مولانا ہم نے انشاء کا باب شروع کیا تھا بھئی۔ علامہ تفتازانی نے آپ کو بتلایا کہ انشاء جو ہے دو معانی کے لیے آتا ہے بھئی۔ ایک اس کلام کا نام ہے جس کے نسبتِ کلامی کے لیے کوئی خارج بھی نہ ہو بھئی، جس کے خارج نسبتِ کلامی کے لیے کوئی خارج نہ ہو کہ یہ اس کے مطابق ہو یا نہ ہو۔ اور کبھی کبھار یہ فعلِ متکلم کو بھی کہتے ہیں، یعنی مصدر کا بھی نام ہے، القائے القاء اس قسم یعنی انشائی کلام کا القاء مولانا، اس فعل کو بھی کیا کہتے ہیں؟ انشاء کہتے ہیں۔ جیسے کہ اخبار ہے مولانا، اخبار اس کلام کو بھی کہتے ہیں یعنی جملہ خبریہ کو بھی کہتے ہیں، اور متکلم کا خبر کو ذکر کرنا یعنی القائے خبر، اس کو بھی کیا کہتے ہیں؟ اور علامہ تفتازانی نے بتلایا کہ مراد یہاں پر ثانی ہے بھئی۔ اور اس کی دلیل و قرینہ انہوں نے یہ ذکر کیا بھئی کہ دیکھیے انہوں نے انشاء کی تقسیم کی ہے طلب کی طرف اور غیر طلب کی طرف، اور پھر طلب کی تقسیم کی ہے تمنی، استفہام، امر، نہی وغیرہ کی طرف، اور وہاں پر وہ ان کے جو معانی بیان کرتے ہیں وہ معانیِ مصدری ہیں بھئی۔ معانی کیا ہیں؟ مصدری ہیں۔ مثلاً وہ تمنا کے لیے کہتے ہیں، جیسے مولانا یہ دیکھو: ”لَيْتَ زَيْدًا قَائِمٌ“، یہ کیا ہے کلام کون سا ہے؟ تمنی ہے۔ ”لَيْتَ زَيْدًا قَائِمٌ“ تمنی، اور ایک ہے تمنا کرنا یہ مصدر بھئی، تو دو معانی ہیں اس کے۔ اب وہاں پر انہوں نے کہا کہ ”وَاللَّفْظُ الْمَوْضُوعُ لَهُ كَذَا وَكَذَا“ کے ساتھ عبارتیں ذکر کرتے ہیں سب کی۔ مثال کے طور پر کہتے ہیں کہ تمنی کے لیے لفظ ”لَيْتَ“ وضع ہے۔ تمنی کے لیے لفظ ”لَيْتَ“ وضع ہے۔ اب ”لَيْتَ“ تمنی، تمنی کے دو معنی دو معنی تھے: ایک وہ کلام اور ایک وہ کلام لانا وہ معنیِ مصدری۔ تو اب دونوں آپ یہاں پر رکھ کر دیکھیں، آپ کو خود پتہ چل جائے گا یہاں معنیِ مصدری مراد ہیں۔ کیا جملہ تھا؟ تمنا کے لیے کیا وضع ہے؟ ”لَيْتَ“ وضع ہے، یعنی تمنا کرنے کے لیے کیا ہے؟ ”لَيْتَ“ وضع ہے۔ اور ایک ہے ”لَيْتَ زَيْدًا قَائِمٌ“، یہ بھی تمنی ہے۔ اس کو رکھیں: ”لَيْتَ زَيْدًا قَائِمٌ“ کے لیے ”لَيْتَ“ وضع ہے، یہ درست نہیں بنتا۔ معلوم ہوا وہاں پر مصدری معنی مراد ہیں۔ جب قسموں کے اندر معنیِ مصدری متعین ہو گئے کہ سب قسموں میں کیا ہے؟ وہ کلام نہیں مراد بلکہ معنیِ مصدری مراد ہیں، تو مقسم کے اندر بھی کون سے معنی مراد ہوں گے؟ مصدری معنی ہی مراد ہوں گے ورنہ تو تباین آئے گا بھئی۔ جس کی تقسیم کر رہے ہیں وہاں تو ذات مراد ہے اور آگے جو قسمیں بن گئیں ان سے کیا مراد ہے؟ معنیِ مصدری مراد ہے، تو یہ درست نہ رہے گا، تو لہٰذا سب سے کیا مراد لو اب؟ معنیِ مصدری۔ اور یہاں پر وہ بحث کریں گے انشاء کی قسم کون سی؟ دو قسمیں ہیں: طلبی اور غیر طلبی۔ یہاں بحث کریں گے طلبی سے، اور غیر طلبی سے کیوں بحث نہیں کریں گے؟ دو وجہیں ذکر کی ہیں علامہ تفتازانی نے: ایک یہ کہ علمِ بیان کی یعنی بلاغت کی مباحث اس سے بہت کم متعلقہ ہیں، اور نیز اس لیے کہ اصل میں وہ جو غیر طلبی انشاء ہے وہ دراصل اخبار ہی ہے لیکن ان کو نقل کر لیا گیا کس کی طرف؟ انشاء کی طرف نقل کر لیا گیا۔ تو کہتے ہیں ”إِنْ كَانَ طَلَبًا“، اگر انشاء طلبی تھی تو وہ تقاضا کرے گی کسی مطلوب کا بھئی۔ جب انشاء طلب کے لیے ہے تو اس طلب کے لیے کیا چاہیے؟ کوئی مطلوب چاہیے اور وہ مطلوب غیر حاصل ہونا چاہیے طلب کے وقت، اس لیے کہ حاصل کو طلب کرنا ممتنع ہے۔ اس پر اشکال ہوا کہ بھئی حاصل کو طلب کرنا ممتنع نہیں، حاصل کی تحصیل ممتنع ہے، حاصل کی تحصیل ممتنع ہے نہ کہ طلب۔ طلب تو زبان سے ہے مولانا، زبان سے آپ طلب کر سکتے ہیں اس کو۔ تو جواب دیا بھئی امتناع کا مراد سے مراد یہ ہے کہ اس میں صلاحیت نہیں ہے، اس میں صلاحیت نہیں ہے کہ اس کو طلب کیا جائے کیونکہ وہ تو پہلے سے ہی کیا ہے؟ حاصل ہے۔ تو یعنی مناسب نہیں ہے، اس کو طلب کرنا نہیں چاہیے، مناسب نہیں ہے کہ جو چیز حاصل ہے اس کو کیا کیا جائے؟ طلب کیا جائے۔ یا طلب سے مراد طلبِ قلبی ہے مولانا، اور واقعی طلبِ قلبی ممتنع ہے بھئی، قلبی طلب نہیں ہوگی بھئی، دل میں اس کی طلب نہیں ہوگی۔ پھر اس کے بعد بتلایا کہ طلب کے صیغے جب معلوم ہوا مطلوب کو حاصل نہیں ہونا چاہیے۔ اگر ایک چیز پہلے ہی حاصل ہے پھر اس کے لیے آپ طلب کا صیغہ لاتے ہیں تو اب اس کو اپنی حقیقت پر ہم نہیں رکھیں گے بلکہ مقام کے مطابق کیا کریں گے؟ اس کا کوئی اور ترجمہ کر لیں گے۔ جیسے قرآن میں آیا ہے: ”يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا آمِنُوا“۔ اب یہاں ”آمِنُوا“ کا معنی تو ایمان لے آؤ، لیکن ایمان تو پہلے سے ہی حاصل ہے، تو پھر کیا معنی کریں گے؟ کہتے ہیں اس کے مطابق کوئی ترجمہ کر لو، تو یہاں کیا مراد لے لیا؟ ثابت قدم رہو ایمان پر۔ جیسے: ”يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللَّهَ“، اے پیغمبر اللہ سے ڈریے، بھئی تقویٰ تو پہلے ہی حاصل ہے پھر تحصیلِ حاصل لازم آ رہا ہے، تو اس کے مطابق ترجمہ دوسرا کریں گے بھئی، کوئی اور معنی مراد لیں گے، یہ کیا معنی؟ تقویٰ پر ثابت قدم رہیے، استقامت کے ساتھ رہیے۔ پھر بتلایا کہ طلب کی انواع بہت سی ہیں بھئی، ان میں سے پانچ یہ ذکر کریں گے بھئی۔ پہلی تمنی ذکر کی، تمنی کس کو کہتے ہیں؟ کسی شے کی حصول کرنا حصول کو طلب کرنا، کس طریقے پر؟ محبت کے طریقے پر کسی شے کے حصول کو طلب کرنا۔ اور اس کے لیے لفظ جو وضع کیا گیا ہے ”لَيْتَ“ بھئی، کیا لفظ وضع ہے؟ ”لَيْتَ“۔ دیکھا یہ وہ عبارت ہے جس کی طرف علامہ تفتازانی نے اشارہ کیا تھا: ”وَاللَّفْظُ الْمَوْضُوعُ لَهُ لَيْتَ“۔ MP3 + 3 ”وَلَا يُشْتَرَطُ“، اور اس کے لیے شرط نہیں لگائی گئی مولانا، تمنی کے لیے تمنا کے امکان ممکن ہونے کی شرط، یہ ضروری نہیں ہے جس چیز کی تمنا کریں وہ ممکن بھی ہو بلکہ ہو سکتا ہے وہ ممکن نہ ہو۔ ہاں، ترجی کے اندر اس کا ممکن ہونا ضروری ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ ”تَقُولُ: أَلَا لَيْتَ الشَّبَابَ يَعُودُ يَوْمًا“، مثلاً آپ کیا کہتے ہیں بھئی؟ کاش کہ جوانی واپس آ جائے۔ کیا ہے؟ کاش ہاں، تو کاش کہ جوانی واپس، تو یہ مولانا اس کے لیے ”لَيْتَ“، یہ اب ممکن نہیں ہے بھئی کہ جوانی واپس آ جائے لیکن آپ پھر اس کی تمنا کر رہے ہیں تو یہ کیا ہے؟ محال ہے۔ ”وَلَا تَقُولُ لَعَلَّهُ“، یہاں ”لَعَلَّ“ نہیں کہہ سکتے، ”لَعَلَّهُ يَعُودُ“، ”وَلَكِنْ إِذَا كَانَ الْمُتَمَنَّى“۔ ہاں تمنی کے اور ترجی میں فرق بتلایا تھا: تمنی ممکن کی بھی ہو سکتی ہے اور ناممکن کی بھی، البتہ ترجی صرف کس کی ہوگی؟ ممکن کی۔ تو معلوم ہوا ممکن کے لیے تمنی بھی آ سکتی ہے اور ترجی، لیکن دونوں میں فرق ہے۔ جس ممکن کے لیے تمنی ہوگی اور وہ وہ ممکن جس کے لیے ترجی ہوگی دونوں میں فرق ہے۔ تمنی والا ممکن ایسا ہونا چاہیے جس کے جو مولانا حصول جس کا بعید ہو، کیا ہو؟ بعید ہو، امید نہ ہو اس کے حاصل ہونے کی تو وہاں تمنی لے کر آئیں گے۔ اگر اس کے حاصل ہونے کی امید بھی ہو پھر تو کیا ہے؟ ترجی ہے، ترجی ہے۔ اور کبھی کبھار کہتے ہیں ”هَلْ“ کے ساتھ بھی تمنی کی جاتی ہے، جیسے ”فَهَل لَّنَا مِن شُفَعَاءَ“، اس حیثیت کہ جب جانتا ہو کہ اس کے لیے کوئی شفیع نہیں، بھئی کفار قیامت کے دن کریں گے کہ ”فَهَل لَّنَا“، کیا میرے لیے کوئی شفیع ہے؟ تو یہاں پر مولانا استفہام تو ایسی چیز کے بارے میں کیا جاتا ہے جس کے جس سے انسان جاہل ہو، اور یہاں وہاں پر تو قطعی طور پر انہیں علم ہوگا کہ ہماری کوئی سفارش کرنے والا تو یہ استفہام کا موقع نہیں ہے، لیکن پھر وہ ”هَلْ“ لا رہے ہیں۔ معلوم ہوا یہ ”هَلْ“ استفہام کے لیے نہیں ہے بلکہ کس لیے ہے؟ تمنا کے لیے ہے۔ اور یہ مقصد کیا ہے؟ بتلانا یہ ہے کہ جس چیز کو میں ذکر کر رہا ہوں وہ مجھے بڑی محبوب ہے اور بڑی پسندیدہ ہے، تو اس کو اس چیز کے درجے میں اتار لیا جس کا امکان ہو، جس کا امکان ہو، یعنی جس کے وجود جس کے نہ ہونے کا یقین نہ ہو، جس کے نہ ہونے کا یقین نہ ہو۔ سوال ایسی ہی چیز کے بارے میں کریں گے نا جس کے نہ ہونے کا یقین نہ ہو، یعنی ہونے کا امکان ہو وہاں ہونے کا۔ اور کبھی کبھار تمنا ”لَوْ“ کے ساتھ بھی کی جاتی ہے، اور اس صورت میں اس کا جو جواب آئے گا اس کے بعد کیا مقدر ہوگا؟ ”أَنْ“ مقدر ہوگا، ”أَنْ“ مقدر۔ اس لیے کہ ”لَوْ“ شرطیہ اور یہ قرینہ ہوگا، یہ بتلائے گا ہمیں کہ یہ ”لَوْ“ شرطیہ نہیں ہے بلکہ یہ ”لَوْ“ کس لیے ہے؟ تمنا کے لیے ہے۔ اس لیے کہ جو شرط کے لیے آتا ہے وہاں پر ”أَنْ“ مقدر نہیں ہوتا، اور ”أَنْ“ جو ہے کہتے ہیں چھ چیزوں کے بعد مقدر ہوتا ہے۔ آپ نے پڑھا ہے سات چیزیں، سات چیزوں میں سے ایک وہ ”فَا“ اور ”وَاوْ“ ہیں جو کس کے جواب میں آئیں؟ چھ چیزوں کے جواب میں آئیں، ”فَا“ وہ ”فَا“ اور وہ ”وَاوْ“ جو چھ چیزوں کے جواب میں آئیں۔ وہ چھ چیزیں کون سی ہیں بھئی؟ امر، نہی، نفی، استفہام، تمنی اور عرض۔ اور یہاں تمنی مناسب ہے مولانا، کیونکہ اس میں ”لَوْ“ استعمال ہوتا رہتا ہے اور ”لَوْ“ ممتنعات کے لیے آتا ہے اور ممتنعات کی اکثر تمنا کی جاتی ہے۔ MP3 + 4 علامہ سکاکی فرماتے ہیں کہ حروفِ تندیم اور تحضیض جو ہیں ”لَوْلَا“ اور ”لَوْمَا“، یہ بھی کس کی طرح ہیں؟ یہ بھی کیا ہیں مولانا؟ یہ اصل میں ”لَوْ“ اور ”هَلْ“، یہ تمنا کے لیے جو بتلایا بھئی، تمنا کے لیے کبھی ”لَوْ“ بھی آتا ہے اور کبھی ”هَلْ“۔ تو یہ جو حروفِ تندیم ہیں ”لَوْلَا“، ”لَوْمَا“ وغیرہ اور ”هَلَّا“، یہ اسی ”لَوْ“ تمنی اور ”هَلْ“ تمنی سے مرکب ہو کر بنے ہیں، اسی سے بنے ہیں۔ اسی ”لَوْ“ تمنی کے ساتھ ”مَا“ ملا دیا یا ”لَا“ ملا دیا، اسی ”هَلْ“ تمنی کے ساتھ کیا ملا دیا؟ ”لَا“ ملا دیا۔ کس لیے ایسا کیا؟ تاکہ مولانا تاکہ یہ متضمن ہو کس کو؟ بھئی یہ اسی یہ ”لَا“ جو ہے، یہ کس لیے آتا ہے؟ تمنی کے لیے۔ تو ہم نے اسی کو لے کر مرکب بنایا تاکہ اس مرکب میں بھی کس چیز کا معنی آ جائے؟ تمنی کا معنی آ جائے۔ کیونکہ اس سے پھر ہم نے آگے ایک اور معنی لینا ہے اور وہ کیا ہے؟ تندیم اور تحضیض۔ ماضی میں استعمال ہوگا تو دوسرے کو نادم کرنے کے لیے آئے گا: ”هَلَّا ضَرَبْتَ زَيْدًا“، تو نے زید کی پٹائی کیوں نہیں کی؟ اور مستقبل کے لیے آئے گا تو ابھارنا ہوگا: ”هَلَّا تَضْرِبُ زَيْدًا“، تو زید کی پٹائی کیوں نہیں کرتا؟ تو ماضی کے ساتھ آئے تو کیا ہے؟ تندیم، نادم کرنا، اور مضارع کے ساتھ آئے تو؟ تو ہم نے یہ مرکب بنایا تاکہ اس میں تمنا کا معنی آ جائے تاکہ اس تمنا کے معنی سے پھر ہم آگے تندیم یا تحضیض کا فائدہ اٹھا سکیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تندیم اور تحضیض کا فائدہ۔ کیوں؟ تندیم اور تحضیض اس لیے کہ تمنا معلوم ہوا آپ ایک کلام کر رہے ہیں ”لَوْلَا“، ”لَوْمَا“ کے ساتھ اور اس پر کہہ رہے ہیں ”هَلَّا ضَرَبْتَ“، معلوم ہوا آپ اس کو بتلا رہے ہیں کہ آپ کی مرغوب چیز کیا ہوئی ہے؟ فوت ہو گئی، ضائع ہو گئی، حاصل نہیں ہو سکی۔ ”هَلَّا ضَرَبْتَ زَيْدًا“، تو نے زید کی پٹائی کیوں نہیں کی؟ اور اس کے میں تو آ رہا ہے ”هَلْ“، اور ”هَلْ“ تو آ رہا ہے کس کے لیے؟ تمنی کے لیے، تو اس تمنی نے تندیم کا فائدہ دیا کہ تجھے زید کی پٹائی کرنی چاہیے تھی کیونکہ یہ چیز مجھے بڑی محبوب ہے۔ تمنا بھی محبوب چیز کی کی جاتی ہے نا؟ تو یہاں بھی وہ تمنی کے معنی کی رعایت آ گئی مولانا۔ سوال اس پر اشکال ہوتا ہے کہ آپ براہِ راست ”لَوْلَا“ اور ”لَوْمَا“ کو کس کے لیے بنا دیتے؟ براہِ راست تحضیض کے لیے بنا دیتے، براہِ راست تندیم کے لیے بنا دیتے۔ یہ آپ کیا کہتے ہیں بھئی، اتنا لمبا چکر چلاتے ہیں کہ ”لَوْ“ کو لیا تاکہ ”لَوْ“ کے اندر ”لَوْمَا“ بنایا تاکہ یہ کس معنی میں ہو؟ اس میں تمنی والا معنی آ جائے، پھر تمنی والے معنی سے ہم کون سا معنی مراد لیں گے؟ تندیم اور تحضیض۔ اب براہِ راست سیدھا وہ معنی مراد لے لیں کہ ”لَوْ“ کے ساتھ ”مَا“ جوڑا اور کون سا معنی مراد لے لیا؟ تندیم لے لی، ”لَوْ“ کے ساتھ ”لَا“ جوڑا اور فوراً کیا مراد لے لیا؟ تحضیض مراد لے لیا۔ کہتے ہیں نہیں مولانا، اس صورت میں خرابی لازم آئے گی۔ اس لیے کہ ”لَوْ“ اور ”هَلْ“ کا جو معنیِ حقیقی ہے وہ تمنا نہیں ہے۔ کیا تھا؟ ”لَوْ“ تھا شرط کے لیے، اور ”هَلْ“ تھا استفہام کے لیے مولانا، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو استفہام کے لیے تھا۔ اور تو یہ معلوم اب ان کو آپ نے استعمال کیا کس کے اندر؟ تمنی میں، تو یہ اس کا معنیِ مجازی ہوا۔ کیا ہوا؟ اب اس تمنی سے آگے پھر آپ جانا چاہتے ہیں تندیم اور تحضیض کی طرف، تو وہ اور یعنی پہلے ہی مجازی معنی لے چکے ہیں، اب اس مجاز سے آگے ایک اور مجازی معنی لینا چاہتے ہیں تو یہ بناءِ مجاز علی المجاز لازم آئے گی اور یہ جائز نہیں۔ حقیقی معنی سے کسی دوسرے معنی کا تعلق ہوتا ہے تو آپ اس معنی سے اس کی طرف چلے جاتے ہیں۔ اب اس سے آگے کسی اور کا تعلق جڑتا ہے تو ادھر چلے جائیں تو یہ جائز نہیں ہے کہ مجاز سے مجاز کی طرف چلے جائیں۔ تو ہم نے کیا کیا؟ وہی ”لَوْ“ جو تمنی والا تھا، وہی ”هَلْ“ جو تمنی والا تھا، ان کو اٹھا کر جوڑ دیا کس کے ساتھ؟ ”مَا“ کے ساتھ، نیا مرکب بنا دیا۔ اب مولانا یہ جو نیا مرکب بنا اس کا معنیِ حقیقی ہی تمنی بن گیا۔ کیا بن گیا؟ تمنی بن گیا۔ اسی طرح ”هَلَّا“ نیا مرکب بنا، اب اس کا معنیِ حقیقی ہی کیا بن گیا؟ بھئی وہ تمنی والا ”لَوْ“ لیا تھا نا، ایک نئی چیز ہم نے بنا دی۔ جب نئی چیز بنائی تو اب اس نئی چیز کا معنی کیا ہے؟ تمنی، کیا ہے؟ تمنی۔ اور اب اس حقیقی معنی سے ہم تندیم یا تحضیض کی طرف کیا کرتے ہیں؟ جاتے ہیں۔ تو اب معنیِ حقیقی سے انتقال ہو رہا ہے کس کی طرف؟ مجازی کی طرف، اب ٹھیک ہو گیا۔ کیا ہوا؟ ہاں، اب مولانا مجاز پر مجاز کی بناء نہیں ہوئی بلکہ حقیقت پر مجاز کی بناء ہوئی۔ اور پھر انہوں نے یہ بتایا مولانا، کبھی کبھار ”لَعَلَّ“ کے ساتھ بھی تمنی کی جاتی ہے، اور جب ”لَعَلَّ“ کے ساتھ تمنی کی جائے تو پھر اس کو کس کا حکم دے دیتے ہیں؟ ”لَيْتَ“ کا۔ جیسے ”لَيْتَ“ کے جواب میں ”فَا“ یا ”وَاوْ“ آئے تو اس کے بعد کیا مقدر ہوتا ہے؟ ”أَنْ“۔ تو اب ”لَعَلَّ“ کو جب آپ نے ”لَيْتَ“ کا حکم دیا تو اس کے جواب میں جو ”فَا“ اور ”وَاوْ“ آئے گا اس کے بعد بھی کیا مقدر ہوگا؟ ”أَنْ“ مقدر ہوگا بھئی۔ MP3 + 2 تو یہ کیوں بھئی حکم دیتے ہیں؟ کہتے ہیں بھئی جب کہ متوقع شے کا حصول بعید ہو، جب متوقع شے کا حصول بعید ہو تب ہم اس کو تمنی کا حکم دے دیتے ہیں۔ کیونکہ ترجی تو آتی ہے ایسی چیز کے لیے عموماً جس کی توقع ہو کہ یہ کیا ہے؟ آسانی سے حاصل ہو جائے گی۔ لیکن اب یہاں ”لَعَلَّ“ آیا اور ایسی چیز کی کی ترجی ہے اس کے اندر جو بڑی بعید ہے، جب بڑی بعید ہے تو ہم نے کس کا حکم دے دیا؟ تمنی ہی کا حکم دے دیا، کیونکہ بعید ہو گئی تو محال کی طرح ہو گئی، یعنی بڑا مشکل ہو گیا اس کا حصول تو محال کے ساتھ مشابہت آ گئی مولانا، تو ہم نے اسی کا حکم دے دیا تمنی والا۔ یہی بات کر رہے ہیں: ”وَبِهَذَا يُشْبِهُ الْمُحَالَاتِ وَالْمُمْكِنَاتِ الَّتِي لَا طَمَاعِيَةَ فِي وُقُوعِهَا فَيَتَوَلَّدُ مِنْهُ مَعْنَى التَّمَنِّي“، تو اس سے کیا کس چیز کا معنی پیدا ہوتا ہے؟ تمنی کا۔ ”وَمِنْهَا“ جی، ”وَمِنْهَا وَمِنْ أَنْوَاعِ الطَّلَبِ الِاسْتِفْهَامُ وَهُوَ طَلَبُ حُصُولِ صُورَةِ الشَّيْءِ فِي الذِّهْنِ“۔ طلب کی اقسام چل رہی ہیں نا، ایک کیا بتائی؟ تمنی آپ کو بتائی۔ تمنی کے اندر آپ کو بتلایا اس کے اندر اصل وضع ”لَيْتَ“ ہے، ہاں کبھی ”هَلْ“ بھی آ جاتا ہے، کبھی ”لَوْ“ بھی آ جاتا ہے، ”هَلَّا“، ”لَوْمَا“ اس میں بھی تمنی کا معنی پایا جاتا ہے، اور اسی طرح کبھی ”لَعَلَّ“ بھی کس معنی میں آ جاتا ہے؟ تمنی کے معنی میں آ جاتا ہے۔ اب دوسری طلب کی دوسری قسم کیا ہے؟ ”وَمِنْهَا وَمِنْ أَنْوَاعِ الطَّلَبِ الِاسْتِفْهَامُ“، دوسری قسم کیا ہے؟ استفہام ہے۔ ”وَهُوَ طَلَبُ حُصُولِ صُورَةِ الشَّيْءِ فِي الذِّهْنِ“، استفہام کس کو کہتے ہیں؟ کہتے ہیں کسی شے کی صورت کے حصول کو طلب کرنا ذہن میں، ذہن میں کسی شے کی صورت کو کے حصول کو طلب کرنا کہ اس شے کی صورت ذہن میں حاصل ہو جائے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ استفہام کہتے ہیں، استفہام کہتے ہیں۔ ”فَإِنْ كَانَتْ“، ”فَإِنْ كَانَتْ وُقُوعَ النِّسْبَةِ بَيْنَ أَمْرَيْنِ“، اچھا، تو مولانا حصولِ صورت، یہ حصولِ صورت یا تو تصور کا ہوگا یا تصدیق کا۔ یا تو آپ تصدیق کی صورت حاصل کرنا چاہتے ہیں ذہن میں یا تصور کی صورت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ تو یاد رکھو پتہ یوں چلے گا: اگر سوال ہو رہا ہے وقوع اور لا وقوع کے بارے میں، تو یہ طلبِ تصدیق ہے۔ اگر سوال کس چیز کا ہو رہا ہے؟ وقوع اور لا وقوع کا ہو رہا ہے، تو یہ کیا ہے؟ طلبِ تصدیق ہے۔ میں کہتا ہوں: ”هَلْ قَامَ زَيْدٌ؟“، کیا معنی؟ میں پوچھنا چاہتا ہوں یہ قیام کی نسبت زید پر واقع ہے یا نہیں۔ تو طلب ہے مولانا کس چیز کی؟ نفی یا اثبات کے، تو اس کو کیا کہیں گے؟ تصدیق، یہ میں تصدیق کو طلب کر رہا ہوں کہ یہ کیا یہ قیام زید کے لیے ثابت ہے یا ثابت نہیں۔ اور اگر سوال طلب ہو مولانا تعین کی، تو پھر یہ کیا ہے؟ تصور ہے۔ یعنی آپ کو نفسِ تصدیق تو حاصل ہے لیکن یہ پتہ نہیں کس کے لیے یہ تصدیق حاصل ہے۔ مثلاً آپ کیا کہتے ہیں؟ آپ کہتے ہیں: ”أَزَيْدًا ضَرَبْتَ؟“، کیا زید ہی کی آپ نے پٹائی کی ہے؟ معلوم ہوا اتنا پتہ ہے ضرب کا فعل واقع ہے لیکن کس پر واقع ہے؟ زید پر ہے، عمرو پر ہے، بکر پر ہے، تعین نہیں ہے، تو آپ تعین کو طلب کر رہے ہیں تو یہ کیا ہے؟ طلبِ تصور ہے۔ تو فرق دونوں میں سمجھ میں آیا بھئی؟ اگر طلبِ وقوع ہو یا طلبِ لا وقوع ہو سوال کے اندر یہ کیا ہے؟ طلبِ تصدیق۔ اور اگر طلب ہو تعین کی تو یہ کیا ہے؟ طلبِ تصور ہے، یہ یاد رکھنا۔ ”فَإِنْ كَانَتْ وُقُوعَ النِّسْبَةِ بَيْنَ أَمْرَيْنِ أَوْ لَا وُقُوعَهَا“، اگر وہ صورت کس چیز کی تھی؟ وقوعِ نسبت بین امرین، دو چیزوں کے درمیان نسبت کے وقوع کی صورت تھی، ”أَوْ لَا وُقُوعَهَا“ یا لا وقوع کی، ”فَحُصُولُهَا هُوَ التَّصْدِيقُ“، تو اس صورت کو حاصل کرنا یہ کیا ہے؟ تصدیق ہے۔ ”وَإِلَّا فَهُوَ التَّصَوُّرُ“، ورنہ وہ کیا ہے؟ تصور ہی ہے۔ ”وَالْأَلْفَاظُ الْمَوْضُوعَةُ لَهُ الْهَمْزَةُ وَهَلْ وَمَا وَمَنْ وَأَيٌّ وَكَمْ وَكَيْفَ وَأَيْنَ وَأَنَّى وَمَتَى وَأَيَّانَ“، جی، یہ کئی الفاظ بتائے مولانا، یہ سارے استفہام کے لیے آتے ہیں مولانا، طلبِ صورت کے لیے آتے ہیں، طلبِ حصولِ صورت کے لیے آتے ہیں۔ ان میں سے کچھ الفاظ ایسے ہیں جو صرف طلبِ تصدیق کے لیے آتے ہیں، کچھ ایسے ہیں جو صرف طلبِ تصور کے لیے آتے ہیں، کچھ ایسے ہیں جو تصور اور تصدیق دونوں کے لیے آتے ہیں۔ تو یاد رکھو، صرف ہمزہ وہ لفظ ہے وہ کلمہ ہے جو طلبِ تصور کے لیے بھی آتا ہے اور طلبِ یہ آگے خود بتلائیں گے آپ کو، اور ”هَلْ“ صرف طلبِ تصدیق کے لیے آتا ہے، ”هَلْ“ اور باقی سارے صرف طلبِ تصور کے لیے آتے ہیں۔ دیکھا ہمزہ پہلا ہے وہ دونوں کے لیے ہے، ”هَلْ“ صرف تصدیق کے لیے اور باقی سارے۔ ”فَالْهَمْزَةُ لِطَلَبِ التَّصْدِيقِ“، ہمزہ طلبِ تصدیق کے لیے آئے گا، ”أَيْ انْقِيَادِ الذِّهْنِ وَإِذْعَانِهِ بِوُقُوعِ نِسْبَةٍ تَامَّةٍ بَيْنَ الشَّيْئَيْنِ“، انقیاد کا معنی تسلیم کرنا، تسلیم کرنا مولانا، تسلیم کر لینا، یقین کر لینا۔ ہمزہ جو ہے وہ طلبِ تصدیق کے لیے آتا ہے، یعنی تسلیم کرنا ذہن کا اور یقین کرنا دو چیزوں کے درمیان نسبتِ تامہ کے وقوع کا۔ ذہن کا یقین کر لینا دو چیزوں کے درمیان نسبتِ تامہ کے وقوع کا، وقوع کا۔ ”كَقَوْلِكَ: أَقَامَ زَيْدٌ؟“، جیسے آپ کہتے ہیں ”أَقَامَ زَيْدٌ؟“، کیا زید کھڑا ہے؟ جی، سوال بتائیے مولانا یہ طلبِ تصور ہے، طلبِ تصدیق ہے؟ کیوں؟ وقوع یا لا وقوع آئے گا جواب۔ ”فِي الْجُمْلَةِ“، یہ جملہ فعلیہ کی مثال ہے، یعنی ہمزہ دونوں پر داخل ہوتا ہے، ”وَأَزَيْدٌ قَائِمٌ؟“، یہ کیا ہے مولانا؟ طلبِ تصور ہے، طلبِ تصدیق ہے؟ تعین پوچھ رہا ہے یا وقوع، لا وقوع پوچھ رہا ہے؟ تو یہ تصدیق ہے مولانا، یہ جملہ اسمیہ کی مثال ہے۔ ”أَوْ لِطَلَبِ التَّصَوُّرِ“، یا ہمزہ کس کے لیے آئے گا؟ طلبِ میں نے بتلایا تھا دونوں کے لیے آتا ہے، یہ بتلا دیا انہوں نے۔ ”أَيْ إِدْرَاكِ غَيْرِ النِّسْبَةِ“، یعنی غیر نسبت کے علاوہ کے ادراک کے لیے آتا ہے۔ نسبت کے علاوہ، تو ہاں وہ حکم کو طلب نہیں کر رہا بلکہ غیر کی طلب کر رہا ہے۔ ”كَقَوْلِكَ“، جیسے آپ کہتے ہیں ”فِي طَلَبِ تَصَوُّرِ الْمُسْنَدِ إِلَيْهِ“، مسند الیہ کے تصور کو طلب کرتے ہیں، دیکھنا بھئی وہی ذہن میں رکھنا: ”أَدِبْسٌ فِي الْإِنَاءِ أَمْ عَسَلٌ؟“، کیا شیرہ ہے؟ شیرہ انگور مولانا، دبس کہتے ہیں انگور کا شیرہ یا یا کھجور کا۔ ”أَدِبْسٌ فِي الْإِنَاءِ أَمْ عَسَلٌ؟“، کیا انگور کا شیرہ ہے برتن میں یا شہد ہے؟ جی، سوال معلوم ہوا مجھے اتنا پتہ ہے برتن میں کچھ ہے، معلوم ہوا وقوع یا لا وقوع کا پتہ ہے، اب تعین نہیں ہے کہ شیرہ ہے یا تو یہ کیا ہوا؟ طلبِ تصور۔ ”عَالِمًا بِحُصُولِ شَيْءٍ فِي الْإِنَاءِ“، کہ اس حال میں کہ عالم ہیں مولانا آپ کس چیز کے؟ اس کے کوئی چیز حاصل ہے برتن کے اندر، ”طَالِبًا لِتَعْيِينِهِ“، اور طالب ہیں اس کی تعین کے۔ ”وَفِي طَلَبِ تَصَوُّرِ الْمُسْنَدِ“، اور آپ کیا کہتے ہیں مولانا، مسند کے تصور کو طلب کرتے ہوئے یوں کہتے ہیں: ”أَفِي الْخَابِيَةِ الدِّبْسُ أَمْ فِي الزِّقِّ؟“۔ کیا خابیہ کہتے ہیں مٹکا اور بڑا مرتبان، مٹکا اور اور یا بعض کہتے ہیں شراب کا جو مٹکا ہوتا ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ خابیہ کہتے ہیں، اسی لیے شراب کی کنیت ہے بنت الخابیہ، بنت الخابیہ۔ ”أَفِي الْخَابِيَةِ الدِّبْسُ أَمْ فِي الزِّقِّ؟“، کیا مٹکے میں شیر آپ کا شیرہ ہے یا کس کے اندر ہے؟ مشکیزے میں ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو کس کے اندر ہے؟ اب بتائیے مولانا کس چیز کا سوال ہے؟ وقوع یا لا وقوع کا یا تعین کا؟ تو یہ طلبِ تصور۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہاں آپ کو ایک ادبی نکتہ بتلائیں مولانا، ادبی نکتہ: یاد رکھو، پانی کا جو مشکیزہ ہوتا ہے اس کو کہتے ہیں ”قِرْبَةٌ“، اور اسی طرح ”سِقَاءٌ“ بھئی۔ جبکہ شراب کا ہو یا سرکے کا مشکیزہ ہو تو اس کو کہتے ہیں ”زِقٌّ“ بھئی۔ اور شہد کا مشکیزہ ہو تو اس کو کہتے ہیں ”رَكْوَةٌ“ بھئی۔ اور اسی طرح اگر گھی کا مشکیزہ ہو تو اس کو کہتے ہیں ”عُكَّةٌ“، اور اسی طرح گھی کے مشکیزے کو کہتے ہیں ”نَحْيٌ“ اور ”نِحْيٌ“ بھی کہتے ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ یہ کئی قسمیں ہیں مشکیزے کی، اور بعض کہتے ہیں کہ ”زِقٌّ“ شراب یا سرکے کا مشکیزہ نہیں ہے بلکہ یہ کیا ہے؟ عام ہے بھئی، عام ہے، استعمال ہوتا ہے بھئی تمام چیزوں کے مشکیزوں کے لیے۔ ”عَالِمًا بِكَوْنِ الدِّبْسِ فِي وَاحِدٍ مِنَ الْخَابِيَةِ أَوِ الزِّقِّ طَالِبًا لِتَعْيِينِ ذَلِكَ“، اس حال میں کہ آپ جانتے ہیں کہ دبس جو ہے کسی ایک میں ہے، خابیہ یا زق میں ہے، ”طَالِبًا لِتَعْيِينِ ذَلِكَ“، البتہ اس واحد کی تعین چاہتے ہیں۔ ”وَلِهَذَا“، اور اسی وجہ سے ”أَيْ لِمَجِيءِ الْهَمْزَةِ لِطَلَبِ التَّصَوُّرِ“، کہ ہمزہ کس لیے آتا ہے؟ طلب ہمزہ کے طلبِ تصور کے آنے کی وجہ سے، ”لَمْ يَقْبُحْ“، یہ ترکیب قبیح نہیں ہے مولانا: ”أَزَيْدٌ قَامَ“، ”فِي طَلَبِ تَصَوُّرِ الْفَاعِلِ“، قبیح نہیں ہے تصورِ فاعل کی طلب میں یہ ترکیب ”أَزَيْدٌ قَامَ“، ”كَمَا قَبُحَ هَلْ زَيْدٌ قَامَ“، جیسے کہ یہ ترکیب قبیح ہے: ”هَلْ زَيْدٌ قَامَ“۔ کیوں؟ دیکھو، ہمزہ آتا ہے طلبِ تصدیق کے لیے بھی اور طلبِ اور ”هَلْ“ جو ہے وہ صرف کس لیے آتا ہے؟ تصدیق کے لیے آتا ہے، طلبِ تصدیق کے لیے۔ تو آپ نے کہا: ”هَلْ زَيْدٌ قَامَ؟“، آپ نے زید کو مقدم کر دیا کس پر؟ ”قَامَ“ پر، اور تقدیم کس چیز کا فائدہ دیتی ہے؟ تخصیص کا فائدہ دیتی ہے، اور تخصیص کہاں تخصیص وہاں آتی ہے جہاں نفسِ فعل کا پتہ ہو، نفسِ فعل کا پتہ ہو۔ مثلاً آپ نے قصر پڑھا ہے یا نہیں پڑھا؟ قصر کی قسمیں پڑھی ہیں آپ نے، کیا؟ افراد، افراد میں کیا تھا؟ وہ مشارکت مخاطب مشارکت کا قائل تھا، معلوم ہوا تھا وقوع کو اس کا وقوع کا پتہ تھا البتہ شرکت میں وہ غلطی کر رہا تھا، کیا کر رہا تھا؟ شرکت میں، یا مخاطب عکس کا قائل تھا، معلوم ہوا اس کو وقوع کا پتہ تھا البتہ تعین میں کیا کر رہا تھا؟ غلطی کر رہا تھا۔ تو قصر وہاں ہوتا ہے جہاں نفسِ فعل کا پہلے سے پتہ ہے، البتہ تعین میں کیا ہے؟ غلطی ہو رہی ہے یا شرکت ہو رہی ہے یا تردد آ رہا ہے۔ جی، تو معلوم ہوا جب آپ نے کہا ”هَلْ زَيْدٌ قَامَ؟“، تو زید کو مقدم مقدم ہے ”قَامَ“ پر، معلوم ہوا یہاں تخصیص ہے، اور تخصیص وہاں ہوگی جہاں پر پہلے نفسِ فعل معلوم ہو۔ تو معلوم ہوا یہاں پہلے سے نفسِ فعل معلوم ہے، نفسِ فعل اور جب نفسِ فعل معلوم ہے تو اس کا مطلب ہے تصدیق حاصل ہے، کیا ہے؟ تصدیق حاصل ہے۔ تو ”زَيْدٌ قَامَ“ بتلا رہا ہے کہ کیا ہے؟ تصدیق حاصل ہے، اور ”هَلْ“ بتلا رہا ہے کہ ہم اس کی کیا کر رہے ہیں؟ تحصیل کر رہے ہیں، تو یہ تحصیلِ حاصل لازم آیا، کیا لازم آیا؟ تحصیلِ حاصل، کیونکہ ”هَلْ“ کس لیے آتا ہے؟ طلبِ تصدیق کے لیے یعنی طلبِ حکم کے لیے، اور حکم تو پہلے سے معلوم ہے، اختصاص آ چکا ہے، اور اختصاص کہاں آتا ہے؟ جہاں پہلے نفسِ فعل کا پتہ ہو، البتہ تعین میں غلطی تھی۔ تو یہاں اختصاص آیا، معلوم ہوا نفسِ تصدیق آپ یعنی ”هَلْ زَيْدٌ قَامَ؟“، معلوم ہوا مخاطب کو اتنا پتہ ہے کہ قیام ہے، کیا ہے؟ قیام ہے، البتہ یہ قیام کس کے ساتھ قائم ہے؟ زید کے ساتھ یا عمرو کے ساتھ، تو آپ اس کو کہتے ہیں ”زَيْدٌ قَامَ“، کھڑا کون ہے؟ زید ہی کھڑا ہے۔ تو یہاں بھی آپ نے جب سوال کیا ”هَلْ زَيْدٌ قَامَ؟“، زید مقدم ہے، تو یہ زید کی تقدیم یہ بتلا رہی ہے کہ یہاں پہلے سے تصدیق حاصل ہو چکی ہے، اور ”هَلْ“ تو آتا ہے طلبِ تصدیق کے لیے، تو ایک حاصل شدہ چیز کی آپ کیا کر رہے ہیں؟ تحصیل کر رہے ہیں، تو یہ کیا ہے؟ تحصیلِ حاصل، اور یہ جائز نہیں۔ لہٰذا یہ ترکیب قبیح ہے مولانا، یہ ترکیب کیا ہے؟ قبیح ہے۔ MP3 + 4 اس پر اشکال ہوتا ہے بھئی کہ بھئی قبیح نہ کہو، ناجائز کہو نا، یہ ترکیب جائز ہی نہیں ہے۔ کیونکہ ”هَلْ“ تو آتا ہے طلبِ تصدیق کے لیے اور تصدیق تو پہلے سے حاصل ہے تو آپ کو کیا کہنا چاہیے؟ یہ ترکیب اب جائز ہی آپ کہہ رہے ہیں پھر قبیح ہے۔ بھئی وجہ یہ کہ اس لیے کہ یہاں تقدیم ہمیشہ تخصیص ہی کے لیے تو نہیں ہوتی، بعض اوقات کسی اور چیز کے لیے بھی، کبھی مجردِ اہتمام کی وجہ سے، کبھی تبرک وغیرہ کی وجہ سے ایک چیز کو کیا کر دیا جاتا ہے؟ مقدم کر دیا جاتا ہے، آپ پڑھ چکے ہیں۔ تو چونکہ اور چیزوں کا بھی احتمال تھا، اور چیزوں کا بھی اس لیے صرف قبیح قرار دیا اس کو، عدمِ جواز کا نہیں کہا۔ MP3 + 3 تو دیکھا، ”هَلْ زَيْدٌ قَامَ؟“، یہ ”زَيْدٌ قَامَ“ کا جملہ بتلا رہا ہے کہ تصدیق حاصل ہے، اب صرف سوال کس کے بارے میں ہے؟ تصور کے بارے میں، اور ”هَلْ“ جو ہے وہ تو اس کے لیے نہیں۔ بخلاف اس کے جو جملہ تھا ”أَزَيْدٌ قَامَ؟“، اس میں بھی ”زَيْدٌ“ مقدم ہے اور زید کا مقدم ہونا کیا بتلاتا ہے کہ نفسِ تصدیق پہلے سے حاصل ہے، البتہ یہ پتہ نہیں کہ یہ قیام زید کے لیے ہے یا عمرو کے لیے ہے۔ تو معلوم ہوا یہ کس کے لیے طلبِ تصور ہو رہا ہے یہاں پر، تصدیق حاصل ہے اور تعین حاصل اور ہمزہ جیسے تصدیق کے لیے آتا ہے، تصور کے لیے بھی آتا ہے، تو یہاں اس کا استعمال کیا ہوا؟ صحیح ہے بھئی، یہ طلبِ تصور ہے۔ ”وَلَمْ يَقْبُحْ فِي طَلَبِ تَصَوُّرِ الْمَفْعُولِ“، یہ پہلے تو تھا طلب تھا فاعل کے تصور کا طلب تھا، اب ہے مفعول کے تصور کی طلب مولانا، یہ بھی قبیح نہیں ہے: ”أَعَمْرًا عَرَفْتَ؟“، یہ بھی مولانا قبیح نہیں، اس لیے کہ عمرو کی تقدیم بتلا رہی ہے کہ کیا؟ نفسِ نفسِ معرفت یہاں معلوم ہے، نفسِ یعنی اتنا پتہ ہے معرفت کا وقوع ہو چکا ہے، البتہ یہ نہیں پتہ کہ اس معرفت کا تعلق عمرو سے ہے یا زید سے۔ آپ نے زید کو پہچانا یا عمرو کو؟ تو اب سوال صرف تعین کے بارے میں ہو رہا ہے، اور تعین کے لیے سوال جو طلب ہو وہ طلبِ تصدیق ہے یا تصور ہے؟ اور تصور ہے، اور ہمزہ آیا اور ہمزہ طلبِ تصور کے لیے بھی جبکہ ”هَلْ عَمْرًا عَرَفْتَ؟“ کہنا صحیح نہیں۔ MP3 + 1 ”وَذَلِكَ“، اور اس کی وجہ یہ خود تفصیل بتا رہے ہیں: ”لِأَنَّ التَّقْدِيمَ يَسْتَدْعِي حُصُولَ التَّصْدِيقِ“، اس لیے کہ تقدیم تقاضا کرتی ہے حصولِ تصدیق کا کہ تصدیق حاصل ہو چکی ہے بنفسِ الفعل، نفسِ فعل کی تصدیق حاصل ہو چکی ہے، ”فَيَكُونُ هَلْ لِطَلَبِ حُصُولِ الْحَاصِلِ“، تو ”هَلْ“ اس صورت میں حصولِ حاصل کی طلب کے لیے ہوا، ”وَهُوَ مُحَالٌ“، اور وہ کیا ہے؟ محال ہے مولانا۔ ”بِخِلَافِ الْهَمْزَةِ“، بخلاف کس کے؟ ہمزہ کے، ”فَإِنَّهَا تَكُونُ لِطَلَبِ التَّصَوُّرِ وَتَعْيِينِ الْفَاعِلِ أَوِ الْمَفْعُولِ“، اس لیے کہ وہ کیا طلبِ تصور کے لیے بھی ہوگا اور تعینِ فاعل اور تعینِ مفعول کے لیے بھی۔ ”وَهَذَا ظَاهِرٌ فِي أَعَمْرًا عَرَفْتَ لَا فِي أَزَيْدٌ قَامَ“، کہتے ہیں یہ جو انہوں نے دعویٰ کیا، کیا کہ ”أَزَيْدٌ قَامَ“، ”أَزَيْدٌ قَامَ“۔ ”أَعَمْرًا عَرَفْتَ“ کے اندر تو یہ بات ظاہر ہے کہ یہاں ”عَمْرًا“ کو مقدم کیا اور مفعول کو مقدم کیا جاتا ہے کس لیے؟ تخصیص کے لیے، تو معلوم ہوا یہ کس چیز کا فائدہ دے گی؟ نفسِ فعل کا پہلے سے ہی فائدہ ہے۔ لیکن یہ جو ”أَزَيْدٌ قَامَ“ کے اندر یہ بات واضح نہیں، اس لیے کہ زید مرفوع ہے اور مرفوع کو مقدم کیا جائے تو بھئی زید کو مقدم کیا، ہو سکتا ہے یہ تخصیص کے لیے مقدم نہ ہو، تقوی کے لیے ہو۔ آپ نے پڑھا تھا یا نہیں مولانا کہ تقدیم تخصیص کا فائدہ دیتی ہے اور اسی طرح تقوی کا بھی؟ تو کبھی تخصیص کا ارادہ ہوتا ہے اور کبھی صرف تقوی کا ارادہ، تو یہ تقوی کا بھی امکان تھا اس کے اندر۔ جب تقوی کا امکان ہے لہٰذا آپ کا یہ کہنا کہ ”أَزَيْدٌ قَامَ“ کہنا کیا ہے؟ ہاں، ”أَزَيْدٌ قَامَ“ کی صورت میں آپ کو پہلے سے تصدیق حاصل ہو چکی ہے، یہ آپ کا دعویٰ درست نہیں ہے، کیونکہ ہو سکتا ہے یہ صرف تقوی کے لیے ہو، جب تقوی کے لیے ہے تو تخصیص کے لیے نہیں، جب تخصیص کے لیے نہیں تو پہلے سے فعل بھی معلوم نہیں۔ ہاں، مبتدا ہی بن... ”وَهَذَا ظَاهِرٌ فِي أَعَمْرًا عَرَفْتَ لَا فِي أَزَيْدٌ قَامَ“، تو یہ ”أَعَمْرًا عَرَفْتَ“ تقدیمِ مفعول کی صورت میں تو ٹھیک ہے مولانا، تخصیص ہی کا ہو کے لیے ہوگی، لیکن ”أَزَيْدٌ قَامَ“ کے اندر آپ کا یہ دعویٰ ظاہر نہیں ہے۔ ”فَلْيَتَأَمَّلْ“، پس چاہیے کہ یہاں پر یہاں پر غور و فکر کرنا چاہیے بھئی۔ خلاصۂ کلام یہ مولانا ”فَلْيَتَأَمَّلْ“ کے ذریعے اشارہ کر دیا کہ یہاں غالب کا اعتبار ہے، کس چیز کا؟ غالب چیز کا اعتبار۔ اس دیکھو، مفعول کی کبھی مفعول کو مقدم کیا جاتا ہے تخصیص کے لیے، اور کبھی کبھار اور وجوہات کی بنا پر بھی مقدم کر دیتے ہیں، کسی اور وجہ سے بھی۔ اسی طرح ”زَيْدٌ“ کو آپ نے مقدم کیا تو کبھی تقدیم کس لیے ہوگی؟ تخصیص کے لیے ہوگی اور کبھی دیگر وجوہ کی بنا پر، دیگر وجوہ کی بنا پر۔ لیکن غالب جو ہے مفعول کی تقدیم میں وہ کیا ہے؟ تخصیص ہے، اور مرفوع کی تقدیم میں غالب کیا ہے؟ تقوی ہے، کیا ہے؟ تقوی ہے، تقوی ہے۔ MP3 + 3 اسی لیے انہوں نے کہا نا ”أَعَمْرًا عَرَفْتَ“، اس میں بھی امکان تھا کہ ”عَمْرًا“ کو کس وجہ سے مقدم کیا ہو؟ تخصیص کی وجہ سے مقدم کسی اور وجہ سے، لیکن اس پہ اشکال نہیں کیا علامہ تفتازانی نے اور وہ دوسرے ”زَيْدٌ قَامَ“ پر کر دیا۔ کہتے ہیں اس لیے کہ ”أَعَمْرًا عَرَفْتَ“ یہ مفعول ہے اور مفعول کی تقدیم غالباً کس لیے ہوتی ہے؟ تو غالب کے اعتبار سے اعتراض کیا، تو چونکہ غالب بھی تخصیص ہے لہٰذا اعتراض نہیں بنتا۔ اور ”زَيْدٌ قَامَ“ کے اندر غالب کیا ہے؟ تقوی ہے، تو لہٰذا وہاں پر کیا کر دیا؟ اعتراض کر دیا انہوں نے۔ ورنہ اعتراض تو دونوں پر ہو سکتا تھا۔ ”وَالْمَسْئُولُ عَنْهُ بِهَا أَيْ بِالْهَمْزَةِ هُوَ مَا يَلِيهَا“، اور وہ جس کے بارے میں سوال کیا جائے ”بِهَا“، کس کے ساتھ؟ ”أَيْ بِالْهَمْزَةِ“، ”هُوَ مَا يَلِيهَا“، جو اس کے ساتھ ملی ہوئی ہو، ”كَالْفِعْلِ“، بھئی ہمزہ کے ساتھ جو چیز ملی ہوگی اس کا سوال ہوگا۔ اگر فاعل ملا ہے فاعل کا سوال، مفعول ملا ہے مفعول کا سوال، فعل ملا ہے تو فعل کا سوال۔ ”هُوَ مَا يَلِيهَا كَالْفِعْلِ فِي أَضَرَبْتَ زَيْدًا“، دیکھا اس میں کون ملا ہے ہمزہ کے ساتھ؟ ”ضَرَبْتَ“ فعل، تو فعل کا سوال ہے۔ ”إِذَا كَانَ الشَّكُّ فِي نَفْسِ الْفِعْلِ“، جبکہ شک کس کے بارے میں ہو؟ نفسِ فعل میں کہ پتہ نہیں یہ فعل واقع ہوا ہے یا واقع نہیں ہوا۔ تو یہ کیا ہوا؟ طلبِ تصور ہوا یا تصدیق ہوا؟ کہ یہ فعل واقع ہوا ہے یا واقع نہیں ہوا؟ طلبِ تصدیق بھئی۔ ”إِذَا كَانَ الشَّكُّ فِي نَفْسِ الْفِعْلِ“، جبکہ نفسِ فعل میں شک ہو، ”أَعْنِي الضَّرْبَ الصَّادِرَ مِنَ الْمُخَاطَبِ الْوَاقِعَ عَلَى زَيْدٍ“، یعنی وہ ضرب جو صادر ہوئی ہے مخاطب سے جو واقع ہوئی ہے کس پر؟ زید پر۔ ”وَأَرَدْتَ بِالِاسْتِفْهَامِ أَنْ تَعْلَمَ وُجُودَهُ“، اور آپ نے ارادہ کیا استفہام کے ساتھ کہ اس کے وجود کو جان لیں کہ یہ واقع ہے یا واقع نہیں، ”فَيَكُونُ لِطَلَبِ التَّصْدِيقِ“، تو یہ کس لیے ہوگا؟ تصدیق کے لیے۔ ”وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ لِطَلَبِ تَصَوُّرِ الْمُسْنَدِ“، ہاں اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ یہ طلبِ تصور کے لیے ہو۔ جی، طلبِ تصور، وہ کیسے؟ ”أَنْ يَكُونَ لِتَصَوُّرِ الْمُسْنَدِ“، طلب مسند کے تصور کو طلب کرنے کے لیے ہو، ”بِأَنْ تَعْلَمَ أَنَّهُ قَدْ تَعَلَّقَ فِعْلٌ مِنَ الْمُخَاطَبِ بِزَيْدٍ“، بایں صورت کہ آپ جانتے ہیں کہ تحقیق متعلق ہو چکا ہے ایک فعل مخاطب سے، اور کس سے متعلق مخاطب کا ایک فعل کس سے متعلق ہو چکا ہے؟ زید سے۔ ”لَكِنْ لَا تَعْرِفُ أَنَّهُ ضَرْبٌ أَوْ إِكْرَامٌ“، لیکن آپ یہ نہیں جانتے کہ وہ فعل کون سا متعلق ہوا ہے؟ یعنی تعلقِ فعل کا پتہ چل چکا ہے آپ کو کہ مخاطب کے ساتھ کوئی فعل متعلق ہے، اس سے کوئی فعل صادر ہوا ہے اور کس پر ہے؟ زید پر واقع ہوا ہے، لیکن تعین نہیں کہ پتہ نہیں ضرب کا فعل ہوا ہے یا اکرام کا۔ تو مولانا وقوع کا پہلے سے پتہ ہے، البتہ تعین نہیں تو یہ کیا بن جائے گا؟ طلبِ تصور بھی بن جاتا ہے، بن سکتا ہے۔ MP3 + 3 ”وَالْفَاعِلُ فِي أَأَنْتَ ضَرَبْتَ زَيْدًا“، اور ”وَالْفَاعِلِ كَالْفِعْلِ وَالْفَاعِلِ“ بھئی پیچھے ”مَا يَلِيهَا كَالْفِعْلِ“ پر عطف ہے۔ اور سوال جس کے بارے میں کیا جائے گا ہمزہ کے ساتھ وہ ہوگا جو اس کے ساتھ ملا ہو ”كَالْفَاعِلِ“، جیسے کہ فاعل ہے اس کے اندر: ”أَأَنْتَ ضَرَبْتَ زَيْدًا“، کیا آپ ہی نے زید کی پٹائی کی ہے؟ ”إِذَا كَانَ الشَّكُّ فِي الضَّارِبِ“، جبکہ شک کس کے بارے میں ہے؟ یعنی اتنا پتہ ہے کہ فعلِ ضرب زید پر واقع ہوا ہے، لیکن کیا تعین نہیں کہ فاعل کون، تو یہ کیا ہے؟ طلبِ تعین، طلبِ تصور۔ ”وَالْمَفْعُولِ“، اور کبھی کبھار مفعول کے بارے میں سوال ہوگا، ”فِي أَزَيْدًا ضَرَبْتَ“، کیا زید کی آپ نے پٹائی کی ہے؟ تو دیکھا، معلوم ہوا آپ نے پٹائی کسی نہ کسی کی کی ہے یہ پتہ ہے، البتہ پتہ نہیں کہ زید ہے یا عمرو، تو سوال کس کے بارے میں ہوا؟ تعین کے بارے میں، تو یہ کیا ہوا؟ طلبِ تصور ہوا۔ ”إِذَا كَانَ الشَّكُّ فِي الْمَضْرُوبِ“، جبکہ شک مضروب کے بارے میں ہو، ”وَكَذَا قِيَاسُ سَائِرِ الْمُتَعَلِّقَاتِ“، اور اسی طرح قیاس ہے مولانا تمام متعلقاتِ فعل کا بھئی، تمام متعلقات کا۔ ”وَهَلْ لِطَلَبِ التَّصْدِيقِ“، جی یہ کس کی بات چل رہی تھی؟ ہمزہ کی بات چل رہی تھی، ہمزہ طلبِ تصور کے لیے بھی ہے اور طلبِ تصدیق کے لیے بھی۔ اور ”هَلْ“ جو ہے وہ طلبِ تصدیق کے لیے آئے گا، ”فَحَسْبُ“، بس اور بس۔ ”حَسْبُ“ کا کیا معنی؟ بس بھئی۔ ہاں کوئی موقع جانے نہ دینا، سمجھ میں آیا؟ اچھا دیکھو، عربی میں کہتے ہیں ”فَحَسْبُكَ“، آپ کے لیے یہ کافی ہے یعنی بس، یا کہتے ہیں ”حَسْبِي“، ایک آدمی کیا کہتا ہے؟ ”حَسْبِي“، میرے لیے یہ کافی ہے، بس۔ اور یہ ”فَا“ جزائیہ ہے مولانا، اور شرط محذوف ہے۔ شرط یہاں پر موقع کے مطابق نکال لیں گے۔ کیا کہا انہوں نے؟ ”هَلْ لِطَلَبِ التَّصْدِيقِ فَحَسْبُكَ“، ”کاف“ مضاف محذوف ہے مولانا، اور چونکہ آپ نے ”حَسْبُ“ سے مضاف مضاف الیہ، مضاف الیہ کو حذف کر دیا تو اب اس کو کیا بنا دیا؟ مبنی علی الضم۔ جیسے ”بَعْدُ“ سے آپ مضاف الیہ کو حذف کر دیتے تھے تو کیا بنا دیتے تھے؟ مبنی علی الضم بنا دیتے ہیں بھئی، تو اس کو بھی مبنی علی الضم۔ اور تو موقع کے مطابق یہاں شرط نکال لیں: ”إِذَا عَرَفْتَ أَنَّ هَلْ لِطَلَبِ التَّصْدِيقِ فَحَسْبُكَ“، جب آپ کو اتنا پتہ چل گیا کہ ”هَلْ“ صرف کس کے لیے ہے؟ طلبِ تصدیق کے لیے، ”فَحَسْبُكَ“، تو آپ کے لیے یہ بات کافی ہے یعنی بس، اس تصور کی طرف یعنی نہیں جائے گا۔ ”وَتَدْخُلُ عَلَى الْجُمْلَتَيْنِ“، اور یہ داخل ہوتا ہے دو جملوں پر مولانا، یعنی جملہ اسمیہ پر بھی اور جملہ فعلیہ پر بھی۔ جیسے ”هَلْ قَامَ زَيْدٌ؟“، یہ جملہ فعلیہ کی مثال، ”وَهَلْ عَمْرٌو قَاعِدٌ؟“۔ تو بتائیے ”هَلْ قَامَ زَيْدٌ؟“، آپ تعین کے بارے میں پوچھ رہے ہیں یا وقوع، لا وقوع کا؟ تو یہ تصدیق۔ ”وَهَلْ عَمْرٌو قَاعِدٌ؟“، تو یہ آپ تصور کی طلب کر رہے ہیں یا تصدیق کی؟ تصدیق کی۔ ”إِذَا كَانَ الْمَطْلُوبُ حُصُولَ التَّصْدِيقِ بِثُبُوتِ الْقِيَامِ لِزَيْدٍ وَالْقُعُودِ لِعَمْرٍو“، جبکہ مطلوب حصولِ تصدیق ہو، کس چیز کی حصولِ تصدیق؟ بثبوتِ قیام کہ قیام ثابت ہے زید کے لیے اور قعود ثابت ہے عمرو کے لیے، اس کے حصول کو طلب کرنا مقصد ہو۔ ”وَلِهَذَا“، اور اسی وجہ سے، کس وجہ سے؟ ”أَيْ وَلِاخْتِصَاصِهَا لِطَلَبِ التَّصْدِيقِ“، کہ ”هَلْ“ خاص ہے کس کے ساتھ؟ طلبِ تصدیق کے ساتھ۔ اسی وجہ سے ”امْتَنَعَ“، ممتنع ہے یہ ترکیب: ”هَلْ زَيْدٌ قَامَ أَمْ عَمْرٌو؟“، یہ ترکیب ممتنع ہے۔ یاد رکھو مولانا پہلے سن لو، ”أَمْ“ یہاں آیا۔ ”أَمْ“ دو قسم پر ہے، آپ نے نحو میں پڑھا ہے مولانا حروفِ عاطفہ کی بحث کے اندر۔ وہاں پر ایک ”أَمْ“ بھی آتا ہے۔ ”أَمْ“ دو قسم پر ہے مولانا: ایک ”أَمْ“ متصلہ ام متصلہ کہلاتا ہے، ایک ”أَمْ“ منقطعہ۔ ”أَمْ“ متصلہ کے ذریعے سوال کیا جاتا ہے ایک تعین کے بارے میں، کس چیز کے بارے میں؟ تعین کے بارے میں۔ مثلاً آپ کہتے ہیں: ”أَزَيْدٌ فِي الدَّارِ أَمْ عَمْرٌو؟“، یعنی اتنا پتہ ہے کہ گھر کے اندر ان دونوں میں سے کوئی ہے، ان دونوں میں سے اب تعین نہیں ہے تو آپ پوچھتے ہیں: ”أَزَيْدٌ فِي الدَّارِ أَمْ عَمْرٌو؟“۔ تو یہ تعین کے ”أَمْ“ آتا ہے تعین کے لیے، ”أَمْ“ متصلہ، کون سا ”أَمْ“؟ یہ تعین کے لیے۔ اور دوسرا ”أَمْ“ منقطعہ ہوتا ہے اور اس کے اندر منقطع ہوتا ہے، ما قبل میں اور کلام ہوتا ہے ما بعد میں اور کلام۔ یہ مثال ذکر کرتے ہیں شرح جامی وغیرہ میں، مثلاً آپ نے دور سے دیکھا ایک چیز آ رہی ہے، آپ نے بڑے یقینی طور پر اپنے ساتھی سے کہا: ”إِنَّهَا لَإِبِلٌ“، یقیناً یہ کیا ہے؟ اونٹ ہے۔ جب تھوڑی چیز قریب آئی تو آپ کو شک ہوا، نہیں بھئی اونٹ تو نہیں ہے، پھر شک ہوا شاید بکری ہے۔ اب بکری کا بھی یقین نہیں ہے، تو اب آپ سوال کرتے ہیں: ”أَمْ هِيَ شَاةٌ؟“۔ ”أَمْ هِيَ شَاةٌ؟“، تو اصل میں یوں ہے: ”أَمْ أَهِيَ شَاةٌ؟“، بلکہ کیا یہ بکری ہے؟ تو یہ ”أَمْ“ منقطعہ ”بَلْ“ کے معنی میں ہوتا ہے، ”بَلْ“ اور ہمزہ کے: ”بَلْ أَهِيَ شَاةٌ؟“، بلکہ کیا یہ بکری ہے؟ ابھی بھی آپ پہلے آپ نے یقین سے بات کی تھی مولانا، اب آپ غیر یقینی انداز میں کیا کر رہے ہیں؟ غیر یقین ہے، سوال کر رہے ہیں خود باقاعدہ، بلکہ کیا یہ بکری ہے؟ تو دیکھا دونوں کلاموں میں انقطاع ہے، ما قبل کے اندر خبر دے رہے ہیں، ما بعد میں سوال کر رہے ہیں، تو اس کو کیا کہتے ہیں ہم؟ منقطعہ کہتے ہیں۔ اللہ، کدھر گیا بھئی؟ ”هَلْ زَيْدٌ قَامَ أَمْ عَمْرٌو؟“۔ ”هَلْ زَيْدٌ قَامَ أَمْ عَمْرٌو؟“، تو دیکھو یہاں ”أَمْ“ آیا اور ”أَمْ“ بھی کون سا ہے مولانا؟ ”أَمْ“ متصلہ ہے، کیونکہ ”أَمْ“ منقطعہ کے بعد جملہ آتا ہے مفرد نہیں، اور اس ”أَمْ“ کے بعد کیا آ رہا ہے؟ مفرد آ رہا ہے۔ تو یہ مولانا دلیل ہے کہ یہ کیا ہے؟ ”أَمْ“ متصلہ ہے، منقطعہ نہیں ہے۔ ہاں ”أَمْ“ منقطعہ میں ہمیشہ ما بعد جملہ ہوگا، ہاں کبھی مفرد بھی آ جائے تو ہم کیا کریں گے؟ اس کو کیا بنا لیں گے؟ جملہ بنا لیں گے بھئی، محذوف نکال لیں گے وہاں پر۔ تو ”أَمْ“ کس لیے آتا ہے مولانا؟ کس چیز کے بارے میں سوال کرنے کے لیے؟ تعین، اور تعین کے بارے میں سوال یہ کیا ہے؟ طلبِ تصور ہے یا طلبِ تصدیق؟ طلبِ تصور۔ تو ”أَمْ“ بتلا رہا ہے کہ یہاں طلبِ تصور ہے، اور ”هَلْ“ کس لیے آتا ہے؟ طلبِ تصدیق کے لیے مولانا۔ تو یہ دونوں میں کیا آ گیا؟ تناقض آ گیا، لہٰذا یہ ترکیب جائز نہیں۔ اسی لیے انہوں نے کہا ”امْتَنَعَ“، جائز ہی نہیں ہے، ممکن ممتنع ہے یہ ترکیب۔ ”لِأَنَّ وُقُوعَ الْمُفْرَدِ هَاهُنَا“، اس لیے کہ مفرد کا واقع ہونا یہاں پر، کہاں بھئی؟ ”أَمْ“ کے بعد، ”دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ أَمْ مُتَّصِلَةٌ“، یہ دلیل ہے اس پر کہ ”أَمْ“ متصلہ ہے، ”وَهِيَ لِطَلَبِ تَعْيِينِ أَحَدِ الْأَمْرَيْنِ“، اور یہ کس لیے آتا ہے؟ دو کاموں میں سے کسی ایک کی تعین طلب کرنے کے لیے آتا ہے، ”مَعَ الْعِلْمِ بِثُبُوتِ أَصْلِ الْحُكْمِ“، ساتھ کس کے کہ علم ہو اصلِ حکم کے ثبوت کا۔ اصلِ حکم کے ثبوت کا علم ہوتا ہے، آپ نے کہا: ”أَزَيْدٌ قَامَ أَمْ عَمْرٌو؟“، معلوم ہوا اتنا پتہ ہے قیام ہو چکا ہے۔ کیا ہے؟ ہاں تو یہ ہے اصلِ حکم کا ثبوت آپ کو معلوم ہے۔ ”وَهَلْ إِنَّمَا يَكُونُ لِطَلَبِ الْحُكْمِ“، اور ”هَلْ“ تو کس لیے آتا ہے؟ طلبِ تصدیق، ”لِطَلَبِ الْحُكْمِ“ یعنی طلبِ تصدیق کے لیے آتا ہے، تو دونوں میں تناقض ہے لہٰذا یہ ترکیب جائز نہیں۔ ”وَلَوْ قُلْتَ“، اگر آپ یوں کہتے: ”هَلْ زَيْدٌ قَامَ؟“، ”بِدُونِ أَمْ عَمْرٍو“، ”أَمْ عَمْرٍو“ کے بغیر صرف یہ کہتے، ”فَيَقْبُحُ“، اس صورت میں قبیح تو ہوتا، ”وَلَا يَمْتَنِعُ“، لیکن ممتنع نہ ہوتا۔ ”لِمَا“، کس وجہ سے؟ اس وجہ سے، ”لِمَا سَيَجِيءُ“، جو کہ آگے آ رہی ہے۔ وہ خود یہ ذکر کر رہے ہیں: ”وَلِهَذَا أَيْضًا قَبُحَ هَلْ زَيْدًا ضَرَبْتَ“، اور اسی وجہ سے قبیح ہے ”هَلْ زَيْدًا ضَرَبْتَ؟“، ”لِأَنَّ التَّقْدِيمَ يَسْتَدْعِي حُصُولَ التَّصْدِيقِ بِنَفْسِ الْفِعْلِ“، اس لیے کہ تقدیم تقاضا کرتی ہے کہ نفسِ فعل کی تصدیق آپ کو حاصل ہو چکی ہے، تقدیم بھئی دیکھا آپ نے کیا کہا: ”هَلْ زَيْدًا ضَرَبْتَ؟“، اور تقديم ما حقه التاخير يفيد الحصر، معلوم ہوا تخصیص ہے، اور تخصیص وہاں آتی ہے جہاں نفسِ فعل کا پتہ ہو، صرف تعین کا پتہ نہیں کہ کس کے ساتھ متعلق ہے۔ مخاطب اگر شرکت کا قائل ہے یا عکس کا قائل ہوگا یا اس کو تردد ہو، البتہ نفسِ فعل کا اس کو پتہ ہوگا۔ ”فَيَكُونُ هَلْ لِطَلَبِ حُصُولِ الْحَاصِلِ“، تو اس صورت میں طلب کس لیے آئے گا؟ بھئی تخصیص نے بتایا کہ نفسِ فعل آپ کو حاصل تخصیص نے کیا بتایا آپ کو؟ نفسِ فعل آپ کو پہلے سے حاصل ہے، اور تو اب ”هَلْ“ آ رہا ہے تصدیق ہی کے لیے، تو یہ تو کیا آ رہا ہے؟ تحصیلِ حاصل جو جائز نہیں۔ ”وَهُوَ مُحَالٌ“، یہ محال ہے مولانا۔ ”وَإِنَّمَا لَمْ يَمْتَنِعْ“، بھئی محال کیوں کہتے ہو؟ یہ تو ممتنع کہو۔ خود وجہ ذکر کر رہے ہیں، میں نے پہلے ہی بتا دی تھی آپ کو: ”وَإِنَّمَا لَمْ يَمْتَنِعْ“، یہ ترکیب ممتنع نہیں، ”لِاحْتِمَالِ أَنْ يَكُونَ زَيْدًا مَفْعُولَ فِعْلٍ مَحْذُوفٍ“، اس لیے کہ ممکن ہے کہ ”زَيْدًا“ مفعول ہو فعلِ محذوف کا۔ دیکھو یہ عبارت دوبارہ دیکھو متن میں: ”هَلْ زَيْدًا ضَرَبْتَ؟“، یہاں پر تخصیص کے علاوہ ہو سکتا ہے ”زَيْدًا“ یہاں تقدیم ہو ہی نہ، تقدیم کس طرح؟ آپ یہ نہ کہیں کہ یہ ”زَيْدًا ضَرَبْتَ“ کا مفعول ہے بلکہ ”زَيْدًا“ سے پہلے ایک اور ”ضَرَبْتَ“ نکال لیں۔ ”زَيْدًا“ سے پہلے اب تقدیم ہے؟ جب تقدیم نہیں تو اب حصولِ تصدیق ہے یہاں پر؟ پہلے سے تصدیق بھی نہیں، نفسِ فعل معلوم بھی نہیں کیونکہ نفسِ فعل تو وہاں معلوم ہوتا تھا جہاں تخصیص ہو۔ تو لہٰذا یہ بھی امکان تھا۔ ”أَوْ يَكُونُ التَّقْدِيمُ لَا لِلتَّخْصِيصِ“، یا تقدیم دوسرا جواب مولانا کہ ”هَلْ زَيْدًا“، کیا کہا آپ نے؟ ”هَلْ زَيْدًا ضَرَبْتَ؟“، یہاں آپ نے تقدیم تو کی زید کی لیکن یہ ترکیب ممتنع نہیں، قبیح ہے۔ اس لیے کہ تقدیم ہمیشہ تخصیص کے لیے نہیں ہوتی، کبھی کسی اور تو ہو سکتا ہے یہاں کسی اور وجہ سے کی ہو تقدیم مولانا، تو اس صورت میں تخصیص نہیں، جب تخصیص نہیں تو نفسِ فعل آپ کو معلوم نہیں، دوسرے نفسِ فعل معلوم نہیں، اور جب نفسِ فعل نہیں معلوم تو اب آپ اس نفسِ فعل کو طلب کر رہے ہیں ”هَلْ“ کے ساتھ، یہ ہو جائے گا۔ ”لَكِنَّ ذَلِكَ خِلَافُ الظَّاهِرِ“، لیکن یہ کیا ہے مولانا؟ ظاہر کے خلاف ہے۔ یہ جو دو وجہیں ہم نے احتمال ذکر کیے کہ ہو سکتا ہے زید سے پہلے ایک اور فعل محذوف ہو یا ہو سکتا ہے زید کو مقدم تخصیص کے لیے نہ کیا ہو کسی اور وجہ سے، یہ دونوں وجہیں خلافِ ظاہر ہیں۔ اس لیے کہ پہلے آپ نے کیا کہا کہ ہو سکتا ہے زید کے اس ”ضَرَبْتَ“ کا مفعول نہ ہو بلکہ زید سے پہلے ایک اور ”ضَرَبْتَ“، یہ مولانا ظاہر اس کیونکہ آپ ایک فعل ظاہر ہے، موجود ہے عبارت میں، آپ اس کو عمل سے روک رہے ہیں، وہ کسی اور ضمیر وغیرہ میں بھی مشغول نہیں، تو یہ مولانا بعید ہے یہ بات کہ اس کے لیے فعل نکالیں۔ اسی طرح آپ کہتے ہیں کہ تقدیم ہو سکتا ہے تخصیص کے لیے نہ ہو، کسی کسی اور وجہ سے ہو، کہتے ہیں لیکن مفعول میں غالب تقدیم کس لیے ہوتی ہے؟ تخصیص کے لیے ہوتی ہے، تو پھر ظاہر کے خلاف ہے، عموماً وہ اسی کے لیے کیا جاتا ہے تخصیص کے لیے۔ ”دُونَ هَلْ زَيْدًا ضَرَبْتَهُ“، یہ ترکیب قبیح نہیں ہے مولانا۔ کیا کہا انہوں نے؟ ”قَبُحَ هَلْ زَيْدًا ضَرَبْتَ“، یہ قبیح ہے، ”دُونَ هَلْ زَيْدًا ضَرَبْتَهُ“، یہ ترکیب قبیح نہیں ہے۔ کیونکہ یہاں پہ دیکھا آپ آپ دیکھیں، ”ضَرَبْتَهُ“ فعل ہے مولانا اور یہ کس کے اندر مشغول ہے؟ ”ہُ“ ضمیر میں، اور یہ ایک ہی مفعول چاہتا تھا۔ اب یہ ما قبل کے ”زَيْدًا“ میں عمل کر سکتا ہے؟ نہیں کر سکتا۔ تو اس کے لیے یقیناً ہمیں عامل کو کیا کرنا پڑے گا؟ مقدر نکالنا پڑے گا۔ اور مقدر کے اندر پھر امکان تھا، اگر پہلے نکال لیں تو پھر زید سے پہلے نکال لیں تو پھر تخصیص نہیں، زید کے بعد نکال لیں تو پھر تخصیص ہے۔ ”فَإِنَّهُ لَا يَقْبُحُ“، اس لیے کہ یہ ترکیب قبیح نہیں ہے، ”لِجَوَازِ تَقْدِيرِ الْمُفَسِّرِ قَبْلَ زَيْدًا“، اس لیے کہ ہو سکتا ہے کہ مفسر مقدر ہو زید سے پہلے۔ تو ترکیب کیسے ہوگی؟ ”هَلْ ضَرَبْتَ زَيْدًا ضَرَبْتَهُ“، تو زید مقدم ہوا ”ضَرَبْتَ“ پر؟ جی؟ جب مقدم نہیں ہوا تو تخصیص آئی؟ جب تخصیص نہیں آئی تو نفسِ فعل آپ کو معلوم ہے؟ جب نفسِ فعل آپ کو نہیں معلوم تو ”هَلْ“ کے ساتھ آپ کو ”هَلْ“ کے ساتھ آپ کیا کر سکتے ہیں؟ سوال کر سکتے ہیں۔ ”أَيْ هَلْ ضَرَبْتَ زَيْدًا“، یاد رکھیں مولانا صرف جواز نہیں کافی، جواز تو ”هَلْ عَمْرًا“، پچھلی ترکیب دیکھو: ”هَلْ زَيْدًا ضَرَبْتُ“، اس کے اندر بھی جواز تھا یا نہیں؟ جی، جواز تو وہاں بھی نکل رہا تھا کہ تخصیص نہ ہو، ہو سکتا ہے۔ تو صرف جواز نہیں کافی، جواز کے باوجود انہوں نے قبیح قرار دیا۔ اس جواز کا راجح ہونا بھی ضروری ہے، اس جواز کا راجح ہونا بھی ضروری۔ اور جب زید کو مقدم کیا تو راجح کیا ہے؟ یہ کس لیے ہوتا ہے عموماً؟ تخصیص کے لیے، اس لیے قبیح ہے۔ اور یہاں پر مولانا مفسر کو پہلے نکالنا یہ راجح ہے۔ مفسر کو بھئی ترکیب دیکھو: ”هَلْ زَيْدًا ضَرَبْتَهُ“، عبارت نظر آ رہی ہے؟ تو ”ضَرَبْتُ“ زید سے پہلے بھی نکال سکتے ہیں بعد میں بھی، جائز ہے دونوں طرح، لیکن پہلے نکالنا یہ راجح ہے۔ کیوں؟ کیونکہ ”ضَرَبَ“ فعل ہے، وہ عامل ہے، ”زَيْدًا“ مفعول ہے، اور اصل کیا ہے؟ پہلے عامل کو آنا چاہیے یا معمول کو؟ عامل کو، تو لہٰذا یہاں راجح بھی ہے، صرف جواز ہی نہیں بلکہ جوازِ راجح ہے۔ ”أَيْ هَلْ ضَرَبْتَ زَيْدًا ضَرَبْتَهُ، وَجَعَلَ السَّكَّاكِيُّ قُبْحَ هَلْ رَجُلٌ عَرَفَ لِذَلِكَ“، اور اسی وجہ سے علامہ سکاکی نے قبیح قرار دیا ہے اس جملے کو: ”هَلْ رَجُلٌ“، ”هَلْ رَجُلٌ عَرَفَ؟“ کو بھئی۔ توجہ سے بھئی، ابھی جو سبق گزرا ہے سارا وہی چل رہا ہے دوبارہ، توجہ سے آپ بیٹھیں گے تو ذرا جلدی ہو جائے گا۔ ”هَلْ رَجُلٌ عَرَفَ؟“، علامہ سکاکی نے اس ترکیب کو بھی قبیح قرار دیا، وہی وجہ، کیوں؟ کیونکہ ”رَجُلٌ“ ”عَرَفَ“ پر مقدم ہے اور تقدیم کس چیز کا تقاضا کرتی ہے؟ تخصیص کا، اور تخصیص وہاں ہوتی ہے جہاں پر نفسِ فعل پہلے سے معلوم ہو۔ جب نفسِ فعل آپ کو پہلے سے معلوم ہے تو مولانا ”هَلْ“ کے ساتھ سوال نہیں کر سکتے۔ ”لِذَلِكَ“، اسی وجہ سے، ”لِأَنَّ التَّقْدِيمَ يَسْتَدْعِي“، اس لیے کہ تقدیم تقاضا کرتی ہے، ”حُصُولَ التَّصْدِيقِ بِنَفْسِ الْفِعْلِ“، کہ حصول ہو نفسِ فعل کی تصدیق کا کیا ہو؟ حصول ہو چکا ہے۔ ”لِمَا سَبَقَ“، اسی وجہ سے جو گزر گئی، ”مِنْ مَذْهَبِهِ“، علامہ سکاکی کے مذہب میں سے، ”مِنْ أَنَّ الْأَصْلَ“، کہ اصل کے اندر یہ کیا تھا مولانا؟ ”عَرَفَ رَجُلٌ“، مؤخر تھا۔ ”عَلَى أَنَّ رَجُلًا بَدَلٌ مِنَ الضَّمِيرِ فِي عَرَفَ“، بنا بر اس کے کہ ”رَجُلًا“ کیا تھا؟ بدل تھا، کس سے؟ ”عَرَفَ“ کی ضمیر سے، تو یہ فاعلِ معنوی تھا، تو اس کو مقدم کر دیا۔ ”قُدِّمَ لِلتَّخْصِيصِ“، پھر اس کو مقدم کر دیا گیا کس لیے؟ تخصیص کے لیے۔ اس علامہ سکاکی پر لازم آتا ہے یعنی اعتراض پڑتا ہے: ”يَلْزَمُهُ أَيْ السَّكَّاكِيَّ أَنْ لَا يَقْبُحَ هَلْ زَيْدٌ عَرَفَ“، کہ یہ ترکیب تو پھر قبیح نہیں ہونی چاہیے۔ اے علامہ سکاکی آپ نے کیا فرمایا کہ ”هَلْ رَجُلٌ“ کیا ہے؟ ”هَلْ رَجُلٌ عَرَفَ“ کیا ہے؟ قبیح ہے، کیونکہ ”رَجُلٌ“ اصل میں مؤخر تھا اس کو ہم نے کیا کر دیا؟ مقدم کر دیا۔ لیکن ”هَلْ زَيْدٌ عَرَفَ؟“، آپ کی ترکیب کے کہنے کے مطابق یہاں زید کو بھئی لمبی بحث وہاں گزری تھی۔ علامہ سکاکی نے کہا تھا کہ ”رَجُلٌ“ کو مؤخر فرض کرنا ضروری، کیونکہ اگر ہم مؤخر فرض نہیں کریں گے تو یہ مبتدا بن رہا ہے اور نکرہ مبتدا نہیں بنتا۔ تو ہم نے اس میں تخصیص پیدا کرنی ہے کیونکہ تخصیص کے بعد کوئی نکرہ بھی کیا بن جاتا ہے؟ تو ہم پہلے اس کو مؤخر فرض کرتے ہیں اور پھر اس کو مقدم کرتے ہیں، اور تقديم ما حقه التاخير سے کیا ا جاتا ہے؟ تخصیص آ جاتی ہے، اور تخصیص کے بعد اب یہ ”رَجُلٌ“ کیا بن سکتا ہے؟ مبتدا۔ تو وہاں آپ نے ”رَجُلٌ“ کو مبتدا بنانے کے لیے اتنی لمبی بات کی تھی، لیکن ”زَيْدٌ“ تو خود معرفہ ہے، اس میں اتنا لمبا چکر چلانے کی ضرورت تو وہ اس میں خود صلاحیت ہے مبتدا بن جائے، خود مبتدا بن جائے۔ تو لہٰذا آپ کے کہنے کے مطابق ”هَلْ رَجُلٌ عَرَفَ“ قبیح ہے، تو معلوم ہوا ”هَلْ زَيْدٌ عَرَفَ“ قبیح نہیں، حالانکہ بالاجماع سارے نحوی کہتے ہیں یہ بھی قبیح ہے، یہ بھی کیا ہے؟ قبیح ہے، ابھی پیچھے بات گزر گئی تھی بھئی۔ ”لِأَنَّ تَقْدِيمَ الْمُظْهَرِ الْمَعْرِفَةِ لَيْسَ لِلتَّخْصِيصِ“، اس لیے کہ مقدم کرنا اسمِ ظاہر کو، ایسا اسمِ ظاہر جو معرفہ ہو، ”لَيْسَ لِلتَّخْصِيصِ“، یہ تخصیص کے لیے نہیں ہوتا، ”عِنْدَهُ“، علامہ سکاکی کے نزدیک، ”حَتَّى يَسْتَدْعِيَ حُصُولَ التَّصْدِيقِ بِنَفْسِ الْفِعْلِ“، یہاں تک کہ یہ پھر تقاضا کرے کہ تصدیق بنفسِ الفعل حاصل ہو چکی ہے۔ نفسِ فعل کی تصدیق حاصل ہو چکی۔ بھئی ”زَيْدٌ عَرَفَ“، یہ تخصیص کا تقاضا کر رہا ہے کہ یہ پہلے مؤخر تھا پھر مقدم ہوا؟ نہیں، زید تو خود بخود معرفہ ہے، یہ کیا بن سکتا ہے؟ تو یہاں وہ تاخیر، تقدیم کا مسئلہ ہی نہیں۔ جب تاخیر اور تقدیم کا مسئلہ نہیں تو یہاں پر تخصیص نہیں، تو جب تخصیص نہیں تو نفسِ فعل بھی معلوم نہیں ہے۔ تو جب نفسِ فعل نہیں معلوم تو ”هَلْ“ کے ساتھ سوال ہونا چاہیے، ”هَلْ“ کے ساتھ سوال ہونا چاہیے۔ ”مَعَ أَنَّهُ قَبِيحٌ بِإِجْمَاعِ النُّحَاةِ“، باوجود اس کے کہ بالاجماع نحویوں کے نزدیک یہ کیا ہے؟ قبیح ہے۔ ”وَفِيهِ نَظَرٌ“ بھئی، یہ جو اشکال اے علامہ اے صاحبِ تلخیص، آپ نے علامہ سکاکی پر اشکال کیا۔ صاحبِ تلخیص نے کیا فرمایا کہ علامہ سکاکی ”هَلْ رَجُلٌ عَرَفَ“ کو اسی وجہ سے قبیح سمجھتے ہیں لیکن ان پر اشکال پڑتا ہے کہ پھر تو ”هَلْ زَيْدٌ عَرَفَ“ کو قبیح نہیں ہونا چاہیے۔ تو علامہ تفتازانی کہتے ہیں آپ کا یہ اعتراض درست نہیں۔ کیوں؟ ”لِأَنَّ مَا ذَكَرَهُ مِنَ اللُّزُومِ مَمْنُوعٌ“، اس لیے کہ وہ جو ذکر کیا مصنف نے ”مِنَ اللُّزُومِ“، یہ بیان ہے، یعنی کہ وہ لزوم یعنی وہ اعتراض ”مَمْنُوعٌ“، وہ کیا ہے؟ ممنوع، وہ اعتراض نہیں ہو سکتا۔ ”لِجَوَازِ أَنْ يَقْبُحَ لِعِلَّةٍ أُخْرَى“، کیونکہ ہو سکتا ہے علامہ سکاکی کے نزدیک یہ ”هَلْ زَيْدٌ عَرَفَ“ قبیح تو ہو لیکن اس تقدیم و تاخیر کی وجہ سے قبیح اس کی کوئی اور وجہ ہو۔ تو آپ کے کہنے سے لازم آیا کہ بھئی ”هَلْ زَيْدٌ عَرَفَ“ میں تقدیم ہے، تقدیم و تاخیر؟ تقدیم و تاخیر کا عمل ہوا ہے؟ جب تقدیم و تاخیر کا عمل نہیں ہوا تو اس میں قباحت نہیں ہونی چاہیے، حالانکہ بالاجماع نحوی کیا کہتے ہیں اس میں قباحت ہے۔ تو علامہ تفتازانی فرما رہے ہیں بھئی کہ اس میں علامہ سکاکی کے نزدیک ٹھیک ہے تقدیم و تاخیر نہیں، لیکن تقدیم و تاخیر نہ ہونے کے باوجود یہ ضروری تو نہیں کہ اس کے اندر پھر بھی قباحت نہ ہو، قباحت کے کئی اسباب ہیں۔ ہو سکتا ہے یہ والا سبب نہیں ہے تو کوئی اور سبب یہاں پر موجود ہو اور اس کی وجہ سے علامہ سکاکی کیا کہتے ہوں؟ یہ قبیح ہے، یہ کیا ہے؟ قبیح ہے۔ تو علامہ سکاکی نے کب انکار کیا ہے، ان کے نزدیک ہو سکتا ہے اس میں کوئی اور سبب پایا جائے قباحت کا۔ تو ایک علت کے انتفاء سے، نفی کرنے سے ساری علتوں کی نفی نہیں ہوتی۔ آپ کا یہ کہنا کہ سورج نہیں تو روشنی بھی نہیں، یہ نہیں صحیح، بلکہ ہو سکتا ہے روشنی کس کی وجہ سے ہو؟ فلک کی وجہ سے ہو۔ MP3 + 4 ”وَعَلَّلَ غَيْرُهُ“، اور دیکھا، اور وجہ بھی ہو سکتی ہے، آگے خود بعض بیان بھی کرتے ہیں۔ ”وَعَلَّلَ غَيْرُهُ“، اور علت بیان کی ہے غیروں نے، ”أَيْ غَيْرُ السَّكَّاكِيِّ“، علامہ سکاکی کے علاوہ نے، ”قُبْحَهُمَا“، ان دونوں کے قبیح ہونے کی، کن دونوں کے؟ ضمیر کا مرجع بتلایا: ”هَلْ رَجُلٌ عَرَفَ وَهَلْ زَيْدٌ عَرَفَ“، ان کی قبیح ہونے کی وجہ کیا بیان کی؟ ”بِأَنَّ هَلْ بِمَعْنَى قَدْ“، کہ ”هَلْ“ کس کے معنی میں ہے؟ ”فِي الْأَصْلِ“، اصل میں۔ کہتے ہیں یاد رکھو، یہ جو ”هَلْ“ آپ استفہام کے لیے لاتے ہیں، یہ اصل میں استفہام کے لیے نہیں ہے بلکہ کس لیے ہے؟ ”قَدْ“ کے معنی میں ہے۔ ”وَأَصْلُهُ أَأَهَلْ“، اصل میں کیا تھا؟ ”أَهَلْ“۔ ”هَلْ“ تو ”قَدْ“ کے معنی میں تھا، اس کے ساتھ ہمزہ استفہام بھی ملا ہوا تھا۔ ”وَتُرِكَتِ الْهَمْزَةُ قَبْلَهَا لِكَثْرَةِ وُقُوعِهَا فِي الِاسْتِفْهَامِ“، اور پھر اس ہمزہ کو ترک کر دیا گیا، اس کو حذف کر دیا گیا، حذف کر دیا گیا۔ کیوں؟ کیونکہ اس سے پہلے کیا تھی؟ اس سے پہلے جو ہمزہ تھا اس کو ترک کر دیا گیا کیونکہ استفہام میں یہ ”هَلْ“ بڑی کثرت سے استعمال ہوتا ہے۔ استفہام میں یہ ”هَلْ“ کیا ہے؟ معلوم ہوا ”هَلْ“ غیر استفہام میں بھی استعمال ہوتا ہے، جیسے قرآن میں آتا ہے مولانا: ”هَلْ أَتَىٰ عَلَى الْإِنسَانِ حِينٌ مِّنَ الدَّهْرِ“، یہ ”هَلْ“ سوال کے لیے نہیں ہے بلکہ بمعنی ”قَدْ“ کے ہے، کس کے معنی میں ہے؟ ”قَدْ“ کے معنی میں ہے۔ اچھا کیا بات ہوئی یہاں سے؟ کہ ”هَلْ“ اصل میں کس معنی میں ہے؟ اور اس میں استفہام کہاں سے آیا؟ کہ اس کے ساتھ ہمزہ ایک تھا، اصل میں کیا تھا؟ ”أَهَلْ“۔ اس ہمزہ کو ہم نے گرا دیا لیکن اس کا معنی ابھی بھی ہے۔ ”فَأُقِيمَتْ هِيَ مَقَامَ الْهَمْزَةِ“، تو ”هَلْ“ کو ہم نے کس کا قائم مقام کر دیا؟ ہمزہ کا۔ ”وَتَطَفَّلَتْ عَلَيْهَا فِي الِاسْتِفْهَامِ“، تو ہم نے مولانا اصل میں کیا تھا؟ ادھر دیکھو بھئی: ”أَهَلْ“، ہم نے ہمزہ کو حذف کر دیا اور ”هَلْ“ کو اس کا قائم مقام کر دیا، اور یہ اس کا طفیلی بن گیا استفہام میں۔ ”تَطَفَّلَتْ“ کا کیا معنی؟ دوسرے پر انحصار کر لینا، بس اسی پر انحصار اس نے کر لیا کہ ہمزہ یہاں موجود ہے۔ جی، ہاں ”هَلْ“ طفیلی بن گیا کس کا؟ ہمزہ کا، اچھا تو ”هَلْ“ طفیلی بن گیا کس کا؟ ہمزہ کا، کس چیز میں؟ استفہام کے اندر، یعنی یہ بھی استفہام کا فائدہ دیتا ہے۔ طفیلی بننا، ”تَطَفَّلَتْ“ کا معنی طفیلی بننا۔ طفیلی کس کو کہتے ہیں؟ وہ شخص جو ولیمے کی دعوت میں بغیر پوچھے چلا جائے اس کو کیا کہتے ہیں؟ طفیلی کہتے ہیں۔ یہ طفیل سے ہے، عرب میں ایک شخص تھا طفیل بھئی، وہ کیا کرتا تھا ولیموں میں؟ ویسے ہی بھئی پہنچ جایا کرتا تھا، تو وہیں سے جو اور کوئی بھی ایسا کرتا تو کیا کہتے؟ یہ تو طفیلی ہے، یعنی منسوب الی الطفیل، طفیل جیسا۔ سمجھ میں آیا؟ اچھا تو ”وَقَدْ مِنْ خَوَاصِّ الْأَفْعَالِ“، اور ”قَدْ“ کس کے خواص میں سے ہے؟ ”قَدْ“ کس پر داخل ہوتا ہے ہمیشہ؟ فعل کی علامتوں میں آپ نے پڑھا ہے یا نہیں؟ کہ ”قَدْ“، تو یہ خواصِ فعل میں سے ہے، ”فَكَذَا مَا هِيَ بِمَعْنَاهُ“، تو اسی طرح وہ چیز جو اس کے معنی میں ہے وہ بھی کس کے ساتھ خاص ہو گئی؟ ”قَدْ“ خاص ہے، تو ”هَلْ“ بھی کس کے معنی میں؟ ”قَدْ“ کے معنی، تو ”هَلْ“ بھی کس کے ساتھ خاص ہوا؟ فعل کے ساتھ خاص ہوا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جیسے وہ عجیب شعر کسی نے کہا ہے بھئی: کہتے ہیں: شعر ندی میں بہہ گیا شعر ندی میں بہہ گیا، بہتے بہتے یہ کہہ گیا شعر، عجیب بڑا عجیب شعر ہے مولانا، حکمت سے بھرا ہوا: شعر ندی میں بہہ گیا، بہتے بہتے یہ کہہ گیا میں بہہ گیا، میں بہہ گیا، میں بہہ گیا۔ MP3 سمجھ میں آیا بھئی؟ تو دیکھو، ”قَدْ“ کس کے خاصے ہیں کس کے خواص میں سے ہے؟ فعل، تو ”قَدْ“ ہمیشہ فعل کے ساتھ آئے گا۔ اسی طرح ”هَلْ“ بھی ”قَدْ“ کے معنی میں ہے، تو یہ بھی کس کو چاہتا ہے؟ فعل کو چاہتا ہے۔ تو یوں کہو مولانا، ”هَلْ“ عاشق ہے کس کا؟ فعل کا، اور فعل اس کا معشوق ہے مولانا۔ اور ”هَلْ“ جو ہے یہ فعل سے جدا نہیں رہ سکتا، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اس کا جو علاقہ ہے، اس کے علاقے کے اندر فعل آ جائے تو یہ اس سے جدائی کو برداشت نہیں کر سکتا بلکہ کیا چاہتا ہے؟ اس کے ہمراہ رہنا چاہتا ہے۔ تو یہاں پر جو یہ ترکیبیں ذکر ہوئیں مولانا: ”هَلْ رَجُلٌ عَرَفَ“، تو دیکھو ”هَلْ“ داخل ہو رہا ہے اور ”هَلْ“ کے علاقے کے اندر کون آ گیا ہے؟ ”عَرَفَ“ فعل آ چکا ہے، اور جب ”عَرَفَ“ فعل آیا وہ تو معشوق ہے ”هَلْ“ کا، اور ”هَلْ“ جب اس کو دیکھ لیتا ہے تو اس کے بغیر رہتا نہیں۔ تو جب اس کے بغیر رہتا نہیں تو اس لیے یہ ترکیب کیا ہے؟ قبیح ہے، جب فعل موجود ہے جملے کے اندر تو اس پر ”هَلْ“ کو داخل کرنا چاہیے تھا۔ اسی طرح ”هَلْ زَيْدٌ عَرَفَ“، یہاں پر بھی دیکھو بھئی، ”هَلْ“ ہے اور ”هَلْ“ کے علاقے میں کون ہے؟ فعل ہے، اور ”هَلْ“ عاشق ہے اپنے معشوق کے بغیر رہ نہیں سکتا۔ اس لیے یہ ترکیب قبیح ہے کہ یہ تو خاصہ ہے فعل کا، فعل کے ہوتے ہوئے آپ اس کو اسم پر داخل کر رہے ہیں اور یہ درست نہیں۔ اچھا، اس پر اشکال ہوا: ”هَلْ زَيْدٌ قَائِمٌ؟“، یہ ترکیب بھی تو پھر صحیح نہیں۔ اشکال ہوا، آپ نے کیا کہا: ”هَلْ“ خاصہ ہے کس کا؟ فعل کا، تو اس کو فعل پر ہی داخل ہونا چاہیے، لہٰذا ”هَلْ زَيْدٌ قَائِمٌ“ کی ترکیب بھی صحیح نہیں۔ کہتے ہیں ہاں وہ ٹھیک ہے مولانا، لیکن اس ”هَلْ“ بیچارے کا حافظہ ہے کمزور تھوڑا سا، تو اپنے علاقے میں جب یہ فعل کو دیکھ لیتا ہے پھر اس سے رہا نہیں جاتا، اس کو پرانی جو ہیں پرانے عہد و پیمان اس کو یاد آنے لگتے ہیں، پرانی وفاؤں کی باتیں اور وعدے اور گلے اور شکوے سب یاد آتے ہیں، یہ پھر اس جستجو کرتا ہے اس تک پہنچنے کی۔ لیکن جب اس کے علاقے کے اندر فعل موجود نہیں ہوتا تو یہ بھی بھول جاتا ہے اس کو، اور اس سے کیا ہو جاتا ہے؟ لاعلم اور بے خبر ہو جاتا ہے۔ تو یہاں پر ”هَلْ زَيْدٌ قَائِمٌ“ کے اندر فعل موجود ہی نہیں ہے عبارت میں تو یہ بھی اس کو بھول گیا ہے، اور اب لہٰذا اسم کے ساتھ بھی استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ”وَإِنَّمَا لَمْ يَقْبُحْ“، اور قبیح نہیں ہے ”هَلْ زَيْدٌ قَائِمٌ“ قبیح نہیں ہے، ”لِأَنَّهَا إِذَا لَمْ تَرَ الْفِعْلَ فِي حَيِّزِهَا“، اس لیے کہ جب مولانا کون ہے بھئی کون؟ ”هَلْ“ نہیں دیکھتا فعل کو۔ دیکھو بھئی عبارت پہ: اس لیے کہ جب ”هَلْ“ نہیں دیکھتا فعل کو ”فِي حَيِّزِهَا“، اپنے حیز کہتے ہیں مکان، جگہ، اپنے علاقے کے اندر، ”ذَهَلَتْ عَنْهُ“، تو اس سے غافل ہو جاتا ہے، ”وَنَسِيَتْهُ“، اور اس کو کیا کرتا ہے؟ بھول جاتا ہے، ”بِخِلَافِ مَا إِذَا رَأَتْهُ“، بخلاف اس کے کہ جب اس کو دیکھ لیتا ہے، ”فَإِنَّهَا تَذَكَّرَتِ الْعُهُودَ“، تو اس کو یہ یاد کرتا ہے قدیم عہد و پیمان کو، عہد کی جمع ہے عہود مولانا، عہد کہتے ہیں وفا، عہد و پیمان، زمانہ۔ تو وہ عہد و پیمان کو یاد کرنے لگتا ہے، ”وَحَنَّتْ“ یا ”حَنَتْ“ دونوں طرح صحیح ہے، ”حَنَتْ“ ہو تو معنی مائل ہونا، ”حَنَّتْ“ ہو تو مشتاق ہونا، ”وَحَنَّتْ إِلَى الْإِلْفِ الْمَأْلُوفِ“۔ ”إِلْف“ اور ”مَأْلُوف“ کا ایک معنی ہے، ”إِلْف“ اور ”مَأْلُوف“ کا ایک معنی ہے۔ تو ”إِلْف“ کا معنی ہے مانوس، ”مَأْلُوف“ کا معنی بھی ہے مانوس، تو یہ تاکید کے طور پر لائے ہیں۔ ”وَحَنَّتْ إِلَى الْإِلْفِ الْمَأْلُوفِ“، تو جب یہ اس کو اپنے علاقے میں دیکھتا ہے تو اس کو وہ عہد و پیمان یاد آتے ہیں، ”وَحَنَّتْ إِلَى الْإِلْفِ الْمَأْلُوفِ“، اور یہ مشتاق ہو جاتا ہے اس مانوس کی طرف، ”فَلَمْ تَرْضَ بِافْتِرَاقِ الِاسْمِ بَيْنَهُمَا“، تو لہٰذا یہ راضی نہیں ہوتا کہ اسم ان دونوں میں کیا کر دے؟ جدائی ڈال دے۔ هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔