درس نمبر۔56 الباب السابع في الوصل والفصل. الوصل عطف جملة على أخرى والفصل تركه. والكلام ها هنا قاصر على العطف بالواو لأن العطف بغيرها لا يقع فيه اشتباه. ولكل من الوصل بها والفصل مواضع. الباب السابع في الوصل والفصل: ساتواں باب ہے وصل اور فصل کے بیان میں۔ علم المعانی آپ نے پڑھا تھا، آٹھ ابواب اور ایک خاتمے پر مشتمل ہے۔ چھ ابواب گزر گئے، آج ہم ساتواں باب پڑھیں گے بھئی، اور اس میں وصل اور فصل کا بیان ہوگا بھئی۔ یاد رکھیے! وصل سے یہاں مراد ہے عطف بھئی، اور فصل سے مراد ہے ترکِ عطف، عطف کو چھوڑ دینا۔ تو وصل کا کیا وصل سے کیا مراد ہے؟ عطف بھئی، عطف۔ مثلاً جیسے آپ مفرد میں عطف کرتے ہیں: جاءني زيد وعمرو، تو آپ نے عمرو کا عطف کیا کس پر؟ زید پر۔ اسی طرح جملے کے اندر بھی بعض اوقات وصل کیا جاتا ہے یعنی عطف کیا جاتا ہے اور بعض اوقات عطف کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔ تو یہاں پر جملے کا جو جملے پر عطف ہو یا اس کو چھوڑ دیا جائے، اس کے بارے میں بحث کریں گے، مفرد کے بارے میں نہیں بھئی۔ تو وصل سے کیا مراد ہوا؟ ایک جملے کا عطف دوسرے جملے پر۔ اور فصل سے کیا مراد ہوا؟ ترکِ عطف، عطف کو چھوڑ دینا، عطف نہ کرنا۔ مثلاً دو جملے ہیں: جاءني زيد، اور دوسرا جملہ ہے: ذهب عمرو۔ تو ایک صورت یہ ہے کہ آپ درمیان میں کوئی حرفِ عطف لاتے ہیں، ایک جملے کا دوسرے جملے پر عطف کر دیتے ہیں، مثلاً یوں کہتے ہیں: جاءني زيد وذهب عمرو، تو آپ نے کیا کیا؟ عطف کیا، ذہب عمرو جو دوسرا جملہ ہے اس کا عطف کیا پہلے جملے پر۔ یہ ہے وصل۔ اور بعض اوقات اس وصل کو یا عطف کو آپ چھوڑ دیتے ہیں، واؤ درمیان میں نہیں لاتے، مثلاً یوں کہتے ہیں: جاء زيد، ذهب عمرو، تو درمیان میں حرفِ عطف کو ذکر نہیں کیا، یہ ہے ترکِ عطف یا یوں کہیں یہ ہے فصل بھئی، یہ کیا ہے؟ فصل ہے۔ تو وصل کا معنی ہے ملانا، فصل کا معنی ہے جدا کرنا۔ تو جب آپ نے عطف کیا تو دونوں کو ملا دیا بھئی، دونوں کو کیا کیا؟ ملا دیا اور ان میں ربط دے دیا۔ اور جب آپ نے فصل کیا یعنی واؤ وغیرہ درمیان میں ذکر نہیں کیا تو آپ نے دونوں جملوں کو ایک دوسرے سے جدا کر دیا، فصل کر دیا، ان میں کوئی ربط نہیں دیا بھئی، اپس میں ان کا تعلق نہیں بنایا بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو کہتے ہیں: "الوصل عطف جملة على أخرى"، وصل جو ہے وہ عطف کرنا ہے ایک جملے کا علی اخریٰ دوسرے پر، "والفصل تركه"، اور فصل جو ہے عطف کو چھوڑ دینا ہے۔ "والكلام ها هنا قاصر على العطف بالواو"، اور کلام یہاں پر قاصر ہے، قصر کا کیا معنی تھا؟ بند کرنا، حصر، قصر اور تخصیص۔ تو کلام یہاں پر قاصرٌ، بند ہے علی العطف بالواو، واؤ کے ساتھ عطف پر، یعنی یہاں پر ہم صرف واؤ کے ذریعے جو عطف ہوتا ہے ایک جملے کا دوسرے جملے پر یا اس کو ترک کیا جاتا ہے، صرف اس کے بارے میں ہم کلام کریں گے، باقی حروفِ عاطفہ جو ہیں ان کے بارے میں ہم بحث نہیں کریں گے بھئی۔ تو یہاں پر صرف کس کے بارے میں بحث ہوگی؟ واؤ کے ذریعے عطف کرنے کے بارے میں۔ تو کہتے ہیں: "والكلام ها هنا قاصر على العطف بالواو"، اور کلام یہاں پر بند ہے واؤ کے ساتھ عطف کرنے پر یعنی صرف اسی کے بارے میں بات کریں گے۔ "لأن العطف بغيرها لا يقع فيه اشتباه"، اس لیے کیونکہ وہ عطف بغیرہا جو واؤ کے بغیر ہو یعنی واؤ کے علاوہ کسی اور حرف کے ساتھ کیا جائے، "لا يقع فيه اشتباه"، اس میں کسی قسم کا کوئی اشتباہ نہیں ہوتا۔ ان میں کسی قسم کا اشتباہ نہیں ہوتا، اس لیے کیونکہ ان حروف کے اور بھی معانی آتے ہیں بھئی۔ بھئی واؤ تو یہاں فائدہ دے گا اشتراک کا، کس چیز کا فائدہ دے گا؟ اشتراک کا فائدہ دے گا کہ مثلاً آپ نے کہا: جاء زيد وذهب عمرو، اب دیکھیے اگر آپ بغیر واؤ کے کہیں: جاء زيد، ذهب عمرو، زید آیا، عمرو چلا گیا۔ اب درمیان میں ذرا واؤ لے آئیں: جاء زيد وذهب عمرو، زید آیا اور عمرو چلا گیا۔ تو واؤ نے صرف اشتراک کا فائدہ دیا کہ یہاں جیسے زید کے لیے آنا ثابت ہے، اسی طرح عمرو کے لیے جانا ثابت ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو صرف دونوں میں اشتراک پیدا کر دیا، تعلق پیدا کر دیا، ربط دے دیا دونوں میں۔ اور واؤ کا یہاں کوئی فائدہ نہیں۔ اور کوئی فائدہ نہیں۔ جبکہ دوسرے حروفِ عاطفہ وہ تو اور بھی فائدہ دیتے ہیں اشتراک کے ساتھ، جیسے مفرد میں تھا: جاءني زيد فعمرو، اب دیکھیے یہ مفرد کا مفرد پر عطف کیا جا رہا ہے، عمرو کا عطف کس پر ہے؟ زید، اور کس کے ذریعے ہے؟ فا کے، اور فا کس چیز کا فائدہ دیتی ہے؟ تعقیب مع الوصل کا، یعنی ایک چیز دوسری کے بعد ہے اور وصل، ملی ہوئی ہے یعنی اس کے فوراً بعد ہے، درمیان میں وقت وغیرہ نہیں ہے، تاخیر نہیں ہے۔ اور ثم آتا ہے تعقیب مع الفصل کے لیے کہ ایک چیز دوسری کے بعد ہے اور درمیان میں کچھ فصل ہے یعنی تاخیر ہے۔ مثلاً مفرد میں میں کہتا ہوں: جاءني زيد ثم عمرو، میرے پاس زید آیا پھر کون آیا؟ عمرو، یعنی اس کے کچھ دیر بعد عمرو آیا۔ تو دیکھیے فا، ثم وغیرہ اور حروف جو ہیں وہ اشتراک کے ساتھ ساتھ اور بھی فائدہ دیتے ہیں جیسے انہوں نے ترتیب کا فائدہ دیا۔ فا نے اور ثم نے کس چیز کا فائدہ دیا؟ ترتیب کا فائدہ دیا، جبکہ واؤ صرف جمع کرنے کا فائدہ دیتا ہے آپ نے پڑھا ہے: جاءني زيد وعمرو، تو اس جملے کا کیا مطلب ہے؟ کہ مجیئت جیسے زید کے لیے ثابت ہے، یعنی جیسے زید آیا ہے اسی طرح عمرو بھی آیا ہے، اور کوئی فائدہ نہیں دیا واؤ نے یہاں پر، صرف جمع کر دیا دونوں کو، صرف دونوں کو جمع کر دیا۔ تو اب جملے میں ہے زید پہلے اور عمرو بعد میں، لیکن ضروری نہیں کہ زید پہلے آیا ہو اور عمرو بعد میں، زید پہلے آیا ہو اور عمرو بعد میں آیا ہو تب بھی آپ کہہ سکتے ہیں: جاءني زيد وعمرو۔ عمرو پہلے آیا تھا اور زید اس کے بعد آیا تھا، پھر بھی آپ اسی طرح کہہ سکتے ہیں: جاءني زيد وعمرو۔ اور اگر دونوں اکٹھے آئے ہوں پھر بھی آپ کہہ سکتے ہیں: جاءني زيد وعمرو۔ اور نیز اگر الگ الگ آئے ہوں تو چاہے زید کے فوراً بعد عمرو آیا ہو یا زید کے کافی دیر بعد عمرو آیا ہو، یا عمرو پہلے ہے اور اس کے فوراً بعد زید آیا، یا عمرو کے بڑی دیر بعد زید آیا ہے، تمام صورتوں میں آپ یہ کہہ سکتے ہیں: جاءني زيد وعمرو، کیونکہ واؤ صرف کس چیز کا فائدہ دے رہا ہے؟ جمع کرنے کا فائدہ دے رہا ہے، اشتراک کا فائدہ دے رہا ہے کہ جیسے آنا زید کے لیے ثابت ہے، اسی طرح عمرو کے لیے بھی آنا ثابت ہے، چاہے زید دس سال پہلے آیا ہو، عمرو آپ کے پاس آج آیا ہے، پھر بھی آپ کہہ سکتے ہیں: جاءني زيد وعمرو، کیونکہ یہ صرف کیا بتلا رہا ہے کہ مجیئت جیسے زید کے لیے ثابت ہے، اسی طرح عمرو کے لیے بھی ثابت ہے، اور یہ فائدہ نہیں دے رہا، ترتیب وغیرہ کا فائدہ نہیں۔ جبکہ اور حروف جو ہیں وہ اپنا اور بھی فائدہ دیتے ہیں: جاءني زيد فعمرو، فا کے ساتھ آپ کہتے ہیں، تو اس نے یہ بھی بتلایا کہ زید بھی آیا ہے اور عمرو بھی آیا ہے، تو اس نے جمع کرنے یا اشتراک کا بھی فائدہ دیا اور ساتھ ساتھ ترتیب بھی بتلا دی کہ پہلے زید آیا ہے اور اس کے فوراً بعد عمرو آیا ہے بھئی۔ تو واؤ صرف جمعیت، جمع کا فائدہ دیتا ہے یا یوں کہیں اشتراک کا فائدہ دیتا ہے، جبکہ دوسرے حروف جمع کے ساتھ یا اشتراک کے ساتھ ساتھ اپنا اور بھی فائدہ دیتے ہیں، اپنا اور۔ تو لہٰذا یہاں پر صرف وہ واؤ کے بارے میں بحث کریں گے، اور مثالیں میں ویسے سمجھانے کے لیے مفرد کی ذکر کر رہا تھا، لیکن یہاں پر وہ بحث صرف کس کے بارے میں کریں گے؟ جملے کے بارے میں کہ ایک جملے کا دوسرے جملے پر واؤ کے ساتھ کہاں پر عطف کیا جائے گا اور کہاں پر عطف کو چھوڑ دیا جائے گا۔ جہاں عطف کیا جائے اس کو کہتے ہیں وصل، اور جہاں عطف کو چھوڑ دیا جائے اس کو کیا کہتے ہیں؟ فصل کہتے ہیں۔ اور کہتے ہیں یہاں پر عطف بالواو کے بارے میں ہی ہم بات کریں گے: "لأن العطف بغيرها"، اس لیے کیونکہ واؤ کے علاوہ کے ساتھ جو عطف ہے، "لا يقع فيه اشتباه"، اس میں کسی قسم کا اشتباہ نہیں، مثلاً بھئی میں فا کے ساتھ جملے کا جملے پر عطف کرتا ہوں: جاء زيد فذهب عمرو، تو دیکھو فا نے ترتیب بتلا دی کہ زید پہلے آیا اور پھر اس کے بعد عمرو چلا گیا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو باقی حروف جب استعمال کریں گے وہ اپنا فائدہ دیں گے، ان میں اشتباہ نہیں، لیکن واؤ، واؤ کے لانے میں اشتباہ ہے، واؤ کے لانے میں، کس طرح اشتباہ ہے؟ دیکھیے، میں کہتا ہوں: جاء زيد وذهب عمرو، کس کے ساتھ میں نے کہا؟ واؤ کے ساتھ: جاء زيد وذهب عمرو، کیا معنی ہے؟ زید معلوم ہوا جیسے زید کے لیے آنا ثابت ہے، اسی طرح عمرو کے لیے جانا ثابت ہے، یہ تو واؤ کے بغیر بھی یہی فائدہ ہو رہا ہے: جاء زيد، ذهب عمرو، وہی فائدہ ہے یا نہیں؟ اس میں بھی یہی پتہ چل رہا ہے، زید کے لیے آنا ثابت ہے تو عمرو کے لیے جانا ثابت ہے، تو واؤ لائیں یا نہ لائیں کوئی فرق نہیں پڑتا، یہ دونوں اپنا اپنا معنی ادا کر رہے ہیں۔ تو اب واؤ لایا جائے گا واؤ کو یا واؤ کو ذکر نہیں کیا جائے گا یعنی وصل کیا جائے گا یا فصل کیا جائے گا۔ تو یہ مشکل مقام ہے کہ کہاں پر اب دو جملوں کے درمیان واؤ کے ساتھ ربط دینا ہے اور کہاں پر اس کو چھوڑ دینا ہے، یہ مشکل مقام ہے، اس میں خفاء ہے بھئی، خفاء، اور اس کو جاننا مشکل ہے۔ تو اسی کی تفصیل یہاں پر بیان کریں گے بھئی، اسی کی تفصیل یہاں پر بیان کریں گے۔ پھر یاد رکھیں، دوبارہ میں ذکر کر دیتا ہوں کہ جب آپ دو جملوں کا دو جملوں میں سے ایک کا عطف کرنا چاہتے ہیں دوسرے پر، اگر واؤ کے علاوہ کسی اور حرف کے ساتھ عطف کرنا چاہتے ہیں تو پھر صرف دونوں جملوں کا ایک نوع کا ہونا ضروری ہے بس، دونوں جملوں کا یعنی دونوں خبریہ ہونے چاہئیں یا دونوں انشائیہ، لیکن اگر واؤ کے ساتھ عطف کرنا چاہتے ہیں تو دو چیزیں ضروری ہیں: پہلی چیز یہ کہ دونوں جملوں میں دونوں جملے ایک قسم کے بھی ہونے چاہئیں، پہلا جملہ خبریہ ہے تو دوسرا بھی خبریہ، پہلا انشائیہ ہے تو دوسرا بھی انشائیہ ہونا، اور نیز دونوں جملوں کے جو مسند ہیں ان میں بھی مناسبت ہونی چاہیے اور دونوں جملوں کے جو مسند الیہ ہیں ان میں بھی مناسبت ہونی چاہیے۔ جبکہ کسی اور حرف کے ساتھ جب عطف کرتے ہیں اس میں یہ شرط نہیں ہے، چاہے مناسبت ہو یا مناسبت نہ ہو، اس لیے کیونکہ وہ اپنے اپنا فائدہ دیں گے۔ فا جو ہے فا مثلاً وہ اشتراک کے ساتھ ساتھ تعقیب مع الوصل کا فائدہ ضرور دے گا، ثم بھی اشتراک کے ساتھ ساتھ تعقیب مع الفصل کا فائدہ ضرور دے گا، لیکن واؤ جو ہے وہ صرف اشتراک کا فائدہ دیتا ہے اور اس کا فائدہ ظاہر ہوگا جب پہلے جملے کے لیے کوئی محلِ اعراب ہو اور آپ دوسرے کو بھی اس میں شریک کرنا چاہتے ہیں تو پھر واؤ لے آئیں گے بھئی اور وہ فائدہ ہو جائے گا، پہلا اگر خبر بن رہا ہے دوسرا بھی کیا بن جائے گا؟ خبر، پہلا اگر صفت بن رہا ہے تو دوسرا بھی کیا بن جائے گا؟ صفت، پہلا جملہ اگر حال بن رہا ہے تو دوسرا بھی کیا بن جائے گا؟ حال بن جائے گا۔ تو یہاں بھی واؤ کا فائدہ ظاہر ہوگا۔ اور اگر پہلے جملے کے لیے کوئی خاص حکم ہے اور آپ دوسرے جملے کو پھر آپ اس میں شریک کرنا چاہتے ہیں تو واؤ درمیان میں لے آئیں گے، تو یہاں بھی فائدہ ظاہر ہو جائے گا، پہلے جملے کے لیے جو حکم ہوگا وہی دوسرے کے لیے بھی حکم آ جائے گا، مثلاً پہلا جملہ صلہ بن رہا ہے تو دوسرا جملہ بھی کیا بن جائے گا؟ صلہ بن جائے گا بھئی۔ لیکن اگر پہلے جملے کے لیے نہ کوئی محلِ اعراب ہے، نہ اس کے لیے کوئی خاص حکم ہے، پھر واؤ کے ساتھ عطف کریں گے یا عطف نہیں کریں گے؟ اس کے اندر خفاء ہے، کیونکہ واؤ صرف اشتراک کا فائدہ دیتا ہے۔ اور مثلاً دو جملے ہیں، جیسا میں نے ابھی ذکر کیا: جاء زيد وذهب عمرو، اب یہاں واؤ لائیں گے تو بھی فائدہ اسی طرح کہ زید کے آنے کا ذکر ہے اور عمرو کے جانے کا، اور واؤ کو نہ لائیں تو بھی اسی طرح زید کے آنے کا ذکر ہے تو عمرو کے جانے کا ذکر ہے، تو واؤ لائیں گے یا نہیں لائیں گے بھئی؟ اس میں خفاء ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ اور پھر اس میں اب تفصیل یاد رکھیے کہ واؤ جو ہے واؤ، یعنی وصل بالواو، واؤ کے ساتھ وصل کرنا، واؤ کے ساتھ عطف کرنا، یہ کچھ مناسبت کا تقاضا کرتا ہے تو کچھ مغایرت کا تقاضا کرتا ہے۔ واؤ کے ساتھ جو عطف ہے وہ کچھ مناسبت کا تقاضا کرتا ہے تو کچھ مغایرت کا تقاضا کرتا ہے۔ مثلاً مفرد میں دیکھ لیجیے: جاءني زيد وعمرو، جاءني زيد وعمرو، میں نے زید کو معطوف علیہ بنایا اور واؤ کے ساتھ میں نے عمرو کا عطف زید پر کیا، تو عمرو ہوا معطوف، معطوف بھئی۔ اب دیکھیے، معطوف علیہ ہے زید اور معطوف ہے عمرو، اور دونوں ایک ہی ذات کا نام ہیں یا الگ الگ؟ الگ الگ ہیں تو دیکھو دونوں ذاتیں الگ۔ تو عطف جو ہے مغایرت کا تقاضا کرتا ہے کہ معطوف اور معطوف علیہ ایک دوسرے سے غیر ہونے چاہئیں، ایک ہی ذات نہیں۔ "جاءني زيد وزيد"، اس طرح کوئی کہتا ہے بھئی؟ نہیں بھئی، کیونکہ زید تو ایک ہی ذات کا نام ہے، صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ تو لہٰذا واؤ کے ساتھ جو عطف کیا جاتا ہے، تو یہ واؤ جو ہے کچھ مغایرت کا تقاضا کرتا ہے تو کچھ مناسبت کا بھی تقاضا کرتا ہے، دونوں میں کچھ مناسبت بھی ہونی چاہیے بھئی۔ مثلاً میں نے کہا: جاءني زيد وعمرو، تو دونوں میں مناسبت بھی ہے، مثلاً دونوں گہرے دوست ہیں، دونوں کیا ہیں؟ یا اسی طرح دیکھ لیجیے، دونوں میں یہ بھی مناسبت کہ جیسے زید کے لیے آنا ثابت ہو رہا ہے، اسی طرح عمرو کے لیے بھی کیا ثابت ہو رہا ہے؟ آنا ثابت ہو رہا ہے، تو دونوں کے لیے مجیئت ثابت ہو رہی ہے تو کچھ مناسبت ہے، کچھ مغایرت ہے بھئی۔ کچھ مناسبت ہے، مغایرت یہ کہ دونوں کی ذات الگ الگ ہے، مناسبت یہ کہ دونوں کے لیے مجیئت ثابت ہو رہی ہے اور دونوں کا دونوں آپس میں دوست ہیں بھئی۔ صورت سمجھ تو معلوم ہوا کہ عطف بالواو، یا یوں کہیں آسان لفظوں میں واؤ جو ہے، واؤ کچھ مناسبت کا تقاضا کرتا ہے تو کچھ مغایرت کا تقاضا کرتا ہے۔ اب آگے آپ کو بتلائیں گے: وصل بالواو کی جگہیں بھئی۔ تو یاد رکھیے، کچھ مقامات وہاں ہیں جہاں وصل کیا جائے گا اور کچھ مقامات وہ ہیں جہاں پر فصل کیا جائے گا۔ یہ کل سات جگہیں آپ کو بتائیں گے، کتنی جگہیں؟ سات جگہیں آپ کو بتائیں گے۔ دو جگہیں ہیں وصل کی اور پانچ جگہیں ہیں فصل کی۔ دو جگہ پر کیا کیا جائے گا؟ وصل کیا جائے گا اور پانچ جگہوں پر فصل کیا جائے گا بھئی۔ پانچ جگہوں پر فصل یہ کون سی جگہیں ہیں؟ جہاں پہلے جملے کے لیے کوئی محلِ اعراب بھی نہ ہو اور پہلے جملے کے لیے کوئی خاص حکم بھی نہ ہو۔ پھر اس کے بعد بھئی، پھر واؤ کے ساتھ ربط دینا ہے یا ربط نہیں دینا، تو سات جگہیں ہیں، سات میں سے دو جگہوں کے اندر وصل کریں گے یعنی واؤ کو لائیں گے اور پانچ جگہیں ایسی ہیں جہاں پر واؤ کو نہیں لائیں گے، واؤ یعنی فصل کریں گے، فصل کریں گے۔ اب کہاں فصل کریں گے اور کہاں وصل کریں گے؟ میں نے آپ کو بتلا دیا کہ واؤ کچھ مناسبت کا تقاضا کرتا ہے اور کچھ مغایرت کا، کچھ مغایرت کا۔ تو اب اگر آپ کے پاس دو جملے ہیں اور ان میں کامل درجے کا اتصال ہے، دو جملے ہیں اور ان میں کامل درجے کا اتصال ہے، تو پھر یاد رکھیے یہاں پر فصل کریں گے، کیا کریں گے؟ فصل۔ کیونکہ دونوں جملوں میں کمالِ اتصال ہے یعنی کامل درجے کا اتصال ہے تو معلوم ہوا صرف مناسبت ہی مناسبت ہے، مغایرت ہے ہی نہیں، اور واؤ تو مناسبت کے ساتھ ساتھ کس چیز کا تقاضا کرتا ہے؟ مغایرت کا تقاضا بھی کرتا ہے، اور یہاں تو کمالِ اتصال ہے، کامل درجے کا اتصال اور تعلق ہے یعنی مناسبت ہی مناسبت ہے صرف، مغایرت ہے ہی نہیں، اور واؤ تو مناسبت کے ساتھ کس کا تقاضا کرتا تھا؟ مغایرت کا بھی تقاضا کرتا تھا، تو لہٰذا جب دو جملوں میں کمالِ اتصال ہو تو پھر وصل نہیں کریں گے بلکہ فصل کریں گے یعنی واؤ کو نہیں لائیں گے۔ بات سمجھ میں آئی؟ تو پہلا مقام کیا ہے دو جملوں میں؟ کمالِ اتصال ہو تو پھر وصل نہیں کریں گے بلکہ فصل کریں گے، اس لیے کیونکہ کمالِ اتصال کا مطلب یہ ہے کہ دونوں جملوں میں کامل اتصال ہے، کامل اتحاد ہے، کامل تعلق ہے، تو گویا یہاں صرف مناسبت ہی مناسبت ہے ہر اعتبار سے، مغایرت ہے ہی نہیں، اور واؤ تو مناسبت کے ساتھ کس کا تقاضا کرتا تھا؟ مغایرت کا بھی تقاضا کرتا تھا، تو جہاں کمالِ اتصال ہوگا وہاں پر کیا کیا جائے گا؟ فصل کیا جائے گا، فصل کیا جائے گا۔ اور جب کمالِ اتصال میں فصل کیا جاتا ہے، تو جہاں پر کمالِ اتصال جیسا تعلق ہو، ربط ہو تو وہاں پر بھی کیا کیا جائے گا؟ فصل کیا جائے گا۔ جہاں کمالِ اتصال جیسا تعلق ہو وہاں بھی فصل کیا جائے گا، جب کمالِ اتصال میں کیا کیا جائے گا؟ فصل، تو جو جہاں کمالِ اتصال تو نہیں لیکن کمالِ اتصال جیسا تعلق ہے وہاں پر بھی کیا کیا جائے گا؟ فصل، اور اس کو کہیں گے شبہِ کمالِ اتصال۔ شبہٌ کا معنی ہے مثلٌ، کیا معنی؟ شبہ کا مثل۔ تو دو جملوں میں جب کمالِ اتصال ہو تو فصل کیا جاتا ہے، اسی طرح دو جملوں میں جب شبہِ کمالِ اتصال ہو تب بھی کیا کیا جائے گا؟ فصل کیا جائے گا۔ اسی طرح اگر دو جملوں میں کمالِ انقطاع ہو یعنی کامل درجے کا انقطاع ہو، انقطاع یعنی منقطع، ایک دوسرے سے تعلق ہے ہی نہیں، تو جب دو جملوں میں کمالِ انقطاع ہو تو پھر بھی فصل کیا جائے گا۔ یعنی یوں کہیں آسان لفظوں میں: کمالِ مغایرت ہو دو جملوں میں، دو جملے ہیں وہ بالکل ایک دوسرے سے غیر ہی غیر ہیں، وہاں کوئی مناسبت ہے ہی نہیں تو پھر واؤ درمیان میں نہیں لائیں گے، کیونکہ واؤ تو مغایرت کے ساتھ ساتھ کچھ مناسبت کا بھی تقاضا کرتا تھا اور یہاں پر تو مثلاً مغایرت ہی مغایرت ہے، مناسبت ہے ہی نہیں، تو لہٰذا یہ واؤ یہاں نہیں لائیں گے۔ تو دو جملوں میں جب کمالِ انقطاع ہو تو کیا ہو؟ کمالِ انقطاع ہو تو فصل کریں گے۔ سمجھ میں آئی بات؟ کیونکہ کمالِ انقطاع ہے تو اس کا مطلب ہے کمالِ مغایرت ہے، بالکل ایک دوسرے سے منقطع ہیں، تعلق ہی کوئی نہیں ہے، ربط ہی کوئی نہیں ہے، مناسبت ہی کوئی نہیں ہے، اور حالانکہ واؤ تو کچھ مناسبت بھی چاہتا ہے مغایرت کے ساتھ ساتھ مناسبت، اور یہاں تو صرف مغایرت ہی مغایرت ہے، مناسبت کوئی ہے ہی نہیں، لہٰذا واؤ کو نہیں لائیں گے۔ تو دو جملوں میں جب کمالِ انقطاع ہو تو فصل کرتے ہیں۔ اسی طرح جیسے کمالِ انقطاع میں فصل کرتے ہیں، تو جہاں کمالِ انقطاع جیسا تعلق ہو دو جملوں میں تو وہاں بھی فصل کریں گے، کمالِ انقطاع میں کیا کرتے ہیں؟ فصل، تو جو کمالِ انقطاع جیسے ہوں ان میں بھی کیا کیا جائے گا؟ فصل، اور اس کو کہیں گے شبہِ کمالِ انقطاع، شبہِ کمالِ یعنی جو کمالِ انقطاع کے مثل ہیں۔ تو گویا چار جگہیں آ گئیں فصل کی: دو جملوں میں اگر کمالِ اتصال ہو تو کیا کریں گے؟ فصل، اسی طرح اگر دو جملوں میں شبہِ کمالِ اتصال ہو تو بھی کیا کریں گے؟ فصل، اور دو جملوں میں اگر کمالِ انقطاع ہو تو کیا کریں گے؟ تو بھی فصل کریں گے، اور اگر دو جملوں میں شبہِ کمالِ انقطاع ہو تو بھی کیا کریں گے؟ فصل کریں گے۔ پانچویں جگہ ہے کہ دو جملوں میں نہ کامل درجے کا اتصال ہے، نہ کامل درجے کا انقطاع ہے، بلکہ ان کا بین بین ہے یعنی بیچوں بیچ ہے بھئی۔ یعنی توسط ہے بین الکمالین، ان یہ جو دو کمالین ہیں: کمالِ انقطاع اور کمالِ اتصال، ان کا توسط ہے تو پھر یاد رکھیے اس صورت میں وصل کریں گے۔ دو جملے ہیں، نہ ان کے درمیان کمالِ انقطاع ہے اور نہ کمالِ اتصال ہے بلکہ ان کا بیچوں بیچ ہے، یعنی کچھ اتصال ہے تو کچھ انقطاع ہے، تو یہ واؤ کا مقام ہے کیونکہ واؤ بھی کچھ مناسبت چاہتا ہے اور کچھ مغایرت چاہتا ہے، تو ان دو جملوں میں بھی کچھ اتصال ہے، کچھ انقطاع ہے، تو کچھ مغایرت ہے، کچھ مناسبت ہے، تو یہ ہوا وصل کا مقام، یہاں پر کیا کریں گے؟ وصل کریں گے۔ تو کل کتنی جگہیں ہو گئیں؟ پانچ جگہیں ہو گئیں، چار جگہیں فصل کی اور ایک جگہ وصل کی۔ فصل کی چار جگہیں کون کون سی؟ نمبر ایک ہے کمالِ اتصال، نمبر دو: شبہِ کمالِ اتصال، نمبر تین: کمالِ انقطاع، نمبر چار: شبہِ کمالِ انقطاع۔ اور وصل کا ایک مقام کون سا ہوا؟ توسط بین الکمالین، توسط بین الکمالین، یعنی نہ کمالِ اتصال ہے اور نہ کمالِ انقطاع ہے، دونوں کا بین بین ہے، بیچوں بیچ ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ پھر یاد رکھیے، جہاں کمالِ انقطاع ہے، کمالِ انقطاع، وہاں کیا کریں گے؟ فصل، لیکن اگر بعض جگہیں ایسی آئیں گی کہ وہاں فصل دو جملوں میں کمالِ انقطاع ہوگا، لیکن اگر آپ فصل کرتے ہیں تو خلافِ مقصود کا وہم وہاں پر پڑتا ہے، تو یاد رکھیے اس صورت میں بھی پھر فصل نہیں کریں گے، وہاں کیا کر لیں گے؟ وصل کر لیں گے بھئی، کیا کریں گے؟ وصل کریں گے۔ تو وہاں کیا کریں گے؟ بھئی دیکھیے، دو جملوں میں ہے کمالِ انقطاع، بالکل ایک دوسرے سے منقطع ہیں، تو لہٰذا یہاں فصل ہونا چاہیے، واؤ کو نہیں لانا چاہیے، لیکن اگر واؤ آپ نہیں لاتے تو خلافِ مقصود کا وہم پڑتا ہے یعنی جو آپ بات کہنا چاہتے ہیں سننے والا اس کا عکس سمجھتا ہے، اس کا الٹ سمجھتا ہے۔ تو لہٰذا جب فصل کی صورت میں خلافِ مقصود سمجھ رہا ہے سننے والا، تو پھر فصل نہ کرو بلکہ کیا کر دو؟ وصل۔ تو مقام تو ہے فصل کا ہی، مقام تو فصل کا ہی ہے، لیکن فصل کرتے ہیں تو سننے والا خلافِ مقصود سمجھتا ہے یعنی جو آپ کہنا چاہتے ہیں اس کا برعکس معنی وہ سمجھتا ہے، تو پھر فصل نہ کرو بلکہ کیا کر دو؟ وصل۔ اس کو کہیں گے کمالِ انقطاع مع ایہام۔ اوہم یوہم ایہام کا معنی ہے وہم ڈالنا، تو یہاں اگر آپ فصل کر دو جملے ہیں، توجہ ہے؟ دو جملے ہیں ان میں کمالِ انقطاع ہے، لیکن اگر آپ کیا کرتے ہیں؟ فصل کرتے ہیں تو سننے والا اس کے برعکس سمجھتا ہے، تو پھر مقام تو فصل کا تھا لیکن فصل کو چھوڑ دو بلکہ کیا کر دو؟ وصل، تو یہ وصل کریں گے، تو یہ دوسرا مقام آگیا وصل کا، اور اس کو کہتے ہیں کمالِ انقطاع مع ایہام، کیا کہیں گے اس جگہ کو؟ کمالِ انقطاع مع ایہام۔ یعنی جہاں دو جملوں میں کمالِ انقطاع ہے لیکن انقطاع کے ساتھ ساتھ اگر ہم فصل کرتے ہیں تو یہ سننے والے کے ذہن میں خلافِ مقصود کا وہم ڈالتا ہے، اوہم یوہم ایہام کا کیا معنی؟ وہم ڈالنا، تو یہ خلافِ مقصود کا وہم ڈالتا ہے، تو یہ جو خلافِ مقصود کا وہم ہے یہ مانع بن جائے گا فصل سے۔ کس سے؟ تو فصل نہیں کریں گے بلکہ پھر کیا کریں گے؟ وصل کریں گے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو یوں گویا یوں کہیے بھئی کہ کمالِ انقطاع دو قسم پر ہوا: ایک کمالِ انقطاع بغیر ایہام ہے، اور ایک کمالِ انقطاع مع ایہام ہے۔ دو جملے ہیں اور ان جملوں میں کمالِ انقطاع ہے، کوئی تعلق نہیں۔ جب کوئی تعلق نہیں، کوئی مناسبت نہیں تو کیا کرنا چاہیے؟ فصل کرنا چاہیے، فصل کرنا چاہیے، لیکن اگر آپ فصل کرتے ہیں تو سننے والا آپ کے مقصد کے خلاف سمجھتا ہے، آپ کہنا کچھ چاہتے ہیں وہ سمجھے گا کچھ اور، تو پھر فصل نہ کرو بلکہ کیا کر دو؟ وصل۔ تو اس کو کیا کہیں گے؟ کمالِ انقطاع مع ایہام۔ تو گویا کمالِ انقطاع دو قسم پر ہوا: ایک کمالِ انقطاع بغیر ایہام، اور ایک کمالِ انقطاع مع ایہام۔ تو جو کمالِ انقطاع بغیر ایہام ہے وہاں کریں گے فصل، کیونکہ وہاں تو کوئی خلافِ مقصود کا وہم نہیں پڑتا اور فصل کا مقام ہے تو فصل ہی کریں گے۔ اور ایک ہے کمالِ انقطاع مع ایہام، یہ مقام تو فصل کا ہے لیکن اگر فصل کرتے ہیں تو خلافِ مقصود کا وہم پڑتا ہے تو اس کو کیا کہیں گے؟ کمالِ انقطاع مع ایہام بھئی۔ تو یہ پھر وصل کریں گے یہاں پر تو یہ وصل کا مقام ہو گیا۔ تو وصل کے دو مقام ہو گئے: ایک توسط بین الکمالین، اور ایک کمالِ انقطاع مع ایہام۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ اب دوسری طرف آئیے، وہ جو تھا توسط بین الکمالین، توسط بین ال، یعنی دونوں کمالین کا بیچوں بیچ، اور وہ کس کا مقام تھا؟ وصل کا، جب کچھ مناسبت ہے، کچھ مغایرت ہے تو وصل کرنا چاہیے، یہ بھی دو قسم پر ہے۔ کہ دو جملے ہیں، دونوں جملوں میں نہ کمالِ اتصال ہے، نہ کمالِ انقطاع ہے، یعنی کچھ اتصال ہے اور کچھ انقطاع ہے، تو یہ وصل کا مقام ہے، لیکن اگر آپ وصل کرتے ہیں تو خلافِ مقصود کا وہم پڑتا ہے، تو لہٰذا ہے تو مقام وصل کا لیکن وصل کریں تو کیا خرابی لازم آتی ہے؟ خلافِ مقصود کا وہم پڑتا ہے سننے والے کے ذہن میں، تو لہٰذا وصل کو چھوڑ دو یعنی واؤ کو ترک کر دیں گے یہاں پر، تو یہاں پر پھر فصل کریں گے، کیا کریں گے؟ فصل۔ تو گویا توسط بین الکمالین بھی دو قسم کا ہوا: ایک توسط بین الکمالین بغیر ایہام ہے، توسط بین الکمالین ہے، اور کیا کرنا چاہیے؟ وصل، اور وصل کی صورت میں خلافِ مقصود کا وہم بھی نہیں پڑتا تو پھر وصل کا مقام ہے اور وصل ہی کریں گے۔ اور اگر ہے تو یہ توسط بین الکمالین اور وصل کا مقام ہے، کیا کرنا چاہیے؟ وصل کرنا چاہیے، لیکن اگر وصل کرتے ہیں کیا خرابی لازم آتی ہے؟ خلافِ مقصود کا وہم پڑتا ہے، تو پھر ہے تو مقام وصل کا لیکن وصل کو چھوڑ دو اور کیا کر دو؟ فصل کر دو یعنی واؤ کو نہ لے کر آؤ بھئی، واؤ کو ذکر نہ کرو۔ تو گویا توسط بین الکمالین دو قسم کا ہوا: ایک توسط بین الکمالین بغیر ایہام، اور ایک توسط بین الکمالین مع ایہام۔ جب توسط بین الکمالین بغیر ایہام ہو تو کیا کریں گے؟ وصل کریں گے، واؤ لائیں گے۔ اور جب توسط بین الکمالین مع ایہام ہو تو پھر کیا کریں گے؟ فصل کریں گے یعنی واؤ نہیں لائیں گے۔ تو کل یہ سات جگہیں ہو گئیں۔ کتنی جگہیں؟ سات جگہیں: ایک ہے کمالِ اتصال، ایک ہے شبہِ کمالِ اتصال، ایک ہے کمالِ انقطاع بغیر ایہام، اور ایک ہے کمالِ انقطاع مع ایہام، اور ایک ہے شبہِ کمالِ انقطاع، اور ایک ہے توسط بین الکمالین بغیر ایہام، اور ایک ہے توسط بین الکمالین مع ایہام۔ اور دو جگہیں ان میں سے جو ہیں وہ وصل والی ہیں: توسط بین الکمالین بغیر ایہام، اور کمالِ انقطاع مع ایہام، بات سمجھ میں آئی؟ یہ دو جگہیں ہیں وصل والی، ان میں واؤ لائیں گے۔ اور باقی پانچ جگہیں جو ہیں وہ فصل والی ہیں، وہاں فصل کریں گے یعنی واؤ نہیں لائیں گے، اور وہ کون کون سی ہیں؟ کمالِ اتصال، شبہِ کمالِ اتصال، اور کمالِ انقطاع بغیر ایہام، اور شبہِ کمالِ انقطاع، اور توسط بین الکمالین مع ایہام۔ تفصیل یاد رہے گی؟ اب دوبارہ خلاصہ سن لیں کہ دو جملوں کے درمیان کتنی قسم کے تعلق ہو سکتے ہیں؟ پانچ قسم کے: یا دو جملوں میں کمالِ اتصال ہوگا، یا دو جملوں میں شبہِ کمالِ اتصال ہوگا، یا دو جملوں میں کمالِ انقطاع ہوگا، یا دو جملوں میں شبہِ کمالِ انقطاع ہوگا، تو یہ چار جگہیں کس کی ہیں؟ فصل کی ہیں۔ اور یا دو جملوں کے درمیان توسط بین الکمالین ہوگا، یہ کس چیز کا مقام ہے؟ وصل کا مقام ہے۔ لیکن پھر اس کے اندر جو فصل کا مقام ہے کمالِ انقطاع، اس میں پھر بعض اوقات انقطاع کمالِ انقطاع ہے، فصل کرنا چاہیے، لیکن اگر آپ فصل کریں تو کیا وہم پڑتا ہے؟ خلافِ مقصود کا وہم پڑتا ہے، تو اس صورت میں پھر فصل نہ کریں گے وہاں پر بلکہ وصل کریں گے۔ تو معلوم ہوا کمالِ انقطاع ہو بغیر ایہام کے تو وہاں تو فصل کریں گے، لیکن اگر کمالِ انقطاع مع ایہام کے ہو تو وہاں کیا کریں گے؟ وصل کریں گے۔ اور اسی طرح جہاں توسط بین الکمالین ہے، وہ مقام تو ہے وصل کا، لیکن بعض اوقات اس کے ساتھ خلافِ مقصود کا وہم پڑے گا تو پھر وہاں وصل نہ کرنا بلکہ کیا کرنا؟ فصل۔ تو گویا فصل کی پانچ جگہیں ہوگئیں اور وصل کی دو جگہیں، وصل کی دو جگہیں کون سی؟ ایک توسط بین الکمالین بغیر ایہام، اور دوسری جگہ کمالِ انقطاع مع ایہام، یہ دو جگہیں ہیں وصل کی۔ اور فصل کی کتنی جگہیں؟ پانچ: ایک جہاں کمالِ اتصال ہو، ایک جہاں شبہِ کمالِ اتصال ہو، ایک جہاں کمالِ انقطاع بغیر ایہام ہو، اور ایک جہاں شبہِ کمالِ انقطاع ہو، اور ایک جہاں توسط بین الکمالین مع ایہام ہو۔ یاد ہو گئیں ساتوں جگہیں؟ جی اب تفصیل دیکھیے، کہتے ہیں: "مواضع الوصل بالواو"، واؤ کے ساتھ وصل کی جگہیں: "يجب الوصل في موضعين"، وصل کرنا واجب ہے دو جگہوں میں، کون سی دو جگہیں بھئی؟ پہلی کیا ہوگی؟ توسط بین الکمالین بغیر ایہام، اور دوسری جگہ کمالِ انقطاع مع ایہام، وہی بیان کریں گے۔ "الأول: إذا اتفقت الجملتان خبرا أو إنشاء"، پہلی جگہ: جب اتفاق ہو دو جملوں میں یعنی متفق ہوں دو جملے باعتبار خبر یا انشا ہونے کے، یعنی پہلا جملہ بھی خبریہ ہو، دوسرا بھی کیا ہو؟ خبریہ، یا پہلا بھی انشائیہ ہو تو دوسرا بھی انشائیہ۔ "وكان بينهما جهة جامعة"، اور ان کے درمیان کوئی جہتِ جامعہ بھی ہو، کوئی ایسی چیز جو ان دونوں کو جمع کرنے والی ہے، "أي مناسبة تامة"، یعنی کوئی پوری مناسبت ہو دونوں کے درمیان۔ اور پوری مناسبت سے کیا مراد ہے؟ میں نے کیا بتلایا؟ مناسبت سے مراد یہ ہے کہ دونوں کے مسند جو ہیں ان میں بھی مناسبت ہو، اور دونوں کے جو مسند الیہ ہیں ان میں بھی کیا ہو؟ مناسبت ہو۔ تو مناسبتِ تامہ سے یہ مراد ہے کہ پوری مناسبت ہو دونوں کے درمیان، یعنی دونوں کے مسند میں بھی مناسبت ہو اور دونوں جملوں کے مسند الیہ۔ صرف پہلا جملہ بھی خبریہ، دوسرا جملہ بھی خبریہ، صرف یہ مناسبت مراد نہیں ہے، بلکہ کیا مراد ہے مناسبت سے؟ دونوں کو خبریہ بھی ہونا چاہیے اور دونوں کے مسند اور مسند الیہ جو ہیں ان میں بھی آپس میں کیا ہو؟ مناسبت، یا اسی طرح دونوں کو انشائیہ بھی ہونا چاہیے اور دونوں کے مسند اور مسند الیہ میں بھی کیا ہونی چاہیے؟ مناسبت ہونی چاہیے بھئی۔ یہ معنی ہے: "وكان بينهما جهة جامعة أي مناسبة تامة"، اور دونوں کے درمیان کوئی جہتِ جامعہ ای مناسبۃ تامہ کوئی پوری مناسبت ہو۔ "ولم يكن مانع من العطف"، اور وہاں کوئی عطف سے مانع بھی نہ ہو، "ولم يكن مانع من العطف"، اور عطف سے کوئی مانع بھی نہ ہو۔ کیا معنی؟ ہاں یعنی خلافِ مقصود کا وہم نہ پڑتا ہو وصل کریں تو، اگر وصل کرنے سے کیا وہم پڑتا ہے؟ خلافِ مقصود، تو دیکھو یہ تو وصل کیا تھا؟ عطف، اور وہ خلافِ مقصود کیا بن گیا؟ مانع بن جائے گا، تو عطف کے کوئی مانع بھی نہ ہو یعنی وصل کریں یعنی عطف کریں تو کہیں خلافِ مقصود کا وہم بھی نہ پڑتا ہو۔ یہ معنی ہے: "ولم يكن مانع من العطف"، اور کوئی مانع من العطف بھی نہ ہو۔ "نحو"، مثال کے طور پر، "ولم يكن مانعٌ"، رفع پڑھا میں نے اس پر بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ آپ کہیں گے کان کی خبر تو منصوب ہوتی ہے، بھئی یہ کانا یہاں ثبت کے معنی میں ہے، کس معنی میں ہے؟ "أي لم يثبت مانع من العطف"، تو یہ اس کا فاعل بنے گا بھئی، تو یہ یہاں فعل ناقص کے طور پر نہیں ہوگا۔ اور یہ کانا کس معنی میں؟ ثبت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ ثبت۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو کہتے ہیں: "ولم يكن مانع من العطف"، اور کوئی مانع من العطف بھی نہ ہو، نحو، مثال کے طور پر: "إن الأبرار لفي نعيم وإن الفجار لفي جحيم"، یقیناً نیک لوگ جو ہیں البتہ وہ نعمتوں میں ہوں گے، اور یقیناً گناہگار لوگ، برے لوگ جو ہیں لفی جحیم، البتہ وہ جہنم میں ہوں گے۔ اب دیکھیے ایک جملہ ہے: "إن الأبرار لفي نعيم"، دوسرا جملہ ہے: "وإن الفجار لفي جحيم"، اور دونوں کے درمیان واؤ ذکر کر کے ایک کا عطف کیا گیا دوسرے جملے پر، یہ ہے وصل۔ اور دیکھیے دونوں جملے خبریہ ہیں۔ وصل کا مقام کیا تھا کہ دونوں جملے کیا ہونا چاہیے؟ خبریہ یا دونوں کیا ہونے چاہئیں؟ انشائیہ۔ تو یہاں دونوں جملے ہیں جو ہیں وہ خبریہ ہیں، نیز دونوں کے مسند الیہ جو ہیں ان میں بھی مناسبت اور دونوں کے جو مسند ہیں ان میں بھی مناسبت۔ پہلے جملے میں مسند الیہ کون؟ الابرار، اور دوسرے جملے میں مسند الیہ؟ الفجار، اور ابرار کا معنی ہے نیک لوگ بھئی، نیک، اور فجار کون ہیں؟ گناہگار، گناہ کرنے والے۔ تو دیکھیے نیک اور بد آگئے، نیک اور بد میں مناسبت ہے کیونکہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں، اور ضدان کے درمیان مناسبت ہوتی ہے، چنانچہ ایک ضد کو ذکر کیا جائے تو دوسری اس کی ضد خود بخود ذہن میں آجاتی ہے، سردی کو ذکر کریں تو گرمی کا بھی ذہن میں تصور آجاتا ہے، صبح کا ذکر کریں تو شام کا بھی ذہن میں خود ہی تصور آجاتا ہے، صورت سمجھ میں آگئی؟ تو ضدان میں مناسبت ہوتی ہے اسی لیے ایک ضد کو ذکر کرنے سے اس کی دوسری ضد جو ہے وہ خود بخود ذہن میں آجاتی ہے۔ چنانچہ اسی لیے علماء فرماتے ہیں: "وبضدها تتبين الأشياء"، کہ چیزوں کی وضاحت اپنی ضدوں سے ہوتی ہے، چیز کا پتہ اپنی ضد سے چلتا ہے۔ جب ایک چیز کے بارے میں آپ کو بتا دیا جائے تو اس کے ضد کا آپ کو خود بخود پتہ چل جاتا ہے۔ مثلاً بھئی، نیک آدمی کی تعریف اب کر دی جائے، آپ کو بتلا دیا جائے: نیک آدمی اس کو کہتے ہیں جس میں یہ یہ صفات ہوں، تو اسی سے خود بخود برے آدمی کو بھی آپ سمجھ گئے کہ معلوم ہوا جس کے اندر یہ یہ صفات نہ ہوں وہ کیا ہوگا؟ برا آدمی ہوگا، تو ایک چیز کی وضاحت کرنے سے اس کے ضد کا خود بخود پتہ چل جاتا ہے، اسی لیے کیا کہتے ہیں: "وبضدها تتبين الأشياء"، چیزوں کا پتہ ان کی ضد سے چلتا ہے، چیزوں کی وضاحت اپنی ضد سے ہوتی ہے بھئی۔ تو ضدان میں مناسبت ہوتی ہے۔ اسی طرح پہلے جملے میں مسند جو ہے: "لفي نعيم"، کہ وہ کس میں ہوں گے؟ نعمتوں میں ہوں گے۔ اور دوسرے میں مسند ہے: "لفي جحيم"، وہ کس میں ہوں گے؟ جہنم میں۔ تو نعمتوں میں ہونا اور جہنم میں ہونا یہ بھی ایک دوسرے کی ضد ہیں، ان میں بھی کیا موجود ہے؟ مناسبت موجود ہے۔ تو دونوں جملہ خبریہ بھی ہیں اور دونوں کے مسند میں بھی مناسبت اور دونوں کے مسند الیہ میں بھی مناسبت، تو لہٰذا یہاں عطف کیا جائے گا اور عطف سے مانع بھی یہاں نہیں ہے کوئی، عطف سے مانع بھی کوئی نہیں، تو لہٰذا دونوں جملوں میں عطف ہونا چاہیے اور عطف ہی کیا گیا جیسا آپ دیکھ رہے ہیں قرآن کے اندر بھئی۔ "ونحو"، اور مثال کے طور پر: "فليضحكوا قليلا وليبكوا كثيرا"، اور چاہیے کہ وہ لوگ تھوڑا ہنسیں، "وليبكوا كثيرا"، اور چاہیے کہ وہ زیادہ روئیں، چاہیے کہ وہ لوگ تھوڑا ہنسیں اور زیادہ روئیں۔ تو یہ مثال ہے جملہ انشائیہ کی: "فليضحكوا قليلا"، فلیضحکوا امر آیا اور امر کیا ہے؟ انشا، تو پہلا جملہ انشائیہ۔ "وليبكوا كثيرا"، یہ کیا ہے؟ دوسرا جملہ: "وليبكوا كثيرا"، اور یہ بھی جملہ انشائیہ ہے۔ تو دونوں جملے انشائیہ، لیکن صرف انشائیہ یا خبریہ ہونا کافی نہیں عطف کے لیے، بلکہ دونوں کے مسند اور مسند الیہ میں بھی کیا ہونی چاہیے؟ مناسبت، اور یہاں مناسبت ہے۔ پہلے کے اندر مسند ضحک کا ذکر ہے یعنی ہنسی کا، تو دوسرے میں رونے کا ذکر ہے، تو ہنسی اور رونا ایک دوسرے کے ضد ہیں تو دونوں میں کیا آگئی؟ مناسبت۔ اور نیز فلیضحکوا کے اندر مسند الیہ جو ہے واؤ ضمیر ہے اور یہ جن لوگوں کو لوٹ رہی ہے، دوسرے جملے میں بھی یبکوا واؤ ضمیر انہی لوگوں کو لوٹ رہی ہے، تو مسند الیہ بھی دونوں میں کیا ہیں؟ مناسبت ہے، دونوں ایک ہی لوگ مراد ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو اسی لیے یہاں پر واؤ کے ساتھ عطف کیا گیا۔ اور نیز اچھا، مناسبت مسند اور مسند الیہ میں بھی مناسبت اور نیز یہاں عطف سے کوئی مانع بھی نہیں، تو لہٰذا کیا کیا گیا؟ عطف کر دیا گیا بھئی۔ مناسبت بھی موجود اور عطف سے کوئی مانع بھی نہیں، تو یہ کون سا مقام ہوا؟ توسط بین الکمالین بغیر ایہام، یعنی عطف سے کوئی مانع بھی نہیں۔ "الثاني"، دوسرا مقام، پہلا مقام کون سا گزرا؟ توسط بین الکمالین بغیر ایہام۔ دوسرا مقام وصل کا کون سا ہوگا؟ کمالِ انقطاع مع ایہام، کمالِ انقطاع مع ایہام۔ جیسے دیکھیے: "الثاني: إذا أوهم ترك العطف خلاف المقصود"، دوسرا مقام: جب وہم ڈالے عطف کا چھوڑنا، کس چیز کا وہم ڈالے؟ خلافِ مقصود، خلافِ مقصود کا، خلافِ مقصود کا۔ "كما إذا قلت: لا، وشَفاه الله"، جیسے آپ کہیں: "لا، وشَفاه الله"۔ آپ سے کسی آدمی نے پوچھا: "هل برئ علي من المرض؟"، کیا علی تندرست ہو گیا ہے بیماری سے؟ کیا اس کو شفا ہو گئی ہے؟ کیا وہ ٹھیک ہو گیا ہے؟ آپ جواب میں کہتے ہیں: "لا"، نہیں۔ یعنی وہ ٹھیک نہیں ہوا۔ یہ "لا" کیا ہے؟ متضمن ہے پورے جملے کو، گویا "لا" کہا آپ نے، "لا" کا کیا معنی؟ "أي ما برئ علي"، "ما برئ علي"، یہ تو یہ پورے جملے کو متضمن ہے۔ اور پھر ساتھ ہی آگے آپ اس کو دعا دینا چاہتے ہیں کہ اللہ اس کو شفا دے دے، تو کیا کہیں گے؟ "شفاه الله"، اللہ اس کو شفا دے دے۔ تو اب آپ کے کلام میں دو جملے آ رہے ہیں: "لا" بھی کہا آپ نے اور آگے دعا بھی دینا چاہتے ہیں۔ "لا" متضمن ہے جملہ خبریہ کو، "لا" کیا ہے؟ "أي ما برئ علي"، کہ علی تندرست نہیں ہوا، اور یہ جملہ انشا ہے یا خبر ہے؟ خبر ہے، خبر دے رہے ہیں آپ کہ وہ ٹھیک نہیں ہوا، تندرست نہیں ہوا۔ اور آگے "شفاه الله"، یہ کیا کر رہے ہیں آپ اس کو؟ دعا دے رہے ہیں، تو یہ جملہ انشائیہ ہے، یہ کیا ہے؟ جملہ انشائیہ ہے۔ اور خبر اور انشا یہ تو بالکل الگ الگ قسمیں ہیں جملوں کی، تو دونوں میں کمالِ انقطاع ہے، کیا ہے؟ کوئی مناسبت نہیں ہے دونوں کے اندر۔ تو دونوں میں کمالِ انقطاع ہے اور کمالِ انقطاع پر کیا کرنا چاہیے؟ فصل، تو کہنا کیا چاہیے؟ "لا، شفاه الله"۔ لیکن اگر آپ واؤ بیچ میں نہ لائیں تو یوں لگتا ہے آپ اس کو بددعا دے رہے ہیں: "لا شفاه الله"۔ لگ رہا ہے یا نہیں بھئی؟ کیونکہ وہ "لا" یوں لگ رہا ہے شفا کے ساتھ مل جاتا ہے تو یوں تو شفاہ اللہ کا معنی تو ہوا اللہ اس کو شفا دیں، اور "لا شفاه الله" سے تو بظاہر کیا لگتا ہے کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں کہ اللہ اس کو شفا نہ دیں۔ تو یہاں دیکھیے، دو جملے ہیں اور دونوں میں کمالِ انقطاع ہے، لیکن اگر آپ یہاں واؤ نہیں لائیں گے تو خلافِ مقصود کا وہم پڑے گا۔ خلافِ مقصود کیا؟ آپ تو اس کو دعا دینا چاہتے ہیں، لیکن سننے والا کیا سمجھے گا کہ آپ اسے بددعا دے رہے ہیں، تو دیکھو خلافِ مقصود کا وہم پڑ رہا ہے فصل کی صورت میں، تو لہٰذا یہاں فصل نہ کرو بلکہ کیا کر دو؟ وصل کر دو اور واؤ بیچ میں لے آؤ، اسی لیے انہوں نے کہا: "لا، وشَفاه الله"۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ کہتے ہیں: "الثاني: إذا أوهم ترك العطف خلاف المقصود"، دوسرا مقام جو ہے جب ترکِ عطف وہم ڈالے خلافِ مقصود کا، "كما إذا قلت: لا، وشَفاه الله"، جیسے آپ کہیں: "لا، وشَفاه الله"، نہیں اور اللہ اس کو شفا دے یعنی وہ تندرست نہیں ہے اور اللہ اس کو شفا دے، "جوابا لمن يسألك"، یہ آپ بطورِ جواب کے کہتے ہیں لمن یسالک اس شخص سے یسالک جس نے آپ سے جو آپ سے پوچھتا ہے: "هل برئ علي من المرض؟"، کیا علی تندرست ہو گیا ہے مرض سے؟ "فترك الواو يوهم الدعاء عليه"، تو واؤ کا چھوڑنا یہ وہم ڈالتا ہے، کس چیز کا؟ "الدعاء عليه"، آپ نے پڑھا ہے دعا کا صلہ اگر علیٰ آئے تو اس کے معنی ہوتے ہیں بددعا کرنے کے، اور اگر دعا کا صلہ لام آئے تو اس کے معنی کیا ہوتے ہیں؟ دعا کرنے کے۔ تو "فترك الواو يوهم الدعاء عليه"، تو واؤ کا چھوڑنا وہم ڈالتا ہے اس پر بددعا کرنے کا، "وغرضك الدعاء له"، اور آپ کی غرض تو کیا ہے؟ اس کے لیے دعا کرنا ہے۔ تو لہٰذا خلافِ مقصود کا وہم پڑ رہا تھا فصل کی صورت میں، تو فصل کو ترک کر کے کس کو اختیار کیا جائے گا؟ وصل کو۔ تو یہ کون سا مقام ہوا؟ وصل کا، اور کیا نام ہے؟ کمالِ انقطاع مع ایہام بھئی، کمالِ انقطاع۔ اور دیکھیے بھئی، آپ یہ نہ کہیں "لا" یہ جملہ خبریہ ہے تو "شفاه الله"، شفا بھی تو ماضی کا صیغہ ہے، یہ بھی جملہ خبریہ ہے؟ نہیں بھئی، یہ ماضی کا صیغہ تو ہے، صیغہ تو ماضی کا ہے لیکن یہ یہ انشا ہے، دعا ہے، امر کے معنی میں ہے، کس معنی میں ہے؟ امر کے معنی میں ہے، گویا آپ یوں کہہ رہے ہیں: "اللهم اشفه"، اے اللہ اس کو شفا دے دیجیے۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے اگر امر ہے تو امر کے معنی میں ہے، تو امر ہی کا صیغہ کیوں نہیں استعمال کر لیا گیا، ماضی کو کیوں استعمال کیا گیا؟ تو جواب یہ کہ عربی میں آپ غور کریں، دعا کے لیے عموماً صیغہ کون سا لاتے ہیں؟ ماضی کا، جیسے رحمہ اللہ، غفر اللہ لہ، حفظہ اللہ، صیغہ ماضی کا ہوتا ہے لیکن معنی کس کا ہوتا ہے؟ دعا کا، یعنی انشا کا۔ تو ماضی کا صیغہ کیوں لاتے ہیں؟ اس لیے لاتے ہیں تاکہ یوں سمجھو دعا کا تو معنی ہے کہ اے اللہ ایسا کر دے، اور ماضی کا معنی کیا ہوتا ہے کہ کام ہو چکا، تو گویا وہ کام اس دعا کے لانے میں یہ بتلانا مقصود ہوتا ہے کہ یہ کام تو ہو ہی چکا یعنی اس دعا کی قبولیت اتنی یقینی ہے، یوں سمجھو یہ کام ہو چکا، تو اس بات کی طرف اشارہ کرنے کے لیے دعا کے لیے صیغہ کون سا استعمال کرتے ہیں؟ ماضی کا صیغہ، ورنہ معنی ماضی کا نہیں ہوتا، معنی تو کس کا ہوتا ہے؟ دعا ہی کا ہوتا ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو یہ "لا، وشَفاه الله" میں دو جملے ہو گئے: ایک جملہ خبریہ، اور ایک جملہ انشائیہ۔ تو دونوں جملوں میں کیا ہے؟ کمالِ انقطاع، کوئی مناسبت نہیں، لیکن فصل کرتے ہیں تو خلافِ مقصود کا وہم پڑتا ہے اس لیے فصل کو چھوڑ کر کیا کر دیا؟ وصل کر دیا، تو یہ کمالِ انقطاع مع ایہام ہوا۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔