قَوْلُهُ إِنِ اتَّحَدَ أَيْ وَحُدَ مَعْنَاهُ قَوْلُهُ فَمَعَ تَشَخُّصِهِ أَيْ جُزْئِيَّتِهِ قَوْلُهُ وَضْعًا أَيْ بِحَسَبِ الْوَضْعِ دُونَ الِاسْتِعْمَالِ لِأَنَّ مَا يَكُونُ مَدْلُولُهُ كُلِّيًّا فِي الْأَصْلِ وَمُشَخَّصًا فِي الِاسْتِعْمَالِ كَأَسْمَاءِ الْإِشَارَةِ عَلَى رَأْيِ الْمُصَنِّفِ لَا يُسَمَّى عَلَمًا۔ اچھا بھئی اوپر متن کے اندر مصنف نے مفرد کی تقسیم کی اور بتلایا کہ مفرد جو ہے وہ متحد المعنی ہوگا یا متکثر المعنی، اگر متحد المعنی ہے تو پھر وہ معنی جو ہے یا وہ جزی ہوگا یا کلی ہوگا۔ یعنی ایک ہی فرد کے لیے وضع ہوگا یا کثیرین پر صادق ائے گا۔ اگر ایک ہی فرد کے لیے وضع ہے تو اس کو علم کہتے ہیں۔ اور اگر کثیرین پر بولا جاتا ہے تو پھر وہ افراد اپس میں برابر ہوں گے یا ان میں فرق ہوگا۔ اگر وہ افراد اپس میں برابر ہیں تو اس کو کلی متواطی کہتے ہیں۔ اور اگر ان میں فرق ہے تو اس کو کلی مشکک کہتے ہیں بھئی۔ اور اگر وہ مفرد متکثر المعنی ہے تو پھر ہر معنی کے لیے شروع ہی سے وہ علیحدہ وضع کیا گیا ہوگا یا ایسا نہیں ہوگا۔ اگر ہر معنی کے لیے علیحدہ وضع ہے تو اس کو مشترک کہتے ہیں۔ اگر ہر معنی کے لیے الگ وضع نہیں اور وضع تو ایک ہی معنی کے لیے ہے بعد میں دوسرے معنی میں استعمال ہونے لگا تو پھر پہلے معنی کو چھوڑ دیا گیا یا اس میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ اگر پہلے معنی کو چھوڑ دیا گیا دوسرے میں مشہور ہو گیا تو اس کو منقول کہتے ہیں۔ اور اگر دوسرے معنی میں مشہور نہیں یعنی پہلے میں بھی استعمال ہوتا ہے اور دوسرے میں بھی تو پھر اس کو حقیقت اور مجاز کہتے ہیں بھئی۔ تو متن میں یہ تقسیم بیان ہوئی۔ اور گزشتہ سبق میں شارح نے اپ کو بتلایا کہ مصنف نے یہ جو کہا نا وَأَيْضًا إِنِ اتَّحَدَ اس سے معلوم ہو رہا ہے کہ یہ بھی وہ مفرد ہی کی تقسیم ذکر کر رہے ہیں۔ اور اس سے یہ وہم پڑتا ہے کہ شاید مفرد کی تمام قسموں میں یہ قسمیں جاری ہوتی ہیں۔ مفرد کی تو تین قسمیں ہیں اسم کلمہ اور اداۃ تو معلوم ہوا وہ بھی علم بھی ہوتے ہیں تینوں میں متواطی بھی ائے گا اور تینوں میں مشکک بھی ائے گا۔ حالانکہ یہ قسمیں تو صرف اسم کے اندر جاری ہوتی ہیں کلمہ اور اداۃ میں یہ قسمیں جاری نہیں ہوتیں۔ لہذا مصنف کو یہاں پر وضاحت کرنی چاہیے تھی کہ وہ اسم کی تقسیم کر رہے ہیں کیونکہ باقی مناطقہ نے تصریح کی ہے وہ علم متواطی اور مشکک یہ لفظ صرف اسم پر بولتے ہیں کلمہ اور اداۃ پر نہیں بولتے۔ اور نیز انہوں نے صراحت کی ہے اس بات کی یعنی واضح لفظوں میں ذکر کیا ہے کہ کلمہ اور اداۃ کلی اور جزی ہونے کے ساتھ موصوف نہیں ہوتے۔ اسم جو ہے وہ کلی بھی ہو سکتا ہے اور جزی بھی لیکن کلمہ اور اداۃ ایسے نہیں ہیں۔ اور یہ تقسیم تو کلی جزی ہونے کے اعتبار سے ہے تو یہ صرف کس کے اندر جاری ہے اسم کے اندر جاری ہوتی ہے تو یہاں اسم کو ذکر کرنا چاہیے تھا مفرد کی تقسیم نہیں کرنی چاہیے۔ اور میں نے بتلایا تھا ایک جواب یہ دیا جا سکتا ہے کہ یہاں پر مفرد بول کر عام بول کر خاص مراد ہے۔ یعنی لفظ تو ذکر کیا مفرد کا لیکن ارادہ کس کا کیا اس کی ایک خاص قسم یعنی اسم کا۔ لیکن پھر اس پر اشکال ہوتا ہے یہاں تو بات ٹھیک ہو جائے گی کہ اسم کی تین قسمیں ہیں۔ لیکن اگے معنی اگر کثیر ہو وہاں پر جو قسمیں بنیں گی وہ بھی صرف اسم کی قسمیں ماننا پڑیں گی حالانکہ وہ تو اسم کی قسمیں نہیں ہیں وہ تو کلمہ کی تینوں قسموں میں وہ تقسیم جاری ہوتی ہے چاہے اسم ہو چاہے کلمہ ہو چاہے اداۃ ہو۔ وہ مشترک بھی ہو سکتا ہے منقول بھی ہو سکتا ہے حقیقت بھی ہو سکتا ہے اور مجاز بھی ہو سکتا ہے۔ یہاں تک بات اچھی طرح سمجھ میں ا گئی تکرار کیا تھا حل ہو گیا؟ اگے دیکھیے بھئی کہتے ہیں قَوْلُهُ إِنِ اتَّحَدَ مصنف کا قول إِنِ اتَّحَدَ یعنی مفرد کا معنی اگر متحد ہو۔ بھئی متحد ہونے کا کیا معنی؟ اتحاد تو اس کو کہتے ہیں کہ دو چیزیں کم از کم اپس میں مل جائیں اور ایک ہو جائیں۔ تو کیا یہاں بھی دو معنی مل کر ایک ہوں گے؟ کہتے ہیں نہیں نہیں اتحاد یہاں بمعنی واحد ہونے کے معنی میں ہے۔ اتحاد کس معنی میں ہے؟ ایک ہونے کے معنی میں ہے۔ أَيْ وَحُدَ مَعْنَاهُ، أَيْ وَحُدَ یہ باب ضرب سے بھی پڑھ سکتے ہیں سمع سے بھی اور کرم سے بھی۔ وَحَدَ وَحِدَ وَحُدَ تینوں بابوں سے استعمال ہوتا ہے۔ تو اس کا معنی ہے ایک ہونا ایک ہونا۔ تو إِنِ اتَّحَدَ أَيْ وَحُدَ مَعْنَاهُ یعنی اس کا معنی کیا ہو ایک ہو اتحاد کا یہاں یہ معنی نہیں کہ دو یا تین معنی مل کر ایک بن گئے بلکہ اس کا کیا معنی ہے ایک ہونا یعنی مفرد کا معنی ایک ہوگا یا زیادہ جیسے انسان کا معنی صرف کیا ہے حیوان ناطق افراد کو نہ دیکھیں معنی کو دیکھیں انسان کا ایک ہی معنی ہے یا اور بھی معانی اتے ہیں؟ اس کا ایک ہی معنی ہے حیوان ناطق۔ ہاں لفظ عین کے دیکھو کئی معانی اتے ہیں۔ یہ سونے کو بھی کہتے ہیں یہ گھٹنے کو بھی کہتے ہیں چشمے کو بھی کہتے ہیں وغیرہ۔ تو انسان کیا ہے متحد المعنی ہے۔ متحد المعنی کا کیا معنی أَيْ وَحُدَ مَعْنَاهُ اس کا معنی ایک ہو دو یا زیادہ نہ ہوں۔ تو کہتے ہیں أَيْ وَحُدَ مَعْنَاهُ، قَوْلُهُ فَمَعَ تَشَخُّصِهِ اوپر متن میں ایا تھا مَعَ تَشَخُّصِهِ وَضْعًا یہ مع تشخص کا کیا معنی بتلا رہے ہیں أَيْ جُزْئِيَّتِهِ اس کا جزی ہونا۔ تو تشخص کا کیا معنی جزی ہونا کہ وہ جزی ہو یعنی ایک ہی فرد پر بولا جائے کثیرین پر نہ بولا جائے۔ قَوْلُهُ وَضْعًا مصنف کا قول وَضْعًا أَيْ بِحَسَبِ الْوَضْعِ دُونَ الِاسْتِعْمَالِ یعنی وہ ایک معنی جو ہے وہ جزی ہو جزی ہونے کے ساتھ وضعا باعتبار وضع کے۔ یعنی وہ جزی ہو کس اعتبار سے وضع کے اعتبار سے دون الاستعمال استعمال کے اعتبار سے نہیں۔ تو مصنف نے وضعا کی قید لگا دی۔ بتلا دیا کہ یہ جو جزی ہونا ہے یہ کس اعتبار سے ہے؟ وضع کے اعتبار سے ہے۔ یعنی اس لفظ کو ایک ہی ذات کے لیے وضع کیا گیا ہو۔ استعمال ایک ذات کے لیے مراد نہیں ہے۔ بلکہ وضع کیا کیا گیا ہو ایک ذات کے لیے وضع کیا گیا ہو بھئی۔ یاد رکھو کبھی کبھار استعمال میں ایک چیز جزی ہوتی ہے اور کبھی وضع میں ایک چیز جزی ہوتی ہے۔ مثلا زید کے ماں باپ نے اپنے بیٹے کا نام زید رکھا۔ تو دیکھو ایک ہی ذات کے لیے انہوں نے یہ نام وضع کیا۔ اب کس کے لیے؟ اپنے بیٹے کے لیے۔ کوئی اور بھی اپنے بیٹے کا نام زید رکھتا ہے وہ انہوں نے اپنے بیٹے کے لیے وضع کیا تو دیکھو ایک ہی کے لیے وضع کیا۔ یہ انہوں نے ایک ہی کے لیے وضع کیا صورت سمجھ میں ا رہی ہے؟ تو ایک وقت میں انہوں نے ایک ہی ذات کے لیے اس لفظ کو وضع کیا ہے۔ اور ایک ہے استعمال بھئی استعمال۔ کبھی استعمال میں کوئی چیز جزی ہوتی ہے یعنی ایک ہی ذات پر بولی جاتی ہے مثلا یہ اسم اشارہ جو ہے هَذَا اسم اشارہ یاد رکھو اس کو وضع کیا گیا ہے ہر قریب والی چیز کے لیے۔ اس کو وضع کیا گیا ہے ہر قریب والی چیز کے ذریعے۔ اپ هَذَا کے ذریعے کتاب کی طرف بھی اشارہ کر سکتے ہیں هَذَا دیکھا کس کی طرف اشارہ ہے؟ کتاب کی طرف۔ اپ قلم کی طرف بھی اشارہ کر سکتے ہیں هَذَا کیا مراد ہے هَذَا سے؟ قلم مراد ہے۔ اپ هَذَا کے ذریعے یہ دیوار کی طرف بھی اشارہ کر سکتے ہیں هَذَا کیا مراد ہے اس سے؟ دیوار۔ دیکھا تو هَذَا اصل میں وضع ہے ہر قریب والی چیز کے لیے۔ جو بھی قریب چیز ہو اپ اس کی طرف هَذَا کے ذریعے کیا کر سکتے ہیں؟ اشارہ کر سکتے ہیں یا نہیں کر سکتے؟ معلوم ہوا یہ وضع کے اعتبار سے جزی ہے یا کلی ہے؟ کلی ہے۔ ہر قریب والی چیز چاہے کتاب ہو چاہے قلم ہو چاہے دیوار ہو چاہے کوئی اور چیز ہو اپ سب کی طرف هَذَا کے ذریعے اشارہ کر سکتے ہیں یا نہیں کر سکتے؟ معلوم ہوا یہ وضع کے اعتبار سے جزی ہے یا کلی ہے؟ کلی ہے۔ لیکن جب بھی اپ اس هَذَا لفظ کو بولتے ہیں تو کسی ایک خاص چیز کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ میں جب بھی مثلا میں اب صرف کتاب کی طرف اشارہ کرتا ہوں هَذَا اپ سمجھ گئے یا نہیں سمجھ گئے؟ کیا هَذَا سے کیا مراد ہے؟ کتاب مراد ہے۔ اچھا اب میں ذرا قلم کی طرف اشارہ کرتا ہوں هَذَا اپ سمجھ گئے کہ نہیں سمجھ گئے؟ کیا مراد ہے؟ قلم مراد ہے دیکھا جب استعمال کروں گا تو کسی ایک متعین چیز کے لیے میں استعمال کروں گا اس کو۔ تو استعمال کے اعتبار سے یہ جزی ہے۔ وضع میں کیا تھا کلی کیسے کلی ہے؟ ہر قریب والی چیز کے لیے وضع اپ استعمال کر سکتے ہیں۔ اور لیکن جب بھی استعمال کریں گے تو کسی ایک متعین چیز کی طرف اپ اشارہ کریں گے تو وہ کیا ہے جزی تو یہ جزی ہوا هَذَا لیکن وضع کے اعتبار سے یا استعمال کے اعتبار سے؟ استعمال کے اعتبار سے جزی ہوا وضع کے اعتبار سے تو یہ کلی ہے۔ صورت سمجھ میں ا گئی؟ تو اسی لیے ماتن نے کیا کہا اوپر متن میں فَمَعَ تَشَخُّصِهِ وَضْعًا کہ وہ معنی جزی ہونے کے ساتھ باعتبار وضع کے۔ یعنی وہ معنی مفرد کیا ہے اس کا معنی اگر ایک ہی ہے تو پھر اگر وہ معنی جزی ہے کس اعتبار سے جزی ہے؟ وضع کے اعتبار سے۔ نہ کہ استعمال کو نکال دیا کہ استعمال کے اعتبار سے جزی ہونا میں ذکر نہیں کر رہا میں کس اعتبار سے جزی ذکر کر رہا ہوں وضع کے ایک ذات کے لیے ایک نام ایک لفظ وضع کیا جائے۔ یہ معنی ہے قَوْلُهُ وَضْعًا أَيْ بِحَسَبِ الْوَضْعِ دُونَ الِاسْتِعْمَالِ یعنی وضع کے اعتبار سے ہو دون الاستعمال نہ کہ استعمال کے اعتبار سے یعنی وضع کے اعتبار سے جزی ہو نہ کہ استعمال کے اعتبار سے۔ اچھا یاد رکھیے بھئی یاد رکھیے جو لفظ جزی ہو جو مفرد کیا ہو جزی ہو مناطقہ اس کو علم کہتے ہیں۔ جیسے اوپر انہوں نے بتایا فَمَعَ تَشَخُّصِهِ وہ کیا ہو جب جزی ہو تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ عِلْم علم کہتے ہیں۔ اب یاد رکھیے ایک ہے جزی وضع کے اعتبار سے ایک ہے جزی استعمال کے اعتبار سے۔ زید کا لفظ صرف ذات زید کے لیے وضع ہے تو یہ وضع کے اعتبار سے کیا ہے جزی جزی ہے۔ اور لفظ هَذَا وضع تو ہے معنی کلی کے لیے ہر قریب والی چیز کے لیے لیکن استعمال میں یہ کیا ہے جزی ہے جزی ہے۔ اسی طرح ضمیر ہے هُوَ هُمَا هُمْ وغیرہ جو ضمیریں ہیں۔ یاد رکھیے یہ ضمیریں بھی وضع کے اعتبار سے کلی ہیں اور استعمال کے اعتبار سے جزی ہیں۔ هُوَ کو وضع کیا گیا ہے کس کے لیے؟ ہر مذکر غائب کے لیے۔ کوئی بھی مذکر غائب ہو اس کے لیے اس کی طرف اشارہ کس کے ذریعے کیا جاتا ہے؟ هُوَ ضمیر کے ذریعے۔ بات سمجھ میں ا رہی ہے؟ هُوَ کے میں میں نے مثلا میں نے کہا جَاءَنِي زَيْدٌ وَهُوَ رَجُلٌ عَالِمٌ دیکھو هُوَ سے کون مراد زید پھر میں کہتا ہوں جَاءَنِي بَكْرٌ وَهُوَ رَجُلٌ عَالِمٌ اب هُوَ سے کون مراد بکر مثلا جو بھی نام پہلے ذکر ہو گیا۔ تو دیکھا هُوَ وہی لفظ هُوَ ہے کبھی میں عمر کے لیے استعمال کر رہا ہوں کبھی بکر کے لیے کبھی خالد کے لیے کبھی کسی اور چیز کے لیے معلوم ہوا هُوَ کو ہر مذکر غائب کے لیے استعمال کر سکتے ہیں تو یہ وضع ہوا ہے ہر مذکر غائب کے لیے تو وضع کے اعتبار سے یہ کیا ہے کلی۔ لیکن جب بھی استعمال کریں گے تو کوئی مخصوص ایک مذکر غائب مراد ہوگا۔ مثلا جیسے میں نے کہا جَاءَنِي زَيْدٌ میرے پاس زید ایا تھا وَهُوَ رَجُلٌ عَالِمٌ اور وہ عالم ادمی ہے۔ تو هُوَ سے کون مراد؟ زید دیکھا ایک متعین میں استعمال ہوا۔ تو یہ وضع کے اعتبار سے ضمیریں کیا ہیں کلی یا یوں کہیں وضع کے اعتبار سے عام اور استعمال کے اعتبار سے خاص۔ یا یوں کہیں وضع کے اعتبار سے کلی اور استعمال کے اعتبار سے جزی۔ تو اب یاد رکھنا یہ جو ضمیریں ہیں اور یہ جو اسم اشارہ ہیں جو استعمال کے اعتبار سے کیا ہیں جزی ہیں عام مناطقہ ان کو بھی علم کہتے ہیں۔ عام مناطقہ ان کو علم علم کہتے ہیں کیونکہ یہ جزی ہیں یا نہیں؟ باعتبار وضع کے تو نہیں جزی لیکن استعمال کے اعتبار سے کیا ہیں جزی ہیں تو باعتبار استعمال کے وہ ان کو علم کہتے ہیں۔ جبکہ مصنف کا یہ مذہب نہیں ہے مصنف کی رائے یہ ہے کہ علم نام زید عمر بکر یہ تو نام یہ تو علم ہیں جو وضع کے اعتبار سے کیا ہیں زید عمر بکر جزی جزی ہیں اور یہ جو اسم اشارہ اور ضمیریں ہیں ان کو وہ علم شمار نہیں کرتا۔ تو پھر اس لیے مصنف نے وَضْعًا کی قید لگا دی۔ کہ وہ مفرد اگر جزی ہو کس اعتبار سے؟ وَضْعًا باعتبار وضع کے اور باعتبار وضع کے تو ضمیر جزی نہیں ضمیر تو کیا ہے کلی ہے۔ اسم اشارہ بھی وضع کے اعتبار سے کیا ہے کلی ہے۔ تو انہوں نے کیا کہا وضع کے اعتبار سے جزی ہونا چاہیے۔ جب مصنف نے وضع کی اوپر قید لگا دی تو کون کون خارج ہو گئے؟ ضمیریں بھی اور اسم اشارہ اب وہ علم نہیں۔ اور مصنف کی رائے بھی یہی ہے کہ ان کو علم نہیں کہنا چاہیے۔ بات سمجھ میں ا گئی؟ تو مصنف نے یہ وَضْعًا کی قید کیوں لگائی؟ ضمیروں کو علم سے نکالنے کے لیے اور اسم اشارہ کو علم سے نکالنے کے لیے یہ قید لگائی بھئی بات سمجھ میں ا گئی؟ تو کہتے ہیں لِأَنَّ مَا يَكُونُ مَدْلُولُهُ كُلِّيًّا فِي الْأَصْلِ اس لیے کیونکہ وہ چیز جس کا مدلول کلی ہو اصل کے اعتبار سے اور مُشَخَّص یعنی جزی ہو استعمال کے اعتبار سے۔ عبارت پہ نظر ہے؟ وہ چیز جس کا مدلول اصل کے اعتبار سے کیا ہو؟ کلی ہو اور استعمال کے اعتبار سے کیا ہو؟ جزی۔ جیسے کہ اسم اشارہ ہیں یہ جو چیزیں ہیں عَلَى رَأْيِ الْمُصَنِّفِ مصنف کی رائے میں لَا يُسَمَّى عَلَمًا ان کو علم نہیں کہتے مصنف کی رائے یہ ہے کہ ان کو علم نہیں کہتے۔ انہوں نے ان دونوں کو نکالنے کے لیے وَضْعًا کی قید لگا دی۔ وَهَاهُنَا كَلَامٌ آخَرُ اور یہاں اور کلام بھی ہے اور بحث بھی ہے۔ اب یہاں شارح اپنی طرف سے ایک بحث لائیں گے بھئی اور ذکر کریں گے کہ بھئی مصنف جو ہیں یہ جو تقسیم کر رہے ہیں توجہ ہے؟ مصنف جو تقسیم کر رہے ہیں انہوں نے کیا کہا إِنِ اتَّحَدَ مَعْنَاهُ أَوْ كَثُرَ کہ مفرد کا معنی یا تو متحد ہوگا یا متکثر ہوگا۔ توجہ ہے ادھر دیکھیے انہوں نے ماتن نے اوپر کیا تقسیم کی کہ مفرد کا معنی متحد ہوگا یا متکثر ہوگا۔ یہ جو وہ تعریف کر رہے ہیں یہ وضع کے اعتبار سے تقسیم کر رہے ہیں یا استعمال کے اعتبار سے تقسیم کر رہے ہیں؟ دو ہی احتمال ہیں نا مفرد متحد المعنی ہوگا اور متکثر المعنی ہوگا کس اعتبار سے وضع کے اعتبار سے تو پھر دونوں جگہ وضع کا خیال رکھو۔ اور یا اپ کی مراد یہ ہے کہ یہ تقسیم کس اعتبار سے ہے استعمال کے اعتبار سے تو دونوں جگہ استعمال کا لحاظ رکھو۔ تو شارح فرماتے ہیں کہ اگر تو یہ مصنف تقسیم کر رہے ہیں ماتن تقسیم کر رہے ہیں وضع کے اعتبار سے تقسیم کر رہے ہیں وَضْعًا کے اعتبار سے اور کتنی قسمیں بنائی کل؟ سات قسمیں بنائیں۔ یہ تقسیم کس اعتبار سے مفرد کا معنی یا تو مفرد متحد المعنی ہوگا یا متکثر المعنی متحد المعنی ہو تو تین قسمیں ہیں علم متواطی اور مشکک۔ اور متکثر المعنی ہو تو پھر یا وہ مشترک ہے یا منقول ہے یا حقیقت ہے یا مجاز۔ تو سات قسمیں بنائیں تو یہ جو تقسیم کی انہوں نے یہ وضع کے اعتبار سے ہے یا استعمال کے اعتبار سے؟ اگر وضع کے اعتبار سے یہ تقسیم کر رہے ہیں تو حقیقت اور مجاز کو تو داخل ہی نہیں کر سکتے کیونکہ وہ تو استعمال کے اعتبار سے ہیں۔ وہ قسمیں کس اعتبار سے ہیں؟ کسی لفظ کو ہم کہتے ہیں یہ حقیقت ہے کیا مطلب ہوتا ہے؟ یعنی حقیقی معنی میں استعمال ہو رہا ہے۔ کسی لفظ کے بارے میں ہم کہتے ہیں یہ مجاز ہے کیا معنی؟ حقیقی معنی میں استعمال نہیں ہو رہا۔ تو حقیقت اور مجاز تو استعمال کے اعتبار سے قسمیں ہیں۔ اپ لفظ کو اپنے معنی موضوع لہو میں استعمال کریں تو اس کو کیا کہیں گے حقیقت اپ لفظ کو کسی دوسرے معنی میں استعمال کر لیں تو اسے کیا کہیں گے مجاز۔ مثلا لفظ شیر ہے شیر کا لفظ مجھے بتاؤ یہ حقیقت ہے یا مجاز ہے؟ لفظ شیر شیر بھئی میں نے ابھی تک استعمال ہی نہیں کیا اپ کو پتہ کیسے چلے گا؟ میں استعمال کروں گا تو اپ کہیں گے یہ حقیقت ہے یا اپ کہیں گے یہ مجاز ہے۔ اپ مجھے بتانا میں کل چڑیا گھر گیا تھا میں نے ایک شیر دیکھا اب بولو یہ شیر کا لفظ کیا ہے؟ حقیقت ہے۔ دیکھا جب میں نے استعمال کیا اب اپ کو پتہ چلا۔ اور میں کہتا ہوں کل میں نے ایک شیر کو تیر چلاتے ہوئے دیکھا اب اپ کو پتہ چلا کہ یہ شیر کیا ہے مجاز ہے۔ دیکھا تو عام ویسے لفظ میں نہیں حقیقت اور مجاز اس کو کہتے وہ جس معنی میں استعمال کرو تو پھر استعمال کے بعد پتہ چلتا ہے۔ تو یہ حقیقت اور مجاز کس اعتبار سے قسمیں ہیں استعمال کے اعتبار سے تو اگر مصنف یہ تقسیم کر رہے ہیں إِنِ اتَّحَدَ مَعْنَاهُ وَإِنْ كَثُرَ مَعْنَاهُ اگر یہ تقسیم کر رہے ہیں وضع کے اعتبار سے تو اشکال ہوتا ہے کہ حقیقت اور مجاز تو پھر داخل ہی نہیں ہو سکتے اپ نے ان کو کیسے داخل کر دیا؟ وہ تو وضع کے اعتبار سے قسمیں ہی نہیں۔ اور اگر اپ یہ تقسیم کر رہے ہیں استعمال کے اعتبار سے کس اعتبار سے؟ اگر اپ استعمال کے اعتبار عجیب نکتہ بیان کرتے ہیں شارح بھئی۔ اگر اپ یہ تقسیم کر رہے ہیں استعمال کے اعتبار سے کہ استعمال کے اعتبار سے تو پھر اپ نے جو اگے وَضْعًا کی قید لگائی کس کی؟ وَضْعًا کی قید اپ نے کیوں لگائی تھی؟ اپ اس میں اشارہ اور ضمیر کو علم سے نکلا۔ بھئی اگر اپ استعمال کے اعتبار سے تقسیم کر رہے ہیں تو وہ اسم اشارہ اور ضمیریں خود بخود نکل چکی ہیں اور وہ داخل ہو چکی ہیں کس کے اندر مشترک کے اندر۔ جب اپ تقسیم کس اعتبار سے کر رہے ہیں؟ تو وہ خود بخود نکل چکی ہیں وہ تو مشترک میں پہلے ہی جا چکی ہیں تو یہ وَضْعًا کی قید کیوں لگاتے ہو کیا ضرورت ہے لگانے کی؟ اعتراض سمجھ میں ایا؟ کیا اعتراض؟ کہ یا تو یہ تقسیم کر رہے ہیں اپ معنی موضوع لہو کے اعتبار سے یا اس معنی مستعمل فیہ کے اعتبار سے۔ یعنی یوں کہو یہ تقسیم وضع کے اعتبار سے ہے یا یہ تقسیم استعمال کے اعتبار سے۔ اگر وضع کے اعتبار سے یہ تقسیم کر رہے ہو تو پھر حقیقت اور مجاز کو یہاں کیوں شمار کرتے ہو وہ تو وضع کے اعتبار سے قسمیں ہی نہیں۔ اور اگر اپ یہ تقسیم کر رہے ہو استعمال کے اعتبار سے تو پھر یہاں فَمَعَ تَشَخُّصِهِ وَضْعًا یہاں وَضْعًا کی قید لگانے کی ضرورت نہیں کیونکہ اسم اشارہ اور ضمیریں پہلے ہی نکل کر کس میں داخل ہو چکے مشترک میں۔ کیسے جا چکے دیکھو بھئی۔ وہ فرماتے ہیں دیکھو وضع کے اعتبار سے کیا ہے اسم اشارہ؟ کلی ہے کلی ہے۔ ہاں جب اپ استعمال کرتے ہیں مثلا میں استعمال کرتا ہوں میں بولتا ہوں هَذَا اور اشارہ میں کر رہا ہوں کتاب کی طرف هَذَا تو اب هَذَا کا کیا معنی؟ یہ کتاب یہ کتاب۔ اب میں قلم کی طرف اشارہ کرتا ہوں هَذَا اب هَذَا کا کیا معنی؟ یہ قلم۔ اب میں اشارہ کر رہا ہوں دیوار کی طرف هَذَا کیا مراد ہے؟ یہ دیوار۔ کہتے ہیں دیکھو استعمال کے اعتبار سے اس کے معنی متعدد ہیں۔ استعمال کے اعتبار سے اس کے معنی متعدد ہیں۔ جب میں نے هَذَا کا اشارہ کیا کتاب کی طرف تو هَذَا کا معنی کیا؟ یہ کتاب۔ جب میں نے هَذَا سے اشارہ کیا قلم کی طرف تو هَذَا کا کیا معنی؟ یہ قلم۔ دیکھو معنی اور ہے یا نہیں؟ جب میں نے دیوار کی طرف اشارہ کیا تو هَذَا کا کیا معنی؟ یہ دیوار۔ تو دیکھو استعمال کے اعتبار سے جب بھی کسی چیز کی طرف اشارہ کریں گے وہ اس کا معنی ہے۔ دوسری چیز کی طرف اشارہ کریں گے تو اب یہ اس کا معنی ہے۔ تیسری چیز کی طرف اشارہ کریں گے تو اب وہ اس کا معنی ہے۔ تو دیکھو استعمال کے اعتبار سے ان کے معنی واحد ہے یا متکثر ہے؟ متکثر ہے۔ تو جب یہ متکثر ہے تو متکثر المعنی میں داخل ہو گیا یا نہیں؟ صورت سمجھ میں ا گئی؟ پہلے میں نے کیا تقریر کی تھی کہ اسم اشارہ کیا ہے؟ وضع کے اعتبار سے کلی اور استعمال کے اعتبار سے جزی۔ تو شارح نے اس پر مزید اضافہ کیا کہ جزی نہیں جزی بھی تو ایک معنی میں استعمال ہوتا ہے یہ تو جزی کبھی اپ ایک چیز کی طرف اشارہ کرتے ہیں کبھی دوسری کی طرف کبھی تیسری کی طرف ہاں جب بھی اشارہ کریں گے ایک چیز مراد ہوگی تو وہ اس کا معنی ہوگا۔ جب میں نے کتاب کی طرف اشارہ کیا تو اب هَذَا کا معنی کیا؟ یہ کتاب۔ اور جب میں نے یہی هَذَا استعمال کیا قلم کے لیے تو اب هَذَا کا کیا معنی؟ گویا جس جس چیز کی طرف بھی کوئی اشارہ کرتا ہے وہ هَذَا کا معنی ہو گیا۔ تو استعمال کے اعتبار سے یہ متحد المعنی ہوا یا متکثر المعنی؟ متکثر المعنی۔ جب یہ متکثر المعنی ہے تو پھر یہ علم تو کس کی قسم ہے متحد المعنی کی تو یہ علم میں تو داخل ہو ہی نہیں سکتا تو یہ کس کے اندر داخل ہو جائے گا؟ مشترک کے اندر داخل ہو جائے گا۔ ہر معنی کے لیے یہ علیحدہ استعمال کے اعتبار سے اس کے مختلف معانی اتے ہیں۔ جس چیز کی طرف اپ اشارہ کریں وہی اس کا معنی بن گیا بھئی۔ صورت سمجھ میں ا گئی؟ تو یہ متحد المعنی ہوا یا متکثر المعنی؟ جب متکثر المعنی ہے تو علم تو کس کی قسم؟ متحد المعنی متحد المعنی کی قسم ہے تو یہ تو اس کے اندر تو داخل ہو ہی نہیں سکتا تو یہ کس کے اندر داخل ہو جائے گا؟ مشترک کے اندر داخل ہو جائے گا۔ بات اچھی طرح سمجھ میں ا گئی؟ لہذا حاصل کلام کیا ہوا کہ یہ تقسیم اپ کر رہے ہیں معنی موضوع لہو کے اعتبار سے یا یوں کہو یہ تقسیم کر رہے ہیں اپ وضع کے اعتبار سے یا یہ تقسیم کر رہے ہیں اپ استعمال کے اعتبار سے۔ اگر اپ یہ إِنِ اتَّحَدَ مَعْنَاهُ أَوْ كَثُرَ مَعْنَاهُ یہ تقسیم اگر اپ کس اعتبار سے کر رہے ہیں وضع کے اعتبار سے تو پھر حقیقت اور مجاز کو اپ نے کیسے شمار کر لیا وہ تو وضع کے اعتبار سے قسمیں ہی نہیں۔ اور اگر اپ یہ تقسیم کر رہے ہیں استعمال کے اعتبار سے تو پھر وَضْعًا کی قید لگانے کی ضرورت نہیں اس قید کے بغیر ہی اسم اشارہ اور ضمیریں علم سے نکل کر کس میں داخل ہو چکے؟ مشترک میں داخل ہو چکے تو اپ کا تو مقصد پہلے ہی حاصل ہو گیا اپ نے وَضْعًا کی قید کس لیے لگائی تھی اسم اشارہ اور ضمیروں کو علم سے نکالنے کے لیے اور حالانکہ وہ تو اس میں داخل ہی نہیں داخل ہوتے تو پھر اپ نکالنے کے لیے قید بھی لگاتے بھئی۔ بات سمجھ میں ا گئی؟ اب ائیے دیکھیے بھئی کتاب پر کہتے ہیں وَهَاهُنَا كَلَامٌ آخَرُ اور یہاں پر اور کلام بھی ہے اور بحث بھی ہے وَهُوَ اور وہ یہ کہ أَنَّ الْمُرَادَ بِالْمَعْنَى فِي هَذَا التَّقْسِيمِ کہ معنی سے مراد اس تقسیم کے اندر إِمَّا الْمَوْضُوعُ لَهُ حَقِيقَةً یا تو معنی موضوع لہو ہے حقیقتا أَوْ مَا اسْتُعْمِلَ فِيهِ اللَّفْظُ یا وہ معنی ہے جس میں لفظ کو استعمال کیا جائے۔ سَوَاءٌ كَانَ وَضْعُ اللَّفْظِ بِإِزَائِهِ حَقِيقَةً أَوْ تَأْوِيلًا برابر ہے کہ لفظ کی وضع اس کے مقابلے میں حقیقتا ہو أَوْ تَأْوِيلًا یا تاویلا ہو۔ اس کو نکالنے کے لئے إِلَى التَّقْيِيدِ کہ یہ قید لگائی جائے بِقَوْلِهِ مصنف کے قول وَضْعًا کے ساتھ۔ مصنف کے قول وَضْعًا کے قید لگانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، یہ خود ہی نکل جاتے ہیں۔ بات یہاں تک سمجھ میں آ گئی؟ قَوْلُهُ إِنْ تَسَاوَتْ أَفْرَادُهُ مصنف کا قول کہ اگر اس کلی کے افراد آپس میں برابر ہوں۔ بھئی، برابر ہونے کا کیا معنی؟ کہتے ہیں بِأَنْ يَكُونَ صِدْقُ هَذَا الْمَعْنَى الْكُلِّيِّ عَلَى تِلْكَ الْأَفْرَادِ عَلَى السَّوِيَّةِ، یعنی کہ اس معنی کلی کا صادق آنا عَلَى تِلْكَ الْأَفْرَادِ ان افراد پر عَلَى السَّوِيَّةِ برابری کے طریقے پر ہو۔ وہ افراد آپس میں برابر ہوں کیا معنی؟ یعنی کلی، یہ کلی ان افراد پر برابری کے ساتھ صادق آئے کسی میں کمی بیشی نہ ہو۔ جیسے انسان، انسان زید پر بھی صادق آتا ہے، بکر پر بھی، خالد پر بھی، ایک دو ماہ کے بچے پر بھی، ایک بوڑھے پر بھی جو بالکل موت کے قریب ہے، معذور پر بھی، اندھے پر بھی۔ سب پر انسان صادق آتا ہے یا نہیں؟ اور سب انسان ہونے میں برابر ہیں کہ نہیں؟ سب انسان ہونے میں برابر ہیں۔ یہ معنی ہے کہ وہ معنی کلی مثلاً جیسے انسان ہے، وہ صادق آتا ہے عَلَى تِلْكَ الْأَفْرَادِ ان افراد پر عَلَى السَّوِيَّةِ کس طریقے پر؟ برابری کے طریقے پر۔ سَوِيَّة کا کیا معنی؟ برابری۔ قَوْلُهُ إِنْ تَفَاوَتَتْ اور اگر اس کے افراد مختلف ہوں۔ أَيْ يَكُونُ صِدْقُ هَذَا الْمَعْنَى عَلَى بَعْضِ أَفْرَادِهِ مُقَدَّمًا، بھئی یہاں میں نے وہ قسمیں بیان کی تھیں، پھر ذرا ان کو دہرا لو۔ اگر کلی برابری کے ساتھ اپنے افراد پر صادق نہیں آتی، یعنی وہ افراد اس کلی کے میں برابر نہیں ہیں، ان میں فرق ہے، تو یہ فرق چار قسم پر ہو سکتا ہے۔ اولیت کے اعتبار سے بھی، اولویت کے اعتبار سے بھی، اشدیت کے اعتبار سے بھی اور ازیدیت کے اعتبار سے بھی۔ پھر دہراؤ۔ کون کون سے؟ یا تو فرق ہوگا اولیت کے اعتبار سے، یعنی بعض پر کلی أَوَّلًا صادق آئے گی اور بعض پر ثَانِيًا صادق آئے گی۔ دوسرے درجے میں صادق آئے گی۔ اور کبھی کبھار یہ فرق جو ہے وہ اولویت کے اعتبار سے ہوگا، بعض افراد پر کلی کا صادق آنا أَوْلَى ہوگا، دوسروں کے مقابلے میں۔ اور بعض اوقات یہ فرق جو ہے وہ اشدیت کے اعتبار سے ہوگا، یعنی بعض افراد میں کلی کا ظہور زیادہ ہوگا بلحاظ کیفیت، دوسروں کے مقابلے میں۔ اور کبھی یہ فرق ازیدیت کے اعتبار سے ہوگا، یعنی بعض افراد میں کلی کا ظہور زیادہ ہوگا بلحاظ مقدار کے، بلحاظ کمیت کے۔ تو فرق کتنے ہو سکتے ہیں؟ چار ہو سکتے ہیں، وہی ذکر کر رہے ہیں۔ اچھا ہاں، اولیت کے اعتبار سے فرق ہو۔ کیا معنی؟ کلی صادق آئے بعض افراد پر أَوَّلًا اور بعض پر ثَانِيًا۔ یعنی کلی کا ثبوت بعض افراد کے لیے یہ عِلَّة ہو دیگر افراد میں کلی کے ثبوت کے لیے۔ توجہ ہے؟ بعض افراد کے لیے کلی کا ثبوت یہ عِلَّة ہو، دیگر افراد میں کلی کے ثبوت کے لیے۔ جیسے میں نے مثال ذکر کی تھی، وجود۔ وجود اللہ تعالیٰ کا بھی ہے، یعنی وَاجِبُ الْوُجُودِ کا بھی ہے اور وجود ممکنات کا بھی ہے۔ وَاجِبُ الْوُجُودِ کسے کہتے ہیں؟ جس کا وجود ضروری ہے۔ جس کا ہونا ضروری ہے۔ جو خود بخود ہو۔ جو اپنے وجود میں غیر کی محتاج نہ ہو۔ اور ممکنات کسے کہتے ہیں؟ جو اپنے وجود میں غیر کی محتاج ہے۔ کوئی وجود دینے والا ہے، تو ان کا وجود ہے۔ جو وجود دینے والا نہیں، تو ان کا وجود بھی نہیں۔ اور وَاجِبُ الْوُجُودِ صرف اللہ کی ذات ہے۔ اور دیکھو تو وجود اللہ کے لیے بھی اور وجود ممکنات کے لیے بھی، لیکن اللہ کے لیے وجود یہ عِلَّة ہے ممکنات کے لیے وجود کے ثبوت میں۔ اللہ کے لیے... یوں کہو، وجود کا ثبوت وَاجِبُ الْوُجُودِ کے لیے بھی ہے اور ممکنات کے لیے بھی ہے، لیکن وَاجِبُ الْوُجُودِ کے لیے وجود کا ثبوت ہے أَوَّلًا اور ممکنات کے لیے ہے ثَانِيًا۔ کیونکہ وَاجِبُ الْوُجُودِ ہے، تو ممکنات بھی ہیں۔ وَاجِبُ الْوُجُودِ نہیں، تو ممکنات بھی نہیں۔ کیونکہ وَاجِبُ الْوُجُودِ عِلَّة ہے، اور باقی ممکنات کیا ہیں؟ معلول۔ عِلَّة میں نے بتایا تھا کہ ایک چیز دوسری چیز کے لیے وجود کا سبب بنے۔ تو پہلی کو کیا کہتے ہیں؟ عِلَّة۔ اور دوسری کو کیا کہتے ہیں؟ معلول۔ جیسے سورج کا نکلنا یہ دن کے ہونے کے لیے عِلَّة ہے۔ سورج نکلے گا، تو دن ہوگا۔ سورج نہیں، تو دن بھی نہیں۔ تو اسی طرح عِلَّة اور معلول ہوتے ہیں۔ عِلَّة ہے تو معلول بھی ہے۔ عِلَّة نہیں، تو معلول بھی نہیں۔ جیسے چابی کا گھومنا، یہ کیا ہے؟ عِلَّة۔ اور تالے کا کھلنا، یہ کیا ہے؟ معلول۔ اسی طرح وَاجِبُ الْوُجُودِ کا وجود، یہ عِلَّة ہے، کس کے وجود کے لیے؟ ممکنات کے وجود کے لیے۔ تو عِلَّة اور معلول کسے کہتے ہیں؟ ایک چیز کا وجود یہ عِلَّة ہو، دوسری چیز کے وجود کے لیے۔ جیسے بلب کا جلنا کمرے کے روشن ہونے کے لیے عِلَّة ہے۔ بلب جلے گا، تو کمرہ بھی کیا ہو جائے گا؟ روشن ہو جائے گا۔ لیکن کمرے کے روشن ہونے کے لیے صرف بلب ہی عِلَّة نہیں۔ یہ ایسا معلول ہے، جس کی اور بھی علتیں ہو سکتی ہیں۔ توجہ ہے، توجہ ہے؟ عِلَّة کسے کہتے ہیں؟ وہ چیز جو دوسری چیز کے وجود کا سبب ہو۔ اور عِلَّة ہو تو معلول ضرور ہوتا ہے۔ عِلَّة ہو اور معلول نہ ہو ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔ عِلَّة کہتے ہی اس کو ہیں کہ جس کے ہوتے ہی کس کا ہونا ضروری؟ معلول کا ہونا ضروری ہے۔ اگر عِلَّة ہے اور معلول نہیں پایا جا رہا، معلوم ہوا یہ عِلَّة ہی نہیں ہے، آپ غلط فہمی میں پڑ گئے ہیں، یہ عِلَّة نہیں ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے معلول کو ضرور ہونا چاہیے تھا۔ جیسے بلب کو جیسے ہی جلائیں گے، کمرہ کیا ہوگا؟ روشن ہوگا۔ ہاں، لیکن بعض اوقات ایک ہی معلول کی کئی علتیں ہوتی ہیں۔ اب کمرے کے روشن ہونے کی عِلَّة... بلب، ٹھیک ہے، بلب کا جلنا تو عِلَّة ہے، کس کے لیے؟ کمرے کے روشن لیکن اس کے لیے یہی ایک عِلَّة نہیں، اور بھی علتیں ہیں۔ مثلاً آپ چراغ جلائیں، تو بھی کمرہ روشن ہو جائے گا یا نہیں؟ تو وہ بھی اس کے لیے عِلَّة ہے۔ دن نکلا ہو، دن کی میں بھی کیا ہوگا، کمرہ روشن ہو جائے گا، تو سورج کے نکلنے سے بھی روشن ہوگا۔ تو بعض اوقات ایک ہی معلول کی کئی علتیں ہوتی ہیں۔ لیکن بہرحال ہر عِلَّة جب بھی پائی جاتی ہے، معلول ضرور پایا جاتا ہے، چاہے بلب پایا جائے، چاہے وہ دوسرا چراغ پایا جائے، چاہے دن پایا جائے، سورج کا نکلنا پایا جائے، معلول ضرور پایا جائے گا۔ سورج سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو لہٰذا بعد میں بیان کر رہا تھا اولیت کے اعتبار سے، کہ وَاجِبُ الْوُجُودِ کا بھی وجود اور ممکنات کا بھی وجود، لیکن وَاجِبُ الْوُجُودِ کے لیے وجود کا ثبوت أَوَّلًا ہے، کیونکہ وہ عِلَّة ہے، اور ممکنات کے لیے وجود کا ثبوت ثَانِيًا ہے۔ تو وَاجِبُ الْوُجُودِ کے لیے بھی وجود کا ثبوت، لیکن یہ مقدم ہے، کس پر؟ باقی افراد پر۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ مقدم ہے۔ کہ افراد فرق کتنے ہو سکتے ہیں؟ چار۔ پہلا کیا؟ اولیت کے اعتبار سے۔ اولیت کے اعتبار سے فرق ہوگا۔ کیا معنی اولیت؟ کہ کلی کا صدق بعض افراد پر أَوَّلًا ہو اور بعض پر ثَانِيًا ہو۔ کیوں، بعض پر أَوَّلًا کیوں ہو؟ کیونکہ وہ عِلَّة ہیں، اور باقی کیا ہیں؟ معلول ہیں۔ جیسے وجود۔ وجود کا ثبوت وَاجِبُ الْوُجُودِ کے لیے بھی، اور وجود کا ثبوت باقی ممکنات کے لیے بھی، لیکن وَاجِبُ الْوُجُودِ کے لیے وجود کا ثبوت أَوَّلًا ہے کیونکہ وہ عِلَّة ہے، اور ممکنات کے لیے وجود کا ثبوت ثَانِيًا ہے، کیونکہ وہ معلول ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور کبھی یہ فرق جو ہوتا ہے اولویت کے اعتبار سے ہوتا ہے۔ أَوْلَى ہونا، یعنی زیادہ مناسب ہے۔ یعنی بعض کے لیے کلی کا ثبوت زیادہ مناسب ہوتا ہے، دیگر کے مقابلے میں۔ یعنی کیا مطلب؟ یعنی بعض کے لیے کلی کا ثبوت ہوتا ہے بِالذَّاتِ، ان کی ذات ہی کلی کا تقاضا کرتی ہے۔ اور بعض میں کلی کا ثبوت ہوتا ہے بِالطَّبْعِ، طَبْعًا۔ پھر سنو، کیا بات ہوئی؟ اولویت، یعنی کلی کا ثبوت بعض افراد کے لیے بِالذَّاتِ ہوتا ہے دیگر افراد کے مقابلے میں جن کے لیے کلی کا ثبوت کیا ہوتا ہے؟ بِالطَّبْعِ۔ بِالذَّاتِ کا کیا معنی؟ یعنی اس کی ذات ہی اس کا تقاضا کرتی ہے، جیسے پھر وہی مثال، وجود۔ وجود وَاجِبُ الْوُجُودِ کے لیے بھی ہے اور وجود ممکنات کے لیے بھی ہے۔ لیکن وَاجِبُ الْوُجُودِ کی ذات ہی وجود کا تقاضا کرتی ہے۔ کس کا وجود ہونا چاہیے؟ کیوں کہ کیا نام ہے؟ وَاجِبُ الْوُجُودِ، جس کا وجود ضروری ہے۔ اس کی ذات ہی کیا تقاضا کر رہی ہے؟ اس کا کیا ہونا چاہیے؟ وجود ہونا چاہیے۔ کیونکہ اس کا ہونا ضروری ہے۔ اور باقیوں کے لیے بھی وجود کا ثبوت ہے لیکن طَبْعًا ہے، یعنی غیر کے واسطے سے ہے۔ یعنی وَاجِبُ الْوُجُودِ کے واسطے سے ہے۔ وَاجِبُ الْوُجُودِ ہے، تو غیر ممکنات کا بھی وجود ہے۔ وَاجِبُ الْوُجُودِ نہیں، تو غیر کا بھی وجود نہیں، تو ممکنات کا بھی وجود نہیں۔ تو اولویت میں کیا ہے؟ کلی کا ثبوت بعض افراد کے لیے بِالذَّاتِ ہو، یعنی ان کی ذات ہی تقاضا کر رہی ہے، تو ان کے لیے کلی کا صدق أَوْلَى ہے۔ بلحاظ دوسرے افراد کے جن کے لیے کلی کا ثبوت طَبْعًا ہے۔ طَبْعًا کیا معنی؟ یعنی غیر کے واسطے سے ہے۔ دوسری مثال میں نے دی تھی، اور بھی بات واضح ہو جاتی ہے۔ روشن، زمین بھی ہے، روشن، سورج بھی ہے۔ تو کیا روشن، اس کا صدق زمین اور سورج پر برابر ہے؟ نہیں، سورج کے لیے روشن ہے بِالذَّاتِ، یعنی خود اس کی ذات ہی روشن ہونے کا تقاضا کرتی ہے۔ سورج کہتے ہی اس کو ہیں جو چمکدار جسم ہوگا آسمان میں۔ سورج سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو اس کی ذات ہی روشن ہونے کا تقاضا کر رہی ہے، اور زمین؟ زمین روشن ہے بِالتَّبَعِ، یعنی غیر کے واسطے سے، یعنی کس کے واسطے سے؟ سورج کے واسطے سے بھئی۔ تو اب دیکھو روشن ایک کلی ہے، بلب بھی روشن، موم بتی بھی روشن، زمین بھی روشن، سورج بھی روشن۔ تو دیکھو یہ کلی ہے، کثیرین پہ صادق آ رہی ہے۔ لیکن کیا سب پر برابری کے ساتھ صادق آ رہی ہے؟ مثلاً زمین اور سورج کو دیکھ لو، برابری کے ساتھ صادق ہے؟ برابری کے ساتھ صادق نہیں، بلکہ کس کے لیے روشن، کس پر روشن کا صدق أَوْلَى ہے دوسرے کے مقابلے میں؟ سورج پر روشن کا صدق أَوْلَى ہے، کس کے مقابلے میں؟ زمین کے مقابلے میں۔ کیونکہ سورج کی ذات ہی کس کا تقاضا کر رہی ہے؟ روشن ہونے کا۔ اور زمین تقاضا کر رہی ہے روشن ہونے کا بِالتَّبَعِ، یعنی غیر کے واسطے سے کہ وہ روشن ہے غیر کے واسطے سے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو اولویت، یعنی کلی کا ثبوت بعض افراد کے لیے بِالذَّاتِ ہو، یعنی ان کی ذات ہی اس کا تقاضا کر رہی ہے، اور بعض کے لیے کلی کا ثبوت بِالتَّبَعِ ہو، یعنی غیر کے واسطے سے ہو۔ اور تیسرا کیا فرق تھا؟ اشدیت کے اعتبار سے۔ کہ کلی کا ظہور بلحاظ کیفیت بعض افراد میں زیادہ ہو اور بعض میں کم ہو۔ جیسے سفید، سفید چادر بھی ہے، اور سفید برف بھی ہے۔ کون سی چیز زیادہ سفید؟ برف زیادہ سفید ہے۔ تو یہاں دیکھو کیفیت کے اعتبار سے فرق ہے۔ اور بعض اوقات مقدار کے اعتبار سے فرق ہوتا ہے۔ اس کو ازیدیت کے اعتبار سے کہتے ہیں۔ جیسے مثلاً ایک طرف بھی ریت ہے، مثلاً ایک ٹرک ریت پڑی ہے، دوسری طرف دو ٹرک ریت پڑی ہوئی ہے، تو کون سی زیادہ؟ دو ٹرک والی۔ تو یہاں پر بھی دیکھو ریت ایک کلی ہے، اس پر بھی صادق آ رہی ہے، اس پر بھی صادق آ رہی ہے، لیکن اس کلی کا ظہور کس میں؟ وہ جو زیادہ مقدار ہے، اس میں کلی کا ظہور زیادہ ہے۔ تو یہ فرق کس اعتبار سے ہے؟ ازیدیت، اس کو کہتے ہیں۔ لیکن اس کا میں نے بتایا، کوئی اعتبار نہیں۔ پہلے تین فرق جو ہیں، ان کا تو اعتبار ہے۔ اولیت، اولویت، اور اشدیت۔ یہ تین فرق معتبر ہیں۔ تو کلی مشکک میں یہ تین فرق شمار ہوتے ہیں، باقی فرق شمار نہیں ہوتے۔ یہی بیان کر رہے ہیں، دیکھیے بھئی اب شرح کے اندر۔ قَوْلُهُ إِنْ تَفَاوَتَتْ أَيْ يَكُونُ صِدْقُ هَذَا الْمَعْنَى عَلَى بَعْضِ أَفْرَادِهِ مُقَدَّمًا، یعنی اس معنی کا صادق آنا بعض افراد پر یہ مقدم ہو۔ یعنی اس معنی کلی کا صادق آنا بعض افراد پر کیا ہو؟ مقدم ہو۔ عَلَى صِدْقِهِ عَلَى بَعْضٍ آخَرَ، بعض دوسروں پر صادق آنے کے مقابلے میں۔ جیسے وجود، وَاجِبُ الْوُجُودِ پر بھی صادق آ رہا ہے اور ممکنات پر بھی۔ لیکن وَاجِبُ الْوُجُودِ پر اس وجود کا صدق کیا ہے؟ مقدم ہے۔ کس کے مقابلے میں؟ ممکنات کے مقابلے میں۔ یہ معنی ہے کہ أَيْ يَكُونُ صِدْقُ هَذَا الْمَعْنَى یعنی اس معنی کا صادق آنا عَلَى بَعْضِ أَفْرَادِهِ مُقَدَّمًا بعض افراد پر یہ مقدم ہوتا ہے عَلَى صِدْقِهِ عَلَى بَعْضٍ آخَرَ بعض دوسروں پر صادق آنے کے مقابلے میں۔ بِالْعِلِّيَّةِ کس وجہ سے مقدم ہوتا ہے؟ علت ہونے کی بنا پر۔ کیونکہ وہ بعض جیسے مثلاً وَاجِبُ الْوُجُودِ وہ باقیوں کے لیے علت ہے۔ أَوْ يَكُونُ صِدْقُهُ عَلَى بَعْضٍ أَوْلَى وَأَنْسَبَ، یا اس کا صادق آنا بعض پر أَوْلَى اور انسب، یعنی زیادہ لائق ہوتا ہے۔ مِنْ صِدْقِهِ عَلَى بَعْضٍ آخَرَ بعض دوسروں پر صادق آنے سے۔ بھئی وہی دو قسمیں بیان کر رہے ہیں نا۔ کلی کا ثبوت، یعنی یوں کہو، کلی کا صدق، صادق آنا۔ یہ بعض افراد پر مقدم ہوتا ہے بعض کے مقابلے میں۔ یعنی بعض پر أَوَّلًا ہوگا اور بعض پر ثَانِيًا ہوگا۔ اور دوسری قسم بیان کر دی، یعنی کلی کا صادق آنا بعض افراد پر أَوْلَى اور انسب ہوگا، زیادہ مناسب ہوگا۔ یہ کس میں؟ اولویت کے اعتبار سے۔ وَغَرَضُهُ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ تو فرق افراد اس پر اب آگے اشکال، اعتراض ہوتا ہے، اس کا جواب ذکر کر رہے ہیں۔ اعتراض یہ کہ یہ فرق تو چار قسم کے ہیں۔ لیکن متن میں صرف دو ذکر ہیں۔ وَمُتَشَكِّكٌ، إِنْ تَفَاوَتَتْ بِأَوَّلِيَّةٍ أَوْ أَوْلَوِيَّةٍ، اگر اس کے افراد مختلف ہوں کس اعتبار سے؟ اولیت کے اعتبار سے یا اولویت کے اعتبار سے۔ تو فرق تو چار قسم کے ہیں، لیکن ماتن نے تو صرف کتنے ذکر کیے؟ دو ذکر کیے۔ تو جواب دے رہے ہیں کہ بھئی ماتن نے مثال ذکر کی ہے کہ فرق اس اس طرح ہو سکتے ہیں۔ سارے فرق ذکر کرنا ان کا مقصد نہیں۔ بس بتلانا تھا کہ مثال کے طور پر اولیت کے اعتبار سے بھی فرق ہو سکتا ہے اور اولویت کے اعتبار سے بھی فرق ہو سکتا ہے۔ یہ معنی ہے وَغَرَضُهُ مِنْ قَوْلِهِ اور مصنف کی غرض اس کے قول إِنْ تَفَاوَتَتْ بِأَوَّلِيَّةٍ أَوْ أَوْلَوِيَّةٍ اس قول سے مصنف کی غرض جو ہے، مَثَلًا وہ کیا ہے؟ مثال ہے۔ وہ صرف مثال ذکر کر رہے ہیں۔ فَإِنَّ التَّشْكِيكَ لَا يَنْحَصِرُ فِيهَا اس لیے کیونکہ تشکیک صرف اسی میں بند نہیں ہے۔ لَا يَنْحَصِرُ فِيهِمَا اس لیے کیونکہ تشکیک انہی دو قسموں میں بند نہیں ہے، بَلْ قَدْ يَكُونُ بِالزِّيَادَةِ وَالنُّقْصَانِ، بلکہ کبھی تشکیک ہوتی ہے زیادہ کم یا زیادہ ہونے کے ذریعے بھی۔ کم یا زیادہ، یہ کس میں ہوگا؟ ازیدیت میں۔ کس میں؟ ازیدیت میں۔ أَوْ بِالشِّدَّةِ وَالضَّعْفِ اور کبھی تشکیک ہوگی شدت اور ضعف کے ذریعے۔ یہ کس میں ہوگا؟ اشدیت کے، تو یہ بھی ہو سکتے ہیں، لیکن مصنف کا مقصد ساری قسمیں بیان کرنا نہیں تھا، بلکہ مصنف کا مقصد صرف کیا تھا؟ مثال سے، بس فرق کی ایک دو مثالیں ذکر کر دیں، ساری قسمیں ذکر کرنا ان کا مقصد نہیں تھا۔ قَوْلُهُ وَإِنْ كَثُرَ، مصنف کا قول جو ہے وَإِنْ كَثُرَ، أَيِ اللَّفْظُ إِنْ كَثُرَ مَعْنَاهُ الْمُسْتَعْمَلُ هُوَ فِيهِ، یعنی لفظ اگر اس کا معنی کثیر ہوں، کون سے معنی کثیر ہوں؟ الْمُسْتَعْمَلُ هُوَ فِيهِ، جس میں وہ لفظ کیا ہو رہا ہے؟ استعمال ہو رہا ہے۔ تو کہتے ہیں لفظ، اگر اس کا معنی، معنی مستعمل، وہ کثیر ہیں۔ فَلَا يَخْلُو تو پھر وہ خالی نہیں ہے۔ إِمَّا أَنْ يَكُونَ مَوْضُوعًا لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْ تِلْكَ الْمَعَانِي ابْتِدَاءً، یا تو وہ وضع ہوگا ان میں سے ہر معنی کے لیے ابتدا سے ہی بِوَضْعٍ عَلَى حِدَةٍ، علیحدہ وضع کے ساتھ وضع کیا جائے گا۔ بھئی دیکھیے نا، کیا بیان کیا؟ مفرد یا تو متحد المعنی ہوگا یا متکثر المعنی ہوگا۔ اگر متکثر المعنی ہے، پھر اس میں دو ہی احوال بنتے ہیں۔ یا تو جو معانی ایک سے معنی زیادہ ہیں متکثر المعنی، زیادہ ہیں۔ جب زیادہ ہیں، تو دو ہی صورتیں ہیں۔ یا ان ہر معنی کے لیے علیحدہ وضع ہوگا یا وضع نہیں ہوگا۔ یہی بیان کر رہے ہیں فَلَا يَخْلُو تو اس بات سے خالی نہیں ہے۔ ان دو باتوں سے خالی نہیں ہے۔ توجہ ہے؟ ادھر دیکھیے، فَلَا يَخْلُو وہ خالی نہیں ہے۔ یعنی وہاں دو ہی چیزیں ہیں، تیسری کوئی صورت نہیں۔ کون سی دو صورتیں؟ یا تو ہر معنی کے لیے وہ علیحدہ وضع ہوگا یا ہر معنی کے لیے علیحدہ وضع نہیں۔ یہ معنی ہے فَلَا يَخْلُو تو اس بات سے خالی نہیں ہے۔ ان دو باتوں سے کہ إِمَّا أَنْ يَكُونَ مَوْضُوعًا لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْ تِلْكَ الْمَعَانِي ابْتِدَاءً بِوَضْعٍ عَلَى حِدَةٍ، یا تو وہ وضع ہوگا ان میں سے ہر معنی کے لیے ابتدا سے ہی علیحدہ وضع کے ساتھ۔ أَوْ لَا يَكُونُ كَذَلِكَ یا ایسا نہیں ہوگا۔ یعنی یہی دو صورتیں ہیں۔ وَالْأَوَّلُ يُسَمَّى مُشْتَرَكًا، اور اول کو کیا کہتے ہیں؟ مشترک۔ جبکہ وہ ہر معنی کے لیے علیحدہ وضع ہو۔ كَالْعَيْنِ جیسے عین کا لفظ ہے لِلْبَاصِرَةِ، باصرہ دیکھنے والی، یعنی آنکھ مراد ہے۔ جیسے عین کا لفظ وضع ہے لِلْبَاصِرَةِ، آنکھ کے لیے بھی، وَالذَّهَبِ، اور سونے کے لیے بھی، سونا چاندی بھئی۔ سونے کے لیے بھی، وَالرُّكْبَةِ اور گھٹنے کے لیے بھی، وَالذَّاتِ، اور ذات کے لیے بھی۔ اور بھی بہت سے معانی اس کے آتے ہیں۔ وَعَلَى الثَّانِي اور دوسری صورت پر، کون سی دوسری صورت؟ کہ ہر معنی کے لیے علیحدہ وضع نہ ہو۔ تو فَلَا مَحَالَةَ، تو پھر یقینی طور پر أَنْ يَكُونَ اللَّفْظُ مَوْضُوعًا بِوَاحِدٍ مِنْ تِلْكَ الْمَعَانِي، لفظ وضع ہوگا ان معانی میں سے کسی ایک معنی کے لیے۔ یا، پیچھے بتایا نا، دو ہی صورتیں ہیں۔ یا لفظ کئی معانی کے لیے وضع ہوگا یا کئی کے لیے وضع نہیں ہوگا۔ جب کئی کے لیے وضع نہیں ہے، تو پھر ظاہر سی بات ہے کتنے کے لیے وضع ہے؟ ایک کے لیے وضع ہے۔ تو یقینی طور پر أَنْ يَكُونَ اللَّفْظُ مَوْضُوعًا بِوَاحِدٍ مِنْ تِلْكَ الْمَعَانِي لفظ جو ہے وہ وضع ہوگا ان معانی میں سے ایک کے لیے۔ إِذِ الْمُفْرَدُ قِسْمٌ مِنَ اللَّفْظِ الْمَوْضُوعِ، اس لیے کیونکہ مفرد جو ہے، وہ لفظ موضوع کی قسم ہے۔ کس کی قسم ہے؟ لفظ موضوع کی قسم ہے۔ لفظ موضوع کسے کہتے ہیں؟ جس کو کسی معنی کے لیے وضع کیا گیا ہو۔ جب مفرد لفظ موضوع ایک ہی معنی کے لیے وضع نہیں تو ظاہر سی بات ہے، پھر کس کے لیے وضع ہوگا؟ ایک ہی معنی کے لیے۔ یہ تو نہیں ہو سکتا کہ کسی بھی معنی کے لیے وضع نہ ہو، کیونکہ یہ تو لفظ موضوع ہے، اس کو تو وضع کیا گیا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے، کیونکہ مفرد جو ہے وہ لفظ موضوع کی قسم ہے، ثُمَّ إِنَّهُ إِنِ اسْتُعْمِلَ فِي مَعْنًى آخَرَ، پھر اگر وہ استعمال ہوتا ہے کسی دوسرے معنی میں، فَإِنِ اشْتَهَرَ فِي الثَّانِي، تو اگر وہ مشہور ہو گیا دوسرے معنی میں، وَتُرِكَ اسْتِعْمَالُهُ فِي الْمَعْنَى الْأَوَّلِ، اور پہلے معنی میں اس کے استعمال کو چھوڑ دیا گیا، بِحَيْثُ يَتَبَادَرُ مِنْهُ الثَّانِي، اس طور پر کہ اس لفظ سے دوسرا معنی ہی متبادر ہوتا ہے، ذہن میں جلدی آتا ہے، پہلا ذہن میں آتا ہی نہیں۔ دوسرا معنی ہی ذہن کی طرف سبقت کرتا ہے، کب؟ إِذَا أُطْلِقَ مُجَرَّدًا عَنِ الْقَرَائِنِ، جب اس کا اطلاق کیا جائے، اس حال میں کہ وہ خالی ہو قرینوں سے۔ قرینوں سے خالی بولا جائے، تو پھر دوسرا معنی ہی سمجھ میں آتا ہے۔ قرینے ہوں پھر تو ٹھیک ہے، پہلا معنی بھی سمجھ میں آ سکتا ہے۔ قرینے کوئی ساتھ ملے ہوں جو پہلے معنی کی طرف اشارہ کر رہے ہوں۔ ہاں، لیکن اکیلا بولا جائے، تو پھر وہ دوسرا معنی ہی ذہن کی طرف سبقت کرتا ہے۔ فَهَٰذَا يُسَمَّى مَنْقُولًا، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ منقول کہتے ہیں۔ وَإِنْ لَمْ يَشْتَهِرْ فِي الثَّانِي، اور اگر دوسرے معنی میں وہ مشہور نہیں ہوا، وَلَمْ يُهْجَرْ فِي الْأَوَّلِ، اور پہلے معنی کو بھی چھوڑا نہیں گیا، بَلْ يُسْتَعْمَلُ تَارَةً فِي الْأَوَّلِ، بلکہ وہ استعمال ہوتا ہے کبھی کبھار تو پہلے معنی میں، وَأُخْرَى فِي الثَّانِي، اور کبھی کبھار دوسرے معنی میں۔ فَإِنِ اسْتُعْمِلَ فِي الْأَوَّلِ، پس اگر اس کو استعمال کیا گیا پہلے معنی میں، أَيِ الْمَعْنَى الْمَوْضُوعِ لَهُ، یعنی معنی موضوع لہ میں استعمال کیا گیا، فَيُسَمَّى اللَّفْظُ حَقِيقَةً، تو اس لفظ کو کیا کہتے ہیں؟ حقیقت کہتے ہیں۔ وَإِنِ اسْتُعْمِلَ فِي الثَّانِي الَّذِي هُوَ غَيْرُ مَوْضُوعٍ لَهُ، اور اگر اس کو استعمال کیا جائے اس دوسرے معنی کے اندر جو کہ غیر موضوع لہ ہے، يُسَمَّى مَجَازًا، تو اس لفظ کو مجاز کہتے ہیں۔ ثُمَّ اعْلَمْ، پھر تو جان لے، أَنَّ الْمَنْقُولَ لَا بُدَّ لَهُ مِنْ نَاقِلٍ، کہ منقول کے لیے ضروری ہے کسی ناقل، یعنی نقل کرنے والے کا ہونا۔ مِنَ الْمَعْنَى الْأَوَّلِ الْمَنْقُولِ عَنْهُ، پہلے معنی سے، جو کہ منقول عنہ ہے۔ پہلے معنی سے جس سے نقل کیا گیا ہے۔ إِلَى الْمَعْنَى الثَّانِي الْمَنْقُولِ إِلَيْهِ، دوسرے معنی کی طرف جو کہ منقول الیہ ہے۔ بھئی منقول میں کیا ہوتا ہے؟ لفظ وضع تو تھا ایک معنی کے لیے، اور پھر اس کو نقل کر دیا گیا دوسرے معنی کی طرف۔ تو اس کے لیے کوئی نقل کرنے والا چاہیے۔ اور پھر وہ ناقل، اس نے نقل کیا، کس سے؟ پہلے معنی سے۔ تو پہلا معنی ہوا منقول عنہ۔ جس سے نقل کیا گیا۔ اور جس معنی کی طرف نقل کیا، وہ کون سا معنی ہوا؟ منقول الیہ۔ جس کی طرف نقل کیا گیا۔ یہی لفظ آ رہے ہیں عبارت میں، دیکھیے۔ کہتے ہیں ثُمَّ اعْلَمْ، پھر تو جان لے، أَنَّ الْمَنْقُولَ لَا بُدَّ لَهُ مِنْ نَاقِلٍ، کہ منقول کے لیے ضروری ہے کوئی نقل کرنے والا۔ مِنَ الْمَعْنَى الْأَوَّلِ پہلے معنی سے، وہ پہلا معنی کون سا ہے؟ الْمَنْقُولِ عَنْهُ، جو کہ منقول عنہ ہے۔ إِلَى الْمَعْنَى الثَّانِي الْمَنْقُولِ إِلَيْهِ، دوسرے معنی کی طرف جو کہ منقول الیہ ہے۔ فَهَٰذَا النَّاقِلُ، تو یہ نقل کرنے والا، إِمَّا أَهْلُ الشَّرْعِ، یا تو کون ہوں گے؟ اہل شریعت ہوں گے۔ أَوْ أَهْلُ الْعُرْفِ الْعَامِّ، یا عرف عام والے لوگ ہوں گے، یعنی عام لوگ ہوں گے۔ أَوْ أَهْلُ عُرْفٍ وَاصْطِلَاحٍ خَاصٍّ، یا خاص اصطلاح اور خاص عرف والے لوگ ہوں گے، كَانَّحْوِيِّ، جیسے کہ نحوی ہیں۔ مَثَلًا مثال کے طور پر، فَعَلَى الْأَوَّلِ يُسَمَّى مَنْقُولًا شَرْعِيًّا، تو پہلی صورت میں اس کو کیا کہیں گے؟ جب کہ نقل کرنے والے اہل شرع ہوں، تو اس کو يُسَمَّى مَنْقُولًا شَرْعِيًّا، اس کو منقول شرعی کہیں گے۔ وَعَلَى الثَّانِي مَنْقُولًا عُرْفِيًّا، اور دوسری صورت پر اس کو منقول عرفی کہیں گے، جب کہ نقل کرنے والے کون ہوں؟ عام لوگ ہوں۔ وَعَلَى الثَّالِثِ اصْطِلَاحِيًّا، اور تیسری صورت میں اس کو منقول اصطلاحی کہیں گے۔ وَإِلَى هَذَا أَشَارَ بِقَوْلِهِ، اور اسی کی طرف اشارہ کیا مصنف نے اپنے اس قول يُنْسَبُ إِلَى النَّاقِلِ کے ذریعے۔ متن میں کیا آیا تھا؟ يُنْسَبُ إِلَى النَّاقِلِ۔ منقول جو ہے، اس کی نسبت کی جاتی ہے نقل کرنے والے کی طرف۔ اگر نقل کرنے والے عام لوگ ہوں، تو منقول عرفی۔ اگر اہل شریعت ہوں، تو منقول شرعی۔ اور اگر کوئی خاص علم والے اور خاص جماعت والے ہوں، تو منقول اصطلاحی کہتے ہیں۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ بس یہ ایک چھوٹی سی بات بھی میں نے بیان کر دی تھی۔ حقیقت اور مجاز، یہ لفظ کی قسمیں ہیں کس اعتبار سے؟ استعمال کے اعتبار سے۔ اور یہاں لفظ استعمال ہو رہا ہے معنی موضوع لہ ہی میں یا حَقِيقَةً یا تَأْوِيلًا۔ دعوے کے ساتھ کہ بھئی مجاز میں بھی ایک دعویٰ ہوتا ہے کہ یہ اس کا معنی حقیقی ہے۔ لیکن وہ معنی حقیقی حقیقتاً نہیں ہوتا بلکہ تاویلاً ہوتا ہے۔ تو گویا حقیقت اور مجاز دونوں میں لفظ اپنے معنی موضوع لہ میں استعمال ہوتا ہے۔ تو جب حقیقت اور مجاز دونوں میں لفظ اپنے معنی موضوع لہ میں استعمال ہوا، تو حقیقت اور مجاز یہ تو کس کی قسمیں ہوئیں؟ معنی موضوع لہ میں استعمال ہونے کی وجہ سے تو یہ لفظ موضوع بن گیا۔ تو مفرد کی قسمیں ہو گئیں۔ تو یہاں اس کو مشترک کے اور منقول کے مقابلے میں ذکر کرنا درست نہیں۔ مشترک اور منقول میں لفظ کس میں استعمال ہوتا ہے؟ کئی معانی میں۔ مُتَكَثِّرُ الْمَعْنَى ہوتا ہے۔ تو حقیقت اور مجاز میں تو لفظ مُتَكَثِّرُ الْمَعْنَى نہیں ہوا۔ وہ تو معنی موضوع لہ میں استعمال ہو رہا ہے، ایک ہی معنی میں۔ یا حَقِيقَةً یا تَأْوِيلًا۔ تو یہ حقیقت اور مجاز کو یہاں ان کے مقابلے میں ذکر کرنا مناسب نہیں، کیونکہ یہ حقیقت اور مجاز کس کی قسمیں بنیں گی؟ متحد المعنی کی۔ کس کی قسمیں بنیں گی؟ متحد المعنی کی۔ تو ان کو مُتَكَثِّرُ الْمَعْنَى کے مقابلے میں ذکر کر دیا، یہ بات مناسب نہیں۔ حاصل کلام مختصراً پھر سن لیں۔ آج آپ نے پڑھا کہ مصنف نے فَمَعَ تَشَخُّصِهِ وَضْعًا، وَضْعًا کی قید لگائی۔ وَضْعًا کی قید کیوں لگائی؟ تاکہ اس سے اس ضمیر کو نکالا جا سکے جس سے اشارہ کیا جا رہا ہے ایسے مفہوم کلی کی طرف جس میں اشارہ داخل ہے۔ تو وہ وضع کے اعتبار سے جزی نہیں ہے بلکہ استعمال کے اعتبار سے جزی ہے۔ مصنف کی قید کیا تھی؟ وضع کے اعتبار سے جزی ہو۔ تو یہ نکل گیا۔ سمجھ میں آ گئی، چلیے بس بھئی, هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔