ ایک فرد پایا گیا اور ساتھ غیر کا بھی امکان ہے كَالشَّمْسِ جیسے کہ سورج ہے۔ قَوْلُهُ: أَوْ امْتِنَاعِهِ کیا معنی؟ کہ اور افراد کیا ہوں؟ ایک فرد پایا گیا اور افراد کیا ہوں؟ ممتنع ہوں۔ كَمَفْهُومِ وَاجِبِ الْوُجُودِ جیسے کہ وَاجِبُ الْوُجُودِ کا مفہوم وَاجِبُ الْوُجُودِ ایک ہی فرد پایا گیا اور افراد ممکن ہی نہیں۔ قَوْلُهُ: مَعَ التَّنَاهِي کہ اس کے افراد تو کثیر ہیں لیکن تناہی کے ساتھ ہیں یعنی ان کی حد ہے محدود ہیں۔ كَالْكَوَاكِبِ السَّيَّارَةِ جیسے کواکب سیارہ وہ ستارے جو چلنے والے ہیں۔ تو کوکب سیارہ میں نے بتلایا یاد رکھو یہ جو ستارے ہیں نا ستارے یہ ان کے گرد سیارے چکر لگاتے ہیں، ستارے بھی حرکت کر رہے ہیں لیکن ان کی حرکت ایک دوسرے کے مقابلے میں اس کا پتہ نہیں چلتا۔ اور یہ جو سیارے ہیں ان کی حرکت تو واضح معلوم ہوتی ہے۔ ایک دن ایک جگہ ہے اگلے دن دیکھیں گے تھوڑا سا اپنی جگہ سے ہٹا ہوا ہے تیسرے دن اور ہٹا ہوا ہے تو وہ اپنی جگہ بدلتے رہتے ہیں۔ اور قدیم ہیئت کے مطابق یہ کتنے ہیں؟ سات۔ یہ نیچے نام لکھے ہوئے ہیں اَلْقَمَرُ وَالْعُطَارِدُ، زُهَرَةٌ، شَمْسٌ، مِرِّيخٌ بھئی۔ اردو میں تو اس کو مریخ پڑھتے ہیں لیکن عربی میں یہ مِرِّيخٌ ہے لفظ بھئی۔ اور زُحَلٌ اور مُشْتَرِي، قَمَرٌ، عُطَارِدٌ، زُهَرَةٌ، شَمْسٌ، مِرِّيخٌ، زُحَلٌ اور مُشْتَرِي یہ سات ہیں اور اب جدید ہیئت نے بتلا دیا کہ شمس ان میں داخل نہیں اور قمر بھی ان کے اندر داخل نہیں اور ان دونوں کے بغیر بھی ان کی تعداد کتنی ہے؟ نو یا دس بلکہ بعض اب کہتے ہیں شاید دس سے بھی ایک آدھ اور بڑھ گئے ہیں۔ تو سورج کے گرد جو چکر لگا رہے ہیں تو یہ کواکب سیارہ ہیں بھئی حرکت کرنے والے چلنے والے ستارے سیر کا مطلب کیا ہوتا ہے چلنا سیارہ چلنے والا۔ گاڑی کو بھی سَيَّارَة کہتے ہیں عربی میں چلتی ہے ایک جگہ سے دوسری جگہ حرکت کرتی ہے۔ قَوْلُهُ: أَوْ عَدَمِهِ یا اس کے افراد کیا ہوں گے؟ عدم ان میں عدم تناہی ہوگا یعنی وہ متناہی نہیں لا محدود ہوں گے۔ كَمَعْلُومَاتِ الْبَارِي عَزَّ اسْمُهُ جیسے کہ اللہ تعالیٰ کی معلومات عَزَّ اسْمُهُ وہ ذات جس کا نام بھی عزت والا ہے معزز ہے۔ جس کا نام بھی عزت والا ہے۔ تو جیسے اللہ کی معلومات یہ لا محدود ہیں۔ وَكَالنُّفُوسِ النَّاطِقَةِ نفوس ناطقہ یعنی انسانی روحیں انسانی ارواح یہ بھی لا محدود ہیں لیکن ہمارے نزدیک تو یہ محدود ہیں کن کے نزدیک لا محدود ہیں؟ فلاسفہ یونان کے نزدیک اسی لیے کہا وَكَالنُّفُوسِ النَّاطِقَةِ عَلَى مَذْهَبِ الْحُكَمَاءِ فلاسفہ کے مذہب پر نفوس ناطقہ بھی یہ عدم تناہی کی مثال ہیں غیر متناہی کی مثال ہیں۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ اچھی طرح؟ چلیے بس بھئی هَذَا هُوَ الْمَرَامُ، وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔