فَإِذَا دَخَلَ مَكَّةَ ابْتَدَأَ وَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعَةَ أَشْوَاطٍ يَرْمُلُ فِي الثَّلَاثِ الْأُوَلِ مِنْهَا وَيَسْعَى بَعْدَهَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَهَذَا أَفْعَالُ الْعُمْرَةِ ثُمَّ يَبْدَأُ بِأَفْعَالِ الْحَجِّ فَيَطُوفُ طَوَافَ الْقُدُومِ سَبْعَةَ أَشْوَاطٍ وَيَسْعَى بَعْدَهُ كَمَا بَيَّنَّا فِي الْمُفْرِدِ وَيُقَدِّمُ أَفْعَالَ الْعُمْرَةِ۔ بھئی گزشتہ سبق کے اندر حجِ قران کا طریقہ ہم پڑھ رہے تھے بھئی۔ اور صاحبِ قدوری نے آپ کو بتلایا تھا کہ حجِ قران کا طریقہ یہ ہے کہ میقات سے حج اور عمرے دونوں کا احرام باندھا جائے اور وہ احرام کی دو سنتیں پڑھنے کے بعد یہ دعا کرے: ”اللَّهُمَّ إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَيَسِّرْهُمَا لِي وَتَقَبَّلْهُمَا مِنِّي“۔ اور اسی طرح یہ کہے: ”لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ مَعًا“۔ اور اگر اس میں اس نے حج کے لفظ کو مقدم کر دیا اور عمرے کے لفظ کو مؤخر کر دیا تو بھی کوئی حرج نہیں۔ اور اگر سرے سے ان دونوں کو ذکر ہی نہیں کیا صرف دل سے نیت کر لی دونوں کی تو بھی کافی ہے، کس پر قیاس کرتے ہوئے؟ نماز پر قیاس کرتے ہوئے، جیسے نماز کے اندر زبان سے نیت پر تلفظ ضروری نہیں ہے بلکہ دل سے نیت بھی کافی ہے بھئی۔ اب آگے بتلا رہے ہیں: فَإِذَا دَخَلَ مَكَّةَ، کہ جب وہ قارن یعنی حجِ قران کرنے والا مکہ میں داخل ہو جائے، ابْتَدَأَ وَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعَةَ أَشْوَاطٍ۔ پہلے طریقہ سمجھ لیجیے میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں کہ حجِ قران کرنے والے نے عمرہ بھی کرنا ہے اور حج بھی کرنا ہے، تو پہلے جاتے ہی یہ عمرہ کرے گا۔ اور عمرہ کس چیز کا نام ہے؟ طواف اور سعی بھئی، سعی۔ تو طواف کر لے اور اس طواف کے بعد چونکہ سعی کرنی ہے تو اس میں اضطباع بھی کر لے یعنی دایاں کندھا بھی ننگا کر لے گا اور رمل بھی کرے گا پہلے تین چکروں کے اندر بھئی۔ تو جب یہ طواف کر لے، اس کے بعد اس کی دو رکعت واجب جو ہیں وہ پڑھ لے، پھر اس کے بعد صفا اور مروہ کے درمیان سات چکر لگائے بھئی۔ تو یہ عمرہ مکمل ہوا، لیکن یہ عمرہ کرنے کے بعد اس نے حلال نہیں ہونا، یعنی سر کے بال استرے سے صاف نہیں کرنے یا سر کے بال کٹوانے نہیں ہیں، اس لیے کیونکہ یہ احرام صرف عمرے کا اس نے نہیں باندھا تھا بلکہ حج اور عمرے دونوں کا باندھا تھا، تو ابھی صرف عمرے کے افعال ہوئے ہیں۔ لہٰذا آگے حج کے بھی افعال کرے اور جب حج پورا ہو جائے تو آخر میں جا کر دونوں احراموں سے اکٹھا ہی حلال ہوگا یوم النحر والے دن بھئی، ترتیب سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ جب اس نے عمرہ کر لیا، عمرہ کر لیا، اس کے بعد یہ طوافِ قدوم کر لے، کیا کر لے؟ طوافِ قدوم کر لے۔ اور اسی طوافِ قدوم کے بعد اگر یہ حج کی سعی کرنا چاہتا ہے تو حج کی سعی بھی کر لے، اگر ان دنوں میں حج کی سعی نہ کر سکا تو پھر طوافِ زیارت کے بعد حج کی سعی کرنا پڑے گی بھئی، طوافِ زیارت کے بعد۔ تو یہ جو عمرہ کر لیا، عمرے کے بعد یہ جو بھی طواف کر لے گا، جو بھی پہلا طواف ہوگا وہ خود بخود طوافِ قدوم بن جائے گا، جیسے حج کے بعد جو بھی طواف آخری ہوتا تھا وہ خود بخود کیا بن جاتا تھا؟ طوافِ وداع بن جاتا تھا، تفصیل پیچھے بیان ہو چکی ہے بھئی۔ تو یہ چاہے تو اس طوافِ قدوم کے بعد ہی کیا کر لے؟ حج کی سعی کر لے، یا جتنے دن مکہ میں ہے حج سے پہلے پہلے، ان میں بھی کسی دن بھی وہ کسی طواف کے بعد بھی کیا کر سکتا ہے؟ حج کی سعی کر سکتا ہے کیونکہ حج کا احرام اس نے باندھا ہوا ہے۔ لیکن جب بھی سعی کرنی ہے اس سے پہلے کیا کر لے؟ ایک طواف کر لے اور اس طواف میں کیا کر لے؟ اضطباع بھی کر لے اور رمل بھی کر لے بھئی، طریقہ سمجھ میں آ گیا؟ تو کہتے ہیں: فَإِذَا دَخَلَ مَكَّةَ، جب حجِ قران والا مکہ میں داخل ہو جائے، ابْتَدَأَ وَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعَةَ أَشْوَاطٍ، تو ابتدا کرے گا اور طواف کرے گا بیت اللہ کے سات چکر، يَرْمُلُ فِي الثَّلَاثِ الْأُوَلِ مِنْهَا، اور ان میں سے پہلے تین چکروں کے اندر وہ رمل کرے گا، اور میں نے بتلایا تھا پہلے تین چکروں میں رمل نہ کر سکا، بھول گیا، تو بعد میں نہ کرے بھئی، کیونکہ پہلے تین ہی میں رمل مسنون ہے بعد والوں میں رمل کرنا مسنون نہیں۔ وَيَسْعَى بَعْدَهَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، اور سعی کرے اس کے بعد صفا اور مروہ کے درمیان، وَهَذَا أَفْعَالُ الْعُمْرَةِ، اور یہ عمرے کے افعال ہیں، ثُمَّ يَبْدَأُ بِأَفْعَالِ الْحَجِّ، پھر اس کے بعد حج کے افعال شروع کرے، فَيَطُوفُ طَوَافَ الْقُدُومِ سَبْعَةَ أَشْوَاطٍ، پس طواف کرے طوافِ قدوم کے سَبْعَةَ أَشْوَاطٍ سات چکر بھئی، وَيَسْعَى بَعْدَهُ، اور اس کے بعد کیا کر لے؟ سعی کر لے۔ طوافِ قدوم آپ پڑھ چکے بھئی کہ قدوم کا معنی ہے آنا، چونکہ حاجی دور سے سفر کر کے آیا ہے لہٰذا ابتدا میں کیا ضروری ہے؟ طوافِ قدوم، جو پہلا طواف کرے گا بیت اللہ کا یہ طوافِ قدوم ہے، تو دور سے سفر کر کے آیا ہے تو پہلے بیت اللہ کا طواف کرے اور یہ طواف طوافِ قدوم کہلاتا ہے اور ہمارے نزدیک یہ سنت ہے واجب نہیں ہے بھئی۔ تو اس کے بعد فَيَطُوفُ طَوَافَ الْقُدُومِ سَبْعَةَ أَشْوَاطٍ، تو اس کے بعد طوافِ قدوم کر لے سات چکر، وَيَسْعَى بَعْدَهُ كَمَا بَيَّنَّا فِي الْمُفْرِدِ، اور اس کے بعد سعی کر لے اگر کرنا چاہتا ہے، یہ قید آپ نے یاد رکھنی ہے، اس کے بعد کیا کرنا چاہے؟ سعی کرنا چاہے تو کر لے، کوئی لازمی نہیں ہے، لیکن آسانی ہو جائے گی بھئی، طوافِ زیارت کے بعد سعی کرے گا اس دن بہت ہجوم ہوگا، بڑی مشکل ہوگی سعی، لہٰذا چاہے تو طوافِ قدوم کے بعد سعی کر لے اور چاہے تو جب تک مکہ میں ہے کسی بھی طواف کے بعد سعی کر لے۔ یہ معنی ہے: وَيَسْعَى بَعْدَهُ، اور اس طواف کے بعد سعی کر لے، كَمَا بَيَّنَّا فِي الْمُفْرِدِ، جیسے کہ ہم نے مفرد کے اندر بیان کیا، مفرد جو حجِ افراد کرنے والا ہے تو وہ حجِ افراد کا طریقہ پیچھے تفصیلاً ذکر ہو گیا۔ وَيُقَدِّمُ أَفْعَالَ الْعُمْرَةِ، اور مقدم کرے یہ شخص عمرے کے افعال کو، بھئی پہلے کیا کرے؟ پہلے عمرہ کرے اور اس کے بعد پھر کیا کرے؟ حج کے افعال کرے بھئی، اس کا عکس نہ کرے کہ حج کے افعال پہلے کر لے اور عمرہ بعد میں، بلکہ پہلے عمرہ کرے، اور دلیل اس کی کیا کہ عمرہ پہلے ہونا چاہیے؟ کہتے ہیں: لِقَوْلِهِ تَعَالَى، اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے، اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: ﴿فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ﴾، تو وہ شخص جس نے نفع اٹھایا عمرے کا إِلَى الْحَجِّ حج تک بھئی۔ تو دیکھو یہاں پر حج پر لفظِ ”إِلَى“ داخل ہوا اور ”إِلَى“ کس لیے آتا ہے؟ غایہ اور انتہا بتلانے کے لیے، معلوم ہوا انتہا کس پر ہوگی؟ حج پر، جب حج پر انتہا ہے تو دو ہی تو افعال ہیں ایک عمرہ اور ایک حج، تو جب حج پر انتہا ہے تو معلوم ہوا ابتدا کس سے ہوگی؟ عمرے سے ہوگی بھئی۔ وَالْقِرَانُ فِي مَعْنَى الْمُتْعَةِ، یہ سوال کا جواب دے رہے ہیں، سوال یہ کہ یہ تو حجِ تمتع کا ذکر ہے: ﴿فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ﴾، یہ تو حجِ تمتع کا ذکر ہو رہا ہے قرآن میں، حجِ قران کا تو ذکر نہیں، تو آپ تو قران کی بات یہاں کر رہے ہیں؟ کہتے ہیں بھئی حجِ قران بھی فِي مَعْنَى الْمُتْعَةِ کس معنی میں ہے؟ حجِ تمتع ہی کے معنی میں ہے بھئی، کیونکہ حجِ تمتع میں جس طرح ایک عمرہ اور حج ہوتا ہے اسی طرح حجِ قران میں بھی عمرہ اور حج ہوتا ہے تو یہ اسی کے معنی میں ہے۔ یہ معنی ہے: وَالْقِرَانُ فِي مَعْنَى الْمُتْعَةِ، اور حجِ قران جو ہے حجِ متعہ کے معنی میں ہے یعنی حجِ تمتع کے معنی میں ہے۔ وَلَا يَحْلِقُ بَيْنَ الْعُمْرَةِ وَالْحَجِّ، بھئی عمرے اور حج کے درمیان یہ شخص حلال نہیں ہوگا، حجِ تمتع والا تو کیا کرتا تھا؟ حلال ہو جاتا تھا، بال کٹوا دیتا تھا اور احرام کی پابندیاں ختم ہو جاتی تھیں، لیکن حجِ قران اس میں مشقت زیادہ ہے کہ یہ جو احرام باندھا ہے اس نے یہ صرف عمرے کا احرام نہیں ہے کہ اب حلال ہو جائے اور اتار دے، بلکہ یہ تو حج اور عمرے دونوں کا احرام ہے لہٰذا درمیان میں حلال نہیں ہونا، عمرہ کر کے پھر اسی طرح حالتِ احرام میں، احرام کی پابندیوں کے ساتھ ہی مکہ میں رہے اور طواف کرتا رہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلَا يَحْلِقُ بَيْنَ الْعُمْرَةِ وَالْحَجِّ، اور حلق نہ کروائے یہ شخص عمرے اور حج کے درمیان، حلق یعنی استرے سے بال صاف نہ کروائے، لِأَنَّ ذَلِكَ جِنَايَةٌ عَلَى إِحْرَامِ الْحَجِّ، اس لیے کیونکہ یہ جرم ہے حج کے احرام پر۔ اگر اس نے بال صاف کروا لیے بھئی عمرے کے بعد تو یاد رکھیے یہ اس نے جنایت کر دی حج کے احرام پر بھئی، کیونکہ یہ احرام حج کا بھی تھا اور عمرے کا بھی، لہٰذا ایک دم لازم آئے گا یعنی ایک جانور کی قربانی اس پر واجب ہو جائے گی۔ یہ معنی ہے: لِأَنَّ ذَلِكَ جِنَايَةٌ عَلَى إِحْرَامِ الْحَجِّ، کیونکہ یہ جنایت ہے حج کے احرام پر، وَإِنَّمَا يَحْلِقُ فِي يَوْمِ النَّحْرِ كَمَا يَحْلِقُ الْمُفْرِدُ، اور یہ شخص حلق کروائے گا، یہ حجِ قران والا قارن جو ہے یہ حلق کروائے گا یوم النحر والے دن ہی كَمَا يَحْلِقُ الْمُفْرِدُ جیسے حلق کرواتا تھا حجِ افراد والا۔ وہ جیسے یوم النحر والے دن حلق کرواتا تھا یہ بھی اسی دن حلق کروائے گا اور پھر اس کے دونوں احرام ختم ہو جائیں گے بھئی۔ اور یہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ حجِ افراد میں احرام صرف کس کا ہوتا ہے؟ حج کا، اور حجِ تمتع میں اولاً احرام ہوتا ہے عمرے کا اور پھر بعد میں احرام ہوتا ہے حج کا، لہٰذا ان سے اگر کوئی جنایت ہو جائے تو ان پر ایک دم آئے گا، کتنا آئے گا؟ ایک دم۔ لیکن اگر حجِ قران والے سے کوئی جنایت ہو جائے تو حجِ قران والے کا احرام دو چیزوں کا ہے، عمرے کا بھی ہے اور حج کا بھی ہے، اس پر پھر دو دم آئیں گے بھئی، مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ وَيَتَحَلَّلُ بِالْحَلْقِ عِنْدَنَا لَا بِالذَّبْحِ كَمَا يَتَحَلَّلُ الْمُفْرِدُ، اور یہ قارن بھی حلال ہوگا حلق سے ہی ہمارے نزدیک، کس کے ذریعے حلال ہوگا؟ حلق، سر کے بال استرے سے صاف کروا لے یا سر کے بال چھوٹے کروا لے، اسی سے یہ حلال ہو جائے گا، لَا بِالذَّبْحِ، ذبح کی وجہ سے حلال نہیں ہوگا، كَمَا يَتَحَلَّلُ الْمُفْرِدُ، جیسے مفرد حلال ہوتا ہے۔ حجِ افراد کرنے والا کس سے حلال ہوتا ہے؟ آپ پیچھے پڑھ چکے، وہ بھی حلق ہی کے ذریعے حلال ہوتا ہے تو یہ بھی حلق ہی کے ذریعے حلال ہوگا۔ ثُمَّ هَذَا مَذْهَبُنَا، پھر یہ ہمارا مذہب ہے۔ یہ ہمارا مذہب ہے، آگے امام شافعی رحمہ اللہ کا مذہب بھی بیان ہوگا۔ ہمارا کیا مذہب ہوا؟ کہ یہ جو قارن ہے، یہ عمرے کے افعال الگ کرے گا اور حج کے افعال الگ کرے گا، یہ ہمارا مذہب ہے۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ جو ہیں وہ فرماتے ہیں کہ عمرے کا تداخل ہو جائے گا حج کے اندر، لہٰذا ان کے نزدیک، ان کے نزدیک قارن جو ہے ایک طواف اور ایک سعی کرے گا، وہی طواف حج کا بھی ہوگا اور عمرے کا بھی، اور وہی سعی حج کی بھی ہوگی اور عمرے کی بھی ہو جائے گی، جبکہ ہمارے نزدیک قارن دو طواف اور دو سعی کرے گا، ایک طواف اور سعی عمرے کی اور ایک طواف اور سعی حج کی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ثُمَّ هَذَا مَذْهَبُنَا، پھر یہ ہمارا مذہب ہے یعنی کہ عمرے اور حج کے افعال الگ الگ کرنے پڑیں گے۔ وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ، اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: يَطُوفُ طَوَافًا وَاحِدًا وَيَسْعَى سَعْيًا وَاحِدًا، کہ قارن جو ہے وہ ایک ہی طواف کرے گا اور ایک ہی سعی کرے گا، لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ، وہ دلیل پیش کرتے ہیں حضور علیہ السلام کا قول بھئی کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا: ”دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ“، عمرہ داخل ہو گیا حج میں قیامت کے دن تک۔ عمرہ کس میں داخل ہو گیا؟ حج میں داخل ہو گیا قیامت تک کے لیے، تو معلوم ہوا عمرے کے افعال کس میں داخل ہو جائیں گے؟ حج میں داخل ہو جائیں گے۔ یہ ایک دلیل ان کی، اور نیز آگے عقلی دلیل بھی وہ ذکر کرتے ہیں، کہتے ہیں: وَلِأَنَّ مَبْنَى الْقِرَانِ عَلَى التَّدَاخُلِ، اور اس لیے کیونکہ قران کی بنیاد تداخل پر ہے، قران میں کیا ہوتا ہے؟ تداخل ہوتا ہے، ایک فعل دوسرے کے اندر داخل ہو جاتا ہے، حَتَّى اكْتُفِيَ فِيهِ بِتَلْبِيَةٍ وَاحِدَةٍ، یہاں تک کہ اکتفا کیا جاتا ہے اس میں ایک ہی تلبیہ پر، کس پر؟ ایک ہی تلبیہ پر۔ بھئی دیکھیے، حجِ تمتع والا ہے نا حجِ تمتع والا، وہ شروع میں جب احرام باندھتا ہے کس کا باندھتا ہے؟ عمرے کا، تو اس کے لیے الگ تلبیہ کہے گا، نیت کے ساتھ ساتھ کیا ضروری؟ تلبیہ کا کہنا بھی ضروری ہے۔ پھر جب وہ یوم الترویہ والے دن حج کا احرام باندھے گا حجِ تمتع والا تو پھر وہ تلبیہ کہے گا اور وہ کس لیے ہوگا؟ حج کے لیے تلبیہ ہوگا۔ لیکن یہاں جو قران والا تلبیہ کہے گا وہ جو احرام باندھتے ہوئے شروع میں اس نے کہا نیت کرتے ہوئے، اس وقت ایک ہی تلبیہ کہے گا حج اور عمرے دونوں کے لیے، تو دیکھو وہ فرماتے ہیں یہاں تداخل آ گیا، ایک ہی تلبیہ دونوں کے لیے کافی ہو گیا۔ معلوم ہوا قران کی بنیاد تداخل پر ہے۔ اسی طرح وہ فرماتے ہیں ایک ہی سفر دونوں کے لیے کافی ہو گیا۔ یہ جو سفر کر کے جا رہا ہے یہ عمرے کا بھی سفر اور یہ حج کا بھی سفر، حالانکہ ہونا کیا چاہیے؟ حج کے لیے الگ سفر اور عمرے کے لیے الگ سفر، لیکن دونوں میں تداخل آ گیا۔ تداخل آ گیا، ایک ہی سفر دونوں کے لیے کافی ہو گیا۔ اسی طرح حلق کے اندر بھی تداخل آ جاتا ہے، یوم النحر والے دن ایک ہی حلق کے ذریعے وہ حلال ہو جائے گا عمرے کے احرام سے بھی اور حج کے احرام سے بھی، تو معلوم ہوا قران کی بنیاد کس پر ہے؟ تداخل پر ہے۔ جب باقی چیزوں کے اندر تداخل آ رہا ہے تو طواف اور سعی میں بھی کیا آئے گا؟ تداخل آئے گا اور ایک ہی طواف اور ایک ہی سعی کرے گا حجِ قران کرنے والا۔ دلیل ان کی سمجھ میں آ گئی؟ تو وہ فرماتے ہیں: وَلِأَنَّ مَبْنَى الْقِرَانِ عَلَى التَّدَاخُلِ، قران کی بنیاد تداخل پر ہے، حَتَّى اكْتُفِيَ فِيهِ بِتَلْبِيَةٍ وَاحِدَةٍ وَسَفَرٍ وَاحِدٍ وَحَلْقٍ وَاحِدٍ، یہاں تک کہ اکتفا کیا جاتا ہے اس میں ایک ہی تلبیہ پر اور ایک ہی سفر پر اور ایک ہی حلق پر، فَكَذَلِكَ فِي الْأَرْكَانِ، تو اسی طرح ارکان میں بھی ہوگا یعنی ارکان بھی، یعنی طواف اور سعی جو وغیرہ جو ہیں وہ ان میں بھی کیا ہوگا؟ تداخل ہوگا۔ وَلَنَا، اور ہماری دلیل یہ ہے: أَنَّهُ لَمَّا طَافَ صُبَيُّ بْنُ مَعْبَدٍ طَوَافَيْنِ وَسَعَى سَعْيَيْنِ قَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ: ”هُدِيتَ لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ“۔ ہماری دلیل یہ ہے کہ جب طواف کیا صبی بن معبد نے طَوَافَيْنِ وَسَعَى سَعْيَيْنِ، جب انہوں نے دو طواف اور دو سعی کیں، وہ حجِ قران کر رہے تھے اور کیا کیا انہوں نے؟ دو طواف کیے اور دو سعی کیں جیسا کہ ہمارا مذہب ہے، ہمارے نزدیک کتنے کرے گا قارن؟ دو طواف اور دو سعی۔ تو انہوں نے بھی جب دو طواف اور دو سعی کر لیں اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے ذکر کیا، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ، تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان سے فرمانے لگے: ”هُدِيتَ لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ“، تمہاری رہنمائی کر دی گئی حضور علیہ السلام کی سنت کی طرف بھئی۔ تمہاری رہنمائی کر دی گئی حضور علیہ السلام کی سنت کی طرف، یعنی ان کی سنت پر تم نے عمل کر لیا بھئی۔ معلوم ہوا اس سے کہ حجِ قران کرنے والا کیا کرے گا؟ دو طواف اور دو سعی کرے گا کیونکہ اسی کو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور علیہ السلام کی سنت قرار دے رہے ہیں بھئی۔ وَلِأَنَّ الْقِرَانَ، جی آگے عقلی دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: وَلِأَنَّ الْقِرَانَ ضَمُّ عِبَادَةٍ إِلَى عِبَادَةٍ، نیز اس لیے کیونکہ قران جو ہے وہ ملانا ہے ایک عبادت کو دوسری عبادت کے ساتھ۔ اور ایک عبادت کو دوسری عبادت کے ساتھ ملانا، یہ کس طریقے پر ہوگا؟ کہ ایک عبادت کے افعال بھی پورے طور پر کیے جائیں اور دوسری عبادت کے افعال بھی پورے طور پر کیے جائیں، تو تب کہا جائے گا اس نے کیا کیا، ایک عبادت کے ساتھ دوسری عبادت کو ملا دیا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: وَلِأَنَّ الْقِرَانَ ضَمُّ عِبَادَةٍ إِلَى عِبَادَةٍ، اور نیز اس لیے کیونکہ قران جو ہے وہ ملانا ہے ایک عبادت کو دوسری عبادت کے ساتھ، وَذَلِكَ إِنَّمَا يَتَحَقَّقُ بِأَدَاءِ عَمَلِ كُلِّ وَاحِدٍ عَلَى الْكَمَالِ، اور یہ تو اسی وقت پایا جائے گا، کیا چیز؟ ایک عبادت کو دوسری عبادت کے ساتھ ملانا، یہ تو اسی وقت اس کا تحقق ہوگا، اسی وقت یہ پایا جائے گا کہ جب کیا کرے؟ بِأَدَاءِ عَمَلِ كُلِّ وَاحِدٍ، کہ ادا کرے ان میں سے ہر ایک کے عمل کو، وہ شخص کیا کرے؟ ہر عبادت کے عمل کو ادا کرے عَلَى الْكَمَالِ کامل طریقے سے۔ پہلی عبادت کے افعال بھی پورے طور پر کرے، دوسری عبادت کے افعال بھی پورے طور پر کرے، تو پھر کہیں گے اس نے کیا کیا، ایک عبادت کے ساتھ ملا دیا دوسری عبادت کو، یعنی پہلے ایک پوری عبادت کر لی اور پھر ساتھ ہی دوسری بھی پوری عبادت کر لی۔ وَلِأَنَّهُ لَا تَدَاخُلَ فِي الْعِبَادَاتِ الْمَقْصُودَةِ، اور نیز اس لیے کیونکہ عباداتِ مقصودہ میں تداخل نہیں ہوتا۔ وسیلہ جو ہوتا ہے نا وسیلہ، جس کے ذریعے ایک چیز تک پہنچا جائے، ان میں تو تداخل ہوتا ہے لیکن عباداتِ مقصودہ میں تداخل نہیں ہوتا، جو عبادت مقصود ہوتی ہے جس کے لیے وہ وسیلہ اختیار کر رہا ہے۔ مثلاً یہ سفر کرتا ہے انسان حج کے لیے، مقصد کیا ہے؟ یہ سفر مقصد ہے یا آگے حج مقصد ہے؟ حج مقصد ہے، تو سفر ہے وسیلہ اور وسیلے کے اندر تداخل ہو جائے گا، لہٰذا ایک ہی سفر عمرے اور حج کے لیے کافی ہو جائے گا بھئی۔ جیسے ایک ہی وضو، ایک ہی وضو ظہر کی نماز کے لیے بھی کافی ہو جائے گا اور عصر کی نماز کے لیے بھی کافی ہو جائے گا۔ تو تداخل وسائل کے اندر ہوتا ہے، عباداتِ مقصودہ کے اندر تداخل نہیں ہوتا۔ تو کہتے ہیں: وَلِأَنَّهُ لَا تَدَاخُلَ فِي الْعِبَادَاتِ الْمَقْصُودَةِ، اور نیز اس لیے کیونکہ عباداتِ مقصودہ کے اندر تداخل نہیں ہوتا، وَالسَّفَرُ لِلتَّوَصُّلِ، اور سفر تو پہنچنے کے لیے ہے، وَالتَّلْبِيَةُ لِلتَّحْرِيمِ، اور تلبیہ تو کس لیے ہے؟ تحریم کے لیے ہے، محرم بنانے کے لیے ہے، حرام کرنے کے لیے ہے یعنی پابندیاں لگانے کے لیے ہے، اور تو وہ بھی وسیلہ ہوا، وہ بھی کیا ہے؟ وسیلہ ہے، تلبیہ کہے گا تو محرم بنے گا، لہٰذا تلبیہ بھی یہاں پر مقصود نہیں۔ وَالْحَلْقُ لِلتَّحَلُّلِ، اور حلق یعنی سر کے بال صاف کروانا یہ تو حلال ہونے کے لیے ہے۔ یہ کوئی ان میں سے کوئی بھی چیز مقصود نہیں، نہ سفر مقصود ہے، نہ تلبیہ مقصود ہے، اور نہ حلق مقصود ہے، تو یہ غیر مقصود ہوئے اور غیر مقصود کے اندر تو تداخل آ سکتا ہے، ایک ہی سفر دونوں کے لیے کافی، ایک ہی تلبیہ دونوں کے لیے کافی، ایک ہی حلق دونوں کے لیے کافی، کیونکہ یہ سب کیا ہیں؟ غیر مقصود ہیں بھئی۔ فَلَيْسَتْ هَذِهِ الْأَشْيَاءُ بِمَقَاصِدَ، لہٰذا یہ چیز مقصود نہ ہوئیں، بِخِلَافِ الْأَرْكَانِ، بخلاف کس کے؟ ارکان کے، کہ وہ مقصود ہیں لہٰذا ان میں تداخل نہیں ہوگا۔ آگے عجیب مثال ذکر کرتے ہیں صاحبِ ہدایہ، وہ فرماتے ہیں دیکھیے آپ نفل ادا کرنا چاہتے ہیں، طریقہ کیا ہے؟ دو رکعت ادا کیے جائیں، پھر کیا کیا جائے؟ دوبارہ نیت باندھی جائے اور دو رکعت ادا کیے جائیں۔ لیکن آپ دو اور دو کو ملانا چاہتے ہیں، چار اکٹھے ادا کرنا چاہتے ہیں تو دیکھو ایک ہی تکبیرِ تحریمہ چاروں کے لیے کافی ہو جائے گی۔ کیونکہ تکبیرِ تحریمہ آپ پڑھ چکے یہ نماز کی شرائط میں سے ہے، نماز کی حقیقت میں داخل نہیں، تو یہ وسیلہ ہے اس تک پہنچنے کا۔ تو وسیلے میں تداخل ہوا، پہلے دو اور دو پڑھ رہا تھا، پہلی دو کے لیے تحریمہ الگ تھا اور دوسری دو کے لیے تحریمہ الگ، اب وہ چار رکعت اکٹھی ادا کرتا ہے تو ایک ہی تحریمہ چاروں کے لیے کافی ہو جائے گا، دیکھو وسیلے کے اندر تداخل آیا۔ لیکن ان چار رکعتوں کے اندر تداخل نہیں آئے گا کیونکہ وہ مقصود ہیں، یہ نہیں کر سکتا وہ کہ نیت کرے چار کی اور پڑھ لے دو اور سوچے کہ ان میں کیا آ گیا ان دونوں میں؟ تداخل آ گیا، یہ دو ہی کس کے برابر ہو گئیں؟ چار کے برابر، نہیں بھئی، وہ مقصود ہیں، ان میں تداخل نہیں ہو سکتا، ہاں وسیلوں میں تداخل ہو سکتا ہے جیسے ایک ہی وضو بھی ان کے لیے کافی ہو جائے گا اور ایک ہی تکبیرِ تحریمہ بھی ان کے لیے کافی ہو جائے گی، دلیل سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: أَلَا تَرَى، کیا آپ دیکھتے نہیں، أَنَّ شَفْعَيِ التَّطَوُّعِ، اصل میں تھا شَفْعَيْنِ التَّطَوُّعِ، تطوع نفل کے جو دو شفعے ہیں، نون اضافت کی وجہ سے گر گیا، شفعہ کسے کہتے ہیں؟ دو رکعتیں، جو دو رکعتیں ہیں۔ أَلَا تَرَى أَنَّ شَفْعَيِ التَّطَوُّعِ، کیا آپ دیکھتے نہیں کہ نفل کے جو دو شفعے ہیں، ایک شفعے میں کتنی رکعت ہوتی ہیں؟ دو رکعت، تو دو شفعوں میں کتنی ہوئیں؟ چار۔ تو کیا آپ دیکھتے نہیں أَنَّ شَفْعَيِ التَّطَوُّعِ کہ نفل کے جو دو شفعے ہیں، لَا يَتَدَاخَلَانِ، ان میں تداخل نہیں ہوتا، وَبِتَحْرِيمَةٍ وَاحِدَةٍ يُؤَدَّيَانِ، اور ایک ہی تحریمہ کے ساتھ ان کو ادا کیا جاتا ہے۔ وَمَعْنَى مَا رَوَاهُ، اب اس حدیث کا بھی جواب دے رہے ہیں، امام شافعی رحمہ اللہ کی عقلی دلیل کا تو جواب گزر گیا، اب انہوں نے حدیث ذکر کی تھی کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا: ”دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ“، کہ عمرہ حج میں داخل ہو گیا قیامت تک، تو اس کا بھی جواب دے رہے ہیں، کہتے ہیں: وَمَعْنَى مَا رَوَاهُ، اور معنی اس حدیث کا جس کو امام شافعی رحمہ اللہ نے روایت کیا، اس کا معنی یہ ہے: دَخَلَ وَقْتُ الْعُمْرَةِ فِي وَقْتِ الْحَجِّ، کہ عمرے کا وقت حج کے وقت میں داخل ہو گیا۔ حالانکہ اس سے پہلے جاہلیت والے کیا کہتے تھے؟ کل کے سبق میں کیا آیا تھا؟ کہ اشہرِ حج میں، حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا بدترین گناہ ہے، لیکن حضور علیہ السلام اس حدیث کے ذریعے دراصل انہی کے اس عقیدے کا رد فرما رہے ہیں اور بتلا رہے ہیں کہ عمرہ جو ہے وہ حج میں داخل ہو گیا قیامت تک کے لیے، یعنی ہمارے لیے اس کی رخصت دے دی گئی، ہم حج کے مہینوں میں بھی کیا کر سکتے ہیں؟ عمرہ کر سکتے ہیں، تو عمرہ داخل ہو گیا کس میں؟ حج میں، یعنی وہ حکم منسوخ کر دیا گیا جو پہلے سے چلا آ رہا تھا کہ حج کے مہینوں میں عمرہ نہیں کر سکتے، اب کیا کر دیا گیا؟ عمرے کے وقت کو بھی حج کے وقت میں داخل کر دیا گیا قیامت تک کے لیے، بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے کہ دَخَلَ وَقْتُ الْعُمْرَةِ فِي وَقْتِ الْحَجِّ، عمرے کا وقت داخل ہو گیا حج کے وقت میں۔ قَالَ: وَإِنْ طَافَ طَوَافَيْنِ لِعُمْرَتِهِ، صورتِ مسئلہ یہ ہے: بھئی ابھی آپ کو حجِ قران کا طریقہ بتایا کہ حجِ قران والا جائے گا اور جا کر ایک طواف کرے گا اور ایک سعی کرے گا، یہ طواف اور سعی کس چیز کی؟ یہ عمرے کی، پھر ایک طواف کرے گا اور ایک سعی کر لے گا، یہ طواف اور سعی کس کے؟ حج کے، طواف جو ہے وہ طوافِ قدوم اور سعی جو ہے وہ حج کی سعی ہے۔ ایک شخص ان میں ترتیب برقرار نہیں رکھتا، وہ کیا کرتا ہے؟ وہ کہتا ہے میں نے ایک طواف اور ایک سعی کرنی ہے، پھر ایک طواف اور ایک سعی کرنی ہے، بلکہ اس کے بجائے میں یوں کر لیتا ہوں: پہلے دو طواف کر لیتا ہوں پھر دو سعی کر لیتا ہوں۔ طریقہ تو کیا تھا؟ ایک طواف، پھر ایک سعی، پھر ایک طواف، پھر ایک سعی۔ لیکن وہ کیا کرتا ہے؟ دو طواف اکٹھے کر لیتا ہے، ایک طواف کر لیا پھر اس کے بعد دوسرا کر لیا، پھر دو سعی اکٹھی کر لیتا ہے، پہلی سعی عمرے کے لیے کر لیتا ہے، دوسری سعی حج کے لیے کر لیتا ہے، تو کیا یہ کافی ہو جائے گا؟ کہتے ہیں ہاں بھئی، اگر ایسا وہ کر لے تو یہ اس کے لیے کافی ہو جائے گا، اگرچہ اس نے برا عمل کیا کیونکہ اس نے سنت طریقے کو چھوڑ دیا بھئی، سمجھ میں آیا؟ سنت طریقہ تو کیا ہے؟ پہلے صرف عمرے کے افعال کرے یعنی ایک طواف اور ایک سعی، پھر اس کے بعد حج کے افعال شروع کرے یعنی طواف اور سعی بھئی۔ قَالَ، تو امام محمد رحمہ اللہ جامع صغیر میں فرماتے ہیں: وَإِنْ طَافَ طَوَافَيْنِ، اور اگر ایک شخص نے دو طواف کر لیے، اگر اس شخص نے دو طواف کر لیے حجِ قران کرنے والے نے، لِعُمْرَتِهِ وَحَجَّتِهِ، دو طواف کس چیز کے؟ عمرے کے لیے اور حج کے لیے، یہ دو طواف کر لیے، وَسَعَى سَعْيَيْنِ، اور پھر اس نے دو سعی کر لیں، يُجْزِيهِ، تو یہ اس کے لیے کافی ہے، لِأَنَّهُ أَتَى بِمَا هُوَ الْمُسْتَحَقُّ عَلَيْهِ، بھئی کہتے ہیں یہ اس کے لیے کافی ہو جائے گا اس لیے لِأَنَّهُ أَتَى اس لیے کیونکہ وہ لے آیا بِمَا هُوَ الْمُسْتَحَقُّ عَلَيْهِ اس چیز کو جو اس پر لازم تھی۔ اس پر بھی کیا لازم تھا؟ دو طواف اور دو سعی، اور اس نے بھی کیا کیا؟ دو طواف اور دو سعی کر لیں لہٰذا کافی ہو جائیں گی۔ وَقَدْ أَسَاءَ، اور تحقیق اس نے برا کیا، بِتَأْخِيرِ سَعْيِ الْعُمْرَةِ وَتَقْدِيمِ طَوَافِ التَّحِيَّةِ عَلَيْهِ، کہ اس نے عمرے کی سعی کو مؤخر کر دیا اور طوافِ تحیہ یعنی طوافِ قدوم کو اس پر مقدم کر دیا، وجہ سمجھ میں آ گئی؟ وَلَا يَلْزَمُهُ شَيْءٌ، اور اس پر کوئی چیز لازم نہیں، یعنی اس پر کوئی دم وغیرہ بھی نہیں آئے گا کہ جانور کی قربانی اس پر واجب ہو جائے۔ أَمَّا عِنْدَهُمَا، بھئی اس پر دم وغیرہ کیوں نہیں آئے گا؟ کہتے ہیں بھئی صاحبین کے نزدیک تو مسئلہ واضح ہے، صاحبین کے نزدیک تقدیم و تاخیر سے دم واجب نہیں ہوتا، لیکن امام صاحب کے نزدیک تقدیم و تاخیر سے دم واجب ہوتا ہے۔ ایک عمل پہلے کرنا چاہیے تھا اس کو بعد میں کر دیا اور ایک کو بعد میں کرنا چاہیے تھا اس کو پہلے کر دیا تو امام صاحب کیا فرماتے ہیں؟ اس صورت میں دم لازم آتا ہے، اور جبکہ صاحبین کے نزدیک اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا بھئی، کوئی فرق نہیں پڑتا۔ تو صاحبین کے نزدیک تو مسئلہ واضح ہے، لیکن پھر سوال پیدا ہوتا ہے امام صاحب کے نزدیک تو دم آنا چاہیے؟ اشکال سمجھ میں آ رہا ہے؟ تو اس کا بھی آگے جواب دیں گے۔ تو کہتے ہیں: أَمَّا عِنْدَهُمَا فَظَاهِرٌ، باقی صاحبین کے نزدیک تو یہ بات ظاہر ہے، لِأَنَّ التَّقْدِيمَ وَالتَّأْخِيرَ فِي الْمَنَاسِكِ لَا يُوجِبُ الدَّمَ عِنْدَهُمَا، اس لیے کیونکہ تقدیم اور تاخیر جو ہے حج کے افعال میں یہ دم کو واجب نہیں کرتی صاحبین کے نزدیک، وَعِنْدَهُ، اور امام صاحب کے نزدیک، طَوَافُ التَّحِيَّةِ سُنَّةٌ، طوافِ تحیہ کیا ہے؟ سنت ہے، وَتَرْكُهُ لَا يُوجِبُ الدَّمَ فَتَقْدِيمُهُ أَوْلَى، اور اس کو بالکل چھوڑ دینا دم کو واجب نہیں کرتا تو اس کو مقدم کر دینا بطریقِ اولیٰ دم کو واجب نہیں کرے گا۔ اس نے طوافِ تحیہ کو مقدم کر دیا نا، کس پر؟ عمرے کی سعی پر، کس پر؟ عمرے کی سعی، تو اس کے جب چھوڑنے پہ دم نہیں آتا تو اس کو مقدم کرنے کی صورت میں بطریقِ اولیٰ دم نہیں آئے گا کیونکہ کم از کم کی تو کیا تو ہے یہ طواف اس نے، چھوڑا تو نہیں ہے، چھوڑ دیتا تو بھی دم نہیں تھا۔ وَالسَّعْيُ بِتَأْخِيرِهِ، اور باقی جو سعی میں تاخیر کی، عمرے کی سعی مؤخر کر دی اور طوافِ قدوم کو اس پر مقدم کر دیا، کہتے ہیں اس کی وجہ سے بھی دم نہیں آئے گا، اس لیے کیونکہ جو عمرے کی سعی ہے اس کو انسان کسی اور وجہ سے مؤخر کر دے تب دم نہیں آتا تو طواف کی وجہ سے مؤخر کرنے کی صورت میں بطریقِ اولیٰ دم نہیں آئے گا۔ بھئی آپ عمرہ کرنے گئے، عمرے میں کیا کیا کرنا ہے آپ نے؟ ایک طواف اور ایک سعی، آپ نے طواف کر لیا، طواف کرنے کے بعد اب آپ تھک گئے اور بھوک بھی آپ کو لگ گئی، آپ گئے آپ نے کھانا کھا لیا اور کھانا کھا کر آئے اور پھر اس کے بعد آپ نے سعی کر لی، یا آپ طواف کر کے بہت تھک گئے تھے آپ نے تھوڑی دیر آرام کر لیا بھئی، تو اور پھر اس کے بعد کیا کر لی؟ سعی، تو اس صورت میں بھی کوئی حرج نہیں ہے بھئی۔ تو معلوم ہوا کہ عمرے کی سعی میں کھانے پینے یا کسی اور کام میں مشغولیت کی وجہ سے تاخیر آ جائے تو تب وہاں پر دم وغیرہ واجب نہیں ہوتا تو طواف کی وجہ سے اگر تاخیر آئی ہے پھر تو بطریقِ اولیٰ اس کے اندر کچھ بھی واجب نہیں ہوگا۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ وَالسَّعْيُ بِتَأْخِيرِهِ، اور سعی اپنے مؤخر کر دینے کی وجہ سے، بِالِاشْتِغَالِ بِعَمَلٍ آخَرَ، کسی دوسرے عمل میں مشغول ہونے کی وجہ سے، لَا يُوجِبُ الدَّمَ، یہ دم کو واجب نہیں کرتی، فَكَذَا بِالِاشْتِغَالِ بِالطَّوَافِ، تو اسی طرح طواف میں مشغولیت کی وجہ سے بھی اگر اس کو مؤخر کر دیا جائے تو یہ دم کو واجب نہیں کرے گی۔ قَالَ: وَإِذَا رَمَى الْجَمْرَةَ يَوْمَ النَّحْرِ ذَبَحَ شَاةً أَوْ بَقَرَةً أَوْ بَدَنَةً أَوْ سُبْعَ بَدَنَةٍ۔ بھئی حجِ افراد والے کے لیے تو صاحبِ قدوری نے بتلایا تھا کہ اس کو اگر پسند ہو تو قربانی کر لے، چاہے یعنی چاہے تو قربانی کر لے اور چاہے تو نہ کرے کیونکہ اس پر قربانی حج کی واجب نہیں۔ لیکن حجِ قران والے پر حج کی قربانی بھی واجب ہے اور کس دن کرے گا؟ یوم النحر والے دن جب وہ مزدلفہ سے واپس پہنچا، تو رمی جمرات رمی جمرۂ عقبہ کر لے گا، جو بڑا جمرہ ہے اس پر سات کنکریاں مارے گا، پھر اس کے بعد قربانی کرے گا، پھر اس کے بعد یہ کیا کرے گا؟ حلق کروائے گا، اور پھر اسی دن افضل یہ ہے کہ اسی دن طوافِ زیارت بھی کر لے، نہیں تو اگلے دو دنوں کے اندر بھی کر سکتا ہے۔ یہی بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: وَإِذَا رَمَى الْجَمْرَةَ يَوْمَ النَّحْرِ، اور جب یہ رمی کر لے جمرے کی، کون سا جمرہ؟ جمرۂ عقبہ، اس کی رمی کر لے یہ حجِ قران کرنے والا، يَوْمَ النَّحْرِ عید والے دن یعنی یوم النحر کو، ذَبَحَ شَاةً، تو یہ ایک بھیڑ بکری ذبح کر لے گا، أَوْ بَقَرَةً، یا ایک گائے بیل، أَوْ بَدَنَةً، یا اونٹ کو، أَوْ سُبْعَ بَدَنَةٍ، یا اونٹ کے ساتویں حصے کو اس کی قربانی کر دے گا۔ فَهَذَا دَمُ الْقِرَانِ، یہ ہے دمِ قران، لِأَنَّهُ فِي مَعْنَى الْمُتْعَةِ، اس لیے کیونکہ قران بھی کس معنی میں ہے؟ متعہ یعنی حجِ تمتع کے معنی میں ہے، وَالْهَدْيُ مَنْصُوصٌ عَلَيْهِ، اور ہدی اس کے اندر منصوص علیہ ہے بھئی، قربانی اس میں منصوص علیہ ہے اس کے بارے میں نص آئی ہے بھئی۔ چنانچہ قرآن میں فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ: ﴿فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ﴾، فَمَا اسْتَيْسَرَ، جو نفع اٹھائے عمرے کا حج تک تو جو میسر ہو اس کو قربانی میں سے وہ قربانی کر لے، وہ معلوم ہوا اس پر قربانی ضروری ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ہدی جو ہے منصوص علیہ ہے فیہا، کس کے اندر؟ أَيْ فِي الْمُتْعَةِ، متعہ کے اندر یعنی حجِ تمتع کا ذکر چل رہا ہے نا قرآن میں تو، تو حجِ تمتع کے اندر جو ہے ہدی منصوص علیہ ہے، اور قران بھی کس کی طرح ہے؟ حجِ تمتع کی طرح ہے، اور جب حجِ تمتع میں قربانی ہے تو حجِ قران میں بھی قربانی ہوگی۔ وَالْهَدْيُ مِنَ الْإِبِلِ، اب یہاں سے یہ بیان کر رہے ہیں کہ ہدی کا جانور کون کون سا ہو سکتا ہے، کس کی قربانی کر سکتے ہیں؟ تو آسان بات ہے، بھئی وہی جانور جن کی قربانی کی جاتی ہے وہ بطورِ ہدی کے بھی جائز ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَالْهَدْيُ مِنَ الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ وَالْغَنَمِ، اور ہدی جو ہے وہ اونٹ میں سے ہے، وَالْبَقَرِ اور گائے بیل میں سے ہے، وَالْغَنَمِ اور اور بھیڑ بکری میں سے ہے، عَلَى مَا نَذْكُرُهُ فِي بَابِهِ، بوجہ اس کے جس کو ہم ذکر کریں گے اس کے باب میں یعنی ہدی کے باب میں ان شاء اللہ تعالیٰ اگر اللہ نے چاہا۔ وَأَرَادَ بِالْبَدَنَةِ هُنَا الْبَعِيرَ، صاحبِ قدوری نے یہاں پر بدنۂ کے ذریعے اونٹ کا ارادہ کیا۔ متن میں آیا تھا نا: ”أَوْ بَقَرَةً أَوْ بَدَنَةً“، تو بقرہ چونکہ الگ ذکر ہے معلوم ہوا بدنۂ سے صرف اونٹ مراد ہے۔ حالانکہ بدنۂ کا اطلاق دونوں پر ہوتا ہے، لیکن بقرہ کو الگ ذکر کیا، معلوم ہوا یہاں وہ صرف کیا مراد لے رہے ہیں صاحبِ قدوری بدنۂ سے؟ صرف اونٹ مراد لے رہے ہیں۔ تو کہتے ہیں: وَأَرَادَ بِالْبَدَنَةِ هُنَا الْبَعِيرَ، اور ارادہ کیا بدنۂ کے ذریعے یہاں پر صاحبِ قدوری نے اونٹ کا، وَإِنْ كَانَ اسْمُ الْبَدَنَةِ يَقَعُ عَلَيْهِ وَعَلَى الْبَقَرِ عَلَى مَا ذَكَرْنَا، اگرچہ بدنۂ کا نام جو ہے یہ واقع ہوتا ہے اونٹ پر بھی اور گائے بیل پر بھی عَلَى مَا ذَكَرْنَا اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دی، پیچھے دلیل ذکر ہوئی تھی۔ وَكَمَا يَجُوزُ سُبْعُ الْبَعِيرِ يَجُوزُ سُبْعُ الْبَقَرَةِ، بھئی متن میں آیا تھا کہ ایک بھیڑ بکری یا گائے بیل یا ایک اونٹ اونٹنی وغیرہ، أَوْ سُبْعَ بَدَنَةٍ، یا اونٹ کا ساتواں حصہ کر لے، صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلا رہے ہیں کہ جیسے اونٹ کا ساتواں حصہ جائز ہے اسی طرح گائے بیل کا بھی ساتواں حصہ جائز ہے، یہ بیان کر رہے ہیں: وَكَمَا يَجُوزُ سُبْعُ الْبَعِيرِ، اور جیسے اونٹ کا ساتواں حصہ جائز ہے، يَجُوزُ سُبْعُ الْبَقَرَةِ، تو گائے بیل کا بھی ساتواں حصہ جائز ہے۔ فَإِذَا لَمْ يَكُنْ لَهُ مَا يَذْبَحُ صَامَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ آخِرُهَا يَوْمُ عَرَفَةَ وَسَبْعَةَ أَيَّامٍ إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ۔ بھئی ایک شخص ہے، وہ حجِ قران کر رہا ہے، اور یاد رکھیے یہی حکم ہے حجِ تمتع کا بھی۔ تو حجِ تمتع اور حجِ قران والے پر قربانی واجب ہے حج کی بطورِ شکر کے کہ اللہ نے حج اور عمرے دونوں کی توفیق نصیب فرمائی ایک ہی سفر کے اندر۔ تو اگر ان کے پاس قربانی کا جانور ان کو نہ ملے یا ان کے پاس اتنا مال نہیں ہے کہ کیا کریں؟ جانور کی قربانی کریں، تو پھر یہ دس روزے رکھیں گے، دس روزے۔ تین روزے ایامِ حج میں اور سات روزے جب واپس آ جائیں گھر والوں میں وہ سات روزے رکھیں گے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو تین روزے ایامِ حج میں، جب مرضی رکھنا چاہے رکھ لے، ایامِ حج کے اندر، یعنی یوم النحر سے پہلے پہلے۔ یوم النحر دس کو تو عید آ گئی نا، اور دس اور گیارہ، بارہ، تیرہ یہ تو کیا ہیں؟ یہ تو ایامِ تشریق ہیں، اور آپ پڑھ چکے کہ سال کے پانچ ایام ہیں جن کے اندر روزہ رکھنا حرام ہے، تو ان ایام میں تو روزہ نہیں رکھیں گے، یہ جو عید کا دن ہے اور ایامِ تشریق ہیں یعنی گیارہ، بارہ اور تیرہ۔ ہاں اس سے پہلے ہی نویں ذی الحجہ کو ملا کر یعنی اس دن بھی روزہ رکھے، بہتر یہ ہے، اس سے پہلے پہلے کسی دن بھی، کسی بھی وقت تین روزے رکھ لے گا، تین روزے رکھ لے گا۔ لیکن آگے آپ کو بتائیں گے، بہتر یہ ہے سات، آٹھ اور نو ذی الحجہ کو رکھے۔ سات تاریخ کو پہلا رکھے، آٹھ یعنی یوم الترویہ والے دن دوسرا رکھے، اور نو ذی الحجہ یعنی یوم عرفہ والے دن تیسرا رکھے، اس لیے کیونکہ یہ روزے بدل ہیں کس کا؟ قربانی کا، تو لہٰذا ان روزوں کو مؤخر کر دے، آخری دنوں میں لے جا کر رکھے تاکہ ہو سکتا ہے اس سے پہلے کہیں سے قربانی کا جانور میسر آ جائے، لہٰذا ان کو کیا کر دے؟ مؤخر کر دے، تفصیل سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: فَإِذَا لَمْ يَكُنْ لَهُ مَا يَذْبَحُ، جب اس قارن کے پاس نہ ہو کوئی ایسا جانور جس کو وہ ذبح کرے، صَامَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ، تو وہ روزے رکھے تین دن حج کے اندر، آخِرُهَا يَوْمُ عَرَفَةَ، کہ ان روزوں کا آخری دن کون سا ہو؟ یوم عرفہ ہو، وَسَبْعَةَ أَيَّامٍ إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ، اور سات دن کے روزے رکھ لے جب وہ لوٹ آئے اپنے گھر والوں میں، لِقَوْلِهِ تَعَالَى، دلیل ذکر کر رہے ہیں اس کی، کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے، اللہ فرماتے ہیں قرآن میں: ﴿فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعْتُمْ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ﴾۔ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ، پس جس کو ہدی نہ ملے، قربانی کا جانور نہ ملے، فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ، تو تین روزے رکھنا ہے فِي الْحَجِّ کس کے اندر؟ حج میں، تین دن کے روزے رکھنا ہے، وَسَبْعَةٍ، اور سات روزے، إِذَا رَجَعْتُمْ، جب تم لوٹ آؤ، تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ، یہ پورے دس ہو گئے۔ فَالنَّصُّ وَإِنْ وَرَدَ فِي، یہاں سے سوال کا جواب دے رہے ہیں، سوال یہ کہ یہ جو قرآن میں آیا یہ تو حجِ تمتع والے کے بارے میں آیا ہے اور آپ اس وقت بات کر رہے ہیں حجِ قران کی قربانی کی، تو کہتے ہیں بھئی حجِ قران بھی کس کی طرح ہے؟ حجِ تمتع ہی کی طرح ہے۔ تو کہتے ہیں: فَالنَّصُّ وَإِنْ وَرَدَ فِي التَّمَتُّعِ فَالْقِرَانُ مِثْلُهُ لِأَنَّهُ مُرْتَفِقٌ بِأَدَاءِ النُّسُكَيْنِ، تو کہتے ہیں نص جو ہے یعنی یہ جو آیت جو ہے اگرچہ یہ آئی ہے حجِ تمتع کے بارے میں تو قران بھی اسی تمتع کے مثل ہے، لِأَنَّهُ مُرْتَفِقٌ بِأَدَاءِ النُّسُكَيْنِ، ارتفق کے معنی ہوتے ہیں فائدہ اٹھانا، کیونکہ یہ قارن جو ہے یہ مرتفق، یہ بھی فائدہ اٹھانے والا ہے دو عبادتوں کی ادائیگی کا۔ جیسے تمتع والا فائدہ اٹھاتا ہے دو عبادتوں کی ادائیگی کا تو قران والا بھی کیا کرتا ہے؟ حج اور عمرے دونوں عبادتوں کی ادائیگی کا نفع اٹھاتا ہے۔ وَالْمُرَادُ بِالْحَجِّ وَاللَّهُ أَعْلَمُ وَقْتُهُ، اور کہتے ہیں صاحبِ ہدایہ معنی بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں یہ جو آیت میں آیا نا: ﴿فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ﴾، تین دن کے روزے ہیں، کس میں؟ حج میں، کہتے ہیں حج سے مراد وقتِ حج ہے۔ حج سے کیا مراد ہے؟ وقتِ حج ہے، کہ تین دن کے روزے رکھ لے حج کے وقت میں، حج کے وقت۔ بھئی کیوں، یہ حج بول کر وقتِ حج کیسے مراد ہے؟ کہتے ہیں بھئی دیکھیے کہ حج جو ہے نا وہ افعال کا نام ہے، کس چیز کا نام ہے؟ افعال، اور افعال صلاحیت نہیں رکھتے کہ وہ ظرف بن جائیں روزے کے لیے۔ ایک فعل صلاحیت نہیں رکھتا کہ وہ کیا ہو؟ ظرف بن جائے دوسرے فعل کے لیے، ہاں وقت جو ہے وہ ظرف بن سکتا ہے۔ بھئی دیکھیے، میں آپ سے کہتا ہوں: ”ضَرَبْتُ زَيْدًا فِي الْمَكَانِ“، میں نے زید کی پٹائی کی فِي الْمَكَانِ اس جگہ میں، ایک کوئی خاص مکان تھا، کوئی خاص گھر تھا، یا یوں کہیں: ”ضَرَبْتُ زَيْدًا فِي الدَّارِ“، میں نے زید کی پٹائی کی اس گھر میں، یہ ”فِي الدَّارِ“، یہ ”فِي“ کیا بتلا رہا ہے؟ کہ الدار ظرف ہے، کس کے لیے؟ ضربت ضربت، یہ جو ضرب کا فعل واقع ہوا اس کے لیے یہ وہ دار کیا ہے؟ ظرف، معلوم ہوا یہ ضرب والا عمل کس جگہ پر پایا گیا؟ اس گھر کے اندر پایا گیا، یعنی اس گھر نے اس کا احاطہ کیا ہوا تھا، اس جگہ نے اس کا احاطہ کیا ہوا تھا، اس کے اندر یہ پٹائی والا عمل پایا گیا، گھر سے باہر نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو جگہ جو ہے وہ تو ظرف بننے کی صلاحیت رکھتی ہے کہ اس کی جگہ پر کوئی فعل واقع ہو جائے۔ اسی طرح زمانہ بھی ظرف بنے گا: ”ضَرَبْتُ زَيْدًا يَوْمَ الْجُمُعَةِ“، میں نے زید کی پٹائی کی جمعے والے دن، کیا معنی؟ کہ جمعے کا دن یہ ظرف ہے اور یہ زید کی پٹائی جو کی گئی یہ پٹائی کا عمل اس جمعے کے دن کے اندر پایا گیا، اس دن نے اس عمل کا احاطہ کیا ہوا ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو وقت اور جگہ جو ہیں وہ تو کسی چیز کا احاطہ کر لیتے ہیں، اس کے لیے ظرف بن جاتے ہیں، لیکن ایک فعل دوسرے فعل کے لیے ظرف نہیں بن سکتا بھئی۔ ایک فعل دوسرے فعل کے لیے ظرف نہیں بن سکتا کہ ایک فعل کے اندر دوسرا فعل واقع ہو جائے، اور یہاں پر حج ذکر ہوا اور حج کس چیز کا نام ہے؟ افعالِ عبادات کا نام ہے، افعال کا نام ہے، اور روزہ ہو اور حج کے افعال کے اندر ہو، یہ تو نہیں ہو سکتا۔ رمی جمرات حج کا فعل ہے یا نہیں؟ رمی جمرہ کے اندر روزہ آ سکتا ہے؟ رمی جمرات پہ تو چند منٹ لگیں گے اور روزہ تو فجر سے لے کر غروبِ آفتاب تک ہے، تو رمی جمرات تو اس کے لیے ظرف بن ہی نہیں سکتا۔ اسی طرح حج کے اندر طواف کرنا ہوتا ہے، یہ طواف روزے کے لیے ظرف بن سکتا ہے؟ نہیں، یہ بھی ایک عمل ہے، وہ روزہ ایک عمل الگ عمل ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو زمانہ اور جگہ وہ تو ظرف بن جاتے ہیں افعال کے لیے، لیکن خود ایک فعل دوسرے فعل کے لیے ظرف نہیں بن سکتا۔ تو معلوم ہوا یہاں حج ہے اور حج پر ”فِي“ داخل ہے اور ”فِي“ آتا ہے ظرفیت کے لیے ہے، اور حج خود تو ظرف بن نہیں سکتا کیونکہ حج تو کیا ہے؟ افعال کا نام ہے، تو معلوم ہوا حج بول کر کیا مراد ہے؟ حج کا وقت مراد ہے، اور حج کا وقت یہ تو وقت ہو گیا اور وقت تو ظرف بننے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس کے اندر تین روزے رکھے جا سکتے ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: وَالْمُرَادُ بِالْحَجِّ، اور حج سے مراد جو ہے، وَاللَّهُ أَعْلَمُ، اور اللہ خوب جاننے والے ہیں، تو کہتے ہیں وَالْمُرَادُ بِالْحَجِّ، یہ ذرا ”وَاللَّهُ أَعْلَمُ“ کو ذرا یہاں سے ہٹا دیں اب عبارت آپ کو سمجھ میں آئے گی: وَالْمُرَادُ بِالْحَجِّ وَقْتُهُ، اور حج سے مراد حج کا وقت ہے، لِأَنَّ نَفْسَهُ لَا يَصْلُحُ ظَرْفًا، اس لیے کیونکہ نفسِ حج وہ ظرف بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا، یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ ہاں یہ درمیان میں: وَالْمُرَادُ بِالْحَجِّ وَقْتُهُ، درمیان میں صاحبِ ہدایہ نے ”وَاللَّهُ أَعْلَمُ“ ذکر کر دیا، وجہ اس کی یہ، وجہ اس کی یہ کہ صاحبِ ہدایہ کیا کہہ رہے ہیں کہ حج سے مراد حج کا وقت ہے، حج سے مراد حج کا وقت ہے، اور ﴿فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ﴾، یہ کس کا کلام ہے؟ یہ اللہ کا کلام ہے، اور مراد کا معنی یہ ہوا کہ اس کو مراد قرار دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ، مراد کا کیا معنی ہوتا ہے؟ جس کا ارادہ کیا جائے، جو مقصود ہو۔ تو صاحبِ ہدایہ کے کلام کا معنی یہ ہوا کہ اللہ نے یہاں حج کا لفظ ذکر کر کے اس سے وقتِ حج کا ارادہ فرمایا ہے، اللہ تعالیٰ نے حج کا لفظ بول کر وقتِ حج کا ارادہ فرمایا ہے، اور کیا یہ بات قطعی اور یقینی ہے کہ اللہ نے حج ہی کا وقت کا ارادہ فرمایا ہو؟ نہیں بھئی، اللہ کی مراد اس پر تو انسان مطلع نہیں ہو سکتا، ہاں دلیل کے ذریعے ہمیں یہ معلوم ہو رہا ہے کیونکہ حج تو ظرف بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا، معلوم ہوا کہ حج بول کر کیا مراد ہے؟ وقتِ حج۔ تو ہم نے دلیل کے ذریعے ایک بات ذکر کر دی، باقی حقیقتاً اس کے ذریعے کیا مراد ہے اللہ تعالیٰ کی، اللہ کیا کس چیز کا ارادہ فرمایا ہے اللہ نے، وہ اللہ ہی جانتے ہیں بھئی، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اسی لیے درمیان میں کہہ دیا انہوں نے: وَاللَّهُ أَعْلَمُ، اور اللہ خوب جاننے والے ہیں۔ ہمیں تو دلیل سے یہ بات سمجھ میں آئی کہ یہاں حج مراد نہیں ہو سکتا کیونکہ اس پر ”فِي“ داخل ہو رہا ہے اور ”فِي“ ظرفیت کے لیے آتا ہے اور حج تو ظرف بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا، بات سمجھ میں آ گئی؟ اس لیے انہوں نے کیا کیا؟ درمیان میں ”وَاللَّهُ أَعْلَمُ“ کے لفظ کو بڑھا دیا کہ یہ کوئی قطعی بات نہیں ہے، وہ قطعی بات کو ہم جان بھی نہیں سکتے کہ اللہ نے کس چیز کا ارادہ فرمایا ہے، ہاں دلیل سے ہم اس بات پر پہنچے، اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس کے ذریعے معلوم ہوتا ہے اللہ نے کس چیز کا ارادہ فرمایا ہے؟ حج بول کر وقتِ حج کا ارادہ فرمایا ہے، اس لیے کہا: وَالْمُرَادُ بِالْحَجِّ وَاللَّهُ أَعْلَمُ وَقْتُهُ، اور حج کے ذریعے مراد جو ہے اور اللہ ہی خوب جاننے والے ہیں، تو حج کے لیے مراد جو ہے وقتہ اس کا وقت ہے، لِأَنَّ نَفْسَهُ لَا يَصْلُحُ ظَرْفًا، اس لیے کیونکہ خود حج جو ہے وہ ظرف بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ إِلَّا أَنَّ الْأَفْضَلَ أَنْ يَصُومَ قَبْلَ يَوْمِ التَّرْوِيَةِ بِيَوْمٍ وَيَوْمَ التَّرْوِيَةِ وَيَوْمَ عَرَفَةَ، لیکن یہ افضل یہ ہے کہ وہ قارن جو ہے وہ روزہ رکھے قَبْلَ يَوْمِ التَّرْوِيَةِ بِيَوْمٍ یوم الترویہ سے ایک دن پہلے، یوم الترویہ کس کو کہتے ہیں؟ آٹھ ذی الحجہ کو، اور اس سے ایک دن پہلے یعنی سات، یعنی سات ذی الحجہ کو روزہ رکھے، وَيَوْمَ التَّرْوِيَةِ اور کس دن؟ یوم الترویہ یعنی آٹھویں ذی الحجہ کو، وَيَوْمَ عَرَفَةَ اور یوم عرفہ کو یعنی نویں ذی الحجہ کو، لِأَنَّ الصَّوْمَ بَدَلٌ عَنِ الْهَدْيِ، اس لیے کیونکہ یہ روزہ بدل ہے کس سے؟ ہدی سے نا، اصل میں تو قربانی تھی، قربانی کے بدلے اب کیا کر رہا ہے؟ روزہ رکھ رہا ہے، تو یہ روزہ بدل ہے ہدی سے، فَيُسْتَحَبُّ تَأْخِيرُهُ إِلَى آخِرِ وَقْتِهِ، لہٰذا مستحب ہوگا اس کو مؤخر کرنا اس کے آخری وقت تک۔ معلوم ہوا یوم عرفہ اس کا آخری وقت ہے، اس کے بعد روزے نہیں رکھ سکتا، اس سے پہلے پہلے تین پورے کرنے ہیں، تو مستحب ہے تاخیر اس کے آخری وقت، رَجَاءَ أَنْ يَقْدِرَ عَلَى الْأَصْلِ، اس امید پر کہ شاید وہ قادر ہو جائے اصل پر، کہ ہو سکتا ہے وہ شخص اس وقت تو بدل ادا کر رہا ہے، کیا؟ روزے، ہو سکتا ہے مؤخر کرے آخری وقت میں کس پر قادر ہو جائے؟ اصل یعنی قربانی پر قادر ہو جائے، قربانی کا جانور اسے مل جائے۔ وَإِنْ صَامَهَا بِمَكَّةَ بَعْدَ فَرَاغِهِ مِنَ الْحَجِّ جَازَ، یاد رکھیے، ذرا وہ پیچھے آیت نکالیے: ﴿وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعْتُمْ﴾، اور سات روزے جب تم لوٹ جاؤ، کہاں لوٹ جاؤ؟ اپنے گھر والوں میں۔ تو ہمارے نزدیک، ہمارے نزدیک اگر حج کرنے کے بعد وہ شخص مکہ ہی میں یہ سات روزے رکھنا چاہے تو رکھ سکتا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں، ان سات روزوں کو مقید کیا گیا ہے: ﴿إِذَا رَجَعْتُمْ﴾، جب تم لوٹ جاؤ اپنے گھر والوں کو، اور یہ اسی صورت میں ہے جب یہ واپس گھر پہنچے گا، جب گھر پہنچے گا تو ہم کہیں گے یہ شخص اپنے گھر والوں میں لوٹ آیا ہے، تو شرط پوری ہو گئی، اب اجازت ہو گئی، اب کیا کر سکتا ہے؟ سات روزے رکھ سکتا ہے، اس سے پہلے سات روزے نہیں رکھ سکتا۔ ہم کہتے ہیں کہ ﴿إِذَا رَجَعْتُمْ﴾ سے مراد یہ ہے: إِذَا فَرَغْتُمْ مِنَ الْحَجِّ، جب تم حج سے فارغ ہو جاؤ۔ ﴿إِذَا رَجَعْتُمْ﴾ کا کیا معنی ہے؟ جب تم حج سے فارغ ہو جاؤ، تو تم کیا کر لو؟ سات روزے رکھ لو۔ بھئی یہ فارغ ہو جانے کا معنی آپ نے کہاں سے کر دیا؟ ہم کہتے ہیں اس لیے کیونکہ جب حج سے فارغ ہو جائے گا تو اب کدھر لوٹے گا؟ گھر لوٹے گا، معلوم ہوا حج سے فارغ ہونا یہ سبب ہے لوٹنے کا، حج سے فارغ ہونا سبب ہے لوٹنے کا، تو لوٹنے کا سبب پایا جائے اور جب سبب پایا جائے تو سبب کے بعد، سبب کے پائے جانے کے بعد ادا ہو سکتی ہے۔ سبب کے پائے جانے کے بعد ادا ہو سکتی ہے۔ آپ کے پاس نصاب کے بقدر مال ہے، تو سال گزرے گا تو زکوٰۃ واجب ہوگی، لیکن سال کے بیچ میں ہی نصاب کے بقدر مال ہے آپ زکوٰۃ دینا چاہتے تو زکوٰۃ ادا ہوگی یا نہیں ہوگی؟ ہوگی، کیونکہ سبب پایا جا رہا ہے اور سبب کے بعد ادا ہو سکتی ہے۔ تو ہم بھی یہاں کہتے ہیں، یہاں لوٹنے کا سبب پایا گیا اور لوٹنے کا سبب کیا ہے؟ حج سے فارغ ہونا، تو حج سے فارغ ہونا سبب ہوا لوٹنے کا اور سبب کے بعد ادا صحیح ہوتی ہے، گویا جب حج سے فارغ ہو گیا تو لوٹنے کا سبب پایا گیا، اور لوٹنے کا جب سبب پایا گیا تو لہٰذا اب کیا کر سکتا ہے؟ روزے رکھ سکتا ہے، جیسے لوٹنے کے بعد روزے رکھنا لازم تھے، لوٹنے کے بعد تو لازم ہے، لیکن یہ کیا کرنا چاہتا ہے؟ پہلے رکھنا چاہتا ہے تو بھی کر سکتا ہے، جیسے سال کے گزرنے کے بعد تو زکوٰۃ لازم ہے، سال کے بیچ میں ابھی لازم نہیں لیکن ادا کرنا چاہے تو ادا کر سکتا ہے جبکہ سبب یعنی نصاب کے بقدر مال موجود ہو۔ یہاں پر بھی جب گھر واپس لوٹے گا پھر تو روزے واجب ہو جائیں گے، لیکن اس سے پہلے بھی وہ رکھنا چاہے تو جائز ہے کیونکہ لوٹنے کا سبب پایا جا رہا ہے اور سبب کے پائے جانے کے بعد ادا صحیح ہوتی ہے، ہاں سبب نہ ہو تو پھر ادا صحیح نہیں، دلیل سمجھ میں آ گئی؟ وَإِنْ صَامَهَا بِمَكَّةَ بَعْدَ فَرَاغِهِ مِنَ الْحَجِّ جَازَ، اور اگر قارن نے وہ سات روزے رکھ لیے مکہ ہی میں حج اپنے فارغ ہونے کے بعد جَازَ تو یہ جائز ہے، وَمَعْنَاهُ بَعْدَ مُضِيِّ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ، اور معنی یہ ہے کہ ایامِ تشریق کے گزرنے کے بعد، ایامِ تشریق میں نہیں رکھے گا، ایامِ تشریق سے روزے ادا نہیں ہوں گے کیونکہ یہ کامل واجب ہوئے ہیں اور ایامِ تشریق میں اگر روزے رکھے گا بھی اس سے تو منع کیا گیا ہے تو وہ روزے کس قسم کے ہوں گے؟ ناقص ہوں گے، اور جو چیز کامل واجب ہوئی ہو اس کو کامل ہی ادا کرنا پڑے گا، ناقص سے وہ ادا نہیں ہوگی۔ وَمَعْنَاهُ، اور معنی اس کا یہ ہے: بَعْدَ مُضِيِّ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ، ایامِ تشریق کے گزر جانے کے بعد، لِأَنَّ الصَّوْمَ فِيهَا مَنْهِيٌّ عَنْهُ، اس لیے کیونکہ ایامِ تشریق میں روزہ رکھنا وہ تو منہی عنہ ہے، اس سے تو منع کیا گیا ہے۔ وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ لَا يَجُوزُ، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں، یہ جائز نہیں ہے کہ مکہ ہی میں کیا کر لے؟ روزے رکھ لے، لِأَنَّهُ مُعَلَّقٌ بِالرُّجُوعِ، اس لیے کیونکہ یہ روزے معلق ہیں رجوع کے ساتھ، کس کے ساتھ؟ ﴿إِذَا رَجَعْتُمْ﴾، جب تم لوٹ جاؤ تو تب کیا کر لو؟ سات روزے، تو ان کو معلق کیا گیا ہے لوٹنے کے ساتھ، إِلَّا أَنْ يَنْوِيَ الْمُقَامَ، مگر یہ کہ وہ شخص نیت کر لے المقام، یہ مصدر ہے بمعنی اقامت کے، إِلَّا أَنْ يَنْوِيَ الْإِقَامَةَ، مگر یہ کہ وہ شخص کیا کر لے؟ اقامت کی نیت کر لے، یعنی ایک آدمی ہے وہ حج کے بعد مکہ ہی میں مقیم ہو گیا، واپس جانے کا اب اس کا ارادہ ہی نہیں، مکہ کو ہی وطن بنا لیا، اب تو واپس لوٹنا ممکن ہی نہ رہا، لہٰذا یہ شخص کیا کر سکتا ہے؟ وہاں رکھ سکتا ہے۔ یہ معنی ہے: إِلَّا أَنْ يَنْوِيَ الْمُقَامَ، مگر یہ کہ وہ شخص اقامت کی نیت کر لے، فَحِينَئِذٍ يُجْزِيهِ، تو اس صورت میں یہ روزے کافی ہو جائیں گے، لِتَعَذُّرِ الرُّجُوعِ، کس لیے؟ کیونکہ اب واپس لوٹنا ممکن ہی نہیں ہے۔ وَلَنَا، اور ہماری دلیل یہ ہے: أَنَّ مَعْنَاهُ، کہ معنی اس اللہ کے اس قول کا معنی یہ ہے: رَجَعْتُمْ عَنِ الْحَجِّ أَيْ فَرَغْتُمْ، جب تم حج سے لوٹو یعنی کہ جب حج سے فارغ ہو جاؤ، إِذِ الْفَرَاغُ سَبَبُ الرُّجُوعِ إِلَى أَهْلِهِ، اس لیے کیونکہ حج سے فارغ ہونا یہ لوٹنے کا سبب ہے إِلَى أَهْلِهِ اپنے گھر والوں کو، فَكَانَ الْأَدَاءُ بَعْدَ السَّبَبِ، تو یہ ادا ہوگا کس کے بعد؟ سبب کے پائے جانے کے بعد یعنی رجوع کے سبب کے پائے جانے کے بعد، فَيَجُوزُ، تو یہ ادا جائز ہوگی۔ وَإِنْ فَاتَهُ الصَّوْمُ حَتَّى أَتَى يَوْمُ النَّحْرِ لَمْ يُجْزِهِ إِلَّا الدَّمُ۔ صورت یہ ہے: ایک شخص کے پاس قربانی کا جانور نہیں تھا، حجِ قران کر رہا ہے، تو اب اس کو کیا کرنا پڑے گا؟ دس روزے اس پر واجب ہیں، تین روزے حج کے دنوں میں، اور یہ کب تک رکھ سکتا ہے؟ نویں ذی الحجہ آخری دن ہے، اس پہ تین روزے پورے ہونے چاہیے اس سے پہلے پہلے، جس وقت بھی رکھ لے، لیکن انتہا کیا ہے؟ کب تک مؤخر کر سکتا ہے؟ کہ نویں ذی الحجہ کو اس کا تیسرا روزہ بنتا ہو، سمجھ میں آیا؟ اس سے آگے نہیں۔ اب اس شخص کے یہ روزے بھی رہ گئے اس سے، یہ ان دنوں میں روزے بھی نہ رکھ سکا تین، اب کیا کرے گا؟ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان روزوں کا وقت مقرر تھا کہ یہ حج کے دنوں میں رکھنے ہیں، تو یہ رمضان کے روزوں کی طرح ہوئے کیونکہ رمضان کے روزوں کا بھی وقت مقرر ہے، اور جن روزوں کا وقت مقرر ہوتا ہے وہ اگر اپنے وقت پر نہ رکھے جا سکیں تو بعد میں ان کی قضا کرنا پڑتی ہے، لہٰذا ان کی بھی کیا کرے گا وہ شخص حج کے گزرنے کے بعد؟ قضا کر لے گا۔ ہم کہتے ہیں نہیں۔ حج کے اندر ان روزوں کا رکھنا ضروری تھا، حج کے اندر نہیں رکھ سکا تو حکم پھر اپنی اصل کی طرف لوٹ جائے گا۔ پہلے بدل تھا، اصل میں تو اس آدمی پر کیا تھی؟ قربانی، لیکن قربانی کا بدل شریعت نے کیا بتلا دیا تھا؟ روزے رکھ لو، وہ بدل اس سے فوت ہو گیا تو اب بدل سے بات پھر کس کی طرف چلی جائے گی؟ اصل کی طرف چلی جائے گی اور قربانی ہی کرنا پڑے گی اس کو بعد میں، اب بعد میں قضا کر لے روزوں کی، اس کی گنجائش نہیں، کیونکہ ان روزوں کا وقت کب مقرر کیا شریعت نے؟ حج کے وقت میں، اور حج کا وقت جب گزر گیا اور اس نے نہیں رکھے تو بعد میں رکھنے سے یہ ادا نہیں ہوں گے، دلیل سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: وَإِنْ فَاتَهُ الصَّوْمُ، اور اگر یہ روزے اس سے فوت ہو گئے، حَتَّى أَتَى يَوْمُ النَّحْرِ، یہاں تک کہ قربانی والا دن آ گیا، لَمْ يُجْزِهِ إِلَّا الدَّمُ، تو اب اس شخص کے لیے کافی نہیں مگر قربانی ہی، اب کیا کرنا پڑے گی؟ صرف قربانی کرنا پڑے گی۔ وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ يَصُومُ بَعْدَ هَذِهِ الْأَيَّامِ، کہ یہ شخص روزے رکھ لے گا ان دنوں کے بعد یعنی قضا کر لے گا، لِأَنَّهُ صَوْمٌ مُؤَقَّتٌ، اس لیے کیونکہ یہ وہ روزہ ہے جس کا وقت مقرر ہے، فَيُقْضَى، تو اس کی قضا کی جائے گی، كَصَوْمِ رَمَضَانَ، جیسے کہ رمضان کا روزہ ہے۔ وَقَالَ مَالِكٌ رَحِمَهُ اللَّهُ يَصُومُ فِيهَا، بھئی امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایامِ تشریق ہی میں یہ روزے رکھ لے، کیونکہ ان روزوں کا وقت کون سا ہے؟ حج کے ایام ہیں، اور یہ جو تشریق کے دن ہیں ان میں بھی حج کے افعال کیے جاتے ہیں یا نہیں کیے جاتے؟ گیارہ، بارہ، تیرہ، گیارہ کو بھی رمی ہے، بارہ کو بھی رمی ہے، تیرہ کو بھی کیا ہے؟ رمی ہے، تو یہ حج کا ہی وقت ہی ابھی چل رہا ہے لہٰذا انہی تین دنوں تین دنوں میں کیا کر لے؟ روزے رکھ لے گا۔ وَقَالَ مَالِكٌ رَحِمَهُ اللَّهُ يَصُومُ فِيهَا، اور امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں انہی میں انہی ایامِ تشریق میں یہ روزے رکھ لے گا، لِقَوْلِهِ تَعَالَى، اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے، اللہ فرماتے ہیں قرآن میں: ﴿فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ﴾، پس جس کو ہدی نہ ملے، جس کو ہدی میسر نہ ہو تو وہ تین روزے رکھ لے حج میں، وَهَذَا وَقْتُهُ، اور یہ اسی کا وقت ہے، یہ جو ایامِ تشریق ہیں یہ بھی کس کا وقت ہیں؟ حج ہی کا وقت ہیں لہٰذا انہی میں رکھ لے۔ وَلَنَا، اور ہماری دلیل یہ ہے: أَنَّ النَّهْيَ الْمَشْهُورَ عَنِ الصَّوْمِ فِي هَذِهِ الْأَيَّامِ، کہ وہ جو مشہور نہی ہے روزے سے ان ایام میں، وَلَنَا اور ہماری دلیل جو ہے: أَنَّ النَّهْيَ الْمَشْهُورَ عَنِ الصَّوْمِ فِي هَذِهِ الْأَيَّامِ، کہ ان ایام کے اندر روزے سے جو نہی ہے وہ مشہور ہے، فَيَتَقَيَّدُ بِهِ النَّصُّ، تو لہٰذا اس کی وجہ سے نص کو مقید کیا جائے گا، فَيَتَقَيَّدُ بِهِ النَّصُّ، تو اس سے یہ نص مقید ہوگی۔ ہم اس سے کیا ہوگی یہ نص؟ ہم کہتے ہیں ان ایام میں روزے رکھنے کے بارے میں مشہور نہی آئی ہے، روکا گیا ہے کہ یہ ایام جو ہیں کھانے پینے اور صحبت کے دن ہیں، لہٰذا ان ایام میں کیا کیا جائے گا؟ روزے نہیں رکھے جائیں گے، اور باقی نص جو آیا تھا: ﴿فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ﴾، اس کو مقید کر دیا جائے گا، اس میں تو یہ قید نہیں ہے کہ ان تین دنوں میں نہ رکھو، لیکن خبرِ مشہور سے پتہ چل گیا کہ ان دنوں میں روزے رکھنے سے، خبرِ مشہور سے پتہ چل گیا کہ ان تین دنوں میں روزے رکھنا ممنوع ہیں، اور خبرِ مشہور کے ذریعے کتاب اللہ پر زیادتی جائز ہے، لہٰذا اس مطلق کو بھی مقید کر دیا جائے گا: ”فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ إِلَّا أَيَّامَ التَّشْرِيقِ“، قید کیا کر دیں گے یہاں پر؟ بڑھا دیں گے کس کی وجہ سے؟ خبرِ خبرِ مشہور کے ذریعے اس کو مقید کر دیا جائے گا۔ تو یہ معنی ہے: وَلَنَا أَنَّ النَّهْيَ الْمَشْهُورَ عَنِ الصَّوْمِ فِي هَذِهِ الْأَيَّامِ فَيَتَقَيَّدُ بِهِ النَّصُّ، کہ وہ جو مشہور نہی آئی ہے روزے رکھنے سے ان ایام میں تو مقید ہو جائے گی اس کی وجہ سے نص، أَوْ يَدْخُلُهُ النَّقْصُ، یا یہ وجہ کہ ان روزوں میں نقصان آ جائے گا، خبرِ مشہور کی وجہ سے کیا آیا؟ معلوم ہوا ان دنوں میں روزے رکھنا ممنوع ہے، تو اب روزے رکھے گا تو وہ کامل ہوں گے یا ناقص ہوں گے؟ تو خبرِ مشہور کی وجہ سے ان روزوں میں نقصان آ گیا، کمی آ گئی، اور جب کمی آ گئی تو یہ روزے تو کس طرح کے چاہیے تھے؟ کامل چاہیے تھے، کامل واجب ہوئے تھے، تو ادا بھی کیسی چاہیے؟ کامل چاہیے، لہٰذا ناقص روزوں سے یہ ادا نہیں ہوں گے۔ یہ معنی ہے: أَوْ يَدْخُلُهُ النَّقْصُ، کہ داخل یہ داخل ہو جائے گا ان کے اندر نقصان، فَلَا يَتَأَدَّى بِهِ مَا وَجَبَ كَامِلًا، لہٰذا ان سے ادا نہیں ہوگا وہ روزہ جو کامل واجب ہوا ہے۔ وَلَا يُؤَدِّي بَعْدَهَا، اور اس کے بعد بھی یہ روزے ادا نہیں کر سکتا۔ امام شافعی رحمہ اللہ تو کیا فرما رہے تھے؟ ان دنوں میں اگر روزے رہ گئے تو بعد میں کیا کر لے اس کی؟ قضا، ہم کہتے ہیں نہیں، وَلَا يُؤَدِّي بَعْدَهَا، ان دنوں کے بعد وہ قارن ان روزوں کی، ان روزوں کو ادا نہیں کر سکتا، لِأَنَّ الصَّوْمَ بَدَلٌ، اس لیے کیونکہ یہ روزہ بدل ہے، ہم کہتے ہیں کہ یہ شخص حجِ قران کرنے والا ہے اور اس پر اصل میں کیا واجب ہوئی تھی؟ قربانی، لیکن قربانی تو اس کو میسر نہ ہوئی تو شریعت نے اس کا بدل کیا بتلایا؟ روزے بتلائے، اور بدل بتلانا یہ شریعت کا کام ہے، عقل کے ذریعے اس کا پتہ کبھی بھی نہیں چل سکتا، عقل کے ذریعے اس کا پتہ نہیں چل سکتا، اس لیے کیونکہ قربانی اور روزے دیکھو دونوں میں کوئی مماثلت ہی نہیں ہے کسی بھی اعتبار سے بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو قربانی میں خون کا بہانا ہے، خون جانور کا بہا دینا اس کو ذبح کرنا، اور روزے کے اندر اپنے آپ کو کھانے پینے وغیرہ سے روکنا ہے، تو دونوں میں کوئی مماثلت نہیں کسی بھی اعتبار سے، لیکن بس شریعت نے ہمیں بتلا دیا تو اس پر عمل کیا جائے گا۔ تو یہ جو بدل ہے نا بدل مقرر کرنا، یہ شریعت بدل مقرر کرتی ہے، اپنی عقل کے ذریعے ایک چیز کو دوسری چیز کا بدل قرار نہیں دیا جا سکتا، لہٰذا قربانی کے بجائے شریعت نے اس قربانی کا بدل کیا بتلایا؟ کہ تین روزے رکھ لے ایامِ حج کے اندر، اگر یہ ان دنوں میں روزے نہیں رکھ سکا اور پھر بعد میں کہا جائے اب ان تین روزوں کی قضا کر لو تو یہ تو بدل کا بدل مقرر کیا جا رہا ہے، بدل کا بدل، روزوں کا بدل روزے تو اس وقت کے اندر ضروری تھے، وقت کے بعد اگر آپ روزوں کا حکم دیں گے تو یہ تو بدل کا بدل مقرر کیا جا رہا ہے اور بدل مقرر کرنا یہ شریعت کا کام ہے، عقل کے ذریعے بدل مقرر نہیں کیا جا سکتا، لہٰذا بعد میں کیا کرنا پڑے گا؟ قضا نہیں کرے گا، ان دنوں میں روزے نہیں رکھے تو قضا نہیں کرے گا بلکہ کیا کرنا پڑے گی؟ قربانی کرنا پڑے گی، قربانی کرنا پڑے گی۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ الصَّوْمَ بَدَلٌ، اس لیے کیونکہ روزہ جو ہے یہ تو بدل ہے، وَالْأَبْدَالُ لَا تُنْصَبُ إِلَّا شَرْعًا، اور بدل جو ہوتے ہیں ان کو مقرر نہیں کیا جاتا مگر شریعت کی طرف سے ہی، وَالنَّصُّ خَصَّهُ بِوَقْتِ الْحَجِّ، اور نص نے اس بدل کو یعنی اس روزے کو خاص کیا ہے کس کے ساتھ؟ حج کے وقت کے ساتھ، تو حج کے وقت ہی میں یہ بدل ہو سکتا ہے بعد میں نہیں ہو سکتا۔ وَجَوَازُ الدَّمِ عَلَى الْأَصْلِ، یہ اعتراض کا جواب دے رہے ہیں کہ احناف ہمیں ضابطہ بتلاتے ہو اور خود توڑتے ہو، کیا کرتے ہو؟ ہمیں ضابطہ بتلاتے ہو اور خود ضابطہ توڑتے ہو۔ آپ نے ہمیں کیا کہا؟ بدل بتلانا کس کا کام؟ شریعت کا کام، اور شریعت نے کیا بدل بتلایا تھا اس قربانی کا؟ تین روزے رکھ لے حج کے دنوں میں اور سات بعد میں، تو یہ تین روزے اگر کوئی نہ رکھ سکے تو آپ کہتے ہیں اس کو پھر قربانی کرنا پڑے گی، تو یہ تو آپ نے روزے کا بدل پھر قربانی کو لے آئے، اور ہمیں کہہ رہے ہو کہ بدل قائم کرنا کس کا کام ہے؟ شریعت کا کام ہے، تو آپ خود روزے کے بدل کو پھر کیا کس چیز کو روزے کا بدل بنا رہے ہو؟ قربانی کو بدل بنا رہے ہو۔ ہم جواب دیتے ہیں، ہم کب بدل قائم کر رہے ہیں؟ ہم بدل نہیں بنا رہے، قربانی تو اصل ہے، قربانی تو اصل ہے، اس شخص پر آتی ہی کیا تھی؟ آ ہی کیا رہی تھی؟ قربانی آ رہی تھی اور روزہ اس کا بدل تھا، جب بدل یہ نہیں لا سکا تو حکم پھر اصل کی طرف لوٹ جائے گا اور اصل کیا تھی؟ قربانی تھی، حج کے دنوں میں یہ روزے رکھ لیتا بس ٹھیک ہے بدل آ جاتا، جب اس میں وہ بدل نہیں لا سکا تو حکم پھر کس کی طرف لوٹے گا؟ اصل کی طرف اور اب اسے کیا کرنا پڑے گی؟ قربانی ہی کرنا پڑے گی کیونکہ بدل کی گنجائش بھی ختم ہو گئی، حکم اصل ہی کی طرف لوٹ جائے گا، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو ہم کہتے ہیں: وَجَوَازُ الدَّمِ عَلَى الْأَصْلِ، اور قربانی کا جائز ہونا وہ اپنی اصل پر ہے وہ بدل نہیں ہے۔ وَعَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے: أَنَّهُ أَمَرَ فِي مِثْلِهِ بِذَبْحِ شَاةٍ، کہ انہوں نے اس قسم کے مسئلے میں بھیڑ بکری ذبح کرنے کا حکم دیا۔ حضرت ہمارے پاس دلیل بھی موجود ہے، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفۃ المسلمین تھے بھئی اور وہاں پر حج کے دنوں میں وہیں پر ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہنے لگا، حج کے دنوں میں، یہ حج میں مشغول ہیں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی، ایک شخص آیا اور کہنے لگا کہ مجھ پر حج کی قربانی واجب ہے اور میرے پاس قربانی کا جانور نہیں ہے۔ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمانے لگے کہ روزے رکھ لیتے، اس کے بدلے روزے رکھ لو، اس نے کہا روزوں کے ایام بھی روزے بھی میں نہیں رکھ سکا، روزے بھی گزر گئے، تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیت المال میں سے ایک بھیڑ بکری اس کو دینے کا حکم دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کیا حکم دیا؟ اس کو ایک بھیڑ بکری دے دی جائے۔ معلوم ہوا یہ تین روزے اگر وہ نہ رکھ سکا تو حکم پھر اصل کی طرف لوٹ جائے گا جبھی تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھیڑ بکری دینے کا حکم دے رہے ہیں کہ اس کو ایک شات دے دو۔ اگر روزوں کی قضا جائز ہوتی تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس سے فرماتے بھئی بعد میں کیا کر لینا؟ بعد میں ان کی قضا کر لینا، تین دن کے بعد پھر ان کی قضا شروع کر دینا، لیکن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو بھیڑ بکری دینے کا حکم دیا، معلوم ہوا کہ ان حج کے ایام میں روزے نہ رکھ سکے تو پھر کیا کرنا پڑے گی؟ قربانی ہی کرنا پڑے گی۔ فَلَوْ لَمْ يَقْدِرْ عَلَى الْهَدْيِ تَحَلَّلَ وَعَلَيْهِ دَمَانِ دَمُ الْمُتْعَةِ وَدَمُ التَّحَلُّلِ قَبْلَ الْهَدْيِ۔ اب صورتِ مسئلہ یہ کہ ایک شخص تھا حجِ قران کرنے والا اور اس کے پاس قربانی کا جانور نہیں تھا تو اس پر کیا واجب ہو گئے؟ روزے، پھر یہ روزے بھی نہ رکھ سکا تو حکم کس کی طرف لوٹ گیا؟ اصل یعنی قربانی کی طرف، اور قربانی کا جانور تو اس کے پاس ہے نہیں، اب کیا کرے؟ کہتے ہیں بھئی اب یہ حلال ہو جائے، کیا کرے؟ حلال ہو جائے بھئی، بال وغیرہ کٹوا دے، احرام اتار دے، قربانی کا تو جانور ہے نہیں اس کے پاس۔ ہاں اب اس پر دو قربانیاں واجب ہو گئیں، دو قربانیاں، ایک تو یہ حج کی قربانی اس کے ذمے ابھی بھی باقی ہے، یہ اس کو بعد میں کرنا پڑے گی، اور ایک یہ جو اس نے احرام اتار دیا قربانی کرنے سے پہلے تو یہ بطورِ جرمانے کے ایک قربانی مزید اس پر آ گئی، تو بس احرام اتار دے، احرام کی ساری پابندیاں ختم ہو گئیں، لیکن اب اس کے ذمے دو قربانیاں ہیں، کیا کرے؟ کسی وقت پھر وہ دو قربانیاں حرم بھجوا دے اور دو قربانیاں کروا دے، طریقہ سمجھ میں آ گیا؟ تو کہتے ہیں: فَلَوْ لَمْ يَقْدِرْ عَلَى الْهَدْيِ، اگر یہ شخص قادر نہ ہوا ہدی پر، تَحَلَّلَ، تو حلال ہو جائے، وَعَلَيْهِ دَمَانِ، اور اس پر دو دم واجب ہیں اور اس پر دو دم واجب ہیں: دَمُ الْمُتْعَةِ، ایک تو حجِ تمتع کا دم یعنی وہی حجِ قران اور حجِ تمتع دونوں کا دم جو ہے، وَدَمُ التَّحَلُّلِ قَبْلَ الْهَدْيِ، اور دوسرا حلال ہونے کا دم ہدی سے پہلے ہی یہ جو حلال ہو گیا، اس وجہ سے یہ ایک اور دم بھی اس پر آ جائے گا بھئی، ایک اور دم بھی۔ فَإِنْ لَمْ يَدْخُلِ الْقَارِنُ مَكَّةَ وَتَوَجَّهَ إِلَى عَرَفَاتٍ فَقَدْ صَارَ رَافِضًا لِعُمْرَتِهِ بِالْوُقُوفِ۔ صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی، ایک شخص نے ایک شخص نے حجِ قران کا احرام باندھا، اور حجِ قران کا کیا طریقہ ہے؟ پہلے عمرہ کیا جاتا ہے اس کے بعد حج کیا جاتا ہے، لیکن یہ شخص سیدھا آیا تو عرفات چلا گیا، پہنچا ہی اس دن تو کہاں چلا گیا؟ عرفات چلا گیا، تو اور اس نے وقوفِ عرفہ کر لیا، اور پھر یہ آ کر عمرے کے افعال کر سکتا ہے یا نہیں کر سکتا؟ کیونکہ اس نے حج کا احرام صرف حج کا احرام نہیں باندھا بلکہ عمرے اور حج دونوں کا احرام باندھا ہے، تو کیا پھر آ کر عمرہ کر لے وقوف کے بعد؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، حجِ قران کے اندر عمرہ پہلے کیا جاتا ہے اور عمرے پر حج کی بنیاد رکھی جاتی ہے، اور وقوف کے بعد اگر یہ عمرہ کرے گا تو پھر تو گویا حج پر کس کی بنیاد رکھ رہا ہے؟ عمرے کی بنیاد رکھ رہا ہے، حالانکہ طریقہ کیا ہے؟ حج پر عمرے کی بنیاد ہو یا عمرے پر حج کی بنیاد ہو؟ عمرے پر حج کی بنیاد ہونی چاہیے، مشروع طریقہ یہی ہے، لہٰذا عمرہ اس کا چھوٹ گیا، عمرہ کیا ہوا؟ عمرہ چھوٹ گیا رہ گیا، تو اس کی بعد میں اس کو قضا بھی کرنا پڑے گی اور اس کی وجہ سے قربانی بھی اس پر واجب ہوگی بھئی، تفصیل سمجھ میں آ گئی؟ تو اس صورت میں یاد رکھنا اس سے حجِ قران والی قربانی ساقط ہو جائے گی، حجِ قران والی قربانی کیوں ساقط ہو جائے گی؟ کیونکہ اس کو دو عبادتوں کی توفیق نہ مل سکی۔ عمرہ تو چھوٹ گیا، رہ گیا، صرف حج کر سکا یہ، ہاں عمرے کی قضا بھی اس کے ذمے ہے کیونکہ عمرہ اس نے شروع تو کر دیا تھا، احرام باندھا تھا یا نہیں؟ اور ایک عمل شروع کر دیا جائے تو وہ کیا ہوتا ہے انسان پر؟ لازم ہو جاتا ہے، تو عمرہ اس پر لازم ہے، بعد میں اس کی قضا کرنا پڑے گی، اور یہ عمرہ جو ہے یہ چونکہ شروع کرنے کے بعد اس نے چھوڑا ہے لہٰذا اس پر ایک دم بھی واجب ہوگا، یا تو شروع ہی نہ کرتا، شروع کرنے کے بعد چھوڑا ہے لہٰذا اس پر ایک دم بھی ہوگا، تو بعد میں ایک قربانی بھی کر لے اور پھر کسی وقت آ کر کیا کر لے؟ عمرہ بھی کر لے بھئی۔ کہتے ہیں: فَإِنْ لَمْ يَدْخُلِ الْقَارِنُ مَكَّةَ، اگر حجِ قران کرنے والا مکہ میں داخل نہ ہوا، وَتَوَجَّهَ إِلَى عَرَفَاتٍ، اور متوجہ ہو گیا عرفات کی طرف، کدھر چل پڑا؟ عرفات چل پڑا سیدھا، فَقَدْ صَارَ رَافِضًا لِعُمْرَتِهِ بِالْوُقُوفِ، تو تحقیق کہ عمرے کو چھوڑنے والا ہو گیا وقوف کی وجہ سے یعنی جب وقوف کر لے گا تو عمرے کو چھوڑ دیا۔ لِأَنَّهُ تَعَذَّرَ عَلَيْهِ أَدَاؤُهَا، اس لیے کیونکہ اس پر اس کے لیے ممکن نہ رہا عمرے کی ادائیگی، لِأَنَّهُ يَصِيرُ بَانِيًا أَفْعَالَ الْعُمْرَةِ عَلَى أَفْعَالِ الْحَجِّ وَذَلِكَ خِلَافُ الْمَشْرُوعِ، اس لیے کیونکہ یہ بنا کرنے والا ہوگا عمرے کے افعال کی کس پر؟ اگر بعد میں یہ عمرہ کرے گا تو کیا کرے گا؟ عمرے کے افعال کی بنیاد کس پر رکھ دے گا؟ افعالِ حج پر، حالانکہ یہ تو مشروع نہیں ہے بلکہ مشروع طریقہ تو کیا ہے؟ افعالِ حج کی بنیاد رکھے کس پر؟ عمرے پر یعنی عمرہ پہلے کرے، لہٰذا تو بعد میں نہیں کرے گا، لِأَنَّهُ يَصِيرُ بَانِيًا أَفْعَالَ الْعُمْرَةِ عَلَى أَفْعَالِ الْحَجِّ، اس لیے کیونکہ اس صورت میں یہ بنیاد رکھنے والا ہوگا افعالِ عمرہ کی کس پر؟ افعالِ حج پر، وَذَلِكَ خِلَافُ الْمَشْرُوعِ، اور یہ تو خلافِ مشروع ہے۔ وَلَا يَصِيرُ رَافِضًا بِمُجَرَّدِ التَّوَجُّهِ، بھئی یاد رکھیے، ایک شخص حجِ قران کا احرام باندھا ہے اور عرفات کی طرف چل پڑا، تو کیا صرف چل پڑنے سے عمرہ چھوڑنے والا شمار ہوگا؟ یا عرفات جا کر جب زوال کے بعد یہ وقوف کر لے گا تو تب عمرہ چھوڑنے والا شمار ہوگا؟ کہتے ہیں بھئی جب وقوف کر لے گا تب عمرہ چھوڑنے والا شمار ہوگا، صرف چل پڑنے سے عمرہ چھوڑنے والا نہیں۔ عرفات کی طرف چل پڑا پھر گیا اور جا کر عمرہ کر آیا تو پھر ٹھیک ہو گیا معاملہ بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ صرف چل پڑنے سے عمرہ چھوڑنے والا نہیں بلکہ کیا کرے گا جب؟ جب وقوف کر لے گا پھر عمرہ چھوٹ گیا، پھر عمرہ نہیں کر سکتا، سمجھ میں آئی بات؟ دراصل اس بارے میں امام صاحب سے دو روایتیں ہیں، ایک روایت یہ کہ صرف عرفات کی طرف چل پڑے تو بس عمرہ اس کا ختم اب عمرہ نہیں کر سکتا، اور دوسرا قول یہ ہے کہ نہیں، جب جا کر کیا کر لے گا؟ وقوف کر لے گا تو پھر عمرہ ختم ہوگا اس سے پہلے عمرہ ختم نہیں، صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: وَلَا يَصِيرُ رَافِضًا بِمُجَرَّدِ التَّوَجُّهِ، اور صرف متوجہ ہونے کی وجہ سے یہ عمرہ چھوڑنے والا نہیں ہوگا، وَهُوَ الصَّحِيحُ مِنْ مَذْهَبِ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَيْضًا، اور یہی صحیح ہے امام صاحب کے مذہب میں سے، وَالْفَرْقُ لَهُ، یہاں سے اب فرق بیان کر رہے ہیں کہ صحیح روایت کیا آئی؟ صرف متوجہ ہونے سے عمرہ ختم ہوگا یا جب وقوف کر لے گا تب عمرہ ختم ہو جائے گا؟ جب وقوف کر لے گا۔ تو کہتے ہیں بھئی فرق کی وجہ کیا ہے؟ امام صاحب جمعے کے مسئلے میں فرماتے ہیں ایک آدمی نے گھر پر ہی ظہر کی نماز پڑھ لی جمعے سے پہلے، جمعے پر اس کا جانے کا ارادہ ہی نہیں ہے، اس نے جمعے کی نماز کے بجائے ظہر کی نماز گھر پر ہی پڑھ لی، اور پھر اس کا ارادہ بنا کہ میں جمعے کی نماز پڑھ لیتا ہوں وقت ہے، تو وہ لہٰذا جمعہ ابھی کھڑا تھا یا جمعہ ابھی ہوا نہیں تھا یہ گھر سے چل پڑا، جیسے ہی چلے گا امام صاحب فرماتے ہیں ظہر کی نماز اس کی باطل ہو گئی۔ لہٰذا گیا، جمعہ اس کو نہیں ملا تو پھر اس کو ظہر کی نماز دوبارہ پڑھنا پڑے گی کیونکہ نکلتے ہی اس کی ظہر کی نماز کیا ہو گئی تھی؟ باطل۔ تو جمعے کی نماز میں صرف متوجہ ہونے سے ہی وہ فرماتے ہیں نماز اس کی باطل ہو جاتی ہے، اور یہاں عرفات کے مسئلے میں صرف متوجہ ہونے سے جو ہے اس کا عمرہ باطل نہیں ہوتا بلکہ جب وقوف کر لے گا تب کیا ہوگا؟ عمرہ باطل ہوگا، تو یہ فرق کیوں کیا گیا ان دو مسئلوں میں؟ کہتے ہیں وجہ اس کی یہ ہے کہ جمعے کے دن جب اس نے ظہر کی نماز پہلے ادا کر لی لیکن ابھی جمعہ ہوا نہیں تو ابھی بھی اس کی تو اس کی طرف وہ اللہ کا حکم متوجہ ہے: ﴿فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ﴾، تم لوگ کیا کرو؟ اللہ کے ذکر کی طرف سعی کرو، کوشش کرو، تو وہ حکم ابھی بھی اللہ کی طرف سے آ رہا ہے، لہٰذا یہ جب گھر سے چلے گا تو یہ حکم پر عمل کر رہا ہے یا اس کے خلاف کر رہا ہے؟ یہ تو حکم پر عمل کر رہا ہے، جب عمل کر رہا ہے لہٰذا نکلتے ہی اس کا اس کی وہ نماز کیا ہو جائے گی؟ باطل ہو جائے گی۔ برخلاف اس کے کہ جب یہ حجِ قران کا احرام اس نے باندھا ہے اور یہ سیدھا کدھر کو چل پڑا؟ عرفات، ابھی پہنچا نہیں تو صرف چلنے سے عمرہ باطل نہیں ہوگا، کیونکہ یہ چل رہا ہے کس طرف؟ عرفات کی طرف، اور عرفات کی طرف چلنے کا اس کو حکم ہے یا اس کو روکا جا رہا ہے؟ حجِ قران کا احرام باندھا ہوا ہے، حجِ قران والے کو کیا حکم ہے؟ کیا کرے وہ پہلے؟ وہ پہلے عمرہ کرے، اور یہ کدھر کو جا رہا ہے؟ عرفات، تو اس کو تو روکا جا رہا ہے کہ عرفات نہیں جانا، کدھر جانا ہے؟ عمرے کے لیے جانا ہے، تو وہ جو جمعے کے لیے چلتا ہے اس کی طرف حکم متوجہ ہے اور اس کی اس کو تو کیا کیا جا رہا ہے؟ چلنے سے باقاعدہ روکا جا رہا ہے، اس لیے دونوں میں فرق ہے، وہاں متوجہ ہونے سے ہی کیا ہو جائے گی؟ وہ نماز وہ نماز باطل ہو جائے گی ظہر کی، اور یہاں پر صرف چلنے سے عمرہ باطل نہیں ہوگا کیونکہ چلنا منہی عنہ ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ وَالْفَرْقُ لَهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ مُصَلِّي الظُّهْرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، اور فرق جو ہے امام صاحب کے نزدیک اس شخص کے درمیان، کون سا شخص؟ جو عرفات کی طرف متوجہ ہے، حجِ قران والا ہے اور عرفات کی طرف متوجہ ہے اس کے درمیان، وَبَيْنَ مُصَلِّي الظُّهْرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ اور وہ جو ظہر کی نماز پڑھنے والا ہے جمعے کے دن، ان دونوں میں فرق یہ ہے: إِذَا تَوَجَّهَ إِلَيْهَا، کب؟ جب یہ اس کی طرف متوجہ ہو جائیں، جمعے والا جمعے کی طرف اور عرفات کی طرف جانے والا عرفات کی طرف جب متوجہ ہو جائے تو ان دونوں میں فرق یہ ہے: أَنَّ الْأَمْرَ هُنَالِكَ بِالتَّوَجُّهِ مُتَوَجِّهٌ بَعْدَ أَدَاءِ الظُّهْرِ، اس لیے کیونکہ وہاں پر أَنَّ الْأَمْرَ هُنَالِكَ بِالتَّوَجُّهِ متوجہ ہونے کا جو حکم ہے، متوجہ ہونے کا جو حکم کون سا حکم؟ ”فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ“، وہ حکم مُتَوَجِّهٌ بَعْدَ أَدَاءِ الظُّهْرِ، وہ ظہر کی نماز پڑھنے کے بعد بھی اس شخص کی طرف متوجہ ہے، وہ ظہر گھر پر بے شک پڑھ چکا ہے لیکن اس دن تو اللہ نے ظہر پڑھنے کا حکم نہیں دیا، کیا حکم دیا؟ جمعہ پڑھنے، تو وہ حکم اس کی طرف ابھی متوجہ ہے۔ وَالتَّوَجُّهُ فِي الْقِرَانِ وَالتَّمَتُّعِ مَنْهِيٌّ عَنْهُ، اور جبکہ قران اور تمتع کے اندر تو متوجہ ہونا منہی عنہ، اس سے تو روکا گیا ہے، قَبْلَ أَدَاءِ الْعُمْرَةِ عمرے کی ادائیگی سے پہلے، فَافْتَرَقَا، تو یہ دونوں ایک کیا تو یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا ہو گئے۔ قَالَ، صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: وَسَقَطَ عَنْهُ دَمُ الْقِرَانِ، اور یہ شخص جو کدھر چلا گیا؟ عرفات چلا گیا، اور اس سے عمرہ اس سے کیا ہوا؟ ساقط، یہی بیان کر رہے ہیں۔ تو وَسَقَطَ عَنْهُ دَمُ الْقِرَانِ، اور اس شخص سے دمِ قران بھی یعنی حجِ قران کی قربانی بھی ساقط ہو گئی، لِأَنَّهُ لَمَّا ارْتَفَضَتِ الْعُمْرَةُ، اس لیے کیونکہ جب عمرہ چھوٹ گیا، لَمْ يُرْفَقْ لِأَدَاءِ النُّسُكَيْنِ، تو اس کو آسانی نہ ہوئی دو عبادتوں کی ادائیگی کی، اس کو سہولت نہ مل سکی کون سی؟ دو عبادتوں کی ادائیگی کی، لہٰذا اس پر قربانی بھی واجب نہیں۔ وَعَلَيْهِ دَمٌ، ہاں البتہ اس پر دم واجب ہوگا، لِرَفْضِ عُمْرَتِهِ بَعْدَ الشُّرُوعِ فِيهَا، عمرے کو چھوڑ دینے کی وجہ سے بعد اس کے کہ جب اس نے اس کو شروع کر دیا تھا، وَعَلَيْهِ قَضَاؤُهَا، اور اس پر اس عمرے کی قضا بھی واجب ہے، لِصِحَّةِ الشُّرُوعِ فِيهَا، بوجہ اس میں شروع ہو جانے کے کیونکہ اس نے شروع کر دیا تھا، احرام باندھتے ہی چلتے ہی عمرہ کیا ہوا تھا؟ احرام شروع ہوتے ہی عمرہ بھی شروع ہو گیا تھا، فَأَشْبَهَ الْمُحْصَرَ، تو یہ شخص کس کے مشابہ ہوا؟ محصر کے۔ محصر وہ شخص جو حج یا عمرے کے لیے چل پڑا تھا راستے میں رکاوٹ آ گئی اب آگے نہیں جا سکتا، کسی وجہ سے کوئی رکاوٹ آ گئی وہ نہیں جا سکتا اب تو یہ روک لیا گیا، یہ جیسے یہاں پر یوں کہیں اج کل کوئی حج پر جا رہا تھا اور اس کی فلائٹ رہ گئی تو یہ کیا ہوا؟ محصر ہو گیا محصر، نہیں جا سکتا بھئی۔ تو اس پر کیا ضروری محصر پر؟ اس نے احرام باندھ لیا تھا، اگر حج کا احرام باندھا ہے تو یہ حج شروع ہو چکا لہٰذا اب اس پر ایک تو حلال جانور بھیج کر وہاں کیا کرے؟ قربانی کروا دے گا اس سے حلال ہو جائے گا اور پھر اس حج کی قضا بھی اس کے ذمے ہے، جا کر کیا کرے گا؟ قضا، اور اگر عمرے کا احرام باندھا تھا تو کیا کرے گا؟ عمرے کی بھی قضا کرے گا، سمجھ میں آیا؟ تو ایک دم بھی دے گا اور عمرے یا حج کی قضا، تو یہ معنی ہے: فَأَشْبَهَ الْمُحْصَرَ، تو یہ شخص بھی کس کے مشابہ ہوا؟ محصر کے مشابہ ہوا لہٰذا اس پر بھی قضا بھی آئے گی اور دم بھی آئے گا، وَاللَّهُ أَعْلَمُ، اور اللہ خوب جاننے والے ہیں۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔