گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا تھا کہ بیع کسے کہتے ہیں؟ مال کا مال کے ساتھ تبادلہ۔ اور یہ منعقد ہو جاتی ہے ایجاب اور قبول سے اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ جو پہلا قول ہو چاہے قائل اس کا مشتری ہو چاہے اس کا قائل بائع ہو، وہ ایجاب کہلاتا ہے۔ ایجاب کا معنی ہے اثبات اور ایجاب کو بھی ایجاب اسی لیے کہتے ہیں کہ یہ دوسرے کے لیے قبول کا اثبات کرتا ہے، قبول کو ثابت کرتا ہے۔ اور پھر یہ بھی آپ کو بتلایا تھا کہ ایجاب اور قبول میں مطابقت کا ہونا ضروری ہے بھئی۔ مطابقت ہوگی تو بیع منعقد ہوگی، اگر مطابقت ہی نہیں تو پھر بیع منعقد نہیں ہوئی بھئی۔ اور ان دونوں کا ماضی کا لفظ ہونا ضروری ہے۔ اور یہ بھی میں نے بتلایا تھا آپ کو کہ اگر حال کے لفظ ہوں تو پھر بھی بیع منعقد ہو جائے گی یا فعل مضارع استعمال کرتے ہیں اور اس میں حال کی نیت کرتے ہیں تو بیع کیا ہو جائے گی؟ منعقد ہو جائے گی بھئی۔ اور بتلایا تھا آپ کو کہ بیع دو قسم پر ہے: ایک بیع قولی اور ایک بیع فعلی۔ بیع قولی کے اندر ایجاب اور قبول ہوتا ہے جبکہ بیع فعلی کے اندر ایجاب اور قبول نہیں ہوتا بھئی۔ عملی بیع ہے بھئی عملی۔ ایک نے چیز دی، دوسرے نے ایک نے مبیعہ دیا، دوسرے نے ثمن حوالے کیا۔ جی۔ اور نفیس اور خسیس دونوں قسم کے مالوں میں بیع تعاطی جائز ہے بھئی، بیع تعاطی۔ جبکہ امام کرخی رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں کہ خسیس کے اندر تو بیع تعاطی جائز ہے لیکن نفیس کے اندر جائز نہیں لیکن فتویٰ اسی پر ہے کہ نفیس اور خسیس دونوں میں جائز ہے بھئی۔ اور مال کے بارے میں بھی آپ کو بتلایا تھا کہ مال وہ چیز ہے جو مرغوب ہوتی ہے بھئی۔ مال وہ چیز جو مرغوب ہوتی ہے اور اس کا ادخار وغیرہ اور تملیک ممکن ہو جائز ہو بھئی۔ پھر اس بیع کو ایک محسوس چیز کے ذریعے سمجھایا تھا مصنف نے کہ جیسے کسی محسوس چیز کے لیے چار علتوں کا ہونا ضروری، بیع کے لیے بھی چار علتوں کا ہونا ضروری ہے بھئی۔ علت غائی یعنی مقصد جس کے لیے وہ چیز بنائی جائے، علت مادی جس سے وہ چیز بنائی جائے، علت فاعلی جو اس کو وجود دے اور علت صوری جو صورت حاصل ہو بھئی۔ تو یہاں پر بھی بیع تعاطی کے اندر یا دوسری قولی بیع کے اندر جو مال کا مال کے ساتھ تبادلہ ہو رہا ہے یہ کیا ہے؟ یہ علت صوری ہے اور بائع اور مشتری وہ علت فاعلی ہیں اور ایجاب اور قبول یا وہ جو تعاطی ہے وہ کیا ہے؟ علت مادی ہے اور علت غائی کو ذکر نہیں کیا مصنف نے شہرہ کی بناء پر اور میں نے آپ کو بتلایا کہ علت غائی کیا ہے؟ ملکیت ہے بھئی، تصرف ملکیت حاصل ہونا تصرف کا حق ملنا بھئی۔ وَالتَّعَاطِي عِنْدَ الْبَعْضِ الإِعْطَاءُ مِنَ الْجَانِبَيْنِ وَيَكْفِي عِنْدَ الْبَعْضِ مِنْ أَحَدِ الْجَانِبَيْنِ كَمَا إِذَا سَاوَمَ أَحَدٌ الْمَبِيعَ وَلَمْ يَكُنْ مَعَهُ وِعَاءٌ يَجْعَلُ الْمَبِيعَ فِيهِ فَكَالَهُ فَفَارَقَهُ فَجَاءَ بِالْوِعَاءِ وَأَعْطَى الثَّمَنَ فَهُوَ جَائِزٌ. تعاطی کی بات چل رہی تھی بھئی۔ تعاطی میں بھئی بائع مبیعہ حوالے کرتا ہے اور مشتری ثمن حوالے کرتا ہے تو تعاطی کے اندر کیا دونوں طرف سے اعطاء ضروری ہے یا ایک طرف سے بھی اعطاء کافی ہے؟ کہتے ہیں بھئی اس میں کسی بھی جانب سے اعطاء پایا جائے یہ کافی ہے، ہاں دوسرے کی رضامندی ہونی چاہیے بھئی۔ تو تین ہی صورتیں بنتی ہیں بھئی، یا اعطاء دونوں طرف سے ہوگا یا اعطاء صرف مشتری کی طرف سے ہوگا یا اعطاء صرف بائع کی طرف سے ہوگا۔ مثلاً بھئی تینوں صورتیں دیکھیے بھئی۔ آپ دکان پر گئے اور کسی چیز کی قیمت پوچھی بھئی یہ کتنے کی ہے؟ اس نے قیمت بتلائی۔ آپ نے ثمن حوالے کیے، اس نے وہ چیز آپ کے حوالے کی اور آپ لے کر آ گئے تو اعطاء دونوں طرف سے پایا گیا۔ آپ نے کوئی کہا میں نے خریدی؟ اس نے کوئی کہا میں نے بیچی؟ ایجاب اور قبول تو نہیں، آپ نے صرف قیمت پوچھی بھئی اور ہاں ثمن حوالے کر دیے، یہ اعطاء آپ کی طرف سے ہوا مشتری کی طرف سے اور اس نے وہ چیز اٹھا کر آپ کو دے دی، یہ اعطاء کس کی طرف سے ہوا؟ بائع کی طرف سے۔ کبھی اعطاء صرف ایک طرف سے ہوگا يا مشتری کی طرف سے یا بائع کی طرف سے تو یہ بھی درست ہے بھئی۔ مثلاً مشتری کی طرف سے اعطاء کیسے ہوگا اور بائع کی طرف سے؟ صرف مشتری کی طرف سے اعطاء پایا جائے بھئی، مشتری کی طرف سے اعطاء پایا جائے۔ کہ آپ کوئی چیز مثلاً آپ چینی لینے گئے بھئی، چینی لینے گئے۔ اور اب آپ نے اس سے کہا کہ چینی کس طرح ہے؟ اس نے آپ کو بتایا کہ کس طرح کلو ہے؟ مثلاً 30 یا 40 روپے کلو ہے اور اس نے وہ ایک کلو تول دی بھئی، آپ نے کہا ایک کلو میرے لیے تول دو، اس نے تول دی لیکن آپ کے پاس کوئی برتن تھا نہیں کس میں ڈال کر لے کر آتے۔ اب اس نے تول کر الگ رکھ دی۔ آپ واپس آئے، واپس آ کر آپ بھئی برتن کوئی لے کر گئے اور وہ الگ چینی پڑی ہے وہاں پر اس نے تول کر رکھی ہے، آپ گئے، آپ نے وہ چینی اٹھا کر اپنے برتن میں ڈالی اور اس کو ثمن دیے اور آ گئے۔ اب اعطاء کس کی طرف سے ہے؟ آپ نے پیسے دیے، اس نے کوئی چینی اٹھا کر آپ کو دی ہے؟ اگر وہ اٹھا کر دے دیتا ہے تو پھر اعطاء اس کی طرف سے بھی آ گیا، لیکن اس نے صرف رکھی ہوئی ہے۔ اب آپ گئے ہیں اور خود آپ نے اٹھا لی اور ثمن دے دیے تو اعطاء صرف کس کی طرف سے آیا؟ مشتری کی طرف سے۔ اور اٹھا کر آئے، تو دیکھا اعطاء ایک طرف سے ہوا اور وہ کس کی طرف سے ہوا؟ مشتری اور یہ صحیح ہے بھئی۔ اور کبھی صرف اعطاء کس کی طرف سے ہوتا ہے؟ بائع کی طرف سے۔ مثلاً ایجاب و قبول نہیں ہے۔ چلیے، یہ آگے شرح میں بات آ جائے گی پھر میں آپ بتلاتا ہوں صورت بھئی۔ وَالتَّعَاطِي عِنْدَ الْبَعْضِ الإِعْطَاءُ مِنَ الْجَانِبَيْنِ اور تعاطی بعض علماء کے نزدیک وہ اعطاء ہے بھئی من الجانبین دونوں جانب سے۔ دونوں جانب سے وہ کہتے ہیں اعطاء ہونا چاہیے ورنہ صحیح نہیں بھئی۔ وَيَكْفِي عِنْدَ الْبَعْضِ مِنْ أَحَدِ الْجَانِبَيْنِ اور کافی ہے بعض فقہاء کے نزدیک کسی ایک جانب سے بھی اعطاء بھئی۔ كَمَا إِذَا دیکھو وہی صورت جو میں نے ابھی بیان کی تھی كَمَا إِذَا سَاوَمَ أَحَدٌ یہ احد فاعل ہے الْمَبِيعَ یہ مفعول ہے كَمَا إِذَا سَاوَمَ أَحَدٌ الْمَبِيعَ جیسے کسی نے ساوم کا معنی ہوتا ہے بھئی نرخ طے کرنا، نرخ کرنا قیمت۔ جیسے کسی نے بھئی نرخ کیے بھئی کس چیز کے؟ احد کسی ایک نے المبیع کسی معین مبیع کے وَلَمْ يَكُنْ مَعَهُ وِعَاءٌ يَجْعَلُ الْمَبِيعَ فِيهِ اور نہ تھا، دیکھا لم یکن، کان کیا چاہتا ہے بھئی؟ ایک اسم اور ایک خبر۔ اور کان کے بعد ظرف آ جائے، جار مجرور آ جائیں تو اس کو خبر مقدم بناتے ہیں اور ما بعد کو کیا بناتے ہیں؟ اس کا اسم مؤخر بناتے ہیں۔ اور کان کا اسم مرفوع ہوتا ہے، اسی لیے میں نے وعاء پڑھا بھئی۔ وَلَمْ يَكُنْ مَعَهُ وِعَاءٌ اور نہیں تھا اس کے پاس کوئی برتن، اس کے پاس کوئی برتن نہیں تھا بھئی اس نے چینی تول کر دی يَجْعَلُ الْمَبِيعَ فِيهِ کہ ڈال دے مبیع کو اس کے اندر، کوئی ایسا برتن نہیں تھا جس میں کیا کر دے بھئی؟ دیکھو وعاء نکرہ ہے بھئی اور نکرہ کے بعد فعل آ جائے تو عموماً یہ فعل اس کے لیے صفت بنتا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور موصوف صفت کا ترجمہ نکرہ میں عموماً پھر اس موقع پر موصوف سے پہلے ایسا کا لفظ لے آئیں بھئی۔ وَلَمْ يَكُنْ مَعَهُ اور نہیں تھا اس کے پاس وَعَاءٌ يَجْعَلُ الْمَبِيعَ فِيهِ ایسا برتن کہ اس کے اندر کیا کر دے؟ اس مبیع کو ڈال دے۔ فَكَالَهُ تو بائع نے ماپا، ایک ہوتا ہے ماپنا ایک ہوتا ہے ناپنا۔ یہ کپڑے کی جو لمبائی ہے اس کو کیا کہیں گے؟ پیمائش کرنا ناپنا، اور ایک ہے دوسری چیز کو کسی برتن کے ذریعے ماپتے ہیں جیسے گندم بھئی پہلے کیا کرتے تھے؟ خاص ایک برتن ہوتا تھا بھئی اس میں ماپ کر دیتے تھے بھئی۔ بعض دیہات میں اب بھی یہ رائج ہے بعض علاقوں میں، ہاں اب تو عموماً وزن کرتے ہیں بھئی۔ تو اس کو ماپنا کہتے ہیں جو برتن کے ذریعے ہوتا ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ یا یہ جیسے دودھ ہے بھئی دودھ۔ دودھ کو وزن کرتے ہیں یا وہ برتن میں ماپ کر دیتا ہے بھئی؟ جس کو ماپنا کہتے ہیں بھئی۔ کیل کہتے ہیں کیل۔ فَكَالَهُ تو بائع نے اس مبیع کو ماپا۔ ماپ کر الگ کر دیا لیکن اس کے پاس کیا تھا؟ برتن نہیں تھا، فَفَارَقَهُ تو مشتری اس سے کیا ہوا؟ جدا ہو گیا۔ فَجَاءَ بِالْوِعَاءِ پس مشتری برتن لے کر آیا وَأَعْطَى الثَّمَنَ اور اعطاء کیا اس نے کس چیز کا؟ ثمن اس نے دے دیے فَهُوَ جَائِزٌ تو یہ کیا ہے؟ یہ تو بیع تعاطی ہے، ایجاب بھی نہیں، قبول بھی نہیں اور اعطاء بھی صرف کس کی طرف سے ہے؟ مشتری کی طرف سے، یہ جائز ہے بھئی۔ اب دوسری صورت بیان کر رہے ہیں بھئی جس کے اندر اعطاء صرف بائع کی طرف سے پایا جائے گا۔ اس کی صورت یہ دیکھیے، آپ گئے بھئی خریدنے گندم، آپ نے کا ساتھی کوئی بیچ رہا ہے اور آپ گئے اس سے پوچھا بھئی: آپ گندم کیسے بیچ رہے ہو؟ اس نے کہا: ایک قفیز، بھئی یہ پیمانہ ہے، ایک قفیز کتنے کا دیتا ہوں؟ ایک درہم کا دیتا ہوں، ایک درہم کا۔ آپ نے اس سے کہا: میرے لیے پانچ قفیز ماپ دو، پانچ قفیز ماپ دو۔ امر کر رہے ہیں امر بھئی اور بیع کے اندر ابھی بھی ایجاب نہیں ہوا، قبول کچھ بھی نہیں ہوا، آپ امر کر رہے ہیں اور امر مستقبل میں ہوا کرتا ہے اور آپ نے پڑھا تھا بیع کے لیے ماضی یا حال کا ہونا ضروری ہے، حال سے ہو، اصل تو ماضی ہے لیکن حال سے بھی ہو جائے گی۔ تو اب آپ نے اسے امر کیا: میرے لیے پانچ قفیز ماپ دو۔ اس نے ماپ کر دیے، آپ نے اس سے وہ مبیع لے لیا بھئی اور مبیع لے کر آپ اٹھا کر چل دیے خاموشی سے، ثمن ادا ہی نہیں کیے، اس نے بھی کچھ نہیں کہا کہ بھئی یہ تو میرا ساتھی ہے یا جاننے والا ہے یا یہ کیا کر دیتا ہے پیسے عموماً ادا کر دیا کرتا ہے تو لہٰذا اس نے کوئی تعرض نہیں کیا۔ تو دیکھو اب ایجاب بھی نہیں، قبول بھی نہیں اور اعطاء دونوں جانبین سے ہے یا ایک جانب سے؟ اور کس کی جانب سے؟ بائع کی جانب سے، تو یہ بیع تعاطی ہوئی، اعطاء ایک طرف سے ہوا اور درست ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ ہاں، تو اب پانچ قفیز چونکہ اس نے ماپ کر دیے تھے اور ایک قفیز ایک درہم کا تھا تو اب مشتری کے ذمے کتنے لازم ہو گئے؟ کتنے درہم؟ پانچ درہم بھئی۔ وَلَوْ قَالَ كَيْفَ تَبِيعُ الْحِنْطَةَ فَقَالَ قَفِيزًا بِدِرْهَمٍ وَقَالَ كِلْنِي خَمْسَةَ أَقْفِزَةٍ فَكَالَهُ فَذَهَبَ بِهَا فَهَذَا بَيْعٌ وَعَلَيْهِ خَمْسَةُ دَرَاهِمَ. اور اگر اس نے کہا: كَيْفَ تَبِيعُ الْحِنْطَةَ کہ تو کیسے گندم بیچتا ہے؟ فَقَالَ قَفِيزًا بِدِرْهَمٍ اس نے کہا ایک قفیز کتنے کا ہے؟ ایک درہم کا ہے۔ وَقَالَ كِلْنِي خَمْسَةَ أَقْفِزَةٍ کہ تو ماپ دے میرے لیے پانچ قفیز بھئی، کلنی امر آیا بھئی، ماپ دے تو میرے لیے پانچ قفیز فَكَالَهُ تو ماپ دیے بائع نے فَذَهَبَ بِهَا تو وہ اس کو لے گیا فَهَذَا بَيْعٌ تو یہ کیا ہے؟ بیع ہے وَعَلَيْهِ خَمْسَةُ دَرَاهِمَ اور مشتری کے ذمے کتنے واجب ہوئے؟ پانچ دراہم۔ وَإِذَا أَوْجَبَ وَاحِدٌ قَبِلَ الآخَرُ فِي الْمَجْلِسِ كُلَّ الْمَبِيعِ بِكُلِّ الثَّمَنِ أَوْ تَرَكَ إِلاَّ إِذَا بَيَّنَ ثَمَنَ كُلٍّ. یہاں ایک اور ضابطہ ذکر کر رہے ہیں۔ ضابطہ یہ کہ جب کوئی ایک ایجاب کر دے تو دوسرا قبول کرے گا سارے مبیع کو اسی مجلس کے اندر سارے ثمن کے بدلے یا چھوڑ دے گا۔ یہ نہیں کر سکتا کہ کچھ کو تو قبول کرے اور کچھ کو کیا کر دے؟ چھوڑ دے، یہ نہیں کر سکتا۔ لینا پڑے گا تو سارا مبیع، چھوڑنا پڑے گا تو سارا مبیع۔ مثلاً بھئی ایسی صورت بناؤ جس میں کچھ بعض کو لینا درست ہو مثلاً تین چار چیزیں اکٹھی ہیں بھئی۔ آپ کے ساتھی نے آپ کو کہا بھئی: یہ چار قلم ہیں، میں آپ کو یہ میں نے آپ کو 100 روپے میں فروخت کیے بھئی۔ آپ کیا کریں گے؟ اب اسی مجلس کے اندر چاروں کو 100 میں لیں گے بھئی اور یا ساروں کو چھوڑ دیں قبول کریں گے بھئی۔ ہاں، یہ آپ نہیں کر سکتے کہ آپ دو قلم لے لیں اور کہیں: میں نے دو قلم قبول کیے بھئی، دو قلم خرید لیے کتنے میں؟ 50 میں۔ یہ نہیں کر سکتے۔ تو لینا پڑے گا تو سارا مبیع، ورنہ تو تفریقِ صفقہ لازم آئے گا بھئی۔ کیا لازم آئے گا؟ صفقہ ص، ف، ق دو نقطوں والا اور ہ، صفقہ عقد کو کہتے ہیں۔ وہ مجموعہ جس کا ایجاب ہوا ہے بھئی اس مجموعے کی کیا لازم آئے گی؟ تفریق لازم آئے گی اور یہ درست نہیں ہے۔ ہاں، ایک صورت میں درست ہے اگر اس نے بیچنے والے نے ہر قلم کے الگ پیسے بھی بتلا دیے، اگر ہر ایک کے اس نے الگ ثمن بیان کر دیے پھر کیا کر سکتے ہیں آپ بھئی؟ جی؟ مثلاً بھئی چار قلم آپ کے ساتھی نے آپ کو فروخت کیے بھئی، کہا: یہ چار قلم ہیں 100 روپے میں میں نے آپ کو فروخت کیے بھئی، یہ ایک قلم 25 کا ہے، دوسرا بھی 25 کا ہے، تیسرا بھی، چوتھا بھی، ہر ایک کی قیمت کتنی ہے؟ 25 ہے۔ اب آپ قبول کر سکتے ہیں بھئی: میں نے ایک قلم 25 میں لیا یا میں نے دو لے لیے 50 میں یا تین لے لیے 75 میں، کیوں؟ تفریقِ صفقہ یہاں نہیں؟ نہیں بھئی، یہ درحقیقت بظاہر تو ایک ایجاب ہوا ہے لیکن درحقیقت یہ کئی ایجاب ہیں، کیا ہیں؟ جب ہر ایک کی اس نے قیمت الگ الگ بیان کر دی تو درحقیقت اس نے یوں کہا گویا الگ الگ ہر ایک کا: یہ قلم بھی میں نے آپ کو 25 میں بیچا، یہ قلم بھی 25 میں بیچا، یہ قلم بھی تو جتنے مرضی آپ قبول کریں، جتنے مرضی قبول نہ کریں، آپ کی مرضی ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ جی، تو یہ نہیں کر سکتے ویسے اگر ہر ایک کی قیمت نہیں بیان کی تو بعض کو قبول کر لیں، بعض کو رد کر دیں، یہ درست نہیں۔ وَإِذَا أَوْجَبَ وَاحِدٌ اور جب ایجاب کر دے کوئی ایک قَبِلَ الآخَرُ فِي الْمَجْلِسِ قبول کر لے گا دوسرا بھئی فی المجلس اسی مجلس کے اندر كُلَّ الْمَبِيعِ یہ مفعول ہے قبل کا، قبول کرے گا سارے کے سارے مبیع کو بِكُلِّ الثَّمَنِ سارے کے سارے ثمن کے بدلے میں أَوْ تَرَكَ یا کیا کر دے گا؟ چھوڑ دے گا، چھوڑ دے گا۔ إِلاَّ إِذَا بَيَّنَ ثَمَنَ كُلٍّ مگر یہ کہ بیان کر دے بھئی بائع ثمن کلٍ ہر ایک کے ثمن کو، پھر آپ بعض کو لے سکتے ہیں، بعض کو چھوڑ سکتے ہیں۔ بھئی بعض کے ثمن بیان کر دے اس کی کیا صورت ہے؟ علامہ صدر الشریعہ خود شرح کر رہے ہیں۔ أَيْ إِذَا قَالَ بِعْتُ هَذَا بِدِرْهَمٍ وَذَلِكَ بِدِرْهَمٍ بیچنے والے نے یوں کہا: یہ کتنے کا ہے؟ یہ ایک درہم کا ہے اور وہ اور وہ ایک درہم کا ہے فَقَبِلَ أَحَدَهُمَا تو اس نے یک ان دونوں میں سے کوئی ایک قبول کر لیا بـدرهم درہم کے بدلے میں يجوز تو یہ کیا ہے؟ جائز ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ اور یاد رکھو فی المجلس کی قید لگائی۔ مجلس ہونا ضروری ہے بھئی۔ مجلس، اس لیے کہ ورنہ تو حرجِ عظیم لازم آئے گا ایک شخص نے آج ایجاب کیا ہے، آج اس کی چیز بیچنے کا ارادہ ہے، دو چار دن بعد دوسرا اٹھ کر آ جائے گا بھئی، آپ نے ایجاب کیا تھا، میں قبول کرتا ہوں، میں نے وہ چیز خرید لی، بھئی اب تو اس کا ہو سکتا ہے ارادہ ہی نہ ہو بیچنے کا۔ تو حرج لازم آئے گا اس لیے مجلس کی قید ضروری ہے بھئی، مجلس اسی مجلس کے اندر کیا کرے؟ قبول کرے، اسی مجلس کے اندر۔ مجلس ختم ہوئی تو ایجاب بھی کیا ہو گیا؟ ختم، باطل ہوا بھئی۔ اور مجلس سے مراد حالت ہے یاد رکھو، یہ نہیں کہ آپ دو چار چھ گھنٹے بیٹھے ہوئے ہیں تو جب تک بیٹھے ہوئے ہیں، آپ کو قبول کا حق ہے، نہیں ایسا نہیں بھئی۔ حالت ہے۔ یعنی کوئی ایسا فعل آ جائے جو اعراض پر دلالت کرے، ایجاب ختم ہو جایا کرتا ہے۔ دوسرے نے کہا آپ کو میں نے یہ قلم آپ کو بیچے، کتنے میں؟ 100 روپے میں۔ آپ نے اس کی طرف توجہ ہی نہیں کی، اپنے دوسرے ساتھی کے ساتھ گپ شپ میں مصروف ہو گئے، حال احوال پوچھا، یہ کس چیز پر دلالت کر رہا ہے؟ اعراض پر، معلوم ہوا آپ کو دلچسپی نہیں ہے وہ چیز خریدنے سے، ایجاب باطل ہوا۔ تو جو بھی ایسا فعل کر لیں جو اعراض پر دلالت کرے تو وہ ایجاب کیا ہو جایا کرتا ہے؟ باطل۔ ہاں اگر وہ مشورہ کر رہا ہے اپنے ساتھی سے کہ لوں یا نہ لوں یا سوچ رہا ہے پھر نہیں بھئی، پھر ٹھیک ہے، ایجاب باطل نہیں بھئی۔ کوئی اور بات کرتا ہے جو اعراض پر دلالت کرے۔ سمجھ میں آیا؟ تو مجلس سے مراد حالت ہے حالت۔ جیسے دو آدمی بھئی، دو آدمی چلتے چلتے بیع کر رہے ہیں بھئی، اب مجلس تو ان کی ہر قدم پر بدلتی جا رہی ہے۔ لیکن حالت تو وہی ہے، تو آپ یہ نہ کہیں بھئی اس نے چند قدم پیچھے ایجاب کیا تھا، آپ نے چند قدم بعد قبول کیا ہے اس لیے کہ مجلس ایک نہ رہی، بلکہ اب بھی بیع کیا ہو جائے گی؟ ہو جائے گی کیونکہ حالت تو وہی ہے بھئی، کوئی کام اس نے اعراض والا ابھی تک کیا نہیں ہے، چلتے چلتے بیع ہو گئی۔ وَمَا لَمْ يَقْبَلْ بَطَلَ الإِيجَابُ إِنْ رَجَعَ الْمُوجِبُ أَوْ قَامَ أَحَدُهُمَا عَنْ مَجْلِسِهِ. اور جب تک دوسرے نے قبول نہیں کیا۔ بھئی میں نے آپ کو کہا یہ قلم میں آپ کو 100 روپے میں یہ چار قلم بیچتا ہوں، آپ سوچ میں پڑے ہوئے ہیں۔ کہ میں نے کہا بھئی میں رجوع کرتا ہوں اپنے ایجاب سے، میں ان کو نہیں بیچنا چاہتا۔ تو ابھی آپ نے قبول کیا تھا؟ نہیں، جب قبول نہیں کیا تو کوئی آپ کا حق متعلق ہوا ان چیزوں سے؟ نہیں، جب حق متعلق نہیں ہوا تو میں مجھے اپنے اس میں ایجاب میں اختیار تھا، میں اس کو کیا کر سکتا ہوں؟ باطل کر سکتا ہوں اور میں نے اس کو باطل کر دیا بھئی۔ ہاں دوسرا جب قبول کر لیتا ہے تو پھر خیار ختم ہو جاتا ہے، اب تو اس کو خیارِ ایجاب کہتے ہیں، جب تک دوسرا قبول نہ کرے بھئی ایجاب کرنے والے کو اس کو رد کرنے کا، ہاں رجوع کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔ تو یہ خیارِ ایجاب بیان کر رہے ہیں، اسی طرح بھئی، اگر دونوں میں سے کوئی ایک مجلس سے اٹھ گیا تو یہ بھی کس چیز پر دلالت کرتا ہے؟ اعراض پر دلالت کرتا ہے، تو مجلس سے جیسے ہی کوئی اٹھے گا، خیار ختم ہوا بھئی۔ وَمَا لَمْ يَقْبَلْ اور جب تک دوسرے نے قبول نہیں کیا، بَطَلَ الإِيجَابُ تو ایجاب کیا ہو جائے گا؟ کا باطل ہوگا، کہتے ہیں: إِنْ رَجَعَ الْمُوجِبُ اگر ایجاب کرنے والا کیا کر دے؟ رجوع کر لے، اس کو کیا کہتے ہیں میں نے کیا بتلایا؟ خیارِ ایجاب، جب تک دوسرا قبول نہ کرے، پہلے کو کیا حاصل ہے؟ خیارِ ایجاب وہ رجوع کر سکتا ہے۔ اگر رجوع کر لے ایجاب کرنے والا، أَوْ قَامَ أَحَدُهُمَا یا دونوں کھڑا ہو جائے دونوں میں سے کوئی ایک عَنْ مَجْلِسِهِ اپنی مجلس سے، تو بھی خیار باطل ہوا۔ وَإِذَا وَجَدَا تثنیہ کا صیغہ ہے، وجد، وجدا بھئی تثنیہ، اور جب دونوں پائے جائیں، کیا معنی؟ ایجاب اور قبول دونوں پائے جائیں لَزِمَ الْبَيْعُ تو بیع کیا ہو جائے گی؟ لازم ہو جائے گی، اب دونوں کو خیار نہیں بھئی مجلس اگرچہ وہی ہو۔ تو لزم البيع، بیع لازم ہو جائے گی، کیا معنی ہے بیع لازم ہونے کا؟ علامہ صدر الشریعہ تشریح کر رہے ہیں: أَيْ لاَ يَثْبُتُ خِيَارُ الْمَجْلِسِ خیارِ مجلس ثابت نہیں ہوگا خِلاَفًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى رَحْمَةً وَاسِعَةً بھئی۔ امامِ دنیا، امامِ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں خیارِ مجلس اس کو حاصل ہے، دونوں کو حاصل ہے، جب تک دونوں بیٹھے ہوئے ہیں، دونوں کو خیارِ مجلس حاصل ہے، بیع لازم نہیں، کوئی بھی رجوع کر سکتا ہے، ختم کر سکتا ہے بیع کو بھئی۔ امام، جب تک مجلس میں بیٹھے ہیں، دو گھنٹے، تین گھنٹے، چار گھنٹے بھئی، جب تک بیٹھے ہیں خیارِ مجلس حاصل ہے، بیع کو کیا کرنا چاہے، کوئی بھی ختم کرنا چاہے تو ختم کر سکتا ہے۔ رجوع کر سکتا ہے اپنے قول سے۔ جبکہ ہمارے نزدیک نہیں بھئی، ایجاب اور قبول دونوں ہو گئے، اب بیع لازم ہو گئی، اب کسی کو اختیار نہیں رہا۔ حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بھی، عنہما کا بھی یہی مذہب تھا بھئی۔ چنانچہ جب انہیں کوئی چیز پسند ہوتی، ایجاب و قبول ہو جاتا، فوراً مجلس سے اٹھ کر دو چار قدم چل لیتے پھر آ جاتے۔ تاکہ وہ خیارِ مجلس کیا ہو جائے بھئی؟ ختم ہو جائے، کہیں یہ اپنے ایجاب سے رجوع نہ کر لے بھئی، بیع ختم نہ کر دے۔ تو بیع لازم ہو گئی۔ یہاں ایک بڑی قیمتی حوالہ اور عبارت لکھ لیجیے مولانا، آپ کے کام آئے گا، بڑا قیمتی۔ الْبَيْعُ الصَّحِيحُ يُوقِعُ الْمِلْكَ الْبَيْعُ الصَّحِيحُ يُوقِعُ الْمِلْكَ بِمُجَرَّدِ الْعَقْدِ بِمُجَرَّدِ الْعَقْدِ الْبَيْعُ الصَّحِيحُ يُوقِعُ الْمِلْكَ بِمُجَرَّدِ الْعَقْدِ إِذَا كَانَ خَالِيًا إِذَا كَانَ خَالِيًا عَنْ شَرْطِ الْخِيَارِ عَنْ شَرْطِ الْخِيَارِ وَالْفَاسِدُ لاَ يُوقِعُ الْمِلْكَ وَالْفَاسِدُ لاَ يُوقِعُ الْمِلْكَ مَا لَمْ يَتَّصِلْ بِهِ مَا لَمْ يَتَّصِلْ بِهِ الْقَبْضُ بِإِذْنِ الْبَائِعِ الْقَبْضُ بِإِذْنِ الْبَائِعِ وَالْبَاطِلُ لاَ يُوقِعُهُ وَالْبَاطِلُ لاَ يُوقِعُهُ وَإِنْ قَبَضَ بِالإِذْنِ وَإِنْ قَبَضَ بِالإِذْنِ وَالْمَوْقُوفُ لاَ يُوقِعُهُ وَالْمَوْقُوفُ لاَ يُوقِعُهُ وَإِنْ قَبَضَ وَإِنْ قَبَضَ إِلاَّ بِإِجَازَةِ مَالِكِهِ إِلاَّ بِإِجَازَةِ مَالِكِهِ جوہرہ، جلد 1، صفحہ 244۔ جوہرہ، جلد 1، صفحہ 244، حوالہ بھی لکھ لیجیے۔ دیکھیے بھئی، اب عبارت کا ترجمہ بھی بھئی یہ جو حوالہ لکھوایا سن لیجیے۔ الْبَيْعُ الصَّحِيحُ يُوقِعُ الْمِلْكَ بِمُجَرَّدِ الْعَقْدِ بیعِ صحیح واقع کر دیتی ہے ملکیت کو بمجرد العقد صرف عقد سے ہی۔ صرف عقد ہوتے ہی مالک بن گیا بھئی مشتری مبیع کا بھئی۔ عقد، ایک نے ایجاب کیا دوسرے نے قبول کیا، فوراً مشتری اس مبیع کا کیا بن گیا؟ مالک بن گیا۔ کب؟ إِذَا كَانَ خَالِيًا عَنْ شَرْطِ الْخِيَارِ جبکہ وہ بیع خالی ہو کس سے؟ خیارِ شرط سے بھئی، کوئی تین دن کا کوئی اختیار نہ رکھے کہ میں ایک دو دن سوچوں گا بھئی۔ وَالْفَاسِدُ یعنی بیعِ فاسد اور بیعِ فاسد جو ہے لاَ يُوقِعُ الْمِلْكَ وہ ملکیت کو واقع اس سے مالک نہیں بنتا آدمی بھئی، میں نے کس میں آپ کو لکھوائی تھیں یا نہیں بھئی؟ بیعِ صحیح، بیعِ باطل، بیعِ فاسد اور بیعِ موقوف، ان سب کے کا حکم بیان ہو رہا ہے۔ اور بیعِ فاسد ملکیت واقع نہیں کرتی یعنی اس سے ملکیت حاصل نہیں ہوتی مَا لَمْ يَتَّصِلْ بِهِ الْقَبْضُ جب تک اس کے ساتھ قبضہ نہ ملے، بیعِ فاسد ہوئی ہے تو اس میں جب وہ قبضہ جب تک نہیں کرتا، مبیع کا مالک نہیں بنتا۔ اور قبضہ بھی کیا ہو؟ بِإِذْنِ الْبَائِعِ کس کی اجازت سے ہو؟ بائع کی اجازت سے۔ بائع کی اجازت سے قبضہ کر لے گا تو مالک بن جائے گا، لیکن اس کو فسخ کرنا ضروری ہے ورنہ گناہگار ہوگا۔ ہاں مالک بن گیا، بیع ہو گئی۔ وَالْبَاطِلُ لاَ يُوقِعُهُ اور بیعِ باطل جو ہے وہ ملکیت کو واقع نہیں کرتی، ملک کا فائدہ نہیں دیتی وَإِنْ قَبَضَ بِالإِذْنِ اگرچہ وہ کیا کر دے؟ قبضہ کر لے مالک کی اجازت سے، خنزیر کسی مسلمان نے بیچا یا شراب بیچی یا خریدی بھئی، اب قبضہ بھی کر لے، پھر بھی مالک نہیں اس لیے کہ خنزیر اور خمر میں مومن کے لیے نہ تملک صحیح ہے، نہ تملیک صحیح ہے، نہ خود ان کا مالک بن سکتا ہے، نہ کسی اور کو ان کا مالک بنا سکتا ہے، تو اجازت سے بھی کر لے قبضہ، نہیں بھئی مالک بن ہی نہیں سکتا اس کا۔ وَالْمَوْقُوفُ لاَ يُوقِعُهُ اور بیعِ موقوف ملکیت کو واقع نہیں کرتی یعنی ملکیت اس سے حاصل نہیں ہوگی وَإِنْ قَبَضَ اگرچہ اس پر کیا کر لے؟ قبضہ کر لے إِلاَّ بِإِجَازَةِ مَالِكِهِ مگر یہ کہ اس کے مالک کی اجازت، مالک اجازت دے گا پھر مالک بنے گا ورنہ قبضہ بھی کر لے تو مالک نہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ چلیے۔ وَإِذَا وَجَدَا لَزِمَ الْبَيْعُ اور جب دونوں پائے جائیں یعنی ایجاب بھی اور قبول بھی لَزِمَ الْبَيْعُ تو بیع کیا ہو جائے گی؟ لازم ہو جائے گی، أَيْ لاَ يَثْبُتُ خِيَارُ الْمَجْلِسِ خِلاَفًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ یعنی خیارِ مجلس ثابت نہیں ہوگا برخلاف امامِ شافعی رحمہ اللہ کے، ان کے نزدیک خیارِ مجلس رہتا ہے، احناف کے نزدیک نہیں بھئی، ان کے اپنے دلائل ہیں، ہمارے اپنے دلائل ہیں بھئی۔ وَلَمَّا ذَكَرَ الإِيجَابَ وَالْقَبُولَ جی۔ یہ متن یہ جو شرح ہے، یہ آگے آنے والے متن کے لیے تمہید ہے بھئی۔ علامہ صدر الشریعہ بتلا رہے ہیں: وَلَمَّا ذَكَرَ الإِيجَابَ وَالْقَبُولَ کہ جب علامہ تاج الشریعہ یعنی ماتن نے ذکر کر دیا ایجاب اور قبول کو أَرَادَ أَنْ يَذْكُرَ الثَّمَنَ وَالْمَبِيعَ تو ارادہ کیا انہوں نے کہ ثمن اور مبیع کو بھی ذکر کریں۔ اب کس کو بیان کرنے لگے ہیں؟ پہلے ایجاب اور قبول کو بیان کیا اپنے متن میں انہوں نے، اب وہ ثمن اور مبیع کو ذکر کر رہے ہیں، أَنْ يَذْكُرَ أَحْكَامَ الثَّمَنِ وَالْمَبِيعِ، احکام مضاف محذوف ہے یہاں پر، مبیع اور ثمن کے احکام بیان کرنے لگے ہیں بھئی، سمجھ میں آئی بات بھئی؟ جی، یہ تمہید ہے آگے آنے والے متن کے لیے، وَإِنَّمَا قَدَّمَ آگے متن میں اب دو چیزیں آنے والی ہیں بھئی، ایک ثمن اس کے احکام بھی بیان کریں گے اور ایک مبیعہ اس کے بھی احکام بیان کریں گے، لیکن علامہ تاج الشریعہ جو ہیں وہ پہلے ثمن کے احکام ذکر کریں گے اور بعد میں کس کو؟ مبیع کو، سوال پیدا ہوتا ہے کہ بھئی یہ ثمن کے احکام، ثمن کے ذکر کو کیوں مقدم کیا؟ مبیع کو کیوں مؤخر کیا؟ اب اس کا جواب دینا چاہتے ہیں بھئی، کہتے ہیں: وَإِنَّمَا قَدَّمَ ذِكْرَ الثَّمَنِ اور مقدم کیا ہے ثمن کے ذکر کو لِأَنَّهُ وَسِيلَةٌ لِأَنَّهُ وَسِيلَةٌ إِلَى حُصُولِ الْمَبِيعِ اس لیے کہ ثمن جو ہے وہ وسیلہ ہے مبیع کے حاصل ہونے کا، وَهُوَ الْمَقْصُودُ اور وہی کیا ہوتا ہے؟ مقصود، بھئی بیع کے اندر مقصود کیا ہوا کرتا ہے؟ مبیع مقصود ہوا کرتا ہے۔ مبیع مقصود ہوا کرتا ہے، آپ دکان پر گئے چینی لینے، آپ پیسے دیتے ہیں اور چینی لیتے ہیں تو مقصود کیا تھا آپ کے لیے؟ چینی لینا۔ اچھا، وَالْوَسَائِلُ مُتَقَدِّمَةٌ عَلَى الْمَقَاصِدِ تو مبیع وہی مقصود ہے اور وسائل مقدم ہوتے ہیں مقاصد پر۔ یاد رکھو ایک ہے وسیلہ، ایک ہے مقصود بھئی، وسیلہ جس کے ذریعے کسی چیز تک پہنچا جائے، ذریعہ۔ تو اصل چیز مقصود ہے اور دوسری چیز کے ذریعے اس تک پہنچا جاتا ہے، تو مبیع مقصود ہے اور ثمن کے ذریعے اس کو حاصل کیا جاتا ہے، اس تک پہنچا جاتا ہے اور وسائل تو اب ہونا تو یہ چاہیے مقصود پہلے ذکر کریں اور وسیلے کو؟ لیکن بھئی وسائل مقدم ہوا کرتے ہیں۔ مقصود پر، اس لیے اس کے کیونکہ اس کے ذریعے تو پہنچنا ہے بھئی، جیسے بھئی کنویں کے اندر پانی ہے اس کو نکالنے کے لیے رسی اور ڈول چاہیے، تو رسی اور ڈول ذریعہ ہے اور وہ پانی جو کنویں کے اندر ہے وہ مقصود ہے، تو پہلے رسی اور ڈول ہوں گے تو اس کے بعد ہی کیا حاصل ہوگا؟ پانی حاصل ہوگا، تو وسائل کیا ہوا کرتے ہیں؟ مقدم ہوتے ہیں۔ اسی لیے کہا: وَالْوَسَائِلُ مُتَقَدِّمَةٌ عَلَى الْمَقَاصِدِ اور وسائل جو ہیں وہ مقدم ہوا کرتے ہیں مقاصد پر۔ فَقَالَ پس ماتن فرماتے ہیں: وَصَحَّ الْبَيْعُ فِي الْعِوَضِ الْمُشَارِ إِلَيْهِ بِلاَ عِلْمٍ بِقَدْرِهِ وَوَصْفِهِ لاَ فِي غَيْرِ الْمُشَارِ إِلَيْهِ. اچھا، کیا بتلایا انہوں نے کس کیا بیان کرنے لگے ہیں آگے متن میں؟ ثمن اور مبیعہ، اور مقدم کس کو کریں گے؟ ثمن کو، لیکن یہ جو پہلا ضابطہ ذکر کر رہے ہیں یہ مطلق ہے، یہ مبیع کو بھی شامل ہے اور ثمن کو بھی، تو پہلا ایسا ضابطہ ذکر کیا جو مشترک ہے ثمن کے لیے بھی وہی ہے اور مبیع کے لیے بھی، ہاں اس کے بعد جب آگے الگ الگ ذکر کریں گے تو پھر وہ ثمن کی بات پہلے کریں گے، پہلے مشترکہ ضابطہ ذکر کر دیا۔ دیکھو! ایک چیز جو مشاهد ہو، سامنے موجود ہو، اس کی طرف اشارہ ہو رہا ہے، اس کے اندر وصف اور قدر کا ذکر کرنا ضروری نہیں۔ ورنہ وصف اور قدر کا ذکر کرنا ضروری ہوتا ہے۔ بھئی! آپ کسی سے گندم خرید رہے ہیں، اگر گندم سامنے نہیں ہے تو پھر تو پتا کرنا ضروری ہے، اس کا بتلانا ضروری ہے کتنی گندم ہوگی، مقدار کا بتلانا اور کس قسم کی ہے، اعلیٰ ہے، ادنیٰ ہے یا متوسط ہے۔ ورنہ تو کیا لازم آئے گا بھئی؟ جھگڑا لازم آئے گا۔ وہ ادنیٰ چیز دے گا، آپ کیا چاہیں گے؟ اعلیٰ۔ اور مقدار بھی طے ہونا ضروری، تو مقدار بھی طے ہو اور مقدار بھی بیان ہو اور اس کا وصف بھی بیان ہو۔ وصف بھی بیان ہو۔ لیکن اگر وہ چیز خود سامنے موجود ہے، مشاهد ہے، مشارٌ الیہ ہے، اشارہ ہو رہا ہے، یہ پڑی ہے گندم بھئی! یہ گندم میں نے آپ کو بیچی، اب اس کے اندر یاد رکھو نہ مقدار ذکر کرنے کی ضرورت ہے اور نہ اس کا وصف کہ یہ کس قسم کی ہے، اعلیٰ، ادنیٰ ہے یا متوسط ہے بھئی۔ یا یہ کتنے قفیز ہے، 100 قفیز ہے، 110 ہے، 115 ہے، کوئی ذکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس لیے کیونکہ اب جھگڑے کا کوئی امکان نہیں، گندم یہ پڑی ہے بھئی! یہ سامنے گندم ہے، یہ آپ کو میں 100 درہم کی دیتا ہوں، اب کوئی جھگڑے کا امکان ہے؟ کوئی جھگڑے کا امکان نہیں۔ لہذا وہ چیز جو مشاهد ہو، مشارٌ الیہ ہو، سامنے موجود ہو، اس کے اندر نہ اس کے وصف کو ذکر کرنے کی ضرورت اور نہ اس کے، اسی طرح ثمن میں ہے بھئی! ثمن میں۔ ثمن بھی اگر مشاهد ہو، مثلاً آپ کیا خرید رہے تھے؟ گندم خرید رہے ہیں اور اس کے عوض کیا دینا چاہتے ہیں؟ روپے مثلاً دینا چاہتے ہیں، تو روپیہ یاد رکھو روپیہ تو پاکستانی کرنسی کا بھی نام ہے، روپیہ تو ہندوستانی کرنسی کا بھی نام ہے، روپیہ تو نیپال کی کرنسی کا بھی نام ہے، ہاں قدر الگ الگ ہے۔ ہمارا ڈیڑھ روپیہ ہو تقریباً تو ہندوستان کا ایک روپیہ بنتا ہے بھئی۔ ہندوستان کے جب تبادلہ کرتے ہیں تو کیا کرتے ہیں؟ وہ 100 دیتے ہیں تو ہمیں کتنا دینا پڑتا ہے؟ 150، یہ برابر ہیں بھئی۔ اب فرض کرو نیپال کا اس سے بھی کم ہے، وہ ہمارے 50 پیسے کے برابر ہے، ہمارا ایک روپیہ دیں تو نیپال کے کتنے ملتے ہیں ہمیں؟ دو روپے ملتے ہیں، تو قدر تینوں کی الگ الگ ہے۔ قدر تینوں کی الگ الگ ہے۔ وہ جی! تو نیپال کا روپیہ ہمارے ایک روپے میں کتنے آئیں گے بھئی؟ دو، اور ہمارے تین روپے ہوں تو ہندوستان کے کتنے آئیں گے؟ دو روپے، ڈیڑھ میں تو ایک مل رہا ہے بھئی۔ تو تین میں کتنے ملیں گے؟ دو ملیں گے، تو دیکھو ان میں سے ہر ایک کی مالیت الگ الگ ہے، مالیت کیا ہے؟ الگ الگ ہے۔ تو اب جب کسی کے ساتھ بیع کریں تو اس میں مقدار بتانا بھی ضروری ہوتا ہے ثمن کا اور وصف بتلانا بھی ضروری ہوتا ہے۔ مثلاً آپ نے کوئی چیز خریدی ہے تو یہ بتلانا بھی ضروری ہے کہ 20 روپے میں خرید رہا ہوں یا 25 میں خرید رہا ہوں یا 50 دوں گا یا 25 جتنے ہیں وہ بھی ذکر ہونا ضروری ہیں اور اس کا وصف ذکر ہونا بھی ضروری ہے، پاکستانی روپیہ دوں گا کہ ہندوستانی دوں گا کہ نیپالی دوں گا۔ صرف روپے کہہ دینا کافی نہیں بھئی۔ ہاں! جہاں رائج، مثلاً یہاں پر تو چلتا ہی پاکستانی روپیہ ہے، مثلاً کوئی شہر ایسا ہے جہاں تینوں قسم کے روپے چلتے ہیں، تو اب وہاں پر کیا کرنا ضروری ہے؟ بتانا ضروری، اس کی صفت بتلانا، یا جیسے درہم ہوا کرتے تھے، درہم مختلف چلتے تھے، تو یہ بتلانا ضروری ہے یہ کون سی قسم والا درہم ہے۔ بعض کی مالیت کم ہوتی تھی، بعض کی مالیت زیادہ، تو پھر تو جھگڑا ہوگا بھئی! مشتری چاہے گا میں وہ کم مالیت والے دے دوں اور بائع کیا چاہے گا؟ زیادہ مالیت والے مجھے ملیں۔ تو لہذا بیع کے اندر چاہے مبیعہ ہو، چاہے ثمن ہو، دونوں کے اندر مقدار کا ذکر کرنا بھی ضروری اور ان کے وصف کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے۔ لیکن اگر مشارٌ الیہ ہو تو پھر ان کا ذکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ نوٹ آپ نے نکال کر سامنے رکھ دیے بھئی: یہ گندم میں آپ سے خریدتا ہوں ان نوٹوں کے بدلے، کتنے نوٹ ہیں؟ کوئی ضرورت نہیں بتانے کی۔ بعد میں جھگڑے کا کوئی امکان نہیں کیونکہ وہ دیکھ رہا ہے کون سے نوٹ ہیں، کتنے پڑے ہوئے ہیں اور اور اس میں کوئی جھگڑے کا امکان نہیں، کوئی جھگڑے کی صورت نہیں۔ تو کہتے ہیں: وَصَحَّ الْبَيْعُ فِي الْعِوَضِ الْمُشَارِ إِلَيْهِ بِلاَ عِلْمٍ بِقَدْرِهِ وَوَصْفِهِ، اور صحیح ہے بیع بھئی ایسے عوض کے اندر، دیکھا عوض کا لفظ لائے، یہ مبیعے کو بھی شامل ہے اور ثمن کو بھی کیونکہ دونوں ایک دوسرے کا عوض ہوتے ہیں۔ اور صحیح ہے بیع ایسے عوض کے اندر الْمُشَارِ إِلَيْهِ جو مشارٌ الیہ ہو، جس کی طرف اشارہ کیا گیا ہو۔ بِلاَ عِلْمٍ بِقَدْرِهِ وَوَصْفِهِ، بغیر جانے اس کی مقدار کو اور اس کے وصف کو۔ لاَ فِي غَيْرِ الْمُشَارِ إِلَيْهِ، نہ کہ غیرِ مشارٌ الیہ جس میں وصف اور قدر دونوں کا بتلانا ضروری ہے بھئی۔ لیکن اس میں یاد رکھنا انہوں نے کہا مشارٌ الیہ جو ہے اس کے اندر نہ مقدار بتلانا ضروری، نہ وصف۔ لیکن یہ ضروری ہے کہ وہاں ربا نہ لازم آتا ہو، اگر ربا لازم آتا ہو تو پھر مقدار وغیرہ کا ذکر کرنا اور برابری کا ہونا ضروری ہے۔ آپ نے کہا: ایک کی گندم ادھر پڑی ہے، آپ کی گندم ادھر پڑی ہے، آپ کہتے ہیں: یہ اب میں نے گندم اس گندم کے بدلے بیچی، دوسرا کیا کہتا ہے؟ میں نے اس کو قبول کیا، میں نے اس کو خرید لیا، تو یہ بیع صحیح نہیں ہے مولانا! گندم کتنی ہے؟ پتا ہے کچھ؟ نہیں۔ لازمی بات ہے یہ تو جنس کے بدلے جنس آ رہی ہے وہی والی، اور اس صورت میں کیا ضروری ہے؟ مساوات ضروری ہے، برابری ضروری ہے، اب پتا نہیں وہ گندم کتنی ہے، یہ گندم کتنی ہے، تو مساوات تو مساوات نہیں ہوگی بھئی۔ تو کہ لاَ فِي غَيْرِ الْمُشَارِ إِلَيْهِ، نہ کہ غیرِ مشارٌ الیہ میں کہ اس کے اندر قدر اور وصف دونوں کا معلوم ہونا ضروری ہے۔ فَإِنَّهُ حِينَئِذٍ، خود بتلا رہے ہیں، اس لیے کہ اس وقت جو ہے لاَ بُدَّ مِنْ أَنْ يُذْكَرَ قَدْرُهُ وَوَصْفُهُ، اس لیے کہ اس صورت میں ضروری ہے کہ ذکر کیا جائے اس کے مقدار کو اور اس کے وصف کو۔ سمجھ میں آیا؟ قَدْرُهُ کے نیچے انہوں نے الثمن لکھا، نہیں بھئی! ثمن نہیں ہے، العوض کو ضمیر راجع ہے۔ وہ جو عوض ہے، چاہے وہ مبیعہ ہے، چاہے وہ ثمن ہے، دونوں میں بھئی قدر کا ذکر کرنا بھی ضروری اور وصف کا ذکر کرنا بھی ضروری۔ وہ ثمن بھی ہو سکتا ہے، مبیعہ بھی ہو سکتا ہے۔ وَبِثَمَنٍ حَالٍّ وَإِلَى أَجَلٍ عُلِمَ، اور یہ بھی متعلق ہے بھئی وَصَحَّ کے ساتھ۔ وَصَحَّ الْبَيْعُ اوپر آیا تھا متن میں، بِثَمَنٍ حَالٍّ وَإِلَى أَجَلٍ عُلِمَ۔ ثمنِ حالی یعنی جو فوری پیسے دیں، نقد، نقد۔ نقد کے ساتھ بھی بیع صحیح ہے وَإِلَى أَجَلٍ عُلِمَ اور ایسی مدت تک عُلِمَ جو کیا ہے؟ معلوم ہے، یہ پھر بھی بیع صحیح بھئی۔ تو بیع نقد بھی صحیح، ادھار بھی صحیح ہے بشرطیکہ مدت معلوم ہو۔ مدت کا معلوم ہونا ضروری ہے مولانا! اگر مدت ذکر نہیں کریں گے پھر تو جھگڑا لازم آئے گا بھئی۔ کیونکہ بائع کیا چاہے گا؟ مجھے دو چار دن میں پیسے مل جائیں، اور مشتری کیا چاہے گا؟ کہ میں سال میں بھی پیسے ادا نہ کروں بھئی، سمجھ میں آیا؟ وہ لمبی سے لمبی مدت، تو پھر جھگڑا، اس لیے اجل کے۔ اچھا! ہاں! یہ اس وقت ہے جبکہ ہاں! یاد رکھو، یہ ثمن کے اندر ہے، مبیع کے اندر نہیں۔ ثمن کے اندر مدت مقرر کر کے دینا ٹھیک ہے، لیکن مبیع میں اس طرح کرنا عام بیع کے اندر صحیح نہیں، بیعِ سلم میں آئے گا، عام بیع کے اندر صحیح نہیں اس لیے کہ اعیان کے اندر مدت، تا جیل، مدت کرنا، مقرر کرنا درست نہیں ہے۔ مثلاً آپ نے بھئی کسی سے کوئی گاڑی خریدی اور وہ گاڑی کیا ہے؟ مبیعہ، اور وہ آپ کو کہتا ہے بھئی: یہ گاڑی آپ کو ایک مہینے بعد ملے گی، نہیں بھئی! یہ درست نہیں ہے، یہ اسی وقت حوالے کر۔ تو کہتے ہیں صحیح ہے ثمنِ حالی یعنی نقد کے ساتھ بھی، وَإِلَى أَجَلٍ عُلِمَ اور ایسی مدت جو معلوم ہو۔ وَبِالثَّمَنِ الْمُطْلَقِ، اور ثمنِ مطلق کے ساتھ بھی بیع صحیح ہے۔ یاد رکھو! یہاں دو چیزیں ہیں: ایک ہے قدر اور ایک ہے وصف۔ آپ نے کہا: یہ کتاب میں نے آپ سے روپوں میں خریدی، مقدار ذکر کی؟ نہیں، یہ تو مطلق عن القدر ہے۔ مطلق عن القدر۔ اور ایک ہے کہ صفت بھی صفت بھی ذکر نہ کریں، ایسے شہر میں ہیں جہاں پر بہت سی کرنسیاں، کئی تینوں قسم کے روپے چلتے ہیں، آپ نے کہا: یہ چیز آپ سے میں نے 20 روپے میں خریدی، تو روپے تو ذکر کر دیے لیکن صفت ذکر کی کہ ہندوستانی ہے یا پاکستانی ہے یا نیپالی ہے؟ یہ ذکر، تو یہ مطلق عن الوصف ہے۔ تو ایک ہے قدر، مقدار یعنی، کہ ثمن کے مقدار نہ ذکر کی جائے، اور دوسری چیز کیا ہے؟ وصف کہ وصف نہ ذکر کیا جائے۔ تو ثمن مطلق عن القدر بھی ہو سکتے ہیں اور مطلق عن الوصف بھی ہو سکتے ہیں۔ تو یہاں کون سا مراد ہے؟ کہتے ہیں: یہاں ثمنِ مطلق سے مراد وہ ثمن ہیں جو مطلق ہوں وصف سے، مقدار تو ذکر ہے لیکن اس کی صفت ذکر نہیں ہے۔ خود دیکھیے علامہ صدر الشریعہ تشریح کر رہے ہیں، بتا رہے ہیں کہ مطلق سے مطلق عن القدر نہیں مراد بلکہ مطلق عن الوصف مراد ہے۔ وَبِالثَّمَنِ الْمُطْلَقِ، اور ثمنِ مطلق سے ساتھ بھی بیع صحیح ہے، أَيْ إِنْ لَمْ يَذْكُرْ صِفَتَهُ، یعنی اگر ذکر نہ کیا اس کی صفت کو، بِأَنْ قِيلَ بَعْتُ بِعَشَرَةِ دَرَاهِمَ، یوں کہا کہ کتنے میں بیچتا ہوں؟ 10 دراہم میں بیچتا ہوں یا 10 روپے میں بیچتا ہوں۔ دراہم تو ذکر کر دیے لیکن کون سے دراہم ہیں، کس قسم کے دراہم ہیں، یہ ذکر نہیں کیے، یا کون سے روپے ہیں، یہ ذکر نہیں کیے۔ تو متن میں مطلق کا لفظ آیا تھا اور اس مطلق میں دو احتمال تھے کہ ہو سکتا ہے اس سے کیا مراد ہو؟ مطلق عن القدر مراد ہو اور یا مطلق عن الوصف، لیکن کون سا مراد ہے؟ مطلق عن الوصف مراد ہے یہاں پر، یاد رکھنا۔ یعنی مقدار تو بیان کر دی، صفت بیان نہیں کی۔ فَإِنِ اسْتَوَتْ مَالِيَّةُ النُّقُودِ، اس صورت میں یاد رکھو! مالیت ایک ہے مالیت، ایک ہے رواج۔ اگر اس نے مطلق ثمن ذکر کیے، وصف نہیں کہ پاکستانی دوں گا، ہندوستانی یا نیپالی۔ تو یا تو تینوں کی مالیت ایک جیسی ہوگی یا تینوں کی مالیت ایک جیسی نہیں ہوگی۔ اسی طرح رواج، ان تینوں کا رواج برابر ہوگا یا ایک زیادہ چلتا ہوگا، ایک، بھئی بعض اوقات ایک شہر کے اندر مثلاً تینوں کرنسیاں چل رہی ہیں، لیکن ایک اکثر جو ہے ایک استعمال، اور یہ پاکستانی روپیہ، پاکستان کی سرحد پہ شہر ہے، وہاں البتہ ہندوستانی روپیہ بھی چل جاتا ہے، نیپالی بھی، لیکن قلیل ہے، کوئی کوئی اس طرح کر لیتا ہے، عموماً عام لوگ کس سے کرتے ہیں وہاں پر بیع و شراء؟ پاکستانی۔ تو رواج کس کا زیادہ ہوا؟ پاکستانی۔ جی! تو رواج میں بھی برابری بھی ممکن ہے، ہو سکتا ہے تینوں برابر چلتے ہیں۔ اور اس میں ہو سکتا ہے ایک زیادہ چلتا ہو، باقی کم۔ اور اسی طرح مالیت کے اندر بھی دونوں احتمال ہیں، ہو سکتا ہے تینوں کی مالیت ایک جیسی ہو۔ ہندوستانی میں نے تو بتایا کہ ہندوستانی روپیہ ڈیڑھ روپے کے برابر ہے، لیکن ہو سکتا ہے کیا ہو؟ ایک وقت ایسا آئے کہ تینوں کی مالیت بالکل برابر آ جائے بھئی۔ ایک 100 پاکستانی دیں، 100 ہی ہندوستانی ملتے ہیں، 100 ہی نیپالی ملتے ہیں اس کے بدلے میں۔ تو مالیت کے اندر بھی اختلاف ممکن ہے، کمی بیشی، برابری بھی ممکن ہے۔ رواج کے اندر بھی برابری بھی ممکن اور ایک کا زیادہ رائج ہونا بھی ممکن ہے۔ تو اس میں مختلف صورتیں بن جائیں گی بھئی۔ اگر مالیت مختلف ہے— ثمن کون سے ذکر ہوئے بیع کے اندر؟ مطلق ثمن۔ معلوم ہوتا ہے اب تھک گئے ہیں آپ لوگ۔ چلیے، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلاَمِ۔