اچھا بھئی پہلے متن دیکھ لیجیے، وَقَدْ يَقَعُ فِيهِ الْخَطَأُ فَاحْتِيجَ إِلَى قَانُونٍ يَعْصِمُ عَنْهُ فِي الْفِكْرِ وَهُوَ الْمَنْطِقُ وَمَوْضُوعُهُ الْمَعْلُومُ التَّصَوُّرِيُّ وَالتَّصْدِيقِيُّ مِنْ حَيْثُ أَنَّهُ يُوصِلُ إِلَى مَطْلُوبٍ تَصَوُّرِيٍّ فَيُسَمَّى مُعَرِّفًا أَوْ تَصْدِيقِيٍّ فَيُسَمَّى حُجَّةً. بھئی اب تک آپ پڑھ چکے کہ ہمارا علم دو قسم پر ہے، یا وہ تصور ہوگا یا تصدیق ہوگی۔ اور پھر یہ تصور اور تصدیق دو دو قسم پر ہیں۔ تصور بھی یا بدیہی ہوگا یا نظری ہوگا۔ اسی طرح تصدیق بھی دو قسم پر ہے، یا بدیہی ہوگی یا نظری ہوگی۔ میں نے آسان لفظوں میں بتلایا تھا، بدیہی کسے کہتے ہیں؟ جو خود بخود سمجھ میں آجائے جس میں دماغ خرچ نہ کرنا پڑے جس میں ذرا بھی غور و فکر نہ کرنا پڑے۔ اور نظری اسے کہتے ہیں جس میں غور و فکر کرنا پڑے، سوچنا پڑے، دماغ خرچ کرنا پڑے۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ تو یہ میں نے آسان لفظوں میں تعریف کی تھی۔ اور اس کے بعد پھر آپ نے نظر و فکر کی تعریف پڑھ لی۔ اور جب نظر و فکر کی تعریف سمجھ میں آگئی تو پھر تصدیق نظری اور بدیہی کسے کہتے ہیں اس کی تفصیلی تعریف کا بھی پتہ چل گیا آپ کو بھئی۔ کیسے؟ نظر و فکر کسے کہتے تھے؟ کہ معلوم چیزوں کو ملا کر، ترتیب دے کر، نامعلوم یعنی مجہول چیز کو حاصل کرنا۔ تو جو مجہول چیز آپ حاصل کر رہے ہیں، وہ تصور بھی ہو سکتا ہے اور تصدیق بھی ہو سکتی ہے۔ اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ مجہول تصور، وہ معلوم تصوروں ہی سے حاصل ہوگا۔ اور مجہول تصدیق، معلوم تصدیقوں سے ہی حاصل ہوگی۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ تصدیقوں کو ملائیں اور آپ کو تصور حاصل ہوجائے۔ یا آپ تصوروں کو ملائیں اور آپ کو تصدیق حاصل ہوجائے۔ بلکہ تصور کے ذریعے تصور حاصل ہوگا اور تصدیق کے ذریعے تصدیق حاصل ہوگی۔ اور یہ جو معلوم تصوروں کو ملایا، دو یا زیادہ معلوم تصوروں کو ملایا اور انہوں نے کہاں تک پہنچایا؟ مجہول تصور تک۔ تو یہ معلوم تصوروں کا مجہول تک پہنچانا، یہ ہے نظر و فکر۔ اور اسی طرح معلوم تصدیقوں کو ملانا کہ یہ ہمیں کہاں تک پہنچا دیں؟ مجہول تصدیق تک، یہ ہے نظر و فکر بھئی۔ اس سے اب آپ کو تصور بدیہی اور نظری کی تفصیل کا پتہ چل گیا۔ تصدیق بدیہی اور نظری کی تفصیل کا پتہ چل گیا۔ میں نے تو آسان لفظوں میں کہا تھا نا کہ تصور بدیہی کسے کہتے ہیں؟ جو خود بخود سمجھ میں آئے۔ اور تصور نظری کسے کہتے ہیں؟ جس میں غور و فکر کرنا پڑے۔ اب نظر کی تعریف آپ کو پتہ چل گئی۔ معلوم ہوا تصور نظری وہ ہے جو نظر و فکر سے حاصل ہو۔ کس سے؟ نظر و فکر سے۔ یعنی دو یا تین معلوم تصوروں کو ملایا اور ایک مجہول تصور حاصل ہو گیا، یہ ہے تصور نظری۔ اور اسی طرح تصدیق نظری وہ تصدیق ہے کہ دو یا زیادہ معلوم تصدیقوں کو ملایا تو جو مجہول تصدیق حاصل ہو گئی، وہ کیا ہے؟ تصدیق نظری ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو تصدیق نظری کون سی تصدیق؟ جو نظر و فکر کے ذریعے حاصل ہو۔ تصور نظری کسے کہتے ہیں؟ وہ تصور جو نظر و فکر کے ذریعے حاصل ہو۔ اور تصور بدیہی؟ جو بغیر نظر و فکر کے حاصل ہو۔ اور تصدیق بدیہی بھی اسی طرح وہ تصدیق ہے جو بغیر نظر اور فکر کے حاصل ہو۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی؟ تو اب دیکھیے اوپر متن میں وہ کہتے ہیں وَقَدْ يَقَعُ فِيهِ الْخَطَأُ اور کبھی کبھار واقع ہوتی ہے فِيهِ اس نظر میں، فِيهِ کی ہا ضمیر کس کو راجع؟ نظر کو۔ اور کبھی کبھار اس نظر و فکر میں واقع ہوتی ہے الْخَطَأُ غلطی۔ کبھی کبھار اس نظر و فکر میں غلطی واقع ہوتی ہے۔ فَاحْتِيجَ إِلَى قَانُونٍ تو احتیاج ہوئی، ضرورت پیش آئی ایک ایسے قانون کی يَعْصِمُ جو بچا لے عَنْهُ اس غلطی سے۔ اس... ہا ضمیر خطا کو راجع۔ جو غلطی سے بچا لے فِي الْفِكْرِ نظر و فکر میں۔ وَهُوَ الْمَنْطِقُ اور وہ علم کون سا ہے؟ علم منطق ہے بھئی۔ کیا کہا انہوں نے؟ کہ اس نظر و فکر میں کبھی کیا واقع ہوتی ہے؟ غلطی۔ تو ایک قانون کی ضرورت پیش آئی جو اس نظر و فکر میں غلطی سے بچا لے۔ اور وہ قانون اس کا کیا نام ہے؟ منطق۔ میں ذکر کر چکا کہ منطق ایک قانون نہیں ہے۔ منطق بہت سے قوانین کا مجموعہ ہے۔ لیکن وہ سب قوانین کس مقصد سے بنائے گئے ہیں؟ کہ نظر و فکر میں ہماری غلطی سے حفاظت کریں۔ تو اس اعتبار سے ایک ہی قسم کے، ایک ہی جنس کے ہوئے تو سارے کو کیا کہہ دیا؟ ایک ہی قانون کہہ دیا بھئی۔ ایک اور قیمتی بات جس کا آپ کو گزشتہ سبق میں پتہ چلا، کہ یہ جو نظر و فکر ہے، یہ صرف کلیات میں جاری ہوتی ہے۔ کس میں؟ کلیات میں۔ دو معلوم تصوروں کو ملایا اور کس کو حاصل کیا؟ ایک مجہول تصور کو۔ تو یہ جو دو معلوم یا دو یا زیادہ معلوم تصور ہیں، یہ بھی ہمیشہ کلی ہوں گے، جزئی کوئی نہیں۔ اور جو تصور مجہول حاصل ہوگا وہ بھی کیا ہوگا؟ کلی۔ تو یہاں سے آپ کو پتہ چل گیا کہ نظر و فکر اس میں جزئیات کا کوئی دخل نہیں، بلکہ سارا دارومدار کس پر ہے؟ کلیات پر۔ وہ جو دو معلوم چیزیں جن کو ملایا، وہ بھی کلی ہوں گی، اور جو مجہول چیز حاصل ہوئی وہ بھی کیا ہوگی؟ کلی ہوگی۔ کلیات کے ذریعے مجہول کلی کا علم حاصل ہوتا ہے، جزئیات کے ذریعے مجہول جزئی کا علم حاصل نہیں ہو سکتا۔ کلی اور جزئی تو جانتے ہیں نا؟ کلی کسے کہتے ہیں؟ جو کثیرین پر صادق آئے۔ جیسے انسان، آپ بھی انسان، یہ دوسرا بھی انسان، تیسرا بھی انسان، جتنے افراد ہیں سب پر کیا صادق آ رہا ہے؟ انسان۔ تو انسان کیا ہے؟ کلی ہے جو کثیرین پر صادق آ رہا ہے۔ جبکہ آپ کا ایک ساتھی ہے مثلاً اس کا نام کیا ہے؟ زید۔ تو اب زید صرف اسی پر صادق آتا ہے اور کسی پر صادق نہیں آتا۔ تو معلوم ہوا زید کیا ہے؟ جزئی۔ تو یہ جو نظر و فکر جو ہے، یہ ہمیشہ یاد رکھیے کلیات میں جاری ہوتی ہے جزئیات میں جاری نہیں ہوتی۔ کیونکہ جزئیات نہ کاسب ہوتے ہیں اور نہ مکتسب۔ کاسب؟ وہ دو معلوم چیزیں جن کو آپ نے ملایا، اور انہوں نے آپ کو کیا حاصل کر کے دیا؟ مجہول چیز کو۔ تو یہ جو دو معلوم چیزیں، ان کو کیا کہیں گے؟ کاسب۔ اور جو چیز حاصل ہوئی اس کو کیا کہیں گے؟ مکتسب۔ تو یاد رکھیے یہ کاسب بھی ہمیشہ کلیات ہوں گی اور مکتسب بھی کیا ہوگی؟ کلی ہوگی۔ تو نظر و فکر میں کلیات کا دخل ہے، جزئیات کا دخل نہیں۔ کیونکہ جزئی نہ کاسب ہوتی ہے اور نہ مکتسب ہوتی ہے بھئی۔ اب آگے دیکھیے بھئی آج کا سبق بھئی۔ قَوْلُهُ فِيهِ الْخَطَأُ، مصنف کا قول بھئی اوپر جو آیا، کہ کبھی کبھار فِيهِ الْخَطَأُ نظر و فکر میں غلطی واقع ہوتی ہے۔ اس کی دلیل ذکر کر رہے ہیں کہ نظر و فکر میں کیسے غلطی واقع ہوتی ہے؟ پہلے سمجھ لیں بھئی اس کو ادھر دیکھیے۔ دلیل یہ ذکر کریں گے، یاد رکھیے، اب تو خیر سائنس نے بھی تسلیم کر لیا کہ یہ دنیا، یہ عالم قدیم نہیں ہے، بلکہ حادث ہے۔ کیا ہے؟ حادث۔ یہاں دو لفظ پہلے سمجھ لیں، ایک ہے قدیم، ایک ہے حادث۔ اردو میں تو قدیم کا معنی ہے پرانا، لیکن یہاں پرانے کے معنی میں نہیں بلکہ یہ اصطلاحی لفظ ہیں۔ قدیم اسے کہتے ہیں جس پر کبھی عدم نہ آیا ہو۔ یعنی کوئی زمانہ ایسا نہیں تھا کہ اس کا وجود نہیں تھا، بلکہ اس کا وجود ہمیشہ سے تھا۔ اس کو کہتے ہیں قدیم۔ اور حادث اسے کہتے ہیں جس پر عدم آیا ہو۔ ایک زمانہ ایسا تھا کہ اس چیز کا وجود نہیں تھا، تو اس کو کیا کہیں گے؟ حادث کہیں گے۔ اور یاد رکھیے، قدیم جو ہے صرف اللہ کی ذات اور اللہ کی صفات ہیں۔ باقی اس عالم کے اندر جتنی چیزیں ہیں، چاہے انسان ہیں، حیوانات ہیں، زمین ہیں، یہ ستارے ہیں، یہ آسمان ہیں، فرشتے ہیں، جنت وغیرہ، جتنی چیزیں ہیں سب حادث ہیں۔ یعنی ایک زمانہ تھا کہ ان کا وجود نہیں تھا، پھر ان کو اللہ نے پیدا فرمایا۔ تو قدیم کا کیا معنی؟ جس پر کبھی عدم نہ آیا ہو، یعنی کوئی ایسا زمانہ نہیں تھا جس میں اس چیز کا وجود نہ ہو، بلکہ ہمیشہ سے تھا۔ اور وہ صرف کون ہیں؟ اللہ اور اللہ کی صفات۔ اللہ کی صفات بھی اللہ کی طرح قدیم ہیں۔ جب سے اللہ ہیں، تب سے اللہ قادر ہیں، قدرت والے ہیں۔ جب سے اللہ ہیں، تب سے اللہ حَيٌّ زندہ ہیں۔ جب سے اللہ ہیں، اللہ سَمِيعٌ سننے والے ہیں۔ تو جو اللہ کی جتنی صفات ہیں، جب سے اللہ ہیں، اللہ کی تمام صفات بھی ہیں۔ تو قدیم کیا ہے؟ صرف اللہ کی ذات اور اللہ کی صفات۔ باقی اس عالم کی ساری چیزیں کیا ہیں؟ حادث ہیں۔ تو یہ عالم، یہ جو دنیا ہے، یہ قدیم ہے یا حادث ہے؟ حادث ہے۔ اس میں قدیم علماء، فلاسفہ کا اختلاف تھا بھئی۔ مسلمان علماء تو کیا کہتے ہیں کہ یہ عالم کیا ہے؟ حادث۔ لیکن غیر مسلم وہ کیا کہتے ہیں، یہ قدیم ہے، یہ ہمیشہ سے ہے یہ عالم بھئی۔ یہ اختلاف تھا۔ میں نے بتایا اب تو سائنس نے بھی تسلیم کر لیا، مختلف تجربات و مشاہدات وغیرہ کے ذریعے یہ بات معلوم کر لی کہ ایک زمانہ تھا، اس عالم کا وجود نہیں تھا، اور پھر یہ وجود میں آیا۔ تو بہرحال قدیم علماء فلاسفہ کا اختلاف تھا۔ بعض اس عالم کو کیا کہتے تھے؟ قدیم۔ اور بعض اس کو کیا کہتے تھے؟ حادث۔ اب دونوں اپنی اپنی دلیل دیتے ہیں۔ میں نے بتایا تھا نا، دلیل کسے کہتے ہیں؟ دو معلوم تصدیقوں کو ترتیب دینا کہ وہ ہمیں مجہول تصدیق تک پہنچا دیں۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ دلیل۔ دلیل اور حجت کہتے ہیں بھئی۔ مثلاً میں نے آپ سے کہا کہ زید درجہ ثالثہ میں پڑھتا ہے، اور درجہ ثالثہ کا ہر طالب علم بڑا منطقی ہے۔ نتیجہ کیا نکلا؟ کہ زید بڑا منطقی ہے۔ تو دیکھو ایک نئی بات آپ کو معلوم ہو گئی کہ زید بڑا منطقی ہے۔ کس سے معلوم ہوئی؟ دو معلوم تصدیقوں سے۔ دو تصدیقوں کا آپ کو پہلے پتہ تھا کہ زید کس میں پڑھتا ہے؟ درجہ ثالثہ میں۔ اور دوسری کیا بات؟ کہ درجہ ثالثہ کا ہر طالب علم بڑا منطقی ہے۔ تو یہ دو معلوم تصدیقوں کو ملایا تو ایک مجہول تصدیق حاصل ہو گئی۔ تو یہ جو دو معلوم تصدیقیں ہیں، ان کو کیا کہتے ہیں؟ دلیل اور حجت کہتے ہیں۔ اور آگے جو حاصل ہوئی اس کو نتیجہ کہتے ہیں، جو مجہول تصدیق حاصل ہوئی اسے کیا کہتے ہیں؟ نتیجہ۔ اسی طرح دو یا زیادہ معلوم تصوروں کو ملایا تو ایک مجہول تصور حاصل ہوا۔ تو دو یا زیادہ معلوم تصور جو ہیں، جن کو ملایا، ان کو کیا کہیں گے؟ مُعَرِّفٌ اور تَعْرِيفٌ۔ اور جو مجہول تصور حاصل ہوا اسے کیا کہیں گے؟ مُعَرَّفٌ کہیں گے۔ کیا کہیں گے؟ مُعَرَّفٌ۔ تو دلیل کسے کہتے ہیں؟ دو یا زیادہ معلوم تصدیقوں کو ملانا جو ہمیں کہاں تک پہنچا دیں؟ مجہول تصدیق تک ہمیں پہنچا دیں۔ اچھا، میں بات یہ کر رہا تھا کہ علماء کا آپس میں اختلاف تھا۔ بعض اس عالم کو کیا کہتے ہیں؟ قدیم۔ اور بعض اس کو کیا کہتے ہیں؟ حادث۔ اب دونوں اپنی اپنی دلیل دیتے ہیں۔ ایک گروہ اپنی دلیل کے ذریعے یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ عالم قدیم ہے۔ دوسرا گروہ یہ ثابت کرتا ہے دلیل کے ذریعے کہ یہ عالم کیا ہے؟ حادث ہے۔ اب ظاہر سی بات ہے، یا تو یہ عالم قدیم ہوگا یا حادث ہوگا، دونوں میں سے ایک ہی چیز ہو سکتا ہے، دونوں تو بیک وقت نہیں ہو سکتے۔ یا قدیم ہوگا یا حادث ہوگا۔ اب دونوں اپنی اپنی دلیل تو دے رہے ہیں۔ تو ظاہر سی بات ہے کہ ان میں سے ایک دلیل غلط ہوگی اور ایک دلیل کیا ہوگی؟ صحیح ہوگی۔ دونوں صحیح نہیں ہو سکتیں۔ اور دلیل کس چیز کا نام ہے؟ اسی نظر و فکر کا تو نام ہے کہ دو معلوم تصدیقوں کو ملایا اور کہاں تک پہنچا رہی ہیں؟ مجہول تک۔ تو دیکھا؟ معلوم ہوا نظر و فکر میں کبھی کیا واقع ہو جاتی ہے؟ غلطی۔ جیسے یہ دونوں اپنی اپنی دلیل ذکر کر رہے ہیں اور دونوں تو ٹھیک ہو نہیں سکتے۔ ظاہر سی بات ہے ایک میں کیا ہے؟ غلطی ہے۔ تو یہ معلوم ہوا نظر و فکر میں کیا واقع ہوتی ہے کبھی کبھار؟ غلطی بھی واقع ہوتی ہے۔ اب کیسے پتہ چلے گا کہ کون سی نظر و فکر غلط ہے اور کون سی نظر و فکر صحیح ہے؟ تو اس کے لیے ایک قانون چاہیے، ایک علم چاہیے، جس کے ذریعے صحیح اور غلط کا پتہ چل جائے اور وہ علم ہمیں غلطی سے بچا لے، اور وہ علم کیا ہے؟ علم منطق ہے بھئی۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟ دیکھیے بھئی کتاب پر، قَوْلُهُ فِيهِ الْخَطَأُ، مصنف کا قول جو ہے، فِيهِ الْخَطَأُ، بِدَلِيلِ اس دلیل کے ساتھ، دلیل یہ ہے، کس چیز کی دلیل ذکر کر رہے ہیں؟ اوپر جو ماتن نے کہا، وَقَدْ يَقَعُ فِيهِ الْخَطَأُ، جس میں کبھی اس نظر و فکر میں کیا واقع ہوتی ہے؟ غلطی ہوتی ہے۔ وہی دلیل جو میں نے ابھی ذکر کی۔ کہ علماء کے دو گروہ ہیں، ایک کیا کہتا ہے؟ عالم قدیم، دوسرا کیا کہتا ہے؟ عالم حادث ہے۔ ظاہر سی بات ہے ایک نظر صحیح ہوگی، ایک غلط ہوگی، دونوں تو صحیح نہیں ہو سکتیں۔ عالم قدیم بھی ہو، حادث بھی ہو، یہ تو نہیں ہو سکتا بھئی۔ یا تو قدیم ہوگا، یا کیا ہوگا؟ حادث ہوگا۔ یہی دلیل ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں بِدَلِيلِ اس دلیل کے ساتھ، أَنَّ الْفِكْرَ کہ فکر جو ہے، فکر سے کیا مراد ہے؟ وہی نظر۔ نظر اور فکر اور کسب، یہ کیا ہیں؟ ایک ہی چیز ہیں۔ اس دلیل سے، أَنَّ الْفِكْرَ قَدْ يَنْتَهِي إِلَى نَتِيجَةٍ کہ فکر جو ہے، کبھی کبھار پہنچتی ہے، إِلَى نَتِيجَةٍ ایک نتیجے تک۔ فکر کبھی کیا ہے؟ ایک نتیجے تک پہنچتی ہے۔ كَحُدُوثِ الْعَالَمِ جیسے کہ عالم کا حادث ہونا۔ عالم کا حادث ہونا، کس سے ثابت کریں گے؟ دلیل سے۔ تو دیکھا؟ نظر و فکر کہاں پہنچ گئی؟ عالم کے حادث ہونے تک پہنچ گئی۔ حُدُوثِ کا معنی حادث ہونا۔ وَقَدْ يَنْتَهِي إِلَى نَقِيضِهَا اور کبھی کبھار یہ فکر پہنچتی ہے، يَنْتَهِي کے معنی پہنچنا۔ پھر دیکھو، کہ فکر جو ہے کبھی کبھار پہنچتی ہے إِلَى نَتِيجَةٍ ایک نتیجے تک، كَحُدُوثِ الْعَالَمِ جیسے کہ عالم کا حادث ہونا۔ وَقَدْ يَنْتَهِي إِلَى نَقِيضِهَا اور کبھی کبھار نظر و فکر پہنچتی ہے إِلَى نَقِيضِهَا اس نتیجے کی نقیض تک پہنچتی ہے۔ كَقِدَمِ الْعَالَمِ جیسے عالم کا قدیم ہونا۔ قِدَمِ مصدر ہے، حُدُوثِ جیسے مصدر تھا۔ حُدُوثِ کا کیا معنی؟ حادث ہونا۔ قِدَمِ کا کیا معنی؟ قدیم ہونا۔ اور کبھی کبھار فکر پہنچتی ہے إِلَى نَقِيضِهَا اس نتیجے کی نقیض تک، كَقِدَمِ الْعَالَمِ جیسے کہ عالم کا قدیم ہونا۔ فَأَحَدُ الْفِكْرَيْنِ خَطَأٌ تو دو فکروں میں سے ایک فکر جو ہے خَطَأٌ غلط ہے۔ حِينَئِذٍ اس وقت، لَا مَحَالَةَ یقینی طور پر۔ ایک فکر کہاں تک پہنچا رہی ہے؟ کہ عالم حادث ہے۔ اور دوسری فکر اس پہلے نتیجے کی نقیض تک پہنچا رہی ہے۔ نقیض کسے کہتے ہیں میں ابھی بیان کرتا ہوں۔ ایک فکر کہاں تک پہنچا رہی ہے کہ عالم حادث ہے، اور دوسری فکر اس پہلے نتیجے کی نقیض تک پہنچا رہی ہے، کیا؟ کہ عالم کیا ہے؟ قدیم ہے۔ تو ظاہر سی بات ہے ان دو فکروں میں سے ایک کیا ہوگی؟ غلط ہوگی لَا مَحَالَةَ قطعی طور پر، یقینی طور پر۔ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ وَإِلَّا اور اگر ایسا نہ ہو، لَزِمَ اجْتِمَاعُ النَّقِيضَيْنِ تو لازم آئے گا اجتماع نقیضین۔ اور اجتماع نقیضین تو محال ہے، ممکن ہی نہیں۔ اچھا، پہلے بھئی نقیضین سمجھ لیں۔ نقیضین، ان دو چیزوں کو کہتے ہیں جو اکٹھی جمع نہ ہو سکیں۔ اور دونوں اکٹھی اٹھ بھی نہ سکیں۔ دونوں جمع نہ ہو سکیں، یعنی ایک ہی چیز پر دونوں صادق نہ آئیں کبھی بھی۔ جیسے انسان اور لا انسان۔ انسان اور لا انسان ایک دوسرے کی نقیض ہیں۔ دنیا کی کوئی بھی چیز آپ اٹھا لیں، وہ یا انسان ہوگی، یا لا انسان ہوگی (غیر انسان ہوگی یعنی انسان کے علاوہ ہوگی)۔ یا تو وہ چیز کیا ہوگی؟ انسان یا غیر انسان یعنی لا انسان۔ مثلاً دیکھو، یہ کتاب ہے، یہ کیا ہے؟ انسان ہے یا لا انسان؟ لا انسان ہے۔ پتھر، پتھر کیا ہے؟ انسان ہے یا لا انسان؟ لا انسان۔ زید ہے، زید کیا ہے؟ انسان ہے یا لا انسان؟ انسان ہے۔ بکری ہے، انسان ہے یا لا انسان؟ لا انسان ہے۔ مدرسہ، انسان ہے یا لا انسان؟ لا انسان ہے۔ خالد، انسان ہے یا لا انسان؟ انسان ہے۔ دیکھا؟ تو یہ جو نقیضین ہوتی ہیں نا، یہ کبھی بھی جمع نہیں ہو سکتیں۔ ایک ہی چیز کو آپ انسان بھی کہہ دیں، اور لا انسان بھی کہہ دیں، ایسا ہو ہی نہیں سکتا بھئی۔ جو انسان ہوگا، وہ لا انسان نہیں ہے۔ اور جو لا انسان ہے، وہ انسان نہیں ہے۔ بھئی صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو دونوں جمع نہیں ہو سکتیں۔ کبھی بھی۔ یعنی ایک ہی چیز پر دونوں صادق نہیں آ سکتیں۔ یعنی ایک ہی چیز پر یہ دونوں بولے نہیں جا سکتے۔ یا ایک چیز کو انسان کہو گے یا لا انسان۔ اور دونوں اٹھ بھی نہیں سکتے۔ یعنی دنیا کی کوئی ایک چیز ایسی لے آئیں، جو انسان بھی نہ ہو، اور لا انسان بھی نہ ہو۔ نہیں، ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔ جو بھی دنیا کی چیز آپ لے آؤ گے، یا وہ انسان ہوگی، یا لا انسان ہوگی۔ دونوں میں سے کوئی بھی اس پر صادق نہ آئے، ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔ کوئی مثال لے آؤ، پہاڑ، انسان ہے یا لا انسان؟ لا انسان۔ دیکھا؟ ایک اس پر ضرور صادق آئے گا بھئی۔ اچھا، شیر بھئی، شیر کیا ہے؟ انسان ہے یا لا انسان؟ لا انسان۔ دیکھو، ایک ضرور صادق آئے گا۔ اچھا، بادل ہیں، انسان ہے یا لا انسان؟ لا انسان۔ دیکھا؟ تو دنیا کی کوئی بھی چیز آپ لے آئیں، وہ یا انسان ہوگی، یا لا انسان ہوگی۔ دونوں اکٹھی بھی نہیں ہو سکتیں کہ ایک ہی چیز انسان بھی ہو اور لا انسان۔ ایسا بھی نہیں ہو سکتا، اور دونوں اٹھ بھی نہیں سکتیں کہ ایسی چیز ایسی ہو کہ وہ انسان بھی نہ ہو اور لا انسان بھی نہ ہو، ایسا نہیں ہو سکتا بھئی۔ تو یہ دو چیزیں، جو جمع بھی نہ ہو سکیں اور اٹھ بھی نہ سکیں، اس کو کہتے ہیں نقیضین۔ یہ کیا ہیں؟ نقیضین۔ دیکھو تثنیہ کا صیغہ ہے، یہ کیا ہیں؟ ایک دوسرے کی نقیض ہیں، نقیض ہیں۔ اسی طرح ایک لفظ آتا ہے ضدین۔ ایک چیز دوسرے کی ضد ہے۔ نقیضین اور ضدین میں فرق ہے بھئی، ایک چیز نہیں ہے۔ مثلاً دیکھو، سفید اور کالا ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ جو سفید ہے وہ کالا نہیں، جو کالا ہے وہ سفید نہیں۔ لیکن یہ نقیضین نہیں ہیں ایک دوسرے کی۔ کیونکہ نقیضین دونوں جمع بھی نہیں ہو سکتیں اور اٹھ بھی نہیں سکتیں۔ دونوں جمع نہیں ہو سکتیں، یعنی ایک ہی چیز سفید بھی ہو اور کالی بھی ہو، ایسا نہیں ہو سکتا۔ اور دونوں اٹھ بھی نہیں سکتیں (نقیضین میں تو دونوں اٹھ بھی نہیں سکتیں)، حالانکہ ہم دیکھتے ہیں ایک چیز نہ سفید ہے، نہ کالی ہے، بلکہ نیلے رنگ کی ہے۔ یا سبز رنگ کی ہے۔ یا سرخ رنگ کی ہے۔ تو دیکھو، ایک چیز اب سرخ رنگ کی ہے، نہ وہ سفید ہے اور نہ کالی ہے۔ دونوں اٹھ گئیں یا نہیں؟ نہ اس پر سفید بولا جا سکتا ہے، نہ اس پر کالا بولا جا سکتا ہے، بلکہ یہ ایک الگ چیز ہے۔ تو یہ فرق ہے نقیضین اور ضدین میں۔ نقیضین کبھی اٹھ سکتیں نہیں۔ نقیضین جمع بھی نہیں ہو سکتیں اور اٹھ بھی نہیں سکتیں۔ دنیا کی کوئی چیز آپ ایسی نہیں لا سکتے جس پر انسان بھی صادق نہ آئے اور لا انسان بھی صادق نہ آئے۔ لیکن ضدین وہ جمع تو نہیں ہو سکتیں لیکن اٹھ سکتی ہیں۔ جیسے ابھی آپ نے مثال دیکھی سفید اور کالا۔ یہ جمع تو نہیں ہو سکتیں لیکن اٹھ سکتی ہیں کہ ایک چیز نہ سفید ہو نہ کالی ہو، بلکہ سرخ یا سبز رنگ کی ہو۔ تو ضدین جمع نہیں ہو سکتیں لیکن اٹھ سکتی ہیں، کہ ایک بھی صادق نہ آئے۔ اور نقیضین اٹھ بھی نہیں سکتیں اور جمع بھی نہیں ہو سکتیں۔ صورت اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟ تو ان کو کہتے ہیں ضدین بھئی۔ یہاں ایک اشکال آپ کے ذہن میں آئے گا۔ کہ آپ نے کیا کہا سفید اور کالا یہ ایک دوسرے کی ضد ہیں، یہ جمع نہیں ہو سکتے، ایک ہی چیز سفید بھی ہو اور کالی بھی ہو ایسا نہیں ہو سکتا۔ ہم آپ کو دکھاتے ہیں، ایک گیند ہے، آدھی سفید ہے، آدھی کالی۔ دیکھو ایک ہی چیز سفید بھی ہے اور کالی بھی۔ یا آپ گائے دیکھ لیں بھئی، اس پہ کالے نشان بھی ہوتے ہیں اور سفید کچھ حصہ بھی ہوتا ہے۔ تو ایک ہی چیز ہے سفید بھی ہے اور کالی بھی ہے۔ اشکال سمجھ میں آ رہا ہے؟ آپ نے کیا کہا؟ سفید اور کالی جمع نہیں ہو سکتیں۔ ہم آپ کو دکھا دیتے ہیں، ایک ہی حیوان ہے، گائے ہے، کچھ حصہ سفید ہے، کچھ حصہ کالا ہے۔ جواب، بھئی معنی یہ معنی نہیں کہ کچھ حصہ، الگ الگ حصہ نہیں۔ نہیں نہیں۔ معنی یہ ہے ایک ہی حصہ، سفید بھی اس کو کہیں اور اسی حصے کو کالا بھی کہیں، یہ نہیں ہو سکتا۔ یا وہ سفید ہوگا یا کالا۔ جو حصہ سفید ہے اس کو کالا نہیں کہہ سکتے، اور جو کالا ہے اس کو سفید نہیں۔ تو ایک مراد، معنی یہ ہے، ایک ہی چیز، بیک وقت سفید بھی ہو اور کالی۔ یعنی جو حصہ سفید ہے اسی کو آپ کیا کہہ دیں؟ کالا بھی کہہ دیں، نہیں نہیں وہ الگ حصہ سفید ہوگا، الگ حصہ کالا ہوگا۔ ایک ہی جگہ، ایک ہی چیز پر، ایک ہی محل میں سفید اور کالا دونوں بولے جائیں، نہیں بولے جا سکتے بھئی۔ اب فرق سمجھ میں آیا؟ جو حصہ سفید ہے وہ سفید ہی ہے، اسی حصے کو کالا نہیں کہہ سکتے۔ اور جو حصہ کالا ہے وہ کالا ہے اس کو سفید نہیں کہہ سکتے۔ تو کیا فرق ہوا نقیضین اور ضدین میں؟ کہ نقیضین جمع بھی نہیں ہو سکتیں اور اٹھ بھی نہیں سکتیں۔ اور ضدین کیا ہیں؟ جمع تو نہیں ہو سکتیں لیکن اٹھ سکتی ہیں، کہ نہ سفید ہو نہ کالی ہو بلکہ کوئی اور رنگ ہو۔ تو نقیضین کی ایک مثال میں نے کیا دے دی؟ انسان اور لا انسان۔ آپ کوئی بھی نقیض بنا لیں، کتاب اور لا کتاب۔ دنیا کی کوئی چیز لے لیں یا وہ کتاب ہوگی یا لا کتاب ہوگی۔ یا اور لے لیں، حیوان اور لا حیوان۔ دنیا کی کوئی بھی چیز لے لیں یا وہ حیوان ہوگی یا لا حیوان ہوگی۔ دونوں جمع ہو جائیں، یہ بھی نہیں ہو سکتا۔ اور دونوں ہی صادق نہ آئیں، یہ بھی نہیں ہو سکتا، ایک ضرور صادق آئے گا بھئی۔ نقیضین سمجھ میں آگئیں؟ اب تو مسئلہ پیچھے ذکر یہ ہو رہا تھا، کہ بعض علماء نے دلیل کے ذریعے کیا ثابت کیا؟ کہ یہ عالم حادث ہے۔ بعضوں نے کیا کہا؟ یہ عالم قدیم ہے۔ یا اور حادث اور قدیم یہ تو ایک دوسرے کی نقیض ہیں۔ یہ دونوں جمع بھی نہیں ہو سکتے، اٹھ بھی نہیں سکتے۔ دنیا کی کوئی بھی چیز لے لیں، یا وہ حادث ہوگی یا قدیم۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ نہ وہ حادث ہو اور نہ قدیم۔ دونوں حادث اور قدیم دونوں ہوں، یہ بھی نہیں ہو سکتا۔ اور دونوں ہی نہ ہوں، یہ بھی نہیں ہو سکتا۔ دونوں جمع بھی نہیں ہو سکتیں ایک چیز میں اور دونوں اٹھ بھی نہیں سکتیں۔ تو اب دیکھیے دونوں نے اپنی اپنی دلیل دی، ایک عالم کو قدیم کہہ رہا ہے، ایک حادث کہہ رہا ہے۔ تو دونوں تو اکٹھے سچے ہو نہیں سکتے، ظاہر سی بات ہے ایک غلطی پر ہے اور ایک صحیح ہے۔ تو بعض اوقات فکر، نظر و فکر، کہاں تک پہنچاتی ہے؟ کہ یہ عالم حادث ہے۔ اور بعض اوقات اس کی نقیض تک فکر پہنچاتی ہے، اس کی نقیض کیا ہے؟ کہ عالم قدیم ہے۔ تو کبھی کبھار یہ ہمیں فکر پہنچاتی ہے کہ عالم قدیم ہے۔ اور دونوں تو جمع ہو نہیں سکتے، ورنہ تو کیا لازم آئے گا؟ اجتماع نقیضین۔ اور اجتماع نقیضین کبھی بھی نہیں ہو سکتا، یہ باطل ہے۔ تو معلوم ہوا ظاہر سی بات ہے ان میں سے ایک صحیح ہے اور ایک غلط ہے۔ تو یہ معلوم ہوا نظر و فکر میں کبھی کیا واقع ہوتی ہے؟ غلطی بھی واقع ہوتی ہے۔ تو اب کیسے پتہ چلے کہ کون سی نظر و فکر غلط ہے اور کون سی نظر و فکر صحیح ہے؟ تو اس کے لیے ایک قانون چاہیے، ایک علم چاہیے، جس کے ذریعے صحیح اور غلط کا پتہ چل جائے اور وہ علم ہمیں غلطی سے بچا لے۔ اور وہ علم کیا ہے؟ علم منطق ہے۔ اب دیکھیے پھر ذرا، بِدَلِيلِ اس دلیل کے ذریعے، کہ أَنَّ الْفِكْرَ قَدْ يَنْتَهِي إِلَى نَتِيجَةٍ کہ فکر جو ہے کبھی کبھار پہنچاتی ہے، ایک نتیجے تک۔ كَحُدُوثِ الْعَالَمِ جیسے کہ عالم کا حادث ہونا۔ وَقَدْ يَنْتَهِي إِلَى نَقِيضِهَا اور کبھی کبھار نظر و فکر پہنچاتی ہے، اس نتیجے کی نقیض تک۔ كَقِدَمِ الْعَالَمِ جیسے کہ عالم کا قدیم ہونا۔ فَأَحَدُ الْفِكْرَيْنِ خَطَأٌ تو دو فکروں میں سے ایک فکر جو ہے خَطَأٌ غلط ہے۔ حِينَئِذٍ اس وقت۔ لَا مَحَالَةَ یقینی طور پر۔ وَإِلَّا اور اگر ایسا نہ ہو، یعنی دونوں فکرو میں سے کوئی ایک بھی غلط نہ ہو، تو لَزِمَ اجْتِمَاعُ النَّقِيضَيْنِ تو کیا لازم آئے گا؟ اجتماع نقیضین۔ اور اجتماع نقیضین تو باطل ہے، درست ہی نہیں۔ معلوم ہوا، ظاہر سی بات ہے، ایک میں خرابی ہے۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا۔ یا تو ایک کو غلط ماننا پڑے گا، یا کیا خرابی لازم آئے گی؟ اجتماع نقیضین کی۔ اور اجتماع نقیضین تو کبھی بھی نہیں ہو سکتا۔ معلوم ہوا، ظاہر سی بات ہے ان میں سے ایک صحیح ہے اور ایک غلط ہے۔ فَلَا بُدَّ مِنْ قَاعِدَةٍ كُلِّيَّةٍ پس ضروری ہوا ایک ایسا قاعدہ کلیہ۔ لَوْ رُوعِيَتْ اگر اس کی رعایت رکھی جائے، لَمْ يَقَعِ الْخَطَأُ تو غلطی واقع نہ ہو۔ فِي الْفِكْرِ نظر و فکر میں۔ وَهِيَ الْمَنْطِقُ اور وہ علم، وہ قاعدہ کون سا ہے؟ منطق کا قاعدہ ہے بھئی۔ فَقَدْ ثَبَتَ احْتِيَاجُ النَّاسِ إِلَى الْمَنْطِقِ پس ثابت ہو گئی لوگوں کی احتیاج، لوگوں کی ضرورت، منطق کی طرف۔ فِي الْعِصْمَةِ عَنِ الْخَطَأِ فِي الْفِكْرِ فکر میں غلطی سے بچنے کے معاملے میں۔ فکر میں غلطی سے بچنے کے معاملے میں منطق کی طرف لوگوں کا محتاج ہونا ثابت ہو گیا۔ بِثَلَاثِ مُقَدِّمَاتٍ تین مقدمات کے ساتھ، تین مقدمات کے ذریعے یہ بات ثابت ہو گئی۔ الْأُولَى پہلا مقدمہ یہ ہے۔ أَنَّ الْعِلْمَ إِمَّا تَصَوُّرٌ أَوْ تَصْدِيقٌ کہ علم یا تو تصور ہے یا تصدیق۔ وَالثَّانِيَةُ اور دوسرا مقدمہ یہ ہے۔ أَنَّ كُلًّا مِنْهُمَا کہ ان دونوں میں سے ہر ایک، یعنی تصور اور تصدیق میں سے ہر ایک، إِمَّا أَنْ يَحْصُلَ بِلَا نَظَرٍ یا تو وہ حاصل ہوتا ہے بغیر نظر کے، أَوْ يَحْصُلَ بِالنَّظَرِ یا حاصل ہوتا ہے نظر کے ساتھ، غور و فکر کے ساتھ حاصل ہوتا ہے۔ وَالثَّالِثَةُ اور تیسرا مقدمہ یہ ہے۔ أَنَّ النَّظَرَ قَدْ يَقَعُ فِيهِ الْخَطَأُ کہ نظر جو ہے، اس میں کبھی کبھار غلطی واقع ہوتی ہے۔ فَهَذِهِ الْمُقَدِّمَاتُ الثَّلَاثُ پس یہ تین مقدمات، تُفِيدُ احْتِيَاجَ النَّاسِ فائدہ دیتے ہیں لوگوں کے محتاج ہونے کا، فِي التَّحَرُّزِ عَنِ الْخَطَأِ فِي الْفِكْرِ فکر میں غلطی سے بچنے کے معاملے میں، إِلَى قَانُونٍ ایک قانون کی طرف۔ وَذَلِكَ هُوَ الْمَنْطِقُ اور وہ قانون منطق ہے۔ Sabaq--036----page-07---07-01-2018-2.mp3 کہتے ہیں وَعُلِمَ مِنْ هَذَا تَعْرِيفُ الْمَنْطِقِ أَيْضًا یہ ایک سوال، ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں۔ اعتراض یہ ہوتا ہے بھئی، دیکھو ذرا صرف متن پہ آؤ، متن پہ آؤ۔ متن میں مقدمہ شروع ہوا تھا۔ مقدمہ پہ نظر ہے؟ جی؟ اَلْعِلْمُ إِنْ كَانَ إِذْعَانًا لِلنِّسْبَةِ فَتَصْدِيقٌ وَإِلَّا فَتَصَوُّرٌ، یہاں سے بتلا دیا کہ ہمارا علم دو قسم پر ہے، یا تصدیق ہے یا تصور۔ وَيَنْقَسِمَانِ بِالضَّرُورَةِ الضَّرُورَةَ وَالِاكْتِسَابَ بِالنَّظَرِ اور یہ دونوں یقینی طور پر تقسیم، اپنا اپنا حصہ لے لیتے ہیں ضرورت اور اکتساب بالنظر سے۔ یہاں یہ بیان کر دیا کہ تصور بھی دو قسم پر ہے اور تصدیق بھی دو قسم پر۔ وَهُوَ مُلَاحَظَةُ الْمَعْقُولِ لِتَحْصِيلِ الْمَجْهُولِ، یہ تو درمیان میں ویسے ہی چونکہ نظر کا لفظ آیا تھا تو آپ کو بتلا دیا کہ نظر کہتے کسے ہیں۔ یہ دلیل کا کوئی حصہ نہیں۔ اچھا، دو مقدمات ہو گئے۔ تیسرا مقدمہ یہ ذکر کیا وَقَدْ يَقَعُ فِيهِ الْخَطَأُ تو اس نظر و فکر میں کبھی کیا ہوتی ہے؟ غلطی ہوتی ہے۔ فَاحْتِيجَ إِلَى قَانُونٍ يَعْصِمُ عَنْهُ فِي الْفِكْرِ تو احتیاج ہوئی، ضرورت پیش آئی ایک ایسے قانون کی جو نظر و فکر میں غلطی سے بچا لے وَهُوَ الْمَنْطِقُ اور وہ علم کون سا ہے؟ علم منطق ہے۔ آگے بتلا رہے ہیں وَمَوْضُوعُهُ الْمَعْلُومُ التَّصَوُّرِيُّ وَالتَّصْدِيقِيُّ اور اس منطق کا موضوع معلوم تصوری اور معلوم تصدیقی ہے۔ مِنْ حَيْثُ أَنَّهُ يُوصِلُ إِلَى مَطْلُوبٍ تَصَوُّرِيٍّ فَيُسَمَّى مُعَرِّفًا أَوْ تَصْدِيقِيٍّ فَيُسَمَّى حُجَّةً۔ ذرا اس مقدمے پہ غور کرو۔ اس میں منطق کی ضرورت بھی ذکر ہے اور منطق کا موضوع بھی ذکر ہے۔ منطق کی ضرورت کیوں ہے؟ تاکہ نظر و فکر میں غلطی سے بچائے۔ اور اس کا موضوع کیا ہے؟ معلوم تصوری اور معلوم تصدیقی۔ یہ دونوں چیزیں ذکر ہیں۔ حالانکہ مقدمہ شروع کیا تھا مصنف نے ہمیں تین چیزیں بتانا چاہتے تھے۔ علم منطق کی تعریف کریں گے، کہ علم منطق کہتے کسے ہیں۔ پھر اس کا مقصد بیان کریں گے، بھئی علم منطق کا مقصد کیا ہے، اس کا فائدہ کیا ہے؟ اور تیسری چیز کہ اس کا موضوع کیا ہے، اس میں کس چیز کے بارے میں ہم بحثیں پڑھیں گے؟ تین چیزیں بیان کرنی ہیں مقدمے میں۔ اور اگر آپ غور کریں تو مصنف نے منطق کا مقصد بھی بیان کیا متن میں کہ منطق کا مقصد کیا ہے؟ نظر و فکر میں غلطی سے بچاتا ہے۔ اور منطق کا موضوع بھی ذکر کیا۔ لیکن منطق کی تعریف ذکر ہی نہیں کی۔ اعتراض سمجھ میں آ رہا ہے؟ کہ مصنف... اے مصنف، آپ نے تو یہ مقدمہ کس لیے لکھا تھا؟ آپ ہمیں منطق کی تعریف بھی بتلانا چاہتے تھے، آپ ہمیں منطق کا مقصد بھی بتلانا چاہتے تھے، اور آپ ہمیں منطق کا موضوع بھی۔ لیکن آپ نے منطق کا مقصد بیان کر دیا، کہ یہ کیا کرتا ہے؟ غلطی سے ہمیں بچاتا ہے۔ آپ نے منطق کا موضوع بھی ذکر کر دیا۔ لیکن تعریف ذکر کرنا تو آپ بھول ہی گئے۔ اشکال سمجھ میں آیا؟ تو شارح آپ کو جواب دیں گے کہ بھئی، جب منطق کی غرض ذکر کر دی، منطق کا مقصد ذکر کر دیا، تعریف خود بخود سمجھ میں آ گئی۔ منطق کا مقصد کیا ذکر کیا؟ کہ یہ نظر و فکر میں ہمیں غلطی سے بچاتا ہے۔ اسی سے منطق کی تعریف بھی سمجھ میں آ گئی، منطق وہ علم ہے جو نظر و فکر میں غلطی سے ہماری حفاظت کرے۔ سمجھ میں آ گئی یا نہیں سمجھ میں آ گئی؟ تو جب ضمناً سمجھ میں آ گئی تو پھر صراحتاً مصنف نے ذکر کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ کیونکہ یہ متن ہے اور متن کے اندر بات مختصر کی جاتی ہے۔ جب بات خوب اچھی طرح سب واضح طور پر سمجھ میں آ رہی ہے تو اب اس کو صراحتاً ذکر کرنے کی ضرورت انہوں نے محسوس نہیں کی۔ یہی بات بیان کر رہے ہیں دیکھیے پھر شرح کے اندر۔ وَعُلِمَ مِنْ هَذَا تَعْرِيفُ الْمَنْطِقِ أَيْضًا اور معلوم ہو گئی اسی سے منطق کی تعریف بھی۔ بِأَنَّهُ قَانُونٌ وہ یہ... تعریف یہ ہے کہ أَنَّهُ قَانُونٌ کہ منطق جو ہے، ایک ایسا قانون ہے يَعْصِمُ کہ بچاتا ہے، بچاتا ہے کیا چیز بچاتی ہے؟ مُرَاعَاتُهُ اس منطق کی، اس قانون کی رعایت رکھنا۔ آپ اس کی رعایت رکھیں گے تو یہ بچائے گا۔ تو یہ بچاتا ہے اَلذِّهْنَ کس کو؟ ذہن کو۔ عَنِ الْخَطَأِ فِي الْفِكْرِ نظر و فکر میں غلطی سے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ کہ منطق ایک ایسا قانون ہے کہ يَعْصِمُ مُرَاعَاتُهُ الذِّهْنَ کہ اس کی رعایت رکھی جائے، تو وہ بچاتا ہے ذہن کو، اس کی رعایت رکھنا یہ بچاتا ہے ذہن کو، عَنِ الْخَطَأِ فِي الْفِكْرِ خطا فی الفکر سے۔ بھئی دیکھیے، جیسے آپ علم نحو پڑھتے ہیں۔ تو کیا علم نحو پڑھ لینے سے کوئی طالب علم عبارت ٹھیک ٹھیک پڑھنا شروع کر دے گا، یا اس کو علم نحو کے قوانین کا لحاظ بھی رکھنا پڑے گا؟ قوانین کا لحاظ بھی رکھنا پڑے گا۔ جب وہ قوانین کا لحاظ رکھے گا، تب ہی وہ عربی پڑھنے میں غلطی سے بچے گا۔ تو صرف علم نحو پڑھ لینا کافی نہیں، بلکہ اس کا لحاظ رکھنا بھی ضروری ہے۔ اسی طرح منطق آپ پڑھ لیں گے تو صرف منطق کا پڑھ لینا آپ کو غلطی سے نہیں بچائے گا، بلکہ آپ اس کے قوانین کا لحاظ رکھیں گے، تو پھر وہ کیا کرے گا؟ آپ کو غلطیوں سے بچائے گا۔ یہی بات تو ذکر کر رہے ہیں کہ يَعْصِمُ مُرَاعَاتُهُ کہ اس کا رعایت رکھنا، یہ بچائے گا۔ اَلذِّهْنَ کس کو؟ ذہن کو۔ بِأَنَّهُ قَانُونٌ يَعْصِمُ مُرَاعَاتُهُ الذِّهْنَ عَنِ الْخَطَأِ فِي الْفِكْرِ کہ منطق ایک ایسا قانون ہے کہ بچاتا ہے اس قانون کی رعایت رکھنا، یہ بچاتا ہے۔ اَلذِّهْنَ ذہن کو عَنِ الْخَطَأِ فِي الْفِكْرِ خطا فی الفکر سے۔ فَهَاهُنَا عُلِمَ أَمْرَانِ مِنَ الْأُمُورِ الثَّلَاثَةِ پس یہاں پر معلوم ہو گئے... اچھا بھئی، مقدمے میں کتنی باتیں بیان کرنا چاہتے تھے؟ تین باتیں۔ نمبر ایک علم منطق کی تعریف، نمبر دو علم منطق کا کا مقصد اور اس کی غرض، اور نمبر تین علم منطق کا موضوع۔ تو کہتے ہیں یہاں تک دو باتوں کا پتہ چل گیا، تین میں سے دو باتوں کا۔ علم منطق کی تعریف کا بھی پتہ چل گیا اور اس کے مقصد کا پتہ بھی چل گیا۔ صرف کیا رہ گیا؟ موضوع رہ گیا، کہ وہ کیا ہے؟ تو وہ اب آگے ذکر کریں گے۔ کیا کریں گے؟ اوپر ذرا متن میں آؤ۔ منطق کا موضوع کیا ہے؟ وَمَوْضُوعُهُ، یہاں سے بات شروع ہو رہی ہے۔ کیا بیان کر رہے ہیں یہاں سے؟ علم منطق کا موضوع بیان کر رہے ہیں۔ تو یہی بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں فَهَاهُنَا عُلِمَ أَمْرَانِ مِنَ الْأُمُورِ الثَّلَاثَةِ الَّتِي وُضِعَتِ الْمُقَدِّمَةُ لِبَيَانِهَا کہ یہاں تک معلوم ہو گئی دو چیزیں، ان تین چیزوں میں سے، جن کے بیان کے لیے اس مقدمہ کو وضع کیا گیا تھا۔ فَبَقِيَ الْكَلَامُ فِي الْأَمْرِ الثَّالِثِ تو باقی رہ گیا کلام تیسری چیز کے بارے میں، امر ثالث کے بارے میں۔ وَهُوَ تَحْقِيقُ أَنَّ مَوْضُوعَ عِلْمِ الْمَنْطِقِ مَاذَا اور وہ اس بات کی تحقیق ہے کہ علم منطق کا موضوع مَاذَا کیا چیز ہے؟ فَأَشَارَ إِلَيْهِ تو اس کی طرف مصنف نے اشارہ کیا بِقَوْلِهِ اپنے اس قول کے ذریعے۔ وَمَوْضُوعُهُ آہ۔ دیکھا؟ آہ، یہ دراصل مخفف ہے إِلَى آخِرِهِ سے۔ آہ اصل میں کیا تھا؟ إِلَى آخِرِهِ۔ تو إِلَى آخِرِهِ ذرا لکھنے میں لمبا ہے۔ تو شروع کا الف لے لیا اور آخر کی ہا لے لی، کیا بن گیا؟ آہ۔ تو یہ دراصل کیا ہے، اس کو پڑھنا کیسے ہے؟ إِلَى آخِرِهِ۔ ہاں، تو اس کو آہ نہیں پڑھنا، إِلَى آخِرِهِ پڑھنا ہے بھئی۔ یہ صرف لکھنے میں آہ لکھا ہے، پڑھنا وہی ہے إِلَى آخِرِهِ۔ تو یہ جگہ جگہ چونکہ لکھنا پڑتا ہے حوالے آتے ہیں وغیرہ، تو حوالہ دیا جاتا ہے، تو پوری عبارت نقل نہیں کی جاتی، تھوڑے سے ایک دو لفظ ذکر کر دیتے ہیں، آگے لکھ دیتے ہیں إِلَى آخِرِهِ، کہ آخر تک آپ خود پڑھ لیں۔ جیسے کتابوں میں جگہ جگہ قرآن کی آیت کا حوالہ آتا ہے۔ کوئی لفظ ذکر کرنا ہوتا ہے یا کچھ، تو آیت کے دو چار لفظ تو ذکر کر دیتے ہیں، آخر میں کیا لکھ دیتے ہیں؟ الْآيَةَ۔ لکھ دیتے ہیں یا نہیں؟ وہ دراصل ہوتا ہے اِقْرَأِ الْآيَةَ، یا اِقْرَأْ بَاقِيَ الْآيَةَ، باقی آیات آپ خود پڑھ لیں۔ تو یہاں بھی اسی طرح ہے، إِلَى آخِرِهِ۔ تو اس کی طرف اشارہ کیا مصنف نے اپنے اس قول... وَمَوْضُوعُهُ إِلَى آخِرِهِ۔ اوپر کیا آیا متن میں؟ وَمَوْضُوعُهُ إِلَى آخِرِهِ، آخر تک یہ سارا کہتے ہیں آپ خود پڑھ لیں۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ اس میں منطق کے موضوع کی طرف اشارہ ہے بھئی۔ قَوْلُهُ قَانُونٌ مصنف کا اوپر متن میں ایک لفظ آیا تھا قَانُونٌ۔ اب اس قانون کے بارے میں بیان کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں اَلْقَانُونُ لَفْظٌ يُونَانِيٌّ أَوْ سُرْيَانِيٌّ کہ قانون جو ہے، یونانی یا سریانی زبان کا لفظ ہے۔ یونانی؟ یہ یونان والوں کی زبان ہے۔ یونان... یہ روم وغیرہ بھئی، روم۔ جو عیسائیوں کا مرکزی علاقہ ہے بھئی۔ اور سریانی، یہ کوئی قدیم زبان ہے بھئی، قدیم زبان۔ تو بتلا رہے ہیں کہ یہ قانون عربی زبان کا لفظ نہیں ہے، بلکہ عربی میں یہ آیا کہاں سے؟ یا تو یونانی زبان سے آیا ہے یا سریانی، ایک پرانی زبان ہے اس سے آیا ہے۔ مَوْضُوعٌ فِي الْأَصْلِ اس کو اصل میں وضع کیا گیا تھا، لِمِسْطَرِ الْكُتَّابِ۔ توجہ ہے عبارت کی طرف؟ اس کو کِتَابٍ نہیں پڑھنا، لِمِسْطَرِ الْكِتَابِ، بلکہ لِمِسْطَرِ الْكُتَّابِ۔ یہ كُتَّابٌ لفظ ہے، کِتَابٌ نہیں۔ كُتَّابٌ جمع ہے کَاتِبٌ کی۔ کَاتِبٌ کسے کہتے ہیں؟ لکھنے والا۔ اور جمع کیا آئی؟ كُتَّابٌ۔ تو یہ اصل میں... قانون بتا رہے ہیں، اصل میں کسے کہتے تھے؟ کس کے لیے وضع تھا؟ کہتے ہیں قانون اصل میں وضع تھا مِسْطَرِ كُتَّابٍ کے لیے۔ مِسْطَر کہتے ہیں پیمانے کو، پیمانہ۔ کس کو کہتے ہیں؟ پیمانہ۔ بھئی یہ جس کے ذریعے کاپی میں آپ لکیریں لگاتے ہیں، جس کو فٹا کہتے ہیں آپ۔ یہ کیا ہے؟ پیمانہ۔ یہ ہے مِسْطَر، مِسْطَر۔ اور مِسْطَرِ الْكُتَّابِ، کاتبوں کا پیمانہ۔ کاتبوں کا پیمانہ۔ تو قانون اصل میں کس کے لیے وضع تھا، کس کو کہتے تھے؟ کاتبوں کا پیمانہ ہوتا تھا۔ جس کے ذریعے وہ صفحے پر لکیریں وغیرہ کھینچتے۔ بھئی، یہ آپ کا والا جو فٹا ہے، اس کو نہیں کہتے۔ ان کا کاتبوں کا ایک مخصوص آلہ ہوتا تھا، آلہ۔ اور یہ جیسے، یہ چھت پر چڑھنے کے لیے جو لکڑی کی سیڑھی آپ دیکھتے ہیں بھئی؟ جس میں دو سیدھی لکڑیاں ہوتی ہیں۔ جو چھت پر چڑھنے کے لیے بانس وغیرہ کی سیڑھی بنی ہوتی ہے۔ دو سیدھے ڈنڈے ہوتے ہیں اور اس پر دائیں بائیں چوڑائی میں بہت سارے پاؤں رکھنے کے لیے چھوٹے چھوٹے ڈنڈے لکڑیاں وغیرہ لگی ہوتی ہیں۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہ کاتبوں کا پیمانہ ہوتا تھا، کتاب کے برابر چھوٹا سا، لیکن اسی کچھ، کچھ اسی طرح کی شکل ہوتی تھی۔ جیسے یہ بانس کی سیڑھی ہوتی ہے، اس میں دو جانبیں ہوتی ہیں اور درمیان میں کیا ہوتی ہیں؟ دائیں بائیں لکڑیاں جن پر پاؤں رکھتے ہیں۔ تو یہ اس شکل کی کوئی پیمانہ ہوتا تھا، وہ اس پیمانے کو صفحے کے اوپر رکھ دیتے۔ اور پھر تھوڑا ہلکا سا دبا دیتے تھے یا کچھ کرتے تھے، یا کیا طریقہ کوئی ہوگا ان کا خاص معلوم نہیں، تو وہ پھر سیدھے نشان بن جاتے تھے یا کچھ کسی طریقے سے، پھر اس کے بعد وہ اس صفحے پر لکھتے تھے، تو اب لکیریں تو لگی تو نہیں ہوئیں، لیکن سیدھے سیدھے نشان بن گئے یا نہیں بن گئے؟ اس کے ذریعے پھر وہ سیدھا سیدھا صفحے پر لکھتے تھے بھئی۔ اور اسی طرح یہ اطراف میں دائیں بائیں دیکھو لکیریں لگی ہوئی ہیں۔ صفحہ، کتاب میں بھی۔ یہ لکیریں وہ لگاتے تھے۔ اب اگر آپ اپنے فٹے سے یہ لگائیں یہ لکیریں، تو بڑا ہی مشکل ہوگا، کوئی چھوٹی ہو جائے گی، کوئی بڑی ہو جائے گی۔ لیکن وہ ایسے طریقے سے لگاتے تھے کہ ساری برابر۔ تو ان کا کوئی خاص پیمانہ، کوئی خاص آلہ تھا۔ اس کو کہتے تھے مِسْطَرِ كُتَّابٍ، کاتبوں کا مِسْطَر۔ کہتے ہیں اَلْقَانُونُ لَفْظٌ يُونَانِيٌّ أَوْ سُرْيَانِيٌّ مَوْضُوعٌ فِي الْأَصْلِ لِمِسْطَرِ الْكُتَّابِ قانون جو ہے، اصل میں یونانی یا سریانی زبان کا لفظ ہے جس کو وضع کیا گیا تھا اصل میں، لِمِسْطَرِ الْكُتَّابِ کاتبوں کے پیمانے کے لیے۔ وَفِي الِاصْطِلَاحِ اور اصطلاح کے اندر بھئی، قَضِيَّةٌ كُلِّيَّةٌ يُتَعَرَّفُ مِنْهَا أَحْكَامُ جُزْئِيَّاتِ مَوْضُوعِهَا وہ قضیہ کلیہ ہے۔ وہ قضیہ قضیہ کسے کہتے ہیں؟ جملہ خبریہ کو۔ زید کھڑا ہے۔ یہ کیا ہے؟ میں آپ کو ایک خبر دے رہا ہوں یا نہیں دے رہا؟ یہ جملہ خبریہ۔ جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکے۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ قضیہ کہتے ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو مراد یہاں جملہ ہے، جملہ ہے، بس۔ تو اصطلاح کے اندر قانون کسے کہتے ہیں؟ قَضِيَّةٌ كُلِّيَّةٌ ایک کلی قضیہ۔ يُتَعَرَّفُ مِنْهَا کہ پہچانا جائے، اس کے ذریعے سے، أَحْكَامُ جُزْئِيَّاتِ مَوْضُوعِهَا اس قضیے کے موضوع کی جزئیات کے احکام۔ ترجمہ آخر سے کر رہا ہوں۔ ہا ضمیر راجع ہے قضیے کو۔ اس قضیے کے موضوع کی جزئیات کے احکام جانے جاتے ہیں۔ کس کے ذریعے؟ اس قضیہ وہ قضیہ کلیہ ہوتا ہے، جس کے ذریعے اس کے موضوع کے جزئیات کے احکام کو جانا جاتا ہے۔ كَقَوْلِ النُّحَاةِ جیسے کہ نحویوں کا قول ہے۔ النُّحَاةِ جمع ہے نَحْوِيٌّ کی۔ جیسے کہ نحویوں کا قول ہے، كُلُّ فَاعِلٍ مَرْفُوعٌ ہر فاعل کیا ہوتا ہے؟ مرفوع ہوتا ہے۔ دیکھو یہ قضیہ ہے۔ ہر فاعل مرفوع ہوتا ہے، توجہ ہے؟ یہ کیا ہے؟ قضیہ۔ جملہ خبریہ ہے یا نہیں؟ جی جملہ خبریہ ہے۔ اور اس کا موضوع کیا ہے؟ آپ نے پڑھا ہے، ایک ہوتا ہے موضوع، ایک ہوتا ہے محمول۔ موضوع کسے کہتے ہیں؟ جس کے بارے میں بات کی جائے۔ اور محمول کسے کہتے ہیں؟ جو بات کی جائے۔ تو یہاں پر موضوع کیا ہے؟ جے؟ كُلُّ فَاعِلٍ مَرْفُوعٌ، اس کا موضوع کیا؟ كُلُّ فَاعِلٍ مَرْفُوعٌ۔ ہر فاعل کیا ہوتا ہے؟ مرفوع ہوتا ہے، آپ نے پڑھا ایک ہوتا ہے موضوع ایک ہوتا ہے محمول، یا یوں کہو ایک ہوتا ہے مبتدا ایک ہوتی ہے خبر۔ تو اسی مبتدا کو منطق میں کیا کہتے ہیں؟ موضوع، اور خبر کو کیا کہتے ہیں؟ محمول۔ تو یہاں مبتدا کیا ہے؟ فَاعِلٍ كُلُّ فَاعِلٍ مَرْفُوعٌ۔ کیا ہے؟ فَاعِلٍ۔ یاد رکھو یہ فَاعِلٍ یہ ہے موضوع۔ اور یہ جو کل اور بعض کا لفظ ذکر ہوتا ہے، اس کو منطق میں سور کہتے ہیں، یہ آگے بیان شاید آ جائے انشاء اللہ۔ جس کے ذریعے... كُلُّ فَاعِلٍ مَرْفُوعٌ یا یوں کہیں بَعْضُ الْفَاعِلِ مَرْفُوعٌ بعض فاعل کیا ہوتے ہیں؟ مرفوع۔ تو یہ جو لفظ کل اور بعض کو بیان کرے، اس کو سور کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ سور۔ اچھا، تو دراصل یہاں موضوع کون ہے؟ فاعل ہے۔ اور محمول کون ہے؟ مَرْفُوعٌ۔ یہ کیا ہے؟ محمول ہے، محمول ہے۔ تو دیکھو كُلُّ فَاعِلٍ مَرْفُوعٌ۔ یہ ایک قضیہ ہے۔ توجہ ہے؟ یہ کیا ہے ایک؟ قضیہ ہے۔ اور کلی ہے یا جزئی ہے؟ کلی ہے۔ کل آ رہا ہے یا نہیں آ رہا شروع میں؟ كُلُّ فَاعِلٍ مَرْفُوعٌ۔ ہر فاعل کیا ہوتا ہے؟ مرفوع۔ تو یہ کلی ہے۔ یہ قضیہ کلیہ ہے۔ یہ کیا ہے ایک قضیہ کلیہ۔ اور اس کا موضوع کون؟ فاعل۔ یہ کیا ہے اس کا؟ موضوع۔ اس قضیے کا جو موضوع ہے، اس کی جو جزئیات ہیں۔ ان کا پتہ اس قضیے سے چل رہا ہے۔ توجہ ہے؟ پھر سن لو۔ كُلُّ فَاعِلٍ مَرْفُوعٌ، فاعل کون ہے؟ موضوع۔ تو یہ جو اس قضیے کا موضوع ہے، اس موضوع کی جو جزئیات ہیں ان کا پتہ اس قضیے سے چل رہا ہے۔ مثلاً دیکھو، میں نے ایک عبارت ہے میرے پاس، وہاں لکھا ہوا تھا ضَرَبَ زَيْدٌ۔ ضَرَبَ زَيْدٌ۔ اب پتہ نہیں ہے یہ زید پہ اعراب کون سا پڑھنا ہے۔ تو میں نے غور کیا، تو یہ قانون لگ رہا تھا اس پر، کیا؟ كُلُّ فَاعِلٍ مَرْفُوعٌ، ہر فاعل کیا ہوتا ہے؟ مرفوع۔ اور زید بھی کیا ہے؟ فاعل۔ معلوم ہوا اس پر بھی کیا پڑھیں گے؟ رفع۔ کیسے پڑھیں گے؟ ضَرَبَ زَيْدٌ۔ تو یہ جو ضَرَبَ زَيْدٌ کے اندر زید آیا، یہ جزئی ہے۔ ایک فرد ہے۔ کس کا؟ فاعل کا۔ کس کا؟ فاعل کا۔ پھر دوسری جگہ لکھا ہوا ہے، جَاءَ خَالِدٌ۔ اب یہ خالد پہ کون سا اعراب پڑھنا ہے، مجھے نہیں پتا۔ تو میں نے غور کیا، تو یہ قانون لگ رہا تھا اس پر۔ کیا؟ كُلُّ فَاعِلٍ مَرْفُوعٌ، ہر فاعل کیا ہوتا ہے؟ مرفوع۔ اور خالد بھی کیا ہے؟ فاعل۔ معلوم ہوا اس پر بھی کیا پڑھیں گے؟ رفع۔ کیسے پڑھیں گے؟ جَاءَ خَالِدٌ۔ تو یہ خالد بھی ایک جزئی ہے، ایک فرد ہے۔ کس کا؟ فاعل کا۔ فاعل کا ہے یا نہیں؟ تو دنیا کے اندر جتنے بھی فاعل آئیں گے، وہ اس فاعل کی جزئی ہیں۔ كُلُّ فَاعِلٍ مَرْفُوعٌ، بھئی دیکھو نا، جزئی افراد۔ بھئی میں نے کہا انسان، انسان کے افراد جانتے ہو؟ زید، عمرو، بکر، خالد جتنے انسان ہیں دنیا کے یہ سب کیا ہیں؟ انسان۔ تو جب آیا كُلُّ فَاعِلٍ، تو فاعل لفظ آیا یعنی فاعل۔ تو دنیا میں جہاں کہیں بھی جس عبارت میں بھی جو بھی فاعل آئے گا، وہ کیا ہے؟ فاعل ہے۔ وہ اس کا فرد ہے۔ جیسے زید، عمرو، بکر کیا ہیں؟ نہیں توجہ نہیں توجہ۔ اس پورے جملے کو چھوڑ دو كُلُّ فَاعِلٍ مَرْفُوعٌ۔ اس سارے کو چھوڑ دو۔ صرف لفظ فاعل کو ذہن میں رکھو۔ فاعل کلی ہے یا جزئی ہے؟ کلی ہے۔ فاعل کیا ہے؟ کلی ہے۔ ضَرَبَ زَيْدٌ یہ زید بھی کیا ہے؟ فاعل۔ دیکھا؟ اس پر فاعل صادق آ رہا ہے یا نہیں؟ جَاءَ خَالِدٌ یہ خالد بھی کیا ہے؟ فاعل۔ تو اس پہ بھی فاعل صادق آ رہا ہے۔ تو عبارتوں میں جتنے فاعل آئے ہیں ان پر یہ لفظ فاعل کیا ہے؟ صادق آ رہا ہے۔ تو عبارتوں میں جتنے فاعل آئے، وہ اس کے افراد ہوئے۔ اس کی جزئیات ہوئیں۔ بات سمجھ میں آگئی؟ ضَرَبَ زَيْدٌ، یہ زَيْدٌ کیا ہے؟ فاعل کی جزئی ہے۔ فاعل کا ایک فرد ہے۔ اس کا حکم پتہ چل رہا ہے یا نہیں؟ جَاءَ خَالِدٌ، یہ خالد کیا ہے؟ فاعل کی ایک جزئی ہے۔ ایک اس کا فرد ہے۔ جیسے زید انسان کی ایک جزئی ہے، ایک انسان کا ایک فرد ہے۔ اسی طرح اور مثال لے لو۔ مَاتَ بَكْرٌ۔ یہ بَكْرٌ کیا ہے؟ فاعل ہے۔ تو یہ فاعل کے افراد میں سے ایک فرد ہے۔ تو یہ فاعل کا ایک فرد ہے، فاعل کی ایک جزئی ہے۔ تو عبارتوں میں آپ تلاش کر لیں، جو جو فاعل ملے وہ فاعل کی جزئی ہے۔ فاعل کا ایک فرد ہے۔ اور كُلُّ فَاعِلٍ مَرْفُوعٌ۔ اب آؤ اس جملے پہ، قانون پہ آؤ۔ كُلُّ فَاعِلٍ مَرْفُوعٌ، ہر فاعل کیا ہے؟ مرفوع ہے۔ اس سے ہر فاعل کا حکم پتا چل گیا یا نہیں؟ کیا پتا چلا؟ کہ جہاں بھی فاعل آئے، فاعل کا جو بھی فرد پایا گیا، جو بھی جزئی پائی گئی، وہ ہمیشہ کیا ہوگی؟ مرفوع ہوگی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اب كُلُّ فَاعِلٍ مَرْفُوعٌ۔ فاعل کون ہے یہاں پر کیا بن رہا ہے؟ موضوع۔ تو اس قانون کے اندر جو موضوع ہے، اس کی ساری جزئیات کا حکم آپ کو پتا چل گیا۔ ساری جزئیات پر کیا پڑھنا ہے؟ رفع پڑھنا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ پھر دیکھو، كُلُّ فَاعِلٍ مَرْفُوعٌ، ہر فاعل کیا ہے؟ مرفوع۔ یہ ایک موضوع کیا ہے؟ فاعل۔ اور محمول کیا ہے؟ مرفوع۔ تو یہ جو اس کا موضوع ہے نا، موضوع۔ اس موضوع کی جتنی جزئیات ہیں، یعنی جو بھی فاعل ہیں، ان کا حکم پتا چل گیا۔ کیا حکم؟ کہ ان پر کیا پڑھنا ہے؟ رفع پڑھنا ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو جہاں بھی عبارت میں آئے، فاعل۔ وہ اس فاعل کی جزئی ہے۔ فاعل کا ایک فرد ہے۔ اور اس کا حکم معلوم ہو رہا ہے۔ اب پھر دوبارہ دیکھیے۔ کہتے ہیں وَفِي الِاصْطِلَاحِ اور اصطلاح کے اندر قانون جو ہے، قَضِيَّةٌ كُلِّيَّةٌ وہ ایک کلی قضیہ ہوتا ہے۔ يُتَعَرَّفُ مِنْهَا أَحْكَامُ جُزْئِيَّاتِ مَوْضُوعِهَا جانے جاتے ہیں اس قضیے کے ذریعے سے، اس قضیے کے موضوع کی جزئیات کے احکام جانے جاتے ہیں۔ اس قضیے کا جو موضوع ہے اس موضوع کی جو جزئیات ہیں ان جزئیات کے احکام کو جانا جاتا ہے۔ کس کے ذریعے؟ اس قضیہ وہ قضیہ کلیہ ہوتا ہے، جس کے ذریعے اس کے موضوع کے جزئیات کے احکام کو جانا جاتا ہے۔ كَقَوْلِ النُّحَاةِ جیسے کہ نحویوں کا قول ہے۔ كُلُّ فَاعِلٍ مَرْفُوعٌ ہر فاعل کیا ہے؟ مرفوع ہے۔ فَإِنَّهُ حُكْمٌ كُلِّيٌّ پس یہ ایک کلی حکم ہے۔ يُعْلَمُ مِنْهُ أَحْوَالُ جُزْئِيَّاتِ الْفَاعِلِ، معلوم ہو جاتے ہیں اس سے، احوال جزئیات فاعل۔ کیا معلوم ہوتے ہیں؟ فاعل کی جزئیات کے احوال معلوم ہو جاتے ہیں، کہ ان پر رفع پڑھنا ہے۔ یہاں تک بات اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟ چلیے بس کر رہے ہیں بھئی، حَاصِلِ كَلَام دوبارہ سُن لیجئے بھئی۔ آج آپ نے پڑھا، کہ نظر و فکر میں کبھی غلطی ہوتی ہے، اور اُس کی دَلیل شَارح نے ذِکر کی۔ شَارح نے بتلایا، کہ بعض عُلماء، بعض اوقات نظر و فکر جو ہے، وہ ہمیں اِس بات تک پہنچاتی ہے کہ عالم قدیم ہے۔ اور بعض اوقات نظر و فکر ہمیں اِس بات کی طرف لے جاتی ہے کہ یہ عالم حَادث ہے۔ اور قدیم اور حَادث ہونا یہ تو نَقیضَین ہیں۔ یہ دو جَمع بھی نہیں ہو سکتے، اور اُٹھ بھی نہیں سکتے۔ اَب ظاہر سی بات ہے، ایک نظر لے جا رہی ہے قَدیم ہونے کی طرف، ایک نظر لے جا رہی ہے حَادث ہونے کی طرف۔ یہ دونو جمع بھی نہیں ہو سکتے، اور اُٹھ بھی نہیں سکتے۔ تو لامحَالَہ آپ کو کہنا پڑے گا، کہ ایک نظر و فکر صَحیح ہے، اور ایک نظر و فکر غَلط ہے۔ مَعلوم ہُوا، نظر و فکر میں غَلطی ہوتی ہے۔ دَیکھا یہاں پر کیا ہو رہی ہے؟ غَلطی ہو رہی ہے۔ دونو ٹھیک بھی نہیں ہو سکتیں، اور دونو کو غَلط بھی نہیں کہہ سکتے کیونکہ نَقیضَین ہیں۔ نَقیضَین میں ایک کا ہونا اور دُوسرے کا نہ ہونا ضَروری ہے۔ دونو نہ ہوں، یہ بھی نہیں ہو سکتا، اور دونو ہی ہو جائیں، یہ بھی نہیں ہو سکتا۔ ایک ہو گی، اور ایک نہیں۔ تو معلوم ہوا، یا عالم قدیم ہوگا، یا حَادث ہوگا۔ دونو ہی نہ ہوں، نہ حادث ہو اور نہ قدیم ہو، یہ بھی نہیں ہو سکتا۔ اور دونو ہی ہو، قدیم بھی ہو، اور حادث بھی ہو، یہ بھی نہیں ہو سکتا۔ معلوم ہوا، ایک صحیح ہے، اور ایک غَلط ہے۔ تو ضَرورت پڑی ایک قانون کی جو ہمیں نظر و فکر میں غَلطی سے بچائے۔ اور یہ لوگ، اِس سے پتا چلا، ہم لوگ مَنطق کے مُحتاج ہیں۔ تین مُقدمات سے یہ بات ثَابت ہو گئی۔ مُقدمہ کسے کہتے ہیں؟ دَلیل کے اَندر جِتنی تَصدیقات آئیں، اُن میں سے ہر ایک تَصدیق کو مُقدمہ کہتے ہیں۔ تو تین مُقدمات ملائے، پہلا مُقدمہ کیا؟ کہ ہمارا عِلم دو قِسم پر ہے، یا تَصوّر ہے یا تَصدیق۔ اور پِھر دُوسرا مُقدمہ یہ، کہ تَصوّر اور تَصدیق، یا تو نظر و فکر سے حَاصِل ہوں گے، یا بغَیر نظر اور فِکر کے حَاصِل ہوں گے۔ اور تیسرا مُقدمہ یہ، کہ نظر و فکر میں کبھی کبھار غَلطی بھی ہو جَاتی ہے۔ تو نَتیجہ کیا نِکلا؟ کہ ایک عِلم کی ضَرورت ہے، جو نظر و فکر میں غَلطی سے بچائے۔ پِھر یہاں پر یہ بات بھی ذِکر ہوئی، کہ مَاتِن نے مَنطق کی غَرض بھی بیَان کی، اور آگے اُس کا مَوضُوع بھی ذِکر کریں گے، لیکن مَنطق کی تَعرِیف تو اُنہوں نے بَتلائی نہیں۔ تو بَتلادیا، کہ جَب مَنطق کی غَرض ذِکر کر دی، تو وِہیں سے مَنطق کی تَعرِیف بھی آپ کو سَمجھ میں آگئی۔ کہ عِلم مَنطق وہ عِلم ہے، جو نظر و فکر میں غَلطی سے اِنسان کو بچَاتا ہے۔ پِھر اُس کے بَعد، مَتَن میں لَفظِ قانون آیا تھا، تو اُس قانون کے بَارے میں بَتلایا، کہ یہ یُونَانی یا سُریَانی زُبان کا لَفظ ہے، اور اَصل میں تو یہ کَاتِبوں کے پیمَانے کا نَام ہے، مِسطَر کُتَّاب کا نَام ہے۔ لیکن اِصطلاح میں قانون، اُس قَضیّہ کُلیّہ کو کہتے ہیں، جِس کے ذَریعے اُس کے مَوضُوع کی جُزئیّات کے اَحکام کو جَانا جاتا ہے۔ جیسے، كُلُّ فَاعِلٍ مَرْفُوعٌ، اِس سے اِس کا جو مَوضُوع ہے، یعنی فَاعِل، اُس کی تَمام جُزئیّات، تَمام اَفراد کا پتا چل گیا، کہ ہر ایک کو کیا پڑھنا ہے؟ مَرفُوع پَڑھنا ہے۔ ہَاں، پِھر رَفع کی صُورتیں مُختلف ہو سَکتی ہیں، کبھی رَفع کِس صُورت میں آسَکتا ہے؟ حَرکت کی صُورت میں، زَیدٌ، کبھی رَفع وَاو کے سَاتھ آئے گا، مُسْلِمُونَ، کبھی رَفع اَلِف کے سَاتھ آئے گا، رَجُلَانِ۔ تَثنیہ کا رَفع اَلِف کے سَاتھ آتا ہے۔ جمع مُذکّر سَالم کا رَفع، وَاو کے سَاتھ۔ تو بَہرحَال ہوگا ہَر فَاعل مَرفُوع ہی بھَئی۔ اور کبھی تو مَحل کے اِعتبار سے مَبنی پر رَفع آئے گا۔ چَلیے بَس بھَئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ، وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔