درس نمبر۔57 مواضع الفصل. يجب الفصل في خمسة مواضع: الأول: أن يكون بين الجملتين اتحاد تام بأن تكون الثانية بدلا من الأولى، نحو: أمدكم بما تعلمون أمدكم بأنعام وبنين. گزشتہ سبق میں فصل اور وصل کا باب ہم نے شروع کیا تھا، اور میں نے بتلایا تھا کہ یہ باب نہایت اہم باب ہے بلاغت کا۔ حتی کہ بعض علماء نے کیا لکھا کہ علم بلاغت کا سیکھنا یہ منحصر ہے فصل اور وصل پر، جس نے فصل اور وصل کو سیکھ لیا اس کو بلاغت کا پتہ چل گیا، جس نے اس باب کو نہیں جانا اس نے بلاغت کو نہیں جانا۔ تو یہ اتنا اہم باب ہے بھئی اتنا اہم۔ اور یہاں پر میں نے بتلایا تھا کہ وصل کا معنی ہے عطف کرنا، اور فصل کا معنی ہے جدا کرنا یعنی عطف نہ کرنا۔ اور یہاں پر صرف جملے کا جو جملے پر عطف کیا جائے گا یا عطف نہیں کیا جائے گا اس بارے میں یہ بحث کریں گے بھئی۔ اور تفصیل گزری تھی گزشتہ سبق کے اندر کہ ایک ہے عطف واو کے ساتھ، ایک ہے عطف دوسرے حروف کے ساتھ۔ دوسرے حروف کے ساتھ جو عطف ہے چونکہ اس میں کسی کسی قسم کا اشتباہ نہیں، لہٰذا اس سے وہ یہاں بحث نہیں کریں گے کیونکہ باقی جو حروف ہیں مثلاً فا، ثم، حتی وغیرہ، وہ ترتیب وغیرہ ترتیب کا فائدہ بھی دیتے ہیں۔ تو لہٰذا شرکت کے ساتھ ساتھ ترتیب کا بھی فائدہ دیں گے، جبکہ واو صرف شرکت کا فائدہ دیتا ہے، تو اس کے اندر اشتباہ ہے اور پھر بالخصوص جو ہے کہ جہاں ایک جملے کا محلِ اعراب بھی نہ ہو اور کوئی خاص حکم بھی نہ ہو تو پھر اس تو پھر اس بات کا پتہ چلانا کہ واو کو لایا جائے یا واو کو نہ لایا جائے، یہ بڑا مشکل کام ہے بھئی، بڑا مشکل کام۔ اور تفصیل میں نے بتلائی تھی اپ کو کہ دو جملوں میں سے پہلے جملے کے لیے کوئی محلِ اعراب ہوگا یا محلِ اعراب نہیں ہوگا۔ اگر پہلے جملے کا کوئی محلِ اعراب ہے، یعنی پہلا جملہ خبر بن رہا ہے یا پہلا جملہ جو ہے حال بن رہا ہے یا پہلا جملہ صفت وغیرہ بن رہا ہے اور دوسرے جملے کو بھی آپ اس حکم میں شریک کرنا چاہتے ہیں، تو پھر تو واو کے ساتھ عطف کریں گے اور اگر آپ شریک نہیں کرنا چاہتے تو پھر فصل کریں گے اور واو نہیں لائیں گے بھئی، صورت سمجھ میں آگئی۔ اور یہ بات تو یاد رکھنا ہمیشہ کہ واو کے ساتھ جب عطف کریں گے جب بھی کرنا ہے دونوں جملوں میں پوری مناسبت ہونی چاہیے، یعنی پہلا جملہ اگر کیا ہو؟ پہلا جملہ اگر خبریہ ہو تو دوسرا بھی کیا ہونا چاہیے؟ خبریہ۔ اور اگر پہلا جملہ انشائیہ ہو تو دوسرا جملہ بھی کیا ہونا چاہیے؟ انشائیہ ہونا چاہیے بھئی، دوسرا جملہ بھی انشائیہ ہونا چاہیے۔ تو پہلا جملہ اگر انشائیہ ہو تو دوسرا جملہ بھی کیا ہونا چاہیے؟ انشائیہ۔ اور اگر پہلا جملہ خبریہ ہو تو دوسرا جملہ بھی کیا ہونا چاہیے؟ خبریہ ہونا چاہیے۔ اور نیز جب واو کے ساتھ عطف کر رہے ہیں تو صرف دونوں کا خبریہ یا دونوں کا صرف انشائیہ ہونا کافی نہیں بلکہ دونوں جملوں کے مسند جو ہیں ان میں بھی مناسبت ہونی چاہیے اور دونوں جملوں کے جو مسند الیہ ہیں ان میں بھی کیا ہونی چاہیے؟ مناسبت ہونی چاہیے بھئی، مناسبت۔ ہاں، اگر دونوں جملے خبریہ ہیں یا دونوں جملے انشائیہ ہیں اور آپ واو کے علاوہ فا، ثم وغیرہ کو استعمال کرنا چاہتے ہیں، پھر آگے مزید مناسبت دیکھنے کی ضرورت ہی نہیں ہے بلکہ فا، ثم وغیرہ کو پھر آپ استعمال کر سکتے ہیں، کیونکہ وہ اپنے معنی کا فائدہ دیں گے، جبکہ واو تو صرف کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ اشتراک کا فائدہ دیتا ہے، تو واو کے لیے پھر پوری مناسبت ہونی چاہیے یعنی دونوں کے مسند میں بھی اور دونوں کے مسند الیہ میں بھی۔ جی تو بیان میں یہ کر رہا تھا کہ اگر پہلے جملے کے لیے کوئی محلِ اعراب ہو اور دوسرے جملے کو بھی آپ اس حکم میں شریک کرنا چاہتے ہیں تو پھر وصل کریں گے اور اگر آپ شریک نہیں کرنا چاہتے تو پھر فصل کریں گے۔ اور اگر پہلے جملے کا کوئی محلِ اعراب نہیں مگر اس کا کوئی خاص حکم ہے، تو پھر آپ دوسرے جملے کو اس خاص حکم میں شریک کرنا چاہیں گے یا شریک نہیں کرنا چاہیں گے؟ اگر شریک کرنا چاہتے ہیں تو وصل کریں گے، اگر شریک نہیں کرنا چاہتے تو فصل تو فصل کریں گے یعنی واو درمیان میں نہیں لائیں گے۔ اور پہلے جملے کا مثلاً کوئی خاص حکم ہے میں نے مثلاً مثال ذکر کی تھی کہ مثلاً پہلا جملہ وہ موصول کے لیے صلہ بن رہا ہے۔ اب صلہ جو ہوتا ہے میں نے بتلایا تھا اس کا کوئی محلِ اعراب نہیں ہوتا۔ اور دوسرا ایک اور جملہ بھی اب آ رہا ہے تو پہلے جملے کا خاص حکم کیا ہے؟ اس کا محلِ اعراب تو نہیں لیکن ایک خاص حکم ہے اس کا، اور وہ کیا؟ کہ وہ صلہ بن رہا ہے۔ تو اس حکم کے اندر آپ دوسرے کو شریک کرنا چاہیں گے دوسرے جملے کو یا شریک نہیں کرنا؟ اگر شریک کرنا چاہتے ہیں تو وصل کریں گے یعنی واو کے ساتھ عطف کریں گے، اور اگر آپ دوسرے جملے کو پہلے جملے کے ساتھ اس چیز میں شریک نہیں کرنا چاہتے یعنی اسے صلہ نہیں بنانا چاہتے تو پھر فصل کریں گے، وصل نہیں کریں گے بھئی، صورت سمجھ میں آگئی؟ یہ تو مثلاً ایک مثال تھی جس میں کیا تھا؟ پہلے جملے کے لیے کوئی خاص حکم تھا۔ یا اسی طرح مثلاً پہلے جملہ جو ہے وہ جزا ہے۔ پہلا جملہ کیا ہے؟ جزا ہے، اور جزا کے ساتھ شرط ذکر ہوتی ہے ہمیشہ۔ تو گویا پہلا جملہ مقید ہوا کس چیز کے ساتھ؟ شرط کے ساتھ۔ تو اب یہ اب دیکھیے جزا ہے مثلاً اور اس کا کوئی محلِ اعراب نہیں لیکن ایک خاص حکم ہے اس کا، کیا حکم ہے جزا کا؟ کہ وہ مقید ہے شرط کے ساتھ، کس کے ساتھ؟ شرط کے ساتھ مقید ہے۔ تو یہ اس کا خاص حکم ہے۔ اب دوسرے جملے کو بھی اب اس حکم کے اندر آپ اس کے ساتھ شریک کرنا چاہیں گے یا شریک نہیں کرنا چاہیں گے؟ اگر آپ شریک کرنا چاہتے ہیں تو وصل کریں گے اور واو درمیان میں لائیں گے، اور اگر آپ شریک نہیں کرنا چاہتے تو فصل کریں گے اور درمیان میں واو نہیں لائیں گے۔ جب آپ واو لائیں گے پہلا جملہ ہے جزا تو دوسرا بھی کیا بن جائے گا؟ جزا بن جائے گا اور وہ قید اس سے بھی متعلق ہو جائے گی، اور اگر آپ عطف نہیں کریں گے تو دوسرا جملہ تو پھر جزا نہیں بنے گا، پھر اس صورت میں وہ مقید بھی اس شرط کے ساتھ نہیں ہوگا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو یہ دوسری صورت تھی کہ اگر پہلے جملے کا کوئی خاص حکم ہے، آپ اس کے ساتھ دوسرے جملے کو شریک کرنا چاہیں گے یا نہیں کرنا چاہیں گے، اگر کرنا چاہیں گے تو عطف کریں گے، اگر نہیں کرنا چاہتے تو فصل کریں گے۔ اور تیسری صورت یہ ہے کہ پہلے جملے کا کوئی محلِ اعراب بھی نہیں ہے اور اس کا کوئی خاص حکم بھی نہیں ہے، یہ ہے محلِ اشتباہ بھئی۔ یہاں یہ فیصلہ کرنا بڑا مشکل کام ہے کہ دوسرے جملے کا پہلے کے ساتھ وصل کیا جائے یا فصل کیا جائے بھئی۔ اور میں نے تفصیل بتلائی تھی کہ اس صورت میں بھی بھئی دو جملوں کے اندر دو جملوں کے اندر پانچ قسم کا تعلق ہو سکتا ہے، کتنی قسم کا؟ پانچ قسم کا۔ یعنی دوسرے جملے کا پہلے جملے کے ساتھ وہ پانچ قسم کا تعلق جو ہے ان میں سے کوئی ایک چیز وہاں ضرور ہوگی: یا تو دونوں جملوں میں کمالِ اتصال ہوگا، یا دونوں جملوں میں کمالِ انقطاع ہوگا، یا دونوں جملوں میں شبہِ کمالِ اتصال ہوگا، یا دونوں جملوں کے درمیان شبہِ کمالِ انقطاع ہوگا، یا دونوں جملوں کے اندر نہ کمالِ اتصال ہے نہ کمالِ انقطاع ہے بلکہ ان کا بین بین ہے اور اس کو کیا کہیں گے؟ توسط بین الکمالین، دونوں کمالین یعنی کمالِ اتصال اور کمالِ انقطاع جو ہیں ان کا توسط، ان کا بیچوں بیچ بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو دو جملوں میں کتنی قسم کے تعلق ہو سکتے ہیں؟ پانچ: کمالِ اتصال، اور کمالِ انقطاع، اور شبہِ کمالِ اتصال، اور شبہِ کمالِ انقطاع، اور توسط بین الکمالین، تو یہ پانچ جگہیں ہیں۔ پھر ان پانچ میں سے جو پہلے چار ہیں یہ فصل کا مقام ہیں، اور جو توسط والا مقام ہے یہ وصل والا مقام ہے کیونکہ واو کچھ مناسبت چاہتا ہے تو کچھ مغایرت چاہتا ہے بھئی، کچھ مناسبت اور کچھ مغایرت۔ تو جہاں دو جملوں میں کمالِ اتصال ہو یعنی مناسبت ہی مناسبت ہے تو پھر واو نہیں لائیں گے کیونکہ واو تو مناسبت کے ساتھ ساتھ کچھ مغایرت بھی چاہتا ہے، کچھ مغایرت بھی چاہتا ہے، تو جہاں کمالِ اتصال ہو وہ فصل کا مقام ہے۔ تو جب کمالِ اتصال فصل کا مقام ہے تو شبہِ کمالِ اتصال یعنی جو اس کمالِ اتصال کے مثل ہے اس جیسا ہے، وہ بھی کون سا مقام ہوگا؟ فصل کا مقام ہوگا، کون سا مقام ہوگا؟ فصل کا مقام ہوگا۔ اور اگر دو جملوں میں کمالِ انقطاع ہے یعنی کوئی ان میں معلوم ہوا مناسبت ہے ہی نہیں، صرف مغایرت ہی مغایرت ہے، تو بھی یہ فصل کا مقام ہے کیونکہ واو جو ہے وہ کچھ مغایرت چاہتا ہے تو کچھ مناسبت چاہتا ہے، اور دو جملوں میں کمالِ انقطاع ہے یعنی مغایرت ہی مغایرت ہے، مناسبت کوئی ہے ہی نہیں تو پھر واو نہیں لائیں گے کیونکہ واو تو کچھ مناسبت بھی چاہتا ہے۔ تو جب کمالِ انقطاع میں فصل کریں گے تو جو اس جیسا ہوگا وہاں بھی کیا کریں گے؟ فصل، یعنی شبہِ کمالِ انقطاع میں بھی کیا کریں گے؟ فصل۔ اور جہاں توسط بین الکمالین ہو یعنی کچھ مغایرت ہے تو کچھ مناسبت ہے، یعنی کچھ انقطاع ہے تو کچھ اتصال ہے، تو یہ مقام ہے واو کا کہ کیونکہ کچھ مغایرت ہے اور کچھ مناسبت، تو یہ وصل کا مقام ہے، کون سا؟ وصل کا۔ تو یہ پانچ جگہیں ہوئیں بھئی، چار جگہیں فصل والی، ایک جگہ وصل والی۔ پھر اس میں میں نے بتلایا تھا جہاں کمالِ انقطاع ہے، وہاں پھر بعض اوقات دو جملے آتے ہیں ان میں ہے تو کمالِ انقطاع، بالکل مغایرت ہے، کوئی مناسبت نہیں، تو یہ مقام تو ہے فصل کا، لیکن اگر ہم فصل کرتے ہیں تو خلافِ مقصود کا وہم پڑتا ہے، جو ہم کہنا نہیں چاہتے مخالف وہ بات سمجھے گا، ہم کچھ اور کہنا چاہتے ہیں وہ سننے والا کچھ اور سمجھے، تو یہ لہٰذا اس موقع پر یہ مقام تو فصل کا تھا لیکن اب فصل نہیں کریں گے بلکہ کیا کریں گے؟ وصل کریں گے یعنی واو لے آئیں گے۔ تو دوسرے لفظوں میں یوں کہیے، کمالِ انقطاع دو قسم کا ہو گیا: ایک کمالِ انقطاع مع ایہام اور ایک کمالِ انقطاع بغیر ایہام۔ مع ایہام جس میں خلافِ مقصود کا وہم پڑتا ہے، بغیر ایہام جس میں خلافِ مقصود کا کوئی وہم نہیں پڑتا۔ تو جہاں کوئی وہم نہیں پڑتا یعنی کمالِ انقطاع بغیر ایہام ہو تو یہاں تو فصل ہی کریں گے، لیکن کمالِ انقطاع مع ایہام ہو تو وہاں پر کیا کریں گے؟ وصل کریں گے۔ تو وصل کریں، تو وصل کی دو جگہ جگہیں بن گئیں: ایک توسط بین الکمالین اور ایک کمالِ انقطاع مع ایہام۔ پھر توسط بین الکمالین جو ہے وہ پھر دو قسم پر ہے۔ توسط دو جملوں میں توسط بین الکمالین ہے تو مقام تو ہے وصل کا، واو لانا چاہیے، لیکن اگر آپ واو لاتے ہیں تو خلافِ مقصود کا وہم پڑتا ہے، تو لہٰذا اس موقع پر پھر وصل نہیں کریں گے بلکہ کیا کریں گے؟ فصل کر دیں گے بھئی۔ کیا کریں گے؟ فصل، اور واو نہیں لائیں گے۔ تو گویا توسط بین الکمالین بھی دو قسم کا ہوا: ایک توسط بین الکمالین بغیر ایہام اور ایک توسط بین الکمالین مع ایہام۔ تو جو توسط بین الکمالین بغیر ایہام ہے وہ ہے بغیر ایہام وہ ہے وصل والا مقام، اور جو توسط بین الکمالین مع ایہام ہے وہ کون سا مقام ہے؟ فصل والا، فصل۔ تو گویا کل سات جگہیں ہو گئیں۔ کتنی جگہیں؟ سات جگہیں: دو جگہیں وصل والی اور پانچ جگہیں فصل والی۔ دو جگہیں وصل والی وہ گزشتہ سبق میں گزری تھیں، ایک کیا تھا؟ ایک توسط بین الکمالین بغیر ایہام، اسی لیے انہوں نے کہا تھا: "ولم یکن مانع من العطف"، کہ عطف سے کوئی چیز مانع نہ ہو، یعنی خلافِ مقصود کا وہم وہاں پر نہ پڑتا ہو۔ تو توسط بین الکمالین بغیر ایہام کی صورت میں وصل کرتے ہیں۔ اور دوسری صورت ذکر ہوئی: کمالِ انقطاع مع ایہام، اس کے اندر بھی کیا کریں گے؟ وصل کریں گے، اور باقی پانچ صورتوں میں کیا کریں گے؟ فصل۔ تو وہ اب فصل کی جگہیں آج ہم پڑھیں گے بھئی۔ دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: "مواضع الفصل"، فصل کی جگہیں، "يجب الفصل في خمسة مواضع"، فصل کرنا واجب ہے پانچ جگہوں میں۔ پانچ جگہوں میں کیا واجب ہے؟ فصل کرنا واجب ہے اور ضروری ہے۔ "الأول: أن يكون بين الجملتين اتحاد تام"، پہلا مقام: وہ یہ کہ دو جملوں کے درمیان اتحادِ تام ہو، کامل اتحاد ہو، کیا ہو؟ کامل اتحاد ہو، اور میں نے اس کا نام کیا بتلایا تھا؟ کمالِ اتصال، کیا نام ہے؟ کمالِ اتصال۔ یہ خود بھی آگے چل کر بتائیں گے کہ اس کو کمالِ اتصال کہتے ہیں۔ تو کمالِ اتصال میں کیا ہوتا ہے؟ دو جملوں میں پورا اتحاد ہوتا ہے۔ تو یہ کہ "أن يكون بين الجملتين اتحاد تام"، پہلا مقام فصل کا وہ یہ کہ دو جملوں کے درمیان پورا اتحاد ہو، اتحادِ تام کا کیا معنی؟ پورا اتحاد، کامل اتحاد۔ "بأن تكون الثانية بدلا من الأولى"، بایں صورت کہ دوسرا جملہ جو ہے وہ بدل ہو پہلے جملہ سے۔ بان تکون، توجہ سے سننا بھئی، "بان تکون"، یہ با تصویریہ کہلاتی ہے، کیا کہلاتی ہے؟ با تصویریہ، جس کے ذریعے کسی چیز کی صورت بیان کی جاتی ہے۔ انہوں نے کیا کہا؟ پہلا مقام کیا ہے کہ دو جملوں کے درمیان کیا ہو؟ پورا اتحاد ہو، کامل اتحاد ہو۔ آگے بتلا رہے ہیں اس کی صورت بتلا رہے ہیں، بایں صورت کہ دوسرا پہلے جملے سے بدل ہو، دوسرا جملہ کیا ہو؟ پہلے جملے سے بدل ہو۔ بھئی کئی صورتیں بتائیں گے: "بان تکون الثانیۃ بدلا من الاولی"، بایں صورت کہ دوسرا جملہ بدل ہو کس سے؟ پہلے جملے سے۔ آگے ایک سطر بعد آ رہا ہے: "او بان تکون بیانا لہا"، یا بایں صورت کہ دوسرا جملہ پہلے کے لیے کیا ہو؟ بیان ہو۔ پھر ایک سطر بعد آ رہا ہے: "او بان تکون مؤکدۃ لہا"، یا بایں صورت کہ دوسرا جملہ پہلے کے لیے مؤکد ہو یعنی تاکید ہو، کیا ہو؟ تاکید۔ تو کئی قسم یہ اتحادِ تام کی صورتیں ہیں بھئی، صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو کہتے ہیں: پہلی صورت یہ کہ دو جملوں کے درمیان پورا اتحاد ہو "بان تکون الثانیۃ بدلا من الاولی"، بایں صورت کہ دوسرا جملہ جو ہے وہ بدل ہو پہلے جملہ سے، یعنی بدل کے درجہ میں ہو۔ اور آپ جانتے ہیں بدل اور مبدل منہ کے اندر پورا اتحاد ہوتا ہے، اسی لیے درمیان میں حرفِ عطف نہیں لاتے: "جاءنی زید اخوک"، "جاءنی زید اخوک"، میرے پاس زید آپ کا بھئی آیا۔ اب دیکھیے یہ "اخوک"، یہ زید سے کیا ہے؟ بدل واقع ہو رہا ہے، اور اسی لیے درمیان میں کوئی حرف وغیرہ ذکر نہیں ہوتا کیونکہ ان میں اتحاد ہوتا ہے، اور عطف تو مغایرت بتلاتا ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے غیر ہیں، حالانکہ یہ غیر تو نہیں۔ تو لہٰذا جب دو جملوں میں سے پہلا جملہ مبدل منہ کے درجے میں ہو اور دوسرا بدل کے درجے میں ہو، تو پھر دونوں جملوں میں اتحاد ہے، اتحادِ تام ہے یا یوں کہیں کمالِ اتصال ہے، تو پھر واو نہیں لائیں گے کیونکہ واو تو کس پر دلالت کرتا ہے؟ مغایرت پر، حالانکہ یہاں تو مغایرت نہیں ہے بلکہ اتحادِ تام ہے، مناسبت ہی مناسبت ہے۔ "نحو: أمدكم بما تعلمون، أمدكم بأنعام وبنين"، مثال کے طور پر: "امدکم بما تعلمون، امدکم بانعام و بنین"۔ حضرت ہود علیہ السلام اپنی قوم کو دعوت دیتے ہوئے فرماتے ہیں: "واتقوا الذی امدکم بما تعلمون"، کہ ڈرو تم اس ذات سے، تم لوگ ڈرو اس ذات سے جس نے امدکم جس نے تمہاری مدد کی بما تعلمون اس چیز کے ساتھ جو تم جانتے ہو۔ وہ اللہ اس اللہ سے ڈرو جس نے تمہاری مدد کی بما تعلمون ان چیزوں کے ساتھ جن کو تم جانتے ہو، جن کو تم جانتے ہو۔ اب جتنی نعمتیں انسان جانتا ہے وہ سب اس میں آگئیں، سمجھ میں آیا؟ سب اس میں آ گئیں۔ دیکھنے کی نعمت بھی، سونگھنے کی نعمت بھی، چکھنے کی نعمت بھی، کھانے کی نعمت بھی، صحت کی نعمت نعمت بھی، گھر کی نعمت بھی، ساتھیوں کی نعمت بھی، اسی طرح بیوی کی نعمت بھی، اور اولاد کی نعمت بھی، باغات کی نعمت بھی، اسی طرح کاروبار کی نعمت بھی، مال و دولت کی نعمت بھی، ساری نعمتیں اس کے اندر آگئیں جن جن کو انسان جانتا ہے۔ "امدکم بما تعلمون"، اللہ نے تمہاری اس ذات اس ذات جس نے تمہاری مدد کی بما تعلمون ان چیزوں کے ساتھ جو تم جانتے ہو، جانتے ہو۔ اور دیکھیے، اس میں حضرت ہود علیہ السلام اللہ کی نعمتوں پر ان لوگوں کو متنبہ فرما رہے ہیں کہ دیکھو اللہ نے تمہیں کیا کیا نعمتیں دی ہیں، اللہ نے تمہیں وہ سب نعمتیں دی ہیں جن کو تم جانتے ہو، جن کو تم جانتے ہو۔ تو یہاں اجمالاً جتنی نعمتیں جو وہ جانتے تھے سب آ گئیں، لیکن ان کے علم کے حوالے ہوگئیں جن کو تم جانتے ہو۔ نعمتوں کا ذکر نہیں آیا بلکہ صرف کیا کہا گیا؟ جن نعمتوں کو تم جانتے۔ تو اجمالاً ساری نعمتیں آ گئیں اس کے اندر جن جن کو وہ جانتے تھے، لیکن یہ مقام تفصیل کا تقاضا کرتا تھا کہ کچھ ان نعمتوں کو بیان کیا جائے بھئی۔ کچھ ان نعمتوں کو کیا کیا جائے؟ ان کو متنبہ کر رہے ہیں اللہ کی نعمتوں پر تاکہ وہ اللہ کا شکر بجا لائیں اور توحید کی طرف آ جائیں اور غلط راستوں کو چھوڑ دیں، گمراہی کو چھوڑ دیں، تو یہ مقام کیا تقاضا کرتا ہے؟ کہ اجمالی بات نہ کی جائے بلکہ کیا کیا جائے؟ تفصیلی کلام کیا جائے، چنانچہ اسی لیے آگے فوراً انہوں نے کیا کیا؟ اس کی کچھ نعمتوں کی جو بڑی بڑی نعمتیں تھیں ان کی تفصیل بیان فرمائی، اور آگے کیا فرماتے ہیں: "أمدكم بأنعام وبنين وجنات وعيون"، اللہ نے تمہاری مدد کی مویشیوں کے ساتھ، اور اولاد کے ساتھ، اور باغات کے ساتھ اور چشموں کے ساتھ بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو یہاں دیکھیے دو جملے ہیں: "أمدكم بما تعلمون"، یہ پہلا جملہ۔ اور "أمدكم بأنعام وبنين"، یہ کیا ہے؟ دوسرا جملہ۔ اور یہ دوسرا جملہ اسی پہلے جملے کے اجمال کی تفصیل کر رہا ہے، کیا کر رہا ہے؟ اجمال کی تفصیل کر رہا ہے۔ اور نیز دیکھیے بھئی، دوسرے جملے کو بدل قرار دیا اور یاد رکھیے یہ بدل البعض کے درجے میں ہے، کس درجے میں ہے؟ بدل البعض۔ بھئی جب کہا حضرت ہود علیہ السلام نے: "أمدكم بما تعلمون"، اللہ نے تمہاری مدد کی ان نعمتوں کے ساتھ جن کو تم جانتے ہو، آگے چار پانچ نعمتیں گنوا دیں، تو یہ چار پانچ وہ ساری ہیں جن کو وہ جانتے یا ان میں سے بعض ہیں؟ یہ ان میں سے بعض ہیں، تو یہ کیا ہے؟ بدل البعض ہے بھئی، بدل البعض۔ تو پہلا جملہ ہوا مبدل منہ کے درجے میں اور دوسرا جملہ کس کے درجے میں؟ بدل کے درجے میں، اور مبدل منہ اور بدل میں کامل اتحاد ہوتا ہے اسی لیے درمیان میں واو کو ذکر نہیں کیا گیا، "وامدکم" نہیں کہا گیا بلکہ کیا کہا گیا؟ "امدکم بانعام و بنین"۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو پہلے جملے میں کیا تھا؟ اجمال، دوسرے میں اسی میں کی کچھ تفصیل آگئی، تو ہے دونوں جملوں میں اتحاد۔ جو بات پہلے میں کہی جا رہی ہے وہی بات دوسرے جملے میں بھی کہی جا رہی ہے، ہاں پہلے جملے میں وہی بات اجمالاً ہے دوسرے میں کیا ہے؟ تفصیلاً ہے بھئی، تو یہاں اتحادِ تام ہے، صورت سمجھ میں آگئی۔ "أو بأن تكون بيانا لها"، یا اتحادِ تام بایں صورت ہوگا کہ دوسرا جملہ بیاناً لہا کہ دوسرا جملہ پہلے کے لیے کیا ہوگا؟ بیان ہوگا، نحو، مثال کے طور پر: "فوسوس إليه الشيطان قال يا آدم هل أدلك على شجرة الخلد"، تو وسوسہ ڈالا شیطان نے حضرت آدم علیہ السلام کو، قال، اور کہا: "یا آدم"، اے آدم، "هل أدلك على شجرة الخلد"، کیا میں تمہاری رہنمائی کروں ہمیشگی کے درخت پر؟ کس پر؟ ہمیشگی کے، ہمیشہ رہنے والے کے یعنی جو وہ درخت کہ جس جو اس کو کھا لے گا وہ ہمیشہ رہے گا بھئی، ہمیشگی کا درخت۔ صورت معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ تو "فوسوس إليه الشيطان"، تو شیطان نے وسوسہ ڈالا حضرت آدم علیہ السلام کو۔ بھئی یاد رکھیے، وسوسہ کے معنی ہوتے ہیں کسی کو ورغلانا۔ وسوسے کا کیا معنی؟ کسی کو ورغلانا، غلط چیز پر ابھارنا، تیار کرنا، یہ کیا ہے؟ یہ کہلاتا ہے وسوسہ۔ تو شیطان بھی حضرت آدم علیہ السلام کے پاس آیا اور جس درخت کے اور پھل کے کھانے سے اللہ نے منع فرمایا تھا، اس کے لیے کھانے کے لیے ان کو تیار کرنے لگا اور با قسمیں کھانے لگا کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں، میں تو حضرت آدم علیہ السلام جو ہے اس کی باتوں میں آ گئے، وہ تو سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ کوئی شخص اللہ کی قسم کھا کر بھی جھوٹ بول سکتا ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو اب اس جملے میں آیا: "فوسوس إليه الشيطان"، شیطان نے ان کو ورغلایا، شیطان نے ان کو وسوسہ ڈالا، بھئی کیا وسوسہ ڈالا؟ اس میں خفاء تھا، اگلے جملے نے اس کی تفصیل کر دی، اس کو وضاحت کر دی کہ یہ وسوسہ ڈالا، "قال"، کہنے لگا: "يا آدم هل أدلك على شجرة الخلد"، کیا میں تمہاری رہنمائی کروں ہمیشہ رہنے کے درخت پر بھئی؟ ہمیشہ رہنے کے درخت پر۔ تو یہ اگلا جملہ اسی کی اسی کو بیان کر رہا ہے، اسی وسوسے کو بیان کر رہا ہے کہ یہ وسوسہ ڈالا، تو یہاں پر بھی دیکھیے دونوں جملوں میں اتحادِ تام ہے۔ جو بات پہلے میں کہی گئی وہی بات دوسرے میں بھی ہے، البتہ پہلے کے اندر کچھ خفاء تھا دوسرے میں کیا آ گئی اس کی؟ وضاحت آ گئی، تو یہ دوسرا جملہ پہلے کے لیے بیان کے درجے میں ہے، کس درجے میں ہے؟ بیان کے درجے میں۔ تو پہلا جملہ ہوا مبین اور دوسرا کیا ہوا اس کے لیے؟ بیان، اور مبین اور بیان کے درمیان کامل اتحاد ہوتا ہے، تو لہٰذا یہاں فصل کیا جائے گا، واو نہیں لائیں گے۔ فصل کیوں کریں گے؟ کیونکہ اگر واو لائیں گے تو واو تو مناسبت کے ساتھ ساتھ کچھ مغایرت پر بھی دلالت کرتا ہے، اور یہاں تو مغایرت ہے ہی نہیں، جو بات پہلے جملے میں ہے وہی بات دوسرے جملے میں، ہاں صرف پہلے جملے میں کچھ خفاء ہے دوسرے میں کیا ہے کچھ تفصیل ہے اس کی، بیان ہے اس کا، اس کی وضاحت ہے۔ تو یہاں پر پہلا جملہ کیا ہے؟ "فوسوس إليه الشيطان"، یہ ہے پہلا جملہ۔ "قال يا آدم"، یہ آگے تک آخر تک یہ کیا ہے؟ دوسرا جملہ۔ تو قال سے پہلے دیکھو واو نہیں لایا گیا، "وقال" نہیں کہا گیا کیونکہ یہ یہ جملہ کیا بن رہا ہے؟ بیان ہے پہلے جملے کے لیے۔ بات سب کو سمجھ میں آگئی؟ "أو بأن تكون مؤكدة لها"، یا بایں صورت کہ دوسرا جملہ مؤکد ہو، تاکید پیدا کرنے والا ہو پہلے جملے میں۔ تو پہلا جملہ مؤکد، دوسرا کیا ہوا؟ تاکید۔ نحو، مثال کے طور پر: "فمهل الكافرين أمهلهم رويدا"، "فمهل الكافرين أمهلهم رويدا"، تو یہاں دو جملے آئے: "مهل الكافرين"، فمهل الكافرين، ایک یہ جملہ۔ "أمهلهم رويدا"، یہ دوسرا جملہ ہے۔ اور درمیان میں واو کو ذکر نہیں کیا گیا، امھلھم سے پہلے واو ہے؟ واو کو ذکر نہیں کیا گیا، کیوں؟ اس لیے کیونکہ یہ دوسرا جملہ پہلے جملے کے لیے تاکید ہے، کیا ہے؟ تاکید ہے۔ "جاءني زيد زيد"، یہ زیدِ ثانی جو آیا، "جاءني زيد زيد"، یہ زیدِ ثانی کو کیا کہتے ہیں؟ پہلے لفظ کے لیے تاکید کہتے ہیں، کیوں؟ اس کیونکہ اس کا کوئی اور الگ معنی نہیں، وہی معنی جو زید کا تھا اسی معنی کو دوسرا لفظِ زید بھی کیا کر رہا ہے؟ پکا کر رہا ہے، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ تاکید۔ تو تاکید میں مؤکد اور تاکید کا معنی ایک ہی ہوتا ہے، مؤکد جو معنی ادا کرتا ہے تاکید اسی معنی کو آ کر پختہ کر دیتا ہے، مضبوط کر دیتا ہے۔ تو یہاں پر بھی: "فمهل الكافرين"، کہ آپ ان کفار کو مہلت دے دیجیے، "أمهلهم رويدا"، ان کو تھوڑی سی مہلت دے دیجیے۔ تو پہلے میں بھی کیا کہا گیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے، اللہ کیا فرما رہے ہیں؟ کہ آپ ان کفار کو تھوڑی سی مہلت دے دیجیے۔ دوسرے میں بھی یہی ہے: "أمهلهم"، ان کو تھوڑی سی مہلت دے دیجیے بھئی۔ تو پہلے میں بھی ہے ان کو مہلت دے دیجیے، دوسرے جملے میں بھی کیا ہے؟ آپ ان کو مہلت دے دیجیے بھئی، مہلت دے دیجیے۔ تو لہٰذا دوسرا جملہ پہلے کے لیے تاکید ہوا، اسی معنی کو ادا کر رہا ہے کوئی نیا معنی نہیں، اور دوسرا لفظ اسی معنی کو ادا کرے اسے کیا کہتے تھے؟ تاکید، تو یہ جملہ بھی کس درجے میں ہوا؟ تاکید کے درجے میں ہوا بھئی، صورت سمجھ میں آگئی۔ تو اسی لیے یہاں "أمهلهم رويدا" کہا گیا، اس سے پہلے واو نہیں ذکر کیا گیا بھئی۔ "ويقال في هذا الموضع"، اور کہا جاتا ہے اس مقام کے اندر کہ: "إن بين الجملتين كمال الاتصال"، کہ دونوں جملوں کے درمیان کمالِ اتصال ہے۔ جب دوسرا جملہ پہلے کے لیے بدل ہو یا بدل کے درجے میں یعنی، یا دوسرا جملہ پہلے کے لیے بیان ہو، یا دوسرا جملہ پہلے کے لیے تاکید ہو، تو اس یہ اس کو کیا کہتے ہیں؟ کمالِ اتصال۔ اور جو کمالِ اتصال ہو وہاں کیا کیا جاتا ہے؟ فصل کیا جاتا ہے، کیونکہ اگر واو لائیں گے واو تو کس چیز پر دلالت کرتا ہے؟ کچھ اتصال پر تو کچھ مغایرت پر، اور یہاں تو مغایرت ہے ہی نہیں، اتحاد ہی اتحاد ہے، تو لہٰذا اس مقام پر وصل نہیں کریں گے بلکہ کیا کریں گے؟ فصل کریں گے، اور قرآن میں بھی آپ دیکھ رہے ہیں ان سب جگہوں میں کیا کیا گیا ہے؟ فصل کیا گیا ہے۔ تو دیکھو اس اتحادِ تام کی کتنی صورتیں بیان ہوئیں؟ تین صورتیں: بأن تكون الثانية بدلا من الأولى، دوسری صورت: بأن تكون بيانا لها، اور تیسرا: بأن تكون مؤكدة لها بھئی۔ یہ تھا پہلا مقام، یہ ساری تفصیل کس کی چل رہی تھی؟ جب دو جملوں میں کمالِ اتصال ہو۔ یہ پہلا مقام تھا، اب دوسرا مقام آ رہا ہے: "الثاني: أن يكون بين الجملتين تباين تام"، دوسرا مقام یہ کہ دو جملوں کے درمیان تباینِ تام ہو، پوری مخالفت ہو، کیا ہو؟ پوری مخالفت، پوری مکمل یعنی کامل مخالفت، کامل مغایرت ہو بھئی، کامل مغایرت ہو۔ آگے اس کی صورت بتلا رہے ہیں، کامل مغایرت کی کیا صورت ہے؟ کہتے ہیں: "بأن يختلفا خبرا وإنشاء"، بایں صورت کہ دونوں جملے مختلف ہیں خبراً و انشاءً، خبر اور انشا ہونے کے اعتبار سے۔ یعنی پہلا خبریہ ہے تو دوسرا کیا ہے؟ انشائیہ۔ یا پہلا انشائیہ ہے تو دوسرا کیا ہے؟ خبریہ۔ "كقوله"، جیسے ایک شاعر کا قول ہے: "وقال رائدهم أرسوا نزاولها ... فحذف كل امرئ يجري بمقدار" "وقال رائدهم"، اور کہا ان کے رائد۔ یاد رکھیے، رائد وہ شخص ہے جو قافلے سے جس کو آگے بھیجا جاتا ہے، قافلے یا لشکر سے آگے بھیجتے ہیں، اور وہ آگے جا کر کوئی مناسب جگہ دیکھتا ہے جہاں پھر قافلہ پڑاؤ ڈال سکے یا وہ لشکر کیا کرے؟ پڑاؤ ڈال سکے۔ وجہ اس کی یہ کہ وہ جا کر پہلے ہی دیکھے گا کہ کس مقام پر سبزہ وغیرہ ہے، کس مقام پر پانی وغیرہ ہے، کون سی جگہ رہنے کے لیے مناسب ہے، کیونکہ پورا قافلہ آ رہا ہے، ایک دو آدمی تو ہیں نہیں، تو اس قافلے کے لیے سب کے لیے پانی کی بھی ضرورت ہوگی، ان سب کے جانوروں کے لیے چارے وغیرہ کی بھی ضرورت ہوگی، تو لہٰذا جو آدمی وہ شخص جس کو آگے بھیج دیا جاتا ہے اور قافلے وغیرہ کے لیے وہ مناسب جگہ کو دیکھتا ہے، اس کو رائد کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ رائدٌ بھئی، رائد۔ لیکن یہاں جو رائد آیا اس سے مراد یہ وہ شخص نہیں ہے بلکہ مراد اس سے قوم کا بہادر آدمی ہے، کیونکہ بہادر آدمی بھی جو ہوتا ہے قوم کا وہ قوم کے معاملات میں آگے آگے ہوتا ہے بھئی، جنگ وغیرہ یا کوئی اس طرح کی بات ہو اس میں وہ آگے ہے۔ تو یہاں رائد سے مراد وہ بہادر آدمی ہے قوم کا بہادر۔ "وقال رائدهم"، اور ان کے بہادر شخص نے کہا، "أرسوا"، ٹھہر جاؤ۔ ارسیٰ یرسی کے معنی ہوتے ہیں کشتی یا جہاز وغیرہ کا لنگر ڈال دینا، یعنی سمندری جہاز یا کشتی وغیرہ اس لنگر ڈالنا، تو یعنی رک جانا کنارے پر بھئی۔ تو یہ ارسوا، ارسیٰ یرسی کا کیا معنی ہوگا یہاں پھر؟ ٹھہر جاؤ یعنی پڑاؤ ڈال لو، کیا کر لو؟ پڑاؤ ڈال لو۔ تو یہ امر کا صیغہ ہے۔ "نزاولها"، زاَولَ یُزاَوِلُ کے معنی ہیں علاج کرنا، اور ہا ضمیر راجع ہے جنگ کو، کس کو راجع ہے؟ جنگ کو جس کا ذکر پچھلے اشعار میں ہے۔ تو "وقال رائدهم"، اور کہا ان کے بہادر نے، یا یوں کہیں ان کے سردار نے کہا، "وقال رائدهم"، ان کے سردار نے کہا، "أرسوا"، کہ پڑاؤ ڈال لو، ٹھہر جاؤ، "نزاولها"، ہم اس جنگ سے اس جنگ کا علاج کر لیتے ہیں، یعنی اس جنگ سے نمٹ لیتے ہیں، کیا کر لیتے ہیں؟ ہاں تو ہم اس جنگ کو نبٹا لیتے ہیں، یا یوں کہو ہم اس جنگ کو سرانجام دے لیتے ہیں، ہم اس جنگ کو سرانجام دے لیتے ہیں۔ "فحتف كل امرئ يجري بمقدار"، فحتفٌ کے اندر فا تعلیلیہ ہے، فا تعلیلیہ آپ پڑھ چکے ہوں گے نور الانوار کے اندر بھئی کہ بعض اوقات فا کے ذریعے کسی چیز کی علت بیان کی جاتی ہے، کیا کیا جاتا ہے؟ علت۔ تو یہاں پر بھی یہ فا آگے علت بیان کر رہی ہے، تو یہاں ترجمہ کریں گے فا کا: اس وجہ سے، یا ترجمہ کریں گے: کیونکہ۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ کیونکہ آگے علت بیان ہو رہی ہے نا، اس وجہ سے کہ۔ حتف، حتفٌ کہتے ہیں موت کو، موت کو۔ کل، کلِ امرئٍ، امرؤٌ آدمی، شخص۔ اور یجری، جاری ہوتی ہے۔ بمقدار، مقدار یاد رکھیے یہاں تقدیر کے معنی میں ہے، ایک تو مقدار وہ ہے جو آپ ناپ تول وغیرہ میں جو پیمائش وغیرہ ہوتی ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ مقدار، لیکن وہ مقدار یہاں نہیں مراد بلکہ یہ مقدار تقدیر کے معنی میں ہے، اس کا بھی وہی مادہ ہے نا قدرٌ، قدرٌ، تو یہ تقدیر کے معنی میں ہے۔ "فحتف كل امرئ يجري بمقدار"، کیونکہ موت ہر شخص کی جاری ہوتی ہے تقدیر سے، کیونکہ ہر شخص کی موت تقدیر سے آتی ہے، یعنی اگر اللہ نے تقدیر میں موت لکھی ہوگی تو موت آئے گی، اگر اللہ نے تقدیر میں موت نہیں لکھی تو جنگ وغیرہ سے بھی کچھ نہیں ہوگا، انسان پھر بھی بچ جائے گا، زندہ رہے گا۔ معنی سمجھ میں آیا؟ تو دوبارہ دیکھیے ترجمہ: "وقال رائدهم أرسوا نزاولها ... فحتف كل امرئ يجري بمقدار"، اور کہا ان کے سردار نے کہ ٹھہر جاؤ، پڑاؤ ڈال لو، نزاولہا ہم اس جنگ سے ہم اس جنگ کو نبٹا لیتے ہیں، ہم اس جنگ کو سرانجام دے لیتے ہیں، کیونکہ ہر شخص کی موت جو ہے وہ تقدیر سے جاری ہوتی ہے، تقدیر سے آتی ہے، اگر تقدیر میں موت ہوگی تو آئے گی ورنہ نہیں آئے گی۔ تو یہ ان کے سردار نے کہا۔ مقامِ استشہاد ہے یہاں: "أرسوا نزاولها"۔ ارسوا پہلا جملہ، نزاولہا دوسرا جملہ۔ اور ارسوا امر ہے اور امر کیا ہوتا ہے؟ انشا، اور نزاولہا یہ دوسرا جملہ ہے، فعل مضارع ہے تو یہ جملہ خبریہ ہوا۔ پہلے میں حکم ہے: ٹھہر جاؤ، اور دوسرے میں ہے: نزاولہا، ہم کیا کر لیتے ہیں؟ اس جنگ کو نبٹا لیتے ہیں، تو اس میں خبر دی جا رہی ہے، اس میں حکم نہیں ہے۔ تو یہ پہلا جملہ ہوا انشائیہ، دوسرا جملہ ہوا خبریہ، اور جملہ خبریہ اور انشائیہ دونوں بالکل الگ الگ قسمیں ہیں، تو ان میں پورا کامل انقطاع ہے، پوری مخالفت ہے، تو لہٰذا یہ کون سا مقام ہوگا؟ فصل کا، تو فصل ہونا چاہیے، واو کو ذکر نہیں ہونا چاہیے اور شاعر نے بھی واو کو ذکر نہیں کیا بھئی۔ حالانکہ یہ اسی قال کا مقولہ ہے۔ ارسوا اس نے کیا کہا: ٹھہر جاؤ، ونزاولہا بظاہر کوئی عام آدمی ہے جس کو بلاغت کے قواعد نہیں پتہ وہ تو کیا کہے گا؟ یہ بھی قال کا یہ بھی مقولہ، اگلا نزاولہا بھی یہ بھی کیا ہے؟ مقولہ ہے، اس کو تو یہ تو ایک ہی چیز ہے، دونوں مقولے ہیں تو تعلق تو ان میں ہے، لیکن بلاغت میں کے اعتبار سے آپ دیکھیں بھئی کتنی گہری بات، بے شک مقولہ ہے کچھ بھی ہے لیکن پہلا جملہ کیا ہے؟ انشائیہ، دوسرا کیا ہے؟ خبریہ، اور خبر اور انشا بالکل ایک دوسرے کے مخالف ہیں تو ان میں کوئی مناسبت نہیں، اور واو تو کچھ نہ کچھ مناسبت بھی چاہتا ہے اور یہاں تو مخالفت ہی مخالفت ہے، تو لہٰذا واو نہیں لائیں گے۔ "أو بأن لا يكون بينهما مناسبة في المعنى"، دوسری صورت بھئی، بایں صورت، پہلی کیا تھا؟ تباینِ تام کہ دو جملوں کے درمیان کامل تباین ہو، اس کی ایک صورت بیان کر دی کہ کیا دونوں جملوں میں سے اپس میں مخالف ہوں، ایک خبر ہے تو دوسرا انشا ہے۔ اب دوسری صورت اسی تباینِ تام کی بتلا رہے ہیں: "او بان لا یکون بینہما مناسبۃ فی المعنی"، یا بایں صورت کہ ان دونوں جملوں کے درمیان کوئی مناسبت نہ ہو فی المعنی کس کے اندر؟ معنی کے اندر۔ بھئی دیکھیے، آپ کے پاس دو جملے ہیں اور دونوں جملے خبریہ ہیں، یا دونوں انشائیہ ہیں، لیکن واو کے ساتھ جب عطف کرنا ہے تو صرف خبر یا انشا ہونا کافی نہیں دونوں جملوں میں، بلکہ مزید کیا دیکھنا پڑے گا؟ مناسبت۔ کیا مناسبت؟ کہ پہلے جملے کا مسند اور دوسرے جملے کا مسند ان میں بھی کیا ہو؟ مناسبت، اور پہلے جملے کے مسند الیہ اور دوسرے جملے کے مسند الیہ میں بھی کیا ہو؟ مناسبت۔ اگر مناسبت ان میں ہوگی تو پھر کیا کریں گے؟ عطف کریں گے واو کے ساتھ ورنہ عطف نہیں کریں گے۔ "كقولك: علي كاتب، الحمام طائر"، جیسے کہ آپ کا یہ قول: "علي كاتب"، علی کاتب ہے، لکھنے والا ہے۔ "الحمام طائر"، کبوتر اڑنے والا ہے یعنی کبوتر پرندہ ہے۔ اب دیکھیے، دونوں جملے: "علي كاتب"، یہ بھی جملہ خبریہ، "الحمام طائر"، یہ بھی کیا ہے؟ جملہ خبریہ، لیکن واو کو ذکر نہیں کیا گیا، فصل کیا گیا، کیوں فصل کیا گیا؟ کیونکہ ان کے معنی میں کوئی مناسبت نہیں ہے۔ پہلے جملے کا مسند الیہ ہے علی، دوسرے جملے کا مسند الیہ ہے الحمام، کبوتر، اور علی اور کبوتر اس میں کوئی مناسبت نہیں ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو علی پہلے جملے کا مسند الیہ اور کبوتر دوسرے جملے کا مسند الیہ۔ اور پہلے جملے کا مسند ہے کاتبٌ، اور دوسرے جملے کا مسند ہے طائرٌ، تو لکھنے والا اور دوسرا ہوا اڑنے والا، دونوں کے درمیان کوئی مناسبت نہیں۔ تو یہاں پر جب دونوں جملوں میں پوری مخالفت ہے، کوئی مناسبت نہیں، تو پھر کیا کیا جائے گا؟ جب دونوں جملوں میں پوری مخالفت ہے، تو کیا کیا جائے گا؟ فصل کیا جائے گا، کیونکہ اگر آپ وصل کرنا چاہتے ہیں، واو لانا چاہتے ہیں تو واو تو مخالفت کے ساتھ ساتھ کچھ مناسبت بھی چاہتا ہے، اور یہاں تو کوئی مناسبت ہے ہی نہیں بلکہ صرف کیا ہے؟ مخالفت ہی مخالفت ہے یعنی مغایرت ہی مغایرت ہے۔ دیکھیے یہی بات آگے بیان کریں گے: "فإنه لا مناسبة في المعنى بين كتابة علي وطيران الحمام"، اس لیے کہ کوئی مناسبت نہیں ہے معنی کے اندر، کون سے معنی میں؟ "بين كتابة علي"، علی کی کتابت، علی کے لکھنے میں، "وطيران الحمام"، طیران، یا پر بھی فتحہ پڑھنا بھئی، "وطيران الحمام"، اور کبوتر کے اڑنے میں۔ اس لیے کیونکہ کوئی مناسبت نہیں ہے کتابتِ علی اور کبوتر کے اڑنے کے درمیان بھئی۔ "ويقال في هذا الموضع: إن بين الجملتين كمال الانقطاع"، اور کہا جاتا ہے اس مقام میں کہ: "إن بين الجملتين كمال الانقطاع"، کہ دو جملوں کے درمیان کیا ہے؟ کمالِ انقطاع ہے۔ تو کمالِ انقطاع کی دو صورتیں ذکر کر دیں: پہلی صورت کیا؟ کہ دونوں جملے مختلف ہوں خبر اور انشا ہونے کے اعتبار سے، اور دوسری صورت کمالِ انقطاع کی کیا ہے؟ کہ دونوں جملوں کے درمیان معنی میں کوئی مناسبت نہ ہو بھئی، دو صورتیں ذکر کر دیں۔ آگے میری کتاب میں ہے: "كما يقال في الموضع الثاني من الوصل، والعطف هناك لدفع الإيهام"۔ جی، یاد رکھیے یہ انہوں نے کتاب کا حصہ بنا دیا، کتاب کا حصہ، حالانکہ یہ حاشیہ ہے، حاشیہ۔ "كما يقال في الموضع الثاني من الوصل، والعطف هناك لدفع الإيهام"، یاد رکھیے یہ حاشیہ ہے حاشیہ، سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ حاشیہ ہے تو یہ کتاب کے اندر انہوں نے داخل کر دیا حالانکہ یہ حاشیہ ہے۔ ہاں، بعض کتابوں میں ہاں دیکھیے، بعض کتابوں میں آپ کی بھی بعض کتابوں میں یہ حاشیے ہی کی صورت میں انہوں نے دیا ہوا ہے۔ یہ عبارت ملی ہے بھئی؟ بھئی جن کو کتاب میں نہیں ملی اس کا مطلب ہے ان کے حاشیے میں الگ دی ہوگی۔ جن کی کتاب میں ہے تو یہ ہونا حاشیے میں چاہیے اس کو بھئی، سمجھ میں آیا؟ اور یہ انہی مصنفین نے اس کا اضافہ کیا ہے، کس نے کیا ہے؟ انہی مصنفین نے اس کا اضافہ کیا۔ ایک کتاب تیار کر دی جاتی ہے بعض اوقات اور پھر کوئی چیز اس میں رہ جاتی ہے تو بعض اوقات مصنف کیا کرتا ہے؟ اسی کے حاشیے پر اس کو درج کر دیتا ہے، اور اس کو منہیات کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ منہیا، منہیا۔ یہ حاشیہ اس کو منہیا کہتے ہیں، یہ "منہُ" سے ہے، منہُ۔ منہُ، یعنی اسی کی جانب سے ہے، جس کی یہ کتاب ہے یہ بھی اسی منہُ، یہ اسی کی جانب سے ہے، تو اور پھر اسی کے ساتھ یا مشدد اور تا ملا لی جاتی ہے، منہیۃ کہتے ہیں، تو یہ منہیا ہے یاد رکھیے، منہیا بھئی۔ دکھائیے کتاب بھئی۔ ہاں دیکھا بھئی؟ یہ دیکھو، یہ جو آپ کی کتاب میں یہ جو عبارت دی ہوئی ہے: "كما يقال في الموضع الثاني من الوصل، والعطف هناك لدفع الإيهام"، یہ جن کتابوں میں حاشیے میں دیا ہوا ہے، اسی کے آگے منہُ دیکھو دیا ہوا ہے یہ، منہُ، کہ اسی مصنف کی طرف سے ہے، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ منہیا کہتے ہیں، منہیا۔ تو اس تو یہاں کہا جاتا ہے کہ ان دونوں جملوں کے درمیان کمالِ انقطاع ہے۔ آگے حاشیے میں کیا تھا؟ "كما يقال في الموضع الثاني من الوصل"، جیسے کہ کہا جاتا ہے وہ جو دوسری جگہ تھی کس کے اندر؟ وصل کے اندر، بھئی وصل کے اندر دوسری جگہ کیا آئی تھی؟ پیچھے ذرا نکالیں بھئی۔ دوسری جگہ، پہلی جگہ وصل میں پہلی جگہ ذرا دیکھیں: توسط بین الکمالین بغیر ایہام۔ اور دوسری جگہ کیا تھی؟ "لا، وشَفاه الله"، "لا، وشَفاه الله"۔ لا تھا جملہ خبریہ، اور شفاہ اللہ جملہ انشائیہ، اور دونوں میں کیا ہے؟ کمالِ انقطاع ہے، لیکن فصل کریں تو خلافِ مقصود کا وہم پڑتا ہے کہ شاید بددعا دی جا رہی ہے، تو فصل نہیں کیا گیا بلکہ واو کو لایا گیا، تو اس کو کیا کہتے تھے؟ کمالِ انقطاع مع ایہام، کیا؟ مع ایہام۔ یہی بات بیان کر رہے ہیں کہ یہ جو ہم نے ابھی دوبارہ یہ اس سبق پر بھئی کہ یہ جو اوپر ہم نے دو جگہیں ذکر کر دیں اس قسم کے مقام پر کہتے ہیں: "إن بين الجملتين كمال الانقطاع"، کہ دو جملوں کے اندر کیا ہے؟ کمالِ انقطاع ہے، "كما يقال في الموضع الثاني من الوصل"، جیسے کہ کہا جاتا ہے وہ جو دوسری جگہ تھی کس کے اندر؟ وصل کے اندر، وہاں بھی کیا تھا؟ کمالِ انقطاع تھا، جیسے یہاں پر کیا ہے؟ کمالِ انقطاع ہے۔ "والعطف هناك لدفع الإيهام"، اور عطف وہاں پر ایہام کو دور کرنے کے لیے تھا، وہ بھی یہی فصل والا مقام تھا لیکن وہاں پر وصل کیا گیا، واو ذکر کیا گیا کس لیے؟ ایہام کو دور کرنے کے لیے، کیونکہ وہاں خلافِ مقصود کا وہم پڑتا تھا بھئی، صورت سمجھ میں آگئی؟ تو یہ بھی ہے کمالِ انقطاع، لیکن یہ ہوا کمالِ انقطاع بغیر ایہام، اور وہ کیا تھا؟ کمالِ انقطاع مع ایہام وہ جو وصل کے اندر ذکر ہوا، یہاں تک سب کو بات سمجھ میں آگئی اچھی طرح؟ تو خلاصہ کلام یہ ہوا کہ فصل کی انہوں نے بتلایا پانچ جگہیں ہیں، پانچ میں سے دو جگہیں آج ہم نے پڑھ لیں بھئی: پہلا: جب دو جملوں میں کیا ہو؟ کمالِ کمالِ اتصال ہو، اور اس کی تین صورتیں تھیں کہ دوسرا جملہ بدل ہو، یا بیان ہو، یا تاکید ہو۔ اور دوسرا مقام: جہاں دو جملوں میں کمالِ انقطاع ہو، کمالِ انقطاع، اور اس کی دو صورتیں بتلائیں کہ پہلا جملہ پہلا اور دوسرا جملہ خبر اور انشا ہونے میں مختلف ہوں، ایک خبریہ ہو تو دوسرا انشائیہ ہو بھئی، انشائیہ۔ اور اسی کی دوسری صورت یہ بتلائی کہ دونوں جملوں کے درمیان کوئی معنی کے اندر کوئی مناسبت موجود نہ ہو، تو یہ دونوں جملوں میں کمالِ انقطاع ہوگا اور پھر یہاں فصل کریں گے، کیا کریں گے؟ فصل۔ ہاں، اگر اسی میں خلافِ مقصود کا وہم پڑے تو پھر فصل نہیں کریں گے بلکہ کیا کر دیں گے؟ وصل کریں گے، اور اس کو ہم وصل کے اندر ذکر کر چکے بھئی۔ جی چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔